پوسٹ تلاش کریں

اگر گاڑی کوالٹا کرکے اسکے پہیے چلائیں تو پھر کیاگاڑی چلے گی؟ یہی حال قرآن کا کیا!

اگر گاڑی کوالٹا کرکے اسکے پہیے چلائیں تو پھر کیاگاڑی چلے گی؟ یہی حال قرآن کا کیا!

وقل انی انا النذیرالمبینOاور کہہ دیں کہ بیشک میں کھلا ڈرانے والا ہوں
کما انزلنا علی المقتسمینOجیسے ہم نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا
الذین جعلوا القراٰن عضینOجن لوگوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیاہے
الحجر آیت89،90،91۔ کیاقرآن کو بوٹی بوٹی کرنے والے یہ علماء ہیں ؟
وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجوراًO”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قران کو چھوڑتے ہوئے پکڑ رکھاتھا”۔الفرقان آیت30۔ قرآن کو تھامنا ہوگا۔

جمعیت علماء اسلام بلوچستان( درخواستی گروپ) کے امیر مولانا امیر حمزہ بادینی نے ہمیں بیان دیا تواتنی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑگیاکہ مدینہ منورہ استخارے کرنے پہنچ گئے۔ جب وہاں سے ڈٹ جانے کا حکم مل گیا تو پھر دوبارہ حمایت میں بیان دیا جس کو ماہنامہ ضرب حق میں شہہ سرخی سے لگادیا۔ بلوچستان جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق بلوچ نے جب ہماری حمایت میں بیان دیا تو بلوچستان کی امارت سے ہٹادئیے گئے۔ حالانکہ پروفیسر غفور ، اتحاد العلماء کے مولانا عبدالرؤف نے بھی دیا تھا۔ تمام مکاتب فکر کے بڑوں نے حمایت کی ہے۔ لیکن جماعت المسلمین پختونخواہ کے صوبائی امیر حفیظ الرحمن نے ہمیں بیان دیا کہ کھڑی گاڑی کو مسلمان ہر طرف سے دھکا لگارہے ہیں جس کی وجہ سے چل نہیں رہی ہے ۔ اگر ایک طرف سے دھکا لگادیںگے تو گاڑی چلے گی۔ قرآن و سنت اور اسلام کیلئے فرقہ پرست مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ جس پرجماعت المسلمین نے صوبائی امارت سے بیچارے کو فارغ کیاتھا۔
اصل میںگاڑی کو الٹا کردیا گیا ہے۔ مسلمان ٹائروں کو چلاکر مست ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ گاڑی کوسب مل کر چلائیں یا انفرادی مگر جب تک یہ کلٹی پڑی ہے تو چلے گی نہیں۔ قرآن میں ان یہودی علماء کی مثال گدھوں کی دی گئی جنہوں نے تورات کومسخ کردیاتھا۔ قرآنی آیات حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کی تھیں ۔ احادیث اور صحابہ کے فتوؤں اور فیصلوں میں بڑی وضاحت تھی۔مگر انہوں نے پھر حلالہ کو قرآن اور حدیث سے بر آمد کیا؟ لیکن بہت بڑی غلط فہمی اور علماء کو علی الاعلان اس سے امت کی جان چھوڑناہو گی نہیں تو ہرمیدان میں چیلنج ہوں گے۔ حلالہ سے لیکرہرچیز کو الٹا کرکے رکھ دیا ۔قرآن کی تعریف، احکام سب کو بوٹی بوٹی کردیا۔حنفی کے ہاں تحریری کتاب قرآن نہیں۔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے ۔ مصحف پر حلف نہیں ہوتا۔ غیرمتواتر آیات قرآن ہیں۔شافعی کے ہاں غیر متواتر آیات قرآن نہیں۔ جنابت سے نہانے کا حکم ہے جو ہرانسان سمجھتا ہے ائمہ نے فرائض گھڑ کرقرآن بوٹی بوٹی کردیا۔
قرآن میں عبادات کے احکام ہوں مثلاً غسل، وضو، نماز، حج یا معاشرت کے احکام ہوں مثلاً نکاح، ما ملکت ایمانکم کے حوالے سے مسیار و متعہ ، طلاق، خلع ، عورت کے حقوق ، یا پھر شرعی حدود کا مسئلہ ہو لعان ، حد زنا، جبری بدکاری، دو مردوں کی آپس میں بدکاری کی سزا، پاکدامن عورت پر تہمت کی سزا اور قتل کے بدلے قتل ، اعضاء کے بدلے اعضاء یا پھر معیشت کے مسائل ہوں جیسے سُود اور مزارعت وغیرہ سب کو ملیامیٹ کردیا گیا ہے۔ اگر ایک طرف قرآنی آیات و احادیث کو دیکھیں اور دوسری طرف فقہی مسالک کے نام پر ان احکام پر تقسیم اور فرقہ واریت کو دیکھیں تو نظر آئے گا کہ قرآن کیساتھ قصائیوں والا سلوک مذہبی طبقات نے کیا ہے۔ موجودہ سعودی حکومت سے پہلے خانہ کعبہ میں چاروں سنی مسالک کے مصلے بھی الگ الگ تھے۔ مسجد نبوی ۖ میں6محرابیں تھیں۔ جن میں ایک حنفی مسلک کے امام کا الگ سے محراب بھی تھا۔ یہ فرقہ بندی نہیں تو کیا ہے؟ قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا۔
قرآن میں اللہ نے ایک ایک چیز کی وضاحت کی فرمایا: وانزلنا الکتٰب تبیانًا لکل شئی ” اور ہم نے کتاب کو نازل کیا ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے ”۔
نمبر1:حنفی وشافعی کا حلف کے کفارے پرلغو اختلاف۔ لایؤاخذکم بالغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم اللہ بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیمO”اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہارے لغو عہد سے مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے۔ اللہ مغفرت والا اور برداشت والا ہے ”۔( آیت225البقرہ )
یمین عربی میں عہدوپیمان کو کہتے ہیں اور معاہدہ توڑنے کو بھی ۔البتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی یمین سے حلف یا قسم مراد ہوتا ہے۔کفارہ حلف پر ہی ہوتا ہے۔
لایؤاخذکم بالغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم اللہ بما عقدتم الایمان فکارتہ اطعام عشرة مساکین من اوسط ما تطعمون اہلیکم أو کسوتھم أو تحریر رقبة فمن لم یجد فصیام ثلاثة ایام ”ذٰلک کفارة أیمانکم اذا حلفتم” واحفظوا ایمانکم کذٰلک یبین اللہ لکم آیاتہ لعکم تشکرونO( المائدہ آیت89)
آیت میں اللہ نے واضح کیا کہ ” یہ تمہارے یمین کا کفارہ اس صورت میں ہی ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو”۔ اندھا بھی سمجھتا ہے کہ یمین حلف ہو تو تب کفارہ ہے ۔ یمین سے حلف مراد نہ ہوتو پھر کفارہ نہیں ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث ورباع وان خفتم ان لاتعدلوا فواحدہ او ماملکت ایمانکم ” پس تم نکاح کرو،جن کو تم عورتوں میں سے چاہو۔ دودو، تین تین اور چار چار اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکوگے تو پھر ایک یا جن سے تمہارا عہدوپیمان ہوجائے ”۔ یہاں یمین سے معاہدہ مراد ہے حلف نہیں۔ کفارے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے۔
اللہ نے یمین کو عہدوپیمان اور حلف کی صورتوں کو واضح کردیا تو حنفی شافعی جھگڑوں میں آیت کے حکم میں بٹوارہ اور بوٹی بوٹی کرنا بہت بڑی بدنصیبی ہے۔
سورہ مجادلہ میں60دن کے روزوں کا کفارہ متتابعات (تسلسل کیساتھ) ہے ۔ اگر حنفی مسلک اس کا حوالہ دیتے تو شافعی بھی مان جاتے مگر خبرواحد آیت کا عقیدہ قرآن میں تحریف ہے۔ عبداللہ بن مسعود نے بھی متعہ یا معاہدے کی تفسیر حدیث سے لکھ دی تھی جس کو حنفی الگ آیت مانتے ہیں لیکن متعہ کو پھر کیوں جائز نہیں سمجھتے؟۔ درسِ نظامی کی تعلیم صرف یہ نہیں کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بلکہ فقہی مسالک کے نام پرقرآن کو بوٹی بوٹی بنایا جارہاہے۔ قرآن میں استنجوں کے ڈھیلے نہیں بلکہ کائنات کو مسخر کرنے کیلئے سائنس کی دعوت ہے۔ اللہ نے قرآن کے سائنسی حکم پر عمل سے مغرب کو بلند اور مسلمان کو پست کردیا۔
مغرب نے اپنے پادریوں کے مسخ شدہ مذہب کو گرجوں تک محدود کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے انسانی حقوق نکاح وحق مہر اور خلع وطلاق پر قانون سازی کی تو وہاں انسانی حقوق نظر آتے ہیں۔ مغرب نے ڈکٹیٹر شپ اور بادشاہت کی جگہ جمہوری نظام کے ذریعے سیاست کو فروغ دیا تو اقتدار پر زبردستی قبضہ کرنے اور انتقال اقتدار کیلئے خون خرابہ اور قتل وغارت گری کا ماحول ختم ہوگیا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ ” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیںگے” ۔آج ہمارے مسلمانوں کی حکومتوں میں انسانی حقوق کی زبردست پامالی ہے اور مغربی ممالک پر رشک ہے تو اس کردار کی بدولت ہے۔ قرآن کے الفاظ محفوظ ہیں لیکن اس کے معانی اور احکام کی بوٹی بوٹی کرکے معنوی تحریف کی آخری حدیں پار کی گئی ہیں۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے اپنی فیض الباری میں اس معنوی تحریف کا اعتراف کیا ہے۔
سورہ بقرہ آیت224میں یمین سے مراد حلف نہیں بلکہ طلاق وایلاء کیلئے مقدمہ ہے کہ اللہ کو اپنے یمین کیلئے ڈھال مت بناؤ، کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ شیطان سب سے زیادہ اس کارکردگی پر خوش ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیاں صلح میں کوئی رکاوٹ ڈال دے اور آج کل سب سے زیادہ مذہبی طبقہ علماء ومفتیان شیطان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور میاں بیوی کے درمیاں صلح میں رکاوٹ ہیں۔
آیت225البقرہ سے حلف مراد نہیں بلکہ شوہر کا ناراضگی کیلئے کوئی بھی لفظ مراد ہے جوواضح الفاظ میں طلاق کا نہ ہو۔ اللہ نے واضح کیا کہ” لغو بات پر تمہاری پکڑ نہیں ہوگی مگر تمہارے دلوں نے جو کمایا ہے اس پر اللہ پکڑتاہے”۔دل کی اس کمائی پر پکڑنے کی وضاحت اگلی آیات226،227میں بالکل واضح ہے۔
آیت226البقرہ میں واضح کیا ہے کہ ” ان لوگوں کیلئے چار ماہ ہیں جنہوں نے اپنی عورتوں سے لاتعلقی اختیار کررکھی ہے۔ پھر اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔ پھر آیت227میں واضح کیا ہے کہ ” اگر طلاق کا عزم کیاہے تو اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ یعنی طلاق کے عزم کے باوجود بھی طلاق کا اظہار نہ کرنا دل کا گناہ ہے جو اللہ سنتااور جانتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے۔ اسلئے کہ طلاق کا اظہار کردیا تو عورت کو 4مہینے کی جگہ3مہینے انتظار کی عدت گزارنی پڑے گی۔ جو آیت228البقرہ میںواضح ہے۔ایک مہینے اضافی عدت گزارنے پرعورت کو مجبور کرنا دل کا وہ گناہ ہے جو طلاق کا اظہار نہ کرنے کی وجہ سے ملتا ہے۔
آیت226البقرہ میں اللہ نے ایلاء اور ناراضگی کی ”عدت” کو واضح کیا۔ طلاق کا واضح الفاظ میں اظہار نہ ہو تو پھر کتنی مدت تک شوہر کیلئے عورت کا انتظار ہے؟۔ قرآن میں4ماہ واضح ہیں۔ قرآن کا بٹوارہ کرنے والوں نے آیت226البقرہ میں4ماہ کی عدت کو عدت سے نکال دیا۔ پھر ایک طبقہ کہتا ہے کہ چار ماہ کے بعد بھی زندگی بھر عورت کو انتظار ہی کرنا پڑے گا۔ اس طبقے میں جمہور فقہاء اور علامہ ابن تیمیہ اوراس کے شاگرد ابن قیم شامل ہیں۔ جبکہ حنفی کہتے ہیں کہ چار ماہ بعد طلاق پڑگئی۔ اس آیت کی بوٹیاں ان لوگوں نے ہوا میں اچھال دیں ہیں۔ ایک عورت چار ماہ بعد بدستور خود کو ایک شخص کے نکاح میں مقید سمجھے گی اور دوسری طرف وہ سمجھے گی کہ نکاح سے نکل چکی ؟۔ یہ عورت اور اللہ کے کلام قرآن کیساتھ بہت بڑا گھناؤنا کھلواڑ ہے جو فقہاء ومحدثین نے کردیاہے ۔ جب دنیا کو قرآن کا صحیح پیغام پہنچے گا کہ ناراضگی میں عورت کی عدت چار ماہ ہے تو بڑامعاشرتی انقلاب برپا ہوگا۔ شوہر اپنی بیویوں کی حق تلفی نہیں کریںگے۔
قرآن کو بوٹی بوٹی کرنے کی بہت مثالیں ہیں۔ اللہ نے وضو میں سر کے مسح کا حکم دیا۔ ومسحوابرء و سکم ”اورسروں کا مسح کرو” ۔ حنفی کے نزدیک سر کے ایک چوتھائی کا مسح فرض ہے اسلئے کہ ب الصاق یعنی ہاتھ لگانے کیلئے ہے۔ شافعی کے نزدیک ایک سر کے بال کا مسح کرنے پر فرض پورا ہوگا ۔ب بعض کیلئے ہے۔ مالکی کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہوگا ایک بال رہ جائے توبھی فرض پورا نہیں ہوگا۔ اسلئے ب زائدہ ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب چہرہ بھی دھویا جائے ، ہاتھ کہنیوں اور پیر ٹخنوں تک دھوئے جائیں تو سر پر ہاتھ پھیرنا بھی فطری بات ہے۔ جہاں تک اس کے ڈھکوسلہ فرائض اور بدعات کا تعلق ہے تو اللہ نے تیمم کی آیت میں ان کے چہروں پر کالک مل دی ہے اسلئے کہ اس ب کا استعمال کرتے ہوئے فرمایا : ومسحوا بوجوھکم ”اور چہروں کو مسح کرو”۔ اس میں تو بال برابر اور ایک چوتھائی کی تقسیم نہیں ہوسکتی ہے۔ مفتی محمد شفیع نے لکھا کہ مولانا انورشاہ کشمیری نے فرمایا کہ ”میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اپنی ساری عمر ضائع کردی کیونکہ فقہ کی وکالت کی ہے”۔ مفتی محمدشفیع دارالعلوم کراچی سے قرآن وسنت کی خدمت چاہتے تھے تو پھر درس نظامی کی یہ تعلیم کیوں رائج کردی جس کی مولانا انورشاہ کشمیری نے آخرمیں مخالفت کی؟۔
مولانا یوسف بنوری نے مدرسہ ایک انقلاب کیلئے بنایا تھا اور اللہ نے مجھے وہاں تعلیم کیلئے ایک طالب علم کی حیثیت سے ڈال دیا تو ان کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان ان کے دوست تھے۔ کچھ لوگوں نے پیسوں کی خاطر اپنا دین ایمان بیچ کر حاجی عثمان پر فتوے لگائے اور کچھ نے مولانا محمد بنوری کو شہید کرکے ظلم کی انتہاء کردی۔ دین فروش اور ظالموں سے اللہ دین کی خدمت کا کام نہیں لیتاہے۔ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنیکی عمدہ مثالیں یہ ہیں کہ
سورہ بقرہ کی آیت228میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ ” طلاق والی عورتیں تین ادوار تک انتظار کریں……. اور ان کے شوہر اس میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔ ٹوکے والی سرکار حضرت نے پہلا وار یہ کیا ہے کہ شوہروں سے زیادہ مولوی کے فتوے کا حق ہے۔ دوسراوار یہ کردیا کہ طلاق رجعی ہو تو شوہر کو دومرتبہ رجوع کا غیرمشروط حق حاصل ہے۔ یعنی اللہ نے ایک دفعہ بھی صلح کے بغیر رجوع کا حق نہیں دیا اور ٹوکے والی سرکار2دفعہ رجوع کا حق دیتی ہے۔ اگلی آیت229البقرہ میں دو مرتبہ طلاق کیساتھ رجوع کیلئے معروف کی شرط ہے۔اللہ تو اپنی کتاب میں تضادات کا شکار نہیں ہے کہ ایک آیت میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دے دیا اور دوسری آیت میں پھر اس سے چھین لیا کہ ایک نہیں دومرتبہ غیرمشروط کرسکتے ہو؟۔ قرآن پر تیسراوار یہ کردیاکہ ایک ساتھ تین طلاق دئیے تو عدت میں رجوع کا حق باہمی اصلاح سے بھی ختم ہوگیا، اب حلالہ کرنا پڑیگا۔ چوتھا وار یہ کہ اللہ نے3ادوار تک انتظار کا حکم دیا تھا جس سے ایک عدت بنتی تھی مگر مولوی نے دو دفعہ طلاق رجعی کا حق دیا اور شوہر کو تین عدتوں کا حق دے دیا۔ ایک بار طلاق دی اور عدت کے آخری لمحے میں رجوع کرلیا، پھر دوسری بار طلاق دی ،پھر عدت کے آخرمیں رجوع کیا اور پھر طلاق دی تو عورت کی تین عدتیں گزارنی پڑیں گی۔ علاوہ ازیں اگر عورت کو ایک یا دو طلاق دیکر فارغ کردیا اور پھر اس نے کسی اور شوہر سے نکاح کیا اور وہاں سے طلاق ہوگئی تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ نئے سرے سے پہلاشوہر3طلاق کا مالک ہوگا یا پھر جو پہلے سے ایک یا دو طلاق موجود ہیں اسی کا مالک ہوگا؟۔ اس پر امام ابوحنیفہ وجمہور کا بھی اختلاف ہے اور احناف کا آپس میں بھی؟۔ اگر ایک عورت کو10اشخاص ایک ایک طلاق دیکر فارغ کریں تو ان سب کی جیب میں اس عورت کی2،2طلاق کی ملکیت کا بھی پروانہ ہوگا۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کیا تو یہ لوگ شیخ چلی سے بھی بدتر ہوگئے ہیں۔ ہمیں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے عقیدت ومحبت اسلئے ہے کہ زمانہ طالب علمی میں علماء حق نے نصاب کے خلاف نہ صرف سپورٹ کیا تھا بلکہ کتاب لکھنے والے ملاجیون کے لطیفے بھی سنائے تھے۔
آیت229البقرہ کو بھی ایسی بوٹی بوٹی بنادیا ہے کہ جب سنتے جائیں گے تو شرماتے جائیں گے۔ اللہ نے واضح کیا کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے”۔ یہ آیت228کی تفسیر ہے کہ عدت کے تین مراحل میں سے پہلے دو مراحل میں دو مرتبہ طلاق ہے اور پھر رجوع کرنا ہو تو معروف کی شرط پر کرسکتے ہو اور چھوڑنا ہو تو تیسرا مرحلہ آخری ہی ہے۔ پھر اس کی عدت پوری ہوگی اور کسی اور شوہر سے نکاح کرسکے گی۔ جب نبی ۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کونسی ہے تو فرمایا ہے کہ یہی کہ احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے آیت229البقرہ میں۔ حنفی مسلک نے ٹوکا اٹھایا کہ اگر عدت میں نیت کے بغیر بھی شہوت کی نظر پڑگئی ،چاہے مرد یا عورت رجوع نہ بھی کرنا چاہتے ہوں تو یہ رجوع ہے۔ شافعی مسلک میں ہے کہ اگر رجوع کی نیت نہ ہو تو تب جماع بھی کیا جائے تو رجوع نہیں ہوگا۔ باہمی رضا مندی اور معروف رجوع کے تصورکو ٹوکے مار مار کر بوٹی بوٹی بنادیا۔ حالانکہ اس کی احادیث صحیحہ میں زبردست وضاحتیں ہیں کہ پہلے طہر میں اپنے پاس رکھو ،حتیٰ کہ حیض آجائے۔ پھر دوسرے طہر میں پاس رکھو ، حتی کہ حیض آجائے۔ تیسرے طہر میں اگر رجوع چاہتے ہو تو رجوع کرلو اور چھوڑ نا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو اور یہی وہ عدت ہے جس میں اس طرح طلاق کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
قرآن و احادیث کی وضاحتوں کے باوجود کم عقلی کے ٹوکے سے قرآن کا حکم بوٹی بوٹی بنادیا۔ پھر اگر تینوں مراحل میں چھوڑنے کے عزم پر قائم رہے تو اللہ نے کہا کہ ”جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ، اس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں دونوں پرحرج نہیں ”۔(البقرہ آیت229)
اللہ نے تین طلاق کے بعد یہاں عورت کے حق کی حفاظت کی کہ دی ہوئی کوئی چیز واپس نہیں لے سکتے مگر اگر خدشہ ہو کہ کوئی چیز ملاپ اور رابطے کا ذریعہ بنے گی تو پھر وہی دی ہوئی چیز فدیہ کرسکتے ہیں۔ یہ خلع نہیں ہے کہ ٹوکے والی سرکار نے اس کو خلع بنایا۔ یہاں حق مہر مراد نہیں اسلئے کہ حق مہر تو ہاتھ لگانے سے پہلے صرف نکاح کرنے سے آدھا گیا اور جب شب زفاف گزاری تو عورت کو تکلیف کے بدلے پورا حق مہر مل گیا۔ دوسری دی ہوئی چیزوں کو بھی طلاق میں نہیں لے سکتے۔ جس کی آیت20،21النساء میں بڑی وضاحت ہے۔ٹوکے والی سرکار حق مہر اور منہ مانگے خلع کی رقم مراد لیکر قرآن کو بوٹی بوٹی کررہی ہے اور عورت کی بدترین حق تلفی کررہی ہے شوہر جب بھی چاہے گا ،مارپیٹ کر اس کے باپ سے بھی پیسے نکلوائے گا اور خلع لینے پر مجبور کرے گا۔ حالانکہ خلع عورت کی اپنی چاہت سے جدائی کا نام ہے۔ آیت19النساء میں اس کی بھرپور وضاحت کی ہے لیکن ٹوکے والی سرکار نے اس آیت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ اللہ نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ جس میں سورہ بقرہ کی آیات228،229اور231،232بھی شامل ہیں اور سورہ طلاق کی آیت1اور2بھی شامل ہیں۔ ان میں یہ بھی واضح ہے کہ باہمی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن ٹوکے والی سرکار باہمی رضامندی، معروف کی شرط اور باہمی اصلاح کی وضاحتیں نظر نہیں آتی ہیں۔ اسلئے آیت230البقرہ میں یہ واضح کردیا کہ جب دونوں طرف سے جدائی کا حتمی فیصلہ ہو تو فیصلہ کرنے والے بھی فیصلہ کن جدائی پر پہنچ جائیں ، جہاں رابطے کے خوف سے بھی کوئی چیز نہیں چھوڑی جائے کہ پھر جائز نہیں ناجائز تعلقات میں مبتلاء ہوں گے۔ تواللہ نے واضح کیا کہ اس طلاق کے بعد پھر عورت پہلے کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ یہ آیت229البقرہ سے مربوط ہے لیکن قرآن کی بوٹیاں بناکر سارے حدود توڑ دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ان تمام حدود کو زبردست وضاحتوں کیساتھ بیان کیا تھا لیکن قرآن کی بوٹی بوٹی بنانے والوں نے ظالموں کا ثبوت دیا۔ اس میں طلبہ کو لگادیا کہ ادوار سے مراد حیض ہے یا طہر؟ اور خلع جملہ معترضہ ہے یا تیسری طلاق کیلئے مقدمہ ؟۔ جس جاہلیت سے قرآن نے امت کو نکال دیا ،اس میں لوگوں کو دوبارہ ڈال دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

بانوہدیٰ بھرگڑی نے کہا: ماہ رنگ اور اسکے ساتھ آئی ہوئی خواتین نے یہ جواب دیا کہ اگر ہمیں پتہ ہو تا کہ ہمارے مرد کہاں ہیںتو ہم ادھر اسلام آباد میںاس ٹھٹھرتی سردی میں اپنے گھر چھوڑ کے اپنے معصوم بچوں کو گودوں میں لیکریہاں کیوں آتے؟۔ یہی تو وہ سوال ہے جو ہم ریاست سے پوچھنے آئے ہیںکہ بلوچ عورتوں کے گھروں کے مرد کہاں ہیں؟۔ دوسرا سوال آج ہمیں نظر آیا اسلام آباد پاکستان کے سیاسی منظر نامے پہ ۔وہ یہ تھا کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں۔SHOشفقت صاحب آئے تھے انہوں نے کہا کہ کیا عورت اس طرح بات کرتی ہے؟۔ تو میں ان سے ،ان کی ریاست سے اور اپنی ریاست سے یہ سوال پوچھنا چاہوں گی آپ انکے بیٹوں کو اٹھائیں،آپ ان کے بھائیوں کو اٹھائیں ،آپ انکے صوبے کے اندر موجودہ سوئی گیس کا استعمال کریں، آپ انکے ذخائر بیچیں سی پیک کے نام پر، آپ انکی زمینیں گروی رکھ دیں چائنا کے ہاتھ میں، آپ انکے بچے، آپ ان کے انٹیلی جینسیا، آپ انکے وکیل ،آپ ان کی مائیں ، معصوم بچے، آپ ان سب کو اٹھاتے جائیں انہیں قتل کرتے جائیں ان کی لاشوں کو کئی کئی سالوں کے بعد پھینک دیں اور اسکے بعد یہ کہیں کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں،عورتیں اس طرح سے سوال نہیں اٹھاتیں؟۔ توآپ پر، آپ کی ریاست، آپ کے اس قانون کے تحت جس قانون کے تحت آپ ادھر بیٹھے ہیں اور ہمیں ہمارا احتجاج نہیں کرنے دیتے سب پر لعنت ہے۔ لعنت ہے ایسے قانون کے اوپر، لعنت ایسی ریاست کے اوپر جو کہ عوام کے ساتھ نہیں کھڑی لعنت، لعنت ہے ایسے چیف جسٹس کے اوپر، ایسے پرائم منسٹر کے اوپر، ایسی فوج کے اوپر جو کہ مظلوم کا استحصال کر کے مظلوم کا خون بہا کے پھر مظلوم سے یہ تقاضا بھی کرے کہ تم نے اُف نہیں کرنی۔ تم نے آواز نہیں اُٹھانی، تم نے سڑک پہ نہیں نکلنا اور اگر تم سڑک پہ نکلو گے اگر اپنے گھروں کو چھوڑ کے اگر اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر کے کیمپوں میں آکے بیٹھو گے تو تم پہ ٹھنڈا پانی برسایا جائے گا، تمہیں جیلوں میںبھیجا جائے گا ،تمہیںاس سردی کے اندر ہر طرح کا وہ ٹارچر دیا جائے گا۔ جس ٹارچر کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ وہ میسج ہے جو کہ ہمیں انہوں نے دیا ہے میرا تعلق سندھ سے ہے۔ میں یہاں پر اپنی سندھی دھرتی اور اپنے سندھ کے ان لوگوں کی آواز بن کے آئی ہوں کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسی لیے فیصلہ کیا تھا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ سندھ ایک خود مختار صوبہ ہوگا۔ بلوچستان نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسلئے اسٹیٹمنٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک خودمختار فیڈریشن کے حق میں تھے ۔ہم اس ون یونٹ کے حق میں نہیں تھے۔ یہ جو پورے کا پورا نظام ہے جسکے اندر صرف جبر ہے جسکے اندر صرف ظلم ہے جسکے اندر صرف وحشت ہے جسکے اندر صرف دہشت ہے ہم ایسے نظام کو ہم ایسے قانون کو ہم ایسی ریاست کو نہیں مانتے۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ پاکستانیت کا جو تصور ہے اس پاکستانیت کے تصور کو ری ڈیفائن ہونا ہوگا، یہ پاکستانیت کیا ہے کیا پاکستانیت یہ ہے کہ بلوچ کا قتل کرو، بلتیوں کو نکال دو، گلگستان پر قبضہ کرو کشمیریوں کے حقوق پہ قبضہ کرو، سندھیوں کو بند کرتے جا ؤ ، ان کی آوازیں بھی ختم کرتے جاؤ، بلوچوں کی تو مسخ شدہ لاشیں پھینکتے جا ؤ۔ تو کیا یہ پاکستان صرف پنجاب اور پنجاب کے اوپر مبنی آرمی کا پاکستان ہے اگر یہ ان کا پاکستان ہے تو بتائیں یہ ہم سے ٹیکس لینا چھوڑ دیں، ہم سے یہ پیسے لینا چھوڑ دیں۔ یہاں پہ جتنے یہ میرے بھائی کھڑے ہوئے ہیں وردیوں کے اندر ہم یہ سب اپنی اپنی تنخواہوں سے ٹیکس دیتے ہیں جن سے آپ لوگوں کے گھر چلتے ہیں آج آپ لوگوں کے پاس بھی ایک موقع تھا۔ آپ اپنے فرض کے ساتھ تو کھڑے رہے لیکن کل کو جب مریں گے تو دیں گے تو خدا کو جواب۔ بتائیے مجھے کہ ان عورتوں نے آخر کیا قصور کیا ہے کہ جن کو یہ نہیں پتہ کہ وہ اب تک بیوائیں ہیں یا سہاگنیں ہیں؟۔ مجھے بتائیے ان معصوم بچوں کا کیا قصور کہ آپ کے بچے تو اسکول جائیں وہ اس سردی میں یہاں پہ کیوں بیٹھے ہیں؟۔یہ بچہ یہ بلوچ بچہ جب بڑا ہوگا تو کیا یہ پاکستان کو مانے گا؟۔ یہ جو سندھ کا بچہ ہے جو بڑا ہوگا کیا وہ پاکستان کو مانے گا؟۔ کیا وہ پاکستانیت کو مانے گا ؟۔آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس ملک کو بچائیں،اس کو ٹوٹنے سے روکیں، اپنے اندر کے انسان کو جگائیں اور ہماری اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہم کسی فارن فنڈنگ ایجنڈے کے ذریعے یہاں پر نہیں آئے ہیں۔ ہم پر یہ الزام لگا لگا کے آپ لوگوں نے بڑے اپنے بنالئے ہیں سوشل میڈیا پر آپ نے پیج بھی چلالئے ہیں کہ فارن فنڈنگ فارن فنڈنگ۔ چلتا تو آپ کا ملک ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتی تو آپ کی فوج ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتے تو آپ کے مولوی ہیں فارن فنڈنگ کے اوپر۔ ہم یہاں پہ انسانیت کی خاطر کھڑے ہیں اور ہمارے پاس ہارنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہاں پر بول رہے ہیں اسکے اوپر بھی قدغن لگا دو۔ زیادہ سے زیادہ آزادی سے سانس لے رہے ہیں یہ بھی ہم سے چھین لو۔ لیکن تم یہ سوچ نہیں توڑ سکو گے۔ اس سوچ نے جس نے یہ تھوڑے بہت بھی لوگ اکٹھے کیے ہیں، یا وہ جو مائیں بیٹیاں وہ بلوچوں کی عزتیں جو کبھی گھروں سے نہیں نکلتی تھی اگر آج بھی وہ نکلنے کیلئے آگئی ہیں تو آپ سوچ لیں کہ وہ کس قدر مجبور ہیں؟۔ اور اس قدر مجبور کرنے میں صرف اور صرف ریاست کا اور ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے۔
میں بحیثیت عورت، بحیثیت ایک سندھی عورت اور بحیثیت ممبر آف عورت مارچ اسلام آباد میں اپنی بلوچ بہنوں کے ساتھ کھڑی ہوں اور اس طرح کے ہر جبر کے خلاف ہم اور ہماری پوری کی پوری تحریک ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہے گی۔ ہم سے یہ توقع نہ کی جائے کہ ہم کسی فوجی ،کسی ٹینک، کسی کالی ویگو کے ڈر کے خوف سے اپنے گھروں میں جا کے چھپ کے بیٹھ جائیں گے۔ ہم یہاں پہ مزاحمت کرنے آئے ہیں۔ اور ہم اپنی آواز یہاں پہ سب کو سناکے جائیں گے ۔بے شک آپ کتنی بھی قدغن لگائیں۔ بے شک آپ خار دار تاروں سے یہ پوری کی پوری شاہراہ ہی بھردیں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟۔ ایک پروٹیسٹ روک پائیں گے۔ آواز اس عوام کی اب نعرہ علی الحق بن چکی ہے اور وہ اب آپ کو سننی پڑے گی۔ یہ آپ کو ماننا پڑے گا کہ اب آپ لوگوں کی جو رٹ ہے جس کا نام آپ لیتے ہیں یہ رٹ اب کسی کام کی نہیں ہے کیونکہ اب یہ عوام کے خلاف ہو چکی ہے۔ یہ اس مظلوم طبقے کے خلاف ہو چکی ہے۔ اور جو ریاست مظلوم طبقے کے ساتھ نہیں کھڑی وہ ریاست کسی کام کی نہیں اس ریاست کو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بہت بہت شکریہ

تبصرہ : نوشتۂ دیوار

جب یہ بیان بلوچ قوم کے پاس پہنچ جائے گا تو اس کے بعد ہدیٰ بھڑگڑی کا نام بانو ہدیٰ بھرگڑی یا بانوک ہدیٰ بھڑگڑی رکھ دیں گے۔ جب عورت مارچ کے خلاف ریاستی مشینری نے جامعہ حفصہ، لال مسجد اور تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو لگایا تھا تو وہ دن بہت مشکل تھا۔ ہم نے مظلوم خواتین کا ساتھ دیا تھا لیکن جب تک یہ سارے انقلابی قرآن و سنت کے ٹھوس احکام کی طرف نہیں آئیں گے ان کے وقتی اُبال سے کچھ بننے والا نہیں ہے۔ انسانیت کیلئے قرآن کے ٹھوس احکام میں سب کچھ موجود ہے اور جو اگر مولوی نے مسخ کیاتو ہم نے علاج کردیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ماہ رنگ بلوچ کو پرواہ نہیں شہادت کی
اس کی جدوجہد میں خوشبو ریاضت کی
بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال دیا
بلوچوں کو غلامی سے نکالنے کی عبادت کی
مظلوم کمزوروں کو لے کر شہر اقتدار پہنچی
اس نے بے بسوں کی خوب قیادت کی
بلوچوں نے مارا بھی اور مار کھائی بھی
76 سالوں میں داد نہ پائی سیادت کی
ماہ رنگ کی چادر سے دنیا میں دھوم مچی
مبارک ہو مبارک نئی مقبول ولادت کی
بدقسمت قوم ریاست کی مار کھار ہی تھی
تصویر دکھا دی شقاوت کی عداوت کی
وہ مارچ پہ مارچ کئے جارہی تھی آخر
منزل پالی ہے راحت کی سعادت کی
اب کوئی بھی ظلم کی جرأت کرے گا نہیں
شرارت ختم ہوئی لگڑ بگڑ کی خباثت کی
ہر قوم نے پیش کردیا ہے خراج تحسین
بلوچ شیرنی زینت بن گئی ریاست کی
پولیس کی روش کسی کے لئے بھی ٹھیک نہیں
وہ مظلوم ماری ہوئی تھی دور کی مسافت کی
اگر ان پر ظلم نہ ہوتا تو ہمدردی نہ ملتی
ظالم جابروں کا شکریہ اچھی ضیافت کی
ایک شرمائے دوسرا ٹانگ اٹھا کے پدو مارے
بلوچ پنجابی پیداوار الگ الگ ثقافت کی
دو لتی اُٹھاکے مارنا گدھے منحوس کی فطرت
کتابیں لاد کے رکھنا نشانی ہے جہالت کی
گدھے رہیں گے گدھے یا آدمی بنیں گے؟
ظلم قائم رہے گا یا باری آئے گی عدالت کی
اگرحافظ آرمی چیف واقعی ہے سید واجہ
توپھر رکھ لے گا لاج فوجی بسالت کی
سب قوموں کے لئے قابل فخر ہے یہ بات
بلوچ رانی نے پائی ہے داد شجاعت کی
نہ گالی نہ گلوچ کیا طرزِ عمل ہے واہ بلوچ
ادا تجھ سے کوئی سیکھ لے بڑی بغاوت کی
میرا ایک دوست تھا عبدالقدوس بلوچ
مثالی یادیں چھوڑیں جس نے رفاقت کی
بالاچ کے باپ نے فواد حسن کی ٹھوڑی پر
ہاتھ رکھ کر بڑی عزت سے منت سماجت کی
بلوچ روایت میں معزز کے لئے یہی دستور
ماہ رنگ سے برداشت نہ ہوئی ادا لجاجت کی
حکومتی وفد کے سامنے کہہ دیا کہ تم بیٹھ جاؤ
دکھادی اپنی اوقات بلوچی شانِ وجاہت کی
قوم بھوک افلاس اور بیروزگاری سے مری
سیاسی پارٹیوں میں جنگ ہے رقابت کی
دشمنی، بداخلاقی، افواہیں اور بہت کچھ
لیاقت ضائع ہے فصاحت کی بلاغت کی
مسائل کا حل قرآن میں منہاجِ نبوت
لوگ منتظر ہیں آئے گی ندا خلافت کی
جب تک حقیقی اسلام کی سمجھ نہ آئے گی
کربلا سے کشتی پار نہ لگے گی صداقت کی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ حامد میر

بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ حامد میر

جو سن1916سے اب تک جاری ہے اور ختم نہیں ہورہا ہے۔
رانا ثناء اللہ اور عطا تارڑ نے مجھ سے بلوچ لاپتہ افراد کی لسٹ منگوائی اس کے بعد اس لسٹ سے بلوچوں کو نکال نکال کر مارنا شروع کردیا

حامد میر نے کہا کہ ایک واقعہ کا میں عینی شاہد ہوں، پروسیس میں شامل تھا۔ مجھے کہا گیا کہ جن کو آپ چاہتے ہیں کہ رہا کردیا جائے یا کورٹ میں پیش کردیا جائے۔ تو میں نے ادھر اُدھر سے پوچھ پاچھ کے صرف50لوگوں کی لسٹ دی، پولیٹکل ورکر یا اسٹوڈنٹ تھے یا کوئی شاعر تھا یا ادیب تھا۔ پچھلی حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، وزیر قانون عطا ء تارڑ اور کچھ دیگر حکام۔ تو انہوںنے نام نکال نکال کر مارنا شروع کیا۔ آپ پر اعتبار کون کرے؟ اسلئے عورتیں اور بچے کدھر جائیں؟۔ یا تو علیحدگی پسندوں کیساتھ شامل ہوجائیں۔ یہ آتے ہیں اسلام آباد، آپ ان کو دھتکار دیتے ہیں۔ تو بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ اس نے سن1916میں بلوچستان میں جو خانہ جنگی، مارپیٹ شروع کی جو بلوچ کو تقسیم کرو اورحکومت کرو کی پالیسی کے تحت مرواناشروع کیا آپس میں دشمنیاں پیدا کیں شیعہ سنی فساد کروائے۔ وہ کام ہوتا جارہا ہے ہوتا جارہا ہے۔ خان آف قلات ،اکبر بگٹی ، خیر بخش مری سب نے کوشش کی پاکستان کیساتھ چلیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی ۔ ایوب خان ، یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف آجاتا ہے پھر یہ لوگ بلوچستان میں اپنے فیورٹ تلاش کرلیتے ہیں اور انکے ذریعے بلوچستان کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اگر آپ اپنے منتخب شدہ لوگوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کریں گے تو بلوچستان تو نہیں چلے گا۔ تو بلوچستان کو حقیقی جمہوریت دینی ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں الیکشن نہیں فراڈ ہوتا ہے۔ ابھی بھی الیکشن نہیں ہوگا ایک فراڈ ہوگا۔ اور کوشش کی جائے گی اس فراڈ میں بھی کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرو اور ماورائے عدالت قتل بند کرو۔ کوشش کی جائے گی کہ وہ لوگ اسمبلیوں میں نہ پہنچیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پنجاب سب سے زیادہ مظلوم ہے:قاری حنیف ڈار

پنجاب سب سے زیادہ مظلوم ہے:قاری حنیف ڈار

ہر وہ ظلم جو غیر پنجابیوں کیساتھ ہوتا ہے وہ پنجابیوں کیساتھ بھی ہوتا ہے۔مگر دوسروں کو غم ہلکا کرنے کیلئے پنجابیوں کو گالی دینے کا ہاجمولا دستیاب ہے، پنجابی لاشیں اٹھاکر کسی کو گالی نہیں دے سکتا ۔ غزوہ احد میںرسول اللہ ۖ نے حضرت حمزہ کا غم یوں منایا کہ70شہداء کے ہر جنازے کیساتھ حمزہ کا جسد خاکی ساتھ رکھ کر جنازہ پڑھایا۔ اُحد سے واپسی پر مدینہ کے ہر گھر سے شہداء کے ماتم کی آہ و بکا سن کر رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اما الحمزة فلا بواکی لہ ” ہائے حمزہ تیری تو کوئی رونے والی بھی نہیں ”۔اس پر صحابہ کرام نے اپنے گھر والیوں سے کہہ دیا کہ جاکر نبی ۖ کے حجرے کے باہر حمزہ کا ماتم کرو۔رسول اللہ ۖ نے شور سنا تو باہر نکل کر پوچھا کہ کیا ماجراء ہے؟۔ خواتین نے عرض کیا کہ ہم حمزہ کا ماتم کرنے آئی ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے ماتم سے روک دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ماتم کو حرام قرار دیا ہے۔ پنجابیوں کے خلاف بدبودار مہم پڑھتا ہوں تو رسول ۖ کا وہ جملہ یاد آتا ہے اور بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے کہ پنجابیوں تمہیں کوئی رونے والا نہیں ۔ پنجابیوں کا کوئی نصاب نہیں۔ پنجابیوں کا کوئی رسم الخط نہیں ۔ پنجابی طلبہ کیلئے مادری زبان کا کوئی پیپر نہیں۔ پنجابیوں کی مادری زبان کے کوئی مارکس نہیں۔ جتنے غیر پنجابی گمشدہ ہوتے ہیں اس سے زیادہ تو پنجابی شناختی کارڈ دیکھ کرگاڑی سے اُتارکر مار دئیے جاتے ہیں مگر کوئی لاش رکھ کر ٹریفک جام نہیں کرتا۔ وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کا مطالبہ نہیں کرتا۔ گویا پنجابی نے معاملہ رب کی عدالت پر چھوڑ دیا۔ پی ٹی آئی کے خلاف مہم میں سب سے زیادہ پنجابی خواتین قید وبندو استحصال سے گزری ہیں مگر کوئی ملک توڑنے اور پاکستان کے خاتمے کی بات نہیں کرتا۔پنجابی پاکستان کی سب سے شاکر قوم ہے۔
تبصرہ :فرعون: محمداجمل ملک
قاری محمد حنیف ڈار کا بیان ”پیج فرعون” پر آیا ہے اور اس نے لکھا کہ ” پنجابی پاکستان کی سب سے شاکر قوم ہے”۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا تو بنی اسرائیل میں بھی برائیاں تھیں۔ اسلئے جو فرعون سے بچ جاتا تھا اس کو خضر مار دیتا تھا۔ فرعون کو جب تک اللہ نے غرق نہیں کیا تو وہ صابر شاکر ہی تھا۔ زرداری نے مولانا فضل الرحمن کیساتھ سی پیک کی مغربی سڑک کا افتتاح کیا لیکن نوازشریف نے پھر کوئٹہ اور پشاور سے چھین کر لاہور کی طرف موڑ دیا۔ اگر وہ روٹ ہوتا تو چین کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہوتا اور قرضہ بھی اتاردیتے۔ حکمرانوں کے کرتوت پر شکر کرتے کرتے کہیں بنگال کی طرح غرق نہ ہوں!

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد ارکان کی تعداد پارٹیوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی۔ عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کا حامی اور تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان ریفرینڈم کا مخالف تھا۔ یہ جمہورت کا وہ گھناؤنا چہرہ تھا جس کا عوام کو آج تک شعور نہ مل سکا ہے پھر انتخابات ہوئے تو عمران خان صرف اپنی سیٹ پر جیت سکا۔ پرویزمشرف اس کو وزیراعظم بناسکتا تھا لیکن عمران خان نے اچھا کیا کہ نہیں بنا تھا اور پھر بلوچستان سے مرحوم ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا۔
ظفر اللہ جمالی میں جمہوریت، اسلام اور انسانیت تینوں چیزیں واضح مقدار میں تھیں لیکن مولانا فضل الرحمن کے مقابلہ میں ایک ووٹ سے وزیراعظم بن گیا تھا۔ اس وقت اس ایک ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔جس کے ذریعے سے ظفراللہ جمالی وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ عمران خان نے اپنا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا اور کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا۔ درست و صحیح صحافت کا ایک پروگرام ڈان نیوز میں وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی کا ” ذرا ہٹ کے” تھا۔ جس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ظفراللہ جمالی کو زیادہ ووٹوں سے بھی منتخب کروایا جاسکتا تھا لیکن فوج نے جمہوریت کو طاقتور نہیں ہونے دینا تھا اسلئے کچھ ووٹ چھپا ئے تھے۔ ظفراللہ جمالی ایک ووٹ سے کمزور وزیراعظم بنادیا گیا تاکہ جب فوج کو ضرورت ہو تو ایک ووٹ کو ادھر سے ادھر کرکے جمالی کو اتاردیا جائے۔ حالانکہ یہ بات اس وقت کی جاتی کہ اگر جمالی کے پاس اپنے علاوہ کوئی دوسرا ووٹ بھی ہوتا۔
اگر درست جمہوری تصور ہو تو طاقتور کے مقابلے میں کمزور لوگ بھی اقتدار میں آسکتے ہیں۔افغانستان میں طالبان طاقت کے ذریعے سے اقتدار تک پہنچے اگر جمہوریت نہیں آتی توپھر وہاں تبدیلی طاقت کے بغیر نہیں آسکتی ہے لیکن پاکستان میں یہ نہیں ہے کہ بندوق اٹھائی جائے تو تبدیلی آسکتی ہے۔
رسول اللہ ۖ نے اقتدار کیلئے جنگ نہیں کی تھی مکہ والوں نے مجبور کیا تو ہجرت کی اور مدینہ میں جمہوری اقتدار کی بنیاد رکھ دی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” قلم اور کاغذ لاؤ۔ میں ایسی چیز لکھ کر دیتا ہوں کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ نبیۖ نے اپنا ایجنڈہ زبردستی نہیں منوایا اور یہ جمہوریت کی بنیاد تھی۔
قوم پرست انصار نے کہا کہ ہم خلافت کے حقدار ہیں۔ نبی ۖ کے عزیز واقارب بھی تھے۔ اگرچہ ووٹ کا نظام نہیں تھا لیکن جمہورکی بنیاد پر حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ منتخب ہوگئے۔ پہلا خلیفہ انصار بنتا تو قوم پرستی کی بنیاد مضبوط ہوجاتی۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی جمہوری بنیاد پر کی تھی ورنہ ایک احتجاج کی صورت پیش آتی۔ حضرت عثمان کا انتخاب بھی شوریٰ نے جمہوری اور اکثریت کی بنیاد پر کیا تھا اور اس کی وجہ سے سب نے سرتسلیم خم کیا۔پھر حضرت علی خلیفہ بن گئے تو حضرت عائشہ کی قیادت میں مسلح جنگ ہوئی اور وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کا بدلہ لیا جائے۔ پھر حضرت علی کے بعد امام حسن نے امیرمعاویہ سے معاہدہ کیا اور30سالہ خلافت راشدہ کے بعد امارت کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بعد ایک غیر صحابی یزید سے خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوگیا اور یزید ہی باطل نظام کا ایک استعارہ بن گیا۔آج ہم آزاد ا رکان کا اقتدار قائم کرکے پاکستان میں خلافت راشدہ لاسکتے ہیں۔ حضرت علی نے مدینہ کی جگہ کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور ہم اسلام آباد کی جگہ ڈیرہ غازی خان کو دارالخلافہ بنائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
پنجاب ، سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے آزاد ارکان اپنا ایک مختصر منشور شائع کریں۔ پھر کامیاب ارکان آپس میں ہی اتحاد کرکے ایک شخص پر ووٹنگ کرکے اتفاق کرلیں۔ پہلے سب میں جن جن کوبھی ووٹ مل جائیں اورپھر زیادہ ووٹ لینے والا منتخب نہ ہو بلکہ کم ووٹ لینے والوں کو درمیان سے نکال کر زیادہ ووٹ لینے والوں کے درمیان ایک ہی مجلس میںمقابلہ ہو اور پھر پہلے تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے درمیان ووٹنگ کرائی جائے۔ پھر پہلی دو پوزیشن میں ووٹنگ کرائی جائے۔
پھر جس کے زیادہ ہوں اس پر سب متفق ہوں۔ جمہوریت کا ایک نیا طریقہ کار رائج کرنے کی ضرورت ہے جس میں پیسہ خرچ اور ایکدوسرے کے خلاف غلط پروپیگنڈے کا موقع بھی نہ دیا جائے۔ اگر آزاد ارکان خود جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اپنے منشور کے تحت کسی اور پارٹی کو جتوائے لیکن قرآن وسنت کے بنیادی معاشرتی ڈھانچے کو نافذ کرنے کیلئے اپناکردار ادا کرے۔خلع وطلاق کے مسائل ۔ خلع وطلاق کے حق اور نکاح اور حق مہر کے معاملات قرآن میں بالکل واضح ہیں لیکن علماء و مفتیان نے مسخ کرکے رکھ دئیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اسلام کی طرف نہیں جارہاہے۔ جمہوریت کے دور میں سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ ہم غلطیوں کو ٹھیک کرکے اس پر مرہم و پٹی رکھ سکتے ہیں۔ شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کے متفق ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اسلام روشنی ہے جو اندھیروں کو کسی طاقت کے بغیر بھی بالکل اڑادیتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سینیٹر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان

اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سینیٹر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے دھرنے میں پہنچ کر کہاکہ اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں سچی بات یہ ہے کہ جس بہادری، جرأت کیساتھ اس نہتی بچی ماہ رنگ بلوچ نے ریاستی جبر، پولیس دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے اس نے تمام جمہوریت پسند انسانی حقوق کے علمبرداروں کے سر فخر سے بلند کر دیے، حوصلہ بڑھا دیا تو بیٹے میںآپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، شاباش دیتا ہوں، آپ کیساتھ ہوں اورفرحت اللہ بابر آپ کیساتھ ہیں ،تمام جمہوریت پسند انسانی حقوق کے علمبردار وہ آپ کیساتھ ہیں۔ پریس، سٹریٹس اور پارلیمنٹ میں انشااللہ میں آپکی آواز بنوں گا۔ لانگ مارچ اسلئے ہے کہ ڈیتھ اسکواڈ ختم کیا جائے، ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ بالاچ بلوچ جیسے واقعات ہماری سرزمین پر نہ ہوں، ہماری مٹی کو ہمارے خون سے رنگین نہ کرو، ہمارے نوجوانوں کو قتل نہ کرو اور جبری گمشدگی لوگوں کو غائب کرنا۔ یہ اپنے درد کی وجہ سے آئی ہے پانچ بہنیں ایک بھائی کیلئے جو عشروں سے لاپتہ ہے یہ ریاستی دہشتگردی ہے۔ آئین قانون پارلیمنٹ دستور کی موجودگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ دستور کی خلاف ورزی پاکستان سے غداری ماہ رنگ نہیں کر رہی وہ لوگ کر رہے ہیں جو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ جو جبری گمشدگی کر رہے ہیں،آرٹیکل16،17،19،9،10میں وہ ساری باتیں ہیں جوماہ رنگ بلوچ کرتی ہے۔ پولیس ،نگران اورریاستی اداروں، اسلام آباد انتظامیہ کو شرم آنی چاہیے رات ایک بجے ٹھنڈے پانی واٹر کینن سے ان پر پھینکتے ہیں ۔ سادہ کپڑوں میں ڈنڈوں سے بچوں بچیوں کو مار رہے ہیں شرم نہیں آتی یہ دہشتگردی ہے میں سینٹ آف پاکستان میں ان کو بے نقاب کروں گا اسلئے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ معافی مانگے وفاقی حکومت اس بچی سے اس لانگ مارچ کے شرکا سے اسلام آباد انتظامیہ معافی مانگے جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے ان کوقرارواقعی سزا ملنی چاہیے اس حکومت نے اس انتظامیہ سے عدالتوں کے اندر جھوٹ بولا انہوں نے رہائی بھی نہیں دی ،تذلیل بھی کی، بدترین قسم کا وائلنس بھی کیا ہے۔ تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔اور جو مطالبات انہوں نے اٹھائے ہیں میں حکومت سے ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ جائز ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے کہتا ہوں کیا انصاف صرف اشرافیہ، بالادست طبقے کیلئے ہے مظلوموں، بلوچوں، جبری گمشدہ ،ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کے شکار کیلئے نہیں ہے ؟ میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس لانگ مارچ پر تشدد کا بھی نوٹس لیں لانگ مارچ کو انصاف دو لانگ مارچ کے مطالبات پورے کرو بلوچستان میں50ہزار لوگوں کو بیروزگار کیا، خیبر پختونخوامیں بدامنی کی لہر ہے ۔ منظور پشتین آواز اٹھاتا ہے تو اس کو جیل میں بند کر دیا یعنی جو بندہ امن، اپنی مٹی، عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ، جبری گمشدی کے خلاف بات کرتا ہے ریاست کے بے لگام کو لگام دینا چاہتے ہیں ان کو جیل ،تشدد، ریاستی اداروں کوانکے خلاف استعمال کرتے ہیں تو یہ نہیں چلے گا۔ اب عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ میں نے ابھی ایک پارٹی کنونشن میں آپ کی بات کی تو لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں ہر محلے، ہر شہر سے آپکی حمایت ہے بلا تفریق کراچی سے چترال تک ماہ رنگ بلوچ آپنے لوگوں کو جگا دیا، مظلوم آپ کیساتھ ہے آپ مظلوموں دردمندوںاور تکلیف کے ماروں کی آواز ہیں۔ ڈٹی رہو، بہادری اور ہمت کے ساتھ اپنی اس جدوجہد کو جاری رکھو ہم آپ کے ساتھ ہیں فتح آپ کی ہے انسانی حقوق، جمہوریت کی ہے بشری حقوق کی ہے امن کی ہے اور شکست دہشت گردی کی ہوگی انشااللہ میں اور فرحت اللہ بابر صاحب تو سپریم کورٹ کے اندر بھی اکٹھے گئے ہیں اور ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ کے اندر بھی جائیں گے ہم انشااللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سود کو حیلے سے حلال سمجھنے والا کافرو مرتد ہے اور کھلا سود کرنے والا کافر نہیں ہے گناہگار ہے۔مولانا نور محمد وزیرشہید

سود کو حیلے سے حلال سمجھنے والا کافرو مرتد ہے اور کھلا سود کرنے والا کافر نہیں ہے گناہگار ہے۔مولانا نور محمد وزیرشہید

شیخ الحدیث و التفسیر مولانا نور محمد وزیر شہید سابقMNAجنوبی وزیرستان نے کہا تھا کہ حیلے سے سُود کو حلال قرار دینے سے بہتر ہے کہ کھلم کھلا سُودی کاروبار کیا جائے۔ کوئی کہتا ہے کہ چینی خرید کر دوں گا اور کوئی کہتا ہے کہ ٹائر خرید کر دوں گا۔ نہ ان کو کوئی شرم آتی ہے اور نہ خدا سے حیا آتی ہے اور نہ اللہ کی آیات سے وہ شرماتا ہے ۔ ظالم تم سیدھا سیدھا کہو کہ میں ایک لاکھ دیتا ہوں اور اس پر مجھے1لاکھ30ہزار دو گے۔ حیلے درمیان سے چھوڑ دو ، ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے ہیں۔ صاف بول دو کہ میں1لاکھ پر30ہزار لوں گا ، بتاؤ کتنے لاکھ دے دوں؟۔ تم چینی کو درمیان سے نکالو۔ کوئی کہتا ہے کہ چینی خریدتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ ٹائر خریدیں گے کوئی کہتا ہے کہ پک اپ گاڑی لیتے ہیں ۔ تم اللہ کے قہر سے لدے ہوئے ہو۔ صرف یہ نہیں کہ تم سُود خور ہو ۔ اس طریقے سے سُود کو اپنے لئے حرام قرار دے دو ۔ جو سُود کو حرام نہیں سمجھتا ہے وہ سوفیصد کافر ہے۔ مرتد ہے ، اس کی بیوی طلاق ہے ، اس کا حج ختم ہے، اس کی نمازیں ختم ہیں، اس کے روزے ختم ہیں۔ لیکن جو اس طرح سے سُود کرتا ہے کہ یہ حرام ہے تو پھر وہ کافربھی نہیں ہے اور گناہگار بھی نہیں ہے۔ ہم نے تو خود کو کفر کیلئے سیدھا کیا ہے۔

پاکستان بننے سے پہلے علماء کا پاکستان پر اختلاف تھا ۔ مفتی محمد تقی عثمانی
اسرائیل میں2.5%اور پاکستان میں22%سُود ہے۔ اسلامی بینکاری کے نام پر2%مزید فیس کی مد میں سُود ؟۔

مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ میں یہاں یہ بات بھی سب کے سامنے عرض کردوں کہ ایک زمانہ تھا جب پاکستان بننے سے پہلے علماء کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ اختلاف رائے کوئی بری بات نہیں ہوا کرتی تھی۔ مسلمانوں کے مستقبل کیلئے پاکستان بننا زیادہ بہتر ہے؟ یا نہ بننا بہتر ہے؟ اور ہندوستان کا مشترک رہنا بہتر ہے ؟۔ اس مسئلے پر اہل علم کی مختلف رائے آئیں لیکن جب پاکستان بن گیا تو حضرت شیخ الاسلام علامہ حسین احمد صاحب مدنی جن کی شروع میں رائے نہیں تھی لیکن ان کا یہ جملہ ریکارڈ پر ہے میرے پاس اس کا ثبوت موجود ہے کہ حضرت مدنی نے فرمایا کہ مسجد بننے سے پہلے کسی جگہ اختلاف ہوسکتا ہے کہ یہاں مسجد بنائی جائے یا نہیں لیکن جب ایک مرتبہ مسجد بن گئی تو اس کا تحفظ ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔
تبصرہ: جامعہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ فاروقیہ ، جامعہ احسن العلوم اور پاکستان بھر سے اسلام کے نام پر سُودی بینکاری کے عدم جواز کا متفقہ فتویٰ دیا گیا مگر پھر بھی موصوف ڈٹ گئے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

جامعہ حفصہ کی خواتین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے دھرنے میں آکر یکجہتی کا اظہار کیا
یہ صحافی نہیں میراثی ہیں یہ پیسے کے پتر اور پجاری ہیں۔ جو پیسہ دے اس کی خبر لگاتے ہیں

السلام علیکم ورحمة اللہ، میں جامعہ حفصہ سے اُم حسان ہوں اصل میں جس دن ان پر رات کے وقت انہوں نے ظلم کیا، زیادتی کی اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ لگ سکا بعد میں میں نے اس ساری جگہ چکر لگایا تو ان کی جگہ پولیس بیٹھی ہوئی تھی۔ ماشاء اللہ دونوں گراؤنڈ بھرے تھے ہمارے جوانوں سے ،جن کی جوانیاں شاید اسی لئے وقف ہیں کہ مظلوموں پر ڈنڈے برسائے جائیں اور ان پر ظلم کیا جائے ،زیادتی کی جائے۔ تو انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں اور ہم نے انہیں کہا کہ جب کوئی پولیس یا انتظامیہ آپ کو دھمکی دے ہمیں کال کریں ہم آپکے شانہ بشانہ کھڑیں ہوں گے اور دیکھتے ہیں کون آتا ہے اور انہیں ہاتھ لگاتا ہے۔ کسی کو انہیں ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ یہ اس ملک کا وطیرہ بن گیا کہ جو ظالم ہے وہ ظلم کرتا چلا جاتا ہے ، اس کا کوئی ہاتھ نہیں روکتا۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ ہاتھ روکیں گے بھی اور توڑیں گے بھی۔صحافی آواز اٹھائیں گے، پہلے مظلوم کا ساتھ دیا؟۔ جامعہ حفصہ آپریشن میں یہ سب اور اکبر بگٹی کو بھی مروانے میں پیش پیش تھے۔ یہ لاشوں پر دھمال ڈالنے والے پیسے کے پتر پجاری ہیں۔ جو پیسہ دیتا ہے اس کی ڈفلی بجاتے، راگ گاتے ہیں۔ تو ان بیچاروں کے پاس پیسہ تو نہیں تو میڈیا والے بات کریں گے۔ پاکستانی میڈیا کوئی میڈیا ہے؟۔ یہ مراثیوں کا گڑھ ہے۔ سارے مراثی بیٹھے ہیں جس مراثی کو پیسے مل جاتے ہیں اسی کے حساب سے زبان چلتی ہے اسی کے حساب سے اس کے ٹھمکے لگتے ہیں بات ختم۔
سوال: آپ کب تک اظہار یکجہتی کریں گے؟۔
اُم حسان: جب تک یہ یہاں پر ہیں۔ جب یہ چلے جائیں گے تب بھی۔ پاکستان میں، دنیا بھر میں کہیں پر بھی کوئی مظلوم ہے اسکے لئے ہم آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ ہم نے ظلم خود برداشت کیا ہے اور آج تک کررہے ہیںلیکن اب بہت ہوچکا۔ جیسے اسلام آباد پولیس نے ان کو مارا ہے وہ بہت ہی شرمناک عمل ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv