پوسٹ تلاش کریں

کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔

مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ عورت کا فرض ”ستر ” پورا جسم ہے مگر محرموں کو اپنا چہرہ دکھاسکتی ہیں اور نماز میں بال نظر آئیں تو نماز نہ ہوگی۔مردوں کا گھٹنوں سے ناف تک فرض ”ستر” ہے۔ ستر کی دوقسم ہیں ۔ شرمگاہ مغلظ اور گھٹنا مخفف ہے۔جو بدریج ایک دوسرے تک لائٹ شیڈ سے ڈارک شیڈ کی طرح جاتاہے۔

والقواعد من النساء التی لایرجون نکاحًافلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

قرآن میں جن عورتوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے سنگار چمکائے بغیر تو اس سے کیا مراد ہے؟۔ فرض ستر کہاں گیا؟ اور زینت کا تبرج کیا ہے؟۔دوبئی میں برقعہ پوش عورتوں کا جسم ڈھکا ہوا مگر سینوں کی جھلک نمایاں دیکھی اور یہی تبرج ہے۔ مغرب کا ماحول بھی شرمگاہوں کیساتھ سینوں کو چھپاتا ہے۔ اگر چہرہ زینت اور فرض ہوتا پھر حج و عمرے میں اس کا کھلا رکھنا کیوں ضروری تھا؟۔ کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔
مولانا طیب طاہری شیخ پنج پیر کی یہ تصویر وائرل ہے اور لوگ پشتون کلچر کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔ دفاع نہ مخالفت مگر موقع غنیمت ہے۔ مذہبی طبقے کی جہالتوں کا خاتمہ کرنا ہے جنہوں نے اسلام کی غلط تصویر عوام پر مسلط کردی ہے۔میں خود بھی علماء حضرات کا ایک ادنیٰ شاگرد ہوں اور جو انہوں نے بتایا تو اس کو درست سمجھا اور عمل کیا لیکن جب عربی سمجھنے لگا اور قرآن وحدیث کو دیکھا تو یہ شرم محسوس نہیں کی کہ کل کیا کہتا تھا ؟۔ اصل خدا کی اطاعت ہے اور علماء ومفتیان خود عمل نہ کریں تو ان کی فقہ وتفہیم بھی رہنمائی کا وسیلہ ہے۔ لیکن جب یہ شیعہ پر قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگائیں اور اپنی کتابوں کا پتہ چلے تو چوتڑکو کھجائیں ؟۔پھر شیوخ نہیں شیاطین اور دجالین ہیں۔ فنڈز ملتا ہے تو بزرگ علماء ومفتیان شیعہ کوکافرقرار دیں ، پھر فنڈملنا بندتو مسلمان؟۔ انکے فتوؤں کو ان کی پچھاڑیوں ہی میں ڈالنا ہوگا۔
ــــــــــ

علامہ سید محمد یوسف بنوری کی
ایمان افروز کوشش کے نتائج

علامہ یوسف بنوری کا انتقال1977ء میں ہوا۔ دورۂ مصر کی یہ ویڈیو ہے۔ بنورینے شاہ فیصل سے کہاکہ” حرمین فحش مناظر پر پابندی لگائیں” تو سعودیہ نے عورتوں کو حجاب کا پابند بنایا۔1979ء کا ایرانی انقلاب حجاب لایا۔ ملا عمر کی نسبت موجودہ طالبان بدل گئے۔ کابل بازاروں سے ویڈیو زآئی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنا رویہ بدل دیا اورایران بھی تقریباً کافی بدل چکا، برطانیہ اور فرانس نے کالونیوں کو آزاد کیا تو کابل، عراق، ترکی، الجزائر اور برصغرپاک وہند پر خواتین کے پردہ داری پر گہرا اثر چھوڑا گیا پھر حکومتوں اور علماء ومذہبی جماعتوں نے ماحول کو بدل دیا تو اسلام کے احکام بھول گئے ۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ شرعی پردہ کیا ہے؟۔
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی نے لکھا کہ ”شرعی پردہ کوئی بھی نہیں کرتا ہے ۔ جہاں پردہ ہے یہ اشرافیہ کا پردہ ہے اور اس سے بہتر ہے کہ پردہ نہیں کیا جائے اسلئے کہ جن قوموں میں پردہ ہوتا ہے وہاں قوم لوط کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے جو زنا کاری سے زیادہ بدتر ہے”۔

صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا:” عورت کا نکاح سے پہلے کتنا جسم دیکھنا جائز ہے؟۔ جمہور کے ہاں ہاتھ و چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی نے شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھنا جائز قراردیا۔ علامہ ابن حزم کے نزدیک پورا جسم دیکھنا جائز ہے۔(کشف الباری شرح بخاری)

امام اوزاعی بنوامیہ کے دور کا تھا اور علامہ ابن حزم نے بھی قرطبہ یورپ میں صدیوں بعد بنوامیہ کے حکمرانی کے دور میں مذہبی مسائل بیان کئے تھے۔ لونڈیوں کی منڈیاں لگتی تھیں اور ان کے پردہ وغیرہ تو دور کی بات ہے جسمانی اعضاء کے ناپ تول کے ماہرین جنسی خواہشات کیلئے ہر غیر انسانی بے حیائی کا منظر پیش کرتے تھے۔ لیکن آزاد عورتوں کا کباڑہ مسلمانوں کے غلط مذہبی مسائل نے کیا۔ الجزائر کے مسلمان غنڈہ گردی سے گوروں کو پکڑ کر ترکی، ایران اور برصغیر پاک وہند میں غلام اور لونڈیاں بناکر بیچتے تھے۔ جاویداحمد غامدی نے امریکہ کو بالکل غلط مہذب فاتح قرار دیا اسلئے کہ جاپان پر ایٹم بم گرانے کے اکلوتے مجرم نے افغانستان ، عراق ، لیبیا، شام اور جہاں اپنے مفادات دیکھے بہت بدتمیزی اور ظالمانہ طریقے سے مخالفین کی تذلیل کی ہے لیکن تاریخ کے اوراق جایدغامدی کے چہرے اور سیاہ دل سے بھی زیادہ سیاہ ہیں۔ انسان زبان کے نیچے ہے۔

قرآن کا سادہ اور درست ترجمہ
آج تک نہیں ہوسکا ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO(سورہ النورآیت:60)

”اور قانونی وہ عورتیں جن کو نکاح کی امید نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتاریں اپنی زینت کو دکھائے بغیر۔ اور اگر پاکدامنی اختیار کرلیں تو ان کیلئے یہ بہتر ہے۔ اور اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

ایران متعہ اور سعودی عرب میں مسیار والی عورتوں کو نکاح کی امید نہیں ہوتی ہے تو ان کیلئے قانون کیا ہے؟۔ ایران میں ایک طرف جبری حجاب تھا اور دوسری طرف متعہ کے اڈے۔ سعودی عرب نے مسیار کی اجازت دی تو حجاب پر وہ پابندی بھی برقرار نہیں رکھی۔ آیت میں قواعد سے مراد بوڑھی عورتیں نہیں اور پھر زینت سے مراد کیا ہے؟۔ جہاں بہت ہی گرا ہوا ماحول ہے تو وہاں بھی شرمگاہ کیساتھ عورتیں اپنے سینے کو ڈھانپ لیتی ہیں۔

اگلی آیت النور:61میں جن افراد کے گھروں میں کھانے کی اجازت ہے تو یہی پردہ پوری دنیا میں رائج ہے نہ کم نہ زیادہ اور ہرچیز میزان میں ہے اور اچھی لگتی ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا:
” نہیں ہے حرج نابینا پراور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر کہ تم کھاؤ اپنے باپوں کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروںمیں، یا بھائیوں کے گھروںمیں،یا بہنوں کے گھروں میں،یا چچوں کے گھروںمیں، یا پھوپھیوں کے گھروں میں،یا ماموں کے گھروں میں،یا خالاؤں کے گھروں میں، یا جن کے گھروں کی چابیوں کا تمہیں اختیار ہے یا دوست کے گھر میں ۔ کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ”۔ (النور:61)

شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے پہلا اردو ترجمہ اور حواشی لکھے اور لکھ دیا کہ ”اندھا، نابینا اور لنگڑا میں حرج نہ ہونے سے مراد یہی ہے کہ جمعہ کی نمازاور جہاد سے وہ معذورہیں”۔ بات کیا ہے؟ اور مفہوم کیا نکالا؟۔ باقی مذہبی طبقات تو برائلر کی طرح ہیں۔

امام اوزاعی اور ابن حزم نے نکاح کیلئے لوگوں کو بے لباس کرنے کا بڑا گھناؤنا شرعی حکم جاری کیا۔ پھر جن کو نکاح کی امید نہ ہو تو متعہ و مسیار والوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یورپ کے لوگ دھوپ کھانے کی غرض سے بے لباس ہوتے ہیں اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں اوران کو اس حال تک پہنچانے میں مذہبی فقہ کا کردار تھا؟۔ افہام وتفہیم کیلئے وسیع میدان سجانا پڑے گا۔
ــــــــــ

فاطمہ نسومر خولة الجزائر

الجزائر پر فرانس کا1830ء میں قبضہ ہوا۔ فاطمہ نسومر مذہبی گھرانہ سید احمد کے گھر پیدا ہوئی۔ قرآن حفظ کیا۔ شادی کے بعد علیحدگی مگرخلع نہ ملا۔ سلطنت عثمانیہ کے ولی عہدکا رشتہ نہ لیا۔ فرانس کیخلاف جہاد کیا۔1863میں جیل میں فوت ہوئیں۔ الجزائری طاہر بن عاشور1879پیدا اور آزادی بعد1973میں فوت ہوا۔مختصر خطبۂ جمعہ سے بڑی شہرت مل گئی کہ” تمہاری عورتیں بازاروں میں ننگی ہیں ، تمہاری نماز میں کوئی خیر نہیں”۔

الجزائر کے مسلمان کبھی جہازوں میں لوٹ مار کرتے تھے ۔ عورتوں، بچوں کو غلام بناکر مختلف جگہ بیچتے تھے۔ آج ہمارا علم و کردار درست ہوگا تو تاریخ کا خوف غیرمسلموں کے دلوں سے نکلے گا۔ قرآن وحدیث کی درست تعلیمات دنیا کو پہنچے تو سعودی عرب ، ایران اور افغانستان سے زیادہ بہتر اسلام کا نفاذ جمہوری انداز میں دنیا بھر کے غیر مسلم کریں گے۔ اسلام کو مسخ کیا گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر

حسن الہیاری: السلام علیکم سسٹر کیا حال ہے ،ٹھیک ہیں؟
مریم: الحمدللہ سر جو ٹاپک چل رہا ہے اس کے لحاظ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب یہ کیا کہتے ہیں آپ کہ یہ اب ان کا فراڈ سامنے آ جائے گا کہ ان کے بعد کن کی تقلید ہو گی؟۔
الہیاری: وہ یہ تو ان کا رہبر تو ہے ، مجتبی صاحب رہبر ہیں۔
مریم: نہیں تو مجتبی صاحب کیسے رہبر بن سکتے ہیں؟ مطلب یہ کیا اتنے ان کا وہ لیول ہے کہ جس حد تک وہ تھے۔
الہیاری : خامنہ کا بھی کوئی لیول نہیں تھا۔
مریم : فراڈ سامنے آئیگا کون خمس دے گا اور بغیر خمس کے؟۔
الہیاری:فراڈ سامنے تھے ۔ یہ جھوٹ کے ماہر فراڈ سامنے آتا ہے تو کہتے ہیں یہ امریکہ کی سازش ہے پروپیگینڈا ہے ۔
مریم: بس تھوڑا کلیئر کرنا ہے جیسے میرے پیرنٹس اور بہت سے لوگ ہم آپ کو سنتے ہیں نا تو بہت سی چیزیں پتہ چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ٹریک سے اتر گئے ۔ جس طرح خامنہ ای کے بعد اللہ معاف کرے کہ مولا علی علیہ السلام کے جلوس میں انکے شبیہ، تابوت نکالے لوگوں نے اور ان فیکٹ ان کی تصویریں ہیں۔ یہ سب مطلب آگے کتنا زیادہ ہو گا ؟۔
الہیاری:دیکھیں ایرانی حکومت سر وائیو کرتی ہے یا نہیں۔ یہ نظام سروائیو کرنے والا نہیں۔ امریکہ کے پاس سٹریٹیجک پیشنز ہیں۔ یہ اپنے منصوبے طویل عرصے تک فالو کرتے ہیں پھر اس کو اپلائی کرتے ہیں۔ مثلا جیسے شام میں10،15سال جنگ تھی۔ آخر میں بشارالاسد کو نکالا گیا۔ تو ایران شام بننے کی طرف جا رہا ہے۔ اسی راؤنڈ یا نیکسٹ راؤنڈ میں چلا جائے گا لیکن ایک ولایت فقہیہ اور ایک نظام مرجیعت ہے۔ ایرانی حکومت سے نظام ولایت فقیہ بنی ہے۔ حکومت کیساتھ ولایت فقیہ بھی جائے گا ۔مرجیعت تو پہلے تھی جس کوخمینی نے کمزور کیا۔ مراجع کوکتے کی حیثیت سے دیکھتا، بڑا ذلیل کیا ،یہ لمبی داستان ہے کہ خمینی کا مراجع جیسے وحید خراسانی، صادق شیرازی، سید صادق روحانی ، آیت اللہ علی سیستانی سے رویہ کیسا تھا۔ کنٹرول تھا۔ غلام اور نوکر کی حیثیت سے تھی جو وہ کہے یہ وہی فتوی دیں گے۔ اپنا کام نکلواتا تھا اور اب بھی نکلواتا ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایسا نہ تھا۔ مراجع کی بڑی بڑی پاور تھی۔ ایران سقوط کر جاتا ہے تو ایرانی شیعوں کی دین داری کو بڑا نقصان پہنچے گاکیونکہ ایرانی عوام کاعلماء سے بہت کینہ دل میں ہے ۔ وہاں ملحداور دین دشمن افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ خامنائی کی پالیسی ہے۔ بہت سارے لوگ دین سے پھر گئے۔ اگر یہ نظام ٹوٹا تو ان کو کھلی چھٹی ملے گی کہ دین سے دشمنی ظاہر کریں۔ دین داری ایران میں پریکٹیکلی بہت کم ہے پاکستان کے مقابلے میں لیکن لانگ ٹرم میں دین کیلئے بہت بہتر ہے۔ یہ لوگ دین کو بدنام کر رہے تھے ۔اہلبیت علیہ السلام کے نام پر لوگوں پر ظلم، نوجوانوں کو یہ پھانسی دیتے تھے، یہ سلسلہ رکے تو دین کی بدنامی کا ٹرینڈ رکے گا تو لوگ دین کی طرف واپس آئیں گے۔ یہ حکومت گر جائے تو مراجع اور مذہب تشیع مزید کمزور ہو گا۔ لیکن ایران سے باہر پاکستان، ہند،عراق، دیگر ملکوں میں مرجیعت کو تقویت ملے گی۔ کیونکہ فی الحال مرجیعت بالکل ایرانی انٹیلیجنس کے قبضے میں ہے۔ اگر حکومت گر جائے تو مرجیعت کس کا کس سے شادی کر لے گی یعنی کس کی بیوی بنے گی مجھے نہیں معلوم کیونکہ مرجیعت کو ہمیشہ سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب کس کی سرپرستی قبول کریں گے مجھے نہیں معلوم۔ جو علما کہتے ہیں کہ مراجع ہمیشہ انڈیپنڈنٹ رہے ایسا بھی نہیں ۔
مریم: یہ ثواب کی مجالس جگہ جگہ۔ سارا ثواب پہنچتا ہے ؟۔
الہیاری: بدعتی انسان ، چاہے زندہ ہو یامردہ ۔ اس کی تعظیم، تعریف کرنا یہ شدت کیساتھ حرام ہے اور جو بدعتی کیلئے دعا یا تعریف کرتا ہے تووہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑتاہے۔ معاویہ اور یزید کیلئے ایصال ثواب لوگوں نے کیا، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنی بدبختی ہے جو منافق، ظالم اور بدعتیوں کیلئے کرے جنہوں نے دین کے عقائد کو فاسد کر کے اپنے آپ کو امام بنایا۔ ان کیلئے ایصال ثواب پر اللہ تعالی پوچھ گچھ کرے گا۔ فی الحال یہ فری ہیں جو مرضی کریں لیکن قیامت بھی حق ہے مرنا ہے۔
ــــــــــ

اسلام میں عورت کے حقوق پر خامنائی کی تقریر خواتین سے
سب سے اہم حق گھر کی خاتون بیوی کامحبت ہے۔ سب سے اہم ضرورت اور حق ان سے محبت کا ہے ۔ روایت ہے کہ مردوںکو بیویوں سے کہنا چاہئے: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ واضح اظہار کریں ۔وہ جانتی ہے پہلا اور بڑا حق گھر میں خواتین کا عدم تشدد ہے۔ پسماندہ مغربی ثقافت میں مردوں کے ہاتھوں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت ہیں۔ شوہروں کے ہاتھوں خواتین کا قتل ، بیویوں کی پٹائی مغرب میں ہے۔ یہ اہم ترین انحرافات میں سے ہے۔ اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو خوب مارتا ہے۔ یہ ثقافت رائج ہوجائے تو ایسی ہی ہوتی ہے ، وہ ایسے کام کرتی ہے ایسی ضد کرتی ہے، ایسے چڑاتی ہے کہ شاید شوہر کو غصہ آجائے اور وہ مارے، لیکن وہ مارتا نہیں ۔ جب یہ ثقافت رائج ہوجاتی ہے تو یہ اس شکل میں سامنے آتی ہے ۔ گھر کی منیجراور سربراہ خواتین ہیں۔ شوہر کا بچوں کی پیدائش کے اثرات سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں مدد کرنا ، گھر کے کام کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالنا چاہئے، مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ قدر دانی اس بات کی کہ ناکافی آمدنی کے باوجود، خواتین گھر کو چلاتی ہیں۔ اس نکتے پر غور کریں۔ کم لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ مرد کی آمدنی مثال کے طور پرایک مقررہ دفتری آمدنی ہے ۔ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں مگر گھر چلتا رہتا ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار ہوتا ہے ۔ یہ کون کرتا ہے؟ وہ کونسا ہنر ہے جو گھر کو چلاتا ہے؟۔

تبصرۂ نوشتہ دیوار
خامنائی کو حسن الہیاری بدعتی کہتا ہے تو طلاق بدعت وحلالہ پر کیا سمجھتا ہوگا؟۔ ایرانی شیعہ عورت کو سورہ النساء آیت19کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ الجزائری حافظہ فاطمہ کو خلع کا اسلامی حق نہیں ملا تو مجاہدہ بن گئی۔ اخلاق کا مسئلہ الگ ہے حقوق کا الگ۔ شرعی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نے دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلاف

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا پہلا قومی ترانہ اور تصوف کیخلاف امریکہ کی سازش

جگن ناتھ آزاد کی صاحبزادی مکتا لال
ہمارا پہلا قومی ترانہ

اے سرزمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمین پاک!

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سر بلند
پہنچا سکے گا اسکو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا علم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمین پاک!

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمین پاک!

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزا…

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو
آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے
اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے امید باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نہیں دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلافت

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن

اللہ نور السماواتِ والارضِ مثل نورِہ کمِشکاةٍ فِیہا مِصباح المِصباح فیِ زجاجةٍ الزجاجة کانہا کوکب دریِ یوقد مِن شجرةٍ مبارکةٍ زیتونةٍ لا شرقِیةٍ ولا غربِیةٍ یکاد زیتہا یضِیء ولو لم تمسسہ نار نور علی نورٍ یہدِ ی اللہ لِنورِہ من یشآء ویضرِب اللہ الامثال لِلناسِ واللہ بِکلِ شی ئٍ علِیم
(سورة النور آیت:35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، نور پہ نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کیلئے ہدادیت دے دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔

اِنّا عرضنا الامانة علی السموتِ و الارض و الجِبالِ فابین ان یحمِلنہا و اشفقن مِنہا و حملہا الاِنسان-اِنہ کان ظلومًا جہولاً (سور الاحزاب آیت72)

بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پرامانت کوپیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس کو اٹھالیا بیشک بڑا ظالم (اندھیرنگری میں) بڑا جاہل(انتہائی درجے کی جہالت میں) تھا ۔

اس کوہ گرنی کے دامن جٹہ قلعہ علاقہ گومل ٹانک میں میری پیدائش ہوئی
اور پھر قرآن و سنت کی بھی پوری سمجھ بوجھ نہیں تھی
مگر دنیا میں خلافت قائم کرنے کا عزم کیا تو میں بڑا ظالم جاہل تھا۔

سید عتیق الرحمن گیلانی

ــــــــــ
اے سر زمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندی حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
پاکستان کاپہلا قومی ترانہ… جگن ناتھ آزاد… عیسیٰ خیلوی
ــــــــــ

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
واِذ اخذ ربک مِن بنیِ ادم مِن ظہورِہِم ذرِیتہم واشہدہم علی انفسِہِم الست بِربِکم قالوا بلٰی شہِدنا ان تقولوا یوم القِیامةِ اِنا کنا عن ہذا غافِلِینOاو تقولوا اِنمآ اشرک ابآؤنا مِن قبل وکنا ذرِیةً مِن بعدِہِم افتہلِکنا بِما فعل المبطِلون (سورہ اعراف:172،173)

اور جب عہد لیاتیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں ان کی اولادسے اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ ۔ کہا:ہاں، ہم گواہ ہیں، یہ نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی یا کہو کہ ہمارے اجداد نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم انکے بعد انکی اولاد تھے، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا۔
ــــــــــ

یہی تھی زمین یہی تھا گویا آسمان
یہی تھا انسان یہی عتیق الرحمان
عہد الست یہی ملک کبیرپاکستان
لاالہ الا اللہ محمدرسولۖ آخر زمان
جٹہ قلعہ گومل دامن کوہ وزیرستان
احادیث صحیحہ ہیںسبھی تفسیر قرآن
ــــــــــ

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبیۖ یقول:الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف وما تناکرمنھااختلف ( صحیح البخاری حدیث:3336 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی ۖ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روحیں لشکروں کے لشکرکی شکل میں عالم ارواح میں ایک دوسرے سے اپنائیت رکھتی ہیں تو یہاں محبت کرتیں ہیں اور نفرت کرتی ہیں تو یہاں اختلاف کرتی ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کے ذریعے اسلام کی نشاة اول ہوچکی ۔ اب اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہے۔ عبداللہ بن مسعود ایک رات رسول اللہ ۖ کیساتھ گئے اور زمین کی ایک جگہ پر پہنچنے کے بعد زط یعنی جٹ قوم کی ارواح کو کچھ تہنیتی کلمات کہے تو وہ حاضر ہوگئے۔یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے مرکز پاکستان کی ا قوام متحدہ ہے۔ سندھی ، بلوچ ،مہاجر، پنجابی، سرائیکی، پختون اور کشمیری مولانا سندھی کی تفسیر مقام محمود (پارہ عم )میں واضح کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میری چاہت ہے کہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کروں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا نہیں ! آپ میرے بھائی نہیں ہو بلکہ میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ جب وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے تو مجھے ان سے مل کر انتہائی خوشی اور مسرت ہوگی۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
ــــــــــ

مآ اصاب مِن مصِیبةٍ فِی الارضِ ولا فِی انفسِم اِلا فِی کِتاب مِن قبلِ ان نبراہا اِن ذٰ لکِ علی اللہِ یسِیرOلِکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بِمآ اتاکم واللہ لا یحِب کل مختالٍ فخورٍO(الحدید آیت22،23)

نہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے (عالم ارواح میں یہ فلم پہلے چلا دی جسے آجAiکی وجہ سے سمجھنا بہت آسان ہے) دنیا میں معاملات رونما کرنے سے پہلے ۔بیشک یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔ تاکہ تم افسوس نہ کرو جو تم سے فوت ہوجائے اور جو اللہ نے دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔بیشک اللہ شیخی بگھارنے والے بد دماغ فخر کرنے والے کو پسند نہیںکرتا۔
ــــــــــ

ان آیات کی تفسیر و احادیث کی تشریح

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہ کا مطلب سبھی کرشمے اسی سے ہیں ۔ یہ حدیث قدسی زبان زد عام ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اگر آپ نہ ہوتے تو آسمانوں کو بھی میں پیدا نہ کرتا”۔ محدثین کے ہاں الفاظ نہیں ملا علی قاری نے مفہوم کے اعتبار سے درست قرار دیا ۔ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔ابلیس لعین اور حضرت آدم سے نبی رحمت خاتم الانبیاء ۖ تک ایک آئینہ ہے۔
مولانا تھانوی نے ”نشر الطیب فی ذکر حبیب ۖ” میں پہلا باب نبی ۖ کے نورپر لکھا کہ سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیااور حدیث ہے کہ ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم مٹی میں تھے”۔ نبیۖ کو اللہ نے رحمت للعالمین قرار دیا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ کے دونوں صفات میں رحمت ہے اور قرآن میں نبی ۖ کو مؤمنوں پر الرؤف الرحیم بھی قرار دیا ۔ قرآن مشرقی نہ مغربی ہے، لعان کی آیات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ناجائز حلالہ کی لعنت مدارس میں جاری ہو اور لعان کی آیت منبر ومحراب سے عوام کے سامنے نہیں آتی ہے تو یہ زیتون کے تیل سے چراغ جلانا تو دور کی بات ہے مٹی کے تیل سے بھی نہیں بلکہ نور نہیں مذہبی طبقہ ظلمت پھیلا رہاہے اور سود کو اسلام کے نام پر اضافہ کیساتھ جائز قرار دیا تو نور نہیں بڑا اندھیرا پھیل رہاہے۔ معاشی، معاشرتی ، روحانی اور سیاسی نظام سے قرآن کو بے دخل کردیا تو اللہ کا نور دنیا میں کیسے پھیلے گا؟۔

یہ نورتیلی جلائے بغیر بھڑکنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ البتہ سورہ احزاب میں واضح ہے کہ ایک ظالم جاہل انسان پوری دنیا میں یہ نور کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لے گا تو اللہ رحم کرکے دنیا بھر میں عدل کا نظام قائم کرے گا تویہ اس کا ذاتی کمال نہ ہوگا ۔ معصوم انبیاء علیہم السلام کیلئے قرآن یہ سخت گستاخانہ الفاظ کیوں کرتا؟۔ نبیۖ نے محنت و مشقت کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپۖ کی وجہ سے دنیانے نظام عدل ،آزادی اور انسانیت کو سمجھ لیاہے۔

انبیاء کرام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ طرف سے ان کا چناؤ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس قرآن اور اس کو ماننے والوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ہزاروی نے عالم ارواح میں اپنا موجودہ کردار خود چنا ہے ۔ ایک دن میں حلالہ کی لعنت کے خلاف قرآن ، حدیث اور فقہ حنفی کی درست تعلیم پیش کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان دلوں اور دلالوں نے قرآن وحدیث کا نور نہیں سود کو جواز فراہم کرنے کا کردار عالم ارواح میں چن لیا تھا اور اس پر عمل کررہے ہیں۔ میں نے الحمد للہ کہ یہی کردار چن لیا تھا جس پر میں بھی خوش ہوں اور یہ بھی خوش ہیں۔ کل حزب بما لدیھم فرحون ”ہر گروہ اس پر خوش ہے جو عقیدہ ،ماحول اور فرقہ اس نے اپنا رکھا ہے”۔ یہ انتخاب اس کی مرضی کا ہے۔

پہلے رائٹر ایک کہانی لکھتا ہے پھر فلم اور ڈرامہ بنانے والے اداکار اس میں اپنے لئے ایک معاوضہ کے تحت اداکاری کا عہد سائن کرتے ہیں کہ اس نے یہ کردار ادا کرنا ہے۔ عہدالست کی قرآنی آیت کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس شکل، گروہ اور نسل ونسب کے اندر اللہ کی ربوبیت کو ماننے کا اقرار کیا تھا اور اپنی اپنی جانوں کو گواہ بھی بنایا تھا۔ اللہ نے سورہ اعراف میں یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ ”ایسا نہیں ہو کہ قیامت کے دن تم کہو کہ ہمیں عہدالست یاد نہیں۔ یا یہ کہو کہ ہمارے پہلے والے اجداد نے جو ہمارے لئے ماحول بنایا تھا تو کیا ان کی وجہ سے تم ہمیں ہلاک کروگے جو باطل لوگوں نے ہمارے لئے بنایا؟”۔

قرآن میں اہل کتاب کو عہدالست کی دعوت ہے۔

قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا و لایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(ال عمران:64)

” کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس بات کی طرف جو ہم اور تم میں برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کریںگے مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور ہم اپنے میں سے بعض کو بعض اللہ کے علاوہ رب نہیں بنائیںگے۔اگر پھر گئے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔

عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی تو آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بناتے تھے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تمہارے علماء ومشائخ اپنی طرف سے حرام وحلال کے فیصلے کرتے تھے تواس کو آپ نہیں مانتے تھے؟۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ سارے دیوبندی مدارس نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی مخالفت کی لیکن پھر اس کو وفاق المدارس کا صدر بنایا۔ کیا یہ رب بنانا نہیں ہے؟۔ یہ شرک نہیں ہے؟۔

قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السماوات والارض ابصر بہ و اسمع مالھم من دونہ من ولیٍ ولایشرک فی حکمہ احدًا(سورہ کہف:26)
” کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا غیب ہے ۔اسکے ذریعہ دیکھ اور سن اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا”۔

اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ ”یہود پر ہم نے کسی چیز کو بھی حرام نہیں کیامگر خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کیا” مثلا ہفتہ کے دن مچھلیوں کاشکار تھا لیکن پھر نافرمانی کی توعذاب میں پڑگئے اور چھٹی کے دن مچھلی کے شکار کیلئے حیلہ زیادہ برا ہے یا سودی نظام کو اسلامی قرار دینا؟۔ یہود سے بڑھ کر تو مفتی اعظم لوگوں کا کردار ہے لیکن انہوں عالم ارواح میں اپنے لئے یہ کردار خود چنا ہے اور ان کے ماننے والے مذہبی اور دنیاوی طبقہ نے بھی۔

سورہ الحدید کی آیت میں ہے کہ زمین میں کوئی مصیبت آتی ہے یا تمہاری جانوں میں تو یہ پہلے سے لکھی جاچکی ۔تاکہ اس پر افسوس نہیں ہو ۔لیکن دنیا کا ایک دستور ہے۔ واقعہ ہوتا ہے تو اسکے شرعی، قانونی، روایتی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں۔

عبیدہ بن جراح نے پوچھا یا رسول اللہ ۖ ! ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ہم نے اسلام قبول کیا، آپ کیساتھ جہاد کیا؟۔ فرمایا ہاں ۔ ایک قوم ہے جو تمہارے بعد آئے گی وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ شیخ البانی نے کہا کہ دارمی ، احمد، حاکم وغیرہ نے نقل کیا اور صحیح قرار دیا ۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کن لوگوں کا ایمان عجیب ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: انبیاء ،فرمایا: ان کا کیوں؟ ان پر وحی نازل ہوتی ہے،عرض: فرشتوں کا!۔ فرمایا: وہ تو سب کچھ دیکھتے ہیں۔ عرض : پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ فرمایا : میں تمہارے اندر موجود ہوں اور وحی تمہارے سامنے آتی ہے۔ عرض : ہمیں نہیں معلوم۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: عجیب ایمان ان لوگ کا ہے جنکے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں اور تمہاری طرح ایمان ہوگا۔ ایک کو50افراد کی طرح ثواب ملے گا۔ عرض ہوا۔ ہم سے50یا ان میں سے؟۔ فرمایا: تم میں سے50کے برابر۔

من احیاھا فکانما احیا الناس جمیعًا۔

ایک کا بدلہ تمام انسانوں کے برابر تو ایک کی عزت حلالہ سے بچانے پر؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ بقرہ کی آیت228میں بڑی بڑی وضاحتیں

نمبر1:عورت کو حیض آتا ہو تو طلاق کے بعد عدت تین ادوار۔
نمبر2:حمل ہو اس کا چھپانا جائز نہیں ۔
نمبر3:عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے۔
نمبر4:عورت کے شوہر پر وہی معروف حقوق ہیں جو ان پرہیں۔
نمبر5:اورمردوں کا عورتوں پر ایک درجہ ہے۔

نمبر5:عورت پر مرد کا درجہ

سورہ بقرہ کے اس رکوع کا آغاز آیت222سے ہوا ہے۔ جس میں حیض کا سوال ہے۔ عورتوں کا اس پر اعتراض ہو گا کہ مرد کا ایک درجہ کیوں ہے؟۔ تو رکوع کے شروع میں حیض اس کا جواب ہے اسلئے کہ مرد کو حیض نہیں آتا ہے اورعورت کو آتا ہے۔ لیکن یہ فضل صرف صنف کے اعتبار سے ہے۔ فرعون کی بیوی افضل تھی۔ جس عورت میں کردار اور صلاحیت ہو تو حضرت مریم علیہ السلام اور پاک خواتین کے مقابلے میں بیکار مرد کچھ نہیں۔

ہندوستان کے پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ اس کو حیض آتا ہے۔ وہ مریم تھی اور خدا نے اسکے ساتھ مباشرت کی اور پھر وہ خود سے پیدا ہوا۔ یوں وہ مسیح موعود کے درجے پر فائز ہوگیا۔ اس سے بہت زیادہ گھناؤنا کردار اس کے موجودہ کم عقل جانشین کا ہے جس میں وہ سورہ تحریم میں دو مؤمن عورتوں اور دو کافر عورتوں کی مثال دیتا ہے کہ ہر مؤمن مرد کیلئے عورت ہونا اور اس کو حیض آنا ضروری ہے۔ جس پر ہوسکتا ہے کہ قادیانی عورتیں بہت خوش ہوں کہ اس دجال نے برابری کا بالکل حق ادا کردیا ہے۔

لیکن سورہ تحریم میں دو کافر عورتوں کا ذکر بھی ہے۔ یہ تو ایک واقعہ کی طرف رہنمائی ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کیلئے تنبیہ تھی کہ دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں۔ جن کو بھی مشعل راہ بناؤ ،یہ تمہاری مرضی ہے اور ایک خاص واقعہ پر تنبیہ تھی جس کی وجہ سے رسول اللہ ۖ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ قبطیہ کے حرام ہونے کا فرمایا۔ اللہ نے ”حرام ” کے لفظ پر دورِ جاہلیت کی حرمت کو ختم کرنے کیلئے ایک وسیلہ یہ واقعہ بنادیا تھا جس طرح سورہ مجادلہ میں ظہار کے مسئلے کو اللہ نے حل کردیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کو رشتہ کیلئے انتہائی غلط پیغام بھیجا اور غلط عربی کے الہام کا شیطانی ڈھونگ بھی رچایا۔ یہ چنگیز کی نسل تھا اور اپنے خون کےDNAکا تشدد اس میں بھی واضح کیا۔ جاوید غامدی اس نسل کو حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد اور امریکہ واسرائیل ، یورپ و روس کو قیامت تک اقتدار میں رہنے کی بکوا س کرتا ہے۔ نبیۖ نے نسل کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا لیکن قرآن منصب امامت و خلافت کیلئے حضرت ابراہیم کی نسل کو اس شرط پر بشارت دیتا ہے کہ جب وہ ظالم نہیں ہوں۔ پاکستان و افغانستان میں بنی اسرائیل و دیگر سام کی نسل ہیں اور سندھ وہند حام کی نسل کے نام پرہیں۔

نمبر4:برابری کا معروف حق

عورت اور مرد کے ایک دوسرے پر مساوی معروف حقوق کیا ہے؟۔ ایک ایک حق کی اللہ تعالیٰ نے بھر پور وضاحت کی ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے حقائق کو نظر انداز کردیا ہے۔

لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا لھا ماکسبت و علیھا ما اکستبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطأنا ربنا و لا تحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا ولاتحملنا مالا طاقتة لنا…

جاویداحمد غامد ی کا ترجمہ:” یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔(اس کا قانون ہے کہ ) اسی کو ملے گا جو اس نے کمایا ہے اور وہی بھرے گا جو اس نے کیا ہے۔ پروردگار ، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اس پر ہماری گرفت نہ کر۔ اور پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلوں پر ڈالا تھااور پروردگار ، کوئی ایسا بوجھ جس کو ہم اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے تو ہم سے نہ اٹھوا”۔ البقرہ:286

جب اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھرکیا مطلب ہے کہ ”ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال؟”۔

جس کو بھینس نظر نہیں آتی ہے اس سے امید کرتے ہیں کہ ہلال کا چاند دیکھے گا۔ جاویدغامدی کو اتنا بڑا تضاد نظر نہیں آتا اور دین کی بنیادوں کو بلڈوز کرنے پر مسلسل لگاہوا ہے۔

عربی میں تکلیف کا معنی مصیبت نہیں بلکہ اختیارات ہیں۔

لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا

” اللہ تعالیٰ کسی مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ یعنی اختیارات کی بنیاد پر پوچھ گچھ ہوگی۔ وزیراعظم ، آرمی چیف اور چوکیدار سے ان کی اپنی اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری کا پوچھا جائے گا۔ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں نے مکلف ہونے کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ رنگروٹ بھی آرمی چیف بننے کیلئے تیار رہتا ہے اور موالی بھی وزیراعظم سے زیادہ اپنی اہلیت کی بات کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انکے اپنے دائرہ کار کے مطابق مکلف بنایاہے۔

عورت اور مردوں کے ایک دوسرے پر معروف حقوق ہیں اور پورے قرآن میں اور خاص طور پر آیت228کے اندر اور اس سے گزشتہ کی چار آیات224،225،226اور227میں اور اس کے بعد کی چار آیات229،230،231اور232میں بہت واضح تفصیل ہے لیکن کم عقل نہیں سمجھتے۔

نمبر3:صلح کی شرط پر رجوع

طالب خفا اور مولوی خانہ خراب کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ ”عدت میں صلح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور دونوں کے حقوق ایک دوسرے پر برابر ہیں”۔

لیکن آیت229میں چوہے کی طرح حافظہ رکھنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ جب عدت میں رجوع کا حق اور برابری کے حقوق ہیں تو اللہ کیسے اپنی آیات میں تضادات ڈال سکتاہے؟۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ دارالافتاء پر ایک بورڈ لگادیتا کہ عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر اللہ نے شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے اور اس کی بیوی کی عزت حلالہ کے نام پر نہیں لوٹی جائے اور بس۔

لیکن آیت229البقرہ عورت کا اختیار ختم کردیا ۔ شوہر کی طرف سے کہہ دیا گیا کہ تین طلاق تو بس حرمت مغلظ ہوگئی اور بیگم صاحبہ کو حلالہ کرانے کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھائی صاحب جب آیت228میں بول دیا کہ عدت میں شوہر ہی زیادہ رجوع کا حق دار ہے لیکن مفتی بیٹھ گیا کہ یہ میرا حق ہے۔

حالانکہ آیت228میں اللہ نے دو صورتیں واضح کی ہیں۔ پہلی صورت اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع اور دوسری یہ کہ جب عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی ہو۔ آیت229میں انہی دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ پہلی صورت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع اور اگر عورت صلح کیلئے راضی نہیں ہوتو پھر ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔

لیکن مولوی دلّا ٹغ آیات228اور229میں معروف رجوع کے برابری کا حق نہیں سمجھتا ہے۔ اور اپنے لوگوں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ ان کی عزتیں قرآن کی غلط تشریح کرکے لوٹتا ہے۔جب مولوی قرآن اور اپنے معقتدین کی عزت سے ٹام اینڈ جیری کا کھیل کھیلے گا تو چوہے کو بلی کھا جاتی ہے اسلئے کہ وہ گھر میں تباہی مچاتا ہے۔ جتنے بڑے بڑے سنی علماء کا قتل ہوا تو اس میں شیعہ کو ملوث قرار دیا گیا۔ جبکہ سنی شیعہ کے خلاف اس بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں کہ وہ حلالہ کی لعنت کو نہیں مانتے ۔

عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو رجوع جائز نہیں ۔چاہے عدت کے اندر ہو یا ایک طلاق دی ہو اور آیت230کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو۔لیکن عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو معروف رجوع عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل بعدآیات231اور232میں واضح ہے۔

نمبر2:حمل چھپانا حلال نہیں

جب عورت کیلئے حمل چھپانا حلال نہیں ہے تو کیا علماء کیلئے اتنی ساری آیات اور ان کے واضح احکام چھپانا جائز ہیں؟۔

جب رجوع کا تعلق عدت کیساتھ اللہ تعالیٰ نے جوڑ دیا ہے اور حمل کی عدت میں تین مرتبہ طلاق کے عمل کا تصور نہیں ہے تو پھر اس کو مزید زیر بحث قرآن میں نہیں لایا گیا ہے۔ اسلئے کہ جب تک بچہ پیدا نہیں ہوتا ہے تو عورت انتظار کی پابند ہے اور شوہر کیلئے باہمی رضامندی سے منانے کا راستہ کھلا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدت گزرتے ہی رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے بلکہ اس دوران وہ کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ صلح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے لیکن بچہ پیدا ہوجائے تو بھی اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو اللہ نے عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ بہت واضح الفاظ میں بالکل کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن فتاویٰ کی کتابوں سے مسائل نقل کریںگے کہ اگر بچہ آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتا اور کم نکلا تو ہوسکتا ہے۔

جب تک بچوں کو نرسری میں الف ب،1،2،3گنتی اورA،B،Cنہیں آئے گی تو اگلی کلاسوں میں وہ فیل ہوں گے اسلئے ہم فی الحال صرف طلاق اور اس سے رجوع کے مسائل پر امت مسلمہ کو آگاہ کررہے ہیں تاکہ ان کی عزتیں بچ جائیں۔ جن علماء ومفتیان کو اپنے مسلک کی خواتین کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کی فکر نہیں تو وہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے بھی ڈھونگ ہی رچاتے ہیں۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے1972ء میں احمد آباد ہندوستان کے اندر ایک سمینار حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے منعقد کیا تھا جس میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہلحدیث اور بریلوی علماء نے شرکت کی تھی لیکن وہ مسئلے کے قریب پہنچنے کے باوجود اسلئے کامیاب نہیں ہوسکے کہ اس اقدام کو جراتمندانہ قرار دیا تھا۔ حالانکہ حلالہ کی لعنت سے امت مسلمہ کی جان چھڑانے میں کیا جرأت ہے؟۔

اب تو الحمد للہ ہماری مسلسل محنت کی بدولت علماء کرام کے دماغ بھی کھل گئے ہیں لیکن پھر بھی یہ عزیمت کا راستہ لگتاہے۔ جب پہاڑوں پر چڑھنے والوں کو لوگ دیکھتے ہیں تو مشکل سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن پہاڑوں میں چلنے کے عادی لوگوں کیلئے وہ کوئی مشکل نہیں۔ امید ہے کہ اب علماء ومفتیان ہمت کریںگے۔

نمبر1:عدت کے تین ادوار

الٹی گنتی میں نے اسلئے شروع کردی کہ کسی طرح سے بھی یہ حقائق علماء اور عوام کے دماغ میں بیٹھ جائیں۔ مفتیوں نے یہ بھی شروع کردیا تھا کہ ” لیٹرین کے وقت مقعد سے پھول کی طرح آنت نکلتی ہے اور اس کو دھوکر سکھایا نہیں گیااور مقعد میں فطرت کے مطابق آنت کا پھول واپس گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ اور علامہ شاہ تراب الحق قادری کے بعد دعوت اسلامی والوں نے عورتوں کو خاص طور پر اور مردوں کو استنجاء کرتے وقت اپنی سانس روکنے کا حکم بھی دیا تھا کہ اس سے بھی پانی معدے میں داخل ہوکر روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ شکر ہے کہ اب نظر نہیں آتے مگر کھل کر عوام کو علمی حقائق نہیں بتانا بھی گونگے شیطان کی بڑی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت اور ہمت عطا فرمائے۔

آیت226میں طلاق کا اظہار نہ ہو تو چار ماہ کی عدت ہے اور آیت228میں تین ادوار یا تین ماہ کی عدت ہے۔ لیکن مسٹر چوہا بھول جاتا ہے اور آیت229میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کا درست تصور دینے کے بجائے ایک بڑی غلطی کرتا ہے کہ شوہر کو دو مرتبہ طلاق رجعی کا غیر مشروط حق دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے شوہر ایک نہیں چار عدتوں کا مالک بن جاتا ہے۔ جب تک معاملہ نہیں سمجھ میں آتا تھا تو مسئلہ نہیں تھا۔ اب معاملہ سمجھ میں آگیا ہے تو بھی زبان نہیں کھولنی ہے اور اپنی خواتین کو حقوق سے محروم کرنا ہے اسلئے کہ حضرت عمر کا درست فیصلہ عوام کو سمجھ میں آئے گا اور طلاق بدعت کے نام پر گالیاں بھی نہیں پڑیں گی؟۔ پھر تو ایران اور شیعہ مار کھاتے رہیں گے اور اپنے لوگ بھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ شیعہ و سنی دونوں نے قرآن کے احکام کو اپنے مسلکوں اور فرقہ پرستی کے بھینٹ چڑھادیا ہے۔ جب لوگوں کو اسلام سمجھ میں آجائے گا تو جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس بینگن اور آلو بیچنے کا کام شروع کریںگے اور مفتی تقی عثمانی کے بیٹے رکشہ یا گدھا گاڑی چلائیں گے۔ اہل لوگوں کو چندوں کے مال پر بننے والے تمام اثاثہ جات پر بٹھادیا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز بہت ہی جلد۔

پاکستان میں دیندار ، باصلاحیت اور مخلص لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن جس گدھے کے بچے اور مفاد پرست کو دیکھو تو وہ ذمہ دار عہدے پر بٹھادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نظام بالکل ہی کھوکھلا ہوچکا ہے اور اس کا ملبہ گرنے سے پہلے اس کا درست بندوبست کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

متضاد افکار … سمجھ اپنی اپنی

ساقی امروہوی

میں پیمبر نہ سہی ہوں تو پیمبر جیسا
کوئی گھر بھی نہیں ویران میرے گھر جیسا
اہل دل، دل کی نزاکت سے ہے واقف ورنہ
کام لفظوں سے بھی لے سکتے ہیں خنجر جیسا
میری وسعت کا بھی اندازہ بہت مشکل ہے
ایک قطرہ ہی سہی ہوں تو سمندر جیسا
میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے کہ جو بنتا نہیں پتھر جیسا
ہم فقیروں کو کبھی راس نہ آیا ورنہ
ہم نے پایا تھا مقدر تو سکندر جیسا
ــــــــــ

جٹ شاعر کا جرأتمندانہ کلام

جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو
جب ایک انسان کی عظمت پر ایک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں ایک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
ہم اہلِ حرم ہیں، ہم اہلِ حرم ہیں
اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو
ہم لوگ انا الحق بولیں گے
ہم لوگ انا الحق بولیں گے
جب مسند و منبر پر بیٹھی ہر ایک نظر للچاتی ہو
جب صرف دکھاوے کی خاطر تسبیح ہی اٹھائی جاتی ہو
جب دین کے ٹھیکیداروں میں اک نفسِ امارہ باقی ہو
بے ذوق جہاں پر صہبا ہو، بے ذوق جہاں پر ساقی ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں
جب بلبل ہو تصویرِ چمن اور کوے گیت سناتے ہوں
جب چڑیوں کے ان گھونسلوں میں کچھ سانپ اتارے جاتے ہوں
جب مالی اپنے گلشن میں خود ہاتھ سے آگ لگاتے ہوں
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب شاہ کے ایک اشارے پر اپنوں میں نیازیں بٹتی ہوں
جب آنکھیں غربت ماروں کی حسرت کا نظارہ کرتی ہوں
جب قلمیں ظالم جابر کی عظمت کا قصیدہ لکھتی ہوں
جب حق کی باتیں کہنے پہ انساں کی زبانیں کٹتی ہوں
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
جب مصر کے ان بازاروں میں کنعان کو بیچا جاتا ہو
جب حرص و ہوس کی منڈی میں ایمان کو بیچا جاتا ہو
جب صوم و صلوة کے پردے میں قرآن کو بیچا جاتا ہو
انسان کو بیچا جاتا ہو، یزدان کو بیچا جاتا ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
اور جس دور میں کعبے والوں کو گرجا کے نظارے بھاتے ہوں
جس دور میں مشرق والے بھی مغرب کے ترانے گاتے ہوں
جس دور میں مسلم لیڈر بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہوں
جس دور میں سبقت غیرت کے اسباب عدم ہو جاتے ہوں
اس دور میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو
ــــــــــ

اسکول کے بچوں کا ترانہ

دعا کرو کے ظہور امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
علی کی تیغ کے جوہر کھلیں زمانے پر
تمام دنیا ہو اک تیغ کے نشانے پر
ہو ساری خلقِ خدا موت کے دہانے پر
جو غیب میں ہے وہ ظاہر امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
سنا کی نوک پے اٹھے گا قلعہ خیبر
کفن ہوا کا ملے گا نہ خاک کا بستر
اجل چباتی پھرے لاشِ مرحب و عنتر
جو ذوالفقار علی بے نیام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
حقیقی صورتِ اسلام بھی عیاں ہو گی
نگاہِ عدل زمانے کی پاسباں ہو گی
پھر ایک کلمہ یہاں ایک ہی اذاں ہو گی
پئے نماز جو حاضر امام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
کرے گی موجِ ہوا ظلم کو رسن بستہ
زمین بند کرے گی فرار کا رستہ
وہ برسے آگ جو درباریوں کو ہو سکتہ
اگر زبان فدک ہم کلام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو،دُعا کرو
نہ شرک ہوگا نہ الحاد و کفر کچھ بھی نہیں
خدا کے دین سے آباد ہو گی ساری زمین
ہر ایک ساغرِ نفسِ بشر میں ہو گا یقین
مقیم شہ رگِ جاں کا قیام ہو جائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
امام وقت کی آمد کے انتظار میں ہو
خدا ہی جانے کہ کس سانحہ بہار میں ہو
خیال وادی خضرا کے سبزہ زار میں ہو
وصول ان کو ابد کا پیام ہوجائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے
دُعا کرو، دُعا کرو، دُعا کرو
ــــــــــ

ٹاپ سٹی کے کردار پر حامد میر

اور پریس ریلیز کا پہلا پیراگراف ٹاپ سٹی کے بارے میں ہے، ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ2017کا معاملہ ہے۔ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ اس کے خلاف کارروائی کرنی ہے؟۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ2017میں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف تھے۔ تو وہ بھی ملوث تھے۔ نہ صرف یہ کہ فیض حمید نے سب کچھ ڈی جی سی کے طور پہ کیا بعد میں وہDGISIجنرل باجوہ کی مرضی اور منشا سے بنے۔ تو اس کا مطلب ہے کارروائی صرف جنرل فیض کے خلاف نہیں بنتی۔ کارروائی جنرل باجوہ کے خلاف بھی بنتی ہے۔ اور اس میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹاپ سٹی کا جو معاملہ ہے یہ سات سال تو ٹوٹل بنتے ہیں۔ تو دو سال تو جنرل عاصم منیر صاحب کو بھی ہونے والے ہیں نا۔ تو ان کو بھی دو سال کیوں لگ گئے؟ جبکہ سب کچھ ملٹری انٹیلی جنس تو پہلے ہی پتہ لگا کے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے پاس تو سب کچھ تھا۔ تو اس میں اتنی دیر کیوں ہو گئی؟ پھر نیب نے پچھلے سال جب جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کھولی کس نے وہ انکوائری بند کرائی؟ اس لیے ٹاپ سٹی کے معاملے میں سوال ہیں لیکن جوISIکی پریس ریلیز کا جو دوسرا پارٹ ہے جس میں کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ بہت سے معاملات میں ملوث رہے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان معاملات کی بالکل انکوائری کریں اور جنرل فیض حمید کو بے نقاب کریں۔ جو اس کے سہولت کار تھے ان کو بھی بے نقاب کریں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ جتنا نقصان جنرل فیض حمید نے اور جنرل باجوہ نے پاکستانی فوج کو پہنچایا ، اتنا پہلے کبھی کسی نے نہیں پہنچایا۔ یہ انہی دونوں شخصیات کا ڈالا ہوا گند ہے۔ ابھی جو فوج کی قیادت ہے کبھی کبھی اس گند کو صاف کرتے ہوئے اسکے چھینٹے ان کی بھی وردی پہ آ کے گرتے ہیں تو یہ سنہری موقع ایک گولڈن چانس ہے کہ صرف فیض حمید نہیں جنرل باجوہ کے خلاف بھی کارروائی کریں کیونکہ یہ دونوں فیض اور باجوہ ایک دوسرے کو ڈبل کراس اور دھوکہ دے رہے تھے۔ انسٹیٹیوشن کو بھی دھوکہ دیا ۔ مارچ اپریل2022میں تحریک عدم اعتماد آئی تھی۔ تو فیض حمید پشاور میں اپنی گیم کھیل رہے تھے اور باجوہ پنڈی میں اپنی گیم کھیل رہے تھے اور ڈی جیISIکو سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو باجوہ ٹھیک ہے یا جو پشاور والا، ٹھیک ہے نا؟ اور ان سب حقائق کے گواہ حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہیں اور میں یہ بات ایویں نہیں کر رہا۔ جو لوگ ایکشن لے سکتے ہیں ان کو پتا ہے کہ کس بندے سے فیض نے کیا بات کی اور کس بندے سے باجوہ نے کیا بات کی اور کور کمانڈر میٹنگز میں باجوہ کچھ اور کہتے تھے تو بہت بڑی ڈبل گیم کی دونوں نے مل کے چلیں شروعات کی ہے فیض سے۔ فیض کے خلاف کارروائی کریں اس کے بعد باجوہ کے خلاف بھی کریں۔
ــــــــــ

خلافت کا قیام : سعد نذیر

نکلو! پورے ملک میں خلافت کی تحریک چلاؤ۔ سیاست دانوں میں کوئی مرد مجاہد ہے تو وہ آگے آئے خلافت قائم کرائے۔ اگر چاہتے ہو یہ ملک بچے اگر چاہتے ہو فلسطین آزاد ہو اگر چاہتے ہو لیبیا ریوائیو ہو اگر چاہتے ہو پوری دنیا میں اسلام نافذ ہو اگر چاہتے ہو مسلمان کی عزت ہو یہ بے غیرتی کی زندگی چھوڑ دو۔ ڈرنا چھوڑ دو۔ کبھی امریکہ سے کبھی اسرائیل سے کبھی اپنی حکومت سے تمہاری فوج کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ تمہیں لڑایا جا رہا ہے فوج سے۔ اپنے آرمی چیف کو مجبور کرے۔ یہ سیاست دان نہیں اٹھاتے یہ بیڑا، یہ آرمی چیف اٹھا لے۔ کوئی تو آئے آگے مرد مجاہد۔ کوئی تو قائم کرے خلافت۔ نہیں تم لوگوں میں اتنی جرت تو سائیڈ پہ ہو جا ؤکسی اور کو کر لینے دو۔ لیکن اس کے بغیر گزارا نہیں ہے خدارا گزارا نہیں ہے۔
ــــــــــ

سعدیہ افضال: سنو ٹی وی

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم۔ ویلکم ٹو سنو ٹونائٹ ود سعدیہ افضال۔ تکمیل پاکستان سیریز کے نئے پروگرام کیساتھ حاضر ہیں۔ کلمے کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں ہم نہ اسلامی نظام نافذ کر سکے نہ ہی قرآن اور سنت کے متعین کردہ اصولوں کو اپنی زندگیوں میں اپنا سکے۔ ریاست صحت، تعلیم اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکس کے اضافی بوجھ تلے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ دو فیصد مراعات یافتہ اشرافیہ پاکستان کے وسائل پر قابض ہے۔ جبکہ ریاست پاکستان میں کمزور غریب اور بیکس کا استحصال گزشتہ76برسوں سے جاری ہے۔ مڈل کلاس ناپید ہے۔ سرکار کی نااہلی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انصاف کی فراہمی سب سے کٹھن مرحلہ بن چکا۔ گزشتہ ایک برس سے مزید سوا کروڑ سطح غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے۔ مہذب معاشروں میں امیر پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے تاکہ غریب کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ مگر پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں پر پسی ہوئی کلاس پر ٹیکس کا بوجھ اور اشرافیہ کو چھوٹ اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مساوات کا عمل بالکل ناپید ہو گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سرمایہ داروں کی نسبت تنخواہ دار طبقہ200فیصد زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی حکومت دو فیصد اشرافیہ کو سالانہ17اعشاریہ4ارب ڈالر کی مراعات فراہم کرتی ہے جن میں ٹیکس چھوٹ، صنعتوں میں بجلی، گیس کی سبسڈی، مفت پیٹرول شامل ہیں۔ کیا پاکستان کا قیام ایسے معاشرے کیلئے تھا جہاں غریب پر ٹیکس لگا کر اشرافیہ کو ریلیف دیا جائے؟ ۔ قیام پاکستان اسلام کے سنہری اصولوں کیلئے بھروسہ تھا کہ استحصال کا سلسلہ تھم جائے گا۔17ستمبر1944کو گاندھی کو خط میں آل انڈیا مسلم لیگ کا منشور قائد اعظم نے بیان کیا کہ قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ یہ جماعت سے فرد کے حقوق تک، اخلاق سے انسداد جرائم تک ہر قول و فعل پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔21مارچ1948ڈھاکہ کے خطاب میں جناح کا کہنا تھا کہ حکومت کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے۔ عوام کی بے لوث خدمت اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے مناسب تدابیر اختیار کرنا۔ اس کے سوا برسر اقتدار کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اگر اس کے علاوہ کوئی مقصد ہے تو ایسی حکومت کو اقتدار سے الگ کر دو۔ نبی پاک ۖ کی زندگی مساوات اور برابری کا ایک درس ہے۔ غزوہ خندق کے دوران اوروں کے پیٹوں پر ایک پتھر بندھا ہوتا تھا اور محمدۖ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ فتح مکہ اسلامی ریاست قائم ہوئی تو زکوٰة، عشر اور مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ کار طے پایا۔ جس کے بعد خلفائے راشدین کا دور آیا۔ حضور پاک ۖ نے پہلے تاجر کو ایماندار بنایا پھر سود کو ختم کیا۔ صاحب ثروت لوگوں نے حضور اکرم ۖ سے سوال کیا ہم کیا خرچ کریں؟ اس کا جواب قرآن نے دیا۔ جو ضرورت سے زائد ہے وہ دوسروں پر خرچ کریں۔ نبی پاک ۖ نے زندگی میں مساوات اور اپنی ضرورت سے زیادہ مال کو خرچ کرنے کی تلقین کی۔ جبکہ آج حکومت غریب پر ٹیکس کا نفاذ کرتی ہے۔ اور اشرافیہ کو ریلیف دے رہی ہے۔

تبصرہ نوشتۂ دیوار

پشتو زبا ن کی ایک لوک کہانی میں یہ گیت ہے کہ
سیف الملوک پہ کٹ کے پروت دا فریادونہ کوئی
بدر جمالہ پہ ہوا شوری سیلونہ کوی

ترجمہ:” سیف الملوک چارپائی میں پڑا فریاد کررہاہے اور بدر جمالہ ہواؤوں میں گھوم رہی ہے تفریح ماررہی ہے”۔اگر نظام کو نہیں بدلا گیا تو آخرکار عاصم منیر اور مریم نواز کایہی گانا چلے گا۔
ــــــــــ

صحافی فرزانہ علی: عورت مارچ

السلام علیکم۔ فرزانہ علی آفیشل آج میں بات کرنا چاہتی ہوں افغانستان، افغان خواتین سے متعلق خاص طور پر جنہوں نے آٹھ مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنی آواز اٹھائی۔ اسکے خلاف جسے طالبان رجیم کہتے ہیں۔ یہ رجیم ان پر مسلط کیا گیا تھا وہ تب سے یہ آواز اٹھا رہی ہیں۔ مجھے ہنسی آ رہی تھی بلکہ افسوس ہو رہا تھا، یہی خواتین تھیں جب فال آف کابل ہوا تو سڑکوں پر نکلیں اور احتجاج کر رہی تھیں تو ہمارا اسٹیٹ رن ٹی وی جو ہے وہ ان کے خلاف رپورٹنگ کر رہا تھا کہ یہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پر باہر نکلی ہیںاور احتجاج کر رہی ہیں تو اسلام دشمن قرار دیا گیاخواتین کو۔ اور مجھے یاد ہے کیونکہ میں بھی رپورٹنگ کیلئے دو تین دن کیلئے وہاں پہ گئی اور جب وہاں پر خواتین باہر نکلیں اور طالبان رجیم کیخلاف نعرے لگائے اپنی آزادی اپنے حقوق سلب کرنے کیخلاف آواز بلند کی تو ان پررجیم نے تشدد کیا،کچھ خواتین جو غیر سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھتی تھیں نے علامتی طور پر ایک برقعہ جلایا تو اس پر ہمارے ٹی وی چینلز یا بیٹھے ہوئے مبصرجو ایک خاص ایجنڈے پر اس وقت کام کر رہے تھے۔ تو انہوں نے اسلام دشمن اور دشمن ممالک کا ایجنڈا قرار دیا ۔لیکن آج میں حیران رہ گئی کہ ہمارے وہی اسٹیٹ رن ٹی وی کیا خبر چلا رہے ہیں؟

ذرا ملاحظہ فرمائیے الفاظ پر ضرور ضرور غور کیجئے گا۔ افغان خواتین تنظیموں کا تاریخی احتجاج طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ پھر بے نقاب ہو گیا۔ طالبان کے زیر اقتدار انسانی بالخصوص خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور ظلم و جبر جاری۔ یوم خواتین کے موقع پر کابل میں افغان ویمنز فریڈم موومنٹ اور افغان ویمن کرائی موومنٹ کا طالبان رجیم کی انتہا پسندی کیخلاف بھرپور احتجاج۔ خواتین نے روٹی، کام، آزادی اور ہمارا دشمن طالبان جیسے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ ایگزیکٹلی اسی قسم کے نعرے اس وقت بھی جب رجیم چینج ہوا تھا تو بلند کر رہے تھے لیکن اس وقت ہم کیا کہہ رہے تھے؟

ہمارے ٹی وی چینلز پر جو لوگ بیٹھے تھے ان میں خواتین بھی شامل تھیں ؟ کہہ رہے تھے کہ یہ دشمن کا ایجنڈا ہے جو خواتین لیکر سڑکوں پر نکلی ہیں، اسلام دشمن خواتین ہیںاور اس طرح کی یہ حرکتیں کر رہی ہیں اور آج بالکل الٹ۔ آج جب ہمارے اوپر پڑی ہمیں پتہ چلا کہ یہ طالبان ون اور طالبان ٹو کا جو ہم نے فنڈا کریئیٹ کیا کہ یہ مختلف ہے۔ مجھ جیسے لوگ یہی کہتے تھے کہ ہم غلط کر رہے ہیں اور ہم نے دیکھا کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں جو کچھ خیبر پختونخواہ میں ہوا اور آج نا ہماری بچیاں کرکٹ کھیل سکتی ہیں نا یونیورسٹی میں غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بن سکتی ہیں نا کام کر سکتی ہیں ان کو حلیے بدلنے پڑتے ہیں لیکن اس کے اوپر بھی ان پر تشدد ہو جاتا ہے۔ گلی گلی دہشت گردی، اسلام آباد اور پنجاب کی سرحد تک پہنچ گئی ۔ اگر ڈیرہ اسماعیل خان سے بھکر کی سرحد کا خودکش دیکھیں۔ ہم پر زندگی کتنی مشکل ہو گئی۔ آپ کوئی بات نہیں کر سکتے۔ انتہا پسندانہ سوچ ہمارے اندر رچ بس گئی۔ یہاں تک کہ حکومت بھی بعض اوقات سرنڈر ہو جاتی ہے ۔لیکن ابھی بھی ہمارا جو منافقانہ رویہ اور روش ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ کل ہماری خواتین اسلام آباد میں نکلی اپنی آواز بلند کرنے کیلئے تو ان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اپنایا گیا؟۔ اور یہ جو خبر ہے کہ افغان خواتین اپنے حق کیلئے بات کر رہی تھیں اور یہاں جو خواتین عورت مارچ کرنا چاہتی تھیں۔ آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا؟۔ تو وہ جو ہماری ایک منافقانہ روش ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔

اُم حسان نے کہا کہ ہم نے حیا مارچ کرنی ہے اور آپ نے عورت مارچ پرپابندیاں لگا دی۔ اور دفعہ144نافذ کر دی۔ اور دوسری خواتین کے حق کیلئے آ رہی تھیں آپ نے گرفتار کر لیا۔ تو یہ ہے ہمارا اصل چہرہ ہے اس پر بات کرنا چاہ رہی تھی۔ مجھے پتہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو یہ باتیں اچھی نہیں لگیں گی لیکن یہ حقیقت ہے۔ آپ مان لیں کہ آپ صرف ایجنڈا بیس کام کرتے ہیں آپ اپنی خواتین کو بھی تو آزادی دیں ناں۔ آپ نے عورت مارچ کو گالی بنا کے رکھ دیا۔ جب خواتین اس پر بات کرنا چاہتی ہیں تو انتہا پسند آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ آپ ان خواتین کومجرم اور ملزم بنا دیتے ہیں، جیلوں میں بند کر دیتے ہیں گرفتار کر لیتے ہیں یہ کون سا طریقہ ہے؟ ۔

آپ صرف ایجنڈے کے تحت ہی بات کریں گے؟ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اس انتہا پسند سوچ کو ختم نہیں کرتے جو بندوقیں لے کر آ جاتے ہیں کہ خواتین کے حق کیلئے کوئی بات نہیں کر سکتا اور ادھر آپ سرحد پر ان خواتین کو شاباشیں دے رہے ہیں؟۔ عجیب رویہ ہے۔ جس نے آج مجھے بات پر مجبور کیا۔ ہم بات کرتے رہیں گے۔ چاہے وہ آئین کے خلاف بات ہوگی ۔
ــــــــــ

انڈین خاتون کا حلالہ پر بیان

کسی بھی وجہ سے خاوند نے مجھے طلاق دی۔ بدقسمتی سے یہ احساس ہو ا کہ طلاق نہیں دینی چاہیے تھی۔ اسے واپس دوبارہ اپنے نکاح میں شامل کرنا ہے۔تو میرا نکاح کسی اور سے کروایا جائے گا۔ اب وہ چچا سسر ، ماموں سسر ہو سکتے ہیں، دیور، جیٹھ ہو سکتا ہے۔ تو حلالہ صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتا کہ کسی صرف دوسرے مسلمان مرد سے شادی کرنی ہے۔ ان کے ساتھ جنسی تعلق بھی قائم کرنا ہے۔ ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد پھر وہ دوسرا مرد مجھے طلاق دے گا، تب میرا پہلا شوہر مجھے اپنے نکاح میں واپس لے گا۔اس کو کہتے ہیں” حلالہ”۔تو آپ بتائیں کہ کیا یہ مسلمان بیٹیوں کے ساتھ ننگا ناچ نہیں ہے؟ ۔
ــــــــــ

عورت مارچ پر ڈاکٹر عارف

خاتون اینکر:مردوں کو کیوں تکلیف عورت مارچ سے؟
ڈاکٹرعارف صدیقی:مردوں کواسلئے تکلیف ہے کہ عورت میری بیوی ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، ماں ہے۔ اس کی توقیر پر حملہ ہو گا تو مجھے تکلیف ہو گی۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ جس آزادی نسواں کی یہ بات کرتی ہیں وہ قید نسواں ہے۔ وہ عزت نسواں نہیں، ذلت نسواں ہے۔ وہ عفت نہیں نگ نسواں ہے۔ وہ کمال نہیں، زوال نسواں ہے۔ جمال نہیں تباہی نسواں ہے اور حیات نہیں، مرگ نسواں ہے۔ ہمیں اسلئے تکلیف ہوتی ہے۔ آپ نے سلوگن کا کہا۔ سارے سلوگن نکال لیں،ایک آیت والا سلوگن بھی نکال کے دکھا دیں مجھے کوئی۔ یہ سلوگن کہاں تیار ہوئے؟ آرگنائزرز کون ؟۔ کوئی ایک پلے کارڈ پرسورة النساء کی آیت، حدیث تو ہونا چاہیے نا۔دیٹ واز پلانڈ کانسپیرسی۔ پھر مسجد کے تقدس کو، قاری صاحب کو نشانہ بنایا گیا، چرچ اور مندر کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ وجہ یہ ہے کہ آپ کا ٹارگٹ عورت مارچ کا ٹارگٹ مذہب اسلام ہے۔

خاتون اینکر:ایک سیکنڈ، آپ کا ٹارگٹ یا ان کا ٹارگٹ؟
ڈاکٹر:عورت مارچ والوں کا ٹارگٹ ۔ ناٹ فار یو۔

خاتون اینکر:میری مراد باہر کا ایجنڈا آپ کو لگ رہا ہے؟۔
ڈاکٹر:کہتے ہیں شطرنج کے کھیل میں کہ بیچارہ پیادہ تو ایک مہرہ ناچیز خود فرزیں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ۔ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ۔ سپانسرز کون ہیں؟ ایجنڈا کیا ہے؟ ٹریننگ کہاں سے ہوئی؟ سلوگنز کہاں سے بنے؟ پوسٹر ڈیزائننگ کہاں پہ ہوئی؟ دو باتوں کو ذہن میں رکھیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کون اس کا ویژن2020کیا ہے؟۔ اسکے تین بنیادی نکات ہیں میڈم۔

نمبر1:اسقاط حمل کو قانونی تحفظ دیا جائے ۔
نمبر2:ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
نمبر3:سزائے موت کو ختم کروایا جائے۔ پہلے دو شقوںکیلئےUNO، ذیلی اداروں سے دباؤ ڈلوایا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک،IMFکی شرائط ہیں جو ڈی پاپولیشن کی طرف لے جائیں۔UNOکا ایجنڈا مجھے یقین ہے کہ عورت مارچ کے کسی بھی آرگنائزر نے نہیں پڑھا ہو گا۔ ایجنڈا2030۔ کلیئر کٹ لکھتے ہیں کہ دنیا کی آبادی کو2030تک کم ترین سطح پر لانا ہے۔ ڈی پاپولیشن کیسے ہو گی؟18سال سے کم عمر شادی میں بڑی تکلیف ہے یورپ کو۔ شادی18سال کی عمر میں ہو تو30سال تک چار پانچ بچے کر کے انہیں اسٹیبلش کر چکی ہو گی۔ شادی30سال کی عمر میں ہو گی تو کتنے بچے ہوں گے؟ کب وہ سیٹ ہو گی؟ کیا ہو گا؟ اچھا یہ سارا کا سارا اسی لیے ہے۔ بچے دو ہی اچھے، یہ سلوگن ہے ان لوگوں کا۔ کیا سلوگن ہے؟ مجھے بتائیے ہم جتنے لوگ یہاں بیٹھے ہیں، اگر بچے دو ہی ہوتے ۔
ــــــــــ

جنیداور مولانا کے جذبات

ابوالفضل قاضی نے ایک بندے کی تقریر سنی۔ نبی ۖ کے بارے میں جو ایک کمزور جملہ کہہ گیا… معاذاللہ۔ تو قاضی نے کہا اس کو ابھی پھانسی دو۔ کوئی گواہ نہیں، عدالت نہیں لگی کیونکہ قاضی خود بیٹھے تھے۔ پھانسی پہ لٹکا یا قاضی صاحب کہنے لگے میرا ابھی خون ٹھنڈا نہیں ہوا۔ سزا تھوڑی دی ۔ اب مرے ہوئے کو ذبح کیا جائے۔ ذبح کیا، خون نکلا، کتا خون پینے کیلئے آ گیا تو کہا اب میرا دل ٹھنڈا ہوا کہا، کیا ہوا؟ کہا حضورپاک ۖنے فرمایا مومن کے خون کو کبھی کتا منہ نہیں مار سکتا۔ حضور پاک ۖ کی اس نے گستاخی کی تو ایمان نکل گیااور میں نے بالکل صحیح سزا دی اور گستاخ کی یہی سزا ہونی چاہیے۔ جو نبی ۖکے بارے میں نرم جملہ کہے اور جو حضور کی ختم نبوت کے بارے میں بات کہے اس کی سزا اسلام نے یہ بتائی ہے، اس کا سر کاٹ دینا چاہیے تاکہ زندگی میں دوبارہ اس کو کبھی مہلت نہ ملے۔ ( جنید فرط جذبات سے) اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الفاظ واختیار میں عورت کا تحفظ ہے قرآن میں عہد الست کانمونہ

عورتوں کا ترانہ : حبیب جالب

جہاں ہیں محبوس اب بھی ہم وہ حرم سرائیں نہیں رہیں گی
لرزتے ہونٹوں پر اب ہمارے فقط دعائیں نہیں رہیں گی
غصب شدہ حق پر چپ نہ رہنا ہمارا منشور ہوگیا ہے
اٹھے گا اب شور ہر ستم پر دبی صدائیں نہیں رہیں گی
ہمارے عزم جواں کے آگے ہمارے سیل رواں کے آگے
پرانے ظالم نہیں ٹکیں گے نئی بلائیں نہیں رہیں گی
ہیں قتل گاہیں یہ عدل گاہیں بھلا کس طرح سراہیں
غلام عادل نہیں رہیں گے غلط سزائیں نہیں رہیں گی
بنے ہیں جو خادمانِ ملت وہ کرنا سیکھیں ہماری عزت
وگرنہ ان کے تنوں پہ سجی قبائیں نہیں رہیں گی

اعزاز سید نے اپنے چینل پرڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب
WORKING WITH SHARK
شارک (خونخوار مچھلی کے درمیان کام کرنا) کی مصنفہ سے انٹرویو لیا ہے۔

قارئین ! یو ٹیوب پر اس کو ضرور دیکھ لیں۔مذہبی طبقات سے توقعات کے باوجود جس خوفناک منظر کا آئینہ دکھایا گیا ہے تو اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کتنی افسوسناک بات ہے ؟۔ یہ ڈاکٹر فوزیہ واقعی حبیب جالب کے خواب کا ایک مصداق ہیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حواء عالم انسانیت کے ماں باپ کو ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا اور پھر دونوں نے اپنی مرضی سے خلاف وزی کی تھی اور اسکے نتیجے میں جنت سے نکل گئے۔ پچھلے شمارے میںBBCکی رپوٹ کے مطابق ایک امریکن58سالہ خاتون کی بچپن کا واقعہ تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ جو اپنے چھوٹے بھائی کیساتھ بچپن میں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوئی اور گھر والوں نے بھی داد رسی کی آواز پر کان نہیں دھرے۔ پھر ایک مشہور تنظیم کو فون کرکے مدد طلب کی لیکن وہ مسیحا ہونے کے بجائے رپیسٹ ثابت ہوا تھا۔12سال کی عمر میں حمل ہوا اور پھر والدین کی اجازت سے اس کو بچہ جننے کی عدالت نے اجازت دی لیکن18سال سے قبل اس کو پھر طلاق نہیں مل سکتی تھی اور وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن بچہ جنوانے کی وجہ سے مجبوراً یہ کرنا پڑگیا۔

امریکہ اور مغرب میں سینکڑوں تنظیمیں حقوق نسواں چھوٹے بچیوں کی شادی کے خلاف کام کررہی ہیں لیکن انکے پاس کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔ اسلام کا وہ تصور جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے فتاوی عثمانی جلددوم میں پیش کیا ہے انتہائی گھناؤنا ہے اور وہ اسلام بالکل بھی نہیں ہے۔ چوہے، بلی اور کتیا کے ہاں بھی یہ مسئلے مسائل کو قانون یا شریعت کا نعوذ باللہ درجہ دیا جائے تو اس کے بارے میں قرآن نے واضح کیا ہے کہ ”وہ جانوربلکہ ان سے بھی بدتر ہیں”۔ امریکہ میں سیتاوائٹ نے عمران خان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور پھر جب ٹیرن وائٹ کے پیٹ میں ہونے کی خبر ملی تو عمران خان نے اس کو بیٹی کے طور پر قبول کرنا اپنی تذلیل سمجھا۔ سیتاوائٹ نے کہا کہ مجھے اس کا خرچہ نہیں مگر شناخت چاہیے لیکن عمران خان نے اپنی جان چھڑانے کی ٹھان لی اور آخر کار امریکہ کی عدالت میں کیس مثبت ثابت ہوگیا۔

عمران خان جب وزیراعظم تھا تو بھی اس کے بچے ملنے نہ آئے اور عمران خان جیل سے آزاد ہو یا نہیں؟۔ لیکن ٹیرن اس کے جرم کی قید میں پتہ نہیں کب تک سزا کاٹتی رہے گی؟۔ غلطی جب انسانوں سے ہوتی ہے تو اس کا تدارک کیاہے؟۔ حضرت آدم و حضرت حواء کے حوالے سے اللہ نے بنی آدم کو خبردار کردیا کہ شیطان تمہیں ننگا نہیں کردے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا تھا۔ قرآن کی تعلیمات کا یہ کمال ہے کہ حضرت آدم اللہ کے جلیل القدر نبی تھے اور لوگ حضرت حواء کے پیچھے برائی کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر اپنی مغلظات بکتے رہتے ہیں لیکن اللہ نے ان دونوں میں زیادہ تر ذمہ داری عورت پر نہیں مرد پر ڈالی:

عصیٰ اٰدم ربہ فغوی

” آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راستے ہٹ گیا”۔ (القرآن)جب بھی ایک بہت بڑی شخصیت کا کسی عام لڑکی یا خاتون سے غلط جنسی تعلق ہوگا تو اصل قصور وار عورت نہیں مرد کو ہی ٹھہرایا جائے گا۔ جانوروں میں بھی جنسی درندگی کا مظاہرہ مادہ کی طرف سے نہیں نر کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ قانون قدرت میں جب حضرت یوسف سوفیصد بے گناہ اور عورت گناہگار ہوتی ہے تب بھی سزا حضرت یوسف ہی نے کھائی اور بڑے مزے کیساتھ کھائی اور بڑی شان سے ایک دن اپنے مقام تک بھی پہنچ گئے۔ لیکن حضرت یوسف نے بوجوہ اس کی طرف انتہائی رغبت کے باوجود بھی اپنا دامن برائی سے بچائے رکھا ۔ ایک شادی شدہ تھی اور دوسرا جس کا گھر میں رہائش اور اس کے احسان کا معاملہ تھا تو کنارہ کشی اختیار کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت فرمائی۔

ولقد ہمت بہ و ہما بہا لولاان راء برہان رب

” اور تحقیق کہ اس عورت نے بھی اپنی نفسانی جذبے کی تکمیل کا عزم کیا اور وہی یوسف نے بھی کیا اگر رب کا برہان نہیں ہوتا”۔

ایک غیر نبی عام انسان خود کو بالکل بری الذمہ قرار دینے میں ہچکچاہت تک محسوس نہیں کرتا جو انتہائی بکواس ہے لیکن اللہ کانبی حضرت یوسف فرماتاہے وما ابری نفسی ” اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں”لیکن اللہ نے بچالیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:

الذین یجتنبون کبار من الاثم و الفواحش الا المم فلا تزکوا نفسکم

” اور جو لوگ بڑے گناہوں اور فحاشی سے اجنتاب کرتے ہیں مگر اللمم پس اپنی جانوں کی پاکبازی کا اظہار مت کرو”۔عربی لغات میںاللمم کا کوئی خاص ترجمہ نہیں ہے۔لیکن اللہ نے یہ کیوں کہا ہے کہ اپنی پاکبازی بیان مت کرو؟۔ تو عربی میں لم لم کیوں کیوں کو کہتے ہیںاور ہر آدمی اپنی جان سے واقف ہے۔

معاشرے میں ایک عورت کے بگڑنے کی دیر ہوتی ہے کہ مردوں کا بے شرم معاشرہ فلڈ کے کچرے کی ڈھیر کی طرح اُمنڈ آتا ہے جس سے دوسری خواتین کے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ چین و سکون کی جگہ بے اطمینانی،خلفشار اور لڑائی جھگڑوں کے علاوہ طلاق اور بسے بسائے گھروں کی بربادی ہوجاتی ہے۔

اگر قرآن کا قانون دنیا کے سامنے رکھا جائے تو سب اس پر اتفاق کرلیںگے کہ جب اس پر اپنے خاندان کی طرف سے اور عزیز واقارب اور پڑوسیوں کی طرف سے چار گواہ آجائیں تو اس کو اس وقت تک اپنے گھر میں نظر بند رکھا جائے جب تک کہ اس کی موت واقع نہیں ہوتی یا اللہ اس کیلئے کو ئی راستہ نہیں نکال دیتا ہے جو ایک شوہر اور جائز طریقے سے اس کی خواہش پوری کرنے کیلئے کافی ہو۔ اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا:

والٰتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشہدوا علیھن اربعة منکم فان شہدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت او یجعل لھن سبیلًاOوالذٰن یاتینھا منکم فاٰذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوعنھما ان اللہ کان توبًا رحیمًاO

ایک تو عورتوں کو بغیر قصور کے گھروں میں نظر بندکرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک عورت پر اس کے شوہر سے زیادہ کون غیرت کھا سکتا ہے؟۔ لیکن اللہ کا حکم ہے کہ اگر شوہر رنگے ہاتھ پکڑلے تو بھی اس کیلئے دو صورتیں ہیں۔ ایک گھر سے نکالے اور اگر سزا دینی ہو تو عدت میں لعان کرے گا۔ پھر اگر عورت ہی جھوٹی ہو اور جھوٹ بولے اور مرد سچا ہو اور سچ بولے پھر بھی اس سے سزا اٹھائی جائے گی۔ چودہ سو سال پہلے قرآن میں اللہ نے وہ قانون اتارا ہے جس کو مشرق اور مغرب کے ماحول سے کوئی بھی متاثر نہیں کہہ سکتا ہے۔ اگر عورت جرم کا اعتراف کرتی ہے تو اس کو سنگسار نہیں کیا جائے گا بلکہ قرآن میں100کوڑوں کی سزا واضح ہے۔ اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کی طرف سے ”سنگساری کیلئے کتاب میں چھپے ہوئے دلائل اور سورہ النساء کی آیت15کا حوالہ دیکھا جائے ”تو معلوم ہوگا کہ کس قدر جاہل لوگ تھے ؟۔

قرآن پرجھوٹ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما

” جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ہی سنگسار کردو”باندھا گیا ہے۔ اب قرآن میں بکواس کہاں فٹ ہوسکتا ہے؟۔ اس کے جواب کیلئے مزید بکواس کی گئی ہے کہ سورہ احزاب میں یہ آیت تھی اور آدھی سورہ احزاب غائب ہے جس کا حجم سورہ بقرہ جتنا تھا لیکن آدھی غائب کردی گئی ہے۔

جاوید غامدی تو سورہ النساء اور دوسری سورتوں میں بھی بڑی کٹوتی کے چکر میں ہے کہ اصل یہاں تک ہے ،باقی فالتو ہیں۔ اورجو اصل احکام ہیں ان میں بھی بڑا نقص سمجھتا ہے۔ قرآن کو اپنے خود ساختہ7ابواب میں تقسیم کرکے ماضی کا قصہ بنادیا ہے جس کی حیثیت عالم انسانیت کیلئے ہدایت کی نہیں رہی ہے۔

عربی میں ایک مادہ سے بہت سارے معانی نکلتے ہیں۔اور سورہ فاتحہ کو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرا یا جاتا ہے جس کی سات آیات ہیں۔ثانیہ لمحے کو بھی کہتے ہیں اور نماز کی مقررہ اوقات میں جس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیات کا حلف نامہ دوہرایاجاتا ہے اگر اس پر درست توجہ دی جائے تو نماز کے ذریعے مسلمان ترقی وعروج کی معراج تک پہنچ جائیں۔اسلئے اللہ نے فرمایا: ”بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے”۔ (القرآن)اگر دو مردآپس میں فحاشی کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم ہے اور اگر وہ توبہ کرلیں تو پھر ان سے اعراض کا حکم ہے۔

عورتوں کا طواف کعبہ، مروہ وصفا کی دوڑ،باجماعت پنج وقتہ نماز اورمعاشرے کے اندر مختلف معاملات میں اختلاط ہوتا ہے اور جہاں غلط لوگوں کی بالادستی ہو تو پھر عورت خود بھی احتیاط ہی کرتی ہے۔ حضرت عمر نے حالات کی نزاکت کو دیکھ کر بیوی کو رات کی تاریکی میں نمازباجماعت کیلئے نکلنے سے منع کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کو چھیڑنے کی تدبیر سے منع فرمادیا۔ چنانچہ جب اس کی بیوی نے ایک آدمی کی چھیڑ خانی کا سامنا کیا تو کہا کہ اب نماز کیلئے رات کی تاریکی میں مسجد جانے کا زمانہ نہیں۔ جبکہ حضرت عائشہ58ھ تک حیات تھیں اور اس وقت حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ فرمایا:” اگر نبیۖ یہ حالات دیکھتے تو عورتوں کو نماز کیلئے مساجد جانے سے منع فرماتے”۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے حکم دیا کہ عورتوں کو نماز سے منع نہ کرو۔

اللہ نے فرمایا:” اے نبی ! قل کہہ دو اپنی ازواج کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مؤمنوں کی عورتوں کو اپنے جلباب کو اپنے اوپر لپیٹیں اور احتیاط ہے تاکہ وہ پہنچانی جائیں تو اذیت نہیں دی جائے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ اگر منافق نہیں رکے اور جن کے دلوں میں مرض ہے وہ اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے توہم ان کے پیچھے آپ کو لگادیں گے پھر یہ تمہارے پڑوسی اس میں نہیں رہیںگے مگر کم عرصہ۔ یہ لعنتی لوگ ہیں جہاں کہیں ثقافت قائم ہوگی تو ان کو پکڑا جائے گا اور قتل کیا جائے گا۔ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کی سنت کو تبدیل نہیں پاؤگے۔ آپ سے انقلاب کا پوچھتے ہیں تو کہہ دو کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں کیا خبر کے انقلاب قریب آگیا ہو۔ بیشک اللہ کافروں پر لعنت بھیجتا ہے اور ان کیلئے دنیا میں سختی تیار کر رکھی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اپنا سرپرست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ اس دن آگ میں انکے چہرے گھما ئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم اللہ کی اطاعت کرتے اور رسول کی اطاعت کرتے ۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر بہت بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی پھر اللہ نے اسے اس سے بری کردیا جو وہ کہتے تھے۔ بیشک وہ اللہ کے نزدیک مقام رکھنے والا تھا۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور گناہوں کو معاف کیا جائیگا۔جس نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت عظیم کامیابی حاصل کرلی۔ ہم نے امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسکو اٹھایا اور بیشک وہ بہت بڑا ظالم اوربڑا جاہل تھا۔(سورہ احزاب:59تا72)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ان مع العسر یسرًا قرآن کا معاشرتی نظام ظلم کے خاتمہ کیلئے بڑی بنیاد بن سکتا ہے

مولانا فضل الرحمن جب ٹانک کی جامع مسجد سفید میں عوام سے ووٹ مانگنے کیلئے خطاب کرتا ہے تو لوگوں سے کہتا ہے کہ ”اسلام کا نظام بہت نرم ہے اور لوگوں نے سخت مشہور کیا ہے۔ ایک آدمی کسی عورت اور مرد کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے تو اگر اس نے عدالت میں اس کے خلاف گواہی دی اور چارگواہ نہیں لاسکا تو اس کو80کوڑوں کی سزا ہوگی۔ اگر دو افراد نے دیکھا تو بھی ان کو سزا ہوگی اور تین افراد نے دیکھاتو بھی گواہی پر ان کو سزا ہوگی ۔ اس سے زیادہ نرمی کیا ہوسکتی ہے؟۔یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ چار افراد بیک وقت فقہ کے شرائط کے مطابق کسی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ سکیں؟،تو اسلام نرم ہے ناں”۔

جہاں بچہ بازی میں لوگ ملوث ہوں تو مغرب سے بڑھ کر فحاشی پھیلاتے ہیں لیکن سورہ نور میں واضح ہے کہ بیوی کو شوہر رنگے ہاتھوں پکڑلے تو قتل نہیں کرسکتااور لعان میں بیوی جھوٹ بولے اور شوہر سچا ہو تب بھی عورت کو سزا نہیں ملے گی۔ یہ اسلامی حکم مولانا فضل الرحمن اس وقت عوام کو بتائے گا کہ جب لوگوں میں مارنے کی غیرت نہیں ہوگی۔ طالبان کے جبری داڑھی رکھوانے کو اسلام قرار دیالیکن جب اپنی اسمبلی علماء سے بھری تھی تو داڑھی منڈے اکرم درانی کو وزیراعلیٰ بنوادیا۔

قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف اور حدیث میں جٹ کا ذکر ہے اور جٹ دانشور کا دعویٰ ہے کہ ابراہیم جٹ تھے۔ عربی میں جٹ ” زط ”۔بنی اسرائیل کے انبیاء اور بادشاہ ابراہیم کی نسل تھے ۔ ووھبنا لہ اسحق ویعقوب نافلة ”اور ہم نے اسحق اور یعقوب کو عطا کردیا انعام کے طور پر”۔

جٹ ، راجپوت ،بلوچ اور کرد کاشجرہ ابراہیم سے ملتاہے۔ سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ و افغانستان میں بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کا شجرہ نسب ابراہیم سے ملتا ہے۔ بھٹو کا تعلق راجپوت سے ہے اور نصرت بھٹو کا تعلق کردصلاح الدین ایوبی کے شجرہ نسب سے ملتا تھا۔ علامہ اقبال نے ابراہیم کی اولاد سے امیدپر شاعری کی ہے۔مولانا سندھی نے یہاں کی تمام قوموں کو عجم کا مرکز اور اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنیاد قرار دیا۔ جاویداحمد غامدی فضول بکواس کرتا ہے کہ قیامت تک اولادِ ابراہیم کو حکومت نہیں ملے گی اسلئے کہ حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد سے قرآن میں اللہ نے وعدہ کررکھا ہے۔

سندھ اور ہند حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹے تھے جبکہ حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی اولاد سے تھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جب میں پہلی مرتبہ چیچہ وطنی کیلئے ٹانک سے ملتان کی بس میں1978ء میں تونسہ شریف کے اسٹاپ کھانے ، نماز وغیرہ کیلئے پنجاب کی سرزمین پر اترا تو ہوٹل سے باہر نکلتے ہی لوگوں نے پیچھے سے قمیص اٹھائی ہوئی تھی اور قریب قریب رفع حاجت کیلئے عریاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے یہ کلچر بہت عجیب لگااور پھر چیچہ وطنی میں سرعام پدو مارنے کی رسم وریت دیکھی۔ جب ہم لیہ میں آئے تو میرا بھتیجا ارشد حسین شہید نیا نیا آیا اورٹیوشن کے وقت جب تک پدو کی آوازپر اس کی ہنسی نہیں چھوٹ جاتی تھی تو اس کی وجہ سے طلبہ نے بمباری کا سا سماں باندھ دیا تھا۔

مسند احمد، صحیح مسلم ، تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20جلال الدین سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔

عبداللہ بن مسعود سے مسنداحمد، صحیح مسلم اور دیگرمیں ہے: ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فنطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا

حدیث کی مختلف روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایا۔ پھر ایک جگہ پر لکیریں کھینچ کر فرمایا کہ اس کے درمیان سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے اور پھر نبیۖ نے کچھ خوش آمدیدی کلمات کا ذکر کیا تو کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ان کے کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو اپنے ساتھ سواری پر لے گئے۔ پھر وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے اور ننگے تھے۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو درد محسوس ہورہاتھا زیادہ سوار ہونے کی وجہ سے۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات قرار دیا ہے اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم کا ذکرہے جن میں کچھ بصرہ میں موجود ہیں۔ جاوید غامدی کے والد ساہیوال کے گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔

اعتراض اٹھا گیا کہ مسلمانوں کی تاریخ خاموش ہے اور اس پر اٹھنے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں ۔ عبداللہ بن مسعود کی بات کا انکار بھی نہیں کرسکتے ۔صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی ہوتی ہے تو دنیا میں اس کا اثر پڑتا ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ہے اورسورہ حدید میں دنیا کے اندر رونما ہونے سے پہلے کتاب میں سب لکھنا واضح ہے ۔ سانئس مزید ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کو قبول کرناDNAسے ثابت ہوگا۔ بدھ مت کی نساء رحیم کا انٹرویو شمس الدین حسن شگری نے کیا تھا جس کے کچھ اقتباسات ہم نے دئیے تھے۔ جس کا کہنا تھا کہ وہ روحانی طور پر ماضی میں جھانک لیتی ہیں۔

علامہ اقبالنے ہندوستانی بچوں کا گیت لکھا ہے۔

چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
یونانیوں کو جس نے حیران کردیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم وہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میراوطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسمان سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے

میر عربۖ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

بندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینا
نوح نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

عبداللہ بن مسعود سے امام مہدی کے حوالے سے بھی بہت سی روایات منقول ہیں۔ وزیرستان کے لوگ سرائیکیوں کو جٹ کہتے ہیں اور سرائیکی قوم کو پاکستان میں مرکزیت حاصل ہے۔ ممکن ہے کہ رسول اللہۖ نے عبداللہ بن مسعود کے سامنے وہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا نقشہ پیش کیا ہو اور زمینی حقائق پر مستقبل کیلئے گواہ بنایا ہو اسلئے کہ عبداللہ بن مسعود نے حضرت عثمان کی شہادت کے آثار سے پہلے وفات پائی اور عدل وانصاف کیلئے امام مہدی کی نشاندہی فرمائی جو نہ نبی ہوگا اور نہ رسول اور معصوم لیکن دنیا کو نظام عدل سے ظلم و جور کے بعد بھر دے گا۔ ارواح کی تمثیل زمینی حقائق اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے اللہ نے دکھائے ہوں گے۔ جیسے واقعہ معراج میں آسمانی حقائق دکھائے تھے۔ ہم بزرگوں کی پیشگوئی مانتے ہیں قرآن وحدیث کی نہیں؟۔

اقم الصلوٰة لدلوک الشمس الی غسق اللیل و قراٰن الفجر ان قراٰن الفجر کان مشہودًا ومن اللیل فتہجد بہ نافلة لک عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًاO
”اور نماز قائم کرسورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن ،بیشک فجر کا قرآن گواہی کیلئے سمجھنا اصل معاملہ ہے اور رات میں تہجد کی نماز تیرے لئے نفل ہے، ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمودسے نواز ے”۔

فجر کودماغ تازہ،دل صاف اور طاقتوراعصاب کی بدولت فجر کاقرآن بیشک مشہودیعنی اس کا درست مفہوم سمجھ میں آتاہے جبکہ سارا دن کام کاج کی وجہ سے دماغ اور تھکے ہوئے اعضاء سے درست مفہوم تک کماحقہ رسائی نہیں مل سکتی ہے۔ مغرب و عشاء کی نماز فرض اور تہجد کی نماز نفل ہے لیکن نفل میں بھی بہت توقیر اور انعامات ہیں۔ البتہ فرض اور نفل میں واضح فرق ہے۔ ہاں اصل چیز فجرکے وقت قرآن کو سمجھنے کیلئے اپنا قیمتی وقت ہے اور اس سے فجر کی نماز یا اس کی لمبی تلاوت مراد لینا انتہائی درجہ حماقت ہے۔ فجر کے وقت تازہ دماغ کے ساتھ کوئی چیز سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت سمجھ کی اہمیت بالکل واضح ہے۔

علامہ اقبال نے ایک طرف یہ کہا تھاکہ
جب تک نہ ہو تیرے دل پہ نزول کتاب
نکتہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف

اور پنجابی مسلمان کے بارے میں فرمایا تھا کہ

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

جس دن پنجاب کو ایک اچھا مرشد واقعی مل گیا تو پھر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، غلام احمد قادیانی، بریلوی، دیوبندی اور بھٹو، نواز شریف اور مرشد عمران خان کو چار چاند لگانے والی جٹ قوم کا نہ صرف اپنا مستقبل روشن ہوگا بلکہ اس خطے کی ساری اقوام سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری اور افغانی کی بھی تقدیریں بدل جائیں گی۔ جب میں چیچہ وطنی میں پہلی بار گیا تھا تو مجھے بریلوی دیوبندی کی تمیز نہیں تھی۔ کافی وقت کے بعد جب میری اقبال آرائیں کلاس فیلو ”آرائیں بوٹ ہاؤس”سے شناسائی ہوگئی تو اس نے مسلک پوچھا۔مجھے مسلک کا پتہ نہیں تھا۔ پھر اس نے کہا کہ تم لوگ قبروں کو پوجتے ہو؟۔میں نے کہا کہ نہیں، ہم وہ والے نہیںتو اس نے کہا کہ پھر تم دیوبندی ہو اور بتایا کہ ”یہ پیر جی کی مسجد ہے۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مفتی محمود یہاں آتے ہیں۔ میں نے بھائی جان امیرالدین کے سامنے مولانا نورانی کو مشرک کہا تو بڑے ناراض ہوگئے۔ نورانی نے قبروں پرسجدہ ، پوجا پاٹ نہیں صرف فاتحہ کو جائز قرار دیاتھا لیکن فرقہ پرستی پاکستان کی بہت بڑی بیماری ہے۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود میں لکھ دہا ہے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ امام ابوحنیفہ کے اصل مسلک کے مطابق ہی ہوگی جس میں قرآن کو ترجیح دی جائے گی اور ایران بھی اس کو قبول کرلے گا کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت امام باقر، جعفر صادق اور زید کے شاگرد تھے۔ ایرانی انقلاب کو موقع ملالیکن اپنی عوام تک کو بھی خوش نہ کرسکے۔ عراق اور برصغیر پاک و ہند کے شیعہ کو ولایت فقیہ پر متحد نہ کرسکے۔ بارہ امام پر تیرواں امام خمینی تھا تو یہ اہل سنت کا مسلک تھا اسلئے کہ شیعہ خدا کی طرف سے امام کے تقرر کے قائل ہیں لیکن خوش آئند کہ ایرانی شیعہ سنی بن گئے اور برصغیر پاک وہند کے سنی اور دنیا بھر کے سنی شیعہ بن گئے اسلئے کہ خلافت قائم کرنے کے بجائے امام مہدی کی امید پر بیٹھ گئے۔ یہ عقیدہ نہ تھا لیکن نو مسلم عیسائیوں اور دودھ پیتے مجنونوں کی طرح لیلائے مفادات کیلئے حقائق کو مسخ کردیا۔

شیعہ کو امام مہدی غائب کے ظہور کے بعد بھی مشکل سے یقین آئے اسلئے کہ گیارہ اماموں نے اگرچہ کامیابی حاصل کی لیکن یہ لوگ ناکامی کاوایلا کرتے ہیں۔امام علینے ابوبکر وعمر اور عثمان کی حمایت کا حق ادا کیا اور لوگ گالی گلوچ اور مسخ شدہ وہ تاریخ ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں جس کی نالائقی قرآن کے تحفظ پر مطمئن نہیں۔نوجوانان جنت کے سردار حسن و حسین کا صلح اور اپوزیشن میں نمایاں کردار میں یہ تضادات کے قائل ہیں لیکن عقیدہ یہ رکھتے ہیںکہ معصومین قرآن کی طرح متضاد نہیں ہیں۔

وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج ملة ابیکم ابراہیم ھو سماکم المسلمین من قبل و فی ھٰذا لیکون الرسول شہیدًا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس فا قیموا الصلوٰة واٰتوالزکوٰةواعتصموا باللہ ھو مولٰکم فنعم المولی ونعم النصیرO

اور اللہ کے احکام میں جدوجہد کا حق اداکرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تمہارے لئے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی ۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر ہو ،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اس میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ کو مضبوط تھام لو۔وہ تمہارا مولیٰ ہے بہترین مولیٰ بہترین مددگار۔

سورہ حج کی اس آخری آیت سے مراد اہل تشیع اپنے ائمہ لیتے ہیں کہ اللہ نے ان کو منتخب کیا ہے اور سنی کیا مراد لیتے ہیں ؟ تو ان کو اپنے آپ ہی مراد لینا چاہیے تھا لیکن طالب اور مولوی سوچتا ہے کہ ہم اگر حکمران بھی بن جائیں تو تب بھی زکوٰة لیںگے لیکن دیں گے کبھی نہیں۔ پھر کیسے خود کو مراد لیںگے؟۔

اللہ تعالیٰ شیعہ سنی کیلئے قرآن کو ہدایت کا ذریعہ جلد بنائے اور ان کو فرقہ پرستی اور جنگوں کی موت کے کنویں سے نکالے۔ اب اس مشکل دور میں اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ لیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امیر المؤمنین ملا محمد عمر کا خواب مولانا نورانی نے بتایا تھا

حضرت مولانا شاہ احمد نورانی نے جلسہ عام میں فرمایا: یوٹیوب کی کلپ :یہ قاتل ہے۔ ہم نے بڑے ادب سے ان سے کہا کہ آپ دیکھ لیں امریکہ بڑا ظالم ہے اس کے ظلم سے بچنے کیلئے کوئی تدبیر نکالئے۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ اُسامہ کو دے دو اور ٹھکانے بتاد و اور یہ کردو وہ کردو۔اور آپ کوئی تدبیر سوچیں انہو ںنے کہا کہ ہم تدبیر سوچتے تھے کہ کچھ نہ کچھ تو بیچ میں سے کوئی رستہ نکالیں ۔ لیکن امیر المؤمنین ملا عمر نے کہا کہ ہم سوچتے تھے کہ کوئی راستہ نکالیں جان بھی بچ جائے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔لیکن ہم نے رات کو خواب میں دیکھا کہ دروازے کھل گئے۔(نعرہ رسالت: یار رسول اللہ کی گونج) آسمان پر نور برس رہا ہے۔ رحمتوں کی گھٹا آرہی ہے اور سنہری جالیوں کے دروازے کھل گئے ہیں۔ دونوں جہانوں کے تاجدار سبز گنبد سے سنہری جالیوں سے گزرتے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔ اور کہا خبردار صلیبی جنگ کا چیلج دے دیا گیا ہے۔ پیچھے نہیں ہٹنا۔ مقابلہ کرتے رہو اللہ کی مدد اور نصرت پر یقین رکھو۔ تم اگر ایمان کے ساتھ ایمان کی قوت سے لڑتے رہے تو اللہ رب العزت تمہاری مدد ضرور فرمائے گا۔ بدر کے مجاہدوں کی مدد فرشتے بھیج کر کی۔ بدر کے313مجاہدوں کو مکہ کے ایک ہزار ہندو بت پرستوں پر فتح ہوئی۔ کیسے فتح ہوئی؟۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے313مجاہد رسول اللہ ۖ سید المجاہدین امیر المجاہدین کی قیادت میں جب میدان بدر میں اترے اور کفر کے مقابلے پر ڈٹ گئے عزیمت کے ساتھ تو اللہ رب العزت کے فرشتے بھی قطار اندر قطار اترنے لگے اور اللہ کی نصرت اور مدد آگئی۔
ــــــــــ

پاکستان افغانستان میں جنگ نبیۖ کی زیارت اور تعبیر

نحمدہ ونصلی عل رسولہ الریم۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من رآنی فی المنام فقد رآنی ان الشیطان لا یتمثل فی صورتی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا بے شک اس نے مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا ہے۔ اور جتنے بھی انبیاء آئے، کسی کی صورت میں بھی شیطان نہیں آ سکتا ہے۔ مولانا محمد قاسم عثمانی حفظ اللہ نے ایک خواب دیکھا ہے، اس کے بارے میں یہ گروپوں میں چل رہا ہے کہ کوئی اس کی تعبیرکرے۔ مولانا محمد قاسم صاحب نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ۔

نمبر1:نبی پاکۖ کواور دائیں طرف میں کھڑا ہوں اور بائیں طرف نبی پاک ۖ کھڑے ہیں۔ اور ہم دونوں خاموش ہیں۔ افغانستان کی طرف سے ایک فوج اڑتا ہوا آ رہا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اڑنے والا فوج کا مثال مجاہدین کی ہے۔ یہ مجاہدین جو آج کل ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اور یہ جو کشیدگی پاکستان اور افغانستان کے مابین چل رہی ہے۔ پاکستان والے خود کو طاقتور اور افغانستان والے خود کو طاقتور سمجھتے ہیں۔ اشارہ دونوں کی طرف ہے۔ یعنی ہر ایک پرواز میں ہے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا ”میں اس چیز کا اجازت ان دونوں کو نہیں دیتا ہوں کہ اس طرح کرے”۔ یعنی ایک دوسرے کو مارنے کی۔پہلا تو یہ ہے کہ مجاہدین کا اڑتے ہوئے آنا اور اس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔

نمبر2:نبی پاک ۖکے پاس جب یہ مجاہدین پہنچے اور نبی پاک ۖکے اردگرد گھومنے لگے۔ تو اس سے مراد کا جواب یہ ہے کہ اردگرد گھومنے سے مراد دونوں جماعت مسلمان ہیں۔ پاکستان والے بھی مسلمان ہیں اور افغانستان والے اور دونوں حق پر ہے۔ اور ہر جماعت والے کہتے ہیں کہ میں مارا جاؤں گا تو شہید کہلاؤں گااور دونوں کا دین” دین اسلام” ہے۔

نمبر3:مولانا صاحب آپ نے کہا اس لشکر کا جو طالب علم امیر تھا اسکے ہاتھ میں عصا یالکڑ تھا۔ تو میں نے وہ عصا یعنی لکڑ لے کر کہ نبی پاکۖ کو پیش کیا۔ تو نبی پاک ۖنے مجھے فرمایا کہ آپ ان کو منع کر دو اور روک دو۔ یعنی اس جنگ سے ان کو روک دو۔ تو اس کا جواب ہے کہ جنگ سے روک دو۔ یعنی جس کو روکنے کی طاقت ہے یعنی روک سکتا ہے اس میں علما کرام ہیں، خواہ حکمران ہے یا پاکستان کے وزیراعظم ہے، صدر ہے یا فوج ہے جو بھی روک سکتا ہے وہ روکے اور اپنا کوشش کرے اور اس طرح نبی پاک ۖ نے امت کیلئے ایک پیغام بھیجا ہے۔ یہ پیغام افغانستان اور پاکستان کیلئے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کی جانیں مفت میں جا رہی ہیں۔ دونوں طرف سے ہم لوگوں کے مجاہدین شہید ہو رہے ہیں۔ تو ہم لوگوں کا حق اور ہم لوگوں کا کردار یہ ہے کہ نبی پاکۖ کی بات پر توجہ دیں اور اس بات کے اوپر عمل کرے تاکہ ہم لوگ راہ راست پر چل سکے۔

نمبر4:مولوی صاحب آپ نے جو نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ ان کو روک دو۔ آپ ان کو منع کر دو۔ یعنی اسے غیب سے منع کر دو۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا میرا ٹوپی نہیں ہے۔ میرا ٹوپی نہیں ہے۔ مولانا صاحب اس ٹوپی سے مراد وہ مجاہد ابھی تک نہیں آئے ۔ یعنی وہ مجاہد سے مراد امیر ہند ہے۔

نمبر5:پھر مولوی صاحب آپ نے نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ اپنا ٹوپی لے آؤ۔ جواب: نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ میرا ساتھ ایک یا دو آدمی آ جاؤ۔ یعنی ایک یا دو سے مراد اس امیر کیلئے ایک یا دو لشکر کی ضرورت ہے۔

نمبر6:ہم لوگ ابھی ادھر کھڑے تھے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ موسی کلیم اللہ کہاں ہے؟ موسی کلیم اللہ تو پیغمبر ہے اور اللہ کا نبی ہے۔ تو میں نے کہا کہ وہ موسی کلیم اللہ ہے اور موسی کلیم اللہ آ رہا تھا جب میں نے کہا کہ موسی کلیم اللہ وہ ہے تو موسی کلیم اللہ وہاں رک گئے اور موسی کلیم اللہ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر آ رہا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنے والا جو امیر مجاہد ہے وہ بہت سخت مزاج ہوگا۔ اور اس کے الفاظ بھی بہت سخت اور خود مزاج میں بھی بہت سخت ہوگا۔ وہ امیر ہند۔

نمبر7:وہ لشکرجو موسی علیہ السلام کے پیچھے تھا وہاں رک گیا تو جواب یہ ہے کہ امیر مجاہد کے پیچھے بڑا لشکر ہوگا مددگاروں کا۔

نمبر8:نبی پاک ۖ روانہ ہوئے تو میں بھی پیچھے روانہ ہوا اور نبی پاک ۖ اونچی جگہ پر چڑھ گئے، میں نے دل میں سوچا کہ ہموار زمین سے جاؤں مگر زیب نہیں دیتا کہ نبی پاکۖ اوپر زمین سے چلے گئے اور میں نیچے کی زمین سے چلا جاؤں۔ اور محبوب خدا سخت زمین سے گئے ۔ میں ہموار زمین پر چلوں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ علماء کے دلوں میں خوف ہے مسلمان ظالموں اور کافروں سے۔ اگر ہم لوگ سچائی کو بیان کریں اور حق کی بات کریں تو یہ ظالم اور کافر ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ اس دور میں دین پر چلنا بہت مشکل ہے، ہم لوگ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن جو نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتا ہے تو اس کیلئے بہت آسان ہے اور وہی کامیابی پر ہے۔ مولوی صاحب آپ صاحب فضیلت ہو۔ آپ نے حضرت محمدۖ کے نقش قدم پر چلنے کو اختیار کیا۔ آپ کا پہلے سے مرتبہ بڑھا ہے، آپ عالم ہو۔ اس خواب کے بعد آپ کا مرتبہ اور بھی بلند ہوگا۔ آپ دین اسلام پر ثابت قدم ہو اور ثابت قدم رہو گے۔

نمبر9:مولوی صاحب آپ نے فرمایا کہ جس کھڈو ک یا کمرے میں نبی پاک ۖ گئے، وہ پھر نظر نہیں آئے۔ پھرمیں گیا اس چھوٹے سے کمرے میں اور دیکھا اس میں ایک کتا مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف ایک بلی ہے۔ یہ دونوں مد مقابل تھے۔ کتا بلی پر حملہ کرتا ہے تو بلی کے چہرے پر جتنے بال ہیں وہ سارے زمین پر گرتے ہیں لیکن بلی زخمی نہیں ہوتی ہے۔ مولانا صاحب جواب یہ ہے کہ کتا سے مراد کافر اور بلی سے مراد مسلمان ہیں ۔ کافر مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے۔ مسلمانوں کو شہید کرتا ہے اور دین اسلام پر حملہ کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے اور بلی کے بال گرتے ہیں زخمی نہیں ہوتی اور ان کا مثال اسی طرح ہے کہ کتا حملہ کرتا ہے مسلمانوں پر، ان کو شہید کرتا ہے لیکن مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہے، وہ اپنے دین پر ثابت قدم ہیں اور دین اسلام کو جو نقصان پہنچانے کا جتنا بھی کوشش کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو تھوڑا نقصان پہنچتا ہے لیکن اسلام کو ختم نہیں کر سکتا ۔ جتنا کوشش کرے اس کی مثال بلی کے بال گرنے کی طرح ہے، ظاہری تھوڑا نقصان ہوتا ہے لیکن اندرونی کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اور مسلمان مضبوط ہے اپنے دین کے اوپر، نہ دین کو کچھ نقصان ہوتا ہے نہ مسلمانوں کو۔

نمبر10:مولانا صاحب آپ نے کہا کہ بلی آئی میرے پیچھے کی طرف سے مجھ پر حملہ کیا۔ میں نے اپنا دایاں ہاتھ پہلے اس کی طرف پھینکا اور پھر بائیں طرف سے آیا توبائیں طرف سے اس پر ہاتھ ایسا پھینکا۔ مولانا صاحب جواب ہے کہ بلی کی مثال مسلمان بھائی کی ہے کہ علماء پر پیچھے سے وار کرتا ہے اور پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ مولانا صاحب خوش نصیب خوش قسمت ہے وہ آنکھ ہوتی ہے جو نبی پاک ۖ کی زیارت کرتی ہے۔ اور نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتی ہے اور نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ مولانا آپ ان کو روک دو۔ یہ کتنا بڑی بات کتنی بڑی فضیلت ہے اور آپ کیلئے بہت بڑا فخر کا مقام ہے مولانا صاحب۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے مراتب کو بلند اور مقام کو بلند فرمائے۔ مولانا صاحب اللہ تبارک و تعالی آپ کی زندگی میں برکت فرمائے۔ ہمیشہ مولانا صاحب آپ حق بیان کرتے ہو اور اسی حق پر ہمیشہ اللہ تبارک و تعالی آپ کی زبان کو توفیق دے کہ لوگوں کو ہدایت کیلئے بیان کرتے رہو۔ مولانا صاحب ہمیںبہت بڑا خوشی ہوئی کہ ہمارا ایک عالم جب پاکستان و افغانستان میں اتنی بڑی کشیدگی ہے جس کیلئے نبی پاک ۖ نے اپنا زیارت کروا کے ایک پیغام امت محمدی کیلئے بھیج دیا، اگر کسی کے اندر حق ہے تو اس خواب سے عبرت حاصل کرے اور جو شر پسند عناصر اس میں شر پسندی پھیلا رہے ہے تاکہ وہ اس سے توبہ کرے اور اللہ کے حضور میں معافی مانگے اور قیامت کے دن نبی پاک ۖ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔

تعبیر خواب از نوشتہ دیوار

اس خواب کی اصل تو معلوم نہیں لیکن تعبیر سے پتہ چلا ہے کہ جس نے خواب دیکھا وہ ایک عالم دین ہے اور اس نے جو کچھ بھی دیکھا ہے تو تعبیر کیلئے علماء سے درخواست کردی ہے۔

ہمیں جو تعبیر سمجھ میں آئی ہے تو اس میں رسول اللہۖ نے پہلے ایک کردار ادا کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ نہیں ہو۔ ایک طرف اڑتے ہوئے لشکر کی بات ہے۔ پھر اس کے ساتھ ٹوپی نہ ہونے کی بات ہے۔ افغانستان پگڑی والا ہے اور پاکستان فوجی ٹوپی والا۔ سنت کا منبع دونوں کے پاس نہیں۔ رسول اللہۖان کو منع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر وہ منع نہیں ہوتے۔اور نبیۖ دین حق کیلئے بلندترین راستہ اپنانے کی رہنمائی فرماتے ہیں اور بعض علماء نہ چاہتے ہوئے بھی اس راہ کو اپنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر وقت کے فرعونوں کیلئے وقت کے موسیٰ امیر الہندسے جس کو تعبیر کیا ہے مگریہ امام مہدی کے کردار کی طرف اشارہ ہے جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ جیسا وہ بنی اسرائیل کا ایک شخص ہے۔ یہ ایک بہت بڑے انقلاب کی طرف اشارہ ہے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ قرآن کی درست تفسیر کرنے سے قاصر ہیں تو خواب کی درست تعبیر کریں؟۔

والفجرOولیالٍ عشرٍOوالشفع والوترO و اللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرٍOالم تر کیف فعل ربک بعادOارم ذات العمادO……فصب علیھم سوط عذابOان ربک لبالمرصادO(سورہ الفجرآیات1سے14)

ہم رمضان کے آخری عشرے کے دس دن جفت وطاق کے چکر میں پڑتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ فجر سے کیا مراد ہے؟ اور رات جب آسان ہو سے کیا مراد ہے؟۔ جسکے بعد ان قوموں کا فرعون اور فسادیوں تک ذکر ہے۔ جس پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس گیا اور یہ اللہ گھات لگائے ہوئے ہے؟۔

یہ فتح مکہ کے انقلاب کی خبر تھی اور آئندہ کے انقلاب عظیم کی بھی خبر ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا کہ ”مہدی کی اصلاح کی رات بہت طویل عرصہ پر مشتمل ہوگی”۔

سورہ اللیل واللیل اذایغشی والنہار اذا تجلٰی میں13سالہ مکی اور فتح مکہ سے پہلے8سالہ دور اور یہی واللیل اذا یسر ہے۔

جب رسول اللہۖ کا خواب میں ایک جگہ غائب ہونے کا ذکرہے اور پھر مغرب کی جانب کتے اور مشرق کی جانب بلی کا مقابلہ ہے تو یہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے جس میں ایران کی قیادت اڑادی گئی لیکن اسٹرکچر محفوظ رہا۔ پھر بلی نے کراچی اور گلگت میں پاکستان پر حملہ کیا لیکن نقصان نہیں پہنچا سکی۔ البتہ دین حق کیلئے عزیمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایک عربی چینل پر یہ خواب دو سال پہلے آیا تھا کہ رسول اللہۖ امام مہدی کے گھر جاتے ہیں اور اس پر غصہ ہوتے ہیں۔ وہ اٹھنے کے قابل نہیں ہوتا ہے پھر نبیۖ سہارا دیکر اٹھاتے ہیں۔ مکہ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی قبر کے پاس لے جاتے ہیں۔ جبکہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے اپنی تفسیر بلغة الحیران میں اپنے مرشداستاذ مولانا حسین علی کے بارے میں لکھا کہ ” رسول اللہ ۖ گرتے ہیں اور وہ تھام لیتے ہیں”۔ خواب کی تعبیر میں رسول اللہۖ کا بیمار دیکھنا اور گرنا دراصل دیکھنے والے شخص کے دین میں عیب ہے۔ مولانا حسین علی دین سے گرتے ہوئے بچ گئے لیکن ان کے بہت ساروں کی توحید وڑ گئی ہے۔ جن کو سیدھی راہ پر آنا ہے اور یہ خواب کی تعبیر ہم نے جو سمجھی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

سورہ الزمر میں دنیا کی چھوٹی قیامت کا ذکر ہے۔ مؤمنوں کو زمین کی وراثت ملے گی۔ بجلی کے جھٹکے سے آسمان و زمین کا ہرباشندہ ہل جائے گا مگر جس کو اللہ چاہے گا ۔ہابیل کے قتل اور صحابہ کی لڑائی سے ابھی تک فرشتوں کا سوال درست تھالیکن یہ انقلاب اصل جواب ہوگا جس سے فساد و خونریزی رکے گی۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی شہباز بیابانی!
اے شیخ بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv