پوسٹ تلاش کریں

مفتی تقی عثمانی کا اسلامی معاشی نظام پر خودکش حملہ

مفتی تقی عثمانی کا اسلامی معاشی نظام پر خودکش حملہ

قرآن وسنت کے مقابلہ میںغلط اجتہاد سے بیڑہ غرق ہوا۔سودی بینکاری اسلام پر خود کش حملہ تھا۔
نبیۖ کے بعد صحابہ نے خود کو فتنے میں مبتلاء پایا۔ انصارصحابہ نے خلافت کیلئے محفل سجائی اور حضرت ابوبکر و عمر کے بعد عثمان کی شہادت پرحضرت علی وعائشہ کی جنگ پھر خلافت پر امارت کا قبضہ، یزیدکی بدمعاشی،پھر فقہاء کے مسائل پر تضادات کی بھرمار، قرآنی تفسیرمیں انتہائی گڑبڑاور احادیث کااختلاف ، من گھڑت فرائض ، بے دھڑک فرقے۔ قرآن وسنت سے دُوری۔اسلام اور اقتدار دونوں کا ستیا ناس
رسول اللہ ۖ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔ سورۂ مجادلہ میں عورت کے حق میں وحی نازل ہوئی۔ بدر ی قیدیوں پر اکثریت کے مشورے پر نبی ۖ نے فیصلہ کیاتھا اور حضرت عمر و حضرت سعد کے حق میں وحی نازل ہوئی۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ رسول اللہ ۖ نے اپنی صوابدید پر کیا ،اللہ نے فتح مبین قرار دیا اور جس بوجھ نے آپ کی کمر دہری کررکھی تھی ،اللہ نے اگلا پچھلا بوجھ ہلکا کردیا۔ انا فتحنا لک فتحًا مبینًالیغفراللہ ماتقدم من ذنبک وماتأخر منہ ” بیشک ہم نے آپ کو فتح عطاء کی ہے کھلی فتح۔تاکہ آپ سے آپ کا اگلااورپچھلا بوجھ ہلکا کردے”۔ الم نشرح لک صدرک ووضعنا عن وزرک الذی انقض ظھر ک ”کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا ؟اور آپ سے وہ بوجھ نہیں ہٹایا جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی؟”۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی عبدالرحیم کے گناہ گنوائے جاسکتے ہیں جو انہوں نے ماضی میں کئے اور مستقبل میں جاری ہیں لیکن ان سے کوئی کہے کہ ” اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ معاف کرے” تو ان کے معتقدین برا منائیں گے کہ یہ اللہ کے ولی محفوظ ہیں پھرمعصوم نبیۖ کی طرف گناہ کی نسبت قرآن کا ترجمہ قرار دینے سے بڑھ کر گمراہی کے دلدل میں یہ امت کیسے پھنس سکتی ہے؟۔
صحابی نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ترازو اترتا ہے ۔ نبی ۖ اوردوسرا پلڑا برابر ہوتے ہیں۔ پھر حضرت ابوبکر کے مقابلے میں دوسرا پلڑا ہلکا ہوجاتا ہے۔ پھر حضرت عمر کے مقابلے دوسرا پلڑا مزید ہلکا ہوجاتا ہے۔ پھر ترازو آسمان پر اٹھالیا جاتا ہے۔نبیۖ نے یہ تعبیر فرمائی کہ آسمانی اقتدار ابوبکروعمر ہی تک رہے گا۔ نبیۖ کو رضا کارانہ عشرو زکوٰة ملتا تھا اور کسی نے انکار کیا تو اسکے خلاف قتال نہ کیا۔ حضرت ابوبکر نے زکوٰة دینے سے انکار پر قتال کیا۔سردارِ انصار سعد بن عبادہ کو حضرت عمر کے دور میںجنات نے قتل کیا؟۔ حضرت عمر کے قتل کے بعد قاتل نے خود کشی کی۔ عبیداللہ بن عمر نے قاتل کی بیٹی سمیت تین افراد کو قتل کیا۔ حضرت عثمان نے مشاورت کی تو حضرت علی نے کہا کہ قصاص میں قتل کرو۔ عمرو بن عاص کے کہنے پر حکومت نے دیت دی ،پھر حضرت عثمان گھر میںشہید کئے گئے پھر حضرت علی کی شہادت کے بعد حسننے امیرمعاویہ سے صلح اور یزید کے خلاف حسیننے قیام کیا۔ عمر بن عبدالعزیزاور حجاج کی طرح انفرادی اچھے برے آئے۔ اقتدار کی رسی آمریت اوربادشاہت کے بعد جبری دورِ حکومت تک جاپہنچی ہے۔اقتدار کی امانت البیعة للہ ” بکنا صرف اللہ کیلئے ہے”کے سپرد کرینگے تو مشکلات ختم ہوں گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

()

See more:
https://zarbehaq.com/islam-o-iqtidar-jurwa-bhai-hain//

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

نبی ۖ نے اسلام کی نشاة ثانیہ پر فرمایا کہ
پھر اسلام زمین میں جڑ پکڑے گا اور اسکی گہرائی اور گھیرائی بھی زیادہ ہوگی۔ جن لوگوں کے ہاتھ ہوگی ان کو50صحابہجتنا اجر ملے گا۔

نبیۖنے فرمایا: نبوت و رحمة پھر خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کا دور ہوگا، پھر طرزنبوت کی خلافت قائم ہو گی جس سے زمین وآسمان والے خوش ہونگے۔ اگر اسلام کو علماء نے مسخ نہ کیا ہوتا تو اس کی خوشنما عمارت اپنی بنیاد پر سیدھی کھڑی رہتی مگر اسکا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ جب قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائیگا پھر اسلام ، مسلمانوں اورانسانوں کو معاشی، اخلاقی،سیاسی، سائنسی، معاشرتی اور قانونی بڑا زبردست عروج ملے گااور اہل زمیں بہت خوش ہوں گے
جب اسلام نازل ہوا تو حضرت ابراہیم کے ماننے والے عیسائی ، یہودی اور مشرکینِ مکہ تین ادیان میں تقسیم تھے۔حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کے بعد حجاز مقدس میں عربوں کے ہاں کوئی پیغمبر دورِ جاہلیت کے انتہاء تک نہیں آئے ۔یہاں تک کہ ابوجہل کے دور میں نبی ۖ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔دوسری طرف حضرت اسحاق ، یعقوب، یوسف کے بعد نبوت کا سلسلہ بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء کرام کی بعثت حضرت موسیٰ و عیسیٰ تک جاری رہاتھا۔ اور نبی ۖ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکار برصغیر پاک وہند میں پہلے سے تھے۔ بدھ مت چین، جاپان ، شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دنیا میں آج لوگوں کا مذاہب سے رشتہ برائے نام رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کا دین قرآن وسنت کی شکل میں موجود ہے۔اسلام کی نشاة اول کے وقت مشرکینِ مکہ نے اسلام قبول کرکے پوری دنیا میں پہلے اسلام اور مسلمانوں کا اقتدار قائم کیا۔ پھر تاتاری ترکوں نے اسلامی امارت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پھراسلام قبول کرلیا اور دنیا بھر میں عظیم سلطنت عثمانیہ قائم کردی۔ ترک اگر اپنی حکومت کو اسلامی ٹچ نہ دیتے تو زمین کے ایک بہت بڑے ٹکڑے پر اپنی سلطنت قائم کرنے کا خواب پورا نہیں کرسکتے تھے۔ جب1924میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ہندؤں نے بھی مسلمانوں کیساتھ مل کر تحریک احیاء خلافت میں بھرپور حصہ لیا۔
آج مسلمان صرف پاکستان میں نہیں بلکہ56سے زیادہ اسلامی ممالک کے مالک ہیں۔ ہندوستان کے ہندو اور پاکستان کے مسلمانوں نے اگر اسلام کے درست معاشی اور معاشرتی نظام کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودةً فی القربیٰ سے کام لیا تو برصغیر پاک وہند سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہندوکے بنائے مٹی اور تراشے پتھر کے بتوں، گائے ماتااور بندرکی پوجا سے زیادہ خطرناک مسلمانوں کے علماء ومشائخ ہیں جو پیٹ و نفس پرستی ، بیوی بچے ،بہن بھائی ، والدین ،برادری اور لسانی بنیادوں پر قوم پرستی کے جذبے سے بدحال ہیں۔حق اور انسانیت کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ اسلام کے آفاقی نظام سے اپنے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حالات ٹھیک کرنے کی راہ دیکھنے کے باوجود بھی حقائق کیلئے کچھ بھی محنت نہیں کرتے ہیں۔ بے حسی، خود غرضی اور لایعنی کے امراض میں انتہاء درجہ تک مبتلاء ہیں لیکن اللہ مردہ زمین کی طرح انسانوں کو زندہ کرتا ہے۔قرآن کا فطری انقلاب سر پر کھڑا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

See more:
https://zarbehaq.com/mufti-taqi-usmani-ka-islami-muasshi-nizam-par-khudkush-hamla/

آج قرآن اورحدیث کی تطبیق سے تمام مکاتبِ فکرکے علماء کرام بفضل تعالیٰ متفق ہوسکتے ہیں!

آج قرآن اورحدیث کی تطبیق سے تمام مکاتبِ فکرکے علماء کرام بفضل تعالیٰ متفق ہوسکتے ہیں!

درسِ نظامی میں دیوبندی بریلوی حدیث صحیحہ کو قرآن کے خلاف قرار دیتے ہیںمگر جب یہ ثابت ہوکہ حدیث قرآن کے خلاف نہیںتھی تو فقہ حنفی کی بلند وبالا نئی بلڈنگ کھڑی ہوجائے گی ؟

پاکستان کی اکثریت دیوبندی بریلوی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پہلے اپنی بوسیدہ بلڈنگ گراکر ایک شاندار نئی عمارت کھڑی کردیں جس سے مساجدو مدارس کی رونق اور اعتماد بحال ہو

علماء نے اصول فقہ میں قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو پچھاڑ دیا ہے اور پھر کمال کی نالائقی یہ کی ہے کہ فقہ کے مقابلے میں قرآن کو پچھاڑ دیا ہے اس سے بڑھ کر گمراہی کیا ہوسکتی ہے؟

شریعت کے چار اصول ہیں ۔ پہلا اصل قرآن ہے اور قرآن سے مراد صرف وہ500آیات ہیں جو فقہی احکام سے متعلق ہیں۔ باقی قرآن قصے ، مواعظ اور دیگر امور ہیں۔ پھر اصل معاملہ چھوڑ کر قرآن کو کیوں متنازعہ بنانا شروع کردیا ؟۔ کہ قرآن” المکتوب فی المصاحف ( قرآنی نسخوں میں لکھا ہوا ) ہے اور مکتوب سے مراد کلام اللہ نہیں کیونکہ یہ محض نقش ہے ”۔حالانکہ یہ قرآن سے پوچھنا چاہیے کہ مکتوب کیا ہے؟۔ ولوانزلنا ہذا القراٰن فی قرطاس لمسوہ ”اور اگر ہم اس قرآن کو کاپی میں لکھا ہوااتار دیتے اور یہ لوگ اس کو چھوتے”۔ پھر بھی انہوں نے اس کو جادو قرار دینا تھا۔ جوکہتے تھے کہ ھٰذا اساطیر الاولین اکتبھا بکرة ًواصیلاً( یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو صبح شام لکھوائی جاتی ہیں)۔کتابت کا لفظ عربی میں لکھائی ہے جس کا بہت زیادہ مرتبہ قرآن میں استعمال بھی ہواہے اسلئے کتابت اور وہ بھی قرآن کی کتابت کو محض نقش قرار دینا بہت بڑی نالائقی اور گستاخی ہے۔ جس کو کم عقل فقہاء نے یہاں تک پہنچایا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو نکسیر اور پیشاب سے لکھنے کو علاج کیلئے نعوذ باللہ جائز قرار دیا ہے۔ قرآن کی تعریف میں یہ پہلا جملہ انتہائی خطرناک اور احمقانہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے جس علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کی تھی اور فقہ کی طرف توجہ فرمائی تھی ، ہمارا یہ المیہ ہے کہ قرآن کی تعریف میں پھر اسی گمراہانہ تصور کو بنیاد بنادیا ہے۔
اہل حدیث کو لاجواب کرنا ہوتا تو ان کے نزدیک چھوٹے شیر خوار بچے کا پیشاب پاک ہے اور ہم ان کو جواب دے سکتے تھے کہ سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنے کا جواز تمہاری وجہ سے لکھ دیا گیاہے۔
قرآن کی مزیدتعریف کہ” المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبہ (جو آپۖ سے نقل کیا گیا ہے تواتر کیساتھ کسی شبہ کے بغیر)۔ متواتر سے غیر متواترآیات نکل گئیں جیسے خبر احاد اور مشہور ۔بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی۔ اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے لیکن اس میں شک ہے اور شک اتنا قوی ہے کہ اس کی وجہ سے اس کا انکار کرنے سے مسلمان کافر نہیں بنتا ہے۔ باقی کسی آیت سے انکار کرے گا تو کافر ہوجائے گا”۔
امام شافعی کے نزدیک موجودہ قرآن کے علاوہ دیگر آیات کا وجود ماننا قرآن کی تحریف کا عقیدہ ہے اور بسم اللہ میں شک کرنا کفریہ عقیدہ ہے۔ امام ابوحنیفہ نے یہی عقیدہ اپنے شاگردوں کو سکھایا تھا اور امام شافعی اصل میں امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد کے شاگرد تھے۔ امام ابویوسف اپنے استاذ امام ابوحنیفہ سے منحرف ہوگئے۔ امام ابوحنیفہ اسلئے جیل میں شہید اور امام ابویوسف قاضی القضاة چیف جسٹس بن گئے۔ مفتی محمود نے بھی آخر میں کسی کے ہاتھ پان اور دورہ قلب کی خاص گولی کھاکر شہادت کی منزل پائی اور مفتی محمد تقی عثمانی نے شریعت کورٹ کے جسٹس کا حلف اٹھالیا تھا۔ جب مفتی محمود نے پان کو بدتر قرار دیا تھا تو کھلانے کا کوئی تُک نہیں بنتا تھا اور اس پر یہ جھوٹ کہ بے تکلفی تھی اور بھیا کہہ کر پان مانگ کر کھالیتے تھے۔ امام شافعی پر درباری علماء ومفتیان اور وقت کے قاضیوں نے رافضی ہونے کا الزام لگایا تھا۔ حالانکہ وہ سراسر بہتان تھا۔
اگر قرآن کی500آیات لکھ دی جاتیں اور اس کا سادہ وسلیس مفہوم طلبہ اور عوام کو پڑھایا جاتا تو آج ساری دنیا مسلک حنفی کے مطابق چلتی۔ آیت کی ریاضی سے تشریح بھی غلط ہے اور جس آیت کے مقابلے میں حدیث صحیحہ کو ناقابلِ عمل قرار دیا،وہ آیت سے متصادم بھی نہیں ہے۔آیت228البقرہ میں ہے کہ المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” طلاق والی عورتیں3ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں”۔ عورت کاایک دورحیض و پاکی کے دنوں کو ملاکر بنتاہے۔ حیض کی حالت میں مقاربت منع ہے اور جیسے روزہ رات کو نہیں دن کو ہوتا ہے۔ اسی طرح عورت کی عدت کا پہلا دور بھی حیض کے بعد طہر ہے۔ جس طہر میں عورت کو طلاق دی جاتی ہے اس سے پہلے وہ ایک حیض مقاربت کے بغیر گزار چکی ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ تین قروء یعنی3ادوار سے3اطہار مراد ہیں۔ جب ایک عورت کو طلاق مل گئی تو اس نے تیسرے طہر کے بعد عدت کو مکمل سمجھ لیا اور شوہرسے علیحدگی اختیار کرلی۔ جس پر کسی نے اعتراض کیا اور حضرت عائشہ نے وضاحت کی کہ اس نے ٹھیک کیا۔عبداللہ بن عمرنے حیض میں بیوی کو طلاق دی تونبیۖ نے شدید غصے کا اظہار فرمایا اور پھر سمجھایا کہ ” طہر کی حالت میں اپنے پاس رکھو، یہاں تک کہ اس کو حیض آجائے۔ پھر دوسرے طہر میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے اور پھر تیسرے طہر میں چاہو تو معروف طریقے سے رجوع کرلو اور چھوڑنا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر اس کو چھوڑ دو۔ یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم کیا ہے”۔ جب آخری طہر کے بعد حیض آگیا تو جس طرح رمضان کا چاند تیسرے عشرے کے اعتکاف میں نظر آنے کے بعد اعتکاف والے گھروں کی طرف بھاگتے ہیں اس طرح عورت کی عدت بھی تیسرے طہر کے بعد حیض آتے ہی ختم ہوجاتی ہے۔ حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ کی عدت قائم مقام ہے۔
درس نظامی کی کتاب ”نورلانوار” میں ہے کہ ”3کا عدد خاص ہے جس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی ہے۔ طہر میں طلاق دینا مشروع ہے۔ جس طہر میں طلاق دی جائے تو اس کو شمار کرنا ادھورا ہوجائے گا اسلئے3حیض کی عدت ہے۔ اگر تین طہر مراد لئے جائیں تو پھر یہ ڈھائی بن جائیں گے۔ حالانکہ اگر تین حیض مراد لیں تو پھر جس طہر میں طلاق دی ہے وہ بھی عدت میں شمار ہوگی اور ساڑھے تین بن جائیں گے؟۔ اگر دن کو روزے کی نیت کی جائے تو جب کچھ کھایا پیا نہیں ہوگا پھر روزہ پورا ہوگا نہ کہ ادھورا؟۔ کچھ بڑے درجہ کے علماء ومحدثین کہتے ہیں کہ ”حیض میں طلاق نہیں ہوتی ہے”۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ طلاق روزے کی طرح عمل ہے۔
نورالانوار میں قرآن اور حدیث صحیحہ کو یوں متصادم قرار دیا کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ (یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے )کے مقابلے میں حدیث لائی گئی کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔
نمبر1:قرآن میں عورت کو ولی سے آزادی دلانے کیلئے اللہ نے نہیں فرمایا کہ ”اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اپنی مرضی سے نکاح کرلے” بلکہ سابق شوہر سے آزادی دلانے کیلئے یہ فرمایا ہے اسلئے قرآن کے مقابلے میں اس حدیث کو لانا بھی موقع محل کے بالکل منافی ہے۔ قرآن سے حدیث صحیحہ کو پچھاڑ دیا۔
نمبر2:احناف کا قاعدہ یہ ہے کہ جب قرآن وحدیث میں تطبیق ممکن نہ ہو تو حدیث کو متصادم قرار دیا جائے۔یہاں تطبیق ممکن تھی اسلئے کہ قرآن میں طلاق شدہ کا ذکرہے اور حدیث سے کنواری مراد ہے۔جمہور فقہاء نے غلط کیا کہ حدیث کی وجہ سے طلاق شدہ وبیوہ کا اختیار سلب کرلیا۔ طلاق شدہ وبیوہ کے احکام مختلف ہیں ۔ قرآن میں طلاق شدہ سے زیادہ بیوہ کیلئے خود مختار ہونے کی واضح الفاظ میں وضاحت ہے۔ ایک طرف حدیث کو ناقابلِ عمل قرار نہ دیا جائے تو دوسری طرف ہم جمہور کو قرآن کے واضح احکام پر متفق کرسکتے ہیں۔
جب کنواری لڑکی کا گھر سے بھاگ کرنکاح معتبر قرار دیا تو اس کی وجہ سے دوسری احادیث کابھی بیڑہ غرق کردیا ۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ نکاح پر دوعادل گواہ بنالو۔ حنفی فقہاء نے دو فاسق گواہ بھی کافی قرار دیدئیے اور حدیث میں ہے کہ دف بجاکر نکاح کا اعلان کردو،یہ کہتے ہیں کہ دو خفیہ فاسق گواہ بھی اعلان ہے۔ حدیث میں مساجد میں نکاح کرنے کا اعلانیہ حکم ہے اور یہ عدالت میں خفیہ دستاویز پیش کرنے کو بھی ٹھیک کہتے ہیں۔ جس سے خاندانوں میں دشمنی ، جنگ وجدل اور قتل وغارت کا ماحول بنتاہے۔ حالانکہ قرآن نے اس رشتے کو بھی دوسرے خونی رشتے کی طرح آپس میں محبت والفت اور احسان قرار دے دیا ہے۔ان نام نہاد غلط حنفی فقہی مسائل کی وجہ سے چھپ کر یاری دوستی کا ماحول قائم ہوتا ہے اور کورٹ میرج کا راستہ بنتا ہے۔
حدیث قرآن سے نہ ٹکرائے پھر بھی ناقابلِ عمل ہو لیکن فقہی مسئلہ سے قرآن کو ناقابلِ عمل قرار دیا جائے تو اس سے بڑی گمراہی کیا ہے؟۔ مہاجرعثمانی عاقلہ بالغہ لڑکی ایک مہاجر لڑکے سے نکاح کرے تو یہ فتویٰ دیا جائے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوا اسلئے کہ لڑکی کا لڑکا کفوء نہیں۔ کیا حدیث قرآن کے مقابلے میں ناقابل عمل ہے ؟۔ مگر فتویٰ کے مقابلے میں قرآن کو پچھاڑ دیا ہے ؟۔ کچھ تو شرم بھی ہوتی ہے ، کچھ تو حیاء اور غیرت بھی ہوتی ہے۔ حالانکہ قرآن میں سب بنی آدم کو برابر اور مٹی سے پیدا کرنے کا تصور دیا گیا ہے اور نبی ۖ نے فرمایا کہ ” عرب کو عجم پر ، عجم کو عرب پر، کالے کو گورے پر ،گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ،فضلیت کی بنیاد تقویٰ (کردار)ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک کیس کے ریمارکس میںلڑکی، لڑکا کا بھاگ کر شادی کرنا لبرل کا کارنامہ قرار دیا کہ پاکستان یورپ کے طرز پر پہنچ جائے گا۔ بھلے مجھے کوئی مولوی کہے ۔حالانکہ یہ مولوی کے ہی کرتوت ہیں۔ جسٹس صدیقیISIکے خلاف بول سکتا تھا لیکن مولوی کے خلاف نہیں۔حالانکہ مولوی کے پاس دلیل نہ ہو تو طاقت کے لحاظ سے یہ بہت ہی کمزور طبقہ ہے۔ بس اس کا ایک فائدہ ہے کہ جب جسٹس صدیقی مرے گا تو عرفان صدیقی اس کے حق میں لچھے دار لکھے گا۔
مفتی تقی عثمانی ایک طرف تقلید کی شرعی حیثیت میں لکھتا ہے کہ ” اجتہاد کا دروازہ ائمہ مجتہدین کے بعد بند ہے، اس کے بعد کوئی اجتہاد کرے گا تو گمراہ ہوگا اور دوسری طرف عالمی بینکاری کے سودی نظام کو اپنے اجتہاد سے جائز قرار دیا کہ دونیکیاں ملیں گی اور اگر غلطی کی تو ایک نیکی ملے گی۔ حالانکہ سود کو جواز بخشنے کا کیا اجتہاد ہوسکتا ہے؟۔ اجتہاد تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جو قرآن وحدیث میں موجود نہ ہوں۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کنواری اور الایم یعنی طلاق شدہ وبیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے اور کنواری شرمیلی ہوتی ہے اسلئے اس سے نکاح کی اجازت مانگی جائے تو اس کی خاموشی رضامندی واجازت ہے اور الایم کیلئے زبان سے اظہار ضروری ہے۔( صحیح بخاری)۔ حدیث سے ثابت ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ مفتی تقی عثمانی نے فتوی لکھا کہ” عجمی نسل میں کفاء ت نہیں ۔ اگر لڑکی کو اغواء کرکے ڈرادھمکا کر نکاح کرلیا تو یہ رضامندی واجازت ہے اور اب لڑکی یا اسکا رشتہ دار نکاح کو ختم کرنا چاہے تو اسکے سواء راستہ نہیں کہ اس آدمی سے طلاق حاصل کی جائے ۔ (فتاویٰ عثمانی جلددوم :288)
جب سیاسی قائدین جبرکے سامنے سرنڈر کرسکتے ہیں تو کیا اغواء ہونے والی بالغ و نابالغ بچیوں کا نکاح باہمی رضامندی اور دلال کے ذریعے جائز ہوگا؟۔ فتاویٰ عثمانی میں اسلام کو کتنا غلط استعمال کیا جارہاہے؟۔
چھوٹی بچی کو نکاح کیا پتہ ؟۔ اس کی رضامندی بھی معتبر نہیں لیکن اس کے ساتھ زبردستی تو انتہائی درجے کی انسانیت سوز اور ناقابلِ قبول معاملہ ہے۔ ایک بچی کہتی ہے کہ میرا نکاح میری مرضی کے بغیرمیری لاعلمی میں کردیا گیا۔ اب لڑکا بالغ ہوچکا ہے اور میں اس سے آزاد ہونا چاہتی ہوں اور وجہ یہ ہے کہ نابالغ کا نکاح معتبر ہے لیکن طلاق معتبر نہیں ہے۔ اس بے چاری کو جواب ملتا ہے کہ اس سے اب بھی طلاق نہیں لے سکتی ہو اور آپ بالغ ہوجاؤ تو بھی اگر تیرے باپ یا دادا نے یہ نکاح کیا ہے تو اس سے خلاصی نہیں پاسکتی ہو۔ موجودہ دور میں عورت جو کہتی ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی ” تو اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ صابرشاہ کا جسم مفتی عزیز الرحمن کی مرضی اور مدرسہ کے طلباء کا جسم اور شیخ الحدیث مفتی نذیراحمد فیصل آبادی کی مرضی۔ ان لوگوں کا ضمیر غارت ہوچکا ہے اور جب تک اس جعلی اسلام کے خلاف مدارس، مساجد ، خانقاہوں اور امام بارگاہوں سے ایک مؤثر آواز نہیں اٹھے گی جو عوام کے ووٹوں سے اقتدار کی دہلیز تک پہنچے اور ڈنڈے والی سرکار کے زور ان سب کو سیدھا کردے تاقیامت بھی مؤمن اسی غلامی اور ذکر صبح گاہی سے جان نہیں چھڑ اسکتا ہے۔
بچی کا نکاح9،10سال کی عمر میں اسکے باپ نے شیرمحمد سے کردیا۔ لڑکی نے بالغ ہونیکے بعد کئی سال تک رخصتی کا انتظار کیا۔ لڑکا بیرون ملک گیا اور5سال تک مفقود الخبر ہوا۔ عدالت میں شادی یا فسخ نکاح کا کیس دائر کیا۔7ماہ تک عدالت کے مطالبے پراسکے رشتہ دار نہیں لاسکے اور پھر جج نے نکاح فسخ کردیا۔ لڑکی نے عدت کے بعد والد کی مرضی سے محمد شفیع سے نکاح کیا ۔اسکے کئی مہینے بعد شیرمحمد نے واپس آکرلڑکی کا مطالبہ کیا تو لڑکی کے باپ نے انکارکردیا۔ مفتی تقی نے فتویٰ دیا کہ لڑکی شیرمحمد کے نکاح میں اب بھی ہے۔
دعا زہرہ کیس میں کیا کیا مشکلات حکومت ، ریاست ، صحافت اور معاشرت کو بھگتنے پڑے تھے؟۔ لیکن وہ کیس تو ہائی پروفائل بن گیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم” بدترین نمونے ہیں۔ اگر عوام کے سامنے آگئے تو برمی بنگالی عورتوں اور بچیوںکو دلال کے ذریعے بیچنے سے لیکر دنیا میں اسلام کے نام پر عورتوں اور بچیوں کے حقوق کی ایسی خلاف ورزی کاوہ شاخسانہ نظر آئے گا کہ الحفیظ والامان کی صدائیں بلند ہوں گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

پاکستان اسلام اور انسانیت کے نام پر بنا تھا اسلام اور انسانیت ایکدوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں

مساجد ، مدارس ، امام بارگاہوں اور خانقاہوں سے اس تحریک اسلامی میں اتحاد ، اتفاق اور وحدت کا آغاز ہوگا۔جس کا اثر گھروں،بازاروں اور سرکاری اداروں تک پہنچے گا

___ پاکستان سے اتحاد اُمت مسلمہ کا آغازہوگیاہے؟___
اتحاد کا موضوع بہت بلند پایہ ہے۔ قرآن نے اہل کتاب کو دعوت دی کہ ” کہہ دو،اے اہل کتاب ! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور آپ کے درمیان برابرہے”۔ سیاسی جماعتوں کی ابتداء برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سے ہوئی تھی۔ کانگریس کی بنیاد انسانیت اور مسلم لیگ کی بنیاد مسلمانوں پر رکھی گئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھی پاکستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کے تصورات موجود تھے۔ پھر کانگریس کی سیاست مشرقی ومغربی پاکستان سے سمٹ کر پختونخواہ اور بلوچستان تک محدود ہوگئی۔ بعد از آں بلوچوں اور پختونوں میں بٹ گئی۔ مسلم لیگ کی کوکھ سے مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اورذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی نے جنم لیا جن کی وجہ سے یہ ملک دو لخت ہوگیا۔ مسلم لیگ نے ابن الوقت کی طرح بہت سارے بچے ہردور میں پیدا کئے۔ پھر پیپلزپارٹی سندھ تک محدود اورمسلم لیگ پنجاب تک ہے۔آج ایک انتشار کی کیفیت ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف ہے اور دوسری طرف 13 جماعتوں کا اتحاد الیکشن سے بھاگ رہا ہے۔ عمران خان کو اکیلا کردیا گیا۔ جہانگیر ترین اور علیم خان وہ دو پر تھے جن سے عمران خان نے پرواز کرنا شروع کردی تھی۔
لوگوں کی فوج سے محبت تھی مگر نفرتوں کی آگ اگلنے لگے۔ جنرل ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف سے زیادہ جنرل راحیل، قمر باجوہ اور حافظ سید عاصم منیر محبت کے قابل اورپاکستان کو بکھرنے سے بچانے کا وسیلہ ہیں۔ چیف جسٹس منیر، قیوم، افتخار چوہدری تک سے زیادہ چیف جسٹس ظہیر جمالی، آصف سعید کھوسہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال تک کا عدلیہ لائق احترام ہے مگر سیاسی منڈے مولانا فضل الرحمن اورسیاسی کڑی مریم نواز نے اپنے اقتدار میں سپریم کورٹ کے سامنے دھما چوکڑی مچاکر بدتمیزی کی انتہاکردی تھی۔

___اتحاد سے اتفاق تک کی منزل کیسے حاصل ہوگی؟__ _
اپنے عقیدے ، مسلک اور سیاسی نظرئیے پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کی حد کا خیال رکھنا اتحاد ہے۔ قرآن نے بقاء باہمی کی بنیاد پر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا فرمایا۔ جن سیاسی جماعتوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نہ صرف ایکس ٹینشن دی بلکہ پارلیمنٹ میں اس کیلئے آئینی ترمیم بھی کی ہے تو آج اس کے جانے کے بعد جنر ل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بکواس کرنا بنتا نہیں۔ جس سپریم کورٹ نے ایکسٹینشن کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کی کورٹ پارلیمنٹ میں ڈالا، اسی سپریم کورٹ کے خلاف پہلے عمران خان اور پھر موجودہ حکومت اورPDMکی جماعتوں نے بدتمیزی کا بازار گرم کرکے بہت گھٹیا پن کا ثبوت دیا ہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا” سلطان زمین پر اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو بیشک اس نے اللہ کی توہین کی ”۔خطبہ جمعہ۔ ملکی سرکاری اداروں کا احترام نہیں تو پھر حکومت میں آنا نہیں بنتا ہے ۔ اخلاقیات کی دھجیاں اُڑادی گئیں۔حکومت میں فوج کی پاسداری والا اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے کی بات کرنے لگا اور اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے والاPDMپلس پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آکر فوج کی غلامی اور اپوزیشن کو فارغ کرنے کی سیاست یامنافقت شروع کردی ہے؟۔
ہم نے سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھااور کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے ہوم ورک بھی کیا۔ ملک معاشی، سیاسی ، آئینی، عدالتی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے۔اگر حریم شاہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے تو پھر اس ملک اور اس کی قیادت کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ریاست مدینہ نے اس کو لوگوں کی عزتوں پر چھوڑنے کے بجائے اس کے اپنے گھر میںنظر بند کردینا تھا یہاں تک کہ اس کی شادی ہوجاتی۔

___وحدت کی منزل کیلئے حکمت عملی بنانی پڑے گی___
جس پر متفق ہوا جائے وہ اتفاق ہے ۔ کانگریس اور مسلم لیگ کا اتفاق تھا کہ ” ہندوستان دولخت ہوگا”۔ آج ہندوستان مودی کے ہاتھ میں گیا۔نہرو، اندرا گاندھی،واجپائی ، من موہن سنگھ سے دوستی کرلیتے تو بھارت مسلم ہندو فساد اور تنگ نظری کی نذر نہ ہوتا۔ پاک وہند میں روایتی دشمنی کو روایتی دوستی میں بدلنا ہوگا۔ جب دونوں ملکوں میں نفرتوں کا خاتمہ ہوگا تو پاکستان اور ہندوستان کے اندرونی معاملات پر اثر پڑے گا۔
مدینہ منورہ میں یہود اور منافقین تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن یہود ، منافقین اور مشرکینِ مکہ تھے۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا تھا کہ ” آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں عالمین کا نبی ہوں”۔ وہ دجال کہتا تھا کہ میں دجال نہیں اسلئے کہ دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں لیکن اس کوپھر بھی مکمل تحفظ حاصل تھا۔
نبی کریم ۖ نے یہود سے” میثاق مدینہ” اور مشرکین مکہ سے ” صلح حدیبیہ ” کا معاہدہ کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جس کو حکمت دی گئی تو اس کو خیر کثیر دیاگیا ”۔ صحابہ نے رسول اللہ ۖ سے حکمت سیکھی تھی۔ نبی ۖ نے فرمایا ” جس کیساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے”۔ دین کی سمجھ کا تعلق اسلام کے احکام اور حکمت کا تعلق ان کو عملی جامہ پہنانے سے ہے۔ حضرت داؤد اور سلیمان میں فہم کا فرق تھا اور حضرت سلیمان کے فیصلوں کو اتفا ق رائے سے دل وجان کیساتھ قبول کیا گیا تو اسی کا نام وحدت تھا۔اب ہم نے وحدت کی منزل حاصل کرنی ہے۔مذہبی اتحاد،اتفاق اور وحدت سے مسلمانوں اور تمام انسانوں کی مشکلات کو حل کرنا ہے۔ ہمارا اللہ رب العالمین اورنبی خاتم الانبیاء والمر سلین ۖ رحمة للعالمین ہیں۔ پاکستان کو عالم کیلئے رحمت بنانا ہمارا نصب العین ہے۔ کوئی مسلم وغیرمسلم بدحال نہ ہوگا بلکہ سبھی کوبہت مثالی خوشی ملے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیخ الہند کے جانشین مولانا الیاس وحاجی عثماناور مولانا سندھی اورہم ہیں!

شیخ الہند کے جانشین مولانا الیاس وحاجی عثماناور مولانا سندھی اورہم ہیں!

اکابر دیوبندکے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی تھے ۔ مولانا قاسم نانوتوی و مولانا گنگوہی مولانا محمود حسن کے اساتذہ تھے۔ دیوبند کیلئے شیخ الہند محمود الحسن کو سمجھنا ہوگا۔ مشاہیر دیوبند شیخ الہند کے شاگرد تھے۔تصوف کے مولانا اشرف علی تھانوی او دعوت وتبلیغ کے مولانا الیاس کاندھلوی قائد تھے۔ قومی سیاسی قائد صدر جمعیت علماء ہند شیخ العرب والعجم مولانا حسین احمد مدنی تھے ۔درس کے استاذ اعلیٰ علامہ انورشاہ کشمیر ی تھے۔ انقلابی قائد مولانا عبیداللہ سندھی تھے۔ مذہبی سیاسی قائد شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی تھے۔ مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ سمیت سب مشاہیر شیخ الہند کے شاگرد تھے۔ مولانا رسول خان ہزاروی بھی شیخ الہند کے شاگرد تھے۔ جن کے شاگرد مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی حیات ہیں ۔
مولانا رسول خان کے شاگردوں میں مفتی شفیع ، قاری طیب ، مولانا یوسف بنوری ، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، علامہ سید محمد میاں جامعہ مدنیہ لاہور اورمولانا محمدادریس کاندھلوی ہیں۔ مفتی شریفی ومفتی شفیع نے قاری طیب سے پڑھا۔ شیخ الہند کے شاگرداور شاگردوں کے شاگردمشہور تھے۔ کانیگرم ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف ، سکول ٹیچرناظم استاذاور پیرمبارک شاہ شامل تھے۔مفتی حسام اللہ شریفی جنگ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں قرآن وسنت کی روشنی میں مسائل کا حل لکھتے ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت و سپریم کورٹ کے شرعی اپیلیٹ بینچ کے مشیر ہیں اور رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ تحقیقات قرآن وسنت کے رکن ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کاایک شعبہ خانقاہی نظام ہے ۔ جسکے سرخیل حاجی امداداللہ مہاجر مکی اور مولانا اشرف علی تھانوی تھے۔ دوسرامدارس ہے جسکے سرخیل مولانا انورشاہ کشمیری تھے۔ تیسرا سیاست ہے جسکے سرخیل مولانا حسین احمد مدنی تھے۔ چوتھا انقلاب ہے جسکے سرخیل مولانا عبیداللہ سندھی تھے اور پانچواں تبلیغ ہے جسکے سرخیل مولانا محمد الیاس تھے۔سوال یہ تھا کہ کون کون شیخ الہند کے جانشین تھے؟۔ شیخ الہند1920عیسوی میں مالٹا سے رہا ہوئے تو مدارس کا نصاب ، فرقہ واریت ، قرآن سے دوری کا احساس تھا۔ امت کے زوال کے دواسباب بیان فرمائے۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت ۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ۔
رجل رشید مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی طرف علماء کو متوجہ کیا تو ان کو دارالعلوم دیوبند سے نکال دیا گیا۔ مولانا محمدالیاسنے اُمت مسلمہ کے اتحاد کیلئے مسائل وعقائد کو چھوڑ کر فضائل کی تحریک ”تبلیغی جماعت” شروع کردی۔ سیاست پر مولانا حسین احمد مدنی کو اقبال نے ابولہب کہہ دیا تو علامہ شبیراحمد عثمانی نے جمعیت علماء اسلام کے نام پر مسلم لیگ کی حمایت کی۔ جبکہ جمعیت علماء ہند کانگریس کی حامی تھی۔ شیخ الہند نے مولانا ابوالکلام آزاد کو امام الہند کا لقب دیا۔ مولانا عبیداللہ سندھیسیاسی میدان میں جمعیت علماء ہند اور جمعیت علماء اسلام کے الگ الگ تشخص کے قائل نہ تھے۔ جمعیت علماء اسلام کا علامہ شبیر احمد عثمانی نے یہ نقصان اٹھایا کہ قائداعظم کے غسل و جنازہ تک محدود تھے۔ یہی حال جمعیت علماء ہندکے اندرگاندھی سے جلسے کی صدارت تک تھا۔ جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد قومی لیڈر وزیرتعلیم تھے۔ ان کی تدفین شاندار قومی اعزاز کیساتھ ہوئی تھی ۔ بے شرم حکمرانوں بشمول عمران خان اور مقتدر طبقہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وہ عزت نہ کی ، جسکے محسنِ پاکستان مستحق تھے۔ سیاسی پارٹی کے علماء ونگ کی طرح جمعیت علماء ہند کانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کے علماء ونگ تھے ۔پھر مولانا احمدعلی لاہوری نے جمعیت علماء اسلام کی تشکیل نو کردی جس میں مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبیداللہ انور، مولانا عبداللہ درخواستی اور مفتی محمود نے جمعیت علماء ہندو جمعیت علماء اسلام کے ملغوبے کا کردار ادا کیا اور مفتی محمد شفیع کی جمعیت علماء اسلام مرکزی کے نام پر درباری علماء کا ٹولہ بن کر ختم ہوگیا۔
مولانا مدنی نے مدرسہ وسیاست کو یکجا کیا تو تدریس کے شہسوار علامہ انور شاہ کشمیری کو دارالعلوم دیوبند سے ڈھابیل پہنچادیا۔ بہاری سید کا کشمیری سید سے یہ سلوک تھا۔مولانا سندھی سے زیادتی کی سزا کھائی تو کشمیری نے سندھی سے معافی مانگ لی اور کہاکہ اپنی ساری زندگی درسِ نظامی کی فضول تدریس میں ضائع کردی۔ جس سے ثابت ہوا کہ شیخ الہند کے جانشین مولانا سندھی تھے۔ آخر میں قاری طیب کو مولانا مدنی کے فرزندوں نے آوٹ کیا۔ جس پر دارالعلوم دیوبند تقسیم ہوگیا۔ ایک کا نام دارالعلوم دیوبند وقف رکھ دیا ۔ قاری محمد طیب اپنے والد حافظ محمد احمد اور دادا مولانا قاسم نانوتوی کے جانشین اور مہتمم دارالعلوم دیوبند تھے۔ جس طرح پروین شاکر نے شوہر کی بے وفائی سے اردو شاعری کو انمول خزانہ دیا جو سودا گھاٹے کا نہیں۔اسی طرح قاری طیب نے اپنے دکھ اور تکلیف سے ذخیرہ نعت میں ایک عظیم الشان اضافہ کرکے قیمت وصول کی ۔
نبی اکرم شفیع اعظم ۖدکھے دلوں کا سلام لے لو ،پیام لے لو۔
دیوبندی بریلوی مساجد میں ایک ماہ یہ نعت پڑھی جائے تو انقلاب آئیگا۔ یہ سورہ واقعہ کی اس آیت کی تفسیر ہوگی کہ سلام لک من اصحاب الیمین ”سلام ہو آپ کیلئے اصحاب یمین کی طرف سے ”۔ جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں یہ نعت پڑھی گئی۔ جس سے اتحاد کا راستہ ہموار ہو ا۔ مہاجر مکی کا” فیصلہ ہفت مسئلہ” میں دیوبندی بریلوی اختلاف کاحل تھا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی کو پسند تھا لیکن مفتی شفیع کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہوسکا۔ لیگی علماء اندرون خانہ قادیانیوں کے حامی تھے۔ مولانا احتشام الحق تھانوی کو ختم نبوت والوں نے مارا پیٹا بھی تھا۔
مفتی رفیع عثمانی کی ” علامات قیامت اور نزول مسیح ” میں مفتی شفیع کی تحریر ہے کہ ” اس کا نام مرزا غلام احمد ، ماں اور باپ کا نام فلاں تھے تو کیسے وہ حضرت عیسیٰ کا دعویٰ کربیٹھا؟، جسکا نام عیسیٰ ،ماں مریم تھی اورباپ نہیں تھا”۔ حالانکہ اس سے مرزائیت کو تقویت ملتی تھی، وہ کہتے تھے کہ” قادیانی عیسیٰ کا مثل ہے”۔ مفتی رفیع عثمانی نے حدیث نقل کی کہ ” دجال سے بدتر حکمران اور لیڈر ہیں” اور وجہ یہ تھی کہ جمعیت علماء پر کفر کا فتویٰ لگادیا توان کو قادیانیوں سے بدتر قرار دیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ” لوگوں کو شکایت ہے کہ مدارس سے اچھے استعداد وصلاحیت کے علماء پیدا نہیں ہورہے ہیں مگر یہ نصاب تعلیم ایسا ہے کہ اس سے اچھے خاصے ذہین لوگ کوڑھ دماغ بن جاتے ہیں”۔ علامہ یوسف بنوری نے کوشش کی کہ نیا نصاب تعلیم ہو جس میں علماء کے اندر استعداد پیدا ہو۔ فقہ ، اصول فقہ، حدیث ،تفسیر کیلئے کورس رکھا۔ کوڑھ دماغ مزید کوڑھ دماغ تو پیدا کرسکتے تھے لیکن انقلاب کیلئے مولانا عبیداللہ سندھی کہاں سے ڈھونڈ لاتے؟۔
حاجی محمدعثمان کو سناتو مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے کہا کہ ” یہ تو الیاس ثانی ہیں”۔ پھر وقت آیا کہ خانقاہ چشتیہ مسجد الٰہیہ خدمت گاہ قادریہ مدرسہ محمدیہ میں مولانا سندھی کی کتابوں سے قرآن کی طرف رجوع کا آغاز کیا۔ مولانا الیاس کے اتحادامت اور مولانا سندھی کے قرآن کی طرف رجوع میں شیخ الہند کے اصل جانشین ہم ہیں۔ مدارس تجارتی کمپنیاں قتل گاہیں بن چکی ہیں۔ علامہ یوسف بنوری کے فرزندمولانا محمد بنوری کومدرسہ میں شہید کیاگیا۔ روزنامہ جنگ نے جھوٹی خبر لگائی کہ ”مولانا محمد بنوری کہتے تھے کہ میں خود کشی کرلوں گا اور آخر خود کشی کرلی”۔ تحریک ختم نبوت کے قائد علامہ بنوری کو تحفہ ملا۔ مولانا یوسف لدھیانوی ، مفتی نظام الدین شامزئی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، مولانا عبدالسمیع اور مفتی عتیق الرحمن کو شہیدکیاگیا اور ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کی بیوہ علامہ بنوری کی چہیتی بیٹی کو بھی دھوکے سے انتہائی المناک ظالمانہ طریقے سے شہیدکیا گیاتھا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ”احرار” اور ”تحفظ ختم نبوت ” کی تحریک میں بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ کو ساتھ رکھا۔ علامہ ابوالحسنا ت احمد قادریبریلوی کو تحفظ ختم نبوت کا مرکزی امیر بنایا۔ مولانا یوسف بنوری نے اپنے والد مولانا زکریا بنوری کے متعلق لکھا:” صاحبِ کرامت ولی تھے ۔ کہتے تھے کہ برصغیر میں مسلک حنفی کا سہرااعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخاںبریلوی کے سر ہے”۔
حاجی عثمان اتحاد میں مولانا الیاس و شیخ الہند کے جانشین تھے۔ علامہ سید یوسف بنوری نے تقویٰ پرمدرسہ کی بنیاد رکھی تھی۔ہم نے مدرسہ اور خانقاہ دونوں کا فیض پایا ہے، حاجی محمد عثمان پر فتوے کا مقابلہ بفضل تعالیٰ ہم نے خوب کیاتھا۔
گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا کہاں سے آئے صدا لااِلٰہ الا اللہ
میرے آباء و اجداد اہل مدرسہ وخانقاہ کے استاذالاساتذہ و پیرانِ پیر تھے۔ اقبال نے اہل مدرسہ و مزاج خانقاہی کا ذکر کیا لیکن ہم مزاج خانقاہی میں پختہ تر ہوئے اور نہ اہل مدرسہ ہمارا گلہ گھونٹ سکے ۔ جب اہل فتویٰ کے رعب ودبدبہ اور اہل دنیاکی چمک دمک سے خانقاہ میںبھگڈر مچی اور رونقیں ماند پڑگئیں ۔ علماء ومفتیان اور فوجی افسران بھاگے۔ تب میں اس اُمید کیساتھ افغانستان کے میدان ِ جہاد سے کراچی آیا تھا کہ ہم مجاہدین کیساتھ مل کر وزیرستان اور قبائل سے اسلامی خلافت کا آغاز کریں گے۔ جہاد سے پہلے مولانا عبیداللہ سندھی کی قبر پر انقلاب کیلئے دعا مانگنے گیااور اس سے پہلے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا تو طلبہ تنظیم ” جمعےة اعلاء کلمة الحق ” بنائی ۔جب علماء کی طرف سے مولانا فضل الرحمن پر ”متفقہ فتویٰ” کا اشتہار چھپا تو میں نے اشعار لکھ کر منہ توڑ جواب دیا تھاجن کی کتابت مولانا شیر محمد نے کروائی تھی اور فتوے کے اس اشتہار کو تلف کرنے کی شرط پر اشعار نہیں چھپے۔ اس سے پہلے علماء ومفتیان نے ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے حق میں فتویٰ دیا ۔علماء وطلبہ اورعوام میں یہ تأثر قائم کیاتھاکہ ریفرینڈم کے حق میں ووٹ نہ دینا کفرہے تب جماعت اسلامی بھی دُم چھلہ تھی توطلبہ پلیٹ فارم سے ریفرینڈم کی طالب علمانہ مخالفت کی تھی کہ اعراب کی16اقسام میں یہ نئی قسم ہے۔ ضیاء الحق کی جگہ ضیاع الحق سے روشنی ضائع ہوگی۔ اس سے پہلے مولانا سمیع الحق و قاضی عبداللطیف نے سینٹ میں ”شریعت بل” پیش کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی تو حاجی محمد عثمان نے مسجدالٰہیہ میں جمعہ کی تقریر میں کہا تھا کہ ”علماء حق نے شریعت بل پیش کیا اور ایک بڑے مفتی کے بیٹے (مولانا فضل الرحمن) نے اس کی مخالفت کی تو اسکا نکاح کہاں باقی رہا”۔ عوام کا دل ہلااور چیخ کر اللہ کا نام نکلا اور میری بے ساختہ ہنسی نکلی۔ حاجی صاحب سے عرض کیا کہ ”شریعت بل نہیں نظام ہے اور یہ مارشل لاء کو طول دینے کا بہانہ ہے”۔ حاجی عثمان نے طالب علم مرید کی بات مان لی تھی۔بسااوقات فرماتے کہ ”بھیا! میں تو جاہل ہوں”۔ غلط بات پر ڈٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں ریفرینڈم کا مخالف تھا کہ”یہ ان مفتی گدھوںنے فتویٰ دیا”۔ علماء واساتذہ نے کہا کہ ”حاجی عثمان اس گستاخی پر خانقاہ سے نکال دیں گے”۔ میں نے کہا کہ ” کچھ نہیں ہوتا، یہ انکا بھی کام نہیں ”۔کسی سوال پر حاجی محمد عثمان نے کہا ” فتویٰ پرنہ جاؤ،جنرل ضیاء کو 8 سال تک تم آزما چکے ہو، اگر تمہارا دل مانتا ہے تو ووٹ دو،نہیں مانتا تو نہ دو،اور میرا دل نہیں مانتا ”۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے علماء کو پتہ چلا توبہت خوش ہوگئے کہ پیر حاجی عثمان ان علماء ومفتیان سے دین کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔پھر وہ وقت آیا کہ مولانا فضل الرحمن لیبیا سے کراچی آئے۔ علماء و مفتیان جیل میں تھے اور مدارس کے طلبہ کو استقبال کیلئے ائیرپورٹ بھیجا تھا۔ درخواستیکی جمعیت ف سے الگ تھی ۔ اس وقت میںانوار القرآن آدم ٹاؤن نیو کراچی درخواستی کے مدرسہ میں تھا۔ مزدا گاڑی طلبہ کو استقبال میں لیجانے کیلئے ملی تھی ۔ مولانا فضل الرحمن کے ٹرک پرمیری ذمہ داری تھی۔ درجہ اولیٰ سے موقوف علیہ تک نصاب کے مقابلے میں تائید ملی۔ اساتذہ فرماتے کہ” عتیق امام ابوحنیفہ وا مام مالک کی طرح ہوگا”۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ ” آپ نصاب بنالو، مدارس میں وہی پڑھایا جائیگا۔ علماء کا کباڑ ہ بنادیاہے ”۔مولانا سرفرازخان صفدر نے اپنا مدرسہ مرکز بنانے کا کہا۔ مولانا خان محمد امیر تحفظ ختم نبوت اور مولانا عبداللہ درخواستی نے دعا دی۔ مولانا عبدالکریم بیر شریف امیر جمعیت علماء اسلام، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سمیت دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث، اہل تشیع، جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد، ڈاکٹرا سرار احمد ،ہفت روزہ تکبیر کراچی کے صلاح الدین،پروفیسر شاہ فریدالحق جمعیت علماء پاکستان، مولانا ایوب جان بنوری ، علامہ طالب جوہری ، علامہ عون نقوی، علامہ حسن ظفر نقوی اور بے شمار ولاتعداد لوگوں نے حمایت کی۔ خاص طور پر ضلعی علماء ٹانک نے بڑی تائید کی۔
بفضل تعالیٰ مدارس کے دل ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ ” اللہ کے حکموں میں کامیابی اور غیروں کے حکموں میں نا کامی کا یقین ہمارے دل میں آجائے”۔ ان کی حلالہ کے نام پرعصمت لوٹی جاتی ہے تو یقین کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔ حاجی عثمان دعا کرتے تھے کہ:” ہم چھوٹے ہیں، اللہ تو بڑا ہے، ہم ناپاک ہیں، تو پاک ہے،ہم گمراہ ہیں،تو ہدایت والاہے”۔فرماتے تھے کہ ” اگر اللہ کی بھی پاکی بیان کریں اور خود کو بھی پاک سمجھیں ، اللہ کو بڑا کہیں اور خود کو بھی بڑا سمجھیں ۔اللہ کو ہادی کہیں اور خودکو بھی ہادی سمجھیں تو ہماری محنت کو اللہ قبول نہیں کرے گا۔ ہم بندے ہیں اور بندہ بن کر ہی رہنا پڑے گا”۔
اگر بات اپنی ذات تک ہو تو اپنی بہت ساری خامیاں اور دوسروں کی بہت ساری خوبیاں سامنے آتی ہیں۔ دوسروں کو برا بھلا کہنے کے بجائے خود کو براسمجھتے ہیں مگر جب بات قرآن وسنت اور امت کے اجتماعی مفادات کی آتی ہے تو پھر ایک بڑے بت کے کاندھے پر کلہاڑی رکھ کرسارے توڑ دئیے توبرا نہیں ہوگا۔
مدارس ، خانقاہیںاور تبلیغی جماعت تینوں مذہبی خدمات کے زبردست شعبے ہیں۔ مدارس کی مثال بجلی کی طرح ہے ،جوکارخانے، گھر اور بازار چلاتے ہیں۔ دین کی خدمت کا سب سے بڑا شعبہ بجلی کے محکمہ کی طرح یہی ہے۔ ہم دل سے ان کی قدر کرتے ہیں۔ خانقاہوں کی مثال ہاتھ کی ٹارچ کی طرح ہے جس کا اندر اس کے ظاہر سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے اور اس کی لائٹ بجلی کے بلب کوبھی ماند کردیتی ہے۔ تبلیغی جماعت کی مثال چراغوں کی طرح ہے جو ایک سے دوسرا روشن ہوتا ہے لیکن اندر مٹی کے تیل کی جہالت بھری ہوتی ہے۔ اگر زیتون کا تیل ہو تو پھر بہت خوب ہے۔ اب تبلیغی جماعت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور یہ امت کو کیا جوڑے گی؟۔ شیخ الہند ، مولانا الیاس اور مولانا یوسف کی جانشینی تو دور کی بات ہے مولانا انعام الحسن کے راستے سے بھی ہٹ گئے ہیں۔ مدارس کے حالات بھی دگرگوں ہیں اور مشائخ طریقت بھی دنیا کے لش پش میں لگ گئے۔ قرآن وسنت کی طرف رجوع کئے بغیر ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت حاجی محمد عثمان پر لگنے والے فتوے کے ایک ایک نکتے پر زبردست ومدلل جوابات!

حضرت حاجی محمد عثمان پر لگنے والے فتوے کے ایک ایک نکتے پر زبردست ومدلل جوابات!

1:حاجی عثمان اپنے استخارے کو قطعی سمجھتے تھے؟۔2:مرید کے مشاہدے پر حدیث صحیحہ کاانکار کیا؟۔3:مولانا فقیرمحمد نے خلافت سلب کی اوریہ تصوف کے اصولوں کیخلاف ہے؟

اگر اپنا استخارہ قطعی سمجھتے تو مرید کے مشاہدے پر کیوں اعتبار کیا؟۔ یہ دونوں نکات آپس میں متضاد ہیں۔ مولانا فقیر محمد نے دوبار خلافت کیسے دی تھی؟۔ سچ کیوں نہیں بتایا اے دتو جھوٹے !

ایک طرف علماء ومفتیان نے ”الائنس موٹرز” کی وجہ سے حاجی عثمان پر فتوی لگایا تھا اور دوسری طرف سید عبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ، علامہ یوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا زکریا اس کی زد میںآگئے۔ حوالہ دئیے بغیر فتویٰ طلب کیا تو ان اکابر پر کفر ،زندقہ ، قادیانیت کا فتویٰ لگایا، ہفت روزہ تکبیر کراچی کو بھی دیا کہ ” یہ خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے اپنے پیر حاجی عثمان کے بارے میں لیا ”۔ ہفت روزہ تکبیر نے بھی یہاں تک لکھ دیا کہ اس طرح کے عقائد رکھنے والے پیر کی خانقاہ پر حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پرپابندی لگادے۔
جبکہ حوالہ جات کے ساتھ اہل فتویٰ کو اس شعر کیساتھ خبردار کردیا تھا کہ
ہم ضبط کی دہلیز سے اترے تو سمجھ لو پھر شہرِ پراَسرار میں تم چل نہ سکوگے
مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مفتی عبدالرحیم کی جان نکلی تھی کہ اہل شریعت و تصوف دونوں پر ہم نے کس درجہ جہالت کا ثبوت دیکر فتویٰ لگادیا اور عوام کو پتہ چلے تو ہمارا کیا بنے گا؟۔ علماء کو فتویٰ چھاپنے سے روکنے کیلئے دیگر علماء کی خدمات حاصل کی تھیں اور کرایہ کے پالتو دہشت گرد بھی رکھے ہوئے تھے۔
ہمارا ظرف تھا کہ سال کے بعد ہفت روزہ تکبیر کراچی کو حقائق سے آگاہ کیا تو انہوں نے لکھ دیا کہ ”علماء ومفتیان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو غلط بیانی سے کام لینے کے بجائے کھل کر معذرت کرلیں،اسی میں عزت کا راستہ ہے”۔
ہتک عزت کا دعویٰ کرنے پروکیل کے نوٹس پر مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ” ہم نے حاجی عثمان پر نام سے کوئی فتویٰ نہیں لگایا ”۔ کسی نے اپنے داماد کے بارے میںالگ الگ فتویٰ طلب کیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے لکھا کہ ” نکاح بہرحال جائز ہے”۔ دارالعلوم کراچی نے لکھا کہ ” نکاح منعقد ہوجائے گا”۔ مفتی عبدالرحیم نے لکھ دیا کہ ”نکاح جائز نہیں ہے” اور حوالہ کفو کا دیا،حالانکہ کفو کا مسئلہ تو اس وقت ہوتا جب لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی۔ پھر مفتی عبدالرحیم نے سوال جواب خود مرتب کرکے فتویٰ لکھ دیا جس کی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دیگر مفتیان نے تصدیق نہیں کی کیونکہ جائز قرار دے چکے تھے اور فتویٰ ان پر لگ رہا تھا۔ البتہ مفتی ولی حسن ایک مجذوب الحال تھے۔ اسلئے دستخط کردئیے۔ اگر کوئی دوسرا فتویٰ لاتا تو بھی اس نے یہی دستخط کرنے تھے۔ مولانا بدیع الزمان مدرس جامعہ بنوری ٹاؤن مفتی تقی عثمانی کے بھی استاذ تھے۔ فتویٰ کی مخالفت میں میرے کردار پربہت خوش تھے اور ملنے انکے گھر بھی گیا تھا۔
اگر حاجی عثمان پر مکاشفات کی بنیاد پر فتویٰ لگتا تو علماء کا یہ منصب تھا۔پھر ہر فراڈیہ مکاشفہ بیان کرتا اور جاہلوں کی مزید گمراہی کا سبب بنتا۔ ان علماء و مفتیان کا اصل مسئلہ شریعت وتصوف نہ تھا بلکہ الائنس موٹرز میں سرمایہ لگایا تھا۔ الائنس کا اصول یہ تھا کہ ماہانہ منافع میں40فیصد سرمایہ کار اور60فیصد کمپنی کو جاتا اور ایجنٹ کے ذریعے سرمایہ آتا تھا تو38فیصد سرمایہ کار اور2فیصد ایجنٹMDکو ملتا تھا۔ سرمایہ ڈوبنے میں مفتی عبدالرحیم کا کردار تھا۔ اسلئے کہ کمپنی کا اصول یہ تھا کہ ” رقم واپس لینے کیلئے سرمایہ کار ایک ماہ پہلے اطلاع دے گا اور اس کا منافع نہیں ملے گا”۔ مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ دیا کہ اطلاعی مدت کمپنی یکطرفہ3ماہ کرسکتی ہے۔پھر فتویٰ دیا کہ ” اطلاعی مدت6ماہ ہے”۔ الائنس موٹرز کو ان فتوؤں کے ذریعے فرار کا موقع ملا اور شریعت کو بالکل ناجائز استعمال کیا گیا تھا۔

___ فتویٰ کے چیدہ نکات اور ان پر تبصرہ ___
1:فتوے میں بیعت وارشاد کی اہلیت کی نفی ہے۔ حالانکہ بہت بڑی تعداد میں مدارس کے علماء اور ان کے اساتذہ کے علاوہ عرب وعجم کے تعلیم یافتہ لوگ بیعت تھے اور ان کی اصلاح وتزکیہ کا سلسلہ مثالی طور پر جاری تھا۔ یہ فتویٰ اصل میں مولانا فقیر محمد اور تھانوی سلسلے کی خلافت کے خلاف ہے جہاں بیعت وارشاد کی تصدیق ایک مرتبہ نہیں بلکہ دوبار کی گئی ۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ مولانا فقیرمحمد سے کہہ دیا جاتا کہ آپ نے ورود کی نسبت سے خلافت دیکر گمراہی پھیلائی ہے ۔
2: اگر بیعت کا سلسلہ جاری رکھا تو شدید گمراہی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ حالانکہ فتویٰ خدشہ پر نہیں امر واقع پر دیا جاتاہے اور جو دارالعلوم کراچی والے شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین پر سود کا فتویٰ بھی لگاتے تھے اور70سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر قرار دیتے تھے، پھر انہوں نے عالمی بینکاری کے سودی نظام کو اسلامی قرار دیکر کتنی بڑی گمراہی کا ثبوت دیا؟۔ اگر مفتی تقی ورفیع عثمانی اپنے استاذ مولانا عبدالحق فاضل دارالعلوم دیوبند اور مولانا اشفاق احمد قاسمی کی طرح حاجی عثمان سے بیعت ہوتے تو کئی علتوں سے بچ جاتے۔ مفتی محمود کی چائے سے انکار نہ کرتے۔ جب یہ کہہ دیا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ (پان کا بٹوہ دکھاکر) علت لگی ہے اورجواب میں مفتی محمود نے کہا کہ ”یہ توچائے سے بھی بدتر ہے”۔ اسکے باوجود اصرار کرکے پان نہ کھلاتے اور نہ حکیم تھا اور نہ دورہ قلب کا مریض لیکن مفتی رفیع عثمانی نے دورہ ٔ قلب کی گولی مفتی محمود کے حلق میں ڈال دی۔ حاجی عثمان سے بیعت کا شرف حاصل ہوتا تو یہ حرکتیں نہ کرتے ۔نہ اپنی تحریر میں چھپاتے اور مولانا یوسف لدھیانوی کے لکھنے پر ڈانٹ نہ پلاتے ۔ جھوٹ نہیں بولتے کہ مفتی محمود سے بے تکلفی تھی اور وہ بھیا کہہ کر پان مانگ کر کھاتے تھے۔ مفتی شفیع نے فتنہ اولاد کیلئے دارالعلوم کی وقف زمین میں مکانات خریدے اور مفتی تقی عثمانی نے استاذ کو اسکے خلاف فتویٰ دینے پر ماراپیٹا ۔ مکان واپس کرتے اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی سے اعلانیہ معافی مانگتے۔ ڈاکٹر عبدالحی سے جنرل ضیاء کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح قادیانی جنرل رحیم کی قادیانی بیٹی سے نہ پڑھواتے۔ جنرل ضیاء الحق کو غلط فتویٰ دے کر اسلام کے نام پر ریفرینڈم نہ لڑواتے۔ اپنے فتاویٰ عثمانی میں گمراہ کن فتوے شائع نہ کرتے اور نہ لوگوں کو گمراہ کرتے۔ سودی نظام کیلئے علماء حق کا بھی مقابلہ کرنے تک پھر نوبت نہ پہنچتی۔ حاجی محمد عثمان سے عقیدت ومحبت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہم سے رشد وہدایت کا وہ کام لیا ہے جس کو دنیا مانتی ہے۔
3: آپ کے بعض معتقدات اہل حق کے معتقدات کے خلاف ہیں ۔
1: اپنی تحقیق یا استخارہ کو بالکل قطعی اور یقینی سمجھنا۔
2: ایک خلیفہ کے مشاہدے کی بنیاد پر ایک صحیح حدیث کا انکار کرنا۔
اس سلسلے میں20نکات لکھ دی ہیں جن میں تضادات اور بار بار ایک ہی بات پر زور دیا گیا ہے کہ آپ میں اہلیت نہیں ، گمراہ ہیں اوراپنی اصلاح کریں۔ حالانکہ گمراہی الگ اور اصلاح الگ چیز ہے۔ گمراہی کی ضد ہدایت اور بدعملی کی ضداصلاح ہے۔ اگر عورت کو حلالہ کی ضرورت نہیں مگر حلالہ کا فتویٰ دیا جاتاہے تو یہ گمراہی ہے اور حلالہ لعنت ہے۔ کوئی حلالہ کو پیشہ بناتا ہے تو اس کو توبہ اوراصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر حاجی عثمان کے ہاتھ پر بیعت کرلیتے تو حلالہ کی لعنت سے توبہ کرکے اصلاح حاصل کرلیتے اورپھر آج ہماری علمی رہنمائی سے حلالہ کے غلط فتوؤں کو چھوڑ کر رشد وہدایت کے راستے پر لگ جاتے۔
اگر حاجی عثمان اپنی تحقیق یا استخارے کو قطعی سمجھتے تو پھرخلیفہ کے مشاہدے کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ ان پہلی دونوں باتوں میں بڑا تضاد موجود ہے۔ جواپنی تحقیق یا استخارہ کو قطعی سمجھتا ہو تو وہ خلیفہ کے مشاہدے پر رائے کیوں قائم کرے گا؟۔ دونوں باتوںمیں کوئی ایک بات ہی ہوسکتی ہے۔
حاجی عثمان شریعت کے معاملہ میں بہت پابند تھے۔ مسئلے مسائل میں علماء کا فتویٰ ضروری سمجھتے تھے۔ مشاہدے ، مکاشفے اور خواب کے بارے میں کہتے تھے کہ شیطانی بھی ہوسکتے ہیں۔ فرماتے تھے کہ شیطان کے ایک لاکھ نورانی حجابات ہیں جن میں بندوں اور بڑے بڑے اللہ والوں پر نیکی کی شکل میں وار کرتا ہے۔
انبیاء کرام اور رسول اللہۖ گناہوں اور لغزشوں سے پاک ہیں۔ حضرت عائشہ نے نبی ۖ سے عرض کیا کہ ” اللہ نے آپکے اگلے پچھلے گناہ معاف کئے ” گناہ کے الفاظ پر حاجی عثمان نے خلیفہ سے کہا کہ ”حدیث کا پوچھ لو”۔ اسلئے کہ وہ مکاشفات بیان کرتا رہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ ” نبی ۖ نے فرمایا حدیث صحیح ہے مگر الفاظ میں ردو بدل ہے”۔ مولانا عبدالستار رحمانی ڈیرہ غازی خان والے نے کہا کہ ” یہ الفاظ قرآن میں ہیں”تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے”۔ اس وقت میں موجود تھا اور مشکوٰة شریف میں یہ حدیث پڑھی تھی اور اس کی توجیہات بھی مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے بیان کی تھیں۔ جن کا تفصیل سے مجلس میں ذکر کیا۔ مولانا شہید نے فتوؤں کے بعد حاجی عثمان سے بیعت کی اور ان کے بڑے بھائی مفتی حبیب الرحمن درخواستی نے حاجی عثمان کے حق میں فتوے بھی لکھے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ الائنس موٹرزوالوں نے ایک چال کھیلنے کی کوشش کی تھی اور بروقت ناکام بھی ہوئے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کے اس ترجمہ پر بڑا اختلاف ہے۔ جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ نصاب کی کتابوں میں غلط بنیاد پر صحیح حدیث کا انکار کیا جاتا ہے تو اس گمراہی کو روکنا ضروری ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ الحمدللہ حاجی عثمان کے استخارے کی برکت سے صحیح حدیث کے انکار کا دروازہ بند ہونے کی سبیل پیدا ہوگئی لیکن آپ ا ستخارہ کو قطعی نہ سمجھتے تھے۔کمال کی بات یہ ہے کہ جس طرح مولانا فقیر محمد نے بار بار ورود کی نسبت سے خلافت کی پیشکش کی اور پھر مسلسل انکار ہی کرتے رہے اور پھر مسجد نبوی ۖ میں رمضان لیلة القدر کو ورود کی انتہاء ہوگئی ۔ پھر آپ کو بھی اجازت مل گئی اور تحریری شکل میں لکھ کر دینے کا کہا۔ اس تحریر میں جو جملے اور الفاظ ہیں وہ بڑے کمال کے ہیں۔ مولانا فقیر محمد نے اپنے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کے نہیں بلکہ ان کے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مشابہ لکھ دیا ہے۔ پھر خلافت کو کسی کے مشورے سے واپس لینے کا اعلان اور پھر خلافت کو دائم اور قائم قرار دینے کی بات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ علماء ومفتیان کی اپنی شریعت سے اس میں قلابازیاں بھی ایک زبردست اور واضح ثبوت ہیں کہ مخالفین کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق تھے؟۔ مولانا یوسف لدھیانوی معتقد تھے لیکن ان کی طرف جھوٹا خط لکھ کر منسوب کیا گیا تھا۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن کے ترجمہ میں گستاخانہ الفاظ یا تحریف کی ایک بڑی بحث فرقہ وارانہ بنیادوں پر موجود ہے۔ نبیۖ کی طرف گناہ کی نسبت کے مفہوم سمجھنے کیلئے قرآنی آیات کے سیاق وسباق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ” کسی سے کہا جائے کہ میں فتح مبین کا انعام اسلئے دے رہا ہوں کہ تیرے گناہ معاف ہوجائیں”۔ اس کیلئے تو مصیبت کھڑی ہونے کا لفظ ہونا چاہیے کہ اس آزمائش میں اسلئے مبتلا ء کررہا ہوں کہ تیرے گناہ معاف ہوجائیں۔ آیت میں ذنب کا معنی گناہ نہیں بلکہ بوجھ ہے اور اس بوجھ کا اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے وہ بوجھ اٹھالیا جس نے آپ کی کمر دوہری کردی تھی” توڑنے کا لفظ مناسب نہیں توگناہ کا لفظ کیسے مناسب ہوگا۔ حاجی عثمان کا خلیفہ مشاہدات دیکھتا اور مولانا فقیر محمد نے بھی ورود کا تحریری بیان دیا۔ وہ دونوں اچھے قرار پائے اور حاجی عثمان پر فتوے لگے کیونکہ آپ کو ہدف بنانے کا بھاڑہ وصول کیا گیا تھا۔ مشاہدات میں تو بڑے بڑے علماء حضرات بھی شامل تھے تو ان کا کیا بنتا؟۔
اصل بات یہ تھی کہ مولانا مسعودالدین عثمانی نے ”توحید خالص” کتاب لکھ کر علامہ بنوری سے اسلاف تک سب کو مشرک قرار دیا تھا۔ علماء ومفتیان جواب دینے کے بجائے اپنی دُموں سے اپنے لتھڑے ہوئے چوتڑ صاف کرتے پھر رہے تھے۔حاجی عثمان کی خانقاہ کو اللہ نے اسلاف سے عقیدت قائم رکھنے کا بڑا وسیلہ بنالیا لیکن فتویٰ فروشان اسلام نے اہل حق پر فتوے لگانے والوں کی تاریخ زندہ کردی کہ کیسے دنیاوی مفادات کیلئے آنکھیں بند کرکے بلعم بن باعوراء کتے کا کردار ادا کیا جاتا ہے؟۔ آج بھی علماء سوء اور علماء حق کا کردار بالکل واضح ہے۔
حاجی عثماننے فرمایا: ” یہ رشتہ مقدر میں ہے۔ اللہ والے لوح محفوظ کو پڑھ لیتے ہیں”۔میں نے بات نہیں مانی۔مجھے استخارہ کرنے کا کہا میں نے استخارے سے بھی انکار کیا اور ایک ساتھی عارف بھوجانی نے کہا کہ حضرت نے استخارہ کیا ہے تو اس پر میں بہت شدید غصہ ہوا کہ تمہارا کیا کام ہے،پھر وقت آیا کہ تقدیر کی بات حاجی عثمان کی وفات کے بعد غیرمتوقع انداز میںپوری ہوئی۔پہلی وحی کی حدیث اقراء اور ماانا بقاری پر منکرینِ حدیث نے اتنے جاندار اعتراض کئے کہ اہلحدیث اور حنفی بھی اس کا انکار کرنے لگے۔ مگر حاجی عثمان کے استخارہ سے یہ رہنمائی مل گئی کہ ”حدیث میں لوح محفوظ کا دل سے پڑھنا مراد ہے”۔ جس پر جاندار اعتراض بالکل ٹھس ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ” اندھا دل کا اندھاہے” اور انہی کیلئے فرمایا کہ ” جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہے”۔ دنیاوی مفادات قرآن کی موٹی موٹی باتوں کو سمجھنے سے بھی اندھا کردیتے ہیں۔
”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکانکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ یہ حدیث قرآن سے متضاد نہیں، طلاق شدہ عورت کا ولی نہیں ہوتا۔ بیوہ کو واضح الفاظ میں قرآن نے اختیار کامالک کہا۔ جعلی عربی نسل عثمانی اچھوت کی لڑکی کیلئے الگ فتویٰ ہو۔ درخواستی ، لاہوری اور سندھی کے علاوہ مولانا فضل الرحمن اور طالبان کی لڑکیوں کیلئے الگ فتوی ہو۔ اس کو تسلیم کرنا سرائیکی، پشتون، پنجابی، بلوچ، سندھی اور مہاجروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔فوج کے غیرتمند جرنیلوں ، علماء حق اور عوام الناس کو اس کا نوٹس لینا ہوگا۔ سیدعتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عورت کی حق تلفی اور انتہائی بے غیرتی کا مثالی فتویٰ۔ عورت کے حقوق کیلئے کھڑے ہوں

عورت کی حق تلفی اور انتہائی بے غیرتی کا مثالی فتویٰ۔ عورت کے حقوق کیلئے کھڑے ہوں

___باپ کا کیا ہوا نکاح فسخ نہیں کیا جاسکتا___
سوال :۔ رحیم بخش نے اپنی حقیقی لڑکی کا نکاح بحالت نابالغی بعمر9،10سال کے خوشی و رضا مندی کیساتھ کردیا ، کچھ عرصہ بعد شیرمحمد باہر چلا گیا اور عدم الخبرہوا۔ عرصہ چار پانچ سال بعد لڑکی کے باپ نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا۔ مقدمہ سات آٹھ ماہ چلتا رہا، عدالت نے شیرمحمد کے وارثوں کو حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر اندر حاضر کریں، ورنہ حکم تنسیخ کردیا جائیگا، چنانچہ اس قلیل وقت میں لڑکے کو عدالت میں حاضر نہ کیا جاسکا تو عدالت نے تنسیخ نکاح کا حکم دے دیا۔ تنسیخ سے قبل عدالت نے سرکاری طور پر شیرمحمد کو تلاش نہیں کیا، نہ تو عدالت نے کوئی نوٹس دیا اور نہ اعلان یا اخبار میں اشتہار دیا، تنسیخ کے بعد دوسری شادی کی اجازت دیدی گئی۔ چنانچہ بعد تین ماہ عدت گزارنے کے لڑکی کے باپ نے اس کی شادی ایک اور شخص محمد شفیع سے کردی ، نکاح کے دو تین ماہ بعد شیرمحمد آگیا اور اس نے اپنی بیوی کا مطالبہ کیا مگر لڑکی کے والد نے انکار کردیا اور کہا کہ لڑکی دوسرے شخص محمد شفیع کے گھر میں رہے گی، کیونکہ عدالت نے نکاح ثانی کی اجازت دے دی ہے اور اب تک بضد قائم ہے۔ لہٰذا اب صورت مذکورہ میں کیا نکاحِ اول منسوخ ہوگیا یا نہیں؟۔
جواب :۔ اس سوال کیساتھ عدالت کا جو فیصلہ منسلک تھا،اس میں فسخِ نکاح خیار بلوغ کی بناء پر کیا گیا ہے ، جس پر تنقیحات کی گئیں، ان تنقیحات کے بعد مندرجہ ذیل اُمور ثابت ہوئے۔1:لڑکی کا نکاح خود باپ نے کیا تھا ۔2:لڑکی نے آثار بلوغ ظاہر ہوتے وقت نکاح نامنظور کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔
لہٰذا اولاً تو یہ نکاح چونکہ باپ کا کیا ہوا ہے (اور اس کے سیئی الاختیار ہونے کا دعویٰ لڑکی نہیں کرتی) اسلئے اس میں لڑکی کو خیارِ بلوغ سرے سے حاصل ہی نہیں ہے، کما ھو مصرح فی سائر کتب الفقہ ، دوسرے اگرحاصل ہوتا تب بھی لڑکی نے خیارِ بلوغ کے حق کو استعمال کرنے کا وقت گزار دیا، لہٰذا شرعاً خیارِ بلوغ کی بناء پرعدالت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں تھا اور شریعت کی رو سے اس کا فسخِ نکاح صحیح نہ ہوا ، لہٰذا محمد شفیع سے اس کا نکاح باطل وکالعدم ہے اور اصل خاوند شیرمحمد بدستور لڑکی کا شوہر ہے۔البتہ اگر محمد شفیع لڑکی کیساتھ صحبت کرچکا ہو تو جب تک تین حیض نہ آجائیں شیر محمد کیلئے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں ۔واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم احقر محمد تقی عثمانی ٤/٢/١٣٨٨ھ (فتویٰ نمبر٢١٢/١٩ الف ) الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ
فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ282۔283
سوال اور اس کا جواب دارالعلوم کراچی والوں نے خود مرتب کیا ہے اور اس میں کمالِ فن دکھانے کا بھی مظاہرہ کیا ہے لیکن اس سب کے باوجود جب شوہر مفقود الخبرتھا تو اصل فتویٰ یہ بنتا تھا کہ4سال انتظار کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی اور برصغیر پاک وہند کے حنفی علماء ومفتیان کا فتویٰ یہ تھا کہ نکاح فسخ ہوچکا ہے اور4ماہ10دن کی عدت گزارنے کے بعد وہ لڑکی شادی کرسکتی تھی۔ طلاق کی عدت بھی تین ماہ نہیں بنتی تھی اس لئے کہ لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ عدالت سے منسوخ نکاح کروانے اور اتنی مدت گزارنے کے بعد اگر رخصتی ہوچکی ہوتی اور عورت بچوں کی ماں بھی ہوتی تب بھی اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق تھا اور اس پر یہ فتویٰ لگانا کہ نکاح نہیں ہوا ہے اور یہ تعلق بھی جائز نہیں تھا ،انتہائی افسوس کی بات ہے۔ محمد شفیع کوئی بہت غریب بندہ ہوگا اور اس کا باپ بھی بے بس ہوگا اور شیرمحمد کوئی امیر ہوگا اور اس نے پیسہ بھی ان فتویٰ فروشوں کو دیا ہوگا۔ ان لوگوں نے دین اور فتوے کو کاروبار بنالیا ہے۔ انفرادی فتوے بھی ان کے بہت متضاد ہیں۔ ایک فتویٰ لکھ دیا کہ شیعہ سے سنی لڑکی کا نکاح جائز نہیں اور دوسرا لکھ دیا ہے کہ جائز ہے مگر مناسب نہیں ۔
جب حاجی عثمان پر انہوں نے فتویٰ لگایا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ یہ پیر کوئی اچھا آدمی ہوگا اور ان مفتیوں نے اس پر1970 عیسوی کے فتوے کی طرح مال کمایا ہوگا۔ دارالعلوم کراچی نے اس وقت بھی یہ کھیل ایسا کھیلا تھا کہ الاستفتاء میں لکھ دیا تھا کہ ” خلیفہ اول کہتا ہے کہ مجھے پیر بار بار مجبور کرتا تھا کہ تم نبیۖ کو دیکھتے ہو یا نہیں؟”۔ حالانکہ ایسا عملاً نہیں ہوسکتا ہے کہ پیر خود تو نبی ۖ کو نہیں دیکھتا ہو لیکن مرید سے کہے کہ تم نے دیکھا ہے یا نہیں؟۔ اور زبردستی دیکھنے پر مجبور کرتا ہو۔ اگرایک خلیفہ ہوتا تو پھر بات ہوتی یہاں تو علماء ومفتیان ، بہت سارے خلفاء ،تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگانے والوں کی ایک بہت بڑی فہرست تھی اور عام ہزاروں کی تعداد میں مکاشفات دیکھنے والے ان کے علاوہ تھے جن میں اہلحدیث بھی شامل تھے۔
دارالعلوم کراچی نے حاجی عثمان سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ نہیں آئے تو ہم یک طرفہ فتویٰ دیں گے اور پھر وہ فتویٰ جس پر کوئی یقین نہیں کرتا شائع کردیا اور علماء ومفتیان بکاؤ مال نے کہنا شروع کیا کہ ہم نے حاجی عثمان سے تفتیش کے بعد فتویٰ دیا اور یہ نہیں بتایا کہ خلیفہ اول کے علاوہ جن علماء اور دیگر لوگوں نے مشاہدات دیکھے تھے تو وہ تمہاری بیویوں ، ماؤں اور بیٹیوں کے پاس چرنے گئے، چڑھنے گئے یا کیا کرنے گئے؟۔ ایک پر تو زبردستی کی لیکن دوسروں کا کیا بنے گا کالیا؟۔ ہم فوجی حکام ، مقتدر، علماء حق اور عوام الناس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان غلیظ علماء ومفتیان کا راستہ روکنے کیلئے بندوبست کرنا چاہیے ۔ہماراذاتی معاملہ تو ایک بہانہ ہے لیکن ہمارا اصل نشانہ غریب وبے بس لوگوں کو حلالہ ، سود ، حلال نکاح کو حرام قرار دینے ، جھوٹ ، فریب اور فتویٰ فروشی کی لعنتوںسے بچانا ہے اور بس!۔ہم پر حرامکاری اور اولاد الزنا کا غلط فتویٰ بہت مہنگا پڑاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآنی آیات و احادیث صحیحہ کے مطابق ان افراد کا نکاح بلاشبہ درست تھا حلالہ کی ضرورت نہ تھی

قرآنی آیات و احادیث صحیحہ کے مطابق ان افراد کا نکاح بلاشبہ درست تھا حلالہ کی ضرورت نہ تھی

اللہ تعالیٰ نے رجوع کا تعلق طلاق کی تعداد سے نہیں بلکہ عدت کیساتھ باہمی صلح واصلاح سے جوڑا ہے جو اتنا واضح ہے کہ سود خور مفتی تقی عثمانی اورمفتی عبدالرؤف سکھروی جیسوں کو بھی نظرآسکتا ہے

سندھ کی ایک بیٹی کیلئے محمد بن قاسم اس پورے خطے کو فتح کرسکتا ہے لیکن کیا ہماری فوج، ہمارے حکمران اور علماء ومفتیان اپنی خواتین کی عزتوں کو بچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ؟

محمود شوکت اور فرحت کو ساڑھے چار سال کے بعدشک کی بنیاد پر حلالے کا فتویٰ دیا گیا، اس دوران اولاد بھی پیدا ہوئی ہوگی۔ سوال میں بیگم کا نام نہیں لیکن جواب میں ہے،دیدار بھی کیا ہوگا۔ اگر قرآنی آیات سے اُمت کو دور نہ رکھا جاتا تو سورہ ٔ طلاق کی پہلی آیت بھی رہنمائی کیلئے کافی تھی۔علماء میں یہ صلاحیت بھی نہیںکہ اس کا ترجمہ کرسکیں۔ اللہ نے فرمایا” جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت تک کیلئے طلاق دو”۔ طلاق کوئی ٹوپی اور دوپٹہ نہیں کہ مخصوص وقت کیلئے دی جائے۔ علماء کے نزدیک عورت کی عدت تین حیض ہیں۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ عورت کو حیض کیلئے طلاق دی جائے۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت نہیں۔ عورت کی طہارت کے دنوں کو علماء نے عدت الرجال یعنی مردوں کی عدت قرار دیا ۔ جس میں مرد طلاق دیتے ہیں۔ جبکہ اللہ نے عورتوں کی عدت کیلئے طلاق دینے کی وضاحت کردی تو علماء کے پاس اس کا جواب تک نہیں۔
بیوی کوچھوڑ نا طلاق ہے اللہ نے فرمایا: ” جب تم عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے ان کو چھوڑ و”۔ پھر فرمایا: ” ان کوانکے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب کھلی فحاشی کریں”۔ وجہ یہ بتائی کہ ” ہوسکتا ہے کہ اللہ نئی صورت پیدا کردے”۔ یعنی عدت میں دونوں آپس میں اکٹھے رہنے پر راضی ہوجائیں۔ اگر ہم مان لیں کہ اللہ نے حکم دیا کہ”عدت کیلئے طلاق دو” سے مراد یہ ہے کہ” پہلے طہر میں پہلی طلاق ، دوسرے طہر میں دوسری طلاق اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق”۔ تو پھر اگر ایسا کربھی لیا تو اللہ نے اگلی آیت2سورہ ٔ طلاق میں فرمایا: ”جب وہ عورتیں اپنی عدت پوری کرچکیں تو معروف طریقے سے ان کو روک لو یا معروف طریقے سے الگ کردو۔ اور اس پر اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی بنالو۔ اللہ کیلئے گواہی قائم کیا کرو۔ اور جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے پھر بھی (اس مشکل ) صورت سے نکلنے کا راستہ بنادے گا”۔ (آیت2سورۂ طلاق )
آیات میں یہ بالکل واضح ہے کہ اگر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد عدت کے اندر رجوع نہیں کیا اور پھر عدت کی تکمیل کے بعد آپس کی رضامندی سے رجوع کرلیا تو بھی ٹھیک ہے اور اگر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تواس پر دو عادل گواہ مقرر کریں ، تاکہ طلاق کی صورت میں عورت کو مالی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ پھر بھی اللہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی اللہ کا خوف رکھے گا تو اللہ اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کا راستہ نکال دے گا۔
رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو تین طلاقیں دیں، دوسری عورت سے شادی کی،اس نے اسکے نامرد ہونے کاکہا تو نبی ۖ نے فرمایا کہ اسکے بچے اسکے مشابہ ہیںاور اس کو چھوڑنے کا حکم دیا اور فرمایا : ام رکانہ سے رجوع کرلو؟ ۔ عرض کیاگیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : مجھے علم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد شریف) رکانہکے والد نے سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاق دی تھیں۔ آخر میں دو عادل گواہ بناکر عورت کے حقوق کی پاسداری کی تھی اسلئے اللہ نے راستہ بنادیا۔
مفتی محمد شفیع جیسے لوگ مدرسہ کے وقف مال میں اپنے بیٹوں کیلئے ناجائز مکانات خریدتے ہیں تو جب وہ تین طلاق اپنی بیگمات کو دیتے ہیں تو فقہ کی کتابوں سے حلالہ کی تجویز کے بغیر چارۂ کار نہیں پاتے ہیں۔وہ اپنے معتقدین کے ساتھ بھی حلالہ کی لعنت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کیلئے تمام شبہات اور دلائل کو مسترد کرتے ہوئے حلال قرار دے دیا لیکن لوگوں کی عصمت کو بچانے کیلئے کھلی آیات نہیں دیکھتا۔
جب محمود شوکت اور فرحت نے صلح کی شرط پر عدت میں رجوع کرلیا تویہ درست تھا۔ سورۂ طلاق کے علاوہ سورۂ بقرہ آیت228میں بھی اللہ نے واضح کیا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ” اور ان کے شوہر اس عدت میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں”۔
اس آیت میں ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کے غلط مذہب اور جہالت سے بھی امت مسلمہ کی اللہ نے جان چھڑائی ہے اور طلاق رجعی کے غلط تصور سے بھی جان چھڑائی ہے اسلئے کہ رجوع کو عدت میں صلح کیساتھ مشروط کردیا۔ صلح کیساتھ عدت میں اکٹھی تین طلاق ہو یا پھر مرحلہ وار تین طلاق ہو رجوع کا حکم واضح کردیا ہے۔ علماء بنی اسرائیل کی طرح ہمارے علماء ومشائخ نے بھی گدھوں کا کردار ادا کرنا تھا۔ اسلئے کہ صحیح حدیث میں اس کی وضاحت ہے اور ان گدھوں سے امت کو بچانے کیلئے رجوع کا مسئلہ واضح کیا۔
سورہ بقرہ آیت229میں مزید واضح کردیا کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے ۔پھر معروف طریقے سے روکناہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ جس طرح تین دن میں تین روزوں کا تصور واضح ہے کہ دن کو روزہ رکھا جاتا ہے اور درمیان میںرات کا وقفہ آتا ہے۔ اسی طرح آیت228البقرہ میں عدت کے تین مراحل کو واضح کیا ہے اور آیت229میں مرحلہ وار تین طلاق کا ذکر ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہی تیسری طلاق ہے جس کا ذکر229البقرہ میں ہے۔ پھر آیت229کے آخر میں اس صورت کا ذکر ہے کہ جب عدت بھی پوری ہوجائے، عورت کو اس کے مالی حقوق بھی دئیے جائیں اور دونوں اور صلح کرانے والے فیصلہ کرلیں کہ آئندہ ان دونوں میں رابطے کا کوئی ذریعہ بھی نہ چھوڑا جائے۔ اسی صورت کے بعد آیت230البقرہ کا معاملہ ہے۔ لیکن اگر عدت کی تکمیل کے بعد بھی صلح کرنا چاہتے ہوں تو آیات231اور232البقرہ میں پھر بھی عدت کے فوراً بعد رجوع اور کافی عرصہ بعد بھی آپس کے نکاح سے نہ روکنے کے احکام واضح ہیں۔
احادیث صحیحہ، صحابہ کے فتوے اور فیصلے قرآن کے عین مطابق تھے۔ صلح کی شرط پر رجوع کا انکار نہیں کیا جاسکتاتھا۔ فقہاء اس فضول بحث میں لگ گئے کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوتی ہیں؟، بدعت ہے؟ یا سنت؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طلاق کی تعداد میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟۔حلالہ کی لعنت پر زور کیلئے کیسے حدیں پار کردیں؟

طلاق کی تعداد میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟۔حلالہ کی لعنت پر زور کیلئے کیسے حدیں پار کردیں؟

سوال:قریباً ساڑھے4سال میں (محمود شوکت ) میری بیوی اور بیٹی عمر6ماہ کے ہمراہ اپنے سسرال میں قیام پذیر تھا۔ میرا اپنا گھر پنجاب میں ہے، یہاں کراچی میں رہنے کی وجہ سے مجھے گیس ٹربل کی تکلیف تھی ۔ایک روز شدید تکلیف کا دورہ ہوا ، چھوٹی سالی سے تکرار کر بیٹھا، اس کی باتوں کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے بیوی سے الجھا، اس سے پیشتر بیوی سے تعلقات اچھے تھے، کوئی جھگڑا نہ تھا، لیکن اس وقت شدید غصے میں اور مرض کی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہوئے نادانی میں تحریراً طلاق لکھ دی، یہ عمل صرف سسرال پر دباؤ ڈالنے کیلئے تھا، اسلئے مجھے طلاق کی تعداد کا کامل یقین نہیں کہ کتنی دفعہ دی ۔ دوسرے روز اپنی حرکت پر اس قدر پریشان ہوا اور اپنے سسر سے اپنی پشیمانی کا ذکر کیا،بیوی سے معافی مانگی، اس کو اپنے ہمراہ پنجاب چلنے پر آمادہ کیا ، میرے بار بار اصرار پر میری بیوی نے مجھے معاف کردیا، چونکہ اپنی بیوی سے تعلقات ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھا اسلئے بیوی و بیٹی کو لیکر اپنے بھائی کے گھر چلا گیا اور لیٹر بھی (طلاق نامہ) پھاڑ دیا، اس واقعے کے چوتھے روز میں خود مفتی محمد شفیع مرحوم کی قیام گاہ پہنچا ،انہوں نے تعداد کے یقین کے بارے میں پوچھا لیکن میں خود بھی تعداد کے بارے میں یقین نہیں رکھتا تھا اور اسی دن اپنی بیوی اور بچی کو لیکر پنجاب چلا گیا۔
آج واقعے کو گزرے تقریباً ساڑھے4سا ل گزر چکے لیکن سسر صاحب مطمئن نہیں ہوئے، انہوں نے مجھ سے اور اپنی بیٹی سے تعلقات منقطع کرلئے۔ یہ حالات ہمارے خاندان کی رسوائی کا موجب ہیں، ہمارے حالات اور میری نیت کو دیکھتے ہوئے شرعی فیصلہ دیں تاکہ ہم آئندہ زندگی سکون سے گزار سکیں ۔ نہ ہی میری بیوی کو تعداد کا یقین ہے کہ کتنی مرتبہ لکھی ہیں ، دو دفعہ یا تین دفعہ ۔
جواب:۔ صورت مسئولہ میں محمود شوکت اور فرحت دونوں کو پوری احتیاط اور غور وفکر کیساتھ یاد کرنا چاہیے کہ کتنی بار طلاقیں لکھی تھیں؟ جو دوسرے لوگ موجود تھے یا انہوں نے تحریر پڑھی تھی تو ان سے بھی تحقیق کرنی چاہیے، اگر خود یاد آجائے یا پڑھنے والے کے بیان سے گمان غالب ہو کہ تین طلاقیں دی تھیں تو فرحت شوہر پر حرام ہوگئی ، تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور حلالہ کے بغیر دونوں کے درمیان دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا، دونوں پر فرض ہے کہ فوراً ایکدوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں اور جتنا عرصہ طلاق کے بعد ساتھ گزرا ،اس پر توبہ واستغفار کریں، لیکن اگر غور وفکر اور تحقیق کے بعدیاد نہ آئے کہ کتنی طلاقیں لکھی تھیں اور نہ کسی طرف گمان غالب ہو تو صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ محمود شوکت کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں اور چونکہ محمود شوکت نے عملاًاس سے رجوع کرلیا ۔ اسلئے فرحت بدستور اسکی بیوی ہے ، البتہ اب محمود شوکت کو صرف1طلاق کا اختیار باقی ہے۔ یعنی اب وہ اگر ایک طلاق بھی دے گاخواہ غصہ میں دے یا مذاق میں دے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی اور حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔
مذکورہ صورت میں اگرچہ محمود شوکت کو اپنی بیوی کو رکھنے کا اختیار ہے لیکن چونکہ حلال وحرام کامعاملہ نازک ہے اور اس کو تردد پیدا ہوگیا ہے اور بعض فقہاء ایسی صورت میں بھی تین طلاقوں کے وقوع کا فتویٰ دیتے ہیں۔لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ وہ بہر صورت بیوی سے علیحدگی اختیار کرلے اور اس کی عدت گزار کر بیوی کسی اور جگہ نکاح کرلے، پھر اگر کسی وجہ سے شوہر خود طلاق دیدے تو اس کی عدت کے بعد محمود شوکت بھی اس سے نکاح کرسکے گا۔
والدلیل علی کل ذٰلک ما یأتی1:قال اللہ تعالیٰ ” فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ”۔ (سورة البقرہ آےة٢٣٠)2:عن علی قال : سمع النبی ۖ رجلًا طلق البتة فغضب وقال : تتخذون اٰیات اللہ ھزوًا أو لعبًا من طلقھا البتة الزمانہ ثلاثًا فلاتحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ….وفی حدیث ابن عمر قال : قلت یا رسول اللہ ! ارأیت لو طلتھا ثلاثًا ، قال : اذًا عصیت ربک وبانت منک امرأتک (المغنی لابن قدامة ج ٧ ص ١٠٣) وقد اخرج البیھقی قصة طلاق حسن بن علی امرأتہ ثلاثا وفی حدیث مرفوع الی النبی ۖ3:قال ابن نجیم: شک انہ طلق واحدة أو اکثربنی علی الاقل کما ذکرہ الاستیجابی الا ان یستیقن بالاکثر او یکون اکبر ظنہ علی خلافہ وان قال الزوج عزمت علی انہ ثلاثًا یترکھا…….
آخر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مفتی کو علم غیب نہیں ہوتا، اسکے سامنے جیسا سوال کیا جا ئے گا وہ اس کے مطابق جواب دے گا، سوال کی صحت کی ذمہ داری سائل پر ہے اور چونکہ معاملہ حلال وحرام کا ہے اور ہر شخص کو آخرت میں اپنی جوابدہی کرنی ہے لہٰذا بہت احتیاط اور غور وفکر کے ساتھ یہ متعین کیا جائے کہ کتنی طلاقیں دی تھیں؟ اگر ذرا بھی گمان غالب تین طلاقوں کا ہو تو دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہے ۔ واللہ سبحانہ اعلم (فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ346تا248)
کہاں قرآن کی واضح آیات میں بار بار بلا شبہ رجوع کی اجازت اور کہاں اس طرح گھیر گھار کر اس غریب کی بیگم کو حلالہ کا شکار بنانا؟۔ پہلے لکھا کہ دو طلاق ہوئی ہیں اب ایک باقی ہے اور سمجھایا یہی ہوگا کہ جب حلالہ کرو گے تو نئے سرے سے تین طلاق کے مالک بن جاؤ گے اور پھر صبر نہیں آیا شک پر تین کا فتویٰ دیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv