پوسٹ تلاش کریں

مہاجر کیا سوچ رہا، کیاسوچنا چاہیے؟:ایڈیٹراجمل ملک

اپنی مٹی پر دیوانہ بنا پھرتا ہوں لوگ کہتے ہیں مہاجر مجھ کو

Ajmal_Malik_Sep2016

کراچی، حیدر آباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی نمائندہ جمہوری جماعت متحدہ قومی موومنٹ ایم کیوایم پر بحران آیاتو مہاجر کیا سوچتے ہیں؟۔ اس کی تصویر سید شہزاد نقوی نے کارٹون کی صورت میں اپنے ذہنی تخلیق سے اتاری ہے، سید شہزاد نقوی کا تعلق ایم کیوایم سے بالکل بھی نہیں ، اس نے شکوہ کیا ہے کہ اپنی مٹی پر رہتا ہوں تو لوگ مجھ کو مہاجرکیوں کہتے ہیں؟۔جب ایک غیرسیاسی مہاجر یہ دیکھتا ہے کہ ایم کیوایم کے دفاتر اچانک مسمارکردئیے، وہ لوگ جو اپنے قائد کے خلاف معمولی بات پر جذباتی ہوجاتے تھے، اسی قائد کیخلاف عجیب الزامات، ہر قسم کی مغلظات اور پھرپور طریقے سے سرگرم ہیں، اب ایم کیوایم پاکستان نے بھی لندن سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے، مہاجر کہاں کھڑے ہیں؟، لوگ انکے بارے سوچ کیا رکھتے ہیں؟، یہاں پلے بڑھے، پاکستان اور کراچی کی گلیوں کے سوا کچھ دیکھا نہیں، پھر کیوں بے وطن مہاجر سمجھا جارہا ہے۔ کس قیمت پر یہ وطن اپنا ہی بن سکتا ہے؟، طالبان نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی لیکن ان کو پرائے ہونے کا احساس نہیں دلایا گیا۔
جے سندھ، بلوچ قوم پرست اور پاکستان کے گناہ میں شرکت نہ کرنے پر فخر کرنے والا مولانا فضل الرحمن، متحدہ ہندوستان کے حامیوں کی اولاد اسفندیارخان، محمود خان اچکزئی ، قائداعظم کو کافر کہنے والا مولانا مودودی اور مولانا احمدرضاخان بریلوی کی روحانی اولادآج سب پاکستانی مگر جنہوں نے ’’بن کے رہیگا پاکستان، بٹ کے رہیگا ہندوستان ‘‘ کے نعرے لگاکرقربانیاں دیں، ان کی اولاد کی محب وطن ثابت کرنے کیلئے کس طرح سے ناک رگڑوائی جاری ہے؟۔ شاہ زیب خانزادہ نے واسع جلیل سے کہاکہ ’’تم نے رضاحیدر کے قتل کا الزام اے این پی پر لگایاتو100پٹھان ماردئیے گئے، بعد میں پتہ چلا کہ لشکرِ جھنگوی نے ماراتھا‘‘ مگراس وقت تو ریاست نے کوئی کاروائی نہ کی ،حالانکہ الطاف حسین رو رو کے کہہ رہا تھا کہ ان بیچاروں کا کیا قصور تھا جن کو مارا گیا؟۔ 12مئی کا واقعہ بڑا تھا یا 22اگست کا؟۔طالبان نے کیا کچھ نہیں ، وہ خود قبول کرتے تھے کہ ہم کررہے ہیں ، ان کے ہمدرد کہتے تھے کہ نہیں یہ طالبان نہیں امریکہ کروا رہاہے؟، شہباز شریف طالبان سے کہتا تھا کہ ’’پنجاب کو نشانہ مت بناؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ’’را کاملازم کلبھوشن نوازشریف کے مِل ملازموں سے رابطے کی وجہ سے پکڑا گیا‘‘۔ کوئٹہ دھماکہ پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’بھارت کی را ملوث ہے‘‘تو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی روزمانہ جنگ میں سرخی لگی کہ ’’تم جھوٹ مت بولو یہ گھر کا معاملہ ہے، تم نے جو مسلح بردار تنظیمیں پال رکھی ہیں ، کیا یہ کرائے کے قاتل نہیں؟‘‘۔محمود خان اچکزئی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ’’میں پاکستان زندہ باد نہیں کہوں گا‘‘۔کسی نے بھی اپنے بیان سے توبہ نہیں کیالیکن الطاف حسین نے اپنا بیان واپس لیا، کسی کی جماعت نے اپنے قائد اور رہنما سے لاتعلقی کے اعلان کی زحمت محسوس نہ کی لیکن ایم کیوایم نے کھل کر اظہار لاتعلقی کیا۔کسی کاسرکاری عہدہ نہیں چھینا گیا مگر ایم کیوایم کے دفاتر بھی مسمار کردئیے گئے کیوں؟۔
مہاجر بے وطن خوار ہے، غدار ہے، بیکار ہے، ناہموار ہے، بیچار ہے، عبرت کا جھنکارہے؟ ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا لے کر شہر کی آبادیوں میں بھی اپنی آواز کو صدا بسحرا سمجھ رہاہے اور ہر روز ہر ٹی چینل پر نئے ایک سے ایک نیا شوشہ کھڑا کرکے ڈاکٹر فاروق ستار مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، الزامات کی برکھا برسائی جاتی ہے، روز نئے بادل اُمڈ تے اور چھٹتے ہیں، ژالہ باری کرکے مہاجروں کی نمائندہ منتخب قیادت کی بے توقیری کی جاتی ہے لگتا ہے کہ مہاجر آزاد نہیں مجبور ہیں، محب وطن نہیں غدار ہیں، پاکستانی نہیں بھارتی ایجنٹ ہیں۔ انکا جمہوری حق چھینا جارہاہے، نتائج بدلنے میں سرِ عام کوئی شرمندگی بھی نہیں ہورہی ہے۔ سارے اینکروں، ٹاک شوز، ملمع سازی کرنے والے ٹاؤٹ قسم کے مخصوص نام نہاد رہنماہم پر چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ ساری توپوں کارخ مہاجروں کی جانب موڑ دیا گیا ہے، بے یقینی کی کیفیت ہے، ایک زمانہ میں جیو اور جنگ کا جو حال کیا گیا تھا،اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے ایجنٹ، اہلبیت کے گستاخ، ملک کے دشمن اور ڈھیر سارے مقدمات کا نشانہ بن گئے۔ آج ایم کیوایم کی باری ہے تو کل مسلم لیگ (ن) کی بھی آئے گی۔ جمہوریت کی علمبرداری کیا صرف اسٹیبلشمنٹ کی وفاداری سے مشروط ہے؟۔ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہو، تو 100خون معاف،12مئی کیا بستیوں کے بستیوں کو آگ لگادے لیکن جب وہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نہ ہو تو پوری قوم اسکے ناکردہ جرائم کی سزا کھائے، الزامات بھگتے؟۔
مصطفی کمال نے کمال کیا کہ سب سن لیں، ایم کیوایم کے ووٹر خود کو لاوارث نہ سمجھیں ہم موجود ہیں انکے حقوق کیلئے لڑینگے؟۔فاروق ستار میں شروع سے شرافت کا ایک معیار ہے، مصطفی کمال جذباتی ہے کیا مہاجروں کو پھر جذبات کی رو میں بہائے جانے کاسلسلہ جاری رہے گا۔ آج وہ مصطفی کمال جو الطاف حسین کے خلاف ایک ذوی معنیٰ لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا، ایک ہیجان میں مبتلاء ہے، قاتل، لٹیرے، جن پر بھارت میں تربیت لینے کا الزام ہے وہاں پناہ لے رہے ہیں، آڑے تڑے کی زباں استعمال کی جارہی ہے، جس کاضمیر ہی قتل اور بہت سے الزامات کے اقرارِ جرم اور اعترافِ بد دیانتی میں پل بڑھ کر جوان ہوا ہو، کیااس کی غیرت جاگ گئی ہے تو اس کو مہاجر قوم کی قیادت سپرد کی جائے؟۔ مصطفی کمال تو چھوٹا الطاف ہی لگتا ہے، وہی تعلیم وہی تربیت، وہی ذہنیت، وہی معیار، وہی لہجہ، وہی درشتی، وہی الزام کا قرینہ اور وہی شخصیت بس ہوا کا رخ بدلا۔ مخلص ،معصوم،نڈر، جری، مثالی بہادر، جذباتی رونے دھونے والااور آسمان سے تارے لانے کا وہی طریقۂ واردات ، اگر ڈاکٹر فاروق ستار گستاخی ، لعن طعن اور 24گھنٹہ الطاف حسین سے رابطے کے باوجود خطرات سے دوچار ہے تو مصطفی کمال نے کس سے سلامتی کا تعویذ لیکر مہاجروں کی کشتی پار لگانے کیلئے ملاح کا کردار ادا کرنے کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے؟۔
خدارا! ڈاکٹر فاروق ستار کی زندگی داؤ پر لگانے کیلئے ٹی وی اسکرین پر اس کو ایسے الفاظ کہلوانا چھوڑ دو، جس سے اس کی زندگی خطرے میں پڑ جائے، جینا مشکل بنے، مار دیا جائے یا ڈاکٹر عامر لیاقت کی طرح ہتھیار پھینک دے، آخر عزت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے، شرم بھی نہیں آتی کہ ایک لا چار شخص کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑے ہو۔ عام لوگ ان سے کیا توقع رکھیں؟،جو ایم کیوایم کے دورِ عروج میں دم دبا کر بیٹھے رہے، طالبان کی پشت پناہی کرتے رہے اور پھر یکایک رخِ زیبا ایسا موڑا کہ گویا کبھی شناسائی ہی نہ تھی۔ ایم کیوایم کے قائد سے ایک طلاق اور تین طلاق کی باتیں منظر پر آرہی ہیں، حالانکہ پاک سرزمین پارٹی تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر ہی پاک ہوگئی ہے۔کیا نوازشریف کے ساتھی دانیال عزیز، طارق عظیم، طلال چوہدری اور عطاء مانیکا وغیرہ نے (ق) لیگ سے حلالہ کروایا تھا کہ دوبارہ نکاح میں آگئے ہیں؟۔تحریک انصاف میں کتنے لوٹے حلالہ پر حلالہ کرواکے شاہ محمود قریشی وغیرہ عزت سے بیٹھے ہیں لیکن مہاجروں کیساتھ آخر کار ایسا کیوں؟۔
اب نہ تو ملک چھوڑ کر جاسکتے ہیں، کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، چپ رہ بھی نہیں سکتے۔ باغی ہیں کیا اور غدار ہیں کیا؟۔ مہاجر نام نہ لیتے تو بے شناخت تھے سندھی مکھڑ، بلوچ پناہ گیر، پٹھان ہندوستانی کہتے تھے۔ نام لیا تو مجرم بن گئے، مہاجر قومی موومنٹ کو تحریک چلانے والوں نے نام بدل کر متحدہ کردیا، پھر حقیقی مہاجر قومی موومنٹ کو ریاست نے سپورٹ فراہم کی اور متحدہ بھی مجرم بن گئی، ایک نسخہ ناکام ہوتا ہے تو سنیاسی باوا نے دوسرا ٹریلر چلا کرقوم کی تباہی کا سامان تیار کر رکھا ہوتا ہے۔ اگر یہی روش ہے تو قانون بنایا جائے کہ پاکستان یا مہاجروں کی اپنی نمائندہ جماعت نہیں بن سکتی ہے اور جس نے سیاست کرنی ہو وہ اسٹیبلشمنٹ کے پیرول ، خواہشات اور طے کردہ منزل پر گامزن رہ کر ہی سیاست کرسکتا ہے، ہر نئے فوجی سربراہ کی طرف سے ایک نیا سرکلر جاری ہوگا جس میں ایک وضاحت ہوگی کہ اسٹیٹ کی پالیسی یہ ہے، طالبان کو سپورٹ کرنا ہے، ایم کیوایم کو سپورٹ ہے یا نہیں، بلاول بھٹو زرداری کب بلو رانی اور کب شہزادہ کہلائے، شیخ رشید کی زبانی معلوم ہوگی کہانی۔ جنرل ضیاء الحق کشمیر پر پالیسی بنائے تو مسلح تنظیمیں پالی جائیں، پرویز مشرف اپنے اقتدار کیلئے سہی لیکن کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹے تو جس پر مجاہدین کے کیمپ چلانے کا الزام تھا،وہ شیخ رشیدTV سکرین پر یہ وظیفہ باربار دہرائے کہ ’’مقبوضہ کشمیر کے لوگ مجاہدین سے بہت سخت تنگ تھے‘‘۔ مگر جنرل راحیل شریف کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ قرار دیکر اہمیت دے تو پھر پاکستان کیلئے یہ سب سے بڑا اہم مسئلہ بن جائے۔ مہاجر تو باعزت لوگ ہیں رنڈوے رشید کو کراچی میں اپنی تربیت کیلئے بھی نہیں بلا سکتے ہیں، کہتے ہیں کہ عمران کی بھی اس نے ریحام خان سے طلاق کرادی،نوازشریف پرویزمشرف سے ناراض ہوتے ہیں تو بلوچستان کیساتھ زیادتی کے حوالہ سے پیش پیش ہوتے ہیں اور حکومت میں ہوتے ہیں تو ان کو مولی گاجر کی طرح کاٹنے پر بھی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔
مہاجر کس سے کیسی سیاست سیکھیں، جماعتِ اسلامی جنرل ضیاء الحق کے دور میں ٹاؤٹ کا کردار ادا کررہی تھی تو ہڑتال کیلئے رات کو گاڑیاں جلاکر شہر کو بند کردیا جاتا ، مخالفین کو تعلیمی اداروں میں تشدد کا نشانہ بایا جاتا تھا، اسلام کے نام پر جنرل ضیاء نے ریفرینڈم کرایا تو جماعتِ اسلامی اور تمام مذہبی فرقوں کے بڑے مدارس جنرل ضیاء الحق کو سراپا مجسمۂ اسلام قرار دے رہے تھے، تحریکِ انصاف کے عارف علوی نے اکیلے کراچی پولیس کا مقابلہ کرکے پیہ جام کروایا حالانکہ پولیس اس کی سپورٹ نہ کرتی تو کیا پھدی کیا چھدی کا شوربہ۔ ایسے ماحول میں مہاجر کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بھارت کی ایجنٹ ایم کیوایم نے آخر کونسے جہاز استعمال کرکے ایبٹ آباد کے امریکی کمانڈوز سے زیادہ کمال دکھایا کہ اتنے آفس بنالئے جو اچانک مسمار کر دینے کا فیصلہ ہوا، مہاجر کیا سوچے؟۔
مہاجرکو یہ سوچنا چاہیے کہ جو گلے شکوے اسکے دماغ میں بیٹھ گئے ہیں، ان کو نکال دے۔ کیا نوازشریف کی حکومت کے ہوتے ہوئے مارشل لاء نہیں لگا؟۔ نوازشریف نہیں روتا رہا کہ مجھے بھی ہتھکڑیاں لگاکر جہاز کی کرسی کیساتھ بھی باندھ دیا گیا؟۔ کیا اس پر کوئی گلہ شکوہ کرتا ہے کہ مہاجر بڑا سخت گیراور بے توقیری کرتا ہے؟۔ پرویزمشرف مہاجر تھا مگر انکی وجہ سے الزام مہاجروں کے سر نہ آیا ۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ، پنجاب میں ن لیگ کی صوبائی حکومتیں ختم کی گئیں، محمد خان جونیجو کی حکومت ختم کی گئی، بلوچستان میں نیپ کی حکومت ختم کرکے اکبر بگٹی کے ذریعہ گورنر رائج قائم کیا گیا، اپوزیشن کی ساری قیادت کو ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں ڈالا، بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ یہ تو جنرل ضیاء نے جمہوری حکومت قید کرکے جمہوری لوگوں پر غداری کے مقدمات ختم کیے ورنہ اپوزیشن کی ساری جمہوری جماعتیں قائد عوام بھٹو کے زمانے میں غداری کے مقدمہ میں تختۂ دار کو پہنچتیں۔ جب کراچی کے سیاہ وسفید کی مالک مہاجروں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم تھی تو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں اعلیٰ درجے کی تعلیم، تربیت، امن وامان ،روشن خیالی اور مذہب شناسی کے نمونے اور مثالیں قائم کرکے مہاجر پاکستان کے دوسرے لسانی کائیوں کے قابلِ تقلید بن سکتے تھے۔پاکستان میں بہت زبانیں ہیں جن کی تاریخ بڑی قدیم ہے، اردو کو پاکستان میں قومی زبان کا درجہ دیکر اردو بولنے والوں میں احساس پیدا کیا گیا کہ ’’تم حکمران ہو‘‘۔ ہجرت کرنے والے تو پنجاب ، پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی بہت ہیں، کراچی میں بڑی تعداد ان کی بھی ہے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں جوگھروں میں اردو کی بجائے دوسری زبانیں بولتے ہیں۔اردو اسپکنگ دوسروں کی طرح خود کو مہاجر نہ بھی کہلواتے تو میمن، چھیپا، مارواڑی، صدیقی، فاروقی ، عثمانی ، علوی ، سید اور اپنے اپنے پیشے اور قومیت سے اپنا تعارف رکھ سکتے تھے۔
مہاجر کہلانے میں بھی کوئی عیب نہیں، صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد مہاجروں کی تھی ،نبیﷺ بھی مہاجرین میں سے تھے۔ حضرت آدمؑ بھی جنت سے زمین پر مہاجر بن کے آئے۔ حضرت اسماعیلؑ بھی مہاجر تھے، قبائل تعارف کیلئے ہوتے ہیں، سب ایک آدم کی اولاد ہیں،زبان رابطے کا ذریعہ ہے۔آج کوئی برطانیہ، امریکہ، مغرب کے دیگر ممالک یا آسٹریلیا کی قومیت اختیار کرکے فخر کرتا ہے تو پاکستان بنا ہی مسلمانوں کیلئے تھا۔خاص طور سے ہندوستان سے آنے والوں کیلئے۔ وہاں وہ اقلیت میں تھے، نظریۂ پاکستان کی وجہ سے پڑوسیوں سے تصادم کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ پاکستان ایک خطۂ زمین ہے اس پر اسلامی نظام کے نفاذ کی ذمہ داری حکمران طبقہ اور علماء کرام پر تھی۔اردو اسپکنگ اپنی مادری زباں کی وجہ سے سب سے بڑھ کر کردار ادا کرسکتے تھے۔لوگوں نے نظام پر توجہ نہ دی اور نوکریوں باگ ڈور سنبھالنے اور مراعات کے چکر میں لگ گئے۔
پہلی مرتبہ آزادانہ انتخاب کا نتیجہ ادھر ہم ادھر تم نکلا، بنگلہ دیش الگ ہوا، فوج کو بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑگئے۔ بھٹو نے اقتدار سنبھالا ،تو170قابل ترین بیوروکریٹوں کو فارغ کیا اورکوٹہ سسٹم قائم کرکے پنجابیوں اور مہاجروں کا گٹھ جوڑ ختم کرکے سندھیوں کو پنجابیوں سے ملادیا۔ پھر جنرل ضیاء الحق نے ہتھوڑے گروپ سے لیکر کراچی کے لسانی فسادات تک پیپلزپارٹی کو مٹانے کا منصوبہ بنایا، جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا نورالہدی کو سات ماہ تک جیل رکھا، اسلئے کہ وہ پیپلزپارٹی کے جیالے شیخ نورالہدی مرحوم کو قید کرنا چاہتے تھے مگر بیوروکریٹ کمشنر نے اپنی جان فوجی دماغ سے چھڑانے کیلئے مولوی کو پکڑ کر بتایا یہ کہ ’’جیالا پکڑ لیا ہے‘‘۔ جب شیخ نورالہدیٰ پکڑ لیے گئے تو مولانا نورالہدیٰ کی جان چھوٹ گئی، ان کو چھوڑدیا گیا۔ اوریا مقبول جان خود بھی کمشنر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ سول بیوروکریسی ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مغالطہ دیتی ہے،اسلئے ملک کی حالت بہتر نہیں ہورہی ہے۔بیروکریسی کو سدھارنے کیلئے کون کام کرے گا؟۔
اچھی تعلیم کیلئے ایک زبرست ماحول کی ضرورت ہوتی ہے،پہلے طلبہ تنظیموں نے پھر یہ معیار کراچی میں ایم کیوایم کے عروج کی وجہ سے گرگیا، اب تو کوٹہ سسٹم کی ضرورت ہی نہ رہی ہے اور تعلیم کے علاوہ تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کے بغیر تعلیم سے کوئی معیاری معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا، تربیت کے بعد پھر تزکیہ بھی ضرورت ہوتی ہے، قوموں اور قیادت پراونچ نیچ کے ادوار آنے سے انسانوں کا تزکیہ ہوتا ہے۔ ایم کیوایم کے رہنما ؤں کو جب وقت ملا تھا تو عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آتے۔عاجزی ، انکساری، رواداری ، اخلاق ، مروت اور اچھا انداز اپناتے تو آج تیز وتند ، تلخ و ترش اور گھن گرج کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آزمائش اللہ تعالیٰ بڑے لوگوں پر ہی ڈال دیتا ہے لیکن یہ عذاب نہیں بلکہ گناہوں کی معافی اور تزکیہ ہے۔مہاجر کا شریف طبقہ ایک طرح سے یرغمال بناہوا تھا اس پر عام مہاجر کو پریشان نہیں خوش ہونا چاہیے۔ اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

معراج محمد خانؒ کی شخصیت سے سیاست بے نقاب ہوتی ہے ذوالفقار علی بھٹوؒ ، جنرل ضیاءؒ اور عمران خان کا پتہ چلتا ہے

معراج محمد خان بائیں بازو کے ،جاویدہاشمی دائیں بازوکے اچھے کردار وں کی علامت ہیں، تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دونوں کی فکر ونظر میں اختلاف ہوسکتا تھا لیکن خلوص وکردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ معراج محمد خان خود کو علماء حق کے پاؤں کی خاک کہنے پرفخر محسوس کرتے تھے اور جاوید ہاشمی نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی سے معذرت کرلی تھی کہ میں جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی جماعت نہیں مسلم لیگ جیسی سیکولر جماعت کے ساتھ ہی چل سکتا ہوں۔ معراج محمد خان کمیونسٹ مسلمان تھے اور جاویدہاشمی سیکولر مسلمان ہیں، ایک کادائیں اور دوسرے کا بائیں باز وسے تعلق اس بات کا ثبوت نہیں کہ انہوں نے اسلام سے رو گردانی کا ارتکاب کیا۔
یہ معراج محمد خان کا قصور نہ تھا جو کیمونسٹوں کی صفوں میں کھڑا ہوا، بلکہ یہ علماء سوء کا قصور تھا جنہوں نے مذہب کو پیشہ بنالیا۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور قائم کرلیاگیا اور اس پر عمل کیا گیا تو کمیونسٹ اور سیکولر لوگ اسلام کی آغوش میں ہی پناہ لیں گے۔ اسلام خلوص کا نام ہے، اسلام پیشہ نہیں دین ہے اور اسلام نے ہی دین میں جبر کومنع کیا ہے۔ جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر ختم کردیا کہ اسلام کوئی پیشہ ہے تو دنیا کی ساری کمیونسٹ پارٹیاں اسلام کے دامن میں پناہ لیں گی اور جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر قائم کرلیا کہ دین میں جبر نہیں تو دنیا کی ساری سیکولر قوتیں اسلام کی آغوش میں پناہ لیں گی۔ معراج محمد خان ؒ کے نام پر آرٹ کونسل میں ایک پروگرام رکھا گیاجو تقریروں اور اچھے جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینٹر کامریڈ تاج حیدر نے کہا کہ ’’معراج محمد خان کے حوالہ سے میں نے جومضمون لکھا ، کسی بھی نامور اخبار نے اس کو شائع کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ جب کسی کا نام آجائے تو ادارہ اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتا ہے‘‘۔
سنیٹر تاج حیدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جوگٹھ جوڑ تھا اس کا خاتمہ ہوا ہے ، اس صورتحال سے کمیونسٹ نظریات رکھنے والوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو نے ایک بڑا اچھا شعر بھی سنادیا کہ ’’حسینؓ کی عزاداری کاعشرہ ضرور مناؤ مگر وقت کے یزید کی طرفداری بھی مت کرو‘‘ اور سب مقررین نے اپنے خیالات اور جذبات کا اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ معراج محمد خان ؒ کے نام کیساتھ ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے لفظ کا اشارہ نا مانوس لگتاہے لیکن اللہ کی رحمت کی دعا کی اجاراداری ان لوگوں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے جو صرف مذہبی ماحول سے تعلق رکھتے ہوں۔ مذہبی طبقات صرف اپنے اپنے اکابر کے ساتھ یہ علامت لگاتے ہیں، ان کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مخالفین کیساتھ زحمت اللہ علیہ (زح) نہیں لگاتے۔ عوام کو ان مذہبی جہالتوں سے نکالنا بھی بہت بڑی جدوجہد اور جہاد ہے جن میں نامعقول مذہبی طبقات کی وجہ سے جاہل عوام مبتلا ہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولاناشاہ احمدنورانیؒ بڑے اور اچھے لوگ تھے لیکن معراج محمد خانؒ بھی کسی سے کم تر نہ تھے۔ جنرل ایوب خانؒ کے دور میں ذوالفقار علی بھٹوؒ جب جنرل صاحب کیساتھ تھے تو معراج محمد خانؒ نے ان کا مقابلہ کیا، جب بھٹو نے جنرل ایوب کا ساتھ چھوڑدیا تو اپنے سخت ترین مخالف بھٹو کا استقبال کیا اور اپنے کارکن بھٹو کے حوالہ کردئیے کہ اب ہمارا اختلاف نہ رہا ، راستہ درست چن لیا ہے تو ہم آپکے ساتھی ہیں۔ بھٹو کے دورِ حکومت میں معراج محمد خان کو وزارت ملی لیکن حکومت اور اپنی وزارت کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ جو راہ ورسم بنالی تھی اس کو نباہ رہے تھے مگر معراج محمد خان نے اپنے اصولوں سے وفا کی۔ پھر جب بھٹو نے سیاسی قائدین پر جیلوں میں بغاوت کے مقدمات چلائے تو معراج محمد خان بھی حکومت کی صف میں نہ تھا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کیساتھ جیل میں بندتھے۔
جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو معراج محمد خان نے بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد بھٹو کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا۔ معراج محمد خان کو جعلی سیاستدان بننے کی پیشکش ہوئی مگر معراج محمد خان نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگر معراج جنرل ضیاء کی پیشکش کو قبول کرلیتا تو جنرل ضیاء کو مذہبی طبقے اور اسلام کاسہارہ لینے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ جب ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو معراج محمد خان بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے بلکہ ساری جماعتوں نے معراج محمد خان کا نظریہ قبول کرکے ہی ایک مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھاجس میں جنرل ضیاء اتفاقی حادثے کا شکار نہ ہوتے توزیادہ عرصہ تک صرف تحریک ہی چلانی پڑتی۔ بھٹو نے بھی ایک آمر جنرل ایوب کی صحبت اُٹھائی تھی اسلئے آمرانہ سیاست ان کے دل ودماغ پر چھائی تھی جس کا ساتھ معراج محمد خان نہیں دے سکتے تھے، نوازشریف اصغرخان کی تحریک استقلال کا فائدہ اٹھاکر سیاست میں ڈالے گئے اور امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کے سپاہی بن گئے، جنرل ضیاء کی برسیوں پر بھی جنرل ضیاء کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے حلف اٹھایا کرتے تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعہ سے برسرِ اقتدار آنے والا نوازشریف اصغر خان کیس میں ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے، جس طرح کالا کوٹ پہن کر سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کیخلاف جنرل اشفاق کیانی کے ہمراہ کورٹ میں گئے، اسکے بعد وزیراعظم ایک ناکردہ گناہ کی وجہ سے مجرم بن کر نااہل قرار دئیے گئے یہ ہمارے اصحاب حل وعقد ، ریاستی اداروں، عدالتوں اور جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ ہے کہ نوازشریف کو سزا کیوں نہیں سنائی جارہی ہے۔
معراج محمد خان کو پہلی مرتبہ ایم آر ڈی کے جلسہ میں ’’نشتر پارک کراچی‘‘ میں دیکھا تھا، مدرسہ جامعہ بنوری ٹاؤن کا طالب علم تھا، مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے ہم نے جمعہ کی نماز بھی نشتر پارک میں قبضہ کی نیت سے پڑھی، زیادہ تر مقررین کو بولنے تک نہ دیا، شاید معراج محمد خان کو مولانا فضل الرحمن سے کہنا پڑا، کہ اپنے ورکروں کو خاموش کردو۔ جب کسی کا بولنا گوارہ نہ ہو تو اس کا سننا بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمن پر کفر کے فتوے لگانے والے مخلص نہ تھے اسلئے انکے فتوؤں کو کبھی اہمیت نہ دی، پیپلزپارٹی سے اتحاد پر جو مذہبی طبقات مولانا فضل الرحمن سے ناراض تھے ،انہوں نے پیپلزپارٹی کی طرف سے ایم آر ڈی کی قیادت کرنے والے غلام مصطفی جتوئی کو پھر اسلامی اتحاد کا سربراہ بنایا۔ چونکہ مذہبی طبقے اور موسم لیگیوں کا اتنا بڑا دم نہ تھا کہ وہ جنرل ضیاء کے باقیات کا حق ادا کرلیتے، اسلئے عوام کو دھوکہ دینا ناگزیر سمجھا گیا اور غلام مصطفی جتوئی کو قیادت سونپ دی گئی مگر جتوئی مرحوم پرا عتماد نہ تھا اسلئے اسٹیبلشمنٹ نے ان کو ناکام بناکرہٹایا اور نوازشریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔
نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے خلاف صدر غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھااور پھر اسی صدر کی وجہ سے خود بھی جانا پڑا،محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ نے صدارتی امیدوار کیلئے ایم آر ڈی (تحریک بحالئ جمہوریت) کے دیرینہ ساتھی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خانؒ کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھا۔ فضل الرحمن کو ایک اصولی سیاست کا امین سمجھا جاتا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلئے نوازشریف کی اوٹ میں پناہ لینا شاید ایک مجبوری ہو ، بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں، معراج محمد خان تنہائی کے شکار تھے اور تحریک انصاف کو ایک جماعت بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ میری پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان؟، یہ جوڑ بنتا نہیں ہے۔ معراج محمد خان نے اعتراف کیا کہ واقعی یہ اتفاق وقت کا بہت بڑا جبر ہے۔ عمران خان جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کا ساتھ دے رہا تھا تو معراج محمد خان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہونے کے باوجود مخالفت کررہے تھے۔ عمران خان نے معراج محمد خان کو برطرف کیا اور پھر قوم سے معافی مانگ لی کہ ریفرینڈم کی حمایت میری غلطی ہے۔
جس طرح عمران خان نے کھل کر قوم سے معافی مانگی لیکن معراج محمد خان سے راستہ الگ کرنے پر اپنے کارکنوں کو آگاہ نہ کیا کہ اتنی بڑی غلطی میں نے کی تھی اور سزا شریف انسان کو دی تھی اور یہ بڑی خیانت ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی اگر اپنے غلطیوں کا اعتراف کرکے معراج محمد خان کو منالیتی توپھر پیپلزپارٹی کی قیادت معراج محمد خان کے ہاتھ میں ہوتی اور قائدین کی وفات کے بعد پیپلزپارٹی کے نظریاتی بڑے قدآور رہنماؤں کا اجلاس ہوتا کہ کون سا نیا قائد منتخب کیا جائے؟۔ آج عمران خان کے چاہنے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ بھٹو کے بعد عمران خان عوامی قیادت کا حق اداکررہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ معراج محمد خان بھٹو اور عمران خان سے بذاتِ خود بڑے اور حقیقی قائد تھے، جب اہل قائد کو کارکن اور نااہل کوقائد بنایا جائے تو ایسی پارٹی کبھی اعتماد کے قابل نہیں ہوتی ۔ معراج قائدتھے مگر ان کوقائد کا درجہ نہ دیا گیا۔
معراج محمد خان کی یاد میں ہونیوالے پروگرام میں کامریڈوں کا غلبہ تھا،جناب میرحاصل بزنجو اور دیگر رہنماؤں نے معراج محمد خان کو خراج تحسین پیش کیا مگر اتنی بات وہ بھول گئے کہ روس کے نظام کی تعریف کرنے اور امریکہ کی مزاحمت کرنے والے معراج محمد خان نے طالبان کو سراہا تھا جنہوں نے ایک واحد قوت کے طور پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو چیلنج کیا۔ جماعتِ اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن پہلے کمیونسٹ کی بیج بونے والی تنظیم این ایس ایف میں تھے، جب سلیم صافی کو انٹریو دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی اگر طالبان کے خلاف لڑنے پر شہید نہیں ہوتے تو ان کے اتحادی پاکستانی فوج کو کیسے شہید کہا جاسکتا ہے؟‘‘۔ جس پر انکو جماعتِ اسلامی کی امارت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ اگر معراج محمد خان نے طالبان کی حمایت کی تھی تو جماعتِ اسلامی کے امیر نے ایک ہاتھ بڑھ کر حمایت کی تھی۔
سید منور حسن اور معراج پرانے ساتھی اور پھر حریف رہے لیکن اس بات پر متفق ہوگئے کہ طالبان نے سامراج کو چیلنج کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ۔ جماعتِ اسلامی سے میرحاصل بزنجو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل مکھن کا بناہوا نہیں ہوسکتا، یہ درست ہے لیکن غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے تو حقوقِ انسانی کے حوالہ سے متضاد و متفرق قوتوں کے درمیان مفاہمت کی راہ بنائی جائے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ مولوی اور طالب سرمایہ دار کا مکھن کھاکر کمیونسٹوں پر فتوے لگارہے ہیں ، اب تو پتہ چلا ہے کہ مکھن کھانے کی وجہ سے نمک حلال کرنے کا الزام غلط ہے، سرمایہ دارانہ نظام پر لرزہ طاری ہے، مرنے مارنے سے سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ یورپ و امریکہ اور مغرب ومشرق میں ایک خوف کی فضا ء گنتی کے چند افراد نے طاری کر رکھی ہے۔
روس کے خاتمہ سے کمیونسٹوں میں وہ دم خم نہیں رہا ہے اور یہ بات درست ہے کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان غیرفطری اتحاد ختم ہوگیا ہے، کہاوت ہے پشتو کی کہ ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے میری رات ہوگئی‘‘۔ معراج محمد خان اگر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑنے میں پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے بجائے جماعتِ اسلامی یا جمعیت علماء اسلام میں جاتے تو شاید وہ بھی ان جماعتوں کا قائد بنتے اور خلوص وکردار کے مرقع معراج محمد خان کے جنازے میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی طرح تمام فرقوں اور جماعتوں کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی۔ کمیونسٹوں سے معذرت کیساتھ وہ مذہب کو نشہ قرار دیتے ہیں لیکن چرس کا نشہ کرنے والے پھر بھی کچھ کام کاج کے قابل رہتے ہیں کمیونسٹ تو ہیروئن پینے والوں کی طرح بالکل ہی ناکارہ بن جاتے ہیں اور کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری یورپ و مغربی ممالک کے انصاف کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ لعنت تو مغرب سے ہی آئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ ہونے دی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دی۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، سوڈان اور کتنے سارے مسلم ممالک تباہ کردئیے گئے اور پھر صرف اعتراف جرم کیا حالانکہ سزا بھی ہونی چاہیے۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت پر معذرت کافی نہ تھی، برطانیہ کی طرح عراق کے معاملہ پر اعترافِ جرم کوکافی نہ سمجھنا چاہیے تھا بلکہ معراج محمد خان کو قیادت سونپ دینی چاہیے تھی۔ برطانیہ کو بھی چاہیے کہ اپنے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو باقاعدہ سزا بھی دے، ورنہ عراق میں تباہ ہونیوالے خاندان نسل درنسل اپنا انتقام لینے کیلئے برطانیہ کی عوام کو نہ چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جس طرح اسلام آباد میں ایک پولیس افسرایس ایس پی کو پٹوایا تھا ،اسی طرح دھرنے کے دوران خود کو سزا کیلئے پیش کردیں اور اسلام آبادایئرپورٹ پر جس طرح کارکنوں نے پولیس والوں کی ناک وغیرہ توڑ کر پٹائی لگائی تھی، اسی طرح ان کے رہنماؤں سے بھی ان زخموں کا بدلہ لینے کیلئے پیش کیا جائے تو شاید انکے برگشتہ مرید شریف برادران کا ضمیر بھی جاگ جائے اور وہ خود کو قصاص کیلئے پیش کریں۔
قوم طبقاتی تقسیم کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے، کراچی میں اگر معراج محمد خان کیخلاف مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ مل کر میدان نہ مارتے تو آج قوم پرستی کی بنیاد پر کراچی میں خون خرابے کے بعد شریف لوگوں کی بجائے گھٹیا قسم کا ماحول نہ بنتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن، پنجابی سٹوڈنٹ فیدریشن، سندھی سٹودنٹ فیڈریشن اور بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن ایک تعصب کے ماحول میں نہ پلتے تو مہاجر سٹوڈنٹ فیڈریشن کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔قوم پرستی کی سیاست نے انسانیت اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچایا، آرٹ کونسل میں ایک مقرر نے کہا کہ ’’ معراج محمدخان کی وجہ سے قوم پرستی کی طلبہ تنظیمیں بنی تھیں، وہ ہر قوم سے محبت رکھتے تھے، جئے سندھ، پختون،بلوچ اور پنجابی طلبہ تنظیموں کیلئے NSFبنیاد تھی‘‘۔ ترقی پسند تحریکوں کے رہنما کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ موجودہ نوجوان طبقہ بڑا اچھا ہے لیکن ہمارے اندر ایسی صلاحیت نہیں جو ان کو پیغام پہنچاسکیں۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے روس اور امریکہ سے فنڈز آتے تھے، باصلاحیت لوگ اپنا حصہ وصول کرکے سادہ لوح لوگوں کو قربانیوں کا بکرا بنادیتے تھے، اب وہ فنڈز تو بند ہوگئے ہیں،ایک سوکھا سا نظریہ رہ گیا ہے، وہ سویت یونین جو ان لوگوں کو ترنوالہ دیتا تھا،اب خود اپنا وجود بھی کھو گیا ہے۔ اگر وہ ایندھن ملنا شروع ہوجائے تو پھر سے افراد، قربانی کے بکرے اور بہت کچھ مل جائیگا،خان عبدالغفار خان ؒ اور عبدالصمدخان شہید اچکزئیؒ پاکستان بننے سے پہلے کے قوم پرست تھے، عاصم جمال مرحوم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ،ایک مخلص کمیونسٹ تھے، آخری عمر میں نماز پڑھنے پر بھی آگئے۔ ولی خان ؒ کی پارٹی میں رہ چکے تھے، حبیب جالبؒ کے ساتھی تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ ’’غوث بخش بزنجوؒ کے پاس پیسہ نہیں تھا اسلئے ان کو قیادت نہیں کرنے دی جاتی تھی، جبکہ ولی خانؒ کے پاس پیسہ تھا اگر وہ یہ قربانی دیدیتے کہ مہمانوں پر پیسہ خرچ کرتے اور قیادت غوث بخش بزنجوؒ کو سونپ دیتے، تو مشرقی پاکستان بھی نہ ٹوٹتا‘‘۔
قوم پرستی کا شوشہ تو معراج محمد خان سے پہلے کا تھا، متحدہ ہندوستان کی قومیت کا علمبردار طبقہ قوم پرست تھا۔ مولانا آزادؒ اور مولانا مدنیؒ نے اسلئے گالیوں اور اسلام سے خارج ہونے کا سامنا کیا کہ وہ مسلمان ہندی قوم پرست تھے، علامہ اقبالؒ نے بھی ہندی قومیت پر نظمیں لکھیں، خود کو سومناتی کہاہے۔ صحابہؓ کے انصارؓ و مہاجرینؓ ، قریش وغیرقریش، اہلبیت وقریش،کالا گورا، عرب وعجم، عرب وموالی اور اسرائیلی واسماعیلی کا شوشہ پرانا ہے۔ معراج کمیونسٹ اچھے انسان، پاکستانی اور مسلمان تھے۔ اچھا نظریہ اور حب الوطنی مختلف العقائد مسلمانوں کو آج بھی ایک کرسکتا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

کیا کمی ہے انمیں، کیا شکایت ہے ان سے؟ راحیل شریف کے چاہنے والے…. وہ کرپٹ نہیں ہے اور وہ خوشامدی نہیں ہے، نواز شریف کے چاہنے والے

8th_Coloumn_August2016

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف زیادہ حقدار ہیں کہ اشفاق کیانی کیطرح مزید 3سال ایکسٹینشن ملے ۔ اور بعض لوگ نواز شریف کی خواہش کیمطابق نہیں چاہتے کہ انکو مزید وقت ملے۔ دونوں کا مکالمہ دیکھ لیجئے

نواز شریف نے چوہدری سرور کو امپورٹ کیا اور پھر عدالت کے حکم پر مجبور ہوکر رفیق رجوانہ کو گورنر بنایا کیسی جمہوریت ہے پنجاب کے بارہ کروڑ عوام میں ن لیگ کیلئے ایک بے ضرر تابعدار سا گورنر مشکل ؟ پرویز مشرف کو بھی تو تم نے ہی نامزد کیا تھا اور آخر کار جس پر اعتماد کرو گے وہ بھی تو بستر گول کرسکتاہے۔ جیو کے خبرناک میں ترکی کی فوج کو عبرتناک بناکر اپنی فوج کی بڑی توہین کردی ہے میڈیا پر خرچہ کیا ہے

فوج کیلئے باہر سے سربراہ لانے کیلئے قانون سازی ہوسکتی ہے اور رفیق رجوانڑاں جیسا کوئی مل سکتا ہے رفیق تارڑکے ہم نام رفیق رجوانہ پر بہ مشکل اعتماد کیا ، چوہدری سرور کے بعد کس پر کیسے اعتماد کرتے؟ یار تم نے مشکل میں ڈالا ، تمہارے خلاف ہی قانون سازی کرنی پڑ رہی ہے نہیں تو وزیر اعظم لندن جائیگا جنرل راحیل نے بھی تو سعودیہ کی حمایت یافتہ اور مصر کی فاتح فوج سے ملکر دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا

جنرل کیانی کا اپنے بھائی کامران کیانی ، نوازشریف کا اپنے بچوں سے کیاتعلق؟۔ حالانکہ یہ قیامت میں ہوگا: یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبہ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں،اپنے باپ ، اپنی بیوی سے‘‘(القرآن)۔
خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ بذاتِ خود بہت مالدار تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان پر اقرباء پروری کے الزام لگے اور بات مسندِ خلافت پر شہادت تک پہنچی، داڑھی میں پہلا ہاتھ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے ڈالا ۔نبیﷺ زکوٰۃاسلئے قبول نہ کرنا چاہتے تھے کہ انسان انہ لحب الخیر لشدید’’مال کی محبت میں سخت ہے‘‘۔ اللہ نے حکم دیا تونبیﷺ نے اپنے اقارب پر زکوٰ ۃ حرام کردی۔ حضرت عثمانؓ اللہ کا حکم سمجھ کر اقارب پر احسان کرتے ۔ سیاستدان ، جرنیل اور بیوروکریٹ یہ اعتراف کرلیں کہ وہ مال چاہتے ہیں اور اقرباء کے نوازنے کی بات فطری ہے، اللہ نے فرمایا: لاتزکوا انفسکم ’’ اپنی پاکی بیان نہ کرو‘‘۔
چھوڑدیں کہ کس سیاستدان، جرنیل اوربیوروکریٹ نے کیا کیا؟۔ہرن مملکت بچے دیتی ہے۔ شیر، چیتے اوربھیڑئیے اسی پر پل رہے ہیں،قرآن میں سدھائے ہوئے جانور کا شکارحلال ہے مگر افسوس ہے کہ تعلیم وتربیت کا معیار نہیں اسلئے سب ہی بے سدھ ہیں۔ تربیت یافتہ کتے اور باز کا شکارحلال مگر آوارہ کتے اور گدھ کاراج ہوتو پاکستان کا کیا ہوگا؟، بڑے لوگوں کے بچے باہر اور ویزہ لگنے میں دیر بھی نہیں لگتی، عوام کی کمزوری پر حکمرانی ہے۔ قرضہ بے تحاشہ بڑھتا جارہا ہے، غریب کا بچہ باہر سے کماکربھیج رہا ہے، کرپٹ مافیہ دولت منتقل کررہاہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے جو سہارا ملا، اسکا فائدہ نہیں اٹھایا غیرملکی بینک موجودہیں، پیسہ باہر منتقل کرنا مسئلہ نہیں رہا۔سرکاری اثاثے بیچ کر اور اندرونی بے تحاشہ اور بھاری سود پر قرضہ لیکر آئی ائم ایف سے وقتی طور پر جان چھڑانا مسئلہ کا حل نہیں بحران کھڑا ہواتو مشکل پڑیگی بلکہ دیوالیہ ملک کو قرضہ بھی نہ مل سکے گا۔ سید عتیق گیلانی

ایم کیو ایم کی طرح کسی سیاسی جماعت سے رویہ رکھا گیا تو نظر نہیں آئیگی، اجمل ملک

Ajmal_Malik_August2016

مسلم لیگ (ن)سے یہ رویہ رکھا گیا تو اس مرتبہ شہباز شریف کا وہی کردار ہوگا جو سید مصطفی کمال کا ہے، 12مئی کے واقعہ پر پرویز مشرف نے مکا دکھایا اگر ہاتھ مروڑا ..

پاکستان میں ریاستی اداروں کی نظر کرم ہوجائے یا نظر بد لگ جائے تو اس کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے سوات کے طالبان سے لیکر کراچی کے ایم کیو ایم تک …

چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کی بازیابی بہت خوش آئند لیکن گدا گری کے پیشے کیلئے اغواء کئے جانے والے غریب کے بچے اور بچیاں بھی انسان ہیں کتے کے بچے نہیں ہیں

ایم کیو ایم نے اپنے خلاف لوگوں سے بولنے کا حق نہ چھینا ہوتا اور کراچی میں قانون کے ذریعے سے سزا دلانے کی روایت کو فروغ ملتا تو آج یہ دن انکو دیکھنے نہ پڑتے

کراچی (نمائندہ خصوصی) ماہنامہ ضرب حق کراچی ، کتاب جوہری دھماکہ اور ابر رحمت کے پبلشر اجمل ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی پالیسی ، نظرئیے اور رویوں سے سب کو اختلاف ہوسکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آجکل جس عتاب کی ایم کیو ایم شکار ہے اگر کسی اور جماعت سے یہ رویہ رکھا گیا تو اسکے آثار قدیمہ بھی نظر نہیں آئینگے۔ رینجرز کی نگرانی میں میڈیا کی پرزور مخالفت کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا نوزایدہ امیدوار ایم کیو ایم میں شامل ہوگیا، ن لیگ کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو نواز شریف معاہدہ کرکے بھاگا۔ واپسی پر کارکنوں نے استقبال میں نعرے لگائے تو برا مان گئے اور کہا کہ ’’چپ کرو ! جب مجھے ہتھکڑی پہنا کر لیجایا جارہا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی ایک بھی نہیں تھا‘‘۔ چوہدری شجاعت ، شیخ رشید ، دانیال عزیز سے لیکر عطا ء مانیکا تک کتنے بدل گئے؟۔ جبکہ اسحٰق ڈار نے عدالت کے سامنے بیان دیا ’’میں نے نواز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کی ہے‘‘۔
میڈیا میں اس بحث اور بکواس کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کی یا نہیں؟ ، یہ ایسا ہے جیسے کوئی سورج یا چاند تاروں پر بحث کرے کہ ہیں یا نہیں؟۔ کوئی حقیقی انقلاب آئے تو سب سے پہلے بکواس کرنے والوں کو میڈیا کے اوپر ہی عوام کے سامنے مرغا بنایا جائے۔ ایم کیو ایم کی طرح اگر مسلم لیگ (ن) سے برتاؤ کیا گیا تو مصطفی کمال کیطرح شہباز شریف بھی کردار ادا کریگا۔ 12مئی کو پرویز مشرف نے مکا دکھایا تھا اسکا بازو مروڑ دیا جاتا تو بھی انصاف نظر آتا تھا، ایم کیو ایم اپنے اعمال اور روئیے کی خود جوابدہ ہے، اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے انبیاء ؑ کی رہنمائی کرتا ہے تو کسی بھی عام انسان کو جو خود کو مسلمان کہتاہو یہ قطعاً نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ غلطی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ مثلاً کراچی کے سابق ناظم پاکستان سر زمین پارٹی کے قائد سید مصطفی کمال کو ہی لے لیجئے ۔ پہلے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیلئے جن جذبات کا اظہار کرتے تھے اب اس کا بالکل ہی برعکس رویہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سید ضعیم قادری جسکی سرکاری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی بولے تو یہ بھی بکنا شروع کردے تاکہ دوسرے کی بات کوئی سن نہ سکے۔ جب اس نے ایم کیو ایم کے قائد کیخلاف کچھ بولا تو سید مصطفی کمال نے کہا کہ تمہیں لاہور میں بھی گھر سے نہیں نکلنے دینگے۔ سید مصطفی کمال پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے فتویٰ لگایا کہ وہ تجدید ایمان کرلے ، اس لئے کہ مصطفی کمال نے اقرار کیا ہے کہ ہم الطاف حسین کو خدا مانتے تھے۔ حالانکہ فرشتوں نے بھی جنت میں اللہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پر سوال اٹھادیا مگر مصطفی کمال اپنے قائد کیلئے سوال اٹھانے کو بھی برداشت نہ کرتے تھے، اسلئے خدا کا لفظ بھی کم تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار جو بہت معتدل مزاج سمجھے جاتے ہیں جب مولانا فضل الرحمن نے اجمل پہاڑی کا صرف نام لیا تو ڈاکٹر صاحب نے مولانا ڈیزل سے لیکر اسکی ایسی کم تیسی کرکے وہ حال کردیا کہ اللہ کی پناہ۔ یہ تو مولانا کا دل گردہ تھا کہ پھر بھی نائن زیرو گئے ورنہ تو کوئی چھوٹے دل والا کبھی وہاں جانے نہ پاتا۔
کوئی عتاب میں ہو تو مرے پر سو دُرے لگانا انتہائی بے غیرتی اور بے ضمیری ہے۔ تاہم اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کے محرکات کیا ہیں؟۔ بلدیاتی انتخاب میں جمہوریت کی بنیاد کا پتہ چلتا ہے ، پاکستان کی ساری برسر اقتدار سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کی علمبردار نہیں ، اسلئے کہ وزیر اعلیٰ بننے میں بھی قائدین کو دلچسپی نہیں ہوتی، وہ تو صرف وزیر اعظم کا خواب ہی دیکھتے ہیں البتہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اپنا بیس بنانے کیلئے مستقل قبضہ جما رکھا ہے۔ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات کے علاوہ پاکستان میں ساری قومیتوں کو متحد کرکے انقلاب کی صلاحیت رکھتی تھی جو لوگ ایم کیو ایم کے مظالم پر سینہ کوبی کررہے ہیں انکی اکثریت دہشت گردی پھیلانے والے طالبان کی حامی تھی جیسے مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام وغیرہ۔ طالبان ریاستی اداروں کے اہل کاروں کو بھی حصہ دیتے تھے مگر ایم کیو ایم کا بھتے میں کوئی حصہ دار نہیں تھا۔
ریاستی ادارے بیورو کریسی انتظامیہ ، عدلیہ ، پولیس اور فوج کی نظرکرم ہوجائے تو اُلو بھی تیتر اور چکور بن جائے اور کائیں کائیں کرنے والے کوے شاہین بن جائیں اور نظر بد ہوجائے تو ہیرو بھی زیرو بن جائیں۔ سوات کے طالبان سے کراچی کے ایم کیو ایم اور گوادر سے لاہور تک ایک ایک معاملہ دیکھا جائے تو متضاد پالیسیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ایسے میں ریاستی اہلکاروں کا کوئی بھروسہ اور اعتبار نہیں ہوتا کہ کب کیا سے کیا ہوجائے؟۔ وزیر اعظم کبھی لندن سے واپس ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور کبھی لاہور سے اسلام آباد جانے میں خدشات کے انبار لگتے ہیں۔ ایسے ملک کا وزیر اعظم بننا بھی بہت بڑے درجے کی رسوائی سے کم نہیں۔ نواز شریف نے تو انتہائی نااہلی کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کی اوقات بدلے ہیں اسلئے بار بار وزیر اعظم بننے کی قربانی بھی دیتے ہیں۔ اسکے باپ کا نام شریف تھا ورنہ شرافت رکھنے والا کوئی شریف اتنی ذلت کے بعد کاروبار کیلئے یہ قربانی کب دے سکتا تھا؟۔ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جس نے مہاجر قوم اور پاکستان کی تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اسی نعرے کی گونج میں پاک سر زمین پارٹی کے رہنماؤں کی پرورش ہوئی۔ مصطفی کمال یہ کہہ دیتے کہ’’ ایک مرتبہ مجھے سرزنش ہوئی تو آسمان کے تارے نظر آنے لگے۔ سوچا کہ دوسروں پر مظالم، ذلت، رسوائی کے پہاڑتوڑ دیتے تھے، قتل وغارتگری کے مرتکب ہوجاتے تھے، زبردستی کی بنیاد پر جلسوں میں لے جاتے تھے، 12مئی کو ساری پارٹیوں کے برعکس چیف جسٹس کو ائرپورٹ سے نہ نکلنے دیا،معمولی گستاخانہ لہجہ برداشت نہیں کرتے تھے۔ ساری قوموں سے بھڑے ، اپنوں سے لڑے اور مہاجر سے متحدہ تک کا طویل سفر بچپن سے جوانی تک جس طرح سے طے کیا اور پھر ایک محفل میں بپھرے ہوئے کارکنوں کے روئیے سے نالاں ہوکر بھاگے ، یہ ہم پر قرض تھا کہ اپنی قوم سے معافی مانگتے ، ریاستی اداروں سے بھی معافی مانگتے اور دوسروں سے بھی معافی مانگتے تاکہ دنیا تو جو برباد ہونا تھی سو ہوئی مگر آخرت میں مغفرت کی کوئی سبیل نکلے‘‘ ۔اس طرح کے بیانات کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی نکلتے۔ یہ کونسی بات ہے کہ الطاف حسین اور اس کی جماعت را کی ایجنٹ ہے ، کہنے والا سابقہ راکا ایجنٹ۔ اگر ایم کیو ایم اور اسکی متاثرین کی اصلاح کرنی ہو تو اسکا یہ طریقہ نہیں کہ دوسرے ذرائع سے ان پر الزام لگایا جائے اور کل ماحول بدل جائے تو عامر خان کی طرح ایم کیو ایم کے زانوں میں اپنا سر دیدے۔ ایم کیو ایم کی اصل غلطی یہی تھی کہ مخالفین کو بولنے بھی نہ دیتے تھے۔ مخالفین کے بولنے سے کچھ بگڑتا نہیں بلکہ قیادت اور جماعت کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ آج بھی مکا چوک کے قریب لٹنے والوں کو ایم کیو ایم سے ہی گلہ ہے ، کراچی میں ایک کرائم سے پاک معاشرہ وجود میں آتا تو اسکا سارا کریڈٹ ایم کیو ایم کو جاتا۔ زبردستی سے تبدیلی کی ذلت میں کوئی اچھا پہلو ہوتا تو کراچی سے وزیرستان تک لوگ خوشیاں بانٹنے کیلئے جوق درجوق آتے۔

جانِ استقبال ارضِ پاکستان ہے مگر کیسے؟

یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز، پوری دنیا میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام یہاں سے ہوگا۔

اسلام کو اجنبیت کے گرد وغبار سے نکالنے کی دیر ہے، عوام کو یکجان ہونے میں دیر نہ لگے گی

دنیا کے سامنے اسلام کا اصل ماڈل پیش کیا جائیگا تو روس وامریکہ نہیں اسرائیل بھی قبول کریگا

اس خلافت کی خوشخبری نبیﷺ نے دی ہے جس سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے

اسلام دینِ فطرت ہے، روس وامریکہ، یورپ واسرائیل کے یہود ونصاریٰ کے دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سودی نظام سے دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی، دنیا سود کو کم سے کم کرنے پر عمل پیرا ہے ، ہمارے حکمران طبقے بھاری بھرکم سودی قرضے اور علماء و مفتیان سودی نظام کو اسلامی قرار دینے میں مگن ہیں، یہ اس وقت سجدے میں گرے ہیں جب بقول علامہ اقبال کے وقتِ قیام آیا۔ دین میں زبردستی نہیں ہے اور نظام باہمی رضا مندی اور مشاورت سے حکومت تشکیل دینے کا نام ہے۔ روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، نکاح و طلاق، شرعی حدوداور پورا اسلامی ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو جس طرح حبشہ کے بادشاہ نے سورۂ مریم کی تلاوت سننے کے بعد کہا تھا کہ ’’ ہمارا اعتقاد تنکے کے برابر بھی قرآن سے ادھر ادھر نہیں‘‘۔ اسی طرح دنیا بھر کے حکمران بھارت سمیت اسلامی نظام کو اسلام قبول کئے بغیر بھی اپنے ہاں نافذ کرنے پر برضا ورغبت راضی ہونگے۔ اچھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’مشرکوں سے نکاح مت کرو، ان سے مؤمن غلام اور لونڈیاں بہتر ہیں اگرچہ وہ تمہیں بھلے لگیں‘‘۔ جس کی وجہ سے بھارت کے ہندؤں سے رشتہ ناطہ کرنے سے دور ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی نہ ہوتا تو ہم انکے ساتھ پھر بھی شیروشکر ہوجاتے، جنرل راحیل شریف نے درست کہا کہ ’’کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے‘‘۔
یہ یاد رہے کہ معرکۂ ہند بھارت کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں فتح مکہ کی طرح ہوگااور مشرکینِ مکہ کی طرح شکست سے پہلے ان کو روحانی و اعصابی شکست ہوگی، اسرائیل کسی مزاحمت کے بغیر بیت المقدس پر جھنڈے کو نصب کرنے دیگا۔ ہندو مشرکین مکہ کی طرح اسلام میں داخل ہونگے اور ہندو مذہب اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے ختم ہوجائیگا۔ اسلام زمین میں جڑ پکڑلے گا اور دنیا میں آنے والے بارہ قریش و اہلبیت کے خلفاء وقفہ وقفہ سے دنیا کی تاریخ پر نمودار ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ آخری امیر مہدی تک سلسلہ جاری رہیگا۔ جن دیوبندی اکابرینؒ نے لکھا ہے کہ ’’ چھوٹے بڑے مجدد سے کام نہ چلے گا، اب امت کی اصلاح امام مہدی کے ذریعہ سے ہوگی، جس کی روحانی قوت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ پوری دنیا کے حالات کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہوگا‘‘۔ روحانی مشاہدہ کے اعتبار سے اس طرح کی باتیں بڑے بڑے بزرگوں نے بھی لکھی ہیں لیکن یہ سوچ اپنی جگہ پر بہت گمراہانہ تھی اسلئے کہ ایساعقیدہ روحانی قوت کی بنیاد پر ہو تومہدی کی حیثیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بڑھ جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں ہوسکتی، مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب ’’تجدید واحیائے دین‘‘ میں اس گمراہانہ سوچ کی نفی کی تھی جس میں عوام و خواص مبتلا تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بھی مہدئ برحق، امامِ زمانہ ، مہدی اور آخرزمانی کے مؤقف کو زبردست طریقہ سے اجاگر کیا ہے۔
قرآن، اسلام ،نبی کریمﷺ کی سیرت اور خلافت کے نظام کیلئے دہشت گردانہ کاروائیوں کی نہیں اس فکر سے پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے جسکی وجہ سے اسلام دین فطرت ہونے کے باوجود مذہبی طبقات کی کجروی کا شکار ہوچکا ہے۔ فرقہ واریت کی بجائے اتحاد واتفاق اور وحدت کا راستہ اس وقت سجھائی دیگا جب لوگوں کو راہ دکھائی جائیگی، اہل تشیع سمجھتے ہیں بارہ خلفاء قریش واہلبیت کا ذکر احادیث میں موجود ہے لیکن اہلسنت کے پاس کوئی معقول جواب نہیں، اسلئے اپنے لب ولہجہ میں درشتی اختیار کرلیتے ہیں حالانکہ ان کے ہاں بارہ امام کا جو تصور ہے، عقیدہ اور اصول کے اعتبار سے کلمہ و آذان بھی وقت کے امام کیساتھ بدلتے رہنا چاہیے تھامگر ان کے پاس اس کا معقول جواب نہیں، علاوہ ازیں بارہ اماموں پر امت کے اکٹھا ہونے کی خوشخبری ہے جبکہ اہل تشیع اپنے بارہ امام پر بھی متفق نہیں ہیں۔ اس معقول نقشِ انقلاب سے امت مسلمہ کا مستقبل روش نظر آتا ہے، قرآن وسنت کا راستہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔قرآن اتنا بلیغ ہے کہ صحابہ کرامؓ ان پڑھ تھے مگر پھر بھی ہدایت پاکر دنیا پر چھاگئے تھے اگر موجودہ ترقی یافتہ دور میں قرآن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی اہلبیت ذریعہ بن جائے تو قباحت کیاہے؟۔

قرون اولیٰ کی تاریخ دہرانے کا یہ دور ہے

شاہ اسماعیل شہیدؒ ، مولاناآزادؒ ، مولانا مودودیؒ ،ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوانؒ وغیرہ کا اتفاق تھا

موجودہ دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی، حدیث کی روشنی میں پاکستان مرکز!

دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اتنی مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں جتنی پاک سرزمین شاد باد میں!

قوم ملک سلطنت ،پائندہ تابندہ باد،مرکزیقین ،نشانِ عزم عالیشان،سایہ خدائے ذوالجلال

یہ ارض پاکستان ہے، جو لیلۃ القدر کی رات کو آزاد ہوا، رات کی تاریکی میں اس کاپرچم ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال قرار دیا گیا۔ 14اگست کی انتہاء اور 15اگست کی ابتداء اپنی جگہ مگر 27رمضان المبارک کولیلۃ القدر میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ برصغیر پاک وہند کی آزادی کے وقت معنوی اعتبار سے بھی گھپ اندھیرے والی رات تھی، مذہب کے نام وجود میں آنے والی سیاسی جماعت ’’جمعیت علماء ہند ‘‘ متحدہ ہندوستان سیکولر ملک کی تشکیل کے حق میں تھی، سیکولر ذہنیت رکھنے والے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال مذہب کے نام پاکستان کو وجود بخشنے کے حامی تھے جن پر کفر کے فتوے بھی لگادئیے گئے تھے۔یہ اختلاف بڑا رحمت تھا، اگر مذہبی طبقات کی بالادستی میں یہ پاکستان بنتا تو ہمارے تعلیمی اداروں سمیت ترقی یافتہ دور میں بھی یہاں تصویر پر پابندی ہوتی اور ترقی کی ساری راہیں رُک جاتیں، ریاست نے اللہ کی توفیق سے بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کرنسی پر لگادی۔ کرنسی کے آگے ملاصاحبان کا اسلام زیرو بن جاتا ہے۔ غریب بچوں کیلئے مفت کی دوائی پر تصویر کا خاکہ بھی ہو تو طالبان پابندی لگادیتے تھے مگر کرنسی میں جناح کی تصویر کیا ڈالر پر بھی تصویر قابل قبول تھی اور یہ کوئی طعنہ نہیں بلکہ اصل حقائق کی طرف علماء و طلبہ اور مذہبی طبقات کی توجہ مبذول کرانا مقصدہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اسلام اور اقتدار دو جڑواں بھائی ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتے، اسلام بنیاد ہے اور اقتدار اس کی عمارت، اسلام اصول کا درجہ رکھتا ہے اور اقتدار محافظ و نگران کا ‘‘۔ جب نبیﷺ کو مکہ میں اقتدار حاصل نہ تھا تو اللہ نے ریاست کے قیام کیلئے سچائی کیساتھ داخل ہونے کا (مدینہ میں) اورسچائی کیساتھ (مکہ سے) نکلنے اور اقتدار کو اپنا مددگار بنانے کا حکم دیا۔ مدینہ کی ریاست سے اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا، پاکستان دنیا میں واحد ریاست ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وجود میں آئی ہے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے حدیث لکھی ہے ’’ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ مگر درمیانہ زمانہ میں کج رو جماعت ہوگی، میں اسکے راستے پر نہیں وہ میرے راستے پر نہیں‘‘ اور حدیث کا جزء بھی لکھاہے ’’ پھر میرے اہلبیت میں سے ایک نیک شخص نکلے گا جو اس امت کا آخری امیر ہوگا‘‘ یہی جزء ڈاکٹرطاہرالقادری نے بھی نقل کیا، حالانکہ پوری حدیث یہ ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ مہدی کے بعد قحطانی امیر ہوگا، جس کے دونوں کان سوراخدار ہوں گے، وہ چالیس سال تک رہیگا، پھر امت کے آخری امیر کا ذکرہے، مفتی رفیع عثمانی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ ’’ دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور رہنما ہونگے‘‘۔ علاماتِ قیامت اور نزول مسیحؑ ۔ ’’عصرِ حاضر حدیثِ نبویﷺ کے آئینہ میں: مولانا یوسف لدھیانوی‘‘ کو دیکھ لیجئے، جس میں حکمرانوں، رہنماؤں اور علماء ومفتیان کے حالات کا تذکرہ ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں مہدی، امام، شاخ ہاشمی کے برگ وبار، فطرت کے مقاصد کا ترجمان مردِ کوہستانی، شکوہ ترکمانی،ذہن ہندی،نطق اعرابی اور طلوعِ اسلام کے خدوخال بیان کئے ہیں۔ جنرل راحیل کو اگر پاکستان ، امت مسلمہ اور عالمِ انسانیت میں اچھے کردار ادا کرنے کی نعمت کا موقع مل رہا ہے تو سودی قرضہ پر نوازشریف کی دہشت گردی کا نوٹس لیں، مدارس کے کفریہ اور گمرانہ نصاب کو میڈیا پر پیش کریں اور علماء ومفتیان کو صفائی اور دفاع کا موقع دیں۔ مفتی رفیع عثمانی نے مجیب الرحمن شامی کے پروگرام میں بتایا :’’ باہر کا فنڈدوفیصد بلکہ ایک فیصد بلکہ آدھا فیصد ہے‘‘۔ فنڈز کے اعداد وشمار بتانے کی بجائے کہا کہ ’’جب بھی طلبہ اور اساتذہ کی تنخواہ اور سہولت میں اضافہ کیا، اللہ نے مجھے اور نوازا، اور زیادہ دیا‘‘۔ کیا مدرسہ کسی کے باپ کی فیکٹری ہے کہ جو چندہ بڑھ جائے، اس کو اپنی ذات کو نوازنے سے تعبیر کیا جائے؟۔ حکمرانوں نے حکومتوں کو اور علماء نے مدارس کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے ، ان کے احتساب سے پاکستان کی عوام اور غریب غرباء کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

قرون اولیٰ کے ادوار کی زبردست تاریخ

سورۂ واقعہ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمداور دیگر سورتوں میں صحابہ کرامؓ اور آخری جماعت کا ذکر ہے۔

السٰبقون السٰبقون اولئک المقربون.. ثلۃ من الاوّلین و قلیل من الآخرین

سبقت لے جانے والے…مقرب ہیں…پہلوں میں سے بڑی جماعت ، آخر میں تھوڑے

سبقت لے جانے میں اولین مہاجر و انصار میں سے اور جو ان کی اتباع احسان کیساتھ کریں

نبی کریم ﷺ نے تعلیم وتربیت اور تزکیہ و حکمت سکھاتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی جو جماعت تیار کی، اس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے، دنیا کی تاریخی شہادت بھی رد کرنا ممکن نہیں ہے، سورۂ جمعہ میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ جو آخر میں ہیں اور پہلے والوں سے مل جائیں گے۔ احادیث میں وضاحت ہے کہ اس سے فارس کے لوگ مراد ہیں، بعض نے امام ابوحنیفہؒ اورآپ کی جماعت کوقرار دیا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے پارہ عم کی تفسیر میں سورۃ القدر کے ذیل میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیراورافغانستان کے خطہ میں جس قدر قومیں ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ یہیں سے ہوگی، اگر ہندو پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلہ میں لائیں تو اس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، یہاں حنفی مسلک رائج ہے، اہل تشیع بھی اس کو قبول کریں گے‘‘۔ مولانا سندھیؒ قرآنی انقلاب کے داعی تھے، انہوں نے وضاحت کی ہے کہ قرآن کا اصل معجزہ اللہ کی آیات کا وہ مفہوم ہے جس کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اس کے ذریعہ سے کوئی بھی پستی اور زوال کی شکار قوم عروج وترقی کی منزل پائے، عربوں کو اسی معجزے نے عروج وکمال تک پہنچایا تھا، اسکے اولین مخاطب بھی عرب ہی تھے لیکن قرآن کا ایک خطاب عالمگیر انقلاب اور پوری انسانیت کیلئے بھی ہے، جب اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو عربوں کی اچھائیوں کو برقرار رکھا گیا اور ان کے اندر موجود برائیوں کا خاتمہ کیا گیا، پھر نشاۃ ثانیہ ہوگی تو قرآن کا خطاب پوری انسانیت سے ہوگا، پھر دنیا بھر کے انسانوں کی اچھائی برقرار اور برائی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ مولانا سندھیؒ نے حنفی مسلک کو قرآن کی بنیادپر قانون سازی کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔
جب تک صحابہ کرامؓ سے حسنِ عقیدت نہ رکھی جائے تو قرآن کی بنیاد پر انقلاب کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ جب ہم خو د ہی اس بات کی نفی کریں گے کہ صحابہؓ کی بڑی جما عت ثلۃ من اولینکی کوئی حیثیت نہ تھی تو قلیل من الاٰخرین کی جماعت کیسے بن سکیں گے؟۔ جب ہم السابقون اولون من المہاجرین و الانصار ہی کو نہیں مانیں گے تو والذین اتبعوھم باحسان کے مصداق بننے کی کوشش کیسے کریں گے؟۔جب تک عربوں نے اسلام کی خدمت کی ، نبوت، خلافت، امارت کے ادوار میں دنیا پر چھائے رہے، ترک کی خلافت عثمانیہ کے بادشاہ غیر عرب تھے، وہ اگر اسلام قبول نہ کرتے تو ان کی حکومت چل بھی نہیں سکتی تھی۔ پھر ترکی خلافت کے خلاف بغاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ، اور امت مسلمہ برطانوی سامراج کے زیرنگیں ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔ اقوام متحدہ میں قطرہ قطرہ دریا بنا مگر ہم سمندر ہوکر بھی چلو چلو بن گئے ہیں۔
سورۂ محمد میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ عربوں کے موجودہ افرادکو مخاطب کرکے کہا گیاہے کہ اگر تم نے اسلام کا کام نہ کیا تو کوئی اور قوم اُٹھے گی جو ثم لایکون امثالکم ’’پھر تم جیسی نہ ہوگی‘‘۔اس کا مطلب یہی ہے کہ نشاۃ ثانیہ کے وقت دوسری قوم کی کنڈیشن عربوں سے بہتر ہوگی۔ ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی اگر اپنے ساتھیوں کو صحابہؓ سے بہتر بلکہ صحابہ کرامؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناتے اور امامیہ کے فقہی مسلک کی بجائے قرآن کو بنیاد قرار دیتے تو آج امت مسلمہ کی حالت بہتر ہوتی۔ اہل تشیع ہونے کے ناطے ایرانی انقلاب کے بانیوں کو صحابہ کرامؓ اور قرآن سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، افغانستان کے طالبان سنی ہونے کے ناطے صحابہؓ سے عقیدت رکھتے تھے مگر محض عقیدت بھی کافی نہ تھی، قرآن کو سمجھ کر اسکے مطابق قوانین بنائے جاتے تو دنیا کیلئے افغانستان کے طالبان کا انقلاب بھی بڑی تبدیلی کا باعث بنتا۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے ادوار میں بتدریج کمال سے زوال کا سفر شروع ہوا، پہلی، دوسری، تیسری صدی ہجری میں شخصی تقلید کا کوئی نام ونشان نہ تھا،محدثینؒ اور فقہاء میں بھی فرضی مسائل گھڑنے پر اختلاف تھا، پھر چوتھی صدی ہجری میں شخصی تقلید کا تصور وجود میں آیا، ساتویں صدی ہجری علم وعرفاں کے زوال کا سال تھا، ہمارے درسِ نظامی میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ زوال کے دور کی یادگار ہیں،اس نصاب سے فارغ التحصیل ہونے والا طبقہ بہت کوڑھ دماغ ہوتاہے، مفتی محمد شفیعؒ نے مدارس کو بانجھ قرار دیا تھا،مولاناسندھیؒ ،مولاناآزادؒ ،علامہ انورشاہ کشمیریؒ اوراستاذالاساتذہ شیخ الہندؒ کی آخرمیں یہی رائے تھی۔

پاکستان اپنے سفرکے اہم ترین چوراہے پر

14اگست 1947ء تاریخ کا آخری سیاہ ترین دن تھا جسکے گزرتے ہی یہ وطن عزیز آزاد ہوا، لیکن ہم نے رٹ لگائی ہے کہ رات 12بجکر1منٹ پر پاکستان آزاد ہوا، ٹی وی چینلوں پر روزانہ رات 12بجتے ہی تاریخ بدل جاتی ہے۔ یوں ہم ہر سال 13اگست کو 12بجتے ہی یومِ آزادی مناتے ہیں جسمیں غلامی کا آخری سورج طلوع وغروب ہوا۔ جب ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی تقریرو تصویر پر پابندی نہ تھی تو جلسۂ عام میں کہا کہ’’ پاکستان 15اگست کو آزاد ہوا تھا‘‘۔ جسکے جواب میں حامد میر نے وضاحت کی کہ’’ پاکستان رات 12بجکر1منٹ پر آزاد ہوا، برطانیہ کی چاہت یہ تھی کہ آزادی کی خوشی اس دن منائی جائے جب امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے تھے لیکن قائداعظم نے اسکی خواہش کیخلاف آزادی کو 14اگست کو منانے کا اعلان کیا‘‘ ۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی تقریر وتصویر پر پابندی لگی اور حامد میر کو اپنی منافقہ وکالت کے صلہ میں گولیاں ماری گئیں۔
مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے والے جنرل نیازی بھارت کی قید سے آزاد ہوئے تو کراچی میں شاندار استقبال ہوا تھا ۔ اب باقی ماندہ پاکستان بھی اس اہم چوراہے پر کھڑا ہے جس میں جھوٹ کے سہارے چلنے والی قوم ، ریاست اور حکومت کو معروضی حقائق سمجھ کر اپنی اصلاح کی طرف آنا ہوگا ، یا خاکم بدہن دوسرے ممالک اور قوموں کی طرح ہمارا بھی حشر نشر ہوگا، ہمارا ہوش ٹھکانے نہ آیا توبہت بُرا ہوگا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ریاستی دہشت گردی کی تھی اسکے نتیجے میں بھٹو کے ڈیرے پر زرداریوں کا بسیرا ہے۔اصل بھٹو خاندان تنہائیوں کا شکار ہے جو مرتضیٰ بھٹو کی اولاد ہے، ذولفقار علی بھٹو کے والدشاہنوازبھٹو کے وارث ذوالفقار جونئیرو فاطمہ بھٹو کا گھر 70کلفٹن ہے، آصف زرداری نے اپنے بیٹے بلاول کا نام اپنے دادا کے نام پر رکھا اسلئے بلاول ہاؤس پر بھٹو کی چھاپ درست نہیں، گڑھی خدابخش لاڑکانہ میں بھٹو کے ڈیرے پر زرداریوں کا بسیرا بھٹو کی یتیم اولاد کیساتھ بڑی زیادتی ہے جو شہیدوں کی قربانیوں کا نہیں بلکہ جن کیساتھ بھٹو نے زیادتی کی تھی ان کی بددعاؤں کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں پیپلزپارٹی کے رہنما ذوالفقارکھوسہ نے کہا کہ ’’ قدرت نے جنرل ضیاء الحق سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا انتقام لیا، جسکے جسم کے ٹکڑے بھی نہ ملے اور جھوٹ سے قبر بھی بنادی‘‘۔ معروف ٹی وی چینلوں نے یہ سچ قوم کو دکھانے کے بجائے نشریات کا رخ موڑ دیا۔ قوم کے سامنے سچ بولنے والا کوئی نہ تھا جو اتنا کہہ دیتا کہ بھٹو نے بھی کم مظالم نہیں کئے ہیں حبیب جالب نے اس پر شاعری بھی کی تھی اسلئے بھٹو اپنے انجام کو مکافات عمل کی وجہ سے پہنچے ، البتہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہتھوڑا گروپ جیسے واقعات ہوئے تھے تو گمنام قاتل اور مقتول کا انتقام قدرت نے جنرل ضیاء اورجنرل اختر وغیرہ سے لیا تھا۔فوج اورسیاستدان کی طبقاتی کشمکش کا آئینہ خناس بن کر میڈیا پر دکھایا جاتا ہے ، عوام الجھ جاتی ہے کہ کس کا قصور ہے اور کس کا نہیں؟۔ مگر عوام کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کا انتقام تو گویا خدا بھی نہیں لیتا، بس اللہ سیاستدانوں کا ہے یا فوجیوں کا ہے، دونوں عوام کی ہمدردیاں بھی سمیٹتے ہیں اور عوام کو پتلی تماشہ بھی دکھاتے ہیں، مشرقی پاکستان ہاتھوں سے گیا لیکن جنرل نیازی اور بھٹو قوم کے ہیرو یا زیرو ٹھہرے ، عوام تماشہ دیکھتی رہ گئی۔
وزیردفاع وبجلی خواجہ آصف نے کہا کہ ’’ افغانیوں کو ہم نے پناہ دی ، اب آنکھ دکھا رہے ہیں‘‘۔ خواجہ آصف کاباپ جنرل ضیاء کی شوریٰ کا چیئرمین تھا،امریکہ کے ایجنٹوں نے افغانی دلے گل بدین حکمت یار اور پاکستانی دلے ہارون الرشید جیسے لوگوں کے ذریعہ اپنے مفاد کیلئے خطہ کو تباہ کیا،کرایہ کے جہاد کی قیادت اور حمایت کی سعادت حاصل کرنے والوں نے دوسروں کے بچے مروا نے کی قیمت پر اپنے بچوں کیلئے جائیدادیں بنادیں ہیں۔ فتنوں کی آگ سلگانے اور پھونکیں مارنے والوں کے چہروں سے نقاب اٹھ جائے تو عوام کو پتہ چل جائیگا کہ حبیب جالب اور ڈاکٹر نجیب اللہ پاکستان اور افغانستان کے ہیرو تھے جو اپنی قوم اور مٹی سے محبت کا دم بھرتے تھے اور سفید چمڑی کے گلبدین حکمت یار اور کالی دمڑی کے ہارون الرشید اس خطے میں اپنی قوم، وطن، ریاست ، ملک کے دشمن اور اغیار کے ایجنڈہ پر چلنے کے مجرم اور ایجنٹ ہیں،بہت نقصان اٹھاچکے ،اب مزید اس کردار وافکار سے بچیں۔
تحریک انصاف کے شہریار آفریدی نے کہا کہ ’’ پشاور میں کوئی مکان بکتا ہے تو افغانی مہنگے دام خریدنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے‘‘۔ تاجر برادری نے افغانستان کیخلاف جلوس نکالے لیکن جب ہمارے فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے دنیا بھر میں اثاثے خریدے، تو افغانی بیرون ملک محنت مزدوری کرکے اپنا سرمایہ پاکستان میں لگائیں تو اس میں کونسی برائی ہے؟۔ مسلم لیگ(ن) کی وہ حکومت جس نے بھارتی جاسوس کلب (کتا) ہوش (پکڑو) ن (لیگ) پر چپ کا روزہ رکھا تھا، جب بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں پر گولہ باری کرکے بے گناہ لوگ شہید کیے تو کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہیں آتا۔ دنیا کودکھایاکہ افغانستان و پاکستان کی جنگ کتنی آسانی سے ہوسکتی ہے؟،مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا’’ افغان طالبان رہنما پاکستان میں ہیں‘‘ افغانستان نے واضح کیا کہ ’’پاکستان مخالف طالبان پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے‘‘۔
امریکہ پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کیخلاف مؤثر کاروائی کا مطالبہ کر رہا ہے اور پاکستان اپنے مخالف طالبان کو ٹھکانے نہ لگانے پر امریکہ سے خفا ہے مگر ہماری حیثیت پشتو کی کہاوت کیمطابق’’ گاؤں کے میراثیوں کی طرح ہے جن سے گاؤں والے ناراض ہوجائیں تب بھی میراثیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میراثی ناراض ہوجائیں تب بھی میراثیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔امریکہ کی ہمدردیاں بھارت کیساتھ ہیں، ایران سے بھی لڑائی نہیں رہی ، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں بھارت، افغانستان اور ایران کا سہہ فریقی اتحاد کھل کر قائم ہوگیا ہے، پاکستان چین کیساتھ ساتھ روس سے بھی تعلق استوار کررہا ہے اور اس نئی صف بندی میں پاکستان وافغانستان کو ڈیورنڈ لائن پر لڑانے کی کوشش ہوگی تو پاکستان کے مقابلہ میں افغانستان کو ایران اور عالمی قوتوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ اٹک سے میانوالی تک کے علاقہ پر افغانستان کا دعویٰ ہے۔ تیسری بار وزیراعظم پر پابندی کے خاتمہ کیلئے (ن) لیگ’’سرحد‘‘کا نام بدلنے پر راضی ہوئی، سرحد تنازعہ کا نشان تھا۔اگر نیٹو نے اس جنگ میں افغانستان کا ساتھ دیا تو پاک فوج کو حکم دیا جائیگا کہ متنازعہ علاقہ خالی کرو اور وہ اقوام متحدہ جو 1948سے مقبوضہ کشمیر میں استصوابِ رائے نہ کراسکا مگر سوڈان میں اپنی فوج بھیج دی، جسمیں پاکستانیوں نے بھی حصہ لیا۔ یہاں بھی اقوام متحدہ کی فوج آئے تواس میں اسلامی ممالک کے علاوہ بھارت کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی ہماری فوج اور پولیس کو پاکستان کا بٹوارہ کرنے کیلئے زیادہ تنخواہ ملے تو ہماری ریاست بھی حصہ دارہو گی۔
امریکہ کی ریاست اسلحہ سے چلتی ہے، دنیا بھر میں جہاں لوگوں کو مرغے، کتے، بٹیر، تیتر،اونٹ ، بیل،دنبے، بھینسے اور دیگرجانور اور پرندے لڑانے کا شوق بلکہ کمائی کا ذریعہ اور پیشہ بھی ہوتا ہے ،امریکہ ریاستوں کو لڑانے، ڈھانچے تباہ کرنے اور قوموں کو لڑانے کاخوگر و پیشہ ور ہے۔پاکستان میں فرقے و لسانی لڑائی کے علاوہ سیاسی تعصب اور میڈیا کے ذریعہ خناس کا کردار ادا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اگرہم نے قوم کے سامنے سچ کو واضح کیا تو جھوٹوں کے منہ کالے اور عوام قومی مفاد ، پاکستان کی تعمیر اوردنیا میں سرخروئی کے متوالے ہونگے۔ پاکستان واقعی عظیم ملک، پاکستانی عظیم قوم ہے اورآئندہ اپنی عظمت منوانے کے دن آرہے ہیں۔ انشاء اللہ ، سید عتیق الرحمن گیلانی

پاک فوج سے بدگمانی کے عوامل اور اسکے نتائج

پاکستان میں مختلف ادوار کے اندر فوج نے اقتدار سنبھالا ہے، ایوب خان کے دور سے پہلے بھی عوامی قیادت نہیں تھی، بیوروکریسی کے سکندر مرزا سے حکومت چھین لی گئی تو عوام کا مسئلہ نہیں تھابلکہ انگریز کے تیار کردہ سول اور فوجی قیادت کی لڑائی تھی، ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی جنرل ایوب خان کی ٹیم سے نکل کر بعد میں عوام کا رخ کیا تھا اور بھٹو جب فوج کے ہاتھ سے تختہ دار تک پہنچے تو جنرل ضیاء الحق کے آغوش میں نواز شریف نے پرورش پائی، بھٹو نے فوج اور قوم پر قابو پانے کی کوشش کی ، نوازشریف بھی آنکھیں دکھا رہا ہے، اسلئے نوازشریف کامتبادل تلاش کیاجارہا ہے۔ نوازشریف کی خواہش ہے کہ باقی فوج جو کچھ کرتی پھرے خیر ہے مگر فوج اسکے برے وقت میں کام آئے، مخالف تحریکوں کو دبائے، پانامہ لیکس پرمٹی ڈال دے اور حکومت کے خلاف بولنے والوں کو لگام دے، نہیں تو فوج کی یہ نوازشریف سے بے وفائی ہے۔
پاک فوج ضربِ عضب میں تنہائی کا شکار تھی، حکومت کسی کام میں مشورہ بھی نہ دیتی تھی، سول لوگوں کیساتھ سیاسی طور سے نمٹ لینا فوج نہیں سیاستدان کا کام ہے، وزیرستان میں فوج کو کوئی بات ناگوار گزرتی ہے تو وہ ان کیساتھ ویساہی سلوک کرتی ہے جیسے فوج کی ڈسپلن، تربیت اور جو خودپر بیت چکی ہوتی ہے، مشہور ہے کہ گدھے کی محبت لات مارنا ہوتا ہے۔ فوجی طرز کی سزا ؤں میں پاک فوج کے جوان اپنائیت محسوس کرتے ہیں لیکن عوام میں ان سے نفرت بڑھ جاتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جان بوجھ کر ہماری توہین کی جاری ہے۔ حالانکہ یہ سزائیں فوجی خود بھی بھگتے ہیں اور دوسروں کو دینے کا مقصد بھی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ ڈسپلن اورتربیت ہوتی ہے۔
وزیرستان میں گھروں کے چھتوں سے برف نہ ہٹائی جائے توخراب ہوجاتے ہیں، کئی سالوں سے عوام کو جانے نہیں دیا جارہا تھا تو شہروں اور گاؤں کا ملبہ ٹھیکہ پر بیچاگیا، عوام نے گھروں کا حال دیکھا تو بہت پریشان ہوگئے کہ فوجی بھوکے ہوتے ہیں ، ہمارے گھروں، دکانوں اور بڑے بڑے درختوں کو کاٹ کر کھا گئے ہیں لیکن ان کو یہ کام کرتے ہوئے ذرا بھی شرم نہ آئی کہ ایک تو پناہ گزین بنایا گیا ، دوسرا ٹھیکوں پر سب کچھ بیچ ڈالا گیا۔ پرویزمشرف کے دور سے ایسا لگتا تھا کہ فوج کو ایک مہم کے تحت بدنام کرنے کیلئے ایسا کردار دیا گیا ہے تاکہ عوام ان سے نفرت کریں۔ سرکاری محکموں ، روڈ کے ٹھیکوں اور بدترین سلوک کی ان گنت کہانیاں عوام کے دل و دماغ پر نقش ہیں، فوج پرکوئی آفت آئے تو لوگ اس کو خدا کی طرف سے پکڑ اور قہر سے تشبیہ دیں گے۔ عوام کے دل ودماغ کو مثبت انداز میں سوچنے کیلئے مؤثر قیادت ہوتی تو پھر مشکلات حل کرنے میں بہت آسانی ہوسکتی ہے ورنہ عالمی منصوبہ سازوں نے یہ کسر نہیں چھوڑی ہے کہ کسی بڑی سازش کا مقابلہ ہوسکے۔
جس طرح ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے کہ دوسرے کی عزت کوئی عزت نہیں لگتی، دوسرے کا نقصان کوئی نقصان محسوس نہیں ہوتا، قتل وغارتگری، مال ودولت کی پوجاو پاٹ ،اخلاقی بے راروی اور ہرقسم کی گراوٹوں کی آماجگاہ ہیں، فوج بھی اسی قوم وملت کا حصہ ہے، بس فرق جنگلی اور شہری انسانوں میں ضرور ہوتا ہے۔ قیادت اگر درست ہاتھوں میں رہے تواسکو ٹھیک ہونے میں زیادہ عرصہ بھی نہ لگے ۔ قبائل کو اس نے سدھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے تو اس پر گلہ کرنے کی بجائے خوش ہونا چاہیے۔ گاؤں ٹھیکے پر دئیے ہیں تو یہ نسبتًا سلجھا ہوا طریقہ ہے ورنہ تو ہمارے ہاں جس کو سزا دی جاتی تھی اسکے گھر کی لوٹ مار کی جاتی تھی، اب آئندہ قبائل کسی کو بھی سزا دینگے تو لشکرکشی کے ذریعہ لوٹ مار کی بجائے معروف طریقہ سے اشتہار دیکر ٹھیکہ پر گھر دینگے۔ امریکہ نے چاہا تھا کہ ہماری قوم کو بالکل خصی بنادے لیکن اب ہم بہت سلجھ گئے ہیں ، انشاء اللہ آنے والے وقت میں ہماری قوم امریکیوں کی امامت اسلئے کرے گی کہ وہ سلجھے ہوئے نہ ہونگے ایک دوسرے سے رنگ، نسل ،قوم اور مذہب کی بنیاد پر لڑیں گے اور ہم انکے درمیان بھی مصالحت کا کردار ادا کرینگے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہم یکیدون کیدًا واکیدکیدًا ’’بیشک وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں‘‘۔ مہدئ سوڈانی نے انگریز کوشکست دی تو اب سوڈان سے مغرب نے اپنا بدلہ لیا ہے، پختونخواہ کے لوگوں نے انگریز سے لڑائیاں لڑی تھیں تو انکے خلاف بھی بہت سازشیں کی گئیں۔ پختون قوم کو منصوبہ بندی کے تحت تباہ کیا گیا لیکن اس سے ان میں بین الاقوامی معیار کا شعور بھی آیا ہے، اب پھر افغانستان اور پاکستان کو لڑانے اور پختونوں کو مزید کچلنے کی سازش تیار ہورہی ہے۔ ہماری افغانوں سے کوئی لڑائی نہیں مگر جہاں تک ڈیورنڈ لائن کا تعلق ہے تو اگر ہمیں یہ اختیار دیا جائے کہ افغانستان یا پاکستان میں کس کیساتھ رہنا پسند کرینگے تو اب ہمیں افغان پر حکمرانی بھی نہیں چاہیے لیکن پاکستان کی رعایابن کر رہنا ہی پسند ہوگا۔ پنجابی، سندھی، بلوچ اور کشمیری سے جو انسیت ہے وہ افغانوں سے نہیں، اگر بالفرض پاکستانی اسلام کا نام چھوڑ دیں تب بھی راجہ رنجیت سنگھ کی اولاد کے نام پر بھی انگریز نے پنجاب کو نہیں چھوڑنا ،ہم انکے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے، علامہ اقبال کی بکواس ؂کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی کسی کام کی نہیں ، قرآن کیمطابق اپنی استطاعت سے دفاع کی طاقت حاصل کرکے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر رعب طاری کرنا ہے، بھارت کی حد تک ایٹم بم اور میزائل پروگرام تشکیل دیا لیکن اپنی استطاعت سے بڑھ کر دفاع کا بجٹ بنانے کے باوجود امریکہ کے دست نگر رہتے ہیں۔ ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن میں امریکہ کی چبائے ہوئے چیونگم کی طرح امداد کے نشے کا انتظار نہ رہے۔کوئی امداد روکنے کا بل پیش کرتا ہے اور کوئی مسترد کرتا ہے تو ہماری روح ہی تڑپ جاتی ہے کہ جان نکلے گی یا جان بچے گی، ایسی دفاعی امداد پر لعنت بھیجو۔
پاک فوج نے کم عقل سیاستدانوں کو استعمال کرکے بہت مشکلات پیدا کی ہیں، اگر وہ شہروں سے باہر اپنے ٹھکانے بنالیں تو شاید بیرونی دشمنوں سے خطرہ لگتا ہے اور اگر عوام کیلئے راہیں کھول دیں تو اندرونی دشمن کا خوف مسلط ہے۔ جب تک اس طرز زندگی کو تبدیل نہیں کرینگے تو عوام اور پاک فوج میں محبت کی جگہ نفرت پیدا ہوتی رہے گی۔ فوج کی ٹریننگ دشمن سے نمٹنے کیلئے ہے۔ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی میں ایسے حالات بنائے گئے کہ دشمن بھی اس سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا،موجودہ فوجی قیادت نے اس چیلنج کو قبول کرکے کافی حد تک معاملات کو حل کردیا ، فوجی سپاہیوں اور افسران سے پولیس کی طرح توقع رکھنا بھی ایک غلطی ہے۔ اب تو فوج کو اتنا عرصہ قبائلی علاقوں ، بلوچستان اور کراچی میں ہواکہ ان کو پولیس کی طرح ٹریننگ دی جائے اور بطور پولیس بھرتی کرنے میں بھی حرج نہ ہونا چاہیے۔ اسلئے کہ اب یہ جنگلوں میں نہیں رہ سکتے ، البتہ شہروں میں جنگلی بن کر نہ رہنا چاہیے۔ یہی فوج ،قوم، ملک، سلطنت کے مفاد میں ہوگا۔قبائل کالے قانون کے عادی تھے اسلئے کہ پولیٹیکل انتظامیہ کرپشن کرکے قوم کو ناکردہ گناہوں کی اجتماعی سزا دیتے تھے۔
پاک فوج کامطلب پاکیزہ نہیں بلکہ پاکستان کا مخفف پاک ہے، فوج دوسروں کی طرح خود کو بھی پاکیزہ نہ سمجھے اور نہ دوسروں کو یہ حق ہے کہ فوج پاکیزہ نہیں اور وہ خود پاک ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لاتزکوا انفسکم اپنی جانوں کو پاک مت قرار دو۔ ہماری سیاست قیادتیں پاکی کے دعوے کرکے منتخب ہوتی ہیں حالانکہ ان کا کردار درست ہوتا تو قوم بھی ٹھیک ہوجاتی۔وزیرستان، بلوچستان اور کراچی والے بھی خود کو پاک نہ سمجھیں ،اندرون سندھ اور پنجاب کوپاک ہونے کی ضرورت ہے، جہاں خواتین کی عزتیں تک محفوظ نہیں، پاک فوج اپنی غلطیوں کو وہاں نہ دھرائے مگر وہاں بھی بدمعاشی کے نظام کو ختم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔سید عتیق گیلانی