پوسٹ تلاش کریں

جاوید غامدی پر تبصرہ: علماء ومشائخ کا کردار قرآنی حقائق کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :لعن الذین من الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسیٰ ابن مریم ، ذٰلک بما عصوا وکانوا یعتدونOکانوا لا یناھون عن المنکر فعلوہ، لبئس ماکانوا یفعلونOتری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا، لبئس ماقدمت انفسھم اَن سخط اللہُ علیہم و فی العذاب ہم خالدونOولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وماانزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولٰکن کثیرا منہم فاسقونOلتجدن اشد الناس للذین اٰمنوا الیہودو الذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین اٰمنوا قالوا انا نصٰرٰی، ذٰلک بان منہم قسیسین ورھباناً وا نہم لایستکبرون Oواذا سمعوا ماانزل الرسول تریٰ اعنہم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق،یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشٰھدینOالمائدہ
’’داؤداور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت ہوئی ان لوگوں پر جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا۔ یہ اسلئے کہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ ایکدوسرے کو برائی سے نہ روکتے، جوکرتے تھے۔ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔ آپ دیکھتے ہو کہ ان میں اکثر کافروں کو حکمران بناتے ۔کیاہی برا ہے جو اپنی جانوں کے مستقبل کیلئے آگے بھیجتے یہ کہ اللہ نے ان پر سختی(جبر وظلم) مسلط کردیا اور وہ عذاب(ظالمانہ نظام ) میں ہمیشہ رہیں گے۔اگر یہ اللہ، نبی اور جو اس کی طرف نازل کردہ پر ایمان لاتے توان کو حکمران نہ بناتے مگران میں اکثر لوگ فاسق ہیں، اورآپ پاؤ گے،دشمنی میں زیادہ سخت مسلمانوں کیلئے یہود اور جو لوگ مشرک ہیں اور آپ پاؤگے، مسلمانوں کیلئے محبت میں زیادہ قریب ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، یہ اسلئے کہ ان میں علماء و مشائخ ہیں اور یہ کہ وہ لوگ تکبر نہیں کرتے اور جب سنتے ہیں کہ جورسول پر نازل ہوا توآپ دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، اسلئے کہ وہ حق کو پہچانتے ہیں،کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ! ہمیں گواہوں کیساتھ لکھ دیں‘‘۔ المائدہ
بنی اسرائیل کے مشہور حکمران حضرت داؤدؑ اور ان کے فرزند سلیمانؑ تھے۔ آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور بنی آدم و ملتِ ابراہیمی کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس وقت یہود اور مشرک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور نصاریٰ محبت میں زیادہ قریب تھے ،اسلئے کہ ان میں علماء ومشائخ تھے اورجن میں تکبر نہ تھا، وہ حق کوپہچانتے تھے اور گواہی دیتے۔ جب اسلام کو دوبارہ غلبہ نصیب ہوگا تو پھر علماء ومشائخ اہل حق سے محبت میں قریب اور کھل کر حمایت کرنے میں پیش پیش ہونگے۔ جس طرح اہل کتاب کے دو طبقے تھے ایک یہود اور دوسرے نصاریٰ اور یہود خود کو زیادہ باشعور، چالاک اور عیار سمجھتے تھے اور وہ اس وجہ سے متکبر بھی تھے۔ اسی طرح جدید تعلیم یافتہ مذہبی طبقہ اسلامی اسکالرز یہود سے زیادہ مشابہت رکھتاہے۔ یہ ظالم حکمران طبقہ کیلئے الۂ کار کا کردار ادا کرتاہے۔ ان میں بڑا غرور اور تکبر ہے اور مفادپرستی کے داؤ وپیج سے واقف ہوتے ہیں جبکہ اکثرعلماء ومشائخ سیدھے سادے ہوتے ہیں جو تکبر، مفادپرستی ، چالاکی وعیاری سے پاک اور حق سے دشمنی نہیں رکھتے ۔علماء ومشائخ حضرت عیسیٰ ؑ کے انصار و حواریوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے قسیسین ورھبان کا سلسلہ جاری رہا۔ علماء اور مشائخ کو صحابہ کرامؓ سے ایک تسلسل کیساتھ عقیدت ومحبت کا تعلق رہاہے۔ حق کی معرفت کی ان میں صلاحیت بھی ہے اور وہ تکبر بھی نہیں رکھتے ہیں۔ قرآن میں جو صفت ان کے علماء ومشائخ کی بیان ہوئی ہے وہ ہمارے ہاں بھی ہے۔ جبکہ جدید تعلیم یافتہ طبقے نے جو اسلامی اسکالرز کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے،یہ پڑھا لکھا مگر اسلام کے مبادی سے جاہل طبقہ ہے، ان میں عقیدت اور معرفت نہیں اور یہ یہودیوں کی طرح تحریف کا مرتکب طبقہ ہے۔ یہ فاسق حکمرانوں کیساتھ ملکر مذہب کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کررہاہے یہ حق کو قبول نہیں کرتا۔
ہم پر ایک عرصہ سے چالاک وعیار طبقہ کی اسلئے حکمرانی ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست ہورہی ہے لیکن اصل شرعی احکام کی طرف مذہبی اور حکمران طبقہ توجہ نہیں کرتا۔ ظالمانہ وجابرانہ نظام کے عذاب سے نکلنے کیلئے قرآنی آیات کی طرف رجوع بہت لازمی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا مودودیؒ پہلے داڑھی منڈاتے تھے، پھر بہت مختصر داڑھی رکھ لی اور پھر ساتھی علماء کے دباؤ پر داڑھی بہت بڑھالی۔ جماعت اسلامی نے طاقت کے حصول کیلئے پاکستانی ایجنسیوں سے امریکی سی آئی اے تک قوت کی وصولی اور اقتدار تک رسائی کیلئے سیاست وجہادکے میدان میں اپنی خدمات پیش کیں، جس کی وجہ سے بہت کم تعداد کے باوجود آئینۂ اقتدار میں حصہ بقدر جثہ سے زیادہ اپنا حصہ پاتے رہے۔ جاوید غامدی، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر ذاکرنائیک،وحید الزمان، ڈاکٹرطاہرالقادری ودیگر وہ اسلامی سکالروں نے مدارس کی بنیادی تعلیمات اور علماء ومشائخ کا راستہ چھوڑ کر اپنے طرز پر اسلام کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا، ان کا طرزِ عمل اہل کتاب میں یہودیوں کی طرح ہے اور علماء ومشائخ کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ نصاریٰ کی طرح ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ امت بھی سابقہ قوموں یہودونصاریٰ کے طرز پر چلے گی۔ مولانا سیدمودودی ؒ نے لکھا تھا کہ ’’ امام مہدی بالکل ایک عام شخص ہوگا، ہر میدان میں اپنا لوہا منوا دے گا، سب سے پہلے علماء و صوفی صاحبان ہی اسکے خلاف شورش برپا کرینگے وہ تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ہوگا‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ کی قوم مشرکین مکہ اسلام کی نشاۃ اول سے ختم ہوئے، حضرت نوحؑ کی قوم ہندو اسلام کی نشاہ ثانیہ سے ختم ہونگے۔ سچے علماء ومشائخ سے اہل حق کو بہت توقعات بھی ہیں جس پر وہ پورے اتر رہے ہیں ،علماء ومشائخ اربابامن دون اللہ کی شکل میں بتوں سے زیادہ خطرناک بھی ہیں اسلئے کہ دین میں غلو اور تحریف کے وہ مرتکب ہیں، اوران بتوں کا پیٹ، دل ودماغ، بیوی بچے اور رشتہ دار بھی ہیں جو مذہب کے نام پر کاروبار بھی کرتے ہیں اور جانتے بوجھتے حق کے مخالف بھی ہیں البتہ علماء ومشائخ کی اکثریت جدید اسلامی اسکالروں کے مقابلہ میں بہت اچھی ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے، سینئرنائب مولانا سمیع الحق کو سود کیخلاف آواز اٹھانے پر نوازشریف نے اسکینڈل سے بدنام کیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کی برادری شروع سے حکومتی تانگہ ہے، اپوزیشن کی پہچان مولانا فضل الرحمن بھی میٹھاخان بن گیا۔ سیاستدان کھلونے ہیں ان کی کلوننگ کہیں اور سے ہوتی ہے،اسلامی احکامات کا معاشرے میں احیاء مسائل کا حل ہے۔

ہما بقائی پروفیسر کراچی یونیورسٹی سے ملاقات

کراچی ( ڈاکٹر احمد جمال) نمائندہ نوشتۂ دیوار راقم الحروف احمد جمال، ایڈیٹر اجمل ملک اور چیف ایڈیٹر سید عتیق گیلانی نے کراچی یونیورسٹی میں انٹر نیشنل امور کی ماہراور تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی سے ملاقات کی۔ اجمل ملک نے ڈاکٹر صاحبہ سے کہا کہ آپ ٹی وی پر اپنا مؤقف جرأتمندانہ پیش کرتی ہیں۔ ہمیں جرأتمند لوگ اچھے لگتے ہیں ، اسلئے ان سے ملتے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ آپ کا اخبار ملتا ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر بھی کافی لکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی نے بتایا کہ طلاق کے حوالہ سے قرآن وسنت کا مؤقف واضح ہے مگرٹی وی ا سکرین پر اس کو پیش نہیں کیا جاتا۔ جن اسلامی اسکالرز کو اہمیت کے قابل سمجھا جاتاہے، ان کی بہت ناقص معلومات ہوتی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوجؒ سے ملاقات رہی ہے۔ حضرت امّ ہانیؓ حضرت علیؓ کی بہن تھیں، انکے گھر میں معراج کا واقعہ ہواتھا، انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت علیؓ نے انکے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا، انہوں نے شوہر کی پناہ کیلئے نبیﷺ سے درخواست کی، پھر ان کا شوہر ان کو چھوڑ کر گیا تو نبیﷺ نے ان سے نکاح کی پیشکش کردی، وہ بچوں کی وجہ سے راضی نہیں ہوئی تو اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ’’جن رشتہ دار خواتین نے ہجرت نہیں کی، ان سے آپ نکاح نہ کریں‘‘۔ اتنے واضح حقائق کے باوجود ڈاکٹر شکیل اوج کا کہنا تھا کہ امّ ہانیؓ نبیﷺ کی دودھ شریک بہن تھی اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے خلاف تین افراد اور چوتھے فرد کی فحاشی کی گواہی پر حد جاری نہ کی گی تو اس پر باقاعدہ امام ابوحنیفہؒ اور دیگر مسالک کے ہاں قانون سازی ہے لیکن ڈاکٹر شکیل اوج شہیدؒ نے کہا کہ وہ تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کی اپنی بیوی تھیں۔جو اتنی موٹی موٹی باتوں کا علم نہ رکھتے ہوں ان کو اسلامی اسکالر کا درجہ دینا کتنا عجیب ہے؟۔
عتیق گیلانی نے کہاکہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منظور کو عربی دینی علوم پر دسترس تھی، ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ اب تو وہ ضعیف ہیں ۔ مشرف دور میں ان کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی بنایا گیا ، میں بھی ان سے ملتی رہی ہوں۔ عتیق گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے اسلام کے حوالہ سے جو کتاب لکھی عام آدمی سمجھ نہیں سکتا۔ اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ ’’دو تین سو سال ہمیں اسلام کیساتھ گزارا کرنا پڑیگا، اسکے بعد اسلام کا وجود ختم ہوجائیگا جوں جوں ترقی ہوگی تو اللہ کا وجود ناپید ہوتا جائیگا۔حضرت عمرؓ نے طلاق کے حوالہ سے قرآن کیخلاف اجتہاد کیا، اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کی کوئی شکل باقی نہ رہتی‘‘۔ ڈاکٹر ہما بقائی نے اس پر توبہ کرکے کہا کہ ڈاکٹر منظور فلسفی تھے اسلئے ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ سید عتیق گیلانی نے کہا انکی سوچ میں مدارس کے دینی نصاب کا بڑا عمل دخل تھا۔ انہوں نے اصول فقہ پڑھی تھی ، اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کی کتابت اللہ کا کلام نہیں۔ فقہ کی معتبر کتب فتاویٰ قاضی خان فتاویٰ شامیہ اور البحرالرائق میں ہدایہ کے مصنف کے حوالہ سے لکھا ’’ علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘ اس کو مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ، جس پر ہمارے اخبار کیوجہ سے دباؤ آیا تو اپنی کتابوں سے عبارت نکال دی۔ مفتی سعید خان نے 2007ء میں کتاب شائع کی، اس میں بھی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیاہے۔ اسکی بنیادی وجہ گمراہی کی یہ تعلیم ہے کہ ’’المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھے گئے قرآن کے نسخے نہیں بلکہ 7قاریوں کے الگ الگ قرآن ہیں‘‘۔ ڈاکٹر منظور احمد نے بھی یہی کہا کہ’’ قرآن اورل(زبانی) ہے۔ اس کی لکھی ہوئی شکل اللہ کی کتاب نہیں‘‘جس پر ان کو جواب دینے سے پہلے فلسفی کے بارے میں یہ لطیفہ بتایا کہ جو کئی ہفتوں سے دیوار پر لگے ہوئے گوبر کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ آخر یہ کیسے لگاہے؟۔ خاتون نے پوچھ کر لمحہ بھر میں اس کا مسئلہ حل کردیا۔ ہاتھ سے گوبر اٹھاکر دیوار پر چپکادیا۔ قرآن کے بارے میں اصول فقہ کی فلسفیانہ سوچ بالکل غلط ہے۔ کتاب نام ہی لکھی ہوئی چیز کا ہے۔ جیسے میز، کرسی، پنکھا، موبائل اور دیگر اشیاء کیلئے فلسفیانہ گفتگو کی ضرورت نہیں، اس طرح کتاب پر بھی فلسفے کے بجائے اس حقیقت کا تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ کی کتاب کی لکھی صورت کتاب ہے۔ پہلی وحی میں قلم کی تعلیم کا ذکرہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ لکھی ہوئی چیز کا نام کتاب ہے۔ ان پڑھ بھی سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے۔محمد اجمل ملک

جامعہ مدنیہ لاہور کے مولانا رشید میاں سے ملاقات

لاہور( ذکاء اللہ) جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں ہم وفد کی شکل میں گئے ۔ مولانا رشید میاں نے کہا کہ ’’پہلے خانوں اور نوابوں کو بھی دین سے دلچسپی تھی ،اسلئے مدارس سے بھی صلاحیت والے علماء ومفتیان نکلتے تھے مگر اب معاشرے کا بالکل کچرا مدارس میں آتا ہے اور صلاحیت والے لوگوں کو سکول کالج میں پڑھایا جاتاہے تو مدارس سے کیا اُمید وابستہ ہوسکتی ہے۔عتیق گیلانی نے جب طلاق اور قرآن کی تعریف کے حوالہ سے مدارس کے نصاب کی نشاندہی کی تو انہوں نے کہا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بس جو بزرگوں نے کیا ہے اسی پر چلنا ہوگاپہلی بار میں یہ باتیں سن رہا ہوں، دیکھوں گا کہ علماء نے اس پر کیا لکھ دیا ہے۔ از ذکاء اللہ

رسول فرمائیگا اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا. القرآن

مسلم امہ کی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی واحد مسلم ایٹمی پاور کے وزیراعظم نوازشریف کو امریکی ٹرمپ کے سامنے چاکری کرنے کا موقع نہ ملنے پر طوفان کھڑا ہوا۔ کل نواز شریف طالبان کیساتھ فوج کے خلاف کھڑا تھاکہ فوج امریکی ایجنٹ ہے پھر ’’رات گئی بات گئی‘‘، قطر کی حکومت امریکہ اور دہشتگردوں کا مشترکہ اثاثہ تھا مگر اچانک عرب نے قطر سے تعلقات منقطع کرلئے کہ دہشتگردوں کا سرپرست تھا۔ حقائق کی سمجھ دیر سے آئی تو بھی یہ المیہ تھا اور اچانک معاملہ بگڑنے پردوسروں کیلئے بھی غیر یقینی کی کیفیت ہے۔جنرل راحیل شریف اور پاکستانی فوج کو چاہیے کہ وقتی طور سے گھمبیر صورتحال میں اُمہ کے مفادکوسامنے رکھیں۔ قیادت خدمت ہے، بچوں کیلئے باہر اثاثے بنانے والے لٹیروں کو عدالت سے سزا ہونے دیں ورنہ قوم تباہ وبرباد ہوجائیگی اور ملک قائم نہیں رہیگا۔نام نہاد لٹیری قیادت کو سزا ملے تو کوئی بھی قیادت کے حصول پرکبھی نہیں لڑیگا۔ سیاسی رہنماؤں نے اپنی وفاداری بدل بدل کر نظریاتی اور کردار کی سیاست کا قلع قمع کردیا ہے ۔میڈیا لوگوں کو مزید بے حسی کی طرف دھکیل رہاہے۔ مدارس و مساجد فکر وشعور ، عمل وکردار اور نظام خلافت کے قیام کیلئے بہترین پلیٹ فارم ہیں۔علماء کو اپنے نصاب، فرقہ وارانہ انتہاپسندی اورصرف پیٹ و جیب کا خیال رکھنے کے بجائے میدان میں متحد ہوکر اترناہوگا۔ بروزِ قیامت رسولﷺ کی قرآن کے بارے میں شکایت قابلِ غور ہے۔ جب تک اس شکایت کا ازالہ کرنے کی کوشش نہ کرینگے تو زوال وپستی سے نہیں نکل سکتے ۔ خواجہ سعد رفیق کا بیان قابلِ تعجب تھا کہ ’’ لیاقت علی خان، حسین سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کیساتھ کیاہوا؟‘‘ نوازشریف کی تاریخ بڑی بھیانک ہے، دُم پر پاؤں پڑنے لگا تو چیخ نکلنا شروع ہوئی۔ علماء و مشائخ صرف اپنے پلیٹ فارم کی اہمیت کو سمجھ لیں اور قرآن وسنت کے منشور کو پیش کردیں تو وہ قائدہیں۔ آزادی کے وقت دو قومی نظریہ کاعلامہ اقبال اور قائداعظم نے قوم کو دیا ، کچھ علماء ومشائخ مسلم لیگ کیساتھ تھے اور کچھ کانگریس کیساتھ۔ آج پاکستان کا نظریاتی وجود بے کردار سیاسی قیادت کی نذر ہوا۔ بھٹو کی طرف سے اسلامی سوشلزم کا نعرہ اسلام تھا اور نہ سوشلزم۔ معجون مرکب ختم ہوا تو سود کیلئے حلالہ کی لعنت ہے۔اسلام منافقت کو جہنم کا پست ترین درجہ دیتا ہے مگر قوم منافقت در منافقت کی شکار ہوئی۔ سیاسی علماء نے بھی آخرت کے خیال کو دل سے نکال کر فیصلہ کرلیاہے کہ اسلام تو ویسے بھی نہ آئیگا، بس اقتدار کیلئے ہر دور میں کسی کا دُم چھلہ بن کر اپنا مفاد حاصل کرنے میں ہوشیارسیاست ہے۔
پاکستان کو نعمت سمجھ کر قرآن کے شعور کیلئے تحریک شروع کی تو عروج کی منزل ملے گی۔ قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا، سورۃ القدرکی تفسیر میں مولانا سندھیؒ نے خطہ اسلام کی نشاۃ کا ذریعہ قرار دیکر لکھاکہ: امام ابوحنیفہؒ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے، اسلئے ایران بھی ہماری ہی امامت قبول کرلے گا،یہ وقت آگیاہے۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی تفسیر’’ مقام محمود‘‘ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور امامت کیلئے سندھ، بلوچستان، کشمیر، پنجاب، سرحد اور افغانستان میں بسنے والی قوموں کو امامت کا حقدار قرار دینا بڑی بات تھی۔ مولاناسندھیؒ نے قرآن کی طرف متوجہ کرنے کیلئے حنفی مسلک کو بنیاد قرار دیا ہے۔ امام مہدی کے حوالے سے شیعہ سنی اپنے اپنے مسلک کے مطابق ضرور انتظار کریں لیکن قرآن کی طرف توجہ دینے میں آخر حرج کیا ہے؟۔ کیا قیامت کے دن ہمارا مواخذہ اسلئے نہیں ہوگا کہ ہم امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے رہے ؟۔ ہرگز ہرگز نہیں۔
اصول فقہ کی شریعت کے چار دلائل ہیں۔ 1کتاب،2 سنت،3اجماع اور4قیاس۔ کتاب سے مراد پوری کتاب نہیں بلکہ 500 آیات ہیں جو احکام سے متعلق ہیں قرآن کی باقی تمام آیات قصے، نصیحت اور مواعظ ہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان500آیات کو اپنے موضوع و ابواب کے حوالہ سے درج کیا جاتا۔ طلبہ کو قرآن کے متن سے بھرپور طریقے سے رہنمائی فراہم کی جاتی مگر افسوس کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مثلاًصرف طلاق سے متعلق آیات کو ایک باب کے تحت جمع کرکے پڑھایا جاتا تو مسلم امہ گمراہی کی راہ پر گامزن نہ ہوتی۔ قرآن میں ہے کہ رسولﷺ کی اپنی امت کے حوالہ سے یہ شکایت ہوگی کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ طلاق کے حوالہ سے آیات میں کافی وضاحتیں ہیں۔ صرف ان آیات ہی کو دیکھ لیجئے جو طلاق سے متعلق ہیں تو یقین ہوگا کہ اللہ نے سچ فرمایا کہ’’ قرآن ہر چیز کو واضح کرتاہے‘‘۔ تبیانا لکل شئی
امام ابوحنیفہؒ نے علم الکلام میں زندگی گزاری تھی پھر تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ دی تھی۔ اصول فقہ میں یہ گمراہانہ عقیدہ ہے کہ ’’ تحریری شکل میں قرآن لفظ ہے نہ معنی، بلکہ نقشِ کلام ہے‘‘۔ جسکی بنیاد پر فقہی مسئلہ ہے کہ ’’ قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا اور اگر زبان سے کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف ہوتاہے‘‘۔ اگر علم الکلام کی موشگافی پڑھانے کے بجائے کتاب کی تعریف میں قرآن کی آیات کے حوالے ہوتے تو دینی مدارس اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں مغالطہ نہ کھاتے۔ اللہ نے فرمایا: الذین یکتبون الکتٰب بایدیہم ’’جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب جو ہاتھ سے لکھی جائے ۔ پہلی وحی میں قلم سے علم سکھانے کا بتایا ۔ والقلم ومایسطرون ’’ قلم کی قسم اور جو سطروں میں ہے‘‘ کتاب لکھی چیز کا نام ہے، کتابت پر مختلف الفاظ آئے ہیں، فلیکتب کاتب بالعدل’’معاملہ انصاف سے کاتب لکھے‘‘۔ املاء کا بھی ذکر ہے کہ املاء کون کرائے؟۔باربار اللہ نے کتاب کا ذکر کیا ہے، جاہل مشرکین بھی یہ سمجھتے تھے کہ قالوا اساطیر الاولین اکتتبہا بکرۃ واصیلا ’’صبح شام لکھوائے جانیوالے پرانے قصے کہانیاں ہیں‘‘ کتاب کیا ہے؟۔
حنفی مسلک کی بنیادیہ تھی کہ قرآن اور حدیث میں تطبیق ممکن ہو تو تطبیق ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہوسکے تو قرآن کو احادیث سے متصادم قرار دینے سے گریز کیا جائے مگر افسوس کہ اصول فقہ کا پہلا سبق اس اصول کے خلاف ہے۔ قرآن میں نسبی اورسسرالی رشتہ نعمت ہے، اگر لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر بھاگ کر شادی کرلے تو رشتہ داری نعمت نہیں زحمت بنتی ہے۔ قرآن کیمطابق نبیﷺ نے فرمایا ’’ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلی تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے‘‘۔ اس حدیث کو انسانی فطرت کے مطابق سمجھاجا سکتاہے۔ نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کا نکاح اسکی رضاکے بغیر کردے تو یہ نکاح نہیں ‘‘۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ معاشرہ قرآن وسنت کیمطابق ایک اچھے ماحول کا مظاہرہ کرتا۔ حال ہی میں ہمارے علاقہ گومل میں واقعہ پیش آیا کہ برسوں سے وہاں رہنے والے افغانی کوچے نے اپنی لڑکی کی منگنی کسی بوڑھے شخص سے کرادی تھی۔ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو جانوروں کی طرح مال سمجھ کر بیچتے ہیں۔ باقی پٹھانوں میں بھی یہ بے غیرتی پائی جاتی ہے اسلئے اس کو شریعت اور غیرت کے منافی نہیں سمجھا جاتاہے، چنانچہ وہ کوچی لڑکی ایک کم عمر مقامی وزیرستانی کے ساتھ بھاگ گئی۔ کوچوں نے اسکے ردِ عمل میں بڑی تعداد میں جمع ہوکر مقامی بچے کے گھر سے ایک 12سال کی بچی اٹھالی۔ عوام کا بس نہیں چلا تو پولیس کو طلب کیا مگر پولیس نے بھی مار کھالی۔ پھر پاک فوج نے 10منٹ کی وارننگ پر مقامی بچی کو کوچوں سے بازیاب کروایا۔یہ افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں جو قرآن وسنت سے دوری کا نتیجہ ہیں۔
خاندان کی عزت، غیرت اور تہذیب وتمدن کے روایتی رسوم ورواج اگر اسلام و انسانیت کے بنیادی حقوق اور شرافت کے بالکل منافی ہوں تب بھی لوگ حقائق کی طرف اس وقت نہیں دیکھتے جب انکے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے۔ ایسے کھوکھلے معاشرے کو دنیا میں عروج کا ملنا تو بہت دور کی بات ہے، بسا اوقات ان کی عزت ایسی خاکستر ہوجاتی ہے کہ وہ جیتے جی مرنے سے بھی بدتر ہوتاہے۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ایک شخص نے اپنی چچا زاد منگیتر سے منگنی توڑ دی تویہ واقعہ پیش آیا کہ پیر گل اعظم شاہ نے منگنی کرلی۔ لیکن چچازاد کی طرف سے دوبارہ اپنی منگیتر سے شادی کا اعلان ہوا۔ علماء کرام نے بھی کہا کہ ’’یہ غلط ہے منگنی ٹوٹ گئی تھی اور پھر گل اعظم شاہ سے منگنی ہوئی تو یہ نکاح ہے‘‘۔ مگر طاقت کے زعم نے شادی بڑی دھوم سے کروائی۔ پیر گل اعظم شاہ نے کہا:’’ یہ میری شادی کے شادیانے بج رہے ہیں‘‘۔ اور موقع پاکر دلہن کو اٹھایا اور دوبئی پہنچادیا۔ دوسرا شخص ایسا غائب ہوا کہ پتہ نہ چل سکا کہ اسکو کیا ہوا؟، زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟۔
طالبان نے ایک کام بڑا زبردست کیا تھاکہ اگر کوئی لڑکی اپنے کزن سے شادی پر راضی نہ ہوتی تو اس کو اسکے اور اسکے گھروالوں کی مرضی سے شادی کرادیتے تھے۔ حالانکہ ایک غیرت مند معاشرے میں یہ گنجائش نہیں ہونی چاہیے کہ گھر والے اور لڑکی راضی نہ ہوں تب بھی غیرت سمجھ کر اسکی مرضی کے مطابق شادی نہ کرنے دیجائے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے معاشرے کا کردار بڑااہم ہوتا ہے، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودؒ صوبے کے وزیراعلیٰ رہے، متحدہ مجلس عمل کو حکومت ملی تو کسی عالم دین کو وزیراعلیٰ بنانے کے بجائے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنایا گیاتھا۔ جمعیت علماء اسلام ف کے رہنمامولانا مفتی کفایت اللہ نے اے این پی کے دور میں قرار داد پیش کی کہ ’’ پشاور، مردان، چارسدہ، سوات اور صوابی کے پانچ اضلاع میں خواتین کو نکاح کے نام پر بدکاری کیلئے بیچا جارہاہے ، ان پر پابندی لگائی جائے، جس کو پختونخواہ کی اسمبلی نے منظور کیا‘‘۔ اب حال ہی میں سندھ میں رینجرز سے دو خواتین نے بس میں تلاشی کے دوران مدد مانگ لی کہ ان کو بدکاری کیلئے بیچ دیا گیاہے، جس پر میڈیا میں پورے گینگ کی خبر بھی آئی مگر تحریک انصاف نے خبر پر ایکشن لینے کے بجائے سندھ اسمبلی میں یہ آواز اٹھائی کہ ’’ پہلے پنجاب میں پختونوں کو تنگ کیا جا رہاتھا، اب سندھ میں بھی وہی سلوک ہو رہا ہے‘‘۔ ہمارے استاذ مولانا محمد امین ہنگو شاہو وام کوہاٹ نے کہا تھا کہ ’’ اس دور کا مجدد وہ ہوگا جو پٹھان خواتین کو انکے حقوق دلائے‘‘۔
مدارس اپنے نصاب پر غور کرکے پاکستان کو دنیا کا امام بناسکتے ہیں۔اصول فقہ کی پہلی کتاب ’’ اصول الشاشی‘‘ میں پہلا سبق یہ ہے کہ آیت حتی تنکح زوجا غیرہ’’یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔ میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے۔ حدیث میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیا تو حدیث آیت سے متصادم ہے اسلئے حدیث کو ترک کیا جائیگا، قرآن پر عمل ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ مراد ہے اور حدیث سے کنواری مراد لی جائے تو قرآن کا حدیث سے ٹکراؤ نہیں۔ مخلوط نظام تعلیم اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ کروٹ بدل رہاہے، پسند کی شادیاں کورٹ میرج کے ذریعے ہورہی ہیں، علماء کو پتہ نہیں کہ اسکے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ اگرقرآن وسنت کا پورا نقشہ پیش ہوتا تویہ سانحات نہ ہوتے۔ والدین بھی لڑکی کی رضامندی کو ضروری سمجھتے اور لڑکی بھی باپ کا خیال رکھتی۔ ہم غلط رسوم ورواج کیوجہ سے قرآن و فطرت اور معاشرتی اقدار سب کچھ بے سمت منزل کھو رہے ہیں۔
اصول فقہ کی دوسری کتاب’’ نوراالانوار‘‘ میں پڑھایا جاتاہے کہ ’’ قرآن میں طلاق شدہ کیلئے عدت 3قروء کی ہے۔ 3کا لفظ خاص ہے جو ڈھائی نہیں ہوسکتا، اسلئے احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں، طہر کی حالت میں طلاق دینا شریعت کے مطابق ہے ، جس طہر میں طلاق دی جائے تو وہ ادھورا شمار ہوگا اسلئے قرآن کے لفظ پر عمل کرنے کا تقاضہ ہے کہ پورے 3مراد ہوں ‘‘۔ حالانکہ اس طرح سے پاکی کے ایام میں طلاق دی جائے تو تین حیض کے علاوہ وہ ایام بھی شمار ہوں گے تو پھر عدت ساڑھے تین ہو گی۔ قرآن نے حیض نہ آنے یا اشتباہ کی صورت میں 3قروء کاقائم مقام 3 ماہ کو قرار دیا اور مہینہ طہرو حیض دونوں کا قائم ہے اسلئے دونوں مراد ہیں۔ طلبہ ان الجھنوں کو نہیں سمجھتے۔اگر قرآنی آیات و احادیث صحیحہ پڑھائی جاتیں تو معاشرہ بھی قرآن سے فائدہ اٹھاتا۔ لیکن افسوس کہ علماء خود بھی حقائق سے بے بہرہ ہیں۔عربی سیکھنے کا فائدہ اٹھایا جائے اورمعاشرے کو قرآن وسنت کے رنگ میں رنگا جائے، تو انقلاب عظیم آنے میں دیرنہ لگے۔
اہلسنت شیعہ پر الزام لگاتے ہیں کہ مہدئ غائب نے قرآن اپنے ساتھ چھپالیا ، جب وہ منظر عام پر آئیں گے تو پھرقرآن پر عمل ہوگا۔ شیعہ اہلسنت پر الزام لگاتے ہیں کہ احادیث کے مطابق قرآن اور اہلبیت کو سب پکڑ لیتے تو امت اس قدر زوال کا شکار اور قرآن سے دور نہ ہوتی۔ کیا اہلسنت رسول اللہ ﷺکی طرف سے قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرنے کا جواب دینگے کہ ہم سے سنت غائب ہوگئی، اسلام اجنبی بن چکا، گمراہانہ نصابِ تعلیم کی وجہ سے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا؟۔ اور اہل تشیع جواب دینگے کہ مہدی غائب کے ظہور کا انتظار تھا اسلئے قرآن چھوڑ رکھا تھا؟۔ جماعتِ اسلامی والے کہیں گے کہ ہم علماء نہ تھے، بس علماء کے نصاب نے ہمیں قرآن سے دور رکھا تھا؟۔کیا اہلحدیث کہیں گے سلفی مذہب کی وجہ سے ہم قرآن کے قریب نہ جاسکے تھے؟۔ کون ہے جو خود کو نبیﷺ کی قوم نہیں سمجھتا ہے؟۔ نبیﷺ فرمائیں کہ سنت اور اہلبیت غائب لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’قرآن موجود تھا، اسکو ہدایت کیلئے ذریعہ کیوں نہیں بنایا تھا؟‘‘۔
قرآن ہدی للمتقین ہے اور ہدی للناسبھی، علماء ومشائخ متقین بن کر نماز کی صراط مستقیم کی دعا کریں مگر درست راستہ نظر آتا ہو اس پر خود چلنے کی کوشش نہ کریں تو پھر وہ متقین نہیں اور عوام الناس کے سامنے قرآن کے واضح وہ حقائق رکھے جائیں جس سے کوئی بھی قوم اپنا عروج حاصل کرسکتی ہے تو عوام ہدایت پائیں گے۔ بڑا المیہ ہے کہ علماء اکابر پرست اور عوام مقابرپرست بن گئے اور اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ نصاب کو سمجھنے سے قاصر ہیں ، بس تضاد پر عقیدہ رکھاہے جس کی وجہ سے کھلی گمراہی سے محفوظ ہیں جبکہ ڈاکٹر منظور احمد جیسے لوگ انتہائی مخلص ہیں اور وہ نصاب کو سمجھ کر کھلی ہوئی گمراہی کا عقیدہ رکھ واضح طور سے گمراہ ہوگئے مگر جب پتہ چل گیا تو بات سمجھ میں آئی اور اللہ نے انکا خاتمہ بالخیر کرنے کا اہتمام کردیا۔ وہ اپنی بات پر ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کررہے تھے۔
تیسرا طبقہ جاوید غامدی جیسے لوگوں کا ہے جو مدارس کے نصاب کی اصل خامیوں سے بھی واقف نہیں اور تقلید کی افادیت بھی نہیں سمجھتے۔ ایسی آیات اور احادیث ہیں جن کو زمانہ ثابت کررہاہے، یہ تقلید کی افادیت ہے،قرآن کے احکام کی طرف توجہ تمام مسائل کا حل ہے۔
ہماری حکومت، اپوزیشن اور ریاست کیلئے یہ مشکل نہیں کہ میڈیا پر حقائق لانے میں کردار ادا کرے۔ بزرگ علماء ومفتیان حقائق لانے سے کنی کترارہے ہیں۔ دنیا کی مسلم ریاستوں میں انقلاب اور یکجہتی کی فضاء بن سکتی ہے۔

اختلاف رحمت اور امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا

رسول اللہ ﷺ نے بالکل درست فرمایا کہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے اور میری امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا۔ حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اصول فقہ کی دنیا میں اجماع امت کی دلیل قرآن اور حدیث کے بعد ہے۔ ایک طرف احادیث میں امت کے اختلاف کو رحمت اور گمراہی پر اجماع نہ ہونے کا ذکر ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے فرمایا :رسول ﷺ قیامت کے دن شکایت کرینگے کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ قرآن کی آیت اور ان احادیث کی تطبیق کیسے ہوسکتی ہے؟۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ اب دل کے اندھوں سے پوچھا جائے کہ جب اجماع کا تعلق قرآن و حدیث کے بعد ہے تو قرآن کی موجودگی میں اجماع کوئی دلیل بن سکتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ عدت میں اور عدت کی تکمیل کیساتھ رجوع ہوسکتا ہے۔ کوئی ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ قرآن کی بھرپور وضاحتوں کیخلاف عدت کے اندر بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتاہے۔ قرآن و حدیث کی موجودگی میں اجماع کوئی دلیل بن نہیں سکتا۔ تاہم اسکی حقیقت کا ادراک کرنے کیلئے اُصول فقہ کی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔ درس نظامی کی معتبر کتاب ’’نور الانوار‘‘ اور دیگر اصول فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ائمہ مجتہدین کا اجماع بھی معتبر ہے، ائمہ اہل بیت کا اجماع بھی معتبر ہے اور اہل مدینہ کا اجماع بھی معتبر ہے، کیا اجماع کی یہ تعریف درست ہوسکتی ہے؟۔ امت مسلمہ کو یہ تعریف اجماع کے بجائے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں طلاق کے عزم کا اظہار نہ ہونے کی صورت میں پہلی مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے اور اس کی عدت چار ماہ واضح کی ہے جبکہ اسکے بعد کی آیت میں طلاق کے اظہار کی صورت میں تین طہر و حیض یا تین مہینے کے انتظار و عدت کی وضاحت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک چار ماہ تک رجوع نہ کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے اور جمہور کے نزدیک جبتک طلاق کا اظہار نہیں کرتا زندگی بھر طلاق نہ ہوگی۔ دونوں مسلکوں کا اختلاف بالکل رحمت ہے اسلئے کہ اگر کسی ایک مؤقف پر یہ اکھٹے ہوجاتے تو امت کا گمراہی پر اتفاق ہوجاتا۔ قرآن اور فطرت سے دونوں مسلک کیخلاف ہیں۔قرآن نے شوہر اور بیوی دونوں کا حق بیان کیا ہے۔ شوہر کا حق تو یہ ہے کہ عورت چار ماہ تک دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی اور عورت کا حق یہ ہے کہ وہ چار ماہ کے بعد دوسری شادی کرسکتی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مرد کا حق استعمال ہوا ، اسلئے عورت کو طلاق ہوگئی اور چار ماہ کے بعد یہ تعلق حرامکاری ہے۔ جمہور کے نزدیک جب تک طلاق نہ دیگا وہ زندگی بھر بھی دوسری شادی نہیں کرسکتی ،اگر کریگی تو یہ حرامکاری ہوگی۔ دونوں کی گمراہی قرآن کیخلاف ہے۔ قرآن نے شوہر کے ساتھ ساتھ بیوی کا بھی حق بیان کیا ہے، اگر بیوی چار ماہ کے بعد دوسری شادی کرتی ہے تو اجازت ہے اور اگر اسی شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو بھی اس کو اجازت ہے۔ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے بالکل کھلے الفاظ میں بیوہ کو 4ماہ 10دن کی عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کی اجازت دی ہے مگر یہ بھی اسکے اختیار میں ہے کہ اگر وہ اسی فوت شدہ شوہر سے اپنے تعلق کو برقرار رکھنا چاہتی ہو تو تعلق قیامت تک برقرار ہی رہیگا۔ یوم یفر المرء من اخیہٖ و امہٖ و ابیہٖ و صاحبتہٖ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ ، اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے‘‘۔ جس طرح والدین اور بچوں کا تعلق ختم نہیں ہوتا اسی طرح سے بیوی کا بھی شوہر سے تعلق ختم نہیں ہوتا ہے۔
معروف اور منکر دو متضاد الفاظ ہیں۔ معروف اچھائی اور نیکی کا نام ہے اور منکر برائی اور بدی کا نام ہے۔ معروف کا مترادف لفظ احسان بھی ہے۔ احسان بھی منکر کا متضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میں بار بار واضح فرمایا ہے کہ رجوع اور چھوڑنا (طلاق) معروف طریقے سے ہو ، ایک جگہ احسان کیساتھ رخصتی ( طلاق) کا بھی ذکر ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک رجوع کیلئے نیت شرط نہیں اور امام شافعیؒ کے نزدیک رجوع کیلئے نیت شرط ہے۔ حنفیوں کے نزدیک غلطی شہوت کی نظر پڑ ے تو بھی رجوع ہے نیند میں شوہر یا بیوی کا ہاتھ شہوت سے لگ جائے تو بھی رجوع ہوگا۔ شافعیؒ کے نزدیک نیت نہ ہو تو مباشرت سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ یہ سب معروف کے مقابلے میں منکرات ہیں اور طلاق کیلئے عدت شرط ہے اور عدت میں رجوع ہوسکتا ہے تو منکر طریقے سے طلاق نہ ہوگی۔

زنا و چوری کی سزا (منکرات)

مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں کہ منکرات اور جرائم کس مصیبت کا نام ہے۔ معروف میں اختلاف اور معروف کا نہ کرنا جرم سمجھا جانے لگاہے۔ جب یہ کہا جائے کہ زنا، قتل، رشوت، شراب، جواء، شرک اور تمام جرائم سے بڑا جرم نماز کا چھوڑ دینا ہے ۔ فون کی گھنٹیوں پر یہ پیغام عام ہو، کسی عالم دین، صحافی، میڈیا اور حکمران کو اسکے خلاف بات کرنے کی بھی جرأت نہ ہو تو اس سے زیادہ امت کا زوال کیا ہوسکتاہے؟۔ سیون شریف میں دھمال کرنے والے نمازی نہیں تھے تو اچھا ہوا کہ ان کو اس جرم کی سزا مل گئی؟۔ اکثریت نماز نہیں پڑھتی تو دہشت گرد صحیح کررہے ہیں کہ خود کش حملوں سے اڑا تے ہیں۔ اکثر میڈیا چینلوں پر جس شخصیت کو سب سے مقبول اور معتبر بناکر پیش کیا جارہاہے اگر اس کی آواز میں لوگوں کو مژدہ سنایا جائے تو رشوت ، سود، قتل، زنا، زنابالجبر اورہر طرح کے جرائم میں ملوث لوگ صرف نماز پڑھ کر بری الذمہ ہونگے؟۔ قرآن و سنت میں زنا بالجر اور قتل کی سزا قتل اور سنگساری ہے۔ زنا کی سزا 100کوڑے، بہتان کی سزا80کوڑے ہیں۔ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ بے نمازی کی سزانہیں۔
مولانا طارق جمیل عوام کے سامنے خطاب کریں کہ صحابہ کرامؓ نے اپنے خلاف گواہی دیکر سنگساری کی سزا کھائی۔ کسی نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیاتوخود کو سنگساری کیلئے پیش کرکے دنیا میں صاف ہوکر قبر میں جائے۔ زنا کی سزا100کوڑے ہیں ،کچھ عرصہ گھر سے غائب ہونا گناہ کی تلافی نہیں بلکہ کوڑے لگنے سے قرآن میں بیان کردہ اللہ کے حکموں پر عمل ہوگا۔ یہ جھوٹی رٹ ہوگی کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی اور غیروں کے حکموں میں ناکامی کا یقین دلوں آجائے مگر جو لوگ زنا بالجبر ، زنا، قتل ، بہتان اور چوری کی سزائیں معاشرے میں رائج کرنا چاہتے ہوں ان کیخلاف غلط پروپیگنڈہ کیا جائے ۔ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ چوری کرو تو چلہ لگاؤ، زنا کرو،بہتان لگاؤ تو چار ماہ لگاؤ اور قتل کرو توسال لگاؤ اور زنابالجبر کرو تو ڈیڑھ سال لگاؤ۔ طالبان کے دور میں تبلیغی اجتماع ہوا کرتا تھا تو طالبان جنگ بندی کا اعلان کرتے۔ کچھ لوگ اپنے اوپر شرعی حدود نافذ کرنے کیلئے خود کو پیش کردیتے تو اسلام کا دنیا میں ڈنکا بج جاتا۔ جرائم پیشہ عناصر طالبان کا لبادہ اوڑھ لیں یا تبلیغی جماعت کا، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تبلیغی جماعت میں علماء کو بھی چھ نمبر سے باہر نکلنے نہیں دیا جاتا تو اللہ کے وہ احکام جو جرائم کے حوالہ سے قرآن میں ذکر ہیں ان پر عمل در آمد کیلئے ماحول کیسے بنے گا؟۔ تبلیغی جماعت میں سونے جیسے لوگوں کی کمی نہیں ۔
تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے رہنما اور کارکن بہت ساری الجھنوں میں پڑنے کے بجائے چیدہ چیدہ معروف احکام اور منکرات و جرائم کی سزائیں سکھا کر ماحول بنائیں تاکہ لوگ قرآن کی ان آیات سے آگاہ ہوں جن میں جرائم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔ اگر لوگ صرف ان لوگوں کے طریقۂ کار سے راہِ راست پر آسکتے تھے تو پھر قرآن میں جرائم اور ان کی سزاؤں کے احکام کیوں ہوتے؟۔ اللہ کی طرف سے یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو عقیدت اور محبت ہے ، ان کیلئے قرآن کے احکام کا پیغام بہت مقبولیت کا باعث بنے گا۔ مذہبی سیاسی لوگوں میں بھی بہت قیمتی شخصیات ہیں اور اگر وہ قرآن کے احکام کامنشور عام کردیں، لوگوں میں شعور بیدار کریں، مظلوموں کی مدد کا جذبہ پیدا کریں تو مذہبی طبقات کے آپس میں ٹوٹے ہوئے دل جڑ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے محبت رکھتی ہے لیکن انکے پاس علم اور شعور نہیں ۔فرقہ وارانہ جذبے اور تعصب سے فائدہ اٹھانا اسلام نہیں۔ قرآن و سنت سے قریب کرنے کا طرزِ عمل روزِ محشرنبیﷺ کے سامنے سرخرو کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی یہ شکایت پہلے سے لکھ دی کہ رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القران مھجورا ’’ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ علماء دیوبند انگریز کیخلاف لڑ رہے تھے تو مولانا الیاسؒ نے اخلاص کیساتھ تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔ جس طرح قرآن پڑھنے کیلئے نورانی قاعدے کو مقبولیت ملی لیکن قائدہ پڑھنے کو ہی منزل سمجھ لینا بڑی جہالت ہے۔ تبلیغی یہی کررہے ہیں۔
جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتیں کسی مخصوص فکر کو ترجیح دینے کے بجائے قرآن و سنت کو مساجد سے زندہ کرنا شروع کریں تو مذہب کے نام پر فتنہ وفساد ، اختلاف وانتشار، جھگڑے اور خلفشار کا خاتمہ ہوسکتاہے۔ جماعت اسلامی پہلے کئی رتبہ بڑے بحرانوں سے گزر چکی ہے، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کی دھڑی بندیاں بھی مخفی نہیں۔ تبلیغی جماعت کے مرکز بستی نظام الدین میں اختلاف جنگ میں بدل رہاہے۔ حاجی عبدالوہاب اور مولانا الیاسؒ کے پوتے مولانا سعد تبلیغی جماعت کے مرکزی شوریٰ کے دس ارکان میں آخری بچے ہیں جن میں انتشار کا آغاز ہوا ہے۔

اداریہ نوشتہ دیوار، ماہ اپریل 2017، عتیق گیلانی کے قلم سے

اللہ کیلئے بے غیرتی برداشت نہیں تومُلّاکیلئے کیوں

اسلام دینِ فطرت ہے مگرعوام فطرت و دین کی معرفت سے عاری ہیں حدیث میں ہے کہ یہودونصاریٰ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتے ہیں مگر پھر انکو والدین یہودی ونصرانی بناتے ہیں۔بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتاہے مگرپھر اسکواپنا فرقہ وارانہ مذہبی ماحول پروان چڑھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتاہے۔
حضرت عویمر عجلانیؓ نے بیوی کو زنا کرتے دیکھ لیاتو کہا کہ’’ اگرقتل کروں تو قتل کردیاجاؤں گا اور اگر چھوڑ دیا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوگا‘‘۔ رہنمائی کیلئے آیات اُتریں تواس میں چار شہادات ( گواہی) کا جملہ اور پانچواں جملہ بتایا گیا، عورت کی طرف سے چار گواہیاں اور پانچویں جملے کی تفصیل بتائی۔ قرآن کی ان آیات پر مسلمان ایمان لایا اور لُعان کے نام سے یہ قانون ہے۔ چودہ سو سال سے آج تک اس قانون کی افادیت کوتسلیم کرنا تو دور کی بات ہے ، اس کو اپنی فطرت سے متصادم سمجھ کر بالکل مسترد کردیا گیاہے۔ پہلے مسترد کرنیوالے انصارکے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ تھے جس نے کہا کہ میں بیوی اور اسکے ساتھ بدکاری پر لعان کے بجائے قتل کردونگا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی، انہوں نے عرض کیاکہ یہ بہت غیرت والا ہے اس سے درگزر فرمائیے، مگر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ (صحیح بخاری شریف)
مسلمان کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ بیوی کو غیرت پر قتل کرنا فطرت کا تقاضہ ہے، جس کا دین نہیں ،وہ بھی غیرت کا مظاہرہ کرتاہے۔ جانور اور پرندے بھی غیرت رکھتے ہیں۔ مسلمان کو لاکھ سمجھاؤ، اللہ کی آیات بتاؤ، صحابیؓ کے واقعہ کا ذکر کرو۔ فقہ کے مسائل سے آگاہ کردو۔ وہ کہتاہے کہ یہ سب درست لیکن غیرت اور فطرت نہیں بدل سکتی۔ قرآن اپنی جگہ اور مسلمان اپنی جگہ، اللہ کے احکام برحق لیکن غیرت اور ضمیر کیخلاف شریعت کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی اور قرآن پر ایمان ہے مگر فطرت کی سوئی جہاں اٹک گئی ہے، وہاں سے اب ذرہ برابر بھی ہل نہیں سکتی ہے۔
چودہ سوسال سے قرآن پڑھنے ،پڑھانے کے باوجود ہم جہاں کھڑے تھے غیرت کے معاملہ میں ذرا پیچھے نہ ہٹے ۔ کوئی پیچھے ہٹنا چاہے گا ؟۔ خواتین بھی ضد پر اڑ جائیں گی کہ بے غیرت شوہر نہیں چاہیے،وہ مرد کیاجو بے غیرتی برداشت کرے؟ غیرت پر اجماع ہے اور نبیﷺ نے خبردی کہ یہ امت گمراہی پر اکھٹی نہیں ہوسکتی ۔ حضرت سعدبن عبادہؓ ایک جلیل القدر صحابیؓ تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا:’’میرے صحابہؓ ستاروں کے مانند ہیں، جسکی بھی تم اقتدا کروگے،تو ہدایت پاجاؤگے‘‘۔ اس معاملہ میں حضرت سعد بن عبادہؓ صرف انصار نہیں،ساری اُمت کے بڑے سردار ہیں۔
اہل تشیع صحابہؓ کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے، یہاں وہ بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ غیرت کا مسئلہ ہو اور وہ بھی فطری غیرت کا تو پھر اللہ، اسکے رسولﷺ، دین، ایمان، اسلام، شریعت، قانون اور کسی چیز کو مسلمان تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ چودہ سو سال پہلے اس قانون کو غیرتمند مسلمانوں نے اسلئے مسترد نہ کیا کہ اسلام مسلمانوں کے قبول کرنے کا محتاج تھا بلکہ جب انگریز نے برطانیہ سے برصغیرپاک وہند میں قدم رکھا جسکے اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتاتھاتو انگریز کو بھی گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردیاتھا ،چنانچہ تعزیرات ہند میں ہے کہ’’ جس نے بیوی کیساتھ نازیبامعاملہ دیکھ کر قتل کیا تو اس کیلئے کھلی چھوٹ ہے‘‘۔ مولوی نے زنا کے ثبوت کیلئے بڑی سخت شرائط پیش کیں مگر کسی مسلمان کے آگے اس معاملہ میں کوئی بھی سامنے آنے کی جرأت نہیں کرسکا،جب قرآن کو نہیں مانا جاتا تو کسی دوسرے کی کیا حیثیت ہے؟۔
مسلمان کی غیرت کو دنیااور اسلام کی ایمانی روحانی طاقت شکست نہ دے سکی مگر علماء ومفتیان نے کمال کرکے ایسابڑا بے غیرت بنادیا کہ زمین کے باشندے بھی دنگ ہیں اور آسمان کے فرشتے بھی لرزرہے ہیں کہ آخر کونسی طاقت ہے کہ مسلمان اپنی بیگم کو قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ کر قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا لیکن پھر یہی بے غیرت، دلّا اور دیوث بن کر اپنی بیگم حلالہ کیلئے خود ہی کسی کے سامنے پیش کردیتاہے۔ جو اللہ کیلئے بے غیرتی کیلئے تیار نہیں وہ مولوی کا فتویٰ دیکھ کر کیوں بے ضمیر اور بے غیرت بن جاتاہے؟۔ مسلمانوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں کوئی بھول تو نہیں ہوئی ہے؟۔ ہم لوگ اللہ کے دین کی معرفت حاصل کرکے زباں، ہاتھ اور دل سے جد و جہد کررہے ہیں۔ ہر مکتبۂ فکر کے جرأت مند علماء اور عوام اللہ کے دین کو پہچان کر حمایت کرتے ہیں ۔ایک بڑا طبقہ خاموش ہوکر محبت اور بغض کو دل میں چھپائے بیٹھاہے۔ یقین ہے کہ جس طرح روز سورج مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہوجاتاہے کہ اسلام کا فطری دین بہت جلد پوری دنیا میں آب وتاب کیساتھ طلوع ہوگا اور باطل بہت آرام کیساتھ غروب ہوجائیگا۔
دنیا میں سب سے بڑا جرم عورت کیساتھ زبردستی سے زیادتی ہے مگرطاقتور لوگ کمزور کی عزت کو لوٹنا کھیل بنالیتے ہیں تو معمولاتِ زندگی کی روایتی اقدار کا حصہ بنتا ہے، پھرواقعہ خبروں کی زینت بنے، تو کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ مجرم کو تحفظ دینے کا ماحول بنتاہے۔ حنفی مسلک میں عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر بھی شادی کی اجازت ہے اوراکثر طاقتور خاندان کی خواتین کمزور لوگوں کیساتھ بھاگ جاتی ہیں تو ان کو ماردیا جاتاہے، پھر یہ مارنے کی رسم چلتی ہے تو کمزور بھی بھاگنے والی کو قتل کرنا ضروری سمجھتاہے، بھاگنے والی عورت سے بڑاجرم وہ ہے جو عورت کو زبردستی جنسی زیادتی کا شکار کرے، جیسے زبردستی جنسی زیادتی برداشت کرنا معمول کا حصہ بنتا ہے اسی طرح حلالے کی مجرمانہ لعنت بھی معمول بن کر عزتوں کو تباہ کردیتی ہے۔
بڑے لوگوں نے اسلام کی خدمت کے بجائے زمانے میں جگہ بنانے کی کوشش کی ،اگر ہم بھی مسلک کے علمبردار بن کر کھڑے ہوتے اور اسکی وکالت کرتے تو دنیا پھر بہت بڑا مقام دیتی، میڈیا میں ہمارے چرچے ہوتے، جہاں جاتے پھولوں کی برسات ہوتی اور دنیا ہمارے لئے بہت بڑی جنت بن جاتی۔ موت کا خوف کس کو نہیں؟۔ مشکلات سے کون نہیں ڈرتا؟۔ خاندان کیلئے مسائل کھڑے کرنے سے بہترموت کو ترجیح ہے لیکن جن خواتین کی عزتیں حلالہ کے نام پرلُٹ رہی ہیں ، جنکے گھر اسلام کے نام پر تباہ ہورہے ہیں، جنکے بچے فتوؤں کے ہاتھوں دنیا میں رُل رہے ہیں، جو علماء ومفتیان اتنے ڈھیٹ ہیں کہ سب کچھ سمجھ کر بھی حقائق اور اسلام ماننے کیلئے تیار نہیں تو مجھے بتایا جائے کہ کیا انسان حادثاتی اور بیماری سے نہیں مر سکتا ہے؟،بسا اوقات انسان خود کشی کرتاہے، خود کش کرنے والا اپنے طور سے قربانی کا تصور رکھتا ہے۔کیا ہم اسلام کیلئے قربانی نہ دیں؟۔ کیا فطرت ، غیرت، حمیت اور ضمیر کیلئے خود کو قربان نہ کریں؟۔ ہم مرنے کیلئے یہ نہیں کرتے، زندگی پیاری ہے۔ خواتین کی عزتوں کو ناجائز حلالہ کے نام پر لوٹا جاتاہے ،اس غلط طرزِ عمل کو روکنے کیلئے ہرقسم کی قربانی دینا جائز، مجبوری بلکہ بہت ہی ضروری ہے۔
حلالہ والے یہ نہ کریں کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کوبھی لے ڈوبیں گے ‘‘۔ جنہوں نے مذہب کو کاروبار بنارکھاہے، وہ مفاد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے، اسلئے دین کی تصدیق کرنیوالوں کے علاوہ خاموشی سے محبت کرنیوالوں اور باطل عمل جاری رکھنے والوں کے بغض کو چھپانے پر بھی نبی پاک ﷺ نے بشارت دی ہے ۔

لُعان کی قابلِ عمل حقیقت اور اسکے زبردست فوائد

مغرب آج جس انسانی حقوق کا علمبردار بنا پھرتاہے ،اگر مسلمانوں نے قرآن پر عمل شروع کردیا تو مغرب مسلمانوں کا امام نہیں مقتدی اور پیر نہیں مرید بن جائیگا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے چودہ سوسال پہلے عورت کی جان بچانے کیلئے لعان کا قانون نازل کیا تھا۔ مسلمانوں نے قرآن کو اپنا دستور عمل نہیں بنایا تو آج ذلت و رسوائی کی منزلیں طے کرکے کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے؟۔
اسلام فطری دین ہے اور فطرت کیلئے فطرتی ماحول ہونا چاہیے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ لعان کی کیا ضرورت تھی؟،جب فحاشی پر قتل کی اجازت نہ ہو توعورت کو چھوڑنے اور گھر سے نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے تھی اور بس؟اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں فحاشی پر اچانک چھوڑنے اور گھر سے نکالنے کو واضح کر د یا ہے، البتہ لُعان کی اہمیت پھر بھی ختم نہیں ہوجاتی ہے ،اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
1: معاشرے میں کبھی شوہر کے خاندان والے طاقتور ہوتے ہیں اور کبھی بیگم کے خاندان والے۔ جب شوہر کے خاندان والے بہت کمزور ہوں، کوئی عورت بدکاری بھی کرے اور شوہر کی حیثیت اتنی کمزور ہو کہ اس کو چھوڑ نہ سکے تو شوہر عدالت میں جاکر لُعان کے ذریعے سے اپنی جان بچاسکتاہے۔ اکثر جگہ سے جب عورت کے حق میں آواز اٹھتی ہے تو بعض مرد کے حق کو تحفظ دینے کی بات بھی کرتے ہیں۔ اللہ نے لُعان کے ذریعے مردوں کو یہی تحفظ دیاہے، کیا کوئی لعان بھی کرتاہے؟۔
کیسے کہہ دوں کہ اس نے چھوڑدیامجھے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
2: اللہ نے شوہر کو طلاق اور بیوی کو خلع کا حق دیا۔ سورۂ النساء آیت19 کودیکھ لیجئے۔ جس میں عورت کو خلع کے حق کی بھرپور وضاحت ہے مگر افسوس کہ بالکل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے عوام کو اس آیت سے آگاہ نہیں کیا گیا اور آیت کا مفہوم بالکل غیر فطری طور سے بگاڑنے کی بدترین کوشش کی گئی، قرآن کو بگاڑنے کی صلاحیت کسی میں اللہ نے نہیں رکھی، اسکی حفاظت کا خود ہی ذمہ لے لیاتھا۔ اگر عورت شوہر کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو اللہ نے فرمایا کہ ’’تم زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو، اور ان کو اسلئے مت روکو ،کہ جو تم نے ان کو دیا ، اس میں بعض واپس لو۔ مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، ہوسکتاہے کہ اللہ تمہارے لئے اس میں خیر کثیر رکھ دے‘‘۔ اگر عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہے اور شوہر بعض دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کیلئے فحاشی کا الزام لگاتاہے تو لُعان کی ضرورت پیش آئے گی۔خلع لینے پر بھی بعض دئیے ہوئے مال سے بھی شوہر بیوی کو محروم نہیں کرسکتاہے مگر فحاشی پر اسکی اجازت ہے ،البتہ فحاشی کی صورت میں بھی لعان کا سامنا ہی کرنا ہوگا۔
3: سورۂ النساء کی آیت19میں اللہ نے عورت کی طرف سے خلع کے حق کو محفوظ کرکے مقدم رکھا ہے اور پھرالنساء آیت 20 میں شوہر کو بھی طلاق کی اجازت دیکر فرمایا ہے کہ اگر عورت کو بہت سارا مال دیا ہے تب بھی اس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں،تم ان پر بہتان لگاکرمحروم کرنا چاہتے ہو ؟۔ حالانکہ تم نے بہت قریبی ایکدوسرے کی عزت والا تعلق رکھا اور انہوں نے تم سے پختہ عہد وپیمان لیا۔(وقداخذن منکم میثاقا غلیظا )جو لالچ میں اندھا ہوکر بہتان لگائے تو اسکو عدالت میں لُعان کی ذلت کا سامنا کرنا ہوگا۔
بعض واقعات مخصوص حالات کے تناظر میں ہیں۔ سعد بن عبادہؓ انصار کے سرداربیوی کو قتل کرنے کا دَم رکھتے تھے۔ حضرت عویمر عجلانیؓ نے لعان اسلئے کیا کہ بیوی کے خاندان والے زیادہ طاقتور ہونگے۔ انسان کی حیثیت کمزور ہو تو قانون کا سہارا تلاش کرتاہے۔ اسلام نے قانون کو اتنا مضبوط بنایا کہ طاقتور بھی سرِ مو انحراف نہیں کرسکتا تھا، قانون کمزور اور طاقتور کیلئے بالکل برابر تھا۔ حضرت سعدؓ نے خالی بات کی مگر قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ۔ اسکے بعد سرداری کھو دی۔ جنات نے تنہائی میں قتل کردیا ۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتے تھے۔مسلمانوں نے کمال کردکھایا کہ اللہ کے سامنے اپنی غیرت دکھائی تو اللہ نے بھی غیرت سے ایسا عاری کیا کہ حلالوں کے ذریعے عزتیں لٹوانے کی ذلتوں سے دوچار ہوکر بڑی گمراہی میں گرگئے۔ جب انسان کمزور پر ظلم کرتاہے تو اللہ کی طاقت اس کو کتوں کے گاؤں سے آگے گزار دیتی ہے۔ مسلم اُمہ نے عزت و عروج حاصل کرنا ہے تو اسلام کے فطری قوانین کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا۔مولوی خود پر اور اُمہ پر رحم کھائیں۔
اللہ انسان سے حساب کسی طرح لے لیتاہے اور دوسروں کے مقابلے میں اللہ ہی سے ڈرنے کو ترجیح دینی ہوگی۔ اللہ نے ابراہیمؑ کو چند کلمات میں آزمایا تو وہ آزمائش میں پورے اُترے۔ جس کا جتنا بڑا درجہ اسکی اتنی بڑی آزمائش ۔ اللہ آزمائش کا دروازہ بند کردے،ہم آزمائش کے لائق نہیں، ابراہیمؑ نے بتوں کو توڑا، توبڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ قوم نے آگ جلائی، جھولا بناکر ابراہیمؑ کو ڈالنے کی تیاری کی۔ فرشتوں نے اللہ سے کہا کہ ہم مدد کو پہنچتے ہیں، اللہ نے کہا کہ تمہاری مدد کوقبول کرلے تو ضرور کرلینا۔ فرشتوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ ابراہیمؑ نے پوچھا کہ اللہ کا حکم ہے؟، فرشتوں نے کہا کہ نہیں! اجازت ہے۔ ابراہیمؑ نے فرمایا کہ پھر تمہاری ضرورت نہیں، مجھے اللہ پر چھوڑ دو۔ فرشتوں نے ضرورسوچا ہوگا کہ واقعی اتنی بڑی بات ہے، ہم سے اللہ نے ٹھیک سجدہ کروایا تھا۔ اللہ نے براہِ راست آگ کو حکم دیا: یا نار کونی بردا وسلاما علی ابراہیم ’’اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور انسانوں کو حضرت ابراہیمؑ کی سچائی کاوہ رخ بھی دکھایا کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکے کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی قسم کا کوئی گٹھ جوڑہوسکتا تھا۔اللہ ایسی آزمائش سے بچائے رکھے۔
ایک ایسا بادشاہ تھا جو بیوی چھین لیتا تھا، اس پر تو کوئی فخر بھی نہیں کرسکتا، حضرت ابراہیمؑ کی آزمائش کی اسوقت انتہاء نہ رہی ، بادشاہ نے حضرت سارہؑ کو طلب کیا، یہ وہ آزمائش تھی جہاں انسانیت کی رُوحیں نسلوں تک گھائل ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے گڑ گڑاتے حضرت ابراہیمؑ کی آزمائش کی انتہاء دکھا کر فرشتوں کو باور کروایا کہ فرشتوں سے انسان کا مقام اسلئے اونچاہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے۔ اس آزمائش کے نتیجے میں حضرت ابراہیمؑ نے اللہ سے مدد بھی مانگ لی اور اللہ نے دو انعام بھی دے دئیے، ایک حضرت سارہؑ کی عزت بچاکر نسل در نسل اولاد کو نبوت و بادشاہت سے سرفراز کردیا۔ دوسرا حضرت حاجرہؓ بھی عنایت کردی ، جسکے دو فرزندحضرت اسماعیلؑ اور حضرت محمدﷺ کا مقام افضل ترین انبیاء کرامؑ میں کردیا۔جو عدد کے اعتبار سے کم اور حجم کے اعتبار سے سب پر بھاری تھے ۔ بنی اسرائیل نے آل فرعون کے ہاتھوں غلامی کی ذلت اٹھائی تو بھی نسلی افضلیت کا خمار دماغ سے نہیں گیاتھا۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے کہ قریش کو ابن سماء کہاگیا ، تاکہ اپنی ماں حاجرہؓ کی داستان پرفخروافتخار کے زعم کویہ لوگ اپنے ذہن سے نکال دیں۔
رسول اللہﷺ نے انتقام لینے کی بات کردی تو اللہ نے روک دیا لیکن اللہ کا انتقام انسان کے دماغ سے بہت بالاتر ہے۔ نبیﷺ نے ابوجہل وغیرہ سردارانِ قریش کو بدر میں شکست دی تو ان کا غرور خاک میں مل کر بھی جاگ رہا تھا۔ ابوجہل نے مرتے وقت کہا کہ گردن کو نیچے سے کاٹ لو تاکہ پتہ چلے کہ سردار کی گردن ہے۔ ابوجہل نے مرتے وقت جسم اوراپنی مٹی کے باقیات سے بھی باطل مشرکین مکہ کو حوصلہ دیا اور پھر اس کی قوم نے غزوۂ احد میں اپنا بدلہ بھی اتار دیا تھا۔ بقول فیض
میرے چارہ گر کو نوید ہو ،صفِ دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن کہ قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلادیا
جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم پر تجھے یادگار بنادیا
فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ نے ابوسفیانؓ کے گھر کو بھی عزت بخشی۔ حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ ’’ کاش ! پناہ لینے سے پہلے میرے ہاتھ میں آجاتا‘‘۔ اللہ کی طرف سے یہ بڑا تلخ انتقام تھا۔ رسول اللہﷺ حضرت ہندہؓ کے چہرے کو دیکھنا برداشت نہ کرسکتے تھے اور حضرت ہندہؓ نے فرمایا کہ پہلے نبیﷺ سے بہت نفرت کرتی تھی اور آج آپﷺ سے بڑا محبوب کوئی بھی نہیں۔ جسکے ساتھ انتہائی وحشانہ برتاؤ کیا ہو اور اسی کے رحم وکرم پر انسان کا گزر بسر ہو تو اس سے زیادہ آزمائش اور گناہوں کی معافی تلافی کا معاملہ مزیدکیا ہے؟، حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کوباپ کے قتل پر زیادہ افسوس اسلئے نہ تھاکہ گردن کٹانے کی تکلیف ذلت نہیں ۔جس طرح بھٹونے بھی فوج کے ہاتھوں پھانسی کی سزا کھائی مگر بھٹو نے خود کو عوام میں زندہ کردیا اور یہ کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے اسی وجہ سے پہلی مسلم خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا۔ لیکن نوازشریف نے معافی مانگ کر فوج کے ہاتھوں جو ذلت اٹھائی اس پر عقلمند انسان کبھی فخر نہیں کرسکتاہے مگر ہمارے نااہل قسم کے لوگ لیڈر ہیں۔
یزید کا دل حضرت حسینؓ کے خانوادے اور ساتھیوں کے انتقام پر بھی ٹھنڈا اسلئے نہیں ہوا ہوگا کہ کہاں فتح مکہ کے وقت انکے خانوادے کی حالت اور کہاں شہدا کے معزز ورثاء کی لوگوں کے دل میں عزت و تکریم؟۔ اہل تشیع بہت پاگل مخلوق ہے، ماتم کرنے سے مخلوق خدا کواذیت ہوتی ہے اور حسینؓ کی نہیں یزید کی روح کو تسکین ملتی ہے کہ اہلبیت کیلئے گلیوں میں اب بھی ماتم کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ لگتاہے کہ یزیدوں کیلئے مزید کوئی گنجائش نہیں رہی۔ بے ضمیر ظالم ظلم کرکے شرم کے احسا س سے محروم ہوتا ہے تو معافی کی ذلت کا بوجھ بھی بہت آرام سے برداشت کرلیتاہے۔
اگر یوسف علیہ السلام ساری زندگی کنویں اور جیل کا غم کھاتے اور بنی اسرائیل اس غم کو منانے کے دن مناتے تو ان کو خوشیاں نصیب نہیں ہوسکتی تھیں۔ انسان دکھ پر صبر اور نعمت پر شکر ادا کرتاہے تو پھر اللہ اس کو نوازتاہے۔ جب ہم اہل تشیع کو ماتم کے غم سے اور اہلسنت کو حلالہ کی لعنت سے آزادی دلانے میں کامیاب ہوجائیں تو دنیا مسلمانوں کو انسان کے بچے سمجھے گی۔ جب دنیا کو حلالہ کی لعنت اور ماتم کے خون خرابے کا پتہ چلتاہے تووہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ہے کہ اسلام کو دینِ فطرت کہنے والے جھوٹی خوش فہمیوں کے شکار ہیں،ہمیں اس سے بہت دور رہناہے۔ وہ کہتے ہونگے کہ یہ حضرت محمدﷺ کا دین تو نہیں ہوسکتا، البتہ اللہ نے گناہوں کے نتیجے میں ان کو اس عذاب میں ضرور ڈالا ہوگا،یہ دونوں طرف کے علماء کے مفادپرستانہ رویے کی سازش کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔دونوں طرف کے علماء کرام اعتراف کررہے ہیں۔
میں نے جب بڑے مذہبی بتوں کو توڑا تو بہت آزمائش کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا اور فرشتوں کی مدد نہ لینے کی بات تو بہت دور کی ہے ایک بندے دوست ناصر کی مدد کو بھی قبول کیا، جنکا احسان مجھ پر قرض ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ جن جنکے احسانات ہیں ان کو اچھا بدلہ بھی دے سکوں۔ اب آزمائش کا متحمل بالکل بھی نہیں ،اللہ نے اپنے فضل سے بہت آسانی سے مشکل سے گزارا، البتہ جن لوگوں کو حلالہ کی لعنت کا سامنا کرنا پڑتاہے ، اس سے بڑی آزمائش ، مصیبت اور ذلت اور کوئی نہیں۔ اگر امت مسلمہ کو اس سے نکالنے کی سعادت ملی تو یہ ہم سب پر بہت بڑا انعام ہوگا۔

ناموسِ رسالتﷺ کیلئے بے غیرتی مجرمانہ فعل

ایک مسلمان کی غیرت برداشت نہیں کرتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کیساتھ کسی کو دیکھ کر شور مچائے کہ ’’اس کو قتل کردو، اس کے تکے بوٹیاں بنادو، اس کو جلادو، اس کو جہنم رسید کردو، اس کا جینا حرام کردو اور اس کیلئے قانون سازی کرلو‘‘۔
مسلمان کو پتہ ہے کہ اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں اس کو لُعان کے ذریعے قانونی تحفظ دیاہے، لیکن جب انسان کی اپنی عزت پر کسی کا ہاتھ پڑجاتاہے تو پھر اس کو برداشت نہیں کرتا، اللہ کی کتاب کے اندر موجوداور واضح تحفظ کو دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو تو غیرت کا مظاہرہ کرکے بیوی کو بھی قتل کردیتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے شخص کو بھی قتل کردیتاہے لیکن عقل حیران ہے کہ اپنی عزت کے تحفظ کیلئے تمام شرعی اورقانونی تحفظ کو نظر انداز کرکے ایک نہیں دو افراد کو بیک وقت قتل کرنے کا ارتکاب کرتاہے مگر جب یہ شخص ناموسِ رسالتﷺ کی بات کرتاہے تو پھر غیرت بالکل ہی اسکے دل و دماغ سے نکل جاتی ہے، توہین رسالتﷺ کے مرتکب کے خلاف قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات نہیں کرتا۔ جن لوگوں کو توہین رسالتﷺ کا مرتکب قرار دیتاہے انکے خلاف عوام کو دھائی دیتاہے، تعصبات کی آگ بھڑکاتاہے، حکومت کی مدد لیتا ہے، عدالت کو پکارتا ہے، کتابیں لکھ لیتا ہے، دلائل دیتاہے، تقریریں کرتا پھرتا ہے لیکن غیرت کیلئے اقدام نہیں کرتا، بس اکسانے پر ہی اکتفاء کرتا ہے۔ آج مسلمانوں کو بہت سر جوڑ کر حقائق سمجھنے کی سخت ضرورت ہے۔
دوسروں کیلئے غیرت وہ شخص کھا سکتاہے جو اپنے لئے بھی کھاتا ہو۔ اپنے اندر غیرت نہ رکھنے والے شخص کو رسول اللہﷺ کی ناموس کا محافظ قرار دیا گیا تو امت مسلمہ کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی ہے۔ جو اپنی عزت کو بیچتا پھرے وہ دوسرے کی عزتوں کا تحفظ کرسکتاہے؟۔ ہرگز ہرگز نہیں ۔ ایم کیوایم میں اچھے برے لوگ ہوسکتے ہیں ،اگر ہم مصطفےٰ کمال ، رضاہارون، انیس قائم خانی وغیرہ کو ایم کیوایم چھوڑنے کے بعد اچھا کہہ سکیں تو ایم کیوایم میں ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ اچھے ہوسکتے تھے، اور یہاں بات اچھے برے کی نہیں بلکہ غیرت کے حوالہ سے ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ایم کیوایم کے کارکن اور قائدین الطاف حسین کے خلاف بات برداشت نہیں کرتے تھے، اپنے قائد پر بڑی غیرت کھاتے تھے، ظاہر ہے کہ وہ ڈرامہ تو نہیں کرتے ہونگے؟۔ کراچی میں ایم کیوایم نے اپنی ساکھ قائم رکھی تھی۔
ہم نے مفتی محمد تقی عثمانی کے حوالہ سے ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز پر اپنے اخبار میں اس کی کتاب کا حوالہ دیا‘‘ تو ڈاکٹر فاروق ستار نے اس کی مخالفت میں زبردست بیان دیا اور نیوکراچی کے سیکٹر انچارج نے بیان دیا کہ اس مفتی تقی عثمانی کو قتل کردینا چاہیے۔ اس دباؤ کی وجہ سے مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں سے اس عبارت کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ ایم کیوایم جو لسانی پارٹی ہے، اس میں دین کی اتنی غیرت تھی کہ ایک پٹھان کیلئے ایک مہاجر مفتی کی بات کو تعصب میں نظر انداز نہیں کیا۔ اگر کوئی عصبیت رکھنے والی قوم ہوتی تو عتیق گیلانی کے بجائے مفتی تقی عثمانی کیساتھ کھڑ ی ہوجانی تھی۔مہاجر قوم کی پاکستان اور اسلام سے محبت ایک ایسی حقیقت ہے جسکا انکار نہیں ہوسکتا۔ بکھرے مہاجر کا ماحول بدلنے کی ضرورت ہے۔
بریلوی مکتبۂ فکر نے مفتی تقی عثمانی کیخلاف ہمارے اخبار کا تراشہ بہت پھیلایا مگر جب پتہ چلا کہ اپنا ریکارڈ درست نہیں توپیچھے ہٹ گئے۔ یہ کونسی غیرت ہوگی کہ خود گدھی کی دُم پکڑی ہو اور دوسروں کیخلاف مہم جوئی کی جائے کہ ’’اس نے گدھی کو دم سے پکڑا ہے؟‘‘۔ صرف مفتی تقی عثمانی کی بات نہیں بلکہ صاحبِ ہدایہ کی اس بات کو عمران خان کے مفتی سعید خان نے بھی احناف کی کتابوں فتاویٰ قاضی خان وغیرہ کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’قرآن میں خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن بقدرِ ضرورت جائز ہے تو وہ انسان کے جسم کا حصہ بنتاہے مگر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ نہیں بنتاہے‘‘ ۔( ریزہ الماس: مفتی سعید خان: چھترپارک اسلام آباد)
بریلوی مکتب کے علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر فتاویٰ شامیہ کیخلاف اظہار کیا تو اپنے علماء نے انکا گریبان پکڑلیا تھا۔ جب تک اپنی کتابوں سے وہ مواد نہ نکالا جائے جو دنیا کے سامنے نبیﷺ کی تضحیک کا ذریعہ ہے تو بے غیرتوں کی مذہبی اور سیاسی شوبازی کی اہمیت نہیں رہے گی۔ صحیح بخاری میں ابنت الجونؓ کا نامکمل واقعہ ہے جس کی تفصیل موجود ہے کہ نبیﷺ کو نومسلم حضرت الجونؓ نے بیٹیؓ کی رضامندی کا بتایا تھااور ازواج مطہراتؓ نے سوکناہٹ کی وجہ سے غلط رہنمائی کرکے بھیجا، جس کی بنیاد پر اس نے کہا کہ ’’ایک ملکہ اپنے آپ کو کسی بازاری کے حوالہ کرسکتی ہے؟، اور میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں‘‘۔ نبیﷺ نے سمجھا کہ وہ راضی نہیں تو گھربھیج دیا۔ پھر گھر والوں سے ابنت الجونؓ نے کہا کہ مجھ سے دھوکہ ہوا، وہ کہہ رہے تھے کہ تو بڑی کم بخت ہے کہ اس سعادت سے محروم ہوئی ۔
یہ واقعہ نبیﷺ کی سیرت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا ، اگر اس کو صحیح طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تو حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے زیادہ اس کی وجہ سے لوگ اسلام اور نبیﷺ کی عظمت کو سلام کرتے۔ ایک عورت کو پوری طرح سے دسترس میں آنے کے بعد نبیﷺ کا کمال تھا کہ پوچھ لیا کہ کہیں زبردستی کے نتیجے میں تو نہیں آئی ؟۔ اور جب سمجھ لیا کہ وہ راضی نہیں تو چھوڑ دیا۔ عورت کے حق کی الفاظ سے زیادہ اس عملی مظاہرے میں بہت بڑا کمال تھا، یہ بھی بخاری کی حدیث ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ عورت کا نکاح باپ نے اس کی رضامندی کے بغیر کردیا تو یہ نکاح نہیں ہوا‘‘۔ حضرت ابنت الجونؓ کے واقعہ میں اس کا عملی مظاہرہ تھا۔ ہوسکتاہے اسی تناظر میں ہی فرمایا ہو۔نبیﷺ کا اسوۂ حسنہ اعلیٰ نمونہ ہے۔
دیوبندی مکتبۂ فکر کے وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان ؒ نے صحیح بخاری کی اپنی شرح ’’کشف الباری ‘‘ ، بریلوی مکتبۂ فکر علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی شرح ’’نعم الباری‘‘ میں علامہ ابن حجرؒ کی شرح ’’فتح الباری‘‘ سے یہ سوال اور اس کا جواب نقل کیا ہے کہ ’’ رسول اللہ ﷺ کا اس ابنت الجونؓ سے نکاح نہیں ہوا تھا تو نبیﷺ کا صرف اپنے پاس طلب کرنا، رغبت کا اظہارکرنا ہی نکاح کیلئے کافی تھا، چاہے عورت راضی نہ ہو اور اسکا ولی بھی راضی نہ ہو‘‘۔ یہ بکواس رحمت للعالمینﷺ کی شریعت نہیں جو نبیﷺ دوسروں کو تلقین کریں کہ عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر باطل ، باطل، باطل ہے۔ ان کی طرف ایسی نسبت بہت بڑی گستاخی اور گستاخوں کو موقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب علماء ومفتیان اپنے مذہبی کتابوں سے ایسے مواد کو نکالنے کی بھی جرأت نہیں کرسکتے تو دنیا میں اغیار کیلئے نیٹ پر پابندی کے مطالبے میں کوئی جان نہیں ہوسکتی ہے۔ بس اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دوسروں پر جھوٹی تہمت لگانے کی مہم جوئی ہوسکتی ہے ، مسلمانوں کو اس معاملے میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کا تعلق پہلے ایم کیوایم اور جیوٹی وی چینل سے تھا۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ گھر کے بھیدی بن کر گزارا ۔ عالم کا دعویٰ بھی ہے اور علماء کو متحرک کرنے کی بروقت اور برملا کوشش بھی کرسکتے ہیں۔
لیلیٰ کے پاس مجنون کا پیغام آتا تو وہ دودھ بھیج دیتی، ایک دن لیلیٰ نے پھر امتحان لینے کا فیصلہ کیا، چھرا اور پلیٹ بھیج دی کہ جسم کاگوشت چاہیے۔ دھوکہ باز کہنے لگا کہ میں دودھ پینے والا مجنون ہوں ۔ گوشت دینے والا وہ کھڑا ہے۔ اصلی مجنون نے جسم کے ہر حصے کا گوشت کاٹ کر بھیج دیا۔جب حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تو دودھ پینے والا مجنون کوئی بھی نہیں تھا ورنہ بہت شور کرتا کہ قربانی دیدو، سارے سچے عاشق رسولﷺ صحابہؓ تھے، مذہبی سیاسی مفادات اور فرقہ وارنہ تعصبات نہیں تھے، اسلئے اللہ کے حکم کا انتظار کیا۔ اللہ نے نبیﷺ کی اعلیٰ سیرت کے ذریعے دنیا کے تمام انسانوں کی عزت کو تحفظ دیا اور لوگوں کو حقائق کا پتہ چلے تو سب طرزِ نبوت کی خلافت قائم کرلیں۔ مسلمان ہی نہیں کافر بھی اس عادلانہ نظام کو جمہوری بنیادوں پر نافذ کرنے میں سب سے آگے آگے ہوں گے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ

حکومت اور ہماری ریاست کب سدھرے گی؟

پانامہ لیکس پاکستانی قوم کا مسئلہ ہے ۔ ڈان نیوز کی خبر فوج کی عزت اور وقار کے حوالہ سے بڑی اہمیت رکھتاہے۔نواز لیگ نے چور مچائے شور کاتمام ریکارڈ توڑ دیا۔ زرداری کو11سال قید کے باوجود مجرم ثابت نہیں کیا جاسکاتو یہ عدالت کی نیک نامی نہیں۔ پانامہ لیکس کے ننگے بھوت کیلئے جو کپڑے سل رہے ہیں، اس کیلئے عدالت کے بھوت بنگلے میں بہت دیر لگ گئی ہے ، جب فیصلہ سنایا جائیگا تو کپڑے یا شلوار یا چڈی کا پتہ لگ جائیگا۔ قوم کا ریاست اور ریاستی اداروں پر کتنا اعتماد ہے؟۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ سہیل وڑائچ کی کتاب میں نوازشریف کا انٹرویو موجود ہے کہ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرپشن کے کیس بنانے کی غلطی آئی ایس آئی کے کہنے پر کی تھی۔ نوازشریف بجلی کی لوڈ شیڈنگ اورقیمت پر قوم سے جھوٹ بولنے کی تلافی نہیں کرسکے کہ انڈیا کو بھی بجلی دینے کا اعلان کردیا۔ خواجہ آصف اس کو جوشِ خطابت قرار دے رہا ہے۔ کیا یہی ہماری قومی قیادت ہے؟۔
حامد میر جیسے صحافی اور خواجہ آصف جیسے سیاستدان کے سامنے کوئی ریٹائرڈ فوجی تجزیہ نگار کیا بات کریگا؟ جس نے زندگی بھر فوج میں رہ کر ویرانیوں میں قوم کا دفاع کیا ہوتاہے اور یہ لوگ تاریخ کے ہر موڑ سے آگاہ ہوتے ہیں۔ ان کو چرب زبانی کی مہارت سے قوم کو گمراہ کرنیکا ڈھنگ آتاہے۔ پرویز مشرف کہتاہے کہ طالبان کو ہم نے عالمی طاقتوں کے کہنے پر بنایا تھا تو جنرل ضیاء سے پرویز شرف تک فوج ہی کو مجرم گردانا جاتاہے لیکن سعید غنی اور فرحت اللہ بابر حالات کی مناسبت سے بولتے ہیں، کبھی بھٹو سے نصیراللہ بابر تک کریڈت لیتے ہیں اور کبھی سارا ملبہ جنرل ضیاء سے اشفاق کیانی تک فوج ہی پرڈالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ اے ایمان والو! کہوسیدھی بات، تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائیگی اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائیگا‘‘۔ قوم کی حالت یہ ہے کہ سیدھی بات کرنے پر آمادہ نہ اعترافِ جرم پر تو اسکی اصلاح کہاں سے ہوگی؟۔ ایک ایسی لہر دوڑانے کی ضرورت ہے کہ کسی کا بھی ٹاؤٹ بن کر اور پیسے بٹورنے کیلئے بکبک کرنیکا طریقہ چھوڑ دیا جائے۔ مراد سعیدپر گھناؤنا الزام ہی نہیں لگا بلکہ اسکو بھڑوا بچہ قرار دیا گیا۔ پھر اسکو گالی قرار دینے کے بجائے میاں لطیف اور خواجہ سعد رفیق نے معافی کے نام پر گواہی بھی دی کہ ایساہے مگر ہمیں نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اخلاق اور کردار کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ عتیق گیلانی

اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے حل پیش کردیا، مفتی محمد خالد حسن مجددی

ummat-bukhari-muslim-quran-mufti-muhammad-khalid-hassan-mujaddadi-syed-atiq-ur-rehman-gailani(2)

حنفیت کے زعماء کی خبر لی اور اپنے بیگانے کی تمیز نہیں رکھی، کسی کا تقدس آڑے نہیں آیا، اس انداز میں کھل کر بات کرنا آسان نہیں، اگر گویم مسلمانم بلدرم کہ دانم مشکلات لا الہ را
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ یہ بیباکی ، یہ جرأت کہ جبہ دستار ، سجہ و خرقہ ، مسند و ارشاد و افتاء ، یہ منصب و جاہ ، خیرہ نہ کرسکا ۔ اظہار حق اور خوب اظہار ۔ طلاق ثلاثہ پر خوب رونق بخشی
چودہ صدیوں کے مسئلہ کو پندرہویں صدی میں خوب اجاگر کیا۔ اس مسئلہ پر اچھی کاوش اچھی تحقیق ہے، ابن قیم ، ابن تیمیہ کو نئی تحقیق کیساتھ محققانہ انداز میں پیش کیا۔ فقہ کی اغلاط پر نظر ، سبحان اللہ ، کیا یہ اغلاط قابل عمل و فہم ہیں؟
نہیں بلکہ اسلام کی تضحیک کا باعث ہیں۔ سُود کی لعنت کو حلال کرنیکی جرأت خسر الدنیا و الاٰخرہ ہے۔ ہمارے مفت خور مفتی عقل و شعور سے عاری ، لکیر کے فقیر اُمت مسلمہ کو مشکلات میں ڈالنے والے ہیں حل نکالنے والے نہیں

آبروما زنام مصطفےٰ است ،ابو مسعود مفتی محمد خالد حسن مجددی قادری رفاعی ،چےئرمین تحریکِ تحفظ امن پاکستان ، امیر مجلسِ عمل تحفظ ختم نبوت صدر جمعیت المشائخ پاکستان پنجاب، راہنما جماعت اہلسنت پاکستان تحریر فرماتے ہیں:
محققِ دوراں راہِ نورد عرصۂ تحقیق صاحبِ فکر عمیق سید عتیق الرحمن گیلانی عتق الرحمن من بلاء الدنیا و عذاب الآخرۃ ادام اللہ العز والجاہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج شریف احوال آنکہ آپ نے تحقیق کا حق ادا کردیا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر ، ایندم اغلاط ونقائص کی نشاندہی کی۔ اصحابِ بدر و احد سے لیکر آئمہ تک جوچوک کسی سے ہوئی برملا اس کا بیان کردیا۔ائمہ اربعہ کی تقلید اور اس کے نقائص سامنے رکھے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے حل پیش کردیا۔
ابر رحمت میں یکدم ابر رحمت اُمت مسلمہ پر برسنے کا نسخہ درج کیا۔ حنفیت کے زعما کی خبر لی۔ اس میں اپنے بیگانے کی تمیز نہیں رکھی۔ کسی کا تقدس آڑے نہیں آیا۔ اس انداز میں کھل بات کرنا آسان نہیں اگر گویم مسلمانم بلدرم کہ دانم مشکلات لا الہ را
اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں
مجھے ہے حکم آذاں لاالہ الا اللہ
یہ بے باکی، یہ جرأت، کہ جبہ ودستار ، سجہ وخرقہ ، مسند ارشاد وافتاء ، یہ منصب و جاہ ، خیرہ نہ کرسکا۔ اظہار اور خوب اظہار ، طلاق ثلاثہ پر رونق بخشی، چودہ صدیوں کے مسئلہ کو پندر ھویں صدی میں خوب اجاگر کیا۔ اس مسئلہ پر اچھی کاوش ہے، اچھی تحقیق ہے۔ ابن قیم اور ابن تیمیہ کو نئی تحقیق کے ساتھ محققانہ انداز میں پیش کیا۔ فقہ کی اغلاط پر نظر، سبحان اللہ کیایہ اغلاط قابلِ عمل وفہم ہیں؟۔ نہیں بلکہ اسلام کی تضحیک کا باعث ہیں۔ سود کی لعنت کو حلال کرنے کی جرأت خسرالدنیا والآخرہ ہے ۔ ہمارے مفت خور مفتی عقل و شعور سے عاری لکیر کے فقیرامت مسلمہ کو مشکلات میں ڈالنے والے ہیں۔ مشکلات کا حل نکالنے والے نہیں ہیں۔ جدید مسائل پر توجہ دی جائے۔ حلالہ جس انداز میں آپ نے اس کی تصویر کھینچی، ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھی۔ مدارس نوردی ہم نے بھی کی، اپنے مدارس میں یہ عیاشی کا ساماں کہیں نظر نہیں آیا۔ یہ تحقیق ، تحقیق کاحق ہے۔ اس پر توجہ کرنی چاہیے۔
الحکمۃ ضالۃ مؤمن نظروں سے اوجھل گمشدہ متاع حاصل ہو تو کیا کہنا۔
ملک کا سوادِ اعظم حنفی ہے مگر متعدد حصوں میں بٹا ہوا ہے۔دیوبندی، بریلوی ۔ پھر ان کی شاخیں۔ کوئی اکٹھا کرنے والا مجھے نہیں معلوم کہ یہ نوشتۂ دیوار کیسے جاری ہوا، جس نے بھی مہربانی کی ، مجھ پر بڑا احسان کیا۔ اس گئے گزرے دور میں اس بے باکی سے بلا خوف لومۃ لائم لکھنا بہت بڑی بات ہے۔سید صاحب آپ کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آپکے تمام رفقاء کار کو سلام۔
signature-Khalid-hassan2
مہتمم جامعہ فاطمہ الز ہراجامعہ مسجد نقشبندیہ و عید گا ہ مین بازار کھوکھر کی سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ۔

افسوس کہ وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد اسلام اجنبی بنتا چلا گیا: عتیق گیلانی

افسوس ہے کہ وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد اسلام بتدریج رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق اجنبی بنتا چلاگیا۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج معروف احکام تھے ۔ قتل، بہتان، زنا، چوری منکرات تھے۔ رسول ﷺ کی اللہ وحی سے رہنمائی کرتا۔ بدری قیدیوں پر فدیہ، شہداء اُحدپر انتقام کا جذبہ، سورۂ مجادلہ میں ظہار کا فتویٰ ، کل کی خبر پر انشاء اللہ کہنا، نابینا کی آمد پر چیں بہ جبیں ہونااور رئیس المنافقین کا جنازہ پڑھا دینا ایک ایک بات کے ہر ہر پہلوپر اللہ کی طرف سے وحی کا نزول بڑی نعمت تھی جس کی اللہ نے نبیﷺ پر تکمیل فرمائی۔الیوم اکملت لکم دینکم
اوّل تو کوئی ایسا سپوت اور ماں کا لعل نہیں، جس کی حیثیت رسول ﷺ سے بڑھ کر ہو کہ آپﷺ وحی کی رہنمائی کے محتاج ہوں اور کسی دوسرے کو یہ اعزاز حاصل ہو کہ رہنمائی کی ضرورت نہ پڑے۔ دوسرا یہ کہ ضرورت کی بات نہیں بلکہ وحی کا سلسلہ بند ہوچکا تھا اور اللہ نے وضاحت کردی تھی کہ ’’ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی جو تم سے ہو ، اور اگر کسی بات میں تنازع ہوتو اللہ اور رسول کی طرف اس کو لوٹادو‘‘۔ آیت میں اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم اوراولی الامر سے اختلاف کی گنجائش کیساتھ اطاعت کا حکم ہے اور اگر کسی بات پر تنازع ہو تو اس کو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی طرف لوٹانے کا حکم ہے۔نبیﷺ سے بھی اولی الامرکی حیثیت سے اختلاف کی گنجائش رہی تھی۔ اہل تشیع سے ائمہ اہلبیت کا سلسلہ گم ہوا تو اس آیت کی تفسیر نہ سمجھنے کی وجہ سے گمراہی کا شکار ہوگئے ، ان کو انتظار ہے ، ہمیں ضرورت نہیں ہے۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے آیت کا مفہوم بدلنے کی سازش فرمائی۔ لکھا ہے کہ ’’عوام کو اندھی تقلید کا حکم ہے۔اولی الامر سے مراد علماء ہیں، تنازع سے علماء کے آپس کا اختلاف مراد ہے۔ عوام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت براہِ راست نہیں کرسکتے بلکہ علماء کے ذریعے پابند ہیں ،اگر علماء عوام کی غلط رہنمائی کریں تو عوام کی اس پر کوئی پکڑ نہ ہوگی ۔ اب اجتہاد کا دروازہ بند ہے ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ علم اس طرح سے نہ اٹھے گا کہ آسمان پر اٹھالیا جائے گابلکہ علماء کے اٹھ جانے سے علم اٹھ جائے گا ،یہاں تک کہ جاہلوں کو رئیس بنایاجائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا تو علم کے بغیر فتویٰ دینگے ، پس وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرینگے۔ (بخاری ومسلم)
(تقلید اور اس کی شرعی حیثیت ۔ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، دارالعلوم کراچی)
مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘درج بالا حدیث لکھی ہے ۔ حدیث میں عوام کیلئے کسی قسم کی چھوٹ کاکوئی ذکر نہیں بلکہ جس طرح سے علماء ومفتیان خود گمراہ ہونگے، اسی طرح اپنے معتقدین کو بھی گمراہ کردینگے۔مفتی تقی عثمانی نے ائمہ مجتہدین کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند قرار دیا ہے تو اپنے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیعؒ کے برعکس اسلامی بینکاری کیلئے معاوضہ لیکر اجتہاد کا دروزاہ کھولا ہے یاپھریہ اس گمراہی کا فتویٰ ہے جس سے وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور پوچھنے والوں کو بھی گمراہ کیا؟۔ کیا آیت اورحدیث کے مفہوم کو اس قدر بگاڑنے سے بھی بڑی گمراہی ہوسکتی ہے؟۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودؒ کی جگہ کس نے لی ؟۔
بدر ی قیدیوں کے فدیہ پر ڈانٹ پڑی تھی تو اُحد کے شکست پر سخت ترین بدلہ لینے کی قسم کھائی مگر اللہ نے بدلہ لینے میں بے اعتدالی سے منع کیابلکہ معافی کا حکم دیا۔ قرآن نے تعلیم وتربیت اور حکمت وتزکیہ کی اس انتہا پر صحابہؓ کو پہنچا دیا کہ اللہ کی نازل کردہ آیات کی بھی اندھی تقلید کرنا مزاج میں شامل نہ تھا، اللہ نے ان کی تعریف میں فرمایا: الذین اذا ذکروا باٰیات اللہ لم یخروا علیہا صما و عمیانا ’’ وہ لوگ جنکے سامنے اللہ کی آیات کا ذکر کیا جائے تو اس پر اندھے اور بہرے ہوکر گرنہیں پڑتے ‘‘۔ فاروق اعظمؓ کا ہاتھ دامن رسالت ﷺ سے الجھاکہ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کا جنازہ کیسے پڑھاؤگے جس نے ناموس رسالت ؐاماں عائشہؓ پر بہتان کی افواہ سے مدینے کی فضا میں طوفان برپا کردیا؟۔دامنِ رحمت ﷺنے فاروق اعظمؓکو نظراندازکیا ،اللہ کی طرف سے بھی تائید نازل ہوئی مگرافسوس کہ ؂ زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن
صحابہؓ کے احوال یہ تھے تو رسول اللہﷺ کس درجہ اپنی بصیرت پر عمل پیرا ہونگے؟۔ حکم تھا کہ منافق کی نمازہ جنازہ نہ پڑھ، اور نہ اسکی قبر پر کھڑے ہوں۔ اللہ کے نبیﷺ نے منافقین کی فہرست ایک صحابیؓ کے حوالہ کی اوران کو راز میں رہنے دیا۔ کوئی مولوی ہوتا تو اعلان کردیتا کہ فلاں فلاں منافق ہیں، ان کا جنازہ پڑھنے اور قبر پر کھڑے ہوکر دعا مانگنے سے پرہیز کرو۔ فاروق اعظمؓ نے اس صحابیؓ سے پوچھا: ’’میرا نام تو منافقوں کی فہرست میں نہیں ؟‘‘۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے مگردنیا میں انسے وہ سلوک روا رکھاگیا جو بظاہر قرآنی آیت کے منافی تھا۔ صحابہؓ اس ٹو ہ میں بھی نہ رہے کہ وہ رازدان صحابیؓ کس کا جنازہ پڑھتے ہیں اور کس کا نہیں؟ ۔یہ قرآن میں عزت افزائی سے روکنے کیلئے نبیﷺ کو حکم تھاجس کا عام لوگوں سے تعلق بھی نہیں تھا۔ ریئس المنافقین کے بیٹے سچے صحابہؓ تھے ، جس طرح نبیﷺنے انکا دل رکھنے کیلئے اسکاجنازہ پڑھادیا۔ اسی طرح باقی لوگ اپنے عزیزواقارب اور دوسروں کی دلجوئی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔
منافق کا جنازہ پڑھنے سے اسلام پر فرق پڑنا تو دور کی بات ہے، اگر بالفرض منافق کے پیچھے نماز پڑھ لی تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں اسلئے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ اگر امام کی نماز نہ ہوئی ہو تو صرف امام اپنی نماز لوٹائے، مقتدی کو نماز لوٹانے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ اور فرمایاﷺکہ’’ ہر نیک وبد کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو‘‘۔ اسلام کو جب کم عقل لوگوں کے حوالہ کرکے پیشہ بنایاگیا تو اسلام کی ساکھ بہت متأثر ہوئی ۔ بھارت میں کسی دیوبندی امام نے بریلوی میت کا جنازہ پڑھایا تو مراد آبادی مفتی نے امام کے پیچھے جنازہ پڑھنے والوں کو دوبارہ کلمہ اور نکاح کی تجدید کا فتویٰ دیدیا۔ سب کو کلمہ اوردوبارہ نکاح پڑھائے گئے۔ قائداعظم کا جنازہ دیوبندی شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی ؒ نے پڑھا دیا تھا، ان لوگوں نے کلمے اور نکاح کی تجدید نہیں کی،پھر ان کا کیا بنے گا؟۔
سوال یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کا جنازہ کس نے پڑھایا؟۔ رسول اللہﷺ کی نمازِ جنازہ کی روایت نہیں۔ صحابہؓ نے ٹولیوں میں داخل ہوکر درودپڑھا ۔ شیعہ کا صحابہؓ پر اعتراض ہے کہ خلافت کے مسئلہ پر الجھ کر جنازے کا اہتمام بھی نہ کیا۔ حالانکہ نمازِ جنازہ کی موجودہ شکل وہ نہیں جو نبیﷺ کے دور میں تھی ، ایک صحابیؓ کی میت پر نبیﷺ نے جب دعا مانگی تو صحابہؓ نے خواہش کی کہ اس کی جگہ ان کی میت ہوتی۔ درود پڑھنا نبیﷺ کیلئے مناسب تھا۔ اہل تشیع کے نزدیک نمازجنازہ کیلئے وضو ضروری نہیں اسلئے کہ یہ محض دعاہے، باقاعدہ نماز نہیں اور اہلحدیث کے نزدیک نمازِ جنازہ میں فاتحہ پڑھنا ضروری ہے اسلئے کہ نماز فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ باقی کے ہاںیہ وہ نماز نہیں جس میں رکوع وسجودیا فاتحہ بھی پڑھی جائے۔ حدیث ہے کہ اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعا ’’جب تم میت پر صلوٰۃ پڑھو ، تو اس کیلئے دعا کو خالص کردو‘‘۔ نمازِ جنازہ دراصل دعا ہے۔ہر نماز میں نبیﷺ پر صلوٰۃ ہے۔عام میت کیلئے صلوٰۃ جنازہ میں پہلی اور آخری خصوصی دعا ہے۔
ایک صحابیؓ جنکاتیسری جنس سے تعلق تھا ، مسجد کاخدمت گار تھا، جب انتقال ہوا، تو صحابہؓ نے نبیﷺ کو بتائے بغیر اس کونمازِ جنازہ کے بغیر دفن کردیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا تو انہوں نے بتادیا جس پر نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے اطلاع کرتے،اور جنازہ کے بغیر کیوں دفن کیا؟۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ’’ہم نے سمجھا کہ اس کے جنازے کی ضرورت نہ تھی‘‘۔ نبیﷺ نے تیسرے روزاس کی قبر پر جاکر صلوٰۃ پڑھنے کا اہتمام فرمایا۔ (بخاری شریف)
آج خواجہ سراؤں کے جنازے نظر نہیں آتے ،تو وجہ کیاہے؟۔ فقہ کی کتابوں میں خنسیٰ مشکل کا مسئلہ ہے۔ اگرخواجہ سرا کی جنس 50فی صد مرد کی 50فیصد عورت کی ہو، توجنازہ کیسے ہوگا؟۔ اگر مرد کی جنس زیادہ ہو تو مردوں اور عورت کی جنس زیادہ تو عورتوں والا جنازہ پڑھایا جائیگا۔ میں نے ایک مفتی کے سامنے حقائق کی وضاحت کرنا چاہی تو مفتی صاحب نے کہا کہ ’’شاہصاحب یہ بڑا مشکل مسئلہ ہے جس کو آج تک کوئی حل نہ کرسکا، یہ آپ ہی حل کرسکتے ہیں‘‘۔سوال اس وقت پیدا ہوتا کہ عورت اور مرد کی نمازِجنازہ کی دعا الگ ہوتی، جب دونوں کی دعاایک ہے تو خواجہ سرا کے حوالے سے سوال پیدا کرنا بھی بہت بڑی کم عقلی تھی جس کا خمیازہ خواجہ سراؤں کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ آج تک ایسا کوئی آلہ بھی ایجاد نہیں ہواہے کہ تیسری جنس کی فیصد% پرسنٹیج نکالی جائے۔
درسِ نظامی میں خنسیٰ مشکل کی مثال ابوالاسود دوئلی سے دی جاتی ہے جو بڑا عالم تھا جس نے قرآن پر اعراب لگائے تھے۔ بتایا جاتاہے کہ اسکا شوہر بھی تھا جس سے اسکے بچے تھے اور بیوی بھی تھی جس سے اسکے بچے بھی تھے۔ اسود کا معنیٰ کالا ہے۔ نبیﷺ نے ایک شخص اسود کا نام بدل کر ابیض رکھ دیا( الاصابہ۔ طبرانی)۔ ابوالاسود کنیت سے ضروری نہیں کہ اس کی اولاد میں کسی کانام اسود ہو بلکہ پیشہ ور ملاؤں کی نسبت بھی محض مشکل خنسیٰ کے کسی تخیلاتی شخصیت کی طلسماتی اولاد کی بناپر ہوسکتی ہے۔ موجودہ دور میں جیسے خواتین وحضرات کو دینی علوم کے مدارس میں تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے، اسی طرح خواجہ سراؤں کو بھی اس پیشے سے وابستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ انبیاء کی وراثت درہم ودینار نہیں علم ہے‘‘۔ آج علماء میں انبیاء کرامؑ کے نام پر علم نہیں درہم ودینار کی وراثت ہے ، اگر خواجہ سراؤں کو یہ پیشہ سپرد کردیا جائے تو اہلیت کے بغیر پیشہ ور موروثی نظام کا مدارس سے خاتمہ ہوجائیگا۔ ایک طرف خواجہ سرا ؤں کو معقول عزت مل جائے گی اور دوسری طرف مذہبی مدارس جنسی بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ جب مذہبی شخصیات میں مفادپرستی کا عنصر نہ رہے گا تودین کا حلیہ بگاڑنے والے بھی اپنی غلط روش پر اصرار نہ کرینگے۔ ابوالاسود دویلی کی طرح دین کی خدمت کس نے کی؟۔ قرآن پڑھنے ،پڑھانے والے اعراب کی بدولت کس قدر مستفید ہورہے ہیں؟،یہ ایک بڑے خواجہ سرا کابڑا کارنامہ ہے۔
رسول اللہﷺ اونٹ، خچر، گدھے کی سواری پر جس طرف رخ ہوتا، نماز پڑھ لیتے۔ اسلئے کہ نبیﷺ جانتے تھے کہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرا‘‘۔ اللہ نے دیکھا کہ نبیﷺ کا رحجان کعبہ کی طرف ہے تو بیت المقدس سے منہ موڑ کر کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت عمرؓ نے جنبی ہوکرحالت سفر میں نماز پڑھنا مناسب نہ سمجھا تو نماز نہیں پڑھی اور نبیﷺ نے تائید فرمادی ، جبکہ حضرت عمّارؓ نے غسل کا پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا کافی تھا‘‘۔ قرآن کی آیت میں نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے اور اجازت کی صورت میں نماز پڑھنے اور نہ پڑھنے کی گنجائش ہے ،حدیث میں وضاحت پر مزید اختلافات کا بتنگڑ بنانے کی ضرورت نہ تھی جس نے حضرت شاہ ولی اللہؒ کو بھی تشویش میں مبتلا کئے بغیر نہ چھوڑا تھا۔
علماء کا تو کام اختلافات کے گھوڑے دوڑاکر ثابت کرنا تھا کہ قرآن سمجھنا اور سمجھانا مولویوں کا کام ہے مگر سیدمودودیؒ نے بھی قرآن وسنت کے بجائے عوام کیلئے اختلاف کا شاخسانہ لکھ دیا ۔ یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ مولانا مودودی نے قرآن وسنت کا خلاصہ لکھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ علماء کے ترجمے و تفسیر کا ہی انہوں نے سلیس انداز میں نچوڑلکھ دیاہے۔ اب ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو ملتِ واحدہ بنانے کیلئے قرآن و سنت کا خلاصہ پیش کیا جائے ۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعودؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ کا جنابت میں تیمم سے نماز پڑھنے، نہ پڑھنے پر مناظرہ ہے ۔حالانکہ قرآن وسنت میں حل موجود ہے۔ نظافت کا غلبہ ہو تو نماز نہ پڑھو اور ذوق عبادت ہو تو تیمم سے نماز پڑھو۔خواتین حیض میں نماز نہ پڑھیں تو انوکھامسئلہ نہیں کہ منی سے لتھڑے مردکو نماز نہ پڑھنے کی اجازت ہو۔ اسلام نے جنابت سے غسل کو فرض ،تیمم کو قائم مقام بنادیاتو مسلمان کو بھی کم ظرف نہ ہونا چاہیے۔
نکاح و طلاق ، خلافت و امامت اور عقیدہ ومسلک کے نام پر اختلاف کا متفقہ حل ہے مگر سابقہ امم کی طرح مسلم اُمہ بھی پٹری سے اترگئی ۔ قرآن وسنت کے منشور نے ہمیں امتِ واحدہ بنایا لیکن ہم افتراق وانتشار ، فتنہ وفساد اور انتہاپسندی وشدت کا شکار ہوگئے۔اگر قرآن و سنت کو منشور بنالیا تو ایک ملت بننے میں دیر نہ لگے گی۔شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی ،حنفی اہلحدیث، جماعت اسلامی تمام مذہبی و سیاسی فرقہ وارانہ تنظیمیں خواہاں ہیں کہ دنیا میں اسلام کے معاشرتی، سیاسی ، معاشی اور تمدنی نظام کو غلبہ نصیب ہو اور مسلم ممالک کی ریاستیں بھی چاہتی ہیں کہ دلدل سے نکل آئیں۔
ہم چشم تصور سے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسلامی خلافت قائم ہوگئی ، پاکستان کے گلی کوچوں میں نیم عریاں لباس لونڈیاں گشت کرتی پھرتی ہیں تو دنیا حیران ہوگی کہ شدت پسند وں کی غیرت گوارہ نہیں کرتی تھی کہ ہم اپنے ملکوں میں آزاد اپنے لباس میں گھوم سکیں ،یہ غیرتمند اپنی اولاد کی مائیں بناکر ہمیں اسی حال میں گھمارہے ہیں؟ تصاویر دیکھنے کا حوصلہ گھر گھر میڈیا نے پیدا کردیاہے ورنہ تو یہ بھی بڑی گستاخی لگتی۔ اسلام ایک عالمگیر دین ہے، مشرق ومغرب میں ملتِ ابراہیمی کے درست علمبردار مسلمان ہیں لیکن ملتِ اسلامیہ کو ایک اور نیک ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی ایک بیگم حضرت سارہؑ بڑے درجے کی خاتون تھیں ان کی اولاد میں بہت انبیاء کرام ؑ اور بادشاہ بھی آئے۔ ان میں اسٹیٹس کو کی روایت بھی قائم رہی ہے۔ حضرت سارہؑ کی وجہ سے حضرت حاجرہؓ نے غیر ذی زرع مکہ معظمہ کی بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزاری۔ یوسفؑ سے بھائی خار کھاتے تھے تو پھر سجدہ بھی کرنا پڑگیا۔ حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ نے بادشاہت و نبوت میں اسٹیٹس کو کی زندگی گزاری۔ لی نعجۃ و لہ تسع وتسعون نعجۃ (میرے لئے ایک دنبی اور اسکے پاس 99دنبیاں ہیں)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا کیا تو یہ بنی اسرائیل کے اسٹیٹس کو کو توڑنے اور بنی اسرائیل کے نسلی گھمنڈ کو ختم کرنے کیلئے ان کی تابوت میں آخری کیل تھا۔ ورنہ تو فراعین مصر نے بھی عرصہ تک غلام بنائے رکھاتھا۔جو اللہ کے سامنے انکے نسلی گھمنڈ کو ختم کرنے کیلئے کم حجت نہ تھی، جس کا حضرت موسیٰؑ نے مقابلہ کیا تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو آخری پیغمبر کی حیثیت سے حضرت حاجرہؓ کی اولاد میں مبعوث کر دیا۔ یوں تو خواتین کی زبوں حالی سے مغرب بھی خالی نہ تھا مگر یہاں تو انتہاء تھی زندہ دفن کیا جاتا تھا قرآن کا اسلوب سورۂ تحریم، مجادلہ ،نساء، بقرہ اور احزاب ودیگر سورتوں میں خواتین کے حقوق سے متعلق دیکھا جائے تو بہت زبردست طریقے سے معاملات سمجھ میں آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے حق کو واضح کردیا کہ ناراضگی کی مدت 4چار ماہ ہیں ،اسکے بعد جس طرح4 ماہ10دن کے بعد بیوہ دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد ہے اس طرح یہ بھی آزاد ہے لیکن فقہ کے ائمہ نے بحث شروع کردی کہ طلاق کا اظہار نہ ہونے کی صورت پر طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟۔ مدعا کو نہیں دیکھا بلکہ شوہر کے حق ملکیت پر اختلافات کا شاخسانہ کھڑا کردیا۔ چار ماہ انتظار کے باوجود عورت کے حق کا خیال نہ رہا بلکہ یہ بحث شروع کردی کہ زندگی بھر طلاق نہ ہوگی یا فوری ہوجائے گی؟۔ عورت کا حق ملحوظِ خاطر رہتا تو اختلاف کی گنجائش ہی نہ تھی ، عورت مرضی سے شادی کرلے یا بیوہ کی طرح بیٹھی رہے،پھر شوہر کی مرضی ہو تو معروف طریقے سے رجوع کرلے ،اس کیلئے نکاح خواں کا فیس کھری کرنا ضروری نہیں۔ جیسے دوستوں میں ناراضگی کے بعد صلح ہو تو معاشرے میں احباب کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ چھوٹی بات نہیں کہ جمہور فقہاء کے نزدیک دوسری جگہ شادی حرام ہو اورامام اعظم ؒ کے نزدیک تعلق کی بحالی حرام ہو۔ قرآن نے جو معاملہ حل کیا ، انہوں نے بگاڑدیا۔
اللہ تعالیٰ نے طلاق کا موضوع چھیڑنے سے پہلے مقدمہ بتایا کہ ’’لغو الفاظ سے اللہ نہیں پکڑتا مگر جو دلوں نے کمایا‘‘۔ پھر وضاحت کردی کہ ’’ ایلاء یعنی طلاق کا اظہار کئے بغیر شوہر کیلئے عورت پر چار ماہ کے انتظار کا حق ہے۔ اگر اس میں باہمی رضامندی سے رجوع کرلیا تو ٹھیک ورنہ طلاق کا عزم پہلے سے تھا تو اللہ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ طلاق کے عزم پر اختلاف کی ضروت بالکل نہیں تھی اس میں پکڑ کی بات واضح تھی ، اسلئے کہ عزم کا اظہار نہ ہونے کی صورت میں عدت ایک ماہ زیادہ ہے۔ پھر اللہ نے وضاحت کردی کہ ’’ طلاق کے اظہار کی صورت میں انتظار کی مدت تین ادوار ہیں‘‘۔ جو حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ ہیں۔اس مدت میں بھی صلح کی شرط کیساتھ شوہر کو رجوع کا حق دار قرار دیا گیا۔ مشرقی تقدیس کے علمبردار صلح کی شرط بھول گئے۔ قرآن میں وضاحت ہے کہ رجوع کیلئے اصلاح سے مراد صلح ہے وان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما ’’ اگر صلح کا ارادہ ہو تو اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردے گا‘‘۔ قرآن میں مسلسل عورت کو تحفظ دینے کا مضمون ہے، ناراضگی میں چار ماہ کی عدت ہو، جس میں طلاق کا اظہار نہ ہوا ہو یا پھر طلاق کے اظہار کی صورت میں تین ماہ کی عدت ہو، بہرحال عورت کی عدت بیان کرکے اسکے مستقبل کی ضمانت دی گئی ہے۔
چونکہ شوہر باقاعدہ طلاق کے بعد بھی بیوی کو اپنے ماحول میں مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ ممکن ہے عورت اسکے دوست، بھائی، رشتہ دار، پڑوسی اور حریف یا حلیف سے شادی کرنا چاہے تو کوئی بھی سوچ لے، بیوی کو اجازت دینا بہت مشکل کام ہے، ممکن ہے کہ بیوی کو طلاق کے بعدتمام احتیاطی تدابیر کے باوجود شوہر اپنی مرضی سے اجازت نہیں دے۔ عمران خان نے ریحام کو طلاق دیدی تو اس نے کہا کہ ’’ میں پٹھان ہوں ، جان پر کھیل کر پاکستان آئی ہوں‘‘۔ عمران خان کا اپنے کسی حریف یا حلیف سے شادی میں غیرت کھانا کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ قرآن میں جس بھی خاص صورتحال کے بعد طلاق کی صورت میں شوہر کیلئے حلال نہ ہونے کی بات ہے، یہاں تک کہ کسی دوسرے شوہر سے وہ عورت نکاح نہ کرلے۔ یہ بھی عورت کے حقوق کے تحفظ کیلئے بات تھی۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس آیت کے پیش نظر اس حدیث کو مسترد کیا، جس میں ولی کی اجازت کے بغیراگر شادی کرلی تو اس کے نکاح کو باطل قرار دیا گیاہے ۔ حالانکہ آیت میں طلاق کے بعد عورت کی رضا کاذکرہے اور بدقسمتی سے اب بھی مشرقی معاشرے میں اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔
قرآن کے مدعا کو نبی کریمﷺ نے درست سمجھ لیا تھا، نبیﷺ کی وفات کے بعد بھی قرآن میں نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ سے شادی نہ کرنے کی پابندی لگائی گئی کہ یہ اذیت کا باعث ہے، اور انصار کے سردار سعد بن عبادہؓ کیلئے بھی بخاری میں ہے کہ وہ طلاق کے بعد دوسری جگہ شادی نہ کرنے دیتے تھے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں آج بھی طلاق شدہ اور بیوہ پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ عورت کی مخصوص علاقوں، قوموں اور پڑوسیوں سے شادی نہیں ہوسکتی ہے۔ قرآن کے اصل حکم پر تو آج تک عمل نہیں ہوسکا،مگر تمام حدود وقیود کو پھلانگ کر حلالے کیلئے عجیب وغریب راستے نکال لئے گئے۔علماء ومفتیان ضد اور ہٹ دھرمی بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں،لوگوں کے گھر تباہ ہورہے ہیں اور ان کو اپنی ساکھ کی پڑی ہے۔ قرآن میں بار بار عدت کے حوالہ سے رجوع کا ذکر ہے لیکن علماء نے طلاق کو مذاق سے بڑھ کر پتہ نہیں کہاں سے کہاں تک پہنچایا تھا ، میں ثریا سے ڈھونڈ لایا ہوں۔
علامہ انورشاہ کشمیریؒ نے کہاکہ ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ مالٹا کی جیل رہائی پر بدلے، جس پر مولانا عبیداللہ سندھیؒ کاربند ہوئے ۔ پھر مفتی شفیعؒ نے بھی مدارس کو بانجھ قرار دیا۔ ہر اکابر قبر جاتے ہوئے پشیمانی کا اظہار کریگا یا جوانی میں بھی اپنا رویہ بدلے گا؟۔ امام ابوحنیفہؒ نے جوانی علم کلام میں گزاری پھر توبہ کیا فقہ کی طرف توجہ دی، امام غزالیؒ نے فقہ میں جوانی گزار دی پھر اس کو گمراہی قرار دیکر تصوف کا رخ کیا،ہم نے فقہ و تصوف کو دیکھ کر جوانی میں اسلامی روح مسلم امہ کے ڈھانچے میں ڈھالنے کی جدوجہدکی اور اللہ نے راہیں کھولیں اے دوجہاں کے والیؐ! ہم تیرے باغ کے مالی! شریعت تیری نرالی! اک ہاتھ سے بجی تالی، مشکل گھڑی بھگتالی سیکھی نہیں دلالی،کچھ مدت سستالی یہ دکھڑی بجالی، دکان اپنی جمالی روٹھی دنیا منالی رت جگے کی جگالی بروزِجمعہ آندھی کالی، سودی شریعت بنالی نہیں محترمہ سالی، زمزم جعلی گندی نالی حق بات لگتی ہے گالی، دین کی یہ رکھوالی؟ شریعت بیچ کے کھالی، زوردار ہوا نکالی دولت کمالی جھولی خالی، کس نے قسمت جگالی کس نے دُم دبالی، یہ کیاہے لااُبالی حلالہ پر نہیں ملالی؟ اپنے مرشد کی دعالی بگڑی قوم سدھالی ،علماء کی بلالی نویدِ انقلاب کی صبالی، گانانہیں قوالی تربت پہ بنکے سوالی، جان کی پڑی لالی جاہل نے خاک شفالی،رگ رگ دُکھالی تواپنی آنکھ چرالی، خطِ استوالی توصیف وشتالی، اُمت میں اعتدالی غزالی وابدالی، یہ جمالی وہ جلالی دوعالم کی جزاء لی، خونِ جگر کی ضیاء لی مردہ روح جِلالی، جذبہ خیرسگالی پاک پرچم ہلالی ،قیادت کی نقالی بہت بڑی دجالی!۔عتیق گیلانی

یہود کا توراۃ،علماء کاقرآن سے انحراف اور خلافت

اللہ نے فرمایا:’’ اور یہ کیسے آپ (ﷺ) کو فیصلہ سپرد کرینگے؟اور انکے پاس توراۃ ہے جس میں اللہ کا حکم ہے ۔پھر انہوں نے اس سے منہ موڑلیا، اور یہ ایمان لانے والے نہیں۔ بیشک ہم نے توراۃ اتارا۔ اس میں ہدایت اور نور ہے،اسکے ذریعے انبیاء فیصلے کرتے، یہود میں ان لوگوں کیلئے جوسرتسلیم خم تھے، اسی طرح ربّانی مشائخ و علماء بھی انبیاء کی وراثت کا حق ادا کرتے ہوئے عوام کے درمیان فیصلے کرتے تھے بسبب اسکے کہ ان کو اللہ کی کتاب پر نگران مقرر کیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے علماء ومشائخ ) لوگوں سے مت ڈرو، تم مجھ سے ڈرو اور میری آیات تھوڑی قیمت کے عوض فروخت نہ کرواور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تووہی لوگ کافر ہیں۔(مذہبی لوگو! سوچئے)
اور ہم نے ان پر لکھا جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور جس نے معاف کردیا تو یہ اس کیلئے کفارہ ہے۔ اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(حکمرانو! ذرا سوچئے)
اور ہم نے پھر انکے آثار کے نقش پر چلایا عیسیٰ ابن مریم کو ، تصدیق کرنے والا توراۃ میں جو تھا، اور ہم نے ان کو انجیل دی ، جس میں ہدایت اور نور ہے ، جو تصدیق کرتاہے جو توراۃ میں ہے اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کیلئے اور فیصلہ کریں اہل انجیل جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔(عوام الناس ! ذرا سوچئے)
اور (اے خاتم الانبیاءﷺ) ہم نے تیری طرف کتاب نازل کی حق کے ساتھ جو تصدیق کرتی ہے (پہلے سے نازل شدہ) الکتاب کی اور اسکی محافظت کرتی ہے۔ پس انکے درمیان فیصلہ کریں اس پر جو اللہ نے نازل کیا۔ اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اس سے جو حق تیرے پاس آچکاہے۔ ہرایک کیلئے تم میں سے ہم نے شریعت اور طریقۂ کار بنایا۔ اگر اللہ چاہتا تو ایک ہی امت تم کو بناتا لیکن وہ تمہیں آزمانا چاہتاہے جو کچھ تمہیں دیاہے اس میں۔ پس بھلائی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرو۔ اللہ کی طرف ہی تمہارا ٹھکانہ ہے۔پس وہ بتادیگا ،جس پر تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
اور پس (یا نبی!)انکے درمیان اللہ کے نازل کردہ کیمطابق فیصلہ کرواور انکی خواہشات پر نہ چلو اوربچوان سے کہ آپکو آپکی طرف نازل کردہ بعض احکام سے فتنہ میں نہ ڈالیں اوراگرو ہ پھریں تو سمجھ لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ انکے بعض گناہوں کے بدلے انکو پہنچے۔ بیشک لوگوں میں اکثر فاسق ہیں، کیا یہ جاہلیت کا حکم ڈھونڈتے ہیں اور اللہ سے اچھا حکم کس کاہے؟، اس قوم کیلئے جو یقین رکھتے ہیں۔اے ایمان والو!یہود و نصاریٰ کو اپنے فیصلے اولیاء مت بناؤ، یہ بعض بعض کے ولی ہیں۔جو ان کو اپنا سرپرست بنالے تو وہ انہی سے ہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتاہے۔ (المائدہ: آیات:43تا51)
1: پہلی بات یہود کے بارے میں ہے ’’یہ کیسے آپﷺ کو فیصلہ کا اختیار دینگے؟۔ انکے پاس توراۃ میں اللہ کا حکم ہے ، حفاظت کی ذمہ داری انکے علماء ومشائخ پر ڈالی گئی اور جان کے بدلے جان ۔آنکھ، ناک، دانت، کان اور زخموں کے بدلے کا حکم تھا۔ اللہ کے احکام میں تحریف کرکے کفر کا راستہ اپنایا اور انصاف کے تقاضوں پر عمل نہ کرکے ظالم بن گئے۔ اگر انہوں نے انصاف کرنا ہوتا تو آج بھی کرسکتے ہیں لیکن جب اپنے ہاں واضح انصاف کے تقاضہ پر عمل نہیں کرتے تو آپﷺ سے کیسے انصاف مانگنے کیلئے آئیں گے؟‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ نے توراۃ اور قرآن کیمطابق جان کے بدلے جان کا مسلک قائم رکھا، ورنہ باقی امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد حنبلؒ جمہور نے بھی یہود کی طرح انحراف کیا تھا کہ کافر کے بدلے مسلم کو قتل نہ کیا جائیگا۔آج دنیا کی سطح پر قرآن، توراۃ اور حنفی مکتب کی بنیاد پر عادلانہ نظام قائم ہوسکتا ہے۔ کوئی ملک بھی اس سے کھل کر انحراف کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ پاکستان سے کینیڈا، بیت اللہ سے بیت المقدس ،امریکہ سے ایران، فرانس سے چین، بھارت سے افریقہ دنیا بھرشمال ،جنوب ، مشرق اور مغرب کااس پر اتحادہوسکتاہے۔
2:دوسری بات یہ ہے کہ ’’ اللہ نے علماء ومشائخ اور حکمرانوں پر عام لوگوں کی نسبت سخت فتوے لگادےئے ۔ ہم نے پہلے ’’پاکستان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز‘‘ نامی کتابچے میں اسکی بھرپور وضاحت بھی کی تھی جس کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے تائید سے نوازا تھا۔ علماء ومشائخ اگر اللہ کے احکام کے برعکس تھوڑی قیمت کے بدلے دین کو بیچ دینگے تو ان پر کفر کا فتویٰ لگا ہے اور اگر حکمران اللہ کی کتاب پر انصاف نہ کریں تو ان پر ظالم کا فتویٰ لگا ہے اور عوام اللہ کے احکام پر نہ چلنے کا فیصلہ نہ کریں تو ان پر فاسق کا فتویٰ لگا ہے‘‘۔
3:تیسری بات ان آیات میں ہے کہ ’’ یہود نے احکام میں خواہش سے تحریف کی ،قرآن میں اللہ کے احکام محفوظ ہیں، اگر انکی خواہش پران کو بھی قرآن کے مطابق فیصلہ نہ دیا تو ہم قرآن کے بعض احکام سے بھی فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ اگر یہود ہمیں اپناحاکم بنالیں تو ہم نے قرآن ہی پر فیصلہ کرنا ہے، قتل، آنکھ، ناک ، کان اور زخموں کا بدلہ تو توراۃ وقرآن میں یکساں تھا اسلئے انصاف کے تقاضے پر عمل کرکے فیصلہ کرنا ہوگا لیکن کوڑے اور سنگساری کی سزا میں فرق ہے۔ ہم نے ان کی خواہش پر ان کو بھی سنگسار نہیں کرناہے۔
جب ان کی کتاب کے مطابق ہم ان کیلئے فیصلہ نہ کرنے کے پابند ہیں تو ان کو اپنے فیصلے کا اختیار دینے کی ولایت کیسے سپرد کرسکتے ہیں؟۔ اولیاء سے مراد دوست نہیں بلکہ والی وسرپرست ہے، جیسے عورت کا سرپرست اس کا ولی ہوتاہے، اہل کتاب کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا دوستی ہے؟۔داعش عورت کوسنگسار کرنے کی سزا قرآن نہیں توراۃ کے مطابق دیتی ہے اور دنیا میں بدنام اسلام ہورہاہے۔ عوام کو بتانا ہوگا کہ بے نمازی کی خود ساختہ سزا کا تصور غلط ہے ۔زنا، بہتان، چوری ، قتل ، آنکھ، ناک وغیرہ کے بدلہ سزا پر عمل نہیں ہورہا،صرف حلالہ کی سزا کیلئے ہر راستہ اپنایاہے۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان کے حوالہ سے پرویزی ٹولے نے اسلامی مساوات کی بیخ کنی کرکے فرقہ واریت کا بیچ بودیاہے جس کا خمیازہ پاکستان بھگت رہاہے۔
مسلم اُمہ قرآن اور حقائق سے روشناس ہو تو فرقہ واریت کا خاتمہ بھی ہوسکے گا اور نبیﷺ کی پیش گوئی کے مطابق دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت بھی جلد سے جلد وجود میں آجائیگی۔علماء ومشائخ اور مسلم ریاستوں کا ہٹ دھرمی پر قائم رہنامشکل ہے لیکن اسلام کا درست تصور اجاگر کرنا ہوگا ۔عتیق گیلانی