پوسٹ تلاش کریں

جنرل راحیل شریف کا کردار اور پختون قوم کی شکایت

پختون قوم کی اکثریت اپنے گناہوں کی سزا کھا رہی ہے ظھرالفساد فی البر والبحر بماکسبت ایدی الناس ’’ فساد ظاہر ہوا خشکی اور سمندر میں بوجہ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے ‘‘۔ مگر اسکو گلہ پاک فوج کے جوانوں سے ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو پوری پاکستانی قوم کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں اور پختون من حیث القوم طالبان بن گئے۔طالبان کے شدت پسند حامی کہتے تھے کہ ’’ اللہ کرے کہ انڈیا ہماری فوج کو پکڑلے‘‘۔ فوج کی طرف سے طالبان کیخلاف کوئی موثر کاروائی ہوتی تو بغاوت بھی پھیل سکتی تھی۔پوری قوم کی طرح پاک فوج بھی طالبان کیخلاف نہ تھی، امریکہ بھی القاعدہ کا مخالف تھااور طالبان رہنماؤں کو دنیا بھر میں آزادی سے نقل وحمل کی اجازت تھی ،امریکہ و طالبان کی مشترکہ منڈی کامرکزقطر تھا،اس اندھی لڑائی میں دوست دشمن کی تفریق ممکن نہ تھی، پاکستان اور امریکہ بھی ایک دوسرے کے برابر دشمن بھی رہے اور دوست بھی۔
جنرل راحیل شریف سے پہلے پرویزمشرف کے دور میں پاک فوج کو عوام نے بہت قریب سے دیکھا، جنرل کیانی کے چھ سالہ دورِ اقتدار میں پاک فوج نے عوام کو اپنا چہرہ اورقریب سے دکھایا، فوج کے اہلکار بوتلوں میں پیٹرول اور ڈرموں میں ڈیزل سڑکوں پر بیچتے تھے، پولیس کی طرح جرائم پیشہ عناصر سے تانے بانے بھی کھل کر ملتے تھے، ریاست کی رٹ بالکل ختم ہوگئی تھی۔ ایک نابینا مولوی کا لطیفہ تھا کہ اپنے شاگرد سے کہا کہ جب لوگ کھانے کے مشترکہ تھال میں کھانا شروع کریں اگردوسرے تیز کھائیں تومجھے بھی ہلکا سا اشارہ کردیں، پسلی پر ہاتھ مار دیں ،پھر میں بھی تیز کھانا شروع کرونگا۔ شاگرد طالب کو اس کی بات ناگوار لگی اور اسکے ذہن سے بات بھی نکل گئی، جب کھانا شروع ہوا تو نابینا نے پہلے سے بڑے بڑے نوالے لینا شروع کردئیے، شاگرد نے سوچا کہ اشارے سے سمجھا دیتا ہوں کہ بُرے لگتے ہو اور ہلکا سا ہاتھ مار کر اشارہ کردیا، مولوی نے سمجھا کہ تیز کھانے کیلئے کہہ رہا ہے۔ اس طرح شاگرد اس کو منع کرنے کیلئے اپنا ہاتھ مارتا رہا اور مولوی مزید تیز ی سے کھاتا رہا اور آخر شاگرد نے زور دار طریقہ سے مکا مارا،کہ بس کرے اور اس نے کھانا اپنے دامن میں دونوں ہاتھوں سے ڈالنا شروع کیا اور گالیاں بھی دے رہا تھا کہ میں رہ گیا اور سب نے لوٹ کر کھانا کھایا ہے جبکہ لوگ اس حریص ہی کا تماشہ دیکھتے رہ گئے۔
جنرل اشفاق کیانی کی قیادت میں بس یہی جملہ کراچی کے رینجرز سے فوج کے تمام اداروں میں مشہور تھا کہ اگرملک زرداری اور اسکے ساتھی کھالیں، لوٹ مار کریں تو ہم کیوں کر مستحق نہیں ہیں، جنرل راحیل شریف کی قیادت میں سب سے پہلے جو ہاتھ ڈالا گیا وہ اپنے ادارے اور اسکے لواحقین پر ڈالا گیا۔ ایگزیکٹ کی طرح دنیا بھر میں جعلی تعلیمی ادارے اسناد بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں اور بڑے کھل کر کرتے ہیں مگر جنرل راحیل شریف کی ٹیم نے سارے مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ان تمام افراد پر پہلے ہاتھ ڈالا،جنکے تانے بانے اپنوں سے ملتے ہوں۔ اس انتھک محنت، جدو جہد اور مؤثر کاروائیوں کے نتیجے میں ملک تاریکی سے اجالے، دہشت گردی سے امن وامان اور کرپشن سے دیانت وامانت کی طرف گامزن ہوا ہے۔
ایک شخص جنرل راحیل شریف اپنی ٹیم کیساتھ بہت کچھ کر گیا اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، چیف جسٹس انور ظہیرجمالی بھی بذاتِ خود ایک بہت اچھے انسان ہیں، جن سیاستدانوں کو کرپشن کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا، ان پر ہاتھ ڈالے بغیر قوم کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، سازشوں کی لہریں اٹھ رہی ہیں، موجودہ حکمرانوں میں اہلیت نہیں ، قوم کو صرف اس طرف لگایا گیا ہے کہ زیادہ کرپٹ، بدمعاش، بداخلاق اور بدکردار سیاستدان ہیں یا پاک فوج ہے؟۔ دونوں اسی دھرتی کے باسی اور ماشاء اللہ وسبحان اللہ ہیں۔دونوں میں اچھے برے ہیں، دونوں نے غلطیاں کی ہیں،دونوں کو قربانیاں دینی پڑیں گی اور پاکستان کی ترقی کیلئے ایک نئے سرے سے لوگوں میں انسانیت، اخلاقیات، صداقت، عفو و درگزر ، شجاعت ، دیانت ،امانت اور ایمانیات کا احساس اجاگر کرنا ہوگا۔
یہ قوم مردہ ، ضمیر فروش، اخلاق باختہ ، انسانیت کُش اور تمام طرح کی روحانی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہوچکی ہے۔ تہذیبِ اخلاق کیلئے صرف جذبہ سے نہیں بلکہ مؤثر قانون سازی اور کردار سے اس میں اعلیٰ انسانیت کی روح پھونکی جاسکتی ہے۔ یہ کس کی سازش ہے کہ ہم سڑکوں پر انسانیت کے تمام معیارات بھول جاتے ہیں؟۔ یہ ہمارے رول ماڈلز کا تحفہ ہے جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں سڑک کشادہ ہونی چاہیے تھی، وہاں بااثر طبقہ کی طرف سے اپنی جان کی امان کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرکے عوام کا جینا دوبھر کرنے کا سامان کیا گیا ۔رائے ونڈ محل کی سیکیورٹی سے عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں لیکن تحریک انصاف کی جہاں حکومت ہے وہاں کے صدر مقام پشاور میں کورکمانڈر ہاؤس کے سامنے ایک طرف کی سڑک رات کو بند کی جاتی ہے، ہمارے دفاعی ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہیں یا اپنے تحفظ کیلئے عوام کا جینا دوبھر کرنے کیلئے؟۔
ایسے سیاسی حکمران بھٹو، نواز شریف اور عمران خان تک کسی کام کے نہیں جو فوجی افسران کا دم چھلہ ہوں، فوج کا کام عوام پر حکمرانی کرنا نہیں اپنی ڈیوٹی انجام دینا ہے اور سیاسی حکمران اگر عوام کے درست معنیٰ میں خادم اور نوکر ہوں تو فوج عوام کی غلام ہونی چاہیے۔ انگریز نے اپنی غلامی کیلئے جن کو بنایا ہے ، یہ اپنی عوام پر حکمرانی کرینگے تو گدھوں کی دولتی سے عوام کی ناک بھی ٹوٹے گی، ناک نہ رہے تو عزت کیا رہے گی؟۔ حکمران غلاموں کے غلام ہونگے تو ان میں اخلاقیات کا کیا معیار ہوگا؟۔ پاک فوج کا سربراہ اپنے غلام حکمران کو کیا سلام کریگا؟۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان جیسے لوگ شرم ، حیاء، اخلاقیات، انسانیت اور اسلام کے کسی اصول کو نہیں مانتے۔جسطرح نوازشریف نے کاروبار سیاست سے فائدہ اٹھاکر اخلاقیات کیلئے کوئی رول ماڈل کا کردار ادا نہ کیا، اسی طرح فلاحی اداروں کے بل بوتے پر اپنا مفاد حاصل کرنے والا کوئی ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتاہے۔ پاکستان میں شریف اور اچھے لوگوں کی کسی بھی ادارے میں کمی نہیں مگر اہل لوگوں کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور بک بک کرنے والوں اور بے شرمی سے گھناؤنا کردار ادا کرنے والوں کو ہی آگے لایا جاتا ہے۔
سوات میں افضل خان لالا مرحوم نے دہشت گردی کے خلاف جو کردار ادا کیا، اگر حکومت ،میڈیا،سیاستدان اور عوام ان کو پذیرائی بخشتے تو ملالہ یوسف زئی کو آدھا نوبل انعام ملا، اس سے پہلے افضل خان لالا پورے نوبل انعام کے مستحق تھے، اس طرح میاں افتخار حسین نے جن مشکلات کے دور میں جو کردار ادا کیا ، تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسکے گھر پر تماشہ لگاکر کتنا مضحکہ خیز کردار ادا کیا؟۔ اس پر قتل کا پرچہ کٹوایا گیا۔ کوئی شریف آدمی تحریک انصاف کے بداخلاق رہنماؤں کیساتھ کسی ذمہ دار عہدے پر کام کرنے کیلئے بھی آمادہ نہیں ہوتا ۔ مولانا فضل الرحمن کا حال تو اتنا بُرا ہوا کہ ہمارے ہاں ایک ریٹائرڈفوجی حوالدارہے جس کو بالآخر یہ تک شرارتی بچہ پارٹی کہتی تھی کہ دو روپیہ میں اپنا چوتڑ دیوار سے ٹکراؤ، وہ رقم کی خاطر ریورس گیر لگاکر چوتڑ کو دیوار سے ٹکرا دیتا تھا، مسلم (ن) کا ایک گھٹیا کارکن بھی مولانا فضل الرحمن کی طرح نہ کہتا کہ ’’پنجاب کے شیروں کو پختونخواہ کے چوہوں نے للکارا ہے‘‘۔ فوج تبدیلی کی خواہش رکھتی ہو تو خود بھی حکمرانی کی کوشش نہ کرے اور گھٹیا سیاستدانوں کو بھی نہ لائے، شریف لوگوں کے ذریعہ نظام کو درست کرنے کیلئے قومی حکومت ہو تو اچھے نتائج نکلیں گے۔عوام چہروں کی نہیں نظام کی تبدیلی چاہتی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر طاہرالقادری کا دھرنااورکچھ معروضی حقائق

یوں تو پتہ نہیں چلتا کہ خودکش حملوں اور پلانٹ کردہ بموں کے اصل کردار کون ہیں مگرماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کی انکوائری مشکل نہیں ، البتہ لاہورکے تازہ واقعہ میں شہید ہونے والے70افراد حرفِ غلط کی طرح بھُلادئیے گئے جن کی چپقلش بھی نہ تھی بس تاریک راتوں میں مارے گئے۔اسلام آباد دھرنے میںPAT کے کارکنوں نے ایس ایس پی کی جس طرح ٹھکائی کردی، اسلام آباد ائرپورٹ پر جس طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کے جیالوں نے پولیس کو مارا، وہ کسی سے مخفی نہیں، ماڈل ٹاؤن میں پہلی مرتبہ ڈنڈے مارنے اور جوش کا مظاہرہ کیا ہوگا تو پولیس نے گولیاں چلائی ہونگی۔ اس سانحہ کی ذمہ دار صرف ریاست نہیں بلکہ PAT بھی ہے جس نے غریبوں کو ڈنڈے مارنے اور گولیاں کھانے کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
پہلی مرتبہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد دھرنے کا اعلان کیا تو کراچی آئے اور ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین گویا اسکے فسٹ کزن تھے جبکہ دوسرے دھرنے کے دوران عمران خان فسٹ کزن قرار پائے جو الطاف حسین کو ہزاروں افراد کا قاتل ، ظالم اور جابر کہتا ہے۔ اب اس سوال کا جواب چاہیے کہ 14افراد کے قتل پر آسمان و زمین کی قلابیں ملانے اور انقلابیں برپا کرنے والے کو اس وقت ہزاروں افراد کا قاتل الطاف اپنی طرح ایک مسیحا اور بھائی لگتے تھے اور نظام کی تبدیلی کیلئے اسی کا ساتھ چاہیے تھا ؟۔ اگر یہ سب جھوٹ اور غلط پروپیگنڈہ ہے تو اپنے بھائی کے حق میں آواز کیوں نہیں اُٹھائی جارہی ہے؟۔ تقریر و تصویر پر پابندی تو دنیا کے بڑے بڑے دہشت گردوں کی بھی نہیں لگی تو کیا اس پابندی نے الطاف حسین کو دنیا کا واحد مقبول لیڈر نہ بنایا؟۔ کراچی کی عوام لکھی پڑھی ہے، اگر ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح الطاف حسین کا متضادرویہ اور تقریروں کا عجب انداز سامنے لایا جاتا تو عقیدت و محبت میں کیا اضافہ ہوتا؟۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی ویڈیو دکھائی جاتی ہے جسمیں سینہ کھول کر وہ کہتے ہیں کہ گولی مار دو میں نہیں ڈرتا، اور پھر لوڈسپیکر پھٹنے پر حواسہ باختہ دکھایا جاتا ہے،حالانکہ قوتِ مدافعت سے اچانک لرز جانا کوئی بزدلی بھی نہیں ۔
البتہ جب ڈاکٹر طاہرالقادری امارات کے جہاز میں چپک کر بیٹھ گئے اور کہاکہ ’’میں اتروں گا نہیں ورنہ ماردیا جاؤں گا‘‘۔ تو اتنا کہہ دیا جاتا کہ تم نے اس وقت خوف کا مظاہرہ کیا ،اپنے عقیدتمندوں کے سامنے بھونڈی حرکت کی ضرورت نہ تھی کہ کوٹ کھول کر سینہ دکھایا اور کہا کہ میں گولی سے ڈرنے والا نہیں۔ یہ کہنا اسوقت ججتا ہے جب کوئی بزدل دشمن بندوق لیکر نشانہ بنانے سے ڈراتا ہے کہ میں بزدلوں کے ڈرانے سے نہیں ڈرتا ۔ قوم کا درد رکھنے اور خاندانی سیاست نہ کرنے کی بات وہ کرے جو خود ملوث نہ ہو۔ جب اسلام آباد کی سردی میں دودھ پیتے بچے ٹھنڈ سے بدحال تھے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے جوان بیٹے ، بیٹی محفوظ کنٹینر میں دندناتے تھے۔ ابھی تک قوم کو پتہ نہیں کہ حکومت کو ڈھیل اسلئے دی کہ ڈاکٹر طاہر القادری بیمار تھے یا حکومت کو وقت دینا چاہتے تھے؟ اور تیسرا دھرنا اسلئے ملتوی کیا کہ خرم نواز گنڈہ پور کی زبان کی پاسداری کی، یاپھر رمضان میں لوگوں کوتکلیف نہ دینا چاہتے تھے؟۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ’’میرے لئے کرسی پر بیٹھ کر تقریر کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن میں نے کھڑے ہوکر تقریر اسلئے کی کہ یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ میں بالکل فٹ ہوں، میں بیٹھ کر تقریر محض اپنے سہولت کیلئے کرتا ہوں، یہ میری مجبوری نہیں‘‘۔ جب ڈاکٹر صاحب نے فجر کی نماز پڑھائی تو سجدے میں جانے کی بجائے کرسی ہی پر بیٹھ جاتے تھے، یہ انکا عذر اور مجبوری ہے یا ان کی کرسی سے محبت اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے بھی روکتی ہے؟۔جنرل راحیل شریف اپنی چھڑی سے نوازشریف کو سبق سکھائیں تو ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی اللہ کے سامنے سجدے کا اشارہ کریں ، اللہ کیلئے نہیں تو جنرل کیلئے ضرور مصلے پر سجدہ کریں گے۔ڈاکٹر طاہرالقادری مصلہ پر بیٹھ کر سجدہ نہیں کرسکتے توکیسے کہا کہ ’’میں نے مصلہ پر گڑگڑا کر بہت دعائیں مانگ لیں کہ اے اللہ! میری عزت کا پاس رکھنا، اگر 14غریب شہداء کے لواحقین میں سے کوئی ایک بھی بک گیا تو میری عزت خاکستر ہوجائیگی، شکر ہے اللہ نے میری عزت رکھ لی ، حکومت نے بہت پیشکش کی کہ دیت لے لو لیکن کوئی ایک بھی نہ بکا‘‘۔
کارکنوں کی کیا حیثیت ،رہنماؤں کے بدل جانے سے بھی قائدین پر کوئی اثر نہیں پڑتا، یہ بات ہوتی تو پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ،تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی کیا عزت رہتی؟،کتوں کے ریلوں کی طرح سیاسی رہنما پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ مرتد ہوگئے تو اس پر بھی نبیﷺ کی عزت پر کیوں کر اثر پڑتا؟۔ البتہ جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ شہر میں جنگ لڑیں تو اچھا رہیگا اور نوجوان صحابہؓ نے ضد کی کہ ہم باہر نکل کر مقابلہ کرینگے تو نبیﷺ کا ارادہ بدل گیا اور شہر سے نکلنے کیلئے زرہ زیبِ تن فرمایا، نوجوانوں کو بڑوں نے ڈانٹا کہ اپنی رائے پر اصرار کیوں کیا تو وہ عرض کرنے لگے کہ ہماری رائے بدلی ہے، شہر میں جنگ لڑیں گے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب نبی ایک دفعہ زرہ پہن لے ،پھر مناسب نہیں کہ اس کو اتاردے۔ اب شہر سے باہر ہی جنگ لڑیں گے۔ پھر گھمسان کی جنگ میں بعض صحابہؓ کے پیر اُکھڑ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا انا نبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ’’ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ،میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘‘۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے قوم کے سامنے کفن لہرایا کہ ’’ اس کو میں پہنوں گا یا اس کو نوازشریف کی حکومت پہنے گی‘‘۔ دونوں باتیں نہیں ہوئیں بلکہ جسکو فسٹ کزن قرار دیا تھا اسکو بھی چھوڑ کر بھاگا، کیونکہ بھکر میں انتخابات کانتیجہ دیکھ لیا تھا۔ عزت رکھنے کی بات ہوتی تو اپنی بات پر قائم رہ کر خود اپنی عزت رکھ لیتے۔ کارکن دیت لیتے بھی تھے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی اجازت اسلئے نہ دی تھی کہ غریب کے عمل سے باتوں کے سکندروں کی عزت پامال ہوتی۔البتہ جب ریمن ڈیوس نے صرف شہریوں کو قتل نہیں بلکہ ریاست کی بھی خلاف ورزی کی تو اس وقت صوبائی ومرکزی حکومت اور فوج وعدلیہ کے کردار نے اپنی عزت داؤ پر لگادی۔ عمران خان اگرچہ نیازی ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری کی طرح باپ سے زیادہ ماں اور ماں کے خاندان کا نام لیتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا نسب قادری نہیں تو کس اعتبار سے فسٹ کزن ہیں؟۔ کیا امپائر کی انگلی اٹھنے یا توقعات کے حوالہ سے فسٹ کزن ہیں؟۔
خرم گنڈہ پور نے میڈیا پر مسلسل کہا ’’ اگر ہمارے پاس اسلحہ ہوتا تو انکو بھی نشانہ بنادیتے، میں تربیت یافتہ فوجی ہوں، میری نااہلی پاکستان آرمی کی نااہلی ہے‘‘۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے خرم نواز گنڈہ پور کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا اور کہا کہ ’’ہمارے پاس پاک آرمی کے ریٹائرڈ تربیت یافتہ کمانڈوز تھے میرے بیٹے حسن اور حسین نے منتیں کرکے ان کو کمروں میں بند کیا کہ ہمارے ابا کا حکم ہے، سب کو بھی مار دیا جائے تو پُر امن رہنا۔ اگر اس وقت ان کی اجازت ملتی تو 14لاشیں ان کی بھی گرجاتیں‘‘۔ اگر ایک بیٹا گارڈز کو روکتا اور دوسرا گولی کھانے والوں کیساتھ گولی کھا لیتا تو شاید پروفیسر طاہرالقادری کو اسی وقت پاکستان آنے کی توفیق مل جاتی لیکن جو غریب مرتے ہیں ان کی کیا اوقات ہوتی ہیں، اگر حکمرانوں میں عقل ہوتی تو وہ یہی کہتے کہ اسلام آباد کی بجائے لاہور ہم زبردستی سے اسلئے لائے ہیں کہ دعا اور تعزیت کا خیال تو رکھو۔ عمران خان اسپیشل جہاز سے کراچی آئے تو ایم کیوایم کیخلاف ایک لفظ بھی نہ کہا اور اپنی جماعت کی خاتون رہنما زہرہ شاہد کی تعزیت بھی نہیں کی۔ ہمارا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے جن کا اپنا کوئی حال نہیں ۔
جمہوریت کی بساط لپیٹی جائے توتمام سیاسی مقاصد و فوائد حاصل کرنے والے طبقے کو ایک ہی چھڑی سے سیدھا کیا جائے تاکہ ماضی کی غلطیاں نہ دھرائی جائیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان لیلۃ القدر میں اپنے حریف بھارت کے ساتھ بنا تھا ، ڈاکٹر سید وقار حیدر شاہ سیالکوٹی

مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے ’’المقام المحمود‘‘سورۃ القدر کی تفسیر میں سندھ پنجاب فرنٹیئر بلوچستان ، کشمیر افغانستان میں بسنے والوں کو امامت کا حقدار قرار دیا

پاکستان اور افغانستان میں پہلے ایک سپر طاقت روس اور پھر دوسری سپر طاقت امریکہ کو نیٹو سمیت بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ، کچھ کھویا ہے توپایا بھی

علاقہ غیرمیں 40FCR کا قانون تھا ، چھ سات ہزار بارود کی فیکٹریاں تباہ کی گئیں تو ضرب عضب میں وزیرستان کو تاریخ کی بڑی سزا کا سامنا کرنا پڑا

پوری دنیا کو خود کش بمباروں نے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہے جسکے حل کیلئے پاکستان کی باشعور قیادت ہی زبردست ذہنی اور عملی کردار ادا کرسکتی ہے

دوسروں سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی اور جب پاکستان امن و سلامتی ، دیانت و امانت اور عدل و انصاف کا گہوارہ بنے گا تو دنیا کی امامت کریگا

قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکزی کردار ادا کیا جائیگا تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہونگے

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا ، علماء نے فرقہ بندی سے اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل کر منفی کردار ادا کیا ، اب مثبت رویہ اپنانا ہوگا،ڈاکٹر سیدوقارشاہ

 

مولانا عبید اللہ سندھیؒ سورۃ القدر مکیہ کے ضمن میں لکھتے ہیں:
*قرآن مجید کی پہلی سورت ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ لیلۃ القدر میں نازل ہوئی ۔ لیلۃ القدر کا اگر آج کی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو کہا جائیگا کہ بجٹ کی میٹنگ میں خطیرۃ القدس میں ایک کام پیش ہوتا ہے، پھر اس پر فیصلہ ہوتا ہے تو یہ کام جو خطیرۃ القدس میں پیش ہوا ایک ہزار ماہ کیلئے ہوا ۔ غرض اس مجلس میں (خطیرۃ القدس) قرآن کے نازل ہونے کا فیصلہ ہوا تو قرآن مجید کا اثر شخصی (لفظی یعنی صورت کا اثر) ایک ہزار ماہ تک دنیا میں قطعی طور پر کامل ہوکر رہیگا(یعنی یوں تو یہ کتاب ہمیشہ کیلئے دنیا میں رہیگی مگر صحیح لفظوں میں اس پر عمل ایک ہزار ماہ تک کامل ہوکر رہیگا)۔ ہماری سمجھ میں ایک سال دس ماہ کا ہوتا ہے ۔ رمضان اور ذی الحج کے دو ماہ شمار میں نہیں آتے، انہیں چھٹی کے دو ماہ سمجھنے چاہئیں اور سال میں عملی مہینے دس ماہ سمجھنے چاہئیں تو اس طرح ایک ہزار مہینے ایک سو سال کے برابرہوجائیں گے۔ جیسا کہ سورۃ ق و القرآن المجید میں پہلے بیان کیا جاچکا ہے، اور اسی کی مساوی یوں سمجھئے کہ ۸۶ ؁ھ میں یہ سو برس پورے ہوتے ہیں۔ اسی سال ولید نے عمر بن عبد العزیزؒ کو مدینہ منورہ کا حاکم مقرر کیا اور انہوں نے مدینہ کے علماء کو جمع کرکے سنت (حدیث) لکھنے کی بنیاد ڈالی۔ اس وقت تک مسلمانوں کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی اور قانون نہیں تھا۔ اب یہ قانون اقصائے چین سے لیکر مغرب تک پہنچ گیا متمدن اقوام عالم میں اس قانون کو اپنا دستور العمل بنالیا اور اپنا سمجھا۔(مسلم امہ نے قرآن کی شکل مسخ کی ہے)
شروع میں سنت کو قرآن کا ایک شارح (Bye.Laws) بنایا گیا ،اساسی قانون قرآن اور سنت اسکی شارح، مگر آگے چل کر قرآن کا صرف اتنا حصہ مسلمانوں میں باقی رہا جواس سنت کے مطابق تھا اور بہت سا حصہ چھوٹ گیا۔ اس سنت میں عربی قومیت کے خواص خاص طور پر نمایاں ہیں۔ دوسری صدی میں قرآن عربی قومیت کا ایک قسم کا قانون تھا اور سنت اسکی پوری شارح۔ قرآن مجید کی بین الاقوامی روح اس دوسری صدی میں اتنی نمایاں نہیں رہی جتنی پہلی صدی میں تھی۔ تیسری صدی میں جب بنو ہاشم کی سرپرستی میں عجمی قومیں آگے بڑھیں تو قرآن مجید کی انٹرنیشنل روح زیادہ نمایاں ہونے لگی۔(آج سادہ ترجمہ سمجھ میں آئے تو بات بنے)
* آیت انا انزالناہ فی لیلۃ القدر ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا یعنی جس رات انسانیت کی فطرت کا بجٹ تیار ہوا ،اس رات یہ پروگرام منظور ہوا ہے۔ وماادراک ما لیلۃ القدر القدر کی تفصیل ہے۔ لیلۃ القدر خیر من الف شہر لیلۃ القدر ایک ہزار مہینہ سے بہتر ہے ۔ انسان کسی کام کے کرنے کا مصمم ارادہ کرلے تو وہ کام نصف سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ اب صحیح فیصلہ کے بعد اس کا صحیح دور شروع ہوگا تو آدھے سے بھی کم کام رہ جائیگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس لیلۃ القدر کی رات میں سو سال کے کام کا فیصلہ تھا تو فیصلہ کی رات اس زمانہ سے بہتر ہونی چاہیے۔ یعنی پروگرام بنانے والی رات اس زمانہ سے تو اچھی ہے جس زمانہ میں یہ کام عملی طور پر شروع کردیا جائے۔ (کیونکہ مصمم ارادہ کرنے سے آدھے سے زیادہ کام ہوجاتا ہے) غرض کہ جس وقت یہ فیصلہ رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا تو آپ نے اپنی فطرت کے مطابق عمل کیا، آپﷺ کی فطرت تھی کہ جب علم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے فلاں فیصلہ ہے تو آپ اپنی پوری قوت اس کام کے سر انجام دینے میں صرف کردیتے تھے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھک جاتے تھے۔ غرض یہ رات زمین پر بھی ہزار مہینے سے بہتر ہے کیونکہ رسول ﷺ کا فیصلہ بھی اسی طرح مکمل ہے جس طرح ملاء اعلیٰ میں مکمل فیصلہ ہوا۔
*آیت تنزل الملٰئکۃ و الروح فیھا باذن ربھم من کل امرٍ مصمم فیصلہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہرقسم کا کام کرنے والے فرشتے اور روح اس ہزار مہینے کا کام کرنے کیلئے اسی وقت نازل ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے اس کام کی بنیاد ڈالنی شروع کردیتے ہیں اور تمام شعبوں میں کام کرنے لگ جاتے ہیں اور اس کام کے مبادی شروط اور علل کے مہیا کرنے میں وہ فوراً اپنا کام شرو ع کردیتے ہیں، اور وہ کام ایک ہزار ماہ میں پوری طرح مکمل ہوجاتا ہے، جیسا کہ فیصلہ ہوا تھا۔ سلام ھی حتی مطلع الفجر اس رات جس کام کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام میں ناکام بنانے والے کوئی طاقت آہی نہیں سکتی۔ اگر ادنیٰ آدمی کو بھی اس کام پر مأمورکیا جائے تو بھی صحیح سلامت کام ہوجائیگا اسلئے کہ لوگوں (انسانیت) میں روحانیت اور ملکیت کی تشنگی اس رات نازل کی گئی ۔ اب آنحضرت ﷺ کو اس کام کے چلانے میں تکلیف نہ ہوگی۔ سورۃ العلق میں آیت ۱۹ کل لا تطع میں جو ذکر ہے کہ تم مخالفوں سے صلح نہ کرو ، اسکے متعلق اس سورۃ میں یقین دلایا گیا ہے کہ اس سو برس کے عرصہ میں کوئی چیز تم کو ناکام نہ بناسکے گی۔ اس واسطے تم کو ڈٹ کر اپنا کام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مخالفت کریگا تو اس کا ہم سر توڑ دیں گے۔ مطلع الفجر سے اگر قیامت مراد لی جائے تو معنیٰ ہوں گے کہ تشنگی ، ملکیت اور روحانیت انسانوں میں نازل ہوتی رہیں گی۔ ملکیت کا تقاضہ ہے نظام احسن ، طہارت اور عدالت ۔ روحانیت کا تقاضہ ہے تعلق باللہ اور اس کے نور میں فنائیت۔ اگر روحانیت فقط ہے تو رہبانیت ہے۔
* دنیا کا انٹرنیشنل مرکز سو برس میں مضبوط ہو تو اسکے بعد کیا پروگرام دیا جائے اسکے متعلق ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ،دوسری نسل والے خود سوچیں گے اور اس پر وقت کے اقتضاء کیمطابق کام کرینگے، اس واسطے اسکے متعلق ذکر کرنے کی حاجت نہیں ۔ بعض لوگ عمر بن عبد العزیزؒ کو مجدد مانتے ہیں اور وہ 100 ؁ھ میں خلیفہ اسلام ہوئے تو اس زمانہ کو ان کی تجدید کا زمانہ کہتے ہیں کہ دوسری صدی کے سر پر ایک مجدد آگیا۔ مگر ہم اس کی تجدید 87 ؁ھ سے گنتے ہیں جو نبوت کے 100 برس بعد ہوئی اور 14 برس مسلسل رہی۔ یہاں تک کہ خلافت پر پہنچے، خلافت کا کام صرف دو سال کے قریب انہوں نے سر انجام دیا، مگر ان کا کام درحقیقت نبوت کی صدی سے شروع ہوتا ہے ۔ انہوں نے انٹرنیشنل روح قائم کرنے کیلئے آیت ان اللہ یامر بالعد ل و الاحسان الاٰیۃ کا خطبہ جمعہ میں داخل کردیا جس کا مسلمانوں کے خطبہ میں آج تک اعلان ہوتا ہے۔ عمر بن عبد العزیز ؒ کی تجدید کا جو دور ہے اسکے متعلق ہمیں خوشی ہے کہ اسی زمانہ میں سندھ فتح ہوا۔ آپ کی خلافت کے زمانہ میں جو دو سال کے قریب رہی سندھ کا اکثر حصہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ ہندوستان میں اسلام کا یہ اول بیج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب ، کشمیر ، سندھ ، فرنٹیئر اور افغانستان وغیرہ میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی مرکزی جماعتیں ہیں اور یہی امامت کی حقدار ہیں۔ دریائے سیحون درحقیقت یہی دریائے سندھ ہے جس کا حدیث میں ذکر آتا ہے ، ہندی میں اس کا نام سے سین ۔اور رسول کریم ﷺ نے اس کانام سیحون ذکر کیا ہے یہ زیادہ اختلاف نہیں ہے ملکی زبانوں میں ایسے اختلافات عموماً ہوتے ہیں۔ پنجاب کے پانچوں دریا اور کابل کا دریا وغیرہ دریائے سندھ کا احاطہ ہیں۔ ہندوستان ہم تمام ہندوؤں کے لئے چھوڑ سکتے ہیں مگر اس علاقہ یعنی پنجاب ، کشمیر ، سندھ ، فرنٹیئر ، بلوچستان اور افغانستان سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے خواہ وہ تمام دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئیں۔ غرض مسلمانوں کا مرکزی حصہ یہی ہے ۔ اس طرح عربی قوموں کا مرکز نیل اور فرات کا درمیانی حصہ ہے۔ اور عجمی قوموں کا مرکزی حصہ جیحون اور سندھ کا درمیانی حصہ ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اس عجمی سرزمین سے تعلق رکھنے والے تھے ۔
*عمر بن عبد العزیزؒ نے قرآن کے ماتحت عربی ذہنیت کو مہذب کردیا ہمارا خیال ہے کہ عجمی ذہنیت کو امام ابو حنیفہؒ نے زندہ اور مہذب کردیا۔ آپ بہت بڑے امام ہیں۔ آپ عجمی قوم کو قرآن مجید اور فقہ کے مطابق اور حدیث پر عمل کرانے کیلئے عجمی ذہنیت مدنظر رکھتے ہیں۔ مثلاً ایک عورت ہے اس کو حمل ہے ۔ اس کی شادی نہیں ہوئی اور وہ زنا کی بھی قائل نہیں اور اسکے خلاف شہادت میسر نہیں، حضرت عمرؓ اسکو رجم کی سزا دیتے مگر امام ابو حنیفہؒ اس کو رد کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب وہ زناکی مرتکب ہونے کی قائل نہیں اور اسکے خلاف ثبوت بھی نہیں ملتا تو اس حالت میں اسے کیسے رجم کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ لیجئے کہ آپکو حمل تھا اور آپ زنا کی بھی مرتکب نہیں ہوئیں، آپکی دینداری کی دنیاگواہ ہے۔ غرض اسی طرح اس عورت کا بھی معاملہ ہے، شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دینا چاہیے۔امام ابوحنیفہؒ نے نہ امامت کا دعویٰ کیا، نہ حکومت سے منصب لیا اور نہ کسی سے کوئی پیسہ لیا بلکہ اپنا تمام علم مسلمانوں کو دیدیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت تھی کہ اس نے عجمی قوموں کی ہدایت کیلئے ابوحنیفہؒ جیسے برگزیدہ انسان پیدا کیا، جس نے قرآن کو سمجھنے کیلئے عجمی لوگوں کی ذہنیت بدل دی، ہم امام ابوحنیفہؒ کے فقہ کی تقلید اسلئے نہیں کرتے کہ ہمارے آباواجداد اسکے مقلد تھے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان ،ایران، افغانستان اور ترکستان میں ابوحنیفہ کے فقہ کے سوا کوئی حکومت قائم نہیں ہوسکتی اس میں اگر اختلاف ہے تو صرف ایران کے شیعوں کا۔ مگر ہم امام ابوحنیفہؒ کے فقہ کو ائمہ اہلبیت کیساتھ ملاسکتے ہیں۔شیعوں کے دو فرقے ہیں، ایک زیدی اور دوسرا امامیہ، زیدی فرقہ کے امام حضرت زیدؒ ہیں اور امامیہ فرقہ کے امام حضرت امام جعفر صادق ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ ؒ ان دونوں بزرگوں کے براہِ راست شاگرد ہیں، اسکے علاوہ امام ابوحنیفہؒ امام باقرؒ کے بھی شاگرد ہیں۔
*ان بزرگوں کے علاوہ دو حسنی امام ہیں (ا) : محمد بن عبداللہ بن حسن(۲):ابراہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ۔ انہیں حسن مثنیٰ کہتے ہیں۔ یہ دونوں بزرگ خلیفہ منصورسے لڑتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ ان دونوں کے شاگرد اور ان دونوں بزرگوں کی تحریکِ خلافت کے مؤید ومعاون ہیں اور ان کو مدددیتے رہے۔ان دونوں اماموں کے والدعبداللہ بن حسن بھی امام ابوحنیفہؒ کے استاذ تھے۔ غرض حضرت علیؓ کی اولاد میں جتنے امام گزرے ہیں امام ابوحنیفہؒ کا تعلق ان تمام اماموں سے ثابت ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن مسعودؓ کی اولاد میں جتنے امام پیدا ہوئے، امام ابوحنیفہؒ کا ان تمام کیساتھ تعلق تھا۔اور یہ تمام ائمہ اہلبیت ظالم مسلمان بادشاہ سے لڑنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی واسطے آپ خلیفہ منصور کے خلاف سید حسن مثنیٰ کی تحریک کے مؤید تھے۔ امام مالکؒ بھی مدینہ میں امام ابو حنیفہؒ کی مانند اس تحریک خلافت کے مؤید تھے۔ منصور کے نائب مدینہ نے امام مالکؒ کو تو خود سزا دی اور خلیفہ منصور نے امام ابو حنیفہؒ کو جیل میں ڈال کر کوڑے کی سزا دلائی۔ حتیٰ کہ آپ جیل ہی میں فوت ہوگئے۔تفسیر المقام محمود ( آخری پارہ)تفسیر سورۃ القدر۔ مولانا سندھیؒ
مولانا عبید اللہ سندھی ؒ پاکستان بننے سے پہلے فوت ہوئے، وہ کانگریس کے رکن بھی تھے۔ اسلام کی نشاۃ اول عرب سے ہوئی تھی،اس کی نشاۃ ثانیہ کی پیشگوئی عجم سے ہے، جس کا ذکر قرآن کے سورۂ محمد ، سورۂ واقعہ اور سورۂ جمعہ میں بھی ہے۔ جب ایرانی انقلاب آیا تو قرآن کے الفاظ ثم لایکون امثالکم ’’ پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہونگے‘‘۔ کی تفسیر میں مغالطہ کھاکر خمینی نے کہا کہ ’’ میرے ساتھی اصحاب محمدؐ سے افضل ہیں‘‘ حالانکہ آیت سے مراد نشاۃ اول کے مقابلہ میں نشاۃ ثانیہ کے افراد نہ تھے ۔ سورۂ جمعہ میں وضاحت ہے کہ نبیﷺ کی بعثت اولین کے مسلمانوں کیلئے بھی ہے اور آخرین کیلئے بھی۔ آخرین کا اعزاز ہوگا کہ پہلوں سے مل جائیں۔ جب پہلے والوں سے بدظنی ہوگی تو انکے نقشِ قدم پرچلنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے کھل کر وضاحت ہے کہ السابقون اولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان سبقت لے جانے والوں میں سے پہلے مہاجرینؓ و انصارؓ میں سے اور جن لوگوں نے نیکی کیساتھ انکی اتباع کی۔ سورۂ واقعہ میں سبقت لے جانے والوں میں سے پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر میں تھوڑوں کا ذکر ہے۔ ثلۃ من الاولین وقلیل من اٰخرین یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک عظیم قائد ہوں ۔ آپﷺ کی جماعت میں سے کم لوگ سبقت لے جانے والے ہوں اور آخر میں آپ ﷺ کی طرف منسوب کسی قائد کی جماعت میں زیادہ اکثریت والی بڑی جماعت نے سبقت حاصل کی ہو؟۔پاکستان کا قومی ترانہ بھی حقائق کا ترجمان ہے۔
ایران کے انقلاب نے شیعہ سنی کے درمیان تفریق وانتشار کی فضاء کو مزید بڑھا دیا، حالانکہ بانی انقلاب کا یہ نعرہ تھا کہ شیعہ سنی کو لڑانے والے طاغوت کے ایجنٹ ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اہل تشیع کے بڑے عالم دین علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ’’ظہور مہدی‘‘ میں اپنے ائمہ اہلبیت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ’’ ہمارے قیام قائم سے پہلے اگرہم میں سے کسی نے قیام کیا تو وہ طاغوت کا ایجنٹ اور دوسروں کے ہاتھوں کاپلا ہوا پرندہ ہوگا‘‘۔ اہل تشیع کے ائمہ اہلبیت کا تعلق حسینی سادات سے ہے، انکے نزدیک مہدی غائب سے قبل حسینی خاندان کیلئے خروج اور قیام کی کوشش یقیناًقابل غور ہے۔ حضرت حسنؓ کی اولاد میں پہلے جس نے خروج کی کوشش کی ہے، ان پر اس پیشگوئی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ علامہ طالب جوہری نے مہدی غائب سے پہلے کئی قیام قائم کا ذکر بھی کیا ہے۔جس میں ایک مشرق سے دجال اور اسکے مقابلہ میں سید حسنی کا ذکر ہے جو علامہ طالب جوہری کی وضاحت کے مطابق ’’سید گیلانی بھی مراد ہوسکتے ہیں‘‘۔ یہ تفصیل ان سے معلوم کی جاسکتی ہے کہ طاغوت کے ایجنٹ اور سید حسنی سے کون کیسے مراد ہوسکتے ہیں؟۔
پاکستان میں جو سیاسی، مذہبی اور کارکردگی کی آزادی ہے کسی دوسرے مسلم ملک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ ﷺ اور اسلام کو تقویت بخشنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کی شخصیت عطاء کردی تھی، جس نے کھلم کھلا آذان دی، کھل کر مکہ سے مدینہ ہجرت کی، بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے،صلح حدیبیہ، حدیث قرطاس میں اختلاف کا کردار ادا کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مردوں میں کسی کا والد نہیں بنایا، ایک بچے کا بچپن میں وصال ہوا، حضرت علیؓ چچازاد اور داماد تھے لیکن خلافت کی مسند پر حضرت ابوبکرؓ بیٹھ گئے۔ انصار کے سردار نے نبیﷺ اور مسلمانوں کو مدینہ میں پناہ دی لیکن وہ خود کو منصب کا حقدار سمجھنے کے باوجود محروم رہے۔
حضرت عمر فاروقؓ ایک طاقتور انسان تھے جس میں بے پناہ صلاحیتیں تھیں، حضرت ابوبکرؓ خلوص کا مرقع تھے لیکن اتنی صلاحیتوں کے مالک نہ تھے۔ جب قیامت میں لوگوں کی طرف سے اللہ سے سوال کیا جائیگا کہ صلاحیت دینا تمہارا کام تھا، ہم پیچھے رہ گئے تو ہمارا کوئی قصور نہیں۔ تو ابوبکرؓ و عمرؓ سامنے ہونگے۔ خلوص والا ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سے آگے ہوگا، حضرت ابوبکرؓ پر جتنا اعتماد خلوص کے مرقع ہونے کی وجہ سے تھاحضرت عمرؓ کی صلاحیت پر اتنا صحابہؓ کو نہیں تھا۔ حضرت عثمانؓ نے نبیﷺ پر اپنا بہت مال خرچ کیا لیکن اللہ نے عمرؓ کی صلاحیتوں کو مالی احسانات پر ترجیح دی، حضرت علیؓ کی رشتہ داری بہت قریب تھی لیکن اللہ نے علیؓ کو بالکل آخر میں اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دیا۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ خلافت راشدہؓ کے زمانہ میں آئندہ آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ بننا تھا، آج خانقاہوں و مدارس پرناخلف صاحبزادوں اور دامادوں کا قبضہ اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے جو خلافت راشدہ کے منافی اور استعداد نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو اندھیر نگری کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ جب ناخلف صاحبزادگان اور داماد جانشینی کے منصب سے دستبردار ہونگے تو خلافت علی منہاج النبوۃ کے دور کا آغاز ہوجائیگا،اصل شیعہ تو یہی لوگ ہیں۔
بانئ پاکستان کی ایک بہن اور ایک بیٹی تھی، پاکستان میں اللہ نے موروثی نظام قائم نہیں کرنا تھا، اسلئے بیٹی اور نواسے کے نام سے پارٹی بازی کی گنجائش یہاں موجود نہ تھی۔ مدارس اور خانقاہوں والے اہل تشیع سے بدتر اسلئے ہیں کہ وہ تو حسینؓ کے مقابلہ پر یزید کو برا بھلا کہتے ہیں، یہ تو خود یزید بن کر وقف شدہ مدارس ، مساجد اور خانقاہوں پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنی قیمتی سرمایہ سے دینی اداروں کو چندے اسلئے نہیں دئیے ہیں کہ کوئی ذاتی اور موروثی سمجھ کر اپنی دنیا سنوارلے اور آخرت بگاڑ دے۔مفتی سعید خان نے بھی اس پر بڑا اچھا لکھا ہے۔
پاکستان نے مشکل ترین دور میں جس طرح اپنی حکمت عملی سے دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دی ۔ یہ کسی فرد ، جماعت ، ادارے اور مذہبی فتوؤں کا کریڈٹ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہے۔ دنیا میں پاکستان کے خطے کی حیثیت ہی کیا ہے؟ ۔ ایسے بڑے مقاصد کیلئے کام کرنا چھوٹی بات نہیں۔ رو س کیخلاف جہاد میں عتیق گیلانی نے شرکت کی اور بتایا ہے کہ ’’روسی ٹینکوں کی گولہ باری ایسی لگتی تھی جیسے یہ زندگی اور موت کا کھیل نہیں ہو بلکہ کسی فلم کیلئے شوٹنگ ہورہی ہو۔ حرکت الجہاد الاسلامی کے خالد زبیر شہید وغیرہ اس وقت بھی روس سے زیادہ امریکہ سے نفرت کا اظہار کررہے تھے۔‘‘ جس طرح مجاہدین میں اللہ کیلئے کام کرنے والے موجود تھے اسی طرح پاک فوج میں بھی اسلام کی سربلندی کا جذبہ تھا۔ کسی کے جذباتی عمل سے اختلاف کرنا ہی رحمت ہے لیکن اختلاف کی وجہ سے کسی کے خلوص پر دھبہ لگانا اور بدظنی کا اظہار کرنا کوئی درست رویہ نہیں ہے۔
آج ہماری ریاست نازک موڑ پر کھڑی ہے اس پر صرف تنقید نہیں بلکہ حوصلہ دلانے کی ضرورت ہے،قوم کو ریاست کیساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے،اگر یہ اغیار کی سازش سے بکھیر دی گئی تو پھرہماری عزتیں،اقدار، آزادی اور سب کچھ پامال ہوجائے گا۔۔۔۔
تاریخ میں قوموں نے وہ دور بھی دیکھے ہیں لمحوں نے خطاء کی ہے صدیوں نے سزا پائی
پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کے دلوں میں اس نظام سے گلہ شکوہ اور بغاوت کے رحجانات ، جذبات اورولولے موجود ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہو، جمہوری حکومت ہو یا اپوزیشن پنجاب ہی پنجاب سے کھیل رہا ہے۔ عوام کی خواہشات کے برعکس جن جن کو اقتدار ، میڈیا اور اپوزیشن میں لایا جاتا ہے یہ سب مخصوص ہاتھوں کا کھیل ہے، حکومت کبھی کمزوراور کبھی توانا بنتی ہے تو اس میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر ڈاکٹر طاہرالقادری شہداء کے جنازوں پر بھی نہیں آئے، گرم خون ٹھنڈا ہوجائے تو سیدالشہداء حضرت امیرحمزہؓ کا کلیجہ نکالنے اور چبانے والوں سے بھی انتقام کا جذبہ وہ نہیں رہتا،جسکے بدلہ میں سرکار دوجہاں ﷺ نے 70افراد کیساتھ ایسا سلوک کرنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ سیاست کا کرشمہ ہے اور اسکے پیچھے کھیل اور کھلواڑ کرنے والوں کی رسی ہل رہی ہے کہ پہلی برسی پر سال گرے منائے گئے اور دوسرے سال حالات کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا گیا یا کسی نے ڈور ہلا کر حکومت گرانے کا تماشہ لگانے کی ڈیوٹی لگادی۔ پاکستان میں اس قسم کی سیاست سے ملک کو نقصان ہی ہوسکتا ہے۔
چراغ تلے اندھیرا، پنجاب پورے ملک کو شعور، سیاست، حکمرانی، انسانی حقوق اور انواع واقسام کی حب الوطنی، اسلام دوستی اور اخلاقیات کے درس وتدریس کا مرکزومحور ، منبع ومینار سمجھا جاتا ہے، اس میں کوئی شک وشبہ بھی نہیں کہ پنجاب کے لوگ وسیع القلب، خلوص کا مرقع، وفا شعار، محنت کش، تہذیب یافتہ اور بہت سے ان صفات سے متصف ، مزین اور آراستہ ہوتے ہیں جن کی مجموعی حیثیت تک دوسری کوئی قوم نہیں پہنچ سکتی ہے مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب میں بدمعاشی، بداخلاقی، بد تہذیبی ، زبردستی سے عزتیں لوٹنے کے واقعات ، دھوکہ بازی، فراڈ اور بہت ساری وہ خرابیاں ہیں جن کی ہوا سے بھی اللہ تعالیٰ دوسرے صوبوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ نظام کی تبدیلی کیلئے جہاں حبیب جالب، مولانا سیدعطاء اللہ شاہ بخاری، شورش کاشمیری، علامہ عنایت اللہ مشرقی،شاہ احمدنورانی اور انکے والدشاہ عبدالعلیم صدیقی ،غلام احمد پرویز، مولانا سید مودودی،مولانا احمدعلی لاہوری، مفتی محمود،اصغر خان،نواب زادہ نصر اللہ خان، ڈاکٹر مبشرحسن،مہدی حسن،ڈاکٹر اسرار،اکرم اعوان، صوفی برکت علی لدھیانوی وغیرہ کی ایک فہرست ہونی چاہیے تھی وہاں نوازشریف، شہبازشریف،چوہدری شجاعت، شیخ رشید، ڈاکڑطاہرالقادری، عمران خان کی ایک لمبی لائن کی ایک فہرست اپنے اکابرین جنرل ضیاء الحق، اخترعبدالرحمن،جنرل پاشا سے ہوتی ہوئی وہاں پہنچتی ہے جن کی وجہ سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہوا ہے۔میڈیا پر اچھے لوگوں کو سامنے بھی لانے نہیں دیا جاتا تو عوام بک بک کرنے والوں کے واعظ، تقریراور ٹاک شوز سے ڈھیٹ ہوگی یا سدھرے گی؟۔
شہبازشریف جس لہجہ میں زرداری کیخلاف بات کرتا تھا ، اسی لہجے میں پانالیکس پر تقریریں کرے تو قوم کو پتہ چل جائے کہ واقعی جالب کی ناراض روح شوبازمیں جاگ گئی ہے، یہ زیادہ مکروہ اور گھناؤنی بات ہے کہ دوسروں کو چوکوں پر لٹکانے والوں کا اپنا دامن اس قدر داغدار ہو اور اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے دوسروں کو اوقات میں رہنے کی بات کیجائے، سیدعتیق گیلانی میڈیا پر آجائے تو انقلاب آئے،قوموں کی اصلاح کیلئے بنیادی نظریے اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کٹھ پتلی لوگوں کو قائد بناکر کھڑا کرنے سے بات نہیں بنتی۔ ڈاکٹرسیدوقار حیدر شاہ سیالکوٹی

پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، امریکہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اٹھارہا ہے، عتیق گیلانی

جہادِ افغانستان میں سعودی کوکھ سے القاعدہ اورعراق سے داعش نکالی اور لیبیا وشام وغیرہ کے ڈھانچوں کو تباہ کرکے دنیا بھر میں خود کش حملوں سے مقاصد حاصل کیے ہیں

قوم،وطن، ملک سلطنت سے محبت رکھنا انسان کی فطرت اور ایمان کاحصہ ہے لیکن تعصب رکھنا ایمان کے بالکل منافی ہے، تعصب و محبت میں واضح و باریک فرق ہے

روشنی سفید او راندھیرا کالا ہوتا ہے مگر سفیدوسیاہ اور روشنی واندھیرے میں نمایاں فرق ہے روشنی سے سیاہ وسفید کا پتہ چلتا ہے اور اندھیرے میں سیاہ و سفیدکی تمیز نہیں رہتی

محبت روشنی، تعصب اندھیرا،محبت ایمان تعصب ایمان کے منافی، محبت علم تعصب جہالت،محبت اچھی فطرت تعصب بدفطرت، محبت انسانیت تعصب حیوانیت ہے

ایدھیؒ کی انسانی خدمت کو جنرل راحیل نے قومی اعزاز سے نواز کر 7چاند لگادئیے،جس سے پاکستان کی عزت میں نئے باب کا اضافہ ہوا، وزیراعظم سوچتے رہ گئے ہیں

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرکے پاک فوج نے ثابت کیا کہ اصل دہشت گرد اورانکے سرپرست افغانستان میں امریکہ اور اسکے ساتھی ہیں

ہیروئن کی کاشت، سپلائی، آمدن اور اسلحہ کے فروخت کیلئے قوموں کے درمیان طویل خانہ جنگیں امریکہ کاشغل اور پیشہ ہے ۔تابعدار پسماندہ فوج کو حصہ بقدرِ جثہ ملتا ہے

جنرل راحیل کی قیادت میں پاک فوج کو کردار دیا جائے کہ نیٹو کے زیرنگرانی ہیروئن اور اسلحہ کے ایکسپورٹ امپورٹ کو روکاجائے توخطہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا

کوئی کتے،مرغے،تیتر،بٹیرلڑاتا ہے اور وہ اسکا پیشہ ہوتا ہے، امریکہ دیگرریاستوں کاڈھانچہ تباہ اور قوموں کو لڑاتا ہے۔ اسلحہ امریکہ کی وائٹ منی اور ہیروئن بلیک منی ہے

جنرل راحیل شریف نے اپنی فوج،ریاست،حکومت،قوم اوراسلام کو چاہنے والوں کی جان دہشت گردی کے گھناؤنے کھیل سے بچاکر ایک بڑے مسیحا کا کردار اداکیا

 

انگریز تقسیم ہندچاہتا تھا، متحدہ ہندوستان کے حامی روسی نظام کے حامی تھے، پاکستان مشرقی و مغربی میں عملی طور سے دولخت تھا، پاک فوج کے انگریز سپہ سالاروں کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل ایوب نے عہدہ سنبھالا تو بنگال کے آخری نواب میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کوپاکستان کی صدارت سے برطرف کیا، ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرخارجہ بنایا گیا، پھرسقوطِ ڈھاکہ پر پاک فوج کی بڑی تعدادنے بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈالے ،ذلت ورسوائی کے وقت سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرذوالفقاربھٹو کو بنادیاگیا، ذوالفقارعلی بھٹو نے روس کے سوشلزم کا نعرہ بلند کیا لیکن عملی طور سے اسلامی ممالک کو امریکہ کی چھتری میں روس کیخلاف کام پر آمادہ کیا،اس وقت بھٹو کا سسرایران امریکہ کا سب سے بڑاپٹھو تھامگرٹشو کو استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔ شاہ ایران کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرناپڑا، امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کونمایاں مقام اسوقت حاصل تھا جب روس کیخلاف امریکہ کی جنگ افغانستان کی سرزمین پر لڑی جارہی تھی، اسکے ساتھ شریک سعودیہ وغیرہ بھی بھٹو کی پالیسیوں کا تسلسل تھا، روس کی شکست کے بعد طالبان پیپلزپارٹی کے نصیراللہ بابر اور پاک فوج کے زیرسرپرستی امریکہ کے حکم پر لائے گئے۔ امریکہ سی آئی اے کی فعالیت سے سعودیہ کی کوکھ سے جنم لینی والی القاعدہ کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو پرویزمشرف اور اشفاق کیانی کو دوغلہ کردار دیا گیا، عراق پر حملہ کرکے اور شام کو تہس نہس کرنے کیلئے جوکردار ادا کیا گیا وہاں سے داعش نے جنم لیا۔ امریکہ اور اسکے گھماشتے اسلامی اورغیراسلامی ممالک انسانیت کو تباہی کی طرف تسلسل کیساتھ لے جارہے ہیں، اسکے نتائج کیا ہونگے؟۔ مدینہ میں خود کش حملے پر انسانیت دشمنوں کو دکھ پہنچنے کا کیا تُک بنتا ہے؟۔
نبیﷺ سے زیادہ خانہ کعبہ کی عزت اور چاہت کا احساس کس کو ہوسکتا تھا؟، فرمایا کہ ایک مؤمن کا دل دکھانا خانہ کعبہ کو دس مرتبہ گرانے سے زیادہ بُرا ہے، مکی زندگی میں انسانی جانوں کو تحفظ دینے کیلئے خانہ کعبہ میں 360بتوں کو برداشت کیا، فتح مکہ کے وقت لوگوں میں اعلان کیا کہ لاتثریب علیکم الیوم انتم طلقاء آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ،تم آزاد ہو۔ اور دشمن کے سردار ابوسفیان کے گھر کو عزت بخشی، انسانیت کے محسنِ اعظم ﷺ کی حرم اماں عائشہؓ پر بہتان لگایا گیا تو اس کی سزا 80کوڑے کی آیات نازل ہوئیں جوکسی بھی پاک دامن پر بہتان لگانے کی عام سزا ہے چاہے وہ گٹر صاف کرنی والی عیسائی جمعدارنی ہی کیوں نہ ہو۔
پسماندہ ممالک پر جنگیں مسلط کرکے عالمی قوتیں اسلحہ کی سپلائی اور منشیات کی سمگلنگ سے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں، جنرل راحیل شریف اور پاک فوج اس گندے کاروبار کو دنیا کے سامنے عیاں کریں، دہشت گردی کا اس خطہ اور دنیا سے خاتمہ ہوجائیگا،ہماریبدقسمتی یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے جنرل اشفاق پرویز کیانی تک دوسروں کی چاکری کرکے ہم نے ہیروز بننے کی کوشش کی، دوسروں کو دھوکہ دینے کے نام پر خود سے دھوکہ کیا، دوسروں کو ہیروئن سمگلنگ کرنے کے نام پر ان کیلئے ہی استعمال ہوئے۔جنرل ضیاء سے منسوب کیاگیا کہ’’ ہیروئن سے امریکہ و مغرب تباہ ہوگا، یہ ہمارا ہتھیارہے‘‘۔ دنیا سوچتی ہے کہ پسماندہ ممالک سے پولیو ختم کرنے پربھاری رقم خرچ کرنیوالوں کو مسلمان منشیات سے تباہ کرکے کیا عزت کمائیں گے؟۔ جب دنیا کو پتہ چل جائیگا کہ امریکی افواج کی سرپرستی میں بلیک منی حاصل کرنے کیلئے دنیا بھر کی فوجیں منشیات کی سرپرستی کرتی ہیں اور وائٹ منی کیلئے جنگیں برپا کرکے اسلحہ فروخت کیا جارہا ہے تو انسانیت کی آنکھیں کھلیں گی کہ امریکہ ہی برائی کی اصل جڑ اور اس کاپیش خیمہ ہے۔عراق کو تباہ کیا گیا اور اب اعترافِ جرم کیا جارہا ہے؟۔ رضاکارانہ اقرارِ جرم کے پیچھے اصل کہانی منشیات کی سمگلنگ اور اسلحہ کے کاروبار کا مزید فروغ ہے، جو بڑے آب وتاب کیساتھ جاری ہے۔ اوبامہ گدھے کو کیا پتہ کی طویل عرصہ تک جنگ پاکستان میں جاری رہنے کا بیان اسے کیوں دلوایاگیا۔
جب کامریڈ سلیم اختر کے ہمراہ میری کمیونسٹ پارٹی کے امدادقاضی سے عاصم جمال مرحوم کی رہائشگاہ پر ملاقات ہوئی تو طالبان اور جہاد کے ذکر پر عاصم جمال مرحوم بہت برہم ہوئے، بڑے سخت لہجہ میں کہا کہ یہ ڈرامہ چھوڑ دو، اصل بات بتاؤ کہ ہیروئن کی اسمگلنگ کی کہانی کیا ہے؟۔ ان کو غصہ آرہا تھا کہ طالبان اور جہاد کا ذکر کیسا؟، ان کا مؤقف تھا کہ’’ امریکی فوج نے دنیا بھر کی افواج کو اپنے ساتھ منشیات کی سمگلنگ میں ملایا ہوا ہے، امریکی فوجیوں کا یہی دھندہ ہے اور انکے تربیت یافتہ دنیا بھر کے پسماندہ ممالک پر جنگیں مسلط کرکے ہیروئن کی کاشت اور سمگلنگ کے ذریعہ سے ایک ڈالر پر80 ڈالر کمانے کا منافع بخش کاروبار کرتے ہیں۔امریکہ کے اینٹنی نار کوٹس کے چیف کو اسمگلنگ میں باقاعدہ عدالت کی طرف سے اسی وجہ سے سزا بھی ہوچکی ہے‘‘۔
اپنی قوم ، ملت اور سلطنت سے محبت رکھناایمان کا تقاضہ ہے لیکن تعصب کرنا بے ایمانی ہے اور مسلم قوم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسرے ہمارے ساتھ تعصب کریں تو ہم بھی تعصب کو ہوا دیں، نبیﷺ نے فرمایا کہ الدین النصیحۃ ’’ دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ دوسروں کی تباہی نہیں خیر خواہی کا نام اسلام ہے۔ اسلام سلامتی اور ایمان امن کی ضمانت ہے۔ ایمان واسلام کی بنیاد پر یہ دنیا امن وامان کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ دنیا کو تقسیم در تقسیم،نفرت در نفرت، تعصب در تعصب ، انتقام در انتقام، عداوت در عداوت اور تباہی وبربادی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ ایک طبقہ امریکہ اور دوسرا دہشت گردوں کا حامی ہو،دونوں آپس میں الجھ کر دہشت گردوں کو مجاہد یا فسادی کہنے پر لڑیں تومیدانِ جنگ بدلے گا۔اس منفی سوچ ، غلط رویہ اور تعصب کی بدولت ہمارے سیاستدان، مذہبی طبقے اور لسانی قائدین تباہ تھے۔ جنرل راحیل نے یومِ دفاع پر چیئرمین سینٹ ،اقتصادی راہداری پروزیراعظم کی ڈرائیونگ اور ایدھیؒ کی عزت سے قوم کے مثبت رحجانات کا پیغام دیا۔
امریکہ نے دنیا کے مختلف ممالک کی طرح اپنے مفاد میں پاکستان اور خطے کا نقشہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پہلے افغان مہاجرین کو نکالنے یا نہ نکالنے پر ایک تعصب کو ہوا دی جائے گی، جب یہ قوم ملتِ اسلامیہ کو بخرے کرنے پر لسانی اعتبار سے تعصب کا شکار ہوجائے گی توکوئی افغانیوں کی حمایت اور کوئی مخالفت کریگا؟۔ جب اسلام کے حوالہ سے جہادی جذبہ چل رہا تھا، تو وہ قوم کو تباہ کرنے کیلئے گارگر ہتھیار تھا، عالمی قوتوں کے ایماء پر افغان مہاجرین کو سونے کی چڑیا سمجھ کر بسایا گیا، اس وقت روس کے ایجنٹ بن کر بعض لوگ دھماکے کرتے مگر ہم نے اپنے مفاد کیلئے وہ سب کچھ برداشت کیا، اب پولیس افغانیوں کو تنگ کرنا شروع کریگی تو ایک نیا کھیل شروع ہوگا۔
سندھی، بلوچ، پنجابی اور بعض پختون کہیں گے کہ ان کو نکال دو، بعض کہیں گے کہ ان کو اس طرح دھکیلنا زیادتی ہے، جنکے پاس ٹکے کی عزت اور افراد نہ ہونگے، اسی نام پر دونوں اطراف کو نئی سیاست چمکانے اور ہمدردیاں بٹورنے کا موقع مل جائیگا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ امریکہ نے تمام دنیا میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی تقسیم کا بھی فیصلہ ہوچکا ہے، یہ اپنے انجام کی طرف جارہا ہے جو مقتدر قوتیں ہیں وہ مزاحمت نہیں کرنا چاہتی ہیں بلکہ ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تو ہماری ایسی اوقات نہیں کہ رکاوٹ بن سکیں، بس ویمدھم فی طغیانھم یعمھون ان کو اللہ ان کی سرکشی میں اندھیرنگری کی کیفیت میں لے جارہا ہے۔ساتھ میں تشریف فرماایک رہنمانے کہا کہ کراچی کو علیحدہ کرنے کیلئے پہلے دوسری قومیتوں کو نکالا جائیگا، پھر کراچی کو ملک سے کاٹ دیا جائیگا۔
یوں تو مشہورہے کہ دو ملاؤں میں کُکڑی حرام ہے، یعنی ان کی آپس میں نہیں بنتی لیکن یہ واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ ایک اللہ والا شیخ طریقت کسی شہر میں آنا چاہتا تھا تو دوسرے نے تحفہ کے طور پر شربت کا بھرا ہوا گلاس بھیج دیا، لطائف صوفیہ کے لطیف اشارہ سے سمجھایا کہ یہاں اس شہر میں تیری گنجائش نہیں،فیضانِ تصوف کا پیمانہ لبریز ہے ۔ آنے والے نے اس سے بڑھ کر اپنے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرے ہوئے گلاس پر پھول رکھ دیااور لطافت کے فن سے بتایا کہ مجھ سے تجھے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی، پھول کی طرح رہوں گا۔ چنانچہ شہر میں پہلے سے موجود صوفی نے اپنا گڈریہ سمیٹا اور چل دیا کہ آنے والا زیادہ پاورفل اور عقلمند ہے،میری دال نہ گلے گی، سورج کے سامنے چاند کی روشنی مدہم پڑجاتی ہے، اسلئے وہاں سے جانا پڑ گیا۔ علماء کی طرح صوفیاء بھی اپنے ٹھیے لگاکر خلقِ خدا کو ایسا فیضیاب کرنا چاہتے ہیں جہاں دوصوفیوں کے اندر شارٹ سرکٹ سے کہیں خطرہ 440 پیدا نہ ہو، اور وولٹیج 220ہی رہے۔ایک ہی شیخ کے خلفاء کی تشکیل دور درازکے مختلف علاقوں میں کی جاتی تھی۔معاصرت کا لفظ ہی کافی ہے، یعنی ایک زمانہ میں ہونے کی وجہ ہی مخالفت اور مخاصمت عام سی بات ہے۔ توحید اور نبیﷺ سے محبت کے نام پر ایک دوسرے کیخلاف تعصب کا زہر گھولا جاتا ہے ۔مولاناطارق جمیل خودکش حملوں کی مذمت سے انکارمگر حرم والوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے پر اظہارِ افسوس سے تعصب کی بدبُو کو ہوا دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو نبوت سے نوازا تھا، کسی بات پر اختلاف کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا ۔اگر اس کا قرآن میں ذکر نہ ہوتا تو اسرائیلیات قرار دیکر اس کو رد کردیا جاتا کہ ایک جلیل القدر نبی اپنے دوسرے نبی بھائی کیساتھ یہ حرکت کیسے کرسکتا تھا اور اس سے بڑھ کر معصوم فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق پر کھل کر اعتراض کیا جن کی سرشست ہی میں معصیت کا خمیر بھی نہ تھا، جبکہ ابلیس نے پہلے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ روتا تھا کہ کہیں وہ کمبخت مَیں نہ ہوں جس کو جنت سے نکالا جائے،پھر جب یہ حکم آیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو سارے فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے تکبر کیا، اس نے یہ نہیں دیکھا کہ نوری فرشتے سجدہ کررہے ہیں تو ناری جنّ کو سجدہ سے انکارزیب نہیں دیتاہے،اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو بلکہ انسانیت کو یہ سبق سکھادیا کہ ابلیس کے نقش قدم پر چلنے میں عافیت نہیں ذلت ورسوائی کا راستہ ہے۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلافات اور لڑائی جھگڑوں سے انکار نہیں مگرموسیٰ ؑ و ہارونؑ اور موسیٰ ؑ وخضرؑ کے درمیان اختلافات کو عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھنے والوں کیلئے یہ لازم ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اختلافات کو بھی محبت و عقیدت کی بجائے بغض و تعصب کا رنگ نہ دیں اور جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وکالت کرکے حضرت ہارونؓ و خضرؑ کی توہین واہانت گمراہی ہے اسی طرح نبیﷺ کے صحابہؓ کے اختلاف کو بھی محبت و عقیدت کی بجائے بغض و تعصب کا رنگ دینا کوئی مستحسن نہیں بلکہ قبیح ومکروہ فعل ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ موجودہ دور میں فرقہ وارانہ تعصبات کو ختم کرنے کیلئے ایمانداری سے وہ کام کریں جس سے لوگوں کے ذہن اور دل ایک دوسرے سے بغض و عناد ، دشمنی و عداوت کی بجائے محبت وانسیت سے لبیریز ہوجائیں۔ زبان وقبائل کی شناخت تعارف کیلئے لیکن فرقہ واریت کی شناخت ایک حقیقت تو ہے مگر کوئی مستحسن چیز نہیں ۔
میرا تعلق دیوبندی مکتب سے ہے، قریبی حلقے سے محبت فطرت لیکن اپنے فرقہ کیلئے تعصب رکھنا انتہائی مذموم فعل ہے اور اسی وجہ سے سابقہ قومیں تباہ وبرباد ہوئی ہیں۔ جو یہ کہا کرتے تھے کہ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ہودا اونصاریٰ وقالت الیہود لیست النصاریٰ علی شئی وقالت النصاریٰ لیست الیہود علی شئی ۔۔۔ وقال الذین لایعلمون مثل قولہم ’’اور وہ کہتے تھے کہ کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودی یا نصرانی ہو، یہود کہتے تھے کہ نصاریٰ کسی (حق) چیز پرنہیں اور نصاریٰ کہتے تھے کہ یہود کسی چیز پر نہیں۔۔۔ اسی طرح جو نہیں جانتے وہ بھی انہی کی طرح بات کرتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اس متعصبانہ ذہنیت کی نفی کرتے ہوئے اسلام کو رحمۃ للعالینﷺ کے ذریعہ رب العالمین جل جلالہ کا دین بنادیا۔ ان الذین اٰمنو ا و الذین ھادوا والنصاریٰ و الصابئین من امن باللہ والیوم اٰخر وعمل صالحا فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون ’’ بیشک جولوگ مسلمان ہیں، جو یہودی ہیں اور جونصاریٰ ہیں ، جو صابئین ہیں، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
لو لا دفع اللہ الناس بعضھم علیٰ بعض لھدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد اذکرو ا فیھا اسم اللہ کثیرا اس میں باقی مذاہب کے مقابلے میں مساجد کو اللہ نے آخر میں رکھا ۔ ہم مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعصبات رکھتے ہیں۔ سنی شیعہ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث نے مل کر مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا لیکن اکابر دیوبند کا یہ عقیدہ زیادہ خطرناک و گمراہ کن ہے کہ روحانی طاقت کی بنیاد پرامام مہدی دنیا کے حالات کو بدلے گا، بلکہ شیعہ اور عام لوگ بھی اسی گمراہی میں مبتلاء ہیں، علامہ اقبال ؒ کا تصور درست تھا،مولانا مودودی ؒ نے لکھا :مہدی عام لوگوں سے بالکل مختلف نہ ہوگا، میرے خیال میں اس کی جدتوں کیخلاف سب سے پہلے علماء وصوفیاء ہی شورش برپا کرینگے(تجدید واحیائے دین)مگردر حقیقت مہدی کوجدتوں کی ضرورت ہرگزنہ ہوگی بلکہ قرآن وسنت کاسادہ اسلوب ہی اجنبیت کاپردہ اٹھانے کیلئے کافی اور ہدایت کا اصل بڑا ذریعہ ہوگا۔بنیادی معاملات پر قرآن وسنت کو واضح کیا جائے تو جماعت اسلامی، بریلوی، دیوبندی،شیعہ ،اہلحدیث سب ایک اورنیک ہونگے۔عتیق گیلانی

پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔

پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔ جب امریکہ نے مسلم ممالک افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام وغیرہ پر حملہ کرنے کی ابتداء کی تو بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؂ نادان گرگیا سجدے میں جب وقت قیام آیا۔ اسلام شاعرانہ جذبے کانام نہیں ، لیلۃ القدر کی رات میں پیدا ہونے والے مغربی پاکستان کانقشہ ایسا ہے جیسے سجدہ کی حالت میں ہو،گوادر اس کا سر ہے ، کراچی شہ رگ ہے ، سندھ بایاں بازو،جگر اور دل ہے، بلوچستان دایاں بازو اور جگر ہے ، پختونخواہ دائیں پسلیاں ہیں ، پنجاب پیٹ ہے اورمقبوضہ کشمیر و آزاد کشمیر گلگت و بلتستان پاؤں و چوتڑہیں۔ بائیں ٹانگ وچوتڑ پر بھارت کا قبضہ ہے جسکی آزادی تک کوئی غیرتمند پاکستانی چین و سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔گوادر کے راستہ سے منہ کی طرح غذا آئیگی اور آنتوں سے ہوتی ہوئی چین پہنچے گی تو جسم توانا بن جائیگا۔ کھلے دل سے پالیسی تشکیل دیں تاکہ غیرتمند بلوچ کے دماغ سے بغاوت کا جذبہ نکلے، کرپٹ لوگوں کے بجائے باکردار لوگ صرف پاکستان نہیں بلکہ عالم اسلام کی خاطر ریاستی اداروں کیساتھ روح و جسم کی طرح ایک و نیک بن جائیں۔ کراچی و سندھ کے شہری علاقوں کے اردو اسپیکنگ پاکستان میں شہ رگ کی طرح کردار ادا کریں۔ سندھیوں کے دل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیساتھ دھڑکیں اورٹوٹی پسلی پختونخواہ کو صحت مند بنایا جائے جو جسم کو تکیہ دینے کے قابل بن جائے۔ پنجاب پھٹے ہوئے پیٹ کی طرح نہ ہو جسکے شہزادوں کی آف شور کمپنیاں پانامہ میں لیک ہوں، شریف فیملی سمیت سب اپنی حق حلال کی کمائی ملک لاکر سرمایہ کاری کریں، عوام غربت سے بدحال اورعوامی نمائندوں کے بچے باہر مالامال ہیں۔اگر انکے بچے واقعی قابل ہیں تو زیادہ شادیاں کریں اور زیادہ بچے جنوائیں اور بیرون ملک سے زرِ مبادلہ کماکر پاکستان منتقل کریں تاکہ اعتمادقائم ہو۔

پاک آرمی نے خود احتسابی شروع کی تو یہ آئین کے عین مطابق ہے ، عدلیہ و فوج کیلئے یہی قانون ہے ۔ اگر جسٹس(ر) افتخار چوہدری کے وقت عدلیہ کی تطہیر ہوجاتی تو اعتزاز احسن ، عاصمہ جہانگیر ، علی احمد کرد اور وکلاء رہنماؤں کا سر فخر سے بلند ہوتا، عدلیہ کیلئے فوج کا احتساب ممکن بھی نہ تھا، ملک کی قسمت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمے کیلئے بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔ لائق احترام چیئر مین سینٹ رضا ربانی اگر کہتے کہ’’ ہمارا سر شرم سے جھکا، جمہوری حکومت اور سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کے عمل سے خود کو قوم کے سامنے رول ماڈل پیش کرنا تھا مگر ہمارے بجائے یہ کام فوج نے خود ہی شروع کردیا‘‘۔ جنرل راحیل شریف آن ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو معاف نہیں کرتے لیکن سیاستدانوں نے جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور کرپشن کی بے تاج بادشاہی کا کاروبار بنا رکھا ہے۔ کارکن رہنماؤں کا ،رہنما اپنے قائدین کا گریبان پکڑتے تو سیاسی قبلہ درست ہوتا، کرایہ کے ٹٹو کارکن اور ضمیرفروش سیاسی ر ہنما جمہوریت کاتحفظ نہیں کرسکتے ہیں۔ پانامہ لیکس نے اس حمام میں احرام پہنے والے جاتی عمرہ کے حاجی نواز شریف اور الحاج شہبازشریف کا احرام بھی کھول دیاہے،اب قربانی دینا ہوگی،علماء درست اسلام کا جھنڈا بلند کریں توپاکستان روحانی، اخلاقی اور انسانی بنیاد پربدلے گا۔
جنرل راحیل شریف نے ریاست کی رٹ پاکستان بھر میں بحال کردی تو اسمیں بہادری کے علاوہ کرپشن سے پاک پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ کیا برا ہوتا کہ ہماری سیاسی قیادت باہر سے اپنا پیسہ واپس پاکستان منتقل کردیتی تو ملٹری اور سول بیوروکریسی کے لوگ بھی اپنے حق حلال یا نا حق حرام کی کمائیاں لوٹادیتے۔ جس طرح ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی کا پیسہ ضبط ہوا ، منی لانڈرنگ کے کیس بن گئے اور ایجنٹ کے الزام بھی لگے ۔یہی دوسرے پاکستانیوں کیساتھ بھی ہوگا،اسلئے برضا و رغبت اور خوشی خوشی اپنی رقوم پاکستان منتقل کردیں ، یہاں بھی بڑے شہروں میں ڈیفنس کی شکل میں آف شور کی سہولیات موجود ہیں،اگر ڈیفنس کی یہ سہولت ختم کردی تو ڈیفنس کے بجٹ میں یہ رقم آئیگی۔
اعتزازاحسن نے کہا :’’ بلوچستان کاسیکرٹری خزانہ بلوچ تھا، ہتھکڑی لگ گئی اس نے کروڑوں روپیہ گھر میں رکھا لیکن پنجابی شہزادوں کو سزا نہ ہوگی جنہوں نے اربوں کھربوں آف شور کمپنی میں رکھے ،دونوں کی کرپشن میں فرق کیا ‘‘۔پاکستان ٹھوس اقدامات سے اسلامی برادری اور دنیا میں آج بھی کھڑا ہوسکتا ہے مگر فطری اسلام ضروری۔

برصغیر پاک و ہند پر 8سو سالہ حکمرانی کے بعد انگریز نے قبضہ کیا اور آزادی و تقسیم ہند کے بعد پاکستان دو لخت ہوا اور اب تک کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے

وزیراعظم کو لندن میں آرام کرنے کا صلہ اسلئے ملاکہ جیو ٹی وی چینل اور کچھ صحافیوں کے منہ میں کچھ ڈال کر خاموش کرادیا ،ورنہ تو ان کی بک بک چلتی تھی کہ صج پاکستان گیا یا شام تک نہ رہیگا،عوام کو حکومت جانے کا فرق بھی نہ پڑتا

نوازشریف زرداری کیطرح ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کا چیئرمین بنادے تاکہ پھر اے آروائی سے بھاگ جائے۔ عرفان صدیقی کی بات کااچھا صلہ دیاکہ صدرتارڑ نے پانچ جنرلوں کے سامنے گن پوائنٹ پر استفعیٰ نہ دیا۔

پانامہ لیکس سے شریف فیملی کی ساکھ متأثر ہوئی، بین الاقوامی سطح اور خطے میں پاکستان تنہائی کا شکار ہوگیا، اندرون و بیرون خطرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر پائیدار تبدیلی ضروری ہے قومی حکومت بنانا بہت بہتر رہے گا۔

ایران سے امریکی پاپندی ختم ہوئی، ایران سے چین براستہ افغانستان راہداری کامنصوبہ بھارت کیلئے خطے میں اثر ورسوخ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کو نظریاتی ، معاشی اور معاشرتی معاملات کے ذریعہ پائیداری درکارہوگی

مدارس، مساجد، مذہبی جماعتوں اور عوام نے اگرتبدیلی کا فیصلہ کرلیا تو جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس سمیت ملک کے تمام ریاستی اداروں کے سربراہ خوش ہونگے

پاکستان اب زیادہ آزمائشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، ہمیں روح اور اپنے اخلاقیات بدلنے کی ضرورت ہے، گوادر ہمارا سر ہے،بلوچ پاکستان کی عزت کے دستار ہیں، ہمارے رویے، غفلت اور ظلم وجبر کے باعث صرف بلوچ، پختون، سندھی ، مہاجر نہیں بلکہ پنجاب کی عوام سب سے زیادہ مظلوم ہیں، جہاں بدمعاش کلچر میں بیٹیوں کی عزت کو بھی سرِ عام تحفظ حاصل نہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر اور تمام بلوچ رہنما ملت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی معاملہ کو سمجھ لیں، پوری اسلامی دنیا کے مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین ہوگئی ، غیروں سے زیادہ اپنا عمل اور اپنی کمزوریاں ہاتھ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں کی بیڑیاں بنتی ہیں۔
جس دن غیرتمند بلوچوں کو احساس ہوا کہ ہم غلام نہیں پاکستان کے سر کی دستار ہیں تووہ اعلان کریں گے کہ اکبر بگٹی کو فوج نے گھر میں نہیں مورچہ میں مارا ہے، لڑائی میں ایسا نہ ہو تو کیا ہوگا؟۔ ہم پاکستانی فوج کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں جتنا ان سے ہوسکتا تھا اتنا وہ ہمارے ساتھ نہیں کرتے تھے، جنگ میں کوئی فائدہ نہیں، ہم خود ہی دوستی کا ہاتھ بڑھادیتے ہیں، ہم سارے بھائی بھائی ہیں۔ اپنی قوم اور اپنے ملک کیلئے آج کے بعد ہم کوئی مشکل نہ کھڑی کریں گے تودنیا دیکھے گی کہ بہادر بلوچ ملتِ اسلامیہ کی امامت کررہے ہیں۔
طالبان نے نیٹو کیخلاف جانوں کے نذرانے پیش کئے، اب بندگلی کی طرف جانے اور مزید اپنا اور اپنی قوم و ملت کا نقصان کرنے کی بجائے اپنی خدمات طاقت کی بجائے علم کی شمع جلاکر پیش کریں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اسوقت ہوگی جب دنیا کو احسا س ہوگا کہ مسلم امہ میں دنیا کی بہترین انسانیت، زبردست اخلاقی اقدار اورسب سے اعلیٰ عدل و انصاف کا نظام ہے۔ دنیا کے پاس صرف قانون، زورزبردستی اور چیک اینڈ بیلنس کاہی سسٹم ہے مگر ہمارے پاس روحانی اور عقیدے کی بنیاد پر ایسا نظام ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
مساجدومدارس،خانقاہوں وامام بارگاہوں، جماعت خانوں ومذہبی جماعتوں اور مسلم سکالروں کو اکٹھا کرکے قرآن وسنت کی بنیاد پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کیا جائے تو ایک انقلاب آجائیگا، کراچی اور پاکستان بھر اردو اسپکینگ کمیونٹی بہترین تعلیمی نظام قائم کرکے پاکستان کے گھر گھر ، گلی گلی، محلہ محلہ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، شہر شہربلا امتیاز و نسل ،فرقہ وقوم سب کو تعلیم و شعور کے زیور سے آشنا کریگی۔ سندھیوں سے دل کی دھڑکنوں کی طرح پیار و محبت میں خون کے سرخ وسفید جرثومے پورے پاکستان کو پہنچیں گی،مہاجر قوم شہ رگ اور اور سندھی دل دل پاکستان جان جان پاکستان ہیں۔ شہ رگ کٹنے اور دل کی دھڑکن بند ہو تو جسم لاش بن کرموت واقع ہوجاتی ہے۔پھر سندھی جلوس نکالیں گے کہ کالاباغ ڈیم بناؤ اور ازبکستان سے بجلی لانے کی بجائے دریائے سندھ کو پورے کا پورا ڈیم کی طرح بناؤ، جو نہ صرف بجلی بلکہ سطح زمین پر پانی کی قحط نہ رہے، پاکستان سرسبز وشاداب اور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی مالامال ہوں، پانی کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے مگر حکمرانوں کو دلچسپی نہیں۔
اللہ نے فرمایا: ’’گدھے، خچر اورگھوڑے میں نے پیدا کئے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو اور خوبصورتی کیلئے پیدا کئے ہیں‘‘۔ یہ جانور کام کے بھی ہیں اور ان کی وجہ سے رونق بھی ۔ مسلمانوں کے پاس وہ نصابِ تعلیم، معاشرتی احکام،تہذیب وتمدن اور اخلاقی اقدار نہیں تھے جو انگریز کو برصغیرِ پاک وہند سے روک سکتے۔ سکھ ایک نیا مذہب تھا لیکن پنجاب، کشمیر اور قبائلی علاقہ جات کے دامانی علاقوں تک ان کی حکومت تھی۔ انگریز نے اپنے دور میں جو فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کا نظام بنایا، ان کے مقاصد، خدمات اور معاشرتی رونق کے سوا کیا تھے؟۔ 70سال ہوگئے ہیں کہ برصغیرپاک وہند سے انگریز گیا، بھارت اور پاکستان میں آج بھی یہ ادارے اپنے اپنے خدمات انجام دینے اور معاشرے کو رونق بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیرپر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن اقوام متحدہ نے رائے حق دہی کیلئے اس کو پاکستان سے خالی کروایا اور پھر بھی بھارت نے قبضہ کرلیا۔ ہم بھارت سے تو قبضہ نہ چھڑاسکے البتہ مشرقی پاکستان بھی کھو دیا ہے۔ ہم نے اپنی بہت تعریف کرلی، اب اپنی ان کوتاہیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے باقی ماندہ پاکستان بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر امریکہ کو بھونکنے اور ڈھینچوڈھینچوکی ورد چھوڑیں۔
اپنے اندر اتنا دم پیدا کریں کہ امریکی امدادشکریہ کیساتھ قبول کرنے کی بجائے ان کے اپنے پڑوسی غریب ممالک کو دینے کی تجویز پیش کریں۔ F.16طیارے کی ہمیں ضرورت بھی پیش نہ آتی ،اگر اسٹیل مل میں کرپشن کی بجائے جنگی سازوسامان ، مسافر طیارے اور دیگراشیاء بناکر اس کو بہترین ادارہ بنادیتے۔ ہمارے ریاستی اداروں کی تشکیل وتعمیر جنہوں جن مقاصد کی خاطر کی تھی ان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی توقع رکھنا بھی بعض بدبودار قسم کی ذہنیت کا شاخسانہ تھا، جن لوگوں نے اسلام کو اوڑھنا، بچھونا، کھانا پینا اور رہنا سہنا بنانا رکھا ہے وہ خوداسلام سے بہت دور ہیں جن کی نسلیں دارلعلوم میں پیدا، پھل بڑھ کر دفن ہوجاتی ہیں توپاک فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی کے جوانوں اور افسروں سے کس قسم کے اسلام کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟ اصلاح کیلئے گمراہی کے قلعوں مدارس کو فتح کرنا ہوگا۔
مجھے مدارس سے نفرت نہیں محبت،بد اعتقادی نہیں عقیدت،بغض وعناد نہیں عشق وپیار ، بدظنی وبدگمانی نہیں حسنِ ظن وخوش گمانی اور بدخواہی نہیں خیرخواہی ہے، وقت آئے تو ادب وتمیز،اکرام واحترام، عجز وانکساری،تواضع اور ایسے خاطر مدارات کا مظاہرہ کروں گا، جیسے ایک فرمانبردار بیٹا اپنے والدین کا کرتا ہے، ماں کی ممتا سے ملنے والے دودھ کی میٹھاس کو یاد نہیں رکھا جاسکتا مگر مدارس کی ممتا سے ملنے والے علم کی میٹھاس دل ودماغ کیلئے فرحت بخش ہوتے ہیں۔ دودھ کی یہ نہریں بزرگوں سے ہوتی ہوئی رسول اللہﷺ تک اور اللہ کی وحی تک پہنچتی ہیں، سب اپنے نصیب کے مطابق سیراب ہوتے ہیں،اساتذہ کرام کی تعلیم وتربیت ہے کہ قرآن و سنت کی روح سے روگردانی نہیں کی، ورنہ میں بالکل بھٹک جاتا۔
اہم اور بنیادی تجاویز اور ان کا مختصر خلاصہ
1:مدارس کے نصاب کی وسیع تر مشاورت سے تبدیلی، جن احکام میں معروف کی جگہ منکرات نے لے لی ہے، اس کو قرآن و سنت کے مطابق معروفات میں تبدیل کرنا۔
(ا): نکاح و طلاق میں معروف کی جگہ منکر نے لے لی ہے ،دلائل وبراہین کے ذریعہ ایک نئے نصاب کی تشکیل اور اس پر معاشرتی نظام کو کاربند کرنے کے نتیجے میں زبردست خوشحالی آئے گی۔ پسند کی شادی کی مخالفت نہیں ناپسند کی شادی کی حوصلہ شکنی کی ضرورت کا احسا س کرنا چاہیے تھا، نبیﷺ نے فرمایا:جس لڑکی کے باپ نے اسکی مرضی کے بغیرنکاح کیا تو وہ نکاح منعقد نہیں(بخاری)۔نصاب اور معاشرے میں اس حدیث کی ترویج ہوتی تو کوئی لڑکی بھاگ کر شادی نہ کرتی۔ طلاق واقع ہونے نہ ہونے کی چیز نہیں بلکہ علیحدگی کا طریقۂ کار ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، جسکی کچھ تفصیل اداریہ میں موجود ہے۔رجوع کا تعلق باہمی صلح سے مشروط اور معروف طریقہ سے ہے، حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق پر شوہر کے یکطرفہ رجوع کے حق کو معطل کیا تھا ۔ تین طلاق نہیں ایک طلاق کے لفظ پر بھی عورت راضی نہ ہو تو شوہر یکطرفہ رجوع کا حق کھو دیتا ہے حضرت عمرؓ کا فیصلہ درست تھا لیکن اس کو حلالہ کیلئے غلط رنگ دیا گیا ہے، صلح کی شرط پر رجوع کی قرآن وسنت میں عدت کے دوران اور عدت کے بعد وضاحت ہے۔ بخاری وابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابورکانہؓ و امّ رکانہؓ کے واقعات موجود ہیں۔ بیوقوفی اور کم عقلی کی انتہاء ہے کہ احناف نے ’’نورانوار‘‘اور ابن قیم ؒ نے ’’زادالمعاد‘‘ میں اس طلاق کو قرآن کے مطابق فدیہ سے ہی مشروط کیا ہے اور پھر یہ بحث کی ہے کہ فدیہ کوئی الگ چیز ہے یا طلاق کا ضمنی معاملہ ہے؟۔ عدد کی گنتی پوری کرنے کا چکر نہ ہوتا تو اس بحث کی ضرورت بھی نہ پڑتی لیکن علامہ ابن قیمؒ کی سمجھ پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ احناف کی ضد میں لکھ دیا کہ ’’ طلاق الگ چیز ہے اور خلع الگ، اسکا نام اللہ نے طلاق نہیں فدیہ رکھا ہے‘‘ حالانکہ آیت میں خلع کا ذکر نہیں بلکہ اس طلاق کا مقدمہ ہے جس کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے۔ خلع کے بارے میں سورۂ النساء کی آیت ہے ، احادیث اسی ضمن میں لکھے جاتے تو معاشرے میں خواتین کے حقوق اجاگر ہوتے ہم بہت سی برائیوں سے بچتے، طلاق کے تضاد اور اختلافات بھی کالعدم نہیں بلکہ معدوم ہی ہوجائیں گے۔
جس طرح اللہ اور اسکے رسولﷺ نے مرحلہ وار دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ کی وضاحت فرمائی ہے،اس سے طرح ہاتھ چھوڑ شوہر کی پٹائی سے صنفِ نازک کو بچانے کیلئے مارنے سے پہلے دومرحلے رکھے ہیں، پہلے مرحلہ میں افہام وتفہیم سے سمجھانا، دوسرا مرحلہ بستر الگ کرنا اور تیسرے مرحلہ میں مارنا۔ کوئی بیوی کو دشمنی اورمنصوبہ بندی سے نہیں مارتالیکن چھوڑنے اور الگ ہونے سے بیوی کو ہلکی پلکی مار خود بھی بہتر لگتی ہے۔جب اتنی برداشت شوہر میں پیدا ہوجائے کہ سمجھانے اور بستر کو الگ کرنے کے مراحل سے گزرے تو مارپیٹ اور تشدد کی عادت بھی نرمی اور شائستگی میں بدل جاتی ہے۔جس طرح طلاق کے بارے میں مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے مرحلوں کو ترک کیا گیا اسیطرح سے مارپیٹ کے دو مراحل کو بھی نظرانداز کرکے اسلام کے نام پر معروف کو منکر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
2: دنیائے اسلام کا سب سے بڑا مرکز خانہ کعبہ ہے اور حجر اسود ایک ہجوم کا محور رہتا ہے کوئی بھی شریف معاشرہ اس طرح اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مخلوط ماحول میں اجنبی خواتین و مرد حضرات ہڈی پسلی ایک کرکے ایک دوسرے کے گوشت پوست میں پیوست ہوجائیں۔ یہ انسانی شرافت ، فطرت اور اسلام کے بنیادی تعلیمات کے بالکل منافی ہے، یہ شکر ہے کہ اس کی تصویریں دنیا کو دکھاکر یہ باور نہیں کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو ہم روشن خیال ہیں۔ مہذب دنیا سے ہم نے لائنوں میں ہی نہیں سیکھا ہے بلکہ اپنے ہرمفاد کیلئے ان کی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگرحاجی اور عمرہ والوں کو حجراسود کا نمبر ایشوکیا جاتا، بھلے سعودی حکومت اس کاانتظام کرکے فیس بھی وصول کرتی توسب کیلئے بہتر ہوتا۔
3: خواتین کو خلع کا حق عدالتوں کی بجائے معاشرتی بنیادوں پر دیا جاتا تو اس میں تشدد کے عنصر کو ختم کرنے میں مدد ملتی۔ جب شوہر کو یہ پتہ ہوتا کہ عورت چھوڑ کر جانے کا حق بھی رکھتی ہے تو اس کے ساتھ غلامی کی بجائے ایک معاشرتی ساتھی کی طرح سلوک رو ا رکھا جاتا اور اگر عورت پابند نہ ہونے کے باوجود اس کی بد سلوکی پر صبر کا مظاہرہ کرتی تو یہ اصلاح کا ذریعہ بھی بنتا۔ جب عورت سے نکاح نہ ہوا ہو اور پھر بھی اس پر استحقاق جمائی جاتی ہو تو پھر نکاح کے بعد اس کو غلام سمجھنے میں کیوں مرد کو حق بجانب نہ سمجھے گا لیکن اگر قانون سے واضح کیا جائے کہ منکوحہ عورت بھی غلام نہیں تو غیر منکوحہ سے رویہ کبھی غلط نہ ہوسکتا تھا۔
4: طالبان نے ایک کام زبردست کیا جو ہماری ریاست ، سول سوسائٹی اور عوامی دباؤ سے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ سے لوگ طالبان سے زیادہ نفرت کرنے لگے تھے، مگر خوف کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ کسی جگہ لڑکی اور اسکے والدین قریبی رشتہ دار سے رشتہ کیلئے راضی نہیں ہوتے تھے تو بھی رسم و رواج کی مجبوری سے شادی کرانی پڑتی تھی۔ طالبان نے لڑکی اور والدین کی مرضی سے کئی شادیاں کرواکر بہترین کردار ادا کیا۔ اگر قرآن و سنت کی تعلیمات عوام کے سامنے ہوتیں تو یہ غلط رسم و رواج بہت پہلے ختم ہوچکے ہوتے۔
5: جس طرح سود کو موجودہ دور میں عام لوگ سمجھتے ہیں اسی طرح سے دور جاہلیت میں بھی سمجھتے تھے۔ قرآن نے منع کیا ، اب پھر معروف کی جگہ منکر اور منکر کی جگہ معروف نے لی ہے، چنانچہ بینک کے سود کو جائز اور کاروبار قرار دیا گیا ، شادی بیاہ کے لفافہ کو سود قرار دیا گیا۔ ہر دور میں وقت کے شیخ الاسلاموں نے اسلام کو اجنبی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ان سب کا جائز لے کر عوام کو معروف اور منکر بتانے کی ضرورت ہے۔ عتیق گیلانی

پانامہ لیکس چھوڑئیے اسحاق ڈار کے ذریعہ ملک کو تباہ کیا گیا…

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بناہے، اسلام پاکستان کا مستقبل ہے، پاکستان اسلام کی بنیاد پر ہی ترقی کرسکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد کے مطابق 2009,2010ء میں اندرونی قرضے کا سود576.77ارب روپیہ تھا، جو صرف 5سال بعد 2015,2016میں یہ سود دگنے سے بڑھ کر.676. 1168رب روپیہ ہوا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی 63سالہ تاریخ میں مجموعی طور سے جتنے قرضہ پر جو سود دیا جارہا تھا ، صرف پانچ سالہ دور میں اس سے وہ قرض کتنا بڑھ گیا ہے جس میں اسکے دگنا سے بھی زیادہ سود دیا جارہا ہے۔ یہ وہ سود ہے جو اندرونِ ملک قرضہ پردیا جارہا ہے، بیرونی قرضہ اور اس پر سود اسکے علاوہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اندورنِ ملک سے اتنا بڑا قرضہ کیسے لیا ہے؟، اس کا اثر قوم، ملک، سلطنت زندہ بادپائندہ باد پر کیا پڑیگا؟۔ اگر عوام کو یہ بات سمجھ میں آگئی تو قومی ترانہ میں زندہ باد پائندہ باد کی بجائے قوم ملک سلطنت کامرثیہ گاگا کروزیراعظم کو مارآستین سمجھ کر کہیں گے کہ’’ گزندہ باد،شرمندہ باد‘‘۔ پرویزمشرف نے مفت میں حبیب بینک کو بیچا تھاتو بھی ہمارے اخبار کی شہ سرخی تھی، پھر اسٹیل مل کو بیچا جارہا تھا، تب بھی ہم نے شہ سرخی لگائی تھی، اسوقت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سب سے بڑی نیکی اور کارنامہ یہی تھا کہ پرویزمشرف کو سپریم کورٹ نے روک دیا تھا۔ جس پی آئی اے کو نوازشریف کھڑا کرنے کی بات کررہے تھے اس کو پرائیویٹ کردیا گیا، بندے بھی مارے گئے اور پی آئی اے بھی نہ بچ سکی۔
ایک انتہائی اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں نوازشریف کا نہیں، انکے بچوں کا نام تھا، وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’’ میرا بچوں سے کیا تعلق ہے؟، وہ بالغ اور خود جوابدہ ہیں، جو چور ہوتا ہے ، وہ اپنا نام کھل کر ظاہرنہیں کرتا‘‘۔ پھر ایک ڈرامہ رچایا گیا کہ وزیراعظم کا نام بھی ہے، نہیں ہے، پانامہ نے معافی مانگ لی، نہیں مانگی، اپوزیشن اور حکومت کی مداری پارٹی قیادت نے جھاگ کی طرح شور اٹھایا، پھر یہ ختم ہوجائیگا، سرکاری پیسہ جو عوام کی ٹیکس سے بنتا ہے، وزیراعظم کے بچوں کی صفائی کیلئے خرچ کیا گیا۔ تحریک انصاف اس پر آواز اُٹھاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ تم غریبوں کی زکوٰۃ ، خیرات، صدقات کے پیسوں سے کاروبار کرتے ہو، اپنی ماں شوکت خانم کی بجائے ہسپتال غریبوں کے نام پررکھتے، عمران خان نے شوکت خانم میں دو دفعہ علاج کیا تو بھی غلط تھا، اربوں روپے کے مالک پر تو زکوٰۃ نہیں ہوتی اور زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں کیسے استعمال کی؟۔ بنی گالا بھی بیوی نے آف شور کمپنی سے خرید کردیا تھا تو عوام حکومت اور اپوزیشن کے ایکدوسرے پرالزامات میں خود کوبھول جاتی ہے۔
پہلے امیروں کو انکم ٹیکس دینا پڑتا تھا، جس کی کم آمدنی ہوتی تھی، وہ قانونی طور پر ٹیکس سے آزاد ہوتا تھا،پھر پرویزمشرف کے دور میں سیل ٹیکس کا آغاز کردیا گیا، جو امیر غریب سب کیلئے برابر ہے کیونکہ ضروریات کی چیزیں سب کو خریدنی پڑتی ہیں، پرویزمشرف نے پروگرام بنایا تھا کہ 15%سے اس کو5%پر لائیں گے مگر اب تو مختلف اشیاء پر بہت زیادہ بڑھادیا گیا ہے، پیٹرول پر45%ہے، پرویزمشرف کی نسبت3گنا بڑھا کر نوازشریف تقریر میں کہتا ہے کہ ’’مہنگائی کی کمر توڑ دی ہے‘‘ تو ڈھورڈنگر عوام تالیاں بجاتے ہیں،سیاسی مشیروں، وزراء اور ممبران اسمبلی میں اپوزیشن والے بھی حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ پانامہ لیکس سے بڑی خبریں ملک ہی میں دیگر ہیں مگر سیاستدانوں کو خبر نہیں تو عوام بیچاروں کا کیا قصور ہوسکتا ہے؟۔
عوام کو پتہ چلتا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل وغیرہ کی طرح ائرپورٹ اور سڑک بیچے جارہے ہیں تو حکمرانوں کو عوامی جلسوں میں جانے کی جرأت بھی نہ ہوتی۔ہمارا بے شعور معاشرہ شاہی سیاسی خانوادوں اور شخصیات کے رحم وکرم پر ہی آسرے میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے اڑا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا پرائیویٹ سیکٹر اسلامی بینکاری کے نام سے کراچی ائرپورٹ کو 300ارب میں گروی رکھ چکا ہے، حکومت اور اسلامی بینکوں کے درمیان M-2لاہور تااسلام آبادموٹروے اور کراچی ائرپورٹ میں سے ایک کو گروی رکھ اس رقم کو سودی قرضہ کی مد میں لینے پر بحث کی گئی، اسلامی بینکوں کے ڈائریکٹروں نے کراچی ائرپورٹ لینے پر اتفاق کیا۔ جب حکومت بھاری بھرکم سود کی ادائیگی سے عاجز آجائیگی تو شور شرابے کی نوبت بھی نہ ہوگی اور کراچی ائرپورٹ اسلام کے نام پرسودی کاروبار کرنے والوں کے خود بخود حوالہ ہوجائیگا۔ پھر وہ اسکو مہنگے داموں ٹکڑوں میں بیچ بیچ کر سود خوری کا پیسہ پورا کریں گے۔ چیف آف آرمی جنرل راحیل شریف کورکمانڈزکانفرنس بلاکر تمام معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں ورنہ پھر سیاستدان حکمران کہیں گے کہ دفاع کیلئے ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑاتھا،جب ملک ہی نہ رہیگا تو دفاع کس چیز کا کریں گے؟۔
جس طرح نوازشریف اپنے بچوں کی بیرون ملک دولت سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے، اسی طرح سے عوام اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی بے خبر ہوگی اور پورا ملک ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ شریف خاندان بڑا ’’وار داتیہ‘‘ ہے، دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے چھپے رستم نکلے۔ اگر رینجرز اور فوج نے امتیازی سلوک یا اپنا الو سیدھا کرکے کرپشن کے خلاف ڈرامہ ہی کرنا ہے، ڈاکٹر عاصم حسین کو اندرونِ خانہ جیب کترے کی طرح لوٹ کر نظام کی ناکامی کو بنیاد قرار دینا ہے تو سوبسم اللہ۔ وقت کیساتھ ساتھ عوامی شعور بڑھے گا، پھر مخلص افسر اور سپاہی بھی قابو میں نہ رہیں گے اور باشعور طبقہ اٹھے گا اور حکمرانوں، سیاستدانوں کے علاوہ کرپٹ ریاستی عناصرکو بھی کوئی بچا نہ سکے گا۔ سپاہی جان ان کیلئے دیتے ہیں جن کے پاس اعلیٰ اخلاقی، اسلامی یا وطن پرستی کے جذبات ہوں ، بے حسی میں کوئی بھی اچھا جذبہ پنپ نہیں سکتا ہے۔
معصوم، فرشتہ اور بے گناہ تو کوئی بھی نہ ہوگامگر وزیراعظم کے شریف خاندان کو جس شرافت کیساتھ کرپشن اور چوری سینہ زوری کی سوجھی ہے، لگتا یہ ہے کہ ان سے تو قوم کو چھٹکارا مل ہی جائیگا مگر فوج میں اپنی عوام کیساتھ سیاست تو دور کی بات ہے، اچھے طریقہ سے جنگ کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی، کیونکہ ان کی تربیت دشمن سے نمٹنا ہوتا ہے اپنوں سے نہیں۔کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں بڑی قربانیوں کے باوجود وہ نتائج نہ مل سکے جس کی توقع تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگ بولتے نہیں بھونکتے ہیں، نوازشریف پر 36کروڑ روپے کی گھڑی کے خریدنے کا الزام لگایاگیا، جبکہ اس کی قیمت36لاکھ ہے۔دنیا کی وکالت کا موجودہ نظام بے گناہی بھی ثابت کردیگا کہ ایک صفر بڑھانا کوئی اضافہ نہیں اور سیاستدان بجا طور سے کہہ سکتا ہے کہ صفر صفر ہوتا ہے چاہے آگے سے اضافہ ہو یا پیچھے سے۔
ایک دوسرے پر الزام تراشی، کرپشن، بداخلاقی اور بد تہذیبی کا سفر جاری رکھنے کی بجائے حقائق کی طرف آنا ہوگا۔ نوازشریف نے پاکستان کو کیا دیا؟ مگر پاکستان نے نوازشریف کو بہت کچھ دیا ۔ سیاست کی قیمت اپنے خاندان اور دوستوں کو بنانا ہو تو پیپلزپارٹی کے بھٹو خاندان نے جو قربانیاں دی ہیں ، اسکے مقابلہ میں نوازشریف کو خالی چٹکی نوچی گئی ہے۔ عمران خان نیازی شاید اتنا بھی نہ برداشت کرسکے بلکہ جنرل نیازی کی طرح اپنا ہتھیار بڑے اہتمام کیساتھ دشمن کے آگے ڈال دے، آدھا ملک گنوانے کے علاوہ فوج کو بھی تاریخی بے عزتی سے دو چار کردے۔ عزت کردار سے آتی ہے، اسلام کردار کا دین ہے اور کردار ہی سے دنیا میں عزت ملتی ہے۔ سیاستدانوں کو اپنے کردار سے اپنی قوم اور اداروں کو عزت دلانی ہوگی۔ دنیا اور ہمارے اردگرد ماحول کے تیور بدل رہے ہیں، کردار نہ ہو تو خود کا خود بھی ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت کم رہ گیا ہے ، پاکستان کا استحکام اچھے کردار کیساتھ اتحاد واتفاق اور یگانگت کا متقاضی ہے، ہمارا حال قابلِ رحم ہے۔

پاکستان نے اپنی عزت خود کرانی ہوگی مگر کیسے؟

ڈرائیور لوگ گدھے کو تھانیدار کہتے ہیں اسلئے کہ گدھا دوسرے جانوروں کی طرح سڑک چھوڑ کر راستہ نہیں دیتا بلکہ سر جھکا کر ، کان لٹکاکر ، دُم ہلاکر راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تورات کے متعلق یہودی علماء کے رویہ کو گدھے سے تعبیر کیا جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کردی،نبیﷺ نے فرمایا :یہ امت یہود اور نصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی، یہود نے حکومتی امور میں توراۃ کے احکام بدل ڈالے اور نصاریٰ نے اپنی کتاب میں تصوف کے احکام بدل ڈالے۔احبار و رہبان حلال و حرام کا جو فیصلہ کرتے تھے اس کو ان کی عوام مان لیتی تھی اسلئے اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے احبار ورہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا تھا۔
آج ہماری قوم بت پرستی کے کئی شعبہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ جس بت پرپیسہ زیادہ لگے وہ بڑا بن جاتا ہے،سول اور فوجی بیوروکریسی میں اچھے برے لوگ ہوسکتے ہیں مگر انکا کام مشین کے پُرزوں کی طرح ہوتا ہے، اصل کام سیاستدان کا ہوتاہے جو سماجی معاشرے میں پروان چڑھ کر قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیاستدان کا کام عوام کو نظریاتی شعوراور قوم کوبلند معیار دینا ہوتا ہے۔ ہمارا مستقبل بلاول بھٹو زرداری ، مریم نواز کے علاوہ تحریک انصاف کے سلیمان عمران سے وابستہ ہے، اسلئے کہ پارٹی میں نظریہ سے زیادہ شخصیت کی اہمیت ہے ، پہلے پارٹی میں قائد اہم ہوتاہے پھر اسکے فرزند کی اہمیت ہوتی ہے، پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
نبی کریمﷺ کی واحد نرینہ اولاد اللہ نے بچپن میں اُٹھالی، اپنے غلام کواپنا منہ بولا بیٹا بنایا تواللہ نے فرمایاکہ ماکان محمد آباء احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین’’ اور محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول اور انبیاء کے سلسلہ کے آخری مہر،نگینہ یا نبی۔ جسکے بعد وحی اور نبوت کا سلسلہ نہیں‘‘ ۔ اسلام کی تاریخ کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ مقرر ہوئے اور دوسرے حضرت عمرؓ نامزد ہوئے، حضرت عثمانؓ کو چندا فرادکی نامزد شوریٰ نے چن لیا اور حضرت علیؓ بھی ہنگامی حالات میں خلافت کی مسند پر بیٹھے ۔سب کا تعلق الگ الگ خاندانوں اور قبیلوں سے تھا۔ پھر خاندانوں نے مسند پر قبضہ کرنا شروع کیا۔
قائداعظم کی اکلوتی بیٹی تواپنی مرضی سے بھاگ گئی تھی اسلئے نواسوں کو اہمیت نہ مل سکی، اکلوتی بہن فاطمہ جناح کو جنرل ایوب خان نے فوجی مضبوط بیگ گراؤنڈ کی وجہ سے سیاست میں ابھرنے کا موقع نہ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کی سیاسی کوکھ سے نکل کر سیاست شروع کی تو ڈکٹیٹر شپ کے مزاج سے بھی جان نہ چھوٹ سکی اور آخرکار اسی کی نذر بھی ہوئے۔ میاں شریف مرحوم برادران7بھائی تھے جو اتفاق مل کے مالک تھے، بھٹو نے سارے پاکستان میں سوشلزم کے زیراثر فیکٹریوں اور ملوں کو ضبط کرکے قومی تحویل میں لیا تو اس کی زد میں یہ لوگ بھی آئے۔ نواز شریف نے پہلے اصغر خان اور پھر جنرل ضیاء الحق کیساتھ مل کر سیاست شروع کی تو پیپلزپارٹی سے اقتدار کی رقابت اپنی جگہ مگر سیاست کاروبار میں بدل گئی۔
پاک فوج نے جو سیاسی تحفے قیادت کی شکل میں قوم کو دئیے ہیں، کسی سے محبت اور کسی سے نفرت کی تفریق کے بغیر پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس آنی چاہیے۔ اگر پاکستانی قوم کا مستقبل قائداعظم کے نواسوں کے ہاتھ میں نہیں تو بھٹو اور پھر نواز شریف یا گولڈسمتھ کے نواسوں کے پاس کیوں جائے؟۔رسول اللہﷺ کے نواسے حضرت حسنؓ نے قوم کو متحد کرکے اقتدار کی قربانی دی ۔ حضرت حسینؓ نے یزیدیت اورموروثیت کے خلاف کربلا میں قربانی دی۔ زرداری، نوازشریف اورعمران خان کا اقتدار کے سوا کیا نظریہ ہوسکتا ہے؟۔ لوٹا کریسی، کرپشن، میڈیا کی سیاسی قدآوری نہ ہو تو گلی محلہ کے لوگ ان لوگوں کے کسی نظریہ سے متأثر نہ ہوں۔ طوطا مینا کی طرح کچھ بولنے کی رٹ لگاتے ہیں جو اپنے دل ودماغ نہیں بلکہ ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں الیکشن کے ذریعہ آزاد امیدواروں کوعوام جتوائیں ، سیاسی پارٹیوں سے پہلے نجأت پائیں ، پھر کوئی عوامی جمہوری سسٹم بن سکتا ہے، امریکہ میں جمہوری سسٹم کے ذریعہ بارک حسین اوبامہ منتخب ہوسکتا ہے مگر ہمارے ہاں معین قریشی سے شوکت عزیز اور ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نوازشریف تک مختلف رنگ روپ، نسل قوم سے تعلق رکھنے والے ملک کے وزیراعظم بننے کے باوجود پاکستان کے لوگوں کو ایسا سیاسی شعور نہ دے سکے جہاں علامہ اقبال ؒ کے افکار کی ذرا بھی جھلک دکھائے، یہ ایک ہنگامہ تھا جو طالبان نے ریاست اورعوام کی بھرپور حمایت سے برپا کردیا تھاجو اسلامی و سیاسی شعور دینے کی بجائے وقت کی بے رحم موجوں کی نذر بھی ہوگیاہے۔
بے تحاشا رقم خرچ کرکے سیاسی ریلیوں اور دھرنوں سے کوئی انقلاب آتا توبڑی بات ہوتی مگر یہ تماشے عوام بہت دیکھ چکے ، فوجی انقلاب سے بھی عوام بدظن ہیں لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے کرپٹ عناصر کو بلاامتیاز پکڑا جائے تو عوام خوش ہوں گے۔ جن لوگوں کے دل ودماغ میں عہدوں کی ہوس صرف اسلئے ہو کہ اسکی اوقات بدل جائے تو عوام ان کو بالکل مسترد کرسکتے ہیں، جو لوگ فوج کے سہارے سے خود کو آگے بڑھانے کی امید رکھتے ہوں ان کو بھی بلاامتیاز مسترد کردیا جائے۔ مایوسی کی طرف جانے سے قبل ریاست کو مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ زرداری کے جگری یار ذوالفقار مرزا، الطاف بھائی کے لے پالک مصطفی کمال، نوازشریف کا دوست ذوالفقارکھوسہ اور دوست محمد کھوسہ وغیرہ کیا تبدیلی لائیں گے؟۔
عمران خان گالیاں دیتا تھا کہ بے غیرت لوٹے جماعتیں بدل بدل کر آجاتے ہیں مگر اپنی جماعت کے جگ، گلاس کو ہٹاکر دوسروں کی لیٹرینوں سے لوٹے اٹھاکر سجالئے ہیں۔ دوسروں کو رشتہ داری کے طعنے دینے والے نے اپنی طلاق شدہ بیوی کی لندن میں بھی سیاسی رشتہ داری کا خیال رکھا۔ لوگوں کے ذہن میں ایکدوسرے سے نفرت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے اس کے نتائج بہت خطرناک ثابت ہوں گے۔ نوجوانوں اور قوم کے جذبات سے کھیلنا کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔قوم کوایسا نظریہ چاہیے جس میں کرپٹ سیاسی سسٹم اور فوج کی پشت پناہی سے آگے آنے کی بجائے لوگوں کو اپنے عمل وکردار سے قوم کی خدمت کا موقع مل جائے۔
اوبامہ انتظامیہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینا چاہتی تھی مگر امریکی گانگریس نے پاکستان کی فوجی امداد روک دی جس کی وجہ سے ایف سولہ نہیں خرید سکتے ہیں اور ہماری معیشت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پاس گروی اور دفاع امریکہ پر منحصر ہوتوکشکول توڑنے والے بین الاقوامی شاہی ملنگ پاکستان کو پتہ نہیں کس ترقی کے سفرپر لے گئے ہیں؟۔مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ ’’ افغانستان کی طالبان قیادت پاکستان میں ہے‘‘۔ بھارتی لابی نے امریکی کانگرس کو قائل کیا کہ پاکستان کو فوجی مدد نہ دی جائے، امریکی کانگرس نے اعلان کردیا کہ پاکستان ہمارے ساتھ ڈبل سٹنڈر گیم کھیل رہا ہے، اسلئے دفاعی امداد روک دی۔
پاکستان دنیا کا واحد وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں قدرتی طور پر ضرورت سے زیادہ پانی میسر ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے ہم خشک سالی میں کربلا کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور سیلابوں کے دور میں طوفان نوح کا سامنا کرتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر دریا کو چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی طرح رکھا جائے تو زیر زمین پانی بھی میٹھا ہوگا زرخیز پاکستان کا منظر بھی دیکھنے کو ملے گا کربلا اور طوفان نوح کے عذاب سے بھی بچیں گے ماحولیاتی آلودگی کا بھی یہ قوم زبردست مقابلہ کر سکے گی۔ کراچی سے لاہور پائپ لائن بچھانے کے بجائے ایران سے سوئی تک ہنگامی بنیادوں پر گیس لائی جائے اور انڈیا کو بھی گیس اور پاکستان سے راہداری دی جائے تو اس کی گردن ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور کشمیر کو آزاد کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ کاش کوئی کچھ تو سمجھے خدا کرے۔