پوسٹ تلاش کریں

محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روئے پر اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹراجمل ملک نے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روپے پر تبصرہ کیا کہ: کالا قانون 40ایف سی آرکی کیا حیثیت ہے؟، محترم اچکزئی اس کے ذریعے قبائل کو افغانستان سے الحاق کی دھمکی دیکر اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنیکے چکر میں تو نہیں ؟۔ پیریونس شاہ کے ہمراہ پیر عبدالواحد کی حال میں اچکزئی سے ملاقات ہوئی ، پیر عبدالواحد نے نوشتۂ دیوار سے مطالبہ کیا کہ یہ ہم قبائل سے زیادتی ہے کہ 40 ایف سی آر کو ختم کرکے قبائل کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جانے لگا تومحمود اچکزئی رکاوٹ بن گئے۔ وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخواہ سے الحاق کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کردی۔سرحد نام انگریز کی سازش تھی، جسے بدلنے کیلئے نوازشریف تیسری بار وزیراعظم کی شرط پر راضی ہوا۔ قبائلی علاقہ کیخلاف کوئی نیا ڈرامہ تو نہیں کھیلا جارہا؟ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو،ٹل، کوہاٹ، پشاور اور دیر پختونخواہ کے سیٹل علاقے قبائل کیلئے مرکز اور سر کی حیثیت رکھتے ہیں ، جہاں کمشنریاں ہیں ، کمشنرکے ماتحت پولیٹیکل ایجنٹ کام کرتا ہے۔ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کی بات دُموں کا گلدستہ بنانے کے مترادف ہے۔
محمود خان اچکزئی ومولانا فضل الرحمن کے سیاسی ومذہبی اکابر متحدہ ہندوستان کے حامی تھے، ان کی حب الوطنی پر شک انتہائی لغوبات ہے۔ پاکستان کی مخالفت کرنیوالوں کے اسلام سے محبت پر شک اسلئے کیا گیا کہ انہوں نے اسلام پر حب الوطنی کو ترجیح دی ۔ عبدالغفارر خان،شہید عبدالصمد خان، غوث بخش بزنجو ، حبیب جالب،فیض احمد فیض اور مفتی محمودکی حب الوطنی ان صحافیوں کی سند کا محتاج ہرگز نہیں جو کتوں کی طرح کسی کے ہُش پر پیچھے پڑتے ہیں۔ پرویزمشرف نے کہا کہ عالمی قوتوں کے کہنے اور تعاون سے ہم نے طالبان بنائے ۔ محمود خان اچکزئی کے جرأتمندانہ بیانات اسمبلی کے فلور پرہیں اورجو ببانگِ دہل کہتے تھے کہ ہمارے خفیہ ادارے امریکی سی آئی اے سے زیادہ ہوشیار نہیں ، انکے تعاون سے جہادی گروپوں کی افزائش ملک ، قوم، ملت کیلئے بہت نقصان کا باعث ہے۔ آج ان کی باتیں ہو بہو درست ثابت ہوئی ہیں، جس سے کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔
برطانیہ نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تو افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا۔ ایک طرف متنازعہ کشمیر کا محاذ چھوڑا، دوسری طرف افغانستان سے یہ معاہدہ ایک خاص مدت کیلئے کیا۔ قبائل نے انگریز کیخلاف آزادی کیلئے جتنی قربانی دی، اتنی پورے برصغیر پاک وہند کے تمام سیاسی لوگوں نے بھی نہیں دی ،علماء کافتویٰ غلام ہندوستان کیلئے تھا کہ رہنے سے نکاح ٹوٹ جائیں گے، جس سے قوم پرستوں کے سرخیل عبدالغفار خان نے بھی قبول کرکے افغانستان ہجرت کی تھی۔ قبائل نہ تو افغانستان کا حصہ تھے اور نہ انگریز کی وہ دسترس تھی کہ علماء نکاح ٹوٹنے کے فتوے دیتے۔ قوم پرست کہتے ہیں کہ جاہل علماء کا فتویٰ بالکل غلط تھا ۔مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ خانہ بدوشوں پر وہ فتویٰ لاگو نہیں ہوتا۔میرے آباء واجداد اس کی زد میں نہیں آتے، مولانا محمد خان شیرانی قبائل کا سہارا لے گا لیکن اسلامی نظریاتی کونسل میں اس فتوے پر بحث کی جائے جس کی وجہ سے کتنوں کے نکاح باقی نہیں رہے ہونگے؟۔ قبائل نے افغانستان میں قوم پرستوں کے ہیروامیر امان اللہ خان کی حکومت قائم کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا جو جرمنی کی مدد سے افغانستان پر قابض ہوا تھا۔ کانگریس کی مدد بھی جرمنی کررہی تھی اسلئے قوم پرستوں پر انگریز دور سے ایجنٹ کا الزام لگتارہا ہے۔ انکا یہ کہنا درست تھا کہ انگریز سے حب الوطنی کی سند ضروری نہیں۔ انگریز گیاتو قبائل نے پاکستان کو دل وجان سے قبول کیا، اگر پاکستان فیصلہ کرتا کہ قبائل کو اپنے سے جدا کرنا ہے، تو بھی یہ واضح حقیقت ہے کہ قبائل افغانستان میں شامل نہ ہوتے۔ افغانی بیچارے خود شورش زدگی کے ہمیشہ شکار رہے ہیں۔ انگریز دور میں قبائل افغانستان کا حصہ نہیں بنے تو آج کیسے بن سکتے ہیں؟۔ سندھ و ہند کی طرح قبائل اور افغانستان بھی الگ تھے ۔سندھ (پنجاب وکشمیرتک تھا) کو ہند کا حصہ قرار دینے کیلئے برطانیہ جیسی عالمی قوت کی ضرورت تھی تو قبائل کو افغانستان سے ملانے کیلئے اس سے بڑی طاقت درکار ہوگی۔روس افغانی قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا، نیٹو بھی ناکامی کا سامنا کر رہاہے۔ پاکستانی قبائلی علاقوں پر منصوبہ بندی سے دہشتگردوں کا قبضہ کروایا گیا مگر قبائل کی اپنی بھی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ بھگت رہے ہیں۔ امریکہ نے دہشتگردوں کو ٹرینڈکیا، حمایت کی فضاء ہموار کی اور وہی پکڑ نے کے بعد ہیرو بناکر چھوڑ رہاہے، جب قبائل میں امریکہ مجاہدین کی تلاش میں آیا تو عبداللہ محسود کو گوانتا ناموبے سے ہیرو بناکر چھوڑ دیا ۔ عبداللہ محسود کے فرشتوں کو پتہ نہ ہوگا کہ افغانستان سے امریکہ نے پکڑا، پھر وہیں چھوڑا کہ پھر پاکستان سے لڑنے کا کیا تُک بنتاہے؟۔ مگرعبداللہ محسود نے شعوری طور سے پاکستان کیخلاف اسلئے خود کش تیار کئے کہ چاچا پرویز مشرف خیر خوشی سے یا بامر مجبوری امریکہ کا اتحادی تھا۔ طالبان کے بڑے مخالف فیصل رضاعابدی نے میڈیا پر بتایا کہ اسلام آباد میں امریکی فوج کیلئے بڑا کمپاؤنڈ تیار ہورہاہے تو یہ طالبان کے حامی مجاہدین ، علماء اور سیاستدان امریکیوں کیخلاف یہاں احتجاج کیوں نہیں کررہے ہیں؟۔ فیصل رضا عابدی کی یہ گفتگو نادانستہ ان طالبان کی حمایت کا ذریعہ ہے جو پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔اس لاشعوری جنگ سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل پر قابو پائیں۔ جنرل راحیل لاہوری ہیں، عاصمہ جہانگیر، مبشر لقمان فخریہ کہتے ہیں کہ ہم لاہوری ہیں، جنرل ضیاء الحق آرائیں تھے مگر بھٹو کو کیسے ٹانگا؟۔ جنرل قمر باجوہ بہادر جٹ ہیں، ان کی ملنساری کی وجہ بھکر سے تعلق ہے۔ شہباز شریف نے پچھلا الیکشن بھکر سے لڑا مگر وہاں کی کوئی خدمت نہ کی۔ رؤف کلاسرا جیسے یہ لوگ قسمت کے شاکی ہیں۔ دہشتگردوں کو پہلے کبھی ایسا نشانہ نہ بنایا گیا، پاکستان و افغانستان میں جٹ آرمی چیف نے اپنی بات سچ ثابت کرکے 100 سے زیادہ مار دئیے، ٹانک کے دور دراز علاقے پنگ میں عصمت اللہ شاہین کاگروپ مارا مگر ہزار کارنامے کے باوجودآرمی چیف یہ نہیں کہہ سکتے ’’میں بھکری ہوں‘‘ سرائیکی جفاکش ،وفا شعاراور ملنسارلوگ ہیں، مولانا شیرانی کا فوج سے متعلق 9/11 سے پہلے بیان تفصیل سے شائع کیا تووہ قدرے ناراض ہوئے۔ ریاست،قوم اور وطن کو مشکلات سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔مولانا شیرانی اسلام اور نوکری کاحق اد کریں ۔اجمل ملک

آرمی چیف و جوائنٹ چیف کا کمال. نادر شاہ

ہم نے متعددبار شاہراہ فیصل کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق پاک فوج کی قیادت نے شاہراہ فیصل کے فٹ پاتھ کو روڈ میں شامل کرنے کا کام شروع کرادیا ہے۔ عوام کو بہت تکلیف تھی اور پاک فوج کی قیادت کے اس اقدام سے عوام کے دلوں میں پاک فوج کی عزت ، محبت اور وقار میں بہت اضافہ ہوگا۔ اگر فی الفور پی ایف کے برج کی توسیع کرکے دونوں طرف سے اس پر یوٹرن کا راستہ بنایا جائے اور ڈرگ روڈ کو سگنل فری کیا جائے تو ٹریفک کی روانی میں بہت تیزی آئیگی۔ ڈرگ روڈ کی ریلوے لائن کے جمپ کوختم کیا جائے تو بھی ٹریفک کی روانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا،بلوچ کالونی کا پل بھی گرانے کے بجائے وسیع کرکے شارع فیصل پر یو ٹرن بن سکتاہے۔ PAF اور نیوی کیلئے عالمی سطح کے نقشے تیار کرکے کاروباری مراکز اور رہائشگاہوں کا اہتمام کیا جائے تو کراچی کا حسن دوبالا ہوگا اور پاک فوج کیلئے معقول کمائی کاا چھا ذریعہ ہوگا۔ ملک ریاض فرد واحد ہے اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے وسیع رقبہ پر دوبئی طرز کی تعمیر ملک کی خدمت ہے۔ بحریہ ٹاؤن سے ایک نیا شہر آباد ہوا ہے لیکن کراچی کے خاص گارڈ گفٹ سمندری آب و ہوا سے وہ محروم ہے۔ آس پاس کے تمام روڈ وسیع و عریض ہونگے تو اس جگہ کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، فی الوقت فٹ پاتھ کی توسیع بھی روز مشکلات سہنے والی عوام کیلئے بڑی خدمت ہے، اللہ جزائے خیر دے۔ نادر شاہ

چوتھی نسل کا جواب مودی کی طرف سے تحفہ ہے. حنیف عباسی

رحمن ملک کو اللہ کی شان تھی کہ سورۂ اخلاص پڑھنا بھی نہ آیاپھر کس طرح مانا جائے کہ رحمن ملک پر وحی یا الہام ہوا؟،22سال پہلے رحمن ملک نے کہا کہ ’’ لندن کے فلیٹ شریف خاندان کے ہیں‘‘۔نواز شریف کے زیر کفالت تین افراددرج تھے کلثوم نواز ، مریم نواز ، نواز شریف۔جسکا جواب نہیں ملا ، تیسرا صفدر عباسی تھا؟۔اندراج وزیر اعظم نے کیا جواب عمران دے؟۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ 2005ء کو سعودیہ کی وسیع اراضی والی مِل بیچ دی اور اس سے حاصل ہونے والے خطیر رقم سے 2006ء میں لندن فلیٹ خرید لئے۔ انکے ثبوت اللہ کے فضل سے موجود ہیں، بات نکلی ہے تو دوددھ کا دودھ پانی۔۔۔ ‘‘ اگر جمہوری روح ہوتی تو خواجہ آصف نے نوازشریف کوسنانا تھاکہ کوئی شرم حیاء۔۔۔
قطری خط میں لکھاگیا کہ وزیراعظم بڑے بھولے بھالے ہیں، ڈھڑلے سے جھوٹ بولنے پر جھجک ہونی چاہیے۔ مجھے یہ آگاہ کیا گیا ہے کہ ’’ میاں شریف نے ہمیں 12ملین درہم دئیے، اس رقم کو ہم نے واپس کیا تو حسین نواز نے اس سے لندن کے فلیٹ خریدے‘‘، یہ نوازشریف کے تین نسل کا حساب ہے اور اگر چوتھی نسل مریم نواز کی بیٹی کے جہیز کا معاملہ اٹھا اور غلط بیانی سے کام کی ضروت پڑی تو بھارت سے وزیراعظم مودی کا خط آسکتاہے کہ میں نے تحائف دئیے یا پردادا کی رقم انویسٹ تھی۔ بڑی جائیداد بناکر ن لیگ قوم کی خدمت کررہی ہے یا لوٹ مار کا بازار گرم کیاہواہے؟ ۔ حنیف عباسی

جماعت اسلامی ہماری دم چھلہ ہے. خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ ’’قیامِ پاکستان سے جماعتِ اسلامی غلط سائیڈ پر کھڑی رہی،پتہ نہیں چلتا کہ اسکے قبلے کا رُخ کہاں ہے؟۔ سراج الحق مجھ سے باربار پوچھتارہا کہ فوج آپ کیساتھ ہے؟۔ مرکز میں ہماری اپوزیشن کرتی ہے اور کشمیر میں ہماری دُم چھلہ ہے‘‘۔ جنرل ضیاء کی مجلس شوریٰ میں خواجہ آصف کے والد چیئرمین اورجماعت اسلامی دُم چھلہ تھی۔ اسلامی ریفرینڈم، جنرل ضیاء کی وفات کے بعد برسی کے موقع پر اور اسلامی جمہوری اتحاد تاریخ کے ہر موڑ پر جماعت اسلامی دُم چھلہ رہی ہے تو طعنے سہنے پڑینگے۔ 24نیوز چینل پر سراج الحق نے خواجہ آصف کو بڑا کہہ کراپنے لئے اور خواجہ آصف کیلئے جھوٹا کہنا نامناسب قرار دیا اور کہا کہ ذہن پر زور ڈالامگر مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے کب یہ بات کی اور یہ بھی کہا کہ میں جماعت کاذمہ دار ہوں مجھے جواب دینا مناسب نہیں۔ IJIمیں جماعتِ اسلامی استعمال ہوئی اور جنرل سیکرٹری پروفیسر ٖغفور نے حامد میرسے جیو پر کہاتھا کہ ان کو بعد میں پتہ چلا۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے سینئر مولانا سمیع الحق نے نوازشریف کو قیادت دی تو میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا نور محمد ؒ نے اسلامی نظام کیلئے کئی سال جیل کاٹی، نوازشریف کی عزت افزائی سے وہ فلموں کے سنسر بورڈ کے وزیربن گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے پتّے کو منصوبہ بندی سے ہی اتفاق ہسپتال میں نکالا گیاہے ۔ آج شیخ رشید نے طعنہ دیا ، کل خواجہ آصف کاطعنہ سہنا پڑیگا۔ فیروز چھیپا

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عبد القدوس بلوچ (تیز و تند) کا بیان

نوشتۂ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہا کہ ’’حکمران کے قول وعمل میں تضاد ہے، وزیرستان کے طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کیااور13افرادکو شہیدکردیا ۔اپنے ہلاک شدگان کو ساتھ لیجاکر رات کی تاریکی میں دفن کردیا ۔ اسکے مقابلہ میں ماڈل ٹاؤن لاہور کا واقعہ زیادہ واضح تھا، پولیس نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے 14افراد کو شہید کردیا۔ لاہور کے واقعہ میں رانا ثناء اللہ ، شہباز شریف کو نوازشریف اور چوہدری نثار نے ذمہ دار قرار نہ دیا۔طالبان امیر بیت اللہ اوردیگر رہنماؤں نے قاری حسین اور حکیم اللہ کو ذمہ دار قرار دیاتھا۔ جنہوں نے قصاص کیلئے خود کو پیش کرنے کیساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ تم بھی قصاص کیلئے تیار ہوجاؤ، اسلئے کہ تمہارے کہنے سے ہم نے بہت بے گناہوں کا خون کیا۔ اپنے گاؤں کے شریف انسان ملک خاندان کو انکے گھر والوں سمیت تمہارے حکم پر شہید کردیا، انکے قصاص کیلئے تم بھی تیار ہو؟۔ جس پر طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔ طالبان چاہتے تو انکار بھی کرسکتے تھے اور اس وقت حکومت کا بھی ان پر کوئی دباؤ نہ تھا۔ اگر مسلم لیگ ن ان طالبان کی تعریف نہ کرے جنہوں نے قربانی دی تو کیا اپنی تعریف کریگی ؟ جو لوٹ کر قوم کا سارا مال کھا گئے اور ڈکار بھی نہیں لے رہے ؟۔ قومی ایکشن پلان پر جن طالبان کیخلاف عمل ہوا، انکے سہولت کار سیاستدان و حکمران ان سے کئی درجے بدتر ہیں، جو قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ذمہ دار تھے، اچھا ہوا کہ جنرل راحیل وقت پر چلے گئے ورنہ انکی مخلصانہ سرگرمی شکوک کا شکار بن جاتی۔ ٹھنڈے مزاج جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں عدلیہ نے انصاف سے وزیراعظم کا فیصلہ کیاتو عاصمہ جہانگیر یہ نہ کہیں گی کہ ’’ عدلیہ اور فوج دو خدا مل گئے ‘‘ اب تو پنجاب کے پنج تن پاک کی پاکدامنی کا دامن بھی پاک نہ رہاہے۔ راجہ رنجیت سنگھ نے بھی ایسی کرپشن نہ کی ہوگی۔ الفاظ کا احترام عمل سے مشروط ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور انکی جماعت کے رہنما ہزاربار کہیں کہ ’’ محترم قاتل صاحب!، محترم ڈاکو صاحب!، محترم کرپٹ صاحب‘‘۔یہ الفاظ کی پاکیزگی کاثبوت نہیں ۔ طالبان نے اپنی قوم کو تباہ کیا اور موقع ضائع کیا ورنہ ان سے توبہتر ہوتے۔خرم نواز گنڈہ پور نے کہا کہ’’ طالبان میں فرشتہ صفت انسان بھی ہیں اور شیطان بھی‘‘۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا: پولیس ایکٹ1821 ؁ء کے اختیار ات سے 21ویں صدی کے انصاف کی توقع غلط ہے جبکہ سندھ پولیس کے قاتل اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔خرم نواز گنڈہ پور کی بات بھی درست تھی کہ طالبان میں ہرقسم کے لوگ ہیں، آئی جی سندھ خواجہ کی بات بھی درست ہے کہ پولیس کے اندر اصلاحات کئے بغیر معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی اور جب پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد نہ ہو تو بات نہیں بنے گی۔ خیبر پختونخواہ کی پولیس کو آزاد سمجھا جائے تو اس کی وجہ صوبائی حکومت کا کمال بھی ہوسکتاہے مگروہاں پاک فوج کی وجہ سے سیاسی عمل دخل بھی نہیں ہوسکتا۔اے ڈی خواجہ کے کمالات بھی کراچی میں رینجرز اور سندھ حکومت پر پاک فوج کے دباؤ کانتیجہ ہے۔ عدلیہ نے بھی ان کو بحال کرنے میں اپنا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ریاستی اداروں کے افراد کو عوام کے مقابلے میں جرائم پر بڑی سزا دی جائے تو اسکے اچھے نتائج نکلیں گے اور پاکستان کی ریاست اتنی مستحکم ہوگی کہ دنیا میں کوئی ملک اس کا مقابلہ نہ کرسکے گا۔
پنجاب پاکستان کیلئے ایک بہت بڑ اثاثہ ہے۔ پاک فوج کی وہاں باقی صوبوں کے مقابلے میں شاید کوئی گنجائش بھی نہیں نکلتی ہے کہ اپنا کوئی کردار ادا کرسکے۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف اپوزیشن یا حکومت میں ہوں ، پاک فوج کی اعلیٰ قیادتوں سے راز ونیاز کا معاملہ رہتاہے۔ پنجاب پولیس نے اتنا بڑا سانحۂ ماڈل ٹاؤن رونما کردیا لیکن قربانی کا بکرا گلو بٹ بن گیا۔ گاڑیوں کے شیشے توڑنے والا مجرم مگر انسانی جانوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکے۔ پنجاب پولیس کو ایسا استعمال کیا گیا جیسے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے سپریم کورٹ پر ہلا بول دیا تھا۔اگر یہی حال رہا تو طالبان اور ایم کیوایم کے علاوہ دوسری شکلوں میں بھی ریاست کے خلاف کھڑی ہونے والی قوتیں پیدا ہوں گی۔
بلوچستان ، پختونخواہ اور کراچی کے آسودہ حال لوگ پنجاب اور اندورن سندھ کے بدحال لوگوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے حالات کو بدلنے کیلئے پنجاب اور اندرون سندھ میں بہت محنت کی ضرورت ہے۔ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے سارے گڑھ پنجاب میں ہیں لیکن وہ بڑے سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ بلوچ اور پٹھان پہاڑوں اور صحراؤں کی وجہ سے سخت طبیعت اور مزاج کے مالک ہوتے ہیں۔بلوچ کی تاریخ انتقامی کاروائی میں سنگدلی کی رہی ۔جبکہ ایم کیوایم کی تشکیل نے کراچی کے شریف مہاجر کو بھی سفاک بنادیا۔ فوج، عدلیہ اور پولیس ہمارے لئے اس وقت بہتر ہیں جب ہم اپناکردار درست کرلیں۔ اسلام نے مشرکینِ مکہ جیسے جاہل اور مدینہ کے منافقین کی سرشست کو بدلنے میں عظیم الشان کامیابی کا مظاہرہ کیا۔ رئیس المنافین عبداللہ بن ابی کے بیٹے سچے صحابی تھے، ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ نے دل وجان سے اسلام قبول کرکے اپنا سابقہ اسلام دشمنی کاحساب چکا دیاتھا ۔
بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور اداروں کے کردار کو درست نہج پر نہیں لایا جاسکا اور انگریز سے آزادی کے بعد عروج حاصل کرنے کے بجائے مزید تنزلی کا شکار ہوگئے مگر مایوسی کفر ہے۔ ہم نے اس کلچر کو بدلنا ہوگا کہ زور وزبردستی، جبرو تشدد اور ظلم وتعدی سے بڑا انقلاب آسکتاہے۔ اس کلچر کو بھی بدلنا ہوگا کہ کرپشن کے ذریعہ پیسے کماکر لیڈرشپ قوم کو دی جائے۔ سیاسی اشرافیہ قوم کے سامنے بے نقاب ہے ، اس قوم کو دھوکے میں رکھنا ممکن نہیں ۔ سیاسی جماعتوں نے مغلیہ دور کی خاندانی امارت قائم کررکھی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت راجہ رنجیت سنگھ سے بھی بدتر ہے اور پیپلزپارٹی راجہ داہر سے بدتر کردار ادا کررہی ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سارے اثاثے آل اولاد سمیت باہر ہیں اور یہ یہاں برٹش امپائر کی طرح عوام کو غلام کی طرح استعمال کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کررہے ہیں۔
طالبان، بلوچ قوم پرست ،ایم کیوایم کی طرح ریاست پنجاب کے ارباب اقتدار کا بھی محاسبہ کرے، ورنہ اس دفعہ شدت پسندی کی لہر غریبوں کے ہاں سے اٹھے گی اور پھریہ بھول جاؤ کہ ریاست اس پر قابو پاسکے گی،سب کچھ بہالے جائے گی۔ نوازشریف کا پہلوان بیٹا حسین نواز عوام کے بچوں کیساتھ پڑھتا تو اس کی صلاحیتوں کو قوم دیکھ لیتی۔ جنرل راحیل شریف نے جس ٹرسٹ کا اعلان کیا ہے، اس سے ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان کے سنگم پر ایک تعلیمی اکیڈمی بنائیں تو شہداء کے بچوں کا مستقبل بہتر ہوسکتاہے۔ ہم نے گومل میں کبیر پبلک اکیڈمی بنائی تھی تو اس میں امیروں کے پہلوان بچوں کے مقابلے میں غریبوں کے بچے زیادہ باصلاحیت تھے۔ قوم اس وقت ترقی کرسکتی ہے جب غریبوں کو تعلیم کے یکساں مواقع ملیں۔ قابلیت والے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں اور صلاحیت سے عاری اپنی اوقات میں رہیں تو قوم عروج کی منزل دیکھے گی۔نوازشریف کے بیٹے جتنے بڑے کاروباری خودکو کہہ رہے تھے ، قطری شہزادے کے خطوط نے ان کی مٹی پلید کرکے رکھ دی۔مجیب الرحمن شامی اپنا تأثر قوم کو بتائیں کہ حسین نواز میں ماشاء اللہ کتنی صلاحیت تھی؟۔ یہ لیاری میں گدھا گاڑی چلاتا تو اس کا دماغ بھی تیز ہوجاتا اور صحت بھی بورے اٹھانے سے تندرست رہتی۔ قوم کاچوری پیسہ کھانے پر عزت خراب ہوگئی وہ بھی بچ جاتی۔سعد رفیق کو اپنا رزق حلال کرنے کیلئے غصہ نہ کھانا پڑتاتھا۔عدلیہ ن لیگ کی کارکن تو نہیں بن سکتی ہے۔ جج بیمار ہوسکتے ہیں ، فیصلے میں تاخیری حربے استعمال کرسکتے ہیں ۔ رحمن ملک جب ایف آئی اے کے ملازم تھے تو سپریم کورٹ کے حکم سے تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنایا تھا ، اگر معزز جج صاحب عمران خان کے وکیل پر ہنسیں گے کہ وہی رحمن ملک جو وزیر تھے تو اس سے جج کی عزت میں یقیناًکوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی سرکاری افسر یا ملازم فارغ ہو تو دوسال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سیاسی کردار کو سرکاری ملازم رکھا جائے۔ ججوں کی تقرری سوالیہ نشان ہے، زرداری کے دور میں افتخار چوہدری نے جو جج لئے تھے وہ سب ن لیگ کے قریب سمجھے جاتے تھے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کا معاملہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں، خواجہ آصف نے جان بوجھ کر سابقہ کردار پر میڈیا میں تبصرے پر شرم نہیں کی ۔ قدوس بلوچ

پانامہ لیکس کاکورٹ میں کیس اور اشرف میمن کی طرف سے تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا : روزروزپانامہ پر تبصرے ، بچہ بچہ جانے ہے مگر جج اور جیو نہ جانے، شف شف چھوڑو، شفتالو بولو۔ دماغ کی دہی بنی، رومانس کے بجائے رومینٹک کی کیفیت ہے، سیاستدان سے زیادہ وکیل منافق ہے، صحافی نے وکیل کو مات دیدی ہے۔ لطیفہ ہے کہ عیارنے لوگوں کو ورغلایاکہ مہینہ تک میری ہر فرمائش پوری کردو، تویہ پہاڑ کواٹھا کر دوسری جگہ لے جاؤنگا، مہینے بعد عوام سے کہہ دیا کہ میں پہاڑ کے اس جانب بیٹھ جاتا ہوں اور تم دوسری جانب سے زور لگاؤ، جب لدوا دوگے تو میں اس کو یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا۔ عوام کوبہت ہی امید تھی کہ یہ تماشہ دیکھیں گے ، کھلاتے پلاتے خوار ہوچکے، سادگی میں پہاڑ کو لدوانے پر خوب زور لگایا۔ شام کو تھک ہار کر ناکام ہوگئے تو معذرت کرلی کہ آپ نے وعدہ پوراکیا ،اٹھانے بیٹھ گئے مگرہم نہ لدواسکے ‘‘۔ ججوں نے فیصلہ کرنا ہوتاتواصغر خان کیس پر کیا ہوتا۔وہ شیخ رشید ، سراج الحق کو بھی دھمکائیں۔
مجیب الرحمن شامی جاویدچوہدری ،جاوید ہاشمی اور جیوکے ضمیر بھی قوم کے سامنے آئے ، رؤف کلاسرا اور ارشد شریف نے حقائق کھول کر سامنے رکھ دئیے ۔ پیپلز پارٹی نے تجربہ سے عدلیہ کا رخ نہ کیا یا ن لیگ کی حالت دیکھ کرشلوار گیلی ہوگئی؟ یہ ملک ایک انقلاب کا تقاضہ کرتا ہے جو ججوں کو انصاف سمیت بہالے جائے۔ عدلیہ کاانصاف کیلئے غریب اورامیر کی کرپشن، چوری، قتل، تشدد، عزت وحرمت ہر پیمانہ مختلف ہے۔ انصاف طاقت اورروپیہ سے ملتاہے۔
جنرل راحیل شریف جسٹس ظہیر جمالی کی عدالت میں جاتے، سوشل میڈیا کو کردار کشی نہ کرنے دیتے اور حکمرانوں کو عدالت گرفتار کر لیتی تو جنرل راحیل اپنے وقت پر چلے جاتے۔ آرمی چیف اور جوائنٹ چیف کو تمغے دئیے گئے کل ان کو طعنے ملیں گے کہ ڈان نیوز پر اس وجہ سے اصل کرداروں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا۔ جنرل راحیل کو قدم قدم پر بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔جنرل راحیل نے زندگی فوج میں کھپائی، کرپشن نہیں کی۔ جو زمین ملی اس سے زیادہ مریم نواز نے تحفہ لیکر چند سال میں کمائی پھر تحفہ بھی واپس کیا۔ لیڈر ہو تو ایسا کہ جادو سر چڑھ کربولے مٹی کے بدلے سونا تولے ،یہ سیدھے سادے بھولے بھالے،پھر عیار کیسے جنکے چوری کے مالے، کرتوتہیں کالے؟بڑے بڑے مجرموں کی وجہ سے جرائم کا راستہ نہیں رُکتا اور میڈیا کے بڑے کرشمے ہیں۔اشتہارات کے بدلے جو چاہیں مہم چلائیں۔جیو ایک دن اے آر وائی کی طرح ن لیگ کیخلاف مہم تو چلائے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن وعدہ پورا نہ ہوا۔ سرمایہ کو غیر قانونی طریقے سے باہر لیجانا جرم ہے لیکن قوم کا اشرافیہ اس میں ملوث ہے۔ کرپشن و منی لانڈرنگ کے ملزموں کوان کے خاندان سمیت گرفتار کیا جائے جب تک اپنی دولت واپس نہ لائیں۔ زمین کی مزارعت کا سسٹم ختم کیا جائے ۔ شہروں میں سبزی منڈیوں کے نام پر آڑھت کی دلالی کا نظام ختم کیا جائے تاکہ محنت کش اور صارف دونوں کو فائدہ ہو، صحافت کے نظام کو شفاف بنانے کا اقدام کیا جائے،وکالت کا نظام جرائم پر پردہ ڈالنے کا قانونی جواز فراہم کرتاہے ، شیطانی دھندے کو قانونی لگام دی جائے تاکہ انصاف کو بالادستی حاصل ہو، مقدمہ پر دیر لگانیوالے ججوں کو ایسا مار دینے کا قانون بنایا جائے جیسے ہٹلر نے کرکٹ ٹیم کو قتل اور کرکٹ پر پابندی لگادی ۔ دنیا کی اونچی چوٹی سر کرنے سے انصاف کاملنا مشکل کام ہے۔ پاکستان لندن کا مقتدی بننے کیلئے نہیں امامت کیلئے بنایا گیا تھا۔ ہم نے خود سے انصاف کیا تو ملک کو استحکام ملے گا۔
وکیلوں سے بڑے دلال وہ جج ہیں جو انصاف نہیں منافقت کرتے ہیں۔ قرآن میں ہے کہ ’’جان کے بدلہ جان، آنکھ کے بدلہ آنکھ، کان کے بدلہ کان، دانت کے بدلہ دانت اور زخموں کے بدلہ قصاص‘‘۔ قرآن میں یہ حکم توراۃ کے حوالہ سے ہے۔ یہودی طبقہ نے نسل اور امیر وغریب کیلئے قوانین بدل ڈالے۔ کیا پاکستان ان یہودیوں کے اتباع کیلئے بنایا گیا تھا ؟۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ’’ 62،63کی بات ہو تو سراج الحق کے سوا کوئی بھی پارلیمنٹ میں نہ رہے‘‘۔ پھر اپنے الفاظ واپس لیکر ندامت کا اظہار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟۔ کیا عمران خان کے وکیل پر دباؤ ڈالنا مقصد تھا کہ تیرا مؤکل بھی نہ بچے گا۔ جیسا کہ مختلف مواقع پر ججوں نے اس کا اظہار بھی کیا۔ جس کی وجہ سے بڑا دباؤ پڑتا رہا۔ حامد خان اسی دباؤ کی وجہ سے بھاگا، یا بھگایا گیا۔ جبکہ اکرم شیخ کا معاملہ مختلف تھا، اکرم شیخ نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں نوازشریف قطری سرمایہ بھول گیا‘‘۔توایک جج صاحب نے یہ ٹوٹکا دیا تھا کہ ’’ نوازشریف نے سیاسی بیان دیا ‘‘۔ پھر اگلی پیشی میں وہی بیان نوازشریف کے وکیل نے دیاتھا، نوازشریف پھر بھی پھنس رہا تھا،اب پارلیمنٹ کی غلط بیانی کو تحفظ دیا جارہاہے؟ ۔ شہبازشریف بڑا چیختا تھا جیسے حبیب جالب کی روح جاگی ہو، ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔۔۔
اگر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرٹیکل 62،63پر بیان دینے کے بعد ندامت کا اظہار اسلئے کیا ہو کہ جج کا کام سیاست اور کسی کو آئین کی زد سے بچانا نہیں بلکہ انصاف دینا اور مجرم کو سزا دینا ہے تویہ خوش آئند ہے۔ جو صادق و امین نہ ہو ، اس کو فارغ کیا جائے۔ عمران خان نے ٹھیک کہا کہ میں زد میں آتا ہوں تومجھے نہیں پاکستان اور قوم کو بچایا جائے۔ کسی ذاتی کاروبار کیلئے ٹرسٹ کا لفظ کسی نے نہیں سنا ہوگا۔ حکمران اپنے مفتیان کے ذریعے سود کو بھی جائز قرار دیتاہے۔ انگریزی میں ٹرسٹ ’’وقف‘‘ کو کہتے ہیں جسکی خریدوفروخت نہیں ہوسکتی۔ این جی اوز کے نام پر بھی پیسے کماجاتے ہیں، حالانکہ ان اداروں کا منافع سے کام نہیں ،نوازشریف کے بعد ٹرسٹوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جائے۔
خواجہ آصف نے عمران خان سے کہا تھا کہ ’’او کالیا تیرا کیا بنے گا؟‘‘۔ عدالت میڈیا پر چلنے والے متضاد بیانات کو ایک ایک کرکے چلائے اور تضاد بیانی کی وجہ پوچھے؟۔ خواجہ سعد رفیق میں اخلاقی جرأت ہوتی تو دُرِ یتیم وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کومریضوں کیلئے جعلی اسٹنٹ پر جیل بھجوادیتا۔ جہاں حامد سعید کاظمی کیساتھ’’ آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک‘‘ کا مظاہرہ ہوجاتا اور پیپلزپارٹی کا گلہ دور ہوجاتا کہ ’’عدالت ہم پرایک طرف دشمن کی طرح بھینگی نظرِغضب رکھتی ہے اور ن لیگ کو معشوقہ کی طرح محبت میں دوسری آنکھ بندکرکے پیار دیتی ہے‘‘۔ میاں شریف نے حسین نواز کو وصیت کی تو سرمایہ نوازشریف کا ہی تھا۔ حسین نواز کو مریم نواز ٹرسٹ کنٹرول کرتاہے،کیا حمزہ شہباز اپنے دادا کا پوتا نہیں تھا اسلئے اس پر فخر کرتا ہے؟ ۔ نوازشریف نے کہا کہ چور کبھی اپنے نام پر جائیداد نہیں رکھتا، ساری قوم چور بن جائے تو بھی ایسے لوگوں کو ملک کی باگ ڈور کی امانت نہیں سونپی جاسکتی جو یہ ملک اپنے مفادات کیلئے قرضوں میں ڈبودے۔ قوم کے سارے اثاثے گروی رکھوائے جارہے ہیں اورجس سے ٹیکسوں کا بوجھ قوم پرخود ہی بڑھتا رہیگا۔ کوئی کوئی ایسا ہوتاہے جو ذمہ دار عہدے کا پاس رکھ کر قوم کے مستقبل کا خیال رکھے۔ نوازشریف کی عقل دولت چھپانے کی نذر ہوئی ہے۔
جنرل راحیل چالاک اور بیوقف نہیں ہوشیارو سادہ ہیں۔ بد نیت و بدفطرت انسان میں ذہانت ہو تو اس کو چالاک کہتے ہیں، جوں جوں اس کی عقل کم ہوتی جاتی ہے توں توں وہ بیوقوف کے درجے پر پہنچتا ہے۔ نیک نیت اور اچھی فطرت کے انسان میں ذہانت ہوتی ہے تو وہ ہوشیار ہوتاہے اور جوں جوں اس میں عقل کی کمی ہوتی ہے تو اس کو سادہ کہتے ہیں۔ حدیث میں آتاہے کہ ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنیوالا ہوتاہے‘‘۔ یہ سادہ مؤمن کی نشانی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’مؤمن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا‘‘ یہ بہت ہوشیار مؤمن کی علامت ہے۔ نوازشریف نے ایک مرتبہ ڈاکٹر طاہرالقادری سے بات کرنے کی درخواست کردی اور پھر مکر گیا۔ پھر سعودی عرب بھیج کر کہا کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ جنرل راحیل سادہ مؤمن لگتاہے ، دھوکہ کھاتا ہے دیتا نہیں۔ سعودیہ سے اپنی شرائط رکھ دیں کہ ایران کو بھی شامل کیا جائے۔ اگر سعودیہ شرائط مان لیتا تو پاکستان بھی شامل ہوجاتا۔ تاہم پھر بھی جنرل راحیل اپنے طور سے وہاں کی قیادت لے تو اس کو نیک شگون خیال کرنا چاہیے۔
سند ھ حکومت کراچی اور شہری آبادی میں بلدیہ کے اختیارات ضبط کررہی ہے اور مرکزی حکومت نے کراچی حیدرآباد ہائی وے کے ٹول ٹیکس پر ڈاکہ ڈالا ، دنیا کا ہر طاقتور کمزور کو دباتا ہے اگر یہ روش ختم نہیں کی گئی تو کوئی خوش نہ ہوگا، وزیر اعظم سے انصاف ہوا تودور رس نتیجہ نکلے گا۔ محمداشرف میمن

کیا کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو رعایت دینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

پچھلی پیشی پر نواز شریف کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ قطری شہزادے کا ذکر نواز شریف نے اسلئے نہیں کیا کہ بھول گئے تھے۔ جج نے کہا کہ اگر
قطری شہزادے پر پیسے لگائے ہوتے تو نواز شریف نہ بھولتا۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ قطری شہزادے کے خط اور پارلیمنٹ میں نواز شریف کے بیان میں تضاد ہے۔جج نے کہا کہ نواز شریف کا پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھا۔ اگلی پیشگی پر ن لیگ کے وکیل نے جج والا موقف اختیار کہ نواز شریف کا بیان
سیاسی تھا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ سیاست اس کو کہتے ہیں کہ یا تو آدمی جھوٹ بولے یا سچ کو چھپائے۔ اب جج نے میڈیا کو سوال و جواب پر تبصرہ کرنے سے منع کردیاہے تو کیا نواز شریف کے وکیل نے اگر آئندہ پیشی پر جج کے موقف کو اپنایا تو یہ ٹھیک ہوگا؟ اہم بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار عدالت کے سامنے منی لانڈرنگ کا اقرار کرچکا ہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ اسکے بیان کے فیگر ٹھیک تھے یا غلط ۔ اگر اسکے بیان کے فیگر درست نکلے تو پھر نئے سوالات کھڑے کرنے کی ضرورت نہیں ہے منی لانڈرنگ اس سے ثابت ہوچکی تھی مگر ناجائز طریقے سے کورٹ نے وہ فیصلہ معطل کردیا۔
تو کیا کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو رعایت دینے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک کا بیان

وزیراعظم نوازشریف اعلان کردے کہ ’’ زرداری بھی قوم کا پیسہ لوٹادے اور میرے بچے بھی لوٹادیں، انصاف کیمطابق فیصلہ نہ ہوا تو احتجاج کی قیادت میں خود کرونگا‘‘۔
جنرل راحیل شریف نے غیرجانبداری کا کردار ادا کرکے قوم ،ملک اور سلطنت کو مضبوط کیا۔ جج کی پریکٹس وکالت کی ہوتی ہے اسلئے اسکے ضمیر پر قوم کاکوئی اعتماد نہیں ہوتا
اکبر الہ آبادی نے کہا : وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا ۔ صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہتا ہے کہ اس شعر کو بھول جاؤ، حق تو یہ تھا جو ادا ہوا

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ’’ جب جج، جنرل اور جنرنلسٹ(صحافی) جانبدار بن جائیں تو ان کو جبری طور سے جیل جانا چاہیے۔ جنرل راحیل کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرکے قوم، ملک اور سلطنت کو استحکام کے راستے پر ڈالا۔ حکومت اور اپوزیشن میں اعتدال کی راہ پر چلے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری عمران خان اور نوازشریف شہباز شریف میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر خورشید کو یومِ دفاع کی مرکزی تقریب میں ساتھ بٹھایا، مسلم لیگ ن کی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ کھل کر اظہار کرتی کہ’’ غیرجانبدار آرمی چیف اور فوج کے کردار پر فخرہے،جو سازشی عناصر کے پیچھے بھی نہیں اورنہ حکومت کی دُم چھلہ ہے‘‘۔ مگر ن لیگ کی قیادت ہی ایسی کم عقل ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور آرمی چیف نے کرپشن کیخلاف بیان دیا تو نوازشریف کو اس کا بھرپور خیرمقدم کرنا چاہیے تھا، وزیراعظم نے الٹا حساب مانگا ،کہ’’ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا ، ہتھکڑی لگائی، حکومت ختم کی گئی اسکا حساب کون دیگا؟‘‘۔میڈیا کو چاہیے تھا ،کہتاکہ’’ جواب اپنے باپ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے لے لو، جس نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو قانون سازی کرنے اجازت دیدی۔نامزد چیف جسٹس ٹھیک کہتے ہونگے کہ ’’ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا۔ عوام مایوس نہ ہوں۔ہم انصاف ہی کرینگے‘‘۔
انسانوں کے ضمیر میں اختلاف ہوتاہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں بھائی اور پیغمبر تھے۔ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں سامری کے ورغلانے سے ایک بچھڑے کی عبادت شروع کردی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عوام کو سزا نہیں دی ، اپنے ذمہ دار بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا، حضرت ہارونؑ نے کہا کہ ’’میں نے اسلئے منع نہ کیا کہ ان میں تفریق پیدا ہوتی، جس پر آپ کہتے کہ قوم کو تقسیم کردیاہے‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ناراض ہونا اور حضرت ہارون علیہ السلام کا نظریۂ ضرورت پر عمل کرنا ضمیر کا اختلاف تھا کوئی کوتاہی نہ تھی۔ یہ سچ ہے کہ جسٹس منیر سے لیکر جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کئے ہونگے لیکن ضمیروں کا اختلاف بھی قوم کیلئے بعض اوقات اطمینان کا ذریعہ نہیں بن سکاہے۔ ن لیگ نے جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، ڈوگر کے خلاف طوفان برپا کیاتھا، جسٹس قیوم کا فون اور اقرارِ جرم ریکارڈ پر ہے۔وزیرداخلہ چوہدری نثارنے ٹھیک ٹھاک پریس کانفرنس کردی ہے اور ٹھنڈی فوج کی موجودگی میں عدالت کیلئے حکومت کے خلاف انصاف سے فیصلہ کرنا بھی ضمیر کیلئے بڑے دل گردے کا کام ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا اور نبیﷺ نے اپنے ضمیر کے مطابق ہی کیا تھالیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت کے ضمیر اس پر متفق نہ تھے اور کھل کر اپنے اختلاف کااظہارِ رائے کررہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کو وحی کے ذریعے فتح مبین قرار دیا۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے بدر ی قیدیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق فدیہ لیکر رہا کرنے کا مشورہ دیا اور نبیﷺ نے فیصلہ فرمادیا لیکن اللہ نے اس کو نامناسب اور دنیا کی چاہت کا آئینہ دار قرار دیا۔ وحی کا سلسلہ بند ہوچکاہے اور عدلیہ اپنے ضمیر کے مطابق انصاف کرے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور قوم کو فیصلے سے اختلاف ہو تو بھرپور احتجاج کا حق بھی رکھتی ہے ۔اپنے لئے شہبازشریف ڈوگر کیخلاف چیخا تھا ،قوم کیلئے بھی کھل کر کردار ادا کرے۔
جیو اور جنگ گروپ جمہوری نظام کی سہولت کاری کے طور پر فوج کو بدنام کرے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو سو خون بھی معاف ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو دوام بخشنے کیلئے یہ کردار ادا ہو تو اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟، شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں جنید نے حامد میر کے ذریعہ پیپلزپارٹی کیخلاف ن لیگ کے اقدام کو غیر مناسب قرار دینے کا سہرا پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کا نام لئے بغیر ڈالا۔ یہ جیو کی منافقانہ پالیسی ہے کہ 27دسمبر سے پہلے پیپلزپارٹی کو رام کرنے کیلئے پروگرام کیاگیا، روزنامہ جنگ کراچی میں مین لیڈ لگی تھی کہ وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہے۔ حالانکہ اسی شام میڈیا پر لائیو پروگرام میں حامدسعید کاظمی حلفیہ بیان دے رہے تھے کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی ہے۔ کیا جنگ اور جیو کو اعترافِ جرم کیلئے بہت مجبور کیا جائے گا تو اپنا اخلاقی فرض ادا کرینگے؟۔ آزادئ صحافت پر قد غن کا لگانا بڑی بیمار ذہنیت کی علامت ہے، سرِ عام جھوٹ کا بکنا بذاتِ خود بڑی سزاہے مگر اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی سیاسی جماعت کی سپورٹ یا مخالفت صحافت کے مقدس پیشے سے بدترین بددیانتی کا ارتکاب ہے۔ غیرجانبداری کے بل بوتے پر ہی صحافت کی اجازت ملتی ہے۔ آج صحافیوں اور میڈیا چینلوں کی اکثریت کھل کر انحراف کے مرتکب ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کو قانون صحافت کی اجازت نہیں دیتا مگر یہاں تو آوے کا آوابگڑا ہواہے۔بازارِ صحافت کا ہر میراثی نمبر ون کے دعوے کرتانظرآتاہے۔
قوم کو عدل واعتدال والے ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی سخت ضرورت ہے۔ عدالت اگر سابقہ ججوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے بے انصافی کرنے والوں کو سزا دے تو جرنیل کو بھی شکوہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف کی طرح ججوں کو بھی کٹہرے کا سامنا کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ضمیر کے مطابق ہوسکتا تھا کہ بعض ججوں کو پی سی او کے تحت ہی حلف اٹھانے پر انہی ججوں نے سزا دی جو خود ہی اس جرم میں ملوث رہے تھے۔ ضمیروں کا اختلاف بڑی رحمت ہے اور بعض اوقات ضمیروں کے اختلاف رحمت بھی بنتاہے لیکن بعض اوقات پتہ چلتا ہے کہ ضمیر اتنا آلودہ ہوچکا ہوتاہے کہ قانون کیساتھ جج بھی خود کو اندھا وکیل بنالیتاہے۔ قصور اس کا اس لئے نہیں ہوتا کہ ’’ہمارے نظام میں وکالت کی پریکٹس کرنے والوں کو بھی جج بنالیا جاتاہے‘‘۔ وکیل کا کام انصاف کرنا نہیں ہوتا بلکہ مجرم کو تحفظ دینا ہوتاہے، اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر سے معذرت کیساتھ جس کرپٹ اور جرائم پیشہ شخص کی معزز وکلاء صفائی کا ٹھیکہ اٹھالیں تواکبر الہ آبادی کے شعر کی یاد تازہ ہوگی کہ وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہ رہاہے کہ ’’اس شعر کو بھول جاؤ، مجھے دیکھو، حق تویہ تھا جو ادا ہوا‘‘۔
پوری قوم اور سیاسی قیادت کو نکل کر کہہ دینا چاہیے کہ ’’ اگر انصاف کا قیام عمل میں لایا گیا تویہ خوشگوار طریقے سے تبدیلی قوم کی خوشحالی ہوگی‘‘۔ نوازشریف کہہ دے کہ مجھے عدالت سے انصاف چاہیے، زرداری بھی چور تھا اور میں نے ٹھیک کہا تھا کہ قوم کا پیسہ واپس آنا چاہیے، میں بھی چور ہوں اور اپنے بچوں اور دوستوں کے نام پر پیسہ لوٹانے کے خلاف عدالت کو میرے خلاف بھی درست فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ قوم کے احتجاج کی قیادت مجھے کرنی پڑیگی، مجھے انصاف دواور زرداری کو بھی پیسہ لوٹانے پر مجبور کردو، یہ قوم بہت پس چکی ہے، اب کہیں ہمیں پیس کر نہ رکھ دے‘‘ ۔اجمل ملک

سیاسی نظام کی اصلاح

سب سے زیادہ قابلِ داد وہ سیاسی ورکر ہوتاہے جو غریب کی ہر مشکل میں کام آتاہے، ڈکٹیٹر شپ قوم پر مسلط ہوتی ہے تو یہی ورکر اور رہنما جیلوں کی صعوبت برداشت کرتے ہیں۔قربانیاں دیتے ہیں، عوام کے درمیان رہتے ہیں، جینے مرنے میں ساتھ ہوتے ہیں، باغی کہلاتے ہیں، جیالا اور جنونی کہلانے پر فخر کرتے ہیں ، مخالفین کی طرف سے آسائشوں کی پیشکشوں کوٹھکراتے ہیں اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگاکر نظرئیے ، تبدیلی اور عوامی خدمت کو اپنا مشن بناکر رکھتے ہیں، دوسری طرف سیاسی قیادت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، ان کا علاج ملک سے باہر ہوتاہے، ڈاکٹروں کی مبہم سی ہدایات پر دنیا بھر میں گھوم سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں آسکتے۔ جھوٹی بیماریاں جھوٹے علاج کرنے والے قائدین کے چاہنے والے غریبوں کو سچ کی بیماری اور سچ کا علاج بھی نصیب نہیں ہوتاہے۔
ایں خیال است و محال است کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے سے کوئی مثبت اور بنیادی تبدیلی آئے گی۔ قانون بنایا گیا کہ قومی اسمبلی کے الیکشن میں 15لاکھ سے زیادہ رقم خرچ نہ ہوگی لیکن کیا اس پر عمل درآمد ہوا؟۔ ایاز صادق اسپیکرقومی اسمبلی اسپیکر اور تحریک انصاف کے علیم خان نے15لاکھ کے بجائے 15,15کروڑ کا خرچہ نہیں کیا بلکہ نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن کے جیو کا پروگرام تھا جس میں50,50کروڑ سے زیادہ خرچہ کرنے کی بات عوام کے سامنے لائی گئی۔ اور جہانگیر ترین کو اس حلقے والے جانتے بھی نہ تھے جہاں سے الیکشن لڑا ، ایک ارب کا خرچہ میڈیاپر بتایا گیا۔ جسکے پاس الیکشن لڑنے کیلئے 15لاکھ روپے ہوتے ہیں وہ غریب اور پسے ہوئے طبقات کا دکھ درد نہیں سمجھ سکتاہے اور جہاں طلال چوہدری دانیال عزیز، جہانگیرترین اور دیگر لوٹے شوٹے قیادت کی آنکھ کا تارا ہوں، ان موتیا کے مریضوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے کبھی نظر نہیں آسکتے ہیں۔ ایک ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو غریب ، قوم اور جمہوریت کی آواز بن کر اُبھرے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے انتظار میں عمران خان نے اپنا لائحۂ عمل بعد میں دینے کا اعلان کیا،حالانکہ جب پنڈی میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے جلسہ کیا تھا اس کا بھی عمران خان نے انتظار کیا تھا، ڈاکٹر طاہرالقادری کے بعدہی رائیونڈ جانے کا اعلان کیا لیکن فسٹ کزن نے سرخ بتی دکھادی، جب عمران خان نے 2نومبر کا اعلان کیا تھا اور فضا گرم تھی تو پھر بلاول بھٹو نے بھی 7نومبر کا اعلا ن کردیا تھا۔ اللہ خیر کرے کہ چوہدری اعتزاز احسن کو بلاول بھٹو حکم نہ دے کہ پانامہ لیکس میں نوازشریف کے وکیل بن جاؤ، زرداری کو بھی قابل وکیلوں نے بچایا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کو اردو صحیح نہیں آتی ورنہ اور کچھ نہیں تو نواب شاہ اور لاڑکانہ کے الیکشن کو جیتنے کیلئے شہبازشریف کو پرجوش تقریروں کا حوالہ دیتا کہ ’’ تم نے کہا تھا کہ صدر زرداری کو لٹکا دونگا، اب آؤ، تم زیادہ پکے مسلمان ہو، وعدہ کو قرآن و حدیث کی رو سے پورا کرنا ضروری سمجھتے ہو، پانامہ لیکس سے آلودہ نہیں دامن صاف ہے تو اس جوش کیساتھ خالی تقریر ہی کرکے دکھادو، کہ زرداری کو میں گھسیٹوں گا، پیٹ چاک کرونگا، چوکوں پر لٹکاونگا۔ میں بھی کہتا ہوں کہ کراچی سے جو پائپ لائن قطری گیس کی جارہی ہے، ایران کی سستی گیس کو چھوڑدیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف مل جاتی تو اسی پائپ لائن کے اندر دونوں بھائیوں کو ڈال دونگا، بھلے نون لیگی مجھے شائستگی سکھادیں‘‘۔
عبدالحکیم بلوچ نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی، پھر ن لیگ میں وزیرِ مملکت برائے ریلوے بن گئے اور پھر وزارت کو لات مارکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ انکے حلقہ صالح محمد گوٹھ میں ویرانے کی طرف میمن گوٹھ جاتے ہوئے ایک پرانا کھمبا پڑا ہے، جس کو قانون کے خوف سے چور نہیں لے جاتے مگر ٹانک سے بنوں تک پورا ریلوے ٹریک نوازشریف نے اتفاق کی بھٹی میں ڈال دیا۔ بڑے چوروں نے سیاست کو تجارت بنالیاہے۔درباری ملا دوپیازے ہر دور کے بادشاہوں کو میسر آجاتے ہیں، پاکستان کی سیاست کے فیصلے لندن میں ہوں، لندن میں رہنے والے کریں تو قوم کو کبھی درست سمت نہیں لے جاسکتے۔ جبتک جنرل راحیل شریف سے اہل اقتدار خوفزدہ تھے تو بھارت نے ہمارے معصوم لوگوں کو سرحد پر مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہندوستان سے دوستی ہونی چاہیے لیکن اسلئے نہیں کہ سرحدوں پر بھی دوستی نبھانے کیلئے ٹینشن کا کام لیں۔
پنجاب حکومت نے عوام کو گدھوں کا گوشت کھانے سے بچانے والی عائشہ ممتاز اور سندھ نے ایماندار پولیس آفسر اے ڈی خواجہ کو ہٹادیا۔ پانی سے مالامال اور سستی بجلی پیدا کرکے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے سوئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس سے بھی سیاستدانوں کے پیٹ نہیں بھرے اور مخلص ورکروں اور رہنماؤں کا فرض بنتاہے کہ خودہی اپنی اپنی قیادتوں کے خلاف بھی آواز بلند کر دیں۔ سیاست ملازمت کی طرح بن جائے تو پاکستان میں جمہوری کلچر کبھی پروان نہیں چڑھے گا۔

ریاستی نظام کی اصلاح

ہماری سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں بافی قوم کی طرح اچھے برے لوگ ہیں مگرکوئی اپنے اہل و نااہل بیٹے یا بیٹی کو آرمی چیف نہیں بناسکتا اور جس سیاسی ، جمہوری اور آئینی نظام کے ماتحت ہماری سول وملٹری بیوروکریسی ہے وہاں موروثی نظام کے تحت بیٹا، بیٹی، پوتا اور نواسہ عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ میڈیا سکرین پر راج کرنیوالے صحافی نظام کی تبدیلی کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مقابلہ میں موروثی جمہوریت کو سپورٹ کرکے جمہوریت کی خدمت سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو تین طلاق دینے کے درپے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے توقع رکھتے تھے کہ 27 دسمبر کو بڑا اعلان ہوگا۔ باپ بیٹے نے اچھا کیا کہ ’’ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی تمنائیں رکھ کر جینے والوں کی خواہش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا کہ اسی اسمبلی کا حصہ بنیں گے جس پر کرپشن کا شاہسوار ہی حکومت کرنیکی اہلیت رکھتاہے‘‘۔ یہ کھیل بالکل ختم ہونا چاہیے کہ جمہوری حکومت پردباؤ ڈال کربیوروکریسی کے کرتے دھرتے اپنا الو سیدھا کرکے بیٹھ جائیں۔جنرل راحیل کے مداح سراؤں نے نیا موڑ لیا کہ’’ عمران خان بڑی چیز ہے،راحیل کی بات نہیں مانی ورنہ معاملہ بدلتا‘‘۔ عمران کہے گا کہ یہ کیا بکواس ہے؟۔
ڈاکٹر طاہرالقادری سے انقلاب کی کیاتوقع ہوگی کہ رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا ، پھر اسکی طرف جانیوالی راہ پر بھی احتجاج جمہوریت و اسلام کیخلاف قرار دیا۔ عمران خان نے بھی دس لاکھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا لیکن اس خوف سے کہ اس کو بنی گالہ سے نہ نکالا جائے ، اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنی حفاظتی حصار کیلئے پاس بلالیا اور کارکنوں کو مار کھلانے کے بعد خود کو بچانے کیلئے مبارک ہو، کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ عمران خان نے یوٹرن لے کر بڑی غلطی کی اور عمران کہتاہے کہ تم اپنے یوٹرن کو کیا بھول گئے؟۔ یہ طے ہے کہ کوئی مرتاہے تو آس پاس والے کفن دفن اور جنازہ پڑھنے کیلئے پہنچتے ہیں، شادی کے موقع پر بھنگڑے ڈالنے لوگ آتے ہیں۔ موجودہ سیاسی لیڈر شپ میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ عمران خان نے بھی نہ صرف پرویزمشرف کی حمایت کا کردار ادا کیا تھا بلکہ دھرنے میں لمبے عرصہ سے امپائر کی انگلی اٹھنے کیلئے التحیات للہ والصلوٰ ت والطیباتپڑھنے کا ورد سلام پھیرنے تک جاری رکھا، طالبان کیلئے ایاک نعبد و ایاک نستعین اور اب امام ضامن بھی باندھا۔
مولانا فضل الرحمن کی بات ٹھیک ہوگی کہ مدارس سے ایک دہشت گرد نہ پکڑا گیامگر جے یوآئی (ف) کے رہنما مولانا سید محمد بنوریؒ کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں امریکہ نے ڈرون حملے سے تو شہید نہیں کیا؟۔خود کشی کا الزام لگایا تو خود کشی کرنیوالے کو مسجد کے احاطہ میں دفن کیا؟۔ جنرل ضیاء اور جنید جمشید کی باقیات کو عزت ملی، جنرل مشرف نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھنے کو اعزاز قرار دیا، اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خانہ کعبہ میں داخل ہونے کا اعزاز مل گیا۔ خانہ کعبہ میں رہائش پذیر ہونے کا اعزاز لات،منات سمیت 360 بتوں کو بھی ملا تھا، ظالم جابر بادشاہوں کو تاریخ کے ہردور میں خانہ کعبہ کے غلاف میں منہ چھپانے کا اعزاز ملتا رہا مگر حقیقی اعزاز توکردار کا ہوتاہے۔ صحافی سلیم بخاری نے کہا :جمعیت علماء ہند کے ایک عالم نے بتایا کہ ’’باجوہ کا خاندان سنی ہے‘‘۔ مجھ سے بڑے بھائی پیرنثار احمد شاہ سے کہا گیا تھا کہ اگر انٹرویو میں کہہ دو کہ احمدی ہوں تو فوج میں سلیکٹ ہوگے، بھائی نے یہ تو نہ کیا البتہ سیدعطاء شاہ بخاریؒ کو اپنی محبوب شخصیت قرار دیا، ہوسکتا ہے کہ باجوہ نے بھی سلیکشن کیلئے کہہ دیا ہو کہ احمدی ہوں اور پھر ترقی کیلئے برأت کا اعلان بھی کیا ہو، مجھے زیادہ معلومات ہیں اور نہ دلچسپی۔ کسی نے بتایا کہ جنرل رحیم اچھا انسان اور قادیانی تھا جو جنرل ضیاء الحق نہیں اعجازالحق کا سسر تھا۔ قادیانیوں نے بھی مذہب کو پیشہ بنایاہے اور دوسروں سے زیادہ ان پر مذہبی خبط سوار ہے۔ ہماری فوج، عدلیہ،انتظامیہ اور سیاسی قیادت بنانا انگریزہی کا کارنامہ تھالیکن مدارس اور مذہبی لوگوں نے اسلام کا ایسا بیڑہ غرق کردیاہے کہ اگر انگریز کے ہاتھ میں یہ مدارس ہوتے تو شاید دنیا کی سطح پر ابھی اسلامی خلافت کا نظام بھی عمل میں آجاتا۔
ہماری ریاست نے امریکہ کی سرپرستی میں اہل مدارس، فرقہ پرستی ، جہادی سرگرمی اور شدت پسندی کو رواج دیکر اسلام کا حلیہ مزید بگاڑا، مسلمان کو بدنام ہوا،ریاست کو لے پالک مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے نجات حاصل کرے۔ محنت کش عوام جانوروں کی زندگی گزار رہی ہے، غریب تنگ آمد بجنگ آمد کی حد تک پہنچے توواقعی اینٹ سے اینٹ بج جائیگی ،زرداری والی دھمکی نہ ہوگی۔
چوہدری نثار نے جسٹس کو بدنام کرنے پر ایکشن لیایا رام کرناچاہا ؟ایکشن کی منتظر لمبی فہرست تھی،غلط پروپیگنڈے سے زیادہ وزیرداخلہ کی اپنی پریس کانفرنس قابلِ گرفت تھی ۔ حکیم اللہ محسود کی روح تڑپی ہوگی کہ ’’ہم جان اور خاندان سے گزرگئے اورتم نے کھدڑے چوہدری سے ملادیا؟‘‘۔