پوسٹ تلاش کریں

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

”جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالہ سے فرمایا: مجھ پر حرام ہے” تو سورہ تحریم میں بھرپور وضاحت آئی کہ بیوی کو حرام کہہ دینے سے حرام نہیں قرار دیا جاسکتا تو کیا یہ کم رہنمائی ہے؟
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میںبیوی کو” حرام ” کہنے پر20اجتہادی مذاہب کونقل کیاہے کہ حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین طلاق قرار دیتے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ امام مہدی کا ظہور قریب ہے۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کا اجتہاد ٹھیک اور کس کا غلط ہے اور امام مہدی کا فیصلہ حق ہوگااوران کا مخالف باطل ہوگا

جب حضرت معاذ بن جبل یمن کے حاکم بنادئیے گئے تو نبی ۖ نے پوچھا کہ لوگوں کے درمیان کس چیز پر فیصلہ کروگے؟۔ ابن جبل نے عرض کیا کہ قرآن سے۔ نبی ۖ نے پوچھا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو؟ ، معاذ بن جبل نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ۖ کی سنت سے ۔پھر پوچھ لیا کہ اگر سنت میں بھی نہ ملے توپھر؟۔ معاذبن جبل نے عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔ نبی ۖ نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔
عربی میں اجتھد میںکوشش کروں گا۔ انا مجتھد میں محنتی ہوں ۔ھو مجتھد وہ محنتی ہے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ ” اجتہاد” مستقل مذاہب ہیں جن کی تقلید کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوی کو ” حرام” کہنے پر علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے20اجتہادات کو نقل کیا ہے۔ لکھاہے کہ حضرت عمر کے نزدیک بیوی کو ”حرام” کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ جبکہ حضرت علی کے نزدیک بیوی کو ” حرام” کہنے سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوں گی۔ اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اجتہادی غلطی پر ایک نیکی ملتی ہے اور اگر اجتہاد ٹھیک ہو تو پھر دو نیکیاں ملتی ہیں لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کس کا اجتہاد ٹھیک ہے اور کس کا اجتہاد غلط ہے؟۔ امام مہدی تشریف لائیں گے تو ٹھیک اور غلط واضح ہوگا۔
علامہ ابن تیمیہ نے ایک کتابچہ لکھا ہے جس میں چاروں فقہاء کی تقلید کو فرقہ واریت اور ناجائز قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں4کی جگہ20اجتہادات لکھ دئیے۔
اہل سنت صحیح بخاری کے بارے میںکہتے ہیں کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری ”اللہ کی کتاب کے بعدسب سے زیادہ صحیح کتاب صحیح بخاری ہے”۔ حسن بصری سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ” بیوی کو حرام کہنا بعض علماء کے اجتہاد کے مطابق تیسری طلاق ہے اوریہ کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے کام چل جائے بلکہ تیسری طلاق کے بعد بیوی حلال نہیں ہوتی ہے کہ جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرکے ہمبستری نہ کرلے”۔ اورابن عباس نے کہا کہ ” بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم کا کفارہ۔ یہ سیرت رسول ۖ کا تقاضہ ہے ”۔(سورۂ تحریم ماریہ قبطیہ حرام کرنے پر اتری) بخاری کی ان روایات میں بہت بڑا تضاد ہے۔ کہاں تیسری طلاق اور کہاں کچھ نہیں؟۔
اللہ نے فرمایا کہ ” اپنی زبانوں کو ملوث مت کروکہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے”۔ (القرآن)۔ کیا حضرت عمر، علی اورا بن عباس نے اللہ کی کتاب قرآن کے منافی حلال اور حرام کے اجتہادات کرلئے تھے؟۔ جب سورہ تحریم میں اللہ نے قرآن میں نبی ۖ کی سیرت کے ذریعے اتنی زبردست وضاحت فرمائی ہے تو کیا صحابہ اور خاص طورپر خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں اتنے بڑے تضادات ہوسکتے تھے؟۔
امام مہدی حنفی مسلک، علی اور عمر میں کس کی تائید یا تردید کرے گا؟۔ قرآن وسنت اور خلفاء راشدین کی صحت کا فیصلہ کس طرح کرے گا؟۔ اگر ان کی آمد سے پہلے امت نے معقول حل تلاش کیا تو کیا ہوگا؟۔
قرآن وسنت میں طلاق اور اس سے رجوع کرنے کا ایک بنیادی مسئلہ میاں بیوی میں معروف رجوع ہے اور معروف رجوع کا مطلب قرآن وسنت میں بالکل واضح ہے کہ شوہراورعورت رجوع کیلئے راضی ہوں اور یہ مفہوم بار بار قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے۔ یہاں تک کہ جب نبی ۖ نے ایلاء کیا تھا تب بھی اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ رجوع کرنے سے ان کو علیحدہ ہونے کا مکمل اختیار دے دو۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ جب ایک شخص نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیا اور اس نے حضرت عمر سے پوچھ لیا کہ رجوع ہوسکتا ہے؟۔ حضرت عمر نے اس کی بیوی کی رضا مندی معلوم کرنے کے بعد رجوع کا فتویٰ دیا۔ پھر حضرت علی کے پاس ایک اور مسئلہ آیا کہ ایک شخص نے بیوی کو حرام قرار دیا۔ حضرت علی نے معلوم کیا تو بیوی رجوع کیلئے راضی نہ تھی اسلئے فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ۔ اس کو کسی نے تین اور کسی نے تیسری طلاق کا نام دیا لیکن یہ نہیں دیکھا کہ قرآن وسنت کے مطابق بالکل درست فتویٰ دیاتھا۔ حضرت عمر وعلی کی کوشش(اجتہاد) میں تضاد نہیں قرآن وسنت سے مطابقت ہے۔
تحریم کا معنی حرام کرناہے۔سورۂ تحریم اور نبی ۖ کا بیوی کو حرام قرار دینے سے مسئلہ سمجھنا مشکل نہ تھا۔ ”فتاویٰ عثمانی” میں ہے کہ ” بعض علماء کے نزدیک ” میں نے تجھے چھوڑ دیا” طلاق صریح ہے جو طلاق رجعی ہے اور اس میں نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن” تومجھ پر حرام” سے طلاقِ صریح کیوں واقع نہیں ہوتی بلکہ بائن واقع ہوتی ہے جس میں نکاح کی ضرورت پڑتی ہے؟”۔اس میں کیا فرق ہے؟۔ جواب:” اس فرق کو سمجھنے کیلئے فقہ پڑھنے کی ضرورت ہے، لہٰذا یا تو آپ فقہ کی تعلیم حاصل فرمائیں یا پھر اہلِ علم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل فرمائیں اور دلائل کے پیچھے نہ پڑیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ ٣٧٤،٣٧٥

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علماء حق اور علماء سوء میں حدفاصل کیا ہے؟ اور کب سے معاملات زیادہ خراب ہوگئے ہیں؟

علماء حق اور علماء سوء میں حدفاصل کیا ہے؟ اور کب سے معاملات زیادہ خراب ہوگئے ہیں؟

جب مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ،مفتی تقی ورفیع عثمانی اورمفتی رشیداحمد لدھیانوی نے جمعیت علماء اسلام پر1970میں کفر کا فتویٰ لگایاتو ان کاعلامہ محمد یوسف بنوری نے کوئی ساتھ نہیں دیا تھا

دارالعلوم کراچی نے شیعوں کے خلاف فتویٰ نہیں دیا لیکن جمعیت علماء اسلام اور حاجی محمد عثمان کے خلاف فتویٰ دینے میں ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا تھا۔ علماء حق اور علماء سو ء کا معیار یہ تھا؟

علمائِ حق کے سروں پر سینگوں کا تاج نہیں ہوتا کہ ان کو ذوالقرنین کہا جائے اور نہ علماء سوء کی چوتڑ پر لمبی دُم ہوتی ہے کہ اس سے ان کی شناخت کی جائے۔
جب1970میں علماء حق پر ان علماء سوء نے فتویٰ لگادیا تو اس پر ایک بڑا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے تھا تاکہ عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ پھر1980میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بینکوں سے زکوٰة کے مسئلے پر طلب کیا اور دورانِ گفتگو مفتی تقی عثمانی نے کہاکہ ”ہم دونوں بھائی دن میں ایک بار ایک کپ چائے پیتے ہیںاور پھر سارا دن نہیں پیتے”۔ حالانکہ مہمان کا میزبان کی دعوت کا قبول نہ کرنا قرآن وسنت اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ مفتی محمود نے کہا تھا کہ ” نبی ۖ نے دودھ کی دعوت قبول کرنے کا حکم فرمایا ہے اور چائے بھی دودھ کے حکم میں ہے”۔ جب حضرت ابراہیم کی دعوت مہمانوں نے قبول نہیں کی تو ان کو خوف محسوس ہوا۔ لیکن پھر انہوں نے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ مفتی محمود نے کہا تھا کہ ”میں خود چائے زیادہ پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم پیتا ہے تومیں اس کو پسند کرتا ہوں”۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ”حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے”۔ (پان کا بٹوا دکھاکر)۔ مفتی محمود نے کہا کہ ” یہ توچائے سے بھی بدتر ہے” اور پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا اور جب تھوڑی دیر بعد مفتی محمود کی طبیعت خراب ہوگئی تو مفتی رفیع عثمانی نے دورہ قلب کی خاص گولی اس کے حلق میں ڈال دی اور ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے رحلت فرماگئے تھے۔ پان کھلانے اور حلق میں گولی ڈالنے کی بات مفتی تقی عثمانی نے اپنی اس تحریر میں نہیں لکھی تھی جو اس نے البلاغ میں مفتی محمود کی وفات کے بعد لکھی تھی لیکن مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے دونوں باتیں ماہنامہ بینات بنوری ٹاؤن کراچی میں لکھ دی تھیں اور جب ‘اقراء ڈائجسٹ بنوری ومحمود کا خاص نمبر چھپ گیا تو دونوں تحریرات بھی شائع کی تھیں۔ جب ہم نے ان کا حوالہ دیا تو مفتی تقی عثمانی نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو ڈانٹ دیاتھا۔ پھر بہت بعد میں مفتی تقی عثمانی کا آڈیو ریکارڈ نیٹ پر آیا کہ مفتی محمودسے بے تکلفی تھی، وہ مجھ سے کہتے تھے کہ بھیا ! تمہارا پان کھائیں گے ، لاؤ مجھے اپنا پان ذرا کھلاؤ۔ مفتی تقی عثمانی کی تحریر اور تقریر میں بہت بڑا تضاد ہے۔ جھوٹ پکڑنے والی مشین کے ذریعے سے بھی اسکا ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن پہلے کہتا تھا کہ ” بینکوں کی زکوٰة شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے ”۔ لیکن پھر اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔مولانا سلیم اللہ خان اور مفتی زرولی خان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء ومفتیان نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی مذمت کی تھی لیکن اب معاملہ یکسر تبدیل ہورہاہے اور کسی دور میں سود کی حرمت مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک ایک بات پر زبردست کمیشن بنانا پڑے گا۔
اہل تشیع پر علامہ بنوری ٹاؤن کراچی اور پاکستان بھر سے تین بنیادوں پر کفر کا فتوی لگایا گیا تھا۔1:تحریف قرآن کے قائل ہیں۔2:صحابہ کرام کی تکفیر کی وجہ سے کافر ہیں۔3:عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر اور کافر ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اور حاجی عثمانپر فتویٰ لگادیامگر شیعہ پر سرکاری مرغا ہونے کی وجہ سے نہیں لگایا۔ فتاویٰ عثمانی میں ایک طرف شیعہ کیساتھ نکاح کو ناجائز قرار دیا اور دوسری طرف جائز قرار دے دیا۔
علماء حق اس پر متحد ومتفق ہوسکتے ہیں کہ تحریف قرآن کا عقیدہ سنی وشیعہ جو بھی پڑھاتا ہے وہ کفر ہے اور اپنے نصاب کی اصلاح کرلے۔ جب قرآن پر اتفاق رائے ہوجائے گی تو صحابہ کرام و اہل بیت کے بارے میں بھی سب متفق ہوجائیںگے۔ پھر عقیدہ امامت پر بھی کفر وگمراہی کی جگہ اتفاق رائے ہوگی اور مسلمان اتحاد واتفاق اور وحدت کے راستے پر گامزن ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا حلالہ کوایک لعنت قرار دینا مگر مفتی تقی عثمانی کا لعنت سے انکار

مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا حلالہ کوایک لعنت قرار دینا مگر مفتی تقی عثمانی کا لعنت سے انکار

مفتی رشید احمد لدھیانوی مروجہ حلالہ کو حدیث کی وجہ سے لعنت قرار دیتے تھے اور اس وجہ سے دوسرے مفتی صاحبان کے مقابلے میں بہت سارے لوگ بھی ان کو پسند کرتے تھے۔ جبکہ دارالعلوم کراچی حلالے کا سینٹر تھا۔ مفتی محمد شفیع نے دارالعلوم کراچی کی وقف زمین اپنے بیٹوں مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کیلئے گھر خریدلئے تو بھی مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ان کے خلاف دو وجہ سے فتویٰ دیا تھا کہ یہ حرام ہے۔ ایک اسلئے کہ وقف مال کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ایک شخص بیچنے اور خریدنے والا نہیں ہوسکتا ہے۔
حکومت بھی بغیر ٹینڈر کے ٹھیکہ دے تو یہ خلافَ قانون اور ناجائز ہے جس پر گرفت کی جاسکتی ہے۔ ایک تو وقف مال کی خرید وفروخت بالکل حرام اور ناجائز ہے اور دوسرا یہ کہ کوئی خود بیچے اور خریدے تو یہ ڈبل جرم ہے۔ عدالت میں جب توشہ خانہ کیس چل سکتے ہیں۔ جیو ٹی وی چینل کے صحافی حامد میر اور انصار عباسی جمعیت علماء اسلام کے علامہ راشد سومرو کے سامنے میڈیا پرمولانا فضل الرحمن کی زبردست تذلیل کرسکتے ہیں کہGHQنے ان کو زمینیں دی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی مفتی تقی عثمانی کو دارالعلوم کراچی کیلئے نقدی اور پلاٹ دئیے تھے اور اس کا ذکر کرنے سے انصار عباسی کا حیض ٹپکنے کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن حامد میر بھی اپنے پروگرام میں اس بات کی وضاحت کیوں طلب نہیں کرتا ہے کہ ” دارالعلوم کی وقف زمین کیسے ذاتی مکانات کیلئے خریدی جاسکتی ہے؟”۔ میڈیا مالکان اور علماء ومفتیان اگر خود چوری میں ملوث نہیں ہیں تو ان کو ضرور مسئلہ اٹھانا چاہیے۔
حلالہ کی نیت سے کئے گئے نکاح کی شرعی حیثیت اور اسے موردِ لعنت قرار دینے کا حکم
سوال : اگر حلالہ کرنے والے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کی نیت کا علم ہے مگر عقد میں اس کی تصریح نہیں کرتے تو کیا یہ نکاح بھی ناجائز اور موردِ لعنت ہے؟” احسن الفتاویٰ ” ج :٥ ص: ١٥٥ میں ہے:
ایسے نکاح کی حرمت اور موردِ الزام لعنت ہونے کے لئے شرطِ تحلیل کی تصریح ضروری نہیں بلکہ ایک دوسرے کی نیت کا علم بھی بقاعدہ ”المعروف کالمشروط ” اسی میں داخل ہے۔وھو مفہوم قولہ اذا اضمر لایکرہ ۔
حضرت والا کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟۔
(مولانا) محمد عامر (استاذ جامعة الرشید کراچی)
جواب : احوط تو بیشک وہی ہے جو حضرت نے ” احسن الفتاویٰ” میں لکھا ہے لیکن اس کو موردِ لعنت قرار دینا محلِ نظر ہے۔ فقہاء کے کلام سے اس کی تائید نہیں ہوتی ، علم ہونے اور ”معروف کالمشروط” میں بظاہر فرق ہے۔ معروف اس وقت کہیںگے جب کسی عرف کی بناء پر کوئی بات بغیر صراحت کے بھی مشروط سمجھی جاتی ہو،محض متعاقدین کے علم سے یہ بات حاصل نہیں ہوتی ۔ تمام حیلِ مباحثہ میں متعاقدین کو علم ہوتا ہے مگر اسے مشروط نہیں سمجھاجاتا۔ واللہ اعلم
فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ278۔ مفتی تقی عثمانی نے یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے حدیث سے جس مروجہ حلالہ کو ” اللہ کی لعنت پڑنے کا ذریعہ ” قرار دیا ہے اسلئے کہ اگر زبان سے وہ نیت نہ بھی کریں تو یہ نکاح حلالہ کی لعنت ہے۔ یہ درست نہیں اسلئے کہ فقہاء نے اس کی تائید نہیں کی ہے۔ علامہ بدرالدین عینی اور علامہ ابن ہمام نے لکھ دیا ہے کہ ” اگر حلالہ کی نیت ہو لیکن نیت کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو پھر نیت کا کچھ اعتبار نہیں ہوگا اور جب تک زبان سے نیت نہ کی جائے تو دل کی نیت لعنت کا ذریعہ نہیں بن سکتا ہے”۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے برعکس یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ” ہمارے بعض نامعلوم بزرگوں نے کہا ہے کہ اگر دو خاندانوں کو ملانے کی نیت سے حلالہ کیا جائے تو یہ باعثِ ثواب بھی ہے”۔ یعنی حلالہ کی لعنت سے بچنے کیلئے نیت کا اعتبار نہ ہوگا مگر حلالہ سے ثواب سمیٹنے کیلئے نیت کا اعتبار ہوگا”۔مفتی تقی عثمانی نے یہ واضح کیا ہے کہ تمام حیلوں میں علم کے باوجود ہم ملوث ہوتے ہیں۔
بریلوی مکتبہ فکر کے مفتی عطاء اللہ نعیمی نے اپنی کتاب ” تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت” میں فقہاء کی ان عبارات کو نقل کیا ہے۔ مفتی نعیمی سمجھ نہیں رکھتا اسلئے اس کی گمراہی عیسائیوں کی طرح ہے اور مفتی تقی عثمانی جان بوجھ کر حق سے منحرف ہیں اسلئے اس پر یہود کی طرح اللہ کا غضب ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی تعلیمات میں دونوں طبقات کا یہودونصاریٰ کے نقش قدم پر چلنا واضح ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن سے حلالہ کیلئے مفتی عبدالسلام چاٹگامی نے فتویٰ دیا تھا تو لکھا تھا کہ” اس شرط پر نکاح کرے کہ طلاق کا اختیار بیوی کے پاس ہوگا”۔ لیکن دارالعلوم کراچی والے تین طلاق واقع ہونے کیلئے تو ہرطرح کے حیل وحجت کرتے ہیں لیکن حلالہ کی لعنت سے بچنے کیلئے اس کو علم کے باوجود بھی لعنت کا سبب نہیں قرار دیتے ہیں۔ اب دوسرے مدارس نے بھی مفتی محمد شفیع ، مفتی تقی عثمانی ، مفتی عبدالرؤف سکھروی وغیرہ کا راستہ اختیار کرنا شروع کیا ہے اسلئے کہ حلالہ کی لعنت نہ صرف لذت اٹھانے کا ذریعہ ہے بلکہ کاروبار بھی ہے۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبدالرؤف سکھروی نے کراچی کے لوگوں پر شادی کی رسم میں لفافے کی لین دین پر بھی سود کا فتویٰ لگادیا تھا اور اس کے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیا تھا لیکن پھر سودی نظام سے معاوضہ لے کر بینکاری کے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دے دیا۔ پاکستان بھر کے علماء ومفتیان ایک طرف تھے لیکن مفتی تقی عثمانی نے بینکاری کے سودی نظام کو پھر بھی اسلامی قرار دے دیا۔ اب ایک مدرسہ کے بورڈ وفاق المدارس پاکستان کے صدر مفتی تقی عثمانی اور دوسرے بورڈ کے صدر مفتی عبدالرحیم ہیں۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں نکاح وطلاق اور سودی معیشت کے حوالے سے علماء حق اور علماء سوء کو دعوت دی جائے اور مجھے بھی طلب کیا جائے۔ اگر سب کی طرف سے تائید نہ ملے تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔مگر جب سب قرآن وسنت پر متفق ہوجائیں اور ایک انتہائی گھمبیر مسئلہ طلاق اور گھناؤنے مسئلہ حلالہ کی لعنت سے اُمت مسلمہ کی جان چھوٹ جائے تو ہمارا معاشرتی نظام بھی درست ہوگا اور معاشی وسیاسی مسائل سے بھی انشاء اللہ بہت جلد جان چھوٹے گی ۔ انشاء اللہ

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی’ ‘ کا قرآن وسنت سے انحراف اورزبردست آپریشن کا آغاز

مفتی تقی عثمانی کے ”فتاویٰ عثمانی’ ‘ کا قرآن وسنت سے انحراف اورزبردست آپریشن کا آغاز

ہم مفتی تقی عثمانی کے اس فتوے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی خواتین کو اپنے شوہروں پر حلالہ کی لعنت کیلئے انہوں نے ناجائز حرام کردیا ہے،اللہ نے ہمیں قبول کرلیا ہے!

جس طرح نسوار، سگریٹ، حقہ، بھنگ،شراب، چرس، افیم، کوکین ، شیشہ اور ہیروئن کے نشے کی علت لگتی ہے اسی طرح سے ان علماء ومفتیان کوحلال نکاح کو حرام کرنے کی بھی علت لگی ہے

ہمارا مقصد اپنا دفاع یا انتقام نہیں بلکہ ان علماء ومفتیان کے ہاتھوں جس طرح قرآن اور امت مسلمہ کی خواتین کی بے حرمتی ہورہی ہے اس کو روکنا اصل مقصد ہے۔علمائِ حق ہمارا ساتھ دیں!

مولانا فقیر محمد پر گریہ طاری رہتا لیکن حاجی عثمان کی محفل میں وہ وجد میں آکر گھومنا شروع ہوجاتے۔ حاجی عثمان نے کئی بزرگوں سے اکتساب فیض کیا۔ سیدعالم چشتی اور قادری سلسلہ سے خلافت تھی۔ مولانا سید محمد میاں جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور نے ” علماء ہند کا شاندار ماضی ”میں لکھا : ” شیح احمد سرہندی مجدد الف ثانیسب سلسلوں میں مقبول تھے اور سبھی خلافت وبیعت کی نسبت دینے کی کوشش کررہے تھے ، پھر رسول اللہ ۖ نے فیصلہ فرمایاکہ سب سلسلے کی طرف سے اجازت دی جائے لیکن نقشبندی سلسلہ کی خدمت کریں گے”۔
مولانا فقیر محمد نے کسی کے مشورہ پر حاجی عثمان سے خلافت واپس لی ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم مفتی احمدالرحمن اور مفتی ولی حسن نے کہا کہ آپ نے حاجی محمد عثمان کو ورود سے خلافت دی تو مشورے پر شرعاً خلافت واپس نہیں لے سکتے جب تک کہ دوبارہ ورود نہ ہو۔ مولانا فقیر محمد نے جامعة العلوم اسلامیة بنوری ٹاؤن کراچی کے لیٹر پیڈ پر لکھ دیا کہ ” میں نے حاجی محمد عثمان کو ورود کی نسبت سے خلافت دی تھی جو تاحال قائم اور دائم ہے”۔
اس پر مفتی احمد الرحمن، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن رئیس دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن اور مفتی جمیل خان روزنامہ جنگ کراچی کے دستخط ہیں۔
مفتی احمد الرحمن و مفتی ولی حسن غریبوںکو حاجی عثمان کے خلفاء نے گاڑیوں کا مالک بنادیا تھا۔ پھر جب سرمایہ دار مرید مفتی تقی عثمانی کی سازش سے مخالف بن گئے اور دارالعلوم کراچی نے” الاستفتاء ” کے نام سے سوالات اور جوابات کو خود مرتب کیا تو مفتی رشیداحمدلدھیانوی نے حاجی عثمان کو دھمکی دی کہ اگر نہیں آئے تو یکطرفہ فتویٰ دیںگے۔ حاجی عثمان آپریشن کیلئے داخل تھے۔ پیشاب کی تھیلی ہاتھ میں لئے پہنچے تو علماء ومفتیان کی طوطا چشمی دیکھ کر حیران ہوگئے۔
مولانا فقیر محمد نے جن علماء ومفتیان کا شرعی فتویٰ مان کر لکھا تھا کہ مشورے سے ورود کی دی ہوئی خلافت واپس نہیں لی جاسکتی ۔ انہوں نے ہی مولانا فقیر محمد کو مشورہ دیا کہ خلافت واپس لو۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گمراہ پیر کی خلافت پر مولانا فقیر کی پیری تحفظات کا شکار بن جاتی مگر حاجی عثمان کے خلفاء جگر کے ٹکڑے تھے اور مولانا فقیر محمد ورود کی نسبت خلافت دینے کے باوجود معتبر تھے ؟ ۔ اگرحاجی عثمان پیری کے قابل نہیں تھے تو یہی فتویٰ پھر مولانا فقیرمحمد پر لگتا تھا؟۔
مولانا فقیر محمد شیخ و مرشد نہیں تھے بلکہ حاجی عثمان کے بارے میں لکھ دیا کہ ”مولانا اشرف علی تھانوی کے مرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکیسے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور ان کا بہت شکریہ کہ27رمضان المبارک کی رات مسجد نبوی ۖ مدینہ منورہ میںورود کی خلافت کوقبول فرمالیا ہے”۔اس میں بڑے راز کی بات تھی کہ ورود کی خلافت ،TJابراہیم سے الائنس موٹرز کی کہانی، علماء ومفتیان کے شرمناک فتوے اور اس پر معافی مانگنے سے لیکر دوبارہ انتہائی جہالت اور کمینہ پن سے فتویٰ بازی اور بدمعاشی کے معاملات تک بہت حقائق سامنے آگئے ۔
حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے مرید وخلفاء میں اکابر دیوبند تھے اور بریلوی مکتبہ فکر میں بھی حاجی امداداللہ مہاجر مکی کا احترام ہے اور” فیصلہ ہفت مسئلہ” میں بریلوی دیوبندی اختلافات کو حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے ختم کیا۔ علماء دیوبند کااس کتاب سے اختلاف تھا بلکہ جلا دیا تھا لیکن مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو شائع کیا تھا۔جب فتویٰ کے بعدمیرا خانقاہ میں قیام تھا تو میں نے خواب دیکھا کہ ” حاجی امداداللہ مہاجر مکی خانقاہ کے مشرقی دروازے سے داخل ہوئے اور کہا کہ میں عتیق کو دیکھنے آیا ہوں۔ میں کمرے میں آرام کررہا تھا ۔پھر کمرے کے دروازے پر آئے تو تھوڑی سی شرمندگی کا احساس ہوا اور دروازہ کھول دیا”۔ حاجی محمد عثمان مجھے حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر لے گئے لیکن میں نے ایسی کیفیت کی مزاحمت کی کہ مکاشفہ ہوجائے۔ پھر ایک دفعہ خواب دیکھا تھا کہ ”پہاڑ پر چڑھتے ہوئے جس سڑک پر چل رہے ہیں۔ وہ ساری کٹی ہوئی تھی۔ گاڑی کا یہ کمال ہوتا ہے کہ سڑک کی بھرائی بھی کرتی ہے اور مرمت بھی کرتی ہے اور اس پر کارپٹ بھی خود بخود بچھاتی ہے۔ اس میںتقریباً70،80افرادتھے”۔ حاجی محمد عثمان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھ لیا کہ میں بھی اس میں ہوتا ہوں؟۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ نہیں ہوتے۔ فرمایا کہ ” آپ کیلئے70،80بھی کافی ہیں”۔ یہ بھی فرمایا تھا کہ ” آپ سے اللہ نے دین کا بہت بڑا کام لینا ہے اور آپ کے ذریعے اللہ صدیقین کی جماعت پیدا کرے گا”۔قرآن میں کافروں کا ذکر ہے اور مکذّبین کا ذکر ہے جو جھٹلانے والے ہوتے ہیں۔ایمان والوں کا ذکر ہے اور متصدقین کا ذکر ہے جس کا معنی تکذیب کے مقابلے میں تصدیق کرنے والے ہیں لیکن علماء نے ان سے صدقہ دینے والے مراد لئے۔
ہمارے کئی ساتھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ باقی ہم اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ امت کی بھلائی کیلئے ایک بڑا انقلاب برپا ہوجائے ۔
اللہ نے قرآن میںفرمایا: منھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر ۔ ایک وہ جنہوں نے اپناہدف پورا کردیا اور دوسرے وہ جو انتظار میں بیٹھے ہیں۔
مولانا فقیر محمد سادہ تھے۔ حاجی عثمان کی خلافت قدرت کی ایک چال تھی۔ اللہ نے فرمایا : ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین ”اور یہ اپنا جال بچھاتے ہیں اور اللہ اپنا جال بچھاتا ہے اور اللہ بہتر جال بچھانے والا ہے”۔
علامہ یوسف بنوری اور دوسرے اکابر علماء جب حج پر مستورات کے ساتھ جاتے تو مستورات کو حاجی محمد عثمان کے ذمہ لگاتے۔ علامہ سید محمد یوسف بنوری نے اپنے صاحبزادے مولاناسید محمدبنوری سے فرمایا تھا کہ ” حاجی محمد عثمان سے خوف رکھو، ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے”۔ مولانا سیدمحمد بنوری فتویٰ لگنے کے بعد بھی حاجی عثمان کے پاس آتے تھے اور علماء کرام کو بھی ساتھ لاتے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا سید عبدالمجید ندیم کو بھی ساتھ لائے تھے۔ ندیم صاحب نے کہا تھا کہ ” عثمان نام ہے تو مظلومیت کا انداز بھی وہی ہے اسلئے کہ نام کا اثر ہوتا ہے اور جنہوں نے فتویٰ لگایا ہے کہ یہ گند اور بدبو کے ڈھیر ہیں”۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ” یہ سن70کا فتویٰ لگتا ہے۔ علماء ومفتیان نے سرمایہ داروں سے خوب مال کھایا ہوگااور یہ پیر کوئی اچھے آدمی ہوں گے”۔
حاجی عثمان کی بیعت سے پہلے مولانا اللہ یار خان کے مریدوں نے پیشکش کی تھی کہ مولانا اللہ یار خان نے کہا کہ مجھ سے بیعت نہ ہوں بلکہ رسول اللہ ۖ کے ہاتھ میں براہِ راست بیعت ہوگی لیکن میں نے اس پیشکش سے معذرت کرلی تھی اسلئے کہ انکے مریدوں نے کہا تھا کہ ”آپ بیعت ہوجائیں تو دنیا کی ساری ضروریات پوری کردیںگے”۔ مجھے ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔ مولانا اللہ یار خان کے خلیفہ مولانا اکرم اعوان انقلابی تھے اور بہت سارے فوجی افسران ان سے بیعت تھے اور حاجی محمد عثمان سے بھی فوجی افسران بیعت تھے۔ وہ بھی انقلاب چاہتے تھے لیکن مرید فوجیوں اور علماء نے کوئی ساتھ نہیں دیاتھا ۔
مولانا عبدالقدوس خطیب جامع مسجد یارک ڈیرہ اسماعیل خان نے بتایا کہ ”مولانا اللہ یار خان نے وزیرستان کا سفر کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ایک موتی تلاش کرنے آیا ہوں،اگر اللہ نے دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کی تلاش میں گئے تھے”۔
وزیرستان جلسہ عام میں مولانا نورمحمدMNA،مولانا اکرم اعوان اور میں ساتھ تھے ۔مولانا اکرم اعوان خلیفہ مولانا اللہ یار خان نے کہا تھاکہ ”میں کسان ہوں۔ کسان فصل اٹھاتا ہے تو باقی گندم اخراجات رکھتا ہے اور بہترین گندم کوبیج کیلئے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ نے وزیرستان کی عوام کو بیج کیلئے محفوظ رکھا ہوا ہے”۔
مفتی عبدالرحیم نے شیخ سید عبدالقار جیلانی، شاہ ولی اللہ، علامہ سیدیوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا زکریا کے معتقدات پر بھی کفروگمراہی، الحاد وزندقہ، قادیانیت اور دیگر فتوے لگادئیے تھے۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے اس خوف سے اتنی پھوسیاں ماری ہوں گی کہ دارالافتاء والارشاد کو بدبوسے بھر دیا ہوگا لیکن جب ہم نے رعایت کی تو پھر انہوں نے الائنس موٹرز کی نمک حلالی کیلئے اپنا وہی کام شروع کردیا۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ فتوؤں کا کواڑ بالکل کھلا رکھا گیاہے۔
مولانا فضل محمد یوسف زئی استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا تھا کہ ” مفتی رشید احمد لدھیانوی نے علامہ سید محمد یوسف بنوری سے اذیت ناک سلوک روا رکھا تھا اسلئے اللہ نے تیرے ہاتھوں اس کو عذاب کا مزا چکھادیا ”۔
تصوف وسلوک کے میدان میںعلماء ومفتیان کی نالائقی اپنی جگہ تھی لیکن جب درسِ نظامی کے نصاب کو دیکھا جائے اور اس سے باصلاحیت علماء ومفتیان کی جگہ کوڑھ دماغ شخصیات جنم لینے کا قضیہ دیکھا جائے تو معاملہ بڑا بگڑتا ہے۔ جب دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ہماری وجہ سے اس پر متفق ہوجائیں کہ قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث کی تشریح پر اختلاف نہیں رہے بلکہ سب کیلئے قابلِ قبول ہو ۔ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں رہے بلکہ سب کیلئے قابل قبول ہو۔ تمام مذہبی وسیاسی قیادت ایک جگہ جمع ہوکر اسلام کے حقیقی معاشرتی نظام کا نقشہ پاکستان اور پوری دنیا کے سامنے پیش کریں۔ہمارا مشن دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ کیلئے قابل قبول ہے اور مذہبی طبقہ اس وجہ سے اقتدار کی دہلیز تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ جان لو کہ مولانا فضل الرحمن و مریم نواز کیساتھ عمران خان اور آصف زرداری بھی اس مقدس مشن کا ساتھ دیں گے۔
شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ” بدعت کی حقیقت ” میں تقلید کو عملی بدعت قرار دیا۔ علامہ یوسف بنوری نے اسکے ترجمہ پر تقریظ لکھی ہے اور تقریظ میں دوسری کتاب ”منصبِ امامت” کی بھی بہت تعریف لکھ دی ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”بدعت کی حقیقت” کی وجہ سے اکابردیوبند پر اسلاف سے انحراف کا فتویٰ لگادیا تھا لیکن علماء دیوبند نے پھر تقلید کا دامن تھامنے پرکتاب لکھ دی۔ علامہ سیدیوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے لکھا کہ ” ہندوستان میں مذہب حنفی کی بقاء کا سہرا مولانا احمد رضا خان بریلوی کے سر جاتا ہے”۔ اہلحدیث کے مولانا اسحاق نے کہا کہ ”ایک نواب کی تعریف میں مولانا احمدرضا خان بریلوی سے اشعار کا تقاضہ کیا گیا کہ پھر نواب ماہانہ وظیفہ مقرر کردے گا تو مولانا احمد رضا بریلوی نے صاف انکار کردیا کہ” میں نبیۖ کی تعریف میں نعمت پڑھ سکتا ہوں۔ کسی نواب کیلئے قصیدہ گوئی کی توقع مجھ سے مت رکھو”۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حق کی راہ کے متلاشی افراد کیلئے قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کا وہ راستہ کھول دیں جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔ فرقہ واریت نے امت کی اکثریت کو مذہبی طبقے سے بہت متنفر کردیا ہے۔ ہم علماء ومشائخ کی عزت کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
نکاح وطلاق کے مسائل کی وجہ سے علماء ومفتیان نے اچھی تعلیم یافتہ اور سمجھدار قوم کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ ”فتاویٰ عثمانی” کے واقعات کاا ندراج کیا جائے تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ گیدڑ سنگھی کے بچے مفتی تقی عثمانی نے اسلام کا تماشہ بنادیا۔ انشاء اللہ دنیا میں اسلام کا نام و کام روشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن اپنے گھر میں میرے ساتھ مفتی تقی عثمانی کو بٹھادیں تو مولانا کا دماغ کھلے گا۔
میں نے دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا تھا تو اپنے طعام کیلئے نوکری ڈھونڈ لی تھی، جب طلبہ نے اسرار کیا کہ مفت کی سہولت موجود ہے تو مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ میں نے کہا کہ ”میں سید ہوں اور زکوٰة میرے لئے جائز نہیں ”۔ انہوں نے کہا: ‘ ‘اکابرسادات نے مدارس میں پڑھا اور یہ نہیں کہا”۔ میں نے کہا: ”پھر کیامیرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟ اور انشاء اللہ میں مسجد کی امامت، آذان اور قرآن کا درس دوں گا مگر تنخواہ نہیں لوں گا”۔جب یہ رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو دی گئی تو مجھے دفترمیں بلایا اور کہا: ” آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے”۔ لیکن اس کے برعکس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پہلی تقریر یہ سن لی کہ اگر دنیا کا ارادہ ہے تو دنیا کو دنیا کے طریقے سے کمانا چاہیے اور مدرسہ چھوڑدو۔ پھر وہ وقت آیا کہ میں نے مسجد الٰہیہ میں بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دیں تو حاجی محمد عثمان نے فرمایا کہ ”ہماری مسجد کو مسجد نبویۖ کے پہلے دور سے مشابہت مل گئی جس میں امام بغیر تنخواہ کے امامت کرتا تھا”۔
ہم سے اللہ تعالیٰ نے طلاق و حلالہ، عورت کے حقوق، قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث صحیحہ کے علاوہ فقہ واصول فقہ کے حوالے سے دین، علم اور ایمان کی جو زبردست خدمات لی ہے وہ حضرت حاجی محمد عثمان کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں۔ اس داستان میں میرے طالب علمی کے زمانے سے دین کو سمجھ اور اساتذہ کرام کی زبردست حوصلہ افزائی کا بھی بڑا عمل بلکہ بنیادی اور اصلی کمال ہے لیکن اگر یہ حادثہ نہ ہوتا تو شاید ہم سے اللہ تعالیٰ اتنا عظیم کا م بھی نہ لیتا۔سید عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کفار ، اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان

کفار ، اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان
فصل فی المناکحة بالکفار واھل الکتاب والفرق الضالة

درج بالا عنوان کے تحت7ذیلی عنوان ہیں۔
1:عیسائی عورت سے نکاح کا حکم : عیسائی عورت سے مسلمان کا نکاح منعقد ہوجاتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ عورت واقعی عیسائی ہو، دہریہ نہ ہو۔ دوسری شرط یہ کہ نکاح شرعی طریقے پر دوگواہوں کے سامنے ہوا ہو۔
2:لامذہب اور شیعہ سے نکاح کا حکم : صورت مسئولہ میں لڑکا صراحةً سنی ہونے کا انکار کررہاہے اور اسکے والدین واضح شیعہ ہیں تو اب شیعہ ہونے سے انکار کا مطلب یا تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ تقیہ کررہاہے اور حقیقت میں شیعہ ہے۔ یا پھر وہ کوئی مذہب ہی نہیں رکھتا ، لامذہب ہے۔ اور دونوں صورتوں میں اس کا نکاح صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ لڑکا کہہ رہا ہو کہ وہ شیعہ نہیں ہے۔
3:قادیانی سے نکاح کا حکم اور کیا مسلمان ہونے کیلئے سرٹیفکیٹ ضروری ہے؟: ایک نوسر باز جعل سازقادیانی کے متعلق جواب میں لکھا ہے کہ اگر سوال میں ذکر کردہ واقعات درست ہیں تو مسماة نفیس فاطمہ کا نکاح مذکورہ شخص سے نہیں ہوا ۔ نکاح نامہ کے سادہ فارم پر صرف دستخط کردینے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے کم ازکم دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر مذکورہ شخص اب بھی قادیانی ہے اور مسلمان ہونے کا سر ٹیفکیٹ جھوٹا ہے تو قادیانی مرد سے مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، خواہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہواہو۔ دوسرا یہ کہ قادیانی سے مسلمان ہونا درحقیقت قلبی عقائد کی تبدیلی اور ان کے اعلان پر موقوف ہے۔ اگر کوئی شخص قادیانی عقائد سے واقعةً تائب ہوجائے، زبان سے اس کا اعلان کردے تو وہ مسلمان ہوسکتا ہے خواہ اس کے پاس سرٹیفکیٹ نہ ہو۔ اگر دل سے تائب نہ ہوتو جھوٹا سر ٹیفکیٹ بنوانے سے مسلمان نہیں ہوسکتا۔
4:شیعہ سے نکاح کا حکم : ”ان سے نکاح تو ہوجاتا ہے مگر مناسب نہیں”۔ شیعہ کے بارے یہ کھلے متضاد فتوے دئیے گئے ۔
5:حاجی عثمان کے معتقد سے رشتہ جائز نہیں۔ نکاح کا انجام عمر بھر کی حرامکاری اور اولادالزنا۔
عنوانات6:اور7:کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے توقاضی جب تک نکاح فسخ کا فیصلہ نہیں کرتا تو کافر سے نکاح برقرار رہتا ہے۔ومالم یفرق القاضی فھو زوجتہ ( شامی ج : ٢ص:٣٨٩)۔
قادیانی کی بیوی مسلمان ہوجائے توعدالتی فیصلے کے بغیر چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ قادیانی نوسر باز مرد کیلئے لکھ دیا کہ” نکاح درست نہیں” ۔یہ نہیں لکھا کہ قادیانی عورت کا مسلمان مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ کیا جنرل ضیاء کے بیٹے ڈاکٹر انوار الحق کا قادیانی عورت اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا نکاح بچانا تھا؟۔
اللہ نے مشرک اور مشرکہ سے نکاح کا منع کیا ۔ عیسائی عورت تثلیث کی وجہ سے مشرکہ ہوتی ہے لیکن اس سے نکاح کا جواز ہے ۔ نبیۖ نے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والی عورتوں کو پناہ دی اور اللہ نے فرمایا کہ ” وہ اپنے شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ شوہر ان کیلئے ہیں” ۔جج سے تنسیخ نکاح کا فیصلہ قرآن کے خلاف ہے۔ البتہ ام ہانی نے مشرک شوہر سے ہجرت نہ کی تو اس پر حرامکاری کا فتویٰ نہیں لگایا گیا۔ مولانا مودودی نے جسم جڑی ہوئی دو بہنوں کو بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز قراردیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

موجودہ حکومت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ازخود نوٹس کی رہین منت ہے۔ عدلیہ کے خلاف طوفان بدتمیزی افسوسناک ہے
آرمی چیف کو بے غیرت بولنا نہیں بنتاہے۔ فرح گوگی کی سہیلی بشریٰ ملک ریاض سے رشوت پر ٹرسٹی نا بنتی تو مسئلہ نہیں تھا

نمرود کی آگ بجھانے والی چڑیا اور بھڑکانے والی چھپکلی بڑا سبق ہے کہ جہاں آگ لگے تو شریف اور کمینے کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے

ایک صحافی نے لکھا تھا کہ” فوج اور نوازشریف کے درمیان اختلاف کی بنیاد مفتی رشیداحمد لدھیانوی( ضرب مؤمن کراچی ) کے خلاف کاروائی تھی۔ مولانا مسعود اظہر تہاڑ جیل ہندوستان سے لکھتاتھا یا ضرب مؤمن میں اس کے نام پر لکھا جاتا تھا؟۔مولانا مسعود اظہر کی یہ فریاد لکھی گئی تھی کہ ”نوازشریف کی ظالم حکومت نے مجاہدین کے گڑھ دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ”۔مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا مرید قمر امریکن ایمبسی میں کام کرتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ ”مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور امریکہ کے درمیان جو کردار ادا کیا وہ اُمید نہیں رکھتا کہ اللہ اس کو بخشے گا”۔
نوازشریف بینظیر بھٹو کوامریکی ایجنٹ اور بینظیر بھٹو اس کو اسرائیلی ایجنٹ کہتی تھی۔ جمعیت علماء اسلام قادری کے صدر مولانا اجمل قادری کو نواز شریف نے اسرائیل بھیجا تھا۔ حامد میر نے کہاکہ بینظیر کے ذریعے امریکہ نے طالبان بنائے اورISIبعد میں شامل ہوگئی۔ اسامہ بن لادن نے بینظیر بھٹو کے خلاف نوازشریف کی مدد کی تھی۔ نوازشریف نے ضرب مؤمن کے خلاف اقدام اٹھایا تو فوج سے تعلق بگڑگیا۔ اگر موٹے موٹے یہ تاریخی ڈاٹ ملانا شروع کردئیے تو بہت سارے سربستہ رازوں سے عوام کے سامنے سے پردہ اُٹھ جائے گا۔
مفتی عبدالرحیم کے پاس کرایہ نہ تھا تو شیخ نذیراحمد سے رقم لی؟۔ جوکہتا ہے کہ” میں واحد مولوی ہوں جو فوجی افسران کوہدیہ دیتا ہوںکسی سے لیتا نہیں ”۔ یہ دولت کہاں سے ملتی ہے؟۔ قیدی ڈاکو کی تبلیغ سے اس کاباپ تبلیغی جماعت میں گیا۔ مفتی احمد ممتاز مفتی رشید لدھیانوی کا خلیفہ سودکی لعنت کا مخالف ہے۔
نوازشریف نے پہلے دورِاقتدارمیںکہا کہ” اگر ہم نے قادیانیت کی آئینی ترمیم ختم کی تو پاکستان کا قرضہ اور ساری مشکلات حل ہوجائیں گی”۔ قادیانیوں کے ذریعے اسرائیل اپنے اہداف تک پہنچے گا۔ تنسیخ جہاد، مہدی ومسیح موعود، وفات عیسیٰ اور اسکے باپ کا وجود اسلام اور عیسائیت کیلئے تباہ کن ہے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ فوت ہیں۔ قرآنی دلائل علماء سے لئے۔کہتے ہیں کہ جب عیسیٰ کی آمد سے ختم نبوت پر اثر نہیں پڑتا تو ہم سمجھتے ہیں” ہرفرعون کیلئے موسیٰ ہے” ۔ عیسیٰ جیساکوئی آئیگا ۔ مہدی و عیسیٰ کو ایک شخص ہے۔ قادیانی عیسیٰ کے باپ کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہود سمجھتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی عقیدہ ختم ہوگا۔ مرزا دجال کی سازش سے جہاد منسوخ نہ ہوا مگر سود کو اسلامی کہنے کی سازش مفتی تقی عثمانی اورمفتی عبدالرحیم نے کامیاب کردی۔قادیانی شیعہ سنی فرقہ واریت بھڑکاتے ہیں۔جہاد کا نقصان بتاتے ہیں۔ مفتی عبدالرحیم نے جہاد کے خلاف حدیث بیان کی۔مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نہیں کام کی اہمیت ہے اور وہ ہے اسلامی معاشی، معاشرتی، سیاسی نظام کی منسوخی۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبدالرحیم اس مشن پر لگ گئے۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاست جن علماء کے مذہبی معاملات کے خلاف تھی ،اب وہ نہیں رہی ہے۔ سیاست کو مجنون لیلیٰ کا کھیل بنادیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دورِ حکومت میں جج نے سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اسکے خلاف اپیل دائر کی۔ نوازشریف کو دوسرے دورِ اقتدار میں دہشتگردی کے گڑھ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف قدم اٹھانے پر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔ جنرل پرویز مشرف کی جگہ خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تھا تووہ حاجی عثمان کا مرید تھا۔ کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت فوجی افسران حاجی عثمان سے بیعت تھے۔ پیپلزپارٹی کے شفیع جاموٹ نے حاجی شفیع بلوچ سے کہا تھا کہ قادیانی خانقاہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بینک کے سود سے زکوٰة کی جگہ سود ی رقم کاٹنی شروع کی تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مخالفت کی لیکن مفتی تقی عثمانی کے پان اور مفتی رفیع عثمانی کے دورۂ قلب کی خاص گولی نے شہادت کی منزل پر پہنچا دیا ۔ مولانا فضل الرحمن اس زکوٰة کو شراب پر” آبِ زم زم کا لیبل ”قرار دیتا تھا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کرایا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا۔ حاجی محمد عثمان نے ریفرینڈم کے فتویٰ کی مخالفت میں رائے دی تھی۔
روزنامہ جنگ میں ” آپ کے سوال اور ان کا حل” کے عنوان سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال ہوا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کتنے چچا اور پھوپھیاں تھیں؟۔ جواب میں لکھ دیا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چچا نہیں تھے لیکن دو پھوپھیاں (باپ کی بہنیں)تھیں”۔ اس پر احتجاج ہواتھا تو مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے وضاحت کردی کہ ”یہ جواب میں نے نہیں لکھا ہے”۔
جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کی بیوی مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کی پوتی ہے۔ اس نے میر شکیل الرحمن کو ہدف بنایا۔ اس نے کہا کہ میں مسلمان بنتی ہوں، مجھے قادیانیت کے کفر پر مطمئن کرو۔ مولانا یوسف بنوری، مفتی ولی حسن اور مولانا یوسف لدھیانوی کے دلائل سے وہ مطمئن نہ ہوئی تو مولانا لعل حسین اختر کو پنجاب سے بلایا گیا۔ مولانا لعل حسین سے لاجواب ہوگئی تو قادیانیت سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ اصل حال اللہ جانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پھوپھیوں کی خبرسے پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
صحافی ابصار عالم نے صحافت چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور پھر اس کو گولیاں بھی لگیں اور بیٹا بھی مارنے سے معذور ہوگیا ۔ اس نے بتایا کہ ”جنرل راحیل شریف اورDGISIجنرل رضوان اختر نے جنرل قمر باجوہ کا جینا اس کے قادیانی سسر جنرل امجد کی وجہ سے دوبھرکیاتھا۔ اس نے نوازشریف کو جنرل قمر باجوہ کی مظلومیت وبے بسی سے آگاہ کیا تو اس کو آرمی چیف لگایا”۔ پھر جنرل رضوان اختر کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا۔ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے قادیانیت کے حق میں ترمیم کی سازش کی۔ جس کا جمعیت علماء اسلام، تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے ساتھ دیا۔ پہلے حافظ حمداللہ اورپھرشیخ رشید احمد نے آواز اٹھائی۔ البتہ ظفراللہ جمالی بلوچ نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دیا ۔
جب تحریک لبیک نے فیض آباد میں دھرنا دیا تو جسٹس فائز عیسیٰ نے اس کو فوج کی سازش قرار دیا تھا۔حالانکہ یہ سارا کھیل جنرل باجوہ کے سسرال کو خوش کرنے کیلئے تھا تو جنرل باجوہ کیسے اسکے خلاف سازش کرتا؟۔ پھر عمران خان بھی ن لیگ کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی کیساتھ کھڑا ہوا۔ اگر قادیانی لابی اور اس کے مخالفین میں گروپ بندی ہے جس پر کیپٹن صفدرذوالفقارعلی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہے۔ ن لیگ جنرل قمر جاویدہ باجوہ کی حمایت اورجنرل فیض حمید کی مخالفت کس بنیاد پر کررہی ہے؟۔عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کیا جارہاتھا تو علی وزیر نے کہا تھا کہ ” کسی اور کی لڑائی ہے جوپارلیمنٹ میں لڑی جارہی ہے”۔ فوجی افسران میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی رشتہ داریاں ہیںلیکن ان رشتوں سے پیدا ہونے والی اولاد پر کیا فتویٰ لگے گا؟۔ حاجی عثمان نے اپنے مرید اصغر علی قریشی سے اس کی قادیانی بیوی چھڑا دی تھی تو آپ کو یہ سزا مل گئی کہ معتقد سے نکاح بھی حرامکاری اور اولادالزنا قرار دیا گیااور مفتی تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی کے ذریعے معروف قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح پڑھایا تو اسکے ذریعے علماء حق کو شکست دے کر شیخ الاسلام کے نام نہاد منصب پر فائز کردیا گیا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے قادیانیوں کو زندیق قرار دیا تھا۔ جو توبہ کرے تو بھی واجب القتل ہے۔ جب مقتدر طبقات میں تقسیم اور ان کی وجہ سے اہم ملکی معاملات اور سیاست میں دخل اندازی ہوگی تو پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی نے ” فتاویٰ عثمانی” میں ایسے فوجی افسران کا بھی ذکر کیا ہے جن کی بیگمات ان کی غیرموجودگی میں حرامکاری میں مگن رہتی تھیں۔ ان کی اولاد کی تعلیم وتربیت اور زندگی پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوںگے؟۔
سودی معیشت کو اسلامی قرار دیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی کیا ہے؟۔ اگر اسلام میں نکاح وطلاق اور عورت کے حقوق کا مسئلہ قرآن وسنت سے اجاگر کیا جائے تو قادیانی سچے دل سے مسلمان بن جائیں گے اور یہ یقین کرلیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا اور دجال تھا۔ مہدی اور نبی ہونا توبہت دُور کی بات وہ ایک اچھا عالم دین بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اسلامی معاشی نظام کا خاکہ علامہ سید محمد یوسف بنورینے پیش کیا۔ آپ کے داماد مولانا طاسین نے دلائل سے مزین کرکے مرتب کیا تھا۔ہماری معیشت کا حل یہی ہے۔ جب ہمارا معاشرتی نظام درست ہوگا تو علم وشعور کی بلندی پر یہ قوم پہنچے گی۔ نکاح وطلاق کے مسائل نے عوام کو نہیں علماء ومفتیان کے علم وعمل کا بھی کباڑہ کیا ہے۔
فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، عبوری حکومتوں نے کردار ادا نہیں کیا۔ حکومت نے رینجرزسے عدالت کے شیشے تڑوائے ۔ عدالت پر مولانا و مریم نے چڑھائی کردی حالانکہ حکومت کا کام احتجاج کرنا نہیں عدلیہ کو تحفظ دینا ہے۔ ملکی نظام نالائقوں نے تباہ کیا ۔ تباہی وبربادی سے بچنے کیلئے اسلام کے معاشی ومعاشرتی نظام کی طرف آنا ضروری ہے۔ حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہے ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دینا غلط ہوگا۔
عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا،PTVپر قبضہ کیا، پنجاب پولیس نے منہاج القرآن لاہور میں خواتین سمیت14افراد قتل اور بہت کو زخمی کیا تھا۔برطانیہ نے ملک ریاض سے60ارب پاکستان کو واپس کیا، عمران خان نے ملک ریاض پر مہربانی کی۔ عدالت نے چپ کا روزہ رکھا۔ میڈیا، ریاستی ادارے اور سیاسی خانوادے خاموش تھے۔ملک ریاض کو زرداری نے سندھ کی زمین دی تھی اور ملک ریاض نے لاہورمیںبلاول ہاوس بناکر دیا۔
مریم نواز اور نوازشریف کو ہلکی سزا دیکر جیل میں ڈالا گیا تھا اور پھر نہیں چھوڑوں گا کے بے تاج بادشاہ عمران خان نے پکڑے ہوئے افراد کو چھوڑ دیا۔PDMنے مہنگائی کا رونا رویا اور جب اقتدار میں آگئی تو مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا۔ ہمارا دفاعی بجٹ15سوارب اور سودکا بجٹ5ہزار4سو ہے توپھریہ ملک کیسے چلے گا؟۔ پہلے ملک کے تمام محصولات کے مقابلہ میں دگنا بجٹ تھا اور اب پورے محصولات صرف سودکی نذرہورہے ہیں۔ ملک قرضہ سے چلتا ہے۔ سیاستدان، فوجی ، بیوروکریسی اور میڈیا مالکان وعلماء ومفتیان نے جتنی ناجائز دولت بیرون ملک اورضرورت سے زیادہ اندورون ملک جمع کررکھی ہے ، ان سے قرضے چکائے جائیں اور اسلامی معاشی نظام نافذ کیا جائے تو پھراپنی قوم اداروں ، سیاستدانوں ، صحافیوں اور علماء ومفتیان کی عزتیں بحال ہوں گی۔
کھیتی باڑی کیلئے کسانوں کو مفت زمینیں، باغات کیلئے پہاڑ، رہائش کیلئے بغیرکرایہ مکانات دئیے جائیں۔مزدور، محنت کش ، تاجر، نوکر پیشہ افراد ناجائز ٹیکسوں کے بوجھ سے نکل جائیں۔ ایرانی سستاتیل و گیس ،بھارت کو راہداری دیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ فوج کیخلاف بنی بنائی فضا عمران خان کی قسمت میں آگئی ۔ پنجاب میں نفرت آخری حد کو پہنچ گئی ۔عثمان ڈار کی خواتین کے خلاف پولیس کی روش پر خواجہ آصف نے معافی مانگ لی ۔
صحافی امتیاز گل کے پروگرام میں ممریز خان نے پاکستان سٹیل ملز کو اُٹھانے کیلئے کہا کہIMFسے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں۔ تمام حکومتوں کے کرتے دھرتے کرپشن میں ملوث تھے۔ مافیاز سے جان چھڑائیں۔ منافع بخش ادارے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔قطرہ قطرہ دریا ہے۔ سیاستدان اور ادارے اپنا اُلو سیدھا کرنے کیلئے نہ لڑیں۔ مقتدر طبقہ ہوش کے ناخن لے۔PIA، واپڈا، ریلوے اورتمام اداروں کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ ظالم، جابراورخائن نہیںمضبوط ادارے پاکستان کی ضرورت ہیں۔ فوج و قوم کو لڑانا غلط ہے۔ سیاسی پارٹیاں صلح کریں۔تشدداور الزام نہیں تحمل ودانشمندی کا مظاہرہ کریں ۔ علماء حق ذمہ داریاں پوری کریں۔ انقلاب کا تیارپھل قوم کی گودمیں کرے گا۔انشاء اللہ
عمران خان کو اپنی غیرت کا توازن برقرار رکھنا چاہیے، بیوی تو بیوی ہوتی ہے۔بشریٰ کسی کی بیگم تھی۔جمائما و ریحام پر غیرت کھانا تھی۔رشوت کے پیسوں پر گوگی کی سہیلی کو ٹرسٹی بنایا ہے تو یہ بھگتنا پڑے گا۔ گھریلو خواتین کی کوئی عزت نہیں جو سڑکوں پر احتجاج اور مارکھاتی ہیں ،پولیس کے ہاتھوں گھروں میں بے عزت ہوجاتی ہیں اور جیل جاتی ہیں، حالانکہ انہوں نے کچھ کھایا نہ کمایا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا یوسف لدھیانوی شہید حاجی عثمان کی قبر پر بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ معتقد بن کر جایاکرتے تھے۔

مولانا یوسف لدھیانوی شہید حاجی عثمان کی قبر پر بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ معتقد
بن کر جایاکرتے تھے۔
حاجی عثمان کے معتقد سے رشتہ جائز نہیں ،انجام عمر بھر کی حرامکاری اولادالزنا

لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم”اللہ پسند نہیں کرتا کسی کا کھل کر برائی سے بات مگر جس کیساتھ ظلم ہواہو”

ڈاکٹر انوار الحق سے قادیانی کا نکاح پڑھایا،مفتی رشیدکے کزن جنرل قمرباجوہ کا سسر قادیانی ہے تو کیا اولاد پر فتویٰ لگے گا؟

مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب” فتاویٰ عثمانی” پہلے جولائی2007میں چھپی اور طبع جدید ستمبر2022۔ اس میں یہ سوالات بھی مفتی عبدالرحیم نے خود لکھے:
نمبر1:حاجی عثمان کے معتقد سے نکاح جائز ہے؟
نمبر2:اور اگررشتہ کرلیا جائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں؟۔
پھرجواب بھی مفتی عبدالرحیم نے دیا۔ اسلئے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ” جوغلط باتیں حاجی عثمان کی طرف منسوب ہیں اگر وہ ان میں نہیں تو ان پر فتویٰ بھی نہیں لگتاہے اور نکاح تو بہرحال جائزہی ہے”۔ مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن نے تصدیق کی تھی۔
دارالعلوم کراچی سے فتوے طلب کرنے میں یہ الفاظ تھے کہ ” نکاح منعقد ہوجائے گا یا نہیں؟۔ جس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا تھا کہ ”نکاح منعقد ہوجائے گا لیکن مناسب ہے ان صاحب کے حالات سے اپنے داماد کو آگاہ کردیں”۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے دارلافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی سے مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ دیا کہ ” نکاح جائز نہیں ہے”۔
مفتی عبدالرحیم نے بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم کراچی کے فتوؤں کے ردعمل میں لکھا تھا کہ جس نکاح کو تم نے جائز قرار دیا ہے اس کا جواز تو بہت دور کی بات ہے، صرف یہ سوال اٹھانا بھی کہ نکاح کرلیا جائے تو ہوجائے گا یا نہیں؟ شریعت کی تخفیف وتوہین ہے اسلئے کہ کسی حرام کام کا پوچھ لینا بھی شریعت کا مذاق ہے۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ حرام سود کو جواز دیکر شریعت کی دھجیاں بکھیر دیں؟۔
مفتی عبدالرحیم نے اساتذہ کی حیثیت رکھنے والے مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی پر بدمعاش و بدقماش کی طرح فتویٰ لگادیا، مفتی ولی حسن مفتی تقی و رفیع عثمانی کے استاذ تھے۔ استاذا لاساتذہ میں فتویٰ ٹھونک دیا۔ ہم نے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن کی مساجد میں باجماعت نماز مغرب اور باجماعت نماز عشاء کے بعد اعلان کرکے چیلنج کیا کہ یہ فتویٰ تم پر ہی لگتا ہے۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کو تحریری چیلنج دیا۔ جس پر مفتی عبدالرحیم نے اپنے ہاتھ اور دوسروں سے ہمارے ساتھیوں کی بدترین پٹائی لگائی تھی۔مار کی شدت سے اللہ نکلتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ ان کو گٹر کاپانی پلاؤ۔ مفتی ولی حسن ٹونکی تو مجذوب الحال شخص تھے ۔ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء فتویٰ کے مخالف تھے ۔ مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق ،مولانا اشفاق قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند،جامعہ فاروقیہ کے استاذ اور مولانا فضل محمد یوسف زئی استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن حاجی عثمان کے مرید تھے۔
بدشکل دتو مفتی تقی عثمانی وبدنما مفتی عبدالرؤف سکھروی حلالہ کیلئے فتویٰ کا چکر چلاتے۔ جس کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںکئی نظیر ہیں۔ مولانا اشفاق قاسمی کی بیگم فوت ہوچکی تھی اور فتویٰ کے بعد حاجی عثمان کی خانقاہ میں دارالعلوم کراچی سے آتا رہتاتھا ۔ گمراہ پیر کے گمراہ مرید کا وہاں کیاکام تھا؟، حلالہ سے دارالعلوم والے دوسروں کی عزتوں سے کھیلتے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا: ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کیلئے ہوتی ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کیلئے ہوتے ہیں”۔ رنڈوے گمراہ مولانا قاسمی کو اپنی عورتوں کیلئے ہی رکھ لینا قرین قیاس ہوسکتا تھا۔
جن کو اپنی حرامکاری کی پرواہ نہیں ہوتی تو وہ دوسروں پر فتوے لگانے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے کہا کہ” مفتی جمیل نے لکھ کر میری طرف خط منسوب کیا، یہ خباثت مفتی رشیدلدھیانوی کی ہے”۔ حاجی عثمان کی قبر پر اپنی بیٹیوں اور دامادوں کیساتھ گئے تو کیا ان پریہ فتویٰ لگتا ہے؟۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پر قادیانیت کی تہمت لگی ۔ اوریا مقبول جان اور علامہ زاہدالراشدی نے کہا کہ وہ قادیانی نہیں۔ پھر پتہ چلاکہ سسر اور بیگم قادیانی ہے۔ اسلئے وہ خود قادیانی کو کافر قرار دینے کی وضاحت نہیں کرتا۔جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبدالسلام سے کہا تھا کہ ”تم ہم سے بہتر مسلمان ہو”۔ مفتی عبدالرحیم کی جنرل باجوہ سے ملاقات رہتی تھی ۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں جنرل قمر باجوہ کی نانی کی سگی بہن تھی۔ سوال یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اولاد پر مفتی عبدالرحیم عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزناکا فتویٰ لگائے گا؟ اور مفتی تقی عثمانی تصدیق کریگا؟۔ جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مشہور قادیانی مبلغ جنرل رحیم الدین کی بیٹی سے مفتی تقی عثمانی نے ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا۔ جنرل قمر کے بچوں، جنرل ضیاء کے پوتوں پر کونساحکم لگتا ہے ؟۔ مفتی عبدالرحیم شیخ الحدیث مولانانذیرکا چہیتاتھا، پیسہ لیتااور خدمت کرتا۔ شیخ نذیرکاطلبہ سے جنسی سکینڈل بدنام زمانہ مفتی عزیز الرحمن سے بھی زیادہ بدنام تھا۔ اسرائیل وامریکہ کے ایجنٹ یہی علماء ہیں ۔جرائم پیشہ دہشتگردی کے اڈے چلانے والوں سے ہم سوال کی جرأت نہیں کرسکتے؟۔ جنرل قمر باجوہ کا مفتی عبدالرحیم کی بیگم سے یارانہ تھا؟ ۔کہ اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگاتا؟ اور مفتی عثمانی کے گھرانہ سے جنرل ضیاء کا کیا ناجائزتعلق تھا کہ قادیانی بہو سے نکاح پڑھانے گیاتھا؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت حاجی محمد عثمان ایک عہد ساز شخصیت اور علماء سوء اور مفتیانِ خران کا بڑابدترین کردار!

حضرت حاجی محمد عثمان ایک عہد ساز شخصیت اور علماء سوء اور مفتیانِ خران کا بڑابدترین کردار!

تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف نے حاجی محمد عثمان کیلئے یہ رعایت رکھی تھی کہ6نمبروں کے علاوہ جس موضوع پر بھی بیان کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ حضرت حاجی محمد عثمان ایک بہت بڑے اللہ والے تھے۔ جب حضرت مولانا یوسف کے بعد تبلیغی جماعت کے اندر اکابرین اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہوا تو آپ نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ اس طرح اکابرین کی اصلاح بھی نہیں ہوگی۔ تبلیغی جماعت میں پیران طریقت اور علماء کرام کے علاوہ بڑے پیمانے پر دنیا دار اور بڑے لوگ آتے ہیں اور اپنے بستر کو خود اٹھاکر وقت لگاتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے برتن دھوتے ہیں۔ کھانے پکاتے ہیں اور عوام کی خدمت کرتے ہیں، جس سے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے ۔ اگر کچھ اکابر بن کر بیٹھ جائیں اور ان کا مخصوص کھانا پینا ہو ، جماعتوں میں وقت نہ لگائیں اور طبقاتی بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی اصلاح کون کرے گا؟۔
حاجی محمد عثمان نے35سال مسلسل تبلیغی جماعت میں لگائے ، جس میں چلے سہ روزوں کے علاوہ محلے اور بیرون محلے کی گشت اور روزانہ کی تعلیم شامل تھی۔ جب تبلیغی جماعت میں فضائل درود شریف کو اپنے نصاب سے نکال دیا تو حاجی صاحب نے اس کو ہفتہ وار معمول بنادیا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا نے یہ خواب اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے خواب میں فرمایا کہ شیخ زکریا فضائل درود کی وجہ سے اپنے معاصرین میں سبقت لے گئے ہیں۔ سعودی عرب کے شیوخ کی وجہ سے تبلیغی جماعت نے فضائل درود کو اپنے نصاب سے نکال دیا تھا لیکن پھر بھی وہ پابندی سے نہیں بچ سکیں ہیں۔ اکابرین نے شروع میں حاجی محمد عثمان پر بہت زور ڈالا کہ ہمارے طبقے میں شامل ہوجائیں ، اچھے کھانوں کے عیش اڑائیں اور خود کو عوام کی طرح مشکلات میں نہ ڈالیں۔ لیکن یہ مرد کا بچہ اپنی حق بات اور اپنے عمل صالح پر ڈٹا رہا۔ جب منبر پر تقریر کرتے تو وہ اکابرین کے بھی پیر طریقت لگتے تھے۔ لیکن جب وہ اکابرین کے بیانات سنتے تھے تو عوام کے ساتھ عام مجمع میں بیٹھ جاتے۔ یہ روش اکابرین کو پسند نہیں تھی اور اس کی وجہ سے انکے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے اندرون خانہ کرتے ۔ سب سے زیادہ مؤثر پروپیگنڈہ یہ تھا کہ حاجی عثمان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے۔ حضرت حاجی عثمان نے اپنے مریدوں میں ایک تقریر کی اور اس میں تبلیغی جماعت والوں کو بھی آنے کی اجازت دی۔ خانقاہ کا بیان صرف مریدوں کیلئے ہوتا تھا اور کبھی کبھار علماء کرام بھی اس میں تشریف لاتے تھے۔ تبلیغی جماعت کراچی کے پرانے مرکز مکی مسجد میں جمعرات کے اجتماع میں اعلان کروایا کہ اس مرتبہ اتوار کو حاجی عثمان خانقاہ میں بیان کریں گے تو اس میں تبلیغی جماعت کے افراد بھی شرکت کرسکتے ہیں۔ اس بیان میں شخصیت موضوع تھا۔ حاجی صاحب نے فرمایا کہ جماعت کا مقصد بھیڑ اکھٹا کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ شخصیات بنانا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے صحابہ کرام میں شخصیات بنائی تھیں۔ پھر یہ بیان شیخ الحدیث مولانا زکریا کے پاس بھی آڈیو ریکارڈ کی شکل میں بھیج دیا تھا۔ مولانا زکریا نے تبلیغی جماعت کے سارے اکابر کو بلاکر یہ بیان سنایا تھا اور ان سے کہا تھا کہ حاجی صاحب کی بات100فیصد درست ہے اپنا رجحان بدلو۔ حاجی صاحب مکی مسجد میں بھی عوام کے ساتھ بیٹھتے تھے اور اجتماعات میں بھی عوام کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دورہ حدیث کا ایک طالب علم مولانا نور زمان ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ لاکھوں کے مجمع میں جب بہت دور سے حاجی عثمان کے اوپر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخصیت ہیں؟۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ حاجی عثمان صاحب ہیں۔
جب خانقاہ آتے جاتے وقت کبھی راستے میں ٹریفک کی وجہ سے راستے میں نماز پڑھنے کیلئے مسجد میں جاتے تو لوگ جانتے نہیں تھے لیکن نمازی لائن بناکر ان سے مصافحہ کرتے۔ دار العلوم دیوبند کے بہت سے فاضل آپکے مرید تھے۔ جن میں مفتی محمد تقی عثمانی ومفتی محمد رفیع عثمانی کے اُستاذ مولانا عبدالحق صاحب بھی تھے اور دار العلوم کراچی کے مولانا اشفاق احمد قاسمی بھی تھے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اُستاذ حدیث مولانا فضل محمد بھی آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔
آپ کو سعودی حکومت کی طرف سے اعزازی اقامہ بھی ملا ہوا تھا۔ مدینہ اور مکہ میں آپ کی وجہ سے تبلیغی جماعت کا کام بہت پھیلا۔ کراچی میں زیادہ لوگ آپ ہی کی وجہ سے تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ تبلیغی جماعت کے امیر بھائی امین اور ان کے صاحبزادے مفتی شاہد اور مفتی زبیربھی آپ کے عقیدتمند تھے۔ سعودی عرب اور شام کے عربی بھی آپ کے مرید تھے۔3مرید ابراہیم ، جاوید اور طیب نے آپ سے دعا لیکر کاروبار شروع کیا تو اس میں بہت برکت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے شمولیت کی درخواست کی تو آپ نے علماء و مفتیان کی رہنمائی میں شریعت کے مطابق کاروبار کی اجازت دی۔ شروع میں اس کا نامTJابراہیم تھا۔ پھر تبلیغی جماعت نے اشتہار دیا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جب حاجی صاحب نے اشتہار دیکھا تو ان کو کمپنی ختم کرنے کا حکم دیا۔ جس پر انہوں نے کمپنی ختم کرنے کے بجائے الائنس موٹر کے نام سے کام جاری رکھا۔ مفتی تقی عثمانی و دیگر علماء و مفتیان نے بھی کمپنی میں اپنا اور دوسروں کا سرمایہ لگایا ہوا تھا۔ کمپنی کا اصول یہ تھا کہ60فیصد منافع کمپنی کا اور40فیصد سرمایہ کار کا۔ ایجنٹ کے توسط سے سرمایہ لگانے والے2فیصد ایجنٹ کو دیتے تھے۔ مفتی تقی اور دوسرے علماء و مفتیان باقاعدہ ایجنٹ بنے ہوئے تھے۔ مفتی تقی اورمفتی رشید کی طرف سے باقاعدہ رائیونڈ کے تبلیغی اکابرین کے خلاف فتویٰ جاری کیا گیا جس کا مقصد حاجی محمد عثمان کے مشن اور مریدوں کا دفاع تھا۔
جب حاجی عثمان نے اعلان کیا کہ جن مریدوں نے کوئی مشاہدات دیکھے ہیں تو وہ اپنے مشاہدات بیان کریں۔ ہزاروں کے مجمع میں سے اکثریت ان کی تھی جو مشاہدات بیان کرنے کیلئے ایک سائڈ پر ہوگئے۔ میں وہ شخص تھا کہ جب کسی نے بھی کوئی مشاہدہ نہیں دیکھا تھا تو میں نے دیکھا تھا۔ وہ بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کے سال اول میں۔ اور غالباً کچھ طلباء کو ان کے اصرار پر اپنا مشاہدہ بتایا ۔ میں نے مشاہدے کے دوران بھی مشاہدے کو دیکھنا منع کردیا تھا کہ میرے لئے لا الہ الااللہ کا پڑھنا کافی ہے۔ میں مشاہدات والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا تھا۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مشاہدات بیان کرنا شروع کئے تو آخر کار صرف ان لوگوں کو مشاہدات بیان کرنے کی اجازت دی گئی جن کے پاس علم کی سند ہو یا تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگائے ہوں یا پھر حضرت کے خلیفہ ہوں۔ کئی دنوں تک مشاہدات کا سلسلہ جاری رہا لیکن مشاہدات ختم نہیں ہورہے تھے۔ پھر یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ لیکن حاجی عثمان صاحب نے بتایا تھا کہ ایک آزمائش آنے والی ہے جس میں لوگ تین اقسام پر تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک دنیا دار وہ نکل جائیں گے۔ دوسرے آخرت والے اور تیسرے اللہ والے۔ دنیا دارکھدڑے ہیں ، آخرت والے عورتوں کی طرح ہیں اور اللہ والے مرد ِ میدان ہیں۔
پھر اچانک حاجی صاحب کے بارے میں اعلان ہوا کہ بہت سخت شوگر ہے اور جو کوئی کسی اور جگہ پر بیعت ہونا چاہتا ہے تو اس کو حضرت نے اجازت دی ہے۔ کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ حاجی صاحب کو قید کیا گیا ہے۔ جب ان کو گھر سے رہا کرکے خانقاہ لایا گیا تو الائنس موٹر والے دار العلوم کراچی پہنچے۔ دار العلوم کی طرف سے الاستفتاء کے نام سے ایک سوالات اور انکے جوابات کا فتویٰ مرتب کیا گیا۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”سود کھانے والے ایسے اٹھیں گے جیسا کہ جنات کی طرف سے بدحواس کئے ہوئے افراد اٹھتے ہیں”۔ مفتی تقی عثمانی کا یہ کارنامہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے جب زکوٰة کے نام پر سود کی رقم کاٹنی شروع کی اور مفتی محمود سمیت تمام علماء کرام و مفتیان عظام نے اس کی مخالفت کی تو مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے اس سُودی رقم کو ہتھیانے کیلئے فتویٰ دے دیا۔ یہ سُودی رقم الائنس موٹر میں بھی لگائی گئی جہاں پر حرام کا مال لینا ممنوع تھا۔ لیکن ان علماء پر اعتبار کرکے یہ مال لیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ کمپنی پر کتیا کی طرح مستی چڑھ گئی اور اس کے پیچھے کتوں کے ریلے لگ گئے۔ شرافت کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
بدحواس اور خرمست دار العلوم کراچی کے مفتیوں نے پہلا سوال یہ لکھ دیا کہ کیا فرماتے ہیں علماء شرع مبین اس پیر کے بارے میں جس کے خلیفہ اول کا کہنا ہے کہ مجھے حاجی عثمان بار بار مجبور کرتے تھے کہ تم نبی ۖ کو دیکھتے ہو یا نہیں؟۔
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی پیر اپنے مرید سے کہے کہ میں نبی ۖ کو خود نہیں دیکھ سکتا لیکن تم زبردستی سے ڈنڈے کے زور پر دیکھتے ہو یا نہیں؟۔ حالانکہ اس کا پیر بہت ضعیف العمر اور کمزور ہو اور خلیفہ جوان اور صحتمند ہو۔ یہ تو ممکن ہوتا ہے کہ اگر پیر کہتا کہ مجھے مشاہدہ ہوتا ہے اور آپ کو نہیں ہوتا لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کہے کہ تم زبردستی سے دیکھتے ہو یا نہیں؟۔ یہ سُود خوری کا پہلا نتیجہ تھا جس نے جن کی طرح مفتی صاحبان کو بدحواس کرکے رکھا تھا۔ پھر ہمیں معلوم تھا کہ انہوں نے پیری مریدی کی الف ب کو بھی نہیں سمجھا ہے۔ جن لوگوں میں درس نظامی کی تعلیم سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو وہ ایک ایسے شعبے کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس کا ان سے دور دور کا بھی واسطہ نہ ہو؟۔ ہم نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، شاہ ولی اللہ ، شیخ الحدیث مولانا زکریا اور علامہ محمد یوسف بنوری کے حوالے سے مستند کتابوں کے کچھ واقعات نقل کئے جن میں ایک عبارت کا تعلق مولانا عبد الحق محدث دہلوی کی کتاب ”اخبار الاخیار” سے تھا۔ جس کا ترجمہ مولانا سبحان محمود نے کیا تھا ۔ جس نے عمر کے آخری حصے میں اپنا نام سحبان محمود کردیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ جب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی وعظ کرتے تھے تو تمام انبیاء کرام بھی تشریف فرما ہوتے اور نبی کریم ۖ بھی جلوہ افروز ہوتے تھے۔ دار العلوم کراچی سے اس کا ترجمہ ہوا تھا ۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس پر فتویٰ لگایا تھا اور مولانا سلیم اللہ خان ، مفتی ولی حسن ٹونکی نے بھی دستخط کئے تھے۔ دار العلوم کی طرف سے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا گیا تو ان سے ہم نے کہا کہ آپ اس کی تائید کریں یا تردید کریں۔ لیکن انہوں نے دونوں سے انکار کردیا تھا۔ جب ہم نے عبارات کے حوالہ جات لکھے تو سب بہت پریشان ہوگئے لیکن حاجی محمد عثمان نے فتویٰ شائع کرنے سے منع کردیا۔ جمعیت علماء اسلام ف اور س دونوں کے علماء کرام اس وقت حاجی صاحب کی تائید کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے اگر ان بکروں کو ذبح کردو اور یہ ٹانگ ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے۔ جب کورٹ کی طرف سے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تو مفتی تقی عثمانی نے ساری خدمت اپنے ذمے لی اور نوٹس کا یہ جواب دیا کہ ہم نے حاجی عثمان کے خلاف نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا ہے۔
پھر ایک شخص نے الگ الگ الفاظ سے فتویٰ طلب کیا جس کے جواب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء و مفتیان نے لکھا کہ ”نکاح بہرحال جائز ہے اور جو باتیں حاجی صاحب کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اگر وہ ان میں نہیں ہیں تو فتویٰ بھی نہیں لگتا ہے”۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی کے شاگردوں مفتی عبد الرحیم وغیرہ نے لکھا کہ نکاح جائز نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی سے یہ پوچھا گیا تھا کہ نکاح منعقد ہوجائے گا کہ نہیں ؟۔ جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔ بہتر ہے کہ انکے حالات سے آگاہ کریں۔
پھر سوال جواب ایک قلم سے مفتی عبد الرحیم نے مرتب کئے اور اس میں لکھا کہ ”اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا”۔ اس پر مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی نے نوٹس لکھا کہ ”نکاح جائز نہیں گو منعقد ہوجائے”۔
جس پر میں نے دارالعلوم کراچی کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ان کو چیلنج کیا تو وہ سارے بھاگ کر گھروں میں گھسے۔ میں نے ان سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کے خلاف ان کی مسجد میں تقریر کی اور طلبہ نے حق زندہ باد کے نعرے لگائے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء و مفتیان اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب اس سازش پر پشیمان تھے ۔دار العلوم کراچی والوں کے ہاتھ میں استعمال ہونے کا افسوس کرتے تھے۔ مولانا عبد اللہ درخواستی کے نواسے مولانا انیس الرحمن درخواستی اس فتوے کے بعد حاجی عثمان صاحب سے بیعت ہوئے تھے۔ مولانا محمد مکی حجازی اور مولانا سیف الرحمن جامعہ صولتیہ مکہ مکرمہ والے بھی حاجی عثمان کی اس فتوے کے بعد بھی حمایت کرتے تھے۔ مولانا سلیم اللہ خان مسجد الٰہیہ بھی اس کے بعد تشریف لائے تھے۔MNAقاری گل رحمن سے بھی مولانا سلیم اللہ خان نے کہا تھا کہ علماء نے اس فتوے پر بہت پیسے کھائے ہیں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا تھا کہ امام مالک پر فتویٰ لگانے والوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے لیکن امام مالک کو دنیا جانتی ہے۔ اسی طرح تاریخ میں حاجی عثمان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان پر فتویٰ لگانے والے مٹ جائیں گے۔
آج اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ کام لیا ہے جس کی وجہ سے دینی نصاب کی بھی بہت بڑے پیمانے پر اصلاح ہونے والی ہے۔ دوسری طرف مفتی تقی عثمانی نے عالمی سُودی نظام کو معاوضہ لے کر جائز قرار دیا ہے اور اپنے چہرے پر وہ کالک ملی ہے جس سے نہ صرف مفتی تقی عثمانی فرعون کی طرح یادگار بنارہے گا بلکہ اس کے وہ اسلاف بھی تاریخ میں از سر نو عوام کے نوٹس میں آجائیں گے جنہوں نے حیلہ سازی کے ذریعے سے ہمیشہ درباری بن کر علماء سوء کا کردار ادا کیا ہے۔ جب مفتی محمود کے بارے میں ان کی وفات کے بعد مشہور ہوا کہ ان کوپان میں زہر دے کر شہید کیا گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کہ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تحریر میں لکھ دیا تھا کہ ہم دونوں بھائیوں کو مفتی محمود نے زکوٰة کے مسئلے پر جامعہ بنوری ٹاؤن بلایا تھا اور چائے کی پیشکش کی تو ہم نے کہا کہ دن میں ایک مرتبہ سے زیادہ ہم چائے نہیں پیتے۔ جس پر مفتی محمود نے کہا کہ میں خود زیادہ چائے پیتا ہوں لیکن جو نہیں پیتا تو میں اس کو پسند کرتا ہوں۔ ہم نے پان کا بٹوا دکھایا کہ ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ جس پر مفتی محمود نے فرمایا کہ یہ تو چائے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ پھر معمول کی گفتگو لکھی اوریہ تحریر پڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ کتنا بڑا جھوٹ گھڑا گیا ہے۔ اس تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ مفتی محمود کو پان کھلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر جب اقراء ڈائجسٹ کا” بنوری و محمود نمبر” چھپا تو اس میں مفتی تقی عثمانی کی یہ تحریر بھی تھی جو البلاغ میں شائع ہوئی تھی ۔مولانا یوسف لدھیانوی کی تحریر بھی تھی جو بینات میں شائع ہوئی تھی۔ مولانا لدھیانوی نے یہ بھی لکھا تھا کہ” پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے مفتی محمود کو پان کھلایا اور جب تھوڑی دیر کے بعد ان پر دورہ پڑا تو مفتی رفیع عثمانی نے ان کے حلق میں دورہ قلب کی خصوصی گولی ڈال دی ”۔ اس پر ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار میں معاملہ اٹھایا تو مولانا یوسف لدھیانوی نے بتایا کہ مجھے مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹ پلائی ہے کہ اس کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ اب بدحواسی میں مفتی تقی عثمانی نے ایک آڈیو بیان جاری کیا کہ مفتی محمود سے میری بے تکلفی تھی اور وہ مجھے کہتے تھے کہ بھیا اپنا پان ذرا کھلائیے ۔ انشاء اللہ وہ وقت آئے گا کہ مفتی تقی عثمانی سے جھوٹ اور فتوؤں کا حساب مانگا جائیگا۔ انقلاب آئیگا اور سربستہ راز کھلیں گے۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین کے اقوال کی درست تعبیر اور طلاق کابڑا مسئلہ حل

احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین کے اقوال کی درست تعبیر اور طلاق کابڑا مسئلہ حل

امام ابوحنیفہ کے مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کو پہلا نمبر حاصل ہے۔پھر احادیث صحیحہ کو دوسرا نمبر حاصل ہے۔ پھر تیسرا نمبر اجماع اور چوتھا قیاس ہے۔
طلاق کے مسئلے کو قرآنی آیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ ” طلاق کے بعد رجوع کیلئے بنیادی شرط اصلاح، صلح ، معروف طریقے سے رجوع ہے،جب بیوی راضی نہ ہو تو کسی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا”۔
حضرت عمر نے یقینی طور پر قرآن کی اس عام فہم اور بنیادی اصول کو سامنے رکھ کر اس وقت ایک ساتھ تین طلاق پر شوہر کو رجوع سے محروم کردیا کہ جب اس کی بیوی راضی نہیں تھی۔ یہ قرآن کے عین مطابق تھا۔ اس پر تین طرح کے لوگ سامنے آئے۔ ایک وہ تھے جنہوں نے حضرت عمر کی زبردست تائید کردی تھی۔ دوسرے وہ تھے جو حضرت عمر کے اس فیصلے کو قرآن کے منافی قرار دیتے تھے۔ تیسرے وہ تھے جنہوں نے حضرت عمر کے اس فیصلے کو اجتہادی غلطی قرار دیا تھا۔
جنہوں نے حضرت عمر کے اس فیصلے کو قرآن کے عین مطابق قرار دیا تھا وہ صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ مجتہدین تھے۔ ائمہ مجتہدین میں پھر دو طبقے بن گئے۔ ایک حنفی ومالکی اور دوسرے شافعی۔ جبکہ حنبلی دونوں طرف موجود تھے۔مالکی اور حنفی مسلک یہ بن گیا کہ ” ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعت اور گناہ ہے”۔ شافعی مسلک نے کہا کہ ” ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت اور مباح ہے”۔ احادیث کی کتب کے پورے ذخیرے میں صرف ایک حدیث حنفی ومالکی مسلک کی دلیل تھی کہ ”محمود بن لبید نے کہا کہ ایک شخص کے متعلق نبی ۖ کو خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں۔ جس پر نبی ۖ غضبناک ہوئے اور کھڑے ہوکر فرمایا کہ میں تمہارے اندر موجود ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں”۔ جبکہ شافعی مسلک کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ”جب عویمر عجلانی نے اپنے بیوی کیساتھ لعان کیا تو ایک ساتھ تین طلاق دے دیئے”۔ دونوں احادیث سے دلیل جمہور نے یہ لی ہے کہ ”ایک ساتھ تین طلاق دینے سے تین واقع ہوجاتی ہیںاور اگر نہیں ہوتیں تو پھر نبیۖ کیوں غضبناک ہوتے یا عویمرعجلانی کی تردید کیوں نہیں فرمائی ؟۔
اہل تشیع کے نزدیک جب تک دو گواہ کی موجودگی میں طلاق نہ دی جائے تو طلاق نہیں ہوتی ہے اور حضرت عمر کا یہ فعل قرآن وسنت کے منافی ہے۔جبکہ اہل حدیث کے نزدیک حضرت عمر کی یہ اجتہادی غلطی ہے ۔ اکٹھی تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ہے اور حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ بالکل واضح ہے۔
اگر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق ایک طلاق رجعی ہے تو اس سے نکلنے والے مسائل قرآن وسنت کے بالکل منافی ہوںگے اسلئے کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دے گا اور بیوی راضی نہیں ہوگی لیکن پھر بھی شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ تین طلاق تو بڑی بات ہے ،اگر ایک طلاق دینے کے بعد بھی بیوی رجوع پر راضی نہیں ہے تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ یہ قرآن وسنت کا واضح حکم ہے۔ بیوی کی رضامندی ، اصلاح، صلح اور معروف کی شرط کو نکال کر ہم نے دین کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق دیا جائے تو شوہر طلاق دے گا اور عدت کے آخر میں رجوع کرلے گا اور دوبارہ طلاق دے گا اور عدت کے آخر میں رجوع کرلے گا۔ سہ بارہ طلاق دے گا تو عورت کو ایک نہیں تین عدتیں گزارنے پر مجبور کیا جاسکے گا؟۔ شوہر کہے گا کہ میں نے طلاق دی ہے اور پھر کہے گا کہ میں نے مذاق کیا تھا۔ اگر مذاق تسلیم نہ ہو تو پھر اس کو طلاق رجعی قرار دیا جائے گا؟۔ ایک اور تین طلاق کی بحث ہی فضول ہے۔ ایک دی ہو یا تین طلاق لیکن اصل مسئلہ باہمی اصلاح سے رجوع کا ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو پھر ایک طلاق سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا اور تین طلاق سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور عورت راضی ہو تو ایک طلاق پر بھی رجوع ہے اور تین طلاق پر بھی رجوع ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے مطابق فیصلہ دیا تھا۔
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم کی کتاب ” زادالمعاد ” میں بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر20الگ الگ اجتہادی مسائل ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ”امام حسن بصری نے کہااگر بیوی کو حرام کہہ دیا تو بعض علماء کے نزدیک یہ تیسری طلاق ہے۔ جس کے بعد جب تک عورت دوسری جگہ نکاح نہیں کرے گی تو اس کو پہلے کیلئے حرام قرار دیا جائے گا”۔ ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ ” بیوی کو حرام قرار دینے سے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اور یہ سیرت رسول ۖ کا تقاضہ ہے کہ اس میں نہ طلاق ہے اور نہ کفارہ ہے”۔
خلفاء راشدین کے اجتہادات کی کتاب میں لکھا ہے کہ ” بیوی کو حرام کہنا حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق ہے اور حضرت علی کے نزدیک تین طلاق اور حضرت عثمان کے نزدیک ظہار ہے”۔ یہ سعودی عرب سے عربی میں چھپی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی کی طرف حرام سے تیسری طلاق یا تین طلاق کی نسبت کیوں کی گئی ہے؟ جواب یہ ہے کہ حضرت علی نے معلوم کیا ہوگا اور جب پتہ چلا ہوگا کہ بیوی راضی نہیں ہے تو فتویٰ دیا ہوگا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اس کو کسی نے تین طلاق اور کسی نے تیسری طلاق قرار دے دیا ہوگا۔
حضرت عمر سے پوچھا گیا کہ حرام کے لفظ کے بعد رجوع کی اجازت ہے تو معلوم کیا کہ بیوی راضی ہے؟ تو رجوع کا فتویٰ دیا ہوگا اور اس کو ایک طلاق سے تعبیر کیا ہوگا۔ قرآن کی سورۂ تحریم میںہے کہ نبی ۖ نے اپنے اوپر ماریہ قبطیہ کو حرام کیا تھا لیکن کیا صحابہ کرام نے اتنی بڑی سورت کی طرف توجہ نہیں دی؟۔
جب یہ صحابہ کرام کی طرف منسوب ہے کہ حرام کے لفظ سے تین طلاق بھی واقع ہوتی ہیں اور ایک بھی تو پھر یہ بحث فضول بن جاتی ہے کہ ایک اور تین طلاق پر امت مسلمہ کے اندر فضول قسم کے نصاب اور مسائل پڑھائے جائیں۔ مجھے اتنا عرصہ ہوگیا کہ یہ مسائل بیان کررہا ہوں۔ دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث اور اہل تشیع نے کھلے دل سے میری حمایت کی ہے لیکن مدارس کے وڈیروں نے اس پر چپ کی سادھ لی ہے اور امت مسلمہ کو گرداب سے نکالنا ان کے مفادات کے خلاف ہے یا نہیںمگر ان کو اپنی اجارہ داری کے جانے کا خوف دامن گیر ہے۔
جس شخص کے بارے میں نبیۖ کو خبر دی گئی کہ اس نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں تو وہ حضرت عبداللہ بن عمر تھے۔ جس نے قتل کی پیشکش کی تھی تو وہ حضرت عمر تھے۔ محمود بن لبید کی روایت سے زیادہ مضبوط روایت صحیح مسلم کی ہے جس میں یہ واضح ہے کہ ابن عمر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں اور اس سے زیادہ مضبوط صحیح بخاری کی ہے جس میں نبیۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود حضرت ابن عمر سے رجوع کا ارشاد فرمایا اور عدت و طلاق کا طریقہ بھی سکھادیا تھا۔ عدت کے تین ادوار اور تین مرتبہ طلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ہیں لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے جس طرح طلاق کے انتہائی احمقانہ مسائل کتابوں میں درج کئے ہیں ، اگر عوام کی نظروں میں آگئے تو علماء ومفتیان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی اور دریائے مردار میں غرق ہونا پڑے گا۔
میں صالحین علماء ومشائخ کی بات نہیں کرتا جیسے موجودہ دور میں تقی عثمانی کی موجودگی میں علماء حق اور صالحین دبا دئیے گئے یہ ہردور میں چلتا آیا ہے اور اب خدا کرے کہ یہ شیخ الاسلام اس حیلہ ساز اور اسلام دشمن علماء سوء کی آخری کڑی ہو اور امت مسلمہ ان حیلہ سازوں اور قرآن وسنت کے مجرموں سے بچ جائے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv