پوسٹ تلاش کریں

امام علی کی لکھی ہوئی کتاب مھدی غائب کیساتھ ہے جس میں اسلامی احکام ہیں۔ رسول ۖ، جبریل اور اللہ سے منقول ہیں۔ شیعہ عالم کابڑا سرپرائز

امام علی کی لکھی ہوئی کتاب مھدی غائب کیساتھ ہے جس میں اسلامی احکام ہیں۔ رسول ۖ، جبریل اور اللہ سے منقول ہیں۔ شیعہ عالم کابڑا سرپرائز

شیعہ اسلام کا صحیح تصور امام مہدی غائب کے بغیر ممکن نہیں؟۔ سنی اگر علی وعمر کے اجتہاد اور قرآن پر اتفاق کرلیں تو اچھا ہوگا!

مفتی فضل ہمدرد اور علامہ انور علی نجفی کے انٹرویو میں بڑا انکشاف ہے کہ فقہ، احادیث اور اسلامی احکام کی جو ”کتاب” حضرت علی نے مرتب کی تھی وہ حسن ، حسین، زین العابدین، باقر، امام جعفر.. سے امام مہدی غائب تک منتقل ہوئی۔ جو امام مہدی غائب کے پاس موجود اور محفوظ ہے۔ وہ کتاب کسی امام نے بھی اپنے جانشین کے علاوہ کبھی کسی اور شخص کو نہیں دی ۔
اس کتاب میں امام کے ذاتی اقوال نہیں بلکہ علی کی مرتب کردہ احادیث رسول ۖ ،جبرئیل اور اللہ سے نقل ہیں۔ جس طرح نبی ۖ اپنی طرف سے بات نہیں کرتے وماینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحی یوحیٰ ”اور آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے۔ وہ نہیں ہوتی مگر وحی جو وحی کی جاتی ہے”۔ (القرآن) اسی طرح ائمہ نے بھی وہی نقل کیا ہے۔
رسول خدا ۖ بھی اپنی طرف سے بات کے مجاز نہیں۔ اللہ کے احکام رسول ۖ عوام تک پہنچانے کے پابند ہیں۔ ائمہ اہل بیت بھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے بلکہ وہ رسول ۖ ، جبرئیل اور اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ اسلئے ائمہ اہل بیت معصوم ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہماری کوئی بات اگر اللہ کی کتاب کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر ماردو۔ یعنی وہ کسی نے ان کی طرف جھوٹ گھڑا ہوگا۔ امام مہدی غائب کے بعد اصل کتاب جو حضرت علی نے لکھ دی تھی، وہ اہل تشیع کے پاس نہیں ہے۔ لیکن اس کتاب سے بہت ساری باتیں ائمہ اہل بیت سے منقول ہیں۔ خاص طور پر امام باقر اور امام جعفر صادق سے۔ جو اہل تشیع کی احادیث کی4کتابوں میں درج ہیں۔
شیعہ اپنے پسِ منظر کی وجہ سے صحابہ سے نفرت کا شکار ہیں تو جب اہل سنت ان کی تائید کرتے ہیں تو بد گمانیوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ مفتی فضل ہمدرد نے بڑا معمہ حل کردیا کہ شیعہ کے امام غائب کیساتھ مسائل کی کتاب بھی غیبت میں ہے۔
شیعہ نہیں کہتے کہ قرآن مہدی کے پاس ہے مگر یہ کوئی اور کتاب ہے۔ مفتی کامران شہزاد نے بتایا کہ علامہ بدرالدین عینی نے لکھاکہ ”سنیوں نے انبیاء کی عصمت کا عقیدہ شیعہ سے بعد میں لیا ہے”۔ علامہ جواد نقوی کی علامہ عارف کاظمی سے لڑائی دو باتوں پر ہے ۔ ایک نماز جمعہ کے قرآنی حکم پر عمل کرنے اور دوسری آیت عصٰی آدم ربہ کے ترجمہ وتفسیر میں۔شیعوں کی لڑائی شدید سے شدید ہے۔ سوشل میڈیا پر مناظر دیکھیں۔
شیعہ اپنے امام اور اپنی کتاب کا انتظار کرنے میں مجبور ہیں۔ حنفی امت مسلمہ کی ایسی رہنمائی کریں گے کہ جس سے نہ صرف مالکی، شافعی ، حنبلی ، اہلحدیث اور علامہ ابن تیمیہ وابن قیم والے متفق ہوں گے بلکہ شیعہ بھی لڑائی چھوڑ دیںگے۔ جن میں امامیہ، آغاخانی، بوہری اورزیدی شامل ہوںگے۔ ذکری، اہل قرآن ، پرویزی بھی متفق ہوں گے ۔ مرزا جہلمی اورغامدی تو غائب ہوجائیں گے اور قادیانی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا دجال کہنا شروع کردیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امارت اسلامیہ افغانستان کی ترقی اورپاکستان کی ترقی کا راز کیا ہوسکتا ہے؟

امارت اسلامیہ افغانستان کی ترقی اورپاکستان کی ترقی کا راز کیا ہوسکتا ہے؟

خبر یہ ہے کہ افغانستان باضابطہ طور پر تیل/گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ۔ اس وقت روزانہ800ٹن تیل نکالا جارہاہے۔ جنوری میں پیدوار بڑھ کر1000ٹن ہوجائے گی۔ یومیہ آمدنی5لاکھ ڈالر ،7مہینوں میں یومیہ تیل نکالنے کی شرح2000ٹن تک بڑھ جائے گی۔2024تک یومیہ آمدن1ملین ڈالر یعنی10لاکھ ڈالر ہوگی۔ افغان طالبان بہت خوش ہوں گے کہ دنیا و آخرت ، غیرت وہمت سب کچھ ہماری قسمت میں آگیا۔ واقعی خوشی کا مقام ہے کہ شریعت بھی نافذ کردی اور افغانستان کو خود کفیل بنانے میں زبردست کردار ادا کیا۔ ہم تہہ دل سے ان کو مشکلات سے نکلنے پر خوش آمد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ امیر عبدالرحمن بادشاہ سے پہلے ایک افغانی قائد سے12لاکھ سالانہ گرانٹ سے حکومت ہند برطانیہ سے معاہدہ کیا تھا تو افغانستان کی آزادی گروی تھی۔ اب صحافی حامد میرنے انکشاف کیا ہے کہ ملاعمر سے خبر شیئر کی گئی تھی یا نہیں؟۔ لیکن طالبان کو امریکہ نے50لاکھ ڈالر دئیے تھے۔ امریکہ کا اس سے بڑا احسان یہ تھا کہ اپنے ٹاوٹ ممالک پاکستان، عرب امارات ، سعودی عرب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم بھی کروایا تھا۔ آج اگر امریکہ کھل کر حمایت کرے اور پاکستان کو دشمن بنائے تو بھی طالبان اور پاکستان کا خسارہ ہوگا۔حامد میر نے ایسے وقت یہ انکشاف کیا ہے کہ جب پاکستان اور طالبان کو لڑایا جارہاہے؟۔
لیبیا اور عراق بہت خوشحال ممالک تھے مگر تباہ کئے گئے۔افغان طالبان کی پہلی ترجیح اقتصادی حالت کیساتھ ساتھ اصلی شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے۔ جب وہ قرآن وسنت کے مطابق عورتوں اور کافروں کے حقوق بحال کر دیں گے تو بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔ پھر یہود ونصاریٰ اور غیرمسلموں کی توجہ کا مرکز افغانستان بن جائے گا اور فلسطین پر اسرائیل بھی مظالم چھوڑ دے گا۔TTPکے امیر مفتی نور ولی محسود اعلان کرے گا کہ” ہماری وجہ سے افغانستان کا معاملہ خراب ہوتا ہے تو میں خود کو اور اپنی جماعت کے سرکردہ لوگوں کوپاکستان کے حوالے کرتا ہوں”۔ غیرتمند محسود ہے۔ جب وزیرستان محسود علاقہ میں کچھ طالبان سرنڈر بن گئے تھے تو ان کو سلنڈر کہا جاتا تھا۔ مکین شہر میں ایک شخص نے دکاندارسے پوچھا کہ سلنڈر ہے؟۔ سرنڈر طالب نے برا منایا کہ مجھے کہا ہے۔تو دوسرے سلنڈر نے کہا کہ ”سلنڈر تو تمہارا باپ بھی ہے ، اس پر لڑنے کی ضرورت نہیں”۔ محسود قوم بڑے اقدار کی مالک تھی۔ طالبان نے خلوص میں آکر بہت کچھ بگاڑ دیا لیکن اس کے فوائد حاصل کئے جائیں تو وزیرستان کے محسود ، وزیر، داوڑ، سلمان خیل اور بنوں، ٹانک، لکی ، ڈیرہ اسماعیل خان کے بیٹنی، مروت ، گنڈاپور، بنوچی اور مقامی جٹ وبلوچ اسلامی احکام کا اعلان کرکے بڑا اسلامی انقلاب بھی برپا کرسکتے ہیں۔
پاکستانی بیڑہ پنجابیوں نے غرق نہیں کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے گماشتے پنجابی جن میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے لوگوں کو صحافی احمد نورانی نے اپنی ویلاگ میں شامل کیا۔ فرعون کی پوری قوم کو الزام دینا غلط تھا۔ فرعون، قارون اور ہامان کا کردار غلط تھا۔ جوریاستی ، سرمایہ داری اور مذہبی روپ میں تھے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کا کردار بھی اسی قابل تھا کہ چٹنی بنادیا جاتا۔ نسلی تعصبات نے عاصم سجاد عوامی ورکر پارٹی کو بھیPTMسے بدظن کردیا ۔ شیریں مزاری و ایمان مزاری اچھا کھیلتے ہیں مگرمسائل کا حل نہیں نکال سکتے۔
جماعت اسلامی کیلئے یونیورسٹیوں کے اندر سب سے زیادہ بہترین مواقع ہیں۔ اگر وہ مولانا مودودی کی خلافت وملوکیت چھوڑ چکے ہیں تو کوئی بات نہیں، لیکن قرآنی احکام میں عورت کے درست حقوق کو اٹھائیں تو پھر جماعت اسلامی اس بڑے اسلامی انقلاب میں شریک ہوگی ورنہ تو گم کھاتے میں چلی جائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی دعوت کا اسلوب سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت

قرآن کی دعوت کا اسلوب سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت

ولا تستوی الحسنة ولا السیئة ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوة کانہ ولی حمیم

اور اچھائی و برائی برابر نہیں، ٹال دے اچھائی سے تو تیرے اور مخالف کے بیچ دشمنی گویا وہ گرم جوش دوست تھا!

سورہ فصلت یا حم سجدہ آیت:34سے قرآن کی دعوت کے مزاج کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ مشرکینِ مکہ اسلام اور رسول اللہ ۖ کے دشمن تھے۔ ابوسفیان ، ہندہ اور وحشی نے امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ رسول اللہ ۖ چاہتے تو گردن اُڑاتے مگر نبی کریم ۖ نے نہ صرف معاف فرمایا بلکہ عزت وتوقیر سے بھی نواز دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! پہلے سب سے برا چہرہ مجھے آپ کا لگتا تھا۔ آج میرے لئے سب سے پسندیدہ شخصیت آپ ہیں۔
ابوسفیان دشمن سردار تھا۔نبیۖ نے100اونٹ دئیے تو ابوسفیان نے کہا: میرے بیٹے معاویہ ویزید ہیں۔ نبی ۖ نے ان کو بھی100،100اونٹ دئیے۔ دشمنی پھر ایسی گرم جوش دوستی میں بدل گئی کہ رسول اللہ ۖ کے وصال پر ابوسفیان موجود نہیں تھا۔ جب دیکھا کہ ابوبکرخلیفہ نامزد ہوگئے ہیں تو ابوسفیان نے عبداللہ بن عباس سے کہا کہ علی کے ہوتے ہوئے بنی تیم کے ابوبکر خلیفہ بن گئے؟۔اگر علی کی اجازت ہو تو مدینہ کو پیادوں اورسواروں سے بھر دوں؟۔ علی نے کہا کہ ابھی تک اسلام کی دشمنی دل ودماغ سے نہیں نکلی ہے ؟۔ اسلام نے بدر واُحد کے اندر السابقون الاولون من المہاجرین والانصار کی جو تربیت فرمائی تھی اس تک فتح مکہ کے بعد والے صحابہ کرام کی پہنچ ممکن نہیں تھی۔
علی سے جنگیں لڑنے والے معاویہ کے حق میں حسن کی دستبرداری کسی خوف ولالچ کا نتیجہ نہ تھا۔بدبخت تقیہ بازامام حسن کے اقدام کو خوف اوربدبخت لالچی امام حسن کے اقدام کو لالچ سمجھتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”یہ میرا بیٹا سید ہے جو مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح کرادے گا”۔
یہ برائی کا بدلہ اچھائی سے تھا۔علی سے جنگ والے معاویہ سے انتقام نہ لیا بلکہ زمام خلافت سپرد کردی ۔مہتمم کے منصب پر لڑکر دارالعلوم دیوبند کودوحصے میں تقسیم اور تبلیغی جماعت وسپاہ صحابہ کے ٹکڑے کرنے والے بیچارے اسلام کی روح سے کیسے واقف ہوںگے؟۔ خانقاہ چشتیہ مسجد الٰہیہ کو18گروہ میں بانٹنے والوں کی خانقاہ اور اسلام سے محبت ہوگی؟۔ دارالعلوم کراچی میں وقف مال ذاتی ملکیت میں بدلنے کیخلاف فتویٰ دینے پر اپنے استاذ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی سخت ترین پٹائی کرنیوالا مفتی تقی عثمانی دشمن کو گرم جوش دوست کیسے بنائے گا؟۔
شاباش یزید کے بیٹے معاویہ پر تخت خلافت کو ٹھکرایا تھا مگرمروان کا حکومت پر یزید کے بعد قبضہ کرنے کا خاندانی حق نہ تھا۔ جو بنوامیہ ، بنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کے خاندانی حق کے قائل ہیں تووہ خلافت راشدہ کی نفی اور شیعہ مؤقف کی تائید کررہے ہیں۔ پھرانکے ہاتھ کے طوطے اُڑ اُڑ کر شیعہ بنتے رہیں گے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے داماد سید زعیم قادری اتنے گستاخ شیعہ بن گئے تھے کہ اس کی کتاب کو دیکھ کر شیعہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوں گے۔ حضرت عمر کے خلاف جنس پرستی کا الزام تک لگادیا تھا ،جس کی وجہ سے کتاب پر پابندی لگی۔ جنس پرستی کا بڑا الزام مامون الرشید پر بھی لگایاگیا ۔ جس نے اپنا جانشین امام رضا کو نامزد کیا تھا۔ شیعہ کو چاہیے کہ دوسروں کی دل آزاری سے گریز کریں۔ تاریخ کی غلط باتوں سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ زد میں پھر سبھی آئیں گے ،ہوا کسی کی نہیں۔
جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی، جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن سے پہلے پنج پیری طلبہ کو مدارس سے نکال دیا جاتا تھا۔ مفتی محمد ولی درویش ہمارے استاذ تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد مولانا نورالہدیٰ پنج پیری لائے تھے۔ مفتی درویش کہتے تھے کہ” گمراہی کی پہلی سیڑھی پنج پیریت، دوسری مودودیت، تیسری غیرمقلدیت ،چوتھی لادینیت ہے”۔ مفتی نظام الدین شامزئی شہید نے جامعہ فاروقیہ اور بنوری ٹاؤن کراچی میں پنج پیری طبقہ کیلئے نرم گوشہ پیدا کیا۔ مفتی زر ولی خان نے کہا :” پنج پیری بڑا بھونکتا ہے لیکن اگر ذرا سا پیر اس کی دُم پر رکھ دو تو کتے کے بچے کی طرح پھرکڑنچ کڑنچ کرنا شروع ہوجاتا ہے”۔ مفتی منیر شاکر پنج پیری تھا، پھر سیڑھیاں چڑھتا گیا۔ یزید کی بڑی ستائش کرتا ہے۔ لیکن جب بیٹے پر تھوڑی سی آزمائش آگئی اور پاکستان کو سر پر اٹھالیا تو مفتی زرولی خان کی بات یاد آگئی۔ مولانا سیدمحمد بنوری جامعہ بنوری ٹاؤن میں شہید کئے گئے تو مفتی محمد ولی درویش واحدشخص تھا جس نے پھوٹ پھوٹ کر روکر کہا کہ” ظالمو! مدرسہ تو اسکے باپ نے بنایا تھا”۔ روزنامہ جنگ نے خود کشی کی جھوٹی خبر دی تھی اور یہ بڑی انوکھی بات تھی کہ سید محمد بنوریاپنے گھر میں شہید کردئیے گئے تو الزام خود کشی کا لگادیا۔ مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی خود کشی کی خبر دوسرے بیٹے نے دی لیکن پھر مولانا طارق جمیل کے بھائی نے اس کو ایک غلطی کی موت قرار دیا۔
ہمیں تو اس یزیدی سے بھی ہمدردی ہے جو عراق وشام کے سرحدی علاقہ میں ہے۔ جس نے اسلام ، مشرکین، یہودیت اور نصرانیت کو ملاکر نئے دین کا ملغوبہ بنایا ہے جس کیساتھ داعش نے زیادتیاں کیں۔ ابن صائد سے لیکر دجال اکبر تک ذاتی دشمنی کا سبق رحمة للعالمینۖ اور قرآن نے نہیں دیا۔ عداوت کو دوستی میں بدلنے کیلئے عمدہ طریقہ برائی کا بدلہ اچھائی ہے۔ یزید کے روحانی فرزندوں اور جسمانی پود سے تیار ہونے والی نسلوں سے ہوسکے تو انشاء اللہ احسان کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جنت میں جتنے زیادہ جوان داخل ہوں گے تو سیدا شباب اہل الجنة حسن و حسین کے پیروکاروں میں اضافہ ہوگا۔ یزید سے بدتر کردار حلالہ کے نام پر قرآن وسنت اور مسلمانوں کی عزتوں سے کھلواڑ ہے۔
قرآن ایک طرف وجادلھم بالتی ہی احسن ” اوران سے احسن طریقے سے لڑو” کا حکم دیتا ہے ۔ دوسری طرف وجاہدالکفار والمنافقین واغلظ علیھم ”اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو” کا بھی قرآن ہی حکم دیتا ہے۔صوفیاء اور شدت پسند خود کش حملے والے دونوں اعتدال سے ہٹ گئے ہیں۔ہمارا مقصد قرآن کی آفاقی تعلیمات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ہے۔ ابولہب اور اس کی بیگم کا ذکر اور مختلف گروہوں کے تذکرے صرف ماحول کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ہیں۔ ابوجہل کا بیٹا بھی سچا پکا صحابی بن گیا تھا۔ نبیۖ نے تو ابوجہل کیلئے بھی دعا مانگی تھی لیکن بدقسمت نے نبیۖ کی دعا سے بھی اثر نہ لیا۔
الذین ان مکنٰھم فی الارض اقاموا الصلٰوة واٰتوا الزکٰوة و امروا بالمعروف ونھوا عن المنکر و للہ عاقبة الامور (الحج:41) ”جن لوگوں کو ہم زمین میں ٹھکانہ دیں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کریں اور اللہ کیلئے کاموں کا انجام ہے”۔ نبیۖ کے دور میں فجر کی نماز کیلئے جانے والی عورت کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو نبیۖ نے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔آیت میں جبری نماز اور جبری زکوٰة مراد نہیں ہے اور سب سے بڑا منکر سودی نظام ہے جو نبی ۖ نے معاف کرنے کا اعلان کیاتھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ نے اہل کتاب کے کھانوں اور خواتین کو حلال قرار دیا، جس نے ایمان کیساتھ کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیا

اللہ نے اہل کتاب کے کھانوں اور خواتین کو حلال قرار دیا، جس نے ایمان کیساتھ کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیا

الیوم احل لکم الطیبٰت وطعام الذین اوتواالکتٰب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنٰت من المؤمنٰت والمحصنٰت من الذین اوتواالکتٰب من قبلکم اذا اٰ تیتموھن اجورھن محصنین غیر مسٰفحین و لامتخذی اخدانٍ ومن یکفربالایمان فقدحبط عملہ وھوفی الاٰخرة من الخٰسرین ” آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہیں اور ان لوگوں کا کھانا جن کو کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کیلئے حلال ہے اورپاکیزہ عورتیں مؤمنات میں اور پاکیزہ عورتیں ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی جاچکی ہے۔جب تم ان کا حق مہر ادا کرو،ان کو اپنے حصار میں لئے نہ فحاشی سے اور نہ چھپی یاری سے اور جس نے ایمان کیساتھ کفر کیاتو اس کا سارا عمل ضائع ہوگیااور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا”۔ ( المائدہ : آیت5)مذہبی طبقہ کتابیہ سے نکاح کو بے دینی سمجھے تویہ کفر ہے!۔

قل یااہل الکتٰب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ألا نعبد اِلااللہ ولانشرک بہ شیئًا ولایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوافقولوااشھدوا بانا مسلمونO” کہہ دو! اے اہل کتاب آؤ،اس بات کی طرف جو ہمارے اور آپ کے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کرتے مگر اللہ کی۔اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے اور نہ بناتے ہم اپنے بعض میں سے بعض کو اللہ کے علاوہ ارباب۔پس اگر یہ پھر جائیں تو کہو کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ”۔(آل عمران:آیت64)

اللہ نے اہل کتاب کے کھانوں اور خواتین کو حلال قرار دیا، جس نے ایمان کیساتھ کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیااور آخرت میں وہ خسار ہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ بے دینی کا خاتمہ اہل فارس کرسکتے ہیں۔ بخاری و مسلم سورہ جمعہ آیت واٰخرین منھم لما یلحقوبھمکی تفسیر میں نبیۖ نے واضح فرمایا ہے۔
آل عمران آیت:64میںاہل کتاب کو مشترکات کی طرف بلانے کا حکم ہے۔ نمبر1:اللہ کی عبادت کریں ۔ نمبر2:اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ نمبر3:ہم اپنے بعض میں سے بعض کو اللہ کے علاوہ اپنے ارباب نہیں بنائیں۔ آج مسلمان یہودونصاریٰ کی طرح ہوگئے ۔نبیۖ نے پیشگوئی فرمائی تھی۔
نمبر1:یہود ونصاریٰ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ہندو بھی لیکن ہم ان کی عبادت کو عبادت نہیں سمجھتے ۔ یہ قرآن کی مخالفت اور انکے نقش قدم پر چلناہے۔
نمبر2:عیسائی عیسیٰ و مریم کو شریک ٹھہراتے ۔یہود عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے۔ عیسائی گمراہ، یہود پر اللہ کا غضب تھا۔ یہود عیسائیوں کے بغض میں عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے حالانکہ موسیٰ، داؤد وسلیمان کو زیادہ مانتے تھے۔ جیسے بعض سنی طبقہ میلادالنبی ۖ کا دن منانا بدعت اور ناجائز سمجھتاہے لیکن شیعہ کے بغض میں یوم فاروق اعظم مناتا ہے۔ یہود اور سکھ توحید کے علمبردار بن گئے ۔ تعلیم یافتہ عیسائی و ہندو کی اکثریت مشرکانہ اعتقاد نہیں رکھتی مگر جاہل مسلمان کی حالت بدتر ہے۔
کریں غیر اگر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بحرسجدہ تو کافر
ستاروں میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مؤمنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
شہیدوں پہ جا جا کے مانگیں دعائیں
مزاروں پہ دن رات منتیں چڑھائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
رسول اللہۖ نے غزوہ خیبرکے موقع پر یہودیہ حضرت صفیہ سے خلوت کی خوشی میں کھانا کھلایا تو ایک صحابی نے دوسرے سے پوچھا کہ نکاح ہے یا ملک یمین کا تعلق ہے؟۔ دوسرے نے جواب دیا کہ اگر پردہ کروایا تو نکاح ہے ورنہ تو ملک یمین کا تعلق ہوگا۔ پھر اسلام قبول کیا تھا لیکن رسول اللہ ۖ نے قرآن کے حلال کے مطابق خود عمل کیا تھا۔ ہمارا منافق مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر کسی بڑے عالم یا پیر نے قرآن کے حلال پر عمل کیا تو اسلام زمین بوس ہوجائیگا۔ اسلام نہیں وہ منافقانہ کردار زمین بوس ہو گا جو پیر و ملا کیلئے عوام الناس سے الگ معیاربنایا۔ نبیۖ نے6سالہ بچی سے نکاح اور9سالہ بچی سے شادی نہیں کی۔ تم اپنی بچی کی کرواکے دکھا دو۔ نابالغ بچیوں کے جو فتوے مفتی تقی عثمانی نے شائع کئے،ان کی وجہ سے حکومت پر حیرت کہ دارالعلوم کراچی پر پابندی کیوں نہیں لگائی؟۔ چھوٹا مولوی نکاح پڑھادیتا ہے تو پھرحکومت فوری طور پر ایکشن لے لیتی ہے۔
نمبر3:آل عمران کی آیت64میں تیسری بات یہ ہے کہ ” ہم ایکدوسرے میں بعض کو بعض اللہ کے علاوہ ارباب نہیں بنائیںگے”۔ یہودی نے اسلام قبول کیا تو نبی ۖ سے سوال کیا: اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربا بًا من دون اللہ ہم اپنے علماء ومشائخ کورب نہیں بناتے تھے۔پوچھا کہ کیا تم انکے حلال کردہ کو حلال اور حرام کو حرام نہیں سمجھتے تھے؟”۔ نومسلم صحابی نے عرض کیا کہ” یہ تو ہم کرتے تھے”۔ نبی ۖنے فرمایا کہ” یہی تورب بنانا ہے”۔
دارالعلوم کراچی نے شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود قرار دیا مگرپھر اکلوتے مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی جسارت کی۔ آج پوری دنیا میں سب سے بڑا ظالمانہ نظام سودی بینکاری نظام ہے اور مزے کی بات ہے کہ آج کے یہودی علماء اور مذہبی طبقہ اپنے مذہب میں سود کو ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔ عیسائی پادری اور مذہبی طبقہ بھی حرمت اور ناجائز ہونے کا فتویٰ دیتا ہے اسلئے کہ تورات اور انجیل میں سود کی حرمت بالکل واضح ہے۔ مسلمان علماء اور مذہبی طبقے کی اکثریت سودی بینکاری کو حرام و ناجائز کہتی ہے لیکن مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے اس کوحیلے سے حلال قرار دیا ۔ جس کی وجہ سے آج ہمارامذہبی طبقہ یہود کے مذہبی طبقہ سے بہت آگے نکل چکا۔ حافظ سید عاصم منیر آرمی چیف علماء و مفتیان کو اس مسئلے پر بھیGHQمیں طلب کریں اور حقائق معلوم کریں۔کیا اپنوں نے یہ ارباب کا درجہ نہیں دیا ہے؟۔
دھوکہ باز ، دین فروش، درباری علماء سوء تو مختلف ادوار میں موجود رہے ہیں اور ان کی وجہ سے اسلام اجنبیت کا شکار ہوتا چلا گیا اور انکے سامنے علماء حق نے مختلف ادوار میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ ہم علماء سوء اور دین فروش طبقے کی بات نہیں کرتے بلکہ مجاہد ، سرفروشان اسلام اور علماء حق کی بات کرتے ہیں۔ جن میں اخلاص اور حق کیلئے جدوجہد کا بڑاجذبہ ہے لیکن وہ عین دین کو بے دینی اور بے دینی کو دین سمجھنے لگے ہیں۔ معروف انکے نزدیک منکر ، منکر معروف بن گیا۔ جو لاٹھی کو سانپ اور سانپ کو لاٹھی سمجھتے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں نے زندگیاں وقف کرکے قربانیوں کی تاریخ رقم کردی۔شرافت علی ،عارف وارشاد بوجھانی، عبدالمالک،اصغر علی ونوشاد صدیقی،چاچا اسرار،عبدالقدوس بلوچ، غلام محمد ، کریم بخش و اشفاق صدیقی حنیف عباسی اور کئی سارے خلوص کے پروانے اور حوصلے کی چٹانیں دنیا سے چلے گئے اور کئی اس راہ میں منتظر بیٹھے ہیں۔
من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلًا”مؤمنوں میں سے کچھ ایسے( ہمت والے ) مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا پس ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کرکے اللہ کے ہاں پہنچ چکے اور بعض انتظار میں ہیں اور انہوں نے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی”۔ (الاحزاب:23)
کچھ ایسے علماء سوء ہیں جو عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کی کھلے عام رنگ رلیوں کو دین کا عین تقاضا قرار دیتے اور مخالف فضامیں مرتد اور واجب القتل کا فتویٰ جاری کرسکتے ہیں۔ ہمارا ہدف ایسے مفتی صاحبان نہیں بلکہ جب اللہ نے اہل کتاب کی عورت سے نکاح کی اجازت دی اور یہ دینداری کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ایمان کے بعد اس کفر کا پردہ چاک کرنا ہمارا ہدف ہے۔ جس سے مسلمانوں میں مثالی اعتدال آسکتا ہے۔ اسلام سمجھ کر حلالہ کے مرتکب مفتیوں سے دنیا میں بڑی بے غیرتی نہیں ۔جس کا مسلسل ارتکاب ہورہاہے۔
اسلام کی درست تصویر کیلئے محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن،لشکری رئیسانی شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، آرمی چیف عاصم منیر ، عبدالمالک بلوچ، سراج الحق، بلاول بھٹو اور نوازشریف سب کو اپنی اپنی خدمات پیش کرنا ہوں گی ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے

یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے

شاعرہ : پروفیسر شبنم شکیل
یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے
جو راہِ غم میں ہیں چپ چاپ سر جھکائے ہوئے
زمین شوق سے سو بار چومتی ہے جنہیں
سفید پوش ہیں جو خون میں نہائے ہوئے
وہ راز کیا ہے کہ جس کے امین ہیں یہ لوگ
کہ زخم کھاکے بھی زخموں کو ہیں چھپائے ہوئے
جو اِن کے ساتھ ہے ہرپل وہ روشنی کیا ہے
کہ موجِ خوںمیں بھی چہرے ہیں جگمگائے ہوئے
ملا ہے اِن کو یقینا کوئی مقام بلند
کہ گھر لٹاکے بھی چلتے ہیں سر اُٹھائے ہوئے
گِنو تو کم ہیں جو سمجھو تو انگنت ہیں یہ
کہ دو جہاں کی ہیں وسعتوں پے چھائے ہوئے
یہی تو لوگ ہیں مقبولِ بارگاہِ رسولۖ
یہی ہیں ربِ دو عالم کے آزمائے ہوئے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

لسانی، سیکولراور سیاسی جمہوری رہنما قرآن کے احکام کو سمجھ کر اسکے نفاذ کا مطالبہ کریں تو انقلاب آجائے!

اسلام میں آزادیٔ رائے مثالی تھی۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، میں جہانوں کا رسول ہوں،میری نبوت کی گواہی دیں۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ جو اللہ کے رسول ہیں وہی اللہ کے رسول ہیں”۔ یہ تھا عظیم اخلاق کا نمونہ جو سیرت طیبہ میں ہی مل سکتاہے۔
خولہ بنت ثعلبہ کے شوہر نے ظہار کیا ۔ رسول اللہ ۖ نے مروجہ فتویٰ دیا کہ آپ شوہر پر حرام ہوچکی ہو،وہ مجادلہ کرنے لگی کہ اسلام میں یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ نے سورۂ مجادلہ نازل کی کہ ”بیوی کو ماں کہنے سے وہ حرا م نہیں ہوتی ۔ ان کی مائیں نہیں ہیں مگر جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قلم اور کاغذ لاؤ۔میں تمہیں ایسی تحریر لکھوادیتا ہوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ (صحیح بخاری)
ذوالخویصرہ نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ انصاف نہیں کرتے۔ انصار کے نوجوانوں نے شکایت کی کہ قربانیاں ہم نے دیں اور قریش مکہ کو نواز اجارہاہے اور حضرت عائشہ پر بہتان عظیم لگایا گیا تو بہتان کی وہی سزا دی گئی جو عام خاتون پر بہتان لگانے کی80کوڑے ہے۔ حضرت ابوبکر نے عہد کیا کہ بہتان طراز پر آئندہ احسان نہیں کروں گا تو اللہ نے وحی میں فرمایا کہ مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ احسان نہ کرنے کا عہد کریں۔ قرآن وسنت کا آئینہ جاہل مذہبی طبقہ نے عوام اور دنیا کے سامنے بگاڑدیا۔ اللہ نے اُم المؤمنین اور عام خاتون پر ہتک عزت کی ایک سزا رکھی۔ ہماری اور دنیا کی عدالتوں میں ہتک عزت کا معیار الگ الگ ہے۔ غریب کی عزت پھوٹی کوڑی نہیں اور امیر کی عزت عدالت میں کیس کرنے پر اربوں کی بنتی ہے۔ غریب کیلئے کم پیسے کی سزا بھی بڑی ہے اور امیر کیلئے زیادہ پیسوں کی سزا بھی کم ہے جبکہ کوڑوں کی سزاسبھی کیلئے برابر ہے۔
عدالتوں کا انصاف پیسوں سے اور دیرسے ملتا ہے ۔ نوازشریف کو سزا دینی ہویا عمران خان کو تو عدالتیں ہوا کے رخ پر چلتی ہیں اور عام لوگوں کا نظام انصاف سے اعتماد اُٹھ چکاہے۔ایک بلوچ لڑکی کو بے حرمتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کی لاش وارثوں نے نہیں ایدھی نے لاوارث دفن کردی مگر کل مظلوم بلوچ کیساتھ مریم نواز بلوچی لباس میں آنسو بہارہی تھی۔ اب اس عبدالرحمن کھیتران کو مسلم لیگ ن بلوچستان سونپ دی گئی جس پراس لڑکی کو قتل کرنے کا بڑا الزام تھا۔ان تضادات کی وجہ سے لوگ سیاستدانوں سے نفرت کرتے ہیں۔
قرآن کے معروف کو مذہبی طبقہ نے منکر اور منکر کو معروف بنادیا ، جس کی وجہ سے اسلام اجنبی بن گیا ۔اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اس کے بہترین حقوق اور معاملات کی وجہ سے ہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں فارس وروم کو شکست دی تھی۔ اسلام نے بیوی کو فحاشی پر قتل کرنے کی جگہ گھر سے نکالنے اور حلالہ کی لعنت کا خاتمہ کردیا تھا۔ مسلمان غیرت پر بیوی کو قتل اور بے غیرتی سے حلالہ کرواکر دنیا کے سامنے اسلام کو مسخ کررہے ہیں۔
پنجابی، پشتون ، بلوچ ، سندھی اور مہاجر ایک پلیٹ فارم پر اگلا الیکشن لڑیں! اور پاکستان کو اس غضب کی سیاست سے نکال لیں۔ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے تھے لیکن عورت کو اسلام کے نام پر بدترین مظالم کا شکار بنایا گیا ۔ جس دن سیاسی جماعتوں نے عورت کے حقوق کو چارٹر یا منشور کی شکل میں پیش کیا اس دن پاکستان میں ایسا انقلاب آئیگا جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔انشاء اللہ
پاکستان کے تمام مذہبی اور سیاسی قائدین پورے ملک اور دنیا کی سطح پر میڈیا میں چند اعلانات کردیں تو لوگوں کے اندر شعور اور افہام وتفہیم کا مادہ بیدار ہوگا۔
نمبر1:مفتی تقی عثمانی نے اسلام کے نام پر سود کو جائز قرار دیا ہے ۔ سود کے نظام کو علماء حق کی اکثریت اور مفتی تقی عثمانی کے پیشرو صدر وفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مسترد کیا تھا ،ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جو اتنی بڑی گالی دیتا ہے کہ سودکا کم ازکم گناہ خانہ کعبہ میں36مرتبہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے اور عوام میں نفرت پھیلا رہاہے ،اس کو یہ موقع نہیں ملے گا۔ پھر عوام کہے گی کہ تم نے اتنے بڑے گناہ کو جائز اور اسلام کا نام دیا ہے اور کعبہ کا خیال نہیں ہے اور بیت المقدس کے نام پر چندہ کرتے ہو؟۔ کشمیر کو کونسا آزاد کردایا ہے؟۔
نمبر2:سیاسی قائدین اور رہنماؤں کو ایک دوسرا اہم اعلان یہ کرنا ہوگا کہ مفتی تقی عثمانی کی کتاب ” فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں لکھاہے کہ باپ اپنی نابالغ بچی کا نکاح زبردستی سے کسی مسلمان سے کرسکتا ہے۔ ان مولوی اور مجاہدین کے اسلام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے اور اپنے بچوں کیلئے ان کی بچیوں سے ہی نکاح کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم وتربیت خود کش حملہ آوروں کی کریں گے اور پھر ان کو فلسطین کی آزادی کیلئے جہاد میں استعمال کریں گے۔ اس اعلان کی برکت سے علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو اسلام کی حقیقت یاد آجائے گی۔
نمبر3:ہم یہود ونصاریٰ سے فلسطین کی آزادی کیلئے ان سے رشتہ داریاں کریں گے جس کی قرآن نے اجازت دی ہے اور علماء ومفتیان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھ کر ان کواللہ کے علاوہ اپنے ارباب نہیں بنائیں گے اور جس قرآن نے ان پڑھ صحابہ کرام کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا ہم اسی اسلام کو اسلام سمجھیں گے۔ ایران کو اگر اسرائیل پر حملہ کرنے میں کوئی دقت ہے تو ہم وہ دقت دور کرسکتے ہیں لیکن کسی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ صرف اور صرف زبانی جمع خرچ یا دوسروں کی مدد کرکے کوئی کارنامہ انجام دیدے۔ اس کے نتائج پہلے بھی مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں نکلے ہیں جو ہم دیکھ چکے ہیں۔
ایرانی نژاد امریکی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کے اندر خواتین کے حقوق کا جو نقشہ پیش کیا ہے ،اس میں شیعہ سنی نے اسلام کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ یہودونصاریٰ کی حکمرانی میں بھی مسلمان خواتین پر ایسے مظالم نہیں ہوسکتے جو مسلمان حکومتوں ایران و سعودی عرب تک میں اسلام کے نام پر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں فوج اور علماء کی طاقت کو اگر درست استعمال کیا گیا تو پوری دنیا میں ہماری امامت قائم ہوگی۔ نبی ۖ نے اپنے دور کو بہترین قرار دیا تو بڑا دشمن ابوجہل تھا جس نے چھپ کر وار نہیں کیا۔ جبکہ حضرت علی کے ایک ساتھی ابن ملجم نے ایک عورت قطامہ کی لالچ میں حضرت علی کو شہید کیا۔ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ مفتی تقی عثمانی اپنی عاقبت کیلئے حاجی عثمان کی قبر پر حاضری دیتا تو بہتر ہوتا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟

خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟

مہوش نے پشاور سٹریٹ چائلڈ بھیک مانگتے بچوں ،بچیوں کیلئے ادارہ کھولا۔6سالہ بچی کوباپ فروخت کرنا چاہتا تھا تو ماں نے انکے حوالے کردی۔ مفتی تقی عثمانی کے” فتاویٰ عثمانی جلد دوم”میں ہے کہ باپ نابالغ بچی کو نکاح کے نام پر کسی کو دے سکتا ہے۔ بچی بالغ ہوجائے تب بھی وہ چھٹکارا نہیں پاسکتی۔ سندھ کی یتیم اُم رُباب سالوں سے مقتولین باپ اور چچوں کیلئے انصاف مانگ رہی ہے۔
خلع عورت اور طلاق مرد کا حق ہے۔ ریاست نے عورت کو خلع کا حق دیا۔ علماء ومفتیان یہ حق نہیں دیتے ۔عدالتوں سے خلع لینے والی خواتین کو معاشرتی اور شرعی مسائل کا سامنا ہے۔ ہم بار باریہ مسئلہ اسلئے اٹھارہے ہیں کہ معروف کی جگہ منکر اور منکر کی جگہ معروف نے لی ہے۔ جس دن عوام اورتمام مکاتب فکر کے علماء حق نے یہ معاملہ اٹھایا تو بڑا انقلاب برپا ہو گا۔ اللہ نے قرآن میں فرمایاکہ
”اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم عورتوں( بیگمات) کے زبردستی سے مالک بن بیٹھو اور نہ ان کو( خلع سے) روکوتا کہ جو تم نے ان کو دیا ہے ان میں سے بعض واپس لے لو مگر جب وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھو۔ اگر وہ تمہیں بری لگتی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں خیر کثیر بنادے ”۔( النساء :آیت19)
اس آیت میں عورت کو خلع کا حق ہے۔ عورت کو شوہر پسند نہیں تو اس کیساتھ رہنے پر مجبور نہیں۔ عورت چاہے تو شوہر کو چھوڑ سکتی ہے ۔ خلع میں حق مہر سمیت جو چیزیں شوہر نے دی ہیں وہ ساتھ لے جاسکتی ہیں مگر کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں تو بعض چیزوں سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ اس آیت سے دوسری خواتین مراد لینا انتہائی درجہ کی جہالت ہے اسلئے کہ ان کا مالک بننا، دی ہوئی چیزوں سے محروم نہ کرنا مگر کھلی فحاشی میں؟۔ اس سے دوسری خواتین کا کیا تعلق بنتاہے؟۔
جب عورت خلع لیکر جارہی ہو تو شوہر کو برا لگتا ہے اور بدسلوکی کا اندیشہ رہتا ہے اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ”ان سے اچھا سلوک کرو، اگر وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اس میں تمہارے لئے اللہ خیر کثیر پیدا کرے”۔
اگر غور کیا جائے تو قرآن کے ایک ایک لفظ میں بڑی حکمت ہے۔ اللہ نے انسان کیلئے اس کی منکوحہ بیگم میں سب سے بڑی بات عزت کی رکھی ہے۔ جب عورت خلع لیتی ہے تو اس کی عزت پر بات نہیں آتی۔ گھر کاسکون تباہ نہیں ہوتا۔
خلع میں حق مہر نہیں لیکن مکان اور غیرمنقولہ جائیداد سے دستبرداری ہے۔ شرعی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ خلع کی صورت میں عورت کو حق مہر واپس کرنا ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں واضح ہے کہ خلع کی صورت میں شوہر کی دی ہوئی چیزوں کو بھی لیجانے سے روکنے کی گنجائش نہیں ۔ طلاق میں منقولہ و غیرمنقولہ تمام دی ہوئی اشیاء میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ۔ سورہ النساء کی20،21میں بھرپور وضاحت ہے۔من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ”کچھ یہود ی کلمات کو اپنی جگہوں سے بدلتے تھے”۔ (النساء :آیت46) علماء نے یہود کی پیروی میں قرآن کی معنوی تحریف کلمات کو اپنی جگہ سے ہٹانے کا ارتکاب کرلیا۔ چنانچہ سورہ النساء آیت19کی جگہ سورہ بقرہ آیت229سے خلع مراد لیا ۔ حالانکہ اس سے طلاق مراد ہے خلع مراد نہیں ہوسکتاہے۔ اسرائیل فلسطین پر ظلم کرتاہے، حکمران ظلم کا تدارک نہیں کرے تو مجرم بنتا ہے۔ اُم رُباب انصاف کیلئے ٹھوکریںکھا رہی ہے۔ سب کی اتنی اوقات کہاں ہے؟۔GHQکا محمد بن قاسم سندھی بچی کی دادرسی کیلئے پہنچ گیا۔ یہود سے زیادہ مجرم علماء ہیں جو اسلام کو مسخ اورخواتین کا حق غصب کر تے ہیں، آئین قرآن و سنت کا پابند ہے۔ شرعی وغیر شرعی عدالتوں کے جج اور علماء ومفتیان قرآن وسنت سے جاہل ہیں۔ خلع میں مالی معاملہ یوں ہے کہ اگر عورت خلع لے تو اسکے مالی حقوق کم ہیں جبکہ طلاق میں زیادہ مالی حقوق ہیں۔حق مہرکا تعلق اللہ نے خلع وطلاق سے نہیں رکھا ہے بلکہ عورت کو ہاتھ لگانے سے رکھا ہے ۔ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی توپھر آدھا حق مہر ہے ۔ عورت کی اتنی بڑی عزت وحرمت اللہ نے رکھی ہے اور ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی تو پورا حق مہر اور دی ہوئی تمام اموال وجائیداد ۔ لعان بھی مالی معاملہ ہے۔ اگر عورت کو کچھ دی ہوئی چیزوں سے کھلی فحاشی میں محروم کرنا ہے تو پھر لعان کرنا ہوگا۔ اسلام پر عمل ہوگا تو پوری دنیا میں میاں بیوی کے حقوق اسلامی و فطری بنانا لوگ شروع ہوجائیں گے جو انقلاب ہوگا۔
اگر شرعی عدالت کے جج نے خلع کا فیصلہ مولوی کی شریعت پر کیا ہے تب بھی وہ جاہل ہے اسلئے کہ علماء ومفتیان کہتے ہیں کہ خلع لینے کیلئے عورت کا عدالت میں جانا شریعت کے خلاف ہے۔ عورت عدالت سے خلع نہیں لے سکتی ہے ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی عبدالسلام چاٹگامی نے عدالت سے خلع کے مقدمہ کو درست قرار دیا تھا جس کا علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی حوالہ دیا ہے اور مفتی عبدالسلام چاٹگامی اسلامی بینکاری کے نام پر سودی نظام کے بھی خلاف تھے۔
موجودہ بنوری ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ اسلاف سے پھرگئی ۔ مدرسہ کاروبار اورگمراہی کا مرکز بنادیا۔ اگر مولانا امداداللہ نے اسلامی بینکاری کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی کی تائید کی تو ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید،مفتی نظام الدین شہید، مفتی عبدالسلام چاٹگامی، مفتی سعید احمد جلالپوری شہید کے فتوے کہاں گئے؟۔ مولانا سید محمد بنوری شہید کی شہادت پر خراج تحسین پیش نہیں کیا؟۔ حالانکہ شیعہ کافرفتوے کی مخالفت اور مولانا فضل الرحمن کی حمایت میں مولانا بنوری شہید کا کلیدی کردار تھا، جامعہ بنوری ٹاؤن نے بنوری شہیدکا مؤقف اپنایا۔ مولانا فضل محمد نے لکھا کہ ”مولانا عطاء الرحمن سے میری کبھی بھی تلخی نہیں ہوئی ہے”۔ حالانکہ اس کیلئے جرأت درکار تھی جو مولانا فضل محمد میں نہیں تھی۔اب فلسطین کے مسئلے پر اسلام آباد کانفرنس بریلوی، دیوبندی ،اہلحدیث اتحاد نہیں تھا بلکہ شیعہ مخالف قوتوں کی عالمی سازش تھی۔ تاکہ مسئلہ فلسطین کی آڑ میں ایران اور سعودی عرب یا حماس و حزب اللہ کے درمیان تفریق کیلئے راستہ ہموار ہو؟۔
مولانا اشرف علی تھانوی تک نے حیلہ ناجزہ میں لکھ دیا ہے جس کو دارالعلوم کراچی والے اپنے علمی اثاثہ کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ” اگر شوہر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں اور پھر مکر گیا۔ بیوی کے پاس گواہ نہیں تھے تو خلع لینا فرض ہوگا اور شوہر مال کے بدلے بھی خلع نہ دے تو عورت حرام کاری پر مجبور ہے اور اس صورت میں عورت مباشرت کی پابند ہے لیکن لذت نہ اٹھائے”۔
بنوری ٹاؤن کراچی سے بھی ابھی حال ہی میں فتویٰ جاری ہواہے کہ خلع مالی معاملہ ہے۔ عورت مال کے بدلے میں اپنی جان چھڑاسکتی ہے۔ کاش ! مجھے طالب علمی کے زمانے میں اسباق سے بہت زیادہ دلچسپی ہوتی اور اس وقت ان گمراہانہ مسائل تک پہنچ جاتا تو مولانا بدیع الزمان اور بڑے اچھے اساتذہ کرام کی موجودگی میں ان مسائل سے رجوع بھی ہوجاتا لیکن میری غلطی اور کم نصیبی تھی۔ میرے کلاس فیلو مولانا عبدالرحمن قریشی نے کہا تھا کہ ”اگر آپ تعلیم پر توجہ دیں۔ تصوف کے ذکر اذکار ، سیاست اور انقلابی زندگی کے عمل سے کنارہ کش ہوجائیں تو تعلیمی میدان میں بڑا انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اس وقت اساتذہ کی طرف سے حق بات کی تائید بھی ملتی تھی۔ اب تو معاملہ بہت ہی بدل چکا ہے۔
عرب اور پشتون اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں اور مذہبی طبقے میں زیادہ عرب ہیں یا ہمارے پٹھان ہیں۔ جب لڑکی کو بیچ دیا جائے گا تو خلع کو بھی مالی معاملہ ہی سمجھا جائے گا۔ جب چھوٹی بچیاں بھی بیچنے کا رواج ہوگا تو شرعی مسائل سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجائے گی۔ ہمارے خاندان میں شروع سے الحمد للہ لڑکیوں کو بیچنے کی روایت نہیں ہے اسلئے ہمارے اجداد نے علماء ومشائخ ہونے کے باوجود بھی سیاسی طور پر امیر امان اللہ خان کی حمایت کی تھی۔ افغانستان کے طالبان کی طرف سے لڑکیوں کو بیچنے کے خلاف فیصلہ میڈیا پر آیا تھا۔ اگر افغان طالبان کی طرف سے افغانستان کے اقتصادی مسائل کا حل نکالا گیا لیکن شرعی مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو بھی ان سے اقتدار چھن جائے گا اسلئے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی حفاظت اچھی لگتی ہے۔ اگر طالبان نے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کردیا تو پھر یہ یاد رکھ لیں کہ پاکستان میں بھی اسلام کا آغاز ہوجائے گا۔ اسلام کو مذہبی طبقے کی وجہ سے دنیا میں پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ جنرل مبین کے ناچتے ویڈیو سے کچھ مسئلہ نہیں،اصل بات اسلام کے لبادے میں قرآن سے انحراف کا مسئلہ ہے۔

نوٹ: مکمل تفصیلات جاننے کیلئے اس کے بعد عنوان ” عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی عزتیں لوٹتے ہیں مولانا فضل الرحمن اور
علماء کرام فیصلہ کریں! ” ”یتیم بچیوں کو ہراساں…جنسی استعمال…بنی گالہ میں کالے جادو میں ذبح کی بدلتی ہوئی کہا نی :افشاء لطیف کی زبانی”
اور ” بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں”کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلع کے مقدمے میں عورت حق مہر چھوڑنے کی پابند

خلع کے مقدمے میں عورت حق مہر چھوڑنے کی پابند

 

 

السلام علیکم! خواتین کیلئے یہ بہت ہی بری خبر کہ جو حق مہر کا کیس چاہتی ہے عورت خلع میں حق مہر100%چھوڑے گی۔ یہ ججمنٹ شریعت کورٹ سے آئی، آج ایک کیس میں خلع کی ڈگری ہوئی ۔ عورت کو100%حق مہر چھوڑنا پڑا۔ نکاح نامے میں14تولے زیور تھا جو100%چھوڑنا پڑا ۔ اگر وہ وصول کرچکی تو وہ واپس کرنا ہوگا۔ جو عورتیں خلع چاہتی ہیں عدالت سے یہ وہ ذہن میں رکھیں کہ خلع میں عورت کو اپنا حق مہر100%اماؤنٹwaive offکرنا ہوگا۔

تبصرہ نوشتۂ دیوار:
علماء نے خلع کے وہ تمام حقوق عورت کے غصب کرلئے جو قرآن وسنت نے اسے دئیے ہیں ۔ شریعت وسپریم کورٹ کے ججوں، پڑھے لکھے دانشوروں ، صحافیوں اور سیاستدانوں کو قرآن وسنت اورعقل وفطرت کے مطابق ایک ایک چیز کا بغور جائزہ لیکران مسائل پر نظر ثانی کرنا چاہیے تاکہ عورت کو جائز حق ملے۔
٭٭

نجیب شہید ڈاکٹر نجیب اللہ صدر افغانستان کی بیٹی امریکہ میں پیشہ فوٹوگرافی سے منسلک ہوں محنت سے رزق حلال کماتی ہوں، کرایہ کے گھر میں شکر ادا کرتی ہوں کہ خائن لوگوں کی طرح ہم وطنوں کے خون پسینے سے کمائی ہوئی لوٹی گئی دولت سے خریدی گئی بلڈنگ میں نہیں رہتی۔ فخر ہے کہ میرے بابا نے پیارے وطن افغانستان سے کبھی خیانت نہیں کی اور نہ ہی میں اپنے قومی سرمائے پر گزربسر کررہی ہوں۔
تبصرہ:
ملاعمر کا بیٹا مسکا نجیب سے معافی مانگے یہ ایمانی غیرت کا تقاضا ہے۔ صحافی حامد میرنے انکشاف کیا کہ امریکہ نے طالبان کو کروڑوں ڈالر دئیے تھے!

٭٭

میرا نام تاترہ اچکزئی ہے۔ میں انگلش ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار کی حیثیت سے پڑھاتی ہوں۔ میں خان شہید کی پوتی ہوں اور محترم مشر محمود خان اچکزئی کی بیٹی ۔میری نظر میں خان شہید تمام نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے ایک بہت بڑے رول ماڈل ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے خان شہید کی تحریک کو زندہ رکھیں۔ خان شہید محض ایک نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑی فکر ہے اوربہت بڑی سوچ ہے۔ ہمیں چاہیے جب یہ وطن بڑی مشکل حالات کا سامنا کررہا ہے، تعلیم کی مناسبت سے، حقوق کی مناسبت سے، سیاست کی مناسبت سے ، چاہیے کہ ہم خان شہید (عبدالصمد خان اچکزئی )کی تحریک کو زندہ رکھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پروفیسرشیرعلی کا علماء کے نرغے میںجبری اقرار ڈاکٹرتیمور کااس پر تبصرہ

پروفیسرشیرعلی کا علماء کے نرغے میںجبری اقرار ڈاکٹرتیمور کااس پر تبصرہ

ڈاکٹر تیمور رحمان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پروفیسر شیر علی کا وہ ویڈیو جو شاید آپ لوگوں نے بھی دیکھا ہو میرے ذہن میں کئی روز سے گردش کررہا ہے۔ اس ویڈیو میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں ناقل العقل ہیں اور یہ بات حرف آخر ہے۔ پروفیسر شیر علی نے کہا”صنف عورت کی عقل صنف مرد کی عقل سے کم ہے لہٰذا اس بات کو حرف آخر سمجھتا ہوں”۔ یہ بات مجھے عجیب سی اسلئے بھی لگی کہ میں دو بیٹیوں کا باپ بھی ہوں اور میں اپنی بیٹیوں سے بے انتہاء پیار و محبت کرتا ہوں۔ اور میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ کیا میری بیٹیاں ناقص العقل ہیں؟۔ دوسرا میں ایک استاد ہوں بچیوں اور بچوں کو پڑھاتا ہوں جن بچیوں کو پڑھاتا ہوں کیا وہ ناقص العقل ہیں؟۔ اور تیسرا کیا یہ اسلام کا نقطہ نظر ہے کہ خواتین بحیثیت جنس مردوں کے مقابلے میں ناقص العقل ہیں؟۔ میں نے سوچا کہ پروفیسر شیر علی سے بھی یہ سوال کروں آپ سے بھی۔ اب میں یہ تو ماننے کیلئے تیار ہوں کہ ویسٹ کی فلسفے کی تاریخ میں ، رومن اور چرچ کی ہسٹری میں مسلسل وہ یہ بات کہتے آئے ہیں کہ خواتین ناقص العقل ہیں لہٰذا انہیں کسی قسم کی ریاست اور چرچ میں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔ انکے فلاسفر، وکیل اور چرچ کے فادر بھی یہ بات کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پرPlato(پلیٹو) کہتے ہیں ”وہ مرد حضرات جو بزدل تھے جو کہ حق سچ پر کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں تھے اور بے ایمان تھے وہ اپنی اگلی زندگی میں جب دوبارہ پیدا ہوکر آئیں گے تو وہ عورتیں بن چکی ہوں گی”۔ اسی طرح Aristotle(ارسٹوٹل) کا یہ کہنا تھا Woman is an unfinished man
یا Infertile males۔ عورت نامکمل مرد ہے ۔ اور وہ یہ کہتے تھے ۔
"The male is higher, the female lower, that the male rules and the female is ruled.”
اسٹوٹل کا یہ کہنا تھا کہ مرد اور عورت کا وہی تعلق ہے جو کہ آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمRoman Lawکو دیکھتے ہیں تو بیوی کو شوہر کی مکمل طور پر ملکیت سمجھا جاتا تھا رومن لاء کے اندر۔ جی ہاں! جس طرح میرے پاس کوئی کتا اور بلی گائے بھینس وغیرہ میری ملکیت ہے اسی طرح میری بیوی بھی اگر میں رومن ہوتا تو ان کے قانون کے مطابق تو وہ باقاعدہ میری ملکیت ہوتی اور میرے بچے بھی۔ اسی کو ہم پدرِ شاہی کی کہتے ہیں۔ جس کو ہم اردو میں پدرانہ نظام کہتے ہیں۔ مزید وہ یہ کہتے تھے کہ چونکہ عورت ناقص العقل ہے تو لہٰذا ہم اس کو کسی قسم کا کوئی پبلک آفس نہیں دے سکتے ۔ کوئی پبلک آفس اس کے پاس نہیں ہوگا ریاست میں اس کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ قانون کہ کٹہرے میں جب وہ آئے گی نہ تو وہ گواہ بن سکتی ہے نا کوئی کانٹریکٹ سائن کرسکتی ہے۔ نہ وہ خود کوئی کورٹ کیس کرسکتی ہے۔ اس کی طرف سے شوہر آئے گا تو کورٹ کیس ہوگا۔contractsignہوگا اس کی اپنی گواہیصفر بھی نہیں تھی۔ اسکے کوئی اپنے LegalRightsہی نہیں ہیں اندازہ کریں آپ۔ چرچ نے بھی رومن نکتہ نظر کو آگے پہنچایا مثال کے طور پر کہتے ہیں
"Both nature and the law place the woman in a subordinate condition to the man. Irenaeus”
مرد حاکم ہے عورت محکوم ہے۔ اسی طرح سینٹ آگسٹن کہتے ہیں:
"men should bear rule over women. Augustine”
جو کہ فاؤنڈنگ فادر میں شامل ہیں۔ اسی طرحEpiphanius کہتے ہیں :
"women are a feeble race, untrustworthy and of mediocre intelligence.”
عورت کمزور ہیں، ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور یہ ناقص العقل ہیں۔ لہٰذا ان کو کسی قسم کی ہم نے کوئی پوزیشن نہیں دینی۔Tertullianکا تو یہ بھی کہنا تھا کہ :
"men is made in the image of god, and women is not made in the image of god”
اسی لئے عورت کو اپنا سر ڈھکنے کی ضرورت ہے۔
"Women must cover their heads, because they are not the image of God. Ambrosiaster”
یہ میرا نکتہ نظر نہیں ہے چرچ کے فادرز کا نکتہ نظر تھا۔ اسی طرح سےThomasAquinasکہتے ہیں کہ
"a female is deficient and unintentionally caused.”
عورت نہ صرف نقص سے بنی ہوئی ہے بلکہ غلطی سے بن گئی ہے۔ ان کے قانون آپ دیکھیں جو سن1140سے لیکر سن1916تک یعنی تقریباً آج سے100سال پہلے تک قائم رہے۔اس قانون میں
1:Woman signifies weakness of mind.
پہلی بات تو یہ ہے کہ عورت ناقص العقل ہے۔
2:In everything a wife is subject to her husband because of her state of servitude.
دوسری بات یہ ہے کہServitudeکا مطلب ہے غلامی۔ کیونکہ وہ ناقص العقل ہے اور اپنے خاوند کی ماتحت ہے تو ہر چیز میں وہ اپنے خاوند کے ماتحت ہے پراپرٹی کے معاملے میں۔ طلاق کی تو اجازت ہی نہیں تھی آپ جانتے ہوں گے۔ شادی اور ہر فیصلے کے معاملے میں ۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ عورت خدا کی صورت میں نہیں بنائی گئی مگر مرد بنایا گیا ہے۔
3:Woman is not created in the image of God.
4:Wives are subject to their husbands by nature.
5:Women may not be given a liturgical office in the church.
6:Women cannot become priests or deacons.
7:Woman may not teach in church.
8:Women may not teach or baptize.
عورتیں نہ تو پادری بن سکتی ہیں نہ ڈیکن بن سکتی ہیں۔ کوئی آفیشل پوزیشن وہ چرچ میں نہیں رکھ سکتیں مگر نن بن سکتی ہیں۔ مگر کوئی ذمہ داری وہ نہیں لے سکتیں کیونکہ وہ ناقص العقل ہیں۔ یہ چرچ کا نکتہ نظر تھا میرا نہیں جو انہوں نے گریکو رومن سویلائزیشن سے حاصل کیا اور1916تک چرچ کا یہ نکتہ نظر رہا۔ اور ہم نے بچپن سے یہ پڑھا کہ اس بالکل یہ بات درست ہے کہ یہ سب قوانین جو ویسٹ نے کبھی خواتین کو نہیں دئیے وہ ہم نے دئیے مسلمانوں نے دئیے۔ یہ بات آپ نے پڑھی ہوگی کہ جو فلاسفر نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھے جورومن لاء نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھا جو چرچ نہیں قبول کرنے کیلئے تیار تھا وہ قوانین اور حقوق اسلام نے دئیے۔ حضور پاک ۖ نے جدوجہد کی اور دور جاہلیت سے انسانیت کو نکالا۔ آپ دیکھیں کہ قرآن کریم میں لکھا ہے :بسم اللہ الرحمن الرحیم
"and when the girl child that was buried alive is made to ask for what crime she had been slain. Quran 81:8-9″.
یہ اتنی ہلادینے والی آیت ہے جس کا حد حساب کوئی نہیں۔ کہ جس بچی کو دفن کیا گیا وہ پوچھے کی روزِ آخرت کو کہ مجھے کیوں دفن کیا گیا؟۔ اور دفن سے مراد میں تو یہ بھی لیتا ہوں کہ کچھ لوگوں کو تو زندہ گاڑھ دیا گیا زمین کے اندر اور کچھ لوگوں کوزندہ ہی دفن کردیا گیا اس سینس میں کہ ان کی زندگی برباد کردی گئی ان سے سارے حقوق چھین لئے گئے ان کو غلام بنادیا گیا۔ وہ بھی تو ایک طرح کیBuriedAliveوالی ہی بات ہے۔ تو اسلام نے کیا کیا؟۔ اسلام نے کہا کہ بچیوں کو بھی حصہ ملے گا باپ کی جائیداد میں سے۔
1:Right to inheritance.
2:Property.
اسلام نے پراپرٹی کا حق دیا ۔ خواتین خود پراپرٹی کی مالک ہوں گی کوئی ان سے چھین نہیں سکتا کوئی لے نہیں سکتا۔
3:Social and marriage rights.
اسلام نے سماجی اور نکاح کے حقوق دئیے۔ اسلام نے کہا کہ کسی خاتون کی زبردستی شادی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مزید یہ کہ
4:Right to initiate divorce.
دیا جس کی عیسائیت میں اجازت نہیں ہے۔ عیسائی مذہب میں خاتون طلاق نہیں لے سکتی۔ گریکو رومن ورلڈ میں خاتون طلاق نہیں لے سکتی تھی۔ مگر اسلام کے اندر یہ اجازت تھی کہ خاتون خلع لے سکتی ہے۔اوروہ صرف اس وجہ سے بھی خلع لے سکتی ہے کہ وہ کہے کہ میں خوش نہیں ہوں اپنے مرد کے ساتھ۔ وہ مجھے مطمئن نہیں کرسکتا اسلئے میں طلاق لے رہی ہوں۔ اور آپ بھی جانتے ہوں گے اچھی طرح دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کئی خواتین اسلامک ہسٹری میں کئی آفیشل پوزیشن پر قائم رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ میں کسی وقت پوری لسٹ آپ کو بناکر دوں گا۔
5:Many women have had leading roles in Islam.
تو یہ باتیں ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں ۔ اگر ہم خواتین کو اتنے حقوق دے رہے ہیں تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ہم شاید یہ نکتہ نظر نہیں رکھتے خواتین کوئی ایسی جنس ہے جو بھیڑ بکریوں کی طرح ہے جوجانوروں کی طرح ہے باتوں کو سمجھ نہیں سکتا ۔ ان کو گواہی کا بھی حق ہے اور بہت سارے حقوق ہیں اسلام کے اندر تو آج ہمیں کیا ہوا ہے؟۔ اب اس حوالے سے میرے ذہن میں تین سوال ہیں۔ الٹ ہوگیا ہے ایک طرح سے کہ ویسٹ خواتین کے حقوق کی بات کررہا ہے جو پہلے بالکل خواتین کے حقوق کے خلاف تھا۔ اور ہم جو بالکل خواتین کے حق میں تھے ، الٹ ہوگیا ہے معاملہ۔ وہ خواتین کے حقوق میں بات کررہے ہیں اور ہم وہ کہہ رہے ہیں جو پہلے کسی زمانے میں وہ کہتے تھے کہ خواتین تو ناقص العقل ہیں لہٰذا انہیں کسی قسم کے حقوق نہ دئیے جائیں۔ اگر خواتین واقعی ناقص العقل ہیں تو میرے ذہن میں سب سے پہلا سوال تو یہ ہوتا ہے کہ
How come they study in the same class and get the same grades.
میری کلاس کے اندر خواتین مرد دونوں ہیں اور دونوں تقریبا ً ہم عمر ہوتے ہیں ۔چلو ایک کلاس میں نہ ہوں تو ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں چلو یونیورسٹی میں نہ ہوں تو ایک ملک کے اندر ہوتے ہیں۔ کوئی خواتین کی یونیورسٹیز ہوتی ہیں کوئی مردوں کی ہوتی ہیں۔ ایک ہی سلیبس ہم ان کو پڑھاتے ہیں۔ کلاس ون سے لے کر یونیورسٹی تک ایک سلیبس ہوتا ہے ۔ ہم تو نہیں تفریق کرتے کہ یہ تو خاتون ہے تو اس کاBAکا سلیبس تھوڑا آسان ہونا چاہیے ۔ اور دنیا چل رہی ہے اس میں کوئی پرابلم نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایجوکیشن اسٹینڈرڈ چاہے خاتون ہو یا مرد ہو دونوں کے ایک ہی ہیں۔ ایک ہی امتحان دیا جاتا ہے اور وہ امتحان خواتین بھی لیتی ہیں اور مرد بھی لیتے ہیں۔ اور چونکا دینے والے اعداد شمار یہ بتاتے ہیں حقیقت میں دنیا کے اندر الٹ ٹرینڈ چل رہا ہے خواتین زیادہ کالج جارہی ہیں زیادہ پڑھائی کررہی ہیں اور زیادہ گریجویٹ کررہی ہیں۔ اور مرد ، لڑکے کھلنڈرے ہوتے ہیں آپ کو پتہ ہی ہے اگر کالج جاتے ہیں پڑھائی اپنی مکمل نہیں کرتے۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں کالج ختم بھی کررہی ہیں اور بہتر رزلٹ لے رہی ہیں۔ اور بھی پروفیسر آپ کو یہ بات بتاچکے ہیں ڈیٹا آپ کے سامنے ہے۔
Women Outnumber Men in College. Women earned 45.1 percent of bachelor’s degrees in business in 1984-5 and 50 percent by 2001-2, up from only 9.1 percent in 1970-1.
یعنی مجموعی طور پر عورت اوپر آرہی ہے ، جیسے ہی موقع دیا ہے خواتین کو ویسٹ نے تو وہ مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔ کتنی چونکا دینی والی بات ہے۔ یہ دیکھیں مزید اعداد و شمار ہیں۔
In 39 out of the 47 UNECE countries with data, more than 55 per cent of tertiary graduates are women.
صرف ازبکستان میں کم ہیں باقی تمام ہی ممالک میں50فیصد سے زیادہ گریجویٹس خواتین ہیں۔ اور کچھ ممالک میں تو جیسے
Iceland, Cuprus, Polandمیں تو65%فیصد گریجویٹس خواتین ہیں اور35%گریجویٹس صرف مرد ہیں۔ تو عورتیں ایجوکیشن میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں پیچھے تو نہیں رہ رہیں۔ اگر وہ ناقص العقل ہوتیں تو یہ ڈیٹا کیسے ہوسکتا ہے؟۔
دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جب ان کو موقع دیا گیا ہے، ویسٹ کے اند ر کتنی صدیوں سے ان کو یہ موقع فراہم نہیں کیا گیا ہے اب ان کو موقع ملتا ہے کہ وہ ایجوکیشن میں حصہ لیں، یونیورسٹی جائیں، وہ گریجویٹ کریں، وہ سائنٹسٹ بنیں، وہ ڈاکٹرز بنیں، وہ انجینئر بنیں، ٹیچرز بنیں، اسکالرز بنیں، شاعر بنیں جو بھی۔ سب موقع ملا ہے تو اب وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ یہ ڈیٹا ہے میرے پاس کہ1901سے لیکر2023تک یعنی کہ پچھے122سالوں کے اندر64عورتوں کو نوبل پرائز ملا ہے۔ یہ صرف پیس پرائز کی بات نہیں کررہا جو ملالہ یوسفزئی کو ملا ہے۔ ان میں” نوبل پرائز ان فزکس” ہے، بڑی مشکل مشکل چیزیں یہ کررہی ہیں ۔ کوئی ”الیکٹران ڈائنامک ان میٹر” کررہا ہے کوئی ”سینٹر آف اور گلیکسی” کررہا ہے ۔ کوئی ”الٹرا شارٹ آپٹیکل پلسز” کو سمجھ رہا ہے کوئی ”شیل اسٹرکچر” کو سمجھ رہا ہے ، کوئی ”ریڈی ایشن” کو سمجھ رہا ہے ۔ اتنی مشکل مشکل چیزیں ہیں۔Merie Curieنے تو دو دفعہ نوبل پرائز لیا ہے۔ نوبل پرائز فزکس میں وہ پرائز ہوتا ہے جس سے دنیا بدل جاتی ہے اس سال کی سب سے بڑی یہ ڈسکوری ہوتی ہے ۔
اسی طرح آپ دیکھیں۔ یہ ہے ”نوبل پرائز ان کیمسٹری”۔ میں تو ان کا نام بھی نہیں پڑھ سکتا جو لکھا ہے
"bioorthogonal chemistry”
”بائیو آرتھوگونال کیمسٹری”۔ قسم ہے خدا کی مجھے پتہ ہی نہیں کہ وہ ہے کیا چیز۔ اور اس میں انہوں نے نوبل پرائز حاصل کیا ہوا ہے۔
genome-editingمیں،evolution-of-enzymesمیں، function-of-the-ribosomeمیں،اب مجھے نہیں پتہ کہ ری بو سوم کیا ہوتا ہے۔ biochemical-substancesمیں ، x-rey-techniquesمیں، radioactive-elementsمیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نوبل پرائز لے رہی ہیں کیمسٹری کے اندر وہ خواتین جو کہ ناقص العقل ہیں۔
یہ ”فزیالوجی اور میڈیسن” میں اتنے سارے نوبل پرائز کی لسٹ ہے۔Malariaکے اوپر، positioning-of-brainکے اوپر،telemersکے اوپر، telomers-and-enzymeکے اوپر، immunodeficiency-virusکے اوپر جسے ہمHIVکہتے ہیں،olfactory-systemکے اوپر، embryonic-developmentکے اوپرکیا کچھ ہے،COVID-vaccinesکے اوپر، میں تو اسکے مقابلے میں جانتا ہی نہیں۔drug-treatmentکے اوپر،growth-factorsکے اوپر،mobile-genetic-elementsکے اوپر،radioimmunoassas of peptide harmonesکے اوپر خدا جانے یہ کیا چیز ہوتی ہے۔catalytic conversion of glycogenکے اوپر ، واقعی سنجیدگی سے میں کچھ نہیں جانتا کیمسٹری کے بارے میں۔ تو یہ ناقص العقل عورتوں نے پتہ نہیں کس طرح نوبل پرائز حاصل کرلیا ہے اس فیلڈ کے اندر۔
یہ ”نوبل پرائز ان لٹریچر” ہے۔ کئی مختلف نوبل پرائزز ہیں لٹریچر کیلئے۔ میں مزید تفصیل میں نہیں جاتا تو64خواتین نے پچھلے100سالوں میں نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔
آخری سوال میرا یہ ہے کہ اگر عورتیں ناقص العقل ہیں تو بنگلہ دیش جہاں پر شیخ حسینہ صاحبہ پرائم منسٹر ہیں پچھلے14سال سے اور1990سے سیاست کررہی ہیں بنگلہ دیش میں ۔ مگر وہ پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ یہ کیسے ہوگیا ہے؟۔ اگر تو وہ ناقص العقل پرائم منسٹر ہیں یا کسی ناقص العقل انسان کو انہوں نے پرائم منسٹر بنایا ہے تو بنگلہ دیش ہم سے آگے کیسے نکل گیا ہے؟ یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہورہی جبکہ ایک ناقص العقل خاتون ان کو لیڈ کررہی ہیں۔
تو میری مدد کیجئے میں کافی کنفیوسڈ آدمی ہوں آپ کو پتہ ہے۔ خاص طور پر میں پروفیسر شیر علی صاحب سے مخاطب ہورہا ہوں کہ میرے ذہن میں جو ابہام ہے وہ یہ ہے کہ کیا خواتین واقعی ناقص العقل ہیں۔ اور کیا یہ حرف آخر ہے اور کیا معاملہ کچھ یہ ہے کہ درحقیقت تاریخ میں خواتین کو مواقع ہی نہیں دئیے گئے ۔
They will deprived of opportunity?
ان کو تعلیم سے محروم رکھا گیا، ان کو عہدوں سے دور رکھا گیا ، ان کو ذمہ داریوں سے دور رکھا گیا، ان کو یونیورسٹیوں، کالجوں ، علم کی دنیا سے دور رکھا گیا، اسی لئے وہ پیچھے رہ گئیں دنیا کی دوڑ کے اندر۔ اور جیسے ہی ان کو موقع ملا کہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں کہ وہ ذمہ داریاں لے سکیں گھر سے باہر بھی چاہے وہ حکومت کی ذمہ داریاں ہوں، وہ چرچ کی ذمہ داریاں ہوں، وہ کوئی اور ذمہ داریاں ہوں کسی بھی قسم کی۔ دنیاوی ذمہ داریاں جس کو ہم کہتے ہیں انہوں نے جب لیں تو اس کے اندر انہوں نے یہی ثابت کیا کہ وہ بھی اتنی ہی قابل ہیں جتنے مرد قابل قابل ہیں۔ اور کبھی کبھار تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ کچھ چیزوں میں شاید ہم سے زیادہ ہی قابل ہوں کیونکہ ہم تھوڑے کھلنڈرے ہوتے ہیں۔ تو بہرحال یہ میرے ذہن میں کچھ سوال ہیں تین موٹے موٹے۔
1: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو تعلیمی شعبے میں کس طرح سے مردوں کے مقابلے میں پرفارم کررہی ہیں؟۔
2: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو اتنے سارے نوبل پرائز انہوں نے کیسے جیت لئے؟۔
3: اگر وہ ناقص العقل ہیں تو وہ ممالک جہاں وہ لیڈ کررہی ہیں تو انہیں پیچھے جانا چاہئے تھا مگر ہمیں ایسے نظر نہیں آرہا بنگلہ دیش کی مثال بھی ہے، اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ جب وہ ہیڈ آف اسٹیٹ بنیں شیخ حسینہ تو ملک نے اتنی ترقی کی جس کی نتیجے میں پاکستان بھی پیچھے رہ گیا۔ پلیز! میری مدد کیجئے۔ کنفیوسڈ آدمی ہوں کچھ نہیں جانتا ان چیزوں کے بارے میں آپ ہی بہتر مجھے گائڈ کرسکتے ہیں۔ آپ کی گائیڈنس کا منتظررہوں گا۔ شکریہ۔ ڈاکٹر تیمور رحمان

تبصرہ نوشتہ ٔ دیوار
ڈاکٹر تیمور! پروفیسر شیر علی کو علماء کرام نے مجبور کیا کہ لکھی ہوئی تحریرسنائے! 200احادیث ہیں: ”جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے” ۔ مگر علماء مسلک کی وجہ سے منکر ہیں؟ شاہ عبدالعزیز نے لکھاہے ”اگرکوئی حدیث کا انکاراپنی عقل کی وجہ سے کرے تو اس پر فتویٰ نہیںلگتاہے”۔ پروفیسر شیرعلی پر قاتلانہ حملہ ہوچکا۔PTMپنجابی فوج پر الزام کی جگہ پشتون علماء کا کرداردیکھ لے ۔ اگر علماء کو زبردستی کوئی مجبور کرے گا تویہ مکافاتِ عمل ہوگا؟۔
اگر اسلام کی درست تعلیمات کوPTMکے جوان عام کریں گے تو پشتون معاشرے میں ایک بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔ فوج سے زیادہ خطرناک علماء و مفتیان کا وہ کردار ہے جن کی وجہ سے لوگ حلالہ کی بے غیرتی پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر تیمورنے اگر قرآن وسنت کی طرف توجہ دی توواقعی بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv