پوسٹ تلاش کریں

حنفی مسلک کے اصول فقہ میں مروجہ حلالے کی زبردست مخالفت اور مفتیوںکی ہٹ دھرمی

حنفی مسلک کے اصول فقہ میں مروجہ حلالے کی زبردست مخالفت اور مفتیوںکی ہٹ دھرمی

ملاجیون کی کتاب”نورالانوار ” بریلوی دیوبندی نصاب میں شامل ہے۔ مجھے بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے اس کی سند ملی ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی شیخ الاسلام اور مفتی محمد رفیع عثمانی مفتی اعظم کو بھی مولانا بدیع الزمان نے یہ کتاب پڑھائی ہے اور مجھے بھی اس کا شرف ملا ہے لیکن جب مفتی محمد شفیع اور ان کے صاحبزدگان مفتی تقی ومفتی رفیع عثمانی نے اس کے بعد مفتی محمود، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا عبیداللہ انور اور دیگر جمعیت علماء اسلام کے علماء ومشائخ پر1970میں کفر کا فتویٰ لگادیا تھا تو مولانا بنوری کے رفقاء مولانا بدیع الزمانو دیگر اساتذہ نے اپنے نالائق شاگردوں کو عاق کیا تھا اور پھر1988میں جب حاجی محمد عثمان پر اس نالائق ، چالاک، عیار، کم بخت اور بے غیرت وبے ضمیر طبقے نے فتویٰ لگادیا تو بنوری ٹاؤن کراچی کے مجذوب اور مفاد پرست طبقے کو بھی ساتھ ملایا تھا۔ لیکن بنوری ٹاؤن کراچی سے پھر اسکے بعد بھی حاجی عثمان کے حق میں فتوی آیا تھا۔ جس پر مجذوب مفتی اعظم پاکستان کے بھی دستخط تھے۔ ہم نے قریب سے مجذوب ، مفاد پرست اور بزدل طبقے کے حالات دیکھے تھے اسلئے کسی کو حق کی خاطر آواز اٹھانے کی زحمت نہیں دیتے۔
نورالانوار میں ہے کہ البقرہ230فان طلقہا فلا تحل لہ ” اگر پھر اس نے طلاق تو اس کیلئے حلال نہیں ہے ” کا تعلق احناف کے نزدیک ”ف ”تعقیب بلامہلت کی وجہ سے آیت229کے آخر میں فدیہ کی صورت سے ہے کیونکہ اس کی دلیل عربی زباں کا عام قاعدہ کلیہ ہے کہ حرف ” ف” اپنے سے پہلے فاصلے کو قبول نہیں کرتا ہے ۔اسلئے اس طلاق کا تعلق آیت229کے شروع میں دومرتبہ طلاق سے نہیں ہوسکتا ہے۔ دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق سے پہلے عورت کی طرف سے فدیہ دینے کی صورت سے ہی اس تیسری طلاق کا تعلق ہے۔ جبکہ شافعی مسلک میں فدیہ کی صورت جملہ معترضہ ہے۔ دو مرتبہ طلاق کے بعد جب تیسری مرتبہ خلع دیا جائے تو خلع مستقل طلاق ہے اور تین طلاقوںکے بعد چوتھی طلاق کی گنجائش نہیں رہے گی اور پھر آیت230میں مذکور چوتھی طلا ق بنے گی۔
نورالانوار کا یہ سبق اتنا گنجلک ہے یا پھر علماء ومفتیان مسلک سازی میں اس قدر پاگل بن چکے ہیں کہ اتنی موٹی موٹی باتیں سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ اللہ کی کتاب قرآن مبین میں اس طرح کے اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ جب حنفی مسلک یہ ہے کہ حلالے کی طلاق کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے تو پھر اسکے بغیر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ کیسے صادر کررہے ہیں؟۔ علامہ جاراللہ زمحشری نے تفسیر الکشاف میں لکھ دیا ہے کہ ” اس کا اطلاق دومرتبہ الگ الگ طلاق کی صورت ہی سے ہونا چاہیے”۔ علامہ ابن قیم نے بھی ”زادالمعاد ” میں عبداللہ بن عباس کی تفسیر کو نقل کیا ہے کہ ” قرآنی آیات کا تقاضہ یہی ہے کہ دو الگ الگ مرتبہ طلاق کے بعد فدیہ دینے کی صورت سے اس طلاق کو منسلک کیا جائے جس میں اسکے بعد حلال نہ ہونے کا حکم ہے”۔ان سب سے حنفی مؤقف کی تائید ہورہی ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے قرآن کی تفسیر تبیان القرآن اور صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی شرحیں بھی لکھی ہیں اور مناظرے میں بھی کمال فن دکھایا ہے مگر یہ لکھ دیا ہے کہ ” اگر آیت230البقرہ میں فان طلقھا کی ف نہ ہوتی ، جس میں تعقیب بلامہلت ہے تو قرآن و حدیث سے الگ الگ مرتبہ طلاق کا حکم ثابت ہوتا”۔ حالانکہ نورالانوار میں بھی تعقیب بلامہلت کا ذکر اس تناظر میں ہرگز بھی نہیں ہے کہ اس سے قرآنی آیت الطلاق مرتٰن میں الگ الگ مرتبہ طلاق کا حکم منسوخ ہوجائے گا بلکہ مطلب ہے کہ اس کا تعلق ماقبل فدیہ دینے کی صورت سے ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا کہتے ہیں کہ علامہ غلام رسول سعیدی اس کے استاذ ہیں۔ایک وہ شیخ زبیر علی زئی اہلحدیث سے تعلق رکھتے تھے ۔شیخ زبیر علی زئی کا مؤقف بھی ایک ساتھ تین طلاق کے بعد وہی تھاجو دیوبندی بریلوی علماء کا ہے۔انجینئر محمد علی مرزا کو میں نے بالمشافہہ معاملہ سمجھنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے انکار کیا تھا اور سوال جواب کی گنجائش سے بالکل سختی سے منع کردیا تھا۔
بریلوی ، دیوبندی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے جید علماء کرام سے گزارش ہے کہ طلاق کے مسئلے پر حنفی مسلک کے نقطۂ نظر کی طرف توجہ کریں۔ انشاء اللہ شرح صدر ہوگا کہ” وہی حنفی مسلک درست ہے جس سے حنفی مسلک کے کم عقل طبقے نے اپنی کم عقلی کی وجہ سے انحراف کیا ہے”۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ اس طلاق کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے اور فدیہ کی صورت وہ ہے جس میں صلح کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے۔ قرآن کی جس آیت کو بھی بغور دیکھا جائے تو اس میں صلح کی گنجائش ہے اور صلح کی گنجائش کیساتھ اللہ نے بار بار رجوع کو واضح کیا ہے۔
آیت226البقرہ میں صلح کی شرط پر رجوع کی گنجائش واضح ہے۔ جب نبی ۖ نے ایلاء کیا تھا تواللہ نے عورتوں کو اختیار دینے کا حکم بھی واضح کیا تھا۔ آیت228البقرہ میں بھی عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کی گنجائش ہے۔ آیت229البقرہ میں بھی معروف کی شرط کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔ آیت231البقرہ میں بھی معروف کی شرط کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔ آیت232البقرہ میں بھی معروف کی شرط کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔ آیت2سورۂ طلاق میں بھی معروف کی شرط کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔
قرآن کی طرف رجوع کیلئے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا کی جیل سے رہائی کے بعد اظہار کیا تھا لیکن موقع نہیں ملا اور مولانا عبیداللہ سندھی نے ان کے مشن پر عمل کیا۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی آخری دور میں فرمایا تھا کہ زندگی کو ضائع کردیا۔ اسلئے کہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی اور فقہی مسالک میں اپنا وقت ضائع کردیا۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے قرآن وسنت کی احیاء کیلئے اپنے مدرسہ کی بنیاد رکھ دی تھی۔ اسلام کا معاشی نظام آپ کے داماد مولانا طاسین نے پیش کیا اور اسلام کے معاشرتی نظام کی خدمت اللہ تعالیٰ بنوری ٹاؤن کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے مجھ عتیق گیلانی سے لے گا انشاء اللہ تعالیٰ العزیز۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بخاری کی روایت میں رفاعة القرظی کی سابقہ بیوی کے قصے سے غلط فتویٰ اور اس کا اِزالہ!

بخاری کی روایت میں رفاعة القرظی کی سابقہ بیوی کے قصے سے غلط فتویٰ اور اس کا اِزالہ!

صحیح بخاری میں ہے کہ رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو3طلاقیں دیں۔ پھر اس سے کسی اور شخص نے نکاح کیا ۔ پھر وہ عورت نبیۖ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ دوسرے شخص کے پاس ایسا ہے ، دوپٹے کا پلو دکھایا۔ نبی ۖ نے فرمایا: کیا آپ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟۔ آپ نہیں جاسکتی ہو جب تک دوسرے شوہر کا شہد (ذائقہ) نہ چکھ لو اور وہ تیرا نہ چکھ لے ۔ جیسے پہلے نے تیرا چکھ لیا اور تو نے اس کا چکھ لیا ہے۔
بخاری کی یہ روایت کو دیکھ کر عوام اور خواص سمجھتے ہیں کہ رفاعہ القرظی نے3طلاق دئیے اور پھر اس کی بیوی نے حلالہ کروایا۔ مباشرت سے پہلے وہ دوبارہ اپنے سابقہ شوہر کے پاس آنا چاہتی تھی تو اس پر نبیۖ نے اجازت نہیں دی کہ جب تک سابقہ شوہر کی طرح اس کا ذائقہ نہ چکھ لیا جائے تو حلالہ نہیں ہوا۔ جب بھی کوئی3طلاق دیتا ہے تو حنفی دیوبندی بریلوی علماء اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور ساتھ میں قرآنی آیات کی گردن مروڑ دیتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا: الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان آیت229البقرہ” طلاق دو مرتبہ ہے ۔ پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے”۔ یعنی طلاق رجعی دومرتبہ ہے جس طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہے۔ اس کے بعد اللہ نے واضح فرمایا ہے فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ آیت230البقرہ ”اور اگر پھر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ پھر فقہی کتب سے بھی حوالے دئیے جاتے ہیں کہ” اگر غلام نے دو طلاقیں دیں توجب تک اس عورت سے کوئی دوسرا شوہر نکاح نہ کرلے تو وہ حلال نہیں ہوسکتی اور اگر لونڈی کو دو طلاقیں دی گئیں تو جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو وہ پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوسکتی ہے۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کی مہر اور دستخط ہوتے ہیں۔
کوئی ان بے شرم ، بے غیرت ، بے ضمیر ، بے حس ، بے عقل ، بے ایمان اور انسانیت سے عاری لوگوں سے نہیں پوچھتا کہ جب تم لونڈی و غلام کی دو طلاقوں پر بھی حلالہ کے فتوے جاری کرتے ہو تو پھر اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تمہارا قرآن کے تین طلاق سے کوئی کام نہیں بلکہ حلالہ کی لعنت کے چکر میں پڑے ہو؟۔یہ جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے مفتیان حیلے اور حلالے کے چکر میں مذہب کی نوکری کررہے ہیں۔ جہاد اور خود کش کے فتوے دینے والے ان علماء ومفتیان اور ان کی آل اولاد نے کبھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے؟۔ جب ان کو تین طلاق کے بعد حلالے کی ضرورت پیش آتی تو اہلحدیث سے بغیر حلالے کا فتویٰ لیتے تھے۔
بخاری میں یہ واضح ہے کہ رفاعہ نے مرحلہ وار تین طلاقیں عدت کے حساب سے دی تھیں۔ عدت کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے نکاح کیا۔ جب اس عورت نے اپنے دوسرے شوہر پر نامردی کا الزام لگایا تو اس سے پہلے اس عورت نے حضرت عائشہ کے سامنے اپنے جسم پراس کے مارنے کے نشانات بھی دکھائے۔ حضرت عائشہ نے تصدیق کی کہ بہت سخت مار پڑی ہے۔ جبکہ صحیح بخاری میں یہ بھی واضح ہے کہ اس کا شوہر اپنے بچوں کو ساتھ لیکر آگیا اور اس نے نامردی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کی چمڑی ادھیڑ دیتا ہوں۔ بخاری کی ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی مروجہ حلالے کی طرح مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ عورت اپنے دوسرے شوہر سے جان چھڑانا چاہتی تھی اور ضروری نہیں تھا کہ پہلا شوہر اس کو قبول کرتا اسلئے کہ سوچ سمجھ کر وہ طلاق دے کر جان چھڑاچکا تھا۔ بخاری کی تمام روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے فتویٰ دیناکہ ایک ساتھ تین طلاق دینے کے بعد حلالہ کرنا ضروری ہے ۔حالانکہ نامرد میں حلالہ کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے تو نبیۖ کیسے اسی نامرد سے حلالہ کرنے پر مجبور کرسکتے تھے؟۔ کچھ تو خدا کا خوف بھی کرتے؟۔
ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تو ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان تھے جو مفتی محمد تقی عثمانی کے بھی دارالعلوم کراچی نانک واڑہ میں استاذ تھے۔ جب ہمیں سبق دیا: حتی تنکح زوجًا غیرہ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” ۔ قرآن میں عورت نکاح کیلئے خود مختار ہے جبکہ خبر واحد کی حدیث صحیحہ ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے”۔ قرآن کے مقابلے میں حنفی مسلک کے نزدیک اس حدیث پر عمل نہیں ہوسکتا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ استاذ جی! حنفی مسلک کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں تطبیق کی جائے اور قرآن کی اس آیت میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے اور شریعت میں طلاق شدہ اور کنواری کے احکام الگ الگ ہیں اسلئے حدیث کو آیت سے متضاد ٹھہرانے کی جگہ کنواری مراد لی جاسکتی ہے؟۔ مولانا بدیع الزمان کی نورانی پیشانی پر خوشی سے مزید نور کی جھلک نظر آئی اور فرمایا کہ آپ کی بات میں وزن ہے اور آئندہ کی تعلیم پر کوئی اچھی صورت نکالنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ مولانا بدیع الزمان حاجی محمد عثمان پر فتوے لگانے کے بھی مخالف تھے اور میری طرف سے مزاحمت پر بہت خوش تھے اور فتوؤں کے بعد ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نے بھی فتوؤں کی مخالفت کی تھی اور حاجی محمد عثمان کی قبر پر اپنے داماد کیساتھ بھی گئے تھے۔ حالانکہ ان کی طرف بھی حاجی عثمان کے خلاف وہ جھوٹا فتویٰ منسوب کیا گیا تھا جس سے برأت کے اعلان میں انہوں نے اپنی معذروی اور مجبوری ظاہر کردی تھی۔ مولانا سلیم اللہ خان بھی حاجی عثمان کی وفات کے بعد مسجد الٰہیہ آئے تھے۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھ دیا کہ ” بخاری کی حدیث خبر واحد ہے۔ احناف کے نزدیک اس کی وجہ سے نکاح پر مباشرت کا اضافہ نہیں ہوسکتا ”۔( کشف الباری)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورۂ بقرہ کی آیت230کا مغالطہ اورسیاق وسباق کی آیات سے فیصلہ کن اِزالہ!

سورۂ بقرہ کی آیت230کا مغالطہ اورسیاق وسباق کی آیات سے فیصلہ کن اِزالہ!

اگر قرآنی آیات سورہ بقرہ224سے232تک کو غور وتدبر کرکے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو دلوں سے نہ صرف زنگ اتر جائے گا بلکہ قرآن کو حلالہ سمیت بہت ساری ان برائیوں کے خاتمے کا ذریعہ بھی سمجھا جائے گا جن میں دورِ جاہلیت کے اندر بھی لوگ مبتلاء تھے اور آج بھی بہت بری طرح اس کا شکار ہیں۔
حلالہ کی لعنت رسم جاہلیت کا مذہبی مسئلہ تھا جسے قرآن نے بالکل ختم کرکے رکھ دیا تھا اور حلالہ کے علاوہ بھی جاہلیت کے بہت سارے رسوم تھے جن سے قرآن نے آزادی دلائی تھی مگر آج پھر ان میں امت کو قرآن کے نام پر مبتلاء کیا گیا ہے۔ اس شمارے میں ایک ایک رسم کی پوری پوری تفصیل بیان کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ امید ہے کہ علماء کرام ، مفتیان عظام اور صلحاء امت اس طرف ضرور توجہ فرمائیں گے۔
جب میں نے جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیاتو پڑھانے والے بعض علماء ومفتیان کی جہالت نے میرے سامنے رقص کیا۔ داخلہ سے پہلے مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے درس میں یہ مسئلہ سن لیا تو حیران ہوگیا کہ ” قرآن کا مصحف کتابی شکل میں اللہ کا کلام نہیں ہے اور اس پر حلف کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ البتہ یہ زبان سے کہا جائے کہ اللہ کے کلام کی قسم ! تو پھر اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا”۔
جامعہ میں داخلہ لیا تو ہمارے اساتذہ مولانا عبدالقیوم چترالی اور مولانا عبدالمنان ناصر تھے اور دوسرے فریق (سیکشن) کو مفتی عبدالسمیع شہید پڑھاتے تھے۔ مفتی عبدالسمیع اپنے شاگردوں اور ہمارے فریق میں مقابلہ کراتے تھے۔ ایک دن سرِ راہ مجھ سے سوال کیا تو میں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ!۔ پھر میں نے سوال کیا تو انہوں نے درست جواب نہیں دیا۔ مکالمے کا سلسلہ آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ انہوں نے کہا کہ قرآن کی کتابی شکل کو آپ اللہ کا کلام نہیں مانتے ؟۔ میں نے کہا کہ نہیں!۔ انہوں نے قرآن منگوایا ،بڑے مجمع میں پوچھا کہ ” یہ اللہ کا کلام ہے؟” ۔ میں نے کہا کہ ” نہیں!”۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کافر ہوگئے ہو!۔ میں نے کہا کہ مولانا یوسف لدھیانوی کے پاس چلتے ہیں ، ان سے میں نے یہی مسئلہ سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”تم افغانی لوگ پڑھ کر آتے ہو اور مقصد پڑھنا نہیں بلکہ ہمیں ذلیل کرنا ہوتا ہے”۔ اور بہت برا بھلا کہا۔
اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ عوام ہی دینی علوم سے جاہل نہیں ہیں بلکہ علماء کا بھی حال مختلف نہیں ہے۔ پھر اصول فقہ میں قرآن کی تعریف پڑھی کہ ”مصاحف میں مکتوب اللہ کا کلام نہیں ہے” جس پر تعجب نہیں ہوا لیکن جب شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب میں دیکھا کہ ” علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے ” تو بہت پریشان ہوا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے اس کے خلاف فتویٰ لیا اور دونوں مؤقف کو اخبار میں شائع کردیا۔ جب مفتی تقی عثمانی پر دباؤ پڑگیا تو اپنی دونوں کتابوں سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ”یہ میرا فتویٰ نہیں، میں نے صرف نقل کیا ، میں اس کے جواز کا تصور بھی نہیں کرسکتاہوں”۔ تو یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ فتاویٰ شامیہ، فتاویٰ قاضی خان اور صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب ” تجنیس” میں اس کو پھر کیوں نقل کیا ہے؟۔ پھر اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ جو اصول فقہ میں قرآن کی تعریف ہے کہ” مصحف اللہ کی کتاب نہیں ہے” تو یہ یہی غلطی کی بنیاد ہے جس کو شیخ الاسلام سے شہیدالاسلام تک کسی نے بھی نہیں سمجھا ہے ۔ جب لکھائی کی شکل میں نعوذباللہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے توپیشاب سے لکھنے میں پھر کیا حرج ہوسکتا ہے؟۔
آج بھی پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کا مصحف اللہ کی کتاب نہیں اور اس پر حلف نہیں ہوتا۔ جن کتابوں میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھناجائز ہے ان کو مستند مانا جاتا ہے اور علماء ومفتیان انتظار میں لیٹے ہوئے ہیں کہ جب امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو انکے چوتڑوں پر لاتیں مار مار کر ان کو گمراہی کی دلدل سے نکالیںگے۔اللہ نے قرآن میں فرمایاکہ: زانی اور زانیہ کو کھلے عام100،100کوڑے لگاؤ اور اس پر کچھ لوگوں کو گواہ بھی بنالو۔ جب تک حلالہ کی لعنت میں مبتلاء علماء ومفتیان کو100،100کوڑے سرعام لگانے کا تماشہ لوگوں کو نہیں دکھایا جائے گا تو انہوں نے اس حلالہ کی لعنت اور اس کی لذت آشنائی سے باز نہیں آنا۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو جب سودی بینکاری پرمعاوضہ اور مراعات مل رہے تھے تو سارے علماء اور مفتیان کے مشوروں ، نصیحتوں، فتوؤں ، وعیدوں اور ملامتوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ہٹ دھرمی کے مظاہرے پر زبردست طریقے سے ڈٹے رہے۔ جب حاجی محمد عثمان اور انکے معتقدین پر فتوے لگائے گئے تھے تو اس وقت ہم نے ان سب کی علمی اور ایمانی حیثیت کو اچھی طرح سے بھانپ لیا تھا کہ یہ کیا چیز ہیں؟۔
جب آیت224البقرہ میں لوگوں کے درمیان صلح نہ کرنے کیلئے اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرنے سے منع فرمایا تو پھر آیت230میں میاں بیوی کے درمیان صلح کا راستہ روکنے کی تضاد بیانی کیسے کرسکتاہے؟۔
جب آیت225البقرہ میں واضح فرمایا کہ اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے نہیں پکڑتا ہے مگر دل کی کمائی پر پکڑتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ صلح کی راہ میں الفاظ کی بنیاد پر رکاوٹ ڈالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
جب آیت226البقرہ میں طلاق کا اظہار کئے بغیر ناراضگی میں انتظار کی عدت4ماہ ہے جس میں صلح سے رجوع ہوسکتا ہے اور آیت227البقرہ میں ہے کہ ”اگر طلاق کا عزم تھا تو اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ جس کا مطلب ہے کہ طلاق کا عزم ہی دل ہی کا گناہ ہے اسلئے کہ اس کا اظہار نہ کرنے کی وجہ سے عدت ایک ماہ بڑھ گئی ۔ اگر طلاق کا اظہار ہوتا تو پھر3ادوار یا3ماہ تک انتظار کرنا پڑتا جوآیت228البقرہ میں ہے۔
ان آیات226اور228البقرہ میں عدت کے اندر باہمی رضامندی سے4ماہ تک اور3اداوار یا3ماہ تک رجوع کی نہ صرف گنجائش ہے بلکہ یہ بھی واضح ہے کہ رجوع کا تعلق طلاق کے عدد سے نہیں بلکہ عدت سے ہے۔ یہ قاعدہ اور کلیہ کسی ان پڑھ ، کم عقل اور انتہائی ضدی شخص کے سامنے رکھاجائے تو بھی یہ وضاحت سمجھ میں آتی ہے کہ صلح کی شرط پر اللہ نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ہے اور صلح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
آیت229البقرہ میں 3مرتبہ مرحلہ وار طلاق کے بعداس صورتحال کا ذکر ہے کہ جب میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے یہ طے کرلیں کہ آئندہ صلح کیلئے رابطہ کی کوئی ادنیٰ صورت بھی نہیں چھوڑنی ہے تو پھر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ صلح کی صورت میں رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طلاق کے بعدوہ عورت کسی اور شوہر سے اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے یا نہیں ؟۔ اس رسمِ بد کا خاتمہ کرنے کیلئے اللہ نے یہ واضح کیا کہ اس طرح سے طلاق دی ،جس میں باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش نہیں چھوڑی تو پھر عورت جب تک کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو وہ پہلا شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ آیت230۔ حالانکہ اللہ نے آیت226اور228البقرہ میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ طلاق کے بعد بھی عورت کی رضامندی کے بغیر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں لیکن جب تک آیت230کے سخت الفاظ کا استعمال نہیں کیا تو علماء کو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ باہمی اصلاح ورضامندی کے بغیر رجوع کرنا حلال نہیں ہے۔ یہ آیت محور بن گئی کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اسکے بعد آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کا واضح الفاظ میں ذکر کیا ہے لیکن مجال ہے کہ حلالہ کی لذت کے متوالے قرآن کی طرف رجوع کریں اور سورۂ بقرہ کی ان تمام آیات کا خلاصہ سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں موجود ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن وسنت اور حنفی مسلک میں حلالہ کی لعنت نہیں مگر نفس پرستوں نے کھیل بگاڑدیاہے!

قرآن وسنت اور حنفی مسلک میں حلالہ کی لعنت نہیں مگر نفس پرستوں نے کھیل بگاڑدیاہے!

طلاق ایک شرعی مسئلہ تھا اور عوام الناس کے دل ودماغ میںقرآن وسنت کی سمجھ نہیں تھی، اب سودی بینکاری معاشی نظام ہے اور عوام بھی اس کی سمجھ رکھتے ہیں مگر پھراس کو کس طرح اسلامی بنادیا؟

اُٹھو، لوگو، آنکھیں کھولو!۔اندھو،گونگو سچ بولو۔ کانوںسے سنو،دِلوں سے سمجھو!۔ عقل سے عاری مت بنو، ٹھیک تولو۔ کم ہنسو اور زیادہ رولو۔اتنا لیٹنا ٹھیک نہیں ہے ، اٹھ بیٹھو اورکروٹ بدلو!

ہم نے بفضل تعالیٰ تین طلاق، اس سے رجوع اور حلالہ کی لعنت کے خاتمہ پر مسلسل کتابیں لکھیں، اخبار میں مضامین شائع کئے اور سوشل میڈیا پر بیانات بھی جاری کئے ہیں لیکن اسکے باوجود رمضان المبارک میں طلاق کے مسئلہ پر تسلسل کیساتھ اسی طرح سے مین اسٹریم میڈیا پرجہالتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔جس کو جہالت کہا جائے؟۔ دانستہ قرآن وسنت اور امت مسلمہ کا بیڑہ غرق کرنے کا سلسلہ کہا جائے؟۔ بیماری سمجھنے کیلئے یہ بات سمجھ لی جائے کہ مارکیٹ میں سود اور اسلامی بینکاری پر مفتی محمد تقی عثمانی کے خلاف دیوبندی مدارس کے معروف علماء و مفتیان کا فتوی ہے لیکن آج سبھی نے ہتھیار پھینک دئیے البتہ مولانا طارق جمیل نے عید پر میڈیا کو انٹرویو میں کہاہے کہ ” نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتاہے، اسلامی بینکاری اور قسطوں کا کاروبار سود ہے۔جس میں پاکستان سے زیادہ دنیا بھر کے لوگ پھنسے ہوئے ہیں”۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر5سو سال بعدسودی نظام کو اسلامی قرار دیا جائے گا۔ حلالہ کی لعنت کا بھی سلسلہ اسی طرح سے کچھ عرصہ قبل جاری ہوا تھا اور پھر یہ مدارس کا نصاب بن گیا اور آج اس لعنت کو لوگ اسلام کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں پہلے علامہ ابن تیمیہ اورابن قیم کے مسلک پر عمل ہوتا تھا پھر انہوں نے بھی مسلک حنفی کے نام نہاد ماہرین کی ٹیم بلاکر نام نہاد حنفی مسلک کے مطابق اکٹھی تین طلاق کا فتویٰ جاری کردیاہے۔
سورۂ طلاق میں مسئلہ طلاق کی بھرپور وضاحت ہے۔ عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنا اور دو عادل گواہ مقرر کرنے کی وضاحت۔ سورۂ النساء میں خلع اور طلاق کی وضاحت ۔ اگر سورۂ طلاق اور سورۂ النساء کی وضاحتوں کو بھرپور طریقے سے سمجھ لیا جاتا تو سورۂ بقرہ کی آیات کا بھی بھرپور طریقے سے خلاصہ سمجھ میں آجاتا۔ پھر امت مسلمہ کو بے انتہاء الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ قرآن کی تمام آیات میں زبردست ربط وضبط ہے اور قرآنی آیات میں کوئی اور کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ احادیث صحیحہ سے بھی قرآن کا کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگر قرآن وسنت اور اجماع کو حفظ مراتب کے ساتھ سمجھنے کی ایک مرتبہ کو شش کی جائے تو پھر امت مسلمہ اور عالم انسانیت کا اسلام کے دین فطرت پرنہ صرف اتحاداور اتفاق ہوجائے گا بلکہ تمام مذاہب اور عالم انسانیت وحدت کی راہ پر گامزن ہوجائیںگے۔ طلاق اور خلع کے مسئلے کو اس غلط طریقے سے الجھادیاگیا ہے کہ عالم انسانیت تو بہت دور کی بات ہے مسلمانوں کے مسالک یا فرقوں کا بھی اس غیرفطری انداز پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔ جس طرح سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا گیا ہے اور لوگ اس کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ خطرناک طریقے سے 3طلاق اور حلالے کا مسئلہ الجھایا گیا ہے۔ ریاستی اور حکومتی سطح پر اہتمام ہو تو ہم اس مشکل سے نکل سکتے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے سودی بینکاری کی قیادت کرکے اپنا نام حیلہ سازوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اب اس کو وفاق المدارس پاکستان کا صدر بنادیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے جتنے صدور تھے مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سب نے اس نام نہاد اسلامی بینکاری کو سودی نظام قرار دے دیا ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی، مفتی زر ولی خان اور مولانا عبداللہ درخواستی کے جانشینوں کو چاہیے کہ اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام کیلئے اُٹھ کھڑے ہوں اور پورے پاکستان کے علماء کی قیادت کا حق ادا کریں۔ قرآن کے بہت سارے واضح احکام بالکل مسخ کئے گئے ہیں اور ہم نے فقہ واصول فقہ کی کتابوں کے علاوہ احادیث کی کتب سے بھی بہت ساری چیزوں کی ایسی نشاندہی کردی ہے کہ پوری امت مسلمہ اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہوسکتی ہے۔ فرقہ واریت اور حیلہ سازی کا ناسور اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان بھی مٹادے گا۔ جب سود اسلامی بن گیا تو کتے کی دم کا داڑھی بننا رہ گیا؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن میں حلالہ کی لعنت کا خاتمہ ہے لیکن علماء اورفقہاء نے قرآن چھوڑ کر معاملہ اُلٹ دیا

قرآن میں حلالہ کی لعنت کا خاتمہ ہے لیکن علماء اورفقہاء نے قرآن چھوڑ کر معاملہ اُلٹ دیا

عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پرفرمایا کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے ”۔ (البقرہ آیت229)پھر نبی ۖ نے فرمایا کہ ” دو مرتبہ طلاق کے بعد قرآن میں تیسری طلاق اسی آیت میں یہی احسان کیساتھ چھوڑنا ہے”۔اور پھر نبی ۖ حضرت ابن عمر پرحیض میں طلاق دینے پر بہت غضبناک ہوئے اور حکم دیا کہ ” رجوع کرلو۔ پھر پاکی کے دنوں میں طلاق دے دو، یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے اور پھر پاکی کے دنوں میں چاہو تو رجوع کرلو اور چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دیدو۔ یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ہے”۔( بخاری)
قرآن و حدیث میں ہے کہ ایک سے زیادہ مرتبہ طلاق کا تعلق عدت میں پاکی کے دنوں سے ہے۔جب حیض آتا ہو۔ آیت228میں عدت کے تین ادوار کا تعلق حیض وطہر سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ” عدت میں انکے شوہر ان کو باہمی اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔(228البقرہ)
ایک مرتبہ میں3طلاق دیدئیے جائیں یا الگ الگ مراحل میں ، بہرحال اللہ نے واضح طور پر صلح کی شرط پر عدت کے دوران ان کے شوہروں کو ہی رجوع کا زیادہ حق دار قرار دیا ہے۔ البتہ جب عدت گزر جائے تو پھر اگرچہ وہی شوہر بھی معروف طریقے سے یعنی صلح کی شرط پر رجوع کا حق رکھتا ہے لیکن کسی اور کو بھی نکاح کرنے کا پورا پورا حق مل جاتا ہے۔ اگر شوہر نے ایک مرتبہ طلاق دے دی تو عدت تک عورت پہلے شوہر کے نکاح میں رہنے کی پابند ہے اور صلح کی شرط پر وہی شوہر زیادہ حق رکھتا ہے کہ وہ اس کو لوٹائے لیکن صلح کی شرط نہ ہو تو عورت کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اور وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور شوہر سے بھی نکاح کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں معانی اور حقائق کا توازن موجود ہے لیکن افسوس کہ اس طرف آج تک امت نے کوئی اجتماعی توجہ نہیں کی۔ جس کی شکایت اللہ نے قرآن میں درج کی کہ ” رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ (سورة الفرقان )
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر اتنے جذباتی تھے کہ قرآن کے واضح احکام کو پسِ پشت ڈال کر ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع نہ کرنے کا فیصلہ جاری کردیا؟۔ اتنی بڑی طلاق بدعت کے مرتکب ہوگئے؟۔ قرآن وسنت سے امت مسلمہ کو انحراف کی راہ پر ڈال دیا ؟۔ امت مسلمہ کے اختلافات اور گمراہی کا سبب بن گئے؟۔ اہل تشیع بیچاروں کو تو غمِ حسین سے اتنی فرصت نہیں تھی کہ یزید کو چھوڑ کر حضرت عمر کے خلاف بکنے کی جسارت کرتے لیکن اہل سنت نے خود ایک جلیل القدر صحابی حضرت عمر فاروق اعظم کی طرف طلاق بدعت کو منسوب کیا اور قرآن وسنت سے انحراف کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ جب قرآن وسنت میں طلاق کا حکم اور طریقہ الگ تھا اور حضرت عمر نے اس سے انحراف کرکے امت کو بدعت پر ڈال دیا تو بہت سارے لوگ اہل سنت کے مسلک کو چھوڑ کر اہل تشیع بن گئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے داماد علامہ زعیم قادری بھی بدترین شیعہ بن گیا تھا۔
حنفی مسلک یہ ہے کہ” اگر کوئی صحیح حدیث بھی قرآن سے متصادم ہو تو اس کو چھوڑ دو۔ البتہ اگر تطبیق ہوسکے تو پھر دو ضعیف احادیث میں تطبیق کرو”۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر کی وجہ سے قرآن کی واضح آیات اور احادیث صحیحہ سے انحراف کیا جائے؟۔ فقہ کی کتابوں میں بہت سارے معاملات کے اندر حضرت عمر سے فقہ حنفی نے بھرپور اختلاف کیا ہے جو بالکل اور بہت زیادہ عیاں ہیں۔
طلاق کے مسئلے میں حلالہ کے شوقین حضرات نے گنگا کو الٹا بہانے کی کوشش کی ہے۔ جب قرآن میں واضح ہے کہ صلح کی شرط پر عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور ایک بار میں بھی دو طلاقیں نہیں ہوسکتی ہیں ایک ساتھ تین طلاق تو بہت دور کی بات ہے تو چاہیے تھا کہ حنفی اصول فقہ کے مطابق نہ صرف حضرت عمر کے فیصلے کو بلکہ اگر اس سلسلے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی تو اس کی فقہ کی کتابوں میں تردید کی جاتی۔ لیکن افسوس کہ شافعی فقہاء نے حضرت عمر کے قول کو سنت اور حنفی فقہاء نے بدعت قرار دیکر قبول کیا۔ شافعی فقہاء نے حدیث سے اپنا مسلک ثابت کرنے کی کوشش کی اور حنفی فقہاء نے بھی حدیث سے اپنا مسلک ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور ساتھ میں قرآنی آیات کی تفسیر میں بہت بری طرح توڑ مروڑ کی ناکام کوشش فرمائی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ قرآنی آیات میں بھرپور وضاحتوں کے باوجود اس سے معنوی تحریف کا ارتکاب کتنا زیادہ بدترین خطرناک ہتھکنڈہ ہے؟۔
اگر حلالہ کی لعنت سے جنسی لذات کا فائدہ اٹھانے والے قرآن کے ٹھوس ، واضح اور فیصلہ کن آیات کو دیکھتے تو حضرت عمر کی طرف بھی یہ بڑی غلطی منسوب کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ شارٹ کٹ میں یہ فیصلہ کرتے کہ جب اللہ نے عدت میں باہمی اصلاح وصلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت دی ہے تو پھراس کے مقابلے حضرت عمر کا فیصلہ تو بہت دور کی بات ہے کوئی صحیح حدیث بھی قابل قبول نہیں ہے۔ تفصیلی فیصلہ میں لکھ دیتے کہ حضرت عمر اتنے کم عقل نہیں تھے کہ اس طرح قرآنی آیات کے منافی واضح فیصلہ کرتے۔ حضرت عمر کے دربار میں شوہر فیصلہ اسلئے لایا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ اگر وہ راضی ہوتی تو فیصلہ کرنے کیلئے حضرت عمر کے دربار تک بات پہنچنے کی ہرگزضرورت پیش نہ آتی۔ جب عورت راضی نہیں تھی تو قرآن کا یہ فیصلہ ہے کہ صلح واصلاح کے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے ،اسلئے بلاشبہ حضرت عمر کا فیصلہ قرآن کے عین مطابق100%درست تھا ۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ۖ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دوتین سالوں تک ایک ساتھ تین طلاق ایک شمار ہوتی تھی اور پھر حضرت عمر نے ایک ساتھ تین کا فیصلہ جاری کردیا۔ صحیح مسلم کی اس روایت میں قرآنی آیات کے مطابق یہ تطبیق ہے کہ پہلے اکٹھی تین طلاق پر جھگڑارہتا تھا لیکن عدت میں رجوع کا دروازہ بھی کھلا ہوتا تھا اور جب حضرت عمر تک معاملہ پہنچادیا گیا تو آپ نے علیحدگی کا فیصلہ دے دیا۔ اگر اس سے پہلے بھی جھگڑا کسی حکمران کے دربار یا مفتی کے دارالافتاء میں پہنچتا تو یہی فیصلہ اور فتویٰ ملنا تھا لیکن اتفاق سے حضرت عمر کے دور میں یہ معاملہ پیش آیا۔ باقی فسانہ بعد میں بنایا گیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

مذاکراتی ٹیموں کو صلیب پر چڑھانے والی لیڈر شپ تثلیث کھل کر خود سامنے کیوں نہیں آتی ہے؟۔ کوئی خفیہ وفیہ ہاتھ نہیں بلکہ سوار ، سواری اور ہنکانے والی قیادت کا آئینہ سامنے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی قیادت مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفی کے نام سے کی تھی۔ مارشل لاء لگنے کے بعد جمعیت علماء اسلام نے بھی رجعت پسند قوتوں کے ساتھ کچھ وزارتیں ہتھیا لی تھیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے بینظیر بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کی تحریک چلائی۔ کیا عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی تو مولانا اسعد محمود ٹیرن وائٹ کے ساتھ تحریک چلائے گا؟۔ جتنی نفرت آج عمران خان سے ہورہی ہے اس سے زیادہ ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف پیدا کی گئی تھی۔ نیولے اور سانپ کی لڑائی میں چڑیوں کاکام نہیں ۔ عوام چڑیوں کی طرح ہیں ۔نیولے اور سانپ میں لڑائی بھڑائی ہو، مار کٹائی ہو، چھیڑ چھڑائی ہو،کھیل تماشائی ہو لیکن خیرچڑیوں کی بھی نہیں ہوتی۔
مولانا فضل الرحمن پر جس طرح کے کارٹون ہیں۔ مذہبی طبقہ بھی سیاسی طبقے کیساتھ شانہ بشانہ مخالفت میں لگا ہوا ہے۔ پشاور اور چارسدہ میں تمام پارٹیوں اورمذہبی و لسانی تعصبات اُبھارنے کے باوجود عمران خان سے بدترین شکست کھائی تو الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اسی وقت سے شروع کیا۔ جمہوریت رائے عامہ ہموار کرنے کا نام ہے ۔13پارٹیوں کا متحد ہوکر الیکشن اور آئین سے جنگلی گدھوں کی طرح بدکنا اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ حکومت الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ہم پہلے سے کہتے تھے کہ جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جنم لیا ہے اور ساری زندگی فوج کی ٹانگوں میں گھس کرگزاری ہے تو کیا70سالوں تک فوجی پتلونوں کے اندر اپنے سروں کے بال گھسانے والے انقلابی بن سکتے ہیں؟۔ کھریاں کھریاں کے راشد مراد نوازشریف کے مخالفین کو جرنیلی سیاست ہزار بار کہے لیکن کینگرو کے بچے کا سب کو پتہ ہے کہ کون ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے نظریاتی ساتھیوں کو سائیڈ لائن لگادیا ہے جن کے خلاف لڑنا تھا ،ان کی پیٹھ پر سوار ہیں۔ نواز شریف نے علامہ طاہرالقادری کو غارِ حرا پیٹھ پر لاد کر چڑھایا تھا لیکن پھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں اسکے14بندے مار دئیے اور بہت سارے زخمی کردئیے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں سود کے خلاف آواز اٹھانے پر میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا شکار کردیا۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”نوازشریف نے میرے ساتھ وعدے پورے نہیں کئے تو مجھے کب سے اتنا سادا سمجھ لیا ہے کہ نوازشریف پر اعتبار کروں؟۔ جب لوگ جمعیت علماء اسلام کو بڑے پیمانے پر اسمبلی میں بھیجیں گے تب ہی اسلام نافذہوسکے گا”۔ جو نظر آرہاہے وہ آئینہ مولانا کو دکھارہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری اور اسحاق ڈار کی سودی بینکاری میں کیا فرق ہے؟۔مولانا کو ایسی جعلی سیاست، جعلی جمہوریت، جعلی اسلام کے گدھے سے اترنا پڑے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

اسلامیہ کالج کراچی کی بلڈنگ اس کے مالک قریشی صاحب نے تعلیم کیلئے وقف کررکھی تھی!

مالک کی پوتی حسنہ بیگم غاصبوں کیخلاف جنگ لڑرہی ہیں ،انکا ساتھ دینا سب کابڑا فرض ہے

اسلامیہ کالج سے اس شہر کے لاکھوں طلباء نے تعلیم حاصل کی ہے۔ایڈیٹر نوشتہ دیوار ملک محمد اجمل اور نمائندہ نوشتہ دیوار اور ماہر معیشت شاہد علی اسلامیہ کالج کے مالک قریشی صاحب کی پوتی حسنہ بیگم کیساتھ بیٹھے ہیں۔ حسنہ بیگم آج کل امریکہ سے پاکستان آکر ان غاصب قوتوں سے لڑ رہی ہیں جو اسلامیہ کالج میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو بند کر کے اسے فروخت کرنا چاہ رہی ہیں۔
اسلامیہ کالج کراچی شہر کے اہم ترین مقام پر واقع ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی اہم ترین تاریخ وابستہ ہے۔ حسنہ بیگم کے جد امجد قریشی صاحب نے یہ جگہ اسلامیہ کالج کیلئے وقف کی تھی۔ جب حسنہ بیگم کو امریکہ میں پتہ چلا کہ یہاں کراچی میں اسلامیہ کالج کو ایک ساز ش کے تحت عدالتی حکم کے ذریعے طلباء سے خالی کیا گیا ہے تو وہ دستاویزات لے کر پاکستان تشریف لائی ہیں۔
ایک صحافی نے حسنہ بیگم سے10لاکھ روپے کوریج کیلئے مانگ کر صحافیوں کی ناک کٹادی لیکن ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل نے اس کو جھڑک دیا کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ اسلامیہ کالج کراچی کے متوسط طبقے کیلئے وہ علمی درسگاہ ہے جس سے ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ اس سے طلبہ اور تعلیمی سلسلے کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے اندر موجود باضمیر ججوں کو مفاد پرستی سے آزاد عدلیہ کے ذریعے سے ہی عزت وتوقیر مل سکتی ہے۔
ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنی غلطی دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں بیان جاری کیا کہ لندن ایون فیلڈ کے فلیٹ2005میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006میں خریدے۔ جس میں کچھ اور دوستوں نے بھی مدد کی اور پھر قطری خط عدالت میں لیکر آگئے اور پھر اس سے بھی مکر گئے۔ مریم نواز نے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرلیا لیکن عدالتوں کے خلاف مسلسل بلیک میلنگ کا بیانیہ جاری ہے۔ عدالتوں نے جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کو تحفظ دینا ہے تو یہ ان کی مرضی ہے یا مجبوری لیکن قوم، ملک اور سلطنت کروٹ بدل رہاہے اور سب تاریخ میں یاد رکھے جائیںگے۔ عدالت کو آزادانہ فیصلے نہیں کرنے دئیے گئے۔ آئین کا قلع قمع کیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں فوج کو بھی نکیل ڈال دی جائے گی۔
ہمیں ایسے اشرافیہ سے کوئی ہمدردی نہیں جو ایکدوسرے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوں لیکن پاکستان میں جتنے بھی ریاستی ادارے ہیں ان کا ایک آزاد اور مثبت کردار ملک وقوم کی سخت ضرورت ہے۔ جمہوری سیاسی جماعتیں آئین، عدالت اور الیکشن سے بھاگ رہی ہیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ عمران خان ایک بے سدھ اور بے اعتبار انسان ہے ۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو جتنی گالیاں عمران خان اور شیخ رشید نے دی ہیں وہ تاریخ میں ایک بہت بڑی مثال ہیں لیکن آج اپنے تھوکے ہوئے کو چاٹنے پر مجبور ہیں اور یہی تو جمہوریت کی خوبی ہے۔ تحریک انصاف کا سارا سوشل میڈیا چوہدری پرویز الٰہی کو گالیاں دیتا تھا لیکن کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ عمران خان کو بول سکے کہ تم نے چوہدری کیساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اسلئے کہ جب اس کوPDMنے وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا تہیہ کرلیا تو آپ نے اس پر ہلہ بول دیا۔ پھر اس کو اسمبلی توڑنے پر بھی مجبور کردیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو برا بھلا کہنا تھا تو اپنے ساتھ بٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ یہ چوہدری پرویز الٰہی کی شرافت تھی کہ اس نے پنجاب میں اپنی حکومت کو عمران خان کی امانت قرار دیا۔ حالانکہ یہ عمران خان کی خیانت تھی کہ چوہدریوں کے درمیان بھی دراڑ ڈال دی اور حکومت کو بھی ختم کرادیا۔
چوہدریوں کے گھر کی بے عزتی کے پیچھے اگر مریم نواز اور نوازشریف نہیں تھے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟۔ ہماری قوم اس قدر بے حس بن چکی ہے کہ ایک کھلاڑی کو سب سے مقبول سیاستدان بنادیا لیکن اس میں ایک طرف موجودہ سیاسی جماعتوں کا منافقانہ کردار ہے تو دوسری طرف کرکٹ کے چھکے اور چوکے پر لوگ دورۂ قلب سے موت کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن کسی عزتدار عورت کی عزت لٹ جانے سے ان بے غیرتوں اور بے ضمیروں کو دورے نہیں پڑتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت کے نام پر بھی عزتیں لٹتی ہیں اور شیخ الاسلام سود کو اپنی اماں سے زنا کے برابر گناہ کہہ کر بھی عالمی سودی نظام کو چند ٹکوں کی خاطر جواز فراہم کردیتا ہے۔ نبی ۖ نے دجال سے زیادہ خطرناک ایسے قائدین اور حکمرانوں کو قرار دیا ۔ جس کا حوالہ مفتی رفیع عثمانی کی کتاب ” علامات قیامت اور نزول مسیح ”میں موجود ہے۔ ہمارا مقصد زور دار طریقے سے دستک دینا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

جماعت اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظام ، امریکہ اور جنرل ضیاء الحق کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا تھا۔ مولانا مودودی مزدوروں کے یوم یکم مئی کے مقابلے میں شہدائے بدر کا دن منانے کا کھیل کھیلتے تھے۔ جب سراج الحق نے پہلی مرتبہ سرخ ٹوپی پہن کر یومِ مزدور میں ریلوے کے ملازمین کے ساتھ شرکت کی تھی تو ہم نے ٹوپی ڈرامے کو علامات قیامت کی ایک نشانی قرار دیا تھا۔ آج جماعت اسلامی شکا گو کے شہیدو کو سلام پیش کررہی ہے۔
اب اشارہ مل جائے تو جماعت اسلامی سقوط افغانستان اور یوم فتح افغانستان منانا شروع کردے لیکن انجینئرگلبدین حکمت یاراپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکاتھا۔ جماعت اسلامی افغانستان میں بالکل دفن ہوگئی ہے۔ جہادِ کشمیر، جہاد افغانستان، جہاد فلسطین اور جہاد اسلام سب کچھ بھول بھال کر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اب قوم پرستی کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ محسن داوڑپر ایک مہمان کی حیثیت سے جوکرسیاں چلائی گئی تھیں ،اس پر پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان نے بہت شرمندگی سے معافی مانگی تھی اور ساری جماعتوں کی طرف سے جماعت اسلامی کے معافی مانگنے تک بائیکاٹ اور اپنے اتحاد سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ صاحبزادہ ہارون الرشید آج بھی جماعت اسلامی کا اثاثہ ہیں جس نے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔
جب پرویزمشرف کے دور میں وکلاء تحریک نے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی کیلئے قربانی دینا شروع کی تھی تو سیاستدان بھی میدان میں نکلے تھے۔ عمران خان کو وکلاء تحریک کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ نے یرغمال بنایا تھا اور جماعت اسلامی لاہور کے امیرالعظیم کی طرف سے اپیلیں کرنے اور انتہائی شرمندگی کے اظہار کے باوجود بھی جمعیت کے طلبہ عمران خان کو نہیں چھوڑ رہے تھے، جماعت اسلامی کا سب سے بڑا کمال بھی یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ان کو قیادت مل رہی ہے لیکن سب سے بڑا زوال بھی یہ ہے کہ طلبہ تنظیم کے وقت سے جو تشدد ، فریب، ڈکٹیٹر شپ اور غیر جمہوری رویہ دل ودماغ میں بیٹھا ہوتا ہے تو وہ سیاست کے میدان میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔ جاوید ہاشمی ایک اچھی طبیعت کی قابلِ قدر شخصیت ہیں مگر جن ڈرامہ بازیوںکو طلبہ کے وقت میں جماعت اسلامی سے سیکھا تھا وہ بڑھاپے میں ان میں لوٹ رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں جانے سے بہت روکا تھا لیکن پھر بھی وہ گئے تھے۔ پھر تحریک انصاف سے یہ کہہ کر جاوید ہاشمی نکلا تھا کہ ” اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کی توقع پر عمران خان کو نہیں رہنا چاہیے۔ مجھے ان کے مزاج کا پتہ ہے وہ کوئی مدد نہیں کریںگے۔ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن کوئی دوسرا استعفیٰ نہیں دے گا۔ میری بات یاد رکھیں”۔ پھر جاوید ہاشمی کہتا تھا کہ جو میں نے کہا تھا ، عمران خان کے ساتھ آخر وہی ہوا ہے۔ آج جاوید ہاشمی کہتا ہے کہ ” عمران خان کو میں نے روکا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کا سہارا مت لینا ، یہ بہت نقصان دہ ہے”۔ حالانکہ ہوا یہی تھا کہ جب عمران خان کو توقع تھی تو اسٹیبلشمنٹ نے مدد نہیں کی اور اس کی وجہ سے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف چھوڑ دی۔ جب تحریک انصاف کو مقبولیت مل گئی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی ساتھ دیا لیکن پھر جاوید ہاشمی ساتھ نہیں رہے تھے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کی اصلاح کے بغیر جماعت اسلامی کے کسی قول ، فعل، جمہوریت، اسلام، جہاد اور قوم پرستی پر یقین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں بہت باصلاحیت لوگ اپنی زندگی کا اصل مقصد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں۔ ابن الوقتی ، بدمعاشی، منافقت اور درجن بھر ایسی صفات جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے پیدا ہوجاتی ہیں جن کو اسلام اور جمہوری سیاست کا نام دیا جاتا ہے لیکن وہ اسلام اور جمہوریت سے بالکل عاری ہوتی ہیں۔ مولانا مودودی نے تعلیم وتربیت کیلئے مدارس اور خانقاہوں کو ایک اضافی چیز قرار دیا تھا لیکن مدارس اور خانقاہیں اسلام کیلئے زبردست تربیت گاہیں تھیں اور اپنی جماعت اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت کو پھر بدعت نہیں سنت قرار دیا تھا لیکن ان میں علم وعمل ، اخلاص وتربیت اور ایمان واسلام کی جگہ دوسری چیزیں ڈالی جاتی ہیںجن میں ایک سیاسی قوت کا حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ جب غلط طریقے سے قوت حاصل کی جائے تو اسلام وایمان کے علاوہ اس کو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سرشست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور قوم پرستوں کی سخت مخالفت ہے لیکن فضاؤں کا رُخ دیکھ کرجماعت اسلامی بھی اپنا مذہب تبدیل کررہی ہے۔
مدارس کے علماء کرام اور خانقاہوں کے مشائخ عظام نے ہمیشہ عوام و خواص کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا ہے۔ جو دیوبندی بریلوی مدارس میں بہت احترام کیساتھ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک پڑھاتے ہیں اب ان میں فرقہ واریت میں مبتلاء جاہل طبقہ آپس کے معمولی معمولی اختلافات کو بھی پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان جس طرح اختلافات سے دونوں میں تفریق ہوئی تھی تو اس سے زیادہ علماء ومشائخ میں بھی نہیں ہے اور دیوبندی بریلوی ایکدوسرے کو اعتدال پر لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں اطراف میں جہالت کے باعث شدت پسندی بھی ہے اور دونوں اطراف میں اعتدال پسند بھی ہیں۔ اگر دونوں اسلام کی نشاة ثانیہ کی طرف متوجہ ہوں اور اہل حدیث واہل تشیع کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں تو بہت سارے معاملات میں ایک پرامن جمہوری انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اختلافات اور اجتہادی غلطیاں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان نے اسلامی جمہوری محاذ کے نام سے اتحاد کیا تھا جس میں مولانا فضل الرحمن اور علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں خاطر خواہ نتائج اسلئے برآمد نہیں ہوسکے کہ ان کے پیچھے علمی اور عملی طاقت نہیں تھی۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ان اغلاط کو سلیس انداز میں ”تفہیم القرآن” کے ترجمہ وتفسیر میں پیش کیا ہے جو علماء ومشائخ سے اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں۔ علماء ومشائخ کیلئے اجتہادی غلطیوں سے اعلانیہ توبہ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی اجتہادی غلط تفسیر اور ترجمہ سے بھی توبہ نہیں کرنا ہے اسلئے کہ جماعت اسلامی کے علماء کی حیثیت ملازمین کی ہے اور باقی جماعت اسلامی مولانا مودودی کی پوجا کرتی ہے۔ جس شخصیت مولانا مودودی نے یہ سکھایا تھا کہ قرآن اور سنت کے مقابلے میں کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اس کی اپنی جماعت کا اس طرح شخصیت پرستی کا شکار ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام پر1970میں فتوے لگے تھے تو اس میں جماعت اسلامی ، دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مسلم لیگی قیادت سرِ فہرست تھی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کی طرح ان قوتوںکے آلۂ کار بن گئے ہیں۔ مفتی محمود نے توبہ کرکے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت شروع کردی تھی لیکن زکوٰة کے مسئلہ پر مفتی تقی عثمانی کے جبری پان اور مفتی رفیع عثمانی کی طرف سے لائی ہوئی دورۂ قلب کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والا مولانا فضل الرحمن اب اس کی سودی بینکاری کو بھی مشرف بہ اسلام قرار دے رہاہے۔ جب اسلام دین اکبری والا ہو اورنواز شریف کی مغل سلطنت کیلئے مولانا فضل الرحمن اپنا سیاسی کردار ادا کررہے ہوں تو انصار الاسلام کے نام سے جھنڈے اٹھانے والوں کو خبردار ہونا چاہیے۔ میں نے کبھی جمعیت علماء اسلام و طلباء اسلام کی رکن سازی کا فارم نہیں بھرا ہے مگر جب مولانا پر فتوے لگ رہے تھے تو انکا دفاع کیا ہے اور جمعیت کا زیبرائی جھنڈا لے کر ایک مرتبہ تمام انصار الاسلام کا کردار بھی ادا کیا ، جب مولانا لیبیا سے آئے تھے اور مدارس کے علماء و طلبہ نے استقبال کیا تھا۔ مولانا نے مجھے رات کو اپنے ہاں عبدالخیل میں رُکنے کا کہا تھا کہ ” ذکر اور مراقبہ کراؤ”۔ میں نے کہا تھا کہ ”صوفی نہیں سیاسی مراقبے کراؤں گا”۔ پیر ذوالفقار اچھا مگر کم عقل آدمی ہے اسلئے سیاست اور فرقہ واریت کی تبلیغ کرتا پھر رہاہے اور یہ تصوف کا بہت بڑازوال ہے جو روحانیت نہیں دولت کی چمک ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج کے سپاہیوں کوسبز سلام

پاک فوج کے سپاہیوں کوسبز سلام
یوم مئی کے مزدوروں کو سرخ سلام

عید پر چھٹی نہ ملنے پر رینجرز کے جوان نے گھر والوں کی یاد میں کمال نظم لکھ دی۔

صحافی حنا نیازی اور سپاہی زکریا
سپاہی سے محبت ایمان کا تقاضا؟
اس وقت میرے ساتھ موجود ہیں سپاہی زکریا۔ انہوں نے ایک بہت ہی خوبصورت نظم لکھی ہے۔ پہلے تو پس منظر جانتے ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ نظم؟۔
حنا نیازی سنو نیوز: السلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟۔
وعلیکم السلام! الحمد للہ میں ٹھیک ہوں۔
حنا نیازی : مجھے یہ بتائیں کہ جو نظم آپ نے لکھی ہے وہ کیوں لکھی اور کب لکھی؟۔
سپاہی زکریا: یہ ایسا ہے کہ جب بھی کوئی تہوار آتا ہے عید کا موقع آتا ہے یا کوئی خوشی کا موقع آتا ہے تو ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم لوگ بھی گھر جائیں۔ گھر والوں کے ساتھ اپنی خوشیاں شیئر کریں۔ ان کے ساتھ خوشیاں بانٹیں۔ تو ایسا ہی کچھ ہوا پچھلے سال میرے ساتھ میری چھٹی نہیں ہوسکی کسی وجہ سے۔ میں ڈیوٹی پر بیٹھا ہوا تھا تو ہمارے بھی جذبات ہوتے ہیں تو ہمارے ساتھ ایسا واقعہ ہوا تو وہاں بیٹھ کر میں نے یہ نظم لکھی تھی۔
حنا نیازی سنو نیوز: اچھا چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے لگاتار دو بار آپ کو چھٹی نہیں ملی تو آپ تو آپ تھوڑے سے اموشنل ہوگئے اور آپ نے یہ پوئم لکھی؟۔
سپاہی زکریا: جی بالکل ، یہ نظم اس طرح ہے کہ جیسے میں بیٹھا ہوا تھا ادھر اور ایک سولجر چھٹی پر نہیں گیا تو کوئی بندہ جاکر اس کا حال پوچھتا ہے کہ کیا حال ہے کیسا محسوس کررہے ہیں؟۔ کیسے عید گزر رہی ہے؟۔ تو میں نے وہ اس موضوع پر لکھی تھی کہ
کیا پوچھتے ہو ہم سے
کیسے گزری عید ہماری
صبح سویرے نکالی وردی
ڈیوٹی کی کی تیاری
دل میں ارمان بہت تھے
اس بار تو گھر چھٹی جاؤ ں گا
ماں باپ بہن بھائی عزیزوں کے ساتھ عید مناؤ ں گا
دل میں ارمان بہت تھے
مگر یہ فرض بھی نبھانا تھا
سرحد پہ تھی میری ضرورت بہت
آخر مجھے جانا تھا
وردی پہن کر کی تیاری
رائفل کو سینے سے لگایا
آنکھوں پہ نمی لبوں پہ ہنسی لے کر
سرحد پر چلاآیا
اب کیا بتاؤں یارو کہ کیسے گزری یہ عیدہماری
ہم کھڑے رہے سرحدوں پہ
خوشیاں مناتی رہی دنیا ساری
سدا سلامت رہے تو اے وطن
تیرا اونچا مقام کرجاؤں گا
ایک عید کیا اے وطن
لاکھوں عیدیں تجھ پر قربان کر جاؤں گا
حنا نیازی: واہ واہ واہ۔ زبردست۔ بہت خوبصورت نظم لکھی۔ اس میں جو آپ کے اموشنز تھے اور بہت ہی زبردست آپ کی پوئٹری تھی اور ہم بھی وہ اموشنز محسوس کررہے تھے۔ اچھا مجھے یہ بتائیں اس بار چھٹی ملی ہے؟۔
سپاہی زکریا: نہیں۔ اس بار بھی چھٹی نہیں ملی۔
حنا نیازی: اوئے ہوئے ہوئے ہوئے۔ یہ تو ہیٹ ٹرک ہوگئی ہے بھئی۔
جواب: نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہاں بھی گھر کے جیسا ماحول ہوتا ہے۔ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں بہت پیار سے بہت خلوص سے ہم یہاں رہتے ہیں۔ اور ہمیں یہاں پر بھی بہت زیادہ مزا آتا ہے۔ اور زیادہ فیل نہیں ہوتا بس دل میں ارمان ہوتے ہیں لیکن یہاں پر جب ہم آپس میں گپے شپے لگاتے ہیں تو ہمارا ماحول گھریلو جیسا ہوجاتا ہے پھر ہمیں کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔ ہم یہاں پر مل کر رہتے ہیں پھر گھر والوں کے ساتھ بھی بات ہوتی ہے۔ کال پر ان کو وش کرتے ہیں۔
حنا نیازی: تو اس دفعہ کوئی نظم لکھنے کا ارادہ ہے؟۔
سپاہی : اس دفعہ ہم ایک اور نظم لکھیں گے انشاء اللہ۔
حنا نیازی: چلیں جب میں اگلی بار آؤں گی تو میں آپ سے یہ نظم سنوں گی۔ ویسے کہا جاتا ہے کہ درد میں آپ اچھا کچھ لکھ سکتے ہیں تو کیا جب وہ اموشن ہوتے ہیں جب وہ درد ہوتا ہے تکلیف ہوتی ہے تو آپ اچھا لکھتے ہیں؟۔
سپاہی زکریا: ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئی بھی لکھنے والا ہوتا ہے تو الفاظ اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔
حنا نیازی: ارے واہ واہ الفاظ کیفیت بیان کرتے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ۔ تو تیسری دفعہ آپ کچھ غمگین ہی لکھنے والے ہیں؟۔
سپاہی زکریا:نہیں انشاء اللہ اچھا بھی لکھیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں لوگ کرکٹ میچ کے اندر چوکے چھکے کی وجہ سے تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر کبھی ریپ ، قتل و غارت ، دنگا فساد اور باقی کرتوت سے نہیں مرتے

چلو کسی بھی بہانے سے ملک و قوم میں ایک سیاسی بیداری کی فضاء پیدا ہوئی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے عوام چاول کی پلیٹوں پر ووٹ دیتے ہیں۔

شہباز شریف اور تمام سیاستدان غریبوں کو ورغلانے کیلئے حبیب جالب کے اشعار پڑھتے اور ذوالفقار علی بھٹو کی نقلیں اتارتے تھے۔ الیکشن کے دوران چاول کی پلیٹوں پر غریبوں کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ اب لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ اتنی مہنگائی ہماری اشرافیہ کی وجہ سے ہے جو باہر سے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر عوام پر اس کا سارا بوجھ ڈالتے ہیں۔ شہباز شریف بھی زرداری کا پیٹ چاک کرنے ، بازاروں میں گھمانے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریریں کرتا تھا۔ اب وہ سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں تو عوام کو حقائق کا پتہ چل رہا ہے۔ عمران خان ایک ایسے موقع پر عوام کے دکھ درد کا فائدہ اٹھارہا ہے کہ جب حکمران اور مقتدر طبقات ناکامی کے آخری کنارے پر کھڑے ہیں۔ اگر سازش کے تحت یہ کھیل کھیلا گیا کہ اگلی باری بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی تو نظام کے ساتھ عوام کا بھی ستیاناس ہوسکتا ہے۔ مریم نواز کو ایک جمہوری سیاستدان کا کردار ادا کرنا ہے تو عمران خان کی راہ میں کسی رکاوٹ اور سازش کا حصہ نہ بنے۔ جمہوریت میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ آج عمران خان کیلئے بچے ، نوجوان اور بچیاں انقلابی گیت گارہے ہیں تو آنے والے کل اسی عمران خان پر تھو تھو کریں گے اور مریم نواز کے گن گائیں گے۔ جمہوریت میں جب تک قوم کی آنکھ نہ کھلے سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہماری قوم فی الحال کرکٹ کی عاشق ہے۔ چوکے اور چھکوں سے عوام کو دل کے دورے پڑتے ہیں۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ہے اور آج تک قوم کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔10کلو آٹے کیلئے لوگ شہید ہوئے۔ بچیوں کے ساتھ ریپ ہوئے۔ ملک میں ڈرون حملوں سے آبادیوں کو برباد کیا گیا۔ افغانستان ، عراق، شام، فلسطین، سوڈان اور لیبیا میں بڑے مظالم کا عوام کو سامنا کرنا پڑا لیکن کسی پر دل کا دورہ نہیں پڑا۔ جب قوم کا مزاج بدلے گا تو امریکی صدر بل کلنٹن اسلام آباد میں بچوں کیساتھ کرکٹ کھیلنے کے بجائے ان غریبوں کا دورہ کرے گا جن کی موت10کلو آٹے کی طلب کیلئے ہوئی اور شاید اسلامی بینکاری والے تو رحم نہ کریں مگر دیگر بینک سود کو بھی معاف کردیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv