پوسٹ تلاش کریں

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

1:ریاست عوام پر معیشت کا بوجھ ہے اور اس کا تدارک کس طرح ہوسکتاہے؟۔
2:جمہوریت لڑائیوں اور نفرتوں کی بنیادہے؟۔ اس کا تدارک کیسے ہوسکتا ہے۔
3:صحافت نے سیاسی وکالت کا ٹھیکہ اٹھایاہے۔اسکو لگام کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
ماں انسان ہو یا جانور، بچوں کو روزی دیتی ہے۔ ریاست ماں گدھی ہو تو لاتیں نہیں مارتی، گھاس کھاکر بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ گدھیڑے بچے بھی ماں سے پیار کرتے ہیں۔ ریاست دودھ نہ دے اور لاتیں مارے تو گدھی سے بدتر ہے۔ جنرل ضیاء کے بعد بینظیر بھٹو نے اقتدار سنبھال لیااور پھرIMFسے پاکستان نے تاریخ میںپہلی مرتبہ قرضہ لیا تھا۔جس پر حبیب جالب نے کہا تھا
ہربلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ” بی بی یہ آپ کی تعریف ہے”۔ وکیل کا کام سیاہ کو سفیداور سفید کو سیاہ کرنا ہے۔ جالب نے ضیا ء الحق کے مقابلے میں بینظیر بھٹو کی تعریف میں اشعار کہے کہ ” ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے ” ۔
جنرل مشرف نے غیرت کو بالائے طاق رکھ کرامریکہ سے20ارب ڈالر لئے ۔پاکستان کوIMFسے2004سے2008تک آزاد کردیا۔ یوسف رمزی اور ایمل کانسی پہلے امریکہ کو دئیے ۔ ریمند ڈیوس، عافیہ اور ملا ضعیف بھی ۔ افغانستان نے غیرت دکھائی اور بن لادن کو حوالے نہیں کیا۔ قوم مہاجر بنے اور اغیار قبضہ کریںتو عورتوں اور مردوں کی عزتیں بری طرح پامال کی جاتی ہیں۔
پرویزمشرف نے پھر6ارب ڈالر کاIMFسے قرضہ لیا۔ جوزرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا،نوازشریف نے30ارب ڈالر تک ، عمران خان نے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچایا۔ زرداری نے پرویزمشرف سے 4 ارب ڈالر کا زیادہ قرضہ لیا۔6+4=10اور نوازشریف نے زرداری سے4ارب ڈالرزیادہ قرضہ لیا۔10+4=14اورعمران خان نے نوازشریف سے4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لیا۔14+4=18۔ سب ایک دوسرے سے بد سے بدتر ہیں۔ قرضہ سے مہنگائی کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے اور موجودہ حکومت بھی4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لے تو18+4=22۔ قرضہ70ارب ڈالر تک پہنچے گا تو پھر ایٹمی اثاثہ جات کیا ہماری جانیں اور عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔
معیشت طوفانِ نوح اور کرپشن چندافراد کیلئے کشتی نوح ہے جو بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کو آباد کررہے ہیں، عوام اور تمام اداروں کا بیڑہ غرق ہے۔ پہلے جس سول بیوروکریٹ، فوجی جرنیل، جج ،سیاستدان ، صحافی کے بچے بیرون ملک ہوں کو فارغ کیا جائے۔ مزدور و تاجر بیرون ملک پیسہ کماکر پاکستان بھیجتاہے تو خوشحالی آتی ہے اور یہ یہاں سے کماکر باہر بھیجتے ہیں تو بدحالی آتی ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔ اشتہارقومی رقم سے چلے ۔صحافی سیاسی پارٹی، چینل اور حکومت یاا پوزیشن کی وکالت میں توازن کھو کرقوم کادماغ خراب کرے۔
صحافی بیرون ملک خطرناک ہیں۔ عوام کی ذہن سازی سچ سے ہوتی ہے۔ سچ کڑوا مگر زہر نہیں تریاق ہے۔ سچ سے جھوٹ دفن ہوتے ہیں مگر سچ آتے آتے جھوٹ قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ احمد رفیق نورانی نے فوج اور طاقتور طبقے کا مقابلہ کرکے مشکل زندگی گزاری اور اب بیرون ملک ہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ اور اسکے خاندان پرFBRکے ریکارڈ کی خبر لگائی تو اسحاق ڈار نے میڈیا پر بتایا کہ تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ خبر کس نے لیک کردی ہے؟۔ جس سے الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبربریگیڈ کی زبان پر بھی ڈھول بجنا شروع ہوگئے۔ اچھی بات یہی ہے کہ احمد نورانی نے کسی صحافی کے پوچھنے پر بتایا کہ ” جنرل قمر جاوید باجوہ پر بلجیم کی پراپرٹی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی پرآسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کا الزام جھوٹا ہے”۔ لوگFBRمیں جنرل باجوہ کے خاندان کی12یا13ارب کے اضافے کو بہت زیادہ اور انوکھا سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مفتی محمد نعیم کے بھی5ارب34کروڑ کی رقم اکاونٹ سے نکلنے کی خبر تھی تو آرمی چیف ایک طاقتور عہدہ ہے ، اس کا خاندان پہلے بھی اثاثے رکھتا ہوگا۔ جھونپڑی کے خاندان سے تو وہ اس منصب تک نہیں پہنچا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جھونپڑی اور عام گھر کی قیمت کہاں سے کہاں6سالوں میں پہنچی ہے؟۔اگر مہنگائی میں کئی سو فیصد تک اضافہ ہوا تو کیا جنرل باجوہ کے خاندان کی پراپرٹی کی قیمت نہیں بڑھی ہوگی؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب اس پر چھپی ہوئی بلجیم کی دولت کے الزامات جھوٹے نکلے اور جس دولت کوFBRمیں درج کیا ہے تو کیا یہ قابلِ تعریف نہیں ہے؟۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اگر آسڑیلیا کے جزیرے اور بلجیم کی دولت کی طرح یہ خبر بھی جھوٹ نکلے تو پھر کیا ہوگا؟۔ پانچویں بات یہ ہے کہ باجوہ کو لگایا نوازشریف نے اور ایکسٹینشن عمران خان اور سب نے ساتھ مل کر دی۔ اب ان دونوں نے اس کو اپنے مفاد کیلئے گرانے کیلئے جاتے جاتے دونوں ٹانگوں سے پکڑ لیا ہے اور وہ گالی گلوچ کررہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ پہلے دونوں طرف سے جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن کی بات ہورہی تھی لیکن جب جنرل باجوہ نے انکار کردیا تو سب پیچھے پڑگئے۔ کوئی شرم بھی ہوتی ہے ، کوئی حیاء بھی ہوتی ہے، کوئی غیرت بھی ہوتی ہے اور کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ کچھ اخلاقیات اورکچھ اقدار بھی ہوتے ہیں۔
کرپشن پر بینظیر کا اقتدار ختم ہوا۔ اسلامی جمہوری اتحاد ملٹی پارٹی کمپنی کوISIنے پیسہ دیکر اقتدار میں لائی۔نوازشریف کو95لاکھ دئیے گئے، میرا ماموں جنوبی وزیرستان سے پونے دو کروڑ روپے خرچ کرکے قومی اسمبلی کی نشست ہارا تھا۔ نوازشریف ایون فیلڈ اور رائیونڈمحل کا مالک ہے اور میرے ماموں زادکی رہائش پرائے گھر میں ہے۔ آئی جے آئی کا انتخابی نشانہ سائیکل تھا ۔ ایک پہیہ جمہوری ، دوسرا اسلامی تھا۔ جماعت اسلامی چین اورISIکمان تھی۔ سپاہ صحابہ و دیگر جماعتیں کل پرزے تھے۔ریاست، جمہوریت اور صحافت ایک پیج پر تھے۔ جنرل حمیدگل نے قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق شہید اور سپاہ صحابہ واہل تشیع مذہبی عناصر کی وجہ سے اسلام کا نام دیا ۔MRDسے پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئیIJIکے صدر تھے۔ مولانا سمیع الحق اتحاد کے صوبائی صدرنوازشریف کے حق میں دستبردار ہوا۔ سائیکل کا جمہوری پہیہ پنکچرہوا تو غیر جمہوری اور غیر اسلامی نواز شریف کو بٹھادیا۔ کرپشن کی بنیاد پر تخت سے اتار ا گیا تو جمہوریت رہی اور نہ اسلام ۔قوم پرستی کا نعرہ لگایا: جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گئی آگ۔
زرداری پر گھوڑوں کو مربہ کھلانے ،سرے محل، سوئس اکاؤنٹ کاالزام لگا۔ نوازشریف پر ایون فیلڈ لندن فلیٹ کے ثبوت مل گئے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدارمیں آئے توIMFکا قرضہ بڑھا۔ جب نوازشریف نے پرویز مشرف کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنادیاتو فوج نے ری ایکشن کیا اور خواجہ ضیاء کو گرفتار کرکے نوازشریف کا اقتدار ختم کیا۔ فوج کی پہلی لڑائی اپنے سہولت کارسکندر مرزا سے ہوئی جو ڈپٹی کمشنر سے گورنر جنرل بنا تھا اور پھر پہلے لے پالک ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی جو مجیب کے مقابلے میں اقلیتی جماعت کا قائد تھا۔ پھر دوسرے لے پالک نواز شریف سے ہوئی۔ اب تیسرے لے پالک عمران خان سے ہوئی۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔
مولانا فضل الرحمن کی تقریر ” آذانِ انقلاب ”کے نام سے چھپی۔ جس میں جمعیت علماء اسلام پر احادیث فٹ کی گئیں جو خلافت کے حوالے سے ہیں۔ میرا بھائی پیر نثار احمد کہتا تھا کہ میرے15سال اسلامی کتب کا مطالعہ ایک طرف اور مولانا فضل الرحمن کی یہ تقریر دوسری طرف ہو تو تقریر کا پلڑا بھاری ہے۔ مجھے اس پر مسکان آتی مگر بھائی کی دل شکنی اور اس جہالت سے پردہ نہیںہٹانا چاہتا تھا اسلئے کہ حرکت میں برکت ہے۔ حرکت کو دھچکا پہنچتا تو یہ فکر مٹ جاتی۔ علماء نے مولانا فضل الرحمن کو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے بعدMRDمیں شمولیت پر اسلام سے خارج قرار دیا۔ خلق پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی سے اتحاد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔پھر نیشنل پیپلزپارٹی جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد ہوا۔ وہی شخص،اسی پارٹی و منشور کیساتھ انہی نکٹوں کی قیادت کررہا تھا جس کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن کودائرہ اسلام سے خارج کافر قرار دیا گیا تھا۔جب قحط الرجال کا دور آیا تو فتویٰ لگانے والے علامہ زاہدالراشدی کو جمعیت کی طرف سے مولانا فضل الرحمن نے شیلڈ پیش کردی۔ کیا یہ اس فتوے پر انعام دیا گیا؟۔
جب1997ء میں دوسری بار مولانا فضل الرحمن اسمبلی سے باہر ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کااجلاس ڈیرہ اسماعیل خان میں بلایا۔ مولانا محمدمراد نے جمہوریت کے حق اور مولانا محمد خان شیرانی نے مخالفت اور انقلاب کے حق میں دلائل دئیے۔ انقلابی سیاست کا فیصلہ ہوا۔ اعلان کیلئے مینارِ پاکستان لاہور میں جلسۂ عام رکھا تو فوج نے مولانا فضل الرحمن پر دباؤ ڈالاتو انقلاب کا اعلان مؤخر کیا۔ پھرنوازشریف کی حکومت جنرل مشرف نے ختم کردی ۔ پھرARDمیں نواز شریف، محمود اچکزئی، عمران خان، قاضی حسین احمد اور دوسری پارٹیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور نوازشریف نےARDسے2008کے الیکشن میں دھوکہ کرکے شرکت کرلی۔ پھر ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب کا شوشہ چھوڑا۔ دوسری مرتبہ عمران خان بھی ساتھ تھا۔ اب جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ نے عمران خان کیساتھ انقلاب کا اعلان کررکھا ہے۔
عمران خان کیساتھ پنجاب ، پختونخواہ ، گلگت بلتستان اور کشمیر حکومت ہے ۔ متحدہ حکومتی اتحاد سے ضمنی الیکشن میں پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ جبPDMمیں مولانا فضل الرحمن ، ن لیگ وغیرہ نے اپنا بیانیہ بنایا تھا کہ عمران خان کٹھ پتلی ہے ، ہمارا اصل ہدف فوج ہے تو آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اتنا بڑا رسک لینے کیلئے ضروری ہے کہ نوازشریف بھی لندن سے واپس آجائے۔ جس پر ن لیگ نے آصف علی زرداری کو خوب باتیں سنائی تھیں۔ پھر پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے باہر پھینک دیا تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا مخالف بیانیہ عمران خان اور مولانا محمد خان شیرانی کے ہاتھ میںآیا۔جمعیت علماء اسلام کے کارل مارکس مولانا محمد خان شیرانی، جذبات کے ترجمان پختونخواہ کے امیر مولانا گل نصیب خان اور جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں پیش پیش اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔
بلوچستان میں مسنگ پرسن اور پختونخواہ میں طالبان کا رونا ہے۔ اسلام پاکستانی عوام کیلئے اتحادنہیں انتشار کا باعث بنادیا گیاہے۔ قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ریاست عوام کی جان ، مال اور عزت کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ پاکستان، نظام مصطفی، اسلامی جمہوری اتحاد اور ریاست مدینہ کے نام پر لوگوں کو نسل در نسل دھوکادیاگیا۔اگر اسلام کے اصلی ونسلی لوگ میدان میں آگئے تو پھر دیکھنا پاکستان کی تقدیر بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔انشاء اللہ العزیز
امام زین العابدین بن حسین نے فرمایا: انما العلم ما عُرِف وتواطأت علیہ الأ لسن ”علم وہ ہے جو پہچانا جائے ،بسہولت زبان پرجاری ہو”۔ (سیر اعلام النبلاء وابن عساکر19/13) ۔ نبی ۖ نے مہدی کافرمایا: یؤاطی اسمہ اسمی”اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا” ۔ لفظی موافقت مراد نہیں بلکہ وہ شخصیت جو آپۖ کے بعد لوگوں کو فطری راہ پر چلائے۔ درمیانہ زمانے تک دین اجنبی بن جائیگا ۔ مہدی اس کو معروف وآسان بنادیگا۔اقبال نے کہا:
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت ہے جس کی نگاہ زلزلہ ٔ عالم افکار
ہماری ریاست، حکومت، سیاست ، صحافت ،عدالت اور معاشرے کو اسلام کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اسلام خود فرقہ واریت اور دہشت گردی کے حصار میں ہے۔ ارشد شریف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز اس میں ملوث ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سگے نوازشریف ، عمران خان اور ارشد شریف کا اپنا اپنا دائرۂ کار تھا۔ ایک وسیع دنیا میں سازش کو پکڑنا آسان نہیں لیکن اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ وزیرستان کا ایک بچہ ذبح ہوا ہے۔ قاتل اور مقتول کا قریبی رشتہ ہے۔ قتل سے پہلے پولیس کو رپورٹ کرکے ملزم کو پکڑ وایا بھی تھا اور اس کے باوجود حقائق اور انصاف تک پہنچنا معمہ بنا ہواہے۔ ایک عورت کو زبردستی سے زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور وہ ظالم کے خلاف گواہی دے مگر اسکے پاس3 سے زیادہ چشم دیدگواہ نہ ہوں تو الٹا اس پر حدقذف جاری کی جائے۔ پھر دنیا کے کس قانون سے کون، کس کو انصاف دے سکتا ہے؟۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اسلام کو غلط فقہی موشگافیوں سے نکال کر فطری دین کی طرف رجوع کیا گیا تو ہمارے سیاسی، معاشی، معاشرتی، ریاستی ، عدالتی اور قانونی مسائل بہت جلد حل ہوجائیں گے اور اس سے امت مسلمہ اور دنیا موجودہ دلدل سے نکل جائے گی۔ صرف جرنیلوں کے بٹ مین صحافیوں کی زبانوں سے انقلاب نہیں آسکتا ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

شہباز شریف اور مریم نواز شریف فتنہ راشد مراد کو لندن سے پکڑ کر لائیں!
اُردو اور پنجابی میں فوج پر آرمی پبلک سکول کی سازش کا بہت ہی بڑا الزام!

لندنRMTVکے راشد مراد کی ارود اور پنجابی میں ویڈیوز سے یوٹیوب بھر ا ہے۔ جو نوازشریف کواقتدار میں لانے کیلئے فوج پر انتہائی غلیظ زبان سے گھناؤنے الزامات لگاتا ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ اسکے ویلاگ اور ٹوئیٹ نوازشریف کیلئے دیکھ لیں ۔ طالبان نے مہران ائیربیس کراچی،GHQپر قبضہ،ISIملتان دفترپر دھماکہ اور بہت بڑے بڑے واقعات کئے ۔ جب پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوا تو عمران خان کی صوبے میں نوازشریف کی مرکز میں حکومت تھی۔ راشد مراد نے اردو ، پنجابی میں عمران خان کی سیاسی مخالفت اور نوازشریف کی حمایت میں اس واقعہ کو جب منظم سازش قرار دیاتو پورے پاکستان پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں یہ پاک فوج سے سخت ترین نفرت کرنے والوں کیلئے اصل بنیاد ہے۔ جب نوازشریف کا خاص آدمی راشد مراد کہے گا کہ147بچے آرمی پبلک سکول میںDGISIجنرل ظہیرالاسلام نے شہید کئے تاکہ عمران خان کو دھرنے سے باعزت نکلنے کا راستہ مل جائے تو پھر پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کیاسوچیںگے؟۔ پاک فوج کور کمانڈر کانفرنس میں وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کرے کہ وہ راشد مراد کو پاکستان بلائیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو لندن میں نوازشریف اور مریم نواز کے درمیانTVسکرین پر بٹھا کر حقائق پوچھ لیں۔PDMمیں شامل جماعتیں، پیپلزپارٹی،ANP، عمران خان، منظور پشتین،پشتون اور بلوچ قوم پرست بھی سب ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ انصار عباسی ، جیواور ن لیگ کیلئے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کام کرنے والے صحافیوں کو بھی شامل کریں تاکہ ملک وقوم سے بدگمانی و انتشار کی فضاء ختم ہو۔ عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے اور غلط افواہیں اُڑانے والوں کے بارے میں اللہ نے فرمایا :ملعونین اینما ثقفوا اخذواو قتلوا تقتیلاً ”یہ مدینہ میں نہ رہیںگے مگر کم وقت، لعنتی ہیں،یہ جہاں پائے گئے پکڑکر قتل کئے گئے، یہی اللہ کی سنت ہے جوامتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں بھی”۔ (سورۂ الاحزاب آیت61) پاکستان کا آئین صرف قرآن وسنت کاپابندہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔ ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔

یقین کریںکہ لوگ ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں مگر اپنے بچوں پر نہیں کرسکتے۔ہماری ایجنسیاں کہاںسوئی ہیں؟ کیاائیرکنڈیشن کمروں اور بڑی بڑی لینڈ کروزر میں گھومنے کیلئے ہیں؟

ہمارا واقعہ پلان تھا، سہولت کار کہاں پر ہیں؟ایک دفعہ گھر بھجوادیا جائے تو مجال ہے کہ دوسرا سانحہ ہوجائے۔اب پھر طالبان کو کیوں لایا جارہاہے، پھر کس کے گھر اُجاڑنے ہیں؟۔

میں شہید اسفند خان اور آرمی پبلک اسکول پشاور میں شہید147بچوں کی والدہ ہوں۔ آج ہمیں امن جرگے میں بلایا گیا۔ دیر آید درست آید۔ باتیں تھوڑی تلخ ہونگی مگر حقیقت پر مبنی ہوں گی جو شاید سننا نہیں چاہتے لوگ، لیکن میں سناؤں گی۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ آج امن کی بات ہورہی ہے تو میں کہتی ہوں کہ اگر امن چاہیے تو ان دو لائنوں کا مطلب سمجھیں۔ یقین کریں لوگ ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں لیکن اپنے بچوں پر نہیں کرسکتے۔ ہمارے بچوں کو کیوں شہید کیا گیا ان کے ذمہ داران کون ہیں؟ ان کے سہولت کار کون ہیں؟۔XYZتو چلو مرگئے ۔ ہمارے اسکول کا سانحہ پلان کیا گیا تھا۔ تو ذمہ داروں سے پوچھتے کیوں نہیں ہیں کہ جب یہ پلان ہورہا تھا تو آپ کس ہاتھی کے کان میں سورہے تھے؟ کیسے سب کچھ ہوگیا ؟ ہماری ایجنسیز کہاں سوئی ہوئی تھیں؟۔کیا وہ صرف کرسیوں پر ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھنے کیلئے ہیں؟۔ بڑی بڑی لینڈ کروزر میں گھومنے کیلئے ہیں؟۔ یہ رولنگ کلاس پارٹی بیٹھی ہے ، ہم نے ایک ایک پارٹی کو پکڑا لیکن کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ اسلئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ مقدس گائے سے پوچھے کون؟۔ خلائی مخلوق سے پوچھے کون؟ ہم وہ والدین ہیں جو تاریخ بنارہے ہیں ہم پوچھیں گے۔ اگر پوچھا ہوتا تو باچا خان یونیورسٹی اور ایگری کلچر یونیورسٹی میں لاشیں نہ گرتیں۔ ایک دفعہ کسی کو گھر بھجوادیا تو مجال ہے کہ کوئی دوسرا سانحہ ہوجائے۔ کوئی ہے جو مقدس گائے سے پوچھے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کو بھی اٹھالیا جائیگا۔ ساڑھے سات مہینے سے وہ کیس بند ہے۔
Justice delayed is Justice denied
والا قصہ ہے ۔یہی ہمارے ََََساتھ بھی کیا جارہا ہے۔روئیں گے چیخیں گے چلائیں گے ،میڈیا پر بولیں گے، قصہ ختم ہوجائیگا۔جیسے سب لوگ شہیدہوجاتے ہیں یہ بھی شہید ہوگئے ، ہم بھی اپنے بچوں کی قبروں پر مٹی ڈال کر سوگئے۔ مجھے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ روئیں نہیں میں جب عمرے پر گیا تھا تو میں نے آپ کیلئے بہت دعائیں کیں کہ اللہ آپ کو صبر دے۔ تو میرے پاس اپنے بیٹے کی لاش کی تصویر تھی میں نے ان کو کہا کہ جسٹس صاحب مجھے انصاف چاہیے۔ آپ کا کام نہیں ہے میرے لئے صبر کی دعائیں کرنا وہ میرا اور میرے اللہ کا مسئلہ ہے۔ آپ کا کام مجھے انصاف دینا ہے۔ آپ اس کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ مجھے اجر دلوانے کیلئے دعاؤں کے پیسے نہیں لیتے۔ میری ان تمام باتوں کا لب لباب یہی ہے کہ اگر ہم ذمہ دار لوگوں کو جو اس چیز کیلئے ہائر کئے گئے ہیں جن کا جو یہ کام ہے اگر وہ صحیح طریقے سے کریں تو امن ہی امن ہے۔ کسی جرگوں کی ضرورت نہیں ہے کہ دوسرا جرگہ کریں تیسرا جرگہ کریں اور چوتھا کریں۔ جب امن ہوگا تو جرگوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ابھی جو طالبان کا سین چل رہا تھا پہلے عمران خان صاحب نے چلایا تھا۔ اسکے بعد یہ سین دوبارہ چل رہا ہے۔ اس کی بھی ہم نے بہت مذمت کی کہ جب یہ پالیسیاں بنارہے ہیں تو اور کس کی لاشیں گرارہے ہیں؟۔ اور کس کی قربانیاں لی جارہی ہیں؟۔ اور کس کی ماؤں کو رلایا جارہا ہے؟۔ اور کتنے گھر ویران ہورہے ہیں؟۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بس ہوگیا لوگ روئیں گے۔ تھوڑے سے میڈیا میں آئیں گے چیخ و پکار ہوگی۔ دو تین اینکر آکر انٹرویو لے لیں گے۔ بس رو رو کر قصہ ختم مٹی پڑ گئی سب پر۔ دی اینڈ اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا چلتا رہے گا اور آپ لوگ امن جرگے کرتے رہیں گے کرتے رہیں گے۔ اس سب کا لب لباب یہ ہے کہ ذمہ دار لوگوں سے جواب طلب کیا جائے۔ وہ جوابدہ ہیں ان کو جواب دینا ہوگا تو تب ہی اس کا حل نکلے گا۔

__شہید اسفند خان کی اماں کی جرأت کو لاکھوںسلام مگر…..تبصرہ__
جب شہبازشریف اور عمران خان مرکز اور پنجاب میں طالبان کو سپورٹ کیا کرتے تھے اور میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے سمیت روزانہANPشہید کی جاتی تھی ۔ انکے قائدین اور کارکنوں کو خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایا جاتا تھا تو پختونخواہ کی عوام عمران خان اور پاکستانی عوام نوازشریف کواقتدار میں لائی۔سوات اور قبائلی علاقوں کی عوام تباہ ہوگی اور اپنے ایک بچے پر بزرگوں کو ڈانٹ رہی ہیں۔ بشیر بلوراورہارون بلور نے خود کو قوم پر قربان کیا تھا۔ لیکن پشاور والے فوج و طالبان کے حامیوں کو اقتدار میں لائے تھے یا نہیں؟۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔

جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔

سورہ المائدہ میں اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کے تین الگ الگ گروہ ہیں۔1:علماء ومشائخ،2:حکمران اور3:عوام الناس

علماء ومشائخ کے فیصلے سے دین بدل جاتا ہے اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ ہے، حکمران عدل قائم نہیں کرتے اسلئے ظالم ہیں اور عوام صرف فاسق بنتے ہیں

سورۂ المائدہ میں اللہ نے3فتوے بیان فرمائے ۔ پہلا یہ کہ ” علماء ومشائخ کا کام دین کی حفاظت ہے ۔ علماء یہود تورات کی حفاظت کرتے مگر انہوں نے خوف اور لالچ کیلئے کتاب کو بدل ڈالا۔ اے امت مسلمہ کے علماء تم خوف و لالچ کیلئے دین کو مت بدلو اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں”۔ علماء کی طرف سے اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے سے اللہ کا دین بدل جاتا ہے اسلئے ان پر سب سے زیادہ بڑا فتویٰ کفر کا لگایا گیاہے۔
اللہ نے دوسرا فتویٰ یہ لگایا کہ بنی اسرائیل میں بہت سے بادشاہ بنادئیے تھے اور واضح کیاتھا کہ ” ہم نے توراة میں ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، دانت کے بدلے دانت، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان اور زخموں کا قصاص ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ چونکہ معاشرے میں عدل وانصاف کا نام قائم کرنا حکمرانوں کا کام ہے اسلئے یہود کے حکمرانوں پر ہی اس آیت میں ظالم ہونے کا فتوی لگایا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اقتدار نہیں ملا تھا اور انجیل میں حکومت سے متعلق احکام نہیں ہیں۔ یہودی علماء و حکمرانوں کا قبضہ رہاتھا اور تورات کے حوالے سے پہلے دو سخت فتوے جاری کئے گئے ۔ اللہ نے تیسرا فتویٰ اہل انجیل عوام پر اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہ کرنے کے حوالے سے فاسق کا لگادیا۔ کیونکہ عوام کی وجہ سے نہ دین بدل سکتا ہے اور نہ ظلم کا نظام قائم ہوسکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ نے نظام کو تلپٹ کرنے کا کہا تو انگریز نہیں تھا بلکہ اسکے باپ نے فتاوی عالمگیریٰ میں اورنگزیب بادشاہ کیلئے دین کا فتویٰ بدلاتھا۔آج پھر علماء یہود کے عالمی بینکنگ کے نظام کیلئے زکوٰة اور سود کے احکام بدل رہے ہیں۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے! امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید”
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری

کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری

کچھ مفتی گھٹنوں میں سر دے بیٹھے لیکن سید بولتا تھا
جب ریاست پاکستان مرزائیوں کو مسلمان کہنے پر تلی ہوئی تھی تو کئی بڑے علماء ومفتیا ن دُم دبا کر بیٹھے تھے!

حکومت نے بیان درج کرانے کیلئے امیر شریعت کو سکھر جیل سے لاہور سینٹرل جیل منتقل کردیا۔ پیشی پر امیر شریعت اور انکے قیدی رفقاء کو سخت پہرے میں لایا گیا۔ عدالتی ہرکارے نے آواز لگائی ، سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری۔ اب اسیر ختم نبوت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری پورے قلندرانہ جاہ وجلال والی جرأت و وقار کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ سرفروشان احرار نے پورے ہائیکورٹ کو حصار میں لے رکھا تھا۔ عدالت کے دروازے پر ہزاروں فدایانِ ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت ۖ کے پروانے نعرہ زن تھے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد۔ امیر شریعت نے عدالت کے درواز پر کھڑے ہوکر ہتھکڑیاں فضاء میں لہرائیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا ، حکم ہوا خاموش۔ تمام مجمع ساکت و جامد ہوا۔ امیر شریعت عدالت میں داخل ہوگئے۔ جسٹس منیر بغض و حسد سے بھرا ہوا غصے سے لال پیلا گردن تنی ہوئی تکبر غرور کا پیکر بنا کرسی پر بیٹھا تھا۔ مرد مؤمن کے چہرہ انور پر نگاہ پڑی تو اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ جسٹس منیر دوسری مرتبہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ عدالت کی کاروائی شروع ہوئی۔ امیر شریعت نے اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منیر نے ایک نظر بیان کو دیکھا۔ جسے اس نے منیر انکوائری رپورٹ میں شامل نہیں کیا اور پھر اس نے اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں سوالات کا آغاز کردیا۔ جسٹس منیر:ہندوستان میں اس وقت کتنے مسلمان ہیں؟۔ امیر شریعت : سوال غیر متعلق ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھیں۔ جسٹس منیر: ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑجائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ امیر شریعت: ہندوستان میں علماء موجود ہیں وہ بتائیں گے۔ جسٹس منیر : آپ بتادیں؟۔ امیر شریعت: پاکستان کے بارے میں پوچھیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟۔ جسٹس منیر : مسلمان کی کیا تعریف ہے؟۔ امیر شریعت: اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کیلئے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے۔ لیکن اسلام سے خارج ہونے کیلئے ہزاروں وجوہات ہیں، ضروریات دین میں کسی ایک کا انکار کفر کے ماسوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی انسانوں میں مانا تو مشرک، قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر۔ اور نبی کریم ۖ کے منصب ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد۔ جسٹس منیر: (قادیانی وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) انکے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ امیر شریعت: خیال نہیں عقیدہ ہے جو انکے بڑوں کے بارے میں ہے۔ مرزائی وکیل: نبی کی کیا تعریف ہے؟۔ امیر شریعت: میرے نزدیک اسے کم از کم ایک شریف آدمی ہونا چاہیے۔ جسٹس منیر بدتمیزی کے انداز میں: آپ نے مرزاقادیانی کو کافر کہا؟۔ امیر شریعت: میں اس سوال کا آرزو مند تھا کوئی بیس برس پہلے کی بات ہے یہی عدالت تھی جہاں آپ بیٹھے ہیں یہاں چیف جسٹس مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ تھے اور جہاں مسٹر کیانی بیٹھے ہیں یہاں رائے بہادر جسٹس رام لال تھے۔ یہی سوال انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا وہی جواب آج پھر دوہراتاہوں۔ میں نے ایک بار نہیں ہزاروں مرتبہ مرزا کو کافر کہا ہے اور کافر کہتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں کافر کہتا رہوں گا، یہ میرا ایمان اور عقیدہ ہے اور اسی پر مرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی اور اسکی ذریت کافر و مرتد ہے۔ مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔ جسٹس منیر: (غصے سے بے قابو ہوکر دانت پیستے ہوئے) اگر غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کردیتے؟۔ امیر شریعت: میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کرکے دیکھ لے۔ حاضرین عدالت: نعرہ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد۔ کمرہ عدالت نعروں سے لرز گیا۔ جسٹس منیر نے بوکھلا کر کہا: توہین عدالت۔ امیر شریعت نے جلال میں آکر فرمایا: توہین رسالت۔ محترم قارئین! جسٹس منیر (دم بخود، خاموش، مبہوت، حواس باختہ) پسینہ پوچھنے لگا۔عدالت امیر شریعت کی جرأت ایمانی اور جذبہ حب رسول ۖ دیکھ کر سکتے میں آچکی تھی۔ امیر شریعت نے گرج دار آواز میں پوچھا :کچھ اور؟جسٹس منیرپریشانی میں بڑبڑاتے ہوئے : میرا خیال ہے ہمیں اور کچھ نہیں پوچھنا، عدالت برخواست ہوتی ہے۔ وہ صداقت جس کی بے باکی تھی حسرت آفریں ۔ قارئین ! امیر شریعت کا مکالمہ امید ہے بہت اچھا لگا ہوگا!۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے! امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

ہمارے فقہاء اور علماء نے یہ واضح کیا ہے کہ مرتد سے قاضی یا جج پوری تفتیش کرے گا۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید
یہ کسی فرد کا کام نہیں کہ مرتد کوخود قتل کردے۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کاقتل ہے
سعودی عرب کیساتھ شامل اسلامی ممالک کا اتحاد کسی اسلامی ملک کیخلاف نہیں خوش آئند ہے

سلیم صافی: شیخ صاحب! پاکستانیوں کو آپ کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں بات بات پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ تو اس پر رہنمائی کی جائے کہ شرعی لحاظ سے ایک مسلمان کس وقت مرتد یا کافر قرار پاتا ہے اور کسی مسلمان کو کافر، مرتد یا واجب القتل قرار دینے کا اختیار وہ صرف ریاست کے پاس ہے یا کہیں افراد کو بھی وہ حق دیا جاسکتا ہے یا علماء کو بھی؟۔
امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید: یہ معاملہ تو علماء اور فقہاء کے نزدیک بڑا واضح ہے اوراُمت مسلمہ اس کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان بھی کرچکی ہے۔ ارتداد اور کفر سے متعلق جتنے بھی معاملات ہیں یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی ایک فرد اٹھے اور کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دے دے۔ اور وہ کافر یا مرتد یا واجب القتل سمجھا جائے۔ جس پر بھی اس قسم کا کوئی الزام لگے گا وہ معاملہ عدالت میں جائے گا۔ حکومتی جو ذمہ داران ہیں، جو قاضی ہے، جو جج ہے وہ اس معاملے کے متعلق ثبوت اور گواہیاں اکھٹی کرے گا۔ اور استفسار کرے گا پھر جس شخص پر یہ الزام لگایا اس سے گہرے سوالات کئے جائیں گے کہ آیا جس نے اس پر یہ الزام لگایا وہ اس کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔ اپنا کوئی بھی مؤقف جو وہ بیان کرتا ہے اس کیلئے وہ کوئی تاویل بیان کرتا ہے یا وضاحت کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کچھ باتیں تو کررہا ہو لیکن ذہنی طور پر ٹھیک نہ ہو۔ یا اس کی ذہنی حالت ایسی نہ ہو جس میں اس کو اپنی گفتگو کی سنجیدگی کا انداز ہو۔ تو اس حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چاہے کفر کا معاملہ ہو چاہے کسی کو مرتد قرار دینے کا یا قتل کرنے کا معاملہ ہو یہ صرف اور صرف اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے کہ جس نے ایک بھی جان کو ناحق قتل کیا تو ا س نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔
سلیم صافی: سعودی عرب کی قیادت میں جو اسلامی اتحاد کی فوج بن گئی ہے عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایک اور اسلامی ملک کیخلاف یا ایک فقہ کیخلاف بنایا جارہا ہے اس اتحادی فوج کا اصل مقصداور مدعا کیا ہے؟۔ اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟۔
امام کعبہ: میرے خیال میں تو اسلامی کسی بھی قسم کا کوئی اتحاد ہو وہ ایک خوشی کی بات ہے۔ میرے پاس زیادہ تفصیلات تو نہیں کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں لیکن بہرحال اگر یہ کسی اور مسلمان ممالک کی طرف سے بھی ہوتا تب بھی اس کو خوشی کی نظر سے دیکھا جاتا۔ اور اس طرح کے اگر مزید اتحاد بھی بنتے ہیں جو اسلامی ممالک کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں تو اسکے بارے میں خوش گمانی رکھنی چاہیے۔ اسمیں سب مسلمان ممالک شامل ہوسکتے ہیں کسی کا نام نہیں کہ شامل نہیں ہوسکتا۔
مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر اضطراب میں مبتلا ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان

امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر اضطراب میں مبتلا ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان

مفتی محمد تقی عثمانی کے نام مولانا سلیم اللہ خان کا خط
مروجہ اسلامی بینک اور حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان کا کردار : مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detailماہنامہ بینات ، جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، پاکستان۔

جامعہ فاروقیہ کے الفاروق نے مفتی تقی عثمانی کی توہین وذاتی عناد، مولانا سلیم اللہ خان کی معافی اور متفقہ فتویٰ کے مقابلے میں غلط متفقہ فتوے کی نشاندہی کی ،یہ اقتباسات لئے ہیں!
جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی رفیق احمد بالا کوٹی نے یہ مکمل مضمون جامعہ فاروقیہ کے ماہنامہ ”الفاروق” کی اجازت سے ”البینات” میں شائع کیا ہے اور نیٹ پر اس کو دیا ہے۔ مضمون سابقے اور لاحقے کی وجہ سے اچھا خاصا طویل ہے جس بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے گلستان کی مانند ہے اور شہد کی مکھی کی طرح اس کا رس بھی اچھا خاصا دشوار ہے۔ تاہم کچھ اقتباسات سے یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوگی کہ سود کو جواز فراہم کرنے والے کس طرح اس عالمی سازش کو چھپا رہے ہیں اور ذاتی عناد وتعصبات سے لیکر جھوٹے توبہ تائب اور جعلی فتوؤں کا سہارا لینے سے بھی شرم نہیں کھاتے ہیں ۔ اقتباسات دیکھ لیجئے۔
شیخ المشائخ، استاذ الاساتذہ، سرخیلِ علماء حق، پاسبانِ مسلکِ دیوبند، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مد نی کے فکری وعملی جا نشین ، حق گوئی …. حضرت مولا نا سلیم اللہ خان15جنوری2017کو راہیِ آخرت ہوگئے…..
فرمایاکہ اگلا اجلاس ہمارے ہاں جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی میں ہوگا۔ یہ اجلاس قریبی تاریخ اوروقت میں منعقد ہوا، جس میں شہر کے متعدد اہلِ فتویٰ کو مدعو فرمایا گیا تھا، جن میں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا زرولی خان صاحب، حضرت مفتی عبدالمجید دین پوری شہید، حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید، حضرت مولانا منظور احمد مینگل، حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ شیخ، حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز وغیرہ شامل تھے۔ ……حضرت (مولانا سلیم اللہ خان) نے شرکاء مجلس کی اس رائے سے اتفاق فرمایا اور اپنے بزرگانہ مقام پر جاکر یہاں تک فرمایا کہ : بھئی! (حضرت کے بیان کو اپنی تعبیر کیساتھ عرض کررہا ہوں، اگرچہ حضرت کے الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں، وہ کلمات نقل کرنا میرے لئے شاید مناسب نہ ہوں، ان کے ارشاد کا مفہوم یہ تھا)ان لوگوں (مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی) کیساتھ مجلس اور مشاورت کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ الٹا نقصان ہوگا، اسلئے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ……
میں نے ان حضرات (مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی)کے سامنے اپنا ارادۂ ملاقات رکھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ حضرت! (مولانا سلیم اللہ خان صاحب) آپ تشریف نہ لائیں، ہم آپ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں…
حسب ارشاد قبل از عصر حاضر ہوئے تو حضرت مولانا زر ولی خان ، مفتی احمد ممتاز، مفتی حبیب اللہ شیخ اور جامعہ فاروقیہ کے کچھ حضرات بھی تشریف فرما تھے۔
اس کے بعد نماز عصر ادا کی اور حسب مشورہ حضرت کے ہمراہ مفتی محمد تقی عثمانی کیساتھ مجوزہ اطلاعی مجلس منعقد ہوئی۔ مفتی تقی عثمانی کو اپنے اتفاقی روانگی کا پروگرام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں نے یہ تحریر تیار کی، جو آپکی خدمت میں سنا کر اجازت چاہوں گا۔ اسکے بعد حضرت نے مندرجہ ذیل تحریر پڑھ کر سنائی:
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین الصطفیٰ و بعداحقر کو علم و فضل کے اعتبار سے جناب سے کوئی نسبت نہیں ہے، علم و فضل سے ہے ہی نہیں تو نسبت کیا ہوگی؟ البتہ اللہ نے ایمان نصیب کیا ہے، دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ یہ زندگی ایمان والی زندگی اور کلمہ والی موت پر ختم فرمائے۔
1: اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب ہے، علمائ، عوام، بینکنگ سے متعلق افراد، تاجر سب اسلامی بینکاری کو اسلامی تعلیمات کیخلاف سمجھتے ہیں۔
2: جتنے معتبر اور معروف دار الافتاء ہیں سب میں اس سلسلے کے استفتاء ہوتے ہیں اور جواز و عدم جواز سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں۔
3: دوسرے ملکوں میں بھی یہ اضطراب ہے، وہ بھی سوالات کرتے ہیں۔
4: اس صورت حال سے دوسروں کی نسبت جناب کو زیادہ سابقہ رہتا ہوگا، کیونکہ آپ ہی پاکستان میں اس کے موجد ہیں۔
5: علم و ضل کے اعتبار سے جو آپ کا مقام ہے وہ محتاج بیان نہیں، لیکن عصمت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کیساتھ خاص ہے، دوسرا کوئی معصوم نہیں، اس کا امکان بہر حال موجود ہے اسلامی بینک کا نظام جاری کرنے میں آپ سے غلطی ہوئی ہے۔نمبر1، نمبر2، نمبر3پر جو باتیں ہیں، غلطی کے ارتکاب کیلئے واضح دلیل ہیں، اضطراب غلطی پر ہوتا ہے ، ایسا اضطراب جس نے تمام طبقات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، صحیح بات پر اضطراب نہیں ہوتا اور کوئی معاند مضطرب ہوتا ہے تو اس کی وجہ عناد ہوتی ہے، جبکہ امت کے تمام طبقات اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب میں مبتلاء ہیں، یہاں عناد کا سرے سے کوئی احتمال موجود نہیں ہے، ان کا اضطراب اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
6: ”ربا” کا معاملہ انتہائی نازک و سنگین معاملہ ہے، اس سلسلے کی وعیدوں سے آپ ہرگز بے خبر نہیں ہیں، چنانچہ احتیاط واجب و لازم ہے۔
7: ”ربا” میں ”شبھة الربا” بھی حرام ہے، اگر حقیقت ”ربا” کو قبول نہیں کیا جاسکتا تو ”شبھة الربا”سے تو انکار ممکن نہیں۔
8: ارباب فتویٰ اورجو بینکنگ کے امور سے باخبر ہیں، بیانات مسلسل اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جو اسلامی بینکاری کو اسلام کیخلاف قرار دیتے ہیں، اپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں، یقیناً آپکے علم میں ہونگے، ضروری تھا کہ آپ ان کو مطمئن کرتے اور جوابات شائع کرتے اور نہیں تو ارباب فتویٰ جو آپ ہی کے حلقے کے حضرات ہیں ان سے رابطہ کرکے ان کی تسلی کا انتظام کیا جاتا جو نہیں کیا گیا، اگر کبھی کوئی مشاورت ہوئی ہے تو اس کے نتیجے میں اختلاف ختم نہیں ہوا، اعتراضات بدستور موجود ہیں اور تشویش و اضطراب برقرار ہے۔
9: سننے میں آیا ہے کہ بینکاری پر آپ اپنے آپ کو ”اعلم الناس” سمجھتے ہیں،دوسروں کی معلومات کو ناقص فرماتے ہیں، مجھے تو آپ کی طرف اس قول کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی، اگر آپ کا یہ دعویٰ نہیں تو پھر وہی سوال ہوگا کہ آپ نے اشکال کرنے والوں کو مطمئن کیوں نہیں کیا؟ تاکہ اضطراب رفع ہوتا اور اگر آپ واقعی اپنے آپ کو عالم اور دوسروں کو ”ناقص العلم” سمجھتے ہیں ”فھو کما تراہ” یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہوگی، سور جاثیہ میں: افرایت من اتخذ الٰھہ ھواہ و اضلہ اللہ علیٰ علم و ختم علیٰ سمعہ و قلبہ و جعل علیٰ بصرہ غشٰوہ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرونO”کیا تو نے دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اس کو اللہ نے گمراہ کردیا علم کے باوجود۔ اور اسکے کان اور دل پر مہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو کون ہے اللہ کے بعد اس کو ہدایت دینے والا، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟”۔ہم نے فیصلہ کیا کہ اضطراب و تشویش کو دور کرنے کیلئے علماء و اہل فتویٰ کی وسیع مشاورت سے فتویٰ اسلامی بینکاری کے ”عدم جواز” پر جاری کیا جائے اور پورے ملک میں تشہیر کا اہتمام کیا جائے، ہم ہرگز تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، ہم تو دل و جان سے آپ کیساتھ رہتے ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں، امت کو ”ربا” کی لعنت سے بچانے کیلئے اپنا شرعی فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، اس میں ذرا بھی تردد نہیں کہ فرض کی ذمہ داری ہم پر لازم اور ضروری ہے اور اب تک جو کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اس پر ہم استغفار کرتے ہیں، آپ کیلئے بھی دنیا و آخرت کی فلاح کا واضح تقاضہ ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں اور غلط مفادات کیلئے اس پر مشورہ دینے والوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ”ان فی ذٰلک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القیٰ السمع و ھو شھید”۔دستخط: مولانا سلیم اللہ خان ۔17جون2005۔
……….. وہ مطلوبہ دستاویزات دینے کیلئے کئی شرائط بار بار دہراتے رہے، ارشاد یہ تھا کہ: ”یہ دستاویزات یہیں پر دیکھی جاسکتی ہیں، باہر نہیں لے جاسکتے۔ اگر…… پھر ان دستاویزات کے مندرجات کا حوالہ نہیں دے سکتے۔ اگر حوالہ دینا چاہیں تو اس سے قبل ہم سے مشاورت اور مذاکرہ کرلیا جائے۔”…
اسلامی بینکوں کا اسٹیٹ بینک کی سودی پالیسیوں سے آزاد مستثنیٰ ہونے کا دعویٰ محض ”خود فریبی” یا ”دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے” کے …
جامعہ دار العلوم کراچی میں حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ کی وہاں کے اکابرسے ملاقات کے حوالے سے ”نارساراوی” ….. ….حضرت فرمانے لگے کہ : اس دن میرے سفرِ ملتان کی وجہ سے جلدی کو مولانا محمد تقی عثمانی نے شاید محسوس فرمایا تھا ……ہمارے بے تکلفانہ روئیے سے اگر انہیں رنج ہوا تو ہم اس پر ان کی دلجوئی کرلیں۔ ہم اسلئے دار العلوم چلے گئے تھے۔ یہ عنوان دیا کہ ”سلیم اللہ” مولانا تقی عثمانی وغیرہ سے معافی مانگنے آیا تھا۔ بھئی! معافی تو زیادتی یا غلطی کی ہوتی ہے۔ ہم نے بینکوں کے خلاف فتویٰ دیکر پھر ازراہِ ہمدردی و خیر سگالی اس کی پیشگی اطلاع کرکے کونسی غلطی اور زیادتی کی تھی، جس پر ہم معافی مانگتے۔ معافی کی اس میں کیا بات ہے؟! کیا ”سلیم اللہ” اس پر کسی سے معافی مانگے گا؟۔ …
واضح قرائن بتاتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ ایک قسم کی دفاعی مہم کا حصہ تھا، بینکوں سے وابستہ بعض حضرات نے اپنے بینک کاری سفر کے مخالفانہ فتوے کو قبل از وقت متنازع بنانے کیلئے اور اس فتویٰ کو محض مخالفت و عناد کا شاخسانہ قرار دینے کیلئے ”باہمی توہین و توقیر” کا مسئلہ بناکر پیش کیا تھا۔
مگر الحمد للہ! پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والے سالارِ قافلہ حضرت شیخ کے عزم و استقلال پر اس پروپیگنڈے کا کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ ان کی اس کرامت کا ظہور بھی ہوا، جسے اولِ وہلہ میں ہمارا طفلانہ اصرار سمجھنے سے قاصر تھا۔…
یہ فتویٰ کتنا مؤثر ثابت ہوا ؟ ….مجوزین کے سٹپٹاتے رویوں سے ہوتا ہے، تفصیل چھوٹے بڑے کئی دفتروں کی متقاضی ہے۔ تین طرح پر اکتفاء کروں گا:
1: متفقہ فتویٰ کو ذاتیات، ذاتی رنجشوں اور بغض و عناد کا شاخسانہ قرار دینے کیلئے رنگا رنگ دروغ گوئیوں کا سہارا لیا گیا، جس کی معمولی جھلک اوپر ہے۔
2: مجوزین نے ان بزرگوں کی عزت اور بے عزتی کا مسئلہ باور کرانا شروع کردیا، جنکے نام اور کام پر یہ لوگ اپنا کاروبار چلارہے تھے۔ حالانکہ متفقہ فتویٰ کو اختلاف تو کہا جاسکتا ہے جو ہر صاحب علم کا حق ہے، ان کے خلاف مہم قرار دینا کسی طور پر درست اور سچ نہیں تھا، لیکن کیا کریں عصری تقاضوں کے سامنے ”سچ” اہمیت نہ پاسکا اور اختلاف کو خلاف کہہ کر شدید پروپیگنڈہ فرمایا گیا۔
3: متفقہ فتویٰ کو جوازی فتویٰ کی مخالفانہ مہم قرار دینے والوں کو کہیں سے خدائی خدمت گار کے طور پر اپنے مزاج کے مطابق متفقہ فتویٰ کیلئے مخالفانہ مہم کی ایک بے ساکھی میسر آئی، جس نے ملک کے مختلف نامی اور بے نامی اداروں کو شرفِ یاوری بخشا اور ایسے اداروں کی ہر نوع خدمت سے وابستہ علماء کرام اور قراء عظام سے مروجہ بینکوں کے حق میں دستخط لئے۔ جس کی اہمیت و حیثیت وہ لوگ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ (یہ اقتباسات متفقہ فتویٰ سے لئے گئے ہیں)
اسلامی بینکاری کیخلاف متفقہ فتویٰ پر دستخط کرنیوالے مفتیانِ عظام
حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ۔مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل، مفتی سمیع اللہ، مفتی احمد خان ، جامعہ فاروقیہ کراچی۔مفتی حمید اللہ جان ، جامعہ اشرفیہ لاہور ۔ مولانا سعید احمد جلال پوری ،مولانا مفتی عبد القیوم دین پوری، دارالافتاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی۔ مولانا مفتی عبد المجید دین پوری، مفتی انعام الحق، مفتی رفیق احمد بالاکوٹی، مفتی شعیب عالم ،جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔مولانا مفتی غلام قادر دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سرحد ۔ مفتی محمد مدنی، معہد الخلیل الاسلامی، بہادر آباد، کراچی ۔ مفتی احمد خان، جامعہ عمر کوٹ، سندھ ۔مفتی قاضی سلیم اللہ ، دار الہدیٰ ٹھیڑی ، خیرپور، سندھ۔ مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی، جامعہ رشیدیہ آسیا آباد، تربت بلوچستان۔ مفتی امداد اللہ، مولانا کلیم اللہ،جامعہ دھورو نارو، سندھ۔مولانا مفتی روزی خان، دار الافتاء ربانیہ کوئٹہ ، بلوچستان۔مفتی عاصم عبد اللہ جامعہ حمادیہ کراچی۔مولانا مفتی احمد ممتاز ،مفتی امان اللہ صاحب، جامعہ خلفاء راشدین، کراچی۔مفتی عبد الغفار جامعہ اشرفیہ، سکھر۔مولانا مفتی حامد حسن، دار العلوم کبیر والا، پنجاب۔مولانا مفتی عبد اللہ جامعہ خیر المدارس ملتان۔مفتی حبیب اللہ شیخ جامعہ اسلامیہ کلفٹن۔ مفتی نذیر احمد شاہ جامعہ فاروق اعظم ، فیصل آباد۔مفتی سعید اللہ جامعہ عربیہ تعلیم الاسلام، کوئٹہ۔مولانا گل حسن بولانی، جامعہ رحیمیہ سرکی روڈ کوئٹہ۔ مولانا مفتی زر ولی خان ، جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال، کراچی۔مولانا مفتی سعد الدین جامعہ حلیمیہ، لکی مروت، مفتی عبد السلام چاٹگامی ، جامعہ معین الاسلام، بنگلہ دیش۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کٹاکٹ بنے گا یا دودھ نکلے گا؟

کٹاکٹ بنے گا یا دودھ نکلے گا؟

مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر.. اسلامی بینک کیخلاف مگر شیخ بضدہیں کہ مینڈھے کے کپور ے دودھ دینگے۔اُٹھو! شیطانی بد چلنی پر ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!
مرزائیت جہاد اور اسلامی بینکاری اسلامی معیشت کے خلاف بڑی بین الاقوامی سازش؟

گردوں اور کپوروں کے لذیذکٹاکٹ۔برنس روڈ اور شاہراہ قائدین کراچی ہوٹلوںکے بڑے سائن بورڈ۔ اسلامی بینکاری سے کٹا کٹ نہیں بنے گا اور نہ ہی کپوروں سے دودھ نکلے گا!

صیہونیت کے عالمی سودی نظام کی وجہ سے ”فرنگ کی رگِ جان پنجہ یہود میں ہے” اور اب عرب حکمرانوں کے بعد ایٹمی قو ت پاکستانی حکومت کو بھی یہود کے پنجے میں دیا جارہاہے؟

ہندوستان اوراکثردنیاپر انگریز تاج برطانیہ کا قبضہ تھا تو اقبال نے کہاکہ ”فرنگ کی جان پنجہ یہود میں ہے”۔ وجہ بینکوں کا صیہونی نظام تھا۔ جرمن کے ہٹلر نے یہودیوں کو بڑی تعداد میں قتل اور ملک بدر کیااور کہا کہ تھوڑے یہودی رہ جائیں تو دنیا کو پتہ چلے گا کہ میں کیوں مجبور ہواتھا ۔اب اسرائیل کے مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ اسرائیل کو مصر، ترکی اورکئی سارے مسلم ممالک مان چکے۔ افغانستان پر طالبان حکومت کو مسلم ممالک یہاں تک کہ پاکستان نے بھی نہیں مانا۔ جب پاکستان سمیت چند ممالک نے طالبان کو مان لیا تھا توافغانستان کے سفیر ملاضعیف کوپاکستان نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔افغانستان کے نائب سفیر حبیب اللہ فوزی ڈاکٹر اسرار احمد کے پروگرام ”انٹرنیشنل خلافت کانفرنس” میں میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے تھے اور اس پروگرام میں برطانیہ وغیرہ سے بھی کچھ تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی تھی اور مجھے آخری مقرر ہونے کے شرف سے نوازا گیا تھا۔ جب افغانستان پر حملہ ہونا تھا تو حبیب اللہ فوزی نے میڈیا پر ملاعمر کے خلاف بیان دیا تھا۔ طالبان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ امیر امان اللہ خان سے صدر نجیب اللہ تک پہلے اور بعد میں افغانی ہی افغانیوں کے خلاف استعمال ہوئے اسلئے پاکستان سے گلہ کم اور خود سے زیادہ کرنا چاہیے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بات انتظامی وسیاسی ہے لیکن یہود کے سودی بینکوں کے نظام کو اسلامی قرار دینے کا تعلق کفر و اسلام سے تھا اسلئے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ترکی ومصر وغیرہ کے خلاف مذہبی طبقہ فتوے کے میدان میں نہیں اترا ۔ اگر سودی نظام اسلامی بن جائے تو اس قانون سے کیا فرق پڑے گا کہ مریم نواز دوپٹے کو پگڑی بناکر مرد مولانا مریم نواز شریف زندہ باد اور مولانا اپنے رومال کو سر سے اُتارکر دوپٹہ بنالے اور بی بی فضلہ الرحمن زندہ باد بن جائے؟۔
1980کی دہائی میں امریکیCIAکے کرائے کی جنگ کو جہاد قرار دیا گیا اور بینکوں سے سود کی کٹوتی کو زکوٰة قرار دیا گیا۔ مفتی محمود اس پر پان کھلانے اور حلق میں خصوصی گولی ڈالنے سے شہید ہو گئے ۔ مولانا فضل الرحمن اس کو ”شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ”قرار دیتا تھا۔ مولانا نے1996میں بینظیربھٹو حکومت میں شمولیت کی تو جمعیت کے علماء کو زکوٰة کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ شراب کی بوتل شراب طہور بن گئی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں”حکمرانوں اور علماء ومفتیان کے کردار کو واضح کیا۔ جس میں یہ تھا کہ ” کسی عالم سے کوئی بات شیطان کہلوادے تو اس پر برگشتہ مت ہو، اسلئے کہ رجوع کرسکتاہے۔ پوچھاگیاکہ یہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ شیطان نے کہلوایا؟۔فرمایا : جب لوگوں کو تعجب ہو کہ کیا بات کی ؟، پوچھا :اگر وہ توجہ دلانے پر رجوع نہ کرے توفرمایا: پھر وہ عالم حق نہیں بلکہ سراپا شیطان ہے”۔ عصر حاضر میں یہ بھی ہے کہ ”علماء انبیاء کے امین اور دین کے محافظ ہیں جب تک حکمرانوں سے گھل مل کر دنیا میں گھس نہ جائیں اور جب وہ حکمرانوں سے گھل مل کر دنیا میں گھس جائیں تو ان کو چھوڑدیں”۔ مشہور عالم شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”تربیت اولاد” سعودی عرب ، دبئی اور دنیا بھر کے ائیرپورٹ پر ملتی ہے لیکن ”مسلمان نوجوان” جسکا ترجمہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے کیا تھا سعودیہ اور دبئی کے کتب خانوں سے بھی غائب ہے۔ جس میںفتنہ اباحیت اور اقتصادی غیر مسلم ماہرین کے سودی نظام کو دنیا کیلئے تباہ کن قرار دینے کا ذکر ہے ۔ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالمجید دین پوری ، مفتی نظام الدین شامزئی اور بہت سے علماء ومفتیان کو عالمی سازشوں کیخلاف زبان کھولنے اور لکھنے پر شہید کیا گیا ۔ ان کی وہ کتابیں بھی مارکیٹ سے غائب ہیں۔ یہ موجودہ دور کاہی المیہ نہیں بلکہ تاریخ کے ہردور میں اسلام کا حلیہ بگاڑنے والے حکمرانوں اور علماء سوء نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ مفتی تقی عثمانی کی مفتی محمود اور مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، بنوری ٹاؤن ، فاروقیہ ، حقانیہ، اشرفیہ ،خیرالمدارس، قاسم العلوم اور پاکستان کے معروف علماء ومدارس کے سامنے کیا حیثیت تھی؟ ۔امریکی CIA، صیہونی لابی اور مقتدر طاقتوںکی پشت پناہی سے ایک شخص جیت گیا اورباقی سب ہار گئے۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مفتی محمد نعیم نے حلالہ کے مسئلے پر ہماری تائید کی، مفتی تقی عثمانی نے ڈرایا۔ انہوں نے سودی بینکاری پرہمارے سامنے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت بھی کی اور ہماری اس بات کی تائید کی کہ” قرآن کی جو تعریف مدارس میں پڑھائی جاتی ہے اس سے قرآن کی توہین اور تحریف ہوتی ہے”۔ جس کی بنیاد پر بڑے فقہاء نے لکھا کہ ” سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے” جس پر مفتی تقی عثمانی کو ہم نے رجوع اور کتابوں سے نکالنے پر مجبور کردیا تھا۔اس وقت صرفMQMکے رہنماؤں نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔یہ اس گستاخی کا نتیجہ تھا کہ نبیۖ پر فلاتمنن تستکثر (احسان نہ کریں کہ بڑی تائید کی امید رکھو)کی تفسیر میں سود کی تہمت لگادی۔ کراچی میں شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین پر سود اور اپنی ماں سے زنا کے برابر گناہ کا الزام لگانے کی جسارت کرنے والا مفتی محمد تقی عثمانی بہت بڑاخدا ہے۔ اتخذوا احبارھم و رھبانہم ارباباً من دون اللہ”انہوں نے اپنے علماء ومشائخ کواللہ کے سواء اپنا رب بنایا تھا” یہودی سے صحابیبننے والے نے نبیۖ سے عرض کیا کہ ہم نے ان کو خدا تو نہیں بنایا تھا؟۔ نبیۖ نے فرمایا : کیا انکے حلال کردہ حرام کو حلال نہیں سمجھا؟، صحابی نے عرض کیا : یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ صحیح بخاری ومسلم۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے علماء اپنا بھرپور کردار اداکریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

کیا وجہ تھی کہ اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجودبھی آپ پاکستان سے باہر نہیں گئے؟،رؤف کلاسرا

ہرکوئی ہماری طرح اپنے اور اپنی فیملی کومشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، مجبوراً جاتاہے توغلط نہیں حامد

حامدمیر:پابندی کے دوران میں بیرون ملک گیا تو وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھے اور بینظیر بھٹو کو کیا بڑی آفر کی؟ بینظیر نے عین موقع پر مجھے کیسے بچایا، حامد میر نے دھمکیوںکے باوجود ملک نہ چھوڑنے کی سنسنی خیز وجہ بتادی۔
رؤف کلاسرا: میں آج ارشد شریف کے گھر گیا ۔ ان کی مسز، والدہ اور بچوں سے بڑی دیر تک بات ہوئی اور انکے گھر آنا جانا بہت تھا ہر ہفتے جانا ہوتا تھا۔ تو جو سوالات آپ بتارہے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے ۔میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو بھی بہت ساری تھریٹس مسلسل رہی ہیں، اب تک آپ نے بڑا بھگتا اور ان کا سامنا کیا ۔ کیا وجہ تھی اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجود آپ پاکستان سے باہرنہیں گئے ارشد بھی نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ میرا بھی یہی خیال تھا میرے دوست ہیں سب کو پتہ ہے کہ ارشد کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ پاکستان میں دوسری جگہ کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ جبکہ انکے پاسUKاورUSAکے ویزے نہیں تھے ۔ میں بھی کئی دفعہ ان کو کہہ چکا تھا۔ ہم سب دوستوں نے کہا وہ انٹرسٹڈ نہیں تھے۔ تو آپ سمجھتے ہیں ارشد کو باہر جانا چاہیے تھا ان حالات میں؟۔ اور آپ خود کیوں نہیں گئے تھے سر؟۔
حامد میر: رؤف کلاسرا صاحب ! آپ نے ایسا سوال مجھسے پوچھاہے، بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو میں نے آج تک کسی کو تفصیل سے جواب نہیں دیا تو اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا تفصیل سے جواب دیتا ہوں۔ (جی سر۔ میرا خیال ہے لوگ سننا چاہیں گے آپ سے : رؤف کلاسرا)۔ پہلی دفعہ2007میں مجھ پر پابندی لگی تھی پرویز مشرف کا دور تھا تو میں5،6دن کیلئے پاکستان سے باہر ایک کانفرنس کیلئے گیا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیااور وہ چھوٹے موٹے لوگ نہ تھے بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ مثلاً ایک بہت بڑی بین الاقوامی شخصیت نے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑا ٹی وی چینل لانچ کررہے ہیں آپ جوائن کرلیں تو میں بڑا حیران ہوا کہ یار یہ ایک ملک کا سربراہ ہے یہ مجھے ٹی وی چینل جوائن کرنے کیلئے آفر مار رہا ہے تو یہ کیا چکر ہے؟۔ یہ دیکھا کہ میں زیادہ مائل نہیں تو اس نے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ہمارا ٹی وی چینل جوائن کررہی ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا کریں گی ٹی وی چینل میں؟۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہر ہفتے ایک لیکچر دیا کریں گی۔ وہ جو تھا ساؤتھ ایشین چینل تھا بہت بڑا اور گلف کی ایک کنٹری میں اس کا ہیڈ کوارٹر بننا تھا۔ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے پاس گیا ۔ کہا جی اس اس طرح پیشکش ہوئی تو بتائیں کیا کرنا ہے؟۔ تو بینظیر صاحبہ بڑی محتاط تھیں وہ مجھے اپنے لان میں لے گئیں اور کہا کہ موبائل فون وغیرہ اندر رکھ کر آؤ۔ لان میں انہوں نے کہا کہ بالکل جوائن نہیں کرنا اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کا اینٹی پاکستان ایجنڈہ ہے۔ یہ آپ اور مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی اسٹیٹ کے اداروں سے لڑ رہے ہیں اور میرا بھی پھڈہ ہے ۔تو میں تو بات چیت کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہوں۔ انشاء اللہ اس کا راستہ نکل آئیگا ، انکے ہاتھ نہ چڑھنا یہ پاکستان کیخلاف استعمال کریں گے۔تو جناب میں اگلے دن کی فلائٹ لیکر فوراً پاکستان آگیا۔ اسکے بعد میں ذرا ہوگیا محتاط۔2012میں میری گاڑی کے نیچے بم لگا تو ایک دفعہ پھر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پاکستان سے باہر چلے جاؤ۔ میں نے انکار کردیا۔ پھر2014میں حملہ ہوا، اسکے بعد یہاں تک ہوگیا کہ میں آغا خان ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو ایئر ایمبولینس مجھے اٹھانے کیلئے کراچی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ تو میں نے کہا کہ آپ مجھے پاکستان سے باہر نہ ہی لیکر جائیں۔ انہوں نے کہا کیوں؟۔ میں نے ان کو بتائی تو نہیں وہ بات لیکن میرے ذہن میں2007والی بات تھی کہ باہر جاکر بندہ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ ہوا کہ میں پاکستان میں ہی رہا لیکن دو گولیاں میرے جسم کے اندر تھیں۔ ان کو نکلوانے کیلئے ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے ایک ہسپتال میں جہاں ان کی اپنی ٹریٹمنٹ ہوئی تھی تو وہاں پر انہوں نے میرا انتظام کیا۔ تو جب میںUKگیا تو کلاسرا صاحب وہاں پر بھی میرے پیچھے لوگ لگ گئے۔ انہوں نے کہا جی کہ آپ نے صرف ایک کتاب لکھنی ہے اور وہ کتاب ایسی ہٹ ہوگی پوری دنیا میں آپ اس کا ایڈوانس بھی لے لیں۔ آپ کو پاکستان جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میری فیملی کے سامنے ہورہا تھا یہ کام۔ تو میں نے جناب جان چھڑائی اپنی اور میں پاکستان واپس آگیا۔ ابھی پچھلے سال بھی یہی صورتحال تھی۔ پچھلے سال یہ ہوا کہ مجھے6مہینے کیFellowshipمل رہی تھی اور پھر کتاب ہی لکھنی تھی۔ میں بالکل جانے کیلئے تیار تھا اور پچھلے واقعات بھی میرے ذہن میں تھے لیکن میں نے کہا کہ چلیں اب اتنا ٹائم گزر چکا، میں اتنا تو سمجھدار ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر میرے ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ کریمہ بلوچ کیساتھ کینیڈا میں کیا ہوا؟۔ آپ کو نہیں پتہ کہ ایک اور صحافی کیساتھ ناروے میں کیا ہوا ہے؟۔ باہر مت جائیں آپ (vulnerable)کمزور ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہیے لیکن میں نے تو پاکستان سے باہر ایک دفعہ2007میں جاکر دیکھ لیا کہ ایک تو پاکستان کے اندر آپ کے دشمن آپ کو جینے نہیں دیتے۔ پھر پاکستان سے باہر جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں وہ بھی آپ کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔ لیکن ارشد شریف جن حالات میں گئے وہ ذرا مختلف حالات ہیں۔ کیونکہ مجھے ذاتی طور پر پتہ ہے کہ ارشد شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھا بہت سے دوست یہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اگر ان کو بھیجا گیا تو شاید ان کا یہ خیال ہوگا کہ میں کچھ دن میں واپس آجاؤں گا لیکن وہ واپس نہیں آئے ۔ان کے پاس ویزہ بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے پاس تو ویزے تھے لیکن انکے پاس ویزہ نہیں تھا وہ نہUKجاسکے نہUSA۔ سارے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان حالات میں پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے تو غلط نہیں ۔ ہر کوئی بندہ ہماری طرح اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ تو اگر کوئی چلا جاتا ہے تو بہت مجبوری میں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی خوشی سے پاکستان نہیں چھوڑتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv