Category: سیاست
جنرل ایوب خان 1958 میں وزیر خارجہ ذو الفقار علی بھٹو……
یا اللہ یا رسول نواز شریف کی قربانی ہو قبول: مریم نواز
نوشتہ دیوار کے مالیاتی امور کے چیف محمد فیروز چھیپا نے کہا
ن لیگی رہنما، شریف خاندان اور مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنارونا رونے کے بجائے مظلوم خواتین کیلئے آواز بلند کرے۔ اسی میں عزت بھی ہے، فرض اور قوم کا قرض بھی۔ تمام پارٹیوں و میڈیا کی چند خواتین رہنماؤں کے ذریعے مظلوم خواتین کے حقوق کیلئے کام کیا جائے تو زبردست انقلاب کا ذریعہ ہو گا۔ سپریم کورٹ کے سامنے ایک بیوہ خاتون کہہ رہی تھی کہ میری جوان بیٹیاں ہیں انکی عزتوں کو خطرہ ہے اسلئے اپنے اکلوتے بیٹے کے کیس سے دست بردارہورہی ہوں۔ ایک بھی مذہبی و سیاسی جماعت نہیں تھی جو ساتھ دینے کیلئے کھڑی ہوجاتی کیونکہ ہرایک نے ظالم طبقوں سے ووٹ لیکر اقتدار تک پہنچنا ہوتاہے۔
اسلام نے خواتین کو وہ حقوق دیئے جس کا کسی ۔۔۔
سیکولر مغربی معاشرے میں آج بھی تصور نہیں ہوسکتاہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں مدارس، مذہبی طبقے اور ریاست نے بھی انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ہمارا ملکی قانون ہے کہ عورت طلاق شدہ اور بیوہ ہونے کے بعد بھی کوئی مرد سرپرست فارم میں ظاہر کرے۔ مریم نواز بھی باپ کے زیر سرپرستی کی وجہ سے زیرکفالت کاشکار ہوئی۔ عدالتوں اور میڈیا میں مریم نواز توکبھی مریم صفدر کا چرچا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔
جب ہمارا ملک کسی خاتون کو اپنی شناخت۔۔۔
و خود مختاری بھی نہیں دیتا ہو تو اسکے دوسرے حقوق کس حد تک محفوظ ہوں گے؟۔ اسلام نے بیوہ و طلاق شدہ کو آزاد وخودمختار قرار دیا ہے۔ مگر افسوس کہ جمہور ائمہ شافعیؒ ، مالکیؒ اور حنبلیؒ کے علاوہ اہلحدیث کا بھی مسلک ہے کہ کوئی بیوہ و طلاق شدہ بھی خود مختار نہیں، اس کیلئے ولی ضروری ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح درست نہیں۔ جبکہ حنفی مسلک میں کنواری کو بھی ولی کی اجازت کا ملنا ضروری نہیں ۔
افراط و تفریط کی وجہ سے ہم قرآن سے ہٹ گئے۔ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ بھی بھول گئے۔ بھٹکی ہوئی آہو کو چاہیے کہ وہ مسلم اُمہ کو سوئے حرم کی طرف لے جائے۔ قرآن وسنت کی واضح ہدایت کے باوجود علماء نے طلاق کے بعد رجوع کا دروازہ بند کر رکھاہے۔ اور حلالہ کی لعنت کے نام پر صرف خواتین نہیں سارے خاندان کی عزت کو تباہ کیا جارہاہے۔ اس کا راستہ روکنے کیلئے بہادر خواتین کو میدان میں آنا پڑیگا۔ حلالہ کروانے کی اکثریت جاہل غریب اور بے بس ہوتی ہے۔ مذہبی قائدین سمجھ کے باوجود اُن پر رحم نہیں کرتے۔
آئندہ آنے والے بارہ امام جن پر امت کا اجماع ہوگا
مولانا نصر اللہ کے بیان پر عبد القدوس بلوچ کا تبصرہ
کراچی (عبد الشکور) مولانا نصر اللہ امام و خطیب جامع مسجد معصب ابن عمیر چمڑہ چورنگی (03333405517) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیام پاکستان مقصد محض آزادی کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی نقطہ نظر اسلامی معاشرہ تھا مگر بدقسمتی سے قائد اعظم جیسے منافقین کے ہاتھ باگ دوڑ دے دی گئی جنہوں نے کانگریس سے مل کر منافقانہ رویہ اپنایا کہ آج تک اہل پاکستان ذلیل و خوار ہیں لہٰذا ایک ایسے معاشرے کی از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے جو ہر قسم کے منافقانہ رویوں سے پاک جس میں آئین حدیث شریف اور قانون قرآن ہو۔ اور معاشرتی برائیاں بھلے جتنی بھی ہوں پھر یہ ہوا کے تنکے کی طرح اڑ جائیں گی۔ اور ہم سب من حیث القوم سکھ کا سانس لے سکیں گے ورنہ آج کل جس جمہوریت کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے یہ محض ایک تباہی و بربادی ہے جس کی زندہ مثال موجودہ نظام ہے اس موجودہ نظام کے خاتمے کے بغیر ہماری زندگی اجیرن ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کے لوگوں کو اس نظام کے خاتمے اور جنازے کو کندھا دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
تبصرہ نوشتہ دیوارتیز و تند عبد القدوس بلوچ
جناب مولانا صاحب !علماء و مفتیان ایک طرف قائد اعظم کے ساتھ تھے اور دوسری طرف گاندھی اور نہرو کے ساتھ تھے۔ مدارس پر کس نے پابندی لگائی ہے کہ وہ اپنے نصاب میں غلطیوں کی اصلاح نہ کریں؟۔ مجلس احرار کے قائد مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے پہلے پاکستان کی مخالفت کی مگر پھر جب پاکستان بن گیا تو فرمایا کہ ’’مسجد بننے پر پہلے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اس کا تقدس ، اس کی حفاظت اور اس کی آبادی بھی ضروری بن جاتی ہے‘‘۔ آپکا بیان بہت معذرت کے ساتھ ایسا ہے جیسے آپ اپنے مسجد کے بانیوں کو اور اس کے رکھوالوں کو برا بھلا کہو کہ وہ منافقین ہیں لیکن دوسروں کو برا کہنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ علماء ہی ذمہ دار ہیں۔ قدوس بلوچ
علماء اور حکمرانوں سے خصوصی گزارش
حنفی مسلک کے مدارس دیوبندی بریلوی کا نصابِ تعلیم ایک ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کی بنیادی تعلیم کا محور و مرکز اصولِ فقہ ہے۔ بہت کم لوگ اصولِ فقہ کی دقیق، مغلق اور منطقی زباں کو سمجھتے ہیں، تاہم اصولِ فقہ کی کتابوں کے تراجم ہوچکے ہیں اور ان کو سمجھنے کی دشواری کا معاملہ ختم ہے۔ نصاب کی تبدیلی کی بازگشت ہے مگر چوہوں کی مجلس شوریٰ بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے سے کترارہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سرکاری پلیٹ فارم سے اس نیک کام کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر خوشیوں کا طوفان اُمنڈ آئیگا۔
امام ابوحنیفہؒ نے اپنا سارا عہدِ شباب علم الکلام کی گمراہی میں گزارا اور پھر توبہ کرکے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ علم الکلام سے اصول فقہ محفوظ نہیں ۔ اصولِ فقہ میں کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کے چار اصول ترتیب وار ہیں۔ اللہ کی کتاب سے پانچ سو آیات مراد ہیں جو احکام سے متعلق ہیں،باقی آیات قصص و مواعظ ہیں۔ اگر علماء پانچ سو آیات میں سے غسل، وضو، نکاح، طلاق اوررجوع کے احکام طلبہ کو پڑھاتے تو مسائل کا شکار نہ ہوتے۔ قرآن میں ہے۔ ولا جنباً الا عابریٰ السبیل حتیٰ تغتسل ’’ اور نہ حالتِ جنابت میں نماز کے قریب جاؤ مگر یہ کہ کوئی مسافر ہو،یہاں تک کہ نہالو‘‘۔ اس حکم میں مسافر کیلئے غسل کے بغیر تیمم سے بھی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اجازت میں حکم فرض نہیں مباح کا درجہ رکھتاہے۔ حضرت عمرؓ نے سفر کے دوران حالت جنابت میں تیمم سے نماز نہیں پڑھی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ آپ نے ٹھیک کیا ہے۔ حضرت عمارؓ نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو نبیﷺ نے فرمایاکہ ہاتھ اور چہرے پر مسح کافی تھا۔ پھر اللہ نے وضو کی تفصیل بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔ ظاہرہے کہ وضو کے مقابلہ میں نہانا ہی اچھی طرح پاک ہونا ہے جس کا پہلے ذکرہے۔ دنیا میں انسان تو کیا چرندے اور پرندے بھی نہانا جانتے ہیں۔ صحابہؓ وضوو غسل کرنا جانتے تھے مگر فضول کے فرائض پر اختلافات سے وہ بے خبر تھے۔ آج مسلمانوں کو پھر قرون اولیٰ کا دور زندہ کرنا ہوگا تو لوگوں کی اصلاح ہوگی۔میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب نے میری ایک کتاب پر حضرت امام مالکؒ کا یہی قول نقل فرمایا ہے۔ اصولِ فقہ کی کتابوں میں قرآن کی غیر معقول تعریف سے ایمان سلامت نہیں رہ سکتاہے۔
المکتوب فی المصاحف، المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبۃ کتاب کی یہ تعریف ہے کہ ’’جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے، نبیﷺ سے متواتر نقل کی گئی ہے، کسی شبہ کے بغیر‘‘۔ یہ تعریف ہوتی تومعاملہ ٹھیک تھا مگر اسکی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ مصاحف میں لکھی سے مراد کتاب نہیں، یہ تو نقوش ہیں جونہ لفظ ہیں اور نہ معنی بلکہ یہاں 7قاریوں کے الگ الگ قرآن مرادہیں۔ اسلئے فقہ کا مسئلہ ہے کہ مصحف پر حلف اٹھانا حلف نہیں ہوتا اور شامی، قاضی خان، صاحب ہدایہ نے لکھ دیا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ حالانکہ ان بکواسات کا تعلق علم الکلام سے تھا جس سے امام اعظم ؒ نے توبہ کی تھی مگر پھر بھی وہی گمراہی ہے۔ پہلی وحی کاآغاز اقراء اور تعلیم بالقلم سے ہواتھا: والقلم ومایسطرون سے مصحف قرآن کا حلف معتبر ہے اور الذین یکتبون الکتاب بایدیھم سے واضح ہے کہ کتاب لکھی ہوئی چیزکا نام ہے۔
لکھا ہے کہ متواترکی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں۔ جو قرآن پر اضافہ ہے۔ بلاشبہ سے بسم اللہ کے نکلنے کا ذکر ہے جس سے قرآن بلاشبہ نہیں رہتا۔ حالانکہ علم الکلام کو عمل دخل دینے کے بجائے کتاب کی تعریف میں آیات کا حوالہ دینا تھااور قرآن کی حفاظت میںآیات کا حوالہ دینا تھا جن میں کمی بیشی اور شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ امام شافعیؒ کے ہاں خبرواحد حدیث دلیل ہے مگر مشہورو خبر واحد آیت کا وجود اسلئے نہیں کہ قرآن کی حفاظت پر پھر ایمان باقی نہیں رہتاہے۔ امام شافعیؒ نے اہل اقتدار سے ذلت اٹھائی ، ان پر رافضی کی تہمت لگائی گئی۔ امام ابوحنیفہؒ کوجیل میں زہر دیا اور ائمہ کرام کے نام لیواؤں نے بعد میں مزید غلو سے کام لیاہے۔
بنی امیہ کے دور میں ایک طرف اسلام پھیل گیا تو دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں بعض مسائل میں جبر کی فضاء بنائی گئی، چنانچہ جہری نمازوں میں بسم اللہ پڑھنے کو حضرت علیؓ کی شدت سے منسوب کیا گیا۔ جو جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھتے،وہ حکومت کے غدار سمجھے جاتے۔ اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف سے بسم اللہ کو اسلئے مشکوک بناکر خارج کیا گیا ہے۔ آج دور بدل چکاہے اگر ائمہ مساجد جہری نمازوں میں بسم اللہ جہر سے پڑھنا شروع کریں تو قیامت نہیں بہت بڑا انقلاب آئے گا۔
امام ابوحنیفہؒ سمیت تمام ائمہ کرامؒ نے قرآن کو پہلی ترجیح دی، جس کی وجہ سے وہ احادیث مسترد ہیں جن کی وجہ سے قرآن پر حرف آتا ہے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ جب نبیﷺ کا وصال ہوا، تو 10آیات بڑے آدمی کا دودھ پینے کے حوالہ سے تھیں جن کو بکری نے کھا کر ضائع کردیا۔ اہلحدیث ان روایات کو بھی حدیث سمجھتے ہیں۔ انکے مسلک میں یہ ہے کہ بڑا آدمی اگر عورت کا دودھ چوس کر پی لے تو اس عورت سے وہ پردہ نہ کرے لیکن شادی کرسکتاہے۔اسی طرح وہ بچیوں کا ختنہ بھی مستحسن سمجھتے ہیں
جن احادیث سے قرآن کی تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے ان پر ایمان رکھنے سے قرآن پر ایمان نہیں رہتا ہے۔ مسلمانوں کا یہی اعلان ہے کہ قرآن میں کسی حرف کی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے تو اپنی تعلیمات کا نصاب بھی درست کرنا پڑے گا۔ قرآن میں وضاحت ہے کہ اللہ کے کلام پر باطل آگے سے حملے میں کامیاب ہوسکتاہے نہ پیچھے سے۔ بسم اللہ پرآگے کی طرف سے حملہ ہے، قرآن میں موجود ہے مگر نماز اور نصاب میں معاملہ مشکوک بنایا گیا۔
قرآن کی آخری دو سورتیں الفلق اور الناس کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں نہیں رکھا، وہ اس کو قرآن میں داخل نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ پہلے ہاتھ سے قرآن لکھا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف عرصے تک موجود رہا۔ پہلا اور آخری صفحہ پھٹ کر ضائع ہوگئے، جس طرح عام طور سے ہوتا ہے، جس نے دیکھ لیا تو اس نے یہی بات کردی کہ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف دیکھا ، لیکن اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتیں نہیں تھیں۔ اگرچہ بعض نے یہ بھی لکھاہے کہ ابن مسعودؓسورہ فاتحہ کو بھی نہیں مانتے تھے مگر نماز کے اندر فاتحہ کی شمولیت سے یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوسکتی تھی اسلئے آخری دو سورتوں پر حملہ کیا گیا تھا کہ حضرت ابن مسعودؓ ان کے منکر تھے۔ العیاذ باللہ، قائداعظم کا جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا ۔ تفسیر عثمانی میں بھی حضرت ابن مسعودؓ کی طرف سے ان آخری سورتوں پر شیطانی حملے کا ذکر ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس پر تفصیل سے انتہائی نامعقول بحث درج کی ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کو قرآن کے بارے میں اپنی غلط تعلیم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔لوگ اسلئے علماء کے علمی معاملات سے دور بھاگتے ہیں کہ ان کو اپنے ایمان کی سلامتی بھی خطرے میں لگنے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کی شکایت قرآن میں نقل کی ہے کہ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ ’’ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اللہ نے فرمایا کہ قیامت میں ہرشخص کو اسکے امام (سربراہ) کیساتھ بلایا جائیگا۔ یوم ندعوا کل اناس بامامھم بعض نے مغالطہ کھایا اور سمجھا کہ امہاتھم یعنی ماؤں کیساتھ بلانے کا ذکر ہے۔ چناچہ وہ حدیث بھی گھڑ لی کہ ’’قیامت میں سب کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائیگا لیکن حضرت عمرؓ بڑی غیرت والے ہیں صرف ان کو انکے باپ کے نام سے پکارا جائیگا۔
جب اصول فقہ میں قرآن کی تعریف میں علم الکلام کی گمراہی پڑھائی جائے گی۔ قرآن کے علاوہ بھی قرآن کا تصور پڑھایا جائیگا اور اس میں شک وشبہ کی تعلیم ہوگی تو ایسے قرآن کی طرف کون آئیگا جس سے الٹا انسان کا عقیدہ اور ایمان خراب ہو؟۔
قرآن کی تعریف میں سب سے پہلے قرآن کی آیات کے ذریعے کتاب کا معنیٰ درست کرنا ہوگا، پھر ان آیات کو درج کرنا ہوگا جن میں قرآن کی حفاظت کا ذکر ہے، ان روایات کو درج کرکے مسترد کرنا ہوگا جن سے تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتاہے۔ یہ صاف ستھری ذہنیت علماء وطلبہ کو قرآن پر عمل کی طرف راغب کریگی۔ اصول فقہ میں ہے کہ قرآن الفاظ اور معانی دونوں کا نام ہے لیکن پھر امام ابوحنیفہؒ کی طرف یہ منسوب ہے کہ فارسی میں نماز پڑھنا جائز بلکہ افضل ہے۔ ایک طرف فقہ کی تعلیم میں فارسی میں نماز پڑھنے کا جواز لیکن دوسری طرف حضرت شاہ ولی اللہؒ پر فارسی ترجمہ کرنے پر کفر ، مرتد اور واجب القتل کے فتوے لگائے گئے جس کی وجہ سے دوسال تک ان کو روپوش ہونا پڑا۔ پھر جب علماء کو بات سمجھ میں آگئی، شاہ ولی اللہؒ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کے ترجمے کئے۔ علماء نے مختلف زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا تو پنجابیوں اور پٹھانوں کے سنگم پر مشترکہ آبادی میں غرغشتو کے عالم نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کردیا تو ان پر فتوے لگائے گئے کہ پشتو میں ترجمہ کرکے کفر کیا ہے۔
جب علماء کرام کے نصاب میں ایسی تعلیم نہیں ہوگی جو طلبہ میں صلاحیت پیدا کرلے تو نالائق پیدا ہونگے اور کوئی لائق ہوگا تو اس کو بروقت پہچاننا مشکل ہوگا۔یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے پہلے کہا تھا کہ ’’ آپ نصاب مرتب کرلیں تو میں مدراس میں پڑھانے کی ذمہ داری لیتا ہوں مگر مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آیااور نہ ان کی اتنی حیثیت تھی اوراسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق کے مسئلہ پر تفصیل بتائی ، اپنی کتاب پیش کی مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان بھی تھے تو میں نے قرآن کی تعریف پر اصول فقہ کی تعلیم کا بتایا۔ مولانا عطاء الرحمن بنوری ٹاؤن میں فیل ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے تھے۔ جبکہ میں شروع سے نصاب کی تعلیمات پر جاندار تنقید کرتا تھا۔
درسِ نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی تھی جس میں لکھا ہے کہ ’’ الم کی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیاہے کہ الف سے اللہ ، لام سے جبریل اور میم سے محمد مراد ہیں۔اللہ نے جبریل کے ذریعے یہ کتاب محمدﷺ پر نازل کی ‘‘۔ میں نے استاذ مولانا شبیر احمد رحیم یار خان سے کہا کہ اس تفسیر میں دو تضاد ہیں۔ پہلا یہ کہ جب صرف اللہ ہی کو پتہ ہے کہ الم سے کیا مراد ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے یہ مراد ہے اور دوسرا یہ کہ الف اللہ کا پہلا حرف اور مم محمد کا پہلا حرف ہے تو جبریل کا بھی پہلا حرف ہونا چاہیے تھا پھر الف جیم میم کیوں نہیں؟۔ استاد نے کہا کہ عتیق کی بات صحیح اور بیضاوی کی تفسیر غلط ہے۔
اصولِ فقہ کی کتاب ’’اصول الشاشی ‘‘ کا پہلا سبق ہے: حتی تنکح زوجاً غیرہ آیت میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے ، لہٰذا جس حدیث میں عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیا گیا وہ قرآن کی آیت سے ٹکراتی ہے، اس پر عمل نہیں ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ کا ذکرہے، قرآن و حدیث میں ٹکراؤ نہیں ۔کنواری کا ولی باپ ہوتاہے، شادی کے بعد شوہر سرپرست بنتاہے، طلاق یا شوہرفوت ہو توعورت خود مختار بنتی ہے۔ وزیراعظم نے زیرِ کفالت افراد میں مریم نواز کا ذکر کیا۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیرِ غور ہے۔ ولی اور مولا کے معنی دوست بھی ہیں اور سرپرست و صاحبِ اختیاربھی عورت کا ولی اس کا والد ہوتاہے یا شوہر ۔ اور دونوں کا تعلق منقطع ہوجائے تو پھر اس کو خود مختار کہتے ہیں۔ ولی کے معنی صرف دوست کے نہیں، قرآن میںیہود و نصاریٰ کو اولیاء بنانے سے روکا گیاہے تو اختیار دینا منع کیا گیاہے، دوستی سے نہیں روکا گیا ہے،والمحصنات من اہل الکتاب حل لکم اوراہل کتاب میں پاکدامن خواتین سے شادی کی اجازت ہے۔
یہود ونصاریٰ کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے تو بیوی سے بڑھ کر دوستی نہیں ہوسکتی ہے۔ بیوی بچوں کی ماں ہوتی ہے، اس سے دشمنی تو نہیں کی جاسکتی ۔ دہشتگرد اسلئے مسلم حکمرانوں کو اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ ان کی عیسائی حکمرانوں سے دوستی ہے اور یہ انکے نزدیک قرآن سے بغاوت کا درجہ ہے۔ جب ہمارے علماء اور حکمران طبقہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی آگاہ نہ ہو تو اسکے نتیجے میں افراتفری کی فضاء کبھی بھی ختم نہیں ہوگی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کوئی پنڈورہ بکس نہیں کھلے گا۔ مشکل کو قابو کرنیکا درست راستہ علم ہے جہالت نہیں۔ حضرت علیؓ میں تمام صلاحیتیں تھیں اور نبیﷺ کے بعد انصار وقریش کی طرح خلافت کے حقدار ہونے کا معاملہ درست تھا۔ نبیﷺ کی چاہت بھی ٹھیک تھی لیکن یہ منشاء الٰہی نہیں تھی۔ پھر خلافت کے علاوہ مساجد، مدارس ، خانقاہوں پر بھی موروثی نظام کے اثرات مرتب ہوئے۔ خلافت راشدہ کو اللہ نے موروثیت کی بیماری سے پاک رکھنا تھا۔ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں، چندہ سے بننے والے ٹرسٹ، مدارس اور سب چیزوں کو عوامی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب تو پارٹیاں حکومتوں کو بھی اپنی وراثت بنانے میں مشغول ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کے علاوہ دوسرے بھی ریاستی اداروں سے مل کر حکومتی کاروبارپر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدالت اس وقت نااہل تھی کہ جب آصف علی زرداری کو11سال جیل میں رکھا مگر چوری کا مال بھی نہیں پکڑ ا۔ اب تو اس میں اہلیت آگئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور تحقیقات کرکے کرپشن ثابت بھی کی جائے گی اور سزا بھی دی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسا بھی لوگ کرتے ہیں کہ بڑے غبن، چوری اور ڈکیٹی کے بعد کچھ عرصہ جیل جاتے ہیں وہ کاروبار ہی یہ کرتے ہیں۔ عدالت صرف اتنا بھی کرے کہ نوازشریف اور تمام ذمہ دار عہدوں پر رہنے والوں نے باہر اثاثے بنالئے ہوں تو ان کو جائز وناجائز کی بحث سے پہلے اپنی آل اولاد اور دولت سمیت اپنے ملک میں لانے پر مجبور کردے۔
سیاسی کارکن اور سیاسی رہنماؤں کو یہ بھی کر گزرنا ہوگا کہ موروثی قیادت اہلیت بھی رکھتی ہو تو قیادت کسی اور تجربہ کار اور اہل شخص کو سپرد کردی جائے۔ امریکہ میں ایک شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر نہیں بن سکتاہے تو ہمارے ہاں بھی نسل در نسل اس جہالت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ استعداد والے لوگوں کی بہت حق تلفی ہوتی ہے۔ عمران کا ہسپتال بھی موروثی نہیں ٹرسٹی ہونا چاہیے، مدارس پر بھی موروثیت کا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور اس بات میں تفریق ضروری ہے کہ جو ذاتی ملکیت ہوتی ہے وہ کیا ہے اور عوام کا چندہ لیکر بنانے والے اداروں کی حیثیت کیاہے؟۔ کسی آدمی نے اپنی زمین پر اپنے پیسوں سے مسجد بنادی توملکیت ختم ہوجاتی ہے، کانیگرم جنوبی وزیرستان میں میرے باپ دادا نے ایسا کیاہے لیکن اس کا اختیار عوام کے پاس ہے۔
جب انسان میں مفاد کا نہیں خدمت کا جذبہ ہوتاہے تو خدمت پر کوئی لڑائی نہیں ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی، ایم کیوایم اور ن لیگ جھاڑو لیکر صفائیاں شروع کردیں پھر دیکھیں کہ اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ اس طرح ایم این اے، سینٹ، ایم پی اے، بلدیاتی اداروں کے کونسلر اور تمام ذمہ دار عہدوں وزیراعظم اور صدر مملکت خدمت کا جذبہ رکھ کر کام کریں تو بہتان تراشی اور اخلاق باختہ گالیوں کی نوبت نہیں آئیگی۔ ماتحت ملازم ڈیوٹی پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بڑے گریڈ کے افسروں کو حکومت مجبور نہیں کرسکتی ہے۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بہت اچھے انسان ہونگے مگر جب صوبائی حکومت کا اختیار بھی ہے اور وہ نہیں چاہتی ہے کہ آئی جی کے عہدے پر وہ کام کرے تو آئی جی کواس خدمت کی کرسی پر لات مارنا چاہیے۔ اس سے ان کی ذات اور عہدے کا وقاربھی مجروح ہورہا ہے۔
نوازشریف کیساتھ اگر اسٹیبلشمنٹ کی کوئی لڑائی ہے تو عوامی اختیار کیلئے حکومت سے زیادہ حکومت سے باہر رہ کر جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتاہے۔ عہدے سے چپک جانے میں وہ عزت نہیں جو اس کو ٹھکرانے سے ملتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو خلافت کی کوئی لالچ نہیں تھی ، ان کا دور بھی بڑے اطمینان سے گزرا۔ امام حسنؓ نے خلافت کی مسند چھوڑی تو اللہ نے عزت سے نوازا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان پیدا ہی خلافت کیلئے کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردے؟۔ انا عرضنا الامانت علی السمٰوٰت واالارض و الجبال فابین ان یحملنہا و اشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کانا ظلوما جہولا ’’بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا،آسمانوں زمین اور پہاڑوں پر مگر انہوں نے امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے امانت اٹھالی، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل تھا‘‘۔ انسان کو مکلف بنایا گیاہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اختیار دیا گیاہے۔ اختیار اس کی جبلت کا حصہ ہے، جتنا اختیار مل جائے اس کو پورا کرنے کیلئے بہت ساروں کی اگر کوئی دم ہوتی تو اٹھائے اٹھائے گھومتے کہ مجھے یہ اختیار چاہیے مگراللہ نے بنی نوع انسان آدم علیہ السلام کی اولاد پر کرم کیا اور عزت سے نوازا ۔ انسان کی عزت اور اختیار اسکے ہاتھ میں ہے اسلئے اللہ نے فرمایا کہ لایکلف اللہ نفس الا وسعہا لہا ماکسبت و علیھا مااکتسبت ’’ اللہ نے کسی نفس کو مکلف نہیں بنایا ہے مگر اسکے دائرے وسعت کے مطابق، پھر وہ اچھا عمل کرتا تو اس کو اجر ملتاہے اور برا عمل کرتاہے تو اس کی سزا بھگت لیتا ہے‘‘۔
اس آیت کا بھی غلط مفہوم نکالا گیا کہ اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے۔ حالانکہ اگلے جملے میں دعاہے کہ ہم پرہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ آیات کا غلط مفہوم مرتب کرنے پر ہماری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ غریب و مظلوم طبقے انسانیت کے ظلم وجبر اور تشدد کا شکار بنتے ہیں تو کہا جاتاہے کہ اللہ نے جو بوجھ ڈال دیا ہے اس کو برداشت کرنا چاہیے۔
سابق ایم این اے صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو نے بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو نشے میں دھت ہوکر قتل کیا تو بیوہ نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی مجبوری بتائی کہ میری بیٹیاں ہیں ان کی عزتوں کو خطرہ ہے اسلئے کیس سے دستبردار ہورہی ہوں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ن لیگ کی حکومت کھڑی ہوجاتی اور بیوہ کو انصاف دلاتی تو مخلوقِ خدا خوش ہوتی، اللہ بھی راضی ہوجاتا۔ تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے اس غریب بیوہ کا ساتھ نہیں دیا۔ طاقتور خاندانوں کے ذریعے جمہوری جماعتوں کو طاقت میں آنا ہوتاہے، اسلئے غریب اور مظلوم عوام بے بسی سے مظالم سہنے کا شکار رہتے ہیں۔
اصول فقہ کی ’’نورالانوار‘‘ میں ثلاثۃ قروء 3ادوار پر ریاضی کی غلط بحث کی گئی ہے۔ عدت کے 3ادوار کا تعلق طلاق کے 3مراحل سے کیسے بنتاہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن عمرؓ پر ناراضگی کا اظہار کیا، اور قرآن میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کے مراحل سمجھائے۔ اگر اس حدیث کو قرآن فہمی کیلئے بنیاد بنایا جاتا تو طلبہ، علماء، عوام کے دماغ کھل جاتے۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیکر فرمایا کہ’’ اس کو طلاق کا بھی پتہ نہیں تو خلافت کے امور کیسے چلائے گا‘‘۔علماء ہمیشہ سے نااہلی کا شکار اسی لئے رہے کہ طلاق کے مسئلے میں بھی مار کھاگئے تھے، وزیراعظم کو مریم نواز کے زیرسرپرستی کا پتہ نہ تھا تو کاروبارِ حکومت کیلئے ان کی اہلیت الیکشن کمیشن نے کیسے تسلیم کرلی؟، الیکشن کمیشن کے اس ذمہ دار عملے کوبرطرف کیا جائے تومیرٹ پر بھرتی کرنے کے موقع بھی پیدا ہونگے۔
مذہبی سیاسی اسلامی منشور ایک ایسی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے…..
مذہبی سیاسی اسلامی منشور ایک ایسی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے جس کی تاثیر سے بنگلے والے اور جھونپڑی والے برابر برابر اپنے معاشرتی اور معاشی مسائل قرآن و سنت کے عین مطابق حل کریں جو آنے والے الیکشن میں نئے چہروں کے ساتھ نہ صرف پاکستان اور اسلامی دنیا بلکہ مشرق، مغرب، شمال، جنوب تک ایسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو جس سے اہل آسمان و زمین خوش ہوں۔
جسٹس کھوسہ نے ٹھیک کہا کہ قانون گدھا ہوتاہے مگر جج گدھا نہ بنے، بشیر نور
جسٹس کھوسہ کے اس فیصلے پر ن لیگ نے مٹھائیاں بھی بانٹیں تھیں۔ جن چینلوں اور صحافیوں نے نوازشریف کی وکالت کا ٹھیکہ اٹھا رکھاہے ان کی ساری محنت کا محور روزی روٹی حلال کرنے کے گرد گھومتی ہے۔ عورت ایک ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور تمام رشتوں کے علاوہ کوئی رشتہ نہ بھی ہو تو بہت ہی قابلِ احترام ہوتی ہے۔ وہ جس کنڈیشن میں بھی ہو مرد کیلئے اس کو نگاہِ بد سے دیکھنے کا کوئی واز نہیں ہے اور اس کو خود بھی اپنے ناگفتہ بہ لباس کے باوجود یہ حق پہنچتاہے کہ کوئی نظر گاڑھ کر دیکھے تو اس کو برا لگے مگر جب دعوتِ گناہ اس کا پیشہ بن جائے تووہ عزت کھو دیتی ہے، وکالت کا پیشہ ہی ایسا ہے کہ سلمان راجہ اور اعتزاز احسن جیسے قابلِ احترام شخصیات بھی نواز شریف کے کیس میں90 کے زوایے سے گھوم جاتے ہیں، سیاست میں پارٹی بدلنے پر بھی ایسا ہوتاہے جن کا صحافی لطف اٹھاتے ہیں مگر صحافیوں کا پیشہ بالکل جداہے۔ انہیں یہ اجازت نہیں کہ جانبداری کریں۔ گدھے کو جعلی ڈگری مل سکتی ہے ، پیسوں کے زور پر گدھا منتخب ہوسکتا ہے۔وزیراعظم بن کر گدھا عدالت سے کہے کہ مجھے تم نااہل نہیں کر سکتے تو یہ ڈھینچو ڈھینچو سے ججوں کو ڈرانا ہوگا۔ عدالت نااہل قرار دے اور وہ زور دار ہوا خارج کرکے کہے کہ میرے ساتھ زیادتی ہے تو گدھا آخر گدھا ہی ہوتا ہے، قرآن نے کس کی مثال گدھے سے دی جس نے کتابیں لاد رکھی ہوں۔ الیکشن کے فارم میں نواز شریف نے تین زیرکفالت افراد کا ذکر کیا۔ کلثوم ، مریم،وہ خود۔ کیاالیکشن کمیشن میں پوچھنے کی اہلیت نہیں کہ کوئی اپنے زیرکفالت کیسے ؟۔ مریم کنواری نہیں بال بچے دار تھی۔ بچی کی شادی بھی وہیں ہوئی ۔ بھٹوسے لیکر گیلانی تک ہر وزیراعظم کی نااہلی پر بنگڑے ڈالنے والا شرم وحیاء رکھتا تو یہ نہ کہتا کہ پہلے نظریاتی نہ تھاجب جونیجو کا ساتھ نہ دیا اور جنرل ضیاء کی برسیوں پربھٹو کو انگریز کے کتے نہلانے کا کہتا۔
پنجاب کا بھنگی طالبان کی حالت دیکھنے کابل گیا۔ دیکھا دیکھی نماز پڑھنے مسجد پہنچا۔ رکوع میں زور دار ہوا خارج کردی۔ لوگ ہنس ہنس کر مسجد سے بھاگے۔ بھنگی نے امام سے پوچھا کہ وضو ٹوٹ گیا؟ امام نے کہا کہ ہاں!۔ اس نے کہا کہ ہوا بہت کم نکلی ہے۔ امام نے کہا کہ جاؤبابا وضو تمہارا ٹوٹ گیا ، اس نے بار بار اصرار کیا کہ کیا وضو ٹوٹ گیا ہے حالانکہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ کچھ ٹی وی چینل، کچھ صحافی، کچھ وکیل اور کچھ مولانا بھی فنی نکات تلاش کررہے تھے کہ کسی طرح امام صاحب اپنی رائے بدلے، بے وضو نماز کے صحیح ہونے کا فتویٰ دے مگرامام اقرارجرم اور دھماکے کی آوازکوکیسے نظراندازکرتا؟۔
جیومیں حامد میر رجل رشید نکلا، جس نے اعتراف کیا کہ عدالت عظمیٰ نے پہلی مرتبہ خلاف توقع ٹھیک فیصلہ دیا ۔ اگر عدالت کو ڈرانے سے ججوں کو اکسانے کا کام نوازشریف نہ کرتاتو روایت برقرار رہنے کا خطرہ بدستور موجود تھا۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے نوازشریف کو نااہل کروایا مگر جیو کا کردار بھی کم نہ تھا۔پانامہ نے پاجامہ اتارا، دو ججوں نے نااہل کرکے چڈا اتارا۔ پھر جی آئی ٹی نے پیمپر اتارا لیکن جیو مسلسل چیخ رہا تھا کہ سبحان اللہ مشک وعنبر اور گلاب و چنبیلی کی خوشیو سے سارا وطن معطر ہورہاہے۔خلق خدا کو تعفن و بدبو کا سامناتھا۔ جج اپنے منہ پر کالک ملتے یا نواز شریف کے منہ پر ۔ جے آئی ٹی کے ارکان پر ن لیگ نے اتناغصہ اتار دیا کہ ججوں کواتفاقِ رائے سے وزیراعظم کے منہ پر ہی کالک ملنی پڑی۔ کس منہ سے نظر ثانی کی اپیل میں جارہے ہیں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ وسعت اللہ خان نے فیصلہ آنے سے پہلے اچھا لطیفہ سنادیاکہ میراثی جاگیردار کے پاس گیاتومہمان میراثی اپنی اوقات سمجھ کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا، جاگیردار نے اوپر بیٹھا دیا ۔میراثی نے کچھ پیسے کمالئے تھے، بیٹے کو بھی تعلیم دلائی تھی، جاگیردار نے کہا کہ کیسے آنا ہوا؟۔ میراثی نے کہا کہ زمانہ بدل گیا، رشتوں کا معیار بھی بدلا ہے، میرا بیٹا لکھا پڑاہے اگر اپنی بیٹی کا رشتہ دیدو۔ جاگیردار نے اپنے آدمیوں سے اس بات پر خوب پٹھائی لگوادی۔ پھر میراثی اپنی پگڑی اور دھوتی شوتی سنبھال کر جب گھر سے باہر نکلا تو واپس آکر کہنے لگا کہ کیا میں رشتے کا انکار سمجھ لوں؟۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وزیراعظم کو کوئی نکال نہیں سکتا، اب کہا جاتا ہے کہ کوئی روک نہیں سکتا۔ بادی النظر میں ن لیگی رہنما بہت خوش ہیں۔ 90کی دہائی سے 25سال ہوگئے ہیں کہ لندن کے عالیشان فلیٹوں کا حساب مانگا جارہاہے مگراصلی کاغذات تک نہیں دکھا رہے ہیں، میڈیا پر تسلسل کیساتھ متضاد جھوٹ بولا گیا، پارلیمنٹ میں جھوٹ کا پلندہ تحریری شکل میں نوازشریف نے سنانا شروع کردیا تواس دوران خواجہ سعد رفیق بہت غصہ دکھائی دے رہا تھا، حالانکہ خوش ہونا چاہیے تھا کہ ثبوت دیا جارہاہے مگرخواجہ صاحب کو پتہ تھا کہ یہ ثبوت نہیں بھوت ہے۔ حقائق کے منافی تقریر کادفاع میڈیا میں بڑا مشکل ہوگا، عدالت میں ناممکن ہوگا۔ جے آئی ٹی کے ارکان کو اسلئے قصائی کہا جارہاتھا کہ قربانی کا چھرا صاف دکھائی دے رہاتھا۔ فوج کے سربراہ بھی دھیمے مزاج کے انتہائی شریف النفس جنرل قمر باجوہ، آئی ایس آئی کا چیف بھی شکوک وشبہات سے بالکل مبرا، سپریم کورٹ کاچیف جسٹس بھی کسی سازش کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ اپنی اکثریت والی حکومت، عالمی قوتوں سے بھی اچھے مراسم، احتجاجی تحریک کا بھی گلوبٹوں سے مقابلہ مشکل نہ تھا، میڈیا چینل بھی بھرپور ساتھی اورمشہور اینکر پرسن بھی اپنی شہرت کی بلندیاں اپنی جان نچاور کررہے تھے مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے کامران، مجیب الرحمن شامی، شاہ زیب خانزادہ کتے بلے بن کر مری ہوئی بھینس کے تھنوں سے لگے چوس چوس کر عوام کو دھوکہ دیتے ہوں کہ ماشاء اللہ کیا دودھ کی نہریں ہیں، حالانکہ صحافی کا کام وکالت کرنا نہیں ہوتا ۔ جیو کے محمد جنید کے پروگرام میں عدالت کے متفقہ فیصلے پر جواب میں حامد میر نے کہا کہ حکومت کو پہلے سے پتہ تھا کہ اس کو نااہل ہونا ہے مگر سیاسی بیانات دے رہی تھی کہ ہم نااہل نہیں ہونگے، تو جنید نے ہاتھ کو اس انداز سے دکھایا کہ جیسے حامد میرنے جیو کا سار گیم خراب کردیا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کی دلیل مثالی ہوا کرتی تھی مگر اب یہ کہنے سے بھی نہیں شرمایا کہ ’’ نوازشریف نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی اسلئے نااہل قرار دیا، اگر تنخواہ لے لیتے تو نااہل نہ ہوتے‘‘۔ حالانکہ عدالت نے کہا ’’کہ مقدمہ یہ تھا کہ خاندان کے اثاثے مشترکہ ہیںیہ ثبوت ہے باپ بیٹے کا ملازم نہیں، تنخواہ کا حساب کتاب نہیں، جو ڈھونڈرہے تھے وہ سراغ مل گیا‘‘۔ لندن فلیٹ کیا رحمن ملک کی عزت افزائی اور نیب کو سچا ثابت کرنے کیلئے 2006ء میں خرید لئے؟۔اصغر خان کیس 1990ء میں آئی ایس آئی سے پیسے لئے۔ پھر حکومت بناکر کرپشن کی ، کرپشن کی وجہ سے حکومت کا خاتمہ ہوا۔ شکرہے کہ یہ نہ کہاکہ کون شریف؟، کون حسن ، کون حسین، کون مریم، کون کلثوم؟… عدالت نے وہی کیا جو نوازشریف کو پرویز مشرف نے سعودیہ بھیجاتھااسلئے ن لیگ خوش اور شرمندہ ہے، عدالتی کاروائی نے بہتوں کی صلاحیت اور ضمیر سے پردہ اٹھا دیاہے۔ بشیر نور :سعودی عرب
مشرف کیساتھ ڈیل کی طرح نواز شریف عدالتی فیصلے پر خوش اور شرمندہ ہیں، اشرف میمن
نوشتۂ دیوار کے پبلشراشرف میمن نے کہا کہ جمہوری نظام شخصیت پرستی نہیں مشاورت سے امور طے کرنے کا نام ہے۔ نوازشریف کے جو مالی سکینڈل میڈیا پرآئے۔کچھ اخلاقی قدریں ہوتیں تو شریف فیملی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ تھی، اقامہ کی ملازمت ہم جیسا بھی وقار کیخلاف سمجھے ۔بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے کی بات بھی بے شرمی ہے۔ مغربی جمہوریت سے بڑھ کر ہمارا اسلامی نظام ہے۔ شکست میں صحابہؓ کے پیر اکھڑ گئے، فرمایا: ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اورمحمد کیا ہیں؟۔مگرایک رسول ، آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ، اگر آپ فوت ہوں یا قتل کیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھروگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے تلوار اٹھائی جوکہے کہ آپﷺ کا وصال ہوا تو اسکی گردن اڑادوں گا، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو آپﷺ فوت ہوچکے، جو اللہ کو پوجتا ہے تو وہ زندہ اورپر موت طاری نہیں ہوتی۔ صحابہؓ کی حددرجہ عقیدت اور نظریاتی پختگی نے دنیا میں عرو ج پر پہنچادیا۔ کوئی نااہل وزیراعظم سے پوچھتا، پارلیمنٹ میں کہاکہ سعودیہ کی فیکٹری بیچ کرلندن فلیٹ خریدلئے جسکے تمام ثبوت موجود ہیں۔ اگر عدالت میں پیش نہ کرسکے تو کارکنوں کو بتادو۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا ثبوت ہے کہ باپ بیٹے میں مالی تفریق نہیں۔ اقامہ نہ کاروبار بلکہ کالا دھن سفید کرنیکا دھندہ تھا۔ ٹرائل میں تیرا کیا بنے گا؟، کالیا!۔ میڈیا اپنے پیسے سے تجھے ماردیگی ۔
بقیہ نمبر1 : نوازشریف کا کردار: اشرف میمندانیال ، طلال ، گلوبٹ، مولانا فضل الرحمن، میر شکیل الرحمن کو نوازشریف سے کیا عقیدت ہے؟۔ روزروزپارٹی ،موقف اورقبلے بدلنے والوں سے توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں؟۔
جمہوریت کیلئے مغرب کی طرف نہ دیکھو۔ اسلام جمہوری عمل کا بڑابنیادی ڈھانچہ ہے۔ نبیﷺ چچازاد و داماد حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتے تھے۔ خفیہ نہیں کھلم کھلا اعلان کردیا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جس کا میں مولا ہوں یہ علی اسکا مولیٰ ہے‘‘۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ رسول ﷺ پر یہ وحی تھی ۔ وماینطق عن الھوی الا وحی یوحیٰ ’’آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے مگر جو وحی کی جاتی ہے‘‘۔ شیعہ نے مغالطہ کھایا ہے۔ اللہ کاحکم تھا کہ وشاور ھم فی الامر ’’ان سے خاص امر میں مشاورت کریں‘‘۔
علیؓ کامولیٰ ہونا وحی نہیں ۔ آپﷺ کی یہ خواہش ضرور تھی جس کا برملا اعلان کردیا۔ پھر نبیﷺ نے قلم اور کاغذ منگواکر فرمایا کہ ’’ میں ایسی وصیت لکھ دیتا ہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہاکہ ’’ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ علاوہ ازیں نبیﷺ نے فرمایا: میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے تھاموگے کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت‘‘(مسلم، ترمذی)
رسول اللہﷺ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار وقریش میں خلافت پر جھگڑا ہوجاتا۔ حضرت ابوبکرؓ ہنگامی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ آپؓ نے حضرت عمرؓ کواپنے بعد نامزد کردیا۔ شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو نامزد کردیاتھا اور حضرت علیؓ کے وقت حالت بہت بگڑچکی تھی۔ حضرت حسنؓ دستبرداراور حضرت حسینؓ نے کربلا میں شہادت پائی۔ حضرت علیؓ کی سخت اپوزیشن اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ نے کی۔ حضرت امام حسنؓ نے خود مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ اسلامی جمہوری معاشرے کی بنیاد تھی کہ عوام کا دل رسول اللہﷺ کی عقیدت سے لبریزتھا مگر خلافت راشدہ کااقتدار متفرق شخصیات اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے حضرات کے ہاتھ میں رہا۔ جوں جوں اسلام کی روح اُمت کی اجتماعیت سے نکلتی چلی گئی توں توں آمر کے خانوادے بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی خلافت کی شکل میں آگئے۔ علماء ومشائخ نے بھی اسلام سے دور ہوکر نالائق نا خلف اولاد کو اپنا جانشین بنانا شروع کردیا۔نبیﷺ نے علم کی میراث چھوڑی، مدینہ العلم کا باب بہترین قاضی کاخانوادہ بھی مسند سے محروم رہاتھا۔
مسجد،مدرسہ، خانقاہ ،مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں اور جماعتیں شخصی ملکیت نہیں خاندانی تسلط کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو موروثی رنگ نہیں دیا۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی موروثی نظام نہیں۔ قاری طیبؒ نے بیٹے مولانا سالم قاسمی کو مہتمم نامزدکیا تومزاحمت ہوئی پھردارالعلوم دیوبند بٹ گیا۔ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کے بعد مولانا یوسفؒ نہیں مولانا احتشام الحسنؒ ؒ کوامیر بنادیتی تو تبلیغی جماعت انقلاب لاچکی ہوتی۔ اب حاجی عبد الوہاب کا مولانا الیاسؒ کے پوتے یا پڑپوتے سے جھگڑابھی چل رہاہے۔
مذہبی وسیاسی جماعتوں ، مدارس، مساجد، خانقاہوں ، سماجی تنظیموں میں خلافتِ راشدہ کے طرز پر تبدیلی آجائے تو بہتری آسکتی ہے۔ رسول ﷺکے اہلبیت سے بہتر خانوادہ تھا؟، مگر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا تعلق بنی ہاشم سے نہیں تھااور مشکل صورتحال میں حضرت علیؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے کردار ادا کیا۔پاکستان میں مذہبی وسیاسی جماعتوں اور اداروں کا رول ماڈل اسلام ہو۔
شریف خاندان کو مشکل کا سامنا تھا تو جاوید ہاشمی نے قربانی دی۔ نواز شریف نظریاتی ہے تو سیدیوسف رضا گیلانی کیخلاف کیوں گیا تھا ؟ اب کیا اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا یا یہ بھائیوں کا جھگڑا ہے۔ فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کو باقاعدہ وضاحت کرنا چاہیے کہ سیاست ن لیگ یا ش لیگ کا داخلی معاملہ ہے۔مشہور ہے کہ خوشحال خٹک سے اسکی ماں نے کہا تھا کہ بیٹا تیری زبردست شخصیت ہے لیکن اگر قد تھوڑا سا لمبا ہوتا۔ خوشحال نے اس کا یہ جواب دیا کہ ماں جی! میرا قد بالشت بھر مزید چھوٹا ہوتا لیکن کسی خٹک سے مجھے نہ جنا ہوتا۔کیا خواجہ آصف بھی کہے گا کہ’’ جتنی بھی پاک فوج کی مخالفت میں سر پھوڑی کروں مگر بات نہیں بنتی اسلئے کہ ماں نے اس باپ سے جننا، جو جنرل ضیاء کے شوریٰ کا چیئرمین تھا۔ میراقائد نوازشریف ہے جس کی ہڈیوں کا گودا بھی مارشل لائی ہے ، چوہدری نثار کا دوست شہبازشریف مسلط کردیا ۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ جیو اور چاپلوس صحافی ہمیں کتنا دھکیل دیں، عاصمہ جہانگیر کم بخت مرتی بھی نہیں، انوشہ اور تہمینہ کی چوڑیاں نواز اور شہباز کو پہنادو مگر سچ نہ بولیں گے ۔ معاہدہ کرکے سعودیہ جانے پر خوش اور شرمندہ تھے تو اب بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے‘‘۔
خواجہ آصف منہ پھٹ قائد کو کھری کھری سنائے تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ ایمان ،اسلام ، پاکستان اور سیاستدان کا یہی تقاضہ ہے۔
قانون سے کوئی بالاتر نہیں. عاصمہ جہانگیر کا بیان اور تبصرہ
عاصمہ جہانگیر کی بات 100%درست ہے کہ اگر فوج کی طرف سے تحفظ کا یقین نہیں ہوتا تو ججوں نے نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ نہیں دینا تھا۔ واقعی نہیں دے سکتے تھے اگر عدلیہ کی پشت پر ریاست کی قوت نہ ہو تو بوڑھے ججوں کے اندر مولا جٹوں ، گلوبٹوں اور موٹے گینگ نکٹوں سے کشتی کرنے کی صلاحیت تو نہیں !۔ ضعیف العمری و ییرانہ سالی میں محترمہ سٹیا گئیں یا مُلا کی طرح معاوضے کی آذان دے رہی ہیں؟۔ نوازشریف، شہبازشریف اور تمام ن لیگی رہنما عدالت کیخلاف سینہ سپر تھے۔ آرمی چیف کی وضاحت درست تھی کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آیاتو قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ کیا آرمی چیف اور نوازشریف کے رشتہ دار آئی ایس آئی چیف یہ کہتے کہ نوازشریف ہمارا لاڈلہ بچہ ہے ، بگڑا ہوا ہے تو کیا ہوا؟۔ ماڈل ٹاؤن کی پولیس کے ہمراہ گلو بٹ نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے ڈنڈا برسایا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے ، گولی کا نشانہ بننے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں زخمی، معذور اور 14شہید ہوگئے۔ کیایہی نوازشریف کو ملنے والے فوجی بٹ مین بھی ادا کرتے تو اچھا ہوتا؟۔
آپ چاہتی کیا ہیں؟۔ کرپشن پر پہلی مرتبہ ہی ہاتھ پڑنے والا ہے تو پیٹ میں درد شروع ہوا، اپنا دوپٹہ نواز شریف کو پہنادیں، شہباز شریف کی ہیٹ پہن کر شاہد خاقان عباسی کی جگہ پر خود وزیر اعظم بن جائیں۔ پھر ججوں کو اٹھا کر جہاں پھینکنا چاہیں وہاں پھینک دیں۔
دوججوں نے پہلے ہی نااہل قرار دیا تھا جس پر مٹھایاں تقسیم کی گئیں۔ سلمان اکرم راجہ اپنی وکالت سے پہلے کہہ رہاتھا کہ پارلیمنٹ اور قطری خط کے تضاد پر جج وزیراعظم کو نااہل کرسکتے ہیں، یہ ان کا صوبدید ہے کہ نااہل کریں یا چھوڑدیں۔ 62،63کے اطلاق میں فرق ہے۔ ایک شخص اپنے طورپر دن بھر بدبودار پھوسیاں مارتا رہے مگر جب وہ نماز پڑھے گا تو وضو کے ٹوٹنے پر مقدس مسجد سے جانا پڑے گا۔ پھر جب نماز کی امامت کررہا ہو اور پھر زوردار ہوا کی آواز بھی گونج اُٹھے تو خود ہی نماز چھوڑ کر کسی کو نائب مقرر کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ عوام اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوں اور جب تک کوئی کان سے پکڑ کر نکال باہر نہ کرے وہ ڈٹا رہے۔ محترمہ ذرا سوچئے!
عاصمہ جہانگیرومولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ بہت مال نکلے گامگر اقامہ نکل آیا۔ مال کے چارجزلگانا ٹرائل کورٹ کا کام ہے جس میں اپیل کا بھی حق ہوگا۔









