پوسٹ تلاش کریں

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے عمران خان کی طرح تمام سول و ملٹری بیوروکریٹس اور سیاسی و غیر سیاسی رہنماؤں کو توشہ خانہ میں دھر لیا جائے ،جرمانہ وصول کیا جائے

ہم اپنوں اور پوری دنیا کو یہ بتادیں کہ اسلام نے انسانیت کو دورِ جاہلیت سے نکال کر کیا کیا تحائف دیے ہیں اور اپنی جہالت سے پھر کس طرح قرآن کی معنوی تحریف کا شکار ہوئے؟

جب امریکہ میں9/11کا واقعہ ہوا تو افغانستان کا کیا حال کردیا گیا؟۔ قندھار امریکی ائیر بیس سے گوانتا نامو بے تک کی داستانیں افغانستان کے سفیر مُلا عبد السلام ضعیف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ ان گنت داستانیں ہیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ پھرعراق اور لیبیا کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ پاکستان میں خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سمیت تسلسل کے ساتھ چھوٹے بڑے واقعات ہوئے، سانحہ باجوڑ بھی اس تسلسل کا ایک حصہ ہے، اس کے بعد بھی خودکش دھماکوں کو کنٹرول کرنا افغانستان اور پاکستان کے بس کی بات نہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو پاکستان میں علماء قرآنی آیت پڑھتے تھے کہ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الملآ ئکةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ(الانفال:12)
ترجمہ: ”جب آپ کے رب نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنیں مارو اورہر جوڑ پر ضرب لگاؤ”۔
جب تلواروں کی جنگ ہو تو کارگر ضرب گردن پر ہوتی ہے لیکن کبھی گردن کا موقع نہیں ملتا تو کسی جگہ پر بھی ضرب لگا کر دشمن پر تسلط حاصل کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ علماء اور خطیبوں نے منبروں پر یہ کرنا شروع کردیا کہ ”کافروں کی گردنیں مارو اور ان کو ہر ہر جوڑ پر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کردو”۔ جنوبی وزیرستان علاقہ محسود میں پہلا گروپ عبد اللہ محسود کا تھا جو گوانتا ناموبے سے رہا ہوگیا تھا۔ دوسرا بیت اللہ محسود کا تھا جس کا گھر بار بنوں میں تھا اور وزیرستان کی سرزمین پر اس کی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وزیرعلاقہ میں پہلے سے طالبان کے گروپ موجود تھے جن میں جنوبی وزیرستان کے نیک محمد اور شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مشہور تھے۔ شمالی وزیرستان میں مشہور بدمعاشوں کو طالبان نے کھمبوں پر لٹکایا تو عوام بڑی خوش ہوئی۔ طالبان کو عوام میں ہر جگہ زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ جتنے بدمعاش غنڈے تھے وہ بھی طالبان بن گئے۔ کمزور اور غریب طبقہ بھی طالبان بن گیا۔ سب سے زیادہ طالبان کا گڑھ وزیرستان کا محسود علاقہ بن گیا۔ وزیر علاقے سے جو ازبک وغیرہ بے دخل کئے گئے تھے وہ بھی محسود علاقے میں کیمپ لگاکر آباد ہوئے تھے۔
ایک مرتبہ ازبک اور مقامی طالبان کے کیمپ قریب قریب تھے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی طالبان پر بمباری کی گئی جس میں ہمارے اسکول کبیر پبلک اکیڈمی کا ایک برکی طالب علم شہید اور ایک اُستادزخمی ہوئے۔ جان محمد اورکزئی گورنر نے محسود قبائل کو پشاور گورنر ہاؤس طلب کیا اور ان کو پوری تفصیل بتائی کہ کس طرح ازبک محسود ایریا میں گئے اور کس کس نے کہاں کہاں ان کو ٹھہرایا تھا؟ جس پر جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ صاحب! میں معافی چاہتا ہوں جتنی تفصیل آپ کو معلوم ہے اتنی ہمیں پتہ نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپ نے ازبک کے کیمپ کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟۔ جس پر جنرل اورکزئی نے کہا کہ اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ یہ کرتا۔ یہ تسلی بخش جواب نہ تھا لیکن طاقتور کے سامنے کون بول سکتا تھا؟۔
باجوڑ واقعہ کے بعد سابق سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ قریشی سے شیر عالم برکی نے تفصیل سے انٹرویو لیا ہے جس کی کچھ معلومات عوام اور بااثر طبقات تک پہنچ جائیں تو مفید ہوگا۔ انگریز دور میں کچھ قبائلی سرکاری ملکان کو مراعات ملتی تھیں۔ ماہانہ2روپے ،5روپے ،50روپے،120روپے وغیرہ جن جن افراد کو ملتے تھے تو انگریز دور میں ان کیلئے یہ بہت بڑا اثاثہ ہوتا ہوگا۔ جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو بھی کافی عرصہ تک برطانیہ سے انگریز سرکار کے دُرِ یتیموں کو وظیفہ ملتا تھا۔ پھر آزادی کے بعد پاکستان نے بھی ان ملکان میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ قبائلی علاقوں پر سرکار کا جتنا خرچہ ہوتا تھا اس میں ملکان کے پیسے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے لیکن انگریز کے نمک خوار کے نام سے بدنام ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو سینیٹر صالح شاہ کیلئے6ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کرکے پورے قبائل کا گرینڈ چیف بنادیا۔ امریکہ سے عبوری وزیر اعظم معین قریشی آئے تھے تو قبائل میں بھی قومی اسمبلی کے ممبر وں کیلئے سرکاری ملکان کی جگہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کردیا تھا۔ پہلے جنوبی وزیرستان میں1300ملکان کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔ جس میں ملکان کی اکثریت ووٹ بیچتے تھے۔جس طرح آج ٹانک میں بعض لوگوں نے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے بھی فیس رکھی ہے اسی طرح ملکان بھی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے کبھی دستخط کرتے تھے اور بعض اس پر مفاد بھی اٹھاتے ہوں گے۔ جب طالبان نے چندوں اور مالی مفادات کا مزہ چکھ لیا تو وہ بھی دیوانے ہوگئے۔ کئی کتابوں کے مصنف اسماعیل ساگر جس نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ویلاگ بھی کئے ۔ اس نے بتایا کہ پنڈی کے قریب بلیک واٹر نے بڑے پیمانے پر فوج اور پولیس سے نکالے گئے بدمعاش بھرتی کئے تھے اور اربوں روپے قبائل میں خرچ کئے۔
جب9/11کا واقعہ ہوا تو ہم نے ماہنامہ ضرب حق کا خصوصی شمارہ نکالا تھا اور اس میں بنوں کے ایک جوان حبیب اللہ کے خواب کی بڑی سرخی لگائی تھی۔ جس میں نبی کریم ۖ نے فرمایا تھا کہ” اللہ امریکہ کو تباہ کردے”۔ پہلے اس کو وہاں کے مذہبی طبقے نے تنگ کیا کہ تم شہرت چاہتے ہو پھر بڑے بالوں والے اٹھاکر لے گئے اور کہا کہ اگرپھر زبان کھولی تو پھر نظر نہیں آؤ گے۔ ہمیں یہ معمہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک خواب میں کونسا ایسا جرم ہے کہ اس بیچارے کو دھمکیاں دی گئیں۔ جب اسماعیل ساگر نے کہا کہ میں پہلے ڈر کے مارے بتا نہیں سکتا تھا اسلئے کہ حالات بہت مشکل تھے تو ہم سمجھے کہ یہ کرایہ دار افراد کی کاروائی ہوسکتی ہے لیکن پھر جب مُلا ضعیف کی روداد یوٹیوب پر دیکھی تو سمجھا کہ یہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے ہمیں امریکیوں کی دسترس سے بچایا ہو۔
سینیٹر صالح شاہ کا یہ انٹرویو مکمل اردو ترجمے کے ساتھ تمام میڈیا چینلوں پر نشر ہونا چاہیے اسلئے کہ ایک تو انہوں نے اپیل کی ہے کہ عوام تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ دوسرا یہ کہ جنرل فیض حمید نے جن قبائلی رہنماؤں کو افغانستان بھیج کر تحریک طالبان سے صلح کی کوشش کی تھی اس میں اس کا مکمل احوال ہے۔ ایک تو جنرل فیض حمید نے سرکاری ملکان کے معطل شدہ وظائف کو دوبارہ جاری کردیا تھا جو انضمام کے بعد ختم کئے گئے تھے۔ دوسرا یہ کہ پہلے یہ مذاکرات طالبان حکومت سے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہوئے تھے اور پھر جب بقول مولانا صالح شاہ کے جب ہم نے پاکستانی طالبان سے براہ راست رابطہ کیا تو افغان طالبان ناراض ہوگئے کہ تم نے براہ راست بات کیوں کی؟۔ جس سے یہ اعتراض بالکل لغو بن جاتا ہے کہ پاکستان کو افغان حکومت سے ہی براہ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ ایک طرف پاکستانی یہ چاہتے تھے تو دوسری طرف افغان طالبان کی بھی یہی خواہش تھی۔ تیسرا یہ کہ تحریک طالبان پاکستان سے یہ طے ہوگیا تھا کہ اگر قبائل کی اکثریت دوبارہ انضمام چاہتی ہو تو ان کا مطالبہ مان لیا جائے گا اور اگر وہ انضمام نہ چاہتے ہوں تو وہ اکثریت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ لیکن اس دوران جنرل فیض حمید کو تبدیل کردیا گیا اور بات ادھوری رہ گئی۔
مولانا صالح شاہ قریشی نے یہ بھی بتایا کہ جو قبائل پہلے انضمام کے حق میں تھے وہ بھی اب مخالف ہوگئے ہیں۔ قبائلی عوام بھی امن چاہتے ہیں اور فوجی بھی امن چاہتے ہیں لیکن وہاں امن ہے نہیں۔ کتے اتنے بڑھ گئے ہیں جو جانوروں کو کھاجاتے ہیں۔ ایک ایک آدمی کے کئی کئی جانور کھاکر کتوں نے عوام سے ان کا روزگار چھین لیا ہے لیکن سرکار نہ کتوں کو خود مارتی ہے اور نہ عوام کو مارنے کی اجازت دیتی ہے۔ خنزیر بہت زیادہ ہوگئے ہیں جو فصلوں کو تباہ کرتے ہیں جہاں گھاس میں خنزیر لوٹیاں لگاتے ہیں تو اس کو بدبو کی وجہ سے جانور نہیں کھاتے۔ عام آدمی کو پستول رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو بھاری اسلحوں سے ایک دوسرے کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پر حکومت کی طرف سے پابندی کیوں نہیں لگتی؟۔ وزیر ، سلمان خیل اور دوتانی قبائل میں وانہ کے قریب بڑی لڑائی ہوئی، اس طرح شکئی اور شکتوئی میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ جب فوجی اور طالبان ایک دوسرے پر فائر کھولتے ہیں تو بھی عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اتنے آپریشنوں کے باوجود آج تک امن نہیں آسکا اور ہمیں 7سالوں تک مہاجر بنادیا گیا تھا۔ ہم بنوں ، پنجاب، ژوب، سندھ اور مختلف علاقوں میں پناہ گزینی کی زندگی بھی گزار چکے ہیں اور بدامنی کی وجہ سے اکثریت ہمارے علاقے کی طرف اپنی آبادی آج بھی رُخ نہیں کرتی ہے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ بدامنی سندھ ، کراچی، بلوچستان، بنوں اور پنجاب ہر کہیں پر ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کون لوگ محفوظ ہیں؟۔ لیکن لوگ رہتے ہیں۔ کل بھی لکی مروت میں ایک بندے کو قتل کردیا گیا تو کیا لوگ اپنا وطن چھوڑ دیں؟۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنا علاقہ آباد کریں گے تو امن آئے گا۔
لطیفے کی بات یہ ہے کہ مولانا صالح شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کو انگریز نے وظائف دئیے تھے وہ کہتے ہیں کہ تم کونسا انگریز کا سر قلم کرکے لائے ہو جو اتنی بڑی ملکی مل گئی؟۔دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ کونسے انگریز کے سر قلم کرکے لائے تھے جن کو یہ اعزاز دیا گیا؟ ۔ حالانکہ یہ اعزازات سرکار کی وفاداری میں دئیے گئے ہیں۔ انگریز کے سر لانے والوں کو کیوں اعزاز ملتا؟۔
تحریک طالبان پاکستان نے امریکہ کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں ان کے افغان طالبان معترف ہوں گے۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے جو دشمنیاں اپنوں سے مول لی ہیں وہ بھی خطرناک ہیں۔ بیت اللہ محسود اور عبد اللہ محسود گروپوں نے بھی ایک دوسرے کیخلاف کاروائیاں کی ہیں۔ ہم نے بھی تجویز پیش کی تھی کہ ان سے مذاکرات کرکے پاکستان میں آباد کیا جائے۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیںجنہوں نے ایمانی جذبے کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف جہاد کیا اور اب اس ماحول میں بہت پکے ہوگئے ہیں۔ مفتی عبد الرحیم اور جنرل سید عاصم منیر نے ان کو خوارج قرار دیا ہے لیکن ان کو خوارج بنانے والے کون ہیں؟۔ ایک دن میں یہ لوگ من و سلویٰ کی طرح آسمان سے زمین پر نہیں اترے ہیں بلکہ20سال میں نوزائدہ بچے بھی جوان ہوجاتے ہیں۔ افغانستان میں داعش ، تحریک طالبان پاکستان ، حقانی نیٹ ورک ، ملا یعقوب اور دوسرے افراد کے درمیان اس سے زیادہ بد اعتمادی کی اطلاع ہے جو پاکستان کی فوج اور سیاستدانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس طرح شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے درمیان پاکستان میں بھی منافرت کی ایک فضاء ہے۔ اگر ہم سب نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو یہ خطہ پھر آگ اُگل سکتا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرے گا اور افغان طالبان ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ رہے ہوں گے۔
پاکستان میں جب بد امنی کی فضاء تھی تو سرکاری گاڑیوں پر نمبر پلیٹ تک نہیں لگائے جاتے تھے۔ پہلے سے زیادہ سیاسی عدم استحکام اب پیدا ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پارٹیوں عمران خان اور ن لیگ کے درمیان دشمنی کی فضاء ہے۔ مریم نواز کافی عرصے سے خاموش تھی اور اب سوشل میڈیا پرعمران خان کو سزا دینے والے جج ہمایوں دلاور کی ایک ویڈیو کسی نامعلوم عورت کے ساتھ وائرل ہوئی ہے، اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ویڈیو بھی بہت ہلکے انداز میں وائرل ہوئی تھی جس میں خاتون کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن جنرل باجوہ کی تصویر واضح تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک جج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گہری سازشیں چل رہی ہیں۔
قرآن میں سورہ یوسف کو احسن القصص قرار دیا گیا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی عام بدچلن نہیں تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی ایک تو پیغمبر تھے اور دوسرا انہوں نے فرمایا :”میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا بیشک نفس سرکشی کی طرف لے جاتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے”۔ (تیرہواں پارہ) ۔
تحریک انصاف اور ن لیگ کے زرخرید افراد ایک دوسرے کو ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ویڈیوز بھی لیک ہوجاتی تھیں۔ جس سے پورا ملک بداعتمادی کی فضاؤں میں لٹک گیا۔ اب بھی پتہ نہیں کیا کیا ہے اور کس کس کی کیا کیا ویڈیو آئے گی؟۔ بلیک میلنگ کے ذریعے سے ملک میں استحکام نہیں آسکتا بلکہ فحاشی و عریانی اور بد اعتمادی کی فضائیں ملک و قوم میں بنتی ہیں۔
ہم نے اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں بہت مضبوط دلائل دئیے ہیں کہ اللہ نے قرآن کے ذریعے انسانیت کو کیا کیادیا تھا اور ہم نے کیا کیا کھویا ہے؟۔
1:سورہ محمدۖ میں ہے کہ جنگی قیدیوں کو احسان کرکے بھی آزاد کرسکتے ہیں اور فدیہ لے کر بھی آزاد کرسکتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن نے جنگ میں قید ہونے والے کسی بھی فرد کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور لمبے عرصے تک قید کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں پر ہاتھ بھی مت اٹھاؤ تو ان کو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
جب عیسائیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے فتح کیا تو مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، ان کی عزتیں لوٹی گئیں اور مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تو عیسائیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نہیں کیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی عورت کی عزت لوٹی گئی۔ صرف فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جن کے پاس فدیہ دینے کیلئے کچھ نہیں تھا تو ان کو بغیر فدیہ احسان کیساتھ چھوڑ دیا اور قرآن پر من و عن عمل کیا۔ آج مغرب کے عیسائی صلاح الدین ایوبی کو بہت اچھے حکمران کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ” اے بنی اسرائیل ! یاد کرو جب آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کی عزتیں لوٹتے تھے”۔(القرآن)۔ جب آل فرعون بھی نبی اسرائیل کو لونڈیاں بناتے تھے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کوآل فرعون کی جگہ لوگوں پر لونڈیاں بنانے کیلئے مسلط کیا ہو؟۔
جب روس نے کمیونزم اور سوشلزم کے ذریعے سے انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کا پروگرام دیا تو اللہ نے روس کو سپر طاقت بنادیا۔ اسی طرح جب امریکہ نے اپنے ملک میں غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی تو اللہ تعالیٰ نے امریکہ کو بھی سپر طاقت بنادیا۔ اگر مسلمان بھی یہ طے کرلیں کہ دنیا کو غلامی سے آزادی دلانی ہے تو پھر ان کو بھی دنیا کی خلافت مل سکتی ہے۔
2: قرآن میں بیوی کا حق مہر شوہر کی استطاعت کے مطابق ہے لیکن قرآنی الفاظ پر علماء و فقہاء نے توجہ نہیں دی ہے۔ اگر شوہر ارب پتی ہے یا کروڑ پتی ہے یا لکھ پتی ہے یا پھر ہزار اور بالکل بھی حق مہر کی صلاحیت سے محروم ہے تو عورت بھی اس پر راضی ہوجائے تو حرج نہیں ہے۔ عورت کی شوہر کی طرف نسبت میں بھی اتنی اہمیت ہے کہ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے بھی طلاق دی جائے تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف اور اگر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق دینا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر عورت نصف سے کم پر بھی راضی ہو تو ٹھیک ہے اور مرد نصف سے زیادہ بھی دے تو ٹھیک ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ نصف سے زیادہ دے اور ایکدوسرے پر فضل نہ بھولو۔
قرآن میں چونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کا مسئلہ ہے اور طلاق شوہر ہی کی طرف سے ہوتی ہے اسلئے یہ واضح کردیا کہ جب شوہر چھوڑنا چاہتا ہے جس کے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے تو اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔
نادان فقہاء نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کا حق خلع اس وقت ہے جب مردخلع دینے پر راضی ہو۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے غیر فطری فقہی مسائل نے جنم لیا ہے کہ جب مرد تین طلاق دے پھر اس سے مکر جائے اور عورت کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور خلع بھی عورت کو نہ ملے تو عورت اپنے شوہر کے ساتھ حرامکاری پر مجبور ہوگی۔
حالانکہ اسلام ایسی جہالت کے تصور کا بھی قائل نہیں ہے۔ سورہ نساء آیت 19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ جو چیزیں بھی شوہر نے دی ہیں اور وہ لے جانے والی ہیں جیسے کپڑے ، چپل، زیور، نقدی، گاڑی اور تمام منقولہ دی ہوئی اشیاء بھی ساتھ لے جاسکتی ہے۔ ان میں بعض چیزیں بھی شوہر واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ مگر عورت کھلی فحاشی کرے تو ۔ اور عورت چھوڑ کر جارہی ہو تو بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ اگر وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اللہ اس میں بہت سارا خیر پیدا کرے۔ آیت19النساء کو عوام و خواص اچھی طرح سے تدبر سے دیکھیں۔
پھر آیت20اور21النساء میں شوہر کے طلاق کا ذکر ہے۔ جس میں جتنی بھی چیزیں دی ہیں منقولہ و غیر منقولہ اشیاء مکان ، دوکان، پلاٹ، زمین، باغ، فیکٹری اورمل سب کی سب طلاق شدہ بیوی کی ملکیت ہوں گی بھلے خزانے دئیے ہوں۔ خلع اور طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس پر خود بخود خلع کا اطلاق ہوگا۔ اور اس کو خلع کے حقوق ملیں گے۔ اگر اس کے پاس گواہ ہوں گے تو طلاق کے حقوق ملیں گے۔
جب خلع و طلاق کے حقوق کا مسئلہ سمجھ میں آجائے تو پھر طلاق کی حساسیت بھی سمجھ میں آئے گی۔ طلاق کیلئے اشارہ کنایہ اور صریح الفاظ کے تمام ابحاث اس وقت کارآمد ہونگے جب خلع و طلاق کے حقوق کا پتہ چلے گا۔ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بار بار صلح و اصلاح،باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر طلاق کے بعد رجوع کی اجازت دی ہے۔ جب میاں بیوی رجوع کیلئے راضی ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ نہیں ہوگا رجوع نہیں ہوسکتا تو یہ اتنی بڑی خباثت ہے کہ امریکہ نے جتنے مظالم مسلمانوں پر کئے ہیں اس سے زیادہ حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی اس پر بھاری ہے۔ ہم نے اس پر اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں ہر طرح کے دلائل دئیے ہیں لیکن مولوی غیرت نہیں کھاتا ہے۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ”قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے ”۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)قرآن میں معنوی تحریف کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ خلع کیلئے سورہ نساء کی آیت19کے بجائے سورہ بقرہ کی آیت229سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں2مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ اللہ نے آیت229البقرہ میں پہلے3مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے نبی ۖ نے فرمایا کہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔ جس کو دیوبندی مکتبہ فکر کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے اُستاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح بخاری” اور بریلوی مکتبہ فکر کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے اُستاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ہے۔
آیت229میں3طلاق کے بعد عورت کے حق کا ذکر ہے کہ دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اگر وہ دی ہوئی چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں رابطے کا ذریعہ بنے گی اور اس کی وجہ سے دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر اس کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب دونوں نے اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ طے کیا ہے کہ اب صلح نہیں ہوگی تو پھر دنیا میں مرد کی غیرت بھی کارفرما ہوتی ہے اور طلاق کے بعد بھی دوسرے شوہر سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر طلاق ہوجائے تو اس سے نکاح کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ آیت230البقرہ۔
جب اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے اور اس کے بعد کی آیات میں بھی معروف اور صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے تو حلالے کاجاہلانہ تصور بالکل باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جہالت اور خواہشات کا خبط سوار ہوجائے تو لوگ عزت کو لوٹنے اور لٹانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور ایسا اسلام کس کو قبول ہوگا؟۔
3: جس طرح نکاح میں حق مہر ایک اعزازی چیز ہے جو اگر بیوی شوہر کو بھی دے تو وہ خوشی خوشی اس میں سے کھاسکتا ہے۔ اگر نکاح و طلاق کا اسلامی قانون دنیا کے سامنے آجائے تو پوری دنیا کی خواتین اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی۔ آج عرب بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر اس کا مال کھاتے ہیں اور پختون جنہوں نے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہے وہ بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر مال کھاتے ہیں تو پھر دہشت گردی سے اسلام نہیں آسکتا۔ ہماری حکومت ، قبائلی عمائدین ، علماء اور تعلیم یافتہ طبقے سے اپیل ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے صف اول کا کردار ادا کریں اور اس میں وہ دوسروں کے محتاج نہیں آگاہی کا اعلان کریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ سنی اتحاد، امت کا مفاد، جہالت کیخلاف جہاد ،علم خاتمۂ فساد؟اسلام آباد شیطان برباد!

شیعہ سنی اتحاد، امت کا مفاد، جہالت کیخلاف جہاد ،علم خاتمۂ فساد؟اسلام آباد شیطان برباد!

انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی فضل ہمدرد کا تعلق اہل تشیع نہیں اہل سنت سے ہے لیکن فضائل اہل بیت کے حوالے سے احادیث بیان کرنے کی وجہ سے ان کو کچھ لوگ صحابہ کرام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ انجینئر محمد علی مرزا اکابر صحابہ کرام کا دفاع کرتا ہے لیکن بنوامیہ اور حضرت امیر معاویہ کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور مفتی فضل ہمدرد انجینئر محمد علی مرزا سے کافی آگے جاچکے ہیں۔ بس اس کا شیعہ ہونے کا اعلان باقی رہ گیا ہے۔ وہ بھی شاید مصلحت کی وجہ سے نہیں کررہاہے۔
جہاں اتنے سارے شیعہ حضرات دنیا میں بستے ہیں وہاں اہل سنت کے چند حضرات کا دلائل کی بنیاد پر اپنے مؤقف کا اظہار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صحافی ارشاد عارف کا ایک بھائی سید خورشید گیلانی بہت باصلاحیت لکھاری تھے مگر شاید ایرانی امداد نے ان کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کے بعد بھی کوئی کارنامہ انجام دینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ جب آدمی بھاڑہ لیتا ہے تو وہ مشن کا امین نہیں بلکہ نوکر پیشہ بن جاتا ہے۔ اسلئے سارے انبیاء کرام نے اپنے مشن پر کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ نبی ۖ کے حوالہ سے ایک غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے۔
قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودوة فی القربیٰ ” کہہ دیجئے میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت داری کی محبت” یہ آیت مکی ہے اور مخاطب کفارقریش مکہ ہیں۔قرابت کی محبت کسی معاوضہ کے نتیجے میں نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک فطری چیز ہے، والدین ، بچوں، بھائی ، بہن ، عزیز واقارب، اپنی قوم ، زبان اور علاقہ کے لوگوں سے محبت میں معاوضے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور اگر اہل مکہ کے کفار کو اسکا لحاظ نہ ہوتا تو کب سے اپنا اقدام اٹھا چکے ہوتے؟۔
جب انہوں نے شعب ابی طالب کا بائیکاٹ کیا تو یہ بھی قرابت کا لحاظ ہی تھا لیکن درجہ بہ درجہ وہ فطری قرابتداری کا لحاظ بھی کھوتے جارہے تھے جس پر اللہ نے ان کو تنبیہ کردی کہ اس کا لحاظ رکھو۔نبی ۖ نے مکہ فتح کیا تو حضرت یوسف کے بھائیوں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں ہے ، تم آزاد ہو۔ یوسف کے بھائیوں نے بھی قرابت کا پاس رکھتے ہوئے قتل نہیں کیا تھا۔اس لحاظ کو بے لوث محبت کہتے ہیں ۔یہ کوئی معاوضہ نہیں ہوتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے مکی آیت سے متعلق احادیث پر سوالیہ نشان اٹھا دیا کہ جب حضرت علی ، حضرت فاطمہ کے رشتے اور حضرت حسن و حضرت حسین کی بات نہیں تھی جبکہ احادیث صحیحہ میں اہل بیت کی بڑی فضیلت ہے۔اہل سنت کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں اور وہ صرف نظر یاتأویلات کرتے رہتے ہیں۔
بلاشبہ نہیں نبی ۖ کے وصال کے بعد انصار ومہاجرین نے مسئلہ خلافت پر اختلاف کیا تھا۔ حضرت ابوبکر نے حدیث پیش کی کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔ لیکن انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم سے ہو اور ایک آپ میں سے۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ دو امیر سے فتنہ وفساد ہوگا۔ آخرکار حضرت ابوبکر پر جمہور کا اتفاق ہوگیا لیکن حضرت سعد بن عبادہ تادم حیات ناراض تھے۔ ہوسکتا ہے اور بھی بہت سارے لوگ ہوں۔ حضرت علی کے بارے میں بھی چھ ماہ تک ناراض رہنے کی روایت اہل سنت کے ہاں ہے۔ بہرحال خلافت کا گھمبیر مسئلہ بن گیا تھا۔
جس طرح قرابتداری کی محبت کے اولین مخاطب مشرکینِ مکہ تھے، اسی طرح یریداللہ لیذھب عنکم رجسا اہل بیت ویطھرکم تطہیرًا ” اللہ کا ارادہ ہے کہ آپ سے گند کو دور کردے ،اے اہل بیت اور تمہیں پاک کردے”۔ کے اولین مخاطب نبی ۖ کی ازواج مطہرات ہیں۔ سورۂ نور میں واضح ہے کہ ”پاک مرد پاک عورتوں اور پاک عورتیں پاک مردوں کیلئے ہیں”۔ آزمائش کی چکیوں میں پیس کرکے اللہ نے ازواج مطہرات کی پاکیزگی کا سامان پیدا کیا۔
اگر ہم احادیث صحیحہ کو دیکھ لیں تو مودة فی القربیٰ سے مراد یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ امت نبی ۖ کی آل اولاد کو اقتدار سونپ دیں۔ اہل تشیع یہی مراد لیتے ہیں اور اس وجہ سے السابقون الاولون من المہاجرین والانصار سے بھی نالاں رہتے ہیں۔ امام خمینی نے اپنے بیٹے کو اپنی قوم پر مسلط نہیں کیا نبیۖ نے کیوں اپنے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی کو مسلط کردینا ضروری سمجھا تھا؟۔
اور اگر ایسا کرتے تو پھر اس سے بڑا معاوضہ کیا ہوسکتا تھا؟۔ حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان اپنی صلاحیت کی بنیاد پر خلیفہ بن گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ”سلیمان کو ہم نے زیادہ فہم عطا ء کیا تھا”۔ جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ زیادہ فہم بھی خلافت کیلئے شرط نہیں ہے۔ جس شخص نے ملکہ سبا بلقیس کے تخت کو حاضر کیا تھا وہ صاحبِ کرامت بھی زیادہ صلاحیت کی وجہ سے خلافت کا مستحق نہیں تھا۔
حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو نبی ۖ نے اپنی چادر میں لیا اور فرمایا کہ ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان کو گند سے پاک کردے”۔ یہ گند کیا تھا؟ جس سے نبی ۖ نے پاک ہونے کی دعا مانگی تھی؟۔ جب ابوسفیان نے حضرت علی کو پیشکش کردی کہ ابوبکر خلافت کی مسند پر بیٹھنے کا حقدار نہیں ، اگر آپ کہیں تو مدینہ شہر کو پیادوں اور سواروں سے بھردوں؟۔ لیکن حضرت علی نے پیشکش مسترد کردی۔ اختیار کا بڑاگند انسان دل میں رکھتا ہے۔ یہ نبی ۖ کی دعا کی برکت تھی کہ حضرت علی کے دل میں یہ گند نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر رنجیدہ ہوکر فرماتے تھے کہ ایک چڑیابھی خوش قسمت ہے جو جوابدہی کے غم سے آزاد ہے۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا تھا کہ مجھے نامزد کرکے مجھے ہلاکت میں ڈال رہے ہو۔ لوگوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کو جانشین بنالو ۔فرمایا کہ اس کو طلاق کا مسئلہ نہیں آتا اور میں اس کے ذمہ اتنی بڑی ذمہ داری لگادوں ، یہ مسندِ خلافت کیلئے نااہل ہے۔ ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر شرم محسوس نہیں کرتے کہ اپنے پرانے دوستوں پر اپنے نکوں اور نکموں کو مسلط کرتے ہیں۔
حضرت فاطمہ نے باغ فدک کا مطالبہ کیا لیکن خلافت کی حقداری نہیں مانگی اور حضرت حسن جب خلیفہ بن گئے تو مسلمانوں میں اتحاد کیلئے دستبردار ہوگئے۔ حضرت حسین اسلئے نکل کھڑے ہوئے تھے کہ خلافت موروثیت کا شکار ہوگئی۔ پھر جن لوگوں کے حق میں شیعہ ائمہ معصومین کا عقیدہ رکھتے ہیں انہوں نے مسند کی خاطر کبھی امت مسلمہ افتراق وانتشار کو ہوا نہیں دی ہے۔ اپنی دو اینٹ کی بھی کبھی الگ مسجد نہیں بنائی ہے۔ آج بھی حضرت علی سے لیکر مہدی غائب تک نام مسجد نبوی ۖ پر تحریر ہیں۔ حضرت خضر کی طرح حضرت مہدی غائب میں بھی ظاہری خلافت کی خواہش نہیں جبکہ ایران، عراق، شام اور لبنان میں اہل تشیع کا اقتدار ہے۔جب سے ائمہ کا سلسلہ غائب ہوا ہے تو اہل تشیع بھی مدعی سست اور گواہ چست کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اس کا امت مسلمہ کو فرقہ واریت وانتشار کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اہل تشیع اپنے آزادانہ دلائل اور علمی جواہر پارے ضرور دنیا کے سامنے رکھیں لیکن جب دوسروں کے مقدسات کی توہین کریں گے تو فتنہ وفساد اور قتل وغارت گری کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اگر اپنی خستہ حالی کے باوجود مقدس شخصیات کو تنقید سے بڑھ کر توہین کا نشانہ بنائینگے تو اس کے نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔ یہ کون برداشت کرسکتا ہے کہ جو فیس لیکر صحابہ کرام کی توہین اسلئے کریں کہ ان کو زیادہ واہ واہ ملے ،دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں ،خوب اشتعال دیں اور مخالفت پر اُکسائیں؟۔
سب سے پہلے ہم اہل تشیع کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اہل بیت کا دامن تھام لیا اور جن کی وجہ سے وہ حلالہ کی لعنت سے بچ گئے۔شیعہ فقہ میں عدت کے اندر طہرو حیض کے تینوں مراحل پر نکاح کی طرح طلاق کے بھی شرعی صیغے ہیں اور دو عادل افراد کی گواہی ہے۔ جس کی وجہ سے نسل در نسل شیعہ حلالہ کی لعنت سے بچ گئے۔ امام جعفر صادق اور ائمہ اہل بیت امام ابوحنیفہ کے اساتذہ کرام تھے۔ اہل بیت کی فضیلت کے انکارسے ہم حدیث صحیحہ کے منکر بن جائیں گے۔ نبی ۖ نے قرآن اور اہل بیت کودو بھاری چیزیں قرار دیا ہے لیکن احناف پر دوسرے اہل سنت کے فقہاء بھی احادیث کے منکریں کا فتویٰ لگاتے رہے ہیں اور اہل حدیث بھی سمجھتے ہیں کہ احناف احادیث کو نہیں مانتے۔ اس میںحقیقت بھی ہے اور کچھ مبالغہ بھی نہیں ہے اورو اللہ نہیں ہے۔
میرے اجداد سید عبدالقادر جیلانی حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے حنفی مسلک اختیار کرلیا۔ اگر حنفی مسلک قرآن وسنت کے مطابق نہیں تو میں دوبارہ اس کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔لیکن درس نظامی کا حنفی مسلک حقیقت میں قرآن و سنت کا درست آئینہ ہے۔ جو سنی شیعہ سے چندہ مدد لیکر اپنا مؤقف بیان کرتا ہے کہ یہ میٹھی چوری والے طوطے کبھی بھی اُڑسکتے ہیں۔
بالفرض ہم نے مان لیاکہ ” حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کا فیصلہ کرکے یہ امت گمراہ کردی” تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے گا اور پھر یہ ایک طلاقِ رجعی شمار ہوگی اور شوہر عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کرلے گا۔ اس سے عورت کی بدترین حق تلفی ہوگی۔ وہ رجوع نہیں کرنا چاہ رہی ہو اورشوہر کو رجوع کاغیر مشروط اختیار دے دیا جائے۔ یہ قرآن وسنت اور انسانی فطرت کے منافی ہوگا۔ شیعہ اور اہلحدیث کے علماء کو دنیا بھر سے لایا اکٹھا کیا جائے اور سکینڈوں کے حساب سے ہم منوادیںگے کہ حضرت عمر نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔ ائمہ اربعہ نے ٹھیک اجماع کیا تھا کہ اکٹھی3 طلاق واقع ہوتی ہیں اور شیعہ واہل حدیث کا فتویٰ بالکل غلط ہے کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
البتہ تین طلاق استعارہ ہے کہ اس کے بعد رجوع کا حق ہے یا نہیں ؟۔ جب اکٹھی نہیں الگ الگ مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی قرآن کے واضح الفاظ میںاصلاح کی شرط پراور معروف طریقے سے باہمی رضاسے اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے تو رجوع کا دروازہ بہر صورت بند کرنا غلط ہے۔نبی ۖ نے تین طلاق کے باوجود ابو رکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کرلو۔ ابوداؤد
اسلام اجنبیت کے جن مراحل سے گزرا ، شیعہ سنی دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر حضرت عمر کے دور میں قیصر وکسریٰ کو فتح کرنے کے بعد لونڈیاں بنائی گئیں تو دونوں کے اکابرنے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولئے تھے ۔ مزارعت کے جواز میں دونوں کا حصہ تھا۔ حالانکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی اسکے مخالف تھے۔ امام جعفر صادق کے بارے میں شیعہ بتاسکتے ہیں۔ لیکن آج شیعہ حضرات کو بھی یہ بات سمجھنے میں مشکل نہیں ہے کہ قرآن میںطلاق کے مسئلے پر سنی اکابر کی طرح شیعہ اکابر نے بھی بہت بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ جب ایک واضح مسئلہ سمجھنے میں آج دونوں مکاتب اتنی بڑی ٹھوکر کھارہے ہیں تو دوسرے مسائل پر کیا کیا ٹھوکرنہیں کھائی ہوں گی؟۔ہمیں اتفاق ہے کہ حسین کے مقابلے میں یزید باطل تھا لیکن امیرمعاویہ سے حضرت حسن نے صلح کی تھی اور حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے حضرت علی کی مصالحت تھی اور بنوامیہ وبنو عباس سے ائمہ اہل بیت نے مصالحت کی تھی۔ اہل تشیع کے بقول گیارہ امام جب تک زندہ تھے تو اپنے حق سے محروم رہے اور اب جب ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کو حق دیا بھی نہیں جاسکتا ہے تو خودکو پیٹنے سے کچھ ملے گا؟۔ اگر ان کے بقول امام مہدی غائب زندہ ہیں اور ہزار سال سے بھی زیادہ پردہ غیب میں ہیں تو پھر چند سوسال باقی گیارہ اماموں کا بھی حکومت نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔
جس دن دیوبندی بریلوی اور اہلحدیث نے قرآن کو مان لیا اور اعلانیہ اپنے مسلکوں کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام کو بتادیا کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے ٹھیک کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد فیصلہ عورت کے حق میں دیا اورقرآن کا یہی تقاضا ہے لیکن اگر عورت صلح کیلئے راضی ہو تو پھر حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اکٹھی تین طلاق کے بعد بھی حلالہ نہیں، اہل حدیث کے مطابق تین مجالس میں الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں تب بھی نہیں اور شیعہ کے مطابق تینوں مراحل میں دو دو عادل گواہ مقرر کئے جائیں تب بھی حلالہ کی ضرورت نہیں اور غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق حنفی احسن طلاق کے مطابق تینوں مرتبہ یہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ طلاق دی جائے، عدت ختم ہوجائے، پھر رجوع کرلیا اور پھر طلاق دے دی اور عدت بھی ختم ہوگئی اور پھر رجوع کرلیا اور پھر طلاق دیدی اور عدت ختم ہوگئی تو پھر حلالہ ہوگا تو بھی حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
طلاق سے قرآن کے مطابق رجوع کا اعزا ز کس کے کھاتے میں جائے گا؟ اس کا جواب درس نظامی کا نصاب اور فقہ حنفی میں دیوبندی مدارس ہیں۔ خصوصاً جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ، جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی اورجامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور رحیم یار خان کا بہت بڑا فیضان ہے۔
حاجی عثمان پر علماء سوء نے فتویٰ لگایاتو مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے حاجی عثمان کی بیعت کرلی اور مفتی حبیب الرحمن درخواستی مدظلہ العالیٰ نے حاجی عثمان کے حق میں فتوی دیا تھا۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان اس وقت اختلاف تھا لیکن حاجی عثمان کے حق میں دونوں جمعیت متفق تھے۔ مسجد الٰہیہ ، خانقاہ چشتیہ، خدمت گا ہ قادریہ، مدرسہ محمدیہ ، یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسینامت مسلمہ کے اتحاد کا مرکز ہے۔ رکشہ ڈارئیور، ٹیکسی ڈرائیور،دونمبر پلمبر اور کباڑیہ جانتے ہیں کہ حاجی محمد عثمان کے مریدوں کو تقسیم کرنا غلط ہے لیکن معمولی معمولی مفادات نے انکے دلوں کو تقسیم کرکے خانقاہ کو ویران کردیا ہے۔
ومن اظلم من منع مساجد اللہ وسعی فی خرابہا ‘ ‘اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے؟”۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تو شیعہ بھی نماز پڑھنے آتے تھے۔ باجماعت نماز میں بھی شریک ہوتے تھے اور انفرادی نمازبھی پڑھتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے سواداعظم والوں کو فسادی قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ مولانا یوسف بنوری عاشورۂ محرم سے پہلے پانی کے مٹکے صاف کرکے بھرواکر رکھ دیتے تھے کہ جلوس کے شرکاء پانی پئیں گے۔ واشروموں کی بھی صفائی کرواتے تھے۔ تحریک ختم نبوت کی کامیابی شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اور اہلحدیث کے اتحاد کاقادیانیت کے زوال کا سبب بن گیا۔ لیکن پھر قادیانیوں ہی نے درپردہ امت مسلمہ کو لڑانے میں تخریب کارانہ کردار ادا کیا تھا۔ اگر طلاق کے مسئلے پر قرآن کے مطابق ہم اکٹھے ہوگئے تو قادیانی مذہب نابود ہوجائے گا اور اہل تشیع کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی اور اہل حدیث بھی راہ ِ راست پر آجائیںگے۔ دیوبندی بریلوی اختلافات کا بھی جلوس نکل جائے گا۔
شیعہ اس بات کو سمجھ لیں کہ اللہ نے اہل بیت سے قرآن وحدیث میں کونسے ”رجس یعنی گند” سے پاک کیا؟۔ انسانوں میں دوقسم کے فطری رجس ہیں ایک یہ کہ والذین یجتنبون کبائرالاثم والفواحش الا المم ” جو اجتناب کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگر.. اس المم کی تفسیر حالات کے مطابق مختلف ہیں۔ حضرت آدم وحواء بھی شجرہ ممنوعہ کے پاس گئے۔ صالحین نے بھی حلالہ کے شجرہ ملعونہ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ازواج مطہرات کو اللہ نے اس گند سے پاکیزگی کی سندعطاء کی۔ جبکہ دوسرا گندیہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں امانت کا ذکر کیا ہے جس کو قبول کرنے سے سب نے انکار کیا اور انسان کو اسلئے ظلوم وجہول قرار دیا۔ اللہ نے اس گند سے ائمہ اہل بیت کے دل صاف کئے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حنفی مسلک میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا مگر لعنتی فعل میں ملوث حنفی بہت بگڑ چکے ہیں!

حنفی مسلک میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا مگر لعنتی فعل میں ملوث حنفی بہت بگڑ چکے ہیں!

کمال کی بات یہ ہے کہ علماء حق ہر دور میں حلالہ کو ناجائز اورموردِ لعنت سمجھتے رہے ہیں مگر عادی مجرموں نے حلالے کو دورِ جاہلیت کی طرح اپنا بڑادھندہ بناکر رکھا ہوا ہے

 

سب سے زیادہ کام صحیح بخاری کی روایات نے بگاڑ دیا جس پر گرفت لازم تھی

اہل حدیث بہت فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کے بعد اہل سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب بخاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت یہ سمجھ رہی ہے کہ بخاری میں زیادہ سند کے اعتبار سے صحیح احادیث کا خیال رکھا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بخاری کی ہر روایت صحیح ہے چاہے قرآن کے مخالف بھی ہو۔ ہم حنفی اور اہل حدیث میں موازنہ کرنے کے چکر میں نہیں ہیں بلکہ صحیح بخاری کی طرف متوجہ کرکے اتفاق رائے بنانے کی فکر رکھتے ہیں۔
بخاری میں حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ اگر بیوی کو حرام کہہ دیا تو بعض علماء کا اجتہاد یہ ہے کہ اس سے تیسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور یہ حرام کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے۔ جب وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے تو پہلے کیلئے حلال نہیں ہوگی۔
حسن بصری حضرت علی کے شاگرد تھے جیسے مفتی حسام اللہ شریفی بھی شیخ الہند کے شاگردمولانا رسول خان کے شاگردہیںاور مولانا مودودی کے استاذ مولانا شریف اللہ کے بھی شاگردہیں اور مولانا مودودی کیساتھ ان سے ملنے بھی گئے۔ حضرت علی کے بارے میں مستند کتابوں میں یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ حرام کے لفظ کو تین طلاق قرار دیتے تھے۔ حضرت حسن بصری نے بعض علماء سے مراد حضرت علی کے شاگرد لئے ہیں اور اس میں بھرپور صداقت بھی ہوگی۔
ایک طرف علی نے حرام کے لفظ سے تین طلاق مراد لئے۔ دوسری طرف حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کو تین قرار دیا۔ تیسری طرف بخاری سمیت صحاح ستہ میں اکٹھی تین طلاق کے جواز کا عنوان ، جمہور کے دلائل کی احادیث کاا ندراج کردیا۔ چوتھی طرف فقہاء نے اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کی بھرمار کردی تو امت کی قرآن اور حدیث صحیحہ کے صحیح فہم کی طرف توجہ کہاں سے جائے گی؟۔
اہل حدیث کے مشہور عالم شیخ زبیر علی زئیاکٹھی تین طلاق کے قائل تھے اور انجینئر محمد علی مرزا بھی قائل ہیں۔ انجینئر محمد علی مرزا مفتی تقی عثمانی کے اسلامی بینکاری کے بھی معتقد ہیں۔ گویا اہلحدیث اور علماء دیوبند کے جمہور کے خلاف مرزا صاحب نے وہ پوزیشن لی ہے جس میںسعودی عرب کا سرکاری مؤقف بھی ایک ساتھ تین طلاق اور اسلامی بینکاری کا اب قائل ہے۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا : کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار ” ہر نئی چیزبدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ میں ہے”۔ کیا حضرت علی کا بیوی کو حرام قرار دینے پر تیسری طلاق یا تین طلاق کا فتویٰ بدعت ، گمراہی اور اس کا نتیجہ آگ ہے؟۔ حضرت عمر سے منسوب ہے کہ حرام کے لفظ کوایک طلاق رجعی قرار دیتے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت علی میں حلال وحرام کی یہ تفریق درست ہے یا غلط ہے؟۔ قرآن تو اس کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا ہے کہ زبانوں کو اس بدعت میں ملوث کیا جائے کہ اپنی طرف سے کہا جائے کہ ھٰذا حلال و ھٰذا حرام یہ حلا ل ہے اور یہ حرام ہے ۔
دو جلیل القدر صحابہ کرام خلفاء راشدین حضرت عمرفاروق اعظم اور حضرت علی المرتضیٰ میں طلاق جیسے اہم مسئلے پر حلال وحرام کا یہ بڑا اختلاف کیسے ہوگیا؟۔
اس کا جواب انتہائی گمراہانہ، ضیغ وضلالت اورانحراف وسرکشی سے یہ دیا جاتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی دونوں مجتہد تھے اور اجتہاد میں ایک غلطی پر ، دوسرا صواب پر ہوسکتا ہے اور غلطی پر بھی اجرملتا ہے اور صواب پر دو اجر ملتے ہیں۔
اہلحدیث تویہ اجتہاد مانتے نہیں ہیں اور ان کو یہ پتہ نہیں کہ بخاری نے صحیح میں اجتہاد کی روایت ڈال کر اُ مت مسلمہ کے دل ودماغ میں کیا گل کھلائے؟۔
شیعہ حضرت علی کو امام اور معصوم عن الخطاء مانتے ہیں اور آپ کے مقابلے میں حضرت عمر کے اجتہادکو بالکل کھل کر کفروگمراہی اور ضیغ وضلالت سمجھتے ہیں۔
فقہ کے امام اعظم امام ابوحنیفہ نے یہ راستہ اپنایا تھا کہ صحابہ کرام کے اقوال ان کی رائے ہے ، خبر واحد کی حدیث صحیحہ کو بھی قرآن پر پیش کرو اور اگر حدیث کی قرآن سے مطابقت نہ ہو تو حدیث کو چھوڑ دو اور قرآن پر عمل کرو۔ البتہ اگر کوئی ضعیف حدیث بھی اس قابل ہو کہ اس کی تأویل ہوسکتی ہو تو اس کی تردید نہ کرو۔
امام ابوحنیفہ کے نالائق شاگردوں اور نام لیواؤں نے امام اعظم کے اصول پر درست عمل نہیں کیا تو اس میں امام ابوحنیفہ کے شاگردوں اور مسلک کی طرف منسوب فقہاء وعلماء کا اپنا قصور تھا۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد ابویوسف کے حیلے مشہور تھے، دوسرے شاگرد عبداللہ بن مبارک کا حدیث وفقہ ، جہاد و تصوف میں بڑا مقام تھا۔ امام ابوحنیفہ کافروں سے جہاد کرنے کی بہ نسبت اور اپنے حاکموں اور نظام کی اصلاح چاہتے تھے اسلئے جیل میں قید کرکے شہید کردئیے گئے تھے۔
حضرت عمر اور حضرت علی کے اختلاف کو مسلک حنفی کے اصول کے مطابق حل کیا جاتا تو قرآن میں اللہ نے بار بار واضح فرمایا کہ صلح واصلاح اور معروف کی شرط پرکسی بھی طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ حضرت عمر نے تحقیق کے بعد فیصلہ دیا ہوگا کہ عورت رجوع پر راضی ہے تو حرام کے لفظ کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔حضرت علی نے تحقیق کے بعد فیصلہ دیا ہوگا کہ عورت راضی نہیں ہے اسلئے حرام کا لفظ استعمال کرنے کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ دونوں خلفاء راشدین کی بات قرآن کے عین مطابق تھی، ان میں اجتہادی مسئلے پر حرام وحلال کا اختلاف نہیں تھا۔ امام ابوحنیفہ کے اصل اصول پر محنت ہوتی تو فقہاء واقعی فقیہ ہوتے۔
امام بخاری سے پہلے امام ابوحنیفہ کے کسی اچھے شاگرد کو فقہ حنفی کی تدوین کا درست موقع فراہم کردیا جاتا تو صحیح بخاری میں یہ متضاد اقوال لکھنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ حضرت حسن بصری کے قول کو نقل کیا جاتا کہ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے اور حضرت ابن عباس کا قول کو نقل کیا جاتا کہ بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا ، طلاق اور نہ قسم وکفارہ اور یہی سیرت طیبہ کا تقاضا ہے۔ بخاری میںصحابی اور تابعی کی ذہنیت میں فرق بالکل واضح ہے۔
ابن تیمیہ نے چاروں فقہ کی تقلید کو فرقہ واریت قرار دیا ۔ انکے شاگرد ابن قیم نے اپنی کتاب ” زادالمعاد ” میں حرام کے لفظ پر20اجتہادی اقوال نقل کئے، حالانکہ جب نبی ۖ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ قبطیہ اور شہد کو حرام کردیا تواللہ نے سورۂ تحریم نازل کردی ۔پھرآپ ۖنے حضرت ماریہ پر کفارہ ادا نہ کیا اور شہد پر کفارہ ادا کیا۔قرآن کی طرف توجہ کرتے تو گمراہی کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔

 

امام ابوحنیفہ سلاخوں کے پیچھے زہر دیکر شہید نہ کئے جاتے توماحول مختلف ہوتا

ہمیں ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کا حکم اسلئے ہے کہ یہ دنیا میں پل صراط سے کم نہیں ہے۔ بڑے بڑے اس برج سے منہ کے بل گر کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں ؟، اللہ کا خاص فضل درکار ہوتا ہے ورنہ انسان اپنی محنت، علم ، ماحول اور عقل وفہم کے باوجود بھی ٹھوکر کھاتاہے۔
امام ابوحنیفہ نے ایسے وقت میں جب احادیث کی بہت بھرمارتھی اور سچے لوگوں کے علاوہ جھوٹے راویوں کی طرف سے بھی ایسی بمباری کا سلسلہ تھا جیسے امریکہ نے تورا بورا کے پہاڑوں پر بمبارمنٹ کی تھی تو حضرت نعمان بن ثابت امام ابوحنیفہ ڈٹ کرکھڑے ہوگئے۔ قرآن کے مقابلے میں خبر واحد کی حدیث کو بھی غیرمعتبر اور ناقابلِ عمل قرار دے دیا۔ بدقسمت اُمت کو دیکھئے، امام ابوحنیفہ نے قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو قربان کیا ، انکے نام پروہ لوگ کھڑے ہوگئے کہ جنہوں نے اپنی فقہ پر قرآن کو قربان کردیا اور اس کا یہ نتیجہ نکل آیا کہ ان کے دلوں میں حلالے کی لعنت کامرض تھا تو اللہ نے انکے گند مزید بڑھا دئیے۔
مدارس کے نصاب میں ہے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”( آیت:230البقرہ) میں عورت کو اپنی مرضی کا مالک اور خود مختار بنایا گیا ہے۔ خبرواحد کی حدیث میںنبی ۖ نے فرمایا:۔” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے”۔ حدیث میں عورت کی مرضی اور خود مختاری پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جو قرآن کے منافی ہے اسلئے ہمارے نزدیک یہ حدیث غیر معتبر ہے۔ جمہور ائمہ اور امت مسلمہ دوسرے فقہاء نے امام ابوحنیفہ پر گمراہی کا فتویٰ لگادیا تھا کہ اپنے دور کا غلام احمد پرویز تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا مسلک حنبلی تھا اور آپ نے امام ابوحنیفہ اور حنفی فقہاء پر ایسا رد کیا تھا جیسا مولانا احمد رضابریلوی نے دیوبندی اور دوسرے فرقوں پر کھل کر رد کیا تھا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ حدیث کی بنیاد پر قرآن کو رد کرنا جمہور کی بڑی گمراہی تھی اور اس آیت میں طلاق شدہ کا ذکر ہے اور اس سے زیادہ واضح الفاظ میں بیوی کی عدت چار ماہ دس دن کے بعد خود مختار ہونے کا اعلان ہے۔ جمہور کے نزدیک تو بیوہ اور طلاق شدہ بھی قرآن کی وضاحت کے باوجود آزاد وخود مختار نہیں ہیں بلکہ ولی کی اجازت کے محتاج ہیں۔ جبکہ احناف کے ہاں کنواری بھی ولی کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ موجودہ عدالت میں حنفی فقہ کا مسلک رائج ہے۔ آئے روز لڑکیاں بھاگ کر کورٹ میرج کرتی ہیں اور حنفی فقہ کا سہارا لیتی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نکاح کیلئے دو صالح گواہ ضروری ہیں مگر بھاگی ہوئی لڑکی کے نکاح کیلئے کون شریف و صالح لوگ گواہ بنتے ؟ اسلئے حنفی فقہاء نے دوسری حدیث کو بھی بکواس سمجھ کر چھوڑ دیا اور دوفاسق گواہ بھی کافی قرار دے دئیے۔ پھر حدیث میں مسجد کے نکاح اور دف بجاکر اعلان کرنے کا حکم تھا۔ بھاگی ہوئی لڑکی کس طرح سے اعلانیہ کرسکتی تھی تو حنفی فقہاء نے حدیث کی ایک مزید دیوار مسمار کرکے فتویٰ دے دیا کہ دو فاسق گواہ کی خفیہ گواہی اعلان ہے۔ حنفی فقہاء نے طبق عن طبق گمراہیوں کے زبردست ریکارڈ قائم کردئیے۔
حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے اور حدیث سے کنواری مراد ہوسکتی تھی۔امام ابوحنیفہ کے مسلک کایہ تقاضا تھا لیکن گمراہ فقہاء نے امام ابوحنیفہ کے مسلک کو قرآن وحدیث سے آزاد کرکے دین کو اجنبی بنانے کی انتہاء کردی ہے۔گمراہانہ دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو صحیح حدیث کو اسلئے رد ی کی ٹوکری میں ڈال دیا کہ قرآن کے خلاف ہے اور پھر دوسری طرف متفقہ مسئلہ لکھ دیا کہ ” اگر خاندان میں برابری نہ ہو تو پھر لڑکی کا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے”۔ کیا صحیح احادیث سے بھی یہ متفقہ مسئلہ بہت معتبر ہوگیا اور قرآن سے بھی یہ بازی لے گیا؟۔ پتہ نہیں فقہاء کی حیثیت عرب میں غلام ولونڈیوں کی تھی کہ لکھ دیا کہ عجم میں کفوء کا اعتبار نہیں ہے۔ اگر کوئی عربی یا عام آدمی کسی کی بالغ لڑکی کو بھگا کر لے جائے اور ڈرادھمکاکر اس سے نکاح کرلے تو اب یہ نکاح رضامندی کا نکاح ہے اور پھر اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار اس نکاح سے جان چھڑانا چاہتے ہوں تو اسکے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ اس آدمی سے طلاق لینی پڑے گی۔ فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ
اگر بنوامیہ اور بنوعباس کے دور میں یہ فقہ حنفی ایجاد ہوا ہے تو وہ عجم کو لونڈی قرار دیتے تو بھی اتنا برا نہیں ہوسکتا تھا لیکن لگتا ہے کہ اچھوت ذہنیت کے علماء نے ایسے اختراعی اور انتہائی ظالمانہ اور بیہودہ وغلیظ فتوؤں اور فقہ ایجاد کی ہے۔
قرآن کی آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” کا مقابلہ ومجادلہ حدیث سے نہیں ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا ہے بلکہ طلاق دینے والے شوہر کی دسترس سے اللہ نے اسکو باہر نکالنے کیلئے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کیونکہ ایک رسم بد یہ بھی ہے کہ بیوی کو چھوڑنے کے بعد شوہر اسکی مرضی سے جہاں چاہے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔
البتہ جب اس سے پہلے آیت226البقرہ میں اللہ نے فرمایا کہ ” ایلاء کرنیوالوں کیلئے چار ماہ ہیں ،پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
یہ وہ صورت طلاق ہے جب طلاق کا زبان سے اظہار نہ کیا ہو۔ اس میں بھی اللہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں میاں بیوی کی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ جب نبیۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ کے بعد رجوع فرمایا۔ ظاہر ہے کہ امہات المؤمنین بہت خوش تھیں مگر اللہ نے نبیۖ کو حکم دیا کہ آپ انہیں طلاق کا اختیار دے دو۔یہ امت پر واضح کرنا تھا کہ اس طلاق میں بھی جس میں طلاق کا اظہار نہیں کیا ہے تو عورت کو مکمل اختیارمل جاتا ہے کہ وہ رہے یا نہ رہے۔
آیت228البقرہ میں اللہ نے طلاق کے بعد اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت کی وضاحت کیساتھ بہت کھل کرکوئی خبر واحد کی حدیث ہوتی کہ عدت میں رجوع نہیں ہوسکتا، تو حدیث قابل اعتبار نہ ہوتی۔ آیت:229البقرہ میں معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن علماء اور مذہبی طبقات کو اصلاح کی شرط اور معروف کی شرط بھی نظر نہیں آتی ہے۔ آیت:230میںحلال نہ ہونے کا لفظ بو بکروں اور بزاخفش کو بھی دکھائی دیتا ہے۔ قاضی فضل اللہ صوابی امریکہ چلے گئے۔ کاش! وہ ان معاملات کو دیکھ لیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کینڈا کی لڑکی کا قبائلیوںکیلئے گواہی اور…عورت کے اسلامی حقوق کا علمبردار قبائلی سید گیلانی؟

کینڈا کی لڑکی کا قبائلیوںکیلئے گواہی اور…عورت کے اسلامی حقوق کا علمبردار قبائلی سید گیلانی؟

قبائل ہی دنیا کی امامت کے حقدار ہیں ! محراب گل افغان کے افکار، علامہ اقبال

سیمانے کہا کہ ”پاکستانی مرد بڑے بے شرم ہیں عورت کی عزت احترام نہیں کرتے۔ اسلام میں عورت کی عزت نہیں اسی لئے ہندو دھرم قبول کرلیا”۔ تصویر میں اس خوبصورت لڑکی کا نام میک، تعلق کینیڈا سے ہے۔2018میں میک کو دنیا میںسب سے زیادہ خوبصورت ہونے کا ایوارڈ مل چکا ۔ یہ ارب پتی کی بیٹی ہے،2018میں اسکا باپ حکومت کے بہت بڑے عہدے پر فائز تھا۔ خوبصورتی کا ایوارڈ مل گیا تو اس نے اپنے باپ سے کہا کہ میں پاکستان کا دورہ کروں گی لیکن شہروں کا نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کا دورہ کروں گی۔ باپ نے صاف انکار کردیا کہ وہاں نہیں جاسکتی ، پٹھان بڑے خونخوار، بڑے ظالم ہیں وہ زندہ کھاجائیں گے۔ بیٹی نے کہا کہ جی! میں بچپن سے یہ سنتی آرہی ہوں کہ پٹھان بڑے ظالم ہیں ،اسی لئے میں اس جگہ کا دورہ کروں گی۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ دنیا میں ایسی کونسی قوم ہے جو انسانوں کو زندہ کھاتی ہے۔ کچھ دن گزر گئے باپ نے اجازت نہ دی تو اس نے اپنے باپ کو بول دیا کہ اگر آپ مجھ کو اجازت نہیں دیں گے تو میں زندگی کا خاتمہ کرلوں گی۔ باپ نے اجازت دی ۔ میک پاکستان پہنچی، گورنمنٹ نے سیکورٹی دی لیکن اس نے سیکورٹی مسترد کردی۔ میک کے پاس دو بندے ایک کینیڈا کااور دوسرا قبائلی ۔ جب وہ ایک گاؤں میں پہنچی، گاڑی سے اترگئی ۔ اس نے کہا کہ میں پورے گاؤں میں پیدل گھوموں گی۔ وہ ایک راستے پر نکلی تو کچھ مردوں نے راستہ چھوڑا، جو بیٹھے تھے انہوںنے نظریں نیچے کردیں۔ بار بار ایسا ہوا تو میک نے قبائلی سے پوچھا کہ میں کیا اتنی بدصورت ہوں کہ لوگ راستہ چھوڑ تے ہیں ، بیٹھے ہوئے نظریں نیچے کردیتے ہیں؟۔ قبائلی نے کہا کہ یہ پٹھان ہیں، یہاں اسلام ہے اور اسلام میںیہ سکھایا جاتا ہے کہ عورت کو نہیں دیکھنا ۔ پھر گاؤں میں ایک گھر کے اندر گئی۔ گھر میں ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ وہ سیدھا اٹھ کر گھر سے نکل گیا۔ میک بہت زیادہ پریشان ہوگئی کہ میرے لئے گھر چھوڑدیا۔ ترجمان سے کہا کہ اس کی ماں سے پوچھو کہ گھر کیوں چھوڑا؟۔ ماں نے کہا کہ ہم بیٹوں کو بچپن سے سمجھاتے ہیں کہ عورت کی عزت اور احترام کرنا اور اسلام یہی کہتا ہے۔ اس ترجمان کا کہنا ہے کہ میک وہاں پر اتنی زیادہ رونے لگی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میک کا دورہ مکمل ہوگیا، واپس کینیڈا گئی تو ایئر پورٹ پر اپنے باپ کو روتے ہوئے گلے لگالیا کہ جتنا میں نے سوچااور سنا تھا سارے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔ اگر دنیا میں کوئی قوم عورت کی عزت و احترام کرتی ہے اور تحفظ فراہم کرتی ہے تووہ پٹھان ہیں جو پاکستان میں بستے ہیں۔ ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی مرد دنیا کے سب سے بڑے مرد شمار ہوتے ہیں۔ عورت کی عزت و احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔ سیما کے پیچھے انڈین گورنمنٹ ہے ۔ وہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے مردوں ، اسلام اور پاکستان کو بدنام کرومگر اسلام نہ مردبدنام ہوگا اور نہ پاکستان بدنام ہوگا۔
Youtube Channal: Ebad Reaction

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورة الحدید کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائیوں کو عروج بخشنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوںکو غلبہ عطاء فرمائیگا

سورة الحدید کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائیوں کو عروج بخشنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوںکو غلبہ عطاء فرمائیگا

مولانا طارق جمیل نے اسلامی بینکاری کو سودی نظام قرار دے دیا لیکن اس کے باوجود مفتی محمد تقی عثمانی نے جمعہ کے بیان اور نماز کی امامت کیلئے مدعو کرکے بہت اچھا کیا

سورة الحدید کا خلاصہ اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔ جس میں مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے کا ذکر ہے۔ سابقہ قوموں کے احوال کا ذکر ہے جو آخر میں اس حد کو پہنچ جاتی تھیں کہ ان کے دل سخت ہوجاتے تھے ۔ یہی صورتحال مسلمانوں کی بھی ہوگی۔ مسلمانوں سے کہا گیا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیاہے کہ انکے دل اللہ کے ذکر (قرآن) سے خوف کھائیں؟۔ کردار کے لحاظ سے دوقسم کے لوگوں کا ذکر ہے ،ایک انقلاب کیلئے کام کرکے سرخرو ہونے والے اور دوسرے مخالفین۔ پھر اللہ نے کہا ہے کہ یہ پہلے سے تقدیر میں لکھا جاچکا تھا تاکہ اچھے کردار والے فخر نہ کریں اور مخالفین مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ پھر امت کیلئے رحمت کے دوحصوں کا ذکر ہے۔ نصف اول میں نبوت ورحمت، خلافت، امارت ، بادشاہت کے ادوار ہیں۔1924میں خلافت کا خاتمہ ہوا۔100سال ہونے کو ہیں پھر اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے ہوگی، مولانا سندھی نے ”مقام محمود” تفسیر سورة القدر میں واضح کیا۔قرآن کی طرف رجوع فقہ حنفی کی بنیاد پر ہوگا اور ایران یہ انقلاب قبول کرلے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ رحمت کا نصف آخریہاں سے شروع ہوگا۔ الحدید کی آخری آیت میں اہل کتاب کے عروج کے بعد مسلمانوں کے غالب ہونے کو اللہ نے واضح کیا ۔ امریکی ابراہم لنکن نے غلامی ختم کی، روس نے سودی نظام کو ختم کیا اسلئے اللہ نے سپر طاقت بنا دیا تھا ۔ اسلامی نظام مزارعت کی خاندانی غلامی اور سودکی بین الاقوامی غلامی کا خاتمہ کرے گا۔حافظ سید عاصم منیر جنرل ضیاء الحق کی طرح مردمؤمن نہیں بنیں بلکہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔
ہم نے بچپن میں گورنمنٹ ہائی سکول کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرامہ دیکھا تھا جس میں ایک لڑکے نے مولوی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس نے کہا کہ میم زبر ما غنڈے دے ما ” یعنی ماپر زبر ہے اسلئے سب کا سب میرا ہے”۔ مولانا فضل الرحمن نے مرکز میں چار وزارتیں لیں اور خیبر پختونخواہ کا گورنر بھی اپنا بنایا۔ جب اس نے خواب بیان کیا تھا کہ حضرت آدم نے فون پر پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟۔ تو میں نے عرض کیا کہ امن ۔ اس خواب میں حضرت آدم ناراض بھی ہوتے ہیں کہ آپ صبر نہیں کرسکتے تھے؟۔ اگر مولانا نے صوبائی گورنرANPکا بننے دیا ہوتا تو شہبازشریف ومریم نواز سے گلہ نہ کرتا کہ آصف زرداری سے دوبئی میں اکیلے کیوں ملنے گئے؟۔ مسلم لیگ ن کا تو ٹبر طوطا چشم ہے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں استعمال کیا پھر میڈم طاہرہ کا سکینڈل نکالا۔ مولانا نور محمد وزیر کو فلم انڈسٹری میں سینسر شپ کی وزارت دی جس کا اوصاف اخبارمیں تیمور نے زبردست کارٹون بنایا تھا۔
تحریک انصاف جنونی ہے،اگر مولانا فضل الرحمن نے ساتھ دیا تو عمران خان مولانا کیساتھ خطرناک نہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ، مہنگائی بے روزگاری سے عوام تنگ ہے۔ ان کو مسلط کیا تو ریاست کمزور ہوگی۔ قرآن کے معاشرتی حقوق کا ایجنڈہ اپنایا تو مولانا اویس نورانی کیساتھ جیت سکتے ہیں۔ پھر مریم نواز گائے گی: میرے گل خانہ ، اکیلے مجھ کو چھوڑ کر نہ جانا۔ مولانا نےMRDمیں غیر متوقع بینظیر کا ساتھ دیاتو علماء مخالف تھے،آج اسکے نتائج برعکس ہوں گے۔عہدے کی بھوک ختم نہ ہوگی ۔نظام کی تبدیلی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بندیالوی کی امام حسین کیخلاف بک بک اور اس پر تبصرہ

بندیالوی کی امام حسین کیخلاف بک بک اور اس پر تبصرہ

 

اپنے مخصوص انداز خطابت میں علماء دیوبند سمیت اکابرین اہل سنت پر طعن کرتے ہیں کہ جب وہ حسین کے مقابلے میں یزید کو باطل قرار دیتے ہیں تو یہ اہل تشیع کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں۔ اگر حسین کا نکلنا درست تھا تو پھر اکابر صحابہ عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ ابن عباس کے بارے میں کیا جواب ہے؟۔ اگر یزید باطل تھا تو حسین نے تین شرائط کیوں رکھیں؟۔ کیا باطل سے صلح ہوسکتی ہے؟۔ کیا عمران خانPDMکی حکومت سے صلح کرلے گا؟۔ غیرت کا تقاضہ کیا ہے؟۔
علامہ بندیالوی نے غیرت کا جو پیمانہ رکھا ہے تو کیا نبی ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ نہیں کیا تھا؟ اور غزوہ احد میں کون بھاگے تھے؟۔ جن کو اللہ نے کہا کہ محمد ۖ تو ایک رسول ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھرو گے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں میں عبد المطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں۔ جب اللہ نے موسیٰ سے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خوف کھایا اور جب فرعون کا لشکر پیچھا کررہا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر آگے بھاگ رہے تھے تو کیا یہ غیرت اور بے غیرتی کا مسئلہ تھا۔ ہمارا تو ایک ایسی ریاست سے تعلق ہے جس نے افغان طالبان کے مقابلے میں امریکہ کیلئے صف اول کا کردار ادا کیا۔طالبان اور صدام حسین کیخلاف شیعہ امریکہ کے ساتھ تھے۔ پتہ نہیں بندیالوی نے غیرت سیکھی کہاں سے ہے؟۔ مکی دور میں شعب ابی طالب کس کے نام پر ہے؟۔ حسن نے امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوکر اور حسین نے یزید کے خلاف نکل کر بہترین کردار ادا کیا۔ اسی لئے تو نبی ۖ نے ان کو جوانان جنت کے سردار قرار دیا تھا۔ اگر یہ کردار نہ ہوتا تو جنت کی سرداری مفت میں ملی؟۔ جو سوال شیعہ صحابہ پر وہی بندیالوی حسین پراٹھارہا ہے اور دونوں کا طرز عمل بالکل غلط ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حلالہ سے پیدا ہونے والے بچے کو مفتی اعظم اور شیخ الاسلام بنایا جائے تو وہ مسائل حل کردے گا؟

حلالہ سے پیدا ہونے والے بچے کو مفتی اعظم اور شیخ الاسلام بنایا جائے تو وہ مسائل حل کردے گا؟

ایک انسان کا قتل تمام انسانیت کا قتل، ایک عورت کا حلالہ انسانیت کا حلالہ اور حلالہ سے ایک بچے کی پیدائش انسانیت کی توہین ہے مگر بعض بے حیا ء عادی مجرم بنے ہیں

علماء حق ، حکومت، ریاست ، عدالت اور صحافت کو قرآن و حدیث کے نام پر حلالے کادھندہ روکنا چاہیے ۔ عوام تبلیغی جماعت اوردعوت اسلامی کی طرح میدان میں نکل کرکام شروع کردیں

حلالہ کروانے گئی اس نے مجھے حاملہ کردیا۔ طلاق کے بعد پہلے شوہر کے پاس واپس آگئی
مولانا مسعود نقشبندی صاحب ! اب وہ بچہ کس شوہر کا ہوگا؟۔

السلام علیکم رحمة اللہ وبرکاتہ۔ ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ مولانا صاحب ایک عورت اگر کسی سے حلالہ کرواتی ہے اور جس سے حلالہ کروایا جارہا ہے وہ بندہ اس عورت کو حاملہ کردیتا ہے۔ یعنی کہ وہ عورت حاملہ ہوجاتی ہے حلالے سے۔ اب ظاہری بات ہے جب حلالہ کروایا جارہا ہے تو اس میں ہمبستری بھی ہوتی ہے۔
ہمبستری کے بغیر تو حلالہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ تو اس نے انزال اندر کردیا جس سے عورت حاملہ ہوگئی حالانکہ اجازت ہے آپ کنڈوم بھی استعمال کرسکتے ہیں اور باہر بھی انزال کرسکتے ہیں ضروری نہیں ، بس ہمبستری کرنا ضروری ہوتا ہے اس کے اندر کہ مرد عورت کی لذت حاصل کرلے عورت مرد کی لذت حاصل کرلے اتنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کیلئے اندر منی خارج کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
لیکن اس مرد نے اندر منی خارج کردی تو اس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی ہے۔ اب وہ بندہ جس نے حلالہ کیا ہے اس نے اسکے بعد طلاق دیدی۔ طلاق کے بعد پہلے عدت گزاری پھر پہلے شوہر کے پاس آگئی۔ اب ظاہری بات ہے کہ اس کی جو عدت ہے ، یاد رکھئے کہ جو حاملہ عورت ہوجاتی ہے طلاق کے بعد اس کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ یعنی جب بچہ پیدا ہوگا اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔
اب ظاہری بات ہے اس نے حاملہ کیا اب9مہینے تک اس کو انتظار کرنا پڑے گا کہ بچہ پیدا ہوگا۔ جب بچہ پیدا ہوگا اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ اب جب عدت ختم ہوئی ہے اب وہ پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔ اب اس صورت کے اندر وہ عورت حاملہ ہوئی ہے جو بچہ ہے اس کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے آیا کہ وہ پہلے شوہر کا ہوگا یا دوسرے شوہر کا ہوگا؟۔ اس کا یہ سوال تھا۔
تو اس کا سمپل سا جواب یہ ہے کہ عقلی طور پر دیکھا جائے کہ جو عورت حاملہ ہوئی ہے وہ جو بچہ ہے وہ پہلے شوہر کا ہے جس سے عورت حاملہ ہوئی ہے۔ اس کا بچہ ہے یہ والا چہ جائیکہ وہ دوسرے کا بچہ ہو۔ وہ پہلے کا ہی بچہ ہے یعنی جس مرد نے اس کو حاملہ کیا ہے اس کا دوسرا شوہر جس سے اس نے حلالہ کیا ہے اس کا بچہ ہے وہ۔ اس کے نام کے ساتھ جو نام لگے گا جس سے حلالہ کروایا ہے اس کا نام لگے گا ۔ پہلا شوہر ہے جس کے پاس دوبارہ جارہی ہے اس کا نام نہیں لگے گا اس کے ساتھ۔ اب وہ الگ بات ہے کہ وہ کہتا ہے کہ آپ رکھ لو وہ رکھ لیتے ہیں میاں بیوی دونوں مل کر۔ وہ الگ مسئلہ ہے لیکن جو باپ حقیقتاً اس کا باپ ہے وہ وہی ہے جس نے اس کو حاملہ کیا ہے۔ تو یہ تھا آج کا مسئلہ مجھے امید ہے کہ آپ کو مسئلہ سمجھ آگیا ہوگا۔ مولانا مسعود نقشبندی

____تبصرہ____
رفاعة القرظی نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو عورت نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا۔ پھر نبی ۖ کو دوپٹے کا پلو دکھایا اور کہا کہ شوہر کے پاس یہ ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعة کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟۔ نہیں جب تک دوسرے شوہر کا ذائقہ پہلے شوہر کی طرح نہ چکھ لو اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے۔(صحیح بخاری)
بخاری میں یہ بھی ہے کہ رفاعة نے عدت میں مرحلہ وار3طلاق دیں اور یہ بھی ہے کہ دوسرا شوہر بہت مارتا پیٹتا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ بہت مارنے کے نشان تھے اور شوہر نے نبی ۖ کی خدمت میں اپنی بیگم کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہاکہ میں اپنی مردانہ قوت سے اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھتا ہوں۔ اگر صحیح بخاری کی ان تینوں حدیث کو سامنے رکھا جائے تو حلالے کاسارا کھیل ختم ہوگا۔ مسلک حنفی کی تائید میں ایک حدیث ہے کہ اکٹھی تین طلاق بدعت مگر واقع ہوجاتی ہے۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے ”کشف الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ۔ محمود بن لبید سے روایت ہے کہ نبی ۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی۔ نبی ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان ہوں؟۔ ایک شخص نے کہا کہ اس کو قتل نہ کردوں؟۔ (ترمذی)۔ سوال یہ ہے کہ وہ شخص کون تھا جس نے قتل کی پیشکش کی ؟ ، تو روایات سے واضح ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم تھے اور جس نے ایک ساتھ3طلاق دی تھی ،جس پر نبی ۖ غضبناک ہوئے تھے تو وہ عبداللہ بن عمر تھے۔
صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق میں ہے کہ عبداللہ نے بیوی کو حیض میں طلاق دی، حضرت عمرنے نبیۖ کو خبر دی تو رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے پھر عبداللہ سے رجوع کا فرمایا اور سمجھایا کہ پاکی کے دنوں میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں ،اگر رجوع چاہو تو رجوع کرلو اور چھوڑ نا چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو۔ یہ وہ طلاق ہے جس کا اللہ نے عدت میں دینے کا حکم فرمایا ہے۔ یہ حدیث بخاری کتاب العدت،الطلاق اورالاحکام میں ہے۔ اور حسن بصری نے کہا کہ مجھے ایک مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ نے تین طلاقیں دی تھیںاور20سالوں تک کوئی دوسرا شخص نہیں ملا ،جس نے اس کی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور مستند شخص نے کہا کہ عبدللہ نے ایک طلاق دی تھی۔( صحیح مسلم ) عبداللہ بن عمر کے واقعہ سے متعلق ضعیف ومن گھڑت روایات کی بھرمار ہے اور یہ روایت سب سے زیادہ مستند ہے کہ عبداللہ نے کہا کہ اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبی ۖ رجوع کا حکم نہ فرماتے ۔ (صحیح بخاری) اس روایت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کا اس میں انکار ہے بلکہ مطلب واضح ہے کہ اگر عبداللہ نے قرآن کے مطابق مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق دی ہوتی تو نبی ۖ غضبناک بھی نہ ہوتے اور رجوع کرنے کا حکم بھی نہ دیتے۔
حسن بصری نے کہا کہ بیوی سے کہناکہ آپ مجھ پر حرام ہو ، تو بعض علماء کے نزدیک یہ تیسری طلاق ہے اور یہ کھانے پینے کی اشیاء کی طرح حرام نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے گی۔ (صحیح بخاری) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس نے کہا کہ بیوی کوحرام کہناکچھ نہیں طلاق اور نہ قسم اور کفارہ اور یہی نبی ۖ کی سیرت ہے۔ سورۂ تحریم میں ہے کہ نبی ۖ نے ماریہ قبطیہکیلئے حرام کہا اور اللہ نے منع فرمایا۔ حسن بصری نے جن علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے، عبداللہ بن مسعود کی روایت میں بھی ا ن علماء کی تردید ہے ۔ نبی ۖ سے صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم خود کو خصی نہ بنالیں؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ نہیں، جو تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ پہنچ کر رہتا ہے۔ تم ایک دوچادر کے بدلے متعہ کرلو۔ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت ”حرام مت کرو جو اللہ نے حلال کیا ہے تمہارے لئے پاکیزہ چیزوں میں سے ”۔ (صحیح بخاری ) علماء ومفتیان قرآن وسنت کے منافی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ چھوڑ دیں گے تو پھرعورت کی عزت سے کھلواڑ بند ہوجائے گا۔
ہم نے قرآن وسنت اور اصول فقہ کے دلائل سے بار بار مختلف انداز میں حلالہ کی لعنت کی تردید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس بار مزید اچھے انداز سے تفصیلات سمجھا دی ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد علماء و مفتیان قرآن وسنت اور اصول فقہ کی طرف توجہ دیں گے اور بڑی بڑی مجالس کا انعقاد شروع کریں گے جس سے صرف حلالہ کی لعنت ختم نہیں ہوگی بلکہ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی المرتضیٰ کے درمیان بھی مکمل اتفاق رائے دکھائی دے گا۔ شیعہ اور اہلحدیث بھی ضروردرسِ نظامی کے اس حنفی مسلک کی تائیدکریں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا شیر شرافت علی

ہمارا شیر شرافت علی

نبی ۖ نے فرمایا : الکاسب حبیب اللہ”محنت کش اللہ کا حبیب ہے”۔یہ محنت کش وہ اللہ والے ہیں جن کوپیری کے لبادے کی ضرورت نہیںہے۔

ادارہ اعلاء کلمة الحق و نوشتۂ دیوار کا بے لوث کارکن اور رہنما شرافت علی ساتھی قاری صاحب اور ان کی شخصیت میں انوکھا رعب جھلکنے کی وجہ سے میںپیرپگاڑا کہتا تھا۔ شرافت کا مجسمہ ، سمجھدار ی کے باوجود سادہ طبیعت خوش مزاج انسان تھے۔ پاؤں میں کیل لگی ،ATSکا انجکشن نہ لگایا، خطرناک انفیکشن ہوا۔ جس کے بعد بچنے کی صورت نہیں ہوتی۔ قارئین! شرافت کے انتقال نے بھی احتیاط کا سبق چھوڑا ہے کہ قیمتی جان جاسکتی ہے۔ رنجش، لڑائی، بدمزگی اور ناچاقی کا کچھ نہ کچھ معاملہ ہوتا ہے لیکن مجسم شرافت سے کبھی کسی ساتھی کو مسئلہ نہیں ہوا، مچھلی پر کسی نے رنگ لگادیا تو شرافت نے کہا کہ واہ جی سرخی پاؤڈر میک اپ کیا ہے؟اس نے کہا کہ شرافت جاؤ دھندے کا وقت ہے۔یہ بات یادگار اسلئے تھی کہ شرافت کی زبان سے یہ ظرافت نکلی وہ شخص ناراض نہ ہوا۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امریکہ آقاIMFکے ہم غلام مولانا فضل الرحمن

امریکہ آقاIMFکے ہم غلام مولانا فضل الرحمن

سیاسی ، دفاعی اور معاشی لحاظ سے ہم آزاد نہیں بلکہ بدمعاشوں کے غلام ہیں

پڑوسی ممالک سے بہترتعلقات ہوں تو بدمعاشوں کے مقابلہ میں بہتری آسکتی ہے

مولانا فضل الرحمن2014میں ایک انٹرویو۔ شک نہیں کہ ہم پسماندہ ہیں۔ علم کی کمی اور معیشت بہت کمزوری ہے لیکن کیا واقعی ہم آزاد ہیں؟ اور ہم گلہ کررہے ہیں کہ آزاد قوم کے ناطے ہم نے ترقی کیوں نہیں کی؟۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد کالونی ازم کا رواج ختم ہوا۔ اب نہ برطانیہ کہیں پربراہ راست حکومت کر رہا ہے ، نا ہی فرانس اور امریکہ کررہا ہے لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ دنیا کو براہ راست غلام بنانے کے بجائے انہیں بین الاقوامی اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں میں اس طرح جکڑ دیا گیا کہ طاقتور ملک کو کبھی ترقی کی طرف جانے نہیں دیتے۔ جس کا رقبہ بڑا ہو اور آبادی گنجان ہو۔کہ اس ملک میں پوٹینشل ہے۔چنانچہ تین حوالوں سے دنیا کو بین الاقوامی معاہدات اور اداروں کے توسط سے غلام رکھا جاتا ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی ۔ ان تین حوالوں سے پسماندہ اور ترقی پذیر دنیا کو غلام رکھنا اور ان کی ترقی کی حد متعین کرنا کہ اس سے آگے نہیں بڑھنا آپ نے۔ علم ، ٹیکنالوجی ، اقتصاد، دفاع جو بھی ہو۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، جنیوا انسانی حقوق کنونشن یا جو بھی بین الاقوامی ادارے ہیں وہاں سے جو ریزولیشن یا قانون صادر ہو، آپ کے ملک کا آئین و قانون اپنے ملک میں غیر مؤثر ہوجاتا ہے اور ان کا قانون اور فیصلہ آپ کے ملک میں مؤثر رہتا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ آپ واقعی آزاد طاقتور ہیں؟۔ جبکہ ان کے فیصلے آپ پر لاگو ہوتے ہیں۔ پانچ ممالک کی تو مونوپلی ہے کہ وہ تو ہیں بالاتر اور بااثر اور ترقی یافتہ دنیا اس سے باہر ہے۔ پھر ہم لوگ اور ہمارا موجودہ اقتصاد ی سسٹم کیا ہم آزاد ہیں؟۔ کیاIMFکے رحم و کرم پر اور ان کے لوگ ہمارا بجٹ نہیں بناتے؟۔ جو ہمیں ہاتھ میں پکڑواکر کہتے ہیں کہ اسمبلی میں اس کو پڑھو۔ کیا ایشین بینک، ورلڈ بینک، فرانس اور لندن گروپ کے قرضوں سے ہماری دنیا نہیں چل رہی ہے؟۔ تو جب ایک سطح پر پہنچتے ہیں تو اگر ہم ایک سیڑھی آگے گئے تو ہمیں دھڑام سے گرادیتے ہیں اور آپ کے ملائیشیا کے ساتھ ہوا ہے کہ وہ عروج پر پہنچا اور اس کو گرادیا گیا۔ دفاعی معاہداتCTBT،NPTپر وہ خود دستخط کرے نا کرے آپ دستخط کے پابند ہوجائیں، ایٹم بم میرا لیکن مالک وہ ہے، استعمال کا اس کو اختیار ہے مجھ پرپریشر ہے اپنا اسلحہ استعمال نہیں کرسکتا۔ تواسلامی دنیا ایٹم بم نہیں بناسکتی۔ اسرائیل کے پاس200،300یا400ایٹم بم ہیں لیکن عراق پر شبہ ہوا، تہ و بالا کردیا۔ تو اعتراف ہے کہ ہم کمزور ہیں لیکن اس کمزوری کو ہم پر کس نے مسلط کیا۔ ہم ہزار چاہتے ہیں کہ دلدل سے نکلیں ، ہماری جو جدوجہد ہے ہماری پارٹی کی جدوجہدکا بنیادی نکتہ خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح پڑوسی ممالک کو دو۔ ان کیساتھ جو تجارت ہوگی وہی آپ کے ملک کی اکانومی اور پیداواری شرح کو بڑھائے گی۔ قریبی ممالک آپ کے ساتھ تجارت کو فروغ دیں گے۔ وہ ممالک کہ جن کی مصنوعات کا معیار پاکستان سے کم تر ہے ۔ ان ممالک میں آپ کی مصنوعات کی طلب بڑھے گی ۔ لیکن جن ممالک کی مصنوعات کا معیار زیادہ ہے تو آپ درآمد کریں گے برآمدی قوت آپ کی بڑھے گی نہیں۔ لہٰذا تجارتی خسارے کے علاوہ آپ کے پاس کچھ ہوگا ہی نہیں۔ بین الاقوامی دنیا کے اس ولیج کے اندر جو میرا گھراور محلہ ہے سرداروں نے جو دنیا کے سردار ہیں اور بدمعاشوں نے کس طرح ایک شکنجے میں کسا ہے۔ آپ کی اور ہماری سوچ میں اختلاف نہیں ۔ مجبوریاں اور مقہوریاں ہیں اس سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے بارہا ہم کہہ چکے ہیں کہ بین الاقوامی دنیا امریکہ یورپ کے ساتھ ہم بہتر تعلقات اور دوستی چاہتے ہیں لیکن موجودہ تعلق کو آقا و غلام سے تعبیر کرتے ہیں یہ ہمیں قبول نہیں۔ جواب میںکہا جاتا ہے کہ کھاؤ گے اس کا تو پھر چلے گی بھی اس کی۔ قرضہ اور پیسہ اس کا ہوگا وہ حجم میں بڑا ہے اتنا بڑا امریکہ ، اس کے ساتھ برابری کا تصور یہ بیوقوفی کی باتیں تو کررہے ہو۔ تو میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے ۔ اگر حجم دلیل ہے تو پھر چین اور پاکستان کی قوت اور حجم میں بھی توازن کیا ہے؟۔ کیا ہم اتنا بڑا رقبہ ،اتنی بڑی آبادی اور فوج رکھتے ہیں؟۔ کیا اتنی بڑی معیشت ہے؟۔ اس کاGDPگیارہ فیصد پر گیا اور ہم ایک اور ڈیڑھ فیصد پر چل رہے ہیں۔ انڈیا9اور10پر گیا۔ بنگلہ دیش7پر چلا گیا ۔ ارد گرد آپ کے ہم عمر ممالک اور چھوٹی عمر کے ممالک آج اقتصادی لحاظ سے پرواز کرچکے ہیں۔ وہ ٹیک آف کرچکے اور آپ زمین پر بیٹھے ہیں۔ آپ ابھی ٹیکسی نہیں کرپارہے۔ آج اگر چین حجم، وسائل میں بڑا، ایک سپر طاقت، عام پاکستانی سے گلی کوچے میں پوچھو کہ چین کیسا ملک ہے؟، کہتے ہیں ہمارا دوست ملک ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک پاکستانی اس حجم کے تفاوت کے باوجود چین کو دوست کہہ رہا ہے اور امریکہ کو آقا کہہ رہا ہے۔ رویوں کی بات ہے ناں۔ رویہ ٹھیک اور دوستانہ کرلو ہم آپ کو دوست کہیں گے۔دوستوں کی طرح رہیں گے۔ اتنے طاقتور ہم نہیں کہ دنیا کے سامنے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ کا زمانہ نہیں، ریاستوں کی قوت دو چیزیں ہیں، اقتصاد اور دفاع۔مادی دو چیزیں ہونی چاہئیں۔ نظریہ معنوی چیز ہے وہ رہنمائی کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ دو چیزیں بنیادی عناصر ہونے کے باوجود بقاء کا دار و مدار دفاعی قوت پر ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج کے اس نئے دور میں بقاء کا دار و مدار اقتصاد پر ہے۔ محض دفاع رشیا کو نہ بچاسکا۔ جونہی سوویت یونین ٹوٹا اشتراکی نظام کو شکست ہوا یک دم چونک اٹھا چائنہ اور فری اکانومی زون بنادیے۔ لوگوں کو انفرادی ملکیت کا حق دے دیا۔ باوجود اسکے کہ حکمران پارٹی کمیونسٹ ہے سسٹم وہاں سوشلسٹ ہے لیکن اس نے پیچھے گیر لگایا، لوگوں کو شخصی حقوق دیے اور آج بھی فری اکانومی زون کے تحت وہ دنیا کیساتھ برابری کی تجارت کی پوزیشن میں آگیا۔ اس کو احساس ہوا لیکن ہم نے کوئی ایسی محفل نہیں سجائی ، ایسے ادارے نہیں کہ ملک کی معیشت کو کس طرح اٹھانا ہے؟۔ پالیسیاں بنانی ہیں فکر مند ہونا ہے۔ ہم تو فکر مند بھی نہیں جونہی آتے ہیں جیIMFبات کرو کتنا قرضہ دو گے؟ امریکہ کتنی امداد دے گا؟۔جب کولیشن سپورٹ فنڈ میں آ پ کو7ارب سے زیادہ ڈالر ملنے والے ہیں تو ابھی تک 2ڈھائی ارب آپ کو ملے ہیں آپ کیوں امن لائیں گے جب تک آپ کو وہ پیسہ نہیں ملے گا۔ اس لالچ میں بھی ہم جنگ لڑیں گے کیونکہ پھر ملے گا نہیں۔
امتیاز عالم: مولانا73کا آئین ایک سمجھوتہ ہے۔ سوشلسٹ اور رائٹسٹ میں ، سیکولرز اور اسلامسٹ میں۔ آپ کی کوشش ہے کہ زیادہ اسلامی رنگ لیکر آسکیں۔ اور جو سیکولر ہیں میری طرح کہ وہ چاہیں گے کہ اس میں بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔ اب دو راستے ہیں، ایک یہ ہے کہ جو سمجھوتا کیا اسے توڑ دیں کہ آپ بنیادی حقوق کا احترام نہ کریں اور ہم اسلامک پروویژن کو آئین سے نکالنے کا مطالبہ کریں تو سمجھوتہ ٹوٹ جائے گا۔73کے آئین میں ایک ملائی ریاست نہیں بنائی۔ کونسل آف اسلامک آئیڈیا لوجی پارلیمنٹ سے اوپر نہ تھی۔ مفتی محمود اور مولانا نورانی نے اتفاق کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ یہ دعویٰ کرسکتے۔ کیا کہیں گے؟، توازن کو قائم نہیں رکھنا چاہیے؟ کیا کہیں گے بنیادی حقوق پر کہ جوبیسک بنیادی حقوق ہم نے آئین میں مانے ہیں آپ اس کی رسپیکٹ کرتے ہیں یا نہیں کریں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: اسلام انسانی حقوق کا محافظ نظام ہے،فرد کی رفاع سے لیکر ریاست کی اقتصادی خوشحالی تک جب تک آپ کا ایک فرد خوشحال نہیں ہے جب تک آپ کی ریاست خوشحال نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ لفظ خلافت اور لفظ سیاست آئیگا تو اس سے مملکت اور ریاست کا نظام اور رہنے والے لوگوں کے حقوق اور تحفظ کا سوال ہونا چاہیے۔ جان، مال اور عزت و آبرو ، نسل و نسب کے تحفظ، عدل و انصاف مہیا کرنا اور حفظ عقل کا بھی مسئلہ ہے، تمام حوالوں سے انسان کی جو ضرورتیں ہیں وہ ان کے حقوق بنتے ہیں اور ان حقوق کا تحفظ کرنا اور اس کے منافی ہر چیز کو روکنا یہ ایک ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ جب ہم ان بنیادی نظریات پر متفق ہیں۔ جتنے بھی تاریخ اسلام کے ہمارے اکابرین ہیں امام غزالی ، ابن خلدون ، ابن کثیر ،ماوردی تمام دنیا اس بات پر اتفاق کرتی ہے کہ سیاست کس چیز کا نام ہے۔ تمام نے سیاست کے معنی یہی کیے ہیں کہ القیام بالشیئی بما یصلح کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر کرنا کہ جو معاشرے میں اصلاح کا سبب بنے۔ اس تصور کو عام کیا ہے سب نے۔
امتیاز عالم: اچھا یہ جو عالمی حقوق، بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کا اعلان نامہ ہے اس میں آپ، آپ کی جماعت اور آپ کے مکتب کے لوگ اس پر کیا کہتے ہیں؟۔ جو ہمارے آئین کا بھی حصہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن : جہاں تک میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے سوائے ایک آدھ شق کے کہ جس پر بحث ہوسکتی ہے ، مجموعی طور پر میں آپ سے پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ دین اسلام دین فطرت ہے اور انسانوں کی بھلائی کیلئے غیر مسلم بھی جب بیٹھتا ہے تو اس کی بہتری کے تصور کیساتھ حقوق کا تعین کرے گا تو وہ اسلام سے باہر جانہیں سکتا ۔ کیونکہ اسلام نے اس کا تعین کیا ہے۔ بعض چیزیں ہوسکتی ہیں کہ آپ کچھ ترمیم کرسکتے ہیں یا اسلامی نقطہ نظر سے کیونکہ وہ سب نے بنایا۔ اس میں صرف مسلمان تو نہیں بیٹھا ہوگا، تو اس میں جب ساری دنیا بیٹھتی ہے تو اس میں کہیں کوئی عدم توازن ایک آدھ شق میں ہے لیکن مجموعی طور پر ہم اس سے اختلاف نہیں کررہے ہیں ۔ اسکا احترام کیا جائے۔ جو حق وہ اپنے لئے مانگ رہا ہے یعنی تعلیم حق ہے اور ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کے دائرے میں تعلیم کا حق اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت حاصل ہے لیکن وہ حق میرے دینی مدرسے اور دینی مدرسے کے اندر حصول علم کے حوالے سے نہیں دیا جارہا اسNGOکو آپ قبول نہیں کررہے وہاں پر آپ اس کے حق پر تحفظات کررہے ہیں ، کبھی اس کو آپ دہشت گردی کے مراکز کہتے ہیں ، کبھی انتہاء پسندی کے مراکز کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ آپ نے تو بس ایسے ہی فقیر غریب بنادئیے ہیں۔ تو یہ سوالات بھی میرے اوپر ہوئے ہیں کہ دینی مدارس کے اندر ریسرچ ہوتی ہے؟۔ کیا دینی مدارس کے اندر کوئی نئے تجربات ہوتے ہیں؟۔ میں نے کہا کہ بالکل ہوتے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ پاکستان کی مملکت کے نظام میں جو سرکار کے زیر انتظام تعلیمی نظام ہے اس کے حامل لوگوں کو کردار ادا کرنے کی گنجائش دی گئی ہے لیکن دینی مدارس کے تعلیم یافتہ اور اسکے جو محققین ہیں ہمارے ملکی نظام میں اس تعلیم کو گنجائش نہیں دی گئی۔ آپ گنجائش دیں پھر دیکھیں ۔ آخر یہاں پر بھی تو کوئی آنکھیں بند کرکے افسر نہیں بنتا۔6مہینے اس کو ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔17گریڈ سے18میں جائے گا تو ٹریننگ کرے گا۔18سے19میں جائے گا تو ٹریننگ کرے گا۔ یہNIPAاور یہ ساری چیزیں اسی لئے بنی ہوتی ہیں کہ وہ پہلے ٹریننگ کریں گے اور پھر وہ کرسی پر جاکر بیٹھیں گے۔ اگر یہ انتظام آپ پاکستان کے اسلامی نظام کے حوالے سے ان لوگوں کو بھی مہیا کردیں اور ان کیلئے بھی لیگل شعبے متعین کردیں ، لیکن گنجائش تو بنائیں۔ سب آپ کے ساتھ مل کر جانے کیلئے تیار ہیں لیکن آج اگر ایک عالم دین جوفقہ کاعالم اور مفتی ہو اگر وہ کہتا ہے کہ میں ٹرینڈ ہوں اور شرعی عدالتوں میں پیش ہوکروکیل کی وکالت کرسکتا ہوں تو آپکا سارا وکالت نامہ اسکے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ کہ نئی جی، تم کون ہوتے ہو کالے چوغے ہم نے پہنے ہوئے ہیں اور مُلا آگیا جو میرے ساتھ کھڑے ہوکر وکالت کرے گا۔ اور مجھے پتہ ہے کہ میرے دار العلوم کے ایک شیخ الحدیث کے گھر میں ایک شخص تشریف لایا اورکہا کہ حضرت مجھے ذرا بتادیجئے یہ مشارکت، مضاربت،مرابحت کیا ہے؟، ذرا مجھے تفصیل چاہیے۔ اور میرا استاذ جب اس کو تفصیل کیساتھ پڑھاتا ہے سمجھاتا ہے تو اس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ حضرت اللہ اجر دے گا۔ بہت آسان کردیا۔ مہمان کہتا ہے کہ حضرت میں اپنا تعارف کرادوں، میں ہائی کورٹ کا جج ہوں اور میں فیصلے دے رہا ہوں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کیا فیصلے دے رہا ہوں۔ ضمیر نے ملامت کیا، یہاں آکر آج مجھے اطمینان ہوا کہ یہ معاملات کیا ہیں اور اس کے عنوانات ہم سنتے ہیں لیکن نیچے کی تفصیل ہمیں معلوم نہیں ۔ اس کی تعریفات ہمیں معلوم نہیں ۔ تو یہ چیزیں آپ کے ملک میں اسلئے ہیں کہ آپ کا معاشرہ اسلامی ہے۔ آپ کا عام مسلمان دیہاتوں میں ہے جب تک آپ اس کو مطمئن نہیں کریں گے کہ یہ حق جو آپ کو عدالت نے دیا ہے یہ شریعت بھی دیتی ہے تب تک اس کا ضمیر مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہے بیچ میں۔ تو جامعیت چاہیے اور اس کیلئے یہ ادارے بنائے گئے ہیں۔ یہ نہیں کہ میں آپ کو مجبور کرتا ہوں کہ جب تک تم میری طرح پگڑی نہ باندھو گے ، میری طرح قمیض شلوار نہ ہوگی اس وقت تک تم مسلمان نہیں ہو۔ کبھی اس طرح کے تصورات ہمارے یہاں نہیں ۔ میں آپ کو اسی کوٹ پتلون میں قبول کرنے کیلئے تیار ہوں۔ بغل گیر ہونے ، آپ کو سر پر بٹھانے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن آپ مجھے مانیں تو صحیح کہ میں پاکستان کا شہری ہوں۔
امتیاز عالم: آپ حق مانگ رہے ہیں اپنے مکتب کیلئے کہ آپ کو پریکٹس اور پرچار کی آزاد ی ہو۔ یہ حق دوسرے مکتب اور مذاہب کے لوگوں کو دیں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: حضرت میں بات کررہا ہوں آپ کیوں سوال کرکے ذہن تبدیل کررہے ہیں۔ میں پاکستان، ریاست، قوم، مملکت اور اجتماعیت کی بات کررہا ہوں۔ خدا کیلئے! میں مسلک کی بات نہیں کررہا آپ سے۔
امتیاز عالم:آپ حق مانگتے ہیں، بنیادی حقوق میں عیسائی کو اپنے عقیدے کا حق ہے کہ وہ کیا عبادات، رسومات اور کیسے زندگی گزارتا ہے۔ جیسے آپ اپنے لئے حق مانگتے ہیں۔ کیا یہ حق آپ دوسرے لوگوں کو بھی دینے کیلئے تیار ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: تمام جس کو آپ غیر مسلم اقلیت کہتے ہیں ان کی عبادت گاہیں ، ان کی حفاظت ، ان کی عبادات، عبادات کے حوالے سے ان کی پوری آزادی اسلام آج نہیں کہ ہم آپ سے مرعوب ہوکر یہ بات کررہے ہیں۔ جب اسلامی فوجیں شام داخل ہونے لگیں تو حضرت ابوبکرصدیق نے ہدایات جاری کیں کہ جب آپ شہر میں داخل ہوں گے تو خبردار! عورت ، بچے بوڑھے پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔ انکے باغات ، جانوروں کو تباہ نہیں کرنا ، ان کی جو عبادتگاہیں ہیں اور ان کے جو راہب ہیں اور بزعم خویش وہ خدا کی عبادت کرنے میں مصروف ہیں ان کو نہیں چھیڑنا ۔ یہ ساری تعلیمات صدر اول میں ہمارے اسلام کے پہلے خلیفہ نے انسانیت کو عطا کی ہیں۔ اور آج پوری اسلامی دنیا اس روش پر جانے کیلئے تیار ہے۔ یہ تو کوئی سوال ہی نہیں جو آپ کررہے ہیں۔ اس پر آپ بات کریں بہت بڑے پروسپیکٹ میں۔ میں مسلک کے دائرے میں پھنس کر بات نہیں کررہا۔ اس چھوٹے دائرے میں محصور اور یرغمال ہوکربات نہیں کررہا۔ میں ایک انسان، پاکستانی اور ایک ایسے مسلمان کہ جس کا موضوع ہی انسانیت ہے اس حوالے سے بات کررہا ہوں آپ سے۔
امتیاز عالم: مولانا آپ یہ بات کرنا پسند کریں گے کہ آ پ لوگوں میں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر اتفاق ہوا کہ اپنے مسلک پر قائم رہو اور دوسرے مسلک کو مت چھیڑو۔ یہ اتفاق ہوا آپ کے درمیان اس پر آپ قائم ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: ملی یکجہتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کے اندر اتفاق رائے ہے اور بالخصوص صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے ناموس پر۔ متفقہ دستاویز ہے۔ کمی یہ ہے ضرورت یہ ہے کہ اس پر قانون سازی بھی ہوجائے۔ اور قانون کے تحت اس چیز کو تحفظ دیا جائے تاکہ ان فسادات کا راستہ روکا جاسکے۔
امتیاز عالم: اچھا اس میں اصول یہ ہوا کہ لکم دینکم ولی دین تمہارا دین تمہارا میرا دین میرا۔ اور لا اکراہ فی الدین دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تو ہم تو سیکولر لوگ ہیں، یہی کہتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی دینآپ اپنا مذہب پریکٹس کریں میں اپنا مذہب پریکٹس کروں۔ اس پر آپ کا کیا اعتراض ہے؟۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی کے مسلک کو نہ چھیڑو اپنا مسلک مت چھوڑو تو یہی سیکولر ازم ہے ۔ سیکولر تو آپ کی ساری جمعیت علماء ہند ہندوستان بھی ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد سیکولر تھے۔ آپ کی جمعیت علماء ہند کے متفقہ صدر جنہوں نے پاکستان کو نہیں مانا اور ہندوستانی قومیت کی حمایت میں، میں انکی بہت عزت کرتا ہوں ان کیخلاف الزام نہیں لگارہا۔ وہ سیکولر تھے اور ہیں۔ ابھی آپ جائیں گے ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کی کانفرنس میں تو وہاں پر آپ کو سیکولر ازم کا بینر نظر آئے گا۔ وہاں سیکولر ازم حرام یہاں حلال یہ کیا معاملہ ہے؟ ذرا بتائیں۔ پھر آپ یہ مت کہیں ، پھر آپ کہیں کہ یہ شیعہ بھی کافر ہیں، آپ کہیں کہ بریلوی بھی کافر ہیں، صرف دیوبندی مسلمان ہیں۔ یا آپ کے تکفیری یا وہابی بھائی مسلمان ہیں باقی سب فارغ ہیں یا آپ یہ کہیں۔
مولانا فضل الرحمن: اس رُخ پر نہ جائیں۔ جن کو آپ نے کہا کہ یہ سیکولر ہیں۔ انہوں نے تقسیم کے فلسفے کو نہیں مانا ۔ آج ہم اس ریاست کے اندر ہیں جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوا اور اس کے بعد مسلمانوں کی ریاست پاکستان کہلایا۔ لہٰذا وہ حوالے وہیں رہ گئے اب ہم ایک نئی ریاست کے اندر جو لا الہ الاللہ اور مسلمان کے نام پر معرض وجود میں آئی، یہ ریاست جس نظرئیے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ہے اس حوالے سے اب بات کرنی ہے۔ وہ باتیں آپ چھوڑ دو۔
امتیاز عالم: ایک گزارش ہے کہ پاکستان سارے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے نہیں بنا اگر بنا ہوتاتو24کروڑ مسلمان اس وقت ہندوستان میں نہ ہوتے۔ اور اگر یہ ایسی مستقل بنیاد تھی تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔ یونیورسل بنیاد تھی تو بلوچ، پختون حقوق کا نعرہ ، آپ کے والد بزرگوار مستعفی ہوگئے کہ بلوچستان میں حکومت توڑی گئی پھر یہ مناقشے نہ ہوتے ، صوبائی خود مختاری کے ایشوز نہ ہوتے۔ اور آپ پولیٹیکل پلیٹ فارم بھی نہ بناتے۔ تو عرض اور گزارش یہ ہے کہ ہمارے پاکستان کی ریاست میں تاریخی پس منظر کے لوگ بھی ہیں ، پنجابی، سندھی جو کہ ہزار ہا سال سے ہیں۔ کیا پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان میں آنے کی دعوت دے دیں گے؟۔ کہ24کروڑ یہاں تشریف لے آئیں۔
مولانا فضل الرحمن: یہ میرا مسئلہ نہیں ہے جی۔ (قومی ریاست ہے ناں :امتیاز عالم) ۔ جو ریاست اب بن گئی ہے اس کی حدود میں جو لوگ رہتے ہیں وہی پاکستانی کہلائیں گے۔ باہر سے اگر کوئی آئے گا تو ہندوستانی کہلائے گا۔ (اور اگر سعودی یا کوئی مصری آئے؟۔ امتیاز عالم)۔ سعودی اور مصری کہلائے گا۔ پاکستانی نہ ہوگا۔ کیونکہ پاکستان نے اپنی جو شناخت دنیا میں متعارف کرائی، اس کو پاکستان اور اسی کو پاکستانی کہا جائے گا جو یہاں رہتا ہے۔
امتیاز عالم: ایک عرض ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں مکالمہ مشکل ہے۔ میں اور آپ بیٹھے مکالمہ کررہے ہیں۔ اس میں صرف ایک بات نہیں ہے وہ ہے تشدد۔ میرے پاس پستول نہیں، آپ کے پاس سوسائڈ بمبار کی جیکٹ نہیں۔ سوسائڈ بمبار کی جیکٹ جو آگئی اور جو تکفیری اور القاعدہ والے آگئے کیا مجھے آپ بتا سکیں گے کہ اس تشدد کے عنصر کو مذہبی نقطہ نظر سے آپ جائز سمجھتے ہیں؟۔کیا جہاد کا اعلان ہوسکتا ہے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اعلان کرسکتے ہیں؟۔ کیا ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان کرسکتے ہیں؟۔ پرائیویٹ گروپس اعلان کرسکتے ہیں؟۔ کیا افغانستان کے خلاف کرسکتے ہیں جہاد کا اعلان؟۔ اس کی کیا شرائط ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: میرا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے جنگ بھی مسلط کردی۔ ہم اس جنگ میں جل رہے ہیں پھر جن لوگوں سے اور جس عنوان کی بنیاد پر یہ جنگ لڑ رہا ہے اس میں یہ سوالات بھی اٹھارہا ہے۔ تاکہ جو لڑائی ہورہی ہے دوسرا فریق دفاعی پوزیشن پر رہے جنگ بھی جاری رہے۔ جنگ ہوگی تو خطے میں وہ موجود رہے گا۔ امن آئے گا تو وہ موجود نہیں رہے گا۔ جمعیت علماء اسلام تشدد پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم نے واضح طور پر تین دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کئے ۔ ایک دستاویز کہ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء ، تنظیمات اور شخصیات نے لاہور میں بیٹھ کر متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ ماضی میں ہمارے اکابر نے جن جن چیزوں، اصولوں اور معاملات پر اتفاق کیا تھا ہم ان متفقات کو دوبارہ موضوع بحث نہیں بنانا چاہیں گے، اسکا انکار کرتے ہیں۔ اس کے بعد جمعیت علماء اسلام نے پشاور میں25ہزار علماء کا اجتماع کیا اور جس میں تمام اکابر حتیٰ کہ فضلاء دیوبند شریک تھے جو اکابر علماء تھے ۔ بلوچستان میں ہم نے10ہزار علماء کا اجتماع کیا اور ان تمام علماء کرام نے ان تمام واقعات سے برأت کا اعلان کردیا۔ اور پھر اس کے بعد یہ کہا گیا کہ یہ دیوبندی اسلام اور دیوبندی مسلک میں شدت پسند ہیں اور ساری تنظیمیں یہ اور وہ۔ تو پھر لاہور میں150دیوبندی علماء کرام کراچی سے لیکر گلگت اور چترال تک اکھٹے ہوئے اور مجتمع طور پر کہا کہ پاکستان میں ازروئے شرع مسلح جنگ کی اجازت نہیں۔ یہ ساری چیزیں دستاویزات کیساتھ ہیں جو ہم نے پارلیمنٹ میں پیش کی ہیں لیکن آپ مذہبی دنیاکا مؤقف پروجیکٹ نہیں کررہے اور جیکٹ ،خود کش اوران10علماء کو داڑھی پگڑی کیساتھ جواسلحہ اٹھائے ہیں پروجیکٹ کررہے ہیں۔ چھوٹے طبقے کی پروجیکشن آپ کی نیت کی نشاندہی کرتی ہے کہ درحقیقت اس جنگ میں مذہب کو ایک ڈیفینسیو پر رکھنا چاہتے ہیں اور امت مسلمہ کو دنیا جو ہے وہ ڈیفینسیو پر رکھنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس جنگ کے جو بنیادی اور اصلی عوامل ہیں اکیڈمک لی اس پر تھوڑا سا غور کرنا ہوگا ورنہ یہ تو صبح و شام کی ہماری بحثیں ہیں تھڑوں پر بیٹھ کر ہم باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اصل عوامل کی بنیاد کبھی نہ مسلمانوں نے رکھی ہے نہ ان نوجوانوں نے رکھی ہے۔ آئین73ء میں بنا ہے جنگ1979میں چھیڑی۔ آج آپ تحفظ پاکستان آرڈینینس کے نام سے یہ لارہے ہیں کہ1979کے قانون کو تبدیل کرنا ہے اور آپ اس میں یہ لکھ رہے ہیں کہ اس وقت جو پالیسیاں اختیار کی گئی تھیں اس نے جنگ میں ڈالا، ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہ الفاظ ہیں انکے اندر۔ یہ پالیسیاں کس نے بنائیں؟۔ ہم نے دنیا کے کس ایجنڈے پر کام کیا؟۔ ہم نے کن کن کی خدمات سر انجام دیں؟۔ قومی سطح پر کتنی بڑی بڑی غلطیاں ہم سے ہوئیں؟۔ ہم اس پر جاہی نہیں رہے۔ آج روز مرہ کے معاملات پر سوالات معروضی اور روز مرہ کے معاملات پر ہم بحث کررہے ہیں۔
امتیاز عالم: مولانا بہت شکریہ اس بات کا۔ میں تعریف کرتا ہوں جو آپ نے کہا کہ یہاں کے علماء کرام اکھٹے ہوئے، انہوں نے تشدد کو رد کیا اور پاکستان کے اندر جہاد کو رد کیا یہ قابل احترام ہے ہم اس پر مکمل حمایت کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن: میں ایک نکتے کو واضح کردوں۔ لفظ جہاد کو رد کیا ہے یہ غلط بات ہے۔ میری جدوجہد بھی جہاد ہے۔ جہاد کے معنی ہیں کوشش۔ اور آپ جب کوشش کرتے ہیں ایک میدان میں نکل کر اور آپ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور آپ اعلائے کلمة اللہ کیلئے کرتے ہیں کیونکہ اعلائے کلمة اللہ کے بغیر کوئی جنگ جہاد نہیں ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہم غیر مسلح جدوجہد کو بھی جہاد کے زمرے میں لاتے ہیں۔ اور مسلح جنگ کی ہم ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ آج دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ گلوبل ولیج میں ہم دنیا سے کٹ کر سیاست نہیں کرسکتے۔ ہمیں دنیا کے معاملات کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا ہوگا۔
امتیاز عالم: یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ تشدد کو رد کررہے ہیں، اور جہاد کی جو دوسری اکبر شکلیں ہیں ان کی حمایت کررہے ہیں کیونکہ بندوق والا جہاد صغیر کہلاتا ہے۔ وہ پانچ ارکانِ اسلام میں تو نہیں، آپ نے چھٹا نہ بنادیا ہو۔تو گزارش ہے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں کہ ایک آدمی آتا ہے مارکیٹ میں اور اللہ کا نعرہ لگاتا ہے ، نعرہ تکبیر لگاتا ہے اور جیکٹ پھاڑتا ہے ، پچاس سو بندے عورتیں بچے مرجاتے ہیں جیسا کہ خیبر بازار میں ہوا۔ اس کو آپ کیا قرار دیتے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟۔ کیا اس کو آپ اسلامی ایکٹ قرار دیں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: اس کی بحث آپ مجھ سے نہ کریں کیونکہ میں نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ آپ طالبان کو پیغام دے دیں کہ امتیاز عالم مناظرے کیلئے تیار ہے تو وہ آپ کو جواب دے دیں گے۔ (وہ مناظرے والا کام اہل سنت و الجماعت والے کررہے ہیں: امتیاز عالم)
امتیاز عالم: آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ہاتھ میں جو ٹول بنا….. ہم آپ کے علماء کرام کے استاد تھے کیونکہ آپ لوگ کمیونسٹ کے شاگرد تھے برصغیر میں جب آپ لوگ بغاوت کرکے گئے تھے یاد ہے آپ کو۔ کالے پانی میں بھی گئے تھے اور ماسکو بھی گئے تھے۔ اس میں ہمیں آپ سے اتفاق ہے کہ پاکستان کو امریکہ کا انسٹرومنٹ نہیں بننا چاہیے تھا اور کولڈ وار میں اس کیمپ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے تھا اور یہ بات کہ روشن خیالی امریکہ سے نتھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایسی بات ہے کہ ہم آپ کے بارے میں یا کسی اور کے بارے میں ایسی بات کہیں۔

____ تبصرۂ ایڈیٹرنوشتہ دیوارمحمد اجمل ملک____
سیاسی، معاشی اور دفاعی لحاظ سے غلام اورہمارا اسلام سے ناطہ کمزور ہے۔ مسلم ممالک اور مجاہدین کو ٹیشوپیپر کی طرح پھینکاگیا۔ پاکستان رویا کہ مجبوری میں امریکہ کو چھوڑ کر روس، چین، ایران کے بلاک میں جارہے ہیں جبکہ ہمیں بہت خوشی کیساتھ اپنے پڑوسی ممالک افغانستان، چین، ایران اور بھارت کے ساتھ خوشگوار معاشی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ نجم سیٹھی نے بتادیا کہ افغان طالبان امریکہ کی بات نہیں مان رہے ہیں کہ چین کیلئے مشکلات کھڑی کریںتو امریکہ کی پہلی ترجیح پاکستان کو اس مقصدکیلئے استعمال کرنا ہوگا۔
اگر ہم نے امت مسلمہ کا رحجان علماء ومفتیان کے فرقوں کی طرف نہیں بلکہ اسلام کی طرف موڑ دیا تو سعودی عرب ، ایران ، افغانستان اور پاکستان کے اندر ایسی فضاء قائم ہوجائے گی کہ مغرب سمیت دنیا بھر کی خواتین اپنے لئے اسلامی حقوق کا مطالبہ شروع کردیں گی۔ نبی ۖ کافتح مکہ اور خطبۂ حجة الوداع وہ عالمی منشور ہے جس کی وجہ سے ہماری آپس کی دشمنیاں بھی ختم ہوسکتی ہیں اور عالمی سطح پر بھی ہم دنیا میں اسلام کے ذریعے انسانیت کی فتح کا بھرپورجشن مناسکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv