پوسٹ تلاش کریں

مغرب نے کلمہ نہیں پڑھاہے باقی انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہوا ہے مفتی منیر شاکر کا پیغام

مغرب نے کلمہ نہیں پڑھاہے باقی انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہوا ہے مفتی منیر شاکر کا پیغام

مغرب نے نصاریٰ کے مسخ شدہ مذاہب کوچرچ تک محدود کردیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے معاشرتی معاملات کے حقوق اور قوانین کا تعین کردیا، آج ہم یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر ہیں؟

نکاح و طلاق ، خلع ، حق مہر ، عورت کے حقوق اور دیگر معاملات میں مسلمانوں نے بھی قرآن سے معنوی انحراف کرکے یہودونصاریٰ کی طرح دین کو مسخ کرکے رکھ دیا ،ہمیںاصلاح کرنا ہوگی

مفتی منیر شاکر سے معروف شاعر ، کالم نگار اور ایک متحرک تاریخی وبیباک شخصیت مردان کے شعیب صادق نے اپنے ساتھیوں سمیت ملاقات کی ہے۔ درسِ نظامی کی اصول فقہ میں یہ حنفی مؤقف پڑھایا جاتا ہے کہ شریعت کے دلائل چار ہیں۔ نمبر1: قرآن : جس سے مراد پانچ سو آیات ہیں جو شرعی احکام سے متعلق ہیں۔ باقی قرآن انبیاء اور دوسرے حضرات کے قصے اور مواعظ ہے۔
لیکن افسوس کہ علماء نے ان500قرآنی آیات کی نشاندہی نہیں کی بلکہ یہ کام کیا ہے کہ نبی کریم ۖ کی حدیث صحیح بھی ہے ، جمہور مسلک کے مطابق بھی ہے لیکن حنفی اس کو قرآن کے منافی سمجھتے ہیں اسلئے یہ حدیث کو نہیں مانتے۔ نتیجے میں جمہور فقہاء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ کی سخت مخالفت کی ہے۔ پورے فقہ میں نہ قرآنی آیات کی نشاندہی ہے اور نہ احادیث صحیحہ کی۔ حالانکہ یہ پڑھایا جاتا ہے کہ دوسری دلیل سنت ہے۔ ذخیرۂ احادیث تو بڑی بات علماء و مفتیان چیدہ چید ہ احادیث کا بھی ادراک نہیں رکھتے۔حنفی مسلک احادیث کے خلاف محاذآرائی کا نام ہے۔ اس وجہ سے امت مسلمہ گمراہی سے محفوظ ہے اسلئے کہ احادیث کے نام پر قرآن کے بھی خلاف مواد ہے۔ البتہ علماء ان کو عوام کے سامنے لانے سے تقیہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مذہبی طبقہ قرآن وسنت سے بالکل جاہل ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں معتبر شخصیت مولانا بدیع الزمان کی تھی۔ ہم نے آپ سے اصول فقہ کی کتابیں”اصول الشاشی” اور” نورالانوار” پڑھی تھیں۔ عربی میں گوشت کو لحم کہا جاتا ہے اور قرآن میں مچھلی کو لحمًا طرےًا ”تازہ گوشت ”قراردیا گیا ہے۔ حنفی مسلک میں مچھلی گوشت نہیں ہے اسلئے کہ اس میں خون نہیں ہوتا اور جس میں خون نہ ہو تو وہ گوشت نہیں ہے۔ اگرحنفی مسلک کو قرآن ، سنت ، عقل اور فطرت کے خلاف ثابت کیا جائے تو چھوڑدیا جائے گا۔
اگر ہم یہ مان لیتے ہیں تو قرآن میں تازہ گوشت سے بدنما دریائی گھوڑا مراد ہے؟۔ حالانکہ مانتے ہیں کہ قرآن میں تازہ گوشت سے مراد مچھلی ہے۔ اور مچھلی میں خون ہوتا ہے۔ اصولِ فقہ میں ایک اور مسئلہ پڑھایا جاتا ہے کہ سمندری انسان بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے شادی کرنا جائز نہیں ہے ۔ مولانا بدیع الزمان نے بتایا تھا کہ سمندر کے کنارے پر کسی نے سمندری عورت پکڑلی تھی اور پھر اس سے چھوٹ گئی تھی اور ایک سمندری مرد بھی نکلا تھا۔ جب ایک طرح کے انسانوں سے شادی جائز نہیں تو حور کی جنس بھی الگ ہوگی؟۔ اس سے شادی تو بہت دور کی بات ہے کیا جنسی تعلق قائم کیا جاسکتا ہے؟۔ عربی میں موصوف مقدم اور پھر صفات آتی ہیں۔ قرآن میں باغات موصوف اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ گویا ہیرے و مرجان ہیں۔ سورۂ رحمان میں ومن دونھما جنتان”اور اس کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے”۔ اس میں ایک دنیاوی انقلاب کا ذکر ہے اور دنیا میں الگ الگ اقسام کے دو دو باغات مراد ہیں۔
قرآن کی سورہ محمد ۖ میں ہے کہ ” جنگ میں قید ہونے والوں کو احسان کیساتھ رہا کرو یا فدیہ سے”۔ جس سے دنیا کو یہ اصول دیا گیا ہے کہ جنگ میں قید ہونے پر بھی کسی عورت کو لونڈی اور مرد کو غلام یا قتل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ طویل قید میں بھی نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ تیسرا یہ کہ اس پرذہنی اور جسمانی تشدد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جیسے گوانتا ناموبے میں امریکہ نے کیا اور ڈاکٹر عافیہ کو لمبی سزا دی۔
قرآن میںدو دو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے ۔ عدل نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا جن سے ایگریمنٹ ہو۔ یہ غلط سمجھ لیا گیا ہے کہ اس سے مراد لاتعداد لونڈیاں ہیں ،اگر چہ لونڈی وغلام کی ذاتی ملکیت ختم کرکے ان کی حیثیت بھی ایگریمنٹ یا گروی کی کردی تھی لیکن یہاں مرادمتعہ ہے۔ جب صحابہ نے نبی ۖ سے پوچھا کہ کیا ہم خود کو خصی نہ بنالیں تو نبی ۖ نے متعہ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ فرمایا کہ لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبٰت ”حرام نہ کرو جو اللہ نے پاک چیزوں کو تمہارے لئے حلال کیا” ۔
مولانا طارق جمیل نے حوروں کی خواہش میں جن لوگوں کو ڈال دیا وہ تبلیغی جماعت سے جہادی بن گئے اور خود کش کرنے لگے۔ اگر حلالہ کی لعنت کو دیکھا جائے تو کس کو اللہ کے اس حکم میں کامیابی کا یقین آئے گا؟۔ مولانا الیاس نے فضائل کے ذریعے قوم کو علماء ومشائخ کی طرف متوجہ کیا لیکن جو خود نہ ہوں ہدایت پر تو دوسروں کو… ؟۔ صحابہ کے بارے میں ٹھیک کہا کہ خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے ،کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحاکردیا۔قرآن وسنت کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ دین فطرت اسلام کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہاولپور یونیورسٹی کا ایک اور پہلو بھی ہے

بہاولپور یونیورسٹی کا ایک اور پہلو بھی ہے

مریم اکرام سوشل میڈیا(social media influencer) ہیں۔ اپنا چینل بھی چلارہی ہیں۔ اینکر پھٹ پڑی لڑکیوں کو ذمہ دار قرار دے دیا۔ مزید کیا خوفناک انکشافات کئے سن کر حیران ہوجائیں گے توبہ۔
ماں باپ بچوں کو ہاسٹلز، فلیٹوں میں بھیجتے ہیں تو گند شروع ہوتا ہے وہاں سے۔ جو شریف ہے جب وہ دیکھے گی ناں کہ دوسری ساتھ بیٹھی ہوئی رات کو روم میں آرہی ہے بڑے بڑے شاپنگ بیگز لیکر آرہی ہے کہ یہ میں نے ڈریس لئے، میرے بوائے فرینڈ نے یہ فون دیا ۔ للی پنجی ہیں خدا کی قسم ان کو بولنے کی تمیز نہیں۔ جاہل خاندان سے تعلق رکھنے والیوں نےiPhoneرکھے ہیں انکے باپ نے کڈنیاں بیچ کر دیے ہیں ان کو؟۔ وہی شریف لڑکیاں جن کی بات کررہے ہیں۔ شرافت ختم کرکے فونز لئے، ڈریسنگ سینس کو بہتر کیا، دیہات کی زیادہ تر لڑکیاں اس لائن میں آتی ہیں جن کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں بدنام ہوتی ہیں اسلئے شرافت تو ہاسٹل اور فلیٹ میں جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ جب میں نے سنا تو مجھے پتہ تھا کہ ہمارے ملک کی لڑکیاں انتہائی گندی ہیں، اگر ان کی ویڈیو ہیں یا بلیک میل کیا جارہا ہے تو وہ کچھ نہ کچھ کررہی تھیں۔ کچھ ویڈیو میں سب کچھ کررہی ہیں،کپڑے اتار رہی ہیں کیمرہ سامنے ہے۔ یہ یونیورسٹی کی لڑکیاں ہیں تو یہ میرے لئے کوئی شاکنگ نہ تھا کہ5500لڑکیوں کی غلط ویڈیوز پر بلیک میل کیا جارہا ہے۔ اگر کچھ ہے تو بلیک میل کیا جارہا ہے۔
سوال: ویڈیوز سامنے آنے کے بعد جو شریف بیچاری لڑکیاں ہیں ان کی زندگی پر تو یہ ویڈیوز اثر انداز ہورہی ہے خاص کر اس یونیورسٹی کی لڑکیوں پر؟۔
مریم اکرام: آج تک شریف لڑکی کی ویڈیو تو سامنے نہیں آئی ہے جس میں کسی لڑکے کو تھپڑ مارا ہو۔ مرضی ہو تو سب کچھ کرالینا ہے۔ مرضی نہیں تو اگلا بدتمیز ہے۔ یہاں پر ہم شریف بن جاتے ہیںاور جہاں پر شرافت ختم ہوجاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم نے رہنا بھی یہیں ہے اور ہم سب کچھ کریں گے بھی۔ آپ نے کہا کہ کچھ شریف وہاں پر ہوں گی اگر ان کی ویڈیوز نہیں تو ان کے اندر وہی اعتماد ہے اور وہ اپنے گھر والوں کے اندر اسی طرح فخر کے ساتھ ہیں کہ بھئی ہم ان میں ملوث نہیں، ہماری ویڈیوز نہیں، اس گارڈ کی غلطی نہیں جس کے پاس ویڈیوز ہیں بلکہ ان لڑکیوں کی غلطی ہے جن کی ویڈیوز ہیں۔ اور کس طرح کی ویڈیو ہیں وہ وہی جانتے ہیں میں نے نہیں دیکھیں۔ البتہ دو تین ویڈیو نظر سے گزری ہیں جو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کروں گی۔ تو یہاں پر شرافت اور گندگی دونوں سائڈ پر ہوجاتے ہیں اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ جگہ گندی ہے یہاں پر کچھ لوگ ایسے ہیں تو اپنے والدین کے ساتھ شیئر کریں، آپ وہاں سے نکل جائیں یونیورسٹی بدلیں آپ پرائیویٹ کرسکتے ہیں، بہت کچھ کرسکتے ہیں تو گند سے آپ کو نکلنا ہے۔ شرافت وہاں پر ختم ہوگئی ہے۔ یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران کو سزا ملنی چاہیے کیونکہ انہوں نے اس طرح کے کام وہاں پر ہونے دئیے ہیں۔
سوال: ایک خاتون گاؤں سے آتی ہے کیا وجہ ہے ایک شریف فیملی سے تعلق ہو یہاں پر آکردنوں میں چال چلن بدل جانا کیا اتنا آسان ہے اپنے کو تبدیل کرنا کیا پیسہ اتنا ضروری ہوگیا کہ کوئی بھی آفر کرے آپ مان جائیں؟۔
مریم اکرام: ایک گندی مچھلی پورے تالاپ کو گنداکرتی ہے آپ کے روم میٹ میں پانچ سے سات لڑکیاں ہیں ان میں سے ایک بھی گندی ہے ناں تو اس نے آپ کو بھی گندا کردینا ہے۔ اس نے ڈنر، لنچ پر جانا ہے ، اسٹیٹس مینٹین رکھنا ہے اپنا آپ کے پاس نہیں تو کب تک اسکے ساتھ لڑیں گے۔ اپنا دفاع کیسے کریں گے کس طرح روکیں گے کہ اس کے پاس سب کچھ ہے میرے پاس نہیں ہے آخر کار رہنا تو آپ کو وہیں پر ہے۔ والدین وہ خرچہ پورا کر نہیں سکتے۔ تو جب گاڑیوں میں وہ گھوم رہی ہے آپ کو گھومنے کیلئے رکشہ بھی نہیں مل رہا ہے اسلئے یہ چینج ہوجاتی ہیں۔ میں ایک آفس میں کام کرتی تھی2016سے18تک میں نے کام کیا ہے وہاں پر ایک لڑکی تھی اس کی عمر19سال ہوگی اور اس نے بتایا کہ میں پچھلے تین سال سے طوائف(prostitute)کے طور پر کام کررہی ہوں طوائف ہوں نہیں کیونکہ میرے ماں باپ کہتے ہیں کہ پیسے لاؤ پیسے لاؤ پیسے لاؤ۔ پہلے وہ ماں باپ سے پیسے لیتی تھی دیتی نہیں تھی جب اس نے پیسہ کمانا اور لوگوں کے پاس جانا شروع کردیا میں نے کہا کیوں کرتی ہو؟۔ اس نے کہا میں اسلئے کرتی ہوں کہ ہر مرد کی ہوس ہے۔ ہر مرد نے کہنا اور کرنا یہی ہے۔ تو جب اس نے آفر کرانی ہے تو میں خود آفر کرادیتی ہوں کہ ہاں ٹھیک ہے اوکے فائن۔ پیسہ دو بولو کتنا پیسہ دیتے ہو؟۔بڑے بڑے برانڈز کے مالکان کے ساتھ اسکے تعلقات تھے کہ اگر میں ان برانڈز کا بھی نام لوں تو ان کے اوپر لعنت ہے ۔ آفس جاب وہ9سے5تک کرتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ یہیں سے کماتی ہوں وہاں پر تو اس کی تنخواہ تھوڑی سی تھی اور گھر پر مہینے کا ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھجوانا بہت بڑی بات تھی۔ تین چار سال بعد میں اس سے ملی تو کہنے لگی سب اجڑ گیا۔ حالانکہ وہ بچی پڑھنے آئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے اس نے کہا کہ جاب کررہی ہوں۔ پھرپیسے گھر بھیجنے شرو ع کردئے پھر گھر والوں کو بھی پیسوں کی ہوس لگ گئی ۔
سوال: نشہ ہاسٹلز پر پہنچانے کیلئے کوئی نا کوئی تو لوگ ہوں گے عام لڑکی کی رسائی تو نہیں ہے تو نشہ آور چیزیں کیسے پہنچتی ہیں وہ بھی آئس نشہ؟۔
مریم اکرام: اگر آپ کرائم اور نشہ آور چیزوں پر بات کرتے ہیں،گینگ کو پکڑتے ہیں تو خود پھنستے ہیں اسلئے میں نے کافی عرصے پہلے ان سب چیزوں کو چھوڑ دیا، میں انکے اوپر رپورٹنگ کرتی ہی نہیں۔ڈرگز کیلئے ایک ہی بندہ ہوتا ہے جسکے پاس یہ آتے ہیں۔ اور کیٹگرائز ہوتے ہیں کہ اس ایریا میں ہم نے ہی بیچنے ہیں۔ ہاسٹل کی جو مین سپریڈنٹ ہوتی ہے جو گیٹ پر بیٹھتی ہے ان اینڈ آؤٹ دیکھتی ہے اصل میں تو وہprostituteاورproviderہے۔ جو رات کو باہر نکلنے کی اور باہر سے اندر آنے پر اجازت بھی دیتی ہے۔ ڈرگز ان تک بھی پہنچاتی ہے اور اس کا پیسہ خود بھی رکھتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے اپوزٹ ہاسٹل ہیں وہاں پر یہ سب کچھ ہوتا تھا اور جو نیچے بیٹھی ہوتی تھی ہیڈ لڑکیاں شروع شروع میں اس سے ڈرتی تھیں کہ وہ پکڑلے گی وہ آنے نہ دے گی وہ جانے نہیں دے گی حالانکہ ملواتی ہی بندوں سے وہ تھی بڑے بڑے بندے آتے تھے اور سب سے زیادہ کام وہیں پر چل رہا ہے۔ لڑکیوں کو ہاسٹل کی ہیڈ ہی ڈرگس مہیا کرتی ہے۔ وہی سب سے پیسے لیتی ہے۔ اگر ہیڈ اچھا ہو تو سب آگے چیزیں نہیں پہنچ سکتیں۔جیسے ہاسٹلز میں کنڈی لگانا الاؤ نہیں ہوتا جس کا مطلب ہے کہ آپ کبھی بھی اندر داخل ہوسکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ لڑکیاں کیا کررہی ہیں۔ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں دیکھیں ؟۔ پیسہ چل رہا ہے وہاں پر اور شریف ماں باپ کے بچے جب تک یونیورسٹیز میں آتے رہیں گے۔لاہور، کراچی، اسلام آباد ، بہاولپور جہاں جائیں گند ہے اور رہے گا جب دیکھ بھال نہیں کریں گے۔
سوال: یہ واقعہ آخری ہے یا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے؟
مریم اکرام: ہوتے رہیں گے نہیں ہورہے ہیں۔ یہ سامنے آیا۔ بیک اینڈ پر کونسا ہے یہ نہیں پتہ۔ کتنی لڑکیاں یہ سوچ رہی ہیں کہ شکر ہے ہمارا ڈیٹا سامنے نہیں آیا۔ یار شکر ہے میرا نام نہیں آیا اس بار بچ گئی۔ بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ شکر ہے ساڈی یونیورسٹی دا نئی ہویا ،شکر اے ساڈے ہوسٹل تے چھاپا نئی پیا۔ یہ کام چل رہا ہے ، چلتا رہے گا، بہاولپور یونیورسٹی سامنے آئی۔بہت واقعات سامنے نہیں آئے ۔ اگر آئیں گے تو آپ پھر انٹرویو کررہے ہوں گے اور میں بھونک رہی ہوں گی ہماری کس نے سن لینی ہے؟۔ ہمارا نظام کبھی بھی صحیح نہیں ہوگا کیونکہ نظام بنانے والے ہی خراب ہیں تو ہم کیسے خود کو صحیح کرسکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یزیدی خاتون بہار اور3بچوں کا براحال؟

یزیدی خاتون بہار اور3بچوں کا براحال؟

مذہب انسانیت سکھاتا ہے،اسلام دین فطرت ہے، اسلام کے نام پر غیر انسانی سلوک کا بہت بڑا المیہ!

پاکستان میں علماء ومفتیان نے اسلامی منشور کو عام نہیں کیا تو پھر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوسکتا ہے

2015میں بہار اور انکے3بچوں کو پانچویں بار فروخت کیا گیا تھا۔ وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے ہاتھوں ان بہت سی یزیدی خواتین میں سے ایک ہے جنہیں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے2014کے اوائل میں شمالی عراق کے ضلع سنجار کے ایک گاؤں پر حملہ کے نتیجے میں قید کیا تھا۔ دولت اسلامیہ عراق میں گذشتہ6ہزار سال سے آباد یزیدی مذہبی فرقے کے پیروکاروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔یہ تحریر ریچل رائٹ کی ہے جسے سحر بلوچ کی زبانی سن رہے ہیں۔ بہار کا خیال ہے کہ ان کے گاؤں پر حملے کے دوران ان کے شوہر اور بڑے بیٹے کو گولی مار کر قتل کردیا گیا ہوگا۔ اور انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفن کردیا گیا ہوگا۔ بہار کو یاد ہے کہ کس طرح وہ اور ان کے کم عمر بچے ایک کمرے میں قطار میں کھڑے تھے اور زار و قطار رورہے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو انکے سر قلم کر دیں گے۔ اگرچہ انہیں قتل تو نہیں کیا گیا لیکن اس کے بجائے فروخت کردیا گیا۔ اور بہار کے مطابق یہ وہ وقت تھا جب ان کی دہشت ناک کہانی کا آغاز ہوا۔ گاؤں پر حملے کے بعد وہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے میں ان کی ذاتی ملکیت بن چکی تھیں۔ اب بس جنگجوؤں کی خدمت کرنا تھی۔ وہ جب چاہتے مجھے ان کی بیویوں کی طرح برتاؤ کرنا پڑتا، جب چاہتے تب مارتے تھے۔ بہار کے مطابق ان کے بچوں کو جن کی عمریں10سال سے کم تھیں ان کو بھی مارا پیٹا گیا جبکہ ان کی بیٹی کے چہرے پر رائفل کے بٹ مارے گئے۔ اس کے بعد وہ ایک ہاتھ سے دوسرے جنگجو کے ہاتھ فروخت ہوتی رہیں۔ جبکہ ان کے چوتھے مالک کا نام ابو خطاب تھا جو ایک تیونسی شہری تھا۔ بتایا کہ ہم اسکے گھر پر رہ رہے تھے۔ وہ میری خدمات مختصر عرصے کیلئے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کیلئے دو ٹھکانوں پر صفائی ستھرائی کے کام کرنے کیلئے بھی دے دیتا تھا۔ تمام جگہوں پر میں کام کرتی، صفائی ستھرائی کرتی تھی ، جب چاہتے میرا ریپ کردیتے۔ یہ وہ وقت تھا جب عراق میں ہر وقت فضائی حملے ہوتے تھے۔ دولت اسلامیہ کے جنگجو اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ ہتھیار پکڑے بمباری کے خوف سے چھپ رہے تھے۔ ایک افراتفری کا عالم ہوتا تھا۔ یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ پھر ایک دن جب بہار اور انکے بچے ابو خطاب کے گھر پر تھے تو ایک سفید کار اسکے گھر پر پہنچی جس کی کھڑکیوں کے شیشے سیاہ تھے۔ ڈرائیور لمبی داڑھی کیساتھ سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔ وہ دولت اسلامیہ کے بہت سے جنگجوؤں کی طرح ہی نظر آتا تھا۔ اسے دیکھ کر بہار کو احساس ہوا کہ انہیں اور انکے بچوں کو ایک بار پھر فروخت کیا جا رہا ہے۔ صورتحال سے مغلوب ہوکر بہار نے بچی کچی ہمت جمع کی اور اس شخص پر یہ سوچتے ہوئے چیخ پڑی کہ انہیں فروخت کرنے کے بجائے اب مار دیا جائے کیونکہ وہ مزید برداشت نہیں کرسکتی۔ لیکن آگے جو ہوا وہ ان کی زندگی بدلنے والا تھا۔ گاڑی میں انہیں اور انکے بچوں کو بٹھا کر اس شخص نے گاڑی چلادی۔ گاڑی چلاتے ہی ڈرائیور نے کہا کہ میں آپ کو کہیں اور لے جارہا ہوں۔ بہار کو معلوم نہ تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟۔ وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ آیا اسے اس آدمی پر بھروسہ کرنا چاہیے یا نہیں؟۔ جب وہ بے چین ہونے لگی تو اس شخص نے گاڑی روکی۔ اور اپنے فون پر کسی کو کال کی۔ اس نے پھر فون بہار کے حوالے کردیا۔ دوسری طرف سے آنے والی آواز ابو شجاع کی تھی۔ جس کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ اس نے بہت سی یزیدی عورتوں اور بچوں کو بچانے کا انتظام کیا۔ ابو شجاع سے بات کرکے انہیں معلوم ہوا کہ ڈرائیور نے اگرچہ انہیں خرید لیا مگر اب انہیں اور ان کے بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ بہار کو شام میں رقہ کے قریب ایک تعمیراتی جگہ پر لے جایا گیا انہیں اس مقام پر چھوڑ دیا گیا اور بتایا گیا کہ ایک آدمی آئے گا اور کوڈ ورڈ سید کہے گا۔ جس کے جواب میں انہیں اسکے ساتھ جانا ہوگا اور ایسا ہی ہوا ۔تھوڑی دیر میں ایک شخص وہاں موٹر سائیکل پر آیا اور وہی کوڈ ورڈ بولا،بہار اور انکے تین بچوں سے کہا کہ وہ اس کی موٹر سائیکل پر سوار ہوجائیں۔ اس شخص نے کہا کہ سنو! ہم دولت اسلامیہ کے علاقے میں ہیں۔ یہاں ان کی چوکیاں ہیں اگر وہ آپ سے کچھ پوچھیں تو ایک لفظ نہ کہنا تاکہ وہ آپ کا یزیدی لہجہ پہچان نہ سکیں۔ بہار کا کہنا ہے کہ وہ شخص انہیں اپنے گھر لے گیا۔ وہ وہاں ہمارے ساتھ بہت اچھے سے پیش آئے ہم نے غسل کیا، ہمیں کھانا اور درد کش ادویات دیں اور کہا کہ آپ اب محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ایک اور شخص نے بہار اور انکے بچوں کی تصویریں بنائیں اور ابو شجاع کو بھیج دیں تاکہ یہ ثابت ہو کہ انکے پاس صحیح لوگ پہنچے ۔ پھر اگلی صبح تقریباً3 بجے اس خاندان کو بیدار کرکے کہا کہ وہ دوبارہ سفر کیلئے تیار ہوجائیں۔ جس شخص کے گھر وہ رہ رہی تھی اس نے بہار کو اپنی والدہ کا شناختی کارڈ دیا اور کہا کہ اگر کوئی روک کر پوچھے تو کہنا کہ وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس لے جارہی ہیں۔بہار بتاتی ہیں کہ ہم دولت اسلامیہ کی بہت سی چوکیوں سے گزرے لیکن کسی نے ہمیں نہیں روکا۔ آخر کار وہ شام عراق کی سرحد پر واقع گاؤں پہنچ گئے جہاں بہار کی ملاقات ابوشجاع اور انکے بھائی سے ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں تباہی کے دہانے پر تھی بس مجھے یاد نہیں کہ اسکے بعد کیا ہوا؟۔ ابو شجاع جنہوں نے بہار کی بازیابی کا انتظام کیا وہ واحد شخص نہیں تھے جو دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اغوا ہونیوالی خواتین اور بچوں کے بارے میں فکرمند تھے ۔ تاجر بہزاد فرحان نے یزیدی خواتین اور بچوں کو بچانے اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے جرائم کو ریکارڈ کرنے کیلئے کنیت نامی ایک گروپ قائم کیا تھا ۔ کنیت کو یہ اطلاع ملی کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو اغواء شدہ یزیدی خواتین اور بچوں کی آن لائن خرید و فروخت کررہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیلیگرام (telegram) پر۔ بہزاد کہتے ہیں کہ ہم آن لائن گروپوں میں جعلی ناموں سے یا دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ناموں کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ عراق کے کرد علاقے میں اپنے دفتر کی دیوار پر ٹیلی گرام (telegram) چیٹس کے اسکرین شاٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ان میں سے ایک انگریزی میں ہے جس میں ایک لڑکی برائے فروخت کا اشتہار ہے اشتہار کی عبارت کچھ یوں تھی”12سالہ لڑکی کنواری نہیں ہے مگر بہت خوبصورت ہے ”۔ شام کے علاقہ رقہ میں موجود اس لڑکی کی قیمت13ہزار ڈالر لکھی گئی تھی۔ اسکے بعد انہوں نے مجھے لڑکی کی تصویر دکھائی، جو لیدر کے صوفے پر پرکشش انداز میں بیٹھی تھی۔ بہزاد کا کہنا ہے کہ ان ٹیلی گرام چیٹس سے انہیں یہ تفصیلات معلوم ہوتی تھیں کہ مغوی یزیدی خواتین کو کہاں رکھا گیا۔ ہم وہاں کے آس پاس رہنے والے لوگوں سے رابطہ کرتے اور انہیں ان مغویوں کے پتہ لگانے کا ٹاسک دیتے۔ یزیدیوں کیلئے دولت اسلامیہ کے علاقوں میں داخل ہونے کا عمل بہت خطرناک تھا۔ اسلئے مغویوں کے ریسکیو کا کام سگریٹ اور شراب کے مقامی اسمگلروں کے ذریعے ہوتا تھا۔ بہزاد کہتے ہیں کہ اسمگلر یہ کام پیسے کے عوض کرتے تھے۔ یہ ان کا واحد مقصد تھا۔ بہت سی یزیدی لڑکیوں کو واپس خریدنے کیلئے ہزاروں ڈالر ادا کئے۔ بہار کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے خریدنے اور آزاد کروانے پر تقریباً20ہزار ڈالر لاگت آئی۔ ان کی عمر اب40سال ہے لیکن وہ اپنی عمر سے بہت بڑی نظر آتی ہیں۔ انکے سر کے اسکارف کے نیچے زیادہ تر بال سفید ہوچکے ہیں۔ وہ آزاد ہونے کے بعد گذشتہ8سال سے ایک کیمپ میں رہ رہی ہیں۔ اپنے خیمے کے فرش پر ایک پتلے گدے پر بیٹھی وہ اپنے لاپتہ کنبے کے افراد کی تصویر کا البم نکالتی ہیں۔ وہ حقیقت میں نہیں جانتیں کہ ان کے شوہر اور بڑے بیٹے کا کیا بنا؟۔ اسکے ساتھ بار بار ریپ کئے جانے کے صدمے نے انہیں جسمانی اور جذباتی طور پر بہت کمزور اور بیمار کردیا ہے۔ انکے بچ جانے والے بچے اب بھی انکے ساتھ ہیں۔ بہار بتاتی ہیں کہ انکے بچے اب بھی صدمے میں ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔ میری بیٹی کو مار پیٹ کے نتیجے میں کافی زخم آئے تھے مگر مجھے لڑتے رہنا ہے اور چلتے رہنا ہے۔ اور اس وقت جس حالت میں ہم لوگ رہ رہے ہیں وہ زندہ لاش ہونے کے مترادف ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بدامنی کی بدترین فضائ

بدامنی کی بدترین فضائ

سعودی عرب میں ایران سے صلح کے بعد حرمین کے اندر جمعہ کے خطبے میں حضرت علی کے فضائل بیان کئے گئے۔ افغانستان میں امن و امان کے قیام کیلئے یہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں طالبان رہنما حضرت حسین کے علم کو لگانے کی رسم میں اہل تشیع کیساتھ شریک ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ میں اتنا بڑا واقعہ ہوا اور بدامنی کی فضاء میں اب آئی جی صلاح الدین محسود کا بھائی حبیب محسود اغواء کے بعد ڈرائیور سمیت قتل ۔ لاشیں منزائی کے قریب بر آمد ۔یہ خبر واٹس ایپ پر ابھی ابھی ملی۔ ایک انسان کا بے گناہ قتل انسانیت کا قتل ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میں50کھرب کاخزانہ ۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر

پاکستان میں50کھرب کاخزانہ ۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر

سربراہ پاک فوج کا تاریخی اعلان۔ معاشی انقلاب کا وقت آن پہنچا۔
ہمیں جوائن کیا ہےGTVنمائندہ خصوصی متین حیدر صاحب نے۔ بتائیے گا کس طرح سے خوش آئند دیکھتے ہیں آرمی چیف نے تاریخی خطاب کیا ہے۔
متین حیدر: معدنیات پر انیقہ صحیح پوائنٹ آؤٹ کر رہی تھیں۔ اگر منرل کے شعبے کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے، گلگت بلتستان سے لیکر بلوچستان میں جو چھپے معدنی ذخائر ہیں ان کی مالیت50کھرب ڈالر بنتی ہے۔ صرف5فیصد بھی نکال لیا جائے تو پاکستان معاشی طور پر بہت بہتر ہوسکتا ہے۔ تمام تر قرضوں سے نجات مل سکتی ہے اور اسی طرف آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اشارہ کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ذرا اپنے ملک پر نظر تو ڈالیں برف پوش پہاڑوں سے لیکر صحراؤں کی وسعت تک ، ساحلی پٹی ،سے میدانی علاقوں تک اس سرزمین میں کیا کچھ نہیں؟۔ ہمارا خوشحالی کے راستے پر گامزن رہنا ہی استقامت ہے۔ قرآنی آیات کا حوالہ دیا علامہ اقبال کے اشعار کا ذکر کیا کہ
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہماری زمین معدنیات سے مزین ہے، استفادہ کیلئے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ خزانے دریافت کریں۔ پہلے ایگریکلچر پر فوکس کیا گیا ٹیکنالوجی میں بہت پوٹینشل ہے۔ ریکوڈک گیم چینجر ہوسکتا ہے۔یہ منصوبہ شروع ہوچکا۔ گلگت اور بلتستان، پختونخواہ اور بلوچستان میں ہر قسم کی معدنیات ہیں۔ ٹیکنالوجی اور انوسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ جو ڈائریکشن اب ہے اس پر ہم چلے تو پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے، غیر ملکی کمپنیاں بھی کمائیں گی ، ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو منافع ملے گا اور (social corporate responsibility) جہاں معدنیات ہیں وہاں بہت زیادہ ترقی ہوگی۔ کالجز ، ہیلتھ سینٹرز بنیں گے، مقامی روزگارمیں اضافہ ہوگا پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بڑا انقلاب اورغیر معمولی تبدیلی آئیگی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ بھائی نہیں کافر ہیں مولانا منظور مینگل

شیعہ بھائی نہیں کافر ہیں مولانا منظور مینگل

کرائے کے مفتی کو مفتی اعظم پاکستان کس نے بنایا؟، شیعہ قرآن کو نہیں مانتے ،تم ان کو مسلمان کہتے ہو؟

مولانا منظور مینگل کی بات کا جواب جذبات نہیں دلائل سے دیں تو مفتی تقی عثمانی کی جان چھوٹے گی!

کرائے کا مفتی کہتا ہے کہ ”شیعہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں پاکستان میں جو شیعہ ہیں ان کو ہم کافر نہیں کہتے: مفتی رفیع عثمانی”۔ تو تو ایران گیا نہیں، میں گیا ہوں ،انکے بڑے بڑے پوپ ،پادری ان سے میں مل چکا۔ تو نے نہیں دیکھا تیرے بڑوں نے بھی نہیں دیکھا۔ میں ایران کے عالمی مقابلوں میں گیا۔ تجھے کیا پتہ؟ پتہ نہیں کس نے مفتی اعظم بنادیا۔ تو کہاں سے مفتی اعظم پاکستان ہے؟ قرآن کے دشمن تیرے بھائی؟، صحابہ کو مرتد کہہ رہے ہیں وہ تیرے بھائی؟ اللہ کی اہانت کررہے ہیں تیرے بھائی؟، جو نبی ۖ کی توہین گستاخی کررہے ہیں تیرے بھائی ؟ جو علی کا نام سہارا اور اہل بیت کا نام لیکر خلق خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں ، اللہ کی قسم علی کا کیا کہنا، علی حافظ قرآن۔ علی ایسا کہ کمپیوٹر بھی مقابلہ نہیں کرسکتا ،علی کو قرآن استحزر مستحزر۔ علی کو علوم قرآن مستحزر۔ آپ اور پوری دنیا کو چیلنج ہے ایک شیعہ بڑے سے بڑا مولوی لاؤ جو قرآن کے10صفحے سنا سکے۔ اس قرآن کو کوئی بھی ان میں سے یاد نہیں کرتا اسلئے کہ اس قرآن کا جمع کرنے والا حضرت عثمان ہے۔ عثمان اور ابوبکر نے یہ قرآن لکھوائے۔ ابوبکر اور عمر سے ان کو دشمنی ہے۔ قرآن کو ابوبکر، عمراور عثمان نے جمع کیا، ہم اس کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، حفظ نہیں کریں گے ، اس میں تحریف ہوچکی۔ اصل قرآن امام زمانہ امام مہدی لیکر آئیگا۔ اصل قرآن آئیگا تو یہ اس کو حفظ کریں گے۔ ہمارا جو مولوی ہے شیعوں سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ ارے بھائی ! میری زندگی گزر گئی سنیوں کے مدرسے میں لیکن میں نے یہ مستقل باب دیکھا ہی نہیں تھا کہ اہل بیت کے فضائل کیا ہیں؟۔ نبی ۖ کے نواسوں کے فضائل کیا ہیں؟ نبی کی بیویوں کے فضائل کیا ہیں؟۔ نبی کی بیٹی کے فضائل کیا ہیں؟، علی کے فضائل کیا ہیں؟، یہ چیز تو اہل سنت چھپارہے ہیں۔ اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں چھپاتے نہیں ، ایسے پڑھاتے ہیں کہ یہ سوچ نہیں سکتا۔ آپ آجائیں گھنٹوں کے گھنٹے مستقل ہمارے پاس مناقب حسین ہے ، مناقب حسن ہے، مناقب علی ہے، مناقب فاطمہ ہے ۔ یہ بخاری، ترمذی، نسائی، ابوداؤد میں۔ جھوٹا ہمارا سنی مولوی دجال یہ کیوں جھوٹ بولتا ہے کہ سنیوں کے یہاں یہ چیزیں نہیں؟۔ پھر علی کا وارث میں یا شیعہ؟۔ حسن حسین کا وارث میں ہوں یا وہ کالی پگڑی والا جس کا چہرہ کالا اور اللہ نے اندر سے دل بھی کالا کیا، ان کا وارث میں یا یہ لوگ ؟۔ انکے وارث ہم ہیں یہ قرآن ہاتھ میں لو اور مجھے اشارہ کرو پڑھ لو کسی جگہ سے ۔ خدا کی قسم انہیں قرآن نہیں آتا ۔ ہمارے کرائے کا مفتی بھی کہتا ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں پاکستان بنانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

___مولانا منظور مینگل کے بیان پر تبصرہ ___
آرمی چیف سید عاصم منیر ہمیں مولانا منظور مینگل کیساتھ بٹھادیں۔ جب وہ درسِ نظامی اور اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان کی کتاب ” کشف الباری ” میں موجود قرآن کی تحریف کے عقیدے سے اعلانیہ توبہ کرے گا۔ تواس اقدام سے شیعہ سنی منافرت ختم ہونے کا آغاز ہو گا۔ منظور مینگل پنجابیوں کو غیرت سے عاری سمجھتا ہے مگر اس کا دماغ کھل جائے گا کہ اصل بے غیرتی کیا ہے؟۔اس نے کہا کہ ایک پنجابی عورت نے اپنے خاوند کو تھپڑ مارا ۔ میں نے پنجابی شاگرد سے کہا کہ یہ بلوچ ہوتا تو بیوی کو مارتا یا کم ازکم تین طلا ق دے کر چھوڑ دیتا۔
ایک بلوچ دوست کو جب حلالہ کی لعنت سمجھ میں آگئی تو اس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک امام نے حلالہ کیا، عرصہ بعد عورت نظر آئی تو پوچھا کہ مزہ آیا تھا؟۔ عورت نے کہا کہ نہیں!۔ امام نے کہا کہ پھر حلال نہ ہوئی ، دوبارہ جماع کیا کہ مزہ آیا؟۔ عورت نے کہا کہ ہاں!۔ بے غیرتی یہ تھی ۔منظور مینگل نے اقبال کے اشعار میں” بڈھے بلوچ کی نصیحت ” پڑھی اور نہ مرد کامل سے فیض پایا۔ غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودومیں۔ حاصل کسی کامل سے یہ ہنر کر۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ سنی اتحاد، امت کا مفاد، جہالت کیخلاف جہاد ،علم خاتمۂ فساد؟اسلام آباد شیطان برباد!

شیعہ سنی اتحاد، امت کا مفاد، جہالت کیخلاف جہاد ،علم خاتمۂ فساد؟اسلام آباد شیطان برباد!

انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی فضل ہمدرد کا تعلق اہل تشیع نہیں اہل سنت سے ہے لیکن فضائل اہل بیت کے حوالے سے احادیث بیان کرنے کی وجہ سے ان کو کچھ لوگ صحابہ کرام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ انجینئر محمد علی مرزا اکابر صحابہ کرام کا دفاع کرتا ہے لیکن بنوامیہ اور حضرت امیر معاویہ کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور مفتی فضل ہمدرد انجینئر محمد علی مرزا سے کافی آگے جاچکے ہیں۔ بس اس کا شیعہ ہونے کا اعلان باقی رہ گیا ہے۔ وہ بھی شاید مصلحت کی وجہ سے نہیں کررہاہے۔
جہاں اتنے سارے شیعہ حضرات دنیا میں بستے ہیں وہاں اہل سنت کے چند حضرات کا دلائل کی بنیاد پر اپنے مؤقف کا اظہار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صحافی ارشاد عارف کا ایک بھائی سید خورشید گیلانی بہت باصلاحیت لکھاری تھے مگر شاید ایرانی امداد نے ان کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کے بعد بھی کوئی کارنامہ انجام دینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ جب آدمی بھاڑہ لیتا ہے تو وہ مشن کا امین نہیں بلکہ نوکر پیشہ بن جاتا ہے۔ اسلئے سارے انبیاء کرام نے اپنے مشن پر کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ نبی ۖ کے حوالہ سے ایک غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے۔
قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودوة فی القربیٰ ” کہہ دیجئے میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت داری کی محبت” یہ آیت مکی ہے اور مخاطب کفارقریش مکہ ہیں۔قرابت کی محبت کسی معاوضہ کے نتیجے میں نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک فطری چیز ہے، والدین ، بچوں، بھائی ، بہن ، عزیز واقارب، اپنی قوم ، زبان اور علاقہ کے لوگوں سے محبت میں معاوضے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور اگر اہل مکہ کے کفار کو اسکا لحاظ نہ ہوتا تو کب سے اپنا اقدام اٹھا چکے ہوتے؟۔
جب انہوں نے شعب ابی طالب کا بائیکاٹ کیا تو یہ بھی قرابت کا لحاظ ہی تھا لیکن درجہ بہ درجہ وہ فطری قرابتداری کا لحاظ بھی کھوتے جارہے تھے جس پر اللہ نے ان کو تنبیہ کردی کہ اس کا لحاظ رکھو۔نبی ۖ نے مکہ فتح کیا تو حضرت یوسف کے بھائیوں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں ہے ، تم آزاد ہو۔ یوسف کے بھائیوں نے بھی قرابت کا پاس رکھتے ہوئے قتل نہیں کیا تھا۔اس لحاظ کو بے لوث محبت کہتے ہیں ۔یہ کوئی معاوضہ نہیں ہوتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے مکی آیت سے متعلق احادیث پر سوالیہ نشان اٹھا دیا کہ جب حضرت علی ، حضرت فاطمہ کے رشتے اور حضرت حسن و حضرت حسین کی بات نہیں تھی جبکہ احادیث صحیحہ میں اہل بیت کی بڑی فضیلت ہے۔اہل سنت کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں اور وہ صرف نظر یاتأویلات کرتے رہتے ہیں۔
بلاشبہ نہیں نبی ۖ کے وصال کے بعد انصار ومہاجرین نے مسئلہ خلافت پر اختلاف کیا تھا۔ حضرت ابوبکر نے حدیث پیش کی کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔ لیکن انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم سے ہو اور ایک آپ میں سے۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ دو امیر سے فتنہ وفساد ہوگا۔ آخرکار حضرت ابوبکر پر جمہور کا اتفاق ہوگیا لیکن حضرت سعد بن عبادہ تادم حیات ناراض تھے۔ ہوسکتا ہے اور بھی بہت سارے لوگ ہوں۔ حضرت علی کے بارے میں بھی چھ ماہ تک ناراض رہنے کی روایت اہل سنت کے ہاں ہے۔ بہرحال خلافت کا گھمبیر مسئلہ بن گیا تھا۔
جس طرح قرابتداری کی محبت کے اولین مخاطب مشرکینِ مکہ تھے، اسی طرح یریداللہ لیذھب عنکم رجسا اہل بیت ویطھرکم تطہیرًا ” اللہ کا ارادہ ہے کہ آپ سے گند کو دور کردے ،اے اہل بیت اور تمہیں پاک کردے”۔ کے اولین مخاطب نبی ۖ کی ازواج مطہرات ہیں۔ سورۂ نور میں واضح ہے کہ ”پاک مرد پاک عورتوں اور پاک عورتیں پاک مردوں کیلئے ہیں”۔ آزمائش کی چکیوں میں پیس کرکے اللہ نے ازواج مطہرات کی پاکیزگی کا سامان پیدا کیا۔
اگر ہم احادیث صحیحہ کو دیکھ لیں تو مودة فی القربیٰ سے مراد یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ امت نبی ۖ کی آل اولاد کو اقتدار سونپ دیں۔ اہل تشیع یہی مراد لیتے ہیں اور اس وجہ سے السابقون الاولون من المہاجرین والانصار سے بھی نالاں رہتے ہیں۔ امام خمینی نے اپنے بیٹے کو اپنی قوم پر مسلط نہیں کیا نبیۖ نے کیوں اپنے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی کو مسلط کردینا ضروری سمجھا تھا؟۔
اور اگر ایسا کرتے تو پھر اس سے بڑا معاوضہ کیا ہوسکتا تھا؟۔ حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان اپنی صلاحیت کی بنیاد پر خلیفہ بن گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ”سلیمان کو ہم نے زیادہ فہم عطا ء کیا تھا”۔ جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ زیادہ فہم بھی خلافت کیلئے شرط نہیں ہے۔ جس شخص نے ملکہ سبا بلقیس کے تخت کو حاضر کیا تھا وہ صاحبِ کرامت بھی زیادہ صلاحیت کی وجہ سے خلافت کا مستحق نہیں تھا۔
حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو نبی ۖ نے اپنی چادر میں لیا اور فرمایا کہ ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان کو گند سے پاک کردے”۔ یہ گند کیا تھا؟ جس سے نبی ۖ نے پاک ہونے کی دعا مانگی تھی؟۔ جب ابوسفیان نے حضرت علی کو پیشکش کردی کہ ابوبکر خلافت کی مسند پر بیٹھنے کا حقدار نہیں ، اگر آپ کہیں تو مدینہ شہر کو پیادوں اور سواروں سے بھردوں؟۔ لیکن حضرت علی نے پیشکش مسترد کردی۔ اختیار کا بڑاگند انسان دل میں رکھتا ہے۔ یہ نبی ۖ کی دعا کی برکت تھی کہ حضرت علی کے دل میں یہ گند نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر رنجیدہ ہوکر فرماتے تھے کہ ایک چڑیابھی خوش قسمت ہے جو جوابدہی کے غم سے آزاد ہے۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا تھا کہ مجھے نامزد کرکے مجھے ہلاکت میں ڈال رہے ہو۔ لوگوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کو جانشین بنالو ۔فرمایا کہ اس کو طلاق کا مسئلہ نہیں آتا اور میں اس کے ذمہ اتنی بڑی ذمہ داری لگادوں ، یہ مسندِ خلافت کیلئے نااہل ہے۔ ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر شرم محسوس نہیں کرتے کہ اپنے پرانے دوستوں پر اپنے نکوں اور نکموں کو مسلط کرتے ہیں۔
حضرت فاطمہ نے باغ فدک کا مطالبہ کیا لیکن خلافت کی حقداری نہیں مانگی اور حضرت حسن جب خلیفہ بن گئے تو مسلمانوں میں اتحاد کیلئے دستبردار ہوگئے۔ حضرت حسین اسلئے نکل کھڑے ہوئے تھے کہ خلافت موروثیت کا شکار ہوگئی۔ پھر جن لوگوں کے حق میں شیعہ ائمہ معصومین کا عقیدہ رکھتے ہیں انہوں نے مسند کی خاطر کبھی امت مسلمہ افتراق وانتشار کو ہوا نہیں دی ہے۔ اپنی دو اینٹ کی بھی کبھی الگ مسجد نہیں بنائی ہے۔ آج بھی حضرت علی سے لیکر مہدی غائب تک نام مسجد نبوی ۖ پر تحریر ہیں۔ حضرت خضر کی طرح حضرت مہدی غائب میں بھی ظاہری خلافت کی خواہش نہیں جبکہ ایران، عراق، شام اور لبنان میں اہل تشیع کا اقتدار ہے۔جب سے ائمہ کا سلسلہ غائب ہوا ہے تو اہل تشیع بھی مدعی سست اور گواہ چست کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اس کا امت مسلمہ کو فرقہ واریت وانتشار کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اہل تشیع اپنے آزادانہ دلائل اور علمی جواہر پارے ضرور دنیا کے سامنے رکھیں لیکن جب دوسروں کے مقدسات کی توہین کریں گے تو فتنہ وفساد اور قتل وغارت گری کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اگر اپنی خستہ حالی کے باوجود مقدس شخصیات کو تنقید سے بڑھ کر توہین کا نشانہ بنائینگے تو اس کے نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔ یہ کون برداشت کرسکتا ہے کہ جو فیس لیکر صحابہ کرام کی توہین اسلئے کریں کہ ان کو زیادہ واہ واہ ملے ،دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں ،خوب اشتعال دیں اور مخالفت پر اُکسائیں؟۔
سب سے پہلے ہم اہل تشیع کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اہل بیت کا دامن تھام لیا اور جن کی وجہ سے وہ حلالہ کی لعنت سے بچ گئے۔شیعہ فقہ میں عدت کے اندر طہرو حیض کے تینوں مراحل پر نکاح کی طرح طلاق کے بھی شرعی صیغے ہیں اور دو عادل افراد کی گواہی ہے۔ جس کی وجہ سے نسل در نسل شیعہ حلالہ کی لعنت سے بچ گئے۔ امام جعفر صادق اور ائمہ اہل بیت امام ابوحنیفہ کے اساتذہ کرام تھے۔ اہل بیت کی فضیلت کے انکارسے ہم حدیث صحیحہ کے منکر بن جائیں گے۔ نبی ۖ نے قرآن اور اہل بیت کودو بھاری چیزیں قرار دیا ہے لیکن احناف پر دوسرے اہل سنت کے فقہاء بھی احادیث کے منکریں کا فتویٰ لگاتے رہے ہیں اور اہل حدیث بھی سمجھتے ہیں کہ احناف احادیث کو نہیں مانتے۔ اس میںحقیقت بھی ہے اور کچھ مبالغہ بھی نہیں ہے اورو اللہ نہیں ہے۔
میرے اجداد سید عبدالقادر جیلانی حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے حنفی مسلک اختیار کرلیا۔ اگر حنفی مسلک قرآن وسنت کے مطابق نہیں تو میں دوبارہ اس کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔لیکن درس نظامی کا حنفی مسلک حقیقت میں قرآن و سنت کا درست آئینہ ہے۔ جو سنی شیعہ سے چندہ مدد لیکر اپنا مؤقف بیان کرتا ہے کہ یہ میٹھی چوری والے طوطے کبھی بھی اُڑسکتے ہیں۔
بالفرض ہم نے مان لیاکہ ” حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کا فیصلہ کرکے یہ امت گمراہ کردی” تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے گا اور پھر یہ ایک طلاقِ رجعی شمار ہوگی اور شوہر عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کرلے گا۔ اس سے عورت کی بدترین حق تلفی ہوگی۔ وہ رجوع نہیں کرنا چاہ رہی ہو اورشوہر کو رجوع کاغیر مشروط اختیار دے دیا جائے۔ یہ قرآن وسنت اور انسانی فطرت کے منافی ہوگا۔ شیعہ اور اہلحدیث کے علماء کو دنیا بھر سے لایا اکٹھا کیا جائے اور سکینڈوں کے حساب سے ہم منوادیںگے کہ حضرت عمر نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔ ائمہ اربعہ نے ٹھیک اجماع کیا تھا کہ اکٹھی3 طلاق واقع ہوتی ہیں اور شیعہ واہل حدیث کا فتویٰ بالکل غلط ہے کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
البتہ تین طلاق استعارہ ہے کہ اس کے بعد رجوع کا حق ہے یا نہیں ؟۔ جب اکٹھی نہیں الگ الگ مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی قرآن کے واضح الفاظ میںاصلاح کی شرط پراور معروف طریقے سے باہمی رضاسے اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے تو رجوع کا دروازہ بہر صورت بند کرنا غلط ہے۔نبی ۖ نے تین طلاق کے باوجود ابو رکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کرلو۔ ابوداؤد
اسلام اجنبیت کے جن مراحل سے گزرا ، شیعہ سنی دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر حضرت عمر کے دور میں قیصر وکسریٰ کو فتح کرنے کے بعد لونڈیاں بنائی گئیں تو دونوں کے اکابرنے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولئے تھے ۔ مزارعت کے جواز میں دونوں کا حصہ تھا۔ حالانکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی اسکے مخالف تھے۔ امام جعفر صادق کے بارے میں شیعہ بتاسکتے ہیں۔ لیکن آج شیعہ حضرات کو بھی یہ بات سمجھنے میں مشکل نہیں ہے کہ قرآن میںطلاق کے مسئلے پر سنی اکابر کی طرح شیعہ اکابر نے بھی بہت بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ جب ایک واضح مسئلہ سمجھنے میں آج دونوں مکاتب اتنی بڑی ٹھوکر کھارہے ہیں تو دوسرے مسائل پر کیا کیا ٹھوکرنہیں کھائی ہوں گی؟۔ہمیں اتفاق ہے کہ حسین کے مقابلے میں یزید باطل تھا لیکن امیرمعاویہ سے حضرت حسن نے صلح کی تھی اور حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے حضرت علی کی مصالحت تھی اور بنوامیہ وبنو عباس سے ائمہ اہل بیت نے مصالحت کی تھی۔ اہل تشیع کے بقول گیارہ امام جب تک زندہ تھے تو اپنے حق سے محروم رہے اور اب جب ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کو حق دیا بھی نہیں جاسکتا ہے تو خودکو پیٹنے سے کچھ ملے گا؟۔ اگر ان کے بقول امام مہدی غائب زندہ ہیں اور ہزار سال سے بھی زیادہ پردہ غیب میں ہیں تو پھر چند سوسال باقی گیارہ اماموں کا بھی حکومت نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔
جس دن دیوبندی بریلوی اور اہلحدیث نے قرآن کو مان لیا اور اعلانیہ اپنے مسلکوں کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام کو بتادیا کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے ٹھیک کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد فیصلہ عورت کے حق میں دیا اورقرآن کا یہی تقاضا ہے لیکن اگر عورت صلح کیلئے راضی ہو تو پھر حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اکٹھی تین طلاق کے بعد بھی حلالہ نہیں، اہل حدیث کے مطابق تین مجالس میں الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں تب بھی نہیں اور شیعہ کے مطابق تینوں مراحل میں دو دو عادل گواہ مقرر کئے جائیں تب بھی حلالہ کی ضرورت نہیں اور غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق حنفی احسن طلاق کے مطابق تینوں مرتبہ یہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ طلاق دی جائے، عدت ختم ہوجائے، پھر رجوع کرلیا اور پھر طلاق دے دی اور عدت بھی ختم ہوگئی اور پھر رجوع کرلیا اور پھر طلاق دیدی اور عدت ختم ہوگئی تو پھر حلالہ ہوگا تو بھی حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
طلاق سے قرآن کے مطابق رجوع کا اعزا ز کس کے کھاتے میں جائے گا؟ اس کا جواب درس نظامی کا نصاب اور فقہ حنفی میں دیوبندی مدارس ہیں۔ خصوصاً جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ، جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی اورجامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور رحیم یار خان کا بہت بڑا فیضان ہے۔
حاجی عثمان پر علماء سوء نے فتویٰ لگایاتو مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے حاجی عثمان کی بیعت کرلی اور مفتی حبیب الرحمن درخواستی مدظلہ العالیٰ نے حاجی عثمان کے حق میں فتوی دیا تھا۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان اس وقت اختلاف تھا لیکن حاجی عثمان کے حق میں دونوں جمعیت متفق تھے۔ مسجد الٰہیہ ، خانقاہ چشتیہ، خدمت گا ہ قادریہ، مدرسہ محمدیہ ، یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسینامت مسلمہ کے اتحاد کا مرکز ہے۔ رکشہ ڈارئیور، ٹیکسی ڈرائیور،دونمبر پلمبر اور کباڑیہ جانتے ہیں کہ حاجی محمد عثمان کے مریدوں کو تقسیم کرنا غلط ہے لیکن معمولی معمولی مفادات نے انکے دلوں کو تقسیم کرکے خانقاہ کو ویران کردیا ہے۔
ومن اظلم من منع مساجد اللہ وسعی فی خرابہا ‘ ‘اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے؟”۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تو شیعہ بھی نماز پڑھنے آتے تھے۔ باجماعت نماز میں بھی شریک ہوتے تھے اور انفرادی نمازبھی پڑھتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے سواداعظم والوں کو فسادی قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ مولانا یوسف بنوری عاشورۂ محرم سے پہلے پانی کے مٹکے صاف کرکے بھرواکر رکھ دیتے تھے کہ جلوس کے شرکاء پانی پئیں گے۔ واشروموں کی بھی صفائی کرواتے تھے۔ تحریک ختم نبوت کی کامیابی شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اور اہلحدیث کے اتحاد کاقادیانیت کے زوال کا سبب بن گیا۔ لیکن پھر قادیانیوں ہی نے درپردہ امت مسلمہ کو لڑانے میں تخریب کارانہ کردار ادا کیا تھا۔ اگر طلاق کے مسئلے پر قرآن کے مطابق ہم اکٹھے ہوگئے تو قادیانی مذہب نابود ہوجائے گا اور اہل تشیع کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی اور اہل حدیث بھی راہ ِ راست پر آجائیںگے۔ دیوبندی بریلوی اختلافات کا بھی جلوس نکل جائے گا۔
شیعہ اس بات کو سمجھ لیں کہ اللہ نے اہل بیت سے قرآن وحدیث میں کونسے ”رجس یعنی گند” سے پاک کیا؟۔ انسانوں میں دوقسم کے فطری رجس ہیں ایک یہ کہ والذین یجتنبون کبائرالاثم والفواحش الا المم ” جو اجتناب کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگر.. اس المم کی تفسیر حالات کے مطابق مختلف ہیں۔ حضرت آدم وحواء بھی شجرہ ممنوعہ کے پاس گئے۔ صالحین نے بھی حلالہ کے شجرہ ملعونہ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ازواج مطہرات کو اللہ نے اس گند سے پاکیزگی کی سندعطاء کی۔ جبکہ دوسرا گندیہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں امانت کا ذکر کیا ہے جس کو قبول کرنے سے سب نے انکار کیا اور انسان کو اسلئے ظلوم وجہول قرار دیا۔ اللہ نے اس گند سے ائمہ اہل بیت کے دل صاف کئے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حنفی مسلک میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا مگر لعنتی فعل میں ملوث حنفی بہت بگڑ چکے ہیں!

حنفی مسلک میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا مگر لعنتی فعل میں ملوث حنفی بہت بگڑ چکے ہیں!

کمال کی بات یہ ہے کہ علماء حق ہر دور میں حلالہ کو ناجائز اورموردِ لعنت سمجھتے رہے ہیں مگر عادی مجرموں نے حلالے کو دورِ جاہلیت کی طرح اپنا بڑادھندہ بناکر رکھا ہوا ہے

 

سب سے زیادہ کام صحیح بخاری کی روایات نے بگاڑ دیا جس پر گرفت لازم تھی

اہل حدیث بہت فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کے بعد اہل سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب بخاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت یہ سمجھ رہی ہے کہ بخاری میں زیادہ سند کے اعتبار سے صحیح احادیث کا خیال رکھا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بخاری کی ہر روایت صحیح ہے چاہے قرآن کے مخالف بھی ہو۔ ہم حنفی اور اہل حدیث میں موازنہ کرنے کے چکر میں نہیں ہیں بلکہ صحیح بخاری کی طرف متوجہ کرکے اتفاق رائے بنانے کی فکر رکھتے ہیں۔
بخاری میں حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ اگر بیوی کو حرام کہہ دیا تو بعض علماء کا اجتہاد یہ ہے کہ اس سے تیسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور یہ حرام کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے۔ جب وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے تو پہلے کیلئے حلال نہیں ہوگی۔
حسن بصری حضرت علی کے شاگرد تھے جیسے مفتی حسام اللہ شریفی بھی شیخ الہند کے شاگردمولانا رسول خان کے شاگردہیںاور مولانا مودودی کے استاذ مولانا شریف اللہ کے بھی شاگردہیں اور مولانا مودودی کیساتھ ان سے ملنے بھی گئے۔ حضرت علی کے بارے میں مستند کتابوں میں یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ حرام کے لفظ کو تین طلاق قرار دیتے تھے۔ حضرت حسن بصری نے بعض علماء سے مراد حضرت علی کے شاگرد لئے ہیں اور اس میں بھرپور صداقت بھی ہوگی۔
ایک طرف علی نے حرام کے لفظ سے تین طلاق مراد لئے۔ دوسری طرف حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کو تین قرار دیا۔ تیسری طرف بخاری سمیت صحاح ستہ میں اکٹھی تین طلاق کے جواز کا عنوان ، جمہور کے دلائل کی احادیث کاا ندراج کردیا۔ چوتھی طرف فقہاء نے اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کی بھرمار کردی تو امت کی قرآن اور حدیث صحیحہ کے صحیح فہم کی طرف توجہ کہاں سے جائے گی؟۔
اہل حدیث کے مشہور عالم شیخ زبیر علی زئیاکٹھی تین طلاق کے قائل تھے اور انجینئر محمد علی مرزا بھی قائل ہیں۔ انجینئر محمد علی مرزا مفتی تقی عثمانی کے اسلامی بینکاری کے بھی معتقد ہیں۔ گویا اہلحدیث اور علماء دیوبند کے جمہور کے خلاف مرزا صاحب نے وہ پوزیشن لی ہے جس میںسعودی عرب کا سرکاری مؤقف بھی ایک ساتھ تین طلاق اور اسلامی بینکاری کا اب قائل ہے۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا : کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار ” ہر نئی چیزبدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ میں ہے”۔ کیا حضرت علی کا بیوی کو حرام قرار دینے پر تیسری طلاق یا تین طلاق کا فتویٰ بدعت ، گمراہی اور اس کا نتیجہ آگ ہے؟۔ حضرت عمر سے منسوب ہے کہ حرام کے لفظ کوایک طلاق رجعی قرار دیتے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت علی میں حلال وحرام کی یہ تفریق درست ہے یا غلط ہے؟۔ قرآن تو اس کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا ہے کہ زبانوں کو اس بدعت میں ملوث کیا جائے کہ اپنی طرف سے کہا جائے کہ ھٰذا حلال و ھٰذا حرام یہ حلا ل ہے اور یہ حرام ہے ۔
دو جلیل القدر صحابہ کرام خلفاء راشدین حضرت عمرفاروق اعظم اور حضرت علی المرتضیٰ میں طلاق جیسے اہم مسئلے پر حلال وحرام کا یہ بڑا اختلاف کیسے ہوگیا؟۔
اس کا جواب انتہائی گمراہانہ، ضیغ وضلالت اورانحراف وسرکشی سے یہ دیا جاتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی دونوں مجتہد تھے اور اجتہاد میں ایک غلطی پر ، دوسرا صواب پر ہوسکتا ہے اور غلطی پر بھی اجرملتا ہے اور صواب پر دو اجر ملتے ہیں۔
اہلحدیث تویہ اجتہاد مانتے نہیں ہیں اور ان کو یہ پتہ نہیں کہ بخاری نے صحیح میں اجتہاد کی روایت ڈال کر اُ مت مسلمہ کے دل ودماغ میں کیا گل کھلائے؟۔
شیعہ حضرت علی کو امام اور معصوم عن الخطاء مانتے ہیں اور آپ کے مقابلے میں حضرت عمر کے اجتہادکو بالکل کھل کر کفروگمراہی اور ضیغ وضلالت سمجھتے ہیں۔
فقہ کے امام اعظم امام ابوحنیفہ نے یہ راستہ اپنایا تھا کہ صحابہ کرام کے اقوال ان کی رائے ہے ، خبر واحد کی حدیث صحیحہ کو بھی قرآن پر پیش کرو اور اگر حدیث کی قرآن سے مطابقت نہ ہو تو حدیث کو چھوڑ دو اور قرآن پر عمل کرو۔ البتہ اگر کوئی ضعیف حدیث بھی اس قابل ہو کہ اس کی تأویل ہوسکتی ہو تو اس کی تردید نہ کرو۔
امام ابوحنیفہ کے نالائق شاگردوں اور نام لیواؤں نے امام اعظم کے اصول پر درست عمل نہیں کیا تو اس میں امام ابوحنیفہ کے شاگردوں اور مسلک کی طرف منسوب فقہاء وعلماء کا اپنا قصور تھا۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد ابویوسف کے حیلے مشہور تھے، دوسرے شاگرد عبداللہ بن مبارک کا حدیث وفقہ ، جہاد و تصوف میں بڑا مقام تھا۔ امام ابوحنیفہ کافروں سے جہاد کرنے کی بہ نسبت اور اپنے حاکموں اور نظام کی اصلاح چاہتے تھے اسلئے جیل میں قید کرکے شہید کردئیے گئے تھے۔
حضرت عمر اور حضرت علی کے اختلاف کو مسلک حنفی کے اصول کے مطابق حل کیا جاتا تو قرآن میں اللہ نے بار بار واضح فرمایا کہ صلح واصلاح اور معروف کی شرط پرکسی بھی طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ حضرت عمر نے تحقیق کے بعد فیصلہ دیا ہوگا کہ عورت رجوع پر راضی ہے تو حرام کے لفظ کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔حضرت علی نے تحقیق کے بعد فیصلہ دیا ہوگا کہ عورت راضی نہیں ہے اسلئے حرام کا لفظ استعمال کرنے کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ دونوں خلفاء راشدین کی بات قرآن کے عین مطابق تھی، ان میں اجتہادی مسئلے پر حرام وحلال کا اختلاف نہیں تھا۔ امام ابوحنیفہ کے اصل اصول پر محنت ہوتی تو فقہاء واقعی فقیہ ہوتے۔
امام بخاری سے پہلے امام ابوحنیفہ کے کسی اچھے شاگرد کو فقہ حنفی کی تدوین کا درست موقع فراہم کردیا جاتا تو صحیح بخاری میں یہ متضاد اقوال لکھنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ حضرت حسن بصری کے قول کو نقل کیا جاتا کہ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے اور حضرت ابن عباس کا قول کو نقل کیا جاتا کہ بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا ، طلاق اور نہ قسم وکفارہ اور یہی سیرت طیبہ کا تقاضا ہے۔ بخاری میںصحابی اور تابعی کی ذہنیت میں فرق بالکل واضح ہے۔
ابن تیمیہ نے چاروں فقہ کی تقلید کو فرقہ واریت قرار دیا ۔ انکے شاگرد ابن قیم نے اپنی کتاب ” زادالمعاد ” میں حرام کے لفظ پر20اجتہادی اقوال نقل کئے، حالانکہ جب نبی ۖ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ قبطیہ اور شہد کو حرام کردیا تواللہ نے سورۂ تحریم نازل کردی ۔پھرآپ ۖنے حضرت ماریہ پر کفارہ ادا نہ کیا اور شہد پر کفارہ ادا کیا۔قرآن کی طرف توجہ کرتے تو گمراہی کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔

 

امام ابوحنیفہ سلاخوں کے پیچھے زہر دیکر شہید نہ کئے جاتے توماحول مختلف ہوتا

ہمیں ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کا حکم اسلئے ہے کہ یہ دنیا میں پل صراط سے کم نہیں ہے۔ بڑے بڑے اس برج سے منہ کے بل گر کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں ؟، اللہ کا خاص فضل درکار ہوتا ہے ورنہ انسان اپنی محنت، علم ، ماحول اور عقل وفہم کے باوجود بھی ٹھوکر کھاتاہے۔
امام ابوحنیفہ نے ایسے وقت میں جب احادیث کی بہت بھرمارتھی اور سچے لوگوں کے علاوہ جھوٹے راویوں کی طرف سے بھی ایسی بمباری کا سلسلہ تھا جیسے امریکہ نے تورا بورا کے پہاڑوں پر بمبارمنٹ کی تھی تو حضرت نعمان بن ثابت امام ابوحنیفہ ڈٹ کرکھڑے ہوگئے۔ قرآن کے مقابلے میں خبر واحد کی حدیث کو بھی غیرمعتبر اور ناقابلِ عمل قرار دے دیا۔ بدقسمت اُمت کو دیکھئے، امام ابوحنیفہ نے قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو قربان کیا ، انکے نام پروہ لوگ کھڑے ہوگئے کہ جنہوں نے اپنی فقہ پر قرآن کو قربان کردیا اور اس کا یہ نتیجہ نکل آیا کہ ان کے دلوں میں حلالے کی لعنت کامرض تھا تو اللہ نے انکے گند مزید بڑھا دئیے۔
مدارس کے نصاب میں ہے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”( آیت:230البقرہ) میں عورت کو اپنی مرضی کا مالک اور خود مختار بنایا گیا ہے۔ خبرواحد کی حدیث میںنبی ۖ نے فرمایا:۔” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے”۔ حدیث میں عورت کی مرضی اور خود مختاری پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جو قرآن کے منافی ہے اسلئے ہمارے نزدیک یہ حدیث غیر معتبر ہے۔ جمہور ائمہ اور امت مسلمہ دوسرے فقہاء نے امام ابوحنیفہ پر گمراہی کا فتویٰ لگادیا تھا کہ اپنے دور کا غلام احمد پرویز تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا مسلک حنبلی تھا اور آپ نے امام ابوحنیفہ اور حنفی فقہاء پر ایسا رد کیا تھا جیسا مولانا احمد رضابریلوی نے دیوبندی اور دوسرے فرقوں پر کھل کر رد کیا تھا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ حدیث کی بنیاد پر قرآن کو رد کرنا جمہور کی بڑی گمراہی تھی اور اس آیت میں طلاق شدہ کا ذکر ہے اور اس سے زیادہ واضح الفاظ میں بیوی کی عدت چار ماہ دس دن کے بعد خود مختار ہونے کا اعلان ہے۔ جمہور کے نزدیک تو بیوہ اور طلاق شدہ بھی قرآن کی وضاحت کے باوجود آزاد وخود مختار نہیں ہیں بلکہ ولی کی اجازت کے محتاج ہیں۔ جبکہ احناف کے ہاں کنواری بھی ولی کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ موجودہ عدالت میں حنفی فقہ کا مسلک رائج ہے۔ آئے روز لڑکیاں بھاگ کر کورٹ میرج کرتی ہیں اور حنفی فقہ کا سہارا لیتی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نکاح کیلئے دو صالح گواہ ضروری ہیں مگر بھاگی ہوئی لڑکی کے نکاح کیلئے کون شریف و صالح لوگ گواہ بنتے ؟ اسلئے حنفی فقہاء نے دوسری حدیث کو بھی بکواس سمجھ کر چھوڑ دیا اور دوفاسق گواہ بھی کافی قرار دے دئیے۔ پھر حدیث میں مسجد کے نکاح اور دف بجاکر اعلان کرنے کا حکم تھا۔ بھاگی ہوئی لڑکی کس طرح سے اعلانیہ کرسکتی تھی تو حنفی فقہاء نے حدیث کی ایک مزید دیوار مسمار کرکے فتویٰ دے دیا کہ دو فاسق گواہ کی خفیہ گواہی اعلان ہے۔ حنفی فقہاء نے طبق عن طبق گمراہیوں کے زبردست ریکارڈ قائم کردئیے۔
حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے اور حدیث سے کنواری مراد ہوسکتی تھی۔امام ابوحنیفہ کے مسلک کایہ تقاضا تھا لیکن گمراہ فقہاء نے امام ابوحنیفہ کے مسلک کو قرآن وحدیث سے آزاد کرکے دین کو اجنبی بنانے کی انتہاء کردی ہے۔گمراہانہ دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو صحیح حدیث کو اسلئے رد ی کی ٹوکری میں ڈال دیا کہ قرآن کے خلاف ہے اور پھر دوسری طرف متفقہ مسئلہ لکھ دیا کہ ” اگر خاندان میں برابری نہ ہو تو پھر لڑکی کا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے”۔ کیا صحیح احادیث سے بھی یہ متفقہ مسئلہ بہت معتبر ہوگیا اور قرآن سے بھی یہ بازی لے گیا؟۔ پتہ نہیں فقہاء کی حیثیت عرب میں غلام ولونڈیوں کی تھی کہ لکھ دیا کہ عجم میں کفوء کا اعتبار نہیں ہے۔ اگر کوئی عربی یا عام آدمی کسی کی بالغ لڑکی کو بھگا کر لے جائے اور ڈرادھمکاکر اس سے نکاح کرلے تو اب یہ نکاح رضامندی کا نکاح ہے اور پھر اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار اس نکاح سے جان چھڑانا چاہتے ہوں تو اسکے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ اس آدمی سے طلاق لینی پڑے گی۔ فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ
اگر بنوامیہ اور بنوعباس کے دور میں یہ فقہ حنفی ایجاد ہوا ہے تو وہ عجم کو لونڈی قرار دیتے تو بھی اتنا برا نہیں ہوسکتا تھا لیکن لگتا ہے کہ اچھوت ذہنیت کے علماء نے ایسے اختراعی اور انتہائی ظالمانہ اور بیہودہ وغلیظ فتوؤں اور فقہ ایجاد کی ہے۔
قرآن کی آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” کا مقابلہ ومجادلہ حدیث سے نہیں ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا ہے بلکہ طلاق دینے والے شوہر کی دسترس سے اللہ نے اسکو باہر نکالنے کیلئے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کیونکہ ایک رسم بد یہ بھی ہے کہ بیوی کو چھوڑنے کے بعد شوہر اسکی مرضی سے جہاں چاہے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔
البتہ جب اس سے پہلے آیت226البقرہ میں اللہ نے فرمایا کہ ” ایلاء کرنیوالوں کیلئے چار ماہ ہیں ،پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
یہ وہ صورت طلاق ہے جب طلاق کا زبان سے اظہار نہ کیا ہو۔ اس میں بھی اللہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں میاں بیوی کی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ جب نبیۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ کے بعد رجوع فرمایا۔ ظاہر ہے کہ امہات المؤمنین بہت خوش تھیں مگر اللہ نے نبیۖ کو حکم دیا کہ آپ انہیں طلاق کا اختیار دے دو۔یہ امت پر واضح کرنا تھا کہ اس طلاق میں بھی جس میں طلاق کا اظہار نہیں کیا ہے تو عورت کو مکمل اختیارمل جاتا ہے کہ وہ رہے یا نہ رہے۔
آیت228البقرہ میں اللہ نے طلاق کے بعد اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت کی وضاحت کیساتھ بہت کھل کرکوئی خبر واحد کی حدیث ہوتی کہ عدت میں رجوع نہیں ہوسکتا، تو حدیث قابل اعتبار نہ ہوتی۔ آیت:229البقرہ میں معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن علماء اور مذہبی طبقات کو اصلاح کی شرط اور معروف کی شرط بھی نظر نہیں آتی ہے۔ آیت:230میںحلال نہ ہونے کا لفظ بو بکروں اور بزاخفش کو بھی دکھائی دیتا ہے۔ قاضی فضل اللہ صوابی امریکہ چلے گئے۔ کاش! وہ ان معاملات کو دیکھ لیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کینڈا کی لڑکی کا قبائلیوںکیلئے گواہی اور…عورت کے اسلامی حقوق کا علمبردار قبائلی سید گیلانی؟

کینڈا کی لڑکی کا قبائلیوںکیلئے گواہی اور…عورت کے اسلامی حقوق کا علمبردار قبائلی سید گیلانی؟

قبائل ہی دنیا کی امامت کے حقدار ہیں ! محراب گل افغان کے افکار، علامہ اقبال

سیمانے کہا کہ ”پاکستانی مرد بڑے بے شرم ہیں عورت کی عزت احترام نہیں کرتے۔ اسلام میں عورت کی عزت نہیں اسی لئے ہندو دھرم قبول کرلیا”۔ تصویر میں اس خوبصورت لڑکی کا نام میک، تعلق کینیڈا سے ہے۔2018میں میک کو دنیا میںسب سے زیادہ خوبصورت ہونے کا ایوارڈ مل چکا ۔ یہ ارب پتی کی بیٹی ہے،2018میں اسکا باپ حکومت کے بہت بڑے عہدے پر فائز تھا۔ خوبصورتی کا ایوارڈ مل گیا تو اس نے اپنے باپ سے کہا کہ میں پاکستان کا دورہ کروں گی لیکن شہروں کا نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کا دورہ کروں گی۔ باپ نے صاف انکار کردیا کہ وہاں نہیں جاسکتی ، پٹھان بڑے خونخوار، بڑے ظالم ہیں وہ زندہ کھاجائیں گے۔ بیٹی نے کہا کہ جی! میں بچپن سے یہ سنتی آرہی ہوں کہ پٹھان بڑے ظالم ہیں ،اسی لئے میں اس جگہ کا دورہ کروں گی۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ دنیا میں ایسی کونسی قوم ہے جو انسانوں کو زندہ کھاتی ہے۔ کچھ دن گزر گئے باپ نے اجازت نہ دی تو اس نے اپنے باپ کو بول دیا کہ اگر آپ مجھ کو اجازت نہیں دیں گے تو میں زندگی کا خاتمہ کرلوں گی۔ باپ نے اجازت دی ۔ میک پاکستان پہنچی، گورنمنٹ نے سیکورٹی دی لیکن اس نے سیکورٹی مسترد کردی۔ میک کے پاس دو بندے ایک کینیڈا کااور دوسرا قبائلی ۔ جب وہ ایک گاؤں میں پہنچی، گاڑی سے اترگئی ۔ اس نے کہا کہ میں پورے گاؤں میں پیدل گھوموں گی۔ وہ ایک راستے پر نکلی تو کچھ مردوں نے راستہ چھوڑا، جو بیٹھے تھے انہوںنے نظریں نیچے کردیں۔ بار بار ایسا ہوا تو میک نے قبائلی سے پوچھا کہ میں کیا اتنی بدصورت ہوں کہ لوگ راستہ چھوڑ تے ہیں ، بیٹھے ہوئے نظریں نیچے کردیتے ہیں؟۔ قبائلی نے کہا کہ یہ پٹھان ہیں، یہاں اسلام ہے اور اسلام میںیہ سکھایا جاتا ہے کہ عورت کو نہیں دیکھنا ۔ پھر گاؤں میں ایک گھر کے اندر گئی۔ گھر میں ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ وہ سیدھا اٹھ کر گھر سے نکل گیا۔ میک بہت زیادہ پریشان ہوگئی کہ میرے لئے گھر چھوڑدیا۔ ترجمان سے کہا کہ اس کی ماں سے پوچھو کہ گھر کیوں چھوڑا؟۔ ماں نے کہا کہ ہم بیٹوں کو بچپن سے سمجھاتے ہیں کہ عورت کی عزت اور احترام کرنا اور اسلام یہی کہتا ہے۔ اس ترجمان کا کہنا ہے کہ میک وہاں پر اتنی زیادہ رونے لگی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میک کا دورہ مکمل ہوگیا، واپس کینیڈا گئی تو ایئر پورٹ پر اپنے باپ کو روتے ہوئے گلے لگالیا کہ جتنا میں نے سوچااور سنا تھا سارے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔ اگر دنیا میں کوئی قوم عورت کی عزت و احترام کرتی ہے اور تحفظ فراہم کرتی ہے تووہ پٹھان ہیں جو پاکستان میں بستے ہیں۔ ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی مرد دنیا کے سب سے بڑے مرد شمار ہوتے ہیں۔ عورت کی عزت و احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔ سیما کے پیچھے انڈین گورنمنٹ ہے ۔ وہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے مردوں ، اسلام اور پاکستان کو بدنام کرومگر اسلام نہ مردبدنام ہوگا اور نہ پاکستان بدنام ہوگا۔
Youtube Channal: Ebad Reaction

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورة الحدید کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائیوں کو عروج بخشنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوںکو غلبہ عطاء فرمائیگا

سورة الحدید کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائیوں کو عروج بخشنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوںکو غلبہ عطاء فرمائیگا

مولانا طارق جمیل نے اسلامی بینکاری کو سودی نظام قرار دے دیا لیکن اس کے باوجود مفتی محمد تقی عثمانی نے جمعہ کے بیان اور نماز کی امامت کیلئے مدعو کرکے بہت اچھا کیا

سورة الحدید کا خلاصہ اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔ جس میں مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے کا ذکر ہے۔ سابقہ قوموں کے احوال کا ذکر ہے جو آخر میں اس حد کو پہنچ جاتی تھیں کہ ان کے دل سخت ہوجاتے تھے ۔ یہی صورتحال مسلمانوں کی بھی ہوگی۔ مسلمانوں سے کہا گیا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیاہے کہ انکے دل اللہ کے ذکر (قرآن) سے خوف کھائیں؟۔ کردار کے لحاظ سے دوقسم کے لوگوں کا ذکر ہے ،ایک انقلاب کیلئے کام کرکے سرخرو ہونے والے اور دوسرے مخالفین۔ پھر اللہ نے کہا ہے کہ یہ پہلے سے تقدیر میں لکھا جاچکا تھا تاکہ اچھے کردار والے فخر نہ کریں اور مخالفین مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ پھر امت کیلئے رحمت کے دوحصوں کا ذکر ہے۔ نصف اول میں نبوت ورحمت، خلافت، امارت ، بادشاہت کے ادوار ہیں۔1924میں خلافت کا خاتمہ ہوا۔100سال ہونے کو ہیں پھر اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے ہوگی، مولانا سندھی نے ”مقام محمود” تفسیر سورة القدر میں واضح کیا۔قرآن کی طرف رجوع فقہ حنفی کی بنیاد پر ہوگا اور ایران یہ انقلاب قبول کرلے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ رحمت کا نصف آخریہاں سے شروع ہوگا۔ الحدید کی آخری آیت میں اہل کتاب کے عروج کے بعد مسلمانوں کے غالب ہونے کو اللہ نے واضح کیا ۔ امریکی ابراہم لنکن نے غلامی ختم کی، روس نے سودی نظام کو ختم کیا اسلئے اللہ نے سپر طاقت بنا دیا تھا ۔ اسلامی نظام مزارعت کی خاندانی غلامی اور سودکی بین الاقوامی غلامی کا خاتمہ کرے گا۔حافظ سید عاصم منیر جنرل ضیاء الحق کی طرح مردمؤمن نہیں بنیں بلکہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔
ہم نے بچپن میں گورنمنٹ ہائی سکول کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرامہ دیکھا تھا جس میں ایک لڑکے نے مولوی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس نے کہا کہ میم زبر ما غنڈے دے ما ” یعنی ماپر زبر ہے اسلئے سب کا سب میرا ہے”۔ مولانا فضل الرحمن نے مرکز میں چار وزارتیں لیں اور خیبر پختونخواہ کا گورنر بھی اپنا بنایا۔ جب اس نے خواب بیان کیا تھا کہ حضرت آدم نے فون پر پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟۔ تو میں نے عرض کیا کہ امن ۔ اس خواب میں حضرت آدم ناراض بھی ہوتے ہیں کہ آپ صبر نہیں کرسکتے تھے؟۔ اگر مولانا نے صوبائی گورنرANPکا بننے دیا ہوتا تو شہبازشریف ومریم نواز سے گلہ نہ کرتا کہ آصف زرداری سے دوبئی میں اکیلے کیوں ملنے گئے؟۔ مسلم لیگ ن کا تو ٹبر طوطا چشم ہے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں استعمال کیا پھر میڈم طاہرہ کا سکینڈل نکالا۔ مولانا نور محمد وزیر کو فلم انڈسٹری میں سینسر شپ کی وزارت دی جس کا اوصاف اخبارمیں تیمور نے زبردست کارٹون بنایا تھا۔
تحریک انصاف جنونی ہے،اگر مولانا فضل الرحمن نے ساتھ دیا تو عمران خان مولانا کیساتھ خطرناک نہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ، مہنگائی بے روزگاری سے عوام تنگ ہے۔ ان کو مسلط کیا تو ریاست کمزور ہوگی۔ قرآن کے معاشرتی حقوق کا ایجنڈہ اپنایا تو مولانا اویس نورانی کیساتھ جیت سکتے ہیں۔ پھر مریم نواز گائے گی: میرے گل خانہ ، اکیلے مجھ کو چھوڑ کر نہ جانا۔ مولانا نےMRDمیں غیر متوقع بینظیر کا ساتھ دیاتو علماء مخالف تھے،آج اسکے نتائج برعکس ہوں گے۔عہدے کی بھوک ختم نہ ہوگی ۔نظام کی تبدیلی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv