پوسٹ تلاش کریں

قرآن عدل وتوازن سے وہ انقلاب پیدا کرتاہے کہ زمین میں انصاف ، برزخ اور آخرت کی بشارت ہو۔

اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وماکنت لدیھم اذ اجمعوا امرھم و ھم یمکرونOو ما اکثر الناس و لو حرصت بمؤمنینOو ماتسالھم علیہ من اجرٍ ان ھو الا ذکر للعالمینOوکاین من اٰیةٍ فی السماوات و الارض یمرون علیھا و ھم عنھا معرضونOومایؤمن اکثرھم باللہ الا و ھم مشرکونOافامنوا ان تأتھیم غاشة من عذاب اللہ او تأتھیم الساعة بغتةً و ھم لا یشعرونOقل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرةٍ انا ومن اتبعنی و سبحان اللہ و اما انا من المشرکینOوما ارسلنا من قبلک الا رجالًا نو حی الیھم من اھل القرٰی افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبة الذین من قبلھم ولدارالاٰخرة خیر للذین اتقوا افلا تعقلونOحتی اذا استیاس الرسل و ظنوا انھم  قد کذبوا جاھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین

O(سورہ یوسف:102تا110)

” یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم آپ کو وحی کرتے ہیں۔اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب انہوں نے میٹنگیں اپنا معاملہ نمٹانے کیلئے کررکھی تھیں اور سازش کررہے تھے۔اور اکثر لوگ مؤمن نہیں بنتے اگر چہ آپ کی چاہت ہو۔ اور آپ ان سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے ۔ یہ تو نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ۔ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ایک نشانیاں ہیں جن سے یہ گزرتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں۔اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر وہ مشرک ہیں۔ کیا یہ امن پاچکے کہ ان پر کوئی گھیرنے والی آفت آئے یا اچانک انقلاب آئے اور انہیں خبر نہیں ہو۔ کہہ دو کہ یہ میرا راستہ ہے ۔اللہ کی طرف میں دعوت دیتا ہوں بصیرت کیساتھ میں اور جو میری اتباع کرے۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ اور ہم نے آپ سے پہلے کسی کو نہیں بھیجا مگر آدمیوں کو جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے بستیوں والوں میں سے ۔کیا یہ زمین میں نہیں گھومتے تو دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کا کیا حشر کیا۔ اور تقویٰ والوں کیلئے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو ۔یہاں تک جب رسول ناامید ہونے لگے اور گمان کیا کہ تحقیق ان سے جھوٹ کہا گیا ہماری مدد آئی تو ہم جس کو چاہیں نجات دیں اور ہماری سختی مجرموں سے ٹلنے والی نہیں ہے”۔

قرآن میں عالم انسانیت کیلئے یہ نقشہ ہے کہ اللہ اس وقت بھی تمہیں جانتا تھا کہ جب زمین سے تمہاری نشو و نما ہوئی تھی اور اس وقت بھی جب اپنی ماں کے پیٹ میں جنین تھے۔زمین سے نشو ونما کے بعد ، ماں کے پیٹ میں جنین سے پہلے عالم ارواح میں عہد الست کیا تھا؟اور کس طرح ایک خود مختار حیثیت سے اپنے لئے ایک کردار کا انتخاب کیا؟۔

یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا(الاحزاب:63)

” آپ سے لوگ انقلاب کاوقت پوچھتے ہیں۔کہوکہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں پتہ نہیں اورشاید کہ انقلاب کا وقت قریب ہے”۔(الاحزاب63)

فتح مکہ ہوا اور قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست ہوئی۔ حضرت عمر کے دور میں ایک بھاگا ہوا شخص اسلام لانے کیلئے واپس آیا۔ حضرت عمر نے غیر معمولی پروٹول دیا تو سب حیران تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے نبیۖ سے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ عرب اپنے اجداد کے دین کو چھوڑ دیں اور یہ نیا دین قبول کرلیں۔اگر بالفرض یہ ہوا تو پھر دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست کیسے دیں گے؟۔ اور وہ بھی ہوگیا تو قبروں کے بعد قیا مت کے دن دوبارہ سب کا جمع ہونا کیسے ممکن ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ پہلی دو چیزیں اپنی زندگی میں دیکھ لوگے۔ آخرت میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر بتاؤں گا کہ اب یقین آگیا۔ میں نے سوچا کہ دو باتیں ٹھیک ثابت ہوئی ہیں تو تیسری بھی ہوسکتی ہے اور اسلام قبول کرلیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس موقع پر میں موجود تھا اور میں نے سوچا کہ نبیۖ نے اس کا ہاتھ پکڑنا ہے اور اگر ہم سے نبیۖ کے بعد کوئی کوتاہی ہو تو یہ سفارش کرے گا۔

حضرت عمر نے حذیفہ بن یمان سے پوچھا کہ منافقین میں میرا نام تو نہیں ہے۔ حضرت عمر بہت سخت زخمی تھے اور موت کا وقت قریب تھا۔ حذیفہ نے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہرگز نہیں بتاتا کیونکہ یہ راز ہے۔پھر کہا کہ آپ نہیں ہو۔ حضرت عائشہ سے قبر کیلئے حجرے میں اجازت کیلئے عبداللہ بن عمر گئے۔حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے اپنا سوچا تھا لیکن عمر کیلئے اجازت ہے۔ حضرت عمر نے عبداللہ سے کہا کہ حذیفہ میرے جنازے میں شریک نہ ہو تو مجھے نبیۖ کے پاس دفن نہ کرنا اور شریک ہو تو حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لینا، ممکن ہے کہ زندگی میں رعایت کرکے اجازت دی ہو پھر عبداللہ نے حذیفہ کی جنازے میں شرکت دیکھی اور حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لی اور وہاں دفن کردیا گیا۔اسلام کی قربانی دینے والے یہ صحابہ کرام تھے۔ماشاء اللہ

اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ان اللہ لعن الکافرین واعدلھم سعیرًاOخالدین فیھا ابدًا لایجدون ولیًا و لانصیرًاO…

” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے سختیاں تیار کرکھی ہیں ۔جس میں وہ ہمیشہ رہیںگے اور کوئی دوست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ جس دن ان کے چہرے ہم الٹیں گے آگ میں تو کہیںگے کہ اے کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور بڑوں کی تو انہوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کیا۔ اے ہمارے رب ان کو ڈبل عذاب دے اور ان پر لعنت کر بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی تو پھر اللہ نے اس کو بری کردیا جو وہ کہتے تھے اور اللہ کے نزدیک اس کا بڑا مقام تھا۔اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور بات کرو بات سیدھی۔ تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ الاحزاب:64تا71)

انا عرضنا الامانة علی اسماوات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا و حملھا الانسان انہ کان ظلومًا جھولًاOلیعذب المنافقین و المنافقات و المشرکین و المشرکات و یتوب اللہ علی المؤمنین و المؤمنات و کان اللہ غفورًا رحیمًا
” بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے انہوں نے احتیاط بھرتی اور انسان نے اسے اٹھایا۔ بیشک وہ بڑا اندھیرے میں اور لاعلمی میں تھا۔ تاکہ عذاب دے منافقین اور منافقات کو اور مشرکین اور مشرکات کو اور توجہ دے مؤمنیں اور مؤمنات پر اور اللہ تو ہے ہی غفور رحیم”۔(سورة الاحزاب:73،74)

بالفرض ایک آدمی ایک فلم یا ڈرامہ تیار کرتا ہے ۔اداکار اور ادا کارائیں اپنی مرضی سے ہیرو یا ولن اور جس طرح کردار بھی چن لیں تو کون کتنی کامیابی سے کردار ادا کرتا ہے؟۔ اس میں انسان کے دل ودماغ کی کیفیات اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ نیک اور بد خواہشات اس کی ذاتی پراپرٹی ہوتی ہیں۔جس پر اس کو خدا کی طرف سے معاوضہ یا عتاب ملتا ہے۔ ایک شہید، ایک عالم اور ایک سخی کو اسلئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ اس نے اچھے کردار کی اداکاری کیلئے انتخاب کیا مگر اللہ کیلئے کچھ نہیں کمایا۔

بلکہ اس کی زیادہ اچھی مثال حکومت اور ریاست میں اپنی ذمہ داریوں کیلئے حلف اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیںجن کے ساتھ اگر درست عدالت میں انصاف ہوجائے تو پھر ان کی دنیا میں ہی پکڑ بھی ہوگی۔ جب کچھ لوگوں کو کڑی سزائیں ملیں گی تو احتساب کیلئے قوانین ایسے بنائے جائیں گے کہ جتنی بڑی سے بڑی ذمہ داری ہو تو اس طرح گرفت کا شکنجہ بھی اس پر بہت ہی مضبوط اور فوری ہو تاکہ ایسی جگہ گھیرے میں نہیں آئے کہ اس کی پھر واپسی ممکن نہیں ہو۔ جب تمام جہانوں کا ایک منصوبہ تشکیل دیا جارہاتھا تو اللہ کی کائنات میں زمین کی مٹی سے کچھ بے چین روحوں نے کہا کہ ہم اس میں اپنا کردار ادا کرینگے جبکہ مٹی کی اس جرأت پر آسمانوں وزمین اور پہاڑوں کو حیرت بھی ہوئی اور حسرت بھی ۔چھوئی موئی کا پودا اور پھول قارئین نے دیکھا ہوگا یا نہیں؟۔جب اسکے پتوں کو ہاتھ لگایا جاتا ہے تو فوراً اپنی دفاعی نظام کے تحت بند ہوجاتے ہیں۔ پارکوں میں بچوں کے جھولے وغیرہ کیساتھ کہیں پر بیل بھی ہوتا ہے جس پر بیٹھا جائے اور نہیں گرا جائے تو انعام بھی ملتا ہے۔پشاور میں میرا بیٹا حمزہ چھوٹا تھا اور اس پر بیٹھنے کا چیلنج قبول کیا تو سب حیران تھے کہ کراچی کا بچہ بہت بہادر ہے لیکن لمحہ بھر میں اس کو گرا دیا تھا۔ پھر کراچی میں میرے چھوٹے بچے مقیم نے بڑی ضد کی اور بہر صورت بیٹھنا چاہتا تھا۔ بڑے بھائی ابوبکر نے بہت سمجھایا اور آخر میں جب پارک والے نے کہا کہ بڑے بھی نہیں بیٹھتے اور اتنے چھوٹے بچوں کی اجازت ہی نہیں تو بادل نخواستہ مان گیا۔

پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدے چلانے کیلئے پوڈری تک بھی تیار رہتے ہیں ۔ انسان کی فطرت میں امانت اٹھانے کا وہ جرثومہ ڈال دیا گیا ہے کہ مقناطیس کی طرح کشش رکھتا ہے۔

اذا الشعب یوما اراد الحیاة
فلا بد أن یستجیب القدر

جب ایک قوم زندگی کا ارادہ کرتی ہے تو پھر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ تقدیر بھی اس کی بات کو قبول کرلیتی ہے۔

جاوید غامدی کے استاذ امین اصلاحی، دادا استاذ حمید الدین فراہی ، پردادا استاذ شمس العلماء شبلی نعمانی، لکڑدادا شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد۔ جس نے انگریز کو پہلی مرتبہ قرآن کی تفسیر میں ”اولی الامر” قرار دیا ۔ سرسید احمد خان نے مخالفت کی تھی۔

شبلی نعمانی پہلے وکیل تھا، جب ناکام ہوا تو علیگڑھ میں ایک فارسی کا استاذ بھرتی ہوگیا۔ حمیدالدین فراہی کو خلافت عثمانیہ کو گرانے اور عرب اور انگریز کے درمیان ترجمانی کیلئے بھرتی کیا اور اس راز کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا جو عرب اور انگریز میں مذاکرات اور معاہدات ہوئے تھے۔ فراہی کی نسبت جعل سازی تھی اور غامدی کی نسبت بھی جعل سازی ہے۔ البتہ اپنے شجرہ نسب کے ساتھ کس درجہ کا لگاؤ ہے؟۔ قرآن کی آیت سے خود ساختہ معنی نکال کر مسلمانوں پر قیامت تک مسلط کرنے کا مشن اپنا لیا۔

اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاویداحمد غامدی کا کیا قصور ہے؟،وہ تو تقدیر کے آئینہ قرطاس میں لکھا جا چکا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل قصور ہے اسلئے کہ پہلے بھی یہ انتخاب اس کا اپنا ہی تھا اور آج بھی اس کا یہ انتخاب اپنا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ عورت کی ایک عدت ہے اور اس عدت میں باہمی اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع ہے اور امام ابوحنیفہ کے مسلک میں اس آیت سے کوئی حدیث بھی متصادم ہو تو اس کو نہیں مانا جائے گا۔ آیت228البقرہ۔ جس میں رجوع کی گنجائش بھی ہے اور صلح نہیں ہو تو نہیں بھی ہے۔ جب عورت راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق اورحضرت علی نے حرام کے لفظ پر رجوع کا فیصلہ نہیں کیا۔ جبکہ اگلی آیت229میں بھی یہی دو صورتیں ہیں ۔ معروف کی شرط پر رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا۔ اگر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پھر تفصیل ہے جس میں فدیہ کی صورت تک معاملہ پہنچتا ہے اور فدیہ تک معاملہ پہنچنے کے بعد یہ کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت اب کسی صورت رجوع نہیں چاہتی اور اس وضاحت کے بعد اللہ نے آیت230البقرہ میں حلالہ کا حکم واضح کیا ہے لیکن عورت راضی ہو تو آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ حنفی مسلک میں آیت230کا تعلق آیت229کے خلع سے ہے۔ حنفی کے علاوہ کوئی دوسرا طبقہ اس لعنت میں ملوث بھی نہیں ہے۔

ایک پیر صاحب کو مرید نے چیک کرنے کیلئے پلیٹ میں گوشت چاول میں چھپا کر دیا تو وہ غصہ ہوا کہ میری توہین کی۔ مرید نے کہا کہ تم دور ازکار غیب کی باتیں بتاتے ہو اور پلیٹ کا پتہ نہیں چلا؟۔ بہت کھلایا پلایا مگر تم دلے، بے غیرت، بے حیا، بے شرم اور بے ضمیر آئندہ اپنی روزی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرو۔اور یہاں نظر نہیں آؤ۔ لیکن پیر منتیں ترلے پر اتر آیا۔

جاویداحمد غامدی قرآن سے حضرت نوح علیہ اسلام کا بیٹا یافث تلاش کرسکتا ہے جس کی اولاد قیامت تک مسلمانوں پرہی حکومت کرے گی تو اس کو تھوڑا چیک کیا جائے کہ بقول حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن مفتی اعظم پاکستان صدر تنظیم المدارس العربیہ پاکستان” جس کا کھاؤ اس کا گاؤ” پر عمل کرتا ہے یا پھر کھاتا مسلمانوں سے ہے اور کام ان کیلئے کرتا ہے؟۔ ہاہاہا

واذقلنا لک ان ربک احاط بالناس و ما جعللنا الرویا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القرآن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO

”اور جب ہم نے آپ سے کہہ دیا کہ کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور شجرہ ملعونہ کو قرآن میں اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو وہ نہیں بڑھتے مگر بہت بڑی سرکشی میں”۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت:60) اللہ نے معراج میں پوری دنیا پر خلافت علی منہاج النبوت کے قیام کا خواب دکھایا جہاں تمام انبیاء کرام کو نماز کی امامت کرائی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ معراج بیداری میں ہوا یا خواب میں؟۔ خواب نصب العین کو بھی کہتے ہیں جو واضح ہے لیظہرہ علی الدین کلہ ”تاکہ تمام ادیان پر غالب آجائے”۔ جاویداحمد غامدی اپنے لکڑدادا کے مشن کا خواب آگے بڑھارہاہے۔ شمس العلماء اور امام مجتہد جو تمغہ مل جائے ،ناکامی ہی مقدر میں ہے۔انشاء اللہ

جب جاوید احمد غامدی نے قرآن سے تلک الایام نداولھا بین الناس کو اپنا خود ساختہ معنیٰ پہناکر حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کو قیامت تک اقتدار سونپنے کا فلسفہ گھڑدیا ہے تو اس کو غامدی کے بجائے یافثی کی طرف جانا چاہئے تھا۔ حمید الدین کا فراہی ہونا بھی عربوںکو دھوکہ تھا۔ حالانکہ قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ مشرک اور مسلمانوں کے درمیان تھا۔ مشرکوں نے پہلے کوئی حکومت نہیں کی تھی لیکن ان کاظلم و ستم مسلمان سہہ چکے تھے۔ سورہ حدید کی آخری آیت میں بنی اسرائیل کے طاقتور ہونے کے بعد اورمسلمانوں پر مظالم کے بعد آیت کے ٹھوس مفہو م سے یہ اخذ کرنا چاہیے تھا کہ مسلمانوں پر بہت مظالم ہوچکے ہیں ان کی خلافت توڑ ی گئی اور مظالم کئے اب پھر اللہ حکومت دے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شاگرد علی قاضی گورنر بصرہ ابوالاسود الدولی اُمت کا بہت بڑا محسن

تبلیغی ڈانسر مہک ملک کا مولانا خرم کو پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر بہت فالورز ہیں تو ملنے کی خواہش ظاہر کی، ڈیرہ پر ملا تو مہک نے کہا کہ آپ ہوں توتبلیغ میں نکلتی ہوں ۔ مولانا نکلے تو پولیس وین کھڑی تھی ۔ ایک پولیس اہلکار مولانا کے محلے کا تھا۔ وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ مسجد کا خطیب کہاں؟۔ پولیس نے کہا کہ اس شرط پر ہم جانے دیں گے کہ مہک ملک سے ہمیں بھی ملاؤ۔

نندور ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مولانا نے کہا کہ ” اگر عورت بچہ جن رہی ہو تو مواد نکلنے سے پہلے جتنا بچہ باہر نکلا ہو تو نماز پڑھنا فرض ہے”۔ ایک عورت نے کہا کہ ” تمہارے اندر مولی ڈالتی ہوں تو دیکھتی ہوں کیسے نماز پڑھتے ہو؟”۔

عربی گرائمر کے بانی خواجہ سرا تھے۔انگریزیG,I,Cکی مختلف آوازیں ہیں ۔ انگلش بغیر معانی ہوCatاورIceکا فرق کیاہے؟۔ انگریز کیلئے مشکل نہیں ۔ زبان سمجھے بغیر کیٹ (بلی) اور آئیس(برف) پر ثواب ملے تو تلفظ کا کیا ہوگا؟۔ مثلاًCکے اندر نقطہ تو کاف اور بغیر نقطہ سین پڑھا جائے۔GاورIپر نقاط مختلف آوازوں کی شناخت ہو۔ جن کو انگریزی نہیں آتی ہے تو حروف کی مختلف آوازوں کے قواعد لکھے ہوئے ہیں۔

جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پھیل گیا تو قرآن کو پڑھنا عجم کیلئے بڑا مسئلہ تھا۔ مثلاً حاجی کے لفظ کو ” حاحی” لکھتے تو بھی عربی ”حاجی ” پڑھتے مگر عجم ”خاخی، خاجی، جاحی اور حاخی پڑھتے۔ امام علی نے ابوالاسود الدولی کو عربی گرائمر کی تعلیم دی۔ اگر عربی پر اعراب و نقاط نہ ہوں تو عجم کیلئے ہی نہیں عرب کیلئے بھی مشکل ہوتی۔ خان عبدالغفار خان نے اپنی آپ بیتی میں لکھاہے کہ ” ہمیں علماء قاعدہ پڑھانے کے بجائے براہ راست قرآن پڑھاتے تھے۔موٹا ڈنڈا ہوتا تھا اور خوب مارتے تھے۔ جب میرا قرآن ختم ہوا تو والد نے بڑی دعوت رکھی تھی”۔

مفتی محمد امجد علی قادری ”تعارف امام ابوحنیفہ: بشارات و اقوال کی روشنی میں” لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے مقام، شان، فضائل، مناقب پر مختلف احادیث رسول (ۖ) اور اقوال ائمہ کرام ، مفسرین ، محدثین ، اہل مذہب اور صوفیاء کرام نے بیان کئے ۔ دعائے مولائے کائنات شیرخدا رضی اللہ عنہ:

(1):اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت فرماتے ہیں کہ

حضرت ثابت بچپن میں حضرت علی المرضیٰ شیر خدا کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپنے ان کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے برکت کی دعا فرمائی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرمالیا ہے اور (اس کا نتیجہ حضرت امام ابوحنیفہ ہیں)

(11):حضرت سخی سلطان با ھو ارشاد فرماتے ہیں :

یادرہے کہ اصحاب کرام ۖ کے بعد فقر کی دولت دو حضرات نے پائی۔ ایک غوث صمدانی شاہ محی الدین عبدالقادر (قدس سرہ) اور دوسرے امام ابوحنیفہ کوفی جو ایک تارک دنیا صوفی تھے ۔ آپ نے ستر برس تک کوئی نماز قضا کی نہ روزہ۔ کیونکہ ان اعمال کی قضا بندے کو اہل دنیا کا ہم نشین بناتی ہے۔

(12):آپ مشکل سے مشکل مسئلے کو اتنی آسانی سے حل فرماتے کہ بڑے علماء حیران ہوجاتے،

کس قدر عقلمند تھے ؟ اس کا اندازہ امام شافعی کے اس فرمان سے لگا لیجئے کہ” عورتوں نے امام اعظم ابوحنیفہ سے زیادہ عقلمند شخص پیدا نہیں کیا”۔

اورنگزیب عالمگیر مغل بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے یہ لکھا کہ ” امام ابوحنیفہ کے نزدیک عربی میںنماز پڑھنے پر قادر ہونے کے باوجود بھی فارسی میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے اور اس کی علماء نے ایک وجہ یہ لکھی ہے کہ امام ابوحنیفہ ایک بہت ہی بڑے اللہ والے تھے اور عربی کی خوبصورت قرآت سجاوت اور الفاظ کی بناؤٹ کو بندے اور اللہ کے درمیان مخل سمجھتے تھے جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے فارسی پر تلفظ فرمایا ہے”۔

جب تک کوئی امام ابوحنیفہ کے مذہب کی بہتر تاول پیش نہیں کرتا تو مدارس کے نصاب تعلیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

میرے بہت معتمد ساتھی منیر احمد عباسی نے خواب دیکھا:

”میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہوں اور بہت بڑا میدانی علاقہ ہے ،اس جگہ پرگھوڑوں پرلوگ جمع ہورہے ہیں جنگی سامان کیساتھ، پھر اچانک ایک شخص گھوڑے پر سوار پہنچتا ہے ،انکے بال لمبے تھے اور غالباً سفید رنگ کا عمامہ سر پرتھا ، ہاتھ میں تلوار تھی تو دوران میں نظر ایک اونچی دیوار پر پڑتی ہے اور میرے ذہن میں القا ہوتا ہے کہ یہ شخص حضرت علی ہیں ،یہ تقریبا14سو سال سے حالت جنگ میں ہیںاور وہ (حضرت علی) اور ان کا لشکر اس دیوار کے پاس آکر رک جاتا ہے۔ پھر جب میری آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہورہی تھی۔ منیراحمد عباسی کورنگی کراچی

جنگ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علی کے ساتھی ابوالاسودبعثت نبوی سے16سال پہلے پیدا ہوئے۔ بصرہ کے قاضی رہے اورپھر گورنر بنے۔ قرآن پر اعرب لگادئیے تو بغیر سمجھے قرآن پڑھنا آگیا ۔ امام ابوحنیفہ نے نماز بغیر سمجھے پڑھنے سے فارسی میں سمجھ کر پڑھنا بہتر قرار دیا۔ جس میں صراط الذی انعمتَ علیھم (تو نے انعام کیا)اور انعمتُ (میں نے انعام کیا) کا پتہ نہیں چلتا ۔جاہل یہ کفر بکتا تھا۔چوہدری افضل حق نے لکھا: ہماری مذہبی زبان عربی، سرکاری انگریزی ، قومی اردو، مادری اپنی اسلئے پسماندہ ہیں۔ اللہ نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر قوم کی زبان سے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے لکھا کہ ” قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانا منع ہے یہاں تک کہ سمجھ میں آئے کہ کیا کہہ رہاہے لیکن جب معنی نہیں آتا ہو تو پھر عربی میں پڑھنے کے باوجود سمجھ نہیں آتا”۔

اورنگزیب بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے ”نورالانوار” میں امام ا بوحنیفہ کے مسلک کا لکھا کہ عربی سے فارسی میں نماز پڑھنا بہتراورنگزیب کا پوتا محمد شاہ رنگیلا بالاخانے پر ننگی لڑکیوں کے سینے پکڑپکڑ کر سیڑھیاں چڑھتا۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو علماء نے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور خوف سے کئی سال روپوش رہنا پڑا۔

منیراحمد عباسی کے خواب کی تعبیر پاکستان ہے۔

ایرانی امام علی کے نام لیوا مگر پیروکار نہیں۔ افغان طالبان امام ابوحنیفہ کے دعوایدار مگر پیروکار نہیں۔ :

الذین یجتنبون کبائر الاثم و الفواحش الا اللم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذ انشأکم من الارض و اذ انتم اجنة فی بطون امھاتکم فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO

”وہ جو بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتے ہیںمگر …بیشک تیرا رب بہت ہی وسیع بخشش والا ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں زمین سے نشوونما دی اور جب تم ماؤںکے پیٹ میں جنین تھے۔ پس تم اپنے آپ کو پاک مت سمجھو ، وہ تقویٰ کو زیادہ جانتا ہے”۔ (سورہ النجم آیت:32)

پشتو میں ”خو” استثناء کیلئے اور بے عیب کیلئے اور عربی میں ”الا”استثناء کیلئے ۔عربی لغت میں اللمم نہیں ۔ یہ لِمَ لِمَ لگتا ہے ۔ خواجہ سرا کو بچے چھیڑتے ہیں۔گھراور باہر عزت نہیں ۔ سرغنہ بدمعاش پناہ دینے کے عوض بدکاری کرواتا ہے، جنسی خواہش نہیںمگر جبری زیادتی۔ پولیس تشدد کرتی ہے۔ عورت مارچ میں ایک خواجہ سرا نے ”میرا جسم میری مرضی”کا پلے کارڈ اٹھایا تو مذاق بنایا ۔ گناہ صغیرہ کی تفسیرکی واسع المغفرةکا لفظ نفی کرتا ہے۔
سورہ فرقان میں شرک، قتل اور زنا کو سخت جرم قرار دیا لیکن توبہ اور اصلاح کے بعد گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی بشارت ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم خصی نہ ہوجائیں؟ مگر نبیۖ نے منع کیاپھر ایک کپڑے پر عورت سے نکاح کی رخصت دی اور یہ آیت تلاوت فرمائی ” اے ایمان والو! حرام نہ کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اور حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ حدسے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” ۔المائدہ87صحیح بخاری کی اگلی روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”جو تمہارے ساتھ پیش آنے والا ہے اس پر قلم خشک ہوا ہے۔ ابن عباس نے کہا کہ سعادتمندوں کا مقدر لکھا جاچکا ہے”۔

مناظرہ ہواتوملحد نے خدا کو مانااور عالم ملحد بن گیا۔ مولانا احمد رضا خان نے بچپن میں خواتین سے پردہ کیلئے قمیص سے منہ چھپایا ۔شلوار نہ تھی اوزار دِکھ گئے۔سعودی عرب نے وہابی اسلام نافذ کیا اور ایران نے شیعہ۔ ایران نے متعہ جاری رکھا ، عورتوں کو پردہ کروایا۔سعودیہ نے شیعہ کی پیروی میں مسیار بلکہ شاہ ایران کی یاد تازہ کردی۔ ہمارے افغانی بھائی پھنس گئے۔

دین میں جبر،رسولوں کی تفریق نہیں ۔ علماء کو رب بنانا منع مگر سودی نظام کو اسلامی قرار دیاتو کیا باقی ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا: اگر جریج راہب سمجھدارعالم ہوتا توجانتا کہ ماں کی آواز کا جواب دینا اپنے رب کی عبادت سے بہترہے۔ (بخاری) علماء نے اس سے یہ مولی والا فقیہ مراد لیا ہے مگر سمجھدار مراد ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختونوں کی موجودہ حالت اور اسکا حل:

میں کافی عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ پختونوں کو آنے والے اور موجودہ حالات کے حل کاتفصیلی مضمون میں سمجھانے کی کوشش کروں گا ۔ پختون اگر میری تجاویز پر عمل کرتے ہیں تو اگلے دس سالوں میں حالات کافی بدل چکے ہوںگے مگر ہم نے کافی محنت کرنی ہے اور آنے والی نسلوں کو کامیاب بنانا ہے ۔

سب سے پہلے سمجھ لیں کہ پشتون دنیا کی پہلی قوم نہیں جنہیں چین نصیب نہیں ہورہا اور مختلف دشمنوں کے نشانے پر ہے ۔ پہلے ہمارے بھائیوں آل یہود کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔ یہود کو ہر جگہ مار پڑ ی ۔ ہٹلر نے تو نسل کشی بھی شروع کی تھی۔یہودیوں اور ہم میں ایک مشترک صفت یہ بھی ہے کہ ایک جگہ آرام نہیں آتا اور قبضہ بڑھانے کی تاک میں رہتے ہیں ۔انسانی بقا کیلئے یہ ضروری ہے ۔ دنیا میں صرف طاقتور سروائیوو کرسکتا ہے ۔ پختون کا ایک صدی پہلے تک دنیا میں ایک نام تھا، ہم طاقتور تھے ۔ مگر پھر وقت بدل گیا ۔ دنیا میں کامیابی کا دارومدار ٹیکنالوجی ، اقتصاد اور تعلیم کی بنیاد پر ہونے لگا ۔ آل یہود یہ بات سمجھ گئے تھے ۔ اسلئے انہوں نے ہر ظلم کا سامنا کیا مگر خاموشی کیساتھ اپنے اقتصاد اور عصری علوم پر توجہ دینے لگے ۔کاروباری دنیا پر یہ راج کرنے لگے ۔ اپنے لئے الگ ملک بنایا اور عصری علوم کی بنیاد پر ایٹم بم بھی بنایا ۔ آج تھوڑی سی آبادی کے باوجود بھی سارے عرب ممالک بشمول پاکستان ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔

ہمارے حریفوں کو خدشہ تھا کہ پشتون عصری علوم اور اسلحہ سازی کے میدان میں اترے تو پورے خطے کوبدل سکتے ہیں، یوں مولویوں کی صورت میں ایک فتنہ ہم پر مسلط کیا ۔ ان کا کام پختونوں کو الجھانا تھا کہ گانڈ کس ہاتھ سے دھونا ہے ، استنجاء کا صحیح طریقہ کار کیا ہے ، ہمبستری کا اسلامی طریقہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ان مولویوں نے پشتون قوم کو یہ بھی سمجھایا کہ عصری علوم تو صرف نوکری یا ہنر کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ اصل علم تو قدوری و شروط الصلاة پڑھنا ہے اور ہم نے اگر آگے بڑھنا ہے تو صرف اسلامی علوم پر توجہ دیں ۔ عصری علوم فتنہ ہے ۔

یوں ہم سو سال پیچھے چلے گئے ۔ بدقسمتی سے جو مولوی حضرات یہ کہتے ہیں ان کی اکثریت کے بچے آج اعلی یونیورسٹیوں میں ہیں ۔ اسلامی احکامات کے مطابق ہر مسلمان پر اتنا علم فرض ہے کہ انہیں حرام و حلال کی تمیز ہو اور روزمرہ زندگی گزارنے میں کام آئے ۔ لیکن مولویوں کے مطابق آپ نے آٹھ سال تک مدرسے میں وہ کتابیں پڑھنی ہیں جن کا وجود پیغمبرۖ کے دور میں تھا ہی نہیں ۔

افغان طالبان حکومت قائم ہوئی تو کابل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کیلئے افغان حکومت کے پاس انجینئرز ہی نہ تھے ۔ یوں قطری انجینئرز نے ائیرپورٹ کو بحال کیا ۔ ہم نے اگر دنیا میں نام کمانا ہے ۔ طاقتور بننا ہے تو مذہبی ہونے کیساتھ عصری علوم پر توجہ دینا ہے ۔ ورنہ ہم مار کھاتے رہیں گے ۔ کچھ لوگ شکوہ کریں گے کہ تعلیم کے مواقع نہیں ۔ عرض ہے کہ افغانستان میں تو پختون نمائندہ حکومت ہے۔وہ عصری علوم کو مباح کہہ رہے ہیں تو پنجابیوں سے تو گلہ کا حق ہی نہیں بنتا ، باقی تعلیم میں فی الحال کہیں پر بھی رکاوٹ نہیں، اگر آپ بہانے بازی کریں تو الگ بات ہے ۔

ہمارا تعلیمی نظام یہودی سٹینڈرڈ کا نہیں مگر فی الحال اسی سے کام چلاؤ ۔آل یہود میں ہر مرد ، عورت و بچے پر مخصوص وقت تک فوجی ٹریننگ اور فوج میں سروس قانونا لاگو ہے ۔خالصتا یہودی طرز پر بچوں کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دیں ۔ تعلیم کیساتھ ہتھیاروں کی ٹریننگ انتہائی ضروری ہے مگر ہتھیار صرف دشمن کیخلاف استعمال کرنا ہے، بھائی ، بھتیجے یا تربور کیخلاف نہیں۔

تیسرا کام آل یہود نے یہ کیا کہ پیسہ سے دنیا کو کنٹرول کیا ۔ نارکوٹکس سے پیسہ اکھٹا کریں یا کسی بھی غیر قانونی کام سے مگر کوشش کریں کہ کاروباری دنیا میں ہماری اجارہ داری قائم ہو۔ کراچی میں دو افغان لڑے۔ ایک غریب ،دوسرا امیر ۔ امیر افغان نے زیادتی بھی کی تھی مگر( رینجرز نیم فوج ادارے )نے دولتمند افغانی کی طرف داری کی، غریب افغانی کی پھینٹی لگائی ۔ مضبوط اقتصاد طاقت کی کنجی ہے۔ پشتون قوم ڈیرنگ نسل ہے یعنی جو کام دوسرے نہیں کرسکتے وہ ہم کرسکتے ہیں اسلئے کوشش کریں پیسہ بنائیں ، اپنی اقتصاد کو مضبوط بنائیں ۔ اگر کوئی آپ سے زیادہ طاقتور ہے تو ان کو پیسوں کے ذریعے خریدیں۔

چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ کم بچے پیدا کرنے ہیں مگر باصلاحیت اور صحت مند بچے ۔ دس بے روزگار بچوں کو پیدا کرنے کی جگہ دو باصلاحیت اور قابل بچے پیدا کرنا ضروری ہے پنجاب سے اگر ہماری آبادی کم بھی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ باصلاحیت ، لڑاکو اور طاقتور ہونگے تو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔

پانچواں یہ کہ ملیشے یا فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ چھوٹے موٹے کاروبار اور فیکٹریوں پر توجہ دیں ۔ پختونوں کی ایک تنظیم ہونی چاہیے جو پوری دنیا میں پختونوں کیلئے کاروبار کے مواقع فراہم کریں ۔ فوج میں صرف لیفٹنینٹ اور آفیسر بھرتی ہونگے۔ سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے سے گریز کریں گے ۔

چھٹا کام ہم نے یہ کرنا ہے کہ پاکستان میں جتنی مسلح تنظیمیں ہیں ، انکے اوپر خاموشی اختیار کرنی ہے ۔ کسی کیساتھ پنگا نہیں لینا ہے ۔ صرف تعلیم اور اقتصاد پر توجہ دینی ہے ۔۔ اپنے بچوں کو برگر بچے ، یا بزدل بنانے کی بجائے انہیں لڑنا بھی سکھائیں مگر آل یہود کی طرح مضبوط اعصاب کے بچے پیدا کریں ۔

آپ کے گھر میں آئن سٹائن تو پیدا ہونے سے رہا ۔ اگر آپ نے دس بچے پیدا کئے ہیں اور سب کے سب مزدوری میں جھونک دئے ہیں ۔مزدور شخص کو اپنے دو وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے ۔ آپ ان سے عقل و شعور کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔

آپ کے سامنے رکاوٹیں آئے گی لیکن میری ان باتوں پر عمل کرتے ہوئے انشا اللہ اگلے دس سالوں میں ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں ہم پختونوں کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ دیوار سے لگانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ بہتر ہے کہ ہم جذباتی فیصلوں کی بجائے عقل و شعور کا راستہ اختیار کریں ۔
وماعلینا الالبلاغ المبین احمد حسین طوری حفظہ اللہ

عبدالغفار خان کے بڑے بھائی عبدالجبار ڈاکٹر خان پیدائش1882ء ۔ اعلیٰ طبی تعلیم لندن سے۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھرتی ۔ سبکدوش ہوکر میڈیکل کی پریکٹس شروع کی1930ء میں سیاست میں حصہ لینا1931ء سے1934ء تک جیل کاٹی۔1937ء میں صاحبزدہ عبدالقیوم کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیالیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد ڈاکٹر خان منتخب ہوگئے۔ کانگریس کے فیصلے پر پھرمستعفی ہوگئے ۔ پھر دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت بر طرف کردی گئی ۔6سال تک ہزارہ میں نظربند رکھا گیا۔1954ء میں مرکزی کابینہ میں لیا گیا۔ وزارت مواصلات کا قلمدان دیا گیا۔ اکتوبر1955ء میں مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔1957ء میں برطرف کیا گیا۔

خان عبدالغفار خان بڑے خان سیف اللہ خان کے بیٹے تھے جس نے بونیر پر قبضہ کیخلاف انگریز سے جنگ لڑی تھی۔ دادا کو اپنی قوم سے وفاداری کی وجہ سے افغانستان کے درانیوں نے حکومت میں ہونے کی وجہ سے پھانسی دی تھی۔ قوم کوتاریخ و حقائق اور مذہب کے اصل رنگ دکھائیں تو اعتدال آئے گا۔

رکھیو غالب اس تلخ نوائی میں مجھے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
٭٭٭

اوٹ پٹانگ
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھے
ایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے دیکھے
کانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علیحدہ تھے
روگ علیحدہ بستی میں تھے اور علاج علیحدہ بستی میں تھے
دو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھے
گنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھے
چاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھے
اوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھے
دریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیں
لنگوروں کی دُم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیں
چھوت کی ایک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کے کانوں میں
بھوکے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میں
روز کئی کانے بیچارے مرتے تھے بیماری میں
کہتے تھے راجا سوتا تھا سونے کی الماری میں
گھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھے
پیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھے
تب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجا
اور کالا چشمہ پہن کے سنگاسن پر آیا راجا
دکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیں
دیکھا اس نے کانا راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیں
جھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہے
جاکر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پشتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

شتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

1857 ء کے غدار خان اور نواب تھے محمود جان بابر کا یہ انٹرویو مثبت رحجان پیدا کرسکتا ہے لیکن تفصیلات عوام کے سامنے لائیں مزید

محمود جان: وقتا فوقتا ہم ایسی شخصیات سے ملتے ہیں جن کے پاس معلومات، احساسات اور ان کی آپ بیتیاں ہوتی ہیں۔ یہ خزانے اس لیے لائے جاتے ہیں تاکہ آپ انہیں دیکھیں اور آپ کو معلوم ہو کہ آج ہم جس حالت میں ہیں، یہ پاکستان جو بچا ہوا ہے، آخر کن لوگوں کی وجہ سے بچا ہے۔ جی سر، شکریہ۔

پٹھانوں کی تاریخ کے حوالے سے، اور آپ کی تحقیق کے حوالے سے، بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں سنی ہیں۔ یہ کام کیسے شروع ہوا جناب؟
ہارون الرشید: یہ کام1987میں شروع ہوا۔ اسلام آباد ایک سیمینار میں شریک ہوا جو کشمیر کی جنگ1947-48کے بارے میں تھا۔ بہت سارے مقرر اور بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ تقریباً سب نے برا بھلا کہا کہ اگر پٹھان کشمیر نہ آتے تو ہم سری نگر بھی فتح کر لیتے، ہم لداخ بھی پہنچ جاتے۔واقعی مجھے بہت حیرت ہوئی۔میں نے سوچا، کیا واقعی ہم اس طرح کے تھے؟۔

نامور صحافی محمود جان بابر: کیا وہ کشمیری تھے؟۔
جواب: نہیں۔ بولنے والے عام لوگ نہیں تھے۔ یہ چانسلر تھے۔سندھ اور پنجاب سے بڑے سینئر اور پڑھے لکھے لوگ تھے۔اس پر مجھے شدید احساس ہوا کہ یہ کیا بات ہے؟کیا واقعی ہم ایسے تھے؟۔میں واپس آیا اور اپنے بڑے بھائی ریٹائرڈ جرنل سے کہا کہ میں نے تو اپنے بڑوں سے یہ سنا ہے کہ آج آزاد کشمیر ہے، تو پٹھانوں نے آزاد کروایا۔لیکن وہاں جا کر ہمیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔

سوال: یہ بات ہم نے خود کشمیریوں سے بھی سنی ہے۔
جواب: کشمیری خود کہہ رہے تھے کہ یہ کام پٹھانوں نے کیا ۔میرے بھائی نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑائی میں جو پٹھان شہید ہوئے ، ان کو تلاش کرو۔وہ پٹھان جو بطور مجاہد اور لڑاکا، قبائلی آئے ۔ شہداء کے ناموں کی لسٹ ایک کتاب تیار کرو۔ میں نے کتابیں دیکھیں محسوس ہوا کہ پٹھانوں کی تاریخ مکمل نہیں ۔وہcomprehensiveنہ تھی۔ہر ایک نے اپنے قبیلے کے بارے میں لکھا وہ بھی بہتmediocreانداز میں۔ سرسری باتیں تھیں،shallowقسم کی گفتگو تھی۔میرا ارادہ تھا کہ اس کام کو زیادہ ایڈوانس سطح پر لے جاؤں۔ بہتomprehensiveشکل میں پیش کروں۔Research methodologyکے ذریعے۔اسلیے میں نے میں نےarchives visitکیے۔Peshawar Archive،Quetta Archive،Islamabad Archive۔کیبنٹ ڈیویژن سیکریٹری صاحبزادہ امتیاز سے درخواست کی اصل حقیقت چاہیے۔انہوں نے اس طرح مدد کی کہ لندن میں ہماری انڈین آفس لائبریری کی مائیکرو فلم منگوائیں۔ان مائکرو فلمز کی مالیت کروڑوں میں تھی۔ انہوں نے کیبنٹ ڈویژن میں نیشنل ڈاکیومینٹیشن سینٹر بنایا، وہاں سے میں نے معلومات حاصل کی۔میں نےgazetteers، ہماری جتنی پرانی کتابیں تھیں، افغان میگزین دیکھے۔Gazetteersمیں وہ تمام خطوط ہیں جو ایکدوسرے کو لکھے گئے ۔ کچھgazetteersمیں اس وقت کی خاندانی ہسٹری ،کچھ میں قبائلی ہسٹری ہے۔ہر ضلع کا الگgazetteerہے اور ان کی دو تین اقسام ہیں۔پھر ان کی سپلیمنٹ رپورٹس ہیں۔ سپلیمنٹ رپورٹس سے کسی قبیلے کے بارے میں بہت اندر کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

سوال: میں آپ کی ریسرچ کے ذرائع بھی ساتھ ساتھ سمجھنا چاہ رہا ہوں؟۔
جواب: انگریزوں کی جو یہاں موجودگی رہی ،1848کے بعد، انہوں نے بہت اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔بطور مثال ایک ہیںDoctor Bell۔
Doctor Bell first Afghan war میں گئے تھے، جو1839سے1842تک ہوئی۔وہdoctorلیکن وہ جوان کیپٹن بھی تھے۔قندھار میں جو بادشاہ کی بہت اچھی لائبریری تھی، انہوں نے وہاں سے ساری کتابیں اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیں انہوں نے پٹھانوں پر چھ کتابیں لکھیں۔
Races of Afghanistan اور اسی نوعیت کی دوسری مختلف کتابیں مشہور انگریز مصنفین نے لکھی ہیں۔ ان سب کی ایسی کتابیں ہیں جو بڑی محنت سے لکھی گئی ہیں۔اور ان میں آپ کو سچ نظر آتا ہے۔

سوال: کہتے ہیں انگریز نے ہماری تاریخ کو مسخ کیا، تعصب کے ساتھ لکھا۔
جواب: انگریزوں کی بہت سی کتابوں میں پٹھانوں کی تعریف بھی دیکھی۔ یہ الگ ہے کہ جب ہمارے لوگ انکے غلام بن گئے،چند فیملیاں جن کو انہوں نے نواب بنایا، خان بہادربنایا،ان خاندانوں کے بارے میں انہوں نے غلط باتیں لکھی ہیں۔لیکن پٹھانوں کے بارے میں مجموعی طور پر غلط باتیں نہیں لکھیں۔

سوال: پٹھانوں کے بارے میں نہیں، مخصوص خاندانوں کے بارے میں؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ ایک مثال دیتا ہوں1857کی جنگ شروع ہوئی تو پشاور میں چار انگریز افسر تھے۔Edwards،Nicholson،اور دو اور افسر تھے۔Edwardsکا نام آج اسی کے نام پر ہے۔ان چاروں کوGovernor General، جو لاہور میں تھا، نےorderدیا کہ آپ لوگwithdrawکریں۔Edwardsنے کہا کہ نہیں کرتا۔اس نے وہ صوبیدار میجرز کو، جو باغی پلٹنیںتھیں،ان کو چوک میں پھانسی دے دی۔اس کے بعد جتنے بھی خان تھے،وہ سب اس کے پاس حاضر ہو گئے۔انہوں نے کہا:ہم حاضر ہیں، ہمیں حکم دیں، ہمیں حکم دیں۔اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے،جو آج شیشے میں پڑی ہوئی ہےarchivesمیں،وہ لکھتا ہے:
Now the Khanzadas, the Wazirzadas, the Nawabzadas they are waiting outside and they want to be enrolled.
پھر اس نے ان تمام لوگوں کی تفصیل لکھی جو اس قسم کے تھے۔اس بات سے واقعی میرے دل میں درد تھاجبکہ اصل پٹھانوں کی تاریخ پہلے تو اتنی مسخ نہ تھی لیکن اب لوگ اسے مسخ اور غلط باتیں شامل کر رہے ہیں۔ دس سال صرف مواد کے حصول پر لگائے۔ جتنی پرانی کتابیں تھیں،ہر والیم پر میں نے ہزارannotationsدی ہیں ہر صفحے پرannotationsہیں۔یعنی ایک کتاب میں ہزارannotationsہوں گی،جن میں میں نے واضح کیا ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا،یہ کیوں ہوا تھا۔

سوال: آپ نے دس کتابیں لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟۔
جواب: جب میں نے مواد کا حصول کر لیااور تقسیم کیا،تو میں نے دیکھا کہ یہ بنیادی طور پر دس والیم بن رہے ہیں۔ہر صفحے پر حوالہ ،صفحہ نمبر دیا ہے،کتاب کا نامbibliographyمیں دیا ہے۔میں نے چار چار انڈکس بنائے ہیں۔

سوال: یہ تو میں اسلئے مانتا ہوں کہ جب کتاب کیauthenticityکی بات آتی ہے،تو میں نے امریکہ میں لوگوں سے سنا،میں نےEnglandمیں لوگوں سے سنا،وہ لوگ کسی کتاب کا حوالہ اس وقت تک نہیں دیتے۔
جواب: یہ کتاب پبلش ہوئے ایک مہینہ ہوا تھا،یہ2002کی بات ہے، مجھے امریکہ سے فون آیا۔وہ عورت جو بات کر رہی تھی،وہ چیئر پرسن تھی
Strategic Studies of America
کی۔اس نے کہاکہ وہ کوہاٹ آنا چاہتی ہیں اس کتاب کیلئے۔ اسی وقت War onTerrorبھی ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔اس وقت دھماکے ہو رہے تھے۔میں نے ہوم سیکریٹری سے بات کی ۔ انہوں نے کہا:Nothing doing، ہم اجازت نہیں دے سکتے۔میں نے اس خاتون کو کہاکہ آپ نہیں آ سکتیں،security problem ہے۔اس پر اس خاتون نے کہا:
This is none of your job. My government will look after me.
اور وہ آ گئیں۔وہ کوہاٹ آنا چاہتی تھیں،ہم نے پشاورمیں روک لیا، ہمارا سفیر ساتھ تھا۔پھر نیویارک سے ایک عورت آگئی، ناروے سے ایک عورت آئی وہ سب میرے گھر اس کتاب کیلئے ٹھہریں ۔
واجپائی مشرف کے دور میں یہاں آئے تو ساتھ تین چار لوگ آئے تھے، انہوں نے پہلے ہی کسی ذریعے سے مطلع کیا تھاکہ وہ مجھ سے اس کتاب کیلئے ملنا چاہتے ہیں۔وہ بھارت سے آئے تھے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس کتاب کو والیم کے لحاظ سے بڑا نہ سمجھیں۔
This is when you and you find references at every start reading it point
میں نے ہرfamilyکو اس میں شامل کیا ہے۔
I have not left a single group۔

سوال:یہ کتاب اب دنیا میں کس طرح دیکھی جاتی ہے؟سر، یہ واقعی بہترین کام ہے۔پوری دنیا میں لوگ اس کتاب کو مانتے ہیں۔وہ اسے پڑھتے ہیں،خاص طور پر پختونوں کو سمجھنے کیلئے اسی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے پختون اور افغان کو الگ الگ کیا ہے۔یہ کیسے؟۔
جواب: اصل میں،ایکraceکوdescribeکرنے کیلئے ہم دو طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ایکlegendaryطریقہ ہے،جو ماں باپ دادا، پردادا سے سنتے آئے ہیں۔دوسرا سائنٹفک طریقہ ہے۔ہم نے دونوں طریقوں سے پٹھان اور افغان کو الگ ثابت کیا ۔Legendaryطریقے میں ہم وہی باتیں کرتے آئے ہیںجو کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کاکوئیdemonstrative proofنہیں ۔ یہ باتیں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں۔ ہم طالوت علیہ السلام کو جد امجد مانتے ہیںافغانوں کا بھی۔ طالوت کے دو بیٹے تھے، ارقیا اور ارمیا۔ارقیا کا بیٹا آصف،ارمیا کا بیٹا افغان ۔ بخت نصر کا ظلم شروع ہوا،یا یہودیوں پر ظلم ہوا،تو افغان بھاگ کر افغانستان غور میں آباد ہو گیا۔ ارقیا کا بیٹا آصف حجاز گیا۔ اولاد میں خالد بن ولید بنی آصف بنے۔ ادھر جو افغان تھا، قیس عبدالرشد طالوت علیہ السلام سے37ویںنسل میں آتا ہے۔ قیس عبدالرشید کے3بیٹے تھے:سرنن، غرغشت اور بیٹن۔ سرنن بڑی قوم ہے اس میں چھ سات قبائل ہیں، درانی، شیرانی، ترین یہ سب اس میں آتے ہیں۔

اور اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام متو تھا۔متو کا خاوند ترک تھا، لیکن اسے قیس نے پالا تھا۔ اسی خاندان میں اس کی شادی ہو گئی۔اس سے نیازی، لودھی اور دوسرے لوگ پیدا ہوئے جن کو ہم تھوڑا سا کم سمجھتے ہیں۔پٹھانوںکے بڑوں نے انہیں قبول کیاکہ ہم انہیںhalf Pathanمان لیتے ہیں۔لیکن جو آج کے پٹھان ہیں،وہ اسlegendaryشجرے میں نہیں آتے۔ پٹھانوں کا شجرہ کران سے بنتا ہے۔ کران کون تھا؟اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ افغانستان کے علاقے میںجہاں قیس عبدالرشید رکے رہتے تھے،ان کا ایک پوتا تھا عبداللہ اُرمڑ۔اسے ایک جگہ ایک بچہ ملا جہاں پر ایک قافلہ رات کو رکا تھا، اور ان کا ایک بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ شیر خوارتھا۔اس کا نام کران رکھا۔ قیس عبدالرشید نے اس بچے کو پالا اور اپنے خاندان میں اس کی شادی کر دی۔ اس کی اولاد کوپٹھان کہا جاتا ہے۔ اس لیے پٹھانوں کا یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہlegendaryروایت ہے۔اب سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

سائنسی تحقیق اور جدید مصنف یہ کہتے ہیں کہ افغانوں کاnucleusان کاSemiticہے۔ لیکن ان کےperipheralعلاقوں میںدوسرے قبائل شامل ہوتے گئے۔افغانوں کے بارے میںماڈرن مصنف کہتے ہیں کہ گندھارا کے علاقے میںAryansآئے ہیں انڈو پاک میں۔ ان کے چار قبائل اس علاقے میں رہ گئے جو آج پاکستان کی طرف ہے۔ گندھارا،پشاور، تیرہ ویلی اورDeadshiوہ نارتھ میں تھی۔ جو گندھاری تھے وہ آباد تھے پشاور کی وادی میں۔یہ پانچویں صدی عیسوی کی بات ہے۔اس زمانے میںWhite Hunsآئے۔White Hunsکون تھے اور ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کا مذہبMagian religionتھایہ بدھ مت مذہب تھا۔ اس وقت بدھ مت اس پورے علاقے میں بہت پھیلا ہوا تھا۔ بامیان کے بڑے مجسمے بھی بدھ مت کے تھے۔ان کوWhite Hunsنے یہاں سےshiftکیا۔یہ لوگ ہلمند دریا کے کنارے چلے گئے،اور وہاں انہوں نے اپنیsettlementبنا لی۔ انہوں نے اپنی نئی بستی کا نام گندھار رکھا، جو بعد میں قندھار کہلایا۔ ان کے پاس ایک پیالہ تھا جو بارہ فٹ قطر کا تھا اور وہ پتھر میں چٹان کاٹ کر بنایا گیا تھاکہا جاتا ہے کہ اس میں گوتم بدھ نے غسل کیا تھا۔ یہ ان کیلئے مقدس تھا۔وہ ہاتھیوں پر رکھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔یہ آج کابل کے میوزیم میں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اس کے اندر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔ جب یہ لوگ وہاں گئے تو اس علاقے میںافغان پہلے سے آباد تھے۔ شروع میںدو تین سو سال تک ان کا آپس میں کوئی ملاپ نہیں ہوا۔ بعد میں ان کا ملاپ شروع ہوا۔ پشتو زبانAryanتھی۔ یہEast Iranian languageتھی، یعنی قدیم فارسی سے جڑی ہوئی۔ میں نے اس پر ایک ٹیبل بنائی ہے۔ اگر آپ اس کی فوٹو بھیج دیںتو میں آپ کو دے سکتا ہوں۔ جب انکا آپس میں ملنا جلنا ہوا تو گندھاری مسلمان ہو گئے۔انہوں نے اپنی زبان افغانوں کو دے دی۔اس طرح پشتو وہاں منتقل ہو گئی۔اس میں جو شادیاں ہوئیں تو باپ افغان ہے اور ماں گندھاری ہے تو وہ سیکنڈ کلاس افغان کہلاتا ہے۔اس میں یوسفزئی، خلیل، مہمند اور کئی دوسرے قبائل آتے ہیں۔جہاں پہ باپ اور ماں دونوں افغان ہیں وہ فرسٹ کلاس ہے اور اس میں درانی، شیرانی اور ترین یہ اس میں آتے ہیں۔

سوال:یہ لوگوں کو جب پتا چلے گا اور آپ یہ باتیں کرتے ہیں تو کوئی ناراضگی کسی نے کبھی کسی نے کانٹیسٹ کیا کسی نے ؟۔ چیلنج کیا کسی نے ؟۔
جواب: چیلنج آج تک کسی نے نہیں کیا ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں جو میں خود ڈر رہا تھا اور مجھے بڑے لوگوں نے کہا تھا کہ اس طرح مت لکھنا۔ میں نے خوشحال خان خٹک کے خلاف لکھا، خٹک نے جرگہ کیا میرے برادر اِن لا تھے جان بیکری والے امجد۔ تو اس کے پاس گئے کہ یار اس کو منع کرو کہ یہ بات لکھ رہا ہے تو میں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے نہیں لکھوں گا جو خوشحال خان خٹک نے خود کہا ہے میں وہ کوڈکروں گا، جو افضل خان خٹک نے لکھا ہے میں اس کو کوڈکروں گا۔ ایک اعتراض کیا ڈان اخبار میں ایک کوئی رائٹر تھا کہ پٹھان بہت ہی گندے لوگ ہیں اور انہوں نے بڑا پنجاب میں ہم لوگوں کو مارا ہے احمد شاہ ابدالی کو کہا انہوں نے۔ پشاور کے کچھ ڈاکٹر وغیرہ نے مجھے فون کیا اس کا جواب دو۔ میں نے پورے ڈان کے پیج کا جواب دیا اور میں نے اس کو یہ کہا کہ میں اپنی پٹھان والی آتھر کی کتاب سے کوڈ نہیں کروں گا جو پنجابیوں نے میرے پٹھانوں کے بارے میں لکھا ہے میں وہ کوڈ کروں گا۔ اور یہ اس کو دیکھ کے بلوچ والوں نے لکھا کہ جی پٹھانوں نے ہم کو مارا ہے اور بڑے خراب لوگ ہیں اس کا جواب بھی میں نے دیا کہ میں بلوچ کی کتاب سے آپ کو کوڈ کروں گا پھر تیسرا آیا پھر چوتھا آیا وہ انکاؤنٹر شروع ہو گیا ڈان اخبار میں۔ ہم پھر آسٹریلیا سے کسی نے لکھا کہ یار اس نے ساری باتیں بتا دی ہیں ابھی اس کا پیچھا چھوڑو وہ تب ختم ہوا۔

سوال: ٹھیک ہے کانٹیسٹ بھی ختم ہوا چیلنج جو کیا وہ بھی ناکام ہوئے آپ نان پختونز کو کیسے ڈیفائن کرتے ہیں ؟۔
جواب: یہ بات میرے لیے مشکل تھی لیکن ایک ریس جو ہے نا ریس جینیٹک ہوتی ہے
it isnot acquired
ہمacquiredچیز جینز میں نہیں جاتی۔ ایک انگریز پشتو بول رہا ہے وہ پٹھان تو نہیں بن سکتا، سید کا یہ شجرہ ہے تو وہ پٹھان نہیں ہو سکتا۔ گنڈاپور ، سواتی وہ پٹھان نہیں، پشتو بولتے ہیں پٹھان کا لفظ جو ہے نا یہ عام نام ہے۔ جو آدمی پٹھان کے علاقے میں رہ رہا ہے وہ اپنے کو پٹھان کہہ سکتا ہے جو پشتو زبان بول رہا ہے وہ کہہ سکتا ہے جو پٹھانوں کے ساتھ اس کا ریلیشن شپ ہے چاہے وہ پنجاب کا ہو کچھ بھی ہو ادھر رہ رہا ہے وہ کہہ سکتے ہیں تو یہ چار لوگ اس کو کہتے ہیں جینیرک نام۔ اصل پٹھان کون ہے اصل پٹھان وہ ہے جو ان سے نکلا ہے انڈو ایرین سے جو میں نے آپ کو بتایا ہے ۔

سوال: ٹھیک ہے۔ یہ جو اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں اور افغان کہتے ہیں ہندوستانی سلطنتوں کے جو زمانہ وسطی کے جو لوگ تھے کیا وہ ٹھیک کہتے ہیں؟۔
جواب: نہیںبہت ساری پرانی کتابیں انکے نام پڑھوں تو بہت ہیں وہ ان میںmisprintہیںیاintentionalیا غلطی سے۔ ایک آدمی کو تغلق بتا رہے ہیں کہ ترک تھے یہ تھے وہ تھے اور ان کا باپ جو تھا نا پٹھان ہے بھائی آپ ثابت کر رہے ہیں لکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں کہhe is a Turkاس کو پٹھان کہہ رہے ہیں۔ غور والوں کو جنہیں غوری کہتے ہیں یہ پٹھان نہیںthey are Turks۔ ان کی کتابیں دیکھیں پٹھان لکھا ہوا ہے تو وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے وہ پٹھان نہیں ۔ خلجی ترک لفظ ہے اور غلزئی پٹھان ہیں اس کا شجرہ ہمارے پاس ہے۔ اپنے کو غلجی کہتے ہیں خلجی نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کسی پرانی کتاب میں لکھا ہے” الامرا” اس کو آگے لکھنے والے نے ”الامرا” کا ترجمہ جب کیا تو اس کو لکھ دیا لودھی۔ اچھا تو اس طریقے سے جب ان کی اصل فارسی زبان میں جو کتابیں ہیں جو پشتوں کی ہیں انکے ترجمے بڑے غلط ہوئے ہیں اسی لیے میں نےoriginalکتابیں پیدا کی ہیں۔تاریخ وہ جو ہے خورشید جہاں اچھا اور یہ حیات افغانی سولت افغانی یہoriginalمیں نے پیدا کی ہیں اور بڑے لوگوں نے میری مدد کی ہے۔ کوہاٹ کیsettlement reportمجھے انہوں نے کلکتہ سے منگوا کے دی ہے کہ1884کی۔

سوال: کن معیار کی بنیاد پہ کچھ خاندانوں کو اپنے اس کام میں شامل کیا ہے۔
جواب:1857کی مثال دوں گا۔ کوہاٹ میںcavalry wasادھر فوجی کیپٹن تھا۔ جوEdwardsنے پھانسی کر دیا تھا ان سب صوبیدار میجرز اور صوبیدار وغیرہ جنہوں نے بغاوت کی پوری پلٹن نے بغاوت کی لیکن اس نے ان کو پھانسی کیا تھا پھر سارے رام ہو گئے چاہے وہ جو بھی تھے جو پٹھان تھے۔

میں اس کا الگ نام نہیں لیتا لیکن یہ کیا نام ہےcavalry cavalryاس کیلئے مبارک شاہ بنوری اس وقت تھا تو وہ اس کے پاس پہنچ گیا جی حاضر ہیں ہمیں بتائیں۔ اس نے کہا جی خزانہ تو لاکھ روپیہ کا ہے اس کو بچاؤ۔ اس نے کہا بالکل بچاتے ہیں اور آرڈرآیا کہ تم جلدی پٹھان لوگrecruitکرو اور دہلی پہنچو۔ مبارک شاہ دہلی گیا جہاں مار دیا گیا۔ اس کے جسم اور انتڑیوں کو سمیٹ کر یہاں لایا گیا اس کا پورا محلہ ادھر پشاور میں آباد کیا گیا اس کا نام مبارک شاہ محلہ ہے۔ جو لوگ تھے ان کو پیسے چاہیے تھے پشاور کے لوگوں نے دیے جو خان تھے وہ ایسے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہو گئے
they said anything you want will provide you against pathans.

مسلمانوں کیلئے سوات کے جو بڑے تھے انہوں نےNicholsonنے کہا کہ جو ان کا سر کاٹ لائے50روپیہ انعام دیں گے ۔سوات کے مذہبی لوگوں نے انکے سر کاٹ کے دئیے۔ چمکنی گاؤں کے خان کو رنجیت سنگھ نے کہا کہ آدم خیل آفریدی کے50سر ہر سال مجھے مہیا کیا کرو۔ ہر سر پہ50روپیہ دیں گے۔ اگر نہیں دو گے تو پچاس روپیہ تمہارے کٹ جائیں گے اور جو بھی ملا اس کا سر کاٹا اس نے کہا جی آفریدی ہے اس کی رسیدیں میرے پاس ہیں۔

سوال: نہیں تو یہ آفریدی ٹارگٹ کیوں تھے؟۔
جواب: اسلئے تھے کہ آفریدیوں کی وجہ سے انگریز کوہاٹ سے بھی نکلے تھے ۔

سوال: یہ تو بڑا منصوبہ لگ رہا ہے سر اس کی تکمیل کب تک ممکن ہے؟۔
جواب: جی ابھی میں
last ninth and tenth volume
کر رہا ہوں اور یہی والیم ہے جس کیلئے میں نے سارا کام کیا ہے اسvolumeکیلئے کیاten volumeکیلئے۔
this is pathan and 1947 war
اس میں پٹھانوں نے کیا کام کیا؟۔ کیا انہوں نے قربانیاں دیں کس طرح لڑے؟۔ جرمن فوج جنگ عظیم دوم میں مشہور تھیblitzkriegتھوڑے وقت میں بہت علاقہ قبضہ کرنا۔ پٹھانوں نے اس ریکارڈ کو توڑا ۔ انہوں نے چار دنوں میں میں 80میل کا علاقہ فتح کیا۔

سوال : کیا پٹھان اس وقت ایک فارمل فوج کے طور پر لڑا؟۔
جواب: یہ قبائل تھے
they were gathered together by the peer of Manki Sharif.
جرمن آرمی تھی ان کی آرمی نہیں تھی لیکن ایک رات میں مظفرآباد فتح کیا اور دوسرے دن بارہ مولہ80میل تک پہنچ گئے ۔ جنرل اکبر ان کی گاڑیوں کا بتارہا ہے کہ یا ٹائر نکلا ہوتا تھا یا ایکسل ٹوٹا ہوتا تھا اور پھر وہ اتر کے اس کو ٹھیک کرتے تھے اور پھر آگے چلتے تھے۔ لیکن ان کو دیکھ کر ڈوگرا آرمی رک نہیں سکی۔شور ہوتا کہ پٹھان آ گئے۔

سوال : آپ کی سورس کیا کہتی ہے ؟۔ پٹھان لوگ تو کہتے ہیں کہ سری نگر بھی فتح کر جاتے اگر ٹیبل پر یہ جنگ نہ ہارتے تو۔
جواب: نہیں اس کی ایک خرابی ہوئی ہے ،بارہ مولہ سے سری نگر35کلو میٹر تھا۔ بارہ مولہ میں جو ان کے بڑے تھے میجر خورشید انور، میجر اسلم انہوں نے ان کو حراست میں لیا۔detainedالٹا پڑ گیا ہمارے لیے انڈیا نے کہا کہ یہ دو دن تک ریپ کرتے رہے ہیں لوٹ مار کرتے رہے۔ حقیقت یہ تھی کہ اس دن فیصلہ کرنا چاہتے تھے کہ بھائی ابھی سری نگر تو ہمارے پاس ہے ہم نے ابھی فتح کر لینا ہے اس کے بعد صدرکون بنے گا؟۔ اس پر لڑائی ہو رہی تھی۔

میزبان محمود جان بابر: جی دوستو! دیکھا آپ کو کیا مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا اتنی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی مجھے نہیں پتا تھا کہ ہم پختون کون ہیں کہاں سے آئے، کس کا شجر نسب اسرائیل کے ساتھ اور کس کا کس کے ساتھ ہے اور یہ کتاب آپ کو معلوم ہے ابھی ہمیں محترم ہارون رشید صاحب نے بتایا کہ جب یہ کتاب چھپی تو یہ اس وقت پاکستان کے تمام جتنے بھی سفارت خانے دنیا میں موجود ہیں ہمارے لیے کام کرتے ہیں فارن آفس نے انہیں کہا ہے کہ یہ کتاب اپنے پاس رکھیں گے اور یہ ان سب کو بھیج دی گئی ہے انہیں کہا گیا ہے اسے پڑھیں۔دنیا میں جہاں پہ بھی لوگ علم پر یقین رکھتے ہیں وہ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں سوائے ان کے جن کے بارے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے پختون خود۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ اللہ حافظ سماء ٹی وی چینل ڈیجیٹل
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غامدی کاقرآن پر جھوٹ کہ مسلمانوں کوقیامت تک اقتدار نہیں مل سکتاہے اور قرآن سے ٹکا کے جوابات

یہ میں محض فنون طبع کے طور پرنہیں کہہ رہا۔قرآن کہتا ہے تلک الایام نداولھا بین الناس ہم دنیا کے اقتدارکواسی طرح لائن میں ایک کے بعد دوسری قوم کو دے رہے ہیں۔ یہ وہ آخری زمانہ ہے جس کا قرآن نے بتایا کہ حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد اب قیامت تک حکمران رہے گی۔ یافث کی اولاد یںیہ ہیں جوابھی امریکہ ، آسٹریلیا ، یورپ ، وسط ایشیااور اسی طرح ہندوستان میں بھی بڑی حد تک آباد ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اب اسٹیج پر ان کو موقع دے رکھا ہے۔ مسلمان قومیں اپنا وقت لے چکی ہوئی ہیں۔ (جاویداحمد غامدی)

غامدی اللہ رحمان کی نہیں شیطان کی نمائندگی کرتا ہے۔

وقال الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعد کم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم وماکان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولومواانفسکم ما انا بمصرخکم و ما انتم بمصرخی انی کفرت بما اشرکتمون من قبل ان الظالمین لھم عذاب الیمOواُدخل الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات جناتٍ تجری من تحتھاالانھارخالدین فیھا باذن ربھم تحتھم فیھا سلامO

”جب فیصلہ ہوگا تو شیطان کہے گا کہ بیشک تمہارے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا حق کا وعدہ اور میں نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تو تمہارے خلاف کیا۔میرا تم پر کوئی جبر نہیں تھامگر یہ کہ تمہیں دعوت دی تم نے قبول کی۔پس مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود کو ملامت کرو۔ تم مجھے الزام نہ دو، میں تمہیں الزام نہیں دیتا۔بیشک جب تم مجھے شریک ٹھہرا رہے تھے تو پہلے ہی میں نے اس کا انکار کیا تھا۔ بیشک ظالموں کیلئے درد ناک عذاب ہے اورداخل ہوںگے جو ایمان لائے اور عمل کئے صالح باغات میں جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اللہ کی اجازت سے ہمیشہ اس میںہونگے اورخوش آمدید انکا سلام ہوگا”۔ ( ابراہیم:22،23)

الم تر کیف ضرب اللہ مثلًا کلمة ً طیبةً کشجرةٍ طیبةٍ اصلھا ثابت و فرعھا فی السمائOتوتی اکلھا کل حینٍ باذن ربھا و یضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرونOومثل کلمةٍ خبیثةٍ کشجرةٍ خبیثةٍ اجتثت من فوق الارض مالھا من قرارٍOیثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیاة الدنیا وفی الاٰخرة و یضل اللہ الظالمین ویفعل اللہ مایشائOالم تر الذین بدلوا نعمت اللہ کفرًا و احلوا قومھم دارالبوارOجھنم یصلونھا و بئس القرارOو جعلوا للہ اندادًا لیضلوا عن سبیلیہ قل تمتعوا فان مصیرکم الی النارOقل لعبادی الذین اٰمنوا یقیموا الصلاة و ینففقوا مما رزقناھم سرًا و علانیةً من قبل ان یأتی یوم لابیع فیہ ولا خلالO

”کیا تونے نہیں دیکھا اللہ پاک بات کی مثال کیسے دیتا ہے جیسے پاک درخت جس کی اصل ثابت اور شاخ آسمان میں جوہر وقت اپنا پھل دے اپنے رب کی اجازت سے ۔ اللہ مثالیں دیتا ہے تاکہ وہ نصیحت لیںاور خبیث بات کی مثال خبیث درخت کی جس کو زمین پر سے اکھاڑ پھینکا جائے جس کیلئے کوئی ثبات نہیں۔ اللہ ثابت کرتا ہے ایمان والوں کو قول ثابت سے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے وہ جو چاہے کرے۔ کیا آپ نے نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے تبدیل کیااور اپنی قوم کو تباہی کا حقدار قرار دیا۔ جہنم میں پہنچیں گے اور ٹھکانہ برا ہے اور انہوں نے اللہ کے برابر کیا تاکہ لوگوں کو اس کی راہ سے گمراہ کریں۔کہو کہ فائدہ اٹھالو! پس بیشک تمہارا ٹھکانہ آگ کی طرف لوٹنا ہے۔کہہ دو میرے ایمان والے بندوں سے کہ نماز پڑھو اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو چھپ کر اور اعلانیہ اس دن کے آنے سے پہلے جس میں کوئی تجارت نہ ہوگی اور نہ وقفہ ہوگا”۔ (ابراہیم24تا31)

جس دن اسلامی انقلاب کا بگل بجے گا تو دنیا میں یہ خبر ایسی پھیلے گی کہ تجارت کی جگہ پر لوگ خبریں اسکرین پر دیکھیںگے ۔ تجارت ہوگی ، نہ وقفہ ہوگا۔ انقلاب کیساتھ اللہ نے غامدی شیطان پیدا کیاتاکہ جیسے اسلام کی نشاة اول میں قرآن تازہ خبروں سے بھرا ہوا تھا ویسے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے تازہ ہے۔

اس شمارے میں جاوید غامدی کو قرآن سے ٹھوس جوابات اساتذہ اور استاذ قاری مفتاح اللہ صاحبکی تلمیذی کاثمرہ ہے۔

وہ درویش تھا اس درویش پہ مان کروں؟
ایسی درویشی پر میں درویشوں کو قربان کروں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سانحہ گل پلازہ کراچی

دل کے پھپھولے جل اُٹھے اس شہر کے باغ سے
نفرت پھیل رہی ہے معماروں کے دماغ سے

ایمر جنسی سلائیڈنگ ہو تو نذرآتش …۔
نوشتہ دیوار کے شاہد علی کا بیٹا، حاملہ بہو،14سالہ پوتا بھی جان ہار گئے۔
گھمبیر عمارتوں کیلئے ایمر جنسی سلائیڈنگ ابھی بنائیں!۔
حادثہ تقدیر کالیکن قاتل لالچی بلڈر ، بھتہ مافیا ، رشوت خور، بے حس حکمران ہیں۔
اللہ نے آنکھوں کو پلکوں سے سی نہیں دیا توعوام کو کیوں پنجروں میں جلاتے ہو،بد بختو؟۔
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرتھر پاؤل کی افغانستان پر کی گئی حیران کن ریسرچ

جاوید چوہدری نے زیرو پوائنٹ میں افغان جہاد کے حوالہ سے انکشاف کیاکہ

آرتھر پال امریکن تھا۔ اکاؤنٹس، بجٹ ، آفس مینجمنٹ کا ایکسپرٹ تھا۔ امریکی سیکریٹری آف اکنامکس کا اسسٹنٹ اور اکنامک وارفیئر کا چیف رہا۔ وہ 1960 ء میں ایشیا فاؤنڈیشن میں شامل ہوا اور افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کا اکنامک ایڈوائزر بن گیا۔ظاہر شاہ نے 40 سال 1933ء سے 1973 تک حکومت کی ۔آنکھوں کے آپریشن کیلئے روم گیا تواس کی غیر موجودگی میں اسکے کزن سردار داؤد نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ جسکے بعد افغانستان میں وہ خونی کھیل شروع ہوا جو آج 52 سال بعد بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ آرتھر پال نے ظاہر شاہ کو آزاد معیشت کا ماڈل بنا کر دیا۔ اسکے مشورے پر خواتین کو حقوق دیے، یونیورسٹیاں اور زنانہ کالج بنائے اور معاشرے کو مزید لبرل کیا۔ آرتھر پال کی وجہ سے افغانستان روس سے دور اور امریکہ کے قریب ہونے لگا۔ یہ دوستی روس کو پسند نہیں آئی۔ چنانچہ اس نے سردار دؤاد سے سازباز کرکے تختہ الٹ دیا۔ داؤد خان افغانستان کا پہلا صدر بن گیا۔

تبدیلی کے بعد کشمکش شروع ہوئی۔1978میں سوویت یونین نے افغانستان میں داخل ہو کر داؤد خان کو قتل کر دیا۔ یہ بعد کی باتیں ہیں۔ آرتھر پال ان حادثوں سے کہیں پہلے کابل آیا اور ظاہر شاہ کا مشیر بن گیا۔ بادشاہ کی قربت نے افغان آرکائیو تک رسائی دی۔ وہ تاریخی دستاویز کی تصویر یا فلم بناتا یا اہم معلومات اپنے پاس لکھ لیتا اور پھر خود یا کسی کے ذریعے اسے پاکستان بھجوا دیتا اور یہ کراچی کے راستے پی آئی اے کے ذریعے امریکہ پہنچ جاتی تھی۔ وہ روز ڈائری لکھتا جس میں افغانستان کے سفر، قبائل کی عادتوں، محل کی اندرونی صورتحال، روس کی مداخلت اور افغان معاشرے میں پلنے والی بے چینی کی روداد لکھتا تھا۔ اس نے محسوس کیا: افغان معاشرے میں استاد کی بہت عزت ہے۔ افغان سماجی طور پر کٹر مذہبی اور تاجر لوگ ہیں۔ یہ سرمائے اور مذہب دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ چنانچہ اس کا خیال تھا کہ اگر کسی نے افغانستان کو قابو کرنا ہو تو اسکے پاس تین کارڈ ہونے چاہئیں: مذہب کا کارڈ، اساتذہ کا کارڈ اور دولت کا کارڈ۔ پورا افغانستان پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گر جائے گا۔

آرتھر پال 5 سال افغانستان میں رہا۔ افغانستان کا چپہ چپہ چھان مارا۔ پوری افغان آرکائیو بھی کاپی کر لی۔ وہ 1965 میں کابل سے امریکہ واپس آ گیا۔اس کے پاس 20,000 دستاویزات تھیں۔ یہ افغانوں سے متعلق دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا۔ اس نے اس خزانے کی مدد سے 1965 میں سی آئی اے کو بتا دیا تھا کہ روسی ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیں گے جسکے بعد افغانستان میں خون کا کھیل شروع ہو جائے گا اور یہ پورے سنٹرل ایشیا کو نرغے میں لے لے گا۔ روس افغانستان کے بعد ایران اور پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایران کے پاس تیل اور گیس کے ذخائر ہیں، جبکہ پاکستان کی آرمی اور لوکیشن آئیڈیل ہیں۔ اگر یہ دونوں ملک روس کے ہاتھ آ گئے تو پھر یہ عربوں کو نگل جائے گا اور یورپ کو تین سائیڈ سے گھیر لے گا، جس کے بعد یہ دنیا کی واحد سپر پاور ہوگا۔

اس کا کہنا تھا کہ ہمیں فورا افغانستان، ایران اور پاکستان پر توجہ دینی ہوگی۔ خوش قسمتی سے تینوں ملکوں کے درمیان شیعہ اور سنی اختلافات ہیں۔ اختلافات کی یہ لکیر گہری کرنی ہوگی تاکہ اگر ان ملکوں میں انقلاب آ جائے تو بھی یہ مخالف فرقوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دست و بازو نہ بن سکیں۔ افغانستان کے اساتذہ کو ہاتھ میں لینا چاہیے۔ یہ مستقبل میں ہمارا بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے۔ آرتھر پال 1976 ء میں فوت ہو گیا۔ لیکن وہ 1970 کے شروع میں 20,000 کلیکشنز پر مشتمل یہ سارا خزانہ یونیورسٹی آف نیبراسکا کے حوالے کر گیا۔

یونیورسٹی نے سی آئی اے کی مدد سے 1972 میں اپنے کیمپس میں سینٹر فار افغانستان اینڈ ریجنل اسٹڈیز کے نام سے افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا تحقیقی سینٹر بنا دیا۔ یہ سینٹر آج تک قائم ہے اور اس میں افغانستان کی تمام خفیہ ، ظاہری دستاویزات ہیں۔ ان میں کابل دربار 1842، لارڈ لیتن1879 کی افغان وار ، لارڈ کرزن کی 1883 افغان جنگ میں برطانوی سپاہیوں کی قربانیاں،1895 کابل دربار، پٹھان بارڈر لینڈ، 1921 میں چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے حالات، ہرات سے لے کر خیوہ، خوارزم شاہ کا دربار، خیوہ پر روس کا قبضہ، غزنی سے کابل تک کی سیر، دوست محمد کا دربار، راجہ رنجیت سنگھ کے افغانستان سے متعلق نوٹس اور روس کی خیوہ پر 1840 کی مہم تک شامل ہے۔

آرتھر پال کی تحقیق اس حد تک سالڈ تھی کہ اس نے 1965 میں لکھاتھا کہ افغان 39 کے ہندسے کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں یہ ماضی میں طوائفوں کے جتھے کا نمبر تھا۔ چنانچہ اگر بد قسمتی سے آپ کی پراپرٹی یا گاڑی کے نمبر میں 39 آ گیا تو پھر یہ افغانستان میں نہیں بکے گی۔ آرتھر پال کی دستاویز پر مشتمل سینٹر نے افغانستان پر امریکی اثر و نفوذ میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ کی ہدایت پر ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے 16 اساتذہ کا انتخاب کیا۔ پاکستان بلایا اور جہاد کی ٹریننگ شروع کر دی۔ افغان جہاد کا بانی جنرل ضیا الحق نہیں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ میجر جنرل نصیراللہ بابر ابتدائی مجاہدین کے ٹرینرز تھے۔ یہ 16 اساتذہ افغانستان میں امریکہ کے کمانڈر ثابت ہوئے اور انہوں نے وہاں ایسی آگ لگائی جو آج تک نہیں بجھ سکی۔ نصیراللہ بابر پکے امریکہ نواز تھے۔ یہ بھٹو صاحب کے دور میں بھی گورنرKP اور بینظیر بھٹو کی پہلی اور دوسری حکومت میں وفاقی وزیرِ داخلہ رہے۔ بینظیر بھٹو انکے بیک گرانڈ سے واقف تھیں، چنانچہ وہ انتہائی اہم معلومات ان سے خفیہ رکھتی تھیں۔

مجھے جنرل حمید گل نے ایک بار بتایا کہ میں وزیرِ اعظم کی گاڑی میں انکے ساتھ بیٹھا تھا۔ نصیراللہ بابر اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ تھے۔ میں محترمہ کو افغانستان سے متعلق کچھ بتانے لگا تو بی بی نے اگلی نشست کی طرف اشارہ کرکے مجھے روکا۔ میں سمجھ گیا محترمہ اپنے وزیرِ داخلہ کی وفاداری سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس کی تصدیق میجر عامر نے بھی کی۔ یہ ماشااللہ حیات ہیں، آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔ 1978 میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا۔ امریکی روس سے براہِ راست جنگ نہیں چاہتے تھے۔ جنرل ضیا الحق ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو چکے تھے اور انہیں بھی دوسرے آمروں کی طرح بڑی جنگ چاہیے تھی۔ چنانچہ انہوں نے بھٹو صاحب کے ٹرینڈ کیے ہوئے 16 اساتذہ، گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، عبد الرشید دوستم اور عبد الرسول سیاف کی مدد سے افغان وار شروع کر دی۔ پھر سینیٹر چارلی ولسن کی وجہ سے امریکہ اور عرب بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے۔

امریکہ آج بھی افغان جنگ کو چارلی ولسن وار کہتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ افغان جہاد کوئی اسلامی جہاد نہیں تھا۔ یہ روس اور امریکہ کے مفادات کی جنگ تھی، جس میں نیبراسکا یونیورسٹی کے سینٹر فار افغانستان اینڈ ریجنل اسٹڈیز اور آرتھر پال کی دستاویزات کے ذریعے اسلام کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ امریکی مفادات کی کاشت کاری میں مصر، سعودی عرب اور کینیا کے جذباتی مسلمان نوجوانوں کو بطور کھاد استعمال کیا گیا۔ یہ کھیل سوویت یونین کی واپسی تک جاری رہا۔ روس کی واپسی کے بعد افغانستان کے نام نہاد مجاہدین آپس میں لڑ پڑے اور امریکی اسلحہ سے اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ افغانستان میں اتنا خون بہا کہ چھینٹے امریکہ تک پہنچنے لگے۔

بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر کو دوسری بار اقتدار میں لایا گیا اور انکے ذریعے آرتھر پال کا دوسرا مذہبی کارڈ کھیلا گیا۔ پاکستانی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ امام مہدی کا ظہور قریب ہے۔ یہ خراسان میں تشریف لائیں گے، انکی آمد کیلئے فضا ہموار کرنی ہے۔ یہ اسے حکمِ ربانی سمجھ کر چل پڑے۔ افغان وار لارڈز اس وقت تک لڑ کر تھک چکے تھے۔ طالبان آئے تو یہ چپ چاپ پیچھے ہٹنے لگے۔ یوں 1996 تک افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا جسکے بعد امریکہ و پاکستان نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن یہ سکھ بعد ازاں عارضی ثابت ہوا۔ طالبان اپنے انقلاب کو واقعی حقیقت سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ ہمیں قدرت نے پوری دنیا کی قیادت کیلئے منتخب کیا ۔ یہاں سے نیا تنازع شروع ہو گیا۔ وہ کیا تھا؟ یہ میں اگلے کالم میں عرض کروں گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ نومبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہ جنگ امریکہ چین ، اسٹیبلیشمٹ، پنجاب کس کی؟ لیکن یہ پختوں کی نسل کشی ہے۔ اخونزادہ چٹان

پیپلزپارٹی رہنما اخونزدہ چٹان نے کہا:2021 سے یہ جنگ ہم پہ کیوں مسلط کی گئی ؟۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ امریکہ اور چائنہ سی پیک کی لڑائی ہے، کچھ کہتے ہیں کہ یہ ڈالروں کی ہے، کچھ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، کچھ کہتے ہیں کہ پنجاب کا ہاتھ ہے ۔مقاصد جو بھی ہیں۔ ہمیں دو چیزوں کا پتہ ہے سب سے پہلا یہ کہ یہ جنگ اس ریاست کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلط ہوئی ہے۔ دوسرا ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ جنگ ہے نہ یہ دہشتگردی، اگر یہ دہشتگردی ہے تو صرف پختونخواہ میں کیوں ہے؟۔ پورے ملک میں کیوں نہیں ؟۔ کچھ کہتے ہیں کہ جنگ تو فریقین کے درمیان ہوتی ہے یوکرین میں لڑائی ہے اس میں یوکرین کے لوگ بھی مرتے ہیں رشیا کے لوگ بھی مرتے ہیں فلسطین میں لڑائی ہے وہاں پہ غزہ کے لوگ بھی شہید ہوتے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ اسرائیل کے لوگ بھی مرتے ہیں۔ یہ جنگ نہیں اس کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نسل کشی ہے۔ اس جنگ میں جو لوگ مرتے ہیں چاہے وہ فوجی ، مَلک، صحافی اور سیاسی نام سے ۔ ایک چیز اس میں مشترک پختون ہے ۔ بیوہ ، یتیم بچے پختون ہیں۔

ہم ایک چیز اور سمجھ گئے کہ یہ پختون کی جو نسل کشی ہو رہی ہے اس میں مفادات تو کچھ اور لوگوں کے ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک باجوڑی کے باجوڑی کے مارنے پر ایک نوشہرہ کے بندے کے نوشہرہ کے بندے کو مارنے پر اس کا کیا مفاد ہو سکتا ہے؟۔ مفاد چائنہ، امریکہ، اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کا جس کا ہمیں نہیں پتہ، شاید ان سب کے مفادات ہوں۔ شاید اس میں کسی کا بھی مفاد نہیں ہو شاید ایک فریق کا مفاد ہو لیکن جتنے لوگ ہمارے مر گئے وہ پختونوں نے مارے ہیں باہر سے کوئی بندہ نہیں آیا۔ اگر باجوڑ کا بندہ شہید ہوا تو اس کو باجوڑ کے بندے نے مارا ۔اگر مہمند کا کوئی بندشہید ہوا تو مہمندکے بندے نے مارا۔ باہر سے کوئی آیا نہیں۔

اب میں حل کی طرف آرہا ہوں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تین کام اگر ہو جائیں جس کیلئے ہم نے 2021سے کوشش کی۔ دھرنے دئیے ، امن پاسون کی، شہادتیں دیں۔ پہلا کام یہ ہے کہ یہ حکومت و ریاست اپنی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کو درست کرے۔ جب تک ریاست اپنی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کو درست نہیں کرے گی ہماری خطے میں امن نہیں آ سکتا کیونکہ یہ بدامنی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے نمبر ایک۔ دوسرا ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پشاور میں ریاست پورے ملک ہماری تمام قوموں نے ایک پلان نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ جب تک نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہوگا ہمارے خطے میں امن نہیں آسکتا۔ نمبر تین فاٹا جو مرجر میں سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات پہ عمل درآمد نہیں ہوگا ہمارے فاٹامیں یہ بدامنی اور دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ جتنی جدوجہد ہم کر سکتے تھے ہم نے کرلی ہم ناکام ہو گئے۔

اب ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟۔ جب تک ہم اپنے منتخب پختونخوا کی اور خصوصا قبائلی علاقوں کے منتخب نمائندوں پہ عوامی پریشر نہیں ڈالیں گے کہ وہ اس کو اپنا مقدمہ نمبر ون سمجھیں۔ابھی تک ہوا یہ کہ سیاسی اتحادی امن کمیٹیاں ہم لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں یہ لوگ آکر تقریر کر کے پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ پھر پیچھے نہیں مڑتے ہیں۔ نمبر دو ہمارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے میں نے بتا دیا کہ یہ پورے ملک کی لڑائی نہیں ہے نہ دہشت گردی ہے یہ صرف پختونوں کی لڑائی ہے۔ جب تک ہماری پختون لیڈرشپ پہ ہم عوامی پریشر نہیں ڈالیں گے اس کو نہیں اٹھائیں گے وہ اس کو اپنا مقدمہ نمبرون نہیں سمجھے گاتو امن نہیں آسکتا اور یہ کام ہم نے شروع کیا ہے۔ ہم مطمئن ہیں۔ باچا خان مرکز میں جو جرگہ ہوا تھا اس میں ہماری تمام سیاسی پارٹیوں میں جس میں ہر پارٹی کا صوبائی صدر شامل ہے ان کی ایک کمیٹی بنی ہے۔

آج اجلاس ہے باچا خان مرکز میں، مطالبات کو منوانے کیلئے پختونخواہ کی لیڈرشپ کب جائے گی اسلام آباد میں اور وہاں پر احتجاج کرے گی ریاست کے سامنے پارلیمنٹ کے سامنے کہ ہمارے ان مطالبات کو تسلیم کریں۔ تو ہماری پہلی خواہش یہی ہے پہلا مطالبہ بھی یہی ہے میں یہ نہیں کہتاکہ ہماری پختون لیڈرشپ نے کچھ نہیں کیا۔ سیاسی پارٹیوں نے کچھ نہیں کیا اور پارلیمنٹیرین نے کچھ نہیں کیا لیکن ہر ایک نے علیحدہ علیحدہ کوشش کی اور یہ علیحدہ علیحدہ کوشش سے نہیں ہوگا۔ اگر یہ کرنا ہے تو پختونخواہ کے جتنے پارلیمنٹیرین ہیں کراس دی بورڈ اس کا تعلق جس پارٹی سے بھی ہے وہ MPA، MNA سینیٹر ہیں۔ ایک پیج پہ آنا پڑے گا۔ اگر یہ ہمارے لیے علیحدہ علیحدہ آواز اٹھائیں گے علیحدہ علیحدہ اعلانیہ جاری کریں گے تو مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ آپ نے دیکھ لیا سینٹ کے الیکشن میں وہ لوگ جو کہہ رہے تھے کہ ہم ہاتھ نہیں ملائیں گے ہم مل کے نہیں بیٹھیں گے ہم مل کے نہیں چلیں گے اپنے مفاد کی خاطر آکربیٹھ گئے کہ نہیں بیٹھے؟۔ تو اگر اپنے مفاد کیلئے آپ لوگ بیٹھ سکتے ہیں تو ہمارے امن کیلئے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟۔ اگر خدانخواستہ آج باچا خان مرکزسے اعلان ہوگا کہ ہم امن مارچ کس تاریخ کو کر رہے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ہمیں سیاسی پارٹیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم قبائل اپنی خود کمیٹی بنائیں گے اور خود اپنے لئے جدوجہد کریں گے۔ بہت بہت مہربانی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا خانزیب شہید کا یہ انٹرویو الیکٹرانک چینلوں پر نشر ہونا چاہئے ،خان زمان کاکڑ کو بھی سن لیں

قیام امن باجوڑ سےPPPکےاہم رہنمااخونزادہ چٹان کا خطاب

تم ہمیں کافر سمجھ کر مارو مگرہم تمہیں مسلمان ، پختون اور اپنے بچے سمجھتے ہیں

ہم خوف زدہ ہوکر امن کا نعرہ نہیں چھوڑیں گے۔ ہم مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی اور تمام پختون لیڈر شپ کے سامنے جھولی پھیلائیںگے کہ ہمارے ساتھ اسلام آباد چلو۔اخونزادہ چٹان

باجوڑ پیپلزپارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان نے قیام امن خطاب کا آغاز پشتو اشعار سے کیاکہ جب تم حق کی راہ پر چلتے ہو،100دفعہ آگے گرپڑو اور اُٹھو تومیں نے ہزار پر تمہیں قربان کیا اور صدقہ کیا جب تم موت کے منڈیر پر پڑے ہو ہلتے ہو۔ میرے بھائیو! جب ہمارے دوستو ں نے اپنی شہادتیں پیش کیں تو ہمیں موت سامنے نظر آرہی تھی مگر اسکے باوجود ہم ان کیساتھ کھڑے تھے اور ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ میرے بھائیو ! آج میں اپنے شہداء کو مبارک باد پیش کرتا ہوںکہ تم نے اپنے خون کی قربانی دی مگر باجوڑ کی قوم کو جگادیا۔ مبارک ہو۔یہ تمہاری قربانی کی بدولت ممکن ہوا۔ بھائیو! مولانا خان زیب کیوں شہید ہوا؟ مولانا خان زیب اسلئے شہیدہوا کہ ہمیں وہ یہ پیغام دے رہا تھا باجوڑقوم کوکہ اگر تم امن کی بات کروگے تو تمہارا انجام یہ ہوگا جو مولانا خان زیب کا ہوا بھائیو ! یہ پیغام تھا ہمیں کہ نہیں ؟۔تم اپنی عوام اور اپنے بچوں کے امن کی بات کرتے ہوتو پھرتمہارا انجام وہی ہوگا جو آج مولانا خان زیب کا ہوا ہے۔ ہمیں آج یہی پیغام تھا ناں!۔ بھائیو!آج ہم باجوڑ کی قوم ان لوگوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر آج تم یہاں پر نہیں تو اپنے کان کاٹ لو!کہ میرے منہ کا احساس ٹھنڈا نہیں ہوا۔ ( تالیاں ، نعرے) بھائیو! ہم ان لوگوں کو پیغام دیں کہ تم مجھے قتل کرسکتے ہو لیکن خاموش نہیں کرسکتے۔ تم نے میرے متعلق بہت غلط اندازہ لگایا ہے۔ تم ہمیں ایک ایک کرکے مار سکتے ہو، ہم سے سینکڑوں، ہزاروں کو مار سکتے ہولیکن جس شعور کا سفر، جس امن کاسفر ، جس امن کا کاروان ہم نے جاری رکھا ہوا ہے ،اس کو تم نہیں روک سکتے ہو۔ (نعرے) بھائیو! اس روڈ پر اور اس مارکیٹ میں ہم سے100افراد کو شہید کیا گیاتو کیا ہم خاموش ہوگئے۔ ریحان زیب شہید ہوا۔ امن کا کاروان رک گیا؟۔ ہم سے اس روڈ پر مولانا خان زیب شہید کردیا گیا۔جس کی زندگی میں اس کاروان کو روکنے کی کوشش کی تھی تو آج یہ کاروان ہم نے پھر اس جگہ سے روانہ کیا۔ جن لوگوں نے خان زیب کو شہید کرکے ہمیں یہ پیغام دیا کہ یہ کاروان خوف کھائے گا ،یہ لوگ خاموش ہوجائیں گے،میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے یہ ہمارے بارے میں،ہماری قوم ، ہماری عوام کے بارے میںغلط اندازہ لگایا، باجوڑی بے غیرت نہیں،باجوڑی بزدل نہیں۔تم میرے باجوڑی کو مار سکتے ہو لیکن ڈرا نہیں سکتے۔ہم بزدلی کی زندگی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم بزدلی کی زندگی پر ….(لعنت …..)۔

ہم آج یہ آواز اٹھاتے ہیں ، کل بھی۔یہ اپنی جان، اپنے بچے کیلئے ہی نہیں،یہ جو تم ہمیں قتل کررہے ہو تیرے لئے بھی امن کی آواز اٹھاتے ہیں۔تیرے بچوں کیلئے بھی۔ میں مرتا ہوں تو تم کہتے ہو کہ کافر مردار ہوگیا، مجھے مسلمان نہیں مانتے۔مگر تم مرتے ہو تو مجھے دکھ پہنچتا ہے کہ آج ایک پختون کی بیوی بیوہ بن گئی۔جیسے اپنے اوپر غمزدہ ہوتا ہوں، ویسے تم پر ہوتا ہوںاسلئے کہ تم مجھے مسلمان نہیں سمجھتے لیکن میں تمہیں پختون سمجھتا ہوں۔تم مجھے مسلمان نہیں سمجھتے لیکن میں تمہیں باجاوڑی سمجھتا ہوں۔ تم مرتے ہو تو میں تم پر غمزدہ ہوتا ہوں جتنا اپنے بچے پر غمزدہ ہوتا ہوں۔جتنا اپنی جان پر غمزدہ ہوتا ہوں اسلئے کہ میں اس جنگ کو جہاد نہیں کہتا۔ جہاد تو فلسطین میں ہے اسرائیل اور مسلمانوں کے درمیان ، جہاد تو کشمیر میں ہے کافروں اور مسلمانوں کے درمیان۔جب مسلمان اور کافروں کے درمیان جنگ ہو تو اس کو جہاد کہا جاتا ہے۔میں نے مسلمانوں کے خلاف جہاد نہیں دیکھا ۔اس کو تو میں جنگ بھی نہیں کہتا، جنگ میں دونوں فریق کا نقصان ہوتا ہے۔ یوکرین میں یوکرین والا بھی مرتا ہے اور روسی بھی مرتا ہے۔فلسطین میں جنگ ہے ،اسلئے کہ اگر چہ فلسطینی زیادہ مرتے ہیں لیکن اسرائیلی بھی مرتے ہیں۔اسی طرح بھائی ! کل ہماری انڈیا سے جنگ ہوئی تھی۔ہم بھی مرتے تھے اور انڈین بھی مرتے تھے۔میں اس کو نسل کشی کے رنگ سے دیکھتا ہوں، تم مرتے ہو تو پختون ہو اور میں مرتا ہوں تو پختون ہوں۔ یہ نہ جنگ نہ جہاد ہے یہ نسل کشی ہے۔ یہ قوم کا خاتمہ ہے اور پختون کی بیخ و بنیاد کو اکھاڑنا ہے۔ آخری پیغام اپنے شہداء کو کہ وقت آگیا کہ ہم اسلام آباد کی طرف رُخ کریں مگر یہ اکیلے نہیں کرسکتے۔ یہ پختون قوم کا مسئلہ ہے لیکن شروع باجوڑ سے کریں۔ ہم گورنر کا گریبان بھی پکڑلیں،وزیراعلیٰ کا گریبان بھی پکڑلیں کہ اگر تم ہمارے صوبے کے گورنراور وزیراعلیٰ ہوتو تم نے آگے ہونا ہوگا۔مولانا فضل الرحمن، اسفند یار خان، محمود اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ کے سامنے جھولیاں پھیلائیں ۔ ان کو آگے کریں گے اور پیچھے ہوں گے انشاء اللہ۔ ان اشعار پر اجازت کہ اگر میرا سر گرگیا تو یہ کوئی عرش معلی تو نہیں ہے۔اگر حق میں نے چھوڑ دیا تو ماں کا دودھ حرام پیا ہوگا۔ اگر میرا سینہ چھلنی ہوگیا تو کوئی کعبہ تو نہیں ہے۔اگر خون کے قطرے گر رہے ہیں کوئی کنبہ تو نہیں ہے۔ موت تو وہی ہے کہ زندوں کیلئے کسی طرح کی یاد گار رہ جائے۔ غلامی کی موت دنیا میں کوئی رعب ودبدبہ نہیں ہے۔ حق کی آواز کبھی ہم نے چوری چھپے نہیں اٹھائی ہے۔اگر میرا سر گرگیا تو کوئی عرش معلی نہیں ہے۔ پرواہ اپنے سر کی نہیں کرتے،موت کاخطر نہیں کرتے ، نعرہ لر و بر نہیں کرتے۔ یہ قسمیں پاک اللہ کے نام پر کھائی ہیں،اگر حق چھوڑا تو ماں کا دودھ حرام پیا ہوگا۔

مولانا خانزیب شہید اور خان زمان کاکڑ کی ویڈیوز دیکھنے کیلئے معاذ خان کے چینل کا لنک درج ذیل ہے۔

https://www.youtube.com/@voicesnvisions

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شہداء31مئی 2007ء کو18 برس ہوگئے۔ بفضل تعالیٰ بہت بڑابریک تھرو ہوگیا۔ عبدالواحد نے آخرکارایک بہت بڑا”راز ” بتایا جس سے سراغ مل سکتا ہے!

یکم جون 2007ء کو جٹہ قلعہ گومل ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان ایک واقعہ قومی اخبارات میں شہ سرخیوں کیساتھ جنگ، ڈان ، مشرق اور تمام اخبارات میں رپوٹ ہوا کہ ”نامعلوم افراد نے 30اور 31مئی کی درمیانی شب خودکار اسلحہ بموں سے پولیٹیکل ایجنٹ خیبرایجنسی سیدامیر الدین شاہ کے گھرپر حملہ کرکے 14افراد کو ہلاک اور دوافراد کو زخمی کیا ،جن میں ایک بھائی پیراورنگزیب شاہ،بھتیجاارشد حسین ،ایک بہن، ایک بھانجی ، ماموں ازادحسام الدین شاہ،خالہ زاد پیررفیق شاہ ، امام مسجد حافظ عبدالقادر، خادم قاسم مروت، ایک محسود، ایک تبلیغی جٹ عالم دین اور خالد اوردو باپ بیٹے سمیت 3آفریدی شامل تھے”۔ افراد13تھے 14 رپوٹ ہوئے۔

حملہ آور 2 مارے گئے ۔ جب تک ممکنہ سہولت کاروں کا تذکرہ نہیں کیا تو چالبازی سے کچھ لوگ ہمیں گھمانے اور کچھ کے ملوث ہونے کی بات کرتے تھے ۔ میں نے پیر کریم کو اخبار میں اتنا پوچھا کہ وقوعہ سے پہلے معاملے کا ادراک تھا یا نہیں؟۔ کیونکہ اگر ادراک کے باوجود ہمیں نہیں بتایا تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے۔ پیرداؤد شاہ کا شک تھا کہ واقعہ سے پہلے گاڑیوں کی چیکنگ کررہے تھے۔اب عبدالواحد نئی بات سامنے لایا کہ ” کریم کے بیٹے نعمان کو واقعہ کی رات 11بجے مشکوک فون آیا تھا۔ جہاں مجھے رات گزارنے کیلئے عبدالرحیم نے لانا تھا”۔ لیکن پروگرام تو وڑ گیا تھا؟۔

جہانزیب نے کہا کہ مظہر کو میں جانتا ہوں اور وہ یہ کام نہیں کرسکتا ہے اور کریم کا بیٹا نعمان اس کا دوست ہے جس کا ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ واقعہ کی رات دونوں ساجد لوگوں کے پاس تھے ۔ جب ایک طرف سے یہ رپوٹ ہو کہ مشکوک ہیں اور دوسری طرف سے نہیں تو اسکے علاوہ کوئی بات نہیں تھی۔ مجھے شہریار نے بتایا تھا کہ ” واقعہ سے پہلے طالبان سے میٹنگ ہوئی اور ان کو ورغلایا گیا کہ ”یہ بڑے ظالم ہیں لوگوں کی بیویاں بچے چھین لئے ہیں”۔ یہ خیبر ہاؤس پشاور کی پہلی ملاقات میں بتایا اور مجھے وقوعہ کے روز بتایا گیاکہ ”یوسف شاہ کی بہن نے کہا کہ اگر عتیق الرحمن گھر میں ہے تو اس کو نکالو ،طالبان گھس رہے ہیںاور ہمارا نام خدا کیلئے مت لو ،ورنہ ہمیں اٹھا لے جائیںگے”۔

میں نے عورت کی عزت کیلئے مسئلہ الجھایا اوریہ کہ پتہ چلنا چاہیے کہ قاتل ، سہولت کار اور منصوبہ ساز کون ہے؟۔

مجھے اغواء برائے تاوان کا خدشہ تھااسلئے کہ اورنگزیب نے اظہار کیا تھا کہ ”مجھے قتل سے خوف نہیں ہے، اغواء سے ڈرتا ہوں اسلئے اغواء بہت بڑی بے عزتی ہے”۔

عبدالرحیم ،عبدالواحد نے بتایاکہ ”سبھی کے دماغ میں ہے کہ دوبئی میں ہماری جائیدادیں ہیں ۔ ماموں اور اپنے بھائیوں کے گھر والیاں کہتی ہیں”۔ کوئی اور ہوتا تو دماغ اس طرف جاتا کہ ”سارا مسئلہ گھر میں ہے اور سازش کا دائرہ ہو تو ماموں اور اپنے گھر کے گرد گھومتا ہے”۔یہ ایک زبردست ماحولیاتی آلودگی بنائی گئی تھی۔اتنی بات تو کنفرم تھی کہ ”اورنگزیب کا کراچی میں کاروبار تھا اور عبدالرؤف و نور علی کو کاروبار ختم کرنے کیلئے کہہ دیا تھا اور ناصر سے ڈن ہوا تھا۔ جس کا صرف عبدالرحیم اور بھائی امیرالدین کو ہی پتہ تھا”۔

پھر عبداللہ شاہ ایڈوکیٹ نے کہا تھا کہ ”میرے تینوں بھائی فراڈ کررہے ہیں ۔ عبدالرحیم اور نور علی کا خفیہ کاروبار نکلے گا۔عبدالرؤف کو بھی انہوں نے دھوکہ دیا ہے”۔ جب عبدالواحد نے کہا کہ ”منہاج زمین کے مسئلے پر سازش کررہا ہے۔ اکبرعلی کو بھی ساتھ کیا ہے۔ پہلے بھی ہمیں استعمال کیا اور پھر اپنے پیسے لوٹادئیے”۔تو میں نے نہیں کہا کہ ”تم کوئی گل چاہت ہو کہ تبلیغی جماعت پر الزام دھردیا کہ کسی نے نہ چھوڑا،جنسی خواہش پوری کی۔جس کا ازالہ نہیں ہوسکتا تو تم بھی منہاج کی طرح دلباری نانا کو پیسہ واپس لوٹاتے؟”۔

میری ایک تحریک ہے۔اگر اسلام اپنے آپ، اپنے گھر اور عزیزواقارب سے شروع کیا جائے تو سارے فتنے ایک دن میں ختم ہوسکتے ہیں۔ چوری کا علاج تبلیغی جماعت میں سہ روزہ، چلہ، چارماہ ، سال اور ڈیڑھ سال لگانا نہیں بلکہ وہ نظام ہے جس میں چور کیلئے ہاتھ کاٹنے کی سزا کا قانون ہو۔ بہنوں اور بٹیوں کی قیمت لگاکر بیچنا ایک ماحول ہو اور اسلام کا بھی جھنڈا اٹھالیا ہو تو یہ اسلام اپنے ساتھ دھوکہ ہے۔

مولانا طارق جمیل کو بتایا کہ ”اسلام اور اقتدار دو جڑواں بھائی ہیں۔ ایکدوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا”تو اس نے کہا تھا کہ ”یہ حدیث نہیں مانتا”۔ جماعت دو ٹکڑے ہوئی ۔ بنگلہ دیش میں قتل ،اب مولانا طارق جمیل کو منافق قرار دینا۔

اسلام کا اقتصادی اور معاشرتی نظام رائج کئے بغیر حکومتی نظام آئے بھی تو خاطر خواہ فائدہ نہیں ۔ جماعت اسلامی نے ریاستی قوت کیلئے ساکھ ختم کردی ۔ قابل لوگ نذر ہوگئے اور اسلام اور عوام کو فائدے کی جگہ نقصان پہنچا۔ لوگ مذہبی، مسلکی ، فرقہ وارانہ اور جماعت پرستانہ تعصبات کو ہوا دیتے ہیں میں اس کا کبھی قائل نہیں رہا ہوں۔ سیدایوب شاہ کی وجہ سے1970ء میں پہلا جھنڈا جماعت اسلامی کا تھاما تھا۔

مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد الیاس ، مولانا انور شاہ کشمیری، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی سے میرے اپنے دادا سیدمحمد امیر شاہ بڑے عالم تھے اور مولانا قاسم نانوتوی ومولانا رشیداحمد گنگوہیاور انکے پیر حاجی امداداللہ مہاجر مکی اور ا نکے شاگرد شیخ الہند اور انکے استاذ مولانا مملوک علی سے میرے پردادا سید حسن شاہ بابو بڑے عالم دین اورزیادہ قدآور شخصیت تھے۔ شاہ اسماعیل شہید، شاہ عبدالعزیز،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی سے زیادہ میرے اجدادسیدمحمود حسن دیداری سیدمحمدابوبکر ذاکر اور سید شاہ محمد کبیرالاولیائ کانیگرم جنوبی وزیرستان اپنے علم وعمل میں دیندار اور بڑے لوگ تھے۔

مولانا اشرف خان فاضل دارالعلوم دیوبند، مولانا شادا جان فاضل پنج پیراور مولانا محمد زمان کانیگرم کے علماء سے میرے والد پیرمقیم شاہ عام انسان صرف انسانیت کے حوالہ سے نہیں بلکہ قرآن وسنت اور اسلام کی سمجھ کے حوالہ سے اچھا فہم رکھتے تھے بلکہ چچاسید محمدانور شاہ بھی علم اور سیدمحمد صدیق شاہ ان سے زیادہ عمل کے بہت عمدہ نمونے تھے۔

مولانا محمد زمان وزیرستان کے500علماء کے امیرتھے اور مفتی عبدالغنی برکی محسودی پشتو میں قرآن کا ترجمہ کررہا ہے لیکن ان کے دین کی سمجھ ہماری پھوپھی ریاض شاہ کی والدہ سے بہت کم درجہ کی تھی۔ میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب ”ازالة الخفاعن الخفاء ” میں لکھا ہے کہ اللہ اپنے رسول ۖ کے ساتھ پوری دنیامیں اسلام کے غلبے کا وعدہ کیا ہے لیظہرہ علی الدین کلہ ”تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے”۔نبیۖ کے بعد قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست خلفاء راشدین کے ہاتھوں ہوئی اور آئندہ پوری دنیا میں اسلام کے غلبے کا وعدہ پورا ہونا ہے”۔(ازالة الخفا عن الخفاء ۔ شاہ ولی اللہ )

یہ کفر ہوتاتو فتویٰ مجھ پر نہیں شاہ ولی اللہ پر لگتا۔ میری پھوپھی پڑھی لکھی سمجھ دار تھیں۔ میں جیل میں تھا تو بتایا گیا کہ والدہ کو پتہ نہ تھا۔پھوپھی خالد کی شادی میں خوشیاں منانے پرافسردہ تھیں۔خوددار لوگ مفاد پرست نہیں ہوتے مگر دودھ پینے والے مجنون مفاد کی خاطر کٹورہ لئے پھرتے ہیں۔

مولانا اشرف خان نے اس عبارت کی وجہ سے بتایا کہ علماء نے کفر کا فتویٰ لگایا ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ 5 منٹ میں نہ مانے کہ یہ اسلام ہے تو میں مرتد کی سزا میں خود کشی ہی کرلوں گا لیکن اگر آپ مان گئے کہ تو جس نے فتویٰ لگایا ہے اس پر توت کا ایک ڈنڈا مار مار کر توڑوں گا۔ اس نے کہا کہ دین تو اللہ نے مکمل کیا ہے تو پھر اس کا کیا مطلب ہے؟۔ میں نے بتایا کہ دین کے نزول کی تکمیل ہوگئی ہے اور اس کا غلبہ ابھی باقی ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ اب بات سمجھ گیا۔ مفتی عبدالغنی برکی نے بات سمجھ لی تو کہا کہ ”میں نے کتاب لکھی تھی ۔یہ اللہ کاشکر ہے کہ وہ چھاپی نہیں ہے”۔

سیدابولاعلیٰ مودودی ایک داڑھی منڈے صحافی الطاف بھائی (قائدایم کیوایم) کی طرح تھے۔ نامی گرامی علماء کرام ان کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے۔ جن میں مولانا ابوالحسن علی ندوی ، مولانا محمد منظور نعمانی اور مولانا مسعود عالم ندوی جیسے لوگ شامل تھے۔ مولانا موددی نے لکھا ہے کہ ”مجھے پتہ ہے کہ جس آون دستے میں میں نے اپنا سر دیا ہے کہ دور سے اس کی دھمک کی آواز سن کر یہ بکھشو بھاگ جائیں گے”۔

مولانا راحت گل نے پشاور یونیورسٹی کے نزد اپنے مرکز مدرسہ راحت آباد میں میری تحریک کی وجہ سے تمام جماعتوں کے قائدین مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد،مولانا سمیع الحق ، مولانا اکرم اعوان،صوفی محمداور ڈاکٹر اسرار احمدوغیرہ کواخبارات کے اشتہارات میں میرے نام کیساتھ بلایا تھا تو قائد خود نہیں آئے مگر ان کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

ضلع ٹانک ، پختونخواہ اورپاکستان بھر کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء نے بڑی تائیدات کی تھیں۔

لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام عباسی نے میرے پاس چند دن قیام کیا۔ ٹانک سفید مسجد مولانا فتح خان اورگل امام مولانا عبدالرؤف کے ہاں ان کی تقاریر بھی کرائی تھیں۔ واقعہ پر بیت اللہ محسود نے قصاص کا فیصلہ کیا اور محسود قوم کو ساتھ لیکر تگڑی معافی مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمن نے حملہ آوروں کیخلاف ابن ماجہ کی حدیث خطاب جمعہ میں پیش کی کہ یہ خراسان کے دجال کا لشکر ہے۔ عبداللہ محسود اس واقعہ کے غم میں افغانستان سے آگیا۔ وزیر طالبان کے امیر مولوی نذیر نے اسی دن بیان دیا تھا کہ یہ کاروائی کرنے والے امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ قاری حسین نے بیت اللہ محسود سے اس بنیاد پر جان چھڑائی کہ تمہارے حکم پر ہم نے شریف انسان ملک خاندان کو گھر کی خواتین سمیت 7افراد کو شہید کیا تھا۔ ملک خاندان اور علی وزیر کے والد کو ایک ہی دن میں شہید کیا گیا۔ علی وزیر نے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ ”ہمارے خاندان نے ریاست پاکستان اور پاک فوج ہی کیلئے قربانیاں دی ہیں”۔ ان کے17افراد شہید ہوئے۔

دہشتگردی میں بہت لوگ مارے گئے تو ہمارا مسئلہ کسی شمار وقطارمیں بھی نہیں جبکہ ہماری بہت مرہم پٹی، عزت اور ساکھ کا بھی خیال رکھاگیا۔ پاک فوج نے بھی اس کے بعد بھرپور طریقے سے آپریشن کئے اور طالبان نے بھی معافی مانگ لی۔ ایسی عزت دہشت گردی کی پوری جنگ میں کسی کو بھی نہیں ملی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ اصل مجرموں کے چہروں سے نقاب کھل جائیں اور اس میں پاک فوج اور طالبان دونوں کابہت ہی بڑا فائدہ ہے۔

محسن داوڑ جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ پاک آرمی اور افغان طالبان حکومت اور TTPسمیت سارا گیم امریکہ کے ایماء پر چل رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن افغان طالبان کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں وہ دہشتگردی کے فروغ اور افغان طالبان سے معاملات کو بگاڑنے میں امریکہ کے ایماء پرسخت غلطی قرار دیتے ہیں۔

میڈیا کے بیانات میں یہ چیزیں بالکل روز روشن کی طرح واضح ہیں۔حیات پریغال نے اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ” گڈ طالبان اور بیڈ طالبان ایک دوسرے کے رشتہ داروں کو اغواء کررہے ہیں جس سے عوام کو نقصان پہنچ رہاہے اور دہشت گرد ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے بدلے میں قتل بھی کرتے ہیں اور چھوڑتے بھی ہیں ۔اس پالیسی سے دہشتگردی کو فروغ مل رہاہے۔

اگر ہمارا واقعہ اور دوسرے واقعات کے اصل مجرم کوئی اور نکل آئے توپھر پاک فوج اور طالبان دونوں بری الذمہ ہوں گے ان گناہوں سے جن میں ان کا کوئی عمل نہیں ہے اور عبدالواحد نے پتہ نہیں کس کا کہا کہ ”وہ لوگ کہتے ہیں کہ ISIسے مل کر عتیق الرحمن نے خود حملہ کروادیا ہے”۔

عبدالرحیم نے پیر زاہد کو طعنہ دیا کہ دل بند کو مروایا اور نوکری پر قبضہ کیا۔ اس سے خسیس ذہنیت کا اندازہ لگ سکتا ہے۔انگریز نے دل بند شاہ کو پٹھان کوٹ اور ان کو جٹہ قلعہ میں آباد کیا؟۔ خالد اور عبدالخالق کو ایک آنکھ کی وجہ سے نہیں عمل کی وجہ سے دجال کہا جاتا تھا۔ اکبر علی سے عبدالخالق کی مسجد میں لڑائی ہوئی عبدالرحیم نے میرا کہا” 10سال پہلے پہچاناتھا”۔اکبر علی کو نور علی کی بنیادپر جہانزیب سے لڑا دینا اور جہانزیب سے نثار کے قتل کی بات کا فلسفہ میں سمجھتا تھا۔

سبحان شاہ کے بیٹے سیداکبر کو سمجھنے کیلئے عبدالخالق شاہ کی علت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے اور ماموں کی اپنے شریف ترین پڑوسی سے لڑائی کو بڑھاوا دیا جارہاتھا تو پیر نور علی شاہ کہتا تھا کہ ”غیاث الدین دیگ ہے اور عبدالخالق اس کا چمچہ ہے”۔ عبدالخالق بڈھی بڈھی بکریاں مہمانوں کو کھلانے کیلئے سستے دام گاڑی بھر کر لاتا تھا جس سے خرچہ تو کم ہوتا تھا لیکن ناک کٹ رہی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ واذ زین لھم الشیطان أعمالھم و قال لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جار لکم ”اور جب کہ شیطان نے انکے کاموں کو اچھادکھایا اور کہا کہ آج کے دن تم پر کوئی غالب نہیں آئے گا، میں تمہارا پڑوسی ہوں۔جب اس نے دیکھا کہ دونوں لشکر مقابل ہونے والے ہیں تو اپنی پچھاڑیوں کے بل اپنا رُخ تبدیل کردیااور کہا کہ میں جو دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔اور اللہ بہت سخت عذاب والا ہے”۔ (سورہ انفال آیت48)

ایک روایت ہے کہ شیطان سراقہ ابن مالک کی شکل میں آیا پھر رفو چکر ہوا۔مگر یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ قرآن نے انسانی شیطان کا ذکر کیا۔ ابولہب اور اس کی بیوی کیخلاف سورة نازل ہوئی لیکن وہ اور اسکے بچے غزوہ بدر میں نہیں گئے۔عباس اور ابوطالب کا بیٹا طالب گئے۔

جب ریاض شاہ کیساتھ جھگڑا تھا تو غیاث الدین نے کہا تھا کہ ”پہلے اس کے باپ کو مجھ سے خراب کروایا ،اب اس کو کھڑا کردیا”۔ نور علی پر منافقت کی تہمت لگائی گئی تھی تو اشرف علی نے کہا کہ ”بھائیوں میں سب سے اچھا عزیزوں کیلئے نور علی ہے لیکن پتہ نہیں کیوں شک کیا جاتا ہے؟”۔

ریاض کے والد کیساتھ نور علی نہیں چمچہ عبدالخالق لڑا سکتا تھا۔ ریاض عبدالخالق کے ہاں جوتے چھوڑ کر ترکش مرغی کی ٹانگ سے بھاگا ؟ ریاض نے کہاکہ غیاث الدین نے زمین کاشت کیلئے لی پھر بدمعاشی سے قابض ہوا۔ عبد الخالق نے ریاض اور ڈاکٹر آفتاب کو غیرت کی بنیاد پر خون ریزی کرنی تھی لیکن اللہ نے مجھے وسیلہ بنادیا۔مینک برکی کی زمین کے مسئلے میں بھی ممتاز بھائی کے گھر پر لشکر کی طرح چڑھائی میں عبدالخالق کے علاوہ کسی اور کا بنیادی کردار نہیں ہوسکتا۔

عبدالرؤف ، حاجی سریر اور ڈاکٹر عبدالحمید میں شیطانی چالوں کا کوئی تصور نہیں ہے البتہ بہت بڑا مغالطہ کھا سکتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ”مؤمن دھوکہ کھانے والا اور معاف کرنے والا ہوتاہے”۔ یعنی دھوکہ دیتا نہیں ہے۔

ریاض نے کہا کہ ”مینک کی زمین کے پیسے دو بار دئیے اور میری بہن عبدالخالق کی بیوی کا 2ہزار حق مہر بھی یاد کیا ” میں نے سوچا کہ سہیل کی والدہ کا حق مہر2ہزار تھا وہ تو پرانی بات تھی؟۔پھر ہماری بہن کا حق مہر الٹا ہمارے خلاف کیسے حساب کیا؟۔عبدالوہاب سے کہا کہ ریاض سے لکھواؤ۔ مگر اس نے لکھ کر دینے سے انکار کیا جو عبدالخالق کی کہانی تھی۔

مجھے لگتا ہے کہ غیاث الدین کو پیر ملنگ کے خلاف بھی سراقہ بن مالک کی طرح عبدالخالق نے ہی اکسایا ہوگا مگر جب معاملہ جانچ لیا تو کہا کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔ ارشد حسین شہید کو ڈنڈوں کی بوچھاڑ میں اکیلا چھوڑنے میں بھی شرم محسوس نہیں کی بلکہ پولیس کی طاقت پر فخر تھا۔

عبدالرحیم مجھے مجھ پر فائرنگ کے بعد پشاور چھوڑ نے جارہاتھا تو کسی کی طرف سے پیچھا کرنے کا احساس ہوا اور عبدالرحیم نے کہا کہ ہنگو چلتے ہیں۔ میں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ بھائی DCOہے اور ہم گنڈیالی فضل کریم کے گھر گئے۔پہلے پنڈی کی طرف گئے تو آگے نکل گئے۔ واپسی پر ہم گنڈیالی کی طرف گئے تو پیچھا کرنے والی گاڑی پنڈی کی طرف نکل گئی۔ اسکے باوجود عبدالرحیم نے بھائی کو فون کرکے بلایا جو موت کے منہ میں دھکیلنے والی بات تھی۔

واقعہ سے پہلے بھائی اور عبدالرحیم کراچی آئے ۔ بھائی نے کہا کہ کوئی بااعتماد دوست ہو کاروبار کیلئے تو میں نے ناصر کے ساتھ بات ڈن کردی۔ عبدالرحیم نے کہا کہ حاجی اورنگزیب کو عبدالرؤف اور نور علی پر شک ہے کہ عمرے کس کے پیسے پر کئے ہیں؟۔ہوسکتا ہے کہ حاجی اورنگزیب کو اتنا منافع نہیں دیا ہو کہ وہ بھی عمرے کرتا۔ عبدالرحیم نے کہا کہ کاروبار نورعلی کو آتا ہے عبدالرؤف کو نہیں تھا۔ میں نے نہیں کہا کہ بی جمالو! یہ اس کا کام ہے کہ کس پر اعتماد کرے یا نہیں کرے۔ عبدالرحیم نے کہا کہ کاروبار بہت کامیاب جا رہاہے۔ ایک فلیٹ بک کرایا ہے ،لوگ16لاکھ میں ابھی ادھورا مانگ رہے ہیں۔مجھے اس سے کیا غرض تھی؟۔ میں سمجھتا تھا کہ جب اعتماد کا فقدان ہو تو پھر اصرار کرنا غیرت کے منافی ہے اور ناصر نے دھوکے کھائے، دئیے نہیں۔

جب واقعہ ہوگیا تو عبدالرحیم نے کہا کہ میرامشورہ ہے کہ اب کاروبار چالو رکھتے ہیں میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ میرے لئے کاروبار میں 30لاکھ رکھے۔میں نے مانگے تو بہت تھکادیا۔ نور علی سے کہا کہ میں تو کتے کے گاؤں سے گزر چکا۔ اس نے کہا کہ میں گدھے کے گاؤں سے بھی گزر چکا۔ میں نے کہا کہ تم اپنی وجہ سے اور میں تمہاری وجہ خوار ہورہاہوں۔ پھر عبدالرحیم کو فلیٹ کا کہا ۔پہلے ادھر ادھر کی کررہاتھا۔ آخر میں کہا کہ اس ٹائم پر اس طرح ساتھی کو کہو کہ پہنچ جائے۔ میں نے کہا کہ جس کی بات کررہے ہو ! یہ کاغذات ہیں یا گیدڑ ہے جو بھاگ جائے گا۔ اس نے کہا کہ میں میراثی بن کر پیغام رسانی کرکے ذلیل ہوتا ہوں۔ میرا کیا کام اور مفاد ہے؟۔ میں نے کہا کہ بات ایسی ہوتو سوال اٹھے گا۔ اس نے کہا کہ میرا کام پیغام کو ویسے پہنچانا ہے۔ اور فون بند کردیا۔ پوچھا تو فلیٹ ڈیڑھ لاکھ کا تھا۔ میں نے بھی اچھے وقت کیلئے بطور نشانی ویسے ہی چھوڑ دیا۔

خالد نے بتایا کہ کرش پلانٹ پر اس کا35لاکھ قرضہ ہے۔ اعجاز نے بتایا کہ تین، ساڑھے تین اور بہت ہی زیادہ ہو تو5لاکھ ہوگا۔میں نے بھائی سے کہا کہ حساب ان کے ساتھ صاف رکھو۔ اس نے غصہ میں کہا کہ پھر تجھے بلالوں گا اور یاسر کو شکایت تھی۔عبدالرحیم نے کہا کہ کاروبار کے بعد ہم نے ایک ایک روپے کا صاف شفاف حساب رکھا ہے۔ فلاں فلاں موقع پر 10،10لاکھ بھائی جان کو ویسے بھی دیتے رہے ہیں اور اپنی ماں کو بھی کہا کہ تیرے بھائی کا ہاتھ تنگ ہے تو وہ بھی خوش ہوگئی۔ میں نے دل میں سوچا کہ میرے گارڈن ڈیکور کے5لاکھ کا سامان 3لاکھ میں خریدا اور پھر صرف ڈیڑھ لاکھ دئیے اور ساتھ میں شیڈ کے ڈیڑھ لاکھ کے پائپ بھی لیکر گئے تو کیا بات کروں؟۔

میری بھتیجی ایک دن رورہی تھی تو پوچھنے پر بتایا کہ بھابھی خالد کی بھانجی نے کہا کہ تمہاراوالد خالد پالتا ہے۔

پہلے مجھے اسلام آباد میں پلاٹ دیا گیا۔ پھر عبدالرحیم نے بتایا کہ وہ یاسر کو دے دیا ۔ آپ کو پشاور میں دیا۔ خالد کو جنریٹر کیلئے پیسہ چاہیے تھا۔ پشاور کا ایک پلاٹ بیچا اور بعد میں کہا کہ جنریٹر تو میں نے قسطوں پر لیا ہے۔ یعنی پلاٹ کو ہی غائب کردیا۔ عامر نے بتایا کہ کرش پلانٹ کیلئے پیسہ تو بہت پہلے لیا تھا مگر کام بہت دیر سے اس پر شروع کیا تھا۔

رات کو چاروں بھائی اور دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔میں نے کہا کہ ڈائری لاؤ۔ خالد نے کہا کہ کرش پر 35 لاکھ ایک قرضہ ہے اور کچھ اور بھی ہے۔ میں نے کہا کہ ڈائری لاؤ۔ وہ ڈائری لانے کے بجائے بکتا جارہاتھا۔ اس نے کہا کہ میرے قرضے کی وجہ سے جو مجھے نقصان ہوا ہے وہ بھی حساب کروں گا اور جو فائدہ نہیں کماسکا تو وہ بھی لوں گا۔ میں نے کہا کہ ”اچھا مجھے یہ لکھوادو”۔ اس نے جب اپنا بیانیہ لکھوادیا اور میں نے پڑھ کر سنادیا اور اس نے OK کیا تو میں نے کہا کہ کاروباری لوگوں کو بلالیںگے۔ آپ حساب کتاب کلیئر کرکے بتاؤگے۔پھر ان سے پوچھ لیں کہ کیا حساب بنتا ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ یاسر کے پلاٹ پر کروڑوں روپے بینک سے لئے ہیں ،اس کا بھی فیصلہ کرنے والوں کے سامنے حساب رکھ لیںگے۔ تو مجھے کہا کہ کاغذ دکھاؤ اور ہاتھ میں لیکر پھاڑدیا۔

عبداللہ نے کہا کہ اس بھائی (خالد ) کیلئے لیٹرین بھی سر پررکھ کر اٹھالوں گا۔ میں نے کہا کہ میں نے اگر بھائی کاتھوڑا بھی غلط ساتھ دیا تو اس کے دل سے اتر جاؤں گا۔ آخر عبدالرحیم کے حکم پر ڈائری لائی تو نئی سیاہی اور قلم سے موٹی موٹی رقم لکھی تھی۔ خالد نے کہا تھا کہ کرش پلانٹ میں مفت شامل کیا تھا اور جب بیچ میں کام رک گیا تو کچھ پیسے دئیے اور کام شروع ہونے سے پہلے لوٹادئیے۔ میں نے کہا کہ ڈائری میں تاریخ کا پتہ نہیں چلتا تو کسی رجسٹرڈ پر لکھا ہو تو وہ لانا ۔ آخرمیں سب چلے گئے۔واحد، خالد اور میں رہ گئے۔ رجسٹرڈ پر ایک قلم سے لکھائی تھی۔ کئی دفعہ اپنی یاداشت سے مزید رقم مختلف جگہ پر بڑھائی اور پھر بھی پوری نہیں ہورہی تھی تو میں نے کہا کہ قلم بھی تیرا ہے اور زیرو ڈال رہے ہو تو بس چھوڑ دو ۔مجھے نہیں دیکھنا۔ کرش پلانٹ چلنے تک کی رقم غالباً 60لاکھ تھی اور جب میں فجر کی نماز کیلئے وضو کرنے گیا اور پھر اصرار کیا تو میں نے کہا کہ چھوڑ دو۔ پھر کہا کہ بس دیکھ لو تو رقم ایک کروڑ 20لاکھ تک پہنچادی تھی جو اس تاریخ کے بعد دی تھی وہ بھی اس تاریخ تک پوری کردی۔ میں نے کہا کہ بس چھوڑدو۔ واحد نے کہا کہ تیرا مقصد تو ہماری صفائی ہے؟۔ میں نے کہا کہ اگر یہ ڈائری اس طرح وہ مان جائیں تو بڑا احسان ہوگا۔

خالد نے کہا کہ جمرود کے ٹھیکے میں ایک روپیہ نہیں دیا تھا اور میں نے 14لاکھ کی گاڑی لیکر دی۔ میں نے کہا کہ یہ پیغام پہنچادوں گا۔ اس نے یونس آفریدی کیلئے بالکل ہی متضاد کہانیاں شروع کردیں۔ پھر جب عامر سے پوچھا تو اس نے کہا کہ 23لاکھ اس نے دئیے اور یونس آفریدی آیا تو اس نے کہا کہ 43لاکھ اس کے تھے اور خالد کا ایک بھی روپیہ نہیں تھا۔ دوسرے دن خالد کی ماں نے پشاور میں کہا کہ خالد نے بتایا کہ عتیق الرحمن کو ایسا کردیا کہ اسکے ہاتھ لکھے ہوئے اپنے کاغذ اس نے پھاڑ دئیے۔ جب اس کو بتایا تو شرمندہ تو شاید نہیں ہوئی ہوگی اسلئے کہ شوہر کی ایک گاڑی ٹھیکے میں کھو دی تھی اور قحط زدہ بچے لینڈ لارڈ بن گئے تو اور کیا چاہیے؟۔ منہاج کی ماں کا توجوان بیٹا شہید ہوا تھا اور یہ میرا کہتی تھی کہ حوالے کردیتے تو اچھا تھا۔ اورنگزیب کو بھی خدا بخشے ،اپنی عمر گزار چکا تھا اسلئے سب اچھا ہے۔

ابولہب کو ابوسفیان کی بہن ام جمیل نے بنادیا اور اس کو اپنے شوہر نے بنادیا۔بھائی نثار سے عبدالخالق نے کہا کہ ”تمہاری بھتیجی سے شادی کیلئے عبدالرحیم راضی نہیں ” تو نثار حیران ہوا ؟۔مگر عبدالخالق تو بھانجی کو آزاد کرنے کیلئے نثار کو ساتھ رکھنا چاہتا تھا اور غیرت کی اس میں بو تک نہیں تھی۔

جب عبدالرحیم میرے پاس آیا اور گالیاں دے رہاتھا کہ ان کو اعلانیہ کہتا ہوں۔ میں فساد اور بے عزتی سے بہتر سمجھا کہ میں بھی ساتھ دوں اور خفیہ لیکر آئیں۔ فساد ٹل جائے گا اور زیادہ سے زیادہ مجھے قتل کیا جائے گا تو فساد، بے عزتی اور ایک لڑکی کے حق کیلئے میری جان کا سودا سستا ہے۔ عبدالرحیم نے کہا کہ ایک منہاج کو نہیں کہنا۔ میں نے کہا کہ منہاج نہیں کسی کو بھی نہیں کہوں گا۔ اس کا مقصد تھا کہ باقی ڈھنڈورا پٹ جائے۔ میں نے منہاج سے کہا کہ اگر دلہن لانی پڑی تو اس نے کہا کہ پھر چلے جائیں گے۔ میں نے عبدالرحیم کو کہا کہ وہ جانے کیلئے تیار ہے مگر مجھے بولنا نہ تھا۔آپ کا ذہن صاف کرنا تھا۔ جب وہاں پہنچے تو خالد نور علی ، ضیاء الدین اور فیاض کو لایا تھا۔اور کہہ رہاتھا کہ ان کو بھی پھنسادیا۔ یہی سازشی ذہیت ہوتی ہے۔

میں نے سمجھا کہ قاری احمد حسن شہید نے فیصلہ کیا تھا تو جب پتہ چلے گا کہ رشتہ ہوگیا تو بہت خوش ہوگالیکن جب بتایا تو قاری صاحب سخت پریشان ہوگئے ۔کہا کہ عبدالخالق نے بہت غلط کیا ہے ، اس سے وعدہ لیا تو اس نے کہا کہ ہم دو بہنیں پہلے لے چکے ہیں اس پر بھی نادم ہیں،پھر اس نے چھوڑدیا ہے۔ یہ تو معاملہ خراب ہوگیا۔ عبدالرحیم کو بتایا تووہ قاری کو گالیاں دینے لگا۔ میں نے کہا کہ وہ اچھا آدمی ہے، اس نے جو فیصلہ کیا ہے تو وہی بولنا ہے۔عبدالرحیم اس پر بھی ناراض تھا کہ ”ہم بکرا کیوں لے گئے ،اسی طرح ہم ہی پر معاملہ پڑے گا”۔ یہ بے غیرتی کا انتہائی خمیر تھا مگر…

عبدالواحد نے کہا کہ ” عثمان فیک اکاؤنٹ میں نہیں ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ مظہر لوگوں کے خلاف تیرے بھائی نے گواہی دی تھی ۔ نعمان کے پاس مشکو ک فون آیا تھا اور عمرشاہ گواہ ہے کہ اسفندیار نے والد سے کہا کہ تمہیں کتنے پیسے دئیے؟۔ اس نے کہا کہ ایک کروڑ90لاکھ۔ اور شہریار غصہ ہوا کہ کیوں یہ سوال تم نے پوچھا ہے”۔

واحد اس سے حاصل کیا کرنا چاہتا ہے؟۔ مظہر لوگوں کے ساتھ کرکٹ کے مسئلے پر بھی اور سرکاری سروے پر بھی جہانزیب کو واحد سعود شاہ کیخلاف کیوں استعمال کرنا چاہتا تھا؟۔ ساجد، ابراہیم اور جعفر نے سعود شاہ کے قتل پرنعمان کو آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ انکے شر سے بھتیجوں کوبچانا فرض سمجھتا ہوں۔ باقی واحد نے قاتل کا تو نہیں بتایا مگر یہ کہا کہ گالیاں بھی مزید دوں اور ماروں بھی تو خیر ہے۔ لیکن میرا پتہ لگانے کیلئے اس نے بیٹی کا رشتہ توڑنے کا ڈرامہ رچایا۔ اگر میں قتل ہوتا اور میرا فون دینے والوں کو ٹریس کرکے اسرار کو اٹھایا جاتا جس کے نمبر سے مجھے گالیاں دی گئی تھیں اور گل شیر اور واحد کی بیوی کو اٹھالیا جاتا تو واحد کا مقصد ہی پورا ہوجاتا کہ دوسری بیوی ہے تو اس جان چھوٹے۔ بے عزتی تو گل چاہت کو کچھ لگتی نہیں۔ عبدالرؤف کو یہی لوگ جان بوجھ کر ذلیل کررہے ہیں اور نام منہاج کا لیتے ہیں۔ میں نے یہ روائیداد اسلئے بتائی کہ عبدالرحیم کے علاوہ میرا کسی کو معلوم نہیں تھا تو کوڑ تک بات کس نے پہنچائی؟۔ یہ جھوٹ کیوں بولا کہ حاجی قریب برکی نے نثار کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ ”عبدالرزاق پیر کے بیٹے شامل ہیں؟”۔ حالانکہ نثار سے میں نے پوچھا تھا تو اس نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کی ہے اس نے۔ پھر پہلے حاجی لطیف لوگوں کی طرف معاملہ موڑ دیا لیکن جب میں نے سختی سے انکار کیا تو دوسری طرف مظہر لوگوں پر کہانی ڈال دی۔ میں نے تو اب بھی ڈاکٹر ظفر علی کے گھر کی سخت پریشانی کو ختم کرنے کیلئے معاملہ اٹھایا جو عابد پیر لوگوں کے گھر کی طرف سے آئی تھی۔ عبدالواحد نے پہلے کہا تھا کہ” عبداللہ کی عثمان کیساتھ فیس بک پر تصویر دیکھ کر عبدالرحیم نے کہا تھا کہ پھاڑ دوں گا۔ تو اس نے کہاکہ کہیں اتفاقی ملاقات میں سلفی لی پاگل ہوں کہ اس سے تعلق رکھوں؟”۔ پھرعبداللہ پر عثمان نے گولی چلائی تو داؤد نے عثمان کو گالیاں دیں ۔ مگر عبدالواحد نے شاہجان سے کہاکہ ”داؤد بڑااچھا ہے عثمان کو ایسی گالیاں دیں”۔ داؤدواقعی اچھا لیکن تمہاری بہن جو ادھر ادھر ہنکاہتی ہے تو وہ اچھا نہیں کرتی ہے۔ میں لوگوں کی فطرت کو سمجھتا ہوں۔

عبد الرحیم نے یوسف شاہ کی ڈاکٹر بیٹی مانگی جس سے بچوں کی امید نہ تھی ۔پیٹ اور رزق کیلئے بھی معاملہ ہوسکتا ہے لیکن یوسف شاہ نے گاڑی بیچ دی۔ پیسہ کہاں گیا اور عبدالرحیم یوسف شاہ اور عبدالواحد سے پوچھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں لنک مل سکتے ہیں؟۔ ویسے تو بڑی خوش آئند بات ہے کہ یوسف شاہ کی قیادت میں عورت پر غیرت کی جنگ لڑرہے تھے اور سعود شاہ اور عثمان شاہ کی قیادت میں بہادری کے جوہر دکھارہے تھے۔ اگر 13افراد کے بدلے 13لاکھ بھی قتل کرتا تو دل کو اتنی ٹھنڈک نہیں مل سکتی تھی جتنی اس وجہ سے ملی کہ جن کے آباء کو دھوکہ دیکر قتل کروایا۔ نوکری بھی دھوکے سے چھین لی۔ پھر اپنے مقتولین کو شریک بھی نہیں کیا۔زمین کی تقسیم میں بھی واضح دوپنجہ کی بنیاد پر دنیا کے سارے قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دیں اور پھر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا اور زبردستی ذلیل کرکے ان کی زمین پر قبضہ کیا۔ آج ان کی قیادت پر میرا دل خوشی سے کھل گیا ہے۔ میں تو ایسا بدلہ نہیں دے سکتا تھا لیکن خدا نے تم سے خود ہی ان کا بدلہ لیکر سرور شاہ ، کرم حیدر شاہ ، مظفرشاہ اور فیروز شاہ کے ساتھ اور ان کی اولاد کے ساتھ جو ظلم کیا تھا تو اس طرح قدرت پرقربان جاؤں کہ کمال کا انتقام لیا۔

گل چاہت اور مہر ملک کے اوقات بدل گئے۔لیکن ان کا فن اور کمانے کا طرز بھی عبدالرحیم اور عبدالواحد سے بہت اچھا ہے۔ اسلئے عبدالواحد کو گل چاہت اور عبدالرحیم کو مہرملک قرار دینا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ خوب شرارت بھی کرلی اور اپنی فطرت بھی دکھادی لیکن جس کمال مہارت سے خدا عزوجل نے بے نقاب کردیا تو پتہ نہیں کہ کس کس شرات کا بدلہ خدا نے اتارا ہوگا؟۔ میں اتنا پاگل نہیں تھا کہ مظفرشاہ وغیرہ کی بے گناہ موت کے بعد ان کی اولادوں پر بھی ہاتھ ڈالتا۔ مجھے اصل مجرموں کو ان کا چہرہ دکھانا تھا۔

میری والد ہ نے میرے دادا سے پوچھا تھاتو لیلة القدر کی شب مجرموں کو الگ کرنے کی بشارت بتائی۔ پاکستان بھی اسی رات کو بنا تھا۔ حاجی عثمانکی خلافت کا تعلق بھی لیلة القدر سے تھا اور مولانا عبید اللہ سندھی نے بھی سورة القدر کی تفسیر میں اس خطے سے انقلاب کی خوشخبری دی تھی۔ زیرو سے لینڈلارڈ نے چچا عبدالرؤف کو بھی زیروکیا اور اب بھی اسلام آباد کا مکان خالی کرنے کیلئے جس طرح کی بے شرمی سے جترالن کو آگے کیاتھا۔الحفیظ و الامان۔

جہانزیب نے منہاج سے کہا کہ تم ہماری تذلیل کرنا چاہتے ہو لیکن اصل میں عبدالخالق سے لیکر عبدالواحد تک کا مسئلہ ہے ، یہ اپنے مفاد کیلئے جس انداز کی منافقت کرتے ہیں ان کی حقیقت واضح کرنے سے دنیا کی اصلاح ممکن بن سکتی ہے۔مجرموں کا چہرہ کھل کر سامنے آئیگا۔ انشاء اللہ

ان بھائیوں میں عزت، غیرت اور ضمیر نام کی چیز نہیں تو سبھی انکے مفاد پر قربان ہوں؟ ۔ جہانزیب کو کرکٹ کیلئے استعمال کیا۔ دو نوںطرف ایک ایک چوتڑ رکھنے کی کوشش کو میں نے سید حسن شاہ بابو کے جھنڈے پر چڑھادیا۔ہاہاہا…

عبدالرحیم نے بتایا کہ”واحد اکساتا تو مارتا اور پھر پیسہ دیتا کہ والد کو مت بتاؤ۔ پھر سمجھ گیا کہ یہ جان بوجھ کرتا ہے تو میں نے خوب مارا اور پھر یہ ہمت نہیںکی”۔ جون کا مہینہ قریب تھا، عبدالواحد گل شیر کے مقابلے میں ولید کیلئے چکر میں تھا۔ کرش پلانٹ کا خزانہ واحد کی بہن کاخواب کانیگرم کی زمین کیلئے میری بھتیجی کا خواب تھا ۔ واحد نے کہا تھا کہ یہ خواب گھڑدیتے ہیں۔ خالد ایک طرف طالبان کی مدد کرتا تھا اور دوسری طرف کہتا تھا کہ امریکن ڈرون سے مارے جاتے ہیں تو دل ٹھنڈا ہوتا ہے۔ یہ منافقوں کا ٹولہ ہے۔

نوٹ… اس آرٹیکل کے بعد مزید تفصیلات جاننے کیلئے درج ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

(1)…”خاندانی بے غیرتی…. سحر ہونے تک ……تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیرخان
(2)…”غیرت اور حیاء کی کوئی حدود نہیں ، یہ دلیل اوراسکے شواہد ہیں۔دنیا پرست خاندانی بے غیرت ہے جس کاکوئی ضمیر ہے اور نہ اس پر روک ٹوک”۔سورہ بلدکا عملی مظاہرہ نبیۖ نے ہند ابوسفیان کوپناہ دی تویزید پلیدنکلا۔ حسن شاہ بابو نے صنوبر شاہ کے یتیموں کو تحفظ دیاتویہ بلیلا نکلا۔ نبیۖ نے عبداللہ بن ابی سرح مرتد کا فرمایا : ” غلافِ کعبہ سے لپٹے تو بھی قتل کردو”۔ عثمان کی سفارش پر معافی قتل عثمان بن گئی !۔

اگلا آرٹیکل: غیرت ، حیاء اور سورہ بلد

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv