پوسٹ تلاش کریں

طلاق کے بعد صلح کی شرط پر رجوع قرآن میں واضح ہے

اصل معاملہ عورت کے حقوق کا تحفظ ہے
ــــــــــ

اللہ نے واضح فرمایا کہ ”طلاق والی عورتیں تین ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اگراللہ نے انکے پیٹ میں جو پیدا کیا کہ اس کو چھپائیں اور اس میں انکے شوہر ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کے زیادہ حقدارہیں اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر ان کے شوہروں کے ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(سورہ البقرہ آیت:228)
ــــــــــ

آیت228البقرہ کے واضح احکامات
1:حیض آتا ہو تو عدت تین ادوار اور حمل ہو تو وضع حمل۔
2:عدت میں صلح کی شرط پر شوہر کارجوع اور معروف حق
ــــــــــ

آیت229البقرہ میں:1:معروف کی شرط پر رجوع کیا جاسکتا ہے۔
2:تیسری طلاق کے بعد فدیہ تک پہنچے تو عورت رجوع پر راضی نہیں ہے
ــــــــــ

آیت230البقرہ کے اندر واضح حکم کی وضاحت:
فدیہ کے معاملے تک پہنچنے کے بعدطلاق دی توپھر وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کسی اور سے نکاح کرلے۔
ــــــــــ

آیت231البقرہ میں:معروف رجوع عدت کی تکمیل کے بعدجائز ہے۔
آیت232البقرہ میں:
باہمی رضامندی سے کافی عرصہ بعد بھی نکاح جائز۔
ــــــــــ

یہود اور نصاریٰ حلالہ و طلاق میں بدترین افراط اور تفریط کے شکار تھے۔یہود کے ہاں طلاق کے بعد حلالہ اور طلاق کے حوالے سے بہت گھمبیر مسائل تھے اور یہی حال مشرک عرب کا بھی تھا۔ دوسری طرف نصاریٰ کے ہاں طلاق کا کوئی تصور بھی نہیں تھا لیکن ان تضادات میں اصل معاملہ عورت کے حقوق اور معاشرے کی اصلاحات کا تھا۔ آج پوری دنیا پر اسلام اتنا اثر انداز ہوگیاہے کہ تین سو سال پہلے عیسائیوں کے ہاں مذہبی طلاق کا معاملہ شروع ہوا اور دنیا میں طلاق کے بعد رجوع کیلئے حلالہ کا کوئی تصور نہیں۔ پھر جدید ترقی یافتہ دنیا میں عورت کو مردوں کے مساوی حقوق بھی مل گئے۔ لیکن بدقسمت مسلمان عورت چراغ تلے اندھیرے میں رہتی ہے۔ قرآن نے عورت کو جتنے حقوق دئیے ہیں اتنے مغرب کے اندر آج بھی موجود نہیں ہیں۔ جیسے دائیںہاتھ یا پاؤں میں عام طور سے بائیں ہاتھ اور پاؤں کے مقابلے میں طاقت زیادہ ہوتی ہے پر حقوق دونوں کے برابر ہوتے ہیں لیکن ذمہ داریوں کا بھی ایک درجہ طاقتور پر زیادہ ہوتا ہے۔ وزن اٹھانا ہو، مکایا ہاتھ مارنے کیلئے چلانا ہو تو پھر طاقت کے استعمال کیلئے ایک پر زیادہ ذمہ داری قدرتی طور پر ہوتی ہے جس سے توازن برابر ہوتاہے۔

سورہ النساء آیت19میں پہلے عورت کو خلع کا حق دیا پھر اس کے بعد آیت20میں مرد کو طلاق کا حق دیا اور دونوں میں عورت وہ مالی تحفظ دیا ہے جس کو قانون بنایا جائے تو عورت مارچ کا تصور بھی دنیا میں نہیں رہے گا۔ مرد کی استطاعت کے مطابق حق مہر کا تعین اور ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہردینا فرض ہے۔

بنوامیہ و بنوعباس کے ادوار میں نہ صرف عورت کے حقوق بلکہ قرآن وسنت کے عنایت کردہ انتہائی روشن مذہبی مسائل بھی تمام کے تمام بحق سرکار اور بحق رجال کار غصب ہوگئے۔ حقوق تو اپنی جگہ بالکل غصب ہیں کہیں عورت کو حق مہر کے نام پر بیچا جاتا ہے اور کہیں جہیز طلب کیا جاتا ہے تو کہاں سے حقوق کا تصور ہوگا۔ حق مہر جو عورت کا انشورنس تھا مفتی تقی عثمانی نے14سو سال بعد مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کو بتایا کہ” اعزازیہ ہے” ۔حالانکہ سنبھلی زیادہ بڑاعالم تھا۔ اعزازیہ استطاعت کے مطابق نہیں کھرب پتی کیلئے بھی5سوروپیہ بہت ہے۔ قرآن واضح ہے کہ جو کچھ بھی دیا طلاق میں واپس لینا حلال نہیںمگر مفتی تقی عثمانی نے لکھا:” ہم بیوی کو تحفہ دیتے ہیں اسلئے واپس ہو گا”۔قرآن کے مسائل پرجوبہت گند کیا اس پر مٹی ڈالنے کیلئے مسلسل لگے ہوئے ہیں۔

قرآن کریم کے درست ترجمہ ہی کو انسان سمجھ لے تو اس کا دل ودماغ اور اس کی روح ایمان سے جگمگا اٹھے اور دنیا کیلئے بہترین نظام قرار دیدے اور اس میں مسلمان و کافر، مذہبی و ملحد، احمق و ذہین، مفادپرست و مخلص میں بھی کوئی تفریق ہے۔

ناراضگی اور طلاق کی عدت

اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو عورت ساری زندگی بیٹھی رہے گی؟۔نہیں؟، آیت226البقرہ میں واضح ہے کہ4ماہ انتظار کی عدت ہے۔ اس میں بھی اگر طلاق کی نیت تھی تو اس کا دل گناہ گار ہے اسلئے کہ پھر طلاق کا اظہار ضروری تھا تاکہ3ماہ انتظار کی عدت گزار کر فارغ ہوجاتی۔ ایک ماہ اضافی انتظار پر اس کا دل گناہ گار ہے۔ آیات225،226،227میں واضح ہے۔ ایک لفظ کی کمی وبیشی بھی قرآن کی معنوی تحریف ہے۔

سوال : کیا علماء کو پتہ نہیں ہے ؟۔جواب تو وہ خود ہی دیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں لکھا کہ ”قرآن میں معنوی تحریفات تو بہت ہوئی ،لفظی بھی ہوئی انہوں نے مغالطے سے کی یا جان بوجھ کر کی ”۔ (مفتی محمدفرید، حقانیہ فتاویٰ دیوبند پاکستان)

1960ء میں پاکستان کے سیکریٹری کی تنخواہ150روپیہ مولانا انور شاہ کشمیری کی1920میں300روپیہ ماہانہ تنخواہ۔1928ء کا تنازعہ مولانا کشمیری نے دارالعلوم دیوبند چھوڑ دیا۔ ڈابھیل گئے۔ پھر بیمار ہوکر واپس دیوبند آگئے ۔1933ء میں انتقال سے پہلے فرمایا :” ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی۔ قرآن اور حدیث کی خدمت نہیں کی ”۔1866میں پہلے دن بانی دارالعلوم دیوبند سید عابد حسین نے300روپیہ کا چندہ کیا۔1893ء میں مہتم کے عہدے کو چھوڑ دیا اور پہلے بھی اس نے کئی مرتبہ حاجی رفیع الدین کو یہ منصب سونپ دیا تھا۔

پھر مولانا گنگوہی نے مولانا نانوتوی کے بیٹے حافظ محمد احمد کو مستقل مہتمم بنادیااور سالانہ آمدن لاکھوں تک پہنچ گئی۔

ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان فاضل دیوبند تھے۔ مولاناالیاس سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔1944ء کے قریب دادا سیدمحمد امیر شاہ امام مسجد کانیگرم کا انتقال ہوا۔ والد نے کہا: مولانا اشرف نے زندگی بھرایک لفظ کسی کو نہیں سکھایا۔ استاذ مولانا ناظم فاضل دیوبندنے گفتگو نہیں کی۔ جامعہ بنوری بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا یوسف لدھیانوی سے سنا کہ قرآن تحریر میں اللہ کا کلام نہیں۔ پھر پتہ چلا کہ اساتذہ بغیر سمجھے نصاب کے نام پر بکواس پڑھارہے ہیں اور انہوں نے مجھ سے امید رکھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی کو سورہ فاتحہ پیشاب سے لکھنے پر تائب کرادیا۔

کیا قرآن میں تضادات ہیں؟

اللہ نے قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کیا۔ طلاق و رجوع کا مسئلہ بھی واضح کیا ۔ فرمایا کہ ” اگریہ کسی غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سارا اختلاف پاتے”۔

اگر طلاق کے بعد میاں بیوی راضی تو رجوع ہوسکتا ہے۔

کفار نے کوئی تضادات تلاش نہیں کئے ہیں لیکن مسلمانوں کے حکمرانوں اور گمراہ علماء نے اس میں بہت سارے تضادات پیدا کردئیے ہیں بلکہ اتنے تضادات تو کسی احمق کی کتاب میں بھی نہیں ہوسکتے ہیں جتنے مولوی نے قرآن میں پیدا کئے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے ”۔ (آیت:228البقرہ) مولوی کا سارا مذہبی فقہ اور فرقہ وارنہ مسلک اس کی توڑ میں لگاہوا ہے۔

شیعہ کہتا ہے کہ صلح کی کوئی شرط نہیں ہے۔ جس سے عورت کا حق غصب ہوجاتا ہے اسلئے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہیں ہو تو اس کو طلاق کے حقوق ملیںگے ۔ شیعہ کہتا ہے کہ اگر عورت کو قرآن کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کا حق دیا تو حضرت عمر کے فیصلے کی توثیق ہوجائے گی۔ حالانکہ حضرت علی نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر حرام کے لفظ پر بھی رجوع کی گنجائش نہیں ہے لیکن حضرت عمر کے بغض میں شیعہ نہ قرآن کو مانتا ہے اور نہ علی کو مانتا ہے۔

دوسری طرف سنی حضرت عمر اور طلاق بدعت کے نام پر اپنی جنسی تسکین کیلئے باہمی رضامندی سے بھی رجوع کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور دونوں آیت228البقرہ پر آیت229کے ذریعے خود کش حملہ کرکے اس کے پرخچے اڑادیتے ہیں۔

چنانچہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلا ق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصتی ہے”۔ (البقرہ:229)سے عدت کے اندر دو مرتبہ طلاق رجعی میں معروف کی شرط کو اپنی اپنی پچھاڑیوں میں چھپالیتے ہیں اور عورت کے حق کو مار دیتے ہیں۔ حالانکہ آیت228میں نہ صرف اصلاح کی شرط واضح ہے بلکہ عورت کے بھی معروف حق کی بھرپور وضاحت ہے۔

طلاق رجعی سے عورت کی صلح کیلئے معروف حق کو چھیننے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آیت228اور229میں تضاد آتا ہے۔پھر شوہر کو رجوع کا غیر مشروط حق مل جاتا ہے۔ آیت228البقرہ میں3ادوار کی ایک عدت ہے اور آیت229میں9ادوار کی3عدتوں کا شوہر کو حق مل جاتا ہے۔ اور اکٹھی3طلاق میں سنی کے ہاں باہمی صلح اور معروف رجوع کا حق چھن جاتا ہے اور عورت کو حلالہ کی لعنت پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو سب سے بڑھ کر قرآن تضادات کی تصویر پیش کرتا ہے۔ کیونکہ آیت228میں عدت کے اندر رجوع اور229میں رجوع کی اجازت ختم؟۔

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ، قائد ملت مولانا فضل الرحمن اور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اوردیگر نے مولانا انور شاہ کشمیری کی طرح آخرمیں توبہ کرنا ہے اور حدیث پر اپنی نظر جمائی ہے کہ وانما الاعمال بالواخواتیم ”بلاشبہ اعمال کااعتبار خاتمہ پر ہے”۔ ( صحیح بخاری : کتاب القدر:حدیث6607)

لوگ سود سے برباد ہوں۔ عورتوں کی عزتوں کے لوٹنے کا بازار گرم ہو اور قرآن تحریفات اور تضادات کا شکار ہو۔ لوگوں کا دین پر اعتماد اٹھ رہا ہو لیکن انکے اللے تللے پورے ہوں۔ جب تک گرم سریہ دکھاکر حق بولنے پر مجبور نہیں کیا جائے تو ان کا اپنا کوئی ضمیر ہی نہیں ہے کہ ٹس سے مس ہوجائیں۔

قرآن میں کوئی تضادنہیں ہے

سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ عدت میں صلح اور معروف کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے اور عدت لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں بڑھ سکتی ہے۔ جب عورت کو حمل ہو اس کی عدت بچے کی پیدائش ہے۔ اس صورت میں عدت کے اندر رجوع کا دروازہ کھلا ہے اور شوہر ہی رجوع کا زیادہ حق دار ہے لیکن کسی طرح بھی عورت رجوع پر مجبور نہیں ،البتہ انتظار پر مجبور ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد بھی عورت راضی ہو تو رجوع کیلئے صرف گنجائش نہیں بلکہ ترغیب بھی واضح ہے۔ مولوی کہتا ہے کہ اس کی بیوی، ماں ، بہن اور بیٹی کے دیوبند یا بریلوی سے آدھا بچہ نکل گیا تو جواب مشکل ہوجائے گا لیکن اگر آدھے سے کچھ زیادہ نکل گیا تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا اور آدھے سے کم نکلا تھا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ ان دلوں کی فتاویٰ کی کتابیں ہیں۔

آیت229البقرہ میںآیت228کی بھرپور وضاحت ہے۔ عدت کے انتہائی دور تک دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے یعنی صلح و اصلاح کی شرط پر۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ کنفرم ہوجائے کہ کسی طرح بھی تیسری طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہیں اور اس صورت میں پھر آیت230البقرہ کا حکم ہے ۔ جس کا مقصد مرغی کی طرح ذبح کرنا نہیں کہ عورت کی عزت لوٹ لی جائے اور حلال ہوجائے بلکہ مقصد عورت کو آزادانہ کسی بھی اور شوہر سے نکاح کا حق دلانا ہے تاکہ شوہر کی غیرت آڑے نہیں آئے۔ لیکن عورت رجوع کیلئے معروف طریقے سے راضی ہو تو پھر آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی نہ صرف حلالہ کے بغیر رجوع کی اجازت ہے بلکہ ترغیب ہے کہ معاشرے میں پاکدامنی و تزکیہ کیلئے یہی راستہ ہے۔

کوئی ایک حدیث صحیحہ بھی قرآن کیخلاف نہیں ۔ عبداللہ بن عمر نے 3طلاق دی تو رسول اللہۖاس پر غضبناک ہوئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس کو قتل نہ کردوں؟۔ محمود بن لبید متوفی95ھ نام نہ بتاسکے۔ عمر بن عبدالعزیزنے99ھ تا101ھ آزادی دی تو حسن بصری متوفی110ھ نے کہاکہ مستند شخص نے کہا:ا بن عمر نے3طلاق دی پھرزیادہ مستند شخص نے20سال بعدبتایا کہ ایک طلاق دی ۔(صحیح مسلم) سعید بن جبیر نے کہا کہ حلالہ کیلئے قرآن میں نکاح کا حکم ہے جماع کا نہیں تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں جو مکالمہ جلاد کے سامنے کیاوہ قابل غورہے۔ پھر انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔ ابوداؤد نے رکانہ کے والد ین کا3طلاق کے عرصہ بعد بھی نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دوآیات تلاوت فرماکر رجوع کو واضح کیا ہے ۔ بخاری نے اپنی کتاب میں درج احادیث، قرآن اورفطرت کے منافی آیت اور حدیث کو غلط جگہ درج کرکے حلالہ کا راستہ ہموار کیاتو اپنے شہر کے لوگوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

8عورت مارچ برابری کا حق

شوہر اور بیوی کے مساوی حقوق کا قرآن میںتوازن مسلمانوں ، یہودو نصاریٰ اورسب کا بہت بڑاانحراف

ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف ”

اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیںجو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیں”۔البقرہ آیت:228

شیطان کی مداخلت کا باپ بیٹے سے آغاز

حضرت عمر نے قرآن کے مطابق عورت کو حق دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے انکارکردیا

شیطان کی قرآن کے مطابق رسول اللہۖ کی نیت میں مداخلت کی بہت ہی انوکھی اور باریک واردات کی ایک ناقابل تردید مثال

وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولا نبیٍ الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ

”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول اور نبی کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس میں اپنا القا کردیا۔ سورہ الحج آیت:52

عبداللہ بن عمرنے اپنی بیوی کو طلاق دی رسول اللہ ۖ اس پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ طہرمیں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آئے، پھرطہرآئے و حیض آئے اور طہر آئے تورجوع کرلو یا ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طلاق کا امر فرمایا۔جب حضرت عمر کے دور میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا۔عبداللہ بن عمر نے اختلاف کیا اورکہا”اگرمیں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبیۖ پھر مجھے رجو ع کا حکم نہ فرماتے”۔ (بخاری)حضرت عمر نے اس کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیا کہ طلاق میں عورت کے حق کو نہیں سمجھا۔

عبداللہ کے دل میں عورت کی رضامندی کے بغیر دو مرتبہ طلاق رجعی کا حق شیطان نے نبیۖکی تمنا سے ڈالا۔
ــــــــــ

عورت آزادی مارچ :میرا جسم میری مرضی

ایرانی نژاد امریکن عورت نے ”اسلام میں عورت کے حقوق” پر اپنی کتاب میں لکھا کہ ” ایک عورت نے40ہزار تمن میں نکاح کیا اور اسکے شوہر کو پیچھے کی طرف سے جنسی عمل کی لت پڑی تھی۔ جس سے عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی،اس نے خلع مانگا تو نہیں دیا اور پھر50ہزار تمن میں خلع دیا”۔ قرآن سورہ النساء آیت:19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا بلکہ شوہر کی دی ہوئی چیزوں منقولہ اشیاء کا مالی تحفظ بھی دیا ہے اور پھر النساء آیت:20میں شوہر کو طلاق کا حق دیا اور عورت کو منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی تمام جائیداد کا بھی حق دیا ہے۔ خلع میں عورت کی عدت بھی حدیث میں ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ ایران اور اسلامی دنیا نے عورت کے وہ حقوق غصب کررکھے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ۖ نے دئیے ہیںاسلئے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ذلت طاری ہے

جاویداحمد غامدی کے نزدیک” عبداللہ بن عمروفات74ھ ایک عالم تھے”۔طلاق رجعی کا شیطانی القا بھی عبداللہ بن عمر کی سوچ کا نتیجہ تھااور طلاق مغلظ بھی۔حالانکہ قرآن وسنت میں عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی کا کوئی تصور نہیں اور عورت کی رضامندی کے ساتھ طلاق مغلظ کا کوئی تصور نہیں ہے۔سورہ الطلا ق کی پہلی دوآیات میں عوام کیلئے مختصر خلاصہ ہے اور سورہ بقرہ آیت222سے232تک تمام تفصیلات ہیں۔ عبداللہ بن عمرنے ہی عورت کی پچھاڑی میںجنسی عمل کو شوہر کا حق قرار دیا جو امام مالک نے بھی لیااور عورت کے حقوق غصب کئے گئے!

البقرہ:222،223
(1:عورت کی بدترین حق تلفی )
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن…

ترجمہ:” اور آپ سے حیض کا پوچھتے ہیں کہہ دو کہ وہ اذیت ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہواور ان سے مقاربت نہ کرو یہاںتک کہ وہ پاک ہوں پھر جب وہ پاک ہوں تو انکے پاس آؤ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکبازوںکو پسند کرتا ہے”۔O نساء کم حرث لکم…تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیںتم اپنے اثاثے کے پاس جیسے چاہو آؤ… البقرہ:222،223

عورت کو حیض آتا ہے مرد کو نہیں ۔ یہ ایک درجہ عورتوں پر مردوں کا ہے اور بس۔ الفاظ میں، افعال میں اورحقوق میں مردوں اور عورتوں کے حقوق بالکل مساوی ہیں۔ عورت کو اذیت پہنچانے کا شوہر کو اللہ نے حق نہیں دیا ہے بلکہ تحفظ دیا ہے۔ قرآن کے ترجمہ اور تفسیر میں بہت بڑی بڑی غلطیوں کا ازالہ مسائل کا حل ہے۔

البقرہ:224،225
(2:عورت کی بدترین حق تلفی)
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس…

” اور اللہ کو نہ بناؤ اپنے یمین کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو اور تقویٰ کرو اور لوگوں میںصلح کراؤ…”۔لا یؤاخکم بالغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم…Oاللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے لغو یمینوں سے مگر وہ پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔

یہ آیات طلاق کا مقدمہ ہیں جن میں صلح کیلئے اللہ نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی ہے لیکن یہود کے نقش قدم پر گامزن علماء ومفتیان نے مختلف الفاظ وضع کرکے صلح میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے عورتوں کو حلالہ وغیرہ کے حوالہ سے بہت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ الفاظ پر نہیں پکڑتا ہے بلکہ اس اذیت پر پکڑتا ہے جو شوہر نے اپنے دل میں چھپایا ہوتا ہے اور عورت کو اس کا شکار بنادیتا ہے جس کی وضاحت اگلی دو آیات میں روز روشن کی طرح واضح ہے۔

البقرہ:226،227
(3:عورت کی بدترین حق تلفی)
للذین یؤلون من نسائہم تربص اربعة اشھرٍ فان فآء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO

” اپنی عورتوں سے ناراض لوگوں کیلئے4ماہ ہیں اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا توبیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

جب شوہر ناراض ہو اور طلاق کا اظہار نہیں کرے تو یہ ایلاء ہے۔اس کی عدت 4ماہ ہے لیکن اگر طلاق کی نیت تھی تو اس پر اللہ کی پکڑہے جو دل کا گناہ ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار پر عورت کی عدت3ماہ ہے۔ایک ماہ اضافی عدت کی اذیت پر اللہ کی پکڑ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو اللہ نے واضح کیا کہ ناراضگی شوہر کا حق ہے اور رجوع نہ کرنا عور ت کا حق ہے ۔اپنی ساری ازواج پر واضح کردو کہ اب تمہاری رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور بخاری میں واضح ہے لیکن علماء قرآن وسنت کی درست وضاحت نہیں کرتے ۔

البقرہ:228
(4:عورت کی بدترین حق تلفی)
پڑھتا جا شرماتا جا
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء … وبولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف …

ترجمہ:” اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں رکھا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیںاور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔

اس آیت میں اللہ نے صلح واصلاح کی شرط پر عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے اسلئے کہ عدت میں عورت انتظار کی پابند ہے لیکن مولوی طبقہ نے قرآن کے واضح احکام کو سبوتاژ کرتے ہوئے عدت میں بھی باہمی صلح پر یہود کے نقش قدم پر پابندی لگائی۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو نہیں چھوڑا تومفتی حلالہ کا شکار نہیں کریں گے؟۔

مولوی کی ناک کاٹتا جا
البقرہ:229
(5:عورت کی بدترین حق تلفی)
الطلاق مرتٰن… خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا

ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان سے لو جو کچھ تم نے انکو دیا اس میں سے کوئی بھی چیز۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور جو تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف اس چیز کو فدیہ کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اللہ نے عورت کو ایک عدت3ادوار کا پابند بنایا اور مولوی دو مرتبہ طلاق رجعی سے9ادوار کا حق شوہر کو دیتا ہے۔ اللہ نے معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی اور بصورت دیگر تیسری مرتبہ طلاق کے بعد جب ایک اجتماعی فیصلہ سے کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو تمام حدود پر قائم رہنے کی پاپندی کا حکم دیا ہے۔

البقرہ:230
(6:عورت کی بدترین حق تلفی)
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجًا غیرہ …

”پھر اگر اسے طلاق دی تو اس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے…”۔ یہی وہ آیت ہے جسکے ذریعے حلالہ کی لعنت سے عزتوں کا بٹوارہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مدارس کی کتاب ”نورالانوار” میں حنفی مؤقف بھی پڑھایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق آیت229البقرہ کی متصل دوسری صورت سے ہے جس میں کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت کسی صورت بھی رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ اس کے برعکس جاوید احمد غامدی اپنے داماد الیاس حسن کو مسئلہ تین طلاق ایسا سمجھاتا ہے کہ گویا مارگلہ کے پہاڑ پر گاڑی چڑھاتے ہوئے شروع میں بھی اکٹھے تینوں گیر چڑھادئیے تو مسئلہ بن گیا۔ اب رپیئرنگ کیلئے مولوی کے پاس جانا پڑے گا۔ حالانکہ اللہ نے پہلے کی دونوں آیات میں سمجھادیا کہ عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور یہاں مزید بڑی وضاحت کردی ہے۔

البقرہ:231
(7:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا…

”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو۔ جو ایسا کرے گا تو اس نے خود پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔ اور اس نعمت (بیوی)کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے تم پر کتاب میںسے(رجوع کی آیات) نازل کی ہیں اور حکمت کو جس کے ذریعے اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے”۔

اگر عورت راضی ہو تو عدت کے بعد بھی رجوع کرسکتے ہیں لیکن ضرر دینے کیلئے ایسا مت کرو۔ یہ آیت229اور228البقرہ کے تناظر میں معروف رجوع کی وہ وضاحت ہے جس میں عورت کے حق کی بار بار وضاحت اور اذیت سے روکا گیا۔

البقرہ:232
(8:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازاجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی…

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاندوں سے نکاح سے مت روکو جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں ۔یہ نصیحت تم لوگوں میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔

پھر عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے رجوع میں رکاوٹوں کو منع کیا گیا۔ پاک فوج نے اگر سمجھ لیا اور امام مہدی کا لشکر ہے توقرآن کے باغی علماء ومفتیان ہی ہیں جنہوں نے عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ کوئی اس کو حلالہ پر مجبور کرتا ہے اور کوئی خلع اور طلاق رجعی کے نام پر حق تلفی کرتا ہے۔پہلے جہاد انکے ساتھ ہے ۔
ــــــــــ

چارفقہاء امام اور احادیث میں مسئلہ طلاق

امام ابوحنیفہ80ھ، امام مالک93ھ، امام شافعی150ھ، امام احمد بن حنبل164ھ میں پیداہوئے۔ بنوامیہ کا دور133ھ میں ختم اور بنوعباس کا شروع ہوا۔7فقہاء مدینہ،7فقہاء کوفہ اور7فقہاء بصرہ مشہور تھے۔سعید بن مسیب فقہاء مدینہ کے سرخیل تھے جس نے اس پر مار کھائی کہ ہشام نے چوتھی بیوی کو طلاق دی تو عدت پوری ہونے سے پہلے کسی اور عورت سے شادی کرلی۔ جبکہ عورت عدت پر مجبوراور شوہر کیلئے رجوع کا دروازہ کھلا ہے تو کسی اور عورت سے نکاح چار کی جگہ پانچ سے نکاح ہوگا اور امام ابوحنیفہ نے نزدیک ”عدت میں عورت سے نکاح باقی رہتا ہے”۔فقہاء کوفہ کے سرخیل سعید بن جبیر نے کہا کہ ”قرآن میں حلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح کافی ہے” توحجاج بن یوسف نے95ھ میں مکالمے کے بعد انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے آزادی دی تو بصرہ کے فقیہ اعظم حسن بصری نے واضح کیا کہ عبداللہ بن عمر نے بیوی کو تین طلاق دی تھی۔جسکے بعد تو حلالہ کی لعنت کا تصور بھی نہیں رہ سکتا تھالیکن پھر عیاش یزید ثانی بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک نے اقتدار سنبھالا تو حسن بصری نے مؤقف بدل دیاکہ20سال بعد ایک زیاد مستند نے کہا کہ عبداللہ نے ایک طلاق دی (صحیح مسلم) بلکہ مزید کہا کہ بعض علماء کا اجتہادہے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کرناہو گا(بخاری)۔

حسن بصری کی پیدائش21ھ اور وفات110ھ میں ہوئی ۔ حضرت علی کے شاگرد اور مرید تھے لیکن کوفی سعید بن جبیر نے شہادت قبول کی مگر مؤقف سے وفا کی جو عبداللہ بن عباس وفات68ھ کے شاگرد تھے۔عبداللہ بن عمروفات74ھ سے بھی حسن بصری کی ملاقاتیں ہوئی تھیں لیکن مستند اور پھر20سال زیادہ مستند کیلئے نامعلوم اور حرام کے لفظ کیلئے بھی نامعلوم کا حوالہ دینا پڑگیا۔ بخاری ومسلم نے پھر بھی ان روایات کو قبول کیا ۔ چشم بد دُور۔

محمود بن لبید وفات97ھ نے کہا کہ ایک شخص نے خبردی کہ فلاں نے بیوی کوتین طلاق دی تو رسول اللہۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل رہے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان میں ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں۔(نسائی ) امام ابوحنیفہ وامام مالک کی دلیل یہی ایک حدیث ہے۔ جس میں اکٹھی تین طلاق بدعت، ناجائزاور گناہ ہے اسلئے رسول اللہۖ کی ناراضگی سے پتہ چلا کہ واقع ہوسکتی ہے اور یہ عبداللہ بن عمر نے دی تھی جس سے رجوع کا حکم دیا گیا اسلئے یہ بدعت ہے۔ امام شافعیکے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہے۔ دلیل صرف عویمر عجلانی کی لعان کے بعد3طلاق کی روایت ہے۔ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف میں مذبذب ہیں۔ ایک قول ابوحنیفہ ومالک اور دوسرا شافعی کے مطابق ہے۔ ان دونوں احادیث میں حلالہ کی لعنت کو لازم قرار دینے کا شائبہ تک بھی نہیں اسلئے کہ رجوع کی کوئی ممانعت کا حکم نہیں ہے۔

سارا گند صحیح بخاری نے کیااکٹھی تین طلاق کے حوالے سے آیت بھی غلط درج کی اور شہد چٹو کرنے والی روایت بھی حلالہ کی لعنت جاری کرنے کیلئے غلط درج کردی۔ اسلئے بخاری کا درست پوسٹ مارٹم کرنا پڑے گا۔ حلالہ ہی کی وجہ سے علماء ومفتیان کے بے غیرت طبقات اور دلوں نے اس کوعلم حدیث کا سب سے بڑا ہیرو بنادیا ہے۔
ــــــــــ

ترجمان ماضی شان جان استقبال کا مسئلہ

مجاہد ملت حضرت سعید بن جبیر نے بنوامیہ کے دلوں اور دلالوں کو شکست دینے کیلئے واضح کردیا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے جماع کی ضرورت نہیں محض نکاح بھی کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ اسی کوفہ کے رہنے والے تھے۔ شاگردوں نے جتنی بھی گڑبڑ کی ہو لیکن حقائق نہیں چھپایا جاسکتا۔ چنانچہ علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زاد المعاد” میں عبداللہ بن عباس کے مؤقف کو نقل کیا ہے کہ آیت230البقرہ میں حلالہ کا تعلق آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق اور پھر فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ قرآن کے حکم کا استنباط بغیر سیاق وسباق کے نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی مؤقف امام ابوحنیفہ کا اصول فقہ کی کتابوں نورالانوار میں پڑھایا جاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذمولانا سلیم اللہ خان اور مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے آیت230البقرہ سے متضاد دلائل پیش کئے ہیں۔ ایک نے لکھا کہ فان طلقہا کی ف کی وجہ سے اکٹھی3واقع ہوتی ہیں اور دوسرے نے لکھا کہ احناف حدیث سے نہیں بلکہ حتی تنکح کے لفظ میں نکاح سے مراد جماع لیتے ہیں۔

دونوں دیوبندی بریلوی انتہائی قابل اساتذہ کرام کے انتہائی نالائق شاگرد ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے یہ نری جہالت سے بڑی ٹھوکر کھائی ہے یا پھرٹھوکر کھاکر بھی بہت بڑاکمال کر دکھایا ہے؟۔ لیکن سر دست حلالہ کی جس لعنت میں لوگوں کو جھونک دیا ہے اس میں احادیث و روایات کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی وضاحتیں بھی کافی ہیں۔

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ بچیاں بالغ ہوجائیں تو اسلام نے نکاح کی اجازت دی ہے اور بیرون ممالک میں بچیاں بچے جن رہی ہیں تو ہم کیا ان کو اس حد تک مجبور کریں کہ وہ گھر سے بھاگ جائیں؟۔ جبکہ فقہ کی کتابوں میں بچیوں کی بلوغت کا معاملہ بھی نہیں ہے بلکہ بلوغت تک پہنچنے سے پہلے جس طرح کے جبری نکاح کا تصور ہے تو اس کو قومی اسمبلی اور میڈیا میں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ بلوغت سے پہلے بھی کسی کے ذوق کو تسکین ملتی ہو تو مسئلہ نہیں لیکن فقہ کی کتابوں میں تو نابالغ بچیوں کو جس طرح جبر سے مجبور کرنے کی بات ہے جو شاید یہودیت میں بھی جائز نہیں ہے اس کی تعلیم وتبلیغ اور فقہ و فتویٰ کو قرآن و حدیث کی رشنی میں پرکھا جائے شاید گمراہ مفتی جو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کے درجے پر فائز ہیں کچھ ہدایت پاسکیں۔

بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی نے کہا کہ رسول اللہۖ نے دو گتوں کے درمیان کتاب کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ۔ مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں لکھا کہ بخاری نے شیعہ کے رد میں یہ روایت نقل کی کہ تمہارا تحریف کا عقیدہ تمہارے علی کے خلاف ہے مگر قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ ایک روایت جس مقصد کیلئے بھی نقل کی لیکن تحریف کا تدارک تو ہوگیا۔ بخاری نے حلالہ کی لعنت کا حوالہ سے روایت بھی حنفی مسلک کے خلاف نقل کی ہے لیکن بخاری اس کا خود بھی قائل نہیں ہے۔ قرآن کے مقابلے میں یہ بات زیادہ قابل توجہ ہے تاکہ حنفی اور دیگر حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا پالیں۔حضرت عائشہ کی کم عمری میں شادی اور دخول کی روایت بھی بنوامیہ اور بنوعباس کی غلط حرکتوں کا شاخسانہ ہے ۔ ابن خلدون نے مقدمہ میں ٹھیک لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہصرف17احادیث مانتے تھے اسلئے کہ امام ابوحنیفہ نے من گھڑت احادیث بنتے ہوئے دیکھے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی،8عورت آزادی مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر3

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کے بیان اور فتوے میں دلائل کا جواب تاکہ سب علماء ومفتیان حقائق سمجھ جائیں

حضرت مفتی محمد حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی کی تصدیق شدہ ہمارے فتوی پر مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے یہ کہاہے کہ

”وعلیکم السلام ورحم اللہ وبرکاتہ۔ یہ محترم زبردستی جو ہے اہلسنت کا نام استعمال کرکے اب ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کو یہ بات پتہ ہے کہ اپنے من گھڑت کسی فرقے کا نام لیں گے تو فوری طور پر جو ہے لوگ آگاہ ہو جائیں گے ان کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور انہوں نے ساتھ پھندنا یہ بھی لگا دیا کہ جی فرقہ واریت کی لعنت نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ تو اگر فرقہ واریت کی لعنت نے یہاں تک پہنچایا تو آپ فرقہ واریت پر مبنی فتوے لیتے کیوں ہیں؟ ایسے لوگوں سے فتوے کیوں لیتے ہیں جو فرقہ واریت پر مبنی فتوے دیتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی آپ نے بات چیت کرنی ہے تو جمیع صحابہ کرام کا متفق علیہ، ائمہ اربع کا متفق علیہ فتوی، احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ فتوی یہ ہے کہ بیک وقت ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی پاگل اور سٹھیایا ہوا آدمی ہی ہوتا ہے کہ جو یہ کہہ دے کہ تین جو ہے نا ایک ہوتا ہے۔ تین کب سے ایک ہونے لگ گیا؟ یہ اس وقت سے ایک ہونے لگا ہے جب غیر مقلد وہابی حضرات نے تین کو ایک بنایا ہے، ٹھیک ہے؟ باقی اسناد صحیحہ سے ثابت شدہ، سند صحیح سے ثابت شدہ جو احادیث ہیں ان سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے اور میں نے اپنا ایک فتوی بھی بھیج دیا ہے اس کے اندر بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ تین طلاقیں تین ہی شمار کی جاتی تھیں۔ اور یہ کوئی بعد کے دور کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تبع تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے۔ چاروں فقہ کے چاروں آئمہ کا متفقہ مذہب بھی یہی ہے۔ حتی کہ یہ جو وہابی غیر مقلد اہل حدیث حضرات جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ان کے جو ٹاپ آف دا لسٹ جو ہے مطلب جن کو یہ سب سے زیادہ فالو کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ابن تیمیہ اس نے بھی اپنے مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ کے اندر یہ لکھا ہے کہ تین طلاقیں بیک وقت جو دی جاتی ہیں وہ تین ہی شمار ہوں گی۔ ٹھیک ہے؟ اب یہ اس کے اندر زمین و آسمان کے قلابے ملا کر جھوٹ کو سچ سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کریں تو ظاہر ہے کہ یہ انہیں کو ہی روا ہے، ہم تو اس کے حوالے سے جو ایک واضح موقف ہے وہ دے چکے ہیں السلام علیکم”۔(مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی)

مفتی حسام اللہ شریفی شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب کے شاگرد ہیں جن کے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع شاگرد تھے ۔مولانا شریف اللہ کے شاگرد ہیں جنکے مولانا سید ابوالاعلیٰ موددی شاگرد تھے جو اکٹھے استاذ سے ملنے گئے تھے۔ پہلے مدارس میںمفتی کا کورس نہیں تھا۔مولانا احمد علی لاہوری نے مفتی حسام اللہ شریفی کو مسائل کا حل لکھنے کی اجازت دی ۔

مفتی شریفی صاحب

1:مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان۔
2:مشیر شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان۔
3:رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن وسنت رابطہ عالمی اسلامی ، مکہ مکرمہ ۔
4:کتاب وسنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی۔
5:ایڈیٹر ماہنامہ ”قرآن الہدیٰ ” کراچی (اردواور انگریزی میں شائع ہونے والا بین الاقوامی جریدہ)۔

حنفی عبدالشکور لکھنوی نے ” مجموعة الفتاویٰ ” میں3طلاق کو ایک قرار دیاجو مولانا رشید احمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں نقل کیا ۔ پیر کرم شاہ الازہری نے ”دعوت فکر” لکھا۔ بریلوی مکتب نے کتاب غائب کردی اور ہندوستان احمد باد میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہل حدیث اور بریلوی مکتب نے1972ء کا مشترکہ سیمینار منعقد کیا جس کی روئیداد لاہور سے شائع ہوئی۔

پاکستان بھرسے کئی بریلوی علماء ومفتیان ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ مفتی کامران شہزاد حلالہ کے بغیر رجوع کا فتویٰ دیتے ہیں۔ ہم نے قرآن و حدیث، خلفاء راشدین ،امام ابوحنیفہ اور درس نظامی کا حنفی مؤقف پیش کرنا ہے تاکہ قرآن وسنت اور حنفی مسلک سے حلالہ کی لعنت کا ایسا خاتمہ ہو جائے کہ ابلیس ملعون کی موت کا وقت معلوم آجائے۔

حدیث کی کتابوں میں صحاح ستہ کے اندر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سند کو شہرت کا درجہ حاصل ہے ۔ طلاق کے حوالہ سے ہم سب سے پہلے اس بات کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ چار وں امام کا اصل مؤقف کیا ہے ؟ اور پھر بخاری ومسلم اور دیگر کتب کی احادیث کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور لوگ اصل حقائق کو سمجھ جائیں۔

امام ابوحنیفہ و مالک کے ہاں اکٹھی3طلاق بدعت، ناجائز اور گناہ ہے۔ دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ایک شخص نے بتایا کہ فلاں نے بیوی کو3طلاق دی۔ جس پر رسول اللہۖ اٹھ کھڑے ہوئے غضبناک ہوکر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔(سنن النسائی)

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی3طلاق دینا سنت ، مباح اور جائز ہیں اور دلیل عویمر عجلانی کی لعان کے بعد تین طلاق ہیں۔ جبکہ امام احمد بن حنبل کے دواقوال ہیں ۔ ایک قول تو اپنے استاذ امام شافعی کے مسلک پر ہے اور دوسرا قول اپنے دادا استاذ امام مالک اورپردادا استاذامام ابوحنیفہ کے مطابق ہے۔

صدروفاق المدارس العربیہ پاکستان محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی شرح بخاری ”کشف الباری” کودیکھ لیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے ذخائر میں سے صرف دو احادیث؟ جن پر امام مالک و ابوحنیفہ اور امام شافعی نے اتفاق نہیں کیا اور بخاری ومسلم ، ابوداؤد کے استاذ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف کے درمیان تذبذب کا شکار تھے؟۔اس پر ذرا تدبیر کریں!۔

مجتہد امام اور مقلد محدث میں کیا فرق ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے حدیث لکھ دی کہ” علم علماء کے اٹھ جانے سے اٹھ جائیگا، جب کوئی عالم باقی نہیں رہیگا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنائینگے۔ جو جانے بغیر فتویٰ دیںگے اور خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے”۔ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ گیا ہے اسلئے تقلید واجب ہے۔( تقلید کی شرعی حیثیت : مفتی تقی عثمانی)

مقلد اس فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ تین طلاق واقع ہونا اسلئے ضروری ہے تاکہ عورت طلاق کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکے۔نہ کہ اسلئے کہ رجوع کا دروازہ باہمی رضامندی سے بھی بند ہوجاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے اساتذہ میرے اساتذہ تھے اور میرے اساتذہ نے مجھے طالب علمی میں امام ابوحنیفہ و امام مالک کی طرح ائمہ مجتہدین کے درجہ پر قرار دیا تھا۔ دوتین اساتذہ کرام اب بھی الحمدللہ دنیا میں زندہ ہیں۔ کسی کو پوچھ لیا جائے۔ کسی کو تلاش کیا جائے اور کسی کو جان کی امان دیں۔

امام ابوحنیفہ جب بچپن و جوانی میں مکہ اور مدینہ گئے، کچھ صحابہ سے ملاقات ہوئی ۔ ابن مروان کے حکمران بیٹے حلالہ سے عزت دری کو اپنا مشن سمجھتے ۔جبکہ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مدینہ میں گورنری اور برطرفی بھی دیکھ لی اور پھر انکے دور میں علم کی آزادی اور پھر انکے بعد پابندی بھی۔ جبکہ سعید بن جبیر کواسلئے شہیدکیا گیا کہ اس نے کہا کہ ”قرآن میںحلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح ہے”۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ” احناف کے نزدیک کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو دلیل بناکر قرآن میں

حتی تنکح زوجًا غیرہ

کے اندرنکاح پر جماع کا اضافہ کیا جائے۔ احناف کے نزدیک قرآن میںنکاح سے جماع مراد ہے”۔(کشف الباری)

حنفی اصول کے مطابق بریلوی علماء عورت کو حلال کرنے کی خاطر صرف ایک دفعہ داخل کردیتے ہیں جس میں حق مہر، عدت اور گواہ وغیرہ کچھ نہیں ہوتے۔ ساس نے داماد سے ہاتھ ملادیا اور شہوت محسوس ہوئی تویہ نکاح ہے۔ داماد پر بیٹی حرام ہوگی۔

اگر روایات پر انحصار کیا تو قرآن پر عقیدہ ختم اور مقلدین کے مسائل پر انحصارکیا تو پھر شرمائے یہود۔ بہو کو ہاتھ ملایا اور شہوت محسوس ہوئی تو اگر خارج کرکے چھوڑا تو درست، نہیں تو بہو بیوی بن گئی اور بیٹے پر حرام ۔ افسوس کے حرمت مصاہرت تک پرانتہائی متضاد روایات مسالک کی بنیاد پر گھڑ رکھی ہیں۔

عورت راضی نہ ہو تو مذاق کی طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں اور عورت رجوع پر راضی ہو تو3طلاق اور تکمیل عدت کے بعد بھی رجوع قرآن اور ابوداؤد کی حدیث سے ثابت ہے۔پھر قرآن و احادیث اور اصول فقہ میں شفافیت بھی موجود ہے۔

قرآن کی تفسیر میں کیا واضح گڑبڑ ہوئی ؟۔ احادیث میں کیا کیا گڑبڑہوئی ؟۔ اور اصول فقہ اور فقہ میں کیا گڑبڑہوئی؟۔

امام ابوحنیفہ کے نام پر کم عقلوں نے مسائل گھڑے ہیں ۔ قرآن کی واضح آیات میں واضح گڑبڑ معنوی تحریف کرکے اس کی غلط تفسیر کی گئی ہے۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے لیکن جب سورہ بقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا گیا ہے اور آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف رجوع کی اجازت بلکہ ترغیب دی گئی ہے تو آیت229اور230البقرہ میں آخر ایسا کیا ہے جو آگے اور پیچھے کی آیات سے مختلف ہے؟۔3طلاق زبان سے نکل گیا اور اللہ کا سارا منصوبہ سوتاژ کردیا؟۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دو مرتبہ طلاق رجعی کی اجازت دی جائے؟۔ جس سے عورت کو3قروء کے بجائے9قروء تک کی عدت پر مجبور کیا جائے؟۔بالکل نہیں! مگرکیوں؟ اسلئے کہ اصلاح اور معروف کی شرط اور حق کو معطل کردیا۔حنفی میں نیت نہ ہوتوبھی شہوت کی نظر رجوع اور شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے رجوع نہ ہوگا۔

یہ خرابی مروان بن حکم اور اسکے بیٹوں کی وجہ سے آئی تھی۔ یزیدکے دور میںعبداللہ بن زبیرپہلے مکہ اور اس کی موت کے بعدسبھی پر حکمران تھے لیکن صحابی کی قدر نہیں ۔ مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے بیعت کرنا چاہی مگر اس کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔جیسے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیاتھا:

قال فخرج منھا انک انت رجیم , وان علیک اللعنة الی یوم الدین , قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون , قال فانک من المنظرین , الی یوم .الوقت المعلوم
(سورہ الحجرآیات:34تا38)

”فرمایا: جنت سے نکل جا بیشک تو مردود ہے اور بیشک تجھ پر لعنت ہے یوم جزا تک ۔ کہا اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک مہلت دے کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔اللہ نے فرمایا: بیشک تجھے مہلت ہے۔ معلوم دن کے وقت تک”۔

مروان بن حکم کی رسول اللہۖ کے دور میں مدینہ بدری ہوئی تھی۔ مولانا نورالحسن شاہ بخاری کی میں نے لیہ میں تقریر سنی ،ان کی کتاب ”عثمان ذی النورین”میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے مروان بن حکم کیلئے رسول اللہۖ سے اجازت لی تھی اور پھر اپنے دور میں مدینہ کے اندر بلالیاتھا”۔ایک اور شخص عبداللہ بن ابی سرح نے اسلام قبول کرنے کے بعد وحی کی کتابت بھی کی تھی اور پھر مرتد بن گیا تو رسول اللہۖ نے جن افراد کا قتل مباح قرار دیا، ان میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا اور حضرت عثمان کی سفارش پر اس کو بھی معافی مل گئی۔

حضرت عثمان کی شہادت کا بنیادی باعث مروان بن حکم اور گورنر عبداللہ بن ابی سرح تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ

ظہر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدالناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعونOقل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبة الذین من قبل کان اکثرھم مشرکینOفاقم وجھک للدین القیم من قبل ان یأتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذٍ یصدعونOمن کفرفعلیہ کفرہ ومن عمل صالحًا فلافسھم یمھدونOلیجزی الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات من فضلہ انہ لایحب الکافرینO

”فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے تاکہ اللہ ان کو اپنے بعض اعمال کا مزہ یہاں چھکائے ہوسکتا ہے کہ یہ باز آجائیں۔ کہہ دو کہ زمین میں گھومو تو دیکھو پہلے جو گزرے ہیں وہ کیسے انجام کو پہنچے۔ ان میں اکثر لوگ مشرک تھے۔ پس اپنا چہرہ سیدھا رکھ سیدھے دین کیلئے اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے کہ اللہ کی طرف سے اس کو پھر کوئی پھیر نہیں سکے اس دن لوگ منشتر ہوکر گتھم گتھا ہوں گے۔ جس نے کفر کیا تو اس پر اس کا کفر ہے اور جس نے درست عمل کیا تو اپنے لئے سامان کررہے ہیں۔ تاکہ بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان والے اور درست اعمال والے ہیں اپنے فضل سے بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا”۔ (سورہ روم:41تا45)

حضرت عثمان کے دور کافتنہ کہاں تک پہنچا؟۔بنوامیہ و بنو عباس کا کیا حشر ہوا؟۔ پاکستان اور دنیا کے حکمران یہ سمجھ لیں کہ فتنہ جب شروع ہوجاتا ہے تو پھر قابو میں نہیں آتا ہے جس کا انجام پھر بہت خطرناک بن جاتا ہے اسلئے اپنی روش کو درست کریں اور فتنوں کو صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ عمل وکردار اور اچھے عقائدو نظریات کی بنیاد پر قابو کرنے میں لگ جائیں۔

بخاری میں ہے کہ اسلاف فتنے کے وقت میں جاہلی شاعر امراء القیس کے اشعار سے مثال دینا پسند کرتے تھے:
الحرب اول ماتکون فتیة تسعی بزینتہا لکل جھول حتی اذا اشتعلت و شب ضرامھا ولت عجوزًا غیر ذات حلیل شمطاء ینکر لونہا و تغیرت مکروھة للشم والتقبیل
”جنگ کا اول جوان لڑکی کا سا ہے ۔ اس کی زینت کے عاشق جاہل اس میں دوڑ دھوپ شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بھڑک جائے اور اس کے شعلے پھیل جائیں ۔پھر وہ بوڑھاپے میں بدل جاتی بغیر کشش والی بڑھیا جس کے رنگ سے نفرت ہوجاتی ہے۔وہ ایسی بدل جاتی ہے کہ اسکے سونگھنے اور چومنے سے سب کو کراہیت محسوس ہوتی ہے”۔

افغانستان میں روس کے خلاف جنگ تھی پھر ملاعمر کی آمد ہوئی اور صدر نجیب اللہ شہید کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا۔ پھر امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی اور طالبان سے جنگ میں سب کی کھلی ہمدردیاں تھیں ۔اب معاملہ کہاں سے کہاں تک پہنچا؟۔ شروع میںمسلمانوں نے قیصر وکسریٰ سپر طاقتوں کو شکست دی تو بڑے مزے تھے لیکن پھر آپس میں جنگ و جدل اور فتنہ وفساد کے ادوار آگئے تو جاہلیت کا شاعر اور اس کی شاعری یاد آگئی۔ قرآن کی طرف رجوع کرتے تو اپنی منزل پھر بھی پاسکتے تھے لیکن قسمت و تقدیر نے خلافت راشدہ کے بعد پھر امارت تک کہاں سے کہاں تک پہنچادیا تھا؟۔

صحیح بخاری میں ایک زبردست حدیث ہے کہ
حضرت حذیفہ نے کہا کہ ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے اور اس نے کہا کہ تم میں سے کس نے نبیۖ کے قول کو محفوظ کیا ہے فتنہ کے بارے میں۔ حذیفہ نے کہا کہ بندے کا فتنہ میں مبتلا ء ہوجانا اپنے اہل ، اپنے مال ، بیٹے اور اپنے پڑوسی کے بارے میں ،تو کفارہ بن جائے گا نماز، صدقہ،امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس فتنے کا نہیں پوچھا بلکہ وہ جس کے بارے تموج کموج البحر جو ٹھاٹھے مارتا ہوا موج ہوگا سمندر کے طوفان کی طرح۔حذیفہ نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین اس کا تمہارے اوپر اثر نہیں پڑے گا بیشک تیرے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ توڑ دیا جائے گا یا کھلے گا۔ حذیفہ : بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر نے کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہوسکے گا؟۔ حذیفہ : جی ہاں۔

حذیفہ سے پوچھا گیا کہ کیا عمر اس دروازے کو جانتاتھا؟۔ فرمایا : ہاں ! جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ کیونکہ میں نے اغلاط پر مبنی بات نہیں کہی ہے۔ پھر ہم پر ہیبت طاری ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ وہ دروازہ کون تھا؟۔ اسلئے پھر ہم نے مسروق سے پوچھا تو اس نے کہا کہ عمر تھے۔

رسول اللہ ۖ نے حج میں عمرے کا احرام بھی باندھا۔اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ
فمن تمتع بالعمرة الی الحج فما استیسر من الھدی فمن لم یجد فصام ثلثة ایامٍ فی الحج و سبعةٍ اذا رجعتم تلک عشرة کاملة ذٰلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ شدید العقاب

”توجو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی لازم ہے جیسی میسر ہوپھر جو قدرت نہیں رکھتا ہے تو3روزے حج کے دنوں میں اور7جب لوٹ کرجاؤ۔یہ مکمل عشرہ10دن ہے۔ یہ اس کیلئے ہے جس کے اہل وہاں مسجد حرام کے پاس حاضر نہیں ہوں۔اور اللہ سے ڈرو ،وہ سخت پیچھا کرنے والا ہے”۔(البقرہ:196)

دورجاہلیت میں حج کیساتھ عمرہ کرنا منع تھا تاکہ لوگ سردی و گرمی میں میلے پر زیادہ سے زیادہ آئیں۔ جیسے لاہور میں پتنگ بازی کا ایک میلہ سردیوں اور دوسرا گرمیوں میں ہو۔ بڑے کاروباری فوائد ہوں۔ سورہ قریش میں سردی گرمی کے سفر سے مانوسی کی نعمت کا ذکر ہے۔ جاہلیت میں حج کے مہینے کو تبدیل کیا جاتا ۔حضرت عمر نے حج وعمرے کا ایک احرام اور اہل کتاب عورتوں کے نکاح سے منع کیا تاکہ عرب کی مسلمان عورتیں بغیر نکاح کے محروم نہ بن جائیں۔ جائز بات سے مصلحت کے تحت منع کرنے میں حرج نہیں تھا جیسے یہود کیلئے ہفتہ کو مچھلی کا شکار منع ہوا۔ آئین پاکستان میں قرآن وسنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ اگر تفریحی مقام پرچھٹی کے دن مچھلی یا پرندوں کے شکار پر پابندی لگائی جائے تو یہ اسلام کے خلاف نہیں ۔

فتوحات کے بعد نومسلم پڑھے لکھوں کی خدمات لی گئیں۔ جن میں ایک مشہور قاضی شریح تھا۔ جو حضرت عمر، عثمان ، علی سے عبدالملک بن مروان کے آخری دور سے چند سال پہلے فوت ہوا۔ قاضی، مورخ ، فقیہ اور مدرس تھا۔ شاگرد پیدا کئے۔ عبداللہ بن عمر نے اہل کتاب کو مشرک قرار دیکر ان سے نکاح کو حرام قرار دے دیا۔ حرام قرار دینے اور منع کرنے میں بڑا فرق ہے۔ جب حضرت عثمان نے حج و عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے پر پابندی لگائی تو حضرت علی نے اعلانیہ دونوں احرام باندھے اور کہا کہ میں دیکھتاہوں کہ کون روکتا ہے مجھے اللہ کے حکم اور نبیۖ کی سنت پر عمل کرنے سے۔ (صحیح بخاری)

ضحاک گورنر دمشق نے کہا کہ حج و عمرے کا ایک احرام جاہل باندھتا ہے ۔سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ” یہ مت کہو، میں نے رسول اللہۖ کو ایک احرام کو اکٹھا باندھتے دیکھا ہے”۔ علامہ غلام رسول سعیدی کی شرح صحیح مسلم میں بہت مواد ہے۔

ایک طرف یزید، مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں کے دور میںسیاسی انحطاط عروج پر تھا تو دوسری طرف حضرت عمر اور حضرت علی کو متوازی متحارب کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا اور پیش کیا جاتا تھا۔ تین طلاق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ بھی اسی متنازع دور کی پیدوار ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر سے پہلے عورتوں کیساتھ متعہ جاری تھاپھر حضرت عمر نے روک دیا۔ شیعہ کے ہاں متعہ اور سعودی عرب نے اس کو اب مسیار کا نام دے دیا ہے۔ بہت ساری چیزوں پر احادیث کی کتابوں میں سخت اختلافات اور تضادات ہیں لیکن جناب مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے حلالہ پر عجب وغریب قسم کا اجماع نقل کیا ہے۔ حالانکہ یہ محض غلط فہمی یا ہٹ دھرمی کا مرض ہے۔

کسی بھی نعمت کو بدل دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ پر بدعت اپنا ڈیرہ ڈال دیتی ہے۔ قرآن کی سورہ النساء میں جہاں محرمات عورتوں کی فہرست چوتھے پارہ کے آخری صفحہ پر بیان ہوئی ہے تو اس فہرست کی آخری عورتیں پانچویں پارہ کے شروع میں ہیں۔ جس کا مطلب اصل حرمت ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے جواز بخش دیا گیا ہے۔ اور جواز کی صورت ایگریمنٹ ہے۔ جہاں پھر متعہ کی باقاعدہ وضاحت بھی ہوئی ہے۔ اس طرح سورہ النساء کے شروع میں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے لیکن جب عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا ایگریمنٹ والیاں۔ جس کا مطلب ہرگز ہرگز بھی لاتعداد لونڈیاں نہیں ہے بلکہ جس طرح ایران یا پھر سعودی عرب میں ایک عورت کیساتھ بھی نکاح کرنے کا عدل نہیں کرسکتا ہو تو پھر ایگریمنٹ، مسیار یا متعہ ہے۔

جب اس کے مفہوم کو تبدیل کردیا گیا تو لوگوں نے بہت ہی بڑی تعداد میں لونڈیاں رکھیں اور اس کو اسلام کا حکم سمجھ لیا تھا اور اس کی وجہ سے آج دنیا مسلمانوں کے غلبہ سے پریشان ہے۔

جبکہ قرآن نے نہ صرف غلام اور لونڈی سے نکاح کا حکم دیا بلکہ ان کی حیثیت غلامی سے نکال کر ایک ایگریمنٹ کے درجہ تک میں رکھی جس کو موجودہ دور میں گروی بھی کہتے ہیں اور یہ گروی رکھنا ملکیت سے نکالنا ہے۔ جس طرح ایگریمنٹ کی دنیا کی تمام زبانوں میں مختلف اقسام ہیں۔ جن میں ہر طرح کا معاہدہ شامل ہے ویسے عربی میں اَیمان کے الفاظ میں کئی اقسام شامل ہیں۔ قرآن میں ایمان سے کہاں کیا مراد ہے؟۔ تو اس میں سیاق وسباق کا بڑا واضح کردار ہے۔ جس کو سمجھنے میں مشکل بھی نہیں ہے۔میرے جیسا آدھا ادھورا بھی کوشش کرے تو حق کی بات سمجھنے میں بہت زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔

جب امام اعظم ابوحنیفہ کی عمر17سال تھی تو محمود بن لبید کا انتقال ہوگیا۔ جب امام ابوحنیفہ کی عمر30سال تھی تو حضرت امام حسن بصری کا انتقال ہوا۔ امام حسن بصری نے جس طرح عبداللہ بن عمر کی تین طلاق کے معاملے پر20سال بعد اپنی رائے بدل دی تو کیا بعد میں مضبوط راویوں کی پیدوار بڑھ گئی تھی یا مسئلہ کچھ اور ہی تھا؟۔ جبکہ حضرت سعید بن جبیر شہادت کی منزل پر ان کی وفات سے15سال پہلے پہنچ چکے تھے۔

ضحاک ظالم گورنر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کا تو پھر بھی لحاظ رکھا تھا لیکن حسن بصری سے وہی سلوک ہوتا جو سعید بن جبیر کے ساتھ روا رکھا گیا۔حسن بصری جیسے مستند شخص نے جس طرح عبداللہ بن عمر کے واقعہ پر اپنی رائے بدل دی تو اس کے بعد امام ابوحنیفہ نے کس کس راوی پر کیا اعتماد کرنا تھا؟۔ پھر حسن بصری نے نہلے پر دہلا کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ”حرام کے لفظ سے جو نیت بھی کی جائے۔ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے جو کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے بلکہ اس کیلئے حلالہ سے گزرنا پڑے گا”۔ صحیح بخاری نے اپنی کتاب میں یہ لکھاہے ۔

بخاری ، مسلم اور ابوداؤد تینوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد ہیں۔ جن کا کام فقہ سے زیادہ روایات اور احادیث کو جمع کرنا تھا انہوں نے متضاد روایات بھی مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔

امام احمد بن حنبل ابوداؤد طالسی کے شاگرد تھے جو سفیان ثوری کے شاگرد تھے۔ سفیان ثوری امام ابوحنیفہ کے ہم عمر اور ان کے سخت مخالف تھے۔ جب عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی تو روایات کی بہتات کا شاخسانہ مسئلہ بن گیا۔ حکمرانوں نے اپنے مطلب کیلئے کس کو کھلی چھوٹ دی اور کس کو پابند سلاسل کیا تھا وہ بھی ایک اپنی جگہ پر زبردست تاریخ ہے۔

حضرت عائشہ کے سامنے حدیث کا ذکر کیا گیا کہ کتے اور عورت کے سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟۔ تو فرمایا کہ تحقیق تم نے ہمیں کتے بنادیا۔ میں نے نبیۖ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور میں آپ اور قبلہ درمیان تھی اور میں نے چارپائی کی طرف ٹیک لگائی تھی …(صحیح بخاری)

اصل بات یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جن اشخاص کا ذکر ہے وہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے طلاق دی تھی اور خبر اور قتل کی پیشکش حضرت عمر نے کی تھی۔ اور بخاری کی کتاب التفسیر سورہ الطلاق میںہے کہ نبیۖ اس خبر پر غضبناک ہوگئے۔ پھر رجوع کا حکم دیااور قرآن کے مطابق عدت کے تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کا عمل سمجھایا اور فرمایا کہ یہی وہ عدت ہے کہ جس میں اللہ نے اس طرح سے طلاق کا امر فرمایا ہے۔ یہی روایت بخاری کی کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب الاحکام میں بھی ہے لیکن ان میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ ویسے تو قرآن کسی ایسی روایت کا محتاج نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوئے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ قرآن میں معاملہ بالکل واضح تھا پھر اسکے باوجود عبداللہ بن عمر نے اس کو کیوں نہیں سمجھا؟۔ یا پھر اس کی خلاف ورزی کیوں کی؟۔ محدثین کے استاذ ابن ابی شیبہ نے امام ابوحنیفہ کے خلاف مستقل کتابچہ مرتب کیا ہے جس میں وہ125مسائل میں امام ابوحنیفہ کی رائے کو حدیث کے خلاف قرار دیتا ہے۔ ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ قرآن کی دس آیات جن میں رجم اور بڑے آدمی کو دودھ پلانے کے احکام تھے وہ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئے۔ ہوسکتا ہے کہ دو مسئلے یہ بھی125میں شامل ہوں نہیں تو127کردیں۔

حنفی علماء کرام ومفتیان عظام بخاری کی ان17روایات کو نہیں مانتے جن میں نماز کے اندر رفع الیدین کا ذکر ہے لیکن حلالہ کی لعنت کیلئے ختم بخاری کے پیچھے کہانی کوئی اورلگتی ہے۔

بخاری نے حلالہ کی لعنت کیلئے جس حدیث کو پیش کیا ہے وہ انتہائی درجہ کی خیانت اور امت کا بیڑہ غرق کرنے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔ چنانچہ وہ ”من اجاز الطلاق الثلاث” کے عنوان سے وہ روایت نقل کرتے ہیں رفاعة القرظی نے جو ایک عورت کو طلاق دی اور پھر عبدالرحمن بن زبیر القرظی نے اس سے شادی کی تھی اور اس نے دوپٹے کا پلو دکھایا تھا۔

جس سے لوگوں کو یہ مغالطہ ہواہے کہ جیسے آج کل کے مفتی کرتے ہیں کہ اکٹھی تین طلاق پر رجوع کا نہیں حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیتے ہیں۔ اگر رسول اللہۖ کے پاس کوئی ایسا فتویٰ آتا تو جب سورہ بقرہ آیت228میں واضح ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے تو رسول اللہۖ اس عورت کو حلالہ کا فتویٰ کیوں دیتے؟۔ ذرا ایمانداری سے اپنے دل پر ہاتھ رکھو اور اپنا ایمان ، انصاف اور مسلک حنفی کو چیک کرو کہ جہاں احادیث صحیحہ کو اسلئے قبول نہیں کیا جاتا ہے کہ قرآن میں حتی تنکح زوجًا غیرہ کے اندر عورت جہاں چاہے وہ اپنا نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں حدیث
من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحہا باطل باطل باطل
” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ کو مسترد کیا جاتا ہے۔

جبکہ اللہ نے فرمایا:
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا
”اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر”۔ قرآن کے خلاف اس حدیث کو کیسے قبول کیا جاتا ہے؟۔

لیکن اس کے خلاف کوئی حدیث ہے بھی نہیں اسلئے کہ جس حدیث کا بخاری نے حوالہ دیا ہے تو وہ بخاری کے علاوہ کسی بھی فقیہ اور محدث کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ حتی کہ بخاری کے نزدیک اس عنوان کے تحت اس کو یہاں داخل کرنا غلط تھا اسلئے کہ بخاری نے خود ہی واضح کردیا ہے کہ رفاعہ القرظی نے الگ الگ مرتبہ تین طلاقیں دی تھیں۔ دوسرا یہ کہ نامرد ہونے کی بھی شکایت کا مطلب یہ نہیں کہ رات کو بھیج دیا اور صبح عورت حاضر ہوگئی کہ وہ تو حلالہ کے قابل ہی نہیں۔ اگر یہ بات بھی ہوتی تو یہ ایک مفتی بھی نہیں کرسکتے کہ نامرد پر عورت کو حلالہ کرنے اور اسی طرح کے مزے اڑانے پر مجبور کرے چہ جائیکہ نبیۖ پر ایسی تہمت لگائی جائے؟۔ بخاری نے پھر یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کو شوہر کی طرف سے سخت مار پڑی تھی اور اس نے اپنے زخموں کے نشان حضرت عائشہ کے سامنے کپڑا اٹھا کر دکھائے تھے اور بخاری نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکے شوہرنے نامرد ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس کی چمڑی ادھیڑتا ہوں جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ یہ حلالے کا قصہ نہیں تھا۔

صرف ایک دلیل امام شافعی کی ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی لیکن اس کی وجہ سے یہ کہنا حماقت ہے کہ رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور قرآن کی آیات منسوخ ہوجاتی ہیں۔اسلئے کہ وہ سورہ الطلاق کی وضاحت ہے کہ فحاشی کی صورت میں عدت کے اندر بھی گھر سے نکالی جاسکتی ہے۔

ابوداؤد نے سورہ الطلاق کی وضاحت کیلئے ام رکانہ اور ابورکانہ کے واقعہ بھی نقل کیا ہے جس میں سورہ الطلاق کے عین مطابق مرحلہ وار تین طلاق کے بعد کافی عرصہ بعد بھی ان سے رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا ہے؟۔ جب انہوں نے تین طلاق کا بتایا تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دو آیات سے واقعہ کی صورتحال واضح فرمائی اور شاید ابواداؤد کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حدیث مسائل کا حل ہے اسلئے ایک اور حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ اللہ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میری بات صحیح نقل کی اسلئے کہ بسا اوقات نقل کرنے والا خود نہیں سمجھتا ہے لیکن جس تک پہنچتی ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ مفتی غلام مجتبیٰ صاحب! امید ہے کہ آپ نے حقائق کو سمجھ لیا ہوگا ۔سورہ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کی بات بھی فقہ کی معتبر کتابوں میں ہے اور ہم نے ریورس گیر لگانے پر مجبور کیا ۔حلالہ کی لعنت بھی جلد ختم ہوجائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ

اگر فقہ کے امام اعظم ابو حنیفہ ہیں اور حدیث کے امام اعظم سفیان ثوری ہیں تو دونوں کا موازنہ کیا ہے؟۔ امام ابوحنیفہ پر حدیث کے مقابلے میں قیاس کو مذہب بنانے کا الزام ہے لیکن اگر امام حسن بصری سے بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عمر کی طلاق اور حرام کے لفظ پر علماء کے اجتہاد کو دیکھا جائے جہاں ایک بڑا جلیل القدر تابعی کثیر صحابہ تک رسائی کے باوجود بھی روایوں کا نام نہیں بتاتا ہے جس کو تدلیس کہتے ہیں تو سفیان ثوری نے بھی راویوں کے نام چھپانے میں تدلیس کا ارتکاب کیا تھا اور اس کی توجیہہ بھی غلط بیان کی جاتی ہے کہ عباسی خلفاء سے بچانے کی خاطر یہ کام کیا تھا ۔ممکن ہے ان میں کچھ نے بنوامیہ کے حق میں کچھ گھڑا ہو۔ اور مزے کی بات ہے کہ آخر میں خدا کے ڈر سے اپنے شاگرد کو اپنی کتابیں جلانے کا حکم دیا ۔ کتب احادیث میں کہاں سفیان ثوری کی30ہزار احادیث اور کہاں امام ابوحنیفہکے قیاس والے مسائل؟۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا ”شاگردوں نے ابو حنیفہ کو ضائع کردیا” ۔ عبداللہ بن مبارک امام ابوحنیفہ ، اوزاعی،سفیان ثوری،ہشام بن عروہ ،امام مالک کے شاگرداور ابن ابی شیبہ اور ابوداؤد کے استاذ تھے۔3طلاق اور عدت کے بعد ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کو نبیۖ کے واضح حکم اور سورہ طلاق کی تفسیر کے تناظر میں دیکھیں اور اسکے مقابلہ میں بخاری کی حلالہ والی روایت کو دیکھیں تو اہلحدیث، شیعہ اور احناف کھلے دل سے حق پر متحد ہوں گے۔ملاجیون کی کتاب”نورالانوار” کے دامے،درمے، سخنے قرآن ، احادیث اور اصول فقہ پر پاکستان اور دنیا بھر میں اجماع ہوجائے گا۔

سبھی فتنے دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث،غامدی، پرویزی،ناصبی، دعوت اسلامی، تبلیغی جماعت، تنظیم اسلامی اور جماعت اسلامی سمیت ایک اور نیک مسلمان بن جائیں گے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر2

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی اور حلالہ کیلئے قرآن کی بوٹی کرنے اور فطرت کو بگاڑنے والو!یہ انقلاب آرہاہے

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برتکاتی نے فتویٰ میں اعتماد سے لکھاکہ

قرآن و حدیث ، صحابہ کرام، ائمہ اربعہ امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اور اجماع اہل سنت سے یہ ثابت ہے کہ تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیںچاہے ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں،اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سوائے ابن تیمیہ اور اسکے ماننے والے غیر مقلدین اور روافض کے پوری امت میں صرف وہی لوگ ایسے ہیں کہ جو تین کو ایک قرار دیتے ہیں اور ان کا یہ اختلاف بھی قابل اعتبار نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

یعنی پھر اگر اس نے تیسری طلاق دی تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ البقرہ:230

جواب: ہاشمی برکاتی صاحب!

تم نے قرآن کی بوٹی بناڈالی اور اس آیت کو آگے پیچھے کی آیات سے الگ تھلگ کردیاجبکہ امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک دیوبندی بریلوی مدارس کے نصاب تعلیم میں پڑھایا جاتا ہے کہ آیت230البقرہ کی طلاق کا تعلق اس سے قبل متصل آیت229البقرہ میں فدیہ سے ہے جس کی وجہ سے امام ابوحنیفہ اہلحدیث اور شیعہ کے علاوہ انسانی فطرت کے بھی قرآن کی صحیح تعلیم سے امام اعظم بنتے ہیں۔اللہ نے فرمایا:

قل اللٰھم فاطر السماوات والارض عالم الغیب و الشھادةانت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفونO……سورہ الزمرآیت:46سے آخر تک

”کہہ دو اے اللہ ان کاآسمانوں اور زمین کوفطرت دینے والاغیب اور حاضر کا عالم آپ نے فیصلہ کرنا ہے اپنے بندوں میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ اور اگر ان لوگوں کے پاس جو ظلم کررہے ہیں سب کچھ ہو اور اتنا مزید بھی تو اس کے قربان کرنے سے دریغ نہ کریں قیامت(انقلاب) کے دن ۔ اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے ظاہر ہوں گی جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا۔ اور ان کے سامنے ظاہر ہوں گے ان کے سیاہ کرتوت جو انہوں نے کمائے اور وہ لوگ ان کو گھیر لیں گے جن کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے۔ جس انسان کو نقصان پہنچے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو نعمت دیتے ہیں اپنی طرف سے تو کہتا ہے کہ بیشک یہ میرے علم کی وجہ سے مجھے ملا ہے بلکہ وہ تو ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تحقیق یہی بات ان سے پہلے والے بھی کہتے تھے مگر پھر انکے کام نہیں آئی جو وہ کماتے تھے۔ پس انکی برائیاں جو انہوں نے کمائی تھیں ان تک پہنچ گئیں۔ اور ان لوگوں میں بھی جنہوں نے ظلم کیا تو ان کو عنقریب ان کی برائیاں پہنچیں گی۔ اور وہ شکست دینے والے نہیں ہیں۔ اور کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جس کی چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے ۔ بیشک ان میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں۔کہہ دو اے میرے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ( فرقہ پرستی، جہالت اور حلالوں کی لعنتیں) ہے اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو ، بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دے گا ۔ بیشک وہ غفور رحیم ہے۔ اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے آگے سر تسلیم خم ہوجاؤ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے۔ اور ان اچھی باتوں کی پیروی کرو جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہیںتمہارے رب سے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو۔ پھر کوئی نفس کہے کہ ہائے افسوس جو میں نے اللہ کے پہلو میں کیا اور میں تو خسارہ والوں میں سے تھا۔ یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یا کہے کہ جب عذاب کو دیکھے کہ اگر مجھے پھر لوٹنا نصیب ہو تو پھر میں اچھوں میں سے بن جاؤں گا۔ ہاں تمہارے پاس میر ی آیات آئیں پھر تو نے ان کو جھٹلایااور تکبر کیا اور تو کافروں میں تھا۔ اور قیامت (انقلاب)کے دن آپ دیکھوگے جنہوں اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ۔ کیا جہنم متکبر وں کا ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو اللہ ان کی کامیابی کیساتھ نجات دے گااور وہ غمگیں نہیں ہوں گے۔ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل ہے۔ اس کیلئے آسمانوں و زمین کا تقلیدی نظام فطرت ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں تو وہی لوگ خسارے میں ہیں۔ کہہ دو کہ تم مجھے حکم دیتے ہو اللہ کے سوا عبادت کااے جاہلو!۔ اور تحقیق ہم نے آپ کی طرف اور جو لوگ آپ سے پہلے گزرے ہیں وحی کی ۔ اگر تم نے کسی کو شریک کیا تو تمہارا عمل برباد ہوگااور تم لوگ ضرور خسارہ پانے والوں میں ہوگے۔ بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں بن جاؤ۔ اور انہوں اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا۔اور زمین پوری میری مٹھی میں ہوگی قیامت (انقلاب ) کے دن اور آسمان اس کے عہد سے لپٹے ہوئے ہوں گے ۔اللہ پاک ہے جس کیساتھ وہ شریک بناتے ہیں اور صور پھونکا جائے گا تو کرنٹ لے گا جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے مگر جس سے اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا۔پھر وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی۔ اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور انکے درمیان فیصلہ ہوگا حق کیساتھ اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ آئیں گے تو ان کیلئے دروزے کھولے جائیں گے ۔ پھر ان کا داروغہ ان سے کہے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول تم میں سے نہیں آئے جو تم پر تمہارے رب کی کتاب کی آیات پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ڈراتے تھے۔ کہیں گے کہ کیوں نہیں لیکن عذاب کا کلمہ کافروں پر ثابت ہوچکا ہوگا۔کہاجائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤہمیشہ کیلئے اس میں رہوگے پس برا ٹھکانہ ہے متکبر لوگوں کا۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کیلئے تقویٰ اختیار کیا ہوگا تو وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ لے جائے جائیں گے اور ان کیلئے اس کے دروازے کھلیں گے اور اس کے داروغہ کہیں گے کہ تم پر سلام ہو خوش رہو اور اس میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ کیلئے۔(سورہ الزمر46سے73تک )

سورہ الزمر کی آخری آیات سے واضح ہے یہ دنیا کا انقلاب ہے اور قرآنی نظام سے دنیا میں چھوٹی قیامت برپا ہوگی۔

oوقال الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ وارثنا الارض نتبوا من الجنة حیث نشاء فنعم اجر العاملین

  oو تری الملائکة حافین من حول العرش یسبحون بحمد رنھم و قضی بینھم بالحق و قیل الحمد للہ رب العالمین

اور وہ کہیں گے کہ تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم باغ میں اپنا ٹھکانہ جیسے ہم چاہیں بنائیں۔ پس خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور آپ دیکھوگے کہ ملائکہ عرش کے گرد حلقہ بناکر اپنے رب کی تسبیح بیان کریں گے اس کی تعریف کیساتھ کہ ان کے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کیا گیا۔ اور کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پرور دگار ہے”۔(سورہ الزمرآیت74،75)

جب دنیا میں ایسی خلافت قائم ہوگی کہ جس سے آسمان اور زمین والے دونوں خوش ہوں گے تو فرشتے اعتراف کریں گے کہ ہمارا اعتراض واقعی غلط تھا۔ ممکن ہے کہ ابلیس کا وقت معلوم بھی یہی ہو اور وہ اپنی ناکامی کے بعد خود کشی بھی کرلے۔

جب اس انقلاب کا نقارہ بجے گا۔ آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو تو فرشتوں کو بھی اپنے اعتراض کی بنیاد پر تھوڑا کرنٹ لگے گا۔

ونفخ فی الصور فصعق من فی السماوات و من فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اُخرٰی فاذاھم قیام ینظرونO

اور صور پھونکا جائے گا تو کرنٹ لگے گا جو آسمان میں ہے اور جو زمین ہے مگر جس کو اللہ چاہے۔پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قیام کئے دیکھ رہے ہوں گے۔ (سورہ الزمر:آیت68)

آسمانوں میں انبیاء اور صالحین بھی ہیں اور اچھے لوگوں کی روحیں اور فرشتے بھی۔امت محمدیہ کے عام گناہگار افراد کے ہاتھوں سے اتنا بڑا انقلاب برپا ہوگا تو جاویدغامدی کے اچھے رفتگان کو بھی کرنٹ لگے گا کہ ہم قیام سے روکتے رہ گئے لیکن یہ کیا ہوگیا؟۔ قرآن ہماری زندگی کیلئے ہے قصہ پارینہ نہیں۔

آدم علیہ السلام کو اللہ نے شجرہ کے قریب جانے سے روکا مگر گئے تو عرض کیا کہ ”اے ہمارے ربّ ! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری مغفرت نہیں فرمائی اور ہم پر رحم نہیں فرمایا تو ہم ضرورظالموں میں سے ہوجائیں گے”۔

گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو کی بدترین آوازیں نکال کر کھلے عام گدھیوں کو اپنی ہوس کی تسکین کا نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ” یہ قرآن وحدیث کی متفقہ تعلیم ہے”۔

ایمان کی دولت حلالہ پر لٹائی ہوگی تو جرم کیا ہوگا؟۔

.وقل انی انا النذیر المبین , کما انزلنا علی المقتسمین , الذین جعلوا القراٰن عضین , فوربک لنسالنھم اجمعین عما کانوا یعملون

”اور کہہ دو کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔جیسا ہم نے بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو۔ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا۔ پس تیرے رب کی قسم کہ ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ جو یہ(قرآن کو بوٹی بوٹی بنانے کا)عمل کرتے تھے”۔(الحجر:89تا93)

اللہ تعالیٰ نے معروف رجوع کی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد کھلی آیات میں اجازت دی اور حلالہ کی لعنت کو اس سے زیادہ سخت طریقے سے آگے پیچھے کی آیات سے باندھ دیا جتنا شلوار، تہبند اور پتلون سے شرمگاہ کی حفاظت ممکن ہے۔ لیکن مولوی نے سب چیزوں کو سبوتاژ کرکے عورتوں کی عزتوں کو حلالہ کی لعنت سے پامال کرکے عالم اسلام کو انسانوں کی قطار سے نکال کر جانوروں سے بدتر بنادیا ہے۔

یابنی اٰدم لایفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰ تھما انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم انا جعلنا الشییاطین اولیاء للذین لا یؤمنونO

”اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیساکہ تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا ان سے انکے کپڑے اتروائے تاکہ ان دونوں کوان دونوں کی شرمگاہیں دکھا دے ۔وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے اس طرح سے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے۔بیشک ہم نے شیطان کو سرپرست بنادیا ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے ہیں”۔ (اعراف:27)

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی وضاحت فرمائی ہے۔

فان تولوا فانما علیک البلاغ المبینO……

ترجمہ :” پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو بیشک آپ پر کھلا پیغام پہنچانا ہے۔ وہ اللہ کی نعمت کو پہنچانتے ہیں پھر اس کے منکر بن جاتے ہیں اور اکثر ان میں کافر ہی ہیں۔اور اس دن ہم ہر گروہ میں سے ایک گواہ کھڑا کریںگے۔پھر انکار کرنے والوں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان کا عذر قبول کیا جائے گا ۔ اور جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ اور جب اللہ سے اشتراک کا کھاتہ کھولنے والے اپنے اشتراکی رہنماؤں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہمارا اشتراکی ٹولہ ہے جن کو تمہارے بغیر ہم پکارتے تھے۔پھر وہ اشتراکی ٹولہ ان کے قول کے جواب میں کہیں گے کہ تم سراسر جھوٹے ہو۔ اور اس دن اللہ کے سامنے سر جھکادیں گے۔ اور بھٹک جائیں گے اپنی ان افتراء بازی سے جو وہ بناتے تھے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کی راہ سے روکا تو ہم ان کا عذاب بڑھادیں گے اس عذاب پر جو وہ فساد کرتے تھے۔ اور اس دن ہم ہر گروہ میں سے ایک گواہ کو کھڑا کریں گے جو انہی میں سے ہوگا اور آپ کو ان سب پر گواہ بنادیںگے اور ہم نے نازل کی ہے آپ پر کتاب ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کیلئے ۔ بیشک اللہ حکم دیتا ہے انصاف کرنے کا ، احسان کرنے کا اور قرابتداروں کو دینے کا اور روکتا ہے فحاشی، منکر اور بغاوت سے۔ تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم سمجھو”۔ (النحل:82سے90)

روز قیامت سے پہلے دنیا میں بھی چھوٹی قیامت برپا ہوگی اور جب پاکستان سے عالمی انقلاب کا آغاز ہوگا تو ہر فرقہ میں سے ایک گواہ کھڑا ہوگا کہ دین حق کا درست پیغام ان تک پہنچ چکا تھا لیکن مجرموں نے قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن سب کے حالات بھی واضح ہوں گے اور اپنی اپنی افتراعات کو بھول جائیں گے کہ کیا کیا بکواس نکالتے تھے۔ رسول اللہۖ کی دنیا میں یہی گواہی ہوگی کہ میری امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ نماز کے ہر قاعدے میں ہم نبی اکرم ۖ کو سلام کرتے ہیںمگر قرآن سے غافل ہیں۔ قرآن اور بنی ۖ اور خلفاء راشدین نے حق کو واضح کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی مگر بعد کے لوگوں نے اپنی اپنی ڈنڈیاں مار کر قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا۔

قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے احکام بھی واضح ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی المرتضی نے بھی معاملات کو واضح کیا تھا۔ قرآن تاریخ کو بھی بیان کرتا ہے کہ امت مسلمہ کیسے خلافت راشدہ سے امارت اور بادشاہت میں بدل گئی اور کس طرح قرآن و سنت کے احکام اور اسلام کے مشن سے انحراف کیا گیا اور کس طرح لوگ قرآن کا بٹوارہ کرنے والوں کو اپنے شرکاء بناکر گمراہی کا شکار ہوگئے؟ اور کس طرح جب انقلاب آئے گا تویہ شرکا ء حضرات اپنی برأت کا اعلان کریں گے؟۔

تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے نوازشریف کو صوفی برکت علی لدھیانوی نے خوشخبری دی تھی اور نوازشریف نے ڈاکٹر طاہرالقادری گدھے کو غار حراء کے کوہ نور پر کاندھوں پر چڑھایا تھامگر نتیجہ کیا نکلا؟۔ زیرو بٹا زیرو۔ یا کچھ اورنکلا؟۔

اللہ تعالیٰ سورہ نحل میںآگے مزیدبات بڑھاتا ہے کہ

ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوةٍ انکاثًاتتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون اُمة ھی اربی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبین لکم یوم القیامة فیہ تختلفون O ………النحل 91سے109تک

ترجمہ :” اور تم اس عورت کی طرح مت بنو جس نے اپنا سوت محنت کے بعد اس کی قوت کو توڑ ڈالا۔ تم اپنے اٹھائے ہوئے حلفوں کو آپس میں مداخلت کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ ایک طبقہ دوسرے طبقے سے زیادہ طاقتور اور منافع ہتھیانے والا بن جائے۔بیشک اللہ تمہیں اس کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسلئے تاکہ جس دن قیامت برپا ہو تو تم پر واضح ہوجائے کہ کس چیز پر تمہارا اختلاف تھا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک گروہ بناتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم سے ضرور بضرور پوچھا جائے گا اس بارے میں جو تم کرتے تھے۔ اور تم عہدوپیمان کو آپس میں مداخلت کا ذریعہ مت بناؤ۔تاکہ تمہارا قدم جمنے کے بعد پھسل نہ جائے ۔اور پھر تم برائی کا مزہ چکھو جو تم نے اللہ کی راہ سے روکااور تمہارے لئے بڑا عذب ہو۔اور اللہ کے عہد کو مت بیچو تھوڑی قیمت کے بدلے ۔بیشک جو اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔ اور ہم ضرور بضرور صبر کرنے والوں کو ان کا بدلہ دیں اس سے بہتر جو وہ کرتے تھے۔ اور جو درست عمل کرے کوئی مرد ہو یا عورت۔اور ایمان والا ہو تو ہم ضرور بضرور اس کو زندگی دیں گے پاک زندگی۔ اور ان کو ضرور بضرور بدل دیں گے اس سے زیادہ جو وہ عمل کرتے تھے۔ جب آپ قرآن کو پڑھو تو پناہ مانگو شیطان مردود سے۔ بیشک ایمان والوں پر اس کا زور نہیں چلتا جو اللہ پر توکل کرتے ہیں۔بیشک ان پر اس کا زور چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں۔ اور جو اس کی بنیاد پر شریک بناتے ہیں۔ اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے ۔تو یہ کہتے ہیں کہ آپ افتراء پرداز ہو۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ کہہ دو کہ روح القدس نے اس کو نازل کیا ہے تیرے رب کی طرف سے حق کیساتھ تاکہ ثابت قدم رہیں اس کے ذریعے ایمان والے اور ہدایت کیلئے اور بشارت ہے مسلمانوں کیلئے۔اور تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بیشک وہ کہتے ہیں کہ اسکو کوئی بشر سکھاتا ہے ۔جس انسان کی طرف یہ سازش سکھانے کی نسبت کرتے ہیں وہ عجمی ہے اور یہ کھلی عربی زبان میں ہے۔ بیشک جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ان کو ہدایت نہیں دے گا اللہ اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ بیشک جھوٹی افتراء وہ کرتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ کی آیات پر اور وہی لوگ ہی جھوٹے ہیں۔ جس اللہ کیساتھ کفر کیا ایمان کے بعد مگر جس کو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا لیکن جس کا کفر پر سینہ کھل گیا تو اس پر اللہ کی طرف سے غضب ہوگا اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے ۔یہ اسلئے ہے کہ انہوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیدی اور بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ۔اور یہی لوگ غافل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہی آخرت میں خسارہ میں ہوں گے”۔

ان آیات میں تمام فرقے، حکومتی طبقات، سیاسی گروہ اور کارکن سے لیکر ایک ایک شخص اپنا آئینہ دیکھ کر خود کو سدھار سکتا ہے۔ صرف دوسرے پر تنقید کی نظر سب سے آسان کام ہے لیکن اپنے نفس کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو نبھایا اصل معاملہ ہے۔ مذہبی طبقات، سیاسی لوگ، صحافی حضرات اور معاشرے میں گھروں ، محلوں اور خطے کے اندر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اچھے اور برے کردار ادا کرنا اور اپنے آپ کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ کر اپنی اصلاح ضروری ہے۔
اللہ تعالی سورہ نحل میں مزید وضاحت فرماتا ہے:

oثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم

Oیوم تأتی کل نفسٍ تجادل عنہ نفسھا و توفیٰ کل نفسٍ ماعملت و ھم لایظلمون

ترجمہ :”پھر بے شک تیرا رب جنہوں نے ہجرت کی آزمائش میں پڑ جانے کے بعد پھر جدوجہد کی اور صبر کیا تو بیشک تیرا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ جس دن ہر شخص اپنے لئے ہی جھگڑتا ہوا آئے گااور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اللہ بیان فرماتا ہے ایک ایسی بستی کی مثال جہاں ہر طرح کا امن اور سکون تھا اور اس کی روزی ہرجگہ سے کشادگی کیساتھ آتی تھی ۔پھر اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ۔ پھر اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھادیا بسبب انکے کرتوتوں کے۔ اور انکے درمیان ان میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلادیا تو اللہ نے ان کو عذاب سے پکڑا اور وہ ظالم تھے۔ پس تم کھاؤ اپنی روزی جو اللہ نے تمہیں دی ہے حلال پاک اور اس کا شکر کرو جو اللہ نے نعمت دی ہے اگر تم اسی کی غلامی کرتے ہو۔ بیشک تم پر حرام کیا گیا ہے مردار کو اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ پس جس کو اضطراری حالت پیش آجائے تو اس کو چاہت نہ رکھنے اور حد سے نہ گزرنے پر درگزر ہے۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اور اپنی زبانوں سے جھوٹ بناکر مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ پر جھوٹ سے افتراء باندھو۔بیشک جو اللہ پر جھوٹ کا افتراء کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے تھوڑ ا فائدہ اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے اور یہود پر ہم نے حرام کیا جو ہم پہلے آپ کو قصہ سناچکے ۔اور ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا مگر انہوں نے خود پر خود ہی ظلم کیا ۔ پھر بیشک جو لوگ بھی عمل کرتے ہیں جہالت سے برائی کا اور پھر توبہ کرتے ہیں اسکے بعد اور اصلاح کرتے ہیں تو اس کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ابراہیم پوری امت تھا اللہ کیلئے خالص فرمان بردار۔ اور مشرکوں میں سے نہ تھا۔اسکی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ ہم نے اس کو منتخب کیا اور ہدایت دی اس کو سیدھے راستے کی طرف۔ اور ہم نے دنیا میں بھی اس کو اچھائی دی اور وہ آخرت میں بھی صالحین سے ہوگا۔ پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی تمام راہوں سے ہٹنے والے ابراہیم کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ بیشک ہم نے ہفتے کا دن ان لوگوں پر مقرر کیا تھا جو اس میں اختلاف کرتے تھے اور بیشک تمہارا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ دعوت دو اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھے مواعظ کیساتھ اور ان سے اچھے انداز میں لڑو ۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا بدلہ لو جتنی انہوں نے تکلیف پہنچائی ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کیلئے زیادہ بہتر ہے۔ اور صبر کرو اور تمہارا صبر بھی نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق سے ۔اور ان پر غم نہیں کھانا اور خود کو تنگی میں مٹ ڈالو جو وہ سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ ان لوگوں کیساتھ ہے جو پرہیزگار ہیںاور لوگ ہی نیکی کرتے ہیں”۔(النحل110سے آخرتک)

یہاں14واں پارہ ختم ہوتا ہے۔ قرآن ہمارے لئے بڑا آئینہ ہے جس میں اپنی دل ودماغ اور آس پا س کے ماحول سے پوری دنیا کا ماحول اس کے سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔

اللہ نے سورہ الحجر میں فرمایا:
” الرٰ یہ کتاب کی آیات ہیں اور واضح قرآن کی۔ کبھی کافر چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ انہیں چھوڑ دو ۔کھائیں اور فائدہ اٹھالیںاور انہیں امید غفلت میں رکھے پس عنقریب وہ جان لیں گے ۔ اور ہم نے کسی گاؤں کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کیلئے ایک مقررہ وقت تھا۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ وہ پیچھے رہے ہیں۔اور انہوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن کا نزول ہوا ہے بیشک آپ تو مجنون ہیں۔ اگر آپ سچوں میں سے ہیں تو ملائکہ کو ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے۔ ہم فرشتے نہیں بھیجتے لیکن حق کیساتھ اور پھر وہ دیکھتے نہیں رہ جائیں گے۔ بیشک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ہم نے آپ سے پہلے بہت شیعہ (گروہوں) میں رسول بھیجے اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس طرح ہم مذاق مجرموں کے دلوں میں پیوست کردیتے ہیں۔ نہیں اس پر ایمان لائیں گے اور پہلوں سے یہی سنت چلی آئی ہے۔ اور اگر ہم ان پر آسمان سے دروازہ کھول دیں پھر وہ اس میں چڑھ بھی جائیں تو یہ ضرور کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کی گئی ہے اور ہم وہ قوم ہیں جن پر جادو ہوچکا ہے۔ (سورہ حجر:1سے16تک)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورہ طارق میں فرمایا ہے کہ

والسماء والطارق , و ما ادراک ما الطارق , النجم الثاقب

” اور آسمان کی قسم اور دستک دینے والے کی اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ دستک دینے والا کیا ہے؟۔ وہ سوراخ کرنے والا ستارہ ہے۔ ایسی کوئی جان نہیں جس پر محافظ نہ ہو۔ پس انسان دیکھے کہ کس چیز سے اس کو پیدا کیاہے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔اور وہ اسکے لوٹانے پر قادر ہے۔ جس دن بھید ظاہر کئے جائیں گے۔ پس اس کیلئے کوئی قوت اور مدد گار نہیں ہوگا۔ اور لوٹانے والے آسمان کی قسم اور تصادم سے دوچار ہونے والی زمین کی قسم ، بیشک یہ قول فیصل ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔ بیشک وہ اپنی تدبیریں کررہے ہیں اور میں اپنی تدبیر کررہاہوں ۔ پس کافروں کو تھوڑی اور مہلت دیدو”۔

ایسے اہل بیت کا ذکر ہے جو حق کی ضربیں لگائے گااور حق کی ضرب سے اللہ نے باطل کا دماغ نکالنے کو واضح فرمایاہے۔

سائنس میں ستارے کی دق دق کی آواز ہے۔ عربی میں طارق : دستک دینے والا ۔ صحابہ واہل بیت ہدایت کے نجوم ۔

والنجم و الشجر یسجدان (سورہ رحمن )

بیل و درخت۔ امام مہدی بیل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام درخت؟۔

اللہ نے فرمایا:” اے اہل کتاب غلو مت کرو اپنے دین میں اور اللہ پر مت بولو مگر حق۔بیشک مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کا رسول ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے روح ہے۔پس اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اورنہ کہو تین۔ بس کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ وہ پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو،اس کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ کی وکالت کافی ہے”۔( النسائ171)

اللہ نے فرمایا:

وعلاماتٍ وبالنجم ھم یھتدونO ……

”اور علامات ہیںاور ستارے سے وہ ہدایت پائیں گے۔ کیا جو پیدا کرتا ہے اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شمار نہیں کرسکتے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا رحم والا ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم اعلانیہ کرتے ہو۔ اور جو لوگ اللہ کے علاوہ کو پکارتے ہیں تو وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ تو مردہ ہیں زندہ بھی نہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب ان کو اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ پس جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے تو ان کے دل برے ہیں اور وہ بڑائی چاہتے ہیں۔ کوئی شک نہیں ہے کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو اعلانیہ کرتے ہیں بیشک وہ بڑائی چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جب ان سے کیا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو کہتے ہیں کہ پہلوںکے قصے ہیں ۔تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ کو پورا اٹھائیں۔ اور ان لوگوں کے بھی بوجھ اٹھائیں جن کو بغیر علم کے گمراہ کیا ہوا تھا۔ خبردار ! بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھاتے ہیں۔ بیشک ان سے پہلے بھی لوگوں نے مکر کیا تھا پھر اللہ نے ان کی عمارتوں کو بنیادوں سے ڈھادیا پس ان کے اوپر سے چھت گرپڑی اور ان کو ایسا عذاب دیا کہ وہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر قیامت کے دن ان کو ذلیل کرے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے شرکاء جن میں تم پھٹتے چلے گئے۔ اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ آج کے دن رسوائی ہے اور کافروں پر بہت برا ہے”۔ (سورہ النحل:16تا27)

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی سورہ بقرہ کی آیت230کے بعد کی دو آیات اور پہلے کی دو آیات دیکھ لیں تو دل وماغ کھلے گا اور ایک ایک آیت میں زبردست ہدایت ہے بشرط یہ کہ اس پر اپنا دماغ نہ تھوپا جائے۔ آیت230البقرہ میں عورت کیلئے آزادی کا پروانہ جاری کیا گیا ہے اور اگر ایک طلاق کے بعد اور وہ بھی مذاق میں ہو لیکن عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو بھی شوہر کیلئے رجوع کرنا حرام ہے۔ صحابہ کرام کی زبان میں قرآن نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے درست مفہوم کو کسی بھی زبان میں لوگوں کو سمجھاجایا جائے تو ان پڑھ لوگ بھی قرآن کی وضاحتوں سے گمراہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ چوتھے صفحہ پر تفصیل سے دیکھ لیں۔

سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

الرٰ کتاب احکمت اٰیاتہ ثم فصلت من لدن حکیمٍ خبیرٍO

” الر ۔ یہ کتاب ہے جس کی آیات کو فیصلہ کن بنایا گیا ہے پھر ان کی تفصیلات حکمت رکھنے والے خبر رکھنے والے کی طرف سے جدا جدا کرکے تفصیل سے واضح کی گئی ہیں”۔ (سورہ ہود آیت:1)

اللہ تعالیٰ سورہ ہود میں آگے فرماتا ہے ۔

” جو کوئی دنیا کی زندگی چاہتا ہے اور اس کی خوبصورتی تو ہم ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دنیا میں دیتے ہیں۔اور ان کا دنیا میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں کچھ نہیں ہے مگر آگ۔اور برپا ہوگیا جو انہوں نے اس میں بنایا تھا اور باطل ہے وہ جو عمل کرتے تھے۔ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو اور اس کو پڑھتا ہو اس کی طرف سے گواہ بن کر۔ اور اس سے پہلے ہو کتاب موسیٰ کی امام اور رحمت۔ اور وہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ اور جو انکار کرے فرقوں میں سے تو آگ ہے اس کا ٹھکانہ۔ پس آپ اس سے شک میں نہ پڑیں بیشک یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے۔لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ اور کون ہے اس زیادہ ظالم جو اللہ پرجھوٹ کی افتراء باندھتا ہے۔یہی لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے۔ اور شواہد بول اٹھیں گے کہ یہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ خبردارلعنت ہو ظالموں پر۔ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور ٹیڑھا پن تلاش کرتے تھے۔ اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ یہ لوگ زمین میں کسی کو شکست دینے والے نہیں ہیںاور ان کیلئے اللہ کے بغیر کوئی سرپرست نہیں ہے۔ ان کیلئے دگنا کیا جائے گا عذاب کو اور وہ سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ دیکھتے تھے یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے خود اپنی جانوں کو خسارہ میں ڈال دیااور ان سے گم ہوا جو وہ افتراء کرتے تھے۔ بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں۔ بیشک جوایمان اور درست عمل والے ہیں اور وہ اپنے رب کی طرف جھکنے والے ہیں وہی جنت والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں فریقوں کی مثال جیسا ایک اندھا بہرہ اوردوسرا بینا اور سننے والا ہے ۔کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ کیا تم پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے ”۔ (سورہ ہود15سے24)

آیت228البقرہ میں عدت کے اندر صلح واصلاح اور کی شرط پر رجوع کی اجازت کو کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔ اگر عورت راضی نہیں تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے کوئی فتویٰ نہیں دیا تھا بلکہ جب عورت راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ کیا تھا اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر یہی فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے حق بیان کیا تھا مگر اس کی تشریح کو سمجھا نہیں گیا یا حلالہ کی لعنت میں مبتلاء لوگوں نے نظر انداز کردیا ہے۔ اسلام کو اجنیت سے نکالنے کیلئے پاکستان سے زیادہ بہتر کردار ادا ہوسکتا ہے جو اسلام کے نام پر بن گیا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نقش قدم پر چلیں نہ کے انکے شاگردوں کے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر1

الرٰکتاب احکمت آیاتہ

کتاب جس کی آیات کو فیصلہ کن استحکام دیاپھر

ثم فصلت من لدن حکیمٍٍ خبیرٍ

انکی تفصیل ہے حکیم خبیر کی طرف سے

عورت کو اذیت سے تحفظ دینے کا قرآن میں نصاب: جو یہود کی پیروی میں مذہبی طبقات نے سبوتاژ کردیا

البقرہ:222،223(عورت کی اذیت سے توبہ)
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن……

ترجمہ:” اور آپ سے حیض کا پوچھتے ہیں کہہ دو کہ وہ اذیت ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہواور ان سے مقاربت نہ کرو یہاں کہ وہ پاک ہوں پھر جب وہ پاک ہوں تو انکے پاس آؤ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکبازوںکو پسند کرتا ہے”۔

Oنساء کم حرث لکم…تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں…

یہ طلاق کے مسائل کا رکوع ہے۔ نکتہ آغاز عورت کو اذیت سے نجات اوراذیت سے توبہ ہے۔اذی کا معنی عربی لغت میں گند نہیں مگرغلط ترجمہ کیا گیا۔حرث کا معنی اثاثہ بھی ہے۔ کھیتی سے زیادہ حقوق تو جانور کے ہیں اور بحث ہے کہ عورت کی پچھاڑی میں جماع جائز یا حرام ہے اور اذیت بھلادی۔ ایرانی نژاد امریکی خاتوں نے پچھاڑی میں جماع کی وجہ سے حق مہر سے زیادہ رقم دیکر خلع لینے کاقصہ لکھ دیا۔

البقرہ:224،225(صلح میں رکاوٹ کا خاتمہ)
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس…

” اور اللہ کو نہ بناؤ اپنے یمین کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو اور تقویٰ کرو اور لوگوں میںصلح کراؤ…”۔

لا یؤاخکم بالغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم…O

اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے لغو یمینوں سے مگر وہ پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔

یہ آیات طلاق کا مقدمہ ہیں ۔یہ واضح ہے کہ اللہ صلح میں رکاوٹ نہیں۔ یہود نے طلاق رجعی، بتہ مغلظ، بائن، صریح اور کنایہ کی بہت اقسام گھڑیں اور ان پر اختلافات بنائے۔ یہ واضح کیا کہ لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے یہ البقرہ228میں بھی واضح ہے۔ ابلیس دو باتوں پر سب سے زیادہ خوش ہوتاہے ایک میاں بیوی کی طلاق اور دوسرے علم سے دوری پر۔ طلاق سے فحاشی اور علم سے دوری پر گمراہی پھیلتی ہے۔ اللہ نے ان آیات میں شیطان کے منہ پر بڑا طمانچہ مارا ہے۔

البقرہ:226،227(ناراضگی کی عدت4مہینے)

o للذین یؤلون من نسائہم تربص اربعة اشھرٍ فان فآء وا فان اللہ غفور رحیم

Oو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم

” اپنی عورتوں سے ناراض لوگوں کیلئے4ماہ ہیں اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا توبیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

شوہر ناراض ہو تو عدت4ماہ ہے۔ اگر طلاق کا عز م تھا تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر اللہ کی پکڑ ہے۔ اظہارطلاق پر عدت3ماہ ہے ۔ایک ماہ اضافی عدت دل کا گناہ ہے۔ نبی ۖ ازواج سے ناراض ہوئے۔ ایک ماہ بعد رجوع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ ازواج کو علیحدگی کا اختیار دو۔ وہ راضی تو رجوع ہوگا۔ قرآنی آیات واضح ہیں اور سنت ان کا عملی نمونہ ہے۔ طلاق بیوی سے علیحدگی کو بھی کہتے ہیں اور یمین کا بھی علیحدگی وطلاق پر اطلاق ہوتاہے۔عدت عورت کی اذیت کو ختم کرنے کیلئے رکھی گئی ہے۔ اللہ نے عورت کی اذیت کا خاتمہ کیا۔ فقہاء نے عورت کی اذیت کو نظر انداز کیا تو تفسیر غلط کردی ہے۔

البقرہ:228کافیصلہ کن حکم:(عدت میں شوہر صلح کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار)

والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئ…
وبولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف…

ترجمہ:” اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو 3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں رکھا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیںاور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(البقرہ:آیت:228)

اگر24گھنٹے میںصلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت ہوتی تو کتنے مسائل حل ہوتے؟۔جبکہ پوری عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کا شوہر زیادہ حقدار ہے۔

البقرہ:229(1:معروف کی شرط پر رجوع ،2:طے ہوکہ عورت رجوع نہیں چاہتی )

الطلاق مرتٰن…
خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا

ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان سے لو جو کچھ تم نے انکو دیا اس میں سے کوئی بھی چیز۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور جو تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف اس چیز کو فدیہ کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

رجوع معروف یعنی صلح کی شرط پر یا تیسری طلاق پھر اجتماعی فیصلہ کہ عورت فدیہ دے۔ یہ حلالہ سے بچنے کیلئے کتنی زبردست حدود کی پیش بندی ہے؟۔
ــــــــــ

228گزشتہ6آیات سے پیوستہ اور

222میںحیض و طہر کا ذکر ہے اورعورت کی عدت کے3ادوار کا تعلق انتظار سے ہے اور انتظار طہر میں ہوتا ہے نہ کہ حیض میں۔
223عورتیں اثاثہ ہیں ایک دوسرے پر برابر کے حقوق ہیں۔ مردوں کا عورت پر ایک درجہ ہے ظاہر ہے عورت کو حیض آتا ہے۔
224اللہ کی طرف سے طلاق کے بعد صلح پر کوئی پابندی نہیں۔ عورت صلح پر راضی ہو تو عدت میں شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار۔
225اللہ الفاظ پر نہیں پکڑتا۔طلاق مغلظ، رجعی اور بائن کے جاہل یہودیانہ تصور کا مکمل خاتمہ مگر عدت بڑھانا دل کا گناہ ہے۔
226ایلاء کی عدت4ماہ اور طلاق کے اظہار کی3ماہ ہے۔
227اگر ناراضگی میں نیت طلاق کی تھی تو ایک ماہ کی عدت پر خدا کی پکڑ ہوگی۔ یمین اور ایلاء طلاق کے معنی میں یہاں ہیں۔

بعد کی4آیات:10تلک عشرة کاملہ

تذکیر:آیت228البقرہ میںہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر عورت کا شوہررجوع کا زیادہ حقدار ہے ۔یہ ٹھوس اٹل قانون ہے:
229میں معطل نہیں بلکہ مزید واضح ہے۔حمل نہیں عدت کے3ادوار میں2مرتبہ طلاق کے بعد آخری میں بھی معروف کی شرط پر رجوع کیا تو ٹھیک اور تیسری طلاق دی تو پھر مزیدتفصیل ہے اور فدیہ کی حدتک پہنچنے سے معلوم ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی توپھر
230کی طلاق کے بعد حلال نہیں تاکہ آزادانہ نکاح میں پہلا شوہر عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
231 معروف رجوع تکمیل عدت پر جائز مگر ضررکیلئے نہیں۔
232میاں بیوی آپس میں راضی ہوتو مدتیںگزریںمگر رکاوٹ بننا جائز نہیں، اسی میں معاشرے کازیادہ تزکیہ اورطہارت ہے۔
ــــــــــ

البقرہ:230(طے ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی)

فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجًا غیرہ…

”پھر اگر اسے طلاق دی تو اس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے…”۔

عدی نے قرآن میں تیسری طلاق کا پوچھا۔نبی ۖ نے فرمایا: تسریح باحسان بقرہ229تیسری ہے۔ (شرح بخاری :مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی )۔نبی ۖ نے ابن عمر کے واقعہ میں غضبناک ہوکر فرمایا کہ3طلاق عدت کے3ادوار میں ہیں۔ کتاب التفسیر سورہ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت (صحیح بخاری) لیکن

من اجاز الطلاق الثلاث کے عنوان سے بخاری نے الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان اور حلالہ کیلئے غلط روایت نقل کرکے قرآن و حدیث اور عزتوں کو نقصان پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔

البقرہ:230طلاقِ حلالہ کا تعلق آیت229کے فدیہ سے ہے ۔( نور الانوار : ملاجیون) عبداللہ ابن عباس نے یہی فرمایا(زادالمعاد: ابن قیم)۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کرنا معنوی تحریف ہے۔ اعتراف علامہ انورشاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں کیا ہے مگر بے شرم بے غیرت باز نہیں آتے۔

البقرہ:231(اگرعورت رجوع پر راضی ہوتوپھر)

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نسفہ ولا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و اما انزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیم

”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو۔ جو ایسا کرے گا تو اس نے خود پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔ اور اس نعمت (بیوی)کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے تم پر کتاب میںسے(رجوع کی آیات) نازل کی ہیں اور حکمت کو جس کے ذریعے اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے”۔

اللہ کو پتہ تھا کہ فقہاء مسئلہ نکالیںگے کہ اگر آدھے سے زیادہ بچہ نکل گیا تو رجوع نہیں ہوسکتا اسلئے عدت کی تکمیل کے باوجوداللہ نے رجوع کو واضح کیا۔ اور عورت راضی ہو توبھی شوہر کو اسلئے رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو اذیت دے یہ بھی واضح کردیا۔

البقرہ:232(اگر عورت رجوع پر راضی ہو توپھر)

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازاجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر واللہ یعلم وانتم لا تعلمون

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاندوں سے نکاح سے مت روکو جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں ۔یہ نصیحت تم لوگوں میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔

2 رکوع کے بعد تیسرے رکوع کی یہ آیت فیصلہ کن خلاصہ ہے۔ سورہ طلاق میں یہی ہے۔ ابوداؤد کی روایت میں حضرت رکانہ کے والدین کی تین طلاق اور عدت کے بعد سورہ الطلاق کے مطابق رسول ۖ کی طرف سے رجوع کی وضاحت بہت بڑا انقلاب تھا لیکن حکمران طبقہ کو بخاری کی غلطی سوٹ کرتی تھی مگر درست حدیث بالکل نہیں۔یاد رہے کہ البقرہ228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا اورپھر عدت کے بعد رجوع کا جواز دیا اسلئے یہ کوئی تضاد نہیں ہے۔
ــــــــــ

مسئلہ طلاق پر تاریخی دستاویز

محمود بن لبید (متوفی97ھ) نے کہا کہ کسی نے خبردی کہ فلاں نے بیوی کو3طلاق دی تو نبیۖ نے غضبناک ہوکر فرمایا: تمہارے درمیان میں ہوں، تم اللہ کی کتاب سے کھیلتے ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ ( نسائی)

طلاق عبداللہ بن عمر نے دی ، قتل کی پیشکش حضرت عمر نے کی لیکن شخصیات کے نام حدیث میں کیوں چھپائے گئے؟۔

حضرت عائشہ58ھ میںشعرکہتیں کہ لبید41ھ نے اپنے دور کی شکایت کی کہ اگر ہمارا دور دیکھتے تو کیا کہتے؟۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدنے ہر راوی کی یہ شکایت لکھتے ہوئے آخر میں لکھا:”اللہ سب پر رحم فرمائے اگر وہ ہمارا دور دیکھتے تو کیا کہتے؟”۔ (عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں)

مولانا فضل الرحمن بینک کی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل کہتا تھا ۔بینک کو اسلامی کہنے کیخلاف متفقہ فتویٰ تھا۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے عصر حاضر پرجن احادیث کو منطبق کیا مفتی تقی عثمانی نے”تقلید کی شرعی حیثیت میں” ائمہ مجتہدین کے بعد بخاری و مسلم کے دور پر فٹ کیا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی کو انسان اور مولانا احمد علی لاہوری نے خود کوہرن کی شکل میں نظر آنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ورنہ تو کتے، بندر، گدھے اور خنزر کی شکل والے بھی دیکھے گئے”۔

ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت فقلنا لھم کونو قردةًخاسئینO

اور تحقیق تمہیں وہ لوگ بھی معلوم ہیں جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تھی اور پھر ہم نے ان سے کہا تھا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ”۔(البقرہ65)

ہفتہ کو مچھلی کا ممنوعہ شکار اور اضافی سود کیساتھ بینک کو اسلامی قرار دینے میں فرق ؟۔ مفتی محمد شفیع دیوبندی ،مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی اور اسکے بیٹے

وقالت الیھود و النصاریٰ نخن ابناء اللہ واحباوہ تک پہنچ گئے؟۔

معاوضہ لیکر بینک کا نکاح اور حرام کو حلال کرنے کی فیکٹری لگادی۔ سب کہو سبحان اللہ!

گورنر دمشق ضحاک نے کہا کہ حج و عمرے کا ایک احرام والا جاہل ہے۔ سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ یہ نہ کہو ، نبیۖ کو میں نے پہنتے دیکھا۔ سعد بن ابی وقاص عزلت نشینی میں55ھ کو وفات پاگئے ۔ عمران بن حصین کہتے کہ قرآن میں اللہ نے حکم نازل کیا اور اکٹھا احرام نبیۖ کو باندھتے دیکھا، نہ آیت منسوخ ہوئی اور نہ نبیۖ نے روکا۔ جس نے منع کیا، رائے سے منع کیا اور پہلے فرشتے گلیوں میں ہم سے مصافحہ کرتے اور میری زندگی میں مجھ سے روایت نہیں کرنا۔ (صحیح مسلم)52ھ کو بصرہ میں فوت ہو گئے۔ حضرت عثمان نے پابندی لگائی تو حضرت علینے اعلانیہ دونوںاحرام باندھے۔ (بخاری)

اس دور میں پرنٹ اور سوشل میڈیا بھی نہیں تھا اور مواصلاتی نظام بھی نہیں تھا۔ بصرہ، کوفہ اور مدینہ کی مسافت عیاں ہے۔

حضرت عمر و عثمان دور میں فتوحات ہوئیں تو نئے مسلمانوں کو مسائل سکھانا ضروری تھا۔قاضی شریح جیسے پڑھے لکھے مبلغ، قاضی ، فقیہ ،تاریخ دان اور سیرت نگار بن گئے۔ یہود ی عبداللہ بن سبا کی طرح کئی افراد نے بھیس بدل کر اپنا کام دکھادیا۔

مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹے3طلاق سے رجوع کو اہل بیت کی حضرت عمر سے دشمنی قرار دیتے تھے۔ ابوہریرہ وفات59ھ نے کہا کہ اگر کچھ احادیث کو بتایا تویہ گلہ کاٹ دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری) عمر بن عبدالعزیز نے99ھ سے101ھ تک ممنوعہ احادیث کی آزادی دی۔ پہلے انتہائی خطرناک حالات تھے۔ان کو زہر سے شہید کیاتو یزید ثانی اور ہشام بن عبدالملک نے پھر پرانی بدترین روش کو بحال کردیا۔

حضرت علی کے شاگرد حسن بصریپیدائش21ھ مدینہ اور وفات110ھ جبکہ68ھ میںا بن عباس ،74ھ میںا بن عمر کاانتقال ہوا۔ کتنے صحابہ سے ملاقات رہی؟۔ انس بن مالک نے93ھ بصرہ میں وفات پائی۔ حسن بصری نے کہا کہ ا بن عمر نے3طلاق دی۔ یہ حدیث بنی امیہ کا اقتدار غرق کردیتی اسلئے کہ انکے پاس اہل بیت کے خلاف یہی ہتھیار تھا جو جاہلوں کو بدظن، مذہبی طبقے کو حلالہ کی لعنت سے خوش اور قرآن وسنت کی افادیت کو ختم کرتا اور حلالہ کی لعنت سے عوام کوبے غیرت بناتا۔

جبری کلمہ کفر معاف ہے اگر ایمان پر دل مطمئن ہو۔ حسن بصری پر دباؤ پڑا ؟تو کہاکہ ”مجھے20سال پہلے ایک شخص نے کہا تھا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر کوئی دوسرا شخص20سالوں تک نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص ملا جس نے کہا کہ عبداللہ نے ایک طلاق دی تھی ۔ (صحیح مسلم)پھر نہلے پہ دہلا کرتے ہوئے کہا کہ ”حرام کے لفظ سے جو نیت کی جائے۔ بعض علماء نے اجتہاد کیا ہے کہ اگر کوئی بیوی سے حرام کہے تو یہ تیسری طلاق ہے اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے ازالہ ہوبلکہ اس کیلئے حلالہ کرنا پڑے گا”۔ (صحیح بخاری)مقابلے پر بخاری نے عبداللہ بن عباس کے قول کو بھی نقل کیا کہ” حرام کے لفظ سے طلاق ، حلف اور کچھ نہیں اور نہ ہی اس کا کفارہ ہے”۔

قرآن کی سورہ تحریم سے امت کی نظریں پھر گئیں اوراقوال وروایات اور سچی جھوٹی احادیث بڑوں کے زیر بحث آگئیں۔

فقیہ کوفہ سعید بن جبیرنے کہا: ”قرآن میں حلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح کا حکم ہے ” تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں شہید کیا۔ فقیہ مدینہ سعید بن مسیب وفات94ھ نے کہا کہ چوتھی بیوی کی عدتِ طلاق میں نکاح جائز نہیں تو بدترین تشدد کردیا۔

امام ابوحنیفہ80ھ ،سفیان ثوری80، امام مالک93ھ کو پیدا ہوئے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا:”صحیح حدیث میرا مذہب ہے ۔البقرہ230میں طلاق وحلالہ آیت229میں فدیہ سے ہے، عدت میں نکاح باقی اور محمود بن لبید کی حدیث صحیح ہے۔ رجوع کی گنجائش، عورت راضی نہ ہو تو طلاق ہے ۔ عمر، علی ،ا بن عباس سے یہی ثابت تھا۔ابن عباس اور انکے شاگردوں میں تضاد نہیں تھا۔ عورت راضی ہو تورجوع اور راضی نہ ہوتوپھر حرام قرار دیتے۔ سفیان ثوریپر تشدد نہیں ہوا۔غلط تفسیر، اقوال اور ابوحنیفہ کی مخالفت مشغلہ۔150ھ امام ابوحنیفہ زہر سے شہید اور امام شافعی پیدا ہوئے۔ حسن شیبانی ابوحنیفہ کے شاگرد اور شافعی کے استاذ تھے۔ احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے۔ ابن ابی شیبہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد عبداللہ بن مبارک کے شاگرد تھے۔ابن ابی شیبہ نے ابوحنیفہ کیخلاف125احادیث کودرج کیا ۔بخاری، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی ، ابن ماجہ ابن ابی شیبہ اور احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ امام مالک پر تشدد ہواتھا ۔ ذو معنی موطا امام سے حکمرانوں کو خوش کیا۔ایک معنی پیروی اور دوسرا کچلنا اور وطی ہے۔ہشام نے مالکی فقہ کانفاذ چاہا لیکن امام مالک نے انکار کیا۔ امام ابوحنیفہ بنوامیہ کے آخر میں مکہ مکرمہ کے اندر گوشہ نشین ہوگئے۔133ھ میں بنوعباس نے بنوامیہ کا تختہ اُلٹ دیا۔حکمرانوں کی خوشنودی کیلئے غلط احادیث وفقہی مسائل گھڑے گئے۔ دنیا ایبسٹین جزیرہ سے نہیں اسلام سے خوف زدہ ہے۔حسن بصری نے نابالغ بچیوں سے نکاح کو جائز قرار دیا۔ امام اوزاعی نے نکاح سے پہلے شرمگاہ کے سوا عورت کا پورا جسم دیکھنا جائز قرار دیا ۔علامہ ابن حزم نے300سال بعد قرطبہ میں اسکے نقش پر عورت کی شرمگاہ تک کو بھی دیکھنا جائز قرار دیا۔ (کشف الباری شرح بخاری : مولانا سلیم اللہ خان)

ہشام بن عروہ حضرت عائشہ کے بعد پیداہوا۔ بنوعباس کا فیض حاصل کرنے عراق پہنچا تواپنا اعتمادکھودیا ۔اماں عائشہ کا6سال میں نکاح اور9سال میں دخول کی روایت140ھ کے بعد گھڑی۔ قاضی ابویوسف نے خلیفہ سے رقم لیکر والد کی لونڈی جائز کرنے کا حیلہ تراشا۔ امام ابوحنیفہ نے من گھڑت احادیث کی مخالفت کی ورنہ آج احادیث صحیحہ اور قرآن میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا۔ ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: ”ابوحنیفہ17احادیث مانتے تھے”۔ عباسی خلفاء معتزلہ تھے ۔ دھوکہ دہی سے مالکی مسلک اور من گھڑت فقہ سے اقتدار کو ایبسٹین کا جزیرہ بنا دیا تھا۔حیلہ سازوں کی سرپرستی تھی مگر امام ابوحنیفہ اپنی اصل شکل میں قابل قبول نہیں تھے۔ مامون نے امام رضا کو داماد اور جانشین زبردستی بنایا اور ایک ہی مزارمیں ہیں۔مامون کے بعد المعتصم عباسی خلیفہ نے امام احمد بن حنبل پر بہت تشدد کیا۔پھر الواثق نے امام احمد بن حنبل پر کڑی نظررکھی۔ پھر متوکل عباسی نے معتزلہ کا خاتمہ کرکے اہل سنت کی ترویج کی اور امام شافعی کا مسلک سرکاری طور پر رائج کردیا تھا۔ بخاری نے عبداللہ بن عمر کاواقعہ اپنی مختلف کتب میں لکھنے کے باوجود من اجازالطلاق الثلاث باب میں جس دجل سے کام لیا تو انتہائی غلط کیا ہے۔ بگڑے ہوئے حنفی مسلک کے لوگوں نے سارے بخاری میں صرف حلالہ کی شہوت کیلئے اسی باب کو قبول کیا جو حنفی کے معیار سے میل نہیں کھاتا ہے مگر گل چھرے اڑانے اور اللے تللے میں زین للناس حب الشہوات من النساء کا مظہر ہے۔

یوم یرون الملائکة لا بشرٰی یومئذٍ للمجرمین و یقولون حجرًا محجورًاO

جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے ، اس دن مجرموں کیلئے خوشخبری نہ ہوگی اور کہیں گے کہ ہماری عقل پر پردہ تھا۔

وقدمنا الی ما عملوا من عملٍ فجعلناہ ھبائً منثورًاO

اور ہم ٹھوکر ماریں گے جو عمل انہوں کیا اس کو اڑتی ہوئی دھول بنادینگے۔

اصحاب الجنة یومئذٍ خیرمستقرًا واحسن مقیلًاO

جنت والے اس دن اچھے ٹھکانہ میں اور اچھے مقالے پیش کرینگے۔

و یوم تشقق السماء بالغمام و نزل الملائکة تنزیلًاO

اور اس دن آسمان بادل سے پھٹے گااور ملائکہ اترینگے۔

الملک یوم ن الحق للرحمن و کان یومًا علی الکافرین عسیرًاO

اس دن ملک حق کیلئے رحمن کا ہوگا اور وہ دن کافروں پر بڑا مشکل ہوگا۔

ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یا لیتنی اتخذت مع الرسول سبیلًاO

اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا کہے گا کہ اے کاش ! میں رسول کیساتھ راستہ پکڑتا۔

یا ویلتٰی لیتنی لم اتخذ فلانًا خلیلًاO

ہائے میری شامت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

لقد اضلنی عن الذکر بعد اذجاء نی وکان الشیطان للانسان خذولًاO

بیشک اس نے مجھے قرآن سے گمراہ کیا اسکے میرے پاس آنے کے بعد بیشک شیطان انسان کو رسوا کرتا ہے۔

وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجورًاO

اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

وکذلک جعلنا لکل نبیٍ عدوًا من المجرمین وکفٰی بربک ھادیًا و نصیرًاO

اور ہم نے اسی طرح ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے دشمن بنائے اور تیرارب ہدایت اور مدد کیلئے کافی ہے۔

وقال الذین کفروا لو لا نزل علیہ القرآن جملةً واحدةًو کذلک لنثبت بہ فوادک و رتلناہ ترتیلًاO

اور یہ آپ کے پاس مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق لائیں اور بہترین تفسیر ۔

الذین یحشرون علی وجوھھم الی جہنم اولئک شر مکانًا و اضل سبیلًاO

جن لوگوںکو منہ کے بل جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا یہی لوگ برے درجے اور سب سے زیادہ گمراہ ہیں۔

ولقد اٰتینا موسی الکتاب و جعلنامعہ اخاہ ہارون وزیرًاO

اورہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسکے ساتھ اسکا بھائی ہارون وزیر بنادیا۔

فقلنا اذھبا الی القوم الذین کذبوا باٰیاتنا فدمرنا ھم تدمیرًاO

پس ہم نے ان سے کہا کہ جاؤ اس قوم کی طرف جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔پھرہم نے ان کو پٹخ کر تباہ کردیا۔

وقوم نوحٍ لما کذبوا الرسل اغرقنا ھم و جعلناھم للناس اٰیةًو اعتدنا للظالمین عذابًا الیمًاO

اورنوح کی قوم کو بھی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایاتو ہم نے انہیں غرق کردیااور ہم نے انہیں لوگوں کیلئے ایک نشانی بنادیا۔اور ہم تیار کررکھا ہے ظالموں کیلئے دردناک عذاب ۔

و عادًا و ثمود واصحاب الرس وقرونًا بین ذٰلک کثیرًاO

اورعاد اور کنویں والے ثمود اوردرمیان میں بہت ساری قومیں۔(سورة الفرقان:22تا33)
یہودنے کہا کہ قرآن اکٹھا نازل ہوتا۔تاکہ آیت کو آگے پیچھے سے کاٹ کر

الذین جعلوا القراٰن عضیں

قرآن کو بوٹی بوٹی کردیں اور حلالہ کی لذت، بے غیرتی اور شیطان کے کامیاب ترین ہتھکنڈے کو ہم پھر سے زندہ کردیں گے۔

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنیٰ القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیاتہ واللہ علیم حکیمO

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنا القا کیا۔ پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ( سورہ الحج آیت52)

عبداللہ بن عمرنے بیوی کو3 طلاق دی جو چیخی دھاڑی اور رجوع چاہتی تھی۔ حضرت عمر نے خبردی تو نبیۖ غضبناک ہوئے ۔قرآن کے مطابق عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا طریقہ سمجھایالیکن عبداللہ کے دماغ میںشیطان نے یہ بڑا القا کردیاتھا کہ ” اگر میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری بار بھی طلاق دیتا تونبیۖ رجوع کا حکم نہیں دیتے۔(بخاری) جب حضرت عمر کے دور میں ایک عورت کو تین طلاق دی گئی تو عورت رجوع پر راضی نہیں تھی اسلئے حضرت عمر نے عورت کے حق میں فیصلہ کیا۔ حضرت علی نے حرام کے لفظ پر یہی فیصلہ کیا تھا لیکن ابن عمر کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ دو طلاق رجعی ہے۔ حضرت عمر نے اسلئے اپنے بعد ان کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیا اور عبداللہ بن سبا وغیرہ یہود یوں نے بھیس بدل کر طلاق رجعی اور طلاق مغلظ اور طلاق بتہ اور طلاق بائن کا مذہب القا کردیا۔

اللہ نے ایسا کیوں کرنے دیا ؟۔ اسکے دو مقاصد تھے۔

لیجعل اللہ یا یلقی الشیطان فتنة للذین فی قلوبھم مرض و القاسیة قلوبھم وان الظالمین لفی شقاقٍ بعیدٍO

” تاکہ شیطانی القا ان لوگوں کیلئے آزمائش بنادے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم بہت دور کی بدبختی میں ہیں(۔سورہ الحج:53)

سنیوںاور شیعہ میں حلالہ والے ملعونین اور فرقہ پرست ۔ لیکن علماء حق کا تعلق جس فرقہ سے ہو اللہ کا دوسرا مقصد وہ ہیں۔

ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیومنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الیٰ صراط مستقیمO

اورتاکہ اہل علم جان لیں کہ بیشک حق تیرے رب کی طرف سے ہے تو اس پر ایمان لائیں اور اس کیلئے انکے دل جھک جائیںاور بیشک اللہ اہل ایمان کو ہدایت دیتا ہے سیدھی راہ کی طرف۔(سورہ الحج:54)

 ولا یزال الذین کفروا فی مریةٍ منہ حتی تأتیھم الساعة بغتةً او یأتیھم عذاب یومٍ عقیمٍ

الملک یومئذٍ للہ یحکم بینھم فالذین امنوا و عملوا الصحالحات فی جنات النعیمٍا

”اورکافر قرآن سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک انقلاب آئے یا بانجھ پن کے دن کا عذاب ۔ملک اس دن اللہ کیلئے ہوگا انکے درمیان فیصلہ کرے گا ،پس جو ایمان اور درست اعمال والے ہیں وہ نعمتوں والے باغات میں ہوںگے”۔ (سورہ الحج55،56)

بنوامیہ نے بنوعباس سے بڑا وحشانہ سلوک کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عراق میںیزیدی مذہب نشان عبرت ہے۔ اسلام، عیسائی، مشرکین، مجوسی ، یہودی اور تمام مذہب کی عراق میںچٹنی ہے۔ بنوعباس نے لونڈی اور حلالہ کے شغل کو صحیح بخاری کے ذریعے ایسا رواج بخش دیا کہ دنیا بھر میں اصل حکمران ممالیک خاندانِ غلام بن گئے۔ شاہ ولی اللہ نے نہج البلاغہ میں دھیماء کی حدیث کو درج کیا مگر تشریح میں فاش غلطیاں کیں۔ خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوگی تو زمین وآسمان والے سبھی خوش ہوں گے جس سے دنیا میں قرآن کی ہر آیت سے کمالات کے چشمے ابل پڑیں گے۔ قرآن کی بڑی بڑی وضاحتوں کو نہیں سمجھنے والے باریکی کو کیا سمجھتے؟۔ دنیا میں متوازن نظام کا قیام معاملے کا حل ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب سے پہلے ٹریلر

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کا ہم پریہ بہت بڑا اعتراض اور مسئلہ3طلاق پرایک تفصیلی فتویٰ ١ور میری طرف سے مدلل جواب:سید عتیق الرحمن گیلانی

بینک نکاح کی طرح حلال ہے حسن عثمانی

وہ عورت جس کو آپ دیکھ نہیں سکتے جس کو آپ ٹچ نہیں کرسکتے شرعاً حرام ہے۔ صرف قبول کرنے سے وہ لکھا ہوا ہونا بھی ضروری نہیں ہے ، بس قبول کرلیا ۔ وہ عورت آپ کیلئے حلال بھی ہوگئی جائز تعلقات بھی آپ کیساتھ ہوگئے۔ آپ کی ساری خواہشات اور جو ڈیزائر ہیں وہ بھی پوری ہورہی ہیں شریعت کے مطابق۔ تو وہ لیونگ سسٹم میں اور اس میں کیاایک فرق ہے مجھے بتادیں؟ فرق یہ ہے کہ یہاں پر قبول کیا۔(سوال: اگر کوئی اعتراض کرے کہ مولوی بینکوں میں کیا کرتے ہیں تو میں ان کو بولوں گا کہ وہ نکاح پڑھاتے ہیں قاضی سے)۔ ہاں کلیئر ہوگئی بات بہت ہی آسان ہوگئی بات۔ اوبھئی نکاح کرانے جاتے ہو۔مفتی حسن عثمانی۔RaftarTv
ــــــــــ

کتااورخنزیربھی اسلامی ہوتا ہے مفتی مینگل

اسلامی بینک۔کوئی کتا بھی اسلامی ہوتا ہے؟ خنزیر اسلامی ہوتا ہے۔خنزیر خنزیر ہی ہوتا ہے۔ ایک پاخانہ حلال۔ ایک پاخانہ حرام۔ پاخانے کی دو قسم: اسلامی پاخانہ اورغیر اسلامی پاخانہ، باتیں عجیب کر رہے ہیں، ہمارے مولوی سرپرستی بھی فرمارہے ہیں کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن پاکستان کے جو بڑے ادارے ہیں اور جو اصل مفتی ہیں الحمدللہ انہوں نے ساتھ دیا نہیں، دیں گے بھی نہیں۔ وہ کر لیں کوئی فرق نہیں پڑ یگا۔ البونک الاسلامیہ الحرامیہ۔ لا تاکل الربا اضعافاً…سُود خورآدمی کافرمایا کہ میں اللہ خود اس سے جنگ لڑوں گا۔ معلوم نہیں کہ پٹھان جیت گیا اللہ سے لڑتے ہوئے یا بلوچی جیت گیا یا کوئی عرب یا عجمی جیت گیا لیکن پھر بھی ہم جیت رہے۔
ــــــــــ

تبصرہ : ازعتیق گیلانی

آج علماء ومفتیان نے جس طرح سودی بینکاری کا حلالہ کروانے کوجائز اور ناجائز قرار دینا شروع کیا ہے تو کبھی مفتی تقی عثمانی کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کے مواعظ شائع ہیں کہ” شادی بیاہ کی رسم میں لفافہ لینا دینا سود ہے اور حدیث میں سود کے73گناہ ہیں جن میں کم ازکم گناہ اپنی ماں کیساتھ زناکے برابر ہے”۔ پھر سودی بینکاری کو جواز فراہم کیا جو علماء دیوبند نے متفقہ طور مسترد کیا پھر طوفان میں بہہ گئے۔ پہلے حلالہ کی لعنت کا اکا دکا درباری مولوی نے فتویٰ دیا پھر اس کو کارِثواب اور جنسی کاروبار بنادیا۔آج لعنتی طبقہ نے حد کردی، سود ماں کیساتھ زنا کو جواز فراہم کردیا ہے؟۔
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
لایلاف قریشOایلافھم رحلة الشتآء و الصیفOفلیغبدوا رب ھذا البیتOالذی اطعمھم من جوعٍ و اٰمنھم من خوفO

”قریش کی الفت کیلئے۔ان کی الفت سردی اور گرمی کے سفر سے ۔پس وہ عبادت کریں اس گھر کی جس نے بھوک میں ان کو کھلایا اور خوف سے امن دیا”۔ (سورہ قریش)

ٹانک شہر میںپیر صابر شاہ کا عرس میلہ جون کے ابتداء میں ہوتا تھا۔ چڑیا گھر ، سرکس اور چیزیں خرید وفروخت کیلئے آتی تھیں انتہائی گرمی مگرعوام کی اس سے الفت تھی، بھوک سے کھانا اور خوف سے امن کا سماں، ٹریفک کو سواری اور غریب امیر کی کمائی بنتی ۔ جس سے سورہ قریش بھی سمجھ میں آسکتی تھی۔ امام رازی کی تفسیر کبیر میں سب کچھ ہے مگر تفسیر نہیں:مولانا بنوری

پہلے مختلف علاقوں میں بڑے میلے لگتے تھے۔ مقامی سطح سے دور دراز سے آنے والوں کی آمد تک اپنا اپنا سامان ، پھل ، مصنوعات، جانور اور لونڈی وغلام کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ قریش کیلئے اضافی چیز حج اور عمرے کیلئے آنے والوں کی آمد بھی تھی۔ حج کا مہینہ سردی میں ہوتا توعمرہ گرمی اور حج گرمی میں آتا تو عمرہ سر دی میں کرتے ۔ اس لالچ میں قریش مکہ اپنے مفاد کی خاطرمہینوں کوکبھی بدل دیتے اور حج و عمرہ کا اکٹھا احرام ناجائز قرار دیا تھا تاکہ سردی اور گرمی دونوں موسم میں عوام کی آمد ہو۔

اسلام میںحج و عمرہ کااکٹھا احرام باندھناجائزتھا ۔ عمر نے الگ الگ احرام کی ترغیب دی۔ عثمان نے پابندی لگائی تو علی نے اعلانیہ احرام اکٹھے باندھے (بخاری) گورنر دمشق ضحاک نے کہا کہ اکٹھا احرام جاہل باندھے گا۔ سعد بن ابی وقاصنے فرمایا کہ ”یہ مت کہو، میں نے خود نبیۖ کو اکٹھے دونوں احرام باندھتے ہوئے دیکھا ہے”۔ حضرت لبیدنے شعار کہے تھے:

ذھب الذین یعاش فی اکنافہم
و بقیت فی خلف کجلد الاجرب

” وہ لوگ چلے گئے جن کے پاس زندگی گزرتی تھی اور ان میںپیچھے رہ گیا ہوں جو خارش زدہ کھال کی مانند ہیں ”۔

اماں عائشہ58ھ نے فرمایا ” اگر لبید ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو کیا کہتے؟”۔…..
ابوداؤد، بخاری ، مسلم تینوں احمد بن حنبل کے شاگردتھے جو شافعی کا شاگرد تھا۔ شافعی امام ابوحنیفہ کے شاگرد حسن شیبانی کا شاگرد تھا۔ یزید ثالث بن ولید اور بنوعباس کے حکمران معتزلی تھے۔ا بن حنبل پرتشددکیا۔10ویں عباسی خلیفہ جعفر متوکل نے شافعی مذہب اختیار کیا اور معتزلہ کا صفایا کیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی مگر پھر سختی شروع کی تھی۔ حسن بصری کی روایات مثال ہیں۔ مقدمہ ابن خلدوں میںہے کہ” ابوحنیفہ17احادیث مانتے تھے” ۔ امام ابوحنیفہ نے قیدمیں شہادت پائی ۔ درباری شاگردوں نے دین کیساتھ بدترین کھلواڑ کیا۔اصول فقہ اور فقہی مسائل سے واضح ہے کہ مستند احادیث کو مسترد اور ضعیف کو قبول کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے شیر شاہ سوری نے صرف5سال حکومت کی۔ بنگال سے افغانستانGTروڈ بنایا۔زمینوں کی پیمائش کا پٹوار سٹم قائم کیا، نظام انصاف میں شاہ وگداکیلئے تفریق وامتیاز کو ختم کیالیکن پھر بارود سے اڑادیاگیا۔ مہدی7سے9سال تک حکوت کرے تو اس دور میں کیا سے کیا تبدیلیوں کے امکانات نہیںہوسکتے؟۔

پرتگال کا واسکو ڈیگاما ہندوستان تک بحری راہ کیلئے امریکہ کو پا گیا۔ پاکستان یورپ سے تائیوان تک تیز رفتار ریلوے ٹریک و روڈ کا آئیڈیا دیکر دنیا کا امام بنے۔ برطانیہ نے منافرت کا بیچ بویااور ایشیا اور جرمنی وفرانس وروس میں رابطے کی شہہ رگ کاٹی گئی۔ عمران خان کی ماں، شریف برادران ،فیڈ مارشل اور سید مودودی وغیرہ کے اجداد کا وطن مالوف ہندوستان تھا۔

مفتی حسام اللہ شریفی مودودی کیساتھ اپنے استاذ سے ملنے گئے۔دیوبند، بریلوی سبھی کے سر ہندوستان اور دُمیں پاکستان میں ہلتی ہے اسلئے نفرتوں سے خود اور دوسروں کو تباہ نہ کریں

یہود اور نصاریٰ ایک دوسرے سے مذہبی بنیاد پر بڑی سخت نفرت رکھتے تھے۔یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف غلیظ ترین گالی بکتے تھے۔ نصاریٰ ان کو خدا کا بیٹا اور خدا کی بیوی قرار دیتے تھے۔ اسلام نے بڑا اعتدال اور میانہ روی کا درس دیا۔ تقدس کی آڑ میں شرک اور انتہا پسندی کی آڑ میں توہین دونوں کے ارتکاب کو منع کردیا۔

وہ ایکدوسرے کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا جائز نہیں سمجھتے تھے مگر قرآن نے دونوں طرح کے اہل کتاب سے ازدواج کی اجازت دے دی۔ جب جاویداحمد غامدی یہ کہتا ہے کہ امت مسلمہ اپنی باری لے چکی ہے اور اب قیامت تک مسلمان محکوم رہیںگے اور امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا،وسط ایشیا اور ہندوستان میںبڑی حد تک آباد حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قامت تک اقتدار میں رہے گی اور یہ میں فنون طبع کے طور پر نہیں کہتا ہوں بلکہ قرآن میں یہ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے۔ غامدی کے اس فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا معاملہ قصہ پارینہ بن چکاہے۔ اس نے قرآن کو سات ابواب میں تقسیم کرکے مسلمانوں پر اقتدارکے سب دروازے بند کرنے کیلئے منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ اس کے شاگرد ڈاکٹر فرحان شہزاد کی کتاب ابھی چھپ نہیں سکی ہے مگر جب چھپ کر آئے گی تو قرآن سے حضرت علی ، حسن وحسین کی نااہلی کے علاوہ حضرت ابوبکر و عمر کی ناہلی بھی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش ہوگی۔ وہ سب سے زیادہ مضبوط شرعی خلیفہ صرف اور صرف یزید اور اس کے بعد بنوامیہ کو مانتا ہے۔

مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا طیب قریشی نے صحافی حسن خان سے کہا کہ” افغان طالبان دنیا کو بھی دیکھ لیں۔ رسول اللہۖ نے کچھ معاہدے صلح حدیبیہ مجبوری سے کیا”۔ ملاعمر کے پیچھے امریکہ، پاکستان، سعودیہ اور عرب امارات تھے۔صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کسی کمزوری سے نہیں کیا تھا۔

مذہب پیشہ تھوڑا تھا کہ روٹی بند ہوجاتی؟۔ بھارت سے ہم کمزور نہیں مگر صلح حدیبیہ کریں ۔ جو منافق ہندو بننا چاہے شوق سے بن جائے اور بھارت ویزہ دے اور کوئی ہندو مسلمان بن جائے تو واپس کریں۔ عقیدہ منافقت اور زبردستی کا نہیں ہوتا بلکہ جبر والوں کیلئے مزید نقصان دہ ہے۔ منافق مسلمان بن کر کام کریں تو جہنم کے نچلے درجہ میں ہوںگے۔مسلمان کو جبری ہندو بنایا جائے تو فرق نہیں پڑتا۔

من کفر باللہ بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان و لکن من شرح بالکفر صدرًا فعلیھم غضب من اللہ و لھم عذاب عظیمO

” جو ایمان کے بعد اللہ کا منکر بنے مگر جس کو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،لیکن جس کا کفر پر شرح صدر ہوا تو اس پر اللہ کی طرف سے غضب ہے۔ اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے ”۔ (سورہ النحل:106)

قرآن میں ماضی ، حال اور مستقبل کا پوراآئینہ ہے اور اس میں نہ صرف حال کے کردارمیں اپنی شکل دیکھ سکتے ہیں بلکہ یہ حالات کو بدلنے کیلئے ہدایت کی بہترین دستاویر بھی ہے۔ اللہ نے قرآن میں یہود ونصاریٰ کے بارے میں کہا کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد ہماری سزا ختم ہوگی اور باقیوں کو اللہ نے جہنم کیلئے پیدا کیا ہے لیکن یہ ہم پر بھی فٹ ہے۔

واسالھم عن القریة التی کانت حاضرة البحر اذ یعدون فی السبت اذ تأتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعًا و یوم لا یسبتون لا تأتھیم کذٰلک نبلوھم بما کانوا یفسقونO ”اور ان سے سمندر کے پاس بستی کا حال پوچھو ، جب ہفتے میں زیادتی کی۔ جب انکی چھٹی کے دن انکے پاس مچھلیاں آکر راستہ بناگئیں اور ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتی تھیں اسی طرح ہم نے انکو آزمایا جس میں نافرمانی کرتے تھے ”۔

سورہ اعراف کی اس آیت163میں یہود کا ذکر ہے لیکن اگر کراچی، جہلم اورسوات کسی بھی شہر میں چھٹی کے دن لوگ تفریح کیلئے آتے ہوں اور مچھلیوں کا شکار ممنوع ہو تو لوگ خوراک ڈالیں گے، ان کی نسل بھی بڑھے گی ۔ پھر فرمایا کہ

واذقالت امة منھم لم تعظون قومًا اللہ مھلکم او معذبھم عذابًا شدیدًا قالوا معذرةً الی ربکم و لعلھم یتقونO ” اور پھر کچھ نے ان میں سے کہا کہ تم کیوں اس قوم کو نصیحت کرتے ہو ، جن کو اللہ نے ہلاک کرنا ہے یا عذاب دے گا سخت ترین عذاب؟۔ انہوں کہا کہ تمہارے رب سے معذرت کیلئے یا شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں”۔

نافرمان اور اچھے لوگوں کا مکالمہ بتایا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے نابالغ بچیوں کے نکاح کی کوئی تبلیغ نہیں کی لیکن اگر اجازت دیتا تو انسانی حقوق کی وہ پامالی تو نہ تھی جوسود کو جواز بخشنے والا مفتی تقی عثمانی اپنے فتاویٰ میںمسلط کرتا رہاہے؟۔ اگر مچھلیوں کا شکار ایک دن معاشرے کی بھلائی کیلئے ممنوع ہوگا تو کیا بچیوں کی شادی پر خاص عمر تک پابندی میں حرج ہے؟۔ بلوچ ان عورتوں کو جن کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے کلماٹ کہتے ہیں اور جو مولوی اپنی کلماٹ بہن بیٹیوں کی شادی نہیں کراتے ہیں مگر دوسروں کی نوعمر بچیوں سے غصہ میں شادی کرتے ہیں؟۔

قرآن نے مشرک اہل کتاب سے شادی کی اجازت دی اور مشرک قریش سے منع کردیا اسلئے کہ قریش نے مسلمان ہونا تھا اور وقت سے پہلے خلط ملط ہوتے تو بگاڑ درست نہیں ہوتا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ عیسائی مشرک ہیں، نکاح جائز نہیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ طلاق کو نہیں سمجھتا خلافت کیلئے نااہل ہے اور جاویدغامدی کہتا ہے کہ ”علماء عبداللہ بن عمر اور ابن عباس اور ابن مسعود عالم تھے”۔ تاکہ ان کی طرف منسوب بڑی غلطی سے امت کو گمراہ کرے؟۔ مصحف ابن مسعود سے سورہ فاتحہ اور آخری دو سورتیں موذتین پھٹ گئی تھیں تو کیا اس سے وہ منکر بن گئے؟۔ غامدی قرآن کیلئے بہت ادھارکھائے بیٹھاہے۔

فلما نسوا ماذکروا بہ انجینا الذین ینھون عن السوء و اخذنا الذین ظلموا بعذابٍ بئیسٍ بما کانوا یفسقونO ” جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحت کی گئی تو ہم نے ان کو نجات دی جو برائی سے روکتے تھے اور ظلم والوں کو مایوسی کے عذاب سے پکڑا ،بسبب نافرمانی کرتے تھے”۔

اگر انہوں نے سمندر یا دریا کاعلاقہ آپس میں بانٹ دیا ہو تو ایک کے ہاں خوشحالی اور دوسرے بدحالی میں ہوں گے۔

فلما عتو عن مانھو عنہ قلنا لھم قردةً خاسئینO ” پس جب وہ حد سے بڑھ گئے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا کہ بن جاؤ ذلیل بندر”۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے اسی طرح جب کچھ لوگ اپنی حد وں سے بڑھ کر ظلم میں ناکام ہوتے ہیں تو زندگی میں بندروں کی طرح ذلیل ہوکر گھومتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کو حقیقی بندر بنادیا ہو لیکن انسانی شکل میں بندروں کی طرح ذلیل ہونا کم نہیں۔

واذ تاذن ربک لیبعثن علیھم الی یوم الیقامیة من یسومھم سوء العذاب ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیمO ”اور جب تیرے رب نے منصوبہ دیا ان پر قیامت تک جو ان کو نشانہ بنائے گا بدعذاب کا ، بیشک اللہ جلدی انجام کو پہنچانے والا ہے اور بیشک وہ غفور رحیم ہے”۔

اس سے لوگوں نے یہود مراد لئے لیکن یہود نہیں ہردور میں انقلابی مصلح کا مقابلہ کرنے والے مراد ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ

وقطعناھم فی الارض اممًا منھم الصالحون و منھم دون ذٰلک و بلوناھم بالحسنات والسیئات لعھم یرجعونO ” اور ہم نے انہیں زمین کے مختلف جگہوں پر مختلف قوموں میں متفرق پیدا کیا۔ ان میں نیک بھی ہیں اور انکے علاوہ بھی ۔ہم نے انہیں اچھی نعمتوں سے آزمایا اور مصیبت میں بھی ڈالا کہ ہوسکتا کہ وہ رجوع کرلیں”۔

یہ یہود کی بات نہیں سبھی اچھے اور برے لوگ مراد ہیں۔ انقلاب سے اچھائی چھا جاتی ہے اور برے انجام کو پہنچتے ہیں یا سرنڈر بن جاتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ ابوسفیان و ہندہ کی بیٹی نے مسلمان شوہر کیساتھ حبشہ ہجرت کی۔ شوہر مرتد عیسائی ہوگیا، پردیس حبشہ میں چھوٹی بچیوں کی ماں پر کیا گزری تھی؟۔ ماں باپ دشمن ، سسرالی بھی نہ رہے ۔ پھرنبیۖ نے رشتہ لیا۔ بدر میں ماں ہندہ کا باپ اور چچا قتل ہوگئے اور احد میں ماں نے رسول اللہ ۖ کے محبوب چچا امیر حمزہ کے کلیجے کو چبا ڈالا۔ گستاخ دلے ذاکروں نے اسلام کے نام پر روٹیاں کھائی ہیں مگر قربانی نہیں دیکھی کہ کیا ہوتی ہے؟۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے والدین اور بھائی معاویہ کو اسلام کیساتھ عزت بھی دیدی۔

فخلف من بعدھم خلف ورثوالکتاب یأخذون عرض ھٰذا الادنٰی ویقولون سیغفرلنا وان یأتیھم عرض مثلہ یاخذوہ الم یؤخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق و درسوا مافیہ و الدارالاخرة خیر للذین یتقون افلا تعقلونO
”پھر انکے بعد جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اور دنیا سے معمولی حصہ لیا اور کہتے تھے کہ ہمیں بخش دیا جائے گا۔ ان کو اس طرح کااور معاملہ پیش آئے تو وہ بھی لے لیںگے۔ کیا ہم نے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا ہے کہ تم اللہ پر نہیں بولو گے مگر حق بات اور جو اس میں اسی کو درس دیںاور آخرت کا گھر تقویٰ والوں کیلئے بہتر ہے ، کیا تم نہیں سمجھتے ہو”۔

آیت میں یزید، مروان بن حکم اور عبدالملک بن مروان کی تصویر دیکھو اور معاویہ بن یزید کی بھی تصویر دیکھو۔ عبدالملک کے بیٹوں کی تصویر دیکھو۔ قبضہ مافیا کو اگر ابو جہل یا فرعون کے عقائد اور آسائش مل جاتیں تو بھی ہڑپ کرلیتے۔ انہوں نے سوچا کہ ہند وابوسفیان کی طرح ان کو بھی معافی ملے جائے گی اور یہودو نصاریٰ کے اس اعتقاد کو قرآن سے کوئی تائید حاصل نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان ہوکر یہ قرآن سے انحراف اور اللہ کی طرف ناحق چیز کی نسبت ہے۔ جاویداحمد غامدی ان کے عشق میں گرفتار ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ ، روس اورہندوستان کی بڑی حدتک قوموں کو یافث کی اولاد قرار دیکر اشتراک اقتدار کا ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ ہمارا کام ماضی ، حال اور مستقبل کا صحیح نقشہ عوام کو قرآن سے دکھانا ہے تاکہ لوگ رہنمائی لیں۔

والذین یمسکون بالکتاب واقاموا الصلاة انا لانضیع اجر المصلحینO ” اور جنہوں نے کتاب تھام لی اور نماز قائم کی تو ہم مصلح لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے”۔

آیت واضح ہے کہ انبیاء کے بعد قیامت تک مصلح لوگوں کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا جو غلو کرنے والوں کے فساد سے دین کو بچانے میں کردار ادا کرتے رہیں گے جیسے مجدد کا تصور ہے۔

سورہ اعراف163سے170تک دیکھیں۔ آگے عہد الست پھر بعلم بن باعوراء کاذکر ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور جاوید غامدی قرآن کا درست ترجمہ سمجھنے کے بعد بتاتے تو عزت بھی پاسکتے ہیں۔ابوطالب کو کافر بنادیا۔ علی، حسن اور حسین کیخلاف بکواس لیکن اللہ کی کتاب میں تو تحریف نہ کرو۔ مسلم امہ کو سود خوری اور مایوسی پر نہ لگاؤ۔ میرے اجداد رسول اللہ ۖ اور علی کا خون مجھ میں دوڑ رہاہے ۔ یہ وقت بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن اورخلق خداکی تبدیلی

ومن یشاق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی و یتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولیٰ و نصلہ جھنم و ساء ت مصییرًاOان یدعون من دونہ الا اناثًا وان یدعون الا شیطانًا مریدًاOلعنة اللہ و قال لاتخذن من عبادک نصیبًا مفروضًاOولاضلنھم و لاٰمرنھم فلیبتکن اٰذان الانعام و لاٰمرنھم نیننھم فلیغیرن خلق اللہ ومن یخذ الشیطان ولیًا من دون اللہ فقد خسرخسران مبینًاOیعدھم و یمنیھم و مایعدھم الشیطان الا غرورًاOاُولئک مأواھم جھنم و لا یجدون عنھا محیصًاOوالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سندخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدًاوعداللہ حقًا ومن اصدق من اللہ قیلًاOلیس بانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوئً ا یجزبہ و لایجد لہ من دون اللہ ولیًا و لانصیرًاO

” اور جو رسول سے الگ ہو ہدایت واضح ہونے کے بعد اور اتباع کی مؤمنوں کی راہ سے ہٹ کر تو پھر ہم اس کو اسی طرف گھما دیں گے جدھر وہ گھوما ۔ اور جہنم میں پہنچادیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے بیشک اللہ نہیں بخشتا کہ کسی کو شریک بنایا جائے۔ اسکے علاوہ بخشتا ہے جس کیلئے چاہے اور جس نے اللہ کیساتھ شریک ٹھہرایا تو تحقیق بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ یہ لوگ اللہ کو نہیں پکارتے مگر زنانہ کو۔ نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کو۔ اللہ کی لعنت اور اس نے کہا کہ تیرے بندوں سے میں ضرور پکڑوں گا اپنا فرضی حصہ اور ضرور انہیں گمراہ کروں گااور انہیں اُمیدیں دلاؤں گا اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور جانوروں کے کان بتہ کریںگے اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور خلق خدا کو بدل دیںگے اور جس نے شیطان کو اللہ کے سوا اپنا حاکم بنایا تو کھلے خسارہ میں پڑا۔ وہ ان سے وعدہ کرتا ہے اور تمنائیں دلاتا ہے اور ان سے شیطان وعدہ نہیں کرتا ہے مگر دھوکہ بازی کا۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہیں پائیں گے کوئی محفوظ جگہ اور جنہوں ایمان لایا اور درست اعمال کئے عنقریب ان کو داخل کروں گا باغات میں جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ابد الآباد تک۔اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے۔ نہ تمہاری تمناؤں پر اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں پر جو برا عمل کرے گا تو اس سے ا س کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کوکسی کو حاکم و مددگار نہ پائے گا”۔
(سورہ النسائ:115سے124)

مقدمہ ابن خلدوں میں لکھاہے: ”امام ابوحنیفہ صرف17احادیث مانتے تھے”۔ حنفی مسلک میں نماز کے14فرائض میں سے آخری فرض یہ ہے کہ سلام واجب ہے اور نماز سے اپنے ارداے کیساتھ نکلنا فرض ہے بھلے ریح خارج کردے۔ یہ حدیث ہے کہ جس نے آخری نماز کے آخری قاعدے میں دھماکہ کردیا تو اس کی نماز مکمل ہوگی۔ مسلک سازی بعد میں ہوئی ہے، حدیث میں احدث کا لفظ ہے۔ ریخ خارج کرنا اور ریح کا خارج ہونا ایک بات تھی جیسے انتقال کرگیااور انتقال ہوگیا۔ عربی میں شیشہ ٹوٹ گیا ، کسرالزجاج میں فاعل شیشہ ہے لیکن اس کو حقیقی نہیں مجازی الفاظ کا گورکھ دھندہ کہتے ہیں۔

امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے کہ بغیر ولی کی اجازت کے حوالے سے احادیث صحیحہ کو نہیں مانتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے5سو احادیث جمع کئے اور پھر جلائے کہ کہیں سمجھنے اور سمجھانے میں مجھ سے غلطی نہ ہوجائے۔80ھ میں امام ابوحنیفہ کی پیدائش اور150ھ میں انتقال ہوا۔40سال تک کسی سے نہیں سنا کہ حضرت اماںعائشہکا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی اور دخول ہوا تھا مگر پھر بہت لوگوں کو احادیث بدلتے ہوئے دیکھاتھا۔1982ء سے مفتی تقی عثمانی کی ذات، الائنس موٹرز بینکاری ،فتوے،بدلتے دانت اور جن کو ورغلایا سبھی کو دیکھا۔ انسانی شیطان وصولی کے چکر میں گمراہ کرتا ہے لیکن قرآن کا آئینہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟

افلاطون2400سال پہلے سقراط کا شاگرد اورارسطو کا استاذ تھا۔ اس کی کتابیں محفوظ ہیں تو پھر قرآن پر کم عقل طبقہ روایات بناکر سازش کیوں پڑھاتا ہے ؟۔مدارس کی تعلیمات کو چیک کرلیں۔

ہندوؤں کے ویدوں،زرتشیوں کی اوستا،بدھسٹ کی تری پٹک، توراة، زبور، عہد نامہ عتیق، بائبل اور صحائف موجود تھے مگر قرآن کیلئے وسیلہ نہیں تھا۔ ہڈی ، پتے، پتھر وںپر لکھا جاتاتھا؟حیرت !

اللہ نے فرمایا:
شھررمضان الذی انزل فیہ القراٰن ھدًی للناس و بیناتٍ من الھدٰی و الفرقان ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اللہ نے قرآن کو نازل کیا لوگوں کی ہدایت کیلئے ہے اور کھلے دلائل ہیں ہدایت والی اور امتیاز کرنے والی”۔

برصغیر کی آزادی27ویں رمضان لیلة القدرکی مبارک ساعت ہوئی۔ لاالٰہ الا اللہ نے تقسیم ہند کی بنیاد رکھ دی۔ بھارت نے ہندو جوگیندر ناتھ منڈل کو وزیرقانون بنانا چاہا مگر اس نے پاکستان کو ترجیح دی۔ پاکستان میں تعصبات کی گنجائش نہیں تھی۔

جنرل ایوب نے ہندوستان سے مراسم کی خاطر اردو رسم الخط کو ”ہندی” میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو قدرت اللہ شہاب نے مطلع کیا۔نسیم حجازی نے دو گھنٹے میںجنرل ایوب کو سمجھایا تو فیصلہ واپس لیا فوج بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہاں تھی۔ ریاست سیاسی قیادت پر بھروسہ کرتی۔ سیاستدان ریاست سے رہنمائی لینے کی بنیاد پر اپنا سبق بھی بھولتے ہیں اور پھر الزام تراشی کایہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔

قرآن پر مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی بھروسہ کرتا تھا لیکن قرآن کی انتہائی گھٹیا قسم کی تحریفات پڑھائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے مولوی مرتد ہورہے ہیں۔

بدری کافر قیدی سے صحابہ لکھنا پڑھنا سیکھ گئے۔ قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف کا ذکر ہے اور لکھنے کو کتابت اور لکھی ہوئی چیز کو مکتوب۔ یہ گہری سازش ہے کہ قرآن کوکتابی شکل بعدمیں دی گئی۔ یہ لکھاہے کہ قرآن المکتوب فی المصاحف ہے یعنی جو صحائف میں لکھا ہوا ہے ۔دوسری طرف پھر کہتے ہیں کہ مکتوب سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ وہ تو محض نقش ہے اور پھر یہاں تک بھی کم بخت گئے کہ علاج کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔

قرآن کی تعریف کیلئے قرآن سے بہت زیادہ اور زبردست مواد مل جاتا کہ سطور میں لکھا ہوا مقدس قرآن قرطاس اللہ کا کلام ہے۔ مزید صفات ہیں: المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبہ ” جو نقل ہوا ہے رسول اللہ ۖ سے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ بس یہی بات ٹھیک تھی لیکن کیا بکواس پڑھاتے ہیں کہ

امام شافعی کے نزدیک یہی تعریف ہے۔ حنفیوں کے نزدیک غیر متواتر آیات بھی قرآن ہیں اور بسم اللہ میں شبہ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر شبہ قوی ہے اسلئے اس کا منکر کافر نہیں ہے ۔

ایک طرف قرآن پر جھوٹی روایات سے شبہات کھڑے کر رہے ہیں اور دوسری طرف پھر روایات سے قرآن میں اضافے کا اعتقاد پڑھارہے ہیں۔

وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی ”کشف الباری شرح بخاری” میں لکھا ہے کہ ”ا بن عباسنے کہا: علی نے کہا کہ نبیۖ نے دو گتوں کے درمیان قرآن کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ہے۔ بخاری نے اس روایت کو شیعہ کے خلاف نقل کیا کہ تمہارا عقیدہ تحریف قرآن کا غلط ہے اسلئے کہ تمہارے علی تحریف کے قائل نہیں تھے لیکن حقیقت میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی ہے”۔( کشف الباری )

یہ بڑی منافقت ہے کہ عوام سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی نہیں ہوئی لیکن مدارس کے نصاب میں غلطی کا نوٹس نہیں لیتے ہیں۔

عبدالمالک کاکڑ نے لکھا کہ… سورہ اعلیٰ کے ترجمہ میں آیات و الذی اخرج المرعٰیOفجعلہ غثاء احویٰO …..کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ ”اور جس نے چارہ نکالا پھر اس کو سیاہ چورا بنادیا”۔

ہم شکرگزارہیں کہ جو ہماری غلطی پر مطلع فرمائے البتہ اسکے بعد سنقرئک فلا تنسٰیO
”عنقریب ہم آپکو پڑھائیں گے پھرآپ نہیں بھولو گے” سے استنباط کیا کہ کچرہ سے مراد عام کچرہ نہیں بلکہ مذہبی مسائل کا کچرہ ہے اور جب انسان اپنی طرف سے دین میں کچرہ مسائل نکالتے ہیںتو اسکی نسبت اللہ اپنی طرف بھی کرتا ہے۔

وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفرٍ ومن البقر… ذٰلک جزینا ھم ببغیھم وانا لصادقونO(الانعام:146)

یہاں اللہ نے یہود پر کھانے کی چیزیں حرام کرنیکی نسبت اپنی طرف کی مگر دوسری جگہ واضح کیا:

کل الطعام کان حلًا لنبی الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ من قبل ان تنزل التوراة قل فأتوا بالتوراة فاتلوھا ان کنتم صادقینO(ال عمران:93) ”

بنی اسرائیل کیلئے تمام کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیں توراة نازل ہونے سے پہلے کہہ دو کہ تورات لاؤ اگر تم سچے ہو”۔

بصیرت سے محرومی ہو توبندہ گمراہ ہو سکتا ہے۔ قرآن ہرچیز کیلئے آئینے کی طرح وضاحت ہے مگر دل نہیں سر کی آنکھیں بھی کمزور ہوں توپھر کیا دکھائی دے گا؟۔ فقیہ کو ان آیات میں مذہبی مسائل کے گند کا کچرہ نظر آئے گا ۔ ساتھی عمران مالک نے کچھ سمجھا تو30سال پہلے کہا تھا کہ” غلط کتابوں کو جلاکر راکھ سمندر میں ڈلا جائے گا”۔طلاق کی آیات کو سمجھ لیا تو لوگوں کے دل ودماغ روشن ،بہت سے نفسیاتی مریضوں کو شفاء اور کئی عزتوں کو بڑا تحفظ ملے گا۔

سورہ اعلیٰ کی ان آیات میں سائنسدان کو تیل و کوئلے کے ذخائز نظر آتے ہیں کہ قدیم جنگلات کی ارضیاتی تبدیلی میںOil Migrationجس طرح ہوئی ،ان میں سائنسی حقائق موجود ہیں۔

قرآن مؤمنوں کیلئے رحمت اور شفاء ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے کی طرف۔ اللہ انسان پر نعمت کرتا ہے تو اعراض کرتا ہے اور سائیڈ پکڑتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوتا ہے۔ قرآن میں دل کی کیفیات کے وزن کا بھی پتہ چلتا ہے۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم ”

اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے ایگریمنٹ ہوجائے”۔ صحابہ کرام نے اس کی تفسیر پر خاموشی اختیار کی اور بولا ہے تو اتفاق نہ تھا۔

موجودہ دورمیں اس سے پینشن والی معزز ایسی خواتین مراد ہوسکتی ہیں جن کی مراعات بھی برقرار ہوں اور ایگریمنٹ سے جنسی تسکین بھی لے سکیں۔ اگر امریکہ ،اسرائیل ، یہود ،عیسائی، چین ، روس، یورپ و دیگر ممالک اور مذاہب میں یہ تصور ہوگا کہ انکی شادی شدہ خواتین کو بھی لونڈیاں بنائینگے تو کیا اسلام اور مسلمانوں کیلئے مانگیںگے؟ سورہ المائدہ میںمؤمنات اور اہل کتاب کی محصنات کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے۔ اگر مسلمانوں کی طرح ان سے بھی کہا جائے گا کہ قرآن نے کتابی خواتین کے حق کی بھی اسی طرح سے حفاظت کی ہے کہ نکاح کی بنیاد پر قانونی مالی فوائد کے بجائے ایگریمنٹ والا معاملہ کرو تو قرآن کے آئینہ میں ان کو اپنے تحفظ کا احساس ہوگا۔ رسول اللہ ۖ نے ایسی خلافت کی پیش گوئی فرمائی ہے جس سے سب خوش ہونگے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا الیھود و النصاریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعضٍ ومن یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظالمینOفتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشٰی ان تصینبا دائرة فعسی اللہ ان یأتی بالفتح او امرٍ من عندہ فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسھم نادمینO

” اے ایمان والو! یہوداور نصاریٰ کو اپنا حکمران مت بناؤ۔ یہ بعض بعض کے حکمران ہیں۔ جو ان کو حکمران بنائے تووہ انہی میں سے ہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں مرض ہے کہ اس معاملے میں جلدی کریںگے۔کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پرگردش کی باری پہنچے گی۔ پس قریب ہے کہ اللہ فتح کیساتھ آئے یا اس کی طرف سے کوئی امر پس یہ نادم ہوجائیں جو مرض چھپائے بیٹھے تھے”۔ (المائدہ51،52)عربی فتی الشرق چینل نے یہ آیات موجودہ دور کیساتھ خاص کرنے کی نشاندہی محی الدین ابن عربی کے حوالہ سے کی کہ یہود ونصاریٰ کی ہمیشہ آپس میں دشمنی رہی۔ ہٹلر سے مار کھانے کے بعد معاملہ بدل گیا۔ غامدی کے مرض کی بھی یہ تشخیص ہے ۔ابراہم اکارڈ کی بنیاد پر یہود ونصاریٰ نے اقتدار کی منصوبہ بندی کی ہے۔

مسلمانوں کے حکمران اور سیاستدان پٹاخوں کی جگہ درست کام کریں۔ منبر و محراب سے حق کی صدا بلند ہونے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لے گی۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان میں شادی کے بعد دلہن پہلی رات کو ظالم سردار کے حوالے کی جاتی ۔مولانا منظور مینگل

مولانا منظور مینگل نے اپنی تقریر میں کہا کہ پچھلے سال میں خیبر پختونخواہ دیر کے علاقہ میںگیا تو مجھے وہ عالم بھی ملا ۔ اس نے کہا کہ اس خان کو کہا تھا کہ تم حرام خور ہو، تم زناکار بدکار ہو! تو خان نے کہا کہ اس مولوی کو پکڑ کر لاؤ۔ ظالم پکڑ کر لائے اور اس کی زبان چھری سے کاٹ دی۔ وہ مولوی مجھے خود ملے، میں لوگوں سے سنتا تھا لیکن پروگرام میں گیا تو وہ مولوی خود مل گیا۔

ہمارے بلوچستان خضدار کا ایک سردار تھا، اس کا قانون تھا کہ لوگ نکاح کریں گے تو پہلی رات دلہن سردار کے حوالے کریں گے۔ ایک دن اس کی اپنی بہن کا نکاح تھا۔ سردار نے کہا کہ میں بہن کو نہیں جانتا ، عزت کو لوٹوں گا۔ بلوچ تو اس طرح کرے گا۔یہ سردار، چوہدری ، خوانین اور یہ بے دین ان کا حال یہی ہے۔ سردار کی بہن نے کچھ لوگوں سے کہا کہ میری عزت بچاؤ،سردار کے گن مین تھے رسائی مشکل تھے لیکن کچھ اللہ کے بندوں نے ہمت کرکے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

ظالم لوگ بیوہ سے نکاح کرتے ہیں جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اس کی پہلی شوہر کی بیٹی سے نکاح کرلیتے ہیں۔قرآن میں واضح ہے کہ اگر اس عورت سے ہمبستری نہیں کی ہے تو پھر نکاح کرسکتے ہیں لیکن ہمبستری کی ہے تو حرام ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ایسے شخص سے کہا کہ تجھ پرلعنت ہو۔

مولانا مینگل کی خبر تہلکہ خیزہے کہ قوم سردار کے آگے لیٹی ہوئی تھی مگر بہن کا مسئلہ آیا توغیرت آئی؟۔ چلو کسی بہانے اچھا کام کیا۔مولانا مذہبی معاملات کو ٹھیک کرنے کی طرف آجائیں ورنہ کل اس کی اولادوں کی اولاد کہے گی کہ عتیق گیلانی نے بڑا کمال کیا ورنہ ہمارے بے غیرت مدارس میںیہ پڑھایا جاتا تھا وہ اپنی صلاحیت کو درست استعما ل کرے تو بلوچستان کے مظالم کا راستہ قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے رک جائے گا۔

بخاری کا عنوان ہے کہ ابوسفیان کی بیٹی ام المؤمنین ام حبیبہ نے رسول اللہۖ کو اپنی سوتیلی بیٹیوں کی پیشکش کی تو آپۖ نے اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ یہ سراسر جھوٹ تو نہیں ؟ اسلئے کہ بخاری کے استاذ الاستاذ مصنف عبدالرزاق کی روایت مولانا منظور مینگل کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے نقل کی ہے کہ حضرت علی نے ایک شخص سے کہا ،جس کی بیوی فوت ہوگئی تھی کہ اپنی بیوی کی اس بیٹی سے شادی کرو جو تمہارے حجرے میں نہیں پلی ہے۔ کہیں شافعی حنفی مسالک کیلئے روایات گھڑنے کا معاملہ تو نہیں تھااور یہ بھی لکھا ہے کہ ” لڑکے سے جنسی عمل کیا ہو تو اس کی ماں بالاجماع جائز ہے”۔(کشف الباری)

مولانا منظور مینگل بیوہ ماں کا بیٹا اور مولانا سلیم اللہ خان کا خاص الخاص شاگرد تھا۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کا صابر شاہ کیساتھ سکینڈل بھی آگیاتو پروپیگنڈہ کون روک سکتا ہے؟۔

دیر اور خضدار کی نسل کو مشکوک کردیا لیکن مسلکی غلاظتوں کو کیاصابر شاہ شیخ الحدیث بن کر ٹھیک کرے گا؟۔ اسی موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بات کہاں ہے؟۔ مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری شرح بخاری پر کیوں نہیں بولتے؟۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا بہت ہی بے غیرت طبقہ ہے جو مدارس کے نام پر حرام کی روٹی کھاتاہے۔

یزید ثانی بن عبدالملک کے دور میں بچیوں سے نکاح کو جائز کیا پھر بنوعباس دور میں حضرت عائشہ کا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی کا جھوٹ گھڑا۔علماء حق، ریاست پاکستان، عوام اور صحافی یرغمال اسلام کو علماء سوء سے بازیاب کریں۔

وزیرستان و خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں کوئی خان ، نواب اور سردار ایسا تھا اور نہ ہی لوگ بے غیرت تھے اسلئے ان سے بہت بڑے معاشرتی اور عالمی انقلاب کی بڑی توقع ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv