پوسٹ تلاش کریں

مفتی محمود پر1970میں ، مولانا فضل الرحمن پر1985 میں کفر کا فتویٰ لگا۔ کیااب حق کا علم مولانا بلند کریں گے؟

قرآن کے احکام اور مسائل کاحل

قرآن کی تعریف : ”جو رسول ۖ پر نازل ہوا،جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے، جو آپ ۖ سے منقول ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔

اس کی تشریح:” اس سے پانچ سو آیات مراد ہیں۔ باقی قرآن قصے اور مواعظ ہیں۔ لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ یہ محض نقش ہے۔متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے اخبار احاد اور مشہورآیات اور بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی ، اگرچہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے لیکن اس میں شک ہے اور اس وجہ سے اس کا منکر کا فر نہیں بنتا ہے”۔

یہ تعریف حنفی مسلک کی ہے جس میں صحیح احادیث سے زیادہ اہمیت قرآن کی اخبار احاد کی ہے لیکن امام شافعی کے نزدیک یہ عقیدہ کفرہے۔ جب قرآن سے باہر بھی آیات مان لی جائیں اور شبہ بھی ثابت کیا جائے تو پھر عوام کو بھی آگاہ کرنا چاہیے کہ علماء قرآن کیساتھ کیا کرتے ہیں؟۔

جب معاملہ 500آیات کا تھا تو پھر فضول کی بکواس کی ضرورت کیا ہے اور اگر لکھا ہوا قرآن اللہ کا کلام اور کتاب نہیں ہے تو اسلئے فقہ کی جن کتابوں فتاوی قاضی خان سے فتاویٰ شامی تک سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے ۔تاکہ اس توہین کو تحفظ دیا جائے؟۔

امام شافعی بسم اللہ میں شک نہیں کرتے تھے اور جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھتے تھے تو ان پر رافضی کا فتویٰ لگادیا۔ علماء خود قرآن کیخلاف تعلیمات دے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ ، سینیٹ اور عدالتوں میں جب تک ان کا مؤاخذہ نہیں ہوگا تو یہ اپنے غلط نصاب کو تبدیل نہیں کریںگے۔ امام ابوحنیفہ کی شہادت کے بعد امام شافعی نے حق کا پرچم بلند کیا تھا۔

اللہ نے فرمایا کہ ” رسول شکایت فرمائیںگے کہ اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔(الفرقان: 30)

اور یہ بھی واضح فرمایا کہ ” جیسا ہم نے ان بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو جنہوں نے قرآن کو بوٹیاں بوٹیاں کردیا۔ تیرے رب کی قسم ہم ان سبھی سے ضرور پوچھیںگے”۔(سورہ الحجر: 90،91،92)

قرآن نے مسائل کا بالکل واضح حل پیش کیا ہے جو اپنی مثال دینا آپ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اور جس دن ہر گروہ میں سے ان پرانہیں میں سے ایک گواہ کھڑا کریںگے۔اور تجھے ان پر گواہ بنائیںگے۔ اور ہم نے تجھ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو واضح کرتی ہے۔اور مسلمانوں کیلئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے”۔ (النحل:89)

فرقہ پرستی، سیاست، قوم پرستی اور مختلف حوالہ جات سے لوگ اپنے کمالات کے جوہر دکھارہے ہیں لیکن اصل مسائل کے حل کی نشاندہی کا تصور نہیں رکھتے۔ جب تک معاشی اور معاشرتی بنیادوں پر ہمارے اپنے اقدار درست نہیں ہوں گے تو مسائل حل کے بجائے گھمبیر ہوں گے اور قرآن وہ کتاب ہے جس سے دنیا کی قوموں کو عروج ملتا ہے اور اس کے چھوڑنے سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں۔ دنیا میں میاں بیوی کی صلح پر پابندی نہیں اور اس کا سہرا قرآن کے سر جاتا ہے۔

قرآن کی صلح واصلاح کا منکر کون؟

دور جاہلیت میں طلاق کی عدت تھی اور طلاق رجعی کے بعد شوہر عورت کی رضامندی کے بغیر اس کو لوٹانے کا حق رکھتا تھا مگر تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ طلاق کے الفاظ کے اقسام اور مختلف احکام تھے۔ اگربیوی کی پیٹھ کو ماں کی پیٹھ کہا تو حلالہ سے بھی رجوع نہیں ہوسکتاتھااور حرام کے بعد بھی رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔

قرآن نے تمام مسائل کا عام فہم عوامی حل پیش کردیا۔ سنت نے اس کو مزید واضح کردیا اور خلفاء راشدین نے ان کے مطابق فیصلے کئے لیکن پھر رفتہ رفتہ مذہبی طبقات اور اختلافات نے دین کے اصل چہرے کو مسخ کردیا ۔ اب بڑے بڑے علماء ومشائخ بات کو نہیں سمجھتے یا تجاہل عارفانہ سے اپنا ایکسپائر شدہ اسلحہ چلاکر قوم وملت کو برباد کررہے ہیں۔ ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز سے ملاقاتیں کرکے بات سمجھا دی اور وہ سمجھ بھی گئے لیکن اپنی نوکریاں بچانے یا بڑے علماء کیساتھ الجھن سے بچنے کیلئے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھایا۔

1: سورہ بقرہ آیت 228میں حلالہ اور طلاق رجعی کی جاہلیت کے مسائل کو اللہ نے بہت آسان الفاظ میں حل کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن ان ارادوا اصلاحًا: ”اور ان کے شوہر اس(عدت) میں ان کو صلح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتے ہیں”۔(البقرہ آیت228)

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اکٹھی طلاق پر حلالہ کی لعنت کا خاتمہ اور شوہر عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔

حضرت عمر کے پاس اقتدار تھا ۔آپ نے دارالفتویٰ نہیں کھولا تھا۔ شوہر نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق۔ اور اپنا حق یہ سمجھا کہ وہ عدت میں رجوع کرسکتا ہے اور بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر نے قرآن کے مطابق فیصلہ دے دیا کہ شوہر کو رجوع کا حق نہیں ۔ اس سے پہلے کوئی اکٹھی تین طلاق دیتا تھا تو باہمی رجوع کرلیتے تھے لیکن یہ فیصلہ قرآن کی بنیاد پر تھا اور حضرت عمر نے عورت کے حق کو بھرپور تحفظ دیا اور اگر ایک طلاق کے بعد بھی عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہوتی تو عمر نے قرآن کے مطابق یہی فیصلہ دینا تھا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر ہی کے دور میں ایک شخص نے بیوی کو حرام کہہ دیا اور پھر تنازع حضرت عمر کے پاس پہنچ گیا۔ پھر وہ دونوں میاں بیوی رجوع پر رضامند ہوگئے تو یہ فیصلہ دے دیا کہ رجوع کرلو۔ پھر حضرت علی کے دور میں حرام کے لفظ پر دربارِ خلافت میں تنازعہ آیا۔ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو علی نے فیصلہ دے دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن نے بار بار واضح کیا ہے کہ باہمی اصلاح معروف طریقے سے جب دونوں راضی ہوں تو اللہ نے صلح کی اجازت دی اور حکم دیا ہے کہ صلح میں رکاوٹ مت بنو۔

عورت فحاشی کی مرتکب ہو تو عدت ہی میں اس کو گھر سے نکال سکتے ہیں اور وہ خود بھی نکل سکتی ہے۔ لیکن اگر مالی حقوق کے مسائل ہوں یا پھر غیرت کے نام پر سزا کی بات ہو تو دونوں کے درمیان لعان کا حکم ہے۔ پھر اگر شوہر سچا ہواور عورت جھوٹی ہو تب بھی عورت کو سزا نہیں دیںگے۔ اور قرآن نے واضح کیا ہے کہ بدکارمرد اور عورت کا آپس میں یا مشرک سے نکاح کرایا جائے گا۔ شیتل بی بی کا مسئلہ علماء کے غلط مسائل نے ہی بگاڑ دیا ہے جس میں کہانی کے جس رنگ کو دیکھا جائے یہی نکلے گا۔

قرآن میں بالکل کوئی تضادات نہیں ۔ آیت228البقرہ کے بعد آیت229میں مزید وضاحت ہے کہ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی جائے۔ رجوع کیلئے معروف کی شرط ہے۔ صلح ، اصلاح اور معروف ایک ہی چیز ہیں اور قرآن نے بار بار اس کی وضاحت کی۔ رسول اللہۖ نے بھی وضاحت فرمائی کہ پاکی کے دن پھر حیض، پاکی کے دن پھر حیض پھر پاکی کے دن ۔ یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے قرآن میں طلاق کا امر کیا ہے۔ بخاری نے باربار یہ حدیث نقل کی ہے۔

بخاری نے اکٹھی تین اور حلالہ کیلئے غلط حدیث نقل کی ہے اور قرآن کی آیت کا بھی بالکل غلط حوالہ دیا ہے۔ کہ رفاعہ القرظی نے بیوی کو تین طلاق دی اور پھر اس نے عبدالرحمن بن زبیرالقرظی سے نکاح کیا اور پھر نبیۖ کو دوپٹے کا پلو دکھایا کہ اسکے پاس ایسی چیز ہے ۔ نبیۖ نے فرمایا : کیا رفاعہ کے پاس جاناچاہتی ہو ؟،نہیں جاسکتی ،یہاں تک وہ تیرا شہد چکھ لے اور تو اس کا شہد چکھ لے(صحیح بخاری) حالانکہ صحیح بخاری نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ رفاعہ نے الگ الگ مراحل میں طلاق دی تھی مگر اس فراڈ کی وجہ سے امت مسلمہ کی عزتیں لُٹ رہی ہیں۔ اور اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نبیۖ نے قرآن کے منافی اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کا حکم جاری کیا تھا اور نامرد سے حلالہ پر مجبور کرنا بھی بہتان ہے۔

جہاں تک عویمر عجلانی نے لعان کے بعد تین طلاقیں دیں تو اس سے قرآن کی آیت کو منسوخ کرنا اور حلالہ پر مجبور کرنا انتہائی درجہ کی جہالت تھی لیکن افسوس کہ اس ماحول میں بھی اسلام اجنبی بن چکا تھا۔ حنفی فقہاء کے نزدیک اکٹھی تین طلاق بدعت، ناجائز اور حرام تھیں۔ شافعی فقہاء کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، جائز اور مباح تھیں۔ بخاری نے حنفی مسلک کی مخالفت میں شافعی مسلک کو سپورٹ کرنے کیلئے ایسا کیا تھا۔

امام شافعی نے حضرت عمر کی سپورٹ کیلئے اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دیا۔ جس کی دلیل عویمر عجلانیکے لعان کا واقعہ تھا اور حنفی فقہاء و مالکی فقہاء کے نزدیک محمودبن لبید کی حدیث دلیل تھی کہ جب ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو رسول اللہۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اورفرمایا کہ میری موجودگی تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟ ۔

محمود بن لبید کی روایت صحیح بخاری و صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں واقعہ کی تفصیل اورنبیۖ کے غضبناک ہونے کی وضاحت ہے اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر کی اکٹھی تین طلاق کی وضاحت ہے۔ روایات میں یہ بھی واضح ہے کہ طلاق دینے والا عبداللہ اور خبردینے اور قتل کی پیشکش کرنے والے حضرت عمر تھے۔خلافت راشدہ میں یہ بحث نہیں تھی کہ طلاق سنت وبدعت کیا ہے؟۔حضرت عمر اور حضرت علی نے قرآن کے مطابق عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو رجوع کا فیصلہ نہیں دیا ۔ چاہے اکٹھی تین طلاق کے الفاظ ہوں یا ایک بار حرام کا لفظ ہو۔ اور ظاہر ہے کہ عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تو نہیں روک سکتے تھے۔ ایک طرف رسول اللہۖ کی زندگی میں سخت ترین طلاق بیوی کو ماں قرار دینے کا معاملہ سورہ مجادلہ میں واضح تھا اور دوسری طرف جب نبیۖ نے طلاق نہیں دی تھی بلکہ ناراضگی وایلاء میں بھی ایک ماہ بعد رجوع کیا تو اللہ نے واضح کیا کہ پہلے تمام عورتوں کو علیحدگی کا اختیار دو۔ اگرساتھ رہنا چاہتی ہوں تب رجوع کرسکتے ہیں۔ قرآن وسنت کی عظیم الشان رہنمائی اور وضاحتوں کے باوجود بھی اختلافات اور قرآن وسنت سے بغاوت کرنا اانتہائی درجہ کی گراوٹ ہے۔ قرآن نے بار بار اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ اصلاح، معروف طریقے اور باہمی رضامندی کی بنیادپر عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد رجوع ہوسکتا ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ مت ڈالو۔ اسی میں تمہارا باطنی تزکیہ اور ظاہری پاکیزگی ہے۔ لیکن ایک طرف صلح کے بغیر شوہر کو رجوع کی اجازت دیکر لاتعداد پیچیدہ مسائل کھڑے کردئیے اور دوسری طرف باہمی رضامندی میں حلالہ پر مجبور کرکے بیڑہ غرق کیا ہے اور آیت230البقرہ کا تعلق طلاق کی اس صورت سے ہے کہ جب اس سے پہلے آیت229البقرہ کے مطابق دونوں اور فیصلہ کرنے والے ایسی علیحدگی پر متفق ہوں کہ آئندہ رابطے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں رہے اور یہ صرف اس مشکل مسئلے کا حل تھا کہ عورت کو طلاق کے بعد بھی شوہر اپنی مرضی سے کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ جو لیڈی ڈیانا کیساتھ ہوا اور جس طرح ریحام خان کو طلاق کے بعد پاکستان واپس آنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ آیات231،232البقرہ میں اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میںرجوع کا مؤقف واضح کیا۔

حنفی اور شافعی میں یہ اختلاف تھا کہ حرمت مصاہرت نکاح سے ثابت ہوتی یا زنا سے بھی۔ امام شافعی کے نزدیک حرمت مصاہرت ایک مقدس رشتہ ہے جو زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔ حنفی فقہاء نے زنا اور نکاح کو ایک قرار دیا۔ پھر اس میں مزید وقت کیساتھ ساتھ ایکسٹینشن جاری رکھی۔ یہاں تک بھی معاملہ پہنچا دیا کہ شہوت کیساتھ چھونے سے بھی حرمت مصاہرت ہوجاتی ہے۔ لوگوں کو ذہنی مریض بنادیا کہ ساس یا بہو سے ہاتھ ملانے پر شہوت تو نہیں آئی؟۔ آئی تھی تو ساس اور بہو بیوی بن گئی ، اپنی بیوی حرام ہوگئی۔ مولوی پکڑا گیا جو بہو کے سینے کو ہاتھوں سے سہلا رہاتھا تو اس نے اپنے لئے حیلہ تلاش کیا اور عام لوگوں کو فتویٰ دیا کہ لامحالہ شہوت آگئی اسلئے والد پر اس کی بیوی اور بیٹے پر اس کی بیوی حرام ہوگئی۔ پھر معاملے کو مزید ایکسٹینشن دیدی اور مسئلہ بنایا کہ اگر ساس یا بہو کی شرمگاہ کو باہر سے دیکھا تو پھر حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اسلئے کہ عذر ہے اور شہوت آجاتی ہے اسلئے کہ شیح الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح کوئی ننگا پکڑا گیا تھا جس میں پرائیویٹ پاٹ منتشر تھے۔ لیکن شرمگاہ کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھاتو حرمت مصاہرت ہوگی۔ پھر مزید کچھ مولوی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تو ایک نیا مسئلہ نکالا کہ اگر شہوت کیساتھ ننگا ساس یا بہو، یا بیٹی یا ماں کو دبوچ لیا اور انزال ہوگیا تو پھر حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اوراگر خارج نہیں ہوا تو حرمت مصاہرت ہوگی۔ سوشل میڈیا پر بے راہ روی اور جامعہ بنوری ٹاؤن کی ویب پر مسائل کا حل اس بدمعاشی کا نتیجہ ہے۔

fatwa-against-mufti-mahmood-and-fazlur-rehman-will-maulana-raise-banner-of-truth

چلتے پھرتے ہوئے مہتاب دکھائیں گے تمہیں
ہم سے ملنا کبھی پنجاب دکھائیں گے تمہیں
چاند ہر چھت پہ ہے سورج ہر آنگن میں
نیند سے جاگو تو کچھ خواب دکھائیں گے تمہیں
پوچھتے کیا ہو کہ رومال کے پیچھے کیا ہے؟
پھر کسی روز یہ سیلاب دکھائیں گے تمہیں
جھک کے پیار سے سر رکھ دیا جو کاندھے پر
درگاہ بھی مہرباں ہوگئی اپنے راندے پر
حلالہ لعنت ہے دورِ جاہلیت کی بڑی یاد گار
لعنت بھیجو اب کرائے کے سانڈھے پر
حرمت مصاہرت کے نام پر ڈھکوسلہ ہے
قربان جاؤ جاکے اب اپنے چاندے پر
وقت کے جو ظروف ٹوٹ گئے ان کی خیر
رحم کرو زندگی کے لمحات باقی ماندے پر
دین کے لاوزال اور بہترین احکام ہیں
اقتدار دیاں گل بات آندے جاندے پر
روس و امریکہ میں ہم سینڈوچ بن گئے
خدا را اب بوجھ مت لادو اپنے پانڈے پر
مشرقی روایت اور اسلام کا ہے حسین امتزاج
چھڈ دے ہونڑ نہ لکھ اپنی پوندی پاندے پر

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو بغیر حق کے قتل کرتے ہیں اور قتل کرتے ہیں لوگوں میں سے ان کو جو انصاف کا امر کرتے ہیں تو ان کو بشارت دو المناک عذاب کی۔ آل عمران21

امریکہ کا روس کے خلاف جہاد سے لیکر دہشت گردی کے خلاف ڈبل گیم کھل چکاہے ۔ سلیم صافی نے اِن کیمرہ اجلاس کا بتایا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ”افغان طالبان اور TTPایک سکہ کے دو رُخ ہیں”۔ ایک طرف اشرف غنی کی فورسز کی تنخواہیں بند کیں ، دوسری طرف طالبان کیلئے ڈالروں کی مدد جاری رکھی ، تیسری طرف افغانستان کے فنڈز منجمد کردئیے۔ جرمنی نے لڑکیوں کی تعلیم اورافغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی۔ پاکستان سمیت 116ممالک نے حمایت صرف امریکہ اسرائیل نے مخالفت کی۔ چین، روس، بھارت اور ایران غیر جانبدار تھے۔ امریکہ معدنیات کیلئے خطے کو عدمِ استحکام کا شکار بنانا چاہتاہے۔ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامزدکیا تو پھر امریکہ پاکستان کیخلاف کیوں ؟۔ پاکستان ،بھارت، چین، ایران اور افغانستان کے درمیان صلح اور تجارت کا فروغ ہی امریکہ کی موت ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ مزاحمت کرنے والی تمام قوتوں کی آبیاری نہیں ہو اور آپس میں لڑ مر کر کمزور ہوجائیں اور اس کے نزدیک افغان طالبان ، پاک فوج، مزاحمتی تحریکیں اور باشعور سیاستدان سب کا خاتمہ ضروری ہے۔ وہ بھارت اور چین کا بھی دشمن ہے اور افغانستان، ایران اور پاکستان کا بھی دشمن ہے۔ اگر اس خطے کے لوگوں نے صرف صلح اور آپس میں آزاد تجارت شروع کردی تو ہم ایران کے تیل و گیس کی بھارت وچین کو سپلائی اور بھارت سے گائے کے گوشت ، دال اور چاول کی افغانستان وایران کو سپلائی سے اپنی عوام اور ریاست کی غربت ختم کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور طالبان بھی اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ وزیرستانی کہتے ہیں کہ ”گدھے کی محبت لات مارناہے”۔ حدیث ہے کہ ”یہ امت بھی سابقہ اقوام کے نقش قدم پر چلے گی”۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور ہم صدیوں پیچھے اقوام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی نشاة ثانیہ ہورہی ہے اور یہ حقیقت ہے لیکن نشاة اول کیا تھی؟۔ یہی سمجھنا ہوگااور اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء نے ہماری تائید کی تھی جن میں ایک استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ،صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے لیٹر پیڈ پر تائیدمیں لکھاکہ ”امام مالک نے فرمایا کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس چیز سے اس کی اصلاح پہلے ہوئی تھی۔ جو لوگ اسلام کی نشاة ثانیہ چاہتے ہیں تو ان کو پہلے تعلیم وتربیت اور پھر اس کے نفاذ کیلئے حکومتی سطح پر تحریک چلانے کی طرف توجہ کرنا چاہیے”۔ استاذ محترم کی تحریر کا لب لباب اور خلاصہ میں نے لکھ دیا ہے ۔

رسول اللہ ۖ کے بعد حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان نے دنیا کو شکست دی اسلئے کہ اسلام کا معاشی ، معاشرتی، مذہبی ، علاقائی اور بین الاقوامی نظام اس قابل تھا کہ تمام لوگوں نے اسکو قبول کیا۔ سب سے بنیادی چیز شخصی، مذہبی اور سماجی آزادی تھی۔ لونڈیوں کا لباس موجودہ مغربی دنیا کی خواتین سے بھی زیادہ ننگ تڑنگ والا اور انتہائی بیہودہ تھا۔ قرآن و حدیث اور اسلام وفقہ کا کہیں یہ حکم نہیں تھا کہ جبری پردہ دار لباس پہناؤ۔

مؤمنین اور مؤمنات کو غضِ بصر کا حکم ہے۔جس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح بجلی تیز اور مدھم ہوتی ہے۔ تیز روشنی دوسرے پر سخت پڑتی ہے اور مدھم کی نرم پڑتی ہے۔ راتوں کو گاڑیاں چلتی ہیں تو سامنے والی گاڑی کی وجہ سے لائٹ ڈِ م کی جاتی ہے تو اس ٹریفک کے اصول کی طرح چودہ سو سال پہلے قرآن نے عورتوں اور مردوں کو یہ حکم دیاتھا۔

معاذ خان لکھا پڑھا نوجوان ہے جو Voices&Visions یوٹیوب چینل پر فاطمہ شہزاد سے انٹرویو لے رہا ہے اور موضوع بحث لبرل ازم اور سوشلزم کی مزاحمتی سیاست ہے۔ معاذ خان اپنی فطرت کی بنیاد پر اپنی آنکھوں سے جس شرافت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے قرآن کی تعلیمات جھلک رہی ہیں۔حنفی مسلک میں اگر عورت پر شہوت کی نگاہ پڑگئی تو نیت نہ ہونے کے باوجود بھی طلاق سے رجوع ہوجائیگااور شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع سے بھی نہیں ہوگا۔ فقہاء نے دین اسلام کو اسلئے اجنبیت اور منکرات کی طرف دھکیل دیا ہے کہ قرآن میں اللہ نے طلاق سے رجوع کیلئے صلح اور معروف کی شرط کو واضح کیا ہے اور انہوں نے قرآن کے واضح احکام کو پس پشت ڈال کر معروف کو منکر بنادیا ۔

مولانا فضل الرحمن کے کندھے پر مریم نواز نے بہت پیار سے اپنا سر رکھ دیا اور بینظیر بھٹو بھی مولانا سے مانوس تھیں۔ اگر مولانا نے کسی کو ہراساں کیا ہوتا تو فاصلہ بڑھ جاتا ۔ اقبال نے”ایک آرزو” میں کہاکہ

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو

نظروں میں شہوت اور عدم شہوت کیا ہے؟۔ انسان کو اس کا فطری مطلب معلوم ہے۔ پاکستان کی سیاحت سے غیرملکی اسلئے رک گئے کہ ان کی خواتین کو احساس ہوتا ہے کہ شہوت کی نظروں تاڑا جاتا ہے۔ یہی شہوت کااحساس جب خانہ کعبہ میں عورتوں اور مردوں میں نہیں ہوتا تو حجرِ اسود چومتے وقت اچھے بھلے مسلمان بھی ایک دوسرے سے اجنبی مرد اور عورتوں کے باوجود ہڈی پسلی اتنی ایک کرلیتی ہیں کہ جتنا میاں بیوی کے درمیان بھی ایکدوسرے سے الحاق ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔

دنیا میںایک کمیونزم و سوشلزم ہے ،دوسرا کیپٹل ازم وسیکولر ازم ہے اور تیسرا اسلام ہے۔ اسلام دین ہے اور قرآن کا اعلان ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ رسول اللہۖ کا دوراور حضرت ابوبکر و عمر کا دور اور حضرت عثمان کا دور خیرالقرون ہیں اور حضرت علی کے دور میں فتنے شروع ہوگئے اسلئے اس پر خیرالقرون کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ رسول اللہۖ اور حضرت ابوبکر کا دور ایک تھا اسلئے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ حضرت عمر کے دور میں مالیاتی طبقاتی تقسیم کی بنیاد رکھ دی گئی اسلئے یہ دوسرا دور تھا ، حضرت عثمان کے دور میں خاندانی نظام کی بنیاد پڑی اسلئے خیرالقرون کا تیسرا دور تھا اور حضرت علی کے دور میں فتنوں کا آغاز ہوگیا اسلئے وہ شامل نہیں لیکن شاہ ولی اللہ نے حضرت علی کے دشمنوں کو مایوس کیا اسلئے کہ ان کے دور کو قیامت تک فتنوں میں رہنمائی کیلئے بہترین بنیاد قرار دیا ہے۔

شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ قرآن میں خلافت کا وعدہ جمع کیساتھ ہے۔ عربی میں کم ازکم تین پر جمع کا اطلاق ہوتا ہے اور مسلمانوں کیساتھ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور تین خلفاء کو خلافت کی دولت عظیمہ سے نواز دیا۔

شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے لکھا کہ خیرالقرون کا صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین کے تین ادوار پہلی صدی ہجری، پھر دوسری صدی ہجری اور پھر تیسری صدی ہجری پر اطلاق ہوتا ہے۔ اور چوتھی صدی ہجری اس میں شامل نہیں اور تقلید کو چوتھی صدی ہجری میں ضروری قرار دیا گیا ہے اسلئے تین سو سال تک جو چیز بھی رائج ہوئی ہے وہ دین ہے لیکن اسکے بعد ہر چیز بدعت ہے۔ بدعت کی حقیقت ۔ جس کی تائید میں علامہ یوسف بنوری نے تقریظ بھی لکھ دی ہے۔

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے تقلید کی شرعی حیثیت میں ائمہ مجتہدین کے بعد وہ حدیث نقل کی ہے جس میں علماء کے اٹھ جانے کی خبر ہے اور لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیںگے ۔ ان سے فتویٰ پوچھیںگے اور وہ جانے بوجھے بغیر جواب دیںگے اور خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے۔ متفق علیہ عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں۔

علامہ اقبال کی طرف شعر منسوب ہے جو شاید کسی اور کا ہے کہ
توحید ہستی ہم ہیں محافظ خدا ہمارا
ہم کافروں کے کافر کافر خدا ہمارا

جس میں ترمیم کی ضرورت ہے کہ
توحید ہستی ہم ہیں محافظ خدا ہمارا
ہم جاہلوں کے جاہل جاہل رہنما ہمارا

غسل ، وضو اور نماز کے فرائض اور ان میں اختلافات کا پتا قرآن و سنت ، خلفاء راشدین، صحابہ کرام، تابعین ، مدینہ کے سات فقہاء قاسم بن محمد بن ابی بکر ، عروہ بن عبداللہ بن زبیر ……وغیرہ جنکے بارے میں مولانا انورشاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” اگر انکے نام لکھ کر پانی میں ڈالے جائیں اور اس کا چھڑکاؤ کیا جائے تو چھت لکڑی کو دیمک نہ لگے گی”۔ سلیمان کے دور میں یہ نعمت میسر نہیں تھی ورنہ اپنی عصا پر چھڑکتے۔

شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے عذاب قبر کے انکار کی بنیاد رکھ دی۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے پہلی صدی ہجری کو رسول اللہۖ کا دور قرار دیا، دوسری صدی ہجری کو صحابہ کرام اور تیسری صدی ہجری کو تابعین کا دور قرار دیا۔ جس میں فقہ و حدیث کی بنیادرکھ دی گئی اور چوتھی صدی ہجری میں تقلید کو بدعت قرار دیا تھا۔ ان کی کتاب کا اردو ترجمہ ”بدعت کی حقیقت” پرحضرت علامہ محمدیوسف بنوری نے تقریظ بھی لکھی ہے جس میں ان کی ایک دوسری کتاب ”منصب امامت” کی تائید بھی کی ہے۔ سیداحمد بریلوی کے خلیفہ اجل میاں نور محمد جھنجھالوی سے حاجی امداداللہ مہاجر مکی بیعت ہوئے۔ اور اکابر دیوبندمولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھانوی ان کے مرید اور خلفاء عظام تھے۔

ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان نے تبلیغی جماعت میں بہت وقت لگایا تھا اور سلسلہ قادریہ کے شیخ بھی تھے۔ مولانا فقیر محمد خلیفہ مولانا اشرف علی تھانوی ان کی مجالس میں بیٹھتے تھے اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی طرح سمجھتے تھے۔ حالانکہ کہاں حضرت حاجی محمد عثمان اور کہاں حاجی امداد اللہ؟ بہت فرق تھا۔ حاجی امداداللہ مہاجرمکی پر حکایات رومی کی وجہ سے کیفیت طاری ہوجاتی تھی اور حاجی محمد عثمان نے قرآن وسنت کو اہمیت دی تھی۔ البتہ دونوں عالم دین نہیں تھے اور امام غزالی جیسے علماء بھی صوفی بن گئے تو اصول فقہ اور فقہ کے علوم کو بدترین گمراہی سے تعبیر کیا تھا اور دوسروں کی ہدایت کیلئے بھی ”المنقذ من ضلال ” کتاب لکھ دی ۔جس کا ترجمہ ”گمراہی کے اندھیرے سے ہدایت کی روشنی ” کے نام سے کیا گیاہے۔

تبلیغی جماعت اور علماء کا اختلاف

تبلیغی جماعت والے اپنے کام کو فرض اسلئے سمجھتے ہیں کہ امت اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی غسل، وضو، نماز کے فرائض سے آگاہ نہیں اور جب غسل کے فرائض کا پتہ نہیں ہوگا تو نماز اور قرآن کوہاتھ سے چھونے کا معاملہ بھی خطرناک ہوگا اسلئے کہ جنابت سے طہارت ضروری ہے۔ اس طرح بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی اور قرآن کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا تو پھر وضو کے فرائض بھی ضروری ہیں اور نماز کے فرائض بھی ضروری ہیں۔

علماء کرام کہتے ہیں کہ غسل ، وضو اور نماز کے فرائض ضروری ہیں مگر لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ علماء سے فرائض ، واجبات اور سنن اور مستحبات سیکھ لیں۔ لوگوں کے پیچھے گھومنے میں علماء کرام کی بے توقیری ہے۔

اب پہلا سوال یہ ہے کہ غسل، وضو اور نماز کے فرائض نبیۖ نے صحابہ کرام یا خلفاء راشدین و صحابہ نے تابعین کو سکھائے تھے؟۔ مدینہ کے مشہور سات فقہاء کو ان فرائض کا پتہ تھا؟ ۔ تو جواب نفی میں ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رسول اللہۖ، صحابہ کراماورتابعیننے یہ فرائض نہیں سیکھے اور ان کی نماز ہوجاتی تھی تو پھر یہ کیوں ضروری ہیں؟۔

جب غسل، وضو اور نماز کے فرائض اور واجبات کو حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک میں الگ الگ تقسیم کیا جائے اور سب کے فرائض ایک دوسرے سے مختلف ہوں اور اس وجہ سے تقلید بھی فرض بن گئی ہو تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔ جس کا جواب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی نہیں ہوگی اور اسلئے حرم کعبہ میں چار اماموں کے چار جائے نماز تھے اور مسجد نبوی ۖ میں تو محراب تک بھی الگ الگ بنائے گئے تھے۔

محراب نبویۖ سے الگ محراب حنفی بھی بنایا گیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ نے چار مسالک کو چار الگ الگ فرقے قرار دیا لیکن ان کو ختم نہیں کیا بلکہ پانچواں مذہب بھی ایجاد کیا جیسے اہل حدیث کا اپنا مسلک ہے۔

مسلک اور نصاب فتویٰ لگانے اور حکومتی جبر سے ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کیلئے ایسی دلیل کی ضرورت ہے جس کی حقانیت سے باطل اپنی موت آپ مرجائے۔ اصول فقہ میں پہلا اصول قرآن، دوسرا حدیث، تیسرا اجماع اور چوتھا قیاس ہے۔ جس کا مطلب ایسا اجتہاد ہے جس کو قرآن، حدیث اور اجماع سے استنباط کرکے اخذ کرلیا جائے۔

مجتہدین کے سات طبقات ہیں۔

1: پہلا طبقہ مختلف مسالک کے ائمہ حضرات کا ہے۔ جن کو مجتہد مطلق کہا جاتا ہے۔
2: دوسرا طبقہ ان کے بہت مشہور شاگردوں کا ہے جن کو مجتہد فی المذہب کا درجہ حاصل ہے۔
3:تیسرا طبقہ مجتہد فی المسائل کا ہے جو ائمہ اور ان کے شاگردوں کی تقلید کے پابند ہیں لیکن کچھ مسائل میں اجتہاد کرسکتے ہیں۔
4: چوتھا طبقہ اصحاب تخریج کا ہے۔ جو مجتہدین کے اجہتادات سے مسائل نکال سکتے ہیں۔
5: پانچواں طبقہ اصحاب ترجیح کا ہے جو اختلافی مسائل میں ایک قول کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ یہ صحیح اور یہ غلط ہے۔
6: چھٹا طبقہ اصحاب تمیز کاہے جو کسی کے اولیٰ یعنی بہتر اور غیراولیٰ نامناسب کی صلاحیت ہی رکھتے ہیں۔
7: ساتواں طبقہ مقلدین محض کا ہے جن کا کام دوسروں کی صرف تقلید کرنا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔

علماء دیوبند وعلماء بریلوی مقلد محض

شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”بدعت کی حقیقت” سے متاثر ہوکر کچھ علماء نے تقلید محض سے انحراف کیا ۔ علامہ عبدالحی لکھنوی نے روایت کی بنیاد پر اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا جس کو مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں نقل کیا اور پھر حنفی فتویٰ بھی نقل کیا ہے کہ اکٹھی 3طلاق واقع ہوجاتی ہیں۔ تاکہ دونوں طرح کی راہیں کھل جائیں۔ علامہ ابن تیمیہ نے بھی ایک طلاق قرار دی اور ان سے گنگوہی متأثربھی تھے۔

پھر جب علماء دیوبند نے قرآن وسنت سے اپنا لگاؤ بڑھایا اور تقلید کو بدعت قرار دینے کی طرف رحجان بن گیا تو مولانا احمد رضا خان بریلوی نے حرمین شریفین کے علماء سے ان کے خلاف مختلف عبارات نقل کرکے فتویٰ لیا جس کو ” حسام الحرمین ” کا نام دے دیا۔ پھر علماء دیوبند نے اپنی کتاب ” المہند علی المفند” میں اس کی تردید کردی اور خود کو مسلکاً حنفی اور مشرباً چشتی بتایا اور علامہ ابن تیمیہ کی گمراہی کے فتوے جاری کئے۔ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی سے مکمل طور پر اپنی برأت کا اعلان کردیا۔

پھر اس کے کچھ عرصہ بعد حجاز میں وہابیوں کی حکومت آگئی اور علامہ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے عقائد پر دوبار ہ ایمان لایا تھا۔ ایک قندھاری افغانی عالم مولانا احمد رضا خان بریلوی نے اکابرعلماء دیوبند کی شکست میں نہ صرف زبردست کردار ادا کیا بلکہ تذبذب کی ایسی کیفیت سے دوچار ہوگئے جیسے آج پختونخواہ اور پنجاب کے ہر نکڑ پر کتوں کے پلوں کی طرح ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگاتے نظر آتے ہیں۔

مقلد محض مولانا احمد رضا خان بریلوی نے فتاوی شامی میں بہت ہی بڑی گستاخانہ عبارت جس میں ”علاج کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائے گا”کی تأولیل لکھ دی ہے کہ ”چونکہ وحی کے بغیر علاج کا یقین نہیں ہوسکتا ہے اسلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب لکھنا جائز نہیں قرار دیا ہے”۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بچپن میں مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لمبی قمیص پہنی تھی اور شلوار نہیں پہنی تھی تو سامنے سے عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا جنہوں نے اس کو بچہ سمجھ کر اپنا چہرہ نہیں چھپایا۔ مولانا احمد رضا خان نے اپنی قمیص کے دامن سے اپنا چہرہ چھپایا تو نیچے اواز دکھنے لگے جس پر عورتیں مسکرائیں۔

مفتی تقی عثمانی نے علامہ شامی سے نقل کرکے لکھ دیاکہ ” میں نے امام ابویوسف کی کتابیں چھان ماریں مگر کہیں بھی علاج کیلئے یقین کی شرط نظر نہیں آئی”۔ یہ مولوی حضرات کچھ بھی لکھتے ہوئے دوسروں سے استفادہ بھی کرتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے تو ان کی تردید کرتے ہیں اسلئے مولانا احمد رضا خان اور مفتی تقی عثمانی کا معاملہ مختلف لکھا گیا ہے۔

شروع میں علماء دیوبند اور علماء بریلوی نے لاؤڈاسپیکرپر نماز،آذان اور اقامت کو ناجائز قرار دے دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقلد محض کا یہ مقام نہیں تھا تو ایسی بکواس کی آخر کیا ضرورت تھی جس کی وجہ سے مدتوں تبلیغی جماعت اور پھر مدتوں بعد دعوت اسلامی بھٹک رہی تھی؟ ۔

نماز کے 14فرائض کا شیشہ ٹوٹا؟

ہمیں کانیگرم جنوبی وزیرستان کے سکول میں بھی نماز کے فرائض یاد کرائے گئے تھے ۔ آخری فرض 14: اپنے ارادہ سے نماز سے نکلنا۔

جب بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو مفتی عبدالسمیع سے بحث ہوئی۔ قرآن لکھائی کی شکل میں اللہ کا کلام ہے یا نہیں؟۔ جس پر وہ اپنی بحث ہار گئے اور طلبہ نے مجھے علامہ تفتازائی کے لقب سے مشہور کردیا۔

پھر جب میں نے مختلف مواقع پر مختلف سوالات اٹھائے تو ایک یہ بھی تھا کہ اپنے ارادے  کیساتھ نماز سے نکلنا فرض ہے بھلے ریح خارج کی جائے اور سلام سے نکلنا واجب ہے۔ تو واجب کیلئے سجدہ سہو ہے اور وضو کے بغیرسجدہ سہو نہیں ہوسکتا۔ پھر ایسے فرض کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔

جب بڑے اساتذہ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن تک جواب دینے سے قاصر ہوتے تھے تو طلبہ نے کہا کہ ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔ استاذ قاری مفتاح اللہ صاحب مدظلہ العالی نے فرمایا کہ ” عتیق کو ایک عام طالب علم مت سمجھو ۔ جس طرح امام ابوحنیفہ اور امام مالک بڑے درجہ کے امام تھے اس طرح یہ بھی ایک امام ہیں”۔اور مجھ سے فرمایا کہ ”آپ محنت جاری رکھو اورنصاب کی غلطیوں کو خود ٹھیک کرلوگے”۔

قاری مفتاح اللہ صاحب قلندر ہیں۔ قلندر ہر چہ گوئید دیدہ گوئید۔

احناف نے یہ فرض ایک روایت سے لیا ہے کہ ” جس نے نماز کے آخری قاعدہ میں ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی”۔

میں نے اس پر متعدد مرتبہ لکھا کہ ”ریح کا خارج ہونا یا ریخ کا خارج کرنا ” زبان اور لہجے میں فرق ہے لیکن اس سے حقیقی فعل فاعل مراد نہیں ہیں۔ جیسے فلاں شخص کا انتقال ہوگیا یا انتقال کرگیا زبان ، لہجے اور الفاظ کا فرق ہے۔ مرنے والا جب مرتا ہے تو لفظ کی حد تک مرگیا یا دنیا چھوڑ گیا لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہیں۔ میری اس کاوش کا نتیجہ یہ نکل گیا ہے کہ رائیونڈ والوں نے اپنی ویپ سائٹ پر نماز کا 14فرض نہیں لکھا۔

جب علماء نے کھلے الفاظ میں لاؤڈ اسپیکر پر نماز کا کہا کہ نہیں ہوتی تو عمل کرنے والوں نے عمل شروع کردیا لیکن پھر علماء نے کھلے عام اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے بات اولیٰ اور غیراولیٰ پر ڈال دی۔ لوگوں کو یہ تأثر دیا کہ علماء جو بات کہیں وہ مانو اور جوعمل کریں وہ نہیں کریں۔

تزکیہ بھی ایک اہم شعبہ ہے۔ علماء ومفتیان اپنی تزکیہ کیلئے کسی اللہ والے سے بیعت کرلیتے تھے۔ غسل اور وضو کے فرائض اوراختلافات بھی بالکل لایعنی اور فضو ل ہیں۔ جن پر کئی مرتبہ وضاحت کی ہے لیکن جب قرآن کی تعریف میں ڈنڈی ماری گئی ہے تو کس چیز پر اتفاق ہوسکتا ہے؟۔علماء کرام اپنے نصاب کی تبدیلی میں وقت ضائع نہیں کریں۔

تسخیرکائنات اور قرآن وحدیث

قرآن میں تسخیر کائنات اور نفع بخش چیزوں کی بقاء کو واضح کیا گیا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا :”علم حاصل کرو، خواہ تمہیں چین جانا پڑے”۔

ایک طرف قرآن و سنت کے احکام کی غلط تعبیرات، تاؤیلات اور تسخیرات سے نصاب کا ایسا ملیدہ بنادیا ہے جس کو علماء ومفتیان خود بھی کارآمد نہیں سمجھتے ہیں لیکن وقت ضائع کرنے اور پیسہ بٹورنے کا ذریعہ ہے۔ جس دن مدارس کو پیسہ بند ہوجائے گا تو کوئی بھی فضولیات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرے گا۔ شیخ الہند اور مولانا انور شاہ کشمیری نے آخری وقت میں اس سراب سے علماء کی جان چھڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

اگر قرآن و سنت کے معاشرتی اور معاشی نظام کو امت مسلمہ اور دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو اس کیلئے کسی مزاحمتی تحریک کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ ملک کا جوا شرافیہ حرمت مصاہرت اور حلالہ کی مصیبت بڑی پیچیدگی سے برداشت کرتا ہے اور عوام اس بدبودار تحریف سے پہلو تہی برت رہی ہے لیکن اگر ان کو قرآن وسنت کی حقیقی تعلیم سے آگاہ کیا گیا تو مسلمان اور کافر سب کے سب انسان اسلام کے ذریعے سے ایک اچھے نظام کی طرف مسخر ہوجائیںگے۔ قرآن وسنت نے جس جہالت سے عرب اور پوری دنیا کو نکالا ہے علماء اپنی غلط تشریحات کے ذریعے امت مسلمہ کو دنیا بھر میں پھر گمراہ کررہے ہیں۔ سراج الحق تقریر کرتا تھا کہ سود کا گناہ اپنی ماں سے خانہ کعبہ میں36مرتبہ زنا کے برابر ہے مگر جیسے کسی گدھے کو دیگ میں پکاکر اسکا نام اسلامی ٹٹو رکھا جائے اور گدھے کی لید اور پیشاب بھی اس میں شامل کیا جائے ویسے اسلامی بینک کا فراڈ ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

برہمن نول کشور اور قرآن کی عظیم خدمت

قرآن کے نسخے برصغیربلکہ چین سے ترکی تک مسلمانوں کے گھر گھر میں پہنچانے کا کام کسی عالم دین نے نہیں کیا بلکہ ایک برہمن نے کیا تھا ،جسے ہندوستان میں منشی نول کشور کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اٹھارہویں صدی میں پرنٹنگ انقلاب کے دوران جب نول کشور نے لکھنو میں ہینڈ پریس کا آغاز کیا تو سب سے پہلے مختلف مذاہب کی مقدس کتابوں کی اشاعت کی تھی جن میں قرآن پاک کے نسخے بھی شامل تھے ۔ جس کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بڑے حصے میں قرآنی نسخوں کو گھر گھر پہنچایا جاسکا جو اس سے قبل نادر تھے یا پھر شہر کے امرا یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں تھے مگر نول کشور کے ایک روپیہ آٹھ آنے کے قرآنی نسخوں نے ناظرہ کو آسان بنایا اور ساتھ ہی ترجمہ مہیا کرایا جو مسلمانوں کیلئے بڑا تحفہ تھا۔

منشی نول کشور نے پرنٹنگ کے کاروبار کیساتھ مذہبی کتابوں کااحترام کیا،ہر کسی کے مذہبی جذبات کا خیال اورکام میں معیار کو اہمیت دیتے ۔ قرآن کے نسخوں کی پرنٹنگ سے قبل اعلیٰ ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے، ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازمت دی،قرآن کی چھپائی میں شامل اسٹاف مسلمان ہوا کرتاتھا۔ کتابت والے کیلی گرافرس یعنی خطاط و خوش نویس کو سخت ہدایت تھی کہ بلا وضو کتابت نہیں کریں گے۔ ملازمین کو کام سے قبل وضو کی سخت ہدایت تھی، چھپائی سے قبل پریس صاف کیا جاتا اور فرش پر صاف چادریں بچھائی جاتیں، تاکہ کوئی کاغذ زمین پر نہ گرے، جہاں قرآن کی بائنڈنگ ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو جوتوں کیساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔اسلامی تصنیفات کے سلسلہ میں پاکیزگی و طہارت کا پورا خیا ل رکھا۔ شائع ہونے والی ادبی کتابوں کی فروخت کافی تھی ۔ ایک زمانے میں پاکستان سے جو وفد اجمیر شریف کے عرس پر آتاتو مطبع نول کشور کے کچھ حضرات ان کتابوں کے نمونے لے جاتے اور ان کو دکھاتے تھے اور پاکستان کے کتب فروش ان کتابوں کا آرڈر دیتے تھے ۔

منشی نول کشور3 جنوری 1836کومتھرامیں پیداہوئے، والد کانام پنڈت جمنا پرشاد تھااور علی گڑھ کے زمیندارتھے،نول کشورنے آگرہ کالج سے تعلیم حاصل کی، پھر اخبار سفیرآگرہ میں مضامین لکھے۔ مقبولیت ملی تو لاہور کے ہر سکھ رائے جی نے اپنے اخبار کوہ نور کیلئے طلب کرلیا ۔ 1853میں نول کشورکچھ کر دکھانے کے جذبہ سے لاہور پہنچے۔ ہرسکھ رائے جی کے اخبار اورپرنٹنگ پریس کی ملازمت کرلی۔ ہر سکھ رائے جی اس قدر متاثر ہوئے کہ چھاپہ خانے پرنٹنگ پریس کی تمام ذمہ داریاں انکے سپرد کر دیں ۔ رفتہ رفتہ منشی جی نے اس میدان کی باریکیوں کو بخوبی سمجھ لیا، آخر میں سکھ رائے جی سے اختلافات کے بعد آگرہ لوٹ آئے ۔

آگرہ میں سکون نہیں ملا ،کچھ کرنے کا جوش لکھنو لے گیا، جو غدر کے بعد سماجی و ثقافتی طور پر بکھرا ہوا تھا ۔ نول کشور کے پوتے کے پوتے لو بھارگو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب دادا جی منشی نول کشورلاہور سے لکھنو آئے اور پیشہ طباعت سے وابستہ ہوگئے تو رکاب گنج لکھنومیں ایک چھوٹا موٹا چھاپہ خانہ مطبع نول کشور کے نام سے قائم کیا جس میں ہاتھ کا پریس استعمال ہوتا تھا پھر ترقی کرکے منشی جی کی پہچان ناشر کی حیثیت سے مستحکم ہوگئی ۔طباعت کا کام اس قدر بڑھا کہ پریس کی جگہ چھوٹی پڑگئی چنانچہ حضرت گنج میں بڑی جگہ پر چھاپہ خانہ کو توسیع دی۔ بعد میں یہ سڑک انہی سے منسوب ہوئی توجو اب منشی نول کشور روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ منشی جی نے ہفت روزہ اخبار جاری کیا جس کو بعدمیں سر سید احمد خان کے مشورہ سے روزنامہ کر دیا۔92برس کی عمر پانے والا یہ روزنامہ اودھ اخبار کے نام سے مشہور ہوا۔پریس نول کشور برصغیر کے سب سے بڑے پبلشنگ ہاوس میں سے تھا۔ 37سا ل میں اردو، فارسی ، سنسکرت ہندی کی4 ہزار سے زیادہ کتابیں شائع کیں۔ ہندو ،مسلمانوں اور سکھوں کی مقدس کتابیں شامل تھیں، نول کشور پریس کا ملک بھر میں جال بچھایا۔ اس میں 1200 سے زیادہ ملازم تھے جبکہ3 سو پریس مین 3سو ہینڈ مشین چلاتے۔ جرمنی سے کاغذ تیار کرنے کیلئے مشین منگائی تاکہ کاغذ سستا اور قلت کا شکار نہ ہو، انہیں ہندوستان کا ولیمس کیسٹن کہا گیا جس نے چودھویں صدی میں پرنٹنگ پریس سے دنیا کو رو برو کرایا ۔

نول کشور پریس لکھنو کا تھا مگر اس کی شاخیں الہ آباد، کانپور، آگرہ، دہلی، لاہور، پٹیالہ، اجمیر اور جبل پور وغیرہ میں تھیں ۔ اس کی شہرت ہندوستان کے باہر دوسرے ممالک میں بھی تھی۔ اچھی طباعت سے افغانستان ، ایران ، مصر ، لندن، ترکی، برما، عراق اور افریقی ممالک سے بھی آرڈر ملتے تھے ۔ منشی جی نے فارسی کتابوں کی اشاعت میں خاص دلچسپی لی چنانچہ تفسیر، حدیث اور فقہ کی مستند کتابوں کے فارسی تراجم کرائے۔ شاہنامہ فردوسی بڑے سائز میں تین حصوں میں شائع ہوا۔ اس کا اردو ، ہندی ترجمہ کرایا۔ پیرہن یوسفی منظوم کا اردو ترجمہ چھ حصوں میں ، جواہر الاسرار تین جلدوں میں ، کلیات شمس تبریز (مولانا روم کا کلام) دیوان شمس تبریز ، کلیات عارفی اور کلیات غالب وغیرہ منشی نول کشور کے مطبع سے شائع ہوئے۔منشی جی کے وارث لو بھارگو کہتے ہیں کہ” ہمارے والد راجہ رام کمار بھارگو بتاتے تھے کہ پریس میں اشرف علی نسخ نستعلیق کے بہترین کاتب تھے۔ طغری نویسی میں نور خا ں کا جواب نہیں تھا۔ وہ فن کے استاد تھے۔ احمد علی معکوس نویس تھے (الٹی تحریر جسے مرر امیج کہتے تھے )اور اپنے فن میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ مولوی سید تصدق حسین کنتوری اور مولوی سید مظفر حسین تصحیح کے کام پر مامور تھے ۔ منشی جی مذہبی معاملات میں حددرجہ احتیاط کرتے، اسلامی کتب کی طباعت میں کوئی غلطی نہ ہو اور مسلکی مسئلہ پیش نہ آئے ۔سنی کارکنان سے اہلسنت ، شیعہ ملازمین سے امامیہ کی کتابیں کافی احتیاط سے چھپواتے تھے۔سال 1895میں نول کشور کا انتقال ہوا تو بے اولاد تھے، چھوٹے بھائی سیوک رام کے لڑکے پراگ نارائن کو گود لیا۔ جو انکے وارث بنے۔ بقول لو بھارگو منشی پراگ نارائن کے انتقال کے بعد منشی بشن نارائن نے پریس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ پریس نیز اخبار پوری توانائی کیساتھ جاری رہے لیکن اس میں منشی نول کشور اور منشی پراگ نارائن کے زمانے والی بات نہیں رہ گئی تھی چنانچہ 1944ء تک اودھ اخبار بند ہو گیا۔ منشی بشن نارائن کے انتقال کے بعد انکے بیٹوں یعنی ہمارے والد راجہ رام کمار بھارگو اور چچا تیج کمار بھارگو نے پریس سنبھالا لیکن دونوں بھائیوں میں زیادہ عرصہ تک نباہ نہ ہوسکا اور پریس نیز دیگر املاک دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں جس سے تیسری پیڑھی میں پہنچ کر پریس پر زوال آگیا۔ یو ں سمجھئے کہ جس طرح تقسیم سے ملک کو نقصان ہوا ٹھیک اسی طرح اِس بٹوارے سے پریس کو نقصان پہنچا۔ منشی نول کشور کے نام سے مشہور چھاپہ خانہ کا نام تبدیل ہو ا۔ یہ راجہ رام کمار پریس اور تیج کمار پریس ہوگیا۔

دو نسلوں کے سفر کے بعد تیسری نسل تک پوری دنیا میں منشی نول کشور کے نام سے مشہور پریس کے دو ٹکڑے ہوئے ، جس کیساتھ ایک تاریخ دفن ہوگئی، لیکن حضرت گنج لکھنو میں واقع وہ سڑک اب بھی منشی نول کشور روڈ کے نام سے ہے۔نول کشور کی پبلیشر کی حیثیت سے جو تصویر پیش کی وہ ان کی خدمات کاایک باب ہے ۔ ان کی زندگی پر متعدد کتابیں ، ہزاروں مقالے لکھے جا چکے ہیں لیکن ان کی خدمات کا اعتراف اب بھی مکمل نہیں ہوا اور موجودہ حالات میں ان کی زندگی کا یہ پہلو اجاگر کرنا ضروری ہے جوکہ مذہبی رواداری کا پیغام اورایک دوسرے کے جذبات کی قدر کا سبق دیتا ہے ۔منصور الدین فریدی : نئی دہلی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علامہ شرف الدین شیعہ کے مفتی منیر شاکر شہید تھے

مفتی منیر شاکر سے قرآن پر بات ہوئی تو اس نے کہا کہ50سال بعد مجھے مسلمان کردیا۔ یقین ہے کہ علامہ علی شرف الدین سے ملاقات ہوتی تو انہوں نے کہنا تھا کہ70سال بعد مسلمان کردیا۔ قرآن سے سنی اور شیعہ مذہبی طبقات نے کھلواڑ کیا ہے!

مفتی منیر شاکر شہید ، علامہ شرف الدین خوش قسمت تھے کہ ولاتموتن الا و انتم مسلمون ” اور تم مت مرو مگر مسلمان ہوکر” کے قرآنی حکم پر عمل کیا۔ دونوںمشعل راہ اسلئے نہ بن سکے کہ قرآن وسنت کو ہی نہیں سمجھا۔ دنیا میں مذہبی افراط اور تفریط تھی ۔ یہودی حلالہ کی لعنت میں گرفتار اور عیسائیوں میں مذہبی طلاق نہیں تھی تو اسلام نے طلاق کو جواز بخشا اور حلالہ کی لعنت ختم کردی اور عورتوں کے تمام حقوق بحال کردئیے۔ مذہبی طبقے نے اسلام کو اجنبی بناکر عورت کے حقوق کو قرآن وسنت کے پیچھے چھپ کر غصب کردیاہے اور وہ قرآن جس نے صلح کی راہ کھول کر حلالہ کا تصور بھی ختم کردیااور طلاق کے بعد عورت کی رضا کے بغیر رجوع کا دروازہ بند کردیا تو شیعہ سنی نے پھر نصاریٰ و یہود کے نقش قدم کو زندہ کردیا۔ چراغ تلے اندھیرا کے مانند آج پوری دنیا قرآن وسنت کی واضح راہ پر ہے لیکن شیعہ سنی اندھیرے میں ہیں۔ برہمن نول کشور نے قرآن کے تراجم کو گھر گھر پہنچایا ۔بدقسمت مسلمانوں نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔ اگر قرآن کو سمجھ لیا توانسانوں پر صلح کا دروازہ کھلے گا اورعورت حلالہ کی ذلت سے بچے گی اور میاں بیوی سے لیکر شیعہ وسنی، ہندو مسلمان، سکھ یہودی ، مشرق ومغرب کے تمام انسانوں میں صلح کروائیں گے۔

پختون ،بلوچ ، پنجابی، سندھی میں اشاعت التوحید والسنہ والے قرآن کی دعوت میں قربانی دیتے رہے لیکن نہ خود ہدایت پائی اور نہ ہی دوسروں کو ہدایت کا سبب بن سکے۔ جس طرح مفتی منیر شاکر اور علامہ علی شرف الدین موسوی تھے، اسی طرح وہ بھی ہیں۔ علامہ محمد حیدر نقوی شیعہ عالم خلوص و ایمان کیساتھ قرآن کی دعوت عام کرتا ہے لیکن نتیجہ وہی ہے جو بجلی کی جگہ چراغ کی دعوت دینے والوں کا ہوسکتا ہے۔ غالباً 2004میں ڈاکٹر پیر عبدالجبار کے ساتھ ایک محسود افسر آئے اور مجھ سے کہا کہ ” وزیرستان میں بجلی کی آمد سے پہلے مسجد کے مولانا نے تقریریں کیں کہ خبردار اپنے گھروں میں بجلی مت لگاؤ۔ یہ بلب نہیں شیطان کے خصیے ہیں لیکن جب بجلی آگئی تو مولانا نے شیطان کے خصے لگا دئیے ”۔

قرآن میں بجلی سے زیادہ نفع بخش ہونے کی صلاحیت ہے مگر جس قرآن نے دورِ جاہلیت میں لوگوں کی عزتیں حلالہ کی لعنت سے بچائی تھیں تو اب اسی کو توڑ مروڑ کر عزتیں لوٹنے کا ذریعہ بنایا جارہاہے۔ جس قرآن نے عورتوں کو حقوق دئیے تو اسی قرآن کے ذریعے عورتوں کے حقوق کو غصب کیا گیا اور جس قرآن نے عقل وشعور کی نعمت کو جگایا تھا تو اسی قرآن کی بنیاد پر لوگوں کے عقل وشعور کو جڑ سے ختم کیا جارہا ہے۔

علامہ علی شرف الدینبہت عظیم مخلص مسلمان تھے۔ ان کے علم سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن خلوص اور ایمانداری پر کوئی شک وشبہ نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن سے ٹکرانے کی بنیادپرانہوں نے احادیث کا انکار کیا مگر کون ہے، جس نے نہیں کیا ؟۔علامہ علی شرف الدین نے کہا کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ایک قرآن دوسری میری سنت” ۔ اللہ نے فرمایا:انا سنلقی علیک قولًا ثقیلًا ”بیشک عنقر یب ہم آپ پر بھاری بات ڈالیں گے”۔ سنت قرآن کی طرح بھاری چیز نہیں ہوسکتی ۔ اس طرح اہل بیت بھی بھاری چیز نہیں ہوسکتے۔ یہ شیعہ سنی نے گھڑ رکھی ہیں۔ نبیۖ نے صرف قرآن کو چھوڑ ا ہے، اہلبیت اور سنت چھوڑنے کی چیز نہیں ہوسکتی ہے۔ کاش علامہ سے ملاقات ہوتی تو نہ صرف مسلمان بناتا بلکہ پھر اچھا بھلا شیعہ بھی ۔

قرآن نے ذمہ دار طبقات کو مخاطب کیا ہے کہ سنفرغ لکم ایہ الثقلان ”عنقریب تمہارے لئے ہم فارغ ہوں گے اے دو بھاری گروہ”۔ مفتی منیر شاکر اور علامہ شرف الدین کے بیٹے پیروکاروں سمیت قرآن پر عمل کریں تو انقلاب ہے ۔ نبیۖ نے اپنا جانشین نامزد نہیں کیا تو ابوبکر، عمراور معاویہ نے غلط کیا؟۔ جس سے یزید و مروان بنوامیہ تک بات پہنچی؟۔علامہ شرف الدین نے کہا کہ قرآن میں اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کا حکم ہے۔ اولی الامر کی مشروط اطاعت کاحکم ہے اور مکہ میں نبیۖ رسول تھے اور مدینہ میں لوگوں نے حاکم بھی بنادیا۔ حاکم کی حیثیت سے اختلاف جائز تھا تو حدیث قرطاس سے انکار کی ضرورت نہیں تھی اور علی ولی اللہ کی بھی تأویل کرنا ضروری نہیں۔ نبیۖ نے علی کیلئے ایسے ماحول نہیں بنایا تھا جو یزید یا مروان کیلئے بنایا گیا ۔ یا جس طرح جاویداحمد غامدی نے اپنے داماد کیلئے بنایا ہے۔ نبیۖ رحمت للعالمین تھے اسلئے اپنا چچازاد بھائی اور داماد صلاحیت کے باوجود انصار ومہاجرین پر مسلط نہیں کیااور نہ اس کیلئے ایسا ماحول بنایا۔ جبری زکوٰة نے مسلمانوں کو ریاست کے سامنے کمزور کردیا تھا اسلئے ابوبکر نے عمر کے تسلط کا فیصلہ کیا تو سب نے قبول کیا۔ حضرت عمر نے پھر اعتدال کو ترجیح دیتے ہوئے شوریٰ نامزد کردی تھی۔ حضرت علی نے ہنگامی طور پرمنصب قبول کیا اور امام حسن نے وحدت کو ہی ترجیح دی اور اسی پر خلافت راشدہ کا 30سالہ دور ختم ہوگیا۔

آغا سید شرف الدین کی بات کو شیعہ سنی اپنا منشور بنائیں تو بھی ہمیں خوشی ہوگی کہ حضرت عائشہ بہت ہی قابل احترام اور دنیا وآخرت میں رسول اللہ ۖ زوجہ مطہرہ ام المؤمنین تھیں۔ البتہ حضرت علی کے مقابلے میں غلطی پر تھیں جس پرنادم تھیں۔ یہ شیعہ سنی اتحاد کیلئے مثبت اور بہت جاندار نکتۂ نظر ہے۔آغا شرف الدین کے نزدیک حضرت علی کے بعد حضرت ابوبکر سب زیادہ شاندار شخصیت تھی۔ سنیوں کیلئے یہ غنیمت ہے لیکن آغا شرف الدین پر سوال اٹھے گا کہ ابوبکر نے پھر علی کے ہوتے ہوئے حضرت عمر کی نامزدگی کیوں کی؟۔ اللہ نے فرمایا:

” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو مت کرو! اور اللہ پر کوئی بات مت بناؤ مگر حق۔ بیشک مریم کا بیٹا رسول اللہ ہے اور کلمہ ہے جس سے اللہ نے مریم کو القا کیا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔پس اللہ پر اور اس کے رسولوںپر ایمان لاؤ اور تین مت کہو۔ تم بس کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ بیشک اللہ اکیلا معبود ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔اس کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی وکالت کے اعتبارسے کافی ہے”۔ (النساء آیت:171)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقدس اللہ کے کلام سے ثابت تھا اور قصہ حضرت یوسف پہلے تھا اور قصہ قرآن بعد میں بن گیا۔ یہود ونصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کی شخصیت پر افراط وتفریط سے کام لیا تو دونوں گمراہ ہوگئے اور اس غلو سے اللہ نے منع فرمایا۔

ہر لحظہ ہے مؤمن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری وغفاری وقدوسی وجبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ہمسایۂ جبریل امین بندۂ مومن
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مؤمن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان قیامت میںبھی میزان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
فطرت کا سرور ازلی اس کے شب وروز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمن
بنتے ہیں مری کارگہ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہنچان!

علماء کرام شیعہ ہوں یا سنی ،ان کا کوئی قصور نہیں اسلئے کہ وہ مدارس میں قرآنی تعلیمات کی جگہ کچھ اور ہی پڑھاتے ہیںاور میں خوش قسمت ہوں کہ مولانا بدیع الزمان شاگردوں کو خوب تلقین فرماتے کہ ایک رکوع قرآن کا روزانہ پڑھ کر سمجھواور قرآن کے معارف بتاتے تھے اور پیچیدہ سوالات بھی۔ پھر نصاب میں قرآن وسنت کے خلاف باتوں کے مقابلہ میںحق بات پر خوشی کا اظہار بھی فرماتے۔ علامہ علی شرف الدین نے وہ حدیث مسترد کی جو شیعہ و سنی کتب میں ہے کہ نبیۖ و علی ایک نور تھے۔ حضرت عبداللہ میں نور نبوت اور حضرت ابوطالب میں نور ولایت منتقل ہوا۔ اگر ہم مان لیں کہ حدیث صحیح ہے تو پھر شیعہ کے پاس اس کا جواب نہیں کہ ”نور ولایت حضرت علی کے بعد حضرت حسن میں منتقل ہوا تو حضرت حسین میں کیسے منتقل ہو؟”۔ رسول اللہۖ کے نوراور علی کے نور سے حفید سیدا شباب اہل الجنة بن گئے۔ حسن پر نور امامت کا اور حسین پر نورولایت کا۔ مجدد الف ثانی شیخ احمدنے حضرت حسین کی ولایت کا ذکر کیا ہے لیکن حضرت حسن کے نور امامت کا ذکر نہیں کیا ہے۔

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر
نسل کی اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا تو دنیا سے مانند خاک راہ گزر
تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

مشکوٰة کی شرح ”مظاہر حق ” میں بارہ خلفاء قریش کی تشریح میں یہ روایت لکھی ہے کہ ” مہدی کے بعد 5افراد حسن کی اولاد سے ہوں اور 5افراد حسین کی اولاد سے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا”۔ اہل تشیع کی روایات میں بھی مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کو خلافت ملنے کا ذکر ہے۔ ان میں رجعت کا عقیدہ بھی ہے اور رجعت سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مہدی کا کردار حضرت علی جیسا ہو اور باقی گیارہ امام حسن، حسین، امام زین العابدین …………اور آخرمیں مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سامنا دجال اکبر سے ہو۔ جب آئیں گے تو دیکھیں گے۔

اگر تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کے ساتھی مولانا احتشام الحسن کاندھلوی امیر جماعت بنتے تو بہتر تھا۔ مولانا محمد یوسف بانی کے بیٹے تھے مگر جماعت میں وقت نہیں لگایا تھا پھر حاجی محمد عثمان امیر بنائے جاتے تو بھی بہتر تھا لیکن مولانا انعام الحسن داماد شیخ الحدیث مولانا زکریا امیر بنائے گئے ۔اگر ان کی جگہ حاجی عبدالوہاب امیر بنتے تب بھی بہتر ہوتا۔ ترجیحات کی وجہ مختلف ہوتی ہے۔ اگر علامہ عارف الحسینی شہید کے بعد علامہ علی شرف الدین ہی تحریک نفاذ جعفریہ کے صدر بنائے جاتے تو بہتر ہوتا۔ لیکن جو کچھ ہوا تو سب بہتر تھا اور اب حقائق کی طرف رجوع کیا جائے تو امت مسلمہ اس بدترین بحران سے نکل سکتی ہے۔ ہمیں ایک اچھے انقلاب اور اصلاح کی امید ہے۔

کاش! علماء و مفتیان، اسلامی سکالرز اور سیاسی جماعتوں کا رُخ قرآن کے انسانی حقوق پر آجائے تو عورت کے حقوق کو سمجھنے کے نتیجے میں عالمی ، علاقائی ، ملکی قوانین، ڈویژن، ضلع، تحصیل اور تھانہ کی سطح سے لیکر اقوام متحدہ تک سبھی معاملات سمجھ لیںگے بلکہ عمل درآمد بھی ہوگا۔

صرف نکاح وطلاق کے واضح مسائل، معاملات اور حقوق سے فرقہ واریت کی جنگ ختم ہوسکتی ہے۔ سیاسی میدان کارزار میں کربلا سے موجودہ دور تک کے سارے جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ خلافت راشدہ میں جنگ وفساد صرف اسلام کی سیاست کی حدتک تھا لیکن بعد میں سیاست سے بڑھ کر مذہبی مسائل کو بگاڑنے کا بھی سبب بن گیا۔ بگاڑ کا نام اصلاح رکھ دیا جائے تو اصلاح کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟۔ ایک ملک میں قانون ہو کہ اگر شوہر نے تین طلاق دیدی تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ۔ دوسرے ملک میں حلالہ کے بغیر رجوع ہوسکتا ہو تو لوگ کس کا قانون پسند کریںگے؟۔ ظاہر ہے کہ حلالہ بدترین لعنت ہے۔

محمد خدابندہ ہلاکو خان کا پڑپوتا تھا۔ 1304ء سے1316 تک حکومت کی ۔ پہلے سنی تھا اور پھر حلالہ کی وجہ سے شیعہ بن گیا اور پوری سلطنت میں مذہب اہل بیت کی تبلیغ کی۔ پھر اسماعیل اول صفوی نے پہلی بار ایران میں ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھ دی جس میں موجودہ جمہوریہ ایران، آذر بائیجان ، آرمینیاکے ساتھ ساتھ جارجیا،شمالی قفقاز،عراق، کویت،افغانستان کے علاوہ موجودہ شام کے کچھ حصے، ترکی، پاکستان، ازبکستان اور ترکمانستان اس عظیم ریاست کا حصہ تھے۔ ان کے پوتے کا نام شاہ اسماعیل صفوی بھی اسی کے نام پر رکھا گیا۔جس نے شیعہ مذہب اختیار کیا اور وہ پہلا شیعہ صفوی حکمران تھا۔

آج کچھ لوگ شیعہ سے سنی اور سنی سے شیعہ بن گئے لیکن اس میں مذہبی طبقات کے مذہب سے زیادہ مفادات ہیں۔ اگر قرآن کی طرف فرقہ واریت سے بالاتر اہم ترین نصوص کی طرف توجہ دی گئی تو شیعہ سنی مسئلہ تحلیل ہوجائے گا اور اسلام کی حیثیت گھریلو سے لیکر عالمی اسلامی حقوق کی علمبرداری کے طور پر ہوگی۔ اس طرح شافعی اور حنفی اختلافات بھی بنیاد سے اکھڑ جائیںگے۔ دورِ جاہل میں عورت کے حقوق نہیں تھے۔ اسلام نے مذہبی جہالتوں کا خاتمہ کیا اور مذہبی طبقات نے جہالتوں کو پھر انسانی اور نسوانی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر استعمال کیاہے۔

مولانا مودودی نے شافعی اور حنفی اختلافات کے دلائل کہ بالغ لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز یا نہیں؟عدالت پر معاملہ ڈالا ہے۔ اگر قرآن کے دئیے ہوئے حقوق متعارف ہوتے تو اس نکاح کو قانونی حقوق سے محروم کردیا جاتا اور نکاح کی جگہ اس پر معاہدے کا اطلاق ہوتا۔ جس کی ذمہ داری متاثرہ دونوں خاندانوں پر نہیں بلکہ دو افراد پر پڑتی۔ لیکن جب نکاح کے حقوق کا تصور ہی موجود نہیں ہے تو پھر معاملہ دنیا کو نہیں سمجھ میں آسکتا ہے۔ جیسے موبائل بچوں کو سمجھ آتا ہے لیکن جنہوں نے اپنی زندگی میں موبائل اور ترقی یافتہ دنیا نہیں دیکھی ہو تو پھر ان کو موبائل سمجھانا بہت بڑا مسئلہ ہے۔اللہ کرے کہ اسلام اپنے معاشرے میں اصلاح کی بنیاد بن جائے تو پارلیمنٹ میں بھی قوانین بنانے سمجھنے اور سمجھنانے کے مسائل نہیں آئیں گے۔

علامہ سید علی شرف الدین نے کہا کہ ” عقائد کا تعلق دنیاوی معاملے سے ہے جیسے خریدوفروخت کے عقود اور عقد نکاح۔ قرآن میں ایمانیات کا ذکر ہے اور جن جن چیزوں پر ایمان لانے کا حکم ہے وہ کافی ہے اور اس پر مزید اضافہ فرقہ واریت اور بدعات کے زمرے میں آتا ہے”۔

جب حضرت زبیر جنگ جمل میں میدان کے اندر آئے تو حضرت علی نے ان کے سامنے اس حدیث کا ذکر کیا جو حضرت علی کے حق ہونے پر دلیل تھی تو حضرت زبیر نے کہا کہ میں بھول گیا تھا اور جنگ چھوڑ گئے لیکن پیچھے سے ایک کم بخت نے وار کیا اور حضرت علی کے پاس آیا تو علی نے فرمایا میں تمہیں جہنم کی خبر سناتا ہوں۔ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ زبیر کا قاتل جہنمی ہے۔ صحابہ کے ایمان کی بلندی صحبت نبویۖ تھی اور جب تک ایمان دل میں نہیں اترتا تو عقیدہ سے مؤمن نہیں مسلم بنتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امام مہدی کا بھائی

اخو الامام المھدی

السلام علیکم ۔میں ہوں تامر صبری ۔صاحب خواب امام مہدی کو2001ء سے خوابوں میں دیکھتاہے ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ پہلی بار تھا کہ ” میں نے دیکھاکہ نبی ۖ اور مہدی دونوںہیں تو مجھے خوف محسوس ہوا یا پھرمجھے یوں لگا کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہونے والا ہے”۔ اس خواب میں مہدی کا بھائی شہید دکھایا گیا ۔ممکن کسی جنگ یا فوجی کاروائی میں ۔ اگر آپ کو خواب کی بہتر تعبیر معلوم ہو تو شیئرکریں ۔

النبی ۖ اور مہدی کے بارے ایک خواب
میں نے مہدی کو بیٹھے ہوئے دیکھا اورگویا وہ اندر سے تکلیف میں تھا،یہ کتنی عجیب بات ہے

بیشک میں نے پہلی بارمحسو س کیا کہ مہدی جس حال میں ہے کہ وہ خوف زدہ تھا یا پھر کوئی بہت بڑا واقعہ عنقریب رونما ہونے والا تھا۔یا پھر وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور یہ ہے کہ بیشک مہدی نور سے تھا اور اسکے گرد رات یا اندھیرا تھا۔ گویا وہ کوئی چیز اپنے اندر چھپا رہا ہو، جو اسے عمر بھر غمگین رکھتی ہو۔خدا کی عزت کی قسم! ظاہر ہوئی اسکے سرکے اُوپر نبی کریم ۖ کی موجود گی اور نور آپ ۖ سے پھیل رہا تھالیکن نبیۖ کی نظرمیں کوئی غصہ یا کوئی غم لگ رہا تھا۔اللہ بہتر جانتا ہے ،نبیۖ نے مہدی سے فرمایا :”کیا تم نے سمجھا کہ میں اس کا حق چھوڑ دوں؟” پس مقصد مہدی کا بھائی تھا جو مظلوم قتل ہوا تھا۔ پھر مہدی کے چہرے پر اسکے بھائی کی تصویر نمودار ہوئی ۔ایک جوانمرد نہایت خوبصورت،

عظیم جسم والا، سفید رنگت والااوراس کی پشت پر ختم نبوت ۖ کا فیض تھا۔ اللہ کی قسم!جو میں نے دیکھا۔پس اس وقت مہدی رونے والا تھااگر نبی ۖ کی موجودگی میںوہ خود کو نہ سنبھالتا۔ پھر مہدی نے نبی سے عرض کیا: ”آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں تمام جہانوں پر”! نبی ۖ نے فرمایا: ”اور تم اللہ کی نصرت اور فتح ہو”۔تو یہ خواب ختم ہوا۔ مگرابھی تک مہدی خاموش تھا۔ اور نہیں جانتا تھا کہ اللہ بہت زیادہ غضبناک ہے ، اس جوانمردکے قتل پر اہلِ بیت میں سے تھا، توپس مجھے یہ آیتِ کریمہ یاد آئی: بسم اللہ الرحمن الرحیم” اور مت قتل کرو اس نفس کوجس کی اللہ نے حرمت رکھی ہے مگر حق کیساتھ۔ اور جو مظلوم قتل کیاجائے تو ہم نے اسکے ولی کیلئے بدلہ لینے کا اختیار رکھا ہے۔ پس وہ قتل وغارتگری میں حد سے نہ بڑھے، یقینا اس کی مددہو گئی ہے”۔ (الاسرائ:33)

اللہ عظیم نے سچ فرمایا۔یہ خواب معراج کی رات کو دیکھا گیا تھا۔ مجھے یہ آیت بھی یاد آئی:” اور اپنے پاس سے اختیارمیرابنادے مددگار۔(سورہ الاسراء آیت:80)

اور اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی:”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں،لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہیں رہے گااوراگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔(التوبہ:32)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے، چاہے مشرکوں کو ناگوار گزرے”۔(سور التوبہ، آیت:33)

النبیۖ والمہدی رؤیا
رأیت المہدی جالس وانہ یتلم من الداخل یاالعجیب!

انی شعرت لاول مرة ان فیہا المہدی بان خائف او ان ہنا شی ء عظیم سیحدث اوا نہ لا یرید ان یتحدث مع احد ان المہدی من نور وحولہ اللیل او الظلام،ا نہ یخفی شیء بداخلہ یحزنہ طوال عمرہ وعز اللہ ظہر من فوق رأسہ حضر النبی وان النور یشع منہ ولکن ان نظرتہ تدل عل الغضب او الحزن اللہ اعلم وقال للمہدی احسبت ان اترک حقہ فان یقصد اخو المہدی الذی قتل مظلوما فظہر فی وجہ المہدی صور اخیہ شاب فی غایة الجمال عظیم البنی ابیض جدا وفی ظہرہ ختم النبوة واللہ ہذا ما شاہدتہ،فاذا المہدی یبقی لولا ان تمال نفسہ فی حضر النبی فقال المہدی للنبی انت ارحم للعالمین فقال النبی للمہدی وانت نصر اللہ والفتح وانتہت الرؤیا وما زال المہدی صامت ولن یعلم ان اللہ قد غضب غضب شدید لقتل ہذا الشاب من اہل البیت فتذکرت ھذہ الآیة الکریمة بسم اللہ الرحمن الرحیم ولا تقتلوا النفس التِی حرم اللہ ِالا بِالحقِ ومن قتِل مظلوماً فقد جعلنا لِولِیِہِ سلطاناً فلا یسرِف فِی القتل انہ کان منصورًا( الاسراء :33 )

صدق اللہ العظیم الرویا فی لیلةالاسرائ۔وتذکرت ایضًا الآیة: واجعل لِی مِن لدنک سلطٰاناً نصِیرا(الاسراء الآیة80)

وقولہ تعالیٰ: یرِیدون ان یطفِئوا نور اللہِ باِفواہِہِم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولوکرِہ الکٰفرون(سورة التوبہ:32)

ہو الذِی ارسل رسولہ بِالہدٰی ودِینِ الحقِ لِیظہِرہ علی الدِینِ کلِہِ ولو کرِہ المشرکِون (سورة التوبہ:33)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بیشک جنت میں حوراء ہوگی جس کو”کھلونا ”کہا جائے گا

ان فی الجنة حوراء یقال لھا :اللعبة
بیشک جنت میں حوراء ہوگی جس کو”کھلونا ”کہا جائے گا

واخر متشٰبھٰت فاما الذین فی قلوبھم زیغ: اور اس میں متشابہات ہیں تو جنکے دلوں میں کجی ہے

قرآنی محکم آیات بنیاد ہیں۔ متشابہات کی تفسیر زمانہ کرتا ہے۔ قرآن میں حورو غلمان اور دیگر اشیاء پر مفسرین کی رائے ہے ۔ تاویل کوئی نہیں جانتا تھا مگر اللہ۔ ترقی یافتہ دنیا نے کمال حاصل کیا توپھر بات سمجھ آئی ۔سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز آگئے، ترقی یافتہ دنیا نے قرآنی آیت کا متشابہ سامنے لاکھڑا کیا۔

عربی میں گاڑی کو عربہ کہتے ہیں۔ قرآن میں قد کے موافق گاڑی کا ذکر تھا لیکن جب گاڑی کا وجود نہیں تھا تو اس سے ”حور” مراد لی گئی۔ حالانکہ عربی کی کسی لغت، شاعری ، عام زبان اور کہانیوں تک میں حور یا عورت کیلئے عربہ کا تصور نہیں تھا۔ آج دنیا میں گاڑی آچکی ہے لیکن قرآن کی تفسیر غلط کی گئی۔

ما ورد فی حوریات خاصة فی الجنة:ابی دُنیا
فصل:جوخاص جنت کے حوروں کے حوالہ سے آیا:

عن ابن مسعود ،قال: ان فی الجنة حوراء یقال لھا اللعبة کل حور الجنان یعجبین بھا، یضربن بایدھن علی کتفھا ویقلن : طوبیٰ لک یا لعبة ،لویعلم الطالبون لک لجدوا ، بین عینھا مکتوب من کان ینبغی أن تکون لہ مثلی فلیعمل برضا ء ربی عزوجل (ابی دنیا)
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے۔ فرمایاکہ جنت میں حور ہوگی جس کو اللعبة کھیل کہا جائے گا۔ جنت کی تمام حوریں اس پر شیدا ہوںگی۔وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے کاندھے پر تھپکی دیں گی اور کہیں گی کہ ” اگر چاہنے والوں کو تیرا پتہ چلے تو وہ ضرور کوشش کرینگے۔ اسکی دونوں آنکھوںکے درمیان لکھا ہوگا کہ ” جو یہ چاہے کہ اس کیلئے میری جیسی ہو تومیرے رب عزوجل کی رضا کیلئے عمل کرے”۔

روایت کے الفاظ سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اس سے دنیا کی کوئی کھلونا حور ہی مراد ہوسکتی ہے اسلئے کہ واضح طور پر اپنی جیسی حوراء کو پانے کیلئے اس کی آنکھوں کے درمیان ترغیب کیلئے ایک تحریر سے واضح کیا گیا ہے۔ قیامت کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی اسلئے کہ اعمال کا دروازہ موت کے بعد بالکل بند ہوجاتا ہے تو ترغیب کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی ہے۔ دنیا بہت ترقی کرے گی۔ اس میں دو قسم کے افراد کیلئے الگ الگ اقسام کے دو دوباغات ہوں گے جس کا سورہ رحمن،سورہ واقعہ اور دیگر سورتوں میں ذکر ہے۔ اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ قیامت کیلئے خاص جنت کا مزہ دنیا میں بھی انسانوں کوچھکاؤں گا اور بڑے عذاب جہنم سے پہلے چھوٹے عذاب کا دنیا میں مزہ چھکاؤں گا تاکہ وہ آخرت کیلئے تیاری کرلیں۔ نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اسلئے اللہ دنیا میں آخرت کا نقشہ اس طرح لوگوں کے دلوں میں بٹھائے گا کہ آخرت کی تیاری میں اس کیلئے وہ مددگار ثابت ہو۔ دنیا میں دو دو باغ اور دو دو چشمے اور دودو فوارے کا تعلق آخرت کی جنت سے نہیں ہوسکتا ہے جو بہت وسیع ہوگی۔

عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:بے شک میں اس کو جانتا ہوں جو اہل دوزخ میں سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور جنت والوں میں سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ جا جنت میں داخل ہوجاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آکر عرض کرے گا : اے میرے رب !مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائیگا : جا جنت میں داخل ہوجاؤ۔آپۖ نے فرمایا : وہ (دوبارہ) جائے گا۔تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر کہے گا کہ اے میرے ربّ! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا کہ جا ؤ ، تیرے لئے دنیا کی طرح اور اس سے دس گنا جگہ ہے۔آپ ۖ نے فرمایا کہ وہ شخص کہے گا کہ میرے ساتھ مذاق کرتے ہو اور میری ہنسی اڑاتے ہو اورحالانکہ آپ تو بادشاہ ہو؟۔عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ۖ کو دیکھا کہ ہنس دئیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ یہ شخص سب سے کم مرتبہ کا جنتی ہوگا۔

روایت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنت میں جن خادموں اور حوروں کا ذکر ہے وہ انسان نہ ہوںگے بلکہ خدمت کیلئے کسی اور مادہ سے بنے ہوں گے اور اصل حیثیت اشرف المخلوقات بنت حواء کی ہوگی۔

جب دنیا میں جزاو سزا ہوگی تو پھر اس جہنم سے نکلنے والے آخری شخص کو پہلے کے مقابلے میں دس گنا جگہ مل جائے گی۔ جس کا اس کو یقین بھی نہیں آتا ہوگا اسلئے کہ بدلی ہوئی دنیا اس نے نہیں دیکھی ہوگی۔ قیدیوں کیساتھ سزا والا سلوک ہوگا لیکن انسانوں کو جنت اور دوزخ کا مزہ دنیا میں ملے گا۔

اگر دنیا اور آخرت کا صحیح تصور پیش کیا جائے تو مسلمانوں کی خواتین کو بہت زیادہ اطمینان ملے گا۔ قرآن میں دنیا کے اندر چھوٹے عذاب کا ذکر ہے بڑے عذاب سے پہلے اور دنیا ہی میں مؤمنوں کو وہ نعمتیں دینے کا ذکر کیا جو قیامت کیساتھ خاص ہیں۔ عرب ملحد نے حور کا مذاق اڑانے کیلئے پستانوں کی لمبائی چوڑائی کا ذکر کیا ۔ توجاہل واعظ کو روایت لگی۔ عمرشریف نے کہا کہ بیت الخلاء کو عربی رسم الخط میں دیکھ کر جاہل قرآن سمجھتے ہیں۔ لاہور کا واقعہ بھی مشہور ہوا کہ ڈیزائن کے کپڑوں کو قرآن کی گستاخی سمجھ لیامگر فقہاء کا پتہ نہیں کیا گل کھلائے؟ ۔
٭٭

صحیح وضعیف احادیث کے معاملات

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک لمحہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اور تمہارے ایک کمان یاایک قدم کی جگہ جنت کی بہتر ہے دنیا سے اور جو کچھ ہے اس میں ۔اگر جنت کی ایک عورت دنیا کو جھانک کر دیکھ لے تو اس میں جو کچھ ہے وہ سب روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کے دوپٹے کا پلو دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری)

یہ دنیا کی ان عورتوں کی شان بتائی گئی ہے جن کا رہن سہن اور اوڑھنا بچھونا جنت کماتے گزرتا ہے۔
جن روایات میں ہے کہ حوروں کی طرف سے استقبال میں گانے ہوں گے کہ ہمیشہ کیلئے ہیں، کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔اللہ نے تمہارے لئے بنایا اور ہم خوش رکھیں گی اور نافرمانی نہیں کریں گی ۔اماں عائشہ نے فرمایاکہ جنت کی حوریں مقالہ پڑھیں گی تو مؤمنات جواب دیں گی کہ ہم نمازی ہیں اورتم نے نماز نہ پڑھی،ہم نے روز ہ رکھا اور تم نے روزہ نہ رکھا۔ہم نے وضو کیا اور تم نے وضو نہ کیا اور ہم نے صدقے دئیے اور تم نے صدقہ نہ دیا تو ان پر غالب آجائیں گی (تفسیر قرطبی جلد 17صفحہ 187)

اسلام ویب میں سوال اور جواب

سوال:وجدت لفظا غریبا عن ابن عباس بخصوص الحوراء لعبة فی کتاب” تبیہ الغافلین” للسمرقندی: ان فی الجنة حوراء یقال لہا : لعبة خلقت من اربعة اشیاء : من المسک والعنبر ،والکافوروالزعفران و عجن طینھا بماء الحیوان فقال العزیز : کونی فکانت وجمیع الحور عشاق لہا ولوبزقت فی البحر لعذ ب ماء البحر ، مکتوب علی نحرھا : من أحب أن یکون لہ مثلی فلیعمل بطاعة ربی۔ ھل حذہ روایة ثابتة؟۔ وان کانت کذلک فما معنی أن الحور یعشقنھا؟فان العشق بحسب اللغة مرتبط بالشھوة فھل یعقل أن فیہ اشارة للسحاق؟

سوال : سمرقندی کی ”تنبیہ الغافلین” میں ابن عباس نے کہا کہ جنت میں حور ہوگی …… پھر عزیز اس کو کہے کا کہ ہوجاؤ تو وہ ہوجائے گی۔ اس سے تمام حوریں عشق کریں گی۔اگر سمندر میں تھوکے تو سمندر کا پانی میٹھا ہوجائے۔ اس کی گردن پر لکھا ہے کہ جو چاہے کہ اس کیلئے میری جیسی ہو تو میرے رب کی اطاعت کا عمل کرے ۔ کیا یہ روایت مستند ہے؟۔اگر ہے تو حوروں کے عشق کا کیا معنی ہے؟۔ عشق لغت میں شہوت سے تعلق رکھتا ہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ہم جنس پرستی کی طرف اس کا اشارہ ہے؟۔

الاجابة : فالجدیر بالذکر ابتداء : التنبیہ الی ان کتاب تنبیہ الغافلین مع جلالة مصنفہ ملی ء بالأحادیث الضعیفة والموضوعة المکذوبةعلی النبی ۖ وذلک لعدم درایة المصنف بعلم الحدیث و ما یصح منہ ومالا یصح وقال عنہ الذہبی فی السیر: تروج علیہ الاحا دیث الموضوعة وقال عنہ فی تاریخ الاسلام : وفی کتابہ تنبیہ الغافلین موضوعات کثیرة فینبغی لمن لایمیز بن الصحیح والسقیم من الأحادیث أن یبتعد عن مطالعة مثل ہذہ الکتب ۔

والحدیث المذکور فی سؤال لیس حدیثا عن النبی ۖ وانما ذکر فی تنبیہ الغافلین موقوفا علی ابن عباس …..
وقدورد مسندا بألفاظ قریبة عن ابن مسعود وابن عباس فقد روی ابن ابی الدنیا فی صفة الجنة موقوفا علیہ …….
وھذہ لآثار الموقوفة لیس فیہا من ذکر العشق والعشق فی لغة العرب أصلہ : فرط الحب وان اطلق علی ما یتعلق بالشہوة وحاشا للہ أن یکون فی الجنة شی ء مما تسا ئلت عنہ فی السؤال ۔وللہ تعالیٰ اعلم

جواب : ”تنبہ الغافلین کتاب کا مصنف عالی المرتبت ہونے کے باوجود ضعیف ومن گھڑت روایات بھی درج کرچکا اسلئے کہ اس کو احادیث میں مہارت نہ تھی۔جس کو علم نہ ہو تو ان کتابوں سے دور رہے۔ اس روایت کی نبیۖ سے کوئی سند نہیں بلکہ ابن عباس سے بھی نہیں ،البتہ ابن مسعود و ابن عباس سے اسکے قریب کے الفاظ کی سند ہے۔

عشق عربی میں محبت کی شدت کو کہتے ہیں اس کا اطلاق شہوت سے متعلق پر بھی ہوتاہے۔ جس سوال کا آپ نے پوچھا ہے تو جنت میں ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ باقی درست حقیقت کو اللہ ہی جانتاہے”۔

عینی نے بخاری کی شرح میں ابوہریرہ سے نقل کیا ” جنت میں حوراء ہوگی جس کو عیناء کہا جائے گا ، جب وہ چلے گی تو اسکے دائیں 70 ہزار اور اسی طرح بائیں جانب 70ہزار وصیف( لونڈیاں و غلمان) ہوں گے اور وہ کہے گی کہ کہاں ہیں معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے والے”۔اگر چین بنالے تو پاکستان میں دنیا بھر سے سیاح دیکھنے آئیں گے۔
٭٭

مولانا طارق جمیل اور جنت کی حوریں

مولانا طارق جمیل جامعہ بنوری ٹاؤن میں تبلیغی جماعت کا وعظ کرنے آتاتو حوروں کا بلوپرنٹ پیش کرتاتھا۔ خواتین کے بعد ہجڑے جماعتی ہوگئے۔ مشہور ڈانسر مہک ملک زنانہ لباس میں مردوں سے معانقہ کرتی پھررہی ہے۔ گل چاہت پشتون خواجہ سرا کا چرچا گزرگیا۔ جو مسجد کی منبروں پر بیان اورجماعتوں میںنکل کر تبلیغ کرتی تھی۔ وزیرستان کے لوگوں کی کہاوت ہے کہ ” مور پلور مے مڑہ کہ مو وترانجے تا لایہ کے ” (میرے والدین مریں تاکہ میں اچھل کود کیلئے فارغ ہوں) گل چاہت نے اپنا نام معاویہ رکھ دیا لیکن داڑھی نہیں رکھی اور عورت کا روپ دھارے رکھا۔ پھر بتایا کہ کسی نے نہ چھوڑا۔ تبلیغی جماعت نے حاجی عثمان جیسے اکابر کھودئیے تو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی اور اوباشی کرتی پھرتی ہے۔

حدیث ہے کہ ”تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کا پوچھا جائے گا”۔

طالبان شیخ عبدالحمیدحماسی نے لڑکوں کو عورت کے حکم میں شمار کیا توداڑھی منڈے میک اپ نسوانی لباس اور حسن النساء کی زینت کیساتھ خواجہ سراؤں کو تبلیغی جماعت میں کیسے گھمایا جارہاہے؟۔

قوم کی حالت بڑی ناگفتہ بہ ہے ۔ساس ، بہو، ماں ، بہن اور بیٹی کے واقعات کو میڈیا میں رپورٹ کیاجارہاہے۔باخبردلے بیوی کوچھوڑ یں نہ باپ کو ماریں۔ جبری جنسی زیادتی کی بڑھتی واراداتوں کو روکنا معاشرے اور حکومتی دسترس سے باہرلگتا ہے۔ چین کو اگر مصنوعی جنسی پیاس بجھانے کا راستہ سوجھا ہے تو محرمات اور جبری جنسی زیادتی کا سد باب بھی ہوسکتا ہے۔ مفتی طارق مسعوداور مولانا منظور مینگل سوشل میڈیا پر بڑے فحش عنوانات لگاتے ہیں ۔

انور مقصود نے مولانا فضل الرحمن کا کہا کہ بغیر ماں کے باپ سے پیدا ہوا، اسلئے کہ تحریک انصاف کی عورتوں کو تتلیاں اور پاؤں کے تلوؤں کو گال کی طرح نازک کہا تھا۔ مفتی منظور مینگل کی بیوہ ماں نے یتیم بچے کو فحش گالیاں دینے کیلئے نہیں پالا ….”۔

خلافت کمالات کا آئینہ ہوگا۔ اللہ رؤف و رحیم اور نبی ۖ بھی مؤمنوں پر رؤف و رحیم تھے۔ خلیفہ ارضی نے علم الاسماء سے فرشتوں کو شکست دی تھی۔ تسخیرارض و سماء نے پھر ورتہ حیرت میں ڈالنا ہے۔ الم اقل لم انی اعلم مالا تعلمون ” کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے”۔

سورہ بقرہ کی پہلی آیت الم O کے معنی کیا نہیں؟ الم نشرح ،الم ترکیف،الم تعلم ان اللہ ، الم تر الی الذین خرجوا ،الم ..بہت کچھ…

باچا خان نے لکھا ” قرآن پڑھنا بڑامشکل تھا ” الف لام میم الفابیٹ کی رہنمائی تھی۔ اردو، سندھی کی الفا بیٹ انگریز نے شروع کی ۔ حروف مقطعات حروف تہجی کے رہنماتھے ،نالائقی انگریز نے ختم کی۔

کن فیکون کی تفسیر دنیا اس طرح سے سمجھے گی کہ مصنوعی حور کو عزیز یعنی خدا کا خلیفہ بندہ جو حکم بھی دے گا تو وہ تعمیل کرے گی۔ کسی روایت میں ہے کہ اس لعبہ حور کی آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا تو کسی میں گردن یعنی گلے پر لکھائی کا ذکر ہے۔ دونوں قسم کی حوروں کا ہونا تضاد نہیں بلکہ نوشتۂ دیوار ہے۔

اصول فقہ میں سمندری انسان سے نکاح ناجائز قراردیا ۔ جل پری کا افسانوی کردار فقہاء نے سچ سمجھ لیا لیکن واضح کردیا کہ کسی اور جنس کی مخلوق سے نکاح نہیں ہوسکتا ۔ گائے کا بیل، بھینس کا سانڈھ سے جنسی تعلق ہوتا ہے، بھینس سے بیل کا نہیں اور انسان کو قرآن نے جانور سے بھی بدتر قرار دیا ہے تو انسان کہاں سے کہاں پہنچتاہے؟۔

دنیا کی جنت اور آخرت کی جنت میں حور کا تعلق ربوٹ سا ہوگا۔ مستند حدیث میں دنیا کی آدم زاد عورتوں کی فضیلت ہے اور حوراء عربی میں بیگم ہی کو کہتے ہیں۔ روایت میں کھلونا حوراء واضح ہے۔ یہ نام نہیں جنس ہے ۔ بڑھیا نے پوچھا کہ جنت جاؤں گی؟۔ نبیۖ نے فرمایاکہ ”جنت میں بوڑھی عورتیں نہیں ہوں گی” ۔ تو وہ رونے لگی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”جوان بن کر جاؤگی تو وہ خوش ہوگئی”۔ آخری جنتی کیساتھ مزاح کا حدیث میں ذکر ہے اور یہی مزاح جنتی عورتوں کیساتھ حوروں کے لشکروں کی صورت میں ہوگا۔ جس میں مکالمہ ہوگا لیکن پھر پتہ چلے گا کہ یہ سوکنیں نہیں بلکہ کھلونے ہیں۔

مزاح خوشیوں کو دوبالاکرتا ہے۔ خوف، غم اور مشکل کے بغیر امن، خوشی اور آسانی کا تصور ادھورا ہے ۔رات کے بغیر دن کی نعمت کا پتہ نہیں چلتا۔ مفتی اعظم وشیخ الاسلام نے تصویر اور سود کو جواز بخش دیا لیکن حلالہ کیخلاف دلائل قبول نہیں کرتاہے؟۔

تفسیربیضاوی میں الم پر تضاد ۔ شیعہ نے ال محمدۖ مراد لیا ۔پروفیسر نے اللہ، لوح محفوظ ،محمدۖ مراد لیا۔

جب نیٹ کا کورڈ میپ دنیا دکھاتا ہے تو قرآن کا کورڈ بولتی کتاب بن کر درخت کا پتہ پتہ گرنے تک سب کچھ دکھائے گا ۔بے انتہا ء علوم کا راز کھلے گا۔ انجو گرافی اورMRIسے زیادہ ترقی ہوگی مگر قرآن دل کا نفاق اور ذخیرہ آخرت کا نقشہ بھی دکھائے گا۔
٭٭

ایک دفعہ پھر بہت بڑا اسلامی عروج آرہا ہے
جس میں پاکستان کو حیثیت حاصل ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر

فرمایا:” پس نہیں ! قسم کھاتاہوں ستاروں کے واقع ہونے کی جگہوں کی اور بے شک ہے اگر تم سمجھ لو تو یہ بڑی قسم ہے۔ بیشک یہ عزت والا قرآن ہے۔ تکوینی امور کی کتاب میں ہے۔ اس کو چھونہیں سکتے مگر پاکیزہ لوگ۔ اتارا گیا ہے پروردگار عالم کی طرف سے۔ کیا اس کلام کے ساتھ بھی تم حقائق کو نظر انداز کرنے کے مرتکب ہو؟اور اپنا رزق بناتے ہو، بیشک تم ہی اس کو جھٹلارہے ہو۔ پس کیوں نہیں تمہاری روح گلے تک پہنچتی اور جب تم اس وقت دیکھ رہے ہوگے۔ ( سورہ واقعہ 75تا84)

سورج نظام شمسی کیساتھ ایک بونا ستارہ ہے اور ہمارے کہکشاں میں کھربوں ستارے ہیں اور پھر کھربوں کہکشاں ہیں۔ ایک بلیک ہول کا ستارہ سورج سے کئی کئی گناہ بڑا ستارہ ہڑپ کرلیتا ہے۔

سائنسی ترقی نے قرآنی آیات کی افادیت واضح طور پر ثابت کردی ہے۔ پہلے لوگوں کو علم نہیں تھا مگر جب علم ہوگیا تو واقعی یہ بہت بڑی قسم ہے۔

سائنسی ترقی سے قدرت اور قرآن وحدیث میں موجود تکوینی امور کے راز کھل رہے ہیں۔ آج ایک آدمی گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون پر بات کرتا ہے اور ٹریفک پولیس کو دیکھ کر موبائل ران پر رکھ دیتا ہے۔ آج سے 40سال پہلے بھی یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لائیو موبائل پر بات ہوگی۔ حدیث میں14سوسال پہلے سے ہے کہ آدمی اہل خانہ سے اپنی ران کیساتھ بات کریگا۔ نیٹ نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ دنیا کے بہت بڑے نقشے تک بھی لائیو رسائی حاصل ہے۔ ChatGPT سے انٹیلی جنس معلومات لی جاتی ہیں تو اگر قرآن کے الفاظ کا آئینہ کھل گیا تو دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؟۔

حوروں کا نقشہ سائنس نے پیش کرنا ہے جس سے آخرت کی وسعتوں کا انسان کی محدود سوچ کو یقین آجائے گا اسلئے کہ نبوت اور وحی کا سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ علماء و مشائخ اپنی ذات ، فرقہ اور مسلک کی طرف بلارہے ہیں اور پستی وزوال کی انتہاء پر مسلمان پہنچ گئے۔ ہمارے اساتذہ کرام کی آنکھوں میں آنسو آتے تھے کہ نبیۖ کی نعمت بھی پیسوں کی خاطر کوئی پڑھتا ہے ۔ اب غزہ کا غم کھانے کی جگہ اپنے ہجوم کا جشن شادی کی طرح مناتے ہیں۔

ابن عربی نے فرعون کے جنتی ہونے کا ذکر کیا ہے۔بعض علماء نے لکھا کہ دنیا کی زندگی محدود ہے تو لامحدود سزا کیسے کسی کو مل سکتی ہے؟۔ جہاں لامحدود کا ذکر ہے تو زیادہ عرصہ مراد ہے۔ بالفرض فرعون کو ہی آخری جنتی تصور کیا جائے تو بیگم آسیہ جنت پہنچ گئی ہوگی تو فرعون کو جنت میں عورت ملے گی؟۔ کوئی جنتی عورت اس کی زوجیت چاہے گی بھی نہیں۔ آخری جنتی کو اس دنیا کی ڈبل جنت کا ذکر ہے۔ اگر وہ فرعون ہوا تو روایات میں حوروں کا ذکر ہے۔اور حور سے 70سال تک جماع ہوگا اور ایکدوسرے سے نہ بھریںگے۔ کیا پتہ یہ فرعون سے متعلق ہو۔

دنیا میں مسلمانوں کی فرعونیت بھی فرعون سے کم تو نہیں ہے جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ایک دن جنت میں ضرور جائیںگے۔ رسول اللہۖ کے والد حضرت عبداللہ کی قبر جب منتقل کی گئی ،اس وقت جن لوگوں نے دیکھا تو اس میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک عالم دین اب بھی زندہ ہیں اور اس نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بالکل سلامت تھے۔ اور جب قرآن کی واضح آیات کا انکار کرنے، ان کو روند نے اور ان کو چھپانے کے مجرم مسلمان ہیں تو جنہوں نے قرآن کو دیکھا اور سمجھا نہیں ہے تو پھر وہ کیوں کافر اور جہنم کی سزا کے مستحق ہیں؟۔

مولانا فضل الرحمن منصورہ حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی کے پاس گئے اور عمران خان سے سیاسی تعلق کی بحالی کیلئے کہا کہ میں شدت پسندی کی سیاست نہیں کرتا۔ تلخیوں میں برطانیہ اور امریکہ کے ایجنٹ کو ایجنٹ قرار دینا معمول کی بات ہے۔

مذہبی منافرت کی جگہ ایک اچھے ماحول کی بڑی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو دوسروں سے نفرت اور ان کے بارے میں غلط سوچ کا مرتکب رہنے سے بہتر یہ ہے کہ اپنے اعمال اور ایمان پر نظرکریں ۔

دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

اگرچہ ابن عربی کی کتابوں میں تحریفات بھی کی گئی ہیں تاہم ان کے مقابلے میں پروفیسر احمد رفیق اختر کا یہ کہنا زیادہ معقول ہے کہ اسلام کو دوبارہ پھر عروج ملے گا اور پاکستان کا اس میں مرکزی کردار ہوگا۔ ہمیں انکے اس مؤقف سے مکمل اتفاق ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورۂ النباء میں فتح مکہ،دنیا کی جنت وعذاب اور عذابِ قبرکا ذکر

عم یتساء لون O عن النباالعظیمO
”کس چیز کے بارے میں آپس میں سوال کر رہے ہیں؟۔ ایک بڑی خبر کے بارے میں۔جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ ہر گز نہیں ! عنقریب جان لیں گے ، ہرگز نہیںعنقریب جان لیں گے”۔

مکہ فتح ،سپر طاقتوں کی شکست اور طویل عرصہ مسلمانوں کی خلافت قائم رہی اور پھر انقلاب عظیم آنے کو ہے۔ نبیۖ کی قوم سمجھ رہی تھی کہ قرآن میں خوشخبریاں ہیں جو قیامت سے پہلے آئیں گی۔

مشرکین مکہ کہتے تھے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ؟۔دنیا کے عظیم مذاہب عیسائیت ، یہودیت اور مجوسیت ہیں۔ عظیم سلطنتیں سپر طاقتیں روم اور فارس ہیں۔ کہاں حجاز کے پسماندہ ان پڑھ باسی اور کہاں بڑی تہذب وتمدن کی حامل بڑی قومیں؟۔

اللہ نے اسی کا جواب اسی زبان میں دیا ہے۔

فرمایا:” کیا ہم نے زمین جھولا نہیں بنایا؟۔ اور پہاڑوں کو میخیںاور تمہیں مختلف اقسام کا بنایا۔ اور تمہارے لئے نیند کو آرام کا باعث بنایا اور رات کو پردہ پوش بنایا اور دن کو کمانے کیلئے بنایا اور تم پر سات سخت(محافظ فضائی زون) بنائے اورجگمگاتاچراغ بنایا۔ اور بادلوں سے موسلادھار بارش برسائی۔ تاکہ ہم اس کے ذریعے اناج اور نباتات اگائیں اور گھنے باغات۔ (سورہ النباء:6سے16)

جب انسانوں کے مختلف اقسام اور نظام ہستی چلانے والا مالک کائنات ہے تو پھر اللہ کیلئے مشکل کیا ہے جو تم سمجھ رہے ہو؟۔ پھر حتمی فیصلہ بتاتا ہے۔

فرمایا:”ان یوم الفصل کان میقاتًا Oیوم ینفخ فی الصور فتأتون افواجًا O
بے شک فیصلے کا دن معین ہوچکا جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم فوج در فوج آؤگے۔ (17،18)
(حج اور عمرے والے میقات کو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مخصوص طریقہ کی حد بندی اور حد فاصل ہے)

فتح مکہ کا صور پھونکا گیا تو فرمایا: ” جب اللہ کی مدد اور نصرت آجائے اور دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیںتواپنے رب کی تسبیح کریں اس کی تعریف کیساتھ اور استغفار کیجئے، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے”۔(سورہ نصر)

انقلاب پر مسلمان اور کافرکا کیا حال ہوگا؟۔ کسی کولیلة القدرکی طرح آسمان کھلا ہوا قطار اندر قطار فرشتے اور اللہ کی رحمتیں اترتی دکھائی دیں گی تو کہیں پہاڑکے مانندمضبوط لوگ چلتے سراب بن جائیں گے۔

وفتحت السماء فاکانت ابوابًا O و سیرت الجبال فکانت سرابًا O

”اور آسمان کھلے گاتودروازہ درواہ بن جائے گا اور پہاڑ دوڑائے جائیں گے تو سراب بن جائیں گے”۔ (النباء:19،20)”جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھراس پرثابت قدم رہے ،ان پر فرشتوں کو اتاراکہ تم خوف نہ کھاؤاور نہ غم کھاؤ۔جنت کی بشارت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا”۔ (سورہ حم سجدہ:30) ابوجہل بدر میں کتنا جم کر لڑا؟۔ فتح مکہ کے وقت اس کا بیٹا عکرمہ بھی لڑا مگر پھر خالد بن ولید کے مقابلے میں ساتھیوں سمیت بھاگا۔

پہاڑ وں کو میخیں قرار دیا تو سائنسی بنیاد زمین کو زلزلوں سے بچانے میں پہاڑ وں کا کردار کشتیوں کی تختوں کو کیلوں سے مضبوطی و مربوطی جیساہے۔

فرعون میخوں والے کاا قتدارپہاڑجیسا تھا۔ نبیۖ کے دور میں رومن امپائر پہاڑ کی طرح تھا، جب مدینہ پر 40 ہزار کا لشکر لیکر حملہ آور ہونا چاہا تو شام کے قریب غسانی عیسائی حکمران بھی اسکے زیر اثر تھا اور دیگر عرب قبائل نے بھی ساتھ دیا تھا مگر نبیۖ غزوہ تبوک میں30 ہزار کا لشکر لیکر گئے اور ایک مہینے وہاں پڑاؤ کیا تو رومیوں کی ہمت نہ ہوئی اورپہاڑ کی طرح لوگ کسک کر واپس چلے گئے۔

پھر کافروں کیلئے اللہ نے سزا کا ذکر کیا ہے۔

” بیشک جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔سرکشوں کیلئے ٹھکانہ ہے۔وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔ وہ نہ ٹھنڈ کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کا۔ مگر گرمی اور پیپ۔پورا پورا بدلہ ۔بیشک یہ لوگ امید نہیں رکھتے تھے حساب کا۔اور ہماری آیتوں کو بہت جھٹلاتے تھے۔ اور ہم نے ہرچیز اعمالنامہ میں شمار کررکھا ہے۔پس تم چکھو ،سو ہم تمہارے لئے نہیں بڑھائیں گے مگر عذاب کو۔(النباء:21تا30)

حقب 80 سال، قبر کا عذاب مدتوں کاہے۔ آخرت کاعذاب الگ ہے۔فتح مکہ پر کافرکو پانی پیپ لگتا تھا اور عالم برزخ میں شہداء اور مؤمنوں کو رزق دیا جاتا ہے اور کافروں کوبھی رزق دیا جائیگا۔

تفسیر عزیزی میں عذاب قبر کے انکار کا مفتی اعظم مفتی ولی حسن سے پوچھا توکہا:تم پنج پیری ہو؟ میں نے کہا: حاجی عثمان کا مرید ۔ حاجی عثمان پر فتوی لگا تو مولانا شیرمحمدامیر JUI کراچی نے کہا کہ میرا استاذ لیکن اپنے دوست پر گدھے نے فتویٰ لگایا اور میرا کہا کہ ”پہاڑوں سے ٹکر لی ہے اسلئے کہ مدارس پہاڑہیں” ۔ مولانا یوسف لدھیانوی اہل خانہ کے ساتھ آتے اور مولانا سلیم اللہ خان نے مسجدالٰہیہ کی آمد سے عملی معذرت کا کھل کر اظہار کردیا تھا۔

آگے اللہ نے متقیوں کیلئے انعام کا ذکرکیا۔

” بیشک پرہیزگاروں کیلئے کامیابی ہے۔ باغات اور انگور ہیںاور خوشیں ہو نگے قد کی برابر۔ اور پیالے چھلکتے ہوئے۔ نہیں سنیں گے اس میں لغو بکواس اورنہ ہی جھٹلانے والے ۔بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف سے حساب کے مطابق نوازشات”۔

سورہ النباء میں آیت 31 سے 36 تک دنیا میں ملنے والی کامیابی اور انعامات کا ذکر ہے۔صحابہ کرام اور مسلمانوں نے کامیابی سمیٹ کر سب کچھ حاصل کرلیا۔ باغات اور انگور کے مالک بن گئے اور انگور کے خوشے پہنچ سے باہر نہیں تھے ۔ لومڑی کی پہنچ سے باہرتھے توکہا کہ انگور کٹھے ہیں۔ عربی میں ٹخنے، عورت کے سینوں کے اُبھار اور اُبھری ہوئی چیز کو ”کعب” کہتے ہیں۔ پھلوں اورانگور کا ذکر تھا تو خوشے کا قدکے برابر ہونا واضح کردیا۔ پھل اور انگور کے خوشے بھی ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

حور کا ذکر نہیں تو صفات کا بیان بغیر موصوف کے کیسے مراد لے سکتے ہیں؟۔دوسری سورتوں سے ایک ایک بات کی زبردست وضاحت بھی ہے لیکن ہمارے علماء ومفتیان قرآن پر تدبر نہیں کرتے ۔

اس کے بعد اللہ نے پھر فتح مکہ اور انقلاب عظیم کا ذکر بہت وضاحت کیساتھ کردیا ہے۔

” اس دن جبریل اور ملائکہ صفوں میں کھڑے ہوں گے ۔کوئی بات نہیں کرسکے گا مگر جس کو رحمن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کرے گا۔ یہ دن حق ہے۔ پس جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانہ بنالے۔بیشک ہم نے تمہیں ڈرایا قریب کے عذاب سے۔جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا۔اور کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا”۔(سورہ النباء: 38، 39، 40 )

جس طرح لیلة القدر میں جبریل اور فرشتے اترتے ہیں۔ اسی طرح فتح مکہ اور انقلاب عظیم کے وقت بھی فرشتے جبریل کیساتھ صفوں میں کھڑے ہوں گے۔ فتح مکہ کے وقت سردارانِ قریش بولنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے لیکن جس کیلئے اللہ اپنے خلفاء الارض صحابہ کرام کے دل میں ڈالتے تھے۔

قرآن سمجھ آیا تو دنیا جمہوری خلافت پر متفق ہوگی ۔مفتی منیر شاکر شہید کی آخری تقریرسن لیں۔

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پا س تجھے ہے کہ نہیں
یہ شکایت نہیں ،ہیں ان کے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بیچارے مسلمان کو فقط وعدہ حور

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ رحمن میں عظیم خوشخبری

رحمن سکھاتاہے!

الرحمٰنOعلّم القراٰن

”رحمان نے قرآن سکھایا”۔(الرحمن:1،2)

سوال : اللہ رحمن نے قرآن کیسے سکھادیا؟۔

جواب:

1: تلاوت میں ترتیل وتدبرمگرغلوسے بچنا۔ الرحمن

Oآیت بسملہ اور فاتحہ میں الرحمن ….. الرحیم اور ایک ایک لفظ کو وقف کیساتھ پڑھ سکتے ہیں۔

فی بحرٍلُّجِّیٍّ یَّغشٰہُ

قرأت معانی نہیں ترنم کیلئے مگر کتنی مشکل؟

آسان:

فی بحرٍ…لُجّیٍ…یغشٰہُ وقف سے پڑھنا۔

من یقول ائذن لی من۔۔یقول..اِئذن..لی

تبت..یدا…ابی لھب… و… تب

الرحمٰنOالگ تاکہ تلاوت اور معانی دونوں فطری وآسان۔مدارس اور سکول کالج کے طلبہ کیلئے نہ صرف قرآن آسان ہوگا بلکہ بہترین عربی سیکھ لیں گے۔ اللھم …صلِ… علی…محمد…بغیر تنوین وملاپ۔ زیدو عقیل وجعفر بغیرتنوین واؤ ملائے پڑھنا فطری سہل ہے۔ علی گڑھ ” محمڈن کالج” تنوین سے تھا۔ اللہ نے کئی سارے علوم سکھائے۔

2: محکم آیات واضح ہیں۔ عبداللہ بن عمر طلاق کو نہ سمجھ سکے تونبیۖ نے غضبناک ہوکر سمجھادیا۔

3: متشابہ آیات زمانہ کیساتھ پہاڑ جیسے جہاز، لھوالحدیث ،عربة گاڑی اور سائنسی علوم وغیرہ۔

4: برزخ ، قیامت، انقلابی الساعہ جیسے فتح مکہ اور انبیائ کے ادوارمیں انقلابات آئے۔ قرآن پھر انقلاب عظیم کی خبر دیتاہے۔ 1924 تک خلافت تھی۔ انقلاب دنیا کی قیامت۔

5: موبائل کا نیٹ بولتی کتاب اور اس سے زیادہ کتاب ینطق قرآن بولتا ذرہ ذرہ کی خبردیتا ہے۔

قال ۖ انہ لاتقوم الساعة حتی یکلم الرجل فخذہ بماصنعہ اہلہ وحتی تکلم الرجل عذبة سوطہ بماصنعہ اہلہ (ترمذی)
”بیشک قیامت نہیں آئے گی حتی کہ آدمی اپنی ران سے باتیں کرے گا۔جو اس کی اہل کیساتھ ہوا اور حتی کہ آدمی اپنے ہینٹر سے بات کرے گا جو اس کی اہل کیساتھ ہوا”۔ وائرلیس جدید سائنسی ترقی۔

عالمی کانفرنس میںانٹیلی جینس ٹیکنالوجی خطرہ سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہواہے۔
دنیا کو درپیش مسائل میں تباہ کن ہتھیار ہیں۔جو ایمن الظواہی کو کابل ، اسماعیل ہنیہ کو تہران اور حسن نصراللہ کو لبنان میں نشانہ بناسکتے ہیں۔ دنیا کو خوف ہے کہ ایٹمی اور جدید ہتھیار اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ میں نہ لگ جائیں۔ اگر یقین ہو کہ مسلمان اس کے شر بچنے کا روحانی، قانونی، اخلاقی تدارک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو دنیاامام بنالے۔
دنیا کو درپیش مسائل میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی میں طوفانی ہواؤں، بارشوں، خشک سالیوں ، سخت گرمی اور سخت ٹھند کا سامنا کرناانتہائی خطرناک معاملہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت پورے ملک کے گٹر اور حیات آباد پشاور کارخانو کا کیمیکل سمیت پورے ملک کی فیکٹریوں کا کیمیکل یا تو پینے کے صاف پانی دریاؤں میں جارہاہے یا پھر زیر زمین پانی کے ذخائر کو تباہ کررہاہے۔ ہندوستان اور چین کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ پروفیسر اورنگزیب حافی نے اس پر بڑا علمی کام کیا ہے جس کو ملک وقوم اور خطے کیلئے سب سے زیادہ تباکن قرار دیا ہے۔
کراچی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، لاہور، کوئٹہ اور تمام شہری زندگی آلودگی کا شکار نظر تی ہے۔ ایران کو اپنا دارالخلافہ تہران سے ایرانی بلوچستان مکران میں منتقل کرنا پڑرہاہے۔ جب زلزلہ آتا ہے توتباہی مچ جاتی ہے۔ قدرتی آفات اب اللہ کا عذاب نہیں۔ ہمارے اعمال کے نتائج ہیں۔ پہاڑ گنجے کردئیے۔ اسلام آباد میں25ہزار درختوں کی کٹائی کی شکایت وزیرداخلہ محسن نقوی سے کی گئی ہے۔

 

ولاتخسروا المیزان

اللہ تعالیٰ نے سورہ رحمان اور دیگر سورتوں میں میزان کا ذکر کیا ہے۔ انسانی فطرت اور کائنات کی ہر چیز میں اعتدال اور توازن ہے۔ جس کو بگاڑنے سے روکا گیا ہے۔ انسان میں طاقت ہو تو پھر ہاتھ سے منکر کو بدل سکتا ہے اور اگر اتنی طاقت نہ ہو توپھر زبان کی طاقت سے منکر کو بدل سکتا ہے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل کی طاقت سے بدل سکتا ہے اور اس کے بغیر رائی کے دانہ کی طرح بھی کسی میں ایمان نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاتھ کی طاقت سے کسی منکر کو بدلنے کی مثال طاقتور ترین حکمران طبقے کی ہے۔ زبان سے منکر کوبدلنے کی مثال ایک طاقتور اپوزیشن اور طاقتورصحافی حضرات وغیرہ ہیں۔ دل سے بدلنے کی مثال ایک بالکل ہی کمزور طبقہ ہے۔

حضرت داؤد کی99بیویاں تھیں اور اس کے مجاہد اوریا کی ایک بیوی تھی۔ انسان کمزورہے اور اس کا دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ داؤد کا دل جب مجاہد کی بیگم پر آگیا تو اس نے نیت کرلی کہ مجاہد سے کہنے کی دیرہے۔ فرشتے اچانک محراب میں داخل ہوگئے، حضرت داؤد پر گھبراہٹ طاری ہوئی، انہوں نے کہا فکر مت کرو مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔یہ میرا بھائی ہے اور باتوں میں مجھ پر بھاری ہے۔اسکے پاس99دنبیاں اور میرے پاس ایک دنبی ہے ۔ یہ ایک بھی مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے۔ داؤد نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو بڑی زیادتی ہے اور اکثر شرکاء یہ کام کرتے ہیں مگر مؤمنوں میں سے کم لوگ۔ پھروہ سمجھ گئے اور اللہ سے اپنی مغفرت مانگ لی تو اللہ نے اس کو معاف کردیا۔(سورہ ص آیات20تا24تک )

جب حکمران کے پاس طاقت ہوتی ہے تو اس کو بسا اوقات اپنی غریب رعایا کے حقوق کا خیال تک نہیں آتا ہے اور سب کچھ چھین لینے سے بھی وہ بھرتا نہیں ہے۔ بیویاں تک بھی چھین لیتا ہے ۔اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی ہیں کہ ایک کی بیوی پسند آگئی تو اس کو سفیر بناکر دور بھیج دیا اور خود جہاز میں پھر اس کی بیوی سے رنگ رلیاں منا تا رہا اور پائلٹ کو اس کے نشہ میں ٹن ہونے کی وجہ سے جہاز فضا میں ہی کافی دیر تک رکھنا پڑا ۔ آج پاکستان کی عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر سچ تو سچ جھوٹ پھیلاکر بھی نفرت کا بازار گرم کیا جاتا ہے اسلئے کسی سے معمولی بھی زیادتی کے بجائے سب کا دل جیت لینا وقت کی ضرورت ہے ۔ جہاں بڑی مشکل ہو تو بجائے حکمران پر کھلی تنقید کرنے کے اس طرح اپنے اوپر بات رکھ بھی ظلم بدلنے کیلئے ایک زبردست کردار ادا ہوسکتا ہے۔ جہاں صحافی حامد میر کہے گا کہ شرٹ اتاری۔ پھر پینٹ اتاری اور آخر میں ایک نیکر رہ گئی تھی، جب اس کو اتارنے لگے تو میں نے کہا کہ سورس بتاتا ہوں ، یوں بچ گیا تھا۔

تحریک انصاف کے رہنما، کارکن، خواتین اور بزرگ بہت رونا روئیں گے۔ شہباز گل جلسہ عام میں جھوٹ یا سچ مگر کہے گا کہ ہمارے مخصوص اعضاء کی تصویریں زوم کرکے نکالی گئیں اور کیا میں اور اعظم سواتی اب شلوار پہن لیں؟ ۔ بلوچ ، سندھی ، پشتون ، مہاجر اور سرائیکی اپنا رونا روئیں گے۔

پھر ہتھیار اٹھانے والوں کو مذہبی اور قومی جذبہ کی بنیاد پر بہت لوگ مل سکیںگے۔ اگر کرایہ پر بھی کافی لوگوں کو بھرتی کریں تو جس طرح فوجی جوان ، کشتی میں مرنے اور کنٹینروںمیں گھٹنے والے اپنی مجبوری سے خطرات مول لیتے ہیں تو جہاں غریبوں کو کچھ ملتا ہو تو پھر بھرتی ہوجاتے ہیںاسلئے کہ پاک فوج کے جوانوں سے زیادہ وہ محفوظ ہوتے ہیں۔
بڑے لوگوں کو قتل وغارت کی قیمت کا پتہ اسلئے نہیں چلتا کہ ان کے اپنے بچے نہیں مرتے۔اپنے بچے مرتے تو پھر یہ جنگیں کب سے ختم کردیتے۔

 

یرسل علیکما شواظ من نارٍ ونحاس فلا تنصران

اللہ نے عالمی قوتوں کو ایٹمی جنگ سے ڈرایا کہ: ”تم پر ایک دوسرے پر برسنے والے بغیر دھویں کے آگ کے شعلے بھیجے جائیں گے اور دھواں ! پھر تمہاری دونوں کی مدد نہیں ہوگی۔(الرحمن:35)

ایٹم بم سے پہلے بغیر دھویں کی آگ پھر دھواں پھیل جاتاہے۔ قرآن ذرہ برابرظلم وجبر کا روادار نہیں۔ہر بے اعتدالی اور عدم توازن کو روکتا ہے۔
وکنتم علی شفا حفرةٍ من النار فانقذکم منھا ” اور تم آگ کے گڑھے کے کنارہ پرتھے تو اس نے تمہیں نکال دیا اس سے” (آل عمران:103) ہم سیاسی، معاشی، معاشرتی ، ریاستی، لسانی، مذہبی، بین الاقوامی اور علا قائی دہشتگردی کے شکار ہیں۔

رسول اللہ ۖ اورحضرت ابوبکر نے ضرورت سے زیادہ مال نہیں رکھا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا خرچ کریںتو اللہ فرمایا” کہہ دو ضرورت سے زیادہ”۔ حکمرانوں کو چھوڑو، علماء نبیۖ اور خلفاء راشدین کے جانشین بھی غریب غرباء کی زکوٰة خیرات سے بڑی بڑی گاڑیوں اور جائیداد کے مالک بن گئے۔اشرافیہ پر ناجائز دولت اور طاقت کے حصول کا بھوت سوار ہو تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ پھر غریب انکے نقش قدم پر چلتا ہے ۔ مملکت خداداد پاکستان تو شروع دن سے اس راہ پر گامزن ہے اور معاملہ دہشتگردی تک پہنچ چکا ہے۔

علاج قرآن وسنت میں سود ، مزارعت کا خاتمہ ہے ۔ منصب کے بھوکے کو محروم کرنے کی احادیث ہیں۔اسی نے قوم کو تباہ کیا ہے۔
نبیۖ نے مزارعین کی دنیا جنت بنائی اور انکی دولت نے تاجروں کو بادشاہ بنادیا۔ شاہ عنایت کو سندھ میں ہزاروں ساتھیوں سمیت اسلئے شہیدکردیا گیا کہ یہ نعرہ لگایا تھاکہ” جو بوئے گا وہ کھائے گا”۔

مبارک علی نے کہا: ”یوپی کے ملازم اور سندھ کے جاگیردارطبقہ نے مفاد کیلئے پاکستان کو سپورٹ کیا تھاتاکہ اقتدارتک رسائی اور جاگیرمحفوظ ہو”۔

رسول اللہ ۖ نے سود کو ختم کرنے کا خطبہ حجة الوداع میں اعلان فرمایا۔ سب سے پہلے چچا عباس کاسود ختم کردیا۔ ایک عورت دونوں ہاتھ اور پیروں سے کھلی جگہ ناچ رہی تھی۔تماش بینوں میں نبیۖ شریک ہوگئے۔ عمر کی آمد پر عورت بھاگی تو نبیۖ نے فرمایا: شیطان عمر سے بھاگتا ہے۔(مشکوٰة)

منبر پرچندہ کیلئے اسلام کا حلیہ بگاڑنے والوں سے بہتر تومغرب کی سڑکوں پرڈانسر بھکارن ہیں۔

اگر سود ختم ہوا تو امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان سب اسی خاتون کی طرح رقص کریں گے۔ پھر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سبھی اپنی خدمات انجام دیں گے اور دو دوباغ والے گھر، سردی گرمی سے بچاؤ کیلئے عالم انسانیت دنیا کو جنت بنانے پر متفق ہوجائے گی۔
بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم اور ہر شعبہ زندگی کے ماہرین دنیا کی تباہی وبربادی نہیں فلاح وبہبود کیلئے اپنی اپنی صلاحیتوں کا استعمال بھی کریں گے اور دنیا و آخرت میں عزت پائیںگے۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہوگا۔ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ کیلئے قرآن نے حقوق دئیے ۔ مفتی طارق مسعود نے کہا ” بیوی کسی اور سے منہ کالا کرتی ہے اور پھر عدالت سے خلع لیتی ہے”۔کوئی اتنا بھی دلا ، بے غیرت ہوگا کہ بیوی کسی اور سے منہ کالا کرے یا اس کو یقین یا گمان ہو اور پھر بھی بیوی سے چمٹارہے؟۔ بیوی کو عدالت نہیں ویسے اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔
سورہ النسائ19تا21میں خلع وطلاق کا اختیار اورعورت کے حق کو مالی تحفظ دیا گیاہے ۔اسرائیل فلسطین کیساتھ وہ ظلم وجبر روانہیں رکھتا ہے جو عورت سے اسلام کے نام پر فقہاء نے جاری رکھاہواہے۔ قرآن چھوڑ کر علماء بھول بھلیوں میں پھنس گئے ۔

 

لمن خاف مقام ربہ جنتان

قدرتی نظام میں پانی کا60فیصد سمندر کو جانا چاہیے ۔ موسمیاتی تبدیلی کے شکار40ملین سال کی جگہ ہم2سوسال میں پہنچے۔ اثریٰ حق و احمد سعید کیساتھ آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس کو سن لیں۔ چین، بھارت، پاکستان اورافغانستان کو سونے سے زیادہ قیمتی دریائے سندھ اور اس کی شاخوں سے وسط ایشا تک کوجنت بنایا جاسکتاہے۔اگر پائپ سسٹم سے دریا سے پانی نکالا جائے توپانی کا40فیصد چین، بھارت، افغانستان اور پاکستان کے علاوہ دریائے سندھ سے وسطی ایشائی ممالک کی تمام ضروریات نہ صرف پوری ہوں گی بلکہ بڑے ڈیم کی تمناؤں کو بھی زبردست طریقے سے پورا کیا جاسکتاہے۔

اگر سورہ رحمن کے مطابق پائپ نظام سے دودو باغ دودو چشموں اور دو دوفواروں والے گھروں کو ڈیزائن کرکے آبادی کو منصوبہ بندی سے پھیلائیں اور ترتیب کیساتھ زرعی زمین، باغات اور جنگلات کے بعد انڈسٹریل زون ہوں تو بغیر موٹر کے پانی ٹینکوں میں چڑھایا جاسکتاہے۔
جدید تعمیراتی نظام سے سردی گرمی سے بچاؤ ، بجلی کا کم سے کم استعمال، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان دنیا میں امام بن سکتاہے۔ ملازمین اور ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے دیانت اور قربانی کی بدولت اعلیٰ کوالٹی کے مستحق ہوں ۔ غریب ،باصلاحیت اور مخلص لوگ ریاست کیخلاف پھر ہتھیاررکھ دیںگے۔

مولانا فضل الرحمن نے افغانستان ، قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخواہ میں دو قسم کی معدنیات کا ذکر قومی اسمبلی میں کیا۔ ایک پیٹرول، گیس، چاندی اور سونا وغیرہ۔ اور دوسری دھات جو خلائی شٹل میں بھی استعمال ہوتی ہے جو ساڑھے4سو کی ہیٹ پر تحلیل نہیں ہوتی اور اتنی ہی ٹھنڈ میں منجمد نہیں ہوتی۔ جس دن سب کو اچھے حال اور مستقبل کی نوید سنادی گئی تو ہتھیار سے لیس طبقہ بھی ہتھیار رکھ دے گا اور سرکاری ملازمین بھی دلجمعی کیساتھ کام کریں گے اور ہرشعبہ زندگی کے افراد کے مردہ جسم میں نئی روح آجائے گی۔مردہ زمین کی طرح شادابی آتی ہے۔

تسخیر کائنات کا داعی قرآن خلائی شٹل سے دنیا کو زمین اور آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کا پیغام سلطان سے دے گیا۔ پاکستان میں کہیں تو ایک شہر کی زمین اسکوائر فٹ میں لاکھوں تو کہیں کوڑیوں کے بھاؤ ہے۔جب گھروں کو پھیلایا جائے تو پورا پاکستان سونے کی قیمت کا ہوگا۔ بحریہ ٹاؤن نہیں پورا پاکستان امریکہ سے زیادہ قیمتی بن جائے گا۔ ڈیفنس کراچی میں پانی ٹینکروں سے جاتا ہے لیکن جب ہر گھر کے دوباغ اور دو فوارے یا چشمے ہوں گے ۔تو ملیر اور لیاری کی ندیاں شفاف دریاؤں کی طرح بہہ رہے ہوں گے۔

جب پانی کا نظام صحیح ہوگا تو وافر مقدار میں بجلی بھی پیدا ہوگی اور ٹریفک کا سارا نظام پیٹرول کی جگہ الیکٹرک پر کردیا جائے تو فضائی آلودگی ختم ہوجائے گی۔ پھر قدرت کا پورا نظام دوبارہ لوٹ آئے گا۔

زمین پر فضا میں سات زون ہیں اللہ نے فرمایا: وجلعنا فوقکم سبعًا شداد”اور ہم نے تم پر سات سخت(زون) بنادئیے ہیں”۔(سورہ نبائ)

1: ٹروپو: زمین پر8سے15کلومیٹرتک ہے جہاں موسمی نظام بادل بارش طوفان ہوتا ہے۔

2: سڑیٹو: 15سے50کلومیٹر خطرناک سورج کی شعاعوں کو جذب کرتی ہے۔اس طرح مزید

ٹروپواورسٹریٹو پر اثرات:کاربن ڈائی اکسائیڈ، میتھین اور دیگرگرین ہاؤس گیسیزکی زیادتی کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہاہے۔ کلوروفلورو کاربنز اور دیگر کیمیکلز کی وجہ سے جلد

کے کینسر اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہے۔

 

و من دونھما جنتان

نبی ۖ نے خلافت کی پیشگوئی فرمائی جس پر آسمان اور زمین والے دونوں خوش ہوں گے۔
پاکستان کی سیاسی ، فوجی، مذہبی، قومی، لسانی اور تعلیمی لیڈر شپ کے علاوہ تمام ماہرین فن کو میدان میںلاکر تعمیر نو کا اعلان کریں۔ کسی ایک بندے کو اپنا خلیفہ مقرر کیا جائے۔ جس کو بھلے مغرب میں رکھیں تاکہ کسی کو خدشات اور خطرات لاحق نہیں ہوں۔

پھردنیا کے تمام مسلم ممالک اور غیرمسلموں کیلئے خلافت میں شمولیت کی اوپن ممبر شپ رکھی جائے۔ مسلم سالانہ2.50فیصد زکوٰة اور غیرمسلم اتناہی ٹیکس دیں۔ مزارعت میں سالانہ20اور10فیصد خمس وعشر وصول کیا جائے۔کراچی کے میمن نے کہا کہ ہم تربوز،کیلا، مالٹا اور سبزیاں خریدتے ہیں تو انکے چھلکے3سے10فیصد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ پھرسالانہ ڈھائی فیصد زکوٰة میں کیا مشکل ہے؟۔ امیروں سے غریبوں کے کھاتے میں جائے گاتو پھر غریب غریب بھی نہیں رہے گا ۔ دنیا میں زکوٰة لینے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔

اگر خلافت راشدہ کے دورمیں مسلمانوں کے اندر فتنہ وفساد اور لڑائی جھگڑے نہ ہوتے ۔ خلافت مورثیت میں نہ بدلتی تو اسلام غلامی کو ختم کردیتا۔

جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تونبی کریم ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ جس کی وجہ سے جاگیردار محنت کش بن گیا اور محنت کے ہاتھ میں دولت آگئی۔ غیر آباد زمینیں بھی آباد ہوگئی تھیں۔ جس نے نبیۖ سے زمین مانگ کر لی اور آباد نہیں کی تو حضرت عمر نے اس سے وہ زمین چھین لی۔ مفتی منیر شاکر کی ایک ویڈیو میں ہے کہ میراث کی آیات قرآن میں ہیں اور حضرت ابوبکر نے نبیۖ سے سنا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی تو قرآن کو چھوڑ کر نبیۖ کی خبر واحد پر عمل کیا تھا۔

حالانکہ احناف کا مسلک یہ ہے کہ خبر واحد پر بھی قرآن کو نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور ہونا یہ چاہیے کہ قرآن سے متصادم میں خبر متواتر کی بھی حیثیت نہیں ہو اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبیۖ قرآن کی مخالفت کریں؟۔ اس پر قرآن میں واضح وعیدیں ہیں۔

جب قرآن کو معیار بنایا جائے گا اور حدیث اس کی تائید وتشریح کیلئے ہو تب مسلمانوں میں تفریق و انتشار بھی ختم ہوگا اور قرآن پر عمل بھی ہوگا۔ اگر کوئی بڑی ڈاڑھی رکھ کر آنسو بہاتا ہو لیکن جھوٹ، تعصب اور بدکرداری میں غرق ہو تو وہ اللہ سے نہیں ڈرتا۔ حقوق العباد کا تحفظ کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔

جب اچھے کردار والے تمام لوگوں کو دنیا میں دو دوباغات کے گھروں کا مالک بنایا جائے گا تو پھر یہ ماحولیاتی آلودگی کو قابو کرنے میں زبردست معاون ثابت ہوگا۔ سورہ رحمان میں جن نعمتوں کا ذکر ہے ، سورہ واقعہ میں بھی اصحاب الیمین کیلئے بہت سی نعمتوں کا ذکر ہے جن میں قد کے برابر گاڑی ہیں۔

زمین پر سات زون کا ذکر قرآن میں بھی ہے ۔

3:میسو: یہ50سے85کلومیٹر کی بلندی پر ہوتی ہے۔اس میں درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے اور زیادہ تر شہاب ثاقب اسی میں جل جاتے ہیں۔

4:تھیریمو: 85 سے600کلومیٹر کی بلندی پر اس کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوسکتا ہے اسلئے کہ سورج کی شعاعیں براہ راست اس پر پڑتی ہیں۔ اس میں آئنو شامل ہوتی ہے جو ریڈیو ویوز کو

نعکس کرتی ہے۔

5: ایکسو: 600سے10,000کلومیٹر۔یہ آخری تہہ یہاں ہوا کے ذرات کم ہیں۔ جو خلا میں تحلیل ہوتی ہے۔ اضافی طور پر دواور زون شامل ۔

6: آئنو: 60سے1000کلومیٹر، برقی چارج ذرات ریڈیو سگنلز کی مدد گار۔

7: میگنیٹو یہ زمین کے مقناطیسی اثر کا علاقہ ہے۔جو زمین کو شمسی طوفافوں اور مہلک تابکاری سے بچاتاہے۔

 

یعرف المجرمون بسیما

”مجرم اپنے نشان سے پہچانے جائیں گے تو ان کو پکڑلیا جائے گا پیشانی کے بالوں اور قدموں سے”
پوری دنیا مجرموں کے مجرمانہ جرائم سے تنگ ہے لیکن عدالتی نظام مجرموں کو طاقت اور پیسوں کی بنیاد پر کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے سہولت کار بن چکا ہے۔ ایسے میں غریب طبقات کے مجرم بھی سہولت پالیتے ہیں۔ مجرم مجرم ہوتا ہے خواہ وہ کوئی طاقتور ہو، امیر ہو یا پھرغریب ۔مفتی منیر شاکر شہید کو آج بھی ایک مولوی اس بنیاد پر واجب القتل کہتا ہے اور اس کا قتل غیرت کا تقاضہ سمجھتا ہے کہ حضرت عائشہ کی6سالہ عمر میں نکاح اور9سال میں شادی کو کیوں نہیں مانتا؟۔ اگر انصاف کی عدالت قائم ہو تب بھی یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ دہشت گردی کے قتل میں اس کے خیالات اور جذبات مجرمانہ ہیں یا صداقت کا تقاضہ ؟۔لیکن کوئی نظام انصاف ہوتا تو پھر دلائل وبراہین سے گفتگو ہوتی اور جرم کو پکڑنے کیلئے جدید نظام کا سہارا لیا جاتا۔ قرآن نے دنیا کی زندگی میں بھی رو بہ عمل ہونا ہے۔

جب پوری دنیا میں بااثر اور چھپے ہوئے مجرموں کو بھی کٹہرے میں لایا جائیگا۔ کسی کو طاقتور ملک اور ریاستی ادارے کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ مذہب کے نام کوئی اپنی مجرمانہ سر گرمیوں کو معصومیت کے لہجے میں نہیں چھپا سکے گا۔ کونے کھانچے سے بھی مجرم کو نکالا جائے اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائیگی اور کرپشن کا راستہ مکمل رک جائے گا۔ پھر ان کے ٹھکانے دنیا میں انڈیسریل زون میں ہوں گے۔

جب دنیا کی آبادی تین حصوں میں تقسیم ہوگی ۔ دوقسم ایک ایک گھر کے دودو باغ اور تیسری قسم کے لوگ انڈیسٹریل زون میں رہیں گے تو موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے علاوہ جزا اور سزا کی زبردست تعبیر بھی سامنے آجائے گی۔

گاڑیوں سے دھویں کے اخراج اور فیکٹریوں سے نکلنے والے آلودہ ذرات سے اسموگ بنتی ہے۔ جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ جس کا حل یہ ہے کہ صاف توانائی (شمسی،ہوا اور ہاہیڈرو پاور) کا استعمال بڑھایا جائے۔ گاڑیوں اور فیکٹریوں کے اخراج کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں۔اور درختوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ تعمیرات میں ایسی جدت لائی جائے جہاں سردی اور گرمی سے قدرتی طور پر زیادہ سے بچنے کا انتظام ہو۔کم آلودگی والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

الیکٹرک گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور کم سے کم انرجی لینے والی گاڑیوں کا استعمال یقینی ہو۔

باغات اور جنگلات اور جنگلی حیات کا بہت بڑا ماحول بنایا جائے۔ اور ماہرین فن کے ذریعے نئی نئی تحقیقات اورایجادات سے فضائی آلودگی اور آنے والی نسلوں کو نت نئی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے اور پانی کی مقدار، رفتار اور کوالٹی کو بھی یقینی بنانے میں ایک زبردست نظام تشکیل دیا جاسکتاہے۔

غسل خانوں اور گٹر لائن کو الگ کیا جائے تو پھر گٹر کو صاف کرنے والے کیڑوں کی بقاء سے گٹر کا پانی بھی خودکار انتظام سے صاف رہتا ہے۔ سبزی اور جنگلات کیلئے گھروں سے نکلنے والے پانی کا بھی زبردست انتظام ہوسکتا ہے۔ کانیگرم وزیرستان کی بڑی آبادی کا ایک قطرہ بھی آلودہ پانی نالے اور ندی میں نہیں جاتا تھا ۔پاکستان کو واقعی پاک بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر ہر چیز میں پاکیزگی لانی ہوگی۔

جب کھانے پینے اور ہگنے موتنے کا نظام ایک ہوجائے تو کہاں سے اچھی ذہنیت والے لوگ پیدا ہوں گے؟۔ جب اپنے محلات، بینک بیلنس، ھل من مزید کی حرص، بیرون ملک اثاثے کی دوڑاور زمینیں اور جائیدادیں بڑھانے کی حرص دل ودماغ پرسوار ہو تو قوم وملک کی ترقی کا خواب پورا نہ ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

درباری علماء کے سرکاری مدارس VS علماء حق کا مساجد میں درس

فقہ وفتاویٰ اور مدارس میںدرباری علماء کا کردار کچھ اور تھا

 

دنیا کامشہور مدرسہ ”جامعہ الازہرمصر”

اسماعیلی شیعہ فاطمی حکومت نے قائم کیا تھا ۔ پھر جب صلاح الدین ایوبی نے فاطمی حکومت کا خاتمہ کردیا تو جامعہ الازہر سنی مکتب کے زیر اثر آگیا۔1960تک خالص مذہبی مضامین مختلف فقہی مسالک اور عربی علوم کے فنون پڑھائے جاتے تھے لیکن1961میں اس کے اندر جدید تعلیم بھی شروع کی گئی۔

خطہ بہاولپورصدیوں تہذیب کا مرکز ،تاریخی قصبہ اُوچ دینی تعلیمی اداروں کا گہوارہ رہا ۔مشرق وسطیٰ ،سینٹرل ایشیاء سے آنے والے تشنگانِ علم کی آبیاری کرتا رہا۔ ریاست بہاولپور نے جامعہ پنجاب،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، ندوة العلماء اعظم گڑھ ، طیبہ کالج دہلوی ، اسلامیہ کالج پشاور،کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کی امداداور معاونت کی ۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی بنیاد1879میں مدرسہ دینیات کے طور پر رکھی گئی۔1925میں مدرسہ عباسیہ کی بنیاد رکھی گئی۔1963میںفیلڈ مار شل جنرل ایوب نے جامعہ کا دورہ کیا۔
نواب سر صادق عباسی30ستمبر1904کو بروز جمعہ پیدا ہوئے۔ 2سال کی عمر میں والد کیساتھ اکلوتے فرزند نے سفر حج کیا۔ والدکی وفات پر15مئی1907کو سرصادق کو حکمران بنانے کا اعلان کیا گیا مگر ریاست کے انتظام اور سرصادق کی تعلیم وتربیت کیلئے حکومت برطانیہ نے آئی سی ایس آفیسر سررحیم بخش کی سربراہی میں کونسل آف ریجنسی قائم کی۔ ابتدائی عربی، فارسی اور مذہبی تعلیم نامور علمی شخصیت علامہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی ۔3سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے شہزادے کی شخصیت نکھارنے کیلئے مذہبی ، تعلیمی ، فوجی اور انتظامی تربیت کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف 7سال کی عمر میں اپنی فوج کی کمان کرتے ہوئے شہنشاہ برطانیہ جارج پنجم کے سامنے دہلی میںپیش ہوئے۔

 

حرمین شریفین حجاز اور برصغیرپاک وہند

فاطمی خلافت اسماعیلی شیعہ مگرشیعہ امامیہ عباسی خلافت کیساتھ ، مامون الرشید کے امام رضا جانشین تھے۔ خادم الحرمین شریفہ مکہ اسماعیلی تھا پھر خلافت عثمانی کے زیر تسلط آیا۔برصغیر کی مساجد میں کہیں عباسی ، کہیں فاطمی خلافت کا خطبہ تھا۔1906آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا صدر محمد شاہ آغا خان سوم اسماعیلی نذاری تھا۔
1908میں ندوة العلماء لکھنوکو نواب کی والدہ نے50ہزار روپیہ مالی امداد دی، علامہ شبلی نعمانی کے شکریہ کا خط محکمہ دستاویزات بہاولپور میں آج محفوظ ہے۔
کچھ تعلیمی و فلاحی اداروں کی نواب صادق نے مستقل سرپرستی و مالی معاونت کی۔ انجمن حمایت اسلام لاہور، علیگڑھ یونیورسٹی، ندوة العلماء لکھنو، دارالعلوم دیوبند،مظاہرالعلوم سہارنپور،جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، گنگ ایڈورڈ کالج لاہوراور انجینئرنگ کالج لاہوران میںخاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

 

1935 میں کوئٹہ زلزلہ زدگان کیلئے امدادی ٹرین روانہ کی ۔اسی سال حج کیلئے تقریباً100افراد اور سامان کیلئے فوجی گاڑیاں، کاریں بحری جہاز پرساتھ لے گئے جو سعودی حکومت کو بطور تحفہ دیں۔ مسجد نبویۖ میں قیمتی فانوس لگوائے۔ اسی سال جامع مسجد دہلی کے طرز پر ”جامع مسجدالصادق” کی ازسرنو تعمیر کی۔ جو اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ جمعہ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد الصادق میںمنعقد ہوتا اور بلاتخصیص مسلک سب لوگ اس میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی تمام عمر جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نمازمرکزی عیدگاہ میں (باوجودمسلکی فرق کے) آخری شاہی خطیب حضرت مولانا قاضی عظیم الدین علوی کی امامت میں ادا کرتے رہے۔ قائداعظم اورعلامہ اقبال نواب صادق کے قانونی مشیر تھے ۔
٭

 

مساجد میں درس و تدریس والے علماء حق کا کردار کچھ تھا!

 

امام مالک، جعفر صادق،ابوحنیفہ، شافعی
جن ائمہ کے نام سے مختلف ومتضاد فقہی مسالک منسوب ہیں یہ سبھی علماء حق درباری علماء نہیں تھے ۔ انہوں نے درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور ان میں قرآن واحادیث پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انکے نام پر درباری علماء نے اپنی طرف سے فقہی مسالک بناکر امت مسلمہ کو قرآن سے دور کردیاہے۔
تیسری صدی ہجری تک کوئی تقلید نہ تھی۔ چوتھی صدی ہجری میں تقلید کے نام پر مستقل اور قرآن وسنت سے منحرف مسالک کی ترویج کی گئی لیکن علماء حق نے درس وتدریس اور قرآن وسنت کی تعلیم کا سلسلہ باقاعدہ جاری رکھاہے۔

 

امام ابوحنیفہ نے عباسی خلیفہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آنے کے بعد نکاح کی اجازت نہیں دی تو قاضی ابویوسف نے معاوضہ لیکر جواز بخش دیا۔ پھر حرمت مصاہرت کے نام پر ایسے بکواس من گھڑت مسائل بنائے گئے جن سے ابوحنیفہ کو بدنام کرنا مقصد تھا۔ جس کی مثال یہ بن سکتی ہے کہ1990کی دہائی میں کچھ اخبارات میں ” خلائی مخلوق کی انسانوں سے ملاقات” کی خبریں چھپتی تھیں۔ مغرب کے اخبارات میں لکھا ہوتا تھا کہ یہ مزاحیہ دل لگی کی باتیں ہیں لیکن پاکستانی اخبارات خبریں بناکر چھاپتے تھے۔ اسی طرح مسائل امام ابوحنیفہ کی شخصیت کا مذاق اڑانے کیلئے گھڑے گئے لیکن کم عقل فقہاء نے سچ سمجھ لیا تھا۔

اورنگزیب عالمگیر نے ملا جیون جیسوں کو رکھا۔ فتاویٰ عالمگیریہ اور نورالانوار کو رائج کیا۔ جب اورنگزیب بادشاہ نے ایک عالم حق کو خطیررقم پیش کی تو اس نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں ۔ جب اصرار بڑھ گیا تو عالمِ ربانی نے کہا کہ مزارع طبقہ سے جو ٹیکس وصول کرتے ہو ،جتنا مجھے ہدیہ دینا چاہتے ہو اتنا کم کرلو۔ تاکہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بال بچوں کو درست طریقے سے پال سکیں۔

 

کانیگرم وزیرستان میں ہماری مسجد درس
کانیگرم میں ہماری مسجد کا نام درس پڑا۔ سید کبیر الاولیاء سے دادا سیدامیر شاہ امام وخطیب نے درس دیا۔پھر مولانا اشرف خان فاضل دارالعلوم دیوبند آگئے۔ جس کی دکان تھی اور درزی تھے اور مولانا الیاس کاندہلوی سے بھی ملاقات تھی۔ میرے والد پیر مقیم شاہ نے کہاکہ ”مولوی اشرف بہت اچھا آدمی ہے مگر ساری زندگی یہ کہا کہ نبی کریمۖ نے فرمایا …. مگر کیا فرمایا ؟ یہ کسی نے سنا اور نہ سیکھا ”۔

سیل استاذ برکی کانیگرم میں ناظرہ پڑھاتا تھا۔ اپنے لئے اپنی زبان میں اپنا درود شریف ایجاد کیا تھا ، بیٹے کا نام جاجت تھا۔بچے بلند بہ آوازبلند پڑھتے۔
جاجت پہ برکت ،خدایا استاذ کم ریری، تہ جنت الوئی نیامت ۔
جاجت پر برکت ہو ۔ یا خدا! میرے استاذ کو دیدے ۔جنت کی بڑی نعمت ۔

 

سیل استاذ برکی کی آنکھیںTTPامیر مفتی نور ولی محسود سے ملتی تھیں۔ درس نظامی کی لغو کفریات کو سمجھنے اور بیان کرنے سے علماء ومفتیان آج بھی قاصر ہیں۔ جب تک دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ مدارس چندے کھانے کا گڑھ نہیں بنے تو عوام کو علماء حق درس وتدریس کے ذریعے اسلام سے روشناس کراتے رہے۔ پھر سعودیہ و امریکہ نے کرایہ کے جہاد اور مدارس کو عروج بخشا تو علماء دمدار ستارے کی طرح ڈنک پھیلانے کی طرف آگئے ۔ خوارج کی ذہنیت نبیۖ کے دور میں تھی مگر خروج حضرت علی کے دور میں ہوا۔ ملاعمر کی حکومت قائم ہونے سے پہلے میری کتاب ”ضرب حق ” میں تبلیغی جماعت پر خوارج کی احادیث کو اسلئے فٹ کیا کہ ان کی ذہنیت خوارج کی تھی۔ دہشتگرد عوام کو مارہے تھے تومولانا طارق جمیل نے سلیم صافی سے کہا ” ہم اوروہ ،ہماری منزل ایک ہے، راستہ جدا ہے”۔ آج نظام الدین مرکز اور رائیونڈ مرکز ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔
٭

 

درباری علماء کا ہمیشہ سے طریقۂ واردات ایک رہاہے
حضرت سید عبدالقادر جیلانی پر فتویٰ لگایا کہ مسلک حنفی کو تبدیل کرکے حنبلی بن گیا۔ یہ جھوٹ بھی پھیلا دیا کہ فاطمی خلیفہ عبیداللہ مہدی نے ان کی لاش کو مسجد کے احاطہ سے نکال کر دریا میں بہادیا تھا۔ کراچی کے درباری علماء ومفتیان نے فتویٰ دیا: ”جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کوووٹ دینا فرض ہے”۔ لیکن حاجی محمد عثمان نے فرمایا کہ ”فتویٰ پر مت جاؤ۔ اگر ضمیر نہیں مانتا توووٹ مت دو”۔مولانا فضل الرحمن پرMRDمیں شمولیت کی وجہ سے ”متفقہ فتویٰ” کے عنوان سے کفر کا فتویٰ لگایا۔مولانا علاء الدین کے فرزند مسعودالرؤف سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دارالاقامہ میں فتویٰ پر لڑائی ہوئی تھی۔جو میں نے اشعار لکھ کر دفن کردیا۔ جب مدارس کے اساتذہ اور طلبہ نے مولانا فضل الرحمن کا طویل دورے کے بعد اپنے قید علماء چھڑانے کیلئے ائیرپورٹ پر استقبال کیا تھا تو انصارالاسلام فورس کا وجود نہ تھا اور فورس کی ڈیوٹی اکیلے میرے سپرد تھی۔ حاجی عثمان پر فتویٰ لگا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ” یہ70کا فتویٰ لگتا ہے علماء ومفتیان نے پیسہ کھایا ہوگا”۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے فتوے میں شکست کھائی تو مولانا فضل الرحمن شرمندہ ہوکر گھر پر پہنچ گئے۔

 

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا ورنہ خود دار مسافر ہوں گزر جاؤں گا

 

درباری سے کاروباری تک مگر پھر درس کا اہتمام کرو!
مدینہ : شہر ۔ یثرب: مدینہ ۔ حاجی عثمان یثرب پلازہ کے باسی۔ کانیگرم شورہ: شہر ۔ کوفہ وبصرہ مکاتب فکر یونانی علم الکلام سے بن گئے تھے۔ اصحاب صفہ سے کانیگرم درس تک فرائض غسل، وضو ، نماز اور بسم اللہ پرکوئی اختلاف نہیں تھا نہ یہ کہ تحریری قرآن کلام اللہ نہیں؟۔ مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ نے مجھے کہا کہ ” باتیں بالکل درست لیکن اتنی خطرناک کہ اگر مقتدر ہ کو پتہ لگا تو غائب یا چھٹی کرادی جائے گی”۔ اسلامی نظر یاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز بھی بات سمجھ گئے لیکن جرأت نہ کرسکے۔ تنظیم فکر شاہ ولی اللہ کے مولانا عبدالخالق اور مفتی عبدالقدیر کی جان نکل گئی۔ ڈاکٹر اسرار نے کہا تھاکہ ”امام ابوحنیفہ نے اہل بیت کی خاموش حمایت کی، خاموش حمایت کروں گا” ۔ مولانا فتح خان ٹانک اور علامہ شاہ تراب الحق قادری کراچی نے کہا تھا کہ” درس نظامی کی تعلیم غلط مگر جرأت نہیں”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے کئی ممالک کے سفر،قیام حرم اور طویل جلاوطنی کے بعد واپسی پر فرمایا کہ” درس نظامی کی جگہ شہروں میں غریب بچوں کو سکول کی تعلیم کیلئے رہائش، کھانا اور درس قرآن دو۔پھر یہی لوگ حکومت اور ریاست کا ڈھانچہ بن کر اسلام کو نافذ کریں گے”۔

حاجی عثمان نے ایمان کی تجدید کی ۔ علم نہیں بدلتا ہے ۔البتہ بگڑے ہوئے فہم کی تشکیل جدید ہوتی ہے۔
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا الٰہ اللہ

 

علماء نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلے پر خیانت سے کام لیا

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ تھا کہ ”لاؤڈاسپیکر پر نماز، آذان اور اقامت نہیں ہوتی” پھر گاجروں کے لطیفے پر عمل کیا۔ کسی نے جنگل میں گاجر وں پر پیشاب کیا، بھوک لگی تو ایک طرف کے گاجر کھا گیا کہ اس پر پیشاب نہیں کیا۔ پھر بھوک لگی تو دوسری طرف اور آخر سب کھا گیا۔ لاؤڈاسپیکر دھیرے دھیرے جائز قرار دیا لیکن تبلیغی جماعت کو70سال تک پتہ نہ چلا۔ میں نے1991میں ”تصویر کے عدم جواز”پر لکھا کہ ”اگر علماء و مفتیان مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مودودی کھینچواتے ہیں تو ان کا فعل جواز نہیں نافرمانی ہے”۔ تصویر کی کھلے عام مخالفت سے مذہبی طبقے کا رُخ بدل گیا ۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا کہ ”گروپ فوٹو نہیں کھینچوائیں گے”۔جب میرا دماغ کھلا تو ”جوہری دھماکہ” میں تصویر کے جواز پرلکھا۔پھر فضا ایسی بدل گئی کہ تبلیغی جماعت، علماء اور طالبان بدل گئے۔ اکابرکی بھی تصاویر منظر عام پر لائی گئیں۔ مفتی شفیع نے کہا تھا کہ ”مدارس بانجھ ہیں”۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسکے بانجھ پن کا علاج ہو مگر اتنے بے غیرت نہیں کہ اسلام کو بدلیں۔

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اقبال سود کو جواز بخشنے پر مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن، جاوید غامدی، انجینئرمحمدعلی مرزا، شیعہ علماء اور ذاکر نائیک کو بے توفیق کی جگہ” زندیق” کہتا۔جیسے حضرت مولانا مدنی کو ابولہب قرار دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حلالہ کے مر یض اورعلماء حق, نشاہ ثانیہ کی عظیم خوشخبری, نعمتیں ہی نعمتیں ملک کبیر

حلالہ کے مر یض اورعلماء حق

فرمایا:”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی تمنا ڈال دی تو اللہ مٹاتا ہے جس کو شیطان نے ڈالا ہوتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کرتا ہے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے”۔ (سورہ حج آیت52)
اس آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے : جب کوئی رسول اور نبی اللہ کی طرف سے طوق و سلاسل سے آزادی دلاتا ہے توکچھ عرصہ بعد نالائق اور نا خلف ان کی تمنا میں اورخوابوں میں شیطانی تمنا ڈال دیتے ہیں ۔ اسلام نے حلالہ کی لعنت کا طوق ختم کیا لیکن نالائق یہ طوق پھر لائے ۔ اسلئے اللہ ان شیطانی تمناؤں کو مٹاتا ہے اور اپنی آیات کو استحکام بخش دیتاہے۔

 

حلالہ شجرہ ملعونہ اور شیطان کی ڈالی ہوئی تمنا :
” تاکہ جو شیطان کا ڈالا ہوا ہے وہ آزمائش بن جائے ان لوگوں کیلئے جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہوچکے ہیں۔ اور بیشک ظالم بڑی دور کی بدبختی میں پڑے ہیں”۔(سورةالحج:53)
دل کے مریض وہ لوگ ہیں جن کو حلالہ کی لعنت نے لت لگائی ہے تو ان کو کوڑوں کے زور پر سیدھا کرنا ممکن ہے۔ سخت دل وہ لوگ ہیں جنکے مذہبی طبقات سے ایسے مفادات وابستہ ہیں کہ اللہ کے دین اور لوگوں کی عزت وناموس کو بچانے کیلئے وہ کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں بدبخت معذور ہیں۔
حلالہ کی لعنت کے مخالفین علماء حق کیلئے خوشخبری:
” اور تاکہ جان لیںجن لوگوں کو علم دیا گیا ہے کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ پس اس پر ایمان لائیں ، پس اس کیلئے انکے دل جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان والوں کی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے ”۔ (سورہ الحج آیت:54)

آج دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ کی اچھی خاصی تعداد نے مسلکوں کی زنجیریں توڑ کر اور اپنا بوجھ اتار کر قرآن کی رہبری قبول کی ہے چنانچہ شیعہ پر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق اور گواہوں کے باوجود بھی ایسا وقت آتا ہے کہ ان کا فقہ اجازت نہیں دیتا لیکن قرآن کے مطابق رجوع کرلیتے ہیں۔ دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث کی بڑی تعداد بھی شیطانی تمناؤں کو خاک میں ملاکر حق اور قرآن کی تائید کررہے ہیں۔ اگر پاکستان میں بڑے پیمانے پر تشہیر کرکے عمل کیا جائے تو پھر شیطان کی زنجیروں اور طوقوں سے امت کو چھٹکارا مل جائے گا۔

نشاہ ثانیہ کی عظیم خوشخبری:

” اور جنہوں نے انکار کیا وہ اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک وقت (انقلاب اصلاح مہدی ) آئے گا یا پھر ان پر بانجھ پن کا عذاب آئے گا( صاحبزادگان کی مفت خوری کا خاتمہ ہو گا)۔ اس دن ملک صرف اللہ کیلئے ہوگا انکے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں نعمتوں والے باغات میں ہونگے اور جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو تو ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے۔اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کئے گئے یا فوت ہوگئے ہم ان کو ضرور اچھا رزق دیں گے اور بیشک اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ ہم ضرور ان کو وہاں داخل کریں گے جہاں پسند کرتے ہیں اور بیشک اللہ جاننے والا بردبار ہے۔ بات یہ ہے کہ جس نے اس قدر بدلہ لیا جس قدر اس کو تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر اگر حملہ کیا گیا تو ہم ضروراس کی مدد کریں گے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا مغفرت والا ہے ۔ یہ اسلئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے ۔ یہ اسلئے کہ اللہ حق ہے اور اس کے علاوہ جس کو پکارا جائے وہ باطل ہے۔ اور بیشک اللہ بلند بڑا ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے تو زمین اس سے سرسبز و شاداب بن جاتی ہے۔ بیشک اللہ بہت باریک بین خبر رکھنے والا ہے”۔(سورہ الحج آیت55تا63)
ان آیات میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلاب کی خبر ہے۔ جب طالبان کو غلط فہمیوں کا شکار کرکے ہم پر حملہ کروایا گیا تو محرکات بیان کرنے پر مجھے کرایہ کے قاتلوں سے قتل کرنے کا پلان بنایا گیا۔ طالبان نے معافی مانگ لی تھی لیکن جن رشتہ داروں نے ان کو غلط فہمی میں ڈال کر استعمال کیا تھا تو اس کے حقائق ضرور سامنے آئیں گے۔ انشاء اللہ

 

نعمتیں ہی نعمتیں ملک کبیر

گیس آخرت کی جنت میں نہیں ہوگی ۔دنیا میں بادی کیلئے ادرک زنجبیل کی ضرورت ہوگی۔ خلافت قائم ہوگی تو ملک کبیر ہوگا جو قرآن میں واضح ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ ” پس اس دن کی مصیبت سے اللہ ان کو بچائے گا۔ایسی حالت میں کہ ان پر تازگی اور خوشی ہوگی اور ان کو صبر کے بدلے باغ اور ریشم دیئے جائیں گے۔ وہ تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔وہ سورج ( گرمی) اور سردی کو نہیں دیکھیں گے۔ ان پر اسکے سائے جھکے ہوں گے اور پھل کے خوشے لٹکے ہوں گے اور ان پر چاندی کے برتن اور خاص پیالے گردش کریں گے۔ اور وہ ایسے پیالے پئیں گے جن کا مزاج ادرک کا ہوگا۔ ایسا چشمہ جس کا نام سلسبیل رکھا جائے گا۔ اور ان پر24گھنٹے لڑکے گھومتے ہوں گے جب آپ ان کو دیکھو تو گمان کرو کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں اور جب آپ دیکھو اور پھر دیکھو تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بڑا ملک ہوگا۔ ان پر سبز موٹے اور باریک ریشم کے لباس ہونگے اور چاندی کی گھڑیاں پہنائی جائیں گی اور انہیں اللہ پاک پانی پلائیگا۔ بیشک یہ تمہارے لئے بدلہ ہے اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ (الدھر11سے22)
طلبہ چند گھنٹے اخراجات کیلئے کام کرتے ہیں ۔24گھنٹے نوکری جاری رہتی ہے۔ جیسے یورپ میں پاکستانی ، افغانی ،ایرانی اور ہندوستانی لڑکے ویٹر کا کام ہوٹلوں پر کرتے ہیں۔ یہی مناظرہوں گے۔

 

الحدید کی” بھرپور دعوت”

فرمایا: ”کیا ان لوگوں پر جو ایمان لائے ابھی وقت نہیں آیا کہ انکے دل اللہ کے ذکر کیلئے خشیت اختیار کرلیں اور جو اللہ نے حق میں سے نازل کیا ؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ بن جائیں جن کو کتاب دی گئی اس سے قبل۔پھر ان پر لمبی عمر گزر گئی اور انکے دل سخت ہوگئے اور ان میں اکثر فاسق ہیں ۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد بیشک ہم نے تمہارے لئے آیات کو واضح کیا ہوسکتا ہے کہ تم سمجھ سکو”۔(سورة الحدید:16)
سورہ حدید میں امت کیلئے رحمت کے دو حصوں کا ذکر ہے۔ سوسال ہوئے کہ خلافت ختم ہوگئی اور اب دوبارہ قائم ہوگی تو یہ دوسرا حصہ ہے۔ اللہ نے اہل کتاب کے عروج کے بعد امت کو عروج دینے کی سورہ حدید کے آخر میں وضاحت کی ہے۔ شروع میں فتح مکہ سے پہلے و بعد والے مسلمانوں کیلئے درجات میں تفاوت اور سب کو خوشخبری ہے۔ پھر مؤمنوں اور منافقین کے درمیان آخر میں فرق کا ذکر ہے جہاں دونوں میں دیوار حائل ہوگی اور اس کا گیٹ بھی ہوگا۔ اندر سے رحمت باہر سے عذاب، جیساکہ ملیر کینٹ اور باہر کے ماحول میں واضح فرق ہے۔جنوبی افریقہ میں کالے اور گوروں کی آبادیاں الگ الگ ہیں۔ مجرموںکو کرتوت پرہی سزاہوگی۔

 

حاجی عثمان نے فرمایا:
الھم صل علی سیدنا و شفیعنا و حبیبنا و مولانا محمد و علیٰ آلہ و اصحابہ… اقیموا الصلاة و اٰتوالزکوٰة صدق اللہ العظیم دوستو بزرگو! اللہ کے امر کی عظمت اور بڑائی اگر دل میں نہ سمائی ہوئی ہو تو اس کا عمل اکثریت میں وجود میں نہیں آتا اور اسکے فوائد اور حقیقت بھی نہیں کھلتی۔ مثال نہ دی جائے مگر جیسے تخلیق ہے کہ سر اٹھائیں تو آسمان ہے لیکن اس کی وسعت اللہ کی تخلیق کا کمال دل میں سمویا ہوا نہیں ہے اسلئے انسان اس کو سرسری سمجھتا ہے شاید کوئی اہمیت دے کہ بڑی تخلیق ہے۔ اس سے بڑھ کر اللہ کا امر نماز جو عام زبان پر ہے نماز اور اس کی حیثیت اور عظمت کا امت میں یہ گرا ہوا مقام ہے کہ علماء کے سروے میں96فیصد مسلمان نماز نہیں پڑھتے اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس امر کی کوئی حقیقت، راز اور انقلاب نہیں۔ برعکس اسکے جس چیز کی اہمیت بیٹھی ہوئی ہے جیسے مال ہے تو تقریبا سو فیصد تو نہ کہا جائے اسلئے کہ اہل اللہ بھی ہیں لیکن اکثریت کے دلوں میں اس کی اہمیت ہے اور اس سے کام بنتے نظر آتے ہیں اسلئے ایک روپے کا نوٹ پھٹنا پسند نہیں کرتا یہ واضح دلیل ہے کہ امت اصلاح سے بہت دور ہے۔ حالانکہ اگر غور کریں اور اس کو روزمرہ کے اعتبار سے حیثیت نہ دیں ۔ اللہ کا جو امر اس کی ذات سے نکلے وہ اتنا اونچا ہے جتناکہ اللہ کی شان ۔ مثال نہ دی جائے سورج کی شعائیں ہیں انسان کو اس کا تجربہ ہے کہ کتنی تیز ہوتی ہیں۔ اگر یہ قریب آ جائے تو پورے عالم کو جلا کر خاک کر دے اسکے درمیان میں بڑے بڑے اللہ نے پانی کے ذخیرے بنائے۔ چھن کر یہ شعاعیں آتی ہیں یہ سائنسدانوں کی نہیں اہل اللہ کی تحقیق ہے ۔ وہ قریب آجائے تو جلا کے رکھ دے۔ حالانکہ یہ امر اللہ کا نہیں بلکہ حکم کی تخلیق اور مخلوق ہے۔ اس کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ جس میں اللہ کی تعریف ہے یہ خود بنایا ہوا نہیں اللہ نے بنایا لیکن ہر شخص تسلیم کرتا ہے اسکے نکلنے کے ساتھ زندگی کے حالات میں بڑا فرق آجاتا ہے گرمی ہونے لگتی ہے گیلے کپڑے سوکھتے ہیں کھیتیوں کو اللہ چاہے تو نفع پہنچاتا ہے ۔ اس کی تخلیق کے فوائد جو اللہ نے مرتب کی ہے اس کا ہر ایک قائل ہے۔ لیکن اللہ کا امر کتنا انقلاب رکھتا ہے ۔اس کا ثبوت مسلم عمل سے اپنا کرنہیں دیتا۔ زبان سے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے لیکن عمل سے ثابت کرتا ہے کہ کتنا بے حیثیت ہے؟۔ خدا کی قسم انسان کی زندگی میں انقلاب لانے کیلئے تمام برائیوں سے بچنے ،ناشائستہ فحش باتوں سے بچنے کیلئے تمام خیریں سمیٹنے کیلئے حضور کی شفاعت کو پانے، انوارات کو لینے ،قلب کو اجاگر کرنے، روح کو ترقی دینے ، نفس کی اصلاح کیلئے یعنی آپ جتنے اخروی اور دنیاوی نفع گنوا سکیں اس سے بالاتر اللہ نے نماز میں رکھا ہے۔ مسلم اول تو نماز نہیں پڑھتا اور جب پڑھتا ہے تو اس کو مرتب صحیح نہیں کرتا اسلئے اسکے سامنے اللہ کے وعدے نہیں آتے تو یہ بھی اس کی اہمیت کو توڑ دیتا ہے۔ اس کی اہمیت کو کسی درجے یہ بھی کھو لیتا ہے اور یہ اس نماز پہ آ جاتا ہے جو رسمی ہوتی ہے۔ امت کی اکثریت میں یہ بات گھر کر گئی اسلئے آپ کسی بزرگ کے پاس جائیے اور آپ کو کہے کہ نوافل پڑھو تو آپ کو یوں ہوگا کہ میاں کوئی خصوصی ذکر دو کوئی خاص بات بتائیے۔ جی ہاں حالانکہ اللہ رب العزت کی عادت شریفہ ہے اور عطا کا مقام ہے کہ خاص چیز اللہ چھپاتے نہیں بلکہ جو نکمی چیز ہے اس کو چھپاتے ہیں دنیا میں نکمی چیز اگر ایک اعتبار سے کیمیا ہے اور اللہ کے ہاں کیمیا کی کوئی قیمت نہیں۔ سونا اللہ کے نزدیک گھٹیا ہے اسلئے اس کو زمین میں چھپا دیا۔ معدنیات اللہ کے نزدیک سب گھٹیا ہے زمین میں چھپا دیا اور اگر یہ عمر بھر نہ نکالے تو اسکے بغیر انسان چل سکتا ہے سونے کے بغیر زندگی دوبھر نہ ہوگی چلے گی یہ پکی بات لیکن مادے کی لائن میں جو اہم چیزیں ہیں اللہ نے عام کر رکھاہے جیسے ہوا کو اس انداز سے بنایا کہ کسی کے ہاتھ نہ پڑے کہ کوئی ذخیرہ کر لے۔ اسلئے کہ مادے کی لائن میں اس کی عطا بڑی اہم ہے اور اس کو اللہ نے قطعاً فری رکھ دیا۔ پانی ، مٹی، آگ کو درجہ بدرجہ اللہ نے انسان کے مفاد کیلئے فری رکھ دیا۔ اللہ رب العزت جو سب سے بڑھ کر نفع بخش ہے وہ چیز عام کرتاہے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ رب العزت سے درخواست کی تھی اے اللہ تو مجھے ایسا ورد دے جو تیرے پاس خاص ہو اللہ رب العزت نے فرمایا اے میرے کلیم لا الہ الا اللہ پڑھو…….

مجھ سے رہا نہ گیا یہی میری مصیبت ہے ۔ حق تکلیفوں کو دعوت دیتا ہے جس نے حق کی بات کی وہ پس گیا تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں سب سے زیادہ انبیاء پس جاتے اسلئے حق سناتے ہیں یہ کسی کی رعایت نہیں کرتے۔… اماں جان نے کہا کہ صحابہ کرام کی گھوڑے پہ نماز کیسی ہو گئی؟۔ میں نے کہا گھوڑے کے سم زمین پہ لگے ۔ ہوائی جہاز کے پہئے نہیں لگتے ، زمین پہ لگنا شرط ہے اگر اہتمام صلاة کے اعتبار سے نماز پڑھ لو لیکن دوہرانا ضروری ہے۔ مولانا محمد شفیع نے فرمایا کہ ہوائی جہاز میں نماز پڑھ لو پھر دہرا لو تو ہم بیٹھے تھے تو مولانا بنوری نے کہا کہ میاں دوہرانی ہے توخواہ مخواہ ڈبل تکلیف کیوں اٹھائیں؟۔ بڑوں کی تکرار ہوتی ہے۔ ماشااللہ

 

تبصرہ : سیدعتیق گیلانی
منہاج الشریعة سراج الطریقة، معراج الامة اور مجدد دین وملت حضرت حاجی محمد عثمان قدس سرہ اللہ والے میرے پیر ومرشد اور روحانی مربی تھے۔
اہتمام نماز پر کانٹ چھانٹ کر ان کی تقریر سے کچھ مواد پیش کردیا۔ قارئین یوٹیوب پر سن سکتے ہیں جس سے زندگیوں میں ایک انقلاب آئے گا۔
حاجی عثمان کے مرید قاری جنیدالرحمن بڑے عالم خانقاہ میں فقہی مسائل کا حلقہ لگاتے تھے۔ اگر نماز کیلئے زمین کیساتھ لگنا شرط تھا اور علامہ بنوری بے خبرتھے؟۔ باجماعت نماز کیلئے ایک مکان کا ہونا شرط ہے۔ دو صفوں سے زیادہ فاصلہ نہیں ہو ۔خانقاہ چشتیہ مسجدالٰہیہ میں خواتین کا فاصلہ زیادہ تھا تو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لایاپھر فاصلہ ختم کیا مگر خانہ کعبہ جانا ہواتو وہاں کافی فاصلہ ہوتا تھا۔ گومل شہر مولانا تاج محمد کو جمعہ کے دن لکھ دیا تواس نے اپنے مقتدی بلالئے تھے۔ اگر جہاز میں نماز قضا ہو تو کیا نماز قضا کرنے کی قیمت پر جہاز کا سفر جائز ہوگا؟۔ پھر اس کی وعید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا؟۔

کیا دلیل کہ زمین پر لگنا شرط ہے؟۔ عرش تک کعبہ ہے!۔ریح خارج کرکے نماز کی تکمیل غلط تھی۔
تصویر، حلالہ اور بیوی کو حرام کہنے وغیرہ پر لاکھوں طوق وسلاسل نے فقہاء نے بنائے ہیں۔ قل من حرم زینت اللہ اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق (سورہ الاعراف32)
جیسا کہ کمپنی موبائل کے بٹن میں ذرا تغیر بھی توازن کو بگاڑ دے۔ چہرے کا حسن اگلے دو دانتوں میں اس وقت ہے کہ جب قدرتی شاہکار ہوں۔ دانتوں کے مصنوعی فاصلہ سے حدیث میں اسلئے منع کہ قدرتی حلیہ بگڑتا تھا۔ مفتی شفیع عورتوں کو بخاری کا حوالہ دیکر منع کرتا تھا مگر مفتی تقی عثمانی نے اپنے دو دانت اڑادئیے ،جو بدصورت تھے مگر بدصورتی بڑھ گئی۔ بڑے بڑوں نے بڑوں پر اعتماد کرکے اسلام کا بیڑہ غرق کردزیا اور بڑ اریورس گیر لگانا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv