پوسٹ تلاش کریں

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم

اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو ۔اللہ کی کتاب کی پیروی تم پر لازم ہے اور انکے علاوہ تمہارے لئے حلال ہیں( النساء)

سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ، پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO

”اور عورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ، تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے اورحلال ہیں جو ان کے علاوہ ہیں تمہارے لئے کہ تم اپنے اموال کے بدلے ان کو ڈھونڈو ان سے معاہدے کی پابندی کیساتھ نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے پس جو تم ان سے فائدہ اٹھاؤ تو جو معاوضہ طے کیا ہو فرض تو وہ انہیں دیدو۔ اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے کہ معاوضہ طے کرنے کے بعد کمی بیشی پر راضی ہوجاؤ۔ بیشک اللہ بہت جاننے والا بہت زیادہ حکمت والا ہے”۔ النساء:24

گوجرانولہ کے ڈاکٹر پروفیسر اورنگزیب صاحب پاکستان کی ایک معروف شخصیت اور سائنسدان ہیں۔ وہ ایک بہت اچھے عالم دین، تفسیر، حدیث، اصول فقہ اور اسلامی تاریخ کے بہت ماہر شخصیت ہیں۔ ایک دفعہ گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ”آیت کی تفسیر کا فیصلہ آیت کے آخر کی بنیاد پر ہوتا ہے”۔

اب سوال یہ ہے کہ

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم ……النساء :24

میں اگر ہم آیت کے آخری حصہ کو دیکھ لیں تو کیا نظرآتاہے؟۔

آیت کے آخری حصہ پر تفاسیر میں اختلاف ہے کہ متعہ مراد ہے یا نکاح ؟۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں الی اجل مسمی کے الفاظ بھی ہیں۔جس کا مطلب متعہ اور مقررہ وقت ہے۔ اصول فقہ میں امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک بیان ہوا ہے کہ ”خبر واحد کی آیات خبر واحد کی احادیث سے زیادہ معتبر ہیں”۔

امام شافعی خبر واحد کی آیات کو قرآن میں تحریف سمجھتے ہیں۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ میں عقیدے کا کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن مدارس کے درس نظامی میں امام ابوحنیفہ کے نام پر بکواس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی القضاہ امام ابویوسف نے امام ابوحنیفہ کے مسلک سے انحراف کیا تھا۔

عبداللہ بن مسعود سے بخاری ومسلم میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ ۖ سے عرض کیا کہ ہم خصی نہ ہوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں!، ایک دو چادر کے بدلے میں کسی عورت سے متعہ کرلو۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ

یا ایھا الذین اٰمنوا لاتحرموا طیبٰت ماحل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لایحب المعتدینO

”اے ایمان والو! تم پاک چیزوں کو حرام مت کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔اور حد سے نہ بڑھو اور بیشک اللہ حدسے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے ”۔ المائدہ:87

صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور صحیح مسلم میں ہے کہ ابن مسعود نے حوالہ دیا۔

رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام فیضانِ صحبت کی وجہ سے صحابہ کہلاتے ہیں۔ مدارس اور خانقاہوں کی صحبت کا اپنا ایک بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مدارس اور خانقاہوں کی کوئی ہوا نہیں کھائی ہے تو ان کی گمراہی کا اندازہ بہت جلد لگ سکتا ہے۔

کسی حکم کی علت نکالنا جاویداحمد غامدی جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے جو مدارس اور خانقاہ کی صحبت کے جھوٹے اور بے بنیاد قصے سناتے ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں متعہ کی علت بیان کرتے ہوئے آیت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اللہ نے یہ حلال کیا ہے تو اس کو حرام نہیں قرار دے سکتے ۔ ابن مسعود کے خلاف یہ بہتان ہے کہ وہ آخری دو سورتوں کو نہیں مانتے تھے ۔ جاویدغامدی نے یہ سلسلہ قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی کمی کرنے کی بات کی ہے کہ سورہ النساء اور فلاں سورة اصل میں اتنی ہے اور باقی قرآن نہیں ہے۔ قادیانیت سے بڑی دجالیت غامدیت ہے۔ جس کو اغیارکی وجہ سے مسلط کیا جارہاہے۔

عبداللہ بن عباس کی طرف ایسی روایات بھی منسوب ہیں کہ الی اجل مسمٰی کے بارے میں کہتے تھے کہ ایسی ہی نازل ہوئی تھی مگر صحیح بات یہی ہے کہ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور کچھ دیگر صحابہ بطور تفسیر اس طرح پڑھتے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب اللہ میں ملکت ایمانکم کا تصور کیا ہے؟۔ اگر آیت کے آخر سے متعہ مراد لیا جائے تو پھر یہ بھی متعہ ہے۔ سعودی عرب میں مسیار کا قانون رائج ہے اور اس پر متعہ اور ماملکت ایمانکم ہی کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ محصنات سے کون مراد ہیں؟۔
اس کی تفسیر پر بھی صحابہ میں اختلاف تھا کہ کیا کون مراد ہیں؟ لیکن اللہ نے ”کتاب کی پیروی کو لازم قرار دے دیا”۔

ھو الذی انزل علیک الکتٰب منہ اٰیٰت محکمٰت ھن ام الکتٰب و اُخر متشٰبھٰت فاما الذین فی قلوبھم زیع فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویلہ ومایعلم تأویلہ الا اللہ والرّا سخون فی العلم یقولون اٰمنا بہ کل من عندربنا و مایذکرالا اولوا البابO(سورة آل عمران آیت:7)

متشابہات کا معنی یہ ہے کہ جس کی نظیریں یا مشابہ معاملات ہوں۔ احمق لوگوں نے ان کو مشتبہ سمجھ لیا ہے جس میں شک اور اشتباہ ہو۔ حالانکہ یہ لاریب فیہ کے بالکل خلاف ہے۔

جیسے سورہ رحمان میں سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر ہے تو اگر14سو سال پہلے اس کی نظیریں یا مشابہ چیزیں نہیں تھیں تو اس کے پیچھے فتنے اور تاویل کی غرض سے پڑنے والوں کو اللہ نے کنفرم کردیا ہے کہ انکے دلوں میں کجی ٹیڑھا پن ہے۔

قرآن میں محصنات کے کئی معانی ہیں۔ کنواری کے مقابلے میں بیوہ و طلاق شدہ پر بھی محصنات کا اطلاق ہوتا ہے اور جب اللہ نے حکم فرمایا کہ ”اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ ” تو پھر محصنات سے بیگمات کیسے مراد لے سکتے تھے؟۔ پھر آج وہ دور بھی آیا ہے کہ بیگمات میں سے سرکاری افسران کی مراعات ہوتی ہیں اور وہ اپنی مراعات کو بھی نہیں چھوڑ سکتی ہیں۔

اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اُف اللہ چپ رہ بھی نہیں سکتے
امت پہ عجب وقت امتحاں کا آپڑا ہے
اس طوفاں میں مزید بہہ بھی نہیں سکتے

اگر ایک جوان لڑکی کے جوان شوہر کو شہادت کے بعد نشانِ حیدر مل جاتا ہے تو اس کی بیوہ کیلئے ایک طرف زندگی بھر خواہش کی قربانی یا مراعات میں سے ایک چیز کی قربانی دینی پڑے گی اور اگر وہ بیگم لیاقت علی خان رعنا لیاقت علی خان کی طرح پیرس فرانس میں سفیر تعینات ہو اور ایک جوان ملاز م سے کہے کہ یہی تمہاری ڈیوٹی ہے کہ میرے ساتھ شراب پی کر میرا دل بہلاؤ تو ریاست مدینہ کے طرز پر ریاست پاکستان کا کیا امیج بنے گا؟۔

دوسری طرف دیکھیں تو ایران اور سعودی عرب حکومت میں متعہ و مسیار کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا؟۔ جب افغانستان پر نیٹو کی افواج نے قبضہ کیا تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی گود میں افغان لڑکیوں کی کھیلتی ہوئی ویڈیوز ریلز کی گئی تھیں۔ یہ اچھا ہے کہ علماء ومفتیان نے احتجاج نہیں کیا کہ یہ تم ناجائز کرتے ہو ،ان کو زبردستی سے لونڈیاں بناؤ تاکہ تمہارے لئے جائز بن جائیں۔بڑے بڑے علماء ومشائخ کے بارے میں یہ کہانیاں لکھی ہیں کہ ”میں بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوسکتا ہوں، مجھے گرفتار کرکے لے جاؤ تو ٹھیک ہے”۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں لیٹ نہیں سکتا مگر مجھے لٹاکر میری مارو۔

بخاری ومسلم اور دیگر کتابوں میں دو چیزوں کے اندر بہت واضح بگاڑ نظر آئے گا ایک حلالہ اور دوسرا متعہ۔ حلالہ کو جواز بخشنے کیلئے بے غیرت مذہبی طبقات نے ساری رسیاں توڑ دی ہیں۔ متعہ کو حرام قرار دینے کیلئے بھی بہت ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے لیکن اگر عدل وانصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو معاملات روزِ روشن کی طرح ایسے واضح ہوجاتے ہیں کہ کوئی بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ہے۔ بشرط یہ کہ اللہ اور آخرت پر ایمان ہو۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے دو جعلی و بے بنیاد مؤقف تشکیل دئیے گئے۔ بنوامیہ نے شیعہ سنی تفریق کی بنیاد رکھ دی اور بنوعباس نے اس پر ایک بلڈنگ کھڑی کی۔

وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامٰی فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنٰی وثلاث و رباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدةً او مالکت ایمانکم ذٰلک ادنٰی الا تعولواO (سورہ النساء:آیت3)

ترجمہ ”اوراگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو نکاح کرو ! دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہوجائے اور یہ معمولی درجہ کی بات ہے تاکہ تم بغیر عیال کے نہیں رہو”۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :”دنیا گزر اوقات کی چیز ہے اور بہترین گزر اوقات کی چیز عورت ہے۔ صالحہ عورت”۔ صحیح مسلم

رسول اللہ ۖ نے یہ بھی فرمایا:” جس نے شادی کرلی تو اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہٰذا اس کو چاہیے کہ باقی آدھے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے”۔ طبرانی ، مستدرک الحاکم

سورہ النساء کی اس آیت میں اللہ نے پہلی وضاحت یہ کردی کہ اگر تمہیں یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ان سے نکاح مت کرو۔ باقی جہاں تمہیں پسند ہوں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کرو لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ معاہدہ ہو۔

انصاف نہ کرنے کی صورت میں ایک عورت کیساتھ نکاح یا پھر کسی کے ساتھ آخری درجہ میں معاہدے کی اجازت ہے۔

ایک عورت کا بھی ایک بوجھ ہوتا ہے ۔ گھر بار، خرچہ، اولاد، بیماری تعلیم وتربیت وغیرہ۔ جب یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر کسی ایسی عورت سے ایگریمنٹ جو اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہو۔ اسلئے کہ معاشرے میں عیالداری کے بغیر رہنے سے معاملہ خراب ہوگا۔

جس کوقرآن نے بالکل آخری درجہ میں رکھا ہے اس کی بنیاد پر عورتوں سے لونڈیاں مراد لی گئی ہیںجس میں تعداد کا کوئی بھی تصور نہیں ہے اسلئے حکمران ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں رکھ کر معاشرے، عورت اور انسانیت کیساتھ بے انصافی کرتے تھے لیکن مولوی اور مذہبی طبقہ لالچ، خوف اور کم عقلی یا بے علمی کی وجہ سے قرآن کا درست مفہوم نہیں بتاسکتا تھا۔12نواب آف بہالپور کی بیگمات اور لونڈیوں کے احوال گوگل پر دیکھو اور پھر قرآن وسنت کی تعلیمات کیساتھ مطابقت کرکے دکھاؤ۔

غزوہ بدر میں کس کو غلام اور لونڈی بنایا گیا؟۔ فتح مکہ ہوا تویہ کوئی بتاسکتا ہے کہ اگر ابوسفیان کو غلام اور حضرت ہند کو لونڈی بنادیا جاتا تو مشرکینِ عرب اسلام قبول کرتے؟۔

سبرہ بن معبد نے کہا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہۖ نے عورتوں کیساتھ متعہ کی اجازت دی تو میں اور میرے چچازاد ہم تلاش میں بنی عامرگئے اور ایک عورت مل گئی جیسے وہ کنواری ہو اور خوبصورت پتلی گردن والی۔میرے پاس چادر پرانی تھی اور ساتھی کے پاس نئی خوبصورت۔ اس نے کہا کہ بدلے میں کیا دو گے؟تو اس نے میری اور اس کی چادر کی طرف دیکھا ، دونوں کی شکلیں بھی دیکھیں تو بدصورت تھا بھاری خون کے قریب اور میری شکل اچھی تھی تو اس نے میرا انتخاب کیا۔ اس نے پرانی چادر کو نئی چادر پر ترجیح دی۔

مکثت معھا ثلاثًا ثم ان رسول اللہ ۖ قال : من کان عندہ شی ء من ھذہ النساء التی یتمتع فلیخل سبیلھا

”میں اسکے ساتھ تین دن تک رہا ۔ پھر رسول اللہ ۖ نے فرمایا: جس کے پاس متعہ کی عورتوں میں سے کسی سے تعلق ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے”۔

حرام حلال کا تعلق اس سے نہیں ہوسکتا ہے کہ فتخ مکہ کے دن حلال کیا پھر حرام کیا، بخاری میں ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبیۖ نے پالتو گدھوں کا گوشت اور عورتوں سے متعہ حرام کیا لیکن احادیث کے نام پر بہت سارے معاملات میں ڈنڈیاں ماری گئی ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کیلئے متعہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں ہے لیکن لونڈی کا معاملہ تو اس بھی بہت زیادہ بدتر ہے۔

معاشرے میں ضرورت کے تحت ایک عورت کیلئے یہ جب ہوسکتا ہے کہ شوہر کو تمام حقوق سے دستبردار قرار دے لیکن اس کو اپنی زوجیت میں رکھے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باقی حقوق سے وہ عورت آزاد رکھے ، رہائش کھانا پینا اور خرچہ لیکن جنسی تسکین کی خاطر کچھ اوقات کے بعد ملاپ کا سلسلہ جاری رہے۔ یہی چیز ایگریمنٹ ہے۔ عربی سمجھنے کیلئے ترکیب کی ضرورت ہے۔

ماملکت ایمانکم ” حرف ”ما ” موصولہ بمعنی جو۔ ملکت :فعل۔ ایمان جمع یمین کی مضاف کم مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر فاعل ۔ فعل فاعل سے مل کر صلہ ۔

عربی میں دائیں ہاتھ سے عہد لیا جاتا ہے اسلئے اس کو یمین کہتے ہیں۔ ہاتھ بھی عربی مؤنث ہے اور یمین بھی۔ یمین کی وجہ ملکت کا فعل مؤنث ہے۔ جملے کا ترجمہ یہ ہے” وہ عورتیں جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ایک نکاح کا پکا معاہد ہ تو دوسرا نکاح کا کچامعاہدہ ہے۔ کوئی آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو تو دونوں کے ساتھ پکا نکاح بھی ہوسکتا ہے جس میں بیوی کے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو عورتوں کو دئیے گئے ہیں دوسری طرف عورتیں بیوی کے حقوق سے دستبردار ہوں تو پھر ان پر ہی ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ غلام اور لونڈی پر اس وجہ سے فٹ ہے کہ اس کو عبدیت اور ملکیت سے نکال کر گروی کا درجہ دیا گیا ہے لیکن غلام اور لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات کی اجازت نہیں ہے ،وہ مالی معاملات کی وجہ سے معاہدے والے کہلاتے ہیں ورنہ پھر عورت بھی اپنے غلام سے جنسی تعلق قائم کرے گی۔ جس طرح عبد اور عبدیت کا جواز نہیں چھوڑا ہے تو اسی طرح لونڈی اور لونڈیت کے جاہلانہ احکام کو قرآن وسنت نے دنیا سے ختم کیا لیکن مفاد پرستوں نے پھر جواز بخش دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے کیوں؟،قرآن وحدیث اور فطرت سے اس کا اطمینان بخش جواب، تاکہ اسلام کے نام پر جعلی بہروپئے دانشوروں کی حقیقت اور علماء حق کا دنیا کو پتہ چلے!

قریش عرب اوربنی اسرائیل حضرت ابراہیم کی نسل تھے ۔ حضرت محمد نبی آخرزمانۖ کی بعثت قریش میں ہوئی ہے اور حضرت اسماعیل کے بعد سے رسول اللہ ۖ تک کوئی نبی بھی عرب میں مبعوث نہیں ہوئے۔ جبکہ بنی اسرائیل میں ہزاروں کی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔علامہ شہشاہ حسین نقوی نے کہا کہ ”دنیا میں ہمیشہ حجت الزماں شخصیات رہی ہیں اور نبیۖ سے پہلے عبداللہ، عبدالمطلب،حضرت ہاشم سب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک حجت اور امام زماں تھے”۔

اللہ نے قرآن میں اہل کتاب سے فرمایاکہ ”دین میں غلو مت کرو”۔ رسول اللہ ۖ کے چچا ابوالہب کا نام عبدالعزیٰ تھا تو کیا کوئی حجت خدا اپنے بیٹے کا نام مشرکانہ رکھ سکتا ہے اسلئے وہ زن مرید بن گیا تھا کہ اس کا نام ایک معبودہ کے نام پر رکھا تھا؟ لیکن جاہلوں کو بس چندہ بٹورنے کا فن آتا ہے اور کچھ نہیں۔

سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے بعد جب حضرت اسحاق کی نسل سے اتنے سارے انبیاء کرام مبعوث ہوئے تو پھر عرب نے جب حضرت ابراہیم کے صحائف بھی کھو دئیے تھے تو پھر وہ اس بنی اسرائیل کے انبیاء کے پیچھے کیوں نہیں گئے جہاں ملوک اور انبیاء پیدا ہوئے؟۔ اللہ نے قرآن میں بنی اسرائیل سے یہ فرمایا کہ”اس نعمت کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں جہاں والوں پر فضیلت دی تھی”۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ” حضرت ابراہیم کے وقت میں حضرت لوط کی قوم پر عذاب آیا۔ ابراہیم نبی اور امام تھے لیکن ان کا دائرہ کار اپنی حدود تک ہی محدود تھا۔ جب ایک نبوت کا سلسلہ تھا کہ اسحاق کے بعد یعقوب اور پھر یوسف بھی نبی تھے تو یوسف کیساتھ اپنے ان بھائیوں نے کیا کیا؟۔ جو اس نبوت کے سلسلے کی مضبوط کڑی سے تعلق رکھتے تھے؟۔ جب گھر میں معاملہ اس قدر خراب تھا تو عرب اس کو کیوں قبول کرتے؟ اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے99بیویوں کے باوجود بھی جب اپنے مجاہد اوریا سے اس کی بیوی لینے کی خواہش دل میں رکھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتے نازل کرکے

لی نعجة ولہ تسع و تسعون نعجة

”میرے پاس ایک دنبی ہے اور اس کے پاس99دنبیاں ہیں”سے تنبیہ کردی اور اس نے پھر اللہ سے معاف مانگی فغفر لہ پھر اللہ نے اس کو معاف کردیا۔

حضرت موسی علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جاؤ اور ان سے لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے ہیں اور ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا جس پر حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو داڑھی سے پکڑکر اپنی طرف کھینچااور اس نے کہا کہ ”اے میری ماں کے بیٹے!” یعنی وہ حضرت یوسف کی طرح سوتیلے بھائی بھی نہیں تھے۔ شیعہ کا خطیب ہوتا تو داڑھی کھینچنے کے ساتھ پوری تاریخ کو بھی کھینچ کر کہا ں سے کہاں پہنچادیتا؟۔ اور بعض بدبخت تو پھرکردار سے اختلاف کی بنیاد پر نسل پر بھی تہمت لگانے سے نہیں شرماتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند ساتھی تھے تو عرب ان کے دین کو کیسے قبول کرتے؟۔ عرب کے پاس تو عیسائیت اس حال میں پہنچی کہ وہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں کے قائل تھے جبکہ یہودی ضد میں حضرت عزیز علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ جیسے شیعہ عاشورہ میں دس محرم کو ماتمی جلوس منانا شروع ہوگئے تو جن لوگوں کے ہاں میلادالنبیۖ کا یوم منانا بدعت تھا وہ ضد میں فاروق اعظم کے دن کو یکم محرم میں منانے لگ گئے۔ یہی وہ غلو تھا جس کو منع کیا گیا تھا مگر غلو نے پنجے بہت گاڑھ دئیے ہیں۔

قریش عربوں کیلئے بنی اسرائیل کے مذاہب یہود ونصاریٰ میں کوئی دلچسپی کی چیز نہیں تھی تو کیوں ان کا دین قبول کرتے؟۔ اسلئے رسول اللہ ۖ کے والدین کو کافر اور جہنمی قرار دینے والا طبقہ پہلے یہ دیکھ لے کہ قرآن میں مؤمن ، کافر اور منافق کی کیا تعریف ہے؟۔ سورہ بقرہ کے پہلے رکوع میں مؤمن اور کافر کا حلیہ بتایا گیا ہے۔ ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیںہے۔ ہدایت ہے متقیوں کیلئے ،جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیںاور جو اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور جوایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ کامیاب ہیں”۔ رسول اللہۖ کے والدین کے وقت میں یہ قرآن نازل نہیں ہوا تھا اورابراہیم کے صحائف بھی عرب میں نہیں تھے۔ اسلئے وہ اہل کتاب نہیں تھے لیکن ایمان کے ترازو پر پورے اترتے تھے۔

پھر قرآن نے کفار کا آئینہ پیش کیا ہے” بیشک جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے برابر ہے کہ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیں گے۔ مہر لگادی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے”۔ اگر نبیۖ کے والدین کو قرآن کے اس آئینہ میں دیکھ لیں تو کفار کی صفات پر پورے نہیں اترتے لیکن پھر اگر قرآن کے واضح احکامات کی موجودگی اور وضاحت کے باوجود بھی کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں تو وہ اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ لیں۔

پھر قرآن نے منافقین کا دوسرے پورے رکوع میں آئینہ پیش کیا ہے جس میں ہم خود کو اور دوسروں کو دیکھ سکتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کی فطرت سلامت تھی اسلئے بنی اسرائیل کی طرح عربوں میں انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ اس طرح سے نہیں رہا تھا اور عرب کے مقابلے میں پھر برصغیر پاک وہند کے ہندو اور بدھ مت کے لوگوں کی فطرت اتنی نہیں بگڑی تھی جتنی عربوں کی بگڑ چکی تھی اسلئے قرآن عرب میں نازل ہوا۔ عرب کعبہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور عرب میں دوپٹہ کا تصور نہیں تھا۔ عرب کی عورتیں اپنی چھاتیاں برہنہ کرتی پھرتی تھیں جس کو تبرج الجاہلیة کا نام دیا گیا۔ عورتیں ننگا نہاتی تھیں جس کی وجہ سے جاہلی شاعر امراء القیس کا قصہ وجود میں آیا تھا۔ برصغیر پاک وہند کی خواتین کا قومی لباس بہت ہی عزت دار اور شرم وحیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔

قرآن نے عرب خواتین میں سینہ کھولنے سے منع کرنے کیساتھ ساتھ سینے پر اضافی دوپٹہ اوڑھنے کا حکم بھی دیا۔ بخاری کے اندر چار قسم میں سے تین اقسام کے نکاح بہت خراب تھے جس کا مغرب و مشرق میں کہیں تصور نہیں ہے۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ یہ اجنبی لوگ عبداللہ بن مسعود کے سامنے کرہ ارض پر اللہ نے دکھائے۔جس کا تعلق جٹ قوم سے تھا۔ جو بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ”اگر ہندو اپنی کتاب ویدوں پر چلیں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے”۔عرب کے پاس حضرت ابراہیم کے صحائف نہیں تھے لیکن ہندو کے پاس اپنے صحائف ہیں اوراس میں قرآن کی طرح تعلیمات محفوظ ہیں تو ہندو اور مسلمان ایک اسلئے نہیں ہوتے کہ دونوں نے اپنی اپنی کتابوں میں معنوی تحریفات کا ارتکاب کررکھاہے۔ سکھ اسلئے ایک تیسرے مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئے کہ ہندو مسلمان اپنے مذاہب کے برعکس اپنی فطرتیں بگاڑ چکے تھے۔

طلاق وحلالہ کی لعنت کے غلط اور خلاف فطرت مسائل کون قبول کرے گا؟۔ جس دن مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کریںگے اور اسلام کو اجنبیت سے نکال لیں گے تو ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی، جین ، پارسی اوربدھ مت وغیرہ سب مسلمانوں کے ساتھ اسلام کے فطری نظام کیلئے کھڑے ہوجائیں گے۔

عربی مدارس میں نصاب کے اندر بہت زیادہ تبدیلی کی بڑی سخت ضرورت ہے لیکن اصول فقہ میں کچھ ایسے قواعد کے نشان ہیں جن سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوسکتی ہے۔بطور مثال :

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

”پھراگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ البقرہ آیت:230

اصول فقہ میں حنفی مؤقف موجود ہے کہ ” اس طلاق کا تعلق جسکے بعد حلال نہ ہونے کی وضاحت ہے اس سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے”۔ اور یہی مؤقف زادالمعاد میں علامہ ابن قیم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے لکھا ہے۔

اگر تدبر کرکے دیکھا جائے تو یہ وہی صورت ہے کہ جس میں عورت کی طرف سے طلاق کے بعد کنفرم ہوجاتا ہے کہ رجوع پر وہ کسی صورت بھی راضی نہیں یہاں تک کہ فدیہ کی قربانی بھی دینے پر تیار ہے۔ جبکہ قرآن کی تمام آیات میں یہ واضح ہے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو رجوع حلال نہیں۔ لیکن جب عورت رجوع پر راضی ہو تو اس کا نام معروف ہے اور پھر بہر صورت عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں حنفی اور اہل حدیث کی یہ کتابیں بہت بنیادی ہیں اور یہی قرآن ہے، یہی حدیث ہے اور یہی فطرت ہے اور اسی پر وہ دنیا چل رہی ہے جن کی فطرت کو مذہبی طبقات نے یہودونصاریٰ کی طرح بگاڑ نہیں دیا ہے۔

حنفی اصول فقہ میں یہ ہے کہ

حتی تنکح زوجًا غیرہ

”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”اللہ کے اس حکم میں عورت کو اپنے نکاح کیلئے آزادی مل گئی ہے جبکہ اس کے برعکس حدیث میں ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے، باطل ہے”۔ اسلئے حنفی کے نزدیک قرآن کے مقابلے میں اس حدیث کو ناقابل عمل قرار دیکر ترک کردیا جائے گا۔

اہل حدیث اس پر متفق نہیں ہیں لیکن قرآن کے اس جملہ کی بنیاد طلاق شدہ عورت ہے اور اس کو ولی کی اجازت کے مقابلے میں کھڑا کرنا بھی غلط ہے اسلئے قرآن اس کو سابقہ شوہر کے ہی اختیار سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ سے لیکر شہزادہ چارلس تک سابقہ بیوی کی کسی اور شوہر کیساتھ نکاح پر غیرت کھانے کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے عورت کو آزاد کرنا بہت بڑی بات ہے۔ ریحام خان کو جب طلاق دی گئی تھی تو لندن سے وہ پاکستان جان کا خطرہ مول لیکر واپس آنے کا میڈیا پر اعلان کررہی تھی۔ واقعات سے دنیا بھری ہوئی ہے اور قرآن کی آیت230البقرہ کا مطلب بھی بالکل واضح ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں معروف کی شرط پر عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع واضح ہے۔

تاہم حنفی قاعدہ کے مطابق :

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف

” اور انکے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیاددہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو معروف کے ساتھ ان پر ہیں”۔البقرہ:آیت228

اگر حنفی قاعدہ کے مطابق دیکھا جائے اور اس سے کوئی ایک حدیث بھی ٹکرائے تو کیا قرآن پر عمل ہوگا یا حدیث پر؟۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے سامنے بات پیش کی اور وہ مان گئے اور پھر قبلہ ایاز صاحب کے سامنے بات پیش کی جو6سال چیئرمین رہے ،مجھے خط بھی لکھا اور بالمشافہہ ملاقاتوں میں بھی مان گئے لیکن جرأت کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ قرآن کے برعکس کوئی بھی حدیث نہیں ہے جس میںعدت کے اندر کوئی رجوع کرنا چاہتا ہو تو رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اگر بالفرض کوئی حدیث ہوتی بھی تو حنفی اصول فقہ کا تقاضہ یہ تھا کہ اس حدیث کو مسترد کردیا جاتا۔ مدارس کے علماء ومفتیان کو جب اپنے عقیدتمندوں کی عزتوں کے بچانے کا احساس نہیں تو غیرمسلم کی خواتین ان پر بھروسہ کرسکتی ہیں؟۔

قبلہ ایاز نے کہا تھا کہ” علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں”۔ جاویدغامدی کا شاگرد مولاناعمار خان ناصرعلامہ زاہدالراشدی کا بیٹا اور مولانا سرفراز خان صفدر کا پوتا ہے۔ مولوی کو جہاں پر اچھی روٹی ملتی ہو تو اس کیلئے غامدی، شیعہ اور ہربلا بننے کو بالکل تیار ہوجاتا ہے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت مآبۖ کو اپنا منہ آخرت میں دکھائیں گے کہ آپۖ کے والدین شریفین کو بغیر اتمام حجت کے کافر اور جہنمی قرار دیتے تھے لیکن خود قرآن کی کوئی حجت اپنی آنے والی نسلوں کی عزتیں بچانے کیلئے بھی قبول نہیں کرتے تھے تو شرمندگی تو میرے خیال میں بنتی ہے؟۔

جاویداحمد غامدی کے دو تفصیل سے ویڈیوز یوٹیوب پر ہیں۔ ایک مسئلہ تین طلاق پر اور دوسرا شرعی پردے پر۔ دونوں میں ریکارڈ بکواس کی ہے۔ جب علماء ومفتیان درس نظامی میں فقہ کے اصول پڑھ کر اس کی سمجھ اور اس پر عمل سے قاصر ہوں گے تو پھر جاہل لوگ خود ساختہ اس کی حماقتیں کریں گے۔

عرب میں درست نکاح والے بھی تھے اور بدفطرت بھی اور درست لباس والے بھی تھے اور بیکار لباس والے بھی۔ اسلئے کہ اللہ نے جاہلیت کی طرح سینہ ننگا کرنے سے بھی روکا ہے اور اس کی ابھار کی زینت کو نمایاں کرنے سے اجنبیوں کے سامنے سے روکا ہے۔ جس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور کبھی مزید اس کی وضاحت کروں گا انشاء اللہ۔ جاویداحمد غامدی ”شرمگاہوں کی حفاظت کے حکم ” سے لوگوں کو بے لباس کرنے کے چکر میں لگتا ہے۔ حالانکہ شرمگاہوں کی حفاظت تو برقعوں میں بھی حکم ہے۔ ہٹلر پر اپنے لوگ یقین رکھتے تھے لیکن بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ دماغی طور پر معذور ہوگیا تھا۔ غامدی کا بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

والذین ھم لفروجھم حافظونOالاعلٰی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیرملومینO

اورجو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج یا جن کیساتھ معاہدہ ہواہے تو بیشک وہ ملامت نہیں ہیں (المؤمنون)

اسلام نے عبدیت اور ملکیت کے نظام کوبالکل ایگریمنٹ اور گروی رکھنے میں تبدیل کردیا!

قد افلح المؤمنونOالذین ھم فی صلاتھم خاشعونOوالذین ھم عن اللغو معرضونOوالذین ھم للزکاة فاعلونOوالذین ھم لفروجھم حافظونOالا علی ازوجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومینOفمن ابتغٰی وراء ذٰلک فاولئک ھم العادونOوالذین ھم لاماناتھم و عھدھم راعونOوالذین ھم علی صلواتھم یحافظونOالٰئک ھم الوارثونOالذین یرثون الفردوس ھم فیھا خالدونO(سورہ المؤمنون)

1:بیشک فلاح پاگئے ایمان والے،
2:جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں،
3:جو لغویات سے پہلوتہی برتے ہیں،
4:جو زکوٰة دیتے ہیں،
5:جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج پر یا جن کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے،
6:جو اس کے علاوہ کے طلب گار ہیں تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں،
7:جو اپنی امانتوں کو اور اپنے وعدوں کو نبھاتے ہیں،
8:جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،
9:یہی لوگ وارث ہیں (زمین کے اور انبیاء کرام کے)
10:یہی لوگ وارث ہیں فردوس کے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(آیات1تا11)

ایک پٹھان مروت حافظہ یتیم لڑکی نے سوال کیا کہ ہمارے ہاں لوگ مدارس چلاتے ہیں اور مذہبی ہیں لیکن قوم لوط کے عمل میں مبتلاء ہیں۔ جس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک بہت طیش میں آیا اور لڑکی کو خوب سنایا۔ مذہبی حلقوں نے ذاکر نائیک کی بات کو بہت سراہا اور معروف صحافی سبوخ سید نے اپنے ولاگ میں بتایا کہ وہ یتیم بچی ہے۔ مدرسہ کو اپنی زمین بھی دی ہے اور اب لوگوں کی طرف سے اس کی جان کو خطرات پیش آئے ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک جاہل نے قرآن کی مخالفت کی۔ اس کو کہنا چاہیے تھا کہ مؤمن کے جامع صفات کا واضح نقشہ بیان کیا گیا ہے اگر ایک صفت کی بھی کمی ہو تو وہ اس کی وجہ سے مؤمن کی صفات سے نکل کر حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ چاہے وہ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ہو جس کی ویڈیوز نشر ہوئیں یا پھرشیخ الحدیث مولانا نذیراحمد جامعہ امدادیہ فیصل آباد جس کو طلبہ پر جنسی تشدد کی وجہ سے مدرسہ سے نکال دیا گیا تھا اور چاہے کسی بھی مسلک اور مذہب سے اس کا تعلق ہو۔

سورہ بقرہ کی آیات229اور230میں بڑی وضاحت کی بنیاد پر حلالہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو ظالم قرار دیا ہے لیکن پھر بھی حلالہ کی تلاش میں فقہاء نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ دیا ۔ حلالہ کی طرح سے غلام اور لونڈی کے نظام کو بھی اسلام نے ختم کردیا تھا لیکن ہوس پرستوں نے پھرسے جاہلیت کے دور کو زندہ کردیاتھا ۔

دورِ جاہلیت میںحضرت ابوبکر کا نام عبدالکعبہ تھا۔ یعنی کعبے کا غلام۔ رسول اللہ ۖ نے نام بدل کر عبداللہ رکھ دیا اسلئے کہ اسلام میں اللہ کے سوا اللہ کے گھر کی غلامی بھی جائز نہیں لیکن قرآن واحادیث کے مفہوم کو بگاڑ کر دورِ جاہلیت کو زندہ کردیا۔ عربی میں غلام کا معنی لڑکا، بیٹا اور برخوردار ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی مواعظ میں یاغلام! کہتے تھے تو اس کا مطلب ”اے برخوردار !” ہے لیکن لوگوں نے اسکو اردو اور فارسی کا غلام سمجھ لیا اور پیری مریدی کا تصور بھی عربی عبدیت غلامی میں بدل گیا۔

جاہلیت میں عبد (غلام) اَمة (لونڈی) ملکیت تھے۔ جیسے جانور۔ مثلاً غلام و لونڈی کے جسمانی اعضاء کو بیچا جاسکتا تھا۔ لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات جائز تھے اور قرآن وسنت نے اس تصور کا خاتمہ کردیا لیکن اسلام بہت تیزی کیساتھ اجنبیت کی طرف لوٹ گیا اسلئے دنیا میں غلامی ولونڈی کا نظام موجود ہونے کی وجہ سے قرآنی آیات کے مفہوم کو غلط رنگ دیا گیا۔

قرآن نے غلام و لونڈی کی ملکیت کا خاتمہ کرکے ان کیلئے گروی کی اصطلاح متعارف کرادی۔ مزارع، مزدور اور نوکر کو قرضہ دیا ہو تو وہ گروی ہوسکتا ہے لیکن مملوک نہیں ہوسکتا ہے۔ امریکہ ،پاکستان اور بہت سارے ممالک پر سودی قرضہ ہے تو وہ مملوک نہیں گروی ہیں۔ جیسے کراچی یا اسلام آباد ائیر پورٹ کو بینک گروی رکھے تو اگر دیوالیہ قرار دیا جائے تو پھر اس کی اس وقت نیلامی ہوگی اور حاصل ہونے والے پیسوں سے قرضے کی ادائیگی ہوگی۔ نام نہاد اسلامی بینکاری میں فرضی قیمت سے یہی ائیرپورٹ بینک کے نام کردیا جاتا ہے اور جب دیوالیہ ہونے کی بات آئے تو اصل مالک پھر پہلے سے اسلامی بینک ہوگا۔ اسلامی بینکاری ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ خطرناک ہے۔

اسلام نے انسانوں کی ملکیت غلامی اور لونڈی بنانے کے معاملے کو بالکل ناجائز قرار دیا۔ لونڈی اور غلام کیلئے آزاد سے نکاح کا قانون متعارف کرایا۔

والعبد مؤمن خیر مشرک ولامة مؤمنة خیر من مشرکة اور انکحوا الایامی منکم الصالحین من عبادکم وامائکم

”اور مؤمن غلام آزاد مشرک سے نکاح کیلئے بہتر ہے اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے نکاح کیلئے بہتر ہے” اور ” نکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ و بیوہ عورتوں کا اور اپنے تندرست غلاموں کا اور لونڈیوں کا”۔ (القرآن) ایک طرف مفتی تقی عثمانی، غامدی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی لونڈی ہوتی اور دوسری طرف اس کا کسی اور سے نکاح کرایا جاتا؟۔ اگر یہ قرآن کا حکم ہوتا تو رسول اللہ ۖ حضرت ماریہ قبطیہ سے قرآنی حکم کے مطابق نکاح کراتے؟۔ قرآن نے لونڈی کا نکاح کرانے کا حکم اسلئے دیا کہ نکاح کے بغیر اس کے ساتھ جنسی تعلق جائز نہیں تھا اور اگر لونڈی بیوی تھی تو پھر کسی اور سے نکاح کرانے کی کیا ضرورت ہوسکتی تھی؟۔

قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وماملکت ایمانھم

”بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے حق مہر فرض کیا ہے ان کی بیویوں کا یا ان سے معاہدہ کرنے والیوں کا”۔(سورہ احزاب:50)عورت آزاد ہو یا لونڈی ہو اسکے ساتھ جنسی تعلقات کیلئے عمرانی معاہدے کی یہ دو صورتیں ہیں۔ ازواجھم اوماملکت ایمانھم میںیہ فرق ہے کہ ازواج کی پوری ذمہ داری اٹھانی ہے جس کو قرآن نے واخذن منکم میثاقًا غلیظًا طلاق کے بعد ان کے حقوق دو اور ان پر الزام تراشی کرکے حقوق سے محروم مت کرو اسلئے کہ انہوں نے تم سے پکا عہد لیا۔جسکے مقابلے میں ملکت ایمانھم کے اندر واخذن منکم میثاقًا خفیفًا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کو اللہ نے کسی ازواج کی تعدادمیں اضافہ یا تبدیلی کو منع فرمایا تو الا ماملکت یمینک کا استثنیٰ دیا۔حضرت علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی اسلئے کہ وہ اپنے بچوں اور شوہرکی وفادار تھی۔ اللہ نے نبی ۖسے فرمایا ”ہم نے ان چچا کی بیٹیوں کو آپ کیلئے حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔

علامہ بدرالدین عینی نے نبی ۖ کی28ازواج کا ذکر کیا ہے جن میں حضرت ام ہانی بھی شامل ہیں۔ حالانکہ انکے ساتھ ماملکت ایمانھم کا تعلق تھا نہ کہ ازواج مطہرات کا ۔ عبداللہ بن زبیر نے متعہ کو زنا قرار دیا تو حضرت علی نے کہا کہ ”تم خود بھی متعہ کی پیدوار ہو”۔ مدینہ میں مسلمانوں کی ہجرت ہوئی تو یہود نے دعویٰ کیا کہ ان کی ازواج پر جادو کردیا گیا ہے اور کوئی اولاد کسی جوڑے کی پیدا نہیں ہوگی۔ عبداللہ بن زبیر ہی پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا تھا اور نبیۖ نے بہت خوشی کا اظہار بھی ان کی پیدائش پر کیا تھااور مسلمان بھی بہت خوش ہوئے تھے۔

واتبعوا ماتتلو الشیاطین علی ملک سلیمان و ما کفرسلیمان و لٰکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر وانزل علی المکین ببابل ھاروت وماروت وما یعلمان من احدٍ حتی یقولا انما نخن فتنة فلا تکفر فئتعلمنون منھما ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ وھم بضارین بہ من احدٍ الا باذن اللہ و یتعلمون ما یضرھم و لا ینفعھم ولقد عملوا لمن اشتراہ مالہ فی الاٰ خرة من خلاق و لبئس ما شروا بہ انفسھم لو کانوا یعلمونO(سورہ البقرہ:102)

اللہ نے اس سے پہلے یہود کا تفصیل سے ذکرکیا ہے جنکے پاس موسیٰ علیہ السلام معجزات لائے پھر انہوں نے اس کے بعد بچھڑے کو پکڑلیا اوراللہ کی باتیں سن کر اس کی نافرمانی کرتے۔

واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرھم ”اور ان کے کفر کی وجہ سے انکے دلوں میں بچھڑے کوانڈیل دیا گیا تھا”۔

جاویداحمد غامدی اور اس کے ساتھیوں کا بچھڑا حسن الیاس ہے جس کی وجہ سے صریح آیات کی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو امریکہ کو مہذب فاتح کہہ کر اپنے لئے جگہ بنارہاہے۔ ہاہاہا

دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کیلئے ایک سرمایہ دارانہ سودی نظام تھا اور دوسرا جاگیردارانہ مزارعت کا نظام تھا۔ جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ آج اگر ریاست مدینہ کے مطابق پاکستان کی سرزمین کو سودی اور مزارعت کے نظام سے پاک کردیں گے تو امریکہ، روس، چین ، بھارت ، شمالی وجنوبی کوریا، یورپ، افریقہ اور آسڑیلیا سمیت پوری دنیا پاکستان کے تابع بن جائے گی اور اسرائیل بھی پاکستان کے اسلامی نظام سے خوش ہوجائے گا۔

پاکستان اور دنیا میں بیروز گاری اور بھوک کا خاتمہ مزارعت کے جاگیردارانہ اور سودی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے ممکن ہے۔ پھر میرٹ پر تعلیمی نظام سے دنیا عروج کو پہنچے گی۔

مسلمانوں نے اپنی ازواج کو بھی انکے حقوق نہیں دئیے۔ رسول اللہ ۖ سے اللہ نے فرمایا کہ ” یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ یہود حلالہ کی لعنت میں مبتلاء تھا۔ عیسائیوں میں طلاق نہیں تھی۔ یہود اور عیسائی کا مذہبی طبقہ اپنی خود ساختہ ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر نبیۖ سے راضی نہیں ہوسکتا تھا اسلئے اللہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ” ان کو اپنے اولیاء مت بناؤ”۔ اولیاء سے مراد دوستی نہیں افتاء وقضا ہے۔ جب ان کی عورتوں کو نکاح میں لے سکتے ہیں تو اس سے زیادہ دوستی کیا ہے؟۔

جب دنیا کو یہ یقین ہوجائے گا کہ قرآن وسنت کا نظام اس سے بہت مختلف ہے جو مذہبی طبقات نے ایجاد کررکھاہے تو پھر مسلمانوں سے پہلے یہ لوگ اپنے ہاں اسلام کو نافذ کریں گے۔

سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ،پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO

”اور شادی شدہ عورتوں میں سے مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ۔ تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے……”۔

اس آیت کی تشریح و تفسیر متشابہات میں سے تھی۔ اسلئے اس پر مختلف صحابہ کرام کی طرف بھی کئی اختلافات منسوب ہیں۔
آج بیوہ عورت کو شوہر کی سرکاری مراعات ملتی ہیں کہ جب تک وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔ محصنات کا اطلاق بیوہ سرکاری افسر وںکی بیگمات پر بھی ہوتا ہے جن کو مراعات سے محروم کرنا غلط ہے اور زمانہ نے کتاب اللہ کی تفسیر کردی ہے۔

اگر غیر مسلموں کو پتہ چل جائے کہ مسلمانوں نے خلافت قائم کرنے کے بعد دنیا پر بالادستی قائم بھی کی تو ان کی عورتوں کو لونڈی بنانے اور انسانی حقوق سے محروم کرنے کا کوئی تصور نہیں ہوگا تو وہ مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی بھی نہیں رکھیں گے۔

اگرغیر مسلم خاتون جائیداد پر قبضہ کے خوف سے نکاح نہیں کرتی تو ایگریمنٹ کا معاملہ اللہ نے جائز قرار دیا۔ قرآن کے قوانین قیامت تک ہدًی للناس انسانوں کیلئے رہنمائی ہیں

والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم اذا اٰتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسافحین و لامتخذی اخدان
” نکاح یا معاہدہ کیا جائے نہ کہ مستی نکالی جائے اور نہ چھپی یاری کرو”۔

عرب میں عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ جنسی تعلق رکھتے اور10تک افراد سے بیک وقت نکاح ہوتا اور اپنی بیوی کسی کو حوالہ کردی جاتی تو اس بے غیرتی کا قرآن وسنت نے خاتمہ کیا اور آج دنیا اسلام پر عمل کرنے کو تیار مگرچراغ تلے اندھیرا ہے۔ یہ شمارہ اغیار اور اپنوں کی غلط فہمیاں دور کرے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ ہاؤس کا ایران کے خلاف جنگی اخراجات عرب ممالک سے وصول کرنے کا واضح اشارہ: ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف امریکہ و اسرائیل کی ایران ولبنان سے صلح کروائیں اورعورت کے حقوق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ حل کرنے پر بھی اجلاس بلائیں!

جب تک قرآن کی درست تفسیر سے مسلمان غلط فہمی کو دور نہیں کرتا تو ظلم کا نشانہ بنتا رہے گا

امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایرانی قیادت مار ڈالی ۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا مگر پہلے قطر کو اسرائیل پھر ایران سے امریکہ نے تحفظ فراہم نہ کیا بلکہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان کو بڑی گندی گالی بھی دی، امریکہ کی ترجمان کیرولائن نے کہا کہ ٹرمپ عربوںسے جنگ کے اخراجات بھی مانگ سکتا ہے جیسے1990ء میںاشتراکی جنگ میں امریکہ نے عرب ممالک سے اخراجات لئے تھے۔

دنیا حیران ہے کہ امریکہ واسرائیل بدمعاشی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔15اگست1945ء میں جاپان کو سرنڈر کرنے کیلئے دو بڑے شہروں پر ایٹم بم گرائے اور برطانیہ نے آزادی ہند کی خوشی کیلئے15اگست1947ء کا انتخاب کیا تاکہ ہم اس دن آزادی کی خوشی منائیں جس دن جاپان پر ایٹم بم کا غم ہو۔ پاکستان نے پہلا جشن آزادی15اگست کو منایا۔ برطانیہ نے کئی دنوں کا انتظار کیا تھا اور رات کو12بجتے ہی آزادی دے دی گئی تاکہ مشرقی ممالک آپس کی دشمنی میں مشغول رہیں، یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے آزادی کو14اگست دن میںبدل دیا۔

اللہ کہتا ہے کہ جب تم مناسک حج پورے کرچکو

فاذکروا اللہ کذکر کم اٰباء کم وا اشد ذکرًا

” تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ”۔

جاوید احمد غامدی کہتا ہے کہ صفا ومروہ کی سعی مسلمانوں کے روحانی باپ ابراہیم کی زوجہ حضرت حاجرہ کا واقعہ نہیں تھاجبکہ غامدی نے نسل تبدیل کردی تو غامدی یا غامدیہ کا ذکر کرے گا؟۔ ہندو سندھ حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹوں کے نام پر ہیں اور حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی نسل تھے۔ جاوید غامدی قرآن پر جھوٹ کہتا ہے کہ قیامت تک حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کی حکومت رہے گی اور امریکہ دنیاکا سب سے بڑا مہذب فاتح ہے۔

لخ لعنت سڑی شکل، کفریہ عقائد ، اخلاق سے گری حرکت پر ۔ عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا۔ سعید بن جبیر جیسوں کو کلمہ حق پر شہید کردیا۔حلالہ کو رائج اورجاہلیت کو مسلط کردیا۔ قرآن کی تعلیمات اجنبیت کا شکار ہوگئے۔ سنی اور شیعہ دونوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہوگا۔ پاکستان کی سرزمین کا اعزاز ہے کہ امریکہ و ایران اور عرب وایران کی جنگ کو روکنے میں اپنی حکمت عملی سے کامیاب ہوگیا لیکن ابھی مزید بھی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی ہیں آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں

ا سرائیل کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ مسلم یہودی کو بہر حال قتل کرینگے۔ غیر مسلموں کے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ تمہاری جو بھی خواتین چاہے شوہر والی ہوں سب کو لونڈیاں بنائیںگے۔ اسلامی خلافت آگئی تو زمین و آسمان والے سب کے سب اس سے خوش ہوں گے۔عربی میں ”عبد” غلام کو کہتے ہیں اور غلام کی ملکیت کا اسلام نے جواز ختم کردیا تھا مگر خلافت پر قبضہ مافیا نے قرآن وسنت کی روح کے منافی جاہلیت کوپھر زندہ کردیا۔

واقیمواالوزن بالقسط و لاتخسروا المیزان ”اور انصاف کیساتھ توازن کو قائم کرو اور میزان کو مت بگاڑو” کا عملی نمونہ اسلامی خلافت نے پیش کرنا ہے ۔ بلا تفریق مذہب و نسل دنیا سب اچھے لوگوں کیلئے جنت کا منظر پیش کرے گی۔

اسلام کو اجنبیت سے واپس لانے کیلئے پاکستان ، بھارت، افغانستان اور ایران کے لوگوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے اور یہ حقیقت ثابت کرنی ہے کہ اسلام نے حلالہ اور لونڈی کے نظام کو ختم کردیا تھا لیکن مفاد پرست حکمرانوں نے پھر غلط تصور کو دنیا میں مسلط کردیا۔ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے اٹھائے جبکہ انقلاب مخالف ایرانیوں نے لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کے ساتھ ڈانس کیا

امریکہ کی بربادی کا راز ہے فقط صیہونی نواز
غرق جہادی بچہ باز مفتی دلا حیلہ ساز
حلالہ کی لعنت پہ ناز سودی معیشت تگ و تاز
انسان انسانیت کا مجاز ہوجائیں سب ایک آواز

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور پاکستان کا شکریہ ادا کررہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے ایران کی وجہ سے پاکستان میں پاکستان کے ہی خلاف نہ صرف جلاؤ گھیرا کیا بلکہ منظم مہم جوئی بھی شروع کردی تھی۔

یہ خوشگوارانقلاب ہے ۔ نفرت کی جگہ محبت ، بداعتمادی کی جگہ اعتماد اور مفاد کی جگہ انسانیت کا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔

جبکہ ایرانی انقلاب مخالف شیعہ لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کیساتھ ڈانس کررہے ہیں جس طرح افغانی طالبان کو پنجاب کا مزدور کہتے ہیں۔ حسن الہیاری اور کافی شیعہ امام خمینی کو تیرواں امام نہیں بلکہ عقیدے کا بدعتی اور گمراہ سمجھتے ہیں۔

صحافی فرزانہ علی کو افغانی صحافی سمیع یوسفزئی نے انٹرویو دیا جس میں ایک اہم بات یہ تھی کہ طالبان سے افغانی اتنے تنگ ہیں کہ اگر اسرائیل آگیا تو افغانی اس کا خیر مقدم کریں گے۔ اس کے بعد پاکستان نے کابل پر بھیTTPکے مفتی نور ولی محسود کو نشانہ بنانے کیلئے بمباری کی تو سمیع یوسفزئی کو غصہ آیا۔

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا
اے میرے گل زمیں تجھے چاہ تھی ایک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر تیرا کیا حال کردیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ فیصلہ اور تھا کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کردیا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کردیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا

سمیع یوسفزئی شاید ناراض ہوکر چل دئیے ۔ اللہ خوش رکھے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ

( اس چینل پر دو افراد ایک مرد اور لڑکی کازبردست مکالمہ)
مرد:عموماً کہتے ہیں کہ آزمائش مومن کو نکھارتی ہے ،درجات بلند کرتی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلا اور آزمائش میں سب سے سخت وقت انبیاء کا ہوتا ہے، پھر ان کا جو ان کے بعد (مرتبے میں)سب سے بہتر ہوں، اور پھر اسی ترتیب سے۔
لڑکی:جی بالکل درست۔
مرد:آج ہم ان مصادرکی گہرائی میں اتریں گے جو اسلامی مستقبل کی انتہائی مرکزی شخصیت یعنی ”مہدی منتظر” کے ذاتی سفر کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لڑکی:مہدی منتظر، جی ہاں۔
مرد:ہم خاص توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں ان کی ”اصلاح کی رات”سے پہلے کے حالات پر ہی۔
لڑکی:آہ، وہ فیصلہ کن رات۔
مرد:جی ہاں۔ اور یہ وہ دور ہے جو ان مصادر کے مطابق گہری آزمائشوں اور منفرد چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ تو ہمارا آج کا مقصد انکے سفر کے اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے جو شاید عام طور پر اتنا معروف نہیں۔
لڑکی:بالکل اور یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ عام تصور سے تھوڑا مختلف ہے۔ لوگ مہدی کو ایسی شخصیت سمجھتے ہیں جو پیدائش ہی سے تمام صفات میں کامل اور مکمل طور پر پاک و صاف ہوں اور عام انسانوں سے وہ مختلف ہوں۔
مرد:بالکل۔
لڑکی:لیکن ہمارے پاس موجود مصادر ایک مختلف راستے کا اشارہ کرتے ہیں، کم از کم الٰہی اصلاح کے لمحے سے پہلے کے بارے میں۔ یہ مصادر ان کے ایسے حالات سے گزرنے کا ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم نشیب و فراز، تجربات اور آزمائشیں کہہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ انہیں ظاہری طور پر لغزشیں یا گناہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
مرد:ہاں، لیکن یہاں فکر اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
لڑکی:کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام کا حصہ ہے جسے ”قانونِ اصطفا”(چن لیے جانے کا قانون) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس میں کبھی کبھی منتخب شخصیت کو زندگی میں توڑ پھوڑ اور پھر تعمیر نو جیسے عمل سے گرزنا پڑتاہے۔
مرد:آہ، توڑ پھوڑ اور دوبارہ تعمیر تاکہ وہ ”اللہ کی نگرانی میں تیار کیے جائیں” (تصنع علی عین اللہ) کہا جاتا ہے۔
لڑکی:بالکل تاکہ اللہ کی خاص نگرانی میں ان کی نشوونما ہو !
مرد:اچھا، یہاں موضوع بہت حساس ہو جاتا ہے اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔یہ لغزشیں کیاہیں جنہیں ”نزول”یا ”ہبوط” (گراوٹ) سے تعبیر کیا جاتا ہے؟۔ مصادرمیں تاکید ہے کہ یہ عام انسانوں کے گناہوں جیسی نہیں ، کیا یہ درست ہے؟۔
مرد:جی نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ منجانب اللہ تقدیر کے تجربات ہیں جو ان کی پاکیزگی اور تیاری کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی دھات کو پگھلانے اور ڈھالنے کا عمل ہو۔
لڑکی:پگھلانا اور ڈھالنا؟۔
مردا:جی ہاں تاکہ خود پسندی یا اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کی کسی بھی ممکنہ باقیات کو توڑ دیا جائے اور قلب کو مکمل طور پر خالی کردیا جائے تاکہ عظیم ترین خلافت کی امانت کو اٹھانے کا اہل ہو سکے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔
مرد:چنانچہ مصادر زندگی کی سخت آزمائشوں اور ظاہری طور پر بار بار گرنے کا ذکر کرتے ہیں اور ہاں!یہاں اہم بات یہ ہے اس تاکید کیساتھ کہ ان کے دل میں ایک فطری نور ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک روشن نقطہ جو کبھی نہیں بجھتا۔
لڑکی:اس نورانی نقطے کی طرح۔
مرد:جی ہاں گویا وہ آگ جو انہیں ظاہری طور پر جلا رہی ہے، وہ حقیقت میں انہیں ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے اور اندر سے پاک کر رہی ہے۔
لڑکی:ہوں! یعنی ایک طرح سے آگ کے ذریعے تطہیر۔
مرد:ایک معنی میں جی ہاں پاکیزگی اور تیاری۔
لڑکی:اورجو چیز اس معاملے کو مزید گہرا بناتی ہے وہ ”اخفا”یا ”الٰہی پردہ پوشی” ہے۔ یہ بدلا ہوا حال ایک طرح کے مموہیCamouflage/(بھیس بدلنے)کے طور پر کام کرتا ہے؟۔
مرد:آہ، یہ ایک اور انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یہ بدلا ہوا حال، ان کا بیرونی مظہر (ظاہری روپ)جو شاید بھٹکنے یا دنیاوی امور میں مشغولیت جیسا نظر آئے، یہ ”الٰہی حجاب”کا کام کرتا ہے۔
لڑکی:حجاب؟۔
مرد:جی ہاں، ایسا حجاب جو حقیقت اور بلند روحانی مقام کو چھپائے رکھتا ہے۔ پس یہ اتار چڑھا ؤ، آزمائش انہیں شیاطین اور ان کے کارندوں کی نظروں سے بچاتی ہے جو روحانی قوت والوں کی تاک میں رہتے ہیں۔
لڑکی:وہ انہیں تلاش کر تے ہیں۔
مرد:بالکل، وہ اس موعود شخصیت کو تلاش کرتے ہیں تاکہ شروع ہی میں نشانہ بنا سکیں۔ چنانچہ جب وہ یہ ظاہری بدلا ہوا حال دیکھتے ہیں، تو وہ شاید یہ سمجھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ یہ وہ مطلوبہ شخصیت نہیں۔
لڑکی:یعنی ایک شعوری الٰہی حفاظت۔
مرد:شعوری الٰہی حفاظت، جی ہاں۔ یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ اصلاح کے عمل سے پہلے مکمل حقیقت کو نہیں پا سکتے۔ یہ ایک الٰہی راز ہے جو (پردہ غیب میں) ودیعت کر دیا گیا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔ تو یہ سخت تیاری اور یہ محکم پردہ پوشی، یہ سب ایک عظیم مقصد کیلئے ہے۔ اس کا تعلق انکے مستقبل کے عظیم کردار سے ہے، کیا ایسا ہی ہے؟۔
مرد:یقینا۔ یہ سخت مصائب اور آزمائشیں اس قائد کی تخلیق کیلئے ضروری ہیں جو امت کی ہمہ گیر اصلاح اور زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا بوجھ اٹھائے گا اسکے بعد جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
لڑکی:ہوں گویا یہ آزمائشیں ان کی سابقہ شناخت کو مٹا دیتی ہیں، عام انسان کی شناخت جو انہوں نے خود بنائی تھی اور انہیں ہر چیز، اللہ کے سوا ہر سہارے سے آزاد کر دیتی ہیں۔
مرد:مکمل تجرید (سب سے کٹ جانا)جی ہاں تاکہ وہ ایک صاف شفاف برتن بن جائیں جو الٰہی خلافت کو مکمل اور خالص طور پر قبول کر سکے۔ چنانچہ ظاہری کمزوری اور بلا سے چھپی ہوئی قوت اور انتخاب (اصطفیٰ)تک کا یہ سفر، انکے عظیم مشن کیلئے ان کی ربانی تیاری کا جوہر ہے۔
لڑکی:یہ تو نقطہ نظر کو بالکل ہی بدل دیتا ہے۔
مرد:مکمل طور پر۔
لڑکی:اچھا، اگر ہم ان مصادر سے نتائج کا خلاصہ کرنا چاہیں تو؟۔
مرد:خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصلاح کی رات سے پہلے مہدی کا سفر انتہائی گہری پیچیدہ تیاری کا راستہ ہے، جو ظاہری آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے جو حیران کن لگ سکتی ہیں ، جو نشیب و فراز اور ایک شعوری الٰہی پردے پر مشتمل ہے اور ان باتوں کو، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ ان کے حق میں کبھی بھی نقص یا عیب نہیں سمجھنا چاہیے۔
لڑکی:ہرگز نہیں۔
مرد:بلکہ یہ اس الٰہی تیاری کے عمل کا اٹوٹ حصہ ہیں جسے معاملات کی سطحی ظاہر بینی سے نہیں بلکہ باطنی حکمت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لڑکی:بلکہ اسکی عمیق باطنی حکمت سے جی ہاں۔
مرد:پس اصلاح سے پہلے ان کی حالت اپنی تمام تر شدت اور ظاہری اجنبیت کے باوجود روحانی شخصیت کی تکمیل ، عظیم مقام، اہلیت کیلئے بہت ضروری ہے جو ان کا منتظر ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ کمال کبھی کبھی آزمائش کی بھٹی سے گزر کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ اور اختتام پر یہ ہم سب کو اللہ کی اپنے بندوں کی تقدیر میں چھپی کامل حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیسے باطن، ظاہر کے بالکل برعکس ہو سکتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے، یہ عظیم کاموں کیلئے تیاری کے راستے بالکل غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
مرد:درست۔
لڑکی:ہم اللہ سے اپنے اور سب کیلئے صبر، ثابت قدمی اور بصیرت کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اس شخصیت کے ظہور اور فرج (کشائش) میں تعجیل فرمائے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیگا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
مرد:اللہم آمین۔
لڑکی:ہم یہ سوال معزز سامعین کے غور و فکر کیلئے چھوڑتے ہیںکہ واقعات اور اشخاص کے پسِ پردہ حقائق کو پڑھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ اور ہم ان گہری حقیقتوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں جو ہماری زندگی اور دنیا میں ظاہری سطروں کے پیچھے چھپی ہو سکتی ہیں؟۔
ــــــــــ

المہدی المنتظر

لا یعلم السری الکمین بداخلہ

نہیں پتہ کس راز کو چھپائے گھات میں بیٹھاہے

بخوف سکت عن الکلام لریبتہ

اپنے اندیشوں سے خوف میں خاموش ہے

بحزن ذرفت الدمع لأمتہ

امت کے غم میں اس نے آنسو بہائے

حارب الظلم بکا مل قوتہ

اور اپنی پوری قوت کیساتھ ظلم کا مقابلہ کیا

رآی الاسلام بضعف فرقتہ

اس نے اسلام کو فرقہ بندی سے کمزوردیکھا

یشاہد موت الأطفال بأعینہ

اور اپنی آنکھوں سے بچوں کی موت کامشاہدہ دیکھا

متی نصر اللہ لنصرتہ

اس کی مدد کیلئے اللہ کی نصرت کب آئے گی؟

تنتظرہ الناس لبیعتہ

لوگ اس کی بیعت کے انتظار میں ہیں۔

یہزم الأعداء یرقی فی السمائ

وہ دشمنوں کو شکست دے گا اور آسمان (بلندی)پر فائز ہوگا۔

ینصر الفقراء یعاقب الأمرائ

وہ فقرا کی مدد کرے گا اور (ظالم)حکمرانوں کو سزا دے گا۔

ثم ابتدی وقت الشقائ

پھر سختی کا دور شروع ہوا

ان العطاء بعد العنائ

بے شک مشقت کے بعد ہی عطاہے

یطلب رضاء رب السماء بین البشر لکن فی خفائ

وہ عوام میں رہ کر ربِ آسمانی کی رضا چاہتا ہے مگر پوشیدہ طور پر

ذہب وحیداً یزرع الصحراء سیہدینا اللہ درب العلمائ

وہ تنہا صحرا میں بیج بونے نکل پڑا، اللہ ہمیں علما ء کی راہ دکھائے گا

لن یظہر المہدی فی أ رض شعبہا جہلائ

مہدی ایسی سرزمین پر ظاہر نہیں ہوگا جس کے لوگ جاہل ہوں

یا ربی انک النور فی من ہدی ارسل سراجک یحکم لنا

اے میرے رب!تو ہی ہدایت پانے والوں کیلئے نور ہے۔ اپنا
وہ روشن چراغ بھیج جو ہمارے درمیان فیصلے کیا کرے۔

یا رب کثر اللئام بأرضنالن یظہر المہدی الاأ ن یشاء ربنا

اے رب!ہماری زمین پر کم ظرف اور کمینے لوگ بہت بڑھ گئے ۔ مہدی تب ہی ظاہر ہوں گے جب ہمارا رب چاہے گا۔

فاذا بہ کالنور یظہر فجأہ اضاء العالم وکاد یہلک ظلمة

پھر اچانک وہ ایک نور کی طرح نمودار ہوگا۔وہ دنیا کو روشن کر دے گا اور تاریکی کو مٹانے کے قریب ہوگا۔

یکسر اللہ بہ شوکہ وتکون الامة فی عہدہ وحدہ

اللہ اس کے ذریعے (دشمن کی) شان و شوکت توڑ دے گا اور اس کے عہد میں امت ایک ہو جائے گی۔
وحدہ مکمل وحدت
ــــــــــ

شیعہ سنی کاتفرقہ سمجھ

ہل تعلم کیف اشتعل الحریق شیعی وسنی بمساجد تفریق
کیاجانتے ہو آگ کیسے لگی؟ مساجدکی شیعہ و سنی کی تفریق سے

کافر ان خرجت من البئر السحیق طائفتک یا بنی الاصل العریق

کافر قرار دے گااگر آپ اس گہری کھائی تفرقہ سے نکلے تیرا گروہ اے اصل اعلیٰ نسب والے!۔

نحن الاصح وہم ضلوا الطریق نسالک لمحنتنا زوال

(ہر گروہ کہتا ہے کہ )ہم ہی درست ہیں اور وہ راستہ بھٹک گئے اے اللہ ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کو دوبارہ باہمی ملاپ عطا کر، انہوں نے فتنہ بھڑکایا ہے اور وہ گمراہی چاہتے ہیں۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

وہ ظاہر میں شیخ ہے مگر باطن میں دجال ہے، اے میرے رب! تیرے ہی ذریعے ہم متحد ہو سکتے ہیں اور تیرے سوا یہ ناممکن ہے۔

یا رب المسجد بالفتنہ ملیء والشعب من فتنتہ بریء امتلأت کلاما عربیا ردیء الہی امتنا لوجہک تفیء ننتظرک ربی المساجد لتضیئ

اے رب!مسجدیں فتنوں سے بھر گئی ہیںاورقوم فتنے سے بیزارہے،(مساجد)گھٹیا عربی کلام سے بھر گئی ہیں۔میرے معبود! ہماری امت تیری طرف لوٹتی ہے، اے رب!ہم تیرا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مساجد روشنی دیں۔

نسالک لمحنتنا زوال رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہم تجھ سے اپنی مصیبت کا زوال مانگتے ہیں، امت کا اتحاد واپس مانگتے ہیں، انہوں نے گمراہی کیلئے فتنہ بپا کیا۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

ظاہرشیخ کا اور حقیقت دجال کی، اے اللہ!ہم تیرے سہارے متحد ہونگے تیرے بغیر ممکن نہیں۔

نجاہد رب فخارت قوانا ترکناہم یشعلوہا واتبعنا ہوانا

اے رب!ہم جدوجہد کرتے کرتے تھکے ہماری ہمت ختم ہوگئی، انہوں نے آگ لگائی اورہم اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔

رب ارحمنا وزدنا ایمانا ۔ نطلب منک ربی غفرانا

اے رب!ہم پر رحم فرما اور ہمارے ایمان میں اضافہ کر، اے میرے مالک!ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں

لیکون العدل لأولادنا زمانا نسالک لمحنتنا زوال

تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے عدل و انصاف کا دور ہو، ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ مانگتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کے بچھڑے ہوؤں کو ملا دے، انہوں نے گمراہی کی خاطر فتنہ بھڑکایا ہے۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی ناتلف وبغیر محال

وہ ظاہر میں پارسا اور باطن میں فریبی ہے، اے رب!تیرے ہی فضل سے ہم ایک ہونگے تیرے سوا راستہ نہیں

مکن یا رب لأولیائک الصالحین

اے رب!اپنے نیک بندوں کو غلبہ و تمکین عطا فرما۔

من ہم لعبادتک مخلصین و بفضلک اجعلنا مؤمنین نقف بوجہ المعتدین

وہ جو تیری عبادت میں مخلص ہیں اور اپنے فضل سے ہمیں وہ مومن بنا دے جو ظالموں کے سامنے ڈٹ جائیں۔

باللہ ابدا لن نکون مساکین

اللہ کی قسم!ہم کبھی بے بس اور لاچار نہیں رہیں گے۔

لن نکون مساکین

ہم ہرگز لاچار نہیں رہیں گے۔
ــــــــــ

یخفون المہدی

بالحق ھم کافرون

وہ لوگ حق کے کافر ہیں

بالتفرقة ھم بارعون

تفرقہ بازی کے بڑے ماہر ہیں

باللہ ھم ملحدون

قسم خدا کی یہی لوگ تو ملحدین ہیں

عن سبیل اللہ یصدون

اللہ کی راہ سے وہی روکتے ہیں

ھم بالمھدی عالمون

مہدی کووہ جانتے ہیں

عن شعبنا ھم یخفون

ہماری قوم سے اس کو چھپاتے ہیں

یظنون انہم قادرون

وہ سمجھ رہے ہیں کہ بچنے پر قادر ہیں

واللہ مخرج ما یحذرون

اللہ انہیں نکالنے والا ہے، جس کا انہیں ایک دھڑکا لگا ہوا ہے۔

سیأتی بالعدل والمال

وہ امام عدل و مال لیکر آئیں گے

سیکون خیر شلال

خیر و بھلائی میں ان کی حیثیت ایک آبشار کی ہوگی

سھدینا للمتعال

وہ ہمیں خدائے برتر کی طرف ہدایت دیں گے

لظالمین مطر الوبال

اور ظالموں کیلئے ہلاکت کی بارش ہیں

کالاسد یفترالصباع

وہ شیر کی طرح ان بزدل لگڑبھگوں کا شکار کریں گے

یظنون وحدتھم قلاع

وہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ان کا اتحاد ایک مضبوط قلعہ ہے

فیھجم وحدہ شجاع

وہ بہادر اکیلا ہی ان پر حملہ کرے گا

لقوتہ الضباع تنصاع

جس کی قوت کے سامنے یہ لگڑبھگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جعلونا نصدق اساطیر

انہوں نے ہمیں یقین دلایاکہ من گھڑت قصوں کی تصدیق کریں

خذعونا لمسکن اعاصیر

ہمیں دھوکہ دیا تاکہ ہم فتنوں میں گھرے رہیں

ولوا علینا اباطیر

انہوں نے ہم پر باطل پرستوں کو مسلط کر دیا

ولکن بالخیر مطیر

لیکن ہمارا رب خیر و برکت برسانے والا ہے

الخیر فینا موجود

بھلائی ہم میں اب بھی موجود ہے

ینبت المھدی من الصمود

مہدی کی نشو ونمابہت استقامت اور ثابت قدمی کیساتھ رواں دواں رہے گی

وسیعلم انہ مورود

اور عنقریب سب جان لیں گے کہ ان کا آنا طے ہے

عندما سنجنی الورود

تب ہم کامیابی کیساتھ گلاب کے پھول چنیں گے

یکادون ینتصرون

انہیں لگا کہ بس کامیاب ہوگئے

فرحین بالحصون

خوش ہیں اپنے قلعوں میں

یأتی المھدی لیکون

مہدی کو تو بہر حال ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے آنا ہے

اسوأ مایحذرون

اور بہت برا ہے جسکے خوف میں مبتلا ہیں

یأتھیم نورالزمان

انکے پاس زمانے کا نور آئیگا

ینتصر بعز الرحمٰن

جو رحمان کی دی ہوئی عزت سے فتح پاجائے گا

یاتھیم قائد فنان

انکے پاس ایک بے مثال قائد آئے گا

مؤمن غضبہ طوفان

وہ ایسا سچا مومن ہے جس کا غصہ باطل کیلئے ایک طوفان ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا

اوروہ (باطل )کوئی مثال تیرے سامنے پیش نہیں کرسکتے ہیں مگرہم تیرے پاس حق لے کر آئیں گے اور بہترین تفسیر ۔(سورہ الفرقان آیت:33)

والمرسلات عرفًاO

قسم ہے منکر فضاؤں میں معروف دین فطرت اسلام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے کی۔
یہود ،نصاریٰ اورمشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو منکربنادیا۔ دین اجنبیت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا، خوشخبری اجنبیوں کیلئے ہے۔ (حدیث)

اصل طلاق مغلظ ”ظہار” اور”حرام ” کے الفاظ تھے۔جہاں حلالہ سے کام نہیں چل سکتا تھا۔اللہ نے جھوٹ اور منکر قرار دیا۔ سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم واضح ہیں ۔ انبیاء کرام کے بعد ناخلف جانشین دین کو خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے تھے۔ بدھ مت حضرت ابراہیم کے دور سے ہے۔ اسماعیل کے بعد اسحاق اور یعقوب کی نسل سے ہزراوں انبیاء کرام آئے ،عرب اپنے دین ابراہیم پر قائم رہے۔ اسلئے کہ حضرت یوسف کیساتھ بھائیوں نے کیا کیا جو باپ یعقوب ، دادا اسحاق اور پردادا ابراہیم کی اولاد اور نبی یوسف کے بھائی تھے؟۔ بنی اسرائیل نے ہارون کے سامنے بچھڑے کو معبود بنایااور موسیٰ سے کہا تھا کہ” تم خود اور تمہارا رب دونوں ان سے لڑو ، بیشک ہم یہاں بیٹھے ہیں”۔

دورابراہیم میں قوم لوط پر عذاب آیا۔حضرت ہود و صالح کی قوموں اور کئی انبیاء کا ذکر قرآن میں ہے اور کئی کا نہیں ہے۔
دورنبویۖ سے پہلے مسخ شدہ ادیان سے لوگ بیزار تھے۔ ایک طرف کہتے کہ یہودونصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گامگر پھر بنیادوں کو ہلانے تک ایکدوسرے سے دشمنی تھی اور حضرت عیسیٰ کی انتہائی توہین اور انتہائی عقیدت میں غلو کا شکار تھے۔ جیسے شیعہ سنی یا بریلوی دیوبندی یا حنفی اور اہل حدیث ہیں۔ اسلام نے یہود ونصاریٰ کی خواتین سے مسلمانوں ہی کی طرح نکاح کی اجازت دی اور کٹرمذہبی پن کی چوتڑ کا خاتمہ کیا۔

جاہل سوتیلی ماں کو بیوی اور لے پالک کی بیوی سے نکاح جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اندازہ کریں کہ سورہ احزاب میں فرمایا: ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں ومنافقوں کے پیچھے نہ چل۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اس کی اتباع کر و جو تیرے رب نے تیری طرف بھیجا ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو اور اللہ پر توکل کرو اور اللہ کی وکالت کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ محض تمہاری اڑائی ہوئی باتیں ہیں۔ اللہ حق کہتا ہے اور راستہ بتایا ہے”۔

یہ کس قدر نزاکت خیز معاملہ تھا؟۔ رسول اللہۖ پر کفاراور منافقین کی اتباع نہ کرنے کی وحی نازل ہوئی تویہ ملحدیا سیکولر طبقہ نہیں تھا بلکہ مذہبی طبقات ہی تھے۔ آج کے مذہبی طبقات نے پھر دورِجاہلیت سے بھی زیادہ جاہلانہ مذہبی حساسیت بنائی ہے۔

سورہ مرسلات میں ہواؤں نہیں بلکہ دین کی نشر و اشاعت کے ذریعے میں دنیا میں طوفان برپاہونے کا معاملہ تھا لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے نہیں سمجھا کہ یہ انقلاب انکے خلاف تھا۔

”جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف سے چڑھ آئے اور تمہاری آنکھیں پتھراگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آئے۔ اس موقع پر اللہ نے مؤمنوں کو آزمائش میں ڈال دیا۔ وزلزلزلوا زلزالًا شدیدًا اور سخت ہلا دئیے گئے اور جب منافقوں نے کہا اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہ ہمارے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ نہیں کیا مگر دھوکہ ۔ (احزاب:11)
شدید زلزلوں سے مراد زلزلہ نہیں بلکہ دشمنوں نے انہیں گھیر لیا تھاتو منہ کو کلیجہ آیا۔منافقین اور جنکے دلوں میں بیماری تھی وہ اللہ اور رسولۖ کے خلاف موقع پاکر بکنے میں مشغول ہوگئے۔

سورہ مرسلات میں ہوائیں مراد نہیں ہوسکتی ہیں بلکہ دین حق کے پیغامات سے طوفان آیا۔ قیصر روم نے ابوسفیان سے مکالمہ کیا تو وزراء سے کہا کہ ہمارا تخت انکے قدموں کے نیچے ہوگا۔ نجاشی نے اسلام کی تائید کی۔ مذہبی طبقات اپنے مفادات کی وجہ سے باطل مذہبی مسائل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔

والمرسلات عرفًاOفالعاصفات عصفًاOالناشرات نشرًاOفالفارقات فرقًاOفالمقیات ذکرًاOعذرًا او نذرًاOانما توعدون لواقعO

مروجہ ترجمہ”ان ہواؤں کی قسم جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں ۔ جو تندی سے چلتی ہیں۔ جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔جو بادلوں کو متفرق کرتی ہیں۔ جو اللہ کی یاد کا القا کرتی ہیںالزام اتارنے یا ڈرانے کیلئے، جن کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور لانے والی ہیں”۔

حالانکہ منکر کے مدمقابل معروف:درست ترجمہ ۔ ”قسم ہے اسلامی معروف پیغامات کی ۔پھر ان سے طوفان مچ گیا۔پھر اس کی نشریات نشر ہوئیں۔پھر حق اور باطل میں فرق واضح ہوا۔پھر قرآن کیلئے ملنا جلنا ہوا، جس نے عذر داری ختم کی اور آخرت سے ڈرایا۔ بیشک جس کا تم سے وعدہ ہے واقع ہوگا”۔ معروف و منکر میں تمیز نہ ہو تو اجنبی ہے۔ آج پھروہی صورتحال بن گئی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بدترہے۔ فتح مکہ، قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنے کی خبر سچ ثابت ہوگئی۔ پھر اس سے بڑے انقلاب کی خبر ہے۔مجھے2018ء میں شاباتی ملک نے کہا کہ آپ کی وجہ سے طلاق کا مسئلہ عوام سمجھ گئے ۔ پھر جنجال گوٹھ کراچی سے ایک بندے نے فقط5منٹ میں طلاق کا مسئلہ سمجھ لیا۔ گومل میں ہمارے محسود پڑوسی کے خاندان کا ہے۔ سبزی منڈی کے پاس بلایا اور مسئلہ فوراً سمجھ گیا لیکن قائداعظم یونیورسٹی کے ماسٹر محسود کا بھائی مذہبی تبلیغی تھاتو دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا میں گھنٹوں سمجھایا اورنہیں سمجھ رہا تھا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ”85فیصد مسائل فقہ حنفی میں امام اعظم ابوحنیفہ کے خلاف ہیںاور جب تک امام مہدی علیہ السلام نہیں آتے تو مولوی شک وشبہ اور تخمین و ظن سے فتویٰ دیںگے اور جب امام مہدی آئیں گے تو ان کی بات حق اور مخالفین کی باطل ہوگی اور ہم مدارس میں امام مہدی کیلئے لشکروں کو تیار کررہے ہیں”۔

امام مہدی پر کوئی وحی تو نہیں اترے گی بلکہ ہر مسلک قرآن و سنت کا فطری دین سمجھے گا جس کو کیا یہ سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں؟۔

مولانا سندھی نے مفتی رفیع عثمانی کے والد کے اساتذہ کرام سے کہا تھا کہ ” تم مہدی کے انتظار میں ہو مگر وہ آئیںگے تو تم مخالفین کی صف میںہوگے اسلئے کہ تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو امام مہدی کی بھی نہیں مانوگے”۔ شیخ الہند کے شاگرد ہزارہ کے پیر صابر شاہ سابق وزیراعلیٰ پختونخواہ کے والد مولانا سیداحمد شاہ بھی تھے ،جو کٹر بریلوی بن گئے کہ یہ ٹریک سے ہٹ گئے ہیں۔ جبکہ شیخ الہند نے آخر میں فرمایا کہ ”امت کے زوال کے اسباب دو ہیں قرآن سے دوری ، فرقہ پرستی”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھ دیا کہ ”حقیقت میں فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے ”۔

مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت نے1926ء میں ایک اصلاح کا طریقہ کار وضع کیا۔ مقصد اللہ کے احکام اور نبیۖ کے طریقوں کو زندہ کرنا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے علامہ شبیراحمد عثمانی کو خط لکھاکہ مسلم لیگ کی انگریز حمایت کرتا ہے تو علامہ شبیراحمد عثمانی نے جواب میں لکھا کہ انگریز ہمارے اچھے مقصد کی حمایت کرے تو اس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا مقصد نہیں چھوڑ سکتے۔ تبلیغی جماعت کیساتھ بھی انگریز نے تعاون کیا لیکن اس کی وجہ سے تبلیغی کام کو نہیں چھوڑ سکتے”۔ اردو ڈائجسٹ میں یہ دونوں خطوط تفصیل کے ساتھ شائع کئے گئے تھے۔

1933ء میں مولانا انور شاہ کشمیری کا انتقال ہوا تھا فرمایا:”میں نے قرآن و حدیث کی خدمت نہیں کی اور فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔ قاری شیر افضل خان کے خواب کو ان کی زندگی میں چھاپا ”رسول اللہۖ قرآن کا درس دے رہے تھے اور مولانا سید محمد یوسف بنوری اس میں شریک تھے لیکن مفتی محمود کو شرکت کی اجازت نہیں ملی”۔ مفتی محمود نے فرمایا کہ ”بنوری صاحب بڑے آدمی ہیں، ہم اسکے مقام کو نہیں پہنچتے”۔ بھائی پیر نثار شاہ مفتی محمود کی زندگی میںولی خان کی پارٹی میں تھے لیکن پھر جمعیت میں شامل ہوگئے۔ مفتی محمود کو اس نے بھی خواب میں پوچھا تھا کہ ”میری لائبریری میں سب سے اچھی کتاب کونسی ہے؟ مفتی محمود نے قرآن اٹھایا کہ یہ سب سے اچھی کتاب ہے”۔
ایک تبلیغی نے اسٹیج پر خواب سنایا کہ ”مفتی محمود نے بتایا کہ مجھے زندگی میں پتہ ہوتا تو سیاست کی جگہ تبلیغی کام کرتا” تو حاجی محمد عثمان نے اسٹیج پر جاکر اعلانیہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ ” مفتی محمود نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کیا،ہم سارے تبلیغی بھی اس کے پیروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ جھوٹے خوابوں سے لوگوں کو گمراہ مت کرو”۔
حاجی عثمان پر فتوے لگنے کے بعد میں نے خواب میں حاجی امداداللہ مہاجر مکی کو دیکھا جو مجھے دیکھنے کیلئے تشریف لائے تھے مگر مجھے دلچسپی نہ تھی لیکن ایک اور خواب بڑا عجیب لگا کہ” ایک جدید ترین نئی گاڑی ہے۔70،80کے قریب افراد ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ بہت بڑے بڑے کٹ تھے ۔ پہاڑ میں گاڑی چلتے ہوئے بھرائی سے روڈ کے کارپٹ تک سب کام آٹومیٹک کررہی تھی۔ حاجی عثمان نے پوچھا کہ خواب میں مجھے ساتھ دیکھا تو میں نے افسوس کیساتھ کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پھر فرمایا کہ ”تیرے لئے یہ70،80بھی کافی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تیری وجہ سے صدیقین کی جماعت پیدا کردے گا اور سورہ الحدید میںمصدقین کا ذکر ہے جس سے مذہبی طبقے نے صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔حالانکہ مکذبین کی ضد ہی مصدقین اور صدقین ہیں۔ سورہ مرسلات میں بار بار ہلاکت کا ذکر ہے مکذبین کیلئے۔ جس میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔

تکاد السماوات یتفطرن من فوقھن والملائکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھو الغفور الرحیمO(سورہ شوری آیت5)

”قریب ہے کہ آسمان ان کے اوپر سے پھٹ جائیں۔ اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کیساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کیلئے استغفار کرتے ہیں۔ خبردار! بیشک اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔
فرشتے نافرمانی کو دیکھ کر اجازت مانگتے ہیں تو اللہ مقرر وقت سے پہلے اجازت نہیں دیتا تو پھر بدلتے ہیں۔ اس کی تفسیر میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا: ”فرشتے اتنی بڑی تعداد میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے”۔ معین اختر اور انور مقصود کی کلپ میں پاکستان آزاد ہوا، سرپھٹ گیا کو دیکھو۔لطیفے سے تفسیر سمجھ لیں۔

وماتفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلة سبقت من ربک الی اجلٍ مسمی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعدھم لفی شکٍ منہ مریبٍO(سورہ شوری آیت14)

”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر علم آنے کے بعد باہمی بغاوت کی وجہ سے اوراگر تیرے رب کی طرف سے ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا تو وہ کتاب سے شکوک وشبہات میں مبتلا ء رہے”۔

قدقامت الصلوٰة نماز کی اقامت اور بڑی قیامت سے پہلے قرآن میں مہدی کی قیامت ہے۔ قوم پر عذاب آتا ہے تو یہ بھی الساعة ،قیامت اور یوم الدین ہے۔ مکافات عمل سے قوم میں تبدیلی آتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق مہر کے اندر شوہر کی آدھی جائیداد کی تجویز رکھی ہے لیکن پہلے مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ جلد دوم میں فتوؤں کی جہالتوں پر نوٹس لیا جائے۔ نابالغ بچیوں کیساتھ نکاح، خلع اور نکاح کے بعد جس طرح کے مظالم کئے گئے ہیں کوئی عقلمند شخص سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ مفتی عصمت اللہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں طلاق کے مسائل کا جواب دینے سے دستبردار ہوگئے تو ایک شخص نے وہاں مفتی عصمت اللہ کا فتویٰ مانگا تو کسی اور طالب علم عصمت اللہ کے نام پر فتویٰ دیا لیکن یہ جھوٹ اور خیانت کب تک چلے گی؟۔

سورہ مرسلات میں ستاروں اور پہاڑوں کا ذکر ہے، میرے استاذ مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے میرا کہا کہ مدارس پہاڑ ہیں اور یہ پہاڑوں سے ٹکراگیا۔ قرآن پہاڑ کو بھی اوتاد یعنی میخیں کہتاہے اور فرعون کو بھی اوتاد والا کہا گیا ہے۔ پہاڑ کے لنگر انداز ہونے سے زمین کو استحکام ملا ہے اور فرعونی حکومتیں دنیا میں مضبوط اقتدار کی وجہ سے پہاڑکی مانند ہیں۔ شخصیات ستارے سٹار کہلاتے ہیں۔ انقلاب کا وقت آتا ہے تو پہاڑوں جیسی حکومتوں کا تیا پانچہ ہوجاتا ہے اور ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان جیسے ستارے غروب ہوکر حضرت بلال حبشی، صیب رومی ، ابوبکر وعمر جیسے لوگ نمایاں ہوتے ہیں۔
سورہ طارق میں نجم ثاقب کا ذکر ہے ۔ طارق کا مطلب دستک دینے والا اور ثاقب کا معنی سوراخ کرنے والا۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ ”ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تاکہ اس کا بیجا نکالے تووہ دفعتاً مٹ جاتاہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مسلسل ضربیں مارتا رہے گا یہاں تک کہ لوگ حق کی طرف رجوع کرلیں” ۔اور یہ بھی فرمایا کہ ” حسن وحسین کی والدہ فاطمہ کی اولاد سے ایک شخص نکلے گا جو گمراہی کے قلعوں کو اور زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا”۔
ایک خواب میں مہدی کا شجرہ حضرت حسن کی اولاد سے بتایا ہے۔جس میں حسن وحسین سے دھدیال اور ننھیال کا رشتہ بتایا گیا ہے اور اس میں اوپر کی پشت میں یوسف کی طرف نسبت کا ذکر ہے اور تعبیر والے نے کہا کہ ممکن ہے کہ مختلف پشتوں میں حسن و حسین دونوں کا اشتراک ہو مگر پہلا اشتراک حسن کے بیٹے اور حسین کی بیٹی کا موجود ہے۔

کانیگرم میں ہمارا سلسلہ نسب کا جدامجدشاہ محمد کبیرالاولیائ کی اولاد میں سید یوسف شاہ کی طرف منسوب ”یوسف خیل” ہے۔ محسود میں ”یوسف خیل” بھی اپنا جدامجد کانیگرم میں یوسف شاہ بتاتے ہیں۔ بنوں میں بھی سادات ہمارے شجرہ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی بہت ہوں گے۔ میری اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن حاجی محمد عثمان نے وصیت کی تھی تو اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تحقیق کی۔ اصل چیز قرآن وسنت کا احیا کرنا ہے۔ سب آدم کی اولاد اور فضیلت تقویٰ کی ہے مگر حلالہ اور سود کی لعنت کیساتھ داڑھی یاآنسو شیطانی فریب ہے۔

سورہ مرسلات میں اللہ نے فرمایا کہ ” قصر اور زرد اونٹوں کی طرح چیزیں ان پر پھینکی جائیں گی”۔ اگر چہ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی بھی اونٹ اور محل کی طرح ہیں لیکن معروف کی تبلیغ اور نشر واشاعت منکرات کے مقابلے میں ڈرون اور میزائل سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سورہ مرسلات میں سورہ واقعہ کی طرح تین طرح کے لوگ ہیں۔ اللہ نے بالکل ہر چیز واضح فرمائی ہے۔

فاذا النجوم طمستOفاذا السماء فرجتOو اذا الجبال نسفتOواذا لرسل اقتتOلای یومٍ اجلتOلیوم الفصلOو ما ادراک ما یوم الفصلOویل یومئذٍ للمکذبینOالم نہلک الاولینOثم نبعھم الاٰخرینOکذٰلک نفعل بالمجرمینO

” پس جب ستارے مٹادئیے جائیں گے اور جب آسمان خوشیوں اور شادمانی سے مالا مال ہوگا اور جب پہاڑ اڑادئیے جائیںگے۔ جب فرشتوں کے مقرر کرنے کا وقت آجائے گا۔ وہ کس دن کی جلدی کرتے ہیں؟۔ فصل کے دن کی اور تمہیں کیا خبر ہے کہ یوم الفصل کیا ہے؟۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا اور پھر ان کے پیچھے دوسروں کو کریں گے۔ اسی طرح مجرموں کیساتھ ہم سلوک کرتے ہیں”۔ (المرسلات:8سے18)

اللہ نے فرعون، نمرود اور نافرمان قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوچکا بعد والوں کیساتھ وہی ہوگا۔ جبکہ بڑی قیامت ابھی تک نہیںآئی۔ شیعہ مہدی کا کہتے ہیں کہ عجل اللہ فرجہ الشریف اسکے ظہور کو خوشحالی اور شادمانی سے تعبیر کیا۔ فرج کا عام معنی یہی ہے اور حدیث میں آسمان کا کھل کر رحمت برسانے کا ذکر ہے۔ پہلوں پر قیامت نہیں آئی اور اب بھی نہیں آئے گی ۔ پہاڑ اور ستارے یونہی رہیںگے لیکن اقتدار اور سٹار پر قیامت ٹوٹے گی۔ مولوی مکافات عمل کی جگہ مٰلک یوم الدین کو قیامت پر ڈالے تو نمازوں میں صراط مستقیم کی بھی دل سے دعا نہیں نکلتی اور اگر درست تصور آئے تو نماز سے بھی انسان کو ہدایت ملے مگر مانگے کچھ کرے کچھ تو؟۔

ان المتقین فی ظلالٍ و عیونٍOوفواکہ مما یشتھونOکلوا واشربوا ھنیئًا بما کنتم تعملوںOانا کذٰلک نجزی المحسنینOویل یومئذٍ للمکذبینOکلواوتمتعوا قلیلًا انکم مجرمونOویل یومئذٍ للمکذبینOواذا قیل لھم ارکعوا لایرکعونOویل یومئذٍ لکمکذبینOفای حدیثٍ بعدہ یؤمنوںO

”بیشک متقی سائے و چشموں میں ہونگے اور اور پھلوں میں جو وہ چاہیں۔ مزے سے کھاؤ پیو جو تم عمل کرتے تھے ۔ بیشک ہم اس طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ کھاؤ ! چند روزہ فائدہ اٹھاؤ بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ تو نہیں جھکتے تھے۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ (سورہ مرسلات آیت41سے50)

فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے کے بعد بھی یہی ہوا تھا اور آج فرعونی قابض قوتوں کا دنیا سے قبضہ ختم ہو تو یہ دنیا قرآنی آیات کیمطابق جنت ہے اور ظالمو سے بھی کہا کہ کچھ دیر زندگی میں فائدہ اٹھاؤ۔ جس کا آخرت سے تعلق نہیں ہوسکتا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا تو چھوٹی سطح سے بڑی سطح تک ظالم بھی مطمئن ہوں گے اور ان کیلئے آخرت کو سدھارنے کا بھی موقع ہوگا۔

عالمی خلافت میں ہندو، یہود،نصاریٰ ، مجوسی، بدھ مت اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ گھر، محلہ، علاقہ ، شہر اور تحصیل، ضلع ، صوبہ اور ملکوںکی تباہی کا سلسلہ رکے گا۔ انسانیت کی تکمیل کیلئے جو قیامت دنیا میں قائم ہوگی، تفصیلات قرآن میں مختلف جگہوں پر بہت وضاحتوں کیساتھ موجود ہیں۔ پاکستان لیلة القدر کو آزاد ہوا۔ حاجی محمد عثمان کی خلافت لیلة القدرسے متعلق تھی اور میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ بابا سے پوچھا تو لیلة القدر کابتایا: وامتازوا الیوم ایھا المجرمون ” آج اے مجرمو! الگ ہوجاؤ”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی سورہ القدر کی تفسیر میں اس خطے کی قوموں کو امامت کی بشارت دی۔

مجھ پر2006ء میں قاتلانہ حملہ اور2007میں13افراد شہیدکردئیے تھے۔پھرحاجی عثمان کے معقتدین کیخلاف فتویٰ شائع ہوا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا”۔ مجھ پر1991ء میں عرفان رکشہ والے حاجی عثمان کے مریدموٹر سائیکل سے فائرنگ کررہاتھا۔ میں اس کو پکڑنے کیلئے بھاگ رہاتھا۔ اس کا بیٹا ہمارے پاس تھامگر میں نے باعزت اور باحفاظت پہنچادیا۔ بعد میں اس نے مجھ سے معافی مانگی تو میں نے اس کی بہادری پر اس کو داد بھی دی۔

انبیاء کرام کا سلسلہ ختم نبوت کی وجہ سے بند ہے لیکن اب تو قیامت کے ذریعے قرآن کے آئینہ سے انسانیت پر حجت کے اتمام کا بندوبست ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی تو بہت کمزور ہیں لیکن اللہ ،اس کی کتاب اور اس کے رسول ۖ کی سنت میں وہ طاقت ہے جس کے ذریعے جہنم بننے والی دنیا جنت بنے گی۔

اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت برپا کرے گا ۔
وما قدراللہ حق قدرہ والارض جمیعًا قبضتہ یوم القیامة و السماوات مطویات بیمینہ سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکونOو نفخ فی الصور فصعق من فی السماوات ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذاھم قیام ینظروںOواشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجی ء بالنییین والشہداء وقضی بینھم بالحق و ھم لایظلمون O

”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق ہے اور زمین کو قیامت کے دن میں قابومیں لوں گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹ لوں گا۔ وہ پاک و اعلیٰ ہے جسے وہ شریک ٹھراتے ہیںاور صور پھونکا جائے گا تو بجلی کا جھٹکا ملے گا جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے لیکن جس کو اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ بجلی کا جھٹکا ہو گا تو سب قیام کئے دیکھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور انکے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔(الزمر67تا69)

دنیا میں تمام مذاہب والے کے کردار کو ان کی اپنی کتابوں کو گواہ بناکر اچھے اور بروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کو دنیا میں جزا اور سزا اپنے ماحول اور مذاہب کی بنیاد پر ہی دی جائے گی۔

وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ وارثنا الارض نتبوامن الجنة حیث نشاء فنعم اجر العاملینO

”اور وہ کہیں گے کہ تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے اپنا وعدہ ہمارے ساتھ سچا کر دکھایااور ہمیں زمین کا وارث بنادیا ہم باغ میں جہاں بھی اپنا گھر بنالیں۔پس اللہ بہتر اجر دیتا ہے عمل کرنے والوں کو”۔ (سورہ الزمر:آیت74)

دنیا میں قبضہ مافیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کو بھی مافیا بتایا جاتا ہے۔ اگر قبضہ مافیاز کو دنیا سے ختم کردیا جائے تو پھر یہ زمین ہی دنیا میں جنت ہے اور سودی قرضوں اور کسی کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے اور نظریں گاڑھنا بند ہوجائے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔

مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ عورت کا فرض ”ستر ” پورا جسم ہے مگر محرموں کو اپنا چہرہ دکھاسکتی ہیں اور نماز میں بال نظر آئیں تو نماز نہ ہوگی۔مردوں کا گھٹنوں سے ناف تک فرض ”ستر” ہے۔ ستر کی دوقسم ہیں ۔ شرمگاہ مغلظ اور گھٹنا مخفف ہے۔جو بدریج ایک دوسرے تک لائٹ شیڈ سے ڈارک شیڈ کی طرح جاتاہے۔

والقواعد من النساء التی لایرجون نکاحًافلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

قرآن میں جن عورتوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے سنگار چمکائے بغیر تو اس سے کیا مراد ہے؟۔ فرض ستر کہاں گیا؟ اور زینت کا تبرج کیا ہے؟۔دوبئی میں برقعہ پوش عورتوں کا جسم ڈھکا ہوا مگر سینوں کی جھلک نمایاں دیکھی اور یہی تبرج ہے۔ مغرب کا ماحول بھی شرمگاہوں کیساتھ سینوں کو چھپاتا ہے۔ اگر چہرہ زینت اور فرض ہوتا پھر حج و عمرے میں اس کا کھلا رکھنا کیوں ضروری تھا؟۔ کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔
مولانا طیب طاہری شیخ پنج پیر کی یہ تصویر وائرل ہے اور لوگ پشتون کلچر کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔ دفاع نہ مخالفت مگر موقع غنیمت ہے۔ مذہبی طبقے کی جہالتوں کا خاتمہ کرنا ہے جنہوں نے اسلام کی غلط تصویر عوام پر مسلط کردی ہے۔میں خود بھی علماء حضرات کا ایک ادنیٰ شاگرد ہوں اور جو انہوں نے بتایا تو اس کو درست سمجھا اور عمل کیا لیکن جب عربی سمجھنے لگا اور قرآن وحدیث کو دیکھا تو یہ شرم محسوس نہیں کی کہ کل کیا کہتا تھا ؟۔ اصل خدا کی اطاعت ہے اور علماء ومفتیان خود عمل نہ کریں تو ان کی فقہ وتفہیم بھی رہنمائی کا وسیلہ ہے۔ لیکن جب یہ شیعہ پر قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگائیں اور اپنی کتابوں کا پتہ چلے تو چوتڑکو کھجائیں ؟۔پھر شیوخ نہیں شیاطین اور دجالین ہیں۔ فنڈز ملتا ہے تو بزرگ علماء ومفتیان شیعہ کوکافرقرار دیں ، پھر فنڈملنا بندتو مسلمان؟۔ انکے فتوؤں کو ان کی پچھاڑیوں ہی میں ڈالنا ہوگا۔
ــــــــــ

علامہ سید محمد یوسف بنوری کی
ایمان افروز کوشش کے نتائج

علامہ یوسف بنوری کا انتقال1977ء میں ہوا۔ دورۂ مصر کی یہ ویڈیو ہے۔ بنورینے شاہ فیصل سے کہاکہ” حرمین فحش مناظر پر پابندی لگائیں” تو سعودیہ نے عورتوں کو حجاب کا پابند بنایا۔1979ء کا ایرانی انقلاب حجاب لایا۔ ملا عمر کی نسبت موجودہ طالبان بدل گئے۔ کابل بازاروں سے ویڈیو زآئی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنا رویہ بدل دیا اورایران بھی تقریباً کافی بدل چکا، برطانیہ اور فرانس نے کالونیوں کو آزاد کیا تو کابل، عراق، ترکی، الجزائر اور برصغرپاک وہند پر خواتین کے پردہ داری پر گہرا اثر چھوڑا گیا پھر حکومتوں اور علماء ومذہبی جماعتوں نے ماحول کو بدل دیا تو اسلام کے احکام بھول گئے ۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ شرعی پردہ کیا ہے؟۔
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی نے لکھا کہ ”شرعی پردہ کوئی بھی نہیں کرتا ہے ۔ جہاں پردہ ہے یہ اشرافیہ کا پردہ ہے اور اس سے بہتر ہے کہ پردہ نہیں کیا جائے اسلئے کہ جن قوموں میں پردہ ہوتا ہے وہاں قوم لوط کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے جو زنا کاری سے زیادہ بدتر ہے”۔

صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا:” عورت کا نکاح سے پہلے کتنا جسم دیکھنا جائز ہے؟۔ جمہور کے ہاں ہاتھ و چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی نے شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھنا جائز قراردیا۔ علامہ ابن حزم کے نزدیک پورا جسم دیکھنا جائز ہے۔(کشف الباری شرح بخاری)

امام اوزاعی بنوامیہ کے دور کا تھا اور علامہ ابن حزم نے بھی قرطبہ یورپ میں صدیوں بعد بنوامیہ کے حکمرانی کے دور میں مذہبی مسائل بیان کئے تھے۔ لونڈیوں کی منڈیاں لگتی تھیں اور ان کے پردہ وغیرہ تو دور کی بات ہے جسمانی اعضاء کے ناپ تول کے ماہرین جنسی خواہشات کیلئے ہر غیر انسانی بے حیائی کا منظر پیش کرتے تھے۔ لیکن آزاد عورتوں کا کباڑہ مسلمانوں کے غلط مذہبی مسائل نے کیا۔ الجزائر کے مسلمان غنڈہ گردی سے گوروں کو پکڑ کر ترکی، ایران اور برصغیر پاک وہند میں غلام اور لونڈیاں بناکر بیچتے تھے۔ جاویداحمد غامدی نے امریکہ کو بالکل غلط مہذب فاتح قرار دیا اسلئے کہ جاپان پر ایٹم بم گرانے کے اکلوتے مجرم نے افغانستان ، عراق ، لیبیا، شام اور جہاں اپنے مفادات دیکھے بہت بدتمیزی اور ظالمانہ طریقے سے مخالفین کی تذلیل کی ہے لیکن تاریخ کے اوراق جایدغامدی کے چہرے اور سیاہ دل سے بھی زیادہ سیاہ ہیں۔ انسان زبان کے نیچے ہے۔

قرآن کا سادہ اور درست ترجمہ
آج تک نہیں ہوسکا ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO(سورہ النورآیت:60)

”اور قانونی وہ عورتیں جن کو نکاح کی امید نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتاریں اپنی زینت کو دکھائے بغیر۔ اور اگر پاکدامنی اختیار کرلیں تو ان کیلئے یہ بہتر ہے۔ اور اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

ایران متعہ اور سعودی عرب میں مسیار والی عورتوں کو نکاح کی امید نہیں ہوتی ہے تو ان کیلئے قانون کیا ہے؟۔ ایران میں ایک طرف جبری حجاب تھا اور دوسری طرف متعہ کے اڈے۔ سعودی عرب نے مسیار کی اجازت دی تو حجاب پر وہ پابندی بھی برقرار نہیں رکھی۔ آیت میں قواعد سے مراد بوڑھی عورتیں نہیں اور پھر زینت سے مراد کیا ہے؟۔ جہاں بہت ہی گرا ہوا ماحول ہے تو وہاں بھی شرمگاہ کیساتھ عورتیں اپنے سینے کو ڈھانپ لیتی ہیں۔

اگلی آیت النور:61میں جن افراد کے گھروں میں کھانے کی اجازت ہے تو یہی پردہ پوری دنیا میں رائج ہے نہ کم نہ زیادہ اور ہرچیز میزان میں ہے اور اچھی لگتی ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا:
” نہیں ہے حرج نابینا پراور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر کہ تم کھاؤ اپنے باپوں کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروںمیں، یا بھائیوں کے گھروںمیں،یا بہنوں کے گھروں میں،یا چچوں کے گھروںمیں، یا پھوپھیوں کے گھروں میں،یا ماموں کے گھروں میں،یا خالاؤں کے گھروں میں، یا جن کے گھروں کی چابیوں کا تمہیں اختیار ہے یا دوست کے گھر میں ۔ کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ”۔ (النور:61)

شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے پہلا اردو ترجمہ اور حواشی لکھے اور لکھ دیا کہ ”اندھا، نابینا اور لنگڑا میں حرج نہ ہونے سے مراد یہی ہے کہ جمعہ کی نمازاور جہاد سے وہ معذورہیں”۔ بات کیا ہے؟ اور مفہوم کیا نکالا؟۔ باقی مذہبی طبقات تو برائلر کی طرح ہیں۔

امام اوزاعی اور ابن حزم نے نکاح کیلئے لوگوں کو بے لباس کرنے کا بڑا گھناؤنا شرعی حکم جاری کیا۔ پھر جن کو نکاح کی امید نہ ہو تو متعہ و مسیار والوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یورپ کے لوگ دھوپ کھانے کی غرض سے بے لباس ہوتے ہیں اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں اوران کو اس حال تک پہنچانے میں مذہبی فقہ کا کردار تھا؟۔ افہام وتفہیم کیلئے وسیع میدان سجانا پڑے گا۔
ــــــــــ

فاطمہ نسومر خولة الجزائر

الجزائر پر فرانس کا1830ء میں قبضہ ہوا۔ فاطمہ نسومر مذہبی گھرانہ سید احمد کے گھر پیدا ہوئی۔ قرآن حفظ کیا۔ شادی کے بعد علیحدگی مگرخلع نہ ملا۔ سلطنت عثمانیہ کے ولی عہدکا رشتہ نہ لیا۔ فرانس کیخلاف جہاد کیا۔1863میں جیل میں فوت ہوئیں۔ الجزائری طاہر بن عاشور1879پیدا اور آزادی بعد1973میں فوت ہوا۔مختصر خطبۂ جمعہ سے بڑی شہرت مل گئی کہ” تمہاری عورتیں بازاروں میں ننگی ہیں ، تمہاری نماز میں کوئی خیر نہیں”۔

الجزائر کے مسلمان کبھی جہازوں میں لوٹ مار کرتے تھے ۔ عورتوں، بچوں کو غلام بناکر مختلف جگہ بیچتے تھے۔ آج ہمارا علم و کردار درست ہوگا تو تاریخ کا خوف غیرمسلموں کے دلوں سے نکلے گا۔ قرآن وحدیث کی درست تعلیمات دنیا کو پہنچے تو سعودی عرب ، ایران اور افغانستان سے زیادہ بہتر اسلام کا نفاذ جمہوری انداز میں دنیا بھر کے غیر مسلم کریں گے۔ اسلام کو مسخ کیا گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر

حسن الہیاری: السلام علیکم سسٹر کیا حال ہے ،ٹھیک ہیں؟
مریم: الحمدللہ سر جو ٹاپک چل رہا ہے اس کے لحاظ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب یہ کیا کہتے ہیں آپ کہ یہ اب ان کا فراڈ سامنے آ جائے گا کہ ان کے بعد کن کی تقلید ہو گی؟۔
الہیاری: وہ یہ تو ان کا رہبر تو ہے ، مجتبی صاحب رہبر ہیں۔
مریم: نہیں تو مجتبی صاحب کیسے رہبر بن سکتے ہیں؟ مطلب یہ کیا اتنے ان کا وہ لیول ہے کہ جس حد تک وہ تھے۔
الہیاری : خامنہ کا بھی کوئی لیول نہیں تھا۔
مریم : فراڈ سامنے آئیگا کون خمس دے گا اور بغیر خمس کے؟۔
الہیاری:فراڈ سامنے تھے ۔ یہ جھوٹ کے ماہر فراڈ سامنے آتا ہے تو کہتے ہیں یہ امریکہ کی سازش ہے پروپیگینڈا ہے ۔
مریم: بس تھوڑا کلیئر کرنا ہے جیسے میرے پیرنٹس اور بہت سے لوگ ہم آپ کو سنتے ہیں نا تو بہت سی چیزیں پتہ چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ٹریک سے اتر گئے ۔ جس طرح خامنہ ای کے بعد اللہ معاف کرے کہ مولا علی علیہ السلام کے جلوس میں انکے شبیہ، تابوت نکالے لوگوں نے اور ان فیکٹ ان کی تصویریں ہیں۔ یہ سب مطلب آگے کتنا زیادہ ہو گا ؟۔
الہیاری:دیکھیں ایرانی حکومت سر وائیو کرتی ہے یا نہیں۔ یہ نظام سروائیو کرنے والا نہیں۔ امریکہ کے پاس سٹریٹیجک پیشنز ہیں۔ یہ اپنے منصوبے طویل عرصے تک فالو کرتے ہیں پھر اس کو اپلائی کرتے ہیں۔ مثلا جیسے شام میں10،15سال جنگ تھی۔ آخر میں بشارالاسد کو نکالا گیا۔ تو ایران شام بننے کی طرف جا رہا ہے۔ اسی راؤنڈ یا نیکسٹ راؤنڈ میں چلا جائے گا لیکن ایک ولایت فقہیہ اور ایک نظام مرجیعت ہے۔ ایرانی حکومت سے نظام ولایت فقیہ بنی ہے۔ حکومت کیساتھ ولایت فقیہ بھی جائے گا ۔مرجیعت تو پہلے تھی جس کوخمینی نے کمزور کیا۔ مراجع کوکتے کی حیثیت سے دیکھتا، بڑا ذلیل کیا ،یہ لمبی داستان ہے کہ خمینی کا مراجع جیسے وحید خراسانی، صادق شیرازی، سید صادق روحانی ، آیت اللہ علی سیستانی سے رویہ کیسا تھا۔ کنٹرول تھا۔ غلام اور نوکر کی حیثیت سے تھی جو وہ کہے یہ وہی فتوی دیں گے۔ اپنا کام نکلواتا تھا اور اب بھی نکلواتا ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایسا نہ تھا۔ مراجع کی بڑی بڑی پاور تھی۔ ایران سقوط کر جاتا ہے تو ایرانی شیعوں کی دین داری کو بڑا نقصان پہنچے گاکیونکہ ایرانی عوام کاعلماء سے بہت کینہ دل میں ہے ۔ وہاں ملحداور دین دشمن افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ خامنائی کی پالیسی ہے۔ بہت سارے لوگ دین سے پھر گئے۔ اگر یہ نظام ٹوٹا تو ان کو کھلی چھٹی ملے گی کہ دین سے دشمنی ظاہر کریں۔ دین داری ایران میں پریکٹیکلی بہت کم ہے پاکستان کے مقابلے میں لیکن لانگ ٹرم میں دین کیلئے بہت بہتر ہے۔ یہ لوگ دین کو بدنام کر رہے تھے ۔اہلبیت علیہ السلام کے نام پر لوگوں پر ظلم، نوجوانوں کو یہ پھانسی دیتے تھے، یہ سلسلہ رکے تو دین کی بدنامی کا ٹرینڈ رکے گا تو لوگ دین کی طرف واپس آئیں گے۔ یہ حکومت گر جائے تو مراجع اور مذہب تشیع مزید کمزور ہو گا۔ لیکن ایران سے باہر پاکستان، ہند،عراق، دیگر ملکوں میں مرجیعت کو تقویت ملے گی۔ کیونکہ فی الحال مرجیعت بالکل ایرانی انٹیلیجنس کے قبضے میں ہے۔ اگر حکومت گر جائے تو مرجیعت کس کا کس سے شادی کر لے گی یعنی کس کی بیوی بنے گی مجھے نہیں معلوم کیونکہ مرجیعت کو ہمیشہ سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب کس کی سرپرستی قبول کریں گے مجھے نہیں معلوم۔ جو علما کہتے ہیں کہ مراجع ہمیشہ انڈیپنڈنٹ رہے ایسا بھی نہیں ۔
مریم: یہ ثواب کی مجالس جگہ جگہ۔ سارا ثواب پہنچتا ہے ؟۔
الہیاری: بدعتی انسان ، چاہے زندہ ہو یامردہ ۔ اس کی تعظیم، تعریف کرنا یہ شدت کیساتھ حرام ہے اور جو بدعتی کیلئے دعا یا تعریف کرتا ہے تووہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑتاہے۔ معاویہ اور یزید کیلئے ایصال ثواب لوگوں نے کیا، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنی بدبختی ہے جو منافق، ظالم اور بدعتیوں کیلئے کرے جنہوں نے دین کے عقائد کو فاسد کر کے اپنے آپ کو امام بنایا۔ ان کیلئے ایصال ثواب پر اللہ تعالی پوچھ گچھ کرے گا۔ فی الحال یہ فری ہیں جو مرضی کریں لیکن قیامت بھی حق ہے مرنا ہے۔
ــــــــــ

اسلام میں عورت کے حقوق پر خامنائی کی تقریر خواتین سے
سب سے اہم حق گھر کی خاتون بیوی کامحبت ہے۔ سب سے اہم ضرورت اور حق ان سے محبت کا ہے ۔ روایت ہے کہ مردوںکو بیویوں سے کہنا چاہئے: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ واضح اظہار کریں ۔وہ جانتی ہے پہلا اور بڑا حق گھر میں خواتین کا عدم تشدد ہے۔ پسماندہ مغربی ثقافت میں مردوں کے ہاتھوں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت ہیں۔ شوہروں کے ہاتھوں خواتین کا قتل ، بیویوں کی پٹائی مغرب میں ہے۔ یہ اہم ترین انحرافات میں سے ہے۔ اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو خوب مارتا ہے۔ یہ ثقافت رائج ہوجائے تو ایسی ہی ہوتی ہے ، وہ ایسے کام کرتی ہے ایسی ضد کرتی ہے، ایسے چڑاتی ہے کہ شاید شوہر کو غصہ آجائے اور وہ مارے، لیکن وہ مارتا نہیں ۔ جب یہ ثقافت رائج ہوجاتی ہے تو یہ اس شکل میں سامنے آتی ہے ۔ گھر کی منیجراور سربراہ خواتین ہیں۔ شوہر کا بچوں کی پیدائش کے اثرات سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں مدد کرنا ، گھر کے کام کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالنا چاہئے، مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ قدر دانی اس بات کی کہ ناکافی آمدنی کے باوجود، خواتین گھر کو چلاتی ہیں۔ اس نکتے پر غور کریں۔ کم لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ مرد کی آمدنی مثال کے طور پرایک مقررہ دفتری آمدنی ہے ۔ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں مگر گھر چلتا رہتا ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار ہوتا ہے ۔ یہ کون کرتا ہے؟ وہ کونسا ہنر ہے جو گھر کو چلاتا ہے؟۔

تبصرۂ نوشتہ دیوار
خامنائی کو حسن الہیاری بدعتی کہتا ہے تو طلاق بدعت وحلالہ پر کیا سمجھتا ہوگا؟۔ ایرانی شیعہ عورت کو سورہ النساء آیت19کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ الجزائری حافظہ فاطمہ کو خلع کا اسلامی حق نہیں ملا تو مجاہدہ بن گئی۔ اخلاق کا مسئلہ الگ ہے حقوق کا الگ۔ شرعی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نے دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلاف

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv