پبلشرماہنامہ نوشتۂ دیوارمحمد اشرف میمن سابق سینئر نائب صدر تحریک انصاف سندھ نے کہا کہ مغربی کلچر کے انسانی حقوق و اسلام سے عوام کو مغالطہ دیا جا تا ہے، عمران کے بچوں کی ماں پرجو گزرتی ہے، جسکی سزا اسکے بچے بھگت رہے ہیں۔ ہمیں نسلی کتیا کیلئے بھی یہ حقوق و آزادی نہیں چاہیے۔ مغرب میں زنا کی آزادی ہے، جمائما سے نکاح کے بچے نیازی مسلمان مشرقی باپ و گولڈ سمتھ یہودن مغربی ماں کے بچے عظیم رشتہ میں جڑگئے۔ نانا ،نانی ،ماموں، خالہ اور دادا، دادی، پھوپھی چچااور کزنوں کا رشتہ ختم نہیں ہوسکتا۔ سیتا وائٹ کی بچی زنا کی وجہ سے باپ کی شفقت، نان نفقہ، تعلیم وتربیت، موروثی جائیداد اور شناخت تک سے بھی محروم ہے ،دونوں کا فرق واضح ہے۔اگر جمائما کے بیٹے نے سیتاوائٹ کی بچی سے رشتہ یا جنسی تعلق رکھا تو مغرب میں پابندی نہیں مگراسلام ایک مضبوط، بااعتماد اور قابل فخر رشتہ سے اصلاح اور پائیدار امن کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ المیہ ہے کہ پختونخواہ میں پہلی مرتبہ کسی لڑکی کو ننگا گھمایا گیامگر سوشل میڈیا نے معاملہ اٹھایا۔ عمران خان تو کہتاہوگا کہ عورت کو ننگا گھمانے میں حرج کیا ہے؟ بچوں کی ماں جمائما بھی تو ننگی گھومتی ہے ۔
ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا: نوازشریف جنرل جیلانی وجنرل ضیاء کی پیداوار تھا جسٹس نسیم ، قیوم ،افتخار چوہدری کی عدالتوں کا دودھ پیا۔ مگر اب یہ گلہ ہے کہ عدلیہ فوج کے حکم سے دودھ نہیں پینے دیتی۔ ٰٓایک شخص بچہ تھا تو اغوا ہوا ، پھر 10سال کی عمر میں خرکار کے کیمپ میں پہنچا ، 40سال بعد خرکار کی قید سے آزاد ہوا، جب کافی عرصہ بعد اسکے دانت بڑھاپے سے گرگئے تو مذاق میں کسی نے کہا تو دانتوں کیلئے گرائپ واٹر اور نونہال خرید کر پی لینا، اس نے کئی بوتل خرید کر پی لئے اور پھر پتہ چلا کہ اسکے ساتھ ہاتھ ہوا ۔ جانور کا دودھ پیتابچہ کھیرا ہوتا ہے، پھر 2، 4، 6دانت اور بوڑھا ہوجاتاہے۔ نوازشریف کو کوئی سمجھادے کہ زرداری6 دانت کا ہوگا مگر تم بھی کھیرے نہیں ہو۔ تم پرانی یادیں تازہ کرکے سمجھتے ہو کہ عدلیہ گدھی ہے اور دودھ نہیں دیتی اور جنرل گدھا ہے اور دولتی مارتا ہے تو لگتا ہے کہ بڈھا ڈھینچو ڈھینچو کر رہاہے۔ فوج اور عدلیہ کا کوئی قصور ہے نہ ملی بھگت ، اگر پیار سے پکاروگے تب بھی یہی جواب ملے گا، بھٹو نے جنرل ایوب خان کو اس وقت ڈیڈی بنایا جب 2دانت کا تھا مگر4دانت کا ہوا توعوام کو قیادت فراہم کی۔محمد خان جونیجو کے وقت نواز شریف 2دانت کا تھا، ISIسے پیسہ لیکر IJI کی حکومت کی تو4دانت کا تھا، زرداری نے حکومت بنائی تو 6دانت کا تھا، اب صحافی نواز شریف کو نونہال و گرائپ واٹر پلاکر بتاتے ہیں کہ کھیرے ہو۔ وسعت اللہ خان اپنے ’’بات سے بات ‘‘ میں اس کو اپنے الفاظ میں بیان کردینگے تو خوب لگے گا۔ باقی اسٹبلیشمنٹ کی پیداوار جمہوری نہیں ہوسکتی۔
پاکستان کی فوج انبیاء اور جمہوریت کے علمبردار صحابہ نہیں ۔ جنرل ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ اورمارشل لاء سے موجودہ جمہوریت کی مارشل آرٹ نواز شریف کی ن لیگ نے جنم لیا ہے۔ اللہ نے انبیاء ؑ و صحابہ کرامؓ سے مخصوص واقعات اسلئے سرزد نہیں کرائے کہ لوگ ان کی توہین کرتے ہوئے ان کی ارواح مقدسہ کو اذیت پہنچائیں بلکہ اس امر تک رسائی مقصود تھی کہ آنیوالے لوگ قیامت تک فرعون کی طرح خدائی کے دعویدار بننے سے گریز کریں۔ جب روس نے افغانستان میں قدم جمائے تو بھارت روس کا ساتھی تھا اور پاکستان کی دوستی امریکہ سے تھی۔ روس کی مخالفت میں امریکہ، یورپ، ایران، چین اور دنیا کے بہت ممالک عرب یہاں تک کہ اسرائیل بھی اس صف میں شامل تھا۔ پھر طالبان کی حکومت تک امریکہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت شانہ بشانہ تھے۔ افغانوں کے محبوب رہنما ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کو ٹانگ کر کئی دنوں تک مسخ کرنے کی روش اپنا ئی گئی۔ امریکہ اور پاکستان کے گماشتہ طالبان رہنماؤں کے باقیات کو اس سنگین غلط اقدام پر معافی مانگ لینی چاہیے۔ بینظیر بھٹو کا قتل اور نوازشریف کی نااہلی سے بڑی بات ڈاکٹر نجیب اللہ سے زیادتی تھی۔ جسکا خمیازہ پاکستانی قوم ، طالبان اور ملا عمر کو گمنامی کی موت سے مل گیا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ دوسروں کو آسانی سے توپ مارنے والا آدمی اپنے چوتڑ میں ہلکا سا کانٹا چبھنا بھی برادشت نہیں کرتاہے۔ پاک رزق کو کھاکر ناپاکی بنانیوالی مشین انسان کو تکبرنہ کرنا چاہیے۔ اُسامہ کے بہانے امریکہ آیا تو القاعدہ قائدین پاکستان میں پکڑے اور مارے گئے۔ پاکستان نے صفایا کردیا اور افغانستان میں جہادیوں کی بھرمار ہے ۔گارڈ فادر ٹرمپ ایک بدمعاش ملک کا بدمعاش صدر ہے ۔ افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر بھی بدمعاشی جمانے کی بات کررہاہے۔ باکردار ، بزرگ اور بااصول چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے درست کہا ’’امریکہ پاکستان کو اپنا قبرستان بنانا چاہتا ہے تو ویلکم‘‘۔ مگر یہ کام لوٹاکریسی اور طبلہ بجاکر سیاستدان نہیں کرسکتے ۔ یہ اسلام اور پاکستان کیلئے جہاد کا جذبہ رکھنے والے مجاہد کرسکتے ہیں۔ فوج کو حکم دیا جائے تو افغانستان میں بیٹھی نیٹو اور بھارت کو تباہ کرسکتی ہے مگر پھر اپنی جان بچانا بھی مشکل ہوگا۔ کراچی کے دل پر راج کرنیوالا الطاف حسین بھی کھلے عام قوم پرست بلوچوں کی طرح پاکستان توڑنے کی بات کررہاہے اور نوازشریف بھی عدالتی حکم ، ریاستی رویہ اور 70سالہ کینسر کی بات کرتاہے۔ دلوں کو حقائق بدلتے ہیں۔گالی دینے والا الطاف بھائی دُم اٹھاکر فوج کو دعوت دیتا تھا اور اب وہی دُم اپنے اندر گھسادی۔ امریکہ اور بھارت کو کھلا پیغام دیا جائے کہ پاک فوج کے جذبات ابھارکر ان کو شدت پسندی اور انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنے کی سازشوں سے باز رہا جائے ورنہ خیر کسی کیلئے بھی نہیں ہوگی۔ جو کہتے ہیں کہ’’ پاکستان کا ایٹمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے‘‘ وہی سازش کررہے ہیں کہ پاک فوج کے جرنیلوں کو بھی انہی کے صفوں میں دھکیلا جائے۔ صحتمند صحافت بھارت اور امریکہ کے خلاف ’’جیو اورجینے دو‘‘ کی آواز بلندکرتی تو کافی حد تک عوام میں شعور آتا۔ اختلافِ رائے رحمت ہے مگر تعصبات ، جھوٹ اور غلط پروپیگنڈے سے بڑی لعنت کوئی نہیں ۔ جیو ٹی وی نے آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے پر معافی بھی مانگ لی اور سزا بھی بھگت لی۔ بول ٹی وی چینل پرانی یادوں سے پاک فوج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔اگر حامد میر پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ شائع کرکے بتادیا جاتا کہ اصل مجرم وہ تھے تو پھر بھی پروپیگنڈے کا کوئی فائدہ ہوتا۔ پرویزمشرف پر لال مسجد کے شہداء اور بینظیر بھٹو کا کیس عدلیہ میں چل رہاہے تو یہ فوج کی بدنامی نہیں ، پھر آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام کیوں ادارے اور فوج کی بدنامی تھی؟۔ امریکی سی آئی اے پر کس قسم کا الزام نہ لگا؟۔ خفیہ ایجنسیوں پر دنیا بھر میں الزام لگتے ہیں اور انکے سربراہ بھی الزامات کی زدمیں رہتے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل باجوہ ٹھنڈے مزاج اور اچھے آدمی ہیں، ممکن ہے کہ اشفاق کیانی کی طرح ان کو بھی کرکٹ کا ٹک ٹک مصباح الحق کہا جائے۔ شاہد آفریدی کی طرح کیپٹن بعض اوقات ٹیم جتانے اور ہرانے میں اپنا کام دکھاتا ہے، کھیلوں کی طرح جنگوں اور لڑائی میں بھی مختلف مواقع پر مختلف طبیعتوں اور مزاج کے لوگ اپنی اپنی جگہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ کو ایک تھیلا کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا مگر یہ وہ تھیلا ہے جو دودھ بچانے کیلئے بکری کے تھنوں پر باندھا جاتا ہے۔حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر ریاستی لیلے ہیں۔ بکری سینگوں کو دشمن کیخلاف استعمال کرسکتی ہے، اپنے بچوں کے خلاف نہیں۔ڈان لیکس کی کہانی کو بہت غلط رنگ دیا گیا تھا ورنہ تو حقیقت یہ تھی کہ ’’فوج نے کہا کہ حکومت اپنے پالے ہوئے بچوں کو کاٹنا چاہتی ہے تو ہم رکاوٹ نہیں اور ہمیں حکم دے تو بھی اسکے پابند ہیں‘‘۔ حکومت کا یہی موقف ہوسکتا تھا کہ ’’تمہارے بچوں کو کاٹنے کا حکم ہم سے نہ لو ، ہم یہ حکم کیوں دیں؟۔ تمہارا کام ہے ، تم نے پالا اور تمہی ختم کرو، ہمارا نام لینے کی ضرورت نہیں ، یہ ہمارے ووٹر ہیں‘‘۔ پاکستان کی سرحدوں پر دشمن کے کانٹوں کی یلغار ہے اور جنرل باجوہ بہت کچھ سہنے کی صلاحیت رکھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ قوم کی دعائیں، جذبات اور جان ومال کی قربانیاں ساتھ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مشکل اوقات میں تمام اندورنی و بیرونی دشمنوں کا راستہ روکنے کی سب کو توفیق عطا فرمائے۔نوازشریف کیساتھ عدلیہ، فوج اور میڈیا کی روش بہت اچھی ہے۔ سب کھلا سچ بولنا شروع کردیں تو عوام کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اگر پاکستان میں فوج کی حیثیت نہیں رہی تو افراتفری کی فضاء میں پاکستان کے تھنوں سے دودھ رسنا بند ہوجائیگا۔ عدالتی نظام کو درست کرنے کی واقعی ضرورت ہے لیکن دھمکی اور بدمعاشی سے نہیں شرافت ، سیاست، حکمت اور قانونی طریقے سے نظام کو ٹھیک کرناہوگا۔ سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود نوازشریف کی نااہلی پر جماعت کی سربراہی کا راستہ ہموار ہوا، جب سینٹ میں مارچ کو اکثریت حاصل ہوگی تو قانون ساز ادارہ مزید قوانین پاس کریگا اور 2018ء کے الیکشن پر بھاری خرچہ کرکے 2 تہائی اکثریت حاصل کی گئی تو یہ قانون بھی بن سکتا ہے کہ ن لیگ اور نوازشریف کیلئے نااہلی کی سند جاری کرنے والے جج نااہل ہونگے۔ کرپٹ لیڈر اور صاحبزادی کی خواہشات قانون بنتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ اپنی پاکٹ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اپوزیشن لیڈر بن کر عبوری حکومت نہ بننے دی جائے اور اگر اپوزشن لیڈر کا عہدہ نہ ملا تو جلسے جلوس اور دھرنے سے اسوقت تک انتخابات کا راستہ روکا جائے جب تک اسٹیبلشمنٹ کی ڈوریں ہلتی رہیں۔ گدھ منتظر تھا کہ گدھا مرے تو کھائے، گدھے کی سانس نکلتی تھی نہ گدھ کی لالچ ختم ہورہی تھی۔عوام کیلئے ایک طرح کی سیاسی پارٹیوں میں دلچسپی لینے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ اگر نوازشریف کو ’’مجھے کیوں نکالا ؟‘‘۔ کا جواب ملے کہ قیادت قوم کی ماں ہے مگرتم ضیاء الحق کی داشتہ رہی اورمحمد خان جونیجو جائز منکوحہ کیخلاف سازش میں حصہ لیا۔ ضیاء الحق کی موت پر بھٹو کو انگریز وں کے کتے نہلانے والا قرار دینے پر تعلق جائزنہیں بن سکتا تھا۔ بینظیر بھٹو نے جائزالیکشن جیت لیاتو پاکستان کو میزائل سے مالامال کرنیوالی محترمہ کیخلاف سازشوں میں شریک تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق جائز نہیں بن سکتا تھا۔سلمان اکرم راجا وکیل ہے، نکاح خواں نہیں۔جس نے اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے پیسہ لینے کا الزام تم پر عدالت میں ثابت کردیا۔ لندن فلیٹوں پر پارلیمنٹ سے تحریری خطاب میں اعتراف کرلیا اسکے بعد ’’میاں مٹھو‘‘ کے وکیل فیس کھری کرسکتے تھے لیکن عدالت میں جھوٹا ہونے سے نہیں بچاسکتے اور نہ قوم اور دنیاکے سامنے کالے کوٹ سرخرو کرسکتے ہیں۔ نوازشریف نے جس طرح احتساب عدالت میں اسلحہ کی بھرمار کے رعب ودبدبہ میں پیشی بھگتادی۔ کیا آصف زرداری، محمود خان اچکزئی ، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن اور دیگر لیڈروں کیلئے اس کی گنجائش ہے؟۔ آرمی چیف جنرل باجوہ اور فوج کے کور کمانڈروں کو اس معاملہ پر ریاست کی پاسداری کیلئے سامنے آنا چاہیے تھا۔ اس سے تمام قانون شکن ، ریاست بیزار اور ملک توڑنے والوں ہی کی بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ الطاف حسین نوازشریف اور مریم نواز کونذرانۂ عقیدت پیش کررہاہے۔ اور ٹھیک کررہاہے کہ ایک طرف الطاف حسین کی تصویر وتقریر کیلئے پابندی ہے تو دوسری طرف نوازشریف کو کھلے عام ملک توڑنے کی دھمکی اور عدالتی قوانین کی دھجیاں اُڑانے کی اجازت ہے۔ بلاول بھٹوزرداری کھدڑے کیطرح ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘ کا نعرہ صرف اسلئے لگاتا تھا کہ آصف علی زرداری کی طرف سے اینٹ سے اینٹ بجانے کی تقریر کا تدارک ہوجائے ۔ عمران نے طالبان کو خوش کرنے کیلئے 7محرم کو ریحام خان سے خفیہ نکاح کیا تھا ۔اب بریلوی اور شیعہ کو خوش کرنے بابوں کے مزارات پر چادریں چڑھا رہاہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا ورد کرنیوالے اب درود پڑھ رہے ہیں۔عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی منکوحہ ہے، گرل فرینڈ ہے، داشتہ ہے، چہیتی ہے ، لاڈلی ہے یا متعہ کررکھاہے؟۔ ضرب عضب آپریشن دہشتگردوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی تھا اور عمران خان اس دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکی دے رہاتھا۔ پختون خوا میں پولیس نہیں ٹوٹل اختیارات فوج کے پاس ہیں۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑنے پر فوجی افسروں کیخلاف تادیبی کاروائی بھی ہوئی؟ اور جب کہیں دھماکہ ، دہشت گردی اور مسلح نقل و حمل ہو تو اسکی ذمہ داری ایجنسیوں پر کیوں نہیں ڈالی جاتی ؟۔ چوہدری نثار نے کہا: ’’واہ کینٹ میں خود کش جیکٹ کیسے پہنچے ؟ میں ذمہ دار پوسٹ پر نہ ہوتا تو سازشوں کا بھانڈہ پھوڑ دیتا‘‘۔ اب چوہدری صاحب وزیرداخلہ نہ رہے تو فوج اور حکومت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے کچھ تو بولیں۔ منافقانہ ریاستی نظام اور منافق سیاستدانوں سے شعور کی بنیاد پر جان چھڑانی ہوگی۔
سنی شیعہ علماء اپنے اپنے مسلکوں کو کاروبار بنانے کے بجائے راہِ حق کیلئے میدان میں کام کریں تو ملت اسلامیہ کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ صحیح بخاری کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین قرار دینے والے شیعہ کی طرح ائمہ اہلبیت کیساتھ علیہ السلام بھی پڑھا کریں یا واضح کریں کہ وہ بخاری میں غلط لکھ دیا گیاہے۔ منافقانہ رویہ کو چھوڑنے کیلئے کھلی کھلی باتیں کرنا ہوں گی۔ درسِ نظامی میں بسم اللہ کو مشکوک بتایاجاتا ہے جس کی وجہ سے قرآن کے بلاشبہ ہونے کا عقیدہ نہیں رہتا۔ مساجد میں بنی امیہ کے دور سے پابندی لگائی گئی تھی کہ جہری قرأت میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ امام ابوحنیفہؒ کو تشدد کا نشانہ بناکر جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا ، انکے شاگرد ابویوسف قاضی القضاۃ چیف جسٹس اور شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے۔ ایسا تو موجودہ دور کے لوٹے سیاستدان وزیرکریں تو بھی شرمندہ ہوں۔ مساجد میں جہری نمازمیں جہری بسم اللہ سے انقلاب کا آغاز ہوگا تو مذہبی طبقے کے بند ذہنوں کی بندشریانے کھل جائینگی، آغاز اچھا ہو تو انجام بھی بہترین ہوگا۔ بنوامیہ کے بعد بنوعباس کاامارت پر قبضہ ہوگیا اور نبیﷺ سے نسبت قریب ہونے کا دعویٰ کرنے کیلئے ابوطالبؓ سے متعلق کفر پر مرنے کی روایت گھڑ ی۔ تاتاری بغداد کو تار تار کرگئے تو اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اقتدار قائم رہے۔ حرم سراؤں میں خوبصورت ترین لڑکیوں کو قیدرکھنے والے سلاطین اچھے تھے؟۔ انہیں لونڈیوں کی پیداوار بادشاہوں کی اولاد ہونے کے ناطے پھر تختِ خلافت پر بیٹھتے تھے۔ جنکے درباری ملا کے ہاتھوں میں اہل حق کی گردن زدنی کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ تیز رفتار مواصلاتی نظام، کمپیوٹر اور چھپائی کے موقع نہ ہوتے اور اللہ کی حفاظت کا معاملہ نہ ہوتا تو ہم بھی کربلا کے شہیدوں میں شمار ہوتے۔ پشاور میں عمران خان کی جمہوری حکومت نے سول سوسائٹی آرمی پبلک سکول کے شہداء پر جلوس بھی نکلنے نہیں دیا تھا۔ یزید کے بیٹے معاویہ میں اتنی غیرت تھی کہ تخت خلافت سے 40 دنوں میں الگ ہوا کہ ظالمانہ نظام کا میں حصہ نہیں بنوں گا۔ ہمارا یہ حال ہے کہ یزید وابوجہل کو برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ابوجہل کے بیٹے مخلص صحابیؓ بن گئے ۔ ہماری قیادتوں کے خمیر اس سے بھی عاری ہیں۔ رئیس المنافقین ابن ابی کے بیٹے بھی مخلص صحابہؓ تھے۔ ہم نے جاہلانہ عصبیتوں کو اسلام ، جہاد اور فرقوں کا رنگ دیدیا ہے۔ امیر حمزہؓو علیؓ جیسے شیر، فاروق اعظمؓ جیسے دلیراورابوبکرؓو عثمانؓ جیسے اہل خیر موجود تھے جو ابولہب وابوجہل کی طبیعت صاف کردیتے مگر اللہ نے مسلمانوں کو دہشتگردی کی راہ پر نہیں لگانا تھا۔ مدینہ ہجرت کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا، حضرت ابوجندلؓ نے زنجیریں توڑ ڈالی تھیں ، نبیﷺ نے معاہدے کے مطابق واپس کردیا۔خواتین بھاگ آئیں تو نبیﷺ نے ان کو حوالہ کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ یہ اللہ کی چاہت بھی تھی فرمایا کہ ’’ خواتین سابقہ مشرک شوہروں کو نہ لوٹائی جائیں یہ ان کیلئے حلال نہیں اور وہ بھی ان کیلئے حلال نہیں‘‘۔ حضرت علیؓ نے سمجھاکہ ’’ شرعی حلال مرادہے‘‘ اور حد سے تجاوز کرکے فتح مکہ کے بعد مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا۔ نبیﷺ نے اس کو امان دیدی۔ علماء کرام ومفتیان عظام نے حلالہ کی نوعیت پر بہت بڑا مغالطہ کھایا ، لوگوں کے گھر تباہ ہوئے، عصمتیں لٹ رہی ہیں اور اس سلسلے میں بعض فقہاء نے حلالہ کی لعنت کو کارِ ثواب قرار دیکر بہت غلط کیاہے۔ علماء کو چاہیے کہ رجوع کریں۔مجاہد قائدین کہہ دیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے ہمیں قید کرلیجئے گا۔ ہم نے چند مرتبہ وضاحت کی کہ ’’بخاری کی روایت میں قریش خواتین کو دنیا کی دیگر خواتین پراُ ونٹ کی سواری کی وجہ سے فضیلت دینے کا ذکر ہے اور سعودیہ میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی غلط ہے‘‘، اب سعودیہ نے پابندی اٹھادی توبہت اچھا ہوا اور اصلاح کا طریقہ یہ نہ تھا کہ دہشت گرد اپنی خواتین کو حکومتی احکام کی خلاف ورزی پر مجبور کرتے۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کیلئے مکہ میں تیر اٹھانے کی اجازت بھی نہ تھی۔ اسلام نے ہی دنیا کوریاست کے آداب سکھادئیے تھے مگر ہم اسلام بھی بھول گئے اور قرآن وسنت کا سلیقہ بھی یاد نہیں رہاہے۔ آج حرمین شریفین میں صلح حدیبیہ کے مقابلہ میں زیادہ پابندی ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ بنی اسرائیل کا تعلق حضرت اسحاق ؑ سے ہے ، بیت المقدس ان ہی کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل ؑ نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کیلئے خانہ کعبہ بنایا تھا۔ جب غارِ حراء میں وحی نازل ہوئی اور مشکلات بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ہجرت کیلئے باقاعدہ دعا سکھائی اور بعثت کے اس مرکز سے ہجرت کرنے کا حکم دیدیا۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد شروع میں مسلمانوں نے اہل کتاب کی پیروی میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا۔ جب نبیﷺ کی خواہش پر اللہ نے کعبہ کو قبلہ بنالیاتو بیوقوف لوگوں نے اعتراضات اٹھادئیے کہ کس چیز نے ان کو قبلہ بدلنے پر مجبور کیا؟۔ یہ تفصیل دوسرے پارہ کے شروع میں ہے۔ جب بیت المقدس ہمارا قبلہ نہیں تھا، تب بھی ہمارے قبضہ میں نہیں تھا۔ مسلمانوں نے اپنا رخ پھیر لیا تو اس پر قبضہ کرنا بھی غلط تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کہا جاتاہے کہ حضرت عمرؓ کو چابیوں کے مالک نے خود چابیاں پیش کردیں اور ان کی کتابوں میں موجود 17 پیوند والے کپڑے اور غلام کی سواری تھامنے والے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظمؓ ان نشانیوں پر پورے اُترے تھے۔ ایسی صورت اگر محمود غزنوی کیلئے بھی سومنات کا مندر فتح کرتے وقت سامنے آتی تو بھارت کے ہندو بھی اس پر اعتراض نہ کرتے۔ حدیث میں بیت المقد س فتح ہونے کی بشارت میں مزاحمت نہ ہونے کی پیشگوئی موجود ہے۔ فتح مکہ کے وقت جب کعبہ فتح ہوا تو بھی مشرکینِ مکہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اور اگر وہ معاہدہ نہ توڑتے تو 10سال تک یہ گارنٹی موجود تھی کہ کعبہ بتوں سے بھرا ہوتا اور مسلمان نیام میں تلوار رکھنے کے علاوہ کوئی بھی ہتھیار ساتھ نہ لاتے۔ نبیﷺ نے زندگی بھر کیلئے یہ معاہدہ کیا تھا کیونکہ 6ہجری میں صلح ہوئی اور 10ہجری میں آپﷺ کا وصال ہوا،حضرت ابوبکرؓ کا پورا دور، حضرت عمرؓ کا آدھا دورِ خلافت بھی اسی میں آجاتا۔ مگر دشمنوں کی زیادتی تھی کہ پہلے ہجرت پر مجبور کیا اور پھر وہ معاہدہ بھی خود ہی توڑنے میں پہل کردی تھی۔ اسلام وہ دین ہے جس نے دین میں بھی زبردستی کی تعلیم نہیں دی اور نظام میں بھی جبر کا سبق نہیں سکھایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دین کی دعوت نرمی سے دی ، نظام کیلئے بھی خود کش حملے نہیں کئے بلکہ ایک مرتبہ غلطی سے کوئی شخص قتل ہوا تو دوسری جگہ چلے گئے اور جب فرعون کو حق کی دعوت دیکر حجت تمام کردی ، تب بھی اپنے لشکر کو لیکر فرعون سے نجات حاصل کرنے کیلئے دریا عبور کیا۔ فرعون کو اللہ نے خود ہی اسکے لشکر سمیت غرق کردیا۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور اس کی فطری شکل معاشرے میں بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ یزید نے ایک طرف قسطنطنیہ فتح کیا اور دوسری طرف کربلا میں امام حسینؓ کو ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کا عقیدہ ہے کہ یزید صحابی نہ ہونے کے باوجود بھی رضی اللہ عنہ کا حقدار اسلئے ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح پر حدیث میں جنت کی بشارت ہے۔ مفتی سید عدنان کاکا خیل نے بجافرمایا کہ مجھے اس طبقے کا علم نہیں۔ شاہ بلیغ الدین اور انکے علماء ومفتیان ساتھی ، محمود عباسی کے ساتھی علماء و مفتیان اور وفاق المدارس کی ا نتظامہ چلانے والوں میں بہت معتبر ہستیاں تقیہ کی پوزیشن پر فائز تھیں۔ دوسری طرف غلو کے مرتکب شیعہ واقعہ ایسا پیش کرتے ہیں،لگتاہے کہ اثناعشری امام حسین ؑ سے پہلے 2 اور بعد میں آنیوالے9 اماموں پر بھی طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ یہ رویہ ان کومحرم کے10دنوں تک محدود کردیتاہے۔ بکھرے تاریخی صفحات میںیزید و حسینؓ کی کئی داستانیں بھری پڑی ہیں، بنی اسرائیل نے مشکل سے گائے ذبح کی، تو ہندوؤں نے مقدس کی پرستش شروع کردی اور گائے کی وجہ سے خود کو گاؤ ماتا کے نام پر بھگوانوں تک محدود کرلیا۔ بدر کی فتح پر مشاورت کے بعد نبیﷺ و صحابہؓ کو اللہ نے وحی بھیج کر رلادیا تھا تو محرم کا غم صرف شیعہ نہیں سنی بھی ملکر منائیں تو مجھے بڑی خوشی ہوگی اور خون بہانے سے مزاحمت، جہاد، دنیا کے سامنے خانہ کعبہ میں رمل کی طرح ایک طاقت کا اظہار ہوگا اور خون بہانے سے سنگینی کی سنت عمل ہوگا، حلوہ کھاناسنت نہیں۔ بخاری میں بھی اہلبیت کیساتھ علیہ السلام ہے، زندوں و قبروں پر السلام علیکم، ’’ و علیہ السلام‘‘ اور نماز میں ’’السلام علیک ایھاالنبی، السلام علینا وعلی عبادللہ ‘‘ ہے نا؟۔
1: انگریز و یہود کے سودی نظام کو کمیونزم سے خطرہ تھا اسلئے برصغیر پاک و ہند کو تقسیم کرنے کا بھرپور ساتھ دیا۔ جنہوں نے آزادی کیلئے جیل کاٹی اور نہ بغاوت کا سامنا کیا۔ ’’لڑاؤاور حکومت کرو ‘‘ کی سیاست کا حق اداکیا۔ انہیں اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کیا۔ آج وہی انگریز و یہود اسلام کو سوشلزم کیخلاف استعمال کرنے کے بعد اسلامی ممالک کو تباہ کرتے کرتے یہانتک پہنچا ۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد پاکستان پر دستک دی جا رہی ہے اور ہم ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اگرتقسیم ہند نہ ہوتا تو یہ کھیل بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ برمی اور کشمیری مسلمانوں کو پاکستان سے الحاق کی کوشش نے بد حال بنادیاہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر شہری گولیاں کھاتے کھاتے عادی ہوگئے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرق مغرب کے دشمن سن لیں ان کا بارود ختم ہوجائیگا مگر ہمارے جوانوں کے سینے ختم نہ ہونگے‘‘۔ اگر بہادری نہیں کرسکتے تو کلبھوشن کو کنٹرول لائن کے پاس باندھ دیتے تاکہ ان کا اپنا ہی کوئی گولہ ان کو لگ جاتا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر پر ہمیں دھوکہ دیا مگر پھر بھی کلبھوشن کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں چل رہا ہے۔ یہ کہنا کہ ’’لاالہ کے امین ہونے پر فخر ہے‘‘ مگر دشمن کے پیر وں کی جوتی بن کر بھی یہ رٹ ہے۔ 2: افغانستان میں روس و امریکہ کی جنگ نہ لڑی جاتی، سپر طاقت روس کا خاتمہ نہ ہوتا۔ پڑوسی بھارت ،افغانستان اور ایران سے دوستی رہتی۔امریکہ ونیٹواس خطے کو اسلحہ فروخت کرنے اور ہیروئن کاشت کرنے کیلئے ٹھکانے نہ بناتے۔ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ سے امریکی CIA اور اسکے گماشتے ذاتی اکاؤنٹ بناتے ہیں جس کاخمیازہ غریب ممالک بلکہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان تباہ ہواتو بھارت کے مسلم و ہندو بڑے پیمانے پر امریکی و عالمی ایجنڈے کی زد میں آئیں گے۔جب تک بھارت اور پاکستان کو لڑاکر دم نہ لیں ،امریکہ اور یہودی اپنے مشن کی تکمیل نہیں کرسکتے ۔ پاک فوج بہت کمزور یا متحمل مزاج ہے۔ بھارت نے لاہور پر ہلہ بول دیااگر بھارت پاکستان کو فتح بھی کرلیتا تو مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش بننا تھا، مغربی پاکستان کیا بنتا؟۔ نیٹو افغانیوں کو نہیں سنبھال سکتا تو بھارت کیا کرسکتا تھا؟ البتہ کارگل کی طرح نہیں بڑے پیمانے پر پاک فوج کشمیر پر ہلہ بول دیتی تو کشمیری نے بھارتی فوج کوپکڑ کر وہی کرنا تھا جو بنگالیوں نے پاک فوج کیساتھ کیا۔ یہ تمام کی تمام رنجشیں تقسیم ہند کا شاخسانہ ہیں۔ بھارت میں مسلمان اور ہندو برادری ایک ساتھ عدل وانصاف کے تقاضوں کیساتھ رہ سکتے ہیں ، پاکستان میں بھی رہ سکتے ہیں تو پھر تقسیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔ ہندو سیکولر اچھوت سے غیر انسانی برتاؤ کرتے ہیں۔اسلام ذات پات، عرب عجم ، کالے گورے نہیں کردا کو ترجیح دیتا ہے۔ عرب انگریز کو آقا اور برصغیر کے لوگوں کو غلام سمجھتے ہیں ۔سیکولر ہندو اور روشن خیال مسلمانوں نے مل کر ہندوستان سے انسانیت اور اسلام کو دنیا میں امامت کے مقام پر فائز کرنا تھا۔ 3: اسلام کا درست تصور پیش ہوتا، کمیونزم کیخلاف محاذنہ بنتا تو متحدہ ہندوستان اسلام اور انسانیت کی بہتر تصویر پیش کرتا۔ اقبال نے کمیونزم پر فرشتوں کا گیت ’’جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی ، اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘‘ نظم لکھ دی تھی۔ روس کے بارے میں اسلام قبول کرنے کی پیش گوئی کی تھی۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے اظہارِ خیال کیا تھا کہ شیطان کو اصل خطرہ آنیوالے کل میں کمیونزم نہیں اسلام سے ہے۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا مگر صلہ کیا ملا؟۔ دنیا بھر کے علاوہ بھارت میں ان مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو مغلیہ کے دور میں حکمرانی کرچکے ہیں۔ خلافت بحالی کیلئے انگریز کیخلاف ہندو بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ تحریک چلارہے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر’’کامریڈ‘‘ کے نام سے صحافت کرتے تھے، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان نظریاتی مسلم لیگیوں کا رحجان انگریز ویہود کے سودی نظام نہیں روس کی طرف تھا۔ قائداعظم بھی پہلے کانگریس میں تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کانگریس میں شمولیت اسلئے اختیار کی تھی کہ ہندو نے انگریز سے آزادی کیلئے جدوجہد شروع کی تھی ۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا ’’ہم بھارت سے دوستی چاہتے ہیں مگر تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے‘‘۔
پاکستان بننے کے زبردست اور واضح فوائد
1:مسلمانوں کی سب سے اہم کتاب قرآن مجید میں فاتحۃ الکتاب کے بعد پہلی سورت البقرہ ہے، جس میں گائے ذبح کرنے کو کسی واقعہ میں مسئلے کا حل بتایا گیاہے۔ پاکستان نہ بنتا تو حیلہ ساز علماء نے جس طرح اسلام کی تعلیم کو سود وغیرہ سمیت مسخ کرکے رکھ دیا ہے یہ بھی دیکھنے کو مل سکتا تھا کہ اکبر بادشاہ کی روحانی اولاد ہمارے درباری علماء و مفتیان فتوے جاری کردیتے کہ متحدہ ہندوستان میں قرآن کی سورۂ بقرہ کی تعلیم پر پابندی ہے جس میں گائے ذبح کرنے کاذکر ہے۔ عوام اور علماء کا قرآن سے براہِ راست رابطہ نہ تھا مگر جب قرآن کا ترجمہ عام ہونا شروع ہوا تو اس پر پابندی کے خطرات بھی منڈلاتے۔ ہندو بھائی چارے میں مسلمان پڑوسی اور برسرِ اقتدار طبقے کا خیال رکھتے ،تب بھی گائے ذبح کرنے پر پابندی کو دنیا قبول نہیں کرسکتی تھی۔ بھارت سب سے زیادہ گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنیوالا ملک ہے۔ پاکستان کا وجود بھارتی ریاست کو آکسیجن فراہم کررہاہے۔ گاؤ ماتا بوجھ بن کر بھارت کیلئے مسائل کھڑے کرتی ۔ مہاتما گاندھی کو انتہاپسند ہندو نے موت کے گھاٹ اُتارا۔ انگریز کو مصنوعی انتہاپسند مسلمان سے چڑہے توحقیقی انتہاپسند ہندو کو کہاں برداشت کریگا؟، رسول ﷺ نے اقراء کے سبق سے لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ اب پھر مسلمانوں کو جہالت کے اندھیرے نے گھیر لیاہے اور پاکستان بہتر تجربہ گاہ بن کر نہ صرف برصغیر پاک وہند بلکہ ایشاء اور پوری دنیا کو بھی حقیقی روشنی فراہم کرسکتا ہے۔ 2: دارالعلوم دیوبند و جمعیت علماء ہند نے ہندوؤں کیساتھ حکومت کی تحریک چلاکر نہ صرف دین اکبری کی پوزیشن کو زندہ کرنے کی کوشش کی بلکہ اسلام کو اقتدار سے بھی الگ کردیا تھا۔اکابر دیوبند نے کانگریس کے سیکولر نظام کو اسلام کا تقاضہ قرار دیا جبکہ پاکستان میں جمعیت علماء ہند کی بچی جمعیت علماء اسلام کا مؤقف سیکولر طبقات کے خلاف اسلام کے نام پر مذہبی محاذ تھا۔ جس طرح جمعیت علماء ہند نے بھارت میں کانگریس کا ساتھ دیا، اسی طرح جمعیت علماء اسلام نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا مگر موجودہ جمعیت علماء اسلام دراصل مسلم لیگ کی وہ حامی جماعت نہیں بلکہ جمعیت علماء ہند والوں نے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ مسلم لیگ کے نااہل نوازشریف اور دیوبند کے نااہل وارث مولانا فضل الرحمن ہیں۔ مسلم لیگ کی مودی سے یاری زروروں پر ہے۔شعور واآگہی سے ایک عظیم انقلاب آسکتاہے۔ 3: بھارت کی پاکستان سے دشمنی یہ ہے کہ ملک تقسیم کیوں ہوا؟۔ تقسیم ہند کا مقصد یہ نہ تھا کہ اپنے اپنے ملکوں اور ریاستوں کی محبت میں ایکدوسرے سے دشمنی کی جائے بلکہ مسلمانوں کا تعلق ملت اسلامیہ سے تھا، جو عرصہ سے اقتدار میں رہے ۔ اقتدار سے متعلق شرعی حدود اس بات کا تقاضہ کررہے تھے کہ مسلمانوں کی خود مختار حکومت ہو۔ یہ بھارت کے حق میں بھی بہتر تھا ورنہ بنگال، بلوچستان، سندھ، پنجاب، پختونخواہ، کشمیر اور وسط ہند یوپی، بہار اور دیگر مسلم اکثریتی حصوں میں اسلام کیلئے ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہتا۔ جب بارِ حکومت مسلمان کے کاندھے پر پڑگیا تو بھارت نے بھی سکھ کا سانس یقیناًلیا تھا۔ بھارت جموں و کشمیر پاکستان کے حوالہ کرکے تحفے میں دیدے تو دشمنی کی ساری بنیادیں دوستی میں بدل جائیں گی۔ بھارت کو پاکستان سے راہداری مل گئی تو ایران اور وسط ایشاء کے خزانوں سے خود بھی مالامال ہوگا اور اپنی ساری چیزیں وہاں ایکسپورٹ کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ جس طرح مشرکین مکہ اور مدینہ کے مسلمان مہاجرایک قوم قریش تھے اور آخر کار شیروشکر ہوکر پوری دنیا پر غالب آگئے، اس طرح پاک وہند نے مل کر دنیا کو فتح کرنا ہے۔ کشمیر اتنا بڑا مسئلہ نہیں اس میں بنگلہ دیش کا بدلہ بھی ہم چکالیں گے مگرنیٹو نے پاکستان کو تباہ کیا تو بھارت کی تباہی یقینی ہے۔ اتنے مسلم ممالک تباہ ہوگئے لیکن مسلمان پھر بھی اپنی موجودگی ظاہرکر رہاہے مگر بھارت تباہ ہوا تو ہندو کا نام اور نشان تک مٹ جائیگا۔ ہندو مذہبی ’’ویدوں‘‘ کی پیش گوئی میں نبیﷺ اور مہدی کے حوالہ سے معاملہ خلط ملط نہ ہوتا تو ہندو اسلام قبول کرلیتے۔مشرکین مکہ ابراہیم ؑ توہندو نوحؑ کے دین پر ہیں،حرم پاک سے اسلام کی نشاۃ اوّل ہوئی، ارض پاک سے نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوگا۔ علامہ اقبال نے ہندوستان کا گیت گایا تھا جہاں سے نبیﷺ کو ٹھنڈی ہوا آئی۔ ریاست مدینہ کی طرح پاکستان سے اسلام کا ماڈل پیش ہوگااور دنیا خلافت سے امن و سلامتی کا گہوارہ بنے گی۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
پاکستان میں بڑا کھیل شروع ہوچکا۔اپریل 2018ء تک ملک توڑنا بھارت وامریکہ کی سازش ہے۔ بلوچستان کاخلفشار، سندھ و پختونخواہ میں بد اعتمادی توپنجاب و مرکز میں بھی ریاست و حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء ہے، میڈیا بدترین وکالت سے شعلوں کو مزیدبھڑکا تا ہے۔ کبھی نبیﷺ کے فیصلے و اکثریت کے منافی وحی نازل ہوتی تھی ، جس سے قیامت تک آنیوالے مسلمان اعتدال سے نہیں ہٹ سکتے۔صلح حدیبیہ میں قوم کا جذبہ اور مشورہ رسولﷺ کی رائے کیخلاف مگر اللہ نے فتح مبین کہا، جسے صحابہؓ نے ذلت قرار دیا۔ بدر ی قیدیوں پر فدیہ لینے میں اکثریت کا مشورہ اور نبیﷺ کا فیصلہ ایک طرف تھا اور 2 حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے رائے مختلف دی۔ اللہ تعالیٰ نے 2 کی رائے کو درست ،نبیﷺ کافیصلہ نامناسب قرار دیا ۔ کیا کوئی اپنی اوقات نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر سمجھ سکتا ہے؟۔نااہلوں کی کوئی فرعونیت نہیں چلے گی!۔ حکومت کے دربار میں عمرؓ اورسعدؓ جیسا ایک بھی ہوتا تو نوازشریف کے کان میں سہی لیکن بول دیتا کہ ’’ پارلیمنٹ میں کہا کہ سعودیہ ودبئی کی مِلیں بیچ کر 2006ء میں لندن کے فلیٹ خریدے ، جسکے تمام دستاویزی ثبوت اللہ کے فضل وکرم سے موجود ہیں۔ عدالت کے ججوں نے آخر تک کہا کہ اگر لندن فلیٹ کے کاغذات دکھا دو تو ہم کیس کو خارج کردینگے لیکن میاں جی! آپ نے نہیں دکھائے۔ یہ بیٹے سے تنخواہ وصول کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ مقدمہ یہی تھا کہ آپ اور بیٹوں کی جائیداد ایک ہے۔ اپنے مال سے کوئی بھی تنخواہ نہیں لیتا۔ مال آپ کا ہے اور نام بیٹوں کا‘‘۔ عدالت میں اس اندازسے راجہ رنجیت سنگھ پیش نہ ہوتا جیسے نوازشریف مسلح جتھے کیساتھ پیش ہوا۔رُول آف لاء کی رَٹ والاوزیرداخلہ احسن اقبال اس پر استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتا تو جمہوریت مستحکم ہوتی۔ روزنامہ جنگ اور دیگر اخبارات کی شہہ سرخیاں تھیں کہ عدالت کو رینجرزکی تحویل میں دیا گیا، وزیروں اور جتھے پر پابندی ہے تو وزیر داخلہ کیسے بے خبر تھے؟۔ پولیس میں نوازشریف کے مسلح جتھے کو روکنے کی ہمت نہیں تھی تواسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ وزیرداخلہ اعلان کرتا کہ ’’ عدالتی پیشی پرہماری نااہلی سے بد مزگی کی وہ ناخوشگوار فضاء پیدا ہوئی کہ ایس ایس پی پولیس اسلام آباد کو اپنی بے بسی کی بنیاد پر رینجرز طلب کرنی پڑی ۔ فوجی تربیت قانونی تقاضہ نہیں سمجھ سکتی۔ وہ صرف حفاظت کرنا جانتی ہے،اسلئے نوازشریف کا وکیل بھی روک دیا گیا تھا۔ اس میں کسی اور نہیں وزیرداخلہ کی غلطی ہے‘‘۔ احسن اقبال اخلاقی جرأت سے کہے کہ ’’ نوازشریف کی عدالت میں پیشی کو قانونی و اخلاقی تقاضوں کے مطابق بنانا میرا کام تھا۔ شرمندگی نہیں قابلِ فخر ہے کہ پولیس نے رینجرز سے مدد مانگ لی اور قوم کو دکھا دیا کہ اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور نہ گھٹیا مراسم کہ سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑا جائے اورہماری فورسز تماشائی بن کر بیٹھ جائیں۔ رینجرز کے کمانڈر کو شاباش دیتا ہوں ، جس نے اپنافرض اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرکے دکھایا ہے‘‘۔ ایک بادشاہ نے تربیت یافتہ نوکر رکھا۔ پیشہ ور نوکر نے کہا کہ مجھے ڈیوٹی کی فہرست لکھ دی جائے۔بادشاہ نے ڈیوٹیوں کی لسٹ تھمادی۔ بادشاہ نوکر کو شکار پر لے گیا اور بادشاہ گھوڑے سے گر پڑا تو پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔ گھوڑا بادشاہ کو روند کر گھسیٹ رہا تھا ، بادشاہ مدد کیلئے چیخ رہا تھا لیکن نوکر اپنی ڈیوٹی کی فہرست دیکھ رہا تھا کہ اس کی ڈیوٹی میں یہ شامل ہے یا نہیں؟۔یہی حال حکومت، فوج اور عدالت کا ہے کہ پاکستان تباہ ہورہاہے اور یہ ڈیوٹی کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہماری ڈیوٹی کیا ہے؟۔ مریم نواز نے یہ کہا کہ ’’میں بھی نوازشریف ہوں، تم بھی نوازشریف ہو ۔ I LOVE YOU+ I LOVE YOU 2 ‘‘مگر قوم اور ملک کو اس عاشقانہ انداز میں نہیں چلایا جاسکتا۔ 1906ء کو مسلم لیگ نواب وقارالملک اور سر آغا خان نے بنائی تھی۔نوازشریف تقریر کرتے کہ’’ 2006ء میں لندن فلیٹ خریدنے کے جھوٹ پر مجھے پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار دیاگیا۔ اعتراف کرنے میں حرج نہیں کہ مجھ سمیت سب کو مسلم لیگ کا صد سالہ جشن منانے کا خیال اسلئے نہ آیا کہ ہم موسم لیگی شروع سے اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں۔ہم نے تعصبات کی بنیاد پر تقسیم کا ایجنڈہ پورا کیااورہم اب بھی عالمی قوتوں کیساتھ تقسیم کے ایجنڈے پر کھڑے ہیں۔تعصب مفاد کانام ہے نظرئیے کا نہیں‘‘۔ یہ وقت ہے کہ بلوچی گاندھی کے نمائندے محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو کہیں کہ ’’بابا اسٹیبلشمنٹ مخالف کا کردار ہم نے اسلئے ادا کیا کہ جھوٹ ، لاقانونیت ، کرپشن اور ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہو۔ ایسی گورنری اور بلوچستان کے اقتدار میں شمولیت کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں جہاں جمہوریت کے لبادے میں کھلے عام یہ سب کچھ ہورہاہے‘‘۔ مولانا فضل الرحمن و اسفندیارولی کہیں کہ ’’ سرحدی گاندھی غفار خان، بااصول سیاستدان ولی خان اورجمعیت علماء ہند و مفتی محمود کی ارواح کوعدالتی کٹہرے میں بدمعاشی اور عوام کے سامنے ڈھٹائی سے جھوٹ کے باوجودنوازشریف کا ساتھ دینے پر تکلیف پہنچے گی۔ تاریخ کے اس موڑ پر ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہم کسی کے مہرے اور مفادپرست پہلے تھے ،نہ آج ہیں۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ بنکے فوج کو بدنام کرتے تھے وہ آج جمہوریت کی لاش سے کفن کھینچ کر قوم کے سامنے خود بھی برہنہ پا، برہنہ سر اور برہنہ دھڑ کھڑے ہیں الحفیظ والامان‘‘جس سے پاکستان، جمہوری نظام اورخطے کو استحکام ملتااور تاریخ کے داغ دھبے بھی دورہوتے۔ ملازم اور ایجنٹ میں فرق ہوتاہے۔ مسلم لیگی پہلے انگریز دور میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ تھے اور پاکستان میں بھی ہمیشہ رہے۔ فوج انگریز ی دور میں ملازم رہی اور آج بھی ملازم ہے۔ علماء کا فتویٰ تھا کہ انگریز کی ملازمت جائز نہیں مگر مولانا فضل الرحمن کاوالد ملازم تھا اور مولانا اشرف علی تھانوی پر بھائی کی وجہ سے الزام لگاتھا۔ صحافیوں پر پردے کے پیچھے پہلے بھی الزام لگتا تھا مگر اب حالت بہت خراب ہوئی ہے۔’’ عرب لڑکی نے فون کیلئے رعایت مانگی، دکاندار نے کہا: برقعہ اٹھایا توملے گی۔ اس نے برقعہ اٹھایا تو برہنہ تھی۔ یہ رعایت کی قیمت تھی‘‘۔ پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پر شیخ رشید و جماعت اسلامی نے ختم نبوت کے مسئلے پر خوب آواز اٹھائی۔ میڈیا پہلے سے آواز اُٹھا چکا تھا ، شہباز شریف نے کہا کہ وزیر برطرف کیا جائیگا مگرکامران خان اپنے شومیں یہ سب کچھ دیکھ کر جان بوجھ کرکہہ رہاتھاکہ ’’کمپیوٹر کی غلطی سے جو لفظ مٹ گیا ، وہ صحیح کردیا گیا مگر سب نے اس پر خوب سیاست کی‘‘۔ اس ننگِ صحافت پرکامران خان نے عرب دوشیزہ کی طرح قیمت وصول کی ہے یا بڑھاپے کی وجہ سے ذہن کام نہیں کررہاہے ؟۔یہ بہر حال المیہ ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی
نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا: اگرجھوٹ کے سینگ ہوتے تو وزیر داخلہ احسن اقبال پھنسا بارہ سینگا ہوتا۔ ڈکٹیٹر کی نشانی ایک شخص نوازشریف کیلئے آئین میں ترمیم ہوئی۔ دنیا کو پاکستان کا خراب چہرہ دکھادیا جو جمہوری مُنی کو بدنام کرگئی۔ اسلامی لگاؤ، پاک دامنی کا زعم، جمہورپسندی کا دعویٰ سب ایوان، پارٹی منشورکے اقدامات سے برہنہ پا، سر اور دھڑ ہوگئے ۔دیکھ لو جمہوریت۔ چین میں 300وزیروں کو کرپشن پر سزائے موت اسلئے ملی ہے کہ وہاں وکالت کا نظام نہیں۔ دہشت گردوں کیخلاف فوجی عدالتوں پر تمام پارٹیاں اسلئے متحد ہوئیں کہ سول عدالتی نظام سے سزائیں ملنا ان کو ممکن نہیں تھیں۔
شفاف عوامی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں وکالت کا نظام ختم کردیا جائے۔ نوازشریف کا کیس کو وکیل نہ لڑتے تو پانامہ سے ہٹ کر بات اقامہ تک کبھی نہ پہنچتی۔ پارلیمنٹ میں نوازشریف نے کہا تھا کہ اللہ کے فضل سے سعودیہ مل وسیع تر اراضی اور دبئی مل سے ملنے والی کثیر رقم سے لندن کے فلیٹ2006ء میں خریدے گئے۔ وکلاء کو بیچ سے نکال کر سچ بتایا جائے کہ قطری خط درست تھا یا پارلیمنٹ کی تقریر؟۔ اپنا وقت ضائع کئے بغیر قوم کو سچ بتایا جائے تو عدالتوں کا چکر نہیں رہ سکتا۔ جب نوازشریف کے باپ و پوتوں میں بھی جائداد کی تقسیم نہیں ہوئی تو اپنے بچوں سے نوازشریف کیسے الگ ہوگئے؟۔ کیا بلوچستان کا کرپٹ مشتاق رئیسائی ان پیسوں کو بچوں کے نام کردے تو نیب کا کیس ختم ہوگا اور جب نوازشریف اپنے غیر ملکی بچوں کا باپ اور ملازم ہے تو پاکستانیوں پر حکومت کرنے کا کیا حق بنتاہے؟۔ منی لانڈرنگ ان بچوں کے نام پر کی گئی جن کا ایڈریس بھی نامعلوم ہے؟۔
9/11کے بعد بڑی بڑی طاقتوں نے القاعدہ کے نام پر بڑے بڑے فائدے اٹھائے۔ لیکن آپ سن رہے ہیں کہ پچھلے دو تین سال سے القاعدہ کی جگہ داعش نے لے لی ہے۔ داعش کیا چیز ہے؟ انٹرنیشنل میڈیا نے حال ہی میں ہمیں بتایا ہے کہ لیبیا میں داعش کا ایک لیڈر پکڑا گیا ہے جو دراصل اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کیلئے کام کرتا تھا۔ اور اس کا جو یہودی نام ہے وہ ہے افراہیم بینجمن، لیکن یہ اسرائیلی یہودی ہے اور یہ داعش میں گھسا ہوا تھا اور یہ وہاں پر ایک مسجدکا امام بھی تھا۔ اور ایک اور بھی میرے پاس خبر ہے دی اسٹار کی یہ کہہ رہا ہے کہ ISISکے لیڈر جو ابوبکر البغدادی ہے یہ بھی اسرائیلی ایجنٹ ہے اور اس کا جو اصل نام ہے اس کے حوالے سے بھی ہمیں انٹرنیشنل میڈیا میں بہت سی خبریں ملتی ہیں۔ اور بتایا جارہا ہے کہ ابوبکر البغدای کا اصل نام سائمن ایلئیٹ ہے۔ اور ایک انٹرویو ہے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی صاحب نے ایک انٹرویو میں جو کہ انہوں نے ٹائم میگزین کو دیا ہے میں نے کہا ISISاور امریکہ میں کوئی فرق نہیں ہے داعش دراصل امریکہ کیلئے کام کررہی ہے۔(11ستمبر 2017)
حامد میر کے بیان پر تبصرہ: قدوس بلوچ
جیو کے صحافی حامد میر اچھے ،پیارے، باکردار، باخبر اور باصلاحیت صحافی ہیں مگر دودھ میں مینگنی ڈالنے کا کمال بھی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج جس القاعدہ کو امریکی مفاد کہا جارہاہے ، اسامہ اور فلسطین تک کی صحافت بھی حامد میر کرتے رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کل فلسطین کے مجاہدین کے بارے میں کوئی خبر بریک کریں۔ ابوبکر البغدادی کے بارے میں بڑی مدت سے یہ خبر تھی۔ جب مولانا فضل الرحمن کو حامد میر نے GHQ میں ملاقاتیں کروائیں۔ ڈیڑھ سو سالہ جشن دیوبند کانفرنس میں اسامہ اور ملا عمر کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ اسامہ پیغام کی مولانا فضل الرحمن نے نفی کی اور مجاہدین کو اسٹیج پر لانے کے باوجود کوئی کردار نہیں دیا، مولانا حسین احمد مدنی کے فرزند مولانااسد مدنی کی خاطر کشمیر کے جہاد کو نظر انداز کیا تو حامد میر نے لکھا کہ ’’ اسامہ نے کہا کہ میں وقت پر مولانا فضل الرحمن کو دیکھ لوں گا‘‘۔ حامد میر بتائیں کہ وہ کیا حقائق تھے، اب تو عرصہ سے مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی پر براجمان ہوتے ہوتے پک چکے ہیں؟۔ بلوچ، سندھی، پختون ہندوستان کی غلامی کرتے یا پنجاب کریں؟ ۔انگریز گیا مگرٹاؤٹ اب نوازشریف نے یہی تہیہ کر رکھاہے کہ پاکستان میں سب سے زیادتی ہو، توکوئی بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر مجھے کبھی پارلیمنٹ اور پریس کانفرنس میں وکیلوں کی لکھی ہوئی اپنی تقریروں میں صاف جھوٹا ہونے کے باجود سچا نہیں قرار دیا تویہ ملک ٹوٹ جائیگا۔خلافت کے قیام کیلئے سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی، عمران خان کرکٹ کھیلتا تھا توہم عملی میدان میں تھے، سارے مکتبہ فکر کے اکابر نے ہماری تائید کی مگر سازش سے خلافت کو بدنام کیا گیا۔ شف شف نہ کرو بلکہ بول دوشفتالو ۔
جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر رُوتھ فاؤ حقیقی خالق سے جاملیں، آنجہانی کو قومی قیادت آرمی اورسول نے قومی اعزاز کیساتھ دفن کیا،21 توپوں کی سلامی سے قومی قیادت نے پوری قوم اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا کہ کس طرح انسانیت کی قدردان ایک غیر ملکی نژاد پاکستانی کو قومی اعزاز سے نوازاگیا۔ جب اکثریت کو انا للہ وانا الیہ راجعون کا معنی معلوم نہ ہو ’’بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔جہالت سے تعصب کی فضاء بنتی ہے۔ نبیﷺ نے مسلمانوں کے محسن حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اللہ نے قرآن میں تمام مذہبی عباتگاہوں کے تحفظ کی بات فرمائی ہے بلکہ پہلے یہودو نصاری اور مجوسیوں کی عبادتگاہوں کی فہرست پھر آخر میں مساجد کا ذکر کیا۔ سب کیلئے اس اعزاز کا بھی ذکر کیا کہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتاہے۔ دنیا میں کرکٹ، فٹ بال اوردوسری ٹیمیں رہیں گی تو مقابلہ اور مسابقت ہوسکے گا ، مذاہب باقی ہونگے تو اللہ کی اطاعت کا حق ادا کرنے اور انسانیت کیلئے مسابقت ہوسکے گی۔ نبیﷺ کی سنت پر عمل ہوتا توڈاکٹر روتھ کا پاکستان اور دنیا بھرمیں مسلمان غائبانہ جنازہ پڑھتے۔ قرآن و سنت میں مذہبی تعصب یہود ونصاریٰ شدت پسند مذہبی گروہوں کا شیوہ تھا۔ جنکے نقشِ قدم پر اب مسلمان چل پڑے ہیں۔ ان الذین امنوا والذین ہادوا والنصریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الآخرۃ و عمل صالحا فلہم اجرھم عند ربھم ولاخوف علیہم ولاہم یحزنونO (البقرہ:62)بیشک جو مسلمان ہیں، یہودی، نصاریٰ اور صابی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو انکا اجر ملے گا ،ان پر خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔اللہ نے کہا ہے کہ ’’جس نے ذرہ برابر خیر کیا تو وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر شر کیا تو اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ہم اپنی شناخت مسلمان اور پاکستانی رکھیں تو بدامنی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس بیان کو انہوں نے غلط رنگ دیاجو اسی لئے پاکستان ہجرت کرکے آئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مسلمان فرقوں اور مذاہب سے نفرت نہیں کرتا۔ الدین النصیحۃ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ پاکستانی شناخت مذہبی ولسانی منافرت کو بالکل ختم کردیتا ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’’ ذرا… ہٹ کے‘‘ میں صحافت کا حق ادا ہوتاہے۔ ڈی جی رینجرز لیفٹنٹ جنرل محمد سعید کے بیان پر تنقید اور ایک متوازن تبصرہ کیا گیا۔ وسعت اللہ خان بڑے سیکولر صحافی ہیں مگر عقیدت کے لائق لگتے ہیں، اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جو بھی مخلص لگتا ہواس کی قدر ومنزلت ہونی چاہیے۔ صحافت بڑا مقدس پیشہ ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ بار سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ایک وہ طبقہ ہے جو اس قابل بھی نہیں جس کا نام زباں پر لاؤں‘‘۔ جس پر ’’ذرا…ہٹ کے‘‘ میں جاندار طریقہ پر تنقید ہوئی۔کافی سارے ہندؤں کے نام لئے جنہوں نے مختلف شعبوں میں عظیم خدمات دی تھیں۔ خاص طورپر رانا بھگوان داس کی عدلیہ کیلئے بڑی خدمات تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ رانا بھگوان داس جیسا چیف جسٹس ثاقب نثار بھی نہیں۔ نوازشریف کیخلاف بینچ میں بیٹھناچیف جسٹس نے مناسب نہ سمجھا۔ رانا بھگوان داس ہوتے تو عمران خان کے خلاف بھی نہ بیٹھتے۔ صحافت کی آزادی ضروری ہے لیکن باطل افواہوں کا تعاقب بھی لازم ہے۔ ایک طرف بینظیر بھٹو کو شہید کرنے میں زرداری رحمن ملک اور ناہیدصفدر عباسی کو ملوث کیا جاتاہے دوسری طرف فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتاہے۔ بہت غلط طرزِ عمل ہے، ڈاکٹر شاہد مسعودکہے کہ عذیر بلوچ کو کسی نے پوچھاہے؟۔ اگر وہ پی ٹی وی کا چیئرمین نہ بنتا تو زرداری کو بینظیر کا قاتل ثابت کرتا۔ صحافیوں کا یہ گندہ ٹولہ ٹھیک بات بھی کہے تو غلط لگتی ہے، چاپلوسی سے یہ خود کو بدنام کرچکے ہیں۔ جن صحافیوں کو قابلِ اعتبار سمجھا جاتاہے ان کو حقائق بیان کرنا ہونگے۔ برما میں طویل عرصہ فوجی حکومت رہی اور اگر مجاہدین کاروائی نہ کرتے تو بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ، جبری جنسی زیادتی اور ملک بدری کا اس طرح سے سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بلوچ پختون اور مہاجر نے بھی اپنے پیاروں کا صلہ اپنے اپنے حساب سے پایا ہے۔ عالمی قوتوں نے پاکستان میں اپنے پیاروں کا صلہ دینا ہے ، زرداری مجرم سہی مگر الزام کی مد میں 11سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔ نواز شریف اقرار جرم ، آزادانہ ٹرائل اور سب ثابت ہونے کے بعد بھی سپریم کورٹ کے ججوں کوہی نا اہل قرار دیتا ہے۔ سازش یہ نہیں جو نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ پنجابی مافیا اپنے اثاثوں کے چکر میں پاکستان کی اقلیتی صوبوں کو سازش کے نتیجے میں باغیانہ اور احساس کمتری کی سوچ تک لے گئی ۔ بینظیر بھٹو کا باپ پھانسی پر چڑھا اور اس کا بھائی قتل ہوا ، اسکی حکومت ختم کی گئی پھر بھی جیل اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگل کا قانون شیر کو اس وقت یاد آیا جب نا اہلی کے علاوہ سپریم کورٹ کے پاس چارہ نہ تھا۔ وہ اپنا منہ کالا کرتا یا ن لیگ کو نا اہل لیگ قرار دیتا مگر نواز شریف کو پھر 70سال بعد نئے جنم سے جو انسانیت کی عدالت یاد آگئی اس میں بھی عوام کو دہائی دی گئی کہ میں نے فیصلہ مانا تم نہ مانو۔ ڈاکٹر ادیب رضوی ایک قومی ہیرو ہیں ان کی زندگی میں پاکستان کی موٹروے کو انکے نام سے منسوب کیا جائے،قومی قیادت انکی لاش پر گورکن کی طرح نہ آئے۔ زندہ قومیں زندوں کی قدر کرتی ہیں، مُردوں کی پوچا نہیں۔ عتیق
نوشتہ دیوار کے مدیر خصوصی ارشاد نقوی نے کہا: جمہور یت و اسٹبلیشمنٹ کی لڑائی چھوڑ کر حقائق کی طرف آناہوگا۔ ذو الفقار علی بھٹو و میاں نواز شریف کی رگوں کا خون اور ہڈیوں کاگودا اسٹبلیشمنٹ کی عطاء ہے۔ جو رعونت و تکبر اور خود پرستی میاں نواز شریف میں نظر آتی ہے بھٹو کے دور میں یہی چیز ذو الفقار علی بھٹو میں تھی۔ لاڑکانے سے اسکا منتخب ہونا یقینی تھا مگر اپنے مد مقابل کو اسسٹنٹ کمشنر سے اغواء کرالیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے پہلے ماڈل ٹاؤن کا جو واقعہ کرایا گیا وہی اپوزیشن کی مخالفت میں غنڈوں سے پٹھانوں کو قتل کرواکر راولپنڈی میں بھٹو نے بھی کروایا تھا۔ جتنی غلطیاں اسٹبلیشمنٹ سے ہوئی ہیں ان سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ کی آلہ کار جمہوری جماعتوں سے ہوئیں، ایوب خان ،یحییٰ خان، ضیاء الحق ، مشرف، کیانی اور جنرل راحیل کو ایک دوسرے سے ملانا غلط ہے لیکن جمہوریت کے علمبرداروں کی اولاد اپنا سلسلۂ نسب اپنے قائدین سے ملاتے ہیں۔ کسی عمارت کی بنیاد اور پہلی اینٹ غلط لگ جائے تو اس پر سیدھی اور درست عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ خود کو اسٹبلیشمنٹ مخالف ظاہر کرکے عوام پر احسان جتاتے ہیں حالانکہ دونوں کے قائدین پر اسٹبلیشمنٹ ہی کا احسان ہے۔ کوئی اپنی بنیاد سے الگ ہوکر کیسے استحکام حاصل کرسکتا ہے؟ جب یہ لوگ اسٹبلیشمنٹ کے سہارے کھڑے ہوکر عوام کو جوتے مارتے ہیں تو سب کچھ صحیح نظر آتا ہے۔ حالانکہ اسٹبلیشمنٹ نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ وہ کرپشن کریں یا عوام کو جوتے ماریں۔ جب انکے نیچے سے اپنی بد اعمالی کے سبب اقتدار کی کرسی چھنتی ہے تو پھر یہ اسٹبلیشمنٹ کو گالی دینا شروع کرتے ہیں،یہ بڑی نمک حرامی ہے۔ جنرل ایوب اورجنرل ضیاء کرپٹ نہ تھے۔ رسول ﷺ اور خلافت راشدہ میں ابوبکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ اور حسنؓ نے جمہوری کلچر کی جو بنیاد رکھ دی اگر مسلم امہ بنو اُمیہ بنو عباس اور عثمانیہ کی خاندانی امارت و بادشاہت کا شکار نہ ہوتی تو مغرب ہم سے پیچھے ہی ہوتا۔ موروثی نظام نے جمہوریت کوپنپنے نہ دیا۔ مغلیہ اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ مغرب کا کارنامہ تھا۔ مغل کے نیک بادشاہ اورنگزیب عالمگیرؒ نے 500علماء کے تعاون سے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کروایا جو آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔ اس میں یہ شرعی احکام بھی درج ہیں کہ ’’بادشاہ چوری ، زنا اور قتل کرے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی اسلئے کہ بادشاہ خود حد جاری کرتا ہے اس پر حد کوئی جاری کر نہیں سکتا ‘‘۔ نواز شریف اپنا مقدمہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے سے اگر شریعت کورٹ میں لے جائے تو جیت جائیگا۔ اسلامی ممالک میں پاکستان جیسا جمہوری ملک کوئی نہیں۔ اسٹبلیشمنٹ نے جن جمہوری شخصیتوں کو اپنے گملوں میں پالا پوسا، انہوں نے عوام کو بیوقوف بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا، جس کی سز اہم بھگت رہے ہیں۔ حبیب جالب نے عوامی شعور اجاگر کیا، جمہوری نظام کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی مگر کسی جمہوری قائد نے ان کی خدمات کا اچھا صلہ نہیں دیا۔ جمہوری جماعتوں نے وقت سے کچھ سیکھا ہے تو اس سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ نے بھی سیکھا ہے۔ 9/11 کے بعد پاکستان نے مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا تو معراج محمد خان جیسا جمہوری لیڈر امریکہ کی مزاحمت میں طالبان کی ہمت کو داد دے رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے امین فہیم اور باقی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور عوام کی طرف سے نیٹوکی مخالفت، طالبان کی حمایت کا برملا اظہار تھا۔ کراچی سے پنڈی اور لاہور سے کوئٹہ تک آزمائش کا سامنا پاک فوج نے کیا تھا۔ امریکہ کی بغل میں رہتے ہوئے اسکے چنگل سے بچ نکلنا اللہ کے فضل کے علاوہ ممکن نہ تھا۔ امریکی حکم پر طالبان پیپلز پارٹی کے نصیر اللہ بابر نے بنائے اور بینظیر بھٹو اس کا شکار ہوئی۔ نواز شریف کو گلہ ہے کہ فوج سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑنے سے کیوں روک رہی ہے؟۔ پاک فوج الزامات کا دفاع کیسے کرتی، حکومت وزیر دفاع کا قلمدان بھی بغض سے سونپے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جیو میں جوشاہ زیب خانزادہ کو انٹرویو دیا ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ خواجہ آصف نے سچ کہا کہ فوج نے اپنا کام کیا لیکن قومی ایکشن پلان پر عمل نہ ہوسکا۔ جنرل راحیل کے بیان پر پہلے حکومت برا نہ مناتی تو اچھا ہوتا۔ ڈان لیکس کی اصل کہانی یہ تھی کہ فوج اور حکومت جہادی تنظیم پر ایکدوسرے کو کاروائی کا کہہ رہے تھے مگر غلط رنگ میں کہانی شائع کی گئی۔ وزیر خارجہ کہہ رہا ہے کہ ’’امریکہ کے کہنے سے ہم کالعدم جیش و لشکر طیبہ کیخلاف کاروائی سے دلدل میں پھنس جائیں گے‘‘۔ لشکر طیبہ ملت مسلم لیگ بناچکی تو مولانا مسعود اظہر کو عتیق گیلانی کیساتھ مل کر وہ کام کرنا چاہیے، جس سے مدارس کے نصاب میں انقلاب آئے اور امریکی سازش ناکام ہو اور یہ کام ریاست کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے۔