پوسٹ تلاش کریں

جماعتوں کو توڑنا اور جوڑنا ختم کرو مظہر عباس

جماعتوں کو توڑنا اور جوڑنا ختم کرو مظہر عباس

1980 کی دہائی سے اغواء کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کیساتھ ادارے ملوث ہیں مگر چہرے بدلتے ہیں

صحافی مظہر عباس نے خطاب میںحقائق کوواضح کیا: ہم نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا۔ ہم جرنلسٹ ہوں، وکیل ہوں۔ ہم نے یونینز میں بار ایسوسی ایشنز میں ووٹرز بنانے شروع کردئیے، ممبر زبنانے شروع نہیں کئے۔ جب ووٹرز بنائیں گے تو ووٹرز کو پروٹیکٹ کریں گے۔ آپ ممبر بنائیں گے تو ممبر کو بنیادی کورڈکا پتہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قانون مجھ پر لاگو ہوتا ہے۔ مجھے نہ اپنی گاڑی پر پریس لکھوانا چاہیے نہ ایڈوکیٹ لکھوانا چاہیے ۔میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہوتا ہوں۔ میں اپنے کو عام آدمی سے بالاتر سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز بنتے ہیں توMPAاورMNAکی نمبرپلیٹ لگاتے ہیں، کیوں؟ اسلئے کہ پولیس والا روکے نہیں۔ ہمارے ہاں رول آف لاء نہیں رہی ہمارے ہاں رولرز کا لاء رہا ہے۔کبھی بھی آئی جی اورDIGلیول کے آفیسر کو چیف منسٹر ہاؤس میں حاضری دینی چاہیے نہ پارٹیوں میںشریک ہونا چاہیے۔ دعوتوں میں شریک تو سمجھوتا کرینگے، دوستیاں بنائیں گے اور دوستوں کو پروٹیکٹ کرینگے ، بلایا اسلئے جاتا ہے کہ کام کروائے جائیں۔ یہ چیزیں شروع ہوئیں80کی دہائی میں تو لاء اینڈ آرڈ رکی سچویشن خراب ہونا شروع ہوئی ۔ ڈاکوؤں کا خوف بڑھنے لگا ڈاکوؤں کی بڑی تعداد پولیس میں بھرتی ہوئی۔وہ ریفارم اٹھا کر دیکھ لیں جو پولیس میں کئی ہارڈ ان کرمنل رہے ہیں۔ کئی لوگوں کو باقاعدہ گھسایا گیا اور وہی پھر اغواء برائے تاوان کا حصہ رہے ہیں۔ یہ چیزیں اس وقت کھلیں جب سن89میں فخر الدین جی ابرہیم گورنر بنے۔ اغواء برائے تاوان ، سپرداری اور کار چوری کی بہت سی وارداتیں ہوتی تھیں اور وہ وقت آیا جب سٹیزن پولیس رابطہ کمیٹی (CPLC) بنائی گئی۔ ایسا آزاد ادارہ جو پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطہ بنائے ۔ اس کی کارکردگی دیکھیں جب جمیل یوسف اسکے ہیڈ تھے اور ناظم حاجی صاحب، تو انہوں نے باقاعدہ شہریوں کو یہ اعتماد دلوایا کہ اگر پولیس والے شہریوں کیFIRنہیں کاٹتے توCPLCآپ کیFIRکٹوائے گی ، شنوائی کروائے گی ، اب آپ کاعدالتی نظام آڑے آیا۔ ایک بچے کا کیس مجھے یاد ہے جمیل صاحب کو بھی یاد ہوگا ، بچے اور اسکے والدین کو تیار کیا گیا کہ اغوا ء کار کو پکڑ لیا گیا۔ کیونکہ بچہ ہی پہچانتا تھاجس نے اغوا کیا تھا۔ تو بچے کی گواہی کروانی تھی اور والدین ظاہر ہے کہ ڈرے ہوئے تھے۔ تو انہیں یہ اعتماد دلایا گیا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے۔ ان کو اینٹی ٹیررازم کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا اور اسکے بعد وہ فیملی ملک چھوڑ کر چلی گئی۔ کار سپرداری پر ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی ، غلام اسحاق خان صدر تھے۔ یہ ہوا کہ گاڑیاں کیوں نہیں بازیاب ہورہی سپرداری کی؟، تو جمیل صاحب نے کہا کہ اجازت دیں کہ اس کام کو آپ کے داماد سے شروع کیا جائے اور پھر بلوچستان اور دوسری جگہ ججز کے گھروں پر گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ اس ملک میں آپ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کیسے پروان چڑھائیں گے؟۔ جب میں بطور حکمران ایک کرمنل کو تحفظ دیتا ہوں ، جس میں کسی پارٹی کی بات نہیں ۔ آج پیپلز پارٹی کا دور ہے ،اس سے پہلے ارباب رحیم ، لیاقت جتوئی ، مظفر حسین شاہ ، عبد اللہ شاہ کا دور تھا، پھرقائم علی شاہ، مراد علی شاہ۔ حکومتیں ، چہرے بدلتے ہیں سسٹم وہی چلتا ہے کیونکہ سسٹم کو تحفظ دینے والےRULERSہیں۔ ڈاکوؤں کا بھتہ بھی وہ وصول کرتے ہیں اور دہشتگردوں کو تحفظ بھی وہ دیتے ہیں۔ جب وہ دہشتگرد ان سے آنکھیں ملاتا ہے تب لڑائی ہوتی ہے۔ جسMQMکیMilitancy(عسکریت پسندی) کی بات کی گئی اسMQMسےMilitancyکروائی گئی۔12مئی کیا تھا؟۔ کنٹینرز کس نے لگائے تھے؟۔ پورا پلان کس نے کیا تھا؟۔ گورنر ہاؤس میں میٹنگ ہوئی تھی۔ چیف جسٹس، تمام آفیسرز اور سیکٹر کمانڈر وہاں تھے۔ سب براہ راست پرویز مشرف سے رابطے میں تھے۔ میٹنگ ہوئی، دوپہر کو قائل کیا گیا کہ ہم نے کوشش کرلی چیف جسٹس افتخار چوہدری نہیں مان رہے ہیں تو جلسہ کرنے دیں کیا ہوگا؟ خطاب کرکے چلے جائیں گے۔ وہ اس پربھی نہیں مانے کہ ہیلی کاپٹر سے لے جایا جائے اور وہ تقریر کرکے چلے جائیں تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ ہے تو رہنے دیں اس چیز کو ۔دوپہر کو یہ طے ہوا مشرف نے کہا کہ میں پھر رابطہ کروں گا۔ یہ ساری اسٹوری اس وقت کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے بتائی۔ یہ11تاریخ کی بات ہے، شام کے وقت مشرف کے جو سب سے قابل اعتماد جنرل تھے ان کا فون آیا کہ جو پرانی اسکیم ہے اسی پر عمل درآمد ہوگا توkindly tell london۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ بات آپ لند ن کو ہی بتادیں۔ تو آپ کو لگا کہ12مئی کس نے کیا؟۔ اسی لئے12مئی کی انکوائری نہیں ہوئی۔ اسی لئے12مئی کے بارے میں آپ سیاسی طور پر ایکدوسرے پر الزامات لگاتے رہے اور کوئی لوگ پکڑے نہیں گئے،12مئی کے بعد27دسمبر بھی تو ہوا۔ شہر جل رہا تھا تو آپ نے آرمی کیوں نہیں کال کی؟۔ رینجرز کیا کررہی تھی؟۔ پورے شہر میں آگ لگی تھی۔ عام شہریوں کے اربوں کی جائیداد، پراپرٹی کی اجازت دی تھی؟۔ کون ذمہ دار ہے اسکا؟۔ ریاستی ادارے ریاست پاکستان میں امن و امان خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں آپ پولیٹیکل پارٹیز توڑتے ہیں، حکومتیں بناتے اور توڑتے ہیں۔ جب تک آپ اس عمل سے باہر نہیں نکلیں گے۔ آج آپ نے ایک گروپ کھڑا کیا کل آپ نے کہا کہ نہیں یہ گروپ نیشنل سیکورٹی کو تھریٹ کررہا ہے اسکے مقابلے میں آپ نے ایک اور گروپ کھڑا کردیا۔MQMکھڑی ہوئی اسکے مقابلے میںMQMحقیقی کھڑی کردی گئی۔ پیپلز پارٹی ،PMLN،MQMکے ٹکڑے کئے گئے، کب تک ٹکڑے کرتے رہیں گے؟،71سے سیکھیں سبق۔ بلوچستان کے لوگ مسنگ ہیں، ریاست سے ایک آدمی مسنگ ہوجاتا ہے اور ہم اسے کہتے ہیں کہ جی پتہ نہیں کورٹ میں آکراور میں مطمئن ہوجاتا ہوں اگر وہ ریکور ہوجاتا ہے کہ وہ گھر واپس آگیا۔ کسی نے پوچھا لیکر کون گیا تھا؟۔150دن ہوگئے ایک رپورٹر ایک اینکر عمران ریاض خان غائب ہے۔ نا ہائیکورٹ کی یہ جرأت نہ سپریم کورٹ کی جرأت ہے، سپریم کورٹ نے تو ارشد شریف کا کیس بھی انفائل کردیا۔ دو ممبر ز کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اگر پڑھ لیں تو پتہ چل جائیگا کہ کون ملوث ہے؟۔ اسکے بعدJITکا مطلب یہ ہےUnder the Carpetکر رہے ہیں ہر چیز کو۔ اسی لئے وہ کیس آگے نہ بڑھا۔ تو اگر لاء ان آرڈر کی صورتحال بہتر کرنی ہے تو پاکستان میں ہمیں اس سوچ کو بہتر کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی قربانی دینی ہوگی۔ آپ کی کل حکومت آئے آپ فیصلہ کریں زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا کہ حکومت ہٹادی جائے گی۔ کم سے کم لوگ یہ تو کہیں گے کہ آپ نے کچھ جرأت کا مظاہرہ کیا لیکن اگر پسند کاآئی جی لاکر دوسروں کیخلاف ، آپ سارے جو وکیل بیٹھے ہیں ایک سیشن جج نبی شیر جونیجو کا جامعہ کلاتھ مارکیٹKMCکے پاس قتل ہوا تھا اور لوگ جس شام کو پکڑے گئےIGنے فون کرکے جام صادق علی سے کہا کہ سر لوگ پکڑلئے گئے، کل ہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔IGکے مطابق جام صاحب نے کہا کہ اس میں پیپلز پارٹی کے دو لونڈے بھی ڈال دو۔ الذوالفقار کے نام پر کہ یہ اس کا کیا دھرا ہے۔ اس نے کہا کہ سر پورا کیس ختم ہوجائے گا۔ جام صادق نے کہا کہ تجھے پروموشن اور ریوارڈ سے مطلب ہے یا کیس سے؟۔ یہی چیز حکیم سعید کے کیس میں ہوئی۔ جنIGکا کل انتقال ہوا اللہ مغفرت کرے۔ جس لڑکے کو پکڑا گیاDIGکراچی نےIGسے کہا کہ سر یہ لڑکا اور بہت سے کرائم میں ملوث ہو گا مگر اس قتل میں ملوث نہیں ۔ یہاں نواز شریف آئے، یہاںDG ISIضیاء الدین بٹ آئے ، رانا مقبول سمیت ہر کوئی اس میٹنگ میں موجود تھا مگر وہDIGباہر بیٹھا تھا۔ اس کو پکڑا کئی سال وہ جیلوں میں رہا آخر کار سپریم کورٹ نے بری کردیا۔ صرف کیسز بند کرنے کیلئے لوگ پکڑتے ہیں۔ بیشمار کیسز کی مثال دے سکتا ہوں۔ ایک تاریخ ہے پاکستان میں۔ مجھے نہیں لگتا کہ چیزیں بہتر ہوں گی، پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر بہتر ہوگا۔ جب تکRULERS(حاکم )جو ہیں وہ قانون کی حکمرانی کے بجائے اپنی حکمرانی چاہیں گے اور سپریم کورٹ بدقسمتی سے اتنی تقسیم ہوگئی ہے کہ جب تک ہم یہ فیصلے نہیں کریں گے کہ جس انکار کی وجہ سے تحریک چلی تھی وہ انکار اگر اقرار میں بدل گیا تو آزاد عدلیہ کیلئے ہم نے کیا جدوجہد کی؟۔ کیونکہ پھر تو اقرار والے چیف جسٹس ملتے رہے۔ انکار والا چیف جسٹس تو نہیں ملا پھر۔ فیصلے کمپرومائز کرتے رہے تو رول آف لا ء کے بغیر چیزیں آگے نہیں بڑھا سکتے، مبارکباد دیتا ہوں زین شاہ کو لیکن سندھ نیشنل پارٹی کوئی پروگرام لیکر آئے۔ اگر یہ موقع ملتا ہے تو آپ کے پاس پلان کیا ہے لاء اینڈآرڈر بہتر کرنے کا؟۔ بہت شکریہ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کرپشن میںسب ملوث ہیںJUIنظریاتی

کرپشن میںسب ملوث ہیںJUIنظریاتی

آج ایران میں پیٹرول14روپے لیٹر اور یہاں275روپے ہے پھر یہ وردی والے کیا کررہے ہیں؟

انوارالحق کاکڑ آپ اسمگلنگ کو نہیں روک سکتے۔ مجھے10طالب بندے دیں تومیں روک کر دکھاؤں گا

جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے نائب امیر قاری مہر اللہ کا کوئٹہ پریس کلب میں تقریب سے خطاب: سب کو معلوم ہے کہ معیشت کیوں تباہ ہے لیکن کوئی نہیں بولتا حقیقت چھپاتے ہیں۔ میں برسراقتدار آیا میری پارٹی ہے۔ آج تک برسر اقتدار پارٹی نے کرپشن کیخلاف کسی چوک پرکوئی مظاہرہ کیا ؟۔ کوئی بتائے۔ ایک پارٹی والا بتاسکتا ہے کہ ہم نے کرپشن نہیں کی ؟۔ بلوچستان کے حوالے چھوٹی سی مثال رکھنا چاہوں گا۔ ایران کا بارڈر کتنا میل دور ہے؟۔500کلومیٹر دور ہے،600ہے، اس بارڈر پر پیٹرول کا ایک لیٹر کتنے کا ہے؟۔ وہاں رشتے دار ہیں۔ آج کا وہاں ریٹ14سے15روپے فی لیٹر ہے۔5یا6سو کلومیٹر میں جو تیل آتا ہے آج275پر ایرانی پیٹرول مل رہا ہے۔ ابھی میں نے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا تو اندازہ لگائیں کہ14سے یہاں تک پہنچنے میں275روپے فی لیٹرتک درمیان میں یہ کرپشن کون کررہا ہے؟۔ کسٹمز پر پیسہ لیتے ہیں نام کسی نے لیا؟ ۔ تو معیشت کیسے ٹھیک ہو گی؟۔ ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے، کسی کے پاس پاکستانی موبائل ہے کوئی مجھے یہ بتائے؟۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستانی کپڑا نہیں چاہیے۔ جاپانی کپڑا اگرہے تو دیدیں۔
جس میں چائے پیتے ہیں، کس ملک کی ہے؟۔ ہمیں اپنے ملک سے محبت نہیں۔ جتنے بیٹھے ہیں انکے ہاتھ میں گھڑی کس ملک کی ہے؟۔ پاکستان میں سونے کی گھڑی ہو ہم نہیں لیتے۔ پیتل چاہے امریکہ، جرمن ، جاپان کی ہو جس ملک کی ہو ہمیں پسند ہے۔ اپنی معیشت خود تباہ و برباد کی۔ جب ہم خود اپنی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی؟۔ دوسری طرف اللہ ہمیں ہدایت دے۔ آپ یقین کریں کہ کسی کو کرپشن ملتا ہے ، جیسے افطاری کیلئے کھجور ملتا ہے متین اخوندزادہ صاحب! اتنا کرپشن ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا کہ خزانے کے بڑے بڑے منسٹر جنہوں نے پیسے چوری کئے ان کیخلاف کیا ہوا؟۔ کچھ ہوا ؟ اسی ملازمت پر وہی بندہ بحال ہوا۔ چور کی سرپرستی کرتے ہیں سرکاری پھر معیشت کیسے ٹھیک ہوگی؟۔ معیشت ہم نے تباہ کی جس کا گلہ کررہے ہیں۔14روپے لیٹر500کلومیٹر بارڈر پر یہاں275فی لیٹر پر مل رہا ہے تو غریب کا کیا حال ہوگا؟۔ بڑے لوگوں کے پاس تو ماشاء اللہ سب کچھ ہے لیکن تباہ تو غریب ہے۔ جعفر صاحب! پوری دنیا میں ہمارا ملک چھٹے نمبر پر ہے گندم کی پیداوار میں اور دنیا میں سب سے مہنگی گندم پاکستان میں ہے۔ کیوں مہنگی ہے؟ جس مل میں چاہیں معلومات کرلیں فی بوری میں3000روپے فوڈ والوں کے الگ ہیں کہ مل میں پہلے فی بوری 3 ہزار روپے فوڈ والوں کو دینا ہے اس کے بعد بیچنا ہے۔ چینی کا سب ظاہر ہے کیا بولیں کس چیز پر بولیں۔ یہ ہمارے بندوق بردار کیا کررہے ہیں؟۔ خدا کی قسم رونا آتا ہے10طالب دیدیں اگر چینی کی ایک بوری کسی بندے نے اسمگل کیا تو میرا قتل معاف ہے۔10بندے مجھے دیدیں۔ آج دالبلدین میں اور چاغی میں دیکھیں۔ خدا کی قسم آپ سمجھوگے کہ یہ چینی عوام سے مفت آرہی ہے۔ ہزاروں لاکھوں بوریاں پڑی ہیں۔ پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ وزیر اعظم انوارالحق کہتے ہیں کہ بارڈر کو ہم بند کریں گے۔ آپ بند کریں میں چیلنج سے کہتا ہوں آپ یہ بند نہیں کرسکتے نہیں کرسکتے۔ جتنا آپ طاقتور ہو اپنی طاقت کو استعمال کرو یہ قوت سے باہر ہے۔ آپ چھوٹے آدمی ہیں۔ اگر بند ہوگی اتنی طاقت پیدا کی تودیکھناکہ بلوچستان اور پاکستان کی کیا صورتحال ہوگی؟۔ لہٰذا ہم سب ملکر گھر سے شروع کردیں کہ معیشت کو ٹھیک کرنا ہے تو پھر انشاء اللہ و تعالیٰ ٹھیک ہوجائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات

نظام کی تبدیلی کیلئے ہمارے3بنیادی نکات1:معاشی پسماندگی کے خاتمے کیلئے3اقدامات2:شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے3اقدامات
3:مکمل آزادی رائے کیلئے3بنیادی اقدامات

1:معاشی حل: بیرونی دباؤ سے آزاد تیل،مزارعت، ٹیکس فری تجارت۔
2:اسلامی حقوق :مرد ، عورت، مسلم وغیرمسلم۔
3:آزاد ی اظہار رائے: مذہبی ، سیاسی اور معاشرتی

جب کسی قوم میں آزادی اظہار رائے کی گنجائش ہو تو وہ بندوق و بارود سے تباہ ہونے سے بچ جاتی ہیں۔سوشل، الیکٹرانک ،پرنٹ میڈیا کا درست استعمال وقت کی ضرورت ۔تفصیل اس آرٹیکل ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” میں دیکھیں۔

معاشی مسائل کے حل کیلئے 3بنیادی اقدامات جن سے بڑا انقلاب آسکتا ہے!

1:جب ہماری معیشت گردشی سودی نظام کی وجہ سے بالکل تباہ ہے۔ ایران سے ہمیں سستے ًتیل، گیس اور بجلی کی فراہمی ہوسکتی ہے تو عوام کے مردہ جسم پر سو درے مارنے کے کیوں درپے ہیں؟۔ مقتدر طبقات نے ایرانی تیل سے جیب بھر لئے ہیں لیکن عوام کو سستا تیل میسر نہیں ہے؟۔عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان ایک طرف مہنگا ترین تیل ، گیس اور بجلی خریدتا تھا اوردوسری طرف سبسڈی بھی دیتا تھا ۔ ریاست کو اس قیمت سے بھی زیادہ مہنگا پڑتا تھا جس میں خریدتی تھی۔
مہربانی کرکے سب کرتے دھرتے دلال بیچ سے نکل جائیں اور عوام کو اپنی مرضی سے جتنا چاہیں ایران سے تیل وگیس لانے دیں۔ جس سے بجلی بھی سستی ہوجائے گی اور کاروبار چلنا شروع ہوجائے گا۔ اپنے کسٹم و انکم ٹیکس کے محکمے جتنا کھا چکے ہیں وہ بہت ہے، اب بس کریں۔ عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ریاست کو بھی حد سے زیادہ ٹیکس دینا شروع کریں گے۔ کچھ عرصہ میں عوام کی حالت بدل جائے گی۔ کارخانے ، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے۔ تو بیرون ملک پاکستانی بھی اپنے سرمایہ سمیت واپس آجائیں گے۔
2:قرآن انسانی انقلاب کے لئے مثال دیتا ہے کہ زمین مردہ ہونے کے بعد بھی زندہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں جتنے مزارعین ہیں ،اگر ریاست مدینہ کی طرح ان کو اپنی محنت کا مالک بنادیا جائے تو یہ سب اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے اور ساتھ میں ان سے کئی گنا دوسرے لوگ بھی بنجر زمینوں کو آباد کردیں گے جب مزارع کو محنت سے منافع بخش ذرائع آمدن ملیں گے تو پاکستان جنت نظیر بنے گا اور بہت بڑے پیمانے پر باغات اور جنگلات بھی لگ جائیں گے۔ رزق خدا کی فراوانی ہوگی تو اناج اور پھل سب انسان پیٹ بھر کر کھائیں گے اور جانور بھی رکھ سکیں گے۔ محنت کش طبقے کو بے انتہاء روزگار ملے گا۔ افغانستان سمیت دنیا بھر کو اپنی ضرورت سے زیادہ اناج اور چینی وغیرہ ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ہوگی اور جب پاکستان جنت نظیر سبزہ زار بنے گا تو آسمان سے دل کھول کر بارشیں بھی ہوں گی۔ دریا اور نہروں کے ذریعے غیر آباد علاقہ ہی نہیں سمندر میں بھی میٹھا پانی بڑی مقدار میں جائیگا۔ یہاں تک کہ کراچی کی ملیر اور لیاری ندی شفاف ندیوں کا منظر پیش کریں گی اور کراچی کے ‘دو دریا’ پر سورۂ رحمان کے مناظر ہوں گے۔
3: بھارت ، ایران ،افغانستان، عمان،عرب امارات، چین ، سعودی عرب کیساتھ عوام کو کھلی تجارت کی اجازت ہوگی جس میں خشکی اور سمندر کے راستوں سے سمگلنگ نہیں ٹیکس فری پالیسی ہوگی۔ ہماری عوام میں جو ڈفر قسم کے محنت کش لوگ ہیں ان کی مزدوری بھی بہت بڑھ جائے گی اور جن میں ذہنی صلاحیت ہے تو اپنی صلاحیت کا لوہا منواسکیںگے۔قوم کی ترقی کا راز اس میں پہناں ہوتا ہے کہ محنت کش سے ہاتھ پیر کی مزدوری اور فن کاری کا کام لیا جائے اور ذہنی صلاحیتوں والوں کو سائنس اور جدید ترقی کی راہوں پر لگایا جائے۔ ہمارے ہاں الٹا ہوتا ہے جس بلاول زرداری، حسن نواز ،حسین نواز، مولانا عطاء الرحمن ابن مفتی محمود اور دوسرے بڑے لوگوں کے صاحبزادوں کو لوڈر کا کام کرنا چاہیے تھاوہ عیش وآرام کی حرام زندگی گزارتے ہیں اور جن باصلاحیت افراد کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور علماء وسیاستدان بننا چاہیے تھا، ان کو مزدوری اور کاشتکاری سے اپنی صلاحتیں منوانے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ قوم ترقی کرے تو ملک بھی ترقی کرسکتا ہے۔
***************************************************
نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے ”شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت” کے عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
***************************************************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی

بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر سمگلنگ اور رشوت کا سسٹم ختم ہو تو پڑوس کی تجارت سے پوری قوم مرنے سے پہلے زندہ ہوجائے گی
وزیرستانی کہتے ہیں کہ فقیر اپنے لئے دعا کرو اور فقیر کہتا ہے کہ تمہاری خیرات سے میری توبہ اپنے کتے روکو!

محترم ڈاکٹر لعل خان ایک عظیم انسان تھے۔ بہت بہادر، جریح، صاف گو اور اپنے نظرئیے پر غیرمتزلز ل یقین رکھنے والے۔ کامریڈ لعل خان کو سرخ سلام اور ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنے کیلئے لاہور ائیر پورٹ کا نام ڈاکٹر لعل خان ائیرپورٹ رکھنا چاہیے تا کہ پاکستان کی تمام لسانی اکائیوں اور دنیا کو پتہ چلے کہ لاہور میں صرف بادشاہی مسجد ، ہیرامنڈی، مینار پاکستان، علامہ اقبال کا مزار اور داتا کا دربار نہیںہے بلکہ ڈاکٹر لعل خان جیسے گمنام اور زبردست انسان ہیں۔
علامہ سید یوسف بنوری کی ایک تقریر کو ماہنامہ بینات جامعة العلوم الا سلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں شائع کیا گیا تھا جس کو ہم نے اپنے اخبار کی زینت بھی بنایا تھا۔ اس میں اسلام کے معاشی نظام کا جوخلاصہ پیش کیا گیا تھا وہ موجودہ سودی بینکاری اور امیر وغریب کے درمیان ناجائز منافع خوری کے خلاف تھا اور اسلام اور سودی نظام میں اس تفریق کی عکاسی کرتا تھا کہ اسلام نے جائز منافع پر بھی صدقہ وزکوٰة کا نظام نافذ کیا تھا اور سود میں لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر قرض سے قرآن وسنت کے منافی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
روس دنیاکی سپرطاقت بن گیا ،ڈاکٹر لعل خان نے کہا کہ لینن نے کہا تھا کہ یورپ کا مرکز جرمنی ہے ، جب تک جرمنی ہمارے ساتھ نہ ہو تو یہ سرخ انقلاب کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ حالانکہ جس وقت یہ کہا ہوگا ،اس وقت جرمنی کو عالمی طاقت کا درجہ حاصل تھا۔ پھر جب روس خود سپرطاقت بن گیا اور جرمنی کی ایسی حیثیت بھی نہیں رہی تو ناچ نہ جائے آنگن ٹیڑھا والی بات ہے۔
مکہ اسلام کا قبلہ اور مرکز تھا۔ جب مسلمان ہجرت پر مجبور ہوگئے تو بھی مکہ کو فتح کرلیا۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن شہر کی تقسیم تک بھی سوشلزم پہنچ گیا تھا۔یہ حال چین میں بھی سوشلزم کا ہوا تھا۔ اسلام نے مشرق ومغرب کی سپر طاقت روم و ایران کو فتح کیا اور جب عرب سے اقتدار چھن گیا تو ترکیوں نے طویل عرصہ تک حکومت کی تھی۔ اگر پاکستان سے اسلامی نظام شروع ہوجائے تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اگرپوری دنیا سے سودی نظام کا خاتمہ ہو اور مزارعین کو مفت زمین فراہم کی جائے تو محنت کش طبقہ خوشحال ہوگا اور صلاحیت والا طبقہ بھی اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو نوازے گا۔ جب اسلام کے مطابق ترجیحات ہوں گی تو دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بھی بنایا جائے گا اور ماحولیاتی آلودگیوں کے پھیلاؤ کو انسانی بنیاد پر روکا جائے گا۔ سورہ الحدید کے آخر میں مسلمانوں کیلئے خوشخبری ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد مسلمانوں کے پاس قوت آئے گی۔ جب مسلمان طاقت میں آئیں گے تو امریکہ کی طرح انسانیت کو تباہ وبرباد کرنے کے بجائے درگزر اور شفقت ورحمت کا مظاہرہ کریں گے۔ پھر چودہ نمبر پارہ کے ابتداء کا منظر دنیا دیکھے گی کہ ” اہل کتاب اس بات کو پسند کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے”۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام ، لیبیا، سوڈان، چیچنیا، ازبکستان، تاجکستان، کر غیزستان وغیرہ کے ساتھ کیا کیا؟۔ علماء ومشائخ نے قرآن وسنت کی بڑی خدمت بھی کی ہے مگر اسلام کا حلیہ بھی بہت بگاڑا ہے۔ اگر اس حلیہ کو نہیں بگاڑتے تو لعل خان بھی اسلام کی ترویج کرتے۔
آج اسلامی بینکاری نے دنیا پر قبضہ کرنے کا مزید راستہ ہموار کردیا ہے۔ پہلے بینک کسی کو قرضہ دینے کیلئے اخلاقی بنیادوں پراعتماد کرتا تھا۔ پھر جب لوٹ کا بازار گرم ہوا۔ نوازشریف اور زرداری جیسے لوگ سیاست میں آگئے تو قرضہ لے کر بینکوں سے سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر معاف کرایا گیا۔ بینکوں کے مالک ہوشیارہوگئے اور حکومت سے معاملہ پرائیوٹ کردیا گیا تو قرضوں کے بدلے میں کسی چیز کے کاغذات رکھنے لگے۔ اب اسلامی بینکاری کی بنیاد پر بہت بڑا سودی فتنہ شروع کیا گیا ہے۔ جب بینک قرضہ دیتی ہے تو اس چیز کو مارکیٹ سے بہت کم قیمت میں اپنے نام کرالیتی ہے اور مالک اپنی جائیداد کا کرایہ دار بن جاتا ہے۔ مثلاً اسلام آباد ائیر پورٹ کی اصل قیمت ایک کروڑ ڈالر ہے تو اسے صرف40لاکھ ڈالر کا قرضہ دے کر بینک اپنے نام کرلے گا اور سودے بازی کرنے والی ہستی کو بھی کچھ رشوت منہ میں مٹھائی کے طور پر ڈال دے گا۔ پھر اس قرض پر جو سودبنتا جائے گا وہ بینک کو کرائے کے مد میں جائے گا۔ کس کے کرائے کے مد میں؟۔ ائیرپورٹ کے کرائے کے مد میںجو اصلی مالک پاکستان سے اس کی ملکیت لے کر بینک کو دی گئی ہے۔ یعنی ہم اپنی چیز کی ملکیت بھی دوسروں کو دیتے ہیں اور اس جائیداد کا کرایہ بھی دوسرے کو دے رہے ہیں اورجب ہمارے ہاتھ سے معاملہ نکل جائے گا اور جو قرضہ لیا ہے اس پر مزید سود کرائے کی مد میں ہم دینے کے لائق نہیں رہیں گے تو اسلام آباد ائیرپورٹ تو ہم ان کو پہلے سے دے بھی چکے ہیں۔ وہ تو ہم پہلے بھی اس کا سود کے مد میں کرایہ دے رہے تھے۔
بعض لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ۖ کیسے یہ الفاظ بول سکتے ہیں کہ سود کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے؟۔ جب پوری قوم سودی نظام سے غربت کی لکیر کے نیچے آجائے گی اور عزتیں فروخت ہونے تک نوبت پہنچے اور بچے چوری کرکے فروخت تک معاملہ پہنچے۔ پیسوں کی خاطر کرائے کے دہشت گرد بننے تک معاملہ پہنچے اور تمام اخلاقی گراوٹوں کی ساری حدیں پار کرنے تک معاملہ پہنچے تو نبی کریم ۖ کے الفاظ بالکل غیر مناسب نہیں لگیں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتا ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا ہے کہ سود کا ادنیٰ گناہ اپنی ماں سے خانہ کعبہ میں36مرتبہ زنا کے برابر ہے۔ مولانا فضل الرحمنPDMکا حصہ ہے اور حکومت میں شامل ہونے کے باوجود بھی سودی نظام کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ اس سے بڑا جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ یہ بات عیاں ہے دنیا پر کہ اسلام کے نام پر سودی بینکاری زیادہ خطرناک ہے۔
اب مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے لوگوں نے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ جب سراج الحق پختونخواہ کے وزیر خزانہ تھے تو عالمی اداروں کے ساتھ سود پر دستخط کرتے ہوئے معاہدہ کیا کہ ایک اچھا سود ہوتا ہے جس کا ہم معاہدہ کرتے ہیں اور ایک ظالمانہ سود ہوتا ہے جس کو ہم برا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سود میں اچھا اور برا سود کونسا ہوسکتا ہے؟۔ اب یہ ایکدوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔
پاکستان کے مسائل کا فی الحال ایک حل یہ ہے کہ افغانستان، ہندوستان اور بھارت کے سرحدات پر ٹیکس فری تجارت کا آغاز کیا جائے۔ رشوت واسمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ جس سے غربت کی لیکر کے نیچے دبے ہوئے عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، بیرونی قرضہ بھی دے دیں گے۔ ائیرپورٹ پر ریل پیل اور تجارت کا دروازہ کھل جائے گا۔ سیاح بڑی تعداد میں آنا شروع ہوں گے۔ عوام مہذب بن جائے گی۔ معاشرتی درندگی کا خاتمہ ہوگا اور سرکار کے وحشی لوگ بھی انسان کے بچے بن جائینگے۔ عدالتوں کا کام حقیقی انصاف کی فراہمی بن جائیگا۔ کاشتکاروں کو مفت میں زمینیں دی جائیں اور صرف پاکستان نہیں پوری دنیا سے سود کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا جائے۔ اسلام کے معاشرتی نظام کو نافذ کیا جائے تو یورپ وامریکہ کی خواتین بھی اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی ۔ عورت کو حق مہر ، خلع وطلاق میں حقوق اور غیرت کے نام پر قتل سے تحفظ فراہم کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ کچھ بدنام چہروں کے ملاؤں کی بیگمات بھاگ جائیںگی؟
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان

بجلی، گیس، تعلیم ، ٹرانسپورٹ اور علاج مفت کرکے پاکستان کی عوام کو غربت کی لکیر سے نکالا جاسکتا ہے!
چند افراد کو پکڑ کر لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے اورIMFاور سودی نظام سے جان چھڑائی جائے ۔لعل خان

انیق احمد وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان کا ایک یادگار پروگرام دیکھ لیں۔
ہمارے سیاسی کلچر میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوگئیں۔ شروع کے سال د وسال جو ضیاء الحق کے گزرے اس میں تو نظریہ قائم رہا لیکن پھر جب ضیاء الحق کی چھتری تلے سیاسی جماعتوں نے اعلانیہ یا خفیہ طور پر مفادات کے حصول کیلئے اپنے نظرئیے تبدیل کئے یا خود کو غیر نظریاتی کرلیا تو ملک میں دائیں بازو بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کو زوال آنا شروع ہوگیا۔ خواتین و حضرات! سوال ہے کہ کیا کسی بھی ریاست اور معاشرے کیلئے نظریاتی سیاست مفید ہے یا مضر؟۔ ہمارے ملک کو غیر نظریاتی سمت لے جانے سے خاص طور پر ملک کے سیاسی کلچرنے عوام کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟۔ بات کرینگے ملک کے ممتاز روشن دماغوں سے کہ ایسا سب کچھ کیوں ہوا؟۔ محترم ڈاکٹر لعل خان ۔ ممتاز کمیونسٹ رہنما۔ ڈاکٹریٹ آپ نے ہالینڈ سے کیا۔ بہت اہم پرچہ ایشین مارکسٹ ریویو کے آپ ایڈیٹر ہیں۔ اس کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں1970کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے اور ہمارے سیاستدانوں نے نظرئیے کو اہمیت دینا چھوڑ دی اور وقتی مفادات کے حصول کو اپنا شیوہ بنالیا؟۔
ڈاکٹر لعل خان: ٹروسٹکی نے کہا تھا کہ ہمارے سروں پر ایک نہیں دو آسمان ہیں، ایک نیلا، ایک پیلا آسمان ہے۔ اس پیلے آسمان پر مختلف سیاستدان ہیں، سپورٹس مین ہیں ، فنکار ہیں، دانشور ہیں جو اوپر گھوم پھر رہے ہیں ٹیلی ویژن پر تمام چیزوں پر۔ جس دن محنت کش طبقہ اس پیلے آسمان کو نیچے سے دیکھنے کے بجائے اوپر سے دیکھ لیتے ہیں تو انقلاب آتا ہے۔ اگر اکانو می ڈفرنس نہ ہو تو ہر سیاسی کمپرومائز ہوسکتا ہے کیونکہ پالیٹکس صرف رفلکشن ہے اکانومکس کی۔ سوال یہ ہے کہ اس معاشی بحران جس سے ہر روز10ہزار آدمی غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں80فیصد لوگ نان سائنٹفک میڈیکشن پر مجبور ہیں۔50فیصد سے زیادہ بچے اسکول جانے کا سوچ نہیں سکتے۔ ان کنڈیشنز میں کونسی اکانومک پالیسی ہے ان پارٹیز کے پاس جو اس کو بدل سکتی ہے؟، کسی کے پاس نہیں ہے! ۔ تمام کی اکانومک پالیسی پیپلز پارٹی کے پاس ہے، پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ (لیکن پیپلز پارٹی لاگو نہیں کرتی۔ انیق احمد)۔ آپ اعلان کریں پیپلز پارٹی اور محترمہ بینظیر اعلان کریں کہ پاکستان میں اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم مفت ہوگی، علاج مفت ہوگا، بجلی مفت ہوگی، ٹرانسپورٹ مفت ہوگی۔ دوسری چیز جو شامی صاحب نے دو باتیں کیں ایک سوویت یونین کے ٹوٹنے پر اور مارکس ازم کی ناکامی پر۔ (پیسے کہاں سے آئیں گے اس کیلئے؟ مجیب الرحمن شامی) ۔ وہ میں آپ کو بتادوں وینزولا میں تیل سے پیسے نہیں آرہے؟۔ مختلف ملکوں میں پیسے جو ہیں وہ اس لوٹ مار کو بند کریں۔IMFکے پیسے دینا بند کریں۔ امریکی سامراج کی لوٹ مار کو بند کریں۔ فوج پر جو خرچ ہورہا ہے وہ بند کریں۔ (پوری دنیا سے یہ کہیں کہ حملہ کرو ہم پر۔ مجیب الرحمن شامی)۔28آدمی ہیں پاکستان کے جن کے پاس پاکستان کےGDPسے زیادہ دولت ہے۔ باہر کے بینکوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ آپ ان کو پکڑ لیں ان کو کہیں یہ پیسے لاؤ ۔ ہم یہاں تعلیم اور علاج مفت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی حکمرانی ہے۔ فوج پر بھی، ریاست پر بھی ، سیاست پر بھی۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے آپ کو ہر جگہ مقید رکھا ہوا ہے۔ اور انقلاب کے بغیر ان لوگوں کا اقتدار ٹوٹ نہیں سکتا۔ لیکن ایک بات ضروری سمجھتا ہوں جو پوائنٹ شامی صاحب نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا جی سوویت یونین ناکام ہوگیا مارکس ازم ختم ہوگیا یہ تو سطحی پروپیگنڈہ ہے۔ میں ایک فیکٹ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ فیکٹ یہ ہے کہ آپ مجھے1917سے لیکر1991تک کسی بڑی یونیورسٹی پرسٹن، سٹین فرڈ م،ہاروڈ، ژیل، جون ہوپکنس، سن جیمسز کسی یونیورسٹی میں کوئیPHDتھیسز دکھادے آکسفورڈ میں دکھادے ، کیمرج میں دکھادے میں نے اور میرے دوست نے ریسرچ کی تھیسز پر جو سوویت یونین پر ہو یا سوشل ازم پر ہو جس میں یہ جامع طور یہ پراسپیکٹیو دیا گیا ہو کہ سوویت یونین ٹوٹ جائے گی۔ اگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کا پراسپیکٹیو کسی نے دیا تھا وہ صرف مارکسز تھے۔ لینن16جولائی1921،
He said burlon is a heart of europe, and Germany is a heart of world. If there is no revulation in Germany ….
آگے اسی اسپیچ میں لینن کیا کہتا ہے:
Even if you sacrificewe shall no hesitate for a second
1936 لیون ٹراسٹکی اس نے کتاب لکھی ہے ”The Revolution Betrayed”آپ اس کتاب کو پڑھیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ1989سے1991تک جو واقعات ہوئے ہیں وہ ان کا ایک اسکرپٹ تھا جو ڈرامہ پچاس سال بعد دنیا کی اسٹیج پر پلے ہوا ہے۔……… لڑتے لڑتے ٹراسٹکی مرگیا اس سوشل ازم کے لئے آپ اس ہسٹری کو بالکل ضائع کردیں؟۔ کیونکہCNN،BBCبلکہ تمام میڈیا نہیں چاہتا کیونکہ میڈیا کے تمام مالکان اس حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
سوال: اگر پاکستان میںحقیقی معنوں میں سوشل ازم آجائے تو کیا یہاں پر بجلی، تعلیم اور صحت فری ہوسکتی ہے؟۔ اور کیسے ہوسکتی ہے؟۔
لعل خان: پہلے تو بنیادی تعریف چاہئے کہ سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں کیا فرق ہے؟۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز جو بنائی جاتی ہے آپ نے ٹائی پہنی ہوئی ہے ،یہ بوتل ہے ، یہ کاغذ ہے یہ اسلئے نہیں ہے کہ ہم ان کا استعمال کرتے ہیں ہر چیز کے بنائے جانے کا بنیادی مقصد پرافٹ ہے اور ریٹ آف پرافٹ ہے ورنہ کوئی چیز نہیں بنتی کیپٹل ازم میں۔1960کی دہائی میں لی لینڈ کا مالک تھا وہ پوری دنیا میں سب سے بڑی گاڑیاں بناتا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ دنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں بنارہے ہیں اور بیچ رہے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ میں مارکیٹ گاڑیاں بنانے کیلئے نہیں آیا میں پیسہ بنانے کیلئے آیا ہوں۔ اب سوشل ازم اور کیپٹل ازم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سوشل ازم میں ہر چیز کے بننے کی پروڈکشن کی وجہ بدل جاتی ہے۔ یہاں سوشل ازم میں پروفٹ نکل جاتا ہےas an incentive، انسانی ضرورت اور انسانی ضروریات کی تکمیل بنیادی ترغیب(incentive) بن جاتی ہے۔ جس میں ایک مارکیٹ اکونومی ، کیورٹیک اکونومی جس کا مارکیٹ تعین کرتی ہے جبکہ سوشل ازم میں ایک پلینڈ اور ڈیموکریٹک اکونومی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اگر سوشل ازم آجاتا ہے ۔ یہاں پر اتنی دولت ، اتنا سرمایہ ، اتنی لوٹ کھسوٹ ہے ہر ایک ڈالر جو پاکستان میں آرہا ہے وہ 14ڈالر واپس لیکر جارہا ہے یہ جو ڈائریکٹ فار انوسٹمنٹ کی بات کرتے ہیں۔ صرف یہاں یونی لیور جوAnglo Dutch Monopolyہے ، اس کی جو سالانہ یہاں پرافٹ کی انکم ہے وہ ہالینڈ کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کی لوٹ کھسوٹ ہے امریکہ سامراج کی لوٹ کھسوٹ ہےIMFکی لوٹ کھسوٹ ہے اور پاکستان کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی لوٹ کھسوٹ ہے اس کو اگر ختم کردیا جائے تو اتنا سرمایہ بن سکتا ہے کہ ایک سال سے18ماہ میں یہاں پر تمام بنیادی سہولیات عوام کو فراہم ہوسکتی ہیں۔
انیق احمد: پاکستان کیلئے سوشل ازم انتہائی مفید ثابت ہوگا وہ سوشل ازم جو شکست سے روس میں دوچار ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر لعل خان: وہ سوشل ازم نہیں تھا وہ انسٹالن ازم تھا لینن نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ٹراسٹکی نے مسترد کیا تھا۔ جو انقلاب کے فاؤنڈرز تھے انہوں نے اس کو مسترد کیا تھا۔ ایک صرف یہ کہ21stصدی سوشل ازم کی ہے جس کا اعلان2005میں ہوگوشاویز نے کیا وینزویلا میں۔ وہ ابھی کمپلیٹ نہیں ہے لیکن آپ کے سامنے آج کے اس عہد اور اس وقت میں چار پانچ چیزیں ہیں کہ وہاں پر اس وقت تعلیم مفت ہے۔15لاکھ لوگ ایک سال میں ہنر مند ہوئے ہیں تعلیم یافتہ ہوئے ہیں۔ وہاں پر علاج مفت ہے اس کیلئے پیسے لینا جرم ہے۔ وہ آئل ایکسپورٹ کرکے کیوبا سے ڈاکٹرز امپورٹ کررہے ہیں۔25ہزار ڈاکٹرز امپورٹ کئے ہیں اور جو کیوبن ڈاکٹر کشمیر میں آئے تھے آپ کو پتہ ہے کہ ان کی صلاحیت اور میڈیکل سیٹ اپ کیا ہے۔
انیق احمد: ڈاکٹر صاحب! صدر وینزویلا کا صدر امریکہ کے ساتھ رویہ؟
ڈاکٹر لعل خان: اس نے چیلنج کیا اس نے کہا ہمارے پاس پہاڑ بھی بہت ہیں، درخت بھی بہت ہیں ،ہاتھ بھی بہت ہیں یہ کوئی عراق نہیں ہے آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ جارحیت کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
انیق احمد:یعنی ایک چیز قومی غیرت اور قومی حمیت بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر لعل خان:اس نے20لاکھ کلاشنکوف عوام میں تقسیم کردئے کہ سامراج حملہ کرے تو ایک ایک بچہ لڑے گا مرے گا۔ یہ آج کا سوشل ازم ہے۔
*****************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ

14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام

پورے پاکستان اور دنیا میں انسانیت سوز مظالم کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ بچے ، بچیوں اور خواتین کے اغواء ، زیادتی کا نشانہ بننے اور قتل کا سلسلہ جاری ہے لیکن کب تک؟

پورے ملک میں روز روز کہیں نہ کہیں واقعات ہورہے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ بالکل بے حس اور مردہ بن چکا ہے۔ اس کا تدارک کرنے کیلئے قرآن کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
***********************************************

ماہ ستمبر2023کے اخبار میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں:
1:14اگست کو مزارِ قائد کراچی سے اغوا ہونے والی رکشہ ڈرائیور کی بچی تاحال لاپتہ
زیادتی پھر بچی قتل، افغانی گرفتار ،دوسراملزم بچی کا چچازاد:پشاورپولیس تجھے سلام
2: اللہ کی یاد سے اطمینان قلب کا حصول: پروفیسر احمد رفیق اختر
اور اس پر تبصرہ
عمران خان کو حکومت دیدو تو اطمینان ہوگا اورخوف وحزن ختم ہوگا
ذکر کے وظیفے سے اطمینان نہیں ملتا بلکہ قرآن مراد ہے۔
3: ایک ڈالر کے بدلے میں14ڈالر جاتے ہیں: ڈاکٹر لال خان
اور اس پر تبصرہ پڑھیں۔
بھارت، افغانستان اور ایران کو ٹیکس فری کردو: سید عتیق الرحمن گیلانی
4: مسلم سائنسدان جنہوں نے اپنی ایجادات سے دنیا کو بدلا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ میں بھیج دی
5: پاکستان76سالوں میں کہاں سے گزر گیا؟
اور اس پر تبصرہ پڑھیں
نبی ۖ کے بعد76سالوں میں کیا کچھ ہوا؟
6: پہلے کبھی کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ماتمی جلوس نکلتا تھا،آج اسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا!
7: اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
اس پر تبصرہ پڑھیں
اہل سنت و اصلی حنفیوں کا مسئلہ تین طلاق پر مؤقف
8: اہل تشیع کا مؤقف خلافت و امامت کے حوالہ سے
اس پر تبصرہ پڑھیں۔
الزامی جواب تاکہ شیعہ سنی لڑنا بھڑنا بالکل چھوڑ دیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فرقہ وارانہ شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دہشتگردی پر اثر پڑے، سیاسی شدت بھی ختم کی جائے۔

فرقہ وارانہ شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دہشتگردی پر اثر پڑے، سیاسی شدت بھی ختم کی جائے۔

علماء اور جدید مذہبی طبقے کے علم وفہم اور عمل وکردار میں بڑا فرق ہے۔ انجینئر مرزا نے رٹ لگائی ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا: ”عمار باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہوگا، عمار جنت کی طرف بلارہا ہوگا اورباغی گروہ جہنم کی طرف بلا رہا ہوگا”۔
بلاشبہ دو گروہ لڑیں گے تو ایک ٹھیک اور دوسرا غلطی پر ہوگا۔ پاکستان بن رہا تھا توکچھ پاکستان اور مسلم لیگ کے حامی اور کچھ مخالف تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، جمعیت علماء ہند اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت ”احرار الاسلام” پاکستان اورمسلم لیگ کے خلاف تھے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی اور پاکستان و مسلم لیگ کی حمایت شروع کی۔جماعت اسلامی نہ ادھر تھی اور نہ ادھر ۔ آزادی اور سیاسی تحریک بہت بڑی قربانیاں مانگتی ہے۔
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے اپنے فتاویٰ کے نویں جلد میں لکھ دیا کہ انگریز نے جمعیت علماء ہند کو ختم کرنے کیلئے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھ دی ۔ آج مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کا تعلق مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا مفتی محمود اور مولانا عبداللہ درخواستی سے ہے جو جمعیت علماء ہند کے نظریاتی ساتھی تھے۔ اصل جمعیت علماء اسلام مرکزی کے نام سے تھی جو مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی کی جماعت تھی ختم ہو گئی اسلئے کہ انہوں نے1970میں مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا عبداللہ درخواستی ، مولانا عبیداللہ انور ، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک اور مفتی محمود پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔
حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کے مریدین وخلفاء میں مولانا محمدقاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی اور بہت بڑے بڑے علماء ومشائخ تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی شیخ الہند مولانا محمودحسن کے شاگردتھے اور شیخ الہند نے اپنے استاذ مولانا رشیداحمد گنگوہی سے بیعت کی تھی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا گنگوہی سے بیعت کی خواہش رکھی اور حاجی امداللہ مہاجر مکی سے سفارش کی درخواست کی تھی ۔حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے فرمایا کہ ” میں تمہیں خود بیعت کرتا ہوں”۔ اگر حقائق کو دیکھا جائے تومولانا تھانوی کے استاذ کے اساتذہ بھی حاجی امداد اللہ سے بیعت تھے لیکن حکیم الامت اور مجدد ملت کا تمغہ اسلئے مولانا تھانوی کے سر پر سجا تھا کہ مہاجر مکی کے سلسلہ کے اصل جانشین آپ ہی تھے۔ تصوف وسلوک بھی دین کا شعبہ ہے۔شریعت و طریقت کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ مولانا رشیداحمد گنگوہینے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے علم سے اختلاف کیا، تقویٰ حاصل کرنے کیلئے بیعت ہوئے تھے۔مولانا قاسم نانوتوی نے کہا کہ ”میں حاجی صاحب سے ان کے علم کی وجہ سے بیعت ہوا ہوں”۔ مولانا رشیداحمد گنگوہی کے شاگرد مولانا حسین علی تھے ، جن کی وجہ سے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور مولانا طاہر پنج پیری نے توحید کا پیغام پھیلایا۔ اس نے اپنی تفسیرمیں لکھا ” میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گر رہے ہیں اور میں ان کو سہارا دیکر تھام لیتا ہوں”۔”بلغة الحیران” ۔
مفتی منیر شاکر کو شاید علم نہ ہوکہ دوسروں پر تنقید کے نشتر چلانے والوں نے گھر میں کیا دال دلیہ پکایا؟۔ مفتی منیر شاکرنے کہا کہ اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب میں لکھاکہ شاہ عبدالرحیم نے ایک بزرگ کی قبر پر مراقبہ کیا تو بزرگ نے بتایا کہ تمہاری گھر والی کے حمل میں جو بچہ ہے وہ بڑی شان والا ہوگا۔ بیگم نے بتایا کہ جب تہجد کے وقت ہاتھ اُٹھائے تو میرے ہاتھوں میں بچے کے بھی دو ہاتھ تھے جس سے میں ڈر گئی۔ پھر شاہ عبدالرحیم کو یاد آیا کہ مراقبہ میں بزرگ نے بیوی کے حمل میں موجود بچے حضرت شاہ ولی اللہ کے بارے میں خوشخبری دی تھی اور ان کا نام بھی تجویز کیا تھا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مردوں کو زندہ سمجھنے والوں نے عقل سے عاری عقیدت مندوں کے سامنے گھڑ رکھی ہیں۔
حضرت خضر نے بچے کو قتل کیا تو تصوف و طریقت کی کتابوں میں اتنا بڑا واقعہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ جب مٹی کا پرندہ بناتے تو پھونک سے روح آجاتی تھی۔ حضرت ابراہیم نے چار پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر زندہ ہوگئے۔ اللہ نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تھا۔ بیت المقدس میں رسول اللہ ۖ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور قبر میں سوال پوچھا جائیگا کہ ” اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟”۔ عیسیٰ کا باپ کے بغیر آدم کی طرح پیدا ہونا قرآن میں ہے۔ بزرگوں کا انکار کفر و گمراہی نہیں مگر قرآن وسنت پر زد نہ پڑے۔ مولانا طاہر پنج پیری کراچی تشریف لائے تھے تو میں نے ان کی خدمت میں مولانا مسعود الدین عثمانی کی توحید خالص پیش کرنا چاہی مگر اس کے چیلے ناراض ہوگئے اور سوال نہیں کرنے دیا تھا۔ مولانا مسعود الدین عثمانی جامعہ بنوری ٹاؤن اور وفاق المدارس کے فاضل تھے۔ دورہ ٔ توحید ایسا ہو کہ اپنے پرائے کا لحاظ نہ ہو مگر قرآن و سنت کا خیال رکھا جائے ۔ معراج کا ذکر قرآن وسنت میں موجود ہے۔
کوئی سوال کرے کہ ہجرت کی رات براق کیوں نہیں آیا؟۔ اگر مظالم سے بچنے کیلئے معجزات کا سہاراہوتا تو پھر کمال اور آزمائش کی بات نہ ہوتی۔ معراج اور ہجرت جیسا کوئی واقعہ صوفی کا ہوتا تو سوالات اُٹھتے اور مذاق بھی اُڑایا جاتا۔ پشتو شاعر اور عالم دین رحمن بابا کاشعر ہے کہ ”جس کا ایک قدم عرش تک پہنچتا ہے میں نے درویش لوگوں کی رفتار کو دیکھا ہے”۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء نے یہ واقعہ بیان کیا کہ خواجہ نظام الدین سلطان الاولیائ قوالی کا اہتمام کرتے تھے اور اس وقت کے محتسب قاضی ضیاء الدین سنامی ان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ایک دن سپاہیوں کو لے کر گئے تو سلطان جی اپنے مریدوں کیساتھ ذکر میں مشغول تھے۔ خیمے کی طنابیں کاٹ ڈالیں تو خیمہ ہوا میں معلق ہوا ۔ قاضی نے کہا کہ اس سے متاثر مت ہونا۔ آئندہ آئیں گے اور اس بدعت سے روکیں گے۔ دوسری مرتبہ ذکر شروع ہونے سے پہلے سپاہیوں کیساتھ پہنچ گئے اور کہا کہ اس بدعت سے نہ رکوگے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ اگر نبی ۖ فرمادیں تو؟۔ قاضی رضا مندہوئے تو کیفیت طاری ہوگئی۔ دیکھا کہ نبی ۖ جلوہ افروز ہیں اور فرمایا کہ اس فقیر کو کیوں تنگ کررہے ہو؟۔ قاضی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ۖ مجھے اس کیفیت پر بھروسہ نہیں لیکن جو دین روایات کے ذریعے ہم تک پہنچاہے ،اس پر اعتماد ہے اورہم اس پر عمل کے پابند ہیں۔ جب کیفیت ختم ہوگئی تو سلطان جی نے کہا کہ اب کیا کہتے ہو؟۔ اب تو نبی ۖ نے تمہیں کیا فرمایا؟۔ قاضی نے کہا کہ روکوں گا، نبی ۖ کی خدمت میں نے کیا عرض کیا؟۔ سلطان جی نے قوال کو اشارہ کیا کہ شروع کرو۔ قوال نے شعر پڑھا تو سلطان جی وجد میں کھڑے ہوگئے، قاضی نے اس کو گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ دوسری بار وہ کھڑے ہوگئے پھر گریبان سے پکڑ کر بٹھادیا۔ تیسری بار کھڑے ہوگئے اور اس کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا چاہا مگر دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ محفل برخاست ہونے لگی تو لوگوں نے سمجھا تھا کہ قاضی بھی مرید بن کر جائیں گے۔ قاضی نے کہا کہ اچھا میں پھر آؤں گا اور تجھے اس بدعت سے روکوں گا۔ لوگوں نے کہا کہ ابھی تو آپ دست بستہ کھڑے تھے؟۔ قاضی نے کہا کہ جب پہلی بار اس کو وجد آیا تو اس کی روح پہلے آسمان تک پہنچی۔ وہاں تک میری رسائی تھی، پکڑ کر واپس لایا ۔ دوسری بار اس کی روح عرش تک پہنچی اور وہاں سے واپس لا یا۔ تیسری بار اس کی روح عرش کے اوپر گئی ، میں جانے لگا تو حاملانِ عرش نے کہا کہ تیری اوقات نہیں ، یہ سلطان جی کا مقام ہے۔ میں تجلیات عرش کے سامنے کھڑا تھا اس بدعتی کے سامنے تھوڑا کھڑا تھا۔ پھر قاضی بیمار ہوگئے ۔ سلطان جی عیادت کیلئے جانے لگے۔ لوگوں نے کہا یہ بر ا بھلا کہتا ہے ؟۔ سلطان جی نے کہا کہ یہ عالم ربانی ہے اس کا یہ منصب ہے کہ مجھے منع کرے۔ حاضری کی اجازت مانگی تو قاضی نے کہا کہ تجھے بدعت سے روکتا رہا۔ اب اپنا چہرہ مت دکھاؤ، ایسا نہ ہو کہ میری عاقبت خراب ہوجائے۔ سلطان جی نے کہا کہ میں اتنا گستاخ نہیں کہ بارگاہ سنت میں بدعت سے ملوث ہوکر آؤں۔ توبہ کرکے آیا ہوں۔ قاضی بڑا خوش ہوا، اپنی دستار دی کہ اس کو بچھاؤ، اس پر چل کر تشریف لائے۔ سلطان نے اپنے سرپر وہ دستار رکھی اور خدمت میں حاضر ہوئے تو قاضی صاحب نے کہا کہ ” آپ وہ لوگ ہو ،جو اپنی نظر کیمیا سے مٹی کو سونا بنادو۔ آپ میری تقدیر پر نظر کرم فرمائیں کہ بری تقدیر اچھی میں بدل جائے ۔ واقعہ پر دیوبندی اور بریلوی خوش ہوںگے لیکن اہل حدیث کہہ سکتے ہیں کہ ولی کا عرش پر چڑھ جانا گستاخی ہے ۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اللہ کہتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا مقرب بن جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ، جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ (حدیث قدسی) اس حدیث میں اللہ کا اپنے بندوں کے ہاتھ پیر بن جانا بڑی بات ہے۔ قرآن میں ملکہ سبا بلقیس کا تخت کیسے آنکھ پھیرنے کی دیر میں حاضر کیا گیا تھا؟۔
حقیقت یہ ہے کہ مولوی کی شریعت اور صوفی کی طریقت دونوں میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر ہدایت کامل سے دور ہیں۔مستی احوال اور مستی گفتار مسائل کا حل نہیں۔ اگر ملاکی کتابوں سے گمراہانہ معاملات نکالے جائیں تو قیصرو کسریٰ کی سپر طاقتوں کی طرح موجودہ دور میں بھی ہمارا ایک قدم نظام خلافت کے ذریعے سے امت مسلمہ اور دوسرا دنیا کی سپر طاقتوں کے حدود تک پہنچ جائے گا۔
امام ابوحنیفہ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کرکے فقہ کی طرف توجہ کی توپھر فقہاء نے امام ابوحنیفہ کے نام پر علم الکلام کی گمراہی فقہ میں داخل کردی۔ جب یہ عقیدہ پڑھانا شروع کیا کہ قرآن لکھے ہوئے شکل میں اللہ کی کتاب نہیں ہے تو پھر فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ ، فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دے دیا، اہل تصوف سے بڑھ کر اہل فقہ کی گمراہی قابل گرفت ہے۔ امام غزالی فقہ سے توبہ کرکے تصوف میں آئے تو المنقذ من ظلمات الی النور ” اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کے نام پر کتاب لکھ ڈالی”۔ پھر جس فقہ کے اندھیرے سے روشنی کا سفر کیا تھا جس سے مراد تصوف تھا تو اس تصوف میں فقہ کی گمراہیاں بھی ڈال دیں۔ یہ حقیقت تھی کہ شریعت الگ چیز ہے اور تصوف الگ ۔ جو حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ سے ثابت ہے۔ ہمارے ہاں دونوں کو خلط ملط کرکے دونوں میں بڑی گمراہی کا سامان پیدا کیا گیا ہے اسلئے دونوں کی آپس میں بنتی بھی نہیں ہے اور جہاں بنتی ہے تو وہاں زیادہ خرابیاں ہوتی ہے۔ پیسہ ہتھیانے کا چکر بنتا ہے۔
جب قرآن وسنت پر واقعی اعتماد اور بھروسہ ہوگا تو مذہبی جماعتوں کیلئے بھی معاملات آسان ہوں گے۔ کن فیکون ہوگا۔ اس کیلئے اعلیٰ ایمان اور اخلاقیات کی ضرورت ہے۔ بے گناہ لوگوں کو خود کش سے اڑانا اسلام نہیں ۔ اختلاف تو حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ کا بھی داڑھی اور سرکے بال پکڑنے تک پہنچاتھا نبی ۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔ مطلب یہ نہیں کہ خوارج کی طرح حضرت علی و حضرت عثمان پر کفر کافتویٰ لگائیں۔ مفتی تقی عثمانی نے حیلہ سے سود کو اسلامی جواز بخش دیا تو اکابر نے سخت مخالفت کی اور ان کا فتویٰ مدارس اور کتب خانوں میں ہے۔ حدیث میں ائمہ مساجد کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کہا گیا لیکن اس کا مقصد اچھائی کی طرف لانا ہے۔ فتنہ کے وقت میں لڑنے سے بہتر نہ لڑنا ہے ۔ حضرت علی نے بھی خوارج سے کہا تھا کہ ”اگر تم نہیں لڑوگے تو میں بھی نہیں لڑتا ہوں”۔
حضرت عثمانجب شہید کئے گئے تو حسن و حسین نے دروازے پر پہرہ دیا اور محمد بن ابو بکر پیچھے سے دیوار پھلانگ کر داخل ہوا ۔ حضرت عثمان کو داڑھی سے پکڑا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ یہ دیکھ لیتا تو آپ پر خفا ہوتا۔ جس پر محمد بن ابو بکر نے چھوڑ دیا اور پھر دوسرے دو افراد نے شہید کردیا۔ حضرت علی سے حضرت عثمان کی بیگم حضرت نائلہ نے واقعہ بیان کیا کہ ان دو نامعلوم افراد کو نہیں جانتی۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر سے پوچھا تو وہ بھی نہیں جانتے تھے۔
یہ شکر ہے کہ حضرت علی نے مولویوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ عورت کی گواہی حدود میں معتبر نہیں۔ اسلئے اگر قاتلوں کا پتہ بھی چل جائے تو بدلے میں قتل نہیں کرسکتے۔ جب امیر معاویہ نے قاتلین عثمان کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تو خوارج کے سردار ذو الخویصرہ نے 20ہزار افراد کے لشکر کے ساتھ کہا کہ یہ سب قاتلین ہیں۔ جس پر حضرت امیر معاویہ نے مطالبہ ترک کردیا۔ اس وقت سے آج تک اُمت ایک اضطراب کا شکار ہے اور اس اضطراب سے نکلنے کیلئے قرآن کی طرف رجو ع کرنا بہت ضروری ہے۔ جس سے اُمت مسلمہ کے مسائل حل ہوں گے۔
سراج الحق عوامی جلسوں میں کہتا ہے کہ” سود کا ادنیٰ گناہ اپنی ماںکے ساتھ خانہ کعبہ میں36مرتبہ گناہ کے برابر ہے ”۔ اور یہ نہیں سمجھتا کہ سودکو حلال کرنے کی وعید اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ سراج الحق مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ کرتا ہے کہ شرعی عدالت نے سودی نظام کے خلاف فیصلہ دیا،حکومت نافذ نہیں کرتی ۔ انگریز کے خلاف جمعیت علماء ہند نے قربانیاں دیں ۔ جاہلوں نے ان پر قوم پرستی وکفر کا فتویٰ لگایا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی بیگم کی لاش کی بے حرمتی کی گئی کہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا جائے۔صحابہ کی حرمت پر قربانی دینے والے علماء کرام تھے لیکن جماعت اسلامی اپنے ایک رکن کو ایک قرار داد کی وجہ سے کریڈت دیتی ہے۔ قاضی حسین احمدصدر ملی یکجہتی کونسل تھے تو نمائندہ ماہنامہ ضرب حق امین اللہ نے سوال کیا کہ شیعہ کافر ہیں یا مسلمان؟ تو سخت ناراض ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت میں مولانا حق نواز جھنگوی شہید شامل تھے۔ سپاہ صحابہ بدمعاش بن گئی تو مولانا فضل الرحمن نے دہشت گرد قرار دیا ۔مولانا فضل الرحمن معتدل مزاج ہیں ۔عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن صاحب کہنا شروع کردیا جو خوش آئند ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے امریکی جہاد کو شروع سے پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا اور پیسے نہیں کمائے مگر ریاست کو ضرورت پڑگئی تو مجاہدین کا سوتیلا باپ بن گیا۔ مجھ سے زیادہ علماء اور مولانا پر کسی نے تنقید نہیں کی مگر میں ان کو زندہ باد کہتا ہوں ۔ البتہ انقلاب کیلئے مولانا فضل الرحمن اور علماء خود کو تبدیل کریں تو دہشتگردی کی لہر ختم ہوگی۔
مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر ”معارف القرآن” میں غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ مشرک کو قتل کرو اور زکوٰة نہ دینے اور نماز نہ پڑھنے پربھی قتل کا حکم ہے۔ دیوبندی بھی دو فرقوں میں تقسیم ہیں۔ جو سلفی کی طرف رحجان رکھتے ہیں وہ دوسروں کو مشرک سمجھتے ہیں۔ سوات میں طالبان نے بریلوی پیر کو شہید کرکے اس کی لاش بھی چوک پر لٹکادی تھی۔ سلفی گروپ داعش میں ہیں۔داعش عالمی خلافت چاہتا ہے اور طالبان مقامی سطح پر امارت اسلامیہ کے قائل ہیں۔
مفتی منیر شاکر نے کہا کہ میں محمد ۖ کو اسلئے مانتا ہوں کہ اللہ نے کہا ہے۔ میں عبد المطلب ، عبد اللہ اور آمنہ کو نہیں مانتا اسلئے کہ اللہ نے ماننے کیلئے نہیں کہا۔ جس کے جواب میں مفتی گوہر شاہ نے کہا کہ ”بات صحیح ہے لیکن اس سے نبی ۖ کی توہین ہوتی ہے۔ اگر میں کہوں کہ مفتی منیر شاکر کی عزت اسلئے کرتا ہوں کہ وہ عالم ہے اگر وہ عالم نہ ہوتا تو میں اس مینڈک کی طرح شکل کو نہ مانتا تو اس کو کتنا برا لگے گا؟۔ اللہ کیلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کتوں کا رب ہے ، خنزیروں کا رب ہے۔ لیکن یہ توہین ہے حالانکہ کتوں اور خنزیروں کا بھی کوئی اور رب نہیں ۔ اللہ مفتی منیر شاکر کو ہدایت دے ورنہ …”۔ بڑی حکمت عملی کے ساتھ فضاء کو بدلنا ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہر دہشتگرد مسلمان کیوں ہوتا ہے ؟ہندولڑکی

ہر دہشتگرد مسلمان کیوں ہوتا ہے ؟ہندولڑکی

اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا؟۔ بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا؟۔ مسلمان عالم

ہندو لڑکی : اچھا ٹھیک یہ آپ مانتے ہیںکہ سارے مسلمان پاکستانی سوچ نہیں رکھتے ہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں؟۔
مہمان عالم دین کاجواب: مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟، بابری مسجد کو جس نے شہید کیا وہ مسلمان تھا کیا؟، دلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹی گئیں کیا وہ مسلمان تھے؟،گجرات کے گلی کوچوں میں جن لوگوں کو مارا گیا اور جن کو بے گھر کیا گیا کیا وہ مسلمان تھے؟۔ میری بہن میں آپ سے گزارش کررہا ہوں کہ آپ ایسا مت سوچیں۔ میںآپ کو صرف اتنی بات کہنا چاہ رہا ہوں کہ برائی برائی ہوتی ہے، اس کو آپ مذہب کے اینگل سے نہ دیکھیں، یہ موئز ان سے مسلمانوں کا کیا تعلق؟، موئزن سے ہمارا کیا تعلق؟ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں، مذمت کرنا چاہیے ۔
میزبان: میں آپ کی اس بات سے بالکل متفق ہوں۔ جو دہشتگرد ہے وہ نا ہندو ہوتا ہے نا مسلمان ہوتا ہے۔ بلکہ دہشت گردی خود ایک مذہب بن گیا ہے اب۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اگر وہ ذہنی مریض ہے تویہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟

اگر وہ ذہنی مریض ہے تویہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟

میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ اب ان خاتون کو پاگل ثابت کیا جائے گا۔ میرے سوالات ہیں کہ اگر وہ ذہنی مریض ہیں تو انہوں نے یہ سلوک اپنے بچوں کے ساتھ اور جج صاحب کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ یہی سلوک جس سکول میں پڑھاتی ہیں ان سکول کے بچوں کے ساتھ کیوں نہ کیا؟؟ اڑوس پڑوس کے بچے ان کی ذہنی بیماری سے کیسے محفوظ رہے؟ اگر وہ ذہنی مریض ہے تو جج صاحب آپ نے ان کو پاگل خانے کیوں نہ بھیجا؟ جب آپ لوگ اس کو گھر میں قید کرکے جارہے تھے اس وقت آپ کے ہوش کدھر تھے جج صاحب؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اربوں ڈالر کا تانبا چین منتقل ہواہے حامدمیر

اربوں ڈالر کا تانبا چین منتقل ہواہے حامدمیر

اس کا سارا حساب کتاب نیٹ پر دینا چاہیے کہ50فیصد منافع مرکز اور50فیصد صوبے کو منتقل کیا گیا؟

اربوں ڈالر کا تانبہ شمالی وزیرستان سے چین منتقل ہورہا ہے ،ایک ٹرک دہشتگردی کا شکار نہ ہوا، سوال بنتا ہے؟ سوال یہ بھی کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟۔
ہم بتارہے ہیں آج کی سب سے بڑی خبر کہ پاکستان کے پاس6ٹریلین ڈالرز کے معدنی ذخائر ہیںیہ ذخائرجوآپ کو میرے پیچھے شمالی وزیرستان کے علاقے محمد خیل میں نظر آرہے ہیں۔
حامد میر: اگر6ٹریلین ڈالرز کی ورتھ کے منرلز ہیں تو ہمارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں؟
انجینئر ذیشانFWO:یہ دوسرا سب سے بڑا تانبے کا ذخیرہ ہے پاکستان میں۔
حامد میر: محمد خیل سے ہم سالانہ کتنے پیسے کماسکتے ہیں؟
انجینئرFWO:ہم نے ابھی تک کوئی22ہزار ٹن تانبہ پچھلے تین ساڑھے تین سال میں چائنہ ایکسپورٹ کردیا۔ تقریباً30سے35ملین ڈالرز ریونیو جنریٹ کرچکے ہیں۔ محمد خیل کے اس پروجیکٹ میں3.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے، ابھی تک1.1ہم نکال چکے اور مزید2.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے۔ اوراس پروجیکٹ میں70فیصد محمد خیل گاؤں شمالی وزیرستان کے لوگ ہی یہاں کام کررہے ہیں۔ پروجیکٹ کے ریوینیوز کا50فیصد ہم یہاں لوکل کمیونٹی پر خرچ کررہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv