پوسٹ تلاش کریں

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

بجلی، گیس، تعلیم ، ٹرانسپورٹ اور علاج مفت کرکے پاکستان کی عوام کو غربت کی لکیر سے نکالا جاسکتا ہے!
چند افراد کو پکڑ کر لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے اورIMFاور سودی نظام سے جان چھڑائی جائے ۔لعل خان

انیق احمد وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان کا ایک یادگار پروگرام دیکھ لیں۔
ہمارے سیاسی کلچر میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوگئیں۔ شروع کے سال د وسال جو ضیاء الحق کے گزرے اس میں تو نظریہ قائم رہا لیکن پھر جب ضیاء الحق کی چھتری تلے سیاسی جماعتوں نے اعلانیہ یا خفیہ طور پر مفادات کے حصول کیلئے اپنے نظرئیے تبدیل کئے یا خود کو غیر نظریاتی کرلیا تو ملک میں دائیں بازو بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کو زوال آنا شروع ہوگیا۔ خواتین و حضرات! سوال ہے کہ کیا کسی بھی ریاست اور معاشرے کیلئے نظریاتی سیاست مفید ہے یا مضر؟۔ ہمارے ملک کو غیر نظریاتی سمت لے جانے سے خاص طور پر ملک کے سیاسی کلچرنے عوام کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟۔ بات کرینگے ملک کے ممتاز روشن دماغوں سے کہ ایسا سب کچھ کیوں ہوا؟۔ محترم ڈاکٹر لعل خان ۔ ممتاز کمیونسٹ رہنما۔ ڈاکٹریٹ آپ نے ہالینڈ سے کیا۔ بہت اہم پرچہ ایشین مارکسٹ ریویو کے آپ ایڈیٹر ہیں۔ اس کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں1970کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے اور ہمارے سیاستدانوں نے نظرئیے کو اہمیت دینا چھوڑ دی اور وقتی مفادات کے حصول کو اپنا شیوہ بنالیا؟۔
ڈاکٹر لعل خان: ٹروسٹکی نے کہا تھا کہ ہمارے سروں پر ایک نہیں دو آسمان ہیں، ایک نیلا، ایک پیلا آسمان ہے۔ اس پیلے آسمان پر مختلف سیاستدان ہیں، سپورٹس مین ہیں ، فنکار ہیں، دانشور ہیں جو اوپر گھوم پھر رہے ہیں ٹیلی ویژن پر تمام چیزوں پر۔ جس دن محنت کش طبقہ اس پیلے آسمان کو نیچے سے دیکھنے کے بجائے اوپر سے دیکھ لیتے ہیں تو انقلاب آتا ہے۔ اگر اکانو می ڈفرنس نہ ہو تو ہر سیاسی کمپرومائز ہوسکتا ہے کیونکہ پالیٹکس صرف رفلکشن ہے اکانومکس کی۔ سوال یہ ہے کہ اس معاشی بحران جس سے ہر روز10ہزار آدمی غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں80فیصد لوگ نان سائنٹفک میڈیکشن پر مجبور ہیں۔50فیصد سے زیادہ بچے اسکول جانے کا سوچ نہیں سکتے۔ ان کنڈیشنز میں کونسی اکانومک پالیسی ہے ان پارٹیز کے پاس جو اس کو بدل سکتی ہے؟، کسی کے پاس نہیں ہے! ۔ تمام کی اکانومک پالیسی پیپلز پارٹی کے پاس ہے، پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ (لیکن پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ انیق احمد)۔ آپ اعلان کریں پیپلز پارٹی اور محترمہ بینظیر اعلان کریں کہ پاکستان میں اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم مفت ہوگی، علاج مفت ہوگا، بجلی مفت ہوگی، ٹرانسپورٹ مفت ہوگی۔ دوسری چیز جو شامی صاحب نے دو باتیں کیں ایک سوویت یونین کے ٹوٹنے پر اور مارکس ازم کی ناکامی پر۔ (پیسے کہاں سے آئیں گے اس کیلئے؟ مجیب الرحمن شامی) ۔ وہ میں آپ کو بتادوں وینزولا میں تیل سے پیسے نہیں آرہے؟۔ مختلف ملکوں میں پیسے جو ہیں وہ اس لوٹ مار کو بند کریں۔IMFکے پیسے دینا بند کریں۔ امریکی سامراج کی لوٹ مار کو بند کریں۔ فوج پر جو خرچ ہورہا ہے وہ بند کریں۔ (پوری دنیا سے یہ کہیں کہ حملہ کرو ہم پر۔ مجیب الرحمن شامی)۔28آدمی ہیں پاکستان کے جن کے پاس پاکستان کےGDPسے زیادہ دولت ہے۔ باہر کے بینکوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ آپ ان کو پکڑ لیں ان کو کہیں یہ پیسے لاؤ ۔ ہم یہاں تعلیم اور علاج مفت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی حکمرانی ہے۔ فوج پر بھی، ریاست پر بھی ، سیاست پر بھی۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے آپ کو ہر جگہ مقید رکھا ہوا ہے۔ اور انقلاب کے بغیر ان لوگوں کا اقتدار ٹوٹ نہیں سکتا۔ لیکن ایک بات ضروری سمجھتا ہوں جو پوائنٹ شامی صاحب نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا جی سوویت یونین ناکام ہوگیا مارکس ازم ختم ہوگیا یہ تو سطحی پروپیگنڈہ ہے۔ میں ایک فیکٹ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ فیکٹ یہ ہے کہ آپ مجھے1917سے لیکر1991تک کسی بڑی یونیورسٹی پرسٹن، سٹین فرڈ م،ہاروڈ، ژیل، جون ہوپکنس، سن جیمسز کسی یونیورسٹی میں کوئیPHDتھیسز دکھادے آکسفورڈ میں دکھادے ، کیمرج میں دکھادے میں نے اور میرے دوست نے ریسرچ کی تھیسز پر جو سوویت یونین پر ہو یا سوشل ازم پر ہو جس میں یہ جامع طور یہ پراسپیکٹیو دیا گیا ہو کہ سوویت یونین ٹوٹ جائے گی۔ اگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کا پراسپیکٹیو کسی نے دیا تھا وہ صرف مارکسز تھے۔ لینن16جولائی1921،
He said burlon is a heart of europe, and Germany is a heart of world. If there is no revulation in Germany ….
آگے اسی اسپیچ میں لینن کیا کہتا ہے:
Even if you sacrificewe shall no hesitate for a second
1936 لیون ٹراسٹکی اس نے کتاب لکھی ہے ”The Revolution Betrayed”آپ اس کتاب کو پڑھیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ1989سے1991تک جو واقعات ہوئے ہیں وہ ان کا ایک اسکرپٹ تھا جو ڈرامہ پچاس سال بعد دنیا کی اسٹیج پر پلے ہوا ہے۔……… لڑتے لڑتے ٹراسٹکی مرگیا اس سوشل ازم کے لئے آپ اس ہسٹری کو بالکل ضائع کردیں؟۔ کیونکہCNN،BBCبلکہ تمام میڈیا نہیں چاہتا کیونکہ میڈیا کے تمام مالکان اس حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
سوال: اگر پاکستان میںحقیقی معنوں میں سوشل ازم آجائے تو کیا یہاں پر بجلی، تعلیم اور صحت فری ہوسکتی ہے؟۔ اور کیسے ہوسکتی ہے؟۔
لعل خان: پہلے تو بنیادی تعریف چاہئے کہ سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں کیا فرق ہے؟۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز جو بنائی جاتی ہے آپ نے ٹائی پہنی ہوئی ہے ،یہ بوتل ہے ، یہ کاغذ ہے یہ اسلئے نہیں ہے کہ ہم ان کا استعمال کرتے ہیں ہر چیز کے بنائے جانے کا بنیادی مقصد پرافٹ ہے اور ریٹ آف پرافٹ ہے ورنہ کوئی چیز نہیں بنتی کیپٹل ازم میں۔1960کی دہائی میں لی لینڈ کا مالک تھا وہ پوری دنیا میں سب سے بڑی گاڑیاں بناتا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ دنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں بنارہے ہیں اور بیچ رہے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ میں مارکیٹ گاڑیاں بنانے کیلئے نہیں آیا میں پیسہ بنانے کیلئے آیا ہوں۔ اب سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سوشل ازم میں ہر چیز کے بننے کی پروڈکشن کی وجہ بدل جاتی ہے۔ یہاں سوشل ازم میں پروفٹ نکل جاتا ہےas an incentive، انسانی ضرورت اور انسانی ضروریات کی تکمیل بنیادی ترغیب(incentive) بن جاتی ہے۔ جس میں ایک مارکیٹ اکونومی ، کیورٹیک اکونومی جس کا مارکیٹ تعین کرتی ہے جبکہ سوشل ازم میں ایک پلینڈ اور ڈیموکریٹک اکونومی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اگر سوشل ازم آجاتا ہے ۔ یہاں پر اتنی دولت ، اتنا سرمایہ ، اتنی لوٹ کھسوٹ ہے ہر ایک ڈالر جو پاکستان میں آرہا ہے وہ 14ڈالر واپس لیکر جارہا ہے یہ جو ڈائریکٹ فار انوسٹمنٹ کی بات کرتے ہیں۔ صرف یہاں یونی لیور جوAnglo Dutch Monopolyہے ، اس کی جو سالانہ یہاں پرافٹ کی انکم ہے وہ ہالینڈ کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کی لوٹ کھسوٹ ہے امریکہ سامراج کی لوٹ کھسوٹ ہےIMFکی لوٹ کھسوٹ ہے اور پاکستان کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی لوٹ کھسوٹ ہے اس کو اگر ختم کردیا جائے تو اتنا سرمایہ بن سکتا ہے کہ ایک سال سے18ماہ میں یہاں پر تمام بنیادی سہولیات عوام کو فراہم ہوسکتی ہیں۔
انیق احمد: پاکستان کیلئے سوشل ازم انتہائی مفید ثابت ہوگا وہ سوشل ازم جو شکست سے روس میں دوچار ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر لعل خان: وہ سوشل ازم نہیں تھا وہ انسٹالن ازم تھا لینن نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ٹراسٹکی نے مسترد کیا تھا۔ جو انقلاب کے فاؤنڈرز تھے انہوں نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ایک صرف یہ کہ21stصدی سوشل ازم کی ہے جس کا اعلان2005میں ہوگوشاویز نے کیا وینزویلا میں۔ وہ ابھی کمپلیٹ نہیں ہے لیکن آپ کے سامنے آج کے اس عہد اور اس وقت میں چار پانچ چیزیں ہیں کہ وہاں پر اس وقت تعلیم مفت ہے۔15لاکھ لوگ ایک سال میں ہنر مند ہوئے ہیں تعلیم یافتہ ہوئے ہیں۔ وہاں پر علاج مفت ہے اس کیلئے پیسے لینا جرم ہے۔ وہ آئل ایکسپورٹ کرکے کیوبا سے ڈاکٹرز امپورٹ کررہے ہیں۔25ہزار ڈاکٹرز امپورٹ کئے ہیں اور جو کیوبن ڈاکٹر کشمیر میں آئے تھے آپ کو پتہ ہے کہ ان کی صلاحیت اور میڈیکل سیٹ اپ کیا ہے۔
انیق احمد: ڈاکٹر صاحب! صدر وینزویلا کا صدر امریکہ کے ساتھ رویہ؟
ڈاکٹر لعل خان: اس نے چیلنج کیا اس نے کہا ہمارے پاس پہاڑ بھی بہت ہیں، درخت بھی بہت ہیں ،ہاتھ بھی بہت ہیں یہ کوئی عراق نہیں ہے آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ جارحیت کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
انیق احمد:یعنی ایک چیز قومی غیرت اور قومی حمیت بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر لعل خان:اس نے20لاکھ کلاشنکوف عوام میں تقسیم کردئے کہ سامراج حملہ کرے تو ایک ایک بچہ لڑے گا مرے گا۔ یہ آج کا سوشل ازم ہے۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر

اللہ کی یاد سے اطمیان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔عتیق گیلانی

”اللہ کی یاد سے اطمیان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر ”
اور اس پر تبصرہ
”عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا ”
”ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔”

زندگی کے بیشمار مسائل میںتنگی و عسرت غم کا شکار ہیں ہم۔ آپ کو اطمینان چاہیے بھی۔ خدا بتابھی رہا ہے کہ اس طرح اطمینان ملے گا۔ اب یہ ذکر و اذکار جو ہیں کبھی ان میں دل لگتا ہے کبھی نہیں لگتا۔ یاد واحد ایسی چیز ہے جو جبراً نہیں بلکہ محبت سے کی جاتی ہے۔ جو زیادہ یاد آئے گا اسی سے زیادہ محبت ہوگی۔ انس سے رفاقت سے محبت سے مجھے بھی ایسے ہی یاد کرو جیسے آباو اجداد کو چاہتے ہو۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں اپنے اولیاء کو ایک انعام دیتا ہوں۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔کہ بلا شبہ سن لو کہ میرے دوستوں پر خوف و حزن نہیں ہوتا۔ خوف وحزن ماڈرن لائف میںEqualentہیںFearاورFrustrationکیساتھ کہ میرے دوستوں کوFearsنہیں ہوں گے۔Frustrationنہیں ہوں گے۔ خوف نہیں ہوں گے غم نہیں ہوں گے۔اللہ سے پوچھا جاتا ہے کہ اے پروردگار عالم خوف و حزن کیفیت قلب ہے تو کیفیت قلب کا اطمینان کس طرح ہے ؟ فرمایا الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کہ سن لو میرے ذکر کے بغیر اطمینان قلب نہیں ہوگا۔ توحضرات محترم! اصول یہ ہوا کہ اللہ اپنے بندوں کو خوف و حزن سے بے نیاز کرتا ہے ۔ خوف و غم سے بے نیازی کیفیت قلب ہے۔ کیفیت قلب بغیر یاد خدا کے اطمینان آہی نہیں سکتا۔ اب آپ کو اطمینان چاہئے بھی ۔ تمام معاشرے کو چاہیے خوف و حزن سے بے نیازی ۔ ہم سب
fearfull, We are all frustated
زندگی کے بیشمار مسائل میںتنگی و عسرت غم کا شکار ہیں ہم اور ہمیں امن چاہیے بھی اطمینان قلب چاہیے بھی اور ہم اسے ڈھونڈ بھی رہے ہیں مگر ذکر الٰہی سے گریزاں ہیں۔ خدا کی یاد سے گریزاں ہیں اور خدا کہتا ہے کہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کہ سن لو خبردار ! میری یاد کے بغیر تمہیں اطمینان قلب نصیب نہ ہوگا۔ (پروفیسر احمد رفیق اخترکا بیان سوشل میڈیا پر)

*****************************************
”عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا ”
”ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔”
*****************************************
پروفیسر احمد رفیق اختر سے جنرل اشفاق پرویز کیانی ، فوجی و سول بیورو کریٹ اور صحافی استفادہ کرتے ہیں۔ معیشت سودی قرضوں پر ہو ، ظلم و جبر سے طاقتور طبقہ کمزور کو دبوچ رہا ہو اور غیر ملکی حملوں کیلئے مقتدر طبقہ سہولت کار ہو۔ سفیر ملا سلام ضعیف کو ننگا کرکے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کو حوالہ کریں تو کیا ذکر کے وظائف سے اطمینان ہوگا؟۔ قوم محنت مزدوری ، تجارت و نوکری کرکے بھی ننگی، بھوکی، افلاس و احساس کمتری کا شکار ہو۔ اشرافیہ سُودی قرضہ پر بیرون ملک تعلیم اور نوکری کا دھندہ کریں تو کیا اشرافیہ کو اللہ کے ذکر سے اطمینان ملے گا اور خوف و حزن سے نجات پاسکے گا؟۔عمران خان کو گھڑی پر سزادی باقی کو گاڑیاں معاف ہیں؟۔ عمران خان کا راستہ نہ روکو، بے اطمینانی اور خوف وحزن ختم ہوگا۔
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر یا کسی جرنیل کو ولی بنادو ، یا خود وزیرستان کی بدامنی میں بے خوفی کی زندگی گزار کر دکھاؤ۔ منظور پشتین جھوٹ بکتا ہے کہ وہ نہیں ڈرتا۔ ذبح کرنے والے طالب کے سامنے چوں بھی نہیں کرسکتاہے۔
سورہ الرعد کی آیت میں اللہ کے ذکر سے اطمینان ملتاہے تو ذکر سے قرآن مراد ہے۔ جس دن پاکستان اور وزیرستان میں قرآن کا نفاذ ہوگا تو مؤمنوں کو اطمینان ملے گا۔ پروفیسر کے مرید کفار کی طرح چمتکار کے انتظار میں رہتے ہیں۔
ویقول الذین کفروالولا انزل علیہ آےة من ربہ قل ان اللہ یضل من یشاء ویھدی الیہ من انابOالذین امنواوتطمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکراللہ تطمئن القلوبOآیت:27،28
ترجمہ ” اور کافر کہتے ہیں کہ کوئی چمتکار اترتا نبی پر اپنے رب کی طرف سے ۔ کہہ دیں کہ بیشک اللہ جس کو چاہے گمراہ کرے اور ہدایت دے جو اس کی طرف جھکے۔ جو لوگ ایمان لائے اور انکا دل اللہ کے ذکر(قرآن) سے مطمئن ہے۔ خبردار ! اللہ کے ذکر (قرآن ہی) سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے” ۔سورہ الرعد
چمتکارکا طالب گمراہ اور جو قرآن کی طرف جھکے مہدی ہے۔ سورۂ کے شروع سے آخر تک اللہ کے نازل کردہ کا ذکر ہے۔ جہاں اللہ جواب دیتاہے بندہ بھی جواب دہ۔ مستجاب الدعوات لہ دعوة الحق” اس کیلئے پکار حق ہے” ۔مندر ، بھکشو عبادتگاہ ، یہودی خانقاہ اور نصاریٰ گرجا میں کثرت سے اللہ کا نام یاد کیا جاتا ہے۔لولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لوھدمت صوامع وبیع و صلوٰت ومسٰجد یذ کر فیھا اسم اللہ کثیرًا ”اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے دفع نہ فرماتا تو ڈھا دی جاتیں خانقاہیں، گرجا، کلیسااور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے۔ (سورہ حج آیت40) ۔
المرٰ تلک اٰیات الکتاب و الذی انزل الیک من ربک الحق ولٰکن اکثر الناس لایؤمنونO( الرعد: آیت :1)ترجمہ :”ال م ر : یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تجھ پرتیرے رب کی طرف سے اترا وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ”۔لہ دعوة الحق والذین یدعون من دونہ لایستجیبون لھم بشی ئٍ الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وماھو ببالغہ ومادعآء الکافرین الا فی ضلالO(آیت:14سورۂ رعد) ۔ترجمہ: ”اور اسی کیلئے حق کی پکار ہے اورجو اس کے سوا جن لوگوں کوپکارتے ہیں تو وہ کسی چیز کا جواب نہیں دیتے۔ مگر جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے پانی کی طرف تاکہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی پکار نہیں ہے مگر محض گمراہی میں ”۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ بت اور مزار والے پکارکا جواب نہیں دیتے۔ تو اللہ بھی جواب نہیںدیتا ؟۔ بس فرق یہ ہے کہ کوئی مندر میں رام رام کرتا ہے، کوئی عیسیٰ یسوع مسیح کو پکارتا ہے ، کوئی عبدالقادر جیلانی غوث اعظم کو پکارتا ہے، کوئی مشکل کشا علی کو پکارتا ہے اور کوئی اللہ کو پکارتا ہے لیکن جواب تو کوئی بھی نہیں دیتا ؟۔ اقبال نے خود شکوہ ، جواب شکوہ لکھ دیا تو یہ اور بات ہے۔ حق یہ ہے کہ اللہ کو پکارا جائے تو قرآن جواب دیتا ہے اور ہر مسئلے کا حل بتاتا ہے اور وہی نفع بخش ہے۔ رام کو پکارنے والے کا منہ پانی تک نہیں پہنچتا،تو اللہ کو پکارنے والوں کا منہ پانی تک نہیں پہنچتا ہے؟۔ اللہ کو پکارا جائے تو وہ قرآن کے ذریعے جواب دیتا ہے۔ کافر سمجھتا تھا کہ نبی ۖ اور قرآن کافی نہیں!۔ معجزہ چمتکار لائیں لیکن مؤمنوں کے لئے قرآن اطمینان کا باعث ہے۔ حضرت ابراہیم کو محض اللہ کے ذکر سے اطمینان نہیں ملا ، پرندوں کو چار ٹکڑے کرکے زندہ دیکھ لیا تو اطمینان حاصل ہوا۔ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ میں تقسیم ہوکر مرچکے ۔ قرآن زندہ کرے تو مسلمان کو اطمینان ملے گا۔ ذکر صبح گاہی کی مستی سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے۔
مرید چمتکار کے چکر اور پیر سرمایہ دار اور طاقتور مرید کے چکر میںخوشحال زندگی کو پیر اطمینان سمجھتاہے۔ حرام خور ظالم مریدوں کو پیر وظائف پر لگاتا ہے کہ دل کو اطمینان ملے گا اور قرآنی آیات سے استدلال پیش کرتا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور اولیاء اللہ پر خوف اور حزن نہیں ہے۔ پروفیسر رفیق اختر فوجی مرید کو قرآن نافذ کرنے کی دعوت نہیں دیتا۔ اور نہ معاشرے کی اصلاح کیلئے قرآن کے قانونی نکات بیان کرتا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ وظائف سے ظلم وحرام ہضم ہوجائے گا؟۔ ضعف الطالب والمطلوب ”مرید اور پیر دونوں ہی کمزور ہیں”۔یہ خودکو اور عوام کوبھی تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
ان الذین قالوا ربنااللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکة الا تخافوا ولاتخزنوا وابشروا بالجنة التی توعدون ” بیشک جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر استقامت اختیار کی تو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف مت کھاؤاور حزن مت کھاؤ اوراس جنت کی خوشخبری پر خوش ہوجاؤ جس کا تم لوگوں سے وعدہ ہے”۔ جب شیطان خوف کے وسوسے ڈالتا ہے جن کا تعلق خناس جنات اورانسانوں سے ہوتا ہے کہ انجام خطرناک ہوگا تو فرشتے بھی اترکر حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ خوف اور حزن مت کرو۔ جیت گئے تو جیت گئے اور ہارے بھی توبازی مات نہیں ۔ دنیا نہیں تو جنت مل جائے گی۔
اللہ کے احکام کو دنیا میں معاشرے پر نافذ کرنے والے ہی اولیاء اللہ ہیں۔ اس ولایت کا فریضہ پورا کرنے پر ہی خوشخبری ہے کہ الا ان اولیاء اللہ لاخوف علہیم ولا ھم یحزنوں ” خبردار! اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ اطمینان معاشرتی فرائض ادا کرنے پر ملے گا۔
سورۂ مائدہ میں تین طبقات کا ذکر ہے۔ اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والے علماء ومشائخ کو کافر قرار دیا گیا ہے اور حکمرانوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے اور عوام کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی طبقہ بھی اولیاء اللہ کیسے بن سکتا ہے؟۔
مجھے معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
ایک عورت کی شادی ہوتی ہے تو اگر وہ شوہر سے خلع چاہتی ہے لیکن مولوی اس کو حق نہیں دیتا ۔حالانکہ اللہ نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ مولوی کی ناجائز طرفداری کرنیوالا اپنا رب اللہ کو نہیں علماء ومشائخ کو بناتا ہے۔ جب شوہر اپنی بیوی سے دس بچے جنوانے کے بعد طلاق دیتا ہے تو عورت کو حقوق سے محروم کیا جاتا ہے ، بچے بھی چھین لئے جاتے ہیں جن کو9ماہ پیٹ میں گھمایا۔موت کے کنویں میں چھلانگ لگاکر جنا ۔ زچگی میں بھی رات دن بچوں کی خدمت کی تھی۔ جونہی رات کو بچہ رویا نیند سے اُٹھ کر پہلے چوما اور پھر سینے سے لگاکر دودھ پلایا ۔ پوٹی و پیشاب کو صاف کیا اور خود پیشاب کے گیلے بستر پر لیٹ گئی ۔ بچے کو سوکھی جگہ پر لوریاں دینے کے بعد سلادیا۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ بچہ ماں کا نہیں ہے؟۔ کیا اس ماں کو وظائف سے اطمینان ملے گا یا پھرقرآن کے مطابق حقو ق سے؟۔
سورہ رعد میں جتنی تفصیلات دیکھ لی جائیں اتنا دماغ بھی کھلے گا۔ اصل موضوع اللہ کی ذات کے حوالہ سے قرآن کے احکام پر عمل کی ولایت ہے۔
فرمایا: ” کہہ دیجئے کہ کون آسمانوں اور زمین کا رب ہے؟۔ کہہ دو کہ اللہ !۔ کہہ دو کہ کیا تم نے اس کے علاوہ اولیاء پکڑ رکھے ہیں؟۔جو اپنی جانوں کے لئے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ہیں ۔ کہہ دو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟۔یا اندھیرے اور نور برابر ہوسکتے ہیں؟۔ یا تم نے اللہ کے شریک بنارکھے ہیں۔ وہ بھی تخلیق کرتے ہیں اللہ کی تخلیق کی طرح۔پس ان پر مشابہت ہوگئی ۔ کہو کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلا قہار ہے ۔اس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے اپنی مقدار میں نالے بہنے لگے پھر سیلاب پھولا ہوا جھاگ اوپر لایا اور جس چیز کو آگ میں زیور یا کسی اور اسباب بنانے کیلئے پگھلاتے ہیں اس پر اسی طرح کا جھاگ ہوتا ہے، اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال دیتا ہے۔ پھر جو جاگ ہے تو خشک ہوکر جاتا رہتا ہے اور جو لوگوں کیلئے نفع بخش ہے تو وہ زمین میں اپنا ٹھکانہ بنالیتا ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں دیتا ہے۔ جنہوں نے اپنے رب کیلئے جواب دیا تو ان کے لئے اچھائی ہے اور جنہوں نے اس کو جواب نہیں دیا ۔ اگر ان کے پاس جو کچھ سب زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو۔اور اس کو فدیہ بھی کردیں تو ان کے لئے حساب برا ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ ٹھکانہ برا ہے۔ بھلا جو شخص جانتا ہے کہ بیشک جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے اترا ،حق ہے کیا وہ اندھے کی طرح ہوسکتا ہے؟۔ بیشک وہی نصیحت حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔( سورہ الرعدآیت:16،17،18،19)
اگرخانقاہوں ، گرجا گھروں، مندروں اور مسلمان مکاتب فکر ، فرقوں اور عقائد رکھنے والوں کا طریقہ کار بھی ایک ہو اور ان میں سے قرآن کے احکام کی طرف ٍ رجوع نہ کرتا ہو تو ان میں اللہ کو جواب دینے اور اللہ کا جواب دینے میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ قرآن میں اللہ نے قرآن کو بھی ”الذکر” قراردیا ہے اور قرآن تذکیر ہے۔ اللہ سے پوچھنے اور اللہ کے حکم کا جواب دینے کی بات ہے۔
مجھے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر تمام مدارس سے محبت اسلئے ہے کہ اللہ کے احکام مدارس اور علماء کرام ومفتیان عظام سے سیکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان سے بھی محبت اسلئے ہے کہ صبح وشام وہاں ذکر کی محفل سے قرآنی احکام کی عزیمت پر عمل کرنے کی ہمت مل گئی ۔ مدارس اور خانقاہوں کی بے توقیری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن جب تک اللہ کے احکام کو سمجھ کر معاشرہ اس پر عمل نہیں کرے گا تو خانقاہیں اور مدارس مسائل کا حل نہیں ہیں۔
مغرب کی ترقی کا راز اپنے مذاہب کو پھینک کر سیکولر ازم کا راستہ ہے اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے” ۔(صحیح مسلم)
مغرب نے جمہوری نظام کے ذریعے عورت اور مرد کویکساں حقوق دئیے۔ شوہر کو طلاق کا حق اور بیوی کو بھی طلاق کا حق ہے۔ دونوں کی جائیداد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے۔ بیوی ارب پتی اور شوہر لکھ پتی یا شوہر ارب پتی اور بیوی کنگال ہو تو طلاق میں دونوں کا مال برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا قانون ہے۔ نکاح کیلئے شناختی کارڈ کی عمر تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ دونوں کے نام پر جائیداد ہو۔ بالغ لڑکی کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ جب مالدار مرد یا عورت کو کسی غریب جوڑی دار پر اعتماد نہیں ہوتا ہے تو وہ شادی کی جگہ دوستی کو ترجیح دیتے ہیں۔ گرل یا بوائے فرینڈز کا تصور نکاح کے سخت قانون کی وجہ سے پروان چڑھ گیا ہے۔
اسلام میں نکاح ، خلع اور طلاق کا قانون فطرت کے مطابق تھا لیکن فقہاء نے اس کی شکل بگاڑ دی ،جیسے یہوونصاریٰ نے بگاڑ دی تھی۔قرآن میں نکاح پرعورت کیلئے مرد کی وسعت کے مطابق حق مہر ہے۔ ہم نے قرآن پر تدبر کرکے اس کو اپنے معاشرے میں رائج نہیں کیا ۔ قرآن میں عورت کو خلع کا حق ہے اور خلع میں شوہرکی دی ہوئی اشیاء کو لے جانے کا حق ہے ۔ کپڑے، زیور، گاڑی ، برتن، نقدی ، بینک بیلنس، موبائل اور ہر وہ چیز جو منتقل کی جاسکتی ہو لیکن غیر منقولہ جائیدادگھر، دکان، فیکٹری،باغ ، پلاٹ اور زمین سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
مرد کو قرآن نے طلاق کااختیار دیا لیکن بیوی کو دی ہوئی منقولہ وغیر منقولہ چیزوں سے شوہر محروم نہیں کرسکتا ۔ چاہے خزانے دئیے ہوں۔ خلع و طلاق اور عورت کے حقوق کی سورہ النساء کی آیات19،20اور21میں وضاحت ہے۔
ارب پتی استطاعت کے مطابق ایک ارب روپے حق مہر کا پابند ہے۔ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو حق مہر کا نصف50کروڑاس کو دینا پڑے گا۔
اللہ نے فرمایا:”اور اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیدو،اور تم نے حق مہر مقرر کیا ہو تو اس کا آدھا ہے جو تم نے مقرر کیا ہے۔مگر یہ کہ عورتیں کچھ معاف کریں یا وہ معاف کرے جسکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔اے مردو! تمہارا معاف کرنا تقویٰ کے زیاہ قریب ہے۔اور آپس میں ایک دوسرے پر فضل (احسان) کو مت بھولو، بیشک اللہ تمہارا کام دیکھ رہاہے ۔ (سورة البقرہ:237)
قرآن پس منظر واضح کررہاہے کہ یہ خلع نہیں مرد طلاق دے رہاہے تو جسکے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔ فقہاء نے یہ بات پکڑ کر شریعت بنادی کہ ”عورت کو خلع کا حق نہیں ”۔ حالانکہ قرآن مالی حق کو واضح کر رہاہے ۔اس سے یہ مراد لینا کہ طلاق کا حق صرف مرد کوہے جہالت اور قرآن کی معنوی تحریف ہے۔ بیدہ عقدة نکاحسے زیادہ نکاح کی نسبت اللہ نے عورت کی طرف کی ہے کہ واخذن منکم میثاقًا غلیظًا ”اور ان عورتوں نے تم سے پکا عہد لیا ”۔ تو کیا اس سے عورت کا اختیار ثابت ہوگا؟ ۔ اس میں بھی اللہ نے مرد کو غیرت دلائی ہے کہ عورت کی اتنی بڑی قربانی ہے تواس پر فحاشی کا جھوٹا الزام لگاکر اپنے حق سے محروم کرنا بہت بڑی بے غیرتی ہے۔
عورت کے حقوق پر قرآنی معاشرہ قائم ہوتاتو بہت اطمینا ن حاصل ہوتا۔
ایک آدمی چار لاکھ کا جوتا پہنتا ہے لیکن کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کا حق مہر50ہزار روپے سے زیادہ نہیں لکھواتا اسلئے کہ یہی رسم ورواج ہے۔ ایک شخص کی جان لی جائے تو اس کا قصاص قاتلوں کو قتل کرنا ہے۔ اگر دیت رکھی جائے تو ایک شخص کی دیت100اونٹ اور عورت کی دیت50اونٹ ہے۔ شوہر قتل کیا جائے تو اس کی بیوی کو100اونٹ ملیں گے اور بیوی قتل کی جائے تو اس کے شوہر کو50اونٹ ملیں گے۔ اگر قرآن وسنت اور اسلام کے قانون پر عمل کیا جاتا تو نسلوں کو بھی لوگ وصیت کرتے کہ ناحق کسی کی جان مت لو۔ جب وہ اسلامی قانون کے تحت قتل کیا جاتا یا پھر دیت دیتا تو بہت پکی توبہ کرلیتا۔
فوج اور پولیس بھی مارتی ہے اور طالبان ، دہشت گرد، بدمعاش، غنڈے، جاگیردار اور پیر بھی مارتے ہیں۔ عوام بھی مارتی ہے۔ سب سے زیادہ اختیارات فوج کے پاس ہیں اسلئے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا مقابلہ طالبان کرتے ہیںاسلئے ان کو خوارج کہا جاتا ہے۔ سلیم صافی نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے پوچھا تھا کہ جب افغانستان کی حکومت امریکہ کی حمایت کرتی ہے اور وہاں کے حکمرانوں کے خلاف جہاد ہے تو کیا ہماری فوج امریکہ کی حمایت کے باوجود شہید ہوتی ہے؟ سید منور حسن نے جواب دیا کہ یہی سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا ہے ۔ظاہر ہے کہ امریکی شہید نہیں تو ہماری فوج بھی شہید نہیں ہے۔
سلیم صافی نے حکیم اللہ محسود کی وہ تقریر نشر کی تھی جو اس نے قاضی حسین احمد کے خلاف کی تھی ۔پھر جماعت اسلامی نے سوشل میڈیا پرسلیم صافی کو برا بھلا کہا تھا اور سید منور حسن سے امارت کی خدمات واپس لے کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔
عورت کے حق مہر کے بارے میں ہے کہ جس امام کے نزدیک جتنی مقدار میں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اتنی مقدارکم ازکم عورت کے حق مہر کی ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھاکہ” امام بخاری اس باب میں”مسئلہ اقل حق” کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات پر توسب کا اتفاق ہے کہ مہر شرائط نکاح میں داخل ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اقل مہر کیا ہونا چاہیے؟۔
1:ظاہریہ اور علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہرشئی حق مہر بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جو کا دانہ بھی مہر بن سکتا ہے۔ (المحلی لابن حزم)
2:ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ اقل مہر پانچ درہم ہے۔( فتح الباری)
3:مالکیہ اقل مہر ربع دینار ہے۔1/4یعنی دینار کا ایک چوتھا ئی حصہ۔یہی سرقہ میں ان کے نزدیک قطع ید کا نصاب ہے۔ربع دینار میں چور کا ایک عضوء کاٹا جاتا ہے اور عورت کی ایک عضو ء کا بھی اس میں شوہر مالک بن جاتا ہے۔
4:امام شافعی کے نزدیک جو چیز بھی قیمت رکھتی ہے ۔وہ مہر بن سکتی ہے۔ امام بخاری کا رحجان بھی اسی طرف معلوم ہوتاہے۔
5:حضرات حنفیہ کے نزدیک اقل مہر دس درہم ہے اور یہ حد سرقہ بھی ہے۔
کشف الباری صفحہ262۔ کتاب فضائل قرآن ، کتاب النکاح ، طلاق
اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں قرآن میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں امیر وغریب پر اس کی وسعت کے مطابق نصف حق مہر واضح ہے وہاں انہوں نے کس قسم کے لطیفوں کو مذہب بناڈالا ہے۔ چور کاہاتھ کم مقدار میں کٹ سکتا ہے لیکن ایک ہاتھ کی دیت50اونٹ بھی تو ہے۔ عورت کے عضوء کی ملکیت کوچور کے ہاتھ سے تشبیہ دی گئی ہے؟۔ یہ عورت کی سخت تذلیل ہے۔
ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔ جب معاشرے میں عورت کو اپنے حقوق نہیں ملتے اور نہ قرآن سے سیکھا اور سکھایا جاتا ہے تو اس کے قدموں کے نیچے رہنے والی دنیا کو کیسے اطمینان ہوگا؟ اور خوف وحزن سے نجأت ملے گی؟۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ

14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام

پورے پاکستان اور دنیا میں انسانیت سوز مظالم کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ بچے ، بچیوں اور خواتین کے اغواء ، زیادتی کا نشانہ بننے اور قتل کا سلسلہ جاری ہے لیکن کب تک؟

پورے ملک میں روز روز کہیں نہ کہیں واقعات ہورہے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ بالکل بے حس اور مردہ بن چکا ہے۔ اس کا تدارک کرنے کیلئے قرآن کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
***********************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مروجہ نظام زمینداری اور اسلام

مروجہ نظام زمینداری اور اسلام
مولانا محمدطا سین: داماد علامہ حضرت سید محمد یوسف بنوری
ترتیب وپیشکش اور ایک جاندار تبصرہ نوشتہ دیوار: عبدالکریم شیروش
پیش لفظ میں میرا مقصد واضح کرنا ہے کہ یہ مضمون جسکا عنوان ہے ”مروجہ زمینداری اور اسلام” جس نے کتاب کی شکل اختیار کرلی کیوں لکھا، وہ کیا مصلحت اور ضرورت تھی جو میرے لئے اسکے لکھنے کا محرک اور باعث بنی”۔
یہ معاشیات کا دور ہے، اقتصادی شعبے کی یہ اہمیت پہلے نہ تھی۔ آج انسانی ذہن پر سب سے قوی رحجان معاشی ہے۔ معاشی پہلو کی درستگی پر زندگی کی درستگی کا دار و مدار ہے۔ آج نظام حیات کے اچھے برے، قابل قبول یا قابل رد ہونے کا معیار اسکا معاشی ضابطہ ہے، جسکا معاشی ضابطہ اور اقتصادی لائحہ عمل اچھا اطمینان بخش ہے وہ نظام اچھا وقابل قبول ہے خواہ دوسرے پہلوں سے اسکے اندر کتنی خامیاںاور خرابیاں کیوں نہ ہوں۔ اسکے برعکس وہ نظام برا ہے جسکا معاشی ضابطہ اطمینان بخش نہ ہو۔ معاشی ضابطے کا معروضی معیار اور پیمانہ یہ ہے کہ جس سے سو فیصد افراد کو معاشی خوشحالی اور ترقی کے مواقع میسر آسکتے ہوں۔ اسکے بعد پھر جس سے جتنے زیادہ افراد کو معاشی خوشحالی کے مواقع ملتے ہوں اتنا ہی اضافی طور پر اچھا و اطمینان بخش ہے اور جتنے کم افراد کو معاشی خوشحالی اور ترقی کے مواقع ملتے ہوں اتنا اضافی طور پر برا اور غیر اطمینان بخش ہے۔
آج انسانیت دو مخالف اور متحارب دھڑوں میں منقسم ہے اسکا سبب دو مختلف معاشی نظام ہیں۔ ایک کیپٹل ازم یعنی سرمایہ داری اور دوسرا سوشلزم یعنی اشتراکیت ہے۔ اسلام کا مستقل معاشی نظام اشتراکی و سرمایہ دارانہ دونوں معاشی نظاموں سے بنیادی طور پر مختلف اور بہتر ہے لیکن افسوس کہ اب تک ہم عملی ثبوت پیش کرسکے اور نہ علمی اور نظری۔ اسلامی ممالک میںایسا معاشی نظام عملی شکل میں موجود نہیں جو سرمایہ دارانہ ہو اور نہ اشتراکی ۔
اسلامی نظام کے ایک حصے کا تعلق زراعت و کاشت کاری کے شعبہ سے ہے جو پاکستان جیسے زرعی ملک کیلئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس شعبہ کے مسائل میں سے ایک مسئلہ مزارعت و بٹائی کا مسئلہ ہے جو اپنے عملی اثرات و نتائج کے لحاظ سے بڑا اہم مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے شرعی جواز و عدم جواز کے متعلق فقہا اسلام کے مابین قدیم سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہا اس کو بنیادی طور پر جائز اور بعض اس کو بنیادی طور پر ناجائز قرار دیتے رہے ، اوروں کا تو ذکر کیا خود امام ابو حنیفہ اور ان کے دو شاگردوں امام محمد شیبانی اور قاضی ابو یوسف کے مابین اس مسئلہ سے متعلق اختلاف فقہ حنفی کی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے معاملہ مزارعت کی ہر شکل کو باطل و فاسد اور ان کے مذکورہ دو شاگردوں نے اس کو بنیادی طور پر جائز و صحیح ٹھہرایا۔
مفسرین حضرات میں علامہ ابن کثیر نے سورہ بقرہ والی تحریم ربو کی آیات کی تفسیر میں مخابرہ سے متعلق حضرت جابر کی مذکورہ بالا حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ :
انما حرمت المخابر وھی المزارع ببعض ما یخرج من الارض، و المزابن وھی اشترا الرطب فی روس النحل بالتمر علی وج الارض ، و المحاقل وھی اشترا الحب فی سنبلہ فی الحقل بالحب علی وجہ الارض، انما حرمت ھذہ الاشیا و ماشا کلھا حسمالماد الربو
”سوائے اسکے نہیں کہ حرام ٹھہرایا گیا مخابرہ جو پیداوار زمین کے ایک حصہ پر مزارعت کا نام ہے اور مزانب جو نام ہے درخت پر لگی تازہ کھجوروں کو زمین پر پڑے خشک چھوہاروں کے عوض خریدنا اور محاقلہ جو خوشوں میں محفوظ غلہ کو جو کھڑی کھیتی میں ہو، خشک غلے کے بدلے خریدنا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے معاشی معاملات صرف اسلئے حرام ٹھہرائے گئے ہیں کہ ربو کا کلی طور پر خاتمہ ہوجائے۔”
علامہ ابن کثیر نے مخابرہ، مزابنہ اور محاقلہ اور ان سے ملتے جلتے دیگر معاشی معاملات کے حرام ہونے کی وجہ اور علت یہ بتلائی ہے کہ یہ سب ربوی معاملات ہیں اور یہ کہ ان کو حرام قرار دینے کا مقصد ربو (سود) کا پوری طرح قلع قمع کرنا اور اس کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، اس عبارت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ مخابرہ عین مزارعت ہے۔
دوسرے عظیم مفسر علامہ القرطبی اپنی جلیل القدر تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں تحریم ربو کی آیت میں سے اس آیت : فان لم تفعلوا فاذنو ا بحرب من اللہ و رسولہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ھذا الوعیدالذی وعداللہ بہ فی الربو من المحارب قدورد عن النبی ۖ مثلہ فی المخابر عن جابر بن عبد اللہ قال سمعت رسول اللہ ۖ یقول: من لم یذر المخابر فلیوذن بحرب من اللہ و رسولہ، و ھذا دلیل علی منع المخابر وھی اخذ الارض بنصف ادثلث او ربع ویسمی المزارع، و اجمع اصحاب مالک کلھم و الشافعی و ابو حنیف و اتباعھم و داود علی انہ لایجوز دفع الارض علی الثلث و الربع و لا علی جز دما یخرج من الارض۔
”اللہ اور اس کے رسول ۖ سے جنگ کی یہ وعید و دھمکی جو ربو کو نہ چھوڑنے والوں کیلئے اللہ نے اس آیت میں فرمائی ہے۔ ٹھیک اسی طرح کی وعید رسول اللہ ۖ نے مخابرہ کو نہ چھوڑنے والوں کیلئے بھی فرمائی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ راوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا آپ ۖ نے فرمایا جو مخابرہ کو نہ چھوڑے اس کیلئے اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ حدیث مخابرہ کے ممنوع ہونے کی دلیل ہے۔ مخابرہ زمین کو کاشت کیلئے نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار پر لینا دینا اسی کا دوسرا نام مزارعت ہے۔ تمام مالکی علمائ، امام شافعی ، امام ابو حنیفہ اور انکے کچھ متبعین ،داد ظاہری کا اس پر اجماع ہے کہ زمین کو پیداوار کے تہائی ، چوتھائی اور کسی حصہ پر دینا جائز نہیں۔” (ص ، 367، ج3، مروجہ نظام زمینداری اور اسلام۔ ص 80-79: مولانا محمد طاسین )
مزارعت اور مرفوع احادیث
احادیث حضرت جابر 1: عن عطائعن جابر قال کانوا یزرعونھا بالثلث و الربع و النصف فقال النبی ۖ من کانت لہ ارض فلیزرعھا اولیمنحھا فان لم یفعل فلیمسک ارضہ۔
” عطا سے روایت ہے کہ جابر نے فرمایا کہ لوگ تہائی، چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کرتے کراتے۔ نبی ۖ نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دے دے اور اگر نہیں کرتا تو اپنی زمین کو یونہی اپنے پاس روک رکھے”۔ (ص 315، ج1، بخاری)
4:عن سعید بن مینا قال سمعت جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ۖ قال: من کان لہ فضل ارض فلیزرعھا او لیزرعھا اخاہ، ولا تبیعوھا فقلت لسعید ما قولہ لا تبیعوھا یعنی الکرا قال نعم۔
” سعید بن مینا نے کہا: میں نے جابر بن عبد اللہ سے سنا کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : جسکے پاس فاضل زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کیلئے دیدے، اور اسے بیچو نہیں، میں نے حضرت سعید سے پوچھا کہ لا تبیعوھا سے مراد کرائے پر دینا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”ہاں” (ص11، ج 2،مسلم) 2:(ص 355، ج 1بخاری۔ ص 11، ج 2، مسلم) 3: (ص 11، ج 2،مسلم)5: (ص 286 ، ج2، مستدرک للحاکم)6: (ص 11، ج 2مسلم)7: (ص 11، ج 2 ، مسلم)8: (ص 12، ج2،مسلم)9: (ص 11، ج2، مسلم)10: (ص 12، ج2،مسلم)11: (ص 349، سنن دارمی)
احادیث زید بن ثابت1: عن زید بن ثابت قال نہی رسول اللہ ۖ عن المخابر، قلت ما المخابر ؟ قال ان تاخذ الارض بنصف او ثلث او ربع۔” زید بن ثابت نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے مخابرہ سے منع فرمایا ، میں نے پوچھا مخابرہ کیا ہے؟ تو زید نے جواب دیا تیرا زمین کو کاشت کیلئے نصف یا تہای یا چوتھائی پیداوار پر لینا۔ (ص127، ج 2، ابی داد)۔ 2: ابن عمر عن زید بن ثابت قال نہی رسول اللہ ۖ عن المحاقل و المزابن” عبد اللہ بن عمر نے زید بن ثابت سے روایت کیا یہ کہ رسول اللہ ۖ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ (ص 260، ج2، شرح معانی الآثار للطحاوی)3: (ص 125 ، ج2 ، سنن ابی داد۔ ص 148، ج 2، سنن نسائی)۔
احادیث حضرت ابی ہریرہ
1: عن ابی سلم عن ابی ھریر قال قال رسول اللہ ۖ : من کانت لہ ارض فلیزرعھا اولیمنحھا اخاہ فان ابی فلیمسک ارضہ ۔
”ابو سلمہ نے ابو ہریر سے روایت کی کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے بھائی کو مفت کاشت کیلئے دے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین کو روک رکھے۔ (ص 315، ج 1،بخاری)۔
2: عن ابی صالح عن ابی ھریر قال نھی رسول اللہ ۖ عن المحاقل و المزابن۔
” ابو صالح سے ابو ہریر نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ (ص 11، ج 2 مسلم)
ابو سعید الخدری کی حدیث:عن داد بن الحصین ان ابا سفیان اخبرہ انہ سمع ابا سعید الخدری یقول: نہی رسول اللہ ۖ عن المزابن و المحاقل، و قال: المزابن اشترا الثمر فی روس النخل، و المحاقل کرا الارض۔
” داد بن الحصین سے روایت ہے کہ ابو سفیان نے ابو سعید خدری سے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ۖ نے مزابن اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ نام ہے درخت پر لگے پھل کو خریدنا یعنی خشک پھل کے عوض اور محاقلہ کا مطلب ہے کرا الارض۔ (ص 12، ج 2، مسلم)
حدیث حضرت انس:عن انس بن مالک قال نہی النبی ۖ عن المحاقل و المخاضیر و الملامس و المنابذ و المزابن” انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ ،مزابن سے منع فرمایا۔ (ص 293، ج 1،بخاری)
حضرت ثابت بن الضحاک کی حدیث:عن عبد اللہ بن السائب قال سالت عبد اللہ بن معقل عن المزارع فقال اخبرنی ثابت بن الضحاک ان رسول اللہ ۖ نھی عن المزارع۔
” عبد اللہ بن سائب نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن معقل سے مزارعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ثابت بن ضحاک نے خبردی کہ رسول اللہ ۖ نے مزارعت سے منع فرمایا۔ (ص 11، ج 2،مسلم)۔
حضرت عائشہ صدیقہ کی احادیث
1: عن عبد اللہ بن عمر عن عائشہ ان النبی ۖ خرج فی مسیرلہ فاذا ھوا بزرع تھتز فقال لمن ھذا الزرع؟ قالوا لرافع بن خدیج فارسل الیہ وکان قد اخذ الارض بالنصف او بالثلث، فقال انظر نفقتک فی ھذہ الارض فخذ ھا من صاحب الارض و ادفع الیہ ارضہ وزرعہ” عبد اللہ بن عمرنے حضرت عائشہ سے روایت کیا کہ نبی ۖ اپنے ایک راستے سے گزرے کہ اچانک آپ ۖ کی نگاہ ایک لہلہاتی کھیتی پر پڑی۔ آپ ۖ نے پوچھا یہ کھیتی کس کی ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ رافع بن خدیج کی۔ آپ ۖ نے انہیں بلوایا ان کے بتلانے پر معلوم ہوا کہ انہوں نے وہ زمین نصف یا تہائی پر لی ہے تو آپ ۖ نے فرمایا دیکھو تمہارا جو خرچہ اس زمین میں ہوا ہے مالک زمین سے لے لو اور زمین بمعہ کھیتی کے اس کے حوالے کردو۔ (ص 304، ج 2، دار قطنی)۔
2:عن عائشہ قالت کان اصحاب رسول اللہ ۖ قوما عمال انفسھم کانو یعالجون اراضیھم بایدیھم ۔
حضرت عائشہ نے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام خود کام کرنے والے لوگ تھے۔ وہ اپنی زمینوں میں خود اپنے ہاتھوں سے کام کرتے یعنی ان کو خود کاشت کرتے تھے۔ دوسروں سے نہیں کراتے تھے۔ (ص 127، ج6،السنن الکبری)۔
حضرت علی کی حدیث
عن علی ابن طالب ان رسول اللہ ۖ نھی عن قبال الارض بالثلث و الربع و قال اذا کان احدکم الارض فلیزرعھا او لیمنحھا اخاہ۔
”حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا زمین کو تہائی اور چوتھائی پر دینے کی ضمانت و ذمہ داری سے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے بھائی کو مفت کاشت کیلئے دے دے۔ (ص 283، المسند لزید)۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کی احادیث
1: عن سعد بن ابی وقاص قال کان الناس یکرون المزارع بما یکون علی الساقی ربما یسقی بالما مما حول البر، فنہی رسول اللہ ۖ عن ذلک و قال اکروھا بالذھب و الورق۔
”حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ لوگ اپنے کھیت اس پیداوار کے عوض دوسروں کو دیتے تھے جو نالیوں کے کنارے اور کنوئیں کے ارد گرد پانی بہنے کی جگہ اگتی تھی۔ پس منع فرمایا رسول اللہ ۖ نے اس سے، اور فرمایا سونے چاندی کے عوض کرائے پر دو۔ (ص 259، ج 2، شرح معانی الآثار)۔
2: عن سعید بن المسیب عن سعد بن ابی وقاص قال کان اصحاب المزارع یکرون فی زمان رسول اللہ ۖ مزارعھم بما یکون علی الساقی من الزرع فجا وا رسول اللہ ۖ فاختصموا فی بعض ذلک، فنھاھم رسول اللہ ۖ ان یکروا بذلک و قال اکرو بالذھب و الفض۔
”حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ۖ کے زمانے میں کھیتوں والے اپنے کھیت کرائے پر دیتے تھے بعوض اس کھیتی کے جو پانی کی نالیوں کے کنارے پر اگتی تھی۔ پس وہ رسول اللہ ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے بوجہ اس جھگڑے کے جو ان کے درمیان اس معاملے میں ہوا تھا۔ سننے کے بعد رسول اللہ ۖ نے ان کو اس معاملے سے روک دیا اور فرمایا کہ سونے چاندی کے عوض کرائے پر دو۔ (ص 144، ج 2، سنن النسائی)۔
3:(ص 125 ،ج2، سنن ابی داد)۔
حضرت مسور بن مخرمہ کی حدیث
عن المسوربن مخرم قال مر رسول اللہ ۖ بارض بعبد الرحمن بن عوف فیھا زرع فقال یا عبد الرحمن لا تاکل الربو و لا تطعمہ، ولا تزرع الا فی ارض ترثھا او تورثھا او تمنحھا۔
”حضرت مسور بن مخرمہ نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ۖ ایک زمین کے پاس سے گزرے جس میں عبد الرحمن بن عوف کی کھیتی تھی آپ ۖ نے ان کو مخاطب ہوکر فرمایا اے عبد الرحمن نہ خود سود کھا اور نہ دوسرے کو کھلا اور کاشت نہ کرو مگر ایسی زمین میں جس کے تم وارث بنے یا فرمایا بنادئیے گئے ہو یعنی مالک ہو یا وہ زمین تجھے منحہ کے طور پر با معاوضہ کاشت کے لئے دی گئی ہو۔ ” (ص 120، ج 4، مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی)۔
عبد اللہ بن عمر کی احادیث:عن عمرو بن دینارعن ابن عمر و جابر قالا نھی رسول اللہ ۖ عن بیع التمر حتی یبد و صلاحہ و نہی عن المخابر کرا الارض بالثلث و الربع۔” عمر و بن دینار نے روایت کیا کہ ابن عمر اور جابر نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا پھلوں کی خرید و فروخت سے یہانتک کہ ان میں کھانے کی صلاحیت پیدا ہو اور منع فرمایا مخابرہ سے یعنی زمین کو تہائی او رچوتھائی پیداوار پر لینے دینے سے ” (ص 147، ج2 نسائی)۔2: (ص 12، ج2 مسلم)3: عن نافع ان ابن عمر کان یکری مزارعہ علی عہد النبی ۖ وفی امار ابی بکر و عمر و عثمان و صدر امن خلاف معاوی حتی بلغہ فی آخر خلاف معاویہ ان رافع بن خدیج یحدث فیھا ینھی عن النبی ۖ فدخل علیہ وانا معہ فسالہ فقال کان رسول رسول اللہ ۖ ینھی عن کرا المزرع فترکھا ابن عمر بعد فکان اذاسئل عنھا بعد قال زعم ابن خدیج ان رسول اللہ ۖ نھی عنھا۔
”نافع نے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر اپنے کھیت کرائے یعنی مزارعت پر دیتے تھے نبی ۖ کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان کے زمانہ امارت اور حضرت معاویہ کے شروع کے عہد خلافت میں یہانتک کہ حضرت معاویہ کے عہد خلافت کے آخر میں ان کو معلوم ہوا کہ حضرت رافع بن خدیج اس کی ممانعت سے متعلق رسول اللہ ۖ کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ انکے پاس گئے جب کہ میں انکے ساتھ تھا، ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ۖ کرا المزارع سے منع فرماتے رہے لہذا ابن عمر نے اسکے بعد اس کو چھوڑ دیا، پھر بعد میں جب بھی ان سے اسکے متعلق پوچھا جاتا تو جواب دیتے کہ رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے اس سے منع فرمایا۔” (ص 13، ج 2، صحیح المسلم)۔
4: ص 313، ج 1، صحیح البخاری)۔
احادیث عبد اللہ بن عباس: عن ابن عباس اذا اراد احدکم ان یعطی اخاہ ارضا فلیمنحھا ایاہ ولا یعطہ بالثلث و الربع۔”عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین دینا چاہے تو مفت دے تہائی چوتھائی پر نہ دے۔ (ص 72، ج 8، کنز العمال، طبرانی)۔2: (ص 313، ج 1،بخاری) 3: (ص 166، ج1، ترمذی)۔ 4: (ص 72،ج 8، کنزالعمال طبرانی)۔ 5:(ص 260 ، ج 2، طحاوی)
اسید بن ظہیر کی حدیث1: عن رافع بن اسید عن ابیہ اسید بن ظھیر انہ خرج الی قومہ الی بنی حارث فقال یا بنی حارث لقد دخلت علیکم مصیب، قالوا ماھی؟ قال نھی رسول اللہ ۖ عن کرا الارض، قلنا یا رسول اللہ اذا نکریھا بشی من الحب قال لا، قال وکنا نکریھا بالتبن فقال لا، و کنا نکریھا بھا علی الربیع الساقی قال لا، ازرعھا اوا منحہا اخاک۔
”رافع نے اپنے باپ اسید بن ظہیر سے روایت کیا کہ وہ اپنی قوم بنی حارثہ میں پہنچے او ران سے کہا کہ تم پر ایک مصیبت آگئی ہے انہوں نے پوچھا وہ کیا مصیبت ہے؟ کہا کہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے منع فرمادیا ہے، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہۖ! تو پھر کیا ہم غلے کی کچھ مقدار کے عوض زمین دے سکتے ہیں؟ جواب میں آپ ۖ نے فرمایا نہیں، ہم نے عرض کیا کہ ہم بھوسے کے بدلے دیا کرتے تھے، فرمایا یہ بھی جائز نہیں، عرض کیا ہم نالیوں کے کنارے کی پیداوار کے عوض دیا کرتے تھے، فرمایا نہیں، خود کاشت کرو یا اپنے بھائی کو یونہی کاشت کیلئے دے دو ۔ (ص 141، ج 2، سنن النسائی)۔
2: عن مجاہد عن اسید بن ظہیر قال اتی علینا رافع بن خدیج فقال ان رسول اللہ ۖ نھاکم عن امر کان ینفعکم وطاع رسول اللہ ۖ خیرلکم مما ینفعکم نھاکم رسول اللہ ۖ عن الحقل و الحقل المزارع بالثلث و الربع فمن کان لہ ارض فاستغنی عنھا فلیمنحھا اخاہ ولیدع۔
” مجاہد نے روایت کیا اسید بن ظہیر نے کہا کہ رافع بن خدیج ہمارے یہاں آئے اور کہا کہ رسول اللہ ۖ نے تمہیں ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو تمہارے لئے نفع مند تھا لیکن رسول اللہ ۖ کی اطاعت تمہارے لئے تمام منافع سے بہتر ہے۔ رسول اللہ ۖ نے حقل سے منع فرمایا ہے ار حقل تہائی و چوتھائی پر مزارعت کا نام ہے۔ پس جس کے پاس زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کو یونہی مفت کاشت کیلئے دے دے یا پھر بے کار چھوڑدے۔ (ص 141، ج 2، النسائی)۔
احادیث رافع بن خدیج 1: (ص 141، ج 2، نسائی) 2: (ص 315، ج 1،بخاری)۔3 : عن ابی النجاشی مولی رافع بن خدیج قال قلت لرافع ان لی ارضا اکریھا فنھانی رافع وا راہ قال لی ان رسول اللہ ۖ نھی عن کرا الارض و قال اذا کانت لاحدکم ارض فلیزرعھا او لیزرعھا اخاہ فان لم یفعل فلیدعھا وکا یکریھابشیی فقلت ارات ان ترکتھا و لم ازرعھا ولم اکرھا بشیی فزرعھا فوھبوالی من نباتھا شیئا اخذہ قال لا۔”ابو النجاشی مولی رافع بن خدیج نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حضرت رافع سے عرض کیا کہ میری ایک زمین ہے میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں تو انہوں نے اس سے منع کیا اور مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے منع فرمایا ہے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کیلئے دے دے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو اسے یونہی چھوڑ دے اور اس کو کسی شے کے بدلے کرائے پر نہ دے، اس پر میں نے پوچھا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں اس زمین کو چھوڑ دوں نہ خود کاشت کروں اور نہ کرائے پر دوں اور کچھ لوگ آکر اسے کاشت کرلیں اور پھر وہ مجھے بطور ہبہ اس کی پیداوار میں سے کچھ دیں تو کیا میں لے سکتا ہوں؟۔ حضرت رافع نے جواب دیا کہ نہیں۔ 4: (ص 256 ، ج 2، طحاوی)۔ 5: (ص 13، ج 2،مسلم)۔6: (ص 313،ج1، بخاری)7: (ص 315 ج1 بخاری (ص 145، ج 2، نسائی) 8: (ص 145، ج 2، نسائی) 9: (ص 145، ج 2،نسائی) 10: (ص 115، ج 10 ، فتح الربانی، مسند احمد)۔ 11: عن مجاھد قال حدث رافع بن خدیج خرج الینا رسول اللہ ۖ ننھانا عن امر کان لنا نافعا، فقال من کان لہ ارض فلیزرعھا او یمنحھا او یذرھا ۔”مجاہد نے کہا کہ حضرت رافع بن خدیج نے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ ہماری طرف نکلے او رہم کو ایک ایسے معاملے سے روکا جو ہمارے لئے مفید تھا اور فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود بوئے یا کسی کو بلا معاوضہ دے دے یا پھر اسے چھوڑ دے۔ ” نسائی (ص 142، ج2 ) 12: (ص 144، ج 2) 13: (ص 143، ج 2)14: (ص 143، ج 2) 15: عن عیسی بن سھل بن رافع بن خدیج قال انی یتیم فی حجر جدی رافع بن خدیج و بلغت رجلا و حججت معہ فجا اخی عمران بن سھل بن رافع، فقال یا ابناہ! انہ قد اکترینا ارضنا فلان بمائتی درھم، فقال یا بنی دع ذاک فان اللہ عزوجل سیجعل لکم رزقا غیرہ ان رسول اللہ ۖ قد نھی عن کرا الارض۔
” رافع بن خدیج کے پوتے عیسی بن سہل نے کہا کہ میں یتیم تھا دادا رافع بن خدیج کی گود میں پل بڑھ کر جوان ہوا اور انکے ساتھ حج کیا، ایک موقع پر میرا بھائی عمران بن سہل آیا اور دادا کو بتلایا کہ ہم نے اپنی فلاں زمین دو سو درہم کے عوض کرائے پر دی ۔ دادا نے فرمایا بیٹے اس کو چھوڑ دو اللہ تمہیں دوسرے طریقہ سے رزق دیگا کیونکہ رسول اللہ ۖ نے کرا الارض سے روکا اور منع فرمایا۔ ” (ص 147، ج 2،نسائی)۔ 16: عن ابن ابی نعم قل حدثنی رافع بن خدیج انہ زرع ارضا فمریہ النبی ۖ وھوا یسقیھا فسئا لہ لمن الزرع ولمن الارض فقال زرعی بیذری و عملی لی الشطر و لبنی فلان الشطر، فقال اربیت، فرد الارض علی اھلھا و خذ نفقتک۔ ”ابن ابی نعم نے کہاکہ رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ اس نے ایک زمین کاشت کی تھی۔ ایک دن وہاں سے نبی ۖ کا گزر ہوا جبکہ وہ اس کو پانی دے رہا تھا، حضور ۖ نے پوچھا کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ میں نے عرض کیا کھیتی میری ہے جو میرے بیج اور عمل کا نتیجہ ہے۔ نصف پیداوار میرے لئے ہوگی او رنصف بنی فلاں کیلئے۔ اس پر آپ ۖ نے فرمایا تم ربو میں پڑے، زمین اس کے مالکوں کو دیدو اور ان سے اپنا خرچہ لے لو ۔ ” (ص 127، ج 2، سنن ابی داد)، (ص 256، ج 2، طحاوی)۔ 17: عن نافع ان ابن عمر کان یاجر الارض قال فنبئی حدیثا عن رافع بن خدیج قال فانطلق بی معہ الیہ قال فذکر عن بعض عمومتہ ذکر فیہ عن النبی ۖ انہ نھی عن کرا الارض قال فترکہ ابن عمر فلم یاجرہ ۔”حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر کرائے پر زمین دیا کرتے تھے پھر ان کو رافع بن خدیج کی حدیث کی خبر ملی، مجھے ساتھ لے کر ان کے پاس گئے انہوں نے اپنے بعض چچاں کے حوالے سے حدیث بیان کی اور اس میں نبی ۖ کی طرف سے کرا الارض کی نہی کا ذکر کیا۔ چنانچہ حدیث سننے کے بعد ابن عمر نے کرا الارض کو ترک کردیا اور پھر کبھی زمین اجارے پر نہ دی۔ ” (ص 13، ج 2، صحیح المسلم)۔
18ان رسول اللہ ۖ اتی بنی حارث فرائی زرعا فی ارض ظھیر فقال ما احسن زرع ظھیر، قالوا لیس ظھیر، قال الیس ارض ظھیر قالوا بلی و لکنہ زرع فلان، قال فخذوا زرعکم و ردوا علیہ النفق ۔ ”رافع نے روایت کیا کہ رسول اللہ ۖ محلہ بنی حارثہ تشریف لائے اور ظہیر کی زمین میں لہلہاتی کھیتی دیکھ کر فرمایا کیا ہی عمدہ کھیتی ہے ظہیر کی، لوگوں نے عرض کیا یہ ظہیر کی کھیتی نہیں، آپ ۖ نے فرمایا کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں۔ لوگوں نے بتلایا کہ زمین تو ظہیر کی ہے مگر اسے کاشت فلاں شخص نے کیا ہے آپ ۖ نے فرمایا اپنی کھیتی لے لو۔ اور مزارع کو اس کا خرچہ دے دو۔ ” (ص 126، ج2، ابوداد)۔ (ص 144، ج 2، نسائی)۔
(مروجہ زمینداری اور اسلام: مولانا محمدطاسین: داماد علامہ سید محمدیوسف بنوری۔نیٹ پر القرآن اکیڈمی لاہور)
تبصرہ نوشتہ دیوار:شیروش
علامہ طاسین نے قرآن ، فقہ ، اصول فقہ سے اپنامقف درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے مگر آپ گوشہ گمنامی کی نذر ہوگئے ۔ ڈھیر ساری احادیث میں کوئی خال خال بات بھی جو نظر آتی ہے، اس پر بھی تحقیق کرکے معاملہ صاف کیا گیاہے۔اللہ کرے کہ بندہ مزدور کے تلخ اوقات بن جائیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، کاشتکار وں نے جو محنت کی ہے ان کو اشتہاروں سے خوش کرنا ممکن نہیں ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” جو مرد کمائیں وہ انکا حصہ ہے اور جو خواتین کمائیں وہ انکا حصہ ہے”۔ زمین کی کاشت میں خاندان کے خاندان محنت کرتے ہیں اور ان کی محنت پر جاگیردار بھی نہیں پلتے ہیں بلکہ منڈیوں والے ساری کمائی سمیٹ لیتے ہیں۔ اگر احادیث کے مطابق ہم اپنی زراعت کو سود سے پاک کردیں تو پاکستانی قوم اپنے پاں پر کھڑی ہوجائے گی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے اردگرد جتنی بنجر زمین پڑی ہے اگر یہ آباد کرنے کیلئے محنت کشوں کو مفت میں دی جائے توپختونخواہ اور بلوچستان کی سبزیوں اور اناج کیلئے یہ بھی بہت ہے۔ سولر کے ذریعے اس کو آباد کرنا مشکل بھی نہیں ہے۔جب لوگوں کو مفت میں زمینیں ملنے لگیں گی تو جاگیردار بھی زمینیں یا تو خود کاشت کرینگے یا پھر کاشتکاروں کو مفت میں دینا شروع کردینگے۔ اگر علما امام ابوحنیفہ کے مسلک پر عمل کرنے کے بجائے حیلہ ساز شاگردوں کے حیلوں پر عمل پیرا ہوں تو ان کو حنفی کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔جب کاشتکاروں کو مفت میں زمینیں مل جائیں گی تو ان کے عشروزکو سے مولوی بھی بھیک کی خاطر زیادہ چکر نہیں لگائیںگے۔ خواتین اور نوجوانوں اور انقلابیوں کیلئے حقوق کی جدوجہد کا آسان راستہ یہ ہے کہ کالج ، یونیورسٹیوں اور میڈیا پر احادیث صحیحہ کے ذخیرے کو عام کریں۔ کاشتکاروں کو بھی تعلیم ، انسانی حقوق ، اچھی زندگی کا حق ہے، انکے بھی خواتین، نوجوان اور بچے ہیں۔ اشتراکیت روس اور چین میں بھی ناکام ہوچکی ہے اسلامی جمعیت طلبہ والے احادیث کی بنیاد پر غریبوں اور جوانوں کو بہتر معیشت اور بہتر مستقبل کا راستہ دکھائیں۔ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کا راستہ روکنے کیلئے ضروری ہے کہ لال لال لہرانے اور سبز سبز لہلہانے والوں اس آسان ہدف کو اپنے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے بنیاد بنائیں۔نوجوانوں کا جذبہ اچھا ہے کہ کچھ کیا جائے لیکن جب کرنے کیلئے کچھ نہیں ملتاہے تو ایکدوسرے کے سر پھوڑنے شروع کردیتے ہیں۔
علما کرام اور مفتیانِ عظام کو اگر طلاق اور دوسرے مسائل سمجھ میں نہ آتے ہوں تو تھوڑا سا غور کرکے سب کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ اسلام کی درست تعبیر سے لوگ اسلامی انقلاب پر آمادہ ہونگے۔فرقہ واریت اور منافرت کا خاتمہ ہوگا اور مساجد ومدارس میں اسلام کی روشنی سے تروتازگی آئے گی اور مذہبی طبقات کی قدر ومنزلت بڑھے گی۔
وہ وقت بہت قریب لگتا ہے کہ جب دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ جو نوجوان اور خواتین اپنے حقوق کی جنگ لڑنے پر آمادہ ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔جبر وستم کے نظام کو درست کرنے میں باہمت نوجوانوں اور خواتین کا کردار بہت بڑی غنیمت ہے۔ اصحاب حل وعقد ڈھیٹ پن کا شکار ہیں۔ یہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہیں۔ ہم ان کی جرات وعظمت، دردِ دل اور دور اندیشی کو سلام پیش کرتے ہیں جو بڑا حقیر سانذرانہ ہے۔ عبد الکریم شیروش
ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی ، خصوصی شمارہ دسمبر 2019

فرقہ وارانہ شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دہشتگردی پر اثر پڑے، سیاسی شدت بھی ختم کی جائے۔

فرقہ وارانہ شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دہشتگردی پر اثر پڑے، سیاسی شدت بھی ختم کی جائے۔

علماء اور جدید مذہبی طبقے کے علم وفہم اور عمل وکردار میں بڑا فرق ہے۔ انجینئر مرزا نے رٹ لگائی ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا: ”عمار باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہوگا، عمار جنت کی طرف بلارہا ہوگا اورباغی گروہ جہنم کی طرف بلا رہا ہوگا”۔
بلاشبہ دو گروہ لڑیں گے تو ایک ٹھیک اور دوسرا غلطی پر ہوگا۔ پاکستان بن رہا تھا توکچھ پاکستان اور مسلم لیگ کے حامی اور کچھ مخالف تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، جمعیت علماء ہند اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت ”احرار الاسلام” پاکستان اورمسلم لیگ کے خلاف تھے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی اور پاکستان و مسلم لیگ کی حمایت شروع کی۔جماعت اسلامی نہ ادھر تھی اور نہ ادھر ۔ آزادی اور سیاسی تحریک بہت بڑی قربانیاں مانگتی ہے۔
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے اپنے فتاویٰ کے نویں جلد میں لکھ دیا کہ انگریز نے جمعیت علماء ہند کو ختم کرنے کیلئے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھ دی ۔ آج مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کا تعلق مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا مفتی محمود اور مولانا عبداللہ درخواستی سے ہے جو جمعیت علماء ہند کے نظریاتی ساتھی تھے۔ اصل جمعیت علماء اسلام مرکزی کے نام سے تھی جو مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی کی جماعت تھی ختم ہو گئی اسلئے کہ انہوں نے1970میں مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا عبداللہ درخواستی ، مولانا عبیداللہ انور ، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک اور مفتی محمود پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔
حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کے مریدین وخلفاء میں مولانا محمدقاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی اور بہت بڑے بڑے علماء ومشائخ تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی شیخ الہند مولانا محمودحسن کے شاگردتھے اور شیخ الہند نے اپنے استاذ مولانا رشیداحمد گنگوہی سے بیعت کی تھی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا گنگوہی سے بیعت کی خواہش رکھی اور حاجی امداللہ مہاجر مکی سے سفارش کی درخواست کی تھی ۔حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے فرمایا کہ ” میں تمہیں خود بیعت کرتا ہوں”۔ اگر حقائق کو دیکھا جائے تومولانا تھانوی کے استاذ کے اساتذہ بھی حاجی امداد اللہ سے بیعت تھے لیکن حکیم الامت اور مجدد ملت کا تمغہ اسلئے مولانا تھانوی کے سر پر سجا تھا کہ مہاجر مکی کے سلسلہ کے اصل جانشین آپ ہی تھے۔ تصوف وسلوک بھی دین کا شعبہ ہے۔شریعت و طریقت کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ مولانا رشیداحمد گنگوہینے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے علم سے اختلاف کیا، تقویٰ حاصل کرنے کیلئے بیعت ہوئے تھے۔مولانا قاسم نانوتوی نے کہا کہ ”میں حاجی صاحب سے ان کے علم کی وجہ سے بیعت ہوا ہوں”۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی کے شاگرد مولانا حسین علی تھے ، جن کی وجہ سے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری نے توحید کا پیغام پھیلایا۔ اس نے اپنی تفسیرمیں لکھا ” میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گر رہے ہیں اور میں ان کو سہارا دیکر تھام لیتا ہوں”۔”بلغة الحیران” ۔
مفتی منیر شاکر کو شاید علم نہ ہوکہ دوسروں پر تنقید کے نشتر چلانے والوں نے گھر میں کیا دال دلیہ پکایا؟۔ مفتی منیر شاکرنے کہا کہ اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب میں لکھاکہ شاہ عبدالرحیم نے ایک بزرگ کی قبر پر مراقبہ کیا تو بزرگ نے بتایا کہ تمہاری گھر والی کے حمل میں جو بچہ ہے وہ بڑی شان والا ہوگا۔ بیگم نے بتایا کہ جب تہجد کے وقت ہاتھ اُٹھائے تو میرے ہاتھوں میں بچے کے بھی دو ہاتھ تھے جس سے میں ڈر گئی۔ پھر شاہ عبدالرحیم کو یاد آیا کہ مراقبہ میں بزرگ نے بیوی کے حمل میں موجود بچے حضرت شاہ ولی اللہ کے بارے میں خوشخبری دی تھی اور ان کا نام بھی تجویز کیا تھا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مردوں کو زندہ سمجھنے والوں نے عقل سے عاری عقیدت مندوں کے سامنے گھڑ رکھی ہیں۔
حضرت خضر نے بچے کو قتل کیا تو تصوف و طریقت کی کتابوں میں اتنا بڑا واقعہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ جب مٹی کا پرندہ بناتے تو پھونک سے روح آجاتی تھی۔ حضرت ابراہیم نے چار پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر زندہ ہوگئے۔ اللہ نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تھا۔ بیت المقدس میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور قبر میں سوال پوچھا جائیگا کہ ” اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟”۔ عیسیٰ کا باپ کے بغیر آدم کی طرح پیدا ہونا قرآن میں ہے۔ بزرگوں کا انکار کفر و گمراہی نہیں مگر قرآن وسنت پر زد نہ پڑے۔ مولانا طاہر پنج پیری کراچی تشریف لائے تھے تو میں نے ان کی خدمت میں مولانا مسعود الدین عثمانی کی توحید خالص پیش کرنا چاہی مگر اس کے چیلے ناراض ہوگئے اور سوال نہیں کرنے دیا تھا۔ مولانا مسعود الدین عثمانی جامعہ بنوری ٹاؤن اور وفاق المدارس کے فاضل تھے۔ دورہ ٔ توحید ایسا ہو کہ اپنے پرائے کا لحاظ نہ ہو مگر قرآن و سنت کا خیال رکھا جائے ۔ معراج کا ذکر قرآن وسنت میں موجود ہے۔
کوئی سوال کرے کہ ہجرت کی رات براق کیوں نہیں آیا؟۔ اگر مظالم سے بچنے کیلئے معجزات کا سہاراہوتا تو پھر کمال اور آزمائش کی بات نہ ہوتی۔ معراج اور ہجرت جیسا کوئی واقعہ صوفی کا ہوتا تو سوالات اُٹھتے اور مذاق بھی اُڑایا جاتا۔ پشتو شاعر اور عالم دین رحمن بابا کاشعر ہے کہ ”جس کا ایک قدم عرش تک پہنچتا ہے میں نے درویش لوگوں کی رفتار کو دیکھا ہے”۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء نے یہ واقعہ بیان کیا کہ خواجہ نظام الدین سلطان الاولیائ قوالی کا اہتمام کرتے تھے اور اس وقت کے محتسب قاضی ضیاء الدین سنامی ان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ایک دن سپاہیوں کو لے کر گئے تو سلطان جی اپنے مریدوں کیساتھ ذکر میں مشغول تھے۔ خیمے کی طنابیں کاٹ ڈالیں تو خیمہ ہوا میں معلق ہوا ۔ قاضی نے کہا کہ اس سے متاثر مت ہونا۔ آئندہ آئیں گے اور اس بدعت سے روکیں گے۔ دوسری مرتبہ ذکر شروع ہونے سے پہلے سپاہیوں کیساتھ پہنچ گئے اور کہا کہ اس بدعت سے نہ رکوگے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ اگر نبی ۖ فرمادیں تو؟۔ قاضی رضا مندہوئے تو کیفیت طاری ہوگئی۔ دیکھا کہ نبی ۖ جلوہ افروز ہیں اور فرمایا کہ اس فقیر کو کیوں تنگ کررہے ہو؟۔ قاضی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ۖ مجھے اس کیفیت پر بھروسہ نہیں لیکن جو دین روایات کے ذریعے ہم تک پہنچاہے ،اس پر اعتماد ہے اورہم اس پر عمل کے پابند ہیں۔ جب کیفیت ختم ہوگئی تو سلطان جی نے کہا کہ اب کیا کہتے ہو؟۔ اب تو نبی ۖ نے تمہیں کیا فرمایا؟۔ قاضی نے کہا کہ روکوں گا، نبی ۖ کی خدمت میں نے کیا عرض کیا؟۔ سلطان جی نے قوال کو اشارہ کیا کہ شروع کرو۔ قوال نے شعر پڑھا تو سلطان جی وجد میں کھڑے ہوگئے، قاضی نے اس کو گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ دوسری بار وہ کھڑے ہوگئے پھر گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ تیسری بار کھڑے ہوگئے اور اس کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا چاہا مگر دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ محفل برخاست ہونے لگی تو لوگوں نے سمجھا تھا کہ قاضی بھی مرید بن کر جائیں گے۔ قاضی نے کہا کہ اچھا میں پھر آؤں گا اور تجھے اس بدعت سے روکوں گا۔ لوگوں نے کہا کہ ابھی تو آپ دست بستہ کھڑے تھے؟۔ قاضی نے کہا کہ جب پہلی بار اس کو وجد آیا تو اس کی روح پہلے آسمان تک پہنچی۔ وہاں تک میری رسائی تھی، پکڑ کر واپس لایا ۔ دوسری بار اس کی روح عرش تک پہنچی اور وہاں سے واپس لا یا۔ تیسری بار اس کی روح عرش کے اوپر گئی ، میں جانے لگا تو حاملانِ عرش نے کہا کہ تیری اوقات نہیں ، یہ سلطان جی کا مقام ہے۔ میں تجلیات عرش کے سامنے کھڑا تھا اس بدعتی کے سامنے تھوڑا کھڑا تھا۔ پھر قاضی بیمار ہوگئے ۔ سلطان جی عیادت کیلئے جانے لگے۔ لوگوں نے کہا یہ بر ا بھلا کہتا ہے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ یہ عالم ربانی ہے اس کا یہ منصب ہے کہ مجھے منع کرے۔ حاضری کی اجازت مانگی تو قاضی نے کہا کہ تجھے بدعت سے روکتا رہا۔ اب اپنا چہرہ مت دکھاؤ، ایسا نہ ہو کہ میری عاقبت خراب ہوجائے۔ سلطان جی نے کہا کہ میں اتنا گستاخ نہیں کہ بارگاہ سنت میں بدعت سے ملوث ہوکر آؤں۔ توبہ کرکے آیا ہوں۔ قاضی بڑا خوش ہوا، اپنی دستار دی کہ اس کو بچھاؤ، اس پر چل کر تشریف لائے۔ سلطان نے اپنے سرپر وہ دستار رکھی اور خدمت میں حاضر ہوئے تو قاضی صاحب نے کہا کہ ” آپ وہ لوگ ہو ،جو اپنی نظر کیمیا سے مٹی کو سونا بنادو۔ آپ میری تقدیر پر نظر کرم فرمائیں کہ بری تقدیر اچھی میں بدل جائے ۔ واقعہ پر دیوبندی اور بریلوی خوش ہوںگے لیکن اہل حدیث کہہ سکتے ہیں کہ ولی کا عرش پر چڑھ جانا گستاخی ہے ۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا مقرب بن جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ، جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ (حدیث قدسی) اس حدیث میں اللہ کا اپنے بندوں کے ہاتھ پیر بن جانا بڑی بات ہے۔ قرآن میں ملکہ سبا بلقیس کا تخت کیسے آنکھ پھیرنے کی دیر میں حاضر کیا گیا تھا؟۔
حقیقت یہ ہے کہ مولوی کی شریعت اور صوفی کی طریقت دونوں میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر ہدایت کامل سے دور ہیں۔مستی احوال اور مستی گفتار مسائل کا حل نہیں۔ اگر ملاکی کتابوں سے گمراہانہ معاملات نکالے جائیں تو قیصرو کسریٰ کی سپر طاقتوں کی طرح موجودہ دور میں بھی ہمارا ایک قدم نظام خلافت کے ذریعے سے امت مسلمہ اور دوسرا دنیا کی سپر طاقتوں کے حدود تک پہنچ جائے گا۔
امام ابوحنیفہ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کرکے فقہ کی طرف توجہ کی توپھر فقہاء نے امام ابوحنیفہ کے نام پر علم الکلام کی گمراہی فقہ میں داخل کردی۔ جب یہ عقیدہ پڑھانا شروع کیا کہ قرآن لکھے ہوئے شکل میں اللہ کی کتاب نہیں ہے تو پھر فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ ، فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دے دیا، اہل تصوف سے بڑھ کر اہل فقہ کی گمراہی قابل گرفت ہے۔ امام غزالی فقہ سے توبہ کرکے تصوف میں آئے تو المنقذ من ظلمات الی النور ” اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کے نام پر کتاب لکھ ڈالی”۔ پھر جس فقہ کے اندھیرے سے روشنی کا سفر کیا تھا جس سے مراد تصوف تھا تو اس تصوف میں فقہ کی گمراہیاں بھی ڈال دیں۔ یہ حقیقت تھی کہ شریعت الگ چیز ہے اور تصوف الگ ۔ جو حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ سے ثابت ہے۔ ہمارے ہاں دونوں کو خلط ملط کرکے دونوں میں بڑی گمراہی کا سامان پیدا کیا گیا ہے اسلئے دونوں کی آپس میں بنتی بھی نہیں ہے اور جہاں بنتی ہے تو وہاں زیادہ خرابیاں ہوتی ہے۔ پیسہ ہتھیانے کا چکر بنتا ہے۔
جب قرآن وسنت پر واقعی اعتماد اور بھروسہ ہوگا تو مذہبی جماعتوں کیلئے بھی معاملات آسان ہوں گے۔ کن فیکون ہوگا۔ اس کیلئے اعلیٰ ایمان اور اخلاقیات کی ضرورت ہے۔ بے گناہ لوگوں کو خود کش سے اڑانا اسلام نہیں ۔ اختلاف تو حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ کا بھی داڑھی اور سرکے بال پکڑنے تک پہنچاتھا نبی ۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔ مطلب یہ نہیں کہ خوارج کی طرح حضرت علی و حضرت عثمان پر کفر کافتویٰ لگائیں۔ مفتی تقی عثمانی نے حیلہ سے سود کو اسلامی جواز بخش دیا تو اکابر نے سخت مخالفت کی اور ان کا فتویٰ مدارس اور کتب خانوں میں ہے۔ حدیث میں ائمہ مساجد کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کہا گیا لیکن اس کا مقصد اچھائی کی طرف لانا ہے۔ فتنہ کے وقت میں لڑنے سے بہتر نہ لڑنا ہے ۔ حضرت علی نے بھی خوارج سے کہا تھا کہ ”اگر تم نہیں لڑوگے تو میں بھی نہیں لڑتا ہوں”۔
حضرت عثمانجب شہید کئے گئے تو حسن و حسین نے دروازے پر پہرہ دیا اور محمد بن ابو بکر پیچھے سے دیوار پھلانگ کر داخل ہوا ۔ حضرت عثمان کو داڑھی سے پکڑا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ یہ دیکھ لیتا تو آپ پر خفا ہوتا۔ جس پر محمد بن ابو بکر نے چھوڑ دیا اور پھر دوسرے دو افراد نے شہید کردیا۔ حضرت علی سے حضرت عثمان کی بیگم حضرت نائلہ نے واقعہ بیان کیا کہ ان دو نامعلوم افراد کو نہیں جانتی۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر سے پوچھا تو وہ بھی نہیں جانتے تھے۔
یہ شکر ہے کہ حضرت علی نے مولویوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ عورت کی گواہی حدود میں معتبر نہیں۔ اسلئے اگر قاتلوں کا پتہ بھی چل جائے تو بدلے میں قتل نہیں کرسکتے۔ جب امیر معاویہ نے قاتلین عثمان کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تو خوارج کے سردار ذو الخویصرہ نے 20ہزار افراد کے لشکر کے ساتھ کہا کہ یہ سب قاتلین ہیں۔ جس پر حضرت امیر معاویہ نے مطالبہ ترک کردیا۔ اس وقت سے آج تک اُمت ایک اضطراب کا شکار ہے اور اس اضطراب سے نکلنے کیلئے قرآن کی طرف رجو ع کرنا بہت ضروری ہے۔ جس سے اُمت مسلمہ کے مسائل حل ہوں گے۔
سراج الحق عوامی جلسوں میں کہتا ہے کہ” سود کا ادنیٰ گناہ اپنی ماںکے ساتھ خانہ کعبہ میں36مرتبہ گناہ کے برابر ہے ”۔ اور یہ نہیں سمجھتا کہ سودکو حلال کرنے کی وعید اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ سراج الحق مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ کرتا ہے کہ شرعی عدالت نے سودی نظام کے خلاف فیصلہ دیا،حکومت نافذ نہیں کرتی ۔ انگریز کے خلاف جمعیت علماء ہند نے قربانیاں دیں ۔ جاہلوں نے ان پر قوم پرستی وکفر کا فتویٰ لگایا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی بیگم کی لاش کی بے حرمتی کی گئی کہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا جائے۔صحابہ کی حرمت پر قربانی دینے والے علماء کرام تھے لیکن جماعت اسلامی اپنے ایک رکن کو ایک قرار داد کی وجہ سے کریڈت دیتی ہے۔ قاضی حسین احمدصدر ملی یکجہتی کونسل تھے تو نمائندہ ماہنامہ ضرب حق امین اللہ نے سوال کیا کہ شیعہ کافر ہیں یا مسلمان؟ تو سخت ناراض ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت میں مولانا حق نواز جھنگوی شہید شامل تھے۔ سپاہ صحابہ بدمعاش بن گئی تو مولانا فضل الرحمن نے دہشت گرد قرار دیا ۔مولانا فضل الرحمن معتدل مزاج ہیں ۔عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن صاحب کہنا شروع کردیا جو خوش آئند ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے امریکی جہاد کو شروع سے پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا اور پیسے نہیں کمائے مگر ریاست کو ضرورت پڑگئی تو مجاہدین کا سوتیلا باپ بن گیا۔ مجھ سے زیادہ علماء اور مولانا پر کسی نے تنقید نہیں کی مگر میں ان کو زندہ باد کہتا ہوں ۔ البتہ انقلاب کیلئے مولانا فضل الرحمن اور علماء خود کو تبدیل کریں تو دہشتگردی کی لہر ختم ہوگی۔
مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر ”معارف القرآن” میں غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ مشرک کو قتل کرو اور زکوٰة نہ دینے اور نماز نہ پڑھنے پربھی قتل کا حکم ہے۔ دیوبندی بھی دو فرقوں میں تقسیم ہیں۔ جو سلفی کی طرف رحجان رکھتے ہیں وہ دوسروں کو مشرک سمجھتے ہیں۔ سوات میں طالبان نے بریلوی پیر کو شہید کرکے اس کی لاش بھی چوک پر لٹکادی تھی۔ سلفی گروپ داعش میں ہیں۔داعش عالمی خلافت چاہتا ہے اور طالبان مقامی سطح پر امارت اسلامیہ کے قائل ہیں۔
مفتی منیر شاکر نے کہا کہ میں محمد ۖ کو اسلئے مانتا ہوں کہ اللہ نے کہا ہے۔ میں عبد المطلب ، عبد اللہ اور آمنہ کو نہیں مانتا اسلئے کہ اللہ نے ماننے کیلئے نہیں کہا۔ جس کے جواب میں مفتی گوہر شاہ نے کہا کہ ”بات صحیح ہے لیکن اس سے نبی ۖ کی توہین ہوتی ہے۔ اگر میں کہوں کہ مفتی منیر شاکر کی عزت اسلئے کرتا ہوں کہ وہ عالم ہے اگر وہ عالم نہ ہوتا تو میں اس مینڈک کی طرح شکل کو نہ مانتا تو اس کو کتنا برا لگے گا؟۔ اللہ کیلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کتوں کا رب ہے ، خنزیروں کا رب ہے۔ لیکن یہ توہین ہے حالانکہ کتوں اور خنزیروں کا بھی کوئی اور رب نہیں ۔ اللہ مفتی منیر شاکر کو ہدایت دے ورنہ …”۔ بڑی حکمت عملی کے ساتھ فضاء کو بدلنا ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا ارشد مدنی جمعیت علماء ہند

مولانا ارشد مدنی جمعیت علماء ہند

جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی جو مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے اور جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کے بزرگ ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں کیا فرماتے ہیں ، ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں۔
”جمعیت علماء ہند وہ تنہا جماعت تھی جو لوہے کی طرح پتھر کی چٹان کی طرح تھی۔ ہمارے اکابر تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مدنی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مولانا حفظ الرحمن صاحب۔ ہم سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرو۔ ہم بار بار وعدہ لیتے رہے ہیںکے ملک آزاد ہوگا تو ملک کادستور سیکولر دستور ہوگا۔اگر ملک کی تقسیم کے اوپر دستخط کیے ہیںتم نے دستخط کیے ہیں تم مجرم ہوہم نے تو اپنی پگڑیاں اچھلوائی ہیںاور ٹوپیاں روندوائی ہیںہم اس جرم کے کرنے والے نہیں ہیں۔ شریف لوگ تھے، جمعیت علماء کا کردار ڈیڑھ سو سالہ کردار تھا”۔
مشکل ترین بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ مولانا ارشد مدنی نے بھی باجوڑ دھماکے پر مجھ سے تعزیت کی اور میںنے ان سے پوچھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بزرگوں کے عقائد، نظریات اور منہج پر چلیں گے اور اپنے اکابر کے عقیدے ، نظریے اور منہج کی حفاظت کریں گے تو انہوں نے ہمارے فیصلے کی تائید فرمائی۔ مولانا فضل الرحمن کے اکابر کون کون ہیں ؟۔ شاہ ولی اللہ بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کے مشترکہ تھے۔ ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے مرشد سیداحمد شہید کو خراسان کا مہدی ثابت کرنے کیلئے” منصب امامت” کتاب لکھی اور بالاکوٹ کے مقام پر خلافت کے قیام کی کوشش میں ساتھیوں اور مرشد سمیت شہید ہوئے اور آج تحریک طالبان افغان اور پاکستان اس کی منہج پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ شاہ اسماعیل شہید نے تقلید کو بدعت قرار دیا تھا اور اس کی کتاب کے ترجمہ ” بدعت کی حقیقت ” کی تقریظ مولانا محمد یوسف بنوری نے لکھی ہے۔پہلے اکابر دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید کی تائید میں قرآن وسنت کی تعلیم کو زندہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا پھرمولانا احمد رضا خان بریلوی نے ان پر ”حسام الحرمین” کا فتویٰ لگایا تو اس وقت حرم میں موجودہ وہابی حکومت نہیں تھی۔ توعلماء دیوبند نے تقلید کی تائید اور وہابیت کی تردید میں متفقہ مؤقف پیش کیا، پھر وہابی حکومت اقتدار میں آئی تو عبدالوہاب نجدی اور ابن تیمیہ کو گمراہ قرار دینے کے بعد پھر اکابر کی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ طالبان نے زبردستی داڑھی رکھوانے اور نماز پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا فضل الرحمن اور علماء دیوبند نے نہ صرف ان کی تائید کردی بلکہ ملاعمر کو خراسان کا مہدی بھی قرار دیا۔ پھر امریکہ نے طالبان کی حکومت ختم کردی تو مولانافضل الرحمن نے دہشتگردی پر تحریک طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دے دیا۔ طالبان اور ہندوستان کے درمیان پھنسے ہوئے مولانا فضل الرحمن کواس دلدل سے عزت وسلامتی کے ساتھ نکالنے کی کوشش ہے۔انسان میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن دنیا میں انقلاب برپا کرنے کیلئے خود کو بھی بدلنا پڑتا ہے اور خود کی تبدیلی سے چار سو میں تبدیلی آسکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مغرب نے کلمہ نہیں پڑھاہے باقی انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہوا ہے مفتی منیر شاکر کا پیغام

مغرب نے کلمہ نہیں پڑھاہے باقی انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہوا ہے مفتی منیر شاکر کا پیغام

مغرب نے نصاریٰ کے مسخ شدہ مذاہب کوچرچ تک محدود کردیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے معاشرتی معاملات کے حقوق اور قوانین کا تعین کردیا، آج ہم یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر ہیں؟

نکاح و طلاق ، خلع ، حق مہر ، عورت کے حقوق اور دیگر معاملات میں مسلمانوں نے بھی قرآن سے معنوی انحراف کرکے یہودونصاریٰ کی طرح دین کو مسخ کرکے رکھ دیا ،ہمیںاصلاح کرنا ہوگی

مفتی منیر شاکر سے معروف شاعر ، کالم نگار اور ایک متحرک تاریخی وبیباک شخصیت مردان کے شعیب صادق نے اپنے ساتھیوں سمیت ملاقات کی ہے۔ درسِ نظامی کی اصول فقہ میں یہ حنفی مؤقف پڑھایا جاتا ہے کہ شریعت کے دلائل چار ہیں۔ نمبر1: قرآن : جس سے مراد پانچ سو آیات ہیں جو شرعی احکام سے متعلق ہیں۔ باقی قرآن انبیاء اور دوسرے حضرات کے قصے اور مواعظ ہے۔
لیکن افسوس کہ علماء نے ان500قرآنی آیات کی نشاندہی نہیں کی بلکہ یہ کام کیا ہے کہ نبی کریم ۖ کی حدیث صحیح بھی ہے ، جمہور مسلک کے مطابق بھی ہے لیکن حنفی اس کو قرآن کے منافی سمجھتے ہیں اسلئے یہ حدیث کو نہیں مانتے۔ نتیجے میں جمہور فقہاء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ کی سخت مخالفت کی ہے۔ پورے فقہ میں نہ قرآنی آیات کی نشاندہی ہے اور نہ احادیث صحیحہ کی۔ حالانکہ یہ پڑھایا جاتا ہے کہ دوسری دلیل سنت ہے۔ ذخیرۂ احادیث تو بڑی بات علماء و مفتیان چیدہ چید ہ احادیث کا بھی ادراک نہیں رکھتے۔حنفی مسلک احادیث کے خلاف محاذآرائی کا نام ہے۔ اس وجہ سے امت مسلمہ گمراہی سے محفوظ ہے اسلئے کہ احادیث کے نام پر قرآن کے بھی خلاف مواد ہے۔ البتہ علماء ان کو عوام کے سامنے لانے سے تقیہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مذہبی طبقہ قرآن وسنت سے بالکل جاہل ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں معتبر شخصیت مولانا بدیع الزمان کی تھی۔ ہم نے آپ سے اصول فقہ کی کتابیں”اصول الشاشی” اور” نورالانوار” پڑھی تھیں۔ عربی میں گوشت کو لحم کہا جاتا ہے اور قرآن میں مچھلی کو لحمًا طرےًا ”تازہ گوشت ”قراردیا گیا ہے۔ حنفی مسلک میں مچھلی گوشت نہیں ہے اسلئے کہ اس میں خون نہیں ہوتا اور جس میں خون نہ ہو تو وہ گوشت نہیں ہے۔ اگرحنفی مسلک کو قرآن ، سنت ، عقل اور فطرت کے خلاف ثابت کیا جائے تو چھوڑدیا جائے گا۔
اگر ہم یہ مان لیتے ہیں تو قرآن میں تازہ گوشت سے بدنما دریائی گھوڑا مراد ہے؟۔ حالانکہ مانتے ہیں کہ قرآن میں تازہ گوشت سے مراد مچھلی ہے۔ اور مچھلی میں خون ہوتا ہے۔ اصولِ فقہ میں ایک اور مسئلہ پڑھایا جاتا ہے کہ سمندری انسان بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے شادی کرنا جائز نہیں ہے ۔ مولانا بدیع الزمان نے بتایا تھا کہ سمندر کے کنارے پر کسی نے سمندری عورت پکڑلی تھی اور پھر اس سے چھوٹ گئی تھی اور ایک سمندری مرد بھی نکلا تھا۔ جب ایک طرح کے انسانوں سے شادی جائز نہیں تو حور کی جنس بھی الگ ہوگی؟۔ اس سے شادی تو بہت دور کی بات ہے کیا جنسی تعلق قائم کیا جاسکتا ہے؟۔ عربی میں موصوف مقدم اور پھر صفات آتی ہیں۔ قرآن میں باغات موصوف اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ گویا ہیرے و مرجان ہیں۔ سورۂ رحمان میں ومن دونھما جنتان”اور اس کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے”۔ اس میں ایک دنیاوی انقلاب کا ذکر ہے اور دنیا میں الگ الگ اقسام کے دو دو باغات مراد ہیں۔
قرآن کی سورہ محمد ۖ میں ہے کہ ” جنگ میں قید ہونے والوں کو احسان کیساتھ رہا کرو یا فدیہ سے”۔ جس سے دنیا کو یہ اصول دیا گیا ہے کہ جنگ میں قید ہونے پر بھی کسی عورت کو لونڈی اور مرد کو غلام یا قتل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ طویل قید میں بھی نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ تیسرا یہ کہ اس پرذہنی اور جسمانی تشدد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جیسے گوانتا ناموبے میں امریکہ نے کیا اور ڈاکٹر عافیہ کو لمبی سزا دی۔
قرآن میںدو دو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے ۔ عدل نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا جن سے ایگریمنٹ ہو۔ یہ غلط سمجھ لیا گیا ہے کہ اس سے مراد لاتعداد لونڈیاں ہیں ،اگر چہ لونڈی وغلام کی ذاتی ملکیت ختم کرکے ان کی حیثیت بھی ایگریمنٹ یا گروی کی کردی تھی لیکن یہاں مرادمتعہ ہے۔ جب صحابہ نے نبی ۖ سے پوچھا کہ کیا ہم خود کو خصی نہ بنالیں تو نبی ۖ نے متعہ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ فرمایا کہ لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبٰت ”حرام نہ کرو جو اللہ نے پاک چیزوں کو تمہارے لئے حلال کیا” ۔
مولانا طارق جمیل نے حوروں کی خواہش میں جن لوگوں کو ڈال دیا وہ تبلیغی جماعت سے جہادی بن گئے اور خود کش کرنے لگے۔ اگر حلالہ کی لعنت کو دیکھا جائے تو کس کو اللہ کے اس حکم میں کامیابی کا یقین آئے گا؟۔ مولانا الیاس نے فضائل کے ذریعے قوم کو علماء ومشائخ کی طرف متوجہ کیا لیکن جو خود نہ ہوں ہدایت پر تو دوسروں کو… ؟۔ صحابہ کے بارے میں ٹھیک کہا کہ خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے ،کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحاکردیا۔قرآن وسنت کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ دین فطرت اسلام کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہر دہشتگرد مسلمان کیوں ہوتا ہے ؟ہندولڑکی

ہر دہشتگرد مسلمان کیوں ہوتا ہے ؟ہندولڑکی

اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا؟۔ بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا؟۔ مسلمان عالم

ہندو لڑکی : اچھا ٹھیک یہ آپ مانتے ہیںکہ سارے مسلمان پاکستانی سوچ نہیں رکھتے ہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں؟۔
مہمان عالم دین کاجواب: مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا کیا؟، دلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹی گئیں کیا وہ مسلمان تھے؟،گجرات کے گلی کوچوں میں جن لوگوں کو مارا گیا اور جن کو بے گھر کیا گیا کیا وہ مسلمان تھے؟۔ میری بہن میں آپ سے گزارش کررہا ہوں کہ آپ ایسا مت سوچیں۔ میںآپ کو صرف اتنی بات کہنا چاہ رہا ہوں کہ برائی برائی ہوتی ہے، اس کو آپ مذہب کے اینگل سے نہ دیکھیں، یہ موئز ان سے مسلمانوں کا کیا تعلق؟، موئزن سے ہمارا کیا تعلق؟ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں، مذمت کرنا چاہیے ۔
میزبان: میں آپ کی اس بات سے بالکل متفق ہوں۔ جو دہشتگرد ہے وہ نا ہندو ہوتا ہے نا مسلمان ہوتا ہے۔ بلکہ دہشت گردی خود ایک مذہب بن گیا ہے اب۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اگر وہ ذہنی مریض ہے تویہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟

اگر وہ ذہنی مریض ہے تویہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟

میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ اب ان خاتون کو پاگل ثابت کیا جائے گا۔ میرے سوالات ہیں کہ اگر وہ ذہنی مریض ہیں تو انہوں نے یہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ اور جج صاحب کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ یہی سلوک جس سکول میں پڑھاتی ہیں ان سکول کے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ اڑوس پڑوس کے بچے ان کی ذہنی بیماری سے کیسے محفوظ رہے؟ اگر وہ ذہنی مریض ہے تو جج صاحب آپ نے ان کو پاگل خانے کیوں نہ بھیجا؟ جب آپ لوگ اس کو گھر میں قید کرکے جارہے تھے اس وقت آپ کے ہوش کدھر تھے جج صاحب؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv