پوسٹ تلاش کریں

پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

turabul-haq-yousuf-ludhyanvi-shujaat-ali-qadri-janaza(2)

(مدرسہ نعیمیہ میں علامہ سید سعادت علی قادری اپنے بھائی سید شجاعت علی قادری کی میت کے انتظار میں (فروری 1993): بائیں سے مولانا ابرار احمد رحمانی ،علامہ شاہ تراب الحق قادری اور مولانا یوسف لدھیانوی ، علامہ سید سعادت علی قادری کے ساتھ۔ )

(نوٹ : یہ تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے جو آپ مندرجہ ذیل لنک پر چیک کرسکتے ہیں۔ )

https://en.wikipedia.org/wiki/File:Ulema_Janaza_Procession_Syed_Shujaat_Ali_Qadri.jpg

http://en.academic.ru/dic.nsf/enwiki/11775228
مولانا یوسف لدھیانویؒ اور علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کی تصویر حکومت اور عوام کی طرف سے شاہراہوں پر آویزاں کرنے کے لائق ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ نہ تو مولانا لدھیانویؒ بریلوی مکتب کو مشرک سمجھ کر ’’جہاں پالو قتل کردو‘‘ کا فتویٰ دیتے تھے اور نہ ہی علامہ تراب الحق قادریؒ دیوبندی کو گستاخ سمجھ کر انکے قتل کا فتویٰ دیتے تھے۔ کہاوت ہے کہ ہاتھی زندہ ہوتا ہے تو لاکھ کا ہوتاہے اور مرتاہے تو سوا لاکھ کا بن جاتاہے۔خوبی خامیاں سب میں ہوتی ہیں لیکن ان خفیہ گوشوں سے نقاب اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے قوم کا شعور بڑھ جائے۔

Attaur_Rehman_SissiPaleejo(2)

( بین الاصوبائی وزراء سیاحت اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر سیاحت مولانا عطاء الرحمن ، وزیر سیاحت آزاد کشمیر طاہر کھوکھر، وزیر سیاحت سندھ سسی پلیجو )

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان ؒ کا تعلق ملاعمرؒ کے شہر قندھار سے تھا۔ کسی سے نظرئیے اور عمل کا اختلاف نہ ہوتا تو عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے بھی ایک دوسرے کو قتل نہ کیا ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے سیاسی اور جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ آج مولانا الیاسؓ کی دعوت وتبلیغ نے مساجد کو رونق بخشی ہے اور مولانا الیاس قادری کی دعوت اسلامی نے مساجد کو نمازیوں سے بھرنے کی خدمت انجام دی۔ اللہ کرے کہ یہی لوگ مکہ مکرمہ کی طرح ساری عوام کو روزانہ مساجد میں لانے کے سنت طریقے کو اپنائیں ،خواتین اور بچے بھی باجماعت نماز میں آئیں۔

bukhari-ahmad-raza-molana-ilyaas(دائیں سے بائیں: اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ ، بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )

بھرچونڈی شریف دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کے اکابرین ؒ کا مشترکہ مرکز تھا۔جس طرح سے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ مسجد نبویﷺ وکعبہ میں کون بیٹھا ہے، صلح حدیبیہ کے شرائط پر بھی زیارت کیلئے جاتے ہیں اس طرح تاریخی انقلابی مراکز کی اہمیت کو برقرار رکھناتھا، اگرعلامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ بھرچونڈی شریف، امروٹ شریف، ہالیجی شریف اور خانپور شریف اکٹھے جایا کرتے تو دونوں فرقوں میں انتشارو افتراق کی کیفیت کے بجائے اتحادو اتفاق اور وحدت کا راستہ ہموار ہوجاتااور یہ آج کے دور میں ہوسکتاہے۔

Pir-Saien-Abdul-Khaliq-Bharchundi-sharif(پیر سائیں عبد الخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، ڈھرکی سندھ۔ ہماری جماعت پہلے گئی تھی ،سائیں نے خوشی کا اظہار فرماکر تعاون کا یقین دلایاتھا۔)

ہم نے پاکستان میں بہت علماء ومشائخ سے ملاقات کرکے اتحاد واتفاق اور وحدت کے جذبے کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد کندیاں شریف نے فرمایا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کو ساتھ کردیا تو بہت جلد کامیابی مل جائے گی مگر ہم نے کہا کہ نہیں وہ ملنا بھی چاہیں تو ہم نہیں ملائیں گے جس پر وہ زیادہ خوش ہوکر داد اور دعائیں دینے لگے۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی پیشکش تھی کہ ہمارے مدرسے کو اپنا مرکز بنالو، ہم نے معذرت کرلی کہ اپنی اجنبیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، جس پر بہت خوش ہوئے فرمایا کہ تمہاری پیشانی میں خلافت کی کامیابی کی جھلک دیکھ رہا ہوں۔ بیرشریف لاڑکانہ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ امیر اور مولانا مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر بھی بہت تائید کرتے تھے۔ دیوبندی،بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ علماء کرام نے بڑے پیمانے پر ہماری تائیدکی لیکن ہم مشکل کا شکار ہوکر اس طرح سے چل نہ سکے۔ آج ہماری ریاست بھی فرقہ واریت ختم کرنا چاہتی ہے ۔ پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

Nawaz-Sharif-with-Afghan-War-Lords-hikmat-yaar(گلبدین حکمت یار اور نوازشریف کے درمیان کون صاحب ہیں؟۔ تاریخ کا ایک منظر، اب حالات بدل گئے ہیں یا کچھ نہیں بدلا ہے؟۔)

ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان بنایا، اسلام کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی اور اسلام کے نام پر فرقہ واریت کو پروان چڑھایا، اسلام کے نام پر ایک مخصوص کاز کی وکالت کرکے ہماری مذہبی جماعتوں کو بہت زبردست پذیرائی مل گئی۔ اب اپنے مفادات کے خول سے نکل کریہ قربانی دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے اسلامی نظام کے قیام کا عمل آئے۔ اسلام کی ایسی امامت کرنے سے گریز کرنا ہوگا کہ استنجاء بھی نہیں کیا ہو۔ سب سے پہلے خود احتسابی کرکے اپنی کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس پر نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ کفر کی دنیا بھی متفق ہوسکتی ہے۔ پاکستان میثاق مدینہ کے طرز پر وجود میں آیا تھا۔ نبیﷺ نے یہود، نصاریٰ، مشرکین اور منافقین سے معاہدہ کیا تھا کہ شہر اور علاقے کے تمام باشندوں کی جانوں اور عزتوں کی حفاظت مشترکہ ذمہ دار ی ہے۔ اس معاہدے کو دنیا کی کوئی طاقت بھی ایک وقتی سازش نہیں قرار دے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا وجود تو بہت بعد میں آیا ہے۔ نبیﷺ نے نبوت سے قبل مکہ میں جس حلف الفضول کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا، اس میں اسلام سے پہلے ہر مظلوم کی داد رسی تھی۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت سے عرب میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہورہاہے ، اگر ہم نے فرصت کے ان لمحات سے فائدہ اٹھایا تو ناراض طالبان ، بلوچ ، مہاجر، سندھی، پٹھان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی قریب آجائیں گے اور بنگلہ دیش بھی الحاق کا اعلان کردیگا۔ کشمیروفلسطین کو بھی ظلم سے نجات مل جائے گی۔

پاک فوج اور صحافت کے درمیان سرد جنگ اور اسکے نتائج کا متوازن جائزہ

پی ٹی وی کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی بڑے لاہوری ہیں، لاہور کو عروس البلاد کہا جاتاتھااور اب تختِ لاہورکی شہرت ہے، جہاں دربار ہوتاہے وہاں درباری بھی ہوتے ہیں، خصائل کیساتھ رذائل بھی ہوتے ہیں، پنجاب سے پاکستان میں سورج طلوع ہوتا ہے ، نمازکاقبلہ مغرب مگر سیاسی قبلہ ہمارامشرق میں واقع ہے، ہندوستان میں ایک بریلوی شہروہ تھاجو علم ودانش اور فکر وانقلاب کا مرکز تھا تو دوسرا الٹا بانس بریلی تھا، شاہ ولی اللہ ؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید ؒ کے مرشد سید بریلویؒ کا تعلق معروف شہر بریلی سے تھا جہاں کے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی کتابیں عربی ممالک کی عربی نصاب میں داخل ہیں۔ الٹے بانس بریلی سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاں بریلویؒ کا تعلق تھا۔
ہندوستان کے مشہور مذہبی دریا کے بارے میں الٹا گنگا بہنے کی کہاوت ہے، علامہ اقبالؒ نے ’’پنجابی مسلمان‘‘ کے عنوان سے لکھا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا۔ یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد، ہو کھیل مریدی کا تو ہرتاہے بہت جلد۔ کافی عرصہ ہوا کہ پنجاب کی زمین بانجھ ہوگئی ، عطاء الحق قاسمی کیساتھ صحافی حامد میر جس انداز میں گفتگو کررہے تھے کہ کیا تحقیق کا واقعی کوئی مسئلہ نہیں جو بھونک دیا، سو بھونک دیا۔ حقائق کو ردی کی ٹوکری کی طرح آگ کے شعلے میں جھونک دیا، بس سردی میں گرمی حاصل کرنے کی جو رِیت چلی ہے کوئی نہیں پوچھتا کہ حقیقت میں کیا بیت چلی ہے؟۔میر شکیل الرحمٰن نے کہا کہ ’’ حامد میر حکومت گراسکتاہے‘‘یہ بول مہنگا پڑا۔
حامد میر نے مہمان کی حیثیت سے لاہورمیں عطاء الحق قاسمی کی میزبانی میں محفل جمائی تھی۔ عقیدت ومحبت کے سارے رنگوں کو لٹیرے کی طرح تاریخ پر نقب لگاکر لوٹا جارہاتھا۔ حامد میر نے فوج کیخلاف قربانیوں کے تمغے گنوانا شروع کئے۔ پہلا کارنامہ یہ بتایا کہ ’’سندھ میں فوج کے تشدد پر ڈرامے کیلئے مجھے فوجی کا کردار دیا گیا، طالب علم تھا، میں نے فوجی کا کردار پر سچ مچ میں زور دار طریقے سے ڈنڈا برسانا شروع کیا تو خاتون چیخ پڑی کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ میں نے جواب دیا کہ اس طرح سے لوگوں کو پتہ چل جائیگا کہ فوج عوام پر کتنا تشدد کرتی ہے‘‘۔ حامد میر کی رام کہانی سن کر مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو یاد آیا ہوگا کہ نوازشریف معافی مانگ کر سعودیہ سے پہلے فوج کا تشدد برداشت کررہے تھے تو واقعی حامد میر نے ڈرامے میں اچھا کیاکہ فوجی تشدد کو اس ادا سے اجاگر کیا کہ اس کو سن کو مریم نواز کی طرف سے شاباش کی ٹویٹ بھی ضرورآئی ہوگی۔
دانیال عزیز ، طلال چوہدری اور پریزمشرف کے دور کے بعد لیگ کا شرف حاصل کرنیوالے رہنما ؤں اور کارکنوں میں بھی ذہنی پختگی آئی ہوگی کہ اب کے بار ظالم فوج کا ساتھ نہیں دیناہے اور اگر کوئی طعنے پر اتر آیا کہ مشرف کا ساتھ دیاتھا تو غم کی بات نہیں ضیاء سے لیکر اشفاق کیانی تک ن لیگ کی قیادت روح کی طرح ڈھانچے میں رہی ہے بس غلطی ہوئی تھی جو خواب کی طرح سعودیہ کی طرف رختِ سفر باندھا ،پھر وہ دور گزر گیا۔ حامد میر یہ کہتے تو ٹھیک ہوتا کہ پہلے میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھتا تھا، فوج کو بدنام کرنیوالے سندھی ڈرامے بازوں کو میں نے سچ مچ انتقام کا نشانہ بنایا۔ فوج کے بڑے باغی مولانا فضل الرحمن کو بھی GHQکی دہلیز پر لانے کے کارنامے میرے نامہ اعمال میں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کا ایڈیٹر تھا تو ریکارڈ پر بھی لایا، پھر روزنامہ جنگ میں بھرتی ہوا تو ہندوستان سے ’’ایک آنٹی‘‘ کی کہانی لایا، جو اخبار کی زینت بنی، آنٹی نے اللہ کا واسطہ دیکر کہا کہ میری کوکھ سے ہندوؤں نے اپنے بچے جنوالئے، اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ مجاہدین کے ذریعے میرا انتقام ضرور لینا۔ روزنامہ جنگ میں یہ کہانی چھپنے سے پہلے میں نے مفتی شامزئی کے حوالہ سے روزنامہ اوصاف کے اداریہ میں لکھا تھا کہ مجاہد تنظیمیں واشنگٹن سے رابطۂ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے رقم تقسیم کرکے علماء کو خرید تی ہیں، پھر منظرنامہ بدلا ۔ اجمل قصاب نے ’’آنٹی‘‘ کا بدلہ لینے کیلئے بھارت کے اوپر زبردست حملہ کردیا۔ جیو ٹی چینل کو بھارت سے امن کی آشا کے نام پر خطیر رقم مل گئی۔ کیمرے کی آنکھ نے پنجاب کی سرزمین سے جیو کی اسکرین پردکھا دیا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے تھا اور باقاعدہ یہ بھی دکھا دیا کہ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ عوام کو روک رہے تھے اور صحافت کی نمائندگی کرنیوالے بہت بہادری سے اسکرین پر نشاندہی بھی کررہے تھے۔
کسی پر ایجنٹ کے الزامات لگانے کیلئے عدالت میں ثبوت دینا پڑتاہے، زرداری کی کرپشن کو ٹی وی چینلوں نے بہت اجاگر کیا لیکن 11سال جیل کاٹنے کے باوجود ثابت نہیں کرسکے، نواز شریف کی پانامہ لیکس من وسلویٰ کی طرح قوم پر نازل ہوئی لیکن ملکہ سبا کے تخت کی طرح قطر سے شہزادے کا خط بھی بڑی تیزی سے سامنے آگیا۔ اے آر وائی کو لندن میں نشریات بند کرنی پڑگئی۔ الزامات لگانے سے کام نہیں بنتا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والوں کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔طاقتوروں پر الزام تراشی کی حوصلہ شکنی ہر دور میں ہوتی رہی ہے لیکن اس دور کا یہ اعزاز ہے کہ سچ نام کی کوئی چیز جھوٹ کی بہتات میں نظر نہیں آتی ہے، جمہوریت اور صحافت نے قوم کی اُمنگ بن کر قوم کے اچھے عزائم کو بھی شکست خوردہ بنادیاہے۔ پہلے حبیب جالب کی طرح کے لوگ ہردور میں عتاب کا نشانہ بنتے تھے ،اب رقم سے خدمات دستیاب ہیں۔ ہر ایک اُلو عقاب بنا پھرتا ہے۔اگر علامہ اقبال کا شاہین نایاب ہے تو اس منصب کیلئے اُلو کیوں بے تاب ہے؟۔
جب حامد میر کو گولیاں لگی تھیں تو بہت افسوس ہوا،اور کیوں نہ ہوتا کہ کسی درخت سے کوئی ہری بھری شاخ کٹے ، نبیﷺ نے حرم کیلئے حکم جاری فرمایا کہ کوئی درخت اور جنگلی گھاس بھی نہ کاٹے۔ آکسیجن زندگی کیلئے ضروری اور زندگی حلقہ احباب کی زینت ہے، زندگی اجڑے تو ماحول اجڑجاتا ہے ، قرآن نے ایک جان کے قتل کو کسی جان یا فساد کے بغیر پوری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ جب فرقہ واریت کو پروان چڑھایا جارہاتھا تو میں نے اگست2003ء کو جنگ فورم میں آواز اٹھائی تھی جسکو سپرٹ کیساتھ جگہ نہ ملی سکی ، رضا ربانی کی طرف سے یاد ماضی کے عذاب کو اجاگر کرنا حماقت ہے ، اگر دستخط سے انکارکرتے تو اسکی گردن کی چٹیہ سرکی چوٹی کا تاج بن کر ابھرتا۔فوج ملک کیلئے امید کی کرن ہے ، ڈان نیوز میں بھی مظلوم کی داد رسی نہ ہوسکی ۔ لوہا لوہے کو کاٹتاہے۔ کہا جاتاہے کہ ’’کلہاڑی میں درخت کا دستہ نہ ہوتا تو درخت نہ کٹتا‘‘،سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ہمارا گھر طالبان نے اجاڑ دیا ،اگر ہمارے گھر سے انکو ایندھن نہ ملتا تو ہمارا گھر نہ جلتا۔فوج نے ماضی میں جو کیااس کی سزابھی خود بھگت لی لیکن اب جب فوج بدل گئی ہے تو اس پر رکیک حملے کرنے میں ملک وقوم کی تباہی ہے۔ حکومت اور صحافت کا فوج کیخلاف ایک گٹھ جوڑ نظر آتاہے۔

جمہوریت کی ناک چیئر مین سینٹ رضا ربانی

پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کا پارلیمنٹ سے توثیق کا معاملہ آیا تو پیپلزپارٹی رہنما سینٹر رضاربانی کی بھرائی ہوئی آواز کو بہت مقبولیت کا درجہ حاصل ہوا۔یہ مگر مچھ کے آنسو نہ تھے کہ رضا ربانی نے روتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارٹی کی امانت سمجھ کر فوجی عدالت کے قیام کو ووٹ دے رہا ہوں‘‘۔ سینٹر رضا ربانی اپنی مقبول آواز کے ذریعے سے ہماری لولی لنگڑی، بہری اندھی اور موروثی گندی جمہوریت کی ناک بن گئے۔ قوم کو رضا ربانی پر بہت پیار آیا، ان کی عزت دوبالا ہوگئی۔ چیئرمین سینٹ کیلئے انکے نام کو ہی تقریباً بلامقابلہ پذیرائی مل گئی۔ جنرل راحیل شریف نے دفاعی تقریب کی رونمائی میں اپنے ساتھ بٹھاکر نمایاں حیثیت سے نوازنے میں بالکل بخل سے کام نہیں لیا۔
سینٹر رضاربانی ایک باکرداراور ایماندار شخصیت ہیں، نواز شریف نے سعیدالزمان صدیقی کو زرداری کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار نامزد کیا ، اگر نوازشریف رفیق تارڑ کے بعد ممنون حسین کو صدر بنوانے کے بجائے محترم رضا ربانی کو صدر بنانے کیلئے نامزد کردیتے تو پاکستان میں جمہوری قدروں کو بہت تقویت مل جاتی۔ اگر پیپلزپارٹی پرویزمشرف کے دور میں جمالی اور شوکت عزیز کو موقع دینے کے بجائے متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کرتی تو بھی جمہوریت کو استحکام ملتا، اسلئے کہ مولانا فضل الرحمن مشرف کے مقابلے میں پھر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کا بھی وزیراعظم بنتا ، جس نے دونوں پارٹی کے قائدین کو جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ جب ن لیگ وعمران خان نے پیپلزپارٹی اورپرویز مشرف کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو کتنا اچھا ہوتا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن بھی نوازلیگ اور عمران خان کا ہی ساتھ دیتے؟۔کیا سیاسی کردار ہر دور میں جمہوریت کی ناک کٹوانے ہی کانام نہیں رہاہے؟۔
سینٹر رضاربانی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میری بزدلی تھی یا کوئی لالچ مگر فوجی عدالت کیلئے میرا ووٹ دینا میری غلطی تھی ، اب اس غلطی کو نہیں دہراؤں گا۔ اگر چیئرمین سینٹ رضا ربانی اعتراف کرلیں کہ بزدلی کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ہے اور یہ کنفرم ہے کہ مجھے پہلے بھی اور آج بھی عہدے کی لالچ نے مجبور کیا کہ میں فوجی عدالت کے حق میں اپنا کردار اداکروں۔ تو بہت ہی بہتر ہوگا۔ جب پہلے رضاربانی ایک ووٹ نہ بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا تھا، جاوید ہاشمی نے بھی پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ ہاشمی کی قیادت ضیاء نواز تھی ، رضا ربانی جمہوریت کی ناک مگر کٹ گئی ۔ مولانا فضل الرحمٰن اقتدار کیلئے زرداری کاساتھ نہ دیتے ،نوازشریف و عمران خان کے احسان کا بدلہ اتارتے تو اقتدار کی جوتی نہیں جمہوریت کے تاجدار بنتے،شرم و حیاء کھوگئی ہے،اب پنجاب کے شیروں سے پختونخواہ کے چوہوں کی بات میں جوش اور ہوش سے بات آگئے نکل گئی۔

یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟

یاجوج نے کہا : یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟۔
ماجوج نے جواب دیا: ابے ! بتادیا تو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی کہیں توہین نہ ہوجائے!
یاجوج : اس مرغی صاحبہ کے سر کی قسم اگر توہین عدالت کا خوف ہو تو بلا جھجک کہیو کہ جیو ٹی وی چینل کی ہوسٹ ہے جوکبھی ’’ہم سب اُمید سے ہیں‘‘ کا پروگرام کرتی تھی نہ جانے اب کیا مسخرے کرتی ہے
ماجوج: جیو کے پروگرام کی اب کسی اور سے یاری ہوگئی ہے، اب نواز لیگ ، عدالت اور جمہوریت کی تثلیث کی دیوانی ہے۔ ایک دفعہ ماڈل ایان علی کی طرح جیو بھی پھنس گئی تو جان نہیں چھوٹ رہی
یاجوج: یار اصل بات کا جواب دو اگر پانامہ انڈے پر بیٹھی مرغی عدالت نہیں تو کیا پھر مرغا بنچ ہے ؟
ماجوج: اپنی عدالت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ مجرم کو پکڑنا اس کیلئے آسان نہیں، اگر بنچ نے مرغا بن کر اذان سحر شروع کردی تو پھر یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا جو مجاہد کی اذاں اور شاہین کا جہاں ہوگا۔
یاجوج: ابے! تمہیں کرگس کے جہاں میں ملاں کی اذاں سے اس قدر نا اُمیدی کیوں ہے؟ ۔جب روٹین کا معاملہ چل رہا ہے تو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ وکالت کی مشق کرنے والے سے بھی کبھی مشک کی خوشبو آسکتی ہے؟۔
ماجوج: علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مجذوب فرنگی مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی کے تخیل کو بدنام کیا مگر جہاں ہرنیں رہتی ہیں وہاں سے تمہیں نا اُمید نہیں ہونا چاہیے۔ نوشتۂ دیوار سے ایسی فضاء بن رہی ہے کہ مُلاؤں کی ان طاقتوں سے جن سے ریاستیں ڈرتی ہیں اب یرغمال اسلام کو بازیاب کیا گیا تو مرغے کیا کبوتر سے تن نازک میں بھی شاہیں کا جگر پیدا ہوگا۔

اسلامی تہذیب و تمدن اورہمارے اقتدار کا ایک آئینہ

افغانستان کے مشہور بادشاہ امیر امان اللہ خان 1919ء تا1929ء اپنی بیگم ثریا کے ساتھ جرمنی1928ء میں مندرجہ بالا تصویر میں نمایاں ہیں۔ وزیرستان کے لوگوں کا اس وقت لباس سے بہت مختلف تھا۔ عام لباس کو ایسا سمجھا جاتا جیسے شلوارقمیص کے مقابلے میں پینٹ شرٹ کا تصور ہے۔ وزیرستان میں روایتی پردہ و برقعہ نہ تھا مگر سفید شٹل کاک کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا ،کالا برقعہ فیشنی برقعہ کہلاتا تھا۔ طالبان شدت پسند قائدین حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کے گاؤں کوٹ کئی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا زین العابدین جس نے ایم اے بھی کیا تھا اور پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ طالبان کا قاضی بھی رہا ۔ اس نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن کے گھر کی خواتین فیشنی برقعہ پہنتے ہیں‘‘۔ جس پر میں نے جواب دیا تھا کہ ’’ یہ غیر اسلامی نہیں ہے‘‘۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ کہتے تھے کہ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین بھی دارالعلوم سے باہر نکلتے ہی برقعہ اتار دیتی ہیں۔مولانا سندھیؒ روایتی پردے کو غیر شرعی کہتے تھے۔
کچھ عرصہ قبل برقعوں کا تصور بھی نہ تھا۔ خواتین روایتی پردہ بھی نہ کرتی تھیں، معاشرہ کی اشرافیہ میں چوٹی کے لوگوں کا پردہ ہوتا تھا ، جن میں نواب، پیر اور بڑے لوگ تصور کئے جانے والے پردہ کرتے تھے مگر وہ بھی شرعی پردہ نہ تھا بلکہ ہندوستانی روایات کی پاسداری تھی، بہت قریب کے دور میں شرعی پردے کا تصور بھی اجاگر ہوا، ایسے شرعی پردے کا وجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قدیم اسلامی معاشرے میں بھی نہیں تھا۔ نبی ﷺ کی ازواجؓ کو خاص طور سے مخالب کرکے پردے کا حکم اللہ نے اسلئے دیا کہ آپﷺ کے دروازے پر ہر قسم کا دوست، دشمن، منافق، کافر ، جان پہچان والا اور اجنبی دستک دیتا تھا۔ آج جس کسی کی بھی ایسی حالت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین احتیاط برت رہی ہوتی ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی طرف سے ایک جہادی و سیاسی لشکر کی قیادت اور حضرت زینبؓ نے جس طرح واقعہ کربلا پر احتجاج کا مظاہرہ کیا، یہ سنی اور شیعہ کیلئے لازوال مثالیں ہیں۔ جب حج کے موقع پر طواف اور کعبہ میں ایک ساتھ خاندان سمیت نماز پڑھی جاتی ہے تو اپنا روایتی اسلام سب بھول جاتے ہیں۔ اگراسلامی شدت پسند مغربی خواتین کو روایتی پردے پر مجبور کریں اور خلافت کے قیام کے بعد انہیں لونڈیاں اور اپنی بیبیاں بناکر نیم برہنہ لباس پہنے کا مظاہرہ کروائیں تو دنیا ہماری اس حرکت پر حیرانی سے کہیں مر نہ جائے۔نبیﷺ کے دور میں تو شلوار یہود کا لباس تھا لیکن نبیﷺ خود نہیں پہنتے تھے البتہ پہلے سرکے بال مشرکین مکہ کے طرز پر مانگ نکال کر پیچھے کی طرف گنگی کرتے تھے اور بعد میں یہود کی طرح آگے کی جانب گنگی کرنے لگے، پھر آخر میں پہلے کی طرح پیچھے کی جانب گنگی کرنے لگے (بخاری) ۔ بلوچوں میں گھیر والی شلوار قومی لباس ہے اور پنجابیوں کا تہبند قومی لباس ہے، اس طرح کسی کی شلوار قمیص اور کسی کی پینٹ شرٹ قومی لباس ہے۔ مذہبی لوگ اگر سنت پر عمل پیرا ہوں تو انکے لئے مخصوص پہچان کے بجائے عوامی لباس پہننا ہی سنت ہے۔ مولانا مودودیؒ پہلے کلین شیو تھے ، پھر چھوٹی داڑھی اورپھر علماء کے اصرار پر لمبی داڑھی رکھ لی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعلق پنجاب سے تھا ساری زندگی شلوار پہنی اور آخر بڑھاپے میں سنت زندہ کرنے کیلئے دھوتی پہننا شروع کی۔ حدیث میں کچی اینٹوں کے تکلف کی مخالفت تھی اور شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ نے سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے کچی اینٹوں سے تکلف کرکے اپنا مکان بنوایا۔ سبز عمامے پیلے رومال رنگ رنگیلے لباس نبیﷺاور صحابہؓ کے طرزِ عمل کی نفی اور فرقوں کی خاص شناخت ہے۔اسی طرح مونچھ اور داڑھی مخصوص تراش خراش کا معاملہ بھی ہے۔علماء و مفتیان کی اکثریت ہمیشہ بادشاہوں کی درباری رہی ہے اور بادشاہوں کا حال مختلف ادوار میں کسی سے مخفی نہیں رہا ہے۔
پاکستان کا قانون یہ ہے کہ ریاستی اداروں کے ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سیاست نہیں کرسکتے۔ جنرل ایوب ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے ملازم ہوکر بھی سیاست کی اور سیاستدانوں کی اکثریت انکی پیداوار ہے۔ جنرل راحیل کیلئے کسی این او سی کی قانونی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن جب پاکستان کے اندر باہر سے ملازم معین قریشی لاکر وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو ہمارا جنرل راحیل باہر ملازمت کیوں نہیں کرسکتا؟۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پر حکومت کی تذلیل اس لئے تو نہیں ہورہی ہے کہ عوام سے راجا داہر کا بدلہ اتارنے جیسا سلوک ہورہا ہے؟۔

مسلم امہ دہشت گردی کا شکار کیوں ہے؟ حقائق جانے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا مشکل ہے: عتیق گیلانی

مسلم اُمہ اور دنیا دہشتگردی کا شکار کیوں ہے؟۔ ہم دہشتگردوں کی حمایت کا تصور بھی نہیں کرسکتے مگر حقائق جانے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا مشکل ہے۔ اسلام میں ایک رحمن کا تصور ہے اور دوسرا شیطان کا۔ شافعیؒ و مالکؒ بڑے امام اور مشہور ہستیاں ہیں، انکے نزدیک نماز قضاکرنے پر قتل کاحکم ہے۔ نمازکی عبادت اللہ اور بندے کے درمیان تعلق ہے، کوئی مجبور کرے تو بے وضو اور بے غسل بھی نماز پڑھی جائیگی اور اگربندوں کے خوف یاریا سے نماز پڑھی جائے تو یہ اللہ کی نہیں بندوں کی عبادت ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمد خان شیرانی نے کہا: ’’طلاق کا مسئلہ چھوڑ یں، نماز پر بات کرلیتے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا : بہت اچھا، آپ کا تعلق سیاسی جماعت سے ہے، کل اقتدار میں ہوں تو بے نمازی کو کیا سزا دینگے؟۔ اگر بے نمازی کی سزا قرآن و سنت میں ہوتی تو چار ائمہ کا اس پر اختلاف کیوں تھا؟۔ خوف سے پڑھی جائے تویہ نماز ہوگی؟۔ مولانا شیرانی نے کہا :میرا مقصد نماز کے فضائل پر بات تھی۔ میں نے کہا: اس کی ضرورت نہیں،صحابہؓ سے غزوہ خندق میں متعدد نمازیں قضاء ہوئی تھیں ، تبلیغی جماعت میں وقت لگاتے تو کوئی نماز قضاء نہ ہوتی، نبیﷺ کو خندق میں چھوڑ دیتے۔ مولانا شیرانی نے کہا: یہ درست ہے، معیشت پربات کرلیتے ہیں (کافی دیر گفتگو کے بعد)میں نے کہا :درجن کے بدلے دو درجن اخروٹ سود نہ ہومگر کلو کے بدلے دو کلو سودہوتو یہ منطق دنیا کو کیسے سمجھ آئیگی؟، ذرا بتاؤتوسہی!۔
بے نمازی کو قتل کرنے کا فتویٰ دینے والے مقدس ہوں تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پامال کرنیوالے کافرو ظالم طبقے کیخلاف خود کش حملے کرنیوالوں مجاہد ہیں یا دہشت گرد ؟۔ زبردستی سے کلمۂ کفر پر مجبور کیا جائے تو اللہ اس پر نہیں پکڑتا، اگر بے نمازی کو قتل کرنیوالے بڑے امام تو نظام کیلئے قربانی دینے والے زیادہ مقدس نہ ہونگے؟۔ میرا گھر ہوا تو بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل بھی توڑ ے،GHQپرقبضہ کے علاوہ کیا کچھ نہ ہوا؟۔ مولانا فضل الرحمن نے حضرت ابوبکرؓ سے منقول صحاح ستہ کی حدیث کے مطابق دہشتگردوں کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تو کسی میڈیا چینل نے وہ بیان نشر نہ کیا بلکہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کالم لکھ دیا: ’’مولانا فضل الرحمن پر مجاہد خود کش کرنا چاہتے ہیں مگر ایک خود کش سے مارا نہیں جاسکتا اور دو طالبان اس پر ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ آج ڈاکٹرشاہدمسعودکی حیثیت دھوبی کے کتے کی ہے، جو گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ عطاء الحق قاسمی پی ٹی وی پر حامد میر کا گن گا رہاہے تو وہ ڈاکٹرشاہد مسعود کا بھی گن گاتا رہاہے۔حامد میر نے مولانا فضل الرحمن کو جشنِ دیوبند کانفرنس کے بعد اسامہ کی دھمکی دی، مولانا عطاء الرحمن کے جواب میں لکھا: ’’شیشہ کے گھرسے پتھر نہ پھینکنا، مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لو،GHQ کون لیکر گیا ؟‘‘حامد میر اور عطاء الحق قاسمی کا یہ تأثرغلط ہے کہ حامد میر وہ مجاہد ہے جو دہشتگردوں اور فوج کے نشانے پر رہ کر بہادری سے جی رہاہے۔ اعترافِ جرم قوم کا نشانِ منزل ہو تو بات بنے۔ شدت پسندی کو اسلام سمجھ کرہم نے آبیاری کی تو اس کی تلافی کیلئے وہ نہ کرسکے جسکا حق تھا، انھم یکیدون اکیدًا واکید کیدًا ’’ دشمنون نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی چلی‘‘، اسلام کے عادلانہ نظام پر نہ صرف مسلمان بلکہ عالمِ انسانیت بہت خوشی سے متفق ہوگی۔
اگر نوازشریف و شہباز پولیس و گلوبٹوں سے بندوں کو قتل کروائیں تو ریاستی دہشتگردی سے ان کا جرم زیادہ نہیں جو ظالمانہ نظام ختم کرنے کیلئے سربکف ہیں، جن کو اداروں نے پالا، نواز شریف اور عمران خان نے انکی کھل کر حمایت کی ۔ جنرل راحیل سے پہلے فوج کا مورال اپنے کرتوت سے ڈاؤن تھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے لوگ اپنی عزت نہ بچاسکے، جن کا حال یہ تھا کہ الطاف بھائی کی ٹانگوں میں سر دیا تو الطاف جیسا لیڈر دنیا میں کوئی نہ تھا اور ذرا ہٹ کر دیکھا تو رویہ بدل دیا۔ سلمان حیدر کا کہا کہ انڈیا میں ہے مگرکسی نے نہ پوچھا کہ گھر کیسے پہنچا؟۔الطاف بھائی کارویہ بدلنا پڑیگا کہ اپنوں کو شہید اور دوسرے کوہلاک کہو، افغانستان کی مسجد میں جمعہ پڑھنے والا بم سے ہلاک اور اپنا حادثے کا شکار ہو تو شہید؟۔
سب سے غلطیاں ہوئیں مگر خودسے زیادہ دوسروں کیلئے ایماندارانہ جواز کی ذہنیت رکھتے ہیں،خود سزا کھالی، دوسروں کیلئے سزا کی تجویز نہیں۔ ہم سے زیادہ قوم کو سزا مل گئی ۔ افغانستان اپنے لئے دہشتگردوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا تو ہمارے لئے کیا کریگا؟۔ افغانی دَلّے حکمران و عوام نے اغیار کیلئے اپنے وطن، قوم اور ملت کی قربانی دی اور ہمارے دَلّوں نے بھی وہی کیا۔ کسی پراحسان کے بجائے اپنے مفاد کیلئے خود کو اور دوسروں کو بھی تباہ کیا۔ ایکدوسرے کے گھر میں گند کو احسان کہنا حماقت ہے۔غلامانہ ذہنیت والے صحافی اور سیاسی ومذہبی لیڈر قوم کی رہنمائی کریں تو تباہی و بربادی کیلئے یہی کافی ہے۔ ایران اور پاکستان کیخلاف سازشوں کا آغاز ہوچکا۔سعودیہ پر بھی بُرا وقت ہے۔ ہم نے غیرتمندو بے غیرتوں کو دہشتگرد بنایا، مولوی فضل اللہ کوسوات میں کس نے بغل میں پالاتھا؟۔ خواجہ آصف نے حافظ سعیداورپرویزمشرف نے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا۔ محمود خان اچکزئی جو کہتا تھا وہی کیا جارہاہے اور ایجنٹ ہونے کی گالیاں بھی صرف اسی کو دی جارہی ہیں۔ پوری قوم کی حمایت طالبان کو حاصل تھی تو فوج نے کیا کرسکتی تھی؟ نیٹو نے بھی اپنی رسم و راہ بنالی تھی، طالبان کے جذبے سے عالمی قوتوں کے عزائم خاک میں مل گئے۔
کالعدم تنظیموں سے ریاست مخالفین کوقابو کرتی ہو ،حکمران کا کردار قابلِ ستائش نہ ہو، با صلاحیت صحافی بکاؤ مال بنے تو ناکارہ مجاہد، ناکارہ صحافی، ناکارہ سیاستدان کے بل بوتے پرریاستی مشنری چلتی ہے۔اندھیر نگری چوپٹ راج میں قوم کے خون پر خرچے شاہانے ہوتے ہیں۔ بڑوں کے باہر ٹھکانے،غیرت و ضمیر کے الگ پیمانے ہوتے ہیں۔انسانی اقدارومذہبی روح سے بیگانے ان ماڈلز نے نمائش کے چکر لگانے ہوتے ہیں۔اغیار کیلئے ایکٹنگ کے افسانے چہرے جانے پہچانے ہوتے ہیں، مفاد پرست چالاک سیانے وہاں جاتے ہیں جہاں دانے ہوتے ہیں۔ رہنما اور لیڈر دجال سے زیادہ کانے ہوتے ہیں۔ مکھیوں کی بیٹھک رستے ناسور کے خزانے ،ابن الوقت قلابازی کے زمانے ہوتے ہیں۔ مخدوم شاہ محموداور مخدوم فیصل حیات جیسے آستانے ،مولانا فضل الرحمن کے بہانے اقتدار کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔ دانیال عزیز،امیرمقام ، جہانگیر ترین،فوادچوہدری ہر دور کے ہرجانے ہوتے ہیں۔ لیگ و پیپلز پارٹی نے اپنے معاملے مکانے ہوتے ہیں۔جماعتِ اسلامی کی خدمات کسی کے ہاتھ بٹھانے ،عمران خان کے مسکے امپائر کے انگل اٹھانے ہوتے ہیں۔ کس کے ہاتھ پر قوم اپنا لہو تلاش کرے کہ سبھی نے پہن رکھے دستانے ہوتے ہیں۔ مجرم رہنماہرجگہ کھسیانے اور متعصبانہ جذبے عوام میں بھڑکانے ہوتے ہیں۔ آذانِ سحر سے ہو آغاز تو خواب بھی سہانے ہوتے ہیں،نسیم صبا چلے توگُلوں پر بلبلوں کے گیت چہچہانے ہوتے ہیں ۔دارارقم انقلابیوں کے آشیانے ا وربوجہل بولہب کی نظر میں رحمت للعالمینﷺ دیوانے ہوتے ہیں۔ وماصاحبکم بمجنون اے پاک حرم کے باسیو! یہ تمہاری بھول تھی کہ تمہارے صاحب مستانے ہوتے ہیں۔ہردورمیں سازش کے الگ الگ تانے بانے ہوتے ہیں، ڈور ڈنگر سے بدترانسان سدھانے اورانسانی فطرت کے جوہر جگانے ہوتے ہیں۔پہلے طعنے ہی طعنے اورپھر ترانے گانے ہوتے ہیں۔ عتیق گیلانی

پہلی ہجرت مکہ سے مدینہ کی تھی ،دوسری ہجرت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے کرنی ہوگی۔عتیق گیلانی

مسلم اُمہ نے اسلام کی نشاۃ اوّل کیلئے پہلی ہجرت مکہ سے مدینہ کی تھی ،دوسری ہجرت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے کرنی ہوگی۔ صلح حدیبیہ کے معاہدہ پرمکہ فتح ہوا، دوسرامعاہدہ پوری دنیا فتح کرنے کیلئے کرنا ہوگا۔ایک میثاقِ مدینہ کیا تھا، دوسرا میثاقِ فلسطین کرنا ہوگا۔
مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کا بازار لگاہواہے، دنیا میں مسلم ریاستیں تہس نہس کرکے قتل وغارت گری، فتنہ و فساد، لوٹ مار ، تباہی وبربادی اور ہجرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی کی آنکھ نہیں کھل رہی ہے۔ اقوام متحدہ یہودی لابی کی لونڈی اور امریکہ اس کا غلام ہے۔ مسلم اُمہ کیخلاف سازشوں کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کعبہ کی تعمیر کا مقصد نبیﷺ کیلئے مرکز تھامگر بہت تلخ ہوئے بندہ مسلماں کے اوقات تو اللہ نے ہجرت کا حکم دیا، بیت المقدس کی تعمیر کا مقصد مسلمانوں کا قبلہ نہ تھا، جب قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا اور جب اپنا رخ موڑا تو قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ 6ھ میں صلح حدیبیہ اور10ھ میں نبیﷺ کا وصال ہوا ، 10سال تک صلح حدیبیہ کے معاہدے میں سخت ترین شرائط کو مسلمانوں نے قبول کیا۔ نبیﷺ کی پوری زندگی، حضرت ابوبکرؓ کا پورا اور حضرت عمرؓ کا آدھا دورِخلافت اسی صلح میں گزرتے۔ صلح حدیبیہ کو مشرکینِ مکہ نے توڑا، مسلمانوں کے حلیف بنوخزاعہ کیخلاف مشرکینِ مکہ نے اپنے حلیف بنوبکر کی مدد کی۔ مسلمان نے کافر حلیف قبیلے کیلئے اس معاہدے کو برقرار رکھنا غلط سمجھا۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ وزارتِ خارجہ کیلئے بہترین مثال ہے۔یہود کیساتھ میثاقِ مدینہ بھی مثالی تھا لیکن یہود اس کی پاسداری نہ کرسکے۔ پھراسی طرز پر میثاق و صلح کی ضرورت ہے جس سے مسلم اُمہ کی معراج ہوگی۔
پہلی نشاۃ پر ہجرت، میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ کی طرح موجودہ دور میں یہ اقدامات اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ ہونگے، اسلام سے پہلے حلفِ فضول کے معاہدے پر نبیﷺ بعد میں فخر کرتے تھے اور اس کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ اگر میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ دشمن نہ توڑتے تو دنیا کی سطح پر اسلام کی مدد سے ایک جاندار اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آتاتو اس کا کردار موثر بھی ہوتا۔آج فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم مظلوموں کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ قبلہ اوّل سے عیسائیوں کومسلمانوں سے زیادہ دلچسپی ہے، یہود کی طرح عیسائیوں کا بھی موجودہ مرکز بیت المقدس ہے۔ ہم نے اتنی قربانی تو خانہ کعبہ کیلئے بھی نہیں دی جتنی بیت المقدس کیلئے دے رہے ہیں۔ حقائق کو باہوش وحواس سمجھنا ضروری ہے، کہیں نادانستہ سازشوں کاہم شکار تو نہیں ہورہے ہیں؟۔
مکہ سے حبشہ و یثرب ہجرت کے وقت جتنی ناسازگار حالت مسلمانوں کی تھی ، اب نہیں رہی ۔ اگر بیت المقدس پر حدیبیہ کے طرز کا معاہدہ کیا جائے ۔ تین دن زیارت کی اجازت پر انتظام کو یہود کے حوالے کیا جائے جو مشرکینِ مکہ سے بہرحال بہتر ہیں، بھلے نیام میں تلوار کی اجازت بھی نہ ہو ۔ پوری دنیا سے اتنے لوگ زیارت کرینگے کہ فلسطینیوں کی غربت دور ہوجائیگی۔ سعودی عرب بھی مقابلہ میں عمرہ کیلئے خصوصی سستاپیکج کا اعلان کردیگا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہود کہیں کہ اتنے بے غیرت ہم بھی نہیں، بیت المقدس کا انتظام بھی تم سنبھالواور توراۃ نہیں قرآن کے مطابق ہمارے لئے بھی فیصلے کرو۔پھراس خلافت کی پیش گوئی پوری ہو، جس سے آسمان وزمین والے دونوں خوش ہونگے۔
ہم سے زیادہ یہود کے دشمن وہ عیسائی ہیں جو پسِ پردہ بیٹھ کریہود سے مسلمانوں کو لڑارہے ہیں ، ہٹلر بھی مسلمان نہیں عیسائی تھا ۔مسلمان لڑنے اور مرنے کے بجائے پُرامن ماحول میں اسلام کے بنیادی مقاصد اور نظام کو اُجاگر کریں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ خود اسلام سے ناواقف و بیگانے ہیں اور دنیا میں اسلام کے نفاذ کیلئے سر بکف انجانے ہیں۔ پاکستان اسلامی قومیت کی بنیاد پر بنا تھا، ہم برمی اور بنگالیوں کو پاکستانی قومیت نہ دے سکے جبکہ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، سپین، اٹلی ، ناروے، سویڈن ، ڈنمارک ، آسڑیلیا سمیت دنیا بھر میں پاکستانی اور دیگر مسلمانوں کو وہاں کی قومیت مل گئی ہے۔ عرب ممالک اور خاص طور سے سعودیہ میں انسانی اور کاروباری حقوق کا بھی بڑا المیہ ہے۔
اسلام کا تقاضہ ہے کہ شخصی و انفرادی طور سے انسان اعلیٰ اخلاقی قدروں کامالک بنے، ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم سب سے زیادہ اکرام کے لائق تم میں اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ معاشرتی و اجتماعی طور سے انسان دنیا میں عادلانہ نظام کا پابند ہے جس کا رتبہ انفرادی تقویٰ پر بھاری ہے ۔ اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ عدل قائم کرو، یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے۔ مسلمان اسلام سے نابلد ہونے کی وجہ سے اپنی ساکھ کھوچکا ، مسلم امہ آج مختلف شکلوں میں قربانیوں کے باوجود ترقی و عروج کی منزل کے بجائے زوال و انحطاط کی طرف اسلئے جارہی ہے کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی قرآن وسنت کی نہیں اپنے ماحول، فرقے اور مسلکوں کی تابع بن کر رہ گئی ۔ جب تک ہم خود کو نہ بدلیں، اللہ بھی ہماری حالت نہ بدلے گا ۔صراط مستقیم کی نشاندہی سے منزل کی جانب گامزن ہو نگے۔ فطرت کے حسین شاہکارقرآن و سنت پر چلنے سے کوئی مائی کا لعل انحراف نہیں کرسکتا۔ جاہلانہ تعصبات اور مفاد پرستانہ رویوں کو خیرباد نہ کہا تو کسی کی خیر نہیں ہوگی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اقتدار نہیں ملا، اسلئے حکومت کے مذہبی احکام کا انجیل میں تصور نہیں، مکی زندگی میں اسلام کیلئے بھی قتال اور حکومتی احکام نازل نہیں ہوئے۔ مدنی زندگی میں بھی میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ اسلام کا نمونہ تھے اور آج پھر ہم نے اپنے زنگ آلودہ نظام کو قرآن وسنت سے زندہ کرناہے۔ اسلامی نظام دنیا میں عزت اورجان ومال کا زبرست محافظ ہے۔کوئی کسی خاتون کی عزت پرزبردستی سے ہاتھ ڈالے تو قتل کیاجائیگا۔ چند مجرموں کو سرِ عام سزا دی ہوتو خواتین کی عزت کوپامال کرنے کاکوئی خطرہ نہیں رہے گا ۔ دہشت گرد حملوں سے یہ زیادہ خطرناک اور سنگین مسئلہ ہے۔ فوجی عدالتوں میں ہی اس کی سزاملے مگر کھلے عام چوکوں پر لٹکاکردے۔ کسی پاک دامن خاتون پر بہتان لگایا جائے تو اس کی سزا80کوڑے ہوں۔ کوئی اپنی بیوی کو بھی فحاشی کی مرتکب پائے تو قتل نہیں کرسکتا۔ البتہ گھر سے نکال دے یا عورت خود نکلے۔ اسلام بے غیرتی بھی نہیں سکھاتا اور قانون بھی ہاتھ میں نہیں لینے دیتا۔اگر کوئی کسی کو بھی غیرت کے نام پر قتل کردے تو غیرت کا تقاضہ یہ نہیں کہ دوسرے کو قتل کرکے اپنی زندگی کیلئے بھیک مانگی جائے۔ قرآن کے مطابق قتل کیلئے قتل کے قانون پر عمل کرنا ہوگا۔ جب امیر غریب، طاقتور کمزور اور مرد عورت کی عزت اور جان کو اسلامی معاشرے میں تحفظ مل جائیگا تو امریکہ ، اسرائیل ، بھارت اور روس کے شہری بھی اپنے ہاں اسلامی نظام کا مطالبہ کرینگے اور جمہوری بنیاد پر ہم وہاں جیت سکتے ہیں۔
انفرادی ذہنیت فرقہ واریت کا شکار ،معاشرتی نظام اسلام سے دور، ریاستی ڈھانچہ غلامی کا عکاس اور حکمرانوں نے سیاست کو تجارت بنایا ہو تو دنیا کیلئے اچھا ماڈل پیش کرنے کے بجائے ہم خود ہی دوسروں کیلئے قابلِ رحم ہونگے۔ عظیم انقلاب کیلئے پردۂ غیب سے کوئی نہ آئیگا ،شاہ ولی اللہؒ نے کہا : فک النظام ’’نظام کی کھایہ پلٹ دو‘‘۔اقبال ؒ نے کہا کہ دنیا کو ہے اس مہدئ برحق کی ضرورت ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار۔بڑے بڑے اقدامات سے اسلامی نظام کی زنگ آلود مشینری کودوبارہ رواں کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔

حضرت مولانا عبد الکریم عابد کے بیان پر عتیق گیلانی کا تبصرہ

کراچی (ڈاکٹرجمال) حضرت مولانا عبد الکریم عابد(جمعیت علماء اسلام مرکزی شوریٰ کے رکن، صوبائی سرپرست خطیب و امام مہتمم مسجدو مدرسہ مدنیہ گلشن اقبال ) نے کہا کہ اس وقت امت کو ایک کیا جائے ، اتحاد کی اشد ضرورت ہے مگر ہمارا میڈیا فرقہ واریت اختلافی مسائل کی اشاعت کو ترجیح دیتا ہے۔ نوشتۂ دیوار میں اکثر کسی نہ کسی قابل احترام شخصیت کیخلاف اختلافی نکتہ نظر ہوتا ہے، اختلاف ہر ذی علم کا فرض مگر شائستہ انداز میں لکھا جائے نہ کہ شخصیت پر توہین آمیز تنقید کی جائے۔ نوشتۂ دیوار کے مضامین کا انداز یقیناًاچھے پہلو بھی ہیں ایک حد تک مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے مگر گزارش ہے کہ شائستہ انداز میں دلائل کی بنیاد پر اختلاف ہو اور جس کو اللہ نے مقام دیا ہو وہ ملحوظِ خاطر رہے، اسلام کی یہی تعلیم و تربیت ہے کہ مخالف کی بھی توہین نہ کی جائے بلکہ ان کو مقام دیا جائے۔ سوال کے جواب میں کہا کہ طلاق کے مسئلے پر نوشتۂ دیوار کے مضامین سے اہلسنت و الجماعت کے اکابر اور عوام تک اچھا تاثر قائم نہیں ہورہا۔ یہ مواد جو تحقیق کیساتھ شائع ہوا اس میں نئی بات نہیں بلکہ صدیوں سے یہ اختلافات علماء کرام میں چلے آرہے ہیں۔ گزارش ہے کہ علماء کرام سے ہزار اختلاف کے باوجود احترام کو ترجیح دی جائے اختلاف سے انکار ،نہ ہی اختلاف بری چیز ہے ۔ تنقید برائے اصلاح ہو، تنقید برائے توہین نہیں ہونی چاہیے۔

تبصرۂ نوشتۂ دیوار

حضرت مولانا عبدالکریم عابد صاحب!
محترم جناب کی رہنمائی کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں؟دومرتبہ آپ سے ملاقات کا شرف رہا ہے، اسلئے جناب کے خلوص سے آگاہ ہوں۔ بلا شبہ جو تحریرفرمایا، اسکے ہر ہر لفظ میں سچائی ہے اور بہت احترام کیساتھ ہمارا اختلافی نقطۂ نظر بھی۔ جن خیالات کا پر خلوص انداز میں اظہارفرمایا، یہ اکثریت کی شکایت ہے۔ ہمارے اخلاق کردار، طرزِ تحریر اور اوقات کی تو بالکل کوئی حیثیت نہیں، اسلئے اپنا دفاع تو نہیں کرسکتے، جورہنمائی کی کرم نوازی ہے اس کا شکریہ تہہ دل سے ادا کرتاہوں
البتہ آپ جانتے ہیں کہ رحمۃ للعٰلمینﷺ نے تو بڑے زبردست اخلاق، کردار اور اوقات سے زندگی کے 40سال نبوت سے قبل13سال مکی اور8سال فتح مکہ سے پہلے مدنی زندگی گزاری، وہ جو فتح مکہ کے بعد فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے، امیرمعاویہؓ، عکرمہؓ بن ابی جہل صحابہؓ تھے ، بڑی شان رکھتے تھے، حمزہؓ کا کلیجہ نکالنے چبانے والے وحشیؓوہندؓ کی خدمات ہیں مگر قرآن نے انکے اقوال زریں کو محفوظ کیا ’’ کیاہم اپنے الھہ کو ایک مجنون شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں گے‘‘۔
19سال تک حضرت ابوسفیانؓ کی بیگم حضرت ہندؓ نے نبیﷺ سے سخت نفرتوں کا اظہار کیا مگر جب مکہ فتح ہوا، حالات بدل گئے تو نبیﷺ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مگربڑی تعداد میں یہ فوج درفوج مسلمان ہونے والوں کا ماحول بدلا، جو توہین امیز رویہ نظر آتا تھا وہ اعلیٰ اخلاق لگنے لگا۔ قرآن نے اہل کتاب سے متعلق کہا کہ ’’انہوں نے مشائخ و علماء کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا‘‘ نبیﷺ نے وضاحت کی کہ حلال وحرام کا خود ساختہ معیاربنایا ، یہی رب بنانا تھا۔ جن علماء نے وقتافوقتا اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ شادی کی رسم نیوتہ کو سود اور ماں کے زنا سے بڑھ کر گناہ قراردیا، دوسری طرف اسلام کے نام پر بینکنگ کو جواز بخشاہے۔ جمعیت علماء اسلام پہلے روزی روٹی حلال کرکے مزاحمت کرتی تھی اب لیٹ گئی تو ہمارا رویہ یقیناًحق کی آواز بلند کرنے پربہت گستاخانہ لگتا ہوگا ،وقت کا انتظار کرتے ہیں عسیٰ ان یکون قریبا ۔ قرآن پر پرانے قصے کہانی کا الزام لگا۔ دلائل کو پرانا کہنے پر خوشی ہے کہ نئے دین کا الزام نہ لگا ۔ علماء کا نصاب پراعتماد اٹھ گیا۔آپ نے مہربانی فرمائی تھی کہ مدرسین سے بات کروائی، میں نے کہا: بات سن لو، اگر میرا مؤقف نہ مانا تو لکھ دیتا ہوں کہ اپنا مؤقف چھوڑ دونگا مگرانہوں نے کہا: ’’یہ شرط جائزنہیں‘‘۔ وقت بتائیگا کہ حلالہ کو کارِ ثواب کہہ عزت لوٹنا توہین آمیز تھا یا لعنت کو بے غیرتی کہنے والے گستاخ؟۔ طلاق کے مسئلہ پر اتنا واضح مؤقف کہاں کس نے لکھا؟ عتیق گیلانی