پوسٹ تلاش کریں

40ہزار طالبان مئی2022ء میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو لائے

 

پاکستان تحریک انصاف کے میجر سجاد آفریدی کا خیبر پختونخواہ اسمبلی سے خطاب: ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم 40ہزار طالبان کو پاکستان لائے حالانکہ ساری میٹنگ انکے، یہ معاہدہ مئی 2022 میں ہوا ۔ جب وزیراعظم ان کا شہباز شریف اور وزیر خارجہ انکا بلاول زرداری تھایہ ہم نہیں کہتے۔ تاریخ میں لکھا ہے ،یہ انہی کی حکومت تھی۔ PTM کیساتھ خیبر ہماری ڈسٹرکٹ میں حادثہ ہوا ۔ وفاقی حکومت بری پھنس گئی۔ اور وزیر اعلی کے پیر پکڑے کہ کسی طریقے سے فیس سیونگ دی جائے۔

ہماری حکومت نے فیصلہ کیا کہ گھمبیر حالات سے نکالیں ۔ہم وفاق کی اکلوتی جماعت ہیں، جناب سپیکر! یہ جتنی پارٹیاں ہیں ہر سطح پہ انکا ایک ہی مشن ہے کہ اوپر سے ہدایات آتی ہیں اسی پر یہ عمل کرتے ہیں ۔اتنا بڑا مذاق ہے کہ ان کے وفاقی کابینہ کے ارکان سینٹ میں اور اسمبلی میں پشتونوں کو دھمکی دیتے ہیں کہ کوئی مائی کا لعل آپریشن روک کے دکھائے۔ جو بندہ تنظیم سازی میں ملوث تھا اور ابھی ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔

مسلم لیگ ن ک کا وزیر دفاع کہہ رہا ہے کہ ہم امریکہ سے پیسے لیکر لڑتے تھے ،میں اس کیساتھ نہیں بیٹھنا چاہتا جس نے ہر دیوار پر لکھا تھا ”شریعت یا جہاد”۔ میرا کلچر تباہ کر دیا اور روزانہ میرے معصوم بچوںکو جہاد کے نام پہ شہید کروا دیا۔ پیپلز پارٹی جو ڈکٹیٹر کو ڈیڈی اوروہ زلفی کہا کرتا ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گاندھی انگریز کے دلال تھے۔ بھارتی ہندو جج

اکبر بادشاہ انڈیا کے بابائے قوم ہیں۔ مارکینڈے کاٹجو کا انٹرویو

چیف جسٹس مارکینڈے کا زلزلہ برپا کرنے والا زبردست انٹرویو۔تاریخی حقائق کو سمجھو اور اپنے خطے کو سازشوں سے بچاؤ!

السلام علیکم! میں ہوں سجاد پیزادہ۔ 24نیوز ڈیجیٹل ۔ انڈیا کی تین ہائی کورٹس کی چیف جسٹس رہنے والی مشہور شخصیت انڈین سپریم کورٹ کے سابق سینیئر جج ، چیئرمین پریس کونسل آف انڈیا رہنے والے جسٹس مارکنڈے کانجو۔ ہمارے پروگرام میں بہت بہت خوش آمدید جسٹس کالوجی !

جسٹس مارکنڈے: تھینک یو تھینک یو السلام علیکم!

سوال: بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارے لیے وقت نکالا اگست 1947میں آزادی کا اعلان ہوا آپ کی عمر کتنی تھی سنا ہے کہ آپ علامہ اقبال کے گیت سن کر بڑے ہوئے۔
جواب: میری پیدائش ستمبر 1946 تو اگست 1947 میں میں11مہینے کا تھا، اس وقت کی کوئی یادداشت ہوتی نہیں کسی میں۔ علامہ اقبال کے شاعری بہت ہی پسند ہے۔

سوال: کاجو جی تقسیم میں بستی کی بستیاں اجڑ گئیں لوگ ادھر سے ادھر آئے کیا آپ کا خاندان متاثر ہوا تھا اور آج کے پاکستان کے کسی شہر میں بڑوں کی کوئی یادیں ہیں؟۔
جواب: میرے دادا جی کے والد انڈیا کی چھوٹی اسٹیٹ جاوڑا میںرہتے تھے ، دادا کو 10 سال کی عمر میں ایجوکیشن کیلئے لاہور بھیجا۔ وہاںاچھی ایجوکیشن نہیںتھی ۔جبکہ لاہور تو بہت ایجوکیشنل اور کلچر سینٹر رہا تو وہاں قریب 1900 سے 1906تک میرے دادا ڈاکٹر کیلاش ناتھ کانجو لاہور میںپہلے رنگ محل ہائی سکول ہے وہاں ایجوکیٹ ہوئے پھر فارمین کرسچن کالج میں ہوئے پھر BA ڈگری کے بعد LLBکرنے کیلئے وہ الہ آباد آگئے۔ میرا خاندان ایسٹرن یو پی کے شہر الہ آباد میں رہتا تھا۔ پیدا ہوا لکھنؤ میں مگر میری پوری پرورش الہ آباد میں ہوئی۔

سوال: آپ کے بڑوں کا مغل کورٹ سے تعلق تھا مغل ہندوستان میں عدالتیں تھیں وہاں کسی جگہ وہ تعینات تھے۔
جواب: میں تو ہوں کشمیری پنڈت مگر میرے پرکھے پنڈت منشا رام کانجو1800میں جاوڑا اسٹیٹ تو وہاں نواب تھے ان کے کورٹ میں ان کو سروس ملی کیونکہ ہم لوگ کشمیری پنڈت اردو اور فارسی کے بڑے ماہر تھے۔

سوال:گاندھی نے پینٹ کوٹ اتار کے دھوتی پہننا شروع کی ، نوجوانی میں شہر چھوڑا اور گاؤں جا کر بسے تاکہ عام آدمی کا درد محسوس کر سکیں۔ تو کیا آپ مہاتمہ گاندھی سے امپریس ہیں؟، کیا آپ ان کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں؟۔
جواب: میں گاندھی کوتو برٹش ایجنٹ مانتا ہوں یہی شخص بٹوارے کا ذمہ دار تھے۔ وہ بٹوارا سب سے بڑا سانحہ ہوا۔

سوال:آپ کے فادر آف دی نیشن ہیںگاندھی جی تو آپ ان کا کہہ رہے ہیں کہ وہ برٹش ایجنٹ تھے۔
جواب: دیکھئے بیوقوفوں کیلئے میں تو ذمہ دار ہوں نہیں اگر یہ بٹوارا نہ ہوتا تو ہندوستان یونائیٹڈ انڈیا انڈر سیکولر ماڈرن لیڈر شپ آج جوائنٹ بن جاتا جیسے چائنہ ہے۔ گاندھی ایجنٹ تھے برٹش کے ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا۔

سوال: آپ سمجھتے ہیں کہ اگر گاندھی مسلمانوں کو انکے حقوق مل جاتے تو آج یہ خطہ کسی اور شکل میں نظر آتا۔
جواب: حقوق کا مطلب جانتے ہیں آپ؟۔ دیکھئے 14اگست کو آپ یوم آزادی منارہے ہیں۔15اگست کو ہندوستان منا رہا ہے مگر میں نے کہا میں نہیں مناؤں گا کیونکہ اصل آزادی ہے غربت ،بے روزگاری ،بھوک سے حفظان صحت کے فقدان سے آزادی یہ ملی ہے لوگوں کو؟۔ تو یہ فرضی یوم آزادی ہے۔ ہم بیوقوف ہیں کہ15 اگست کو سیلیبریٹ کریں جب ملک آزاد ہی نہیں ہوا ہے۔ آزادی ہوتی ہے اکنامک آزادی ۔ جناح کو مانتے ہیں بابائے قوم قائد اعظم یہ سب ۔ ہم لوگ کہتے ہیں فادر آف دی نیشن۔ آپ سوچیے بٹوارے میں کئی 10لاکھ لوگ کتنے بے رحمی سے قتل ہوئے ہندو مسلم ۔20 سوں لاکھ لوگ گھر سے بھگائے گئے قتل ہوا مشکلات ہوئیں یہی لوگ ذمہ دار تھے۔

سوال: تین بڑوں میں کس کو سب سے بڑا لیڈر مانتے ہیں بادشاہ اکبر، مہاتما گاندھی یا قائد اعظم محمد علی جنا ح کو؟۔
جواب: گاندھی بدمعاش لوگ تھے ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا جس سے کتنا نقصان ہوا آج تک ہم لوگ …

سوال: فادرآف دی نیشن کون ہے پھر انڈیا کا؟۔
جواب: جرنلسٹ خود بولو۔ حوصلہ رکھئے بتارہا ہوں۔ بادشاہ اکبر کو مانتا ہوں کیونکہ جو پالیسی کا نام تھا ”صلح کل” یعنی سب مذہب اور کمیونٹیز کو برابر عزت دو جس کی وجہ سے مغل امپائر اتنا لمبا 300سال چلا ، سب کو ساتھ لے کے چلتا تھا۔ مغل بادشاہ اکبر کی کورٹ میں ہندو بڑے بڑے عہدے پہ تھے جیسے راجا ٹوڈر مل ہو آپ سمجھئے فائنانس منسٹر آف دی مغل امپائر،سارا فائنانس کنٹرول کرتے تھے، مان سنگھ بہت گریٹجنرل تھے سب کو برابر عزت دی گئی تو اسی کو میں فادر آف دی نیشن مانتا ہوں ، ہماری بیوقوفی ہے کہ گاندھی کو فادر آف دی نیشن مانتے ہیں، کتنا نقصان کیا ہندوستان کا، ہم بھی کتنے بڑے گدھے ہیں95%۔ اتنا نقصان کیا کہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں بے روزگاری

سوال: دنیا مانتی ہے فادر آف دی نیشن۔ گاندھی کے سر میں دماغ نہ تھا کیا آپ نے تو برٹش ایجنٹ ان کو بنا دیا۔
جواب: دیکھئے ایک وقت تھا دنیا مانتی تھی کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے یہ جیو سنٹرک تھیوری پوری دنیا مانتی ہے پھر ایک آدمی نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یہ ہے ہیلو سینٹرک تھیوری۔ 1523 میں اس نے لکھا تو یہ کہنا کہ دنیا مانتی ہے، یہ تو کوئی بات نہیں۔ اکثر ہوتا ہے کہ ایک آدمی صحیح بول رہا ہے ساری دنیا غلط بول رہی ہے ۔

سوال: مہاتما گاندھی کا مقام کہاں دیکھتے ہیں؟۔
جواب: میں نے بتایا نا کہ انگریزوں کے دلال تھے۔ انگریز وںکی جو پالیسی ڈیوائڈ اینڈ رول تھی، ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا ہے۔ گاندھی جی آئے تھے انڈیا1915 میں اس سے پہلے 20سال وکالت کی تھی ساؤتھ افریقہ میں۔ 1915سے1948 تک جب ان کا قتل ہوا لگاتار ان کی تقاریر اور آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں جو گورنمنٹ آف انڈیا پبلی کیشن ہے۔ عوامی تقریروں میں وکالت کرتے ہیں ذات پات کا نظام خود گائے کے تحفظ کی وکالت کرتا ہے۔ ہمیں گائے کو بچانا ہے اور ہندو نظریات کی باقاعدگی سے تبلیغ۔ اب اس کا کیا اثر ہوگا ایک عام مسلمان کے دماغ میں۔ عام مسلمان ایسی جماعت کا ممبر ہوسکتا ہے جس کا لیڈر یہ کہہ رہا ہے۔ کانگریس دانشوروں کی پارٹی تھی، اکثریت ہندوؤں کی تھی تو گاندھی نے سوچا کہ ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے مذہب کا استعمال کرنا چاہئے تو مذہب کا استعمال کیا۔ مذہب سے حمایت تو ملی مگر صرف ہندوؤں کی۔ مسلمان اس جماعت میں کیسے شامل ہوسکتے تھے؟۔ وہ مستقل اپنی تقاریر میں ہندو مذہب کی تبلیغ کرتے تھے۔ بڑے مشہور انڈیا کے وکیل ایچ ایم سیروائی کی کتاب کا نام ہے ”Partition of India Legend and Reality” یہ نوٹ کرلیجئے۔ اس میں لکھا کہ گاندھی کی تقاریر براہ راست تقسیم کی طرف لے جاتی ہیں۔
1917کے آس پاس جناح سیکولر اور محب وطن تھے اورکانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے رکن تھے۔ گاندھی نے کانگریس میں ہندو خیالات کااظہار کیاتو ناراض ہوگئے اور انگلینڈ گئے۔ انہوں نے کئی سال انگلینڈ میں وکالت کی۔ انگریزوں کی پالیسی یہ تھی کہ ہندوستان کومتحد نہیں رہنے دینا۔ اگر یہ متحد رہا تو یہ ایک جدید صنعتی یونٹ بن جائے گا۔

سوال: آپ سے مزید ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح ان کی کوئی ایک خوبی بتا دیجیے۔
جواب: 1917ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ سیکولر اور محب وطن تھے۔

سوال: سیکولر کا مطلب کیا ہے؟۔
جواب: سننے کا حوصلہ رکھیں۔ سیکولر کا مطلب ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ سیکولر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے مذہب کو پریکٹس نہیں کر سکتے بے شک آپ اپنے مذہب کو پریکٹس کر یں ہندو ہوتو مندر جائیے مسلم ہو تو مسجد جائیے۔ مگر مذہب نجی معاملہ ہے۔ ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ریاست کا مذہب نہیں ہوگا۔ سیکولرازم کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو اپنے مذہب پر چلنے کا حق نہیں ہوگا۔

سوال: برطانیہ نے آزادی ہند ایکٹ منظور کیا جس پر 15اگست کو ہندوستان تقسیم ہوا، 10لاکھ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور لاکھوں عورتوں کا ریپ ہوا ہزاروں اٹھا لی گئی تو اس میں آر ایس ایس کے غنڈوں کا کتنا کردار تھا ؟۔
جواب:دوسرے مذاہب کیخلاف نفرت پھیلانا تھا۔ یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کا حصہ تھے۔ 1857 سے پہلے فرقہ وارانہ مسئلہ نہ تھا ہندوستان میں اور کوئی مذہبی فسادات 1857سے پہلے نہیں ہوئے۔ ہندو اور مسلم ایک ساتھ رہتے تھے بھائی بہن جیسے ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے تھے ۔1857میں ہندو مسلم مل کے لڑے انگریز سے۔ پھر انگریزوں نے سوچا کہ ہندوستان کو کنٹرول کرنے کا تو ایک طریقہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ تو ساری فرقہ واریت شروع ہوئی 1857سے ۔

سوال:یہ کیا بات ہوئی کہ 15اگست کو تو اعلان ہو گیا کہ تقسیم ہوگی لیکن تقسیم کے دو دن بعد 17اگست کو اعلان ہوا کہ فلاں علاقے ہندوستان میں آگئے فلاں پاکستان میں۔ یہ کیا تھا کیا یہ انگریز کی چال تھی کہ اس کے بعد بہت بڑی تعداد میں نقل مکانی ہوئی لوگوں آپس میں لڑ پڑے۔
جواب: انگریزکی چال تھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے۔ دیکھیں انگریز جن ملکوں کو چھوڑتے تھے چونکہ قوم پرستی کی تحریکیں شروع ہو گئی تھیں تو وہاں پہلے تقسیم کر تے پھر چھوڑ دیتے تھے جیسے کہ آئرلینڈ میں تحریک آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی جسکے مغرب میں انگلینڈ ہے۔ تو انگریزوں نے اس کو تقسیم کیا چھوڑنے سے پہلے شمالی آئرلینڈپروٹسٹنٹ اور جنوبی آئرلینڈ جسے آئرش جمہوریہ کہتے ہیں کیتھولک۔ پھر سائپرس ایک آئرلینڈ ہے تو اس کو نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم کیا چھوڑنے سے پہلے وہ بھی مذہب کے نام پر۔ انڈیا کا بھی ایسے ہی تقسیم کیا۔ اسرائیل میں 95% لوگ پہلے عرب تھے تو اس کو پہلے اسرائیل بنایا اور دوسرا جارڈن بنایا۔ وہ بھی مذہب کے نام پہ۔ اسرائیل میں یہودی رہیں گے اور جو عرب تھے ان کو مار پیٹ کر بھگا دیا۔ پہلے 95% عرب اسرائیل میں ابھی 20% ہیں تو باقی 75%فیصد کہاں گئے؟۔ عورتوں بچوں کو مار ڈالا گیا یا بھگا دیا گیا۔ گالا میں ہیں یا ویسٹ بینک یا جارڈن میں ہیں یا لبنان میں۔

 

مارکنڈے کے انٹرویو پر تبصرہ

برطانوی ہند کو آزاد کرنے سے 3ماہ پہلے عرب خلیجی ممالک کو ہندوستان سے انتظامی اعتبار سے جدا کیاگیا۔ 1971ء میں وہاں سے نکلا۔ ہندوستان کو تقسیم کیا۔ عوام کو بے وطن اور بے آبرو کیا۔ ہم نے انگریزی نظام کا ڈھانچہ بدلنا تھا مگرمزید خراب کیا۔ کبھی کوئٹہ ژوب اور راولپنڈی سے بنوں، ٹانک اور مرتضی گومل تک ریلوئے لائن تھی وہ بھی ہم کھاگئے بھوکے کہیںکے۔ مارکنڈے ، لتا حیا اور ندی شرما جیسے لوگ غنیمت ہیں اور اپنی دشمنیاں ختم کرنی ہوں گی۔ لاکھوں فیلڈمارشل عاصم منیر ، ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کی ماں کی رشتہ داریاں بھارت میں ہیں اور ہندوستان میں لاکھوں ہندو سکھ ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے تو آپس میں نفرت نہیں محبت بنتی ہے انگریز گیا مگر ہماری نفرتیں ختم نہیں ہوئیں کتوں کی طرح لڑتے ہیں۔

جب تقسیم ہند کے باوجود بردہ فروشی کا دھندہ ہے تو اگر میدان وسیع ہوتا تو مزید مشکلات بڑھ جاتیں۔ جو کچھ ہوا تو اس میں خیر تھی لیکن آئندہ تجارت اور انسانیت کیلئے یورپی یونین اور عرب امارات کی طرح مضبوط اتحاد اور آمد ورفت کا ماحول قائم کرنا ہوگا، پنجروں کی جگہ آزادی کا ماحول سبھی کیلئے نفرتوں کا عذاب ختم کرنے کیلئے ضروری ہے۔


 

پاکستان کا وجود کفار کی وجہ سے قائم ہے۔ ارشد محمودمصنف دانشور
حوریں اور تنہا عورت

شہریار وڑائچ:ہیلو ویورز! ہمارے ساتھ ایک بڑے ہی مشہور اور لیفٹسٹ اور مصنف دانشور سکالر جناب ارشد محمود ہیں ۔ لندن میں ایک دریا کے کنارے ہیں ارشد صاحب سب سے پہلے ویلکم!۔السلام علیکم!
ارشد محمود: وعلیکم السلام آج بڑا اتفاق ہے ہماری ملاقات لندن میں ہورہی ہے ہم لاہور میں بیٹھا کر تے تھے۔
شہریار:آپ کی کتاب پاکستانی معاشرے کے گٹھن میں بہشت میں تنہا عورت یہ کانسپٹ ذہن میں آیا کیسے؟۔یہ کیسے آپ نے سوچ لیا ؟۔
ارشد محمود: جنت میں حوریں ہوں گی۔ مسلمان عورت ہماری بیویاں ، بہن بیٹیاں ، مائیں ہو سکتی ہیں تو مجھے لگا کہ وہاں یہ زمینی عورت بڑی اجنبی سی ہوگی ۔ہم تو وہی مرد حوروں کی ہوس کے مارے ہوئے ۔ عبادتیں ظاہر حوروں کیلئے کی ہیں ان کیلئے تھوڑی کی کہ پھر یہی ملے ہم کو ؟۔

سوال: پاکستانی معاشرے کی پکچر کس طرح ہے؟۔
جواب: افسوسناک نہ صرف ایک جگہ فکری، تہذیبی لحاظ سے کھڑی بلکہ آنے والا 14اگست 77سال ہوئے کہ ہم نے پیچھے کا سفر کیا گرنے کا ۔ انگلینڈ ترقی یافتہ دنیانئی چیزیں ایجاد کر رہے ہیں۔ ان کی ایکٹیوٹیز ہیں پاکستانی معاشرہ مذہب کے تنگ سے دائرے میں پھنس چکا ہے۔

سوال: قیامت کا ہمارا کانسپٹ ہے دنیا سے تعلق نہیں تو پھرکیسے کہہ رہے ہیں کہ ہم بیک ورڈ جا رہے ہیں؟۔
جواب: پاکستان کے تمام نوجوانوں اور پیرنٹس کی یہی لگن ہے کہ بچے مغربی ملکوں میں جائیں اور ہماری دنیا ہماری زندگی اسلام یا مذہب کے مطابق ہو۔یہ تضاد ہے ۔

سوال: بطور مسلمان پہلا حق ہے تو حرج کیا ہے ؟۔
جواب: دنیا میں جنہوں نے مادی ترقی کی چین جاپان ویسٹرن کنٹری یورپ جس نے ترقی کی اس کا دین چھوٹ گیا وہ سیکولر مذہب سے دور ہو گئے۔ پاکستانیوں کو سمجھ نہیں کہ اب کرنا کیا ہے ۔ پاگل بنایاہماری اسٹیبلشمنٹ ، ہماری سٹیٹ نے روکاہے ۔ پاکستانیوں کی یہ خواہش کہ ہمارا ملک خاندان ، اولادیں خوشحال ہوں، وہ باہر یونیورسٹیوں میں پڑھیں تو مطلب ہمارا دل کہیں اور ہے دماغ کہیں اور ہے پاکستانیوں کا۔ تو اس چکر میں پاکستان رکا ہے اور جو چیز رک جاتی ہے توہ بدبودار متعفن ہو جاتی ہے ۔

سوال:تو اس متعفن ،کرپٹ معاشرے کا ذمہ دار؟۔
جواب :علماء کہتے ہیں کہ دین سے دورہیں اسلئے زیادہ کرپٹ ہیں ۔پاکستان اسلام کے نام پہ بنا ،قائد اعظم نے کہا مدینے کی ریاست ماڈل ہے۔ آئین اسلامی ، قوانین اسلامی۔ ہر حرام چیز پر پابندی ،اسلام کیخلاف کوئی قانون ممکن نہیںمسجدیں مدرسے مولوی ماشااللہ 86% نمازیں پڑھنے والی قوم مسجدیں بھری ہوتی ہیں، ہمارے بچپن میں مسجدیں خالی، ابھی تو ماشااللہ لوگ دکانیں بند، ریڑیاں چھوڑ کے مسجد جاتے ہیں۔ ہم خاصے بنیاد پرست ہیں، تمام پالیسیاں کفار کے خلاف ہیں پوری پاکستانی سوچ اور اسکا دماغ ۔ اس سے بڑا عشق کیا ہو سکتاہے کہ بندہ مذہب کی خاطر قتل کر دے۔ مقبول نعرہ سر تن سے جدا ہے حالانکہ کتنا وائلنٹ ہے ٹوٹلی آج کی تہذیب سے یہ میچ نہیں کرتاہے لیکن ہمارے ہاں کوئی اسکے خلاف بولتا نہیں۔

سوال: ہمارے خلاف مغرب سازشیں کرتا ہے؟۔
جواب: یہ ساری ہم نے چیزیں بنائی ہیں۔ پاکستان کا وجود ہی کفار کی وجہ سے کھڑا ہے ۔امریکہ کی وجہ سے ہے دیکھو نا اگر امریکہ نہ چاہے توآدھا 50-40سال پہلے ٹوٹ گیا ،کوئی انٹرنیشنل سازش کرے توہم کچھ نہیں کر سکیں گے ، پاکستان کا وجود قائم ہی عالمی طاقتوں کی وجہ سے ہے، پاکستان تسلیم شدہ ملک ہے اس کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہمارا بڑا فائنانشل مددگار، سکیورٹی فورسز ہمیشہ امریکن اسلحے سے لیس ہماری ایکانمی انٹرنیشنل فائنانشل سیٹ اپ ہے ہمارا ملک ڈالروں کا ہے تو سازشیں کون کررہا ہے ہمارے خلاف ہے تو یہ چیزیں گلی محلے کی ہیں یہ علم و دانش کی چیزیں نہیں ہیں۔

سوال: آپ بچتے ہیں پاکستانیوں سے وجہ کیا ہے؟۔
جواب: میں آتا ہی سانس لینے ،آکسیجن مل جائے، خوبصورت، صاف ایماندار اسٹریٹ فارورڈ لوگ ہیں۔ لڑکیاں نیم برہنہ، مولوی کی نظر سے بے حیائی لیکن کتنا پاکیزہ ماحول ہے۔ کوئی کسی کو بری نظر سے نہیں دیکھ رہا، اتنا بڑا جرم بنا دیا ،عورت کو سب سے پہلے محفوظ کیا، کسی کو ہراس نہیں کر سکتے ۔ ہم تو برقعے والی کو بھی نہیں چھوڑتے دیکھنے سے ۔کوئی آلودگی نہیں ، کپڑے اورہوتے،شوز گندے نہیں ہوتے ۔کئی روز کے بعدشوز پالش کریں۔

سوال:اسی لئے ہم کہتے ہیں صرف ایک کمی ہے صرف اسلام قبول کر لیں باقی سب کام اسلام والے کرتے ہیں۔
جواب: یہ جو مغرب کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسلام کے اصول ان کے پاس ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ جن کو کافر جہنمی کہتے ہیں جو دوزخی ہیں ان کو آپ کہہ رہے ہیں کہ سارا اسلام انہوں نے نافذ کیا ہوا ہے تو یار یہ تو بڑی عجیب بات ہے کسی ایک جگہ پہ تو یار قائم دائم رہونا یار۔


 

غزہ کے منافق دشمن۔ ارشد محمود مصنف دانشور سے انٹرویو

شہریار وڑائچ: فلسطین پر UK کے اندر بھی بہت بڑی تعداد ہے جو روز گرفتار ہو رہی ہے احتجاج بھی کر رہی ہے لیکن منع نہیں ہو تی۔ ارشد صاحب کا موقف مختلف ،آپ فلسطین کے مخالف کیوں ہیں ؟۔
ارشد محمود : فلسطین کیا میں کسی انسان کا مخالف نہیں ہو سکتا ہوں یہ اانسانی مسئلہ ہے ۔ ہم پاکستان کے ماحول کا ذکر کرتے ہیں تو بطور مسلمان ہم یہود دشمن ہیں ، نفرت رکھتے ہے یہودیوں سے عقیدے کے طور۔ اب ان سے ہمیں کیا توقع ہے ۔یار یہ تو ہے ہی نیچ یہ تو ہے ہی ظالم یہ تو ہے ہی جتنا بھی برا ان کو کہہ سکتے ہیں ہم کہیں گے۔ پرو فلسطینی موقف جو پاکستان کا ہے۔ رائٹ لیفٹ ایک جیسا جماعت اسلامی، لبیک ،جمعیت علماء میں کوئی فرق نہیں ۔ لیفٹ لبرل مذہبی اور غیر مذہبی سارے فلسطین کیساتھ ہیں اور اسرائیل کی مذمت کرنی اس کو نسل پرست اورفاشسٹ کہنا اس کو صیہونی یہ ٹرمیں بنائی ہوئی ہیں اس کو یہ صیہونیت ہے تو ایک نفرت کے مختلف لیبز ہیں۔

سوال:جب اتنے ہزاروں لوگ اور بچے مارئیے تو۔
ارشد محمود: اچھا ٹھیک ہے، فلسطینی مظلوم اسرائیل ظالم ہے۔ اب سوال ہے کہ 1948میں یہ تنازعہ ہے اب تک تقریبا پاکستان جیسی عمر ہے ۔ظلم ہو گیا، بچے مر گئے عورتیں مرگئیں بڑے مرگئے کیا یہ بچے پہلی دفعہ مرے ہیں؟، یہ 1948سے مر رہے ہیں ٹھیک ہے نا ۔ اس شور شرابے سے فلسطینیوں کو کیا فائدہ ہوا ؟۔ کیا تبدیلی آئی ؟،کیا وطن مل گیا بچے مرنے سے بچ گئے؟، مجھے کوئی فائدہ کوئی چیز بتائیں۔ قیامت تک میں کہوں گا، سو سال بعد بھی یہی کہہ رہے ہوں گے بچے مر گئے، اسرائیل ان کو مار رہا ہوگا یہ ان پہ حملے کر رہے ہوں گے یہ دہشت گردیاں کر رہے ہوں گے۔

سوال: جب وہ مار رہا ہو تویہ ظلم نہیں لگتا کہ اگر ہم کچھ کر نہیں سکتے تو ہم کیا ایک مظلوم کے حق میں بولیں بھی نہیں۔
ارشد محمود: میرے سننے والے ہیں شاید سمجھ سکیں میرا گھر ہے ، میرے ماں باپ کا کوئی گھر تھا انہوں نے قبضہ کیا ہو۔ بڑے طاقتور، بدمعاش، دولت والے ہیں میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں ۔ انکے ساتھ میں پنگا کروں گا تو یہ میرے بچوں کو مار دیں گے۔ تو ہرگز پنگا نہیں کروں گا میں کیوں راہ چلتے میں انہیں انگل دوں ، گھر میں پتھر پھینکنے دوں، گالی گلوچ دوں ۔اگر اپنے بچوں کو کہوں کہ کنکریاں مارو۔ تو جواب میں وہ میرے بچوں کو قتل کر دیں گے تو میں تو کبھی اپنے بچوں کو مروانے پہ راضی نہیں ہوں گا۔ یہ فلسطینی 1948سے 78سال سے بچوں کو مروا رہی ہیں مسلسل مروائے چلے جا رہے ہیں اور ان کی صحت پہ اثر نہیں ہوتا ساری دنیا دکھ کا، غم کا اور ظلم کا اظہار کرتی ہے۔ میں ہوں سولیوشن سائٹ کی طرف۔ میں ایک امن پسند آدمی ہوں۔ اگر میرا حق جاتا رہے لیکن زندہ رہوں اور میری میرے بچے زندہ رہیں تو میں تو اس طرف جاؤں گا۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میری زندگی ہلاکتوں میں گزرے۔ مرنے مارنے پہ گزرے میری نسل در نسلیں لڑتی اور مرتی رہیں۔ آپ لوگوں کا قبائلی ذہن ہے، نسل در نسل مروانے والے جو فلسطینیوں کو سپورٹ کر رہے ہیں، ان کو مرواتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ شاباش لڑتے رہو مرتے رہو اسرائیل پہ حملے کرتے رہو، لوگ اٹھاتے رہو۔ یار ایک دن میں 1200لوگوں کا ایک فنکشن میں میوزک کنسرٹ ہورہا تھا ، ان کا قتل عام کر دیتے ہیں یہ کوئی چھوٹی سی بات ہے ؟، 300لوگ جن میں بچے عورتیں اور بوڑھے ہیں ان کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اگر یہ تماشے کرتے رہیں لڑتے رہیں مرتے رہیں آپ اسرائیل کا ماتم کرتے رہیں۔ اسرائیل کا ماتم کر کے 70-80 سال اس کا کیا بگاڑا لیاہے؟۔ وہ کمزور ہوا ہے 70-80 سال سے مجھے آپ یہ بتائیں ۔ہاں ناں تو کریں نا۔ کمزور ہوا ہے کہ طاقتور ہوا ہے؟۔

شہریار وڑائچ: وہ تو طاقتور ہی ہوا ہے۔
ارشد محمود: فلسطینی نے اپنی کچھ انچ زمین لے لی، یا جو پاس تھا وہ بھی کھو دیا بلکہ کمزور ہوئے ہیں۔ یہ 7اکتوبر آج سے ڈیڑھ دو سال پہلے غزہ جیتا جاگتا کوئی جگہ تھی نا، انکے ا سکول تھے، ہاسپٹل بھی، لائف ہوگی، ہزاروں لاکھوں فلسطینی زندہ ہوں گے، ماں باپ بچے اپنے بچوں کیساتھ پیار سے رہ رہے ہوں گے نا۔ تو آج وہی غزہ کی حالت ہے دیکھ لیں تو پایا کیا؟۔ یہ مستقل تنازعہ ہے۔ میرے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ مستقل تصادم کو زندہ رکھ رہے ہیں وہ 800سال میں بھی پورا نہیں ہونا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غزوۂ ہند سندھ اور پنجاب میں ہوگا۔ مولانا سید سلمان ندوی

ہندوستان کے مولاناسلمان ندوی نے کہا کہ

پاکستان کی حکومت خاص طور پر ظالم بھی ہے فاسق بھی ہے کافر بھی ہے قرآن کہہ رہا ہے۔ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکافرون(المائدہ:44)۔ھم الظالمون (المائدہ:45)ھم فاسقون(المائدہ:47)

پہلے دن سے لادینی ہے، کلمے کا استحصال کیا گیا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ لیکن عملًا حکومت کا جو نظام بنایا گیا وہ لا الہ الا امریکہ، لا الہ لابریطانیہ، لا الہ الافرنسا، لا الہ الا اوربا۔ زبان پر کلمہ مجبوراً تھا لیکن اللہ کی الوہیت وربوبیت کے نظام کو نافذ کرنے کیلئے وہ مجرم تیار نہیں تھے ،30لاکھ انسانوں کو ذبح کروایا۔ ایک ملک توڑ کر ایک ملک ان کی لاشوں پر بنایا اسکا نام جھوٹا،نسبت جھوٹی رکھی اور اس پر انگریز کی صہیونی صلیبی فوج مسلط کر دی گئی، پورے ملک پر اسکے جنرل اسکے کمانڈر صہیونی کتے رہے پہلے دن سے۔ سوائے ایک ضیاء الحق ، اللہ غریق رحمت کرے مستثنیٰ تھے اور واقعتا وہ دین کا نفاذ چاہتے تھے لیکن مجرموں، بدمعاشوں، منافقوں نے امریکہ کیساتھ مل کر سازش کر کے ان کو شہید کیا ۔جیسے فیصل کو شہید کیا گیا۔ پاکستان والے یہ بات سن لیں کہ وہ شریعت کے نفاذ کیلئے تیار نہیں ان کی تعلیم لادینی، سیاست لادینی، عدالت لادینی، نظام لادینی، مسلط صہیونی کتے، جرنیل صہیونی، حکومت جعلی فراڈی مجرموں سؤروں کی ،سارے ادارے کتوں کے جو صہیونی نظام کے پرستار ہیں جھوٹے اعلان کرتے ہیں، ان کا میڈیا صبح شام جھوٹ بولتا ہے اس پر جو بیٹھے ہیں وہ کتے کتیاں ہیں ان کو بھونکنے کیلئے لگا دیا گیا ا ن کو گوشت کھلایا جاتا ہے چھیچڑے کھلائے جاتے ہیں ۔

آج اسی ضمن میں کہہ دوں کہ بڑی باتیں کی جاتی ہیں، جاہل اور احمق آخری درجے کے گدھے غزوہ ہند کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ نبی ۖ نے ہند کا لفظ استعمال فرمایا تھا تو افغانستان کے جنوبی بارڈر سے دکن تک اور اسکے نیچے تک اورخاص طور پر خراسان کے نیچے کاعلاقہ ہند تھا ۔ ایران کا مشرقی شمالی اور افغانستان کا مغربی شمالی علاقہ اور پھروسطی علاقے تک یہ خراسان تھا اور اس میں ازبکستان ، ترکستان شامل تھا اسکے بعد سندھ، بلوچستان اور پختونستان سب ہندوستان کا حصہ تھے تو نبیۖنے جب بات کی غزوہ ہند کی تو اس کا تعلق دلی ، حیدرآباد، کیرالہ سے نہ تھا پہلے نمبر پر اس کا تعلق سندھ، پنجاب سے تھا ۔ حدیثیں پڑھ لو سنتے ہی رہتے ہو گے اپنے مولویوں سے جو زبانیں چبا چبا کر جھوٹ بھی بولتے ہیں کچھ سچ بھی بولتے ہیں۔ تو خراسانی لشکر حضرت مہدی کیساتھ نکلے گا یہی وہ لشکر مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور بیت المقدس پہنچے گا اورجو کاروائی کرے گا بلوچستان ، بختونستان ، سندھ میں، یہاں کے جو مظلوم انسان ہیں جن کو ایک لال ٹوپی والا بدمعاش خبیث مجرم جہنم کے کتے کہتا ہے خوارج کہتا ہے حکومت کے کتوں کی زبان میں بات کرتا ہے بے شرم اور بے حیا ۔ جوصہیونی کتوں کی بات ہے۔

یاد رکھو کہ وہ جو ظلم کے خلاف اٹھے ہیں چاہے وہ پختونستان میں اٹھے ہیں، یا بلوچستان میں اٹھے یا کہیں بھی اٹھیں یہی ہیں جو اسلام کے نمائندے ہیں یہی ہیں جو مہدی کے ہراول دستہ ہیں۔ جو اسرائیل جو صہیونیوں سے مقابلہ کریں جو ان کیلئے میدان میں آئیں ۔یہ ہیںسچے مسلمان اسلام کا کام کرنیوالے اور حضرت مہدی کا استقبال کرنیوالے ہوں گے۔ تو وہ خراسانی لشکر اور یوں کہہ سکتے ہو تم کہ وہ طالبان ہوں گے جو آزاد کریں گے پختونستان کو اور وہ خراسانی ہوں گے جو آزاد کریں گے بلوچستان کو۔ تمہاری خیریت اسی میں ہے تم امارات عربیہ متحدہ UAE کے غلام ہو اسکے تلوے چاٹتے ہو اس کا پیخانہ صاف کرتے ہو وہیں جا کر جائیداد بناتے ہو بار بار وہاں بھاگتے ہو تو اسکے طریقہ کار کو اختیار کرو تو ترقی ہوگی معاشی خوشحالی ہوگی بڑی بڑی بلڈنگیں بنیں گی ہر طرح کی راحت ہوگی۔ یعنی یونائیٹڈ عرب امارات انہوں نے بنایا تو تم یونائیٹڈ پاکستانی اسٹیٹس بنا لو ۔یہ اختیار دو ہر صوبے کے لوگوں کو کہ وہ جس کو چاہیں اپنا حاکم منتخب کریں اور جس آزادی سے رہنا چاہے رہیں۔ تو بلوچستان ایک امارت اور پختونستان ایک امارت ہو اور پھر سندھ کی ایک امارت ہو اور پنجاب کی ایک امارت ہو اور کشمیر کی امارت ہو۔ یہ زیادہ بہتر ہے خوشحالی زیادہ ہوگی لڑائیاں نہیں ہوں گی کوئی خوارج میں شمار نہیں کیا جائے گا ۔ اسلام کسی مذہب کے خلاف حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اسلام کی لڑائی کسی مذہب سے نہیں ہے اسلام کی لڑائی صرف ظلم سے ہے۔لا ینہام اللہ عنِ الذِین لم یقاتِلوم فِ الدِینِ ولم یخرِجوم مِن دِیارِم ان تبروہم وتقسِطوا اِلیہِم اِن اللہ یحِب المقسِطِین (الممتحنہ: 8)

قرآن یہ کہتا ہے کہ جنہوں نے تم پر ظلم نہیں کیا، جنہوں نے تم کو گھر سے بے گھر نہیں کیا، جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کی بنیاد پر لڑائی نہیں لڑی ہے تم ان کیساتھ زیادتی نہیں کر سکتے تم ان کیساتھ اچھا سلوک کرو اللہ تعالی تم کو ان کیساتھ حسن سلوک سے منع نہیں کرتا اور مسلمانوں نے جو ملک بھی فتح کیا وہاں غیر مسلموں کو زیادہ حقوق دئیے ان کو آزادی دی ان کو شہریت کے سارے حق دیے ان کے کسی انسانی حق کو نہیں مارا جو ٹیکس مسلمانوں سے لیا اس سے کم ٹیکس غیر مسلموں سے لیا جو حفاظت مسلمانوں کی کی اس سے زیادہ حفاظت غیر مسلموں کی زمیوں کی کی۔ یہ جو صحیح مسلمان تھے ان کا یہ رویہ رہا لیکن جب دور ملک عبود کا اور جبریہ کا اور عدو کا آیا ہر طرح کی بدمعاشی ہر طرح کا ظلم ہر طرح کا استحصال کیا گیا ثابت ہے قطعی طور پر حوالوں سے ثابت ہے۔ پاکستان بھی اسی جبریہ اور عدو کی حدیث کا مصداق بنا ہوا یہاں ایک جابرانہ، مستبدانہ ،طاغیانہ، طاغوتی صہیونی صلیبی نظام نافذ ہے اور یہی صورتحال عرب ملکوں کی ہے وہ مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جس UAE میں تم جا کے پناہ لیتے ہو دولت بناتے ہو عیاشی کرتے ہو وہ سب سے بڑا صہیونی اڈاہے اور جس ملک میں جاتے ہو حرمین نے وہ دوسرا سب سے بڑا صہیونی اڈا ہے۔ اردن صہیونی اڈا ہے مصر صہیونی اڈا ہی نہیں ہے بلکہ صہیونی خادم ہے چپراسی ہے نوکر ہے۔ اور پاکستان بھی اسی فہرست میں ہے اور بہت آگے بڑھ کر ہے کہ یہ حکومتیں گراتا بھی ہے اور یہ ووٹ عوام کے کھاتا بھی ہے یہ خبیث پاخانہ کھانے والا مجرم یہ جرنیل جو قرآن پڑھتا ہے اسی قرآن کے خلاف عمل کرتا ہے کہ جو آیتیں بھی ہیں اللہ ورسول سے جنگ کی وہ اس پر منطبق ہوتی ہے یہ سودی نظام کے خلاف نہیں ہے یہ شریعت کے نفاذ سے متفق نہیں ہے یہ اللہ کا حکم جاری اپنے اوپر نہیں کر سکتا تو دوسروں پر کیا کرے گا؟۔ اس نے کتنی بے گناہ عورتوں کو قید کر رکھا ہے کتنے بے گناہ مردوں کو کتنے بچوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے یہ خبیث اور مجرموں کا ایک ٹولہ ہے حکومت مجرم فوج مجرم اور وہاں کے ادارے مجرم ہیں اور علما کو سب سے پہلے وہ حدیث یاد کرو حضرت ابو ہریرہ کی کہ عذاب جب ہوگا تو سب سے پہلے عالم کو اور بڑے بہادر کو اور بڑے سخی کو پکڑا جائے گا کہ جہنم میں انہیں پہلے ڈالو کیونکہ انہوں نے مقابلہ نہیں کیا ظلم کا۔ مقابلہ نہیں کیا طاغوتی نظام کا۔ انہوں نے مقابلہ نہیں کیا ان لوگوں کا جن کی حکومت ظالمانہ تھی۔ فوج کے وہ جرنیل وکرنیل جو صہیونی کتے تھے ان کا مقابلہ نہیں کیا ۔ اپنے درس و تدریس میں لگے رہے حکم ہوگا اللہ کا فرشتوں کو کہ ان سے آغاز کرو۔

پاکستانیو! عذاب کا انتظار کرو تم بدمعاش ہو تم ظالم حکومتوں کیساتھ کھڑے ہو تم اہل بیت کے قاتلوں صحابہ کے قاتلوں تابعین کے قاتلوں کے لشکر میں ہو اسلئے سب سے پہلے لشکر مہدی تمہارا صفایا کرے گا پھر دوسروں کا نمبر آئے گا۔ کیونکہ وہ علی کا بیٹا ہوگا اور وہ انصاف قائم کرے گا جو ظلم کر لیا گیا تھا علی کے دور سے اس ظلم کیساتھ جو بھی کھڑے ہوں گے وہ ظاہر ہے پہلے ظالم تھے پکڑے جائیں گے اور جو ظلم کیساتھ آج بھی ہوں گے قیامت تک ہوں گے ان سب کا صفایا حضرت مہدی علیہ السلام پہلے کریں گے۔ تو اے لوگو! تم تو دجال کے منتظر ہو تو کیونکہ آل سعود ، آل نہیان اور اردن کا بادشاہ بھی دجال کا انتظار کر رہا ہے اور ظاہر ہے کہ تم ان کے نوکر چا کر ان کے بھکاری حرام خور ہو تو تم بھی اس کا انتظار کر رہے ہو لہٰذا دجال تم پر حکمرانی کرنے آنے والا ہے، تمہیں خوشی ہونا چاہیے کہ تمہارا جو رہبر ہے تمہارا جو قائد ہے وہ جلدی آنے والا ہے اور پھر جب مہدی آئیں گے تو تمہارا صفایا ہونا ہے تو غزوہ ہند تمہارے ہاں ہوگا اسلئے فکر کرو اور حدیثوں کی غلط تشریح نہ کرو کہ نبی پاک علیہ السلام نے جس دور میں ہند کا تذکرہ کیا تو پھر سندھ، کراچی، لاہور اور پشاور اور اس سے اوپر اور نیچے کے سارے علاقے ہند میںشمار ہوتے تھے۔ تو ظاہر ہے کہ لشکر خراسان سے چلے گا پہلے تم سے نمٹے گا کیونکہ اس کو ظالموں سے نمٹنا ہے اصلاً اور کافروں کی حکومت منظور ہوتی ہے اللہ تعالی کافروں کو موقع دیتا ہے اگر وہ ظلم نہ کرے اور مسلمان اگر ظلم کرے تو اس کی بخشش نہیں ہے۔ پھر وہ مثل کافروں کے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے قرآن میں فرمایا :و من یقتل ممِنا متعمِدا فجزآہ جہنم خلِدا فِیہا و غضِب اللہ علیہِ و لعنہ و اعد لہ عذابا عظِیما(النسائ: 93)جو ایک بھی مسلمان کو ظلماً قتل کرے گا ایک بھی تو وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنمی ہوگا۔ یہ قرآن اور حدیثوں میں ہے میں نے اپنی کتاب ”الامارة والقضائ” اور ”کتاب الحدود” میں جو مشکوٰة کی شرح ہے تفصیل کے ساتھ وہ صحیح حدیثیں بھی پیش کی ہیں جن میں کسی بھی ایک مسلمان کے قاتل کو مشرک و قاتل کا درجہ دیا گیا۔

تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا سید سلمان ندوی سورہ مائدہ کی آیات کے سیاق وسباق کو دیکھ لیں۔ اللہ نے کفر کا فتویٰ علماء ومشائخ پر لگایا ہے جو دین فروش ہوں اور تھوڑے مفاد کیلئے دین کو بدل دیں۔ ظالم کا فتویٰ حکمران پر لگایا ہے جو عدل نہیں کرتا اور فاسق کا فتویٰ عوام پر لگایا ہے جو اپنا اختیار رکھتے ہیں۔

نوٹ: مولانا سید سلمان ندوی کے بیان پر نوشہ دیوار کا مکمل تبصرہ اس ماہ اگست 2025کے شمارے میں لتا حیا کے اشعار کے بعد پڑھ لیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عابد شاہ! آپ کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں۔ سید عتیق گیلانی کا جواب

سوال گندم جواب چنا: پیر عابد

سوال گندم جواب چنا جواب شکواہ میں گناہوں کی معافی اور ابراہیم علیہ سلام کی بات ہوئی دادی بختاور کو جس الفاظ سے یاد کیا ہے۔ جٹہ میں انجام کو پہنچ جاتے سو اونٹوں کا صدقہ کرتا ۔ تمہاری گندی ذہنیت گندی سوچ و گندہ نطفہ دجال کا ہے ۔تم دنیا کی خاطر اپنی ماں پر تہمت لگانے والے ہو۔ اللہ کی پکڑ سے ڈرو مردہ کا معاملہ اللہ کے دربار میں ہے۔ تم کس باغ کی مولی ہو۔ بچپن میں ملا کو انتی دی ہے کہ کیڑا پیدا ہوا ہے خارش کا میں ابھی بتاتا ہوں کس نے کیا ہے تو تمہاری گیلی شلوار بیٹوں سمت گیلی ہو جائے گی، عزت راس نہیں آتی۔کا لا جادوگر کی طرح من کے کالے ہو۔ ابلیس لعین کے پیرو کار شہید جٹہ کو گالیاں دیتے ہو۔ اگر غیرت تھی تو نقاب پہن کر برقعہ میں جنازہ چھوڑ کے روپوش نہ ہوتے۔ جبکہ مارنے والے نے ہی جنازہ پڑھایا وہ بھی دیوبندی مسلک کا ہے اور مارنے والے بھی ایک شیعہ کو کافر کہتے ہیں اور دوسرے ماتم میں ساتھ دینے تک نرم ہیں۔ شیعہ کا ماتم نہیں بلکہ حسین کا ماتم ہے کبھی بھائی پر خیرات کی ہے ۔ عرس کا پروگرام بناؤ علاقہ گومل میں اور اتنی جرأت کرو کہ اعلانیہ اسلحہ اورتمہارے ہینڈلرز کیساتھ تو قاتل تمہاری خیرات کی دیگ پر کھڑا ہوگا شرط لگاتا ہوں ہمت ہے تو اسی جگہ پر شوٹ کرو ورنہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرو بے گناہ کو مروانے اور کس کس کے ہاتھ پیسہ تقسیم ہوا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ اب تک قاتل کا تعین نہ کرسکے اور دعوی ہے۔ واقعہ میں جتنے شامل افراد تھے جسکی لسٹ ادارے نے آپ کو دی ویڈو تک بھی دی پھر سارے کو ٹھکانہ لگانے کا دعوی بھی ہے۔ اب ملوک بی بی فتح خاتوں بختاورہ دادی قاری حسین کی ماں اور بیٹی سے زیادہ عزتدار ہے اور چھودو قاری حسین کی بیوی و بیٹی کو سبخان ویل نے جب ڈالنا شروع کیا تو وہ کیڑا جو کراچی مدرسہ میں گانڈ دیتے ہوئے پیدا ہوا ہے مر جائے گا۔ منہاج کا لن بہت بڑا ہے عمر کے اس حصہ میں ہے کہ اللہ کی ذات کی طرف مکمل رجوع میںہے واری وٹہ پر عادی تھے اب اس آدمی کا پتا بتاؤتو ہم حاضر کر سکتے ہیں۔ نہیں تو اسرار تیار ہے۔ لیکن تمہاری پھکی گانڈ کو میر محمد کی اولاد سے چھودنا چاہتا ہوں تاکہ جس انجکشن سے پیداہوا ،اسی حکیم سے دوا کرو، آجکل خوبصوت لڑکوں میں جسکا لن بڑاہوتاہے اس کی مناپلی ہوتی ہے، عثمان تو گانڈ میں تیس بور پستول سے سوراخ کرے گا، ویسے آپکا پرانا استاد وہ کتا اب بھی آپ پر عاشق ہے ۔ علی امین کا گھوڑا بھی آپکو ٹھنڈا نہیں کر پائے گا ورنہ ڈگری کالج کے ہاسٹل میں روز مجلس لگتی ہے۔ اکبر علی داؤد اورشپو میں کون تمہارا پرانا عاشق تھا وہ بھی ایکسپائر ہے مصر سے فرعون کے غلام جان کو کاٹ کر تمہارے منہ میں دیدیں تو گالی کی تاثیر ختم ہو جائے گی۔ سبحان تیری قدرت کانی گرم میں دو قدم زمین نہیں اور دعوی ہے حسین کا اس پاک طینت امام کا نام زبان پر نہ لاؤتمہارا کھیل ختم ہے اور ڈالروں کا حساب باقی ہے ۔ تمہارے ہاتھ خود خنجر آلودہ ہے اسامہ کی ماں کو گالیاں دو گے تو رد عمل میں پھول نہیں گولیاں ملیں گی۔ دادا گالیاں دیتا تھا اور اسکی گالیوں پر قوم ہنستی تھی وہ محفل کو کشت و زعفران بنا دیتا تھا۔ حقانیہ دارلعلوم پر کوئی تعزیتی الفاظ ادا نہیں ہوتے، خیر کے کلمات آپکی گندی زبان سے آج تک کسی نے نہیں سنے، دادا کی تربیت میں کمی نہیںبلکہ آپکے منحوس چہرے سے شقاوت و بدبختی عیاں ہے۔ آپکے ہاتھ آزاد ہے تلوار تیز کرو میدان میں آو تاکہ قصہ کو مختصر کر دیں عورتوں کی طرح دماغی باتوں میں نہ اُلجھویا تو رواج میں دعوی ثابت کرو یا پھر میدان میں آجاؤ تاکہ حق و باطل عیاں ہو سبحان ویل قوم اس وقت رد عمل نہ دے، گالی کا جواب گالی سے نہ دے بلکہ اکھٹا ہو کر اپنا فیصلہ سنا دے۔سردار اعلیٰ فیصلہ کر لے سر لے آنا پھر اولاد سبحان شاہ کاکام ہے۔ ڈاکٹر نجیب کے کان و ناک میں گولڈ لیف کی سگریٹ تھی اور چوراہے پر لٹکا۔ اب بھی موقع ہے رجوع کرو اور معافی مانگو ۔شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات پیران پیر

جواب :سید عتیق گیلانی

عابد شاہ ۔آپ کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں۔

1:”جس خوبصورت لڑکے کا لن جتنا بڑا ہو ،اس کی مناپلی ہوتی ہے ”۔۔ ” منہاج کا لن بہت بڑا ہے اور اللہ سے رجوع ہوا ہے۔واری وٹہ پر عادی تھے”۔ اسرار کا بھی آزماچکے ہو۔ سردار اعلیٰ کا معیار؟۔گنزبک کا ریکارڈ۔

2: واقعہ کی ویڈیو اور پیسہ کسی کے ہاتھ تقسیم ہوا ہے؟۔

3: مولانا نے خراسان کا دجال قرار دیا تو نشانہ بنالیا۔

4: دیگ پر الیاس مرحوم کا بدلہ لوں؟۔ ساجد لوگ بھی یہی بے شرمی کے مرتکب ہورہے تھے۔

5: ڈاکٹر ظفر علی پر جھوٹے الزام لگانے سے دل ٹھنڈا نہیں ہوا؟۔ اچھا ہے خوب چالاکی دکھاؤ۔ مگر کب تک؟۔

6:آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا بلکہ بات بہت آگے نکل گئی۔ میں نے مظفرشاہ کی اولاد پر مظالم کو بیان کیا لیکن معاملہ مناپلی تک پہنچ گیا تو بہت برا ہوگیا ہے۔

7: میں نے اسلئے فاصلہ پیدا کیا کہ مناپلی والوں کے کرتوت ہماری طرف منسوب نہیں ہوں۔ سبحان شاہ بہت اچھے تھے لیکن بعض نے بعض پر زیادتی کرکے یہ کیا کیا؟۔

8:پیرسمیع اللہ ایڈوکیٹ نے ڈاکٹر آفتاب کے بیٹے سالار کی شادی کے موقع پر عالم زیب سے کہا کہ ”اگر ہم نہ ہوتے تو طالبان تمہیں چودھ دیتے”، عالم زیب نے کہا کہ میں تجھے ابھی چودھتا ہوں تو پھرمعافی مانگ لی۔

اگر بات کثرت کی ہو تو پھر ڈاکٹر آفتاب کی زمین خود دی تھی اور جھوٹ سے بول دیا کہ بدمعاشی سے قبضہ کیا۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر آفتاب لوگوں پر موت اور زندگی کے وہ لمحات گزرے جس سے ہرانسان کو اللہ امان میں رکھے۔ یہ لوگ صرف اتنا نہیں بول سکتے تھے کہ ہم نے دیدی تھی۔ اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ کہتے تھے کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ ۔ ہم زیادہ ہیں اور ہم نے زمین دی ہے اور ہم لیکر دیں گے مگر جب اپنی تاریخ اور اصلیت کا پتہ نہیں ہو تو بندہ گالی دیتے وقت شرم نہیں کھاتا ہے کہ اس کی اوقات کیا ہے؟۔

9: قربان علی ہوتک کا تعلق میر وائس خان ہوتک اور ملا عمر سے ہے اور بادشاہ خان درانی کا خاندان احمد شاہ ابدالی کا شاہی خاندان ہے اوروہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔تمہاری اصلیت تم نے خود بھی بتادی لیکن کردار بہت اہم چیز ہے۔

10: میں نے کسی خاتون کو گالی نہیں دی ہے۔ قاری حسین کے گھر کی خواتین کیا یہود ونصاریٰ اور اسرائیل کی خواتین بھی قابل عزت ہیں۔ تم نے تصویر لڑکی کی لگائی اور مناپلی کوئی اور بتائی ہے؟۔ کانیگرم میں ہماری زمین ہے۔ لیکن تجھے کیا پتہ ؟۔قبرستان کی کچھ قبریں بھی ہماری زمین کا درمن ہے جہاں پر گندم بھوسے سے نکالی جاتی ہے۔

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آمریت کے تین نشان بھٹو، بگٹی، ٹکا خان

مفتی شامیر شہید کے والد سردار عزیز بلوچ کا انٹرویو

براق نیوز۔السلام علیکم ! بلوچستان کے دور دراز علاقہ پدراک میں لوکل سردار سے ملاقات کی خبر جس نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ وعلیکم السلام ! میرا نام عزیز احمد بزنجو ۔ میر صاحب غوث بخش بزنجواور میرا دادا بھائی ہیں۔میر حاصل خان وغیرہ ہم لوگ فرسٹ کزن ہیں۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ گروپوں میں ایک کا سربراہ جاوید مینگل میرے خالہ کا لڑکا ہے اختر کے بھائی۔ ہماری اصل مخالفت کیوجہ یہ کہ وہ بولتے ہیں کہ ہم آزاد ریاست بلوچستان بنائیں گے ،ہم کہتے ہیں آپ جو خواب دیکھتے یا لوگوں کو دکھا رہے ہیں یہ آپ کو معلوم ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں۔ نہ بلوچستان اکیلا بن سکتا ہے بغیر پاکستان کے۔ جو اسلامی ملک ہے۔ ہم مسلمان کلمہ گو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والے سب لوگ بھائی بھائی ہیں۔ آپ کیوں منافقت پھیلا تے اوردشمنیاں پیدا کر رہے ہو ذاتی مفاد میں؟۔ کسی زمانے میں BSO کا نعرہ تھا کہ آمریت کے تین نشان بھٹو، بگٹی ٹکا خان ۔ ٹکا خان چیف آف اسٹاف ، بھٹو وزیراعظم اور یہی بگٹی گورنر تھے۔ آج بگٹی شہید تووہ کیا تھا؟۔ تو وہ ہمیں بولتے ہیں دلال ہیں۔ ہم بولتے ہیں ہم نہیں تم بیرونی ملک کے دلال ہو۔ ہم اپنے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم نے پاکستان کیلئے جان دی ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

ہمیں صرف یہی مل رہا ہے کہ ہم سچے پاکستانی ہیں تو آج تک جب کبھی ہم سے ڈیمانڈ تنخواہ کی نہیں کی یہ بھی ہماری طرح کے مجاہد ہیں ۔ہم نے آج اپنی زمین بیچ کر جنگیں لڑی ہیں۔ کبھی 10روپیہ ،10گولیاں بھی نہیں ملی ہیں۔ گروپوں نے قبول نہیں کیا لیکن انڈیا نے مفتی شاہ میر کی شہادت کو قبول کیا ۔ مفتی شاہ میر کی شہادت کے بعد سردار عزیزنے کہا تھا ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ ایک پہلو تشنہ رہ گیا یا حکمت سے چھپا دیا کہ مفتی شامیر نے تربت میں ذکریوں کے خلاف منافرت پیدا کی ؟۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کبھی سپاہ والے JUIکیساتھ تھے۔ واللہ اعلم

 

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اداریہ نوشتہ دیوار شمارہ مئی 2025

بدر، اُحد ، صلح حدیبیہ کے رنگ:پاک وہند جنگ

بھارت نے بلا جواز پاکستان پر حملہ کرکے بے گناہ شہریوں کو شہید کردیا۔ اب پھر بھارت کی بدترین شکست کو پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ نریندر مودی کی سوچ ہندو ازم کو پروان چڑھانا ہے اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ قرآن نے غزوہ بدر کے موقع پر بھی مسلمانوں کو ڈانٹ پلائی تھی اور غزوہ احد کے موقع پر بھی جب مسلمانوں کو بہت بڑے زخم لگے اور بدلہ لینے کیلئے بے تاب تھے تو اللہ نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا حکم فرمایا۔ سندھی قوم نے جائز احتجاج سے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کو ڈیموں کا فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا جو سب کیلئے قابل تقلید ہے۔

آج کل مغربی ممالک میں کچھ افراد مصنوعی طریقے سے ٹیٹ مارکر لوگوں کو حیرت زدہ اور کچھ پریشان اور کچھ محظوظ کرتے ہیں ۔ اب میڈیا ، سیاسی قائدین اور علماء ومفتیان کے حالات بھی اس سے زیادہ دونوں طرف مختلف نظر نہیں آتے۔ یہ نہیں دیکھتے کہ بکری یا بکرا لیکن دودھ نکالنے بیٹھتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے عظیم مقصد کیلئے مشرکین مکہ کیساتھ صلح حدیبیہ اور یہود کیساتھ میثاق مدینہ کا معاہدہ کرکے حجاز مقدس کی سر زمین کو متحد کردیا اور ناقابل تسخیر دنیا کی سپرطاقتوں کو چت کردیا۔

رسول اللہ ۖ نے خواب دیکھا کہ ”ابوجہل آپۖ کے ہاتھ پر بیعت ہورہاہے”۔جب خالد بن ولید نے اسلام قبول کیا تو کچھ لوگوں نے خواب کی یہ تعبیر کردی۔ نبی ۖ نے منع فرمایا۔ پھر عکرمہ بن ابی جہل نے اسلام قبول کیا تو نبی ۖ نے فرمایا کہ خواب کی یہی تعبیر ہے۔ ایک مرتبہ نبی ۖ نے خواب میں جنت کے اندر کھجور کا درخت دیکھا تو پوچھنے پر بتایا گیا کہ ابو جہل کا ہے تو نبیۖ پر گراں گزرا اور فرمایا کہ اس کیلئے نہیں ہوسکتا۔ پھر عکرمہ بن ابی جہل نے اسلام قبول کیا تو خواب کی تعبیر سامنے آگئی۔ دشمنان اسلام اہل طائف، ابوجہل، ابولہب اور ابوسفیان کیلئے کون سوچ سکتا تھاکہ جو مرے یا مارے گئے تو انکی نسلیں اور جو زندہ بچیںتووہ سرنڈر ہوں گے؟۔

پاکستان جس مقصد کیلئے بنا تھا تو اس میں مذہبی طبقہ، سیاستدان ، سول وملٹری بیوروکریسی، عوام اور عدالتی نظام سب قصور وار ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے مری ، سوات، پاڑہ چنار، وزیرستان، کاغان ہزارہ ، چترال اور گلگت بلتستان کو چھوڑ کر تن تنہا اپنی بہن مادر ملت فاطمہ جناح کیساتھ دور دراز کے پسماندہ علاقہ زیارت میں چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کیا لیکن قائد ملت لیاقت علی خان سے لیکر کس کس پر سازش کے الزامات نہیں لگائے جاتے؟۔ ایمل ولی خان سینیٹ میں فوج کیخلاف ضرور تقریر کرے لیکن بلوچستان کی سینیٹ کی سیٹ کیلئے پرانی نہیں نئی تنخواہ پر کام نہیں کرے۔ جب 1920ء میں برصغیر پاک وہند کی عوام کو اپنے گھر بار، کاروبار اور جائیداد بیچ کر افغانستان ہجرت کی ترغیب دی گئی تو اس جرم میں خان عبدالغفار خان برابر کا شریک تھا اور قائداعظم اور دوسرے سیاسی رہنماؤں نے اس ہجرت کی مخالفت کی تھی۔ پختون قوم انگریز کے دور سے پہلے سکھ دور میں تقسیم تھی۔ پختونخواہ پنجاب کا حصہ تھا، افغانستان الگ تھا اور بلوچستان الگ تھا۔ اصل تقسیم پنجابی مسلمانوں کی ہوئی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت سب سے زیادہ قتل وغارت گری بھی پنجاب میں ہوئی اور سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی احرار، احمد خان کھر ل اور بھگت سنگھ جیسے ہیروتھے۔ سلمان گیلانی نے بتایا کہ انکے والدامین گیلانی کے ہاں فقیر اے پی رضا کار بھرتی کرنے مشرقی پنجاب آئے تھے۔
٭

مذہب کے بھنگ ،مجاہد کے سنگ، امت ہے تنگ

رسول اللہ ۖ کو اللہ تعالیٰ نے نرینہ اولاد سے بھی نواز دیا تھا لیکن پھر اللہ نے اٹھابھی لیا تھا۔

1511۔ حدّ ثنا عبدالقدو س بن محمد قال: حدّ ثنا داؤد بن شعیب الباھلی قال: حدّ ثنا ابراھیم بن عثمان قال: حدّ ثنا الحکم بن عتیبة ، عن مقسم، عن ابن عباس ،قال: لما مات ابراھیم ابن رسول اللہۖ صلّی رسول اللہ ۖ و قال : اِنّ لہ مر ضعًا فی الجنة ، ولو عاش لکان صدیقًا نبیًا ، ولو عاش لعتقت أخوالہ القبط ،وما استرق قبطی حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہۖ کے فرزند ابراہیم کی وفات ہوئی تو رسول اللہۖ نے ان کا جنازہ پڑھایااور فرمایا: ” اس کیلئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے اور وہ اگر زندہ ہوتا تو نبی اور صدیق ہوتا۔ اور اگر وہ زندہ رہتا تو اسکے ماموں قبطی آزاد ہوجاتے۔پھر کسی قبطی کو غلام نہیں بنایا جاتا”۔ مترجم :مولانا عطاء اللہ ساجد(دار السلام)

درس نظامی میں پڑھائی جانے والی ” ابن ماجہ ” کی یہ حدیث قادیانی کذاب کابڑا سرمایہ۔علماء کسی کو بتاتے نہیں ہیں اور قادیانی اس کی وجہ سے علماء اور عوام کو اپنا شکار بناتے رہتے ہیں۔ انجینئر محمد علی مرزا علمی کتابی دیوبندیوں اور بریلویوں پر ہی نہیں کشف والہام کی وجہ سے تمام اسلاف پر بھی ختم نبوت کے انکار کا کھلم کھلا فتویٰ لگارہاہے لیکن اہلحدیث پر اس حدیث کی وجہ سے نہیں لگاتا ہے۔ حنفی تو اس حدیث سے زیادہ مضبوط روایات کا قرآن سے ٹکراؤ کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن مسلک کے نقاب میں قرآن کی کتنی آیات کا انکار کیا جاتا ہے ؟۔یہ معاملہ سمجھنا پڑے گا۔

مینار پاکستان منٹوپارک میں بڑے مذہبی اور سیاسی جلسے ہوتے ہیں ۔سعادت حسن منٹونے کہا:

”شیطان اتنا بڑا گستاخ تھا کہ اس نے سیدھا خدا کو کہہ دیا کہ میں نہیں کرتا سجدہ اور مردود ہوگیا اور خدا اتنا بڑا سیکولر ہے کہ اس نے اختلاف رائے پر شیطان کو مارا نہیں بلکہ مہلت دیدی کہ اپنے نظرئیے پر لوگوں کو قائل کرسکتا ہے تو کرلے۔ لیکن یہ خدا کے ماننے والے پتہ نہیں کسی مٹی کے بنے ہیں؟۔ جس نیت سے طوائف برقعہ پہن لیتی ہے تو اس نیت سے کچھ لوگ داڑھی رکھ لیتے ہیں”۔

تیمور لنگ نے ہندوستان میں اسلامی جذبہ سے سرشاہوکر ہندوؤں کو بے دریغ قتل کیا جس کا تعلق سمرقند سے تھا اور چنگیز خان اور تیمور کا شجرہ رسول اللہ ۖ اور ابوجہل کی طرح اوپر کی پشتوں میں ملتا تھا۔پھر اس کی نسل نے ہندوستان پر حکومت کی جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان شامل تھے۔ تیمور لنگ حافظ لیکن جاہل دیندار تھا ۔ جس کی تعلیم وتربیت اچھے ماحول میں نہیں ہوئی تھی۔ آج ہمارا یہ خطہ تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہاہے۔

ٹیکنالوجی کی مدد سے اسامہ بن لادن ایبٹ آباد،ایمن الظواہری کابل ، حماس کے اسماعیل ہنیہ تہران اور حسن نصراللہ لبنان میں نشانہ بن گئے۔ ہندوستان اور پاکستان بھی عوام کی جگہ حکمران طبقہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مذہبی قیادت جب تک عالمی قوتوں کیساتھ سمجھوتہ نہیں کرتی تو ان کو اقتدار میں آنے سے روکا جاتا ہے۔ قتال اور دُم چھلے کی سیاست سے بہتر ہے کہ مذہبی لوگ اپنے جذبے کو اپنا شعور اور لوگوں کا شعور بڑھانے پر لگائیں تو اس کے خاطر خواہ نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ اگر پانچ سال کے بارہ مہینے اور جمعہ کے سات دن اسلام کی بنیاد پر مسائل حل کئے تو ووٹ بھی ملے گا۔
٭

انقلابی ڈھنگ ،نبیۖ کی امنگ سے ہم آہنگ

رسول اللہ ۖ کو اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمادیا تھا کہ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب اسلام پھر اجنبی بن جائے گا”۔خلافت کو مورثی لونڈی بنایا جائے گا۔ نبیۖ کی عترت اہل بیت پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جائیں گے۔ صنف نازک عورت کے حقوق غصب ہونگے۔

چنانچہ خطبہ حجة الوداع میں قرآن کو مضبوطی کیساتھ پکڑنے، اہل بیت سے بدسلوکی نہ کرنے اور خواتین کے حقوق کی تلقین فرمائی لیکن تینوں باتوں میں امت مسلمہ نے رسول اللہ ۖ کی نافرمانی کرکے اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا تھا۔ آج قرآن کو پکڑیںاورعورت کو حقوق دیدیں۔

30سالہ خلافت کا دور بھی فتنوں کا شکار ہوا۔ بخاری کی روایت ہے کہ ”عمر فتنوں کو بند رکھنے کا دروازہ ہے”۔ حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو نااہل قرار دیا۔ خلافت کا مسئلہ شوریٰ کے سپرد کیا اور شوریٰ کے چھ ارکان میں سے حضرت طلحہ نے حضرت علی اور حضرت زبیر نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا ووٹ دیا۔ عبدالرحمن بن عوف اپنے حق سے دستبردارہوگئے ۔ سعد بن ابی وقاص نے عبدالرحمن بن عوف کو اپنا اختیار دیا۔توعبدالرحمن کے پاس خلیفہ منتخب کرنے کا مکمل اختیار آگیا۔ زعمائے قوم اور عوام الناس سے حتی الامکان مشاورت کے بعد حضرت عثمان و حضرت علی سے انٹرویو لینے کے بعد حضرت عثمان کے حق میں فیصلہ کردیا۔ دنیا میں آزادی رائے اور جمہوریت کی یہ بہت بڑی بنیاد تھی۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو اسلام اجنبیت کا شکار نہ بنتا اور خلافت کو خاندان کی لونڈی بنانے کیلئے اسلام نازل نہیں ہوا تھا۔ یزیدو مروان اور عبدالملک بن مروان سے موجودہ دور تک کے عوامی قربانیوں اور چندوں کو خاندانوں کی نذر کرنا اسلام کے منافی ہے۔ جب باغ فدک نبیۖ کی وراثت نہیں ہوسکتی تھی تو پھر ہمارا مذہبی طبقہ چندوں کی بنیاد پر وقف مال کے خاندانی مالک کیسے بن سکتے ہیں؟۔ حضرت عثمان نے 12سال حکومت کی اور جب باغیوں نے گھیر لیا تو آج کم بخت طبقہ کہتاہے کہ علی اسکے ذمہ دار تھے۔ ظھرالفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس” فساد ظاہر ہوا جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا تھا”۔ علی حضرت عثمان سے کہتے تھے کہ” ابوبکر وعمر سے تم کسی طرح قرابتداری اور قربانیوں میں کم نہیں ہو لوگوں کو شکایت کا موقع مت دو، اگر مسند پر قتل کردئیے گئے تو یہ خون رکے گا نہیں”۔ مفتی منظور مینگل اور مفتی طارق مسعود کی یہ لڑائی ہے کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا ہے یا نہیں؟۔ پہلے دیوبندی سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا پر تقسیم ہوگئے اور کفر وبدعتی کے فتوے لگائے۔ حالانکہ دیوبند کی تحریک قرآن وسنت کی احیاء کیلئے تھی۔ غسل ، وضو اور نماز کے فرائض تبلیغی جماعت نے عوام کو ازبر کرادئیے۔ علماء مذاہب اربعہ کے اختلافات کو محض ذہنی آوارگی سمجھ کربھول جاتے تھے۔ پنج پیری نے کرامات کو شرک کہا ۔ ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی فاضل جامعہ بنوری وفاق ٹاؤن نے اسلاف پر فتوے لگاکر مولانا طاہر پنج پیری کی سٹی گم کردی۔ حاجی محمد عثمان نے علماء دیوبند کو معتزلہ بننے سے بچایا۔ مولانا سجاد نعمانی فاضل مدینہ یونیورسٹی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ” سعودی سرکاری عالم نے علماء دیوبند کو قادیانیوں کی طرح کافر قرار دیا۔مجدد الف ثانی، سیداحمد بریلوی ،مولانارشیداحمد گنگوہی ، شیخ الحدیث مولانا زکریا پر بطور خاص کفر کا فتویٰ لگادیا ہے”۔ شیخ الہند اور حاجی مہاجرمکی کے جانشین حاجی عثمان تھے۔

گالی دی اور نہ کوئی گلوچ
یہ دلّا پکڑ اور وہ دلّا دبوچ
کام کرگئی سندھ کی ایک سوچ
مرا کوئی نہ آئی کسی کو موچ
تباہ برباد ناشاد اور نامراد بلوچ
چھبیسویں ترمیم مولانا تھا کوچ
کٹی دم اور ٹوٹ گئی چونچ
کسی کو مارو اور نہ خود کو نوچ

عورت کی ناموس سے شہد کشید کرے
نسل یزید تیری مٹی خوب پلید کرے
حق سے دور کرے باطل کی تقلید کرے
بدبخت سرعام قرآں کی تردید کرے
جہنم کا نعرہ ھل من مزید کرے
خلافت راشدہ کو تھپڑ رسید کرے
وقف مدرسہ میں اپنا گھر خرید کرے
سود کی تمہید کرے کفر کی تجدید کرے
نہ حق بات سنے اور نہ چشم دید کرے
فتویٰ کے گولے سے اپنے شہید کرے
عزتیں لوٹے اور حلالہ کی وعید کرے
مہدی کے لشکر سے ملنے کی اُمید کرے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پیراورنگزیب شاہ ،پیر رفیق شاہ، سیدارشد حسین ، حافظ عبدالقادر، خالد آفریدی سمیت13شہداء

31مئی 2007 ء خوشگوارتفتیش: ہاہاہا

شہید کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے
فلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہے
جمال جاں فزا کا ان کے دل کش دل ربا جلوہ
زمیں سے آسماں تک ہے مکان سے لا مکاں تک ہے
رہیں سب مطمئن گلشن میں اپنے آشیانوں سے
کہ جولاں گاہ بجلی کی ہمارے آشیاں تک ہے
نصیحت پر عمل خود بھی کرنا چاہیے واعظ
اثر کیا ہو کہ تیرا وعظ تو نوکِ زباں تک ہے
مسلمانی فقط تسبیح خوانی ہی نہیں ہمدم
مسلمانی کا لمبا ہاتھ شمشیر و سناں تک ہے
بڑھاپا فکر پر آئے تو نکبت ساتھ آتی ہے
ترقی اور عظمت قوم کی فکر جواں تک ہے
فقط دنیا ہی اس کی گونج کا حلقہ نہیں ہرگز
تری حمد و ثنا کی گونج گلزار جناں تک ہے
میں ہوں پیغام حق اسلام میرا نام نامی ہے
جہاں تک ہے یہ دنیا میرا حلقہ بھی وہاں تک ہے

یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل
ہمت کو اپنی تول قدم کو جماکے چل
راہِ وفا ہے اس میں نہ یوں منہ بناکے چل
کانٹوں کو روند روند کے تو مسکرا کے چل
شمع یقین کی لو کو ذرا اور تیز کر
ظلمت میں رہروؤں کو بھی رستہ دکھا کے چل
دشمن جو دوست کے ہیں وہ ناراض ہوں تو ہوں
سینے پہ زخم ان کے جفاؤں کے کھا کے چل
تیروں کی باڑھ آنے دے اپنے قدم نہ روک
ان کی خوشی یہی ہے تو خوں میں نہا کے چل
بہتا ہے خوں تو بہنے دے بہنے کی چیز ہے
قطروں سے خون سرخ کے گلشن کھلا کے چل
اے میر کارواں تری خدمت میں عرض ہے
جو گررہے ہیں راہ میں ان کو اٹھا کے چل
رستہ کٹھن ہے تو ہے بہت ناتواں عروج
سلطان کائنات کو حامی بنا کے چل

رات11بجے فون آیا۔(پوچھا بندہ آیا….)حسین شاہ نے قاتل والدصنوبر شاہ کے قاتل پرحملہ چاہا۔ سلطان اکبر ٹھنڈا تھا۔ ماموں کا اورنگزیب کی غیرت کو برا سمجھنا تاریخی تسلسل لگا لیکن:

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

یقینا اب عوامی عدل کی زنجیر چھنکے گی
یہ بہتر ہے کہ مجرم خود ہی جرموں کی سزا چُن لیں

سیداکبر وصنوبرشاہ نے انگریز سے بھاڑہ لیکر انقلابیوں کو قتل کیاپھر مظفرشاہ ،منورشاہ اوردل بندکو بھیج کر شہید کرادیا۔دل بند کی خانی پر قبضہ کیا۔عبدالرحیم کو اجداد باکمال لگے۔ سید حسن شاہ بابو نے اپنے بیٹوں سیداحمد شاہ اور سید محمد امیر شاہ سے بھی زیادہ سبحان شاہ کے8 یتیم پوتوں کی پرورش کی۔ نیک اجدادا کی صحبت کا سبحان شاہ کے یتیم پوتوں پر یقینابہت اچھا اثر پڑاتھا۔

بیوہ صنوبرشاہ وبیوہ مظفرشاہ کے 7بیٹوں کو بڑا گھردیا اور بیوہ منور شاہ کے ایک بیٹے کو چھوٹا گھر دیا۔پھرمظفرشاہ کے 4 بیٹوں کو الگ گھر دیا ۔ایک زمین کیساتھ چار ٹکڑوں کوشامل کیا۔ صنوبر شاہ کے 3بیٹوں کیلئے بڑا گھر رہ گیاتو سلطان اکبر نے بیچ دیا اور مشترکہ شاملات پر گھر بنایا تو قبروں کی جگہ تھی۔ گل امین کی فوتگی سے قبل میرا بھائی دوبارنیند سے جگایا گیا تاکہ غیرتمند کی تدفین سیدامیر شاہ باباکی آغوش میں ہو اسلئے کہ احسان کے بدلے بڑا ستایاگیا۔ حسین شاہ ،محمدامین والد ،چچوںکی قبروں کی بنیادپردفن نہ کرتے۔گناہگارکو گرز لگتے تو چیخ وپکار اہل قبورکیلئے پریشانی سمجھی جاتی تھی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے وصیت کی کہ مجھے انگریزکے ایجنٹوں کیساتھ دفن نہ کرنا۔ قلعہ قاسم باغ ملتان میں قبر کی پیشکش ہوئی تو آپ کے بیٹوں نے ٹھکرائی تھی۔

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سر دارا
حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بناسکتے ہیں خارا

وزیرستان کی تاریخ میں کئی بے گناہ کو شہید کیاجاتا۔ باپ کی سزا بیٹے کواور گناہگار بھائی کی سزا بے گناہ بھائی کو ملتی تھی۔

نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہنچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مؤمن
قدم اٹھا ! یہ مقام انتہائے راہ نہیں
کھلے ہیں سب کیلئے غربیوں کے میخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تیری
تیرے بدن میں اگر سوز ”لالٰہ” نہیں
سنیں گے میری صدا خانزادگان کبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں

معروضی و تاریخی حقائق دکھائیں گے۔انشاء اللہ

سیدحسن شاہ بابوکا پوتا سید ایوب اور سبحان شاہ کا پڑپوتامحمود اسلامیہ کالج پشاور 1914ء میںاکٹھے داخل ہوئے اورBA کیا۔ امیر امان اللہ خان کی بحالی کیلئے شامی پیر کے میزبان سیدایوب نے افغانستان میں اخبار جاری کیا ۔ بغاوت کے الزام پر پہلے توپ سے اُڑانے کی سزا ہوئی پھر تاحیات افغانستان بدری میں بدل گئی۔

1877ء میں سید امیر شاہ اور محسود قبائل کا وفد انگریز کیخلاف باہمی تعاون کیلئے کابل امیر شیرعلی کے ہاں گیا۔ سیداحمد شاہ کیساتھ بیٹنی قبائل کا وفد گیا۔ 1878ء میں روسی وفد آیا تو انگریزنے شیر علی کو بھگا دیا۔ امیرامان اللہ خان کے دادا امیر عبدالرحمن نے اقتدارسے قبل کانیگرم ہمارے ہاں قیام کیا ۔ پہلی بار شامی پیر آیا تو لوگ انگریز میم سمجھے اسلئے کہ سبحان شاہ کے پوتوں کو بسایا جو انگریز ایجنٹ مشہور تھے۔ ریمنڈ ڈیوس جیسوں کو کانیگرم لایا گیا۔

واقعہ کے بعد ایک شہید کی بہن نے کہا تھا کہ سبھی کوڑ والوں کو پتہ تھا ۔ایک احسان کو پتہ نہیں تھا؟۔کوئی احسان اور کوئی رؤف کی بیوی کو جاسوس کہتا۔ مجھے یوسف شاہ کی بہن کا بتایا گیا اور کہا کہ اگر یہ پتہ چلا تو عورتوں کو اٹھاکر لیکر جائیںگے۔ میں نے بفضل تعالیٰ صبرکیا ۔مخبر، مجرم، کچھ غیرت ،کوئی حیا؟سوال اٹھتا ہے تو جواب آتاہے۔

واحد نے بتایاکہ ماموں کے بیٹے نے بائیکاٹ کا کہا تومیں کہا کہ تم پر 13افراد کے قتل کا دعویٰ ہے۔ واقعہ کے بعد عبدالرحیم نے کہا کہ کاروبار ختم کرنے کیلئے کہا تھا مگر جاری رکھیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ عبدالرؤف کے گھربیوی پرجاسوسی کا الزام کیوں؟۔

عبدالرحیم نے کہا کہ رات ساجد کے گھررہ کر اور صبح سویرے نکل جائیںگے۔ میں نے کہا کہ ماموں کے گھر جاتا ہوں۔ رات کو 11بجے کے بعد ایکٹیویٹیز شروع ہوئیں۔ پیر واحد نے اب بتایا کہ رات کو11 بجے ساجد کے گھر نعمان کو مشکوک فون آیا۔ سوال یہ ہے کہ وہاں یہ دعوت اتفاقی تھی یا منصوبہ بندی؟۔ مخالفت میں میٹنگ کا اعلان کرنے والاعبدالرؤف لالا پشاور کیسے پہنچ گیا؟۔

اگر مجھے عبد الرحیم ساجد کے گھر کوڑ میں پہنچادیتا اور وہاں پر یہ منصوبہ مجھے اٹھانے کا تھاتو کامیابی کا سہرا کس کے سر جاتا؟۔ واقعہ پرکچھ کو افسوس اسلئے تھا کہ میں بچا کیوں ؟۔ عورتیں نمایاں تھیں، کچھ مردبھی افسردہ تھے۔ واقعہ پر یا میرے بچنے پر؟۔ 3کروڑ روپے کا منصوبہ بتاگیاتھا؟۔ جو شاید کامیابی پر پھر نہیں ملے۔ واللہ اعلم مگر کاروبار کا خاتمہ بعض کیلئے محرومی تھی۔ مفاد کیلئے استعمال ہونے والوں کی درجہ بہ درجہ مختلف اقسام ہیں۔ہاہا ہا…..

ہماری خالہ کا انتقال 2000میں ہوا۔ جو محرومی اور تمام واقعات کی گواہ تھی۔ تاریخ 1870ء سے 1970 اور آج تک سامنے ہے۔ گل امین کو 1960ء کی دہائی میں مظفر شاہ کی اولاد کو 1970ء کے بعد مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔مجرموں کو اللہ نے اس واقعہ سے بے نقاب کیا۔ اور آئندہ چھپے مجرم بھی کھل جائیں گے ۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندو مذہب کی کتب میں مہدی کا نام ”برہمن کلا”

آپ کو شرم نہیں آتی کہ مسلم ہندو کے بارے میں کاہے نیوز بنارہے ہو؟

بھارتی محمد کیف بہاری بچہ جس کی دھوم ہے

بولو:پاکستان زندہ باد۔
محمد کیف :زندہ باد۔
شرم نہیں آتی تمہیں۔
کیف کیوں شرم آئے گی۔
بھارتی صحافی: پاکستان کو ختم نہیں کرنا چاہئے؟
کیف: نہیں کرنا چاہیے۔
صحافی: بھارت دیش زندہ باد ہے نہیں ہے؟
محمد کیف: ہے۔
بھارتی صحافی : پاکستان زندہ باد ہے یا نہیں؟۔
محمد کیف: ہے۔
آپ کا نام کیا ہے؟۔
جواب: کیف۔
بھارتی صحافی : پورا نام؟
جواب: محمد کیف۔
کہاں سے ہیں آپ؟۔
میں بہار سے ہوں؟۔

صحافی: آپ کو تھوڑی سی بھی شرم نہیں آرہی کہ بھارت دیش میں رہنے کے باوجود آپ پاکستان کا سمرتن کررہے ہو کہ کیسے ختم ہوگا پاکستان؟۔

محمد کیف: اچھا آپ یہ نیوز بنارہے ہو تو آپ کو شرم نہیں آرہی کہ کاہے نیوز بنارہے ہو؟۔ آپ کو شرم نہیں آرہی کہ نیوز بناکر سب کو پھیلارہے ہو ہندو مسلم کے بارے میں؟۔ ہندوستان کا سمرتن کیوں کرنا ہے پہلے آپ مجھے جواب دیجئے۔ اس کے بعد ہم کچھ بولیں گے۔ تم جو بول رہے ہو وہاں بھی آدمی ہیں یہاں بھی آدمی ہیں۔ وہاں بھی مسلم ہیں وہاں بھی ہندو ہیں یہاں بھی ہندو ہیں اور یہاں بھی مسلم ہیں۔سب تو ہیں انسان تو کیوں سب کو ختم کررہے ہو؟۔ پہلے یہ بتاؤ؟۔ سب کو زندگی جینے کا حق ہے تو کیوں ختم کرنا ہے؟۔

بھارتی صحافی :آپ پاکستان کا سمرتن کرتے ہیں؟۔
محمد کیف: آپ پاکستان جاؤ گے کہیں آپ کو ختم کردیا توسوگئے کیا؟۔

بھارتی صحافی: آپ پاکستان کا سمرتن کرتے ہیں؟۔
محمد کیف بہاری: ہاں کرتے ہیں۔
٭٭

تبصرہ نوشتہ دیوار : جسٹس مارکنڈے نے کہا کہ
سرحد پر بہت تناؤ ہے کیا ذرا پتہ کرو کہیں چناؤ ہے کیا

رحمان بونیری :” مولانا بجلی گھر نے کہا کہ پہلے پختون عورتیں چادر نہیں پہنتی تھیں منہ پھیر تی یا مرد منہ پھیرتے۔ عورتوں نے منہ پھیرا، ایک نے ترچھی نظر سے دیکھ کر کہا کہ یہ تو مولانا بجلی گھر ہے ۔ مجھ سے پردہ کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ دوسری بات مولانا بجلی گھر نے یہ کی ہے کہ 100دیوث کا ایک خڑوس بنتا ہے اور 100خڑوس کا ایک چڑوس۔ اب بھارتی عوام میں نریندرمودی چڑوس بن گیاہے”۔

رحمان بونیری نے بتایا کہ جب اس کو خط پڑھنا آیا تو پڑوسی لڑکوں نے پٹائی لگائی کہ آئندہ پڑھ لیا تو خیرنہیں اسلئے کہ ہمیں گھروں پر ڈانٹ پڑتی ہے۔
پاک فوج کو ہتھیار ڈالنے پر طعنہ دینا معمول تھا مگر حافظ سیدعاصم منیر آرمی چیف کا دنیا بھرمیں چرچا رہا۔ کسی نے کہا کہ چاند ہے …کسی نے کہا چہرہ تیرا۔ کسی انسان کی شکست پر اس حدتک خوشی کہ اسکے ہم شر سے بچ گئے ،ٹھیک ہے لیکن صلح ہونی چاہیے۔
٭٭

عربی چینل Islam Fsm2 نے تین سال قبل ہندو مذہب کے حوالے سے یہ خوشخبری دی تھی۔

بشارات الادیان و الکتب السماویة
بظھور المنجی
تمام ادیان اور آسمانی کتب کی بشارات
نجات دہندہ کے ظہور کے حوالہ سے

کتب الھندوس

ہندو مذہب کی کتب میں مہدی کا نام ”برہمن کلا”

کتاب ما للھند
١۔ص ٢٢١، البشارة بظھور المنجی،

”فی أواخر المرحلة الرابعة من اھل الارض یشیع فیھا الفساد، یساقون الی الکفر، یرتکبون المعاصی الجنسیة ویحکمھم الاراذل، ویکون الناس فی ذٰلک الزمان کالذئب یاکل بعضھم بعضاً، ویغیر بعضھم بعضاً، ویفسد الکھنة ورجال الدین، والسراق عندھم حق، واھل التقویٰ والزھاد محقرون۔۔۔ ففی ذٰلک الزمان یظھر برھمن کلا۔ أی الرجل الشجاع والمؤمن۔ ویطھر الارض بسیفہ من المفسدین والخبثاء ویحفظ الطیبین الطاھرین۔ (کتاب وشن جوک)

ترجمہ:”چوتھے مرحلے کے آخر میں فساد پھیلے گا ۔ لوگوں کو کفر کی طرف دھکیلا جائے گا ، جبری جنسی زنا کے مرتکب ہوں گے اور رذیل لوگ حکومت کرینگے اور لوگ اس دور میں بھیڑئے کی طرح ہونگے ایک دوسرے کو کھائیں گے اورایک دوسرے کو بدلیں گے کہانت اور مذہبی لوگ فساد کرینگے چور انکے ہاں حق اور تقویٰ دار زاہد حقیر ہونگے۔تو اس دور میں برہمن کلاں یعنی بہادر اور مؤمن شخص ظاہر ہوگا جو اپنی تلوار سے زمین کو مفسدوں اور خبیثوں سے پاک کریگا اور پاکیزہ و صاف ستھرے لوگوں کو تحفظ فراہم کریگا”۔ دیگر میں مذاہب کا بھی حوالہ ہے۔

رسول اللہ ۖ کے چچا امیر حمزہ کا کلیجہ ابوسفیان کی بیوی ہند نے چبایا تو رسولۖکو بڑا طیش آیا لیکن پھر ابوسفیان کو عزت دی۔ مسلمان اور ہندو اپنی اصل کی طرف لوٹیںگے اور ایک عظیم سلطنت قائم کرینگے جس سے آسمان زمین والے خوش ہونگے۔ یہی اصل جہاد ہند ہے۔ ہندومت نے چوتھے دور کا آخر اور اسلام نے بھی نبوت ورحمت، خلافت ، بادشاہت ، جبری اقتدار کا آخریہی قرار دیا۔ جس سے زمیں و آسمان والے دونوں خوش ہوں گے۔

جیسے جدید بنیادی تعلیم ہو تو مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل ہوسکتی ہے ویسے دین قرآن وسنت اور اصول فقہ کی بنیادی تعلیم کے بغیر شریعت کی تفہیم ممکن نہیںہے ۔ایک مثال سیدمودودی کی ہے اور اس جیسے اب سینکڑوں لوگ ”بازار حسن” میںاپنا سودا بیچتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے مجھے اپنی شوریٰ سے ملایا تو میں نے کچھ علمی نکات اٹھائے تاکہ وہ جو خود کو عقل کل اور نابغۂ روزگار عالم سمجھتا ہے دماغ درست ہوجائے۔ ڈاکٹر اسرار صاحب میری باتوں کو سن کر دھنگ رہ گئے اور پھٹی آنکھوں سے کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کچھ وعظ ونصیحت کریں۔ ہم علماء نہیں اور نہ ہم اس معیار کا علم سمجھ سکتے ہیں۔
کچھ صحافی جاہل درست بات کو اُلٹا کردیتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر پر BBCارود نے مضمون لکھا کہ یہ لڑائی چاہتا ہے۔ جب پہلگام حملے کا بھارت کو ثبوت نہیں ملا تو پھر بھی حملہ کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ پھر بھی پیچھا نہ چھوڑا تو مجبور ہوکر جواب دیا۔ جس سے مودی کا غرور خاک میں مل گیا۔ پاکستان کے کہنے پر جنگ روکنے کی کوشش کسی نے نہیں کی،مودی نے پکارا تو امریکہ فوراً میدان میں آیا اور نادان دوست کہتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی حملہ کرنے والا تھا اسلئے جنگ بندکی گئی۔حالانکہ ایٹم بم بڑی دہشتگردی ہے شرافت پر بھی کیا پاگل اور جارح ہم ہی ٹھہرگئے؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احادیث میں جبری حکومتوں کے بعد خلافت؟

جب ہم نے شعور کی آنکھ نہیں کھولی تھی تو بچپن میں جنرل یحییٰ خان سے محبت اور اندراگاندھی سے سخت نفرت تھی۔ گڈی گڈا کے جوڑے میں اندر گاندھی کی وجہ سے گڈی سے نفرت تھی اور اس پر پتھر کی بھرمار بھی کرتا تھا اور یحییٰ خان کو گڈا سمجھ کر اس سے محبت تھی۔ 1978ء میں چیچہ وطنی اور لیہ میں سکو ل پڑھتے ہوئے مذہبی کتابوں سے شغف رہا۔چیچہ وطنی” پیر جی” مسجد کا کلاس فیلو اقبال آرائیں بوٹ ہاؤس والے نے بتایا کہ یہاں مفتی محمود اور مولانا عبداللہ درخواستی آتے ہیں۔

چوہدری افضل حق کی کتابیں پڑھ کر بہت متأثر ہوا ، جس میں اسلام اور جمہوریت کا بہت شعور ہے۔ جمعیت علماء ہند، مجلس احرار اسلام کے علاوہ مولانا احمد علی لاہوری کے وعظ خدام الدین کے پرانے ایڈیشن میں پڑھ کر سیاست اور تصوف دونوں سے رغبت پیدا ہوئی۔شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہل حدیث اور مذہبی فرقہ واریت کی مناظرانہ کتابیں بھی پڑھ لیں۔ خطیبوں کا وعظ اور تبلیغی جماعت سے وابستگی سارے اشغال کو دل وجان سے قبول کیا لیکن تشنگی بجھانے کا کوئی اہم ذریعہ اور اطمینان بخش کیفیت نہیں تھی اسلئے کہ دین کامل کا نقشہ کسی ایک جگہ پر نظر نہیں آتا تھا۔

ایک انقلاب کی امنگ دل میں اٹھی اور 1982ء میں کوٹ ادو پنجاب گھر سے نکل کرتن تنہا ایک سفر کا آغاز کیا۔ پہلے لیہ اپنے اساتذہ اور پھر رائیونڈ پہنچا اور حاجی عبدالوہاب سے مشورہ مانگا۔ انہوں نے فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ مت لینا”۔ رائیونڈ میں کانیگرم کے حبیب الرحمن اور وزیرستان کے شاہ حسین محسود زیر تعلیم تھے۔ ایک نے تبلیغی جماعت میں وقت لگانے کا مشورہ دیا اور دوسرے نے نیو ٹاؤن کراچی جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلے کا مشورہ دے دیا۔ کراچی میں اسٹیل مل کی ایشین کمپنی میں کام کیا۔ مولانا اللہ خار خان کی کتابوں اور سلسلہ ذکر کا تعارف ہوا ۔ پھر دارالعلوم کراچی کے قریب ماچس فیکٹری میں آدھی دھاڑی پرچار گھنٹے کیلئے کام بھی تلاش کیا تھا اور داراالعلوم کراچی میں داخلہ بھی لے لیا۔ لیکن میری باتیں سن کر انتظامیہ نے کہا کہ داخلہ نہیں ہوسکا ہے۔ پھر بنوری ٹاؤن داخلے کیلئے گیا تو وہاں سال کے شروع میں داخلے ہوتے تھے۔ وہاں سے ایک طالب علم نے دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا بھیج دیا۔ مرشدحاجی محمد عثمان سے بیعت ہوا اور بھائی لینے آیا تو واپس کوٹ ادو گیا لیکن پھر رمضان میں لوٹ آیا اور مولانا محمدیوسف لدھیانوی سے فتویٰ پوچھا کہ والدین راضی نہیں لیکن وہ میری خدمت کے محتاج نہیں اگر میں مذہبی تعلیم حاصل کرنا چاہوں تو کیا میرے لئے جائز ہے؟۔ مولانا نے فرمایا کہ ”میرا مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔شرعی علم فرض کفایہ ہے ، اگر آپ کے علاقہ میں علماء ہیں تو پھر کسی پر علم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے”۔ میں نے کہا کہ فتویٰ پوچھ رہا ہوں ،مشورہ نہیں مانگ رہاہوں۔ تو قدرے ناراضگی سے فرمایا کہ ”فتویٰ تو یہی ہے کہ اگر وہ خدمت کے محتاج نہیں تو علم حاصل کرسکتے ہیں”۔

پھر بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ مل گیا۔ اتوار کو حاجی عثمان کی محفل میں جانے کی اجازت تھی۔ تبلیغی جماعت ، ختم نبوت کے دفتر نمائش اور جمعیت علماء اسلام ف کے ساتھ بھی ایک تعلق تھا لیکن جس انقلاب کی امنگ دل میں تھی تو اس کیلئے ”جمعیة اعلاء کلمة الحق”کی بنیاد رکھ دی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” مذہبی طبقات کے خلاف بڑی چارج شیٹ تھی۔ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار نے ڈاکٹر ناصح علوان کی کتاب کا ترجمہ ”مسلمان نوجوان ”کیا توجبری حکومتوں کے بعد طرز نبوت کی خلافت کیلئے خوشخبری بھی دیکھ لی۔ جس کی وجہ سے عزم کو مزید جلا مل گئی۔ ۔ پھر مختلف حالات سے گزرتا ہوا آخر افغانستان جہاد کیلئے حرکت الجہاد الاسلامی کے مولانا خالد زبیر کے ہاں پہنچ گیا۔ان سے چند دنوں کی رفاقت میں کہا کہ امریکہ اور روس کی لڑائی میں حصہ دار بننے کے بجائے خلافت کا قیام ضروری ہے جس پر وہ متفق ہوگئے مگر….
٭٭

آرمی چیف پاکستان سے خلافت کا آغاز کیسے کرے؟

آرمی چیف سید حافظ عاصم منیر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا میں پہلی بار ریاست مدینہ طیبہ لاالہ الا اللہ کے نام پر بنی اور دوسری بار پاکستان کی ریاست لاالہ الا اللہ کے نام پر بن گئی ہے۔

جنرل ضیاء الحق نے امیرالمؤمنین کا لقب اختیار نہیں کیا تھا لیکن تاحیات وردی کو اپنی کھال بنا چکا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے وردی کو اپنی کھال تو قرار دیا مگر پھر اتاردی اور اس کو اپنی غلطی بھی کہا۔

تاتاری نے عباسی خلافت کا خاتمہ کیا تو برائے نام خلافت تھی اور جب کمال اتاترک نے بھی خلافت کا خاتمہ کیا تو ملکہ الزبتھ سے بہت کم خلیفہ کا اختیار اور عزت تھی۔برائے نام کی خلافت کو بھی کسی دور میںاپنی طمطراق کی وجہ سے اہمیت حاصل تھی۔

جنرل عاصم منیر کے والدین بہت نیک تھے اور طارق آباد (لال کرتی) غریبوں کی بستی ہے۔ غرباء کا اسلام سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ پہلے آرمی چیف ہیں جو میرٹ کی بنیاد پر ریٹائرڈمنٹ سے دو دن پہلے بڑی قسمت سے منتخب ہوگئے ،سنیارٹی میں پہلے نمبر پر ہونے کی وجہ سے سمری بھیجنے میں تاخیر کی بنیاد بھی اس وجہ سے تھی کہ اس کی ریٹائرڈمنٹ ہو تو پھر کوئی بھی بن جائے۔ مسلم لیگ ن کے سب سے بڑے چہیتے صحافی راشد مراد RM,TV لندن نے کافی عرصہ پہلے یہ انکشاف کیا تھا کہ سازشی عناصر جنرل عاصم منیر کو ریٹائرڈ کرنے کے بجائے آرمی چیف بنانے کیلئے لسٹ میں شامل کررہے ہیں۔

تحریک انصاف کے چہیتے صحافی ارشد شریف شہید نے ممکنہ طور پر عاصم منیر کو لسٹ میں پہلے نمبر پر قرار دیا تھا اور بہت تعریف بھی کی تھی مگر آخرمیں یہ بازی پلٹ گئی۔ تحریک انصاف والے مخالف اور نوازشریف نے جنرل عاصم منیر پر اسٹینڈ لے لیا تھا۔

نوازشریف نے جنرل ضیاء الحق کو بھی ماناتھا اور پروفسیر طاہرالقادری اتفاق مسجد کے خطیب سے بھی اسلامی انقلاب کی امید رکھی تھی۔جب ڈاکٹر طاہر القادری بیمار تھے تو نوازشریف نے اپنے کاندھوں پراٹھاکر غارحراء کی زیارت کیلئے پہاڑ پر چڑھادیا تھا اور یہ کم عقلی تو تھی مگر بہت بڑاخلوص بھی تھا۔

عمران خان نے بھی ریاست مدینہ کی بنیاد پر بڑی مقبولیت حاصل کی۔ اگر حکومت اور اپوزیشن باہمی مشاورت سے خلیفہ مقرر کرنیکا اعلان کردیں توعوام میں بہت بڑی مقبولیت مل سکتی ہے۔ شرعی فریضہ بھی پورا ہوگا۔ مجاہد تنظیموں کو بھی قابو میں لانے کا خواب پورا ہوگا۔ مفتیانِ اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو ایک بہت بڑا مذاق بن گیا ہے۔

جہادی تنظیموں کی نانی جامعة الرشید کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانوی کے جانشین مفتی عبدالرحیم مسلسل کہتا ہے کہ ”جہاد ریاست کا کام ہے”۔

پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں روس کیخلاف جہاد ہماری ریاست نے نہیں کیا اور پاکستانی افغانی جہادی تنظیموں کی بھرمار تھی۔ ولی خان کہتا تھا کہ مجھ سے جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ تم جہاد کو نہیں مانتے؟ تو میں جواب دیا کہ کیوں نہیں مانتا۔ جہاز، توپ اور ٹینک تمہارے پاس ہیں۔ جنگی تربیت تمہاری ہوئی ہے اور پاک فوج کے سپہ سالار تم ہو۔ لڑنا تمہارا کام ہے اور آپ جہاد کریں۔ میں مانتا ہوں۔ لیکن میں اس جہاد کو نہیں مانتا کہ جو افغانستان میں لڑی جائے اور اس کا مال غنیمت منصورہ لاہور بٹے۔

1948ء میں مولانا مودوی نے کہا تھا کہ جہاد ریاست کا کام ہے تو پھر جب دباؤ پڑگیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے جواب دیا۔ سلیم صافی نے سید منور حسن سے پاک و امریکی فوج کا پوچھاتو اس نے کہا کہ دونوں شہید نہیں ہوتے۔ جس پر جماعت اسلامی کی امارت سے ہٹادیا گیا۔

آرمی چیف سید اور حافظ قرآن ہے اور پاکستان کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز سمجھتا ہے۔ جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے تووہ بھی اسلامی نشاة ثانیہ چاہتے ہیں ۔ اگر افہام و تفہیم کا ماحول قائم ہوجائے ، اسلام کے اندر جو بگاڑ پیدا کیا گیا ہے اس کی اصلاح ہو تو مارا ماری کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انشاء اللہ۔ کہا جاتا ہے کہ مال ، جوانی، صحت اور علم ایسی نعمتیں ہیں جن کا پوچھا جائے گا۔ سورہ بقرہ کی آخری آیت میں اختیار کے مطابق اللہ کی طرف سے پوچھنے کا مسئلہ واضح ہے لیکن علماء کی طرف سے اس کا ترجمہ بھی غلط کیا گیا ہے کہ طاقت سے زیادہ بوجھ اللہ کسی پر نہیں ڈالتا ہے۔ حفیظ اللہ نیازی اس آیت کا حوالہ دیکر کہتا ہے کہ میرا بیٹا بالکل بے گناہ تھا لیکن جیل میں اس پر اس کی استطاعت سے زیادہ تشدد کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا یہ میرایمان ہے۔ایک آیت کا بڑے بڑوں نے غلط ترجمہ کیا تھا تو اس کا نتیجہ یہ نکل آیا کہ ظالم وجابر بدترین تشدد بھی کریں تو علماء اور پڑھا لکھا طبقہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا تو یہ اس کی برداشت سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ ظلم وجبر کرنے والوں کو احساس تک نہیں ہوتا کہ جو کررہے ہیں ان سے انکے اختیارات کا پوچھا جائے گا۔

کہتے ہیں کہ ” جو بھونکتا ہے وہ کاٹتا نہیں ہے”۔ جب امریکہ ، نیٹو اور بلیک واٹر افغانستان میں کاروائی کررہے تھے اور پاکستان میدان جنگ تھا تو وہ جوش خطابت نہیں تھا جو اسرائیل کیخلاف ہے؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جمہوری نظام کا درست تصور کیا ہے؟

دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا جمہوری نظام بہر حال بہتر ہے ۔ سیاست و صحافت کو جب جھوٹ وسچ، اخلاق و گالی اور قانون و شریعت کے تمام پیمانوں سے آزاد کرکے کسی کے خلاف اتارا جائے تو رد عمل بھی بہت سخت آتا ہے اسلئے پاکستان کی حالت دگرگوں ہوگئی ہے۔

پاکستان میں عتاب کا شکار سچ بولنے والے نہیں بلکہ ایک طبقہ کے حق اور دوسرے کے خلاف جھوٹی مہم جوئی کے مرتکب افراد ہیں۔ حضرت عمر نے غزوہ بدر میں اپنا کافرماموں قتل کردیا تھا اور نبی اکرم ۖ اور حضرت علی کے چچا عباس زندہ سلامت بچ گئے تھے۔ حضرت عمر کی رائے کو قرآن نے درست قرار دے دیا اور حضرت عباس نے اسلام قبول کیا لیکن جب تک نبیۖ نے نظام کو نہیں بدلا تو حضرت عباس سودی کاروبار میں مبتلا ء رہے تھے اور پھر انکے اسلام کی بدولت ہی ان کی اولاد بڑے ظالمانہ طریقے سے اقتدار میں آگئی اور نبیۖ اور علی علیہ السلام کی اولاد سے اس طرح کے مظالم روا رکھے ،خاص طور پر حضرت امام حسن کی اولاد سے جس پر رسول اللہۖ اور علی کو قبر میں بھی بہت تکلیف پہنچی ہوگی۔ مشہور ہے کہ ”قلندر ہر چہ گوئید دیدہ گوئید” قلندر جو بھی بولتا ہے دیکھا ہوا ہی بولتا ہے۔ لیکن کیا قرآن میں اللہ دیدہ ،شنیدہ اور چنیدہ کچھ بھی نہیں بولتا ہے؟۔

خواہش کو وہ دکھادے حقیقت کا آئنہ ہو ہر دعا شنید مقدر سے کیا بعید

دنیا میں آزادیٔ رائے کی بنیادی اہمیت ہے۔ جب ایک عورت نے رسول ۖ کی بارگاہ میں اپنے شوہر کیلئے مجادلہ کیاتو آزادیٔ رائے سے بڑھ کر جھگڑا کرنا بڑی بات تھی اور وہ اس کا اپنا حق تھا جو مروجہ مذہب، رسم اور قانون کے بالکل منافی تھا۔ رسول اللہۖ شریعت اور مروجہ قانون کیساتھ کھڑے تھے اور عورت اپنے ، اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے حق کیلئے لڑرہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں سورہ مجادلہ کی آیات کو نازل فرمادیا ۔ اسلام کایہ جمہوری نظام فرقہ پرستوں کے ذہن میں نہیں آسکتا۔ وہ اس کو غلط رنگ دیتے ہیں کہ عورت کی آہ وزاری کو اللہ نے سن لیا۔حالانکہ یہ حق و باطل کا مسئلہ تھا۔ اللہ نے اس کو مجادلہ کا نام دیا ۔ اللہ نے اس کی بات کو منطقی بنیاد پر درست قرار دیا کہ بیگمات زبان سے مائیں نہیں بنتی ہیں بلکہ مائیں وہ ہیں جنہوں نے ان کو جن لیا ہے۔ اللہ نے مروجہ شریعت اور قانون کو خلاف فطرت قرار دیکر مسترد کردیا تھا۔

شیعہ اہل بیت اور سنی صحابہ کیلئے یہ گنجائش نہیں رکھتے بلکہ فقہ جعفری ، حنفی اور وہابیہ کی مخالفت کی گنجائش بھی نہیں سمجھتے تو ان آیات سے ان کے پیٹ ہی کو نہیں بلکہ دل وروح کو بھی بڑی جلن ہوگی لیکن فرقہ پرستوں کو یہ کڑوی گولی کھانی پڑے گی۔ توپھر ان کے ملیریا کا بخار جائے گا۔حق آیا اور باطل گیا یہی تو قرآن میںہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں اہل مغرب کی تائید جمہوریت کی وجہ سے ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی جمہوری نظام تھا اور اکثریت کی بنیاد پر حضرت ابوبکر سے لیکر یزید ومروان ، عبدالملک بن مروان … عمر بن عبدالعزیز…. اوربنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کی حمایت کی گئی۔ اس میں سنی تنہا نہیں تھے بلکہ ائمہ اہل بیت نے بھی فاطمی خلافت کے مقابلہ میں اسی بنوعباس کو سپورٹ کیا جو سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے ۔ مامون الرشید نے تو حضرت امام رضا کو اپنا جانشین بھی نامزد کردیا تھا۔ پھر بنو عباس کی خلافت برائے نام رہ گئی تھی ۔ ہر طرف ممالیک یعنی خاندان غلاماں کی سلطنتیں قائم تھیں۔ فاطمی حکومت نے بھی مصر وحجاز تک قبضہ کرلیا تھا لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے کرد قوم کے ذریعے اچھی خاصی سلطنت قائم کی تو فاطمی خلافت کا بھی مصر سے خاتمہ کیا گیا اور عباسی خلافت بھی ملکہ برطانیہ الزبتھ کی طرح علامتی رہ گئی تھی اور صلاح الدین ایوبی نے بھی اپنے اقارب میں حکومت بانٹ دی تھی۔ پھر ہلاکو خان نے برائے نام عباسی خلافت کو ختم کیا اور سلطنت عثمانیہ کا خلیفہ بھی اپنوں کے ہاتھ کمزوری میں سسک رہا تھا جو ختم کردیا گیا۔
٭٭

قرآنی آیات سے مسلسل انحراف اور مسئلہ فلسطین

کوئی نہیں کہتا کہ رسول اللہۖ کے سسر ابوبکر و عمر خلفاء بن گئے ۔ دشمن ابوسفیان اور یہودی کی بیٹی نبی ۖ کے نکاح میں تھی اور نہ یہ کہتا ہے کہ حضرت عثمان و علی داماد ہونے کی وجہ سے خلفاء بن گئے ۔

حضرت معاویہ نے 20سال خلافت کی مگر ان سے افضل عشرہ مبشرہ کے صحابی سعد بن ابی وقاص ، حسن و حسین، اصحاب بدر اورفتح مکہ سے پہلے کے مسلمان سبھی تھے ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلافت کا مسند فضلیت کا معیار نہیں۔ ورنہ معاویہ کے بعد یزید کو بھی صحابہ سے افضل ماننا پڑے گا۔

حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی سے وہ معیار کھڑا کیا جس میں اقربا پروری کا امکان نہیں تھا اور حضرت عمر نے بیٹے پر پابندی لگائی اور حضرت عثمان کی شہادت سے معاملہ بدل گیا۔ حضرت علی نے کسی کو نامزد نہیں کیا لیکن امام حسن خلیفہ بن گئے اور پھر خلافت امیرمعاویہ کی جھولی میں ڈال دی۔

امیرمعاویہ نے یزید کو نامزد کیا تو اس کے اپنے دور پر بھی امارت وملوکیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام حسین اور عبداللہ بن زبیر نے مزاحمت کی تھی ۔ پھر یزید کے بعد حضرت معاویہ بن یزیدنے خلافت کو ٹھوکر ماردی۔ بنی سفیان میں سے پھر خلافت منتقل ہوگئی مروان بن حکم کو۔ عبداللہ بن زبیر نے مقابلہ کیا لیکن عبدالملک بن مروان کے دور میں اپنی سو سالہ بوڑھی والد ہ حضرت اسماء بنت ابی بکر کے سامنے بہت بے دردی سے شہید کردئے گئے تھے۔

دارالعلوم دیوبند، جمعیت علماء اسلام اور تبلیغی جماعت سے لیکر کہاں کہاں اور کس کس کا موروثیت کے نظام پر کیا کیا جھگڑا ہوا ہے؟۔ وقف مال پر کسی کو وراثت کا حق دینا اسلام اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ عوام کے چندوں سے مساجد، مدارس، خانقاہیں، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل ہو اور ان پر خاندانوں کے جھگڑے کھڑے ہوجائیں تو پھر اللہ نے قرآن کی جو آیات نازل کی ہیں تو اس پر بدنیت کبھی عمل کرنے کے روادار نہیں ہوسکتے ہیں۔

حضرت ابوبکر نے باغ فدک پر اچھا کیا لیکن کیا مفتی تقی عثمانی وغیرہ وقف مال کے مالک وراثت کی بنیاد پر ہوسکتے ہیں؟۔ نبیۖ کا جانشین تو بہت ہی بڑی بات ہے ایک گناہگار آدمی بھی اس حرکت کی جسارت نہیں کرسکتا ہے۔ اسلئے ملک کے قوانین کو سب سے پہلے درست کرنے کی سخت ضرورت ہے اور پھر قرآنی آیات کی درست تفسیروتبلیغ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ مدارس چوہے کے بل اسلئے بن گئے ہیں کہ چوہوں کا ان میں خاندانی بسیرا ہے اور اس کو ان سے واہ گزار کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

پہلے لوگ بینکوں سے اپنی زکوٰة اور سود کی رقم کو نکال کر مستحق افراد میں تقسیم کرتے تھے۔ پھر جنرل ضیاء الحق نے مفتی تقی عثمانی کی ایڈوائز پر بینکوں سے لوگوں کے زکوٰة کی کٹوتی سودی نظام سے کاٹنی شروع کردی۔ لوگ خوش ہوگئے کہ زکوٰة کٹ جاتی ہے اور اصل رقم بھی بینک میں محفوظ رہتی ہے اور اچھی خاصی سودی رقم بھی کھاتے میں آجاتی ہے۔

مفتی محمود نے کہا کہ سودی رقم سے زکوٰة کاٹنے کا فتویٰ غلط ہے لیکن مفتی تقی عثمانی نے پان میں کچھ دیا اور مفتی رفیع عثمانی نے دورہ قلب کی خاص گولی حلق میں ڈال دی۔ جس سے مفتی محمود شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگئے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ علامہ شبیراحمد عثمانی اور قائداعظم کے ساتھیوں کو بھی زہر دیا گیا تھا تو اس پر ایک آزاد کمیشن قائم کریں تو حقائق عوام کے سامنے کھل کر آجائیں گے۔

مفتی تقی عثمانی نے پھر شرح سود میں دو فیصد اضافہ کیساتھ اسلامی بینکاری کی بنیاد رکھ دی ۔ سب علماء کرام ومفتیان عظام نے مخالفت کی لیکن عالمی یہودی مافیا اس فتوے کے پیچھے تھا اسلئے کسی کی بات بھی نہیں چل سکی۔ اسرائیل کے خلاف فتویٰ بہت بڑا ڈھونگ ہے جس کی وجہ سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی غریب عوام کے حالات کونسے کم ہیں؟۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج سے مفتی تقی عثمانی نے کونسے دانت تڑوائے ہیں؟۔ عالمی قوتوں نے اگر افغانستان اور عراق کے مسلمانوں کو ملیامیٹ کردیا تو کیا پاکستان اتنی طاقت اور ہمت رکھتا ہے؟۔

رسول اللہۖ نے فرمایا : پہلا امر نبوت و رحمة پھر خلافت و رحمة پھر بادشاہت و رحمة پھر امارت و رحمة پھریہ لو گ ایک دوسرے کو کاٹیں گے گدھوں کا کاٹنا۔ پس تم پر جہاد فرض ہے اور بہترین جہاد رباط ہے اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہے۔

یہ حدیث اس وقت ایک عربی عالم نے ذکر کی تھی جب حماس نے عسقلان پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے نومبر 2023میں اسکا حوالہ دیتے ہوئے مشورہ لکھ دیا تھا کہ ”پشاور اور کراچی سے ٹیمیں تشکیل دے کر اسرائیل سے صلح کی جائے”۔ اب نیوز ون ٹی وی پر فلسطینی صحافی کا شکوہ دیکھیں کہ اربوں کی رقم غزہ کے نام پر جمع کی گئی لیکن کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ اب لوگوں کا غزہ پرایک دوسرے کیخلاف محاذ آرائی سے گدھوں والی بات کو سمجھنا آسان ہوگا۔ یوکرین کی معدنیات پر قبضہ نہ ہوسکا تو امریکہ نے رُخ تبدیل کرنے کیلئے ایک بڑی چال سے اپنے گدھے پھر ڈھینچوڈھینچو کرنے پر لگادئیے بس اللہ خیر کرے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv