پوسٹ تلاش کریں

پاکستان کا وجود اسلام کیلئے لیکن سازش کا جال

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri

جب دنیا میں برطانوی اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتا، برصغیر پاک وہند پر بھی انگریز کی حکومت تھی۔ روس بھی یورپ میں واقع ہے اور ایک دور میں روس کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے کہا کہ’’ ماسکو سے آذان کی آواز آئے گی‘‘۔ علامہ اقبال نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ابلیس کو خطرہ کمیونزم نہیں اسلام سے ہے ۔ ’’مزدوکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے‘‘۔ایک بڑے اعلیٰ سطح ابلیسی دماغ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: انھم یکیدون کیدا واکیدکیدا ’’ بیشک وہ اپنا منصوبہ بناتے ہیں اور میں اپنا منصوبہ تشکیل دیتا ہوں‘‘۔ برصغیر پاک وہند میں گانگریس سے پہلے خلافت کی بحالی کیلئے تحریک چلی تو ہندو اور مسلمان شانہ بشانہ تھے، پھر آزادی کیلئے گانکریس نے تحریک شروع کردی تو ہندوپیش پیش تھے اور مسلمان بھی شانہ بشانہ تھے۔
مولانا محمد علی جوہر کا اخبار کامریڈ ہو، یا مولانا ظفر علی خان کا اخبارزمیندار ہو، علامہ اقبال کی طرف سے فرشتوں کا گیت ہو’’ جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی ، اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘‘ یا قائد اعظم محمد علی جناح کی گانگریس سے سیاست کا آغاز ہو، یا مولانا حسرت موہانی جیسے مسلم کمیونسٹ ہوں، سب ہی کی ہمدرددیاں اورتعلق کپٹل ازم کے مخالف سیاسی نظام کے مالک روس سے تھیں انگریز نے ہندو مسلم اتحاد میں منافرت کا بیج بونے کیلئے مشرقی بنگال کو علیحدہ صوبہ بنادیا تو ہندوؤں نے اسکا برامنایا، اگر ہندو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے تو مسلمان ایک الگ جماعت مسلم لیگ نہ بناتے۔ انگریز کے وفادار سر آغا خان اور نواب وقارالملک نے 1906ء مسلم لیگ( مسلم تحفظ موومنٹ)کی بنیاد رکھ دی اور پھر یہی تحریک پاکستان اور تقسیم ہند کا فارمولہ بن گیا۔ ابلیس کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ جو برصغیرہندوپاک کے سیاسی زعماء اور علماء دنیا میں ابھرتی ہوئی دو سپر طاقتوں کے درمیان روس سے تعلق رکھتے ہیں وہ آپس میں تقسیم ہوں۔ ایک ٹولہ ایسا ہو جو اس برِ صغیر پاک وہند کو روس کے بلاک میں شامل ہونے سے روک لے۔
اگر اسوقت پاکستان ایک آزاد مملکت نہ بنتا تو برصغرپاک وہند پورے کا پورا روسی بلاک کا حصہ ہوتا۔ یوں امریکہ اور دائیں بازو میں شامل بلاک کیلئے ممکن نہ ہوتا کہ افغانستان کی سر زمین پر روس کو ایسی شکست دیتے کہ وہ سپرطاقت بننے کا خواب بھول کر سمٹنے پر مجبور ہوتا۔ جو اسلام اسلام اور جہاد جہاد کھیل رہے تھے ان کا نمائندہ پاکستان کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میونخ جرمنی میں برملا کہہ رہا ہے کہ’’ 40سال پہلے روس کیخلاف جہاد کے نام پر جو کچھ ہم نے بویاتھا، اسی کو کاٹ رہے ہیں‘‘۔یہی نہیں بلکہ شروع سے ابلیس کی منصوبہ بندی پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک پاکستان کاآغازاصل میں مشرقی پاکستان کے صوبہ بنگال سے ہوا تھا اور ہندوستان کی ان آبادیوں سے یہ آواز اٹھی تھی جہاں پر مسلمانوں کی اقلیت اور ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ اگربنگال پاکستان نہ بنتا تو بھی ابلیس کو فرق نہ پڑتا تھا اسلئے کہ مغربی پاکستان کی پٹی ہی برصغرپاک وہنداور روس کے درمیان اصل رکاوٹ تھی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بناتو روس کو امریکہ نے مغربی پاکستان کے ذریعے سے شکست سے دوچار کردیا ۔ ابلیس اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچنے میں بظاہر کامیاب نظر آتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو ہندوستان کے ذریعے تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہماری مدد روس کرے بھی تو کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلام کے نام پر قربانیاں دینے والے مجاہدین کو بھی پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں رہی ہے۔ پاکستان اپنے بال وپر کاٹ چکا ہے۔
ابلیس کی منصوبہ بندی پر ایک تفصیلی بحث ہوسکتی ہے لیکن کچھ ذکر اسکا بھی ہو، جو اللہ نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا،وہ پاکستان بننے سے پہلے وفات پاگئے ، وہ تفسیر’’ المقام المحمود‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ سندھ، بلوچستان، پنجاب، فرنٹےئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں، یہ سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ اس علاقے سے ہوگی۔ یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہے، اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلہ میں لے آئیں تو ہم اس خطے سے تب بھی دستبردار نہ ہونگے‘‘۔ سورہ القدر کے ضمن میں یہ تفسیر لکھ دی ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے آنے والے اردو اسپیکنگ مہاجر یہاں کے رولر کلاس تھے۔ قبائل نے مغل بادشاہ اکبر، راجہ رنجیت سنگھ اورانگریزکی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن جب پاکستان بن گیا تو قائداعظم کے حکم پر 1948ء میں کشمیر کے اندر بھی جہاد کیا اور مظفر نگر تک فتح کے جھنڈے بھی گاڑھ دئیے تھے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ایک بااختیار فوجی افسر کا اعزاز حاصل تھا اور اس کی ہندوانہ ذہنیت نے ہندوستان سے سازباز کرکے اقوام متحدہ کے بہانے قبائل کو کشمیر سے نکالنے کی چال چلی تھی۔
قبائل پاکستان کے بہت وفادار شہری ہیں۔ طالبان کی حمایت کرنیوالی تمام سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ سمجھا جاتا تھا۔ نوازشریف، شہباز شریف، جماعت اسلامی ، عمران خان وغیرہ وغیرہ کھل کر طالبان کی حمایت کرتے تھے اور قبائل سمجھتے تھے کہ طالبان کو پاکستان کی ریاست کی اشیرباد حاصل ہے۔ طالبان کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان قبائل اور خاص طور پر محسود قبائل نے اٹھایاہے لیکن محسود قبائل نے کبھی اُف تک نہیں کیا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ فوج کے سپاہی نے ایک محسود کو پکڑ کر کہا کہ سچ بتاؤ کہ تمہاری ہمدردی فوج کیساتھ ہے یاطالبان کیساتھ؟۔ محسود نے کہا کہ سچ بتاؤں گا تو آپ مجھے پیٹھ ڈالوگے، فوجی نے کہا کہ میرا وعدہ کہ بالکل بھی کچھ نہیں کہوں گا۔ محسود نے کہا : ’’صاحب! سچی بات پوچھتے ہو تو اس کا جواب سن لو۔ تم فوجی انبیاء کرام ہو اور طالبان صحابہ کرام ہیں، بس کافر ہم عوام ہیں، جن کو دونوں طرف سے مارپڑ رہی ہے‘‘۔
محسود دقوم میں تین قبیلے بہلول زئی، منزئی اور شمل خیل ہیں۔ بہلول زئی و منزئی بہادر، جرأتمند ، بے باک جبکہ شمن خیل سیاسی تصور ہوتے ہیں۔ طالبان میں بہلول زئی ومنزئی نے بڑا حصہ لیا جبکہ شمن خیل پیچھے رہے۔ طالبان کے عروج میں شمن خیلوں کو لدھا طلب کرکے کہاگیا کہ ’’تم محسود نہیں ہو، تمہارے اندر غیرت اور ایڈونچر کا جذبہ نہیں، سب نے طالبان میں اپنا حصہ ڈالا،اور تم پیچھے رہ گئے، تم پختون بھی نہیں ہو‘‘۔ ایک شمن خیل نے جواب دیا کہ’’ یہ تم غلط کہہ رہے ہو، ہم پختون بھی ہیں محسود بھی ہیں، غیرتمند اور جرأتمند بھی ہیں۔ البتہ ہمارے اندر کوئی چور نہیں ہے‘‘۔مقصد یہ تھا کہ طالبان چوروں کا ایک ٹولہ ہے۔

ختم نبوت کیخلاف سازش پر جسٹس شوکت صدیقی نے کیا کارنامہ انجام دیا؟ ارشاد نقوی

khatam-e-nabuwat-justice-shaukat-siddiqui-raja-zafar-ul-haq-ghq

نوشتۂ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سیدارشاد نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے کہا تھا کہ ختم نبوت کیلئے احتجاج کرنیوالوں نے GHQ کے سامنے دھرنا کیوں نہیں دیا؟۔ اگر سازش فوج کی طرف ہوتی تو ریمارکس ٹھیک ہوتے۔
کمیٹی کا سربراہ راجہ ظفر الحق کہے کہ بہت ہوشیاری سے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کیخلاف سازش ہوئی۔ اور اس کی رپورٹ بناکر نواز شریف کو دیدی مگر سوال فوج کے کردار پر اٹھایا جائے تو مناسب نہیں ہے۔
جسٹس شوکت صدیقی اگر صدیق اکبر حضرت ابوبکرؓ کی اولاد ہیں تو صداقت سے نواز شریف یا راجہ ظفر الحق کو طلب کرکے فوراً رپورٹ لیں اور ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا دے دیں تاکہ دوبارہ مسئلہ نہ اٹھے۔
ختم نبوت پر حقائق کو نظر اندازکیا گیا ، اگر اچھے ماحول میں ذمہ دار عناصر کے چہرے سے نقاب کھیچ لیا جائے تو عوام احتجاج نہ کریں مگر حکومت کو احساس نہیں۔
پارلیمنٹ میں 20ترامیم کا تعلق بھی عوامی مفاد کے خلاف تھا۔ 19ترامیم میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں کیلئے یہ ترامیم کی گئیں کہ الیکشن کے فارم سے ممبروں کے بارے میں تمام ضروری معلومات کا خاتمہ کردیا گیا۔عوام اور عدالت کو ان کی کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی ۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر مذہب کی وجہ سے شور ہوا تو باقی تمام جماعتوں نے اپنی بے خبری ظاہر کردی مگر اصل گھناؤنے جرم میں سب ہی شریک تھے۔ میڈیا میں پیپلزپارٹی کی رہنما سسی پلیجو نے حلف نامے کے حوالہ سے جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمداللہ کی قرارداد پر اختلافِ رائے کو بڑا کریڈٹ قرار دیا تھا،مگر اس کو یہ رنگ دیدیا تھا کہ غیرمسلم کس طرح قرآن پر حلف لیں گے؟۔ ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کی کوئی بات بھی ذکر نہیں کی گئی تھی۔
جب پارلیمنٹ ہی سازش کی آماجگاہ بن جائے اور عوام سے حقائق کو چھپایا جائے تو پھر کس پر اعتماد کیا جائے؟۔ ختم نبوت کا مسئلہ حل ہوگیا لیکن سازش کرنے والوں کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں دی جارہی ہے؟۔ اور سازش نہیں کی گئی تھی تو راجہ ظفر الحق نے جھوٹ بولا تھا؟۔ سچ ٹی وی کے نصرت مرزا صاحب کو بھی راجہ ظفر الحق نے فون پر ختم نبوت کیخلاف سازش کا انکشا ف کیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، اہلحدیث، اہل تشیع اور جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ختم نبوت کیخلاف سازش کو بے نقاب کریں اور خادم حسین رضوی اور پیر حمیدالدین سیالوی کو بھی ساتھ لیکر چلیں تو روز روز سازشوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے فرزند فاروق حیدر مودودی نے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھایا ، جماعت اسلامی کے ادنیٰ کارکن پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کا والد قادیانی تھا ،جنازہ پڑھانے والے کو اصل رشتہ داری کا پتہ ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن کا سورج مکھی رومال چڑھتے سورج کا پجاری ہے. فیروز چھیپا

moulana-fazl-ur-rehman-feroz-chhipa-ptcl-dmg-commissioner-sargodha-corruption

نوشتۂ دیوار ڈئریکٹر فنانس فیروز چھیپانے کہاہے کہ قصور مولانا فضل الرحمن کا نہیں اس پیلے رومال ہے جوسورج مکھی کی طرح اپنے سر پر لپیٹا ہواہے، دماغ کو گھیرا ہواہے اور اس کوہر چڑھتے سورج کا پجاری بنادیا ہے۔ اب مولانافضل الرحمن مہربانی کرکے اس مخصوص شناخت سے اپنی جان چھڑائیں ۔اب مولانا الیاس قادری جیسے تنگ نظر جماعت کے بانی نے بھی اپنی محدود شناخت کا قصہ ختم کردیاہے جو دوسروں کو اس شناخت کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے، یہاں تک کہ سنی تحریک کو بھی ہری پگڑی پہنے سے منع کردیا تھا۔ میڈیا نے عوام کے شعور میں بہت اضافہ کردیا اور علماء کو چاہیے کہ اپنے عقیدتمندوں کو باشعور بنائیں۔ سیاست اور فرقوں کی بہت خدمت ہوچکی ہے اب دین کی بھی خدمت ہو۔
علماء کرام ، مفتیانِ عظام،مذہبی جماعتوں اور مشائخ عظام کا امت پر بڑا احسان ہے۔ دین اسلام کی جو شکل وصورت محفوظ ہے یہ انہی حضرات کا کرشمہ ہے۔ عوام میں ان کی قدرومنزلت کابڑا مقام ہے۔اپنے مقام کا ان کو خیال رکھنا چاہیے۔ کردار کا ایک اثر ہے جس کی وجہ سے قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔
جب بیوروکریٹ احد چیمہ کونیب نے گرفتار کیا تو پنجاب میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیا نیب نے یہ پہلی مرتبہ کیا ہے؟۔ یا دوسرے صوبوں میں اس کا یہی معمول رہاہے؟۔ جو بلوچستان میں کروڑوں روپے بار بار دکھائے گئے تو احد چیمہ کی جائیداد کم گناہ ہے؟۔ باقاعدہ بینک ٹرانزکشن کیساتھ معاملہ تھا تو نیب کا ہاتھ ڈالنا قانون کی خلاف ورزی تھی؟۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ ہوتا رہاہے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت کچھ ہوا۔
مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام ف اورمتحدہ مجلس عمل کا امیر ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر کرپشن کے الزامات سے اس کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں اور اتحاد کیلئے یہ راہ ہموار ہورہی ہے لیکن بیوروکریٹ کی پکڑ پر پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھا؟۔ سوشل میڈیا پر معلومات ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا ایک بھائی سرگودا پنجاب کا کمشنر ہے جو PTCLمیں ملازم بھرتی ہوا تھا، یہ قصہ سامنے لایا جائے کہ ٹیلیفون کے محکمہ میں جو لوئر گریڈ کا ملازم تھا وہDMGگروپ میں کیسے چلا گیا؟۔ اس طرح دوسرے بااثر سیاستدانوں اور افسروں کے رشتہ داروں کی بھی کوئی فہرست ہے یا یہ پیلے رومال اور سورج مکھی کا کمال ہے؟۔ غریب باصلاحیت تعلیم یافتہ طبقے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ان بے ضمیر لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے ، میرٹ کیلئے اٹھنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن پرویز مشرف کے بلدیاتی انتخابات کو ہی ملک توڑنے کی سازش قرار دے رہا تھا، بائیکاٹ کے باوجود وہ الیکشن میں گروپ تشکیل دینے میں ملوث تھا۔ پھر اسکے ماموں کو ناظم کی حیثیت سے کھلے عام بڑی کرپشن پر پکڑا گیا اوراقتدار کا فائدہ اٹھاکر کیس کو ختم کروادیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن پہلے اپنی سیاست کو پیغمبروں کی امانت قرار دیتا تھا اور دوسروں کو فرعون کہا کرتا تھا مگر اب ہرحکومت کے ساتھ ہوتاہے اور قصور اسکانہیں بلکہ سورج مکھی جیسے رومال کی اسکے سر پر گرفت ہے۔ قرآن کی آیات میں پیغمبروں کے مقابلے میں جن ملاء القوم کا ذکر ہے ان سے مراد قوم کے سردار اور مذہبی مشیرملاء ہیں۔ جب تک یہ لوگ درست راستے پر نہیں آتے ہیں قوم کی تقدیر نہ بدلے گی۔
اگر سیاستدان کہے کہ بیوروکریسی نے ملک کو کھالیا تو ہم کھا جائیں، فوج کہے کہ سیاستدان نے کھالیا تو ہم کھا جائیں، اور علماء ومذہبی طبقہ کہے کہ دوسروں نے کھالیا تو ہم کھا جائیں پھر ملک کا بنے گا کیا؟، غریب عوام اور بے بس طبقہ کہاں جائیگا؟۔ ملک میں چوری ہے اور سینہ زوری ہے جو جتنا بڑا چور ہے اتناہی اس میں زور ہے۔ نوازشریف کہتاہے کہ مجھے چور کہا گیا تو کیا تم بھول گئے کہ صدر زرداری کو کیا کیا نہیں کہا جاتاتھا؟۔ ایوان کے مہمان خانے میں جاؤ اور پارلیمنٹ میں جو تقریر کی تھی اسی کو واضح کرو، کوئی چور نہ کہے گا، عدالت کا مقدمہ بھی ختم ہوجائیگا۔
مولانا فضل الرحمن ہی دلائل کیساتھ حقائق کے تناظر میں جیو ٹی وی چینل پر شاہ زیب خانزدہ یا طلعت حسین کیساتھ اعداد اور شمار کیساتھ واضح کردے۔ صحافت، سیاست کیساتھ ملائیت بھی مل جائے تو نوازشریف کی صفائی نہیں دی جاسکتی ہے۔

محسود تحفظ موومنٹ کے قائد منظور پشتون کو وزیر اعظم بنایا جائے. اجمل ملک

mehssod-tahaffuz-movement-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-malik-ajmal-jambhooriat-imran-khan-pervaiz

طاقتور راؤ انوار کو کنارے لگانے میں محسود قوم کا کردار

طالبان اور فوج کے درمیان چکی دو پاٹوں میں پسنی والی محسوداور پختون قوم نے نقیب اللہ کے بارے میں شروع سے احتجاج نہ کیا اسلئے کہ اس کی بے گناہی کا پتہ نہ تھا۔ پختون کی بڑی خوبی یہی ہے کہ محسود(پختون) تحفظ موومنٹ کی ابتداء اس بات سے کی کہ کسی گناہگار کو کسی طرح بھی تحفظ نہیں دینگے لیکن بے گناہ نقیب اللہ محسود کیلئے جب وہ اُٹھ گئے تو کراچی پولیس و ریاست اور حکومتی سیاسی جماعت کے سب سے بڑے ڈان کو کنارے لگادیا۔ اگر محسود قوم گناہگاروں کو تحفظ دینے میں اپنی صلاحیت ضائع کر دیتی تو نقیب کی شہادت پر بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی۔
صلح حدیبیہ میں جھوٹی افواہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے حضرت عثمانؓ کی شہادت کا بدلہ لینے کی بیعت لی، یہ بیعت رضوان صحابہؓ سے اللہ کے راضی ہونے کا تمغہ تھا۔ پھر نبیﷺ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا، جب مشرکین نے معاہدہ توڑ ا تو پھر اس معاہدے کو قائم رکھنے کی کوشش بھی کرلی مگر نبیﷺ نے دوبارہ اس معاہدے کو قائم رکھنے کا کوئی وعدہ نہیں فرمایا اور پھر مکہ فتح ہوا۔
امریکہ نے جنگ مسلط کی توافغانستان وپاکستان کی عوام ، پختون قوم، خاص طور پر قبائل نے قربانی دی ، بدلے میں عزت ملتی مگر اچھے نتائج تو درکنار اُلٹا بدترین ذلت سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: و لنبلونکم بشئی من الخوف والجوع والنقص من الاموال والانفس والثمرات فبشر الصٰبرین’’اور ہم تمہیں آزمائیں گے، کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے، کچھ اموال کی کمی سے اور جانوں کی کمی سے اور نتائج برآمد ہونے سے ،پس خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کو‘‘۔ قبائل، پختون اور خاص طور پر محسود قوم کو جن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کی تاریخ میں مشکل سے کوئی مثال ملے گی۔ لیکن جس صبر وتحمل سے محسود قوم نے وہ تمام مصائب برداشت کرلئے، خندہ پیشانی سے حالات گزار لئے، شکوہ نہ شکایت، کوئی بغاوت نہیں کی، کوئی اونچے بول نہیں بولے، ملک وقوم سے کوئی غداری نہیں کی، کبھی پیشانی پر بل نہیں آیا۔ قربانیوں کے نتیجے میں قوموں کو امام بنایاجاتاہے، یہی بشارت مشکلات کے بعد قوموں کو صبر میں ملتی ہے۔ آیت کو غور سے دیکھا جائے اور پھر محسود قوم کی قربانی کو ملاحظہ کیا جائے۔ علماء نے آیت کے ایک لفظ کا ترجمہ غلط کیا ۔ ثمرات سے مراد میوے نہیں، میوے اموال میں شامل ہیں بلکہ ثمرات اردو میں بھی اسی طرح سے استعمال ہوتا ہے، کسی اچھے عمل کا نتیجہ بظاہراچھا نہ ملے تو یہ ثمرات کا امتحان ہے۔اللہ نے فرمایا: ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ان نجعلھم ائمۃ وان نجعلھم الوارثین’’اور ہمارا ارادہ ہے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنایاجارہاہے کہ ان کو امام بنائیں اور ان کو زمین کا وارث بنائیں‘‘۔علامہ اقبالؒ نے محسود اور وزیر کا ضرب کلیم میں ’’ محراب گل افغان‘‘ کے عنوان سے ذکر کیاہے، آزمائش کے بعد یہ امامت کے قابل ماشاء اللہ بن گئے۔
دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا
باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں
وہ شمعیں روشن کرجانا سچ ہی لکھتے جانا
پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا جینا کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مرجانا سچ ہی لکھتے جانا
لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یونہی
جالب سچ کا دم بھرجانا سچ ہی لکھتے جانا

منظور پشتون اور نوازشریف و عمران خان میں بڑا فرق

منظور پشتون کا تعلق محسود قبیلے کے غریب گھرانے سے ہے۔غریب کا درد غریب سمجھ سکتا ہے۔ پاکستان کی جمہورعوام غریب ہے۔قومی اسمبلی اور سینٹ میں ممبروں کا تعلق امیراقلیت سے ہے۔ ایوب آفریدی کو ٹکٹ اسلئے نہ دیا کہ تحریک انصاف کا کارکن تھا بلکہ اپنے ٹکٹ کی خاطر خواہ قیمت ادا کی ہوگی ۔ نظریہ نہیں دولت اور سیاسی لوٹوں کی ہیرا پھیری سے ایوان چلتے ہیں اسلئے قوم کی تقدیر نہیں بدلتی۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا، پی ٹی وی پر قبضہ کرلیا، پولیس افسر کی پٹائی لگادی، تھانہ سے ساتھی چھڑ لے گئے ، یہی نوازشریف نے بھی عدلیہ کیساتھ کیا۔ مولانا سمیع الحق کو سینٹ کا ٹکٹ دینے سے مکر گیا تو حکومت کے فنڈز سے مزید27کروڑ روپے مدرسہ کو دیدئیے۔ یہ سینٹ کی سیٹ کی قیمت بڑھ جانے کے بعد سرکار کے فنڈز سے جرمانہ تھا۔
پارلیمنٹ میں گھوڑوں کے خریدو فروخت کی اصطلاح بالکل عام ہے۔ جمہوریت کے علمبردار گھوڑے تو ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار گدھے ہیں۔ گھوڑے اور گدھوں کے ملاپ سے خچر بنتے ہیں۔ جس رہنما کی بنیاد جمہوریت ہو اور ڈکٹیٹر شپ کے ملاپ سے تنزلی ہوجائے تو وہ خچر ہے اور اگر اس کی ابتداء ڈکٹیٹر شپ سے ہو اور پھر ترقی کی منزل طے کرکے اس کا ملاپ گھوڑے سے ہو تب بھی وہ خچر بنتا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں کا تعلق درمیانے درجے سے ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی پیداوار کون تھا ؟۔ اور جنرل پرویزمشرف کے ریفرینڈم کا حامی کون تھا؟۔
خچر کی حیثیت انسانوں میں تیسری جنس کھدڑے کی ہوتی ہے۔ کھدڑی قیادت کا تجربہ ہوگیا۔ نوازشریف کو معلوم ہے کہ منظور پشتون اور اس کی قوم نے برسوں سے کن مشکلات کا سامنا کیا ہے؟ لیکن زبان سے کسی نے اُف تک بھی سنا ہے۔ نوازشریف کو اتنی سزا ہوئی ہوگی کہ جتنا کھدڑے کو ختنہ کرنے سے ہوتی ہوگی لیکن شور مچاکر زمین وآسمان کی قلابیں ملادی ہیں۔ یہی حال عمران خان کا بھی ہوگا۔ اگر پاکستان بھر سے منظور پشتون کی طرح قوم کا درد رکھنے والے غرباء کو قومی اسمبلی میں منتخب کرکے بھیج دیا گیا تو پاکستان کی 70سالہ تاریخ بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
پاکستان کے تمام قومی و صوبائی حلقوں سے باشعور نوجوانوں کی منظم تحریک سے ایک ایسی قیادت مہیا کرنی ہوگی کہ ریاست کے فوائد غریب، مظلوم اور بے بس عوام تک پہنچ سکیں۔ عوام، سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی اکثریت موجودہ سیاسی نظام اور خانوادوں سے بہت تنگ آچکے ہیں۔ کوئی متبادل کے بجائے وہی لوگ پارٹیاں بدل بدل کر پھر سیاسی اُفق پر نمودار ہوجاتے ہیں جس سے نجات کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ ہر جگہ منظور جیسے کوہی کامیاب کیا جائے۔
دنیا ہے کتنی ظالم ہنستی ہے دل دکھا کے
پھر بھی نہیں بجھائے ہم نے دئیے وفا کے
ہم نے سلوک یاراں دیکھا جو دشمنوں سا
بھر آیا دل ہمارا روئے ہیں منہ چھپا کے
کیونکر نہ ہم بٹھائیں پلکوں پہ ان غموں کو
شام و سحر یہی تو ملتے ہیں مسکرا کے
تا عمر اس ہنر سے اپنی نہ جان چھوٹی
کھاتے رہے ہیں پتھر ہم آئینہ دکھا کے
اس زلف خم بہ خم کا سر سے گیا نہ سودا
دنیا نے ہم کو دیکھا سو بار آزما کے
جالب ہوا قفس میں یہ راز آشکارا
اہل جنوں کے بھی تھے کیا حوصلے بلا کے

راؤ انوار بہانہ تھا مگر اصل نشانہ فوج کی کارگردگی ہی تھی

پاک فوج کے سپاہی بدلتے رہتے ہیں اور پاک فوج کی پالیسی بھی بدلتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ طالبان کو بہت رعایت دے رکھی تھی اور پھر سخت آپریش بھی ہوجاتا تھا۔ عوام کی سمجھ بات نہیں آتی تھی کہ وہ کریں تو کیا کریں؟۔ بہرحال ریاست اپنی حکمت عملی کو بہتر سمجھ سکتی ہے۔ وزیرستان کی عوام خاص طور پر محسود قوم نے اس سلسلے میں بہت مصائب کا سامنا کیا، قبائل میں پولیس کا نظام نہیں ، فوج کو اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔پختونخواہ کی حکومتوں میں اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ سیٹل ایریا میں پولیس کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرتی، لیکن جب حالات قدرے بہتر ہوئے تب بھی عمران خان کی حکومت نے پولیس کے بجائے اپنی عوام کو فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ فوج چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے دوران پولیس سے ذرا مختلف رویہ رکھتی ہے جو عادت سے مجبوری بھی ہے کیونکہ فوج پولیس جیسی بن جائے تو فوج نہیں۔
قبائل کو چوکیوں پر فوج کے سپاہیوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاتھا تو وہ سمجھتے تھے کہ ہم اسکے مستحق ہیں، خود کش حملوں سے بچنے کی اسکے علاوہ کوئی تدبیر نہ تھی۔ البتہ حالات معمول پر آنے کے بعد قبائل کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا دلانے کی ضرورت تھی مگرکسی نے اس احساس کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ عمران خان تو حکومت اور عوام سے اس طرح سے دستبردار ہوگئے تھے جیسے ریحام خان اورجمائماخان سے دست بردار ہوئے ہیں۔ کسی بھی روک ٹوک اور پرسان حال کا خیال کبھی نہیں آیا۔ محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی نے بھی کبھی حال تک نہیں پوچھا تھا۔ منظور پشتون کے اندر اپنی قوم کا درد اُٹھا۔ راؤ انوار کا بہانہ مل گیا لیکن اپنی جنگ کیلئے قانون اور دستور کے اندر رہتے ہوئے شرافت کیساتھ لڑنے کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فوج کی شکایات حل کرنے کا وعدہ کرنے کے بجائے اپنا رونا شروع کردیا۔ آئی ایس پی آر نے جی ایچ کیو بلایا تو پاک فوج کے افسر نے کہا کہ ’’ ہمیں فوج سے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کی طرف سے کوئی دھرنا دیا گیا ہے اور وہاں دہشتگردی کے پیچھے وردی کا نعرہ بھی لگا ہے‘‘۔ نوجوانوں نے ملاقات کے بعد محسوس کیا کہ جب اسلام آباد میں کئی دنوں کے دھرنے کے باوجود بھی ہمارے حال سے پاک فوج بے خبر ہے تو وزیرستان اور پختونخواہ کے چیک پوسٹوں کا کیا حال معلوم ہوگا؟ اور پھر جب مولانا فضل الرحمن نے معصوم لوگوں کو سمجھایا تو امیرمقام کے کہنے پر بھی دھرنا ختم کیا۔
پاک فوج نے جب دیکھ لیا کہ اتنے مہذب طریقے سے اسلام آباد میں اپنا احتجاج نوٹ کروایا اور امیرمقام جیسے فارمی بیل کے کہنے سے احتجاجی دھرنے کو ختم کردیا تو جو رعایتیں مانگیں تھیں ،ان سب کو منظور کرنے کاپاک فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر نے خود ہی اعلان کردیا۔جالب نے کہا
فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
مرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا
مری انگلش بلا کی چست ہوتی
بلا سے جو نہ اُردو دان ہوتا
جھکا کے سر کو ہوجاتا جو سر میں
تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا
زمینیں میری ہر صوبے میں ہوتیں
میں واللہ صدر پاکستان ہوتا

منظور پشتون کا ٹکراؤ فوج کے بجائے نظام سے ہوگا

منظور پشتون نے سوشل میڈیا پر اپنے ابتدائی بیان میں کہاہے کہ ’’ ہم اپنی جنگ پاکستان کے دستور کے نیچے لڑیں گے، ہم کوئی بغاوت نہیں کررہے ہیں ، ہم ملک اور قوم کے وفادار ہیں‘‘۔ اس بیان کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاک فوج کو عام عدالتوں میں گھسیٹا جاسکتا ہے؟، راؤ انوار کو توعدالت نے طلب کرکے رکھا ہے لیکن اگر فوج کے خلاف شکایت کی جائے تو کیا عدالت اس پر مقدمہ دائر کرسکتی ہے؟۔ اس کا جواب یہی ہے کہ پاکستان کے دستور میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔
جب نصیر اللہ بابر کی سرپرستی میں فیصلہ ہوا کہ ایم کیوایم کے دہشت گرد عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں اسلئے پولیس مقابلے میں ان کو ماردیا جائے۔ اس وقت کے آئی جی پولیس افضل شگری نے پولیس سے اس قسم کا غیر قانونی کام کروانے کی مخالفت کی۔ باقی ریاست کے تمام اداروں کی طرف سے اس فیصلے کی توثیق کردی گئی۔ جیو اور جنگ کے معروف صحافی مظہر عباس نے میڈیا پر یہ بتایا کہ ’’ اس آپریشن میں ایک فوجی افسر نے عوام پر بے جا مظالم کئے تو اس کا کورٹ مارشل ہوا۔ اور فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا دی اور اس سزا پر عمل در آمد بھی ہوا، اس کو پھانسی پر لٹکایا گیا ‘‘۔
جب قبائل اور پشتونوں کی یہ تحریک دستور کے مطابق مظلوم کی مدد کیلئے اٹھے گی تو پاک فوج کو بھی اسکے جائز مطالبات ماننے میں کوئی انکار نہ ہوگا۔ جب اس تحریک کے فوج سے تعلقات بہتر ہونگے تو فوج پوری قوم کو ریلیف دینے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائے گی۔ پھر طالبان کی شکل میں بدمعاش مافیا پالنے کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔ فوج کے سپاہیوں اور افسروں کاتبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب ایک قوم یا قبیلے میں دہشتگرد پائے جاتے ہوں تو ان کو اپنی حفاظت کیلئے انہی میں سے کچھ لوگوں کو رکھنا پڑتا ہے اور جو لوگ اس طرح سے کٹھ پتلی بنتے ہیں تو وہ اس کا فائدہ بھی اٹھالیتے ہیں۔ جب اس تحریک کیساتھ پوری قوم کا فوج سے اعتماد بحال ہوجائیگا تو پھر پاکستان کی سطح پر بھی ان کو امامت دینے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔طالبان کی حمایت پوری قوم کررہی تھی مگر پختون اور عام طور پر قبائل اور خاص طور پر محسود قربانی کے بکرے بن گئے۔ بعض لوگوں کے دل میں فوج سے بغض تھا اور وہ پھر سے اس تحریک کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے تھے لیکن تحریک کی قیادت تعلیم یافتہ جوان اور اسکے باشعور ساتھیوں کے ہاتھ میں تھی اسلئے یہ نہ ہوسکا۔ محمود خان اچکزئی کا پورا خاندان حکومت کی مراعات لیتا ہے لیکن وہ محسود قوم کے غریب کو تباہ شدہ گھروں کیلئے 4لاکھ نہ لینے کا حکم دے رہاتھا۔ مولانا زر ولی خان کے احسن العلوم گلشن اقبال میں مولانا فضل الرحمن نے مدارس کے علماء وطلباء کے جلسے کئے لیکن حکومت کی امداد منع کرنے پرشیخ الحدیث مولانازرولی نے مولانافضل الرحمن کی خوب خبرلی۔خود حکومتی امداد کے پیچھے دُم اٹھانے والے دوسروں کو منع کرینگے تو یہی ہوگا۔
جانا ہے تمہیں دہر سے ایمان ہے اپنا
ہم آکے نہیں جائیں گے اعلان ہے اپنا
انسان سے جو نفرت کرے انسان نہیں ہے
ہر رنگ کا ہر نسل کا انسان ہے اپنا
تم امن کے دشمن ہو محبت کے ہوقاتل
دنیا سے مٹانا تمہیں ارمان ہے اپنا
کیوں اپنے رفیقوں کو پریشان کریں ہم
حالات سے دل لاکھ پریشان ہے اپنا
اس شاہ کے بھی ہم نے قصیدے نہیں لکھے
پاس اپنے گواہی کو یہ دیوان ہے اپنا

ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے بعد عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا تیسرا بچہ جمورا ہے. اشرف میمن

talibanization-bushraization-insaf-justice-zulfiqar-ali-bhutto-nawaz-sharif-imran-khan-bacha-jamura-ashraf-memon-khatm-e-nabuwat-sheikh-rasheed-blame-jali-peer-ticket-hand-cuff-jmaat-e-islamiنوشتۂ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان نے دریافت کیا تھا، ایک ڈکٹیٹر کی گود سے بھٹونے جمہوری لیڈر نہیں ڈکٹیٹرہی بنناتھا۔ اس سے زیادہ ڈکٹیٹر شپ کیا ہوگی کہ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو اپنے مقابلے میں لاڑکانہ سے الیکشن کے کاغذات جمع کرنے پر اغواء کیا گیا تھا۔ بلوچستان کی جمہوری حکومت کو ختم کیا اور تمام سیاسی لیڈر شپ پر بغاوت کا مقدمہ کیا اور سب کو جیل میں ڈال دیاتھا؟۔ بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوا تو مارشل لاء میں سیاسی قائدین کو رہائی مل گئی۔ڈکٹیٹر کی پیداوارنوازشریف نے زندگی ڈکٹیٹر کے مشن کیلئے وقف کردی اور ایسا ڈکٹیٹر بن گیاکہ اداروں کو بھی تباہ وبرباد کرنے کی دھمکی دے رہاہے۔ قصور نوازشریف کا نہیں بلکہ اس تربیت کا ہے۔
پاک فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو بنایالیکن پھر اس کی ڈکٹیٹر شپ سے نبرد آزما ہونے میں اپنی صلاحیتں خرچ کر ڈالیں تھیں اور ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا۔ ایک طرف مسلح جمعیت طلبہ کے بگڑے ہوئے کارکنوں سے کالجزاور یونیورسٹیوں کا ماحول تباہ کردیا اور ساتھ میں جماعت اسلامی کو بھی بگاڑ کر تباہ کیا،دوسری طرف ایم کیوایم سے قتل وغارتگری کا بازار گرم کروایا، سندھ میں لسانی تنظیموں کو پروان چڑھایا۔ جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے اسلام اور جمہوریت دونوں کو بدنام کرکے رکھ دیا تھا۔ پیپلزپارٹی اور جمہوری پارٹیوں کو کمزور کرنے کیلئے جن کٹھ پتلی جماعتوں کو استعمال کیا گیا، انہی کے سربراہ نوازشریف اب حلق میں پھنسی ہڈی بن چکے ہیں۔
نوازشریف کو اپنے جرائم اور کرپشن کی قرارِ واقعی سزا ملے گی اور اسکے اثاثہ جات بحقِ سرکار ضبط ہوں توببانگِ دہل کہے کہ
جن کی راہوں میں بچھادی تھی اپنی آبروئے عزت           parliment-all-parties-amendment-section-62-63-waive-juditiary-media-channels-justice-saqib-nisar talibanization-bushraization-insaf-justice-zulfiqar-ali-bhutto-nawaz-sharif-imran-khan-bacha-jamura-ashraf-memon-khatm-e-nabuwat-sheikh-rasheed-blame-jali-peer-ticket-hand-cuff-jmaat-e-islami ان ہی کی بے وفائی نے مجھے مار دیاذلت کی موت
نوازشریف نے گدھے کی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کو غار حرا کی پہاڑی پر اپنی پیٹھ پر لاد کر چڑھایا تھا، پیر حمیدالدین سیالوی وغیرہ کو عمران خان کی طرف سے وہ عزت و توقیر نہیں مل سکتی جو نوازشریف نے دی کیونکہ پیرنی کو توعمران خان نے بیگم بنالیا، اب اس کو پیرانِ پیر بناکر پسماندہ گدی نشینوں اور جعلی پیروں کو اکٹھاکرکے عمران خان کیلئے گراؤنڈ تیار کیا جارہاہے۔ پنجاب میں جعلی پیروں کا کاروبار عروج پر ہے اور اس کاروبار میں کردار کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کوئی روپ دھار کے بیٹھ جائے تو نفسانی خواہشات پوری کرنے کیساتھ ساتھ اپنے عقیدتمندوں کی بھیڑ میں بھی بے پناہ اضافہ کرے۔ARY نیوز کی سرِ عام کی ٹیم نے بہت سی جگہوں پر چھاپے مارے ۔ اگر عمران خان کی بیگم بشریٰ بی بی کی سرپرستی میں ایک نیا کھلواڑ قوم کیساتھ ہوجائے تو تصوف کے نام پر ایک نیا فتنہ کھڑا ہوگا۔ شدت پسندوں اور جہادیوں سے جان چھڑانے کاعالمی منصوبہ ہو تو قوم کو آگاہ کیا جائے اور یہ نئی سردردی اور بدنامی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ فوج کے خفیہ اداروں کے پاس سب کچھ ہے مگر دماغ نہیں۔ سیاسی قیادتوں کی تشکیل اس بھونڈے طریقے سے ہوگی تو روز روز کے نئے نئے تجربہ سے ملک کا بیڑہ غرق ہوگا۔
ختم نبوت کے مسئلہ پر عمران خان کی جماعت شریک مجرم تھی لیکن کتنی بے شرمی سے نوازشریف کو اکیلا مجرم قرار دیا جارہا تھا؟ اور اس کمیٹی ، قومی اسمبلی اور سینٹ کا سب سے بڑا جرم یہ بھی تھا کہ ’’ الیکشن کے فارم سے چوری کا راستہ روکنے کی ساری شقیں ختم کردی گئی ہیں‘‘۔ شیخ رشید بار بار پکار رہاہے لیکن عمران خان بھیگی بلی بن گیا ہے۔ اگر قوم اُٹھ گئی کہ کیا جمہوریت اسلئے ہے کہ سیاسی پارٹیاں ایوانوں کو عیاشی اور تجارت کا ذریعہ بنائیں؟ اور گھوڑے، خچر اور گدھے راج کریں؟۔ عمران خان کو موقع مل رہاہے لیکن وہ بھی الیکشن کی ترامیم میں پوری طرح ملوث ہے۔
جس طرح بچیوں کے روزانہ کی بنیاد پر ریپ اور قتل ہورہے ہیں اور سیاسی قائدین اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ، کسی کو بھی ظلم وجبر کا نظام بدلنے کا خیال نہیں آرہاہے۔ اس کی بنیاد پر پوری قوم بغاوت کیلئے اٹھ کھڑی ہوگی تو معاملہ کسی سے بھی نہیں سنبھل پائیگا۔ قائد انہ صلاحیت والے آگے بڑھیں۔قائد بنایا نہیں جاتا بلکہ اللہ خود قائدپیدا کرتاہے ،بس قوم قدر کرے۔

پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے متفقہ ترامیم کے ذریعے دفعہ 62-63 کو ختم کردیا. قدوس بلوچ

parliment-all-parties-amendment-section-62-63-waive-juditiary-media-channels-justice-saqib-nisar

عدالت ، پارلیمنٹ اور ٹی وی چینلوں نے ریاستِ پاکستان کو رجواڑہ بنا دیا اور قانون کی حکمرانی کے نام پر لاقانونیت کا طوفان اٹھا ہوا ہے۔ عوام کی آنکھوں کی بینائی ہی نہیں سوچ وفکر کی بنیادیں ہی ختم کردی گئیں ۔ سیاست کی دہلیز پرجھوٹ ، چوری ،تمام حربوں کو اپنا قانونی اخلاقی اور شرعی حق سمجھا جاتا ہے۔ تُف ہے جو کچھ ہورہا ہے اس پر ۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو جماعت کی صدارت سے روکا تو نا اہل لیگ نے ش سے شیرلیگ کی قیادت ان کو سونپ دی ۔چشم بد دور! اقامہ کا الیکشن کے فارم میں ذکر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا تو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر الیکشن کے فارم سے ہی اس کو نکال باہر کیا ہے۔ اگر ثاقب نثار آج پھر نوازشریف کے وکیل بنے تو سپریم کورٹ میں کیس لڑینگے کہ وزیراعظم کیلئے نااہل قرار دینے کی بنیاد بھی اب نہ رہی لہٰذا پارٹی امارت نا اہل وزیر اعظم کیلئے اہل ہے۔ واہ واہ !

دہشتگردی کا خاتمہ خلافت کے قیام سے ممکن ہے

dehshat-gardi-misaq-e-madina-mufti-rafi-usmani-zina-bil-jabr-daish-khilafat-daily-jang-newspaper

جب امریکہ نے پہلی مرتبہ اُسامہ بن لادن پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا اور اس میں ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی بھی شہید ہوگئے تو اس وقت ہم نے اپنے ہی اخبار ماہنامہ ضرب حق کراچی میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت اور سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا ، اسلام خلافت کے قیام کے بعد اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے ، پھر جزیہ کا مطالبہ کرتا ہے اور اسکے بعد جہاد کا مسئلہ آتا ہے۔ جب مدینہ منورہ میں خلافت کا قیام عمل میں آیا تھا تو میثاق مدینہ میں یہود بھی شامل تھے اور نصاریٰ بھی۔ منافق بھی اپنے سردار عبد اللہ ابن اُبی کی صورت میں موجود تھے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا ابن صائد بھی مدینہ منورہ کی گلیوں میں کھلے عام بلا خوف و خطر گھومتا تھا۔
دہشت گردی کی بنیاد انتہا پسندی ہے ، انتہا پسندی انسان کی ذہنیت و فطرت سے ایک مخصوص ماحول کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہے۔ جانور اور پرندوں میں بھی یہ غیرت ہوتی ہے کہ اپنی مادی کیساتھ کسی کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر دہشت گردی پر اتر آتے ہیں۔ انسان کیلئے برداشت کی اس سے بڑھ کر کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ اپنی زوجہ کو کسی دوسرے کے ساتھ کھلی ہوئی فحاشی کی صورت میں دیکھ لے۔ قرآن نے کھلی ہوئی فحاشی پر بیوی کو گھر سے نکالنے اور نکلنے کا مسئلہ واضح کیا ہے۔ اور عدالت میں لعان کی صورت پیش کرکے مقدمہ دائر کرنے کی تلقین کی ہے۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ سے لیکر موجودہ دور تک ہم قرآن کی ان آیات کو عملی طور پر قبول کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ بد قسمتی سے جو لوگ قرآن کی واضح آیات کو بھی قابل عمل سمجھنے سے انکاری رہے ہیں وہ اپنی بیگمات حلالہ کیلئے بہت ہی بے غیرتی کے ساتھ خود ہی پیش کردیتے ہیں۔
جس دن قرآن کریم کی آیات کو توجہ سے پڑھنے کی کوشش کی اور معاشرے کی جان حلالے کی لعنت سے قرآن و سنت کے مطابق چھڑائی تو بہت معاملات حل ہوجائیں گے۔ عالم انسانیت کے سامنے مسلمانوں کا قرآن کیخلاف بالکل غیر فطری رویہ قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے اپنے خلاف گواہی دیکر اپنے اوپر حد جاری کروائی لیکن شدت پسندوں نے خود پر حد جاری کرنے کے بجائے دوسروں پر خودکش حملوں سے اسلام کو بدنام کردیا۔ مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی سے میڈیا نے رجوع بھی کیا تھا لیکن خود کش حملوں کو حرام نہیں قرار دیا۔ آج علماء و مفتیان کا معاشرے میں بہت بڑا مقام ہوتا جب دہشتگردی کیخلاف ریاست کی طرف سے دُم اٹھانے سے پہلے یہ خود ہی مخلص نوجوانوں کو اسلام کا حقیقی آئینہ دکھادیتے۔ قرآن و سنت میں شرعی حدود کی وضاحت بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ سورہ نور میں زنا کی حد 100کوڑے اور بہتان کی حد 80کوڑے واضح کئے گئے ہیں۔ سورہ نساء میں شادی شدہ لونڈی کی حد آدھی اور دوسری جگہ نبی ﷺ کی ازواج پر کھلی فحاشی کیلئے دوگنی ذکر کی گئی ہے، سورہ احزاب میں زنا بالجبر کی حد قتل اور حدیث میں سنگساری ہے۔ جس میں گواہ ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نابینا صحابی عبد اللہ ابن مکتومؓ کی آمد پر چیں بہ جبیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل ہوئی اور نبی ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے اس کی وجہ سے ڈانٹ پڑی ہے۔ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کی دعا سے بڑی دولت ملی تو اس نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ نبی ﷺ نے اس کیخلاف کوئی جہاد نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا ، حضرت ابوبکرؓ خلیفہ اول نے زکوٰۃ نہ دینے پر قتال کا حکم جاری کیا تو پہلے حضرت عمرؓ نے اختلاف کیامگر پھر ساتھ دیا۔ اہل سنت کے چاروں امام حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے حکمران کی طرف سے زکوٰۃ زبردستی لینے اور اس پر قتال کرنے کو شرعاً ناجائز قرار دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے عدت میں ہی زبردستی شادی کرلی تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو مشورہ دیا کہ حضرت خالدؓ کو اس جرم میں سنگسار کیا جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ پر اکتفاء کیا کہ ہمیں خالدؓ کی ضرورت ہے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف زنا کی گواہی آئی۔ سنگسار کرنے کی روایت قرآن کی آیات سے منسوخ ہوچکی تھیں مگر اللہ کے اوامر میں سب سے زیادہ سخت حضرت عمرؓ کے دل و دماغ میں سنگساری کا سودا سمایا ہوا تھا۔ حضرت مغیرہؓ کی آزمائش نے اس غیر فطری سزا کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا۔ چار اماموں میں سے دو اماموں نے بے نمازی کو واجب القتل اور دیگر دو نے زدو کوب اور قید و بند کی سزا کا مسلک ایجاد کیا۔ یوں اسلام بتدریج اجنبی بنتا چلا گیا۔ خلافت کا قیام اگر مغرب کے کینیڈا میں بھی کسی علاقے میں قائم ہو تو پوری دنیا اسلامی نظام خلافت کی دلدادہ ہوجائے گی۔
ہم نے 1984میں جمعیت اعلاء کلمۃ الحق کے نام سے وزیرستان کے طلبہ کی ایک تنظیم بنائی تھی اور پھر 1991میں وزیرستان سے خلافت کے آغاز کیلئے روزنامہ جنگ کراچی ، لاہوراور کوئٹہ یا راولپنڈی میں ایک اشتہار بھی دیا تھا۔ کسی ایک ایڈیشن میں شائع نہیں ہوا تھا۔ پورے پاکستان سے تمام مکاتب فکر کے اہم اور بڑے علماء کرام نے تحریری شکل میں ہماری باربار تائید فرمائی ہے۔ یہ زبردستی اور جبر کا معاملہ نہیں ہے۔ القاعدہ سے نکلنے والے داعش نے اپنی خلافت کا قیام عالم اسلام کیلئے شروع نہیں کیا بلکہ دولت اسلامیہ عراق و شام کے نام سے ایک ریاست کے قیام کا آغاز کیا۔ جس پر القاعدہ سے ان کے اختلافات ہوئے۔
مدینہ میں خلافت کے قیام کیلئے کسی طور سے رسول اللہ ﷺ نے دہشتگردی کا کبھی تصور بھی نہیں دیا۔ القاعدہ سے نکلنے والے داعش اور طالبان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی اسلامی خلافت کے قیام کیلئے احادیث صحیحہ میں جو پیش گوئیاں کی گئی ہیں اس میں یہ بشارت بھی ہے کہ آسمان اور زمین والے دونوں کے دونوں اس سے خوش ہوں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پیش گوئی میں مشرق سے اٹھنے والی جماعت کا بھی ذکر ہے اور مغرب میں خلافت قائم کرنے والی جماعت کا بھی ذکر ہے۔ طلاق و نکاح کے مسائل علماء و فقہاء نے جس طرح سے بہت غلط انداز میں الجھادئیے ہیں اگر ان کو سلجھادیا جائے تو بھی اسلامی انقلاب کیلئے کافی ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور مفتیان عظام ہماری طرف سے تحریر کردہ کتابوں سے متفق ہیں یا خاموش ہیں اور خاموشی بھی نیم رضامندی ہے جو ہماری خوش بختی ہے۔ جب اکابر علماء و مفتیان طلاق سے رجوع پر قرآن کی واضح آیات کو سمجھ کر لوگوں کو فتویٰ دینا شروع کرینگے تو ہمارا لہجہ شیریں ہوگا۔

یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

ashraf-ghani-tota-mashal-khan-mansoora-lahore-jamiat-ulama-islam-bacha-khan-university-molana-sirajuddin-azan-e-inqalab

آل پختون جرگے کی طرف سے اسلام آباد میں جو خفیہ نعرے لگانے والے تھے جس کی تشہیر زیادہ تر سوشل میڈیا پر ہوئی اور جس کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا نے اس عظیم الشان دھرنے کو دکھانے سے یکسر گریز کیا۔ عوام کے دلوں میں نعرہ یہ تھا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مُلا گردی ہے‘‘ لیکن ایم این اے مولانا جمال الدین محسود اور سینیٹر مولانا صالح شاہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی کے خوف سے یہ نعرے عوام کے دل ہی دل میں رہ گئے تھے۔
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مُلا کی کارکردگی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے اہل سیاست کی نامردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے قبائلیوں کی ہمدردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے پختونوں کی سردردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے احکام السلطانیہ الماوردی ہے
اگر ہم دہشت گردی کے پیچھے صرف پاکستان کی افواج کا نام لیں تو بڑی زیادتی ہوگی۔ ایک تاجر چین جارہا تھا اور اپنے بچوں سے ان کی خواہشات کا پوچھا ، سب نے اپنی اپنی خواہش بتائی کہ چین سے میرے لئے یہ لانا۔ طوطا بھی بیٹھا دیکھ رہا تھا تو تاجر نے طوطے سے بھی پوچھا ، طوطے نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے، صرف چین کے طوطوں کو یہ پیغام دے دینا کہ تم آزادفضاؤں میں گھوم رہے ہو اور تمہارا ایک طوطاساتھی پنجرے کی سلاخوں میں بند ہے۔
الحبس لیس مذہبی و ان یکن من ذہبی
پنجرہ میرے لئے قابل قبول نہیں ہے اگرچہ وہ سونے کا بنا ہوا ہو۔ یہ شعر ایک پرندے کی فریاد کے طور پر عربی میں بنائی ہوئی نظم میں موجود ہے۔ تاجر نے اپنے بچوں کی خواہشات کے مطابق سب کیلئے الگ الگ چیزیں لیں۔ درختوں پر بیٹھے طوطوں کو دیکھ کر اپنے طوطے کی خواہش بھی یاد آئی۔ طوطے کو پیغام دیا تو ایک طوطا تڑپ کر نیچے گر پڑا ۔ تاجر کو بہت افسوس ہوا ۔ پھر طوطے کو سارا قصہ واپسی پر سنادیا۔ تاجر کا طوطا بھی غش کھاکر کلٹی ہوگیا۔ تاجر نے بہت افسوس کے ساتھ الٹ پھیر کر دیکھا اور پھر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ طوطا خود کو آزاد پاکر اُڑ کر سامنے والے درخت پر بیٹھ گیا۔ تاجر نے منت سماجت کی کہ واپس آجا لیکن طوطے نے بتایا کہ مجھے چین کے طوطے نے اپنے پیغام میں آزادی کا طریقہ سکھایا۔ کاش ! پختون دھرنے میں لگنے والا نعرہ اشرف غنی تک بھی پہنچے اور وہ امریکی وردی کیخلاف نعرہ لگا کر آزادی حاصل کرلے۔
مشعال خان کے قتل سے بری ہونے والے ملزموں کا استقبال پٹھانوں نے بہت اہتمام کے ساتھ کیا جس میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنما شامل تھے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ نے مذمت کرتے ہوئے اپنے مقامی رہنماؤں کو سخت تنبیہ کردی۔ مشعال خان کی بے گناہی کے باوجود جو لوگ اس میں ملوث ہونے سے انکاری تھے تو وہ غازی کیسے بن گئے؟۔ اسکے پیچھے تو کوئی وردی نہیں تھی؟۔ سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کے اندر اگر ایمانی غیرت اور انسانی فطرت ہو تو بیگناہ مشعال خان کے گھر جاکر اعلان کردیں کہ بیگناہ مشعال خان کے والدین ، بہن بھائی ، رشتہ دار اور احباب مُلا گردی کی وجہ سے مصائب کا شکار ہیں جس کی اسلام میں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کارکن درست کررہے ہیں تو پھر خود ہی اپنے کارکنوں کی قیادت بھی کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے دہشت گردی کے عروج پر کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا ۔ چھپ چھپا کر تو مولانا معراج الدین شہید نے بھی اس کو غیر ملکی سازش قرار دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جس نے یہاں سے لشکر لے کر طالبان کی حمایت میں سب سے پہلے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ جب شروع میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کوبھی سازش کا کوئی ادراک نہیں تھا اور جب ہوا تو بھی کھل کر نامردی کا مظاہرہ کیا۔ پھر عوام نے بھی یقیناًسازشوں کو سمجھنے میں بڑی دیر لگانی ہی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قبائل نے شروع میں طالبان کو نجات دہندہ سمجھ کر دل و جان سے قبول کیا پھر اس ہمدردی کے نتائج بھی خود ہی بھگت لئے۔ پورے ہندوستان ، پنجاب اور سندھ میں مولوی ایک دوسرے کو کافر اور گستاخ رسول قرار دیتے رہے مگر کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر کسی کالج و یونیورسٹی میں تو دور کی بات ہے کسی مدرسے میں بھی پیش نہیں آیا جو مشعال خان کیساتھ باچاخان یونیورسٹی میں ہوا۔ اسلئے پٹھانوں کو اپنی سردردی کا بہت بغور جائزہ لینا چاہئے۔
کالج اور یونیورسٹیوں میں ہزار سال قبل کی لکھی ہوئی کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں ایک خلیفہ مقرر کرنے کو عالم اسلام پر فرض قرار دیا گیاہے۔ اس فریضے کو جہاں سب سے پہلے چند افراد یا کوئی ایک فرد پورا کرنے کا اعلان کردے تو اس میں لکھا ہے کہ شریعت کی رُو سے پوری دنیا پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ اس امیر المؤمنین کی اطاعت کرے۔ امیر کی تقرری کے بغیر مسلم اُمہ کو جاہلیت کی موت کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ ایک عرصہ مولانافضل الرحمن نے بھی اپنی جماعت پر ان احادیث کو فٹ کرنے کی کوشش جاری رکھی تھی جس کو علماء کے سامنے خطاب میں پیش کرکے آذان انقلاب کے نام سے کتابچہ میں شائع بھی کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن عوام سے اس کی خاطر بندوق اٹھانے کے وعدے بھی لیتے رہتے تھے۔ انتخابی سیاست کو بھی ایک مرحلہ پر خیر باد کہہ دیا تھا۔ جب جمعیت علماء اسلام کے معتبر شوریٰ کو احادیث کی درست تعبیر سمجھ میں نہیں آرہی تھی تو ہم نے ایک کتاب ’’اسلام اور اقتدار‘‘ لکھ دی جس میں مولانا کی غلط فہمیوں کا بہت واضح انداز میں زبردست جواب دیا اور مولانا اس کے بعد اپنی ان جاہلانہ تعبیرات سے رُک بھی گئے۔ جب مُلا عمر امیر المؤمنین کے لقب سے نوازے گئے تو میرے اُستاذ مولانا شیر محمد ؒ امیر JUIکراچی نے مجھ سے کہا کہ مُلا عمر کو امیر المؤمنین مان لو۔ میں نے عرض کیا کہ مُلا عمر خود کو امیر المومنین کہے یا آپ کی جماعت یہ اعلان کردے تو مجھ سے یہ مطالبہ بھی جائز ہوگا لیکن جب وہ خود کو بھی افغانستان تک محدود کرتا ہے اور تم بھی اسکے دائرہ کار کو پاکستان کی حدود میں نہیں مانتے تو مجھ سے یہ مطالبہ درست نہیں۔ جب تک خلافت کا مسئلہ سمجھ کر حل نہ کیا جائے دنیا میں اس کا غلغلہ رہے گا۔

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا میونخ میں خطاب

German-Journalist-Reveled-Real-Facts-Behind-Mumbai-Attack-Qamar-Javed-Bajwa-delivers-a-speech-at-the-2018-Munich

جرمنی کے قدیمی معروف شہر میونخ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا ہے۔ میونخ میں علامہ اقبال نے بھی تعلیم حاصل کی ہے اور آئن اسٹائن سائنسدان کا تعلق بھی میونخ سے تھا۔ جنرل باجوہ کے خطاب کے اہم ترین نکات یہ تھے کہ روس کے خلاف جہاد کے نام پر 40سال قبل جو بویا تھا ، اسی کو اب کاٹ رہے ہیں۔ جہاد اپنے نفس پر قابو پانے کا نام ہے، قتال کا حکم صرف ریاست ہی دے سکتی ہے۔ 1840 علماء کرام و مفتیان عظام نے جہاد کو فساد کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا ہے۔
آرمی چیف کیپٹن ہوکر بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچتے پہنچتے اپنے سے بڑوں کا حکم ماننے کے علاوہ کسی چیز کو بھی نہ دیکھتا ہے ، نہ سمجھتا ہے اور نہ ہی اس پر غور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 40سال پہلے ہوسکتا ہے کہ جنرل باوجوہ پاک فوج میں ایک کیپٹن کی حیثیت سے بھرتی ہوئے ہوں۔ 80سال پہلے تو ہم برطانیہ کی ایک ادنیٰ کالونی تھے۔ امریکہ اور یورپ آج بھی ہماری فوج کو بڑی بڑی بلائیں نظر آتی ہیں۔ پاک فوج کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ہی ذو الفقار علی بھٹو کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنادیا تھا۔ دنیا ورطہ حیرت میں پڑی تھی جب بھٹو نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کے ایجنڈے کو پھاڑ ڈالا تھا۔
کیا خوب ہوتا کہ ہمارا کوئی سیاسی قائد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ میونخ میں دنیا سے خطاب کرتا اور ان الفاظ میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ۔
اے جرمنی کے باسیو! غور سے سن لو! ۔ تمہارے ایک صحافی نے جسطرح پانامہ لیکس کا انکشاف کیا تھا اور اس کی وجہ سے ہماری عدالتوں میںآج تک سیاسی ہلچل برپا ہے، اسی طرح جرمنی کے ایک صحافی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ممبئی بھارت میں ہونیوالا حملہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی ملی بھگت سازش تھی۔ پاکستان کے بہت نامور صحافی حامد میر نے مفتی نظام الدین شامزئی کی طرف سے بہت پہلے انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی مجاہدین کو امریکہ واشنگٹن کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے پیسہ آرہا ہے جس سے علماء کو خریدا جارہا ہے۔ پھر وہی صحافی پتہ نہیں کس کے ہاتھ میں کھیل کر ممبئی حملے سے پاکستان کو بھی جوڑ رہا تھا۔ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے اتنا بھی کافی ہے کہ حافظ سعید کوئی مجاہد نہیں بلکہ رفاہی ادارے چلا رہا ہے۔ شکل اور ڈھنگ سے بھی کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسکا بھائی جو اسکا جانشین بھی ہے امریکہ ہی میں رہتا تھا اور کچھ عرصہ قبل آیا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت ان پر مقدمات بھی چلائے مگر عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش نہیں ہوسکا۔ مولانا مسعود اظہر کو انڈیا نے پکڑ لیا تھا اور تہاڑ جیل سے ہفت روزہ ضرب مؤمن میں تازہ حالات پر انکے بیانات آتے رہتے تھے۔ اتنی آزادی کے ساتھ تو وہ پاکستان میں بھی کام نہیں کرسکتا ہے۔ ایک خطیب اور صحافی کا جو کام وہ تہاڑجیل سے کررہا تھا اس سے زیادہ پاکستان میں بھی اس کو کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔
امریکہ میں 9/11کا واقعہ ہوا ۔ آج بھی اسکول کے طالب علم بگڑ کر دہشت گردی کے جو واقعات کررہے ہیں اس سے زیادہ ہمارے ہاں بھی دہشت گردی نہیں۔ امریکہ نے 9/11کے واقعہ پر افغانستان کے طالبان کو سزادی تو ہم نے عافیہ صدیقی تک کو امریکہ کے حوالے کردیا۔ افغانستان و پاکستان اس جنگ سے جتنے متاثر ہوئے اسکے اثرات آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق پر بھی حملہ کردیا اور پھر اپنی غلطی کا اقرار بھی کرلیا ۔ پھر لیبیا پر کسی وجہ کے بغیر حملہ کیا اور وہاں کی عوام کو تباہ و برباد کردیا۔ پھر شام میں لاکھوں افراد کو امریکہ نے مروا دیا اور اب افغانستان میں داعش اور طالبان کو طبل جنگ کیلئے تیار کر رکھا ہے۔ آخر یہ ساری کاروائیوں کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟۔ امریکہ کی نکیل جس اسرائیل کے ہاتھوں میں ہے اس بدمست ہاتھی کو روکنے والا آخر کون ہوگا۔ یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ اور دنیا بھر کے اکثر و بیشتر اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے برخلاف امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس کے شہر میں کھولا تو وہ دنیا میں تنہا رہ گیا۔ فلسطین میں امریکہ کی تنہائی کے بعد ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینے کی سخت ضرورت ہے جس سے دنیا میں امن کی بحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔
ہمارا تعلق اس نبی ﷺسے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین146146اور ہم نے نہیں بھیجا مگر تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر145145 ۔ اس کی صداقت صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے بھی نبی ﷺ نے ثابت کرکے دکھادی۔ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ صلح حدیبیہ میں کن شرائط کو قبول کرکے مسلمانوں نے اپنے مرکز مکہ مکرمہ پر مشرکین مکہ کی حکمرانی قبول کی۔ حضرت ابو جندلؓ کو اسی بنیاد پر زنجیروں میں باندھ کر لوٹادیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت ابو جندلؓ نے اپنی مدد آپ کے تحت فرار ہوکر اپنے طور سے ان کے خلاف جہاد کا سلسلہ شروع کیا۔ جس کی ذمہ داری نبی ﷺ کی حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی تھی۔ امریکہ مجاہدین کو گوانتا ناموبے لیکر گیا اور ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کو وزیرستان میں بھی مجاہدین لیڈروں کی تلاش تھی اور خوش قسمتی سے ہمارے ہاں کوئی بھی لیڈر نہیں تھا تو عبد اللہ محسود کو گوانتا ناموبے سے چھوڑ کر عوام کو بنا بنایا لیڈر دیا گیا۔ عافیہ صدیقی ایک بال بچے دار خاتون ہیں لیکن ان کو 86سال قید کی سزا سنائی گئی۔ امریکہ دنیا کو یہ بتادے کہ اس کی پالیسی دہشت گردوں کو ختم کرنے کی تھی یا جلا بخشنے کی تھی؟ اور بی بی سی لندن نے کچھ ایسے لوگوں کے انٹرویو شائع کئے ہیں جن کو امریکی فوج نے اذیت دینے کیلئے اتنا ریپ کیا کہ ان کی پاخانے کی جگہوں سے خون نکلنے لگا تو کیا ان انسانیت سوز مظالم کے مقاصد دہشت گردی کو فروغ دینا نہیں ہے؟۔
آپ نے عبد اللہ محسود کو گوانتاناموبے سے چھوڑ کر ہمارے خلاف جہاد کیلئے راستہ ہموار کیا تھا، اگر ہم اس کو مارنے کے بجائے پکڑ کر تمہارے حوالے کرتے تو کیا بھروسہ تھا کہ تم پھر اس کو چھوڑ دیتے۔ القاعدہ کے بیج بھی تم نے بوئے اور پھر اس کو ختم کرنے کے بہانے دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر بھی تم نے دوڑادی۔ بس کرو بس ! بس کرو بس! بس کرو بس! بس کرو بس! بس کرو بس! بہت ہوگیا۔
اگر امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کوئی سیاسی قائد حقائق کے انداز میں تقریر کرتا تو امریکیوں کا ضمیر جاگتا یا سویا رہتا لیکن دنیا کو جگانے میں کامیابی ہوتی۔ اور پھر سب سے زیادہ یہ کہ ہمارے اپنے مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور ہم آپس کے فتنہ و فساد سے تو کم از کم بچ جاتے اور اگر ہم آپس میں فتنے و فساد سے پرہیز کریں تو دنیا ہم پر زبردستی کسی طرح سے بھی دہشتگردی مسلط نہ کرسکتی ۔

عدلیہ کو درپیش مشکلات اور ان کا حل: ایڈیٹر نوشتہ دیوار محمد اجمل ملک

chief-justice-saqib-nisar-iftekhar-ahmed-chowdhury-islamic-international-university-islamabad-justice-khosa-hudaibiya-paper-mills-siddique-kanju-Mustafa-Kanju

18فروری 2018کو مسلم لیگ ن کا شیخوپورہ میں یہ جلسہ ہوا تھا جس میں مریم نواز PTVپاکستان ٹیلی ویژن کے سرکاری میڈیا کو استعمال کرکے خطاب کررہی ہیں۔ اس جلسے سے مریم نواز اور نواز شریف نے بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں کو مخاطب کرکے جو کچھ کہا وہ تمام نیوز چینلوں نے عوام کو دکھادیا ہے۔ مریم نواز نے واضح طور پر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے منصفوں(ججوں ) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر کے دور میں جن ججوں نے نواز شریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں مجرم قرار دیا تھا اسی عدالت اور ججوں نے ڈکٹیٹر کی حکومت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو با عزت بری قرار دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اور میں نے جج سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ’’اللہ کے عذاب سے ڈرو، نواز شریف بے گناہ ہے‘‘۔ آج ججوں کا حکم صرف نواز شریف کیلئے ہے ۔ ڈکٹیٹروں پر ججوں کا حکم نہیں چلتا۔ اصل عدالت عوام کی ہے۔ ججوں نے ایک دن اپنے کئے کا جواب دینا ہے۔
نواز شریف نے پچاس ، سو،ہزار، پانچ ہزار اور دس کا نوٹ دکھا کر عوام سے کہا کہ میں نے یہ کرپشن بھی نہیں کی، تم گواہی دیتے ہو؟۔ سب نے گواہی دے دی۔
جلسہ عام میں کوئی ایک بھی رجل رشید اور حُر نہیں تھا جو یہ کہتا کہ نا اہل وزیر اعظم پاکستان کا سرکاری ٹی وی اپنے خاندان کی جاگیر سمجھ کر کیسے استعمال کررہا ہے۔ اگر عدلیہ صرف سرکاری ٹی وی کو استعمال کرنے پر از خود نوٹس لیتی تو لوہاروں کے آہنی اعصاب کا دنیا کو پتہ چل جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح عمران خان کی طرف سے سرکاری ہیلی کاپٹر کا نوٹس لیتے ہوئے جیو ٹی وی چینل نے اس کی خوب تشہیر کی اگر سرکاری ٹی وی کے استعمال کا بھی نوٹس لیا جاتا تو نواز شریف اور اس کی صاحبزادی کو اپنی اوقات کا پتہ چل جاتا۔ سپریم کورٹ اور عدلیہ کے جج بھیگی بلی بن کر تو اپنی عزت برقرار نہیں رکھ سکتے۔ جو غلطیاں عدالت سے ہوئی ہیں ان پر پوری قوم سے معافی مانگی جائے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار ایک شریف النفس انسان ہیں، وہ نواز شریف کے کسی دور میں وکیل بھی رہے ہیں۔ جب ان کو افتخار چوہدری کے عروج کے دور میں لایا گیا تو اس پر تبصرے ہوئے کہ نواز شریف کے آدمیوں کو سپریم کورٹ میں جگہ دی جارہی ہے حالانکہ وہ پیپلز پارٹی کا دور تھا۔
نواز شریف آج کی عدلیہ کو سب سے بڑا طعنہ پی سی او ججوں کا دے رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کیساتھ جو چارٹر آف ڈیموکریسی نواز شریف نے سائن کیا تھا تو اس میں یہ بھی تھا کہ پی سی او ججوں کو بحال نہیں کرینگے۔ معاہدے کی رو سے نواز شریف کا فرض بنتا تھا کہ چوہدری افتخار سمیت کسی بھی پی سی او جج کو بحال نہ کرتے۔ نواز شریف عدلیہ کے ان ججوں کو بحال کرنے کے موڈ میں بھی نہ تھے مگر وکیلوں نے ورغلا کر عدلیہ بحالی تحریک میں شامل کیا جور یکارڈ پر ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی کہاوت پر عمل کرکے صدر زرداری کو طعنے دئے گئے کہ معاہدہ کوئی قرآن و حدیث تھوڑی ہے۔ تمام جماعتوں کے قائدین کو کسی ایک مجلس میں بلا کر عوام سے خطاب کا موقع دیا جائے تاکہ سیدھی سادی عوام کسی کے جھوٹ اور سچ کی جانچ پڑتال کرسکے۔
عدلیہ کے ججوں نے سب سے بڑی زیادتی یہ کی تھی کہ جن ججوں کو پرویز مشرف نے بھرتی کیا تھا ان کو پی سی او کی بنیاد پر عدلیہ سے نکال کر سزا دی گئی اور خود جنہوں نے کئی مرتبہ پی سی او کے حلف اٹھائے تھے اپنے آپ کو معاف کیا اور کسی بھی مذہب ، رسم و رواج اور قانون میں یہ نہیں ہوتا کہ اپنی غلطی معاف کرکے دوسرے کو سزا دی جائے۔ آج چیف جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں کہ میں افتخار چوہدری نہیں ثاقب نثار ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ افتخار چوہدری بھی کسی قابلیت اور کردار کے مالک نہیں تھے اور ثاقب نثار ایک شریف النفس انسان ہیں ۔ مگر جج کی حیثیت سے اگر آج چوہدری افتخار ہوتے تو عدلیہ پر حملے نہ کرنے دیتے۔
حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے نے نواز شریف اور مریم نواز کو موقع فراہم کردیا کہ وہ عدلیہ پر جتنے گرجیں برسیں وہ حق بجانب ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں میں دو نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ نواز شریف پارلیمنٹ اور میڈیا میں دی گئی صفائی میں قطری خط کے ذریعے صادق و امین نہیں رہے۔ اسلئے نا اہل ہیں۔ تین ججوں نے جے آئی ٹی بنائی تھی۔ اس جے آئی ٹی میں دو اہم معاملات تھے ایک اقامہ اور دوسرا حدیبیہ پیپر ملز ۔ اقامے کے مسئلے پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور حدیبیہ پیپر ملز کا کیس کھولنے کیلئے نیب نے حکم دیا اور جب چیف جسٹس ثاقب نثار کے نائب جسٹس آصف سعید کھوسہ کے پاس رجسٹرار نے حدیبیہ پیپر ملز کا کیس لگایا تو جسٹس کھوسہ نے واضح طور پرکہا کہ میرے پاس یہ غلطی سے لگا ہے کیونکہ میں پہلے ہی پانچ ججوں کے ساتھ مل کر نیب کو حدیبیہ پیپر ملز کھولنے کا حکم دے چکا ہوں۔
سپریم کورٹ نے اپنے ہی پانچ ججوں کے فیصلے اور جسٹس آصف کھوسہ کی بدترین توہین کا ارتکاب کیا اور اس کیس میں تین ججوں کا بینچ بنادیا اور پھر فیصلہ دیا کہ میڈیا میں اس کو ڈسکس کرنے پر پابندی ہے۔ پھر تینوں ججوں نے ہمیشہ کیلئے حدیبیہ پیپر ملز کے کیس کو کھولنے پرپابندی لگادی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے شریف برادران سے کہا کہ ہم کسی کے ہاتھ میں کھیل رہے ہوتے تو حدیبیہ کا یہ فیصلہ اس طرح سے نہ دیتے۔ ایک سال تک پانامہ کیس میڈیا پر ڈسکس ہوتا رہا۔جھوٹ کے پلندے عوام کو ازبر ہوگئے۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف کی تحریری تقریر اور میڈیا پر نواز شریف کی فیملی اور ن لیگی رہنماؤں کے علاوہ سب ثبوت بار بار عوام کو تفصیلات کے ساتھ دکھائے گئے۔ منی لانڈرنگ کے ذرائع اور اکاؤنٹ بھی بتادئے گئے۔
جب حدیبیہ پیپر ملز کے تمام شواہد اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو باقی معاملات میں بھی سزا دینے کی گنجائش رہتی ہے یا سپریم کورٹ کے جج اور نواز شریف مل کر پوری قوم کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں؟۔پلاسٹک کے جعلی شیر میں اتنی ہوا بھر دی گئی کہ وہ پھٹنے پر جی ایچ کیو کو بھی اڑانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نواز شریف پر الزام یہ نہیں تھا کہ اس نے جعلی بندوق سے طیارے کو اغوا کیا تھا بلکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے جہاز کو اترنے سے روکا تھا۔ جس میں جہاز کو اغواکرنے جتنی ہمت ہو وہ اپنی جان پر کھیل سکتا ہے، جو اپنی جان پر کھیل سکتا ہو وہ معاہدہ کرکے سعودی عرب جلا وطن نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ جنہوں نے لاہور ماڈل ٹاؤن میں گلو بٹوں کے ذریعے سے نہتے افراد کو مروادیا ہو تو اس کیلئے جہاز کو نہ اترنے کا حکم دینا بھی کیا بعید از قیاس ہوسکتا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تو زیادہ سے زیادہ احتجاج کی صلاحیت رکھتا تھا اور پرویز مشرف اس کو اپنی فیملی سمیت جلا وطن بھی کر سکتے تھے۔
اب تو شاید عدلیہ میں پی سی او ججوں کی باقیات بھی نہیں ہیں۔ عدلیہ سب سے پہلے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ان ججوں کو بحال کردے جن سے امتیازی سلوک کرکے فارغ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن ، ڈاکٹر منظور احمد جیسی شخصیات بھی پرویز مشرف نے کراچی یونیورسٹی اور اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں تعینات کئے تھے۔ ان ججوں میں اچھے ججوں کو منتخب کرکے بحال کرنے سے واضح ہوگا کہ عدلیہ اپنی غلطیوں پر خود توجہ دے رہی ہے۔ اسکے بعدسابقہ آرمی چیف پرویز مشرف کو انکی غیر موجودگی میں معزول کرکے جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے کہ درست تھا یا غلط۔ کیونکہ عدلیہ سندھ پولیس کے آئی جی اے ڈی خواجہ کو بھی بدلنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے تو کیا آرمی چیف کو پنجاب کی اشرافیہ برادری کو برطرف کرنے کا حق حاصل تھا؟۔
پھر ان جرنیلوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے یہ اقدام کیا کہ منتخب حکومت کو برطرف کرکے جلاوطنی پر مجبور کردیا۔ پھر ان ججوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے پرویز مشرف کو تین سال تک آئین میں مداخلت کی کھل کر اجازت دی۔ ان میں جو لوگ فوت ہوگئے ان کی قبروں پر علامتی سزا کی فاتحہ پڑھی جائے۔ اور جو زندہ ہیں ان کو عدالت میں کھڑا کرکے قوم کے سامنے پوری حقیقت واضح کی جائے تاکہ روز روز ڈگڈگی بجانے والے تماشہ نہ لگاتے پھریں۔ حقائق سامنے آجائیں گے تو کوئی پنڈورا بکس نہیں کھلے گا بلکہ سب ہی اپنی اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے پوری قوم سے معافی مانگیں گے اور اگر ان کی غلطی نہ ہوئی تو ان کو صفائی پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
لاکھوں کیس سماعت کے منتظر ہیں چیف جسٹس صاحب پتہ نہیں جانے یا انجانے میں عوام کے ان دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں جو ان کا فرض بھی نہیں۔ کراچی کی آبادی میں ڈیفنس کی شہرت ہے لیکن ڈیفنس میں پانی نہیں ہے۔ عدالت نے بلڈروں کیخلاف پانی کا نوٹس لیا اور ڈیفنس کو نہیں دیکھا تو عدلیہ کی عدالت پر عوام میں سوال اٹھنے لگے اور عدلیہ کا دفاع کرنا بھی آسان نہیں، عدلیہ نے ہسپتال کو دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ فرض شناسی ہے یا فرائض سے پہلو تہی ہے؟۔ پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کی یہ سازش ہے یا شریف برادران کو مطمئن کرنے کی کوشش؟۔ اپنے کیسوں کی طرف توجہ نہ دینے پر بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مریم نواز یا نواز شریف سے گریبان پکڑنے کا خوف ہو تو کراچی کی مہاجر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نہال ہاشمی کو سزا دینے سے مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ جبکہ اس سے کئی گنابڑھ کر پنجاب کے باسی عدلیہ کو مغلظات سے نواز رہے ہیں، ایک طرف ن لیگ عدلیہ پر ٹوٹ پڑی ہو، دوسری طرف دیگر عوام عدلیہ پر جانبداری کے قد غن لگارہے ہوں تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے؟۔ ایک مرتبہ چیف جسٹس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو پرویز مشرف کی حکومت چلی گئی۔ لیکن آزاد عدلیہ نے نہ اپنی صفائی کی اور نہ ہی غریب عوام کو کوئی ریلیف دیا۔ اس طرح عدلیہ کیسے مستحکم ہوسکتی ہے؟ جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور آنے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے مزاج اور عدل میں زمین آسمان کا فرق ہو۔ یہ صورتحال رہی تو عدلیہ پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا پڑے گا۔ عدلیہ پر حملے اپنے لاڈلوں کی طرف سے ہورہے ہیں۔ باقی لوگوں کو اس مرتبہ تماشہ دیکھنے میں بڑا مزا آئے گا۔ وقار بلند کرنا ہو تو اقدامات کرنے ہونگے۔
شاہ رُخ جتوئی نے پولیس والے کے بیٹے شاہ زیب کو قتل کردیا تو افتخار چوہدری نے اپنی طاقت دکھا کر شاہ رُخ جتوئی کو دبئی سے انٹرپول کے بغیر واپس لانے پر مجبور کیا۔ اس پر 302کے علاوہ دہشتگردی کا دفعہ بھی لگادیا۔ 302 کے قتل میں والدین کی طرف سے دیت لے کر یا ویسے ہی معاف کرنے کی گنجائش تھی۔ پولیس والوں کا کام پیسہ لینا ہوتا ہے۔ شاہ زیب کے باپ نے دیت لی یا معاف کردیا اور ہائیکورٹ نے دہشتگردی کا دفعہ ختم کردیا۔شاہ رُخ کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ اب پھر چیف جسٹس نے ضمانت ختم کرکے شاہ رُخ کو پھانسی گھاٹ کی کال کوٹھڑی کا حکم دیا ہے۔ سندھ کا ایک باسی عدلیہ سے انصاف پارہا ہے۔
ن لیگ کے سابقہ وزیر صدیق کانجو کے بیٹے غلام مصطفی کانجو نے بھی پنجاب میں شاہ رُخ جتوئی کی طرح کسی بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو شہید کردیا تھا۔ چوہدری افتخار کی کانڑی عدالت کو پنجاب میں دہشتگردی کا دفعہ نظر نہیں آتا تھا۔ اور غلام مصطفی کانجو پر شاہ رُخ جتوئی کے برعکس دہشتگردی کا دفعہ نہیں لگایا گیا۔ پنجاب کی غریب بیوہ نے سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے کہاکہ اپنے شہید اکلوتے بیٹے کا بدلہ پوری دنیا بھی نہیں لیکن ان بد معاشوں سے مجھے خطرہ ہے کہ میری بچیوں کی عزتوں کو پامال نہ کردیں، اسلئے دست بردار ہورہی ہوں۔ عدلیہ کے ججوں کا ضمیر الیکٹرانک میڈیا بھی نہ جگاسکا۔ غلام مصطفی کانجو کو رہائی دیکر بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ واہ بھئی واہ ، صد رحمت بابا رحمتوں پر۔
چیف جسٹس ثاقب نثار اگر اپنے ضمیر سے زنگ اور غبار ہٹانا چاہتے ہیں تو شاہ رُخ جتوئی کی طرح مصطفی کانجو کو بھی پھانسی گھاٹ کی کال کوٹھڑی تک پہنچائیں۔ یہ نہ کہیں کہ عدالت کے انصاف کا ترازو پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کیلئے ایک ہے اسلئے کہ شاہ رُخ جتوئی پر دوبارہ یہ مقدمہ چلا کر سندھیوں کو رلایا گیا تو پنجاب کی بیوہ کو بھی تو رلایا ہے یہی تو انصاف ہے۔ العیاذ باللہ استغفر اللہ۔ جس دن عدلیہ انصاف کرنا شروع کرے گی تو اس کو گالیاں بکنا بھی خود بخود بند ہوجائیگا۔ سول سوسائٹی کے جبران ناصر کو چاہئے کہ غلام مصطفی کانجو کی طرف بھی توجہ دلائے۔
لودھراں میں علی ترین کے مقابلے میں ن لیگ کی واضح جیت میں صدیق کانجو کی برادری کابھی اہم کردار ہے۔ یہ سیٹ جتوانے میں عدلیہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ راؤ انوار کے پیچھے چیف جسٹس کو بڑے لوگ تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ماڈل ٹاؤن میں سر عام قتل عام کے پیچھے بڑے لوگ اندھی عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ججوں کی نگاہوں سے اوجھل ہونگے۔ طالبان نے افغانستان میں انقلاب کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کو چند دنوں تک سولی پر لٹکا کر رکھا تو آج بہت لوگوں کو اپنے فعل پر ندامت ہے لیکن اگر پاکستان کی عوام کبھی اٹھے اور خدا نخواستہ خونی انقلاب آیا اور معتبر لوگوں کو سولیوں پر لٹکانا شروع کردیا تو تاریخ کا یہ سبق دنیا کیلئے بالکل بھی انوکھا نہ ہوگا۔ ہنگامی بنیادوں پر انصاف کی فراہمی کے بغیر خونی انقلاب کا راستہ روکا گیا تو اس میں نہ صرف سب کی بقاء ہے بلکہ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی ریاست ، ادارے، عوام ، قائدین اور علماء امامت کرنے کے قابل بن جائیں گے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
دنیا نے طالبان اور داعش کے نام سے جو ایٹم بم تیار کر رکھا ہے اس کو پھاڑنے کیلئے ہمارا معاشرتی ، عدالتی ، سیاسی اور مذہبی نظام کافی ہے۔ جو لوگ خود پر بم باندھ کر پھاڑ رہے ہیں ان کو آخرت کی اُمید پر ورغلایا گیا ہوگا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار کرنا ممکن نہیں کہ جب غریب کیساتھ اس معاشرے میں ظلم و جبر ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں خود کشی کرنیوالے کبھی کبھی خود کش کرانیوالوں کے ہاتھ بھی چڑھ جاتے ہیں۔ پہلی مرتبہ عوام میں امریکہ سے مقابلے کی وجہ سے طالبان کو بھرپور مقبولیت ملی تو تمام سیاسی جماعتیں اور ملکی ادارے ان کے ایمان کو داد دینے پر مجبور تھے۔ انہوں نے یہ قربانی داد وصول کرنے کیلئے ہرگز ہرگز نہیں دی تھی۔ خود کش دھماکے کے بعد جن کے پڑخچے اُڑ جائیں ان کو کیا داد سے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟۔ وہ نظام کی تبدیلی چاہتے تھے اور پھر طالبان کے سب سے بڑے حامی شریف برادران اور عمران خان یہ کریڈٹ لے رہے ہیں کہ ہم نے دہشت گردوں کو ختم کیا ہے۔ اب اگر وہ پلٹ کر آگئے تو کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ ہمارے عدالتی نظام کی خرابیوں کو ہمارا جج طبقہ بھی نظر انداز نہیں کرسکتاہے۔ طالبان کیلئے جو فوجی عدالتیں تشکیل دی گئی ہیں ہمارے بدمعاش سیاستدانوں کیلئے طالبان سے زیادہ بڑھ کر مضبوط عدالتوں کی سخت ضرورت ہے۔ طالبان نے عدلیہ کے خلاف اتنا زہر عوام میں نہیں اگلا جتنا سیاستدان اگل رہے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
سینٹ کے الیکشن میں کروڑوں کی منڈیوں میں بکرے فروخت ہورہے ہیں اور یہ لوگ پاکستانی قوم کی غریب عوام کیلئے قانون سازی کا فریضہ انجام دیں گے۔ طالبان خیر اگرجبر و تشدد اور انتہا پسندی کو چھوڑ کر جمہوری میدان میں آئیں گے تو اسلام کے فطری احکام کو منوانے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے مخلص اور بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے۔ ایک الیکشن قوم کی اس بدترین حالت کو سدھارنے کیلئے ایسا ضروری ہے جو ایک پر امن انقلاب کا ذریعہ بن جائے اور پاکستان کی حالت اس قابل ہو جو دنیا میں تبدیلی کا بہترین ذریعہ بن جائے۔
الیکشن کو تجارت بنانے والوں نے اپنی تجوریاں بھر دی ہیں اور غریب عوام کو ریاست کا فائدہ پہنچنے نہیں دیا ہے۔ اگر عدلیہ نے الیکشن میں اپنی حدود سے زیادہ خرچہ کرنے والوں کو پکڑنا شروع کردیا تو تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما الیکشن سے باہر ہوجائیں گے۔ ریاست اپنی قوت کے ساتھ عملی میدان میں اترے تو کرپٹ مافیا کی جگہ اچھے لوگ پارلیمنٹ میں پہنچ کر اقتدار کا نقشہ بدل دینگے۔