پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور احمد پشتین صرف محسود اور پشتون قوم کا اثاثہ نہیں بلکہ بلوچ ، سندھی اور سرائیکی مظلوم قوموں کے علاوہ مظلوم پنجابی قوم کیلئے بھی ایک بڑا اثاثہ ہیں۔ اس طرح سیدعالم محسود ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ منظور پشتین نے کہا ہے کہ پشتون قوم اس وقت ایک قوم ہوگی کہ جب چمن کے پشتونوں کی تکلیف تمام پشتون قوم کو محسوس ہو۔ ایک پشتون کے دکھ درد اور تکلیف کے احساس کو تمام پشتون محسوس کریں۔ اب کہیں کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور ایک بڑے واقعہ کی وجہ سے وہاں احتجاج ہوتا ہے توکسی اور علاقے کے لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ کیا ہواہے؟۔
منظور احمد پشتین نے کہا کہ دہشت گردوں کے گروپ اور قائدین بدل جاتے ہیں اور جرنیل بھی بدل گئے مگر پالیسیاں اب بھی وہی ہیں۔ عالمی قوتیں اپنی پروکسی کے ذریعے لڑائی ہمارے وطن میں لڑتے ہیں۔ ایک گروپ کو امریکہ فنڈ دیتا ہے اور دوسرے گروپ کو چین فنڈ دیتا ہے لیکن خون ہماری قوم کے لوگوں کا بہتا ہے۔ وسائل ہمارے لوٹ لئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں قوم کی تنظیم سازی بہت ضروری ہے۔ انقلاب کو بڑے لوگ نہیں لاتے بلکہ عام عوام میں جب شعور آجاتا ہے تو بڑے بڑے انقلاب یہی عام لوگ برپا کرتے ہیں۔
سیدعالم محسود بھی پشتونوں اور ان کے وطن میں ہونے والی سازشوں کی بہت کھل کر بات کرتا ہے۔ غلام قوموں کی مثالیں دیتا ہے اور مشہور دانشوروں کے اقوال زریں سے اپنی قوم میں تعلیم وشعور اور بیداری کی فضاء ہموار کرتا ہے۔ جب کسی قوم کو دوسری اقوام کی کتابوں اور انقلابیوں سے آگاہ کیا جائے تو اس پر اپنی قوم کو قیاس کرنے سے پہلے اپنی قوم کی اصلی حالت بھی ملحوظِ خاطر رکھی جائے اور ان سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
حجاز مقدس صحرائے عرب کی وہ سرزمین تھی جس پر کسی بھی بڑی طالع آزما حکمران کی حکمرانی نہیں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قبائل تہذیب وتمدن سے محروم ، جنگ وجدل کی آماجگاہ ، ظلم و جبر کی چراگاہ اور جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے منتشر لوگوں کی بستیاں تھیں۔ مکہ اور یثرب بھی اس وقت اس وطن کا حصہ تھے۔ البتہ مکہ مکرمہ کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل تھا۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ گھوڑا آگے بڑھانے پر سالوں لڑائی کرتے تھے۔ جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن بڑی اچھی صفات اور خوبیوں کے بھی یہ مالک تھے۔
رسول اللہ ۖ نے بعثت سے پہلے بھی اتفاق واتحاد کے درس سے اپنی قوم کو نوازا تھا۔ جب تعمیر کعبہ پر حجر اسود رکھنے کا مسئلہ پیش آیا تو سارے قبائل کو نمائندگی کے شرف سے نوازاتھا اور جب اللہ نے وحی نازل کی تو بھی مشاورت کا اہم حکم دیا ۔
وزیرستان کے لوگوں میں عرب سے بڑی مشابہت ہے۔ دی پٹھان میں انگریز نے لکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو حکمرانوں کی دسترس سے ہمیشہ باہر رہاہے۔ کیونکہ حکمرانوں کی دلچسپی خراج سے ہوتی ہے اور وزیرستان کے لوگوں کے پاس یہ وسائل نہ تھے کہ حکمران ان پر حکومت کرنے میں دلچسپی لیتے۔ انگریز دور میں بھی بڑا ہوشیار اور بہادر آدمی وہی شمار ہوتا تھا جو افغانستان اور انگریز دونوں سے مراعات لیتا تھا۔ غریب چور کو ماں لوریاں دیتی ہوئی کہتی تھی کہ غال شہ خدائے دے مال شہ ”چور بن جاؤ اور اللہ تمہارا مدد گار بن جائے”۔تاہم وزیرستان کے لوگوں میں خوبیاں بھی بہت تھیں۔ ظالم کے خلاف اتحاد اور مشاورت سے فیصلے ان کا وہ حلف الفضول تھا جو بعثت سے قبل تھا اور نبی ۖ نے خطبہ حجة الوداع میں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب قرار دیا تھا۔ رسول اللہ ۖ نے صحابہ کی تربیت کی تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کا اچھا خاصہ دور کامیابی سے چل گیا۔ حالانکہ ابوبکر کی خلافت کو ہنگامی اور عمر کی خلافت کو نامزدگی اور عثمان کی خلافت کو بہت محدود مشاورت کا درجہ حاصل تھا۔ جن میں انصار شامل نہ تھے۔
وزیرستان کے لوگوں کا سب سے بڑا کمال مشاورت کے عمل کا تھا جس میں وحی کی سمجھ نہیں بلکہ فطرت کی رہنمائی تھی۔
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اسلام نے عربوں کو جہالت سے نکال دیا تھا لیکن محسودقوم اپنی فطرت کی اچھائی پر قائم تھی۔ البتہ اس کی برائیوں کا خاتمہ علماء ومشائخ اسلئے نہیں کرسکے کہ اسلام خود بھی اجنبیت کا شکار تھا تو اس قوم کی اصلاح کہاں سے ہوتی؟۔ تبلیغی جماعت نے اسلام کی تبلیغ کردی لیکن جب اس کے جاہل افراد حلالہ سے اپنی غیرت کا بیڑہ غرق کرنے لگے تو محسود قوم کے غیرتمند وں نے کہا کہ اچھا خاصا غیرتمند انسان ہوگا مگر جب جماعت میں وقت لگاتا ہے تو غیرت بالکل کھو دیتا ہے۔ حلالہ کا واحد حکم ہوتا تھا جس پر تبلیغی عمل کرتے تھے باقی قرآنی احکام سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ پھربعد میںطالبان آگئے۔
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جہاد کرنا شروع کیا تو اس وقت پاکستان کی ڈبل پالیسی تھی۔ایک طرف مجبوری میں اس نے امریکہ کا ساتھ دیا اور دوسری طرف طالبان کی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد نبی ۖ نے ابوجندل کو حوالے کردیا اور ابوجندل نے اپنے جیسے لوگوں سے مجاہدین کا لشکر بنایا تو کفار کے ناک میں دم کردیا۔ طالبان نے امریکہ سے لڑائی کا آغاز کیا تو پاکستانی فوج اور اپنی عوام کے خلاف بھی بھتہ سے لیکر لیڈی ڈاکٹر کے اغواء برائے تاوان تک سب کچھ کردیا۔
جب بڑے پیمانے پر پیسہ ملنے لگا تو خود کش بھی کاروبار بن گیا۔ جس قوم کی لڑکیاں برائے فروخت ہوں تو لڑکوں کے بک جانے پر کیا تعجب ہوسکتا ہے؟۔ دینداری سے زیادہ لالچ کے پروانوں نے اپنا کام دکھانا شروع کیا۔ ہمارے عزیزوں کے بارے میں مشہور تھا کہ ” رات کو کھمبے چوری کرکے نکالتے اور دن کو عوام کے سامنے توبہ کرتے ہیں”۔ وہ بھی طالبان بن گئے۔ ہمارے عزیز پیر کریم کے اپنے بیٹے بھی ملوث تھے مگر اس کے بیٹے نے اپنے قریبی عزیز اور پڑوسی پرہمارے واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگادیا۔ پیر کریم میرے بھائی کی تعزیت پر آتا تھا لیکن اپنی بھابھی کی تعزیت کیلئے پہلے دن بھی نہیں بیٹھا۔ حالانکہ اس کے بھتیجوں نے کہا تھا کہ چاچو کریم وہاں بیٹھا ہے۔
ہماے خلاف ایک مہم چلائی گئی کہ لوگوں کی بیویاں اغواء کرتے ہیں۔ کسی کی بیوی بچوں کو چھین لیا ہے وغیرہ۔ طالبان کو غلط معلومات دیکر اکسایا گیا اور طالبان ان کو سزا دینے پر بھی تیار تھے لیکن ہماری غیرت نے گوارا نہیں کیاکہ جاسوسی کے نام پر طالبان ہمارے قریبی عزیزوں اور دوسرے خوار غریب کو قتل کریں۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تو یہ معاملات چلتے رہیںگے۔ میں چاہوں گا کہ پیر کریم سے کچھ معلومات لیکر شائع کردوں تاکہ غلط فہمیوں کے ازالہ میں ایک بنیادی کردار ادا ہو۔ غلط رسموں کی اصلاح کیلئے منظور نے بھی بیان دیا تھا لیکن یہ بہت کمزور بات ہے۔ جب تک مضبوط اور حقائق کی بنیاد پر پوری پشتون اور پاکستانی قوم کو تباہی وبربادی سے نہ نکالا جائے تو خریدنے اور بکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

ےٰبنی اٰدم لایفتنکم الشیطٰن کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما انہ یرٰ کم ھو و قبیلہ من حیث لاترنھم انا جعلنا الشیٰطین اولیاء للذین لایؤمنون (الاعراف:27)
” اے آدم کی اولاد ! خبردار تمہیں شیطان فتنے میں نہ ڈالے جیسا کہ تمہارے والدین کو بہشت سے نکالا۔ ان دونوں کے کپڑے اتروادئیے تاکہ ان کی شرمگاہوں پر ان کی نظریں پڑجائیں۔بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے ہیں”۔
لڑکا اور لڑکی دنیا کی جنت میں رہتے ہیں۔ دلہن دلہا کی جگہ بھگوڑے بنتے ہیں تو تذلیل ہوتی ہے۔ حدیث میں واضح ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ مولوی دنیا بھر کے لوگوں پر منکرِ حدیث کا فتویٰ لگانے میں کوئی حرج محسوس نہ کرے لیکن خود اپنی تعلیمات میں اس کا بہت بڑا مرتکب ہوتا ہے۔ جس کا اسے اور اسکے ماحول کو احساس تک نہیں ہوتاہے۔
ایسے بیہودہ نکاح کیلئے شریف گواہ کہاں مل سکتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ”نکاح میں دو صالح گواہ مقرر کرو” ۔لیکن حنفی مسلک میں ضرورت کیلئے دو فاسق کی گواہی کافی ہے۔ حدیث ہے کہ دف بجاکر نکاح کا اعلان کرو۔ حنفی کہتا ہے کہ دو فاسق گواہوں کی خفیہ گواہی بھی اعلان ہے۔ انکار حدیث کا فتنہ تو کوئی علماء ومفتیان سے سیکھے۔ انکار حدیث کے اس فتنے کی وجہ سے معاشرے میں بھی بہت بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کے بھاگنے کیلئے علماء نے مکمل راستہ ہموار کیا ہے اور یہ اتنا نالائق طبقہ ہے کہ اپنی نالائقی کا احساس تک نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ اس کا سارا الزام معاشرے اور ماحول پر ڈالنے سے بھی نہیں شرماتا ہے۔اس بیچارے گدھے کویہ پتہ تک نہیں ہوتا ہے کہ اس کے اپنے غلط نصاب کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کو قتل کردیا جاتاہے اور اگر وہ بچ جائیں تو پھر ان کے خاندان کی عزت فالودہ بن جاتی ہے۔ جب لڑکا لڑکی کو اس طرح سے شادی کی اجازت مل جائے تو وہ ہوامیں ہی معلق ہوجاتے ہیں۔ نوکری اور کاروبار ہو تو بھی چھوٹ جاتا ہے اور اپنے اپنے خاندانوں سے بھی ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ ان کی عزت بھی تذلیل میں بدل جاتی ہے۔
جب معمول کے مطابق شادی ہوتی ہے تو عزتوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ ایک طرف سے جہیز تودوسری طرف سے حق مہر ملتا ہے۔ دوست احباب تحفے تحائف دیتے ہیں۔ بہتر مستقبل کیلئے نوکری اور کاروبار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آل اور اولاد کیلئے دونوں طرف کے رشتہ آپس میں مل جل کرخوشیوں کے سامان مہیا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دو خاندانوں میں دوستی اور رشتہ داری کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اختلافات کی صورت میں دونوں طرف کے رشتہ دار سمجھانے بجھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف انتہائی خوشنما تصویر دکھائی دیتی ہے اور دوسری طرف انتہائی بدنما اور بھیانک تصوردکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ دونوں صورتوں میں حق اور باطل کا فرق بہت واضح ہے لیکن ایک طرف ہمارے علماء ومفتیان نے احادیث کا انکار کرکے غلط راستہ ہموار کردیا ہے تو دوسری طرف عورت کے صحیح حقوق بھی ہمارے اسلامی معاشرے میں بالکل نہیں ملتے ہیں اور اگر عورت پر زبردستی سے والدین اپنے فیصلے مسلط نہ کرتے تو یہ حادثات بھی پیش نہ آتے۔ عورت بیوہ وطلاق شدہ ہو پاپھر کنواری اس پر والدین زبردستی اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے ۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے نابالغ لڑکیوں و دیگر معاملے پر شادی کے حوالہ سے جوظالمانہ فتوے لکھے،اگر خلفائ بالخصوص حضرت عمر کی حکومت ہوتی تو ان فتوؤں پر مفتی تقی عثمانی کو بالکل سرعام کوڑے مارے جاتے۔ اسلام کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ اسلام کی درست تعلیم کو عام کرنا اہم فریضہ ہے۔ بنی ہاشم نے پہلے دور میںبھی اسلام کیلئے قربانی دی مگر ابولہب بھی ان میں تھا لیکن ہم ابوطالب وعلی کا کردار ااداکریںگے۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ٔٔٔ٭٭٭
بھاگ کر شادی کرنے والی سلمہ شیخ کو معمولی بات پر اس کے شوہر نے گلا دبا کر قتل کیا۔ ہماری اکثرلڑکیاں لوفر قسم کے لڑکوں کی پیار بھری باتوں میں آکر گھر سے فرار ہوتی ہیں، جس میں قرآن وحدیث کیخلاف شرعی مسائل کا بہت بڑا عمل دخل ہے ذرا سوچئے سہی!
٭٭٭
16سال کی پٹھان لڑکی شادی کرنے کیلئے لاہور آگئی۔
3سال کا تعلق ہے اب کراچی سے بھاگ آئی۔
گھر والے نہیں مان رہے تھے تو ان کو چھوڑ دیا۔

السلام علیکم ناظرین! دیکھو ٹی وی کے ساتھ میں ہوں آپ کی ہوسٹ رابعہ مرزا خوش آمدید کہوں گی۔ لڑکی اسکے ساتھ لڑکا ہے ۔ ان کا آپس میں کیا ریلیشن ہے آئے ہیں یہ کراچی سے۔ ریسکیو کیا ہے ان کو پولیس تحفظ مرکز نے۔ میں لڑکا لڑکی سے پوچھتی ہوں کیا معاملہ ہے کیوں آئے ہیں ؟۔ لڑکی سے سوال:
نام؟۔ امبرین ۔ عمرکیا ؟16سال۔ کہاں سے آئی ہو؟۔ کراچی سے ۔ لڑکے کیساتھ؟۔ ہاں۔ کیا لگتا ہے ؟۔ محبت کرتی ہوں۔لڑکاپٹھان ہے ؟۔ ہاں۔ تو گھر والوں نے شادی نہیں کی؟۔ امی نہیں راضی ۔ وہ کہتی ہیں اسکے ساتھ نہیں کر نی۔کتنا عرصہ ہو ا محبت کا؟۔3سال!13سال کی عمر سے تم نے محبت کر لی تمہارا کیا لگتا ہے ،ماموں کا لڑکاہے؟۔ ج: پڑوسی ہے۔ س :کیا کرتا ہے لڑکا؟۔ ج:کباڑ کا کام کرتا ہے۔ س: پیسہ ویسہ کما لیتا ہے؟۔ ج: ہاں ۔ س: اسکے اور تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں؟۔ ج: اسکے دو بہنیں تین بھائی اور میرے دو بھائی چھ بہنیں۔ س: ابو کیا کرتے ہیں؟۔ ج: ابو گاڑی چلاتے ہیں۔ س:اب کیسے شادی کر لو گے؟۔ ج: یہ کہہ رہے ہیں امی لوگ آ رہے ہیں۔ س: کب سے بھاگے ہو ؟۔ ج: پرسوں سے۔ س: پتہ تھا لاہورکا، جو بھاگ کر آتا ہے، لاہورمیں کیا ہے؟۔ ج: پتہ نہیں، س: امی سے بات ہوئی؟۔ج: پولیس والوں نے کی۔ س: صبح آئیں گے وہ؟۔ج: ہاں۔س: شادی کر لیں گے؟۔ ج: ہاں ۔ س:نہ کی تو سوچو آگے پھر کیا ہوگا؟۔ ج: میں تو کروں گی اس سے ہی کروں گی ۔ س: کرنی ہے تو اسی سے نہیں تو ؟۔ ج:اور کسی سے بھی نہیں کروں گی ۔ س: اس کی عمر کیا ہے اس کا شناختی کارڈ ہے تمہارا تو شناختی کارڈ نہیں بنا؟۔ ج: نہیں بنا۔ سوال: لڑکے کی کیا عمر ہے؟۔ ج:21سال ۔ سوال: باقی بہن بھائیوں کی شادی ہوئی ہے تمہاری ؟۔ ج: ہاں ۔ س: تمہاری نہیں ہوئی اور تم سے بڑی کی بھی؟۔ ج: ہاں۔ س: اب تم پھر کر لو گی جلدی شادی یا وہ کہیں گے کہ ہم یہی کریں گے تو پھر ویٹ کر لو گی؟۔ج: صحیح ہے۔ سوال: پڑھی ہوئی ہویا کچھ نہیں پڑھا قرآن پاک پڑھا؟۔ ج: نہیں۔ قرآن پاک ابھی پڑھنے جاتی ہوں ۔ س: تو کس طرح محبت ہوئی ہے موبائل رکھا ہوا تھا آپس میں؟۔ ج: پہلے نہیں تھا ابھی ہے۔
س: اس نے لے کے دیا؟۔ ج: نہیں ابو کا موبائل ہے ۔ امی لوگوں کو نہیں پتہ ہے۔ س: سب چوری چوری کام؟۔
(پھرلڑکے سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے)
سوال: ہاں جی کیا نام ہے ؟۔ ج: یاسین۔ س: کب سے محبت ہے؟،ج: تین سال سے۔ س: تو کیا کرتے ہو کماتے ہو، صرف عشق معشوقیاں کی ہیں؟۔ ج: کباڑ کا کام ہے چاچو کیساتھ اپنا کام ہے۔ س: کتنا کما لیتے ہو ؟۔ ج: مہینے کا28،30ہزار۔ س: خوش رکھو گے؟۔ج: انشااللہ۔ س:30ہزار سے کیا بنتا ہے ایک ہزار روپے کا تو برگر آجاتا ہے تو اس کو کیسے خوش رکھو گے ؟۔ ج: اللہ کو منظور جیسا ہوگا خوش رکھے گا اللہ۔ س: اسکے ماں باپ نے فیصلہ کیا تم ان کو پسند نہیں ہو تو پھر اس کو کیوں بھگایا ؟۔ ج: اس نے یہ بولا کہ مجھے بھگا کرلے جاؤ، میں نے بولا کہ صبر کروتھوڑا ،امی ابو مان جائیں گے ہم ان کو راضی کر لیں گے بس پھر اس نے بولا کہ نہیں امی ابو نہیں مانیں گے امی نے ضد پکڑی ہے اور وہ نہیں مانے گی۔ س: اس نے ضد کیا کہ بھاگ چلتے ہیں؟۔ ج: ہاں۔ س: تو کب اس نے ذہن میں ڈالا کہ بھاگنا ضروری ہے اب ہمارا شادی نہیں ہوگا ؟۔ ج: اس نے تو رمضانوں میں کہا تھا مگر میں نے بولا ابھی نہیں بڑی عید کے بعد تک گزارہ کرتے ہیں اسکے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ میں اپنی امی والدہ کو بھی بھیج دوں گا بہنوں کو بھی ۔ س: تمہارے گھر والے راضی ہیں؟۔ ج: جی سب راضی ہیں مگر اس کی امی نہیں ۔ س: اب کیا کرو گے تمہارے گھر والوں سے رابطہ ہوا انکا ؟۔ ج: جی وہ راستے میںہیں۔ س: تمہارے آ رہے ہیں انکے بھی ؟۔ ج: دونوں آرہے ہیں ۔ س: پھر کیا تم یہیں پرشادی کر لو گے یا ان سے لکھوا کے جا ؤگے کہ شادی کریں گے تو ہم گھر جائیں گے ورنہ نہیں؟۔ ج: ہم شادی کریں گے پھر گھر پہ جائیں گے۔ یہاں پہ ہمیں پولیس والوں نے بھی بولا تھا کہ ہم انکے ساتھ بات کریں گے ان کو راضی کریں گے ،مولوی صاحب کو بلاکر آپ لوگوں کو نکاح کروا کے آپ لوگوں کو بھیج دیں گے۔
ناظرین! یہ جوڑا بھاگ کے آیا۔ باقی کیس ہسٹری کیا کہتی ہے ہم بابر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اصل میں معاملہ کیا ہے۔ چلئے میرے ساتھ السلام علیکم جی! وعلیکم السلام! کیسے ہیں بابر صاحب؟۔جی الحمدللہ میڈم جی۔سوال: بابر صاحب یہ جو ہے چھوٹی عمر کے ہیں بالکل جوان ہیں اور بچی کی بھی عمر نہیں شناختی کارڈ بھی نہیں بنا۔ ان کو کیسے ریسکیو کیا کہاں سے آئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہے کیا کیس ہسٹری ہے کیا کہیں گے؟۔ جواب: ادھر مسافر خانے صبح7بجے کے قریب آکر بیٹھے ہیں تو ان کو شک کی بنیاد پہ ہم نے جو تحفظ مرکز بلایا ہے۔اس لڑکے کو شک کی بنیاد پہ بلایا ۔اس نے پہلے تو نمبر سارے غلط بتائے پھر بعد میں ان کا موبائل لیا تو اس میں سے نمبر وغیرہ نکالے۔ لڑکی کا بھی نمبر اس کے موبائل سے نکال کر اس کے گھر والوں سے رابطہ کیاتوپھر لڑکی کے والدین نے کہا کہ ہم اسے لے جائیں گے اور لڑکے کے والد نے کہا میں تو ادھر اپنے کام پر ہوںمیں تو نہیں آرہا۔ سوال: لڑکے کے پیرنٹس نے اس کے پیچھے آنے سے انکار کردیا؟۔ جواب: ہاں !ظاہر سی بات ہے انہوں نے جب بولا کہ ہم تو نہیں آسکتے ہمیں تو پتہ نہیں کہ وہ کدھر ہے؟۔ تو وہ پھر ہم نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ نہیں آئیں گے تو ہم کاروائی کر دیتے ہیں ۔ پھر جب کاروائی کا سنا تو کہتے ہیں نہیں جی ہم آجائیں گے آپ ان کو بٹھا کے رکھیں انہیں جانے مت دیں۔ رابطہ کر کے پھر انہیں بلوایا کہ آپ ضرور پہنچیں۔ انہوں نے کہا جی ابھی تو دوپہر کو ان کو ہینڈ اوور کر کے گئے ہیں جو ہماری فرسٹ ٹیم تھی انہوں نے بھی رابطہ کیا ۔بعد میں انہوں نے ان کو بتایا کہ ہمیں بس نہیں مل رہی تو انشااللہ شام چار بجے ٹرین ملے گی تو انشااللہ صبح تین چار بجے پہنچ جائینگے ۔سوال: تو اب ان کے پیرنٹس آرہے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد کا کیا معاملہ ہے کیا راضی ہیں انکے گھر والے آپس میں ان کا نکاح کرنے کیلئے کیونکہ ان بچوں نے کہا ہے کہ پولیس والوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ آپ کا نکاح کروائیں گے اس کے بعد آپ کو ان کے پیرنٹس کے حوالے کیا جائے گا؟۔ جواب: نہیں جی پولیس کا کام تو یہاں تک ہی تھا۔ پولیس نے تو ریسکیو کرنا ہوتا ہے اور ریسکیو کر کے ان کے والدین کے ہینڈ اوور کرنا ہوتا ہے اور یہ ان کی خاندانی باہمی رضامندی سے یہ اگر چاہیں تو ہماری طرف سے جاتے ہی نکاح کر لیں یہاں سے باہر جا کے نکاح کر لیں لیکن ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ انہیں سمجھا ضرور سکتے ہیں کہ اگر آپ کے بچے بالغ ہیں اگر آپ کے بچے اچھے طریقے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ ان کی بات ضرور سنیں گھر جا کے۔ اب وہ سنیں یا نہ سنیں یہ تو ان کے اپنے گھر کا میٹر ہے ۔
جی ناظرین! آپ نے دیکھا اورسنا کہ اگر خدانخواستہ یہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم ان کو ریسکیو نہ کرتی تو بچی بہت ینگ ہے16سال کی ان کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ اس معاشرے میں کیا چل رہا ہے خدانخواستہ کسی کریمنل ایکٹیوٹی یا کسی کریمنل گینگ کے ہاتھ آ جاتے تو ان کو خدانخواستہ اس لڑکی کوسیل بھی کیا جا سکتا تھا اغواء بھی کیا جا سکتا تھا لڑکا بھی کوئی اتنا ہائی فائی نہیں ہے یا اتنا سٹرانگ اور مضبوط نہیں ہے نہ فائنینشلی ہے اور فزیکلی ہے۔ لڑکی کو کس طرح پروٹیکٹ کر سکتا ہے؟۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ یہ آئے کیوں ہیں ؟۔یا کس بیس پہ ہیں ؟۔ یا کیا سوچ کے آئے ہیں؟۔ پھر میں کہوں گی کہ اپنے گھر میں ارد گرد بچوں کو ضرور مانیٹر کریں ان کی ایکٹیوٹی کو ضرور چیک کریں ان کے حلقہ احباب کو چیک کریں کہ بچوں کی کیا ایکٹیوٹی ہے کہاں آرہے ہیں کہاں جا رہے ہیں کہاں اٹھ رہے ہیں؟۔ اپنے آپ مصروفیات زندگی میں اتنا ٹائم ہو تاکہ آپ کو اپنے بچوں کے اوپر تھوڑی سی مانیٹرنگ ہو ان کی ایکٹیوٹی کا پتہ ہو یہ نہ ہو کہ کل کو پچھتائیں اس سے پہلے آپ الرٹ ہو جائیں۔ باقی آئی جی صاحب کا یہ اقدام ہمارے سر آنکھوں پر۔ پولیس تحفظ مرکز کی ایک ٹیم نے ایک اور کیس کو حل کیا ہے ایک بچہ بچی کو انشااللہ صبح اپنے پیرنٹس کے ہینڈ اوور کیا جائے گا قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا پھر کہوں گی کہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم اور پولیس تحفظ مرکز جنہوں نے بنایاIGصاحب ان کے اقدام کو ہم سلیوٹ کرتے ہیں قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا حاضر ہوں گے نئے پروگرام میں فی امان اللہ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

ایک عظیم انسانی معاشرہ

ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی تعبیر وتشریح پر حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، جعفری اور اہلحدیث وغیرہ کا اتفاق ہوجائے تو امت مسلمہ کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔ کیا حنفی اور شافعی کا قرآن کی تفسیر پر کوئی اتفاق تھا؟۔ نہیں، ہرگز بھی نہیں!۔ لیکن اسکے باوجود حنفی و شافعی ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں؟۔ہاں جی بالکل بھی!۔
مفتی منیر شاکر نے عوام کو قرآن پہنچانے کی جس تحریک کا آغاز کیا، بہت لوگ ان کی سن رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں اور اتفاق کررہے ہیں ۔ جب آدمی چلنا پھرنا سیکھتا ہے تو گرتا اور سنبھلتا ہے۔غلطی کرتا ہے اور ٹھیک طریقے سے سدھرتاہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولاناانور شاہ کشمیری نے فرمایا کہ ”میں نے ساری زندگی ضائع کردی ۔ قرآن وحدیث کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہی مسلک کی وکالت کی ہے”۔ اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے”۔
قرآن کے ذریعے عالم اسلام اور عالم انسانیت کا ایک عظیم معاشرہ بن سکتا ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیم کو علماء ومشائخ کے سامنے لائیں گے تو بات بن جائے گی۔ علماء دیوبند نے1857کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد معاشرے میں اسلامی تعلیم کو زندہ رکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔
برصغیر پاک وہند میں مدارس قرآن وسنت کی تبلیغ کا اہم ترین ذریعہ تھے۔ قرآن واحادیث کے الفاظ کی حد تک تو مدارس اہم ذریعہ ہیں کیونکہ عربی کے بغیر قرآن اور احادیث کے الفاظ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن جس طرح سے کہا جاتا ہے کہ حج وعمرے کے مسائل اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک کوئی عملی طور پر حج وعمرے کی ادائیگی نہ کرے۔ اسی طرح قرآن و حدیث کے احکام کا تعلق اگر عبادات سے ہو تو جب تک عملی طور سے عبادات کو اپنا لائحہ عمل نہ بنالیا جائے تو عبادات سمجھ میں نہیں آسکتی ہیں۔ مثلاً نماز، روزہ، وضو اور غسل کے احکام کو سمجھنے کا تعلق عملی زندگی سے ہے۔ اسی طرح معاشرتی احکام کا تعلق بھی عملی زندگی سے ہے۔ جب تک نکاح وطلاق اور دوسرے معاشرتی معاملات سے کسی کا عملی واسطہ نہیں پڑتا ہے تو پڑھنے اور پڑھانے سے شرح صدر نہیں ہوتا ۔ اسی طرح معاشی واقتصادی مسائل ہیں اور اسی طرح وہ احکام ہیں جو حکومت کے نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد افغانستان میں طالبان کو اس سے واسطہ پڑگیا ہے۔ امیر المؤمنین ملا عمر اور امیرالمؤمنین ہیبت اللہ کے اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے بہت فرق ہے۔ داڑھی، تصویر اور نماز کے مسئلے پر پہلے جیسی شدت ابھی نہیں رہی ہے۔ یہ انحراف نہیں بلکہ سمجھ اور تجربات کا بہت واضح فرق ہے۔
سعودی عرب اور ایران بھی بدل رہے ہیں۔ خلافت کے قیام سے نئے نئے تجربات پہلے سامنے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے زبردستی سے زکوٰة کا نظام نافذ کیا اور اس کیلئے قتال بھی کیا۔ حضرت عمر نے بدری اور غیربدری صحابہ میں وظائف کے اندر فرق رکھا۔ حضرت عثمان نے حضرت ابوبکر وعمر کا نظام اپنایا۔ حضرت علی نے نبی ۖ کے نظام کو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی لیکن ان کو دسترس حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ حضرت حسن نے امیرمعاویہ کے حق میںدستبرداری اختیار کی اور یزید کے دور میں حضرت حسین نے حکومت کا تختہ الٹنے کی بنیاد رکھ دی۔ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں اپنی خلافت قائم کی۔ یزید کے بعد مروان نے عبداللہ بن زبیر کے اقتدارکا خاتمہ کردیا۔شہید کی لاش کو کئی دنوں تک عبرت کیلئے ٹانگ دیا تھا۔
نبی کریم ۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مدینہ میں مزارعت کو سود قرار دیا، مزارعین میں قوت خرید پیدا ہوگئی۔ مزودر کی دیہاڑی دوگنی تگنی چگنی ہوگئی۔ تاجروں کے حالات بدل گئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا کہ” مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور سونا بن جاتا ہے”۔ جاگیردارانہ نظام بنیادتھا غلام اور لونڈی پیدا کر نے کا۔ عربی میں غلام کو ”عبد” اورلونڈی کو ” امة” کہتے ہیں۔ قرآن نے غلام اور لونڈی کے نکاح کا حق دیا تھا بلکہ واضح کیا کہ ” مؤمن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں مشرک زیادہ اچھا لگے”اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے ۔ اگر مشرکہ تمہیں زیادہ اچھی لگتی ہو”۔
غلام اور لونڈی جانوروں کی طرح بازاروں میں بکتے تھے۔ ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں تھے۔ اسلام نے فیصلہ کردیا کہ ”مزارعت سود اور حرام ہے ” تو اس حکم سے غلامی کی فیکٹریوں کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ جنگوں، بردہ فروشی اور جوئے اور سودی قرضوں کی وجہ سے بھی لوگوں کی اولاد ، بیگمات اور وہ خود غلامی کی زنجیروں میں جکڑجاتے تھے۔ غلامی کے تمام ذرائع کا خاتمہ کردیاتھا۔ جنگوں میں بچوں ، عورتوں اور پر امن لوگوں پر ہاتھ اٹھانے تک ممانعت کردی تھی۔ پہلے ادوار میں عزتدار لوگوں کی تذلیل کردی جاتی تھی اسلئے کہ معزز بچوں اور خواتین کو بھی غلام اور لونڈی بنادیا جاتا تھا۔ حضرت زید بردہ فروشی کے ذریعے غلام بنائے گئے تھے اور نبیۖ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا مگر پھر بھی غلامی کے دھبے کی وجہ سے اپنی بیگم کو طلاق دینی پڑگئی۔ حضرت بلال اصلی نسلی غلام تھے مگر آپ کی عزت مشرکینِ مکہ کے سرداروں سے بھی بڑھ گئی تھی۔
پھر وہ وقت آیا کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت علی کی اولاد نے پھر ملوکیت کے دور میں مزارعت شروع کردی تھی اور صحیح بخاری ومسلم وغیرہ ان حضرات کی وجہ سے دورِ رسالتۖ کے مقابلے میں مزارعت کے سود کو جواز مل گیا۔ غلام بنانے کا ایک ہی معتبر طریقہ تھا وہ مزارعت کا جاگیردارانہ نظام تھا۔اس کو مسلمانوں نے دوبارہ رائج کردیا تھا تو جو اسلام انسانوں کی غلامی سے انسانوں کو نکالنے کیلئے آیا تھا وہ اپنی افادیت کھو گیا۔
معیشت کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کے غلام امریکہ کا غلام بن گیا اوربتوں کا پجاری بھارت معیشت میں مستحکم ہونے کی وجہ سے آزاد اور عزت دار ہے ۔پاکستانی مقتدرہ اور حکمران کی عزت فالودہ بن گئی۔ عبادات میں اہم نماز اورنمازِ جمعہ ہے جس سے پہلے تجارت چھوڑنے اور بعد میں فضل تلاش کرنے کا حکم ہے۔ دنیا میں سودی نظام کی وجہ سے امریکہ ویورپ اب اسرائیل کے غلام بن چکے اور روس نے سوویت یونین کے ممالک کو خودہی آزاد کردیااسلئے کہ وہاں سودی ناسور نہیں تھا۔ ہم اسلام کے معاشی اور معاشرتی نظام سے بہت دُور ہوچکے۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب”سوانح قاسمی جلد2” میں لکھا کہ مسلمان نسل درنسل ہندؤوں کی رسم ”ستی” سے متأثر تھے۔ بیوہ شوہر کی وفات کے بعد خود کو جلادیتی تھی اور بیوہ دوسری شادی نہیں کرتی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے لکھاکہ اگر اس رسم کے خلاف بول نہیں سکتے تو دل سے برا سمجھے۔ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی بیوہ بہن کو مشکوٰة پڑھائی تو بیوہ کے نکاح کرانے کے باب کو اس سے چھپایا ۔ جب سیداحمد بریلوی کی صحبت کا فیض حاصل کیا تو کھلم کھلا تقریریں کرنے کی ہمت ہوئی۔ جس کی وجہ سے بیوہ کی شادیاں کرانے والے کے نام سے مشہور کیا گیا۔ پھر ایک دن کسی نے سوال کیا تو سمجھ گئے اور کہا کہ جواب بعد میں دوں گا۔ سیدھا اپنی بیمار بہن کے پاس پہنچ گئے اور منت کی کہ میرا وعظ بے اثر ہوگا اسلئے دوسرا نکاح کرو۔ وہ بیمار تھی مگر مجبور ہوکر نکاح کرلیا۔ یہی صورتحال مولانا قاسم نانوتوی کی بھی بیان کی ہے جن کو ”الامام الکبیر” کے لقب سے یاد کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل شہید اور مولانا محمدقاسم نانوتوی کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوانہ رسوم سے نکلے لیکن قرآن کا درست ترجمہ و تفسیر اس وقت سامنے نہیں آسکی تھی۔ اللہ نے سورہ نور آیت32میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا اور صالح غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کا بھی۔ اور ساتھ یہ صورت بھی بتادی کہ اگر آزاد عورت کا نکاح کسی غلام سے کیا جائے تو اس میں مکاتبت یعنی لکھت کا معاہدہ ہوگا ۔ اگر اس میں خیر نظر آئے تو یہ معاہدہ ہونا چاہے اور اس پر وہ مال بھی خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ پھر کنواری لڑکیوں کا مسئلہ بھی حل کیا ہے لیکن ان آیات کا انتہائی غلط ترجمہ وتفسیر کیا ہے۔ علماء ومفتیان اور شیخ القرآن وشیخ الحدیث اور جدید دانشوروں کی ایک ٹیم بیٹھ جائے۔ انشاء اللہ بہت آسانی کیساتھ اُمت کو موجودہ دور کی مشکلات سے قرآن کی واضح ہدایت سے نکالیں گے۔ ہم قرآن وسنت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ مسلکانہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدارس ومساجد کو استعمال کررہے ہیں۔ اچھے اچھے علماء حضرات کی سرپرستی میں قرآن وسنت کی طرف توجہ سے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ” جولوگ ہمارے (احکام) میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور بضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے”۔ القرآن

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟

قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟

ولا تکرھوا فتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیٰوة الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم(33)
اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی سرخ روئی چاہو اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کردیا تو بیشک اللہ ان کی مجبوری کے بعدمغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔سورہ النور

کنواری لڑکیوں کوانکے ولی (سرپرست) اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔جب لڑکی کسی سے عشق اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکربغاوت کرنے پر آتی ہے تو خاندان کی عزت کو فالودہ بنادیتی ہے۔ عدالتوں میں بڑے پیمانے پر اس طرح کے کیس سامنے آرہے ہیں۔قرآن اورحدیث میں ان مسائل کا حل موجود ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عام طور پر لڑکی کا نکاح خاندان کی باہمی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل معمول سے ہٹ کر معاملہ ہوتا ہے کہ لڑکی مرضی سے نکاح چاہے اور والدین کی رضامندی اس میں شامل نہ ہو لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی اپنا دل کسی کو دے بیٹھتی ہے اور خاندان کیلئے وہ رشتہ قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔
ایک طرف حنفی فقہاء نے صحیح حدیث کو قرآن کے خلاف قرار دیا اور دوسری طرف ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اس صورت میں اجازت دی ہے کہ جب لڑکی اور لڑکے دونوں کے خاندان میں برابری ہو۔ اگر لڑکی کا خاندان اُونچا ہو تو پھر اس کا نکاح کم حیثیت رکھنے والے لڑکے سے اس صورت میں جائز ہے کہ جب لڑکی کے خاندان والے اجازت دیں۔
فقہاء نے قرآن کو حدیث کے خلاف قرار دیکر رد کردیا تھا مگر پھر کفوء کا شرعی مسئلہ فقہی مسائل اور فتوے کا حصہ بنادیاہے اور کفوء کے مسائل میں بھی عجائبات ہیں لیکن اس طرف زیادہ تفصیلات میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ زیادہ تر مسائل اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ لڑکی کے خاندان لڑکے کو برابر نہیں سمجھتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو وضاحت کیساتھ بیان کردیا ہے۔ جب لڑکی والوں کو اپنی خاندانی وجاہت کا احساس ہو اور لڑکے کو اپنی خاندانی وجاہت کے قابل نہ سمجھتے ہوں تو پھر اللہ نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے آیت میں واضح کیاکہ:
” اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی سرخ روئی چاہو اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کردیا تو بیشک اللہ ان کی مجبوری کے بعدمغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔(سورہ النور۔ آیت33)
اگر لڑکی کو مجبور کرکے اس کی دوسرے شخص سے زبردستی سے نکاح کرایا گیا تو پھر اگر چہ یہ جائز نہیں ۔ عورت کی مرضی سے اس کا نکاح کرانا ہی ضروری ہے لیکن ان کو زبردستی سے مجبور کرنے کے بعد لڑکی پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اسلئے کہ مجبوری میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔اور اگر لڑکی نے بغاوت کرکے باطل نکاح کرلیا تو بھی اگرچہ یہ حرام ہے مگر جب اس کے ولی اس کو اپنی مرضی کے خلاف مجبور کررہے تھے تو یہ بغاوت اور باطل نکاح بھی قابل معافی ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ قرآن وسنت کی روح کو سمجھ کر آج اُمت کی ذہن سازی کی جائے تو ماحول پر بھی قابو پانے میں آسانی ہوگی اور قوم کی مردہ جان میںبھی زندگی کی روح دوڑ جائے گی اور مسلک کے نام پر اختلافات اور خرافات سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ علم سے جاہل ، عمل سے عاری ، عقل سے گدھے اور دنیاپرستی کے معاملے میں انتہائی عیارو چالا ک ہیں اور نئے نئے ریکارڈ بنارہے ہیں اور اسلاف کا نام لیتے ہیں۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل نے بتایا کہ مفتی محمد تقی عثمانی کی لڑکی کو ایک لڑکا ٹیوشن پڑھا رہاتھا اور پھر اس نے اس لڑکے سے شادی کی ٹھان لی مگر پھر اپنی لڑکی کو مارپیٹ سے مجبور کرکے دوسرے لڑکے سے نکاح پر مجبور کیا گیا ۔
جن کے گھروں میں مسائل ہوں تو وہ قرآن و حدیث کے مسائل کو درست انداز میں اٹھانے سے بڑا گریز کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر حافظ نعیم الرحمن صاحب یہ بات سمجھ لے کہ ”اگر قرآن کی اس آیت کا درست ترجمہ وتفسیر منی پاکستان کراچی کے لوگوں کو سمجھا دی گئی تو پورے پاکستان کے لوگوں میں یہ شعور عام ہوجائے گا۔ پھر کوئی باپ بھی اپنی بیٹی کو بغاوت پر مجبور کرنے کی حد تک لے جانے کے بجائے اس کا نکاح اس کی مرضی سے کردے گا اور ہمارا معاشرہ ایک بہت بڑے بحران سے بچ جائے گا۔
علماء نے اس آیت کا ترجمہ یوں کردیا ہے ۔(العیاذ باللہ)
” اور تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کروجب ان کا ارادہ پاکدامن رہنے کا ہو،تاکہ اس کے ذریعے سے دنیاوی مفاد حاصل کرو۔ اور جس نے زبردستی سے ان کو مجبور کردیا تو پھر ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے”۔ النور،آیت:33
اگر قرآن وسنت کی درست تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ کر اپنے منبر ومحراب پر عوام کے سامنے بیان کیا جائے تو سوشل میڈیا پر بھی حقائق پھیل جائیں گے اور اسلام اور علماء کا نام روشن ہوگا۔
احادیث میں کنواری لڑکیوںاور طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نکاح ان کی مرضی اور اجازت سے بہت بڑی وضاحت ہے۔
ملا جیون بہت سادہ مگر مخلص انسان تھے۔ رائیونڈ تبلیغی مرکز میں ایک عالم نے بیان کیا کہ ” شاہجہان بادشاہ اور اسکے وزراء ریشمی کپڑے پہنتے تھے۔ ملاجیون سے کسی نے پوچھا کہ ریشمی کپڑے مرد کیلئے جائز ہیں ؟۔ تو اس نے جواب دیا کہ بالکل بھی جائز نہیں ہیں اور اگر کوئی اس کو حلال سمجھتا ہے تو وہ واجب القتل ہے”۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو بھی اب حلال قرار دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے …

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا ہونا آیت حتیٰ تنکح زوجًا غیرہ سے ہرگز متصادم نہیں ہے

درسِ نظامی کی فقہ حنفی ہے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے ”( البقرہ:230) اس آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے۔ جس میں حدیث خبر واحد کی وجہ سے اس کو اپنے ولی کی اجازت کا پابند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا: ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ یہ حدیث خبرواحد ہے اور قرآن کی آیت سے متصادم ہے اسلئے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کے منافی قوانین کی گنجائش نہیں ۔ لڑکی گھر سے بھاگتی ہے پھر اغواء کا مقدمہ ہوتا ہے پھر عدالت سے رہائی ملتی ہے جب لڑکی کہتی ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے گئی تھی اورمولوی کا نکاح نامہ پیش کیا جاتاہے ۔
اگر حنفی قرآنی آیت سے حدیث کو متصادم نہ قرار دیتے تو معاملہ مختلف ہوتا۔ یہ احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں کہ ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں۔200احادیث عورت کے نکاح کو ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیتی ہیں لیکن حنفی مسلک و درسِ نظامی کی تعلیمات یہی ہیں کہ قرآن سے متصادم ان احادیث کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی بھی تعلیم وتربیت اسی درسِ نظامی اور حنفی مسلک میں ہوئی ہے۔
مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری اور اہل حدیث کے جمہور فقہاء و محدثین ان احادیث کو مانتے ہیں۔ ولی کی اجازت کے بغیر وہ عورت کے نکاح کو باطل سمجھتے ہیں اسلئے پاکستان وہندوستان کے علاوہ دوسری جگہ لڑکی کے بھاگ کر نکاح کرنے کامعاملہ کم ہوتا ہے۔ جمہور فقہاء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کے علمبرداروں کو ”منکرین حدیث” قرار دینا شروع کیاتھا۔
علماء غلط تعلیم دیتے ہیں کہ ”یہ قرآن سے متصادم ہے”۔ اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ جب قرآن و احادیث کی تطبیق ہوسکتی ہو تو تطبیق کردی جائے ،امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ ” جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے”۔ سارے ائمہ یہی کہتے تھے کہ قرآن کے خلاف حدیث کو وہ نہیں مانتے۔ حدیث کے مقابلے میں ہمارے مذہب کو دیوار پر دے مارا جائے۔
اگر ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے نکاح کو باطل قرار دینے والی احادیث کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیا جائے اورقرآنی آیات کو طلاق شدہ اور بیوہ کیساتھ خاص کردیا جائے تو قرآن و احادیث میں تصادم نہیں تطبیق ہوجائے گی۔ مسلک حنفی کا یہی تقاضا ہے جس کی نشاندہی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب نے اپنی کتاب” اجتہاد وتقلید” میں بہت وضاحتوں کیساتھ کردی ہے۔ جو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی حسام اللہ شریفی کے استاذ تھے۔
البقرہ آیت230میں طلاق شدہ سے زیادہ ١لبقرہ:234میں اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں بیوہ عورت کو عدت کی تکمیل کے بعد خود مختار قرار دیا ہے۔ اگر حنفی مسلک والے ان دونوں آیات کو اپنی تعلیمات میں پیش کرتے اور احادیث صحیحہ کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیتے تو جمہور فقہاء ومحدثین بھی ان آیات کے انکار یا تأویل کے مرتکب نہ ہوتے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ قرآن و احادیث پر متفق ہوجائیں اور ایک دوسرے پر منکرین قرآن وحدیث کا فتویٰ لگانے سے پرہیز کریں۔ جمہور فقہاء ومحدثین کی مصیبت یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کی وجہ سے آیت230،234البقرہ کے خلاف بھی عورت کی خود مختاری و آزادی کو نہیں مانتے۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے مسائل کو علماء تک محدود نہیں رکھا جاسکتا ۔اسلئے عوام مذہبی طبقے سے بہت تیزی کیساتھ مسلسل متنفر ہورہی ہے۔
برصغیرپاک وہند کے مایہ ناز حنفی عالم علامہ تمناعمادی نے پاکستان کی تشکیل کے بعد مشرقی پاکستان کے ریڈیو سے قرآن کا درس دینا شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآنی آیات بھی سمجھانے کیلئے تمرین (مشق) کرائی جائے۔ جس طرح حنفی اصول فقہ میں آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مقابلے میں حدیث کی تردید ہے ،اسی طرح آیت وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ” اور انکے شوہر اس عدت میں ان عورتوں کو لوٹانے کا زیادہ رکھتے ہیں اگروہ صلح چاہتے ہوں”۔ کے مقابلے میں پہلے تو کوئی خبر واحد کی حدیث نہیں ہے کہ جس میں نبیۖ نے عدت میں رجوع سے روک دیا ہو۔ لیکن اگر کوئی صحیح حدیث ہوتی تب بھی قرآن کی آیت سے متصادم ہونے کی بنیاد پر اس کو رد کردیا جاتا۔
علماء کی بڑی کم بختی یہ ہے کہ قرآن کی آیات کو بھی آپس میں متصادم کر دیا جو کام قرآن کے دشمن نہ کرسکے وہ نادان دوستوں اور احمق گدھوں نے کردیا۔ اللہ نے عدت میں باہمی اصلاح سے شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو حلالہ کی لت والے مفتیان کس طرح فتویٰ دیتے ہیں کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے؟۔
عورت کی عزت کو قرآن وسنت نے تحفظ دیا لیکن علماء نے اسلام اور حلالہ کے نام پر عورتوں کی عزتوں کو پامال کردیا ہے۔ حنفی مسلک فطرت کے عین مطابق تھا لیکن احمق گدھوں نے مسلک حنفی کی غلط ترجمانی سے حقائق کو بالکل مسخ کردیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

اسرائیل سودی نظام کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کو اپنے ہاتھوں میں نچارہاہے اور فلسطین وعرب کو تباہ وبرباد کررہاہے ۔برما کے مسلمانوں پر بھی شدید مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں!

برما میں اراکانی مسلمانوں کو مذہبی طبقے نے تعصبات سے بھر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں ان غریبوں پرکوئی بھی توجہ نہیں دیتا،ان کو مشکلات سے نکالنا ایک اہم فریضہ ہے

نریندرمودی سے تعصبات کو ہوا مل گئی۔ ہم اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان کا علاقہ شامل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان نے ہندوستان کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کیاتھا، جس میں لاکھوں جانیں گئیں اور عزتیں پامال ہوگئیں۔ مشرقی ومغربی بنگال ، پنجاب، کشمیراور ہندوستان کی تقسیم سے ہم نے بھارت میں مسلمانوں کو ہندؤوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان تک کا علاقہ پھر گریٹر بھارت میں ضم کردیا گیا تو ایک طرف قرضوں اور دہشتگردی سے جان چھوٹ جائے گی اور دوسری طرف مجاہد متعصب ہندؤوں کو سبق سکھا دیں گے۔ لتاحیاء جیسی شاعرہ کی بات بالکل درست ہے کہ ”اسلام وہی تو ہے جو حضرت نوح پر اترا تھا اور جو ویدوں میں موجود ہے”۔ جس طرح ہندؤوں نے اپنے دین کو مسخ کردیا ہے اسی طرح مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا۔ بھارتی مسلمان دھڑلے سے کہتا ہے کہ
میں اللہ کے نبی کا باغی نہیں ہوں
میں ہندو تو ہوں وہابی نہیں ہوں
جنرل ضیاء الحق وانہ جنوبی وزیرستان میں آئے تھے تو نامور عالم دین مولانااحمد حسن لسوندی سے پوچھا کہ”یہ لوگ پگڑیاں سروں پر ہلاتے ہیں تو میری بات سمجھ بھی آتی ہے یا نہیں؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا: ایک پٹھان نے فارسی بان عورت سے شادی کی تھی تو اس خاتون نے اپنا یہ دکھڑا سنایا تھا کہ
یارمو افغان شد من نہ دانم چہ کنم
او بگوید دلتہ راشہ من نہ دانم چہ کنم
”میرا شوہر افغان ہے۔ میں نہیں جانتی ہوں کہ میں کروں کیا؟۔ وہ کہتا ہے یہاں آؤ اور میں نہیں جانتی کہ کیا کروں”۔
جس پر جنرل ضیاء الحق اپنے پروٹول کو نظرانداز کرتے ہوئے خوب کھلکھلاکر ہنس پڑے تھے۔ یہی حال ہمارے عجم کے مسلمانوں کا بھی ہے کہ قرآن وحدیث کی زبان عربی ہے اور ہمارا مذہبی طبقہ کچھ کا کچھ مفہوم لیتا ہے لیکن سمجھتا نہیںہے۔
جنرل ضیاء الحق نے قبائلی عمائدین سے پوچھا کہ روس آپ کے پڑوس میں آیا، تمہیں پریشانی تو نہیں ؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا کہ ”ہم بہت خوش ہیں”۔ یہ خلافِ توقع جواب سن کر جنرل صاحب نے پریشانی سے پوچھا کہ کیوں؟۔ مولانا احمد حسن نے جواب دیا کہ ”قبائل بہادر قوم ہے۔ اسکے پاس اسلحہ نہیں ہے لیکن ہم روسی ہتھیار چھین کر یہاں سے مار بھگائیںگے”۔ جس پر جنرل ضیاء الحق بہت زیادہ خوش ہوگئے۔ بھارت اگر توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور افغانستان تک اس نے قبضہ کرنا ہے تو نیٹو سے اس نے سبق سیکھ لیا ہے۔ اس کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے لیکن ہم اپنی فوج کی خوشنودی کیلئے یہ نہیں کہتے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کو جب اس فوج سے آزاد کردیا تو بنگال سے نکل گیا۔ فوج کو چاہیے کہ اس قوم کو اس حد تک نہ لے جائے کہ لوگ اپنی جان چھڑانے کیلئے لڑیں اور پھر باہر کی افواج عوام کی مدد کو پہنچ جائیں۔ غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارا کوئی بھی ایسا ریاستی ادارہ اور سیاسی پارٹی نہیں جس پر عوام کو اعتماد ہو اور ملک وقوم کو مشکل صورتحال سے نکال سکے۔ سراج الحق دوفیصد سودی اضافے کو اسلامی بینکاری قرار دیتا تھا اور لوگوں میں سود کے خلاف وہ مذہبی جذبہ بھی ابھارتا تھا جس کو گالی کہہ سکتے ہیں مگر باشعورعوام نے بالکل مسترد کردیا تھا۔
جب برما کے مسلمان بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش پہنچ گئے تو حامد میر سے ن لیگی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جہاز تیار کھڑے ہیں صرف اجازت دیں تو پاکستان لے آئیں۔ یہ میاں محمد شریف کے نام لیوا ہیں جس نے بوسینیا کے مسلمانوں کی مدد کی لیکن آج یہ کچے کے ڈاکو کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

مذہبی سیاسی جماعتوں کو پاکستان میںبڑی سطح پر پذیرائی اسلئے نہیں ملتی ہے کہ انہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا ہے لیکن اسلام کی کماحقہ خدمت نہیں کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے نئے امیر حافظ نعیم الرحمن نے نئے عزم کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے اسلامی حقوق بحال کرکے سیاسی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک گروہ ، فرقہ اور مسلک نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کیلئے بنی ہے۔ پروفیسر غفور احمد کا تعلق بریلوی اور قاضی حسین احمد کا تعلق دیوبندی گھرانے سے تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کوISIکیلئے استعمال کیا لیکن پروفیسر غفور کو پتہ بھی نہیں تھا۔ جماعت کے صدر اور جنرل سیکرٹری میں کتنا فرق تھا؟۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی عمران خان تائید اور جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالفت کررہاتھا۔ سیاست کی بساط تلپٹ ہوتی رہتی ہے لیکن اسلام کیلئے بنیادی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے قاضی حسین احمد صدر تھے لیکن جب نمائندہ ضرب حق امین اللہ نے کوئٹہ میں سوال کیا کہ شیعہ مسلمان ہیں یا کافر؟۔ تو قاضی حسین احمد ناراض ہوگئے۔ پھر سید منور حسن نے سلیم صافی کو پاک فوج کے خلاف ایک بیان دیا تو جماعت اسلامی نے سراج الحق کو امیر بنادیا۔ اب حافظ نعیم الرحمن نے اقامت دین کے پرانے راستے پر چلنے کا عہد کیا ہے تو عورت کا حق سلب کرنے والے حنفی و جمہور فقہاء کے مسالک کو چھوڑ کر قرآن کے مطابق عورت کو حق دینے کا فارمولہ عام کریں تو جماعت اسلامی اقامت دین کیلئے کھڑی ہوگی۔ صدراتحاد العماء سندھ کے مولانا عبدالرؤف ، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق بلوچ اور دیگر نے ہماری حمایت کی۔ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کے اہم قائدین نے بھی ہماری حمایت کی ہے لیکن اصل معاملہ قرآن کے واضح احکام کی طرف رجوع ہے۔ عورت کو حلالہ اور دیگر مظالم سے نکالنا پڑے گا۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں

والذین یتوفون منکم و یدرون ازواجًا یتربصن بانفسھن اربعة اشھر وعشرًافاذبلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO(سورہ البقرہ:234) ترجمہ: ”اور تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ4ماہ10دن تک اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ وہ عورتیں اپنے معاملے میں جو فیصلہ کرلیں ”۔
نشان حیدر پانے والے فوجی یا دیگر سرکاری ملازمین کی وفات کے بعد ان کی بیگمات پر عدت4ماہ10دن ہیں۔ اگر وہ عدت کی تکمیل کے بعد کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہوں تو بھی ان کی مرضی اور اگر اسی شوہر کے ساتھ نکاح کو قائم رکھنا چاہتی ہوں تو بھی ان کا نکاح قائم رہے گا۔ اگر وہ کسی اور سے نکاح کریں تو پھر سرکاری ملازم شوہر کی مراعات ختم ہوجائیں گی۔ بیوہ عورت عدت کے بعد بالکل آزاد ومختار ہے۔ آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ اختیار عورت کا اپنا ہے۔ اگر مردہ شوہر کیساتھ نکاح باقی رکھنا چاہتی ہیں تو جنت کے اندر بھی اپنے شوہر اور اپنی اولاد کیساتھ ہوں گی۔ نکاح ٹوٹے گا نہیں۔ مفتی اعظم کی وفات کے بعد20سال بعد بھی اس کی بیگم کی قبر پر زوجہ مفتی اعظم کی تختی لگتی ہے۔ لیکن انتہائی کم عقل گدھا مذہبی طبقہ جو یہ سمجھتا ہے کہ میاں بیوی میں کسی ایک کی وفات سے نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ نبیۖ نے حضرت عائشہ سے کہا: لومتِ قبلی فغسلتک ” اگر آپ مجھ سے پہلے فوت ہوگئی تو میں تجھے غسل دوں گا”۔( ابن ماجہ حدیث نمبر1465)۔ (مسند احمد6/228) شیخ البانی نے اس حدیث کو ” حسن” قرار دیا ہے۔ حضرت ابوبکر کی میت کو اس کی بیوی نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ جب مذہب کو پیشہ بنایا گیا تو ”میت کا غسل” بھی ایک پیشہ بن گیا۔ بڑے آدمی کی میت کو غسل دینے پر بڑے علماء میں جھگڑے ریکارڈ پر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحی پیر مفتی تقی عثمانی نے ”احکام میت” پر ضخیم کتاب لکھی۔ کتابیں بھی ایک بڑا کاروبار ہیں۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟

اسلام اللہ کا دین ہے اور مسالک ، مذاہب اور فرقے لوگوں نے بنائے جن سے نکل سکتے ہیں

1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھر فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم (سورہ البقرہ آیت226،227)
ترجمہ: ”ان لوگ کیلئے جو اپنی بیگمات سے لاتعلقی اختیارکرلیں،4ماہ ہیںپس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے ۔اور اگر ان کا عزم طلاق کا ہوا توپھر بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے ”۔
دورِ جاہلیت میں ایک رسم یہ تھی کہ شوہر بیوی کو طلاق نہیں دیتا تھا لیکن مدتوں ناراض رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کی بیوی زندگی بھر انتظار کرتے کرتے گزر جاتی تھی اور وہ اس کے نکاح میں رہتی تھی۔ دوسری جگہ وہ شادی نہیں کرسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عدت وطلاق کے مسائل میں سب سے پہلے یہ خطرناک مسئلہ حل کردیا۔ طلاق میں 3ماہ انتظار کی مدت ہوتی ہے اور اس میں ایک ماہ کا اضافہ کرکے4ماہ انتظار کی مدت رکھ دی۔پھر اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ تمہیں پکڑے گا اسلئے کہ ایک ماہ کے انتظار کی مدت بڑھانا عورت کیساتھ زیادتی ہے جس کو آیت225میں بھی واضح کیا ہے۔
جمہورفقہاء ومحدثین ، ابن تیمیہ وابن قیم کے نزدیک4ماہ بعد بھی زندگی بھر کیلئے نکاح قائم ہے جب تک کہ شوہر طلاق کااظہار نہ کرے۔اسلئے کہ شوہر نے اپنے حق کا استعمال نہیں کیا ۔حنفی فقہاء کے نزدیک شوہر کا4ماہ تک نہیں جانا اپنے حق کا استعمال ہے اسلئے 4ماہ گزرتے ہی طلاق ہوگئی اور انکا نکاح قائم نہیں رہاہے۔
اللہ تعالیٰ نے طلاق نہ دینے کی صورت میں عورت کامسئلہ حل کردیا ہے۔ ناراضگی میں4ماہ کی عدت کے بعد عورت چاہے تو دوسری جگہ نکاح کرے اور چاہے تو پہلے شوہر کے ساتھ اس کی رضامندی سے رہے۔ لیکن مسالک نے عورت کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اگر عورت دوسری جگہ نکاح چاہتی ہے تو ایک طبقہ کہتا ہے کہ تمہارا یہ نکاح قائم ہے ۔ اگر وہ اپنے شوہر سے تعلق چاہتی ہے تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ تمہارا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اب عورت کس کی مانے اورکس کی نہیں مانے؟۔ یا دونوں پر لخ لعنت کرکے اپنے رب کی حقیقی نعمت کو مانے؟۔

نوٹ: مندرجہ بالا آرٹیکل مکمل پڑھنے کیلئے ترتیب وار پڑھیں۔
1:قرآن کو بوٹیاں بنانیوالے مجرموں کا کام اور ان کی نشاندہی؟
2:عدت کے بعد بیوہ کی خودمختاری اور علماء و مفتیان کی جہالتیں
3:جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

شوہر بیوی کو3طلاق دے تو عدت و حلالہ کے بعد دوبارہ پہلے شوہر کے پاس آسکتی ہے۔ مطیع اللہ جان نے وسعت اللہ خان سے کہا تھا کہ نوازشریف بھٹو ثانی نہیں؟۔وسعت نے کہا کہ کس کو کس سے ملارہے ہو؟۔ ن لیگی اور پیپلزپارٹی قیادتیں کہتی ہیں کہ جب ہم دو بیویاں پہلے سے موجود تھیں تو تیسری کو کیوں لائے ہو؟۔PDMمولانا فضل الرحمن کا کارنامہ تھا۔ اب مولانا نے دھیمے، میٹھے اور بڑے تیکھے لہجے میں میڈیا کے بعد پارلیمنٹ اجلاس میں پورے پاکستان کی توجہ کا میلہ لوٹ لیا ہے۔2مئی کو کراچی اور9مئی کو پشاور میں جلسہ عام سے ایک بھونچال برپا کردیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مفتی محمود نے اپوزیشن کی قیادت کی تھی تو ضیاء مارشل لاء میں بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کا سب سے زیادہ مولانا نے ساتھ دیاتھا۔ مولوی صاحبان نے ان پر کفر تک کے فتوے لگادئیے لیکن مولانا ڈرا نہیںاور جھکا نہیں اسلئے کہ1970میں جمعیت علماء اسلام پر بھٹو کی حمایت کی وجہ سے فتوے لگ چکے تھے۔ پھر مولانا نے اسلامی جمہوری اتحاد کے فتوؤں کا بھی مقابلہ کیا جس میں شیعہ و سپاہ صحابہ والے جماعت اسلامی کیساتھ اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر جب ن لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی کھلاڑی بن گئی تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِحکومت میں مولانا نے کھل کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ پھر جب ن لیگ کو2تہائی اکثریت سے1997میں لایا گیا تو مولانا نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کردیا۔ پھر جب فوج نے نوازشریف کو ہٹایا تو مولانا نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔ پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا تو سب سے جاندار مخالفت کی آواز مولانا کی تھی۔ عمران خان نے ریفرینڈم میں ساتھ دیا جیسے جماعت اسلامی نے ضیاء کا ساتھ دیا تھا۔ جنرل مشرف نے ق لیگ کو کھڑا کیا تو اپوزیشن مولانا نے کی۔پیپلزپارٹی نےNROکیا۔ پھر بے نظیر شہید کی گئی تو زرداری کہتا تھا کہ میری لاش جائے گی مگر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ مولانا نے ساتھ دیا۔ پھر نوازشریف پر طاہرالقادری اور عمران خان نے لشکر چڑھادیا تو مولانا نے کہا کہ میرا لشکر آیا تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔جب تحریک انصاف سے نکاح ہوا ، پھر طلاق ہوگئی تو عدت گزرنے کے بعد مولانا پھر حلالہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔مولانا کا حلالہ حکومت اور اپوزیشن کو ماننا پڑے گا۔
5ماہ قبل قیدی نمبر804کے چہیتےISIکے فیض حمید کے خلاف بڑی کہانی سامنے آئی،اب فوجی ٹرائیل کی بازگشت تازہ ہوگئی ۔ اگر اسلام آباد ٹاپ سٹی کا ثابت ہو کہ اصل مالکن پاکستانی برطانوی شہری تھی ۔ کاروبارMQMکے غنڈوں نے چھین لیا اور معیز خان ایک ملازم تھا۔ پھر12مئی2017کوISIکےGDCجنرل فیض حمید نے معیز خان سے کاروبار چھیننے کیلئے بھیانک ریڈکیاتھاتوپھر پاکستان صحیح سمت چلنا شروع ہوگا۔
س: مریم نواز نے پولیس کی وردی کیوں پہنی ؟ سائرہ بانو نے جواب دیا کہ ” پولیس کو یہ دکھانے کیلئے کہ بہاولنگر کے واقعہ میں جتنے تم مجبور ہو، اتنے ہم مجبور ہیں”۔ پولیس نے کہا کہ ”ہم نے دو ڈاکو پکڑ لئے تو یہ سزا مل گئی کہ تھانوں میں مارپیٹ ہوئی، ہسپتالوں میں بھی نہیں چھوڑا، ننگاکیا گیا ”۔ پولیس نے پاک فوج زندہ باد اور فوج نے پنجاب پولیس زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر حقائق سامنے نہ آسکے ۔ مریم نواز نے بے نظیر بھٹو کی نقالی کی تھی جس نے اپنے باپ کی سیاست کیلئے قربانیاں دی تھیں ۔ اسی طرح شہر بانو نے جب اچھرہ لاہور میں خاتون کی جان بچانے میں بہت کردار ادا کیا تو پنجاب پولیس کو عزت مل گئی۔
جنرل فیض حمید نے رینجرز اہلکاروں کے ذریعے اتنی بڑی وارادات کی تھی اور عمران خان نے بشری بی بی کی رپورٹ پر جنرل عاصم منیر کوDGISIکے عہدے سے فارغ کیاتھا تو یہ انتقامی کاروائی نہیں بلکہ اس میں بڑا دم خم ہے۔ اگر ٹاپ سٹی میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں تو لوگوں کو اپنی زمینیں مل جائیں۔ خاتون مالکن مظلوم کو انصاف مل جائے۔ جنرل فیض حمیدکو سزا ملے تو پاکستان بھر میں ہر جگہ ظالم ظلم سے توبہ کریں گے۔ پاکستان میں یہ بھی ممکن ہے کہ جنرل فیض حمید کو ٹرائیل کرنے کیلئے فوجی ملازمت پر بحال کیا جائے۔ عمران خان وزیراعظم بن جائے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹاکر پھر جنرل فیض حمید ہی کو آرمی چیف بنادیا جائے۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے پہلے سارے جنرلوں کو اسی قانون ہی کے تحت مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی کہ نہیں؟۔
جب طالبان منظم اور ٹرینڈ نہیں تھے توGHQتک پر قبضہ کرلیا تھا۔ISIدفترملتان ، مہران ائیربیس، کراچی ائیر پورٹ اور پشاور ائیرپورٹ سے لیکر کیا کچھ نہیں کیا؟۔سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو ملتان اور سلمان تاثیر کے بیٹے کو لاہور سے اغواء کرکے افغانستان پہنچادیا گیا تھا۔ پاکستان پر ڈالروں کی برسات جاری تھی لیکن اب طالبان ٹرینڈ ہیں اور پاکستان کی معاشی حالت ابتر ہے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کہہ رہاہے کہ طالبان سے مذاکرات کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ لیکن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں یہ خبر کسی نے بھی شائع نہیں کی ۔ ایک مرتبہ حامد میر نے بھی مولانا فضل الرحمن کو دھمکی دی تھی کہ اسامہ بن لادن نے کہا کہ ”میں مولانافضل الرحمن کو نہیں چھوڑوں گا”۔ پھر اب جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مقبولیت تھی تو حامد میر نے کہا تھا کہ بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے مانگی ۔ میں نے50ایسے بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ دیدی جن میں صحافی ، طلبہ اور ادیب تھے تو فوج نے ان سب کو قتل کرکے پھینک دیا۔ رانا ثناء اللہ نے اس وقت تو جواب نہیں دیا لیکن الیکشن کے بعد حامد میر کی اس بات کو جھوٹ قرار دے دیا اور چیلنج کیا کہ اپنے جیو چینل کے صحافیوں کو تحقیقات کیلئے مقرر کردیں۔
سچ اور جھوٹ کے مخلوط نظام صحافت وریاست نے سب کا بیڑق غرق کیا۔ قرآنی اور فطری احکام کے ٹھوس شواہد کی روشنی میں پاکستان کی بچت ہوسکتی ہے ورنہ اب عوام ہی نہیں اپنے مقتدر طبقات کی بھی خیر نہیں ہے۔ مسلسل گرداب میں پھنسنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اب خدانخواستہ بھارت پاکستان سے لڑنے اور لڑانے کیلئے ٹریننگ دینے بھی میدان میں اترے گا اور اس اندھی جنگ میں بنگلہ دیش کی طرح ریاست کا برا حشر ہوگا؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv