پوسٹ تلاش کریں

ڈاکٹر طاہر القادری کو مشورہ اور بیان پر تبصرہ: ڈاکٹرسید وقار شاہ

تم شیخ الاسلام کہلاتے ہو، عتیق گیلانی کی کتابیں ’’ ابررحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ کو پڑھ کر تصدیق یا تردید کمال ہوگا

پدو مارناپنجاب کی عام روایت ہے لیکن شعور بیدار ہوتا تو پیروں فقیروں سے سیاسی لیڈروں تک لتھڑی شلوار وں کو کم از کم پہچانتے

قادری!شریف برادری پر بھارت کے کھلے ایجنٹ کا الزام لگا کر پاک فوج کے ذمہ داروں پر کالک مل رہے ہو؟۔ڈاکٹر وقار حیدر

ڈاکٹرطاہرالقادری عجیب الخلقت قسم کا جانور لگتاہے، اپنے کرنے کا کام وہ کرتا نہیں، شیخ الاسلام ہو تو عتیق گیلانی کی طلاق سے متعلق تحقیق کی تصدیق یا تردید کردیتا، علماء کی دنیا میں نام کماتا، عوام کا امام بن جاتا۔ یہ انکے کرنے کا اصل کام تھامگر اس پر کان نہیں ہلاتا ہے، سیاست اسکے بس کی بات نہیں، جان سے بڑاعزت کا معاملہ ہے حلالہ کے نام پر عزتیں لٹ رہی ہیں، قرآن و سنت کیخلاف فتویٰ سازی کی فیکٹریوں سے کیا گھر تباہ کرنا ، خاندانوں کو اجاڑنا، بچے خوار کرنا قرآن اوراسلام کا وظیفہ ہوسکتاہے؟۔
اگر شریف برادران ’’را‘‘ کے ایسے کھلم کھلا ایجنٹ ہیں تو یہ تم جنرل راحیل، ڈی جی آئی ایس آئی اور فوج کے منہ پر کالک مَلرہے ہو۔ہمارے ادارے اس قدر نااہل اور احمق بھی نہیں کہ جوڈاکٹر طاہرالقادری سمجھ رہا ہے۔ میڈیا میں بیٹھے بہت سے وہ صحافی جن کو صحافت کرنا زیب نہیں دیتی ہے، گھوڑوں کو دیسی طریقہ سے خصی کرنے والے کو سلوتری کہا جاتا تھا، یہ لوگ گدھوں کے سلوتری لگتے ہیں۔
جب ڈاکٹر طاہرالقادری پہلی مرتبہ کنٹینر سجاکر اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دیکر بیٹھ گئے تو شیر خواہ بچے بارش اور سخت ٹھنڈ میں بدحال تھے، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے صاحبزادے اور برقعہ پوش جواں صاحبزادی دندناتے ہوئے ٹھنڈ پروف کنٹینر میں گھوم رہے تھے، یزید کے سامنے یہ نہیں ہوا تھا کہ کربلا میں بچے سامنے پیاس سے مررہے ہوں، یا سردی گرمی سے بدحال ہوں، اس شخص نے پوری قوم ، میڈیا کے سامنے جس بے غیرتی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر آسمان کے فرشتے اور دنیا کے سمجھدار انسان کتنا افسوس کا اظہار کرتے ہونگے؟۔ جن غریبوں نے کبھی اسلام آباد دیکھا نہ تھا، ا نکے بچے کربلا کے نام پر قربان ہونے کیلئے سردی میں کنٹینر کے سامنے مررہے تھے، کھانے کو فاسٹ فوڈ مل رہا تھا تو غریب سمجھ رہے تھے کہ بلا کی سردی میں یہاں کھانے کایہ مزہ تو جنت کی طرف کوچ کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی خطابت سے انکے جذبات سے کھیل رہے تھے، یزید کے لشکر میں ایک’’ حر‘‘ سپہ سالار تھا لیکن قادری کے کنٹینر سے کسی ایک کی آواز نہیں آئی کہ اپنے جوان بچے محفوظ اور غریب کے شیر کوار بچے سردی اور بارش میں بدحال ہیں، اس وقت عامر فرید کوریجہ اتنا سوچ لیتے مگر پنجاب اور پاکستان کی عوام میں شعور کا فقدان ہے۔
اس وقت جس انقلاب کی بات ہورہی تھی، اس میں تحریکِ قصاص کا نام لینے کی گنجائش نہ تھی، اس وقت طالبان کا اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا، خرم نواز گنڈہ پور وزیرستان کے ان علاقوں میں کھلے عام گھوم رہے تھے جن میں طالبان اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مشترکہ راج تھا، جہاں وزیرستان کے اپنے باشندے بھی نہ جاسکتے تھے، اور خرم نواز طالبان کو فرشتہ صفت کہتے تھے، ڈاکٹر طاہرالقادری کا کردار یہ تھا کہ نیٹو نے مل کرکتوں کے ریلے کی طرح جب طالبان پر حملہ کیا تو مسلکی تعصب کی بنیادپر ریلے کیلئے کتیا کا کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور ان پر کتاب لکھ کر فتویٰ لگادیا کہ ’’یہ خوارج اور قتل کے قابل ہیں‘‘۔ نیٹو نے پھر عراق، لیبیاوغیرہ کو بھی تباہ کردیا، حالانکہ طاہرالقادری کو اتحادامت کا داعی ہونے کی وجہ سے اپنے مسلک والوں نے باہر کیا تھا۔یہ تو غلط کہتا ہے کہ ’’ بارود والے نہیں درود والے ہیں‘‘ کبھی درود وسلام کی آواز انکے کنٹینر سے آئی؟، خود کو پہلی مرتبہ آمدپرطالبان کا بھائی کہا تھا۔ یہ توسیاسی رقص وسرودوالے ہیں۔اسلام آباد میں لاؤڈ اسپیکر خراب کرکے اپنے فسٹ کزن کے راگ ورنگ والے کنٹینر میں پہنچ گیا تھا، یہ پولیس کی پٹائی لگوارہا تھا، اور عمران خان پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی سرِ عام دھمکی دے رہا تھا۔
جسطرح ایک پولیس افسر کی پٹائی لگائی گئی اور میڈیا نے اس کو کوریج بھی دی ،اگر نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں غیرت ہوتی تو حکومت بچانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو اسی طرح میڈیا کے سامنے اسی پولیس افسر کی سرکردگی میں ان پولیس اہلکاروں سے پٹوادیتے جن کو اسلام آباد ائرپورٹ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان بے غیرتوں کو گھر کے احتجاج پر طیش آتا ہے لیکن پولیس افسر کی توہین اور تشدد کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ میرا اپنا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے اور مجھے پنجاب کے بے شعور عوام پر ترس آتا ہے جن کو پیروں فقیروں سے لیکر سیاسی اور مذہبی لیڈروں تک سب بیوقوف بناتے ہیں،سرِ عام پدو مارنا تو عام سی بات ہے لیکن دھوتی ، شلوار اور پینٹ بھی گُو سے لتھڑی ہو تو کسی کو بدبو کا پتہ کیوں نہیں چلتا ہے؟۔ کئی دنوں سے مسلسل بک بک ہورہی ہے کہ ہمارے پاس سرکاری دستاویزی ثبوت ہیں کہ نوازشریف اور اسکا اتحادی را کا ایجنٹ اور اسکے پیرول پر ہے۔ پیرول پر ہونے کیلئے تو ضروری ہے کہ کوئی کسی کی کسٹڈی میں ہو اور اس کو وقتی طور سے چھوڑ دیا جائے، جب محمود خان اچکزئی بھارت کی کسٹڈی میں بھی نہیں تو پیرول پر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس بیرون ملک کی نیشنلٹی ہے اور یہ نیشنلٹی کس لئے دی گئی؟، ان سے یہاں فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی نیا دور شروع کرانے کا پروگرام تو نہیں؟۔
ڈاکٹر عاصم حسین سے متعلق اقرارِ جرم کے بہت سے شواہد اور دستاویزی ثبوت کی باتیں کی گئیں اور اب شاہ زیب خانزادہ نے کسی کی تحقیق منظرِ عام پر لائی ہے کہ جن دہشت گردوں کے علاج کا معاملہ اٹھاکر بڑے بڑے مقدمات بنائے گئے، جن میں نامی گرامی لوگ شامل ہیں، ضیاء الدین ہسپتال سے ان لوگوں کے نام نکلوائے گئے تو وہ سب کے سب شریف شہری ہیں، ان میں سے کوئی بھی دہشت گرد نہیں اور نہ انمیں سے کسی کو پتہ ہے کہ ان کی بنیاد پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں، رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ آپ نے رابطہ کیا ہے اس سے پہلے اس سلسلہ میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ اگر ریاست میں اتنے بڑے بڑے کام واقعی غلط طریقے سے ہوں تو یہ ملک شعور کا تقاضہ کرتا ہے، شعور سے انقلاب آسکتا ہے، اداروں، حکومت اور لیڈر شپ کے کردار کو بدلنا ہوگا۔

عمران خان کے بیان کا جائزہ اور حقائق: فاروق شیخ

عمران خان نے اسفندیار ولی کو کراچی کے جلسہ میں مخاطب کرکے کہا کہ جب تمہاری حکومت تھی تو دوبئی سے خطاب کرتے تھے!

درست بات ہے لیکن اس وقت عمران خان نے اپنی دم ایسی گھسیڑی تھی کہ کرین سے بھی کھینچ لیتے تو کٹ سکتی تھی نکل نہیں سکتی تھی

پہلے جناح کے مزار کے پاس جلسہ میں الطاف کیخلاف بولنے کی جرأت نہ کی تھی زہرہ شاہد کی تعزیت بھی نہ کی تھی۔ فاروق شیخ

یہ سیاسی لیڈر ہیں یا کوئی جوکر اور مداری؟ کیا عوام کو اتنا نادان سمجھ رکھا ہے کہ جو بکتے جاؤ، کسی نے نوٹس ہی نہیں لینا ہے۔ اگر یہ تماشہ جاری رہا تو لوگوں کے دلوں میں الطاف بھائی کی قدر ومنزلت بیٹھ جائے گی۔ کراچی کو اگر الطاف حسین کے شر، سحر، لیڈر شپ اور محبت سے فارغ کرنا ہے تو کسی ڈھنگ کے آدمی کو لانا پڑے گا۔ نشتر پارک میں الطاف حسین کے مقابلہ میں جلسہ کرنا تھا تو اسفندیار ولی کو کیوں یاد کیا؟، یاد کرنا بھی تھا تو کوئی ڈھنگ کی بات ہی کرلیتے، یہ کہتے کہ طالبان جیسی دہشت ، خون خرابہ اور مظالم کا تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ریاست اپنے ڈھیر سارے وسائل کے باوجود اتنی خوفزدہ تھی کہ مظلوم عوام کا تماشہ دیکھتی رہتی تھی ، مرد کا بچہ میاں افتخار حسین تھا جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کیا، بشیر احمد بلور تھا جو دھماکوں کے بعد پہنچ جاتا اور کہتا کہ آج ان شہیدوں کو ہم پوچھنے آرہے ہیں، کل ہماری لاش بھی یہیں پڑی ہوگی، افضل خان لالا تھا جس نے سوات سے آخری وقت تک کوچ نہیں کیا بلکہ مردانہ وار موت کا سامنا کرنے کی حد تک اپنی جگہ پر کھڑا رہا ہے، واہ یہ لوگ! باچاخان نے انگریز کیخلاف جدوجہد کابیج بویا تھا ، طالبان کا دور تو بہت خوف، دہشت اور خون خرابے کا دور تھا، یہ بہادری ان کو وراثت میں ملی تھی۔ او تحریک انصاف کے ورکرو!، سن لو، ہمارے اندر ملالہ یوسف زئی جتنی جرأت بھی نہیں۔ زندہ قیادت ایسی ہوتی ہے جیسے اسفندیار خان کے کارکنوں اور رہنماؤں نے طالبان کے آگے اپنا سر نہیں جھکایا ، ہمارا ان سے نظریاتی اختلاف ہے لیکن بہادری سے اپنے غلط نظرئیے کیلئے ابوجہل کو بھی لڑنا پڑے تو اس کو بزدل نہیں کہا جاسکتا، یہی وجہ تھی کہ ان کا صاحبزادہ حضرت عکرمہؓ جب اسلام قبول کرتے ہیں تو باپ کی بہادری کے جراثیم اسلام کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
عمران خان اے این پی کی بہادری کی داستان سناتا تو اپنے کارکنوں میں بھی غیرت جاگ اٹھتی، یہ جذبہ کراچی کی مشکل صورتحال میں کام آتا، ایک جنرل نیازی نے سقوطِ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دئیے تھے مگر نیازی ایک بہادر قوم ہے، پتہ نہیں عمران خان نیازی کہلوانے سے کیوں کتراتا ہے؟۔ اچھا ہے ان کا نام لیکر ان کو بدنام نہیں کرتا، الٹی سیدھی باتوں سے کیا حاصل ہوتا ہے؟، اگر انسان میڈیا پر ہو، عوام سے مخاطب ہو تو کوئی اچھا پیغام جانا چاہیے، عمران خان سمجھتا ہے کہ کسی اور پر کیچڑ اچھال رہا ہے اور اسکے جیسے جماعت کے رہنما اور کارکن بھی نہ کچھ سوچتے اور نہ سمجھتے ہیں ۔ نشتر پارک سے زیادہ دور جناح کا مزار نہیں، جہاں اسی عمران خان نے الطاف حسین سے مل کر جلسہ کیا تھا، کوئی لفظ بولنا تو چلو کوئی تاویل ہوسکتی ہے، زہرہ شاہد کی تعزیت کیلئے بھی نہ گیا، ایسی بزدلی کا مظاہرہ کرنے پر کراچی والوں کو پتہ چل گیا تھا کہ لغو قسم کی بکواس کرتا ہے، رینجرز اور پاک فوج کا شکریہ کھلے لفظوں میں ادا کرتا کہ طالبان کی دہشت اور متحدہ کی وحشت سے آزاد کردیا۔
لوگوں کے حافظے اتنے کمزور نہیں ہیں،الٹی سیدھی باتیں تو ہیجڑے بھی بول سکتے ہیں، جب کسی کا دور ہو تو اسکے خلاف آواز اٹھانا مردانگی ہوتی ہے۔ انڈیا کے اداکاروں کو بلواکر شوکت خانم کیلئے فنڈ اکٹھا کیا جاتا تھا، اگر اسوقت اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کو امریکہ سے لایا جاتا تو زیادہ سے زیادہ فنڈز بھی ملتے اور شدت پسند بھی دوسروں پر اٹیک کرنے سے رک جاتے کہ گھر کا معاملہ بھی ٹھیک نہیں ۔ مفتی سعیدخان نے رمضان میں اعتکاف کرنے والوں سے اپنی ہی مسجد چتھر پارک اسلام آبادجی ٹی روڈ مری میں خطاب کیا کہ ’’ مودی مذہبی ذہنیت رکھتا ہے، میں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ اسکو گائے ہدیہ کیا جائے‘‘۔ عمران خان کو چاہیے کہ سیاست چھوڑ کر کوئی دوسرا کام کرے، اسلئے کہ لوگوں میں بہت شعور ہے، پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ امپائر کی انگلیوں کے اشارے سے کوئی تاراج ہوگا اور اس کو تخت پر بٹھایا جائے گا، اس قسم کا ایک اشتہار بھی فیض کے اشعار سے بنایا گیا ہے کہ ’’جب تخت اچھالے جائیں گے‘‘ جس میں جنرل راحیل شریف کیساتھ عمران خان کی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے۔حالانکہ یہ نظم تو عمران خان جیسے لوگوں کیخلاف ہی تو فیض نے لکھی تھی۔ ہیلی کاپٹروں میں گھمانے والوں کی امیدیں دم توڑ دیں گی تو عمران خان کو کوئی گدھا گاڑی پر بھی نہیں بٹھائے گا۔ اب تو امید کی وجہ سے ریلے میں وڈے (بڑے)وڈے ساتھ ہیں۔
عوام کو فیصل واوڈا نے بے جا تکلیف دی تو عمران اسماعیل نے کہا کہ اس کام سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر حکومت نے اس کو رہا نہ کیا تو ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے۔ ہاتھی جیسے عمران اسماعیل کو بغیر سینگ والے بکرے کی طرح ایک بوڑھے شخص نے جیسے کیمرہ کے سامنے بھگایا اس سے اس کی ہمت کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ عوام کو اتنی تکلیف ہوئی، لوگ ائرپورٹ نہیں پہنچ سکے ، اس کا تعلق اگر خالی معافی مانگنے سے ہو تو قانون کا کیا فائدہ؟۔ ایک دن پولیس اس کو کھلی گاڑی میں بٹھادے اور اس وقت ٹریفک کی روانی میں عوام سے کہے کہ لعنت دیتے ہو تو بھی تمہاری مرضی اور یہ سمجھتے ہو کہ تنگ کرکے کارنامہ انجام دیا ہے سیلوٹ کرتے ہو تو بھی تمہاری مرضی۔ پھر اندازہ لگ جائیگا کہ کتنے لوگ لعنت ملامت کرتے ہیں۔ الطاف حسین سے لوگ اسلئے تنگ تھے کہ روز روز یہ ٹریفک کی کہانی ہوتی تھی۔ اب اگر اس کی جگہ واوڈا جیسوں کو لانا ہے تو لوگ ریاست کو ہی قصور وار قرار دینگے۔ راؤ انوار نے بذاتِ خود پکڑ کر زبردست کام کیا، عوام اور اہل اقتدار کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ کراچی کے لوگ بینروں، جماعتوں، ہڑتالوں اور اس قسم کی ساری حرکتوں سے تنگ ہیں، جو غلط حرکت کرے اس کا گھر بار، کاروبار بیچ کر نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ دو چار کیساتھ ایسا ہوگا تو عوام کو نجات مل جائیگی،نئے وزیراعلیٰ سے اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں، وقت سے پہلے ٹرالر چھوڑ دئیے جاتے ہیں ، قائدآباد سے ملیر ہالٹ روزانہ عذا ب کا منظر پیش کرتاہے ۔ گلشنِ حدید لنک روڈ کے ٹوٹے پل کیلئے شہبازشریف سے کوئی نسخہ لیتا تو عوام کی مراد بھر آتی۔

چوہدری نثار کے بیان پر تبصرہ : ایڈیٹرنوشتۂ دیوار: اجمل ملک

جاویدپراچہ نے انکشاف کیاتھا کہ شہباز تاثیر کی اطلاع طالبان نے چوہدری نثار کو دی تھی، پھر سلیم باجوہ کو کیوں بدنام کردیا ؟

پہل کرنے میں چوھری کی عزت ہے ورنہ پھر شکوہ ہوگا کہ ’’ بڑے بے آبرو ہوکے اس کو چے سے ہم نکلے‘‘ایڈیٹر:اجمل ملک

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا بیان آیا ، تو چودھری نثار نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سول حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل نہیں کرتی ہے۔ چوہدری نثار کی بات درست ہے تو ناصر جنجوعہ کو کیوں آخر میں ذمہ داری سونپی گئی ہے؟۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس میں کس قسم کی دلچسپی کب ظاہر کی ہے؟۔ اگر نوازشریف اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے تو سانحہ کوئٹہ کے موقع پر حکومتی صفوں میں بدمزگی پیدا کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مولانا محمد خان شیرانی اور محمود اچکزئی کا تعلق حکومتی اتحاد سے ہے۔ وزیرداخلہ کا محمود اچکزئی کے بیان کا نوٹس لینا اور مولانا شیرانی کے بیان کا نوٹس نہ لینا وزیراعظم کی طرف سے عدمِ دلچسپی کا ثبوت ہے۔ وزیردفاع اور وزیرداخلہ کا آپس میں رابطہ نہیں ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل ’’ ضربِ عضب‘‘تک محدود ہے۔
جن لوگوں نے ساری زندگی فوجی امریت کے سایہ میں گزاری ہو، جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہوں ان کو قومی ایکشن پلان کے تقاضوں کا کوئی پتہ بھی کہاں سے چلے؟۔یہ عرفان صدیقی جیسے مشیروں کے مرہونِ منت ہیں، جس نے حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کہاتھا کہ ’’ رفیق تارڑ نے کلاشنکوف بردار جرنیلوں کے سامنے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ نہ دیا تھا‘‘۔ حامد میر نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں پوچھا ’’ رفیق تارڑ نے‘‘۔ جنکے مشیر عرفان صدیقی جیسے لوگ ہوں، وہ وزیراعظم اور سول حکومت کو کس طرح قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرائیں گے؟۔ عرفان صدیقی کا مشیر ہونا اس بات کی غمازی کرتاہے کہ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کرنے کے ذمہ دار وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ’’ہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں، عرفان صدیقی کو اپنا مشیر رکھنا اس کا بین ثبوت ہے۔ فوج کو الجھانے کیلئے محمود خان اچکزئی ، مولاناشیرانی اور مولانا فضل الرحمن کو اپنی حکومت اور اتحادیوں میں شامل رکھنا بھی اس کی ایک وجہ ہے‘‘۔
جب سلمان تاثیر کے صاحبزادے کو رہائی مل گئی تو بلوچستان حکومت کی طرف سے یا جوبھی ذریعہ تھا، آئی ایس پی آر سلیم باجوہ نے بیان دیا کہ’’ ایک فوجی ایکشن کے ذریعہ سے شہباز سلمان کو رہائی دلائی گئی ہے‘‘۔ چوہدری نثار نے آئی ایس پی آر کو ذلیل کرنے کیلئے باقاعدہ انکوائری کمیٹی کا اعلان کیا تاکہ اس قسم کے جھوٹ سے آئندہ قوم محفوظ رہے۔ بڑی اچھی بات ہے، عزیر بلوچ کا اعلان ہوا کہ کراچی میں داخل ہوتے وقت رینجرز نے اپنی تحویل میں لیا تو چوہدری نثار کو چاہیے تھا کہ وضاحت کرتا کہ کسی نے ان کو حوالہ کردیا ہے ۔ سچ قوم کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن شہباز تاثیر کی خبر پر اتنا بڑا ایکشن کیوں لیا گیا تھا ؟،اس حقیقت تک جانے کی سخت ضرورت ہے۔
کوہاٹ کے جاوید ابراہیم پراچہ نے ایک ٹی وی چینل پر خصوصی انٹرویو دیا تھا کہ ’’ شہباز تاثیر کی رہائی کے معاملہ سے وزیرداخلہ کو آگاہ کیا تھا‘‘۔ اگر جاوید ابراہیم پراچہ کی خبر درست ہے تو مطلب یہ ہوا کہ وزیرداخلہ کو اطلاع مل چکی تھی، طالبان سے اس کے ذاتی مراسم فوج ، ریاست اور حکومت سے زیادہ ہیں، پھر اس کی ذمہ داری تھی کہ خواجہ آصف کے ذریعے یا براہِ راست آئی ایس پی آر کو آگاہ کردیتا، ایک تو اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور دوسرا یہ کہ سلیم باجوہ کو ذلیل کرنے پر کمیٹی تشکیل دینے کی بجائے قوم کو سچ بتاتا کہ ’’ اس کو طالبان نے اطلاع دی تھی، اسلئے سلیم باجوہ کو غلط اطلاع کسی نے دی ہے‘‘۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کو چاہیے کہ وزیرداخلہ کی خبر لیں، تعلقات اس نے بحال رکھے ہیں اور الزام تراشی فوج پر ہورہی ہے؟۔
جنرل راحیل شریف کی بات سوفیصد درست ہے کہ قومی ایکشن پلان پر اسکی روح کیمطابق عمل کرنا ہوگا۔ چوہدری نثار جس ولی خان اور محمود اچکزئی کی شخصیت سے متأثر ہیں، اس میں خود کوئی صلاحیت ہوتی تو ان لوگوں سے کیوں متأثر ہوتا۔ رؤف کلاسرا کے انکشاف کو درست ثابت کرنے کیلئے شاید وزیرداخلہ چوہدری نثار نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کے بیان کی تردید کردی ہے، اگر وہ جنرل راحیل کے بیان کی تردید نہ کرتا تو کیسے ثابت ہوتا وہ ان شخصیات سے واقعی متأثر تھا۔ جب الیکشن ہورہے تھے تو چوہدری نثار نے ایک حلقہ سے اپنی آزاد حیثیت سے بھی حصہ لیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ نوازشریف اور پارٹی پر پورا اعتماد نہیں کرتاتھا اور پارٹی کا اسکے خیال میں اس پر بھی سوفیصد اعتماد اور بھروسہ نہیں ، ایک حلقے سے آزاد الیکشن لڑنا کوئی کم ثبوت نہیں ۔ تحریکِ انصاف اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنوں سے لیکر مختلف مواقع پر اس کو اپنی مشکوک حیثیت کا طعنہ دیا گیا، بعض اوقات اس نے صفائی بھی پیش کی، اگر عمران خان سے اقتدار کی امید ہوتی تو شاید ایاز صادق کی طرح ادھر سے ادھر بھی ہوجاتا۔ کسی پارٹی میں قیادت کی ناراضگی کے باوجود اہم ذمہ دار عہدوں پر رہنا بھی تو بڑے ہی دل گردے کا کام ہے، یہ تو وہ جانے جس پر بیتے، اللہ تعالیٰ تمام مؤمنین ومؤمنات، مسلمین ومسلمات، خواتین و حضرات سارے انسانوں کو ایسے کرب و بلا کی صورتحال سے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین یا رب العالمین۔
بالکل آخری مرحلے میں جب چوہدری نثار نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھی محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی بھی مخالفت مول لے لی، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ’’چوہدری نثار نے جنرل راحیل شریف کے بیان کی تردید کو ضروری خیال کیا؟‘‘، آخری مرحلہ میں وقت بتائے گا کہ اچھا کیا یا برا؟۔ اپنے سابقہ بیانات کی تلافی کرنی تھی یا خورشیدشاہ کو ساتھ بٹھانے پر جنرل راحیل کو بھی طیش اور انتقام کا نشانہ بنایا؟۔ وزیراعظم سے بروقت چوہدری نثار لاتعلقی کا اعلان کردیں۔ نہیں تو وہ وقت قریب لگتا ہے کہ شکوہ کرینگے کہ ’’ بڑے بے آبرو ہوکے اس کوچے سے ہم نکلے‘‘۔

نوازشریف کے بیان پر تبصرہ: ( تیز وتند) عبدالقدوس بلوچ

ایسا حافظہ تو چوہے کا بھی نہ ہوگا، کون اپنا شکار کھیلنے کیلئے اتنی دور جاکر بھول سکتا ہے، یہ سچ ہے کہ’’ دروغ گو راحافظہ نہ باشد‘‘

جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا، بچوں کے احتساب تک قوم سے جتنے وعدے تھے سب لغو قسم کی باتیں تھیں۔ عبدالقدوس بلوچ

وزیراعظم نوازشریف خود کو بڑا معصوم نیک، باکردار، مخلص، انسان دوست، مذہب پرست، ملک وقوم کا وفادار، باصلاحیت اور ہر قسم کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے مبرا خیال کرتا ہے اور یہ اسکی حماقت کی بہت بڑی دلیل ہے، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، کمزوریاں اور گناہ ہوتے ہیں، کرپشن ہوجاتی ہے، نااہلی یا حماقت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے، اعتراف کرنے سے پکڑ ہوجائے تو دبے الفاظ میں کھل کر اپنی کمزور حیثیت کا اعتراف کرلیتا ہے تو اس سے لوگوں کے دل میں محبت، عقیدت، احترام اور اچھے جذبوں کو پذیرائی مل جاتی ہے۔سیاست کاروبار بناکر کی جائے ، بچوں کو خوب نوازدیا جائے تو یہ کہنا کہ ’’ میرا بچوں سے تعلق نہیں‘‘، بہت نامعقول بات ہے، قوم اتنی گئی گزری ہوتو وزیراعظم نوازشریف جو کھیل کھیلنا چاہے اس کی مرضی ہے۔ جن لوگوں کو مجاہد فورس کے نام سے متعارف کرایا ہے یہ وہی اُلو کے پٹھے ہیں جو پچھلی بار بھی آوازیں لگا رہے تھے کہ ’’ نواز شریف قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ جب پرویزمشرف تمہارے اعصاب پر سوار تھا،تو تم نے جواب دیا کہ ’’چپ کرو، پہلے بھی یہ نعرے لگارہے تھے لیکن جب مجھے ہتھکڑی پہناکر لے جایا جارہاتھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا‘‘۔ ترکی کی فوج اور عوام سے مغالطہ نہ کھاؤ، کراچی کے مہاجروں کو دیکھا جو الطاف بھائی پر جان چھڑکتے تھے لیکن وقت آیا تو قیادت کا قلادہ گلے سے اتارپھینکا۔تم تو طالبان کے دوست تھے مگر جب راحیل شریف نے انکے خلاف فیصلہ کیا تو پہلے طالبان طالبان کا وظیفہ پڑھنے والے نے اب ’’ ضرب عضب ضربِ عضب‘‘ کی تسبیحات شروع کردیں۔
محترمہ بینظیر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا، پھر بھی اس نے اپنی مہم جاری رکھی، آخر ایک بہادر باپ کی بہادر بیٹی تھی ، صحافی ہارون الرشید کے سر پر عقل کی بات پھسلتی اور تعصب کی بات چپکتی ہو تو یہ گنجے کے نصیب کی بات ہے۔ وہ ان کو بزدل سندھی اور تجھے بہادر پنجابی کہہ کراپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوگا، جنرل راحیل نے بھی سید خورشید شاہ کو عزت کے قابل سمجھا تو عزت دی۔ جھوٹے صحافیوں اور پیسوں سے کرایہ پر لی ہوئی عوام کی باتوں میں مت آنا،پاک فوج نے بدلنا نہیں، جتنے اثرات جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد فوج پر رہے ہیں اس سے زیادہ اثرات جنرل راحیل شریف کے بعد بدلتی ہوئی پاک فوج پر رہیں گے۔ماشاء اللہ، الحمدللہ۔
بدلے ہوئے جرنیل کا سب سے پہلا کام پنجاب کی غنڈہ گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف راست اقدام ہوگا، انشاء اللہ ۔ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ ، وزیر بجلی عابد شیرعلی اور دیگر وزراء کی کھلے عام دھمکیاں بڑے گھٹیا پن کا ثبوت ہے۔ آصف علی زرداری کو چوکوں پر لٹکانا تو درست تھا لیکن رائیونڈ کے محل کے سامنے مظاہرہ کرنا بڑی گستاخی ہے۔ ریاست میں بلوچوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت ہو اور پنجابیوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت نہ ہو ، تو وہ عوام جو پہلے بدظن تھے اور انکی بدظنی کو نوازشریف ، عاصمہ جہانگیر اور عمران خان وغیرہ بھی کسی حد تک سپورٹ کرتے رہے۔ ان میں سے بہت سوں نے بڑی غلطی کی کہ اپنے علاقے میں دوسری قومیتوں کو مار بھگایا۔ کراچی کے بعد بلوچستان کے حب سے لیکر گوادر ،تربت، پنجگور، قلات،کوئٹہ اور ایران تک بلوچ بھوک سے مرتے ہیں لیکن لوٹ مار ،چوری ،ڈکیتی نہیں کرتے۔ جن بلوچوں کو قومی دھارے میں لایا گیا ہے ان کی وجہ سے بلوچ عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔یہ لوگ پھر ریاست کیخلاف نہیں بلکہ پنجاب کے اس ظالم جابر اور ڈاکو کی سرپرستی کرنے والے سیاسی لیڈروں کے خلاف نکلیں گے جو عمران خان نیازی سے کہتے ہیں کہ’’ 24ستمبر کی تاریخ مت بدلو، مرد کے بچے بنو، رائیونڈ آجاؤ‘‘ یہ رانا ثناء اللہ وزیرقانون کی زبان ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپوزیشن سے مشورہ لینے کی بجائے بلوچ عوام کے پاس جائے۔ تاریخ کو برقرار رکھے۔ تبلیغی جماعت کیلئے اتنے سارے قافلے جاسکتے ہیں تو ایک دفعہ ملک سے بدمعاشی اور دادا گیری ختم کرنے کیلئے بھی عوام آجائیں گے۔
مجھے دکھ تھا کہ رانا ثناء اللہ کی آئی ایس آئی والوں نے مونچھیں اور بھنویں کیوں مونڈھ دیں مگر اب اندازہ ہے کہ یہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے باوجود ایسا مظاہرہ کرتا ہے تو پہلے کتنی بدمعاشی کرتا ہوگا؟۔ پاکستان کو چلانے کیلئے احمقوں، بدمعاشوں ، غنڈوں اور مفاد پرستوں کی بجائے پاکستان کی تمام قوموں سے مخلص ، ہوشیار، سمجھدار ، باوقار اور اچھے لوگوں کو قیادت وامامت کیلئے نکالنا ہوگا، چترال کی عوام تو سب ہی تقریباً اچھے اور شریف لوگ ہیں، وہاں ڈیم بناکر عوام کو سستی بجلی فراہم کی جائے ، افغانستان بھارت کی مدد سے اسی پانی پر ڈیم بنارہا ہے۔ نوازشریف نے مودی سے دوستی نبھانے کیلئے تو یہ مذاق نہیں کیا کہ خاص خوشخبری لیکر آیا ہوں لیکن ڈائری میں کاغذ ہے ، کاغذ مل نہیں رہا ہے، یہ تو ایک مذاق ہے، قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے اور نوازشریف سے وضاحت طلب کی جائے کہ اس کے پسِ پردہ عوامل کیا ہیں؟۔
نوازشریف عام لوگوں کے جذبات کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، پشاور میں ہمارے اخبار ضربِ حق کا ایک قاری تھا ، وہ دو، دو اخبار ایک ساتھ لیتا تھا، ایک دن شاہ وزیر خان اس کو اخبار دینے گیا تو اس نے کہا کہ میں اخبار نہیں لیتا کافر ہوگیا ہوں، پوچھا کہ کیوں؟، اس نے کہا کہ میں نے اجمل خٹک کو یہاں آفس کیلئے جگہ دی تھی، ان پر بہت خرچہ کرتا تھا، میری بڑی دکان اس وجہ سے اتنی مختصر ہوگئی ہے، میرے ذہن میں تھا کہ پرویزمشرف اسے وزیراعظم بنادینگے اور میں اپنے خرچے کئی گنا وصول کرونگا لیکن ایسا نہ ہوسکا، اسلئے کافر بن گیا، شاہ وزیر نے کہا کہ کافروں کی تو بہت اقسام ہیں تم کونسا کافر بناہے؟، اس نے کہا جو سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے ، وہ کونسا ہے ، شاہ وزیر نے کہا کہ ڈونگرا، اس نے کہا کہ بس میں وہی ہوں، شاہ وزیر نے کہا اجمل خٹک نے تمہیں یقین دلایا تھا؟، اس نے کہا کہ نہیں میں خود سے یہ سمجھ رہا تھا۔ عوام کالیڈروں سے لگاؤ خیالی پلاؤ کا ہی ہوتاہے۔

مسئلہ کشمیر اور سیون سٹار جنرل راحیل شریف کی عزت کیوں ؟

بھارت خود کوجب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے تو اسکے دماغ پر مظلوم کشمیریوں کا بھوت سوار ہوجاتا ہے۔اس کو ڈراؤنے خواب آنا شروع ہوجاتے ہیں، اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کشمیریوں کی خود ارادیت اور استصوابِ رائے کے خوفناک مناظرسامنے آجاتے ہیں، اقوام متحدہ نے سوڈان کو بھی تقسیم کردیا، پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ اور کشمیر میں بھی سکھوں کی حکومت رہی ہے اور سکھ بھارت کے ہندؤں سے بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ مشرقی پنجاب کے علاوہ مسلمانوں کی اکثریت اور بنگلہ دیش کے آزاد مملکت بن جانے کے بعد بھارتی بنگال بھی بنگلہ دیش سے مل سکتا ہے۔ ہندو فطری طور پر متعصب اور مسلمان محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مفاد اپنے پڑوسی ملک بھارت کیساتھ دوستی کرنے میں ہے، پاکستان انڈیا کے ذریعہ ایشاء کا سب سے بڑا ٹائیگر بن سکتا ہے،روس اور اس سے آزاد ہونے والی ریاستوں ،افغانستان، ایران، ترکی اورعرب ویورپ تک بھارت کیلئے پاکستان زمینی اور سمندری حدود کا راستہ ہے جس سے بھارت بھی بخوبی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور پاکستان کو بھی بہترین راداری کے ذریعہ بڑی آمدن مل سکتی ہے۔ ایک کشمیر تو بھارت کو بالکل تحفہ میں بھی پیش کردینا چاہیے۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی ایک فطری عمل تھا لیکن بھارت نے خود کو خوامخواہ بدنام کردیاتھا۔
مجلس احرار کے قائدمولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے انگریز کے خلاف زندگی جیل اور ریل میں گزاری، ان کی تقریریں ریکارڈ پر ہیں، وہ سرِ عام لوگوں کو پاکستان کا نقشہ سمجھاتے تھے کہ اتنی دور ہماری فوجیں ایک دوسرے کی مدد بھی نہیں کرسکیں گی، اسلئے بنگلہ دیش کو الگ آزاد ہونے دو، اس پر ہندوؤں کا قبضہ نہیں ہوسکتا، وہ اپنی آزادی خود حاصل کریں گے۔ ہمارے لئے سب بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے اور انگریز کے جانے سے پہلے اس مسئلہ کا حل ضروری ہے، ورنہ انگریز نے پہلے بھی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو ‘‘ کی پالیسی اپنا کر ہمیں محکوم بنایا تھا، یہ مسئلہ کشمیر دوبارہ اس خطے میں انگریز کی مداخلت کا ذریعہ بن جائیگا۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک کشمیر ہے لیکن حالات اور واقعات کا فائدہ اٹھاکر عالمی قوتیں پاکستان کے علاوہ بھارت، چین، ایران اور افغانستان سمیت پورے خطے میں تبدیلی کے خواہاں ہیں اور نئے انداز میں نئی صف بندی کے ذریعہ وہ کھیل کھیلنا چاہتی ہیں جس کی طرف ہم خود کو بھی خود ہی دکھیل رہے ہیں۔
بھارت کو دانشمندی کا مظاہرہ کرکے کشمیر سے اپنی جان ہی نہیں چھڑانی چاہیے بلکہ جنرل راحیل شریف کی خدمت میں خاص تحفہ کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جس نے اس خطے میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے عالمی خوابوں کا چکناچور کیا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ جنرل راحیل کو 7سٹار جنرل بناکر کم ازکم اگلے پانچ سالوں کیلئے نہ صرف چیف آف آرمی سٹاف بلکہ چیف آف جوائنٹ اسٹاف کا عہدہ بھی ان کے سپرد کریں۔ نوازشریف کے قریبی ساتھی طلال چوہدری کو یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی ہے کہ ’’فوج پہلے منہ چھپاتی پھر رہی تھی، ہماری وجہ سے اس قابل ہوئی ہے کہ سامنے آسکے‘‘۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اسکے یہ تأثرات سن کر بہت افسوس ہوا تھا۔
جنرل راحیل شریف کیوجہ سے بلوچستان کے بلوچ، پختونخواہ کے پختون، کراچی کے مہاجر اور پورے پاکستان کے تمام شہریوں نے سکھ کا سانس لیاہے ۔ جمہوریت کو بچانے کیلئے فوج سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ خود جمہوری جماعتیں ہیں، جن کا اپنا ایجنڈہ اپنی جماعتوں میں بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ ہے۔ ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین سے بڑا ڈکٹیٹر ، ظالم اور جاہل متکبر عمران خان ہے۔ جس طرح طالبان دہشت گردوں کی بے ضمیری اور بے غیرتی سے حمایت کررہا تھا، اس میں عقیدے اور نظرئیے کے کوئی عمل دخل نہیں تھا بلکہ غیرت کا فقدان تھا۔ عمران خان کیلئے برکی بوٹ ہاؤس ٹانک کے مالک گل شاہ عالم خان برکی نے بہت ہی زیادہ جدوجہد کی تھی لیکن جب طالبان نے اس کو زندہ غائب کردیا تو اس پر اظہارِ مذمت تو بہت دور کی بات ہے اظہارِ افسوس بھی نہ کیا۔ کراچی میں زہرہ شاہد کے قتل کے بعد عمران خان کافی عرصے بعد خصوصی ہیلی کاپٹر سے کراچی آئے ، بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا ، دو لفظ کی مذمت تک نہ کی اور تعزیت کیلئے بھی نہ گئے۔ یہ بہادری ہے یا بے غیرتی؟۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز شریف کو چیلنج کیا ہے کہ بھارت نے اس کو پاکستان میں برسر اقتدار لانے کیلئے سرمایہ کاری کی ہے۔ قادری صاحب کے سچ اور جھوٹ کو پنجاب والے جانیں لیکن ایم کیو ایم کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ کی حکومت لڑانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ دو چار اس طرح کے اور ایشوز کھڑے کئے جائیں گے اور پھر جنرل راحیل شریف کو رخصت کردیا جائیگا۔ جنرل راحیل شریف خود اقتدار کے بھوکے ہوتے تو انکے حق میں کوئی بھی آواز نہ اٹھاتا۔ اس شخص نے پوری قوم پر امن و سلامتی کے حوالے سے بڑا احسان کیا ہے اور نواز شریف پانامہ لیکس کی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔ اسلئے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کبھی نہیں کریں گے۔
پرویز مشرف نے آخر کار نواز شریف کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر کشمیر کا سمجھوتہ ایکسپریس کرنا تھا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے اپنی وردی کو اپنی کھال بھی قرار دیا تھا۔ عمران خان سمیت مفاد پرست قسم کے لوگوں کو بھی پرویز مشرف نے اپنے لئے استعمال کیا تھا۔ وہی مفاد پرست لوگ اب عمران خان اور نواز شریف کی پارٹیوں میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔
پاکستان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے کرنی ہے ، جنرل راحیل شریف عزت کے ساتھ رخصت ہوجائے تب بھی ان بدبخت سیاستدانوں اور جرنیلوں کا قلع قمع ہونا ہے جنہوں نے مملکت خداداد پاکستان کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے ہر جگہ سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو ختم کرکے چھوڑا ہے۔ جو مذہبی اور سیاسی جماعتیں ان کے بل بوتے پر عوام کے سامنے کھڑی رہ سکتی تھیں انکے خاتمے کے بعد نہتے عوام حکمرانوں کا بخوبی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کو اپنی فتح سمجھنے والے شہباز شریف اور نواز شریف اس بات کو یاد رکھ لیں کہ اب لشکر جھنگوی کے سیدھے سادے لوگ تمہاری حفاظت نہیں کرینگے۔
شہباز شریف نے پنجاب میں مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کے خاتمے پر جس طرح کا احتجاج کیا تھا ، اتنے جذبات سے تو ملا فضل اللہ کے سسر صوفی محمد نے بھی ریاست کے خلاف بغاوت کی آواز نہیں اٹھائی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے سارے محاذ فتح کرلئے ہیں مگر پنجاب ابھی باقی ہے۔ جہاں عصمت دری کے سب سے زیادہ واقعات ہوتے ہیں جو فرقہ پرستی اور شدت پسندانہ نظریات کیلئے گڑھ کی حیثیت رکھتا ہے ، جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد یہ لوگ طالبان ، لشکر جھنگوی ، ایم کیو ایم ، بلوچ شدت پسند، پیپلز پارٹی اور دیگر لوگوں سے معافی تلافی کرلیں گے کہ ہم مجبور اور معذور تھے اسلئے معافی چاہتے ہیں۔
اگر جمہوریت اور سسٹم کو بچانے کی فکر ہو تو سب سے پہلے نواز شریف اپنے بچوں کے سب اثاثے بیرون ملک سے پاکستان منتقل کردے۔ ماڈل ایان علی کی طرح پورے خاندان پر جب تک کورٹ فیصلہ نہ کرلے بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی جائے۔ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو نے بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا اور پھر اس پر دہشت گردی کا دفعہ ختم کرکے ریمنڈ ڈیوس کی طرح بیرون ملک بھیج دیا۔
اصغر خان کیس کے جرم کا بھی فوری طور پر فیصلہ سنا کر نواز شریف اور دوسرے ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور نہ اہل قرار دے کر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرح گھر نہیں بلکہ جیل بھیج دیا جائے۔ وہاں اس کو پتہ چلے گا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کہ نہیں؟۔ ہر معاملے پر جھوٹ اور پیسوں اور میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار سے خوشحالی کا جشن منایا جارہا ہے مگر قرضہ لے لے کر ملک کا دیوالیہ کردیا ہے۔ اقتصادی راہداری اور موٹر وے کو ملانے کیلئے نام وسطی ایشیائی ریاستوں کا لیا جارہا ہے اور افتتاح اسکے بالکل برعکس لاہور سے سیالکوٹ بھارت کی طرف کیا جارہا ہے۔ عمران خان اور پرویز خٹک بھی عقل سے عاری ہیں ، سوات موٹروے کے بجائے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے بنائی جاتی تو ملتان سے ڈیرہ اسماعیل خان تک کوئٹہ ، گوادر ، کراچی کا ٹریفک اسی شارٹ کٹ کی طرف منتقل ہوجاتا۔ پختونخواہ کے عوام کو کراچی ، جنوبی پنجاب ، کوئٹہ اور گوادر کیلئے سہولت سے ایک بہترین شاہراہ کا اہتمام بھی ہوجاتا۔ سوات میں موٹروے بنانے سے پہلے بڑے پیمانے پر پن بجلی سے نہ صرف پختونخواہ بلکہ پورے پاکستان کو روشن کیا جاسکتا ہے سیاستدان صرف شہرت اور تجارت کا تجربہ رکھتے ہیں باقی کچھ نہیں۔ عبد القدوس بلوچ

بگڑے الطاف حسین کے سدھرنے کا راستہ کیا ہے؟

الطاف حسین کی جو باغیانہ ویڈیو دکھائی جارہی ہے اس میں وہ کہتا ہے کہ اللہ اور اسکے نبیﷺ کے نام پر یہ ملک انگریز نے دھوکے سے بنوایاتھا۔ پھر وہ پاکستان توڑنے کیلئے اسرائیل، بھارت اور امریکہ وغیرہ سے مدد لینے کی باتیں کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے برصغیر کی آزادی کیلئے قربانیاں دی تھیں وہ تو تقسیم ہند اور آزادی کے بعد غدار ٹھہرے مگر ان کے وفادار سردار، نواب ، وڈیرے ، بیروکریٹ اور فوج اس ملک کے محبِ وطن قرار دئیے گئے۔ برطانیہ آج بھی ہمارا منہ چڑا رہا ہے کہ 70سال کی آزادی کے بعد بھی ہمارے بنائے گئے ادارے اور ان کی اولادیں تم پر حکمرانی کررہی ہیں۔ یہ مشہور بات ہے کہ گورے چلے گئے اور ان کی جگہ نااہل کالوں نے اقتدار سنبھالا ہے۔
الطاف حسین سیاستدانوں کیخلاف اس قسم کے درس وتدریس دیتا رہتا ہے اور اس میں وزن بھی ہے۔ یہ باتیں دوسرے بھی کرتے ہیں،البتہ یہ بہت ہوچکی ہیں، انگریز گیا، اب یہ ہمارا اپنا ملک ہے، اپنا نظام ہے، اسلام کو نافذ کرنے میں بھی بالکل دیر نہ لگتی مگراسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہبی طبقہ ہے، اس نے اسلام نہیں خود ساختہ غیرفطری فرقہ کا نام اسلام رکھ دیاہے جو کوئی اور بلاہے، جس دن علماء نے اسلام قبول کیا اور عوام کو فرقہ واریت کی لعنت سے نکالا تو اسلام رائج ہونے میں دیر نہ لگے گی۔ جب علماء اور مذہبی طبقہ اسلام نہیں چاہتا تو ریاستی اداروں کا یہ کام ہی نہیں ہے۔ اسلام معاشرے کے ہر چول کو سیدھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
الطاف بھائی جان اور بہت لوگوں کے دل ودماغ میںیہ بات بیٹھی کہ مہاجرین بانیانِ پاکستان کی اولاد ہیں۔ ہوں گے مگر حقائق دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم قرار دیاہے توساتھ میں یہ بھی یاد دلایا کہ ’’ انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا ہے‘‘۔ انسان اس حقیقت کا ادراک کرلے تو وہ احسن تقویم پر اترائے گانہیں،اپنی اوقات مشکل میں نہیں سہولت میں بھی یاد رہے گی۔
اصل بات یہ ہے کہ مہاجرین ہجرت نہ کرتے تو پاکستان کا ادھورا رہ جانا غلط فہمی ہے۔ جن علاقوں کی اکثریت نے پاکستان کو ووٹ دیا، ان کی وجہ سے پاکستان بنا، پاکستان پہلے بنا اور ہجرت بعد میں ہوئی، اسلئے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مہاجروں کے آبا واجداد نے ہجرت کرکے پاکستان بنایا ہے۔پاکستان مہاجرین کیلئے بہترین پناہ گاہ تھا، پاکستان کے مہاجرین پر احسانات ہیں، جنرل راحیل شریف اور نوازشریف بھی مہاجر کی اولاد ہیں، عزت ، دولت ، شہرت اور اقتدار پاکستان کا کمال ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان بننے پر قربانیوں کا سامنا موجودہ مہاجرین کے آبا واجداد کو کرنا پڑا، خاندان تقسیم ہوگئے، راستے میں قافلے لٹ گئے، آبادیوں پر حملوں سے عوام کو نقصان پہنچا۔ تاہم اگر وہ اپنے پڑوسیوں کیساتھ بناکر رکھتے، اچھے انداز میں طرزِ زندگی گزارتے تو ان کیلئے اس طرح کی مشکلات کا بھی سامنا نہ کرنا پڑتا، بٹ کے رہے گا ہندوستان ، لے کے رہیں گے پاکستان کا نعرہ لگانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اب یہ غلطی دوبارہ دہرائی جائے کہ بٹ کے رہے گا پاکستان لے کے رہیں گے ۔۔۔ تو یہ غلطی کا ازالہ نہ ہوگابلکہ غلطی پر غلطی اسلئے ہوگی کہ کراچی پاکستان کا دارالخلافہ تھا، اب سندھ کا دارالخلافہ ہے ، اسکو کاندھے پر اٹھاکے تو نہیں لائے تھے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں غریب مسلمان مہاجرین کو بڑے امیرقسم کے ہندؤں کی جائیدادوں کا مالک بنایا گیا، متحدہ ہندوستان میں بیوروکریسی اور دیگر شعبوں میں اتنی آسانی کیساتھ نوکریاں نہیں مل سکتی تھیں جتنی پاکستان میں ملی تھیں۔
میرا ایک دوست ہے جنکے والد صاحب ؒ سے بھی زبردست تعلق تھا، انہوں نے بتایا تھا کہ ہندوستان میں شکار کرکے پرندوں کا کچا گوشت کھاتے تھے۔ آج بھارت کے مقابلہ میں مسلمان مہاجرین کی حالت ماشاء اللہ بہت بہتر ہے۔ ناسمجھ عوام کو یہ شعور دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کوئی بستر نہیں جو اٹھاکر لایا گیا ،کچھ کھویا نہیں پایاتھا، پاکستان پر نہیں پاکستان کا احسان ہے۔ بنگالی اردو کی وجہ سے دور ہوئے، مہاجرین نے بنگالیوں پر ریاست کیساتھ مل کر ظلم کیا۔ایم کیوایم کیساتھ ریاست نہ ملی ہوتی تو مسلمانوں کا سب سے بڑا شہر سب سے بڑی قتل گاہ نہ بنتا،ریاست نے اپنا خفیہ ہاتھ ہٹالیا تو سرِ عام کھلی بدمعاشی کرنے والوں کی عاجزی سب کو قابل رحم نظر آتی ہے۔محمودالرحمن کمیشن میں آرمی چیف یحییٰ خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کو بنگلہ دیش کی علیحدگی کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔
پاکستان آج اردو زباں سے جڑا ہوا ہے، اردو کو سرکاری اور دفتری زباں بنانے کیلئے سب سے پہلے متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پختونخواہ میں اعلان کیا مگر پرویز مشرف کے سابقہ جگری یار چوہدری افتخار نے اس میں رکاوٹ ڈالی حالانکہ بیچارے کو خود بھی انگریزی لگتاہے کہ بالکل نہ آتی تھی۔ اگر یہ ملک اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے نام پر بنا ، الطاف بھائی جان کے آباو اجداد نے اسی وجہ سے یہاں ہجرت کی تھی تو کم ازکم موٹی موٹی باتوں کا خیال رکھنا پڑیگا۔ اللہ نے زمین میں خلیفہ پیدا کرنے کی بات فرمائی تو فرشتوں نے اعتراض کیا کہ کیا ان کو پیدا کروگے جو زمین میں فساد پھیلائیں اور خون بہائیں؟۔ اللہ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اللہ نے غصہ نہیں کیا کہ تم کون ہوتے ہو؟۔ بابر غوری نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تو الطاف بھائی نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو، جب میں نے مردہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ یہ طرز عمل اسلام اور مسلمانیت کے منافی ہے اور جب غزوہ احد میں بعض لوگوں نے سمجھا کہ رسول اللہﷺ کو شہید کیا گیا تو وہ بھاگے ، اللہ نے فرمایا: ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل أفان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم ’’ اور محمد کیا ہیں؟ ، مگر ایک رسول ، بیشک آپؐ سے پہلے بھی رسول گزرچکے ہیں، اگر آپ فوت ہو جائیں یا شہید کردئیے جائیں تو تم کیا الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔
ایم کیوایم کا یہ نعرہ کہ منزل نہیں رہنما چاہیے، ایک انتہائی لغو بات ہے، نبیﷺ سے ایک خاتونؓ کے بارے میں سورۂ مجادلہ کے اندر اختلاف کا ذکر ہے۔ حضرت عمرؓ نے بدر کے قیدیوں اور دوسرے معاملات پر اختلاف کیا تھا، حدیث قرطاس کا واقعہ بھی مشہور ہے۔ الطاف بھائی جان کو کھل کر اعلان کرنا چاہیے کہ بابر غوری، فیصل سبز واری اور جن خواتین نے میری وجہ سے طیش میں آکر پولیس اور میڈیا پر حملہ کیا ان سب سے اور اپنے تمام عقیدتمندوں سے معافی مانگتا ہوں۔ پاکستان کے تمام وہ افراد جن کو جسمانی، ذہنی اور روحانی تکلیف پہنچی ہو، وہ معاف کردیں، مجھے پکایقین ہے کہ الطاف بھائی مصطفی کمال سے بڑھ کر روئیں گے ۔الطاف بھائی کامعاملہ بڑا نہیں ،قرآن وسنت سامنے ہو تو توبہ کرنے میں دیر نہ لگے ، بغاوت کرنے والے بھی جی حضوری کی سزا کھا رہے ہیں۔ جبراورکبر نہیں پیار محبت سے ہی اصلاح ممکن ہے۔
نوازشریف نے جلاوطنی میں الزام لگایا کہ زرداری کیخلاف مقدمات پر ISI نے مجبور کیا تھا۔ جس کا ذکر سہیل وڑائچ کی کتاب میں ہے۔ نوازشریف جسکے بھی مجرم ہوں وہ آسانی سے معافی مانگنے والے نہیں لگتے ہیں۔ کراچی کی اکثریت فوجی سپاہیوں کی طرح ہیں، ان کو آرڈر پر ہی لبیک کہنا آتا ہے۔ غریب آبادیاں قربانی کے عید میں بھی گوشت سے محروم ہوتی ہیں اور کھالیں جمع کرنے والے اگر غریبوں کو گوشت پہنچانے پر بھی لگادئیے جاتے اور کھالیں انہی کو دیدی جاتیں تو شاید زمین والوں پر رحم کرنے سے آسمان والا ہم پر بھی رحم کرتا۔ جنرل نیازی کے پیچھے انڈیا میں لوگ اتنے نہ پڑے ، جتنے ڈاکٹر فاروق ستار کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے ہیں ۔ بعض صحافی توصحافت نہیں گدھوں کے سلوتری ہونے کے قابل لگتے ہیں۔ عتیق گیلانی

عبرت آموزتاریخی اور معروضی حقائق کو نظرا نداز نہ کریں

صلح حدیبیہ کے معاہدے پر صحابہ کرامؓ جذباتی ہورہے تھے لیکن رسول اللہﷺ نے اپنی صوابدید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے عالم انسانیت کو حوصلے کا زبردست سبق سکھایا، فتح مکہ کے موقع پر دشمن زیردست تھے مگر رسول اللہﷺ نے دشمن سردار ابوسفیانؓ کو عزت بخشی، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کاش ! نبی ﷺ کے پاس پہنچنے سے پہلے میرے ہاتھ لگ جاتا تو اسکی گردن اڑا دیتا، جب حضرت ابوبکرؓ کی خلافت قائم ہوئی تو حضرت ابوسفیانؓ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ ’’ ابوبکرؓ ایک کمزور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اسکو مل کرہٹاتے ہیں، آپ خلیفہ بن جائیں، میں تمہاری مدد کرتا ہوں‘‘۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’ابھی تک تمہارے دل سے اسلام کی دشمنی نہیں نکلی ہے؟‘‘۔ حضرت عمرؓ نے امیرمعاویہؓ کی صلاحیت کی وجہ سے وہ ذمہ داری سپرد کردی ،جس پر پہلے سے ایک مکی صحابیؓ مأمور تھے، جن کو رسول اللہﷺ نے مقرر کیا تھا۔
حضرت عکرمہؓ بن ابوجہل نے اسلام قبول کیا تو دل میں بھی باپ کی شکست پر خفا نہ ہوئے اور نہ اپنی اولاد میں دشمنی کا کوئی خواب چھوڑا، اسلئے کہ ابوجہل مردانہ وار لڑا اور بدر میں قتل ہوا، لڑنے میں کوئی مارا جائے یا دوسرے کو مار دے، اس میں عزت کی خرابی کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے، اسکے برعکس ابوسفیانؓ کے قصے روایات کا حصہ ہیں، یزید نے بھی ضرور سنے ہونگے، اسلئے کربلا کے واقعہ کے باوجود اس کا دل ٹھنڈا نہ ہوا، اس کے علاوہ روایات میں اہلبیت کے مقابلے میں بھی سفیانی کا ذکر ہے ایک روایت میں تین سفیانی کے مقابلے میں تین مہدیوں کا ذکرہے۔
جنرل ایوب نے میر جعفر کے پوتے سکندر مرزاکو صدارت سے ہٹاکر بنگال کو علیحدہ کرنے کی بنیاد ڈالی، ذوالفقار علی بھٹو نے لسانیت کو ہوا دینے کی بنیاد رکھ دی ۔ جنرل ضیاء نے فرقہ واریت و لسانیت کی آبیاری کی، پرویزمشرف نے تناور درختوں کے پھل کھائے، دنیا نیوز کے اینکرکامران شاہدنے ایک پروگرام میں دکھایا کہ ISI ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر اس کے ختنہ کی تصویر لے رہے تھے تاکہ اس کو ہندو اور کافر ثابت کیا جاسکے۔ یہ بھونڈی حرکت اس قائد عوام سے روا رکھی گئی جس نے بڑی تعداد میں انڈیا سے گرفتار فوج کو آزادی دلائی تھی اور کراچی میں ہتھیار ڈالنے والے جنرل نیازی کا شاندار استقبال کروایا تھا۔ جنرل ضیاء کے سیاسی فرزند اور پاک فوج کے خود ساختہ رہبر صحافی ہارون الرشید میں قربانی کااتنا جذبہ تھا کہ کامران شاہد کو کہہ سکتے تھے کہ کیمرہ مین نے اصل میں انکے دماغ کا ایکسرے کیا ہے ، یہ ا سکے سر کی تصویر تھی، ہارون الرشید تو اب بھی کہے گا کہ’’ ختنہ سے کیا ہوتا ہے ،بھٹو تو ہندو تھا‘‘۔
کامران شاہد کے پروگرام میں جوابدہ کے افتخاراحمد نے جنرل راحیل شریف کی تعریف شروع کی تو ہارون الرشید کا فق چہرہ دیکھنے کے قابل تھا، عجیب قسم کی آہ بھی نکلی مگر جب افتخاراحمد نے کہا کہ جنرل راحیل کو توسیع نہیں لینی چاہیے تو ہارون کی جان میں جان آئی۔ شہبازشریف کامران کیانی کے ساتھ کرپشن کرپشن کھیلتا تھالیکن ہارون الرشید اور شریف برادران کو صرف زرداری کی کرپشن کا وایلا مچانا آتاتھا۔ اگر عوام کو شعور نہیں دیا گیا تو کینسر کی حیثیت رکھنے والے سیاستدان اور چاپلوس صحافی پاکستان کو ہر محاذ پرکافی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ جو صحافی ہیجڑوں کی طرح حرکات کرتے ہیں ان کی وجہ سے عوام میں کبھی شعور بیدار نہ ہوگا۔
جب جنرل نیازی مرحوم نے ہتھیار ڈال کرانڈیا کے سامنے پاکستان کی ناک کاٹ دی تو حکومت اور ریاست اس کو اپنے ملک میں لانے کی بجائے بھارت سے سیدھا کسی دوسرے ملک میں بھیج دیتے، کراچی میں استقبال کی بجائے چند ٹماٹر کے وار بچوں سے بھی کروادئیے جاتے تو عوام کا شعور اجاگر ہوتا۔جنرل نیازی کے استقبال کیلئے کراچی کے جو بے شعور عوام نکلے تھے ،یہی تو الطاف حسین کے مرید ہیں؟۔ آدھا ملک ڈبونے سے زیادہ کیا نشہ کے نعروں کا حساب ہوسکتا ہے؟۔جب ریاست شعور بڑھانے کا اہتمام کریگی پھر پیروں، فقیروں اور لیڈروں کے جھانسے میں بھی لوگ نہیں آئیں گے۔ صحافیوں نے پیسہ نہیں کھایا ہے تو کچھ اس طرح کا سوالنامہ مرتب کریں کہ ایم کیوایم کے لوگوں کو عدل واعتدال نظر آئے۔
طالبان نے پورے پاکستان میں قتل وغارتگری کا بازار گرم کرکے جی ایچ کیو، آئی ایس آئی ملتان، مہران کراچی سے لیکر کیا کچھ نہیں کیا؟۔ اس وقت پاکستان کا درد رکھنے والے وہ رہنما کہاں تھے جو ہاتھ میں تسبیح لیکراداکارہ کی طرح میک اپ کرکے سج دھج کر ٹاک شوز میں بیٹھتے ہیں؟۔ ڈاکٹر عامر لیاقت پر رحم آرہا تھاجب یہ منظر دکھایا جاتا تھا کہ صحافی اس کا چھلکا اتار رہے ہیں، اسی سے مجبور ہوکر اعلان کردیا کہ ’’میں نے سیاست چھوڑ دی ہے‘‘۔ اگر وہ اتنی بات کرتا کہ میں فوج اور ایم کیوایم کے درمیان دوریاں ختم کرنا چاہتا تھا لیکن یہ میرے بس میں نہیں،یہ میری اوقات نہیں کہ کردار ادا کرسکوں تو بہتر ہوتا۔ اس نے ایک آنکھ ایم کیوایم کے کارکنوں کو ماری کہ ’’ میں غدار ہوں، اپنی اوقات دیکھ لی، تمہارے لئے کام نہیں کرسکتا‘‘تو دوسری اسٹیبلشمنٹ کو ماری کہ ’’بول نہیں سکتا لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، ایم کیوایم الطاف کے بغیر چل نہیں سکتی اور رابطہ نہ رکھنا بس میں نہیں‘‘۔
اب تو لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت پر دباؤ پڑجائے کہ تم مذہب کا نام کیوں لیتے ہو؟۔ عالم آن لائن پروگرام کیوں کیا؟۔ تو بیگم نواز ش علی کی طرح خاتون کا کردار ادا کر کے بہترین ڈانس بھی دکھائے گا اور کہے گا کہ میں تو مذہب کو بھی اسی پیشے کی طرف ہی لارہا تھا۔ اگر صحافی اسکے پیچھے نہ پڑتے تو ایم کیوایم میں رہ کر اچھا کردار ادا کرسکتا تھا۔ خواجہ اظہار سے ترجمانی کی اس میں زیادہ صلاحیت ہے مگر صحافیوں نے اس کو نہ ادھر کا چھوڑا نہ ادھرکا، حالانکہ دونوں کو ضرورت تھی۔
نوازشریف نے بھارت میں جاکر کھلے عام اپنے فوج کی مخالفت کی تھی، کیا یہ رویہ الطاف حسین کی طرف سے اپنے کارکنوں میں نشہ سے دھت ہوکر بکواس کرنے سے کم ہے؟۔ عمران خان نے اسوقت جب ضرب عضب آپریشن ابتدائی مرحلہ میں تھا، دھرنے کے دوران کہا کہ ’’پنجاب پولیس کو ہم طالبان کے حوالہ کردینگے‘‘۔ حکیم اللہ محسود کی ویڈیو کلپ ’’سلیم صافی‘‘ نے جرگہ میں دکھائی تھی جب وہ قاضی حسین کو مسلمان نہیں قوم پرست قرار دے رہا تھا، اسلئے کہ امریکہ کے اتحادی افغان فوج اور پاک فوج میں تفریق کرنا اسلام نہیں قوم پرستی ہے لیکن طالبان قیادت سے شہباز اور چوہدری نثار کی ہمدردیاں کسی تعارف کی محتاج نہ تھیں۔ چوہدری نثار نے بار بار میڈیا پر اس بات کو دہرایا کہ پرویزمشرف چیف آف آرمی سٹاف تھے تو لندن میں الطاف بھائی کو مروانے کا منصوبہ بنارہے تھے مگر میں نے روکا کہ ریاست بدنام ہوگی۔
کراچی میں پولیس اور میڈیا پر ایم کیوایم کے کارکنوں نے حملہ کیا اور اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پولیس کے افسر اور پی ٹی وی پر بھی حملہ کروایا گیا لیکن عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں۔ الطاف حسین کا دماغ بہت خراب ہے اسلئے اپنوں نے بھی اس سے دستبرداری کا اعلان کیا لیکن وہ سیاست میں نوازشریف ، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرح نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کو دیکھ لیں ، جس کا شمار ایم کیوایم کے بانیوں میں ہوتا ہے، مشکل حالات میں متوازن فیصلے کرکے پاکستان میں سیاست کی نئی بنیاد رکھ دی ہے۔
اگر جنرل راحیل شریف الطاف حسین کو پیار سے پاکستان لائیں تو اس کو ایسا ہی ماحول مل جائیگا جس سے نہ صرف سندھ کے شہری علاقوں بلکہ پاکستان میں بھی نئے انداز کی سیاست کا آغاز ہوجائیگا۔ جب طالبان کو موقع دیا گیا تو ایم کیوایم کے قائد کو بھی ضرور یہ موقع ملنا چاہیے۔ امید ہے کہ مثبت تبدیلیاں اسکے ذریعہ آئیں گی۔عتیق گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار کا اظہار لاتعلقی ایم کیوایم کا سقوطِ ڈھاکہ

میری اس سقوطِ ڈھاکہ سے 2،3 دن پہلے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات ہوئی اور ان کو مشورہ دیاکہ اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت کا فائدہ نہیں، بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کرکے بڑے جلسے میں اعلان کریں کہ’’ جتنے ہمارے کارکنوں کو پکڑ لیا ہے، اتنے اور بھی گرفتار کرلیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں البتہ پورے ملک میں یہ تأثر ہے کہ پنجاب کا مخصوص علاقہ ،ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہے جس میں دوسروں کی نسبت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔یوسف رضا گیلانی کا تعلق پیپلز پارٹی اور سرائیکی مرکز ملتان سے تھا تو اس کو صدر کیخلاف خط نہ لکھنے پر عدالت کی طرف سے سزا ہوئی اور نااہل قرار دئیے گئے مگر اصغر خان کیس میں نواز شریف مجرم ہے لیکن عدالت اس کو باقاعدہ سزا نہیں سناتی ہے کیا یہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ، لاہور اور ملتان میں تفریق نہیں؟۔ سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرینگے کہ نوازشریف اگر لاڈلہ نہیں اور تختِ لاہور امتیاز نہیں رکھتا ہے تو دونوں میں اتنا بڑا اور واضح فرق کیسا؟‘‘۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس ایم کیوایم جتنی طاقت نہیں، اس احتجاج سے بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، سرائیکی بیلٹ کی ہمدردی ساتھ ہونگی۔ ایم کیوایم کی سیاست، کارکنوں اور ہمدردوں کا رُخ پلٹے گا، اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت کا ماحول بھی نہ رہیگا، کراچی کی عوام میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت ہے ، لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ نوازشریف تسلی کراچکے ہیں کہ ہم آپ کیخلاف نہیں، فوج تمہیں نہیں چھوڑرہی ۔ 12مئی کے واقعہ میں پرویز مشرف کی ہم نے حمایت کی لیکن پتہ نہیں پھر قتل وغارت کا بازار گرم ہوا، ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہوا؟۔ پھر ساری سیاسی جماعتوں نے ہمارے خلاف متفقہ فیصلہ کیا کہ ہم سے وہ اتحاد نہیں کریں گے۔ اب پھر ہم استعمال ہوجائیں تو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن جائیں۔ فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں ہمارے حق میں آواز اُٹھائی، شاہ زیب خان زادہ نے بھی اس پر پروگرام کیا، نوازشریف میڈیا پر بھی خرچہ کررہا ہے اور فوج کی اکثریت کو بھی ہمنوا بنالیا ۔ ہماری بھی تسلی کرائی ہے تو ہم کیوں استعمال ہوں؟۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک مرتبہ جنرل احسان کو الطاف بھائی کے پاس بھیج دیا جائے تو وہ بالکل بدل جائیں گے، پوری قوم نے دیکھا کہ وہ بار بار بدل جاتے ہیں، بس ذرا سی عزت اور پیار سے ہاتھ پھیرنے کی دیر ہے، میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ الطاف بھائی سب کچھ بھول جائیں گے، جو کریمنل ہیں انکی ہم خود بھی حمایت نہیں کررہے ہیں ، پرامن کراچی ہماری بھی چاہت ہے، جو بے گناہ ہیں انکے ساتھ زیادتی نہ ہو، ایسے مجرم جنہوں نے وہ جرم نہ بھی کیا جس میں سزا ہوئی لیکن دوسرے جرائم کئے ہوں تو بھی انکی سزا پر ہم احتجاج نہیں کررہے ہیں ہم صرف بے قصور لوگوں کیلئے آواز بلند کررہے ہیں، جن کو پہلے مارا جاچکا ہے پتہ ہے کہ میرے کواڈینیٹر کے قاتل کو سزا نہیں ہوسکتی، ہم آئندہ بے گناہوں کو بچانے کی فکر کررہے ہیں۔ یہ لڑائی ہماری خواہش پر نہیں ہے اور نہ ہمارے حق میں ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہمارے مفاد میں نہیں اور دوسرے اس کا فائدہ اٹھارہے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر فاروق ستار اچھے ہیں یا بُرے؟ ، وہ تو اسکے اعمال لکھنے والے فرشتوں کو معلوم ہوگا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس نے بہت دباؤ کے باوجود خود کوبڑی شخصیت ثابت کیاہے، بہتوں کواس دباؤکا سامنا کرنا پڑتاجسکا ڈاکٹر فاروق ستار نے سامنا کیا تو ان کی شلوار یں ایک لیٹر پیشاب،ایک کلو پوٹی اور ایک کلو گیس کی بدبو سے ٹاک شوز کی محفلوں کو کشت زعفران بنا دیتیں، مہاجرقوم اور ایم کیوایم کے حقیقی قائد ، رہبر اور رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے خود کو ثابت کیا۔ ایک مشکل ترین وقت کے کٹھن لمحات میں جس جرأت، بہادری، ثابت قدمی، تحمل وبربادی کا مظاہرہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کیا ہے، انکے حوصلے پر رشک آتا ہے، اگر دنیا کا بڑا انعام ’’نوبل‘‘ ہے جو ملالہ یوسف زئی کو آدھا ملا ہے تو ڈاکٹر فاروق ستار پورے انعام کے مستحق ہیں ۔
طالبان دہشت گردوں کا دور تھا تو میاں افتخار حسین نے اس سے زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا مگراسوقت کی اسٹیبلشمنٹ اور اسکے ہیجڑے چہیتے وطن وقوم سے محبت رکھنے والوں پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگارہے تھے، جیوٹی وی چینل پر کیا کیا الزامات لگتے تھے، ہاتھ میں تسبیح لیکر صلواتین سناکرغلیل سے خواتین صحافیوں کو کنچے مارتے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وزیراعظم نوازشریف، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین ، میڈیا کے صحافیوں کو چاہیے کہ وہ سب مل کر ڈاکٹر فاروق ستار کیلئے نوبل انعام کا مطالبہ کریں۔ اس شخصیت نے ایک ساتھ ایم کیوایم کے کارکنوں کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر الطاف حسین سے جو اعلانِ لاتعلقی کیا، الطاف حسین کی ناراضگی مول لی، کارکنوں کے اشتعال کو بالائے طاق رکھا، مغلظات بک کر بھونڈے پن سے اپنی جان کی امان نہ لی، بدترین میڈیا ٹرائیل کا بہترین انداز میں اپنے اعصاب پر قابو رکھ کرعدل وتوازن سے سامنا کیا، یہ قدرت کی بہت بڑی عطاء اور نوازش ہے۔اس موقع پر میں ڈاکٹر فاروق ستار کو دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان لوگوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جو گیدڑ اور گدھ کی طرح موقع کا فائدہ اٹھاکر بزدلی سے اپنا شکار کھیلتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : الدین النصیحۃ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘ ۔
دینِ اسلام انسانیت کا علمبردار ہے، جب حضرت سیدا لشہداء امیرحمزہؓ کو شہید کرکے کلیجا نکال کرچبایا گیا تو سرکارِ دوعالمﷺ نے فرمایا کہ ’’ میں انکے 70 افراد سے یہی سلوک کروں گا‘‘۔صحابہؓ انتقام کے جذبے سے سرشار تھے ،اللہ نے فرمایا کہ ’’ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ تم اعتدال سے ہٹ جاؤ‘‘ اور فرمایا کہ ’’ جتنا انہوں نے کیا ہے، اتنا تم بھی کرو،اور اگر معاف کردو، تویہ تمہارے لئے بہتر ہے، اور معاف ہی کردو، اور ان کو معاف کرنا بھی تمہارے بس میں نہیں، ہماری توفیق سے یہ ممکن ہے‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ حضرت امیرحمزہؓ کو شہید کرنے والے وحشیؓ کو ہدایت سے نوازا، کلیجہ چبانے والی ہندؓ کو بھی ہدایت کا تمغہ دیا، اس نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ پہلے مجھے دنیا میں آپ سے زیادہ کسی سے نفرت نہ تھی اور آج آپ سے بڑھ کر محبوب چہرہ کسی کا بھی نہیں ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ سامنے کی طرف مت بیٹھو، تجھے دیکھ کر اپنے چچا امیر حمزہؓ شہید کا چہرہ یاد آتا ہے اور مجھے اذیت ملتی ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی سیرت کو اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔
پیار اور انتقام کے جذبات کے پیچھے کار فرما عوامل کچھ بھی ہوسکتے ہیں، وحی کے نزول کا امکان نہیں، ہم نے قرآن و سنت کو مشعلِ راہ بناکر پاکستان سے مسلم اُمہ اور عالمِ انسانیت کی رہنمائی کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے، باصلاحیت قائدین، عوام ، فوج اور وسائل کی ہمارے پاس بالکل بھی کمی نہیں ۔الطاف بھائی کی باتوں کونظر انداز کریں، کل وہ پھر رو رو کر کشمیریوں کے حق میں دعائیں، بھارتی فوج کو بد دعائیں دیگا، پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے میں دیر نہ لگے گی۔ پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑکر کشمیر کی آزادی اور دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے خود بنفسِ نفیس پاکستان آجائیگا۔ایم کیوایم سے لاتعلقی کا اعلان کرنیوالی ارم عظیم فاروقی نے خوب کہا کہ ’’ مجھے مصطفی کمال کو بھائی کہنے پر ایم کیوایم نے معطل کیا مگر میں ایک سیدزادی ہوں، خاندانی بیک گراؤنڈ رکھتی ہوں، بدتمیزی سے بات کرنے کی میری تربیت نہیں ہوئی ہے، میں ایم کیوایم چھوڑ چکی ہوں، دوبارہ واپس نہ آؤں گی، الطاف کو بھی بھائی ہی کہونگی، دوسری پارٹی میں شامل ہوکر خودکو پارٹیاں بدلنے والوں کی فہرست میں شا مل نہ کروں گی،میرے لئے پاکستان سب پر مقدم ہے‘‘۔ عتیق گیلانی

ایم کیوایم کو بحران سے نکالنے میں مدد کی ضرورت

ایک بہت بڑا طبقہ اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیوایم کی مخاصمت سے فائدہ اٹھاکر بہت بڑی سازش میں مصروف ہے، پاکستان برطانیہ سے الطاف حسین کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو برطانیہ کے کرتا دھرتا حکام کو ہنسی آتی ہوگی کہ جب ایم کیوایم کے کارکن کراچی میں خون کی ہولی کھیلتے تھے، اس وقت تو تمہاری اسٹیبلشمنٹ، حکمرانوں اور صحافیوں نے کچھ دباؤ ڈالنے کی بات نہیں کی، اب خالی مردہ باد کے نعرے لگانے پر اتنا طیش آگیاہے؟ اگر بالفرض برطانیہ نے الطاف حسین کو ملک بدر کرکے امریکہ بھیج دیا اور وہ امریکی شہری بن گئے تو جس طرح ریمنڈ ڈیوس نے عدلیہ ، اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی ومرکزی حکومتوں کے چہرے پر کالک مَل دی اور قتل کرکے امریکہ جانے میں کامیاب ہوا، اسی طرح امریکہ الطاف حسین کو کراچی میں کھڑا کردے ،چیلنج سے کہہ دے کہ یہ میرا شہری ہے اور اس کیساتھ زیادتی ہوئی تو میں فوجی اور USایڈ بند کردوں گا ، تو لوگ دیکھیں گے کہ ہمارا وہ غیرتمند طبقہ جو آج اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کل یہی لوگ دُم اٹھا اُٹھاکر کہیں گے کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں الطاف بھائی آپ بہت اچھے ہیں، یہاں اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں اور صحافیوں کو رویہ بدلنے کا زبردست تجربہ ہے۔ ایم کیوایم کے منحرف رہنماایک زندہ اور تابندہ مثال ہیں۔
جنرل راحیل شریف اور اسکی موجودہ ٹیم نے پاکستان کو بدلنے میں بڑی قربانی دی۔ طالبان، بلوچ قوم پرست، پنجابی فرقہ پرست اور کراچی لسانیت پرست دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اور یقینااوندھی پڑی ریاست کی ٹوٹی ریڑھ کی ہڈی کو جوڑ کر کھڑا کیا ہے۔ پختونخواہ میں لوگ طالبان کے خلاف،بلوچستان میں قوم پرستوں، پنجاب میں فرقہ پرستوں اور کراچی میں الطاف حسین کے خلاف بول نہیں سکتے تھے۔ اپنے کرپٹ فوجی افسران کے خلاف بھی کاروائی کی ہے اسلئے کہ وہ خود کرپٹ نہیں ہیں۔ نواز شریف اور زرداری خود کرپٹ ہیں اور عمران خان بھی اپنے کرپٹ ساتھیوں کی بدولت وہ اسٹیٹس کو بنارہا ہے جس کو توڑنے کا دعویٰ کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی اُٹھان نوازشریف کی بغل میں ہوئی اور پاک سر زمین پارٹی کی قیادت جس کی پروردہ ہے اسی کو گالیاں دے رہے ہیں۔
جنرل راحیل شریف سیاسی ذہنیت نہیں رکھتے ، وہ خالص پیشہ وارانہ خدمات پر توجہ دیکر قوم کی کشتی کو پار لگانے کی مخلصانہ کوشش کررہے ہیں، ان کو سیاسی حکمت عملی کا بھی مظاہرہ کرنا ہوگا، نوازشریف نے بے تحاشہ قرضے لیکر میڈیا کو اشتہارات کے ذریعہ رام کیا ہوا ہے، جب کوئی تابعدار جرنیل آئیگا تو میڈیا کو پیسہ نہیں طاقت کے ذریعہ رام کریگا۔ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں شروع سے طالبان اور ایجنسیوں کیخلاف یہی بات کررہا ہے جو اس نے وکلاء کے سانحہ پر کی ، مولانا محمد خان شیرانی کا بھی شروع سے جو مؤقف تھا اس کود ہرایا ہے، جیواور جنگ نے اپنا مفاد سمجھ کر اس خبر کی ایسی تشہیر کی جیسے حامد میر کے زخمی کیے جانے پر ڈی جی ISI ظہیر الاسلام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ایبٹ آباد میں اسامہ کیخلاف امریکی آپریشن کے بعد جیو نیوز اور باقی چینلوں پر امریکہ کے سوال کو بہت اچھالا گیا کہ ’’پاکستان کی ایجنسیاں جرم میں ملوث ہیں یا نااہل ہیں؟۔‘‘ جسکے جواب میں ہم نے جیو سمیت تمام ٹی وی چینلوں کو مسیج کردیا کہ ’’ 9/11کاواقعہ امریکہ کے ملوث ہونے کی وجہ سے تھا، یا اس کی نااہلی تھی؟۔‘‘ جو بیشتر چینلوں نے اٹھایا اور اس کی وجہ سے امریکہ کا توپخانہ بند ہوا، دیکھا جائے کہ کس نے پاکستان کے دفاع کو کیوں ترجیح نہ دی تھی؟۔
ایم کیوایم نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اس بات کا ثبوت دیا کہ واقعی نوازشریف نے ان کو کھڈے لائن لگانے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ میں نے ڈاکٹر فاروق ستار سے یہ بھی کہا کہ’’ سیاسی جماعتیں آپکی ہمدرد نہیں‘‘ لیکن انہوں نے مجھے فوج کا نمائندہ سمجھ کر اپنے کام کو جاری رکھنے کو ترجیح دی، پھر وہ ہوا، جس کی میں نے پیش گوئی کردی تھی، اے آر وائی کے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا کہ ’’پانی نکالنے سے کنواں صاف نہ ہوگا جب تک کتا نہیں نکالا جائے‘‘۔ پھر پیمرا کے ذریعے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہی 45دن کی پابندی لگاکر نکالا گیا۔ ایم کیوایم نے بھی حکومت کی طرح اے آر وائی کو ہی نشانہ بنایا۔ پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر کو اپنے بھائی نصیراللہ بابر کی طرف سے کاروائیاں کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں لگ رہی تھی اور اب انسانی حقوق پر آواز اٹھاکر ایم کیوایم کو کھڈے لائن لگایا۔
ایم کیوایم کیساتھ 1992ء کے آپریشن کے مقابلہ میں رینجرز کا رویہ کافی بہتر ہے،آج ایم کیوایم میں پہلے جیسی صلاحیت نہ رہی، اس کا بڑا کریڈٹ زرداری کو بھی جاتا ہے جس نے ایم کیوایم کو حکومت میں بار بار شامل کرکے اسکی ساکھ کوزبردست نقصان پہنچایا، جانثاروں میں وہ جان نہ رہی جو ایم کیو ایم کے کارکنوں اور رہنماؤں کا خاصہ تھا۔ جیوو جنگ کا نامور صحافی حسن نثارکہتا تھا کہ ’’ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین واحد سیاسی قائد ہیں جو اپنے کارکنوں کو ٹیچر کی طرح تربیت دیتے ہیں، باقی تو ساری سیاسی قیادت اور کارکن کچرہ ہیں‘‘۔ کیا حسن نثار مؤقف بدلے تو ایم کیوایم کے کارکن عظیم دانشور قرار دیکر یقین کرینگے کہ حسن نثار زبردست تجزیہ نگارہیں؟۔ اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر فاروق ستار اور اسکی ٹیم کو موقع دیکر بہت اچھا کیا ہے، صحافیوں اور سیاستدانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ رینجرز کے جذبات کو ابھار کر ایم کیوایم کیخلاف اپنا ذاتی عناد نکال لیں، فوج کو بھڑکانے کی بجائے ایم کیوایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی اصلاح کریں۔ ایم کیوایم کے بانی کو دھکیلنے کی بجائے علم ودانش کی نکیل ڈالیں۔
کراچی کے نومنتخب ناظم وسیم اختر نے بالکل درست کہا کہ ’’ مرد کے بچے ہو توپھر 12مئی کا مقدمہ پرویز مشرف پر چلاؤ‘‘۔ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر کو بڑھکانے کیلئے میڈیا پر یہ بیان بار بار چلایا گیا، پرویزمشرف پر مقدمہ ہو یا نہ ہو لیکن ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردئیے گئے۔ وسیم اختر نے طعنہ اور طیش دلانے سے کام نہ لیا ہوتا تو وہ خود کو کیسے مرد کا بچہ سمجھتا؟۔ وسیم اختر کی بات درست ہے کہ یہ لوگ مرد کے بچے نہیں جو پرویز مشرف پر مقدمہ نہیں چلاتے۔ یہ حقیقت ہے کہ فوج کے جرنیل مرد نہیں ریاست کے بچے ہوتے ہیں ، ریاست مرد یا باپ نہیں ماں ہوتی ہے۔اس میں بھی شک نہیں کہ ایم کیوایم کے علاوہ کسی نے یہ نعرہ نہیں لگایا کہ ’’جس نے قائد کو بدلا ، اس نے باپ کو بدلا‘‘۔ اسلئے کوئی ایسی جماعت نہیں جسکے رہنما اور کارکن ویسے باپ اور مرد کے بچے ہوں مگر باپ کام سے ریٹارڈ ہوسکتا ہے۔
البتہ سوال یہ ہے کہ کیا مرد کا بچہ ایسا ہوتا ہے کہ پرویزمشرف اور لندن میں بیٹھے اپنے قائد کے کہنے پر12مئی کے واقعہ میں کردار ادا کرے اور پھر کہہ دے کہ مجھ پر سیاسی مقدمہ ہے؟ کیا ایسے مرد کے بچے سے ریاست ماں کا بچہ ہونا بہتر نہیں ہے؟۔ کیا مرد ایسا ہوتا ہے کہ خود لندن میں بیٹھ کر اپنے چاہنے والوں کی جان ، مال، عزت، سیاست اور سب کچھ کو داؤ پر لگادے؟۔ ایم کیوایم کے جذباتی کارکنوں کو میں تہہ دل سے سلام پیش کرتا ہوں جو یہ بات سوچنے پر بھی اس وقت تیار نہیں کہ الطاف بھائی کو بُرا کہیں۔یہ بڑے بے غیرت قسم کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے جو کسی پر برا وقت آنے پر گرگٹ کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ ویسے تو قرآن میں زبردستی سے کلمہ کفر کہنے پر بھی اللہ نے معافی کی گنجائش کا ذکر کیا ہے لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی جان پر کھیل کر الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے ، کیونکہ جو جذباتی کارکن ہوتے ہیں ان میں سمجھ نہیں ہوتی ، اس کا کچھ بھی ردِ عمل آ سکتاتھا۔ اسلئے جذباتی کارکن ، ریاست اور صحافی ڈاکٹر فاروق ستار کو بہت رعایت دیں۔اتنا ان کو الطاف حسین کیخلاف مجبور کرنے سے ان کی اپنی بھی کوئی حیثیت نہ رہے گی۔ عتیق گیلانی