پوسٹ تلاش کریں

آرمی چیف کایہ کردار؟

آرمی چیف کایہ کردار؟
آرمی چیف سید عاصم منیر کی ویڈیو وائرل۔ بچی کہہ رہی ہے کہ وڈیرہ سیلاب کا پانی ہماری طرف چھوڑ تاہے۔ آرمی چیف نے کہا :” یہ اب نہیں چھوڑے گا”۔
مزارع وڈیروں کا غلام۔ سیاستدان وڈیرے کو خوش رکھتا ہے تو وڈیروں اور مزارعوں کا ووٹ ملتا ہے۔ سیاستدان فوج کا غلام ۔چاہا2تہائی اکثریت دلائی اورچاہا ٹنگاٹولی کرکے پھینک دیا۔ مزارعوں کا بادشاہ وڈیرہ ، وڈیروں کا بادشاہ سیاستدان ، سیاستدانوں کا شہنشاہ معظم آرمی چیف اسلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ”بول دیا اب پانی نہیں آئے گا”۔پورے سندھ میں مزارعین پر پانی چھوڑا گیا تھامگرکون کس کس کو بچائے گا؟۔ آرمی چیف اشفاق پرویزکیانی نے زرداری سے ایکسٹینشن لی تو نوازشریف کہہ رہاتھا کہ میں کبھی نہ دیتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ضرورت پڑی تو سب غلاموں نے آقا کو ایکسٹینشن دی ۔20منٹ میں قانون بنادیا اور مزید ایکسٹینشن کھاتہ بھی کھول دیا ۔ عمران خان نے میر صادق، میر جعفر کہا تو واضح کیا کہPDMکو کہا۔DGISIنے کہا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو آئندہ کی پیشکش بھی کی تھی تو عمران خان نے تصدیق بھی کردی۔
اللہ نے سود کو حرام قرار دیاتونبی ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا ۔مزارع آزاد ہوا تو اسلام کو فتوحات ملیں۔ کراچی کے علماء ومفتیان نے حاجی محمد عثمان پر فتوے لگائے ۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق ،میرے استاذ مولانا فضل محمد، جنرل ضیاء الدین بٹ ، کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت کئی علماء اور فوجی افسر حاجی عثمان سے بیعت تھے مگر آزمائش کی کچھ ہوائیں چل گئیں تو فوجی افسر اور علماء سرپٹ گھوڑوں کی طرح بھاگ گئے۔ ملک اجمل نے محترمہ صبیحہ اخلاق کی کتاب ”عالمگیریت” کے افتتاح کے موقع پر بابا فرید کا یہ شعر سنایا کہ
پنج رکن اسلام دے چھٹا رکن ٹک جے نہ لبے چھیواں تے پنجے جاندے مک
پنجابی میں ٹک روٹی کو کہتے ہیں اگر روٹی نہ ملے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہزار سال میں تاریخ کا مختصر ترین خطبہ

ہزار سال میں تاریخ کا مختصر ترین خطبہ

صعد المنبر و قال: لقمة فی بطن جائع
خیر من بناء الف جامع…
و خیر ممن کسا الکعبة و البسھا البراقع
و خیر ممن قام اللہ راکع۔۔۔
وخیر ممن قام للکفر بسیف مھند قاطع
وخیر ممن صام الدھر و الحر واقع۔۔
واذا نزل الدقیق فی بطن جائع
لہ نور کنور الشمن ساطع
فیا بشریٰ لمن اطعم جائع

شیخ عبدالقادر جیلانی نوراللہ مرقدہ منبر پر چڑھے اور فرمایا:
ایک لقمہ بھوکے کے پیٹ میں ہزار جامع مسجد بنانے سے بہتر ہے۔اور اس سے بہتر ہے جو کعبہ پر غلاف اور برقعے چڑھاتے ہیںاور اس سے بہتر ہے جو اللہ کیلئے قیام ورکوع کرتے ہیں۔اور اس سے بہترہے کہ جو اللہ کی راہ میں کفر کے خلاف چمکدار تیز تلوار سے کھڑے ہوتے ہیںاور اس سے بہتر ہے جو زمانہ میں روزہ رکھتے ہیں گرمی کی حالت میں۔ جب کچھ بھوکے کے پیٹ میں اترتا ہے تواس کیلئے نور چمکتا ہے جیسے چمکدار سورج کی روشنی چمک رہی ہوتی ہے۔
اے خوشخبری! جو بھوکے کو کھانا کھلائے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

2سالہ یحییٰ نے قرآن حفظ کرکے بڑا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

2سالہ یحییٰ نے قرآن حفظ کرکے بڑا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ایک شخص نے خواب میں مجھ سے کہا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص تجھے بلارہے ہیں ۔ یحییٰ کی والدہ

انتہائی پروقارابوبکر صدیق کا بتایا تو مجھ پر ہیبت طاری ہوئی،سیدنا سعد نے فرمایا یہ موتی تمہارا ہے یہ لو!۔

اس بچے کی عمر صرف 2سال ہے۔ افریقی عرب ملک الجزائر میں جنم لینے والے اس بچے کی دنیا میں دھوم مچ چکی ہے۔ اس کو قدرت کی عظیم نشانی اور زندہ معجزہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ سب سے کم عمر حافظ قرآن کا اعزاز حاصل کرچکا۔ اس کا نام یحییٰ ہے جو الجزائر کے چھوٹے علاقہ البلیدہ کا رہنے والا ہے۔ یہ قرآن کا پکا حافظ ہے۔ یہ سوائے قرآن، مختصر احادیث اور مسنون دعاؤں کے ایک لفظ نہیں بول سکتا۔ اخباری رپورٹس کے مطابق اگر یحییٰ سے کہا جائے کہ سائیکل یا چاکلیٹ کہوتو وہ یہ الفاظ ادا نہیں کرسکتامگر روانی سے قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ الجزائراور عرب ممالک کے اخبارات اور ٹی وی چینلز یحییٰ کی زندگی پر اسٹوریز نشر کررہے ہیں۔ اسکے والدین اور خاندان کے انٹرویوز لئے جارہے ہیں۔ اس کے گاؤں کے لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ ہم یحییٰ کے گاؤں میں رہتے ہیں۔ قرآن کی برکت سے 2سالہ بچہ اپنے گاؤں کی پہچان اور فخر بن چکا ۔ لوگ بچے کو ٹی وی پر کلام کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ جبکہ اسکے متعلق پڑھنے والے بھی حیران ہونے کیساتھ ساتھ چونک جاتے ہیں۔ الجزائر کا سب سے بڑا اخبار ”الشروق” ہے۔ اس اخبار نے معجزاتی بچے اور اسکے والدین سے ملاقات کرکے خصوصی رپورٹ چھاپی ۔ جس میں یحییٰ کی اسٹوری کو چونکا دینے والی اور سمجھ میں نہ آنے والی قرار دیا۔ یحییٰ کے والدین بہت دیندار، پنج وقتہ نمازی ،پرہیزگار اور بااخلاق اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ اللہ اپنے نیک لوگوں کو اسی طرح انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ ”الشروق” اخبار کو یحییٰ کی والدہ نے انوکھی بات بتائی کہ یہ بچہ میرے پیٹ میں تھا تو عجیب و غریب خواب دیکھا۔ ایک اونچی اور خوبصورت جگہ صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہے۔ میں بہت خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص تجھے بلارہے ہیں۔ جب وہ خواب میں اس طرف چل پڑیں تو اسی شخص نے ایک انتہائی پروقار بزرگ شخص کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ سیدنا ابوبکر صدیق ہیں۔ یہ سن کر مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی۔ جب میں سیدنا سعد بن ابی وقاص کے پاس پہنچی تو وہاں ایک سفید رنگ کی دیوار تھی۔ جس کے اندر ایک انتہائی چمکدار موتی جڑا ہوا تھا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص نے مجھ سے فرمایا کہ یہ موتی تمہارا ہے اسے لے لو۔ انکے کہنے پر میں نے اس موتی کو دیوار سے نکال لیا۔ جسکے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ میں خواب کے متعلق کسی اچھے عالم دین کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی کہ اسی دوران ایک اور خواب دیکھا کہ میں کعبہ شریف کے سامنے مطاف میں ہوں۔ وہاں سب لوگ میرے لئے جگہ بنارہے ہیں۔ مجھے بڑے احترام سے کعبہ شریف میں لیجایا جاتا ہے۔ اسکے بعد بچے کی ولادت کے دن قریب آئے تو خواب میں مجھے کسی نے ندا ء دی جس میں سورہ مریم کی 7ویں آیت مجھے سنائی گئی۔ اس آیت کا ترجمہ یوں ہے ”اے زکریا! ہم آپ کو ایک بیٹے کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا ”۔ یحییٰ کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ آیت پہلے انہیں یاد نہیں تھی۔ خواب میں سننے کے بعد ذہن میں آگئی اور پھر وہ بچے کی پیدائش تک اس آیت کو پڑھتی رہیں۔ بچہ پیدا ہوا تو خواب کے مطابق اس کا نام یحییٰ رکھ دیا۔ بچے کے دائیں ہاتھ کی6انگلیاں ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ اضافی انگلی کیساتھ یحییٰ کا سیدھا ہاتھ ایسا لگتا ہے جیسے اللہ کا بابرکت نام اللہ لکھا ہے۔ یحییٰ کی خالہ کا کہنا ہے کہ یہ عام بچوں کی طرح روتا ہے لیکن جیسے ہی قرآن کی تلاوت اسے سنائی جاتی ہے یہ فوراً خاموش ہوجاتا ہے۔ یحییٰ کے اہل خانہ اس وقت حیرت میں مبتلا ہوئے جب اس کی عمر 1برس ہوئی تو اس نے دیوار پر لگے فریم کی جانب اشارہ کیا اور اس پر لکھے کلمہ طیبہ کو پڑھنے لگا۔ اسکے بعد یحییٰ قرآن کھول کر آیات سجدہ ڈھونڈ کر پڑھنے لگا۔ یحییٰ 2سال کا ہوچکا تھا لیکن وہ بہت زیادہ تیز ہے۔ اسے اپنے ہم عمر بچوں کی طرح کھلونوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اگر ننھے عاشق قرآن کو کلام پاک یا کوئی کتاب نہ ملے تو وہ ٹی وی پر قرآن کی تلاوت سنتا رہتا ہے۔ اگر کوئی یحییٰ کے سامنے تلاوت کرتے ہوئے غلطی کرجائے تو اس کی گویا شامت آجاتی ہے۔ یہ پیدائشی حافظ اس سے لپٹ جاتا ہے اور اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اس سے غلطی کی اصلاح نہ کرالے۔ حفظ قرآن کیساتھ رفتہ رفتہ یحییٰ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ وہ اب مشہور قراء اور مشائخ میں فرق کرنے لگا ہے۔ جبکہ اسے قرآن کی مکی اور مدنی سورتیں بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ اسکے سامنے کسی سورہ کا نام لیں اور وہ عمدہ انداز اور قواعد و تجوید کا بھرپور لحاظ رکھتے ہوئے اپنی توتلی زبان سے کلام پاک پڑھنے لگتا ہے۔ کسی آیت کا ایک لفظ پڑھا جائے تو وہ آگے پڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ یحییٰ نے اگرچہ کسی سے سیکھا نہیں ، نہ سیکھنے کی عمر ہے مگر ہر سورہ کے شروع میں بسم اللہ پڑھتا ہے۔ لیکن سورہ توبہ بغیر بسم اللہ کے پڑھتا ہے ۔ یحییٰ خاموش رہتا ہے مگر اپنی ماں کیساتھ قرآن کی ان آیات کی تلاوت شروع کردیتا ہے جن میں عذاب سے ڈرایا گیا ہو۔ یا نعمتوں کی خوشخبری سنائی گئی ہو۔ اس کی یہ عجیب حرکات دیکھ کر اس کی ماں کو تشویش لاحق ہوئی کہ اس کا بچہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار تو نہیں۔ وہ اسے نفسیاتی امراض کے ماہرین کے پاس لے گئی۔ مگر ڈاکٹروں نے تسلی دی کہ بچے کو کوئی بیماری لاحق نہیں۔ ماں بچے کو مشہور عامل کے پاس لے گئی کہ کہیں اس پر جنات کا سایہ تو نہیں۔ عامل نے کہا کہ اس پر جن کا اثر نہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا معجزہ ہے۔ والدہ معجزاتی بچے کو دین کا علم سکھانا چاہتی ہے ۔ یقین ہے کہ بیٹے سے دین حنیف کی غیر معمولی خدمت لی جائے گی۔الجزائر کے 3سالہ حافظ قرآن عبد الرحمن الفارع نے پوری دنیا میں دھوم مچائی تھی۔ دوبئی حفظ قرآن کے مقابلے میں پہلی پوزیشن دیکر دنیا کا کم عمر ترین حافظ قرار دیا گیا تھا۔ مگرگذشتہ ماہ الجزائر میں ہونیوالے مقابلے میں یحییٰ کو دنیا کا نوعمر ترین حافظ قرار دیکر اسے ایوارڈ سے نوازہ گیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

ادفع بالتی ھی احسن فاذالذی بینک و بینہ عداوة کانہ ولی حمیم
دفع کرو اس کیساتھ جو بہترین ہے تو پھروہ شخص آپکے اورجس کے درمیان دشمنی ہے گویا کہ وہ گرمجوش دوست تھا

الدنیا ثلاث ایام الأمس عشناہ ولن یعود والیوم نعشہ ولن یدوم الغد لا ندری أین سنکون فصافح و سامح ودع الخلق للخالق فأنا و أنت و ھم راحلون لا تحاول أن تبحث عن الوجہ الثانی من أی شخص حتی لو کنت متأکد أنہ سییء یکفی أنہ احترمک و أظھر لک الجانب الأفضل منہ جمال العقل بالفکر و جمال اللسان بالصمت و جمال الوجہ بالأبتسامة وجمال الفؤاد بالنقاء و جمال الکلام بالصدق و جمال الحال فی الأستقامة علمتنی الحیاة ان العقل لا یقاس بالعمر فکم من صغیر اِذا تکلم أنصت لہ الکبار وکم من کبیر أذا تکلم ضحک علیہ الصغار
اِذا مات القلب ذھبت الرحمة واِذا مات العقل ذھبت الحکمة
و اِذا مات الضمیر ذھب کل شیئ
دنیا تین دن ہے۔ کل جو ہم نے جیاوہ کبھی واپس نہیں آئیگااور آج ہم جیتے ہیںمگر اس میں دوام نہیں۔کل نہیں معلوم کہ ہم کہاں ہونگے۔پس درگزر سے کام لواور مخلوق کو خالق کیلئے چھوڑ دو۔ پس میں ، آپ اور وہ سب مرینگے۔ کوشش نہ کرو کہ کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرواگرچہ آپ کو یقین ہوکہ وہ برا ہے ، کافی ہے کہ آپ کی عزت کرتا ہے اپنا اچھا دکھاتا ہے، عقل کی خوبصورتی فکر کیساتھ ہے زبان کی خوبصورتی خاموشی ، چہرے کی خوبصورتی مسکراہٹ، دل کی خوبصورتی صفائی، کلام کی خوبصورتی سچائی ہے، حال کی خوبصورتی استقامت کیساتھ ہے۔ مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ عقل کو عمر پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ پس کتنے چھوٹے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو بڑے خاموش ہوجاتے ہیں اور کتنے بڑے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو چھوٹے ان پر ہنستے ہیں۔ جب دل مرتا ہے تو رحمت جاتی ہے۔ جب عقل مرتی ہے تو حکمت جاتی ہے۔ جب ضمیر مرتا ہے تو ہر چیز چلی جاتی ہے۔
٭٭

بھیڑیاپنجے سے اُٹھائے وہ باز بھی پرندہ،آذان گائے مرغی زبان دراز بھی پرندہ
تلوار اٹھائے وہ بھی آدمی..سود جائز..

جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم
لڑو کافروں کیساتھ اور منافقوں کیساتھ اور ان پر سختی کرو۔

لیس کل من یطلق علیھم رجال ھم رجال فکلمة ”الطیر” تجمع الصقر والدجاجة النقاش مع الجہلاء مثل الرسم علی الماء فمھما أبدعت فلن یحدث شیء اِذا رأیت صدیقک مع عدوک فاِعلم أن الاِ ثنین أعدائک أحدھم جھرا والأخر سرا اِذا فشلت فی تحقیق أحلامک فغیر أسالیبک لا مبادئک فالأشجار تغیرأوراقھا ولیس جذورھا علمتنی الحیاة أن لا أسأل الکاذب لماذا کذبت؟ لانہ حتما سیجیبنی بکذبة أخری لا تعامل کل الناس بأسلوب واحد فلیس کل المرضیٰ یأخذون نفس الدواء اِذا فضحھم اللہ أمامک وأسقط أقنعتھم واحدا تلوی الأخر فاِعلم أن اللہ یحبک لأنہ أراک حقیقتھم
نہیں ہے تمام وہ لوگ مرد جن پر مردوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ پس پرندے کا لفظ شاہین اور مرغی دونوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ جاہلوں کیساتھ مناقشہ پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے۔پس کبھی کوئی چیز ظاہر ہو تو بھی اس کا کچھ نہیں بنے گا۔ جب تم اپنے دوست کو اپنے دشمن کے ساتھ دیکھ لو تو جان لو کہ دونوں تمہارے دشمن ہیں۔ ایک ظاہر میں اور دوسرا چھپا ہوا۔ جب تم اپنے خوابوں تک رسائی میں ڈگمگاؤ تو اپنے طریقہ کار کو بدل دو۔ نہ کہ اپنے اُصولوں کو۔ پس درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں نہ کہ اپنی جڑوں کو۔مجھے زندگی نے یہ سکھایا ہے کہ جھوٹے سے نہیں پوچھوں کہ تم نے کیوں جھوٹ بولا؟۔ اسلئے کہ وہ حتمی طور پر ایک اور جھوٹ بول دے گا۔ سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ مت کرو۔ پس ہر مریض کیلئے ایک طرح کی دوا نہیں ہوتی ہے۔ جب اللہ ان کو تمہارے سامنے رسوا کردے اور ان کے چہروں سے ایک کے بعد دوسرے نقاب اتریں ۔پس جان لو کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے اسلئے کہ اللہ نے ان کی حقیقت دکھائی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

فلسطین کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان مار کھائیں اور ہم چندے کھائیں۔بلکہ ایک مؤثر رابطے کے ذریعے سے فلسطینیوں کو مشکلات سے نکالنا عالم اسلام اور عالم انسانیت کا فریضہ ہے۔

خدائی امریکہ کی نہیں ۔ خدائی اللہ کے پاس ہے۔ سپر پاور نہیں ۔ سپریم پاور اللہ ہے۔ پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، جفاکشی کے اقدامات کرنے پڑے تو کرینگے۔ ہم گولیوں، بموں کا سامنا کرینگے۔ نہ امریکہ نہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست دے سکتی ہے۔ ہمارا جہاد چندہ بھیجنا ہے،اسرائیل کے ختم ہونے تک جاری رہیگا۔مفتی تقی عثمانی کی تقریر
آپ صرف اور صرف عالمی سُودی نظام کا بائیکاٹ کریں،بس!
یہ تقریر میں بھی آذانیں پڑھ رہے ہیں۔ آذان بھی مجاہد والی نہیں جو دوسروں کو ڈرائے ۔ مُلا والی جو خود کو ڈرا تا ہے یا چندے کا بہانہ ہے؟

عربی شاعرہ پکار کر کہہ رہی ہے کہ عرب کی غیرت، غضب شرافت، قہر کہاں ہے؟۔ عربی لڑکیوں نے اسرائیل کو بددعا اور فلسطین کو دعائیں دیں۔ یہودی اسرائیل کیخلاف نکلے۔ سردار محمد اکمل سینئرایڈوکیٹ ہائیکورٹ خانپور نے کہا عتیق گیلانی مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر لکھے۔ افغانستان، عراق کا بیڑہ غرق کیاگیا تو پاکستان وایران نے کونسا تیر مارا؟۔ حکمران سفارتی تعلق ختم اورطبل جنگ بجاتا ہے۔عیسائی و کمیونسٹ ممالک نے مسلم ممالک سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔
حماس نے عسقلان پرحملہ کیا،اسرائیل نے مظالم کی آخری حد کی۔ امریکی جنگ میں4لاکھ افغانی ،80ہزارپاکستانی ہلاک ہوگئے۔میڈیا کو کوریج اور شہید لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ملاعمرو ملا ضعیف بے گناہ تھے مگر طالبان کا خاتمہ کیا۔ امریکہ نے عراق کو تباہ کیا۔ لیبیا کی عوام سے قذافی کا خاتمہ کرایا۔ افغانی اور پاکستانی نے ایکدوسرے کومارا۔ عراق، لیبیا اور شام میں ایکدوسرے کا قتل ہوا۔اس بچی کا پورا خاندان اسرائیل نے شہید کیا تو اس نے رو روکر کہا کہ ”کا ش میں بھی اپنی ماں کیساتھ مرجاتی”۔
ایک عرب خاتون نے کہا کہ ” دنیا میں5%عرب دنیا کا50فیصد اسلحہ خریدتے ہیں دنیا کے60%وسائل رکھتے ہیں۔ آپس میں لڑیں تو خطرناک اسلحہ استعمال کرتے ہیں مگر اسرائیل کیخلاف صرف بددعا دیتے ہیں”۔
ابوعبیدہ نے خالد بن ولیدکا حوالہ دیا کہ اسلام قبول کرو ، یا جزیہ دو یا پھر لڑائی۔ تمہارا واسطہ ان سے پڑا ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔عربی علماء کا مذاق بنا کہ:”عرب لڑکیاں ابوعبیدہ کے فتنہ میں مبتلا ہو رہی ہیںمگر یہ مجبوری ہے”۔ن لیگی صحافی نے کہا ” خواتین فتنہ عمرانی میں مبتلاء ہیں”۔ بداخلاقی کا طوفان برپا ہے، جاویدچوہدری نے فلسطین کو شیعہ مسئلہ قرار دیا۔ خطرہ ہے کہ شیعہ کو یہود اور پاکستان کو اسرائیل سے بدتر قرار دیکر خانہ خرابی شروع کرنے کا معاملہ نہ ہو؟۔
سعودی عرب میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر مذہبی طبقہ گرفتار ہور ہاہے وہ سمجھتے ہیں کہ جوانوں کا تو اسرائیل تک ہاتھ نہیں پہنچے گا مگر حکمرانوں کیخلاف بھڑکانے کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ حکمران اپنی عوام سے ڈرتے ہیں۔ایران میں آگ مشکل سے بجھ گئی تھی۔
فوج نے کارگل قبضہ کیا کرنل شیر خان شہید نشان حیدر پاگیا۔نواز شریف سے امریکہ وبرطانیہ نے قبضہ چھڑا دیا۔ندیم ملک کو سن لیں۔دفاعی قوت سے بھارت نے ردعمل کی جرأت نہ کی۔ جارحیت کی تو منہ کی کھانی پڑ گئی ورنہ ہمارا حشر فلسطین جیسا ہوتا۔ فوج کو گالیاں بکی جارہی ہیں۔ فوجی کردار کا آئینہ جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہے۔ان داشتاؤں نے ہی اپنے آقا کی ساکھ کونقصان پہنچایا۔ اپنے لئے تو جنرل اچھا لگتا ہے مگر اوروں کے حق میں فوجی کردار سے داشتائیں بلبلا اُٹھتی ہیں۔ عسقلان کا ذکر توراة میںہے۔73سال میں پہلی بار حماس نے بڑا حملہ کیا ۔ اسرائیل نے ہمیشہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ عیسائی القدس پر یہودی قبضہ کیخلاف ہیں ۔ یہودی اکثریت بھی اسرائیل سے نفرت کرتی ہے۔فلسطین کا مقدمہ اسلام کی حقیقی تعلیم اور اخلاقیات کے اعلیٰ نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا،پھر مسئلہ حل ہو جائے گا۔
حدیث میں عسقلان کے ذریعے رابطے کی اہمیت واضح ہے۔ اگر اسرائیل نے عسقلان پر جبری قبضہ کیا ہے تو اسرائیل اور یہودیوں کو اس سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اگر مسلمانوں نے خود بیچ کر غزہ پٹی کی پتلی گلی پکڑی ہے تو پھر عسقلان اور کسی بھی شہر پر زبردستی سے مسلمانوں کو بھی قبضے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بیت المقدس یہودونصاریٰ کا قبلہ ہے ہمارا نہیں ۔ ہمارا قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا۔ جب اپنارخ پھیر لیا تو قبضے کی ضرورت نہ تھی جب قبضہ کرلیا تو طاقت نہیں بنائی۔ رسول اللہ ۖ کے پاس طاقت نہ تھی تو مکہ سے مسلمانوں سمیت ہجرت کی۔
حضرت عمر کو بیت المقدس عیسائیوں نے حوالہ کیا، یہود پرالقدس کی پابندی ختم کی ۔یہ ایسا تھا جیسا کہ اللہ نہ کرے خاکم بدہن دجال مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیں اور مسلمانوں پر حج و عمرہ اور مکہ آمد کی پابندی لگائیں ۔ پھرسکھ مسلمانوں سے پابندی ہٹادیں۔ یہود اسلام کے شکر گزار ہیں۔ عیسائی مسلمان پر غصہ ہیں کہ یہود کو اجازت کیوں دی ؟۔ مسلمانوں نے یہود کو زمینیں اور مکانات بیچے۔ حقائق سمجھ لیںتو پھرمسلمان فاتح بن سکتے ہیں۔
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال و النسآء والولدان الذین یقولون ربنآ اخرجنا من ھٰذہ القریة الظالم اھلھا… ” اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے اور مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال دے اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں…”۔ (النسائ:75)
مفتی تقی عثمانی نے آیت کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی ڈنڈی ماری ہے۔ اگر یہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے ہے تو فلسطینیوں کو اسرائیل نکالنا چاہتا ہے۔ پہلے جو قریب و دور کا معاملہ تھا تو اب حکمرانوں کیلئے دور مار میزائل کے ذریعے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مسلم حکمران چاہیں تو منٹوں میں اسرائیل کو مار بھگاسکتے ہیں لیکن یہود کے عالمی سُودی نظام نے حکمرانوں کیساتھ اب علماء کو بھی پھنسایا ہوا ہے۔ حماس کی اخبار میں سرخی لگائی گئی کہ اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ بند ہوگی لیکن مفتی تقی عثمانی نے جنگ جاری رکھنے کا ترانہ سنایا اسلئے کہ خود نہیں کرنا۔
افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کی تباہی کے بعد کوئی مسلم ملک رسک نہیں لے سکتا کہ مغرب سے ٹکرائے۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ابوعبیدہ کہتا ہے کہ خالد بن ولید کی طرح ہم غیر مسلموں سے کہیں گے کہ اسلام قبول کرو یا جزیہ دو یا پھر لڑائی ہے۔ تمہارا ایسی قوم سے واسطہ ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ حماس کے کسی مجاہد نے خود کش نہیں کیا۔ افغانستان میں نیٹوافواج کے خلاف خود کشوں کا بڑا سلسلہ تھا۔ لاکھوں افراد موت کی گھاٹی میں پہنچ گئے لیکن کسی کی” چیں چاں پیں پاں” کسی نے نہیں سنی۔ وہ بھی یہی انسان تھے۔ ان کو بھی مشکلات سے گزرنا پڑاتھا۔ ان کو مظلوم سمجھنے کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہم نے ان سارے مراحل سے خود گزر کر بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
قرآن میںمذہبی تعصبات نہیں۔ ان الذین اٰمنواوالذین ہادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولا ھم یحزنوںO(البقرہ آیت62)
ترجمہ ” بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی ہیں اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں جو اللہ پرایمان رکھے اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کرے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ لوگ غمگین ہوں گے”۔
مشرکینِ مکہ جاہلانہ مذہبی تعصبات رکھتے تھے تو نام ونشان مٹ گیا اور اب ہندؤوں کی من حیث القوم مسلمان ہونے کی باری ہے ۔دجال سے بڑا فتنہ نہیں، ابن صائد یہودی نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں جہانوں کا نبی ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس کا سر قلم نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو آپ کواس کے قتل پر قدرت نہیں ۔ اور اگر وہ دجال نہیں تو اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رحمت للعالمین ۖ نے دجالوں کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ابن صائد نے رسول اللہ ۖ کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ کیا مگرفرمایا: اس کے قتل میں خیر نہیں ؟۔ دجال اور یہود کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدیر سے وابستہ کردیا۔ ابن صائد دجال نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے لیکن صحابہ نے قتل نہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دیوبندی اکابرین، بریلوی اکابرین اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود قتل نہ کیا۔ آج بڑی تعداد میں قادیانی ہیں مگر شدت پسند جماعتی، دیوبندی اور بریلوی سے پوچھا جائے کہ تمہارے اکابر مرزا قادیانی کو اور تم قادیانیوں کو قتل کرنا اسلام سمجھتے ہو تو کیوں نہ کیا؟۔ تو یہ اپنی پچھاڑیوں سے قمیض اٹھاکر کہیںگے کہ ہم سب نسل در نسل بے غیرت ہیں۔ ڈاکٹرا سرار احمدMBBSڈاکٹر تھا کوئی عالم دین نہ تھااس نے کہا تھا کہ” قادیانیوں کو قتل کرنا باقی ہے”۔ آج اس کی جماعت کا بے غیرت امیر شجاع الدین شیخ قادیانیوں کو قتل کرنا تو در کنار سود کو جائز کہتا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کی کھلے عام ذہنی آپریشن کی ضرورت ہے۔ اسلئے نہیں کہ یہ خطرناک ہیں بلکہ یہ دوسروں میں شدت کے جراثیم بھرتے ہیں۔ ایک طرف اقامت دین کے نام پر چندہ لیتے ہیں اور دوسری طرف طاقتور حلقوں کی آشیر باد رکھتے ہیں۔ حالانکہ اصل چیز قرآن کے فطری احکام میں جہاد کا حق ادا کرنا ہے، جب عوام کے سامنے فطری احکام آئیں گے توپھر اسلام نافذ ہو جائے گا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت خطرناک اسلئے تھی کہ مسلمان کچے دھاگے کی عقیدتوں سے بندھے ہوئے جاہل تھے جن میں علماء کی بڑی تعداد شامل تھی۔
فلسطین کا مسئلہ گیدڑ سنگھی چھوڑنے سے حل نہ ہوگا بلکہ اس کیلئے ایک عالمی سطح کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔ جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو اور اس میں عیسائی اور یہودکے نمائندے شامل ہوں۔یہود اور عیسائی مسیحا تک بیت المقدس مسلمانوں کو حوالے ہوگا ۔ القدس میں سب کیلئے آزادی کی خوشخبری ہوگی اور سیکورٹی مسلمان کے پاس ہوگی اور یہود ونصاری بھی آزاد ہوں گے۔
خراسان سے نکلنے والا قافلہ اسلامی تعلیم و انسانیت کا بہترین نمونہ ہوگا اور امن وسلامتی کے جھنڈوں کو القدس میں نصب کرنے سے کوئی نہ روک سکے گا۔
قرآن میں بنی اسرائیل کے بارے میں دومرتبہ فساد کی پیشین گوئی ہے۔
وقضینآالی بنی اسراء یل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین و لتعلن علوًا کبیرًاOفاذا جآء وعد اولٰھما بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باسٍ شدید فجاسوا خلٰل الدیار وکان وعدًا کان مفعولًاO ثم رددنا لکم الکرة علیھم و امددنٰکم باموالٍ وبنین و جعلنٰکم اکثرنفیرًاO ان حسنتم احسنتم لانفسکم وان اسأتم فلھا فاذا جاء وعدالاٰخرة لیسو ء ا وجوھکم ولید خلوا المسجدکما دخلوہ اول مرةٍ ولییتبرواماعلوا تتبیرًاO عسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجلعنا جھنم للکٰفرین حصیرًاO
ان آیات میں بنی اسرائیل کی طرف سے دومرتبہ فساد کرنے کی نسبت ہے۔ پہلی بار بنی اسرائیل عیسائیوں نے یہود کیساتھ مظالم کی انتہاء کردی تھی اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو ان پر فتح ونصرت عطا فرمائی۔ اس کے بعد قرآن میں ان کے پاس گیند دوبارہ جانے کی خوشخبری ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی مدد ہوگی اموال اور اولاد کے ذریعے ۔ اگر وہ اچھائی کریں تو ان کے اپنے لئے ہے اور اگر برائی کریں تو بھی ان کا سامنا خود ہی کرنا پڑے گا۔ جب دوسری مرتبہ کا وعدہ آئے گا تاکہ ان کے چہرے اُداس ہوں۔ ان آیات میں دوسری مرتبہ ان پر رحم کی امید ہے لیکن ان کو تنبیہ کردی گئی ہے کہ اگر تم اپنی حرکت کروگے تو ہم بھی واپس اسی طرح سے تمہیں سبق سکھائیں گے۔ سورہ الحدید میں بھی اسی طرح کی پیشگوئی ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد اللہ مسلمانوں کو ہی عروج بخشے گا۔

ارکان طغیان خمس
1:تقدیم الذیل علی الرأس
2: تخذیر الحاضر بالأمس
3: توزیع الخوف مع الیأس
4: تقدیس الشرطة والعسّ
5:بقاء الجحش علی الکرسی
طاغوت کی بنیاد 5ارکان پر ہے
1: دُم کا آگے سے ہونا سر کے اوپر
2: حاضر کو آنیوالے کل سے ڈرانا
3: ہڑتالیں خوف کی امید کیساتھ
4:سپاہی اور چوکیدار کو مقدس ماننا
5: گدھے کے بچے کا کرسی پر رہنا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں

بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں

عدتِ ایلاء عدتِ طلاق عدتِ وفات عدتِ خلع

1: عدتِ ایلائ: للذین یؤلون من نساء ھم تربص اربعة اشہر فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOجو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے پس اگروہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔البقرہ:226
ایلاء کی عدت4ماہ واضح ہے۔ بیوی سے قسم کھائی یا لاتعلقی وناراضگی رکھی۔ (تفہیم القرآن: سیدمودودی) اگر طلاق کا عزم ہو تو یہ دل کا گناہ ہے جو اللہ سنتاجانتا اور اس پر پکڑتا ہے ۔ جوالبقرہ آیات225،227میں واضح ہے۔ اسلئے کہ اگر طلاق کا اظہار کیا تو پھر عورت کی عدت3ماہ ہوتی ۔ اس عزم کو چھپانا دل کا وہ گناہ ہے، جس کے نتیجہ میں عورت کا انتظارایک مہینے بڑھ جاتا ہے۔
جمہور فقہائ کے ہاں4ماہ گزرنے کے بعدبھی ایلاء میں نکاح قائم ہے۔ جب تک اظہار نہ ہو، طلاق نہیں ہوگی۔ جس سے قرآنی آیات میں عدت کی ساری اہمیت بالکل ختم ہوجاتی ہے۔امام اعظم ابوحنیفہ زندہ باد کا نعرہ لگے گا۔
جمہور کے نزدیک شوہر نے اپنا حق استعمال نہیں کیا اسلئے طلاق نہیں ہوئی ۔ حنفیوں کے نزدیک شوہر نے4ماہ تک صلح نہیں کی تو طلاق کا حق استعمال کرلیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کے حق کو دونوں نے نظر انداز کردیا۔ اللہ نے عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے ایلاء میں4ماہ کی عدت رکھی جس میں قسم یا ناراضگی کی صورت میں بھی طلاق کی طرح ایک عدت کے بعد عورت کو آزادی ملتی ہے۔
رسول ۖ نے ایلاء کے ایک ماہ بعدرجوع کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ رجوع کا حق نہیں عورتوں کو طلاق کا اختیار دو۔ ازواج النبی رجوع پر راضی نہ ہوتیں تو4ماہ عدت سے فارغ ہوجاتیں۔یہ واضح سبق تھا کہ ایلاء میں عورت کا اختیار ہے۔
2:عدتِ طلاق: والمطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ”اورطلاق والیوں کی عدت3ادوار ہیں”۔ (سورة البقرہ :آیت228)
ایلاء کے بعد اللہ نے طلاق کی عدت کو واضح کیا۔ عورت کو حیض آتا ہو تو عدت3ادوارہے اور حیض کی جگہ قائم مقام پھر عدت3مہینے بالکل واضح ہے۔
3:عدتِ وفات: والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجًا یتربصن بانفسھن اربعة اشھرٍو عشرًاO”اور جو لوگ تم میں فوت ہوں اور بیگمات چھوڑیں تو وہ خود کو انتظار میں رکھیں4ماہ10دن تک۔ (البقرہ آیت:234)
4:عدت ِ خلع: ثابت بن قیس کی بیوی نے خلع لیا تو نبیۖ نے ایک حیض کی عدت کا حکم دیا۔ (سنن ترمذی حدیث1185) ربیع بنت معوذ بن غفراء نے عثمان کے دورمیں خلع لیا تو حضرت عثمان سے کہا کہ بنت معوذ نے آج خلع لیا تو کیاوہ منتقل ہو ؟۔تو حضرت عثمان نے کہا کہ ”جی ہاں! منتقل ہو۔نہ تو ان کے درمیان وراثت ہے اور نہ ایک حیض کے سواء کوئی عدت ۔صرف حیض آنے تک وہ نکاح نہیں کرسکتی۔کہ اس کو حمل نہ ہواہو”۔(سنن نسائی حدیث نمبر 3497)

نوٹ: مکمل تفصیلات جاننے کیلئے اس کے بعد عنوان ” عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی عزتیں لوٹتے ہیں مولانا فضل الرحمن اور
علماء کرام فیصلہ کریں! ”
”یتیم بچیوں کو ہراساں…جنسی استعمال…بنی گالہ میں کالے جادو میں ذبح کی بدلتی ہوئی کہا نی :افشاء لطیف کی زبانی”
اور ”خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟”کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وسائل سے مالامال پختونخواہ کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے؟۔ جو پاکستان کی تقدیرکو بدل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اسد محمود

وسائل سے مالامال پختونخواہ کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے؟۔ جو پاکستان کی تقدیرکو بدل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اسد محمود

ڈاکٹر اسد محمود نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کی کچھ معلومات شیئر کروں گا۔ کرک سے گذشتہ سال85لاکھ43ہزار بیرل تیل نکالا گیا۔ سوات میں بہترین زمرد کے70ہزار قیراط ہیں۔220قیراط کی قیمت4ہزار سے6ہزار ڈالر تک۔ امسال خیبر سے40ٹن فلورائیٹ برآمد ہوا ۔11ماہ میں کرک سے65ہزار ملینMCFگیس برآمد ۔ مہمند میںامسال1935ٹن نیفرائٹ برآمد ۔ مالا کنڈ میں200ملین ٹن، صوابی بلاک میں100ملین ٹن ماربل ۔ مہمند ایجنسی سے13لاکھ60ہزار ٹن برآمد ۔ چترال، جنوبی وزیرستان میں سالانہ6لاکھ40ہزار کلو چلغوزہ فی کلو قیمت چین میں18ہزار روپیہ۔ کوہاٹ ٹنل سے روزانہ30سے35ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور ہر گاڑی کا ٹول ٹیکس80سے450روپے ہے جس کا کنٹرول فوجی کمپنیNLCکے پاس ہے۔ پختونخواہ ڈھاکا سے روزانہ5ہزار ٹن کوئلہ برآمد ۔ آدم خیل سے ہر سال3لاکھ50ہزار ٹن کوئلہ نکلتا ہے۔اس وقت پختوانخواہ میں33ہزار بارودی سرنگیں ہیں۔
بونیر اور مردان میں2ارب ٹن ماربل اور چترال میں1ارب ٹن ماربل ہے۔ صرف کورمہ میں20لاکھ ٹن کوئلہ ہے اور ساتھ گیس اور اچھا ماربل بھی ہے۔ بالائی وزیرستان کے پیرغر میں سونے اور تانبے کی بہت بڑی مقدار ہے۔ گومل کے پہاڑوں میں کوئلہ کا بڑا ذخیرہ ہے۔ باجوڑ میں ہر سال85ہزار ٹن ماربل اور15سو50ٹن کرومائیٹ برآمد ۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں7سو کروڑ کے جواہرات ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہیں۔ عرب ممالک میں ہر10میں سے تیل کا1کنواں کامیاب ہوتا ہے اور وزیرستان میں ہر تیسرا کنواں کامیاب ہوتا ہے ۔ میرانشاہ میں اتنا زیادہ تیل ہے جو پاکستان کی40سال کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں36ہزار ملین ٹن تانبہ ہے اور ایک ٹن تانبہ کی قیمت7ہزار ڈالر ہے۔ تربیلا ڈیم سے4ہزار سے لیکر5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جو250بڑی فیکٹریوں میں استعمال ہوتی ہے۔ تربیلا سے پختونخواہ اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔ بیٹنی کی آئل فیلڈ سے ایک ہزار سے3ہزار بیرل تیل اور1سے5ملین مکعب فٹ گیس برآمد کی جاتی ہے۔ مالاکنڈ کے دریاؤں سے30ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس کی قیمت1سے2روپے بنتی ہے۔ وزیرستان میں شوہ سے ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی گیس نکالی جاتی ہے کنٹرول فوجی کمپنی کے پاس ہے۔ سیاحت کے جنگلات اور بہت ساری دوسری چیزیں ہونے کے باوجود مظلوم کون ہے؟، پختونخواہ اور بلوچستان۔ سوال یہ بنتا ہے کہ یہ نا انصافی کہاں تک جائے گی؟۔ آخر کون ہے جو اتنے ذخائر اور معدنی وسائل کو لوٹ رہا ہے؟ یا کیئر نہیں کی جاتی؟۔ اگر ہم صحیح طریقے سے استعمال کرسکتے تو ہم دنیا کو بھیک دینے والے ہوتے نہ کہ کشکول لیکر ہم دنیا سے…

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سالانہ زکوٰة2.50%میں حیلہ؟ اور روپیہ میں4%فرق؟ ہمارا مشورہ مانو، ڈالر پھوٹی کوڑی کا ہوجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ

سالانہ زکوٰة2.50%میں حیلہ؟ اور روپیہ میں4%فرق؟ ہمارا مشورہ مانو، ڈالر پھوٹی کوڑی کا ہوجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ

مذہبی اور حکمران ٹولے کی چالاک یاںیا حماقتیں؟

مسئلہ نمبر1:” سال سے ایک دن پہلے مال بیوی کو ہبہ کر و، زکوٰة فرض نہ ہوگی”۔
مسئلہ نمبر2:” بادشاہ قتل، زنا اور چوری کرے تو سزا نہیں ہوگی”۔ فتاوی عالمگیری
سال میں2.5فیصد زکوٰة سے بچنے کا حیلہ مفتی کرتا تھا۔آج بھی مفتی زندہ ہے کل بھی مفتی زندہ تھا ۔ پھر روپیہ میں4فیصد کا فرق احمقوں نے کیسے رکھا تھا؟۔
اشرف میمن لوگ چونی اٹھنی کھلا کرکے چیز خریدتے۔ پیسہ دوپیسہ منافع بچاتے ۔
روپے کی قدر وقیمت اور تاریخ یکم جنوری سن1961سے قبل یوں تھی کہ
16آنے1روپیہ۔ روپیہ میں16آنے،32ٹکے،64پیسے،128دھیلے ،192پائیاں،264دمڑیاں،2640کوڑی،7920پھوٹی کوڑی تھے۔ پھوٹی کوڑی مغل دورکی کرنسی تھی۔ انگریز کی پالیسی خطرناک تھی۔وزیرستان کے تیل وگیس سے40سال پاکستان چلے گا۔ عوام کو مفت دینا شروع کردیا تو ڈالر پھوٹی کوڑی ہوگا ۔ مہنگے گیس ، پیٹرول ،بجلی نے ریاست، روپیہ ،عوام کو تباہ کردیا۔ نبیۖ نے مزارعت کیلئے مفت زمینیں دیں،تو خلفاء راشدیننے دنیا فتح کی۔ آنے والا دور جدید ٹیکنالوجی کا ہے جس میں پیٹرول وگیس اور بجلی کی ویسے کوئی قیمت نہیں ہوگی ۔انشاء اللہ۔ پاکستان نے آغاز کردیا تو دنیا کی امامت کرے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی
عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

یتیم بچیوں کو ہراساں…جنسی استعمال…بنی گالہ میں کالے جادو میں ذبح کی بدلتی ہوئی کہا نی :افشاء لطیف کی زبانی

واذ انجینٰکم من اٰل فرعون یسومونکم سو ء العذاب یذ بحون ابنآء کم و یستحیون نساء کم و ذالکم بلآء من ربکم عظیم O اور جب ہم نے آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے۔ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ۔(البقرہ:49) قارئین کچھ سمجھے!۔ بنی اسرائیل کوعذاب آل فرعون دیتا تھا مگر آزمائش ربّ کی طرف سے کیوں تھی؟۔
بنی اسرائیل کایوسف سے کردار؟ جو بچہ فرعون سے بچتا تو خضر قتل کرتا کہ اپنے مؤمن والدین کو کفر وسرکشی میں نہ ڈالے۔ جس کی وجہ سے موسیٰ نے قبطی کو قتل کیا وہی غلط نکلا۔ دشمن قوم کا شخص اچھا نکلا۔ موسیٰ سے کہاگیا :”آپ اور آپ کا رب لڑو، ہم یہاںبیٹھے ہیں”۔نجأت مل گئی توہارون ساتھ تھا لیکن بچھڑا معبود بنادیا۔
امریکیCIA،جنرل اختر عبدالرحمن، حمیدگل ، مشرف نے فرعونی قتل کیامگر کوٹکئی وزیرستان کے شریف انسان خاندان ملک کا کیا گناہ تھا کہ قاری حسین و حکیم اللہ محسود نے انکی فیملی کے7افراد کو شہید کیا ؟۔PTMکے غیرتمندنوجوان اپنی قوم کو حلالہ کی بے غیرتی سے بچانے میں آج ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟۔
صدرجمعیت علماء ہند مولاناحسین احمد مدنی نے کہاکہ” روحانی فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوچکا مگر ہندوکیساتھ اپنا وطن بنائیں گے”۔جس پر علامہ اقبال نے ابولہب قرار دیا۔ بشریٰ بی بی نے قرآنی عدت ایلائ4ماہ ،حدیث کی عدت خلع حیض گزاردی۔ توروحانی حکم پر اسکے نکاح سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور علماء کرام فیصلہ کرسکتے ہیں۔
علماء نے لکھا کہ ”اولیاء میں مجدد الف ثانی کو خلافت دینے پر جھگڑاہواتو نبی ۖ نے فیصلہ فرمایا کہ سبھی خلافت دیں۔ابوبکر کے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوگی مگر چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کی خلافت بھی ہو گی۔ جن کا سلسلہ علی سے رسول ۖ تک پہنچتا ہے”۔( جمعیت علماء ہند کا شاندار ماضی: مصنف مولانا سید محمدمیاں)
شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے اپنی مکتوبات میں لکھ دیاہے کہ ”روحانیت کا اصل منبع ومرکز علی اورفاطمہ ہیں ۔ حسنو حسین ساتھ ہیں ۔ روحانی معاملہ علی و حسین کی رہنمائی میں چلتا ہے، وہ اولیاء کی مدد کرتے ہیں”۔ مجدد کے اس مکتوب کا حوالہ” اتحاد امت” کتاب کے سید خورشید علی وارثی نے دیا ۔ جس کی تائید مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ علماء نے کی۔ پیر صابر شاہ پختونخواہ کے وزیراعلیٰ تھے تو خورشید وارثی کیساتھ ہماری ملاقات ہوئی۔ پیر صابر شاہ اتحاد امت ہزارہ کے سیکرٹری نشرواشاعت رہے ۔ انجینئر محمد علی مرزا نے علماء کو قادیانیوں کی صف میں کھڑا کیا۔ مرزا سمجھتاہے کہ مرزا قادیانی جس روحانی حکم پردعویٰ نبوت سے کافر ٹھہرا۔ مجدد مکتوب اور علماء دیوبند اپنی کتابوں میں کفر کے مرتکب بن گئے۔ پرویزبھی علماء وصوفیاء اور قادیانیوں کو ایک سمجھتا تھا۔ پرویز حدیث کا منکر تھا مگر قرآن میں خضر کی تأویل کرتا تھا۔ انجینئر احادیث کو مانتا ہے۔ دیوبندی مسعود عثمانی، حزب اللہ ، طاہر پنج پیری، مفتی منیرشاکر اور اہلحدیث سے الگ جماعت المسلمین کا تقریباً ملتا جلتا حال ہے۔
شیخ سرہندی و شاہ ولی اللہ شریعت و تصوف مانتے تھے۔ بریلوی ، دیوبندی اور اہلحدیث ان شخصیات کو مانتے ہیں۔ عون چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کیساتھ روحانی حکم پر عدت میں نکاح ہوا تھا۔ شیعوں نے روحانی حکم پر سمندر میں چھلانگ لگائی تھی۔ علامہ جواد نقوی شیعوں کونصیری و مشرک کہتا ہے ۔ شیعہ ان کو یزید سے بدترکہتے ہیں۔ عمران خان کی تائید میں انجینئر مرزا، مفتی منیر شاکر اور علامہ کوکب نورانی وغیرہ شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ،اہلحدیث ایک تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کے روحانی احکام کا چرچا ہوا۔ مولانا احمد رضا بریلوی کی وجہ سے اکابر دیوبند نے تقلید کو بدعت کہنا چھوڑا ۔ حالانکہ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”بدعت کی حقیقت ” میں تقلید کو چوتھی صدی ہجری کی بدعت قرار دیا تھا اور اسکے اردو ترجمہ پر علامہ سید یوسف بنوری نے تائیدی تقریظ لکھی ۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے سنت نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا مگر علماء دیوبند خیبرپختونخواہ، اندورن سندھ، بلوچستان اور افغانستان میں سنت کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت کہنے والے پنج پیری دیوبندی پر قادیانیت کا فتویٰ لگاتے۔
علامہ طاہرالقادری نے بریلوی سے نفرت نکالی۔ اگر مولانا احمد رضا کا فتویٰ مانا جاتا کہ دیوبندی ، قادیانی، شیعہ ، وہابی کافر ہیں تو بریلوی قادیانیوں کی طرح تنہاء رہ جاتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ڈاکٹر اسرار احمد کے پروگرام میں منہاج القرآن وزٹ کی دعوت دی اور بتایاکہ ”میں نے اتحاد کیلئے200افراد کولندن آنے جانے کا ٹکٹ اور خرچہ دیا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ آپ محنت کریں لیکن میں مایوس ہوں”۔ طاہرالقادری نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ” طوفان سب کو بہاتا ہے اور مجھے بھی بہالیتا ہے مگر ایک شخص کھڑا رہتا ہے اور نہیں جانتا ہوں کہ کون ہے؟ ”۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر نے مجھ سے کہا کہ ” آپ جوان ہو، جوانی کا خون جوش کرتا ہے۔ کوشش کرومگر مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کو متحد نہیں کرسکتے ہیں”۔ مولانا بجلی گھر نے جلسہ عام میں یہ بھی کہا تھا کہ ” عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑ رہاہے جس کا مقابلہ امریکہ نہیں کرسکتا ہے ”۔
یتیم خانہ کاشانہ لاہور کی سپرنٹنڈٹ افشاء لطیف کے مختلف ادوار کی ویڈیوز ہیں۔ ایک یتیم بچی اقراء کائنات نے الزام لگایا کہ افشاء نے زبردستی شادی کرائی اور بعد میں اس کی موت واقع ہوئی۔ افشاء لطیف نے بتایا کہ اقراء کی مرضی سے شادی کرائی تھی۔ اس سے پہلے25لڑکیوں کا نکاح ہواتھا جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک گارڈ پر یتیم خانہ کی بچیوں کو ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایاتھا ، جس کی بقول افشاء کےCCٹی وی ویڈیو بھی ہے۔ افشاء کی طرف سے3ماہ پہلے جو وڈیو بنائی گئی تو اس میں یتیم بچیوں کوباقاعدہ جنسی طور پر استعمال کرنے کیلئے تیار کرنے کابڑا الزام تھا ۔جو پہلے کے بیان اور باڈی لینگویج سے مختلف تھا۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچا یا کہ شہباز شریف نے جھوٹ بولا تھا کہ بنی گالہ میں منوںمرغیوں کا گوشت ڈالا گیا۔ یتیم بچیوں کا گوشت جادو میں استعمال ہوا ۔صحافی احمد نورانی نے ٹھیک تجویز دی کہ چیف جسٹس فائزعیسیٰ سزا دیدے۔
عمران خان کے حمایتی طبقے کا حال یہ ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ واقعی اس طرح بچیوں کو ذبح کیا گیا ہے تو بھی کہیں گے کہ فوج کی باتوں میں آگئے تھے اور صحابہ کرام نے بھی بچیوں کو زندہ دفن کیا تھا اور ہندہ نے امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ دوسری طرف نوازشریف سے بھاڑہ ملتا ہے تووہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک گھناؤنا الزام ثابت ہونے کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ جن کا نقصان بہرحال فوج کو ہورہاہے کہ اگر ایسی برائی تھی تو پیچھے کون تھا اور ہے تو پیچھے کون ہے؟۔ مریم نواز نے کہا کہ” میرے پاس آن ڈیوٹی لوگوں کی خطرناک ویڈیوز ہیں”۔ عورت کی پیشکش سے حضرت یوسف بھی اللہ کی مدد سے ہی بچ سکے تھے۔کیپٹن صفدر نے بھی ویڈیوز کا چیلنج دیاتھا۔تحریک انصاف کے ایک رہنماکی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی۔ خدا جانے قوم کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے؟۔
محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن، نوازشریف اور علماء ومفتیان بشریٰ کے روحانی حکم پر نکاح کا جائزہ لیں۔اگر اسکی وجہ سے قرآن کی عدتِ ایلاء اور حدیث کی عدتِ خلع کی سنت زندہ ہوتی ہے تویہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ ہوگا اور الیکشن سے پہلے عوام اور اداروں کیلئے افہام وتفہیم کی بہترین فضاء پیدا ہوگی۔
اقبالنے کہا: علماء کا بڑااحسان کہ دین پہنچادیا مگر اللہ ، جبریل اور نبیۖ حیران ہیں کہ کیا یہ وہی دین ہے؟۔ عدت میں نکاح قائم رہتا ہے ۔ قرآن میں بار بار رجوع کی اجازت واضح ہے مگر فتویٰ دیاجاتاہے کہ نکاح قائم نہیں رہا اور حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزت لٹواکر اسلام اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کردیا۔

نوٹ: مکمل تفصیلات جاننے کیلئے اس کے بعد عنوان ” بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں ”
اور ”خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟”کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv