پوسٹ تلاش کریں

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ آبادی مسمار کرنے پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی سسکیاں!

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ آبادی مسمار کرنے پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی سسکیاں!

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ پرانی آبادی کے مکانات کو مسمار کردیا گیا تو متاثرین کی خواتین ، بچوں اور بزرگوں کے دلخراش آہ و بکا اور سسکیوں سے عرش الٰہی بھی ہل گیا ہوگا۔ حکومتوں کا کام اپنی رعایا کو سہولیات فراہم کرنا ہے مگر مجاہد کالونی کے مکینوں سے آبا و اجداد کی محنت اور تگ و دو سے بنائے ہوئے اپنے مکانات بھی چھینے جارہے ہیں۔ ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ اللہ بھی ہماری آواز کو نہیں سن رہا ہے۔ پتہ نہیں ہم سے ناراض ہے یا کیوں ؟۔ ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ میری جوان لڑکی اس صدمے سے پاگل ہوگئی ہے۔ ایک اور کہہ رہی تھی کہ جوان لڑکیوں کو سڑکوں پر بے چھت اور بے گھر دیکھ کر دل چھلنی ہوگیا ہے۔
متاثرین کی بڑی تعداد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی آمد پر پرجوش نعروں سے استقبال کیا۔ANPکے کارکن اور شاہی سید کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے قاری عثمان اور مولانا عبد الرشید نعمانی وغیرہ بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عاصم کا نام لیا جارہا تھا کہ ساری جگہ حکومت سے سستے دام خرید لی جس کا ہسپتال نالے پر ہے۔ حکومت اور ریاست اللہ کے قہر سے خوف کرے۔ جس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں، بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔ انور مقصود

پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں، بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔ انور مقصود

عوام کیلئے دل دکھانے کا تصورقدم قدم پر میسرہے۔ہر حکومت نے غریبوں کو جانور سمجھاجو گٹھن میں ، روٹی کے لالے، رات کی نیند حرام

60فیصد آبادی غریب،40فیصد فوج۔امیروں کا ملک سے تعلق نہیں، بچے مسلمان کروانے باہر بھیجتے ہیں کہ اسلام کی سہولت میسر نہیں!

میں نے پریس کانفرنس میں کہا83برس کی عمرتک کپڑے خود اتارے، الٹا سیدھا بول کر پنجاب پولیس سے کپڑے اتروانا نہیں چاہتا۔

قیامت کی نشانیاں ہیں، جب عدالتیں کسی اور کے فیصلے کا انتظار کرنے لگیں، مولانا ماں کی گالی دے ،گویا اسکی ماں نہیں دونوں باپ ہیں؟

معز ز خواتین و حضرات۔ اس بے ادبی کے زمانے میں احمد شاہ صاحب ادب کو زندہ رکھنے کی کوشش میں مبتلا ہیں۔ سب سے کہتے ہیں ادب پر بات صرف مجھ سے کہتے ہیں پاکستان پر بات کریں۔ جبکہ پاکستان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں۔ 15ویں اردو کانفرنس کے اشتہار میں لکھا4دسمبر6بجے شام اختتامی انور مقصود۔ اختتامی کے بعد لکھا, رقص۔ چلو سب کچھ ختم اب ناچو۔ عوام کیلئے دل دکھانے کا تصور پاکستانی سربراہوں کے دورِ حکومت میں قدم قدم پر میسر ہے۔ ہر حکومت نے غریبوں کو جانور سمجھا۔75برسوں سے یہ جانورگھٹن کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ روٹی کے لالے، رات کی نیند حرام۔ گرد و غبار میں چھپے ہوئے چہروں کو یہ صرف الیکشن کے زمانے میں دیکھ لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے معاشرہ دلسوزی کے نام سے آگاہ نہیں ۔ پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں ،بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔بڑی بڑی سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں بیٹھے خود کو خدا سمجھتے ہوئے ، کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں ان کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ سائرن بجاتے ہوئے غول کو اِدھر اُدھر بھگادیتے ہیں۔ بریانی کے پیکٹ پھینکتے جاتے ہیں۔ بچے بھاگ کر پیکٹ اٹھا لیتے ہیں، بڑے نہیں اٹھاتے وہ کہتے ہیں کہ بچوں کو تو زندہ رہنا چاہیے۔ ان مناظر کا اثر سیاستدانوں پر نہیں ہوتا۔ گاڑیاں گزرنے کے بعد لوگ خاموشی سے واپس جس طرح جنازے کا خاموش جلوس دفن کرنے کے بعد گھر لوٹتا ہے مایوس!75برسوں سے ہم یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ بھئی کتنا کماؤ گے؟ کتنا لوٹو گے؟ کتنا جھوٹ بولوگے؟ کتنا اپنے اوپر خرچ کرو گے؟۔ غریب تو اب کہتے ہیں کوئی طاقت ہی نہیں آپکی طاقت کے سوا کچھ بچا ہی نہیں میرے لئے جنت کے سوا
غریبوں کیلئے کھانے باورچی خانے چلانے کے سلسلے میں ہمارے وزیر اعظم6،7ملکوں کے سربراہوں کے سامنے ہاتھ پھیلا چکے ہیں۔ غریب کہتے ہیں ہمیں بدنام نہ کریں اپنے لئے مانگیں۔ ٹک حرص و حوس کو چھوڑ میاں مت دیس بہ دیس پھرے مارا (یہاں میاں کا لفظ بہت اچھا لگ رہا ہے)جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری ڈھل جائے گی ….اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے پائیگی…..یہ کھیپ جو تونے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جائیگی …. . دھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آئے گی …… سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا
بات یہ ہے کہ حالات مسلسل اس طرح کیو ں ہیں؟ ۔ بھائی جب بندوق کی زبان قومی زبان بن جائے تو حالات ایسے ہی ہوجاتے ہیں۔ آرٹس کونسل کی عمارت65برس سے اسی جگہ موجود ہے۔ ایک وقت تھا کہ اسکے ایک کونے میں اکڑوں بیٹھے صادقین تصویریں پینٹ کرتے۔ سیڑھیوں سے فیض اتر رہے ہیں ۔ آرٹس کونسل کے پھسل منڈے سے صوفی پھسلتے آرہے ہیںکیونکہ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے۔ عالی، رئیس امروہوی ، بخاری، سبط حسن، حاجرہ آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ انتظار حسین ساقی فاروقی سے بچتے پھر رہے ہیں۔ محمد حسن عسکری خاموش بیٹھے ہیں۔..20،22برس پہلے احمد شاہ یہاں آگئے اور جانے کا نام نہیں لیتے۔ جانا چاہتے ہیں مگر عوام نہیں جانے دیتے۔ ویران کھنڈر کو شاہ نے خوبصورت عمارت میں تبدیل کردیا۔ دنیا بھر سے ادیب کانفرنس میں شریک ہوتے کچھ عصری کچھ ادیبوں کے بھیس میں۔ ہندوستان سے بھی شاعر اور ادیب آجاتے تھے۔ سب مرگئے۔ اب کوئی نہیں۔ میں نے پوچھا شاہ! ہندوستان سے کون آرہا ہے؟۔ کہنے لگے بھائی! ہندوستان سے صرف دھمکیاں آرہی ہیں۔ اسٹیج پر آنے سے پہلے شاہ نے کان میں کہا انور بھائی پاکستان پر سب کی تعریف کرنا ہے۔ خاص طور پر نئے آرمی چیف کی۔ میں نے کہاعاصم منیرکی تعریف تو سب کررہے ہیں۔ فوجی ، انکے دوست ، محلے والے۔ نیک ، شریف، نمازی، ایماندار، بہادر، اپنے پیشے سے محبت، وطن کی عزت، پرچم کی قدر، انکے ایک پڑوسی نے ٹیلی ویژن پر کہا میرے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ اب فرق ہوگیا گلی پڑوسی کے ہاتھ میں ، ڈنڈا عاصم منیر کے ہاتھ میںآگیا ۔ دعا ہے یہ ایسے فوج کے سربراہ ہوں جو صرف فوج کا خیال رکھے اور عوام کا۔ باجوہ نے الوداعی تقریر میں کہا فروری2022فوج نے فیصلہ کیا کہ سیاست سے پرہیز کریگی۔ بہت اچھا فیصلہ، مطلب74برس فوج نے سیاست سے بدپرہیزی کی؟۔ بدپرہیزی کا مطلب بے اعتدالی، بے احتیاطی، عیش، فضول خرچی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ فوج ہماری ضرورت ہے ، پڑوسی بہت خراب ہیں۔ ہم بھی زیادہ اچھے نہیں ۔ اسی لئے فوج کبھی سرحد کی طرف دیکھتی ہے کبھی اپنے ملک کی طرف پھر سوچتی ہے، اُدھر جاؤں یا اِدھر جاؤں۔ بڑی مشکل میں ہوں کدھر جاؤں۔ پھر ادھر آجاتی ہے۔پاکستان کی60فیصد آبادی غریب،40فیصد فوج ۔ امیروں کا پاکستان سے تعلق نہیں۔ اپنے بچوں کو مسلمان کروانے بھی لندن بھیجتے ہیں کہتے ہیں یہاں مسلمان ہونے کی سہولت نہیں۔ بیروزگاری، بدحالی، مہنگائی، پریشانی، پشیمانی، اداسی ملکوں پر بادلوں کی طرح چھاگئی ۔ کسی کو احساس نہیں کہ ملک کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟، قرضہ ملتا ہے تو ایوان تالیوں سے گونجتے ہیں۔ اسکے باوجود احمد شاہ کا اصرار ہے پاکستان پر بات کروں۔ پاکستانی کہانی سناؤں۔ حالات بدل گئے ۔
جو ہے زباں پر دل کو نہیں اس سے فائدہ جو دل میں ہے وہ لا نہیں سکتے زبان پر
میں نے پریس کانفرنس میں کہا83برس کی عمر میں ہمیشہ اپنے کپڑے خود اتارے ۔ الٹا سیدھا بول کر پنجاب پولیس سے نہیں اتروانا چاہتا۔ پاکستان75کا۔ میںاس سے8برس بڑا ہوں۔ میری ان گنہگار آنکھوں نے پاکستان کو پروان چڑھتے کم اورپروان اترتے زیادہ دیکھا۔ غریب غریب ترین ہوگئے امیر امیر ترین۔14اگست1947نیا ملک نیا آسمان خوبصورت سرزمین۔24سال بعد آدھی زمین بنگالیوں نے واپس لی۔ آدھی زمین جو بچی تھی یہاں لوگوں نے خرید لی یا بیچ دی۔اب سرزمین میں خالی زمین غائب ہوگئی، انگریزی سر بچے ۔ خریدی زمین پر مجبوراً کہتے ہیں سر! زمین کہاں گئی؟۔ اسکے باوجود پاک سر زمین شاد باد سن کرکھڑے ہوجاتے ہیں۔ پرچم ستارۂ و ہلال سے آنسو پوچھتے ہیں اندھیروں میں گم ہوجاتے ہیں کہانی پاکستان کی سنیں گے؟
قصہ میرا سنو گے تو جاتی رہے گی نیند آرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی
کہانی ظلم رسیدوں کی ہے۔ مجھے شاہ کی بات یاد آگئی۔ انور بھائی بولنے کا چیک جب ملے گا آپ لوگوں کو خوش اور ہنستا ہوا رکھیں۔ شاہ ! جو کام حکومت کا ہے مجھے سونپ دیا۔ حکومت کا کام ہے لوگوں کو خوش اور ہنستا ہوا رکھنا۔ حکومت نے عوام کو ہنستا ہوا تو رکھا۔عوام وزیر اعظم اور تمام وزیروں کے بیانات پر گھنٹوں ہنستے رہتے ہیں مگر خوش نہیں۔ پاکستان کی کہانی فلم کی طرح75سال سے ہے۔ ہدایتکار پنجاب ، شوٹنگ بلوچستان میں۔ پس پردہ موسیقی آرمی کا بینڈ۔ فلم کا انٹرویل1971میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ انٹرویل کے بعد فلم ملی نغمے سے شروع ہے، اے وطن کے سجیلے جوانو! اسکے بعد فلم کا ہیرو جو سندھی ہے بڑھئی کے پاس جاتا ہے، کہتا ہے ایسا تختہ چاہیے جوالٹا نہ جائے۔ بڑھئی کاتختہ6فٹ چوڑا،4فٹ لمبا ہے۔ درمیان میں3فٹ اور ڈھائی فٹ کا سوراخ ہے۔ بڑھئی کہتا ہے تختہ کوئی الٹ نہیں سکتا مگر تختے کے سوراخ سے تم نیچے جاسکتے ہو۔ اس کے بعد آرمی بینڈ ہے ، اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ فلم کے آخری منظر میں ایک آدمی امریکہ سے پیسے مانگ رہا ہے، چین ، برطانیہ، سعودیہUAEسے مانگ رہا ہے۔ اور کہہ رہا ہے اگر ترکی سے قرضہ مل گیا تو قسم خداکی سب کے پیسے واپس کردیں گے۔ ایک چھوٹا بچہ آکر ایک شعر پڑھتا ہے۔ خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے مفلس! یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
وہ آدمی بچے سے کہتا ہے اللہ میاں ڈالر کیسے بھیج سکتے ہیں؟۔ پچھلے سیلاب سے بڑا سیلاب تو بھیج سکتے ہیں۔ پھر دامن میں ڈالروں کی بارش۔ اب صرف تباہی بربادی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ جتنی تباہی اتنی بہتری۔ بیٹے تم تو قیامت کی بات کررہے ہو۔ محترم قیامت تو آچکی۔ نشانیاں پتہ کیا ہیں؟ جب برے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کرنے لگیں۔جب جھوٹ سچ کو ماردے۔ عدالتیں کسی اور ادارے سے فیصلہ کا انتظار کرنے لگیں۔ مولانا وطن کی ماؤں بیٹیوںاور بہنوں کیلئے گندی زبان استعمال کرنے لگیں۔ جیسے ان کی ماں نہیں دونوں باپ تھے۔
تمہیں کیسے معلوم برے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کا؟۔ آج کی بات نہیں75برسوں کی بات کررہا ہوں۔ صرف بچوں کی تعلیم پر دھیان دیں۔ ایک یونیورسٹی کے بجائے100اسکول کھول دیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں دے دیں تاکہ مستقبل میں زیادہ اچھے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کرسکیں۔ اچھا یہ بتاؤ بیٹے ہم اس ملک کو ٹھیک کرسکتے ہیں؟۔ ا لف ب والے قاعدے سے پ اور ع نکال دیں۔ پھر جو مرضی آئے وہ کریں۔ ع نکال دیں کیا ہوگا؟۔ قاعدہ سے ع نکال دیں تو عسکری غائب ، عروج غائب، عدالت غائب، عذاب غائب، عزت غائب، عریاں غائب، عیش غائب۔ بیٹے اگر پ نکال دیں تو؟۔ پبلک غائب،پریشان غائب، پارلیمان غائب، پیشی غائب، پھر مانگ غائب، پشیمان غائب، پامال غائب، پاکستان غائب۔ بیٹے کچھ اوربتاؤ۔ آج کے پاکستان کی کہانی سنارہا تھا۔ سب سرگزشت سن چکے اب چپ کے ہورہو آخر ہوئی کہانی میری تم بھی سو رہو نام تو بتادو بیٹے ۔ محمد علی ۔ لڑکا غائب ہوجاتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

اللہ پاک اپنے قرآن پاک کی برکت سے اس اسلامی انقلاب کااب آغاز کردے جس سے آسمانوں اور زمین والے دونوں خوش ہوں اور اسلام کو اجنبیت کی دَلدَل سے نکال دے!

اللہ نے جنت باپ کے مونچھ نہیں ماںکے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ محمود خان اچکزئی

میں طالبان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ نبیۖ نے حضرت عائشہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ہزاروں احادیث آپ سے نقل ہیں،جب شیرخداعلی سے اختلاف ہوا تو لشکر کی قیادت کی تھی

محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ ایوب اسٹیڈیم میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم اور خطے کیلئے اہم نکات پیش کئے

افغانستان سے امن وامان کے حوالے سے بات کرنے پر سب سیاسی قائد خاموش ہیں، محمود خان اچکزئی نے اپنی جماعت کے کچھ بڑے بڑوں کی قربانی کارسک بھی لیا اور یہ بھی کہا کہ مقامی سطح سے بین الاقومی سطح تک مثبت بات کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے ۔ اب حنا ربانی کھر نے افغانستان کا دورہ کیا تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ پراستقبال کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ اللہ کے آخری پیغمبر اور رحمت للعالمینۖ ہیں۔ میں عالم انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر حضرت محمدۖ کو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلئے مانتا ہوں کہ آپ ۖ پڑھے لکھے نہ تھے اور صرف23سال میںپوری دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کردیا۔ عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ، لونڈیوں کے لشکر لوگ پال کر رکھتے تھے۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیگم کی حیثیت سے عزت دی تو انقلاب برپا ہوا۔ عورت کو تعلیم، فن سپاہ گری، نرسنگ اور ہر شعبے میں صلاحیت منوانے کا حق دیا۔ طالبان کو کہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے اور تم حقوق سے محروم کرکے کیا اسلام نافذ کرسکتے ہو؟۔ عورت کے بغیر معاشرے کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔…..
محمود خان اچکزئی نے خطے کے امن وامان، پشتونوں کے حقوق، قانون کی بالادستی کے لائحۂ عمل اور آئین کی تابعداری کرتے ہوئے سب کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گول میزکانفرنس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
مولوی کہتا ہے کہ اسلام۔ مذہبی جماعتیں و تنظیمیں کہتی ہیں کہ اسلام۔ قوم پرست اور قومی سیاست کا کھیل کھیلنے والے کہتے ہیں کہ اسلام۔ ریاست کہتی ہے کہ اسلام۔ آئین کہتا ہے کہ اسلام۔مجاہد اور دہشتگرد کہتا ہے کہ اسلام۔ افسانہ نگار کہتا ہے کہ اسلام۔ ڈرامہ باز کہتا ہے کہ اسلام۔ امام حرم کہتا ہے کہ اسلام۔ سعودی عرب، ترکی ، ایران اور افغانستان کا حکمران کہتا ہے کہ اسلام۔ ٹک ٹاکرز کہتے ہیں کہ اسلام۔ اسلام اسلام اسلام مگرپھرہم کیوں ہیں اس میں ناکام ؟۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود نے عورت کے حقوق یہ رکھے کہ حق مہر برائے نام تھا۔ بات بات پر طلاق کا حق مرد کو حاصل تھا۔ عیسائی مذہب میں شادی کے بعد عورت کو مرد تاحیات طلاق نہیں دے سکتا تھا ۔ افراط وتفریط نے عورت کی حیثیت مسخ کردی تھی۔ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب مشرکین نے جہالت کی حد کردی تھی۔ نکاح کے مختلف اقسام اور طلاق کے مختلف اقسام کے علاوہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے لیکر بہت کچھ ہوتا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہلانے والے ہندؤوں نے عورت کیلئے بیوہ ہونے کے بعد ستی کی رسم جاری کی تھی ، شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیگم کو بھی نذرِ آتش کردیا جاتا تھا۔
اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے دورِ جاہلیت اور اپنے مذاہب کی رسوم اور مسائل سے جان چھڑاکر جمہوری بنیادوں پر بیگم اور شوہر کیلئے نکاح وطلاق پر قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آزاد و ترقی یافتہ، خوشحال وخود مختار اور جدید ترین تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھ دی اور مذہب کو کھڈے لائن لگادیا گیا تو ہمارے معاشرے میں بھی اس بنیاد پر ترقی پسند تحریکوں، سیاسی جماعتوں اور ممالک نے آغاز کیا۔ ایران، ترکی ، افغانستان، لبنان، مصر ، دوبئی اورکئی مسلم ممالک کا حلیہ تبدیل ہوگیاتھا۔ اب سعودی عرب بھی اس پر گامزن ہے۔ ایران میں احتجاج شروع ہے۔ طالبان ہی دنیا میں تنہاء رہ گئے ۔جس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی ، مصر ، ایران اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے اسلام سے پہلے خواتین کیلئے غلط مذہبی رسوم ورواج اور اسلامی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ اللہ نے ایک ایک مسئلے کا حل پیش کیامگر کم بخت مذہبی طبقہ سننے پر آمادہ نہیں بلکہ کمزوری سے آگاہی پر جانور کی طرح اپنی دُم سے اپنی پچھاڑی چھپارہاہے۔
نمبر1:دنیا میں عورت کے خلاف انتہائی خطرناک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ جب اس کا شوہر کچھ الفاظ کہتا تھا تو ان میں صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ۔عورت شوہر سے محروم بے سہارا بن جائے تومعاشرے پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ خدا کے نام پر کھیلاجارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کی ابتداء میں اس کی مذہبی حساسیت اور اس کی تردید کا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔
سورۂ البقرہ میں آیت224میں واضح کیا کہ اللہ کو اپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں رکاوٹ بنو۔ یہ آیت طلاق کے مسائل کیلئے ایک مقدمہ ہے۔ جس کی زبردست طریقے سے آئندہ کی آنے والی آیات میں225سے232تک وضاحتیں ہیں۔
نمبر2:خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ بھول بھلیوں کی طرح طلاقِ صریح وکنایہ کے بہت الفاظ تھے جن کی وجہ سے میاں بیوی کو شیطان وسوسہ ڈالتا تھا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ مذہبی اتھارٹی سے پوچھا جاتا تھا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ نے ان تمام الفاظ کا تدارک کردیا اور آیت225البقرہ میںہے کہ اللہ لغو الفاظ پر نہیںپکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یعنی صلح کرنے اور کرانے کے حوالے سے طلاق میں اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ نیت وعزم اور طرزِ عمل کی ہے۔
نمبر3:ایک بڑا خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ جب تک زبانی طلاق نہ دی جاتی عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی ۔ اسکا حق اور نہ عدت تھی۔ نکاح کا یہ طوق عورت سے بڑا ظلم تھا۔ قرآن نے عورت کی جان اس ظلم سے چھڑائی ۔ آیت226البقرہ میں ناراضگی کی عدت کو واضح کردیا کہ طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو عورت پر4ماہ عدت کا انتظار ہے۔ باہمی رضامندی کیساتھ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور4مہینے کی عدت کے بعدعورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ بیوہ کی عدت4ماہ دس دن اورطلاق شدہ کی عدت3ماہ ہے۔
آیت نمبر227البقرہ میں اللہ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر شوہر کا طلاق کا عزم تھا تو پھر اللہ سمیع علیم ہے۔ جو عزم کو سنتا اور جانتا ہے ۔ یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اسکااظہار کردیتا تو عورت4ماہ تک انتظار کرنے کے بجائے3ماہ کی عدت میں فارغ ہوجاتی۔ ایک مہینے اضافی عدت کا انتظار کرانا ہی دل کا گناہ ہے جس پر آیت225البقرہ میں پکڑ کی بات ہے۔
نمبر4:ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا انتہائی ظالمانہ مسئلہ یہ تھا کہ عورت کو ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بار رجوع و طلاق کا سلسلہ شوہر جاری رکھ سکتا تھا۔یہ دونوں مسئلے عورت اور معاشرے کے استحصال کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
اللہ نے آیت228البقرہ میں ایک تیرسے دوشکار کردئیے، ایک ساتھ 3 طلاق پر حلالے کی لعنت کا خاتمہ کیا اور صلح کے بغیر بار بار رجوع کا حق ختم کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ”اورانکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ،اگر اصلاح چاہتے ہوں”۔ حیض وپاکی کے 3مراحل تک عورت کوانتظار کا حکم ہے اورعدت میں اصلاح کی شرط پر باہمی رضامندی اور صلح کرکے شوہر عورت کو لوٹاسکتاہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا فتویٰ باطل کردیا گیا اور عورت کی اجازت کے بغیر باربار طلاق کی غلط رسم بھی ختم کردی گئی لیکن قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔
نمبر5:آیت نمبر228میں طلاق کی عدت کے تین مراحل ہیں ۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہی سے ہے اور ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں سے عورتوں کو محروم کیا جاتا۔ آیت229البقرہ میں واضح ہے کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے۔پھر معروف طریقے سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہی عدت کے تین مراحل سے ہے۔ ( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔ نبی ۖ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق آیت229میں تسریح باحسان ہے”۔
جب آیت228میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت ہے تو آیت229میں یہ تضاد نہیں ہوسکتا کہ دو مرتبہ غیرمشروط رجوع کی اجازت ہو اور تین مرتبہ کے بعد عدت میں بھی رجوع کی اجازت نہ ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے معروف رجوع کی اجازت دی اور فقہاء نے منکر رجوع کی بنیادیں کھڑی کردیں۔ عورت کے حق صلح کی شرط کوغائب کردیا تو حنفی فقہاء نے لکھ دیا کہ ” نیت نہ ہو اور غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی یا نیند میں ہاتھ لگا تو رجوع ہے”۔ اور شافعی فقہاء نے لکھ دیا کہ ”نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہیں ہوگا”۔ قرآن کے معروف رجوع کے مقابلے میں فقہاء کا منکررجوع واضح ہے۔
آیت229میں یہ واضح ہے کہ جب پہلے دومرحلے میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا تو دی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں ۔ مگر جب دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کے حدودوں کو توڑنے کا خوف رکھتے ہوں۔ اس کاواضح مطلب تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی چیز کی نشاندہی ہے جو شوہر نے دی ہے اور وہ واپس کرنا حلال نہیں لیکن اگرخوف ہے کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں طلاق شدگان ناجائز جنسی تعلق کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اور فیصلہ کرنے والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اگر وہ دی ہوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو بڑاکھڑاک ہوگا اور دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو شوہر کی طرف سے دی ہوئی اس چیز کوعورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے اور بال کی کھال اتارنے والے صحافی، وکیل، سیاستدان، جج، مولوی، تعلیم یافتہ لوگ اور بالکل ان پڑھ عوام قرآن کی اس بھرپور وضاحت کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ قرآن میں معمول کے بالکل واضح جملے ہیں مگر بڑے بڑوں نے الجھادیا ہے اور اس کے نتیجے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی اور جایداحمد غامدی جیسے لوگوں نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور علماء وجدید اسکالروں نے اس سے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے اللہ کے کلام قرآن سے اپنے اکابر کی غلط تفسیر سے توبہ کرکے اپنا معاملہ سلجھاؤ اور پھر دوسروں سے گلے شکوے کرو۔ آیت229کے پہلے حصے میں3مرتبہ طلاق اور دوسرے حصے میں عورت کو مالی تحفظ دینے کی بھرپوروضاحت ہے۔
نمبر6:عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جب شوہر ایسی طلاق دیتا تھا کہ اس کو دوبارہ بسانے کا خیال بھی دل سے نکال دیتا تھا یا عورت خلع اور طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی تھی تو شوہر اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتا تھا، اس پر قدغن لگاتا تھا، اپنی مرضی سے کسی اور سے اس کو نکاح نہیں کرنے دیتا تھا۔ آج بھی جانور، چرندوں، پرندوں اور درندوں تک کی اکثریت میں اپنی مادہ سے کسی اور نر کیلئے جنسی تعلق پر غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسانوں کی اکثریت میں بھی یہ غیرت کا مادہ پایا جاتاہے۔ لیڈی ڈیانا کے قتل میں بھی اس غیرت کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمہ چلا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا14سوسال پہلے قرآن میں اللہ نے جو علاج کیا ہے ،اگر آیت کا حکم سمجھ میں آگیا تو پورے عالم کے انسانوں کیلئے اس کی حکمت وہدایت کافی ہے۔
اللہ نے آیت230البقرہ میں فرمایا ہے کہ ” پھر اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دی تو دونوں پر حرج نہیں کہ اگر وہ رجوع کرلیں بشرط یہ کہ وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے”۔
آیت230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق حنفی مسلک کے مطابق آیت229کے دوسرے حصے فدیہ دینے کی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس پرعلامہ تمنا عمادی نے اپنی مشہور کتاب ” الطلاق مرتان” میں لکھ دیا ہے کہ ”خلع سے آیت230کی طلاق کا تعلق ہے، جس میں جرم بھی عورت کرتی ہے اور اس کی سزا بھی حلالہ کی صورت میں عورت کو ملتی ہے”۔ لیکن یہ سزا نہیں ہے ۔ ایک غلط رسم کا خاتمہ ہے۔ عورت جب کسی بھی طلاق کے صلح اور معروف طریقے سے رجوع پرراضی نہ ہو تو پھر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے جس سے بھی نکاح کرنا چاہے تو وہ بالکل آزاد ہے۔ شوہر نے ایک طلاق دی ہو تب بھی، دومرتبہ طلاق دی ہو تب بھی اور تین مرتبہ طلاق دی ہو تب بھی۔ عورت نے خلع لیا ہو تب بھی اور شوہر نے طلاق دینے کی جگہ صرف ناراضگی سے چھوڑا ہو تب بھی۔یہ عورت کی مرضی کیلئے بہت بڑی بنیاد اور اس کی غلط مردانہ غیرت سے جان چھڑانے کا زبردست ذریعہ ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش بالکل واضح الفاظ میں کی گئی ہے تو مذہبی طبقہ کیسے صلح میں رکاوٹ بن سکتا تھا؟۔ کچھ لوگ باہمی اعتماد کی وجہ سے نادانی میں بہہ گئے اور کچھ دیدہ دانستہ بااثر طبقے اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوگئے۔ عوام تو عوام ، بڑے بڑے معروف مدارس کے علماء ومفتیان، مدرسین اور اصحابِ علم وکردار بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح پہلے اکابر علماء کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا گیا ۔ پھر وہ مرگئے یا مار دئیے گئے تو علماء حضرات بے شرموں کی طرح سیمینار میں شریک ہو گئے؟۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں عدت کے اندر اوطر عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور کافی عرصہ بعد رجوع کا دروازہ بالکل کھلا رکھا گیا ہے ۔ علماء ومفتیان نے لکھا ہے کہ ” اگر عورت نے آدھے سے زیادہ بچہ جن لیا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم بچہ نکلا ہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ کوئی پوچھ لے کہ اگر تیری ماں کو تیرے حمل کے دوران طلاق ہوتی اور جب نصف جننے کے بعد رجوع ہوتا تو کیا رجوع درست ہوتا یا غلط؟۔ تو علماء اپنا کیا جواب دیتے؟۔ قرآنی تعلیمات کو مسخ کرنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے والوں کے دن بہت قریب لگتے ہیں۔
سورۂ طلاق میں بھی عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے۔ جب حضرت رکانہ کے والد نے ام رکانہ کو سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وارتین طلاقیں دیں۔پھر کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ اس نے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے اس دوسری خاتون کو طلاق دینے کا فرمایا اور ابورکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنے کا حکم ہے اور دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ جو اللہ سے ڈرا اس کیلئے آئندہ بھی اللہ راستہ کھول دے گا۔ سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ ہے۔ اتنی تفصیل کے باوجود بھی علماء ومفتیان قرآن کی طرف رجوع کرنا اپنے فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی موت سمجھتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا خاندان لکھا پڑھا گھرانہ ہے۔ پشتونستان کا نعرہ بلند کرنے کیساتھ ساتھ پشتون مذہبی قیادت کے ذریعے سے پشتون قوم کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔PDMکی قیادت ، جماعت اسلامی اور عمران خان کے علماء کو بھی دعوت دیں۔ محمود خان اچکزئی کو میں اپنے بڑے بھائی کا کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کا درجہ دیتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی بنیاد پر جو معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اس کیلئے پہل کرنے سے ایک اچھی فضاء قائم ہوجائے گی۔ اگر اتفاق رائے کے بعد مدارس، سکول، کالج ، یونیورسٹی اور مذہبی جماعتوں میں خواتین کے حقوق واضح کئے گئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف ان مسائل پر علماء ومفتیان کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے بھائی حامد خان اچکزئی نے ایک تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دور میں جو غلامی بلوچستان پر مسلط تھی اور عبد الصمد خان اچکزئی نے جس طرح کی آزادی کیلئے محنت کی تھی اس کی ایک تاریخ ہے۔ جب انہوں نے سندھ ،پنجاب وغیرہ کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ لوگ آزادانہ تقاریر کرتے ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آزادی کی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے مسجد میں قرآن کا ترجمہ شروع کردیا۔ انگریز افسرنے کہا کہ مجھے اوپر سے آرڈر ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے آپ کو روکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا مذہب ہے اور اپنے مذہب سے روکنا تمہارا کام نہیں ہے۔ انگریز نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے میں بھی آپ کی جگہ ہوتا تو یہی سوچتا لیکن مجھے روکنے کا ہی حکم ہے۔ مساجد میں قرآن کا ترجمہ کرنا مولوی اور مذہبی طبقے کا کام ہے۔ مذہبی طبقہ بھی انہی کے حکم سے چلتا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہم نے ووٹ کا حق مانگا اور اس پر ہمیں کافر قرار دیا گیا۔ آج مسلم لیگ اور جمعیت علماء ہم پر غداری و کفر کے فتوے نہیں لگاتے اور ہماری راہ پر آئے ہیں تو ہم نے ٹھیک اتحاد کیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب

مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب

جب تک دہشت گردوں کے فکری دماغ کو درست نہیں کیا جائے تو دنیا کی کوئی قوت اس کا خاتمہ نہیں کرسکتی ہے اور اس کا خمیازہ مسلمان بھگتے گا

جاویداحمد غامدی نے مدارس سے زکوٰة کی مدد چھین لینے کیلئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ نماز اور زکوٰة کے مسئلے پر اسلامی حکومت مداخلت کرسکتی ہے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے اپنی سادگی اور جہالت کی وجہ سے اور مولانا طارق جمیل نے اپنی غلط تعلیم وتربیت کی وجہ سے یہ زہر گھول دیا!

ہم بڑے آدمی کی غلطی پکڑناگستاخی سمجھتے ہیں، جس کی سزا قوم بھگتتی ہے۔ رسول اللہ ۖ نے سمجھا کہ ” ماں کہہ دیاتو بیگم اماں کی طرح حرام ہوجاتی ہے”۔ خاتون نے مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ ۖ کی رائے ماحول کی تھی ۔آپۖ اپنی رائے پر قائم تھے ،عورت نے فطرت سے مذہبی جہالت کیخلاف جنگ لڑی، جس نے پورا ماحول آلودہ کیاتھا۔ اللہ قیامت تک رسول اللہ ۖ کے اسوۂ حسنہ کوامر کرنا چاہتا تھا تاکہ عقیدت مند نہیں دشمنوں کیلئے بھی قابلِ قبول ہو۔ کوئی بات دل ودماغ میں آجائے اور اپنی رائے پر اصرار کیا جائے لیکن حق معلوم ہونے پر انا پرستی کی جگہ حق پرستی کی بنیاد پڑجائے۔ سورۂ مجادلہ میں ذاتی جذبے اور خشوع وخضوع کا مسئلہ نہ تھا بلکہ ایک طرف عورت کے استحصال کا معاملہ تھا اور دوسری طرف عورت کا اپنے حق کیلئے فطرت کے مطابق آواز اٹھانے کا مسئلہ تھا۔ اللہ نے عورت کی تائید میں سورۂ مجادلہ نازل کرکے یہ سبق دیا کہ عورت کااستحصال کرنا قیامت تک معتبر سے معتبر شخصیت کیلئے جائز نہیں۔ عورت اپنی آواز اٹھاسکتی ہے۔ حضرت عمر نے حق مہر کم مقرر کرنے کا قانون بنادیا تو عورت نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو، ہمارا حق مہر کم مقرر کرنے والے؟۔ حضرت عمر نے اپنا قانون واپس لیا اور فرمایا کہ عمر نے خطاء کی عورت ٹھیک بات پر پہنچی ہے۔
سورۂ توبہ کی آیت کا جاویداحمد غامدی اور مفتی اعظم پاکستان نے بالکل غلط مفہوم نکالا ہے۔ اللہ نے سورہ ٔ توبہ میں مشرکین سے لڑنے کی میعاد ختم ہونے پر لڑنے کی اجازت دی اور توبہ کرنے ، نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے پر ان کا راستہ چھوڑ دینے کی بات فرمائی تو اس سے الٹے سیدھے مسائل نکالنا غلط ہے۔جاوید غامدی کو نماز سے زیادہ زکوٰة کی پڑی ہے تاکہ مدارس کو کنٹرول کرنے میں حکومت کو مدد ملے۔ زکوٰة کا نظام ریاست سنبھالے گی تو مدارس کا آزادانہ نظام بھی سرکار کی دسترس میں مکمل طور پر منتقل ہوجائیگا۔جاوید غامدی کی چاہت یہی ہے کہ مدارس کا پرائیوٹ نظام ختم ہوگا تو سرکاری اسلام میدان میں غالب ہو گا۔ ڈاکٹر اسرار عالم نہیں تھا مولانا فضل الرحمن اور طالبان کے فتوے کو معتبر سمجھ لیا۔
مفتی اعظم مفتی محمد شفیع کا تجربہ قرآن و حدیث نہیں بلکہ فتوے کا تھا۔ جب جنگ میں دشمن نے کلمہ پڑھا اور صحابی نے یہ سوچ کر کہ ڈر سے پڑھا ہے ، اس کو شہید کیا تو نبی کریم ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ” کیا آپ نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا؟”۔ میدان جنگ میں نماز اور زکوٰة کی ادائیگی مسلمان نہیں کرسکتا ہے تو دشمن کیسے کریگا؟اورزکوٰة کے مال پر سال گزرنے کی بات ہے۔ قرآن کی کئی آیات سے شرعی احکام اخذ کرنا مقصود نہیں ۔ بدری قیدیوں پر فدیہ لیا گیا تو اللہ نے فرمایا کہ ” نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپکے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ ان کا خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر اللہ پہلے سے لکھ نہ چکا ہوتا تو تمہیں دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ اس سے یہ اخذ کرنا دہشتگردوں کی غلط فہمی ہے کہ دشمن قیدیوں کو قطار میں کھڑا کرکے ان کا خون بہانے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ اللہ نے دوسری جگہ قرآن میں ارشاد فرمایا کہ ” تمہاری مرضی ہے کہ قیدیوں کو احسان کرکے چھوڑ دو یا فدیہ لیکر چھوڑ دو”۔ اس سے یہ اخذ کرنا درست ہے کہ قیدی کا قتل اور زیادہ عرصہ تک قید رکھنا درست نہیں۔ احسان یا فدیہ سے چھوڑناہوگا۔ آج مہذب دنیا میں اسلام کے یہ دائمی قوانین سب کیلئے اتباع کے قابل ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے مفتی شفیع کی تفسیر پر اعتراض کیا کہ حنفی مسلک کے مطابق نہیں، بے نمازی کو قتل کرنے کیلئے دوسرے مسالک والے حضرت ابوبکر کے اقدام سے دلیل پکڑتے ہیں۔ سورۂ توبہ کی آیت میں قید کے حکم سے مطللقاًقتل کرنے کی نفی ہوجاتی ہے اور اگلی آیت میں ہے کہ ”مشرک پناہ لینے آئے تو اس کو پناہ دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے کلام کو سن لے۔ پھر اس کو وہاں تک پہنچادو ، جہاں اس کیلئے امن کی جگہ ہے اسلئے کہ یہ ایسی قوم ہے جو علم نہیں رکھتے ”۔ سورۂ توبہ کے غلط نتائج نکالنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر قتل کا حکم ہوتا تو ہندوستان پر کوئی ہندو زندہ نہ رہتا اور جب تیرے آباء واجداد قتل کئے جاتے توسومناتی غامدی اور عثمانی زندہ بچ کر ہمیں گمراہ نہ کرتے! ۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تفسیراورتعبیر کی غلطی دور کرنا ضروری ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے ”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔

مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔

مشرکین کو قتل نہ کرنے کی3شرائط۔ شرک سے توبہ، نماز و زکوٰة کی ادائیگی ۔ کلمہ گو ہونے پر قتل سے جان بخشی نہ ہوگی مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع

ڈاکٹراسرار احمدنے زبردستی داڑھی اور پردہ کروانے کو بھی اسلامی حکومت کا فریضہ قرار دیاجبکہ جاویداحمد غامدی نے کہا کہ نماز اور زکوٰة کے علاوہ کسی بات میں اسلامی حکومت کا دخل نہیں!

شیطان نے زناکیا،قتل کیا،شرک کیا تھا؟ ایک سجدے ہی کاتوانکارکیا تھا اور مسلمان دن اور ہفتہ میں کتنی بار سجدہ نہیں کرتا؟ اور سفید ٹوپی پہن کر نمازِجمعہ میں آتاہے مولانا طارق جمیل

تحریک طالبان پاکستان مفتی محمد شفیع کی تفسیر میں معارف و مسائل کو حرف آخر سمجھتی ہے۔ بہت سہل زبان میں لکھے ہوئے مسائل کو سمجھناTTPکے قائدو کارکنوں کیلئے مشکل نہیں۔ معارف القرآن میں مشرکینِ مکہ سے صلح کی میعاد ختم ہونے پر قتل کا حکم ہے اور اگروہ توبہ کریں ، نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑنے کا حکم ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے واضح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ” مشرک کی توبہ محض کلمہ پڑھنے کیساتھ قبول نہیں ہوگی اسلئے کہ وہ اپنی جان بچانے کیلئے جھوٹ سے کلمہ پڑھ سکتا ہے۔ جب تک زکوٰة کی ادائیگی اور نماز کی پابندی نہ کرے تو اس کی جان بخشی نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوبکر نے منکرین زکوٰة کیلئے یہ آیت دلیل کے طور پر پیش کی تھی”۔ مولانا طارق جمیل نے مقبول تقریرمیں کہاکہ” نماز کا چھوڑنا زنا، قتل، شرک سے بڑا گنا ہ ہے ۔ شیطان نے قتل، زنا، شرک کیا تھا؟، ایک سجدے ہی کا توانکار کیا تھا ۔ مسلمان ہفتے میں کتنے سجدے نہیں کرتا ؟۔ پھر سفید ٹوپی پہن کر نمازِ جمعہ پڑھنے آتا ہے”۔ مولانا طارق جمیل کی یہ تقریر بسوں میں چلتی ہے۔ فون کی گھنٹی بھی تھی۔ اگر مفتی اعظم پاکستان کی تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی یہ تقریر ٹھیک ہے توپھر میرا فتویٰ یہ ہے کہ جمعہ کی نمازوں میں آئے ہوئے سراپا شیاطین، بینکوں اور بازاروں میں باطل نظام کے علمبرداروں اور تاجداروں پرTTP، داعش و دیگر منحرف تنظیموں کا خود کُش حملہ بنتا ہے۔یہ تو حامد کرزئی اور اشرف غنی سے بھی زیادہ بدتر ہیں جنہوں نے بھاری بھرکم سوداور اسکے جواز سے قوم کو تباہ کردیاہے؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ مفتی محمد شفیع ومولانا طارق جمیل سے بھول ہوئی ہے اور طالبان کو اپنے خود کش اور دہشت گردانہ حملے روکنے کی اب سخت ضرورت ہے اور ان تعلیمات سے توبہ کرنا ہوگی۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے

زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لے لی۔ کیا ریاست سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں بدل دے گی اور اس سے پاکستانی کی معاشی مشکلات حل ہوجائیں گی؟ تو ہم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو بھگوان مان لیں، بھلے ہندو بنیں اور تمام مدارس جامعہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ فاروقیہ اور جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال کراچی سے اپیل کریں گے کہ اسلامی بینکاری کو سود قرار دینے کے اپنے فتوؤں سے اعلانیہ رجوع کریں اور مفتی محمد تقی عثمانی کے سامنے مرغا بن جائیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود کی طرف زکوٰة کے مسئلے پر زبردست مخالفت کی تھی اور کہا کرتے تھے کہ ” شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگاہواہے”۔ وہ بھی قوم کے سامنے مرغا بن کر اپنی غلط تقریروں سے اعلانیہ رجوع کریں۔
حیلے کے ذریعے سودی نظام کو اسلامی نظام میں بدلنے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے سیاسی اسٹیج پر عورتوں سے ناچنے کیلئے یہ فتویٰ دیا جائے کہ مردوں کی طرح انگلش بال ہوں یا مصنوعی داڑھی کی نمائش ہو تو پھرپردے کا حکم نہیں رہتااور علماء اپنے رومال سے اپنی مبارک داڑھی چھپا کراپنی جنس عورت میں بدل سکتے ہیں۔
رسول اللہ ۖ نے سود کیخلاف آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیا تھا۔ جب کسانوں کو اپنی محنت کی پوری پوری کمائی ملنے لگی تو بازار میں رونق بڑھ گئی ۔مزارعین میں قوت خرید پیدا ہوگئی۔ کسان کو توقع سے زیادہ محنت کا صلہ ملنے لگا اور تاجروں کو اپنی توقع سے زیادہ گاہک ملنے لگے تھے۔
اگر10لاکھ پر ایک لاکھ سالانہ سود مل جائے اور25ہزار روپیہ زکوٰة کے نام سے کٹ جائیں ۔اصل رقم10لاکھ محفوظ اور75ہزار سود بھی مل جائے اور زکوٰة بھی ادا ہوجائے؟۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بینک کے زکوٰة کی کٹوتی سے در حقیقت زکوٰة کو منسوخ اور کالعدم قرار دیا ۔ اسلئے کہ زکوٰة نہیں سود کی کٹوتی ہوتی ہے۔ پہلے لوگ سود کا مال مدارس کو دیتے اور علماء ان سے لیٹرین بناتے تھے۔
جامعة الرشید کے مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ”میں واحد مولوی ہوں جو فوجی افسران، بیوروکریٹ اور بڑے بڑوں سے ہدیہ لیتا نہیں دیتا ہوں۔ مکہ اور مدینہ کے دکاندار بھی مجھے جانتے ہیں کہ قیمتی اشیاء کی خریداری کرتا ہوں۔ اسلام آباد میں بڑے شاپنگ مال کی باجیاں مجھے جانتی ہیں کہ یہ بابا کچھ نہ کچھ لے گا”۔ سوال یہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم کہاں سے اتناپیسہ لاتا ہے؟۔ کیا اس نے فوج کے افسران اور اداروں کو بھی اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے؟۔ اتنی ملاقاتیں تو ان کی آپس میں بھی نہیں ہوتی ہوں گی جتنی وہ اپنی بتا رہاہے؟۔ اس کا اسٹیٹس کونسا ہے؟ اور کس حیثیت میں کس وجہ سے ان کو ملتا ہے؟۔ تفصیل ضرورآنی چاہیے۔
حامد میر نے اوصاف کے اداریہ میں لکھا تھا کہ مفتی نظام الدین شامزئی نے کہا کہ ” واشنگٹن امریکہ سے براستہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ ایک جہادی تنظیم کے ذریعے پیسہ آرہاہے جو علماء کو خرید رہاہے اور اگر یہ باز نہیں آئے تو انکا بھانڈہ پھوڑ دوں گا”۔ مفتی عبدالرحیم جہاد کے سپورٹ میں ضرب مؤمن نکلتا تھا اور حکیم اللہ محسود نے مذاکرات سے مفتی عبدالرحیم کانام کاٹا تھا۔ مفتی عبدالرحیم نے حال ہی میں ایک حدیث بیان کی کہ تین قسم کے لوگ اپنے برپا کئے فتنے کا شکار ہوں گے۔ وہ علماء جو بات سے پہلے تلوار اٹھائیںگے۔ وہ خطیب جو جذباتی تقریریں کریںگے اور وہ سردار جو اس فتنے کو سپورٹ کرتے ہوںگے۔
جہاد کے نام پر جتنے لوگ دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں ،ان کیلئے سب سے بڑی بنیاد بھی یہی لوگ تھے ۔ اگر ضرب مؤمن میں پہلے اس حدیث کو بیان کیا جاتا تو شاید لوگ اس فتنے کا شکار نہ بنتے۔ اتنے سارے مجاہدین، علماء اور سردارضرب مؤمن جیسے اخبار کی پالیسیوں کا شکار ہوگئے ۔ تحریک طالبان اور مجاہدین نے بھی آخر کار ان لوگوں کو پہچان لیا تھا جو ریکارڈ پر موجود ہے۔
پاکستان اتنے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیتا ہے لیکن پھر بھی بھیک مانگتا پھر رہاہے اورمفتی عبدالرحیم کچھ نہیں کرتا اور پھر بھی تحائف بانٹ رہا ہے؟۔اس کے پسِ پردہ حقائق کیا ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی کے دارالعلوم کراچی میں بدمعاش نہیں لیکن مفتی عبدالرحیم کے بدمعاش طبقے پالنے کے ہمارے پاس شواہد ہیں۔
مرتد دین چھوڑتا ہے تواس پر قتل کا قرآن وسنت میں ثبوت نہیں ۔ حدیث ہے کہ ” جس نے اپنا دین بدل دیا تو اس کو قتل کردو”۔ اگر کوئی انفرادی طور پر اپنا دین چھوڑ دیتا ہے تو اس کی وجہ سے کوئی بھی دین نہیں بدلتاہے بلکہ وہ خود بدلتا ہے۔ ارتداد نہیں علماء کی تحریف سے دین بدلتا ہے ۔علماء نے خود کو بچانے کیلئے ارتداد کی طرف فتویٰ موڑا تھا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ ۔ خلافت کا نظام قائم ہواچاہتا ہے۔منافقین طرزِ عمل کے علماء ومفتیان کا چہرہ بے نقاب ہورہاہے۔ دنیا میںمجرم کھل کر سامنے آئیںگے، رازوں سے پردہ اُٹھے گا اور جو دلوں میں چھپے ہوئے ذاتی مفادات ہیں وہ بھی منظرعام پر آئیں گے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کے بعد خواتین کی عزتوں کو تحفظ دیا ۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں عقیدے،جان، مال اور عزت سبھی کوتحفظ ملے گا

ایک طرف ساری دنیا کو سودی قرض سے چھٹکارا دلایا جائے اوردوسری طرف مزارعت کو فری کیا جائے تو انسان شیطانی کھیل سے بچ سکتے ہیں

رسول ۖ کے دورِنبوت ورحمت میں تمام اقدامات پر تائید یا تردید کیلئے وحی سے رہنمائی ملتی تھی۔ قرآنی تلاوت، صحابہ کرام کا تزکیہ ، کتاب و حکمت کی تعلیم جاری تھی۔ جسکا سورۂ جمعہ میں ذکر ہے اور آخرین کابھی ذکر ہے جو اسلام کی نشاة ثانیہ کاقیام کرینگے۔ نبیۖ سے فرمایا: اگر دین ثریا پر پہنچے تو بھی سلمان فارسی کی قوم کا فرد یا چندافراد اس تک پہنچیںگے ۔ بعض روایات میں علم و ایمان کا ذکر ہے۔ دین، علم اور ایمان الفاظ بظاہر مختلف لیکن حقیقت میں ایک ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے ویڈیو کلپ میں کہا کہ ”رسول اللہ ۖ کی آخری سانسیں تھیں اور دنیا سے رخصتی پرآپۖ کے آخری الفاظ یہ تھے الصلوٰة و ماملکت ایمانکم (نماز کا خیال رکھو اور دوسرے جو آپ کے نوکر ہیں، ان کا خاص خیال رکھو)۔ ملکت ایمانکم میں نوکر آتے ہیں اور بیوی بچے بھی”۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بچے شامل کرکے جہالت کی انتہاء کردی۔ سعودی عرب کا موجودہ قانون مسیار قرآن ماملکت ایمانکم کے مطابق درست ہے۔ جس میںمزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کہاں ابوبکر کی طرف مانعین زکوٰة کیخلاف جہاد اور کہاں جنرل ضیاء دور سے سود کا زکوٰة کے نام پر کٹوتی سے زکوٰة کے وجود کے خاتمے کی تحریف ؟ ۔پھر بینک کے سودی نظام کو حلال کرنے کا اسلام ؟۔
جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان دیوبندی بریلوی کا کام سرکاری سطح پر پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف تحریک نظام مصطفی ۖ چلی تو اس میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور سیدابولاعلیٰ مودودی کے علاوہ پختون وبلوچ ، پنجابی وسندھی کی قوم پرست اور نظریاتی جماعتیں بھی حصہ دار تھیں۔ بھٹو عالم اسلام کی قیادت کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نظام مصطفیۖ کے بغیر دنیا کی قیادت نہیں کرسکتاتھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی گود میں بیٹھ گئی اور مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کیساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرنڈم لڑا کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ مقصد اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ اپنے آپ کوصدر اور مارشل لاء چیف کیساتھ امیرالمؤمنین بناناتھا۔ حادثے میں نہ مرتا تو نوازشریف، جماعت اسلامی ، علماء اور مجاہدین اس کے درباری ہوتے۔
علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی میں دین کی سمجھ ہوتی تو ضیاء ریفرینڈم کی کبھی حمایت نہ کرتے اسلئے کہ جب خواجہ سرا کو یہ اختیار دینا اسلام کے خلاف اور بہت بڑا کفر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مرد خواجہ سراہے یا عورت خواجہ سرا ہے؟۔ حالانکہ میڈیکل آلات نہیں جس سے پتہ چلے کہ خواجہ سرا 51%مرد یا عورت ہے؟۔ جب خواجہ سرا کو اپنے جنس کے تعین کی اجازت اسلام کے خلاف سازش ہے تو پھر عوام کو کیسے اختیار دیا جاسکتا ہے کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ جبکہ پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا اور آئین پاکستان میں بھی اسلام طے تھا؟۔
جنہوں نے ہندوستان ، روس ،امریکہ اورنیٹو کیخلاف جہاد کرکے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تو وہ اللہ کے ہاں پہنچ چکے ۔ اگر مال ودولت یا شہرت کیلئے اپنی شہادت پیش کی تو الگ بات ہے ،اگر اللہ کیلئے قربانی تو اجر اللہ پر ہے۔ جہاد کے نتائج کیوں اچھے نہ نکلے؟۔ بڑا سوال ہے روس کو شکست ہوئی اور پھر مجاہدین نے کیا لڑکوں سے نکاح کیا یا یہ محض امریکی سازش تھی؟۔ بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر خلافت قائم کرنے کیلئے طالبان کو لایا؟۔ یہ دیکھ لیا کہ افغانستان، عراق، لیبیا ، شام اور یمن تباہ وبرباد ہوگئے اور پاکستان کو بھی بہت نقصان پہنچ گیا۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟

کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟

رسول اللہ ۖ نے ریاست مدینہ میں معاشی، معاشرتی اور امن وامان کیلئے اعلیٰ ترین اقدار سے کام لیا اور اندرون وبیرون سے استحکام بخشا تھا

پاکستان، ایران اور افغانستان اس پر عمل کرکے پوری دنیا میں اسلامی نظام خلافت کے قیام کا راستہ ہی ہموار نہیں کرسکتے بلکہ عملی جامہ پہناسکتے ہیں!

مرد طاقتور اور عورت کمزور ہے۔ جائز اور ناجائز تعلق میں کمزوری کا نتیجہ عورت بھگتی ہے۔ جو عورت دنیا میں اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتی ہے یہ اسلام، فطرت اور انسانیت کا تقاضہ ہے۔ یہود ونصاریٰ افراط اور تفریط کا شکار تھے۔ یہود طلاق کو مرد کا کھیل سمجھتے تھے اور عیسائیوں میں طلاق کا تصور ختم تھا۔ مغرب نے مذہب کو خیرباد کہہ کر نکاح و طلاق کے اپنے قوانین ایجاد کرلئے۔ جن میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ اسلام کا کمال ہے کہ مرد کو بالادست قراردیا اور عورت کو کمزور۔ لیکن شوہر کو طلاق اور بیوی کوخلع کا حق دیا۔ طلاق و خلع میں عورت کو مالی تحفظ دیا۔ علماء نے آیت229البقرہ اور230کا درست مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے سورۂ النساء آیت19اور20،21میں بھی خلع وطلاق کا مفہوم بگاڑ دیا ۔
آیت229البقرہ میں2یا3مرتبہ طلاق کے بعد خلع نہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اسکو مشکل ترین قرار دیا مگر مولانا مودودی اور جاوید احمدغامدی نے بھی مغالطے کی وجہ سے اسکا مفہوم مزید سلیس انداز میں یونہی بگاڑ دیا۔ آیت229البقرہ میں عدت کے تین مراحل ، تین مرتبہ طلاق کے بعد عورت کامالی تحفظ ہے اور انہوں نے اس آیت میںخلع کے غلط تصور سے عورت کو بلیک میل کرنے کا شرعی حربہ شوہرکوہاتھ میں دے دیا۔ شیعہ سنی یہ معمہ حل کرنے پر رضامند ہوں تو اپنے چودہ سوسالہ تہہ در تہہ اختلافات کو ازسرنو حل کرنے پر زبردست توجہ دیں گے۔ قرآن سے فقہی مسالک ملیا میٹ ہوںگے تو بد دلی بھی نہیں پھیلے گی۔
عورت کو خلع اور مرد کو شرعی طلاق کا حق مل جائے اور عورت کومالی تحفظ بھی مل جائے تو ان گنت لایعنی فقہی مسائل پر ہنسی آئیگی۔ امام تفسیرصاحب کشاف جاراللہ زمحشرینے اپنی کتاب ”ربیع الابرار” میں لکھا کہ ” صحابہ مدینہ میں فارس سے خلافت عمر میں لوٹ آئے تو انکے پاس3 یزد گرد کی بیٹیاں تھیں۔ عمر نے انکے فروخت کا حکم دیا تو علی نے کہا :بادشاہوں کی بیٹیوں سے بازاری کی طرح معاملہ نہیں کیا جاتا۔عمر نے کہا : کیاکیا جائے؟۔ علی نے کہا: ایک عبداللہ بن عمر، دوسری حسین ، تیسری لے پالک محمد بن ابی بکر صدیق کو دیتے ہیں۔ایک لونڈی سے سالم بن عبداللہ بن عمر، دوسری سے زین العابدین بن حسین اور تیسری سے قاسم بن محمد پیدا ہوئے ،یہ تینوں خالہ زادتھے اور مائیں یزدگرد کی بیٹیاں تھیں”۔
دنیا خلافت سے اسلئے ڈرتی ہے کہ فتح کے بعد ایرانی بادشاہ کی بیٹیاں لونڈی بن کر ابوبکر، عمر اور علی کے بیٹوں کو ملیں۔پھر امریکہ و مغرب کبھی خلیفہ بننے دیںگے؟۔ رسول اللہ ۖ نے غزوہ بدر میں کسی کو غلام ولونڈی بنایا اور نہ فتح مکہ کے موقع پر کسی کو غلام اور لونڈیاں بنایااور نہ ہی جبر سے مدینہ میں اقتدار قائم کیا۔
قرآن میں قیدی کیلئے صرف دو حکم ہیں ۔ احسان سے چھوڑنا اورفدیہ لیکر چھوڑ نا۔ ابھی نندن کو قرآن کے حکم کے مطابق احسان کرکے چھوڑ دیا۔ فدیہ لیکر بھی چھوڑا جاسکتا تھا ۔ جنگی قیدی کو قتل کرنا، غلام یا لونڈی بنانا، اس کو کسی اور کے ہاتھ بیچ دینایا عمر بھر کیلئے قید کرنا قرآن کی تعلیمات کے منافی ہے۔ آج کی مہذب دنیا بھی قرآنی تعلیمات کو ہی قبول کرے گی لیکن مسلمانوں نے خود اللہ کی کتاب کو چھوڑ رکھا ہے۔ مسلمان قرآن کی طرف رجوع نہ کرتے لیکن آخر کار سودی نظام کو بھی اسلامی قراردیا جا رہاہے۔جاہلیت میں جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ممکن نہیں تھا اور بردہ فروشی اور ڈکیتی کے ذریعے بچوں اور عورتوں کو غلام و لونڈی بنانا غیر اخلاقی حرکت تھی۔ غلام ولونڈی بنانے کے تین طریقے تھے۔ مزارعت کے ذریعے۔ بردہ فروشی اور غنڈی گردی سے اور قوموں کو فتح کرنے کے بعد۔ قرآن میں ہے کہ آل فرعون بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل اور خواتین کی عزتیں لوٹتے تھے۔ قرآن نے سود اور مزارعت کا تصور ختم کردیا تھا۔ سود سے آج ملک غلام بنتے ہیں ۔ مزارعت خاندانی غلام اور لونڈیاں بنانے کا ذریعہ تھا۔ بلال خاندانی غلام تھے۔ زید بردہ فروشی سے غلام بنے اور خباببنی تمیم کوبچپن میںڈکیتوں نے غلام بنایا تھا۔ مردوں کو قتل، عورتوں اور بچوں کو بیچ ڈالا۔ خباب پر ظلم کی داستان دیکھ کر شیعہ زین العابدین کی طرح ان سے بھی محبت کریں گے اور یہ احساس بھی ہوجائیگا کہ صحابہ کرام سے اہلسنت کیوں محبت کرتے ہیں؟۔
پاکستان ، افغانستان اورایران عورت کے حقوق بحال کریں۔سودی نظام اور مزارعت کوختم کردیں ۔ زمینوں کو مفت کاشت اورپہاڑوں کوباغات کیلئے کئی سال لیز پر دیں تو ترقی ہوگی۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام قائم ہوگا تو حکمرانوں کو استحکام ملے گا۔ قرآن میں زناپر100اور بہتان پر80کوڑے ہیں۔لعان میں عورت کی گواہی پر عذاب ٹلتا ہے اور زنا بالجبر پر قرآن میں قتل اور حدیث میںسنگساری کی سزا ہے۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے واقعہ پرفقہی قانون سازی اور اختلافات کو زیربحث لانے اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ درسِ نظامی میں قرآن وسنت کا تحفظ ہے لیکن حماقت بھی انتہا ء کو پہنچی ہوئی ہے۔ مدارس کے علماء ومفتیان آنکھیں بند رکھیںگے تو آنے والے دنوں میں خود کش حملوں کا بھی شکار ہوسکتے ہیں اسلئے کہ جب حالات خراب سے خراب ہوںگے تو وہ بھی لپیٹ میں آسکتے ہیں ۔ قرآن وسنت اور اسلام کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ ریاست ، عدالت، سیاست اورصحافت کو ٹھیک راستے پر نہیں ڈالا تو پاکستان کے دن ختم اور یہاں بسنے والی قومیں بہت مشکل کا شکار ہو کر کہاں تک پہنچیں گی؟۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض ”
”جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا!

جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا!

خلافت راشدہ میںاور اسکے بعد جمہوریت ہوتی تو مسلمان فرقہ واریت،خون ریزی اوریزیدی آمریت کا شکار نہ بنتے اور دنیا میں عروج ہوتا؟

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیںگے”۔ (صحیح مسلم) نبی کریم ۖ کی اس پیش گوئی سے جمہوری نظام کی تائید ہوتی ہے؟

نبیۖ سے فرمایا ” ان سے امر میں مشورہ کریں ”۔ فرمایا کہ ” انکا امر باہمی مشاورت سے ہوتا ہے”۔ نبیۖ نے نماز کا طریقہ بتادیا۔ قرآن میں ہے کہ ”جس نے رسول کی اطاعت کی تو تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی”۔ اللہ کے حکم پر عمل سنت ہے۔ خوف اور سفر میں نماز کا جدا حکم ہے اور نماز نہ پڑھنے پر کوئی سزا نہیں ۔صحابہ کرام کی ایک جماعت میں بعض نے عصرکی نماز پڑھ لی اور بعض نے قضاء کرلی۔ نبیۖ نے سزا تو کیا سرزنش بھی نہیں فرمائی۔ نبیۖ نے زبردستی کا اقتدار قائم نہیں کیا۔ابوبکر، عمر ، عثمان ، علی نے خلافت راشدہ قائم کی۔زبردستی کااقتدار عوام پر غلامی مسلط کرنا ہے ،جس کا انجام خراب نکلتاہے۔
فکرہے ہماری نماز، ذکرہے ہمارا وضو
کچھ سوچو سمجھو، سرنہیں ہوتاکدو
اپنا د انشور عربی سے ناواقف ہے
مسلمان ہے مؤمن نہیں عرب کا بدو
حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے خلافت قائم کرنے کی کوشش کی تو مکہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسننے مالٹا اور مولانا فضل الحق خیرآبادی نے کالے پانی میں قید کی سزا کھائی۔ دیوبندی اور بریلوی ان اکابر پر نازکرتے ہیں لیکن اگر پاکستان علماء کی سرپرستی میں قائم ہوتا تواسلام کے بگڑے ہوئے حلیے نے ہمارازیادہ برا حشر کردینا تھا اسلئے جناح کی قیادت رحمت تھی۔
اللہ نے فرمایا ” اللہ کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں جو اولی الامر ہیں۔ اور اگر کسی بات میں تمہارا جھگڑا ہو تو اس کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹادو”۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ مغرب کو نبیۖ نے جمہوری نظام کی وجہ سے حق پر قائم ہونے والے قرار دیا اور اگر خلافت راشدہ کے وقت جمہوری نظام ہوتا تو فتنہ وفساد برپا نہیں ہوسکتا تھا۔دنیا کو اسلام نے جمہوریت کی روح سکھائی مگر یزیدیت نے جمہوریت کو دفن کیا۔
المیہ یہ ہے کہ علماء نے پاکستان میں اسلام کے ٹھوس احکام کو پیش نہیں کیا۔ جان کے بدلے جان اور ناک، کان، دانت، ہاتھ اور پیر کے بدلے اسی عضوء کو کاٹنے کا حکم ہے لیکن طاقتور اور ظالم لوگ کمزور اور مظلوموں کی ناک کاٹتے ہیں اسلئے اسمبلی میں یہ حکم پیش نہیں کیا جاتاہے۔ وہ قوانین بن سکتے ہیں جو قرآن و سنت میں نہیں ۔ جمہوریت سے اچھے اقدار اور قوانین کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں اسلام کے درست معاشی و معاشرتی نظام کو پیش کیا گیا تو اس پارٹی کو ریاست اور عوام اقتدار میں بھی لائے گی۔ خطے اور دنیا میں پاکستان کیلئے کامیابی وکامرانی کے راستے بھی کھل جائیںگے اور آپس میں نفرتوں کا خاتمہ بھی ہوجائیگا۔ ہمارا فوجی، سیاسی، مذہبی اور معاشی اعتبار سے استعداد کسی سے کم نہیں بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے مگرہمارا نظام خراب ہے۔ گھر میں ناچاقی اور خرابی ہوسکتی ہے جو ٹھیک کی جائے ،گھر کو توڑا جائے تو مزید خرابی ہوسکتی ہے۔
پہلے ضرورت کے مطابق ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں تاکہ ابوبکر و علی کی خلافت سے سودی قرضہ اُتر ے۔ پھر معاشی خوشحالی کا دور آئیگا تو سورۂ واقعہ کے مطابق تین طبقات میں عوام کو تقسیم کیا جائیگا جو خود بخود اپنے مقام کو پہنچیںگے۔ پہلا طبقہ مقربین ، دوسرا اصحاب الیمین اور تیسرا اصحاب الشمال کابن جائیگا۔
ہمارا مراعات یافتہ طبقہ جج، جرنیل، بیوروکریٹ اور سیاستدان یہ نہیں سوچتا کہ ریاست پر بڑا بوجھ آگیا۔ عوام ٹیکسوں سے مرگئی ۔ ریاست دًم توڑرہی ہے۔ حکومت بدنامِ زمانہ بھکارن بن گئی۔ سیلاب زدگان کیلئے فون کی گھنٹی پر دس روپے کی بھیک وزیراعظم فنڈز کیلئے مانگتے ہیں۔ شریف خاندان کو چاہیے کہ لوٹی ہوئی دولت ہو یا حق حلال کی کمائی اسکے دھیلے دھیلے کی زکوٰة سیلاب زدگان کو دیں تو بڑا کچھ ہو گا۔ عمران خان فنڈز غریبوں پر لگاتا تو غریب اس کی صف میں بھی ہوتے۔ اقتدار حاصل کرنے کیلئے خرچہ ہوتا ہے اور غریب مررہا ہوتا ہے۔ علماء کے بچے غریب کی زکوٰة خیرات پر امیر زادے اور شہزادے بن گئے ہیں۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv