پوسٹ تلاش کریں

ہمارا پہلا قومی ترانہ اور تصوف کیخلاف امریکہ کی سازش

جگن ناتھ آزاد کی صاحبزادی مکتا لال
ہمارا پہلا قومی ترانہ

اے سرزمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمین پاک!

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سر بلند
پہنچا سکے گا اسکو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا علم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمین پاک!

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمین پاک!

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزا…

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو
آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے
اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے امید باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نہیں دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلافت

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن

اللہ نور السماواتِ والارضِ مثل نورِہ کمِشکاةٍ فِیہا مِصباح المِصباح فیِ زجاجةٍ الزجاجة کانہا کوکب دریِ یوقد مِن شجرةٍ مبارکةٍ زیتونةٍ لا شرقِیةٍ ولا غربِیةٍ یکاد زیتہا یضِیء ولو لم تمسسہ نار نور علی نورٍ یہدِ ی اللہ لِنورِہ من یشآء ویضرِب اللہ الامثال لِلناسِ واللہ بِکلِ شی ئٍ علِیم
(سورة النور آیت:35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، نور پہ نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کیلئے ہدادیت دے دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔

اِنّا عرضنا الامانة علی السموتِ و الارض و الجِبالِ فابین ان یحمِلنہا و اشفقن مِنہا و حملہا الاِنسان-اِنہ کان ظلومًا جہولاً (سور الاحزاب آیت72)

بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پرامانت کوپیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس کو اٹھالیا بیشک بڑا ظالم (اندھیرنگری میں) بڑا جاہل(انتہائی درجے کی جہالت میں) تھا ۔

اس کوہ گرنی کے دامن جٹہ قلعہ علاقہ گومل ٹانک میں میری پیدائش ہوئی
اور پھر قرآن و سنت کی بھی پوری سمجھ بوجھ نہیں تھی
مگر دنیا میں خلافت قائم کرنے کا عزم کیا تو میں بڑا ظالم جاہل تھا۔

سید عتیق الرحمن گیلانی

ــــــــــ
اے سر زمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندی حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
پاکستان کاپہلا قومی ترانہ… جگن ناتھ آزاد… عیسیٰ خیلوی
ــــــــــ

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
واِذ اخذ ربک مِن بنیِ ادم مِن ظہورِہِم ذرِیتہم واشہدہم علی انفسِہِم الست بِربِکم قالوا بلٰی شہِدنا ان تقولوا یوم القِیامةِ اِنا کنا عن ہذا غافِلِینOاو تقولوا اِنمآ اشرک ابآؤنا مِن قبل وکنا ذرِیةً مِن بعدِہِم افتہلِکنا بِما فعل المبطِلون (سورہ اعراف:172،173)

اور جب عہد لیاتیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں ان کی اولادسے اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ ۔ کہا:ہاں، ہم گواہ ہیں، یہ نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی یا کہو کہ ہمارے اجداد نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم انکے بعد انکی اولاد تھے، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا۔
ــــــــــ

یہی تھی زمین یہی تھا گویا آسمان
یہی تھا انسان یہی عتیق الرحمان
عہد الست یہی ملک کبیرپاکستان
لاالہ الا اللہ محمدرسولۖ آخر زمان
جٹہ قلعہ گومل دامن کوہ وزیرستان
احادیث صحیحہ ہیںسبھی تفسیر قرآن
ــــــــــ

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبیۖ یقول:الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف وما تناکرمنھااختلف ( صحیح البخاری حدیث:3336 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی ۖ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روحیں لشکروں کے لشکرکی شکل میں عالم ارواح میں ایک دوسرے سے اپنائیت رکھتی ہیں تو یہاں محبت کرتیں ہیں اور نفرت کرتی ہیں تو یہاں اختلاف کرتی ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کے ذریعے اسلام کی نشاة اول ہوچکی ۔ اب اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہے۔ عبداللہ بن مسعود ایک رات رسول اللہ ۖ کیساتھ گئے اور زمین کی ایک جگہ پر پہنچنے کے بعد زط یعنی جٹ قوم کی ارواح کو کچھ تہنیتی کلمات کہے تو وہ حاضر ہوگئے۔یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے مرکز پاکستان کی ا قوام متحدہ ہے۔ سندھی ، بلوچ ،مہاجر، پنجابی، سرائیکی، پختون اور کشمیری مولانا سندھی کی تفسیر مقام محمود (پارہ عم )میں واضح کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میری چاہت ہے کہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کروں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا نہیں ! آپ میرے بھائی نہیں ہو بلکہ میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ جب وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے تو مجھے ان سے مل کر انتہائی خوشی اور مسرت ہوگی۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
ــــــــــ

مآ اصاب مِن مصِیبةٍ فِی الارضِ ولا فِی انفسِم اِلا فِی کِتاب مِن قبلِ ان نبراہا اِن ذٰ لکِ علی اللہِ یسِیرOلِکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بِمآ اتاکم واللہ لا یحِب کل مختالٍ فخورٍO(الحدید آیت22،23)

نہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے (عالم ارواح میں یہ فلم پہلے چلا دی جسے آجAiکی وجہ سے سمجھنا بہت آسان ہے) دنیا میں معاملات رونما کرنے سے پہلے ۔بیشک یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔ تاکہ تم افسوس نہ کرو جو تم سے فوت ہوجائے اور جو اللہ نے دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔بیشک اللہ شیخی بگھارنے والے بد دماغ فخر کرنے والے کو پسند نہیںکرتا۔
ــــــــــ

ان آیات کی تفسیر و احادیث کی تشریح

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہ کا مطلب سبھی کرشمے اسی سے ہیں ۔ یہ حدیث قدسی زبان زد عام ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اگر آپ نہ ہوتے تو آسمانوں کو بھی میں پیدا نہ کرتا”۔ محدثین کے ہاں الفاظ نہیں ملا علی قاری نے مفہوم کے اعتبار سے درست قرار دیا ۔ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔ابلیس لعین اور حضرت آدم سے نبی رحمت خاتم الانبیاء ۖ تک ایک آئینہ ہے۔
مولانا تھانوی نے ”نشر الطیب فی ذکر حبیب ۖ” میں پہلا باب نبی ۖ کے نورپر لکھا کہ سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیااور حدیث ہے کہ ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم مٹی میں تھے”۔ نبیۖ کو اللہ نے رحمت للعالمین قرار دیا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ کے دونوں صفات میں رحمت ہے اور قرآن میں نبی ۖ کو مؤمنوں پر الرؤف الرحیم بھی قرار دیا ۔ قرآن مشرقی نہ مغربی ہے، لعان کی آیات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ناجائز حلالہ کی لعنت مدارس میں جاری ہو اور لعان کی آیت منبر ومحراب سے عوام کے سامنے نہیں آتی ہے تو یہ زیتون کے تیل سے چراغ جلانا تو دور کی بات ہے مٹی کے تیل سے بھی نہیں بلکہ نور نہیں مذہبی طبقہ ظلمت پھیلا رہاہے اور سود کو اسلام کے نام پر اضافہ کیساتھ جائز قرار دیا تو نور نہیں بڑا اندھیرا پھیل رہاہے۔ معاشی، معاشرتی ، روحانی اور سیاسی نظام سے قرآن کو بے دخل کردیا تو اللہ کا نور دنیا میں کیسے پھیلے گا؟۔

یہ نورتیلی جلائے بغیر بھڑکنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ البتہ سورہ احزاب میں واضح ہے کہ ایک ظالم جاہل انسان پوری دنیا میں یہ نور کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لے گا تو اللہ رحم کرکے دنیا بھر میں عدل کا نظام قائم کرے گا تویہ اس کا ذاتی کمال نہ ہوگا ۔ معصوم انبیاء علیہم السلام کیلئے قرآن یہ سخت گستاخانہ الفاظ کیوں کرتا؟۔ نبیۖ نے محنت و مشقت کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپۖ کی وجہ سے دنیانے نظام عدل ،آزادی اور انسانیت کو سمجھ لیاہے۔

انبیاء کرام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ طرف سے ان کا چناؤ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس قرآن اور اس کو ماننے والوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ہزاروی نے عالم ارواح میں اپنا موجودہ کردار خود چنا ہے ۔ ایک دن میں حلالہ کی لعنت کے خلاف قرآن ، حدیث اور فقہ حنفی کی درست تعلیم پیش کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان دلوں اور دلالوں نے قرآن وحدیث کا نور نہیں سود کو جواز فراہم کرنے کا کردار عالم ارواح میں چن لیا تھا اور اس پر عمل کررہے ہیں۔ میں نے الحمد للہ کہ یہی کردار چن لیا تھا جس پر میں بھی خوش ہوں اور یہ بھی خوش ہیں۔ کل حزب بما لدیھم فرحون ”ہر گروہ اس پر خوش ہے جو عقیدہ ،ماحول اور فرقہ اس نے اپنا رکھا ہے”۔ یہ انتخاب اس کی مرضی کا ہے۔

پہلے رائٹر ایک کہانی لکھتا ہے پھر فلم اور ڈرامہ بنانے والے اداکار اس میں اپنے لئے ایک معاوضہ کے تحت اداکاری کا عہد سائن کرتے ہیں کہ اس نے یہ کردار ادا کرنا ہے۔ عہدالست کی قرآنی آیت کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس شکل، گروہ اور نسل ونسب کے اندر اللہ کی ربوبیت کو ماننے کا اقرار کیا تھا اور اپنی اپنی جانوں کو گواہ بھی بنایا تھا۔ اللہ نے سورہ اعراف میں یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ ”ایسا نہیں ہو کہ قیامت کے دن تم کہو کہ ہمیں عہدالست یاد نہیں۔ یا یہ کہو کہ ہمارے پہلے والے اجداد نے جو ہمارے لئے ماحول بنایا تھا تو کیا ان کی وجہ سے تم ہمیں ہلاک کروگے جو باطل لوگوں نے ہمارے لئے بنایا؟”۔

قرآن میں اہل کتاب کو عہدالست کی دعوت ہے۔

قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا و لایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(ال عمران:64)

” کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس بات کی طرف جو ہم اور تم میں برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کریںگے مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور ہم اپنے میں سے بعض کو بعض اللہ کے علاوہ رب نہیں بنائیںگے۔اگر پھر گئے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔

عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی تو آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بناتے تھے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تمہارے علماء ومشائخ اپنی طرف سے حرام وحلال کے فیصلے کرتے تھے تواس کو آپ نہیں مانتے تھے؟۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ سارے دیوبندی مدارس نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی مخالفت کی لیکن پھر اس کو وفاق المدارس کا صدر بنایا۔ کیا یہ رب بنانا نہیں ہے؟۔ یہ شرک نہیں ہے؟۔

قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السماوات والارض ابصر بہ و اسمع مالھم من دونہ من ولیٍ ولایشرک فی حکمہ احدًا(سورہ کہف:26)
” کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا غیب ہے ۔اسکے ذریعہ دیکھ اور سن اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا”۔

اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ ”یہود پر ہم نے کسی چیز کو بھی حرام نہیں کیامگر خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کیا” مثلا ہفتہ کے دن مچھلیوں کاشکار تھا لیکن پھر نافرمانی کی توعذاب میں پڑگئے اور چھٹی کے دن مچھلی کے شکار کیلئے حیلہ زیادہ برا ہے یا سودی نظام کو اسلامی قرار دینا؟۔ یہود سے بڑھ کر تو مفتی اعظم لوگوں کا کردار ہے لیکن انہوں عالم ارواح میں اپنے لئے یہ کردار خود چنا ہے اور ان کے ماننے والے مذہبی اور دنیاوی طبقہ نے بھی۔

سورہ الحدید کی آیت میں ہے کہ زمین میں کوئی مصیبت آتی ہے یا تمہاری جانوں میں تو یہ پہلے سے لکھی جاچکی ۔تاکہ اس پر افسوس نہیں ہو ۔لیکن دنیا کا ایک دستور ہے۔ واقعہ ہوتا ہے تو اسکے شرعی، قانونی، روایتی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں۔

عبیدہ بن جراح نے پوچھا یا رسول اللہ ۖ ! ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ہم نے اسلام قبول کیا، آپ کیساتھ جہاد کیا؟۔ فرمایا ہاں ۔ ایک قوم ہے جو تمہارے بعد آئے گی وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ شیخ البانی نے کہا کہ دارمی ، احمد، حاکم وغیرہ نے نقل کیا اور صحیح قرار دیا ۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کن لوگوں کا ایمان عجیب ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: انبیاء ،فرمایا: ان کا کیوں؟ ان پر وحی نازل ہوتی ہے،عرض: فرشتوں کا!۔ فرمایا: وہ تو سب کچھ دیکھتے ہیں۔ عرض : پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ فرمایا : میں تمہارے اندر موجود ہوں اور وحی تمہارے سامنے آتی ہے۔ عرض : ہمیں نہیں معلوم۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: عجیب ایمان ان لوگ کا ہے جنکے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں اور تمہاری طرح ایمان ہوگا۔ ایک کو50افراد کی طرح ثواب ملے گا۔ عرض ہوا۔ ہم سے50یا ان میں سے؟۔ فرمایا: تم میں سے50کے برابر۔

من احیاھا فکانما احیا الناس جمیعًا۔

ایک کا بدلہ تمام انسانوں کے برابر تو ایک کی عزت حلالہ سے بچانے پر؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ بقرہ کی آیت228میں بڑی بڑی وضاحتیں

نمبر1:عورت کو حیض آتا ہو تو طلاق کے بعد عدت تین ادوار۔
نمبر2:حمل ہو اس کا چھپانا جائز نہیں ۔
نمبر3:عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے۔
نمبر4:عورت کے شوہر پر وہی معروف حقوق ہیں جو ان پرہیں۔
نمبر5:اورمردوں کا عورتوں پر ایک درجہ ہے۔

نمبر5:عورت پر مرد کا درجہ

سورہ بقرہ کے اس رکوع کا آغاز آیت222سے ہوا ہے۔ جس میں حیض کا سوال ہے۔ عورتوں کا اس پر اعتراض ہو گا کہ مرد کا ایک درجہ کیوں ہے؟۔ تو رکوع کے شروع میں حیض اس کا جواب ہے اسلئے کہ مرد کو حیض نہیں آتا ہے اورعورت کو آتا ہے۔ لیکن یہ فضل صرف صنف کے اعتبار سے ہے۔ فرعون کی بیوی افضل تھی۔ جس عورت میں کردار اور صلاحیت ہو تو حضرت مریم علیہ السلام اور پاک خواتین کے مقابلے میں بیکار مرد کچھ نہیں۔

ہندوستان کے پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ اس کو حیض آتا ہے۔ وہ مریم تھی اور خدا نے اسکے ساتھ مباشرت کی اور پھر وہ خود سے پیدا ہوا۔ یوں وہ مسیح موعود کے درجے پر فائز ہوگیا۔ اس سے بہت زیادہ گھناؤنا کردار اس کے موجودہ کم عقل جانشین کا ہے جس میں وہ سورہ تحریم میں دو مؤمن عورتوں اور دو کافر عورتوں کی مثال دیتا ہے کہ ہر مؤمن مرد کیلئے عورت ہونا اور اس کو حیض آنا ضروری ہے۔ جس پر ہوسکتا ہے کہ قادیانی عورتیں بہت خوش ہوں کہ اس دجال نے برابری کا بالکل حق ادا کردیا ہے۔

لیکن سورہ تحریم میں دو کافر عورتوں کا ذکر بھی ہے۔ یہ تو ایک واقعہ کی طرف رہنمائی ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کیلئے تنبیہ تھی کہ دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں۔ جن کو بھی مشعل راہ بناؤ ،یہ تمہاری مرضی ہے اور ایک خاص واقعہ پر تنبیہ تھی جس کی وجہ سے رسول اللہ ۖ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ قبطیہ کے حرام ہونے کا فرمایا۔ اللہ نے ”حرام ” کے لفظ پر دورِ جاہلیت کی حرمت کو ختم کرنے کیلئے ایک وسیلہ یہ واقعہ بنادیا تھا جس طرح سورہ مجادلہ میں ظہار کے مسئلے کو اللہ نے حل کردیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کو رشتہ کیلئے انتہائی غلط پیغام بھیجا اور غلط عربی کے الہام کا شیطانی ڈھونگ بھی رچایا۔ یہ چنگیز کی نسل تھا اور اپنے خون کےDNAکا تشدد اس میں بھی واضح کیا۔ جاوید غامدی اس نسل کو حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد اور امریکہ واسرائیل ، یورپ و روس کو قیامت تک اقتدار میں رہنے کی بکوا س کرتا ہے۔ نبیۖ نے نسل کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا لیکن قرآن منصب امامت و خلافت کیلئے حضرت ابراہیم کی نسل کو اس شرط پر بشارت دیتا ہے کہ جب وہ ظالم نہیں ہوں۔ پاکستان و افغانستان میں بنی اسرائیل و دیگر سام کی نسل ہیں اور سندھ وہند حام کی نسل کے نام پرہیں۔

نمبر4:برابری کا معروف حق

عورت اور مرد کے ایک دوسرے پر مساوی معروف حقوق کیا ہے؟۔ ایک ایک حق کی اللہ تعالیٰ نے بھر پور وضاحت کی ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے حقائق کو نظر انداز کردیا ہے۔

لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا لھا ماکسبت و علیھا ما اکستبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطأنا ربنا و لا تحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا ولاتحملنا مالا طاقتة لنا…

جاویداحمد غامد ی کا ترجمہ:” یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔(اس کا قانون ہے کہ ) اسی کو ملے گا جو اس نے کمایا ہے اور وہی بھرے گا جو اس نے کیا ہے۔ پروردگار ، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اس پر ہماری گرفت نہ کر۔ اور پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلوں پر ڈالا تھااور پروردگار ، کوئی ایسا بوجھ جس کو ہم اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے تو ہم سے نہ اٹھوا”۔ البقرہ:286

جب اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھرکیا مطلب ہے کہ ”ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال؟”۔

جس کو بھینس نظر نہیں آتی ہے اس سے امید کرتے ہیں کہ ہلال کا چاند دیکھے گا۔ جاویدغامدی کو اتنا بڑا تضاد نظر نہیں آتا اور دین کی بنیادوں کو بلڈوز کرنے پر مسلسل لگاہوا ہے۔

عربی میں تکلیف کا معنی مصیبت نہیں بلکہ اختیارات ہیں۔

لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا

” اللہ تعالیٰ کسی مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ یعنی اختیارات کی بنیاد پر پوچھ گچھ ہوگی۔ وزیراعظم ، آرمی چیف اور چوکیدار سے ان کی اپنی اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری کا پوچھا جائے گا۔ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں نے مکلف ہونے کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ رنگروٹ بھی آرمی چیف بننے کیلئے تیار رہتا ہے اور موالی بھی وزیراعظم سے زیادہ اپنی اہلیت کی بات کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انکے اپنے دائرہ کار کے مطابق مکلف بنایاہے۔

عورت اور مردوں کے ایک دوسرے پر معروف حقوق ہیں اور پورے قرآن میں اور خاص طور پر آیت228کے اندر اور اس سے گزشتہ کی چار آیات224،225،226اور227میں اور اس کے بعد کی چار آیات229،230،231اور232میں بہت واضح تفصیل ہے لیکن کم عقل نہیں سمجھتے۔

نمبر3:صلح کی شرط پر رجوع

طالب خفا اور مولوی خانہ خراب کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ ”عدت میں صلح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور دونوں کے حقوق ایک دوسرے پر برابر ہیں”۔

لیکن آیت229میں چوہے کی طرح حافظہ رکھنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ جب عدت میں رجوع کا حق اور برابری کے حقوق ہیں تو اللہ کیسے اپنی آیات میں تضادات ڈال سکتاہے؟۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ دارالافتاء پر ایک بورڈ لگادیتا کہ عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر اللہ نے شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے اور اس کی بیوی کی عزت حلالہ کے نام پر نہیں لوٹی جائے اور بس۔

لیکن آیت229البقرہ عورت کا اختیار ختم کردیا ۔ شوہر کی طرف سے کہہ دیا گیا کہ تین طلاق تو بس حرمت مغلظ ہوگئی اور بیگم صاحبہ کو حلالہ کرانے کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھائی صاحب جب آیت228میں بول دیا کہ عدت میں شوہر ہی زیادہ رجوع کا حق دار ہے لیکن مفتی بیٹھ گیا کہ یہ میرا حق ہے۔

حالانکہ آیت228میں اللہ نے دو صورتیں واضح کی ہیں۔ پہلی صورت اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع اور دوسری یہ کہ جب عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی ہو۔ آیت229میں انہی دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ پہلی صورت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع اور اگر عورت صلح کیلئے راضی نہیں ہوتو پھر ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔

لیکن مولوی دلّا ٹغ آیات228اور229میں معروف رجوع کے برابری کا حق نہیں سمجھتا ہے۔ اور اپنے لوگوں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ ان کی عزتیں قرآن کی غلط تشریح کرکے لوٹتا ہے۔جب مولوی قرآن اور اپنے معقتدین کی عزت سے ٹام اینڈ جیری کا کھیل کھیلے گا تو چوہے کو بلی کھا جاتی ہے اسلئے کہ وہ گھر میں تباہی مچاتا ہے۔ جتنے بڑے بڑے سنی علماء کا قتل ہوا تو اس میں شیعہ کو ملوث قرار دیا گیا۔ جبکہ سنی شیعہ کے خلاف اس بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں کہ وہ حلالہ کی لعنت کو نہیں مانتے ۔

عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو رجوع جائز نہیں ۔چاہے عدت کے اندر ہو یا ایک طلاق دی ہو اور آیت230کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو۔لیکن عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو معروف رجوع عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل بعدآیات231اور232میں واضح ہے۔

نمبر2:حمل چھپانا حلال نہیں

جب عورت کیلئے حمل چھپانا حلال نہیں ہے تو کیا علماء کیلئے اتنی ساری آیات اور ان کے واضح احکام چھپانا جائز ہیں؟۔

جب رجوع کا تعلق عدت کیساتھ اللہ تعالیٰ نے جوڑ دیا ہے اور حمل کی عدت میں تین مرتبہ طلاق کے عمل کا تصور نہیں ہے تو پھر اس کو مزید زیر بحث قرآن میں نہیں لایا گیا ہے۔ اسلئے کہ جب تک بچہ پیدا نہیں ہوتا ہے تو عورت انتظار کی پابند ہے اور شوہر کیلئے باہمی رضامندی سے منانے کا راستہ کھلا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدت گزرتے ہی رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے بلکہ اس دوران وہ کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ صلح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے لیکن بچہ پیدا ہوجائے تو بھی اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو اللہ نے عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ بہت واضح الفاظ میں بالکل کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن فتاویٰ کی کتابوں سے مسائل نقل کریںگے کہ اگر بچہ آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتا اور کم نکلا تو ہوسکتا ہے۔

جب تک بچوں کو نرسری میں الف ب،1،2،3گنتی اورA،B،Cنہیں آئے گی تو اگلی کلاسوں میں وہ فیل ہوں گے اسلئے ہم فی الحال صرف طلاق اور اس سے رجوع کے مسائل پر امت مسلمہ کو آگاہ کررہے ہیں تاکہ ان کی عزتیں بچ جائیں۔ جن علماء ومفتیان کو اپنے مسلک کی خواتین کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کی فکر نہیں تو وہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے بھی ڈھونگ ہی رچاتے ہیں۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے1972ء میں احمد آباد ہندوستان کے اندر ایک سمینار حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے منعقد کیا تھا جس میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہلحدیث اور بریلوی علماء نے شرکت کی تھی لیکن وہ مسئلے کے قریب پہنچنے کے باوجود اسلئے کامیاب نہیں ہوسکے کہ اس اقدام کو جراتمندانہ قرار دیا تھا۔ حالانکہ حلالہ کی لعنت سے امت مسلمہ کی جان چھڑانے میں کیا جرأت ہے؟۔

اب تو الحمد للہ ہماری مسلسل محنت کی بدولت علماء کرام کے دماغ بھی کھل گئے ہیں لیکن پھر بھی یہ عزیمت کا راستہ لگتاہے۔ جب پہاڑوں پر چڑھنے والوں کو لوگ دیکھتے ہیں تو مشکل سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن پہاڑوں میں چلنے کے عادی لوگوں کیلئے وہ کوئی مشکل نہیں۔ امید ہے کہ اب علماء ومفتیان ہمت کریںگے۔

نمبر1:عدت کے تین ادوار

الٹی گنتی میں نے اسلئے شروع کردی کہ کسی طرح سے بھی یہ حقائق علماء اور عوام کے دماغ میں بیٹھ جائیں۔ مفتیوں نے یہ بھی شروع کردیا تھا کہ ” لیٹرین کے وقت مقعد سے پھول کی طرح آنت نکلتی ہے اور اس کو دھوکر سکھایا نہیں گیااور مقعد میں فطرت کے مطابق آنت کا پھول واپس گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ اور علامہ شاہ تراب الحق قادری کے بعد دعوت اسلامی والوں نے عورتوں کو خاص طور پر اور مردوں کو استنجاء کرتے وقت اپنی سانس روکنے کا حکم بھی دیا تھا کہ اس سے بھی پانی معدے میں داخل ہوکر روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ شکر ہے کہ اب نظر نہیں آتے مگر کھل کر عوام کو علمی حقائق نہیں بتانا بھی گونگے شیطان کی بڑی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت اور ہمت عطا فرمائے۔

آیت226میں طلاق کا اظہار نہ ہو تو چار ماہ کی عدت ہے اور آیت228میں تین ادوار یا تین ماہ کی عدت ہے۔ لیکن مسٹر چوہا بھول جاتا ہے اور آیت229میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کا درست تصور دینے کے بجائے ایک بڑی غلطی کرتا ہے کہ شوہر کو دو مرتبہ طلاق رجعی کا غیر مشروط حق دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے شوہر ایک نہیں چار عدتوں کا مالک بن جاتا ہے۔ جب تک معاملہ نہیں سمجھ میں آتا تھا تو مسئلہ نہیں تھا۔ اب معاملہ سمجھ میں آگیا ہے تو بھی زبان نہیں کھولنی ہے اور اپنی خواتین کو حقوق سے محروم کرنا ہے اسلئے کہ حضرت عمر کا درست فیصلہ عوام کو سمجھ میں آئے گا اور طلاق بدعت کے نام پر گالیاں بھی نہیں پڑیں گی؟۔ پھر تو ایران اور شیعہ مار کھاتے رہیں گے اور اپنے لوگ بھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ شیعہ و سنی دونوں نے قرآن کے احکام کو اپنے مسلکوں اور فرقہ پرستی کے بھینٹ چڑھادیا ہے۔ جب لوگوں کو اسلام سمجھ میں آجائے گا تو جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس بینگن اور آلو بیچنے کا کام شروع کریںگے اور مفتی تقی عثمانی کے بیٹے رکشہ یا گدھا گاڑی چلائیں گے۔ اہل لوگوں کو چندوں کے مال پر بننے والے تمام اثاثہ جات پر بٹھادیا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز بہت ہی جلد۔

پاکستان میں دیندار ، باصلاحیت اور مخلص لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن جس گدھے کے بچے اور مفاد پرست کو دیکھو تو وہ ذمہ دار عہدے پر بٹھادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نظام بالکل ہی کھوکھلا ہوچکا ہے اور اس کا ملبہ گرنے سے پہلے اس کا درست بندوبست کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

متضاد افکار … سمجھ اپنی اپنی

ساقی امروہوی

میں پیمبر نہ سہی ہوں تو پیمبر جیسا
کوئی گھر بھی نہیں ویران میرے گھر جیسا
اہل دل، دل کی نزاکت سے ہے واقف ورنہ
کام لفظوں سے بھی لے سکتے ہیں خنجر جیسا
میری وسعت کا بھی اندازہ بہت مشکل ہے
ایک قطرہ ہی سہی ہوں تو سمندر جیسا
میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے کہ جو بنتا نہیں پتھر جیسا
ہم فقیروں کو کبھی راس نہ آیا ورنہ
ہم نے پایا تھا مقدر تو سکندر جیسا
ــــــــــ

جٹ شاعر کا جرأتمندانہ کلام

جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو
جب ایک انسان کی عظمت پر ایک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں ایک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
ہم اہلِ حرم ہیں، ہم اہلِ حرم ہیں
اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو
ہم لوگ انا الحق بولیں گے
ہم لوگ انا الحق بولیں گے
جب مسند و منبر پر بیٹھی ہر ایک نظر للچاتی ہو
جب صرف دکھاوے کی خاطر تسبیح ہی اٹھائی جاتی ہو
جب دین کے ٹھیکیداروں میں اک نفسِ امارہ باقی ہو
بے ذوق جہاں پر صہبا ہو، بے ذوق جہاں پر ساقی ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں
جب بلبل ہو تصویرِ چمن اور کوے گیت سناتے ہوں
جب چڑیوں کے ان گھونسلوں میں کچھ سانپ اتارے جاتے ہوں
جب مالی اپنے گلشن میں خود ہاتھ سے آگ لگاتے ہوں
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب شاہ کے ایک اشارے پر اپنوں میں نیازیں بٹتی ہوں
جب آنکھیں غربت ماروں کی حسرت کا نظارہ کرتی ہوں
جب قلمیں ظالم جابر کی عظمت کا قصیدہ لکھتی ہوں
جب حق کی باتیں کہنے پہ انساں کی زبانیں کٹتی ہوں
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب مصر کے ان بازاروں میں کنعان کو بیچا جاتا ہو
جب حرص و ہوس کی منڈی میں ایمان کو بیچا جاتا ہو
جب صوم و صلوة کے پردے میں قرآن کو بیچا جاتا ہو
انسان کو بیچا جاتا ہو، یزدان کو بیچا جاتا ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
اور جس دور میں کعبے والوں کو گرجا کے نظارے بھاتے ہوں
جس دور میں مشرق والے بھی مغرب کے ترانے گاتے ہوں
جس دور میں مسلم لیڈر بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہوں
جس دور میں سبقت غیرت کے اسباب عدم ہو جاتے ہوں
اس دور میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
ــــــــــ

اسکول کے بچوں کا ترانہ

دعا کرو کے ظہور امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
علی کی تیغ کے جوہر کھلیں زمانے پر
تمام دنیا ہو اک تیغ کے نشانے پر
ہو ساری خلقِ خدا موت کے دہانے پر
جو غیب میں ہے وہ ظاہر امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
سنا کی نوک پے اٹھے گا قلعہ خیبر
کفن ہوا کا ملے گا نہ خاک کا بستر
اجل چباتی پھرے لاشِ مرحب و عنتر
جو ذوالفقار علی بے نیام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
حقیقی صورتِ اسلام بھی عیاں ہو گی
نگاہِ عدل زمانے کی پاسباں ہو گی
پھر ایک کلمہ یہاں ایک ہی اذاں ہو گی
پئے نماز جو حاضر امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
کرے گی موجِ ہوا ظلم کو رسن بستہ
زمین بند کرے گی فرار کا رستہ
وہ برسے آگ جو درباریوں کو ہو سکتہ
اگر زبان فدک ہم کلام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو،دُعا کرو
نہ شرک ہوگا نہ الحاد و کفر کچھ بھی نہیں
خدا کے دین سے آباد ہو گی ساری زمین
ہر ایک ساغرِ نفسِ بشر میں ہو گا یقین
مقیم شہ رگِ جاں کا قیام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
امام وقت کی آمد کے انتظار میں ہو
خدا ہی جانے کہ کس سانحہ بہار میں ہو
خیال وادی خضرا کے سبزہ زار میں ہو
وصول ان کو ابد کا پیام ہوجائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
ــــــــــ

ٹاپ سٹی کے کردار پر حامد میر

اور پریس ریلیز کا پہلا پیراگراف ٹاپ سٹی کے بارے میں ہے، ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ2017کا معاملہ ہے۔ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ اس کے خلاف کارروائی کرنی ہے؟۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ2017میں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف تھے۔ تو وہ بھی ملوث تھے۔ نہ صرف یہ کہ فیض حمید نے سب کچھ ڈی جی سی کے طور پہ کیا بعد میں وہDGISIجنرل باجوہ کی مرضی اور منشا سے بنے۔ تو اس کا مطلب ہے کارروائی صرف جنرل فیض کے خلاف نہیں بنتی۔ کارروائی جنرل باجوہ کے خلاف بھی بنتی ہے۔ اور اس میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹاپ سٹی کا جو معاملہ ہے یہ سات سال تو ٹوٹل بنتے ہیں۔ تو دو سال تو جنرل عاصم منیر صاحب کو بھی ہونے والے ہیں نا۔ تو ان کو بھی دو سال کیوں لگ گئے؟ جبکہ سب کچھ ملٹری انٹیلی جنس تو پہلے ہی پتہ لگا کے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے پاس تو سب کچھ تھا۔ تو اس میں اتنی دیر کیوں ہو گئی؟ پھر نیب نے پچھلے سال جب جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کھولی کس نے وہ انکوائری بند کرائی؟ اس لیے ٹاپ سٹی کے معاملے میں سوال ہیں لیکن جوISIکی پریس ریلیز کا جو دوسرا پارٹ ہے جس میں کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ بہت سے معاملات میں ملوث رہے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان معاملات کی بالکل انکوائری کریں اور جنرل فیض حمید کو بے نقاب کریں۔ جو اس کے سہولت کار تھے ان کو بھی بے نقاب کریں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ جتنا نقصان جنرل فیض حمید نے اور جنرل باجوہ نے پاکستانی فوج کو پہنچایا ، اتنا پہلے کبھی کسی نے نہیں پہنچایا۔ یہ انہی دونوں شخصیات کا ڈالا ہوا گند ہے۔ ابھی جو فوج کی قیادت ہے کبھی کبھی اس گند کو صاف کرتے ہوئے اسکے چھینٹے ان کی بھی وردی پہ آ کے گرتے ہیں تو یہ سنہری موقع ایک گولڈن چانس ہے کہ صرف فیض حمید نہیں جنرل باجوہ کے خلاف بھی کارروائی کریں کیونکہ یہ دونوں فیض اور باجوہ ایک دوسرے کو ڈبل کراس اور دھوکہ دے رہے تھے۔ انسٹیٹیوشن کو بھی دھوکہ دیا ۔ مارچ اپریل2022میں تحریک عدم اعتماد آئی تھی۔ تو فیض حمید پشاور میں اپنی گیم کھیل رہے تھے اور باجوہ پنڈی میں اپنی گیم کھیل رہے تھے اور ڈی جیISIکو سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو باجوہ ٹھیک ہے یا جو پشاور والا، ٹھیک ہے نا؟ اور ان سب حقائق کے گواہ حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہیں اور میں یہ بات ایویں نہیں کر رہا۔ جو لوگ ایکشن لے سکتے ہیں ان کو پتا ہے کہ کس بندے سے فیض نے کیا بات کی اور کس بندے سے باجوہ نے کیا بات کی اور کور کمانڈر میٹنگز میں باجوہ کچھ اور کہتے تھے تو بہت بڑی ڈبل گیم کی دونوں نے مل کے چلیں شروعات کی ہے فیض سے۔ فیض کے خلاف کارروائی کریں اس کے بعد باجوہ کے خلاف بھی کریں۔
ــــــــــ

خلافت کا قیام : سعد نذیر

نکلو! پورے ملک میں خلافت کی تحریک چلاؤ۔ سیاست دانوں میں کوئی مرد مجاہد ہے تو وہ آگے آئے خلافت قائم کرائے۔ اگر چاہتے ہو یہ ملک بچے اگر چاہتے ہو فلسطین آزاد ہو اگر چاہتے ہو لیبیا ریوائیو ہو اگر چاہتے ہو پوری دنیا میں اسلام نافذ ہو اگر چاہتے ہو مسلمان کی عزت ہو یہ بے غیرتی کی زندگی چھوڑ دو۔ ڈرنا چھوڑ دو۔ کبھی امریکہ سے کبھی اسرائیل سے کبھی اپنی حکومت سے تمہاری فوج کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ تمہیں لڑایا جا رہا ہے فوج سے۔ اپنے آرمی چیف کو مجبور کرے۔ یہ سیاست دان نہیں اٹھاتے یہ بیڑا، یہ آرمی چیف اٹھا لے۔ کوئی تو آئے آگے مرد مجاہد۔ کوئی تو قائم کرے خلافت۔ نہیں تم لوگوں میں اتنی جرت تو سائیڈ پہ ہو جا ؤکسی اور کو کر لینے دو۔ لیکن اس کے بغیر گزارا نہیں ہے خدارا گزارا نہیں ہے۔
ــــــــــ

سعدیہ افضال: سنو ٹی وی

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم۔ ویلکم ٹو سنو ٹونائٹ ود سعدیہ افضال۔ تکمیل پاکستان سیریز کے نئے پروگرام کیساتھ حاضر ہیں۔ کلمے کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں ہم نہ اسلامی نظام نافذ کر سکے نہ ہی قرآن اور سنت کے متعین کردہ اصولوں کو اپنی زندگیوں میں اپنا سکے۔ ریاست صحت، تعلیم اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکس کے اضافی بوجھ تلے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ دو فیصد مراعات یافتہ اشرافیہ پاکستان کے وسائل پر قابض ہے۔ جبکہ ریاست پاکستان میں کمزور غریب اور بیکس کا استحصال گزشتہ76برسوں سے جاری ہے۔ مڈل کلاس ناپید ہے۔ سرکار کی نااہلی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انصاف کی فراہمی سب سے کٹھن مرحلہ بن چکا۔ گزشتہ ایک برس سے مزید سوا کروڑ سطح غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے۔ مہذب معاشروں میں امیر پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے تاکہ غریب کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ مگر پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں پر پسی ہوئی کلاس پر ٹیکس کا بوجھ اور اشرافیہ کو چھوٹ اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مساوات کا عمل بالکل ناپید ہو گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سرمایہ داروں کی نسبت تنخواہ دار طبقہ200فیصد زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی حکومت دو فیصد اشرافیہ کو سالانہ17اعشاریہ4ارب ڈالر کی مراعات فراہم کرتی ہے جن میں ٹیکس چھوٹ، صنعتوں میں بجلی، گیس کی سبسڈی، مفت پیٹرول شامل ہیں۔ کیا پاکستان کا قیام ایسے معاشرے کیلئے تھا جہاں غریب پر ٹیکس لگا کر اشرافیہ کو ریلیف دیا جائے؟ ۔ قیام پاکستان اسلام کے سنہری اصولوں کیلئے بھروسہ تھا کہ استحصال کا سلسلہ تھم جائے گا۔17ستمبر1944کو گاندھی کو خط میں آل انڈیا مسلم لیگ کا منشور قائد اعظم نے بیان کیا کہ قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ یہ جماعت سے فرد کے حقوق تک، اخلاق سے انسداد جرائم تک ہر قول و فعل پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔21مارچ1948ڈھاکہ کے خطاب میں جناح کا کہنا تھا کہ حکومت کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے۔ عوام کی بے لوث خدمت اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے مناسب تدابیر اختیار کرنا۔ اس کے سوا برسر اقتدار کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اگر اس کے علاوہ کوئی مقصد ہے تو ایسی حکومت کو اقتدار سے الگ کر دو۔ نبی پاک ۖ کی زندگی مساوات اور برابری کا ایک درس ہے۔ غزوہ خندق کے دوران اوروں کے پیٹوں پر ایک پتھر بندھا ہوتا تھا اور محمدۖ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ فتح مکہ اسلامی ریاست قائم ہوئی تو زکوٰة، عشر اور مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ کار طے پایا۔ جس کے بعد خلفائے راشدین کا دور آیا۔ حضور پاک ۖ نے پہلے تاجر کو ایماندار بنایا پھر سود کو ختم کیا۔ صاحب ثروت لوگوں نے حضور اکرم ۖ سے سوال کیا ہم کیا خرچ کریں؟ اس کا جواب قرآن نے دیا۔ جو ضرورت سے زائد ہے وہ دوسروں پر خرچ کریں۔ نبی پاک ۖ نے زندگی میں مساوات اور اپنی ضرورت سے زیادہ مال کو خرچ کرنے کی تلقین کی۔ جبکہ آج حکومت غریب پر ٹیکس کا نفاذ کرتی ہے۔ اور اشرافیہ کو ریلیف دے رہی ہے۔

تبصرہ نوشتۂ دیوار

پشتو زبا ن کی ایک لوک کہانی میں یہ گیت ہے کہ
سیف الملوک پہ کٹ کے پروت دا فریادونہ کوئی
بدر جمالہ پہ ہوا شوری سیلونہ کوی

ترجمہ:” سیف الملوک چارپائی میں پڑا فریاد کررہاہے اور بدر جمالہ ہواؤوں میں گھوم رہی ہے تفریح ماررہی ہے”۔اگر نظام کو نہیں بدلا گیا تو آخرکار عاصم منیر اور مریم نواز کایہی گانا چلے گا۔
ــــــــــ

صحافی فرزانہ علی: عورت مارچ

السلام علیکم۔ فرزانہ علی آفیشل آج میں بات کرنا چاہتی ہوں افغانستان، افغان خواتین سے متعلق خاص طور پر جنہوں نے آٹھ مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنی آواز اٹھائی۔ اسکے خلاف جسے طالبان رجیم کہتے ہیں۔ یہ رجیم ان پر مسلط کیا گیا تھا وہ تب سے یہ آواز اٹھا رہی ہیں۔ مجھے ہنسی آ رہی تھی بلکہ افسوس ہو رہا تھا، یہی خواتین تھیں جب فال آف کابل ہوا تو سڑکوں پر نکلیں اور احتجاج کر رہی تھیں تو ہمارا اسٹیٹ رن ٹی وی جو ہے وہ ان کے خلاف رپورٹنگ کر رہا تھا کہ یہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پر باہر نکلی ہیںاور احتجاج کر رہی ہیں تو اسلام دشمن قرار دیا گیاخواتین کو۔ اور مجھے یاد ہے کیونکہ میں بھی رپورٹنگ کیلئے دو تین دن کیلئے وہاں پہ گئی اور جب وہاں پر خواتین باہر نکلیں اور طالبان رجیم کیخلاف نعرے لگائے اپنی آزادی اپنے حقوق سلب کرنے کیخلاف آواز بلند کی تو ان پررجیم نے تشدد کیا،کچھ خواتین جو غیر سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھتی تھیں نے علامتی طور پر ایک برقعہ جلایا تو اس پر ہمارے ٹی وی چینلز یا بیٹھے ہوئے مبصرجو ایک خاص ایجنڈے پر اس وقت کام کر رہے تھے۔ تو انہوں نے اسلام دشمن اور دشمن ممالک کا ایجنڈا قرار دیا ۔لیکن آج میں حیران رہ گئی کہ ہمارے وہی اسٹیٹ رن ٹی وی کیا خبر چلا رہے ہیں؟

ذرا ملاحظہ فرمائیے الفاظ پر ضرور ضرور غور کیجئے گا۔ افغان خواتین تنظیموں کا تاریخی احتجاج طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ پھر بے نقاب ہو گیا۔ طالبان کے زیر اقتدار انسانی بالخصوص خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور ظلم و جبر جاری۔ یوم خواتین کے موقع پر کابل میں افغان ویمنز فریڈم موومنٹ اور افغان ویمن کرائی موومنٹ کا طالبان رجیم کی انتہا پسندی کیخلاف بھرپور احتجاج۔ خواتین نے روٹی، کام، آزادی اور ہمارا دشمن طالبان جیسے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ ایگزیکٹلی اسی قسم کے نعرے اس وقت بھی جب رجیم چینج ہوا تھا تو بلند کر رہے تھے لیکن اس وقت ہم کیا کہہ رہے تھے؟

ہمارے ٹی وی چینلز پر جو لوگ بیٹھے تھے ان میں خواتین بھی شامل تھیں ؟ کہہ رہے تھے کہ یہ دشمن کا ایجنڈا ہے جو خواتین لیکر سڑکوں پر نکلی ہیں، اسلام دشمن خواتین ہیںاور اس طرح کی یہ حرکتیں کر رہی ہیں اور آج بالکل الٹ۔ آج جب ہمارے اوپر پڑی ہمیں پتہ چلا کہ یہ طالبان ون اور طالبان ٹو کا جو ہم نے فنڈا کریئیٹ کیا کہ یہ مختلف ہے۔ مجھ جیسے لوگ یہی کہتے تھے کہ ہم غلط کر رہے ہیں اور ہم نے دیکھا کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں جو کچھ خیبر پختونخواہ میں ہوا اور آج نا ہماری بچیاں کرکٹ کھیل سکتی ہیں نا یونیورسٹی میں غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بن سکتی ہیں نا کام کر سکتی ہیں ان کو حلیے بدلنے پڑتے ہیں لیکن اس کے اوپر بھی ان پر تشدد ہو جاتا ہے۔ گلی گلی دہشت گردی، اسلام آباد اور پنجاب کی سرحد تک پہنچ گئی ۔ اگر ڈیرہ اسماعیل خان سے بھکر کی سرحد کا خودکش دیکھیں۔ ہم پر زندگی کتنی مشکل ہو گئی۔ آپ کوئی بات نہیں کر سکتے۔ انتہا پسندانہ سوچ ہمارے اندر رچ بس گئی۔ یہاں تک کہ حکومت بھی بعض اوقات سرنڈر ہو جاتی ہے ۔لیکن ابھی بھی ہمارا جو منافقانہ رویہ اور روش ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ کل ہماری خواتین اسلام آباد میں نکلی اپنی آواز بلند کرنے کیلئے تو ان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اپنایا گیا؟۔ اور یہ جو خبر ہے کہ افغان خواتین اپنے حق کیلئے بات کر رہی تھیں اور یہاں جو خواتین عورت مارچ کرنا چاہتی تھیں۔ آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا؟۔ تو وہ جو ہماری ایک منافقانہ روش ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔

اُم حسان نے کہا کہ ہم نے حیا مارچ کرنی ہے اور آپ نے عورت مارچ پرپابندیاں لگا دی۔ اور دفعہ144نافذ کر دی۔ اور دوسری خواتین کے حق کیلئے آ رہی تھیں آپ نے گرفتار کر لیا۔ تو یہ ہے ہمارا اصل چہرہ ہے اس پر بات کرنا چاہ رہی تھی۔ مجھے پتہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو یہ باتیں اچھی نہیں لگیں گی لیکن یہ حقیقت ہے۔ آپ مان لیں کہ آپ صرف ایجنڈا بیس کام کرتے ہیں آپ اپنی خواتین کو بھی تو آزادی دیں ناں۔ آپ نے عورت مارچ کو گالی بنا کے رکھ دیا۔ جب خواتین اس پر بات کرنا چاہتی ہیں تو انتہا پسند آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ آپ ان خواتین کومجرم اور ملزم بنا دیتے ہیں، جیلوں میں بند کر دیتے ہیں گرفتار کر لیتے ہیں یہ کون سا طریقہ ہے؟ ۔

آپ صرف ایجنڈے کے تحت ہی بات کریں گے؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اس انتہا پسند سوچ کو ختم نہیں کرتے جو بندوقیں لے کر آ جاتے ہیں کہ خواتین کے حق کیلئے کوئی بات نہیں کر سکتا اور ادھر آپ سرحد پر ان خواتین کو شاباشیں دے رہے ہیں؟۔ عجیب رویہ ہے۔ جس نے آج مجھے بات پر مجبور کیا۔ ہم بات کرتے رہیں گے۔ چاہے وہ آئین کے خلاف بات ہوگی ۔
ــــــــــ

انڈین خاتون کا حلالہ پر بیان

کسی بھی وجہ سے خاوند نے مجھے طلاق دی۔ بدقسمتی سے یہ احساس ہو ا کہ طلاق نہیں دینی چاہیے تھی۔ اسے واپس دوبارہ اپنے نکاح میں شامل کرنا ہے۔تو میرا نکاح کسی اور سے کروایا جائے گا۔ اب وہ چچا سسر ، ماموں سسر ہو سکتے ہیں، دیور، جیٹھ ہو سکتا ہے۔ تو حلالہ صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتا کہ کسی صرف دوسرے مسلمان مرد سے شادی کرنی ہے۔ ان کے ساتھ جنسی تعلق بھی قائم کرنا ہے۔ ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد پھر وہ دوسرا مرد مجھے طلاق دے گا، تب میرا پہلا شوہر مجھے اپنے نکاح میں واپس لے گا۔اس کو کہتے ہیں” حلالہ”۔تو آپ بتائیں کہ کیا یہ مسلمان بیٹیوں کے ساتھ ننگا ناچ نہیں ہے؟ ۔
ــــــــــ

عورت مارچ پر ڈاکٹر عارف

خاتون اینکر:مردوں کو کیوں تکلیف عورت مارچ سے؟
ڈاکٹرعارف صدیقی:مردوں کواسلئے تکلیف ہے کہ عورت میری بیوی ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، ماں ہے۔ اس کی توقیر پر حملہ ہو گا تو مجھے تکلیف ہو گی۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ جس آزادی نسواں کی یہ بات کرتی ہیں وہ قید نسواں ہے۔ وہ عزت نسواں نہیں، ذلت نسواں ہے۔ وہ عفت نہیں نگ نسواں ہے۔ وہ کمال نہیں، زوال نسواں ہے۔ جمال نہیں تباہی نسواں ہے اور حیات نہیں، مرگ نسواں ہے۔ ہمیں اسلئے تکلیف ہوتی ہے۔ آپ نے سلوگن کا کہا۔ سارے سلوگن نکال لیں،ایک آیت والا سلوگن بھی نکال کے دکھا دیں مجھے کوئی۔ یہ سلوگن کہاں تیار ہوئے؟ آرگنائزرز کون ؟۔ کوئی ایک پلے کارڈ پرسورة النساء کی آیت، حدیث تو ہونا چاہیے نا۔دیٹ واز پلانڈ کانسپیرسی۔ پھر مسجد کے تقدس کو، قاری صاحب کو نشانہ بنایا گیا، چرچ اور مندر کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ وجہ یہ ہے کہ آپ کا ٹارگٹ عورت مارچ کا ٹارگٹ مذہب اسلام ہے۔

خاتون اینکر:ایک سیکنڈ، آپ کا ٹارگٹ یا ان کا ٹارگٹ؟
ڈاکٹر:عورت مارچ والوں کا ٹارگٹ ۔ ناٹ فار یو۔

خاتون اینکر:میری مراد باہر کا ایجنڈا آپ کو لگ رہا ہے؟۔
ڈاکٹر:کہتے ہیں شطرنج کے کھیل میں کہ بیچارہ پیادہ تو ایک مہرہ ناچیز خود فرزیں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ۔ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ۔ سپانسرز کون ہیں؟ ایجنڈا کیا ہے؟ ٹریننگ کہاں سے ہوئی؟ سلوگنز کہاں سے بنے؟ پوسٹر ڈیزائننگ کہاں پہ ہوئی؟ دو باتوں کو ذہن میں رکھیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کون اس کا ویژن2020کیا ہے؟۔ اسکے تین بنیادی نکات ہیں میڈم۔

نمبر1:اسقاط حمل کو قانونی تحفظ دیا جائے ۔
نمبر2:ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
نمبر3:سزائے موت کو ختم کروایا جائے۔ پہلے دو شقوںکیلئےUNO، ذیلی اداروں سے دباؤ ڈلوایا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک،IMFکی شرائط ہیں جو ڈی پاپولیشن کی طرف لے جائیں۔UNOکا ایجنڈا مجھے یقین ہے کہ عورت مارچ کے کسی بھی آرگنائزر نے نہیں پڑھا ہو گا۔ ایجنڈا2030۔ کلیئر کٹ لکھتے ہیں کہ دنیا کی آبادی کو2030تک کم ترین سطح پر لانا ہے۔ ڈی پاپولیشن کیسے ہو گی؟18سال سے کم عمر شادی میں بڑی تکلیف ہے یورپ کو۔ شادی18سال کی عمر میں ہو تو30سال تک چار پانچ بچے کر کے انہیں اسٹیبلش کر چکی ہو گی۔ شادی30سال کی عمر میں ہو گی تو کتنے بچے ہوں گے؟ کب وہ سیٹ ہو گی؟ کیا ہو گا؟ اچھا یہ سارا کا سارا اسی لیے ہے۔ بچے دو ہی اچھے، یہ سلوگن ہے ان لوگوں کا۔ کیا سلوگن ہے؟ مجھے بتائیے ہم جتنے لوگ یہاں بیٹھے ہیں، اگر بچے دو ہی ہوتے ۔
ــــــــــ

جنیداور مولانا کے جذبات

ابوالفضل قاضی نے ایک بندے کی تقریر سنی۔ نبی ۖ کے بارے میں جو ایک کمزور جملہ کہہ گیا… معاذاللہ۔ تو قاضی نے کہا اس کو ابھی پھانسی دو۔ کوئی گواہ نہیں، عدالت نہیں لگی کیونکہ قاضی خود بیٹھے تھے۔ پھانسی پہ لٹکا یا قاضی صاحب کہنے لگے میرا ابھی خون ٹھنڈا نہیں ہوا۔ سزا تھوڑی دی ۔ اب مرے ہوئے کو ذبح کیا جائے۔ ذبح کیا، خون نکلا، کتا خون پینے کیلئے آ گیا تو کہا اب میرا دل ٹھنڈا ہوا کہا، کیا ہوا؟ کہا حضورپاک ۖنے فرمایا مومن کے خون کو کبھی کتا منہ نہیں مار سکتا۔ حضور پاک ۖ کی اس نے گستاخی کی تو ایمان نکل گیااور میں نے بالکل صحیح سزا دی اور گستاخ کی یہی سزا ہونی چاہیے۔ جو نبی ۖکے بارے میں نرم جملہ کہے اور جو حضور کی ختم نبوت کے بارے میں بات کہے اس کی سزا اسلام نے یہ بتائی ہے، اس کا سر کاٹ دینا چاہیے تاکہ زندگی میں دوبارہ اس کو کبھی مہلت نہ ملے۔ ( جنید فرط جذبات سے) اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الفاظ واختیار میں عورت کا تحفظ ہے قرآن میں عہد الست کانمونہ

عورتوں کا ترانہ : حبیب جالب

جہاں ہیں محبوس اب بھی ہم وہ حرم سرائیں نہیں رہیں گی
لرزتے ہونٹوں پر اب ہمارے فقط دعائیں نہیں رہیں گی
غصب شدہ حق پر چپ نہ رہنا ہمارا منشور ہوگیا ہے
اٹھے گا اب شور ہر ستم پر دبی صدائیں نہیں رہیں گی
ہمارے عزم جواں کے آگے ہمارے سیل رواں کے آگے
پرانے ظالم نہیں ٹکیں گے نئی بلائیں نہیں رہیں گی
ہیں قتل گاہیں یہ عدل گاہیں بھلا کس طرح سراہیں
غلام عادل نہیں رہیں گے غلط سزائیں نہیں رہیں گی
بنے ہیں جو خادمانِ ملت وہ کرنا سیکھیں ہماری عزت
وگرنہ ان کے تنوں پہ سجی قبائیں نہیں رہیں گی

اعزاز سید نے اپنے چینل پرڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب
WORKING WITH SHARK
شارک (خونخوار مچھلی کے درمیان کام کرنا) کی مصنفہ سے انٹرویو لیا ہے۔

قارئین ! یو ٹیوب پر اس کو ضرور دیکھ لیں۔مذہبی طبقات سے توقعات کے باوجود جس خوفناک منظر کا آئینہ دکھایا گیا ہے تو اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کتنی افسوسناک بات ہے ؟۔ یہ ڈاکٹر فوزیہ واقعی حبیب جالب کے خواب کا ایک مصداق ہیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حواء عالم انسانیت کے ماں باپ کو ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا اور پھر دونوں نے اپنی مرضی سے خلاف وزی کی تھی اور اسکے نتیجے میں جنت سے نکل گئے۔ پچھلے شمارے میںBBCکی رپوٹ کے مطابق ایک امریکن58سالہ خاتون کی بچپن کا واقعہ تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ جو اپنے چھوٹے بھائی کیساتھ بچپن میں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوئی اور گھر والوں نے بھی داد رسی کی آواز پر کان نہیں دھرے۔ پھر ایک مشہور تنظیم کو فون کرکے مدد طلب کی لیکن وہ مسیحا ہونے کے بجائے رپیسٹ ثابت ہوا تھا۔12سال کی عمر میں حمل ہوا اور پھر والدین کی اجازت سے اس کو بچہ جننے کی عدالت نے اجازت دی لیکن18سال سے قبل اس کو پھر طلاق نہیں مل سکتی تھی اور وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن بچہ جنوانے کی وجہ سے مجبوراً یہ کرنا پڑگیا۔

امریکہ اور مغرب میں سینکڑوں تنظیمیں حقوق نسواں چھوٹے بچیوں کی شادی کے خلاف کام کررہی ہیں لیکن انکے پاس کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔ اسلام کا وہ تصور جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے فتاوی عثمانی جلددوم میں پیش کیا ہے انتہائی گھناؤنا ہے اور وہ اسلام بالکل بھی نہیں ہے۔ چوہے، بلی اور کتیا کے ہاں بھی یہ مسئلے مسائل کو قانون یا شریعت کا نعوذ باللہ درجہ دیا جائے تو اس کے بارے میں قرآن نے واضح کیا ہے کہ ”وہ جانوربلکہ ان سے بھی بدتر ہیں”۔ امریکہ میں سیتاوائٹ نے عمران خان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور پھر جب ٹیرن وائٹ کے پیٹ میں ہونے کی خبر ملی تو عمران خان نے اس کو بیٹی کے طور پر قبول کرنا اپنی تذلیل سمجھا۔ سیتاوائٹ نے کہا کہ مجھے اس کا خرچہ نہیں مگر شناخت چاہیے لیکن عمران خان نے اپنی جان چھڑانے کی ٹھان لی اور آخر کار امریکہ کی عدالت میں کیس مثبت ثابت ہوگیا۔

عمران خان جب وزیراعظم تھا تو بھی اس کے بچے ملنے نہ آئے اور عمران خان جیل سے آزاد ہو یا نہیں؟۔ لیکن ٹیرن اس کے جرم کی قید میں پتہ نہیں کب تک سزا کاٹتی رہے گی؟۔ غلطی جب انسانوں سے ہوتی ہے تو اس کا تدارک کیاہے؟۔ حضرت آدم و حضرت حواء کے حوالے سے اللہ نے بنی آدم کو خبردار کردیا کہ شیطان تمہیں ننگا نہیں کردے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا تھا۔ قرآن کی تعلیمات کا یہ کمال ہے کہ حضرت آدم اللہ کے جلیل القدر نبی تھے اور لوگ حضرت حواء کے پیچھے برائی کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر اپنی مغلظات بکتے رہتے ہیں لیکن اللہ نے ان دونوں میں زیادہ تر ذمہ داری عورت پر نہیں مرد پر ڈالی:

عصیٰ اٰدم ربہ فغوی

” آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راستے ہٹ گیا”۔ (القرآن)جب بھی ایک بہت بڑی شخصیت کا کسی عام لڑکی یا خاتون سے غلط جنسی تعلق ہوگا تو اصل قصور وار عورت نہیں مرد کو ہی ٹھہرایا جائے گا۔ جانوروں میں بھی جنسی درندگی کا مظاہرہ مادہ کی طرف سے نہیں نر کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ قانون قدرت میں جب حضرت یوسف سوفیصد بے گناہ اور عورت گناہگار ہوتی ہے تب بھی سزا حضرت یوسف ہی نے کھائی اور بڑے مزے کیساتھ کھائی اور بڑی شان سے ایک دن اپنے مقام تک بھی پہنچ گئے۔ لیکن حضرت یوسف نے بوجوہ اس کی طرف انتہائی رغبت کے باوجود بھی اپنا دامن برائی سے بچائے رکھا ۔ ایک شادی شدہ تھی اور دوسرا جس کا گھر میں رہائش اور اس کے احسان کا معاملہ تھا تو کنارہ کشی اختیار کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت فرمائی۔

ولقد ہمت بہ و ہما بہا لولاان راء برہان رب

” اور تحقیق کہ اس عورت نے بھی اپنی نفسانی جذبے کی تکمیل کا عزم کیا اور وہی یوسف نے بھی کیا اگر رب کا برہان نہیں ہوتا”۔

ایک غیر نبی عام انسان خود کو بالکل بری الذمہ قرار دینے میں ہچکچاہت تک محسوس نہیں کرتا جو انتہائی بکواس ہے لیکن اللہ کانبی حضرت یوسف فرماتاہے وما ابری نفسی ” اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں”لیکن اللہ نے بچالیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:

الذین یجتنبون کبار من الاثم و الفواحش الا المم فلا تزکوا نفسکم

” اور جو لوگ بڑے گناہوں اور فحاشی سے اجنتاب کرتے ہیں مگر اللمم پس اپنی جانوں کی پاکبازی کا اظہار مت کرو”۔عربی لغات میںاللمم کا کوئی خاص ترجمہ نہیں ہے۔لیکن اللہ نے یہ کیوں کہا ہے کہ اپنی پاکبازی بیان مت کرو؟۔ تو عربی میں لم لم کیوں کیوں کو کہتے ہیںاور ہر آدمی اپنی جان سے واقف ہے۔

معاشرے میں ایک عورت کے بگڑنے کی دیر ہوتی ہے کہ مردوں کا بے شرم معاشرہ فلڈ کے کچرے کی ڈھیر کی طرح اُمنڈ آتا ہے جس سے دوسری خواتین کے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ چین و سکون کی جگہ بے اطمینانی،خلفشار اور لڑائی جھگڑوں کے علاوہ طلاق اور بسے بسائے گھروں کی بربادی ہوجاتی ہے۔

اگر قرآن کا قانون دنیا کے سامنے رکھا جائے تو سب اس پر اتفاق کرلیںگے کہ جب اس پر اپنے خاندان کی طرف سے اور عزیز واقارب اور پڑوسیوں کی طرف سے چار گواہ آجائیں تو اس کو اس وقت تک اپنے گھر میں نظر بند رکھا جائے جب تک کہ اس کی موت واقع نہیں ہوتی یا اللہ اس کیلئے کو ئی راستہ نہیں نکال دیتا ہے جو ایک شوہر اور جائز طریقے سے اس کی خواہش پوری کرنے کیلئے کافی ہو۔ اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا:

والٰتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشہدوا علیھن اربعة منکم فان شہدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت او یجعل لھن سبیلًاOوالذٰن یاتینھا منکم فاٰذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوعنھما ان اللہ کان توبًا رحیمًاO

ایک تو عورتوں کو بغیر قصور کے گھروں میں نظر بندکرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک عورت پر اس کے شوہر سے زیادہ کون غیرت کھا سکتا ہے؟۔ لیکن اللہ کا حکم ہے کہ اگر شوہر رنگے ہاتھ پکڑلے تو بھی اس کیلئے دو صورتیں ہیں۔ ایک گھر سے نکالے اور اگر سزا دینی ہو تو عدت میں لعان کرے گا۔ پھر اگر عورت ہی جھوٹی ہو اور جھوٹ بولے اور مرد سچا ہو اور سچ بولے پھر بھی اس سے سزا اٹھائی جائے گی۔ چودہ سو سال پہلے قرآن میں اللہ نے وہ قانون اتارا ہے جس کو مشرق اور مغرب کے ماحول سے کوئی بھی متاثر نہیں کہہ سکتا ہے۔ اگر عورت جرم کا اعتراف کرتی ہے تو اس کو سنگسار نہیں کیا جائے گا بلکہ قرآن میں100کوڑوں کی سزا واضح ہے۔ اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کی طرف سے ”سنگساری کیلئے کتاب میں چھپے ہوئے دلائل اور سورہ النساء کی آیت15کا حوالہ دیکھا جائے ”تو معلوم ہوگا کہ کس قدر جاہل لوگ تھے ؟۔

قرآن پرجھوٹ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما

” جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ہی سنگسار کردو”باندھا گیا ہے۔ اب قرآن میں بکواس کہاں فٹ ہوسکتا ہے؟۔ اس کے جواب کیلئے مزید بکواس کی گئی ہے کہ سورہ احزاب میں یہ آیت تھی اور آدھی سورہ احزاب غائب ہے جس کا حجم سورہ بقرہ جتنا تھا لیکن آدھی غائب کردی گئی ہے۔

جاوید غامدی تو سورہ النساء اور دوسری سورتوں میں بھی بڑی کٹوتی کے چکر میں ہے کہ اصل یہاں تک ہے ،باقی فالتو ہیں۔ اورجو اصل احکام ہیں ان میں بھی بڑا نقص سمجھتا ہے۔ قرآن کو اپنے خود ساختہ7ابواب میں تقسیم کرکے ماضی کا قصہ بنادیا ہے جس کی حیثیت عالم انسانیت کیلئے ہدایت کی نہیں رہی ہے۔

عربی میں ایک مادہ سے بہت سارے معانی نکلتے ہیں۔اور سورہ فاتحہ کو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرا یا جاتا ہے جس کی سات آیات ہیں۔ثانیہ لمحے کو بھی کہتے ہیں اور نماز کی مقررہ اوقات میں جس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیات کا حلف نامہ دوہرایاجاتا ہے اگر اس پر درست توجہ دی جائے تو نماز کے ذریعے مسلمان ترقی وعروج کی معراج تک پہنچ جائیں۔اسلئے اللہ نے فرمایا: ”بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے”۔ (القرآن)اگر دو مردآپس میں فحاشی کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم ہے اور اگر وہ توبہ کرلیں تو پھر ان سے اعراض کا حکم ہے۔

عورتوں کا طواف کعبہ، مروہ وصفا کی دوڑ،باجماعت پنج وقتہ نماز اورمعاشرے کے اندر مختلف معاملات میں اختلاط ہوتا ہے اور جہاں غلط لوگوں کی بالادستی ہو تو پھر عورت خود بھی احتیاط ہی کرتی ہے۔ حضرت عمر نے حالات کی نزاکت کو دیکھ کر بیوی کو رات کی تاریکی میں نمازباجماعت کیلئے نکلنے سے منع کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کو چھیڑنے کی تدبیر سے منع فرمادیا۔ چنانچہ جب اس کی بیوی نے ایک آدمی کی چھیڑ خانی کا سامنا کیا تو کہا کہ اب نماز کیلئے رات کی تاریکی میں مسجد جانے کا زمانہ نہیں۔ جبکہ حضرت عائشہ58ھ تک حیات تھیں اور اس وقت حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ فرمایا:” اگر نبیۖ یہ حالات دیکھتے تو عورتوں کو نماز کیلئے مساجد جانے سے منع فرماتے”۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے حکم دیا کہ عورتوں کو نماز سے منع نہ کرو۔

اللہ نے فرمایا:” اے نبی ! قل کہہ دو اپنی ازواج کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مؤمنوں کی عورتوں کو اپنے جلباب کو اپنے اوپر لپیٹیں اور احتیاط ہے تاکہ وہ پہنچانی جائیں تو اذیت نہیں دی جائے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ اگر منافق نہیں رکے اور جن کے دلوں میں مرض ہے وہ اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے توہم ان کے پیچھے آپ کو لگادیں گے پھر یہ تمہارے پڑوسی اس میں نہیں رہیںگے مگر کم عرصہ۔ یہ لعنتی لوگ ہیں جہاں کہیں ثقافت قائم ہوگی تو ان کو پکڑا جائے گا اور قتل کیا جائے گا۔ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کی سنت کو تبدیل نہیں پاؤگے۔ آپ سے انقلاب کا پوچھتے ہیں تو کہہ دو کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں کیا خبر کے انقلاب قریب آگیا ہو۔ بیشک اللہ کافروں پر لعنت بھیجتا ہے اور ان کیلئے دنیا میں سختی تیار کر رکھی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اپنا سرپرست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ اس دن آگ میں انکے چہرے گھما ئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم اللہ کی اطاعت کرتے اور رسول کی اطاعت کرتے ۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر بہت بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی پھر اللہ نے اسے اس سے بری کردیا جو وہ کہتے تھے۔ بیشک وہ اللہ کے نزدیک مقام رکھنے والا تھا۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور گناہوں کو معاف کیا جائیگا۔جس نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت عظیم کامیابی حاصل کرلی۔ ہم نے امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسکو اٹھایا اور بیشک وہ بہت بڑا ظالم اوربڑا جاہل تھا۔(سورہ احزاب:59تا72)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ان مع العسر یسرًا قرآن کا معاشرتی نظام ظلم کے خاتمہ کیلئے بڑی بنیاد بن سکتا ہے

مولانا فضل الرحمن جب ٹانک کی جامع مسجد سفید میں عوام سے ووٹ مانگنے کیلئے خطاب کرتا ہے تو لوگوں سے کہتا ہے کہ ”اسلام کا نظام بہت نرم ہے اور لوگوں نے سخت مشہور کیا ہے۔ ایک آدمی کسی عورت اور مرد کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے تو اگر اس نے عدالت میں اس کے خلاف گواہی دی اور چارگواہ نہیں لاسکا تو اس کو80کوڑوں کی سزا ہوگی۔ اگر دو افراد نے دیکھا تو بھی ان کو سزا ہوگی اور تین افراد نے دیکھاتو بھی گواہی پر ان کو سزا ہوگی ۔ اس سے زیادہ نرمی کیا ہوسکتی ہے؟۔یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ چار افراد بیک وقت فقہ کے شرائط کے مطابق کسی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ سکیں؟،تو اسلام نرم ہے ناں”۔

جہاں بچہ بازی میں لوگ ملوث ہوں تو مغرب سے بڑھ کر فحاشی پھیلاتے ہیں لیکن سورہ نور میں واضح ہے کہ بیوی کو شوہر رنگے ہاتھوں پکڑلے تو قتل نہیں کرسکتااور لعان میں بیوی جھوٹ بولے اور شوہر سچا ہو تب بھی عورت کو سزا نہیں ملے گی۔ یہ اسلامی حکم مولانا فضل الرحمن اس وقت عوام کو بتائے گا کہ جب لوگوں میں مارنے کی غیرت نہیں ہوگی۔ طالبان کے جبری داڑھی رکھوانے کو اسلام قرار دیالیکن جب اپنی اسمبلی علماء سے بھری تھی تو داڑھی منڈے اکرم درانی کو وزیراعلیٰ بنوادیا۔

قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف اور حدیث میں جٹ کا ذکر ہے اور جٹ دانشور کا دعویٰ ہے کہ ابراہیم جٹ تھے۔ عربی میں جٹ ” زط ”۔بنی اسرائیل کے انبیاء اور بادشاہ ابراہیم کی نسل تھے ۔ ووھبنا لہ اسحق ویعقوب نافلة ”اور ہم نے اسحق اور یعقوب کو عطا کردیا انعام کے طور پر”۔

جٹ ، راجپوت ،بلوچ اور کرد کاشجرہ ابراہیم سے ملتاہے۔ سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ و افغانستان میں بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کا شجرہ نسب ابراہیم سے ملتا ہے۔ بھٹو کا تعلق راجپوت سے ہے اور نصرت بھٹو کا تعلق کردصلاح الدین ایوبی کے شجرہ نسب سے ملتا تھا۔ علامہ اقبال نے ابراہیم کی اولاد سے امیدپر شاعری کی ہے۔مولانا سندھی نے یہاں کی تمام قوموں کو عجم کا مرکز اور اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنیاد قرار دیا۔ جاویداحمد غامدی فضول بکواس کرتا ہے کہ قیامت تک اولادِ ابراہیم کو حکومت نہیں ملے گی اسلئے کہ حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد سے قرآن میں اللہ نے وعدہ کررکھا ہے۔

سندھ اور ہند حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹے تھے جبکہ حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی اولاد سے تھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جب میں پہلی مرتبہ چیچہ وطنی کیلئے ٹانک سے ملتان کی بس میں1978ء میں تونسہ شریف کے اسٹاپ کھانے ، نماز وغیرہ کیلئے پنجاب کی سرزمین پر اترا تو ہوٹل سے باہر نکلتے ہی لوگوں نے پیچھے سے قمیص اٹھائی ہوئی تھی اور قریب قریب رفع حاجت کیلئے عریاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے یہ کلچر بہت عجیب لگااور پھر چیچہ وطنی میں سرعام پدو مارنے کی رسم وریت دیکھی۔ جب ہم لیہ میں آئے تو میرا بھتیجا ارشد حسین شہید نیا نیا آیا اورٹیوشن کے وقت جب تک پدو کی آوازپر اس کی ہنسی نہیں چھوٹ جاتی تھی تو اس کی وجہ سے طلبہ نے بمباری کا سا سماں باندھ دیا تھا۔

مسند احمد، صحیح مسلم ، تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20جلال الدین سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔

عبداللہ بن مسعود سے مسنداحمد، صحیح مسلم اور دیگرمیں ہے: ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فنطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا

حدیث کی مختلف روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایا۔ پھر ایک جگہ پر لکیریں کھینچ کر فرمایا کہ اس کے درمیان سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے اور پھر نبیۖ نے کچھ خوش آمدیدی کلمات کا ذکر کیا تو کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ان کے کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو اپنے ساتھ سواری پر لے گئے۔ پھر وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے اور ننگے تھے۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو درد محسوس ہورہاتھا زیادہ سوار ہونے کی وجہ سے۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات قرار دیا ہے اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم کا ذکرہے جن میں کچھ بصرہ میں موجود ہیں۔ جاوید غامدی کے والد ساہیوال کے گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔

اعتراض اٹھا گیا کہ مسلمانوں کی تاریخ خاموش ہے اور اس پر اٹھنے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں ۔ عبداللہ بن مسعود کی بات کا انکار بھی نہیں کرسکتے ۔صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی ہوتی ہے تو دنیا میں اس کا اثر پڑتا ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ہے اورسورہ حدید میں دنیا کے اندر رونما ہونے سے پہلے کتاب میں سب لکھنا واضح ہے ۔ سانئس مزید ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کو قبول کرناDNAسے ثابت ہوگا۔ بدھ مت کی نساء رحیم کا انٹرویو شمس الدین حسن شگری نے کیا تھا جس کے کچھ اقتباسات ہم نے دئیے تھے۔ جس کا کہنا تھا کہ وہ روحانی طور پر ماضی میں جھانک لیتی ہیں۔

علامہ اقبالنے ہندوستانی بچوں کا گیت لکھا ہے۔

چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
یونانیوں کو جس نے حیران کردیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم وہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میراوطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسمان سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے

میر عربۖ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

بندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینا
نوح نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

عبداللہ بن مسعود سے امام مہدی کے حوالے سے بھی بہت سی روایات منقول ہیں۔ وزیرستان کے لوگ سرائیکیوں کو جٹ کہتے ہیں اور سرائیکی قوم کو پاکستان میں مرکزیت حاصل ہے۔ ممکن ہے کہ رسول اللہۖ نے عبداللہ بن مسعود کے سامنے وہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا نقشہ پیش کیا ہو اور زمینی حقائق پر مستقبل کیلئے گواہ بنایا ہو اسلئے کہ عبداللہ بن مسعود نے حضرت عثمان کی شہادت کے آثار سے پہلے وفات پائی اور عدل وانصاف کیلئے امام مہدی کی نشاندہی فرمائی جو نہ نبی ہوگا اور نہ رسول اور معصوم لیکن دنیا کو نظام عدل سے ظلم و جور کے بعد بھر دے گا۔ ارواح کی تمثیل زمینی حقائق اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے اللہ نے دکھائے ہوں گے۔ جیسے واقعہ معراج میں آسمانی حقائق دکھائے تھے۔ ہم بزرگوں کی پیشگوئی مانتے ہیں قرآن وحدیث کی نہیں؟۔

اقم الصلوٰة لدلوک الشمس الی غسق اللیل و قراٰن الفجر ان قراٰن الفجر کان مشہودًا ومن اللیل فتہجد بہ نافلة لک عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًاO
”اور نماز قائم کرسورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن ،بیشک فجر کا قرآن گواہی کیلئے سمجھنا اصل معاملہ ہے اور رات میں تہجد کی نماز تیرے لئے نفل ہے، ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمودسے نواز ے”۔

فجر کودماغ تازہ،دل صاف اور طاقتوراعصاب کی بدولت فجر کاقرآن بیشک مشہودیعنی اس کا درست مفہوم سمجھ میں آتاہے جبکہ سارا دن کام کاج کی وجہ سے دماغ اور تھکے ہوئے اعضاء سے درست مفہوم تک کماحقہ رسائی نہیں مل سکتی ہے۔ مغرب و عشاء کی نماز فرض اور تہجد کی نماز نفل ہے لیکن نفل میں بھی بہت توقیر اور انعامات ہیں۔ البتہ فرض اور نفل میں واضح فرق ہے۔ ہاں اصل چیز فجرکے وقت قرآن کو سمجھنے کیلئے اپنا قیمتی وقت ہے اور اس سے فجر کی نماز یا اس کی لمبی تلاوت مراد لینا انتہائی درجہ حماقت ہے۔ فجر کے وقت تازہ دماغ کے ساتھ کوئی چیز سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت سمجھ کی اہمیت بالکل واضح ہے۔

علامہ اقبال نے ایک طرف یہ کہا تھاکہ
جب تک نہ ہو تیرے دل پہ نزول کتاب
نکتہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف

اور پنجابی مسلمان کے بارے میں فرمایا تھا کہ

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

جس دن پنجاب کو ایک اچھا مرشد واقعی مل گیا تو پھر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، غلام احمد قادیانی، بریلوی، دیوبندی اور بھٹو، نواز شریف اور مرشد عمران خان کو چار چاند لگانے والی جٹ قوم کا نہ صرف اپنا مستقبل روشن ہوگا بلکہ اس خطے کی ساری اقوام سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری اور افغانی کی بھی تقدیریں بدل جائیں گی۔ جب میں چیچہ وطنی میں پہلی بار گیا تھا تو مجھے بریلوی دیوبندی کی تمیز نہیں تھی۔ کافی وقت کے بعد جب میری اقبال آرائیں کلاس فیلو ”آرائیں بوٹ ہاؤس”سے شناسائی ہوگئی تو اس نے مسلک پوچھا۔مجھے مسلک کا پتہ نہیں تھا۔ پھر اس نے کہا کہ تم لوگ قبروں کو پوجتے ہو؟۔میں نے کہا کہ نہیں، ہم وہ والے نہیںتو اس نے کہا کہ پھر تم دیوبندی ہو اور بتایا کہ ”یہ پیر جی کی مسجد ہے۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مفتی محمود یہاں آتے ہیں۔ میں نے بھائی جان امیرالدین کے سامنے مولانا نورانی کو مشرک کہا تو بڑے ناراض ہوگئے۔ نورانی نے قبروں پرسجدہ ، پوجا پاٹ نہیں صرف فاتحہ کو جائز قرار دیاتھا لیکن فرقہ پرستی پاکستان کی بہت بڑی بیماری ہے۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود میں لکھ دہا ہے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ امام ابوحنیفہ کے اصل مسلک کے مطابق ہی ہوگی جس میں قرآن کو ترجیح دی جائے گی اور ایران بھی اس کو قبول کرلے گا کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت امام باقر، جعفر صادق اور زید کے شاگرد تھے۔ ایرانی انقلاب کو موقع ملالیکن اپنی عوام تک کو بھی خوش نہ کرسکے۔ عراق اور برصغیر پاک و ہند کے شیعہ کو ولایت فقیہ پر متحد نہ کرسکے۔ بارہ امام پر تیرواں امام خمینی تھا تو یہ اہل سنت کا مسلک تھا اسلئے کہ شیعہ خدا کی طرف سے امام کے تقرر کے قائل ہیں لیکن خوش آئند کہ ایرانی شیعہ سنی بن گئے اور برصغیر پاک وہند کے سنی اور دنیا بھر کے سنی شیعہ بن گئے اسلئے کہ خلافت قائم کرنے کے بجائے امام مہدی کی امید پر بیٹھ گئے۔ یہ عقیدہ نہ تھا لیکن نو مسلم عیسائیوں اور دودھ پیتے مجنونوں کی طرح لیلائے مفادات کیلئے حقائق کو مسخ کردیا۔

شیعہ کو امام مہدی غائب کے ظہور کے بعد بھی مشکل سے یقین آئے اسلئے کہ گیارہ اماموں نے اگرچہ کامیابی حاصل کی لیکن یہ لوگ ناکامی کاوایلا کرتے ہیں۔امام علینے ابوبکر وعمر اور عثمان کی حمایت کا حق ادا کیا اور لوگ گالی گلوچ اور مسخ شدہ وہ تاریخ ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں جس کی نالائقی قرآن کے تحفظ پر مطمئن نہیں۔نوجوانان جنت کے سردار حسن و حسین کا صلح اور اپوزیشن میں نمایاں کردار میں یہ تضادات کے قائل ہیں لیکن عقیدہ یہ رکھتے ہیںکہ معصومین قرآن کی طرح متضاد نہیں ہیں۔

وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج ملة ابیکم ابراہیم ھو سماکم المسلمین من قبل و فی ھٰذا لیکون الرسول شہیدًا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس فا قیموا الصلوٰة واٰتوالزکوٰةواعتصموا باللہ ھو مولٰکم فنعم المولی ونعم النصیرO

اور اللہ کے احکام میں جدوجہد کا حق اداکرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تمہارے لئے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی ۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر ہو ،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اس میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ کو مضبوط تھام لو۔وہ تمہارا مولیٰ ہے بہترین مولیٰ بہترین مددگار۔

سورہ حج کی اس آخری آیت سے مراد اہل تشیع اپنے ائمہ لیتے ہیں کہ اللہ نے ان کو منتخب کیا ہے اور سنی کیا مراد لیتے ہیں ؟ تو ان کو اپنے آپ ہی مراد لینا چاہیے تھا لیکن طالب اور مولوی سوچتا ہے کہ ہم اگر حکمران بھی بن جائیں تو تب بھی زکوٰة لیںگے لیکن دیں گے کبھی نہیں۔ پھر کیسے خود کو مراد لیںگے؟۔

اللہ تعالیٰ شیعہ سنی کیلئے قرآن کو ہدایت کا ذریعہ جلد بنائے اور ان کو فرقہ پرستی اور جنگوں کی موت کے کنویں سے نکالے۔ اب اس مشکل دور میں اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ لیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امیر المؤمنین ملا محمد عمر کا خواب مولانا نورانی نے بتایا تھا

حضرت مولانا شاہ احمد نورانی نے جلسہ عام میں فرمایا: یوٹیوب کی کلپ :یہ قاتل ہے۔ ہم نے بڑے ادب سے ان سے کہا کہ آپ دیکھ لیں امریکہ بڑا ظالم ہے اس کے ظلم سے بچنے کیلئے کوئی تدبیر نکالئے۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ اُسامہ کو دے دو اور ٹھکانے بتاد و اور یہ کردو وہ کردو۔اور آپ کوئی تدبیر سوچیں انہو ںنے کہا کہ ہم تدبیر سوچتے تھے کہ کچھ نہ کچھ تو بیچ میں سے کوئی رستہ نکالیں ۔ لیکن امیر المؤمنین ملا عمر نے کہا کہ ہم سوچتے تھے کہ کوئی راستہ نکالیں جان بھی بچ جائے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔لیکن ہم نے رات کو خواب میں دیکھا کہ دروازے کھل گئے۔(نعرہ رسالت: یار رسول اللہ کی گونج) آسمان پر نور برس رہا ہے۔ رحمتوں کی گھٹا آرہی ہے اور سنہری جالیوں کے دروازے کھل گئے ہیں۔ دونوں جہانوں کے تاجدار سبز گنبد سے سنہری جالیوں سے گزرتے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔ اور کہا خبردار صلیبی جنگ کا چیلج دے دیا گیا ہے۔ پیچھے نہیں ہٹنا۔ مقابلہ کرتے رہو اللہ کی مدد اور نصرت پر یقین رکھو۔ تم اگر ایمان کے ساتھ ایمان کی قوت سے لڑتے رہے تو اللہ رب العزت تمہاری مدد ضرور فرمائے گا۔ بدر کے مجاہدوں کی مدد فرشتے بھیج کر کی۔ بدر کے313مجاہدوں کو مکہ کے ایک ہزار ہندو بت پرستوں پر فتح ہوئی۔ کیسے فتح ہوئی؟۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے313مجاہد رسول اللہ ۖ سید المجاہدین امیر المجاہدین کی قیادت میں جب میدان بدر میں اترے اور کفر کے مقابلے پر ڈٹ گئے عزیمت کے ساتھ تو اللہ رب العزت کے فرشتے بھی قطار اندر قطار اترنے لگے اور اللہ کی نصرت اور مدد آگئی۔
ــــــــــ

پاکستان افغانستان میں جنگ نبیۖ کی زیارت اور تعبیر

نحمدہ ونصلی عل رسولہ الریم۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من رآنی فی المنام فقد رآنی ان الشیطان لا یتمثل فی صورتی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا بے شک اس نے مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا ہے۔ اور جتنے بھی انبیاء آئے، کسی کی صورت میں بھی شیطان نہیں آ سکتا ہے۔ مولانا محمد قاسم عثمانی حفظ اللہ نے ایک خواب دیکھا ہے، اس کے بارے میں یہ گروپوں میں چل رہا ہے کہ کوئی اس کی تعبیرکرے۔ مولانا محمد قاسم صاحب نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ۔

نمبر1:نبی پاکۖ کواور دائیں طرف میں کھڑا ہوں اور بائیں طرف نبی پاک ۖ کھڑے ہیں۔ اور ہم دونوں خاموش ہیں۔ افغانستان کی طرف سے ایک فوج اڑتا ہوا آ رہا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اڑنے والا فوج کا مثال مجاہدین کی ہے۔ یہ مجاہدین جو آج کل ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اور یہ جو کشیدگی پاکستان اور افغانستان کے مابین چل رہی ہے۔ پاکستان والے خود کو طاقتور اور افغانستان والے خود کو طاقتور سمجھتے ہیں۔ اشارہ دونوں کی طرف ہے۔ یعنی ہر ایک پرواز میں ہے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا ”میں اس چیز کا اجازت ان دونوں کو نہیں دیتا ہوں کہ اس طرح کرے”۔ یعنی ایک دوسرے کو مارنے کی۔پہلا تو یہ ہے کہ مجاہدین کا اڑتے ہوئے آنا اور اس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔

نمبر2:نبی پاک ۖکے پاس جب یہ مجاہدین پہنچے اور نبی پاک ۖکے اردگرد گھومنے لگے۔ تو اس سے مراد کا جواب یہ ہے کہ اردگرد گھومنے سے مراد دونوں جماعت مسلمان ہیں۔ پاکستان والے بھی مسلمان ہیں اور افغانستان والے اور دونوں حق پر ہے۔ اور ہر جماعت والے کہتے ہیں کہ میں مارا جاؤں گا تو شہید کہلاؤں گااور دونوں کا دین” دین اسلام” ہے۔

نمبر3:مولانا صاحب آپ نے کہا اس لشکر کا جو طالب علم امیر تھا اسکے ہاتھ میں عصا یالکڑ تھا۔ تو میں نے وہ عصا یعنی لکڑ لے کر کہ نبی پاکۖ کو پیش کیا۔ تو نبی پاک ۖنے مجھے فرمایا کہ آپ ان کو منع کر دو اور روک دو۔ یعنی اس جنگ سے ان کو روک دو۔ تو اس کا جواب ہے کہ جنگ سے روک دو۔ یعنی جس کو روکنے کی طاقت ہے یعنی روک سکتا ہے اس میں علما کرام ہیں، خواہ حکمران ہے یا پاکستان کے وزیراعظم ہے، صدر ہے یا فوج ہے جو بھی روک سکتا ہے وہ روکے اور اپنا کوشش کرے اور اس طرح نبی پاک ۖ نے امت کیلئے ایک پیغام بھیجا ہے۔ یہ پیغام افغانستان اور پاکستان کیلئے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کی جانیں مفت میں جا رہی ہیں۔ دونوں طرف سے ہم لوگوں کے مجاہدین شہید ہو رہے ہیں۔ تو ہم لوگوں کا حق اور ہم لوگوں کا کردار یہ ہے کہ نبی پاکۖ کی بات پر توجہ دیں اور اس بات کے اوپر عمل کرے تاکہ ہم لوگ راہ راست پر چل سکے۔

نمبر4:مولوی صاحب آپ نے جو نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ ان کو روک دو۔ آپ ان کو منع کر دو۔ یعنی اسے غیب سے منع کر دو۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا میرا ٹوپی نہیں ہے۔ میرا ٹوپی نہیں ہے۔ مولانا صاحب اس ٹوپی سے مراد وہ مجاہد ابھی تک نہیں آئے ۔ یعنی وہ مجاہد سے مراد امیر ہند ہے۔

نمبر5:پھر مولوی صاحب آپ نے نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ اپنا ٹوپی لے آؤ۔ جواب: نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ میرا ساتھ ایک یا دو آدمی آ جاؤ۔ یعنی ایک یا دو سے مراد اس امیر کیلئے ایک یا دو لشکر کی ضرورت ہے۔

نمبر6:ہم لوگ ابھی ادھر کھڑے تھے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ موسی کلیم اللہ کہاں ہے؟ موسی کلیم اللہ تو پیغمبر ہے اور اللہ کا نبی ہے۔ تو میں نے کہا کہ وہ موسی کلیم اللہ ہے اور موسی کلیم اللہ آ رہا تھا جب میں نے کہا کہ موسی کلیم اللہ وہ ہے تو موسی کلیم اللہ وہاں رک گئے اور موسی کلیم اللہ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر آ رہا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنے والا جو امیر مجاہد ہے وہ بہت سخت مزاج ہوگا۔ اور اس کے الفاظ بھی بہت سخت اور خود مزاج میں بھی بہت سخت ہوگا۔ وہ امیر ہند۔

نمبر7:وہ لشکرجو موسی علیہ السلام کے پیچھے تھا وہاں رک گیا تو جواب یہ ہے کہ امیر مجاہد کے پیچھے بڑا لشکر ہوگا مددگاروں کا۔

نمبر8:نبی پاک ۖ روانہ ہوئے تو میں بھی پیچھے روانہ ہوا اور نبی پاک ۖ اونچی جگہ پر چڑھ گئے، میں نے دل میں سوچا کہ ہموار زمین سے جاؤں مگر زیب نہیں دیتا کہ نبی پاکۖ اوپر زمین سے چلے گئے اور میں نیچے کی زمین سے چلا جاؤں۔ اور محبوب خدا سخت زمین سے گئے ۔ میں ہموار زمین پر چلوں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ علماء کے دلوں میں خوف ہے مسلمان ظالموں اور کافروں سے۔ اگر ہم لوگ سچائی کو بیان کریں اور حق کی بات کریں تو یہ ظالم اور کافر ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ اس دور میں دین پر چلنا بہت مشکل ہے، ہم لوگ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن جو نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتا ہے تو اس کیلئے بہت آسان ہے اور وہی کامیابی پر ہے۔ مولوی صاحب آپ صاحب فضیلت ہو۔ آپ نے حضرت محمدۖ کے نقش قدم پر چلنے کو اختیار کیا۔ آپ کا پہلے سے مرتبہ بڑھا ہے، آپ عالم ہو۔ اس خواب کے بعد آپ کا مرتبہ اور بھی بلند ہوگا۔ آپ دین اسلام پر ثابت قدم ہو اور ثابت قدم رہو گے۔

نمبر9:مولوی صاحب آپ نے فرمایا کہ جس کھڈو ک یا کمرے میں نبی پاک ۖ گئے، وہ پھر نظر نہیں آئے۔ پھرمیں گیا اس چھوٹے سے کمرے میں اور دیکھا اس میں ایک کتا مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف ایک بلی ہے۔ یہ دونوں مد مقابل تھے۔ کتا بلی پر حملہ کرتا ہے تو بلی کے چہرے پر جتنے بال ہیں وہ سارے زمین پر گرتے ہیں لیکن بلی زخمی نہیں ہوتی ہے۔ مولانا صاحب جواب یہ ہے کہ کتا سے مراد کافر اور بلی سے مراد مسلمان ہیں ۔ کافر مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے۔ مسلمانوں کو شہید کرتا ہے اور دین اسلام پر حملہ کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے اور بلی کے بال گرتے ہیں زخمی نہیں ہوتی اور ان کا مثال اسی طرح ہے کہ کتا حملہ کرتا ہے مسلمانوں پر، ان کو شہید کرتا ہے لیکن مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہے، وہ اپنے دین پر ثابت قدم ہیں اور دین اسلام کو جو نقصان پہنچانے کا جتنا بھی کوشش کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو تھوڑا نقصان پہنچتا ہے لیکن اسلام کو ختم نہیں کر سکتا ۔ جتنا کوشش کرے اس کی مثال بلی کے بال گرنے کی طرح ہے، ظاہری تھوڑا نقصان ہوتا ہے لیکن اندرونی کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اور مسلمان مضبوط ہے اپنے دین کے اوپر، نہ دین کو کچھ نقصان ہوتا ہے نہ مسلمانوں کو۔

نمبر10:مولانا صاحب آپ نے کہا کہ بلی آئی میرے پیچھے کی طرف سے مجھ پر حملہ کیا۔ میں نے اپنا دایاں ہاتھ پہلے اس کی طرف پھینکا اور پھر بائیں طرف سے آیا توبائیں طرف سے اس پر ہاتھ ایسا پھینکا۔ مولانا صاحب جواب ہے کہ بلی کی مثال مسلمان بھائی کی ہے کہ علماء پر پیچھے سے وار کرتا ہے اور پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ مولانا صاحب خوش نصیب خوش قسمت ہے وہ آنکھ ہوتی ہے جو نبی پاک ۖ کی زیارت کرتی ہے۔ اور نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتی ہے اور نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ مولانا آپ ان کو روک دو۔ یہ کتنا بڑی بات کتنی بڑی فضیلت ہے اور آپ کیلئے بہت بڑا فخر کا مقام ہے مولانا صاحب۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے مراتب کو بلند اور مقام کو بلند فرمائے۔ مولانا صاحب اللہ تبارک و تعالی آپ کی زندگی میں برکت فرمائے۔ ہمیشہ مولانا صاحب آپ حق بیان کرتے ہو اور اسی حق پر ہمیشہ اللہ تبارک و تعالی آپ کی زبان کو توفیق دے کہ لوگوں کو ہدایت کیلئے بیان کرتے رہو۔ مولانا صاحب ہمیںبہت بڑا خوشی ہوئی کہ ہمارا ایک عالم جب پاکستان و افغانستان میں اتنی بڑی کشیدگی ہے جس کیلئے نبی پاک ۖ نے اپنا زیارت کروا کے ایک پیغام امت محمدی کیلئے بھیج دیا، اگر کسی کے اندر حق ہے تو اس خواب سے عبرت حاصل کرے اور جو شر پسند عناصر اس میں شر پسندی پھیلا رہے ہے تاکہ وہ اس سے توبہ کرے اور اللہ کے حضور میں معافی مانگے اور قیامت کے دن نبی پاک ۖ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔

تعبیر خواب از نوشتہ دیوار

اس خواب کی اصل تو معلوم نہیں لیکن تعبیر سے پتہ چلا ہے کہ جس نے خواب دیکھا وہ ایک عالم دین ہے اور اس نے جو کچھ بھی دیکھا ہے تو تعبیر کیلئے علماء سے درخواست کردی ہے۔

ہمیں جو تعبیر سمجھ میں آئی ہے تو اس میں رسول اللہۖ نے پہلے ایک کردار ادا کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ نہیں ہو۔ ایک طرف اڑتے ہوئے لشکر کی بات ہے۔ پھر اس کے ساتھ ٹوپی نہ ہونے کی بات ہے۔ افغانستان پگڑی والا ہے اور پاکستان فوجی ٹوپی والا۔ سنت کا منبع دونوں کے پاس نہیں۔ رسول اللہۖان کو منع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر وہ منع نہیں ہوتے۔اور نبیۖ دین حق کیلئے بلندترین راستہ اپنانے کی رہنمائی فرماتے ہیں اور بعض علماء نہ چاہتے ہوئے بھی اس راہ کو اپنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر وقت کے فرعونوں کیلئے وقت کے موسیٰ امیر الہندسے جس کو تعبیر کیا ہے مگریہ امام مہدی کے کردار کی طرف اشارہ ہے جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ جیسا وہ بنی اسرائیل کا ایک شخص ہے۔ یہ ایک بہت بڑے انقلاب کی طرف اشارہ ہے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ قرآن کی درست تفسیر کرنے سے قاصر ہیں تو خواب کی درست تعبیر کریں؟۔

والفجرOولیالٍ عشرٍOوالشفع والوترO و اللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرٍOالم تر کیف فعل ربک بعادOارم ذات العمادO……فصب علیھم سوط عذابOان ربک لبالمرصادO(سورہ الفجرآیات1سے14)

ہم رمضان کے آخری عشرے کے دس دن جفت وطاق کے چکر میں پڑتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ فجر سے کیا مراد ہے؟ اور رات جب آسان ہو سے کیا مراد ہے؟۔ جسکے بعد ان قوموں کا فرعون اور فسادیوں تک ذکر ہے۔ جس پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس گیا اور یہ اللہ گھات لگائے ہوئے ہے؟۔

یہ فتح مکہ کے انقلاب کی خبر تھی اور آئندہ کے انقلاب عظیم کی بھی خبر ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا کہ ”مہدی کی اصلاح کی رات بہت طویل عرصہ پر مشتمل ہوگی”۔

سورہ اللیل واللیل اذایغشی والنہار اذا تجلٰی میں13سالہ مکی اور فتح مکہ سے پہلے8سالہ دور اور یہی واللیل اذا یسر ہے۔

جب رسول اللہۖ کا خواب میں ایک جگہ غائب ہونے کا ذکرہے اور پھر مغرب کی جانب کتے اور مشرق کی جانب بلی کا مقابلہ ہے تو یہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے جس میں ایران کی قیادت اڑادی گئی لیکن اسٹرکچر محفوظ رہا۔ پھر بلی نے کراچی اور گلگت میں پاکستان پر حملہ کیا لیکن نقصان نہیں پہنچا سکی۔ البتہ دین حق کیلئے عزیمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایک عربی چینل پر یہ خواب دو سال پہلے آیا تھا کہ رسول اللہۖ امام مہدی کے گھر جاتے ہیں اور اس پر غصہ ہوتے ہیں۔ وہ اٹھنے کے قابل نہیں ہوتا ہے پھر نبیۖ سہارا دیکر اٹھاتے ہیں۔ مکہ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی قبر کے پاس لے جاتے ہیں۔ جبکہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے اپنی تفسیر بلغة الحیران میں اپنے مرشداستاذ مولانا حسین علی کے بارے میں لکھا کہ ” رسول اللہ ۖ گرتے ہیں اور وہ تھام لیتے ہیں”۔ خواب کی تعبیر میں رسول اللہۖ کا بیمار دیکھنا اور گرنا دراصل دیکھنے والے شخص کے دین میں عیب ہے۔ مولانا حسین علی دین سے گرتے ہوئے بچ گئے لیکن ان کے بہت ساروں کی توحید وڑ گئی ہے۔ جن کو سیدھی راہ پر آنا ہے اور یہ خواب کی تعبیر ہم نے جو سمجھی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

سورہ الزمر میں دنیا کی چھوٹی قیامت کا ذکر ہے۔ مؤمنوں کو زمین کی وراثت ملے گی۔ بجلی کے جھٹکے سے آسمان و زمین کا ہرباشندہ ہل جائے گا مگر جس کو اللہ چاہے گا ۔ہابیل کے قتل اور صحابہ کی لڑائی سے ابھی تک فرشتوں کا سوال درست تھالیکن یہ انقلاب اصل جواب ہوگا جس سے فساد و خونریزی رکے گی۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی شہباز بیابانی!
اے شیخ بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طلاق کے بعد صلح کی شرط پر رجوع قرآن میں واضح ہے

اصل معاملہ عورت کے حقوق کا تحفظ ہے
ــــــــــ

اللہ نے واضح فرمایا کہ ”طلاق والی عورتیں تین ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اگراللہ نے انکے پیٹ میں جو پیدا کیا کہ اس کو چھپائیں اور اس میں انکے شوہر ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کے زیادہ حقدارہیں اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر ان کے شوہروں کے ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(سورہ البقرہ آیت:228)
ــــــــــ

آیت228البقرہ کے واضح احکامات
1:حیض آتا ہو تو عدت تین ادوار اور حمل ہو تو وضع حمل۔
2:عدت میں صلح کی شرط پر شوہر کارجوع اور معروف حق
ــــــــــ

آیت229البقرہ میں:1:معروف کی شرط پر رجوع کیا جاسکتا ہے۔
2:تیسری طلاق کے بعد فدیہ تک پہنچے تو عورت رجوع پر راضی نہیں ہے
ــــــــــ

آیت230البقرہ کے اندر واضح حکم کی وضاحت:
فدیہ کے معاملے تک پہنچنے کے بعدطلاق دی توپھر وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کسی اور سے نکاح کرلے۔
ــــــــــ

آیت231البقرہ میں:معروف رجوع عدت کی تکمیل کے بعدجائز ہے۔
آیت232البقرہ میں:
باہمی رضامندی سے کافی عرصہ بعد بھی نکاح جائز۔
ــــــــــ

یہود اور نصاریٰ حلالہ و طلاق میں بدترین افراط اور تفریط کے شکار تھے۔یہود کے ہاں طلاق کے بعد حلالہ اور طلاق کے حوالے سے بہت گھمبیر مسائل تھے اور یہی حال مشرک عرب کا بھی تھا۔ دوسری طرف نصاریٰ کے ہاں طلاق کا کوئی تصور بھی نہیں تھا لیکن ان تضادات میں اصل معاملہ عورت کے حقوق اور معاشرے کی اصلاحات کا تھا۔ آج پوری دنیا پر اسلام اتنا اثر انداز ہوگیاہے کہ تین سو سال پہلے عیسائیوں کے ہاں مذہبی طلاق کا معاملہ شروع ہوا اور دنیا میں طلاق کے بعد رجوع کیلئے حلالہ کا کوئی تصور نہیں۔ پھر جدید ترقی یافتہ دنیا میں عورت کو مردوں کے مساوی حقوق بھی مل گئے۔ لیکن بدقسمت مسلمان عورت چراغ تلے اندھیرے میں رہتی ہے۔ قرآن نے عورت کو جتنے حقوق دئیے ہیں اتنے مغرب کے اندر آج بھی موجود نہیں ہیں۔ جیسے دائیںہاتھ یا پاؤں میں عام طور سے بائیں ہاتھ اور پاؤں کے مقابلے میں طاقت زیادہ ہوتی ہے پر حقوق دونوں کے برابر ہوتے ہیں لیکن ذمہ داریوں کا بھی ایک درجہ طاقتور پر زیادہ ہوتا ہے۔ وزن اٹھانا ہو، مکایا ہاتھ مارنے کیلئے چلانا ہو تو پھر طاقت کے استعمال کیلئے ایک پر زیادہ ذمہ داری قدرتی طور پر ہوتی ہے جس سے توازن برابر ہوتاہے۔

سورہ النساء آیت19میں پہلے عورت کو خلع کا حق دیا پھر اس کے بعد آیت20میں مرد کو طلاق کا حق دیا اور دونوں میں عورت وہ مالی تحفظ دیا ہے جس کو قانون بنایا جائے تو عورت مارچ کا تصور بھی دنیا میں نہیں رہے گا۔ مرد کی استطاعت کے مطابق حق مہر کا تعین اور ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہردینا فرض ہے۔

بنوامیہ و بنوعباس کے ادوار میں نہ صرف عورت کے حقوق بلکہ قرآن وسنت کے عنایت کردہ انتہائی روشن مذہبی مسائل بھی تمام کے تمام بحق سرکار اور بحق رجال کار غصب ہوگئے۔ حقوق تو اپنی جگہ بالکل غصب ہیں کہیں عورت کو حق مہر کے نام پر بیچا جاتا ہے اور کہیں جہیز طلب کیا جاتا ہے تو کہاں سے حقوق کا تصور ہوگا۔ حق مہر جو عورت کا انشورنس تھا مفتی تقی عثمانی نے14سو سال بعد مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کو بتایا کہ” اعزازیہ ہے” ۔حالانکہ سنبھلی زیادہ بڑاعالم تھا۔ اعزازیہ استطاعت کے مطابق نہیں کھرب پتی کیلئے بھی5سوروپیہ بہت ہے۔ قرآن واضح ہے کہ جو کچھ بھی دیا طلاق میں واپس لینا حلال نہیںمگر مفتی تقی عثمانی نے لکھا:” ہم بیوی کو تحفہ دیتے ہیں اسلئے واپس ہو گا”۔قرآن کے مسائل پرجوبہت گند کیا اس پر مٹی ڈالنے کیلئے مسلسل لگے ہوئے ہیں۔

قرآن کریم کے درست ترجمہ ہی کو انسان سمجھ لے تو اس کا دل ودماغ اور اس کی روح ایمان سے جگمگا اٹھے اور دنیا کیلئے بہترین نظام قرار دیدے اور اس میں مسلمان و کافر، مذہبی و ملحد، احمق و ذہین، مفادپرست و مخلص میں بھی کوئی تفریق ہے۔

ناراضگی اور طلاق کی عدت

اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو عورت ساری زندگی بیٹھی رہے گی؟۔نہیں؟، آیت226البقرہ میں واضح ہے کہ4ماہ انتظار کی عدت ہے۔ اس میں بھی اگر طلاق کی نیت تھی تو اس کا دل گناہ گار ہے اسلئے کہ پھر طلاق کا اظہار ضروری تھا تاکہ3ماہ انتظار کی عدت گزار کر فارغ ہوجاتی۔ ایک ماہ اضافی انتظار پر اس کا دل گناہ گار ہے۔ آیات225،226،227میں واضح ہے۔ ایک لفظ کی کمی وبیشی بھی قرآن کی معنوی تحریف ہے۔

سوال : کیا علماء کو پتہ نہیں ہے ؟۔جواب تو وہ خود ہی دیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں لکھا کہ ”قرآن میں معنوی تحریفات تو بہت ہوئی ،لفظی بھی ہوئی انہوں نے مغالطے سے کی یا جان بوجھ کر کی ”۔ (مفتی محمدفرید، حقانیہ فتاویٰ دیوبند پاکستان)

1960ء میں پاکستان کے سیکریٹری کی تنخواہ150روپیہ مولانا انور شاہ کشمیری کی1920میں300روپیہ ماہانہ تنخواہ۔1928ء کا تنازعہ مولانا کشمیری نے دارالعلوم دیوبند چھوڑ دیا۔ ڈابھیل گئے۔ پھر بیمار ہوکر واپس دیوبند آگئے ۔1933ء میں انتقال سے پہلے فرمایا :” ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی۔ قرآن اور حدیث کی خدمت نہیں کی ”۔1866میں پہلے دن بانی دارالعلوم دیوبند سید عابد حسین نے300روپیہ کا چندہ کیا۔1893ء میں مہتم کے عہدے کو چھوڑ دیا اور پہلے بھی اس نے کئی مرتبہ حاجی رفیع الدین کو یہ منصب سونپ دیا تھا۔

پھر مولانا گنگوہی نے مولانا نانوتوی کے بیٹے حافظ محمد احمد کو مستقل مہتمم بنادیااور سالانہ آمدن لاکھوں تک پہنچ گئی۔

ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان فاضل دیوبند تھے۔ مولاناالیاس سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔1944ء کے قریب دادا سیدمحمد امیر شاہ امام مسجد کانیگرم کا انتقال ہوا۔ والد نے کہا: مولانا اشرف نے زندگی بھرایک لفظ کسی کو نہیں سکھایا۔ استاذ مولانا ناظم فاضل دیوبندنے گفتگو نہیں کی۔ جامعہ بنوری بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا یوسف لدھیانوی سے سنا کہ قرآن تحریر میں اللہ کا کلام نہیں۔ پھر پتہ چلا کہ اساتذہ بغیر سمجھے نصاب کے نام پر بکواس پڑھارہے ہیں اور انہوں نے مجھ سے امید رکھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی کو سورہ فاتحہ پیشاب سے لکھنے پر تائب کرادیا۔

کیا قرآن میں تضادات ہیں؟

اللہ نے قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کیا۔ طلاق و رجوع کا مسئلہ بھی واضح کیا ۔ فرمایا کہ ” اگریہ کسی غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سارا اختلاف پاتے”۔

اگر طلاق کے بعد میاں بیوی راضی تو رجوع ہوسکتا ہے۔

کفار نے کوئی تضادات تلاش نہیں کئے ہیں لیکن مسلمانوں کے حکمرانوں اور گمراہ علماء نے اس میں بہت سارے تضادات پیدا کردئیے ہیں بلکہ اتنے تضادات تو کسی احمق کی کتاب میں بھی نہیں ہوسکتے ہیں جتنے مولوی نے قرآن میں پیدا کئے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے ”۔ (آیت:228البقرہ) مولوی کا سارا مذہبی فقہ اور فرقہ وارنہ مسلک اس کی توڑ میں لگاہوا ہے۔

شیعہ کہتا ہے کہ صلح کی کوئی شرط نہیں ہے۔ جس سے عورت کا حق غصب ہوجاتا ہے اسلئے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہیں ہو تو اس کو طلاق کے حقوق ملیںگے ۔ شیعہ کہتا ہے کہ اگر عورت کو قرآن کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کا حق دیا تو حضرت عمر کے فیصلے کی توثیق ہوجائے گی۔ حالانکہ حضرت علی نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر حرام کے لفظ پر بھی رجوع کی گنجائش نہیں ہے لیکن حضرت عمر کے بغض میں شیعہ نہ قرآن کو مانتا ہے اور نہ علی کو مانتا ہے۔

دوسری طرف سنی حضرت عمر اور طلاق بدعت کے نام پر اپنی جنسی تسکین کیلئے باہمی رضامندی سے بھی رجوع کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور دونوں آیت228البقرہ پر آیت229کے ذریعے خود کش حملہ کرکے اس کے پرخچے اڑادیتے ہیں۔

چنانچہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلا ق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصتی ہے”۔ (البقرہ:229)سے عدت کے اندر دو مرتبہ طلاق رجعی میں معروف کی شرط کو اپنی اپنی پچھاڑیوں میں چھپالیتے ہیں اور عورت کے حق کو مار دیتے ہیں۔ حالانکہ آیت228میں نہ صرف اصلاح کی شرط واضح ہے بلکہ عورت کے بھی معروف حق کی بھرپور وضاحت ہے۔

طلاق رجعی سے عورت کی صلح کیلئے معروف حق کو چھیننے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آیت228اور229میں تضاد آتا ہے۔پھر شوہر کو رجوع کا غیر مشروط حق مل جاتا ہے۔ آیت228البقرہ میں3ادوار کی ایک عدت ہے اور آیت229میں9ادوار کی3عدتوں کا شوہر کو حق مل جاتا ہے۔ اور اکٹھی3طلاق میں سنی کے ہاں باہمی صلح اور معروف رجوع کا حق چھن جاتا ہے اور عورت کو حلالہ کی لعنت پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو سب سے بڑھ کر قرآن تضادات کی تصویر پیش کرتا ہے۔ کیونکہ آیت228میں عدت کے اندر رجوع اور229میں رجوع کی اجازت ختم؟۔

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ، قائد ملت مولانا فضل الرحمن اور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اوردیگر نے مولانا انور شاہ کشمیری کی طرح آخرمیں توبہ کرنا ہے اور حدیث پر اپنی نظر جمائی ہے کہ وانما الاعمال بالواخواتیم ”بلاشبہ اعمال کااعتبار خاتمہ پر ہے”۔ ( صحیح بخاری : کتاب القدر:حدیث6607)

لوگ سود سے برباد ہوں۔ عورتوں کی عزتوں کے لوٹنے کا بازار گرم ہو اور قرآن تحریفات اور تضادات کا شکار ہو۔ لوگوں کا دین پر اعتماد اٹھ رہا ہو لیکن انکے اللے تللے پورے ہوں۔ جب تک گرم سریہ دکھاکر حق بولنے پر مجبور نہیں کیا جائے تو ان کا اپنا کوئی ضمیر ہی نہیں ہے کہ ٹس سے مس ہوجائیں۔

قرآن میں کوئی تضادنہیں ہے

سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ عدت میں صلح اور معروف کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے اور عدت لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں بڑھ سکتی ہے۔ جب عورت کو حمل ہو اس کی عدت بچے کی پیدائش ہے۔ اس صورت میں عدت کے اندر رجوع کا دروازہ کھلا ہے اور شوہر ہی رجوع کا زیادہ حق دار ہے لیکن کسی طرح بھی عورت رجوع پر مجبور نہیں ،البتہ انتظار پر مجبور ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد بھی عورت راضی ہو تو رجوع کیلئے صرف گنجائش نہیں بلکہ ترغیب بھی واضح ہے۔ مولوی کہتا ہے کہ اس کی بیوی، ماں ، بہن اور بیٹی کے دیوبند یا بریلوی سے آدھا بچہ نکل گیا تو جواب مشکل ہوجائے گا لیکن اگر آدھے سے کچھ زیادہ نکل گیا تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا اور آدھے سے کم نکلا تھا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ ان دلوں کی فتاویٰ کی کتابیں ہیں۔

آیت229البقرہ میںآیت228کی بھرپور وضاحت ہے۔ عدت کے انتہائی دور تک دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے یعنی صلح و اصلاح کی شرط پر۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ کنفرم ہوجائے کہ کسی طرح بھی تیسری طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہیں اور اس صورت میں پھر آیت230البقرہ کا حکم ہے ۔ جس کا مقصد مرغی کی طرح ذبح کرنا نہیں کہ عورت کی عزت لوٹ لی جائے اور حلال ہوجائے بلکہ مقصد عورت کو آزادانہ کسی بھی اور شوہر سے نکاح کا حق دلانا ہے تاکہ شوہر کی غیرت آڑے نہیں آئے۔ لیکن عورت رجوع کیلئے معروف طریقے سے راضی ہو تو پھر آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی نہ صرف حلالہ کے بغیر رجوع کی اجازت ہے بلکہ ترغیب ہے کہ معاشرے میں پاکدامنی و تزکیہ کیلئے یہی راستہ ہے۔

کوئی ایک حدیث صحیحہ بھی قرآن کیخلاف نہیں ۔ عبداللہ بن عمر نے 3طلاق دی تو رسول اللہۖاس پر غضبناک ہوئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس کو قتل نہ کردوں؟۔ محمود بن لبید متوفی95ھ نام نہ بتاسکے۔ عمر بن عبدالعزیزنے99ھ تا101ھ آزادی دی تو حسن بصری متوفی110ھ نے کہاکہ مستند شخص نے کہا:ا بن عمر نے3طلاق دی پھرزیادہ مستند شخص نے20سال بعدبتایا کہ ایک طلاق دی ۔(صحیح مسلم) سعید بن جبیر نے کہا کہ حلالہ کیلئے قرآن میں نکاح کا حکم ہے جماع کا نہیں تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں جو مکالمہ جلاد کے سامنے کیاوہ قابل غورہے۔ پھر انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔ ابوداؤد نے رکانہ کے والد ین کا3طلاق کے عرصہ بعد بھی نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دوآیات تلاوت فرماکر رجوع کو واضح کیا ہے ۔ بخاری نے اپنی کتاب میں درج احادیث، قرآن اورفطرت کے منافی آیت اور حدیث کو غلط جگہ درج کرکے حلالہ کا راستہ ہموار کیاتو اپنے شہر کے لوگوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

8عورت مارچ برابری کا حق

شوہر اور بیوی کے مساوی حقوق کا قرآن میںتوازن مسلمانوں ، یہودو نصاریٰ اورسب کا بہت بڑاانحراف

ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف ”

اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیںجو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیں”۔البقرہ آیت:228

شیطان کی مداخلت کا باپ بیٹے سے آغاز

حضرت عمر نے قرآن کے مطابق عورت کو حق دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے انکارکردیا

شیطان کی قرآن کے مطابق رسول اللہۖ کی نیت میں مداخلت کی بہت ہی انوکھی اور باریک واردات کی ایک ناقابل تردید مثال

وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولا نبیٍ الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ

”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول اور نبی کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس میں اپنا القا کردیا۔ سورہ الحج آیت:52

عبداللہ بن عمرنے اپنی بیوی کو طلاق دی رسول اللہ ۖ اس پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ طہرمیں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آئے، پھرطہرآئے و حیض آئے اور طہر آئے تورجوع کرلو یا ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طلاق کا امر فرمایا۔جب حضرت عمر کے دور میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا۔عبداللہ بن عمر نے اختلاف کیا اورکہا”اگرمیں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبیۖ پھر مجھے رجو ع کا حکم نہ فرماتے”۔ (بخاری)حضرت عمر نے اس کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیا کہ طلاق میں عورت کے حق کو نہیں سمجھا۔

عبداللہ کے دل میں عورت کی رضامندی کے بغیر دو مرتبہ طلاق رجعی کا حق شیطان نے نبیۖکی تمنا سے ڈالا۔
ــــــــــ

عورت آزادی مارچ :میرا جسم میری مرضی

ایرانی نژاد امریکن عورت نے ”اسلام میں عورت کے حقوق” پر اپنی کتاب میں لکھا کہ ” ایک عورت نے40ہزار تمن میں نکاح کیا اور اسکے شوہر کو پیچھے کی طرف سے جنسی عمل کی لت پڑی تھی۔ جس سے عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی،اس نے خلع مانگا تو نہیں دیا اور پھر50ہزار تمن میں خلع دیا”۔ قرآن سورہ النساء آیت:19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا بلکہ شوہر کی دی ہوئی چیزوں منقولہ اشیاء کا مالی تحفظ بھی دیا ہے اور پھر النساء آیت:20میں شوہر کو طلاق کا حق دیا اور عورت کو منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی تمام جائیداد کا بھی حق دیا ہے۔ خلع میں عورت کی عدت بھی حدیث میں ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ ایران اور اسلامی دنیا نے عورت کے وہ حقوق غصب کررکھے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ۖ نے دئیے ہیںاسلئے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ذلت طاری ہے

جاویداحمد غامدی کے نزدیک” عبداللہ بن عمروفات74ھ ایک عالم تھے”۔طلاق رجعی کا شیطانی القا بھی عبداللہ بن عمر کی سوچ کا نتیجہ تھااور طلاق مغلظ بھی۔حالانکہ قرآن وسنت میں عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی کا کوئی تصور نہیں اور عورت کی رضامندی کے ساتھ طلاق مغلظ کا کوئی تصور نہیں ہے۔سورہ الطلا ق کی پہلی دوآیات میں عوام کیلئے مختصر خلاصہ ہے اور سورہ بقرہ آیت222سے232تک تمام تفصیلات ہیں۔ عبداللہ بن عمرنے ہی عورت کی پچھاڑی میںجنسی عمل کو شوہر کا حق قرار دیا جو امام مالک نے بھی لیااور عورت کے حقوق غصب کئے گئے!

البقرہ:222،223
(1:عورت کی بدترین حق تلفی )
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن…

ترجمہ:” اور آپ سے حیض کا پوچھتے ہیں کہہ دو کہ وہ اذیت ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہواور ان سے مقاربت نہ کرو یہاںتک کہ وہ پاک ہوں پھر جب وہ پاک ہوں تو انکے پاس آؤ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکبازوںکو پسند کرتا ہے”۔O نساء کم حرث لکم…تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیںتم اپنے اثاثے کے پاس جیسے چاہو آؤ… البقرہ:222،223

عورت کو حیض آتا ہے مرد کو نہیں ۔ یہ ایک درجہ عورتوں پر مردوں کا ہے اور بس۔ الفاظ میں، افعال میں اورحقوق میں مردوں اور عورتوں کے حقوق بالکل مساوی ہیں۔ عورت کو اذیت پہنچانے کا شوہر کو اللہ نے حق نہیں دیا ہے بلکہ تحفظ دیا ہے۔ قرآن کے ترجمہ اور تفسیر میں بہت بڑی بڑی غلطیوں کا ازالہ مسائل کا حل ہے۔

البقرہ:224،225
(2:عورت کی بدترین حق تلفی)
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس…

” اور اللہ کو نہ بناؤ اپنے یمین کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو اور تقویٰ کرو اور لوگوں میںصلح کراؤ…”۔لا یؤاخکم بالغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم…Oاللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے لغو یمینوں سے مگر وہ پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔

یہ آیات طلاق کا مقدمہ ہیں جن میں صلح کیلئے اللہ نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی ہے لیکن یہود کے نقش قدم پر گامزن علماء ومفتیان نے مختلف الفاظ وضع کرکے صلح میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے عورتوں کو حلالہ وغیرہ کے حوالہ سے بہت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ الفاظ پر نہیں پکڑتا ہے بلکہ اس اذیت پر پکڑتا ہے جو شوہر نے اپنے دل میں چھپایا ہوتا ہے اور عورت کو اس کا شکار بنادیتا ہے جس کی وضاحت اگلی دو آیات میں روز روشن کی طرح واضح ہے۔

البقرہ:226،227
(3:عورت کی بدترین حق تلفی)
للذین یؤلون من نسائہم تربص اربعة اشھرٍ فان فآء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO

” اپنی عورتوں سے ناراض لوگوں کیلئے4ماہ ہیں اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا توبیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

جب شوہر ناراض ہو اور طلاق کا اظہار نہیں کرے تو یہ ایلاء ہے۔اس کی عدت 4ماہ ہے لیکن اگر طلاق کی نیت تھی تو اس پر اللہ کی پکڑہے جو دل کا گناہ ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار پر عورت کی عدت3ماہ ہے۔ایک ماہ اضافی عدت کی اذیت پر اللہ کی پکڑ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو اللہ نے واضح کیا کہ ناراضگی شوہر کا حق ہے اور رجوع نہ کرنا عور ت کا حق ہے ۔اپنی ساری ازواج پر واضح کردو کہ اب تمہاری رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور بخاری میں واضح ہے لیکن علماء قرآن وسنت کی درست وضاحت نہیں کرتے ۔

البقرہ:228
(4:عورت کی بدترین حق تلفی)
پڑھتا جا شرماتا جا
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء … وبولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف …

ترجمہ:” اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں رکھا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیںاور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔

اس آیت میں اللہ نے صلح واصلاح کی شرط پر عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے اسلئے کہ عدت میں عورت انتظار کی پابند ہے لیکن مولوی طبقہ نے قرآن کے واضح احکام کو سبوتاژ کرتے ہوئے عدت میں بھی باہمی صلح پر یہود کے نقش قدم پر پابندی لگائی۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو نہیں چھوڑا تومفتی حلالہ کا شکار نہیں کریں گے؟۔

مولوی کی ناک کاٹتا جا
البقرہ:229
(5:عورت کی بدترین حق تلفی)
الطلاق مرتٰن… خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا

ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان سے لو جو کچھ تم نے انکو دیا اس میں سے کوئی بھی چیز۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور جو تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف اس چیز کو فدیہ کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اللہ نے عورت کو ایک عدت3ادوار کا پابند بنایا اور مولوی دو مرتبہ طلاق رجعی سے9ادوار کا حق شوہر کو دیتا ہے۔ اللہ نے معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی اور بصورت دیگر تیسری مرتبہ طلاق کے بعد جب ایک اجتماعی فیصلہ سے کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو تمام حدود پر قائم رہنے کی پاپندی کا حکم دیا ہے۔

البقرہ:230
(6:عورت کی بدترین حق تلفی)
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجًا غیرہ …

”پھر اگر اسے طلاق دی تو اس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے…”۔ یہی وہ آیت ہے جسکے ذریعے حلالہ کی لعنت سے عزتوں کا بٹوارہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مدارس کی کتاب ”نورالانوار” میں حنفی مؤقف بھی پڑھایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق آیت229البقرہ کی متصل دوسری صورت سے ہے جس میں کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت کسی صورت بھی رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ اس کے برعکس جاوید احمد غامدی اپنے داماد الیاس حسن کو مسئلہ تین طلاق ایسا سمجھاتا ہے کہ گویا مارگلہ کے پہاڑ پر گاڑی چڑھاتے ہوئے شروع میں بھی اکٹھے تینوں گیر چڑھادئیے تو مسئلہ بن گیا۔ اب رپیئرنگ کیلئے مولوی کے پاس جانا پڑے گا۔ حالانکہ اللہ نے پہلے کی دونوں آیات میں سمجھادیا کہ عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور یہاں مزید بڑی وضاحت کردی ہے۔

البقرہ:231
(7:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا…

”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو۔ جو ایسا کرے گا تو اس نے خود پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔ اور اس نعمت (بیوی)کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے تم پر کتاب میںسے(رجوع کی آیات) نازل کی ہیں اور حکمت کو جس کے ذریعے اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے”۔

اگر عورت راضی ہو تو عدت کے بعد بھی رجوع کرسکتے ہیں لیکن ضرر دینے کیلئے ایسا مت کرو۔ یہ آیت229اور228البقرہ کے تناظر میں معروف رجوع کی وہ وضاحت ہے جس میں عورت کے حق کی بار بار وضاحت اور اذیت سے روکا گیا۔

البقرہ:232
(8:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازاجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی…

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاندوں سے نکاح سے مت روکو جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں ۔یہ نصیحت تم لوگوں میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔

پھر عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے رجوع میں رکاوٹوں کو منع کیا گیا۔ پاک فوج نے اگر سمجھ لیا اور امام مہدی کا لشکر ہے توقرآن کے باغی علماء ومفتیان ہی ہیں جنہوں نے عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ کوئی اس کو حلالہ پر مجبور کرتا ہے اور کوئی خلع اور طلاق رجعی کے نام پر حق تلفی کرتا ہے۔پہلے جہاد انکے ساتھ ہے ۔
ــــــــــ

چارفقہاء امام اور احادیث میں مسئلہ طلاق

امام ابوحنیفہ80ھ، امام مالک93ھ، امام شافعی150ھ، امام احمد بن حنبل164ھ میں پیداہوئے۔ بنوامیہ کا دور133ھ میں ختم اور بنوعباس کا شروع ہوا۔7فقہاء مدینہ،7فقہاء کوفہ اور7فقہاء بصرہ مشہور تھے۔سعید بن مسیب فقہاء مدینہ کے سرخیل تھے جس نے اس پر مار کھائی کہ ہشام نے چوتھی بیوی کو طلاق دی تو عدت پوری ہونے سے پہلے کسی اور عورت سے شادی کرلی۔ جبکہ عورت عدت پر مجبوراور شوہر کیلئے رجوع کا دروازہ کھلا ہے تو کسی اور عورت سے نکاح چار کی جگہ پانچ سے نکاح ہوگا اور امام ابوحنیفہ نے نزدیک ”عدت میں عورت سے نکاح باقی رہتا ہے”۔فقہاء کوفہ کے سرخیل سعید بن جبیر نے کہا کہ ”قرآن میں حلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح کافی ہے” توحجاج بن یوسف نے95ھ میں مکالمے کے بعد انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے آزادی دی تو بصرہ کے فقیہ اعظم حسن بصری نے واضح کیا کہ عبداللہ بن عمر نے بیوی کو تین طلاق دی تھی۔جسکے بعد تو حلالہ کی لعنت کا تصور بھی نہیں رہ سکتا تھالیکن پھر عیاش یزید ثانی بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک نے اقتدار سنبھالا تو حسن بصری نے مؤقف بدل دیاکہ20سال بعد ایک زیاد مستند نے کہا کہ عبداللہ نے ایک طلاق دی (صحیح مسلم) بلکہ مزید کہا کہ بعض علماء کا اجتہادہے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کرناہو گا(بخاری)۔

حسن بصری کی پیدائش21ھ اور وفات110ھ میں ہوئی ۔ حضرت علی کے شاگرد اور مرید تھے لیکن کوفی سعید بن جبیر نے شہادت قبول کی مگر مؤقف سے وفا کی جو عبداللہ بن عباس وفات68ھ کے شاگرد تھے۔عبداللہ بن عمروفات74ھ سے بھی حسن بصری کی ملاقاتیں ہوئی تھیں لیکن مستند اور پھر20سال زیادہ مستند کیلئے نامعلوم اور حرام کے لفظ کیلئے بھی نامعلوم کا حوالہ دینا پڑگیا۔ بخاری ومسلم نے پھر بھی ان روایات کو قبول کیا ۔ چشم بد دُور۔

محمود بن لبید وفات97ھ نے کہا کہ ایک شخص نے خبردی کہ فلاں نے بیوی کوتین طلاق دی تو رسول اللہۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل رہے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان میں ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں۔(نسائی ) امام ابوحنیفہ وامام مالک کی دلیل یہی ایک حدیث ہے۔ جس میں اکٹھی تین طلاق بدعت، ناجائزاور گناہ ہے اسلئے رسول اللہۖ کی ناراضگی سے پتہ چلا کہ واقع ہوسکتی ہے اور یہ عبداللہ بن عمر نے دی تھی جس سے رجوع کا حکم دیا گیا اسلئے یہ بدعت ہے۔ امام شافعیکے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہے۔ دلیل صرف عویمر عجلانی کی لعان کے بعد3طلاق کی روایت ہے۔ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف میں مذبذب ہیں۔ ایک قول ابوحنیفہ ومالک اور دوسرا شافعی کے مطابق ہے۔ ان دونوں احادیث میں حلالہ کی لعنت کو لازم قرار دینے کا شائبہ تک بھی نہیں اسلئے کہ رجوع کی کوئی ممانعت کا حکم نہیں ہے۔

سارا گند صحیح بخاری نے کیااکٹھی تین طلاق کے حوالے سے آیت بھی غلط درج کی اور شہد چٹو کرنے والی روایت بھی حلالہ کی لعنت جاری کرنے کیلئے غلط درج کردی۔ اسلئے بخاری کا درست پوسٹ مارٹم کرنا پڑے گا۔ حلالہ ہی کی وجہ سے علماء ومفتیان کے بے غیرت طبقات اور دلوں نے اس کوعلم حدیث کا سب سے بڑا ہیرو بنادیا ہے۔
ــــــــــ

ترجمان ماضی شان جان استقبال کا مسئلہ

مجاہد ملت حضرت سعید بن جبیر نے بنوامیہ کے دلوں اور دلالوں کو شکست دینے کیلئے واضح کردیا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے جماع کی ضرورت نہیں محض نکاح بھی کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ اسی کوفہ کے رہنے والے تھے۔ شاگردوں نے جتنی بھی گڑبڑ کی ہو لیکن حقائق نہیں چھپایا جاسکتا۔ چنانچہ علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زاد المعاد” میں عبداللہ بن عباس کے مؤقف کو نقل کیا ہے کہ آیت230البقرہ میں حلالہ کا تعلق آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق اور پھر فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ قرآن کے حکم کا استنباط بغیر سیاق وسباق کے نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی مؤقف امام ابوحنیفہ کا اصول فقہ کی کتابوں نورالانوار میں پڑھایا جاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذمولانا سلیم اللہ خان اور مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے آیت230البقرہ سے متضاد دلائل پیش کئے ہیں۔ ایک نے لکھا کہ فان طلقہا کی ف کی وجہ سے اکٹھی3واقع ہوتی ہیں اور دوسرے نے لکھا کہ احناف حدیث سے نہیں بلکہ حتی تنکح کے لفظ میں نکاح سے مراد جماع لیتے ہیں۔

دونوں دیوبندی بریلوی انتہائی قابل اساتذہ کرام کے انتہائی نالائق شاگرد ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے یہ نری جہالت سے بڑی ٹھوکر کھائی ہے یا پھرٹھوکر کھاکر بھی بہت بڑاکمال کر دکھایا ہے؟۔ لیکن سر دست حلالہ کی جس لعنت میں لوگوں کو جھونک دیا ہے اس میں احادیث و روایات کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی وضاحتیں بھی کافی ہیں۔

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ بچیاں بالغ ہوجائیں تو اسلام نے نکاح کی اجازت دی ہے اور بیرون ممالک میں بچیاں بچے جن رہی ہیں تو ہم کیا ان کو اس حد تک مجبور کریں کہ وہ گھر سے بھاگ جائیں؟۔ جبکہ فقہ کی کتابوں میں بچیوں کی بلوغت کا معاملہ بھی نہیں ہے بلکہ بلوغت تک پہنچنے سے پہلے جس طرح کے جبری نکاح کا تصور ہے تو اس کو قومی اسمبلی اور میڈیا میں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ بلوغت سے پہلے بھی کسی کے ذوق کو تسکین ملتی ہو تو مسئلہ نہیں لیکن فقہ کی کتابوں میں تو نابالغ بچیوں کو جس طرح جبر سے مجبور کرنے کی بات ہے جو شاید یہودیت میں بھی جائز نہیں ہے اس کی تعلیم وتبلیغ اور فقہ و فتویٰ کو قرآن و حدیث کی رشنی میں پرکھا جائے شاید گمراہ مفتی جو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کے درجے پر فائز ہیں کچھ ہدایت پاسکیں۔

بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی نے کہا کہ رسول اللہۖ نے دو گتوں کے درمیان کتاب کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ۔ مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں لکھا کہ بخاری نے شیعہ کے رد میں یہ روایت نقل کی کہ تمہارا تحریف کا عقیدہ تمہارے علی کے خلاف ہے مگر قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ ایک روایت جس مقصد کیلئے بھی نقل کی لیکن تحریف کا تدارک تو ہوگیا۔ بخاری نے حلالہ کی لعنت کا حوالہ سے روایت بھی حنفی مسلک کے خلاف نقل کی ہے لیکن بخاری اس کا خود بھی قائل نہیں ہے۔ قرآن کے مقابلے میں یہ بات زیادہ قابل توجہ ہے تاکہ حنفی اور دیگر حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا پالیں۔حضرت عائشہ کی کم عمری میں شادی اور دخول کی روایت بھی بنوامیہ اور بنوعباس کی غلط حرکتوں کا شاخسانہ ہے ۔ ابن خلدون نے مقدمہ میں ٹھیک لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہصرف17احادیث مانتے تھے اسلئے کہ امام ابوحنیفہ نے من گھڑت احادیث بنتے ہوئے دیکھے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی،8عورت آزادی مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر3

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کے بیان اور فتوے میں دلائل کا جواب تاکہ سب علماء ومفتیان حقائق سمجھ جائیں

حضرت مفتی محمد حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی کی تصدیق شدہ ہمارے فتوی پر مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے یہ کہاہے کہ

”وعلیکم السلام ورحم اللہ وبرکاتہ۔ یہ محترم زبردستی جو ہے اہلسنت کا نام استعمال کرکے اب ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کو یہ بات پتہ ہے کہ اپنے من گھڑت کسی فرقے کا نام لیں گے تو فوری طور پر جو ہے لوگ آگاہ ہو جائیں گے ان کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور انہوں نے ساتھ پھندنا یہ بھی لگا دیا کہ جی فرقہ واریت کی لعنت نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ تو اگر فرقہ واریت کی لعنت نے یہاں تک پہنچایا تو آپ فرقہ واریت پر مبنی فتوے لیتے کیوں ہیں؟ ایسے لوگوں سے فتوے کیوں لیتے ہیں جو فرقہ واریت پر مبنی فتوے دیتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی آپ نے بات چیت کرنی ہے تو جمیع صحابہ کرام کا متفق علیہ، ائمہ اربع کا متفق علیہ فتوی، احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ فتوی یہ ہے کہ بیک وقت ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی پاگل اور سٹھیایا ہوا آدمی ہی ہوتا ہے کہ جو یہ کہہ دے کہ تین جو ہے نا ایک ہوتا ہے۔ تین کب سے ایک ہونے لگ گیا؟ یہ اس وقت سے ایک ہونے لگا ہے جب غیر مقلد وہابی حضرات نے تین کو ایک بنایا ہے، ٹھیک ہے؟ باقی اسناد صحیحہ سے ثابت شدہ، سند صحیح سے ثابت شدہ جو احادیث ہیں ان سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے اور میں نے اپنا ایک فتوی بھی بھیج دیا ہے اس کے اندر بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ تین طلاقیں تین ہی شمار کی جاتی تھیں۔ اور یہ کوئی بعد کے دور کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تبع تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے۔ چاروں فقہ کے چاروں آئمہ کا متفقہ مذہب بھی یہی ہے۔ حتی کہ یہ جو وہابی غیر مقلد اہل حدیث حضرات جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ان کے جو ٹاپ آف دا لسٹ جو ہے مطلب جن کو یہ سب سے زیادہ فالو کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ابن تیمیہ اس نے بھی اپنے مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ کے اندر یہ لکھا ہے کہ تین طلاقیں بیک وقت جو دی جاتی ہیں وہ تین ہی شمار ہوں گی۔ ٹھیک ہے؟ اب یہ اس کے اندر زمین و آسمان کے قلابے ملا کر جھوٹ کو سچ سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کریں تو ظاہر ہے کہ یہ انہیں کو ہی روا ہے، ہم تو اس کے حوالے سے جو ایک واضح موقف ہے وہ دے چکے ہیں السلام علیکم”۔(مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی)

مفتی حسام اللہ شریفی شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب کے شاگرد ہیں جن کے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع شاگرد تھے ۔مولانا شریف اللہ کے شاگرد ہیں جنکے مولانا سید ابوالاعلیٰ موددی شاگرد تھے جو اکٹھے استاذ سے ملنے گئے تھے۔ پہلے مدارس میںمفتی کا کورس نہیں تھا۔مولانا احمد علی لاہوری نے مفتی حسام اللہ شریفی کو مسائل کا حل لکھنے کی اجازت دی ۔

مفتی شریفی صاحب

1:مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان۔
2:مشیر شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان۔
3:رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن وسنت رابطہ عالمی اسلامی ، مکہ مکرمہ ۔
4:کتاب وسنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی۔
5:ایڈیٹر ماہنامہ ”قرآن الہدیٰ ” کراچی (اردواور انگریزی میں شائع ہونے والا بین الاقوامی جریدہ)۔

حنفی عبدالشکور لکھنوی نے ” مجموعة الفتاویٰ ” میں3طلاق کو ایک قرار دیاجو مولانا رشید احمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں نقل کیا ۔ پیر کرم شاہ الازہری نے ”دعوت فکر” لکھا۔ بریلوی مکتب نے کتاب غائب کردی اور ہندوستان احمد باد میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہل حدیث اور بریلوی مکتب نے1972ء کا مشترکہ سیمینار منعقد کیا جس کی روئیداد لاہور سے شائع ہوئی۔

پاکستان بھرسے کئی بریلوی علماء ومفتیان ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ مفتی کامران شہزاد حلالہ کے بغیر رجوع کا فتویٰ دیتے ہیں۔ ہم نے قرآن و حدیث، خلفاء راشدین ،امام ابوحنیفہ اور درس نظامی کا حنفی مؤقف پیش کرنا ہے تاکہ قرآن وسنت اور حنفی مسلک سے حلالہ کی لعنت کا ایسا خاتمہ ہو جائے کہ ابلیس ملعون کی موت کا وقت معلوم آجائے۔

حدیث کی کتابوں میں صحاح ستہ کے اندر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سند کو شہرت کا درجہ حاصل ہے ۔ طلاق کے حوالہ سے ہم سب سے پہلے اس بات کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ چار وں امام کا اصل مؤقف کیا ہے ؟ اور پھر بخاری ومسلم اور دیگر کتب کی احادیث کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور لوگ اصل حقائق کو سمجھ جائیں۔

امام ابوحنیفہ و مالک کے ہاں اکٹھی3طلاق بدعت، ناجائز اور گناہ ہے۔ دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ایک شخص نے بتایا کہ فلاں نے بیوی کو3طلاق دی۔ جس پر رسول اللہۖ اٹھ کھڑے ہوئے غضبناک ہوکر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔(سنن النسائی)

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی3طلاق دینا سنت ، مباح اور جائز ہیں اور دلیل عویمر عجلانی کی لعان کے بعد تین طلاق ہیں۔ جبکہ امام احمد بن حنبل کے دواقوال ہیں ۔ ایک قول تو اپنے استاذ امام شافعی کے مسلک پر ہے اور دوسرا قول اپنے دادا استاذ امام مالک اورپردادا استاذامام ابوحنیفہ کے مطابق ہے۔

صدروفاق المدارس العربیہ پاکستان محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی شرح بخاری ”کشف الباری” کودیکھ لیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے ذخائر میں سے صرف دو احادیث؟ جن پر امام مالک و ابوحنیفہ اور امام شافعی نے اتفاق نہیں کیا اور بخاری ومسلم ، ابوداؤد کے استاذ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف کے درمیان تذبذب کا شکار تھے؟۔اس پر ذرا تدبیر کریں!۔

مجتہد امام اور مقلد محدث میں کیا فرق ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے حدیث لکھ دی کہ” علم علماء کے اٹھ جانے سے اٹھ جائیگا، جب کوئی عالم باقی نہیں رہیگا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنائینگے۔ جو جانے بغیر فتویٰ دیںگے اور خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے”۔ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ گیا ہے اسلئے تقلید واجب ہے۔( تقلید کی شرعی حیثیت : مفتی تقی عثمانی)

مقلد اس فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ تین طلاق واقع ہونا اسلئے ضروری ہے تاکہ عورت طلاق کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکے۔نہ کہ اسلئے کہ رجوع کا دروازہ باہمی رضامندی سے بھی بند ہوجاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے اساتذہ میرے اساتذہ تھے اور میرے اساتذہ نے مجھے طالب علمی میں امام ابوحنیفہ و امام مالک کی طرح ائمہ مجتہدین کے درجہ پر قرار دیا تھا۔ دوتین اساتذہ کرام اب بھی الحمدللہ دنیا میں زندہ ہیں۔ کسی کو پوچھ لیا جائے۔ کسی کو تلاش کیا جائے اور کسی کو جان کی امان دیں۔

امام ابوحنیفہ جب بچپن و جوانی میں مکہ اور مدینہ گئے، کچھ صحابہ سے ملاقات ہوئی ۔ ابن مروان کے حکمران بیٹے حلالہ سے عزت دری کو اپنا مشن سمجھتے ۔جبکہ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مدینہ میں گورنری اور برطرفی بھی دیکھ لی اور پھر انکے دور میں علم کی آزادی اور پھر انکے بعد پابندی بھی۔ جبکہ سعید بن جبیر کواسلئے شہیدکیا گیا کہ اس نے کہا کہ ”قرآن میںحلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح ہے”۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ” احناف کے نزدیک کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو دلیل بناکر قرآن میں

حتی تنکح زوجًا غیرہ

کے اندرنکاح پر جماع کا اضافہ کیا جائے۔ احناف کے نزدیک قرآن میںنکاح سے جماع مراد ہے”۔(کشف الباری)

حنفی اصول کے مطابق بریلوی علماء عورت کو حلال کرنے کی خاطر صرف ایک دفعہ داخل کردیتے ہیں جس میں حق مہر، عدت اور گواہ وغیرہ کچھ نہیں ہوتے۔ ساس نے داماد سے ہاتھ ملادیا اور شہوت محسوس ہوئی تویہ نکاح ہے۔ داماد پر بیٹی حرام ہوگی۔

اگر روایات پر انحصار کیا تو قرآن پر عقیدہ ختم اور مقلدین کے مسائل پر انحصارکیا تو پھر شرمائے یہود۔ بہو کو ہاتھ ملایا اور شہوت محسوس ہوئی تو اگر خارج کرکے چھوڑا تو درست، نہیں تو بہو بیوی بن گئی اور بیٹے پر حرام ۔ افسوس کے حرمت مصاہرت تک پرانتہائی متضاد روایات مسالک کی بنیاد پر گھڑ رکھی ہیں۔

عورت راضی نہ ہو تو مذاق کی طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں اور عورت رجوع پر راضی ہو تو3طلاق اور تکمیل عدت کے بعد بھی رجوع قرآن اور ابوداؤد کی حدیث سے ثابت ہے۔پھر قرآن و احادیث اور اصول فقہ میں شفافیت بھی موجود ہے۔

قرآن کی تفسیر میں کیا واضح گڑبڑ ہوئی ؟۔ احادیث میں کیا کیا گڑبڑہوئی ؟۔ اور اصول فقہ اور فقہ میں کیا گڑبڑہوئی؟۔

امام ابوحنیفہ کے نام پر کم عقلوں نے مسائل گھڑے ہیں ۔ قرآن کی واضح آیات میں واضح گڑبڑ معنوی تحریف کرکے اس کی غلط تفسیر کی گئی ہے۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے لیکن جب سورہ بقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا گیا ہے اور آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف رجوع کی اجازت بلکہ ترغیب دی گئی ہے تو آیت229اور230البقرہ میں آخر ایسا کیا ہے جو آگے اور پیچھے کی آیات سے مختلف ہے؟۔3طلاق زبان سے نکل گیا اور اللہ کا سارا منصوبہ سوتاژ کردیا؟۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دو مرتبہ طلاق رجعی کی اجازت دی جائے؟۔ جس سے عورت کو3قروء کے بجائے9قروء تک کی عدت پر مجبور کیا جائے؟۔بالکل نہیں! مگرکیوں؟ اسلئے کہ اصلاح اور معروف کی شرط اور حق کو معطل کردیا۔حنفی میں نیت نہ ہوتوبھی شہوت کی نظر رجوع اور شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے رجوع نہ ہوگا۔

یہ خرابی مروان بن حکم اور اسکے بیٹوں کی وجہ سے آئی تھی۔ یزیدکے دور میںعبداللہ بن زبیرپہلے مکہ اور اس کی موت کے بعدسبھی پر حکمران تھے لیکن صحابی کی قدر نہیں ۔ مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے بیعت کرنا چاہی مگر اس کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔جیسے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیاتھا:

قال فخرج منھا انک انت رجیم , وان علیک اللعنة الی یوم الدین , قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون , قال فانک من المنظرین , الی یوم .الوقت المعلوم
(سورہ الحجرآیات:34تا38)

”فرمایا: جنت سے نکل جا بیشک تو مردود ہے اور بیشک تجھ پر لعنت ہے یوم جزا تک ۔ کہا اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک مہلت دے کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔اللہ نے فرمایا: بیشک تجھے مہلت ہے۔ معلوم دن کے وقت تک”۔

مروان بن حکم کی رسول اللہۖ کے دور میں مدینہ بدری ہوئی تھی۔ مولانا نورالحسن شاہ بخاری کی میں نے لیہ میں تقریر سنی ،ان کی کتاب ”عثمان ذی النورین”میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے مروان بن حکم کیلئے رسول اللہۖ سے اجازت لی تھی اور پھر اپنے دور میں مدینہ کے اندر بلالیاتھا”۔ایک اور شخص عبداللہ بن ابی سرح نے اسلام قبول کرنے کے بعد وحی کی کتابت بھی کی تھی اور پھر مرتد بن گیا تو رسول اللہۖ نے جن افراد کا قتل مباح قرار دیا، ان میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا اور حضرت عثمان کی سفارش پر اس کو بھی معافی مل گئی۔

حضرت عثمان کی شہادت کا بنیادی باعث مروان بن حکم اور گورنر عبداللہ بن ابی سرح تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ

ظہر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدالناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعونOقل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبة الذین من قبل کان اکثرھم مشرکینOفاقم وجھک للدین القیم من قبل ان یأتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذٍ یصدعونOمن کفرفعلیہ کفرہ ومن عمل صالحًا فلافسھم یمھدونOلیجزی الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات من فضلہ انہ لایحب الکافرینO

”فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے تاکہ اللہ ان کو اپنے بعض اعمال کا مزہ یہاں چھکائے ہوسکتا ہے کہ یہ باز آجائیں۔ کہہ دو کہ زمین میں گھومو تو دیکھو پہلے جو گزرے ہیں وہ کیسے انجام کو پہنچے۔ ان میں اکثر لوگ مشرک تھے۔ پس اپنا چہرہ سیدھا رکھ سیدھے دین کیلئے اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے کہ اللہ کی طرف سے اس کو پھر کوئی پھیر نہیں سکے اس دن لوگ منشتر ہوکر گتھم گتھا ہوں گے۔ جس نے کفر کیا تو اس پر اس کا کفر ہے اور جس نے درست عمل کیا تو اپنے لئے سامان کررہے ہیں۔ تاکہ بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان والے اور درست اعمال والے ہیں اپنے فضل سے بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا”۔ (سورہ روم:41تا45)

حضرت عثمان کے دور کافتنہ کہاں تک پہنچا؟۔بنوامیہ و بنو عباس کا کیا حشر ہوا؟۔ پاکستان اور دنیا کے حکمران یہ سمجھ لیں کہ فتنہ جب شروع ہوجاتا ہے تو پھر قابو میں نہیں آتا ہے جس کا انجام پھر بہت خطرناک بن جاتا ہے اسلئے اپنی روش کو درست کریں اور فتنوں کو صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ عمل وکردار اور اچھے عقائدو نظریات کی بنیاد پر قابو کرنے میں لگ جائیں۔

بخاری میں ہے کہ اسلاف فتنے کے وقت میں جاہلی شاعر امراء القیس کے اشعار سے مثال دینا پسند کرتے تھے:
الحرب اول ماتکون فتیة تسعی بزینتہا لکل جھول حتی اذا اشتعلت و شب ضرامھا ولت عجوزًا غیر ذات حلیل شمطاء ینکر لونہا و تغیرت مکروھة للشم والتقبیل
”جنگ کا اول جوان لڑکی کا سا ہے ۔ اس کی زینت کے عاشق جاہل اس میں دوڑ دھوپ شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بھڑک جائے اور اس کے شعلے پھیل جائیں ۔پھر وہ بوڑھاپے میں بدل جاتی بغیر کشش والی بڑھیا جس کے رنگ سے نفرت ہوجاتی ہے۔وہ ایسی بدل جاتی ہے کہ اسکے سونگھنے اور چومنے سے سب کو کراہیت محسوس ہوتی ہے”۔

افغانستان میں روس کے خلاف جنگ تھی پھر ملاعمر کی آمد ہوئی اور صدر نجیب اللہ شہید کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا۔ پھر امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی اور طالبان سے جنگ میں سب کی کھلی ہمدردیاں تھیں ۔اب معاملہ کہاں سے کہاں تک پہنچا؟۔ شروع میںمسلمانوں نے قیصر وکسریٰ سپر طاقتوں کو شکست دی تو بڑے مزے تھے لیکن پھر آپس میں جنگ و جدل اور فتنہ وفساد کے ادوار آگئے تو جاہلیت کا شاعر اور اس کی شاعری یاد آگئی۔ قرآن کی طرف رجوع کرتے تو اپنی منزل پھر بھی پاسکتے تھے لیکن قسمت و تقدیر نے خلافت راشدہ کے بعد پھر امارت تک کہاں سے کہاں تک پہنچادیا تھا؟۔

صحیح بخاری میں ایک زبردست حدیث ہے کہ
حضرت حذیفہ نے کہا کہ ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے اور اس نے کہا کہ تم میں سے کس نے نبیۖ کے قول کو محفوظ کیا ہے فتنہ کے بارے میں۔ حذیفہ نے کہا کہ بندے کا فتنہ میں مبتلا ء ہوجانا اپنے اہل ، اپنے مال ، بیٹے اور اپنے پڑوسی کے بارے میں ،تو کفارہ بن جائے گا نماز، صدقہ،امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس فتنے کا نہیں پوچھا بلکہ وہ جس کے بارے تموج کموج البحر جو ٹھاٹھے مارتا ہوا موج ہوگا سمندر کے طوفان کی طرح۔حذیفہ نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین اس کا تمہارے اوپر اثر نہیں پڑے گا بیشک تیرے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ توڑ دیا جائے گا یا کھلے گا۔ حذیفہ : بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر نے کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہوسکے گا؟۔ حذیفہ : جی ہاں۔

حذیفہ سے پوچھا گیا کہ کیا عمر اس دروازے کو جانتاتھا؟۔ فرمایا : ہاں ! جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ کیونکہ میں نے اغلاط پر مبنی بات نہیں کہی ہے۔ پھر ہم پر ہیبت طاری ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ وہ دروازہ کون تھا؟۔ اسلئے پھر ہم نے مسروق سے پوچھا تو اس نے کہا کہ عمر تھے۔

رسول اللہ ۖ نے حج میں عمرے کا احرام بھی باندھا۔اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ
فمن تمتع بالعمرة الی الحج فما استیسر من الھدی فمن لم یجد فصام ثلثة ایامٍ فی الحج و سبعةٍ اذا رجعتم تلک عشرة کاملة ذٰلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ شدید العقاب

”توجو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی لازم ہے جیسی میسر ہوپھر جو قدرت نہیں رکھتا ہے تو3روزے حج کے دنوں میں اور7جب لوٹ کرجاؤ۔یہ مکمل عشرہ10دن ہے۔ یہ اس کیلئے ہے جس کے اہل وہاں مسجد حرام کے پاس حاضر نہیں ہوں۔اور اللہ سے ڈرو ،وہ سخت پیچھا کرنے والا ہے”۔(البقرہ:196)

دورجاہلیت میں حج کیساتھ عمرہ کرنا منع تھا تاکہ لوگ سردی و گرمی میں میلے پر زیادہ سے زیادہ آئیں۔ جیسے لاہور میں پتنگ بازی کا ایک میلہ سردیوں اور دوسرا گرمیوں میں ہو۔ بڑے کاروباری فوائد ہوں۔ سورہ قریش میں سردی گرمی کے سفر سے مانوسی کی نعمت کا ذکر ہے۔ جاہلیت میں حج کے مہینے کو تبدیل کیا جاتا ۔حضرت عمر نے حج وعمرے کا ایک احرام اور اہل کتاب عورتوں کے نکاح سے منع کیا تاکہ عرب کی مسلمان عورتیں بغیر نکاح کے محروم نہ بن جائیں۔ جائز بات سے مصلحت کے تحت منع کرنے میں حرج نہیں تھا جیسے یہود کیلئے ہفتہ کو مچھلی کا شکار منع ہوا۔ آئین پاکستان میں قرآن وسنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ اگر تفریحی مقام پرچھٹی کے دن مچھلی یا پرندوں کے شکار پر پابندی لگائی جائے تو یہ اسلام کے خلاف نہیں ۔

فتوحات کے بعد نومسلم پڑھے لکھوں کی خدمات لی گئیں۔ جن میں ایک مشہور قاضی شریح تھا۔ جو حضرت عمر، عثمان ، علی سے عبدالملک بن مروان کے آخری دور سے چند سال پہلے فوت ہوا۔ قاضی، مورخ ، فقیہ اور مدرس تھا۔ شاگرد پیدا کئے۔ عبداللہ بن عمر نے اہل کتاب کو مشرک قرار دیکر ان سے نکاح کو حرام قرار دے دیا۔ حرام قرار دینے اور منع کرنے میں بڑا فرق ہے۔ جب حضرت عثمان نے حج و عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے پر پابندی لگائی تو حضرت علی نے اعلانیہ دونوں احرام باندھے اور کہا کہ میں دیکھتاہوں کہ کون روکتا ہے مجھے اللہ کے حکم اور نبیۖ کی سنت پر عمل کرنے سے۔ (صحیح بخاری)

ضحاک گورنر دمشق نے کہا کہ حج و عمرے کا ایک احرام جاہل باندھتا ہے ۔سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ” یہ مت کہو، میں نے رسول اللہۖ کو ایک احرام کو اکٹھا باندھتے دیکھا ہے”۔ علامہ غلام رسول سعیدی کی شرح صحیح مسلم میں بہت مواد ہے۔

ایک طرف یزید، مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں کے دور میںسیاسی انحطاط عروج پر تھا تو دوسری طرف حضرت عمر اور حضرت علی کو متوازی متحارب کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا اور پیش کیا جاتا تھا۔ تین طلاق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ بھی اسی متنازع دور کی پیدوار ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر سے پہلے عورتوں کیساتھ متعہ جاری تھاپھر حضرت عمر نے روک دیا۔ شیعہ کے ہاں متعہ اور سعودی عرب نے اس کو اب مسیار کا نام دے دیا ہے۔ بہت ساری چیزوں پر احادیث کی کتابوں میں سخت اختلافات اور تضادات ہیں لیکن جناب مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے حلالہ پر عجب وغریب قسم کا اجماع نقل کیا ہے۔ حالانکہ یہ محض غلط فہمی یا ہٹ دھرمی کا مرض ہے۔

کسی بھی نعمت کو بدل دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ پر بدعت اپنا ڈیرہ ڈال دیتی ہے۔ قرآن کی سورہ النساء میں جہاں محرمات عورتوں کی فہرست چوتھے پارہ کے آخری صفحہ پر بیان ہوئی ہے تو اس فہرست کی آخری عورتیں پانچویں پارہ کے شروع میں ہیں۔ جس کا مطلب اصل حرمت ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے جواز بخش دیا گیا ہے۔ اور جواز کی صورت ایگریمنٹ ہے۔ جہاں پھر متعہ کی باقاعدہ وضاحت بھی ہوئی ہے۔ اس طرح سورہ النساء کے شروع میں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے لیکن جب عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا ایگریمنٹ والیاں۔ جس کا مطلب ہرگز ہرگز بھی لاتعداد لونڈیاں نہیں ہے بلکہ جس طرح ایران یا پھر سعودی عرب میں ایک عورت کیساتھ بھی نکاح کرنے کا عدل نہیں کرسکتا ہو تو پھر ایگریمنٹ، مسیار یا متعہ ہے۔

جب اس کے مفہوم کو تبدیل کردیا گیا تو لوگوں نے بہت ہی بڑی تعداد میں لونڈیاں رکھیں اور اس کو اسلام کا حکم سمجھ لیا تھا اور اس کی وجہ سے آج دنیا مسلمانوں کے غلبہ سے پریشان ہے۔

جبکہ قرآن نے نہ صرف غلام اور لونڈی سے نکاح کا حکم دیا بلکہ ان کی حیثیت غلامی سے نکال کر ایک ایگریمنٹ کے درجہ تک میں رکھی جس کو موجودہ دور میں گروی بھی کہتے ہیں اور یہ گروی رکھنا ملکیت سے نکالنا ہے۔ جس طرح ایگریمنٹ کی دنیا کی تمام زبانوں میں مختلف اقسام ہیں۔ جن میں ہر طرح کا معاہدہ شامل ہے ویسے عربی میں اَیمان کے الفاظ میں کئی اقسام شامل ہیں۔ قرآن میں ایمان سے کہاں کیا مراد ہے؟۔ تو اس میں سیاق وسباق کا بڑا واضح کردار ہے۔ جس کو سمجھنے میں مشکل بھی نہیں ہے۔میرے جیسا آدھا ادھورا بھی کوشش کرے تو حق کی بات سمجھنے میں بہت زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔

جب امام اعظم ابوحنیفہ کی عمر17سال تھی تو محمود بن لبید کا انتقال ہوگیا۔ جب امام ابوحنیفہ کی عمر30سال تھی تو حضرت امام حسن بصری کا انتقال ہوا۔ امام حسن بصری نے جس طرح عبداللہ بن عمر کی تین طلاق کے معاملے پر20سال بعد اپنی رائے بدل دی تو کیا بعد میں مضبوط راویوں کی پیدوار بڑھ گئی تھی یا مسئلہ کچھ اور ہی تھا؟۔ جبکہ حضرت سعید بن جبیر شہادت کی منزل پر ان کی وفات سے15سال پہلے پہنچ چکے تھے۔

ضحاک ظالم گورنر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کا تو پھر بھی لحاظ رکھا تھا لیکن حسن بصری سے وہی سلوک ہوتا جو سعید بن جبیر کے ساتھ روا رکھا گیا۔حسن بصری جیسے مستند شخص نے جس طرح عبداللہ بن عمر کے واقعہ پر اپنی رائے بدل دی تو اس کے بعد امام ابوحنیفہ نے کس کس راوی پر کیا اعتماد کرنا تھا؟۔ پھر حسن بصری نے نہلے پر دہلا کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ”حرام کے لفظ سے جو نیت بھی کی جائے۔ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے جو کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے بلکہ اس کیلئے حلالہ سے گزرنا پڑے گا”۔ صحیح بخاری نے اپنی کتاب میں یہ لکھاہے ۔

بخاری ، مسلم اور ابوداؤد تینوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد ہیں۔ جن کا کام فقہ سے زیادہ روایات اور احادیث کو جمع کرنا تھا انہوں نے متضاد روایات بھی مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔

امام احمد بن حنبل ابوداؤد طالسی کے شاگرد تھے جو سفیان ثوری کے شاگرد تھے۔ سفیان ثوری امام ابوحنیفہ کے ہم عمر اور ان کے سخت مخالف تھے۔ جب عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی تو روایات کی بہتات کا شاخسانہ مسئلہ بن گیا۔ حکمرانوں نے اپنے مطلب کیلئے کس کو کھلی چھوٹ دی اور کس کو پابند سلاسل کیا تھا وہ بھی ایک اپنی جگہ پر زبردست تاریخ ہے۔

حضرت عائشہ کے سامنے حدیث کا ذکر کیا گیا کہ کتے اور عورت کے سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟۔ تو فرمایا کہ تحقیق تم نے ہمیں کتے بنادیا۔ میں نے نبیۖ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور میں آپ اور قبلہ درمیان تھی اور میں نے چارپائی کی طرف ٹیک لگائی تھی …(صحیح بخاری)

اصل بات یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جن اشخاص کا ذکر ہے وہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے طلاق دی تھی اور خبر اور قتل کی پیشکش حضرت عمر نے کی تھی۔ اور بخاری کی کتاب التفسیر سورہ الطلاق میںہے کہ نبیۖ اس خبر پر غضبناک ہوگئے۔ پھر رجوع کا حکم دیااور قرآن کے مطابق عدت کے تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کا عمل سمجھایا اور فرمایا کہ یہی وہ عدت ہے کہ جس میں اللہ نے اس طرح سے طلاق کا امر فرمایا ہے۔ یہی روایت بخاری کی کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب الاحکام میں بھی ہے لیکن ان میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ ویسے تو قرآن کسی ایسی روایت کا محتاج نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوئے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ قرآن میں معاملہ بالکل واضح تھا پھر اسکے باوجود عبداللہ بن عمر نے اس کو کیوں نہیں سمجھا؟۔ یا پھر اس کی خلاف ورزی کیوں کی؟۔ محدثین کے استاذ ابن ابی شیبہ نے امام ابوحنیفہ کے خلاف مستقل کتابچہ مرتب کیا ہے جس میں وہ125مسائل میں امام ابوحنیفہ کی رائے کو حدیث کے خلاف قرار دیتا ہے۔ ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ قرآن کی دس آیات جن میں رجم اور بڑے آدمی کو دودھ پلانے کے احکام تھے وہ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئے۔ ہوسکتا ہے کہ دو مسئلے یہ بھی125میں شامل ہوں نہیں تو127کردیں۔

حنفی علماء کرام ومفتیان عظام بخاری کی ان17روایات کو نہیں مانتے جن میں نماز کے اندر رفع الیدین کا ذکر ہے لیکن حلالہ کی لعنت کیلئے ختم بخاری کے پیچھے کہانی کوئی اورلگتی ہے۔

بخاری نے حلالہ کی لعنت کیلئے جس حدیث کو پیش کیا ہے وہ انتہائی درجہ کی خیانت اور امت کا بیڑہ غرق کرنے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔ چنانچہ وہ ”من اجاز الطلاق الثلاث” کے عنوان سے وہ روایت نقل کرتے ہیں رفاعة القرظی نے جو ایک عورت کو طلاق دی اور پھر عبدالرحمن بن زبیر القرظی نے اس سے شادی کی تھی اور اس نے دوپٹے کا پلو دکھایا تھا۔

جس سے لوگوں کو یہ مغالطہ ہواہے کہ جیسے آج کل کے مفتی کرتے ہیں کہ اکٹھی تین طلاق پر رجوع کا نہیں حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیتے ہیں۔ اگر رسول اللہۖ کے پاس کوئی ایسا فتویٰ آتا تو جب سورہ بقرہ آیت228میں واضح ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے تو رسول اللہۖ اس عورت کو حلالہ کا فتویٰ کیوں دیتے؟۔ ذرا ایمانداری سے اپنے دل پر ہاتھ رکھو اور اپنا ایمان ، انصاف اور مسلک حنفی کو چیک کرو کہ جہاں احادیث صحیحہ کو اسلئے قبول نہیں کیا جاتا ہے کہ قرآن میں حتی تنکح زوجًا غیرہ کے اندر عورت جہاں چاہے وہ اپنا نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں حدیث
من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحہا باطل باطل باطل
” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ کو مسترد کیا جاتا ہے۔

جبکہ اللہ نے فرمایا:
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا
”اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر”۔ قرآن کے خلاف اس حدیث کو کیسے قبول کیا جاتا ہے؟۔

لیکن اس کے خلاف کوئی حدیث ہے بھی نہیں اسلئے کہ جس حدیث کا بخاری نے حوالہ دیا ہے تو وہ بخاری کے علاوہ کسی بھی فقیہ اور محدث کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ حتی کہ بخاری کے نزدیک اس عنوان کے تحت اس کو یہاں داخل کرنا غلط تھا اسلئے کہ بخاری نے خود ہی واضح کردیا ہے کہ رفاعہ القرظی نے الگ الگ مرتبہ تین طلاقیں دی تھیں۔ دوسرا یہ کہ نامرد ہونے کی بھی شکایت کا مطلب یہ نہیں کہ رات کو بھیج دیا اور صبح عورت حاضر ہوگئی کہ وہ تو حلالہ کے قابل ہی نہیں۔ اگر یہ بات بھی ہوتی تو یہ ایک مفتی بھی نہیں کرسکتے کہ نامرد پر عورت کو حلالہ کرنے اور اسی طرح کے مزے اڑانے پر مجبور کرے چہ جائیکہ نبیۖ پر ایسی تہمت لگائی جائے؟۔ بخاری نے پھر یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کو شوہر کی طرف سے سخت مار پڑی تھی اور اس نے اپنے زخموں کے نشان حضرت عائشہ کے سامنے کپڑا اٹھا کر دکھائے تھے اور بخاری نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکے شوہرنے نامرد ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس کی چمڑی ادھیڑتا ہوں جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ یہ حلالے کا قصہ نہیں تھا۔

صرف ایک دلیل امام شافعی کی ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی لیکن اس کی وجہ سے یہ کہنا حماقت ہے کہ رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور قرآن کی آیات منسوخ ہوجاتی ہیں۔اسلئے کہ وہ سورہ الطلاق کی وضاحت ہے کہ فحاشی کی صورت میں عدت کے اندر بھی گھر سے نکالی جاسکتی ہے۔

ابوداؤد نے سورہ الطلاق کی وضاحت کیلئے ام رکانہ اور ابورکانہ کے واقعہ بھی نقل کیا ہے جس میں سورہ الطلاق کے عین مطابق مرحلہ وار تین طلاق کے بعد کافی عرصہ بعد بھی ان سے رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا ہے؟۔ جب انہوں نے تین طلاق کا بتایا تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دو آیات سے واقعہ کی صورتحال واضح فرمائی اور شاید ابواداؤد کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حدیث مسائل کا حل ہے اسلئے ایک اور حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ اللہ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میری بات صحیح نقل کی اسلئے کہ بسا اوقات نقل کرنے والا خود نہیں سمجھتا ہے لیکن جس تک پہنچتی ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ مفتی غلام مجتبیٰ صاحب! امید ہے کہ آپ نے حقائق کو سمجھ لیا ہوگا ۔سورہ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کی بات بھی فقہ کی معتبر کتابوں میں ہے اور ہم نے ریورس گیر لگانے پر مجبور کیا ۔حلالہ کی لعنت بھی جلد ختم ہوجائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ

اگر فقہ کے امام اعظم ابو حنیفہ ہیں اور حدیث کے امام اعظم سفیان ثوری ہیں تو دونوں کا موازنہ کیا ہے؟۔ امام ابوحنیفہ پر حدیث کے مقابلے میں قیاس کو مذہب بنانے کا الزام ہے لیکن اگر امام حسن بصری سے بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عمر کی طلاق اور حرام کے لفظ پر علماء کے اجتہاد کو دیکھا جائے جہاں ایک بڑا جلیل القدر تابعی کثیر صحابہ تک رسائی کے باوجود بھی روایوں کا نام نہیں بتاتا ہے جس کو تدلیس کہتے ہیں تو سفیان ثوری نے بھی راویوں کے نام چھپانے میں تدلیس کا ارتکاب کیا تھا اور اس کی توجیہہ بھی غلط بیان کی جاتی ہے کہ عباسی خلفاء سے بچانے کی خاطر یہ کام کیا تھا ۔ممکن ہے ان میں کچھ نے بنوامیہ کے حق میں کچھ گھڑا ہو۔ اور مزے کی بات ہے کہ آخر میں خدا کے ڈر سے اپنے شاگرد کو اپنی کتابیں جلانے کا حکم دیا ۔ کتب احادیث میں کہاں سفیان ثوری کی30ہزار احادیث اور کہاں امام ابوحنیفہکے قیاس والے مسائل؟۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا ”شاگردوں نے ابو حنیفہ کو ضائع کردیا” ۔ عبداللہ بن مبارک امام ابوحنیفہ ، اوزاعی،سفیان ثوری،ہشام بن عروہ ،امام مالک کے شاگرداور ابن ابی شیبہ اور ابوداؤد کے استاذ تھے۔3طلاق اور عدت کے بعد ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کو نبیۖ کے واضح حکم اور سورہ طلاق کی تفسیر کے تناظر میں دیکھیں اور اسکے مقابلہ میں بخاری کی حلالہ والی روایت کو دیکھیں تو اہلحدیث، شیعہ اور احناف کھلے دل سے حق پر متحد ہوں گے۔ملاجیون کی کتاب”نورالانوار” کے دامے،درمے، سخنے قرآن ، احادیث اور اصول فقہ پر پاکستان اور دنیا بھر میں اجماع ہوجائے گا۔

سبھی فتنے دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث،غامدی، پرویزی،ناصبی، دعوت اسلامی، تبلیغی جماعت، تنظیم اسلامی اور جماعت اسلامی سمیت ایک اور نیک مسلمان بن جائیں گے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv