پوسٹ تلاش کریں

پی ٹی ایم کے عالم زیب اور مردان کے قیدی

عالم زیب محسوداور مردان میں قید ہونیوالے پروفیسراختر وزیر وغیرہ نے نظریاتی سیاست کو زندہ کردیا ،حقیقی جمہوری سیاست کا زندہ ہونا ملک وقوم کیلئے خوش آئند ہے۔ طالبان اور فوجی آپریشن کے متأثرین کیلئے خونِ جگر سے انسانی حقوق کیلئے کھڑے ہونیوالوں کا بڑا کمال ہے کہ حقیقی دردِ دل رکھتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہردورِ حکومت کے درباری اور اتحادی سیاستدانوں نے سیاست کو بدنام کردیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو چا ہیے کہ اس قیادت کو قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے بہت بڑی سطح پر اُبھرنے کا موقع دیں۔ فوج اور اس کی کٹھ پتلی سیاسی قیادت ملک وقوم کو کسی مصیبت سے نہیں بچا سکتی ہے۔لسانی تعصبات مظلومیت کیساتھ کھڑے ہوگئے تو پاکستان بخرے ہوگا۔

پیپلزپارٹی ، ن لیگ اورعمران خانی حکومت؟

کوئی اقتدار میں آیا تو استبدادی جبر کی رضاو ایماء پر آیا۔ عمران خان نے پرویز مشرف کے ریفرینڈم سے منہ کی کالک دھونے کیلئے ابھی ندی میں پیرصحیح گیلے نہ کئے کہ نیازی نے ہتھیار ڈالااوراداروں کو مضبوط کرنے کی بانسری بجائی۔سیاسی جدوجہد اداروں کے استبداد سے گلو خلاصی ،حقوق اور عوام کو اختیارات منتقل کرنے کیلئے ہوئی ۔ دوسرے اسلئے تو کرپٹ تھے کہ اسٹیبلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا۔ عوام نہیں کرپٹ جرنیلوں اور ججوں نے سیاستدانوں سے مل کرملک وقوم کو لوٹا ۔ نیازی اورہردور میں قبلے کارُخ بدلنے والے نام نہاد لیڈرقوم اور اداروں کا بیڑہ غرق کرنے لئے چت پڑے ہیں۔یہ ایک ساہیوال کا واقعہ ان سے نہیں سنبھل رہا،اگر پختون قوم اٹھی تو نئی تاریخ رقم ہوگی۔

خلافت قائم ہو توعریاں لباس لونڈیوں کی بھرمار ہوگی؟ اداریہ شمارہ جنوری2019

یہ تأثر ہے کہ اسلامی خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر کے کفار کو دعوت دی جائے گی کہ اسلام قبول کرو، نہیں توجزیہ دو، ورنہ جہاد کیلئے تیار ہوجاؤ۔ پھر انکے مردوں کو غلام اور خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ لونڈی کا لباس مختصر ہوگا۔ ایک طرف خواتین کیلئے پردے کی پابندی ہوگی۔ سعودیہ وایران اور افغانستان کے طالبان دور میں خواتین کیلئے جو پردہ رائج تھا، یہ اسلامی ماڈل ہے تو دوسری طرف حسین لونڈیوں کی نیم وعریاں لباس میں چہل پہل، ریل پیل اور دھوم دھام نئی دنیا کا منظر پیش کررہاہوگا۔ دنیامیں جنت نظیر حوروں کی بہتات اور واہیات سے کیا نظارے ہوں گے۔ کیا یہی مصور پاکستان شاعرمشرق اقبال کے خواب کی تعبیر ہوگی کہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
جب لونڈی کامختصر لباس ہوگا۔ بسوں، ریل گاڑیوں اور پبلک مقامات کے ہر منظر وگوشے پر مخلوط حضرات ولونڈیوں کا سماں ہوگا، یہ قانون ہوگا کہ شادی شدہ لونڈی کی سزا نصف ، 100 نہیں 50 کوڑے ہونگے اور اگر لونڈی شادی شدہ نہ ہوگی تو اس کی سزا کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ اگر لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہیں تو زناپر مجبورنہ کیا جائیگا۔ ولاتکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا ’’اوراپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں‘‘۔
بڑی تعداد میں حسین وجمیل لونڈیوں کی اسلامی خلافت میں آمد کے بعد آدمی کیلئے تعداد کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ جب سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جواں سال لونڈیوں کی جھرمٹیں سرمایہ دار اور بااثر طبقات کی ملکیت ہونگی تو فیکٹریوں ، ملوں ، مارکیٹوں اور دفاتر میں ان سے کام لیا جائیگا اور سب کی جنسی خواہشات پوری کرنا بھی انکے بس کی بات نہ ہوگی۔ مالکان کی اجازت سے نکاح کیا جاسکے گا لیکن اس نکاح کی ثانوی حیثیت ہوگی ، اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو ہی ان سے نکاح ہوگا۔ جب انکے ساتھ ان کی خواہش پر بدکاری کی جائے تووہ سزا کی مستحق نہ ہونگی اور گواہی کیلئے چار افراد کی ایسی شہادت ممکن نہ ہوگی جس کا اسلامی مروجہ قانون میں تقاضہ ہے۔ یہ تو اس صورت میں ممکن ہوگا کہ جس طرح مولانا طارق جمیل نے حوروں کی تعریف کی ہے کہ ستر لباس میں بھی وہ عریاں نظر آئیں گی اور جنت کی شراب طہور پیتے ہوئے اسکے حلق میں اترتی نظر آئیگی اور اسکے بے قرار دل میں محبت کی تڑپ سے ہلتی جلتی ہوئی شریانیں بھی نظر آئیں گی۔ اس طرح سے اگر دنیا کی زمین میں انسانی جسم شفاف مادے کی طرح ہوجائیں تو سرمہ دانی اورکنویں میں سلائی اور ڈول کی رسی نظرآنی ممکن ہوسکے گی اور کسی ایک نے گواہی کا حق اس طرح سے پورا نہ کیا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والے 3 افراد کی طرح الٹی ماربھی ان گواہوں کو ہی پڑے گی۔
بہت سارے دانشور ،ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مذہبی منطق لڑانے والے اس طرح کے اقدامات اورماحول کو جواز بخشنے کیلئے ایران ،سعودیہ اور افغانستان سے مشابہ قوانین کیلئے زیادہ بہتر عقلی اور نقلی دلائل بھی پیش کرینگے۔ روس و امریکہ اور برطانیہ بھی دوسروں کو کچل کر غلام بنادیتے تھے تو انکے خلاف اپنے کبھی بغاوت نہیں کرتے ۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کردیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یمن اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہے۔ آنے والا وقت بتائیگا کہ ایران ، سعودیہ اور پاکستان کی باری کب لگتی ہے۔ اس جنگی مہم جوئی کے جواز کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ طاقتور ہیں جو چاہیں کرنے کا حق ہے، البتہ یہ مہربانی ہے کہ ہماری خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا گیا۔ ورنہ تو افغانستان وعراق اور لیبیا کی مسلم خواتین اسرائیل وامریکہ، برطانیہ و یورپ میں لونڈیوں کی صورت میں دنیا بھر کی میڈیا پر دکھائی جاتیں اور ہماری کچھ این جی اوز کی خواتین یہ دعوت دیتیں پھرتیں کہ یہاں کی آزادی سے وہاں کی لونڈی بننا بدرجہا بہتر ہے۔
جب طاقت کیساتھ مذہبی جذبہ مل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا توڑ نہیں نکال سکتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی طاقت مذہب کے مقابلے میں اس طرح سے ناکام ہوئی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ افغانیوں کو رام کرنے میں طاقت، پیسہ ، وسائل اور سازشوں کے تانے بانے استعمال کرنے کے بعد بھی اس طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ایک طرف نیٹو نے بے تحاشا ظلم و جبر دکھانے کے باوجود مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کا کام نہ کیااور دوسری طرف سعودیہ نے مغرب کی آزادی خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی جذبوں اور جہادی قوتوں کے پیچھے ہمیشہ سے ریاست کارفرما رہی ہے ۔ ریاست قادیانیوں کیساتھ تھی تو عدالتوں نے قادیانی مخالف علماء کو فسادی اور قادیانیوں کو صحیح مسلمان کہا تھااور ختم نبوت کی تحریک چلانے والوں کو پھانسیوں کی سزا اور معافی مانگنے سے لیکر علماء اور عاشقانِ رسول ﷺ کو داڑھی تک منڈوانا پڑ گئی تھی۔ حکومت اسلامیہ کالج کراچی کی جگہ پر شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی کا یادگار بنانے کیلئے علامہ یوسف بنوری ؒ کو مدرسہ بنانے کیلئے دے رہی تھی مگر قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی اس میں رکاوٹ بن گئے۔ پھر ریاست کا موڈ بدل گیا تو ایک ایسی تحریک ختم نبوت جو مجلس احرار اسلام کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظیم قربانیوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی مگر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی۔ اگر ریاست نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے ذریعے خلافت قائم کردی اور امریکہ وبرطانیہ اور یورپ و اسرائیل کو اپنا حلیف قرار دیا تو روس وچین ،بھارت، جاپان وکوریا اور کئی دیگر ممالک سے خواتین کو لونڈیاں بناکر ایک نئی مہم جوئی کا آغازبھی کرسکتے ہیں۔
ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ کیساتھ میثاق اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ تھا۔ پاکستان کیساتھ اسرائیل میثاق مدینہ کا بڑا فریق ہوگا اور بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگا تو بعض مسلمان مشرک بنیں گے۔پھر جب امریکی CIA مجاہدین کی طرح سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد پھینکے گی بلکہ مخالف کاروائیاں شروع ہونگی تو اقتدار مرزائیوں کو سونپ دیا جائیگا۔ جن کا نظریہ جہاد کی منسوخی ہوگا۔ مسلم اکثریت تھک ہار کر علماء ومفتیان کے اسلام سے بیزار ہوچکی ہوگی۔انگریز کے خود کاشتہ پودے کاتناآور درخت مرزا قادیانی کا پھل مسلم و غیرمسلم کھائیں گے اور اصلی اسلام کی جگہ جعلی اسلام لے گا توسارا قصہ ختم ہوگا ۔جہاد کے خاتمہ میں قادیانی نبوت ناکام ہوگئی مگر تبلیغی جماعت نے جہاد سے عملی طور پر لوگوں کو دور کردیا۔ مولانا مسعود اظہر نے اسلئے انہی سے گلہ کیا تھا،کرایہ کے جہاد نے جہاد کو بدنام کرکے اسکی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔

امریکہ و اسرائیل نے پاکستانی خلافت سے چینیوں کو لونڈی بنایا تو یہ مثاق مدینہ کی ریاست ہوگی؟

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا کہ علامہ اقبالؒ ایک جہاندیدہ اور الہامی شاعر تھے، شیطان کی مجلس شوریٰ پر اشعار ہمارے اہل اقتدار پڑھ کر دیکھ لیں اورقبلے کا رخ درست کریں،جہاد کے نام پر سپر طاقت روس کو تباہ کیا، پھر امریکہ نے اپنی سازش اور نااہلی کی سزا مسلم ممالک کو دی۔ جہاد کو دہشتگردی سے بدنام کیا، اب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ، اگرپاکستان و افغانستان نے داعش وطالبان کی خلافت قائم کردی اور پھر چین کوتہس نہس کرکے چینی خواتین کو لونڈی بنادیا اور فقہ کی کتابوں میں مذکور نیم وعریاں لباس کا ماحول دنیا کو دکھادیا ۔ پھر نام نہادمجاہدین کی طرح خلافت کا بھی گلہ گھونٹ دیا اور اصلی اسلام کی جگہ قادیانی اسلام کو رائج کردیا تو اسلام کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔ پیش گوئی پھیلائی گئی ہے کہ 2019ء تک پاکستان دنیا کے نقشے پر نہیں ہوگا لیکن پاکستان انشاء اللہ قیامت تک باقی رہیگا۔ یہاں جعلی نہیں مدینے کی اصلی ریاست قائم ہوگی۔ دنیا کی سازشیں ناکام ہونگی۔ وزیراعظم کو اگر دولت نہیں عزت کی طلب ہو تو حقوقِ نسواں کیلئے اسلام کی صحیح تعبیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بیگم سے کئی بچے جنوادئیے جائیں اور پھر بچوں اور حق مہر سے محروم کیا جائے تو اس سے بڑی زیادتی کا کیاتصور ہوسکتا ہے؟۔ دنیابھی مسلم حکمرانوں کو استعمال کرتی ہے اور پھینک دیتی ہے، جب ہم اپنی خواتین سے زیادتی کرینگے تو عذاب کے بھی مستحق ہونگے۔ حقائق جاننے کیلئے اداریہ پڑھئے

مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر خان داوڑ کی شہادت

فرعون کی قبطی قوم نے حضرت موسیٰؑ کی قوم کو غلام بنایا۔ حضرت موسیٰؑ کا قوم کیلئے ہمدردی اور محبت کا جذبہ فطری تھا مگر اپنی قوم کے جھگڑالو کا ناجائز ساتھ اور مخالف کو قتل کردیا تواس سانحہ سے نبوت اور معجزات ملنے کے بعدبھی وہ خوف کو دل سے نہ نکال سکے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ میرے رسولوں میں سے کوئی نہیں ڈرتا مگر جوظلم کا مرتکب ہوا ہو‘‘۔ حضرت موسیٰؑ علم لدنی کی تلاش میں حضرت خضر کے پاس اللہ کی رہنمائی سے پہنچے ۔ حضرت خضر نے اپنی صحبت کیلئے شرط رکھ دی کہ وہ کسی معاملے پر سوال نہیں اٹھائیں گے جو حضرت موسیٰ نے قبول کرلی۔ پھر یکے بعد دیگرے واقعات ہوئے اور جب ایک معصوم کی جان لے لی تو اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے جدائی کے یقین کے باوجود سوال اٹھادیا۔ جسکے بعد ظاہری وباطنی خلافت کی راہیں جدا جدا ہوگئیں اور قرآن کے یہ واقعات ہمارے لئے بڑے سبق آموز ہیں۔اقبال نے کہا کہ
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش
ابوبکرؓ و علیؓ میں مسئلہ خلافت پر اختلاف تھا۔علامہ اقبالؒ نے اُمت کو خبردار کیا کہ تم ظاہری وباطنی خلافت کا راز نہیں سمجھتے، اکابرصحابہؓ کے نام پر فرقہ واریت کا شکار ہونے کے بجائے حقائق سمجھو، ابوبکرؓ اور علیؓ دونوں ظاہری وباطنی خلیفہ تھے۔
عثمانؓ ظاہری وباطنی خلافت، ذی النورین 2نوروں والے تھے جو فتنہ وفساد میں شہیدہوگئے ۔ انصارؓ کے سردارسعدبن عبادہؓ کا خلافت کے مسئلے پر مہاجر صحابہؓ سے شدید اختلاف تھا،یہانتک کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتے۔ جنات کے ہاتھوں قتل ہوئے، عدم اعتماد نے فساد کی آگ پکڑلی، جنگ صفین و جمل میں ہزاروں موت کے گھاٹ اُترگئے۔ عشرہ مبشرہ میں شامل طلحہؓ و زبیرؓ نے بھی ان جنگوں میں حصہ لیا ۔نبیﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ سے نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’ ’ مجھ سے پہلے تمام انبیاءؓ نے دجال کے فتنے سے اپنی قوموں کو ڈرایا، اسکی ایک آنکھ کانی اور دوسری انگور کے دانے کی طرح ہوگی، اگر تم اسے نہ پہچان سکو تو اللہ تعالیٰ اس دجال کو جانتا ہے۔ خبردار!، مسلمانوں کا خون ، مسلمانوں کی عزتیں اور مسلمانوں کا مال ایک دوسرے کیلئے ایسی حرمت والے ہیں ،جیسے حج کے اس مہینے میں اس شہر مکہ کے اندر اس دن ’’یومِ عرفہ‘‘ کی حرمت ہے۔ خبردار میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔ (بخاری)
ایک قتل ناحق کا ارتکاب اس وقت کے خفیہ والوں یا جنات نے کیا ، بہرحال پھر تختِ خلافت پر حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ شہید کردئیے گئے۔ تربیت یافتہ صحابہؓ نے آخری خطبے کا پاس نہ رکھا اور ایکدوسرے سے فتنہ وفساد میں مبتلا ہوگئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ خراسان سے دجال نکلے گا، اسکا اتباع وہ اقوام کرینگی جنکے چہرے ڈھال کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے‘‘۔ طالبان کی شکل میں پٹھان و ازبک نے دجالی لشکر کا کردار ادا کیا۔ جس طرح ہتھوڑے جیسے لمبوترے اور ڈھال جیسے گول چہرے بطور مذمت بیان ہوئے ہیں اسی طرح سے انگور جیسے ابھری ہوئی آنکھ بھی بطور مذمت ہی بیان ہوئی ہے۔ حدیث میں سب سے بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ لوگ دجال کے اس واضح کردار کے باوجود کہ مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کی حرمتوں کو ختم کردیا گیا لیکن مسلمان قوم دجال سے بالکل بے خبر اور لاعلم رہے گی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کا جہاد امریکی سی آئی اے کا کرشمہ تھا۔ طالبان بھی ملاعمرمجاہدؒ کی قیادت میں امریکہ نے بنائے، طالبان کی قیادت جنگ کے بعد سے آج تک امریکہ کیساتھ رابطے میں ہے۔امریکہ نے اسامہ اور ملاعمر کے نام پر مسلم دنیا کو تباہ کیا، ہرملک وقوم اور فرقے کے نام پر مسلمانوں نے مسلمانوں کی جانوں کی حرمت ختم کردی لیکن اللہ تعالیٰ ہی دجال کو جانتاہے ، ہم بے خبر رہے۔
ظاہری وباطنی خلافت کے سزاوار ہم ہیں؟۔ روز روز قتلِ ناحق پر قوم کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے عرصہ تک قتل وغارتگری کا تماشا دیکھا اور اب بھی ضروری نہیں کہ حالات پر قابو پاسکے۔ لسانیت کے بھڑکتے شعلوں نے کراچی کو تباہ کیا، طالبان کی دہشتگردی نے ناکامی کا ٹھپہ لگایا، ڈرون حملوں نے ریاست کی ناک کاٹی۔ تباہی وبربادی اورقتل و غارتگری کے گرم بازار میں ریاستی عناصر کو بری الذمہ کہنا غلط ہے لیکن اللہ کے فضل اور جنرل راحیل کی جرأت سے ممکن ہوسکا کہ عوام بالعموم اور قبائلی بالخصوص چین وسکون سے زندگی گزارنے کے قابل بنے۔ مولانا سمیع الحق اور ایس پی داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء کے بعد شہادت نے ایک نیا واویلہ کھڑا کیا ،جس پر مختلف رنگ وروغن چڑھائے جارہے ہیں۔
ایس پی طاہر خان داوڑ پر پہلے بھی خود کش حملے ہوچکے ۔دارالخلافہ اسلام آباد سے اغواء کے بعد حکومت اور ریاست کی بے حسی،غفلت اور نااہلی کو سازش کانام دینا غلط ہے تو اسکی ذمہ داری افغانستان و PTMپر ڈالنے کی کوشش بھی بھونڈی حرکت ہے۔ افغانستان نے لاش سپرد کرنے میں دیر اسلئے لگادی کہ پوسٹ مارٹم اور شناخت اس کی ذمہ داری تھی مگر حکومت کے بجائے اس کی لاش کو پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کے حوالے کرنے کے پیچھے امریکی مشاورت کا شاخسانہ ہوسکتا ہے لیکن چلو شمالی وزیرستان سے محسن داوڑ نہ صرف عوام کا نمائندہ تھا بلکہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پارلیمنٹ کا بھی نمائندہ تھا۔سازش ناکام بنائی جائے۔
عمران خان نے طاہر داوڑکے اغواء کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اسلئے اگر وزیرداخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دیتا تو اچھا تھا۔ وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی نے انتہائی بے حسی اور غیر ذمہ داری کی مثال قائم کی۔ اغواء کے بعد وائس آف امریکہ سے کہا کہ میں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ اغواء کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ، محسن داوڑ پشاور میں بحفاظت موجود ہیں۔ جس کی شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں خوب خبر لی۔ لیکن اس بے حس مخلوق کی بے حسی کا یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں کہ اسکے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ تاہم جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ اس قتل کے پاکستان اور افغانستان میں سہولت کار موجود ہیں۔ امجد شعیب نے اسکا تعلق امریکہ اور پی ٹی ایم کیساتھ جوڑ دیا۔ جبکہ زید حامد نے جذباتی انداز میں کہا کہ’’ اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر اور افغانستان کو سبق سکھایا جائے لیکن چین سے ہم نے بھیک مانگنا ہے اسلئے چین کو اسکے مظالم کا بدلہ نہ دیاجائے‘‘۔ گویا میڈیاکے خلوص یا کم عقلی نے پختون قوم اور پاکستانی ریاست کے درمیان طبلِ جنگ کا پورا اہتمام کرنے کی کوشش کی اور افغانستان کی طرح پاکستان کا حال خراب کرنا چاہا، جو امریکی خواہش ہے۔
اگر PTMکی قیادت ہماری بات مان لیتی اور اس کو مظلوم تحفظ موومنٹ کا نام دیتی تو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے تحریک انصاف نہیں اصلی مینڈیٹ سے منظور پشتین اقتدار میں آتا۔ بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور ہزارے وال سب ہی قومی دھارے میں ایک نئی روح پھونکنے کیلئے اس تحریک کا حصہ بنتے مگر……۔

امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔

ڈائریکٹرفنانس نوشتہ دیوار فیروز چھیپا نے کہا کہ ایک طرف منظور پشتین کیساتھ ایس پی طاہر داوڑ شہید کے بیٹے نے سنگین الزام لگایا ہے تو دوسری طرف سوشل میڈیا نے منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں پر اغواء کا الزام لگایا ۔ امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔ امریکی سی آئی اے اور دہشتگردوں کے علاوہ کسی کے مفاد میں ان کی شہادت نہیں تھی۔ میڈیا پرحکومت و ریاست کی غفلت و لاپرواہی کو اجاگر کرنا وقت کا تقاضہ تھا لیکن سازش کا نام دینا غلط ہے۔ بہت بڑی کوتاہی تھی لیکن اس کو سازش کا نام دینا پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ پختون قوم کے مفاد میں ہے۔ الزام لگانا اپنے کو نقصان اور دشمن کو فائدہ دینا ہے۔ امریکہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر لڑاتاہے، اب پاکستانی ریاست کو پختون قوم کیساتھ لڑانے کی تیاری ہے، امریکہ سے بھلے کی امید تب ہوتی جب وہ افغانستان میں امن قائم کرتا۔ ملک اور پختون کو پھرفتنہ میں ڈالا جارہاہے۔

کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے

ایڈیٹر نوشتۂ دیوار اجمل نے کہا کہ صحافیوں کی مہم جوئی پرگرفت قانون اور اخلاق کا تقاضہ ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے نوازشریف کی پارلیمنٹ میں تقریر کو نظر انداز اور قطری خط میں جان ڈالنے کی مہم جوئی کی لیکن اب نوازشریف نے اپنی تقریر سے استثنیٰ مانگ لیا، قطری خط سے لاتعلقی کا اعلان کردیا،کیا شاہزیب خانزادہ مہم جوئی پر قوم سے معافی مانگیں گے؟، یا پھر یہ بتانا پسند کرینگے کہ جیو کے مالکان نے نوازشریف کیلئے مہم جوئی پر کتنا معاوضہ لیا؟۔کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کرپٹ عناصر کی مہم جوئی کیلئے میڈیا استعمال ہوجائے؟ سیاسی لیڈر وں کی کرپشن چھپانے کیلئے میڈیا اشتہارات کے نام پر رشوت لیکر مہم جوئی کرے تو اس سے قوم وملک کی اخلاقی اور قانونی حیثیت تباہ نہ ہوگی؟۔ حق نہیں باطل کیلئے مہم جوئی والوں پر بھی سوال بنتا ہو تو کیا سوال کا جواب دینگے؟ اور اپنے کئے پر ناظرین سے کھلے دل و دماغ سے معافی مانگنا پسند کریں گے؟۔ کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے۔

آج اگر امریکہ کہے کہ اسامہ کو زندہ برمودائے مثلث میں رکھاہےتو سب کو یقین آجائیگا

سیکرٹری جنرل ادارہ اعلاء کلمۃ الحق فاروق شیخ نے کہا کہ ’’قانون رسالہ میں لیاقت بنوری نے اسامہ بن لادن کی تصویر لیڈیز لباس میں شائع کی،امریکی ہوٹل میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو تھا، خواب اخبار ضرب حق کی زینت بنا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی نے رپورٹ کارڈ میں علیمہ خان کی دبئی جائیداد کا جواب نہ دیا مگر واضح کیا کہ’’ ایبٹ آباد کمیشن و نیب کے چیئرمین نے کہا تھاکہ اگر بتادیا کہ اسامہ زندہ ہے یا نہیں تو کوئی راز بھی راز نہ رہیگا۔حقیقی کہانی پر پردہ ڈالا گیا۔ ایبٹ آباد میں اسپیشل رہائشگاہ کی تعمیر کوئی عام مسئلہ نہیں۔ کوئی بھی سچ نہیں بول رہا ہے، سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘‘۔
آج اگر امریکہ کہہ دے کہ اسامہ کو زندہ برمودائے مثلث میں رکھاگیا ہے جو سی آئی اے اور دجالی قوت کا مرکز ہے تو سب کو یقین آجائیگا۔ اُمت مسلمہ اس سے محبت کرتی ہے جسکو میڈیا ہیرو بنا کر پیش کرتاہے اور اس سے نفرت کرتی ہے جس کو میڈیا ویلن بناکے پیش کرتاہے۔ کوئی کسی کا چاچا ماما نہیں بلکہ طوفانوں کا مقابلہ تخیلاتی کہانیوں سے کیا جاتاہے۔

ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے، انجام گلستان کیا ہوگا؟؟؟۔

ایک طرف حکومت نے انتہائی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیاکہ طاہر داوڑ کو اغواء ہوئے 16روز گزرے لیکن کوئی قدم نہ اُٹھایا تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ریاست دشمن عناصر نے شوشہ چھوڑ ا کہ سرحد کے قریب فوجی چوکی نے طاہر داوڑ کی لاش افغانستان کی حدود میں پھینکی۔ پھر میڈیا نے پاکستان و افغانستان کی فضا میں اپنافرض بھی ادا کردیا اور جلتی پر تیل ڈالنے کی بھی کوشش کی۔ جیو نیوز کے شاہ زیب خانزادہ اور7ٹی وی نیوز کا ایک ایک پروگرام ہی اس سلسلے میں کافی ہے۔
آل فرعون بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ مردوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھنے کا سلسلہ جاری تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش، ان کی بہن کو زندہ رہنے دیا ۔ یہ بنی اسرائیل کیلئے اللہ کی طرف سے سخت آزمائش تھی، نجات دہندہ آنے سے پہلے انکے بچوں کا قتل چھوٹی بات نہ تھی ۔ آج عالمی قوتوں نے پاکستان و افغانستان کا جو حال کیا ہے وہ یہاں سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ اورنجات دہندہ کی آمد کے خوف سے ایسا کررہے ہیں۔ افغانستان میں حکمران وطالبان دونوں امریکہ کے ہاتھوں میں پالتو بٹیر کی طرح لڑرہے ہیں۔ دونوں کو پتہ ہے کہ امریکہ نے ان کو یرغمال بنایا ہے، جس دن انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے نہیں لڑنا تو امریکہ کیلئے خطے میں رکنے کا جواز نہ رہیگا۔ امن میں ہی امریکی فوج نہتے افغانوں سے خوف کھاتی ہے جبکہ مسلح طالبان اور افغانوں کی بدحالی کا فائدہ اُٹھایا جارہاہے۔ بدامنی امریکہ کی خواہش اور اس کی پالیسوں کا نتیجہ ہے۔
اگرPTM والے یہ سمجھتے ہیں کہ لسانی منافرت پاکستان یا پختون قوم کی خدمت ہے تو اس بات کو یاد رکھے کہ جب مہاجرصحابہؓ کیخلاف السابقون الاولون انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے منافرت کی اجتماعی نہیں انفرادی کوشش کی تب بھی جنات یا خفیہ والوں نے قتل کیا۔ یہ صحابہؓ کے دور کا واقعہ تھا جب سی آئی اے، آئی ایس آئی اور دنیا کے کسی بھی خفیہ ادارے کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ قرآن نے دو گروہوں میں ایک کے دشمن اور دوسرے کے اپنے کا ذکرہے۔ اگر PTM کا کردار یہ ہو کہ پختون کو ریاستِ پاکستان کے دشمنوں میں کھڑا کردے تو یہ ملک کے علاوہ اپنی قوم کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔ دشمنی دوستی کے لبادے یا کھدڑے سے مشابہ کی جائے تو زیادہ نقصان کا خدشہ ہے۔ امریکہ کا منافقانہ کردار اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا اپنوں کی منافقت سے خطرات لاحق ہیں۔
زیدحامد بیچارہ ایک تو پیر کذاب کا چیلہ، دوسرا اسکے مزاج میں عسکریت اور تیسرا اسکا تعلق ہمارے پنجابی بھائیوں سے ہے بقول اقبال تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا، ہوکھیل مریدی کا توہرتا ہے بہت جلد۔ آج پاکستان کا نقشہ نیٹ پر ادھورا ہے،اگر مقبوضہ کشمیر کو شامل نہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے چوتڑ پر قبضہ کیاہے۔ بھارت مسلسل بندے مار مار کر ہماری ریاست کو انگل دیتا رہتا ہے لیکن زید حامد نہیں کہتا کہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیلئے ہماری فوج ایک جست لگائے، کیونکہ بھارت طاقتور ہے اور زید حامد سمجھتا ہے کہ ہم بھلے پدو ہی مار کر ڈرانے دھمکانے اور شرافت کو کمزوری نہ سمجھنے کی رٹ لگائیں مگر افغانستان پر چڑھ دوڑیں اسلئے کہ بھارت ہندو جبکہ افغانستان ایک مسلم ملک ہے جس نے روس اور امریکہ کی سینہ زوری کاایک عرصہ سے تجربہ کررکھا ہے۔ PTMکی غلط سوچ کا خاتمہ زید حامد کی ترکیبوں سے نہیں سنجیدہ کوششوں سے ہوسکتا ہے۔
وزیرستان کابادشاہ ملاپاوندہ انگریز کیخلاف لڑامگر100روپیہ ماہانہ وظیفہ لیا، کیابعید کہ منظور پشتین جسکے خلاف لڑرہاہو ، انہی کا اپنا ہو،داعش کیخلاف پختونوں کو اب مذہب نہیں قوم کی بنیاد پر لڑایا جاسکتا ہے۔بڑی مشکلوں سے محسود قوم نے طالبان سے جان چھڑائی ، تصویرکا رُخ واضح نہ ہو تو وہ کھیل کا حصہ نہ بنیں گے۔ زید حامد کا کردار PTMکیلئے مضبوطی کا ذریعہ ہے مگر فوج کو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایم کیوایم اور تحریک طالبان کی وجہ سے اس قوم نے جو نقصان اٹھایا ہے،اب مزید عسکری ذہنیت سے پاکستان کے لوگ پستیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ اگر یرغمال شدہ اسلام کو بازیاب کیا تو مسائل حل ہونگے ۔
آئی ایس آئی کے بریگیڈئر کا بھائی گلشاہ عالم برکی طالبان نے غائب کردیا، جسکا سراغ آج تک نہ ملا، برکی قوم نے بیت اللہ محسود سے اجتماعی پوچھا ،اس نے انکار کیا کہ کچھ پتہ نہیں۔ہم پر حملے کے بعد طالبان معافی کیلئے آئے تومحسود عمائدین ساتھ تھے مگر کانیگرم کے جرگہ میں غائب تھے، طالبان کے خوف سے وہ اپنے بے گناہوں کیلئے کھڑے نہ ہوئے تو ہمارے لئے کھڑے کیوں ہوتے؟۔ امریکی ایماء پر یاپھر نااہلی سے ریاست نے قوم پر طالبان کو مسلط کیا۔ کھڑا ہونے کی جرأت ریاست میں نہ تھی کیونکہ پوری قوم ساتھ تھی۔ پھر جب قوم نے پہچانا تو بعض ریاست کی ضرورت اسلئے تھے کہ انکے بغیر اچھے برے کی تمیز ناممکن تھی۔
اقتدار صحیح قیادت کے ہاتھ میں ہو توسول وعسکری سمیت پاکستان کے تمام سرکاری اداروں کا کردار درست کیا جاسکتا ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ جس طرح عوام انکے غلام ہوں اور حکومت وریاست کے لوگ تاج برطانیہ کے وائسرائے ہند کے اہلکار ونمائندے نہیں بلکہ گماشتے ہوں۔ نمائندہ قانون کی حکمرانی قائم کرتا ہے اور گماشتہ بدمعاشی سے اپنی دہشت بٹھاتا ہے۔ لوٹ مار کرتا ہے اور ذاتیات کی جنگ لڑتا ہے۔ غلط فہمیاں بد اعتمادی کو جنم دیتی ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑ لیتے ہیں اور صحابہ کرامؓ میں بھی جنگوں کیلئے صف بندی ہوتی ہے۔ پاکستان نازک موڑ پر کھڑاہے، جس طرح کرپٹ سول وملٹری اور سیاسی قیادت ملک وقوم کو سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہے اس سے بڑھ کر کھلاڑی کے ہاتھوں میں ملکی باگ ڈور سے حالات بہتر کی بجائے بد سے بدترین کی طرف جائیں گے۔ بے روزگاری کو ختم کرنے کیلئے ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ کو گھر دینے کا وعدہ کرنیوالا وزیراعظم یوٹرن کو قابلِ فخر قرار دیتا ہے۔ قدوس بلوچ نے کیا خوب کہا کہ لوگ یوٹرن روڈ کے مخالف سمت پر لیتے ہیں جبکہ عمران خان رانگ سمت پر دوڑنا شروع کردیتا ہے۔ بے روزگار و بے گھر کرنے کیلئے حکومت عوام پر چڑھ دوڑی ہے۔ سندھ حکومت نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضہ دیا نہ متبادل جگہ دی تو سعید غنی وزیر بلدیات موجودہ متاثرین کو خاک متبادل جگہ دے سکے گا؟۔
عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور متاثرین بناکر ایسے احتجاج کیلئے تیار کیا جارہاہے کہ مذہبی وسیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کو سب بھول جائیں گے۔ کھلاڑی کہے گا کہ میدان میں ہار جیت تو ہوتی ہے اور پھر اپنا بوجھ ریاست کے سر ہی تھوپ دیگا کہ میں آیا نہیں تھا بلکہ لایا گیا تھا تو میں کیا کرتا؟ ۔ جب آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ ہوا تھا، تب بھی پختونخواہ کے حکمران نے اپنی ناہلی کو فوجیوں کے سرتھوپ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج تک بعض لوگوں کے دل و دماغ سے شکوک وشبہات ختم نہیں ہوسکے ہیں بدقسمتی سے بنگال میں جرنل نیازیؒ نے ہتھیار ڈالے اور ختم نبوت کی تحریک میں مولانا نیازیؒ نے داڑھی مونڈڈالی۔

ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی امریکی لیکن دجالی کردار بالکل واضح

امریکہ نے ہر دور میں منافقت، چالبازی، ڈکٹیٹر شپ ، دوغلہ پن اور دجال کا کردار ادا کیا۔ اسرائیل کو اپنا ازلی دشمن سمجھنے والے عرب اور پاکستان نے بھی اسرائیل کے سرپرست بلکہ گماشتہ امریکہ کو سرپرست بنایا۔ جہادِ افغان کے وقت سوشلسٹ شعراء ، ادیب ، دانشور، اور سیاستدان اسرائیل کیخلاف جہاد کا روتے روتے ذکر کرکے مرگئے لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔ امریکی صدر اور جرنیلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہادری کا مظاہرہ کرنیوالا گلبدین حکمتیار نے حکمتِ عملی کو تبدیل کرکے شاید پھر افغانستان میں بہادری کے جوہر دکھائے مگر وہ کل بھی امریکہ کیساتھ تھا اور آج بھی ہے۔ اب سوشلسٹ لیڈر حبیب جالب، فیض وغیرہ بھی آج کے ہیرو بن گئے ، جوکل کے زیرو تھے اورآج گلبدین زیرو ہے۔
امریکہ نے بار بار ایران وسعودیہ کو ڈبونے اور بچانے کا ڈرامہ رچاکر مقاصد حاصل کئے، پاکستان کیساتھ یہی کرتا ہے، منافقت کا ہار گلے میں ڈالنے کی دہائی دیتا ہے پھر ہمارے خلوص، وفاداری، بہادری کا جواب سن کرچپکے سے مسکراکر اطمینان کی سانس لیتا ہے کہ ابھی تک وفا برقرار ہے۔ کوئی یہ جسارت نہیں کرتا کہ ہم پر الزام لگاتے ہو، افغانستان میں حامد کرزئی امریکہ کو دہشتگردی کامنبع کہتا ہے اوراسامہ بن لادن کا پتہ نہیں کہ دوشیزہ کا لباس پہن کرٹیرن سیتا وائٹ کیساتھ امریکی ہوٹلوں میں گھوم رہا ہواور اسرائیلی طیارے میں یہاں ملکر بھی گیا ہو۔
یہ نہیں کہ فوج میں کوئی دانشور نہیں، سب زید حامد ہیں۔ فیض بھی فوجی تھامگر عسکری طبع دانشمندی کے تقاضے سے عاری ہے اسلئے سیاسی قیادت انکے ہاتھوں میں نہیں دی جاتی اوریہی حال صوفیوں کا ہے اسلئے خضر کو ویرانے کی عادت تھی۔ صحابہؓ کے صوفی ابوذر غفاریؓ تھے۔ ابوذرؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ مجھے حاکم بنادیجئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ جو اقتدار مانگے اسے ہم نہیں دیتے‘‘۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ جیسی اہلیت والے کو آپﷺ اقتدار دیتے۔ ابوذر غفاریؓ نے ویرانے میں ہی آخری زندگی گزار دی۔ خالد بن ولیدؓ بہترین سپاہ سالار تھے لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو عہدے سے اس انداز میں برطرف کیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ خالد بن ولیدؓ جمعہ کے دن خطبہ کیلئے منبر پر چڑھ گئے تو حضرت عمرؓ کے نمائندے نے طے شدہ پروگرام کے تحت اٹھ کر پوچھا کہ شاعر کو آپ نے انعام جیب یا حکومت کے فنڈز سے دیا؟، دونوں صورتوں میں آپ برطرف ہیں۔ اگر حکومت کا فنڈز استعمال کیا تو تم کون ہودینے والے؟ اگر جیب سے دیا تو فضول خرچی کی بنیاد پر اس قابل نہیں ہو کہ مزید اقتدار کی کرسی پر بیٹھ سکو۔ خالد بن ولیدؓ نے بلا چوں چرا حکم کی تعمیل کی، منبر سے اترکر عام سپاہی بنکے لڑنے کوترجیح دی۔ ہماری فوج کا یہ شعار تھا کہ جونئیر کو آرمی چیف بنایا جاتا تو سینئر استعفیٰ دیتا۔ پہلی مرتبہ ایک جنرل نے سینئر ہونے کے باوجودجوائنٹ چیف کا عہدہ اسلئے قبول نہ کیا کہ خالد بن ولیدؓ کی روایت کو دھراناتھا بلکہ انکے دو بھائی بڑے فوجی افسر تھے ہمارا نظام منافقانہ ہے۔ بری، بحری اور فضائیہ کے مشترکہ چیف کو ہی طاقت کامنبع ہونا چاہیے تھامگر ہمارے ہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے۔ وزیراعظم کی بجائے صدرکی طاقت زیادہ ہونی چاہیے تھی مگر اس قوم کااپنا کوئی دماغ نہیں، انقلابی اقدام کیلئے آرمی چیف کی جگہ جوائنٹ چیف اور وزیراعظم کی جگہ صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم ایک وزیر اور صدراصل امیر ہوتاہے۔
سوشل میڈیا پر خبر ہے کہ سینیٹر علامہ ساجد میرنے کہا کہ جنرل جاوید قمر باجوہ قادیانی ہے تو علامہ زاہدالراشدی نے کہا کہ آرمی چیف ہمارا پڑوسی ہے ۔ پورا خاندان قادیانی نہیں، یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے ۔ پھر تحریک لبیک کے رہنما پیر افضل قادری نے علامہ خادم حسین رضوی کی موجودگی میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو کافر کہا تو اوریا مقبول جان نے کہا کہ میرے پڑوسی پیر افضل قادری نے غلط بہتان لگایا، میں قیامت کے دن گواہی نہ دینے کے جرم سے بچنے کیلئے حقیقت بتارہا ہوں۔ جب جنرل باجوہ کیلئے آرمی چیف کا کوئی چانس نہ تھا تب کراچی کے پروفیسر نے خواب دیکھا کہ حضور ﷺ نے جنرل باجوہ کو ایک تحفہ دیا،یہ تحفہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے لینا چاہ رہا تھا مگرمیں نے کہا کہ بائیں نہیں دائیں ہاتھ سے لو۔ پھر وہ شخص جنرل باجوہ کے پاس آیا توشکل سے پہچان لیا۔ جنرل باجوہ کو اس کی تعبیر یہ بتادی کہ آرمی چیف بنوگے۔ انکا جواب تھا کہ یہ ممکن نہیں، مجھ سے کافی سینئر ہیں، جنکا اثر رسوخ اور صلاحیت بھی زیادہ ہے لیکن پھر اس خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔
یہ خواب سچا ہوتو اللہ کرے کہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے جو تحفہ لے رہا تھا وہ اب دائیں ہاتھ سے لے۔ طالبان کے مقابلے میں صوفی ازم کے حامیوں علامہ خادم حسین رضوی اوربشریٰ مانیکا کے چیلے عمران خان کو پاکپتن کے مزار پر یوٹرن کی عظیم تقریب کے بعد وزیراعظم کی کرسی پر براجمان کرنے کی حرکت تحفہ بائیں ہاتھ سے لینے کے مترادف تھا۔ساجد میر کے قائد نوازشریف نے جنرل باجوہ کو اسی لئے آرمی چیف بنایا ہوگا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نوید مختار اسکے رشتہ دار تھے اور آئی ایس آئی ذرائع نے بتایا ہوگا کہ جنرل باجوہ پرقادیانی کا داغ تھا ۔ پہلے فوج پر قادیانیوں کا اثر ورسوخ تھا اور جو قادیانی نہ تھے تو بھی خود کو احمدی بنا کر نااہل ہونے کے باجود بھرتی ہوتے ۔ اللہ کرے کہ جنرل باجوہ سیدھے ہاتھ سے فرقہ واریت ، ملک دشمنوں اور نااہل سیاستدانوں کو سہارا دینے کے بجائے خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ساجد میر کو بتاناچاہیے کہ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے ہی ختم نبوت کیخلاف حرکت کی تھی جوبہت مہنگی پڑ گئی۔
داؤد علیہ السلام کے دور میں اوریا مجاہد تھا جسکی بیگم بادشاہ داؤد ؑ لیتے توبھی وہ حق کی آواز نہ اٹھاتا مگر اللہ نے ’’میرے پاس ایک دنبی ہے اور اسکے پاس 99 دنبیاں ہیں‘‘ کی بات سے وہ بچالی، ورنہ مجاہد وفاداری کا ثبوت دیتا تو اوریا جیسے بیوروکریٹ تائید کرتے۔ حق کی گواہی پرجن مشکلات کاسامنا ہوتاہے انکا اوریا مقبول جان نے کبھی خواب تک بھی نہ دیکھا۔ایسے خواب تو بریلوی دیوبندی اور قادیانی بھی دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟۔ گیارہویں خلیفہ کا دعویدار خواب سے پھر کیوں پکڑا؟۔ یوسف رضاگیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کے علاوہ کتنے اغوا ہوکر افغانستان پہنچے مگر اس کو لسانی تعصبات کا نام دینا درست نہیں۔ منظور پشتین کا دادا بھی کشمیر کا مجاہد تھا اور کشمیرکے ایک مجاہد سے قیادت کرنیوالے پیر آف وانا نے اپنی مقبوضہ بیوی چھین لی تھی۔ نہیں پتہ کہ وہ منظور پشتین کے دادا تھے یا اس کا کوئی اور ہم قبیلہ۔ فوج، پیر وں اور مجاہدین کو تثلیث سے نکل کر حقائق کی طرف آنا ہوگا۔ جس دن علماء نے اپنا کردار درست کیا تو سب کچھ درست ہوجائیگا ورنہ کھلاڑی اور شکاری بھیس بدل بدل کرآئیں گے ۔عوام کو بے روزگار، بے گھر کیاجارہاہے ۔پانی کیلئے ترسایا جارہاہے جسکا حل ضروری ہے۔اسلام تمام قسم کے معاشی ، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا حل ہے۔ اسلام کے خول میں رہ کر اپنے بنیادی مسائل حل کرنے ہونگے اور پاکستان کے خول میں رہ کر ملکی و بین الاقوامی مسائل کے حل کیلئے سرکاری اور سماجی سطح پر عمدگی سے چلنا ہوگا۔ سیدعتیق گیلانی