پاکستان کا معاشرہ جمہوری اورترقی پسند ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کے ریاستی نظام کو آئیڈل تصور کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ حلف نامہ میں صدر بارک حسین اوبامہ کاامریکی چیف جسٹس نے ادھورا نام پڑھا مگراوبامہ نے پورا نام لیکر حلف اٹھایا تھا۔ یہ امریکی سپریم کورٹ میں اسٹیبلشمنٹ کے اثرانداز ہونیکی ایک دلیل تھی اور اب برطانوی اپوزیشن لیڈر نے آواز اٹھائی کہ ’’وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے شام پر حملہ میں برطانیہ کو امریکہ کے تابع بنادیا ہے‘‘۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہندؤں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا نام لینا بھی مجھے گوارا نہیں ‘‘ لیکن اگر ہمارا اگلا وزیراعظم کوئی بھگوان داس جیسا بن جائے تو چیف جسٹس پورے نام کیساتھ حلف اٹھانے میں حسد سے کام نہیں لیں گے۔ چیف جسٹس کی ہماری ملک میں نقل وحرکت محدود نہیں بلکہ وہ ایگڑیکٹو کے کام بھی کررہے ہیں۔ جمہوری حکومت ووٹوں کے ذریعے عوام کو پھر بھی جوابدہ ہوتی ہے۔ شہروں میں پانی اور بجلی کی قلت کیلئے عام بلڈرز کو پکڑنے کا کام بھی برا نہیں لیکن فوج نے جس طرح سے تعمیرات کرکے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور کوڑی کے بھاؤ میں بکنے کے قابل علاقے کروڑوں میں بیچے جارہے ہیں ان کا بھی چیف جسٹس کو نوٹس لینا چاہیے۔ سکیم33میں عرصہ سے مکان و پلاٹ کی قیمت بہت سستی تھی۔ پھر فیلکن کی قیمت ڈیفنس سے بڑھ گئی تو اسکی وجوہات پر بھی ازخود نوٹس لیتے، 26 سال سے رینجرز کراچی میں تعینات ہے۔ امن ومان کی خراب صورتحال میں مضبوط ریاستی ادارہ کاروبار کررہا ہو اور پولیس کو قبضہ مافیا میں بنیادی کردار کیلئے استعمال کیا جارہا ہو۔ ریٹارئرڈفوجی افسران اپنی حفاظت کیلئے مجبوری بن جائیں تو معاشرے میں اخلاقیات کی بہتری کی اُمید ہوسکتی ہے؟۔ سیاستدان عوامی ووٹوں پر بھی ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوں اور میڈیا ریڈلائن کو عبور نہیں کرسکتی ہو تو یہ آزادی بدترین غلامی سے بھی بدتر ہے۔ غلامی میں زبان آزاد ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایاکہ ’’افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا ہے‘‘۔ ہمارے ہاں ریاست اصلی حکمران ہے اور اس کے پالتو اور نے نواز بھی اپنی ریاست سے آج آزادی کی بات کررہے ہیں۔ نوازشریف 70سال کی عمر میں کیسے نظریاتی بناہے؟۔ ایک طرف جو لوٹے لعنت ملامت کے قابل ہیں تو دوسری طرف وہی لوٹے سونے کے وزن میں تلنے کے قابل ہیں۔ ترازو کے دونوں پلڑے میں لوٹے ہی لوٹے ہیں ۔ اگر مشاہد حسین سید کو سینٹر ، شہبازشریف کو مرکزی صدر ، امیرمقام کو صوبائی صدر بنانا ہی نظریاتی ہونے کی علامت ہے تو ایسے نظریاتی پر لعنت بھیجنے میں کوئی دیر نہ کریگا اور دوسری طرف عمران خان نے پختونخواہ میں 20لوٹوں کو ٹشوپیپر کی طرح سے استعال کرنے کے بعد پھینکنے کا اعلان کیا ہے اور پنجاب میں لوٹوں کو ویلکم کیا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اشیرآباد میں جینے مرنے والوں کے خمیر و مقدر میں نظریاتی ہونا ممکن نہیں ۔ یہ بہت مکاری وعیاری سے بس اپنی باری اور یاری کیلئے اپنی دُم اپنے سروں پر باندھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کے شغل کا پتلی تماشہ دکھاتے ہیں۔ عمران خان جمائما خان کے حقوق ادا کرنے پر پورا نہیں اترا تو اس نے علیحدگی اختیار کرلی۔ ریحام خان علیحدہ نہ ہونا چاہتی تھی ،تب بھی جہاز میں مسیج کیا کہ ’’طلاق، طلاق ، طلاق‘‘ ریحام خان لندن کے ائیرپورٹ پر اتری تو موبائل دیکھ حیران وپریشان ہوئی کہ ’’یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا؟‘‘۔ اصل بات یہ نہیں کہ ریحام خان کیساتھ اچانک کوئی بہت بڑی زیادتی ہوگئی بلکہ اصل زیادتی اس کے علاوہ یہ تھی کہ ’’ ریحام خان کو دھمکیاںیہ دی گئیں کہ اگر پاکستان آئی تو تمہارا برا حشر نشر کردینگے‘‘۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کے بارے میں ہے کہ ’’طلاق کے بعد عورت کو دوسرے سے شادی نہ کرنے دیتے تھے لیکن ان میں یہ غیرت بھی تھی کہ طلاق شدہ سے شادی بھی نہ کرتے تھے‘‘۔ جب عمران خان نے ریحام خان سے شادی کی تو ریحام خان طلاق شدہ تھی، اور ٹی وی چینلوں نے عمران خان کے بغض یا اپنی ریٹنگ کے چکر میں ریحام خان کی واہیات تصاویر اور ویڈیوز نشر کردیں۔ اس سے پہلے کرکٹر شعیب ملک کی شادی ہوئی تھی تو بھی ثانیہ مرزا کی واہیات ویڈیوز نشر کرنے میں بھی میڈیا نے یہی کردار ادا کیا تھا۔ عمران خان سے جمائماخان نے طلاق لی مگر تحریک انصاف کے کارکنوں کو فرق نہ پڑا۔ دوسروں کیساتھ دوستی، مذہب کو چھوڑنے یا مرتد بن جانے بھی پر کوئی مذہبی کارڈ استعمال نہ کیا گیاجبکہ ریحام خان کو چھوڑنے کے بعد پاکستان آنے پر بھی دھمکیاں دی گئیں۔ کمزور کیخلاف مذہب اور کلچر دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر عمران کی جگہ کوئی اورہوتا اور جمائمایہودی گولڈ سمتھ خان کی چشم وچراغ نہ ہوتی تو یہاں خفیہ ہاتھ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت اور علی محمد خان جیسے لوگوں کی دُم مروڑتے اور غیرت ومذہب کے نام پر ایک طوفان برپاہوتا۔ عربی کی کہاوت ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ’’لوگ حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں‘‘۔ کٹھ پتلیوں کے اثرات سے یہ معاشرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ روز روز بچیوں کا اغواء، جنسی تشدد اور قتل ایک معمول بن چکا ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اختیاراور اقتدار کی پڑی ہے لیکن اگر غریب عوام اٹھ گئے تو ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکے گا۔ بچوں سے روز گار لینا قانون کے خلاف اورکوئی اپنے بچوں کو سکول بھیجے تو ریاست اس کی حفاظت نہ کرسکتی ہو۔ نچلے درجے کے ملازمین کا تنخواہوں سے گزارہ ممکن نہ ہو اور بڑی کمائی والے بڑے کرپشن سے بھی دریغ نہ کرتے ہوں تو اس ملک ، قوم اور سلطنت میں کیااور کون زندہ اور تابندہ باد ہوگا۔ قرآن وسنت میں ایک ایسے معاشرے کے قیام کی تعلیم ہے کہ پوری دنیا کا دل ودماغ بھی اسلام کی طرف راغب ہوگا۔ دنیا میں آج غلامی کا سٹم چل رہاہے لیکن اسلام نے 1400سال پہلے غلامی کا خاتمہ کردیا تھامگر افسوس کہ ہم نے یہ نظام اپنانے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔ ہردور اور ہرجگہ اجتہاد و تقلید کے نام پر ایک ایک چیز کا ستیاناس کرڈالا ہے۔ قرآن میں غلام کیلئے عبد اور غلاموں کیلئے عباد کا لفظ استعمال ہوا ہے اورنکاح کیلئے ۔ ولعبد مؤمن خیر من مشرک ولو اعجتکم ’’ اور مؤمن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے‘‘۔ نکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ و بیوہ بیگمات کا۔ والصالحین من عبادکم وامائکم ’’اورجو نیکوکار ہوں غلاموں میں سے اور لونڈیوں میں سے،ان کا نکاح کراؤ‘‘۔ یہ خوشگوار معاملہ ہے کہ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں سے بھی آزادلوگوں کی طرح نکاح کا تصور دیا ۔ نکاح اور متعہ یا ایگریمنٹ میں فرق ہے۔ فتح مکہ میں نبیﷺ نے کسی کو غلام و لونڈی بنانے کی اجازت نہ دی البتہ متعہ کرنے کی اجازت دی۔ اس سے معاشرتی بنیادوں پر ایک بڑے انقلاب کا آغاز ہوا۔ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبیﷺ نے سچ فرمایا کہ ’’ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ طلاق کا مسئلہ علماء کی سمجھ آگیامگر ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
’’اور اس شجرہ کے قریب نہ جاؤ ،ورنہ دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤگے‘‘۔ حضرت آدم علیہ السلام جنت میں تنہائی محسوس کررہے تھے، انسان کوانسان ہی مانوس کرسکتا ہے۔ اس انسیت کا تعلق مرد اور عورت کے خاص تعلق سے جوڑنا بھی درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے بارے میں فرمایا :لیسکن الیہا ’’تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو‘‘۔جوان مرد اور جوان عورت کا جوڑا ایک ہی جگہ رہتا ہوتو ان سے فطری طور پر یہ خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ آپس میں کشتی لڑکرحدود سے تجاوز کرتے ہوئے معاملے کو خراب نہ کردیں۔ معاملے کی اس خرابی کو کیا نام دے سکتے ہیں؟۔ پٹھان اور بلوچ مختلف اشیاء میں کھانے پینے اور مذکر ومؤنث کیلئے ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ فارسی زباں بڑی آسان اور مختصر ہے اور عربی زباں بہت وسیع اوربہت بڑے گرامر والی ہے۔ عربی کے لغت کو بھی دوسری تمام زبانوں پر ایک لامحدود فوقیت حاصل ہے۔ فلاوربک لاےؤمنون حتی یحکموک فیما شجربینھم ’’پس نہیں تیرے ربّ کی قسم کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے جب تک اپنے درمیان تنازعات میں آپ کو اپنا حکم ( فیصلہ کرنیوالا) تسلیم نہ کرینگے‘‘۔ (النساء : 65) جھگڑا اور تنازع دو افراد کے درمیان یہاں تک پہنچے کہ کسی تیسرے کو بھی اس میں فیصل مقرر کرنے کی ضرورت بھی پڑے تو بھی وہ شجرہ ہے۔ مشاجرات صحابہؓ کا مطلب صحابہؓ کے وہ تنازعات ہیں جو نبیﷺ کے بعد پیش آئے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا علیحدگی تک پہنچنے کی صورت اختیار کرلے تو اللہ نے حکم دیا کہ فابعثوا حکماً من اہلہ وحکماً من اہلہا ’’پھر تشکیل دو ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے ‘‘۔ لیکن اگر میاں بیوی اس حد تک بات پہنچنے سے پہلے خود ہی صلح کرلیں تو فبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا ’’ شوہر عدت میں اصلاح کی شرط پر انکو لوٹانے کا حق رکھتا ہے‘‘۔ اگرچہ کم درجہ جھگڑے کی بات ہو بلکہ کھیل پر بھی اسکا اطلاق ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایک صحابیؓ سے فرمایا کہ ’’ کنواری لڑکی سے شادی کرتے وہ تجھ سے کھیلتی اور آپ اس سے کھیلتے‘‘۔ اس پر بھی جھگڑے اور شجربینھما کا اطلاق ہوتا ہے۔ ڈبرہ گاؤں علاقہ گومل ٹانک کے ایک دیوانہ شخص سردار بیٹنی نے کالج کے لڑکوں کی طرف سے چھیڑنے پر کہا کہ ’’ تم سمجھتے ہو کہ تمہارے والدین تمہیں پڑھنے کیلئے کالج بھیجتے ہیں تم میں جو شریف ہیں ان کی مائیں اسلئے بھیجتی ہیں تاکہ اپنے شوہروں سے کشتی لڑیں اور جو بدمعاش ہیں ان کی مائیں پرائے لوگوں کیساتھ ہی کشتی لڑتی ہیں‘‘۔ اس پاگل کو چھیڑنے کی پھر جرأ ت کسی میں نہیں ہوسکی ۔ انسان کیلئے الفاظ بھی زبردست عبرت کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے آدم ؑ و حواء ؑ کو منع فرمایا:الاتجوع ولاتعری ’’تاکہ تم بھوکے ننگے نہ ہوجاؤ‘‘۔ کوئی ایسا درخت نہیں جس کا ذائقہ چکھنے سے کوئی بھوکا ننگا ہوجائے۔ البتہ جنسی تعلق سے جو شجرۃ النسب بنتا ہے اس سے بھوکے اور ننگے ہونے کی بات آتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا : ’’شیطان نے اپنی بیوی کیساتھ سامنے مباشرت کی اور حضرت آدم ؑ و حواء ؑ کو دعوت دی ‘‘۔ :قال ھل ادلکم علی شجرۃ الخلد والملک لایبلی ’’ ابلیس نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایسے شجرہ کی نشاندہی کردوں جو ہمیشہ کیلئے ہو اور ایسی دولت ہو جو نہ ختم ہونے والی ہو؟‘‘۔ اور کہا تھا کہ ’’ ما نہا کماربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین ’’ تمہارے ربّ نے صرف اسلئے منع کیا تاکہ تم فرشتے بن جاؤ‘‘۔ فرشتوں کے اندر جنسی خواہش کا تصور نہیں ہوتا، وہ معصوم گناہ کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ فلماذاقا الشجرۃ بدت لھما سوء اتھما ’’پھر جب ان دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھ لیا تو ان دونوں کی شرمگاہیں ان کیلئے ظاہر ہوگئیں‘‘۔ ونادا ھما ربّھما ألم ان أنھکما عن تلکما الشجرۃ ’’اور جب ان دونوں کے ربّ نے پکارا کہ کیا میں نے تم دونوں کو منع نہ کیا تھا ، تم دونوں آپس کے اس شجرہ سے ؟‘‘۔ قرآن کی اس آیت سے یہ وضاحت سامنے آتی ہے کہ یہ شجرہ آپس کے تعلق سے متعلق تھا اور کوئی خارجی چیز نہ تھی ۔ورنہ قرآن کے الفاظ میں عن تلک الشجرۃ کی بات ہوتی۔اگلی آیات میں تنییہ ہے کہ’’ اے بنی آدم ! بیشک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے تاکہ تم اپنی شرمگاہوں کو چھپاؤ اور زینت کا ذریعہ بھی ہے اور تقویٰ کا لباس بہترین ہے۔ یہ اللہ کی آیات ہیں ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔Oاے بنی آدم ! شیطان تمہیں ہرگز ہرگزفتنے میں نہ ڈالے، جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکال دیا اوران سے ان کا لباس اتروادیا تاکہ انکی شرمگاہیں ایکدوسرے کو دکھادے۔ بیشک شیطان تمہیں دیکھتا ہے ، وہ اور اس کا قبیلہ اس طرح سے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے، بیشک ہم شیطانوں کو بناتے ہیں ان لوگوں کا سرپرست جو ایمان نہیں لاتے O۔ اور جب یہ لوگ بے حیائی کے مرتکب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسطرح عمل کرتے ہوئے پایا اوراللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ کہہ دیجئے کہ بیشک اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ہے۔ اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کو تم نہیں جانتے ؟۔ (الاعراف : آیت19سے 28 تک تفصیل سے دیکھ لیجئے گا) حدیث ہے کہ ’’اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حواء ؑ نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی‘‘۔ ( بخاری)یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر بنی اسرائیل مذہبی تحریف، غلو، تعصبات اور عذاب کا شکار نہ ہوتے بلکہ دنیا کی ترقی کی طرف توجہ دیتے تو دنیا کب سے اس کمال تک پہنچ جاتی کہ گوشت خراب نہ ہوتا۔ تسخیرکائنات میں بجلی کب کی مسخر ہوجاتی اور دنیا لوگوں کیلئے جنت بن جاتی۔ حضرت حواء ؑ کی کشش سے نافرمانی کاارتکاب نہ ہوتا تو کوئی عورت اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کرتی۔حضرت نوح ؑ اور حضرت لوطؑ کی بیگمات کے بارے میں فرمایا کہ کانتا تحت عبدین صالحین فخانتاھما ’’وہ دونوں خواتین دو نیک بندوں کے زیرِ دست تھیں پھر ان دونوں سے دونوں نے خیانت کی‘‘۔ حضرت آدم ؑ و حواء ؑ سے نافرمانی ہوگی تو یہ سلسلہ انسانوں کے خمیر میں بھی منتقل ہوتا رہا۔ قابیل نے بھائی ہابیل کو اپنی ناجائز جنسی خواہش کیلئے قتل کردیا۔ حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کی بیویاں کفر تک پہنچیں۔ سورۂ تحریم میں دوکافر خواتین کیساتھ دو مؤمنات کی مثال ہے ، حضرت مریم اور فرعون کی بیوی۔ سورۂ تحریم میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کو تنبیہ ہے جنہوں نے نبی ﷺ کی نافرمانی میں سرگوشی کی۔ اللہ نے انسان کو نافرمانی سے بچنے کیلئے حدود و قیود میں رہنے کی قرآن میں تنبیہ، وعظ، احکام اور واقعات بیان کئے ہیں۔ جب قرآن وسنت کا درست مفہوم اجنبیت سے نکال کر عوام و خواص کے سامنے آئے تو نہ صرف چھوٹی بڑی گمراہیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ ساری دنیا اسلامی نظام کے قیام پر متفق ہوجائے گی۔ کوئی حدیث کا منکر ہے تو کوئی قرآن کا غلط مفہوم پیش کرکے اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں بڑی ٹھوکر کھاتاہے اور کوئی مذہبی کاروبار کررہاہے۔
گذشتہ شمارے میں خیر پور میرس کے مولانا واحد بخش فاضل دار العلوم وفاق المدارس نے طلاق کے حوالے سے ہماری تائید کی تھی اور کہا تھا کہ خیر پور میرس کی مشہور بہت بڑی علمی شخصیت مناظر اسلام جماعت اہل سنت کے مرکزی رہنما علامہ مولانا علی شیر رحمانی صاحب کو بھی آپ کا اخبار پسند آیا اور فرمایا کہ گیلانی صاحب ابن عمرؓ کی روایت کو اور زیادہ واضح کرکے تحریر کریں۔ حدثنا قتیبۃ حدثنا اللیث عن نافع ان ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنھا طلق امراۃ لہ وھی حائض تطلیقۃ واحدۃ فامرہ رسول اللہ ﷺ ان یراجعھا ثم یمسکھا حتیٰ تطہر ثم تحیض عندہ حیضۃ اخریٰ ثم یمھلھا حتیٰ تطہر من حیضھا فان ارادہ ان یطلقھا فلیطلقھا حین تطہر من قبل ان یجامعھا فتلک العدۃ التی امر اللہ ان تطلق لھا النسایٗ و کان عبد اللہ اذا سئل عن ذٰلک قال لاحدھم ان کنت طلقتھا ثلاثاً فقد حرمت علیک حتیٰ تنکح زوجاً غیرک و زاد فیہ غیرہ عن اللیث حدثنی نافع قال ابن عمر لو طلقت مرۃ او مرتین ان النبی ﷺ امرنی بھذا (کتاب العدت: 5332) ترجمہ و تشریح: حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے اس واقعہ کو صحیح بخاری میں متعدد اور مختلف مقامات پر مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابوداؤد، مسند احمد اور موطا امام مالک وغیرہ نے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ ان تمام روایات کا پہلا اہم نکتہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سمجھایا کہ قرآن کریم میں عدت اور طلاق کا طریقہ کار کیا ہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کا تعلق عدت سے مرحلہ وار ہے، قرآن میں طہر (پاکی کے ایام) و حیض کے 3مراحل میں 3مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔ پہلے طہر میں پہلی مرتبہ طلاق کا تعلق اس وقت ہے جب عورت کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔ اسی طرح دوسرے طہر و حیض اور تیسرے طہر و حیض کے مراحل میں بھی ہاتھ لگائے بغیر طلاق دی جائے تو اسی طرح سے قرآن میں طلاق اور عدت کی وضاحت ہے۔ قرآن کی یہ وضاحت سورۂ بقرہ اور سورۂ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے، علماء و مفتیان اور مذہبی طبقات میں سے بھی کسی کا اس وضاحت پر کوئی اور کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے متعلق کوئی ایسی وضاحت فرمائی ہے جو عام لوگوں اور علماء و مفتیان کے ذہنوں میں نہیں آتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن و سنت کی واضح اور بھرپور وضاحتوں کے باوجود مذہبی طبقات نے روایات میں الفاظ کا سہارا لیکر خود کو بھی الجھادیا ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو بھی الجھادیا ہے۔ جب قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر طلاق سے رجوع کی گنجائش اور بھرپور وضاحت ہے تو صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مزید وضاحت کی ضرورت بھی نہیں سمجھی۔ تین طلاق سے رجوع نہ ہونے کی سب سے بڑی اور مستند روایت یہ ہے جس کی شکل بگاڑ کر مختلف انداز سے نقل کیا گیا ہے۔ پہلی اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی بھی مستند حدیث میں کوئی ایسی روایت نہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے رجوع نہ کرسکنے کی کوئی وضاحت فرمائی ہو، رسول اللہ ﷺ نے صرف 3طہر و حیض میں 3مرتبہ قرآن کے مطابق عدت اور طلاق کا طریقۂ کار بتایا ہے اور بس۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ اور قول حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف منسوب ہے کہ ’’تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، یہاں تک کہ عورت کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘اور یہ بھی حضرت ابن عمرؓ سے منسوب ہے کہ ’’جب ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق دی جائے تو رسول اللہ ﷺ نے رجوع کا حکم فرمایا ہے اور اگر تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو رسول اللہ ﷺ یہ حکم نہ دیتے‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بالکل ٹھیک فرمایا کہ اگر وہ قرآن کے مطابق پہلے طہر و حیض میں پہلی مرتبہ طلاق دیتے، دوسرے طہر و حیض میں دوسری مرتبہ طلاق دیتے اور پھر تیسرے طہر و حیض میں تیسری مرتبہ طلاق دیتے تو رسول اللہ ﷺ رجوع کا حکم نہ دیتے۔ یہ بات سمجھنے کیلئے کسی ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی تسخیر کا قرآن میں ذکر کیا ہے تو سولر سے شمسی توانائی کس طرح سے حاصل ہورہی ہے؟۔ سیدھی سادی بات ہے کہ جو شخص قرآن کے مطابق 3طہر و حیض کے مراحل میں 3مرتبہ طلاق دے گا تو اس بات کی ترغیب کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کوئی طلاق دینے سے روکے۔ البتہ جب جاہلیت کا ایسا دور دورہ تھا کہ خوشی اور مرضی سے مرحلہ وار 3طلاق دینے کے باوجود اس صورت میں بھی عورت کو اپنی مرضی سے اڑوس پڑوس اور آس پاس کے رشتے داروں میں دوسرے سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور مطلق العنان حکمران کی طرح شوہر بیوی کی مرضی کے بغیر بھی رجوع کرلیتا تھا تو جھگڑے کی صورت میں عورت کو تحفظ دینا فطرت کا تقاضہ تھا۔ قرآن نے بھی وضاحت کی ہے کہ باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے مگر مطلق العنان حکمران شوہروں کو لگام دینے کیلئے حضرت عمرؓ فاروق اعظم جیسی شخصیت کی ضرورت تھی۔اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کو واضح کیا ہے۔ اگر راضی نہ ہوں تو قرآن کا بھی یہی فرمان ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا اور حضرت عمرؓ نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا اور دنیا کی ہر عدالت ، قوم اور حکومت بھی یہی فیصلہ کرے گی۔ عبد اللہ ابن عمرؓ نے نیک نیتی کے ساتھ خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے کیلئے یہی فتویٰ دیا ہوگا تاکہ تنازع میں کوئی شخص اپنی بیوی کو رجوع پر مجبور نہ کرے۔ علاوہ ازیں ابن عمرؓ اہل کتاب سے نکاح کو ناجائز قرار دیتے تھے حالانکہ قرآن میں ہے کہ ان سے نکاح حلال ہے مگر ابن عمرؓ نے فتویٰ دیا کہ اہل کتاب سے زیادہ مشرک کون ہیں جو تثلیث کے قائل ہیں؟ ۔ وزن ہونے کے باوجود کسی نے ان کا قول قبول نہیں کیا۔ اہل علم کیلئے یہ کافی ہے کہ جو طلاق ابن عمرؓ نے حیض کی حالت میں دی اس کو رسول اللہ ﷺ نے کسی شمار و قطار میں نہیں رکھا۔ حنفی اُصول فقہ کا یہ تقاضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بات کو بھی آیت کیخلاف پاتے تو رد کردیتے۔ عتیق گیلانی
بریلوی مکتبہ فکر کے مشہور عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی شیخ الحدیث دار العلوم نعیمیہ کراچی نمبر 38، نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا ہے جس کو بہت ناگوار ہونے کے باوجود نقل کیا جارہا ہے۔ نبی ﷺ کی ازواج کی تفصیل ان آیتوں میں نبی ﷺ کی ازواج مطہراتؓ کا ذکر ہے۔ آپ کی ازواج کی تین قسمیں ہیں، بعض ازواج سے آپ کا عقد نکاح بھی ہوا اور ان کی رخصتی بھی ہوئی اور بعض ازواج کے ساتھ عقد نکاح ہوا اور رخصتی کے بعد آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ اور بعض ازواج کے ساتھ صرف عقد نکاح ہوا اور رخصتی نہیں ہوئی۔ اور بعض خواتین کو آپﷺ نے صرف نکاح کا پیغام دیا اور ان کی رخصتی نہیں ہوئی ۔ اس کی تفصیل علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی نے لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : (1)سب سے پہلے نبی ﷺ نے حضرت خدیجہؓ بنت خویلد سے نکاح کیا (2)پھر حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے نکاح کیا (3)پھر حضرت عائشہؓ بنت ابی بکرؓ سے نکاح کیا (4)پھر حضرت حفصہؓ بنت عمر بن خطابؓ سے نکاح کیا (5) پھر حضرت اُم سلمہ ہندؓ بنت ابی اُمیہ سے نکاح کیا (6)پھر حضرت جویریہؓ بنت الحارث سے نکاح کیا۔ یہ غزوۃ المریسیع میں قید ہوکر آئی تھیں(7)پھر حضرت زینبؓ بن جحش سے نکاح کیا (8)پھر حضرت زینبؓ بنت خزیمہ سے نکاح کیا (9)پھر حضرت ریحانہؓ بنت زید سے نکاح کیا یہ بنو قریظہ سے تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ بنو نضیر سے تھیں نبی ﷺ نے ان کو قید کیا پھر آزاد کرکے 6ہجری میں ان سے نکاح کیا (10)پھر حضرت اُم حبیبہ رملہؓ بنت ابی سفیان سے نکاح کیا ، صحابیات میں ان کے سوا کسی اور کا نام رملہ نہیں ہے (11)پھر حضرت صفیہؓ بنت حیی بن اخطب سے نکاح کیا یہ حضرت ہارونؑ کی اولاد سے تھیں، سات ہجری میں غزوہ خیبر میں گرفتار ہوئی تھیں نبی ﷺ نے ان کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا (12)پھر ذو القعدہ سات ہجری میں عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ سے دس میل کے فاصلے پر مقام سرف میں حضرت میمونہؓ بنت الحارث سے نکاح کیا (13)حضرت فاطمہؓ بنت الضحاک سے بھی نکاح کیا (14)حضرت اسماءؓ بنت النعمان سے بھی نکاح کیا آپ کی ازواج کی تعداد اور ان کی ترتیب میں اختلاف ہے مشہور ہے کہ وفات کے وقت آپ کی 9ازواج تھیں، کل 11ازواج تھیں اور 2باندیاں تھیں۔ باقی وہ ازواج جن سے آپ نے نکاح کیا اور ان کی رخصتی بھی ہوئی یا جن سے صرف نکاح ہوا ان کی تعداد 28ہے۔ (1)حضرت ریحانہؓ بنت زید ان کا ذکر ہوچکا ہے (2) حضرت الکلابیہ ان کے نام میں اختلاف ہے ، ایک قول ہے کہ ان کا نام عمرہ بنت زید ہے، دوسرا قول ہے ان کا نام العالیہ بنت ظبیان ہے۔ زہری نے کہا ک نبی ﷺ نے العالیہ بنت ظبیان سے نکاح کیا اور رخصتی بھی ہوئی پھر آپ نے ان کو طلاق دے دی اور ایک قول یہ ہے کہ رخصتی نہیں ہوئی اور آپ ﷺ نے ان کو طلاق دے دی، ایک قول یہ ہے کہ یہی فاطمہ بنت الضحاک ہیں،زہری نے کہا کہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا رخصتی کے بعد انہوں نے آپ ﷺ سے پناہ طلب کی تو آپ نے ان کو طلاق دیدی (3)حضرت اسماء بنت النعمان، ان سے نبی ﷺ نے نکاح کیا اور ان کو بلایا تو انہوں نے کہا کہ آپ خود آئیں تو آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے پناہ طلب کی تھی، ایک قول یہ ہے کہ یہ بنت قیس ہیں جو الاشعت بنت قیس کی بہن ہیں، ان کے بھائی نے ان کا آپ سے نکاح کیا تھا پھر وہ حضر موت چلے گئے اور ان کو بھی ساتھ لے گئے اور وہاں ان کو نبی ﷺ کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی بہن کو ان کے شہر واپس بھیج دیا اور خود اسلام سے مرتد ہوگئے اور ان کی بہن بھی مرتد ہوگئیں (4)ملیکہ بنت کعب اللیثی ، ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے ہی آپ سے پناہ طلب کی تھی ، ایک قول یہ ہے کہ آپ نے ان سے عمل تزویج کیا تھا پھر یہ آپ کے پاس ہی فوت ہوگئیں لیکن پہلا قول صحیح ہے۔ (5)حضرت اسماء بنت الصلت السلمیہ ، ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام سبا ہے نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا اور یہ رخصتی سے پہلے فوت ہوگئی تھیں۔ (6)حضرت ام شریک ازدیہ ، ان کا نام عزبہ ہے نبی ﷺ نے دخول سے پہلے ان کو طلاق دیدی اور یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس نبی ﷺ کو ہبہ کیا تھا یہ نیک خاتون تھیں (7)خولہ بنت ھذیل، ان سے نبی ﷺ نے نکاح کیا پھر آپ کے پہنچنے سے پہلے ان کی وفات ہوگئی (8)شراف بنت خالد وحیہ کلبی کی بہن ہیں نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور رخصتی سے پہلے انکی وفات ہوگئی (9)لیلیٰ بنت الحطیم، رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا یہ غیرت والی تھیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپ نکاح فسخ کردیں سو آپ نے نکاح فسخ کردیا (10)حضرت عمرہ بنت معاویہ الکندیہ اس سے پہلے کہ یہ آپ تک پہنچیں نبی ﷺ کی وفات ہوگئی (11) حضرت الجندعیہ بنت جندب نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور عمل تزویج نہیں کیا ایک قول یہ ہے کہ ان کے ساتھ عقد نکاح نہیں ہوا تھا (12)حضرت الغفاریہ ، ایک قول یہ ہے کہ یہی السنا ہیں نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا پھر انکے پہلو میں داغ دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ (13)حضرت ہند بنت یزید ان سے بھی آپ نے دخول نہیں کیا (14) حضرت صفیہ بنت بشامہ آپ نے ان کو قید کیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اختیار دیا آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تم سے نکاح کرلوں ، انہوں نے اجازت دیدی آپ نے ان سے نکاح کرلیا (15)حضرت اُم ہانی، ان کا نام فاختہ بنت ابی طالب ہے حضرت علیؓ بنت ابی طالب کی بہن ہیں نبی ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا انہوں نے کہا کہ میں بچوں والی عورت ہوں اور عذر پیش کیا ، نبی ﷺ نے ان کا عذر قبول کرلیا (16) حضرت ضباعہ بنت عامر ، نبی ﷺ نے نکاح کا پیغام دیا پھر آپ کو یہ خبر پہنچی کہ یہ بوڑھی ہیں تو آپ نے ارادہ ترک کردیا (17)حمزہ بنت عون المزنی ، نبی ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا ان کے والد نے کہا کہ ان میں کوئی عیب ہے حالانکہ ان میں کوئی عیب نہ تھا پھر جب انکے والد انکے پاس گئے تو ان کو برص ہوگیا تھا (18)حضرت سودہ قریشہ ، رسول اللہ ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا یہ بھی بچوں والی تھیں آپ نے ان کو ترک کردیا (19)حضرت امامہ بنت حمزہ بن عبد المطلب ان کو نبی ﷺ پر پیش کیا گیا آپ نے فرمایا یہ میری رضاعی بھتیجی ہے (20) حضرت عزہ بنت ابی سفیان ، ان کو ان کی بہن حضرت اُم حبیبہ نے نبی ﷺ پیش کیا آپ نے فرمایا کہ چونکہ انکی بہن ام حبیبہ میرے نکاح میں اسلئے یہ مجھ پر حلال نہیں ہیں (21)حضرت کلبیہ، ان کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس حضرت عائشہؓ کو بھیجا ، حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں نے اتنی لمبی عورت کوئی نہیں دیکھی تو آپ نے ان کو چھوڑ دیا (22) عرب کی ایک عورت تھی جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا آپ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا پھر ترک کردیا (23) حضرت درہ بنت ابی سلمہ، ان کو آپ پھر پیش کیا گیا آپ نے فرمایا یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (24)حضرت امیمہ بنت شراحیل، انکا ذکر صحیح بخاری میں ہے (25)حضرت حبیبہ بنت سہیل الانصاریہ، نبی ﷺ نے ان سے نکاح کا ارادہ کیا تھا پھر ترک کردیا (26) حضرت فاطمہ بنت شریح ، ابوعبید نے ان کا آپ کی ازواج میں ذکر کیا ہے (27)العالیہ بنت ظبیان ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا یہ آپ کے پاس کچھ عرصہ رہیں پھر آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ (عمدۃ القاری، جلد3، صفحہ321-320) علامہ بدر الدین عینی نے 28ازواج کے ذکر کرنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے جو ذکر کی ہیں وہ 27ہیں ۔ (تبیان القرآن : جلد 9، علامہ غلام رسول سعیدی ، صفحہ 417تا419) علامہ بدر الدین عینی نے اس فہرست میں بعض خواتین کا نام دوسری مرتبہ بھی ذکر کیا ہے اور یہ کتنی بڑی جسارت ہے کہ جن کو رسول اللہ ﷺ نے رضاعی بھتیجی قرار دیا ان کا نام بھی اس فہرست میں ذکر کیا گیا ؟۔ نبی کریم ﷺ نے حلالہ کو لعنت قرار دیا اور علامہ بدر الدین عینی نے اس کو کار ثواب قرار دیا۔ ہمارے علماء و مفتیان ، شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر اتنے عقل کے اندھے ہیں کہ کوئی چیز نقل کرنے میں عقل سے بالکل کام نہیں لیتے۔ کوئی غیر مسلم ازواج کی یہ فہرست دیکھ کر کیا سوچے گا؟۔ بخاری میں ابنت الجونؓ کے حوالے سے ابن حجر نے لکھاہے کہ ’’سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح نہیں کیا تھا تو خلوت میں دعوت کیسے دی؟۔ جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کسی عورت کو طلب کرنا نکاح کیلئے کافی ہے چاہے وہ عورت راضی نہ ہو اور اس کا ولی بھی راضی نہ ہو‘‘۔ یہ علامہ غلام رسول سعیدی نے شرح صحیح بخاری نعم الباری اور مولانا سلیم اللہ خان نے شرح صحیح بخاری کشف الباری میں بھی نقل کیا ہے۔ کئی مرتبہ تحریرات کے ذریعے سے توجہ دلانے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا ۔ اُم ہانیؓ کو نبی ﷺ نے نکاح کی دعوت دی اور انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ وہ چچا زاد و خالہ زاد آپ کیلئے حلال ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ جب اس آیت سے حضرت اُم ہانیؓ کا حلال نہ ہونا ثابت ہے تو ان کو نبی ﷺ کی ازواج میں شامل کرنا بڑا ظلم عظیم ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد نبی ﷺ سے فرمایا ہے کہ’’ اسکے بعد کسی خاتون سے آپ کیلئے نکاح کرنا حلال نہیں۔ چاہے کوئی کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگے مگر جسے اللہ آپ کے دائیں ہاتھ لگائے‘‘۔ جسطرح سے بعض خواتین کے آپ ﷺ پر پیش ہونے کا ذکر کیا گیا ہے یا جسکے بارے میں لکھا گیا کہ حضرت عمرہ بنت معاویہ الکندیہ اس سے پہلے کہ آپ ﷺ تک پہنچیں تو نبی ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ یہ الفاظ قرآنی آیت کے منافی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے نکاح سے منع کیا تھا تو لونڈی یا متعہ کی صورت میں ایسے واقعات کا احتمال تھا، قرآن و سنت کی درست تعبیر کیلئے ضروری ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کیا جائے اور قرآن کو بدلنے کے بجائے خود کو بدلا جائے۔ اقبال نے کہا : ہوئے کس درجے فقیہان حرم بے توفیق خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
امام ابوحنیفہؒ پر نیکوکار علماء دین ، صوفیاء اور محدثین نے اصحاب الرائے کے امام اور گمراہی کا فتویٰ لگایا لیکن آپؒ نے جس بات کو ٹھیک سمجھا اس پر قائم رہے۔ احادیث صحیحہ کو قرآن کے خلاف سمجھا تو تردید سے دریغ نہ کیا اور اعلان کردیا کہ ’’حدیث صحیح ثابت ہو تو وہی میرا مذہب ہے‘‘۔ افسوس کہ ’’زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن‘‘۔ حضرت عمرؓ نے حدیث قر طاس پر قرآن کو ترجیح دی ۔ شیعہ اپنے امام کی غیبتِ کبریٰ کے ہزار سال بعد اجتہادی قوت سے محروم ہیں۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کا جواز ہے ،صحابہ کرامؓ نے نبیﷺ سے بھی اولی الامر کی حیثیت سے اختلاف کیا۔ رئیس المنافقین کا جنازہ، بدری قیدیوں پر فدیہ اور صلح حدیبیہ میں رسول اللہ کا لفظ کاٹنے پر اختلاف نمایاں مثالیں ہیں۔ شیعہ امامیہ امام سے اختلاف کو جائز نہیں سمجھتے اور تین،ساڑھے تین سو سال بعد امام اوجھل ہوا تو اجتہاد کی گنجائش پیدا ہوئی حالانکہ اجتہاداولی الامر کے امور ہیں ، حضرت سلیمان ؑ نے حضرت داؤد ؑ سے اختلاف کیا۔ جس کو قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا اور اس اختلاف گمراہی نہیں بلکہ بڑی ہدایت قرار دیا۔ ابوحنیفہؒ نے قرآن کیمطابق نکاح سے زیادہ مباشرت کو حرمت مصاہرت قرار دیا ودخلتم بھن وان لم تکونوا دخلتم بھن’’اور اگر تم نے نکاح کے بعد انکی ماؤں میں ڈالا، اگر نہ ڈالا توتمہارے لئے ربائب جائز ہیں‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس قرآنی آیت اور انسانی فطرت کے مطابق صرف عقدِ نکاح نہیں بلکہ متعہ والی ،لونڈی اور ہر طرح کی مباشرت والی کو ناجائز قرار دیا تھا۔ اصولِ فقہ میں کم عقل طبقے جو منطق وریاضی سے نابلد تھے نے نکاح اور ہاتھ لگانے کی غلط تشریح کرکے بات کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ؟، اس پر اہل علم بہت پریشان ہیں اور فقہ واصول فقہ سے نکالنا چاہتے ہیں۔جبکہ امام غزالیؒ نے عبداللہ بن مبارکؒ کے معتبر حوالہ سے لکھا کہ ’’ امام ابویوسف نے بادشاہ سے معاوضہ لیکر اس کیلئے باپ کی وہ لونڈی جائز قرار دینے کا حیلہ تراش لیاجسکے ساتھ اسکے باپ نے مباشرت کی تھی‘‘۔ یہ پہلاباقاعدہ شیخ الاسلام تھا جسکا یہ کردار تھا۔ سرکاری مرغوں نے ہر دور میں اس طرح کے حیلے تراشے ہیں۔ فتاوی عالمگیر یہ میں ہے کہ بادشاہ قتل ، چوری ، زنا اور جس طرح کے حدود پامال کرے اس پر حد کو جاری نہیں کیا جاسکتا، اسلئے کہ’’ وہ ٹینشن لیتا نہیں دیتا ہے‘‘۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے شادی بیاہ کی رسم لفافہ لینے دینے کی رقم کو سود قرار دیا ، اس کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس رسم کونہ صرف سود کہتا ہے بلکہ 72 گناہوں میں سب سے کم تر گناہ اپنی سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف پورے پاکستان میں یہ واحد دیوبندی طبقہ ہے جو اسلاف و اخلاف سے منحرف ہوکر سود کا کاروبار حیلہ سے اسلامی قرار دیتا ہے۔ عوام کے وہ لفافے جو جزاء الاحسان الا احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔جن میں سود کا شائبہ نہیں اور نبیﷺ کا وہ عمل جس میں سود کا شائبہ تک نہ تھا ۔ فلاتمنن فتکثر ’’ اور اسلئے احسان نہ فرما کہ زیادہ اچھا بدلہ ملے گا‘‘۔ کو سود قرار دینا بھی بڑا افسوسناک ہے۔ چونکہ بھلائی کرنے پر اچھے ثمرات مرتب ہونے کی امید ہوتی ہے لیکن نبیﷺ کو ہجرت تک کرنے کی ضرورت پڑگئی ، اللہ نے فرمایا کہ ’’ہم تمہیں آزمائیں گے۔ کچھ خوف سے،کچھ اموال اور جانوں کی کمی سے اور کچھ ثمرات کی کمی سے‘‘ مال میں میوے بھی شامل ہیں ۔ ثمرات سے مراد نتائج ہیں۔ ایک طرف حرمتِ مصاہرت کے وہ عجیب مسائل جن کو دیکھ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور دوسری طرف باپ کی لونڈی کو معاوضہ لیکر جائز قرار دینے کی مہم، ایک طرف نبیﷺ اور عوام پر بلاوجہ سود کمانے کے فتوے اور دوسری طرف سودی بینکاری کے جواز کے فتوے؟۔ ایک طرف قرآن وسنت میں ایگریمنٹ یا متعہ کے جواز کے دلائل کو تسلیم نہ کرنا اور دوسری طرف زنا بالجبر کیلئے گواہی کی شرط پر اصرار۔ علامہ اقبالؒ نے اپنا کہا تھا کہ ’’مجموعہ اضداد ہے اقبال نہیں ہے‘‘ لیکن مجموعہ اضداد قرآن وسنت کے خلاف سازش اور حیلے کی بھرمار کرنے والے تیس مار خان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نبیﷺ ابوسفیان کی بیگم ہندؓ کو لونڈی بنانے کا حکم دیتے تو درست تھا لیکن غلط تھا کہ ’’نبیﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر متعہ یا زنا کی اجازت دیدی‘‘۔ اسلئے کہ خیبر کے موقع پر متعہ اور پالتو گدھے کی حرمت نازل ہوچکی تھی۔ مفتی محمدتقی عثمانی نے کراچی اور حیدر آباد کے کوؤں کوجائز قرار دیا، سودی رقم کوزکوٰۃ کی کٹوتی کے نام پر جائز قرار دیا اور سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ نبیﷺ پر سود ی خواہش کی تہمت لگادی اور عوام کو ماں سے زنا کے گناہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عورت کے حق اور جان خلاصی کیلئے فیصلہ دیا کہ ’’ایک ساتھ تین طلاق پر بھی شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے‘‘۔ قرآن میں واضح ہے کہ اصلاح کی شرط پرہی شوہر عدت میں رجوع کرسکتا ہے۔ تنازعہ کی حالت میں حضرت عمرؓ نے درست فیصلہ کیا تھا۔ حضرت علیؓ نے بھی اپنی رائے اور فتویٰ کو واضح کیا تھا ۔ قرآن کی آیات میں بھی کوئی ابہام نہیں تھا۔ بعد میں مسئلہ پیدا ہوا کہ عورت کو اکٹھی تین طلاقیں دی جائیں تو تین شمار ہوں گی یا ایک؟۔ حالانکہ اصل معاملہ یہ تھا کہ شوہر نے رجوع کرلیا تو رجوع معتبر ہوگا یا نہیں؟۔ اگر قرآن کے مطابق جواب دیا جاتا کہ اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے ورنہ نہیں تو بات ختم ہوتی لیکن بات سے بھتنگڑ بنانے کے شوق میں مسائل درمسائل اور اختلافات در اختلافات بنائے گئے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ایسے واقعات ہوئے کہ کسی نے متعہ کرلیا اور بچے کی پیدائش کے بعد نسب سے انکار کردیا۔ بچیوں سے زیادتی کرلی اور اس کو متعہ کے نام سے جواز بخش دیا، اسلئے حضرت عمرؓ نے اس پرسختی سے پابندی لگادی۔حضرت عمرؓ کے اقدام کی ولالت اور مخالفت کرنے والوں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا اور آج پوری اُمت قرآن وسنت سے دوری کے نتائج بھگت رہی ہے۔ سعودیہ کی حکومت نے پہلے مسیار کے نام پر متعہ کو جواز بخشا اور اب یورپ کی آزادی سے بھی استفادہ کرنے کی بھرپور طریقے سے ٹھان لی ہے۔ افراط وتفریط کا شکار طبقہ قرآن وسنت کو پہنچانے میں ڈنڈی مارتا ہے تو اسکے یہی نتائج نکلنے تھے۔ علماء وارث الانبیاء ہیں۔ انبیاء درہم دینار نہیں علم کی وراثت چھوڑتے ہیں۔ علماء چندہ کے وقف کو وراثت بناتے ہیں۔دارالعلوم کراچی وقف ہے ، مفتی اعظم مفتی شفیعؒ نے محنت مزدوری یا باپ دادا کی وراثت سے حاصل نہیں کیا۔ وقف ٹرسٹ کی ملکیت ہے۔ خلافت راشدہ میں خاندانی بنیاد پر قبضے کا تصور نہ تھا۔ یزید کا بیٹا معاویہ تخت چھوڑ گیا۔سر آغا خان خود کو آغا خانیوں کا روحانی باپ سمجھ کر کہے کہ مریدنی بیٹی ہے نکاح نہیں ہوسکتا،حالانکہ نبیﷺ نے نکاح کیاتوام المؤمنینؓؓ کا درجہ مل گیا۔ آغاخان ہسپتال ، یونیورسٹی وغیرہ ٹرسٹ کی ملکیت ہیں سرآغا خان کی نہیں البتہ جماعت خانے ذاتی ملکیت ہیں۔ ہم نے مدارس اور اداروں کوبھی جماعت خانوں کی طرح ذاتی ملکیت بنادیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ عتیق گیلانی
قرآن وسنت کی تعلیم عربی میں ہے۔ سعودی علماء نے ہٹ دھرمی یا سمجھ بوجھ سے عاری ہوکر حقائق پر توجہ نہ دی۔ تین طلاق پر رجوع کی گنجائش ختم ہونے کیلئے حنفی مکتبۂ فکر سے مدد لی، حالانکہ حنفی مسلک میں اولین ترجیح قرآن ہے ۔ جہاں بار بار باہمی صلح سے عدت میں اور عدت کی تکمیل پر رجوع کی گنجائش ہے۔ قرآن کی طرف رجوع کئے بغیر خود ساختہ منطق نے امت کا بیڑہ غرق کیاہے۔ قرآن وسنت نہ ہوتو اجتہادہے۔ اجتہادنئی شریعت نہیں قاضی یا جج کا فیصلہ ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی نے اپنی کتاب ’’ تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘میں جن آیات و احادیث کی غلط تشریح کرکے حوالہ دیا تھا ، اپنے’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں اس کی نفی کردی۔ ہوسکتا ہے کہ فقہی مقالات کا تو صفحہ تبدیل کردیا اور اب مارکیٹ سے اس کتاب کو بھی غائب کردیں۔انکے جھوٹ اور منافقت کے ہمارے پاس دلائل اور ثبوت ہیں۔ ہمارا مقصد ذاتی تحقیر وتذلیل ہر گز نہیں ،بس ایک گونگے شیطان کو بولنے پر مجبور کرنا ہے، جس کا طوطی بولتا ہے۔اس کا ناطقہ بند کردیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سابق MNA قاضی فضل اللہ چھوٹا لاہور صوابی امریکہ میں ہیں، وہ کہتا ہے کہ ’’ جانور وں کے معاشرہ سے انسانوں میں آگیا ‘‘۔ مغرب و مشرق میں انسانوں اور جانوروں کا فرق کیوں ہے؟۔ ہمارے ہاں جو بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا جارہاہے ،یہ تو جانور بھی نہیں کرتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں ایسے انسانی معاشرے کو جانور وں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ھم کالانعام بل ھم اضل ’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ وہ زیادہ بدتر ہیں ‘‘۔ قرآن وسنت میں لونڈی و آزاد عورت کیلئے نکاح و متعہ کا تصور ہے اور متعہ کیلئے متعوھن اورماملکت ایمانکم کے الفاظ ہیں۔ لونڈی سے نکاح نہ ہو تو یہ متعہ یا ملکت ایمانکم ایگریمنٹ ہے اور آزاد سے متعہ یا ایگریمنٹ ہو تو بھی اس پر ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے۔قرآن نے لونڈیوں و غلاموں کو ایگریمنٹ کا درجہ دیکر غلامی کا وہ تصور ختم کیا جو دورِ جاہلیت میں آل فرعون نے بنی اسرائیل کے خلاف بنایا تھا۔ شخصی غلامی کے علاوہ ملکوں اور قوموں کی غلامی کا تصور بھی موجود تھا۔ آل فرعون نے بنی اسرائیل کو من حیث القوم غلام بنایا تھا۔ مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی تھی۔ نبیﷺ نے حدیبیہ کا معاہدہ قریشِ مکہ سے 10 سال تک کیلئے تھا اور اس میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی مزید گنجائش تھی۔ اگر معاہدہ مشرک نہ توڑتے تو نبیﷺ کی حیات، ابوبکرؓ اور عمرؓ کے دور تک جاری رہتا۔ مزید توسیع کی گنجائش تھی ۔ حلیف بنوخزاعہ کیخلاف قریشِ مکہ نے بنوبکر کی حمایت سے معاہدہ کی ایک شق توڑ دی تو نبیﷺ نے اسکا بدلہ فتح مکہ کی صورت میں اتاردیا۔ تاہم کسی کو غلام یا لونڈی نہیں بنایا۔ البتہ تین دن تک متعہ کی اجازت دیدی۔ لونڈی بنانے پر دورِ جاہلیت میں عورت سے اپنا اختیار ختم ہوجاتا تھا، وہ آقا کی امۃ بن جاتی تھی اور مرد عبد بن جاتا تھا۔ دو صحابیؓ نے ایک عورت سے متعہ کی پیشکش کی۔ ایک کی چادر اور دوسرے کا چہرہ اچھا تھا۔ عورت نے خوشنماچہرے کا انتخاب کیا، تین دن تک یعنی جب تک مکہ میں رہے ، معاہدے پر کاربندرہے اور اس سے زیادہ قیام نہیں تھا اور کم کا جواز نہیں تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو مسلمانوں نے تین دن میں جانا تھا اور پھر جس سے متعہ کیا جاتا اور وہ عورت اس کی پابند رہتی تو ایگریمنٹ کا فائدہ نہ تھا، اگر تین دن سے کم متعہ ہوتا تو وہ بے دین مشرک عورت مختلف مردوں سے متعہ کرسکتی تھی، اسلام اس کی اجازت نہ دیتا۔ ایک مرد زیادہ خواتین کیساتھ ایگریمنٹ کرے تو اس کی قرآن نے اجازت دی ہے فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی و ثلاثہ و رباع وان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ او ماملکت ایمانکم ’’پس نکاح کرو، عورتوں میں سے دودو، تین تین ، چار چار کیساتھ اور اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرسکوگے تو پھر ایک یا جو تمہاری ایگریمنٹ والی ہوں‘‘۔ مگرایک عورت ایک طہروحیض میں ایک سے زیادہ مردوں کیساتھ متعہ نہیں کرسکتی ہے ورنہ تو اس کی اولاد کا بھی پتہ نہ چلے گا اور اس سے لاتعداد بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ نبیﷺ نے مکہ کے مشرکین کو غلام و لونڈی نہ بنایا۔ حبشہ کیلئے یہ وصیت کی کہ ’’ جب تک وہ تعارض نہ کریں تم بھی نہ کرنا‘‘۔ کوئی اُلو کاپٹا کہے کہ نبیﷺ نے آخری خطبے میں یہ وصیت کرکے قرآن کو نہ سمجھا ۔ روئے زمین پر غلبۂ دین کیلئے مبعوث تھے ۔سب اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں ورنہ غلام ولونڈی بنانے کا حکم ہے تو ایسے علماء ومفتیان اور مجاہدین کو اپنے مؤقف پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جس بچی ، بچے اور خاتون کیساتھ جبری جنسی تشدد ہو تو سب کہتے ہیں کہ یہ انسان نہیں جانور سے بھی بدتر ہیں۔ ہماری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کیلئے لونڈی کا تصور رکھا جائے تو ہمارے کیا تأثرات ہونگے؟۔ نبی ﷺ کو آخری پیغمبر اور رحمۃ للعالمین کا تصور اسلئے دیا کہ اسلام زحمت نہیں۔ مذہبی طبقے کی خود ساختہ منطق نے آج پوری دنیاکو لرزہ براندام کردیا کہ اگر وحشی درندوں سے بدتر جنت کے حوروں کی لالچ اور مغرب ومشرق ،شمال وجنوب کی ساری ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈیاں بنانے کے جذبے سے آگے بڑھے تو دنیا کو خوفناک اور بدترین صورتحال کا سامنا ہو گا۔ حالانکہ اسلام نے اس خلافت علی منہاج النبوۃ کا تصور دیا، جس سے آسمان اورزمین والے خوش ہونگے۔ قرآن وسنت کے عظیم احکام کو پسِ پشت ڈالنے کا نتیجہ ہے کہ دنیا ہماری بے سروسامانی، پستی کی اتاہ گہرائی اور دستِ نگر ہونیکی سوچ دل ودماغ سے نکال کر ہمیں خطرناک ترین سمجھ رہی ہے۔ روس و امریکہ براہِ راست نہیں لڑتے بلکہ مسلمانوں کو کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا کے بعد اب شام میں سرد جنگ نے لے لی ۔ہم کیمیائی ہتھیاروں سے مرجانے کو خوش آئند قرار دینے سے نہیں شرماتے۔ جن بچیوں کیساتھ زیادتی کے بعد ماردیا جاتا ہے تو یہ کیمیائی ہتھیاروں سے بڑا عذاب ہے جو ہم پر مسلط ہے،یہ لونڈی بنانے سے بھی زیادہ سخت عذاب ہے اور اسکے تدارک کیلئے ہمیں معاشرتی بنیادوں پر اُٹھ کھڑا ہوناہوگا۔اسلام نے جو نظام دیا ہے وہ مسلمانوں کی کھوپڑیوں میں نہیں بلکہ قرآن وسنت میں محفوظ ہے۔ حنفی مکتبۂ فکر کا مسلک بہترین ہے مگر حنفی مکتب والے اپنا مسلک کو بھول گئے۔ قرآن وسنت نے لونڈی بنانے کا تصور ختم کیا ۔ ابوالعلاء معریٰ ہزار سال قبل لکھ دیا کہ ’’اسلام نے لونڈی بنانے کا تصور ختم کیا تھا مگر عرب فاتحین نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو انہوں نے دوبارہ یہ نظام رائج کردیا‘‘۔ نکاح میں خواتین کے تمام حقوق سلب کرکے قرآن وسنت کی توہین کی جاتی ہے ۔ ابولعلاء معریٰ نے نظام سے بغاوت کرکے شادی بھی نہ کی۔ اپنی قبر کے کتبہ پر لکھوایاکہ ’’ یہ میرے باپ کا گناہ تھا، میں نے یہ گناہ نہیں کیا ‘‘۔ حقوقِ نسواں کے متعلق تمام اسلامی احکام کو قرآن میں واضح ہیں مگرمذہبی طبقہ نے انسانی حقوق کو مسخ کرکے اسلام کے تمام امورکو بالکل غیرفطری اور دنیا کیلئے ناقابلِ عمل بنایا۔
بدء الاسلام غریبا فسیعود غریبا فطوبیٰ للغربیٰ (الحدیث) نبیﷺ نے فرمایا: اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، پس خوشخبری اجنبیوں کیلئے۔ قرآن نے بار بار اس بات کو دھرایا ہے کہ’’ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو‘‘۔ ایک جگہ اللہ نے اولی الامر کی بھی اطاعت کا حکم دیا ہے مگر ساتھ میں یہ واضح کردیا ہے کہ’’ اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹادو‘‘۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں قرآنی آیات اور احادیث کا جس طرح سے حشر کیا ہے ، بقول مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہیدؒ کے اس کی تحریف اور حقائق کو مسخ کرنے کا انداز دیکھ کر وحوش وطیور بھی الامان والحفیظ سے صدائے احتجاج بلند کررہے ہوں، مولانا یوسف لدھیانویؒ کی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں‘‘ کا مقدمہ اور احادیث کی تشریحات سے مفتی تقی عثمانی کی کتاب میں انہی احادیث کا اندراج دیکھ کر موازنہ کرکے دیکھا جائے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی فکر قدرے بہتر تھی لیکن ایک طرف یہ کہنا کہ نبیﷺ نے عرب وعجم اور حبشی وایرانی کی تفریق ختم کردی تھی اور دوسری طرف یہ کہنا کہ قرآن میں مسئلہ قومیت کی بنیاد یہ ہے کہ جہاں ایک قوم کے افراد بستے ہوں وہاں دوسرے قوموں کی حیثیت غلاموں اور لونڈیوں کی ہے۔ بڑاغلط اور گمراہ کن ہے۔ فکر شاہ ولی اللہ تنظیم نے تاریخی اعتبار سے جس ذہنیت کی بنیاد پر اسلام کی تشریح کی ہے اس میں بڑی غلط فہمیوں کو حل کرنے کی کوشش ضرور ہے لیکن حقائق سے بہت انحراف بھی ہے۔ بارہ خلفاء سے یزید کی شخصیت کو آٹے سے بال کی طرح نکالنے کی باریک بینی ان کو بھی قبول نہ ہوگی جو دوسرے دن کے چاند کو دور بین سے بھی دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ اس فکر کی خوش فہمی میں رہنے کے بجائے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے اولی الامر کی حیثیت سے جمہوریت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ حضرت عمرؓ نے حدیث قرطاس کی مخالفت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی وصیت مسلط نہیں فرمائی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو خلافت کے مسئلہ پر ہنگامہ وفساد کا خطرہ تھا لیکن حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے انصارؓ کی جمع ہونے والی جماعت سے مذاکرہ کیا اور ہنگامی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بن گئے۔ انصار کے سردار سعد بن عبادہؓ اتنے ناراض ہوئے کہ خلفاء راشدینؓ کے پیچھے نماز تک نہ پڑھتے۔یہ پہلا دور تھا جس سے نبیﷺ کے بعد اجنبیت کی منزل شروع ہوگئی۔ جن علاقوں میں بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا ،ان سے قتال پر شروع میں حضرت عمرؓ بھی متفق نہ تھے لیکن پھر خلافت کو منظم کرنے کی غرض سے مجبور ہوگئے۔ مالک بن نویرہؓ نے زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار نہ کیا بلکہ قرآن میں نبیﷺ کیلئے فرمایا کہ ’’ ان سے صدقات لو، یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے‘‘۔ جسکے بعد نبیﷺ نے عزیز و اقارب پر زکوٰہ کو حرام کردیا۔ مالک بن نویرہؓ اور اسکے ساتھیوں نے کہا تھا کہ ’’ ہم حجۃ الوداع میں یہ سن کر آئے ہیں کہ من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ (میں جسکا مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے)۔ اگر حضرت علیؓ کی طرف سے کوئی نمائندہ آئیگا تو ہم اس کو زکوٰۃ دینگے ‘‘۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کردیا اور اسکی بیوی سے زبردستی عدت کا انتظار کئے بغیر شادی رچالی۔ حضرت عمرؓ نے تجویز پیش کی کہ خالد بن ولیدؓ کو جرم کی پاداش میں سنگسار کردیتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے تنبیہ کو کافی قرار دیکر کہا گیا کہ ابھی ہمیں خالدؓ کی ضرورت ہے۔ یہ وہی خالد بن ولیدؓ تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے دور میں بھی بعضوں کو بے گناہ اور بے دریغ قتل کیا تو نبیﷺ نے بدلے میں قتل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ ’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، میں خالد کے فعل سے بری ہوں ‘‘۔ فوجی مہمات کے دور میں فوجیوں سے ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ، اگر غلطی پر سخت سزا دی گئی تو آئندہ ان میں لڑنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہے گی‘‘۔ پاک افوج تو اس دور کی پیداوار ہیں جسکا معاشرتی ، اقتصادی، مذہبی اور سیاسی نظام تباہ حال ہے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عمرؓ کے کہنے پرحدیثِ قرطاس سے رُکے لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کیلئے مشاورت کی اور لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کو کیا جواب دینگے کہ کتنے سخت انسان کو ہم پر مسلط کردیا ؟ مگر ابوبکرؓ نے اپنی صوابدید پر عمرؓ کو نامزد کردیا۔ اولی الامر کے تقرری پر اسلام کی اجنبیت کایہ دوسرا موڑ آیاتھا۔ حضرت عمرؓ نے متعہ، ایک ساتھ تین طلاق، حجِ تمتع اور دوسرے معاملات پر جن اقدامات کی بنیاد رکھی وہ بھی مستند کتب کا حصہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کے زخمی ہونے کے بعد تیسرے خلیفہ سے متعلق مشاورت ہوئی تو شوریٰ کے جن ارکان کا انتخاب کیا گیا ،انہوں نے اس بات کا لحاظ رکھا کہ عثمانؓ نے ابوبکرؓ و عمرؓ کے اقدامات کو جوں کے توں عملی جامہ پہنانا تھاجبکہ علیؓ کی چاہت تھی کہ اللہ اور نبیﷺ کی پیروی کرینگے۔ اسلئے حضرت عثمانؓ تیسرے خلیفہ بن گئے۔ بخاری میں عثمانؓ اور علیؓ کا حج تمتع پر اختلاف کا ذکرہے۔اصل اختلاف کو چھوڑ کر دوسروں کے سر غلطیاں ڈالنا دانشمندی نہیں، عثمانؓ اور علیؓ کی شہادت کے علاوہ اسلام کا نظامِ حکومت جمہوریت سے خاندانی وراثت بننا کوئی کم المیہ نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے اجنبی بن جانے کی خبر سنائی تھی۔ لیپا پوتی کے ذریعے اسلام کی اجنبیت کو دور نہیں کیا جاسکتا ۔ نبیﷺ نے علیؓ کو اپنا ولی قرار دیا مگرحضرت عمرؓنے حدیث قرطاس میں یہ وصیت نہیں مانی تھی۔ وشاور ھم فی الامر؛ وامرھم شوریٰ بینھم کے تقاضے بھی عیاں تھے۔ اللہ نے صاحبزادگی کا فتنہ ختم کرنے کیلئے نبیﷺ کو مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بنایا۔ داماد اور چچازاد کو بھی فتنہ بننے سے روک دیا۔ اموال واولاد کو اللہ نے فتنہ قرار دیا تو صدر اسلام میں اس کا راستہ بھی روک دیا۔ کھلے حقائق سے قادیانی و آغا خانی اور امامیہ شیعہ کی آنکھیں کھل سکتی ہیں۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں، مساجد، مدارس اور خانقاہوں میں بھی نالائق جانشینوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ایران کا نظام بھی حدیث قرطاس ہی کی بدولت قائم ہے۔ چوہدری نثار ن لیگ میں ناپسندیدہ بن گئے مگر اس کی مزاحمت نے مریم نواز کو جانشین بننے سے روک دیا۔ یہ تمغہ کسی نظریاتی کارکن اور رہنما کی قسمت میں ہوتا تو خلافت ونیابت راشدہ بن جاتی۔ علیؓ کا راستہ روکنا قرآن وسنت اور فطرت کے مطابق تھا۔المیہ تھاکہ ولایت کا مفہوم بگاڑا۔ اللہ نے اہل کتاب خواتین سے نکاح کی اجازت دی ابن عمرؓ نے تثلیث کے عقیدے پر مشرک قرار دیکر نکاح ناجائز قرار دیا۔ یہ منطق تعصب نہ تھا۔اللہ نے اہل کتاب کو فیصلے کا اختیار سونپ دینے سے منع کیا مگر اسکا غلط ترجمہ ہوا کہ ’’ انکو اپنا دوست نہ بناؤ‘‘۔ بیوی سے بڑھ کر دوستی کیا ؟۔ متحدہ مجلس عمل علمی انقلاب کی کوشش کرے تو ووٹ،نوٹ، دنیا اورآخرت کی سرخروئی ملے۔ رمضان میں تراویح و جہری نمازوں میں سورتوں سے قبل جہری بسم اللہ سے آغاز کریں۔
بعض اوقات شوہر بیوی سے علیحدگی چاہتا ہے جسے طلاق کہتے ہیں، قرآن میں سورۂ طلاق بھی ہے اور طلاق کے حوالے سے سورۂ بقرہ اور دیگر سورتوں میں تفصیل سے احکام بھی ہیں۔ عورت علیحدگی چاہتی ہو تو اسے خلع کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں پہلے عورت کو خلع کا حق دینے کی وضاحت فرمائی ہے اور پھر بعد میں شوہر کیلئے طلاق دینے میں بھی عورت کے حقوق کو واضح فرمایا ہے۔ اگر دنیا نے قرآنی آیات کو سمجھ کر دستور العمل بنایا تو انقلاب آجائیگا۔ فرمایا: اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ اپنی عورتوں کے زبردستی مالک بن بیٹھواور ان کو اس لئے مت روکو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو۔ مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ اور انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اگر وہ تمہیں بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے۔ (سورہ نساء : آیت 19)۔ اللہ تعالیٰ نے نساء کا لفظ قرآن کے مختلف مقامات پر بیگمات کیلئے استعمال کیا ہے۔ اردو، پشتو وغیرہ میں بھی عورت کا لفظ بیوی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ جب بیوی سے نکاح ہوتا ہے تو شوہر معاشرے میں مالکانہ حقوق کی طرح طرز عمل رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کیا کہ زبردستی سے شوہروں کیلئے حلال نہیں کہ ان کے مالک بن بیٹھیں۔ اگر وہ خلع لے کر جانا چاہیں تو ان کو اسلئے نہ روکیں کہ حق مہر کے علاوہ جو کچھ ان کو دیا ہے ان سے وہ واپس لے لیں، مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ ایسی صورت میں دی ہوئی بعض اشیاء سے محروم کرنا درست ہے۔ جب عورت خلع لے کر علیحدہ ہورہی ہو تو مرد کی طرف سے بدسلوکی کے خدشے کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ پھر بھی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اگر اس اقدام کی وجہ سے وہ تمہیں بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے۔ دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ اور ملک و قوم قرآن کے اس حکم سے انکار اور کفر کا روادار نہیں ہے۔ جب عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہو تو اس شوہر سے بڑا بے غیرت کوئی نہیں ہوسکتا ہے کہ پھر بھی عورت کو خوامخواہ مجبور کرے کہ وہ اسکے ساتھ رہے گی۔ یہ ہوسکتا ہے کہ شوہر طیش میں آکر چپل اور کپڑے اتارنے تک کی بات کرے اور بعض دی ہوئی قیمتی اشیاء واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالے لیکن قرآن نے اس آیت کے واضح حکم میں شوہر کو ایسا کرنے سے روکا ہے۔ البتہ اگر کھلی ہوئی فحاشی کی عورت مرتکب ہو توپھر بعض چیزوں کی گنجائش ہے۔ علیحدگی کی اس صورتحال پر اللہ نے حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور یقیناًاس میں اللہ نے بہت سارا خیر رکھا ہے۔ عورت کو زبردستی سے رُکنے پر مجبور کیا جائے تو وہ شوہر کو زہر کھلا سکتی ہے ، گلا دبا سکتی ہے ، اپنا خاتمہ کرسکتی ہے اوربچوں کی زندگی بھی ختم کرسکتی ہے، معاشقہ کرکے شوہر کی عزت کو داغدار کرسکتی ہے۔ سکون تباہ رہے گا ۔ عورت کا مقصد ہی سکون ہوتاہے اور متبادل میں کوئی دوسری عورت خیر کثیر بن سکتی ہے۔ عورت کمزور ہوتی ہے اور شوہر طاقتور ہوتا ہے ۔ خان ، نواب، سردار، بادشاہ اور طاقتور مردوں کے سامنے ایک کمزور مذہبی رہنما اور پیشوا کمزور عورت کے حق کی بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ گلی،محلہ ، گاؤں، شہر اور ملک سے طاقتور طبقہ ان کو بھگادے گا اور زکوٰۃ خیرات سے بھی محروم کردے گا۔ امام اعظم امام ابو حنیفہؒ کی سیرت میں لکھا ہے کہ عباسی خلیفہ نے اپنی بیوی کے سامنے ان سے پوچھ لیا کہ دوسری بیوی کی گنجائش اسلام میں ہے یا نہیں؟۔ امام ابو حنیفہؒ نے آیت پڑھی جس میں پہلے دو دو ، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کرنے کی گنجائش ہے لیکن پھر عدل قائم نہ کرنے کی صورت میں ایک ہی کی وضاحت ہے ، جس پر پہلے بادشاہ خوش ہوا اور ملکہ ناراض ہوگئی مگر پھر ملکہ خوش ہوئی اور بادشاہ سے کہا کہ آپ عدل نہیں کرسکتے ، اسلئے تیرے لئے دوسری کی گنجائش نہیں۔ اس واقعہ ہی کی بنیاد پر بادشاہ نے دل میں بغض رکھا اور امام ابو حنیفہؒ کو جیل میں ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ بڑی شخصیت کا تصور بھی نہیں ہوسکتاہے لیکن قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرات اُمہات المؤمنین ازواج مطہراتؓ کیلئے بھی واضح فرمایا تھا کہ ’’ان کو علیحدہ ہونے کا اختیار دے دیں‘‘۔ جب حضرت علیؓ نے ابو جہل کی لڑکی سے شادی کرنا چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’پھر میری بیٹی کو طلاق دو اسلئے کہ اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں‘‘۔ پاکستان میں یہ قانون قرآن و سنت کے منافی ہے کہ دوسری شادی کیلئے پہلی سے اجازت لی جائے، لوگ پہلی کو مجبور بھی کرلیتے ہیں اور قتل بھی کردیتے ہیں البتہ یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ دوسری شادی پر پہلی کو طلاق کا مکمل اختیار ہوگا۔ پاکستان میں بیوی خلع لینا چاہتی ہے اور شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا ہے تو عورت عدالت سے رجوع کرتی ہے۔ عدالت سے خلع کاحکم جاری ہوتا ہے تب بھی حنفی مکتبہ فکر کے بہت سے علماء یہ فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے جب تک شوہر خود طلاق نہیں دے۔ حالانکہ حنفی مکتب کے بڑے مدارس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دار العلوم نعیمیہ کے علماء و مفتیان نے بھی عدالت کی طرف سے خلع پر طلاق کا فتویٰ جاری کردیا ہے۔ حنفی مکتب کی طرف سے خلع واقع ہونے کیلئے شاید دوسرے مسالک سے استفادہ ہوا ہے جبکہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کا بھی یہی بنیادی تقاضہ ہے کہ عدالت کے بغیر بھی طلاق ہو۔ قرآن کی آیت و ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم Oاور اگر ان کا عزم طلاق کا ہو تو اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔(البقرہ: 227)۔ قرآن کی اس آیت میں پہلی بات طلاق کا ذکر ہے ۔ اس سے پہلے والی آیت میں چار ماہ تک انتظار کا حکم ہے۔ امام ابو حنیفہؒ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے چار ماہ تک اس انتظار کے باوجود رجوع نہ کرنے کو طلاق قرار دیا ہے جبکہ جمہور کے نزدیک جب تک شوہر طلاق کا اظہار نہ کرے تب تک عورت زندگی بھر انتظار کرے گی۔ اس کا تقاضہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک کم از کم عدالتی خلع پر واضح ہوتا۔ ترقی یافتہ دنیا نے بہت بعد میں عورت کو خلع کا حق قانون قرار دیاجبکہ اسلام نے 14سو سال پہلے قرآن کی واضح آیات اور احادیث صحیحہ میں عورت کے اس حق کو بہت اچھی طرح سے واضح کیا۔ افسوس ہے کہ سورہ بقرہ آیت 229میں خلع کا تصور نہیں بلکہ عدت کے تین مراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں رجوع کا فیصلہ کرنے کے بجائے علیحدگی کا فیصلہ کیا جائے اور پھر دونوں آئندہ رابطہ نہ رکھنے پر متفق ہوں۔ معاشرہ بھی یہی فیصلہ کرے تو مرد کی طرف سے دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز واپس لینا گوکہ حلال نہیں لیکن جب وہ رابطے کا ذریعہ بنے اور دونوں کی طرف سے اس خدشے کا احتمال ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں،یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز پراللہ نے ظالم قرار دیا ہے ۔یہ آیات محکمات ہیں مگرخلع میں مضحکہ خیز طریقے پر بلیک میلنگ کو بھی جائز کہا گیا۔
عدت
اللہ نے مختلف آیات میں خواتین کے حقوق کیلئے ہی عدت کے احکام واضح کئے ۔ جب شوہر طلاق کا اظہار نہ کرے اور زندگی بھر اس کو لٹکانا چاہے تو اللہ نے سب سے پہلے عدت کی اس صورت کو ہی واضح فرمایا ۔ عربی میں اس صورتحال کو ایلاء سے تعبیر کیا گیا، امام مالکؒ نے واضح کیا کہ ایلاء صرف شوہر کی ناراضگی ہے، حلف نہیں۔ اللہ نے واضح کیا کہ لغو قسم یا عہد پر اللہ نہیں پکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھاتے ہیں ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے۔ پھر اگر وہ راضی ہوئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو اللہ سننے جاننے والا ہے۔ طلاق والی عورتوں کیلئے تین مراحل (طہر و حیض ) کا انتظار ہے۔ (البقرہ: آیت 228-227-226-225) انتظار کیلئے تربص کا لفظ یکساں ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ آیت 226میں تربص سے کوئی چیز مراد لی جائے اور 228میں کوئی چیز مراد لی جائے، دونوں جگہ عدت ہی مراد ہے۔ اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو تو پھر طلاق کی صورت میں انتظار یا عدت تین ماہ ہے۔ ناراضگی کی صورت میں شوہر کا پہلے سے عزم طلاق کا تھا تو اس دل کے گناہ پر اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ انتظار ایک ماہ اسکی وجہ سے بڑھ جاتا ہے اور یہ عورت کی حق تلفی ہے۔ چنانچہ طلاق کی عدت تین ماہ اور ناراضگی کی عدت چار ماہ ہے، معاشرتی تعلق بحال رکھنے کیلئے یہ انتظار خواتین کے مفاد میں ہے۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ انسان سوچ سکتا ہے کہ بیوہ چار ماہ دس دن انتظار کی پابند ہو تو طلاق کا عزم رکھنے کے باوجود چار ماہ انتظار پر پکڑ نہ ہونی چاہیے، لیکن ناراضگی و طلاق کی صورتیں مختلف نہیں اسلئے ایک ماہ کی مدت پر بھی پکڑ ہوگی۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد کو زیادہ شادی کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کیلئے عدت کا کوئی تصور نہیں۔ عورت کا رشتہ ایک ہی شوہر سے ہوتا ہے اور پھر بھی عدت چار ماہ ، تین ماہ اور چار ماہ دس دن تک عورت ہی کو گزارنی پڑتی ہے۔ کمزور کے حق کا اس میں تحفظ ہے یا پھر یہ عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی اور حق تلفی ہے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں خواتین کی فطرت ہی کا تحفظ ہے اور صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے کہ ’’خلع کی صورت میں عورت کی عدت ایک حیض ہے‘‘۔ طلاق کی صورت میں شوہر علیحدگی چاہتا ہے اور خلع کی صورت میں بیوی علیحدگی چاہتی ہے۔ عورت خلع چاہتی ہو تو ایک حیض کی عدت بھی خواتین ہی کے مفاد میں ہے کیونکہ حیض کے بعد دوسری جگہ نکاح ہو تو پھر دوسرے شوہر کو اپنی اولاد کا یقین ہوگا۔ حمل کی صورت میں عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ آیت میں طلاق سے رجوع کیلئے بالکل واضح ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا (اور انکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر ) ۔ عورت کی رضا کے بغیر طلاق کے بعد عدت میں بھی شوہر کو رجوع کا حق نہیں۔ وان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما (اگر ان دونوں کا پروگرام اصلاح کا ہو تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کردے گا)۔ یہ تونہیں ہوسکتا کہ عدت میں بھی اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حق ہو اور پھر عدت کی تکمیل پر بار بار اللہ نے غیر مشروط رجوع کا حکم دیا ہو۔ بڑی بات یہ ہے کہ اللہ نے صلح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا بلکہ اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دیا ہے۔ طلاق کی وجہ یہ بنتی ہے کہ شوہر یا بیوی کو کسی معاملے میں اس کی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً عورت زبان چلاتی ہے اور شوہر مارتا پیٹتا ہے اور اس بگاڑ کی وجہ سے نوبت طلاق اور علیحدگی تک پہنچتی ہے۔ پھر عدت کے آخری مرحلے میں میاں بیوی کے درمیان صلح ہوجاتی ہے۔ دو مہینے گزرنے کے بعد جب صلح ہوجائے اور پھر عورت زبان چلائے اور مرد پیٹنا شروع کردے تو یہ دو ماہ کی عدت رائیگاں جائیگی۔ اسلئے قرآن نے اصلاح کے الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ اگر صلح ہوگئی مگر اصلاح نہیں ہوئی تو یہ صلح معتبر نہ ہوگی۔ دو ماہ کی عدت معتبر قرار دی جائے گی اور اصلاح نہ ہونے کی صورت میں ایک ماہ اور یعنی وہی تین ماہ کا انتظار ہوگا۔ حدیث ہے کہ تین چیزیں سنجیدگی اور مذاق میں معتبر ہیں طلاق، عتاق اور رجوع۔ عتاق غلام یا لونڈی آزاد کرنے کو کہتے ہیں۔ ایک مرتبہ آزاد کردیا اور پھر کہہ دیا کہ مذاق کررہا تھا تو مذاق میں بھی آزادی ملے گی۔ اگر نہ ملے تو یہ اس غلام یا لونڈی کی حق تلفی ہوگی۔ یہ بات سب کو آسانی سے سمجھ میں آتی ہے مگر مذاق میں طلاق اور رجوع کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر شوہر طلا ق دے اور پھر کہے کہ میں مذاق کررہا تھا اور عورت اس کو سنجیدگی سے نہ لے تو اس طلاق کی کوئی حیثیت نہیں البتہ اگر عورت نے سنجیدہ لیا اور ڈٹ گئی کہ اب شوہر کیساتھ نہیں رہنا ہے تو پھر یہ طلاق مذاق میں معتبر ہے۔ خلع و طلاق میں فرق معاملات کا ہے۔ خلع میں عورت کو اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنا پڑتا ہے اور طلاق میں ہر چیز سے شوہرہی کو دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ سورہ نساء کی آیت 21-20میں طلاق کی وضاحت ہے۔ حقوق پر خلع اور طلاق کی صورتوں میں بہت بڑا اور واضح فرق پڑتا ہے۔ جیسے لونڈی اور غلام کو آزاد کرنے میں حق کا معاملہ ہوتاہے اسی طرح سے طلاق کی صورت میں بھی اصل مسئلہ عورت کے حق کا ہوتا ہے۔ یہ قرآن و سنت اور فطرت کے ساتھ بڑا مذاق ہوگا کہ کوئی شوہر بیوی سے کہے کہ میں نے طلاق دی اور عورت ڈٹ جائے لیکن مرد کہے کہ یہ ایک مرتبہ کی طلاق کا مذاق ہے جبکہ دو مرتبہ کیلئے میرے پاس گنجائش ہے۔ طلاق مرد کا فعل ہے لیکن رجوع بیوی کے راضی ہونے سے مشروط ہے۔ اگر شوہرنے رجوع کرلیا اور عورت اس کیلئے راضی نہ ہو تو مذاق کیا سنجیدگی میں بھی رجوع معتبر نہیں ہے۔ اگر شوہر نے رجوع کرلیا، بیوی نے رضامندی ظاہر کردی تو پھر اگر شوہر کہے کہ میں نے مذاق کیا تھا تو رجوع کو معتبر سمجھا جائے گا۔ اس رجوع کی وجہ سے شوہر کو بیوی کے حقوق ادا کرنے ہیں۔ اس بات سے اس کو چھٹکارا نہیں مل سکتا ہے کہ میں نے مذاق کیا تھا۔ اگر شوہر کو یہ حق دیا جائے کہ ایک بار طلاق کے بعد رجوع کرسکے اور دوبارہ طلاق کے بعد پھر رجوع کرسکے اور پھر طلاق دے تو یہ عورت کیلئے ایک نہیں کئی عدتوں کا قانونی حق شوہر کو دینا ہے جو قرآن اور فطرت کے سراسر منافی ہے۔ نکاح و طلاق اور معاہدہ (متعہ،ایگریمنٹ) کے درست احکام کو واضح کیا جائے تو پوری دنیا اپنے غیر فطری اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو چھوڑ کر قرآن وسنت اور اسلام کی طرف بہت خوشی اور رغبت کیساتھ رجوع کریگی۔ مدارس کے ارباب علم و فتویٰ کو بڑے پیمانے پر اس نصاب کا جائزہ لینا ہوگا جو اسلام کے اجنبی بن جانے کے بعد بتدریج مختلف ادوار میں تشکیل دیا گیا ۔ بہت خوش آئند اور حوصلہ افزا بات ہے کہ بڑے مدارس کے بڑے علماء کرام و مفتیان عظام نے ہماری تحریک کو دل سے پسند کرنا شروع کیا ہے۔اُمید ہے کہ اعلان کردینگے۔ خواتین معاشرے کا پسا ہواکمزور ، مجبوراور مظلوم طبقہ ہے، جن پر حق حکمرانی کادرست تصور پیش کیا جائے اور بدترین جابرانہ غلامی اور ظلم سے نکالا جائے تویہ اسلامی انقلاب اور دنیا کو جبرو ظلم کے نظام سے نکالنے کا بہترین آغاز ہوگا۔
طلاق
شوہر نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے تو نصف حق مہر دینا اللہ کا قانون ہے اور عورت پر عدت بھی نہیں ۔ مکان ، دکان، پلاٹ وغیرہ لیا جاتا ہے تو پانچ دس فیصد سے بھی کم بیانہ ہوتا ہے۔ اللہ نے نصف حق مہر کا بیانہ مقرر کرکے خواتین کے حقوق اور عزت کی کتنی پاسداری کی ؟ ۔ اگر نکاح پر آدھا حق مہر ہو تو ہمبستری پر پورے حق مہر سے انکارکون بدفطرت کرسکتا ہے؟۔ مردوں کیلئے عورتوں پر اس سے بڑا درجہ کیاہے کہ نکاح یا ملاپ پر جدائی کے اثر کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے اسلئے مردوں پر اس کی وجہ سے حق مہر کا جرمانہ عائد ہے اور صنف نازک نے اگر مغالطہ کھایا ہو تو اس کا معاوضہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں یہ قانون ہے کہ باقاعدہ نکاح کے بعد عورت کو بھی طلاق کا حق حاصل ہے اور طلاق کے بعد مرد کو آدھی جائیداد سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ یہ رسک لینے کے بجائے گرل و بوائے فرینڈز کی صورت میں معاشرہ تباہی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔ ایک پاکستانی نے امریکہ میں نکاح کے بعد لڑکی کی طرف سے طلاق کا سامنا کیا اور آدھی جائیداد گنوادی تو پھر دوسری لڑکی سے باقاعدہ نکاح کے بجائے ایگریمنٹ کرلیا۔ جس سے اس کے کئی بچے بھی ہیں۔ ایگریمنٹ میں مرد اور عورت کے علاوہ بچوں کیلئے بھی اطمینان بخش ماحول نہیں ہوتا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان ہو تو معاشرے کی حالت اتنی بہتر نہیں ہوسکتی ہے۔ مغربی معاشرہ بے اطمینانی کی اس کیفیت سے دوچار ہوا ہے۔ اگر قرآن و سنت کے مطابق حق مہر کی ایک معین مقدار ہو اور خلع و طلاق کی صورت میں اس رقم کومحور قرار دیا جائے تو ایگریمنٹ کے بجائے اعتماد کیساتھ نکاح کا ماحول قائم ہوگا۔ قرآن میں یہ وضاحت ہے کہ’’ شوہر کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہوتا ہے‘‘۔ اس کا مفہوم بالکل غلط لیا گیا ہے کہ عورت کو خلع کا حق حاصل نہیں ۔ اس آیت کا سیاق و سباق اور لب لباب یہ ہے کہ علیحدگی کی صورت کا ذمہ دار شوہر ہوتا ہے۔ عورت خلع لے یا مرد طلاق دے دونوں صورتوں میں اس کی ذمہ داری مرد ہی پر پڑتی ہے۔ عورتیں اپنی خفیہ رازداری،عزت ونفس کو شوہر کے حوالے کردیتی ہیں تو ان کی طرف و اخذن منکم میثاقا غلیظا (اور انہوں نے تم سے پختہ عہد و پیمان لیا ہے)اس مضبوط نکاح کی نسبت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتے ہو اوران میں سے کسی ایک کو ڈھیر سارا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کرکے واپس لو گے ؟ ۔اور آخر تم کیسے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایکدوسرے سے قربت اختیار کر چکے ہواور ان عورتوں نے تم سے پکا عہد و پیمان لیا ہے۔ (سورہ نساء: آیت21-20) شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سودی بینکاری سے بد حواس ہونے کا دنیا میں بھی مظاہرہ کیا ہے اور اپنے ترجمہ میں ’’بہت سارا حق مہر‘‘ لکھ کر بد بختی کی ہے۔ طلاق کی صورت میں عورت کو صرف حق مہر نہیں دینا پڑتا بلکہ جو چیز بھی دی ہو ، چاہے خزانے دئیے ہوں تب بھی کوئی چیز واپس نہیں لی جاسکتی ہے۔ عورت سے کئی بچے جنوانے کے بعد اسکا سیٹ اپ خراب کرنے کی اجازت نہیں ۔ گھر اصل میں عورت ہی کا ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے حجرات کی نسبت اُمہات المؤمنینؓ کی طرف تھی۔ گنبد خضرا ء حضرت عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ تھا۔ حضرت عمرؓ بھی ان کی اجازت سے وہاں مدفون ہیں۔ مغرب میں جائیداد کا آدھا تصور غلط ہے لیکن اسلام نے یہ تصور دیا ہے کہ اگر پوری جائیداد بھی بیوی کو دی ہو تو طلاق کے بعد اس سے آدھی بھی نہیں لی جاسکتی ہے۔ البتہ خلع کی صورت میں عورت کو اپنا سیٹ اپ بدلنا پڑتا ہے ، گھر اور جائیداد لے جانے کی چیز نہیں ۔ ہاں لے جانے والی چیزیں لے جانے میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ فحاشی کی صورت میں خلع و طلاق کی صورتحال بدل جاتی ہے مگر ان کو حق سے محروم کرنے کیلئے جھوٹا الزام لگانا بہت بڑی زیادتی اور بے غیرتی ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سورہ بقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کی صورت میں ان سے کوئی چیز واپس لینا جائز نہیں جو کچھ بھی ان کو دیا ہے۔ (آیت 229) اور سورہ طلاق میں بھی گھر کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے ۔لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینتۃ (ان کو ان کے گھروں سے مت نکالواور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی میں مبتلا ہوں)۔ یہ کونسا اسلام ہے کہ دس بچے جنوا کر بڈھی کو اسوقت اسکے باپ کے گھر بھیجا جائے جب اس کے والدین بھی انتقال کرچکے ہوں۔ شریف لوگ ایسا کرتے نہیں ہیں لیکن جب رذیلوں کو بھی اسلامی قوانین کا پتہ چل جائے تو اخلاقیات کا وہ نظام قائم ہوگا جسکی طرف پوری دنیا میں سب کے سب لوگ راغب ہونگے۔ مرد اپنی طاقت کے زعم میں بڑا نامراد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب بیوی کو خلع کا حق دیا ہے تو یہ قرآنی آیت پورے معاشرے پر اچھی طرح سے واضح کرنا چاہیے۔ چونکہ مرد اپنی طاقت کی بنیاد پر ماحول ، شریعت اور قانون کو بھی اپنے حق کیلئے استعمال کرتا ہے اسلئے عوام کی نظروں سے قرآن کی آیت اجنبی بنادی گئی ہے۔ طاقتور مرد ایسی صورت میں جب وہ کبھی رجوع بھی نہیں کرنا چاہتا ہو تو پھر بھی اپنی طلاق شدہ عورت کو دوسرے شوہر سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے بڑے واضح الفاظ میں اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے کہ اس طلاق کے بعد پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔( البقرہ : آیت 230)۔ لیکن اس سے پہلے کی آیات میں اور متصل دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے بار بار وضاحت کی ہے کہ عدت کے اندر بھی اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے ، عدت کی تین مراحل سے تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بالکل کھلا رکھا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیات 224سے 232 اور سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں کوئی تضاد نہیں۔ احادیث صحیحہ سے بھی قرآن کا کوئی تضاد نہیں، بخاری کی حدیث میں ذائقہ چکھنے کی روایت صرف اس صورت میں ہے کہ جب عورت کی عدت ختم ہوچکی ہو، نکاح منقطع ہوچکا ہو، عورت نے دوسرے شوہر سے شادی کرلی ہو۔ اس کیساتھ خلوت صحیحہ اختیار کی ہو۔یہ ضروری نہیں کہ عورت پہلے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو تو وہ بھی قبول کرلے۔ سب امور کو مدِ نظر رکھ حدیث کی تشریح کرنی چاہیے ۔ صحابہؓ روزوں میں رات کوبیوی سے مباشرت کو ناجائز سمجھ کر بعض خود سے خیانت کرتے تھے۔ اللہ نے واضح کردیا کہ روزے کی رات کو مباشرت جائز ہے، البتہ مساجد میں معتکف ہوتو مباشرت جائز نہیں۔پہلے لوگوں نے حقائق سے تجاوز کیا۔ پہلے آخری عشرے میں معتکف کیلئے مباشرت جائز نہ تھی پھر آخری عشرے میں مباشرت کو ناجائز کہا پھر بات یہانتک پہنچی کہ پورے رمضان کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ اللہ نے مساجد میں اعتکاف کی طرح طلاق پر حلال نہ ہونے کو واضح کیا۔ سورۂ طلاق کے حوالہ سے اُم رکانہؓ سے تین طلاق کے باجود بھی ابورکانہؓ کو نبیﷺ نے رجوع کا حکم دیا تھا۔
نکاح ومتعہ
نکاح مرد کی طرح عورت کی بھی ضرورت ہے۔ محرمات کی فہرست کے بعد پانچویں پارہ میں ہے و احل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسٰفحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اُجورھن فریضۃ ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO’’حلال ہیں تمہارے لئے انکے علاوہ باقی خواتین کہ تلاش کرواپنے اموال کے ذریعے نکاح کی قید میں لاتے ہوئے نہ کہ خرمستی کرتے ہوئے اور جنہوں نے تم میں سے متعہ کیا تو ان کا مقرر کردہ معاوضہ دواور تم پر گناہ نہیں کہ طے شدہ معاوضہ کے بعد آپس میں جس پر تم راضی ہوجاؤ، بیشک اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘(النساء:24) ا بن مسعودؓ نے یہ اضافہ لکھ دیا کہ فمااستمتعتم بہ الی اجل مسمیٰ’’جس نے ایک مقرر مدت تک متعہ کیا‘‘۔ جلالین میں اضافی تفسیر کی طرح ابن مسعودؓ نے بھی لکھی تھی۔ صحیح مسلم میں بھی ابن مسعودؓ نے متعہ کو حلال قرار دینے کیلئے آیت کا حوالہ دیا ہے جبکہ میں نبیﷺ نے ہی آیت کا حوالہ دیا ۔(بخاری) والٰتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم فاستشہدواعلیھن اربعۃ منکم فان شہدوا فامسکوھن فی بیوت حتٰی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاO ’’اور جو فحاشی کی مرتکب ہوں تمہاری عورتوں میں سے توان پر چار افراد اپنے میں سے گواہ طلب کرو، اگر گواہی دیں تو ان کو گھروں میں بند کرو۔ یہانتک کہ وہ مریں موت سے یا ان کیلئے اللہ کوئی راہ نکال دے‘‘( النساء: 15) ۔تفسیر عثمانی میں ہے کہ ’’پہلے زنا کیلئے کوئی حد نہیں تھی اسلئے عورت کو گھر میں محصور کرنے کا حکم آیا۔ پھر سورۂ نور میں زنا کی حد نازل ہوئی ۔ شادی شدہ کیلئے سنگساری، غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑے‘‘۔ حالانکہ حقائق اسکے منافی ہیں، ایک طرف جب اللہ نے متعہ کی اجازت دیدی اور اس متعہ کو ملکت ایمانکم کا نام دیدیا۔ تفسیر عثمانی میں ہے کہ’’ لوگ شادی شدہ بیگمات سے شادی کرنے کو پسند کرتے تھے‘‘ غلط تفاسیر کیوجہ سے عوام وخواص، علماء اور مشائخ قرآن مجیدسے دور ہوگئے۔ قرآن کی تفسیر کیلئے عربی، قرآن کے الفاظ اور احادیث صحیحہ کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔ یہ بات بالکل غیر فطری ہے کہ غیر شادی شدہ جوان لڑکیوں کو چھوڑ کر بیگمات کی طرف کسی کا رحجان ہو۔ محصنات بیگمات اور فتیات جوان لڑکیوں کو کہتے ہیں۔ وہ جوان لڑکیاں جو لونڈیاں ہوں یا جن کی متعہ کرنے کی عادت رہی ہو۔ ان کے مقابلے میں طلاق شدہ وبیوہ بیگمات کو بھی ترجیح دی جاتی ہے۔ فرمایا :ومن لم یستطع منکم طولًاان ینکح المحصنٰت المؤمنٰت فمن ما ملکت ایمانکم من فتےٰتکم المؤمنٰت واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض فانکحوھن باذن اہلھن واٰتوھن اجورھن بالمعروف محصنٰت غیر مسٰفحٰت ولامتخذان اخدان فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلھین نصف ما علی المصحنٰت من العذاب ذلک لمن خشی العنت منکم وان تصبروا خیر لکم واللہ غفور رحیمO نکاح کیلئے طلاق شدہ وبیوہ بھی جوان لونڈی یا متعہ والی سے بہتر ہے لیکن جب میسر نہ آئے تو لونڈی و متعہ کرنے والی سے بھی مستقل نکاح کیا جاسکتا ہے۔ بعض بعض سے ہیں۔اللہ ایسے لوگوں کا ایمان جانتا ہے۔ نکاح اسکے سرپرست یا مالک کی اجازت سے ہو۔ مقصد نکاح ہو ، نہ کہ خرمستی اور نہ چھپی یاری۔ جب وہ نکاح کی قید میں لائی جائے تو اگروہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں تو ان کو نصف سزا دی جائے جو عام شادی شدہ خواتین کیلئے مقرر ہے۔ یہ سزا اس لئے ہے کہ جس کو مشکل میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔ سزا کے بغیر آوارہ بن سکتی ہو لیکن اگر تم صبر کرو، یعنی سزا نہ دو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ غفور رحیم ہے۔( النساء:25) زنا کی سزا یہود کے ہاں شادی شدہ کیلئے سنگساری تھی مگر عمل نہ کرتے تھے۔ پیسہ کے لین دین سے سزا کو معاف کردیتے تھے۔ جس طرح قبلہ اول کی طرف پہلے نماز پڑھی جاتی تھی اسی طرح جو احکام نازل نہیں ہوئے تھے ان کی رہنمائی یہود کی کتاب سے لی جاتی تھی۔ شروع میں نبیﷺ نے اس پر مسلم و غیر مسلم اور مرد وعورت سب پر یہ سزا نافذ کردی ۔غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑوں کے علاوہ ایک سال جلاوطنی کی سزا بھی تھی لیکن سورۂ نور نے ان خرافات کا قلع قمع کردیا۔ البتہ زنا بالجبر کیلئے رسول اللہ ﷺ نے سنگساری کی سزا رکھی تھی۔ قرآن کا بھی حکم نہ صرف قتل کا ہے بلکہ سابقہ امتوں کے حوالہ سے بھی یہی وضاحت ہے۔ سورۂ النساء کی اگلی آیات میں بھی بھرپور وضاحت ہے کہ یہ احکام واضح طور پر اسلئے بیان کئے جاتے ہیں تاکہ پہلے لوگوں کی راہ بھی تمہیں معلوم ہوجائے اور ہدایت مل جائے اور اللہ تمہاری توبہ کو قبول کرلے، انسان کو ضعیف پیدا کیا گیاہے اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا ہوجائے۔ پھر اگلے نے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ ’’ اگر اہل کتاب پر ہم اپنی جانوں کا قتل اور جلاوطنی لکھ چکے ہوتے تو اس پر وہ عمل نہ کرتے مگر ان میں سے کم لوگ‘‘۔ یعنی اللہ نے زنا پر قتل اور جلاوطنی کی سزا لکھی نہیں تھی اگر لکھ بھی دیتے تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے۔ صحابہ کرامؓ نے خود کو حدود جاری کرنے کیلئے پیش کیا تھامگراللہ نے سخت احکام نازل نہیں کئے۔ شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا فارسی اور آپکے صاحبزادوں نے اردو ترجمہ کرکے ہم سب پر احسان کیا لیکن ان کی ہربات کو درست اور معیار قرار دینا فکر ولی اللٰہی والوں کی بہت بڑی حماقت ہے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے زیادہ تر حماقتوں میں اضافہ ہی کیا ہے لیکن اس کی وجہ سے ان کے مقام ومرتبہ پر اثر نہیں پڑتاہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا خاندان علماء دیوبندؒ کی خدمات سے انکار ممکن نہیں ہے مگر قرآن وسنت کے داعی ہونا الگ بات ہے اور اسکے تقاضوں پر عمل الگ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے لکھ دیا کہ ’’ اللہ نے صحابہؓ سے خلافت کا وعدہ کیا تھا جو صرف تین ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ سے پورا ہوا۔ عربی میں جمع کا اطلاق تین پر ہوتاہے ۔ علیؓ سے اللہ کا وعدہ پورا نہ ہوا جو خلافت اور خوف سے امن کیلئے ہوا تھا‘‘ حالانکہ جب حضرت عثمانؓ کا بھی 40دن تک محاصرہ کرکے شہید کیا گیا ، حضرت علیؓ تو پھر بھی مسجد میں جاتے ہوئے دہشت گردی سے شہید کئے گئے تو یہ لکھنا بڑی حماقت تھی اوراللہ نے افراد نہیں قوم کیساتھ وعدہ کیا تھا۔ مسلمان صدیوں تک سپر طاقت ہی رہے تو اللہ نے صحابہؓ، تابعینؒ ، تبع تابعینؒ ، بنی امیہ، بنوعباس اور عثمانی خلافت کی حد تک اپنا وعدہ پورا کیا، البتہ مسلمانوں نے قرآن سے انحراف کیااور پستی وذلت ان کا مقدر بن گئی۔ آج بھی افغانستان اور شام میں اپنوں کے ہاتھوں خوار ہیں۔ امریکہ غیر ملکی بچوں کو شہری حقوق دیتا ہے ، روس سے خواتین اسلئے بچے جننے کیلئے امریکہ پہنچتی ہیں۔ امریکہ نے ڈیلیوری کے اخراجات کو اپنا اثاثہ بنایا ہے ۔ مسلمان ممالک میں دوسرے مسلمان غلاموں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور مولانا سندھیؒ نے بھی نا سمجھی سے اسکی تائید کی ہے۔ انسانی حقوق کی وجہ سے اب مغرب انسانیت کی امامت اور مسلم ممالک ان کی غلامی کررہے ہیں۔ معاشرتی اقدار اور احکام جو قرآن نے دئیے ہیں اسی سے انسانیت کو آزادی ملے گی۔ عتیق
مدیر خصوصی نوشتۂ دیوارسید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈان نیوز کا ایک ویڈیو کلپ اور اس کے ساتھ یہ خبر چل رہی ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اُستاذ نے ایک 6سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے 10ہزار میں فروخت کرنے کی کوشش کی اور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ مدرسے والے پشت پناہی کررہے ہیں۔ یہ خبر دیکھتے ہی جھوٹی اسلئے لگی کہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں کوئی بچیاں نہیں پڑتی ہیں۔ تاہم پھر بھی محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتۂ دیوار نے جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی مزمل صاحب سے یہ پوچھا کہ وہاں بچیاں پڑھتی ہیں یا نہیں؟ ۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ ’’جامعہ کی عمارت میں بچیوں کو تعلیم دینے کا کوئی انتظام نہیں ہے تاہم ادارے کی شاخ میں بچیوں کو پڑھایا جاتا ہے اور ان کی اساتذہ بھی خواتین ہوتی ہیں۔ مجھے بھی دو دن پہلے پتہ چلا ہے کہ اس قسم کی کوئی خبر سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ مجھے اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہیں‘‘۔ ہم نے سوشل میڈیا پر اس خبر کی تفصیل نکالی جو ڈان نیوز میں 6سال قبل ایک پروگرام ’’کب تک‘‘ میں چلی تھی۔ نورانی بستی کورنگی کا یہ واقعہ ہے جس میں ایک مولوی نما شخص نے 6سالہ بچی کیساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس کو گھر کے پاس پھینک دیا۔ خاتون اینکر دلسوزی سے چیخ و پکار مچارہی تھیں کہ دنیا کی عدالت میں تجھے کوئی سزا نہیں ملے گی لیکن اللہ کی عدالت سے تم بچ نہ پاؤ گے ۔ 6سال قبل اس درندے کو سزا ملتی تو واقعات کا یہ تسلسل بھی نہ ہوتا۔
خیرپورمیرس(نادرشاہ،جاویدصدیقی) فاضل دارالعلوم وفاق المدارس خیرپورمیرس مولانا واحدبخش نے کہاکہ میں سول ہسپتال میں سرجن حضرات کے ساتھ آپریشن اسسٹ کرتا ہوں ۔ آپ کا اخبارتمام سرجن پڑھتے ہیں اور تبصرہ یہی ہوتاہے کہ اشاعت اسلام کے حوالہ سے بہترین کاوش ہے ۔ اس پرفتن دورمیں یہ اخبارامید کی کرن ہے۔ میں برملا اس بات کا اظہارکروں گا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اورمعاشرتی ابتری کے ذمہ دار علماء ہیں ۔ علماء نے قرآن کو چھوڑا ہو ا ہے ۔ آپ کے اخبارکے ذریعے سے طلاق کے حوالے سے جوکچھ پڑھاہے وہ گیلانی صاحب نے بالکل صحیح لکھاہے ۔ یہاں خیرپورمیں بہت بڑی علمی شخصیت مناظراسلام جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما علامہ مولاناعلی شیر رحمانی صاحب کو بھی آپ کااخباردیاتھا انہوں نے بہت پسند کیا اور فرمایا کہ گیلانی صاحب ابن عمرؓ کی روایت کواورزیادہ واضح کرکے تحریرکریں۔ آخرمیں یہی کہوں گاکہ گیلانی صاحب جولکھ رہے ہیں بالکل صحیح لکھ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی صحت ، عمراور علم میں برکت عطافرمائے ۔ آپ کی جدوجہدمیں خیر پورمیرس کی سطح پرمیرے ذمہ کوئی کام ہوتویہ میرے لئے خوش نصیبی ہوگی۔