پختون قوم ،آزادقبائل اور خاص طور پروزیرستان کے وزیر، داوڑ ،محسوداور بالخصوص کانیگرم کے برکی بہت زیادہ انسان دوست، حق پرست، آزادمنش ہیں۔ یورپی یونین، برطانیہ ، امریکہ اور مغرب میں بھی جمہوریت، آزادی اور حق پرستی کا ایسا تصور موجود نہ تھا جو وزیرستان میں تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے سابق پرنسپل عارف خان محسود نے وزیرستان پر دوکتابیں لکھی ہیں، جو پہلے کمیونسٹ بن گئے تھے ،اس نے بڑے جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر اللہ ہے تو میرے ہاتھ کو نیچے کرکے دکھائے، یہ کیسا اللہ ہے جو آنکھ، ناک اور کان نہیں رکھتا ، یہ تو پھر ایک بوتل ہے‘‘۔ عوام الناس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے مگر کسی نے ان کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ لوگوں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ توبہ توبہ کرنے لگے۔ پھر بعد میں عارف کو فالج ہوگیا اور سچے پکے مسلمان بن گئے۔ آزادی کا یہ تصور دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عوامی جذبات کے خلاف کسی کو انفرادی طور پر ایسی آزادی دنیا کے کسی خطے میں میسر نہیں تھی۔ جب طالبان کیوجہ سے وزیرستان کی فضاء بد سے بدتر ہوگئی تھی اور میں روپوشی کی زندگی گزار رہا تھا تومعروف کمیونسٹ بلوچ یوسف نسکندی سے ملاقات ہوئی۔ انکے ذہن میں ایک انقلابی کی حیثیت سے میرا یورپی یونین سے رابطہ ضروری تھا جس کو باغیوں کی تلاش تھی مگر ایک ملاقات سے اسکے عزائم بدل گئے اور پھر انہوں نے کہا کہ اسلام کیلئے سلیم اختر(پنجابی) سے ملاقات کرو ۔ سلیم اختر نے کہا کہ پہلے مجھے اس اسلام کا پتہ ہوتا تو بہت پہلے اسلام قبول کرتا۔ اس نے پھر کمیونسٹ پارٹی کے امداد قاضی سندھی سے عاصم جمال کے ہاں ملاقات کرائی۔جب ان کو آزادمنش وزیرستان اور انسان دوستی کے قصے سنائے تو وہ بڑے حیران ہوگئے۔ امداد قاضی کو پختون عورت کا فون آیا کہ کوئی پختون ساتھ میں ہے؟، بات کراؤ۔ میں نے اشارے سے منع کیا۔ پھر وہاں سے میں خطرے کے باعث فرار ہوگیا اور چند دن بعد گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ تعاقب ہورہاتھا۔پاکستانی انٹیلی جنس کی ایجنسیاں بہت تیز ہیں۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا اگر اللہ کے بعد کوئی جانتا ہے تو ایجنسی والے جانتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر قوموں اور ریاستی اداروں میں خوبی اور کمزوری دونوں کو سب جانتے ہیں۔ البتہ انسانوں کا خفیہ جوہر سمجھنے کیلئے ماحول کی ضرورت ہے۔ ذاتی مفادات کی وجہ سے آج تک پاکستان کو وہ قیادت نہیں ملی جو پاکستانی قوم اور اداروں میں خامیوں کا ادراک اور ازالہ کا کردار ادا کرتی۔
(وزیرستان )زبان میں لکنت 12 سالہ حیات کہتاہے کہ میرے بھائی ، والد کو فوجی اٹھاکر لے گئے۔ یہ کہتا ہوں کہ فوجی گھر میں بار بار نہ آئیں۔ والد اور بھائی کو لیکر گئے ، ان کو سزا دیں اگر وہ مجرم ہوں۔ فوجی آتے ہیں، کہتے ہیں کہ چار پائی لاؤ، رضائی لاؤ اور تکیہ لاؤ۔ میں کہتا ہوں کہ وہ گھر پر نہ آئیں۔ وہ پردہ کی آواز بھی نہیں لگاتے اور بار بار آتے ہیں۔ ہم ان سے بہت تنگ ہیں۔ حا مد میرنے پاک فوج کے ترجمان سے پوچھا کہ حیات کے حوالہ سے جوپروپیگنڈہ کیا جاتاہے، حقیقت کیا ہے؟۔ تو عوام حامد میر پر بھی غصہ ہے۔ حیات کی آواز مقبول ہوگئی، پشتو میں اس پر اشعار بنائے گئے، پختونوں کے دلوں میں آگ پیدا کی، فوج سے نفرت کا ہتھیار مل گیا۔ جلسے جلوس اور سوشل میڈیا کے علاوہ نجی محفلوں میں گفتگو ہوتی ہے۔ حیات خان کی والدہ کے پاس سابقہ ایم این اے اور PTMکی حمایت کیوجہ سے ANPسے نکالی گئی بشریٰ گوہر چند خواتین کیساتھ پہنچ گئی اور اس کی آواز کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچادیا۔ حیات خان کی والدہ نے کہا کہ میرا یہ ایک چھوٹا بیٹا ہے، فوجی بندوقیں تان کر میرے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ ڈر کے مارے میری بہوئیں لرز جاتی ہیں اورگر کر لوٹ پوٹ ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جب تک یہاں سے واپس نہ جائیں گے کہ شریعت نہ آئے، بھلے رات گزار لیں۔ لیکن میں شریعت کو کہاں سے لاؤں؟۔ مجھے سارا وزیرستان بھی دیدیا جائے تو میں نہیں لوں گی، میری چاہت ہے کہ قانون کے مطابق ان کو سزادی جائے۔ میں ان فوجیوں کو چہرے سے پہچانتی ہوں اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتی ہوں کہ ایسا ہوا اور انکو سامنے لائیں اور وہ بھی قسم کھائیں کہ خوف سے میری بہوئیں اسطرح ڈرکے مارے گرگر کر لوٹ پوٹ نہیں ہوئیں۔ بشریٰ گوہر نے چاہا کہ وہ کوئی الزام بھی لگائے مگر وہ خاتون اسی کو دہراتی رہی۔ بشریٰ گوہر نے کہا کہ ہم آپ کیلئے کیا کریں اور کیا پیغام پہنچائیں تو اس نے فوجی دریا خان جس کی بلی آنکھیں اور محمد وغیرہ کا نام لیا کہ ان کو وہ سزا دی جائے جو مسلمان کہیں۔ ملک صاحبان کی موجودگی میں خواتین کو سرعام نکالا گیا، ہاتھ کھڑے کروائے گئے اور کہا کہ میری بیوی نہیں، عورت پسند کرنی ہے۔ بے غیرت ملکوں سے پوچھ سکتے ہو کہ ایسا تھا یا نہیں؟ تبصرہ : پیر عبدالواحد شاہ حیات خان کی والدہ محترمہ کو فوجی اور ملک بے غیرت لگتے ہیں مگراپنا بیٹا بے غیرت نہیں لگتا؟ ۔ سندھ کا شارُخ جتوئی دوبئی فرار ہوگیا مگر باپ پکڑا گیا تو واپس آگیا اور پھانسی کی کال کوٹھری میں موت کا منتظر ہے۔ شریعت کو غیرت کرنی چاہیے کہ گھر کی چاردیواری پامال ہورہی ہے، والدہ کو سوشل میڈیا پر آنا پڑا تو وہ خود کو حوالے کیوں نہیں کرتا؟۔ ٹانک میں بیٹے کو والدین نے خود گولی مار کر قتل کیا، ماں نے بیٹے کے خون سے منہ دھویا مگر بدمعاشی چلنے نہ دی ۔ زبردستی سے عزت لوٹنے کی سزا قرآن میں قتل نبیﷺنے اس پر سنگسار کرنے کا حکم دیا۔اگر فوجی مجرم ثابت ہوبلکہ کالی بھیڑیں کہیں ملوث ہوں تو عبرتناک سزادی جائے تاکہ پاک فوج پر یہ سیاہ دھبے نہ رہیں۔
ایرانی نژاد امریکی شیعہ خاتون نے عورت کے حقوق پر اسلام کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں مسلمانوں کے موجودہ حالات کے پیش نظر اس کا نکتہ نظر سو فیصد درست ہے لیکن چونکہ اسلام اجنبی بن چکا ہے اسلئے اسلام کے بارے میں مغالطہ کھایا ہے۔ اس خاتون نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’اسلام میں عورت کی حیثیت ایک مملوکہ اور لونڈی کی ہے ۔ عورت شوہر سے نکاح کرلیتی ہے تو عورت کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ ایران میں ایک عورت نے 40 ہزار تمن حق مہرکے عوض نکاح کیا تو اس کے شوہر کو لواطت کی لت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا ۔ شوہر نے خلع سے انکار کیا تو اس نے 50ہزار تمن کی پیشکش کی جس پر شوہر طلاق دینے کیلئے راضی ہوا۔ لونڈی کی حیثیت مملوکہ کی ہوتی ہے اسلئے اس سے نکاح کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ازدواجی تعلق ویسے ہی جائز ہوتا ہے۔ متعہ کے نام پر عورت سے لوگ خواہشات پوری کرتے ہیں مگر اس سے نکاح نہیں کرتے اور بہت گرا ہوا سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہیں ہے‘‘۔ ایرانی نژاد امریکی خاتون نے جو لکھا وہ معلومات کے مطابق تھا۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ البتہ اسلام ایسا نہیں ہے۔ جب عورت لونڈی ہوا کرتی تھی تو اسلام نے اس کی ملکیت کا خاتمہ کرکے وہ حیثیت دی جو ایک گروی فرد کی ہوتی ہے۔ جس طرح جانور اور مال و اشیاء کسی کی ملکیت ہوسکتے تھے اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں کو بھی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے ملکت ایمانکم ’’جسکے مالک تمہارے معاہدے ہیں‘‘ میں بدل دیا تھا۔ اس لفظ کا اطلاق حلیف قبیلہ اور کاروباری شراکت دار پر بھی ہوتا ہے۔ جس کیساتھ باقاعدہ نکاح کے بجائے ایرانی متعہ یا سعودی مسیار کی طرح ایگریمنٹ ہو تو اس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسلام نے حق مہر کو نکاح کی سیکورٹی کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔ اگر مغرب میں آدھی جائیداد کے بجائے باہمی رضامندی سے حق مہر کا تعین کیا جائے تو بہت سے رشتے نکاح کرتے نظر آئیں گے۔ امریکہ و یورپ اور برطانیہ و آسٹریلیا سمیت تمام نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں ایک لڑکی کے ساتھ بیک وقت کئی افراد کی دوستی قانونی طور پر درست ہے۔ جسکے نتیجے میں مرد اپنی اولاد کے یقینی ہونے پر شک کرتا ہے۔ عمران خان نے جس کی وجہ سے امریکی عدالتوں کا سامنا کیا تھا۔ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے کہ باپ اپنے بچے کا منکر ہو اور عدالت کے ذریعے وہ بچے کو اپنا بچہ کہنے پر مجبور ہو۔ اسلام عورتوں کو کسی ایک سے رشتے کا پابند بنا کر بے راہروی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر خواتین کو لونڈی بنانے کے بجائے یہ اجازت دی کہ جو ایگریمنٹ کرنا چاہے وہ ایگریمنٹ کرسکتا ہے۔ جبری طور پر لونڈی بنانے کے مقابلے میں باہمی رضامندی سے ایگریمنٹ کا طریقہ اسلام کا دنیا پر احسان عظیم ہے۔ اگر اسلامی قوانین کی حقیقت دنیا کے سامنے آگئی تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں ایک اسلامی معاشرتی انقلاب آئے گا۔ اسلام نے عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی آدھا حق مہر فرض کردیا ہے۔ ہاتھ لگانے کے بعد پورے حق مہر کے تعین میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔ قرآن نے بار بار یہ بھی واضح کردیاہے کہ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتے ، چاہے خزانے ہی کیوں نہ دئیے ہوں۔ یہ مسلمانوں کیلئے افسوس اور بے غیرتی کا مقام ہے کہ عورتوں سے بچے جنوانے کے باوجود جب ان کو طلاق دیتے ہیں تو جو حق مہر مقرر ہوتا ہے وہ دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خلع کی صورت میں بھی واضح کردیا ہے کہ عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو۔ اور نہ ان کو جانے سے اسلئے روکو کہ بعض دی ہوئی چیزوں کو واپس لے لو۔ جب خلع کی صورت میں حق مہر اور دی ہوئی چیزیں واپس لینا جائز نہیں تو طلاق میں یہ گنجائش کیسے نکل سکتی ہے کہ اس کے حق مہر پر بھی قبضہ جمالیا جائے؟ ۔ مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون ہے کہ طلاق مرد دے یا عورت مگر دونوں کے درمیان آدھی آدھی جائیداد تقسیم کی جائیگی۔ یہ غیر فطری اورنا انصافی کا معاملہ ہے۔ جرم ایک کرے اور سزا دونوں کو ملے۔ اسلام میں معاملہ انصاف کے عین مطابق ہے۔ اگر شوہر طلاق کا فیصلہ کرتا ہے تو عورت کو حق مہر اور تمام دی ہوئی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے علاوہ ہر دی ہوئی چیز دے دی جائے گی لیکن اگر عورت نے خلع کا فیصلہ کیا ہو تو حق مہر اورمنقولہ مال و اشیاء وہ لے جاسکتی ہے لیکن گھر ، زمین اور دکانیں وغیرہ وہ اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتی ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ عورت خلع کا فیصلہ بھی خود کرے اور شوہر کو مکان و جائیداد سے بھی بے دخل کردے۔ البتہ اگر شوہر طلاق دیتا ہے تو پھر وہ اپنے لئے الگ راستہ ناپے گا۔ مسلمان خواتین کی حق تلفی کا رونا آسمان کے فرشتے بھی روتے ہونگے اور نبی ﷺ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد فرمائیں گے و قال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القرآن مہجوراً ’’اوررسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قو انفسکم و اھلیکم ناراً ’’اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ‘‘۔ بیوی اور بچے رعایا کی طرح ہی ہوتے ہیں اور ان کی حق تلفی کی گئی تو قیامت کے دن اللہ پوچھے گا۔ مسلمانوں کے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دوسری قوموں کی طرف سے مظالم کا رونا رو رو کر بد حال ہوچکے ہیں مگر خود جو مظالم کرتے ہیں اسکا ذرا بھی احساس نہیں رکھتے ہیں۔ اسلام دنیا میں انسانیت کے حقوق بحال کرنے کیلئے نازل ہوا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے گھر سے ابتداء کرنی ہے اور پھر پوری دنیا کو مظالم سے بچانا ہے۔ عالمی اسلامی خلافت کا قیام اس وقت ممکن ہے کہ جب پوری دنیا کو یہ یقین آجائے کہ مسلمان دنیا کے مسیحا بن کر آرہے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ چین کو اپنے لئے روس سے زیادہ خطرہ قرار دے اور ہمارے ہاں کے بہروپیا امریکہ کی خواہشات پر چلنے کا نام لینے کے بجائے یہ کہنا شروع کریں کہ چین ظالم ہے اور اس سے بدلہ لینا ہے تو اس سے بدرجہا ہماری ریاست کے کرتے دھرتے بہتر ہوں گے جو برملا کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مفاد میں اپنے فیصلے کرنے ہیں۔ اگر دنیا کو یقین ہو کہ مسلمانوں نے سب کی ماؤں بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈیاں بنانا ہے تو وہ مسلمانوں کی تذلیل کیلئے طرح طرح کے اقدامات ہی کریں گے۔ اگر مسلمانوں نے اسلام کی درست تصویر پیش کی اور اپنے عمل سے اس آئینے کا عکس دکھایا تو نہ صرف مسلمان معاشرہ خوشیوں کی برسات دیکھے گا بلکہ دنیا بھی ہمارے معاشرتی نظام کیلئے دل و جان سے ترسے گی۔ کوئی خوشامد کام آئیگی اور نہ کوئی آپس کی دشمنی بلکہ حق کی بالادستی واحد نسخہ ہے۔ عتیق گیلانی
سعودی عرب ، ایران اور افغانستان میں اسلامی قوانین کے نام پر حکومتوں کا سلسلہ رہا ہے۔ مسلمان یورپ و امریکہ اور برطانیہ و آسٹریلیا میں جس قدر انسانی حقوق رکھتا ہے اس کاتصور بھی سعودیہ و ایران اور طالبان کی اسلامی حکومتوں میں نہیں کرسکتا تھا۔ اسلام کے نام پر بننے والی ریاستوں اور حکومتوں میں اسلام کا جو خول نظر آتا ہے وہ اسلام کی حقیقی تصویر کو پیش کرتا ہے یا نہیں ؟ یہ قابل غور ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے پہلا اور آخری علمبردار صرف اور صرف اپنا اسلام ہی تو ہے۔ وہ اسلام جس نے حجاز کے خطے سے نمودار ہوکر دنیا کی دو بڑی سپر طاقتوں قیصرروم اور کسریٰ ایران کی حکومتوں کو شکست فاش دی۔ یہ کارنامہ تو انسانی حقوق کی بحالی کی وجہ سے ہی انجام پایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کا خاتمہ ہوا تو روئے زمین پر کسی نے ان سپر طاقتوں کی احیاء کیلئے ذرا نام تک نہیں لیا لیکن جب سقوط بغداد سے بنو عباس کی خلافت کا دھڑن تختہ ہوا تو فاتح ترک قوم نے اسلام قبول کرکے دوبارہ خلافت عثمانیہ قائم کردی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی خلافت سمٹتے سمٹتے دنیا سے ملیا میٹ ہوگئی اور تاج برطانیہ کے اقتدار نے دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر خطہ زمین پر روس و امریکہ دو سپر طاقت بن کر ابھرے اور مسلم ریاستیں اور حکومتیں آج سرنگوں ہیں ؟، کیا سعودی اور عرب بادشاہتوں میں محنت مزدوری کرنیوالے لوگ اپنے حقوق کو محفوظ سمجھتے ہیں؟۔ کیا مسلمان گھروں کی زینت ، شوہروں کا سکون ، مائیں جن کے قدموں کے نیچے جنت ہے ان کمزور خواتین اور بے بس رعایا کو ہم نے حقوق دے رکھے ہیں؟۔ اللہ کی ذلت اور پھٹکار اسلئے مسلمانوں پر برس رہی ہے کہ وہ خواتین کو انکے حقوق سے محروم کرنے میں دنیا کی سب سے بڑی لعنتی قوم ہے۔ پہلے مشرکین مکہ تھے جن کا قصہ تاریخ کے اوراق تک رہ گیا ہے۔ پھر ہندوستان کی ہندو برادری تھی جو ہمیشہ فاتحین کے قدموں میں روندے گئے اور اب مسلم اُمہ ہے جو دنیا میں آخری حد تک اپنی ذلت و پھٹکار دیکھنے کے باوجود ہوش کے ناخن نہیں لیتی۔ آخر کب تک مسلمان اپنے عروج کی طرف واپس لوٹیں گے؟۔ مسلم سلاطین نے 8 سو برس تک ہندوستان پر حکومت کی مگریتیم بچوں کی ممتا کو زندہ جلانے سے بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ جس برصغیر پاک و ہند میں یتیم بچوں کی ماں کو ’’ستی‘‘ کی رسم میں زندہ جلادیا جاتا ہو ، اس میں آزادی کی لہر دوڑانے کیلئے کوئی عظیم سپوت کہاں سے پیدا ہوتا؟۔ جہاں حنفی مسلک نے اپنا ڈیرہ ڈال رکھا تھا اور جب کسی خاتون کا شوہر گم ہوجاتا تو اس کیلئے 80سال تک انتظار کی آگ میں جلتے رہنے کا حکم تھا۔ مولوی طاقتور کے سامنے لیٹ کر بھیگی بلی بن جاتا ہے اور کمزور پر اپنی طاقت خوب جماتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی بیگم جمائما خان نے اسلام قبول کرکے پھر یہودی کلچر اپنالیا مگر کسی مولوی میں اس کے خلاف مرتد اور واجب القتل بننے کے فتوے کی جرأت نہیں ہوئی۔ کسی غریب کی عورت اسلام قبول کرکے مرتد بن جاتی تو اس کا جینا دوبھر کردیا جاتا۔ برطانیہ کا اقتدار تھا تو ایک مسلمان عورت کا شوہر گم ہوگیا تھا، علماء و مفتیان کا فتویٰ تھا کہ وہ حنفی مسلک کے مطابق 80سال تک انتظار کرے گی ۔ اس عور ت نے عیسائیت قبول کرکے اسلام کو چھوڑ دیا ۔ مولوی میں فتویٰ لگانے کی جرأت نہیں تھی تو فتوے کو بدل ڈالا ۔ حنفی مسلک کے بجائے مالکی مسلک پر 4سال تک انتظار کا حکم دیا ۔ فقہی مسالک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں اختلافات اور تضادات کی بنیادی وجہ قرآن و سنت کے فطری احکامات سے انحراف ہے۔ اسلام نے شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے تو پہلے عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ فقہاء نے قرآنی آیت سے مغالطہ کھایا اور بیدہ عقدۃ النکاح ’’جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے‘‘سے مراد یہ لے لیا کہ طلاق کا گرہ صرف شوہر کا حق ہے۔ حالانکہ قرآن نے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں نکاح کی نسبت خواتین کی طرف بھی کی ہے و اخذن منکم میثاقاً غلیظاً ’’اور انہوں نے تم سے پکا عہد و پیمان لے لیا ہے‘‘۔ سورہ النساء آیت 19میں پہلے عورت کو شوہر کی جبری ملکیت سے باہر قرار دیکر خلع کا حق دیا گیا ہے اور پھر آیت 20اور 21النساء میں شوہر کو طلاق کا حق دیا گیا ہے۔ شوہر کی گمشدگی کا مسئلہ آیا تو قرآن کی طرف رجوع کرنا تھا۔ عورت کو ایلاء یا ناراضگی پر 4ماہ کا انتظار ہے(سورۂ بقرہ آیت226)اگر پہلے سے طلاق کا عزم تھا تو اللہ کی پکڑبھی ہے جو آیت225 ، 227البقرہ میں واضح ہے، اسلئے کہ عزمِ طلاق کا اظہار کیا تو 4ماہ نہیں3 طہروحیض یا3 ماہ کا انتظار ہے۔جس کی وضاحت آیت 228 البقرہ میں ہے۔ ایک ماہ کا اضافہ اللہ نے جرم قرار دیا تو 80سال اور 4سال کے انتظار کا اجہتاد کونسے باغ کی مولی ہے؟۔جبکہ عدتِ وفات 4ماہ 10دن ہے۔ قرآن نے خاص عمر کے بعد عورت کو کپڑے اتارنے کی اجازت دی کہ جب نکاح کی رغبت نہ ہو۔ پھر زینت کی جگہوں کو چھپانے کا حکم دیا تاکہ کوئی فائدہ اٹھاکر زینت کی نمائش نہ کرتی پھرے۔ ماں کے پیٹ میں نکاح ہو اور شوہر گم ہو تب بھی 80سال بعدعورت نکاح کے قابل نہیں رہتی ہے۔ آج بھارت کی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نے طلاق ثلاثہ اور حلالہ کی بنیاد پر مسلم خواتین کے انسانی حقوق کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ تطلیقات ثلاثہ کے موضوع پر 4،5، 6نومبر 1973کو اسلاملک ریسرچ سینٹر احمد آباد کی طرف سے ایک سیمینار مولانا مفتی عتیق الرحمن صدر آل انڈیا مجلس مشاورت کی صدارت میں ہوا، جس میں مولانا سعید احمد اکبر آبادی ایڈیٹر ماہنامہ برہان دہلی ، مولانا سید احمد عروج قادری ایڈیٹر ماہنامہ زندگی رامپور، مولانا مختار احمد ندوی صدر جمعیت اہل حدیث بمبئی، مولانا سید حامد علی سیکریٹری جماعت اسلامی ہند، مولانا محفوظ الرحمن قاسمی اُستاذ مدرسہ بیت العلوم مالیگاؤں، مولانا عبد الرحمن مبارکپوری ، مولانا شمس پیرزادہ امیر جماعت اسلامی مہاراشٹرنے شرکت کی۔ یہ کتابی شکل میں ’’ایک مجلس کی تین طلاق‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ مولانا سید احمد عروج قادری نے ایک ساتھ تین طلاق منعقد ہونے پر زور دیا اور باقی علماء کرام و مفتیان عظام کی رائے ایک ساتھ تین طلاق منعقد ہونے کے بالکل منافی تھی۔ اس سیمینار کو بہت جرأتمندانہ اقدام قرار دیا گیا۔ اسکے بعد ہندوستان کے معاشرے میں ایک تبدیلی کا آغاز ہوا ، اگر اس وقت دوسرے مدعو علماء و مفتیان بھی شرکت کرنے کی جرأت کرتے اور ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سے اس مشکل کا حل نکالا جاتا تو آج ہندوستان کے مسلمانوں کو اتنی ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ہم نے بار بار بہت واضح انداز میں تین طلاق اور حلالہ کے بغیر رجوع کا یہ بہت بڑا اور بنیادی مسئلہ حل کیا ہے اور بڑی تعداد میں علماء کرام ، مفتیان عظام و دانشور حضرات اور عوام الناس کو اچھی طرح سے سمجھ میں آیا ہے لیکن اسکے باوجود بھی بڑے علماء و مفتیان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور مسلمانوں کیساتھ ساتھ اپنے اوپر رحم کھانا چاہیے۔ ہمارا یہ کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ بہت بڑے رسک پر ہم نے اللہ کے فضل سے مسئلہ اٹھایا۔
عورت کو اسلام نے عزت دی۔ زن ،زراور زمین کی فتنہ سامانیوں کے نام پر قوانین بنائے گئے مگر اسلام نے دنیاکو جہالت سے نکالنے میں جو کردار ادا کیا، اسلام من وعن نافذ ہوتا تو آج دنیا کی حالت بدلی ہوتی ۔ اسلام نے زمین کی ملکیت کوجائز اور مزارعت کو سود قرار دیا،اگر عمل ہوتا تو غلامی کا نام ونشان نہ ہوتا۔امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں کیونکہ اس پر احادیث صحیحہ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن مسلمان اس سے روگردان ہوگئے، اگر مسلمان اس پر عمل پیرا ہوتے تو کمیونزم اور کیپٹل ازم نہ ہوتا۔ حیلہ ساز فقہاء نے ہردور میں طاقتور طبقے کا ساتھ دیا اور اسلام کا بیڑہ غرق کردیا، شیخ الاسلام نے پھر سودی نظام کو بھی جواز بخش دیا۔ زمین و زر کے مسائل بھی حل کرنے ہونگے لیکن اب زن کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ زمین کوکرایہ، لیز اور ملکیت پر لیا جاسکتاہے۔اگر متعہ کی حیثیت کرایہ ، نکاح کی لیز ، لونڈی کی ملکیت کا تصور ہوتا تو بھی عوام سمجھ سکتے کہ خواتین کیلئے کیا قوانین ہونگے لیکن عورت کے حوالہ سے بڑی کنفیوژن ہے۔ علماء کا خیال ہے کہ شوہر بیوی کے3 طلاق کا مالک ہے۔ ایک طلاق دی تو2طلاق کی ملکیت باقی ہے ، 3طلاق دی تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا، ایک طلاق کے بعدعورت نے دوسری جگہ شادی کی پھر دوسرے نے طلاق دی اور پہلے شوہر کا دوبارہ نکاح ہوا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر نئی تین طلاق کا یا بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا؟۔ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، محدثینِ عظام ؒ ، بعض اکابرصحابہؓ کے نزدیک بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا۔ ابن مسعودؓ، ابن عباسؓ،ا بن عمرؓ کے نزدیک دوبارہ پھر 3طلاق کا مالک ہوگا۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ سے امام محمدؒ اور امام زفر ؒ کا اختلاف اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ ایک ضعیف حدیث ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت کا کسی اور شوہر سے نکاح ہوتو دوبارہ نکاح سے پہلا شوہر پہلے بقیہ 2طلاق کا مالک ہوگا۔ اگر نبیﷺ پر کوئی جھوٹ گھڑ سکتا ہے تو باقی لوگوں پر زیادہ جھوٹ گھڑنے کا امکان تھا۔ایک طرف کیسے سمجھا جائے کہ اکابر واصاغر صحابہؓ ، ائمہ مجتہدینؒ ، ومحدثینؒ اور معتبر علمی کتب میں یہ اختلاف بے بنیاد کیسے ہوسکتا ہے؟۔ دوسری طرف یہ بڑا عجیب وغریب معمہ ہے کہ پہلا شوہر ایک طلاق دے اور عورت دوسری شادی کرلے تو پھر بھی پہلا شوہر بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوسکتاہے؟ ۔ دنیا میں ایسی ملکیت کا تصور نہیں کہ عورت کو10 شوہر ایک ایک طلاق دیکر فارغ کریں توپھر اس عورت پر دو دوطلاق کی 20 منزلہ عمارت کھڑی ہو؟، یہ عقل ونقل ، فطرت وشریعت اور سائنس وریاضی کے منافی ہے۔ ملاجیونؒ نے نورالانوار میں نقل کیا ۔ ہمارے استاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میںیہ لطیفہ سنایاتھا کہ ملا جیون ؒ بڑے غصے میں اورنگزیب بادشاہ کے پاس لوٹ گئے، کہا: میرا گھر کسی نے گرا دیا۔ اورنگزیب سمجھ گئے کہ بچوں نے مذاق کیا ہے۔ پوچھا کہ کیسے گرا، ملاجیون نے کہا کہ فلاں گاؤں کے نہر کا پل کوئی کاندھے پر اٹھاکر لے جارہا تھا تو اس کا ایک کونہ گھر پر لگا اور گھر مسمار ہوگیا۔ اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی 4 میل دور اتنے بڑے پل کو اٹھاسکے ؟۔ اس نے کہا کہ یہ ممکن نہیں، بادشاہ نے کہا کہ پھر یقین کیوں کرلیا؟، ملاجیون نے کہا مسلمان بچے جھوٹ نہیں بول سکتے، اسلئے یقین کرلیا۔ طلبہ نے بڑا زور دار قہقہہ لگایاکہ ملاجیونؒ کتنے سادہ تھے؟۔ سب لوگ ملا جیونؒ کو بڑا ولی مانتے تھے مگراس کی بیوی مخالف تھی۔ ایک مرتبہ بیگم صاحبہ نے آسمان میں اڑتے ہوئے ایک ولی کو دیکھا تو ملا جیون سے کہا کہ ولی ایسے ہوتے ہیں۔ ملاجیون نے بتایا کہ جس کو اڑتے دیکھا ، وہ میں ہی تو تھا، بیگم نے کہا: اسلئے چوتڑ ٹیڑھا ٹیڑھا کرکے اُڑرہے تھے؟۔ دنیا نے ترقی کرکے سیاروں کو مسخر کیا۔ ہمارے علامہ ’’ بے یدبیضاء ہے پیرانِ حرم کی آستیں‘‘ کا رونا رو ئے۔ کرامات کے نام پر جھوٹے نبی و مہدی کو پڑھا لکھا طبقہ بھی مان گیا۔ نصاب کی اصلاح سے علماء کی فکر درست ہوتی۔ اسلام کا بیڑہ تحریف نے غرق کرکے رکھ دیا۔ اسلام عظیم ، آخری اور انقلابی دین ہے۔ مردہ قوم کو اسلام سے زندہ کرنے میں دیر نہ لگے گی مگر افسوس کہ مذہب و سیاست پر مفاد پرستوں کا قبضہ ہے، عوامی آنکھوں میں جھوٹی شخصیت پرستی کی دھول جھونکی گئی۔ ملا جیونؒ کی اڑن طشتریاں اڑانے کاسلسلہ چل رہاہے، گھر کی تخریب پر یقین سے بڑامعاملہ ملکوں اور قوموں کی تعمیر کا دعویٰ ہے مگرہر لیڈر آتاہے اور اپنی بازیگری دکھاتا ہے اور ہماری قوم بے وقوف بنتی ہے۔ عربی میں مس کے دومعانی ہیں، ایک مباشرت اور دوسرا ہاتھ لگانا۔ قرآن لمس سے مراد مباشرت ہے لیکن فقہ کے بعض ائمہ نے ملاجیونؒ کی طرح ہاتھ لگانا مراد لیا ۔ قرآن میں یہودی علماء کی مثال گدھوں سے دی گئی جنہوں نے کتابیں لادی ہوں۔بخاری میں واضح ہے کہ کتابیں لادنے سے ذمہ داری اٹھانا مراد ہے۔ اسی طرح قرآن میں لایمسہ الا المطھرون ’’ اس کتاب کو نہیں چھوتے مگر پاکیزہ لوگ‘‘سے مراد عمل ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا تھا کہ ’’ دنیا میں موجود قرآن کو ہندو اور ناپاک لوگ چھوسکتے ہیں اسلئے یہ قرآن اصل نہیں بلکہ اس کی فوٹو کاپی ہے، اصل قرآن لوح محفوظ میں ہے‘‘۔ درسِ نظامی میں ہے کہ’’ قرآن تحریری شکل میں نہیں، کیونکہ تحریرنقش ہے جو نہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ‘‘ اسلئے بڑے بڑوں نے سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز کہا ہے۔ جو لوگ ذرا زیادہ سمجھدار تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’’لایمسہ الا مطہرون سے ثابت ہوتاہے کہ ہاتھ سے چھونا ممکن ہے اور یہ تحریری شکل میں ہی ہوسکتاہے‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ کے دور میں بادشاہ اپنے باپ کی لونڈی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس کی اجازت نہیں دی، فرمایا کہ نکاح سے مراد عورت کیساتھ لمس ہے، یہ لونڈی اسکے بیٹے کیلئے جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ جن نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر جیل میں قتل ہوئے وہ معلوم تھے مگر کوئی زباں نہ کھول سکتا تھا۔ ابویوسف کو قاضی القضاۃ کا عہدہ اسلئے ملا کہ بادشاہ کیلئے ناجائز لونڈی کو جائز قرار دیا اور اس سے بڑی بات موجودہ دور کے شیخ الاسلام نے کی کہ سودی نظام کو معاوضہ لیکرجائز کردیا۔فقہاء نے ایک طرف حنفی فقہ میں حرمت مصاہرت کے عجیب وغریب مسائل گھڑ دئیے اور دوسری طرف ابویوسف کیخلاف لکھنے پر مصر کے بازاروں میں امام غزالی کی کتابیں جلاڈالیں۔ امام غزالیؒ نے فقہ کی گمراہی سے نکل کر تصوف کا رخ کیا اور اسے کتابی شکل میں بھی اسی نام سے شائع کردیا ۔ اگر تاریخ وفقہ کے وسیع تناظر میں کہا جائے کہ عورت لونڈی ہو تو وہ موروثی جائیداد اور بیوی ہوتو لیززمین اور متعہ کی مثال کرایہ کے گھر کی طرح ہے تو بھی عوام کو کچھ نہ کچھ بات سمجھ میں آئیگی۔ موروثی زمین کی خرید وفروخت ہوتی ہے اور اس میں وراثت کا تصور ہوتاہے، لیز زمین کی ملکیت نہیں ہوتی البتہ فائدہ اٹھا یا جاتاہے، کرایہ وقتی بات ہوتی ہے۔ اسلام نے بہت بڑا اور بنیادی کارنامہ یہ انجام دیا تھا کہ لونڈی کی ملکیت کا بھی تصور بالکل ختم کرکے اسے ماملکت ایمانکم میں بدل ڈالا۔عربی میں ملکت فعل ہے اور ایمانکم اسکا فاعل ہے۔ یمین اصل میں دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں، کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس میں دایاں ہاتھ ہی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں ہاتھ بھی مؤنث ہے۔ یمین کی جمع اَیمان ہے۔آیت کے جملے کا لفظی ترجمہ یہ بنتاہے کہ ’’جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں‘‘۔ معاہدہ پر حقیقی ملکیت کا تصور ناممکن ہے۔ غلام اور لونڈی کی حقیقی ملکیت کا تصور اسلام نے ختم کیا۔ جسطرح جانور، مکان ، جائیداد اور سونے چاندی کی ملکیت ہے اسطرح کی ملکیت کا تصور معاہدے کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔ ملکی سطح پر معاہدہ ہو تو اس پر ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے، کاروباری شریک و قومی حلیف پر بھی ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوسکتاہے۔ کوئی غلام یا لونڈی خریدے تو مخصوص رقم کی بنیاد پر معاہدے کا مالک بنتاہے مگر انسان کا جانور کی طرح مالک نہیں بن سکتا ۔ جانور کی ذبح پر پابندی نہیں مگر لونڈی وغلام کو قتل کا حق نہیں۔ غلام یا لونڈی کو دس لاکھ میں گروی رکھا گیا، جب دوسرا شخص اس کو آزادی دلانا چاہے تو معاہدے کا مالک اس کی روک تھام کیلئے کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ لونڈی کا دوسرے شخص سے نکاح ہو تو مباشرت کا حق صرف شوہرکو ہوگاپھر ملکت ایمانکم کی نسبت شوہر کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ یہ بڑی انقلابی تبدیلی تھی کہ اسلام نے انسانوں کو غلامی کے نظام سے نکال کر گروی حیثیت دی، آج بھٹہ مالکان مزدور کو گروی رکھتے ہیں اور جاگیردار مزارعین کو گروی رکھتا ہے اور یہ بھی گردنوں کی غلامی ہے۔ اسلام نے رقم کے بدلے قرض کی زیادتی کو سود قرار دیا، اس سے بڑھ کر انسانوں کو گروی رکھنے کی اجازت نہ دی۔ ابن حجر مکیؒ نے نبیﷺ کی28ازواجؓ کا ذکر کیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے 27کے نام نقل کرکے لکھا کہ ’’ ایک کا نام لکھنے کا وعدہ علامہ ابن حجرؒ نے پورا نہیں کیا‘‘۔ ان ازواجؓ میں حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کا بھی ذکر ہے۔ فتح مکہ کے بعد علیؓ نے اسکے شوہر کوقتل کرنا چاہاتو رسول اللہﷺ نے ان کی فرمائش پر اسکے مشرک شوہر کو پناہ دی مگر اسکا شوہر اسے چھوڑ کر گیا،پھر نبیﷺ نے ام ہانیؓ کو نکاح کی دعوت دی مگر اس نے معذرت کی۔ پھر اللہ نے آیات اتاریں کہ ’’ہم نے اے نبی تیرے لئے ان چچازاد و خالہ زاد کو حلال کیا، جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی‘‘۔ پھر حکم دیا کہ آج کے بعدآپ کو کسی سے نکاح نہیں کرنا چاہے کسی کا حسن آپ کو بھلا لگے اور نہ ایک کے بدلے دوسری کرنی ہے۔ الاماملکت یمینک ’’مگر جو تیرے لئے معاہدہ والی ہو‘‘۔ اس سے مراد لونڈی اور متعہ ہوسکتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ چاہتے تو مفتوحہ خواتین کو لونڈی بناتے مگر آپﷺ نے سب کو آزاد کہا، البتہ متعہ کی اجازت دی۔ دشمنوں سے یہ حسنِ سلوک بہت بڑے عالمگیر انقلاب کا ذریعہ بن گیا۔ اُم ہانیؓ کو لونڈی بنانا ناپسندیدہ تھا تو دوسری خواتین کو بھی برابری کی عزت ملی۔ یہ مثالی کیس تھا، نبیﷺ کو نکاح سے روکا گیامگر متعہ کی اجازت ملی ،علیؓ نے اسلئے کہا کہ ’’ اگر عمرؓ متعہ پر پابندی نہ لگاتا تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بد بخت‘‘۔ عوام نے متعہ کے نام پر حدود سے تجاوز کیا۔ کبھی اولاد سے انکار، کبھی کم سن بچی سے زیادتی کو متعہ کا نام دیا تو پھر حضرت عمرؓ نے پابندی لگادی۔ روایات میں یہ ہے کہ رسول ﷺ نے دو مرتبہ متعہ کی اجازت اور دومرتبہ پابندی لگادی۔ اگر امریکہ ومغرب میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو جو عمران خان کی طرح اپنی بیٹی ٹیرن سیتاوائٹ سے انکار کردیتے اور عورتوں کو عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا اور پھر اس وقت DNA ٹیسٹ سے تصدیق یا تردید بھی ممکن نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ امریکہ وبرطانیہ اور تمام ترقی یافتہ ممالک بھی یہ پابندی اسلئے لگادیتے کہ انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ کوئی بچی یا بچہ اپنے باپ اور شناخت سے محروم ہو تو انسانی حقوق کی اس سے زیادہ خلاف ورزی کیا ہوگی؟ برطانیہ کو جانوروں کے نسل کا بھی ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے ۔ جمائمانے ہوسکتاہے کہ عمران کو سمجھایا بھی ہو کہ انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزی ٹھیک نہیں کہ لڑکی باپ کی شناخت کا حق بھی کھودے۔ بشریٰ بی بی عمران خان کی روحانی مرشد ہے توگزشتہ کل زن مرید کی بیگم ریحام تھی پہلے جمائما نے عمران خان کو انسانیت سکھائی تھی، ان منازل سے گزر کر عمران خان کا دعویٰ ہے کہ بڑے لیڈر بن گئے۔ سعودیہ نے مسیار کے نام پر متعہ کی اجازت دی لیکن پہلے یہ اجازت نہ تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور سعودیہ کا یہ اقدام درست ہے یا غلط کہ متعہ سے روکا جائے یا اس کی اجازت دی جائے؟۔اسلام کے عظیم دین کو فقہ کے نام پر جس گرداب کا شکار کیا گیا، اس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانا ثریا سے علم ، دین اور ایمان کو واپس لوٹانے کے مترادف ہے۔ شرعی و اجتہادی احکام میں بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔شرعی حکم دائمی ہوتا ہے اور اجتہادی حکم وقتی ہوتا ہے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواء ؑ کو اجتہادی حکم کے تحت جنت میں شجرۂ نسب کے درخت کے قریب جانے سے روکا گیا، کوئی اور ایسا درخت نہیں ہوسکتا کہ جسکے قریب جانے اور ذائقہ چکھنے سے کوئی بھوکا اور ننگا ہوجائے لیکن اپنی جنسی خواہش سے بے بس ہوگئے ، بے قابو ہوکر حکم کی خلاف ورزی کردی ۔ پھر اسکے نتیجے میں قابیل کی پیدائش ہوئی، جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ سے نکاح کو اجتہادی حکم ہی سے منع کیا تھااسلئے انکے مقابلے میں لونڈی مؤمنہ اور غلام مؤمن سے نکاح کرنے کو زیادہ بہتر قرار دیا تھا۔ مہاجرینؓ کے قریبی رشتہ دار کزن وغیرہ کا تعلق مشرکینِ مکہ سے تھا۔ رشتہ کے معاملہ میں عزیز واقارب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اللہ نے شرعی بنیاد پر یہ حکم نہ دیا تھا۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے، یہودی عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تو اللہ نے فرمایا: والمحصنٰت من اہل الکتٰب حل لکم’’اور اہل کتاب کی پاکدامن خواتین تمہارے لئے حلال ہیں‘‘۔ مشرکوں سے نکاح ناجائز نہیں بلکہ مصلحت سے منع تھا،یہ شرعی نہیں اجتہادی حکم تھا، شرعی حکم ہوتا تو اہل کتاب سے بھی نکاح جائز نہ ہوتا۔وہ بھی تو شرکیہ عقیدہ رکھتے تھے۔ شرک میں اہل کتاب اور مشرکین برابر تھے، اللہ نے اہل کتاب اور مشرکینِ مکہ میں فرق روا رکھا تو کردار کو بھی اہمیت دی، چناچہ واضح فرمایاکہ ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام ہے‘‘۔ شوہر پاک کردار کا مالک ہو تو عورت بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور شوہر داغی ہوتو عورت بھی باغی ہوگی۔ خبیث مردوں کیلئے خبیث عورتیں اور خبیث عورتوں کیلئے خبیث مردوں کا ذکر قرآن میں ہے لیکن اسکا تعلق عقیدے سے نہیں کردار سے ہے۔ جب مسلمان سپر طاقت بن گئے اور یہودونصاریٰ کی خواتین مسلمانوں کو نکاح کیلئے ترجیح دیتی تھیں لیکن حضرت عمرؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ مسلم خواتین بے نکاح رہیں گی تو اہل کتاب سے نکاح پر پابندی لگائی۔ یہ اجتہادی پابندی مصلحت تھی مگرا بن عمرؓنے علت نکالی کہ ’’ یہ شرعاً ممنوع ہے اسلئے کہ تثلیث کے عقیدے سے بڑا شرک کیا ہوسکتا ہے‘‘۔ اجتہاد ی غلطی کو سمجھناباریک تھا مگر ابن عمرؓ سے کسی نے اتفاق نہیں کیا اسلئے کہ قرآن کی نص موجود تھی، حضرت علیؓ نے ہجرت نہ کرنیوالی بہن کے شوہر کو قتل کرنا تھا لیکن نبیﷺ نے بچالیا۔ اللہ نے قرآن میں ہجرت کرنیوالی کیلئے فرمایا جو شوہروں کو چھوڑ چکی تھیں کہ ’’ان کو واپس نہ لوٹاؤ، یہ ان کیلئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں‘‘۔ نبیﷺ نے خولہؓ کو ظہار کا فتویٰ دیا تو اللہ نے سورۂ مجادلہ میں اس کی تصحیح کی تھی۔ اولی الامر سے اختلاف کی اجازت اورمشورہ اللہ نے صحابہؓ اور نبیﷺ کے ذریعے سمجھایا جو رہتی دنیا تک کیلئے بہترین نمونہ ہے۔انفرادی سیرت اہم ہے مگر سیرت طیبہ کا اجتماعی پہلو ہی درحقیقت دنیا کے مردہ لوگوں میں زندگی کی روح پھونکنے کیلئے زیادہ اہم ہے۔ نبیﷺ کو سورج ڈھلنے سے رات کی تاریکی ، نصف ، تہائی اور رات کے کم وبیش حصے میں عبادت کا حکم تھا مگر عوام پنج وقتہ نماز کی پابندی بھی کریں تو بڑی بات ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے دور میں غلامی کو ختم کرنا ممکن نہ تھا تو اللہ نے حضرت حاجرہؓ کو وادی غیرذی زرعہ مکہ میں چھوڑنے کا حکم دیا، جبکہ نبیﷺ کے ذریعے اللہ نے غلامی کا نظام ختم کرنا تھا اسلئے جب ازواج کی رضا کیلئے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہؓ کو حرام کہا تو اللہ نے سورۂ تحریم نازل کی۔ اللہ نے لونڈی کیلئے فرمایا کہ ’’جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ، اسے کیوں حرام کرتے ہو؟‘‘ ،نبیﷺ نے متعہ کیلئے آیت کا حوالہ دیا : لاتحرموا ما احل لکم من الطیبات ’’جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا، اسے اپنے اوپر حرام مت قرار دو‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم) لونڈی سے کسی اور کا نکاح کرایا جاسکتا تھا اسلئے کہ حکم تھا کہ’’ نیک لونڈیوں کا نکاح کراؤ‘‘ اور یہ کہ ’’ آزاد میسر نہ ہو تو لونڈی سے اسکے مالک کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ قرآن کو احادیث کی روشنی میں دیکھیں گے تو مسائل کا حل خود بخود نکل آئیگا۔ جن خواتین کے شوہر گم ہوں یا جنکے شوہر فوت ہوں اور ان کو سرکاری مراعات ملتی ہوں تو ان کیلئے والمحصنٰت من النساء الاما ملکت ایمانکم کے تحت ایگریمنٹ کی اجازت ہوگی اور جب انکا شوہر واپس آجائے تو پہلے سے تعلق بحال ہوگا اور ایگریمنٹ کا نکاح متعہ ہو توسرکاری مراعات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ فوجی جوانوں اورسرکاری افسران کی بیگمات کیلئے یہ مسئلہ ہے کہ اپنے شہید شوہر یا گم شدہ شوہروں کے بعدزندگی بھر جنسی تعلق سے محروم ہوں، بے راہروی اختیار کریں ، مراعات کی قربانی دیںیا بے راہ روی کا شکار ہوں؟۔ اسلام عظیم دین ہے اور بلاشبہ اس میں دنیا کے تمام سماجی، اقتصادی، تہذیبی، معاشرتی اور انسانی مسائل کا حل موجود ہے، افسوس کہ قرآن پر تدبر نہیں کیا گیا۔بڑی موٹی بات تھی کہ قرآن نے طلاق کیلئے عدت رکھی اور عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت دی۔ بار بار عدت میں اور عدت کی تکمیل اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی صلح سے رجوع کی اجازت دی مگر صلح کا معاملہ نصاب سے نکال دیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اکٹھی تین طلاق پر فیصلہ دیا کہ قرآن کا تقاضہ تھا۔ ائمہ اربعہ نے اپنے فتوے سے فیصلے کی درست توثیق کی۔ یہ فیصلہ و فتویٰ قرآن کی روح کا تقاضہ تھا مگر بعد والوں نے قرآن کی روح کے بالکل برعکس باہمی رضا سے رجوع پر پابندی لگاکر اسلامی کی فطری تعلیمات کے چہرے پربڑی کالک مل دی۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ قانونی سختیوں سے بچنے کا راستہ یہ ڈھونڈلیتے ہیں کہ نکاح کے بجائے گرلز وبوائے فرینڈز رکھ لیتے ہیں۔ سیتاوائٹ کی بچی سے انکار کی طرح واقعہ ہوتا ہے تو عدالت کا رخ کیا جاتاہے۔ اسلام کی بات واضح کی جاتی تو نکاح کیلئے مخصوص حق مہر اور وقتی نکاح میں ایگریمنٹ کا قانونی جواز بہت سی برائیوں کا خاتمہ کردیتا، بیک وقت کئی افراد سے لڑکی کاتعلق عمران خان جیسے کو بھی انکار اور عدالت تک بات پہنچانے پر مجبور کردیتا ہے۔
حقوق نسواں کاکام ادھورا رہا۔ کال گرل کے نام پر عزت فروخت ہوتی ہے، گرل فرینڈ سے کھلواڑ ہوتا ہے۔ جسم فروشی قدیم دور سے بدتر حالت میں پہنچ گئی ۔ بچیاں اغواء ہوتی ہیں۔جبری جنسی بے راہ روی کے شکار قصور شہر پنجاب کی کہانی منظرِ عام پر آگئی تو انسانیت پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میڈیا کی دُم پر مخصوص عزائم کیلئے ہاتھ رکھاجاتا ہے تو طوفان اٹھتا ہے پھر وہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ جرائم کے پیچھے دراصل ظاہرکی کارکردگی کار فرما ہوتی ہے، جرم کا تعین اور سزا نہ ہوتو معاشرہ بے راہروی و قانون شکنی کا شکار رہتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بڑی آزمائش اور اذیتناک حضرت عائشہؓ پر بہتان تھا۔ ابن ابی رئیس المنافقین نے اس کی خوب تشہیر کردی۔ چند صحابہؓ نے بنیادی کردار ادا کیاتھا۔ اللہ تعالیٰ نے پرزور الفاظ میں اس کی مذمت کردی اور یہ بھی فرمایا کہ’’ اس میں اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔(سورۂ نور) ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا دل چھلنی ہوا ، صحابہؓ کے جذبات مجروح ، ابوبکر صدیقؓ بے قابو ہوگئے، نبیﷺ کو بڑے امتحان کا سامنا کرناپڑامگر اللہ نے فرمایا کہ ’’ اس میں تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔ یہ فلسفہ کیاہے؟۔ مسلمانوں نے غور کیا؟۔ اس بہت بڑی آزمائش سے پاکدامن خواتین کی ایسی حفاظت کا قانون بنا اگر اس پر عمل ہو تاتو قیامت تک کوئی کسی عورت پر بہتان باندھنے کی جرأت نہ کرتا۔ قرآن میں زنا پر 100 بہتان پر80 کوڑے کی سزا ہے۔طاقتور پر بہتان قتل اور کمزور پر حرج نہیں ۔ ن لیگ کے میاں جاوید لطیف نے مراد سعید کی بہنوں پر الزام لگایا تو تحریک انصاف کے قائد وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا کہ ’’ میں اس کو تھپڑ مارنے کے بجائے قتل ہی کردیتا‘‘۔ مراد سعید کی بہنیں پاکدامن ہیں تو مدینہ کی ریاست میں جاوید لطیف پر 80کوڑے کی سزا سے ابتداء کی جائے۔ ’’اسٹیٹس کو‘‘ اسلام نے توڑاتھا، اس قانون سے خواتین کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیااور جو طاقتور طبقہ الزام پر قتل کردیتا تھا انہیں لگام دی، بااثرخواتین کی طرح کمزور کوبھی برابری کی سطح پرتحفظ فراہم کردیا۔ اللہ نے خواتین کی عزت کے تحفظ کیلئے فرمایا کہ ’’اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو کوئی حرج نہیں البتہ آدھا حق مہر دینا پڑیگا اور عورت پر کوئی عدت نہ ہوگی ‘‘۔ یہ قانون معاشرتی برائی کے خاتمہ میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ہاتھ لگانے ، بچے جنوانے کی طلاق کے بعد پورا حق مہر دینے میں شک باقی نہیں رہتا۔ قرآن نے بار بارتلقین کی کہ ’’جو کچھ حق مہر کے علاوہ بھی دیا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے‘‘ پھر کس قدر شرم کی بات ہوگی کہ حق مہر کے علاوہ اپنے بچوں کی ماں، اپنی عزت بیوی سے جہیز بھی چھین لیا جائے ۔ انسان مال کے معاملے میں بڑا حریص ہے کہ اپنی عزت کا خیال بھی نہیں رکھتا اور حق تلفی میں تقویٰ پھر لقویٰ بن جاتا ہے۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ’’ا نصاف کرو اور یہ تقویٰ کے قریب ہے‘‘۔ کیایہ بھی اسلامی انقلاب کی نوید ہے کہ عمران خان کی شخصیت سے یہودن جمائما نے طلاق لی اور بشریٰ بی بی نے خاور مانیکا سے خلع لیکر وزیراعظم سے شادی رچالی؟۔ مولانا طارق جمیل کی عمران خان اور بشریٰ کی تائید ہے!۔ یہ حق قرآن ہرخاتون کو دیتا ہے کہ ناپسندشوہر سے خلع لیکر اپنی پسند سے شادی کر ے اور چاہیں تو مرضی سے کبھی ایک کبھی دوسرے سے ایگریمنٹ یا متعہ کرکے خواہشات کی پیاس جائز طریقے سے بجھائے؟۔ ایک طرف جبری زنا کا راستہ حکومت نہ روک سکے تو دوسری طرف شیخ رشید جیسے ہر حکومت میں نمایاں ہوں،یہ تضادات کسی اسلامی انقلاب نہیں بلکہ افراتفری، فتنہ وفساد اور ہلڑبازی کا ذریعہ ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف شرفاء کی طرف سے حق مہر کی سیکورٹی قربانی کے بکرے اور گائے جتنی رکھنے پر اصرار کیا جائے اور دوسری طرف بچے جنوانے کے بعد طلاق پر عورت کو حق مہر سے محروم کیا جائے۔ عورت اپنی کشتی جلاکر شوہر کے گھر میں آتی ہے،شوہر کو دنیا وآخرت کا رفیق بناتی ہے۔ وہ بے دخل ہو تو غم کا مداوا ہو اور اتنا حق مہر اور شوہر کا عطیہ ہو کہ کوئی بیوی کو طلاق دینے سے پہلے سودفعہ سوچے، ورنہ پھر مرد خواتین کو کھلواڑ بناکر مزے لیتے رہیں گے۔ قندیل بلوچ قتل میں نامزدمرکزی ملزم مفتی قوی صدر تحریکِ انصاف علماء ونگ نے میڈیا پر فتویٰ جاری کیا کہ ’’جس عورت کا نکاح نہ ہو تو اس سے جنسی تعلق بغیر قید کے باہمی رضاسے نکاح ہے ، نکاح ہے ، نکاح ہے‘‘۔ اگر یہ ماحول قائم کیا گیا تو جس طرح سودی نظام کے معاملے پر اسلامی اورغیراسلامی نظام کا فرق محض ڈھونگ ہے، اسی طرح کفر کے معاشرتی نظام اور اسلامی معاشرتی نظام میں بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔ فقہ میں حرمت مصاہرت کے مسائل انتہائی شرمناک ہیں اور دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر نے اس نصاب کی اصلا ح کرنی ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا پلیٹ فارم اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ نصاب کی اصلاح میںآپکا تعاون درکار ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ ’’ میں ایک سال تک خدمت کیلئے تیار ہوں‘‘۔ ممکن ہے کہ قبلہ صاحب پر اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام کا کوئی دباؤ ہو۔ مولانا فضل الرحمن پر علمی تحقیقات کے حوالہ سے ایک خوف کی کیفیت طاری ہے۔ وہ غلط مذہبی خول کی بقاء میں سیاسی مفاد چاہتے ہیں۔ دین اور دنیا میں حق کو چھپانے یا ساتھ نہ دینے کا نتیجہ گھمبیر ہوتا ہے۔ مولانا نے اپنے سیاسی قد کاٹھ کا نقصان کیا ہے۔ اگر مولوی نے اپنی وکالت کا رخ متعہ کے جواز کیلئے کردیا تو ثابت کریگا کہ قرآن میں وان استمتعتم منھن فأتوھن اجورھن کیساتھ قرآن میں الی اجل مسمیٰ کا اضافہ تھا۔ یعنی معین مدت کا متعہ کرنا نہ صرف قرآن کا تقاضہ ہے بلکہ قرآن میں کمی کرکے تحریف کی گئی۔ معتبر تفاسیر میں پوری آیت موجود ہے۔ حالانکہ جس طرح تفسیر جلالین میں بھی بین السطور تفاسیر لکھی گئیں تو گزشتہ تفاسیر میں یہی اضافہ ہے۔ نصاب کی کتاب ’’ نورالانوار ‘‘ میں ہے کہ ’’ ساس کی اندورنی شرمگاہ پر شہوت سے نظر پڑنا نکاح ہے‘‘۔نصاب میں موجود غلطیوں کے تدارک سے مدارس کا نظامِ تعلیم درست ہوگا تو اسکے زبردست اور فوری اثرات ہونگے۔ دین کی فقہ کیلئے مذہبی گروہ صحابہ کرامؓ کے دور میں اصحابِ صفہ تھا اور قرآن کی نصوص و احادیث صحیحہ کو سمجھنے کی صلاحیت علماء کرام میں ہے۔انکی فکر سے نچلی سطح سے لیکر عالمی سطح تک واقعی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔
قرآن نے مشرکوں کے مدِ مقابل غلام ولونڈی سے نکاح کو ترجیح و مشرک عیسائیوں سے نکاح کی اجازت دیکر عالمی انقلاب کی بنیادرکھی۔ ہجرت والی کزن اور ہجرت نہ کرنیوالی میں فرق سے حکمتوں کا آغاز کیا۔ نبیﷺ کی اُم ہانیؓ سے نکاح کی چاہت مگر اجازت نہ ملی اورایگریمنٹ کی اجازت تھی۔ ام ہانیؓ نے بچوں کے جذبات کا خیال رکھ کر نبیﷺ سے نکاح نہیں کیا تو نبیﷺ نے انکی اس پر تعریف فرمائی۔جمائما خان بچوں کا خیال رکھ کر نکاحِ ثانی نہیں کرتی ،متعہ کادستور نہ ہونے کیوجہ سے بوائے فرینڈز بدلتی رہتی ہے۔ اگر بشریٰ بی بی خاور مانیکا سے طلاق لیتی پھر عمران خان سے متعہ کرتی تو بہتر تھا۔ عمران خان نے خاور مانیکا کے نکاح میں بشریٰ سے تعلقات استوار کرکے وہ کیا جسکا جواز مفتی عبدالقوی کے بدنام زمانہ فتویٰ میں بھی نہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کا مذاق اسلئے اڑایا جارہاہے کہ جمائما خان کو اپنا کردار عمران اور بشریٰ بی بی سے بہتر لگتا ہے۔ مولانا طارق جمیل مائیکل جیکسن، کترینہ اور مسرت شاہین کی تعریف کا بھی سماں باندھ سکتے ہیں مگر یہ تبلیغی جماعت کا ایک فن اور طریقۂ واردات ہے۔ کروڑوہا لوگ اسلئے دامِ اسیر بنائے گئے کہ ان کو سب کا دل جیتناہی آتاہے۔ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک، اہل تشیع، طالبان اور سب کی تعریف کرکے اتحادِ امت کے بڑے دعویدار ہیں۔ فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں میں حرمت مصاہرت پر جو شرمناک مسائل لکھے گئے ہیں اور نصاب کی کتابوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور فتاویٰ کی کتابوں میں موجود عوام کو فتوے دئیے جاتے ہیں ان کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ ’’جب عمران خان نے فرسٹ کزن ڈاکٹر طاہر القادری کا کہا تھا کہ میں نے اس سے رشتہ تو نہیں مانگا ، جس پر ڈاکٹر طاہر القادری نے بہت برا منایا تھا۔ اگر عمران خان نے یہ کہہ دیاکہ مفتی عبد القوی کو میرا ہاتھ شہوت سے لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے اور انکی اولادیں ایک دوسرے کیلئے حنفی مسلک کے تحت حرام اور شافعی مسلک کیمطابق جائز ہونگی‘‘ امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب بہت سے فقہی مسائل کا حضرت امام ابو حنیفہؒ سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن اپنی طرف سے مسائل گھڑ گھڑ کر امام ابو حنیفہؒ کو بدنام کیا گیا ہے۔ قرآن میں منکوحہ اور ملکت ایمانکم کے اندر تھوڑا فرق ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ لا تنکحوا ما نکح ابائکم من النساء الا ما قد سلف ’’تم اپنے آباء کے منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو مگر یہ کہ جو پہلے گزر چکا ہے‘‘۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے منکوحہ مراد ہیں یا لونڈیاں بھی مراد ہیں؟۔ اس کا جواب ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ دونوں مراد ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے بھی یہی مؤقف رکھا تھا اور امام شافعیؒ نے بھی یہی مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ بعد کے لوگوں نے بڑی فضول قسم کی باتیں اور مسائل ان دونوں ائمہ اجل کیطرف منسوب کردئیے۔ آج جاہلیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں۔ اندرونی صفحہ 3پر مدیر منتظم نادر شاہ کے مضمون میں تھوڑی بہت تفصیل دیکھ لیں۔ ہم علماء کرام اور مفتیان عظام کی قدر کرتے ہیں لیکن ان کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے نصاب ، فتوے اور عمل پر نظر ثانی فرمالیں۔ ان کو خطرات بیرونی دنیا سے نہیں ہیں بلکہ اندرونی معاملات سے ہیں۔ جب دیوبندی بریلوی علماء کرام رسوم و بدعات پر لڑا کرتے تھے تو یہ ان کے اپنے اختلافات تھے۔ آج دونوں کو ان کے نصاب سے بڑے خطرات لاحق ہیں۔ ہم ان کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنی آنکھیں کھولنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی نے مذہب کے نام پر دین کی خدمت سے زیادہ طاقت کے حصول کیلئے ہر دور میں پاپڑ بیلے ہیں۔ علماء کرام سے وہ ہمیشہ عوام کو متنفر کرتے رہے ہیں لیکن وہ خود بھی سلیس انداز میں وہی اسلام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں جو مولویوں کی طرف سے قرآن و سنت کی تفسیر و ترجمہ میں لکھا گیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے اکابر جب مولانا الیاس ؒ ، مولانا یوسف ؒ ، شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اور حضرت حاجی محمد عثمانؒ جیسے لوگ ہوا کرتے تھے تو دنیا میں ان کے درد اور خدمت سے مذہبی جذبے اٹھتے تھے ۔ افسوس اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ کبھی مولانا طارق جمیل کلثوم نواز کا جنازہ پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور کبھی بشریٰ بی بی کی تعریف کے گن گاتے ہیں۔ واہ ربا انا للہ و انا الیہ راجعون۔
کشمیر (نمائندہ خصوصی)محمد حنیف عباسی کو کشمیر سے خصوصی رپورٹ ملی ہے کہ ایک گھرانہ کھرل عباسیاں میں ہے۔ چچا نے یتیم بھتیجے کو گھر میں پالا ۔اپنی لڑکی سے اسکی شادی کرادی اور تین بچوں ایک 7سالہ بیٹا ، دوسرا 5سالہ بیٹا اور تیسری 2سالہ بچی کی ماں گذشتہ رمضان گھر سے بھاگی اور راولپنڈی کے دار الامان میں پناہ لی۔ باپ پولیس پر ڈیڑھ دو لاکھ کا خرچہ کرکے لڑکی کو گرفتار کرکے گھر واپس لایا۔ لڑکی کا اصرار ہے کہ مجھے شوہر کیساتھ نہیں رہنا۔ اور لڑکا شوہر بھی کہتا ہے کہ مجھے لڑکی نہیں چاہئے مگر طلاق بھی نہیں دیتا۔ لڑکی کا باپ لڑکے کو طلاق کے عوض دو لاکھ دینے کو بھی تیار ہے لیکن لڑکے کا اصرار ہے کہ طلاق کیلئے اسکو 5لاکھ روپیہ دینے ہونگے۔ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے حق مہر بھی نہیں دیا اور مجھ پر کسی طرح خرچہ بھی نہیں کیا، میرے گھر میں رہتا تھا تو طلاق کیلئے کس چیزکی رقم دیں؟۔ یہ ایک اس لڑکی کی کہانی نہیں بلکہ ہزاروں کا معاملہ ہے۔ ایک اور خاتون نے اپنی بہو کو بیٹے سے طلاق دلوادی ، اس کا حق مہر 2لاکھ مقرر کیا تھا لیکن حق مہر کی رقم بھی نہیں دی۔ اس خاتون پر ایک انجانی بلا نازل ہوئی ہے جو کچھ بول اور بتانہیں سکتی، صرف بیٹھ کر رو رو کر اپنا غم کھا سکتی ہے۔ کیا انسانوں نے حقوق نسواں کیلئے عذاب کا انتظار کرنا ہے؟۔ یا وہ اللہ کی طرف سے خلع اور حق مہر کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کمزوروں پر رحم کرینگے؟۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمین والوں پررحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کریگا۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ نوشتہ دیوار کی قارئین خواتین نے مزارعت اور وراثت کے مسئلے پر اپنے مفاد کو قربان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ انکے ایمان کی علامت اور خلوص کی دلیل ہے۔ مذہبی لوگ حقوق العباد اور اسلامی احکامات کی پامالی کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کیلئے دریائے شرم کی گہرائی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اللہ بچائے۔
نوشتۂ دیوار کے مدیر مسؤل نادرشاہ نے کہا کہ قرآن وسنت میں طلاق سے رجوع کا مسئلہ بالکل واضح تھامگرظالمانہ معاشرتی نظام کو ختم کرنیوالا اسلام اجنبی بن گیا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ضروری نہیں کہ دجال کو لوگ پہچانیں مگر اللہ جانتاہے۔ملا عمرؒ کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ ہوگا کہ وہ استعمال ہوا۔ دنیا میں امریکہ نے مسلمان کا خون مسلمان کے ہاتھ سے بہایا۔ آج بھی مسلمانوں پرہی خود کش حملے کا موقع ڈھونڈتے ہیں اورجب افغانستان میں حملہ ہو تو الزام مسلم ریاست پاکستان پر ڈالا جاتا ہے اور پاکستان پر حملہ ہو تو الزام افغانستان پر ڈالا جاتا ہے۔ دجالی کردار کو احادیث صحیحہ کی روشنی میں واضح کیا جاتا تو مسئلے کا حل نکلتا۔ طلحہؓ، علیؓ اور زبیرؓ 10افراد میں تھے جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی لیکن وہ آپس کی جنگوں سے نہ بچ سکے تھے۔حالانکہ نبیﷺ نے واضح فرمایا تھا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنے مارنے لگو۔ اسوقت را،سی آئی اے اور موساد بھی نہ تھی، آج مسلمان اپنی دنیا وآخرت کو بنائیں۔
اوکاڑہ ( تنویر ، ذکاء اللہ) سید عتیق الرحمن گیلانی نے خصوصی دعوت پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرا موضوع دومظلوم ہیں، ایک قرآن ، دوسرا پاکستان۔ قرآن کے بارے میں نبیﷺ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں شکایت فرمائیں گے کہ ’’ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘ اور یہ بات ظاہر ہے کہ امت میں تمام افرادہی شامل ہیں۔ علماء ، صوفیاء عظام اور عوام الناس سب سے شکایت ہوگی کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ قرآنی آیت میں وآخرین منھم لما یلحقوبھم سورۂ جمعہ سے مرادفارس کے افراد ہیں نبیﷺ نے فرمایا کہ اگرایمان ثریا پر پہنچ جائے اور علم یا دین ثریا پر پہنچ جائے تب بھی وہ ایک شخص یا چندا فراد اس کو واپس لائیں گے۔ امام ابوحنیفہؒ کے دور میں اسلام اس طرح اجنبی بھی نہ بنا تھا۔ موجودہ دور میں اسلام اجنبی بن چکا ہے۔ نبیﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو حاکم بنایا تو پوچھا کہ جب کوئی مسئلہ پوچھے گا یا کوئی فیصلہ کرنا ہوگا تو کس طرح فیصلہ کروگے؟۔ حضرت معاذؓ نے کہا کہ قرآن سے ۔ رسول ﷺ نے پوچھا کہ قرآن میں نہ ملے تو؟، کہا کہ پھر سنت سے فیصلہ کرونگا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ سنت میں نہ ملے تو؟، فرمایا کہ پھر اپنے آپ اجتہاد کرونگا، جس پر نبیﷺ بہت خوش ہوگئے۔ آج کوئی مسئلہ آتا ہے تو اس کا حل قرآن سے نہیں بلکہ اپنے مسلکوں کی روشنی میں دیا جاتاہے۔ میں حنفی مسلک کی بات نہیں کرتا ہوں بلکہ اہلحدیث کی بات لے لو۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک دن ایک طلاق دی، پھر اس نے تین دن بعد دوسری طلاق دی اور دس دن بعد تیسری طلاق دی تو اہلحدیث کا فتویٰ یہ ہوگا کہ اب رجوع نہیں ہوسکتاہے اسلئے کہ تیسری مرتبہ طلاق بعد رجوع کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ یہ فتویٰ غلط اور قرآن و سنت کے بالکل منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ’’ انکے شوہروں کو عدت میں صلح کی شرط پر انکے لوٹانے کا حق ہے‘‘۔( البقرہ آیت:228) اللہ تعالیٰ نے پوری عدت میں رجوع کا صلح کی شرط پر حق دیا ہے مگرامت مسلمہ نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہے کہ جس میں عدت کے اندر صلح کی شرط کے باوجود بھی رجوع سے روک دیا گیا ہو۔ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی زوجہ کو حیض میں طلاق دی اور نبیﷺ کو خبر پہنچی تو آپﷺ غضبناک ہوگئے۔ ان کو بلایا اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ پاکی کی حالت میں پاس رکھو ، حتی کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت میں پاس رکھو یہانتک کہ حیض آجائے اور پھر پاکی کی حالت میں رکھنا چاہو تو رجوع کرلو اور چھوڑنا چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے قرآن میں اس طرح طلاق کا امر کیا ہے۔ بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق۔ اس حدیث کو بخاری کی کتاب الاحکام، کتاب العدت، کتاب الطلاق میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی کتاب میں متضاد احکام نازل فرمائے؟۔ (تفیصلی خطاب نیٹ پر دیکھ لیجئے گا)