پوسٹ تلاش کریں

عاصمہ جہانگیر جنازہ: انٹرویو سمیع ابراہیم: بول ٹی وی چینل: تبصرہ سید عتیق الرحمن گیلانی

sami-ibrahim-on-bol-tv-asma-jahangir-ka-janaza-mufti-naeem-jamia-binoria-karachi-khawateen-hijr-e-aswad

مفتی صاحب! عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں خواتین پہلی صفوں میں ہیں جو انکے قریبی عزیز نہیں وہ بھی دیدار کررہے ہیں۔ یہ آپ نے دیکھا تو ہمارے مذہب میں اس کی اجازت ہے؟۔
مفتی نعیم: اگر عورت کا نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ ہو تو پچھلی صف میں کھڑی ہوسکتی ہے لیکن اس جنازے میں عورتیں مردوں کیساتھ پہلی صف میں کھڑی تھیں تویہ اختلاط ویسے شرعاً ناجائز ہے۔ اور جنہوں نے یہ کیا ہے غلط ہے البتہ جنازے کی نماز ان کی ہوجائے گی۔
سمیع ابراہیم: مفتی صاحب! جس وقت یہ ہورہا تھا ایک جید عالم فاروق مودودی صاحب نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی تو کیا وہاں علماء کا کام نہ تھا کہ آواز اٹھاتے ، روکتے کہ خواتین پچھلی صف میں جائیں۔ اگر اس انداز میں بات کو پروموٹ کریں تو معاشرے میں اسکے کیا اثرات ہونگے۔
مفتی نعیم : مجھے نہیں معلوم کہ علماء جنازے میں تھے ، اور حیدر فاروق کوئی عالم نہیں بلکہ وہ ایک خاص ذہن رکھتے ہیں اسلئے حیدر فاروق کا جنازہ پڑھانا زیادہ مؤثر نہیں ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ علماء اسکے اندر شریک نہیں ہوئے ہونگے اسلئے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم مرے ہوؤں کو برا بھلا مت کہو۔ باقی دینی اعتبار سے ان کی بہت ساری شکایتیں ہیں ، میرے ساتھ چینل میں بیٹھی ہیں، وہ تو بہت ہی خطرناک باتیں کیا کرتی تھیں ، بہر حال حضور ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کی برائی نہ کرو۔ اسلئے میں کچھ نہیں کرتا لیکن اتنی بات ضرور کہوں کہ وہ قرآن و حدیث کو مکمل طور پر ماننے والی نہ تھیں بہت سی آیتوں کا اور بہت سی چیزوں کا وہ انکار کرتی تھیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تھے انکے اندر مسائل لیکن اب چلی گئی ہیں دنیا سے تو دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کا معاملہ فرمائے اور اسکے علاوہ کچھ نہیں۔ علماء اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی روشن خیالی ہے کہ مرد اور عورتیں دونوں ساتھ نماز.. گویا مرنے کے بعد بھی وہ اپنی روشن خیالی دکھارہی ہیں۔ انکی اولاد بتارہی ہے کہ نمازجنازہ میں گویا مرداور عورت ایک ہی چیز ہے۔شرعاً یہ ناجائز ہے۔حضورﷺ کی ازوج مطہراتؓ سے کہا گیا کہ وقرن فی بتوتکن ’’ اور گھروں میں رہیں‘‘۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ عورت کی نماز گھر میں بہتر ہے اور گھرمیں بھی اندر والے کمرے میں۔ میں سمجھتاہوں کہ ساری میڈیا نے جو دکھایا ہے، ہمارے ملک اور مذہب کیلئے نقصان دہ بات ہے۔ مغرب میں روشن خیال انکو دیکھ لیں گے کہ یہ کرتے ہیں تو نمازہ جنازہ اور دیگر نمازیں اکٹھی پڑھیں گے یہ ایک دین سے دوری کی بات ہے اور یہ کرنا انتہائی ظلم ہے۔
سمیع ابرہیم: آپ نے بڑی اہم بات کہی ہے ، ٹیلیویژن نے دکھایاہمارے حکمران،ہماری سول سوسائٹی کے بڑے اہم لوگ شریک ہوئے لیکن کسی نے روکنے کی بات نہ کی۔یہ جو بڑھتا ہوا رحجان ہے جسطرح نیشنل میڈیا پر ہم ان چیزوں کا پرچا ر کرتے ہیں اور اگر اس حوالے سے کوئی بات کرے تو ایک مخصوص گروپ ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں تو جو اس بات کو ہائی لائٹ کرے تو کبھی ان کوبنیاد پرست کہتے ہیں اور کبھی اور انداز میں چڑھائی کرتے ہیں ، معاشرے میں جو یہ چیزیں آرہی ہیں ان کو روکنے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کیا تجاویز دینگے؟۔
مفتی نعیم: میڈیا علماء سے اسی وقت جب جنازہ ہورہا تھا لائیو انٹرویو لیتا تو ہوسکتا ہے کہ ہماری اس آواز سے کافی لوگ پیچھے ہٹ جاتے یا ان عورتوں کو پیچھے کردیتے لیکن میڈیا اب رات کے دس بجے مجھ سے سوال کررہا ہے جبکہ سب کچھ ہوچکا۔ تو میں سمجھتا ہوں اس میں میڈیا قصوروار ہے، بہت زیادہ اس کو کوریج دی بلکہ جب سے انکا انتقال ہوا ہے ان کی تعریف کی جا رہی ہے کہ انہوں نے یہ کیا یہ کیا، تو ایک تو حقوق العباد ہیں انہوں نے بندوں کے کئے ہونگے، غریبوں کی مدد کی ہوگی ، لیکن حقوق اللہ بھی ہیں ، اللہ کے حقوق، وہ اللہ کے حقوق کی کھلے عام مخالفت کرتی تھیں۔ کئی مرتبہ میرے ساتھ ایسا ہوا کہ انہوں نے اس بات پر لڑائی کی کہ میں قرآن کی اس آیت کو نہیں مانتی ، اس آیت کو نہیں مانتی تو آپ بتائیں کہ قرآن تو اللہ کی کتاب ہے اس کو اسکے ماننے نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوتا ، لہٰذا اس بارے میں زیادہ بولنا مناسب نہیں ،اس وقت چونکہ ظاہر ہے کہ انکے رشتے داروں کا بھی دل دکھے گا لیکن انکے جنازے کے اندر یہ روشن خیالی دکھادی، یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔
سمیع ابراہیم: بالکل آپ صحیح فرمارہے ہیں، ان کی جو ذات ہے انکے حوالے سے بات نہیں کررہے ہمارا زیادہ فوکس یہ ہے کہ انکے نماز جنازہ میں جو کچھ ہوا اس نے معاشرے میں جو پیغام دیا ، اس میں کیا آپ حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں ؟، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ، پاکستان کا جو آئین قانون اسلامی ہے ، قرآن پاک سے پاکستان کے لاز، قوانین جنریٹ ہوتے بنتے ہیں۔ تو کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے کہ جہاں اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہ مداخلت کرے اور اس چیز کو روکے؟۔
مفتی نعیم: ریاست کے لوگ روشن خیالی پسند کرتے ہیں لہٰذا جب وہ خود ہی پسند کرتے ہیں مرد عورتوں کا ساتھ چلنا پھرنا، مذاق کرنا تو جب ریاست کے لوگوں کا بھی یہی کام ہے تو وہ کیسے ان کی روشن خیالی کی مخالفت کرینگے؟ ۔ علماء فوراً اس پر گرفت کرتے اور اسکے علاوہ قرآن و حدیث سے ان کو ثابت کرتے کہ یہ چیزیں غلط ہیں نہیں ہونی چاہئیں۔ باقی ریاست کے لوگ تو ایسے ہیں کہ ہمارے جو وزیر داخلہ گزرے ہیں ان کو سورہ اخلاص بھی نہیں آتی تو کسی کو سینیٹر بنادیا ہے کسی کو وزیر داخلہ بنادیا ہے اور میں چیلنج سے کہتا ہوں کہ اسمبلی کے اندر اکثریت کو ناظرہ قرآن پڑھنا نہیں آتا ،ہماری ریاست کو سارا جمہوری نظام جو بھی گدھا گھوڑا آجائے اس کو قومی اسمبلی کا ممبر بنادیتے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سارا قصور ریاست کا ہے ، البتہ میڈیا کو چاہئے تھا کہ وہ علماء کو اسی وقت لائیو لیتے اور انتظار میں تھا کہ کوئی بات کرے تو میں بات کروں۔ لیکن آ پ حضرا ت کو توفیق اب ہوئی تو اللہ تعالیٰ آپ کو پھر بھی جزائے خیر دے کہ ایک پیغام دنیا تک پہنچارہے ہیں۔ اور دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ کہیں اگلے جنازے میں ایسا نہ ہو۔ اور مغرب کے اندر بھی یہ شروع ہوجائے گا۔ مغرب کے لوگ تو ویسے ہی روشن خیالی کو پسند کرتے ہیں۔ اسلئے میں سمجھتا ہوں کہ مؤثر انداز میں ان کی تردید ہونی چاہیے تاکہ آئندہ یہ سلسلہ جاری نہ رہے۔
تبصرۂ نوشتۂ دیوار: عتیق گیلانی
محترم سمیع ابراہیم پہلے ARYمیں تھے اور اب بول چینل میں آگئے ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے بھی ARY کے بعد بول چینل میں کام شروع کیا تھا۔ جب بول سے نکالا گیاتو ڈاکٹر عامر لیاقت نے اپنے پیغام میں معافی مانگ لی کہ جس کی دل آزاری ہوئی ہے، مجھے معاف کردے، چینل نے مجھے مجبور کیا تھا، میرے اپنے خیالات یہ نہیں تھے۔ سمیع ابراہیم امریکہ کے آزاد معاشرے میں رہے ہیں اسلئے شاید اسلامی احکامات میں زیادہ حساس ہیں، یہ الگ بات ہے کہ حکمرانوں کا درد بھی پیٹ میں سمایا ہواہے تاکہ کوئی نہ کوئی بہانہ ان پر حملہ آور ہونے کیلئے تلاش کیا جاسکے۔ ملک وقوم اور اداروں کا وقار بلند کرنے میں عاصمہ جہانگیر جیسی آزاد منش شخصیات کا کردار ہوسکتاہے ۔ اس تناظر میں جنرل راحیل شریف ہوتے تو شاید عاصمہ جہانگیرکی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کرتے اور ان کو قومی اعزاز کیساتھ ہی دفن کرنے کا بھی اعلان ہوجاتا۔ پارلیمنٹ، فوج، عدلیہ اور اہم اداروں اورشخصیات کے علاوہ علماء ومفتیان کی بھی بڑی تعداد اس میں شریک ہوتی اور جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق بھی پہنچ جاتے۔ جب مردوں میں جنازہ پڑھنے کی جرأت ہوتو خواتین کیلئے شرکت کی ضرورت باقی نہ رہتی۔ یہ تو اچھا ہوا کہ سیدفاروق حیدر مودودی نے جرأت کرلی ورنہ کسی عورت ہی کو یہ فریضہ ادا کرنا پڑتا۔ جنازہ تو نبیﷺ کا بھی باقاعدہ کسی نے نہیں پڑھایا تھا۔ مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ ’’ اللہ نے خود ہی نبیﷺ کا جنازہ پڑھایا تھا‘‘۔ شکر ہے کہ جنازے میں سجدہ نہیں۔ جنرل باجوہ کے خلاف بھی عاصمہ جہانگیر کی طرح سے پروپیگنڈہ نہ ہوتا کہ قادیانی ہیں تو شاید وہ جنازے میں شمولیت کی جرأت کرتے۔ جنرل باجوہ کی وجہ سے علماء خاموش رہے۔ عوام کو یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ ’’ مفتی صاحبان وقت آنے پر یہ کہتے ہیں کہ قرآنی آیات کے منکرین کا بھی جنازہ ہوجاتاہے‘‘ حالانکہ قادیانی بھی تو آیت کی غلط تأویل کی وجہ سے کافر ہیں۔ مفتی نعیم صاحب کو شاید مغالطہ ہوا ہے، ورنہ فرزانہ باری نے حلالہ کے حوالہ سے کہا تھا کہ آیت میں بھی ہو تو حلالہ پر عمل کو نہ مانوں گی۔ اگرانصار کے سردارحضرت سعد بن عبادہؓنے لُعان کی آیت پر اپنی غیرت کی وجہ سے انکار کیا اور ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا تو پروفیسر فرزانہ باری پر بھی نہیں لگ سکتاہے۔ مدارس میں حنفی فقہ کے اصول میں جس طرح سے لکھ دیا گیاہے کہ اس آیت سے حدیث متصادم ہے اور جمہور کامسلک متصادم ہے۔ وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ سمیع ابراہیم صاحب کو پتہ چلے تو کبھی علماء ومفتیان نادانوں کو حکمرانوں کیخلاف اکسانے کی کوشش نہ کریں۔ قرآن وسنت کا بیڑہ غرق کرنے والے مذہبی طبقے نے اگر قرآن وسنت کی طرف توجہ کی تو عاصمہ جہانگیر دنیا سے چل دی مگر ان جیسی دیگر بہادرخواتین شانہ بشانہ ہوں گی۔

پارلیمنٹ لاجز سے بھاگتی ہوئی برہنہ لڑکی کو سیکورٹی گارڈز نے پکڑ کر پھر حوالے کردیا، جمشید دستی

parliament-lodges-islamabad-barhana-larki-jamshed-dasti-deara-ismail-khan-jail-bhook-hartal-senators-of-pakistan-corruption-muhammad-bin-qasim

نوشتۂ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا: پاکستان کی تشکیل اسلام کے نام ہوئی مگر اسلام سے علماء ومفتیان نہ صرف ناواقف تھے بلکہ خود بھی اسلام پر عمل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ ’’ مسلمانوں سے زکوٰۃ لو ، ان کیلئے یہ تسکین کا ذریعہ ہے‘‘ تو نبیﷺ نے اقارب پر زکوٰۃ کو حرام قرار دیدیا۔خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کی بیگمؓ نے تھوڑا تھوڑا بچاکر حلوہ بنایاتھا تو حضرت ابوبکرؓ نے اپنی اتنی تخواہ کم کردی۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مسند پر بیٹھنے کے دعویدار حکمران کے دسترخوان پر گزارا کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق نے ابھی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بھی نہ چھوڑا ہے کہ اسلام کا راگ الاپنے لگے ہیں۔ یہ دھوکہ دہی کی انتہاء ہے ۔جمشید دستی کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور اب وہ قومی اسمبلی کی آزاد رکنیت رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز میں شراب و کباب اور برہنہ لڑکی کے بھاگنے کی ناکام کوشش پر مذہبی جماعتوں کو آواز اٹھانے کی ضرورت تھی لیکن جمشید دستی اٹھارہے ہیں۔ یہ بالکل اٹل حقیقت ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ دُم چھلہ بن کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق اور جماعت اسلامی کو یاد ہوگا کہ جب پیپلز پارٹی سے برگشتہ نیشنل پیپلز پارٹی کے لیڈر غلام مصطفی جتوئی کو اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ بنایا گیا اور پھر الیکشن میں وہ ناکام ہوا۔ پھر سینئر نائب امیر مولانا سمیع الحق نے اسلامی جمہوری اتحاد پنجاب کے صوبائی رہنما نواز شریف کو ہی وزیر اعظم بنوایا۔ پہلے ایم آر ڈی میں شمولیت کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن پر کفر و گمراہی کے فتوے لگائے جسکی وجہ پیپلز پارٹی کی ایم آر ڈی میں شمولیت تھی۔ پھر اسی پیپلز پارٹی والے کو ہی اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ بنایا۔ نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل میڈیا میں دیا۔ پھر جب امریکہ سے معین قریشی کو نگران وزیر اعظم بناکر لایا گیا اور اس نے قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا۔ مولانا نور محمد وانا جنوبی وزیرستان پہلے جمہوریت کو کفر کہتے تھے اور پھر الیکشن میں جیتنے کا موقع ملا تو انتخاب لڑا۔ جیت کر نواز شریف کی کابینہ میں فلم انڈسٹری کے سینسر بورڈ کے وزیر بن گئے۔ اخبار اوصاف کے کارٹون میں ان کی اچھی تصویر کشائی کی گئی تھی۔ یہ لوگ علمی بنیادوں پر ہمت کرکے فرقہ وارانہ و فقہی مسائل کو حل کریں تو معاشرے میں خود بخود اسلامی انقلاب آجائیگا ۔ ورنہ سیاست میں منافقت کا بازار گرم رکھنے کے یہ ذمہ دار ہونگے۔

اسلام آباد آل پختون جرگہ کی شامِ غریباں کا احوال :پیرواحدشاہ

naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khan-2

(پیر عبد الواحد شاہ ، اسلام آباد) نقیب اللہ محسود کی شہادت کے سلسلے میں وزیرستان کی عوام کا دھرنا اسلام آباد پہنچا تو کئی دنوں تک یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کوئی توجہ نہ دی۔ پھر عمران خان کی کسی نے دُم ہلائی تو وہ پہنچ گیا، پھر مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے بھی رونق بخشی ، پھر محسود قبائل کے ملکان اور علماء نے بڑا دھوکہ دیدیا۔ عاشورۂ محرم کے آخر میں بڑے بڑے ذاکر اورخطیب جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔ پھر دس محرم کے بعد والی رات انتہائی خاموشی اور اندھیرے میں منائی جاتی ہے۔ جسے شامِ غریباں کہتے ہیں۔ جب سید عتیق گیلانی نے خطاب کیا تو دھرنے میں شامِ غریباں کا منظر تھا ۔ خطاب نے دھرنے میں نئی روح پھونک دی اور پھر سازش ہوگئی۔ لگتا یہ ہے کہ ایک طرف محسود قبائل دہشتگردی کے خلاف کاروائیوں سے بہت تنگ آچکے تھے اور نقیب اللہ محسود کی بے گناہ شہادت سے ایک بہانہ مل گیا۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی پولیس و سیاسی نظام کو مزید سہارا دینے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت پولیس افسرراؤ انوارکیخلاف دھرنے کی اجازت دیدی گئی۔ سارے میڈیا چینل ایک ہی راگ الاپ رہے تھے لیکن اسلام آباد کا دھرنا بالکل مختلف تھا۔ اس میں پولیس کے بجائے فوج کے رویے ، ظلم و جبر اور زیادتی کیخلاف آواز اٹھانا مقصد تھا اور اس میں ایک حد تک کامیابی بھی مل گئی۔ آئی ایس پی آر نے وطن کارڈ کے خاتمے کا اعلان کیا، لاپتہ افراد کو چھوڑ دیاگیا،عوام سے ہمدری کا اظہار کیا گیا۔ زینب قتل کیس کے بعد راؤ انوار کی مخالفت میں کراچی کے دھرنے سے نظام کیخلا ف انقلاب کی امید نے اسوقت دم توڑ دیا جب پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے شہباز شریف کی طرف سے زینب کے والد سے ملنے کی طرح نقیب اللہ کے رشتہ داروں سے ملاقاتیں کیں۔ شاہ زیب کیس کو بھی شاہ رخ جتوئی کیخلاف کس نے نقصان پہنچایا؟، کسی سے یہ ڈھکا چھپا معاملہ بالکل بھی نہیں ۔ بات کوسبھی جانتے ہیں۔
اسلام آباد دھرنے میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں تھا لیکن وہ اپنی مخالفت کے باوجود بھی اس دھرنے پر ناراض نہ تھے، اسلئے کہ ختم نبوت پر خادم حسین رضوی، حمیدالدین سیالوی کی ناکامی کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان اور زرداری کا فارمولہ بھی ناکام ہوا تھا، زینب کے قتل پر بھی قوم کا ضمیر نہیں جاگ سکا تھا تو یہ واحد وسیلہ تھا کہ عوام میں انقلاب کا شعور برپا ہوجانا تھا، عمران خان گیا تاکہ دھرنے والے آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کا ذہن بنائیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی نے آکر دھرنے کا رخ دوسری جانب موڑنے کی کوشش کردی۔
قبائلی ملکان وعلماء کے ذریعے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دھرنے کے اصل محرک منظور پشتون کو طلب کیا، منظور نے عوام کا شکوہ سنایا تو وزیراعظم نے کہا کہ فوج ہمارے ساتھ بھی زیادتی کرتی ہے، نوازشریف کو دوتہائی اکثریت پر بھی ہٹادیا تھا اور پوری فیملی جلاوطن کردی تھی، اب بھی نااہل کیا ہوا ہے۔ اس ترانے کو سن کو منظور پشتون نے بھی قبائلی عمائدین اور علماء سے اتفاق کیا کہ دھرنے کو ختم کیا جائے ۔ منظور نے شرط رکھ دی کہ راتوں رات دھرنا ختم کرنے کے بجائے کل دن12 بجے دھرنے میں شریک سب عوام اور میڈیا کے سامنے حقائق رکھ دئیے جائیں لیکن وزیراعظم کے بیان نے سب کو اتنا خوفزدہ کیا تھا کہ زبردستی سے دھرنا ختم کرنے کا علان کیا، اسٹیج پہلے ہی سے ٹرالر کے کنٹینر پر تھا جس کو افراتفری میں چلاکر لے گئے۔ بعض جوانوں نے مزاحمت بھی کی جن میں کونسلر پیر نعمان شاہ بھی تھا۔
دوسرے دن انور سلیمان خان نے بھی شکستہ دلوں کو جیتنے میں کردار ادا کیا لیکن شامِ غریبان سے عتیق گیلانی کے خطاب نے جذبہ پیدا کیا، جب دودن بعد دھرنا عروج پر پہنچا تو مولانا فضل الرحمن نے دھرنے والوں کو ورغلانے میں خفیہ کردار اداکیا جسکے بعد فارمی بیل امیر مقام کی تحریر پر دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان ہوا۔ عتیق گیلانی کو موقع ملتا تو ایک انقلاب برپا ہوسکتا تھا۔

ریاست والدین کی طرح ہے مردانہ اولاد قبائل نے اُف تک نہیں کی: عتیق گیلانی کا اسلام آباد دھرنے سے خطاب

naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khan

(عبدالواحد : اسلام آباد) سید عتیق گیلانی نے آل پختون جرگہ کی شامِ غریباں سے کہا:
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں(پیچھے سے پشتوکاکہاگیا،اکثر سلیمان خیل تھے جواردو نہیں سمجھتے) دھرنے کے لوگ میں شعور دیکھ رہا ہوں۔ان پر جو ظلم ہوا ، جو جبر ہواہے، ان میں درد بھی ہے اور تعصب نہیں۔ تم لوگ آج یہ کہتے ہو کہ ’’ یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘، یہ تمہارا نیا جنم ہے لیکن میں شروع سے یہی کہتا ہوں ۔ اٹھو! نعرہ لگاؤ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے۔ مجھ پر جب فائرنگ ہوئی تھی تو ایس پی پولیس ٹانک بدمعاش نہیں عتیق اللہ وزیر شریف آدمی تھا، میں نے اسے کہاتھا کہ تمہارے بس کی بات نہیں، ریاست نے اسلحہ برداروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے،میں ریاست کے تھانے میں ریاست کے خلاف کوئی ایف آئی آر کیوں درج کروں؟،تو ایس پی نے کہا کہ ’’میں ذاتی طور پر کیا خدمت کرسکتا ہوں‘‘۔( پیچھے سے کسی بزدل محسود کی پشتو میں آواز آئی کہ ’’ یہ قوم کی بدنامی کررہا ہے‘‘۔ بعد میں پتہ چلا کہ الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند یہ آواز میناباغ کے بھتیجے بادشاہی کی تھی۔ عتیق گیلانی کا وجود اس دھرنے میں احتجاج کرنیوالوں کیخلاف ایک ایٹم بم تھا اسلئے کہ اپنا واقعہ ہی بیان کردیتا تو لوگ فوج و ریاست کے کردار پر شیم شیم کے بجائے اُلٹا ہی دھرنا دینے والوں کی ملامت کرتے ۔ پھر تقریر پشتو میں بدل گئی ،ایک طرف دھرنے کے انتطامیہ کی خوف سے ہوا خارج ہونے لگی تو دوسری طرف بہت جلدی میں کچھ اہم نکات پیش کردئیے گئے جس سے دھرنے کے انقلابی ترانے میں زنانہ مرثیہ پڑھنے کو دھچکا پہنچا)
میں قوم کی بدنامی نہیں کررہا ،قوم کی پگڑی اونچی کر رہا ہوں۔ لوگوں میں دوقسم کے افراد ہوتے ہیں۔ میں پہلے قبائل کی تاریخ بتاتا ہوں۔جب مغل اعظم اکبر بادشاہ کا ہندوستان میں اقتدار تھا ،تب جنوبی وزیرستان کے پیرروشان نے اکبر کی حکومت اور اس کا دین تسلیم کرنے سے انکار کیاتھا۔ قبائل اور پٹھانوں میں بغاوت برپا کی تھی۔ پھر راجہ رنجیت سنگھ آیا تو بھی آزاد قبائل کی یہی حیثیت تھی، پھر انگریز آیا تب قبائل اسی پوزیشن میں تھے جو آج ہیں۔ انگریز کے جانے کے بھی آزادی فوج و ریاست کوملی تھی ،ہم پہلے سے آزاد تھے۔ جب انگریز کے جانے کے بعد پاکستان اور بھارت آزاد ممالک بن گئے تو قبائل نے بھارت سے آئی ہوئی سیاسی قیادت قائداعظم کو حکمران تسلیم کرلیا، جب کشمیر کیلئے پاک فوج کے انگریزسربراہ میں لڑنے کی جرأت نہ تھی تو قائداعظم نے قبائل سے کشمیر کے جہاد کیلئے کہہ دیا، قبائل گئے کہ نہیں گئے؟۔ (حاضرین نے کہاکہ گئے) جب لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تو پاکستان میں حکمرانی کیلئے کوئی شخص نہ تھا۔ محمد علی بوگرا کو امریکہ سے اقتدار سنبھالنے کیلئے لایا گیا،ریاست والدین کی طرح ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایاہے کہ والدین کے سامنے اُف تک نہ کرو۔ قبائل نے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کیا لیکن آج تک اُف بھی نہ کی۔ آج بھی یہ یہاں اُف کرنے کیلئے نہیں آئے ہیں۔ اولاد کی دوقسمیں ہوتی ہیں، ایک مردانہ اور دوسری زنانہ۔ بیٹے پر کتنی سختی کی جائے اور سزا دیجائے ، ذلیل ورسوا کیا جائے لیکن وہ اُف اسلئے نہیں کرتا کہ ان مشکلات کو برداشت کرنے کی وجہ سے اس میں اہلیت و صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنے باپ کی جگہ گھر کا کاروبار سنبھالنے کے قابل بن جاتا ہے اور اپنے باپ کا منصب لے لیتا ہے۔ قبائل ریاست کے مرد بچے ہیں یہ وہ نہیں ہیں جو کہتے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ (حاضرین نے بڑی داد دیدی) ، بیٹی کو جب لاڈ پیار سے پالا جائے تو وہ بھاگ کر کورٹ میرج کرلیتی ہے۔ ریاست نے جن لاڈلی بیٹیوں کو پالا تھا، بھٹو، نواز شریف اور عمران خان یہ کورٹ میرج والی ہیں۔ معاملہ صرف نقیب اللہ اور راؤ انوار کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے ۔ میڈیا نے کتنے اور مظالم سے پردہ اٹھایا ہے۔ حاضرین تم مجھ سے وعدہ کرو کہ اب اس وقت تک تحریک جارہی رہے گی جب تک عوام کو ریاست کا فائدہ نہیں پہنچتا اور ظلم وجبر کے نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے۔

ماکنے تو بلتکار شماکنے تو چمتکار، واہ بھئی واہ، عبد القدوس بلوچ

baloch-tahira-syed-madam-tahira-maulana-sami-ul-haq-nawaz-sharif-quddus-bizenjo-asma-jahangir-ptv-maryam-nawaz

نوشتۂ دیوار کے تجزیہ کار عبدالقدس بلوچ نے مریم نواز اور نوازشریف کا عدلیہ پر مسلسل توپخانہ کھولنے پر اطمینان کا اظہار کیاہے کہ یہ نظام اپنے لاڈلوں کے ہاتھوں انجام تک پہنچ رہاہے۔ ایگزٹ کورعایت دینے والے جج کو پچاس لاکھ رشوت کے الزام میں پکڑا گیا تو حدیبیہ پیپرز میں کروڑوں کی رشوت کا معاملہ بعیدازقیاس نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے لیکر مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن تک علماء کی صحبت اور ڈکٹیٹرشپ کی سرپرستی نے نواز شریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کے دل و دماغ میں دونوں قسم کی صفات پیدا کردی ہیں ایک ملائیت اور دوسری فسطائیت۔ بلوچی میں کہا جاتا ہے کہ ملاکنا تو سنت ماکنے تو کنت۔ ملاکرے تو سنت اور ہم کریں تو چڑ ہے۔ یہی روش شریف برادری نے بھی اختیار کررکھی ہے۔مولوی نے دوسرے سے کہا کہ قبلہ روہوکر تم پیشاب کررہے ہو تمہارا نکاح ٹوٹ گیاہے، اب حلالہ کروانے کی ضرورت ہے، جب ملا خود قبلہ رو پیشاب کرتے ہوئے پکڑا گیا توکہنے لگا کہ ’’ میں نے اپنے عضوء کا سر گھمادیاہے‘‘۔ علماء کی صحبت سے اور کچھ سیکھا یا نہیں سیکھا مگر اپنے لئے الگ راستہ تلاش کرنے میں مہارت حاصل کررکھی ہے۔ درباری علماء نے بھی ہمیشہ بادشاہوں کیلئے راہ ہموار کی ہے۔ میڈیم طاہرہ نے مولانا سمیع الحق کو بدنام کیا لیکن نوازشریف کے حلقہ بگوش علماء نے نعیم بخاری کی بیگم طاہرسید سے نوازشریف کی دوستی کو جواز بخشا ہوگا کہ ’’یہ ایگریمنٹ ہے‘‘۔ پانچویں پارے میں شادی شدہ خواتین سے ایگریمنٹ کا جواز ہے اسلئے کہ المحصنات من النساء الاماملکت ایمانکم وہ خواتین آتی ہیں جو کسی کی بیگمات بھی ہوں تب بھی وہ ایگریمنٹ کرسکتی ہیں۔ امام غزالیؒ نے لکھ دیا ہے کہ ’’ ابویوسف نے بادشاہ کیلئے اسکے باپ کی لونڈی کو جائز قرار دینے کا رستہ نکالا تھا‘‘۔ نوازشریف اور شہبازشریف کوئی شریف نہیں بلکہ ان کا باپ شریف تھا، وہ بھی صرف نام کا۔ یہ لوگ ڈکٹیٹر شپ کی پیداور ہیں۔ ڈکٹیٹر شپ کے شہزادے خود کو جمہوری صاحبزادے کہیں گے تو یہ جمہوری حرامزادے کہلائیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کو عقل آگئی ہے تو واضح اعلان کردے کہ اب ہم نے انکو عاق کردیا اور ہماراکسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں
نوازشریف ، شہباز شریف اور مریم نواز ڈکٹیٹر کی پیداوار ہیں اور وہ عدلیہ سے بھی ڈکٹیٹر شپ کی طرح رویہ رکھنا چاہتے ہیں، اگر یہ لوگ ملک پر مسلط ہوگئے تو فوج، پولیس، عدلیہ اورپنجابی بدمعاش گلو بٹوں کے ذریعے سے مخالف عوام کا جینا دوبھر کریں گے اور جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری کو ڈرانے کیلئے بندوں کو ماردیا۔ سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر بھی چڑھ دوڑے تھے اس طرح یہ فوج کو بھی بٹ مین بناکر رکھ دیں گے۔ انکے خمیر ڈکٹیٹر شپ، کرپشن، ملائیت کے باطل طرزِ عمل کو نکالنا ایک بڑے انقلاب کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس بے شرم کو اتنی شرم بھی نہیں آتی کہ جب امریکہ کے پاگل صدرٹرمپ نے پاک فوج پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی تو اس نمک حرام ،احمق، جاہل اور بے غیرت نے انتہائی حماقت کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ جمہوری حکومت ہے، یہ بزدل فوج نہیں کہ ایک کال پر پرویز مشرف کی طرح ڈھیر ہوجائے ۔ ہمارے ساتھ فوج نے بڑی زیادتیاں کی ہیں، ڈان لیکس کی زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی ہے اور ہم سب بتادیں گے‘‘۔ نوازشریف کا بیانیہ بڑی حماقت والا تھا۔ پورے مجلس میں ایک بھی رجل رشید اور حر نہیں تھا جو کہتا کہ الوکے پٹھے ! یہ کیا بک رہے ہو؟۔ ڈان لیکس فوج کی سازش تھی تو تم نے پرویزرشید اور طارق فاطمی کو کیوں قربانی کا دنبہ بنا لیاتھا؟۔ جس فوج کو بزدلی کا طعنہ دے رہے ہو تم تو اس سے زیادہ بزدل ثابت ہوئے ہو کہ خوف وبزدلی میں اپنے لوگوں کو ناجائز سزا دیدی ۔ یہ اتفاق فاونڈری کے کم اصل نواز اور شہباز کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ ہماری فوج، عدلیہ اور علماء ومشائخ نے قصور کیا ہے کہ لوہے کی بٹی میں پیسوں کی چمک دیکھ کر پورے ملک کو ان کمینوں کے سپرد کردیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایاتھا کہ دجال سے زیادہ خطرناک لیڈر اور حکمران ہونگے۔ یہ وقت وہ ہے جس کی پیش گوئیاں احادیث اور شاہ نعمت اللہ ولیؒ کے شعر میں موجود ہے۔ عوام تماشہ دیکھنے کے بجائے اٹھ جائیں ورنہ!

آپ کی بچی خود اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی: رانا ثناء اللہ

aap-ki-bachi-khud-us-ke-peeche-bhag-rahi-thi-Rana-Sanaullah

yeh-maluoon-hein-jahan-paye-jayen-pakar-kr-qatal-krdia-jaye-surah-ahzab-Rabia-Anam-Program-Geo-Tv

نوشتۂ دیوار کے چیف ایڈیٹرمحمد اجمل ملک نے کہاہے کہ میڈیا پر دکھایا جانے والے منظر بڑا ہی افسوسناک تھا جس میں رانا ثناء اللہ نے ننھی معصوم مظلوم شہیدبچی زینب کے والدہی کو غصہ میں ڈکٹیشن دی کہ ’’ تیری بچی ویڈیومیں خود ہی اسکے پیچے بھاگ رہی تھی‘‘۔کوئی جواں لڑکی ہوتی اور معاملہ قتل کا نہ ہوتا تو راناثناء اللہ کا حق بنتاتھاکہ تیری بچی شریک مجرم تھی ،ہونا تویہ چاہیے تھاکہ زینب کا والد راناثناء اللہ کے منہ پر زور دار طمانچہ مارتا کہ یہ بکواس کرنے کی ضرورت کیاہے؟، ثابت کرناچاہ رہے ہو؟۔ لیکن شاید شہباز شریف نے زینب کے والد کو کچھ زیادہ ہی رقم تھما ئی ہوگی۔ مظلوم کیلئے پہلے تو کوئی آواز اُٹھتی ہی نہیں اور جہاں لوگ کچھ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں تومظلوم چند ٹکے لیکرخاموش ہوجاتا ہے ، شاہ زیب قتل کیس پر جو کچھ ہوا قوم نے دیکھ لیا۔ زینب کی معصومیت پردو افراد شہید ہوئے ہیں۔
قصور کی ایک زینب کا مسئلہ نہیں ، قرآن کہتاہے کہ جو ایک انسان کوبے گناہ قتل کرتاہے جیسے وہ تمام انسانوں کو قتل کردے۔ پاکستان کے تمام بچے اور بچیوں کی عزتوں کا مسئلہ ہے۔ غریب اور بے بس کے پاس آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہیں ہوتی ہے۔ زینب کا قاتل پکڑا گیااور قصور کی دہرتی میں رہنے والے بہت سے بے قصوروں کیساتھ جبری زیادتیوں کی داستانیں میڈیا کی زینت بن گئیں۔ جنسی روحجانات میں اضافہ ہوا؟ یا میڈیا نے یہ واقعات اٹھانے شروع کردئیے؟۔ بہرحال مردان، مظفر گڑھ اور اٹک وغیرہ میں بھی واقعات ہوئے۔ کوئی بااثر شخص اپنی بیٹی کو جیل کی قیمت پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے دے گا؟۔
رانا ثناء اللہ نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے بالکل ٹھیک لہجہ سے کہا کہ اگر الزام ثابت نہ کرسکو تو یہ تمہارا آخری الزام ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بینظیر بھٹو پر کارساز میں حملے کو پیپلزپارٹی کی اپنی سازش قرار دینے کی کوشش کی تھی، اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس کی ذمہ داری زرداری ہی پر ڈال رہاتھا مگر پی ٹی وی کا چیئرمین بننے کے بعد خود زرداری کا خادم اور پیپلزپارٹی کا پرانا جیالا بتانا شروع کردیا۔ گندی اور بلیک میلنگ کی صحافت کرنیوالوں کو کھلے عام قرار واقعی سزا دی جائے تو زرد صحافت کا خاتمہ ہوگا۔ روزنامہ جنگ کراچی میں یہ شہہ سرخی لگی کہ ’’وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے خود کرپشن کا اعتراف کرلیاہے‘‘۔ حامد سعید کاظمی اسی دن کی ٹاک شوز میں یہ حلفیہ بیان دے رہاتھا کہ اس نے پائی کی کرپشن بھی نہیں کی مگر حامد سعید کاظمی نے کئی برس جیل بھی کاٹی اور جرم بھی ثابت نہیں ہوا۔ اسکے برعکس نوازشریف نے پارلیمنٹ کے اندردستاویزی ثبوت لہرا کر دکھائے اور پڑھ کر سنائے مگر عدالت میں قطری خط آگیا، جیو اور جنگ نے نوازشریف کی صفائی میں سب نظر انداز کرکے یہ تأثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ فوج اور عدلیہ ہی نواز شریف کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ ریاست کے پاس اگر واقعی عدل کا پیمانہ ہوتا تو زرد صحافت اور حکومت سے اشتہارات کا حساب بھی لیا جاتا، قوم کا پیسہ اسلئے نہیں کہ حکمران اپنی کرپشن چھپانے کیلئے صحافیوں اور میڈیا چینلوں کو بھی خریدیں۔
چیف جسٹسوں کو چاہیے کہ قوم کو گمراہ کرنے والے صحافی و میڈیا چینلوں کا بھی ازخود نوٹس لیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے جو صلاحیت نوزشریف و شہبازشریف کی حمایت میں لگائی، اس کی بنیاد پر وہ گدھے سے بھی کئی بالٹی دودھ نچوڑ لیتا۔ وہ نوازشریف اور شہباز شریف سے اتنا پوچھ لیتا کہ پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھایا قطری خط کیلئے معقول مقدمہ تھا تو مجھے کیوں نکالا کا جواب بھی مل جاتا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے لندن فلیٹ کی ساری کلپوں کو چلا کر ایک صحافتی عدالت لگادیتے تب بھی یہ پتہ چل جاتا کہ نوازشریف کو کیوں نکالا گیا۔ جب میڈیا چینل کی طرف سے صحافت نہیں وکالت شروع کردی جائے تو یہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے علاوہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسا صحافتی کاروبار بھی قانون کے اندر جائز نہیں بنتاہے اور قوم کی اخلاقی حالت ایسی زرد صحافت سے بالکل تباہ ہوجاتی ہے۔ سنسنی پھیلانے والے شاہد مسعود، جھوٹی مہم جوئی جیو کرنے والا جیو چینل ، پارلیمنٹ میں دروغ گوئی کرنے والا نوازشریف اور سفاکانہ انداز میں جبری جنسی زیادتی اور قتل کے مرتکب افراد کو قرارِ واقعی و کھلے عام سزا دی جائے تو قوم کی تقدیر بدل جائے۔

قائد اعظم نے ٹیکنوکریٹ کی حکومت بنائی تھی، ہندو وزیر قانون اور قادیانی وزیر خارجہ تھا. عبد القدوس بلوچ

quaid-e-azam-ne-technocrats-ki-hukumat-banai-thi-Abdul_Quddus-Baloch

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہاہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نے کوئی دوسرا قصور نہیں کیا ، سول و ملٹری بیوروکریسی نے جنگ کی تو جنرل ایوب خان نے سول بیوروکریسی سے اقتدار چھین لیا۔ پھر پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا۔بھٹو کو ختم کرنے کیلئے محمد خان جونیجو اور نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق نے جنم دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا، اپنی کابینہ میں ہندو وزیرقانون و قادیانی سر ظفر اللہ کو وزیرخارجہ بنا دیا تھا۔یہ لوگ فوجی قیادت کی پیدوار نہ تھے۔ نوازشریف و شہباز شریف جنرل ضیاء الحق کی پیدوار ہیں۔ اب جمہوریت و ڈکٹیٹرشپ کے درمیان میں ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان میں ہجڑہ ہوتاہے، ہجڑے کو تالی بجانے کے علاوہ کچھ نہ آتا ہو تو حج میں ٹھوکر لگنے پر بھی وہ تالی بجاتاہے۔ منافقوں کیلئے فرمایاکہ وہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے، درمیان میں متذبذب رہتے ہیں۔زینب کے قاتل پرBetven شہباز شریف کا تالی بجانا عادت سے مجبوری تھی،محترم غوث بخش بزنجو بابائے جمہوریت کہلاتے تھے، فوج کا گودی بچہ بننے اور ناجائز رقم بٹورنے کے بعد سیاسی کھدڑا لیڈر بنے تو یہ قوم کی بہت بڑی بدقسمتی ہے۔
بلوچستان میں نواب ثناء اللہ زہری کی ناکامی تھی، جمہوری نظام چلانا سیاسی کارکنوں کا کام ہے نوابوں کا نہیں۔ عبدالمالک بلوچ ایک سیاسی کارکن تھے اسلئے کامیابی سے حکومت کی۔ محمد خان اچکزئی کے پیچھے بھی محمود خان اچکزئی کا ہاتھ ہے، ان کے والد عبدالصمد خان شہید بلوچستان کے گاندھی اور سیاسی کارکن و رہنما اور قائدتھے۔ اب یہ سیاسی خانوادہ خانزادہ بن چکاہے مگر سیاسی کارکن نہیں رہاہے۔ ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے کس طرح رمضان کی شام کو کھلے عام پولیس اہلکار کو شراب میں ٹن مار دیا اور پھر فرار ہوگیا۔ کیمرے کی آنکھ نہ پکڑتی تو پولیس کے ہاتھ بھی نہ آتا۔ غلطی پر انسان کا شرمندہ ہونا ایک فطری بات تھی لیکن عبدالمجید اچکزئی پر ضمانت ملنے کے بعد جس بے شرمی اور بے غیرتی کیساتھ پھولوں کی بارش برسائی گئی کوئی سیاسی کارکن تو بہت دور کی بات ہے کسی انسان کا غیرتمند بچہ یہ نہیں کرسکتاتھا محمود خان اچکزئی سے قومی اسمبلی میں پوچھ لیا جائے کہ پٹھانوں کی یہ روایت ہوسکتی ہے؟۔ ڈیوٹی پر شہید اہلکار کی بیوہ اور بچوں پر پھول نچاور کرنے سے کیا گزری ہوگی؟۔ اس نے کیا فتح کیا تھا جس کی خوشی میں اس پر پھول برسائے جارہے تھے؟۔ اگر خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر ایک سید کا خون ہے تو جس طرح سے شہبازشریف کی طرف سے تالی بجانے کے عمل پر اسمبلی میں وہ مذمت کررہا تھا،یہی مذمت پھول نچاور کرنے کے عمل پر بھی وہ ضرور کرکے دکھائے۔ محمود خان اچکزئی سے معافی منگوائے۔
سیاسی خانوادے اور پارٹیاں بدل بدل کر سیاسی لوٹے تو بہت بدنام ہوچکے ہیں۔ نگران سیٹ اپ کیلئے پنجاب میں خیبر پختونخواہ سے کوئی شخصیات گورنر اور وزیراعلیٰ کے عہدوں پر فائز کی جائیں ، اس طرح بلوچستان، سندھ اور پختوخواہ میں دیگر صوبوں سے ماہر ، باضمیر اور باغیرت افراد کے ہاتھوں میں کچھ دنوں کیلئے حکومتوں کو سپرد کیا جائے تاکہ عوام کو دکھایا جائے کہ حکومت کس طرح سے ہوتی ہے۔ رعایت اور انتقام نہیں بھرپور عدل وانصاف سے عوام کی عزت نفس کو بحال کیا جائے۔ جہاں جہاں بدمعاش و بدکار طبقات خواتین کیساتھ زیادتی کے مرتکب ہوں ، ظلم وزیادتی مسلط کی گئی ہو اورشریف لوگوں کا جینا دوبھر ہو وہاں قانون کے شکنجے سے ان کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ عوام کو احساس ہوجائے کہ حکمران مسیحا ہوتا ہے طاقتور قوتوں کا دلال نہیں ہوتا۔ جب سب سے بڑی سیاسی جماعت اور برسر اقتدار ن لیگ کا یہ حال ہو کہ ٹی وی کے ٹاک شوز سے لیکر پارلیمنٹ اور قطری خط تک جھوٹ ہی جھوٹ بولتے ہوں ، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کو بھی اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوں تو یہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی نہیں بلکہ بدترین قسم کی انارکی کا ماحول ہے۔ جمہوریت ایک آزاد ماحول میں آزادی سے رائے دہی کا نام ہے، یہاں تو گدھے کو بھی کھڑا کردیا جائے تو بھوکے بھوک مٹانے کیلئے پیسوں اور مفادات کیلئے بک جاتے ہیں۔
میڈیا ہاوس اور صحافی بھی کرایہ پر دستیاب ہیں۔سیاست خدمت نہیں ایک منافع بخش کاروبار ہے۔عوام بڑے عذاب میں مبتلا ء ہیں، لوگوں کی جان، مال اور عزتیں محفوظ نہیں ہیں اور سیاستدانوں کو اپنے کاروبار کی پڑی ہوئی ہے۔ جمہوریت سے عوام کو غلامی سے نکالا جاتاہے اور یہاں جمہوریت کے نام پر مافیا کا کردار ادا کرنے اور عوام کو غلام بنانیوالے جمہوریت کے چمپئین بنے ہوئے ہیں ۔ اب قوم کو بچانے کا وقت آگیا ہے۔

پولیس پر اعتماد کریں ریاست مارتی نہیں: چیف جسٹس ثاقب نثار

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar

نوشتہ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ عوام کو تمام ریاستی اداروں پر تہہ دل کیساتھ اعتماد کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاک فوج ، عدلیہ ، پولیس ، سول انتظامیہ کے علاوہ پارلیمنٹ سب ہی قابل احترام ہیں لیکن ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات۔ عوام ہی کی جان، مال اور عزت و آبرو ٹکے کی نہیں اور جب تک مخصوص مقاصد کی خاطر انکے حال پر رحم نہ کیا جائے تو ان کی فریاد عرش الٰہی کو سنائی دیتی ہے اور بس۔ محترم چیف جسٹس صاحب ! آپ ٹھیک فرماتے ہیں کہ راؤ انوار کو چھپانے والے بہت ہیں لیکن اگر ماڈل ٹاؤن پولیس کو استعمال کرنے والوں کی خبر لی جاتی تو ان چھپے ہوئے پھنے خانوں کو نکالنا بھی مشکل نہ ہوتا۔ لواحقین کو طفل تسلیاں مبارک ہوں۔ معروف صحافی مظہر عباس نے ایک پروگرام میں بتایا کہ ’’جنرل نصیر اللہ بابر کی قیادت میں ایک اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں ، ان کو پولیس مقابلے میں ماردیا جائے۔ اس اجلاس میں سول اور ملٹری کے تمام اداروں نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا لیکن آئی جی پولیس افضل شگری واحد انسان تھا جس نے اس سے اختلاف کیا جس کی وجہ سے ان کا تبادلہ بھی کردیا گیا۔ پھر راؤ انوار ، چوہدری اسلم اور دیگر دہشت والے تھانیداروں کی خدمات لی گئیں اور ماورائے عدالت خوب قتل و غارت گری ہوئی ۔ اس قتل و غارت میں ایک فوجی افسرکا نام آیا اور اسے پھر فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی اور پھانسی دے بھی دی‘‘۔
راؤ انوار نے ایم کیو ایم کے بعد طالبان دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں بھی زبردست اور اہم کردار ادا کیا۔ راؤ انوار جیسے بہادر پولیس افسر نہ ہوتے تو امن کی فضاء ہوتی ،نہ طالبان سے کراچی چھٹکارا پاتا۔ طالبان کیوجہ سے محسود قوم کیساتھ جو سلوک فوج نے روا رکھا اس پر محسود قوم بجا طور سے کوئی شکوہ نہیں کرتی ہے۔ پولیس نے دہشت گردوں کے علاوہ شریف لوگوں کو بھی بہت ستایا اور اللہ کرے کہ اب محسودوں کا گناہ معاف ہو ، آئندہ کسی اور طوفان سے گزرنا نہ پڑے۔ پٹھانوں نے طالبان اور بلوچوں نے قوم پرستوں ، مہاجروں نے ایم کیو ایم کی وجہ سے جو دکھ درد سہے ہیں اللہ نہ کرے کہ ہمارے پنجابی بھائی ان سے گزریں۔ قصور کے بے قصور بچوں اور بچیوں کیساتھ جو کچھ ہوا ، اس طرح توبلوچ قوم پرستوں ، ایم کیو ایم کے دہشتگردوں اور طالبان دہشتگردوں کے خواب و خیال میں بھی نہ گزرا ہوگا۔ یہ ریاست کا بہت بڑا احسان ہوگا کہ قرآن و سنت کیمطابق جبری جنسی تشدد کیخلاف پارلیمنٹ کھلے عام سنگساری کے احکام نافذ کردے۔ پارلیمنٹ قانون پاس کرے عدالت چند دنوں میں ان کیسوں کو نمٹائے اور حکومت اس پر عمل درآمد کرائے۔
عدالت عالیہ نے چاہا تو وقت گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف ان کیسوں میں بری کردیا جن میں عدالت نے سزا دی تھی۔ عدالت عالیہ نے چاہا تو حدیبیہ پیپر ملز کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہونے اور باقاعدہ فیصلہ نہ ہونے کے باوجود کیس کو دفن کردیا۔ عدالت عالیہ نے چاہا توپارلیمنٹ میں اثاثہ جات کے اقرار کے تحریری بیان اور قطری خط میں کھلا تضاد تھا تو بھی اپنا فیصلہ اقامہ پر سنایا۔ جس سے چیف جسٹس کے سابق مؤکل محترم نااہل نواز شریف کوسپریم کورٹ کے لارجر بنچ کو خوب تر صلواتیں سنانے کا موقع فراہم کیا۔ نقیب اللہ محسود بے گناہ تھا تو قرآن میں ایک بیگناہ کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں تو بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی کئی داستانیں ہیں جو کسی شمار و قطار میں نہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی نیت پر انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی شک نہیں مگر نصیر اللہ بابر ہی نے جمہوری دور میں طالبان پیدا کئے اور پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت عام شہریوں کو قتل کی اجازت دی۔ ہمارا مقصد تنقید برائے تنقید اور مخصوص لوگوں کی طرفداری نہیں لیکن قرآن و سنت کے احکامات سے ہمارے مردہ معاشرے میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے۔ قتل کے بدلے قتل اور زنا بالجبر پر سر عام سنگساری کی سزا جمہوری بنیادوں پربھی عالم انسانیت کیلئے قابل قبول ہوگی اور دنیا کے تمام کمزور لوگ اس کو سپورٹ کرینگے۔

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar-2

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar-3

عمران خان وزیر اعظم کا خواب پورا نہ کرسکا تو پنجاب کا صوفی بن سکتا ہے. محمد حنیف عباسی

imran-khan-wazir-e-azam-ka-khuwab-pura-na-kar-saka-to-panjab-ka-sufi-ban-sakta-hei-Haneef-Abbasi

پنجابی مسلمان : علامہ اقبال

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو توشرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
زیرو پوائنٹ کے کالم نگار معروف صحافی جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں عمران خان، بشریٰ مانیکا،اسکے سابق شوہر خاور مانیکاکے بارے میں کچھ حقائق لکھ دئیے ہیں۔ خاور مانیکا ایک بُری شہرت کا افسر لیکن روحانی شخصیت کا مالک بھی تھا،ماڈرن بشریٰ مانیکا پابند صوم وصلوٰۃ،روحانیت اور علم نجوم کی ماہر ہے۔1988ء میں بینظیربھٹو وزیراعظم بن گئیں،پھر تحریک عدمِ اعتماد میں چانگا مانگا کے اندر ن لیگ کی منڈی لگائی، پیپلزپارٹی کی بچت ہوئی اور خاور مانیکا کے والد غلام محمد مانیکا نے تحریکِ عدم اعتماد کے دوران مسلم لیگ کو چھوڑکر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ جاویدچوہدری نے لکھ دیاہے کہ غلام محمد مانیکا خاندان بہت عرصہ سے سیاست میں ہے اور پاکپتن کے شاہ فریدشکر گنج ؒ کے یہ مرید بھی ہیں۔ عمران خان انکا مرید ہے۔ اب عرصہ ہوایہ خاندان پی ٹی آئی میں ہے۔ عائشہ گلالئی کی آفت آئی تو بشریٰ مانیکا عمران خان بابا فریدؒ کے مزار پر لے گئی۔ بشریٰ نے خواب میں رسول اللہﷺ کے حکم پر سرور مانیکا سے خلع لے لیاجو اب بشریٰ وٹو بن چکی ہیں۔ شادی ہوچکی ہے یا ہونے والی ہے اس کا اعلان کسی ایسی گھڑی میں کیاجائیگا کہ جو علوم نجوم کے حوالہ سے مناسب بھی ہو۔
جاوید چوہدری نے لکھ دیا ہے کہ ’’پاکستان کیلئے جس خوشخبری کا ذکر ہے اس کا آغاز بھی آئندہ بشریٰ اور عمران خان کی شادی اور وزیراعظم بن جانے کے بعد ہوجائیگا‘‘۔پنجاب کی مٹی میں خاص طور سے پیری مریدی کا کھیل کامیاب رہتاہے ۔ ڈبل شاہ کی کامیابی بھی اس وجہ سے ممکن ہوسکی تھی۔ قائداعظم اور فاطمہ جناح پیری کی شکل میں آتے توپنجاب ان کی عقیدتوں، کرامات اور بڑی روحانی قوت کا معترف رہتا۔ جنرل ایوب خان کی طاقت بھی نہ ہوتی کہ وہ فاطمہ جناح کو پنجاب میں شکست دیتے۔ تحریک طالبان پوری قوم کیلئے امریکہ کیخلاف بہت بڑا سرمایہ تھا،امریکہ آج تک نیٹو کیساتھ مل کر بھی شدت پسندقوتوں کو شکست نہیں دے سکا لیکن پاک فوج نے دہشت گردوں پر قابو پالیاہے۔ مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف فوج کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے مگر ن لیگ کو لگادم دینے کیلئے پی ٹی آئی سے کام لیا جارہاہے۔ اگر بشریٰ کی روحانی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو پاک فوج کی سیاسی مداخلت کا رستہ بھی مکمل طور سے رُک جائیگا۔ جس طرح عمران خان روحانی بنیادوں پر اپنے مسائل کے حل کیلئے بشریٰ کے دروازے پر پہنچ گئے اسی طرح سے پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر میں مسائل کے شکار عوام اس آستانے پر سجدہ تعظیمی بجا لاسکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو جس کی روحانی قوت ، مشوروں اور سعادت کی گھڑیوں میں کامیابی کے راز بتانے سے وزیراعظم کے منصب پر فائز کیا ہو یا پھرسیاست سے کنارہ کشی کرکے صوفیت کی گدی پر بٹھادیا ہو تو اس کی کرامت پر کس کو یقین نہ آئیگا؟۔ اگر عمران خان شادی کرکے بھی وزیراعظم کے منصب پر نہ پہنچ سکے تو پھر آخری کھیل یہ ہوگا کہ سیاست کو حقارت کی ٹھوکر مار کر پنجاب میں آستانہ عالیہ سجادیں گے۔ جہاں لوگوں کے دینی ،روحانی،مالی،نفسانی اور ہر قسم کے مسائل حل کرنے کیلئے ٹھکانہ بن جائیگا۔بینظیر بھٹو اور وزیراعظم نوازشریف بھی تنکے والے ننگے بابا کے پاس عقیدت سے پہنچتے تھے اور جتنی تعداد میں ڈنڈیاں ماری جاتی تھیں اتنے اتنے سال حکومت کرنے کیلئے ملتے تھے۔جب ہندو اور مسلمان پنجاب کے پیروں کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو سکھ مذہب کے روحانی بانی بابا گرونانک نے ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ برصغیر پاک وہند راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار انگریز کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مضبوط تھا۔ اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے پاس ایک بہروپیہ آیا اور شاہی دربار میں بھرتی ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے کہا کہ پہلی شرط آزمائش ہے۔ بہروپیہ نے مختلف لبادے بدل بدل کر قسمت آزمائی کی لیکن بادشاہ ہر بار اس کو پہچان کر شرمندہ کردیتا تھا۔ آخر کار بادشاہ ایک مشکل مہم پر جارہاتھا،پتہ چلا کہ کوئی درویش عرصہ سے گوشہ نشین ہے، اورنگزیب بادشاہ نے بھی دعاکی غرض سے خدمت میں حاضری کا فیصلہ کیا، قریب جاکر پتہ چلا کہ درویش غنودگی کے عالم میں ہے جب تک ہوش میں نہ آئے بادشاہ بھی حاضری نہیں دے سکتا۔ اورنگزیب بادشاہ کی عقیدت میں اضافہ ہوا کہ واقعی کوئی بڑی بزرگ شخصیت ہے، اس ویرانے میں بادشاہ کی بھی پروا نہیں ہے۔ پھر جب پیرصاحب ہوش میں آگئے تو اورنگزیب بادشاہ نے اپنے ساتھ بڑا سرمایہ لیکر خدمت میں حاضر ہوا، درویش سے دست بستہ دعا کی درخواست کی اورنذرانہ بھی پیش کردیا، اس نے کہا کہ میں تمہاری دولت کو پائے حقارت سے ٹھوکر مارتا ہوں لیکن آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟، میں وہی بہروپیہ ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ آپ نے اپنے فن کا کمال ثابت کیا ہے اور اس رقم کو بطور انعام لے لو، مگر درویش نے کہا کہ میں تمہاری نوکری پر لعنت بھیجتا ہوں، جب درویشی کی نقل میں اتنی عزت ہے کہ میری داڑھی سے دھوکہ کھاکر میرے پاؤں کو بھی چھو رہے ہو، عاجزی ونکساری بھی کررہے ہو تو اصلی درویشی کیوں اختیار نہ کرلوں؟۔
اگر پنجاب کی عوام کو ن لیگ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا تو عمران خان درویشی کی راہ پر چل سکتے ہیں اور عمران خان کو حکومت دیدی گئی تو طالبان سے زیادہ یہ رنگ وروپ خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ انقلاب نہیں آسکتا جس کیلئے قوم کو اُمید ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر پر ضروری نوٹ: فاروق شیخ

dr-shahid-masood-ki-khabar-per-zaruri-note-Farooq-Shaikh

ڈاکٹر شاہد مسعود نے آرمی چیف ، چیف جسٹس اور دیگر ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ مجھے اپنے پاس بلالو ، میں انتہائی اہم خبر دے رہا ہوں کہ عمران علی کا تعلق عالمی گینگ سے ہے ، اس کے 37بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں لاکھوں ڈالر ، یورو اور پونڈز وغیرہ موجود ہیں۔ اگر خبر غلط ثابت ہو تو مجھے پھانسی دیدو ! کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جس قوم کو اُلو کے پٹھے نے اُلو بنانے کی کوشش کی تو یہ قوم کے ساتھ ہوتا رہتا ہے مگر ایسی خبر اپنے پیٹ میں چھپاکر رکھنے کا کیا جواز ہے۔ کیا خبر کو بھی چیونٹی کی طرح پر لگ جاتے ہیں اور برسات میں اڑنے سے مرنے کا اندیشہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں ضرور اپنی ڈگی میں چھپا کر مخصوص شخصیات کے ہاں پیش کرکے بحفاظت لیجانا ضروری تھا۔ خبر دینا ہو تو میڈیا میں اپنی پوری تفصیل کیساتھ عام کی جاتی ہے۔ کسی کو بلیک میل کرنا ہو تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ میں تمہاری خبر مخصوص افراد تک پہنچادوں گا، دعوے کرنیکی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف کی جھوٹی تقریر سمجھ میں آسکتی ہے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود کاافواہ چھوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔جیل میں ہیروئنی پیشی کے بعد دوبارہ داخل ہوتے ہیں تو بعض پاخانے کی جگہ میں ہیروئن رکھ کر جاتے ہیں۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ ان کی ڈگی چیک کرو۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جس طرح کی سنسنی ایک خبر سے پھیلائی ہے اور اس کو جس انداز سے پیش کیا ہے ، کہیں آئندہ اس کو بھی چیک نہیں کیا جائے کہ کہیں خاص خبر تو لیکر نہیں جارہا۔ الیکٹرانک میڈیا میں جھوٹ تو دوسرے بھی بولتے ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود نے جھوٹ کیلئے جو انوکھا انداز اختیار کیا ہے اس پر تمام میڈیا چینلوں کو مل کر ایک خصوصی پروگرام کرنا چاہیے ۔ جو اس روش کو روکنے میں آئندہ مددگار ثابت ہو۔