اس کی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے اور مسلمانوں کیلئے بہت شرم کا مقام ہے جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تین طہروں میں تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجوع کا حکم واضح کیا ہے تو مسلمانوں کو کیوں ایسی بے غیرتی پر مجبور کیا جاتا ہے؟۔ حلالہ کے رسیا علماء و مفتیان پتہ نہیں کس قماش کے ہوتے ہیں کہ ان کو قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کے بعد بھی رجوع کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا۔حکومت کو چاہیے کہ ان پردہ نشینوں کے نقاب کھینچ کر ٹی وی پر میرے سامنے مناظرے کیلئے پیش کریں۔ عتیق
علماء ومفتیان نکاح وطلاق کے بارے میں عوام کو اسلامی تعلیم نہیں دیتے بلکہ ناک کی نکیل کی طرح عقیدتمندوں کوہاتھ میں رکھا ہے، کوئی شک نہیں کہ اسلام کی بقاء کیلئے علماء ومشائخ کی بڑی خدمات ہیں۔ وزیرستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے تھے، عام لوگوں کے مہمان خانے بھی نہیں تھے، مہمانوں کو گھر میں چولہے کے پاس بٹھادیتے تھے ۔ کسی سادہ میزبان نے دیکھا کہ مہمان کی شلوار پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ ’’اگرچہ تم مہمان ہو لیکن اپنے فوتے کو چھپاؤ‘‘۔ اس کی اس سادگی کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ اس کہاوت کو بہت سارے معاملات میں استعمال کیاجانے لگا۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ احترام اپنی جگہ پر لیکن اپنی حدود سے باہر نکلنا بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔ علماء ہمارے سروں کا تاج اور مشائخ ہمارے دلوں کا راج ہیں لیکن قرآن و سنت کے حدود میں ہی رہنا ہوگا۔ سورۂ بقرہ کی آیات224سے لیکر 232تک ، سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات کی تفصیل دیکھ لی جائے تو طلاق و رجوع کی تمام حدود سمجھ میں آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت کردی کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے عورتوں کے بھی مردوں پر حقوق ہیں البتہ مردوں کوان پرایک درجہ حاصل ہے۔ بعض پاگل قسم کی خواتین اس آیت کی وجہ سے برگشتہ ہیں۔ حالانکہ یہ فضلیت مردوں کو مہنگی پڑتی ہے، طلاق میں عورت حق مہر اور دی ہوئی چیزوں کی مالک بنتی ہے۔ عدت کا انتظار بھی عورت کے اپنے ہی مفاد میں بھی ہوتا ہے۔ نکاح کے میثاق غلیظ یعنی پختہ عہد وپیمان کو طلاق مغلظ میں بدلا گیا اور اس کیلئے انواع واقسام کے فقہی مسائل اور احادیث گھڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مفتی عطاء اللہ نعیمی نے لکھا ۔تیسری حدیث: عن انس قال سمعت معاذ بن جبل یقول: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : یا معاذ ! من طلق لبدعۃ واحدۃ أو اثنین أو ثلاثاً الزمناہ ( دارالقطنی کتاب الطلاق )رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! جس نے ایک یا دو یا تین بدعی طلاق دیں ، ہم نے اسکی بدعت کو لازم کردیا‘‘۔ جتنی طلاق دے واقع ہونگی۔ چوتھی حدیث: نبیﷺ نے فرمایا أیما رجل طلق امرأتہ عند الاقراء أو ثلاثا مبہمۃ لم تحل لہ حتی تنکح غیرہ ( سن الکبریٰ ، کتاب الخلع والطلاق) یعنی جس شخص نے اپنی بیوی کو الگ الگ طہروں میں یا بیک وقت تین طلاقیں دیں تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے‘‘ ۔( طلاق ثلاثہ کا شرعی حکم ۔ جمعیت اشاعت اہل سنت پاکستان ، نور مسجد کاغذی بازار کراچی ) نبیﷺ کی حدیث سے بدعت کی توثیق بجائے خودغلط ہے ، الفاظ کا انتخاب بھی ان احادیث کے من گھڑت ہونے کی دلیل ہیں۔ حنفی مکتبۂ فکر کے علماء قرآن کے مقابلے میں صحیح احادیث کو بھی ترک کردیتے ہیں، حنفی علماء کی معتبر تصانیف میں ان احادیث کو اسلئے جگہ نہیں مل سکی کہ ان پر اعتماد نہیں تھا ۔جب احادیث گھڑنے سے دریغ نہیں کیا گیا تو اور کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا؟۔ طلاق سے رجوع کیلئے باہمی رضامندی سے آیات کو نظر انداز کیا گیا۔ شوہر اوربیوی کے حقوق واضح ہیں مگر عدت میں بھی بیوی کا حق نظر انداز کیا گیاہے جس کی وجہ سے امت اختلافات کے علاوہ خرفات کا بھی شکار ہوگئی۔ اگر صرف یہ خیال رکھا جاتا کہ خواتین کا بھی حق ہے تو کسی بھی غیر فطری اختلاف وتضاد کی گنجائش نہیں ہوتی۔ طلاق کا واقع ہونا کوئی بڑی بات نہیں البتہ رجوع کی گنجائش ختم کرنا بڑا مسئلہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے بھی اسلئے ایک ساتھ تین طلاق کے واقع ہونے کا فتویٰ دیاتھا کہ اگر طلاق واقع نہ ہو توپھر عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی۔ عورت کے حق کیلئے ضروری ہے کہ ایک طلاق ہو یا تین طلاق بہرحال عورت کی مرضی کے بغیر اس کو ناقابلِ رجوع قرار دیا جائے ، حضرت عمرؓ کا مؤقف درست اور قرآن کے مطابق تھا۔ البتہ جب باہمی رضامندی سے اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندروباہر بار بار رجوع کی اجازت دی ہے تو نہ حضرت عمرؓ نے رجوع کا حق منسوخ کیا ہے اور نہ ائمہ نے باہمی رضامندی کے قرآنی حق کو منسوخ کیا ہے اور نہ کرسکتے تھے۔ اللہ نے طلاق کی جس صورت پر حلال نہ ہونے کی بات فرمائی ہے وہ ایک مخصوص صورت کیساتھ خاص ہے جس کو حلالہ کی لعنت والوں نے اپنی حدود سے نکال کر بہت پھیلا دیا ہے۔ مسلم امہ نے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔تفصیل صفحہ نمبر 3پر
حیض (ماہواری )مہینے میں 3سے 10دن جبکہ پاکی کے دن 20سے27دن ہیں۔ نبیﷺ سے حیض کاحکم پوچھاگیا، تو قرآن نے اذیت قرار دیا۔ عورت کو اذیت ہوتی ہے اور ناپاکی بھی۔ علماء نے ترجمہ ، تفسیر اور فقہ سے اذیت غائب کردی، لغت کی کسی کتاب میں اذیٰ کے معنیٰ ناپاکی کے نہیں۔اللہ نے اذیت کی وجہ سے توبہ اور ناپاکی کی وجہ سے طہارت والوں کو پسندیدہ قرار دیا ۔ علماء وفقہاء کے دماغ میں صرف مردوں کا حق ملحوظِ خاطر رہا، اسلئے عورت کی اذیت کو خاطر میں نہ لایا گیا ۔ حرث کا معنیٰ اثاثہ بھی ہے اور کھیتی بھی۔ علماء نے اپنے لئے غیرت کھائی ہوتی تب بھی عورت کو کھیتی نہیں اثاثہ قرار دیتے۔گھر کی ملکہ، بچوں کی ماں، سسرال کی بہو اور انسان کی عزتِ جان ’’محترمہ بیوی‘‘ کو بہت بے غیرتی کا مظاہرہ کرکے کھیتی قرار دیا گیا۔ کھیتی میں لوگ بول وبراز کرتے ہیں، گدھے اور بیل اور ٹریکٹر سے ہل چلایا جاتاہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین مولانا محمد خان شیرانی سے ہم نے طلاق کے مسئلہ پر بات کی تو اس نے عورت سے متعلق کھیتی باڑی کے اجارے کا ذکر کیا۔ طلبہ کو پڑھایاجاتاہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے عورت سے پیچھے کی راہ مباشرت کو جائز قرار دیا۔ حضرت علیؓ نے اس کو کفر قرار دیا، امام ابوحنیفہؒ کی رائے حضرت علیؓ کیمطابق ہے اور امام مالکؒ کا قول وعمل اسکے بر عکس ہے، وہ کہتاہے کہ ابھی ابھی میں نے بیوی سے پیچھے کی طرف سے مباشرت سے غسل کیا۔ مسلکی اختلافی بحث ہے کہ قرآن کے لفظ انّٰی شئتم سے کیا مراد ہے؟ ۔ جہاں سے چاہو سے لواطت ثابت اور جیسے چاہو سے لواطت حرام قرار دی جاتی ہے۔اگر عورت کے حق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تواس قسم کے فضول اختلافات اور بکواسات کی ضرورت نہ پڑتی،جو بدقسمت مذہبی نصاب کا حصہ ہیں۔ اللہ نے حیض میں بھی واضح اور بڑی ترجیح اذیت کو دی ہے۔ عورت کی اذیت کوبھی موضوع بحث بنایا جاتا تو تفسیر وفقہ میں قرآن کی آیات کے مفہوم کی گردن مروڑنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اللہ نے سورۂ مجادلہ میں خاتون کی رائے پر مذہبی قول جھوٹ و منکر قرار دیا اور سورۂ احزاب نبیﷺ کو حکم دیا کہ’’ اللہ کے نازل کردہ اتباع کرو،اللہ کی وکالت کافی ہے‘‘۔ امام اعظمؒ نے بعض احادیث کو قرآن سے متصادم قراردیا تو یہ سب دین کو برباد کرنے کیلئے تھا یاتحفظ کیلئے ؟۔پھر اما م ابوحنیفہؒ کے نام پر مسائل گھڑے گئے۔ اس آیت میں عدت و طلاق کے حوالہ سے واضح ہے کہ جس طرح دن کو روزہ رکھا جاتاہے ، رات کو نہیں۔ اس طرح بیوی سے مقاربت کا زمانہ حیض نہیں پاکی کے ایام ہیں۔ جس طرح دن رات میں ایک مرتبہ روزہ رکھا جاسکتاہے، اسی طرح ایک مرحلے میں ایک مرتبہ طلاق ہے۔
مندرجہ بالا آیات میں چار ماہ کا انتظار وعدت واضح ہے جوتین ماہ یا تین طہرو حیض کے مقابلہ چار ماہ یا چار طہرو حیض ہے۔ جس طرح یہ بہت بڑی کم عقلی ہوگی کہ 15دن سفر کی بات ہو اور اس بات پر اختلاف کیا جائے کہ 15رات مراد ہیںیا15دن۔ حالانکہ دونوں مراد ہیں، بولنے میں 15رات کہا جائے یا15دن۔ بات ایک ہی ہے۔ اللہ نے حیض کی صورت میں عورت کی عدت تین مرحلے متعین کیے لیکن اگر حیض نہ آتا ہو یا اس میں کمی بیشی ہو تو پھرتین ماہ۔ جیسے بیماری ، زیادہ عمر اور بچے کو دودھ پلانے کی صورت میں ماہواری وقت پر نہیں آتی ۔ اسکی اللہ نے3ماہ کی وضاحت کردی ہے جو تین طہروحیض کے ہی برابر ہیں۔ مدارس کے طلبہ اور علماء ومفتیان کتابوں میں بے سروپا اختلافات کی وجہ سے کھلی ہوئی آیات کا معنی ومفہوم سمجھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ جاہلیت میں شوہر کی زباں سے قسم نکل جاتی کہ عورت کے پاس نہ جائیگا تو عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی کہ طلاق کا اظہار نہ ہوا۔ اللہ نے واضح کیا کہ لغو قسم سے اللہ نہیں پکڑتا بلکہ دل کی کمائی پر پکڑتاہے۔ 4ماہ تک باہمی صلح و رجوع کیا تو اللہ غفور رحیم ہے۔آیت میں عورت کا حق واضح ہے۔ شوہر طلاق کا اظہار نہ کرتا تو بیوی حق سے زندگی بھر محرومی رہتی ۔ آیت میں واضح ہے کہ مرد کو 4 ماہ تک صلح کی ڈھیل ہے اور عورت کو 4ماہ بعد طلاق کا اظہار نہ ہونے کے باوجود دوسری شادی کی اجازت ہے ۔بیوہ کی عدت 4ماہ 10 دن ہے۔ طلاق کا اظہار نہ کیا تو اظہارِطلاق سے 1ماہ زیادہ اور بیوہ سے 10 دن کم کی عدت کی کھلی وضاحت ہے۔فقہاء نے عورت کاحق نظر انداز کیا، حنفیوں کے نزدیک 4ماہ گزرتے ہی طلاق ہوگی اور جمہور کے نزدیک جبتک طلاق نہ دیگاعورت 4ماہ بعد بھی بیٹھی رہے گی۔ فضول اختلافات نے مسلم اُمہ کو ذہنی مفلوج کردیا ، سمجھدار طبقے کیلئے یہ کافی ہے کہ قرآن کا مدعا عورت کا حق کو محفوظ کرنا تھا، جیسے بیوہ کی 4ماہ10دن عدت ہے ، اگر شادی نہ کی تو موت کے بعد تختی لگے گی کہ زوجہ مفتی اعظم ۔۔۔اور قیامت کے دن بھی رشتہ قائم رہے گا یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ واصاحبتہ و بنیہ ’’ اس دن آدمی فرار ہوگااپنے بھائی ، باپ، اپنی ماں ،بیوی اور اولادسے‘‘۔ نبیﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ ’’اگر مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں توخود غسل دونگا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کی میت کو آپکی ز وجہ نے غسل دیا اور حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کو غسل دیا،پھر میت کا غسل علماء کا کسبِ معاش بن گیا۔ اللہ نے واضح کیاکہ طلاق کا عزم تھا تو اسکا اظہار نہ کرنے پر پکڑ ہوگی اسلئے کہ ایک ماہ عدت میں اضافہ ہوا۔جس طرح عدت کے بعد بیوہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ فوت شدہ شوہر سے اپنا تعلق بحال رکھے یا نئی شادی کرے۔ مگر فوتگی کے بعد مرد کے حق کو موضوع بحث بنایا گیا۔احمق علماء نے فوتگی پر طلاق واقع کردی ۔بہشتی زیور میں ہے کہ بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے لیکن شوہر کپڑے کے بغیر چھو نہیں سکتا۔ روزنامہ جنگ میں مولانا سعید جلالپوریؒ نے لکھا کہ’’ ایک کے فوت ہونے پر دونوں اجنبی بنتے ہیں‘‘۔ اسی طرح ایلاء میں بھی عورت کے حق کو نہیں دیکھا۔ ایک طبقے نے کہا کہ مرد کا حق استعمال ہوا، عورت حرام ہوگئی ، دوسرے نے کہا کہ مرد کا حق استعمال نہیں ہوا،اظہار طلاق تک نکاح بحال رہیگا۔ حالانکہ عورت کا حق دیکھا جاتا تو اس اختلاف کی نوبت نہ آتی ۔ عورت کو چارماہ انتظار کے بعد یہ حق بھی پہنچتا کہ بیوہ کی طرح دوسری جگہ شادی کرلے اور اگر اسی شوہر سے 4ماہ گزرنے کے باوجود باہمی رضامندی سے رجوع پر راضی ہوتی تو بھی ناجائز نہ ہوتا۔1: عورت کاحق بحث سے خارج کیا، حالانکہ قرآن کا بنیادی مقصد عورت کے حق کو تحفظ دینا تھا، 2: روایتی ملا کے ذریعے نکاح پڑھانا پیشہ بن گیاجس کا قرآن وسنت میں وجود نہ تھا،3: حلالہ کے دلچسپ مفاد نے فقہاء کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں تھیں۔
و المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروءٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً و لھن مثل الذین علیھن بالمعروف و للرجال علیھن درجۃ و اللہ عزیز حکیمO (البقرہ:228)
اور طلاق والی انتظار میں رکھیں خود اپنی جانوں کو تین قروء (طہر و حیض) تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو پیدا کیا ،اللہ نے انکے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اور انکے خاوند حق رکھتے ہیں انکے لوٹانے کا اس مدت میں بشرطیکہ صلح کرنا چاہیں، اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پر ہے معروف طریقہ سے۔ اور مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔(نبیﷺ حضرت ابن عمرؓ کو طلاق کی صورت کا یہ نقشہ سمجھایا)
اظہار طلاق نہ ہوتو عورت 4ماہ اوراظہارِطلاق کے بعد3مرحلے یا3ماہ کی عدت کی پابندہے۔ شوہر کا یہ بڑا درجہ ہے کہ وہ طلاق دے اور عورت عدت کا انتظار کرے۔ عورت کی رضا اور صلح کے بغیر شوہر عدت میں بھی یکطرفہ رجوع نہیں کرسکتا، فقہاء نے عورت کا حق تلف کردیا اور شوہر کو غیرمشروط رجوع کاحق دیا ۔ اللہ نے وضاحت کی وان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما ’’اگردونوں کا ارادہ صلح کا ہو تو اللہ موافقت پیدا کردیگا‘‘۔اللہ نے باہمی رضاسے میاں بیوی کے درمیان نہ صرف صلح کا دروازہ کھلا رکھا بلکہ صلح کیلئے انتظار کا پابند بھی بنایا۔ اللہ نے واضح کیا کہ عورت پابند ہے اور عدت کے بعد دوسری شادی کرسکتی ہے ۔فقہاء نے عورت نہیں صرف شوہر کا حق ملحوظِ خاطر رکھا۔ چنانچہ لکھا کہ ’’ مسئلہ26: بچے کا اکثر حصہ باہرآچکاتو رجعت نہیں کرسکتامگر دوسرے سے نکاح اس وقت حلال ہوگا کہ پورا بچہ پیدا ہولے۔( ردالمختار، الطلاق ج 5ص193۔نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج 10،ص766، علامہ غلام رسول سعیدی)۔ عورت کا بھی خیال رکھا جاتا تو اللہ کا حکم سمجھنے میں اتنی بڑی ٹھوکریں نہ کھاتے۔ جن الفاظ میں بیوہ کو عدت کی تکمیل کے بعد دوسری شادی کی اجازت ہے ،ان الفاظ میں باربار عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی اجازت ہے، مفتی تقی عثمانی نے ’’آسان ترجمہ‘‘ کے نام پر الفاظ کے ترجمہ میں تحریف کی ۔مولانا انورشاہ کشمیریؒ نے قرآن میں معنوی تحریف کا ذکرکیا۔ حضرت عمرؓ نے یکجائی تین طلاق نافذ کرنے کا حکم خواتین کے تحفظ کیلئے دیاتھا اگر ایک مرتبہ کی طلاق کے بعد جھگڑا ہوتا اور عورت صلح پررضامند نہ ہوتی تب بھی حضرت عمرؓ رجوع کی اجازت نہ دیتے۔دومرتبہ طلاق کا تعلق شوہر کے غیرمشروط اختیار سے نہیں اور اللہ نے بار بار رجوع کا تعلق عدت سے واضح کردیا ہے۔ کاش طلاق واقع ہونے کے ساتھ رجوع کی آیات پر بھی فطرت کے مطابق توجہ دی جاتی۔
حیض میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کا عمل واضح ہے، حمل میں تین مراحل سے تین مرتبہ طلاق کا تعلق نہیں بن سکتا۔ حضرت ابن عمرؓ نے معاملہ نہیں سمجھا تو نبی ﷺ نے غضبناک ہوکر عدت و طلاق کایہ عمل اسی طرح سے سمجھایا۔ اس معاملہ میں غلطی کھانے والے پر غضبناک ہونا رحمۃ للعالمینﷺ کی سنت تھی ۔ علماء کا اختلاف تھا کہ طلاق قول ہے یا فعل؟۔ جنکے ہاں قول ہے ، انکے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق درست ہیں اور جنکے ہاں فعل ہے ،انکے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہیں ۔ (ہدایۃ المجتھد: علامہ ابن رشد قرطبیؒ )ہاتھ لگانے سے پہلے نکاح و طلاق قول ہے، ہاتھ لگانے کے بعدنکاح و طلاق فعل بن جاتاہے،قرآن وسنت اور فطرت کا مسئلہ واضح ہے مگر معروف اسلام کو منکر بنادیا گیا۔ میاں بیوی آپس میں راضی ہوں، گھر والے صلح کروائیں، دونوں طرف کا ایک ایک رشتہ دار صلح کروائے۔یہ فطری معروف طریقہ ہے۔ فقہاء نے منکررجوع ایجاد کرلیا،شافعی مسلک ہے کہ نیت نہ ہوتومباشرت بھی رجوع نہیں۔ حنفی مسلک ہے کہ’’ نیند میں شہوت کا ہاتھ لگے ، بیوی اورشوہر دونوں کی شہوت معتبر ہے‘‘۔ عورت کا حق صلح کی شرط منظور نہیں لیکن عورت کا نیند میں شہوت سے ہاتھ لگنا رجوع ہو تو اس مذاق پر غصہ ہونا چاہیے یا نہیں؟۔ صحابیؓ نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق ہے؟۔ نبیﷺ نے فرمایا تسریح باحسان تیسری طلاق ہے، کوئی مفتی سے پوچھتا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے تو مفتی کہتا کہ ’’تیری آنکھیں نکل جائیں، تجھے نظر نہیں آتا کہ فان طلقہا فلاتحل لہ کتنی واضح آیت ہے۔صحابہؓ کے واقعات میں حدیث صحیحہ واضح ہیں کہ وہ طہرو حیض کی عدت وطلاق کے مراحل کو ہی تسلسل کیساتھ تین مرتبہ طلاق کا عمل سمجھتے تھے۔ نبیﷺ پر حدیث گھڑنے پرشرم نہ آئی تو صحابہؓ اور ائمہ مجتہدین ؒ کی طرف جھوٹ منسوب نہ کیا ہوگا؟۔ ضعیف حدیث، اکابر واصاغرصحابہؓ ،ائمہ مجتہدینؒ اور فقہاءؒ و محدثینؒ کا اختلاف ہے کہ ایک طلاق پر شوہر کی دو طلاقیں ہمیشہ باقی ہیں، دوسرا شوہر طلاق دے تو پہلا شوہر سابقہ دو طلاق کا مالک ہوگا یا تین طلاق کا؟۔ جمہور کی رائے تھی کہ پہلا شوہر سابقہ دو طلاق کا مالک ہوگا، امام ابوحنیفہؒ کی رائے تھی کہ تین طلاق کا مالک ہوگا۔ جبکہ قرآن و حدیث میں واضح ہے کہ شوہر طلاق کی صورت میں عدت کا حقدار ہے۔ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں عدت کاحق نہیں۔ فقہ میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی تین طلاق پر مضحکہ خیز اختلافی مسائل ہیں کہ کونسی صورت میں درمیان کی یا صرف آخری طلاق واقع ہوگی۔ طلاق کی ملکیت دنیا کا پہلا عجوبہ ہے جس میں پہلا شوہر عورت کی دوسری شادی کے بعد بھی دو طلاق کا مالک ہے اور دوسرا شوہر دو طلاق دیکر رجوع کرلے تو پھر ایک طلاق کا مالک عورت کا حقدار اور پہلا شوہر دوطلاق کا مالک ہوکر بھی حقدار نہیں۔قرآن و حدیث میں طلاق وعدت لازم ملزوم ہیں، شوہر طلاق کی عدت کا حقدار ہے نہ کہ طلاق کی عجوبہ ملکیت کا۔ کوئی یہ پسند کریگا کہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی دو طلاقوں کا مالک کوئی اورہو اور شوہر ایک طلاق کا مالک بن کر کار گزاری کرے؟۔ یہ عجوبہ احسن طلاق کے نام پر گھڑا گیا۔ آیت 230 البقرہ سے پہلے دونوں میاں بیوی اور فیصلہ کرانیوالوں کی طرف سے باہوش وحواس عورت کی طرف سے مجبوری کی حالت پر فدیہ دینے میں دونوں پر کوئی حرج نہ ہونے کی وضاحت ہے۔ چونکہ مرد ایسی صورتحال پر بھی عورت کو مرضی سے جہاں چاہے شادی نہیں کرنے دیتا، اسلئے اللہ نے مرد کو حدود سے نکلنے کی اجازت نہ دی، عورت کو مرضی سے جہاں چاہے شادی کی اجازت دی۔حضرت ابن عباسؓنے فرمایا:’’ اس طلاق کا تعلق قرآن کے سیاق وسباق کے مطابق دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ میں عورت کی طرف سے فدیہ دینے کی صورت سے ہے‘‘۔درسِ نظامی کی کتاب ’’نوراانوار‘‘ میں طلاق کی اس صورت کو حنفی مسلک کیمطابق فدیہ دینے سے وابستہ قرار دیا گیا، تفسیرکے امام علامہ زمحشریؒ نے اسی صورتحال پر زور دیا، مگرحلالہ کی لعنت کے مزے اڑانے والے اللہ کی حدود کو پامال کرنے میں اندھے ہوگئے۔
و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروفٍ ولا تمسکوھن ضرارً لتعدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ ولا تتخذوا اٰیٰت اللہ ھزواً واذکروا نعمت اللہ علیکم وما انزل علیکم من الکتٰب و الحکمۃ یعظکم بہٖ و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شیءٍ علیم(البقرہ: آیت 231)
اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر پہنچیں وہ اپنی عدت کو، تو انکو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ و۔ اور نہ روکوانکو ستانے کیلئے تاکہ ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے تو بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مت بناؤ اللہ کے احکام کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر اس نے کی ہے۔ اور اسکو جو اتاری تم پر کتاب میں سے اور حکمت ۔ تم کو نصیحت کرتا ہے اللہ اسکے ذریعہ ، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے
اللہ کوپتہ تھا کہ’’ اسلام کو گلی ڈنڈے کی طرح کھیلا جائیگا‘‘۔ نبی کریمﷺ نے اہل فارس کے ایک فرد کے ہاتھوں دین، ایمان اور علم کی پیش گوئی فرمائی کہ وہ واپس لے آئے گا۔(بخاری ومسلم ) سابقہ قوموں نے حلال وحرام کیلئے اپنے رہبان اور احبار کو ربوبیت کا درجہ دیا۔ یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلی۔ اللہ نے واضح کیا کہ صلح کے بغیر شوہر غیر مشروط رجوع نہیں کرسکتا، پھرتین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا عمل واضح کیا اور ایک خاص صورتحال میں میاں بیوی اور معاشرے کی طرف سے باہوش وحواس جدائی کے بعد شوہر کو پابند کیا کہ اس کیلئے حلال نہیں کہ ج تک عورت کسی سے نکاح نہ کرلے۔ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ اس صورتحال کو اپنے حدود وقیود میں ہی رکھتے مگر بدقسمت امت کے کم عقل اور مفاد پرست ٹولے کو دین کا اہم فریضہ سپرد ہواتوحلالہ کی لعنت اور بے غیرتی کیلئے تمام حدود کو پار کردیاگیا۔ فقہ حنفی کے فقیہ علی الاطلاق علامہ ابن ہمامؒ نے خاندان بسانے کی نیت سے حلالہ کو کارِ ثواب دیا۔ عوام نے شرعی مسئلہ سمجھ کر خاندان بسانے کیلئے ناگوار غیر فطری عمل کو بھی قبولیت کا درجہ دیا۔ علامہ شاہ احمد نورانیؒ جیسے نے بھی بہتی گنگا کا فائد اٹھایا، اب تو اس نے بدترین کاروبار کی شکل اختیار کرلی ۔ پہلے میری نگاہ سے قرآن وسنت اوجھل تھے ، جب توجہ کی تو اپنی کم عقلی پر بھی بہت زیادہ تعجب ہوا۔ مندرجہ بالا آیت میں پھر وضاحت کی گئی کہ اگر بیوی طلاق نہیں چاہتی اور شوہر نے مرحلہ وار تین طلاقیں دیں اور پھر شوہر کو فتوے کی ضرورت پڑتی ہے کہ رجوع کرسکتاہے یا نہیں ؟۔ تو اللہ نے آیت میں واضح کردیا کہ رجوع یا چھوڑنے کا معروف طریقہ اپناؤ اور اسلئے مت روکے رکھو کہ اس کو ضرر پہنچاؤ۔ اللہ کی نعمتوں کو دیکھو! طلاق سے متعلق آیات، بیوی اور اپنی ذہنی صلاحیت حکمت سے کام لو۔عوام کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ قرآن میں طلاق سے متعلق اتنی واضح آیات کی نعمت کو نہیں دیکھتے، بیوی بچوں کی نعمت کا بھی خیال نہیں رکھتے اور ذہنی صلاحیت حکمت کی نعمت بھی بروئے کار نہیں لاتے۔ قرآن کی آیات کا صرف ترجمہ بھی کافی ہے۔ اگر فقہاء اختلافی پیچیدگیاں پیدا نہ کرتے تو ضمنی تشریحات لکھنے کی ضرورت قطعی طور پر نہ ہوتی۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کو حکومت اور اپوزیشن کی اکثریت نے منتخب کیاہے ۔ یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے کہ قرآن وسنت اور جمہور کیخلاف حلالہ کے نام پر خواتین کی عزت تارتار کی جاتی ہے۔ سینٹ میں اس پر اجلاس بلایا جائے تو مسلم امہ کی جان ایک بہت بڑے عذاب سے بچ جائے گی۔پاک فوج کے کور کمانڈر کانفرنس میں بھی اس اہم مسئلہ پر گفتگو ہونا چاہیے، مسلم امہ کیساتھ زیادتی کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے تو لوگوں میں شعور کی منزل تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوگی۔ وزیراعظم اور وزیرداخلہ بھی اس اہم ایشو پر علماء ومفتیان کا ایک اجلاس طلب کریں ، بے شعور لوگوں کی عزتیں لٹ جانا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی،جماعتِ اسلامی کو بھی اس اہم معاملہ سے تغافل برتنے پر معاملہ اٹھانا چاہیے۔ جمعیت علماء اسلام نے اگر اس کو قبول کرکے بین الاقوامی اجتماع سے عوامی مسائل کے حل کا آغاز کیا تو حکمرانوں کا دم چھلہ بننے کی ضرورت کبھی نہیں پڑے گی۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی نے اگر اس کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا تو ان کی عوامی مقبولیت میں بین الاقوامی اضافہ ہوگا۔ مساجد نے اپنایا تو ہدایت کی راہیں ہموار ہوجائیں گی۔
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہٖ من کان منکم یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ذٰلکم ازکیٰ لکم و اطھر و اللہ یعلم و انتم لا تعلمون (البقرہ: آیت 232 )
اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر پورا کرچکی اپنی عدت کو تو نہ روکو ان کو کہ ازدواجی تعلق قائم کریں اپنے خاوندوں سے جب راضی ہو ں آپس میں معروف طریقے سے یہ نصیحت اسکو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے دن پر اور اس میں تمہارے لئے زیادہ پاکی اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ (یا د رکھوکہ آیات میں معروف رجوع کی عدت کے حوالہ سے باربار مختلف الفاظ میں وضاحت کی گئی ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے)
سورۂ بقرہ کی آیت229میں خلع مراد نہیں بلکہ مخصوص صورتحال ہے ، اگرعدت کے مرحلوں میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ میں رجوع کرلیاتو مسئلہ نہیں رہا، لیکن اگر تیسرے مرحلے میں جدائی کا عزم قائم رہا تو پھر واضح ہے کہ ولایحل لکم ان تأخذوا ممااتیتموھن شےءًاالا ان یخافاان لایقیما حدوداللہ ’’ تمہارے لئے حلال نہیں کہ جوکچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں کچھ بھی واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے‘‘۔ اس کا خلع سے کوئی تعلق نہیں۔ آیت میں اس مال کا ذکر ہے جو شوہر نے دیاہو ۔ ایک ایرانی نژاد امریکی خاتون نے اسلام کے حوالہ سے کتاب لکھی، جس میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ’’شوہر نے40ہزار تمن (ایرانی کرنسی ) نکاح کا حق مہر دیا، وہ بیوی سے پشت کی جانب مباشرت کرتا تھا، عورت کی خواہش پوری نہ ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا، چنانچہ 50ہزارتمن میں شوہر نے خلع دیا‘‘۔آیت میں عورت اور مرد کے علاوہ فیصلہ کرانے والوں کیلئے بھی وضاحت کی گئی کہ ان کو بھی خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ اگر مرد اور عورت جدائی اختیار کرلیں اورعورت دوسری شادی کرلے تو درمیان میں سابقہ شوہر کی ایسی چیز جس کی وجہ سے دونوں کا رابطہ ہو اور اس میل میلاپ کے ذریعے اللہ کے حدود کو پامال کرنے کا خدشہ ہو، تو وہ چیز فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیںیہ اللہ کے حدودکا مقدمہ ہے۔ جبکہ خلع کی وضاحت سورۂ النساء آیت19میں ہے، عورت کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھو۔اسلئے ان کونہ روکو کہ جو تم نے دیا ہے اس میں سے بعض واپس لومگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں ۔۔۔‘‘۔ جسکے بعد مردوں کو بھی ایک بیوی کو چھوڑکر دوسری شادی کرنے کی آیت20النساء میں وضاحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیت میں اس صورت کی وضاحت کردی کہ جب اقدام بیوی کی طرف سے ہو، طلاق لینے کی محرک وہی ہو تو بھی عدت کی تکمیل کے بعد کتنا عرصہ گزر جائے ، باہمی ازدواجی تعلق کی بحالی میں کوئی بھی کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے، اسی میں معاشرے کیلئے تزکیہ اور طہارت کا ماحول ہے۔اللہ جانتاہے تم نہیں جانتے۔اللہ کے نام کوڈھال بناکر کتنے گھر تباہ کئے گئے؟، کتنے اپنا گھر بسانا چاہتے ہیں لیکن ایک باطل مذہبی ماحول ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جوان مذہبی طبقات پر اعتماد کرکے بلاوجہ عزتوں کو لٹوادیتے ہیں۔اگر مذہبی طبقات تصویر کے معاملہ میں اپنا رویہ بدل سکتے ہیں تو تین طلاق کے حوالہ سے مذہبی عقیدتمندوں کی عزتوں کو بھی بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ علامہ الیاس قادری اور حاجی عبدالوہاب کوجلد اعلان کرکے انقلاب برپا کرنا چاہیے تھا۔
عربی میں طلاق کا لفظ عورت کو چھوڑنے کیلئے بھی آتاہے، نبیﷺ نے مکہ فتح کیا تو فرمایا: لاتثریب علیکم الیوم انتم طلقاء ’’ آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں، تم آزاد ہو‘‘۔ ایک طلاق وہ ہے جو علماء نے عوام کے دل ودماغ میں بٹھا یاہے۔ طلاق کا یہ تصور جاہلانہ ہے ،قدرت کے کارخانے میں اسکی گنجائش نہیں ۔ فقہاء کی اس اختراع نے انسانی فطرت کی تمام ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کو ملیامیٹ کردیا۔ قرآن و سنت میں اس کی گنجائش نہیں ۔ اللہ نے بار بار اس ذہنیت کی کھلے الفاظ میں نفی کی ۔ کوئی عالم دین سورۂ طلاق کا سلیس ترجمہ نہیں کرسکتا۔ اللہ نے فرمایا کہ’’ اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو انکو انکی عدت کیلئے چھوڑ دو‘‘۔ پھر تفصیل ہے کہ عدت کو گن کر اسکے پورے وقت کا احاطہ کرلو۔( عدت کی گنتی سے عورت پر زیادتی نہ ہوگی)اور اس دوران انہیں انکے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں،ہوسکتا ہے کہ اسکے بعد اللہ کوئی نئی راہ کھول دے‘‘۔ دنیا کی کسی بھی زباں میں ترجمہ کیا جائے تو ہر شخص سورۂ طلاق کی آیات سے مکمل اتفاق کریگا۔ علماء کی موشگافیوں کی بدولت ناممکن ہے کہ سورۂ طلاق کا کوئی ترجمہ و مفہوم سمجھے ۔ علماء نے طلاق کو جدائی کا عمل نہ سمجھابلکہ عجیب ملکیت قرار دیا ۔ اللہ کہتاہے کہ عدت کیلئے طلاق دو، علماء کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ ازراہ تفنن بول رہاہے لیکن طلاق تو ملکیت ہے، وقت کیلئے طلاق نہیں دی جاسکتی ۔ طلاق کے الفاظ زبان سے نکلے تو اسکی ملکیت سے شوہر ہاتھ دھو بیٹھا۔ عدت کیلئے طلاق کا قرآنی تصور خوامخواہ کی خام خیالی ہے، حقیقت نہیں ۔ عورت کی عدت پاکی کے ایام نہیں بلکہ حیض ہے۔ اللہ نے فرمایا : طلقوھن لعدتھن ’’ انکو چھوڑ دو، انکی عدت کیلئے‘‘۔کیا حیض کیلئے چھوڑنا طلاق ہے؟۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت منع ہے۔ علماء سے بات نہیں بنتی تو وضاحت کرتے ہیں کہ ایک عدت الرجال (یعنی مردوں کی عدت) ہے اور ایک عدت النساء ہے۔ حیض کے ایام عورتوں کی عدت ہے اور طہر کے ایام مردوں کی عدت ہے یعنی وہ زمانہ جس میں مرد طلاق دیتا ہے مگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا، اسلئے کہ اللہ نے عورتوں کی عدت کیلئے طلاق کی بات فرمائی ۔ جب علماء پر قرآن کی تفسیر کے حوالے سے زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوتی ہے تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مانند شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے تفسیر عثمانی میں لکھ دیا کہ ’’ عورتوں کو حیض کیلئے طلاق دو،کے معنیٰ یہ ہیں کہ حیض سے ذرا پہلے طلاق دو‘‘۔ چلو! بالفرض مان لیا کہ حیض سے تھوڑا پہلے طلاق دو، پہلے طہر میں حیض سے پہلے پہلی طلاق، دوسرے طہر میں حیض سے پہلے دوسری ، تیسرے طہر میں حیض سے پہلے تیسری طلاق دیدی تو پھر اسکے نتائج کیا نکلیں گے؟۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے لکھا کہ ’’ ہوسکتا ہے کہ اللہ کوئی نیا حکم نازل کردے‘‘۔ کیا واقعی ایسا ہے کہ اللہ نے نئے حکم نازل کرنے کیلئے عدت کیلئے طلاق کا حکم دیا؟۔ یا اسلئے کہ اللہ موافقت کی راہ ہموار کردے؟۔ عدت کے اندر تین مرتبہ طلاق کی تکمیل ہوگئی تو علماء کے نزدیک رجوع کا دروازہ بند ہے۔ جبکہ اللہ کھلے الفاظ میں یہ جھوٹ قرار دیتاہے۔ فرمایا: ’’ جب تم طلاق دے چکو اوران کی عدت مکمل ہوچکی تومعروف طریقہ سے رجوع کرلو یا معروف طریقے سے الگ کرلو‘‘۔ مسلمان حیران ہے کہ تین مراحل میں الگ الگ مرتبہ تین طلاقوں کی تکمیل کے بعد رجوع کی گنجائش اللہ نے رکھی ؟۔ تو یہ پہلی مرتبہ اللہ نے تھوڑا ہی فرمایا، قرآن کی آیات کو دیکھو! بار بار اللہ نے عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی وضاحت فرمائی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس میں نبیﷺ نے بھی سورۂ طلاق کی آیات کی وضاحت کو اس طرح سے کھل کر بیان فرمایا ہو۔ جواب یہ ہے کہ ہاں ، بالکل!، حضرت رکانہؓ کے والدؓ نے حضرت رکانہؓ کی والدہؓ کو اس طرح سے تین طلاق عدت کے دوران دی تھیں۔ پھر اس نے کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ دوسری خاتون نے شکایت کی یہ نامرد ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ رکانہؓ کے والد سے اس کا بچہ کتنا مشابہ ہے۔ پھر نبیﷺ نے اس عورت کو طلاق( چھوڑ نے) کا حکم دیا اور فرمایا کہ رکانہؓ کی ماں سے رجوع کرلو۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو اس کو تین طلاق دے چکا ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھرآپﷺ نے سورۂ طلاق کی آیت تلاوت فرمائی ۔ ابوداؤد شریف۔ عورت کشتی جلاکر شوہر کے گھر میں داخل ہوتی ہے۔ گھر بار ، بچے اور شوہر اسکا سہارا اور آسرا ہوتے ہیں اسلئے اللہ نے عورت کا حق محفوظ کیا مگرمخاطب شوہر کو بنایا کہ اگر بیوی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو معروف طریقے سے چھوڑ دو، تمام حقوق و فرائض سے سبکدوش ہوجاؤ، اپنوں میں سے2عادل گواہ بھی مقرر کرلو۔ میاں بیوی اور بچوں کا گھر ایک ہی ہوتاہے۔ شوہر بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے شادی کرنا چاہتاہے تو جو کچھ بھی بیوی کو دیا ہو، چاہے بڑے خزانے ہوں ، کوئی چیز بھی واپس نہیں لے سکتا۔ دس بچے جنواکرسسرال بھیجنا کس قانون کے تحت جائز ہوسکتا ہے؟۔ بطورِ مثال ایک شخص کے پانچ ، دس بچے ہیں اور اس نے سورۂ طلاق کی ہدایات کے عین مطابق مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دی ۔ عدت کے خاتمے کے بعد اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ دو عادل گواہ مقرر کرکے حتمی فیصلہ کرلیا۔ وہ گھر بچوں اور سابقہ بیوی کیلئے چھوڑ دیا۔ عادل گواہوں کا یہ فائدہ ہوگا کہ شوہر نا انصافی نہیں کریگا ، اس عورت سے کوئی نکاح کرسکے گا ، عدت کی تکمیل کے بعد پہلے شوہر سے فارغ ہوگئی ۔ اگر طلاق کا معاملہ واضح نہ رہا تو انواع واقسام کی افواہیں اور خبریں گردش کرتی پھریں گی۔نکاح سے زیادہ طلاق کی عدت کی تکمیل پر گواہ کا تقرر اسلئے قرآن میں بالکل واضح ہے۔ سورۂ طلاق کی وضاحت کے مطابق دو عادل گواہ بنانے کے بعد اگر پھر بھی دنیا اور مولوی سے ڈرنے کے بجائے انسان اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے رجوع کی راہ ہموار کردیگا۔ سورۂ طلاق کی وضاحت کو بار بار دیکھ لیجئے۔ ایک اہم معاشرتی مسئلہ یہ ہے کہ عورت طلاق کے بعد بیٹھی ہو ۔ شوہر طاقتور ہو تو عورت مرضی سے نکاح نہیں کرسکتی، شوہر کے حلقہ احباب میں نکاح کی شوہر اجازت نہیں دیتا۔ عمران خان زیادہ غیرتمند نہیں مگرریحام خان نے کہا کہ ’’ مجھے پاکستان آنے پر مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں، میں پٹھان ہوں ، جان پر کھیلنا آتاہے‘‘۔ شہزادہ چارلس نے ڈیانا کو طلاق دینے کے بعد دوسرے سے تعلق برداشت نہ کیا اور قتل کروادیا جس کا کیس برطانوی عدالت میں بھی چلاہے۔ اس انسانی فطرت کو اللہ نے مدنظر رکھ کر فرمایا کہ ’’ اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ چونکہ شوہر طلاق کے بعد بھی عورت کواپنی مرضی سے جہاں چاہے شادی نہیں کرنے دیتا، اسلئے اللہ نے طلاق کے بعد عورت کی مرضی ایسی واضح کردی کہ شوہر کو واضح الفاظ میں روک دیا، تاکہ اسکی غیرت اس معاملے میں رکاوٹ نہ بنے۔اللہ نے فرمایاکہ’’ نبیﷺ کی وفات کے بعد بھی ازواجؓ سے نکاح نہ کرو، اس سے آپﷺ کو اذیت ہوتی ہے‘‘۔ سعد بن عبادہؓ بھی طلاق کے بعد عورت کو کہیں شادی نہ کرنے دیتا تھا۔ہمارا ایک مزارع تھا، خان بادشاہ بنوچی،اس کے بیٹے کریم نے بیوی کو تین طلاق دیدی ، پھر پڑوس کے گاؤں میں مسجد کے امام سے حلالہ کروانے کیلئے عورت کو حوالے کیا، اس عورت نے کہا کہ مجھے دوبارہ پہلے شوہر کریم کے پاس نہیں جانا، مسجد کے امام سے خوش ہوں، چار ماہ تک پھڈہ چلتا رہا۔ اس کے بعد کریم اور اسکے رشتہ داروں نے اس امام کی بھی خوب پٹائی لگادی،پسلی وغیرہ توڑ دی اور اس عورت کو بھی چھین کرلے آئے۔ قرآن کا مقصدحلالہ ہرگز نہ تھا لیکن افسوس کہ بے شرم مخلوق حلالے کروادیتے ہیں مگر عورت کو طلاق کے بعد مستقل شادی کی اجازت نہیں دیتے ۔ فقہی اصول ہے ’’ قرآن سے حدیث متصادم ہوتورد ہوگی حتی تنکح زوجا غیرہ میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے۔ لڑکی گھر سے بھاگ کرشادی کرے تو حدیث ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر اسکا نکاح باطل ہے مگرحنفی کے نزدیک یہ قرآن سے متصاد م ہے‘‘۔اصول الشاشی ولی طلاق شدہ نہیں کنواری کا ہوتا ہے، حدیث ہوتی کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ، تب بھی اللہ کی طرف سے بھر پور وضاحتوں کی آیات کے بعد رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوسکتا تھا۔
(کراچی) نمائندہ نوشتۂ دیوار قاری سلیم اللہ نے کہا کہ ڈیفنس ویو فیز 1 میں واقع شاگرد کی والدہ نے کہا کہ میری بہن کو اس کے شوہر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو ہم نے دار العلوم کراچی سے رجوع کیا ۔ ان کا فتویٰ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ حلالہ کے بغیر رجوع جائز نہیں ہے اور ہم حلالے کیلئے تیار نہیں اسلئے بہت پریشان ہیں۔ قاری صاحب نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ، قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی بنیاد پر بغیر حلالہ کے بھی رجوع کرنے کا جائز راستہ ہے۔ تو منیر صاحب کی زوجہ نے کہا کہ آپ میرے والدین ، بھائی ، ماموں وغیرہ کو بھی سمجھائیں۔ پھر نمائندہ نوشتۂ دیوار مولانا شبیر احمد اور حافظ طارق مدنی کو ساتھ لے کر ان سے ملے۔ ہم نے کہا کہ ایکساتھ تین طلاق دینے سے قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی بنیاد پر ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔ جس کی تفصیل عتیق گیلانی کی نئی تصنیف ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ میں دیکھ لیجئے۔ ان میں کچھ لوگ سیخ پا ہوئے، کہا کہ ہمارا تعلق دار العلوم کراچی سے ہے ، ایک نے کہا کہ میرا ایک بچہ ابھی بھی دار العلوم کراچی میں زیر تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کس طرح سے کہتے ہو کہ رجوع بغیر حلالہ کے جائز ہے؟۔ جبکہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ہے کہ رجوع حلالہ کے بغیر جائز نہیں۔ تو ہم نے عتیق گیلانی کی کتاب اور اخبار نوشتۂ دیوار دے کر کہا کہ خودبھی پڑھ لیں اور دار العلوم والوں کو بھی دکھادیں۔ اگر عتیق گیلانی کی تحقیق غلط ہے تو دار العلوم کراچی سے جواب لائیں۔ ہمیں ابھی تک انہوں نے جواب نہیں دیا ہے، پھر وہ لوگ دار العلوم کتاب لے کر گئے، انہوں نے کتاب دکھا کر کہا کہ یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے ، تو مفتی صاحب نے کہا کہ دو طلاق واقع ہوئی ہے۔ میاں بیوی کو لے کر آؤ ہم انہیں بغیر حلالہ کے ملادیتے ہیں۔ آج وہ جوڑا خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔ حال ہی میں مطلقہ کی بہنوئی اور بہن سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ قاری صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ آپکی وجہ سے میری بہن کو نئی زندگی مل گئی ہے۔
تیز وتند عبدالقدوس بلوچ
حضرت مولانا حضرت ولی ہزاروی اور دیگر دیوبندی مکتبۂ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی سے نوشتۂ دیوار کے وفد کی ملاقات کروائیں تاکہ دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔ تین طلاق ایک بن سکتی یا تین! مگر اس پر دو طلاق کا اطلاق کیسے ہوگا؟۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ بہت سی احادیث درج کی ہیں اور ایک طرف مشکل ترین حالات کا ذکر ہے تو دوسری طرف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خوشخبری بھی ہے۔ اگر علماء ومفتیان کا رویہ بدل گیا اور اعلان کردیا کہ کوئی غلط طریقے سے حلالہ کے نام پر عزت نہ لوٹے تو بہت اچھا اقدام ہوگا۔ یہ پالیسی ترک کرنا ہوگی کہ جس کو چاہا حلالہ کے نام پر شکار کیا لیکن بادشاہوں کے بعد اب باشعور لوگوں کو بھی چھوٹ دینی شروع کردی اور غریب طبقے اور عام لوگوں کی جہالت کا فائدہ اٹھایا اور ان کو حلالہ کا شکار کردیا۔ یہ صرف دارالعلوم کا مسئلہ نہیں بلکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور تمام دیوبندی بریلوی مدارس کا مسئلہ تھا اور اب بڑے مدارس کے بڑے مفتیوں کیلئے زباں کھولنا ضروری ہوگیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بہت پیچیدہ اور رنجیدہ مغالطہ تھا جس پر دبیز پردے تھے۔ اب قرآن وسنت اور فقہی کتابوں سے اس کا ایک یہ انداز بہت قبولیت کا درجہ لے رہا ہے جوعتیق گیلانی نے بہت وضاحت کے ساتھ پیش کیاہے یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان میں اس پر حکومتی سطح پر عنقریب بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوتی نظر آرہی ہے۔ عبدالقدوس بلوچ
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورۂ بقرہ کے اندر بڑی وضاحت سے طلاق کے احکام بیان کئے۔ مدارس نصاب میں قرآنی آیات اصول فقہ کی روح کے مطابق پڑھانا شروع کرینگے تو نہ صرف علماء و مفتیان بلکہ عوام الناس اور پوری دنیا کے لوگوں کیلئے قرآن مشعل راہ بن جائیگا۔ آئیے حنفی مسلک کے عین مطابق طلاق کے حوالہ سے قرآنی نصاب تعلیم کو پہلے سمجھیں۔ افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراًO (النساء: 82 ) ’’کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا رے اختلافات ( تضادات) ان کوملتے۔‘‘اس آیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوئی کہ فقہ کی کتابوں میں طلاق کے حرام و حلال کے اختلافی مسائل اللہ کے نہیں ، یہ انسانی اختراعات ہیں اور من گھڑت ہیں ،اللہ کی طرف سے ہوتے تو اختلافات نہ ہوتے۔ و نزلنا علیک الکتٰب تبیاناً لکل شیء و ھدیً و رحمۃً و بشریٰ للمسلمین (اوراتاری ہم نے تجھ پر کتاب جو ہر چیز کو واضح کرنے والی ہے، ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے ماننے والوں کیلئے(سورہ النحل: 89 )‘‘ ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہر چیز کو واضح کردینے والا قرار دیا، تو کیا طلاق کے مسائل کی وضاحت اور خواتین وحضرات کے حقوق کو واضح نہیں کیا ہے؟۔ ہدایت، رحمت اور بشارت کیلئے علماء ومفتیان کو حلالہ کی لعنت کا فتویٰ ہی دکھائی دیتا ہے؟ اور کوئی یہ بڑی خوشخبری ہے؟۔ کیا رجوع کے حوالہ سے ڈھیر ساری آیات کیلئے اندھے پن کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتاہے؟۔ وضاحت کیلئے قرآن کا سہارا لینے کے بجائے فتاویٰ عالمگیری سے استدلال لینا بڑا کارنامہ ہے؟۔ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے تمام بھائیوں کو قتل کردیا۔ فتاویٰ عالمگیری میں بادشاہ سے قتل، زنا، چوری اور تمام حدود وتعزیرات کوساقط کردیا ہے۔ کیا اسکے حوالہ جات کو معتبر قرار دیکر قرآن کریم، سنت نبویﷺ اور خلافتِ راشدہ سے انحراف نہیں ہے؟۔ مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ کی نظر ایک خاتون پر پڑگئی، آپﷺ گھر گئے اور گھر والی سے حاجت پوری کی اورفرمایا :’ جس کو اس طرح اشتعال آجائے تووہ بیوی کے پاس جائے، اسلئے کہ جو اسکے پاس ہے وہ بیوی کے پاس بھی ہے‘‘۔سیرۃ النبیﷺ بہترین نمونہ ہے، صحابہ کرامؓ سے زنا سرزد ہوا ہے اور اپنے اوپر حد بھی جاری کروائی ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے زکوٰۃ کے جہاد میں مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے شادی کرلی تو حضرت عمرؓ نے سنگسار کرنے کی تجویز رکھ دی، کوئی بیگم کو کسی مفتی کے پاس لاکر طلاق کا مسئلہ پوچھے تو حلالہ کیلئے ایسا راستہ تلاش کیا جاتاہے جیسے ٹریفک پولیس کسی طرح مال بٹورنے کے چکر میں رہتی ہے۔ علماء کرام و مفتیان عظام اور طلبہ اسلام کو عوام کے حال پر رحم کھانے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں تفصیل کیساتھ بترتیب طلاق کے حوالہ سے حقائق کی نشاندہی سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش ہے۔ و لا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبرّواوتتقوا وتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیمOلا یؤخذکم اللہ بالغو فی ایمانکم ولکن یؤخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیمO للذین یؤلون من نساءھم تربص اربعۃ اشھر فان فاؤٓ فان اللہ غفور رحیمO و ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO (البقرہ: 224-25-26-27) ’’اور اللہ کو مت بناؤ اپنی قسموں کیلئے ڈھال یہ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرو۔ اللہ سننے جاننے والا ہے۔ تمہیں اللہ لغو قسموں پر نہیں پکڑتا مگر وہ تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے۔ اور اللہ معاف کرنے والا نرمی کا برتاؤ کرنے والا ہے۔ اور جو لوگ اپنی عورتوں سے قسم کھالیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے۔ پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی ہوجائے تواللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا مہربان ہے) اور اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کر رکھا ہو تو اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے ( طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنے پر مواخذہ ہوگا)‘‘۔ عربی میں ایمن دائیں جانب کو کہتے ہیں، دایاں ہاتھ پختہ عہدو پیمان کیلئے استعمال ہوتاتھا، پشتو کی اصطلاح بھی یہی ہے۔عہد، ایمن، حلف اورقسم مترادف استعمال ہوتے ہیں،البتہ ایلاء بیوی سے ناراض ہونیکی صورت سے خاص ہے،عام حلف کو ایلاء نہیں کہتے ۔ایلاء میں واضح طلاق نہیں ہوتی اسلئے اللہ نے طلاق سے ایک ماہ زیادہ اسکی عدت رکھی لیکن اگر طلاق کا عزم ہو اور اسکا اظہار نہ ہو تو یہ دل کا گناہ اوراس پر پکڑ ہے ، طلاق کااظہار نہ کیا توعدت چار ماہ ہے اور یہ عورت کی حق تلفی ہے۔ و المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروءٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً و لھن مثل الذین علیھن بالمعروف و للرجال علیھن درجۃ و اللہ عزیز حکیمO (البقرہ: آیت 228 )اور طلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں خود کو تین ادوار (طہر و حیض) تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو پیدا کیا، اللہ نے انکے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اورآخرت کے دن پر، اور انکے خاوندہی انکے لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اس مدت میں بشرطیکہ صلح کرنا چاہیں اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے معروف طریقے سے اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے‘‘۔ ایلاء کی صورت میں چارماہ تک رجوع بلکہ صلح کیلئے ضروری مدت اوراظہارِ طلاق میں بھی صلح کی شرط پر شوہر کیلئے رجوع بلکہ ضروری مدت ہے۔ کیا اس میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے؟ ۔ شوہر طلاق دے اور عورت انتظار کی پابند ہو تو کیا یہ ایک درجہ کی فضیلت نہیں؟۔ البتہ رجوع کیلئے اللہ نے عدت میں بھی باہمی رضامندی اور صلح کو شرط قرار دیاہے ورنہ پھر مساوی حقوق کی بات غلط ہے، اصلاح سے مراد صلح ہے جسکی دوسری آیت میں وضاحت ہے، صلح کا ٹھیکہ مفتی کونہ دیا، جدائی کا خطرہ ہو تو ایک ایک فرد کو دونوں طرف سے صلح کی کوشش کا کہا گیا۔فاروق اعظمؓ نے عورت کے حق کیلئے لڑائی کی صورت میں شوہر کو رجوع کا حق نہ دینے کا فیصلہ درست اور قرآنی روح کیمطابق کیا، شوہر کی طرف سے عدت میں رجوع اور نکاح برقراررکھنے کا دعویٰ بے بنیادہے،صحابہؓ اور فقہاءؒ کی تائید قرآن وسنت سے انحراف نہ تھا، امام ابوحنیفہؒ نے طلاق کے اظہار کے بغیر ناراضگی کی مدت پر عورت کو طلاق قرار دیکر ٹھیک کیا، بات عزم سے طلاق کی نہیں بلکہ عورت کاحق ہی اصل بنیادہے۔ عدت میں طہرو حیض کے تین مراحل اور حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ کی عدت اس وقت ہے جب حمل نہ ہو، شوہر کا طلاق دینا اور عورت کا عدت گزارنا ہی ایک درجہ مردوں کی فضیلت ہے ۔ الطلاق مرتٰن فامساک بمعرف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأ خذوا مما اٰتیتمو ھن شیئاً الا ان یخافاالا یقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہٖ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظٰلمون(البقرہ:229) طلاق دو مرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے روکنا یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لو جو بھی تم نے ان کو دیا ہے ا س میں سے کچھ بھی، مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے ، پھر اگر تم ڈرو کہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو کچھ حرج نہیں دونوں پر جو عورت کی طرف سے مرد کو (دئیے مال سے)کچھ فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کے حدود سے بڑھ جائے ،یہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔جب اللہ نے طلاق کی عدت کے تین مراحل بیان کیے ، جن میں آخر تک رجوع کا دروازہ کھلا رکھنے کو صلح کی شرط پرفرض قرار دیاتو دومرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ معروف طریقے سے روکنے یا احسان کیساتھ چھوڑنے میں کیا ابہام رہ جاتاہے؟۔ طلاق اہم معاشرتی مسئلہ ہے اسلئے میاں بیوی کے علاوہ فیصلے والوں کی موجودگی کا بھی صراحت سے ذکرہے ۔ خاص طور سے اس صورت میں جب علماء ومفتیان حلالہ کے حوالہ سے غلط فتوؤں کا ادھار کھائے بیٹھے ہوں۔ چناچہ اگر رجوع کیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر تیسرے مرحلہ میں بھی طلاق کے فیصلہ پر شوہر برقرار رہا تو پھر اس صورت میں اللہ نے مزید وضاحت کردی کہ جو کچھ بھی بیوی کو دیا ہے اسمیں کچھ لینا جائز نہیں۔ہاں میاں بیوی اور فیصلہ کرنیوالے سمجھتے ہوں کہ مستقل جدائی کا فیصلہ ہوچکا، عورت نے کہیں دوسری جگہ شادی کرنی ہے، دئیے ہوئے مال میں سے کوئی چیز ہو جس کی وجہ سے خطرہ ہو کہ اگر وہ نہ دی تو ان کا پھر آپس میں ملاپ ہوگا اور دونوں کسی طرح سے اللہ کی حدود کو پامال کرسکتے ہیں تو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کی جائے۔ جدائی کا یہ فیصلہ باہوش وحواس اور متفقہ فیصلے کے نتیجہ میں ہو، فدیہ بھی اسلئے دیا گیا ہو کہ آئندہ سامنا بھی نہ ہوسکے۔ چونکہ غیرت کا تقاضہ سمجھا جاتا کہ طلاق کے باوجود عورت کو مرضی سے شادی نہ کرنے دیتے، انصار کے سردار سعد بن عبادہؓ کے حوالہ سے بخاری کی روایت ہے اور نبیﷺ کی وفات کے بعد اللہ نے ازواج مطہراتؓ سے شادی پر پابندی لگاکر فرمایاکہ نبیﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔ لیڈی ڈیاناکو بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کی غیرت کے چکر میں ماراگیا اور پٹھانوں میں بھی یہ رسم موجود ہے ۔ کوئی بھی اس کیلئے مشکل سے تیار ہوتاہے، اسلئے اللہ نے شوہر پر اس طرح طلاق کے بعد پابندی لگادی کہ اس کیلئے حلال نہیں اسکے بعد یہاں تک کہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔اصول فقہ کی کتاب نورالانوار میں بنیادی مسئلے کی بہترین وضاحت بھی ہے کہ دومرتبہ سے ایک کے بعد دوسری مرتبہ مراد ہے اور جس طلاق کے بعد حلال نہ ہونیکی بات ہے وہ فدیہ سے منسلک ہے ،مگر ساتھ اس میں حماقت کی تعلیم بھی ہے کہ فدیہ سے مراد خلع ہے، خلع جملہ معترضہ ہے یا سیاق و سباق کے ہی مطابق ہے۔ اگرچہ بنیادی طور سے حنفی مؤقف ہی برحق اور حقائق کے مطابق ہے مگرتیسری طلاق کی تلاش میں سرگرداں اور اختلافات پر مشتمل سبق کی حماقت پر حیرت بھی ہے،اسلئے کہ نبیﷺ کا تسریح باحسان کو تیسرے مرحلے کی تیسری طلاق قرار دینا کافی تھا۔آیت میں خلع کا حال بیان نہیں کیا گیاہے بلکہ اسی صورتحال کی بھرپور وضاحت ہے جس کی وجہ سے علماء ومفتیان نے اپنی مطلب براری کیلئے امت مسلمہ کو پریشان کر رکھاہے۔ خلوص ہو تو معاملہ بالکل واضح ہے۔ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ن ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبینھا لقوم یعلمون (البقرۃ : 230) ’’پس اگر اس نے اس کو طلاق دے دی تواس کیلئے حلال نہیں اس کے بعد جب تک کہ وہ نکاح نہ کرے کسی اور خاوند سے۔ پھر اگر وہ طلاق دیدے تو دونوں پر گناہ نہیں اگر باہم مل جائیں اگر ان کو گمان ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کے حدود ہیں جو واضح کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ رکھتے ہیں‘‘۔ جس صورت میں میاں بیوی اور فیصلے کے افراد یہ بھی کرڈالیں کہ دی ہوئی چیزوں میں سے وہ چیز بھی عورت کی طرف سے فدیہ کریں تو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے عوام اور علماء ومفتیان کو نکلنے سے روکا گیاہے۔ پھر مستقل شادی کی ہی عورت مجاز ہے نہ کہ شوہر حلالہ کروائے اور مفتی حلالہ کردے، البتہ مستقل شادی کے بعد دوسرا شوہر طلاق دے تو بھی پہلے سے اس شرط پر شادی کی اجازت ہے کہ جس سے شادی کی، اس آشنائی کا خمیازہ بعد میں یہ نہ بھگتے کہ دوسرے سے بھی واسطہ پڑتا رہے اور حدود پامال ہوں۔ و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروفٍ ولا تمسکوھن ضرارً لتعدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ ولا تتخذوا اٰیٰت اللہ ھزواً واذکروا نعمت اللہ علیکم وما انزل علیکم من الکتٰب و الحکمۃ یعظکم بہٖ و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شیءٍ علیم(البقرہ: آیت 231) ’’ اور جب تم نے طلاق دی عورتوں کو پھر پہنچیں وہ اپنی عدت کو، تو انکو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور نہ روکے رکھو ان کو ستانے کیلئے تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کریگا وہ بے شک اپنی جان پر ظلم کریگا اور مت بناؤ اللہ کے احکام کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر اس نے کی ہے اور جو اتاری تم پر کتاب میں سے(طلاق ورجوع کے احکام) اور حکمت، تم کو نصیحت کرتا ہے اللہ اسکے ذریعہ سے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔اس آیت میں پھر اللہ نے واضح کردیا کہ عورت راضی نہ ہو تو عدت میں بھی صلح کے بغیر رجوع نہیں ہے اور عورت راضی ہو تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی اللہ نے رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ البتہ اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو لیکن شوہر بسانے کی نیت سے نہیں ستانے کی نیت سے رکھتاہے تویہ اس نے عورت پر توظلم کیا نہ کیا لیکن اپنے اوپر ضرور ظلم ہے۔ عورت ایک نعمت ہے، طلاق ورجوع کے احکام بھی اللہ نے قرآن میں نعمت کے طور پر نازل کئے ہیں اور انسان کو حکمت و دانش بھی اللہ کی نعمت ہے، ان سب نعمتوں کو فراموش کرکے نفسانی خواہشات کے فقہاء کا شکار ہونا اللہ سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ ان نعمتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ علماء کو اللہ کی پکڑ کا احساس ہونا چاہیے۔ و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہٖ من کان منکم یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ذٰلکم ازکیٰ لکم و اطھر و اللہ یعلم و انتم لا تعلمون (البقرہ:آیت 232) ’’اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کرچکی اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ ازدواجی تعلق قائم کریں اپنے خاوندوں سے جب راضی ہو ں آپس میں معروف طریقے سے یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے دن پر، اور اس میں تمہارے واسطے زیادہ پاکی اور زیادہ طہارت ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔ اللہ نے پھر وضاحت کردی کہ اگر ناراضگی شوہر کی طرف سے نہ ہو بلکہ بیوی روٹھ کر گئی ہو، خلع لیا ہو اور پھر دونوں آپس میں ملنا چاہیں تو عدت پوری ہونے اور بڑے عرصے کی مدت گزرنے کے باوجود بھی ان کو ازدواجی تعلقات بحال کرنے سے نہ روکو ، جب آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ اسی میں معاشرے کی طہارت اور پاکیزگی ہے، طلاق یافتہ خواتین کا اپنے شوہروں سے رجوع ہو تو معاشرے میں زیادہ تزکیہ اورطہارت ہوگی۔ اللہ جانتاہے مولوی مفتی سمیت عوام نہیں جانتے۔ سورۂ بقرہ کی ان آیات میں تسلسل کیساتھ جو وضاحت ہے ، مولوی حضرات خالی ان کا ترجمہ دیکھ کر اپنا دل ودماغ کھولنے کی کوشش کرکے تو دیکھ لیں، حلالوں کے مزے اڑانے والے شاید شرم، خوف، لالچ اور دیگر وجوہات ومفادات کی وجہ سے اپنے بے تکے فتوؤں سے باز نہ آئیں مگر حق کے متلاشیوں کیلئے ان آیات میں بڑی زبردست وضاحت ہے، حضرت عمرؓ اور امام ابوحنیفہؒ سے انحراف نہیں ،اسلاف پر اعتماد بھی ہے اور اسلام بھی اجنبیت سے نکلتاہے ۔ سورۂ طلاق دیکھ لو! یاایھا النبی اذا طلتم النساء فطلقوھن لعتدھن واحصوا العدۃ و اتقوا اللہ ربکم لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امراً (الطلاق: 1) اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کو عدت تک کیلئے طلاق دو اور شمار کرو عدت کااحاطہ کرکے اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ان کو مت نکالو ان کے گھروں سے اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، تمہیں خبر نہیں شاید اللہ (اختلاف کے بعد موافقت کی)کوئی نئی صورت پیدا کردے‘‘۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے آیت کا مفہوم بھی کنزالایمان میں بدل ڈالا ہے، لکھاہے کہ’’ ہوسکتاہے اللہ کوئی نئے احکام نازل کردے‘‘ اور علامہ شبیراحمد عثمانیؒ نے بھی بالکل غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ ’’ اللہ نے عورت کی عدت حیض میں ہی طلاق کا حکم دیاہے ، یعنی حیض سے تھوڑا پہلے‘‘۔ دیوبندی بریلوی علماء خودہی دیکھ کر فیصلہ کریں۔ فاذ بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او فارقوھن بمعروفٍ و اشھدوا ذوی عدلٍ منکم و اقیموا الشھادۃ للہ ذٰلکم یوعظ بہٖ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً (الطلاق: 2 )’’ اور جب پہنچے وہ اپنی عدت کو تو ان کو معروف طریقے سے رکھ لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور گواہ بنادو اپنے میں سے دو انصاف والوں کو اور گواہی دو اللہ کیلئے۔ یہی ہے جس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے اس کوجو ایمان رکھتاہے اللہ اور آخرت کے دن پر اور جو اللہ سے ڈرا تو وہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادے گا‘‘۔ اللہ کی طرف سے پھر وضاحت کردی گئی کہ عدت کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ فقہ کی کتابوں کے مطابق آدھے سے زیادہ بچہ باہر آیا تو عدت ختم ہوگئی، اب رجوع نہیں ہوسکتا۔ منکر کے مقابلہ میں معروف آتاہے اور منکر کے مقابلہ میں احسان بھی آتاہے۔ رجوع و طلاق میں جو بھی راستہ اختیار کیا جائے وہ معروف ہو، احسان والا ہو، منکر نہ ہو۔ فقہاء نے اختلافی مسائل میں منکر صورتوں کو ایجاد کیاہے۔ آیت میں چھوڑنے کی صورت پر دو گواہ مقرر کرنے کی وضاحت کیساتھ یہ بھی واضح ہے کہ آئندہ بھی اللہ نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ہے، جو اللہ سے ڈرا، اس کیلئے اللہ راستہ بنادیگا، یعنی عورت پھر راضی ہوگی اور قرآن کے مطابق معاشرے کاخوف رکاوٹ نہ بنے گا۔ طلاق میں انا کو بھی مسئلہ بنالیا جاتاہے اور علماء وفقہاء نے الگ سے جہالت کا ماحول کھڑا کردیاہے۔ جو اللہ سے نہ ڈرا، اس کا راستہ بھی اللہ نے بند نہیں کیاہے۔ البتہ جب عورت راضی نہ ہو اور شوہر رکھنے پر منکر طریقہ سے مجبور کرے تو اس کا اللہ نے بھی راستہ روکا ہے، حضرت عمرؓ نے بھی یہی کیا تھا، امام ابوحنیفہؒ نے بھی یہی کیا اور انسانی فطرت بھی اس کا تقاضہ کرتی ہے لیکن مولوی کا جاہلانہ فتویٰ دوسری بات ہے۔ ابو رکانہؓ نے ام رکانہؓ کو عدت کے مطابق الگ الگ تین طلاق دی ، دوسری شادی کی، اس عورت نے نامرد ہونے کی شکایت کی رسول اللہﷺ نے دوسری کو طلاق کا حکم دیا، ام رکانہؓ سے رجوع کا کہا، انہوں نے عرض کیا کہ تین طلاقیں دے چکا، نبیﷺ نے فرمایا، مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات پڑھ کر سمجھایا۔ مسلم شریف میں ہے کہ ابن عمرؓ نے تین طلاقیں دی تھیں، جسکے مقابلہ میں کوئی شخص قابل اعتماد ایسا نہ تھا جو ایک طلاق کی درست بات کرتا، پھر بیس سال بعد حضرت حسن بصریؒ کو ایک اور مستند شخص ملا، جس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی، اسکے بعد روایات کی ایسی بھرمار ہے کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگاکر معاذاللہ پڑھنے کے بجائے مرغا بناکر لاتعلقی کا اظہار بھی کرادے۔ : یا ایھا الذین اٰمنوا اذا نکحتم المومنٰت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن و سرحوھن سراحاً جمیلاًO (الاحزاب: 49 ) ’’اے ایمان والو! جب تم نکاح میں لاؤ ایمان والیوں کو ، پھر ان کو چھوڑ دو اس سے پہلے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ۔ پس ان پر تمہیں کوئی حق نہیں عدت کا، کہ اس کی گنتی پوری کراؤ۔ سو ان کو خرچہ دو اور رخصت کرو ان کو خوبصورتی کے ساتھ رخصت کرنا‘‘۔ شوہر کو عدت میں صلح کی شرط پرحقدار قرار دیاہے، تین طلاقوں کی ملکیت کا تصور جہالت ہے ،عدت شوہر کا حق ہے، ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں حرج ہے اور نہ عدت، البتہ نصف حق مہر کا جرمانہ ہے ۔ و ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکماً من اہلہٖ و حکماً من اہلھا ان یریدا اصلاحاً یوفق اللہ بینھما ان اللہ کان علیماً خبیراًO (سورہ النساء: 35 ) ’’اور اگر تمہیں خوف ہو، ان دونوں کے درمیان جدائی کا تو تشکیل دو، ایک فیصلہ کرنے والا شوہر کے خاندان سے اور ایک فیصلہ کرنے والا بیوی کے خاندان سے، اگر دونوں صلح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ اذا نفوس زوجتO و اذا المؤدۃ سئلتO بای ذنب قتلتO (اور جب جیون کے ساتھیوں کے جوڑے بنائے جائیں اور جب زندہ درگور کی جانیوالی سے پوچھا جائیگا۔ کہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی‘‘۔بیٹیوں کو زندہ دفنانے کی رسم ختم ہوگئی لیکن میاں بیوی کو جدا کرنے کے جرائم نے بھی حلالہ کی لعنت میں رغبت کی وجہ سے دورِ جاہلیت کی یاد تازہ کردی۔ ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھٰذا حلٰل و ھٰذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحونO ’’اور اپنی زبانوں کے بنانے سے جھوٹ کا نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو، بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پاتے‘‘۔ اگر نکاح و طلاق کے حوالہ سے ناجائز حلال و حرام کا تعین ہوگیا اور مسلم معاشرے نے قرآن و سنت کی طرف توجہ کی تو دوسرے اختلافی مسائل بھی مٹانا مشکل نہ ہوگا۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے اور یہی رحمت ہے، فقہاء کے حلال و حرام کی گنجائش نہیں، مکروہ شرعی اصطلاع نہیں بلکہ طبعی رُجحانات سے مکروہات بنتے ہیں۔ عتیق گیلانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ وحدہ و الصلوٰۃ و السلام علیٰ من لا نبی بعدہ ، اللہ رب العزت نے اپنے پاکیزہ کلام میں اپنے خصوصی فرمانبردار بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے سورۃ الفرقان میں ارشاد فرمایا :
ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب ان کو ان کے رب کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے ہوکر نہیں گرپڑتے ۔ (بلکہ تدبر ، تفکر اور غور و فکر سے کام لیتے ہیں) یعنی جس طرح وہ اپنے دنیاوی معاملات میں اپنی عقل سلیم استعمال کرتے ہیں وہ دینی معاملات میں بھی اپنے سلیم الفطرت ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکیں گے کہ ہمیں فلاں مولوی صاحب نے یہ بتایا تھا ہم اس پر عمل کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں بھی عقل سلیم عطا فرمائی تھی۔ تم دنیاوی معاملات میں تو اس سے کام لیتے رہے حتیٰ کہ تم سبزی بھی خریدنے گئے تو یہ دیکھتے رہے کہ سبزی تازہ بھی ہے اور صاف ستھری اور اچھی بھی ہے کہ نہیں۔ کپڑا خریدتے وقت بھی تم اسکی اچھائی دیکھتے رہے بیٹی کا رشتہ کرتے وقت بھی اپنے ہونے والے داماد میں تمام اچھائیاں ڈھونڈتے رہے پھر تم نے دین کے معاملے میں ان سب باتوں کو کیوں نظر انداز کردیا ؟ اب اس کا نتیجہ بھگتو۔ محترم گیلانی صاحب نے زندگی کے ایک انتہائی اہم معاملے ’’طلاق‘‘ پر عام روش سے ہٹ کر قرآن و سنت کے احکام پر تدبر اور تفکر سے کام لیا اور اس اہم مسئلہ پر جدید انداز میں روشنی ڈالی اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت عطا فرمائے اور عامۃ المسلمین کو ان سے فیضیاب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ خادم علوم قرآن و سنت محمد حسام اللہ شریفی (28 اگست 2016 ء)
رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان مشیر شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی(جنگ گروپ) ایڈیٹر ماہنامہ قرآن الہدیٰ کراچی (اردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ) رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم مقرر کردہ وزارت امور مذہبی حکومت پاکستان خطیب جامع مسجد قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس بلڈنگ کراچی
سید عتیق گیلانی نے ایک تسلسل کیساتھ طلاق کے مسئلے پر بہترین مضامین لکھے ، عوام و خواص کی سمجھ میں بھی بات آرہی ہے ، اکابرین کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا اور کوئی خاتون اپنی ناکردہ گناہ کی انتہائی بیہودہ سزا بھگتے یہ بھی انتہائی ظلم ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قرآن کی آیات میں اس پر مجبور کیا گیا ہے اور احادیث میں اسکی وضاحت ہے اسلئے اس پر غیب کے ایمان کی طرح سوچے سمجھے بغیر عمل درآمد ہورہا تھا۔ اللہ نے قرآن میں بار بار عقل ، تدبر اور عدل کی بات کی ہے۔ قرآنی آیات پر تدبر کیا جاتا ، عقل سے کام لیا جاتا اور عدل کے تقاضے پورے کئے جاتے تو بہت اچھاتھا ، لیکن اُمت مسلمہ قرآن و سنت کی طرف توجہ کئے بغیر بھول بھلیوں میں پھنستی گئی اور اسلام بھی بہت قریب کے دور سے ہی رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اجنبیت کا شکار ہوتا گیا ہے۔ طلاق یکطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے درمیان ایک باقاعدہ معاملہ ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف حق مہر اور عدت کے ادوار نہیں جن کی گنتی ہو۔ ازدواجی تعلق کے بعد طلاق دی جائے تو عورت باقاعدہ عدت بھی گزاریگی۔حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک عدت ہے، حیض آنے کی صورت میں طہرو حیض کے حوالہ سے عدت کے 3 ادوار ہیں، حیض نہ آتا ہو یا اس میں ارتیاب(کمی وبیشی کا شک )ہو، تو3ماہ کی عدت ہے۔ اللہ نے قرآن میں وضاحت کردی کہ عدت کے دوران شوہر صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور پھر اس حکم کو بار بار دہرایا بھی۔ فقہاء نے لکھا کہ ’’عورت کا بچہ اگر آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم نکلا تھا تو پھر رجوع درست ہوگا لیکن آدھوں آدھ ہوگاتو مولوی کو خود بھی پتہ نہیں۔اگر یہ مسئلہ یکطرفہ ہو تو معاملہ حل نہ ہوگا لیکن اگر بیوی کی رضامندی شرط ہو تو بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ عورت اور مرد کے جنازے کی ایک ہی دعاہے لیکن یہ مشکل خنسیٰ پر لڑتے رہے ہیں۔ نبیﷺ نے وضاحت فرمادی کہ دومرتبہ طلاق کا تعلق دوطہرو حیض کیساتھ ہے، حضرت عمرؓ کا یہ کردار واضح ہے کہ پہلے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو بھی ایک سمجھا جاتا تھا، جب شوہر طلاق دیتا تھا تو مصالحت کیلئے عدت کا وقت ہوتا تھا۔ اسلئے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہ تھی کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ شوہر کی بالادستی مسلمہ تھی اور عورت کی ضرورت تھی کہ شوہر رجوع کرلے اورمسئلہ نہیں بنتا تھا۔ جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ شوہر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتاہے، طلاق دیکر رجوع کرلیتاہے اور عورت بے بس ہوتی ہے تو فیصلہ کردیا کہ آئندہ اس طرح کا معاملہ ہوگا تو ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے بعد ویسے بھی شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہ تھا، حضرت عمرؓ کا فیصلہ قرآن کی روح کے مطابق اس وقت بھی درست تھا جب شوہر ایک طلاق دیتا اور عورت رجوع پر راضی نہ ہوتی، جبکہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگاقاضی وہ آوازِ خلق تھی جس کو واقعی نقارۂ خدا سمجھ لیا گیا تھا۔ معاملہ بعد کے فقہاء اور مفتیوں نے خراب کیا۔ چاروں امام کا فتویٰ درست تھا کہ عدت کے بعد عورت شادی کرسکتی ہے اسلئے کہ تین طلاق یا صرف طلاق کے بعد عدت شروع نہ ہوتو زندگی بھر عورت دوسری جگہ شادی نہ کرسکے گی۔حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے صرف اسلئے اختلاف کیا کہ رجوع کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے لیکن مرد نے طلاق دی ہو اور عورت رجوع نہ کرنا چاہے تو طلاق واقع ہونے کا فتویٰ وہ بھی اسلئے دیتے تھے تاکہ عدت کے بعد عورت کی دوسری جگہ شادی ہوسکے۔ دارالعلوم کراچی نے حضرت عمرؓ کے حوالہ سے تین طلاق کی غلط توجیہ کی ہے کہ پہلے طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا جاتا تھا،پھر لوگ غلط بیانی کرنے لگے،اسلئے حضرت عمرؓ نے تین طلاق کو نافذ کردیا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہشتی زیور، بہارشریعت میں حنفی فقہاء کی یہ توجیہ نہ مانی گئی اور فتویٰ دیا گیا کہ ’’طلاق طلاق طلاق پرشوہراپنی نیت پر رجوع کرسکتاہے اور عورت پھر بھی سمجھے کہ اسکو 3طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ قرآن میں طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے بتایا گیا ہے، حدیث میں دومرتبہ کی طلاق کوطہروحیض سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ مفتیان قرآن کو مانتے ہیں نہ سنت کو اور نہ ہی حضرت عمرؓ کو مانتے ہیں ، یہ حلالہ کی لعنت کیلئے اسکے جواز کا راستہ ڈھونڈنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مظفر علی شجرہ نے سورۂ طلاق کے حوالہ سے اپنی باتیں ڈالدیں، سیاسی رہنما کو فرصت نہیں، مذہبی لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں، اصحاب حل وعقد کو اپنی پڑی ہے ، امت مسلمہ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، قابل احترام شخصیت شاہد علی نے کہا کہ ’’ جرم تین طلاق ایک ساتھ دینے کا شوہر کرتا ہے تو سزا بیوی کو کیوں ملے؟۔شوہر کو ہی مولوی کے پاس لے جاکر اسکا حلالہ کروایا جائے ‘‘۔ یہ تجویز اسوقت پسند آئیگی جب مسئلہ سمجھ میں آئیگا لیکن مولوی اس پر بھی خوش ہوگا کہ معاشرے کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکے گا۔ جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ ناجائز حلالہ کا ناجائزفتویٰ دینے والے علماء کو پکڑ کر ان کا ناجائز حلالہ کروایا جائے تو مساجد، مدارس، مذہبی جماعتوں اور طبقات کی طرف سے محشر کا شور اُٹھے گا کہ ’’اللہ واسطے ! قرآن کی آیات کو دیکھو، ایک ساتھ نہیں الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، ہم پر خدا رااتنا ظلم نہ کرو ۔ سید ارشادعلی نقوی
لا یؤاخذکم باالغو فی ایمانکم ولکن بماکسبت قلوبکم Oللذین یؤلنون من النساء ھم تربص اربعۃ اشہر فان فاؤا فان اللہ غفور رحیمOوان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمOاللہ تمہیں نہیں پکڑتا لغو قسموں سے مگر جو تمہارے دلوں نے (گناہ)کمایا،اس پر۔Oجو لوگ اپنی عورتوں سے قسم کھالیتے ہیں ان کے لئے 4ماہ ہیں، پس اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہےOاور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو سننے جاننے والا ہے۔سورۃالبقرۃ ان آیات میں یہ وضاحت ہے کہ عورت کو چھوڑنے (طلاق دینے) کا تعلق لغو قسم سے نہیں بلکہ دل کے عزم اور طلاق کے عمل سے ہے۔طلاق کے عزم کا اظہار نہ کیا تو بھی زیادہ سے زیادہ انتظار 4 ماہ کا ہے ، اسلئے کہ پھر عورت کی حق تلفی ہوگی۔ شوہر طلاق کے عزم کا اظہار نہ کریگا تو عورت زندگی بھر بیٹھی رہے گی؟۔ اللہ نے ایسا ظالمانہ معاشرتی نظام نہیں بنایا ۔ ایلاء عورت سے ناراضگی کی قسم کو کہتے ہیں، یہ بالکل واضح ہے کہ طلاق کا تعلق لغو الفاظ سے نہیں، طلاق کے عزم کا اظہار بھی ضروری نہیں بلکہ عمل ہی کافی ہے۔ آیات میں واضح ہے کہ طلاق کا عزم ہو مگر اظہار نہ کیا جائے تو اس دل کے گناہ پر اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ طلاق کے عزم کا اظہار ہو تو انتظار کی مدت 4ماہ کی بجائے3ماہ ہوگی۔تبیانا لکل شئی (قرآن ہرچیز واضح کرتاہے) ان آیات سے واضح ہے کہ نکاح و طلاق میں شوہر اور بیوی دونوں کا حق ہے، دورِ جاہلیت کی طرح یہ تعلق لغو قسم سے بھی نہیں ٹوٹتا ، شوہر نہ ملنے کی قسم کھالے تو بیوی فوری طور سے قانوناً الگ نہیں ہوتی بلکہ ناراض ہونے کی حالت میں 4ماہ کا انتظار ضروری ہے، اس مدت یا عدت میں دونوں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر نہ بن سکی تو عورت اس سے زیادہ انتظار کی پابند نہیں۔البتہ عزم کا اظہار نہ کرنے پر شوہر کی اللہ کے ہاں اس وقت پکڑ ہوگی جب طلاق کا عزم ہو، اسلئے کہ پھر عزم کا اظہار کرتا تو عورت کو اس سے کم 3ماہ کی عدت اور انتظار کی تکلیف گزارنی پڑتی۔ امام ابوحنیفہؒ کے مسلک میں چار ماہ انتظارکے بعد عورت طلاق ہوجائے گی۔ جمہور ائمہ کے نزدیک جب تک طلاق کے عزم کا اظہار نہ ہو عورت زندگی بھرانتظار کریگی۔ علامہ ابن قیمؒ نے جمہور کے حق میں اور احناف کیخلاف دلائل دئیے لیکن قرآن میں اتنا بڑا تضاد کیسے ہوسکتا ہے کہ حنفی مسلک میں چارماہ کاعمل طلاق قرار دیا جائے اور جمہورکے نزدیک چارماہ کا انتظار ہی غلط ثابت ہو ؟۔ میاں بیوی چار ماہ کے بعد باہمی رضامندی سے ملنے پر راضی لیکن ان کو طلاق کا فیصلہ سنادیا جائے اور عورت الگ ہونا چاہتی ہو تب بھی انتظار پر مجبور ہو۔ یہ افراط و تفریط اور غلو ہے۔ یہ اختلاف رحمت نہیں زحمت ہے، یہ امت مسلمہ کو اس مذہبی گمراہ ذہنیت کا شکار کرتی ہے جس سے اسلام نے نکالا ۔ اس مسلکی اختلاف و تضاد کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق کی وضاحت اور حد ود مقرر کردئیے ، شوہر کا حق یہ ہے کہ بیوی اس کی ناراضگی کے باوجود ایک مخصوص عدت تک انتظار کی پابند ہے۔ طلاق کے عزم کا اظہارنہ کرنے کی صورت میں انتظار کی مدت یا عدت اظہارکے مقابلہ میں بڑھ جاتی ہے، شوہر اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور اس کو راضی نہیں کرتایا پھر وہ راضی ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتی ہے تو 4ماہ انتظار کافی ہے۔ چونکہ فقہاء کرام اس دور کی پیداوار تھے جب خلافت کا نظام موروثی امارت میں تبدیل ہوچکا تھا، انہوں نے عورت کے حق کو ہی بالکل فراموش کردیا،وہ آیات کا فیصلہ صرف شوہر کے حق کو مدِ نظر رکھ کر کررہے تھے، اسلئے طلاق ہونے ،نہ ہونے کے فتویٰ میں تضاد آگیا۔اگر ان کے پیشِ نظر عورت کا حق بھی ہوتا تو یہ اختلاف کے شکار نہ بنتے۔ قانون میں طاقتور اور کمزور دونوں کے حقوق متعین ہوتے ہیں،عورت کمزور ہوتی ہے، اسکے حقوق کا خاص طور سے خیال رکھنا ضروری تھا۔ قرآن میں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے وضاحت فرمائی کہ 8سال کام کرنا ہوگا اور اگر10سال پورے کئے تو یہ آپکی طرف سے احسان ہوگا۔ مزدور، ملازم اور افسر کو کچھ گھنٹے روزانہ مقررہ وقت کیمطابق کام ، پھرمرضی کا مالک ہے۔ معمولات اور انسانی فطرت سے سبق لیتے تو قرآن کے قانون میں تضاد کی ضرورت نہ پڑتی۔ عورت کو طلاق کے عزم کے اظہار تک چار ماہ اور حدود وقیود سے بڑھ کر جمہور فقہاء کا مسلک تو قرآن کے الفاظ اور انسانی فطرت کے بالکل منافی تھا ، حنفی مؤقف مقابلے میں بہتر اور قرآں فہمی کے تقاضہ سے مطابقت رکھتا تھا، تاہم عورت کے حق کو مدِ نظر رکھا جاتا تو چار ماہ کے گزرتے طلاق ہونے کا فتویٰ دینے کی بجائے قانون کی وضاحت کی جاتی کہ عورت چارماہ کی مدت کے بعد پابند تو نہیں لیکن وہ چاہے تو چارماہ کے بعد بھی باہمی رضامندی سے ازدواجی زندگی بحال رکھ سکتی ہے۔کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ اب طلاق پڑگئی ہے ، دوبارہ نکاح کا معاہدہ کرنا پڑیگا۔ ناراضگی کی صورت میں عورت کو 4ماہ کے انتظار کا حکم ہے اور عدتِ وفات میں4ماہ 10دن انتظار کا حکم ہے۔ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والے گدھوں کو اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ اللہ نے شوہر کی ناراضگی میں 4ماہ کی عدت کیوں رکھی ہے جو عدتِ وفات سے بھی دس دن کم ہے؟۔ اور طلاق کے اظہار پر 3ماہ کی عدت رکھی ہے۔ کھل کر طلاق کے اظہار کے بعد عورت کے انتظار کا زمانہ سب سے کم ہے، اسلئے کہ عورت دوسری جگہ شادی کرسکے، ناراضگی کی صورت میں انتظار کی مدت زیادہ ہے تاکہ مصالحت کیلئے زیادہ وقت ملے اور وفات کی صورت میں شوہر کا طلاق میں کوئی کردار نہیں ہوتا اسلئے اس میں انتظار کی مدت زیادہ ہے۔ عدت شوہرکے حق کی انتہاء ہے ،عورت انتظار کی پابند ہے اور اسکے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔ عورت اگر اپنے حق سے دستبردار ہوکر عدتِ وفات کے بعد بھی دوسری شادی نہ کرنا چاہے تو ساری زندگی وفات اور روز محشر وجنت تک یہ نکاح کا تعلق قائم رہتا ہے۔ یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وابنیہ ’’ اس قیامت کے دن انسان بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے‘‘۔ جنت میں بھی وہ اور انکی بیویاں ساتھ ہونگے۔فقہاء نے یہ غلط مسلک بنا یا کہ وفات ہوتو شوہر بیوی کی طلاق ہوجاتی ہے، ایک دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے،مہاجر،سندھی، بلوچ ، پنجابی اور پختون عوام میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔ان علماء سے یہ پوچھا کہ جب تمہارے باپ کی وفات کے بعد تمہاری ماں کو طلاق ہوگئی تو پندرہ بیس سال بعد تمہاری ماں فوت ہوگئی پھراسکی قبر پر زوجہ مفتی اعظم کا کتبہ کیوں لگایا؟۔ جس طرح وفات کی عدت کے بعد عورت اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہے تووہ آزاد ہے اور اپنے حق سے دست بردار ہوکر اپنے شوہر کے نام پر بیٹھی رہنا چاہے تو اس کا حق ہے، پاکستانی حکومت کے علاوہ دنیا بھر کے عام قوانین بھی یہی ہیں، فقہاء نے عورت کے حق کی بجائے طلاق کی انوکھی منطق کی ایجاد کررکھی ہے کہ حمل کی صورت میں آدھے سے زیادہ بچہ پیدا ہوا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم پیداہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ۔اللہ جانے گونگے شیطان کب گرفت میں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن کو تسکین کو پہنچانے کیلئے عدت کا تصور رکھا ہے اور باہمی رضامندی سے بار بار رجوع کی وضاحت فرمائی ، عدت کے بعد بھی یہ تصور غلط ہے کہ طلاق واقع ہوگی اور عدت سے پہلے تو ہے ہی غلط۔ البتہ عدت کے بعد عورت چاہے تو دوسری شادی کرلے اور چاہے تو باہمی رضامندی سے ازدواجی تعلق کو بحال کردے۔اللہ نے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ عدت کو تکمیل کے بعد بھی عورت کو اسکے شوہر سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ اپنی نسبت قائم رکھے تو وہ بیوی ہے۔ عتیق گیلانی
المطقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثہ قروء ۔۔۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاو لھن مثل الذی علیھن بالمعروف ولرجال علیھن درجۃ ۔۔۔O الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شءًا الا ان یخافا الایقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ۔۔۔Oفان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔۔۔Oواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ۔۔۔ Oواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ۔۔۔ ذلک ازکیٰ لکم ۔۔۔ سورۂ بقرہ کی ان آیات کا ترجمہ کسی بھی مسلک وفرقہ کے عالمِ دین کا دیکھ لیں، علماء ومفتیان نے ان آیات کی تمام معروف باتوں کو بھی منکر میں بدل دیا ہے۔ (ا): طلاق میں عدت کے 3ادوار کا تعلق طہروحیض سے ہے اور 3 مرتبہ طلاق کا تعلق بھی اسی صورتحال کیساتھ ہے۔ حمل کی صورت میں عدت بچے کی پیدائش ہے، اس میں عدت کے تین ادوار اور تین مرتبہ طلاق کا کوئی تصور بھی نہیں۔ نبیﷺ نے ابن عمرؓ کایہ واضح قرانی صورتحال نہ سمجھنے پر غضبناک ہو کرسمجھایا کہ ’’ طہر میں روکے رکھو یہانتک کہ حیض آئے، پھر طہر میں روکے رکھو یہانتک کہ حیض آئے۔ پھر طہر میں چاہو تو روکے رکھو اور چاہو تو ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑدو، یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق کا امر فرمایا ہے۔ (بخاری)۔ یہی صورتحال سورۂ البقرہ ، سورۂ طلاق اور دیگر قرآنی آیات میں وضاحت کیساتھ موجود ہے۔جیض نہ آتا ہو،یا اس میں ارتیاب ہو تو تین ماہ کی عدت ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو کوئی عدت کا حق نہیں جس کی گنتی کرائی جائے۔ جب عبداللہ بن عمرؓ نے مغالطہ کھایا تو بعد میں آنے والے بزرگانِ دین کی غلط فہمی بڑی بات نہ تھی لیکن اللہ کی کتاب اور نبیﷺ کی اس وضاحت کومدِ نظر رکھاجاتا تو علماء ومفتیان، غلام احمد پرویز، جاویداحمد غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مغالطہ نہ کھاتے۔ 3طلاق کو ملکیت قرار دیکر مضحکہ خیز صورتحال کو مختلف سمت میں اتنا پھیلایا گیا ہے کہ ایک انتہائی درجہ کا کم عقل انسان بھی پیٹ پکڑ کر ہنسنے پر مجبور ہوگا، اس کی نسبت بڑے بڑوں کی طرف کی گئی ہے مگر قرآن وسنت سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے؟ اور جب نبیﷺ سے من گھڑت احادیث منسوب تو دوسروں پر کیاکچھ نہ ہوگا؟۔ گنتی طلاق نہیں بلکہ عدت ہی کی ہوتی ہے، حیض کی صورت میں طہر کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق خود بخود ہوجاتی ہے،آخری مرتبہ سے پہلے دو مرتبہ طلاق کی خبر مرضی پر منحصر نہیں کہ ایک طلاق دی تو باقی دوطلاق کی ملکیت عدت کے بعد تک رہے یہاں تک کہ عورت کی دوسری جگہ شادی اور پھر وہاں سے طلاق ہو تویہ بحث کی جائے کہ پہلاشوہر نئے سرے سے 3طلاق کا مالک ہوگایا پہلے سے موجود2 کا؟۔ (ب): رجوع کاتعلق صلح وباہمی رضامندی کیساتھ ہے لیکن عدت کے اندر شوہر ہی صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کا حق رکھتی ہے اور باہمی رضامندی سے دونوں ازدواجی تعلق کو بحال کرسکتے ہیں جس میں اللہ نے رکاوٹ ڈالنے سے روکا ہے۔ قرآنی آیات بالکل واضح ہیں۔سورہ بقرہ آیت226,228,229,231,232اور سورۂ طلاق آیت1,2۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کے بعد نکاح کومیثاقِ غلیظ قرار دیا ہے، جس کا معنیٰ مضبوط معاہدہ ہے، فقہاء نے قرآن کی ضدمیں من گھڑت اصطلاح طلاقِ مغلظ کے منکر کو معروف کے مقابلہ میں کھڑا کردیا۔ معروف تو یہ تھا کہ جس نکاح میں ازدواجی تعلق قائم کیا گیا ہو ، وہ میثاق غلیظ( مضبوط معاہدہ) ہے جس کو توڑنے کیلئے عدت درکار ہے جوصلح و رجوع کا لازمی پریڈ ہے مگر اسکے مقابلہ میں طلاق مغلظ کا منکر وجود میں لایا گیا جس میں منہ سے کوئی لفظ پھسلنے سے نکاح کا مضبوط تعلق ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں انواع واقسام کے صریح اور کنایہ الفاظ ہیں جن پر اختلافات بھی ہیں۔یہی وجہ تھی کہ اللہ نے کسی صریح و کنایہ لفظ کی بجائے طلاق کو عدت وعمل قرار دیا،رجوع کا تعلق الفاظ کی بجائے باہمی رضامندی، صلح اور عدت سے جوڑ دیا ہے۔ (ج): اللہ تعالیٰ نے بار بار جس طرح کے عمل کی وضاحت فرمائی ہے اور فقہاء نے اسکے باوجود اس عمل کو معروف سے منکر میں بدل ڈالا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ بار بار قرآن میں معروف طریقہ سے رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔ مدارس کا ہی قصور نہیں بلکہ جدید مذہبی تعلیمات والے زیادہ بڑے گدھے ہوتے ہیں، رجوع کا معروف طریقہ تو عام آدمی سمجھتا ہے کہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، پھر صلح کرلی گئی۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادکے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ نے ’’تین طلاق‘‘ پر مصنف حبیب الرحمن کی ایک کتاب شائع کی ہے۔ جس میں رجوع کے حوالہ سے لکھا ہے ’’ حنفی مسلک میں رجوع کیلئے نیت شرط نہیں ، اگر عدت کے دوران شہوت کی نظر غلطی سے بھی پڑگئی تو رجوع ثابت ہوگا، شوہر رجوع نہ کرنا چاہے اور نظر پڑی تو مسئلہ گھمبیر ہوجائیگا، ایسی صورت میں شوہر دستک دے تو نظر پڑنے پر شوہر ذمہ دار نہ ہوگا۔ اور شافعی مسلک یہ ہے کہ مباشرت بھی کرلی جائے تو رجوع نہ ہوگا جب تک نیت رجوع کی نہ ہو‘‘۔ تین طلاق: حبیب الرحمن ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی۔ معروف کو منکر میں بدلنے کیلئے ہمارے فقہاء نے (سکہ رائج الوقت ہے) یہود کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جدید تعلیم والوں کی وجہ گمراہی کے قلعے مدارس کسی رعایت کے قابل نہیں، اصل گمراہی تو انہی کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ ’’ رجوع اس وقت بھی ثابت ہوگا ، جب نیند میں ایک دوسرے کو شہوت سے چھو لیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہوت عورت کی معتبر ہوگی یا مرد کی ؟، جواب یہ ہے کہ دونوں کی معتبر ہوگی‘‘۔ کیا یہ قرآن اور معاشرہ میں موجود معروف کے مقابلہ میں منکر رجوع نہیں ہے؟۔ یقیناًہے اور فقہاء نے الف سے ی تک معروف کو منکر بنایا۔ (د): سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ فلاتحل لہ من بعدحتی تنکح زوجا غیرہ ’’پھر اگر طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔ اس کا کیا مطلب ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کوئی رسمِ بد ہوتی ہے تو اس کو ملحوظِ خاطر رکھ کر حل تجویز کیاجاتا ہے، شوہر بیوی کو طلاق دینے کے بعد بھی اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا تھا، بخاری میں انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کے حوالہ سے بھی وضاحت ہے، نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپ کی وفات کے بعد نکاح نہ کرو، اس آپﷺ کی اذیت ہوتی ہے، آج بھی یہ رسم قبائل میں موجود ہے کہ طلاق کے بعد بھی اپنی مرضی سے شادی میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، لیڈی ڈیانا کو بھی طلاق کے باوجود اپنی مرضی سے دودی الفہد سے شادی کو برداشت کرنے کی بجائے ماردیا گیا، شہبازشریف اور غلام مصطفی کھر کو تہمینہ درانی سے شادی کرنے پر نذیر ناجی اوراطہر عباس نے نشانہ بنایا تھا۔ریحام خان طلاق پر دوبارہ پاکستان آمد میں جان کا خطرہ محسوس کرنے کا برملا اظہار کررہی تھی۔ میاں بیوی میں سے ایک نیکوکار اور دوسرا بدکار ہو تو بدکاروں کی بدکاروں سے یا مشرکوں سے نکاح اور مؤمنوں پر حرام قرار دینے کی بات کی گئی ہے جو ’’حلال نہیں‘‘ سے زیادہ سخت لفظ ہے تاہم اس آیت سے پہلے جو صورتحال ذکر کی گئی ہے اس کو بھی نظر اندازکرنا معروف کے مقابلہ میں منکر کو وجود بخشنا ہے جس کی تفصیل دیکھ لو۔ عتیق گیلانی