پوسٹ تلاش کریں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟

پشتو کی مشہور کہاوت ہے کہ ”جب سچ آتا ہے تو جھوٹ گاؤں کو پہلے سے بہا چکا ہوتا ہے”۔ رات کے آخری پہرکبیرپبلک اکیڈمی میں مولوی شبیر صاحب نے گھر کے دروازہ پر بہت شدت سے دستک دی اور کہا کہ بہت بڑا زلزلہ آنے والا ہے۔ کوہاٹ بالکل غرق ہوجائے گا۔ میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ آرام سے نکلو۔ اپنے ساتھ بستر بھی لے جاؤ ۔ سخت سردی تھی ۔ چھوٹے بچے محمد نے زور زور سے اللہ کا ذکر شروع کردیا۔ میں نے کہا کہ گھبراؤ مت زمین جھولا بن جائے گا۔ اس نے کہا کہ زمین کو تو خدا ایسا جھولا بنادے کہ ہمارے لحاف گھر سے باہر جا پڑیں۔ دوسرے بچے عمر نے کہا کہ پانی بھی آئیگا۔ جاپان میں سونامی گزر چکا تھا تو میں نے کہا کہ پانی نہیں آئے گا۔ باہر غازی عبدالقدوس بلوچ کا بیٹا فضیل بھی سردی میں کھڑا تھا۔ میں اس کے ساتھ گیا کہ سردی سے بچنے کیلئے کوئی چیز لے لو اور پھر جٹہ قلعہ اڈے کی طرف گیا۔ وہاں میں نے پوچھا کہ کوئی افواہ تو نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں، کوہاٹ ، ہزارہ ، سوات اور اسلام آباد تک سب لوگوں نے رات باہر گزاری ہے۔ میں نے بچوں سے مکالمہ بتایا تو بڑے بھائی ممتاز شاہ نے کہا کہ تم مسلمان ہو، خدا کا خوف نہیں؟، زمین پر اتنا بڑا عذاب آئے گا اور تم کہتے ہو کہ زمین جھولا بنے گا؟۔ میں نے عرض کیا کہ اگر واقعی کوئی مصیبت آنے والی ہے تو بچوں کا دل نکالنے کے بجائے آزمائش کی گھڑی حوصلے کیساتھ گزاریں۔ اگر جھوٹ ہے تو بھی خوامخواہ کا خوف غلط ہے۔ مجھے کراچی میں صبح دفتر آتے ہوئے رنچھوڑ لائن میں ساتھی نے بتایا کہ ایک افواہ چلی کہ مولانا فضل الرحمن کو قتل کردیا گیا لیکن تصدیق ہوگئی ہے کہ جھوٹ ہے۔ پھر رات کو 11بجے کسی نے خبر سنائی کہ لالو کھیت سے آیا ہوں اور مولانا فضل الرحمن کو قتل کیا گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ جب کراچی کا یہ حال ہے جہاں دکانوں میں بھی TVرکھے ہیں تو گاؤں دیہاتوں اور دیگرشہروں کا کیا حال ہوگا؟۔ پھر کسی سے پوچھ لیا کہ زلزلے کی خبر TVمیں آئی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ TVپر یہ خبر نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ بس پھر تو صاف جھوٹ ہے اور گھر میں بھی بتادیا ۔
کوئی بھی افواہ اور جھوٹا بہتان کسی کے خلاف پھیلانا ہو تو پہلے زبان کی دیر تھی اور اب سوشل میڈیا نے طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ اگر سزا وجزاء کا قانون دنیا میں نہیں ہو تو پھر بہت مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ حکومتوں کو بدلا جاتا ہے۔ ریاست کو بدنام کیا جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں کا بیڑہ غرق کردیا جاتا ہے۔ فرقہ واریت کا طوفان اٹھایا جاتا ہے۔ توہین مذہب کے نام پر اشخاص، گھر اور گاؤں تباہ کردئیے لیکن یہ قوم کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے۔ پنجاب کے اندر جو بل پاس ہواہے تو قانون سازی کی افادیت سے انکار نہیں لیکن مزید خرابیوں کا خدشہ بھی ہے۔
میڈیا کے عنوان میں جھوٹ ہوتا ہے، جس پر جرمانہ لگایا جائے تاکہ یوٹیوب کی کمائی کیلئے یہ شیطان لعین کی طرح جھوٹ سے کام نہ لیں۔اگر قرآن وسنت کا قانون ہتک عزت کے حوالے سے کمزور وطاقتور کیلئے نافذ کردیا جائے تو بڑے انقلاب کی توقع ہے۔ اس قوم کا ضمیر بالکل مرچکا ہے اور لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ قرآن وسنت کے ذریعے مردہ ضمیروں میں روح ڈال کر زندہ کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے بنیاد کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت یوسف کے بھائی حضرت یعقوب کے بیٹے، حضرت اسحاق کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پڑپوتے تھے لیکن اپنے نبی بھائی حضرت یوسف کیساتھ انہوں نے حسد کی وجہ سے کیا سلوک کیاتھا؟۔ پاکستان میں سیاسی، طبقاتی، لسانی، فرقہ وارانہ اور مفادپرستانہ کشمکش کا سلسلہ بہت تیزی سے جاری ہے۔ہمارے مہمانوں، قرابتداروں اور گھر کے افراد سمیت 13لوگوں کو شہید کرنے والے طالبان کو ہمارے کچھ عزیز وں نے کیوں غلط راستے پر استعمال کرلیا؟۔نامعلوم سے زیادہ معلوم لوگوں کا اس میں کردار تھا۔

عمران خان کا عدت نکاح کیس اور حسن نثار کی بیہودہ بکواس اور ملک بھر میں جرائم کی داستانیں

قرآن میں عدت کی یہ اقسام ہیں ۔1: ایلاء کی عدت ، 4ماہ۔ البقرہ 226۔ 2: طلاق کی عدت ۔ 3ادوار طہرو حیض یا3 ماہ اور حمل کی عدت وضع حمل۔ 3: بیوہ کی عدت 4ماہ 10دن۔ اور حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔
ہم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نہ وکالت کرتے ہیں اور نہ مخالفت اسلئے کہ جب اچھے دن تھے تو سب ٹھیک تھا اور برے دن آئے تو سب غلط ہوگیا۔ عدل و انصاف ، غیرت و حمیت اور اخلاقیات کا یہ تقاضہ نہیں کہ اس طرح تلپٹ ہو۔ تاہم حسن نثار اور جاوید غامدی وغیرہ مذہب کے نام پر انتہائی بیہودہ بکواس نہ کریں۔ جب شوہر قرآن و سنت کے مطابق حیض کے بعد پاکی کے دنوں میں ہاتھ لگائے بغیر طلاق دیتا ہے تو اس کو پتہ ہوتا ہے کہ پیٹ میں بچہ نہیں۔ مگر اسکے باوجود عدت کا تصور قرآن و سنت میں بالکل واضح ہے۔ حسن نثار بہت بھونڈے انداز میں کہتا ہے کہ آج کے دور میں الٹراساؤنڈ سے بچے اور بچی کا پتہ چل جاتا ہے تو عدت کی اس دور میں ضرورت دقیانوسی ہے۔ حسن نثار کی صحافت گٹھیا ہے۔ علماء احتجاج وہاں کرتے ہیں جہاں ان کا کوئی فائدہ ہوتا ہے یا کوئی ان کی دُم ہلا دیتا ہے۔
قرآن میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں عورت پر عدت نہیں اور مرد پر آدھا حق مہر ہے۔ قرآن میں حق مہر امیر و غریب پر اپنی اپنی وسعت کے مطابق رکھا گیا ہے۔ چند دن پہلے ایک مغربی گوری خاتون کا پاکستانی کے ساتھ نکاح ہوا تو اس میں حق مہر 5ہزار رکھا گیا۔ یہ علماء نے قرآنی احکام کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے اور جب تک قرآن کی طرف رجوع نہیں کریں گے تو ہماری اصلاح نہیں ہوگی۔
ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں حرج نہیں۔ عورت کو ہاتھ لگایا جائے تو پھر عدت اسلئے ہے تاکہ حتی الامکان نباہ کی صورت نکلے اور بچوں کیلئے بھی والدین کا ساتھ رہنا عظمت کی بات ہے۔ جب میاں بیوی جدا ہوتے ہیں تو بچوں پر اسکے بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔قرآن میں ہر چیزکا تعلق فطرت سے ہے اور یہ بہت گٹھیا بات ہے کہ بچوں کو عدت اور نکاح ثانی کا پتہ تک بھی نہیں ہو ۔
سعودی عرب سے قاضی صدیق نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس کی شادی شدہ بھتیجی کا کسی آشنا سے تعلق تھا۔ پھر وہ نکاح میں اس کے ساتھ بھاگی اور لاہور کی عدالت سے اس کو اپنے آشنا کیساتھ جانے کا پروانہ مل گیا۔ یہ کیسا اسلام ہے ؟۔ یہ کیسی عدالت ہے؟۔ یہ کیسی غیرت ہے؟۔ میں آؤں گا تو اپنے بڑے قاضی احسان اور سب ذمہ داروں سے پوچھوں گا۔ میرا یہ پیغام عام کیا جائے۔
پاکستان اپنے پڑوسی اسلامی برادر ممالک میں سب سے زیادہ آزاد ملک ہے اور اس میں سب سے زیادہ آزادی کا تصور ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اپنی آزاد ی کو اچھے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے اپنے مفادات اور گالی گلوچ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ سندھیوں کو کچے کے ڈاکوؤں سے مسئلہ ہے ، بلوچستان کے بلوچوں کو سرکاری باوردی فورسز سے مسئلہ ہے۔ صحافی بایزید خروٹی نے ایک ویڈیو بناکر کمال کردیا جہاں پولیس والے اپنے دوستوں کیساتھ لوٹ مار میں مصروف تھے اور یہ پتہ نہیں چل ر ہا تھا کہ انکا تعلق کس محکمے سے ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ” خیبر پختونخواہ میں ریاست کی رٹ ختم ہوچکی ہے اگر کچھ مسلح افراد پہنچ جائیں تو جنرل بھی چائے روٹی دیں گے”۔ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پارٹیوں کے ایم این ایز اور ایم پی ایز غنڈوں کو کورٹ کچہری اور پولیس کی مدد فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے شریفوں کے پنجاب میں شریف لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ تنویر احمد مغل نے مریم نواز کو درخواست لکھی ہے۔ پنجاب میں بدمعاشی ختم کرنے سے مسئلہ حل ہوگا ورنہ توپھر غریب طالبان بن جائیں گے۔ جمہوریت کو جمہوریت کے علمبرداروں نے خراب کیا ہے وہ درست کرسکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!

ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!

وانذرعشریتک الاقربین
اور (اے نبی ۖ!) اپنی قریبی رشتہ داروں کو خوف دلاؤ۔ قرآن

اللہ تعالیٰ نے دورِجاہلیت کے عربوں میں جب آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ۖ کو مبعوث فرمایا تو سب سے پہلے اپنے عزیز واقارب کو ڈرانے کی تلقین کا حکم فرمایا۔ اسلام دنیا میں سب انسانوںکی عزتوں ، جانوں اور مالوں کوتحفظ فراہم کرتا ہے۔
اسلام کو خانہ کعبہ میں 360بتوں سے بڑامسئلہ عزیٰ ، لات اور منات کے نام پرعوام کی جان، مال اور عزتوں کی پامالی تھی۔ عورتیں اور مرد ننگے طواف کرتے، معمولی معمولی باتوں پر قتل وغارتگری کا بازار گرم ہوتاتھا اورلوگوں کے اموال کو سود، مزارعت ، ڈکیتی اور مجرمانہ اندازسے کھانے کا سلسلہ رہتا تھا۔ حلالہ سے لیکر کیا برائی اب باقی رہ گئی ہے؟۔
جب نبی ۖ نے حجاز میں انقلاب برپا کردیا تو سب سے پہلے اپنے چچا کے قتل اور اپنے چچا کے سود کو معاف کردیا۔ حالت جنگ میں بھی عورت اور پرامن لوگوں پر ہاتھ اُٹھانے سے منع کردیا تھا۔
آج پاکستان میں طبقاتی کشمکش نے حالات کو بہت نازک موڑ پر پہنچادیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے دشمنی کی انتہاء کی ہے۔ عوام کی مقبول قیادت عمران خان اور فوج کے درمیان محاذ آرائی نے حالات کوبہت نازک موڑ پر پہنچا یا۔ 2008ء سے2013ء تک پیپلزپارٹی ، آصف علی زرداری نے کچھ کیا تھا یا نہیں ؟۔ فوج، طالبان اورن لیگ نے پیپلزپارٹی کیخلاف محاذ آرائی کی۔ خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ۔ صدر مملکت آصف زرداری اور سلمان تاثیر گورنر پنجاب کوملوث قرار دینا تھا۔ شہباز شریف وزیراعلی پنجاب تھا ۔ رؤف کلاسرا نے اپنی تحقیق بھی پیش کی تھی جس میں صحافی انصار عباسی بھی تھا۔
پارلیمنٹ اور سینٹ میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کھل کر حقائق پر بحث کریں۔ اپنی اپنی غلطیوں کی بھی قوم سے معافی مانگیں۔ صحافیوں کو بھی کٹہرے میں لائیں اور ان سے غلطیوں کی معافی منگوائیں۔ پھر عمران خان، طالبان اور ریٹائرڈ فوجی افسران کی طرف سے بھی کھل کر غلطیوں کا اعتراف آجائیگا۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف مسائل کا اصل حل ہے۔

مسلم لیگ وپیپلزپارٹی کا فائدہ کس چیز میں ہے؟

مسلم لیگ کے قائدین کہتے ہیں کہ PDM کی حکومت سے ہمیں فائدہ یہ پہنچا۔ کیس ختم ہوگئے اور عمران خان نے مرضی سے آرمی چیف نہیں بنایا۔ وہ سزائیں دلواتا اور ہماری مشکلات ختم نہ ہوتیں۔ مگر نقصان یہ بھی پہنچ گیا کہ ن لیگ کی مقبولیت کا گراف گرگیا اور عمران خان کو مقبولیت مل گئی ہے۔
2004ء میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا گراف بہت گرچکا تھا اسلئے کہ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیس بنائے اور پروپیگنڈ ہ کیا تھا لیکن جب 2008ء کے بعد ایک مشترکہ حکومت بنائی اور پرویزمشرف کو بھی ہٹادیا تو یہ پھر ایک دوسرے کے پیچھے لگ گئے۔ کس کی غلطی تھی ؟ اور کس کی غلطی نہیں تھی؟۔ دونوں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں تو عمران خان بھی اپنی غلطیوں کا اسی وقت اعتراف کرلے گااور میں نہ مانوں کا معاملہ ختم ہوگا تو یہ ملک ترقی کی منزل کا سفر طے کرسکے گا۔
زرداری اور سلمان تاثیر کو جسٹس شریف کے قتل کی سازش میں نہیں پھنسایا جاسکا لیکن سلمان تاثیر کا قتل، یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کا افغانستان اغواء اس سلسلے کی کڑیاں تو نہ تھیں؟۔ سلمان تاثیر قتل سے علامہ خادم حسین رضوی برآمد ہوا۔پھر صحافی ابصارعالم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو اسلئے نوازشریف کے ذریعے آرمی چیف بنوایا کہ اس کا سسر قادیانی تھا جس کی وجہ سے فوج میں زیر عتاب تھا۔ نوازشریف جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے قادیانیت کے حق میں بل لایا، جس میں اتحادی مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن عمران خان بھی شریک تھے۔ شیخ رشید نے آواز اٹھائی جس کا جماعت اسلامی نے ساتھ دیا تھا۔ پھر فیض آباد دھرنے کا مسئلہ اٹھ گیا اور عمران خان بھی اس میں کود گیا جس میں احسن اقبال کو گولی ماری گئی تھی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جرائم کا اعتراف کریں تو عمران خان اور فوج جرنیل بھی غلطیوں کا اعتراف کریں گے۔ بلیم گیم کا سلسلہ جاری رہا تو ریاست و حکومت کا سمجھ سے باہر ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اپنی غلطیوں پر اکڑنے سے ہوائیں اکھڑ جاتی ہیں اور اعتراف جرم سے معافی تلافی بھی ہوجاتی ہے۔

پاک فوج و عمران خان کا فائدہ کس چیز میں ہے؟

فوج و عمران خان ایک پیج پر تھے تو رانا ثناء اللہ پر20کلو ہیروئن کا کیس کردیا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے کیس کیا؟۔ رانا ثناء اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیس کیا تھا اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میرا اس میں کوئی کردار نہیں تھا؟۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ”اگر ہائی کمان کا کردار نہ ہوتا تو جس فوجی افسر نے مجھ پر کیس کیا تھا تو اس کا کورٹ مارشل ہوجانا تھا”۔
آج تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں پر جتنے پہاڑمشکلات کے ڈھائے گئے ہیں اس کا سارا ملبہ پاک فوج کے کھاتے میں جارہاہے۔ کچے کے ڈاکو، طالبان اور سیاست گردی کے تمام واقعات پر سوشل میڈیا میں تبصرہ ہوتا ہے تو فوج نشانہ بنتی ہے۔ 2008ء سے2013ء تک پیپلزپارٹی کی قیادت کیساتھ برا ہوا تو سندھ میں فوج کاگراف گر گیا۔ پختون ،بلوچ بہت پہلے سے بدظن تھے۔ 2013 سے 2018ء تک مسلم لیگ ن ، جیو ٹی وی اور دیگر کے خلاف عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو اٹھایا گیا تو آدھاپنجاب فوج مخالف ،آدھا عمران خان کا حامی بن گیا پھر عمران خان کے خلاف اقدامات ہوئے تو باقی پنجاب بھی فوج کے خلاف کھڑا ہوگیا۔ فوج کا بہت بڑا نقصان ہوگیا اسلئے کہ پنجاب کو بھی ہاتھ سے کھو دیا ہے۔ KP، GB،کشمیر،بلوچستان و سندھ میں پہلے سے معاملہ خراب تھا۔ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے فوجی اہلکاروں پر الیکشن میں اربوں روپے میں قومی وصوبائی اسمبلیاں بیچنے کا الزام لگادیا اور نوازشریف کے قریبی سیاستدان میاں جاوید لطیف نے بھی کہا ہے کہ شیخوپورہ کی5 صوبائی سیٹوں پر 90کروڑ روپے لئے گئے تھے۔
مولانا فضل الرحمن کا گراف بہت گرچکا تھا اسی لئے پشین بلوچستان سے الیکشن لڑکر جمعیت علماء کی ناک کاٹ دی۔ پہلے بھی فیل ہوتا رہاہے اور جب پاس ہوا ہے تو فوج کی مداخلت سے بھی ہوا ہے۔ اب مولانا فضل الرحمن نے غیرت وعزت کا مقابلہ طاقت وجبر کا عنوان دے کر اچھی سیاست کا آغاز کردیا ہے۔ لیکن اس کے عقیدت مند حلالہ کی لعنت سے ایمان اور عزت دونوں کو اب کھورہے ہیں۔

افغانستان اورTTPکا فائدہ کس چیز میں ہے؟

افغان حکومت نے اپنی مدد کیلئے روس کو بلایا تھا تو مجاہدین نے جہاد شروع کیا اور امریکہ ، عرب اور چین سمیت پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران نے بھی اس کی مدد کی تھی۔ چین وروس دونوں کمیونسٹ تھے لیکن روس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ ماں بہن کو نہیں پہچانتا۔ حالانکہ یہ بات بالکل ہی غلط تھی۔ روس کے قانون میں نکاح کا بندھن بڑا مضبوط نظام تھا۔ ہمارے دوست ناصر علی نے ایک طلاق شدہ لڑکی سے نکاح کیا تو پتہ چلا کہ ایک سال تک طلاق کے پراسیس کے بغیر کسی اور شخص سے وہ نکاح نہیں کرسکتی تھی۔ اسلام میں طلاق کی عدت 3 ماہ ہے اور سویت یونین میں ایک سال ہے۔ اسی طرح کمیونزم میں محدود پیمانے پر ذاتی ملکیت کی قانونی اجازت تھی مگر لوگوں کو غلط فہمی کا شکار کیا گیا۔ 1970ء میں جمعیت علماء اسلام کے اکابرین نے سودی سرمایہ دارانہ نظام کیپٹل ازم کے مقابلے میں کمیونزم کو اسلام کے قریب قرار دیا تو مفتی اعظم اور شیخ الاسلام لوگوں نے ان پر کفر کے فتوے لگائے۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان نے امریکہ ، نیٹو اور اس کے اتحادیوں کیساتھ جہاد کیا تو کمالات کی تاریخ رقم کردی۔ امریکہ اور نیٹو نے یہ محسوس کرلیا کہ اس خطے میں سکون کی زندگی کسی بھی قیمت پر نہیں گزار سکتے ہیں۔ نیٹو کے نکلنے کے بعد افغانستان پر طالبان نے قبضہ کرلیا اور پھر TTP کی بڑی تعداد پاکستان آگئی۔ صحافی ہارون الرشید نے کہاتھا کہ” TTPسیاست کرے گی، ظاہر ہے کہ کوئی بنٹے تو نہیں کھیلے گی۔ اگر فوج کے خلاف جنگ کی توپہاڑوں کو ان کے خلاف گرم کیا جائیگا”۔
امریکی اہل کتاب اور پاک فوج مسلمان ہے۔ نبی ۖ نے اسلام کے بڑے دشمن قریش مکہ سے بھی صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا۔ افغان طالبان اور TTPاب 10سال تک ہرقسم کی جنگ بند کریں۔ اور اپنی غلطیوں کا محاسبہ کریں۔ خطے کی مشکلا ت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔ امن وسلامتی کا راستہ ترقی وعروج کی منزل اور فتح پر پہنچاسکتا ہے۔ جنگ وجدل میں تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں رکھا ہے۔ اچھا ماحول کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

گڈ طالبان بیڈ طالبان کا فائدہ کس چیز میں ہے؟

پا کستان میں گڈ اور بیڈ طالبان کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ عبداللہ محسود گوانتانا موبے سے جب رہا ہوکر آیا تو اپنا گروپ تشکیل دیا پھر بیت اللہ محسود کا گروپ بھی بن گیا۔ بیت اللہ محسود گڈ اور عبداللہ بیڈ بنادیا گیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ بیت اللہ محسود بیڈ اور عبداللہ محسود کی باقیات گڈ طالبان بن گئے جس نے کمیٹی کے نام سے کام شروع کیا۔ کمیٹی کی سرپرستی حکومت کرتی تھی۔ کمیٹی کو فری ہینڈ دیا گیا تو اس میں ہرطرح کے لوگ شامل ہوگئے۔ بدمعاش لوگوں کی طرف سے جہاں طالبان کے ساتھ ظلم وزیادتی کی گئی وہاں شریف و بے گناہ لوگ بھی مارے گئے۔ پھر کمیٹی کے نام سے کام کرنے والے مارے گئے۔
اب تحریک طالبان پاکستان کے بڑے یہاں موجود نہیں ہیں لیکن ایک طرف بے لگام گروپ ان کے نام پر خود ساختہ کاروائیاں کرتے ہیں تو دوسری طرف ریاست نے ان کے خلاف گڈ طالبان بھی پال رکھے ہیں۔ اگر دونوں طرف کے لوگ پہلا کام یہ کریں کہ بندوق رکھیں۔ دوسرا اپنے جائز روزگار کی تلاش اور امن وسکون کی زندگی اپنائیں۔ تیسرا یہ کریں کہ اپنے اپنے چھوٹے بڑے جرائم کا بہت کھل کر اعتراف کریں۔ حضرت وحشی نے نبیۖ کے چچا سیدالشہداء امیر حمزہ کے کلیجے کو نکال دیا اور حضرت ہندہ نے چبا ڈالا تھا جس سے رسول ۖ نے فرمایا تھا کہ ”میرے سامنے مت آؤ ، میرا چچا یاد آتا ہے”۔ لیکن ان کو معاف کیا گیا تھا تو طالبان کی بھی معافی بالکل ہوسکتی ہے۔ دنیا میں توبہ کا دروازہ بالکل کھلا ہے۔ جب افغانستان سے نیٹو نکل گیا اور افغان طالبان نے قبضہ کرلیا تو ہم نے اپنے اخبار میں لکھ دیا تھا کہ طالبان میں بہت اچھے لوگ ہیں۔ بہت سے لوگ اس وقت طالبان بن گئے جب ان کی ساری دنیا اور اچھے لوگ تائید کرتے تھے۔ اب وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔ امریکہ نکل چکاہے تو ایسے طالبان کی باعزت واپسی کا راستہ ہموار کیا جائے۔
پھر جب انکے ساتھ معاہدہ ہوا تو پاکستان میں تبدیلی آگئی۔ لوگوں نے بھی جلوس نکالے تھے۔ اب گڈ اور بیڈ دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں لیکن امن وسکون کسی کوبھی میسر نہیں اسلئے ہتھیار رکھیں۔

اقبال جرم یامکرنے میں؟ فائدہ کس چیز میں ہے؟

حضرت آدم و حواء نے بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی اور ابلیس لعین مردودنے بھی۔ حضرت آدم وحواء نے اقبال جرم کرلیا اور بلند مرتبہ پالیا اور ابلیس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور مردود لعین بن گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس کو توبہ کی توفیق کیوںنہیں مل سکی ہے جبکہ حضرت آدم وحواء کو توبہ کی توفیق مل گئی۔ دونوں میں بنیادی فرق کیا تھا؟۔
شیطان لعین نے جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تھا اور اس میں تکبر تھا جبکہ حضرت آدم و حواء نے جان بوجھ کر حکم عدولی کا ارتکاب نہیں کیا۔ اسلئے شیطان اپنی غلطی پر ہٹ دھرمی سے قائم رہا تھا اور حضرت آدم وحواء نے جلدازجلد توبہ کرلی تھی۔
جب TTPنے ہم پر حملہ کرکے 13افراد کو شہید کردیا تو اقبال جرم کرلیا، معافی بھی مانگی اور یہ بھی واضح کردیا کہ تمہارے قرابتدار پیروں نے غلط پروپیگنڈہ کیا قاری حسین کا مرکزی کردار تھا لیکن قاری حسین وغیرہ کو کیوں مغالطہ دیا گیا تھا؟۔
طالبان نے اقبالِ جرم کرلیا، معافی مانگ چکے اور انہوں نے یہ پیشکش بھی کی کہ اصل مجرموں کو بھی ہم ٹھکانے لگاتے ہیں ۔ شہداء کے بدلے میں قاتلوں کو بھی قتل کردیں گے۔ لیکن پھر لائن کٹ گئی اب اگر حقائق سامنے آجائیں تو مجرم کے چہروں سے نقاب ہٹ جائینگے اور یہ سزا بھی کم نہیں ہے۔
افغان طالبان، داعش، تحریک طالبان پاکستان اور سارے جنگجو گروپوں کے قائدین ایک جگہ بیٹھ کر اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ دوسرے کسی اور کی غلطیوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ اگر افہام وتفہیم سے کام نہیں لیا گیا تو امریکہ اور دوسری قوتیں لڑائیں گی ۔
محمود خان اچکزئی نے بھی کہا ہے کہ” اس خطے میں بجلی، گیس اور پیٹرول مفت ہے لیکن افغانستان اور پاکستان کو آپس میں ایک ہونا ہوگا۔ میں طالبان اور پاکستان کی صلح کراتا ہوں”۔ اگر صلح نہیں ہوئی تو جنگ ہوگی ۔ ڈرون وجہازوں سے بمباری ہوگی۔ طالبان قیادت رہے گی اور نہ پاک فوج۔ عراق اور لیبیا کی طرح تباہ اور تیل وگیس پر قبضہ کرلیںگے۔ عمران خان اپنی ماں فوج کی گود میں بیٹھا تھا، کالے تیتر وں کی لڑائی صرف آواز تک محدود رہتی ہے۔

حنفی علماء ومفتیان کاعلم!

کانیگرم میں مولانا شاداجانکی مسجد میں پہلے مولانا گل بہادرتھا۔جو علماء سے غصہ میںکہتا تھا کہ ”قرآنی نسخے پرتمہیں پیٹ پیٹ پر اتنا ماروں گا کہ تمہاری بدعات کے سارے کیڑے گر جائیں”۔
وہ مسجد کی امامت اور دینی خدمت پر معاوضہ لینا حرام سمجھتا تھا۔ محنت مزدوری کرتا تھا۔ شاید مزدوری کرنے دوبئی گیا۔بڑا نیک تھا لیکن لوگ اس کو تھوڑا پاگل سمجھتے تھے۔ اگر قرآنی نسخے پر مارنے کی بات پنجاب میں کرتاتو لوگ اس کو گستاخی پر قتل کردیتے مگر ان کو یہ پتہ نہیں کہ ”فتاویٰ شامیہ میں صاحب الھدایہ کی کتاب تجنیس کے حوالے سے لکھا ہے کہ علاج کیلئے نکسیر سے سورہ فاتحہ کو لکھنا جائز ہے اور پیشاب سے بھی سورہ فاتحہ کو پیشانی پر لکھنا جائز ہے۔ اگر یقین ہو کہ اس سے علاج ہوجائے گا”۔
صدر تنظیم المدارس مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” علامہ شامی کو قرآن سے عقیدت تھی۔ بال کی کھال اتارنے کے چکر میں یہ غلطی سرزد ہوگئی، اگر سورج کی طرح یقین ہوجائے کہ علاج ہوگا تب بھی سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے سے مرجانا بہتر ہے”۔علامہ سعیدی نے مجھے بتادیا کہ ” علماء نے میرا گریبان پکڑلیا تھا کہ تم نے علامہ شامی کے خلاف لکھنے کی جرأت کیسے کی؟ اور میں قتل ہوتے ہوتے اور پٹتے پٹتے رہ گیا تھا”۔
کوئٹہ کے سیدفرمان شاہ کو ہم نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی بھیج کر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف فتویٰ لیا۔پھر مفتی تقی عثمانی کی کتاب فقہی مقالات جلد چہارم سے بھی حوالہ نقل کرکے اخبار ضرب حق میں شہ سرخیوں کیساتھ شائع کردیا تھا۔
بریلوی مکتب خاص کر دعوت اسلامی والوں نے ہمارے اخبار کے بڑے پیمانے پر فوٹوسٹیٹ کرکے مفتی تقی عثمانی کے خلاف زمین کو بہت گرم کردیا تھا لیکن ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے اپنے کیا کہتے ہیں؟۔ مفتی تقی عثمانی نے روزنامہ اسلام کراچی میں لکھ دیا کہ ” میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔اپنی کتابوں ”فقہی مقالات” اور” تکملہ فتح الملہم” سے نکالنے کا اعلان کرتا ہوں اور تنبیہ پر شکریہ ادا کرتاہوں”۔
مفتی تقی عثمانی نے خوف کی وجہ سے ”رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ ” کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ ہم نے بریلویوں کو یاد دلادیا کہ تمہاری کتابوں میں بھی یہ چیز ہے تو پھر انہوں نے مفتی تقی عثمانی کی جان چھوڑ دی تھی۔پھر مفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” میں فاتحہ کوپیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا ۔ اسلام کا بیڑہ غرق علماء نے کیا اسلئے انکے نام کیساتھ” رح” لکھنا چاہیے۔

ہمارے علماء ومفتیان!

کانیگرم میں مولانا شاداجان نے کہا کہ نماز کی سنتوں کے بعد اجتماعی دعا و حیلہ اسقاط بدعت ہے۔ جس پر مولانا محمد زمان نے قادیانیت کا فتویٰ لگایا۔ ہماری مسجد میں باہر سے علماء بلائے گئے۔ دونوں کی بات سن کر انہوں نے اپنا فیصلہ فارسی میں سنایا لیکن عوام کو فارسی نہیں آتی تھی۔ مولانا محمد زمان کے ہاں ڈھول کی تاپ پر رقص ہوا کہ ہم جیت گئے۔ مولانا شاداجان کے حامیوں نے بھی ڈھول بجاکر اعلان کردیا کہ ہم جیت گئے ۔ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان نیک اور شریف انسان تھے جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ اگر عوام کو اتنا بتادیتے کہ دارالعلوم دیوبند میں سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں ہوتی۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کی بڑی کتاب ہے کہ سنتوں کے بعد اجتماعی دعا بدعت ہے۔ تو معاملہ حل ہوتا۔ حق بولنے سے خاموش تھا۔ اسلئے کہ خود بھی سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا۔
سہراب گوٹھ میں جنت گل کی مسجد میرے کلاس فیلو مولانا عبدالرزاق ژوبی نے پکڑلی تھی اسلئے کہ وہ آبادی حکومت نے مسمار کردی تھی۔ امام بھی چھوڑ کر گیاتھا۔ افغانی نماز پڑھنے آتے تھے ۔ مجھے چنددن ژوبی صاحب نے امامت کی خدمت سپرد کردی ۔ مقتدیوں نے پوچھا کہ” سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کیوں نہیں مانگتے؟”۔ جب میں نے دیوبند کا بتایا اور کراچی کے مدارس کا بتایا تو بہت حیران ہوگئے کہ پھر ہمارے افغانستان میں کیوں مانگی جاتی ہے؟۔ میں نے کہا کہ مولوی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں مارسکتا ہے ۔ افغانی ان کو بھگا دیں گے کہ نیا دین بنادیا۔ وہ بہت خوش ہوگئے۔ کچھ لوگ اسکے گواہ ہوںگے۔
پنج پیری خود کو دیوبندی سمجھتے ہیں اور دیوبندیوں سے بہت اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم دیوبندی اور پنج پیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے۔ مولانا قاسم نانوتوی و مولانا رشیداحمد گنگوہی میں اختلاف تھا۔ ہم دیوبندی بریلوی، حنفی اہل حدیث اور شیعہ سنی کو ایک پلیٹ فارم پر متحدو متفق کرنا چاہتے ہیں۔
لوگوں میں شدت جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مخلص علماء ومفتیان ایک جگہ بیٹھ کر الزام تراشی کے بجائے اپنی اپنی کتابوں میں غلطیوں کا اعتراف کریں تو پاکستان سے بڑا انقلاب آجائے گا۔ اور پاکستانی آئین کے مطابق قرآن وسنت سے قانون سازی کا آغاز ہوجائے گا۔ لوگوں میں جمود ٹوٹے گا اور فرقہ واریت کی جگہ متفقہ قانون سازی ہوگی۔ سب سے زیادہ وضاحتیں قرآن وسنت میں طلاق و رجوع کے مسئلے پر ہیں۔ اگر مذہبی طبقے نے قرآن کی طرف دیکھا تو فرقہ واریت کی گمراہی ختم ہوگی۔

ریاست مدینہ کا قانون

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کابینہ نے ایک بل پاس کیا ہے جس پر صحافیوں نے مزاحمت کا اعلان کیا۔ دھاندلی کی پیدوار حکومت قانون سازی اپنے مقاصد کیلئے کرے توکیا مثبت تبدیلی آئے گی؟۔
جب عمران خان، شہبازگل اور اعظم سواتی نے DGCISI فیصل نصیرپرالزام لگائے تو عوام میں بڑی مقبولیت مل گئی۔ صحافی احمد نورانی نے شہباز گل اور اعظم سواتی کے الزامات کو غلط قرار دیا، حالانکہ وہ تحریک انصاف کا بڑا حامی اور فوج کا سخت مخالف نظر آتا ہے۔ بہتان پر سزا ہو تو یہ قرآن کے قانون کے عین مطابق ہے۔ عمران خان کی FIRاس کی مرضی کے مطابق درج نہیںہورہی تھی تو کہتا تھا کہ مجھ سے یہ روش ہے تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟۔
جب عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتا تھا تو کہتا تھا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ پہلے قومیں اسلئے ہلاک ہوگئیں کہ امیر وغریب اور طاقتور وکمزور کے درمیان فرق کرتے تھے۔ اگر عمران خان اپنے دور میں اس تفریق کو ختم کرکے تھانوں میں عام لوگوں کو بھی اہمیت دے دیتا تو اس پر برے دن نہ آتے۔
حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو بہتان کی سزا 80 کوڑے واضح کی گئی۔ یہی سزا کسی غریب خاتون پر بہتان لگانے کی ہے ۔ حضرت عائشہ ہماری ماں، نبیۖ کی زوجہ محترمہ اور خلیفہ اول ابوبکر صدیق کی صاحبزادی پر بہتان کی وہی سزا ہو،جو عام غریب خاتون کیلئے ہو تو پھر کیا پاکستان میں حکمرانوں کے تحفظ کیلئے کوئی ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس میں عوام کو لوٹنے کا خدشہ موجود ہو؟۔ پنجاب پاکستان کیلئے زیادہ اہمیت رکھتا ہے مگر پنجابی کیساتھ بھی شروع سے زیادتی جاری ہے۔ جہاں مسلم لیگ کے سخت مخالف خضر حیات ٹوانہ کی حکومت 1942 سے1947ء تک قائم تھی، مسلم لیگ اپوزیشن تھی ۔
آج کی طرح انگریز دور میں مقتدرہ کی چلتی تھی اوراگر مریم نواز متنازعہ قانون کی جگہ پر قرآن کے مطابق برابری کی بنیاد پر ہتک عزت کا قانون بناتی تو مریم نواز مقبول بن جاتی۔ جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، جماعت اسلامی قرآن کے مطابق ہتک عزت پر 80 کوڑے کی آواز اٹھائیں توپھر کوئی بہتان نہیں باندھے گا۔ پیسوں کی سزا بھی امیروغریب کیلئے یکساں نہیں ہوسکتی ہے۔ جب کوئی سوشل میڈیا کا صحافی ایک مرتبہ 80کوڑوں کی سزا کھائے تو اس کا چینل بھی پھر کوئی نہیں دیکھے گا۔
ہماری جمہوریت فیصل واوڈا، محسن نقوی ہے اور 6ججوں نے بھی عدالت کا ترازو بگاڑ دیا ہے اسلئے پاک فوج براہ راست قرآن کیلئے آواز اٹھائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

ےٰبنی اٰدم لایفتنکم الشیطٰن کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما انہ یرٰ کم ھو و قبیلہ من حیث لاترنھم انا جعلنا الشیٰطین اولیاء للذین لایؤمنون (الاعراف:27)
” اے آدم کی اولاد ! خبردار تمہیں شیطان فتنے میں نہ ڈالے جیسا کہ تمہارے والدین کو بہشت سے نکالا۔ ان دونوں کے کپڑے اتروادئیے تاکہ ان کی شرمگاہوں پر ان کی نظریں پڑجائیں۔بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے ہیں”۔
لڑکا اور لڑکی دنیا کی جنت میں رہتے ہیں۔ دلہن دلہا کی جگہ بھگوڑے بنتے ہیں تو تذلیل ہوتی ہے۔ حدیث میں واضح ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ مولوی دنیا بھر کے لوگوں پر منکرِ حدیث کا فتویٰ لگانے میں کوئی حرج محسوس نہ کرے لیکن خود اپنی تعلیمات میں اس کا بہت بڑا مرتکب ہوتا ہے۔ جس کا اسے اور اسکے ماحول کو احساس تک نہیں ہوتاہے۔
ایسے بیہودہ نکاح کیلئے شریف گواہ کہاں مل سکتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ”نکاح میں دو صالح گواہ مقرر کرو” ۔لیکن حنفی مسلک میں ضرورت کیلئے دو فاسق کی گواہی کافی ہے۔ حدیث ہے کہ دف بجاکر نکاح کا اعلان کرو۔ حنفی کہتا ہے کہ دو فاسق گواہوں کی خفیہ گواہی بھی اعلان ہے۔ انکار حدیث کا فتنہ تو کوئی علماء ومفتیان سے سیکھے۔ انکار حدیث کے اس فتنے کی وجہ سے معاشرے میں بھی بہت بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کے بھاگنے کیلئے علماء نے مکمل راستہ ہموار کیا ہے اور یہ اتنا نالائق طبقہ ہے کہ اپنی نالائقی کا احساس تک نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ اس کا سارا الزام معاشرے اور ماحول پر ڈالنے سے بھی نہیں شرماتا ہے۔اس بیچارے گدھے کویہ پتہ تک نہیں ہوتا ہے کہ اس کے اپنے غلط نصاب کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کو قتل کردیا جاتاہے اور اگر وہ بچ جائیں تو پھر ان کے خاندان کی عزت فالودہ بن جاتی ہے۔ جب لڑکا لڑکی کو اس طرح سے شادی کی اجازت مل جائے تو وہ ہوامیں ہی معلق ہوجاتے ہیں۔ نوکری اور کاروبار ہو تو بھی چھوٹ جاتا ہے اور اپنے اپنے خاندانوں سے بھی ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ ان کی عزت بھی تذلیل میں بدل جاتی ہے۔
جب معمول کے مطابق شادی ہوتی ہے تو عزتوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ ایک طرف سے جہیز تودوسری طرف سے حق مہر ملتا ہے۔ دوست احباب تحفے تحائف دیتے ہیں۔ بہتر مستقبل کیلئے نوکری اور کاروبار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آل اور اولاد کیلئے دونوں طرف کے رشتہ آپس میں مل جل کرخوشیوں کے سامان مہیا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دو خاندانوں میں دوستی اور رشتہ داری کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اختلافات کی صورت میں دونوں طرف کے رشتہ دار سمجھانے بجھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف انتہائی خوشنما تصویر دکھائی دیتی ہے اور دوسری طرف انتہائی بدنما اور بھیانک تصوردکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ دونوں صورتوں میں حق اور باطل کا فرق بہت واضح ہے لیکن ایک طرف ہمارے علماء ومفتیان نے احادیث کا انکار کرکے غلط راستہ ہموار کردیا ہے تو دوسری طرف عورت کے صحیح حقوق بھی ہمارے اسلامی معاشرے میں بالکل نہیں ملتے ہیں اور اگر عورت پر زبردستی سے والدین اپنے فیصلے مسلط نہ کرتے تو یہ حادثات بھی پیش نہ آتے۔ عورت بیوہ وطلاق شدہ ہو پاپھر کنواری اس پر والدین زبردستی اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے ۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے نابالغ لڑکیوں و دیگر معاملے پر شادی کے حوالہ سے جوظالمانہ فتوے لکھے،اگر خلفائ بالخصوص حضرت عمر کی حکومت ہوتی تو ان فتوؤں پر مفتی تقی عثمانی کو بالکل سرعام کوڑے مارے جاتے۔ اسلام کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ اسلام کی درست تعلیم کو عام کرنا اہم فریضہ ہے۔ بنی ہاشم نے پہلے دور میںبھی اسلام کیلئے قربانی دی مگر ابولہب بھی ان میں تھا لیکن ہم ابوطالب وعلی کا کردار ااداکریںگے۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ٔٔٔ٭٭٭
بھاگ کر شادی کرنے والی سلمہ شیخ کو معمولی بات پر اس کے شوہر نے گلا دبا کر قتل کیا۔ ہماری اکثرلڑکیاں لوفر قسم کے لڑکوں کی پیار بھری باتوں میں آکر گھر سے فرار ہوتی ہیں، جس میں قرآن وحدیث کیخلاف شرعی مسائل کا بہت بڑا عمل دخل ہے ذرا سوچئے سہی!
٭٭٭
16سال کی پٹھان لڑکی شادی کرنے کیلئے لاہور آگئی۔
3سال کا تعلق ہے اب کراچی سے بھاگ آئی۔
گھر والے نہیں مان رہے تھے تو ان کو چھوڑ دیا۔

السلام علیکم ناظرین! دیکھو ٹی وی کے ساتھ میں ہوں آپ کی ہوسٹ رابعہ مرزا خوش آمدید کہوں گی۔ لڑکی اسکے ساتھ لڑکا ہے ۔ ان کا آپس میں کیا ریلیشن ہے آئے ہیں یہ کراچی سے۔ ریسکیو کیا ہے ان کو پولیس تحفظ مرکز نے۔ میں لڑکا لڑکی سے پوچھتی ہوں کیا معاملہ ہے کیوں آئے ہیں ؟۔ لڑکی سے سوال:
نام؟۔ امبرین ۔ عمرکیا ؟16سال۔ کہاں سے آئی ہو؟۔ کراچی سے ۔ لڑکے کیساتھ؟۔ ہاں۔ کیا لگتا ہے ؟۔ محبت کرتی ہوں۔لڑکاپٹھان ہے ؟۔ ہاں۔ تو گھر والوں نے شادی نہیں کی؟۔ امی نہیں راضی ۔ وہ کہتی ہیں اسکے ساتھ نہیں کر نی۔کتنا عرصہ ہو ا محبت کا؟۔3سال!13سال کی عمر سے تم نے محبت کر لی تمہارا کیا لگتا ہے ،ماموں کا لڑکاہے؟۔ ج: پڑوسی ہے۔ س :کیا کرتا ہے لڑکا؟۔ ج:کباڑ کا کام کرتا ہے۔ س: پیسہ ویسہ کما لیتا ہے؟۔ ج: ہاں ۔ س: اسکے اور تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں؟۔ ج: اسکے دو بہنیں تین بھائی اور میرے دو بھائی چھ بہنیں۔ س: ابو کیا کرتے ہیں؟۔ ج: ابو گاڑی چلاتے ہیں۔ س:اب کیسے شادی کر لو گے؟۔ ج: یہ کہہ رہے ہیں امی لوگ آ رہے ہیں۔ س: کب سے بھاگے ہو ؟۔ ج: پرسوں سے۔ س: پتہ تھا لاہورکا، جو بھاگ کر آتا ہے، لاہورمیں کیا ہے؟۔ ج: پتہ نہیں، س: امی سے بات ہوئی؟۔ج: پولیس والوں نے کی۔ س: صبح آئیں گے وہ؟۔ج: ہاں۔س: شادی کر لیں گے؟۔ ج: ہاں ۔ س:نہ کی تو سوچو آگے پھر کیا ہوگا؟۔ ج: میں تو کروں گی اس سے ہی کروں گی ۔ س: کرنی ہے تو اسی سے نہیں تو ؟۔ ج:اور کسی سے بھی نہیں کروں گی ۔ س: اس کی عمر کیا ہے اس کا شناختی کارڈ ہے تمہارا تو شناختی کارڈ نہیں بنا؟۔ ج: نہیں بنا۔ سوال: لڑکے کی کیا عمر ہے؟۔ ج:21سال ۔ سوال: باقی بہن بھائیوں کی شادی ہوئی ہے تمہاری ؟۔ ج: ہاں ۔ س: تمہاری نہیں ہوئی اور تم سے بڑی کی بھی؟۔ ج: ہاں۔ س: اب تم پھر کر لو گی جلدی شادی یا وہ کہیں گے کہ ہم یہی کریں گے تو پھر ویٹ کر لو گی؟۔ج: صحیح ہے۔ سوال: پڑھی ہوئی ہویا کچھ نہیں پڑھا قرآن پاک پڑھا؟۔ ج: نہیں۔ قرآن پاک ابھی پڑھنے جاتی ہوں ۔ س: تو کس طرح محبت ہوئی ہے موبائل رکھا ہوا تھا آپس میں؟۔ ج: پہلے نہیں تھا ابھی ہے۔
س: اس نے لے کے دیا؟۔ ج: نہیں ابو کا موبائل ہے ۔ امی لوگوں کو نہیں پتہ ہے۔ س: سب چوری چوری کام؟۔
(پھرلڑکے سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے)
سوال: ہاں جی کیا نام ہے ؟۔ ج: یاسین۔ س: کب سے محبت ہے؟،ج: تین سال سے۔ س: تو کیا کرتے ہو کماتے ہو، صرف عشق معشوقیاں کی ہیں؟۔ ج: کباڑ کا کام ہے چاچو کیساتھ اپنا کام ہے۔ س: کتنا کما لیتے ہو ؟۔ ج: مہینے کا28،30ہزار۔ س: خوش رکھو گے؟۔ج: انشااللہ۔ س:30ہزار سے کیا بنتا ہے ایک ہزار روپے کا تو برگر آجاتا ہے تو اس کو کیسے خوش رکھو گے ؟۔ ج: اللہ کو منظور جیسا ہوگا خوش رکھے گا اللہ۔ س: اسکے ماں باپ نے فیصلہ کیا تم ان کو پسند نہیں ہو تو پھر اس کو کیوں بھگایا ؟۔ ج: اس نے یہ بولا کہ مجھے بھگا کرلے جاؤ، میں نے بولا کہ صبر کروتھوڑا ،امی ابو مان جائیں گے ہم ان کو راضی کر لیں گے بس پھر اس نے بولا کہ نہیں امی ابو نہیں مانیں گے امی نے ضد پکڑی ہے اور وہ نہیں مانے گی۔ س: اس نے ضد کیا کہ بھاگ چلتے ہیں؟۔ ج: ہاں۔ س: تو کب اس نے ذہن میں ڈالا کہ بھاگنا ضروری ہے اب ہمارا شادی نہیں ہوگا ؟۔ ج: اس نے تو رمضانوں میں کہا تھا مگر میں نے بولا ابھی نہیں بڑی عید کے بعد تک گزارہ کرتے ہیں اسکے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ میں اپنی امی والدہ کو بھی بھیج دوں گا بہنوں کو بھی ۔ س: تمہارے گھر والے راضی ہیں؟۔ ج: جی سب راضی ہیں مگر اس کی امی نہیں ۔ س: اب کیا کرو گے تمہارے گھر والوں سے رابطہ ہوا انکا ؟۔ ج: جی وہ راستے میںہیں۔ س: تمہارے آ رہے ہیں انکے بھی ؟۔ ج: دونوں آرہے ہیں ۔ س: پھر کیا تم یہیں پرشادی کر لو گے یا ان سے لکھوا کے جا ؤگے کہ شادی کریں گے تو ہم گھر جائیں گے ورنہ نہیں؟۔ ج: ہم شادی کریں گے پھر گھر پہ جائیں گے۔ یہاں پہ ہمیں پولیس والوں نے بھی بولا تھا کہ ہم انکے ساتھ بات کریں گے ان کو راضی کریں گے ،مولوی صاحب کو بلاکر آپ لوگوں کو نکاح کروا کے آپ لوگوں کو بھیج دیں گے۔
ناظرین! یہ جوڑا بھاگ کے آیا۔ باقی کیس ہسٹری کیا کہتی ہے ہم بابر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اصل میں معاملہ کیا ہے۔ چلئے میرے ساتھ السلام علیکم جی! وعلیکم السلام! کیسے ہیں بابر صاحب؟۔جی الحمدللہ میڈم جی۔سوال: بابر صاحب یہ جو ہے چھوٹی عمر کے ہیں بالکل جوان ہیں اور بچی کی بھی عمر نہیں شناختی کارڈ بھی نہیں بنا۔ ان کو کیسے ریسکیو کیا کہاں سے آئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہے کیا کیس ہسٹری ہے کیا کہیں گے؟۔ جواب: ادھر مسافر خانے صبح7بجے کے قریب آکر بیٹھے ہیں تو ان کو شک کی بنیاد پہ ہم نے جو تحفظ مرکز بلایا ہے۔اس لڑکے کو شک کی بنیاد پہ بلایا ۔اس نے پہلے تو نمبر سارے غلط بتائے پھر بعد میں ان کا موبائل لیا تو اس میں سے نمبر وغیرہ نکالے۔ لڑکی کا بھی نمبر اس کے موبائل سے نکال کر اس کے گھر والوں سے رابطہ کیاتوپھر لڑکی کے والدین نے کہا کہ ہم اسے لے جائیں گے اور لڑکے کے والد نے کہا میں تو ادھر اپنے کام پر ہوںمیں تو نہیں آرہا۔ سوال: لڑکے کے پیرنٹس نے اس کے پیچھے آنے سے انکار کردیا؟۔ جواب: ہاں !ظاہر سی بات ہے انہوں نے جب بولا کہ ہم تو نہیں آسکتے ہمیں تو پتہ نہیں کہ وہ کدھر ہے؟۔ تو وہ پھر ہم نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ نہیں آئیں گے تو ہم کاروائی کر دیتے ہیں ۔ پھر جب کاروائی کا سنا تو کہتے ہیں نہیں جی ہم آجائیں گے آپ ان کو بٹھا کے رکھیں انہیں جانے مت دیں۔ رابطہ کر کے پھر انہیں بلوایا کہ آپ ضرور پہنچیں۔ انہوں نے کہا جی ابھی تو دوپہر کو ان کو ہینڈ اوور کر کے گئے ہیں جو ہماری فرسٹ ٹیم تھی انہوں نے بھی رابطہ کیا ۔بعد میں انہوں نے ان کو بتایا کہ ہمیں بس نہیں مل رہی تو انشااللہ شام چار بجے ٹرین ملے گی تو انشااللہ صبح تین چار بجے پہنچ جائینگے ۔سوال: تو اب ان کے پیرنٹس آرہے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد کا کیا معاملہ ہے کیا راضی ہیں انکے گھر والے آپس میں ان کا نکاح کرنے کیلئے کیونکہ ان بچوں نے کہا ہے کہ پولیس والوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ آپ کا نکاح کروائیں گے اس کے بعد آپ کو ان کے پیرنٹس کے حوالے کیا جائے گا؟۔ جواب: نہیں جی پولیس کا کام تو یہاں تک ہی تھا۔ پولیس نے تو ریسکیو کرنا ہوتا ہے اور ریسکیو کر کے ان کے والدین کے ہینڈ اوور کرنا ہوتا ہے اور یہ ان کی خاندانی باہمی رضامندی سے یہ اگر چاہیں تو ہماری طرف سے جاتے ہی نکاح کر لیں یہاں سے باہر جا کے نکاح کر لیں لیکن ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ انہیں سمجھا ضرور سکتے ہیں کہ اگر آپ کے بچے بالغ ہیں اگر آپ کے بچے اچھے طریقے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ ان کی بات ضرور سنیں گھر جا کے۔ اب وہ سنیں یا نہ سنیں یہ تو ان کے اپنے گھر کا میٹر ہے ۔
جی ناظرین! آپ نے دیکھا اورسنا کہ اگر خدانخواستہ یہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم ان کو ریسکیو نہ کرتی تو بچی بہت ینگ ہے16سال کی ان کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ اس معاشرے میں کیا چل رہا ہے خدانخواستہ کسی کریمنل ایکٹیوٹی یا کسی کریمنل گینگ کے ہاتھ آ جاتے تو ان کو خدانخواستہ اس لڑکی کوسیل بھی کیا جا سکتا تھا اغواء بھی کیا جا سکتا تھا لڑکا بھی کوئی اتنا ہائی فائی نہیں ہے یا اتنا سٹرانگ اور مضبوط نہیں ہے نہ فائنینشلی ہے اور فزیکلی ہے۔ لڑکی کو کس طرح پروٹیکٹ کر سکتا ہے؟۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ یہ آئے کیوں ہیں ؟۔یا کس بیس پہ ہیں ؟۔ یا کیا سوچ کے آئے ہیں؟۔ پھر میں کہوں گی کہ اپنے گھر میں ارد گرد بچوں کو ضرور مانیٹر کریں ان کی ایکٹیوٹی کو ضرور چیک کریں ان کے حلقہ احباب کو چیک کریں کہ بچوں کی کیا ایکٹیوٹی ہے کہاں آرہے ہیں کہاں جا رہے ہیں کہاں اٹھ رہے ہیں؟۔ اپنے آپ مصروفیات زندگی میں اتنا ٹائم ہو تاکہ آپ کو اپنے بچوں کے اوپر تھوڑی سی مانیٹرنگ ہو ان کی ایکٹیوٹی کا پتہ ہو یہ نہ ہو کہ کل کو پچھتائیں اس سے پہلے آپ الرٹ ہو جائیں۔ باقی آئی جی صاحب کا یہ اقدام ہمارے سر آنکھوں پر۔ پولیس تحفظ مرکز کی ایک ٹیم نے ایک اور کیس کو حل کیا ہے ایک بچہ بچی کو انشااللہ صبح اپنے پیرنٹس کے ہینڈ اوور کیا جائے گا قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا پھر کہوں گی کہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم اور پولیس تحفظ مرکز جنہوں نے بنایاIGصاحب ان کے اقدام کو ہم سلیوٹ کرتے ہیں قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا حاضر ہوں گے نئے پروگرام میں فی امان اللہ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

ایک عظیم انسانی معاشرہ

ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی تعبیر وتشریح پر حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، جعفری اور اہلحدیث وغیرہ کا اتفاق ہوجائے تو امت مسلمہ کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔ کیا حنفی اور شافعی کا قرآن کی تفسیر پر کوئی اتفاق تھا؟۔ نہیں، ہرگز بھی نہیں!۔ لیکن اسکے باوجود حنفی و شافعی ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں؟۔ہاں جی بالکل بھی!۔
مفتی منیر شاکر نے عوام کو قرآن پہنچانے کی جس تحریک کا آغاز کیا، بہت لوگ ان کی سن رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں اور اتفاق کررہے ہیں ۔ جب آدمی چلنا پھرنا سیکھتا ہے تو گرتا اور سنبھلتا ہے۔غلطی کرتا ہے اور ٹھیک طریقے سے سدھرتاہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولاناانور شاہ کشمیری نے فرمایا کہ ”میں نے ساری زندگی ضائع کردی ۔ قرآن وحدیث کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہی مسلک کی وکالت کی ہے”۔ اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے”۔
قرآن کے ذریعے عالم اسلام اور عالم انسانیت کا ایک عظیم معاشرہ بن سکتا ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیم کو علماء ومشائخ کے سامنے لائیں گے تو بات بن جائے گی۔ علماء دیوبند نے1857کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد معاشرے میں اسلامی تعلیم کو زندہ رکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔
برصغیر پاک وہند میں مدارس قرآن وسنت کی تبلیغ کا اہم ترین ذریعہ تھے۔ قرآن واحادیث کے الفاظ کی حد تک تو مدارس اہم ذریعہ ہیں کیونکہ عربی کے بغیر قرآن اور احادیث کے الفاظ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن جس طرح سے کہا جاتا ہے کہ حج وعمرے کے مسائل اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک کوئی عملی طور پر حج وعمرے کی ادائیگی نہ کرے۔ اسی طرح قرآن و حدیث کے احکام کا تعلق اگر عبادات سے ہو تو جب تک عملی طور سے عبادات کو اپنا لائحہ عمل نہ بنالیا جائے تو عبادات سمجھ میں نہیں آسکتی ہیں۔ مثلاً نماز، روزہ، وضو اور غسل کے احکام کو سمجھنے کا تعلق عملی زندگی سے ہے۔ اسی طرح معاشرتی احکام کا تعلق بھی عملی زندگی سے ہے۔ جب تک نکاح وطلاق اور دوسرے معاشرتی معاملات سے کسی کا عملی واسطہ نہیں پڑتا ہے تو پڑھنے اور پڑھانے سے شرح صدر نہیں ہوتا ۔ اسی طرح معاشی واقتصادی مسائل ہیں اور اسی طرح وہ احکام ہیں جو حکومت کے نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد افغانستان میں طالبان کو اس سے واسطہ پڑگیا ہے۔ امیر المؤمنین ملا عمر اور امیرالمؤمنین ہیبت اللہ کے اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے بہت فرق ہے۔ داڑھی، تصویر اور نماز کے مسئلے پر پہلے جیسی شدت ابھی نہیں رہی ہے۔ یہ انحراف نہیں بلکہ سمجھ اور تجربات کا بہت واضح فرق ہے۔
سعودی عرب اور ایران بھی بدل رہے ہیں۔ خلافت کے قیام سے نئے نئے تجربات پہلے سامنے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے زبردستی سے زکوٰة کا نظام نافذ کیا اور اس کیلئے قتال بھی کیا۔ حضرت عمر نے بدری اور غیربدری صحابہ میں وظائف کے اندر فرق رکھا۔ حضرت عثمان نے حضرت ابوبکر وعمر کا نظام اپنایا۔ حضرت علی نے نبی ۖ کے نظام کو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی لیکن ان کو دسترس حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ حضرت حسن نے امیرمعاویہ کے حق میںدستبرداری اختیار کی اور یزید کے دور میں حضرت حسین نے حکومت کا تختہ الٹنے کی بنیاد رکھ دی۔ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں اپنی خلافت قائم کی۔ یزید کے بعد مروان نے عبداللہ بن زبیر کے اقتدارکا خاتمہ کردیا۔شہید کی لاش کو کئی دنوں تک عبرت کیلئے ٹانگ دیا تھا۔
نبی کریم ۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مدینہ میں مزارعت کو سود قرار دیا، مزارعین میں قوت خرید پیدا ہوگئی۔ مزودر کی دیہاڑی دوگنی تگنی چگنی ہوگئی۔ تاجروں کے حالات بدل گئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا کہ” مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور سونا بن جاتا ہے”۔ جاگیردارانہ نظام بنیادتھا غلام اور لونڈی پیدا کر نے کا۔ عربی میں غلام کو ”عبد” اورلونڈی کو ” امة” کہتے ہیں۔ قرآن نے غلام اور لونڈی کے نکاح کا حق دیا تھا بلکہ واضح کیا کہ ” مؤمن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں مشرک زیادہ اچھا لگے”اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے ۔ اگر مشرکہ تمہیں زیادہ اچھی لگتی ہو”۔
غلام اور لونڈی جانوروں کی طرح بازاروں میں بکتے تھے۔ ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں تھے۔ اسلام نے فیصلہ کردیا کہ ”مزارعت سود اور حرام ہے ” تو اس حکم سے غلامی کی فیکٹریوں کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ جنگوں، بردہ فروشی اور جوئے اور سودی قرضوں کی وجہ سے بھی لوگوں کی اولاد ، بیگمات اور وہ خود غلامی کی زنجیروں میں جکڑجاتے تھے۔ غلامی کے تمام ذرائع کا خاتمہ کردیاتھا۔ جنگوں میں بچوں ، عورتوں اور پر امن لوگوں پر ہاتھ اٹھانے تک ممانعت کردی تھی۔ پہلے ادوار میں عزتدار لوگوں کی تذلیل کردی جاتی تھی اسلئے کہ معزز بچوں اور خواتین کو بھی غلام اور لونڈی بنادیا جاتا تھا۔ حضرت زید بردہ فروشی کے ذریعے غلام بنائے گئے تھے اور نبیۖ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا مگر پھر بھی غلامی کے دھبے کی وجہ سے اپنی بیگم کو طلاق دینی پڑگئی۔ حضرت بلال اصلی نسلی غلام تھے مگر آپ کی عزت مشرکینِ مکہ کے سرداروں سے بھی بڑھ گئی تھی۔
پھر وہ وقت آیا کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت علی کی اولاد نے پھر ملوکیت کے دور میں مزارعت شروع کردی تھی اور صحیح بخاری ومسلم وغیرہ ان حضرات کی وجہ سے دورِ رسالتۖ کے مقابلے میں مزارعت کے سود کو جواز مل گیا۔ غلام بنانے کا ایک ہی معتبر طریقہ تھا وہ مزارعت کا جاگیردارانہ نظام تھا۔اس کو مسلمانوں نے دوبارہ رائج کردیا تھا تو جو اسلام انسانوں کی غلامی سے انسانوں کو نکالنے کیلئے آیا تھا وہ اپنی افادیت کھو گیا۔
معیشت کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کے غلام امریکہ کا غلام بن گیا اوربتوں کا پجاری بھارت معیشت میں مستحکم ہونے کی وجہ سے آزاد اور عزت دار ہے ۔پاکستانی مقتدرہ اور حکمران کی عزت فالودہ بن گئی۔ عبادات میں اہم نماز اورنمازِ جمعہ ہے جس سے پہلے تجارت چھوڑنے اور بعد میں فضل تلاش کرنے کا حکم ہے۔ دنیا میں سودی نظام کی وجہ سے امریکہ ویورپ اب اسرائیل کے غلام بن چکے اور روس نے سوویت یونین کے ممالک کو خودہی آزاد کردیااسلئے کہ وہاں سودی ناسور نہیں تھا۔ ہم اسلام کے معاشی اور معاشرتی نظام سے بہت دُور ہوچکے۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب”سوانح قاسمی جلد2” میں لکھا کہ مسلمان نسل درنسل ہندؤوں کی رسم ”ستی” سے متأثر تھے۔ بیوہ شوہر کی وفات کے بعد خود کو جلادیتی تھی اور بیوہ دوسری شادی نہیں کرتی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے لکھاکہ اگر اس رسم کے خلاف بول نہیں سکتے تو دل سے برا سمجھے۔ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی بیوہ بہن کو مشکوٰة پڑھائی تو بیوہ کے نکاح کرانے کے باب کو اس سے چھپایا ۔ جب سیداحمد بریلوی کی صحبت کا فیض حاصل کیا تو کھلم کھلا تقریریں کرنے کی ہمت ہوئی۔ جس کی وجہ سے بیوہ کی شادیاں کرانے والے کے نام سے مشہور کیا گیا۔ پھر ایک دن کسی نے سوال کیا تو سمجھ گئے اور کہا کہ جواب بعد میں دوں گا۔ سیدھا اپنی بیمار بہن کے پاس پہنچ گئے اور منت کی کہ میرا وعظ بے اثر ہوگا اسلئے دوسرا نکاح کرو۔ وہ بیمار تھی مگر مجبور ہوکر نکاح کرلیا۔ یہی صورتحال مولانا قاسم نانوتوی کی بھی بیان کی ہے جن کو ”الامام الکبیر” کے لقب سے یاد کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل شہید اور مولانا محمدقاسم نانوتوی کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوانہ رسوم سے نکلے لیکن قرآن کا درست ترجمہ و تفسیر اس وقت سامنے نہیں آسکی تھی۔ اللہ نے سورہ نور آیت32میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا اور صالح غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کا بھی۔ اور ساتھ یہ صورت بھی بتادی کہ اگر آزاد عورت کا نکاح کسی غلام سے کیا جائے تو اس میں مکاتبت یعنی لکھت کا معاہدہ ہوگا ۔ اگر اس میں خیر نظر آئے تو یہ معاہدہ ہونا چاہے اور اس پر وہ مال بھی خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ پھر کنواری لڑکیوں کا مسئلہ بھی حل کیا ہے لیکن ان آیات کا انتہائی غلط ترجمہ وتفسیر کیا ہے۔ علماء ومفتیان اور شیخ القرآن وشیخ الحدیث اور جدید دانشوروں کی ایک ٹیم بیٹھ جائے۔ انشاء اللہ بہت آسانی کیساتھ اُمت کو موجودہ دور کی مشکلات سے قرآن کی واضح ہدایت سے نکالیں گے۔ ہم قرآن وسنت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ مسلکانہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدارس ومساجد کو استعمال کررہے ہیں۔ اچھے اچھے علماء حضرات کی سرپرستی میں قرآن وسنت کی طرف توجہ سے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ” جولوگ ہمارے (احکام) میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور بضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے”۔ القرآن

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟

قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟

ولا تکرھوا فتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیٰوة الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم(33)
اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی سرخ روئی چاہو اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کردیا تو بیشک اللہ ان کی مجبوری کے بعدمغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔سورہ النور

کنواری لڑکیوں کوانکے ولی (سرپرست) اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔جب لڑکی کسی سے عشق اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکربغاوت کرنے پر آتی ہے تو خاندان کی عزت کو فالودہ بنادیتی ہے۔ عدالتوں میں بڑے پیمانے پر اس طرح کے کیس سامنے آرہے ہیں۔قرآن اورحدیث میں ان مسائل کا حل موجود ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عام طور پر لڑکی کا نکاح خاندان کی باہمی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل معمول سے ہٹ کر معاملہ ہوتا ہے کہ لڑکی مرضی سے نکاح چاہے اور والدین کی رضامندی اس میں شامل نہ ہو لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی اپنا دل کسی کو دے بیٹھتی ہے اور خاندان کیلئے وہ رشتہ قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔
ایک طرف حنفی فقہاء نے صحیح حدیث کو قرآن کے خلاف قرار دیا اور دوسری طرف ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اس صورت میں اجازت دی ہے کہ جب لڑکی اور لڑکے دونوں کے خاندان میں برابری ہو۔ اگر لڑکی کا خاندان اُونچا ہو تو پھر اس کا نکاح کم حیثیت رکھنے والے لڑکے سے اس صورت میں جائز ہے کہ جب لڑکی کے خاندان والے اجازت دیں۔
فقہاء نے قرآن کو حدیث کے خلاف قرار دیکر رد کردیا تھا مگر پھر کفوء کا شرعی مسئلہ فقہی مسائل اور فتوے کا حصہ بنادیاہے اور کفوء کے مسائل میں بھی عجائبات ہیں لیکن اس طرف زیادہ تفصیلات میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ زیادہ تر مسائل اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ لڑکی کے خاندان لڑکے کو برابر نہیں سمجھتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو وضاحت کیساتھ بیان کردیا ہے۔ جب لڑکی والوں کو اپنی خاندانی وجاہت کا احساس ہو اور لڑکے کو اپنی خاندانی وجاہت کے قابل نہ سمجھتے ہوں تو پھر اللہ نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے آیت میں واضح کیاکہ:
” اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی سرخ روئی چاہو اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کردیا تو بیشک اللہ ان کی مجبوری کے بعدمغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔(سورہ النور۔ آیت33)
اگر لڑکی کو مجبور کرکے اس کی دوسرے شخص سے زبردستی سے نکاح کرایا گیا تو پھر اگر چہ یہ جائز نہیں ۔ عورت کی مرضی سے اس کا نکاح کرانا ہی ضروری ہے لیکن ان کو زبردستی سے مجبور کرنے کے بعد لڑکی پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اسلئے کہ مجبوری میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔اور اگر لڑکی نے بغاوت کرکے باطل نکاح کرلیا تو بھی اگرچہ یہ حرام ہے مگر جب اس کے ولی اس کو اپنی مرضی کے خلاف مجبور کررہے تھے تو یہ بغاوت اور باطل نکاح بھی قابل معافی ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ قرآن وسنت کی روح کو سمجھ کر آج اُمت کی ذہن سازی کی جائے تو ماحول پر بھی قابو پانے میں آسانی ہوگی اور قوم کی مردہ جان میںبھی زندگی کی روح دوڑ جائے گی اور مسلک کے نام پر اختلافات اور خرافات سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ علم سے جاہل ، عمل سے عاری ، عقل سے گدھے اور دنیاپرستی کے معاملے میں انتہائی عیارو چالا ک ہیں اور نئے نئے ریکارڈ بنارہے ہیں اور اسلاف کا نام لیتے ہیں۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل نے بتایا کہ مفتی محمد تقی عثمانی کی لڑکی کو ایک لڑکا ٹیوشن پڑھا رہاتھا اور پھر اس نے اس لڑکے سے شادی کی ٹھان لی مگر پھر اپنی لڑکی کو مارپیٹ سے مجبور کرکے دوسرے لڑکے سے نکاح پر مجبور کیا گیا ۔
جن کے گھروں میں مسائل ہوں تو وہ قرآن و حدیث کے مسائل کو درست انداز میں اٹھانے سے بڑا گریز کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر حافظ نعیم الرحمن صاحب یہ بات سمجھ لے کہ ”اگر قرآن کی اس آیت کا درست ترجمہ وتفسیر منی پاکستان کراچی کے لوگوں کو سمجھا دی گئی تو پورے پاکستان کے لوگوں میں یہ شعور عام ہوجائے گا۔ پھر کوئی باپ بھی اپنی بیٹی کو بغاوت پر مجبور کرنے کی حد تک لے جانے کے بجائے اس کا نکاح اس کی مرضی سے کردے گا اور ہمارا معاشرہ ایک بہت بڑے بحران سے بچ جائے گا۔
علماء نے اس آیت کا ترجمہ یوں کردیا ہے ۔(العیاذ باللہ)
” اور تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کروجب ان کا ارادہ پاکدامن رہنے کا ہو،تاکہ اس کے ذریعے سے دنیاوی مفاد حاصل کرو۔ اور جس نے زبردستی سے ان کو مجبور کردیا تو پھر ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے”۔ النور،آیت:33
اگر قرآن وسنت کی درست تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ کر اپنے منبر ومحراب پر عوام کے سامنے بیان کیا جائے تو سوشل میڈیا پر بھی حقائق پھیل جائیں گے اور اسلام اور علماء کا نام روشن ہوگا۔
احادیث میں کنواری لڑکیوںاور طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نکاح ان کی مرضی اور اجازت سے بہت بڑی وضاحت ہے۔
ملا جیون بہت سادہ مگر مخلص انسان تھے۔ رائیونڈ تبلیغی مرکز میں ایک عالم نے بیان کیا کہ ” شاہجہان بادشاہ اور اسکے وزراء ریشمی کپڑے پہنتے تھے۔ ملاجیون سے کسی نے پوچھا کہ ریشمی کپڑے مرد کیلئے جائز ہیں ؟۔ تو اس نے جواب دیا کہ بالکل بھی جائز نہیں ہیں اور اگر کوئی اس کو حلال سمجھتا ہے تو وہ واجب القتل ہے”۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو بھی اب حلال قرار دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے …

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا ہونا آیت حتیٰ تنکح زوجًا غیرہ سے ہرگز متصادم نہیں ہے

درسِ نظامی کی فقہ حنفی ہے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے ”( البقرہ:230) اس آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے۔ جس میں حدیث خبر واحد کی وجہ سے اس کو اپنے ولی کی اجازت کا پابند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا: ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ یہ حدیث خبرواحد ہے اور قرآن کی آیت سے متصادم ہے اسلئے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کے منافی قوانین کی گنجائش نہیں ۔ لڑکی گھر سے بھاگتی ہے پھر اغواء کا مقدمہ ہوتا ہے پھر عدالت سے رہائی ملتی ہے جب لڑکی کہتی ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے گئی تھی اورمولوی کا نکاح نامہ پیش کیا جاتاہے ۔
اگر حنفی قرآنی آیت سے حدیث کو متصادم نہ قرار دیتے تو معاملہ مختلف ہوتا۔ یہ احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں کہ ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں۔200احادیث عورت کے نکاح کو ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیتی ہیں لیکن حنفی مسلک و درسِ نظامی کی تعلیمات یہی ہیں کہ قرآن سے متصادم ان احادیث کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی بھی تعلیم وتربیت اسی درسِ نظامی اور حنفی مسلک میں ہوئی ہے۔
مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری اور اہل حدیث کے جمہور فقہاء و محدثین ان احادیث کو مانتے ہیں۔ ولی کی اجازت کے بغیر وہ عورت کے نکاح کو باطل سمجھتے ہیں اسلئے پاکستان وہندوستان کے علاوہ دوسری جگہ لڑکی کے بھاگ کر نکاح کرنے کامعاملہ کم ہوتا ہے۔ جمہور فقہاء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کے علمبرداروں کو ”منکرین حدیث” قرار دینا شروع کیاتھا۔
علماء غلط تعلیم دیتے ہیں کہ ”یہ قرآن سے متصادم ہے”۔ اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ جب قرآن و احادیث کی تطبیق ہوسکتی ہو تو تطبیق کردی جائے ،امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ ” جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے”۔ سارے ائمہ یہی کہتے تھے کہ قرآن کے خلاف حدیث کو وہ نہیں مانتے۔ حدیث کے مقابلے میں ہمارے مذہب کو دیوار پر دے مارا جائے۔
اگر ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے نکاح کو باطل قرار دینے والی احادیث کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیا جائے اورقرآنی آیات کو طلاق شدہ اور بیوہ کیساتھ خاص کردیا جائے تو قرآن و احادیث میں تصادم نہیں تطبیق ہوجائے گی۔ مسلک حنفی کا یہی تقاضا ہے جس کی نشاندہی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب نے اپنی کتاب” اجتہاد وتقلید” میں بہت وضاحتوں کیساتھ کردی ہے۔ جو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی حسام اللہ شریفی کے استاذ تھے۔
البقرہ آیت230میں طلاق شدہ سے زیادہ ١لبقرہ:234میں اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں بیوہ عورت کو عدت کی تکمیل کے بعد خود مختار قرار دیا ہے۔ اگر حنفی مسلک والے ان دونوں آیات کو اپنی تعلیمات میں پیش کرتے اور احادیث صحیحہ کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیتے تو جمہور فقہاء ومحدثین بھی ان آیات کے انکار یا تأویل کے مرتکب نہ ہوتے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ قرآن و احادیث پر متفق ہوجائیں اور ایک دوسرے پر منکرین قرآن وحدیث کا فتویٰ لگانے سے پرہیز کریں۔ جمہور فقہاء ومحدثین کی مصیبت یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کی وجہ سے آیت230،234البقرہ کے خلاف بھی عورت کی خود مختاری و آزادی کو نہیں مانتے۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے مسائل کو علماء تک محدود نہیں رکھا جاسکتا ۔اسلئے عوام مذہبی طبقے سے بہت تیزی کیساتھ مسلسل متنفر ہورہی ہے۔
برصغیرپاک وہند کے مایہ ناز حنفی عالم علامہ تمناعمادی نے پاکستان کی تشکیل کے بعد مشرقی پاکستان کے ریڈیو سے قرآن کا درس دینا شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآنی آیات بھی سمجھانے کیلئے تمرین (مشق) کرائی جائے۔ جس طرح حنفی اصول فقہ میں آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مقابلے میں حدیث کی تردید ہے ،اسی طرح آیت وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ” اور انکے شوہر اس عدت میں ان عورتوں کو لوٹانے کا زیادہ رکھتے ہیں اگروہ صلح چاہتے ہوں”۔ کے مقابلے میں پہلے تو کوئی خبر واحد کی حدیث نہیں ہے کہ جس میں نبیۖ نے عدت میں رجوع سے روک دیا ہو۔ لیکن اگر کوئی صحیح حدیث ہوتی تب بھی قرآن کی آیت سے متصادم ہونے کی بنیاد پر اس کو رد کردیا جاتا۔
علماء کی بڑی کم بختی یہ ہے کہ قرآن کی آیات کو بھی آپس میں متصادم کر دیا جو کام قرآن کے دشمن نہ کرسکے وہ نادان دوستوں اور احمق گدھوں نے کردیا۔ اللہ نے عدت میں باہمی اصلاح سے شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو حلالہ کی لت والے مفتیان کس طرح فتویٰ دیتے ہیں کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے؟۔
عورت کی عزت کو قرآن وسنت نے تحفظ دیا لیکن علماء نے اسلام اور حلالہ کے نام پر عورتوں کی عزتوں کو پامال کردیا ہے۔ حنفی مسلک فطرت کے عین مطابق تھا لیکن احمق گدھوں نے مسلک حنفی کی غلط ترجمانی سے حقائق کو بالکل مسخ کردیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

مذہبی سیاسی جماعتوں کو پاکستان میںبڑی سطح پر پذیرائی اسلئے نہیں ملتی ہے کہ انہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا ہے لیکن اسلام کی کماحقہ خدمت نہیں کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے نئے امیر حافظ نعیم الرحمن نے نئے عزم کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے اسلامی حقوق بحال کرکے سیاسی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک گروہ ، فرقہ اور مسلک نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کیلئے بنی ہے۔ پروفیسر غفور احمد کا تعلق بریلوی اور قاضی حسین احمد کا تعلق دیوبندی گھرانے سے تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کوISIکیلئے استعمال کیا لیکن پروفیسر غفور کو پتہ بھی نہیں تھا۔ جماعت کے صدر اور جنرل سیکرٹری میں کتنا فرق تھا؟۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی عمران خان تائید اور جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالفت کررہاتھا۔ سیاست کی بساط تلپٹ ہوتی رہتی ہے لیکن اسلام کیلئے بنیادی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے قاضی حسین احمد صدر تھے لیکن جب نمائندہ ضرب حق امین اللہ نے کوئٹہ میں سوال کیا کہ شیعہ مسلمان ہیں یا کافر؟۔ تو قاضی حسین احمد ناراض ہوگئے۔ پھر سید منور حسن نے سلیم صافی کو پاک فوج کے خلاف ایک بیان دیا تو جماعت اسلامی نے سراج الحق کو امیر بنادیا۔ اب حافظ نعیم الرحمن نے اقامت دین کے پرانے راستے پر چلنے کا عہد کیا ہے تو عورت کا حق سلب کرنے والے حنفی و جمہور فقہاء کے مسالک کو چھوڑ کر قرآن کے مطابق عورت کو حق دینے کا فارمولہ عام کریں تو جماعت اسلامی اقامت دین کیلئے کھڑی ہوگی۔ صدراتحاد العماء سندھ کے مولانا عبدالرؤف ، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق بلوچ اور دیگر نے ہماری حمایت کی۔ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کے اہم قائدین نے بھی ہماری حمایت کی ہے لیکن اصل معاملہ قرآن کے واضح احکام کی طرف رجوع ہے۔ عورت کو حلالہ اور دیگر مظالم سے نکالنا پڑے گا۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں

والذین یتوفون منکم و یدرون ازواجًا یتربصن بانفسھن اربعة اشھر وعشرًافاذبلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO(سورہ البقرہ:234) ترجمہ: ”اور تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ4ماہ10دن تک اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ وہ عورتیں اپنے معاملے میں جو فیصلہ کرلیں ”۔
نشان حیدر پانے والے فوجی یا دیگر سرکاری ملازمین کی وفات کے بعد ان کی بیگمات پر عدت4ماہ10دن ہیں۔ اگر وہ عدت کی تکمیل کے بعد کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہوں تو بھی ان کی مرضی اور اگر اسی شوہر کے ساتھ نکاح کو قائم رکھنا چاہتی ہوں تو بھی ان کا نکاح قائم رہے گا۔ اگر وہ کسی اور سے نکاح کریں تو پھر سرکاری ملازم شوہر کی مراعات ختم ہوجائیں گی۔ بیوہ عورت عدت کے بعد بالکل آزاد ومختار ہے۔ آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ اختیار عورت کا اپنا ہے۔ اگر مردہ شوہر کیساتھ نکاح باقی رکھنا چاہتی ہیں تو جنت کے اندر بھی اپنے شوہر اور اپنی اولاد کیساتھ ہوں گی۔ نکاح ٹوٹے گا نہیں۔ مفتی اعظم کی وفات کے بعد20سال بعد بھی اس کی بیگم کی قبر پر زوجہ مفتی اعظم کی تختی لگتی ہے۔ لیکن انتہائی کم عقل گدھا مذہبی طبقہ جو یہ سمجھتا ہے کہ میاں بیوی میں کسی ایک کی وفات سے نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ نبیۖ نے حضرت عائشہ سے کہا: لومتِ قبلی فغسلتک ” اگر آپ مجھ سے پہلے فوت ہوگئی تو میں تجھے غسل دوں گا”۔( ابن ماجہ حدیث نمبر1465)۔ (مسند احمد6/228) شیخ البانی نے اس حدیث کو ” حسن” قرار دیا ہے۔ حضرت ابوبکر کی میت کو اس کی بیوی نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ جب مذہب کو پیشہ بنایا گیا تو ”میت کا غسل” بھی ایک پیشہ بن گیا۔ بڑے آدمی کی میت کو غسل دینے پر بڑے علماء میں جھگڑے ریکارڈ پر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحی پیر مفتی تقی عثمانی نے ”احکام میت” پر ضخیم کتاب لکھی۔ کتابیں بھی ایک بڑا کاروبار ہیں۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھر فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم (سورہ البقرہ آیت226،227)
ترجمہ: ”ان لوگ کیلئے جو اپنی بیگمات سے لاتعلقی اختیارکرلیں،4ماہ ہیںپس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے ۔اور اگر ان کا عزم طلاق کا ہوا توپھر بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے ”۔
دورِ جاہلیت میں ایک رسم یہ تھی کہ شوہر بیوی کو طلاق نہیں دیتا تھا لیکن مدتوں ناراض رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کی بیوی زندگی بھر انتظار کرتے کرتے گزر جاتی تھی اور وہ اس کے نکاح میں رہتی تھی۔ دوسری جگہ وہ شادی نہیں کرسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عدت وطلاق کے مسائل میں سب سے پہلے یہ خطرناک مسئلہ حل کردیا۔ طلاق میں 3ماہ انتظار کی مدت ہوتی ہے اور اس میں ایک ماہ کا اضافہ کرکے4ماہ انتظار کی مدت رکھ دی۔پھر اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ تمہیں پکڑے گا اسلئے کہ ایک ماہ کے انتظار کی مدت بڑھانا عورت کیساتھ زیادتی ہے جس کو آیت225میں بھی واضح کیا ہے۔
جمہورفقہاء ومحدثین ، ابن تیمیہ وابن قیم کے نزدیک4ماہ بعد بھی زندگی بھر کیلئے نکاح قائم ہے جب تک کہ شوہر طلاق کااظہار نہ کرے۔اسلئے کہ شوہر نے اپنے حق کا استعمال نہیں کیا ۔حنفی فقہاء کے نزدیک شوہر کا4ماہ تک نہیں جانا اپنے حق کا استعمال ہے اسلئے 4ماہ گزرتے ہی طلاق ہوگئی اور انکا نکاح قائم نہیں رہاہے۔
اللہ تعالیٰ نے طلاق نہ دینے کی صورت میں عورت کامسئلہ حل کردیا ہے۔ ناراضگی میں4ماہ کی عدت کے بعد عورت چاہے تو دوسری جگہ نکاح کرے اور چاہے تو پہلے شوہر کے ساتھ اس کی رضامندی سے رہے۔ لیکن مسالک نے عورت کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اگر عورت دوسری جگہ نکاح چاہتی ہے تو ایک طبقہ کہتا ہے کہ تمہارا یہ نکاح قائم ہے ۔ اگر وہ اپنے شوہر سے تعلق چاہتی ہے تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ تمہارا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اب عورت کس کی مانے اورکس کی نہیں مانے؟۔ یا دونوں پر لخ لعنت کرکے اپنے رب کی حقیقی نعمت کو مانے؟۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

وانکحوا الایامٰی منکم و الصٰلحین من عبادکم و امآئکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ و اللہ واسع علیم (32) ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحاً حتیٰ یغنیھم اللہ من فضلہ و الذین یبتغون الکتٰب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتٰکم ولا تکرھوا فتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیٰوة الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم(33)

اورنکاح کراؤ جو تم میں سے بیوہ و طلاق شدہ ہیں اور جو تمہارے صالح غلام ہیںاور لونڈیاں ہیں اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گااور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اور جو نکاح تک نہ پہنچیں تو وہ لوگ خود کو پاکدامن رکھیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے مستغنی کردے۔ اور جو کتابت چاہتے ہوں تمہارے ساتھ معاہدہ کرنے والوں میں سے تو ان کے ساتھ کتابت کرو اگرتم ان میں خیر جانواور ان کو مال دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور مجبور مت کرو اپنی جوان لڑکیوں کو بغاوت پر اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم چاہو دنیا کی زندگی کا مقام اور جو ان لڑکیوں کو مجبور کرے گا تو بیشک ان کی مجبوری کے بعد (ناجائز ہونے کے باوجود ان سے اللہ درگزر کرے گا) اللہ غفور رحیم ہے۔ (سورہ النور آیات33-32)قرآن کی ان آیات سے ایک بڑا اور متفقہ انقلاب بھی آسکتا ہے

مفتی منیر شاکر ایک نابغہ روز گار شخصیت ہیں لیکن ان سے اپنے اور پرائے سب ناخوش ہیں ۔ جس نے بھیک مانگنے کے بجائے اسلام آباد میں دیہاڑی اور مزدوری کی ہے اور برف بھی بیچنے کا کام کیا ہے اور دوسرے چھوٹے روزگار بھی کئے ۔
کرم ایجنسی میں شیعہ سنی منافرت مذہبی طبقات کو ورثے میں ملتی ہے اور اس کا مفتی منیر شاکر بھی کبھی شکار رہے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے بلکہ ماحول اثر انداز ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کا تعلق ایک طرف دیوبندی حنفی مکتب سے رہاہے اور دوسری طرف وہ اشاعت التوحیدوالسنة کے بھی شیر رہے ہیں تو اس ماحول کا بھی ان پر بہت بڑا اثر رہاہے۔ اب تو جس طرح صوفیاء تصوف کی منزلیں طے کرکے لامکاں تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح مفتی صاحب نے بھی منزلیں طے کی ہیں۔
مفتی منیر شاکر پر سب سے بڑا اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ وہ احادیث کے منکر ہیں اور عام روش کی مخالفت کرتے ہیں۔
جسٹس شوکت صدیقی نےISIکے خلاف تقریر کرکے جو شہرت حاصل کرلی ہے اور اب عدالت نے ان کو بے گناہ بھی قرار دیا ہے۔ وہ ایک مذہبی شخصیت بھی خود کو سمجھتے ہیں اور اس نے جماعت اسلامی کی بھی حال میں تعریف کی ہے ۔ جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے ایک دن کہا کہ ” جو لڑکی بھاگ کر والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرتی ہے تو یہ اسلام کے بھی خلاف ہے”۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک دن ججوں نے یہ حرکت انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے لڑکے سے پوچھاکہ ”اگر تمہاری بہن کسی کیساتھ بھاگ کر شادی کرلے تو اچھا لگے گا؟”۔ لڑکی کا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا پاکستان و بھارت کے علاوہ شاید دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔
ایک طرف انگریز کی عدالت نے انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو اپنی مرضی کا مالک قرار دیا تودوسری طرف حنفی مسلک نے واضح حدیث اور مشرقی روایات واقدار کو پامال کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو والدین سے بغاوت کی کھلی اجازت دی ہے اور حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا ہے۔
پہلے لوگ امام ابوحنیفہ کے متعلق کہتے تھے کہ منکر حدیث ہے اور آج مفتی منیر شاکر کو منکر حدیث قرار دے رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درس نظامی اور حنفی مسلک میں جو پڑھایا جاتا ہے تو کیا ایک قابل آدمی متاثر نہیں ہوسکتا ہے؟ اور جب کوئی بھی اپنے ماحول سے متأثر ہوسکتا ہے تو مفتی منیر شاکر پر سوشل میڈیا میں مذہبی طبقے کی طرف سے لعن طعن کرنا غلط نہیں ہے؟۔ مفتی منیر شاکر کے لہجے میں تلخی ہوسکتی ہے لیکن جب تک ان کو دلائل سے قائل نہیں کیا جائے تو اپنا لہجہ بھی کسی کی مخالفت سے کیوں بدلے گا؟۔ شیعہ نے صحابہ کرام پر اپنے لہجے کو مخالفین کی وجہ سے کبھی بدلا ہے؟۔ حنفی اہلحدیث نے اپنا لہجہ بدلا ہے؟۔ بریلوی دیوبندی نے ایک دوسرے کے خلاف اپنا لہجہ بدلنے کی طرف کبھی پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ؟۔
لاہور کی شہری قنوت کا بچپن سے عمیر کیساتھ معاشقہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ عمیر سنی اور قنوت شیعہ ہو۔ بہرحال والدین نے اس کا نکاح علی رضا کیساتھ کردیا تھا جو کینیڈین شہری تھا۔ جب ان کے دو بچے بھی پیدا ہوگئے تو قنوت نے علی رضا کو پاکستان بھیج دیا اور عمیر سے قتل کرنے کی فرمائش کی تاکہ بچپن کی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ علی رضا قتل ہوگیا اور سازش پکڑلی گئی۔ دعا زہرہ نے ایک سنی لڑکے سے محبت کی شادی کی تھی اور اس کیس کو پہلے میڈیا میں بہت غلط رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی لیکن آخر کار بہت مشکلوں سے معمہ سب کی سمجھ میں آگیا۔
بعض لوگوں نے200تک روایات کا کہا ہے کہ حد تواتر تک پہنچتی ہیں کہ” ولی کی اجازت کے بغیر نبی ۖ نے عورت کے نکاح کا منع فرمایا”۔ جب ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر نکاح کرتی ہے تو بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوتاہے۔ کورٹ میں مار کٹائی اور قتل وغارت تک بات پہنچ جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی سنجیدہ حل پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایاکہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ پھر حنفی مسلک نے اس حدیث کو کیوں مسترد کردیا تھا؟۔ حالانکہ جمہور مالکی، شافعی،حنبلی،جعفری اور اہل حدیث کا یہی مسلک ہے۔ اسلئے پڑوسی ایران اور سعودی عرب اوردوبئی کی عدالتوں میں اس طرح کے کیس نہیں ہوتے ہیں۔ البتہ وہاں کی لڑکیاں بیرون ملک کسی کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں تو یہ الگ بات ہے۔
پاکستان وبھارت میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے اسلئے عدالتوں میں لڑکی کی طرف سے والدین سے بغاوت کا معاملہ چلتا ہے۔ سعودی عرب اور دوبئی وغیرہ کے خلاف انسانی حقوق کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اسلئے نہیں اٹھتا ہے کہ عرب ممالک میں حنفی مسلک کا ماحول نہیں ہے اور ان کے مذہبی طبقات بھی اپنا ماحول احادیث کے مطابق بناتے ہیں کہ والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کا تصور باطل اور غلط ہے۔ جب قرآن کی بنیاد پر حدیث کو مسترد کیاگیا کہ اللہ نے فرمایا : حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ تو اس آیت سے عورت کی خود مختاری ثابت ہوتی ہے ۔ حدیث خبر واحد ہے اسلئے عورت کو ولی کی اجازت کا پابند نہیں بناسکتے۔ حنفی مسلک کی ٹریننگ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں حدیث کی تطبیق نہ ہوسکے تو حدیث کو مسترد کیا جائے گا لیکن اگر قرآن کی مخالفت نہ ہو تو ضعیف حدیث بھی قابل عمل تصور کیا جائے گا۔
اس آیت میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے ۔ حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے تو قرآن وحدیث میں تطبیق موجود ہے۔ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جب ہمیں پڑھارہے تھے تو میں نے ان کے سامنے یہ تطبیق رکھی تھی اور اس پر انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایاتھا۔ اور امید ظاہر کی تھی کہ میں معاملے کے حل تک آئندہ پہنچ جاؤں گا۔
سورہ نور آیت32میں طلاق شدہ ،بیوہ ، غلام اور لونڈیوں کے نکاح کا حکم دیا اور آیت33میں کنواری لڑکیوں کا حکم دیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور مت کرو۔ عربی میں بغاء کے دونوں معانی آتے ہیں۔ کنواری لڑکی کو اگر اس کی مرضی کے نکاح سے روک لیا جائے تو وہ چھپ کر بدکاری کرے یا کھل کر بغاوت کرے تو اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم دنیا میں ٹکر کا رشتہ چاہتے ہو اور اپنی توہین سمجھتے ہوکہ دنیاوی حیات میں اپنی لڑکیوں کا اس سے رشتہ کراؤ اور پھر مجبور کرتے ہو کہ اس کے ٹکر والے سے رشتہ کراؤ ۔ اگرچہ لڑکی کوزبردستی سے مجبور کرنا غلط ہے لیکن اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اس تعلق کو ناجائز نہیں قرار دیا جائے گا۔ سورہ نور کی اس آیت میں عورتوں پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے کہ ایک طرف اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو پھر تمہیں ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور کرنا غلط ہے۔ لڑکی کو کھل کر بغاوت یا چھپ کر نکاح کی اجازت بھی نہیں ہے اور زبردستی سے کسی اور سے نکاح پر مجبور کرنابھی غلط ہے لیکن عورت کو مجبورکرنے کے بعد اللہ نے خود کو غفور رحیم قرار دیاہے۔ قرآن کی طرف توجہ نہیں کی گئی ہے۔
دورِ جاہلیت کے مشہور شاعر امرء القیس نے جب چچا سے اس کی لڑکی لیلیٰ کا رشتہ طلب کیا ،جس کیساتھ بکریاں چراتے ہوئے اس کی محبت ہوگئی تھی تو یہ محبت بہت بڑا جرم بن گئی تھی۔ قیس مجنون بن گیا لیکن اس کو لیلیٰ نہیں مل سکی۔ پطرس بخاری کا ایک مضمون مچھر ہم نے سکول کے نصاب میں پڑھا تھا اس میں مچھر پربہت زبردست باتیں لکھی تھیں کہ نمرود کو بھی اس نے مار دیا تھا۔ ساری دنیا اس کے خلاف سازش کرتی ہے کہ اس کا وجود بھی دنیا میں نہیں رہا لیکن جہاں اور جس فیکٹری میں بھی اسکے نابود کرنے کے منصوبے بنتے ہیں وہیں پر منصوبہ سازوں کو مچھر ہاتھ پر کاٹ لیتے ہیں۔ آج کے دور میں پطرس بخاری مضمون لکھتا تو اس میں مزاح کے علاوہ دوسری طرح کا مصالحہ ڈال دیا جاتا کہ فرانس اور ترقی یافتہ دنیا نے ایسی ادویات ایجاد کی ہیں کہ اس میں بدبو بھی نہیں ہے اور6،6ماہ اور سال تک مچھر کمرے میں آنے کا رسک نہیں لے سکتا اور لے لیتا ہے تو اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ لیکن ایک تو ترقی پذیر ممالک کو ترقی سے روکنے کیلئے وہ اچھے فارمولے نہیں بتاتے لیکن اگر وہ یہ مہربانی کر بھی لیں تو ہمارے مریضوں کو بھی جعلی ادویات سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے تو مچھروں کے خاتمے کیلئے اصلی دوائی کون بنائے گا؟۔ خیر پطرس بخاری نے مچھر کے مضمون میں لکھاہے کہ ”ایک بزرگ کہتا تھا کہ میں دل سے مچھر کو پسند کرتا ہوں۔ سب سے پہلے وہ میرے ایک کان میں سائرن بجاتا ہے ۔ پھر دوسرے کان میں اور پھر پیر پر ہلکا کاٹتا ہے۔ پھر زور سے کاٹتا ہے اور پھر ہاتھوں کو بھی کاٹنا شروع کردیتا ہے اور منہ کو بھی پھر نہیں چھوڑتا ہے۔ جب تک تہجد کیلئے اٹھنے پر مجبور نہیں کرتا تو پیچھا نہیں چھوڑتا ہے۔ لیکن پھر مچھر تھوڑا سا شرمندہ ہوجاتا ہے کہ جب اس کو یاد آتا ہے کہ وہی بزرگ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو سجدے کی حالت میں بھی اس کو پیر پر زور زور سے کاٹنا شروع کردیتا ہے”۔ مفتی منیر شاکر احادیث کا انکار کردیتا ہے تو شیعہ بھی خوش ہوتا ہے کہ ابوطالب پر بخاری میں کفر کا مسئلہ بھی غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ پھر میں قرآن کا حوالہ دوں گا کہ بعثت کے وقت اہل کتاب بھی پہلے سے مسلمان تھے۔ جب نبی ۖ کی بعثت ہوئی تو بھی دو قسم کے لوگ تھے ۔ ایک وہ تھے جنہوں نے اس خوف سے بھی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا کہ جاہل عرب ہمیں اپنی زمین سے اچک کر غائب کردیں گے۔ جیسے آج کل کلمہ حق بلند کرنے والوں کو بھی اٹھالیا جاتا ہے۔انور مقصود نے اپنے اچکنے کی تردید کرلی لیکن اس کی تردید پر بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے؟۔ ایک بلوچ نے بلوچستان کی معروف کوچ سروس کی حیثیت سے بڑی شکایت کی تھی کہ ہمیں سمگلنگ پر مجبور کیا جارہاہے اور پھر اسنے تردید بھی کرلی ہے کہ میں نے فرط جذبات میں کرنل وغیرہ کے نام لے لئے ہیں۔
اب تو بشام میں چینیوں پر خود کش حملہ کرنے کا ذرائع سے بتایا جارہاہے کہ ” افغانستان سے چمن بارڈر پر بارود سے بھری ہوئی کار چمن کے بارڈر پر آئی ۔ پشین، کچلاک ، مسلم باغ اور بلوچستان کے طویل راستے کو طے کرکے درہ زندہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی۔ پھر پشاور، مردان سے ہوتے ہوئے کوہستان کی سرحد پر پہنچی اور بشام میں اپنا ٹارگٹ پورا کرلیا”۔ گویا یہ پورا پشتون بیلٹ اس میں ملوث ہے۔ عورت مارچ والی بہت ہی مزاح کے انداز میں فرماتی ہیں کہ ” ہم گنا ہگارعورتیں”۔ پشتون کو بھی چاہیے کہ وہ پلے کارڈ اٹھائیں اور اس پر جلی حروف کیساتھ یہ لکھ دیں کہ ” ہم گناہگار پشتون ”۔ اسلئے کہ جب ادلے بدلے کی جنگ لڑی جائیگی تو امریکن ڈرون ہونگے۔ جٹ طیارے ہونگے بمباریاں ہونگی۔ خود کش حملہ آور کے اہل وعیال کو تباہ وبرباد کیا جائیگا۔ جس طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا تھاکہ ” ایران میں جو مارے گئے ،انکے لواحقین یہاں پر موجود ہیں”۔ پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے عالم زیب محسود کے ساتھ کوئی تصدیق کرے گا کہ ہمارے والے مارے گئے۔
اب گوادر میں مارے جانے والے حملہ آوروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو بلوچ مسنگ پرسن تھے۔ سرکار اور خرکار کی لڑائیوں میں عوام الناس کی خیر نہیں ہے۔ جہاں تکCTDپولیس کے اس الزام یا حقیقت کا تعلق ہے کہ بلوچستان سے سمگلنگ کی گاڑی30سے35تک ہر ماہ جاتی ہیں تو اس میں صداقت اسلئے ہے کہ مولانا خان محمد شیرانی صاحب کو جلوس کی شکل میں بلوچستان سے خیبر پختونخواہ لے جایا جاتا تھا تو اس میں کسٹم کے بغیر گاڑیوں کے سمگلر بھی اپنا کام دکھاتے تھے۔
کراچی کے لوگوں کو سوات میں گاڑیوں کا سامان سستا مل جاتا ہے۔ سوات میں کسٹم کے بغیر گاڑیاں حکومت کی اجازت سے نہیں بلکہ سمگلنگ سے ہی آتی ہیں اور سمگلنگ افغانستان کی سرحد لنڈی کوتل سے نہیں بلوچستان سے بھی ہوتی ہے۔
جب اللہ کا فضل میسر آتا ہے تو پڑھے لکھے اور ان پڑھ بھی برابر ہوجاتے ہیں۔ جب عذاب آتا ہے تو بروں کیساتھ اچھے بھی کشتی میں ڈوب جاتے ہیں اسلئے کہ جب کشتی میں سوراخ کرنے والوں کو نہیں روکا جاتا ہے تو ڈوبنے والی کشتی سب کیلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ٹائی ٹینک جہاز میں سب کی جان کو خطرہ تھا تو آج ہمارے لئے پھر کہیں ٹائی ٹینک کا مسئلہ نہ ہو؟۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن میں جہاں نبی ۖ کی بعثت کے ذریعے بعض لوگوں کو ہدایت ملنے اور بعض لوگوں کو ہدایت نہ ملنے کی بات ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ” بیشک اس کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہتے ہوں” تو اس سے ابوطالب مراد نہیں ہوسکتے ہیں اسلئے کہ قرآن میں پھر دو طبقات کا ذکر ہے ۔ ایک طبقہ وہ ہے جس میں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق کی دعوت قبول کرلی تو اچک لئے جائیں گے اور دوسرا طبقہ وہ تھا جن کو کسی سے کوئی خوف نہیں تھا۔ ابوطالب بڑا ڈٹ کر کھڑا تھا اسلئے ان پر خوف کا الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو ان پر الزام لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ نے ان کا ذکر بھی کیا ہے اور فرمایا کہ ” اگر وہ پھر ایمان لائیں اور اچھے عمل بھی کریں تو ہوسکتا ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوں”۔
دوسرے طبقے میں ابوسفیان ، اسکے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ شامل تھے۔ایک طرف سنی ابوطالب کو غیرمسلم اور کافر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف شیعہ ابوطالب کو پیدائشی مسلم قرار دیتے ہیں۔ اپنے اپنے مؤقف میں تھوڑا لچک لانے کی گنجائش اسلئے ہے کہ ماحول سے ہٹ کر بھی بعض اوقات کچھ حقائق ہوتے ہیں۔ حضرت حسن اور حسین نے ہی امیر معاویہ کو خلیفہ بنانے میں بنیادی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ابوسفیان نے بھی حضرت ابوبکر کے مقابلے میں حضرت علی کیلئے اقتدار کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اگر20سال تک امام حسین نے معاویہ کی خلافت برداشت کی تھی تو اب اس کا سارا ملبہ آج کے دور میں فرقہ بندی کا ذریعہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔
اہل تشیع کہتے ہیں کہ نبی ۖ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ابوطالب نے پڑھایا تھا۔ بخاری میں خطبہ نکاح کیلئے کوئی ایک بھی قابل اعتماد حدیث نہیں ملی تو خطبہ نکاح کی جگہ پر یہ حدیث نقل کردی کہ ”نبی ۖ نے فرمایا: بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔ دو جاہلوں نے سحر انگیزی سے خطابت کی تھی تو نبی ۖ نے اس پر یہ ارشاد فرمایا تھا۔ جب صحابہ کیلئے خطبہ مروج نہیں تھا تو پھر قبل ازاسلام حضرت ابوطالب کی طرف نکاح کے خطبے کو کون سنی مان جائے گا؟۔ البتہ اگر ہم سرتسلیم خم کرکے مان بھی لیں تو پھر ابوطالب نے اپنی بیٹی ایک مشرک کو کیوں دیدی تھی؟۔
حالانکہ رسول اللہ ۖ نے خدیجہ سے پہلے رشتہ طلب کیا تھا لیکن ابوطالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ نہیں دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر کی وجہ سے ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ پر حضرت علی نے ام ہانی کے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا تو اس نے نبی ۖ سے اپنے مشرک شوہر کیلئے پناہ لی۔ پھر اس کے شوہر نے نجران جاکر عیسائیت قبول کی۔ رسول اللہ ۖ نے پھر اس کو نکاح کا پیغام دیا لیکن اس نے قبول کرنے سے معذرت کی اور نبی ۖ نے اس پر ان کی خوب تعریف بھی کی تھی۔
پھر آیات نازل ہوگئیں کہ ” اے نبی ! ہم نے حلال کیا ہے تمہارے لئے ان چچا کی بیٹیوں کو، خالہ کی بیٹیوں، ماموں کی بیٹیوں جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی”۔ اسی طرح ان لونڈیوں کو بھی حلال قرار دیا جو مال غنیمت میں مل گئی تھیں۔ پھر اس کے بعد قرآن میں کسی بھی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا ،اگرچہ ان کا حسن اچھا لگے اور کسی بیوی کے بدلے بھی کسی اور عورت سے نکاح کا منع کردیا۔ البتہ الا ماملکت یمنککی اجازت دیدی ۔قرآن کی ان آیات ، احادیث پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے اسلئے علامہ بدرالدین عینی حنفی نے لکھ دیا ہے کہ ” اُم ہانی نبی ۖ کی28ازواج میں شامل تھیں”۔ حالانکہ اگر قرآن کی تفسیر کا خیال رکھا جاتا تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا تھا لیکن ایگریمنٹ کی قرآن نے اجازت دی ہے اور وہ مراد لیا جاسکتا تھا۔ لیکن ام ہانی پر جس طرح نکاح کا اطلاق نہیں ہوسکتا تھا اسلئے کہ ازواج مطہرات میں شامل نہیں تھیںتو اسی طرح لونڈی کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر ماملکت یمینک سے مراد ایگریمنٹ لیا جائے اور والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم ”اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ” سے بھی ام ہانی مراد لی جائے تو یہ اس کی تفسیر درست سمجھی جاسکتی ہے۔
امریکہ اور مغرب فلسطین ، افغانستان، عراق ، لبییا، شام اور پاکستان کی تباہی کے درپے اسلئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا میں دوبارہ خلافت کے قیام کی خوشخبری پوری ہوگئی تو ہماری خواتین کو ہم سے چھین کر لونڈیاں بنادیں گے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا نے جو حقوق بھی خواتین کے دئیے ہیں تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافی ہیں لیکن مسلمان اپنی خواتین کو حقوق نہیں دے سکے ہیں تو دوسری قوموں کی ہم سے کیا امیدیں ہوسکتی ہیں؟۔ پاکستان کا مقتدر طبقہ سیاستدان ، فوجی جرنیل اور مذہبی لیڈر شپ مسلمانوں سے دشمنی نہیں رکھتے لیکن ایک ماحولیاتی مجبوری ہے جس سے آج مسلمانوں کو نکالنے کی ضرورت ہے۔
اگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو آج جس چیز کو ہمارا مذہبی طبقہ نکاح کہتا ہے ،یہ نکاح نہیں بلکہ ایگریمنٹ ہے اسلئے کہ نکاح کے کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں لیکن اسلامی دنیا میں عورت کو نکاح کے وقت یہ حقوق نہیں ملتے ہیں۔ عرب اور پختون لڑکی کو اس کا باپ بہت مہنگے داموں اس کے شوہر پر بیچ دیتا ہے۔ جب ایک مزدور اپنی حیثیت سے بڑھ کر25لاکھ میں اپنے لئے بیوی خریدے گا تو اس کو خلع کا حق نہیں دے سکتا ہے اسلئے کہ وہ اس کی زر خرید لونڈی ہے۔ اگر اجازت دی گئی تو لڑکی بار بار خلع لیکر باپ کیلئے کمائی کا بہترین ذریعہ بنے گی۔
اللہ نے فرمایا : قدعلمناما فرضناعلیھم فی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورًا رحیمًاO”ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے فرض کیا ہے ان پر انکی بیویوں کا یا جن سے انہوںنے ایگریمنٹ کیا ہے تاکہ آپ پر حرج نہ ہو۔اللہ غفور رحیم ہے”۔
عورت کی جس طرح کی حیثیت ہو باقاعدہ نکاح یا پھر ایگریمنٹ ۔ان کا حق مہر اور خرچہ شوہر پر اس کی مالی حیثیت کے مطابق فرض کیا گیا ہے۔ جس طرح ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں اللہ نے واضح کیا : لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی موسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنین (البقرہ236)
ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں کوئی حرج نہیں ہے اگر حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو ان کو خرچہ دینا ہے۔ امیر اور غریب پر اس کی استطاعت کے مطابق ۔معروف طریقے سے خرچہ اور یہ نیکوں کاروں پر حق ہے۔ اسلئے کہ آدمی میں کتنی مالی استطاعت ہے ؟۔ وہ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑائے تو یہ معروف متاع نہیں ہوگا۔ عورت کو رشتہ قائم کرنے میں مرد سے اس کی اصلی اوقات اور استطاعت کے مطابق توقع بھی ہوتی ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے استطاعت کے مطابق حق مہر اور معاوضہ فرض ہے تو ہاتھ لگانے کے بعد کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ۔ اسلئے کہ ہاتھ لگانے سے پہلے مقرر کردہ نصف ہے توہاتھ لگایا گیا توپھر اس حساب اور اندازہ لگانا مشکل کام نہیں ہے۔
جب عورت اپنی عزت حوالہ کردیتی ہے تو اس کے حق مہر میں مرد کے مالی استعداد کے مطابق حصہ دار ہونے کی بات بالکل فطرت کے عین مطابق ہے۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں یہ طے ہے کہ اگر شوہر عورت کو نکاح کے بعد طلاق دیتا ہے تو اس کی آدھی جائیداد ہی اس کو دینی پڑتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ عورت کو بھی آدھی جائیداد دینی پڑتی ہے۔ ان حقوق سے وہ اپنی جان چھڑانے کیلئے باقاعدہ نکاح کی جگہ گرل وبوائے فرینڈ کے طور پر تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ آج ٹیکس و کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ کون امیر اور کون غریب ہے ۔ جب قرآن کے مطابق عورت کو شوہر کے مال کا حصہ دار بنادیا جائے تو اس پر نکاح کا اطلاق ہوگا اور اگر شوہر اس کے نکاح کا حق دینے پر تیار نہیں ہے تو آپس کی رضامندی سے یہ ایگریمنٹ ہوگا۔ سورہ نور میں لونڈی اور غلام کا نکاح کرانے کا حکم ہے اور لونڈی کا بھی حق مہر ہے لیکن غلام کے پاس کچھ دینے کیلئے نہیں ہوتا ہے اسلئے اس کو کتابت اور معاہدے پر گزارہ کرنا ہوگا لیکن جب وہ کسی آزاد عورت سے نکاح کی کتابت کرے گا تو پھر اس میں جب خیر نظر آئے تو اللہ کا دیا ہوا مال خرچ کرنے کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین اندھے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ غلام کی آزادی میں خیر نظر آئے تو پھر اس کے ساتھ معاہدہ کرلو۔ حالانکہ غلام کی آزادی تو بجائے خود خیر ہے اور پھر آیت میں اس سے مال طلب کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ اللہ کا دیا ہوا اپنا مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری آیات کنواری مراد لینے کے بجائے لونڈیاں مراد لی گئی ہیں اور یہ مطلب لیا گیا ہے کہ اگر وہ بدکاری پر راضی نہیں ہیں تو ان کو مجبور کرکے مال مت کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا تو اللہ غفور رحیم ہے؟۔ یہ یعنی ان لونڈیوں کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کو حکومت اور ریاست اکٹھا کرکے قرآنی آیات کا درست ترجمہ وتفسیر عوام کو سمجھادیں اور دنیا کے سامنے رکھ لیں تو ہماری مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب اپنے ڈر کے مارے ہم سے دشمنی والا سلوک روا رکھتے ہیںجس کی پھر قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

لاہور میں کینیڈین نوجوان کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کردیا
بیوی اور آشنا گرفتار۔ حیران کن وجوہات ، حقیقت سامنے آگئی۔

ویلکم ٹو کرائم سٹوریز ۔ میرا نام میرب ذیشان ہے۔ ایک سٹوری شیئر کی تھی۔ یہ3اور4مارچ کے درمیانی رات بظاہر یہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا لگ رہا تھا۔ کینیڈین نیشنل علی رضا کو قنوت جو کہ علی رضا کی بیوی ہے اسی نے اپنے شوہر کو قتل کروایا تھا اور اپنی بچپن کی محبت کو واپس پانے کیلئے اس نے اپنے شوہر کو راستے سے ہٹوایا۔ عمیر نام کا ایک کردار سامنے آیا ہے جس کا تعلق قنوت کیساتھ6کلاس سے تھا یعنی یہ دونوں بچپن سے کلاس فیلوز ہیں اور آگے تک ان کا جو تعلق ہے وہ اتنا مضبوط ہو چکا تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر ان کا گزارا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود علی رضا کے ساتھ قنوت کی شادی طے کی گئی اور علی رضا چونکہ کینیڈین نیشنلٹی ہولڈر تھا تو قنوت کے جو والدین ہیں وہ چونکہ اتنے کوئی ویل سیٹلڈ نہیں ہیں ۔ان کی دو بیٹیاں ہوئیں اور پھر اس کا دوبارہ سے رابطہ عمیر کے ساتھ بحال ہوا جو کہ اس کی بچپن کی محبت ہے۔ عمیر کے ساتھ اس نے یہ پلان کیا کہ میں تمہارے ساتھ شادی کروں گی ۔ اب اس میں یہ ہے کہ انہوں نے پورا پلان کیا اور قنوت نے علی رضا کو پہلے پاکستان بھیجا کسی بہانے سے اپنے والدین کے گھر اور وہاں پر عمیر سے کہا کہ اس کو قتل کر دے۔ عمیر نے دو دفعہ قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا پھر قنوت جو ہے وہ کینیڈا سے خود آئی پاکستان میں۔ پاکستان پہنچنے سے10دن کے بعد یا پھر وہ اپنے والدین کے گھر آئی۔ اب اس میں بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ڈائریکٹ پاکستان آ کر اپنے والدین کے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی وہ ایک ہوٹل میں گئی جہاں پر عمیر نے پہلے سے بکنگ کروائی ہوئی تھی۔ اس ہوٹل میں کچھ دن یہ رکے رہے۔ ہوٹل کے کلوز سرکٹ فوٹیجز بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے اس کیس کی تفتیش میں کہ یہ خاتون ایئرپورٹ آئی اور وہ سیدھا اپنے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی بلکہ ہوٹل میں رہی ۔ ہوٹل میں پلاننگ کے دوران کے کچھ شواہد پولیس کو ملے اہم فوٹیج بھی ملی ۔ ہم نہ ان کو ڈسکس کر سکتے ہیں نہ آن ایئر کر سکتے ہیں۔ ایگزیکیوٹ کرنے کا جب معاملہ آیا تو قنوت پھر اپنے گھر آگئی اور اپنے شوہر کو کسی بہانے سے باہر شاپنگ کرنے کیلئے بھیج دیا جب وہ شاپنگ کیلئے نکلا تو عمیر نے اپنے دوست مصطفی کے ساتھ بالکل کلوز جا کے اس کے سر پر ہتھیاررکھ کے فائر کیا اور اس کی جیب میں سے کچھ پیسے اور موبائل فون ساتھ لے کر چلے گئے تاکہ یہ ڈکیتی کا واقعہ لگے۔ لیکن اس کی جیب میں پڑے کینیڈین ڈالرز اور کچھ پاکستانی روپے جو ہے یہ بھول گئے جس سے یہ تاثر تو زائل ہو گیا کہ یہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت میں قتل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تاثر اسٹیبلش ہو گیا کہ اس کے قتل کی وجہ کچھ اور ہے اس کے بعد پھر پولیس نے قنوت کو ریٹین کیا ۔ قنوت سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کینیڈا سے واپس پاکستان آ کر تم سب سے پہلے کہاں گئیں؟ تو اس نے کہا کہ جی میں تو اس جگہ پہ اپنے گھر آئی ہوں ڈائریکٹ لیکن اس کے موبائل کی لوکیشن کسی ہوٹل کی تھیں اور جس نام سے بکنگ تھی وہ ایک لوکل نمبر تھا اس لوکل نمبر کے نام سے قنوت کے لیے کمرہ بک تھا۔ اس لوکل نمبر کا جب پتہ کیا گیا تو وہ عمیر کا نمبر تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv