پوسٹ تلاش کریں

کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟

جاویداحمد یافثی قرآن کے نام پر امت مسلمہ میں ایک ناامیدی کی کیفیت پھیلا رہاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قیامت تک حکمران رہے گی ۔

ونبئھم عن ضیف ابراہیمOاذ دخلوا علیہ فقالواسلامًا قال انا منکم وجلونOقالوا لاتوجل نا نبشرک بغلامٍ علیمٍOقال ابشرتمونی علٰی ان مسنی الکبر فبم تبشرونOقالوا بشرناک بالحق فلا تکن من القانطینOقال و من یقنط من رحمة ربہ الاالضالونO

”اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔ جب اس پر داخل ہوئے تو کہاسلام کہا بیشک ہمیں تم سے ڈرلگا، کہاکہ ڈرو مت ہم آپ کو بڑے عالم لڑکے کی بشارت سنارہے ہیں۔کہا کیا بڑھاپے میں خوشخبری دیتے ہو تو کیسی خوشخبری ؟۔ کہا کہ ہم حق کیساتھ خوشخبری دیتے ہیں اللہ کی رحمت سے امید ختم کرنے والوں میں سے مت بنو۔ کہا کہ کون اللہ کی رحمت سے امید ختم کرتا ہے مگر گمراہ لوگ”۔ (سورہ الحجر51تا56)

اسحق واسماعیل، بنی اسرائیل ، خاتم الانبیائۖ تاقیامت آخری امیرامت محمداور عیسیٰ امید کو ختم کرنے والے گمراہ ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم…
”اور اللہ میںجد وجہد کا حق ادا کرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا،پہلے اور اس میں تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو، تونماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ اللہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمہارا مولیٰ ہے ،اچھا مولیٰ اوراچھا مددگار”۔ (سورہ الحج آیت:78) غامدی آئینہ دیکھ لے قرآن کریم ایک آئینہ ہے جس میں ہردور کے اندر لوگ اپنا اپنا کردار، چہرہ اور ماضی حال مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ فرمایاکہ

قل انی علی بیننةٍ من ربی و کذبتم بہ، ما عندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا للہ، یقص الحق و ھو خیرالفاصلینOقل لو عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامر بینی و بینکم اللہ اعلم بالظالمینOو عندہ مفتاتیح الغیب، لا یعملھا الا ھو، ویعلم ما فی البر و البحر ، و ما تسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ، و لا حبةٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینٍO(سورہ الانعام)

”کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس نہیں جس کے جلدی کا تم مطالبہ کرتے ہو۔حکم نہیں ہے مگر اللہ کیلئے۔وہ حق کا قصہ بیان کرتا ہے اور بہترین فاصلہ قائم کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم جلدی مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کوزیادہ جانتا ہے اور اسکے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔اور وہ جانتا ہے جوخشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّہ نہیں گرتا ہے مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک مگر کھلی کتاب میں”۔

پاکستان دنیا میں خشکی پر سمندر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جس میں قومی ترانہ بچے اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

پاک سرزمین شاد وباد…کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالیشانارض پاکستان
مرکز یقین شاد و باد
پاک سرزمین کا نظام…قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت…پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ وہلال…رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال… جان استقبال
سایۂ خدائے ذولجلال

کتاب کے آئینہ میں پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ، قومی ترانہ اور جاوید غامدی کا نظریہ سمجھنے کیلئے سورہ ابراہیم سے آیات پیش کی تھیں۔غامدی مایوسی کیلئے جھوٹ نہ بکے۔ ابراہیم کا عالم بیٹا بارہ خلفاء قریش کا سلسلہ قیامت تک قرآن اور بخاری، مسلم ، ابوداؤد، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ نواب قطب الدین خان، پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی واضح کئے ہیں۔

جاویداحمد غامدی کی خدمت میں چند گزارشات یہ ہیں:

تیرا حرم ہے کوفہ ماتم حسین کا بیعت یزید کرو
مروان کے بیٹوں سے اسلام کی مٹی پلید کرو
اقتدار کو قید کردیا قیامت تک بنویافث میں
بنوہاشم کی اہانت کرو بنوامیہ کی تمجید کرو
خدا کے نام پر خلق خدا کو تم پوجتے ہو
شرک و نفاق میں ڈالو دعویٰ توحید کرو
فقہ اسلاف کو پہناؤ ملمع سازی کے چغے
آیات ہوں قصہ پارینہ اعتزال کی تجدید کرو
کلام الٰہی کا ہر جملہ ہر سورہ انقلاب ہے
زندگی ضائع کردی تو کچھ تحقیق مزید کرو
گند کے ڈھیر کا ٹھیہ لگا دیا تو کون خریدے
کھل کر توبہ کرو باطل کو حق سے مستفید کرو
بڈھی بڈھیوں کیساتھ تسبیح کیلئے خانقاہ چشتیہ آؤ
پہلے تجدید ایماں پھر مطالعہ سورہ حدید کرو
شیطان کا گروندہ بن گیا تیرا دل و دماغ
اجتہاد تیرے بس کا نہیں مردان خدا کی تقلید کرو
نکل جاؤ اختراع کے دنگل کی الجھن سے
اک اہل ساتھی کو منصب پر رجل رشید کرو
آیات بینات کو تم نے قدغن آلود کیا
خدا کیلئے نہیں تو اپنے لئے حق کی تمہید کرو
گدھے کے گوشت کا مسلماں روسٹ کھاتا نہیں
یہ سواری ذبح مت کرو خود ساختہ شہید کرو
خدا نے کہہ دیا یہ ہے زینت کی چیز بھی
اپنے سامنے باندھ کر خود کو خود سے سعید کرو
آفاقی کلام کو بند کیا خود ساختہ ابواب میں
گمراہی تلف کردو درست ترجمہ قرآن مجید کرو

طلوع اسلام: علامہ اقبال
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی

والفجرO…واللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرO

”فجر(طلوع انقلاب )کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے (کوئی نوید یا وعید) کچھ ہے”۔ (سورة الفجر)

عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

ولقدکذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتیناھم آیاتنا فکانوا عنھا معروضینO

”اور تحقیق کہ عقل والوں نے رسولوں کا جھٹلایا۔اور ہم نے ان کو آیات دیں تو وہ ان سے روگردانی کرتے تھے”۔ (الحجر:80،81)

مسلمان کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
سرشک چشم مسلم میں نیستاں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترک شیرازی دل تبریز کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے نظر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
تیرے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلمان سے حدیث سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہینِ قہستانی
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا تھا اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیںتصویریں
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیںفطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال وپر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبارِ راہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہوجا
گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہے
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
بیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد
کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمد
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
بہ مشتاقان حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہائے پہنا نش بچشمم آشکار آمد
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گردد
ببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
بیا تا گل بفیشانیم و مے ور ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم

جاوید احمد غامدی اورمفتی تقی عثمانی مغرب کی سرمایہ داری کا دین بیچ رہے ہیں۔علماء و مشائخ کو چاہیے تھا کہ روحانی علاج کا پنڈال لگانے کے بجائے قرآن کی عام فہم آیات کو عوام کے سامنے لاتے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن اور علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں توبہ کرکے اچھا کیا ۔قاری مفتاح اللہ صاحب نے تین باتوں پر زور دیا۔ ہزار کتابیںاور ہزار ورق کو جلادو اور خود کو اللہ والے کے قدموں میں روند ڈالو۔ انکے شاگردوں میں مرشد حاجی محمد عثمان کیلئے قربانی دینے والا بندہ ناچیز تھا۔ انہوں نے درمیانہ زمانہ کے مہدی کا حوالہ دیا جو ہماری تحریک کی تائید ہے اور انہوں نے فرمایا کہ عجم لوگوں کے ہاتھوں علم دوبارہ زندہ ہوگا چاہے ثریا پر پہنچ جائے۔ کوئی اس سے امام ابوحنیفہ اور کوئی امام بخاری مراد لیتا ہے لیکن جو بھی عجم لوگ ثریا سے علم کی واپسی کا ذریعہ بن جائیں وہ سب لوگ مراد ہیں۔

مجھے ڈاکٹر احمد جمال نے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان کے سلام کو پہنچایا اور پھر میں نے ان کی زندگی کی آخری بیماری میں حاضری دی اور اپنا تعارف نہیں کرایا لیکن انہوں نے پہنچان لیا تھااور اپنے خاص شاگرد سے میری تعریف کی تھی۔ مجھے گمان تھا کہ قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کی وجہ سے مفتی صاحب کی رائے میرے بارے میں مثبت بنی تھی۔قرآن کی تعلیمات بہت سادہ اور آسان ہیں ۔ہزار کتاب ، اوراق جلانے اور اللہ والے کے قدموں میں روندنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور قرآن کی سادہ تعلیمات سمجھ میں آجائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے

فرزانہ علی بہت اچھے پروگرام کرتی ہیں

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے اس سے پہلے جنرل طارق خان کا انٹرویو کیا۔ جنر ل احسان الحق کا بیان ۔ مذہبی طبقے کا مخصوص ذہن مذہبی بیانیہ سے بدلے گا۔ تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی، شیعہ اور سبھی مذہبی طبقات کا اپنا اپنا ماحول ہے ۔ خلافت و جہاد والوں کوصحیح تصور دینا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک دن خلافت بھی قائم ہوگی۔ گل احمد مروت

پاکستان گروپ آف جرنلسٹ کے صوبائی صدر، چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پیغامات” پشاور گل احمد مروت نے نمائندہ نوشتہ دیوار سے گفتگو کرتے ہوئے حلالہ کیخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی خوش آئند قرار دیا اورمزید کہا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی جہد مسلسل کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں گو کہ وہ پس پردہ ہیں مگر ان کی تحقیقات ہیں جو فطرت اور قرآن کی واضح تعلیمات کے مطابق اُجاگر ہورہی ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو بڑا فیصلہ دیا ہے اسکے پیچھے گیلانی صاحب کی طویل جدوجہد اور لا تعداد علمی دلائل ہیں جو بالآخر عوام الناس، علماء و مفتیان کرام، دانشور حضرات اور اسلامی اسکالرز نے قبول کئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ اس کی واضح دلیل ہے۔ بعینہ اسی طرح آپ مسلمانوں کے عروج اور عالم اسلام کی سربلندی کیلئے قیام خلافت کی جو بات امت مسلمہ کو سمجھارہے ہیں ایک دن سب اس پر بھی انشاء اللہ متحد و متفق ہوں گے۔ یہی مسلمانوں کے مسائل کا حل اور وقت کا تقاضہ ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رسول ۖ پر وحی نازل ہونے کی وہ دلیل جس کو مشرق اور مغرب والے سب قبول کرلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ

سورہ نور میں لعان کی آیات1400سال پہلے کوئی اختراع نہیں ہوسکتا تھامگر ہم نے عمل نہیں کیا
حلالہ کی لعنت کو مشرق ومغرب میں کوئی بھی فطری دین نہیں کہہ سکتا ہے لیکن بے غیرتی مسلط کی گئی۔

اسلام کی حقانیت کو دنیا میں ثابت کرنے کیلئے کسی اور دلیل کی ضرورت بھی نہیں۔علماء ومفتیان سورہ نور میں لعان کی آیات کو قانون سازی کیلئے پیش نہیں کرتے مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے حرام خور حلالہ کی لعنت کو ختم نہیں کرتے! ۔

 

قرآن نے کمزور کو تحفظ دیا اور طاقتور کو لگام ۔ اس سے بڑی بات نہیں کہ کوئی اپنی بیگم کھلی فحاشی پر پکڑ لے مگر سزا نہ دے سکے۔ عورت جھوٹ بولے تو جج بھی سزا نہیں دے سکتا۔ مذہبی طبقہ طاقتوروںکی ٹانگوں کے درمیان اپنی ماں کا نپل سمجھ کر پیشاب کو دودھ کی طرح چوس لیا کرے تو کیا اسلام اجنبیت کی گھاٹیوں میں عنقا ء نہ ہوگا؟۔
قرآنی آیات میں واضح ہے کہ عورت کے بھی معروف حقوق ہیں جیسے مردوں کے انکے پر ہیں ۔طلاق سے رجوع کیلئے ان کی مرضی شرط ہے۔ وضاحتوں کے باوجود عورت کا حق چھین لیا گیا اور جہاں حلالہ کا خدشہ اور احتمال بھی نہیں تھا تو وہاں پر ہوس پرستوں نے لعنتوں سے منہ کالے کردئیے؟اور اسلام کو اجنبی بناکر رکھ دیا گیا۔
اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان ومایدریک لعل الساعة قریبO(سورة الشوریٰ:17)

وہ اللہ جس نے حق کیساتھ کتاب نازل کی اور میزان ۔اور تمہیں کیا خبر ہے ؟ شاید کہ انقلاب کی گھڑی قریب ہے۔ فتح مکہ کے انقلاب کی گھڑی بھی قریب تھی اور اب اسلام کی نشاة کی گھڑی پاکستان کی فضاؤں میں شاید قریب ہو۔

 

اذا جاء نصر اللہ والفتحOورأیت النا س یدخلون فی دین اللہ افواجًاOفسبح بحمد ربک واستغفر ہ انہ کان توابًاO

”جب اللہ کی نصرت اور فتح آئے اور آپ دیکھ لیں کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہورہے تو اپنے رب کی پاکی اور تعریف بیان کر اور استغفار کر۔بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے”۔ فتح مکہ پر کوئی تکبر اور غرور نہیں تھا ۔ نبیۖ نے فرمایا: ”آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں”۔

حلالہ کی لعنت کو اسلام اور رجوع کی نعمت کو کفر بنانے والوں نے اسلام کا معاشرتی ، معاشی ، اخلاقی اور سیاسی نظام تباہ کیا اور مذہبی اشرافیہ بن گئے۔ دین فروش، وطن فروش، ضمیر فروش اور عزت فروش اشرافیہ کو لگام دینے کی آج ضرورت ہے۔

اگر اسلامی نظریاتی کونسل نے لعان کا قانون اسمبلی میں پیش کردیا اور حلالہ کی لعنت پر سزا دینے کیلئے قانون سازی کرلی تو پاکستان میں اقتدار اعلیٰ اللہ کیلئے ہوجائے گا۔ طاقتوروں کو ظلم کا موقع نہیں ملے گا اور گندی ذہنیت رکھنے والے مذہبی طبقے سے مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے گا۔

قرآن کے الہامی کتاب ہونے کی سب سے بڑی دلیل تو سورہ نور میں لعان کا قانون ہے ۔ رسول اللہ ۖ کی پیدائش کو ڈیڑھ ہزار سال ہوگئے۔ عیسائی مصنف نے100بڑے آدمی کی فہرست میں پہلا نام حضرت محمدۖ کا اور دوسرا حضرت عمر کا دیا ہے۔ اسلام نے دنیا میں عورت ماں، بیٹی ، بہن اور بیوی کو جو حقوق دئیے تھے اس کا تصور بھی دنیا کے انسان نہیں کرتے تھے لیکن افسوس کہ مغرب نے عورت کو کچھ نہ کچھ حقوق پھر بھی دئیے ہیں اور چراغ تلے اندھیرا مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے۔

بہاولپور کی ریاست کے نوابوں کی کہانی بڑی انوکھی تھی جن میں سے کسی نے100اور کسی نے200سے زیادہ شادیاں کیں۔ چار بیویوں کو نکاح میں رکھا جاتا تھا اور باقی قلعہ بند ہوتی تھیں۔ اپنے محرمات سے ملاقات کی بڑی محدود اجازت ہوتی تھی اور اپنے والد کے ہاں سیکورٹی گارڈز کی معیت میں کافی عرصہ بعد آنا جانا کرسکتی تھیں۔ حافظ احمد سکنہ بہالپور چولستان نے اپنے ولاگ میں بتایا ہے کہ ان کے خاندان میں فسٹ کزن کیساتھ شادی کا جواز تھا اور باہر نکاح کو زنا سمجھا جاتا تھا اور کسی دوسری قوم میں نکاح کو اسلام سے بھی خارج ہونا تصور کیا جاتا تھا۔ عربی کا مقولہ ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ” لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں”۔

اسلام نے غلام اور خواتین کو بہت حقوق دئیے، محمود غزنوی کے دادا غلام تھے۔ صلاح الدین ایوبی اپنے بادشاہ نور الدین زنگی کے سپاہ سالار تھے اور اسکی وفات کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کی اور تخت پر بیٹھ گئے۔ نور الدین زنگی کانسب عمادالدین زنگی سے شروع ہوا تھا جو غلام خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

امیر امان اللہ خان کی والدہ کو اس کے والد امیر حبیب اللہ خان نے طلاق دی تھی۔ تاریخ میں یہ ہے کہ اس کی والدہ نے ہی سازش کرکے حبیب اللہ خان کے قتل میں کردار ادا کیا تھا۔

عربوں نے بھی اسلام کو مسخ کیا ۔ممالیک خاندان غلاماں کا بھی مسلمانوں پر اقتدار رہاہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے جرمن یہودی سے مسلمان اسد سلیم کو پاسپورٹ جاری ہوا تھا۔ پاسپورٹ نمبر:000001تاریخ اجرائ:15ستمبر1947ء الجزائر پر قابض فرانس سے فاطمہ نسومر المعروف خولة الجزائر نے25000ہزار مجاہدین تیار کرکے جہاد کیا۔ آزادی کے بعد فرانس نے کچھ مجاہدین کے پاسپورٹ بلاک کردئیے جن کو پاکستان نے اپنی شہریت کے پاسپورٹ جاری کئے اور لاکھوں ٹن گندم الجزائر کو قحط سالی کے دوران مفت میں بھیج دی تھی۔

فاطمہ نسو کی جوانی میں شوہر سے علیحدگی ہو ئی تو شوہر طلاق نہیں دے رہاتھا اسلئے اس نے شادی نہیں کی ۔آخر میں فرانس کی فوج نے اس کو گرفتار کرلیا تھا۔ قرآن نے قیدی کو غلام اور لونڈی بنانے سے روکا ہے اور جنسی زیادتی کا جواز بھی نہیں۔

فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منًا بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا و لو شاء اللہ لانتصر منھم ولکن لببلو بعضکم ببعضٍ والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم (سورہ محمد:4)
ترجمہ:”پس جب تم کافرلوگوں سے لڑو تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کا خوب خون بہادو اور ان کو قیدی بناؤ۔ پھر اسکے ساتھ احسان کرو یا تاوان لیکر رہا کرو۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہو اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو خود ہی مغلوب کرتا لیکن وہ تمہار ا بعض کے ساتھ بعض کا امتحان چاہتا ہے۔اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے تو ان کے اعمال رائیگاں نہیں ہیں”۔

نبی ۖ نے غزوبدرمیں کسی قیدی کو غلام نہیں بنایا اور نہ ہی کسی سپاہی کو غلام بنانا عقل کی بات ہے۔ اللہ نے صرف ان دو صورتوں کا حکم دیا کہ احسان کرکے چھوڑ دیا یا فدیہ لیکر اور بس۔

پاکستان نے بوسنیا اور چیچنیا وغیرہ کی بھی مدد کی۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے باہمی افہام وتفہیم سے پوری دنیا کیلئے پاکستان کو ایک تحفہ خداوندی بناسکتے ہیں۔ تعصبات پھیلانے سے دھندہ بہت پرانا ہے۔ سکھ فوج نے میر چاکر بلوچ کے مزار کو نقصان پہنچایا۔ تقسیم ہند کے وقت انگریز کی سازش تھی کہ مذہبی بنیاد پر مسلمان اور سکھ اور ہندو کے نام پر نفرت ، تباہی و بربادی ہوئی۔ لیکن جب تک کوئی قوم خود کو سازشوں سے نہیں بچائے تو سب الزامات دوسروں پر تھوپنے سے کام نہیں بنتا ہے۔ گاؤں کی کتیا چوروں سے ملتی ہے تو پھر سازش کامیاب ہوتی ہے۔

پشتو کی کہاوت ہے کہ جب سچ پہنچتا ہے تو جھوٹ گاؤں کو بہاکر لے جاچکا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا سچ پھیلانے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ کرکے جھوٹوں کو سچی ہدایت مل جائے اور ہماری قوم کی حالت بہتر سے بہترین ہوجائے۔

 

محفوظ جان کی26نومبر2025فیس بک پوسٹ سے

عبدالجبار خان المعروف ڈاکٹر خان باچا خان کے بڑے بھائی تھے ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران ڈاکٹر خان فرانس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ فرانس میں قیام کے دوران وہ سکاٹ لینڈ کی ایک نرس میریMary Victoria Kenmure سے ملے۔ وہ ایک دوسرے کے عاشق ہو گئے اور شادی کرلی میری طلاق شدہ تھی اور اسکی پہلے خاوند سے ایک بیٹیMuriel Mary Kenmure

پیدائش1914، سکاٹ لینڈتھی شادی کے بعد دونوں ماں بیٹی کو پشتون معاشرے میں ”میری بی بی”اور ”مریم”کہہ کر پکارا جانے لگا۔ تاریخی کتابوں اور خدائی خدمتگار دستاویزات میں بھی ”مریم”ہی لکھا1942کو مریم کو برٹش انڈین ائیر فورس کا ایک افسر فلائیٹ لیفٹیننٹ جسوات سنگھ پسند آیا۔ سکندر مرزا نے جو ان دنوں صوبہ سرحد میں تعینات تھا اپنے بنگلے پر چپکے سے انکی شادی کروادی تاکہ ہندومسلم فسادات اور خدائی خدمتگار تحریک کو بدنام کرواسکیں ۔ پورے صوبہ سرحد میں مشہور کرایا کہ باچہ خان کی بھتیجی سکھ افسر کیساتھ بھاگ گئی جبکہ اصل میں جسوات سنگھ سکھ نہیں تھا، مذھباً عیسائی تھا لیکن یہ پروپیگنڈہ کیاگیا کیونکہ پشتون عیسائیوں کی بجائے سکھوں سے زیادہ نفرت کرتے تھے ۔پشتو میں مثل ہے کہ” سکھ نہ مے بد ہ سی”۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیا الدین احمد نے2مئی1942کو جناح صاحب کو خط میں لکھا کہ میرے پاس خوشخبری ہے۔ ہمارا اسٹاف کا رکن پشاور گیا، وہ واپس آیا اور کہا کہ پورا صوبہ سرحد اب مسلم لیگ اور پاکستان کیساتھ ہے۔ ڈاکٹر خان کی بیٹی سکھ سے شادی کر کے سندھ فرار ہو گئی۔ اس واقعے پر پشتون بہت غصے میں ہیں اور خان عبدالغفار اور کیپٹن خان کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ کے رہنماں کی اخلاقی ساکھ کتنی گری ہوئی تھی جس نے ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو مجبور کیا کہ وہ اپنے نمبرز بڑھانے کیلئے جناح کو اس طرح کا غلیظ خط لکھے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں اور رہنماں کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ جناح صاحب کی بیٹی دینا واڈیا نے صرف چار سال پہلے سن1938کو مذہب زرتشت سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری آدمی سے شادی کی تھی جس پر جناح بہت ناراض ہوا تھا۔ جو پروپیگنڈہ مولوی حضرات برٹش ہندوستان میں جناح کے خلاف کررہے تھے ان سے دو قدم آگے بڑھ کے مسلم لیگ کے کارکن اور رہنما اپنے غلیظ ہتھکنڈوں سے باچہ خان کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

مریم کے خاوند جسوات سنگھ بعد میں انڈین ائیر فورس کا وائس ائیر مارشل بنا اور افریقہ کے ملک گھانا کے ائیر فورس کی قیادت بھی کی جبکہ جناح کی بیٹی دینا واڈیا کا نواسہ نس واڈیا اس سال انڈین پریمیئر لیگ کا فائنل کھیلنے والی ٹیم کنگ الیون پنجاب کا شریک مالک ہے لیکن اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کیلئے گھریلو خواتین پر کیچڑ اچھالنا آج بھی پاکستانی سیاست کا حصہ ہے۔ حوالہ جات

Jaffrelot, Christophe The Pakistan Paradox (2015)
Rittenberg, Stephen Alan Ethnicity, Nationalism, and the Pakhtuns: The Independence Movement in India’s North-West Frontier Province (1988)
Shah, Sayyid Wiqar Ali Ethnicity, Islam and Nationalism: Muslim Politics in the North-West Frontier Province 1937-47 (1999)
Banerjee, Mukulika The Pathan Unarmed (2000)
Khudai Khidmatgar Archives اور Quaid-e-Azam Papers (Shamsul Hasan Collection, Vol. 17)
Air Vice Marshal Jaswant Singh۔۔۔۔ کی سوانح عمری۔۔۔CAp TAin…
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ اللیل دراصل سورہ النہار ہے (آمد رسول ۖ دن کا اجالا) صحابہ نے آسانی کیساتھ عروج اور کفار نے زوال کا سفرطے کرلیا

جلد فتح مکہ اور قیصر وکسریٰ کو شکست اور بڑا اقتدار
غزوات میں شکست اورپھرفتح مکہ میں بڑا سرنڈر
واللیل اذا یغشٰیOوالنہار اذا تجلٰیOوما خلق الذکر والانثٰیOان سعیکم لشتٰیO(سورة اللیل:1،2،3،4)

رات کی قسم جب وہ ڈھانپ لے اوردن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے اورقسم جو نراور مادہ پیدا کیا ۔بیشک تمہاری کوششیں الگ الگ ہیں۔

فامامن اعطٰی واتقیOوصدّق بالحسنٰیOفسنیسرہ للیسریٰO (آیات:5،6،7)

پس جس نے حق دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی تصدیق کردی تو ہم اس کو عنقریب آسانی کیساتھ لے جائیں گے سہولت کیلئے۔
رسول اللہ ۖ چمکتے سورج کی طرح طلوع ہوگئے تو صحابہ کرام نے مستحقوں کو ان کے حقوق دینے شروع کردئیے اور تقویٰ اختیار کیا اور فطری شرعی احکام کی تصدیق کردی تو بہت آسانی کیساتھ آسانی کی منزل تک اللہ نے پہنچادیا۔

 

واما من بخل واستغنٰیOوکذّب بالحسنٰیOفسنیسرہ للعسریٰ (آیات:8،9،10)

اور پس جس نے بخل کیا اورحق سے لاپروا ئی برت لی اوراچھائی کو جھٹلادیا تو ہم اس کو آسانی کیساتھ لے جائیں گے مشکل کیلئے۔
اندھیری رات میں کفار نے حقوق غصب کئے ،پھر دن دھاڑے بھی بخل کیااور حق کی پرواہ نہیں اور فطری شرعی احکام کو جھٹلایا توپھر آسانی سے مشکل میں پہنچ گئے، جن پر مظالم کئے تھے انہی کے وہ دستِ نگربن گئے ۔

 

ومایغنی عنہ مالہ اذتردّ ٰ یOان علینا للھدٰیOفانذرتکم نارًاتلظیٰOلا یصلاھا الا الشقیOالذی کذّب و تولّیٰ

اور اسکا مال اسکو نہ بچا ئے جب گڑھے میںگرے۔بیشک ہمارا کام ہدایت ہے تو ہم نے بھڑکتی آگ سے تمہیں ڈرایا۔جس میں نہیں جائے گا مگر بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ موڑدیا۔ (11تا16) غیرتمند قبضہ مافیا، بھکاری ،طاقتور کے سامنے بھیگی بلی اور چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہوتا ۔

جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پھر لوگ اپنے گرد وپیش سے پوری دنیا تک دو پارٹیوں میں بٹ جائیںگے۔

 

وسیجنبھا الاتقیOالذی یؤتی مالہ یتزکّیٰOومالاحد من نعمةٍ تجزٰیOالا ابتغاء وجہ ربہ الاعلٰیOولسوف یرضٰیO

اور عنقریب کفروتکذیب سے کناہ کش ہوگا جو پرہیزگار ہے جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو نعمت کا بدلہ دے سکے۔ مگر یہ کہ وہ اپنے ربّ اعلیٰ کی رضا جوئی میں مگن رہے۔ اور عنقریب وہ اس سے راضی ہوگا۔ (آیات17تا21)

 

صلح حدیبیہ سے قبل سیدنا ولید بن ولید اور بعدمیںسیدنا خالد بن ولید اور فتح مکہ کے بعدسیدنا ابوسفیان و سیدہ ہند اور پھرسیدنا عکرمہ بن ابوجہل کفر سے کنارہ کرکے دامن رسالتۖ میں پناہ گزیں ہوگئے۔یہ بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کسی نعمت کا بدلہ کوئی ایک بھی نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اسکے بدلے اپنے رب اعلیٰ کی رضا میں مگن رہے توعنقریب وہ راضی ہوگا۔حضرت ابوبکر وعمر ، عثمان، علی ،حسن اور معاویہ خلافت کے بھوکے نہیں تھے، ذمہ داری کا بوجھ اٹھالیااور صحابہ کرام نے آزمائش اور مشکلات میں اللہ کی رضا جوئی کیلئے ہمیشہ کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

یہ نری بکواس ہے کہ ایک ابوبکر نے نعمت کا بدلہ دیا۔ نعمت کا بدلہ ممکن نہیں ۔کسی کو منصب خلافت ملا یا نہیں ؟مگر اللہ سے راضی تھا اور اللہ اس سے راضی تھا اور ہر ایک کا معاملہ اپنا اپنا ہی تھا۔ لڑائی میں بھی خلوص تھا اور صلح میں بھی ایمان کا تقاضہ۔ جیسے رسول اللہ ۖ نے غزوہ بدر، اُحد، خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ ، حنین اور یرموک غزوات میں تزکیہ فرمایا،تعلیم وتربیت دی اور حکمت سکھائی تھی۔ ماکان لنبی اں یکون لہ اسرٰ ی حتی یثخن فی الارض اور عصٰی اٰدم ربہ فغوٰی کی آڑمیںگندی ذہنیت کی گنجائش نہیں ۔ابوجہل وابولہب کی اولادخلوص کی پیکر بن گئی ۔اسلام کی سچائی کی تصدیق کی اور قبل اسلام کے کفر کو اللہ نے معاف کردیا مگر حقوق العباد انہوں نے پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے واپس لوٹادئیے۔

یزید اور حسین ، فاطمہ وہندہ اور حسن ومعاویہ پر بحث حقائق سے منہ چھپانا ہے۔اپنے دور کے یزید و حسین کی بات کرو۔ عربی مقولہ ہے کہ ہر فرعون کیلئے موسیٰ ہے۔ عمران خان کے نکاح خواہ مفتی سعید خان کی جنید جمشید سے فون پر بات ہوئی تو اس آیت سے حضرت ابوبکر مراد لیا۔ میں نے کہا کہ آیت میں کسی ایک کا استثناء نہیں،اگر ہوتا تو بات بنتی؟۔ کہنے لگے کہ سارے مفسرین نے یہی مراد لیا۔ میں نے کہا کہ مفسرین نے متن کیخلاف تفسیریں کرکے اسلام کا بیڑہ غرق کیا اس نے پشتو میں مفتی ابراہیم سے میرا کہا کہ یہ تو بڑا انقلابی انسان ہے۔

البقرہ:230کی اصل تفسیر یہ ہے کہ جب عورت کو کسی بھی طلاق کے بعد پہلاشوہر کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو پہلے کیلئے رجوع حرام ہے۔ سعد بن عبادہ کی بیگمات سے لیڈی دیانا تک بہت مثالیں ہیںمگر مولوی حلالہ کیلئے تشنہ تھا۔ قرآن کو بازیچہ اطفال اور مذاق بنادیا گیا اسلئے متروک ہوا۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہو ا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا۔ پس خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے”۔ آج اسلام مذہبی طبقات کے ہاتھوں اجنبی بن چکا ہے۔ جب کوئی جماعت اس کو اجنبیت سے نکالے گی تو پھر حق اور باطل کے دو گروہ بنیں گے!

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
جھوٹے غامدی کے بک بک پہ نہ جا
علیکم بالعلم و علیکم بالعتیق
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت مولانا عصام الدین مدظلہ اور صحافی ظفر اقبال جتوئی کے تاثرات

مولانا عصام الدین مدظلہ

پیر عتیق الرحمن صاحب کی باتیں بہت وزنی اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں کیونکہ محترم تحقیقات کی روشنی میں اور مثبت دلائل کی بنیاد پر بات کرتے ہوئے مخالف کا منہ بند کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ پیر صاحب کی عمر، عمل اور علم و معرفت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب ہو حضرت مولانا عصام الدین مدظلہ
ــــــــــ

سید عتیق الرحمن گیلانی

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھ کر ، چاہے وہ فوجی ہو، سیاستدان ہو مذہبی طبقہ ہو غلط رنگوں سے نکلو، اچھائی پر آؤ تاکہ پاکستان دنیا کیلئے بنے اور انشاء اللہ بنے گا۔ یقین ہے کہ سورہ دھر میں پاکستان کیلئے ملک کبیرکا ذکر ہوا۔ جس کی مسافت مشرق سے مغرب تک پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہوگی۔ ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان سے حلالہ کا خاتمہ ہو تو فرقہ واریت اور سیاست بدلے گی۔
ــــــــــ

بیداری کی تحریک: نوشتہ دیوار
تحریر: ظفر اقبال جتوئی

نوشتہ دیوار کوئی عام ماہنامہ نہیں، یہ ایک ایسی فکری تحریک ہے جس نے شعور کی شمعیں جلانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ اس کا مقصد خبروں کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں بلکہ ایک ایسی فکر عام کرنا ہے جو قاری کو صرف پڑھنے والا نہیں، سوچنے، سمجھنے اور معاشرے میں تبدیلی لانے والا انسان بنا دے۔ یہ اخبار کسی طاقتور سرپرستی، اشتہار یا تجارتی مقصد کے بغیر صرف علم بانٹنے کے جذبے سے نکلتا ہے، اور یہی اس کی اصل قوت ہے۔

عتیق گیلانی کی قیادت میں نوشتہ دیوار نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب فکر مضبوط ہو تو کسی بڑے مالی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں اگرآپ مجھے پڑھ رہے ہیں تو کل کوئی دوسرا آپ کو پڑھے گا۔ یہی جملہ اس تحریک کا محور ہے۔ یہاں قاری محض سامع نہیں رہتا، بلکہ قافلے کا حصہ بن جاتا ہے، یہی وہ سوچ ہے جس نے خانپور اور وسیب کے درجنوں نوجوانوں کے اندر نئی روح پھونک دی ۔

خان پور کا نوجوان شاہ نواز اسی فکر کا روشن چراغ ہے۔ وہ کبھی خاموش قاری تھا، مگر نوشتہ دیوار سے جڑنے کے بعد اس نے اپنی سوچ بدل ڈالی۔ آج وہ خود اپنے علاقے میں بیداری کا پیغام پھیلا رہا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ تحریک کسی ایک فرد کا قصہ نہیں، یہ ان سب نوجوانوں کا سفر ہے جنہوں نے اس اخبار سے فکر کی غذا لی اور پھر اسے دوسروں تک پہنچایا۔

نوشتہ دیوار کی سب سے بڑی خوبی اس کا غیر روایتی مزاج ہے۔ یہاں کوئی طاقتور اشتہار بازی نہیں، کوئی خالی نعرہ نہیں صرف علم، دلیل اور شعور ہے۔ یہ اخبار قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کا وجود اہم ہے، اس کی آواز معنی رکھتی ہے، اور اس کے خیالات دنیا بدل سکتے ہیں۔ یہی سوچ ہر اس نوجوان کو حوصلہ دیتی ہے جو اپنے آپ کو کمزور سمجھتا ہے۔

خان پور کے گلی کوچوں میں اب یہ نام اجنبی نہیں رہا۔ نوجوانوں کی محفلوں میں جب نوشتہ دیوار کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی بیداری کا لفظ بھی گونجتا ہے۔ یہ اخبار اب صرف ایک مطبوعہ رسالہ نہیں بلکہ فکری روشنی کا چراغ بن چکا ہے، جو ایک ایک ذہن کو جگا رہا ہے۔شاہ نواز جیسے نوجوانوں کی زندگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوشتہ دیوار نے سوچ بدل دی ہے۔ یہ اخبار اپنے قاری کو خبر نہیں دیتا بلکہ اسے خود ایک زندہ خبر بنا دیتا ہے۔ وہ شخص جو کل تک قاری تھا، آج مبلغ، راہ دکھانے والا اور روشنی پھیلانے والا ہے۔یہ تحریک کسی وقتی جوش کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری سفر ہے۔ نوشتہ دیوار یہ پیغام دیتا ہے: پڑھو تاکہ تم بدل سکو، بدلو تاکہ معاشرہ بدلے۔ یہی وہ فکر ہے جو ایک فرد کو قوت دیتی ہے اور پھر اسی قوت سے پورا قافلہ اٹھتا ہے۔

نوشتہ دیوار نے یہ بات منوا لی ہے کہ اگر اخبار کا نظریہ صاف، فکر مضبوط اور سمت واضح ہو تو وہ معاشرتی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ بیداری کی تحریک ہے جو آج خان پور میں ہے، کل وسیب کے ہر گوشے میں ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ نومبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

14 تن پاک کا سچا تصور مگر کیوں؟

(جاوید احمد غامدی کی ویڈیو ”پنجتن پاک کا جھوٹا تصور ” اور اس کا جواب)

انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیراً
بیشک اللہ چاہتا ہے کہ تم سے اے اہلبیت! گند کو دور کردے اور تمہیں پاک کردے

یہ آیت قرآن میں ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی اسلئے کہ مشکلات کا شکار تھیں۔

نبیۖ نے چادر میںعلی،فاطمہ ، حسن وحسین کو لیا انکے میل کی صفائی کیلئے یہ دعامانگ لی۔

قرآن میں السابقون السابقون اولئک المقربون فی جنٰت النعیم ثلثة من الاولین و قلیل من الااٰخرین کا تصور بھی ہے اور اصحاب الیمین دائیں جانب والوں ، اصحاب الشمال کا بائیں جانب والوں کا تصور بھی ہے ۔ سورہ واقعہ ، سورہ رحمن، سورہ الحدید ، سورہ جمعہ اور سورہ الانعام وغیرہ میں بہت زبردست تفصیلات موجود ہیں۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک صحابہ کرام اور اہل بیت کی دونوں طبقات سے عقیدت ومحبت قرآن واحادیث کا اصل تقاضہ ہے۔ 30سال تک خلافت راشدہ کی بشارت تھی ۔اس طرح حضرت حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
معتدل مزاج سنی اور شیعہ میں زیادہ تفریق اور نفرت نہیں ہے لیکن ناصبی، رافضی اور خوارج سوء ظن کا شکار رہتے ہیں۔

اللہ نے قرآن میں ان کے کالے منہ پر کالک مل دی ۔
وھٰذا کتاب انزلنا ہ مبارک فاتبعوہ واتقوا لعلکم ترحمون O ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا وان کنا عن دراستھم لغافلین O او تقولوا لو انزل علینا الکتاب لکنا اھدٰی منھم فقد جاء کم بینة من ربکم و ھدًی و رحمة فمن اظلم ممن کذّب باٰیات اللہ و صدف عنھا سنجزی الذین یصدفون عن اٰیاتنا سوء العذاب بما کانوا یصدفون

”اوریہ مبارک کتاب ہم اتاری ، پس اس کی اتباع کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ تم کہو یہ پہلے دو گروہ پر نازل ہوئی اور اس ہم اس کی تدریس سے غافل رہے۔ یا کہو کہ اگر ہم پر یہ کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت پاتے۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلائل آئے اور ہدایت اور رحمت۔ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور اس سے منہ موڑے۔عنقریب ہم برے عذاب کا بدلہ دیں گے جو ہم آیات سے منہ موڑتے ہیں بسبب ان کے منہ موڑنے کے۔ (الانعام :155تا157)

رافضی و ناصبی سمجھتے ہیں کہ صحابہ و اہل بیت سے ان کا کردار بہتر ہوتا۔ جاویداحمد غامدی اور اس کے شاگردوں کو حضرت علی ، حسن اور حسین میں نااہلی نظر آتی ہے۔ کوئی شیعہ اور سنی اعتدال اور صحابہ واہلبیت میں کسی کی تعریف کرتا ہے تو بہت بڑا شدت پسند طبقہ تعصبات کی بنیاد پر کتوں کی طرح چھپٹتا ہے اور اپنی خباثتوں سے بے خبر پہلوں پربڑی انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

بلاشبہ قرآن میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں ۔ مشکلات کی چکیوں میں ڈال کر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی ان کا میل صاف کردیا۔ یہ اچھا ہے کہ اہل تشیع اس سے ازواج مراد نہیں لیتے ورنہ کچھ خبیث کی ذریت غلط معانی نکالتے۔

البتہ حدیث کساء میں حضرت علی، فاطمہ، حسن، حسین کیلئے نبیۖ نے دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے میل کو دور کردے”۔ حسن نے یہ نہیں دیکھا کہ معاویہ نے حضرت علی سے لڑائی کی اور مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرادی۔ یزید کی نامزدگی پر حضرت ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمن نے کہا تھاکہ ” اسلام میں ہرقل کی طرح بیٹے کو نامزد کرنے کی گنجائش نہیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بھی مزاحمت کی تھی اور حسین نے مزاحمت کی قربانی دیدی۔ یزید کے بعد اسکے بیٹے معاویہ نے زین العابدین کو مسند پیش کی ۔ مروان بن حکم نے یزید کی موت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر سے بیعت کا کہا تو آپ نے فرمایا کہ مدینہ سے نکل جاؤ مردود۔ پھر مروان نے شام میں باغی سازشی اقتدار قائم کیا۔ عبداللہ بن زبیر کے دور میں مختار ثقفی نے قاتلان حسین سے بدلہ لیامگر پھر آپس کی لڑائی نے عبدالملک بن مروان کو موقع دیا۔ مکہ میں حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر کی ظالمانہ شہادت تک بغاوت پہنچائی۔

امام زین العابدین اور آپ کی اولاد نے قرآن وسنت کے مطابق حلالہ سے لوگوں کی حفاظت کرنے میں اپنی توانائی خرچ کی۔ عزت آنی جانی چیز نہیں ،یہ تو آج کا ماحول ہے کہ مفادکی خاطر عزت قربان کی جاتی ہے۔ آج ہماری وجہ سے لوگ حلالہ سے بچ رہے ہیں تو بہت لوگوں کی زبردست دعائیں ہیں۔

رسول اللہ ۖ کی دعا کا اثر نہ صرف پنج تن پاک پر بلکہ ان آنے والے ائمہ اہل بیت پر بھی قائم رہا جنہوں نے مسلم امہ کو حلالہ کی لعنت سے بچنے کیلئے قرآن وسنت سے رہنمائی فرمائی۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہاہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت”۔ صحیح مسلم کی پہلی روایت ہے کہ اس سے ازواج مطہرات مراد ہیں؟۔ جس کے جواب میں ہے کہ ازواج بھی اہل بیت ہیں لیکن اس سے مراد ازواج مراد نہیں۔دوسری روایت میں پھر پوچھا گیا تو بتایا کہ ازواج قوم کا حصہ نہیں ہوتیں جب طلاق دی جائے تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ جاتی ہیں۔ یہاںبنوہاشم مراد ہیں۔

اقتدار کیلئے اہل بیت نے امت کو نہیں لڑایا اور حلالہ کے گند سے بچایا تو یہ کافی ہے کہ نبیۖ کی دعا انکے حق میں قبول ہوئی ہے اور ان احادیث صحیحہ کے واقعی مصداق ثابت ہوگئے تھے۔ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح بخاری سے لیکر جاوید غامدی تک کا طلاق کی غلط تشریح اور حلالہ کے گند تک کی تعبیر سے حدیث کی صحت ثابت ہوتی ہے کیونکہ ناصبی سندنہیں عمل کو تو مانتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پراوین سا ہنی انڈین دفاعی تجزیہ نگار

میں ان تعلقات کی بات کر رہا ہوں جو عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔ آج پاکستان کے امریکہ کیساتھ اسٹریٹیجک تعلقات کیسے ہیں اور روس کیساتھ کس نوعیت کے ہیں؟۔ پاکستان چین تعلقات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا بخوبی واقف ہے۔ یہ بھی بتاں گا کہ تینوں عالمی طاقتوں کیساتھ بیک وقت غیر معمولی اسٹریٹیجک صورتِ حال کے نتیجے میں پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ پہلے ان تین عوامل کو واضح کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے پاکستان کو اس بلند مقام تک پہنچایا کہ وہ تینوں طاقتوں سے بیک وقت حکمتِ عملی کی سطح پر بات کر سکتا ہے۔ پہلا پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، دوسراآپریشن سندور۔ دنیا بالخصوص امریکہ نے دیکھا کہ پاکستان نے روایتی جنگی صلاحیت کتنی مضبوطی سے منوائی اور فضائیہ نے مرکزی کردار ادا کیا، تیسرا پاکستان کے چین سے وقت کی ہر آزمائش پر پورے اترنے والے دیرینہ اور مستحکم تعلقات، جو عالمی سیاست کے اتار چڑھا کے باوجود ہمیشہ قائم رہے۔

اب میں پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے تعلقات پر آتا ہوں۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں انہی سے لین دین کرتا ہوں جو مجھے پسند ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پسند آئی، کیونکہ انہوں نے دو ایسے اقدامات کیے جو ٹرمپ کے مزاج کے مطابق تھے۔ پہلا پاکستان کی قیادت نے کھلے عام اعلان کیا کہ فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے کئی جنگی طیارے مار گرائے اور بھارت کی طرف سے اس کی تردید نہ آئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ” آپریشن سندور” شدید جنگ تھی۔ دوسرا پاکستان نے جنگ بندی کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر باندھا۔ ٹرمپ کی نظر میں یہ بڑی کامیابی تھی کہ دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ٹرمپ خود کو”دورِ امن کے صدر”کے طور پر دیکھنا چاہتاہے۔ اسی لیے وہ بارہا اپنی تقاریر میں جنگوں کو ختم کرنے کی بات کرتارہاہے۔ اس کیلئے پاکستان کی یہ پوزیشن نہایت موزوں ہے کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے میں ان کا شریک ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی فوجی صلاحیت کو مشرقِ وسطی میں استحکام کیلئے وسیع کردار دیا گیا۔ یہ ٹرمپ کی خواہش تھی اور پاکستان نے دکھایا۔ اسی لئے پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی دفاعی معاہدہ کیا، پہلی بار چین شامل ہوا۔ چین، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ فوجی مشق ”وارئیر نائن”میں شرکت کی۔

واضح ہے کہ چین بھی اتنا ہی خوش ہے جتنا ٹرمپ، کیونکہ مشرقِ وسطی میں پاکستان کی وسیع فوجی موجودگی سب کے حق میں ہے۔ سعودی عرب نے معاہدے کے بعد ایران کو اعتماد میں لیا اور ایران اس سے مطمئن نظر آیا۔ ایرانی صدر نے اقوامِ متحدہ میں کہا کہ وہ خطے کے مسلمانوں کے تعاون سے جامع علاقائی سیکیورٹی سسٹم تشکیل دینا چاہتاہے، جس میں پاکستان کی فوجی صلاحیت کو شامل سمجھا گیا۔اسی تناظر میں ٹرمپ نے آٹھ اسلامی و عرب ممالک سے ملاقات کی ۔اپنی ”اکیس نکاتی امن منصوبہ” پر بات کی۔ پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستان کی قیادت کو وائٹ ہاس مدعو کیا گیا تاکہ خطے میں اس کے کردار پر مزید بات ہو۔ وہاں تین بڑے امور پر بات ہوئی: مشرقِ وسطی میں استحکام، ایران، اور بگرام ایئربیس۔ پاکستان نے بگرام پر تعاون سے انکار کیا۔ جس پر چین، روس، ایران اور پاکستان نے مشترکہ بیان دیا کہ بیرونی فوجی اڈے کو افغانستان میں قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ واضح ہے کہ ٹرمپ نے مشرقِ وسطی کے استحکام میں پاکستان کو کلیدی کردار دیا۔

اب آتے ہیں پاکستان روس تعلقات پر۔ ان تعلقات کو کم سمجھا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تیزی سے دو سطحوں پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ پہلی سطح عالمی نظامِ حکمرانی جس میں روس اور چین مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری سطح براہِ راست دوطرفہ تعلقات۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر پیوٹن سے ملاقات کی جس میں پیوٹن نے کہا کہ پاکستان ایشیا میں روس کا اولین شراکت دار ہے۔ افغانستان میں استحکام اور توانائی منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ آج پاکستان کے تینوں طاقتوں سے تعلقات ہیں۔ نتیجے میں اسے زیادہ ”رسائی ”اور”پکڑ”حاصل ہوئی۔ رسائی کا مطلب پاکستان کے سیاسی و معاشی روابط اب جنوبی ایشیا سے آگے وسطی ایشیا، مشرقِ وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیل گئے ہیں۔ جبکہ ”پکڑ”کا مطلب پاکستان کی فوجی صلاحیت اب ان خطوں میں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

پاکستان نے درست قدم یہ اٹھایا کہ اس نے اپنے آپ کو نئے عالمی نظام کیساتھ جوڑ لیا ہے جسے چین اور روس آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور روس کو پاکستان کے امریکہ کیساتھ تعلقات سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کا وژن ”شراکت داری” پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کی پالیسی ہر چار سال بعد بدل جاتی ہے، جبکہ چین اور روس کی پالیسی مستقل مزاج اور ادارہ جاتی سوچ پر قائم رہتی ہے۔لہٰذا آج پاکستان ایک مضبوط مقام پر کھڑا ہے کیونکہ اس نے صحیح وقت پر صحیح انتخاب کیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وہ اُمت ہلاک نہ ہوگی جسکا اول میں ، درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ ہیں۔حدیث سے اِمام خمینی مراد ہے۔

ایران اسرائیل کے ذریعے اسلحہ لیتا تھا تو سنی حکمرانوں نے سمجھا کہ شیعہ اور یہودی ہمیں ختم نہ کریں

علامہ شمس الدین شگری صاحب نے پوچھا کہ
سوال نمبر4: مسلمان فرقوں کی بنیاد کیا ہے؟
علامہ شبیر: امامت تک تعصب سے پاک شعور کا نہ ہونا۔امامت کو سب مانتے ہیں لیکن اپنا جو سبق بناکر رکھا ہوا ہے ان کی نہ اتباع کر نی ہے نہ حکمرانی کیلئے ان کے پیچھے چلنا ہے۔ تو پھر ایسی امامت کیا ہے ؟۔ اہل سنت کے چار امام ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ فقہ جعفریہ بھی ٹھیک ہے لیکن اس کو وہ سٹیٹس نہیں دیا انہوں نے۔ انہوں نے اس کو نکال کر علیحدہ رکھا ہوا ہے کہ یہ تو شیعہ فرقہ سے ہیں۔شیعہ سنی امامت میں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ شیعہ امامت کا مقام غلط بڑھا دیتے ہیں اور سنی شیعہ امام کی پیروی کو دین کا حصہ نہیں بناتے۔ کہ بات ختم ہوگئی ۔

سوال نمبر7: امام مہدی سے متعلق آپ کا نظریہ منفرد ہے ۔
علامہ شبیر احمد اختر: شیعہ سنی مہدی و مسیح ابن مریم کوہم عصر سمجھتے ہیں پوری دنیا میں اسلام کو غالب کر دیں گے ۔یہ درست نہیں، ملت کو دو حصوں میں بانٹ دیا جب تک سنی شیعہ کی متفقہ قیادت نہیں آتی اسلامی غلبہ ملت مسلمہ کے بس میں نہیں، اسلئے عقیدہ امامت کا درست ادراک بہت ضروری ہے لیکن سنی عوام اور علماء خاص کر مولانا غلام اللہ خان ، مولانا غلام غوث ہزاروی جماعت اسلامی کے بانی کو بے دین، صحابہ کرام کا گستاخ اور یہودی ایجنٹ کہتے تھے۔ شاہ ایران کے حمایتی یورپ و امریکہ نے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ ایران نے مجبوراً بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں اسرائیل کے ذریعے اسلحہ حاصل کیا۔ پھر سنی عوام میں یہ نظریہ زور پکڑتا گیا کہ اسرائیل اور شیعہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو سنی اقتدار کوملیا میٹ کر دینگے۔ صدام حسین نے شکست قبول کرلی ۔ خفت مٹانے کیلئے کویت پر حملہ کیا۔ امریکہ نے صدام حسین کی وفادار فوج کو ٹریکٹروں کے ذریعے مٹی میں دفن کیا۔ یہ حدیث کی بڑی دلیل ہے کہ مہدی کے خلاف لشکر کشی والی فوج کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ 1979میں امریکی صدر جمی کارٹر نے اسلحہ سے لیس بہترین فوج کو خمینی کا تختہ الٹنے کیلئے روانہ کیا مگر یہ فوج صحرا کے طوفان میں غرق ہوئی جو کہ تائید الٰہی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

شمس الدین شگری: امام خمینی کو بارہواں امام مہدی کیسے کہتے ہیں؟۔
علامہ: امام مہدی سے متعلق 200 سے زیادہ حدیثیں ہیں، زیادہ تر حدیثیں بنائی ہوئی ہیں جو کہ عیسی علیہ السلام سے متصل ہیں۔ایک حدیث کو مانتا ہوں ۔ واقعات اسکے مطابق ہیں۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: اس امت کے شروع میں ”میں” اور درمیان میں مہدی اسلئے امام مہدی کو درمیان میں آنا چاہیے۔ عیسی علیہ السلام کیساتھ لنک بنتاہی نہیں تو اسلئے میں امام مہدی کو اس حدیث کے مطابق سمجھتا ہوں ۔ اب 1447ہے40، 50 سال رہ گئے۔ اگر مہدی نہیں آئے تو کم از کم10، 15 سال میںظہور ہو نا چاہیے عیسی علیہ السلام سے بہت پہلے۔ ذخیرہ حدیث سے زیادہ اہمیت وجدانی کیفیت اور زمینی حقائق ہیں۔ اللہ نے یہ آلہ انسانی جسم میں رکھ دیا۔ احادیث سنی کتابوں سے ہوں یا شیعہ سے ان میں غلطی کا امکان ہے لیکن حدیث کا کون سا حصہ درست اور کونسا حصہ ملاوٹ شدہ ہے، زمینی حقائق سے حقیقت نکھر کر سامنے آئے گی۔ دینی بنیاد پر تصدیق شدہ حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ فالھمھا فجورھا و تقوٰھھا اس آیت میں انسان کے اندر اللہ نے حق و باطل کی پہچان کا جوہر وجدان میں ڈال دیا ۔امام مہدی کا علیحدہ تشخص ہے اور وہ اہل تشیع اور اہل سنت دونوں میں سے نہیں ہیں۔

سوال: جو من میں آیاکہ مہدی کی حدیث کو مانوں یا نہیں؟۔
علامہ شبیر اختر: نہیں معلوم کہ کوئی خمینی کے امام مہدی ہونے والے میرے تصور سے متفق ہے یا نہیں۔ امام علی سے 11تک دشواری پیش نہ آئی کہ امام آنے والے کا تعارف کروا دیتے مگر آخری زمانے کی غیبت کبریٰ کا غلط تصور شیعہ میں رواج پا گیا۔ امام کو اقتدار میں لانے کیلئے عوامی حمایت ضروری تھی ۔جو غلط عقیدہ شیعہ کا ہوچکا، خمینی نے ولایت فقیہ میں امام المہدی کی نیابت سے جوڑ دیا۔ انہوں نے اعلان نہیں کیا کیونکہ ا غلط عقیدہ شیعہ میں موجود تھا اس سے وہ کیسے نکلتے؟۔ اپنا کام 10سالہ خلافت الٰہی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر دیا۔ یہ وقت کیساتھ عوام کا شعور بیدار ہوکر وحدت انسانیت میں پھیل جائے گا۔ خمینی کو علم تھا کہ اسلام کووحدت انسانیت تک پہنچنا ہے کیونکہ فرقوںکی گہری جڑیں ختم نہیں ہوں گے۔ اسی لیے تو وہ آئیں گے۔ اگر فرقے حق پر قائم ہیں تو انکے آنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ آگاہ تھے کہ اصل کام بنی نوع انسان کی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی ہے۔ نئی امت مسلمہ انسانیت کے اظہار کے ذریعے معرض وجود میںآئے گی۔ یہ ہوگی اُمت مسلمہ ،امام مہدی جو چاہ رہے ہیں وہ یہی ہے ۔ اسکے باوجود اگر تعصب کی بیماری ختم نہ ہوئی تو عیسیٰ ابن مریم باقی کے کام مکمل کریں گے۔

سوال: تفرقہ کا خاتمہ ،اتحاد اوروحدت امت کیسے ممکن ہے؟۔
علامہ شبیر اختر: اہل بیت میں رسول اللہ ۖکی بیویاں، بیٹیاں، بیٹے اور ان کی اولادیں سب شامل ہیں۔ دین کو قائم رکھنے میں سب کی خدمات ہیں، مگر جب کوئی شخص یا گروہ کسی کردار کو گھٹانے یا بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو تفرقہ ہوتا ہے۔بطور مثال مولا علی اور جعفر طیار دونوں اہل بیت میں شامل ہیں مگرجو مقام مولا علی کا ہے وہ جعفر تیار کا نہیں ۔ بی بی فاطمہ کے علاوہ تین بہنیں تھیں۔ دو بیٹیاں خلیفہ حضرت عثمان بن عفان کی زوجیت میں تھیں۔ ذی النورین کے لقب سے مشہور ہوئے لیکن ان بیٹیوں کا وہ مقام نہیں جو رسول اللہ ۖ نے فاطمہ کو جگر کا ٹکڑا کہہ کر ان کی فضیلت اور برتری کو نمایاں بیان کر دیا۔ لیکن تینوں بیٹیوں کو جعفر طیار کی طرح عزت و احترام سے محروم نہیں کیا ،سب کو عزت واحترام سے گفتگو کی جائے گی۔ ائمہ اہل بیت پرسنی شیعہ میں افراط و تفریط پیدا ہوئی۔

سوال: فدک پہ حضرت ابوبکر کو بات مان لینی چاہیے تھی؟۔
علامہ شبیر احمد: پہلے تینوں خلفاء راشدین کا ایمان رسول اللہ اور انکے گھرانے سے محبت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے، لیکن یہ خلفا ء معصوم نہیں، انکے دور میںکئی فیصلے 100 فیصد درست نہ تھے۔ ان پر پردہ پوشی سے سنی نے انکا حقیقی مقام کو داغدار کیا اور شیعہ ان پر الزام تراشیاںکرکے جابر اور غافل حکمرانوں میں شمار کرنے لگے یہ درست نہیں۔ پھر مولا علی سے تقویت نہ ملی تو تقیہ کے پردے میں چھپا کر مولائے کائنات کا کردار داغدار کیا۔ خلافت کا غصب درست نہیں مولا علی نے جائز خلافت تسلیم کیااور تینوں خلفائے راشدین سے بھرپور تعاون کیا۔ ان سب کا دور حکمرانی رحماء بینھم کی بہترین مثال ہے ۔

سوال: کیسے سمجھ میں آئے گاکہ انتظار میں تم بیٹھے ہو امام ا چکا ۔
علامہ شبیر احمد اختر: امام خمینی نہ تو سنی اورنہ شیعہ قید میں۔وہ آزاد تھے۔اسلام کی صحیح نمائندگی کا سسٹم نافذ کیا تھا۔ سنی اور شیعہ کو برابر مقام دیا۔ کسی کو کم تر نہیں جانا۔ اگر سارے اس کو اپنا لیں تو پھر یہ پوری امت دوبارہ اکٹھی ہو سکتی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلیفہ موجود صرف خود کو ظاہر کرنا ہے۔ آفتاب اقبال

السلام علیکم !یہ سوال کہ جنگ سمیت بے شمار پیشگوئیاں کی ہیں بہت سوں کو100 فیصد یقین نہیں،ان تمام کو یکجا کر یں۔ تنقید پرخوشی لیکن رونما ہونے لگیں تو سافٹ کارنر پیدا کریں۔ ایک یادو چیزیں ہوگئیں تو باقی بھی ہو جائیں گی۔
نمبر1: ملک کا 75-70 سالہ نظام چند ہفتوں میں دھڑام سے گریگا۔ یہ نظام اللہ کا ہے۔ اسے لانے میں انسان ،گروپ یا ادارے کی شعوری کوشش کا عمل نہیں۔

نمبر 2: سزاؤں کا درد ناک سلسلہ ، جس نے کیا تمام طبقات سزا کے حقدار۔ بدعنوانی یا بدمعاشی سے اس مملکت ، عوام کو نقصان پہنچایا یا کرپشن کی تو سزا کا حقدار ہوگا۔ ملک نہیں retribution کا شکار پورا خطہ ہوگا۔کوئی ظلم ڈھایا، پاکستان یا اسلام سے غداری ملکی مفاد ذاتی منفعت کی بھینٹ چڑھایا، آئین پامال کیا، حلف کی کسی طور خلاف ورزی، حیثیت رکھتے ہوئے ظلم جبر پر صرف نظر کیا ، آواز احتجاج میں شامل کر سکتا تھا نہیں کیاوہ بھی کسی نہ کسی طور سزا کا حقدارہوگا۔ یہ نظام سب من جانب اللہ ،سپر کمپیوٹر کی CCTV فوٹیج سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔

نمبر3: جنگ: پھر جنگ ہوئی تو اتفاق بھی کرنے لگے۔ بہت سوں نے کہا جی fluke (اتفاقیہ) لگ گیا۔ جنگ لازماً ہوگی ۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ دنیا کے حالات شدید پلٹا کھانے والے ہیں۔ جنگ ہوگی تو یہاں ساؤتھ ایشیا میں لیکن اثرات دنیا پر رونما ہونگے۔ 4، 5 دن خوب قتل و غارت ہوگی ۔ گھمسان کا رن پڑے گا اور اسکے بعد عجیب واقعہ رونما ہوگا، صورتحال احوال یکسر بدل جائے گی ، کیسے؟ خود دیکھئے گا۔

نمبر 4: ظہورخلیفہ: کئی ناک بھوں چڑھاتے ہیں ،میرے کچھ اساتذہ اختلاف کرتے ہیں۔ ظہورمہدی پر 100 فیصد پیشگوئیوں اورروایات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں لیکن وہ تقریباً8 ،10، 15 سال بعد۔ امام مہدی تشریف لائیں گے آخری معرکے کیلئے لیکن اس سے پہلے سسٹم بدلنا، سارے معاملات کو اس گند کو صاف کرنا ہے یہ فریضہ خلیفہ انجام دے گااور میرے حساب سے خلیفہ موجود ہیں انہوں نے صرف اپنے آپ کو ظاہر کرنا ہے۔ خلیفہ کون ہے؟۔ اللہ کا نائب۔ اگلی قسط میں کر لیں گے۔ شاید دو تین ہفتے بعد ڈسکس کریں۔ خلیفہ کی شخصیت ،اسکا طریقہ کار، اس کی ٹیم اور وہ وہ اثرات جو رونما ہوں گے ۔

نمبر5: دنیا تین بلاکس میں ہوگی۔پہلا امریکی بلاک یورپ، امریکی حلیف ہونگے۔ دوسرا ایشین بلاک چائنہ، رشیا ہے اور انکے حلیف اور تیسرا مسلم ممالک پر مشتمل زبردست، ایک نیا جدید ترین بلاک معرض وجود میںآئے گا اور انشااللہ اس کو لیڈ خلیفہ کریں گے۔ انتہائی دلچسپ بھارت کہاں ہوگا؟ بظاہر تو چائنہ کی طرف مائل ہے۔ راہ و رسم بڑھ رہے ہیں، لیکن سسپنس کو برقرار رکھتے ہوئے فی الحال آگے چلتے ہیں۔

نمبر6: یہ بلاک اسرائیل کو تنبیہ کرے گا سخت الفاظ میں ۔ اہل غزہ سکھ کا سانس لیں گے۔

نمبر7: آخری بات مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل ہونے جا رہا ہے سندھ طاس معاہدہ مسئلہ کشمیر کیساتھ ویسے ہی ختم ہو جائے۔
ـــــــــــــــــ

آفتاب اقبال کے منہ میں گڑ شکرلیکن حقائق پر مبنی ”تجزیہ”

چند ہفتے میں نظام گر ا تو ٹھیک نہیں تو آفتاب اقبال وڈیو کی قیمت لے چکا ۔ اوریا مقبول جان کا کسی نے کیا بگاڑا؟۔ انتظار ہے کہ گائے بچھڑا نہیں انڈہ دے گی اور انقلاب آجائے گا۔ یہ منجن بیچنے والے سمجھتے نہیں یا پھر بے ضمیرہیں؟۔

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کی ڈیڈلائن دی تو پھر قوم نے صرف امکان ظاہر کیا اور یہ مطالبہ رکھا کہ ” اللہ ہم پر صرف آپس کی لڑائی کا عذاب نازل نہ کرے اسلئے کہ اس میں بچت نہیں ہے۔ باقی پتھر برس جائیں تو ایک دوسرے کی مرہم پٹی کریںگے، بیماری میں علاج اور بیمارپرسی کریںگے۔ بھوک آئے تو گھاس کھالیںگے وغیرہ” ۔ اللہ کو قوم یونس کی یہ بات اتنی پسند آگئی کہ دنیا کی واحد قوم ہے جس سے عذاب ٹل گیا۔

امریکہ ،اسرائیل اور مغرب نے اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے افغانستان، عراق اور ایران کو شکست دی۔ آج بھی اوپر اللہ اور نیچے فرعون اعلیٰ ہے جس سے موسیٰ علیہ السلام نبوت اور معجزات کے باوجود اپنی قوم کو لیکر بھاگے تھے۔ آفتاب اقبال اپنی چھوٹی بچی کا غم نہیں بھولا تو کیا خلافت کے قیام سے مغربی اقوم اپنی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کو لونڈی بنانے دے گی؟۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی ممالک کیساتھ اچھے روابط سے دوستی قائم کرکے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خطے کو مشکلات سے نکالیں۔ ڈھانچہ نہیں بدلیں ڈھانچے کی اصلاح کریں۔ تاکہ غارتگری رک جائے۔ علامہ اقبال نے” فلسطین عرب ”سے کہا تھا کہ

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ہے
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے

سوز کوسامری کے ساز میں بدل دیاگیا۔مرزا جہلمی، جاوید غامدی ،مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب ہزاروی اور انکے مرید۔

اقتصاد کی آزادی ہے نجات کا پروانہ
رمق ایمان کی موت ، جواز سود میں ہے
اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح ہے حیات
اپنی فلاح اوروں کی بہبود میں ہے
مسلماں میں فقدان نظر آتا ہے جس کا
وہ جذبہ کہیں کہیں زندہ ہنود میں ہے
بے یقینی کی فضاؤں میں رہنے والو!
اعتماد کا پروانہ خدا کے حدود میں ہے
حسن کی صلح شہادت حسین قابل رشک
قبح آل فرعون ذم نار نمرود میں ہے

نبی ۖ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ فطرت کے شاہکار ہندو سے نفرت نہیں محبت کا جذبہ فرض ہے۔دنیا سائنسی علوم اور ہم نفرت کی بازیافت میں مگن ہیں۔ محبت خلق خدا سے اور دشمنی مخلوق کے دشمنوں سے فرض ہے۔ صحافی اور سیاستدان اگر میاں بیوی کی صلح کی آیات کو سمجھ کر بتائیں تویہی انقلاب ہے۔

اسلام لونڈی بنانے والا نہیں ہوگا بلکہ مزارعت سے اس استحصالی نظام کا خاتمہ کرے جس سے لوگ غلام اور لونڈی بنتے تھے اور سودی نظام کا خاتمہ کرے گا ۔ اسرائیل بھی سودی قرضوں کی گرفت ہے۔ جب ممالک، کمپنیاں اور لوگ اس سے نجات پائیںگے تو روس، چین، بھارت اور مغرب کو احساس ہوگا کہ اسلام نے سب امیر وغریب کو خوشحا ل کردیا۔
ـــــــــــــــــ

آفتاب اقبال کی بیٹی کا غم زدہ ویڈیو پیغام

مئی 2023ء میں آفتاب اقبال کو گرفتار کرلیا گیا تو اس کی بیٹی نے کہاکہ السلام علیکم ایک چھوٹا سا ویڈیو پیغام۔ میں آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ دعا کیجئے میرے والد صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کچھ عجیب و غریب سی گاڑیاں آئیں اور چند منٹ میں وہ انہیں لے کر وہاں سے نکل گئے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ، آپ سب میری مائیں، میری بہنیں، میرے بھائی سب لوگ پلیز ان کیلئے دعا کیجئے۔ شکریہ۔
ـــــــــــــــــ

18مئی 2025، اسماء بٹ السلام علیکم

پاکستان زندہ ،پاک فوج زندہ باد۔ آفتاب اقبال تمہارا منہ کالا کروں گی!۔ تفصیل نیچے یوٹیوب لنک کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=U4UNoTMil80&t=1s

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv