پوسٹ تلاش کریں

اکٹھی3طلاق دی تو واپسی کا راستہ نہیں عثمانی

اکٹھی3طلاق دی تو واپسی کا راستہ نہیں عثمانی

قرآن سے7ایسے ٹھوس دلائل جن سے ثابت ہے کہ اکٹھے3طلاقوں کے باوجودبھی رجوع ہوسکتا ہے!

علماء ومفتیان کے ان7دلائل کی ترید جن سے وہ اکٹھی3طلاقوں کے بعد حلالہ کا ثبوت پیش کرتے ہیں!

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ” نکاح و طلاق کے مسائل سے اس قدر جہالت ہے کہ کوئی حد و حساب نہیں۔ روزانہ ہمارے دار الافتاء میں مسائل اتنی کثرت سے آتے ہیں کہ دل بہت رنجیدہ ہوتا ہے۔ ذرا سا جھگڑا ہوگیا اٹھا کر3طلاقیں دیدیں اکھٹی، یہ پتہ نہیں کہ3طلاقیں دینا ناجائز ہے اگر کوئی دیدے تو پھر دوبارہ واپسی کا راستہ نہیں رہتا۔ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ بغیر3کہے طلاق ہوتی نہیں۔ لہٰذا3سے کم پر بس نہیں کرتے۔ ایک مرتبہ کہیں تو سمجھتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی۔ حالانکہ ایک طلاق دینے سے جو شریعت کا اصل حکم ہے کہ اول تو آپس میں نباہ کی کوشش کرو لیکن اگر نباہ نہ کرنا ہو ختم ہی کرنا ہو رشتے کو تو سوچ سمجھ کر ختم کرو تو ایک طلاق دیکر چھوڑ دو۔ عدت گزر جائے توعورت خود بخود نکاح سے نکل جائے گی۔3طلاقیں اکھٹی دینے کے گناہ کی سزا یہ ہے کہ دوبارہ آپس کی ملاپ کی صورت پیدا ہو اور جی چاہے کہ اس نکاح کو ہم دوبارہ قائم و استوار کرلیں تو3طلاقوں کے بعد راستہ نہیں رہتا۔ اب یہ مسئلے معلوم نہیں۔ روز ہمارے پاس دار الافتاء میں شاید ایک دہائی سوالات نکاح و طلاق سے متعلق ہوتے ہیں ”۔
دورِ جاہلیت میں اکٹھی تین طلاق پر حلالہ مذہبی حکم تھا جو قرآن نے حرف غلط کی طرح مٹادیا۔قرآن سے اس پر7زبردست دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
دلیل نمبر1:المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ الیوم اٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا
”طلاق والی عورتیں3ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں۔ اور ان کے شوہر اس (عدت) میں ان کو اصلاح کی شرط پر زیادہ لوٹانے کا حق رکھتے ہیں”۔ (البقرہ :آیت:228)
اس آیت میں دو کمال کی باتیں ہیں پہلی: باہمی اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے اور دوسری : باہمی اصلاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ اور دو زوال کی باتوں کا خاتمہ ہے ۔ پہلی:اکٹھی تین طلاق سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔دوسری:عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔لیکن افسوس یہ ہے کہ فقہاء نے اس آیت کے محرکات سے انحراف کرکے امت کو قرآن سے دور کردیا ہے۔
دلیل نمبر2:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ” طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔( آیت229)رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھ لیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ اس آیت میں پہلی دو طلاقیں اکٹھی نہیں الگ الگ ہیں توپھر تیسری طلاق بھی الگ ہی ہے۔ یہ آیت گزشتہ آیت کی تفسیر ہے۔ عدت کے تین ادوار میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔ حضرت عمر نے خبردی کہ عبداللہ نے بیوی کو حیض میں طلاق دی تو نبیۖ بہت غضبناک ہوگئے، پھر عبداللہ کو رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ طہر میں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے پھرطہر میں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے پھراگررجوع کرناہو تو تو رجوع کرلو اورطلاق دینا ہو توہاتھ لگائے بغیر طلاق دو،یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح سے طلاق کا حکم دیا (بخاری کتاب التفسیر، سورۂ طلاق ) یہ واقعہ بخاری کی کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں بھی ہے۔
دلیل نمبر3:فلایحل لکم ان تأخذوا مما اتیموھن شیئا الاان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعدد حدود اللہ فاؤلئک ھم الظٰلمونOفان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ……(آیت229اور230)
” پھرتمہارے لئے حلال نہیں جو کچھ ان کو تم نے دیا کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ ( اگر کوئی دی ہوئی چیز واپس نہ کی) تو اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں خوف ہو ،( فیصلہ کرنے والو!) کہ وہ دونوں ( وہ چیز واپس کئے بغیر) اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر اس کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج دونوں پر نہیں ۔ یہ اللہ کے حدود ہیں۔ پس ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔
آیت229میں اللہ کی پہلی حد:تین مرتبہ طلاق کا تعلق مرحلہ وار عدت کے تین ادوار سے ہو۔ دوسری حد:جو چیزیں عورت کو دی ہیںاس میں کوئی چیز واپس لینا جائز نہیں ہے۔ تیسری حد:دونوں کو خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی تو دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ چوتھی حد:فیصلہ کرنے والوں کو خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تووہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ پھر عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔جواللہ کے ان حدود سے تجاوز کرے تو انہی کو اللہ نے ظالمین قرار دیا ہے۔
اس مقدمہ کے بعدیہ سوال پیدانہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں ؟ بلکہ طلاق کے بعد عورت کا اپنے مستقبل کے نکاح کا آزادنہ فیصلے پر سوال آتا ہے کہ شوہراب پیچھا چھوڑے گا یا نہیں؟۔ اللہ نے اس شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کیلئے عورت پر ایسابڑا احسان کردیاکہ اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
یہ خواتین پر اللہ کی طرف سے انعامات کی وہ بارانِ رحمت تھی جس کو مولوی نے قرآن میں معنوی تحریف کرکے آج بہت بڑی زحمت بنادیا ہے۔
آیت230میں حتی تنکح زوجًا غیرہ ” حتیٰ کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”کا ہدف سابقہ شوہر سے آزادی تھی مگر فقہاء نے اس حدیث کو یہاں موضوع بحث بنایا۔ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے”۔ حنفی مسلک میں اس آیت کے پیش نظر حدیث ناقابلِ عمل ہے اسلئے کہ قرآن میں عورت اپنے نکاح کیلئے آزاد ہے اور اس حدیث میں اس کو ولی کی مرضی کا پابند بنایا گیا ہے۔ جمہور کے نزدیک عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ وبیوہ ۔ نکاح کیلئے ولی کی اجازت ضروری ہے اور حنفی مسلک میں عورت بالغ ہوتو اپنے نکاح کیلئے آزاد ہے لیکن اس آیت میں بالغ لڑکی کی بات نہیں بلکہ طلاق شدہ کا مسئلہ ہے۔ بیوہ اور طلاق شدہ کے احکام جدا نہیں ہیں اور بیوہ کو اس سے بھی زیادہ الفاظ میں اپنی مرضی کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ بہر حال آیت میں عورت کو سابقہ شوہر کی پابندی سے نجات دلائی گئی ہے اور لیڈی ڈیانا کو بھی طلاق کے بعد دوسرے سے شادی کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا اور قرآن نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے یہ مسائل حل کردئیے تھے۔
دلیل نمبر4:واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ……(آیت231البقرہ)
” اور جب تم عورتوں کو طلا ق دے چکے اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں توپھر ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو……”۔
طلاق اور اس سے رجوع ریاضی نہیں معاشرتی معاملہ ہے ۔ اللہ نے عدت تک انتظار کا حکم دیا۔تاکہ دوسری جگہ نکاح کیلئے ایک مدت واضح ہوجائے لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی عدت حمل ہو اور بچہ آدھے سے کم نکلا ہو تو رجوع ہوسکتا ہے اور آدھے سے زیادہ نکلا ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
اللہ نے واضح کردیا کہ عدت کی تکمیل کے بعد یعنی بچے کی پیدائش کے بعد بھی معروف رجوع ہوسکتا ہے۔ قرآن میں یہ جملہ چاربار ہے واذابلغن اجھلن ” اور جب وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں”۔ اس کے ترجمہ میں فرق قرآن کی تحریف ہے ۔مفتی تقی عثمانی نے اپنے ” آسان ترجمہ قرآن” میں تین جگہ سورہ بقرہ اور ایک جگہ سورہ طلاق میں اس کا بالکل متضاد ترجمہ کیا ہے۔
دلیل نمبر5:واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوابیھم بمعروف….(آیت232البقرہ)
” اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دیدی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں توپھر ان کو اپنے شوہروں کیساتھ نکاح کرنے سے مت روکو، جب وہ معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں”۔ ان تمام آیات میں اکٹھی تین طلاق پر ہی نہیں بلکہ حلالے کا تصور ہی ختم کردیا گیا ہے اسلئے کہ عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کی بار بار وضاحت ہے۔
دلیل نمبر6:یا ایھاالنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن و احصواالعدة واتقوا اللہ ربکم ولاتخرجوھن من بیوتھن و لا یخرجن الا ان یاتین بفاحشة مبینة و تلک حدود اللہ و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًا (طلاق:1)
” اے نبی ! جب تم لوگ اپنی عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو ان کی عدت تک کیلئے چھوڑدو۔اور عدت کو شمار کرکے پورا کرو۔ اور اپنے رب اللہ سے ڈرو۔ اور ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہی اللہ کے حدود ہیں۔اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرے تو اس نے تحقیق کہ اپنے نفس پر ظلم کیا۔ تمہیں نہیں پتہ کہ اسکے بعد نئی راہ بنا لے”۔
دلیل نمبر7:فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادة للہ ذٰلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًا (سورہ طلاق آیت2)
”پس جب وہ (طلاق شدہ )عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لویا معروف طریقے سے الگ کرواور اس پر اپنوں میں سے دو عادل گواہ مقرر کرو۔ اور اللہ کیلئے گواہی قائم کرو۔ یہ وہ ہے کہ جسکے ذریعے اس کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتا ہو۔اور جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اللہ ( اس مشکل سے )نکلنے کا راستہ بنادے گا”۔
یہ سب وہ دلائل ہیں جس میں اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع کی نفی ہے۔ ابوداؤد شریف میں ہے کہ ام رکانہ کو ابورکانہ نے طلاق دی اور پھر ابورکانہ نے دوسری عورت سے نکاح کیا ، اس عورت نے نبیۖ سے شکایت کی کہ وہ نامرد ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اس کے بعض بچے اس سے کتنے مشابہ ہیں؟۔اور پھر فرمایا کہ ابورکانہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکاہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائی۔ سورہ طلاق کی پہلی آیت میں مرحلہ وار تین طلاق کا ذکر ہے ۔ پھر عدت کی تکمیل پر رجوع کی گنجائش ہے اور اگر فیصلہ کیا کہ چھوڑنا ہے تو دو گواہ بنانے کا بھی حکم ہے اور پھر اگر اللہ کا خوف کھایا ہو تو دوبارہ بھی اللہ نے راستہ نکالنے کی خوشخبری دی ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہی ہوا۔
اکٹھی تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر چارہ نہ ہونے کے انتہائی لغو قسم کے 7دلائل اور ان کے زبردست لاجواب، بہترین اور دندان شکن جوابات ۔
دلیل نمبر1:حضرت عمر کا اکھٹے تین طلاق پر رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کرنا۔
جواب:حضرت عمر کے پاس ایک حکمران کی حیثیت سے تنازعہ آسکتا تھا۔ جب میاں بیوی طلاق کے بعد رجوع کیلئے راضی ہوں تو کسی حکمران اور قاضی کو درمیان میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ چادر اور چاردیواری کا مسئلہ اپنا اپنا ہوتا ہے۔ جس شخص نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں تو اس کی بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ جب حضرت عمر کے پاس تنازعہ آیا تو حضرت عمر نے ٹھیک فیصلہ دیا کہ اب رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کی اصل وجہ تین طلاق نہیں بلکہ عورت کا راضی نہ ہونا تھا۔ جب عورت راضی نہ ہو تو قرآن کا یہی فیصلہ ہے کہ شوہر کیلئے پھر ایک طلاق کے بعدبھی رجوع کرنا حلال نہیں ہے۔
جنہوں نے اس کو ایک طلاق رجعی قرار دیا ہے تو وہ قرآن کی زیادہ مخالفت ہے اسلئے کہ قرآن میں ایسے طلاق رجعی کا کوئی تصور نہیں ہے جس کے بعد شوہر عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کرسکتا ہو۔ حضرت ابن عباس کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کوئی تین طلاق دیتا تھا اور وہ ایک شمار ہوتی تھی تو باہمی رضا مندی کی صورت میں تین مرتبہ سے مراد یہ ہے کہ طلاق روزے کی طرح ایک فعل ہے۔ دن میں ایک مرتبہ روزہ رکھا جاتا ہے تو تین یا تیس روزے کہنے سے تیس نہیں ہوجائیں گے۔ صحابہ کرام نے اپنی طرف سے حلال وحرام پر اختلاف نہیں کیا تھا۔ ایک شخص نے حضرت علی سے کہا کہ اس نے بیوی کو حرام کہا ہے اور اس کی بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت علی نے رجوع نہ کرنے کا حکم دیا اور ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ اس نے بیوی کو حرام کہا ہے اور وہ رجوع پر راضی ہے تو حضرت عمر نے کہا کہ رجوع کرسکتے ہو۔ دونوں نے قرآن کے عین مطابق حکم جاری کیا لیکن بعد والوں نے بات کا بتنگڑ بنایا ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول اور فتوے میں اور شاگردوں میں بھی کوئی تضاد نہیں تھا بلکہ انہوں نے امر واقع دیکھ لیا کہ عورت راضی ہے تو قرآن کے مطابق رجوع کا فتویٰ دیا اور جہاں دیکھا کہ عورت راضی نہیں ہے تو فتویٰ دیا کہ اب تم اپنا حق کھو چکے ہو۔ قرآن کی واضح آیات سے کم ازکم ان لوگوں نے ہرگز انحراف نہیں کیا تھا۔
دلیل نمبر2:علماء ومفتیان حلالے کا فتویٰ لکھتے ہیں تو قرآن کی آیات کا حوالہ دیتے ہیں کہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان آیت229البقرہ ”طلاق رجعی صرف دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رکھنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ نا ہے”۔ پھر فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ آیت230البقرہ ” اگر تیسری طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” ۔
جواب:حنفی مسلک میں اس تیسری مرتبہ طلاق کا تعلق پہلے دو مرتبہ طلاق سے نہیں ہے بلکہ اس کے بعد خلع کی صورت سے ہے۔حنفی عالم علامہ تمنا عمادی نے اس پر ”الطلاق مرتان” کتاب لکھی ہے جو ابھی دیوبندی مکتب کے ادریس اعوان نے بھی ”المیزان” سے شائع کردی ہے۔ اس فتوے کے ذریعے علماء ومفتیان قرآن کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کررہے ہیں اور مسلک حنفی کی بھی مخالفت میں فتویٰ دیتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا الذین جعلوا القراٰن عضین ”جن لوگوں نے قرآن کو بوٹیاں بنا ڈالا ہے”۔باقی آیات میں تفصیل سے اللہ کے حدود ہیں جن سے خلع مراد نہیں بلکہ طلاق کے بعد اللہ نے عورت کے حق کو محفوظ کیا ہے اور یہ جعلی خلع کا نام دے کر عورت کو بلیک میل کرتے ہیں۔ خلع کا حکم آیت19سورہ النساء میں ہے ۔ اس میں بھی معنوی تحریف کردی ہے۔
دلیل نمبر3:مفتی حلالہ کیلئے بخاری سے بھیانک حدیث پیش کرتے ہیں۔
جواب : امام اسماعیل بخاری نے یہ بہت خطرناک کام کیا ہے کہ اس باب ”من اجاز طلاق ثلاث” کے تحت یہ حدیث درج کی کہ رفاعة القرظی کی بیوی نے کہا کہ مجھے رفاعہ نے طلاق دی تو میری طلاق منقطع ہوگئی ۔ پھر عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے نکاح کیا، اسکے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح چیز ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ کیا آپ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟۔ پس نہیں۔ جب تک کہ آپ اس کا ذائقہ نہ چکھ لو اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے”۔ صحیح بخاری نے امام ابوحنیفہ کے مؤقف کو غلط اور امام شافعی کے مؤقف ٹھیک ثابت کرنے کیلئے اس روایت کو درج کیا ۔ لیکن کیا اس واقعہ میں واقعی اکٹھی تین طلاق کا ثبوت ہے؟۔
پہلی بات:امام شافعی نے بھی اپنے مؤقف کیلئے اس حدیث کو دلیل نہیں مانا ہے اور بخاری نے بھی دوسری جگہ کتاب الادب میں واضح کیا ہے کہ رفاعہ نے اکٹھی تین طلاقیں نہیں دی تھیں تو پھر اس کو اکھٹی تین طلاق کیلئے پیش کرنا بڑا دھوکہ ہے جس سے خواتین کی عزتوں کو لوٹنے کا کام کیا جاتا ہے۔
دوسری بات:اگر اس روایت میں یہ ہوتا کہ رفاعہ القرظی نے اکٹھی تین طلاقیں دیں اور پھر دونوں میاں بیوی رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن رسول ۖ نے فتویٰ دیا کہ پہلے عدت گزار لو ۔ پھر حلالہ کرلو تو بھی احناف کے نزدیک اس حدیث کو قرآن کی واضح آیت سے متصادم ہونے کی بنیاد پر قابل قبول نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ وفاق المدارس کے صدر محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ان احادیث میں اتنی جان بھی نہیں ہے کہ قرآن کے لفظ نکاح پر جماع کا اضافہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ خبرواحد ہے۔ یہ تو ابھی علماء ومفتیان نے سوچا بھی نہیں ہے کہ جب قرآن بار بار باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع کی وضاحت کرتا ہے اور کسی بھی حدیث سے اس کی مخالفت ثابت نہیں ہے تو فتویٰ کس بات پر ہے؟۔
تیسری بات:رسول اللہ ۖ کی عظیم شخصیت تو بہت اعلیٰ وارفع ہے لیکن کیا یہ کم عقل وبدبخت علماء ومفتیان کسی عورت کو یہ فتویٰ دے سکتے ہیں کہ نامرد سے حلالہ کراؤ۔ جس میں صلاحیت نہ ہو اور اس کو مجبور کیا جائے کہ لذت اٹھاؤ۔ شرم ، حیاء ، غیرت اور ضمیر بھی کوئی چیز ہے جو دین فروشی نے بالکل ہی کھودی ہے۔
دلیل نمبر4:عویمر عجلانی نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا تو عویمر عجلانی نے اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ یہ بخاری نے نقل کیا اور امام شافعی کی دلیل بھی ہے۔
جواب:امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ یہ اکٹھی تین طلاق کا جواز ہے اور امام شافعی نے بھی اس کو جواز کی حد تک تسلیم کیا ہے۔اکٹھی تین طلاق کو جائز کہنا الگ بات ہے اور اس کی وجہ سے قرآنی آیات کی منسوخی کا فتویٰ دینا الگ بات ہے۔ دونوں معاملات میں بہت فرق ہے۔ ایک شخص اکٹھی تین طلاق دے کر عورت کو فارغ کرتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن کیا اس کی وجہ سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے؟۔ قرآن کہتا ہے کہ میاں بیوی باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت کے اندر بھی کرسکتے ہیں، عدت کی تکمیل پر بھی کرسکتے ہیں اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی کرسکتے ہیں تو اکٹھی تین طلاق کی وجہ سے قرآنی آیات کو منسوخ تو نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عویمر عجلانی کے واقعہ میں قرآن کے ساتھ کوئی تضاد بھی نہیں ہے اسلئے کہ قرآن نے فحاشی کی صورت میں عورت کو گھر سے عدت میں بھی نکالنے اور نکلنے کی اجازت دی ہے۔
دلیل نمبر5:محمود بن لبید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ۖ کو خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو نبی ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میری موجودگی میں تم قرآن کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں۔ اگر تین طلاق بڑا مسئلہ نہ ہوتا اور رجوع کی گنجائش ہوتی تو اس قدر سخت جملے اور معاملات کیسے ہوتے؟۔
جواب:دوسری روایات میںواضح ہے جو اس روایت سے زیادہ معتبر ہیں کہ خبر دینے والے بھی حضرت عمر تھے اور قتل کی پیشکش کرنے والے بھی حضرت عمر تھے اور طلاق دینے والے عبداللہ بن عمر تھے۔نبی ۖ کے غضبناک ہونے کی بات بخاری میں ہے جس کے بعد رجوع کا حکم بھی فرمایا اور اکٹھی تین طلاق کا ذکر صحیح مسلم میں ہے۔ اور وہ دونوں روایات اس سے زیادہ معتبر ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حیض میں طلاق دینا یا اکٹھی تین طلاق دینا قرآن فہمی کی کمی ہے جس پر غصہ اسلئے بنتا تھا کہ واضح آیات کو سمجھا کیوں نہیں؟۔ جس طرح پہلی قومیں جہالتوں کا شکار ہوگئیں تو امت مسلمہ کا بھی یہی خدشہ تھا۔ لیکن اس کی وجہ سے قرآنی آیات سے متضاد فتوے دینے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی ہے۔
دلیل نمبر6:جامع ترمذی میں جمہور کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کی دلیل کے عنوان سے فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو نقل کیا ہے۔
جواب:صحیح احادیث میں ہے کہ فاطمہ بنت قیس کے شوہر نے الگ الگ طلاقیں دی تھیں۔ لیکن جب جمہور کی طرف سے اس قسم کی احادیث کو نقل کیا جاتا ہے تو من گھڑت روایات کی بھی بھرمار ہوتی ہے۔ صحیح اور ضعیف روایات میں یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دی گئی ہیں لیکن شمار ایک کی گئی ہو اور پھر الگ الگ بھی دی گئی ہو۔لیکن کچھ روایات تو بہت زیادہ من گھڑت ہیں۔ مثلاً یہ جب حضرت علی کی شہادت ہوئی تو حسن کی بیوی نے کہا کہ تجھے خلافت مبارک ہو۔ حسن نے کہا کہ تجھے تین طلاق ۔ پھر فرمایا کہ اگر میں نے اپنے جد سے نہ سنا ہوتا کہ تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا تو رجوع کرلیتا ۔مگر راوی کو جرو کلب کتے کا بچہ کہا گیا۔ ان بے بنیاد روایات کی وجہ سے قرآنی آیات سے انحراف کی گنجائش نہیں تھی جیسے سودی حیلہ کیلئے من گھڑت احادیث کا سہارا لیا گیا ہے تو حلالہ کیلئے بھی اس طرح احادیث گھڑی گئی ہیں۔
دلیل نمبر7:اکٹھی تین طلاق بدعت اور حنفی فقہاء کے نزدیک حلالہ ہے۔
جواب:حلالہ ہی بدعت ہے ۔ کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ہم یوم آزادی مناتے ہیں میلاد النبی ۖ نہیں اسلئے کہ بدعت ہے۔ افغان طالبان نے میلادالنبی ۖ کا سرکاری اہتمام کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے دیوبندی اکابر جلوس نکالتے ہیں۔ فتویٰ فروشان اسلام کی وجہ سے جلوسوں پر دہشتگردانہ حملہ ہوتا ہے۔شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو ماں سے زنا قرار دینے والا دارالعلوم کراچی جامعہ بن گئی ،مجامعت سے عالمی سودی نظام اور جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کو اسلامی قرار دیا مگر ابوبکر وعمر و عثمان وعلی کی خلافت کے قیام کا کوئی فتویٰ نہیںدیا ۔ جبکہ دارالعلوم کراچی کو حلالہ کی بدعت کا گھروندابنایا ہوا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے کہا یزید کا نام نہ لو میڈیا آزاد نہیںمفتی شہریار

مجھے کہا یزید کا نام نہ لو میڈیا آزاد نہیںمفتی شہریار

حجة الوداع میں رسول ۖ نے فرمایا :میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں قرآن و میری عترت

مفتی شہریار داؤد نے کہا کہ ہم خطبہ حجة الوداع کی بڑی بات کرتے ہیں۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ میں اپنے بعد تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ قرآن اور سنت ۔ ہر ایک یہی کہہ رہا ہے۔ یار! آپ اپنے اندر یہ اخلاقی جرأت کیوں نہیں پیدا کرتے کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسری اپنی عترت۔ صحابہ کیوں نہیں فرمایا؟۔ صحابہ کیلئے یہ بھی فرمایا کہ تم میرے کسی بھی صحابی کی اقتداء کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے۔ لیکن خطبہ حجة الوداع جو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع تھا سوا لاکھ صحابہ تھے۔ جو پوری دنیا میں گئے، پہنچانا تھا پیغام نبی کا، دین مکمل ہوگیا تھا۔ فرمایا میں اہل بیت چھوڑ کر جارہا ہوں۔ کیوں؟ اس کی بڑی وجہ۔ صحابہ وفات پاگئے ۔ کئی نے شادیاں نہیں کیں۔ کئی کی اولاد نہیں ہوئی۔ اللہ نے فرمایا انا شانئک ھو الابتر۔اے محبوب ! تیرا دشمن بے نام رہے گا، لیکن تیری آل چلے گی۔ قیامت تک سید ہوگا۔ آخری سید مہدی محمد ہوگا وہی آکر دجال کو مارے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھیں گے۔ ہم کیوں نہیں سناتے کربلا کا واقعہ؟۔ کس نے کہہ دیانبی کی آل شیعوں کا ٹھیکہ ہے۔ یار! نبی ۖ نے فرمایا قرآن کی نص سے ثابت ہے۔ نص جس پر قرآن سے دلیل ہو۔ قرآن کی آیت مباہلہ اور آیت تطہیر نہیں ؟۔ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا الا المودة فی القربیٰ اہل بیت کی مودت کا محبت سے بہت اعلیٰ مقام ہے۔جب معیار نہیں بنے گا اس وقت تک بچیں گے نہیں۔
اویس ربانی: یہ کونسا ٹولہ ہے کہ ذرا سے ذکر اہل بیت کیا علی علی کیا تو انہوں نے کہا کہ تفصیلی ہیں رافضی ہیں یہ۔ اب اس کا کیا کریں یہ بھی تو مسئلہ ہے؟۔
مفتی شہریار داؤد: میں حقیر طالب علم خدا کیلئے ہم انا کا خول توڑیں۔ گردن میں جو سرئیے ہیں ہاتھ جوڑ کر آپ کی جوتیاں پکڑ کر عرض کررہا ہوں۔ آج آنے والی نسل کو نہیں پتہ کہ مولا علی، مولا حسین،امام حسن کون ہیں؟۔ رسول کے اہل بیت کون ہیں ؟، اگر پتہ کرنا ہوتا ہے تو اہل تشیع علماء کے بیانات سنتے ہیں۔ جن میں بہت بڑے نام ہیں، شہنشاہ نقوی ،مسعودی اور باقر کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ کیا علماء اہل سنت کمی ختم نہیں کرسکتے؟۔ خدا کیلئے تفضیلیت کا لیبل ہر ایک پر نہ لگائیں۔ صحابہ کرام کا الگ، اہل بیت کا الگ مقام ہے۔ کیوں مقابلہ کرتے ہیں ؟۔ خدا کیلئے نہ مقابلہ کریں یہ مقابلے بازی کا کام ہے نہیں۔
اویس ربانی: کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضور ۖ نے تو فرمایا کہ ہم نے اہل بیت کو چھوڑا، لیکن ہم نے اہل بیت کو چھوڑ ہی دیا۔
مفتی شہریار داؤد: اصول دیدیا کہ قرآن اور اہل بیت۔ خالی اہل بیت کو پکڑا تو گمراہ، خالی قرآن کو پکڑا تو گمراہ۔ کربلا نہ ہوتا تو خدا کی قسم حق و باطل کا پتہ ہی نہ چلتا تھا۔پھر تو وہی ہوتا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ یزید آتے ہر دور کے اور کہتے ہیں ہم اتھارٹی ہیں۔ ہم جو کریں وہی حدیث وہی شریعت ہے۔ امام حسین کا کیا تھا مدینے میںبڑے آرام سے زندگی گزار تے۔ وظیفہ گورنری مل جاتی۔ آل رسول سے بڑی گدی کسی کی ہونی تھی؟۔ نہیں ۔ کہتے ہیں ناں کہ
جن کو دھوکے سے کوفے بلایا گیا، جنہیں بیٹھے بٹھائے ستایا گیا
جن کی گردن پہ خنجر چلایا گیا، اس حسین ابن حیدر پہ لاکھوں سلام
اگرامام حسین نے قربانی نہ دی ہوتی تو خدا کی قسم اسلام کا نام لیوا نہ ہوتا۔ یزید ، یزید صرف یزید ہوتا۔ میں کسی چینل پر گیا تھا، میڈیا کہتا ہے آزاد ہے؟۔ کوئی آزاد نہیں۔ مجھے کہا گیا کہ یزید کا نام نہیں لینا۔ دشمن اہل بیت یا دشمن حسین کہہ دینا۔ نہیں نام لوں یزید کا؟۔ یزید لعنت اللہ علیہ نہیں کہوں گا تسلی نہیں ہوگی۔ کیوں کروں ایسا پروگرام کہ حق وباطل کو بیان نہ کرسکوں۔ تو پھر ایسی فارمیلٹی ، نمازیں،عبادتیں اللہ منہ پر مارے گا۔ نہیں چلیں گی بھائی! تو پھر میں سوچوں کہ ایسے پروگراموں میں کیوں جاؤں؟، کہ میں حق و باطل کا نام ہی نہ لے سکوں۔
اویس ربانی: جو14سو سال پرانے یزید کا نام لیتے ہوئے گھبرارہا ہے تو موجودہ یزید کے تلوے چاٹے گا۔
مفتی شہریار داؤد: ہو یہی رہا ہے سسٹم یزیدی اور کہتے ہیں کہ ہم اہل بیت کے ماننے والے ہیں۔ ہم رسول اللہ ۖ کی جنت ، ایسے نعروں سے جنتیں ملنے لگیں ناں تو بڑے بڑے… بہرحال فتنہ بہت ہے آج کے دور میں۔ اپنے آپ کو بچاؤ، اہل بیت اور قرآن سے محبت رکھو۔مولاعلی فرماتے ہیں میری جب خواہش ہوتی ہے کہ میں اللہ سے بات کرو ں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔ جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے بات کرے تو میں قرآن پڑھتا ہوں۔ تو مجھے لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے کلام کررہا ہے۔ تو جب یہ بتادیا مولا نے کہ دیکھو! تم قرآن بھی نہیں چھوڑنا اور ہم لوگوں کو بھی نہیں چھوڑنا۔ اگر ان کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔

___تبصرہ: نوشتہ دیوار___
صحابہ کرام و اہل بیت عظام سب کے سب ہمارے لئے قابل احترام ہیں، قرآن میں صحابہ کرام کے السابقون الاولون من المہاجرین و الانصار و الذین اتبعوھم باحسان کا بہت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔ سنی مکتب کے مفتی فضل ہمدرد نے کہا کہ السابقون الاولون بھی اہل بیت ہیں۔ ہم مفتی فضل ہمدرد کو مشورہ دیں گے کہ خمیرہ گاؤزبان کھائیں جو باتیں اہل تشیع بھی نہیں کرتے ہیں آپ کیوں کس چکر میں متنازع بننے کے درپے ہیں؟۔ جن سبقت لیجانے والے انصار صحابہ کے بارے میں اللہ نے قرآن میں خوشخبری دی ہے ان میں ایک سر فہرست حضرت سعد بن عبادہ بھی ہیں جو ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانتے تھے اور ان کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ نہ تفصیلی شیعہ تھے اور نہ تبرائی رافضی۔ اہل سنت کے ایمان مجمل اور ایمان مفصل میں کسی صحابی و اہل بیت کا ذکر نہیں ۔
ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت اید ی الناس”خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب”۔نبی ۖ کے اہل بیت کیساتھ کربلا میں جو ہوا اس کی وجہ کیا تھی؟۔ سنی یہ سادہ جواب دے سکتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے بدری جنگی قیدیوں کیساتھ جو رعایت فرمائی اور فتح مکہ پر ابوسفیان کو عزت بخشی، اس کو اور اسکے دو بیٹوں امیر معاویہ اور یزید کو سو سو اونٹ دئیے۔ تو نتیجے میں انصار بھی خلافت سے محروم تھے اور ابوسفیان کے بیٹے معاویہ ، پوتے یزید ، پڑپوتے معاویہ کو خلافت ملی اور پھر بدری قیدی عباس کی اولاد کو خلافت ملی۔ شیعہ کہتے ہیں کہ سبق نہ دہد کمذات را، کمذات چوں عاقل شود گردندزدداستاد را۔شیخ سعدی مگر پھر حضرت عباس کی اولاد نے بھی اہل بیت پر مظالم کئے ان کو تو کمذات نہیں کہہ سکتے ہیں اسلئے تھوڑا گزارہ کریں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہیرہ منڈی بندذہنی عصمت فروشی کادھندہ

ہیرہ منڈی بندذہنی عصمت فروشی کادھندہ

انور مقصود نے پروگرام میں ریاست ، سیاست اور صحافت کے مکروہ چہرے سے مذاق میں پردہ اٹھادیا؟

ریاست،سیاست ، صحافت کی بہترین عکاسی کردی ۔ہیرا منڈی کا پھیرا، انور مقصود نے سب کو حیران کردیا۔ ہیرا منڈی میں اب کیا کچھ ہوتا ہے؟۔
جون ایلیا میرے دوست تھے ، میرے گھر مہینے میں8،9مرتبہ آتے تھے۔ اور کبھی مغرب سے پہلے نہیں آئے۔ تو بیٹھ جاتے تھے، مرنے سے چند دن پہلے آئے میرے گھر ،کرکٹ میچ آرہا تھاتو کہنے لگے کہ انور ہمیشہ میں تمہارے گھر خالی ہاتھ تو برا لگتا ہے مجھے ، اپنی جیب سے دو گلاس نکالے اور کہنے لگے کہ آج میں گلاس لے آیا ہوں اب تم بوتل لے آؤ۔ یہ پروگرام جو آج ہورہا ہے۔ یہ کچھ دن پہلے ہونا تھا تو میں آگیا تھا تو رات میں جون میرے کمرے میں آگئے تھے اورآکر بیٹھ گئے۔ جانی(انور مقصود)! مرنے کے بعد جشن منایا تو کیا ہوا؟۔
جون! حالات بدل رہے ہیں لاہور میں آپ کا جشن۔
1965کی جنگ میں آپ نے لکھا تھا۔لاہور زندہ باد۔
لے جائیں یہ پیام ہوائیں ترے لئے ہیں آج شہر شہر دعائیں ترے لئے نعروں سے گونجتی ہیں فضائیں ترے لئے ہر لب پہ آفریں ہے اب اور زندہ باد
جون! فیض صاحب کی ساری شاعری سچی ہے۔ صرف ایک مصرع وہ جھوٹ لکھ گئے۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ نہیں بول سکتا۔
جانی! صحافت کے کیا حال ہیں؟۔ جون! صحافت جو آگے تھی اس وقت بھی ہے۔جانی ! کل لاہور پریس کلب گیا،6،7صحافی کھلکھلاکر ہنس رہے تھے۔ ایک صحافی کونے میں میز پر روتے ہوئے چائے پی رہا تھا۔ پوچھا خیریت؟۔ کہنے لگا اس پر نہ روؤں کہ یہ ہنسنے والے اجرت لیکر ہنسنے کیلئے جمع ہیں؟۔
جون! اقتدار کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ اچھے لوگوں میں اسے کوئی وکیل نہیں ملتا۔ پلنگ کیساتھ فون رکھا ہے کوئی گفتگو ریکارڈ تو نہیں کررہا ہے؟۔ نہیں نہیں آپ آرام سے بولے جائیں۔جانی!80برس میں میرا پاجامہ اتنی مرتبہ لیک نہیں ہوا جتنی یہاں آڈیو لیک ہوجاتی ہیں۔
جانی! اپنی زندگی میں کئی بار لاہور آیا مگر ہیرا منڈی نہیں گیا۔ مرنے کے بعد نہ جانے کیوں آج جی تڑپ ریا ہے۔ ہیرا منڈی کا ایک پھیرا لگالوں۔
جون: ہیرا منڈی بند کردی گئی کیوں؟ ، انورمقصود: یہاں ذہنوں کی عصمت فروشی کے کاروبار کو اجازت مل گئی ہے۔ ضمیر مجرہ دکھانے لگے ہیں، پتہ نہیں؟۔
جانی! ایک حور نے کہا تھا برف سے پرہیز کرو کیونکہ تم خود بہت ٹھنڈے ہو۔ اسی وقت برف سے توبہ کرلی۔ کسی نے مجھے اوپر بتایا تھا کہ تمہارے کسی پروگرام کے بعد کسی نے لکھا تھا انور مقصود شرابی ہے۔ تم نے کیا جواب دیا؟۔ میرے پاس اس قسم کا سیل فون نہیں کہ میں جواب دے سکوں۔ اگر ہوتا بھی تو میں کیا جواب دیتا؟۔ اقبال، جوش ، فیض، صوفی تبسم ، فراز، منیر نیازی ، اُستاد دامن، ناصر کاظمی، میراجی، جالب ، کشور ناہید، سجاد باقر رضوی، اصغر ندیم سید ، منو بھائی، انور شعور نے جواب نہیں دیا۔ مگر جانی! میں نے تو جواب دیا تھا۔ ایک مشہور خاندان کے صاحبزادے نے کہا تھا جون ایلیا شرابی ہے۔ میں نے لکھا یہ عجیب خاندان ہے ، اس کے مرد مجھے شرابی کہتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں مجھے زانی کہتی ہیں۔ میرے جواب کے بعد سنا ہے آج تک اس خاندان کے مردوں اور اس خاندان کی عورتوں میں پھڈا چل رہا ہے کہ تم کو کیسے پتہ؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہماری لڑکیوں کو تعلیم سے روکا جاتا ہے کریمہ بلوچ

ہماری لڑکیوں کو تعلیم سے روکا جاتا ہے کریمہ بلوچ

بلوچستان میں ویمن یونیورسٹی کی بس پر خود کش حملہ کیا گیا، مذہب کے نام پر ہماری پڑھی لکھی نسل کو چن چن کر مارتے ہیں!

ڈائریکٹ پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی ہے، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مار رہی ہے۔ ایسڈ تھروئنگ اٹیک ہورہے ہیں ہماری لڑکیوں پر کہ وہ اسکول جانا چاہتی ہیں ،کیونکہ وہ یونیورسٹی جانا چاہتی ہیں۔ ایک ہی یونیورسٹی ہے بلوچستان میں ویمن یونیورسٹی کے نام پر۔ کئی سال پہلے اس کی بس پر خود کش حملہ کیا ان لوگوں نے۔ ہماری پڑھی لکھی نسلوں کو وہ مار رہے ہیں چن چن کر ، اور اسی مذہب کے نام پر۔ کیونکہ جب وہ آتے ہیں ہمارے اسکولز میں ہماری لڑکیوں پر ایسڈ اٹیک کرتے ہیں تو وہ یہ نعرہ لگاکر جاتے ہیں ہم کو ایجوکیشن کے خلاف ہیں، ہم انگلش لینگویج سینٹرز کے خلاف ہیں۔ کیونکہ یہ کافروں کی زبان ہے ہم نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں یہ پڑھائی جائے۔
”مفتی محمود کی دوبیگم سے بیٹا اور بیٹی کی خبرآئی تو مفتی صاحب نے کہا کہ لوگ پھر کہتے ہیں کہ مفتی انصاف نہیں کرتا۔ کیا ریاست کا پنجابی، پختون، بلوچ سے انصاف یکساںنہیں؟”

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جب تک اپنی بیوی، دکان …سے گزر نہ جائے توامن نہیں آسکتا ۔PTMشاہ فیصل غازی

جب تک اپنی بیوی، دکان …سے گزر نہ جائے توامن نہیں آسکتا ۔PTMشاہ فیصل غازی

شاہ فیصل غازی خان (میئر تحصیل سرویکئی جنوبی وزیرستان)کا اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد استقبالیہ سے خطاب۔ قسم کھاتا ہوں کہ بعض باتوں پر شرم آتی ہے۔ ہم جیل سے نکلے تو50،60افراد نے رابطہ کیا پوچھا کہ تم نے کتنا وقت گزارا؟۔ کسی نے کہا کہ28دن، کسی نے کہا کہ1ماہ تو انہوں نے کہا کہ اتنے دن تو سیرو تفریح میں گزرتے ہیں۔ جیل اور ان مشکلات پر قسم کھاکر کہتے ہیں کہ فخر ہے۔ پہلے ہم ڈرتے تھے لیکن جب قوم کیساتھ ظلم اور جبر کو یاد کرتے ہیں تو مشکلات آسان لگتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کسی کے گھر نہیں گرائے، چوری نہیں کی، کسی کو مسنگ پرسن نہیں بنایا، کسی کو قتل نہیں کیا ۔ ہم نے کسی کیساتھ ظلم نہیں کیا ۔ پھر یہ لوگ جو حرکتیں کرتے ہیں اور جس جس طریقے سے کرتے ہیں ۔قسم سے ہم نے سنا تھا کہ باہر ممالک میں مسلمانوں کیساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔ کیسے ایسے ظلم کرسکتے ہیں؟۔ آج ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، پاکستان کی فوج اور یہ کینٹ میں جو انکے پالتو ہیں وہ جوحرکت کرتے ہیں تو ہم بتا نہیں سکتے کہ اس طرح کی حرکت کی ہے؟ ۔یہ قسم کھائی ہے جب تک ظلم بند نہ کیا ہو تو ذرہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ یہ کہتے تھے کہ جن کیساتھ ہم ظلم کرتے ہیں تو وہ اپنا مشن چھوڑ دیتے ہیں، انکے خیال میں پرانا دور ہے،ان کا گمان تھا مگر یہ اب کبھی نہیں ہوسکتا ۔ ہم قسم کھاتے ہیں32سال ابھی میری عمر ہے اگر آئندہ عمر جیلوں میں گزاریںاور تکالیف میں گزاریں تو ہم قوم کا حق ادا نہیں کرسکتے۔جو وقت ضائع کیا ، خاموشی اختیار کی ، بیوقوفی و خوف میں گزارا اور بے ننگ گزارا تو ہم اس قوم کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قیدی جنکے بھائی باپ یہاں ہیں حفیظ، داؤد جان یا دیگر دوست ان کو رہا کیا جائے۔ پیشی پر پتہ چلا کہ جو بزرگ سفر نہیں کرسکتے تھے ،ظلم برداشت نہیں کرسکتے تھے، ان کو رہا کردیا تو ہم نے بے انتہاء خوشی منالی کہ گھروںکو گئے۔ یہ خوف کی باتیں نہیں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ ان نوجوانوں کو قوم استعمال کرلے، ہم منت کرتے ہیں ۔ ہم پہلے کہتے تھے کہ ہمارے مشیران قوم پر ننگ غیرت نہیں کھاتے؟۔ہم شرمندہ ہیں شمالی وزیرستان کے وزیر ، داوڑ اور دیگر قوموں کے سامنے کہ انکے مشیران، علمائ، سفید ریش ، ملک اور خان باہر نکلے ہیں،گردن میں گولی اتارتے ہیں لیکن وطن کے دفاع کی بات کرتے ہیں۔ ہم آواز دیتے ہیں کہ آج ہماری قوم کے اتفاق کا دن ہے۔ اگر دشمن کھڑا ہو اور بے انتہاء تکلیف پہنچے تو بھی ہم کھڑے ہونگے اور آخری بات کہ جب تک کوئی اپنی دوکان پر نہ گزرجائے ( قربانی کیلئے تیار ہو) بیوی ، جان ، باپ ، دولت پر نہ گزر جائے، میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ علاقے میں امن ،عزت مشکل ہے ۔ کھلے عام اعلان ہے اور قسم کھاتے ہیں کہ اگر ہماری بیوی ، بچے ، باپ، بھائی ہیں کہ اگر ننگ و غیرت کی زندگی نہ ملے تو آرام سے نہ بیٹھیں گے۔ پہلے ہم سے سستی ہوئی ہوگی اور وقت پر کسی کے پاس نہ پہنچے ہونگے اگر گاڑی نہ ہو تو پیدل ہر طریقے سے قوم کی مشکل میں پہنچیں گے۔ دشمن کو تکلیف پہنچتی ہے، اندھا ہوتا ہے ۔ آج کے بعد عوام کیساتھ بہر صورت کھڑے ہونگے یا نہیں؟۔ (عوام نے کہا کہ کھڑے ہونگے) دشمن کو تکلیف پہنچائیں گے۔ اگر یہ اتفاق نہ کیا ۔یہ دشمن ڈرائیں گے کہ تمہارا فلانا اور تمہاری فلانی اغواء کرلیں گے ۔ بے عزت اور ننگے کرینگے یہ ڈرائیں گے۔ اگر گھروں سے نکال کر ایک صف میں کھڑا کرکے ہمارے کپڑے اتار یں توامن و حقوق کے مطالبے سے نہیں پھریں گے۔ دوست دور دور سے آئے کوٹکئی، سراروغہ، چگملائی ہم انتہائی مشکور ہیں۔ پہلے بہت جرگے کئے آج کی بات میں مزہ ہے۔ اگر ہم بیٹھ جائیں اور سمجھیں کہ کچھ کر نہیں کرسکتے، قدم نہیں بڑھاسکتے تو کہہ سکتے ہیں کہ ایکدوسرے کو تھکائیں گے نہیں۔ اگر ہم چاہیں تو گنتی کرلیں کہ قوم کیلئے غیرت کون کرتا ہے؟۔ ہم نے فوجیوں، ایجنسیوں کے ٹٹے تولے، ہر طرح کی عاجزی سے کام لیا لیکن انہوں نے کسی کو معاف نہ کیا۔ اپنا مفاد اٹھالیتے ہیں پھر ایسی موت ماردیتے ہیں کہ تمہارا عزیز نہ کوئی پڑوسی کام آسکتا ہے جو تمہاری فاتحہ پر بیٹھتا ہے وہ بھی تمہارے کردار پر شرماتا ہے ۔ ہم بیعت کرینگے، وعدہ کرینگے کہ ہم معیاری زندگی قائم نہ کرلیں جب تک آئین و قانون … لیکن آئین یہاں نہیں ۔ ہماری قوت اور اتفاق سب کچھ ہے۔ تحریک کے بڑوں اور قائد کے اشارے پر دوستوں نے لبیک کہا ۔ اگر کالابھنگی مشر بنادینگے تو ہم انشاء اللہ مانیں گے۔ جو ذمہ داری قوم نے دی اگر ہم100سال ذمہ داری کو پورا کریں تو ہمیں استعمال کریں۔ پھر ہمیں دیکھیں کہ ہم قوم کیلئے بے غیرتی ، بے ننگی لاتے ہیں ، یا تباہی کی طرف لے جاتے ہیں ؟۔

___تبصرہ: نوشتۂ دیوار ___
شاہ فیصل غازی مئیر قوم کا حق مانتا ہے۔ اسکا پڑوسی جمال مالیارPTMکا سرگرم کارکن منظور پشتین اور علی وزیر پر سنگین الزام لگاکر تحریک سے جدا ہوگیا۔TTPکی طرح سرنڈر اور باغی بن جائیں تو کیا فائدہ ؟۔ انتخابی سیاست منشور کے خلاف ہے تو الیکشن کیسا؟۔ صحابی امیر نے جماعت کو حکم دیا کہ آگ میں کود جاؤ۔صحابہ نے کہا کہ ہم نے آگ سے بچنے کیلئے اسلام قبول کیا ۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ اگر تم کود جاتے تو آگ سے کبھی نہ نکلتے۔ قوم نے طالبان کا مذہبی جذبہ سمجھ لیا تو قومی تعصبات سے نئی شکل غلط ہے۔ لوگوں نےPTMکا ساتھ عزت لٹانے کیلئے نہیں بچانے کیلئے دیا۔چندافراد قوم کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں کہ ہماری مستقل بے عزتی اب بند کریںڈاکٹر ہما بقائی

ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں کہ ہماری مستقل بے عزتی اب بند کریںڈاکٹر ہما بقائی

4ہفتوں سے کبھی پانی،کبھی چینی اور کبھی ڈالروں پر کریک ڈاؤن تو16ماہ سے آپ جھک ماررہے تھے ؟

آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ کراچی میں کتنی انارکی ہے؟موٹر سائیکلز والے پورے پورے سٹور لوٹ لیتے ہیں

PNNٹی وی چینل (سائرہ بانو اور امیر عباس بھی تھے)۔ منصور اعظم قاضی نے پوچھا ڈاکٹر صاحبہ ! یہ بحران پہ بحران کی بات ہورہی ہے، سندھ میں چینی پربہت بڑا کریک ڈاؤن ہوا بہت کچھ ریکور کیا۔ اس کا فائدہ آج کے دن تک آنہ سکا۔ بحران بنا کون رہا ہے؟ اس کو پکڑ کون رہا ہے؟۔ اور اگرحالت یہی ہے توپھر بحران کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟۔
ڈاکٹر ہما بقائی: میں ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی ہوں ۔ ہماری بے عزتی بند کریں۔ کبھی یہ کہ ہم پانی کے ہائڈرنٹس پر کریک ڈاؤن کررہے ہیں، کبھی چینی کی مافیا پر کریک ڈاؤن کررہے ہیں۔ کبھی ڈالر نیچے لے آئے کرنسی ایکسچینج والوں پر کریک ڈاؤن کرکے۔ خدا کا واسطہ ہماری بے عزتی کرنا بند کریں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم سب نے کیا گھاس کھائی ہوئی ہے؟۔ اگر یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان تھا چار ہفتے میں تو16مہینے سب جھک مار رہے تھے؟اور اس سے پہلے کیا ہورہا تھا؟ دیکھئے۔
You scratch my back I scratch your back ابھی بھیcontinueکرتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اشرافیہ ہے۔یہ جو اسٹیٹ ہے کوئی چونی کم کرنے کو تیار نہیں چاہے پورا ملک ریاست بھاڑ میں جائے ابھی سائرہ بانو نے کہا عوام … دیکھئے جو یہ سمجھ رہا ہے ہنگامہ نہیں ،و ہ غلط ہے۔ جب سول وار کی ڈائریکشن والے نہیں ہوتے تو ملک میں انارکی ہوتی ہے۔ میں کراچی میں رہتی ہوں۔ آپ کو اندازہ نہیںکہ جو لوٹ مار کراچی میں ہے۔ موٹر سائیکلز پرپورے پورے کیفے، چائے خانے، اسٹورز، بک اسٹورز لوٹ کر چلے جاتے ہیں۔ نہ انہیں یہ فکر اور پرواہ ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرہ ہے۔ نہ یہ پرواہ ہے کہ کوئی پیچھے آئے گا۔ کیونکہ یہی بقاء ہے ان کیلئے کہ وہ چھین کھائیں۔ ابھی بھی ایک طبقہ گھر پر چار گارڈز کھڑے کرکے سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ ہے۔ یہ وہ بیوقوفوں کی جنت ہے جس میں یہ رہتے تھے اور مسلسل رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی زندگیوں پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ لیکن یہ سب جاری نہیں رہ سکتا۔80اور90کی دہائی یہ نہیں کہ آپ نے جو فیڈ کیا پبلک نے اپنالیا۔ اب اتنی سورس آف انفارمیشن ہیں کہ پتہ چلتا ہے کہ کس کی شادی پر سونے کے سکے نچھاور اور کس نے کتنے کروڑ کا جوڑا پہنا۔ سوال پوچھتی ہوں یہ کروڑوں کے جوڑے اور شان و شوکت آپ نے میرا پیسہ چوری کرکے یہ لگائی ہے۔ اب ہم جواب مانگ رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہThis is the turning pointچاہے اسٹیبلشمنٹ ہو، سیاستدان یا سیاسی جماعتیں ہوں جو خود حصہ بنیں تمام صورتحال کا۔ ایکدوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں اور نئی الائنسز بنارہی ہیں۔ سائرہ بانو صاحبہ بتائے کیا پیپلز پارٹی کیخلافPMLN، جماعت اسلامی اورMQMکیساتھ گٹھ جوڑ کرنے کیلئے نہیں جارہی ہیں؟۔ مجھے بتائیں ان سوالوں کے کون جواب دے گا؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لوئروانا جنوبی وزیرستان میں جرگے کا بہترین کردار

لوئروانا جنوبی وزیرستان میں جرگے کا بہترین کردار

وزیرستان وانا لوئر وزیر زلی خیل قبیلہ9رکنی جرگہ نے صحافی معراج خالد کو5لاکھ جرمانہ کی عدم ادائیگی پر وانا بدر کردیا۔ حقیقتTVنے حقائق کے منافی رنگ دیا۔ صحافی رضیہ محسود نے آواز اٹھائی۔ پنجاب و سندھ سے زیادہ وزیرستان میں حکومت کی رٹ نہیں ۔ وانا کی امن کمیٹیوں کو علی وزیر بھی سپورٹ کرتا ہے۔ پوسٹ میں آدھا نہیں پورا سچ بولتا۔ طاقتوردانیا ل کمزوردو بھائیوں سے40لاکھ روپے تاوان مانگ رہا تھا، عورت کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا۔زلی خیل9رکنی جرگہ نے کمزور کا ساتھ دیا، سندھ وپنجاب میں بھی مظالم کوختم کرنے کیلئے یہی اقدامات نجات کا سبب بن سکتے ہیں ۔ محسود اور شمالی وزیرستان کے اتمانزئی امن کا رونا روتے ہیں اور فوج سے شکایت کرتے ہیں لیکن وانا کے احمد زئی وزیرقبائل کو مہاجر نہ بننا پڑا۔رانا ثناء اللہ وزیرداخلہ تھے ۔ عمران ریاض غائب، ارشدشریف پر کتنے کیس ہوئے؟ پھرکینیا میں شہید کیا گیا۔ صحافیوں سے جو سلوک روا رکھا گیا اس سے بہتر5لاکھ جرمانہ جو کسی بے کار آدمی کی ہتک عزت کے برابر بھی نہیں۔
9رکنی جرگہ زلی خیل سے اپیل ہے کہ معراج خالد کی سزا کو معاف کریں بلکہ صحافیوں کو مکمل تحفظ دیکر احمدزئی وزیر معاملات کو اجاگر کریں تاکہ دنیا میں یہ احساس پیدا ہوکہ زندہ لاش کی طرح اپنی ساری ذمہ داری ریاست کا کاندھے پر نہیں ڈالنی ہے، اللہ کرے کہ ریاست کچے کے ڈاکوؤں کو پہنچے توبھی بہت ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میری آنکھوں کے سامنے40لڑکیاں فروخت ہوئیں!!

میری آنکھوں کے سامنے40لڑکیاں فروخت ہوئیں!!
وہ تصویریں بھیج دیتے تھے جسے پسند آتی وہ آکر لے جاتا تھا!!
مجھے بھی ایک بوڑھے شخص کو ساڑھے4لاکھ میں بیچا گیا!!!

نیو نیوزٹی وی چینل ۔ پروگرام ”تلاش”۔ سوشل میڈیا پیج ”Pukaar”
والدہ سے ملنے جارہی تھی کہ اجنبی عورت نے بیہوش کردیا۔ (متاثرہ لڑکی)
نمائندہ نیو نیوز: رخسانہ آپ کی شوہر نعیم سے پہلی ملاقات کب ہوئی؟۔
رخسانہ: پہلے فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ زمیندار ہے اور شادی کی پیشکش دونوں طرف سے پسند کی شادی تھی ، ڈیڑھ سال بہت اچھا گزرا۔ مارتا نہ لڑتا تھا خیال رکھتا تھااور عزت کرتا تھا۔ اپنی امی کے پاس بھی دس بارہ مرتبہ آنا ہوا۔
نیو نیوز: نعیم کے ساتھ آپ کا ٹائم اچھا گزرا۔ اغواء کیسے ہوئی ہو؟۔
رخسانہ: لودھراں سے آرہی تھی امی سے ملنے اکیلی۔ ملتان میں اندھیرا ہو رہا تھا ، بس والے نے سب کو کہا کہ آگے بس نہیں جائیگی اتر جاؤ۔ بیٹھ کر بس کا انتظار کررہی تھی ۔ ایک عورت پاس آئی کہنے لگی کہ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟۔ میں نے کہا بس کا انتظار کررہی ہوں۔ اس نے کہا کہ یہ جگہ اچھی نہیں، تجھے کوئی مار دے گا یا پکڑ کرلے جائیگا۔ تم میرے گھر آجاؤ۔ اس طرح باتیں کی میں اسکے گھر چلی گئی۔ امی اور شوہر کو نہیں بتایا میرا فون بند ہوچکا تھا۔ عورت نے کہا کہ دس بارہ منٹ بیٹھنا۔ بس میں بٹھادوں گی۔ چائے پلائی ، چائے میں کچھ ڈالا ہوا تھا۔ چائے پینے کے بعد ہوش نہیں رہا ۔ سندھ میں ہوش آیا تو دیکھا کہ ایک کمرہ تھا ۔ اور بھی لڑکیاں تھیں۔ میں نے رونا شروع کردیا۔ لڑکیوں نے کہا روؤ نہیں یہاں ہمیں بھی ایسے ہی لایا گیا اور بیچا گیا۔ اگر تم روؤ گی تو تجھے مارینگے۔ ہم ایسا کرتے تھے تو ہمیں مارتے تھے۔ میں22،23دن ادھر رہی تھی۔10سے12لڑکیاں وہاں تھیں۔ میری طرح چھوٹی عمر کی تھیں۔ جس عورت نے اغوا ء کیا وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ تین وقت کھانا دیتے تھے ۔ وہ لوگ لڑکیوں سے ہی کھانا بنواتے تھے۔ سارا دن کمرے میں رہتے اور روتے تھے۔ باہر تالا تھا۔ زمین پر سوتے تھے۔ واش روم کمرے میں تھا۔ کوئی لڑکی روتی کہ گھر جانا ہے تو دو عورتیں اورباقی آدمی ڈنڈوں سے اس لڑکی کو مارتے تھے۔ میں روئی تھی تو مجھے بھی مارا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ مجھے اپنے گھر جانا ہے تو کہتے ہیں کہ تم اب کبھی بھی اپنے گھر نہیں جاؤ گی۔ پھر وہ مارتے تھے۔ وہ لڑکیوں کی تصویر کھینچ کرلڑکوں کو بھیج دیتے تھے جس کو پسند آتی وہ آکر لے جاتا تھا پیسے دیکر۔
نمائندہ نیو نیوز: کتنے پیسوں میں لڑکیاں فروخت ہوتی تھیں؟
رخسانہ:4،5،6لاکھ میں۔روز لڑکی لیکر آتے تھے۔ میرے ہوتے ہوئے30،40لڑکیاں بکی تھیں۔ ایک مہینے میں30لڑکیاں تقریباًآتی تھیں۔
نمائندہ نیو نیوز: لڑکی کا سودا ہوتا تھا تو بتاتے تھے کہ تم اتنے میں بک گئی ہو؟
رخسانہ: جن کے پاس لیکر جاتے تھے وہ بتادیتا تھا۔ جو مجھے لیکر گئے تھے اس نے بتایا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ آپ اتنے میں بک جاتی ہو۔ ہم اس سے لڑتے تھے کہ تم ایسا کام کیوں کرتے ہو؟۔ میری بھی تصویریں اتاری گئیں اور بھیجی گئیں۔ مجھے ایک بوڑھے آدمی کو ساڑھے4لاکھ میں بیچ دیا۔60سال اس کی عمر تھی۔ وہ مجھے گاڑی میں لیکر گیا، سندھ میں ہی کسی جگہ جھونپڑیوں میں وہ لوگ رہتے تھے۔
نمائندہ نیو نیوز: جھونپڑی میں کتنے دن رکھا آپ کو تو عادت نہیں تھی ؟
رخسانہ: ایک مہینہ رہی ۔ روز ہی روتی، بہت مشکل سے رہتی تھی۔ رستوں کا نہیں پتہ تھا بھاگ نہیں سکتی تھی وہ باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ بوڑھے نے کہا تھا کہ اگر تم بھاگیں توگولی ماردیں گے۔ اسلحہ تھا۔ اس کا نام فیض تھا۔ مارتا نہیں کھانا بنواتا تھا۔ اس فیملی کے اور لوگ عورتیں اور بچے تھے۔ وہ ایک گاؤں تھا۔
نمائندہ نیوز نیوز: اس کی فیملی کے لوگ تمہاری مدد نہیں کرتے تھے؟۔
رخسانہ: وہ اسکے اپنے تھے۔ اس کی بیٹیاں تھیں اور بیوی نہیں تھی۔
نمائندہ نیو نیوز: بیٹی بنا کر لے کر گیاتھا؟ پکی بات ہے؟۔
رخسانہ : نہیں وہ مجھ سے بس کھانا بنواتا تھا۔ ایک دن موبائل چارج پر لگاکر گیا، ایک لڑکے کو میرے پاس چھوڑ گیا، میں نے بہانے سے پانی لینے بھیج دیا۔ میں نے مما کو کال کی کہ مجھے نکال لو مجھے بیچا گیا ۔ مما آئی ادھر پولیس کو لیکر۔ میں نے مما کو بتایا کہ سندھ میں ہوں گاؤں کا نہیں پتہ۔ امی اور میاں کا نمبر یاد تھا اس کو بھی کال کی پھر اس نے ڈبل کال کرواکر مما سے پانچ دس منٹ بات کروائی۔
نمائندہ نیو نیوز: آپ کو کیسے بازیاب کروایا؟۔
رخسانہ: ادھر سے انہوں نے میری تصویر پولیس کو دی۔ پھر سندھ کی پولیس ادھر آئی ، سادہ کپڑوں میں پولیس والے پہلے چار گاؤں میں گئے لیکن وہاں فیض نام کا کوئی نہیں تھا۔ پھر وہ ایک اور گاؤں جہاں میں رہتی تھی چار آدمی گئے تھے وہاں لوگوں نے کہا کہ ہاں فیض نام کا بندہ ہے۔ پھر ان کو بلایا۔ پوچھ گچھ کی تو فیض نے بتایا کہ ساڑھے4لاکھ میں خریدا۔ پھر ہم تھانے آگئے ۔ پولیس نے کہا سچ بتادو۔ پنجاب پولیس نے ہمیں تمہاری تصویر بھیجی تھی۔ پھر میں نے سچ بتایا۔ بوڑھے آدمی کو پولیس نے پکڑ لیا اور پنجاب پولیس کو فون کیا کہ مجھے یہاں سے لے جائے۔ رات چار بجے ہم پنجاب آگئے ۔ صبح صبح مما آئی تھیں۔ گھر والوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی مگر شوہر پیچھے نہیں آیا۔ بھائیوں نے کہا تھا اگر ہماری بہن نہ ملی تو تم پر پرچہ کروادیں گے اسلئے وہ ڈر گیا۔ اب وہ گھر پر مجھے لینے آیا ہے۔
نمائندہ نیو نیوز: جب بازیاب ہوکر پنجاب پہنچیں توکیا سوچا آپ نے؟
رخسانہ: سوچا میں نے، جھگڑا بھی کیا تم اس ٹائم کیوں نہیں آئے۔ کہتا تھا کہ میرے اوپر پرچہ ہوا ہے۔ میں ڈر گیا تھا پکڑوادیں گے ۔ میں نے کہا کہ میں پکڑی جاؤں تو خیر ہے۔ اتنی دور سے پولیس لے آئی تم کیوں نہ لینے آئے؟۔
نمائندہ نیو نیوز: ابھی بھی شوہر اچھا لگتا ہے؟
رخسانہ: مجھے غصہ آتا ہے۔ دو مہینے تک اکیلی میری مما پیدل آتی تھی ،گاؤں سے یہاں۔ کھانا بھی نہیں کھاتی تھیں۔ روتی رہتی تھی تو مجھے تو مما چاہیے۔
نمائندہ نیو نیوز: شوہر سے تو منہ بولا رشتہ ہوتا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ میں میاں بیوی میں نااتفاقی پیدا نہیں کرنا چاہتی مگر یہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہتی ہوں مجھے اس بات کا جواب دو کہ شوہر کو پیچھے آنا چاہیے تھا یا نہیں؟۔
رخسانہ: آنا چاہیے تھا مگر وہ نہیں آیا۔ شوہر لینے آیا تو مجھے نہیں جانا۔ میں نے کہا کہ میری مما اکیلی بوڑھی عورت اکیلے تھانے پیدل آتی تھی۔
نمائندہ نیو نیوز: کچھ کہنا چاہتی ہو ان لڑکیوں کو جویہ سمجھتی ہیں کہ ہماری پسند کا لڑکا جس سے ہم شادی کریںگی تو وہ سارے خواب پورے کرے گا؟۔ وہ تارے توڑ لائے گا وہ ساری رات آسمان پر تارے گنتا ہے؟ایسا کچھ ہوتا ہے؟۔
رخسانہ: پہلے پیار ہوتا ہے شادی ہوپھر جھگڑا ہوتا ہے۔ میرا شوہر ایسا نہ تھا مگر رشتے داروں میں دیکھا کہ دھکے دیکر نکال دیتے ہیں کہ جاؤ یہاں سے۔
نمائندہ نیو نیوز: امی نے سمجھایا تھا کہ یہاں شادی نہ کرو؟۔
رخسانہ: مما نے کہا تھا کہ لڑکا ہمیں بتادو ہم خود دیکھ کر آئیں گے۔ لیکن میں نے بتایا نہیں بلکہ خود ہی چلی گئی۔
نمائندہ نیو نیوز: بھائیوں کی عزت خراب کی۔ اب میں کیا پوچھوں؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم پاکستان سے صرف امن مانگ رہے ہیںقبائلی جر گہ

ہم پاکستان سے صرف امن مانگ رہے ہیںقبائلی جر گہ

امن کیلئے برسوں بعد مہاجر واپس آئے تو زیادہ بدامنی تھی ۔3مہینے سے جاری رزمک لشکرمیرانشاہ کی طرف روانہ

اتمانزئی وزیر کا لشکر3مہینے سے رزمک شمالی وزیرستان میں امن کا مطالبہ کررہا ہے۔لشکر دوسلی ، درپہ خیل روانہ میرانشاہ اور پھر میر علی میں پڑاؤ ڈالے گا۔
ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان ریحان گل خٹک کی سربراہی میں وفد7ڈیویژن میرانشاہ، انٹیلی جنس ادارے، ضلعی انتظامیہ افسران نے رزمک جاکر اتمانزئی30رکنی جرگہ سے مذاکرات کا تیسرا دور کیا ۔ ملک نصراللہ چیف آف وزیرستان ملک جانفراز ، ملک رب نواز ، ملک اکبر خان اور مفتی بیت اللہ جرگہ قائدین نے حکومتی وفد کا استقبال کیا۔ قیام امن پر گفتگو ہوئی ۔ حکومتی وفد نے قیام امن پر تحریری تجاویز جرگہ کے حوالے کیں ۔جرگہ نے کہا کہ غورو خوض کے بعد آئندہ سیشن میں جواب دینگے۔ حکومتی وفد نے درخواست کی کہ آئندہ جرگہ سیشن کیلئے ڈی سی آفس میرانشاہ تشریف لا ئیں تا کہ مذاکرات کا عمل نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔
لشکرکا مطالبہ امن اور شمالی وزیرستان سے افغانستان مہاجر قبائل کی واپسی ہے۔چترال پرحملہ آوروں کو افغانستان نے گرفتار کیا۔ امیرالمؤمنین نے حملے کو حرام قرار دیاتھا۔جبکہ داعش سرحدات کا قائل نہیں۔ امریکہ اور دہشتگردوں کے خطرات سے بچنے کیلئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ بوسیدہ نظام کو تبدیل کریں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت

شہریوں کے انسانی حقوق کیلئے تین اسلامی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت

1:جان اور اعضاء انسانی کی برابری: قرآن میں جان کے بدلے جان ، ناک اور کان کے بدلے ناک اور کان ۔ہاتھ ، پیر، دانت کے بدلے ہاتھ ، پیر اور دانت اور زخموں کا بدلہ ہے۔ (سورہ مائدہ کی آیت) جو حکمرانوں کے لئے ہے اور جس پر عمل نہیں کیا جائے تو ان لوگوں کو اللہ نے ظالم قرار دے دیا ہے۔
کیا ہمارے پاکستان کا آئین قرآن وسنت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ جب طاقتور لوگ کمزوروں کے دانت توڑتے ہیں، آنکھ پھوڑتے ہیں اور ناک کاٹتے ہیں تو بدلے میں دانت توڑے ، آنکھ پھوڑی اور ناک کاٹے جاتے ہیں؟۔
ریاستی اداروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں اور تمام طاقتور افراد کو کمزوروں سے روا رکھے جانے والے مظالم کے بدلے میں برابری کی سطح کا شہری قرار دیا جائے تو اس اسلام کو اسرائیل کے کٹر یہودی بھی مان جائیں گے اسلئے کہ قرآن کی یہ آیت تورات کے حوالے سے موجود ہے۔ اسلام اور مذہب کا یہ کمال ہے کہ فرعونیت کو نہیں مانتا بلکہ انسانیت کو برابری کی سطح پر لاتا ہے۔ جس دن قرآن کے اس قانون پر عمل شروع ہوگیا تو ظالم ، طاقتور اور جاہل طبقے کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اسلامی معاشرہ جان ، مال اور عزت کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
2:قرآن میں زنا کی سزا100کوڑے اور بہتان کی80کوڑے ہے۔ بہتان بنیادی طور پر عورتوں پر لگایا جاتا ہے۔ بدکار عورت پر بہتان سے کیا فرق پڑتا ہے مگر اپنی عصمت کی حفاظت والیوں پر بہتان کا بہت برااثر پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں اسٹیٹس کو کے توڑنے کا صرف دعویٰ ہوتا ہے۔ جب اماں عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو بہتان لگانے والے دو مردحضرت مسطح، حضرت حسان اور ایک خاتون حضرت حمنا پر80،80کوڑے کی حد جاری کی گئی۔ اگر ایک معمولی درجہ کی خاتون پر بھی بہتان لگایا جاتا تو اس پر بھی یہی سزا تھی۔ مسلمانوں کی ماں، نبی کریم ۖ کی زوجہ مطہرہ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر کی صاحبزادی پر بہتان لگے تو اس کی بھی80کوڑے سزا اور ایک جھاڑو کش عورت پر بہتان لگے اس کی بھی یہی سزا ہو تو اس سے زیادہ مساوات کا تصور ہوسکتا ہے؟۔ ہمارے کسی کرپٹ اور احمق سیاستدان کی بیوی اور بیٹی پر بہتان نہیں معمولی درجے کی ہتک عزت کی سزا بھی اربوں روپے ہے اور غریب کی ہتک عزت کی اتنی سزا بھی نہیں ہے کہ وکیل کی فیس ادا کرسکے۔ امیر کیلئے10کروڑ بھی بڑی سزا نہیں اور غریب کیلئے10لاکھ بھی بڑی سزا ہے جبکہ80کوڑے امیرو غریب کیلئے یکساں سزا ہے۔
3:قانون کا بنیادی مقصد کمزور کو تحفظ دینا ہے اور طاقتور لوگ سزاؤں سے بچنے اور کمزور کو اپنا غلام بنانے کیلئے قوانین بناتے ہیں۔ ہمارے عدالتی نظام کی بنیادی خصو صیات یہی ہیں کہ کمزور کے مقابلے میں طاقتور کو تحفظ دیتے ہیں، جبکہ اسلام میں کمزور کو تحفظ دیا گیا ہے۔ عورت مرد کے مقابلے میں صنف نازک ہے اور عورت کے حقوق بھی مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں لیکن افسوس ہے کہ درباری ملاؤں نے قرآن وسنت اور اسلام کا ستیاناس کرکے عورت کے سب حقوق کو غصب کیا ہوا ہے بلکہ عجیب وغریب مظالم کا شکار بنایا ہوا ہے۔ طلاق میں قصور شوہر کا ہوتا ہے اور سزا عورت کو دی جاتی ہے اور بچہ عورت جن لیتی ہے لیکن ماں کو بچے سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عورت کے مستقبل کو قرآن نے محفوظ کیا ہے مگر علماء ومفتیان نے انکے سب حقوق چھین لئے ہیں۔

___آزادی رائے کیلئے 3بنیادی اقدامات ___
1:مذہبی آزادی رائے: اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ لااکراہ فی الدین ” دین میں کوئی جبر وزبردستی نہیں ہے”۔ مسلمانوں کے ایک شیعہ فرقہ کے امام ضیاء اللہ بہائی نے اپنے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔ روزہ ، نماز، تقریبات اور مختلف امور میں نئے مذہبی احکام کا اجراء ان کی اپنی مرضی ہے۔ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سکھ کے گرو نانک نے اپنا نیا مذہب تشکیل دیا جو نہ ہندو اور نہ مسلمان تھا۔ مسلمانوں اور ہندؤوں دونوں کیساتھ اپنا اختلاط بھی رکھا ہے اور دونوں سے اپنا مذہب بھی جدا رکھا ہے۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تو مسلمانوں کی طرف سے قتل اور دہشت گردی کا کوئی رویہ بھی اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کی نبوت کو نہ ماننے والوں کو رنڈیوں کی اولاد قرار دے دیا۔ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تو وہابی، دیوبندی، اہلحدیث، شیعہ اور قادیانیوں کو ایک صف میں کھڑا کیا تھا۔
قادیانیوںکو1974میںذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومی اسمبلی نے کافر قرار دے دیا۔ شیعوں کو بھی پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے بڑے مدارس کے علماء ومفتیان نے کافر قرار دے دیا تھا۔لیکن پھر ملی یکجہتی کونسل ، متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیم المدارس میں اہل تشیع کو بھی شامل کیا گیا۔ جب مذہبی آزادی ہوتی ہے تو مذہبی طبقہ بعض اوقات اپنے کی ہوئی الٹیوں کو چاٹ لیتا ہے۔
قادیانیوں سے مسلمانوں کا جھگڑا یہ ہے کہ وہ اسلام کا نام استعمال کرنے کی جگہ اپنے لئے نیا نام تراش لیں۔ قادیانی کہتے ہیں کہ دوسرے مسلمان فرقوں کی طرح ان کو بھی ایک فرقہ تسلیم کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا مشہور فیض آباد کیس بھی ایک طرف یہ ہے کہISIکےDGCفیض حمید اس سیاسی عمل کا حصہ کیوں بنے؟۔دوسری طرف چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس بلوچستان لگانے والا سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی سے امریکہ تک ایک سازش کے تحت قادیانیوں کے حق میں بل کی منظوری دی جارہی تھی جس کیخلاف بلوچستان کے سینیٹر حافظ حمداللہ واحد شخصیت تھے جس نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
شیخ رشید جمعیت علماء اسلام کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام سے پکاررہا تھا اور مولانا عبدالغفور حیدری نے انکشاف کیا کہ قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تھا اور سینیٹ میں اگر پاس ہوجاتا تو مجھے قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑتے لیکن شکر ہے کہ سینیٹ میں اکثریت سے پاس نہ ہوسکا۔
صحافی ابصارعالم نے بتایا کہ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کی وجہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ اسلئے مشکلات میں تھا کہ اس کا سسر قادیانی تھا،نوازشریف سے میں نے ہی سفارش کی تھی کہ اس کمزور پر ہاتھ رکھا جائے تو ہمارے کام آسکتا ہے۔ شاید جنرل قمر جاوید باجوہ کو خوش کرنے کیلئے ہی قادیانیوں کے حق میں ن لیگ نے بل پیش کیا تھا۔فیض آباد دھرنے کیلئے مسلم لیگ ن نے جنرل فیض حمید کو خود مذاکرات کیلئے بھیجا تھا اسلئے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک فوج پر اعتماد کررہی تھی سیاسی حکومت پر نہیں۔
اگر سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری ، حافظ حمداللہ، مولانا عبدالغور حیدری اور تحریک لبیک کے باخبر ذمہ دار ، شیخ رشیداورصحافی ابصارعالم کو حقائق کیلئے طلب کرے توالیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کو بہت سارے حقائق کا پتہ چلے گا۔ آزادی رائے کیلئے مذہب کا غلط استعمال معاشرے کیلئے زہر قاتل ہے۔
ریاست مدینہ میں رسول ۖ نے ابن صائد سے پوچھا کہ میرے بارے میں آپ کیا کہتے ہو؟۔ ابن صائد نے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہو۔ اور پھر کہا کہ میں تمام عالمین کا رسول ہوں۔نبی ۖ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بھی آپ رسول تسلیم کریں۔ نبی کریم ۖ کے اخلاقِ کریمہ کا یہ معیار تھا کہ اس کو منہ پر جھوٹا کہنے کے بجائے فرمایا کہ” جو اللہ کے رسول ہیں وہی اللہ کے رسول ہیں”۔
حضرت عمر نے پیشکش کی کہ یہ دجال ہے اس کو قتل کردیتا ہوں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو اس کا قتل عیسیٰ ابن مریم کی تقدیر میں لکھا ہے اور اگر وہ نہیں تو اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ تیس دجال آئیں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ ان میں سے ایک دجال مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا لیکن دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث ، شیعہ اور دیگر لوگوں کے بڑوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ حضرت علی نے فتح مکہ کے بعد حضرت ام ہانی کے شوہر مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن نبیۖ نے روک دیا تھا۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کا جنازہ صرف گیارہ صحابہ نے پڑھا۔ اہلسنت کے عالم دین نے شیعہ کی معتبر کتابوں سے حوالہ جات پیش کئے کہ سارے مہاجرین وانصار نے جنازہ درود کی صورت میں پڑھاتھا۔
معاویہ بن قرة نے عائد بن عمرو سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان چند اور لوگوں کی موجود گی میں حضرت سلمان فارسی، حضرت صہیب رومیاور حضرت بلال حبشی کے پاس سے گزرے تو انہوں فقالوا : واللہ ما اخذت سیوف اللہ من عنق عدواللہ ” اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں”۔ کہا: اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ”تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو؟’۔ پھر حضرت ابوبکر نبی ۖ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ۖ کو یہ بتایا تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ابوبکر! شاید آپ نے ان کو ناراض کردیا ہے۔ اگر تم نے ان کو ناراض کردیا ہے تو اپنے اللہ کو ناراض کردیا ہے۔ حضرت ابوبکر ان کے پاس آئے اور کہا کہ میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کردیا!۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بھائی اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ (صحیح مسلم حدیث6412کتاب صحابہ کے فضائل ومناقب)
پاکستان میں جو حضرت ابوبکر صدیق کے حوالہ سے تبلیغ کرتے ہیں ان میں حضرت ابوبکر کی طرح جذبہ ہے اور جو رسول اللہ ۖ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں تو وہ رسول اللہ ۖ کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ عراق وشام میں ایک یزیدی فرقہ ہے جو اسلام، ہندومت ، عیسائیت ، یہودیت اور سابقہ مذاہب کا مکسچر ہے اور ان کے ساتھ داعش نے مظالم کئے تو بھی غلط ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے کافرستان پرTTPنے حملہ کیا جن کو افغان طالبان نے گرفتار کیا ہے۔ اگر یہودی عیسائیوں کو اسلئے قتل کریں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد دوسرا نبی نہیں اور عیسائی مسلمانوں کو اسلئے قتل کریں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد دوسرا نبی نہیں اور مسلمان ختم نبوت کے منکر کو قتل کریں تو یہ اسلامی تعلیمات نہیں ہیں۔ مسلیمہ کذاب کی بیوی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس نے مدینہ پر چڑھائی بھی کی تھی لیکن حضرت ابوبکر نے نبوت کی دعویدار اس عورت کو لشکر سمیت پکڑلیا تھا اور اس شرط پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ دوبارہ مدینہ پر چڑھائی نہیں کرے گی ۔ پھر اس نے مسلیمہ کذاب سے شادی کی ، جس کا قبیلہ بہت مضبوط تھا۔ جس سے اسلامی ریاست کو خطرات لاحق ہوئے تھے اسلئے اس فتنہ کو ختم کرنا پڑا تھا۔ جب چترال کے کافرستان سے کوئی خطرہ نہیں اور ان مسلمان طالبان سے افغانستان اور پاکستان دونوں کو خطرہ ہے تو افغانستان اور پاکستان دونوں مل کر اس خطے کو خطرات سے پاک کرسکتے ہیں۔ دہشت گردی سے اسلام نہیں پھیل سکتا ہے اور اگر یہ لوگ نظام کی تبلیغ کیلئے کام کریں تو پوری دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔
2: سیاسی آزادی رائے: پاکستان کے پہلے منتخب قائد عوام ذوالفقارعلی بھٹو نے تمام اپوزیشن قیادت پر بغاوت کا مقدمہ کرکے حید ر آباد جیل میں ڈالا تھا اور پختونخواہ کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو احتجاج پر شہید کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے بڑی پابندیاں لگائی تھیں اور نوازشریف اس کو خراج عقیدت پیش کرتا تھا۔MRDنے جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دیں۔MQMنے بھی صحافیوں کو دھمکاکے رکھا۔ زبردستی سے گھنٹوں تقریر دکھانے پر مجبور ہوتے تھے۔ عمران خان کو بھی میڈیا نے بہت کوریج دی تھی ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نےTVچینلوں پر پتھراؤ اور خاتون صحافی ثناء مرزا کو غلیل سے کنچے مارکر رلایا تھا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اپنے دورِ اقتدار میں جیلوں کے اندر سہولیات بند کرنے کی دھمکیاں دی تھیں اور شہریار آفریدی نے رانا ثناء اللہ کو رنگے ہاتھوں ہیرون سمگلنگ پر پکڑنے کی قسم کھائی تھی لیکن بعد میں کہا کہ دوسروں کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا تھا۔
حمزہ شہباز کے دورِ حکومت میں پنجاب پولیس نے جس طرح جسٹس ناصرہ جاوید اقبال کے گھر اور دوسرے گھروں کی بے عزتی کی تھی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ مریم نواز کیلئے جس طرح سندھ پولیس نے پاک فوج کے خلاف احتجاج کیا تھا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔PDMکی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جو کچھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔9مئی کا واقعہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ جس میں جناح ہاؤس لاہور کو جلاڈالا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں جج نے وارنٹ کے بغیرتھانیدار کو سزا دی ہے۔ طالبان کے ولایت ڈیرہ اسماعیل خان ایریا ٹانک کے کمانڈر عمر اور کمانڈر اسرار نے حافظ گلبہادر گروپ کو چھوڑ دیا ہے۔ نوازشریف نے جنرل قمر باجوہ، فیض حمید، جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس کھوسہ اور مستقبل کے چیف جسٹس کو اپنے انجام تک پہنچانے کا بیان دیا تو نگران حکومت اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ ختم ہوگیا۔ راجہ ریاض جس طرح کا اپوزیشن لیڈر تھا اس سے جمہوری نظام کو شرم تو آتی ہوگی مگر کچھ صحافی مسلسل لگے ہوئے تھے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
نوازشریف کو ایون فیلڈ لندن فلیٹ سمیت جرائم پر14سال قید اور کتنے کروڑروپے سزا ہوچکی تھی لیکن پھر قومی اسمبلی میں جو جھوٹا بیانہ پیش کیا اور قطری خط لکھا تو اس کے دفاع میں سیاسی صحافت کا خاتمہ ہوگیا۔ سیاسی آزادی سوشل میڈیا کے ذریعے سب کو حاصل ہے۔ لیکن اس کا درست استعمال کرنا چاہیے۔
2:معاشرتی آزادی۔ وزیرستان آزادی رائے کیلئے بڑا زبردست میدان تھا لیکن طالبان نے ختم کرکے رکھ دیا ۔ وزیرستان کے لوگ آزادمنش ہیں مگر ان کو یہ پتہ نہیں کہ ملاپیوندہ کو ایک طرف انگریز کی طرف سے100روپیہ ماہانہ ملتا تھا اور دوسری طرف اس کی جدوجہد انگریز کی مراعات کی بحالی کیلئے ہوتی تھی۔ محسود علاقہ میں انگریز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے لیکن اس میں محسود قوم کا ذاتی کردار تھا۔ ملاپیوندہ اور اس کا بیٹا قابل احترام تھے لیکن سرکاری ملکوں سے ان کی مختلف حیثیت نہیں تھی۔ وہ محسود خود کو بہادر کہتے تھے جو انگریز اور افغانستان دونوں کے وظائف کھاتے تھے۔محسود قوم کسی اچھی قیادت سے محروم رہی ہے۔ منظورپشتین سے پہلے گوخان بدمعاش اور اس کا بھائی رضا گو خان زیادہ مقبول تھے۔ بیت اللہ محسود اور عبداللہ محسود کے گروپ الگ تھے۔ قاری حسین و حکیم اللہ محسودہی بیت اللہ محسود کی قیادت کی کامیابی اور ناکامی کا سبب بن گئے تھے۔

___انقلابی نظام کی تبدیلی کے اثرات___
افغانستان میں طالبان نے چین کے ساتھ معاہدے کرکے معاشی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ لیبیا بہت خوشحال ملک تھا اور عراق بھی بہت خوشحال تھا لیکن عوام کو پھر بھی اپنی قیادت پر اعتماد نہیں تھا اسلئے کہ ڈکٹیٹر شپ موجودہ دور میں مشکل سے چل سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان پوری دنیا کی امامت کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں کی سخت ضرورت ہے۔
پاکستان کا آئین بھی قرآن وسنت کا پابند ہے اور افغان طالبان بھی قرآن وسنت کے پابند ہیں۔ ان دونوں کی اکثریت سنی العقیدہ اور حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔شیعہ سنی بھی ایک ہوسکتے ہیں لیکن ان میں اعتماد کا فقدان ہے۔ جب پاکستان اور افغانستان کے اندر کچھ بنیادی اقدامات اٹھائے جائیں گے تو لوگ اسلام کا مزہ بھی چکھ لیں گے اور اقتدار کو بھی غصب نہیں امانت سمجھ لیں گے۔
ایک عورت کا جب اس کے شوہر سے نکاح ہوتا ہے تو اسلام نے عورت کو مکمل حقوق دئیے ہیں۔ طالبان نے افغانستان میں معاشی اور سیاسی استحکام لایا ہے لیکن معاشرتی استحکام کے حوالے سے ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عورت کے حقوق کا مسئلہ دنیا بھر میں تشویش کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلام کا بڑا مرکز مکہ مکرمہ ہے جہاں لوگ حرم پاک میں اپنی فیملی کیساتھ24گھنٹہ دن رات عبادات پنج وقتہ نماز، طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں مشغول رہتے ہیں۔ لیکن یہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو دورِ جاہلیت میں بھی جاری رہتی تھیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح شوہر کو طلاق کا حق حاصل ہے کیا عورت کو بھی خلع کا حق حاصل ہے یا نہیں؟۔ سورۂ بقرہ آیت229میں خلع کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ سورہ النساء آیت19میں خلع کا ذکر ہے۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک ماہ یا ایک حیض ہے جس پر سعودی عرب میں عمل بھی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عدالت سے مدتوں بعد خلع ملتا ہے تو مفتی طارق مسعود اور قاری حنیف جالندھری اس کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں کہ اس سے عورت کا نکاح برقرار رہتا ہے اور دوسرے شوہر سے اس کا نکاح نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ زنا کرتی ہے۔ خلع کا حق نہ ہونے کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا عورت کو کرنا پڑتا ہے اس کا تصور بھی عام لوگ نہیں کرسکتے ہیں۔ مثلاً مفتی تقی عثمانی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور پھر مکر گیا۔ بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں اور مفتی تقی عثمانی جھوٹی قسم کھالے تو وہ خلع لے گی اور خلع نہ ملے تو حرام کاری پر مجبور ہوگی۔ یا پھر مفتی تقی عثمانی نے اپنی بیوی سے کہا کہ طلاق طلاق طلاق اور مفتی سے فتویٰ لیا کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی تو اس کو فتویٰ مل جائے گا کہ بیوی تمہارے نکاح میں ہے اور اس کی بیوی کو فتویٰ ملے گا کہ وہ تین طلاق ہوچکی ہے اور اس پر حرام ہے۔ حیلہ ناجزہ اور بہشتی زیور میں بھی مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہ مسائل لکھ دئیے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ طلاق میں عورت کے حقوق زیادہ اور خلع میں کم ہیں۔ جب یہ بات ذہن نشین کرلی جائے تو مسائل کے انبار سے نکل جائیں گے ۔ پھر دنیا میں خواتین اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے اُٹھیں گی اور مرد ساتھ ہوں گے۔
پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان کے علماء ومفتیان کو طلب کرلیں اور مجھے دعوت دیں۔ انشاء اللہ لوگوں کے ذہن کھل جائیں گے اور اسلامی انقلاب کے حقیقی ثمرات بھی دنیا دیکھے گی۔ جب محکوم عورت اور حاکم مرد کے معاملات گھر میں حل ہوں گے تو عالمی سطح پر بھی اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگا۔ قرآن کی طرف رجوع بڑے زبردست انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔ عتیق گیلانی

***************************************************
نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے اس سے پہلے ”معاشی مسائل کے حل کیلئے 3بنیادی اقدامات جن سے بڑا انقلاب آسکتا ہے!” کے عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
***************************************************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv