پوسٹ تلاش کریں

ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک کا بیان

وزیراعظم نوازشریف اعلان کردے کہ ’’ زرداری بھی قوم کا پیسہ لوٹادے اور میرے بچے بھی لوٹادیں، انصاف کیمطابق فیصلہ نہ ہوا تو احتجاج کی قیادت میں خود کرونگا‘‘۔
جنرل راحیل شریف نے غیرجانبداری کا کردار ادا کرکے قوم ،ملک اور سلطنت کو مضبوط کیا۔ جج کی پریکٹس وکالت کی ہوتی ہے اسلئے اسکے ضمیر پر قوم کاکوئی اعتماد نہیں ہوتا
اکبر الہ آبادی نے کہا : وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا ۔ صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہتا ہے کہ اس شعر کو بھول جاؤ، حق تو یہ تھا جو ادا ہوا

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ’’ جب جج، جنرل اور جنرنلسٹ(صحافی) جانبدار بن جائیں تو ان کو جبری طور سے جیل جانا چاہیے۔ جنرل راحیل کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرکے قوم، ملک اور سلطنت کو استحکام کے راستے پر ڈالا۔ حکومت اور اپوزیشن میں اعتدال کی راہ پر چلے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری عمران خان اور نوازشریف شہباز شریف میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر خورشید کو یومِ دفاع کی مرکزی تقریب میں ساتھ بٹھایا، مسلم لیگ ن کی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ کھل کر اظہار کرتی کہ’’ غیرجانبدار آرمی چیف اور فوج کے کردار پر فخرہے،جو سازشی عناصر کے پیچھے بھی نہیں اورنہ حکومت کی دُم چھلہ ہے‘‘۔ مگر ن لیگ کی قیادت ہی ایسی کم عقل ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور آرمی چیف نے کرپشن کیخلاف بیان دیا تو نوازشریف کو اس کا بھرپور خیرمقدم کرنا چاہیے تھا، وزیراعظم نے الٹا حساب مانگا ،کہ’’ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا ، ہتھکڑی لگائی، حکومت ختم کی گئی اسکا حساب کون دیگا؟‘‘۔میڈیا کو چاہیے تھا ،کہتاکہ’’ جواب اپنے باپ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے لے لو، جس نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو قانون سازی کرنے اجازت دیدی۔نامزد چیف جسٹس ٹھیک کہتے ہونگے کہ ’’ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا۔ عوام مایوس نہ ہوں۔ہم انصاف ہی کرینگے‘‘۔
انسانوں کے ضمیر میں اختلاف ہوتاہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں بھائی اور پیغمبر تھے۔ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں سامری کے ورغلانے سے ایک بچھڑے کی عبادت شروع کردی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عوام کو سزا نہیں دی ، اپنے ذمہ دار بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا، حضرت ہارونؑ نے کہا کہ ’’میں نے اسلئے منع نہ کیا کہ ان میں تفریق پیدا ہوتی، جس پر آپ کہتے کہ قوم کو تقسیم کردیاہے‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ناراض ہونا اور حضرت ہارون علیہ السلام کا نظریۂ ضرورت پر عمل کرنا ضمیر کا اختلاف تھا کوئی کوتاہی نہ تھی۔ یہ سچ ہے کہ جسٹس منیر سے لیکر جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کئے ہونگے لیکن ضمیروں کا اختلاف بھی قوم کیلئے بعض اوقات اطمینان کا ذریعہ نہیں بن سکاہے۔ ن لیگ نے جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، ڈوگر کے خلاف طوفان برپا کیاتھا، جسٹس قیوم کا فون اور اقرارِ جرم ریکارڈ پر ہے۔وزیرداخلہ چوہدری نثارنے ٹھیک ٹھاک پریس کانفرنس کردی ہے اور ٹھنڈی فوج کی موجودگی میں عدالت کیلئے حکومت کے خلاف انصاف سے فیصلہ کرنا بھی ضمیر کیلئے بڑے دل گردے کا کام ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا اور نبیﷺ نے اپنے ضمیر کے مطابق ہی کیا تھالیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت کے ضمیر اس پر متفق نہ تھے اور کھل کر اپنے اختلاف کااظہارِ رائے کررہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کو وحی کے ذریعے فتح مبین قرار دیا۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے بدر ی قیدیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق فدیہ لیکر رہا کرنے کا مشورہ دیا اور نبیﷺ نے فیصلہ فرمادیا لیکن اللہ نے اس کو نامناسب اور دنیا کی چاہت کا آئینہ دار قرار دیا۔ وحی کا سلسلہ بند ہوچکاہے اور عدلیہ اپنے ضمیر کے مطابق انصاف کرے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور قوم کو فیصلے سے اختلاف ہو تو بھرپور احتجاج کا حق بھی رکھتی ہے ۔اپنے لئے شہبازشریف ڈوگر کیخلاف چیخا تھا ،قوم کیلئے بھی کھل کر کردار ادا کرے۔
جیو اور جنگ گروپ جمہوری نظام کی سہولت کاری کے طور پر فوج کو بدنام کرے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو سو خون بھی معاف ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو دوام بخشنے کیلئے یہ کردار ادا ہو تو اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟، شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں جنید نے حامد میر کے ذریعہ پیپلزپارٹی کیخلاف ن لیگ کے اقدام کو غیر مناسب قرار دینے کا سہرا پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کا نام لئے بغیر ڈالا۔ یہ جیو کی منافقانہ پالیسی ہے کہ 27دسمبر سے پہلے پیپلزپارٹی کو رام کرنے کیلئے پروگرام کیاگیا، روزنامہ جنگ کراچی میں مین لیڈ لگی تھی کہ وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہے۔ حالانکہ اسی شام میڈیا پر لائیو پروگرام میں حامدسعید کاظمی حلفیہ بیان دے رہے تھے کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی ہے۔ کیا جنگ اور جیو کو اعترافِ جرم کیلئے بہت مجبور کیا جائے گا تو اپنا اخلاقی فرض ادا کرینگے؟۔ آزادئ صحافت پر قد غن کا لگانا بڑی بیمار ذہنیت کی علامت ہے، سرِ عام جھوٹ کا بکنا بذاتِ خود بڑی سزاہے مگر اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی سیاسی جماعت کی سپورٹ یا مخالفت صحافت کے مقدس پیشے سے بدترین بددیانتی کا ارتکاب ہے۔ غیرجانبداری کے بل بوتے پر ہی صحافت کی اجازت ملتی ہے۔ آج صحافیوں اور میڈیا چینلوں کی اکثریت کھل کر انحراف کے مرتکب ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کو قانون صحافت کی اجازت نہیں دیتا مگر یہاں تو آوے کا آوابگڑا ہواہے۔بازارِ صحافت کا ہر میراثی نمبر ون کے دعوے کرتانظرآتاہے۔
قوم کو عدل واعتدال والے ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی سخت ضرورت ہے۔ عدالت اگر سابقہ ججوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے بے انصافی کرنے والوں کو سزا دے تو جرنیل کو بھی شکوہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف کی طرح ججوں کو بھی کٹہرے کا سامنا کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ضمیر کے مطابق ہوسکتا تھا کہ بعض ججوں کو پی سی او کے تحت ہی حلف اٹھانے پر انہی ججوں نے سزا دی جو خود ہی اس جرم میں ملوث رہے تھے۔ ضمیروں کا اختلاف بڑی رحمت ہے اور بعض اوقات ضمیروں کے اختلاف رحمت بھی بنتاہے لیکن بعض اوقات پتہ چلتا ہے کہ ضمیر اتنا آلودہ ہوچکا ہوتاہے کہ قانون کیساتھ جج بھی خود کو اندھا وکیل بنالیتاہے۔ قصور اس کا اس لئے نہیں ہوتا کہ ’’ہمارے نظام میں وکالت کی پریکٹس کرنے والوں کو بھی جج بنالیا جاتاہے‘‘۔ وکیل کا کام انصاف کرنا نہیں ہوتا بلکہ مجرم کو تحفظ دینا ہوتاہے، اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر سے معذرت کیساتھ جس کرپٹ اور جرائم پیشہ شخص کی معزز وکلاء صفائی کا ٹھیکہ اٹھالیں تواکبر الہ آبادی کے شعر کی یاد تازہ ہوگی کہ وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہ رہاہے کہ ’’اس شعر کو بھول جاؤ، مجھے دیکھو، حق تویہ تھا جو ادا ہوا‘‘۔
پوری قوم اور سیاسی قیادت کو نکل کر کہہ دینا چاہیے کہ ’’ اگر انصاف کا قیام عمل میں لایا گیا تویہ خوشگوار طریقے سے تبدیلی قوم کی خوشحالی ہوگی‘‘۔ نوازشریف کہہ دے کہ مجھے عدالت سے انصاف چاہیے، زرداری بھی چور تھا اور میں نے ٹھیک کہا تھا کہ قوم کا پیسہ واپس آنا چاہیے، میں بھی چور ہوں اور اپنے بچوں اور دوستوں کے نام پر پیسہ لوٹانے کے خلاف عدالت کو میرے خلاف بھی درست فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ قوم کے احتجاج کی قیادت مجھے کرنی پڑیگی، مجھے انصاف دواور زرداری کو بھی پیسہ لوٹانے پر مجبور کردو، یہ قوم بہت پس چکی ہے، اب کہیں ہمیں پیس کر نہ رکھ دے‘‘ ۔اجمل ملک

سیاسی نظام کی اصلاح

سب سے زیادہ قابلِ داد وہ سیاسی ورکر ہوتاہے جو غریب کی ہر مشکل میں کام آتاہے، ڈکٹیٹر شپ قوم پر مسلط ہوتی ہے تو یہی ورکر اور رہنما جیلوں کی صعوبت برداشت کرتے ہیں۔قربانیاں دیتے ہیں، عوام کے درمیان رہتے ہیں، جینے مرنے میں ساتھ ہوتے ہیں، باغی کہلاتے ہیں، جیالا اور جنونی کہلانے پر فخر کرتے ہیں ، مخالفین کی طرف سے آسائشوں کی پیشکشوں کوٹھکراتے ہیں اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگاکر نظرئیے ، تبدیلی اور عوامی خدمت کو اپنا مشن بناکر رکھتے ہیں، دوسری طرف سیاسی قیادت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، ان کا علاج ملک سے باہر ہوتاہے، ڈاکٹروں کی مبہم سی ہدایات پر دنیا بھر میں گھوم سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں آسکتے۔ جھوٹی بیماریاں جھوٹے علاج کرنے والے قائدین کے چاہنے والے غریبوں کو سچ کی بیماری اور سچ کا علاج بھی نصیب نہیں ہوتاہے۔
ایں خیال است و محال است کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے سے کوئی مثبت اور بنیادی تبدیلی آئے گی۔ قانون بنایا گیا کہ قومی اسمبلی کے الیکشن میں 15لاکھ سے زیادہ رقم خرچ نہ ہوگی لیکن کیا اس پر عمل درآمد ہوا؟۔ ایاز صادق اسپیکرقومی اسمبلی اسپیکر اور تحریک انصاف کے علیم خان نے15لاکھ کے بجائے 15,15کروڑ کا خرچہ نہیں کیا بلکہ نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن کے جیو کا پروگرام تھا جس میں50,50کروڑ سے زیادہ خرچہ کرنے کی بات عوام کے سامنے لائی گئی۔ اور جہانگیر ترین کو اس حلقے والے جانتے بھی نہ تھے جہاں سے الیکشن لڑا ، ایک ارب کا خرچہ میڈیاپر بتایا گیا۔ جسکے پاس الیکشن لڑنے کیلئے 15لاکھ روپے ہوتے ہیں وہ غریب اور پسے ہوئے طبقات کا دکھ درد نہیں سمجھ سکتاہے اور جہاں طلال چوہدری دانیال عزیز، جہانگیرترین اور دیگر لوٹے شوٹے قیادت کی آنکھ کا تارا ہوں، ان موتیا کے مریضوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے کبھی نظر نہیں آسکتے ہیں۔ ایک ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو غریب ، قوم اور جمہوریت کی آواز بن کر اُبھرے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے انتظار میں عمران خان نے اپنا لائحۂ عمل بعد میں دینے کا اعلان کیا،حالانکہ جب پنڈی میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے جلسہ کیا تھا اس کا بھی عمران خان نے انتظار کیا تھا، ڈاکٹر طاہرالقادری کے بعدہی رائیونڈ جانے کا اعلان کیا لیکن فسٹ کزن نے سرخ بتی دکھادی، جب عمران خان نے 2نومبر کا اعلان کیا تھا اور فضا گرم تھی تو پھر بلاول بھٹو نے بھی 7نومبر کا اعلا ن کردیا تھا۔ اللہ خیر کرے کہ چوہدری اعتزاز احسن کو بلاول بھٹو حکم نہ دے کہ پانامہ لیکس میں نوازشریف کے وکیل بن جاؤ، زرداری کو بھی قابل وکیلوں نے بچایا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کو اردو صحیح نہیں آتی ورنہ اور کچھ نہیں تو نواب شاہ اور لاڑکانہ کے الیکشن کو جیتنے کیلئے شہبازشریف کو پرجوش تقریروں کا حوالہ دیتا کہ ’’ تم نے کہا تھا کہ صدر زرداری کو لٹکا دونگا، اب آؤ، تم زیادہ پکے مسلمان ہو، وعدہ کو قرآن و حدیث کی رو سے پورا کرنا ضروری سمجھتے ہو، پانامہ لیکس سے آلودہ نہیں دامن صاف ہے تو اس جوش کیساتھ خالی تقریر ہی کرکے دکھادو، کہ زرداری کو میں گھسیٹوں گا، پیٹ چاک کرونگا، چوکوں پر لٹکاونگا۔ میں بھی کہتا ہوں کہ کراچی سے جو پائپ لائن قطری گیس کی جارہی ہے، ایران کی سستی گیس کو چھوڑدیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف مل جاتی تو اسی پائپ لائن کے اندر دونوں بھائیوں کو ڈال دونگا، بھلے نون لیگی مجھے شائستگی سکھادیں‘‘۔
عبدالحکیم بلوچ نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی، پھر ن لیگ میں وزیرِ مملکت برائے ریلوے بن گئے اور پھر وزارت کو لات مارکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ انکے حلقہ صالح محمد گوٹھ میں ویرانے کی طرف میمن گوٹھ جاتے ہوئے ایک پرانا کھمبا پڑا ہے، جس کو قانون کے خوف سے چور نہیں لے جاتے مگر ٹانک سے بنوں تک پورا ریلوے ٹریک نوازشریف نے اتفاق کی بھٹی میں ڈال دیا۔ بڑے چوروں نے سیاست کو تجارت بنالیاہے۔درباری ملا دوپیازے ہر دور کے بادشاہوں کو میسر آجاتے ہیں، پاکستان کی سیاست کے فیصلے لندن میں ہوں، لندن میں رہنے والے کریں تو قوم کو کبھی درست سمت نہیں لے جاسکتے۔ جبتک جنرل راحیل شریف سے اہل اقتدار خوفزدہ تھے تو بھارت نے ہمارے معصوم لوگوں کو سرحد پر مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہندوستان سے دوستی ہونی چاہیے لیکن اسلئے نہیں کہ سرحدوں پر بھی دوستی نبھانے کیلئے ٹینشن کا کام لیں۔
پنجاب حکومت نے عوام کو گدھوں کا گوشت کھانے سے بچانے والی عائشہ ممتاز اور سندھ نے ایماندار پولیس آفسر اے ڈی خواجہ کو ہٹادیا۔ پانی سے مالامال اور سستی بجلی پیدا کرکے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے سوئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس سے بھی سیاستدانوں کے پیٹ نہیں بھرے اور مخلص ورکروں اور رہنماؤں کا فرض بنتاہے کہ خودہی اپنی اپنی قیادتوں کے خلاف بھی آواز بلند کر دیں۔ سیاست ملازمت کی طرح بن جائے تو پاکستان میں جمہوری کلچر کبھی پروان نہیں چڑھے گا۔

ریاستی نظام کی اصلاح

ہماری سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں بافی قوم کی طرح اچھے برے لوگ ہیں مگرکوئی اپنے اہل و نااہل بیٹے یا بیٹی کو آرمی چیف نہیں بناسکتا اور جس سیاسی ، جمہوری اور آئینی نظام کے ماتحت ہماری سول وملٹری بیوروکریسی ہے وہاں موروثی نظام کے تحت بیٹا، بیٹی، پوتا اور نواسہ عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ میڈیا سکرین پر راج کرنیوالے صحافی نظام کی تبدیلی کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مقابلہ میں موروثی جمہوریت کو سپورٹ کرکے جمہوریت کی خدمت سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو تین طلاق دینے کے درپے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے توقع رکھتے تھے کہ 27 دسمبر کو بڑا اعلان ہوگا۔ باپ بیٹے نے اچھا کیا کہ ’’ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی تمنائیں رکھ کر جینے والوں کی خواہش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا کہ اسی اسمبلی کا حصہ بنیں گے جس پر کرپشن کا شاہسوار ہی حکومت کرنیکی اہلیت رکھتاہے‘‘۔ یہ کھیل بالکل ختم ہونا چاہیے کہ جمہوری حکومت پردباؤ ڈال کربیوروکریسی کے کرتے دھرتے اپنا الو سیدھا کرکے بیٹھ جائیں۔جنرل راحیل کے مداح سراؤں نے نیا موڑ لیا کہ’’ عمران خان بڑی چیز ہے،راحیل کی بات نہیں مانی ورنہ معاملہ بدلتا‘‘۔ عمران کہے گا کہ یہ کیا بکواس ہے؟۔
ڈاکٹر طاہرالقادری سے انقلاب کی کیاتوقع ہوگی کہ رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا ، پھر اسکی طرف جانیوالی راہ پر بھی احتجاج جمہوریت و اسلام کیخلاف قرار دیا۔ عمران خان نے بھی دس لاکھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا لیکن اس خوف سے کہ اس کو بنی گالہ سے نہ نکالا جائے ، اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنی حفاظتی حصار کیلئے پاس بلالیا اور کارکنوں کو مار کھلانے کے بعد خود کو بچانے کیلئے مبارک ہو، کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ عمران خان نے یوٹرن لے کر بڑی غلطی کی اور عمران کہتاہے کہ تم اپنے یوٹرن کو کیا بھول گئے؟۔ یہ طے ہے کہ کوئی مرتاہے تو آس پاس والے کفن دفن اور جنازہ پڑھنے کیلئے پہنچتے ہیں، شادی کے موقع پر بھنگڑے ڈالنے لوگ آتے ہیں۔ موجودہ سیاسی لیڈر شپ میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ عمران خان نے بھی نہ صرف پرویزمشرف کی حمایت کا کردار ادا کیا تھا بلکہ دھرنے میں لمبے عرصہ سے امپائر کی انگلی اٹھنے کیلئے التحیات للہ والصلوٰ ت والطیباتپڑھنے کا ورد سلام پھیرنے تک جاری رکھا، طالبان کیلئے ایاک نعبد و ایاک نستعین اور اب امام ضامن بھی باندھا۔
مولانا فضل الرحمن کی بات ٹھیک ہوگی کہ مدارس سے ایک دہشت گرد نہ پکڑا گیامگر جے یوآئی (ف) کے رہنما مولانا سید محمد بنوریؒ کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں امریکہ نے ڈرون حملے سے تو شہید نہیں کیا؟۔خود کشی کا الزام لگایا تو خود کشی کرنیوالے کو مسجد کے احاطہ میں دفن کیا؟۔ جنرل ضیاء اور جنید جمشید کی باقیات کو عزت ملی، جنرل مشرف نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھنے کو اعزاز قرار دیا، اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خانہ کعبہ میں داخل ہونے کا اعزاز مل گیا۔ خانہ کعبہ میں رہائش پذیر ہونے کا اعزاز لات،منات سمیت 360 بتوں کو بھی ملا تھا، ظالم جابر بادشاہوں کو تاریخ کے ہردور میں خانہ کعبہ کے غلاف میں منہ چھپانے کا اعزاز ملتا رہا مگر حقیقی اعزاز توکردار کا ہوتاہے۔ صحافی سلیم بخاری نے کہا :جمعیت علماء ہند کے ایک عالم نے بتایا کہ ’’باجوہ کا خاندان سنی ہے‘‘۔ مجھ سے بڑے بھائی پیرنثار احمد شاہ سے کہا گیا تھا کہ اگر انٹرویو میں کہہ دو کہ احمدی ہوں تو فوج میں سلیکٹ ہوگے، بھائی نے یہ تو نہ کیا البتہ سیدعطاء شاہ بخاریؒ کو اپنی محبوب شخصیت قرار دیا، ہوسکتا ہے کہ باجوہ نے بھی سلیکشن کیلئے کہہ دیا ہو کہ احمدی ہوں اور پھر ترقی کیلئے برأت کا اعلان بھی کیا ہو، مجھے زیادہ معلومات ہیں اور نہ دلچسپی۔ کسی نے بتایا کہ جنرل رحیم اچھا انسان اور قادیانی تھا جو جنرل ضیاء الحق نہیں اعجازالحق کا سسر تھا۔ قادیانیوں نے بھی مذہب کو پیشہ بنایاہے اور دوسروں سے زیادہ ان پر مذہبی خبط سوار ہے۔ ہماری فوج، عدلیہ،انتظامیہ اور سیاسی قیادت بنانا انگریزہی کا کارنامہ تھالیکن مدارس اور مذہبی لوگوں نے اسلام کا ایسا بیڑہ غرق کردیاہے کہ اگر انگریز کے ہاتھ میں یہ مدارس ہوتے تو شاید دنیا کی سطح پر ابھی اسلامی خلافت کا نظام بھی عمل میں آجاتا۔
ہماری ریاست نے امریکہ کی سرپرستی میں اہل مدارس، فرقہ پرستی ، جہادی سرگرمی اور شدت پسندی کو رواج دیکر اسلام کا حلیہ مزید بگاڑا، مسلمان کو بدنام ہوا،ریاست کو لے پالک مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے نجات حاصل کرے۔ محنت کش عوام جانوروں کی زندگی گزار رہی ہے، غریب تنگ آمد بجنگ آمد کی حد تک پہنچے توواقعی اینٹ سے اینٹ بج جائیگی ،زرداری والی دھمکی نہ ہوگی۔
چوہدری نثار نے جسٹس کو بدنام کرنے پر ایکشن لیایا رام کرناچاہا ؟ایکشن کی منتظر لمبی فہرست تھی،غلط پروپیگنڈے سے زیادہ وزیرداخلہ کی اپنی پریس کانفرنس قابلِ گرفت تھی ۔ حکیم اللہ محسود کی روح تڑپی ہوگی کہ ’’ہم جان اور خاندان سے گزرگئے اورتم نے کھدڑے چوہدری سے ملادیا؟‘‘۔

عدالتی نظام کی اصلاح

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ، آئین میں قرآن وسنت کو بالادستی حاصل ہے اسلام ہی نہیں ہر ریاست کا بنیادی فریضہ عدل وانصاف کا قیام ہوتاہے۔ اسلام کا ایک پہلو یہ ہے کہ توحید کے عقیدے کے مطابق نبیﷺ کی سنت کو لائحہ عمل بناکر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالا جائے۔ دین میں جبر وزبردستی نہیں ۔ مشرک وکافر مسلمان پر جبروظلم کرکے اسکے ایمان میں رکاوٹ ڈالے تو اللہ نے قرآن میں زبردستی کے کلمۂ کفر کو بھی معاف کیاہے،اسلام جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتا کہ وہ مسلم کو زبردستی سے کافر بنائیں تو تم بھی زبردستی کرکے ان کا مذہب بدل ڈالو۔ صلح حدیبیہ رسول اللہﷺ کی مجبوری نہ تھی بلکہ یہ معاہدہ اسلام کی روح کے مطابق تھا کہ ’’کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مکہ جائے تو اس کو واپس نہ کیا جائے اور کوئی مشرک مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں مسلمانوں کے آغوش میں آجائے تو اس کو پھر واپس لوٹا دیا جائے‘‘۔ جو دل سے مسلمان ہوں اور ان کو پابند کیا جائے کہ والدین کی آغوش میں رہو تو یہ اسلام کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ تلقین ہونی چاہیے کہ اسلام نے والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن، جوانی ادھیڑ عمر اور ایک حد تک بڑھاپا بھی اپنے مشرک باپ آزر کے سایہ میں گزارا، بت فروش باپ سے تلخ بات کی نوبت بھی نہ آئی، باپ کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔
مولانا منیراحمد قادری نے پچھلابیان دیا کہ ’’رسول اللہﷺ کو گالی دینے پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے باپ کے منہ پر تھپڑ مارا تھا‘‘۔ ہوسکتاہے مگر عائشہ صدیقہؓ پر جو بہتان لگا تو نبیﷺ کیلئے اس سے زیادہ اذیتناک واقعہ نہیں تھا، اللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کی یہ شان نہیں کہ جنکو اللہ نے مالامال کیا ہو، وہ قسم کھائیں کہ مستحق لوگوں سے ہم مالی تعان نہ کرینگے، اپنا احسان جاری رکھو‘‘۔ کیونکہ ابوبکرؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان نہ کرینگے، جن میں اپنا قریبی رشتہ دار حضرت مسطحؓ اور معروف نعت خواں حضرت حسانؓ بھی شامل تھے۔ابن ماجہؓکی روایت ہے کہ ’’نبیﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے والد حضرت ابوقحافہؓ کو خضاب لگانے کا حکم دیا تھا‘‘۔
اسلام کے عادلانہ نظام کی اس سے بڑی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک ہی ہے۔ عدالت میں کس اسلام کے قانون کے تحت امیر کی ہتک عزت اربوں اور کھربوں میں ہے اور غریب کی عزت ٹکے کی نہیں؟۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دوواقعے قرآن و حدیث میں موجود ہیں جن میں عدالت عظمیٰ سے انصاف میں غلطی ہوئی اور نچلی عدالت نے انصاف کا تقاضہ پورا کیا۔ اگر انور ظہیر جمالی کو پانامہ لیکس پر انصاف کی سمجھ نہ آتی تو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ یا بلوچستان کے جسٹس فائز عیسیٰ کو معاملہ سپرد کردیتے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کیا ، ایک کے جانور نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا ۔ فصل و جانور کی قیمت ایک جتنی تھی اسلئے حضرت داؤد علیہ السلام نے فصل والوں کو نقصان میں جانور دیدئیے، حضر ت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح سے ایک قوم محروم ہوجائے گی، اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔ چنانچہ فصل کو اپنی جگہ تک پہنچانے کی ذمہ داری جانور والوں کے ذمہ لگادی اور جانور انکے حوالہ کئے جن کی فصل کو نقصان پہنچا تھا کہ جب تک اس کا فائدہ اٹھائیں، ایک پر محنت ڈال دی اور دوسری کے نقصان کا ازالہ کردیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے سوفیصد درست کہا کہ ’’نیب کرپشن کی سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے‘‘ لیکن اگر عدالتی نظام جلد انصاف فراہم کرتا تو نیب کی ضرورت نہ ہوتی۔ عدالت کا کام قانون کے مطابق طاقتور اور مجرم کو تحفظ فراہم کرنا بن جائے تو اس سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے دو خواتین نے مقدمہ پیش کیا جن کا ایک بچے پر دعویٰ تھا، حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی صوابدید و ضمیر کیمطابق فیصلہ کیا جو غلط مگر قابلِ گرفت نہ تھا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔دونوں کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ ’’بچے کو دو ٹکڑے کرتا ہوں‘‘ ، جو مقدمہ جیت چکی تھی کہہ رہی تھی کہ بچے کو دو ٹکڑے کردو، مجھے قبول ہے اور جو خاتون مقدمہ ہار چکی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ ’’میں دستبردار ہوں بچہ سلامت رہے، میں نے جھوٹ بولا تھا، یہ میرا بچہ نہیں، اسکا ہے جو اس کو ٹکڑے کرنیکی بات کررہی ہے‘‘۔ فیصلہ اسکے حق میں ہوا، جو دستبردار ہوئی۔ قانون کیاہے، وزیراعظم اپنے باپ اور بچوں سے انصاف کی خاطر دستبردار ہیں یا معاملہ کچھ اورہے؟۔نوازشریف نے عمران خان کا باپ نہیں مارا ، عدالت عمران خان کا وکیل ہی بھگادے، اگر عدالت کو خوف ہو تو دہشت گردوں کی طرح فوجی عدالت قائم کی جائے اور عدالت کو خوف نہ ہوتو پوری قوم کی خاطر نوازشریف سے ابتداء کرکے کسی کو بھی نہ چھوڑے۔

اسلامی دنیا کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرنا ہوگی. عتیق گیلانی

عالم اسلام میں بادشاہت، جمہوریت، ڈکٹیٹر شپ اور فرقہ واریت کا دور دورہ ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اور فرقہ واریت کے علاوہ ہمارے ریاستی نظام بھی عوام کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ افغانستان،عراق، لیبیا، شام کے بعد ایران، سعودیہ اور پاکستان کی باریاں بھی آسکتی ہیں، ہم سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تباہ ہونے والے وہی ممالک تھے۔ ہم پرچاروں طرف سے دشمن کا گھیراؤ ہے۔ ایران، افغانستان اور عرب ممالک کی پاکستان سے زیادہ بھارت سے دوستی ہے۔ چین کے ترقی یافتہ علاقے سمندرکے ذریعہ سے دنیا میں ملے تھے تو دنیا میں کونسی تبدیلی آئی ہے؟۔ گوادر سی پیک کے ذریعہ چین کاپسماندہ ایریا دنیا سے مل جائیگا تب بھی دنیا میں کونسا بڑا انقلاب آئے گا؟۔ روس کے خلاف جب دنیا افغانستان میں جنگ لڑرہی تھی تو بھی راہداری پاکستان کے ذریعہ تھی اور جب نیٹو نے طالبان کیخلاف جنگ لڑی تب بھی راہداری کی یہی راہ تھی۔ البتہ پاکستان نے اب راہداری کے ذریعہ دوسروں کی جنگ لڑنے کے بجائے مثبت راستے کا سفر شروع کیا ہے اور اللہ کرے کہ خیر سے تبدیلی آئے۔
بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ چکا ہے، اسلئے تسلسل کیساتھ بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں ملک کی داخلی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔ طالبان، بلوچستان اور کراچی کے حوالہ سے جو کامیابی ریاست کی رٹ بحال کرنے میں ملی اس کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان بدریج بد سے بد حال تک جیسے پہنچ چکا تھا، اس میں قوم کے کسی ایک فرد یا ادارے کا کردارنہ تھا بلکہ پوری قوم زوال کی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے جمہوری جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگی قیادتوں کو جبری جلاوطن کر دیاتھا، عدالتوں کو پرغمالی بنالیالیکن فوجی قیادت عوام کی اصلاح نہ کرسکی تھی۔
جمہوریت اور عدالتیں بحال ہوئیں تو عدالت نے سیاست شروع کردی اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا، اگر اصغر کیس کے ذریعہ انصاف کے تقاضے پر عمل پیرا ہوکر یوسف رضا گیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہل قرار دیا جاتا تو قوم کا عدلیہ پر بے انتہااعتماد بڑھ جاتا۔ ریاست کی رٹ صرف فوجی طاقت سے ہمیشہ کیلئے بحال نہیں رہ سکتی ہے۔ عوام کے اعتماد کیلئے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کے نظام کی ہوتی ہے۔پختونخواہ کے طالبان، بلوچستان کے قوم پرست اور کراچی کی ایم کیوایم سے زیادہ معاشرتی ظالمانہ نظام کا پنجاب میں راج ہے۔وزیردفاع وپانی وبجلی خواجہ آصف اور اقبال کے شہرسیالکوٹ کا تازہ واقعہ ہے کہ’’ دلہن کو اجتماعی زیادتی کا شکار بنایاگیا، شور مچانے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے‘‘۔ شور مچانے اور تشدد کا نشانہ بننے سے ڈر کر چپ کی سادھ لینے والوں کی کتنی ان گنت کہانیاں ہوں گی؟۔ یہ اس وقت پتہ چلے گا جب مظلوموں کا ظالموں کیخلاف انقلاب آئیگا۔ سیاسی جماعتیں عوامی نہیں بلکہ آشیرباد رکھنے والوں کی داشتائیں ہیں۔
القاعدہ، طالبان داعش کے علاوہ کراچی کی ایم کیوایم، بلوچی قوم پرست اور اندرون سندھ کی پارٹیاں زمانے کے جبر سے وجود میں آئی ہیں۔ امریکہ کا مجاہدین کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دینے سے القاعدہ بن گئی، افغانستان میں مجاہدین تنظیموں کی بدمعاشی سے مجبوری میں طالبان آگئے، امریکی حملے کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آگئے، عراق پر حملے بعد شام میں کاروائی کی وجہ سے سنی مکتبۂ فکر کو ریلف مل گئی تو دولت اسلامیہ عراق وشام تشکیل پائی ،جو داعش کے نام سے دنیا میں پھیل گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بقول امتیاز عالم کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے اردو اسپکینگ مہاجروں کو کاٹ کر سند ھیوں سے ملا دیا تو ایم کیوایم کیلئے بنیاد بن گئی۔نجم سیٹھی نے پنجاب کے ظلم کی داستان نہری نظام کی شکل میں بیان کی ہے جس سے سندھ بنجر بن گیا اور احساسِ محرومی کالا باغ ڈیم میں رکاوٹ کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسائل کے باوجود عوام کی غربت کا مسئلہ بغاوت تک لے گیا۔ پاکستان سے عالمی اسلامی خلافت علی منہاج النبوۃ کا آغاز ہوجائے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مدارس کے نصاب کی اصلاح سے کم عقل لوگوں کے چنگل سے اسلام کی تعبیرو تشریح پر اجنبیت کے پردے ہٹ جائیں گے۔ لونڈی بنانے کے نظام کو قرآن نے آلِ فرعون کا اختراع قرار دیاہے، امریکہ نے عافیہ صدیقی کو قید کرکے لونڈی بنانے سے بھی بڑی سزا دی ہے۔ طویل المدت قید انسانیت کی بہت بڑی تذلیل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرافت پر بڑا دھبہ ہے۔

کیا مغربی جمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟ عتیق گیلانی

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو خلافت کا حقدار قرار دیاہے، ابلیس اپنے تکبر کے باعث راندۂ درگاہ ہواتھا، فرشتوں نے اللہ سے اختلاف کرکے اعتراض اٹھایا کہ ’’یہ خلیفہ زمین میں فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا اور قتل و غارتگری کریگا‘‘ لیکن اللہ کے فرمان پر سب نے سجدہ بھی کرلیا مگر ابلیس نے سرتابی کی۔ حضرت آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر ان کو زمین میں اتارا گیا تو بڑے بیٹے قابیل نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں بنی اسرائیل میں نبوت وخلافت کا سلسلہ جاری رہا، پھر اللہ نے آخری نبیﷺ کی بعثت فرمائی۔ انصار ومہاجر اور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف واعتراض بالکل صحیح تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی شخصیت میں بڑے جامع تھے۔ بشریت، رسالت اور اولی الامر کے حوالہ سے آپﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے بہترین نمونہ تھا۔ شادی، طلاق، اولاد، رشتہ داری اور معاشرے میں انسانی ضروریات کے تمام معاملات سے آپﷺ کی بشریت اعلیٰ صفات سے مالامال اور بہترین نمونہ تھی۔ رسالت کا تقاضہ تھا کہ آپﷺ کی وحی کے ذریعے رہنمائی ہو، مذہبی ماحول نے جو گہرے اثرات معاشرے پر ڈالے تھے اس کا نتیجہ تھا کہ جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کی طرف سے شدید ترین طلاق ظہار کے مسئلہ پر مجادلہ کیا تو اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی جس کی تفصیل سورۂ مجادلہ کی آیات اور تفسیرو احادیث کی کتابوں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشاورت کا حکم بھی دیا تھا اور غزوہ بدر میں اکثریت کی مشاورت کے باوجود فدیہ کا فیصلہ ہوا،تو اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ غزوہ احد کا فیصلہ اپنی منشاء کے خلاف شہر سے نکل کر باہر لڑنے کا فیصلہ کیا اور حدیث قرطاس کی وصیت سے مزاحمت پر دستبردار ہوئے۔ اس تعلیم و تربیت کا عملی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہؓ اختلاف کے باوجود بھی نظامِ خلافت پرمتحد ومتفق رہے۔نبیﷺ نے انفرادی طور پر فرمایا: ’’امام قریش میں ہونگے‘‘ اور ’’بارہ خلفاء قریش سے ہونگے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی‘‘۔ یہ احادیث مستقبل کی پیش گوئی اور اخبار تھے۔ خلافت عثمانیہ عرصۂ دراز تک قائم رہی لیکن وہ قریشی نہیں تھے۔ ذیل کے نقشہ میں احادیث کا آرٹ دیا گیاہے۔ اور مغربی جمہوریت پر لوگ متفق ہوں تو یہ کفر نہیں بلکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے‘‘۔ اس حدیث سے مغربی جمہوریت ہی مراد ہوسکتی ہے۔ انتقال اقتدار کا سب سے پرامن اور عوام کے اختیار کا بہترین راستہ جمہوری نظام ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کی روح مفقود ہے، حضرت امام حسنؓ نے اکثریت کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو حدیث میں بھی آپؓ کی تائید ہے کہ ’’میرے اس فرزند کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے اختلاف کیا، خلفاء راشدینؓ نے اپنی رائے سے اختلاف کیلئے روڑے نہیں اٹکائے مگراب جمہوری پارٹیوں کے قائدین و رہنما ڈکٹیٹر شپ اور موروثیت کی پیداوار کی وجہ سے خچروں اور تیسری جنس کی طرح لگتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں یہ شہ سرخی لگی کہ ’’حامد سعید کاظمی نے اقرار جرم کرلیا‘‘ مگر شام کو حلف دیکر حامد کاظمی انکار کررہاتھا۔ حامد میر نے کہاتھا کہ شہباز شریف ڈان کی خبر پر پریشان تھا، پھر راحیل شریف پر توسیع کا الزام لگادیا ، کل یہ نہ کہے کہ راحیل شریف کو شہباز نے جھاڑدیا ، جیسے عرفان صدیقی نے حامد میر کے پروگرام میں صدر تارڑ کی جرنیلوں کے سامنے بہادری کا ذکر کیا ۔ صحافت مقدس پیشہ ہے، فواد چوہدری پرویزمشرف ، پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف میں آیا، کیایہ جائز صحافت ہے؟۔اگر صحافت کا پیشہ ٹھیک ہوجائے تو انقلاب آسکتاہے۔باقی دھرنے کے دوران حامد میر لیگیوں کا مذاق اڑا رہا تھا کہ میرے پاس پناہ لے رہے تھے۔ ڈان کی خبر پر بھی پیروں کو پکڑنے کی باتیں میڈیا پر ہورہی تھیں۔ حکمرانوں کے پاس حکومت کرنیکی اخلاقی قدریں نہیں، اسلئے کہ ڈکٹیٹر ، موروثیت اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔بس چلے تو گردن کو بھی پکڑ لیتے ہیں :بے بسی میں ٹانگیں بھی جکڑ لیتے ہیں۔

Naqsh-e-Inqalab-October-special2016

داعش کے پیچھے مغرب یا نظریہ خلافت؟ عتیق گیلانی

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں الماوردی کی کتاب’’ الاحکام السلطانیہ‘‘ کا تذکرہ ہے، علماء کا طبقہ اس کتاب کے نام اور احکام سے بالکل بے خبر ہے۔ ہزارسال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھی گئی یہ واحد کتاب تھی جو اس موضوع پر معروف و مشہور ہے۔ اس کتاب میں مسلم اُمہ کا اجتماعی فریضہ لکھا گیاہے کہ ’’ ایک خلیفہ مقرر کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ ’’ ایک ، دو یا چند افراد کے پہل کرنے سے خلیفہ مقرر ہوجائیگا اور پھر تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت فرض ہے‘‘۔ کتاب میں خلیفہ کے شرائط و صفات کا بھی ذکرہے۔ جن میں قریشی ہونا اور اعضاء کی سلامتی شامل ہے۔ جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے داعش کے امور پر مہارت رکھنے والے نے بتایا کہ ’’ داعش نے ملاعمر کے امیر المؤمنین بننے کو اسلئے مسترد کیا کہ وہ قریشی نہ تھے اور آنکھ سلامت نہ تھی‘‘۔
جس طرح کسی ملک میں بادشاہ یا وزیراعظم کی تقرری کے بعد عام باشندوں کیلئے رمضان کے روزے رکھنااور بقرہ عید کی قربانی ذبح کرنا بھی حکمران کے مقرر کردہ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے تابع ہوجاتا ہے اور سودی نظام بھی علماء ومفتیان کے فتوے سے حلال ہوتاہے،اسی طرح داعش کے خلیفہ اور انکے علماء ومفتیان جس قسم کے احکام بتاتے ہیں اور جو فتوے دیتے ہیں دنیا بھر میں ابوبکر البغدادی کی تقرری اور مقرر کردہ امیروں کا حکم چلتاہے اور اس کو سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جیسے اسماعیلیہ آغا خانیوں کا اپنا امام ہے، داودی بوہرہ کا اپنا امام ہے، میرا خیال ہے کہ اہل تشیع نے بھی ایرانی انقلاب اور امام خمینی کے بعد ہی پاکستان میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستانی قوم کی طرف سے سپاسنامہ میں خلافت موومنٹ اور کمال اتاترک کا تذکرہ کیا ، علامہ اقبال ، خلافت موومنٹ اور پاکستان کا حوالہ دیا لیکن اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کن متضاد پگڈنڈیوں پر چل کر قدم ڈگمگارہے ہیں اور نہ ہی زبان لڑکڑارہی ہے، جاہل تو ہوتے ہی لٹ مار ہیں، قومی اسمبلی کا سپیکر غیر جانبداری کا حلف اٹھاتاہے مگر ہمارے سپیکر صاحب غیر جانبداری کے فرض سے ناواقف۔
بہرحال طیب اردگان نے مسلم امہ کو قریب کرنے کی بات کرکے داعش کو مغرب کے کھاتہ میں ڈال دیا تو بھی حقائق کا ان کو پتہ ہوگا مگر جس طرح اپنے سیاسی حریفوں کے سکول پاکستان میں بند کرادئیے جن میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی تعلیم نہیں تھی، فوجی بغاوت پر بھی فتح اللہ گولن نے کہا تھا کہ ’’ہم خود ہمیشہ فوجی بغاوت کے خلاف رہے ہیں اور ہم نے ان کے تشدد کا خود بھی سامنا کیاہے تو ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ پاکستان ، ترکی ، امریکہ اور دنیا بھر میں مغربی جمہوریت سے الزام تراشیوں کے سلسلے جاری ہیں۔داعش کے سخت ترین حریفوں کا داعش میں شمولیت کو امریکہ اور مغربی سازش قراردینا نادانی ہے، یہ درست ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں بھی گڈ اور بیڈ کا تصور تھا،ایک نمبر اور دونمبر والوں کی عام شہرت تھی لیکن داعش ایک سازش نہیں بلکہ خلافت کا فلسفہ و نظریہ ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء کے ایک بہت بڑے پروگرام میں خلافت کی احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا اور تسلسل کیساتھ اپنے مشن کی اس طرح سے تشہیر بھی کرتے رہے۔ مولانا نیاز محمد قریشی (جو سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن ) نے یہ تقریر ’’آذانِ انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کی۔ بریلوی مکتبۂ فکر علامہ عطاء محمد بندھیالویؒ نے خلافت کو شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھی قریشی نہیں، مسلمانوں خلیفہ کا تقرر شرعی فریضہ ہے جو قریشی ہو۔ ڈاکٹرا اسرار کے ایک پروگرام میں علامہ طاہرالقادری اور دوسرے میں حزب التحریر اور المہاجرون تنظیم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خلافت کیلئے امام کا تقرر ہے اور امام کاتعلق سرحدوں سے بالاتر زمانہ کیساتھ ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ قادیانی بھی اپنے امیر وامام کی تقرری پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کی ریاست کو خلافت کا اعلان کرنا ہوگا۔ زندگی آساں گر حوصلہ بڑا ہے، منزل بڑی ہے تو امتحان کھڑا ہے ۔ خلافت سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے۔

اسلاف ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیوں؟ عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لااکراہ فی الدین ’’دین میں جبر کا کوئی تصور نہیں ‘‘۔ کسی کوزبردستی سے منافق تو بنایا جاسکتاہے لیکن مؤمن نہیں۔ منافق کادرجہ فی درک الاسفل من النار’’جہنم کا نچلا ترین ہے‘‘۔ایسا کوئی ماحول بنانا جس سے تشدد کے ذریعے منافقت کی راہ ہموار ہو اسلامی تعلیمات، فطرت اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ظلم وجبر، تشدد وزبردستی کا ہر گز نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی فرقہ واریت کا شدید ترین مسئلہ رہاہے لیکن اسلام نے اس کا حل قتل وغارت اور ظلم وتشدد سے پیش نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو قرآن میں تحفظ دینے کی تعلیم دی۔ صوامع، بیع، صلوٰت اور مساجد میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کی سند جاری کرکے مجوس،یہود ونصاری اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیاہے۔ یہ کسی مخصوص وقت کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے آیات ہیں اور جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں تو اس وقت کے یہود ونصاریٰ ، مجوس و صابی موجودہ دور کے مقابلے میں زیادہ گمراہ تھے۔ دنیا میں عذاب کے بھی مستحق اسلئے تھے کہ اس وقت انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، جن سے اتمام حجت بھی ہوجاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ’’ اور ہم عذاب نہیں دیتے ہیں یہاں تک رسول کو مبعوث نہ کردیں‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی، یہود نے بے انتہا مظالم کردیے، گستاخانہ ذہنیت کی انتہا کری مگر جب اسلام نازل ہوا تو عیسائیوں کو مشرکانہ اور یہود کو گستاخانہ ذہنیت کے باوجود برداشت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ نے فرمایا: ان الذین اٰمنوا والذین ہادووالنصٰری والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر لھم اجر فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے، اور جولوگ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لائے تو ان کیلئے اجرہے ، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
جس اسلام نے صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کے دل ودماغ میں بے پناہ وسعتیں پیدا کردیں، اسکے نام سے ہم نے جبروتشدد کی ایسی پگڈنڈی بنائی کہ دنیا کے مختلف ومتضاد مذاہب تو بہت دور کی بات ہے، اگر آیت میں انکی جگہ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کو رکھا جائے تب بھی فرقہ بندی کے خوگر اس ایمانی مٹھاس سے اتنا ہی پرہیز ضروری سمجھتاہے جتنا شوگر کا مریض قدرت کی عظیم نعمت مٹھاس سے۔ یہی حال رہا تو بعیدنہیں کہ جنت میں انواع واقسام کے مٹھاس سے دوسرے تو مانوس ہوکر خوف وغم سے آزاد بھی رہیں، تعصب سے قرآنی آیات کا کھل کر انکار کرنیوالوں کی قسمت میں جہنم کا شجرہ زقوم ہو۔ اللہ و آخرت پر بھی ایمان کے بعد اچھا عمل صدیقین، شہداء اور صالحین کی صف میں شامل کرتا ہے اور اچھے اعمال کے بغیر دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے والے ان لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جو مرد ہوکر بھی ایکدوسرے کیساتھ جنسی عمل کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ ان دونوں( فاعل مفعول) کو اذیت دو، اگر توبہ کریں تواللہ در گزر کرنے والاہے‘‘۔
صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے تشدد اور نفرت کی ایسی آگ نہیں بھڑکائی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسروں کے خلاف قتل وغارتگری اور جنگ وجدل کا بازار گرم ہو۔ اسلام افہام و تفہیم اور اچھے انداز کی تعلیم وتربیت سے جانی دشمن کے سامنے بھی ایسے انداز میں بات کرنے کی تلقین کرتاہے کہ جس سے وہ گرم جوش دوست بن جائے۔ انبیاء کرامؑ ،صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہوں پر چل کر صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے اختلاف کو تشدد میں بدلنے سے بچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ مثالی تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مسند پر شہید ہونا قبول فرمایالیکن فساد نہیں پھیلایا، حضرت علیؓ نے منصب سے دستبردار ہونے کی بات قبول کرلی مگر خوارج نے بغاوت کردی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہﷺ نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی صلح حدیبیہ میں قلم زد کیا‘‘ ۔ مگروہ نہ مانے اور کہا کہ ’’قریش بحث کرنے کے عادی ہیں‘‘۔اللہ نے میاں بیوی کے درمیان ایک ایک حکم دونوں طرف سے مقرر کرنے کاحکم دیالیکن تحکیم کو کفر قرار دیاگیا۔ صلح حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ قائم رہتے تو حضرت عمرؓ کے دور تک مسلمان اسی پر کاربند رہتے۔ دنیا میں عدل کے قیام کیلئے اسلام سے زیادہ پرامن جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ہے۔

داعش کافتنہ صحیح حدیث میں واضح ہے، ڈاکٹرطاہر القادری

امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد کی کتاب’’الفتن‘‘ میں داعش کی نشاندہی موجود ہے

آج تک میرے سیاسی اور مذہبی مؤقف کی کسی نے کبھی تردید نہیں کی ہے البتہ اختلاف کیا ہے

علامہ طاہرالقادری نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں داعش کے حوالہ سے رسول ﷺ کی احادیث کا حوالہ پیش کیا، حدیث کوپورا نقل نہ کیا۔ قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں: عن علی ابن ابی طالبؓ قال: اذا رأتم الرایات السود فالزموا الارض، فلا تحرکوا ایدیکم ولاارجلکم ثم یظھر قوم ضعفاء لایؤبہ لھم،قلوبھم کزبر الحدید، ھم اصحاب الدولۃ، لایفون بعھد و لا میثاق، یدعون الی الحق و لیسوا من اہلہ اسماء ھم الکنیٰ و نسبھم القریٰ وشعرھم مرخاۃ کشعور النساء حتیٰ یختلفوامابینھم ثم یؤتی اللہ حق من یشاء
( حدیث نمبر573، الفتن نعیم بن حماد)
ترجمہ’’ حضرت علیؓ سے روایت ہے فرمایا: جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو، تو زمین کو لازم کرلو، پس اپنی زبانوں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دو، پھر ایک قوم ظاہر ہوگی جو کمزور ہوگی جن کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور انکے دل لوہے کے ٹکڑے کی طرح ہونگے، وہ اقتدار والے ہونگے،جو پورا نہ کرینگے کسی عہد اور معاہدے کو۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہیں ہونگے،انکے نام کنیت والے ہوں گے،انکی نسبت شہروں کی طرف ہوگی،انکے بال عورتوں کی لٹکے ہوئے ہونگے،یہاں تک کہ ان کا آپس میں اختلاف ہوگا ، پھر اللہ جس کو چاہے گا حق دیدے گا‘‘۔
کالے جھنڈے طالبان اور القاعدہ نے اٹھائے، اس دور میں یہ حالت تھی کہ گوشہ نشینی کی زندگی اور زبان اور ٹانگیں نہ ہلانے کا حکم درست لگتا تھا، امریکہ نے حملہ کیا توبہت کمزور تھے،ان کا ٹھکانہ نہ تھا،انکے دل لوہے کی طرح سخت تھے،اصحاب دولہ اسلئے تھے کہ طالبان کی حکومت تھی اور امریکہ، پاکستان، قطر، یورپی یونین اور سب ہی ممالک ان کی پشت پناہی کررہے تھے ،بینظیر بھٹو کو ماراگیا، بینظیر نے انکو ڈالروں کے تنخواہ دار ہونے کا کہاتھا۔ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر شائع ہوئی تو اسکے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ برطانوی فوج کے سپاہیوں کو افغان فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا جو طالبان کو پیسے دے رہے تھے اور ردِ عمل میں شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ میں با عزت بری کردیا گیا۔ اغیار ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران ٹولے کو ایک ہاتھ میں رکھتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں باغیوں کو پالتا ہے۔ یہ الزام نہیں۔
امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تو کورکمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ ’’ ہم اکیلے نہ تھے یعنی تم بھی شریکِ جرم تھے‘‘۔ آج تک سب کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، اگر یہ گروپ آپس میں یہ کھیل ختم کرنے کیلئے نہ لڑتے تو حکومتوں نے ان کو پالنے کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ جنرل راحیل کی قیادت میں اسکا خاتمہ ہواہے لیکن اب بھی یہ کھیل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
حکومت ، اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں اگر خلوص ہو تو نہ صرف بھٹکے ہوئے طبقات کی اصلاح ہوسکتی ہے بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی امامت کی حقدار بن سکتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق جمعیت علماء ہند سے ہی نہ تھا بلکہ وہ کانگریس کے بھی رکن تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قرآن کے نزول کے وقت اس کے مخاطب عرب تھے ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت قرآن کا مخاطب پوری دنیا ہوگی ، جو اچھائیاں عرب میں موجود تھیں ، انکو باقی رکھا گیا اور برائیوں کو ختم کردیا گیا۔ نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آئیگا تو دنیا بھر میں اچھائیوں کو باقی رکھا جائیگا اور برائیوں کو ختم کردیا جائے گا‘‘۔نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، فرنٹیئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں موجود ہیں ، یہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لئے آئے پھر بھی ہم اس مرکزی حصے سے دستبردار نہ ہونگے‘‘۔
غسل کے تین فرائض سے تین طلاق کی تعبیر تک ، قرآن کی تعریف سے لیکر اجماع و قیاس تک نصاب کے نام پر مدارس میں بھی عجیب منطق پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا منیر احمد قادری نے لکھا’’مولانا یوسف لدھیانوی نے توبہ کی ؟ ، آسیہ ملعونہ کی کیا سزا ہے؟ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو منہ پر تھپڑ مارا ‘‘۔ نبی ﷺ نے ابن صائد کو قتل نہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے تھپڑ مارا ، پھر ہم بھی نئے سرے سے سوچیں؟۔ نادر شاہ

ناکام عدالتی نظام کی وجہ سے طالبان اور شدت پسند: اشرف میمن

1916ء سے 2016ء تک لاہور ہائیکورٹ میں کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا تو عدلیہ میں جرگہ سسٹم کیوں نہیں رکھا جاتا

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ پانامہ لیکس پر کیمرے کی آنکھ عدالت کے ججوں کو دیکھ رہی ہے۔ماضی بعیداور ماضی قریب میں عدالت عظمیٰ اور اسکے ججوں کا کردار ایک سیاہ باب ہے۔ ججوں نے عدالت کیساتھ اپنا منہ بھی کالا کیا ہے۔جسٹس ڈوگر کیخلاف شہبازشریف کی تقریروں کی گونج اب بھی لوگوں کے کانوں میں موجودہے۔یہ پاکستانی ریاست اسلام کے نام پر بنی ہے اور اس میں جرنیل، جج اور جرنلسٹ کی آزادی اور غیر جانبداری بہت ضروری ہے۔ جانبدارانہ کردار اپنے پیشہ ،ملک وقوم سے غداری ہے۔ اب زمانہ بدلاہے اگر عدالت عظمیٰ نے سوئس اکاونٹ کیخلاف خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کو ناہل قرار دیا اور دوسرے کو بچایاتو ڈوگرکا جو حشر کیا گیا تھا،وہی جسٹس جمالی کا بھی ہوگا، شہباز کی شوبازی سے زیادہ مؤثر انداز میں قوم پرست اور شدت پسند حبیب جالب کی شاعری سے عوام کے دل و دماغ گرمائیں توپھرملکی سلامتی خطرے میں پڑجائیگی، شاکر شجاآبادی کی شاعری کالجوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے، وہ کہتاہے کہ جن مساجدمیں اللہ کی عبادت اورمخلص نمازی ہیں وہ بیت اللہ ہیں اور جو ملاؤں کے کاروبار ہیں ان کو گرادو۔ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے، ایسی عدالتوں کو عملے کیساتھ اُڑادو‘‘۔ اگر عدلیہ بچوں کی طرح چھٹیوں پر نہ جائے تو …
عدالت میں قطری شہری کا جو خط پیش کیا گیا ، عدالت ،وکیل اور جج جانے نہ جانے لیکن دنیا جانتی ہے کہ معاملہ اب سیاہ وسفید کی طرح سامنے آگیاہے۔ عرب حکمران بادشاہ ہوتے ہیں یا شہزادے، ججوں کا نعیم بخاری پر قہقہ لگانا کسی وجہ سے ہوگا ۔ خوبصورت ہونا شہزادے یا شہزادی کی علامت ہواور بادشاہوں کا چوپٹ راج ہو تو بادشاہ عوام کی بیگمات بھی چھین لیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ جلیل القدر نبی نے اپنی بیگم حضرت سارہؑ کو جھوٹ بول کر زوجہ کے بجائے اپنی ہمشیرہ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عزت بچائی اور خدمت کیلئے لونڈی حضرت حاجرہؓ بھی دیدی،جو حقیقت میں ایک شہزادی تھی۔ بادشاہ کے ظالمانہ دور میں یہ تمیز مشکل ہوتی ہے کہ شہزادی اور لونڈی میں فرق کیا ہے؟۔ نعیم بخاری خوبصورتی کو شہزادے کیلئے معیار سمجھتے ہیں تو ان کی سابقہ بیگم طاہرہ سید بڑی شہزادی ہوگی جو شاہِ وقت نوازشریف کے کرتوت سے چھن گئی تھی۔ ججوں نے شاید نعیم بخاری کے معصومانہ جواب پرتاریخی پیرائے میں قہقہ لگایا ہوگا؟۔ مظلوموں کی بے بسی پر توہینِ عدالت سے پیشگی معذرت کیساتھ ہنسنابھی منع نہیں۔ جنتی عیش میں شجرۂ ممنوعہ سے انسان نہیں رُکتا، حضرت داؤدؑ اورسلیمان ؑ انبیاء کو بادشاہت ملی ہے تو مجاہد اوریا کی خوبصورت بیگم کو بھی ہتھیالینے اور ملکہ سبا بلقیس کی ٹانگوں کے قصے بن گئے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’ایک بھائی کے پاس 99دنبیاں ہوں اور دوسرے کے پاس ایک ، اور وہ یہ بھی ہتھیالیناچاہے تو کیساہے؟‘‘ ۔
نوازشریف کی معصومیت حماقت ہے،اللہ کی ذات پاک ہے، معصومیت کی تشریح حقائق کے منافی ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے شادی کی خواہش ظاہر کی اور پھر کہا کہ ’’میرے ازدواجی تعلقات خوشگوار ہیں‘‘۔ یعنی دوسری شادی کا جواز ناخوشگواری کے باعث ہے، حالانکہ انکے والد مفتی محمودؒ نے خوشگوار تعلق میں بھی دوسری شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ سے فرمایا :’’ اب کوئی شادی آپ نہ کریں چاہے کوئی خاتون شادی کیلئے اچھی بھی لگے‘‘۔ شادی کی چاہت ، شادی کا کرنا معصومیت کیخلاف نہیں ۔ نوازشریف کی معصومیت پر وسیم بادامی کے بقول معصومانہ سوال ہے کہ ’’قطری شہری کا خط آپ کا وکیل اکرم شیخ عدالت میں لایا؟، اکرم شیخ کا یہ کہنا درست ہے قومی اسمبلی کی تحریری تقریر میں حوالہ بھول گئے ؟۔تو لیجئے آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ قطری شہری کا خط گرفت کیلئے کافی ہے، سرمایہ کاری پریہ نہیں کہا جاتاکہ ’’مجھے آگاہ کیا گیا‘‘ بلکہ دستاویزی ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ کہنا کہ’’ مجھے آگاہ کیا گیا ‘‘ کھلے الفاظ میں جھوٹ کا بہت بڑا پلندہ ہے ۔قطری خط بذاتِ خود ثبوت نہیں بلکہ تابوت ہے‘‘۔
وکلاء اور ججوں کے پاس تعلیم کی ڈگریاں ہونگی اور تعلیم کی ڈگری سے زیادہ کاروباری معاملہ کا لکھت پڑھت سے تعلق ہوتاہے۔ ایکزٹ کی طرح دنیا بھر میں جعلی اسناد بکتی ہیں بنوں میں علماء کی اسناد بکنے کا مسئلہ مشہورہے۔ قابلیت کا پتہ ڈگری کے بغیر بھی چلتاہے۔ ملک ریاض نے ڈگری کے حامل لوگوں کو ملازم رکھاہے۔ نوازشریف کا سب سے بڑا اعزاز محنت کرکے کمانا تھا۔ جب پکی پکائی تازہ روٹی قطری شہزادہ دیتا تھا تو پھرنوازشریف اور اسکے خاندان کا کیا کمال ہے؟۔ پھر کس بات پر حمزہ شہبازفخر کرتاہے کہ ’’میں ایک مزودر کا بیٹا ہوں‘‘۔ مزدوری سے اونچی اڑان ہوتی تو پاکستان میں بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی۔ بعض لوگوں کی بدلی ہے مگر ا نکے پاس ثبوت بھی ہیں۔ وہ فوجی ڈکٹیٹروں کیساتھ مل کر حکومتوں کے ذریعے کرپشن نہیں کرتے رہے ہیں۔ کاروباری معاملہ ہو تو اللہ نے قرآن میں اس وقت بھی انصاف کی حامل تحریر کا حکم دیا تھا جب کاروباری معاملے میں عام بینکوں وغیرہ کا رواج بھی نہ تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میاں شریف نے کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر ہی اتنی بڑی کاروباری رقم قطری شہری کو دی ہو؟۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ مجھے آگاہ کیا گیا بلکہ دستاویزی معاملہ پیش کیا جاتاہے۔ ججوں نے اگر معاملہ الجھانا ہے تو وکالت کے پیشے کی مہارت کے ثبوت کیلئے ضروری ہے کہ جتنا ممکن ہو معاملہ الجھایا جائے اور کسی جج کی اہلیت کیلئے وکالت کا تجربہ ہی بڑی بنیاد ہوتاہے۔ وزیراعظم کی وکالت کرنی ہو تو حماقت بھرا خط مسترد کیا جائے کہ چور کا اپنے ہاتھوں کو خودہی کاٹنے کے مترداف ہے اور اسے حضرت یوسفؑ کے حسن میں ہاتھ کاٹنے والی خواتین کی معذوری قرار دیاجائے۔ عدالت پہلی فرصت میں خط ہی مسترد کردے اور وکیل دوبارہ اسکی تصدیق کیلئے مہریں ثبت کرکے نہ لائے۔ مخالف وکیل خط کے دلیل کا حوالہ دے تو اکرم شیخ کہہ دے کہ ’’غلطی سے یہ خط لایا گیا، وزیراعظم پارلیمنٹ میں بھولا نہ تھا بلکہ میرے مؤکل نے اس خط کو مسترد کیا ہے‘‘ اور اگر عمران خان کے وکلاء نے معاملہ جیتنا ہے تو خط کا قضیہ فیصلہ کن قرار دیں۔ جج شہزادے کی تشریح پرنہیں وکیل کی نااہلی پر قہقہے لگاتے ہونگے۔ ججوں کی چاہت ہوگی کہ قانون کی اندھیر نگری نے ہاتھ باندھے ہیں، قومی دولت کو مال غنیمت سمجھ کرلوٹنے والا عدالت کی گرفت میں آجائے ۔عدالت کا فیصلہ وزیراعظم کے حق میں یا خلاف ہو، دونوں صورت میں پاکستان شاندار مستقبل کی طرف پرواز کریگا، معصوم کوئی بھی نہیں لیکن وزیراعظم کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہے، بے دریغ قرضوں سے عوام پر ٹیکس بڑھ گیاہے، ایک عام مزدور کی تنخواہ 10سے12ہزار کرنے پر بھی فخر کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے اتنی رقم میں مہینے کے اخراجات پورے کرکے دکھائیں۔ علی احمد کرد کاکہنادرست ہے کہ وزیراعظم غریبوں سے ہی ہونا چاہیے،ملک کا 2فیصدامیر طبقہ 98% غریبوں کامسئلہ سمجھنے سے قاصرہے ۔کرپٹ حکمران کرپشن ہی کرسکتے ہیں
شاہ ولی اللہؒ نے نظام کو پلٹنے کی بات کی تھی، عدالت کے اس فیصلے سے نظام کا کایاہی پلٹ جائیگا۔