پوسٹ تلاش کریں

داعش کافتنہ صحیح حدیث میں واضح ہے، ڈاکٹرطاہر القادری

امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد کی کتاب’’الفتن‘‘ میں داعش کی نشاندہی موجود ہے

آج تک میرے سیاسی اور مذہبی مؤقف کی کسی نے کبھی تردید نہیں کی ہے البتہ اختلاف کیا ہے

علامہ طاہرالقادری نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں داعش کے حوالہ سے رسول ﷺ کی احادیث کا حوالہ پیش کیا، حدیث کوپورا نقل نہ کیا۔ قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں: عن علی ابن ابی طالبؓ قال: اذا رأتم الرایات السود فالزموا الارض، فلا تحرکوا ایدیکم ولاارجلکم ثم یظھر قوم ضعفاء لایؤبہ لھم،قلوبھم کزبر الحدید، ھم اصحاب الدولۃ، لایفون بعھد و لا میثاق، یدعون الی الحق و لیسوا من اہلہ اسماء ھم الکنیٰ و نسبھم القریٰ وشعرھم مرخاۃ کشعور النساء حتیٰ یختلفوامابینھم ثم یؤتی اللہ حق من یشاء
( حدیث نمبر573، الفتن نعیم بن حماد)
ترجمہ’’ حضرت علیؓ سے روایت ہے فرمایا: جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو، تو زمین کو لازم کرلو، پس اپنی زبانوں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دو، پھر ایک قوم ظاہر ہوگی جو کمزور ہوگی جن کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور انکے دل لوہے کے ٹکڑے کی طرح ہونگے، وہ اقتدار والے ہونگے،جو پورا نہ کرینگے کسی عہد اور معاہدے کو۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہیں ہونگے،انکے نام کنیت والے ہوں گے،انکی نسبت شہروں کی طرف ہوگی،انکے بال عورتوں کی لٹکے ہوئے ہونگے،یہاں تک کہ ان کا آپس میں اختلاف ہوگا ، پھر اللہ جس کو چاہے گا حق دیدے گا‘‘۔
کالے جھنڈے طالبان اور القاعدہ نے اٹھائے، اس دور میں یہ حالت تھی کہ گوشہ نشینی کی زندگی اور زبان اور ٹانگیں نہ ہلانے کا حکم درست لگتا تھا، امریکہ نے حملہ کیا توبہت کمزور تھے،ان کا ٹھکانہ نہ تھا،انکے دل لوہے کی طرح سخت تھے،اصحاب دولہ اسلئے تھے کہ طالبان کی حکومت تھی اور امریکہ، پاکستان، قطر، یورپی یونین اور سب ہی ممالک ان کی پشت پناہی کررہے تھے ،بینظیر بھٹو کو ماراگیا، بینظیر نے انکو ڈالروں کے تنخواہ دار ہونے کا کہاتھا۔ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر شائع ہوئی تو اسکے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ برطانوی فوج کے سپاہیوں کو افغان فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا جو طالبان کو پیسے دے رہے تھے اور ردِ عمل میں شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ میں با عزت بری کردیا گیا۔ اغیار ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران ٹولے کو ایک ہاتھ میں رکھتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں باغیوں کو پالتا ہے۔ یہ الزام نہیں۔
امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تو کورکمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ ’’ ہم اکیلے نہ تھے یعنی تم بھی شریکِ جرم تھے‘‘۔ آج تک سب کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، اگر یہ گروپ آپس میں یہ کھیل ختم کرنے کیلئے نہ لڑتے تو حکومتوں نے ان کو پالنے کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ جنرل راحیل کی قیادت میں اسکا خاتمہ ہواہے لیکن اب بھی یہ کھیل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
حکومت ، اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں اگر خلوص ہو تو نہ صرف بھٹکے ہوئے طبقات کی اصلاح ہوسکتی ہے بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی امامت کی حقدار بن سکتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق جمعیت علماء ہند سے ہی نہ تھا بلکہ وہ کانگریس کے بھی رکن تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قرآن کے نزول کے وقت اس کے مخاطب عرب تھے ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت قرآن کا مخاطب پوری دنیا ہوگی ، جو اچھائیاں عرب میں موجود تھیں ، انکو باقی رکھا گیا اور برائیوں کو ختم کردیا گیا۔ نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آئیگا تو دنیا بھر میں اچھائیوں کو باقی رکھا جائیگا اور برائیوں کو ختم کردیا جائے گا‘‘۔نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، فرنٹیئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں موجود ہیں ، یہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لئے آئے پھر بھی ہم اس مرکزی حصے سے دستبردار نہ ہونگے‘‘۔
غسل کے تین فرائض سے تین طلاق کی تعبیر تک ، قرآن کی تعریف سے لیکر اجماع و قیاس تک نصاب کے نام پر مدارس میں بھی عجیب منطق پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا منیر احمد قادری نے لکھا’’مولانا یوسف لدھیانوی نے توبہ کی ؟ ، آسیہ ملعونہ کی کیا سزا ہے؟ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو منہ پر تھپڑ مارا ‘‘۔ نبی ﷺ نے ابن صائد کو قتل نہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے تھپڑ مارا ، پھر ہم بھی نئے سرے سے سوچیں؟۔ نادر شاہ

ناکام عدالتی نظام کی وجہ سے طالبان اور شدت پسند: اشرف میمن

1916ء سے 2016ء تک لاہور ہائیکورٹ میں کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا تو عدلیہ میں جرگہ سسٹم کیوں نہیں رکھا جاتا

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ پانامہ لیکس پر کیمرے کی آنکھ عدالت کے ججوں کو دیکھ رہی ہے۔ماضی بعیداور ماضی قریب میں عدالت عظمیٰ اور اسکے ججوں کا کردار ایک سیاہ باب ہے۔ ججوں نے عدالت کیساتھ اپنا منہ بھی کالا کیا ہے۔جسٹس ڈوگر کیخلاف شہبازشریف کی تقریروں کی گونج اب بھی لوگوں کے کانوں میں موجودہے۔یہ پاکستانی ریاست اسلام کے نام پر بنی ہے اور اس میں جرنیل، جج اور جرنلسٹ کی آزادی اور غیر جانبداری بہت ضروری ہے۔ جانبدارانہ کردار اپنے پیشہ ،ملک وقوم سے غداری ہے۔ اب زمانہ بدلاہے اگر عدالت عظمیٰ نے سوئس اکاونٹ کیخلاف خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کو ناہل قرار دیا اور دوسرے کو بچایاتو ڈوگرکا جو حشر کیا گیا تھا،وہی جسٹس جمالی کا بھی ہوگا، شہباز کی شوبازی سے زیادہ مؤثر انداز میں قوم پرست اور شدت پسند حبیب جالب کی شاعری سے عوام کے دل و دماغ گرمائیں توپھرملکی سلامتی خطرے میں پڑجائیگی، شاکر شجاآبادی کی شاعری کالجوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے، وہ کہتاہے کہ جن مساجدمیں اللہ کی عبادت اورمخلص نمازی ہیں وہ بیت اللہ ہیں اور جو ملاؤں کے کاروبار ہیں ان کو گرادو۔ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے، ایسی عدالتوں کو عملے کیساتھ اُڑادو‘‘۔ اگر عدلیہ بچوں کی طرح چھٹیوں پر نہ جائے تو …
عدالت میں قطری شہری کا جو خط پیش کیا گیا ، عدالت ،وکیل اور جج جانے نہ جانے لیکن دنیا جانتی ہے کہ معاملہ اب سیاہ وسفید کی طرح سامنے آگیاہے۔ عرب حکمران بادشاہ ہوتے ہیں یا شہزادے، ججوں کا نعیم بخاری پر قہقہ لگانا کسی وجہ سے ہوگا ۔ خوبصورت ہونا شہزادے یا شہزادی کی علامت ہواور بادشاہوں کا چوپٹ راج ہو تو بادشاہ عوام کی بیگمات بھی چھین لیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ جلیل القدر نبی نے اپنی بیگم حضرت سارہؑ کو جھوٹ بول کر زوجہ کے بجائے اپنی ہمشیرہ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عزت بچائی اور خدمت کیلئے لونڈی حضرت حاجرہؓ بھی دیدی،جو حقیقت میں ایک شہزادی تھی۔ بادشاہ کے ظالمانہ دور میں یہ تمیز مشکل ہوتی ہے کہ شہزادی اور لونڈی میں فرق کیا ہے؟۔ نعیم بخاری خوبصورتی کو شہزادے کیلئے معیار سمجھتے ہیں تو ان کی سابقہ بیگم طاہرہ سید بڑی شہزادی ہوگی جو شاہِ وقت نوازشریف کے کرتوت سے چھن گئی تھی۔ ججوں نے شاید نعیم بخاری کے معصومانہ جواب پرتاریخی پیرائے میں قہقہ لگایا ہوگا؟۔ مظلوموں کی بے بسی پر توہینِ عدالت سے پیشگی معذرت کیساتھ ہنسنابھی منع نہیں۔ جنتی عیش میں شجرۂ ممنوعہ سے انسان نہیں رُکتا، حضرت داؤدؑ اورسلیمان ؑ انبیاء کو بادشاہت ملی ہے تو مجاہد اوریا کی خوبصورت بیگم کو بھی ہتھیالینے اور ملکہ سبا بلقیس کی ٹانگوں کے قصے بن گئے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’ایک بھائی کے پاس 99دنبیاں ہوں اور دوسرے کے پاس ایک ، اور وہ یہ بھی ہتھیالیناچاہے تو کیساہے؟‘‘ ۔
نوازشریف کی معصومیت حماقت ہے،اللہ کی ذات پاک ہے، معصومیت کی تشریح حقائق کے منافی ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے شادی کی خواہش ظاہر کی اور پھر کہا کہ ’’میرے ازدواجی تعلقات خوشگوار ہیں‘‘۔ یعنی دوسری شادی کا جواز ناخوشگواری کے باعث ہے، حالانکہ انکے والد مفتی محمودؒ نے خوشگوار تعلق میں بھی دوسری شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ سے فرمایا :’’ اب کوئی شادی آپ نہ کریں چاہے کوئی خاتون شادی کیلئے اچھی بھی لگے‘‘۔ شادی کی چاہت ، شادی کا کرنا معصومیت کیخلاف نہیں ۔ نوازشریف کی معصومیت پر وسیم بادامی کے بقول معصومانہ سوال ہے کہ ’’قطری شہری کا خط آپ کا وکیل اکرم شیخ عدالت میں لایا؟، اکرم شیخ کا یہ کہنا درست ہے قومی اسمبلی کی تحریری تقریر میں حوالہ بھول گئے ؟۔تو لیجئے آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ قطری شہری کا خط گرفت کیلئے کافی ہے، سرمایہ کاری پریہ نہیں کہا جاتاکہ ’’مجھے آگاہ کیا گیا‘‘ بلکہ دستاویزی ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ کہنا کہ’’ مجھے آگاہ کیا گیا ‘‘ کھلے الفاظ میں جھوٹ کا بہت بڑا پلندہ ہے ۔قطری خط بذاتِ خود ثبوت نہیں بلکہ تابوت ہے‘‘۔
وکلاء اور ججوں کے پاس تعلیم کی ڈگریاں ہونگی اور تعلیم کی ڈگری سے زیادہ کاروباری معاملہ کا لکھت پڑھت سے تعلق ہوتاہے۔ ایکزٹ کی طرح دنیا بھر میں جعلی اسناد بکتی ہیں بنوں میں علماء کی اسناد بکنے کا مسئلہ مشہورہے۔ قابلیت کا پتہ ڈگری کے بغیر بھی چلتاہے۔ ملک ریاض نے ڈگری کے حامل لوگوں کو ملازم رکھاہے۔ نوازشریف کا سب سے بڑا اعزاز محنت کرکے کمانا تھا۔ جب پکی پکائی تازہ روٹی قطری شہزادہ دیتا تھا تو پھرنوازشریف اور اسکے خاندان کا کیا کمال ہے؟۔ پھر کس بات پر حمزہ شہبازفخر کرتاہے کہ ’’میں ایک مزودر کا بیٹا ہوں‘‘۔ مزدوری سے اونچی اڑان ہوتی تو پاکستان میں بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی۔ بعض لوگوں کی بدلی ہے مگر ا نکے پاس ثبوت بھی ہیں۔ وہ فوجی ڈکٹیٹروں کیساتھ مل کر حکومتوں کے ذریعے کرپشن نہیں کرتے رہے ہیں۔ کاروباری معاملہ ہو تو اللہ نے قرآن میں اس وقت بھی انصاف کی حامل تحریر کا حکم دیا تھا جب کاروباری معاملے میں عام بینکوں وغیرہ کا رواج بھی نہ تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میاں شریف نے کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر ہی اتنی بڑی کاروباری رقم قطری شہری کو دی ہو؟۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ مجھے آگاہ کیا گیا بلکہ دستاویزی معاملہ پیش کیا جاتاہے۔ ججوں نے اگر معاملہ الجھانا ہے تو وکالت کے پیشے کی مہارت کے ثبوت کیلئے ضروری ہے کہ جتنا ممکن ہو معاملہ الجھایا جائے اور کسی جج کی اہلیت کیلئے وکالت کا تجربہ ہی بڑی بنیاد ہوتاہے۔ وزیراعظم کی وکالت کرنی ہو تو حماقت بھرا خط مسترد کیا جائے کہ چور کا اپنے ہاتھوں کو خودہی کاٹنے کے مترداف ہے اور اسے حضرت یوسفؑ کے حسن میں ہاتھ کاٹنے والی خواتین کی معذوری قرار دیاجائے۔ عدالت پہلی فرصت میں خط ہی مسترد کردے اور وکیل دوبارہ اسکی تصدیق کیلئے مہریں ثبت کرکے نہ لائے۔ مخالف وکیل خط کے دلیل کا حوالہ دے تو اکرم شیخ کہہ دے کہ ’’غلطی سے یہ خط لایا گیا، وزیراعظم پارلیمنٹ میں بھولا نہ تھا بلکہ میرے مؤکل نے اس خط کو مسترد کیا ہے‘‘ اور اگر عمران خان کے وکلاء نے معاملہ جیتنا ہے تو خط کا قضیہ فیصلہ کن قرار دیں۔ جج شہزادے کی تشریح پرنہیں وکیل کی نااہلی پر قہقہے لگاتے ہونگے۔ ججوں کی چاہت ہوگی کہ قانون کی اندھیر نگری نے ہاتھ باندھے ہیں، قومی دولت کو مال غنیمت سمجھ کرلوٹنے والا عدالت کی گرفت میں آجائے ۔عدالت کا فیصلہ وزیراعظم کے حق میں یا خلاف ہو، دونوں صورت میں پاکستان شاندار مستقبل کی طرف پرواز کریگا، معصوم کوئی بھی نہیں لیکن وزیراعظم کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہے، بے دریغ قرضوں سے عوام پر ٹیکس بڑھ گیاہے، ایک عام مزدور کی تنخواہ 10سے12ہزار کرنے پر بھی فخر کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے اتنی رقم میں مہینے کے اخراجات پورے کرکے دکھائیں۔ علی احمد کرد کاکہنادرست ہے کہ وزیراعظم غریبوں سے ہی ہونا چاہیے،ملک کا 2فیصدامیر طبقہ 98% غریبوں کامسئلہ سمجھنے سے قاصرہے ۔کرپٹ حکمران کرپشن ہی کرسکتے ہیں
شاہ ولی اللہؒ نے نظام کو پلٹنے کی بات کی تھی، عدالت کے اس فیصلے سے نظام کا کایاہی پلٹ جائیگا۔

ایم کیوایم کا جن بوتل میں یا سرکٹی لاش بن گئی ہے؟:فیروز چھیپا

مہاجر نے کراچی سے ہمیشہ غریبوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ایم کیو ایم پاکستان ، لندن اور PSP چلے کارتوس ہیں

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے کہاہے کہ کراچی میں امن وامان کی بحالی کیساتھ ایک ایسی فضاء قائم ہوئی ہے جہاں امیدومایوسی کا اظہار ہورہاہے۔ پاکستان کے طول وعرض کو دیکھا جائے تو ایسی قیادت نہیں جو کراچی کو اس فضاء سے نکالنے میں کامیاب دکھائی دے ۔ بکھری ایم کیوایم کے رہنماؤں کو حوصلہ کرنا چاہیے، چلے کارتوس کے خول ہیں، تاہم مہاجر زندہ دل ہیں۔ مہاجرقوم میں بے پناہ صفات ہیں۔ کراچی سے ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ قومی و صوبائی اسمبلی میں گئے ہیں۔ جب بھی کوئی قومی سطح کی تحریک چلی ہے ،ہمیشہ کراچی کے زندہ دل لوگوں نے اس میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مصطفی کمال کی پارٹی ہو یا ایم کیوایم پاکستان و ایم کیوایم لندن یہ پارٹیاں بہت پہلے بن کر اپنے منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔ جب کسی قوم میں نبی کریم ﷺ کی عظیم شخصیت بھی موجود تھی تو اللہ تعالیٰ صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے باوجود بھی وحی کے ذریعے سے رہنمائی فرماتا تھا۔ کراچی میں ایم کیوایم لندن کے وہ کارکن جنہوں نے براہِ راست اپنے قائدالطاف حسین کے شب وروز اور معمولاتِ زندگی کو کافی عرصہ سے دیکھا نہیں ہے ان کا جذباتی لگاؤ فطری طور پر بہت زیادہ ہوگا۔ ان کے برعکس جن کا ملنا جلنا رہتا تھا وہ اتنا جذباتی لگاؤ نہیں رکھتے تھے۔ زیادہ تر مہاجروں کی مثال پیرکے مریدوں یا فوجی سپہ سالار کے سپاہیوں کی ہوتی ہے۔ وہ جزا وسزا کے خوف سے زیادہ حکم کی پاسداری کرنا ہی جانتے ہیں اور کسی قوم کیلئے اس وقت یہ بڑی کامیابی کی ضمانت ہے جب اس کی قیادت محفوظ ہاتھوں میں ہو۔جرمن قوم کی قیادت ہٹلر کے ہاتھوں میں تھی اور قوم کا اس پر بے پناہ اعتماد تھا، اکثر اوقات رہنماؤں کے مقابلے میں یہ حقیقت سامنے آتی تھی کہ ہٹلر ہی کی بات ٹھیک ہوتی تھی۔ جب ہٹلر نے آخر میں سب کیساتھ قوم کو لڑایا تب بھی ان کو ہٹلر کی بات کے درست ہونے کا یقین تھا لیکن عظیم قوم جرمن کا بیڑہ غرق ہوا، تو پتہ چلا کہ ہٹلر کا دماغ ہی چل گیا تھا۔ الطاف حسین عظیم انسان ہوسکتے ہیں لیکن پیغمبر تو نہیں ہیں؟۔
کراچی میں الطاف حسین کی قیادت ماننے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور قائد خود بھی اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور مہاجرقوم نے اسلام کی وجہ سے ہی بھارت سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تربیت کا جو معیار قرآن وسنت کے ذریعے دنیا کے سامنے متعارف کرایا ہے ، وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا نام نہ تھابلکہ اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمان برداری کانام اسلام ہے۔ قرآن میں روزہ رکھنے کیلئے طلوع فجر سے رات تک کا واضح حکم ہے ۔ اگر مسلم اُمہ کی فوجی یا مریدی کی تربیت ہوتی تو جہاں سورج چھ ماہ تک غروب نہیں ہوتا،وہاں روزہ رکھنے سے مسلمان مرجاتے لیکن اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ مؤمن وہ ہیں ’’ جو اللہ کی آیات پر بھی بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرپڑتے ہیں‘‘۔ یہ بھی سورۂ مجادلہ میں ہے کہ اللہ نے عورت کا نبیﷺ سے جھگڑا سن لیا اور پھر اسی کے حق میں فیصلہ بھی دیدیا ۔غزوہ بدر کے موقع پر فدیہ لینے پر اکثریت کی مشاورت کے باوجود جب نبیﷺ نے فیصلہ کیا تو اللہ نے نامناسب قرار دیا اور حضرت عمر فاروقؓ کے مشورے کی توثیق کردی۔ عمر فاروقؓ نے حدیث قرطاس کے مسئلے میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ تو مسلمانوں نے قرآنی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں اس اختلاف کو گستاخی سمجھ کر قتل یا بغاوت کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ الطاف حسین نے بار بار قیادت سے دست برداری کے اعلانات کرکے یہ تربیت کردی تھی کہ مائنس ون فارمولے پر عمل ہوجائے تو ایم کیوایم کے رہنما اور کارکن مایوس نہ ہوں۔ ریاست کی یہ پالیسی بہت اچھی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہی بلاامتیاز کاروائی کا کہہ رہی ہیں۔ ایم کیوایم حقیقی کو پہلے میدان میں اتارا گیا، پھر بیت الحمزہ کو ملیامیٹ کردیا گیا تھا۔ اب ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردئیے گئے لیکن مسئلہ کا حل ریاستی جبر نہیں بلکہ سیاسی قیادت ہے۔
ریاست کی رٹ صرف کراچی نہیں بلکہ سب سے پہلے سوات میں بحال کی گئی تھی۔ پھر جہاں جہاں خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں ریاست کی رٹ نہیں رہی تھی وہ بحال کی گئی۔ کراچی میں بھی ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج فیصلے کرتے تھے۔ اگر کراچی کی ایم کیوایم اور طالبان سے عوام بھی بہت خوش ہوتی تو ریاست کو مداخلت کی ضرورت نہ پڑتی۔ گورنر سندھ سعیدالزمان صدیقی نے موجودہ عدالتی سسٹم سے بچنے کیلئے عوام میں اپنا ایک فورم متعارف کرایا تھا جو اپنی مدد آپ کے تحت جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کے فلسفے پر بنایا گیا تھا۔ جب ایم کیوایم کے مقابلہ میں پیپلزامن کمیٹی کا وجود عمل میں لایا گیا، طالبان گروپ بھی کراچی میں بھرپور طریقے سے متحرک تھے، دوسری مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے بھی عدالت نے فیصلہ دیدیا تو ریاست کو سب کیخلاف حصہ بقدر جثہ کاروائی کرنی پڑگئی۔ اب بھی ایم کیوایم ختم نہیں ہوئی ہے اور الطاف حسین کی مقبولیت میں بھی کمی نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ہمارے ساتھیوں کو22اگست سے پہلے کہا تھا کہ ’’ جنرل احسان الحق(ر+آئی ایس آئی چیف) کو الطاف بھائی کے پاس بھیجا جائے تو معاملہ ٹھیک ہوجائیگا اور اگرچہ اب اس تجویز پر عمل کرنے سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں لیکن الطاف حسین کی قیادت کے بغیر یہ نہ سمجھا جائے کہ ایم کیوایم کا جن بوتل میں بند کیا گیاہے۔ اگر اس سر کٹی لاش نے بھوت بن کر کاروائیاں شروع کردیں تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔الطاف بھائی کو چاہیے کہ اگر ایم کیوایم پاکستان کی موجودہ قیادت پر ہی اپنے اعتماد کا بھرپور اظہار کردیں تو مہاجر قوم مشکل سے نکل سکتی ہے۔ مہاجر قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے اس نظام کی تبدیلی بڑی ضروری ہے جسکی وجہ سے ایم کیوایم بن گئی تھی۔ ایم کیوایم نہیں تو دوسرے کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟۔

نشان حیدر، نشان ذی النورین، نشان فاروق اعظم، نشان صدیق اکبر… حنیف عباسی

نوشتۂ دیوار کے نمائندے حنیف عباسی نے اعلیٰ فوجی اعزازات کے حوالہ سے پارلیمنٹ، حکام کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ نشانِ حیدر سے بڑھ کردوسرے سول وملٹری اعزاز بھی قانون کا حصہ بنائے جائیں۔ ملک وقوم کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ملک ریاض کو نشانِ ذی النورین سے نوازا جائے۔ تاکہ دیگر لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے اپنے ملک میں لگانے میں دلچسپی اور عزت و اعزاز سے ترغیب پائیں۔ جنرل راحیل نے مشکل ترین ہنگامی صورتحال میں ملک کو کھڈے لائن سے بچایا، اسلئے ان کو 7سٹار نشانِ صدیق اکبر دیا جائے، تاکہ قومی خدمات کے حامل افراد کو سادگی کے نام پر بیوقوف نہ کہا جائے۔اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پرفوج کا استحکام وقت کا تقاضہ ہے، جنرل زبیر ملک کے استحکام کیلئے نشانِ فاروق اعظم کا بنیادی کارنامہ انجام دیں ۔خلفاء راشدینؓ کے نام سے قومی اعزازات ملی یکجہتی کیلئے ضروری ہیں۔جنرل یحیےٰ خان کو بھی بالکل ہنگامی صورتحال کا سامنا تھا، اگر اس وقت قومی اعزازات میں رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے بغیر بھی نشانِ ذی النورین، نشانِ فاروق اعظم اور نشانِ صدیق اکبر ہوتے تو سقوطِ ڈھاکہ مشرقی پاکستان بچانے میں جنرل یحیےٰ خان کو اہل تشیع ہونے کے باوجود نشانِ صدیق اکبر پر بڑا فخر ہوتا۔
قومی اعزازات سے فرقہ واریت کو ختم کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ پاک فوج پاکستان کے استحکام کیلئے بنیادی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے، نشانِ حیدر کا تعلق صرف محاذِ جنگ سے ہے۔ پاکستان میں جنگی محاذوں سے زیادہ مارشل لاؤں کے ادوار مسلط رہے ہیں جن سے پاک فوج کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچاہے۔ کرپشن کے حوالہ سے بھی یہ ادارہ دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں رہا، جنرل راحیل شریف کی آمد سے قبل یہ زوال کے انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ پاکستان کے دوانگریز آرمی چیف سمیت جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک مقامی جرنیلوں کو عزت و احترام سے نہیں دیکھا جاتا، جنرلوں کی اولاد اور جنرلوں کے پیداوار سیاستدان بھی جرنیلوں کو سرِ عام برا بھلا کہتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے نہ صرف قوم اور بین الاقوامی عزت واحترام کا مقام حاصل کیا بلکہ حکومت اور اپوزیشن سمیت ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں بھی بڑی عزت پائی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی باوقارشخصیت نے پہلی مرتبہ آرمی چیف کے منصب پر فائز ہوکر نہ صرف یہ کہ زبردست عزت کمائی بلکہ اس منصب کو بھی جنرل راحیل کی وجہ سے عزت حاصل ہوئی ہے۔
جب آنیوالے وقت میں یہ کہا جائے کہ عزت پیسوں سے ملتی ہے، جنرل راحیل نے کرپشن کی عزت حاصل نہیں، منصب کا فائدہ نہ اٹھایا، مارشل لاء نہیں توسیع ہی لے لیتے تو صداقت ، کردار، شجاعت اور عدالت کے تقاضے پر عمل کرنے والی قوم میں امامت کے صفات کبھی پیدا نہ ہوں گے بلکہ ہمارے اندر پست ذہنیت کی پسماندگی سرائیت کر جائے گی۔ جو قومیں نوسربازوں، کرپٹ اور چالاک وعیار لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں وہ قوم ہمیشہ تنزلی کا شکار رہتی ہے۔ جنرل راحیل نے قومی ترقی کیلئے سادگی سے ہنگامی بنیادوں پر جو کارنامہ انجام دیا ہے ،اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ جنرل زبیر حیات جوائنٹ چیف آف سٹاف کی حیثیت سے ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے قوم کے انتظام و انصرام میں حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے احساسات پیدا ہوں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے کمال ایمان سے کرپشن اور بدا نظامی کا راستہ روکنے میں اپنا کردار ادا کیا تو حضرت فاروق اعظمؓ نے بہترین انتظامی اجتماعی عدل وانصاف کا نظام کھڑا کرکے دنیا کی ہیت کو بدل ڈالا تھا۔ شارعِ فیصل کراچی کی ایک طرف فضائیہ اور دوسری طرف نیوی ہے۔ عوام کیلئے وسیع بہترین سڑکوں کی ابتداء کی جائے تو جنرل زبیرحیات اپنے عہدے کو بہت زبردست عزت بخش سکتے ہیں، شارع فیصل کے دونوں اطراف بہترین مارکیٹ، آفس، ہوٹل اور رہائش گاہوں سے فضائیہ اور نیوی کو بھی بڑی آمدن حاصل ہوگی۔ کراچی شہر کا حلیہ بھی بالکل بدل جائیگا۔ جب شہر کچرے سے کچراچی بن جائیگا تو سب کا نقصان ہوگا۔ پاک فوج نے کراچی کے امن کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے ہیں لیکن اندرون سندھ، پنجاب اور دوسرے شہروں کا بھی کوئی خاص مزہ نہیں ہے۔ جب پاک فوج بہترین طریقے سے بنیادی اقدامات اٹھائے گی تو دیرپا امن اور خوشحالی مقدر بنے گی۔
قومی اعزاز کیلئے ملک ریاض کا نام بھی اسلئے لیا کہ ان کے ذریعے بیرون ملک مقیم لوگ اپنے سرمایہ باہر سے پاکستان میں لگارہے ہیں۔جب تعمیری سوچ کو اعزاز کیساتھ بڑھایا جائیگا تو بہت کرپٹ لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے پاکستان لانے میں عزت محسوس کریں گے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں میں لوگوں کو توبہ کرنے اور اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے تو عوام میں تخریب کاری کی بجائے تعمیری سوچ کو پذیرائی حاصل رہتی ہے۔ باعزت روزگارسے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ ایک شخص ملک ریاض ملک کی تعمیر وترقی اور روزگار کی فراہمی میں اتنی بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں تو پاک فوج نے بھی اس میدان میں زبردست پیش قدمی کرنی ہوگی۔ جنرل زبیر حیات اپنے منصب کے لحاظ سے جو خدمات انجام دے سکتے ہیں وہ آرمی چیف کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ آرمی چیف بری فوج کا سربراہ ہوتاہے، نیوی اور فضائیہ کے سربراہوں کی حیثیت اسلئے نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کہ ان کا عملہ زیادہ نہیں ہوتاہے۔ جنرل زبیر حیات کو قسمت سے آرمی چیف بھی بڑے خاکسار، ملنسار اور بڑوں کیلئے مثالی تواضع وانکسار رکھنے والی شخصیت جنرل قمر جاوید باجوہ ملے ہیں جن کی ہرممکن مدد حاصل رہے گی۔قرضوں سے ملک نہیں چل سکتے۔ پاک فوج اپنی مدد آپ کے تحت بڑے ہی منافع بخش ، حوصلہ افزاء اور تعمیرملت کے بنیادی پروگرام میں بہترین حصہ لے کر دفاع کے بوجھ کو بھی اپنے کاندھوں پر اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ سے بالاتر پاک فوج کواپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کیساتھ طبقاتی کشمکش کے بجائے تعمیرِ ملت پر بھی اپنی توجہات مرکوز کرنی ہوگی اور مارشل لاء کی طرف جانے کے بجائے اپنی عوام سے مضبوط تعلقات مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔جنرل راحیل نے ساتھیوں کیساتھ جو بنیاد رکھ دی ہے اس پر تعمیرکی بہت ضرورت ہے ۔

عمران خان نے محرم الحرام میں نکاح کیا یا متعہ؟ ارشاد علی نقوی

عمران خان شیعہ مخالف طبقوں کو محرم کے نکاح پر اپنا ہمنوا بناتا ہوگا اور اہل تشیع سے کہتا ہوگا کہ میں نے متعہ کیا تھا

نوشتۂ دیوار کے ڈیزائنرسیداشاد علی نقوی نے موجودہ دور کے فراڈ سیاسی قیادتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ مفاد پرستوں کے ہاتھوں قوم کے اخلاق، کردار ، اقدار، سیاست اور لیڈر شپ سب کچھ تباہ ہوں تواس کی ذمہ داری کس پر پڑے گی؟۔عمران خان نے نکاح کیا تھا لیکن کس ڈرامہ بازی سے کہہ رہا تھا کہ تبدیلی آئیگی اور میں شادی کروں گا۔
آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا کہاتھا اور پھر اس کی غلط تعبیریں کرتے ہوئے بھی نہ شرمایا، نوازشریف اور شہباز شریف نے جب زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا تو معلوم ہوتا تھا کہ حبیب جالب کی روح ان میں جاگ گئی ہے لیکن پانامہ لیکس سے اپنے پاجامے بھی لتھڑے نظر آئے تو قوم کو پتہ چلا کہ انسان اور سیاستدان دوسروں کے خلاف نہیں بول رہے تھے بلکہ کتے بھونک ، گدھے ڈھینچو، ڈھنچو کررہے تھے۔ عمران خان دونوں کو جس طرح سے منافق، بے غیرت، بے شرم، ملی بھگت اور سازباز کا مرتکب قرار دے رہاتھا تو عوام محسوس کررہی تھی کہ عمران خان سیدھا، باغیرت، شرم و حیاء رکھنے والا، صاف ستھرااور بالکل پاکیزہ کردار رکھنے والا انسان ہے لیکن جب اسکی فائل کھلی ہے تو اس سے بڑا ڈرامہ باز کوئی نہیں لگتاہے۔ ہر چیز کی حد ہے مگر عمران خان نے رسی توڑدی ہے۔ 14اگست 2014ء کو عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا تاریخی دھرنا شروع ہوا تھا۔ اس دوران محرم الحرام اور عیدالبقر بھی آئے ، 31اکتوبر کو7محرم الحرام کی تاریخ تھی۔ریحام خان کے ساتھ نکاح کی خبر میڈیا میں جنوری کو دی گئی۔ مفتی سعید خان نے نکاح کے بارے میں جنوری میں میڈیا سے کہا کہ ’’ میں عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں کہ ابھی عمران خان کا نکاح ہواہے‘‘۔ جب ریحام خان نے طلاق کے بعد انکشاف کیا کہ 31اکتوبر شادی کی سالگرہ تھی اور تحفہ مانگنے پر مجھے طلاق ملی تھی تو میڈیا نے مفتی سعید خان سے پوچھا کہ شادی کب ہوئی تھی؟۔ 31اکتوبریاپھر جنوری کو؟، مفتی سعیدخان نے کہا کہ ’’ 7محرم کو نکاح ہوا تھا، اس کے مطابق تاریخ دیکھی جائے‘‘۔ پھر میڈیا نے مفتی سعیدخان کے کلپ بھی چلائے۔ مفتی سعید خان کے کہنے میں کہ عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں اور قطری شہزادے کے خط میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پراگر کوئی قومی اسمبلی اور سیاسی جماعت کی قیادت کیلئے نااہل ہوسکتاہے تو دونوں کو نااہل کیا جائے۔
دھرنے کے دوران ضرب عضب شروع تھا تو عمران خان ایک طرف امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھائی دے رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ آج میڈیا پر انکشاف ہورہا ہے کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام کا کردار تھا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جیوٹی وی چینل پر روزسنگباری کی جاتی تھی۔ انصار عباسی نے بھی کہا تھا کہ ’’دھرنے کے پیچھے آرمی چیف نہیں لیکن کچھ لوگ خود کو آرمی چیف سے زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں‘‘۔یہ بھی عجیب معاملہ تھا کہ دھرنے میں عمران خان کو چاہنے والی لڑکیاں سرِ عام شادی کی پیشکش کرتی تھیں، روز روز کی گہماگہمی ایک تماشہ ہوتا تھا، جب شادی کرہی لی تھی تو اس کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟۔ پھر ڈرامہ بازی کی ضرورت کیا تھی کہ ’’تبدیلی آئے گی اور شادی کروں گا‘‘۔ ایسا ڈرامہ تو کسی بھی سیاسی قیادت نے نہیں رچایا ہے۔ دوسروں کو ڈرامہ باز کہنے کی اس قدر جسارت اور خود اتنا بڑا ڈرامہ رچانے میں کوئی مشکل محسوس نہیں ہوئی؟۔ آصف علی زرداری نے سیاسی اداکار کے لقب سے ٹھیک یاد کیا تھا لیکن سیاسی اداکاری تو اب اس کا اپنا بیٹا بھی کررہاہے۔ سیاست ادکاری کی آرٹ ہو تب بھی قوم کے جاہلوں سے کھیلنے میں زیادہ حرج نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی ایک سیاسی اداکارہی تھا جس کی نقل موجودہ سیاسی قیادتیں اتار رہی ہیں۔
اصل مسئلہ قلابازیاں کھانے، غیراخلاقی حرکتیں کرنے اور دوسروں کو ڈھٹائی سے موردالزام ٹھہرانے کیساتھ اپنی ایسی حرکات ہیں جن کی کوئی توجیہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ 7محرم کو نکاح سے طالبان ، لشکر جھنگوی اور داعش کو پیغام دیاگیا کہ عمران سے زیادہ اہل تشیع کا کوئی مخالف نہیں، عام سنی بھی محرم خصوصاً عاشورے میں نکاح اور شادی سے اجتناب کرتے ہیں۔ شادی کی بھی جائے تو اس کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جب طالبان کا غلغلہ تھا تو عمران خان انکی بڑی ڈھٹائی سے تائید کرتا تھا، طالبان کا دور نہ رہا تو جلسے میں ’’نعرۂ حیدری :یا علی‘‘کی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔ ایاک نعبد وایاک نستعین کے بجائے اب یاعلی مدد کے نعرے بھی لگ جائیں تو مسئلہ نہیں لیکن قوم کے سامنے اس بات کی وضاحت تو کم ازکم کی جائے کہ ’’پہلے متعہ تو نہیں کیا تھا؟‘‘۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ طالبان کو اس نکاح سے جو پیغام دیا جارہاتھا اس کو اہل تشیع کے سامنے یہ دوسرا رنگ دینے میں بھی حرج محسوس نہیں کرینگے۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے سربراہ مفتی عبدالقوی کا ویڈیو پیغام الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچ چکا تھا۔ایک حرکت سے اس کو نکال دیا گیا تو کیا تحریک انصاف کے سربراہ کیلئے کوئی اخلاقی معیار شرط نہیں ہے؟۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی کے نازیبا تصویروں پر بھی امریکی قوم کو بہت اعتراض ہے لیکن عمران خان کس قسم کی مٹی سے بنایا گیا انسان ہے کہ اپنے لئے کسی اخلاقی معیار کو خاطر میں بھی نہیں لاتا ہے؟۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں میڈیا کو اس شرط پر تو اشتہارات نہیں دیتیں کہ عمران خان کا چہرہ بے نقاب نہ کیا جائے؟۔ سیاسی جماعتوں کی بہادری ملا، طالبان اور فوج سے نہ ڈرنے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور قائدین کیخلاف بولنے سے ہیجڑوں کو بھی ڈر نہیں لگتا۔سینٹر مشاہداللہ خان نے سماء ٹی وی چینل پر فیصل قریشی کے پروگرام میں کہاتھا کہ ’’ عمران خان پرائے بچے پال رہا ہے‘‘۔ مبشرلقمان نے دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا کہہ کر اصل یہودی قرار دینے پر چیلنج کررکھاہے۔ قلابازی کھانے والے دانیال عزیز اور عمران خان کے کردار پر یہودبھی شرم کھا رہے ہوں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے اس کردار کی بنیادپر کہا کہ ’’جسے دیکھ کر شرمائے یہود‘‘۔
قوم کو شعور وآگہی دینا صحافتی فریضہ ہے۔ کسی جماعت کی وکالت اورکسی کیخلاف محاذ آرائی کرنا صحافت کے بنیادی فریضے کے منافی ہے۔ قوم کے شعور کو بیدار کرنے کا فرض نبھانا چاہیے۔ سیاسی قائدین قوم کیلئے رول ماڈل ہوتے ہیں اور ان پر تنقید کرنا انکے ذاتیات کا مسئلہ نہیں ۔ قوم کے سامنے خود کو قیادت کیلئے پیش کرنیوالا اپنی معاشرتی زندگی کو ذاتیات نہیں کہہ سکتا،لیڈر کی ذات پبلک پراپرٹی ہوتی ہے۔جج، جرنیل اور جرنلسٹ جانبدار بن جائے تو اس کا منہ ہی کالا ہے۔

آرمی چیف راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہیں، گھکڑ منڈی کے علامہ زاہد الراشدی و دیگر ذرائع سے سوشل میڈیا کی افواہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ قرآن کی آیت سچ ثابت ہوئی ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی

انگریز کے جانے کے بعد بھارت اور پاکستان میں فوج ، عدلیہ اور بیورو کریسی کا نظام جوں کا توں ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اسلامی نظام تو بہت دور کی بات ہے ہماری مملکت خدا داد میں فلاحی ریاست بھی قائم نہ ہوسکی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح آغاخانی ، پہلے دو آرمی چیف انگریز ، پہلا وزیر خارجہ قادیانی اور پہلا وزیر قانون ہندو تھا۔ 1971 ؁ء میں سقوط ڈھاکہ پیش آیا، باقی ماندہ مغربی پاکستان میں ذو الفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا، آخر کار 1973 ؁ء میں پہلی مرتبہ پاکستان کو اسلامی جمہوری آئین ملا۔ پہلے ختم نبوت کی تحریک والوں پر بغاوت کے مقدمات قائم ہوئے ، تحقیقاتِ عدالت پنجاب کے نام سے حکومت نے جو کتاب شائع کی ، اسمیں جسٹس منیر کی سربراہی میں مرزائی اور ان کو تحفظ دینے والوں کو اصل مسلمان اور انکے مخالف فسادی قرار دئیے گئے، جن کو اسلام اور مسلمانوں کی تعریف کا بھی پتہ نہیں تھا۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کا نمازِ جنازہ پڑھایا لیکن وزیرخارجہ سر ظفراللہ نے یہ کہہ کر جنازہ پڑھنے سے انکار کیا کہ ’’ایک کافر کا جنازہ مسلمان نہیں پڑھ سکتا یا پھر ایک کافر مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے‘‘۔
ذوالفقار علی بھٹو نے تحریکِ ختم نبوت والوں کی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان میں قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلائی گئی ہے کہ غیرمسلم فوج میں بریگیڈئر کے عہدے سے زیادہ ترقی نہیں کرسکتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج میں ترقی کیلئے قادیانیت کا مذہب ترک کردیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے سسر جنرل رحیم کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ کٹر قادیانی تھے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا عبد الکریم بیر شریفؒ لاڑکانہ کا اصرار تھا کہ جنرل ضیاء الحق قادیانی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے علماء کی تحریک پر نہ صرف قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا تھا بلکہ قادیانیوں پر سخت ترین پابندیاں بھی لگادی تھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے رشتے ناطے اپنے کزن پارسیوں سے تھے۔ قائد اعظم کو تعلیم بھی انکے والد کے دوست کراچی کی معروف پارسی شخصیت نے ہی لندن میں دلائی تھی۔ پاکستان بنتے وقت بنگلہ دیش اور چاروں صوبوں میں کسی کو بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ سر آغا خان نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کی قومی زبان عربی ہو، تاکہ قرآن و سنت اور عرب ممالک سے روابط پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ ہمارے ارباب اختیار نے اردو کو مسلط کرکے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو کھودیا۔ 69سال ہوگئے کہ قومی زبان اردو کو سرکاری زبان نہ بناسکے۔ سرتاج عزیز بھارت سے بے آبرو ہوکر نکالا جاتا ہے تو انگریزی میں تقریر کرکے عوام سے نہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوتا ہے۔ میڈیا پر اردو میں ترجمہ کرکے لکھا گیا کہ افغان صدر اشرف غنی کا بیان قابل مذمت ہے اس بیان سے اس کی گھبراہٹ واضح ہوتی ہے۔ سرتاج کا دماغ شاید چل گیا ہے ، جب افغانستان اور دنیا کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان سے دراندازی ہوتی ہے تو یہ کہنا کہ ’’اشرف غنی کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ گھبراہٹ طاری ہے‘‘ سے وہی مؤقف واضح ہوتا ہے جس کا ہمارے بزرگ وزیر خارجہ نے ازالہ کرنا تھا۔اگر ہم افغان صدر کو ڈرانا چاہتے پھر یہ بیان درست ہوتا۔ ہماری دیرینہ خواہش یہ ہے کہ ہم سے انکا خوف نکل جائے۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر رانا بھگوان داس کو ایک عرصے تک مستقل چیف جسٹس بنادیا جاتا تو عدالت کی تاریخ میں سب سے زیادہ انصاف اور قانون کیمطابق فیصلے ہوتے۔ انگریز آرمی چیف کی قیادت میں پاک فوج نے قبائلیوں کی مدد سے سرینگر تک کشمیر کو فتح کرلیا تھا۔ پھر سیاسی قیادت نے اقوام متحدہ کے آسرے پر پاکستانی افواج اور قبائلیوں کو واپس بلالیاپھر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، پہلے مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان نے بیوروکریسی کے صدر کو معطل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا اور ذو الفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ بنادیا۔ بھٹوکو اپنے محکمے اور ملک میں قادیانی کی طاقت کا اندازہ تھا اسلئے مذہبی طبقوں کو قادیانیوں کے خلاف تحریک کی کھلی چھوٹ دے دی۔ پاکستان کی بنیاد ہی مکس ملغوبہ تھا۔ سیکولر لوگوں نے اسلام کے نام پر عوام میں مذہبی منافرت کی بنیاد رکھ دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ اگر شریعت میں اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم کرتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ کمزور کو طاقتور سے نہ لڑانے کی یہ بہترین حکمت عملی ہے۔ صحافت و سیاست کے شعبے میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے کہ اگر آرمی چیف کو سجدے کی بھی ملک میں روایت ہوتی تو بہت سارے قطار اندر قطار کھڑے رہتے۔ مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں بھی درباری ملاؤں اور حکومت کے دست و بازو نے سجدہ تعظیمی کا ارتکاب کیا تھا۔ جنرل رحیم کے داماد جنرل ضیاء الحق نے جو احسانات نواز شریف اور اسکے خاندان پر کئے تھے ، احسان کے بدلے میں احسان کے طور پر ہی نہیں بلکہ سُود جیسے بدترین گناہ کے طور پر بھی اگر نواز شریف جنرل قمر باجوہ کو چیف آف آرمی اسٹاف بناتا تو قابل تعریف تھا۔ لیکن اگر اس نے پاک فوج کو کمزور پوزیشن پر لانے کیلئے کسی بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے تو اسکے نتائج بھی خود ہی بھگتے گا۔ بھارت میں سکھ نالاں ہیں اور باغیانہ ذہنیت رکھتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر سکھ ہی آرمی چیف بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں پر بغاوت کا کوئی الزام نہیں ہے بلکہ پاکستان بنتے وقت قادیانیوں نے بھارت کے قادیان کو چھوڑ کر ربوا چنیوٹ پنجاب کو اپنا مرکز بنایا۔ جب طالبان ، مجاہدین اور پاک فوج کے جوان قبائلی عوام اور پاکستانیوں پر مظالم ڈھاتے تھے تو شریف برادران اور عمران خان وغیرہ کی ہمدردیاں طالبان سے ہوتی تھیں۔ عوام کے سمجھدار لوگوں میں یہ سوچ بھی موجود تھی کہ فوج میں قادیانیوں کا غلبہ ہے اور جان بوجھ کرخاص طور پرپختون اور عام طور پردوسری قومیتوں کے لوگوں کو قادیانی ذہنیت کی خاطر تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔ جنرل راحیل شریف سے عوام کی محبت اسلئے بڑھی کہ ملک میں اس فتنے و فساد کا ایک حد تک قلع قمع کردیا گیا ہے۔
حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی مشاورت سے اپنے دور حکومت میں جو نظام تشکیل دیا اس میں پولیس ، فوج ، عدلیہ اور بیت المال وغیرہ میں دوسرے ممالک سے استفادہ لیا گیا۔ آج شدت پسند بھی اغیار کے فوجی تعلیم و تربیت اور جدید آلات سے ہی مدد لیتے ہیں۔ پاکستان بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے ، میڈیا کا کردار عدل و اعتدال کے قیام کے بجائے افراط و تفریط پھیلانا رہ گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو اور اس کو سمجھنے میں دشواری ہو تو اولی الامر سے تصدیق کرواؤ ۔ آج فاسق فاجر میڈیا کا فائدہ اٹھا کر جس طرح سے ہوش ربا خبریں پھیلاتے ہیں اور ملک میں جو صورتحال موجود ہے اس کے کچھ بھی نتائج نکل سکتے ہیں۔ بڑے علماء کرام اپنے نصاب تعلیم میں کفر کے مترادف مضامین کو تسلیم کرنے کے باوجود تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے توعام مسلمانوں سے کیا توقع ہوگی؟ ۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے داعش کے اوپر احادیث کو فٹ کیا تو انہی احادیث میں یہ بھی ہے جو مولانا یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺکے آئینہ میں‘‘ نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک وقت ایسا بھی ضرور آئیگا جب کمینہ ابن کمینہ کو بہت معزز سمجھا جائیگا‘‘۔ موجودہ دور کی وہ شخصیات جنہوں نے محض اپنی چالاکیوں سے ایسا مقام حاصل کیا ہے کہ ہر قسم کی الٹی سیدھی ہانکتے ہیں مگر پھر بھی انکی سیکورٹی پر خاطر خواہ پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ کوئی ان سے درست بات پوچھتا بھی ہے تویہ جواب دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

سیاسی بے چینی کا حل سیاستدان خود کیوں نہیں نکالتے؟

آصف علی زرداری نے 11سال جیل میں گزارے مگر عدالت سے سزا نہ ہوئی ۔ نواز شریف نے سعودیہ جلاوطنی کے دوران جیو ٹی وی اور جنگ کے مشہورصحافی سہیل وڑائچ سے انٹریو میں کہا کہ ’’ زرداری کیخلاف کیس آئی ایس آئی کے کہنے میں آکر بنائے تھے‘‘ ۔ جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری کو حکومت ملی تو پھر نوازشریف اور شہباز شریف نے زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا مرتکب قرار دیا اور پیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریر شروع کردیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ میں جھوٹ بولا ؟۔ زرداری کی قیدکا ذمہ دار کون تھا؟، دوبارہ بھی فوج کے کہنے پر شور برپا کیا تھا یا یہ سب بکواس اور غلط بیانی ہے؟۔ اگر زرداری جرم ثابت ہونے سے پہلے جیل میں سزا کاٹے، دنیا بھر کی گالیاں، مغلظات اور دھمکیاں کھائے تو وہی سلوک پانامہ لیکس کے بعد اپنے لئے بھی برداشت کرلو۔ جب سوئس اکانٹ پر زرداری کو گالیاں دی جارہی تھیں تو لندن جائیداد اور پانامہ لیکس کی دولت سے نوازشریف اور شہباز شریف بے خبر تھے یا یہ ضمیر کی آواز تھی؟۔ اگر زرداری کی ہتک نہیں تو تمہاری عزت کیا بہت انوکھی ہے؟۔ یہ طے کرنا بھی عزت کے خلاف لگتا ہے کہ مریم نواز صفدر کی بیگم ہے یا نہیں رہی ؟،غریب کی عزت لٹ رہی ہے۔علماء گونگے ہیں ،فتویٰ دیا جاتاکہ قرآن میں طلاق شدہ کی شادی کرانے کا حکم ہے اور شادی شدہ کا تعلق چھپانا جائز نہیں۔
پاکستان کی تعمیر نو کیلئے بچوں کو مال ودولت سمیت بلالو، تاکہ ان کی خداداد صلاحیتوں سے قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ مجرم سے حقائق اگلوانے کیلئے تفتیشی حکام الگ الگ بیان لیتے ہیں مگر تمہارے بچے وکیلوں سے مشاورت کیساتھ میڈیا پر بھی بات کیلئے تیار نہیں۔ متضاد بیانات سے سچ یا جھوٹ کا پتہ چل چکاتھا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ خاتون نے اسحاق ڈار کیساتھ پریس کانفرنس میں کہہ دیاکہ ’’جدید دور میں احتساب کرنا مشکل کام نہیں رہا‘‘۔ وزیراعظم اخلاقی ، قانونی ، شرعی ، سیاسی ہر قسم کی ساکھ کھوچکے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ تمام تضادات کے باوجود عدلیہ کو غلاظت کا ایسا ڈھیر سمجھ رکھا ہے جہاں غلیظ سے غلیظ تر انسان کو بھی چھپنے کا مواقع مل سکے، عدلیہ کو کسی کا داغ دھونے کی بجائے ڈٹ کر ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ عدالت کو مجرم اپنی پناہ گاہ سمجھنے کی بجائے رعب ودبدبہ اور گرفت کا ذریعہ سمجھیں، چیخ کر مجرم پکاریں کہ’’ عدالت میں معاملہ لیجانے کی بجائے ہم پر رحم کیا جائے‘‘۔
شہبازشریف اتناکہہ دیتا کہ ’’میں نے ہمیشہ جنرل کیانی کی ٹانگوں میں سر دیا، پرویز مشرف سے مخاصمت کا بھی حامی نہ تھا، نواز شریف کی طرح میں نمک حرام نہیں کہ جس نے گود میں پالا ، اسکے منہ پر پاؤں رکھوں‘‘۔ تو بات بالکل ختم ہوجاتی۔ فوج کیخلاف صاف مؤقف تھا کہ ’’ہم تیرآزمائیں اور تم جگر آزماؤ‘‘ ،جب ہوا کا رخ بدل گیا تو پھر ’’تم تیر آزماؤ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔بھائیوں کا مسئلہ نہ ہوتا تو ن لیگ کئی گلوبٹ قربان کرچکی ہوتی، عاصمہ جہانگیر اور مولانا فضل الرحمن بتائیں کہ گلوبٹ اور پرویز رشید سے زیادہ شہبازشریف اور نوازشریف استعفیٰ کے مستحق نہ تھے؟۔

اداریہ نوشتہ دیوار

دہشتگردی، ڈان کی خبر اور سیاسی واقعات و حالات
اوبامہ نے 10سال تک دہشت گردی جاری رہنے کا بیان اسوقت دیا، جب جنرل راحیل نے 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا معاملہ اور ڈان کی خبر پر حکومت اور کورکمانڈرز کانفرنس کے درمیان تنازع ہے ۔ کرپشن کے الزام پر شہباز شریف نے عمران خان کیخلاف تقریراور 26ارب ہرجانہ کاعلان کردیا۔ میڈیااور لواحقین نے پولیس سینٹر میں دہشت گردی کانشانہ بننے والوں پر سوال اٹھایا تھا۔ محمود اچکزئی خاموش ہیں، مولانا فضل الرحمن کو انڈیا کی بارڈر پر خلاف ورزی نظر آئی۔ واقعہ دنیا میں کہیں بھی ہوسکتا ہے مگر سازش کا سوال پولیس وحکومت پر اُٹھ رہا ہے جسمیں ن لیگ اور اچکزئی شامل ہیں تو پھر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی؟۔گرتی ہوئی لاشوں کا بھی کوئی ہوش ہے یا نہیں؟، اگر شہبازشریف اپنے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ڈان نیوز کی خبر پریہ سنجیدگی اورکھل کروضاحت کرنے میں کیارکاوٹ تھی؟۔عدلیہ کے ذریعے الزامات ثابت کرنے ہیں توصد رزرداری کو 11سال جیل میں رکھنے کے باوجود کیوں گالیاں دیں؟۔ سویئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس دونوں قومی دولت ہیں۔ شرافت اور عدالت کا تقاضہ ہے کہ قومی قیادت کو قومی دولت لانے کا پابند بنایاجائے۔مریم نواز نے ایک کھرب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا کہ ڈان کی خبر میں ملوث ہونے کا الزام لگایا مگر جب پوری فوج کی مٹی پلید کرنے کی خبر بناکر شائع کی گئی تو حکومت اپنی فوج کیلئے ازخود کھڑی نہ ہوئی، کیوں؟۔
اگر جھوٹی خبر بدنیتی سے فیڈ کی گئی توپاک فوج کی عزت برائے فروخت نہ ہوگی جس کی قیمت عدالتوں کے ذریعہ شہباز شریف سے وصول کی جائے بلکہ اس پر قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہیے۔ اے آر وای پر عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ ’’یہ حکومت نوازشریف کو جنرل کیانی کے وقت میں فوج نے عطاء کی ‘‘۔ دھاندلی کا الزام سب جماعتوں نے لگایا۔جیوپر حامد میر نے ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ پشاور کے حلقہ سے عمران خان کیلئے بھی دھاندلی کے کھلے ثبوت پیش کئے تھے۔ موسمی پرندے پی ٹی آئی کے ایاز صادق وغیرہ اور ق لیگ والے ن لیگ کی طرف پرواز کررہے تھے تو سمجھدار لوگ تبصرہ کررہے تھے کہ ن لیگ کو حکومت دینے کا فیصلہ ہواہے، ہارون الرشید نے کہا کہ ’’عمران خان بروقت امریکہ اور برطانیہ کو اعتماد میں لیتا۔۔۔ ‘‘۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایماء پر اسٹیبلشمنٹ سلیکشن کرتی ہے، جمہوریت کاخوامخواہ میں ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
ہمارے حکمران جمہوری ہوں یا فوجی امریکی اور برطانوی ایجنڈے کو لیکر چلتے رہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ جنرل کیانی کے دور میں پاکستان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سب سے زیادہ دہشت گردوں کے حامی رہے ، الیکشن میں انکے علاوہ سب کیلئے مشکلات تھیں۔ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں اور پھر پیپلزپارٹی کے پیچھے نوازشریف اور عمران خان ہاتھ دھوکر پڑگئے۔جنرل راحیل نے پچھلی باریوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں چےئرمین سینٹ رضاربانی اور امسال اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ساتھ بٹھالیا۔جس سے حکومت کے وزراء کے چہرے اترے تھے ۔ ہارون الرشید کوکہنا پڑا کہ راحیل آرمی چیف کیلئے بالکل نااہل تھے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو شیخ رشید، عمران خان اور پارٹی کے کارکن اور رہنماؤں سے کھلے عام معافی مانگنی چاہیے کہ ایک یو ٹرن مشرق و مغرب یا شمال اور جنوب کا ہوتا ہے، یہ تو بلندی سے پرواز کا رخ موڑ کر اپنی شخصیت ، جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پاتال میں گھسیڑ دینا تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ ’’جہاں علامہ طاہرالقادری جائے،میں بھی وہاں جاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری نے عوام سے رائے مانگی ،عوام اسلام آباد کادھرنا دیکھ چکے تھے، اسلئے شریف برادران پر زیادہ دباؤ ڈالنا مناسب سمجھا، رائے آئی کہ اسلام آباد نہیں رائیونڈ جانا ہے۔ شیخ الاسلام نے رائیونڈ کا اعلان دبنگ انداز میں کیا۔یعنی اب علامہ طاہرالقادری کیلئے واپسی کی گنجائش نہ رہی۔ شیخ رشید، جمعیت علماء پاکستان کے ڈاکٹر زبیر الخیری و دیگر بھی تھے۔اتنی قلابازی کھانے پر رقم لینے تک کے الزام لگ گئے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذوقِ تقریر مثالی ہے، کوئی اہم اعلان کرنے سے پہلے اپنی لاش پر مرثیہ پڑھنے کی حد تک جاتے ہیں،جلسۂ گاہ میں سامعین اور ٹی وی پر دیکھنے والوں کا علان کرتے کرتے خون خشک کردیتے ہیں، دماغ کی دہی بنادیتے ہیں، عمران خان نے کوفت اٹھاکر اپنے فسٹ کزن کے اعلان کا انتظار کیا جب اس نے اعلان کیا تو عمران خان نے بھی رائیونڈ کا اعلان کردیا۔ پھر علامہ طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کرکے اپنے بیٹوں کو ساتھ میں بٹھاکرقائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ ’’ رائیونڈ جانا تو دور کی بات ہے اس راستہ پر جانا بھی شریعت میں جائز نہیں اور میں اس کو شریعت اور جمہوریت کیخلاف سمجھتا ہوں‘‘۔ اتنا بڑا یوٹرن لینے سے علامہ کی شخصیت کے سارے بھیدکھل گئے۔ علامہ نے بڑی متضاد قسم کی قلابازی کھائی۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’مشاورت کرلو، جب عزم کرلو تو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘۔ علامہ نے مشاورت اور اللہ پر توکل کا اعلان کیا مگر پھر جانے کو ناجائز قرار دیا، جیسے شیخ الاسلام نہ ہوں بلکہ نئے نئے مسلمان بن گئے ہوں۔ پھر پینترے بدلتا رہا کہ نیاماڈل ٹاؤں کا واقعہ کروایا جارہا تھا، اپنے بندوں کو خود مار کر ہم پر مقدمات بنانے تھے؟۔
جب اس طرف کا رخ کرنے کو بھی اسلام اور جمہوریت کے منافی قرار دیاتو یہ اپنے کارکنوں کو ہی نہیں ، عوام اور شیخ رشید و دیگر کو بھی روکنے کے مترادف تھا، پیپلز پارٹی والے تو اخلاقیات کے منافی قرار دیتے تھے ، اس نے تو عمران خان اور شیخ رشید کے عزائم پر بھی سوالیہ نشان بنادیا،عوام کو جمہوریت اور اسلام کا فتویٰ بتادیا۔ عمران خان نے اسلئے سوچا ہوگا کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ شیخ رشید تو ایک بار نہیں بار بار منجھا ہوا ہے۔ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، پرویز مشرف اور ہرقسم کے لوگوں کا دفاع کرنے میں حالات کے مطابق مگن رہتاہے، دھلے دھلائے ہانڈی کی طرح وسیع ظرف اور بڑا تجربہ ہے۔ اس کی کوشش پہلے عمران خان کو نرمی دکھانے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے خود یہ بھی کہا تھا کہ میں تو شیخ رشید جیسے گندے آدمی کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ پھر طاہرالقادری نے یورپی یونین سے مدد لینے کا بہانہ بنایا اور شاہ دولہ کے چوہے کے دماغ میں یہ بات نہ رہی کہ میں نے راحیل شریف سے بھیک نہ مانگنے کا فیصلہ کیا تھا ، یورپ کوئی خدا تو نہیں ۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے سعید غنی کو کہنے کاموقع دیا :’’ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے‘‘۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جنرل راحیل جارہا تھا مگر کمال کمینگی سے شریف برادران نے داؤ پیچ کھیل کر اپنے دامِ فریب کا خود ہی شکار ہوگئے۔ اگر فوج کا ارادہ خراب ہوتا تو طاہرالقادری یورپی یونین کیلئے فرار ہونے کے بجائے راحیل شریف پر اعتماد کا اظہار کرتا۔ اسکا اتنا بڑا یوٹرن لیناکہ اگر جہاز ہوتا تو پرخچے اڑ جاتے مگر علامہ بڑے مستقل مزاج یا ڈھیٹ ہیں کہ پرواہی نہیں کرتے۔ عمران خان نے ٹالنے کی بڑی کوشش کی مگر بالاخر30اگست کو جلسہ کیا۔نوازشریف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے ذریعہ کھلے عام دھمکیاں دیکر واپس لیں۔ علامہ طاہر القادری کو ڈرانے کیلئے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کرایاتھا، 14شہداء کی لاشوں کے باوجود طاہرالقادری کو خطرہ تھایا فوج کو ملوث کرنا چاہتے تھے کہ امارات ائرلائن یرغمال بن گئی؟۔ عمران خان کا دل اور دماغ ایک ہے، جیسے پچھلے دھرنے میں شادی کا اعلان کیا، اس طرح 30اگست کے جلسے میں پھر تاریخ دیدی۔ یہ تو نوازشریف اور شہباشریف کی غلطی سے 6اکتوبرمیں ڈان کی خبر سے ماحول بدل گیا۔ورنہ اسلام آباد کا اعلان دوسری جماعتوں سے شرکت کی توقع پر کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کیلئے یہ نوازشریف کے گھر پر مظاہرہ نہ تھا۔ بلاول بھٹو نے 27دسمبر کا اعلان کیا لیکن جب ماحول کی تبدیلی دیکھ لی تو کہا کہ ’’7نومبر کو احتجاج کرنے کیلئے اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں‘‘۔ سب سیاسی جماعتوں میں قلابازی کھانے میں عمران خان اور طاہرالقادری کو کوئی دیر نہیں لگتی ہے۔

یہ کراچی ہے، مہاجر کیا سوچتے ہیں، کیا سوچنا چاہئے؟

نوشتۂ دیوار کے سینئر کالم نویس عبدالقدوس بلوچ نے کراچی کی صورتحال کو موضوع سخن بناکر کہاہے کہ: ان کارٹونوں سے ایک عام مہاجر کے ذہن کی درست عکاسی ہورہی ہے، ایک طرف وہ یہ سوچتاہے کہ بہ تکلف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جارہاہے حالانکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر غدار صرف کسی ایک کو قرار دیا جارہاہے۔دوسری طرف الطاف حسین اور ڈاکٹر فاروق ستار ڈگڈگی بجاکر مہاجروں کو نچارہے ہیں اور سب ہی اپنے احکام صادر کر رہے ہیں۔کل تک ایکدوسرے پر جان نچھاور کرنیوالوں کو ہوا کیا ؟۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین، کچھ رہنما اور کچھ کارکن رہتے ہیں ،باقی عام عوام الناس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، بس ان کو اتنا پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری قیادت ہے اور اس کی جماعت کو ہم اپنی نمائندگی کیلئے ووٹ دیتے ہیں، ہردکھ سکھ میں ہمارے رہنماکام آتے ہیں اور وہ ہماری شناخت ہیں۔ ایم کیوایم کا دعویٰ درست تھا کہ پڑھی لکھی عوام میں پارٹی اور قائدِ تحریک الطاف حسین کی پذیرائی دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے، ایم کیوایم کی اس صلاحیت نے کراچی پر بہت برے اور اچھے دنوں میں اپنی حکمرانی برقرار رکھی ۔ مصطفی کمال کی پی ایس کو گورنر سندھ نے بے سروپاکہا۔ ایم کیوایم کی ساری قیادت نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، جس کی لندن سے بھی تائید ہوئی اور پھر سندھ اسمبلی سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کی بھی ایم کیوایم سے تائید کروائی گئی۔ جسکے بعد ایم کیوایم لندن نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا۔ گورنر سندھ کو مصطفی کمال بے غیرت اور رشوت العباد اور عشرت العباد نے مصطفی کمال کو گٹھیا اور مفادپرست کہا۔ ایک عام مہاجر کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون بھلاہے اور کون بُرا ہے؟۔
ایک زمانہ تھا کہ بلوچوں میں سب سے زیادہ مہمان نواز، ملنسار، وفادار اور اچھے لوگ لیاری کے بلوچ ہوا کرتے تھے، پھر سیاسی لوگوں نے اپنا مفاد اٹھاکربدمعاشوں کو لوگوں پر مسلط کردیا، پھر لیاری کی شناخت بھی شناسا ؤں کیلئے مسخ ہو گئی۔ یہی صورتحال کراچی کیساتھ پیش آئی۔ پاکستان بھر میں جہاں کراچی کا باشندہ جاتا تو اس کو بہت عزت ملتی تھی۔ پھر اس قوم پر وہ طبقہ مسلط ہوا، جس نے شناخت بدل ڈالی۔ پہلے پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا اور جب نہ رہا تب بھی کراچی سے حکومت کی تقدیر کے فیصلے ہوتے تھے۔ لالو کھیت کے باشندے کہتے تھے کہ ’’ہم بادشاہ گر ہیں، جسے چاہیں اقتدار کی کرسی سے اتار لیں‘‘۔ پھر معاملہ بدل گیا تو لالوکھیت کے باشندے لیاقت آباد کے نام سے بھی اپنی عزت بحال نہ کرسکے۔ ایک معزز گھرانے سے نبیل گبول کا تعلق تھا اور جب پہلی مرتبہ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی بن گئے تو ہمارے شاہ صاحب کی ایک کتاب پر ان کا تائیدی بیان شائع ہوا۔ پھر ذوالفقار مرزا نے ماحول خراب کیا تو لیاری میں ان کیلئے جانا مشکل ہوگیاتھا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی چھوڑی، ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کرلی، پھر وہاں سے بھی نکل گئے۔
کراچی کی سیاست میں نبیل گبول کے خاندان کا1930ء سے ممتاز مقام تھا لیکن اب وہ موجودہ دور میں بے عزت سیاستدانوں سے عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ بلاول ، عمران، نواز شریف ، الطاف اور دیگر لیڈروں کی عزت ان جیسوں نے بنائی جن کا اپنا قدبہت اونچاتھا اور یہ لوگ درست قیادت کا انتخاب کریں گے تو قوم، ملک اور مسلمانوں کی تقدیر بھی بدل جائیگی۔ الطاف حسین نے سوبار کہا کہ ’’میں قیادت چھوڑتا ہوں‘‘ پھرکارکن منالیتے۔ اب پوری پارٹی نے کہا کہ ’’ قیادت ڈاکٹر فاروق ستارکرینگے ‘‘ تو الطاف بھائی کو چاہیے تھا کہ کہتے’’ میرا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیاہے‘‘، شروع میں درست کہا ،توقائم رہتے۔ لندن کے چند رہنما بیان بازی کا سلسلہ جاری نہ رکھتے تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں مہاجر متحداور خوشحال رہتے۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور بدزبانوں سے نجات مل جاتی اور وقت آتا تو غلط فہمیاں بھی دور ہوجاتیں۔ بانی بڑی عمر میں پہنچ کربھائی سے حاجی الطاف حسین بن جاتے۔ دل گرفتہ بددعاؤں کے بجائے پاکستان، قوم و ملت اور عالم انسانیت کو دعائیں دیتے۔ اگر عمران خان عظیم طارق کی شخصیت سے بہت متأثر تھے تو الطاف حسین سے بھی متأثر ہوتے۔قائد تحریک نے اس کی کونسی بلی ماری تھی۔پھرزہرہ شاہدہ ماری گئی تب بھی عمران خان نے کافی عرصہ بعد ہیلی کاپٹر پر کراچی آنے کے باوجود تعزیت تک نہیں کی۔ عمران خان نیازی سے زیادہ والدہ کی وجہ سے برکی قبیلے کی نسبت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جس طرح بلاول اپنے آپ کو زرداری سے زیادہ بھٹو سمجھتا ہے۔ کانیگرم سے برکی قبیلے کے گلشاہ عالم برکی نے عمران خان کیلئے بڑی قربانی دی تھی جو طالبان کے ہاتھوں زندہ غائب ہوا، لیکن عمران خان نے اس پر بھی طالبان کی کوئی مذمت نہیں کی، اگر عمران خان اور نوازشریف کے بچوں کو طالبان ذبح کردیتے یا زندہ غائب کردیتے یا دھماکوں میں ماردیتے توان کو دہشت گردی کی حمایت پر عوام کے دکھ کا پتہ چلتا۔ ضرب عضب کے بعد بھی نوازشریف کی طرح عمران خان نے بھی قومی ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں کیاجس کی وجہ سے پختونخواہ میں طالبان دہشت گردوں نے بھتے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور پولیس بالکل لاتعلق رہی۔ الطاف حسین واحد قائد تھے جس نے اپنے کارکنوں سے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو چائینہ کٹننگ پر پٹوایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کارکنوں نے قائد سے نہیں پوچھا کہ ’’منی لانڈرنگ کی رقم تم سے برآمد ہوئی ہے‘‘۔ عمران خان اپنے سسر گولڈ سمتھ سے بہت متأثر ہیں اسلئے برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ برطانیہ نے امریکہ کا نوکر بن کر عراق تباہ کیا اور چوری پکڑی گئی تو ٹونی بلیئر کو کیا سزا دی؟۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس غلط چلایا تھا یا سزا میں 400بیسی سے کام لیا؟۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کو رقم دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
لندن میں بیٹھنے والے جی حضوری کے عادی بن چکے ہیں، ان کوکیا معلوم کہ کراچی کی عوام روز روز ہڑتال سے تنگ تھی، لندن کی کھلی فضاؤں میں الطاف حسین اور دوسرے رہنما اندازہ نہیں لگاسکتے، ڈاکٹر عمران فاروق کی موت تو اپنی جگہ لیکن جس کسمپرسی میں کنونیئر رہے وہ بھی کوئی کم معمہ نہیں ،اب الطاف کوبھی یہی دن نہ دیکھنے پڑجائیں!۔ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی موت سے زیادہ تلخ تھی ۔کراچی کی بہادر عوام کو اگر بڑی بڑی قربانیاں دینے پر مجبور کرنے کے بجائے مہذب طریقے سے آگے بڑھایا جاتا تو آج کراچی کا مہذب طبقہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا۔ مصطفی کمال الطاف کے حصار سے نہ نکل سکا، تقریرہی کرنی ہے تو عوام کو تبلیغ میں بھیج دیا جائے،گھڑی گھڑی بداخلاقی کامظاہر ہ کس اخلاق کی تعلیم ہے ؟۔ کراچی کااصل مسئلہ پسماندگی ہے۔ سندھ کے دارالاخلافہ کراچی کی حالت بہتر ہوتی اور دیگر علاقے پسماندہ ہوتے تو دیہات کا مطالبہ نیا صوبہ ہوتا، الٹی گنگا اسلئے بہہ رہی ہے کہ دارالخلافہ کی حالت خراب ہے، سندھ کی رقم سے دبئی آبادہے، کراچی اور شہری آبادی پر پیسہ نہیں لگ رہا تو دیہاتوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ سلجھے مہاجر بے وفا نہیں، الطاف بھائی کے پٹوانے کے باوجود رہنما ڈٹے رہے ۔ عوام علماء کے واعظ سن کر الطاف سے مانوس تھی مگر قائد کی غلطی اور معافی کا نہ رُکنے والا سلسلہ رہنماؤں اور پارٹی کیلئے بڑاتضحیک آمیز تھا، کامران خان نے ٹی وی پر الطاف کا کلپ دکھایا تو رضاہارون کی حالت قابلِ رحم تھی،روٹی حلال کریں مگر لندن میں الطاف کو غلط مشورے دیکر مہاجروں کا بیڑہ غرق نہ کریں،الطاف حسین اسی کی سزا بھگتے ہیں۔ عبد القدوس بلوچ (تیز و تند)