پوسٹ تلاش کریں

المہدی الآن موجود فی بیت شخص اسمہ

ہذہ الرؤیا رآہاا بن خالی یوسف۔ رأی بأتی وایاہ نادانا شخص ما وکان ہذا الشخص الذی نادانا اسمہ عتیق وقال لنا عندی سر ارید ان اخبرکم بہ فأخذنا انا وابن خالی الی فوق سطح بیت خالنا و اسمہ الامین فقال لنا انا حارس جثمان رسول اللہ ۖ ولی فترة وارید منکم ان تحرسوہ وہو الان موجود فی بیت خالنا واسمہ عبد القادر فقال لہ بن خالی و کیف اتی جثمان رسول اللہ الینا فقال لنا عتیق لا تسألوننی کیف اتی ولکن ہل ستحرسونہ فقال لی ابن خالی بأنتی قلت لہ اجل سوف نحرسہ وکذلک ابن خالی قال لہ ان شاء اللہ فقام ا بن خالی فسألہ ولماذا لا تحرسہ أنت فقال لہ انا عزرائیل نادانی وبعد لحظات قال لی جاء ت طائرات تبحث عن الجثمان فقمنا بدسہ منہم ولم یجدوہ۔

خواب ماموں زاد بھائی یوسف نے دیکھا کہ ایک شخص نے مجھے اور اسے آواز دی۔ جس نے آواز دی اس کا نام ”عتیق” تھا۔

اس نے کہا ”میرے پاس راز ہے، میں بتانا چاہتا ہوں” وہ ہمیں ماموں کے گھر کی چھت پر لے گیا، جن کا نام ”الامین”ہے۔ عتیق نے کہا: ”میں رسول اللہ ۖ کے جسدِ مبارک کا محافظ ہوں، میرا فترہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم حفاظت کرو ۔ وہ ہمارے ماموں کے گھر میں ہے جن کا نام عبدالقادرہے۔ ماموں زاد نے پوچھا رسول اللہ ۖ کا جسدِ مبارک ہمارے پاس کیسے آیا؟ ۔ عتیق نے کہا: یہ مت پوچھو کہ کیسے آیا، بلکہ یہ بتاؤ کہ کیا تم حفاظت کرو گے؟۔ ماموں زاد نے بتایا کہ میں نے کہا: ہم ضرور حفاظت کریں گے ، ان شا اللہ۔ پوچھا: اور تم خود حفاظت کیوں نہیں کرتے؟تو اس نے کہا: مجھے عزرائیل نے پکارا موت کا وقت آیا۔ کچھ دیر بعد یوسف نے کہا: کچھ جہاز آئے جو جسدِ مبارک کو تلاش کر رہے تھے، تو ہم نے اسے ان سے چھپا دیا اور وہ اسے نہ ڈھونڈ سکے۔

تعبیر: کیا فرشتے مرتے ہیں؟
جی ہاں، ملک الموت روحیں قبض کرکے خود بھی مر جائے گا۔ خواب کے نام رمز ہیں۔
یوسف: خواب جو مہدی کی خبریں ہیں۔
عتیق: حفاظت مہدی پر مامور فرشتہ، یہ قدیم عمر ایک ہزار سال سے زیادہ ہے۔
الامین: وہ امانت جو مہدی کے کندھوں پر ڈالی جائے گی۔
نبی ۖ کا جسدِ مبارک: یہ اصلاح مہدی سے پہلے کی علامت،
عبدالقادر: ۔ یہ نام خوابوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے، اور اس کا مہدی علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے، جسے اللہ بہتر جانتا ہے۔

یہ تعبیر کہ نبیۖ کا جسدِ مبارک اصلاح مہدی سے پہلے تو دیکھیں:بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کیلئے ایک نور بنا دیا جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور وہاں سے نکل ہی نہ پائے؟ اسی طرح کافروں کیلئے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔سورہ الانعام، آیت:122)

عتیق کو عزرائیل نے پکارا تو وہ کسی کو کام سونپ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے خواب بتایا کہ ان فرشتوں پر حملہ ہوا جو مہدی کی حفاظت پرمامور ہیں، چاند کے گرد3دائروں میں ہر بار ستارہ آ کر ان پر ضرب لگاتا ہے، ستارہ آخری تیسرے حلقے کو مار دیتا ہے اور زمین ہل جاتی ہے۔ واللہ اعلم اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

تعبیرخواب پرتبصرہ عتیق گیلانی

عتیق فرشتہ ہوتاتو پھر فرشتہ مقرر کرتا۔ اماں حضرت عائشہ سے نبی ۖ کی سیرت کا پوچھاتو فرمایا ”قرآن!”۔

نبیۖ کے جسد مبارک کی تعبیر قرآن ہے۔جو مسلمانوں کے گھر میں ہے۔

یوسف نام : سورہ یوسف کی مانند خاص خوابوں کا ذکر ہے۔
عبدالقادر: سید عبدالقادر جیلانی کا گھرانہ مراد ہے۔
الامین: قال نبی ۖ : العلماء امناء الرسل

” علماء اللہ کے بندوں پر رسولوں کے امین ہیں۔ جب تک وہ حکمرانوں سے خلط ملط نہ ہوں اور دنیا میں گھس نہ جائیںاور جب وہ حکمرانوں سے مل جائیں اور دنیا میں گھس جائیں تو ان سے بچو اور ان سے الگ رہو”۔درباری علماء اور امام مہدی میں یہ فرق ہوگا کہ علماء کئی سرپھوڑی کے بکھیڑے ہوں گے اور مہدی صرف رسول اللہ ۖ کی اطاعت کیلئے سرتسلیم خم ہوگا۔

ضرب اللہ مثلًا رجلًا فیہ شرکاء متشاکسون و رجل سلماً لرجل ھل یستویان مثلًا الحمد للہ بل اکثرھم لایعملونOانک میت و انھم میتونO

ترجمہ: ”اللہ مثال دیتا ہے اس شخص کی جس میں بہت سے شریکوں کا بکھیڑا ہے اور اس شخص کی جس نے ایک شخص کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟۔ اللہ کیلئے تمام تعریفیں ہیں لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ بیشک آپ میت ہیں اور وہ میت ہیں”۔ (سورہ الزمر29، 30)

مہدی کیلئے۔ من اطاع الرسول فقد اطاع اللہ ۔

جہاں تک مہدی کی حفاظت کرنے والے فرشتوں پر حملے کا خواب ہے تو ہر انسان کیساتھ شیطان قرین اور اس کو فرشتے بھی تحفظ دیتے ہیں۔ مہدی کے محافظ اقرباء، ہمدرد اور حکومتی اہلکار

من شر الوسواس الخناسOالذی یوسوس فی صدور الناسOمن الجنة والناس

اس خناس کے وسواس کا شکار ہوں گے جن کی وجہ سے ان کو تحفظ حاصل ہوگا اور پھر خطرات کا باعث بن جائیں۔ انقلاب سے پہلے لوگ اپنا چہرہ اپنے کردار کی روشنی میں دیکھ لیں تاکہ اپنے بارے میں غلط فہمی نہ رہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرجع قدیم و جدید…مولانا بدیع الزماں

عالمِ رنگ و بو میں جو آیا جانے کیلئے آیا

لِدوا لِلموتِ وابنوا لِلخرابِ

خلاقِ عالم نے ہر تنفس کیلئے وقت پر دنیا سے جانا مقدر فرمایا۔ علومِ نقلیہ وعقلیہ قدیمہ کے علاوہ حضرت شیخ کو علومِ جدیدہ سے خاص دلچسپی اور شغف تھا۔ سائنس اور فلسفہ جدیدہ سے گہرا تعلق تھا اور سائنسی علوم و ایجاداتِ جدیدہ کی روشنی میں اسلام کے حقائق کو منفرد انداز سے سمجھا تے تھے۔ حدیث میں ابرادِ بالظہر کا حکم دیتے ہوئے وجہ یہ بیان فرمائی گئی
فان شدة الحر من فیح جھنم
اشکال وارد ہوتا ہے کہ گرمی تو سورج کا اثر ہے۔ حضرت شیخ رحم اللہ تشریح فرماتے کہ جہنم کی مثال پاور ہاؤس ہے، شمس کی کا منبع جہنم ہے۔ شمس کے واسطہ سے جہنم کی حرارت کا اثر پہنچتا ہے۔ آتشیں شیشہ سورج سے حرارت اخذ کر تاہے۔ تمثیل سے اشکال رفع ہو جاتا ہے۔

فرید واجدی کی دائر المعارف (انسائیکلوپیڈیا)سے حضرت شیخ بہت متاثر تھے۔ برزخ میں انسان کے مادی جسد کیساتھ روح کا تعلق قائم رہتا ہے، اگرچہ روح کا مستقر اعلی علیین یا اسفل السافلین ہو۔ یہ مسئلہ حضرت شیخ دائر المعارف کے ایک واقعہ سے ذہن نشین فرمایا کرتے تھے کہ: ایک شخص علم التنویم کے ذریعہ وقتی طور پر انسان کی روح کو جسم سے جدا کر سکتا ہے، لیکن اس مفارقت کی صورت میں بھی روح کا رابطہ جسم کیساتھ برابر قائم رہتا ہے۔ چنانچہ فرید وجدی نے لکھا کہ: ایک عامل نے علم التنویم سے ایک انسان کو لٹا کر اس کی روح کو جدا کیا، وقتِ مقررہ پر وہ روح واپس نہیں آئی تو عامل کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کی موت واقع نہ ہو۔ چنانچہ فورا ایک دوسرے شخص پر عمل کر کے اس کی روح سے کہا کہ پہلی روح کو جلد لانے کی کوشش کرو، چند لمحات کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پہلی روح واپس آ گئی ہے اور اس وقت فلاں گوشہ میں موجود ہے، عامل سوئی ہاتھ میں لیکر اس کی طرف بڑھا اور غصہ میں سوئی کو آگے کیا، اس پر روحِ ثانی نے کہا کہ سوئی اس کی پنڈلی میں پیوست ہو گئی ہے، عامل نے پلٹ کر دیکھا کہ جس شخص کی وہ روح تھی اس کی ٹانگ سے خون نکلنا شروع ہو گیا، جبکہ وہ دوسری جگہ تھا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد شیخ فرمایا کرتے تھے کہ: جب اس عالم میں روح اور جسد میں مفارقت کے باوجود تعلق قائم رہتا ہے تو برزخ میں بھی اسی طرح تعلق قائم رہے گا تاکہ جسم و روح دونوں کو راحت یا تکلیف محسوس ہو۔

(یہ تحریر نیٹ پردیکھ لو اور قرآن کے شواہد میری تحریرمیں)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عالم برزخ میں انبیاء ،صدیقین، شہداء اور صالحین نعمتوں میںہوں گے اور ظالم ، مشرک عذاب میں

دنیا اور عالم برزخ کے درمیان ادنیٰ فرق سمجھنے کیلئے یہ ہے کہ جیسے ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکلنے کی حقیقت ہے اور یہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں بالکل واضح ہے۔ گروپ کمانڈر کیپٹن عاصم طارق شہیدنے ایک لڑکی کو بچانے کیلئے اپنی جان دیدی۔ اللہ نے کہا کہ ”جس کو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے تو ان کو مردہ مت کہو ، بلکہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے”۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا اور انکے فرزند شاہ رفیع الدین نے اردولفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاروہ ترجمہ کیا۔ باقی تراجم نقل ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی درجہ ثانیہ میں آخری پارہ عم پڑھتے وقت تفسیری عزیزی میں قبر کے عذاب کا انکار دیکھا تو قاری مفتاح نے کہا کہ مفتی ولی حسن ٹونکی کو پوچھ لو اور اس نے کہا کہ کیا تم پنج پیری ہو ؟۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے دوست حاجی عثمان کا مرید ہوں۔ تو کہا کہ پھر یہ نہ پوچھو!۔ پھر قاری مفتاح اللہ نے تفسیر کشاف کامشورہ دیا جو تفسیر کے امام معتزلی تھے۔عذاب قبر کا انکار ہو تو پھر لمبے عرصہ تک سوال جواب اور عذاب قبرکا خوف نہیں رہتا ۔

قرآن میں ایک تلی ہوئی مچھلی کو زندہ کرنے کے ذکر کرنا مقصد تھا۔ مفتی منیر شاکر شہید بہت مخلص تھے اور طلاق سے زیادہ عذاب قبر کا مسئلہ مان لیتے مگر افسوس موقع نہیں مل سکا۔

سورہ الحدید آیت16میں کافی مدت گزرنے پر بیدار ی کا وقت ہے اور آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے، آیت18میں مصدق صدیقین مردوں اور عورتوں کا ذکر ہے جو مکذب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں ہیں۔ تراجم میں صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔ اگلی آیت19میں صدیقین، شہداء اور مکذبین کی وضاحت ہے۔ آیت20میں دنیا کی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکہ کے اسباب قرار دیا۔ آیت21میں برزخی جنت ہے جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لانے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اللہ بڑے فضل والاہے۔ آیت22اور23میں مصیبت اور بڑے عالمی انقلاب کا لکھے جانے اور غم کھانے اور اترانے اور فخر سے منع کیا گیاہے۔

دنیا کی دو دو جنتوں کا ذکر سورہ سبا اور سورہ رحمن میں ہے

اور عالم برزخ کی ایک جنت کے مقابلے میں دنیا کی ساری جنتیں اور دوزخ بہت چھوٹی ہوں گی لیکن قرآن پر تدبر کرنا پڑے گا۔

ہم نماز میں رسول اللہ ۖ کو سلام کرتے ہیں۔

السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ برکاتہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے مشکوٰة شریف پڑھاتے وقت بتایا تھا کہ ”ملاعلی قاری نے مرقاة المفتاتیح میں لکھا ہے کہ رسول اللہۖ کو مخاطب کرکے سلام کریں۔استاذ جی فتویٰ کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ مولانا بدیع الزمان کو میرا پتہ چلا کہ فتویٰ فروشان اسلام کی مٹی پلید کردی تو پوچھا کہ وہی ہے جو چائے زیادہ پیتا تھا؟۔ پھر میں حاضر خدمت ہوا تھا اور بہت خوش ہوگئے۔ مرجع قدیم وجدید ضرور پڑھ لیں۔

قل ھو نبؤا عظیمO انتم عنہ معرضونO ما کان لی من علم بالملا الاعلٰی اذ یختصمون Oان یوحی الیّ الا انما انا نذیر مبینO

” کہہ دو کہ وہ بڑی خبر ہے۔ تم اس سے منہ پھیرتے ہو۔ مجھے علم نہ تھا کہ جب ملااعلیٰ جھگڑ تے ہیں۔ مجھے وحی کیا گیا مگر میں تو کھلا ڈرانے والا ہوں”۔ ( ص67تا70)

اس خبر عظیم کا ذکر سورہ النباء میں بھی ہے جس پر زمین کے لوگوں کا اختلاف ہے۔ آخر یہ کیا بڑی خبر ہے جس پر نہ صرف زمین والوں کا بلکہ ملا اعلیٰ میں جھگڑا ہے؟۔ جس طرح دنیا میں تمام مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہم غالب آجائیں اور ہمارے ہاتھوں سے بڑا انقلاب برپا ہواور نجات دہندہ ہمارا ہو تو ملا اعلیٰ کے پیغمبربھی اپنے ماننے والوں سے فطری تعلق رکھتے ہیں۔ جس پر زمین اور ملا اعلیٰ میں اختلاف اور جھگڑاجاری رہتا ہے۔

انبیاء تبلیغ پر اجر نہیں مانگتے مگر قرابت کی موودة ،یہ اجر نہیں فطری ہے۔جیسے والدین اوربچوں کی ہے۔یہ جھگڑا عالم برزخ میں ہے اورعالم ارواح میں بھی ہوچکا ہے ۔یہودکو جرم پر سخت سزا دی گئی اور ہند نے کلیجہ چبایا تھا۔ موسی ہندکو زیادہ سخت سزا دیتے ۔ملا اعلیٰ میں بھی موودة فی القربیٰ ہے۔

قاری عبیدالرحمن یوسف اہل حدیث نے کہاہے کہ لاہور کے ایک خطیب نے معراج کا واقعہ سنایا اور اس میں امام غزالی کے حوالہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مناظرہ سنایا تو میں اس کے گھر پر گیا اور حوالہ پوچھا تو اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اپنے بچوں کو بھی میرے مدرسہ میں بھیج دیااور کہا منبر پر قرآن و حدیث کے حوالے کے بغیر کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل حدیث بھی اپنے مطلب کی احادیث مانتے ہیں اور تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم سے ایک ایسی آواز کی ضرورت ہے کہ قرآن و احادیث صحیحہ پر سب کا اتفاق ہوجائے اور ساری کی ساری غلط فہمیاں آپس میں دور کردی جائیں۔

رسول اللہ ۖ نے قیامت تک آنیوالے مستقبل کے کچھ واقعات بیان فرمائے ہیں یہاں تک کہ موجودہ ترقی یافتہ دور کا بھی ذکر ہے جس میں دور سے بیٹھ گھر کے حالات دیکھنے اور کسی آلہ کے ذریعے رکارڈ کرنے کا بھی ذکر ہے ۔اپنی ران کیساتھ بات کرنے کی ہم یہ توجیہ کرسکتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کا خوف ہوتا ہے تو موبائل ڈرائیونگ کے وقت ران پر رکھتے ہیں۔

رسول اللہ ۖ کی حدیث میں عالم ارواح کا بھی ذکر ہے

جس میں ساری انسانیت اپنا اپنا ایک روحانی دور گزارچکی ہے اور وہاں کی دوستی اور دشمنی کے آثار یہاں بھی نمایاں ہیں اور یہ صرف ایک حدیث نہیں بلکہ قرآن میں عہدالست کا عالم ارواح سے بھی پہلے پشت در پشت نسلوں کا ذکر ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہاں جو کچھ برپا ہونے والا ہے چھوٹی اور بڑی تمام مصائب اور کامیابیاں پہلے سے واقع ہوچکی ہیں تاکہ تمہیں نہ افسوس ہو اور نہ اس پر اتراؤ اسلئے کہ اللہ شیخی بگارنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ سائنسی ترقی سے ماضی اور مستقبل کو دیکھنا اب ایسا مسئلہ نہیں رہاہے جو سمجھ میں نہ آئے۔

تمام مسلمانوں کی ایک عرصہ سے ایسی حالت رہی ہے کہ وہ طلاق کے حوالے سے بہت موٹی موٹی آیات کو بھی سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں اور اگر تھوڑی توجہ کی جائے تو لوگ اپنی اس قسم کی حماقت پر شاید خود ہی کالک لیکر برسر منبر اپنے منہ پر مل دیں کہ ہم نالائق گدھوں نے اتنی موٹی موٹی باتوں کو نہیں سمجھا؟۔

آج کے دور میں ایک قانون ہے کہ پارٹی کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس پر لوگوں سے ووٹ کے ذریعے حکومت لی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمانوں کیلئے دوسرے مذاہب کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔ اس کا جواب ہم قرآن سے لیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب کا منشور پیش کرنا بھی ضروری ہے اور لوگوں کو ایک پیکیج بھی دینا ضروری ہے۔

قرآن دنیا کے تمام انسانوں کو ایک ایسا منشور دیتاہے کہ جس میں تین قسم کی آبادیاں ہوں گی۔

ایک کرپٹ لوگ ہوں گے جن کیلئے خود کا ر نظام ہوگا اور ان کو معلوم کیا جائے گا کہ کتنی ناجائز دولت کمائی ہے اور اس کو انڈسٹریل آبادی میں دولت سمیت ڈال دیا جائے گا۔تاکہ اس کی دولت سے ملک و قوم کی ترقی کا سامان ہواور وہ بھی برزخ سے پہلے سختیاں جھیل کر گناہ بھی معاف کروائے، صحت بھی بنائے اور نیکیاں کمانے کا بھی موقع ملے تاکہ اس کی آخرت کی بہتری کا بندوبست ہوجائے۔ جس کا ذکر سورہ رحمن میں پہلے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں تیسرے نمبر پر تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سورہ الحاقہ اور سورہ ق، ص اور الزمر وغیرہ میں بھی وضاحت سے موجود ہے۔

دوسری آبادیVIPلوگوں کی ہوگی۔ جن میں ہر شہری کیلئے دنیا میں بہترین گھر ، باغیچے اور دنیا کی سہولیات کی تمام اشیاء کی فراہمی جس کا ذکر سورہ رحمان اور سورہ واقعہ میں دوسرے نمبر پر کیا گیا ہے۔ یہ عوام الناس کیلئے بہترین قسم کا ماڈل ہوگا۔

تیسری آبادیVVIPلوگوں کیلئے ہوگی جس کا ذکر سورہ رحمن میں تیسرے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں پہلے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس میں مذاہب اور قوموں اور ملکوں کے درمیان کوئی تعصبات کے مسائل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ جرائم پیشہ بھی اس تمام نظام سے عدل وانصاف کی وجہ سے خفا نہ ہوں گے۔

اس منشور کو عملی جامہ پہنانے میں دنیا اور ملا اعلیٰ میں سب کا اتفاق ہوگا۔قرآن سے عالمی انسانیت کیلئے ایک بڑا پیغام :

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فا حکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکل جعلنا منکم شرعةً و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً ولکن لیبلوکم فی ما اٰتا کم فستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون O(سورة المائدہ آیت:48)

”اور ہم نے آپ کی طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی ہے جو تصدیق کرتی ہے ہاتھوں کے درمیان کتاب کی جو اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔پس جو اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرو۔اور ان کی خواہشات پر مت چلواسکے خلاف جو حق تیری طرف آیا ہے۔ ہر ایک کیلئے ہم نے شریعت اور طور طریقہ مقرر کیا ہے ۔ اگر ہم چاہتے تو تم سب کو ایک ہی امت بناتے۔لیکن اللہ تمہیں آزمائش میں ڈالتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے ۔پس ایکدوسرے سے خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو ۔تم سب کا ٹھکانہ اللہ کے پاس ہے پس وہ تم سب کوتنبیہ کرتا ہے جس میں تم اختلاف کرتے ہو”۔

یہود ونصاریٰ ، پارسی، بدھ مت ، سکھ ، ہندو اور دنیا کے تمام مذاہب کیلئے قرآن کی یہ آیت قابل قبول ہوگی کہ خدا نے سب کو اپنی اپنی جگہ پر اپنی اپنی شریعت اور طریقہ کار کے مطابق رکھا ہے اور مسلمانوں کے دماغ سے یہ بات نکل جائے کہ سب کو مسلمان بنانا ضروری ہے تو یہ خوش آئندہے۔ لیکن مسلمانوں کو یہ آیت کیسے ہضم ہوگی؟۔ لیکن جو آیت کو نہیں مانتا ہے تو پھر اس کو مسلمان کہا جائے گا یا کافر؟۔ پھر دوسرے مان جائیں گے اور مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ اس کے پہلے کافر تو مت بنو۔

اللہ نے تمام مذاہب کو باقی رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ جس کو سبقت لے جانی ہے تو وہ خیر میں سبقت لے جائے۔ جبر و شر میں سبقت لے جانا بہت غلط ہے۔ مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اگر لوگ شیعہ مسلمان بنتے تو عاشورہ، جلوس اور ماتم سے دنیا کے لوگ تنگ آجاتے۔ بہت سارے شیعہ بھی ملحد بن گئے ہیں۔ اگر سنی مسلمان بنتے اور حلالہ کی لعنت میں دنیا پڑتی تو کہتے کہ سکھ ، ہندو، پارسی اور عیسائی ہی رہتے تو بہتر تھا۔ اللہ نے بہت منصوبہ بندی کیساتھ فرمایا دیا کہ یہ میری چاہت ہی نہیں ہے کہ سب ایک امت بن جائیں بلکہ ایک دوسرے کا اچھائی میں مقابلہ کرو اور جو اچھا ثابت ہوگا تو یہ طے شدہ بات ہے کہ زمین کی وراثت اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو ہی دینی ہے۔ یہود اور مسلمان سینہ زوری سے دنیا پر حکومت نہیں کرسکتے ہیں۔(پنجاب پر ہندو اور مسلمان کی جگہ سکھ حکومت بنی تھی)

ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحونOان فی ھذا لبلاغ لقومٍ عابدینOوماارسلنک الا رحمة للعالمینO

البتہ ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا: زمین کی وراثت میرے صالح (درست عمل والے) بندوں کو ملے گی۔بیشک اس میں پیغام ہے غلامی کرنیوالی قوم کیلئے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہان والوں کیلئے رحمت”۔(الانبیائ:105تا107)

رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں اور وہی بات حضرت داؤد علیہ السلام کے زبور میں لکھی ہے

قرآن اسی کی تائید کررہا ہے۔ یہ نصیحت ہو کہ اچھائی میں سبقت لے جاؤ تو پھر خدا خود اپنے بندوں کو زمین کا وارث بنادیتا ہے۔ آج حکمران تو عوام سے بھی چھپ کر رہتے ہیں اور دوسروں سے بھی خوف ہے۔

یا ایھا النبی حرض المؤمنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائة یغلبوا الفًا من الذین کفروا بانھم قوم لایفقھون O

”اے نبی ! لوگوں کو جہاد پر ابھارو ، اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور تم میں سو ہوں گے تو ہزار پر غالب آجائیں گے ان لوگوں میں سے جو کافر ہیں اسلئے کہ یہ قوم سمجھتے نہیں ہیں”۔ (انفال:65)

1965ء میں بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان کے ایئرفورس، نیوی اور ملٹری نے کمال کردیا تھا

اور نصیراللہ بابر غلطی سے بھارت میں اتر کر بھی بڑی تعداد میں کم عقل دشمن فوج کو گرفتا ر کرکے لایا تھا۔ پاکستان سے بھارت کئی گنا بڑے ہونے کے گھمنڈ میں لاہور کے اندر دو پہر کا کھانا کھانے کی وہ تیاری کرکے آئے تھے مگر ناکام ہوگئے۔1964ء میں عائلی قوانین میں تبدیلی کرکے قرآن کے مطابق ایک3ماہ کا فریم ورک طلاق کیلئے تیار ہوا لیکن مدارس اور عدالتوں میں اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ پھر قدرت نے معاملہ بالکل الٹا کردیا اور بھارت کے10ہزار فوجیوں نے ہمارے لاکھ بندے پکڑے اور تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کی فضاؤں میں پھر حلالہ کی لعنت کی ایک فضا چلی تو اللہ نے اس پر حملہ اور بھارت کو بدتر شکست سے دوچار کردیا اور جب جسٹس عائشہ ملک نے حلالہ کے خلاف پہلا فیصلہ دے دیا تو پھر اللہ نے عالمی جنگ رکوانے میں پاکستان کو بہت بڑا اعزاز بخشا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ہندو کے ویدوں میں وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ جو نوح پر نازل ہوا قرآن وہی تو ہے۔ہندو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور انسان ظاہر یا باطن میں اللہ کا خلیفہ بنتا ہے تو اس کو بھگوان کہتے ہیں۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح میں عورت کا قصہ لکھا جس کا بیٹا بند تھا اور وہ چرواہا کے پاس گیا۔

سورہ المائدہ کی آیت48میں اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سب کو اپنی اپنی شریعت کے مطابق چلنے کا حق ہے۔ مسئلہ طلاق کو جس طرح شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا نے بگاڑدیا ہے اس سے مودی جیسا خر دماغ بھی لاکھ درجہ بہتر ہے اور قرآن کی آیت کا یہی مقصد ہے کہ جس نے بھی اپنی کتاب کے مطابق سبقت حاصل کرلی تو وہ دنیا اور آخرت میں سبقت لے جائیگا۔ امت مسلمہ پر سب کو متحد کیا جاتا تو یہ سب کا بیڑہ غرق کرنے کے مترادف تھا۔ اسلئے اللہ نے امت واحدہ سب کو بنانے کے خلاف قرآن میں فیصلہ جاری کردیا۔

ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و الصابئون والنصاریٰ من اٰمن باللہ وا لیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون O

” بیشک جو مسلمان ہیں، جو لوگ یہودی ، ہندو غیرہ ہیں جو عیسائی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کریں تو ان پر نہ خوف ہوگاتو وہ غمین ہوں گے”۔(المائدہ:69)

حضرت نوح کے پوتوں کا نام ہند اور سندھ تھا۔

ویدوں پر عمل نہیں کیا تو محکوم رہے۔ عیسائیوں نے طلاق کے مسئلے پر عمل کیا تو ان کو عروج مل گیا اور مسلمان حلالہ کی لعنت میں لگ گئے تو شکست کھائی۔ سورہ الحدید اور سورہ بنی اسرائیل کے مطابق مسلمانوں نے یہود ونصاریٰ پر فتح حاصل کرنی ہے۔ جب عیسائیوں کو عروج ملتا ہے تو اچھائی کی وجہ سے ملتا ہے اور زوال برائی کی وجہ سے ملتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روحانی فیض ان کو حاصل ہوتا ہے۔ جب مسلمان ان سے اچھے بچے بن جائیں گے اور عیسائی ہاتھ میں آجائیں گے تو اس کا مکالمہ قرآن کی زبان میں اللہ نے کیا بتایا ہے؟۔ چنانچہ فرمایا:

واذ قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی و اُمی الٰھین من دون اللہ قال سبحٰنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلمہ ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوبO ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدو اللہ ربی و ربکم و کنت علیھم شھیدًا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم و انت علیٰ کل شی ئٍ شھیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیمO (المائدہ116تا118)

یہ مکالمہ معراج کی رات، قیصر روم کے فتح کے دور میں اور بیت المقدس کے فتح کے وقت عالم اعلیٰ میں ہوتا رہاہے اور اس کا معاملہ آئندہ بھی عیسائیوں کو شکست دیتے وقت چلے گا۔

ثم رددنا لکم الکرة علیھم وامددناکم باموالٍ و بنین و جعلناکم اکثر نفیرًاOان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا فاذا جاء وعد الاٰخرة لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرةٍ و لیتبروا ما علوا تتبیرًاOعسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا و جلعلنا جھنم للکا فرین حصیرًاOان ھٰذا لقراٰن یھدی للتی ھی اقوم و یبشر المؤمنین الذین یعملون الصالحات ان لھم اجرًا کبیرًاO(سورہ بنی اسرائیل آیت6تا9)

”پھر ہم نے بال تمہارے کورٹ میں پھینک دی اور تمہاری مدد کی اموال اور اولاد کے ساتھ اور تمہیں آبادی کے لحاظ سے بڑی اکثریت دیدی۔ پس اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے لئے کی اور برائی کی تو جس نے کی اس پر پڑے گی۔جب آخری وعدہ آئے گاتاکہ تمہارے چہرے سیاہ کردئیے جائیں اور وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلے داخل ہوئے تھے ۔تاکہ باطل نظام کی اعلیٰ سطح پر تباہی پھر جائے۔ ہوسکتا ہے کہ تم پر اللہ رحم کرے اور اگر تم پھر لوٹ گئے تو ہم بھی مڑ کر آئیں گے۔ بیشک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے جس کا سب سے زیادہ ٹھیک راستہ ہے اور ان مؤموں کو بشارت دیتا ہے جن کے اعمال درست ہوں۔ بیشک ان کے لئے بہت بڑا بدلہ بھی ہے”۔

سورہ النباء میں عظیم خبر اور یوم الفصل کا میقات انقلاب ہے۔جو فتح مکہ کے وقت برپا ہوا اور اب پھر برپا ہوگا۔ سورہ النباء آیت21تا30تک عالم برزخ کا عذاب مراد ہے۔ ایک حقب80سال کا ہے اور ابوجہل وابولہب احقاب سے برزخی عذاب میں ہیںاور ان کی غذا پپپ ہے۔جب رسول اللہ ۖ کی ولادت ہوئی تو ابولہب نے اس کی خوشخبری دینے والی لونڈی کو آزاد کردیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جس انگلی کے اشارے سے آزاد کی تھی تو اس انگلی سے پیر کے دن ابولہب کو راحت پہنچتی ہے۔ ایک طبقہ عذاب قبر کا منکر پیدا ہوگیا۔

جس طرح سورج کی روشنی سے عالم شمسی کو فیض ملتا ہے اور اس میں سورج کا اختیار نہیں بلکہ فیض اٹھانے والے پر ہے کہ وہ شاہین بنتا ہے یا چمگادڑ؟۔ اللہ نے فرمایا:

قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب ولا اقول لکم انی ملک ان اتبع الا ما یوحٰی الیّ قل ھل یستوی الاعمی و البصیرافلا تتفکرونO(الانعام:50)

”اے رسول ! کہہ دو کہ میں تمہیںنہیں کہتاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ بیشک میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف ہوتی ہے کہہ دو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ تو تم سوچتے کیوں نہیں ہو”۔

عرب کے دورِ جاہلیت میں لوگوں کے دل و دماغ میں اس کا امکان نہیں نظر آرہاتھا کہ رسول اللہ ۖ کے ذریعے بہت بڑا انقلاب آئے گا جو عرب کی خصلتوں کو بدل کر رکھ دے گا اور دنیا کی سپر طاقتوں قیصرروم اور کسریٰ فارس کو شکست دی جائے گی لیکن ایمان والوں نے سب کچھ کر کے دکھا دیا ہے۔ تاریخ بدل گئی تھی اور1924ء تک خلافت عثمانیہ کے باقیات تھے۔

آج دنیا گلوبل ویلج ہے اور اگر قرآن کا منشور پیش کردیا تو روس، چین، یورپ ، امریکہ ، آسٹریلیا ،جاپان ، بھارت ، کوریا اور مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی ساری دنیا اس پر بہت جلد متفق ہوسکتی ہے اسلئے کہ آج زمین کو امن وسلامتی کی سخت ضرورت ہے۔ بے راہ روی سے بچانا لازم ہے۔ معیشت کی بہتری بہت ضروری ہے۔ دنیا کو جنگ کے ماحول سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ زمین کو آلودگیوں سے بچانے کیلئے ساری دنیا کو مشترکہ نظام کی ضرورت ہے۔ مذہبی رحجانات کو بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی نظام کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلی اور زلزلے ، سمندری طوفان اور ہرطرح کے معاملات کو اچھے انداز سے کرنے کیلئے سب کو ایک جگہ کام کرنا ہوگا اور جب قرآن و سنت کے ذریعے سے ہوگا تو پھر سارے مسلمان رضا کار بن کر پوری دنیا کی خدمت کریں گے۔ جب سارے مذاہب کے لوگ میرٹ پر بھرتی ہوں گے تو سرکاری ملازمین کو ”درجہ اعراف” حاصل ہوگا۔سورہ اعراف کا تعلق بھی آخرت سے نہیں دنیا کے عظیم انقلاب سے ہے جہاں بروں کو سزا اور اچھے لوگوں کو انعام ملنے پر وہ خوش ہوںگے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے اور ان کی عبادت گاہوں کیلئے بہت احترام کا درجہ حاصل ہے۔ یہود ونصاریٰ کی تاریخ میں ہمیشہ دشمنی رہی ہے اور پہلی بار ان کو اقتدار اور کاروبار کیلئے اکٹھا ہونا پڑا ہے۔ مسلمان تو یہودی اور عیسائی بیگمات کو اپنے بچوں کی مائیں بناتے تھے لیکن افسوس کہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا وہ مذہبی طبقات نے ختم کیا۔

جب دنیا میں اسلامی خلافت کا آغاز ہوجائے تو یہ بہت بڑا زلزلہ ہوگا

جس کی گونج آسمانوں تک پہنچے گی اور بڑے بڑے پیغمبر اور جلیل القدر رسول بھی پریشان ہوں گے کہ مسلمان اب ان کے پیروکاروں کی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو پھر سے لونڈی بنانا شروع کردیںگے؟ لیکن یہ بنوامیہ، بنوعباس، خاندان غلاماں اور سلطنت عثمانیہ و مغل حکومت کی طرح نہیں ہوں گے اور نہ فاطمی خلافت کی طرح بلکہ نبیۖ کی سنت ہی کو زندہ کریںگے۔ یہود نے جو ظلم مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اس کی سزا نبیۖ نے نہیں دی تھی بلکہ یہود نے جس مسلمان کو اپنا فیصل بنایا تھا انہوں نے خدا کی قدرت سے سخت سزا دی تھی۔

جہاں تک ملا اعلی کے جھگڑے کا تعلق ہے تو اس سے رسول ہی مراد ہیں جن کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ

یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزب بما لدیھم فرحونOفذرھم فی غمرتھم حتی حینٍOایحسبون انما نمدھم بہ من مالٍ و بنین Oنسارع لھم فی الخیرات بل لایشعرونO

ترجمہ :” اے رسولو! طیبات میں سے کھاؤ اور درست کام کرو ۔ بیشک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت تمہاری ایک مشترکہ امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو۔ پس انہوں نے اپنے کام کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا ہر گروہ کے پاس جو ہے اس پر خوش ہیں۔ پس ایک انقلاب کی آمد تک ان کو چھوڑ دو۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد سے ترقی دے رہے ہیں۔ہم انہیں فوائد جاری کررہے ہیں بلکہ یہ شعور نہیں رکھتے”۔ (سورہ المؤمنون آیات51تا56)

رسولوں کا اجتماع تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔

قرآن نے بتایا کہ عالم بالا میں بھی ان کو روزی ملتی ہے۔جب عالمی خلافت کا عالم بالا میں فیصلہ ہوگا تو ان کو مخاطب کیا جائے گا کہ یہ ساری کی ساری امت بھی ایک ہے اور زمین کے ٹکڑے اور مذاہب کی تقسیم بھی انہوں نے خود کی ہے اسلئے اس پر راضی ہوجائیں۔

جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور مرکز جمعیت علماء اسلام کے بانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا سید محمد میاںنے اپنی مقبول ترین کتاب ”علماء ہند کا شاندار ماضی ” میں لکھا ہے کہ

” شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو سب مشائخ اپنی خلافت دینا چاہتے تھے اور رسول اللہ ۖ نے پھر فیصلہ کیا کہ سب اپنی اپنی خلافت دو لیکن کام نقشبندیہ کیلئے کرے گا”۔ مولانا عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”اخبار الاخیار” میں لکھا ہے جس کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی نے کیا: ”جب سید عبدالقادر جیلانی اپنی مجلس کرتے تو تمام انبیاء کرام اور اولیاء عظام موجود ہوتے تھے اور نبی اکرم ۖ بھی آپ کی تعلیم وتربیت کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے”۔ جب میں نے حوالہ دئیے بغیر روحانیت کی اندھیر نگری میں رہنے والے اکابرمفتیان سے فتویٰ لیا تو کفر و زندقہ اور قادیانیت کے فتوے لگائے گئے۔ یہی ایک عبارت دارالعلوم کراچی کی تھی اسلئے انہوں نے دستخط نہیں کئے لیکن دوسروں کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا اورجب ہم نے فتویٰ چھاپنے کا پروگرام بنایا تو مولانا سبحان محمود نے نام مولاناسحبان محمود میں تبدیل کیا۔ جیسے آخری وقت میں ہندو سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا ہواور یہ جہالت کی بھی دلیل تھی کہ اپنے نام کا پتہ نہ چلے مگر دوسروں کو حلالہ کے فتوے جاری کررہے ہیں؟۔ اور اصل بات یہ خوف کہ سعودی عرب کو پتہ چل گیا تو مشکلات کھڑی ہوں گی اور اس وقت ایک عربی مصری عالم سے ہم معاملات کا ترجمہ بھی کروارہے تھے اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ بکرے کو لٹایا ہے چھرا پھیر دو ، ٹانگیں ہلائیں تو ہم بھی پکڑلیں گے۔ لیکن ہم نے نہ فتویٰ چھاپا اور نہ سعودی عرب میں ان کو خراب کیا۔

رسول اللہ ۖ کی رحمت للعالمینی تعصبات سے نہیں چلتی بلکہ قرآن نے سب کیلئے زبردست درست اعمال اور بندگی کا معیار مقر ر کردیا اور یہ پہلے سے کتابوں میں بالکل واضح ہے۔

اور انبیاء کرام و صحابہ عظام کی ارواح کو روزی ملتی ہے۔ رحمة للعالمین ۖ بیت المقدس میں انبیاء کرام کے امام بن گئے اور معراج میں انبیاء سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔سب ہی انبیاء اور اچھے لوگوں کا فیض میرٹ کی بنیاد پر پہنچتا ہے لیکن ان سب کا اپنے اپنے سے وابستہ لوگوں سے پیار بھی قائم ہے۔

یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام غیوب O

” جس دن اللہ تمام رسولوں کو جع کرے گا کہ تمہاراکیا جواب ہے؟۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں ، تو ہی غیب کو خوب جانتا ہے”۔( المائدہ:109 )

قبر میں رسول اللہ ۖ کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھذا الرجل ”اور اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟”۔ (صحیح بخاری)تمام انبیاء کرام کی خدمت میں ان کی قومیں پیش ہوں گی۔ رسول اللہ ۖ نے تو مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کیساتھ بھی صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا۔

یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یھدی القوم الکافرینOقل یا اہل الکتاب لستم علی شی ئٍ حتی تقیموا التوراة والانجیل و ما انزل الیکم من ربکم ولیزیدن کثیرًا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانًا و کفرًا فلا تاس علی القوم الکافرینO(سورہ المائدہ :67،68)

”اے رسول ! پہنچادے جو تیری طرف سے تیرے رب نے نازل کیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو رسالت کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ آپ کو لوگوں سے تحفظ دے گا۔بیشک اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو یہاں تک کہ قائم کرو توراة اور انجیل کو اور جو نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف اور ضرور بڑھائے گا بہت ساروں کو ان میں سے کفراور سرکشی کے اندرجو تیری طرف نازل کیا سے توآپ کفر کرنے والی قوم پر افسوس نہیںکریں ”۔

قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئًا ولا یتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا شھدوا بانا مسلمونO ( آل عمران:64)

”کہہ دو کہ اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم غلامی نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں اور ہم ایک دوسرے میں سے بعض بعض کو رب نہیں بنائیں”۔

آج یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر مسلمانوں کا مذہبی طبقہ حلال و حرام قرار دینے میں رب بنادیا گیا ۔ قرآنی آیات میں واضح ہے کہ تمام ادیان میں مشترکات تین ہیں۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنی، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا ہے اور آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بنانا ہے۔

ان دین عنداللہ اسلام

کا مطلب نام کا مسلمان ہونا نہیں ہے۔اگر ہندو، سکھ ، عیسائی ، یہودی، مجوسی، پارسی ، بدھ مت اور کسی بھی مذہبی طبقے کا عقیدہ اور عمل اپنی جگہ درست ہے تو وہ مؤمن بھی ہے اور مسلمان بھی لیکن جب مسلمان خدا کے کلام سے منحرف ہوجائے اور انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ کیونکہ دین کی اصل خدا کے احکام کو دل سے تسلیم کرنا ہے۔

قالت الاعراب اٰمنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا و لما یدخل الایمان فی قلوبکم (الحجرات:14)

”دیہاتی بولے کہ ہم ایمان لائے۔کہہ دو کہ تم ایمان نہ لائے مگر کہو کہ ہم اسلام لائے ،جب تک تمہارے دلوںمیں ایمان داخل ہوجائے” ۔

ومن الاعراب من یؤمن باللہ وا لیوم الاٰخر و یتخذماینفق قربٰتٍ عنداللہ وصلوٰت الرسول الا انھا قربة لھم سیدخلھم اللہ فی رحمتہ ان اللہ غفور رحیم

”اور کچھ دیہاتی وہ ہیں جو اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان لائے۔ جو خرچ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔ (التوبہ:99)

وممن حولکم من الاعراب منٰفقون ومن اہل المدینة مردوا علی النفاق لاتعلمھم نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذابٍ عظیمٍ

”اور اردگرد کے دیہاتیوں میں منافق ہیں اور اہل مدینہ میں کچھ نفاق پر اڑ گئے۔آپ ان کو نہیں جانتے ،ہم جانتے ہیں ان کو عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے۔پھر ان کو عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جائے گا”۔ (التوبہ:101)

رحمت للعالمینۖ23سالہ بعثت تک محدود نہیں ۔

جب قاری محمد طیب نے تکلیف اٹھانے کے بعد نعت پڑھی جسے علماء دیوبند کے اکابر نے آنکھوں کے آنسوؤں کیساتھ سنا تو شرک کے فتوے لگانے والے کہاں گئے؟۔ آفرینش عالم سے پہلے نور نبوتۖ کی رحمت للعالمینی کا سراج منیر بالکل حق ہے۔

” بیشک آپ میت ہو اور وہ سب میت ہیں”۔ کا مطلب برزخی زندگی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی ہے۔ احمق اور گمراہ طبقہ اس سے برزخ کی حیات کا انکار ثابت کرتاہے، اللہ نے فرمایا:

وما ھذہ الحیٰوة الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاٰخرة لھی الحیوان لو کانوا یعملونO(عنکبوت:64)

”اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے مگر فالتو اور کھیل ، بیشک آخرت کا گھر وہی تو اصل زندگی ہے ۔کیا اچھا تھا کہ یہ لوگ جانتے”۔

تبارک الذی خلق الموت والحیاة ۔

اس زندگی کا ہر لمحہ موت اور پھر اصل زندگی عالم برزخ سے شروع ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا :

واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالًا و علی کل ضامر یاتین من کل فجٍ عمیقٍ O ……………ولیطوفوا بالبیت العتیقO

ترجمہ :” اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے ۔تیرے پاس لوگ آئیں گے پیدل اور پتلے دبلے اونٹوں پر دور دراز کی ہر راہ سے آئیں، تاکہ اپنے فائدے کیلئے حاضر ہوں اور جو جانور اللہ نے انہیں دئیے ہیں اللہ کا نام یاد کرکے (قربانی) کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤاور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ،پھر چاہیے کہ اپنا میل کچیل بھی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں”۔( سورہ الحج آیت27،28،29)

یہ دنیا میں بغیرٹاور کے سنگنل پہنچانے کی دلیل ہے۔

جب ہمارے گھر پر2007ء میں دہشت گردوں نے13افراد کو شہید کیا تو کانیگرم کے برکی نے خواب دیکھا کہ” میرے والد پیر مقیم شاہ ہنگامی حالت میں ہیں اور بتایا کہ شہداء آرہے ہیں ان کیلئے تیاری کررہاہوں”۔علماء حق کی ارواح خوش ہوں گی کہ ہمارے سلسلے کے شاگرد نے کام کردکھایا ہے۔ انشاء اللہ

مولاناقاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ سابقMNAچھوٹا لاہور صوابی حال مقیم امریکہ نے کہا کہ ”مجھے اور مولانا فضل الرحمن کو مولاناعبداللہ درخواستی کے نواسے مولانا شفیق الرحمن درخواستی نے اپنے مدرسہ جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور میں بلایا تھا تو ہم وہاں قریب اپنے بزرگوں کے قبرستان کی زیارت کرنے دین پور بھی گئے جہاں خلیفہ غلام محمد ، مولانا عبدالہادی اور مولانا عبید اللہ سندھی کی قبریں ہیں۔ فاتحہ پڑھی تو مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و عقائد سے تھوڑی کراہت ہے ”۔ میں نے کہا کہ چلو مراقبہ کرتے ہیں جب ہم نے مراقبہ کیا تو مولانا فضل الرحمن رونے لگے اور کہا کہ” یہ تو بہت ہی بڑے مرتبے کی شخصیت ہیں”۔تفردات پر لوگوں کو اگر کافر قرار دینا شروع کیا تو کوئی مسلمان نہیں رہے گا۔ سندھی کی شخصیت انقلابی تھی جس کسی نے کہا کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ اسلام نے انقلاب لانا ہے تو جذباتی ہوکر کہا کہ یہ کام انہوں نے نہیں کرنا ہم نے خود کرنا ہے تاکہ لوگ انتظار میں نہ رہیں مگر پھر ان کی اس بات کو پکڑ انہیں خوب بدنام کردیا گیا تھا”۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات سے عقائد اور مسائل میں پختگی مل جائے تو اختلافات بھی رفع ہوجاتے ہیں اور جاہلوں کا مقابلہ پہلے موجودہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن آج بہت زیادہ معاملہ آسان ہوگیاہے اور قرآن سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے عقائد خراب ہوگئے۔

قرآن میں معجزات ہیں اور معجزات کا عقیدہ شرک نہیں ہے لیکن بزرگوں کی کرامات کو سچ یا جھوٹ سمجھنے سے عقائد کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شرک قرار دینے سے قرآن پر زد پڑے گی اور ماننے سے بہروپیہ طبقات بھی بہت فائدہ اٹھائیں گے۔

قرآن کی محکم آیات کو بھی اختلافات کی نذر کردیا گیا ہے اور مشتابہات کا تو تعلق ہی ترقی یافتہ ادوار سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ”زمانہ قرآن کی تفسیر کرے گا”۔

صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:

”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف دیتا ہے ، وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں خود ہوں۔ سب تبدیلیاں میرے قبضہ میں ہیں اور شب وروز کی گردش میرے حکم سے ہے”۔

الرحمٰن Oعلم القراٰن O

” رحمن نے قرآن سکھایا۔ (سورہ رحمان) قرآن ایک آئینہ ہے اور جب زمانہ ترقی کرتا ہے تو متشابہ آیات کی مشابہ چیزیں دنیا میں آتی ہیں اور اللہ اس کی تفسیر بھی انسان کو زمانے میں سمجھا دیتا ہے۔

قرآن میں سورج، چاند اور زمین وغیرہ کے اپنے مدار میں گھومنے کا ذکر14سوسال پہلے تھا لیکن چاند اور سورج گرہن کا اب پہلے سے پتہ چل جانا دراصل قرآن کی تصدیق ہے لیکن اگر ہمارے دعوت اسلامی کا تعلیم یافتہ طبقہ نہیں مانتا ہے تو یہ ان کے مذہب کا نہیں روزی کا مسئلہ ہے۔ ساری دنیا کو تبلیغی بنادو یا دعوت اسلامی میں شامل کردو تو یہود و نصاریٰ کا کم عقل طبقہ اپنا مذہب چھوڑ کر ان کے پاس آتا ہے اور ویڈیوز سے پتہ چلتاہے کہ اسلام قبول کرکے مفادات حاصل کرنا بھی تجارت ہے۔

محمد علی دوبارہ آیوش ملک بن گیا لیکن کسی نے بھی مرتد اور واجب القتل کا فتویٰ جاری نہیں کیااسلئے کہ نتائج کا پتہ ہے۔ رسول اللہ ۖ کے خلاف گستاخانہ کتاب1923میں لاہور کے ایک ہندو دکاندار نے لکھی ۔ مسلمانوں نے بڑا احتجاج کیا اور انگریز نے گرفتار کرنے کے بعد چھوڑا ۔پھر تانگے وال کے بچے غازی علم الدین شہید نے1829ء میںقتل کیا اور مذہبی جماعتوں کے کارکن، مدارس کے طالب علم اور خانقاہوں کے مریدوں نے یہ کام نہیں کیا ۔ آیوش ملک کو چاہیے کہ ویدوں کو پڑھ کر پورے ہندوستان کو شرک سے بچائیں اور ہم اپنے جاہل مسلمانوں کو تعلیم دیکر حقیقی معنوں میں مسلمان بنائیں۔

قسمت کی بات ہے کہ ابولہب نے ایک انگلی کے اشارے سے لونڈی نبیۖ کی پیدائش پر آزاد کردی تو پیر کے دن اس کو بخاری کے مطابق سپلائی ہوتی ہے اور ابوطالب نے ساری کی ساری زندگی لگادی اور جہنم کے نچلے طبقے میں منافق کی طرح پہنچ گیا اسلئے کہ علی کا باپ تھا اور حجاج بن یوسف علی کو بھی جہنمی قرار دیتا تھا اور آج میں علی کا بیٹا ہوں اور یہی میرا قصورہے؟۔

ہمارے ضلع ٹانک کی تمام مذہبی جماعتوں کے امیروں نے مجھ پر کھل کر تحریر اور تقریر میں اعتماد کا اظہار کیا اور صوبائی سطح اور ملکی سطح پر تمام مکاتب کے بڑوں نے تائید کی لیکن پھر بھی مجھ پر فتوے؟۔کوئی ابوطالب کا کافر کہتا ہے تو خیر ہے اور یزید کا بھی احترام کرتا ہے تو مسئلہ نہیں لیکن قرآن کی طرف جس دن آگئے تو تاریخ اور حقائق سب تشت از بام ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ

واقیموا الوزن بالقسط

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ ایران جنگ میں فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر نے زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس میں طاقت نہیں حکمت کو کام میں لایا ہے۔ اہل تشیع کے علماء کے متضاد بیانیہ میں حکمت کے ساتھ توازن قائم کرنا امریکہ ایران جنگ سے بھی زیادہ مشکل معاملہ ہے لیکن ہم اس پر تھوڑی محنت کرنے کا رسک لیتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے ہمیں صلح یا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔

کسی کی اصلاح کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ جس کو مخاطب کیا جائے تو اس کو لگے کہ میری دوستی مقصود ہے دشمنی نہیںاور یہ بھی دیانتداری کا تقاضہ ہے کہ اس کا مؤقف غلط پیش نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اس کو مخالف کے سامنے شرمندہ بھی نہیں کیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدکمال حیدری نے کربلا کی مٹی کا حق ادا کرتے ہوئے شیعہ کے اصلاح کی بڑی زبردست کوشش کی ہے۔عربی میں عنوان لگایا ہے کہ ”اثناعشری دین کو پھاڑ کر رکھ دیا ہے”۔ اس میں بھی شک نہیں کہ پاکستانی شیعہ کا تجزیہ درست ہے کہ ”سنی اور شیعہ میں90فیصد اتفاق ہے لیکن وہابیوں کو کامیابی ملنے کی وجوہات کچھ اور ہیں”۔

اصل بات یہ ہے کہ سید کمال حیدری نے شیعہ کا جو مذہب بیان کیا ہے وہ اصل اختلاف ہے لیکن شیعہ اس کو چھپاتے ہیں اور سنی اپنے علماء کی کتابوں سے جاہل ہیں ورنہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ کامیابی اس بات میں نہیں ہے کہ کسی کو شیعہ یا سنی بنایا جائے بلکہ کامیابی اس بات میں ہے کہ دونوں قرآن پر درست ایمان کی تعلیمات کا معیار بنائیں۔

بارہ امام قرآن سے فتویٰ دیتے تھے اور آج بھی قرآن سے فتویٰ دینا بالکل آسان ہے لیکن شیر سے ویسے بھاگو مت جیسے قرآن میں بدکے ہوئے گدھوں کے فرار کا ذکر موجود ہے۔
ــــــــــ

علی علیہ السلام کا نام توراة میں ایلیا آیا ہے: علامہ سید جان علی شاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عزیز و! بڑا نازک مسئلہ ہے۔ آج ہمارے اہل سنت بھائی عاشق اہل بیت ہیں۔ اہل سنت کی تعداد ہر جگہ پہ زیادہ ہے۔ ادھر شیعہ، ادھر وہابی، بیچ میں اہل سنت ہیں۔ شیعوں اور وہابیوں کی تعداد اور کم ہے۔ تجربہ بتلا رہا ہے جو عقلمندی کرے گا تو مستقبل میں تعداد اس کی بڑھے گی۔ شیعہ سنی عقیدے90%ایک جیسے ہیں۔ وہابی90%دونوں کے خلاف ہیں۔ شیعہ یا رسول اللہ، سنی یا رسول اللہ کہتے ہیں۔ شیعہ عاشق رسول نبی کی ضریح کو چومنا چاہتے ہیں وہابی ڈنڈا مارتے ہیں سنی بھی چومنا چاہتے ہیں۔ شیعہ زیارت پہ جاتے ہیں سنی بھائی زیارت پہ جاتے ہیں وہابی اسے حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ کہتے ہیں یا رسول خدا مدد یا علی مدد مگر وہابی حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت نذر نیاز کرتے ہیں، وہابی حرام سمجھتے ہیں، بدعت سمجھتے ہیں، کافر سمجھتے ہیں اسی طرح عزیزان گرامی اگر آپ گنتے چلے جائیں گے۔ شیعہ اور سنی غم حسین میں روتے ہیںمگر وہابی بدعت سمجھتے ہیں۔ عزاداری دونوں کرتے ہیں، ہمارے سندھ میں پورا سیہون شریف کے سنی ماتم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں چلے گا شیعہ کون ہے محرم میں سب کے لباس کالے ہوں گے۔ مٹیاری شہرمیں وہابی پر بھی ماحول کا اثر ہے وہ بھی ماتم میں شریک ہوتے ہیں زیارت نہیں پڑھتے کہتے ہیں زیارت پڑھنا بدعت ہے۔

آپ نے دیکھا شیعہ سنی کا عقیدہ90%ایک جیسا ہے۔ وہابی90%شیعہ کو بھی کافر سمجھتے ہیں، سنی کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ عقلمندی کیا ہے جن کا عقیدہ90%ہمارے جیسا ہے جو عاشق رسول ہے انہیں ہمیں اپنی طرف بلانا چاہئے یا بھگانا چاہئے۔ توجہ فرمائیں! و ہابی پیسہ دے کر سنی کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ توجہ فرمائیں! اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگ صرف تھوڑی چند منٹ کی واہ واہ کیلئے ایسی بات کر دیتے ہیں کہ وہ سنی بھائی پھر مجلس میں نہیں آتا۔ اب بتایئے یہ کوئی عقلمندی ہے۔ آپ اس سنی بھائی کو وہابیوں کی طرف بھیج رہے ہیں وہ مجلس میں آیا ہے آپ بھگا رہے ہیں۔ صلو ةپڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ تو عقلمندی سے کام لینا ہے۔

عزیزان گرامی! یوٹیوب پر میں نے ایک ویڈیو دیکھی ایسی واقعاً حقیقت ہے کتنی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ ایک سنی بیچارے نے شیعہ سے گفتگو سنی یا مجلس میں جا کے سنا کہ بھئی بی بی پاک گئی تھیں فدک لینے اور بی بی کو فدک نہیں ملا۔یہ سنی بیچارہ کہتا ہے مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جو نبی کے صحابی ہوں وہ فدک نہ دیں؟ کہتا ہے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کہا نیند نہیں آ سکتی۔ بارہ بجے رات میں اٹھا محلے میں میرے ایک مولانا تھے سنی عالم میں نے کہا مولانا میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں۔ کیا پریشانی ہے؟ کہا مولانا یہاں مسئلہ حل نہیں ہوگا مسجد میں آیئے آدھی رات کو سنی عالم کو مسجد میں لے آیا اس کے سر پہ قرآن رکھا وہ گھبرا گیا۔ میں نے کہا مولانا اس کے سوا میری پریشانی دور نہیں ہوگی میں بہت پریشان ہوں صرف دو سوال کہوں گا آپ یہاں کہیں ہاں یا نہیں۔ کیا سوال ہیں؟ کہا مولانا میں نے سنا ہے کہ نبی کی بیٹی فاطمہ زہرا فدک لینے دربار میں گئی تھیں۔ مولانا نے تقریر شروع کی تجھے کسی شیعہ نے بھٹکایا ہے۔ مولانا میں نے تقریر نہیں سنی میں نے کہا ہاں یا نہیں بی بی گئی تھیں یا نہیں؟ سر پہ قرآن ہے آپ کے۔ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں کہا بی بی گئی تھیں۔ صحیح بخاری مسلم میں ہے بی بی فدک لینے گئی تھیں۔ بہت شکریہ۔ دوسر ا سوال خلیفہ نے فدک دیا یا نہیں ؟ مولانا نے کہا نہیں دیا۔ میں نے سر سے قرآن اتار دیا کہا مولانا آپ نے بہت احسان کیا۔ میری مشکل حل ہو گئی۔ کہا تیری مشکل کیسے حل ہو گئی؟ کہا میں بہت گنہگار ہوں مولانا میں بہت گنہگار ہوں۔ اگر میرا کوئی جگری یار ہو نا اور اس کی بیٹی مر جائے وہ وہ مر جائے وہ بیٹی یتیم ہو جائے اگر وہ میرے گھر پر آئے اگر اس کا حق بھی نہ ہو میں گھر بیچ کر دوں گا۔ یہ کیسے یار تھے؟ نبی کی بیٹی کو واپس کر دیا؟۔ ہزاروں لوگ شیعہ بننے کیلئے تیار ہیں۔ تڑپ رہے ہیں بے خبر ہیں بیچارے۔ ہمارے منبر سے انہیں بلایا نہیں بھگایا جا رہا ہے۔ دو منٹ کی واہ واہ کی خاطر۔

عزیزان گرامی! اب بچپن سے انہوں نے تعریفیں سنی ہیں۔ آپ کو یہ پتا ہوگا کہ ایران نے ایک اسمگلر کو جہاز سے اتار کر پھانسی دی تھی۔ ریگی نام تھا اس کا۔ یہ بلوچ تھا جس نے ایران میں سوسائڈ اٹیک (خود کش حملے)کئے تھے اور کتنے مومنین کو شہید کیا تھا۔ تو امارات کے جہاز سے اتار کے اس کو پکڑ کے پھانسی دینے سے پہلے اس سے پوچھا کہ تو کیسے جوانوں کو تیار کرتا ہے؟ کہ ایک جوان خود کو مارتا ہے اور حملہ کرتا ہے۔ اس نے کہا میں کچھ نہیں کرتا سب کام آپ کے مولوی کرتے ہیں۔ بتایئے یہ ریگی کا انٹرویو ہے۔ کہتا ہے میں کچھ نہیں کرتا میرا کام آسان تمہارے مولوی اور ذاکر کرتے ہیں۔ میں50-40نوجوانوں کو بلاتا ہوں اچھا کھانا کھلاتا ہوں پھر میں نے کلپ بنائے ہوئے ہیں جو آپ کے مولوی جو تبرہ بازی کرتے ہیں جو ان پر الٹی سیدھے جملے کستے ہیں میں وہ انہیں دکھاتا ہوں۔ انہوں نے بچپن سے تعریفیں سنی ہیں کہ یہ عاشق رسول ، عاشق اہل بیت ہیں جب وہ سنتے ہیں تو ان میں سے10قسم کھاتے ہیں کہ ہم تب تک یہ کام نہیں کریں گے بیوی کے پاس نہیں جائیں گے یا نکاح نہیں کریں گے جب تک ہم60-50شیعوں کو مار نہ دیں۔ کہتے ہیں سارا کام جو ہے نا آپ کے علما کرتے ہیں۔ میںنے صرف ان کی کلپیں بنائی ہوئی ہیں اور وہ میں دکھاتا ہوں۔

عزیزان گرامی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم چند منٹ کی واہ واہ کیلئے اپنی قوم کو مروا رہے ہیں۔ یا وہابی بنوا رہے ہیں کہ آنے والا سنی وہ چلا جاتا ہے یا ہم اپنی قوم کو مروا رہے؟۔ کیونکہ خود خدا کہتا ہے قرآن میں کہ آپ کسی کے برے خدا کو برا نہ کہیں کہیں آپ کے سچے خدا کو کوئی نہ کہے۔ خود امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا جس سے مولا سخت ناراض ہوئے کہا کہ یہ تبرے کیلئے شرائط ہیں کہ تم اس کے سامنے تبرہ پڑھو جس کو پتہ ہو کہ یہ ظالم ہے۔ دوسرے کو پتہ نہیں کہ یہ ظالم ہے جب تو اسے ظالم کہے گا، برا بھلا کہے گا اس نے مولا علی کو برا بھلا کہا اس کا مجرم تو ہے۔ امام سخت ناراض ہوئے کہ تبرے کے شرائط ہیں جو جتنے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو پتہ ہے یہ بندہ ظالم ہے اس نے بی بی کا گھر جلایا ہے اس نے حضرت محسن پہ ظلم کیا اب آپ تبرہ کریں تو کوئی بات نہیں کیونکہ سب کو پتہ ہے لیکن ایک کو پتہ ہی نہیں ہے وہ اسے عاشق رسول سمجھ رہا ہے عاشق علی سمجھ رہا ہے عاشق اہل بیت سمجھ رہا ہے آپ کہیں گے تو کیا ہوگا وہ آپ کا دشمن ہوگا۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔

عزیزان گرامی! بہت دھیان بہت ہوشیاری سے کام کرنا ہے۔ پاکستان میں40سال پہلے وہابیوں کی تعداد5%تھی اور وہابی اگر کسی کو کہیں غصہ کرتے تھے ہم عاشق رسول ہیں ہمیں وہابی مت کہو وہ گستاخ ہیں رسول کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں سنی برداشت نہیں کر سکتا اور اگر وہابی مسجد میں کوئی چلا جائے ہمارے شہر میں تو بہت بری نگاہ سے دیکھتے تھے وہابی ہے۔ اب وہابی30%فیصد ہو گئے ۔ بعض اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔5سے40سال میں40-30فیصد کیسے بنے؟ ۔ ہم ان پہ ہنستے ہیں یہ بستر بند، لوٹے والا لطیفے بناتے ہیں۔ بستر لوٹے والے تبلیغ کر رہے ہیں ۔ہر وہابی انجینئر، ڈاکٹر ،پروفیسر بارہ ماہ میں ایک مہینہ وقف کرتا ہے تبلیغ اسلام کیلئے۔ بتایئے آپ میں سے کتنے ایک مہینہ وقف کرتے ہیں؟ ہم تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بھائی تبلیغ کا حق تو ہمیں ہے کہ ہم امام کا انتظار کر رہے ہیں۔ تبلیغ کا حق ہمیں ہے کہ ہم باب مدینة العلم کے ماننے والے ہیں۔ وہ تبلیغ کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ۔

ہر وہابی نے قسم کھائی ہے کہ مرنے سے پہلے10لوگوں کو وہابی کرنا ہے۔ اگر ہر شیعہ قسم کھا لے کہ مرنے سے پہلے10اہل سنت کو مومن بنانا ہے تو ہماری تعداد10گنا بڑھ جائے گی۔ ہم تبلیغ کرتے نہیں۔ ہم نارتھ امریکہ سے آ رہے ہیں بتایا کہ وہابی ہر سال50ہزار امریکن کو مسلمان بناتاہے۔ عزیزان گرامی! ہم تبلیغ کر ہی نہیں رہے۔ ایک آدمی کو مسلمان بنانے پہ کم از کم ایک لاکھ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ آپ کو خرچ نہیں کرنا۔ بغیر خرچ کے آپ مسلمان کر سکتے ہیں۔ ہمارے ایک مولانانے امریکہ میں بہت ساروں کو مسلمان کیا بھئی آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا میں پکی پکائی روٹی کھاتا ہوں۔ کہا وہ کیسے؟ کہا جیسے وہابی مسلمان کرتے ہیں وہ تیار شدہ مال5سال مدرسے میں پڑھے ہوئے میں ایک کتاب بھیج دیتا ہوں انہیں تیجانی کی ”پھر میں ہدایت پا گیا” (Then I was Guided)یا نائٹس آف پشاور یعنی شبہائے پشاور ایک کتاب پڑھ کر وہ5سالہ تیار مولانا شیعہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعصب نہیں رکھتے نا امریکن حق کی تلاش میں ہیں۔ کتنے ہمیں ملے جو شیعہ ہیں وہ پہلے وہابیوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے۔5سال مدرسے میں، لندن میں ایک ملا میں نے کہا تو کیسے شیعہ بنا؟ کہا میں ایسے شیعہ بنا کہ وہابیوں نے مجھے مسلمان بنایا اور میرے استاد نے مجھے سند دی کہ تو امام بن گیا، نماز پڑھا سکتا ہے مولوی بن گیا لیکن خیال رکھنا کبھی شیعہ سے بات نہ کرنا۔ میں نے کہا شیعہ کون ہے؟ کہ یہ شیعہ کافر ہیں بہت برا بھلا کہنے لگا، شیعہ نے40جز قرآن بنایا ہے یہ کافر ہیں ان سے کبھی بات نہ کرنا اتنا ڈرایا اتنا ڈرایا کہ میرے دل میں شوق پیدا ہو گیا کہ ایک شیعہ کو دیکھ تو لوں۔ یہ کیا ہے بھوت ہے جن ہے کیا ہے اتنا ڈرایا۔ تو کہا میں امریکہ نیویارک میں ٹیوب میں جا رہا تھا ریلوے اسٹیشن میں قرآن مجید میرے پاس تھا ماہ مبارک رمضان تھا سامنے ایک مسلمان قرآن پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے نزدیک گیا اسلام علیکم وعلیکم السلام مسلمان ہو؟ کہا ہاں مسلمان ہوں۔ کون سے مسلمان ہو؟ اس نے کہا میں شیعہ مسلمان ہوں۔ اوہ یہ ہے شیعہ۔ تو استاد نے کہا تھا کہ بھئی یہ قرآن نا شیعوں کا40جز بڑھا دیا ہے اس لئے کافر ہیں۔ تو میں نے کہا بھئی یہ قرآن مجھے دے سکتے؟ کہا بسم اللہ ۔ میں نے جیب سے قرآن نکالا دیکھا ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور بقرہ ادھر بھی سور بقرہ ادھر سارا قرآن وہی ہے ایران کا چھپا ہوا۔ میں نے کہا بھائی یہ قرآن مجھے تھوڑے دن کیلئے چاہئے کسی کو دکھانا۔ کہا بسم اللہ۔ میں گیا اس وہابی استاد کے پاس کہ جی آپ نے کہا تھا شیعوں کے قرآن میں40جز ہیں یہ دیکھو ایران سے چھپا ہوا وہی قرآن۔ ایک دم وہ ملاغصے میں آ گیا کہ تجھے منع کیا تھا شیعہ سے ملا کیوں؟ کہا میں بھی غصے میں آ گیا کہ مسلمان بنا تیرا غلام تو نہیں بنا کہ کسی سے ملوں نہیں۔ کہا جب تیری ایک چیز جھوٹی ہو گئی اب سب پہ شک ہو گیا۔ مجھے واپس تحقیق کرنی ہے۔ میں گیا اس شیعہ کے پاس بھائی کوئی شیعہ مذہب کا کتاب ہے اس نے مجھے یہی کتاب دی "Then I was Guided” (پھر میں ہدایت پا گیا)۔ تیجانی کی کتاب ختم ہو گئی میں نے اعلان کیا علی ولی اللہ۔ صلوة پڑھئے نعرہ حیدری یا علی نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ نعرہ حیدری یا علی حیدری یا علی حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد نعرہ صلوة۔

یقین جانیئے آپ50-20ایسے لوگوں کو مسلمان کو شیعہ کر سکتے ہیں۔ جو عیسائی سے مسلمان ہوئے صرف یہ کتاب بھی مفت میں آپ جا کے گوگل میں سرچ کریں (Then I was Guided) ایک ڈالر کا خرچہ نہیں آپ پہلے سرچ کریں کنورٹڈ مسلمان ۔ وہابیوں نے بہت کئے انکے ای میل لے لیں اور یہ کتاب بھیج دیں مفت میں آپ کا یہ کام ہو جائے گا اور ایک بندہ بھی شیعہ کر دیا تو آپ کی جنت پکی ہے صلوة پڑھ دیں محمد و آل محمد پہ۔

آپ نے دیکھا دو ٹیکنیکس وہابی کیوں بڑھے40فیصدی30فیصدی بعض جگہ مقامات پر یہی کہ یہ بستر بند ہر سال مہینے میں تبلیغ پہ جاتے ہیں اور کھینچتے ہیں انہیں پیسہ دیکر کھینچتے ہیں اور دوسری ٹیکنیک کیا ہے؟ یہ اپنے مولویوں کو مکے اور مدینے سے پی ایچ ڈی کراتے ہیں۔ ڈاکٹر بناتے ہیں مکے مدینے سے اور پھر بھیجتے ہیں انگلینڈ۔ ان کیساتھ یورپ میں یونیورسٹیاں ہیں وہاں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کراتے ہیں یعنی ڈاکٹر سے اوپر۔ یہ نہ پاکستان میں ہے نہ ایران میں تھرڈ ورلڈ کنٹریز غریب ملکوں میں ہے ہی نہیں۔ ان کا مولوی پوسٹ ڈاکٹریٹ کر کے انگلینڈ سے چلا گیا۔ جب کراچی یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی میں کوئی پروفیسر مر گیا ریٹائر ہو گیا یہ انٹرویو کیلئے آیا تو اسے تو سیٹ ملنی ہی ملنی ہے کیونکہ کوئی بندہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ہے ہی نہیں۔

دوسرا ان کا نقطہ یہ ہے کہ پورے دنیا کی یونیورسٹیوں پہ انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وزیر، سفیر وہیں حکومت کے لوگ کہاں سے نکلتے ہیں؟ یونیورسٹی سے۔ ہم سندھ تبلیغ کرنے جاتے تھے8-7علماء تو ہم نے دیکھا کہ اگر6مہینے بھی تبلیغ کریں حالانکہ چھوٹا ہے پنجاب سے تو بھی ہر گاؤں میں نہیں جا سکتے۔ اگر ہم سندھ یونیورسٹی میں بیٹھ جائیں کراچی یونیورسٹی میں ہم ایک لاکھ پمفلٹ یا کتابیں چھاپیں اور ہم لڑکوں میں تقسیم کر لیں تو ہر گاؤں میں ہمارا میسیج چلا جائے گا۔ کیونکہ ہر شہر ہر گاؤں کا اسٹوڈنٹ موجود ہے۔ اب آپ نے دیکھا کہ وہابیوں کی ٹیکنیک کہ یونیورسٹیوں پہ قبضہ کریں اسلئے ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہماری کوئی یونیورسٹی نہیں ہے مثلا پورے یورپ، امریکہ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ انکے پاس پیسہ ہے، ہمارے پاس پیسہ نہیں۔ پیسہ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے سوچا نہیں کہ یونیورسٹی کتنی اہم ہے۔ کئی سالوں سے ہم کوشش کر رہے تھے ایک یونیورسٹی بنائیں اب انگلینڈ میں یونیورسٹی بنائیں تو10سال کالج کواور ہزار اسٹوڈنٹ ہونا چاہئے50ڈاکٹر ہونا چاہئے ایک دو ملین کا پیسہ ہونا چاہئے یعنی بہت مشکل ہے۔

ہم کوشش کرتے رہے الحمدللہ مولا نے مدد کی تقریبا ابھی اسی سال8مہینے ہو گئے مولا علی کے نام جو مولا علی کا نام تورات انجیل میں ہے ایک یونیورسٹی ایلیا یونیورسٹی ہالینڈ میں ثبت ہو گئی ۔ یونیورسٹی رجسٹر اور700اسٹوڈنٹ پڑھ رہے ہیں الحمدللہ آن لائن۔700اسٹوڈنٹس سائیکالوجی اسلامک سائیکالوجی اور چائلڈ سائیکالوجی بچے کی سائیکالوجی پڑھ رہے ہیں۔ مولا سرکار امام زمانہ نے ایک تحفہ دیا اور ایک ایسا علم دیا ہے جو اس وقت کسی یونیورسٹی کے پاس نہیں ہے۔ اور انشااللہ اس کو ہم شروع کرنے والے ہیں ایک مہینے میں اور اس سے آپ بھی فائدہ کریں۔ ایک بندہ تھا یہ بیچارہ سمجھو کہ شہید زندہ ہے جنگ میں8سال تھا پھر کیمیکل گیس سے یہ زخمی ہو گیا تھا۔ جرمنی میں5سال بستر پہ تھا۔5سال کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہ5سال اس مومن نے ضائع نہیں کئے۔ یہ پڑھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ایسی چیز بناؤں جو دنیا میں کہیں نہ ہو کیونکہ جتنا انسان خاموش رہتا ہے اتنی عقل بڑھتی ہے۔5سال خاموشی میں فکر کرتا رہا اور مولا نے اسے تحفہ دیا۔ تھا بھی شہید یعنی پورا زخمی تھا۔ اللہ نے کیا تحفہ دیا جناب اس کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ ایک کورس کراتا ہے وہ ایک سال کا بھی ہے6مہینے کابھی، انسان کی صلاحیت پر ہے کہ ایک منٹ میں آپ5ہزار سے7ہزار الفاظ پڑھ سکتے ہیں۔یعنی اس کے شاگرد ایک ہفتے میں3ہزار صفحات پڑھ لیتے ہیں۔ یہ ایک چیز ۔

دوسری چیز اس نے کیا فوٹو میموری یعنی کوئی چیز یاد کرنا ہے اس کا فوٹو نکال دیتا ہے وہ آپ کو بھی سکھائے گا کہ فوٹو میموری پہلے بھی تھا یعنی کروڑوں میں ایک آدمی تھا، اس نے یہ ٹیکنیک نکالی ہے کہ ہر آدمی کے اندر فوٹو میموری ہے اگر وہ کوشش کرے۔ کروڑوں میں ایک آدمی ہوتا تھا کہ جو دیکھ لے ایک مرتبہ یاد ہوجاتا تھا۔ فوٹو میموری کی ٹریننگ شروع کی اس وقت18ہزار اس کے شاگرد ہیں ہماری یونیورسٹی میں بھی ہیں وہ کیا ہے کہ قرآن مجید چار مہینے میں آپ حفظ کر سکتے ہیں۔ ہاں جی چار مہینے میں یعنی ہر دن 12 صفحے قرآن کے فوٹو نکالیں گے یاد نہیں کریں گے بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ رٹنا نہیں ہے۔ جب آپ فوٹو نکالیں گے تو آپ سے پوچھیں گے پہلی لائن پہ پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ بتائیں گے۔ درمیانہ لفظ کون سا ہے؟ ایسا کوئی حافظ نہیں ہے۔ آخری لفظ کون سا ہے؟ دوسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ تیسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ فوٹو نکالیں گے۔ اس نے40ایکسرسائز بنائی کہ آپ کا فوٹو میموری بن جائے۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ توجہ فرمائیں۔ اب اس سے اپنی قوم کو ترقی دلانی ہے۔ اگر یہ ٹریننگ آپ لیں ایک سال بھی لگ سکتا ہے6مہینے بھی ٹائم کتنا دیتے ہیں۔ تو آپ کا پھر کیا حال ہوگا؟ اگر یہ فوٹو میموری آگیا اور ریڈنگ ایک ہفتے میں3ہزار صفحے آپ پڑھ لیں گے تو آپ چار مہینے میںبی اے…6مہینے میںایم اے ایک سال میں ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔PHDکر سکتے ہیں۔ الحمدللہ یہ اپنی ایلیا یونیورسٹی سے نیکسٹ منتھ ہم شروع کرنے والے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ ہم تین زبانیں بھی سکھائیں گے ایک مہینے میں۔ فارسی عربی انگلش۔ قرآن بھی آپ پورا ترجمہ کر لیں گے یہ ہم نے پہلے اس پہ کام کیا تھا تین زبانیں سال میں آپ کا بچہ اور آپ بھی سیکھ سکیں گے۔

روزگار کیلئے بھی ہم نے دو پروگرام اور کئے کلاؤڈنگ کیونکہ یہ امریکہ میں ہمارے ساتھ استاد ہیں کلاؤڈنگ اگر آپ سیکھ لیں یہ ایک سال میں آرام سے سیکھ لیں گے تو جتنے بھی کلاؤڈنگ کی ٹیکنالوجی آسان ہے آپ کی تنخواہ کم سے کم جو تنخواہ ہے امریکہ میں اور یہاں80ہزار ڈالر سال میں ہے۔ اور پلس وائپ، موبائل میں یہ وائپ ٹیکنالوجی ہم سکھائیں گے آپ کو اسی ایک سال میں تنخواہ دو لاکھ ڈالر ہے۔ دشمن ہمیں مار رہا ہے اقتصادی نقصان کر رہا ہے تو ہم اپنی قوم کو ٹیکنالوجی میں اتنا آگے بڑھائیں کہ دشمن کو شکست ہو ۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔
ــــــــــ

ابولہب، اسکی بیوی کا نام قرآن میں آیا توپھر علی… علامہ سید کمال حیدری

یہ خالص قرآنی اصول ہے کہ قرآن کریم کسی چیز کو پیش کرتا ہے، تو کیا اس کی اہمیت پرخاص توجہ کو ظاہر کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ ہمیں ہاں یا نہ میں جواب دیجیے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ (قرآن)ہی بنیادی محور، یہی اساسی کتاب ہے اور یہی اسلام کا دستور ہے؟ آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ کا جواب ”نہیں” ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ جب قرآن کسی چیز کو چھیڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک خاص اہمیت دے رہا ہے، یعنی اپنے معرفتی نظام کے بنیادی ستونوں میں شامل کر رہا ہے اب اگر وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کا ذکر نہیں کرتا، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ سب خاموش کیوں ہو گئے؟ قرآن نے کس چیز کو پیش کیا ہے؟ اس نے ابو لہب کا ذکر کیا اور فرمایا:

تبت یدا ابی لہب و تب

آپ خود اپنے اور اللہ کے درمیان انصاف سے بتائیں، قرآن میں ابو لہب کا ذکر زیادہ اہم ہے یا شیعہ امامت؟ آپ حضرات تو امامت کو اگر توحید سے بڑھ کر نہیں، تو کم از کم توحید کی قبولیت کی شرط قرار دیتے ہیں کہ جس کے پاس امامت نہیں، اس کی توحید بھی قبول نہیں۔ اگر یہ توحید سے زیادہ اہم نہیں توحید کی شرط ہے۔ تو کیا قرآن نے اسے پیش کیا ہے یا نہیں؟ جواب دیجیے! روایات کی بات مت کیجیے، کیونکہ روایات میں تو ہمارا آپس میں اختلاف ہے۔ سامنے والے کے پاس صحیح بخاری اور میرے پاس الکافی ہے، اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ متفق علیہ بنیاد تو قرآن ہے۔ کوئی آیت دکھائیے جو ہر زمانے میں امام کی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرتی ہو۔ آپ کہیں گے کہ قرآن نام نہیں لینا چاہتا، چلو میں نام نہیں مانگتا، لیکن یہ تو کہے کہ ہر زمانے میں معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی آیت کہاں ہے؟ میرے سامنے یہ آیت مت پڑھیں کہ

یوم ندعو کل اناس بامامہم

اور پھر یہ کہیں کہ روایات میں یوں آیا ہے روایات کو چھوڑئیے، یہ آیت کہتی ہے کہ ”ہم پکاریں گے ان کے امام کیساتھ”۔ تو کیا اس سے ہر زمانے کا امامِ زمانہ ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو دوسرے فریق کا بڑا اعتراض ہے، اس پر توجہ اور تحقیق کیجیے۔ دوسرا فریق یہ نہیں کہتا کہ اگر قرآن میں امامت کی ضرورت پر کوئی آیت آتی تو میں امامت کا انکار کر دیتا، بلکہ وہ پوچھتا ہے کہ یہ اصول قرآن میں کہاں ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن نے اسے پیش ہی نہیں کیا، تو کیا امامت کوئی بنیادی معرفتی اصل ہے یا نہیں؟ اگر یہ توحید، نبوت اور معاد کے درجے کی اصل ہے، تو کیا ان اصولوں پر سینکڑوں آیات نازل نہیں ہوئیں؟ خدا کی توحید ثابت کرنے کے لیے کیا آپ کو کسی روایت کی ضرورت پڑتی ہے؟ قرآن خود کہتا ہے:

فاعلم انہ لا الہ الا ہو

۔ توحید، نبوت اور معاد پر سینکڑوں آیات موجود ہیں، لیکن امامتِ خاصہ شیعہ پر کوئی ایک آیت کہاں ہے؟۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نے اشارہ کیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہاں؟ وہ کہتے ہیں کہ آیت

ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا

میں بارہ مہینوں کا ذکر ہے اور ائمہ کی تعداد بھی بارہ ہے۔ خدا کے لیے بتائیے، کیا یہ کوئی منطق ہے؟ یہ آیت مہینوں کی تعداد سے مربوط ہے، اس کا ائمہ کی تعداد سے کیا تعلق؟ شاید باطن میں کوئی ربط ہو، لیکن ظاہری قواعد کے حساب سے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح آیت

انی جاعلک للناس اماما

کا کیا تعلق ہے؟ یہ آیت تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مربوط ہے، اسے مولا امام جواد علیہ السلام سے جوڑنے کا کیا جواز ہے؟ آپ کے اور حق کے درمیان کیا ربط ہے؟ یہاں آپ کو مجبوراً روایات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ بات روایات تک پہنچتی ہے، تو وہ اپنے روایتی نظام کو مانتا ہے اور آپ اپنے نظام کو، اور مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے نماز کا حکم تو دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکعتوں کی تعداد بیان فرمائی، بالکل اسی طرح امامت کا معاملہ ہے۔ یہ بڑا عجیب استدلال ہے! کیا آپ نماز کا موازنہ امامت سے کر رہے ہیں؟ نماز فروعِ دین اور رکعتیں فروع کی بھی فروع ہیں، یہ قیاس مع الفارق ہے۔ مزید برآں، قرآن نے صاف لفظوں میں

یا ایہا الذین امنوا اقیموا الصلاة

فرما کر اصلِ نماز کو قرآنی طور پر ثابت کر دیا۔ آپ امامت کی اصل کو قرآنی طور پر ثابت کر کے دکھائیں۔ میں آپ کو علمی چیلنج دیتا ہوں، علمی چیلنج دیتا ہوں کہ آپ امامت کی اصل کو قرآن سے ثابت کریں، یہ تو نماز کی طرح بھی ثابت نہیں ہے۔

کوئی ایسا بارہ امامی شیعہ عالم نہیں جو باطنی طور پر مسلمانوں کے کفر کا حکم نہ لگاتا ہو۔ جی ہاں، ظاہری حکم میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا ان پر کفار کا حکم لاگو ہوگا یا مسلمانوں کا۔ بعض علما، جیسے ”کتاب الحدائق”کے مصنف صاحبِ حدائق کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی کفر اور دنیاوی نجاست کے محکوم ہیں، چنانچہ وہ دنیا میں کتے اور خنزیر کے حکم میں ہیں۔یہ صاحبِ حدائق کے الفاظ کی صراحت ہے۔ جبکہ دوسرے بعض علما، جو کہ اب مشہور رائے ہے جیسے آیت اللہ سید خوئی اور ہمارے دیگر جلیل القدر فقہا، وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ان کے ظاہری اسلام کا حکم لگائیں گے، لیکن باطنی طور پر، آخرت کے حشر اور کلامی ابعاد کے لحاظ سے شیعہ علما کا انکے کفر پر اتفاق ہے۔ میں یہ بات پوری تحقیق اور تتبع کیساتھ کہہ رہا ہوں، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ مجھے قائل کر کے دکھائے۔ جی ہاں، آیت اللہ سید کمال حیدری کہتاہے کہ یہ کفر کا حکم اسلامی اور دینی نظام کے لوازمات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ مخصوص (تفسیر)کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے امامت کو سمجھا ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے علما میں اس پر کوئی اختلاف نہ ہو؟ میں کہتا ہوں کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام ان پر یہ نتیجہ فرض کرتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پورے دین کا نظام، بلکہ وہ مخصوص فکری قرآت جو انہوں نے اپنائی، اس نے ان پر یہ نتیجہ فرض کر دیا اور وہ مخصوص قرآت پر متفق ہو گئے۔ایسا کیوں ہے؟ جواب یہ کہ روایتی نصوص انہیں اسی نتیجے کی طرف لے جاتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ میرا اپنا موقف کیا ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں روایتی دلیل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ روایتی نصوص میں جھوٹ، جعل سازی اور من گھڑت باتیں اس حد تک شامل ہیں جو تصور سے باہر ہیں۔

جب آپ سے کہا جائے کہ قولِ صحابہ حجت ہے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ اسے قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں؟ آپ کیوں قبول نہیں کرتے؟ یہ کیسا منطق ہے کہ شیعہ علماء کی بات آئے تو وہ آپ کو کھینچ کر کنویں کی طرف لے جائیں اور آپ مان لیں، لیکن صحابہ کی بات آپ کو منظور نہ ہو؟ اسی لیے میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شیعہ علماء نے بغیر کسی بنیاد کے فتوی دیا ہو۔ یہی بات اللہ کے حضور صحابہ کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، آپ صحابہ پر شک نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ صحابہ امیر المؤ منین کے زمانے تک اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اور جنگوں میں جاتے رہے۔ کیا یہ سب منافق تھے؟ وہ لوگ جنہوں نے عراق، فلسطین، روم اور فارس کو فتح کیا اور وہ جہاد کیلئے گئے نہ کہ مال و غنائم جمع کرنے کیلئے، کیا وہ سب مرتد اور منافق تھے؟ یہ کون سی منطق ہے؟ جی ہاں، اگر وہ خلافت کو اس نص کے مطابق نہیں سمجھ پائے جو امیر المؤ منین کیلئے تھی، تو میں کیا کروں؟ کیا وہ سب کے سب معاند تھے؟ اور اگر سب معاند تھے تو جہنمی ہوں گے، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کیوں گئے ؟۔صحابہ پر اعتراض کرتے ہیں، تو آپ پورے دین پر اعتراض کر رہے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ۖسے پورا دین ہم تک صحابہ کے واسطے سے ہی منتقل ہوا ۔ اگر آپ صحابہ کو ہی مشکوک بنا دیں گے، تو پھر کوئی دین باقی نہیں رہے گا، یہاں تک کہ قرآن بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ کے عقیدے کے مطابق اصل قرآنی نسخہ تو امام حجت کے پاس مخفی ہے، اور آپ جو قرآن استعمال کر رہے ہیں، یہ تو صحابہ کا قرآن ہے جنہیں آپ کافر، مرتد، منافق، فاسق اور فاجر کہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں!کیونکہ آپ کا یہ ماننا ہے کہ اصل نسخہ امیر المؤ منین کے ہاتھ میں تھا، جو ان کی اولاد سے ہوتا ہوا امام حجت تک پہنچا اور انشا اللہ وہ آخری زمانے میں اسے لیکر ظاہر ہوں گے،یہی ہمارا منطقی عقیدہ ہے۔

اگر آپ صحابہ پر شک کریں گے، تو نہ کوئی حدیث بچے گی اور نہ ہی کوئی دین بچے گا، کیونکہ دین انہی کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے اخباریوں نے کہا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخباریوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کے مطابق یہ بات کہی تھی، میں ان کی تائید نہیں کر رہا، کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ سید کمال حیدری اخباری ہو گئے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ جو قواعد آپ نے قائم کیے، انکے تحت اخباریوں کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہے، کیونکہ قرآن خلفاء کے عہد میں جمع ہوا تھا، تو یہ حجت ہے یا نہیں؟ ان کے نزدیک یہ حجت نہیں ہے، تو پھر ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ صرف احادیث کی کتابیں بچتی ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ فکری ارتقا کسی مخصوص روایت سے نہیں لیا گیا، بلکہ یہ معصوم کے فعل، معصوم کی تقریر اور دیگر مجموعی دلالتوں سے حاصل کیا گیا ہے۔

عزیزانِ گرامی!شیعہ امامت میں عصمت کا عقیدہ ثابت اور غیر تبدیل شدہ امر ہے یا یہ وقت کیساتھ تبدیل ہوا ہے؟ پچھلی بحث میں ہم نے واضح اور صریح طور پر بیان کیا تھا کہ شہیدِ ثانی نے اپنی کتاب ”حقائق الایمان” میں کیا فرمایا ہے۔ ان کی عبارت بالکل واضح تھی، فرمایا کہ ان (ائمہ)کے اکثر راویوں اور شیعوں سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ائمہ علیہم السلام کو ایسے علماِ ابرار(نیک و سائر علما) مانتے تھے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی۔ اسی لیے سید بحر العلوم اس مقطوعہ حصے کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ ایسا ہی تھا، اور یہ عقیدہ خطا سے معصوم ہونے کی تصدیق سے خالی تھا۔ تو کیا تشیع کا معیار ائمہ کی عصمت پر ایمان لانے پر موقوف ہے یا نہیں؟ پہلی تین صدیوں تک عصمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر علمائِ مذہب کی رائے تبدیل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس عصمت پر دلیل قائم ہو چکی ہے۔ ”روضہ الکافی” مجلد15، روایت نمبر362میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے، عزیزو توجہ کیجیے اور اپنے سروں میں محفوظ کر لیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس امر (تشیع)کا دعوی کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ خود شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے”۔ میرے عزیز!یہ انسانوں کے روپ میں شیاطین ہیں، جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا:

شیاطین الانس والجن

یہ لوگ شیعوں میں موجود انسانوں کے شیاطین ہیں۔ آپ کہیں گے کہ سیدنا! اس کا لازمی نتیجہ تو پورے نظام کا ہدم (انہدام) ہے، تو میرا جواب یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے ہدم ضروری ہوتا ہے۔ کچھ افکار کا گرانا ضروری ہے، یا کم از کم ہمیں کچھ افکار کو گرانے پر سوچنا چاہیے تاکہ ہم ایک نئی عمارت کھڑی کر سکیں۔ میرے عزیز!اگر آپ اس مادی عمارت میں آئیں جس میں ہم اس وقت موجود ہیں، اور آپ مجھ پر پانچ اعتراضات اٹھائیں، تو آپ اس کی جگہ اس سے بہتر عمارت کب بنا سکیں گے؟ پہلے آپ کو اس موجودہ عمارت کو گرانا ہوگا، ورنہ آپ اس پر دوسری عمارت نہیں کھڑی کر سکتے۔ اسی لیے عزیزو! میں صاف کہتا ہوں کہ میرا منہج پہلے علمی ابھار اور ہدم ہے، اسکے بعد تعمیر ہے۔ یہ واقعی ایک المیہ ہے، المیہ ہے، المیہ ہے! واللہ اگر آپ ہماری کتابوں کی طرف رجوع کریں تو المیے بلکہ رسوائیاں ہیں، کیونکہ وہاں ایسی روایات کی بہت بڑی تعداد ہے جو خرافات، اسرائیلیات اور جھوٹ پر مبنی ہیں جنہیں کوئی عاقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ ایک معصوم امام ایسی بات کہے۔

آئیے عزیزو! ہم اہل بیت کے موروثی روایتی ذخیرے کا جائزہ لیں۔ سید محمد سعید الحکیم کہتے ہیں کہ روایات کے موروثی ذخیرے کا زیادہ تر حصہ ملاوٹ شدہ اور من گھڑت ہے۔ ہم نے یہ بات کہی ، کہتے ہیں، تاکید کرتے ہیں اور اپنی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارا بہت سا موروثی سرمایہ جو ہم تک پہنچا ہے، وہ اسرائیلی روایات سے سرایت کر کے ہم تک پہنچا ہے۔ عزیزو! میں یہ بات سائنسی اور علمی دلیل کیساتھ بالکل صاف اور واضح طور پر کہتا ہوں کہ شیعوں کی ایسی کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے جس کی مکمل توثیق امامِ وقت(امام حجت)نے فرمائی ہو۔ تمام کتابوں میں صحیح روایات بھی ہیں اور باطل بھی۔ نہ اصولِ اربعمائہ (400اصول)کی حیثیت ہے، نہ کتبِ اربعہ کی، اور نہ ہی ”کتاب الکافی” ہمارے شیعوں کیلئے مکمل طور پر کافی ہے۔ یہ تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔ ہمارے پاس موجودہ موروثی ذخیرے میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو امام حجت کے سامنے پیش کی گئی ہو اور انہوں نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس میں موجود ہر چیز صحیح ہے، اور میں کسی بھی شخص کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر ایک بھی دلیل لے آئے کہ کوئی کتاب، حتی کہ ”اصولِ کافی” بھی، اصولِ اربعمائہ کی تو بات ہی چھوڑیے، ایسی توثیق یافتہ ہو۔

میں معتبر ذرائع کا یہ کہہ رہا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات من گھڑت ہیں ”بحار الانوار” کا تو زیادہ تر حصہ ہی من گھڑت اور موضوع ہے۔ میں یہ بات دوسرے لوگوں پر اتمامِ حجت کیلئے کہہ رہا ہوں جو علامہ مجلسی کو معیار مانتے ہیں، ورنہ میرے نزدیک مجلسی علمی معیار نہیں ہیں، میں انہیں صرف روایات کا جامع (جمع کرنے والا)مانتا ہوں نہ کہ ایک محدث۔ ”تفسیر القمی” کے بارے میں میرا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ یہ ائمہ کی تفسیر نہیں۔ بھلا آپ ہی بتائیے، اللہ کیلئے کیا کوئی امام یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی ۖ زینب کے گھر گئے اور انہیں اس حالت میں دیکھا کہ نبی کے دل میں سما گئیں؟ کیا یہ نبی کی شان ہے قرآن کہتا ہے: وانک لعل خلق عظیم؟ یہ”تفسیر القمی” ہے، اس تفسیر میں شاید کچھ روایات صحیح ہوں، لیکن ملاوٹ شدہ، مسخ شدہ اور تحریف شدہ ہے، بہت زیادہ ہیر پھیر ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، چلیے عراقیوں کے محاورے میں بالکل صاف صاف بات کرتے ہیں، یہ بات ختم ہوئی کہ ”تفسیر المیزان” بھی اسرائیلی روایات سے بھری پڑی ہے، وہی ”تفسیر المیزان” جو شیعوں کے نزدیک بہترین تفسیر مانی جاتی ہے۔ ہمارے پاس ”تفسیر العیاشی” کی تمام روایات مرسل ہیں، اور ”تفسیر القمی”ہمارے نزدیک ثابت ہی نہیں۔

عزیزو! ان کتابوں سے مراد اصولِ اربعہ کے مصنفین کی کتابیں ہیں جو اصلِ فلان اور اصلِ فلان کے نام سے جانی جاتی ہیں، یہ لوگ ان کتابوں میں من گھڑت روایات شامل کرتے تھے اور ائمہ پر جھوٹ باندھتے تھے، خود ہمارے علمائِ طائفہ نے یہ نقل کیا کہ ان میں جھوٹ، ملاوٹ، تزویر، غلو اور زندیقیت تھی۔ خود اہل بیت فرماتے ہیں کہ غالیوں اور دشمنوں نے ہمارے اصحاب کی کتابوں کو زندیقیت، جھوٹ اور غلو پر مبنی روایات سے بھر دیا، جن میں مخالفین کو گالی گلوچ، سب و شتم اور لعن طعن کی روایات شامل ہیں۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ روایات ہمارے دشمنوں کی من گھڑت ہیں۔ خدا گواہ ہے، کچھ روایات ایسی ہیں جن کی نہ کوئی سند ہے اور نہ کوئی اصل، جیسے لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں: ”دعائے صنمائے قریش” اللہ کی قسم! اس کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی سند، نہ کوئی مستند اور نہ ہی کوئی مآخذ، اسے صرف جاہل اور عوام ہی پڑھتے ہیں۔

دوسری بات مصنف کی پہچان ہے، عزیزو! جب تک ہم مصنف کے فکری نظریات سے واقف نہیں ہوں گے، شیخ کلینی کو نہیں سمجھیں گے، ہم یہ نہیں جان سکتے کہ انہوں نے مخصوص نصوص کو کیوں نقل کیا اور دوسروں کو کیوں چھوڑ دیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کے پاس روایتی نصوص کی جو تعداد موجود تھی، وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھی جو انہوں نے ”کتاب الکافی” کے اصول، فروع اور روضہ میں ہم تک منتقل کی ہے۔ انہوں نے روایات کے دوسرے مجموعوں کو چھوڑ کر اسی مخصوص مجموعے کا انتخاب کیوں کیا؟ مثال کے طور پر، کلینی نے نوابِ اربعہ سے کوئی ایک روایت بھی کیوں نقل نہیں کی؟ کیا یہ ایک سوالیہ نشان ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ انکے ہم عصر تھے یا نہیں؟ وہ ان کے بالکل ہم عصر تھے۔ تو پھر ”کتاب الکافی”میں ایک بھی روایت کیوں نہیں نقل کی؟ ممکن ہے کہ دوسرے مآخذ میں نقل کی ہو، لیکن ”کتاب الکافی” میں کیوں نہیں، جو کہ شیعوں کے نزدیک مطلق طور پر سب سے اہم حدیثی مآخذ ہے؟ یہ کتاب اسلئے اہم ہے کیونکہ یہ اصول اور فروع کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ دوسری کتبِ ثلاثہ شیخ طوسی اور شیخ صدوق کی کتب، وہ صرف فروع سے مربوط ہیں، ہماری اصل اور معتمد کتاب ”کتاب الکافی” ہے۔ بعض اکابر کے دعوے کے مطابق کہ فقیہ کیلئے نیابتِ عامہ ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں کہ فقیہ تمام امور میں امام کا نائب ہوتا ہے۔ یہ نظریہ ولایتِ فقیہ ہے جس کے تحت زعامت صرف مجتہد کیلئے مخصوص ہوتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کتاب میں کوئی اصل نہیں ملی۔

آپ کہیں گے کہ ان ابحاث کو تو شہیدِ ثانی نے مرتب کیا تھا اور وہ ولایتِ فقیہ کے قائل تھے؛ جی ہاں، انہوں نے اسے مرتب کیا تھا، بہت اچھے۔ وہ اپنے استاد شہید محمد باقر الصدر کے تابع ہو کر ولایتِ فقیہ کے قائل تھے، لیکن یہ نظریہ بالکل واضح اور صریح طور پر آیت اللہ سید خوئی کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ میں ا نکے تمام کلمات کو وقت کی کمی کی وجہ سے پیش نہیں کرتا، میں صرف مآخذ کا حوالہ دے دیتا ہوں تاکہ عزیزان خود اس کا مطالعہ کر لیں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کل کو لوگ سید خوئی کی طرف وہ باتیں منسوب کرینگے جو انہوں نے کہی نہیں ہوں گی۔ میں یہ بات کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک دینی موقف اور ولایت کے اصول کے تحت کہہ رہا ہوں۔ سیاسی ولایت غیبت کے زمانے میں فقیہ کیلئے کسی خاص دلیل سے ثابت نہیں۔ اس بات پر اچھی طرح توجہ کیجیے، یہ بہت اہم ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف سیاسی ولایت فقیہ کیلئے ثابت نہیں ہے، بلکہ منصبِ قضا (عدالت)بھی فقیہ کیلئے ثابت نہیں، یعنی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قضاء کے معاملات کو سنبھالے۔ یہ مستند آپ کے سامنے ہے، میں عبارت پڑھ دیتا ہوں کیونکہ کل میں نے اسے نہیں پڑھا تھا۔ سید خوئی کا یہ مستند، جو شیخ مرتضی بروجردی کی تقریرات پر مبنی ہے، اس سے پہلے کہ میں اقتباس پیش کروں، میں یہ واضح کر دوں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قضاوت ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے غیبت کے دور میں یہ ذمہ داری فقیہ کے سپرد نہیں کی۔ شارع نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ فقیہ کی ذمہ داری نہیں۔

اب اگر لوگ خود ان کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو وہ انہیں حکم بتا سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کی طرف رجوع نہ کرے، تو کیا فقیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کیلئے آگے بڑھے؟ یہ ذمہ داری ان پر نہیں۔ یہی بات تیسری کڑی میں امام پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ کیا امام پر یہ ذمہ داری ہے؟ یہ نظریہ کہتا ہے کہ امام اور نبی پر تو ذمہ داری تھی، لیکن فقیہ پر نہیں ہے۔ ”مستند العرو الوثقی”جلد دوم میں شیخ مرتضی بروجردی، جو ہمارے استاد سید خوئی کی تقریرات ہیں، اس مقام پر کلام کا یہ خلاصہ کرتے ہیں کہ کیا امامِ دوازدہم (امامِ غائب)نے غیبت کے زمانے میں علما کو قضاوت کا منصب عطا کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی بھی معتبر لفظی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔

بے شک سید خوئی رحم اللہ علیہ کی عبارت اس سلسلے میں بہت بہترین ہے، میں عبارت پڑھوں گا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ

آپ اپنا آدھا بجٹ سود پر لگارہے ہیں۔ ہندو سینیٹر دنیش کمار

پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر ہو رہا ہے۔ میں قرآن پاک کی آیات کوڈ کرتا ہوں تو پتہ نہیں سر، نہیں فتوی تو نہیں آتا ، میں حقیقت بتاتا ہوں، سورہ البقرہ آیت نمبر275میں:جو لوگ سود کھاتے ہیں، قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہونگے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہے ، پاگل بناد یا ، اس طرح کھڑے ہوں گے ۔ سورہ البقرہ279،278میں:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ۔

جنہوں نے اسلام قبول کیا ، مسلمان کے افعال ایسے ہیں تو میں کیسے اسلام قبول کروں ؟ ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ آئیں، بٹ صاحب، ن لیگ کی حکومت ہے، اسلامی بن جائیں، میں اسلام قبول کر لوں گا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے، حدیث نمبر1598، ٹھیک ہے سر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضور پاک ۖ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ پھر بھی ہم اپنے بجٹ کا50فیصد حصہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں دے رہے ہیں، سر یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔

پاکستان نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ، سر یہ کس کی وجہ سے ہوا؟۔اگر ہم اس شخص کا نام نہ لیں تو منافقت ہوگی، یہ سید برادری عاصم منیرفیلڈ مارشل کی وجہ سے ہوا ، جن کی وجہ سے یہ چیز ہوئی، کیونکہ ہم نے آج سے14سو سال پہلے اہل بیت کی خدمت کی، مجھے پتہ ہے سید عاصم منیر کیساتھ کوئی غیبی طاقت ہے جس نے یہ ناممکن کام ممکن کر کے دکھایا ہے۔

آج ہم بجٹ پر بحث کر رہے ہیں، کن کو سنائیں؟ سر بجٹ پر بحث کرسیوں کو سنائیں، دیواروں کو سنائیں، اتنی سیریسنیس حکومت کی کہ کوئی منسٹر موجود نہیں، ہمارے لیے شرم کا باعث ہے، ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے چلو بھر پانی میں، اگر چلو بھر پانی ہے مجھے دیں میں ڈوب مروں سر، اور کسی کو نہیں۔

آپ(یوسف رضا گیلانی) کسٹوڈین آف ہاس ہیں، آپ آج انہیں کہیں کہ اگر یہ نہیں آتے تو اجلاس منسوخ کریں۔ سر کہاں ہے؟ (بشری بٹ وزیر ہوتی روز بیٹھی ہوتی ہیں:یوسف رضا گیلانی)۔ نہیں سربشری بٹ صاحبہ کا میں بتاتا ہوں، ان کے ساتھی انہی کے پاؤں کاٹتے ہیں، اس بیچاری کو منسٹر نہیں ہونے دیتے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟ یہ بشری بٹ کا یہ میں آپ کو سناتا ہوں، بشری بٹ منسٹر ہوتے ہوتے رہ گئی ہے کیونکہ ان کے اپنے ساتھیوں کی سازشوں کی وجہ سے۔

یہاں پر کوئی بھی بیٹھا نہیں جو ہماری سنے، میں صرف اور صرف دیواروں کو سناؤں، قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا دکھڑا سناؤں سر، آپ اجازت دیں تو سناؤں یا نہیں۔ میں ابھی آپ کو اپنا دکھڑا سناتا ہوں اور تو اور سنگین مذاق دیکھیں۔ آپ کے سائے تلے سنگین مذاق ہو رہا ہے، پہلے بجٹ میں افسران کی کرسیاں بھری ہوتی تھیں، ہماری تجاویز وہ نوٹ کرتے تھے، آج دو تین پتہ نہیں کون سے افسر بیٹھے ہیں بیچارے، سینیٹ کو کوئی سیریس نہیں لیتا، حیران ہوں کہ کس قسم کا ایوان بالا ہے، ہم گھر سے پگ باندھ کر آتے ہیں کہ ہم ایوان بالا کے ممبر ہیں اور یہاں پر آکر یہ حشر ہے ہمارا کہ کوئی بھی ہماری نہیں سنتا۔ شکر ہے منسٹر صاحب آگئے ، میرے خیال میں ڈیسک بجائیں رانا صاحب آگئے ۔ دیر کر دی مہربان آتے آتے، (ویسے20گریڈ کے افسرز ، ایف بی آر، فنانس سے بیٹھے ہیں، فنانس کمیٹی کے چیئرمین خود نوٹ کر رہے ہیں:گیلانی)۔ سر فنانس کمیٹی کے چیئرمین نے خود اپنی بے بسی کا اعلان کیا کہ میری کوئی نہیں مانتا، یہ سن لیں ان سے۔ تو ان کا بیٹھنے کا فائدہ ؟۔یہ سچ نہیں بولتے ، باہر آکر بولتے ہیں کہ ہماری اس حکومت میں ذرہ برابر نہیں چلتی، فنانس کمیٹی کے چیئرمین کا فائدہ کیا؟

(زیادہ سچ نہیں بولو دنیش:ایوان سے آواز) ۔اگر ہم سچ نہیں بولیں گے تو ملک کا بیڑا غرق کریں گے جھوٹ پر رہے تو اسی طرح سے نہیں چلے گا۔ میں آتا ہوں بجٹ پر۔ اپوزیشن نے کہا کہ یہ غریب دشمن بجٹ ہے، حکومت نے کہا کہ یہ غریب دوست بجٹ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں کہوں کہ دشمن بجٹ ہے تو بھی غلط ہے، دوست بجٹ ہے تو بھی غلط ہے سر۔ ہم ایسی مشکلات میں ہیں کہ عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے ہیں میں ایمانداری سے اپنے اوپر لیتا ہوں، یہ آپ بتائیں، یہ کتابوں کا پلندہ اتنا بڑا بجٹ کا، کیا یہ میں14دن میں پڑھ سکتا ہوں اور ہم بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمیں عبور حاصل ہے، میں کہتا ہوں کہ نالائق ترین ہوں کہ ایک پرسنٹ بھی یہ کتابیں نہیں پڑھیں، اپنے اوپر لیتا ہوں دوسروں کو نہیں بولتا ۔ اتنی بڑی کتاب ہے، یہ بیوروکریٹک بجٹ ہے، کوئی عوامی بجٹ نہیں، جو بیورو کریسی چاہتی ہے، جو ڈکٹیشن ملتی ہے وہی آتا ہے ۔بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ سے60ارب کے قریب کٹوتی کی گئی اور وفاق کو دیا گیا ۔ بلوچستان ملک کا آدھے سے زیادہ ہے۔ سمندری ایریا کاؤنٹ کریں بلوچستان کا تو پاکستان کا60فیصد بنتا ہے،آپکے شاید علم میں نہیں ہو،250ارب، دو کھرب50ارب ٹوٹل بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ ہے جو لاہور کے بجٹ سے بھی کم ہے ،60ارب کی کٹوتی بہت بڑی ناانصافی ہے۔ رانا ثنا اللہ صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ بلوچستان کے لوگ عذاب میں ہیں۔ دہشت گردی ہے، وہاں کے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، مگر بلوچستان کے اوپر وفاق بھی اگر ایسا کرے تو ہم کہاں جائیں؟
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

افغان طالبان میں فقہ کے غلط استنباط کیخلاف بہت بڑی تبدیلی زبردست خوش آئندہے

عربی چینل نے افغان طالبان میں بھرتی خواتین پولیس اور دیگر ملازمین کی ویڈیو بنائی ہے۔ اردو اور پشتو میں بھی اس طرح کی ویڈیوز آجاتیں تو بہت اچھا اثر پڑتا۔ امیرالمؤمنین ملا محمد عمر اخوند کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے جو شاید آخری دور ہی کی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ہم نے جوہری دھماکہ لکھی تھی تو طالبان کی طرح ملامحمد عمر نے بھی ویڈیو کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کیاتھا۔ میری کتاب ”آتش فشاں” بیت اللہ محسود کی گاڑی میں تھی تو عبدالرشید برکی شہید نے اسکے ڈرائیور سے پوچھا تھا۔ بیت اللہ محسودنے کہا تھا کہ یہ ایسی علمی شخصیت ہے جس پر تبصرہ کرنے کی بھی ہم اپنے اندر اہلیت نہیں رکھتے۔

دنیا میں تیسری عالمی جنگ ٹلنے کے بعد نمایاں تبدیلیاں نظر آنی شروع ہوگئی ہیں۔ امریکہ کے موجودہ نائب صدر نے کہا کہ ”میرے دل کے قریب دو افراد ہیں۔ پاکستان کے سید حافظ عاصم منیر اور میری بھارتی بیگم ”۔ پورپ ، چین اور عرب میں پاکستانی اور ہندوستانی آپس میں سگے چچازاد لگتے ہیں۔

یہ بھی دنیا نے سوچا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آسکتی ہے؟۔ پھر یہ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ امیرالمؤمنین ملاعمر کی ویڈیو بھی آجائے گی؟۔ پھر یہ کسی نے سوچا تھا کہ طالبان کی خواتین پولیس فورس ہوگی؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ رسول اللہۖصحابہ کے سامنے آیات کی تلاوت فرماتے اور ان کا تزکیہ فرماتے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے۔

اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ”جس کو حکمت دی گئی تو تحقیق وہ خیر کثیر پاگیا”۔ سینیٹررمیش کمار کا انکشاف کہ50%بجٹ تو سود پر اللہ اور اسکے رسول ۖ سے اعلان جنگ پر جارہاہے۔خطے کی بیداری پوری دنیا کی بیداری ہے۔ حکمت عملی سے بڑے بڑے کام ایسے طریقے پر ہوسکتے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے مفتی محمد شفیع اور فتاویٰ شامی کے حوالے سے لکھا تھا ”عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے”۔ حالانکہ پہلے گھروں میں لیٹرین، پانی، گیس اور کچرہ پھینکنے کا کوئی ایڈوانس طریقہ نہیں تھا۔ عورتوں کو ان سب کاموں کے علاوہ پنج وقتہ نماز، طواف اور صفا ومروہ مردوں کیساتھ کرنا ہوتاتھا۔ مفتی منیر شاکر شہیدنے پشتو میں افغان صحافی خاتون کو انٹریو دیتے ہوئے تفصیل سے عورتوں کی ایک بہت بڑی فہر ست جاری کی جو درس دیتی تھیں،تجارت بھی کرتی تھیںاور ان میں صحابیاتاور بعد کے ادوار کی عورتیں تھیں۔

بعض لوگ بالکل غلط تصورات کھڑے کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ اجتہاد کے نام پر دین میں تحریف کی جائے۔ حالانکہ دین وہی ہے جو قرآن وسنت میں موجود ہے لیکن علماء وفقہاء کی غلط فہمیوں اور ہٹ دھرمی نے دین میں تحریف کر ڈالی ہے جس کو تبدیل کرکے اسلام کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنا دین ہے اور اس کی مثال علامہ سید سلیمان ندوی کی معارف اعظم گڑھ میں تصاویر کے جواز کیلئے قرآن وسنت ، صحابہ وتابعیناور فقہاء مدینہ کے حوالے سے دلائل کے انبار ہیں لیکن مفتی محمد شفیع نے جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوبند کے مدرسہ کی پشت پناہی سے مولانا ابواکلام آزاد اور علامہ سید سلیمان ندوی کو مجبور کیا اور اگر وہ مجبور نہ کرتے تو طالبان بھی سختی نہیں کرتے۔ اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ مفتی محمد شفیع نے نماز اور زکوٰة کے حوالہ سے معارف القرآن کی غلط تفسیر لکھ ڈالی جس سے ملاعمر نے دھوکہ کھایاتھا۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو اسلامی قرار دیا اور2%فیصد اپنا کھاتا بھی رکھاہے جس کی عادت الائنس موٹر میں پڑی تھی تو اسلامی سود میںبجٹ کا50کی جگہ52%سود میںدیاجاتا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نوبل انعام کا حقدار پاکستان جس نے تیسری عالمی جنگ رکوائی ، حکمرانو!عوام پر رحم کرو اور لیوی ٹیکس ختم کرو

کرنل انعام الرحیم :بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم جناب! آپ کو اور میرے ناظرین کو میرا سلام پہنچے۔

معمر قذافی:وعلیکم السلام اچھا سر!جو یہ معاہدہ کروایا ہے پاکستان نے، جس طرح فیلڈ مارشل نے اپنا کردار ادا کیا، پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنا کردار ادا کیا، جس طرح تہران میں ایران کو سمجھایا، پھر امریکہ کو سمجھایا ، جس طرح جے ڈی وینس (JD Vance) آئے ہیں۔ تیسری جنگِ عظیم کی جو باتیں لوگ کر رہے تھے، اس کو جس طرح اسرائیل طول دینا چاہ رہا تھا لیکن پاکستان نے کامیاب سفارت کاری (Diplomacy) سے اس جنگ کو نہ صرف بند کروایا بلکہ معاہدے پر دستخط تک کروائے ہیں، تو اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟۔

کرنل انعام الرحیم:میں سمجھتا ہوں اس صدی کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ یہ صدی کا عظیم فیصلہ ہے۔ پہلے کبھی یہ نہیں ہوا کہ جنگ جو شروع ہو گئی، امریکی صدر بغیر سوچے سمجھے اپنے تمام فوجی لیکر آیا اور اس نے کہاکہ میں تہذیبوں کو تباہ کر دوں گا، پہلے حملے میں ایرانی100نمایاں رہنما، جن میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کی کابینہ تھی پوری ٹیم کو امریکہ نے شہید کر دیا۔ اور امریکہ کا یہی خیال تھا کہ اتنی ہلاکتیں ہو جائیں گی کہ اگلے دن ایران ہتھیار ڈال دے گالیکن ایران کھڑا رہا، استقامت دکھائی، مزاحمت کی۔ ایران کا بنیادی ڈھانچہ، پل اور سڑکیں اس نے تباہ کر دیں اور سب سے پہلا حملہ جو شہر میں کیا گیا، اس میں66بچیاں شہید کر دی گئیں، اسکول پر اس نے حملہ کیا۔ اس کا ذہن یہ تھا کہ ہم ان لوگوں کے حوصلے توڑ دیں گے۔

اسرائیل اس حملے کے پیچھے تھا کیونکہ امریکہ نے خود کہا کہ پہلے ایران کیساتھ اوباما نے بڑا پرامن معاہدہ تھا۔ ایک بھی میزائل فائر کیے بغیر ہم نے ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اصولی طور پر اسی معاہدے کو آگے چلنا چاہیے تھا مگر اس نے کہا جی کہ یہ ایک فضول معاہدہ تھا، میں ایک اور معاہدہ کروں گا اورایران سے سب کچھ چھین لوں گا۔ ایران نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے حملہ کر دیا اور اس حملے میں وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے اور ایران ان کے مقابلے پر ڈٹ گیا۔ یہ وہ نازک لمحہ تھا جب اس نے کہا جی کہ اب میں ان کی تہذیب کو تباہ کر دوں گا۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی حکومت اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر آگے بڑھے ، براہِ راست رابطہ کیا سینٹکام سے۔ پاکستان کی ہاٹ لائن پہلے سے قائم ہے۔ پہلی بار ایک اور ہاٹ لائن قائم کی گئی چین ، ایران اور ناٹو (NATO) ممالک کیساتھ بھی۔ تو دیکھا جائے تو یہ111دنوں کی ایک ریلے ریس تھی۔ یہ111دنوں کی جنگ ہے ہمارے لیے۔ ان کیلئے تو وہی جنگ تھی جب امریکہ نے حملہ کیا تھا، لیکن پاکستان کے لیے یہ جنگ111دنوں پر محیط تھی۔

اندازہ کریں چین کسی اور ٹائم زون میں رہ رہا ہے، امریکہ کسی اور ٹائم زون میں ہے، ناٹو کسی اور ٹائم زون میں ہے، روس کسی اور ٹائم زون میں ہے اور ایران کسی اور ٹائم زون میں ہے، لیکن جو سی ڈی ایس (CDS)سیکریٹریٹ تھا وہ چوبیس گھنٹے متحرک رہا اور اس نے تمام نمایاں رہنماں سے رابطہ کیا اور انہیں امن قائم کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ناقابلِ تصور تھا کیونکہ ٹرمپ جیسا لاابالی آدمی، غیر متوقع شخص جو صبح بیان کچھ اور دیتا ہے اور شام کو کچھ اور، اس کو ایک معاہدے پر لے آنا اور میز کے اوپر بٹھا دینا، یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

صرف خطے کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو گئی تھی، امریکہ میں بھی لائنیں لگنے لگ گئی تھیں۔ ٹرمپ نے بڑی پلاننگ کی کہ اس نے پہلے وینزویلا پر قبضہ کیا اور کہا ہم نے اسکا تیل قبضے میں لیا لیکن جب جنگ چھڑ گئی اور امریکہ کے اندر جب تیل کی قیمت بڑھی تو تیل ایک بنیادی چیز ہے بھائی، اس سے ہر چیز کی قیمت جڑی ہوتی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی۔اور یہ صرف امریکہ میں مہنگی نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلی تھی اور ایران بند کرنا نہیں چاہتا تھاکیونکہ اس کا دنیا پر بڑا برا اثر پڑتا، ہماری ساکھ بھی متاثر ہو گی لیکن ٹرمپ نے کہا میں بند کروں گا اور ایران کو تیل نہیں بیچنے دوں گا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں تیل ملنا مشکل ہو گیا اور یہی وہ وجہ تھی کہ ناٹو ٹرمپ کے خلاف ہو گیا۔ انہوں نے کہا:ہم سے پوچھا ہی نہیں ہے۔

یہ پہلا بڑا جھٹکا تھا جو ٹرمپ نے نیول چیف کو بلا کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لیں۔ نیول سیکریٹری نے کہا: ہمارا سب سے بڑا جو بحری بیڑہ ہے”ابراہام لنکن”وہ وہاں ہے۔35دیگر جہاز ہیں، ہم قبضہ کر لیں گے لیکن ہم قبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے، ہم وہاں سے نکل نہیں سکیں گے۔ ایران کے پاس تیز مقرر کشتیاں (Speedy boats)ہیں، وہ انتہائی پرعزم لوگ ہیں، وہ ہمارے بیڑے کا بیڑہ غرق کر دیں گے۔ امریکی نیوی کے سابق چیف نے کہا کہ امریکی نیوی تاریخ میں پہلی بار خوفزدہ ہوئی کہ ڈر کے مارے باہر کھڑی ہوئی ہے۔

ایران نے اگلا قدم یہ اٹھایا کہ ابراہام لنکن پر حملہ کیا،ان کا خیال تھا کہ اس پر حملہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ دنیا کا بہترین دفاعی نظام لگا ہوا ہے ۔12جہازاپنے حصار میں اسے سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اس کا ڈیک (Deck) ہیٹ کیا ۔ امریکہ کو ابراہام لنکن لے جانا پڑا، پہلے یونان پھر یورپ کے کسی ملک کی کسی طرف لے گئے، ابھی وہ تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ امریکہ چھپائے پھرتا ہے، یہ بتا بھی نہیں رہا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ جب وہ شپ یارڈ میں جائے گا مرمت کیلئے،تو کم از کم ایک دفعہ ایئر کرافٹ کیریئر شپ یارڈ میں مرمت کیلئے جاتا ہے تو ایک سال لگ جاتا ہے،یہ بہت بڑا جھٹکا تھا جو ان کو پہنچا۔

جب امریکہ نے ایرانی جہاز پر حملہ کیا ۔ عملے(Crew)کو گرفتار کر لیا، یہ بڑی نازک گھڑی تھی۔جب سی ڈی ایس نے فوری طور پر سینٹکام سے رابطہ کیا، یہ آپ ایک اور قدم آگے لے گئے، آپ جہاز اور عملے کو ہمارے حوالے کریں ورنہ ہم معاملے سے باہر نکل جائیں گے۔ تو ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کہہ رہے ہیں، اسی طرح کریں۔ وہ ایرانی جہاز اور اس کا عملہ پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ پاکستان میں طبی معائنہ ہوا پھر ایران روانہ کیا۔ ایرانی سڑکوں پر نکل آئے جب عملہ بالکل خیر و عافیت سے پہنچا۔ جہاز کو ہم نے مرمت کے بعد حوالے کیااور اسکے بعد ایران کو اعتمادہواکہ پاکستان کچھ کر سکتا ہے، ورنہ دنیا والے مذاق اڑا رہے تھے کہ پاکستان نے کیا سمجھوتہ کرانا ہے، کس طرح ضامن (Guarantor) بن گیا، خاص طور پر بھارتی میڈیا ہمارے خلاف پوری مہم چلا رہا تھا۔

ہمارے ہاں کچھ عاقبت نااندیش تھے جنہوں نے بجائے یہ دیکھنے کے کہ اللہ نے ہمیں عزت دی، پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کیساتھ یہ عالمی بحران بن گیا، ایران نے جنگ کو پھیلا دیا۔ مڈل ایسٹ کے ان ممالک پر حملے کیے جہاں امریکی اڈے (Bases)تھے اور پیغام دیا کہ اگر آپ امریکہ پر تکیہ کر رہے ہیں تو وہ حفاظت نہیں کر سکتا، ہم ان اڈوں پر حملہ کریں گے جہاں امریکی طیارے ہیں۔ بے شمار امریکی طیارے… وہ تو بعد میں سامنے آئے گا کہ امریکہ کے کتنے نقصانات ہوئے۔ سعودی عرب نے کہا جی کہ ہمارا کوئی اڈہ ایران کے خلاف استعمال نہ ہوگا، یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ جیسے ہی سعودی اڈے پر حملہ ہوا تو یہ تھرڈ پارٹی حملہ تھا، ایران نے نہیں کیا۔ اسرائیل موقع کی تاک میں تھا کہ ایک میزائل وہاں مار دو اور پھر ایران کے ماتھے لگا دو۔

فوری طور پر سی ڈی ایس نے سعودی عرب کا دورہ کیا، قائل کیا کہ یہ حملہ ایران نے نہیں کیا پھر وہ ایران گئے اور قائل کیا ۔CDFاور شاہ سلمان (یا ولی عہد)نے اعلان کیا کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، یہ بڑی کامیابی تھی اور اس کے بعد پاکستان نے سیکیورٹی کیلئے اپنے فوجی وہاں تعینات کیے، ایئر فورس تعینات کر دی، ان سے کہا کہ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کو تحفظ فراہم کریں گے کیونکہ اگر آپ امریکہ سے تحفظ لیں گے تو آپ ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن جائیں گے۔ یہ پورے مڈل ایسٹ کو بتا دیا گیا، جس کی وجہ سے ہمارا دفاعی معاہدہ ہو گیا سعودی عرب ، پھر قطر نے بھی ہم سے رابطہ کیا تو کئی دوسرے مڈل ایسٹ کے ممالک ہیں جو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں، ہمیں امریکہ کے تحفظ کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ خود غرض اسرائیل کے کہنے پر کچھ بھی کر سکتا ہے، جبکہ ان کی بلکہ پوری دنیا کی رائے ہے۔ ایران نے ابھی ایک فہرست شائع کی ہے کہ دنیا کے یہ ممالک ہیں جنہوں نے پاکستان کو سراہا ہے۔

یہ معاہدہ آخر میں سوئٹزرلینڈ میں ہوا لیکن ابھی بھی اس کا نام ”اسلام آباد اکارڈ(Islamabad Accord)”ہی ہے۔ نام تبدیل کر کے ”سوئٹزرلینڈ اکارڈ” نہیں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ دنیا کی جتنی قیادت ہے، روس نے کہا جی کہ پاکستان نے اس خطے میں بطور ضامن بہترین کردار ادا کیا۔ چین نے خصوصی شکریہ ادا کیا کیونکہ سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا۔ امریکہ چین کا تیل بند کرنا چاہتا ہے تاکہ چین کی ترقی کو روکا جا سکے اسلئے وینزویلا پر قبضہ کیا ۔ چین وہاں سے تیل لے رہا تھا۔ پاکستان نے چین کی لائف لائن کا تحفظ کیا۔ جو ڈرافٹ امریکہ نے بھیجا ایران نے مسترد کر دیا۔ ایران کا جوابی ڈرافٹ بھی مسترد ہو گیا، تو پاکستان نے ڈرافٹ تیار کیا جو انتہائی متوازن تھا پڑھیں تو آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ ایران کے تمام مفادات کا خیال رکھا گیا کہ ایران پر پابندیاں نہیں ہوں گی، تعمیر نو ہوگی، امریکہ فنڈز کا بندوبست کرے گا،300ارب ڈالر وہ دے گا اور لے کر دے گا اور اس کے جتنے ضبط شدہ اثاثے ہیں وہ بھی واشگاف کیے جائیں گے۔ امریکہ کی بڑی خواہش تھی کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی چھین لی جائے۔

امریکہ ہارے ہوئے ملک کے طور پر سامنے آیا۔ جنگوں میں صرف فاتح ہوتے ہیں، رنر اپ کوئی بھی نہیں ہوتا۔ امریکہ جس مقصد کیلئے آیا تھا وہ مکمل طور پر ناکام ہو ا، اپنی جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔ پاکستان نے مداخلت کر کے بچایا اور ایک لحاظ سے امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور امریکہ کو تمام شرائط بھی ماننا پڑیں امریکہ کہتا تھا کہ ہم ایران پر پابندی لگائیں گے کہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی یا میزائل پروگرام کو ختم کریںلیکن اب ٹرمپ نے خود بیان دیا کہ اور بھی ممالک میزائل بنا رہے ہیں تو ایران کو میزائل ترک کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ایرانی اس سلسلے میں بہت سخت تھے کہ ہمارے پاس میزائل ہی تو رہ گئے ہیں۔

نیوکلیئر پر اوباما کیساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ اتنے فیصد، چھ فیصد کے قریب یورینیم کی افزودگی وہ کر سکتا ہے، وہ جاری رہے گی؛ اور وہ ایران پہلے بھی اعلان کر چکا کہ ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

دنیا کے تمام ممالک نے، یہاں تک کہ یو این او کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کو مبارکباد دی کہ آپ کی بروقت مداخلت سے جنگ بند ہوئی، خطہ امن میں آیا۔ ورنہ اسرائیل، یو اے ای اور بھارت کی خواہش تھی کہ جنگ ہو۔ تینوں نے سراہا نہیں۔ اسرائیل تو سب سے زیادہ اس کا ناقد ہے، اور یہی واحد وجہ بنی اس دفعہ کہ اسرائیل نے معاہدے کے دوران بھی لبنان کے اوپر حملہ کیا اور اس کی وجہ سے ٹرمپ اتنا پریشان ہوا، اس نے کہا اسرائیل ہمارے اس معاہدے کو ختم کرانا چاہتا ہے، ہمیں اس جنگ کے اندر گھسیٹنا چاہتا ہے۔ تو اس نے پہلی بار اسرائیل پر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ آپ ہماری وجہ سے ہیں، اگر امریکہ پیچھے سے ہٹ گیا تو آپ زندہ ہی نہیں رہ پائیں گے۔

پہلی بار جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں اسرائیل کی مذمت کی کہ آپ اپنی پوزیشن پہچانیں،ہمیں جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ امریکی سینیٹرز نے یہ کہا کہ پہلی بار امریکی عوام دیکھی، جو اسرائیل کی محبت میں مری جا رہی تھی، ان کو پتہ چل گیا کہ جنگ کے پیچھے اسرائیل تھا۔ یہاں تک کہ جو ویٹرن سوسائٹی سابق فوجیوں کی تنظیم نے کہا جی ہم اپنے بچے اسرائیل کیلئے مرنے کیلئے نہیں بھیجیں گے، اور ٹرمپ کو بھی پتہ چل گیا کہ جس نیتن یاہو کو خوش کرنے کیلئے میں یہ کر رہا تھا وہ تو میری بات بھی نہیں مان رہا، اس نے بھی اسے جھڑکا اور پہلی بار اسے ڈانٹا کہ تم کوئی بات مانتے ہی نہیں ہو، تم کیا چاہتے ہو خطے سے؟ اور یہ بھی امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ان کا ایک انتہا پسند وزیر امریکہ کا دورہ کرنا چاہتا تھا، امریکہ نے اس کو ویزا نہیں دیا کہ ہم آپ کو امریکی سرزمین پر بھی نہیں اترنے دیں گے۔ تو یہ دیکھیں، یہ ہوتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور اس میں نفرت اتنی بڑھ چکی ہے۔

معمر قذافی:اچھا سر! اس خطے پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ ۔

کرنل انعام الرحیم:پوری دنیا پر کیا اثرات بنیں گے؟ اس کے دو اثرات ہیں؛ ایک اثر تو پوری دنیا پر پڑا کہ تیل کی قیمتیں واپس آ گئیں، جو دنیا کی معیشت تباہ ہو رہی تھی وہ خطرے سے بچ گئی اور چیزیں معمول پر آ گئیں، اور اگلے15-20دن میں تیل کیساتھ جڑی ہوئی چیزوںکے نرخ نیچے آ جائیں گے۔ یہ پہلی نعمت ہے ۔اگر جنگ اور پھیلتی تو شاید تیل پیٹرول پمپوں پر بھی نہ ملتا اگر کنویں تباہ ہو جاتے جو اسرائیل چاہتا تھا۔ تو ایک لحاظ سے پوری دنیا کی معیشت بچ گئی۔ خطے میں سے امریکہ کا اثر ختم ہو گیا، امریکہ اب اس خطے میں کوئی طاقت نہیں رہے گا۔

تیسرا، دنیا میں تصور تھا کہ امریکی جہاز آئیں گے۔ حکومت تبدیل ہو جائے گی، اب امریکہ اپنے جہاز چھپاتا پھر رہا ہے۔ امریکہ نے خود اعلان کیا ہے کہ خطے سے جہاز نکال رہا ہوں اور ہم بحر الکاہل (Pacific)کی طرف جا رہے ہیں، اور ناٹو کو کہا کہ آپ اپنا دفاع خود کریں کیونکہ اس کو اتنا بڑا جھٹکا مل گیا کہ ہم کسی جگہ نہیں کھڑے ہو سکتے، کوئی بھی ملک5-10میزائل مارے گا ہمارا سب سے بڑا ایئر کرافٹ کیریئر اس کو ڈبو دے گا، ہماری بے عزتی الگ ہوگی اور اس کے اوپر آپ کو پتہ ہے ایئر کرافٹ کیریئر کے اوپر کتنے فوجی ہوتے ہیں، اگر ایک جہاز ڈوب جائے تو سمجھ لیں کہ امریکی نیوی ہی ڈوب گئی۔

چوتھا اثر یہ پڑا کہ ہماری مڈل ایسٹ کی ریاستیں سمجھتی تھیں کہ امریکہ ہمارا اتحادی اورمحافظ ہے، اب محسوس کر لیا کہ امریکہ ایک خطرہ ہے۔اگر ہم نے امریکہ سے معاہدہ کیا، کوئی اڈہ دیا تو ایران ہم پر حملہ کرے گا، تو امریکہ اس خطے سے صاف ہوگیا۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ہے بغیر جنگ لڑے اس خطے میں۔ یہاں تک کہ ڈیگو گارسیا (Diego Garcia) کے اوپر جو برطانیہ اور امریکہ کا قبضہ تھا، اب یو این او کی رپورٹ آ گئی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے حوالے کریں، آپ ڈیگو گارسیا پر غیر قانونی قابض ہیں۔ اگلے چند مہینوں میںتحریک شروع ہوگی یو این او کے اندر کہ جناب ان کو اس خطے سے نکالا جائے، ڈیگو گارسیا سے بھی نکالا جائے۔ اصل میں جب ایک دفعہ آپ کے پاں اکھڑ جائیں، پھر آپ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

معرقذافی:پاکستان اور اپنی عوام کو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟۔

یہ ہمارے حکمرانوں کی بدنیتی ہے۔ پہلی بات ہے یہ لیوی ٹیکس (Levy tax) ہے، یہ نہیں ہوتا اور نہ حکومت لیوی نافذ کر سکتی ہے۔ ہاں ہنگامی صورتحال میں پارلیمنٹ جانا پڑتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ دور میں سیلاب آئے تو پیپلز پارٹی نے پہلی بار لیوی ٹیکس پیٹرول پر متعارف کروایا کہ ہمیں پیسہ چاہیے کیونکہ سیلاب آ گئے ۔ سیلاب اتر کر ختم ہو گیا، وہ اربوں روپے اکٹھے کیے گئے، پتہ نہیں چلا کہاں گئے، وہ لوگ ابھی بھی اسی طرح رہ رہے ہیں ، ہر سال سیلاب آتا ہے۔پھر یہ رواج پڑ گیا کہ لیوی ٹیکس کو جاری رکھا جائے۔ مسلم لیگ ن تنقید کرتی تھی کہ یہ عوام پر ڈاکہ ہے لیوی، لیکن اب ان کیلئے یہ مناسب ہو گیا۔ جیسے ہی جنگ لگی، انہوں نے پیٹرول پر لیوی لگا کر اس کو مہنگا کر دیا حالانکہ اس وقت ہمارے معاہدے پرانے نرخ پر ہو چکے تھے، ابھی ہمیں پرانے نرخ پر ہی تیل ملے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ سرے سے لیوی کو ختم کرے یہ صوبوں کو نہیں ملتی، یہ مرکز کے پاس جاتی ہے اور مرکز اپنے ٹھاٹ باٹھ اللے تللوںپر خرچ کرتے ہیں۔ جو گرانٹس، گاڑیاں آئیں، بڑے بڑے گھر بنائے گئے، طیارے خریدے گئے، وہ اس لیوی سے آتے ہیں۔ ہمیں قوم کو یہ شعور دینا چاہیے کہ اب اللہ نے ہمیں عزت دی ہے، حکمران خدا کا خوف کریں اور لیوی کو ختم کریں۔ اب دنیا کو سوچنا چاہیے کہ نوبل امن انعام کا حقدار کون ہے؟ پاکستان ہے جس نے جنگ بند کرائی۔ ٹرمپ جارح (Aggressor) تھا، وہ ہار گیا، ہتھیار ڈال دیے اور ایران کی تمام شرائط قبول کیں اور خطے سے پیچھے ہٹ گیا، واپس گیا۔ ایران فاتح لیکن پاکستان امن کا ضامن ہے، کس کا کیا کردار ہے؟ یہ ہمیں سوچنا چاہیے،میں یہ سوال ناظرین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ کون ہے جس نے کردار ادا کیا؟۔

میں کہتا ہوں فیلڈ مارشل کے جتنے اقدامات ہیں، بڑے شاندار ہیں کہ جنگ جاری، میزائلوں کی بارش میں ایران میں داخل ہوئے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی پارلیمنٹ نے پاکستان کے حق میں قراردادِ تشکر پاس کی، وہاں پہنچے تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے پاکستانی پرچم اٹھا کر کہ پاکستان ہمارے ساتھ ہے۔ پہلی دفعہ امریکی سینیٹ نے، جہاں ہمارے خلاف قرارداد پاس ہوتی تھی کہ پاکستان کی امداد بند کریں، پاکستان کے حق میں قرارداد پاس ہوئی کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں جس نے امن قائم کیا۔ یو این او کے سیکریٹری جنرل نے بیان دیا، پھر روس، پھر چین… دنیا کا کوئی ملک ایسا ہے ہی نہیں قابلِ ذکر جس نے اس کی حمایت نہیں کی۔تو میں سمجھتا ہوں یہ اس دلیر قیادت کا حق ہے جس نے جنگی حالات میں زندگی خطرے میں ڈالی، وہاں پہنچے، ان کو اپنے ہاں دعوت دی، پورا اسکارٹ (حفاظت) دیا گیا کہ جب آپ آئیں گے… کیونکہ پہلے بھی اسرائیل کئی دفعہ ان طیاروں کو نقصان پہنچا چکامگر اللہ نے مہربانی کی ہمیں سرخرو فرمایا ۔دنیا میں پاکستان کا پہلی بار نام آیا کہ یہ ملک جوہری طاقت (Nuclear power) ہے اور امریکہ جیسے ملک کو میز پر بٹھا سکتا ہے، ڈکٹیٹ کر سکتا ہے کہ یہ شرائط و ضوابط ہیں جس پر آپ صلح کریں گے اور یہاں سے واپس جائیں گے۔ میں کہتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک تاریخی کامیابی دی ہے جو پاکستان کو ملی۔ اب دنیا میں پاکستان کو نوبل امن انعام کیلئے غور کیا جانا چاہیے۔ کسی اور ملک کو یہ اعزاز نہیں ملا آج تک۔ اتنا بڑا اعزاز! یہ جنگ پھیلتی تو شاید تیسری جنگِ عظیم بن جاتی اس خطے کے اندر اور بہت بڑی تباہی آتی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسینی ہندو لڑکی کا شریفانہ لباس بمقابلہ یزیدی غامدی کابڑابیہودہ جعلی استنباط

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو لڑکی کھنک جوشی کی امام حسین سے محبت، رمضان کے روزے رکھنا ،تقریریں کرناخوش آئند ہے۔ باشرم با حیاء ہندوقوم برصغیر پاک وہند کیلئے فخرہے۔ عرب ، ایرانی، افغانی سخت گیر حکومتیں نہ ہوتیں توپھر عورتیں ایڈوانس ہوتیں۔

جاویداحمد غامدی نے ایک تو پردے کو ہندو انہ رسم قرار دیا۔ دوسرپردے کی احادیث کا انکار کیا اور تیسرا قرآن سے انتہائی گمراہ کن غلط استنباط کیا۔ نالائق ہے ورنہ کیا کیا کھلواڑ کرتا ؟۔

سورہ نور آیت30،31میں مردوں و عورتوں کو اپنی نظریں ڈِ م رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ گاڑی لائٹ تیز ،ڈِم ہوتی ہے ۔گھورنا نظریں گاڑھنا منع ہے۔ سیاحوں کو یہ شکایت تھی کہ پاکستانی تاڑ تے ہیں۔ لائٹ تیز رکھ کر بھی لوگوں کو تنگ کرنا غیر اخلاقی اور گھورنا بھی غیر اخلاقی عمل ہے۔

شرمگاہ کی حفاظت کا تعلق لباس نہیں کردار سے ہے۔ دوبئی میں ساحل سمندر پر غیرملکی سیاح جلدی مرض کے علاج کیلئے دھوپ لیتے ہیں اور مقامی لوگ ہوٹلوں میں چکلے چلاتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی کے کپڑے پتھر نے اٹھائے ۔ عوام کے سامنے برہنہ کیا۔

جاویداحمد غامدی کیلئے قرآن سے لباس ڈھونڈنا مسئلہ نہ تھا لیکن نیت کھوٹی اور جان بوجھ کر گھناؤنی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ مردوں کو شرمگاہ کی حفاظت سے لباس کا استنباط کرتے ہوئے کہا کہ شرمگاہ سے ذرا نیچے اور ذرا اوپر لباس کا حکم ہے اور دلیل یہ دی کہ میرامزارع والد مختصر تہبند پہنتا تھا۔ پھر عورت کیلئے کہا کہ ذرا اوپر سینے کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے ۔ تو داماد حسن الیاس نے گھبرا کر کہا کہ تھوڑا مزید اوپر۔ حالانکہ قرآن میں واضح طور پرعورتوں کیلئے لباس کیساتھ دوپٹوں کو اپنے سینوں پر لپیٹنے کا بھی حکم ہے لیکن گھر کے افراد اس سے اللہ نے مستثنیٰ قرار دئیے ہیں۔ آیت کی تفصیل عام آدمی سمجھتاہے۔

لونڈی اور غلام بنانے کا تصور جنگوں میں نہیں تھا بلکہ مزارع کے خاندانوں کو جاگیردار چاہتے تو مارکیٹ میں بیچ دیتے تھے ۔ جاویداحمد غامدی نے آیات کے واضح الفاظ کو نظرا نداز کرکے اپناDNAبتایا ۔ لونڈی1949میں اقوام متحدہ نے غیر قانونی قرار دی، لونڈیوں کا ستر مردوں کی طرح لیکن سینوں کو چھپانے کا حکم تھا۔ پیٹھ، پیٹ، کندھوںاور سرکے بال کھلے رکھتی تھیں۔ چوہدری افضل حق کی کتاب ”زندگی” میں چوہدری کی مزارع بننے کی کہانی ہے، اس کی بیوی گرتی پڑتی کھیت میں کھانا لے گئی تو زبردست تصویر کشائی کی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا:”مسلمانوں میں شرعی پردہ نہیں ہے بلکہ اشرافیہ کا پردہ ہے”۔ مذہبی حکومتوں نے جبری پردہ نافذ کیا تو بہت انوکھا اسلئے تھا کہ یہ پردہ قرآن کے بجائے فقہی کتابوں کا بدترین شاخسانہ تھا۔

مسلمان لونڈیوں کا برہنہ لباس قابلِ قبول تھا تو پردہ غیر مسلموں پر مسلط کرنا اسلام ہے؟۔افغان طالبان نے عورت کو ملازمتیں دیں، فورس کی لڑکی موٹر سائیکل بھی چلاتی ہے۔ برقعہ، حجاب اور دوپٹہ کچھ بھی عورتین پہن سکتی ہیں۔ میںنے ”جوہری دھماکہ” تصویر کے جواز پر لکھی تو مذہبی طبقہ بدل گیا، اب الحمدللہ پردے کے معاملے میں فقہاء اور جاویداحمد غامدی کے غلو کے درمیان درست معاملے کی نشاندہی کردی ہے۔ پشتون بھائی اگر غلو کو نہیں سمجھتے ہیں تو یہ سمجھیں کہ دونوں غل خور ہیں اور ہم نے ان کو اللہ کے فضل سے ٹھیک علمی راستہ دکھا دیا ہے۔

امام ابوحنیفہ سے امام مالک یا اپنا شاگردقاضی ابویوسف کا اتفاق تھا؟، نہیں!۔امام شافعی کا اساتذہ سے اتفاق تھا؟۔ نہیں! امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل کا استاذ سے اتفاق تھا؟۔ کیا سنی ائمہ اہل بیت کو مانتے ہیں بالکل بھی۔ پھرجب حلالہ کی لعنت قرآن، حدیث، خلفاء راشدین سے ثابت نہیں تو اجماع کیسے ہوا؟۔سود خورمفتی تقی عثمانی جاویدغامدی جیسے دلالوں نے ہمیشہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالا ہے جو علماء حق کو مسترد کرنا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الحآقةOماالحآقةOوماادراک ماالحآقةO-جو حق ثابت ہوا، کیا حق ثابت ہوا،آپ کیا جانو کہ کیا حق ثابت ہواہے۔

الحآقةOماالحآقةOوماادراک ماالحآقةO
جو حق ثابت ہوا، کیا حق ثابت ہوا،آپ کیا جانو کہ کیا حق ثابت ہواہے۔

”سورہ الحاقہ” کو خطاء سے قیامت کا عذاب قرار دیا گیا حالانکہ یہ دنیا ہی کے عذاب سے متعلق ہے اور اس میں ماضی کے معاملات اور مستقبل کا انقلاب عظیم ہے جس کی خبر رسول اللہۖنے دی جو قرآن ہی میں ہے اور جس میں کوئی ابہام بھی نہیں ہے اور بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے”۔

عربی زبان کا کمال یہ ہے کہ اس کے الفاظ میں حقائق روح کی گہرائی تک اتر جاتے ہیں۔ مثلاً الحاقہ کا تعلق ایسے واقعہ کے ساتھ ہے جو متحقق ہوچکا ہے جو ماضی میں وقوع پذیر ہوگیاہے۔ قوم عادو ثمود، قوم فرعون اور اس سے پہلے تباہ بستیاں ، حضرت نوح کی کشتی کا واقعہ اور مستقبل میں عظیم انقلاب ایسا ہی ہوگا۔

جبکہ القارعہ کا تعلق مستقبل کی ایسی پیش گوئی ہے جو رسکی ہے اور اس کو قرعہ اندازی کی طرح کہہ سکتے ہیں جیسے جوئے میں ہار جیت ہوتی ہے اس طرح القارعہ میں دونوں چیزیں ہوسکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں انقلاب کیلئے قربانی دینے والوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ انقلاب سے پہلے اجل کی موت مرتے ہیں اورکچھ دنیا میں منتظر رہتے ہیں۔ زندگی داؤ پر لگنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ انقلاب کی امید پر قربانی دی جاتی ہے۔

من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر و مابدّلوا تبدیلًا O

” مسلمانوں میں کچھ مرد وں نے سچ کر دکھایاجو عہد اللہ سے کیا تھا ،ان میں کوئی اپنی نذر پوری کرچکااور کوئی راہ دیکھ رہاہے اور وہ ذرہ برابر بھی نہیں بدلے”۔(الاحزاب23)

صحابہ کرام میں کچھ فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے سے پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے اور کچھ نے سب کچھ دیکھ لیا تھا۔

الحاقةOماالحاقةOوماادراک ما الحاقةOکذبت ثمود و عاد بالقارعةO

”جو متحقق ہوچکااور کیا متحقق ہوچکا اور تمہیں کیا خبر کہ کیا متحقق ہوچکا ہے،جھٹلایا ثمود اور عاد نے متوقع رسکی خبر کو (دنیا میں ان پر عذاب آسکتاہے)

الھاکم التکاثرO…(سورہ التکاثر )

تمہیں زیادہ کمانے کے چکر نے غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ مقبروں میں پہنچ گئے۔ہرگز نہیں تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں تم جان لوگے۔ہرگز نہیں کاش تمہیں علم الیقین ہوتا۔ضرور تم دوزخ کو دیکھوگے پھر تمہیں اس کو دیکھ کر عین الیقین ہوگا۔ پھر تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (التکاثر)

ایک درجہ علم الیقین کا ہوتا ہے اور دوسرادرجہ حق الیقین کا اور تیسرا درجہ عین الیقین کا ہوتا ہے۔ جیسے رسول اللہ ۖنے خبر دی کہ دنیا میں طرز نبوت کی خلافت دوبارہ قائم ہوگی۔ اس کے علم الیقین پر مسلمانوں کا ایمان ہے لیکن جاویداحمد غامدی اس علم الیقین کی بیخ کنی کرنے کیلئے جھوٹ سے قرآن و حدیث کو ماننے کا ڈرامہ کررہاہے۔ جب عاد اور ثمود جیسی قوموں کو اللہ نے تباہ کیا تو موجودہ دور میں بھی اللہ مسلمانوں کے ہاتھ پر بڑا انقلاب لاسکتا ہے اور یہ حق الیقین ہے اور جب انقلاب عظیم برپا ہوگا تو اس وقت پھر اس پر عین الیقین کا اطلاق ہوگا۔

اللہ نے سورہ الفجر میں بھی اس انقلاب کا نقشہ کھینچا ہے۔

”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کیساتھ کیا کیا۔جو نسل ارم سے ستونوں والے تھے کہ انکے جیسے پیدا نہیں کیے گئے شہروں میںاور وہ ثمود جو چٹانوں میںجیب (گھر) بناتے تھے اور فرعون میخوں والا۔جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی تھی تو بہت فساد پھیلایا تھا۔پھر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔بیشک تیرا رب گھات میں ہے”۔(سورہ الفجر)

فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیةO

”پس ثمود جو تھے تووہ ہلاک کئے گئے سرکشی سے ”۔(سورہ الحاقہ آیت5)

میرے کہستاں ! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک

امریکہ ، یورپ اور چین کی طرح عاد اور ثمود کی قوموں کا بھی اپنے دور میں نام تھا جیسے سندھی، پختون ، بلوچ اور دیگر اقوام کا نام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ثمود کو جب سر کشی میں مبتلا ء کردیا تو وہ آپس کی جنگ وجدل سے اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔

واما عاد فاھلکوا بریحٍ صر صرٍ عاتیةٍO

” اور عاد ہلاک کردئیے گئے پاگل بنانے والی آندھی سے”۔(الحاقہ:6 )

عاتیہ ”عتو ” سے ہے جس میں دماغ کام چھوڑ دیتا ہے اور مسلسل ٹارچر کرنے سے بھی دماغ مفلوج ہوجاتا ہے۔ ایک سرکشی اور دوسرا مسلسل ٹارچر ہوتوپھر یہ دونوں عذاب یکجا ہیں۔

سخرھا علیھم سبع لیالٍ و ثمانیة ایامٍ حسومًا فتری القوم فیھا صرعٰی کانھم اعجاز نخلٍ خاویةٍO

آندھی کے تیر سات رات اور آٹھ دن چلتے رہے تو آپ دیکھتے کہ اس قوم میں مرگی ہے۔جیسے کہ وہ گھری ہوئی کھجور کی تنوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں”۔ (الحاقہ:7)

دنیا میں آج انسان بہت پریشانی کے دھانے پر کھڑاہے مگر اپنی قومیت کی رٹ بھی لگا رکھی ہے لیکن قرآن تنبیہ کرتا ہے ۔

ھل ترٰی لھم من باقیةٍO

”کیا ان (ثمود و عاد) میں کوئی باقی نظر آتا ہے”۔ (الحاقہ:8)۔قوم کی طاقت قابل فخر نہیں ہوتی ہے بلکہ قوموں کا کردار بہت کام کی چیز ہوتا ہے۔

وجاء فرعون ومن قبلہ والمؤتفکات بالخاطئة

”اورفرعون اور اس سے پہلے بھی لوگ آئے اور جن قوموں کی چولیں ڈھیلی کردی گئی خطاکی وجہ سے ”۔ (الحاقہ:9)
ان کے دماغ میں یہ نہیں ہوتا تھا کہ دنیا میں حالات بدل کر اس نہج تک پہنچ سکتے ہیں۔وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں رہے۔

فعصوا رسول ربھم فاخذھم اخذة رابیةًO

”پس انہوں اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے ان کو پکڑا ایسا پکڑنا کہ سود سمیت حساب پورا کردیا”۔ (الحاقہ:10)

یعنی یہ نہیں کہ جتنا کیا اتنا ان کو عذاب دیا بلکہ سود سمیت ان سے وصولی کی گئی۔ رابیة کا معنی اضافی ربو ٰہے۔ یادگار جملہ۔

انا لما طغی الماء حملنا کم فی الجاریةO لنجعلھالکم تذکرةً و تعیھااذن واعیةO

”بیشک ہم نے جب پانی نے سرکشی کی تو تمہیں کشتی میں پناہ دی تاکہ اس کو ہم تمہارے لئے یادگار بنائیں۔اور اس کو یاد رکھنے والے کان یاد رکھیں ”۔ (الحاقہ11،12)

کشتی نوح کی کہانی قوموں نے یاد رکھی ہوئی ہے اور مختلف مواقع پر قوموں کیساتھ واقعات ہوتے ہیں لیکن کشی نوح کے واقعہ کو تاریخ انسانی میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” میرے اہل بیت کشتی نوح کی طرح ہیں جو سوار ہوا تو محفوظ رہا اور جو رہ گیا تو ہلاک ہوگیا”۔ (مسند احمد بن حنبل)

تبلیغی جماعت والے خود کو کشتی نوح قرار دیتے تھے مگر پھر دوبڑے مراکز اور حصوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔اور اہل بیت کے ایک فرد حافظ سید عاصم منیر نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔

فاذا نفخ فی الصور نفخة واحدة O

”پس جب صور پھونکا جائے گا ایک پھونک”۔ (الحاقہ:13)

حضرت نوح کے دور میں پانی کا طوفان آیا تھا اور اب اس بارلگتا ہے کہ انسانی سمندر کا طوفان آئے گا۔”آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو ”۔ معروف شاعر فیض احمد فیض نے ترانہ گایا ہے کہ

دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیںگے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیںگے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹیں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

اس انسانی سمندر کا تعلق نظام عدل کے قیام سے ہوگا اور یہ منظر کشی قرآن میں بہت واضح انداز میں موجود ہے۔

وحملت الارض و الجبال فدکتا دکةً واحدةًO

”اور پناہ دینی ہے زمین اور پہاڑ وں نے پھر دونوں ایک بار ہل جائیںگے”۔ (الحاقہ:14) اگر اس سے قیامت مراد ہو تو زمین اور پہاڑوں کا وجود ایک ہے تو پھر دونوں کی طرف نسبت کیوں ہوتی ؟۔ جیسے فرعون اوتاد یعنی میخوں والا تھا اور پہاڑ بھی بذات خود میخیں ہیں۔ پہاڑی سلسلوں کوہ سلیمان، ہندو کش کی طرح سلطنتیں بھی لنگر انداز ہوتی ہیں۔ پرتگال، سلطنت عثمانیہ ، فرانس ،برطانیہ، روس کی عظیم سلطنتوں کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔

جب ایک بھونچھال آئے گا تو زمین اور اقتدار کے مراکز کا بعض لوگوں کیلئے پناہ گاہ بننا قرین قیاس ہے۔ وہ کشتی نوح والا معاملہ اس وقت کے سونامی کا تھا اور اب انسانی سونامی ہوگا۔

فیومئذٍ وقعت الواقعةO

”الحاقہ کی خبر اس دن واقعہ ہوجائے گی”۔ (الحاقہ:15)جب انقلاب عظیم برپا ہوگا توپھر اہل شر اور اہل خیر دونوں کیلئے آسمان بدلا بدلا معلوم ہوگا۔

وانشقت السماء فھی یومئذٍ واھیةO

”اور آسمان کھل جائے گا تو اس دن واہ اس کامنظر ہوگا”۔(الحاقہ:16)

خوش نصیبوں کیلئے واہ واہ کا منظر پیش کرے گا اور یہی آسمان کم بخت دلوں دلالوں اور کمینوں کیلئے آہ آہ کا منظر بنے گا۔

والملک علی ارجائھا ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذٍ ثمانیةO

”اور فرشتے ان کی امیدوں کے مطابق کام کریںگے اور آٹھ نے تیرے رب کے عرش کو اٹھایا ہوگا”۔(الحاقہ:17) جیسے بدر کے میدان میں ہزار مشرکین کو شکست دینے کیلئے ہزاروں فرشتے اترے تھے۔ انقلاب عظیم کا یہ منظر آسمان اور زمین کی مخلوقات پہلی مرتبہ دیکھ لیں گے اور یہ نظام عدل اعلیٰ ترین انسانی معیارات پر ہوگا۔

سورہ الفجر میں انسان کا نقشہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ

”پس انسان جو ہے جب اس کا رب اس کو آزمائش میں ڈالتاہے، عزت دیتاہے اور نعمتیں دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی ۔(میری قابلیت ہے) پس جب اس کو آزماتا ہے اور رزق تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔(یعنی زیادتی کرڈالی) ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیموں کو عزت نہیں دیتے ہو اور نہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور میراث کا ترکہ ناجائزسمیٹنے کے چکر میں ہوتے ہو! اور مال سے خوب جم کر محبت کرتے ہو۔ہرگز نہیں جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہلا دیا جائے گا اور آئے گا تیرا رب اورقطار اندر قطارفرشتے۔اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا ،اس دن انسان پھر نصیحت حاصل کرے گا اور بیشک اسی کیلئے نصیحت ہے۔کہے گا کہ اے کاش میں اپنی زندگی کیلئے بھیجتا۔پس اس دن کوئی اس کو عذاب نہیں دے گا اور نہ کوئی اس کو رسی ڈالے گا۔اے نفس اطمینان والے اپنے رب کی طرف رجوع کرو تو اس سے راضی اور اللہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہوجاؤ اور میری جنت میں داخل ہوجاؤ”۔ سورہ الفجر آیت16تاآخر۔

یہ دنیا کا منظر ہوگااور جب نظام عدل قائم ہوگا تو خلافت کا عظیم مشن پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ سورہ واقعہ میں تین اقسام کا ذکر ہے۔ السابقون پہلوں میں بہت اور آخر میں تھوڑے ہوں گے اور اصحاب الیمین پہلوں میں بھی بہت اور آخر میں بھی بہت۔ اصحاب الشمال میرے خیال میں پہلوں میں بھی کم تھے اور آخر میں بھی کم ہی ہوں گے۔ اسلئے کہ قرآن میں جھٹلانے والوں کو مکذبین اور مجرمین قرار دے دیا گیا ہے۔ صحابہ کرام میں انصار و مہاجرین کے السابقون الاولون کیلئے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ تھا اور اٰخرین منہم لما یلحقوا بہم کیلئے راضیةً مرضیةً ہے۔رسول اللہۖ کیلئے سورہ الشرح میں فرمایا کہ ”کیاہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا،کیا آپ سے آپ کا بوجھ نہیں اتارا۔جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی اور ہم نے تیرا ذکر بلند کیا ۔بیشک مشکل کیساتھ آسانی ہے ۔بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔پس جب آپ فراغت حاصل کریں تو پھر اپنے ہدف پر توجہ دیجئے گا۔ اور اپنے رب کی طرف راغب بن جائیں”۔ اسی طرح خلافت علی منہاج النبوة کے قیام کے بعد محنت کرنے والوں کو فراغت کے بعد عبادت کی تلقین ہے جس کا سورہ الفجراور دیگرسورتوں میں بہت تفصیلات سے ذکر ہے۔

سورہ رحمان میں مجرموں کی نشاندہی الیکڑانک مشینوں کے ذریعے سے ہونے کی خوشخبری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”پس اس دن کسی انسان اور نہ جن سے اسکے گناہ کا پوچھا جائے گا ۔ توتم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے۔مجرموں کو چہروں کے نشان سے پہنچان لیا جائے گا تو ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ تو تم اللہ کی کس کس نعمت کو دونوں جھٹلاؤں گے۔ یہ ہے وہ جہنم جس کو مجرم جھٹلاتے تھے۔ اور چکر کاٹیں گے اسکے درمیان اور گرمی میں اب ” دنیا کی اس جہنم کا نقشہ ان کی رہائشگاہوں اور فیکٹریوں کے حوالے سے سورہ واقعہ میں پیش کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر آغاز کردے اور جدید مشینی الات کے ذریعے بڑے مجرموں اور بڑے کرپٹ لوگوں کو پکڑنے کا پروگرام بن جائے جس میں کسی کو رعایت کا تصور نہیں ہوسکتا ہے تو پھر دنیا میں آنے والی اس تبدیلی کا آغاز مشکلات کے بغیر ہوگا۔

ہم عمران خان سے بھی اس دور میں مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کوئی درست نظام قائم کریں لیکن وہ غفلت میں تیر رہا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے سوہ الحاقہ میں بالکل واضح فرمادیا ہے کہ

یوم تعرضون لا تخفٰی منکم خافیةO

” اس دن تمہیں پیش کیا جائے گا اور کچھ مخفی نہ رہے گا”۔ (الحاقہ:18)

دنیا بھر کے ممالک میں طاقتور لوگ اچھے بھی ہوں تو بدنام اسلئے ہیں کہ دنیا میں طاقتوروں کا حساب کتاب نہیں ہوتا ہے۔ جب ایک عالمی عدالت انصاف کی حکومت اسلامی انقلاب کی بنیاد پر قائم ہوگی تو پھر کوئی بھی شخص خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن احتساب سے بچ نہیں سکے گاجو ٹھیک ہوگا تو وہ خوش ہوگا۔

فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھاؤم اقرء وا کتابیہOانی ظننت انی ملاقٍ حسابیہOفھو فی عیشةٍ راضیةٍOفی جنةٍ عالیةٍOقطوفھا دانیةOکلوا واشربوا ھنیئًا بما اسلفتم فی الایام الخالیةO

” پس وہ جو ہے جس کو دائیں ہاتھ سے اعمالنامہ مل جائے گا تو کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔بیشک میں سمجھتا تھا کہ مجھے اپنا حساب دینا ہے۔پس وہ عیش وعشرت میں راضی ہوگا۔بلند باغ میں ہوگا جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔ کھاؤ پیو خوش باش جو تم نے خالی دنوں میں کیا ”۔ (آیات19تا24)

دنیا میں90فیصد سے زیادہ اچھے لوگ مصائب میں زندگی گزارتے ہیں۔ محنت کا انہیں کوئی صلہ ملنے کے بجائے مشکل کی زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب عظیم انقلاب کے سبب وہ خوش حال زندگی بسر کریں گے تو دنیا میں اس نظام سے اللہ کی یاد آئے گی اور آخرت کیلئے محنت کرنے کی طرف راغب ہوں گے اور شیطان کبیر اپنی موت اس دن مرجائے گا۔

واما من اوتی کتابہ بشمالہ فیقول یا لیتنی لم اوت کتابیہOو لم ادر ماحسابیہOیا لیتھا کانت القاضیةOما اغنی عنی مالیہOہلک عنی سلطانیہOخذوہ فغلوہOثم الجحیم صلوہOثم فی سلسلةٍ ذرعھا سبعون ذراعًا فاسلکوہOانہ کان لا یؤمن باللہ العظیمOولا یحض علی طعام المسکینOفلیس لہ الیوم ھاھنا حمیمOولا طعام الا من غسلینٍOلایأکلہ الا الخاطئونOفلا اقسم بما تبصرونOو مالا تبصرونOانہ لقول رسولٍ کریمٍOوما ھو بقول شاعرٍ قلیلًا ما تؤمنونOولا بقول کاھنٍ قلیلًا ما تذکرونOتنزیل من رب العالمینO(سورہ الحاقہ25سے43)

”پس وہ جس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔تو کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا اعمالنامہ نہ ہی ملتا۔اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش یہ میری موت کا فیصلہ ہوتا۔ مجھے میرا مال بھی نہیں بچا پارہاہے۔میرا اقتدار بھی مجھ سے گیا۔ پکڑو اس کو اور طوق پہنادو۔ پھر جحیم تک پہنچادو۔ پھر اس کو (مچھ جیل) تک پہنچانے کیلئے قیدیوں کی اس گاڑی میں ڈال دو جس کی لمبائی70ہاتھ ہے۔ بیشک یہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ مسکین کو کھانے کی ترغیب دیتا تھا۔پس یہاں آج اس کا کوئی گرم جوش دوست نہیں ہے۔ اور نہ اس کیلئے کوئی کھانا ہے لیکن لوگوں کا بچا ہوا۔ جس کو نہیں کھائیں گے مگر وہی خطاء کرنے والا طبقہ (جن کے دماغ میں دنیا کا جحیم نہیں تھا)پس نہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو (سمجھتے ہو) یا نہیں دیکھتے۔ (یا نہیں سمجھتے کہ جدید ترقی یافتہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچے گی) بیشک یہ رسول کریم کا قول ہے۔ اور نہ وہ قول شاعر ہے لیکن کم لوگ ہو تم جو ایمان لاتے ہیںاور نہ کاہن کا قول ہے لیکن کم لوگ ہو تم جو نصیحت حاصل کرتے ہیں یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے”۔

ان آیات میں انقلاب عظیم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ رب العالمین کا نازل کردہ اور رسول کریم ۖ کا قول ہے۔ جن کی علت ہے کہ احادیث کو نہیں مانتے تو وہ قرآن سے کہاں فرار ہوسکتے ہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بالکل ننگا کرکے فرمایاکہ

ولو تقول علینا بعض الاقاویلOلاخذنا منہ بالیمینOثم لقطعنا منہ الوتینOفما منکم من احدٍ عنہ حاجزینOوانا لنعلم ان منکم مکذبینOو انہ لحسرة علی الکافرینOوانہ لحق الیقینOفسبح باسم رب العظیمO(الحاقہ:آیت44سے آخرتک)

”اور اگر وہ کوئی ہماری طرف خود ساختہ اقول کو منسوب کرتا ہے تو اس کو دائیں طرف سے پکڑلیتے۔پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے ۔پھر تم میں سے کونئی اس سے رکاوٹ نہ بن سکتا تھا ۔اور بیشک یہ متقیوں کیلئے نصیحت ہے۔اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیںاور بیشک یہ کافروں پر حسرت ہوگی۔اور بیشک یہ حق الیقین ہے۔ پس اپنے رب کی تسبیح کرو جو بہت عظیم ہے”۔ (سورہ الحاقہ)

جس کی خبر قرآن نے دی ہے وہ الحاقہ دنیا میں پہلی قوموں پر بھی اپنے اپنے وقت کے مطابق عذاب کی شکل میں متحقق ہے اور صحابہ کرام نے بھی عرب اور سپر طاقتوں کو شکست دی تھی۔

اللہ نے کہیں فرمایا حقت کلمة ربک تیرے رب کی بات کافروں پر متحقق ہوئی اور کہیں فرمایا کہ فاسقون پر متحقق ہوئی اور الحاقہ کا مطلب قیامت نہیں اور یہ اقوال اللہ کی طرف غلط منسوب کئے گئے ہیں اور بعض قرآن کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔

عالم برزخ کی جنت کا عرض زمین اور آسمان کے برابر ہوگا لیکن دنیا میں دو دو جنت میں دو دو چشمے اور دو دو فوارے ہوں گے اور آخرت کی جنت کا معاملہ بالکل مختلف ہوگالیکن متشابہ ضرور ہوگا،ماں کے پیٹ اور دنیا میں جنت کافرق ہے اتنا فرق عالم برزخ اور اس دنیا میں ہے اور عالم برزخ اور آخرت کے بعد کی دنیا میں پھر اس سے بھی زیادہ فرق ہے۔ دنیا کی یہ فلم تو عالم ارواح میں پہلے جاری ہوچکی ہے اور دنیا کا ہر شخص سمجھ رہا ہے کہ اس پر کوئی جبر نہیں اورعالم ارواح سے پہلے اپنے لئے امتحان میں پاس ہونے کیلئے اداکاری کا انتخاب بھی خود کیاہے اور قرآن و حدیث اور سائنس کی دنیا میں ملتے جلتے شواہد ہیں۔

عالم برزخ:
سابقوا الی مغفرةٍ من ربکم و جنةٍ عرضھا کعرض السماء والارض اعدت للذین اٰمنوا باللہ و رسلہ ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ زوالفضل العظیمO

”دوڑو! اللہ کی طرف مغفرت کیلئے اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان والو کیلئے تیار کی گئی ہے یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔(سورة الحدید:21)

ہمارے شہدا میری بہن ، میرابھائی، بھتیجا، بھانجی،خالہ زاد، ماموں زاد، مسجد کا امام ، گھر کا خادم ، رشتہ دار آفریدی، دوست آفریدی، مجذوب محسود اور تبلیغی عالم سرائیکی اور میرے ساتھ مشن میں شریک دوست احباب عالم برزخ کی بڑی جنت کے مزے لے رہے ہوں گے۔ بھائی میں فرق ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے ویران کنوئیں میں ڈال دیا تھا لیکن جب میرے بھائی نے مجھے جیل میں ڈال دیا تومجھے اپنی گرمی اور تکلیف کا احساس نہیں تھا بلکہ شیر جیسے بھائی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر پیر عبدالحمید شاہ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ مجھے ان کی بات سے بڑی خوشی ملی کہ بھائی کا کہا کہ ”شہادت کے بعد چہرے پر رعب کا ایسا اثر تھا جیسے ابھی وہ حملے کیلئے الرٹ ہوں”۔ انسان کو تکلیف تو پہنچتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھائی کی شہادت کے دن اتنا بڑا واقعہ ہوا مگر اس سے زیادہ تکلیف مجھے اس وقت ہوئی جب مجھے گرمی میں جیل کے حوالے کیا اور آنسو بہہ گئے۔

مجھے خوابوں اور ظاہری حرکات سکنات سے بتایا گیا تھا کہ ”پیر عبدالواحد منافقت کررہاہے” لیکن میں چاہتا تھا کہ اس حد تک پہنچ جائے کہ اپنی باتوں سے پکڑ میں آجائے اسلئے ڈھیل دینا مناسب سمجھا۔ جھوٹ سے ڈرامہ رچایا کہ بیٹی کی طلاق لینی ہے اور میری معلومات حاصل کرنے کیلئے تربت تک پیچھا بھی کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کرائے کے قاتل کا بندوبست ہواہے۔ مجھے کچھ معاملات کا ادراک ہے جس کو میں نے اللہ کے فضل و کرم سے نوٹ کرکے رکھ رہاہوں جس سے کچھ معاملات تک رسائی حاصل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ انشاء اللہ

ویبقٰی وجہ ربک

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

پیر ضیاء الدین شاہ نے کہا تھا کہ ”مجھ پر تمہارے بھتیجے الزام لگاتے ہیں کہ واقعہ میں نے کروایا”۔ میں نے کہا کہ یہ تو پھر مجھ سے زیادہ تکلیف تجھ پر گزری۔ پیر عابد نے جو لکھا تو گویا زبانی باتیں تحریر میں آگئی ہیں تو کم ازکم اس کی صفائی بنتی ہے۔

میرا مشن ایک انقلاب عظیم ہیں اور اس کیلئے صرف قرآن و سنت کو اجنبیت سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور سمجھ میں آگیا تو کم ازکم مسلمان آپس میں لڑنے کے بجائے اسلام کے نفاذ پر متفق ہوں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو مولانا فضل الرحمن جس زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا تو جب بینظیر بھٹو کے دوسرے دوراقتدار میں حکومت کیساتھ شمولیت اختیار کی تو جمعیت علماء اسلام کے علماء کو اسی زکوٰة کی کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ پھر سودی بینکاری کے خلاف سارے مدارس کے علماء ومفتیان نے متفقہ فتویٰ دیا کہ اسلام کے نام پر یہ فراڈ ہے تو پھر مفتی تقی عثمانی کو ان علماء کے انتقال کے بعد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا صدر بنادیا گیا۔

جب تک اسلام کے علمبردار قرآن وسنت کی بنیاد پر درست تصویر پیش کرنے کے بجائے اسلام کیساتھ کھلواڑ پیش کرینگے تو معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ عام تعلیم یافتہ طبقات کو اٹھنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اسلام کے فطری احکام میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے لیکن جب سودی نظام کو سود کی پرسنٹیج بڑھاکر اسلامی قرار دیں گے تو نتائج کیا نکلیںگے؟۔ اللہ کے واضح احکام کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں امن وسلامی کیساتھ اسلام کے نظام حکمرانی کو جلد ازجلد نافذ کرے اورنافذ ہوگی۔ انشاء اللہ

شیعہ سنی دونوں مرکزی عقیدے سے قرآن کی طرف جب آجائیںگے تو فرقہ واریت کا ناسور ختم ہوگا ورنہ شیعہ شیعہ کا اور سنی سنی کا دشمن ہوگا اور فرقہ واریت کے سہارے روزی روٹی کی سبیل ڈھونڈیں گے۔ اللہ !ہم سب کو ہدایت عطافرما۔ آمین
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آپ دورِ انحطاط پرتوجہ دیں

مولانا اشفاق صدیقی جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم اسلام آباد نے اگر علامہ سید ریاض حسین شاہ کو متوجہ کیا تو امام اعظم ابوحنیفہ کے اس مسلک پر تمام مکاتب فکر متفق ہوسکتے ہیں جو اصول فقہ میں آیت230البقرہ کو دوٹکڑوں میں بانٹ کر پڑھایا جاتاہے اور پھر قرآن وسنت کی طرف لوگوں کے رحجانات بدلیں گے۔
ــــــــــ

نمبر1:حتی تنکح زوجًا غیرہ بمقابلہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل:حنفی اصول فقہ

درس نظامی کا مقصد یہ تھا کہ طالب علم ہر علم میں سے کچھ نہ کچھ سیکھ لے تاکہ اس میں مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور دنیاوی علوم میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن ہر سائنس پڑھنے والا پھر سائنسدان بھی نہیں بنتا ہے۔ اصول فقہ میں حنفی استدلال بتایا گیا ہے کہ آیت سے واضح ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں آزاد قرار دیا گیا گیا ہے لیکن حدیث صحیحہ میں عورت کو نکاح میں ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ جمہور عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر ناجائز قرار دیتے ہیں لیکن حنفی حدیث کو قرآنی آیت سے متصادم قراردیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیتاہے۔

ایک طالب کو عربی ، قرآن اور احادیث کچھ بھی پتہ نہیں مگر عبارت کا مفہوم سمجھ کر امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ چلو ہم نے یہ مان لیا لیکن اس کا نتیجہ ایک حنفی فقیہ کو کیا نکالنا چاہیے تھا؟۔

بڑااچھانتیجہ:وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا”اور انکے شوہر اصلاح کی شرط پراس (عدت) میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق زیادہ حق رکھتے ہیں”۔البقرہ آیت:228

سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے عدت کے تین ادوار کو بھی واضح کیا ہے اور حمل کو بھی۔ اور عدت میں صلح و اصلاح کی شرط پر شوہر ہی کو زیادہ رجوع کا حقدار قرار دیا ہے اور عورتوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ان پر معروف طریقے سے انکے شوہروں کے ہیں۔ یعنی شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے تو بیوی کو رجوع سے انکار کا بھی حق حاصل ہے۔

اگر ہم ذخیرہ احادیث کا بغور جائزہ لیں تو کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی ہے کہ جس کو اس آیت سے متصادم قرار دے دیا جائے۔ جہاں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو اور وہ رجوع کرنا چاہتے ہوں باہمی اصلاح کی شرط پر لیکن نبیۖ نے اس آیت کے برعکس ان کو رجوع سے روک دیا ہو۔

الغرض ایک طرف اگر ہم ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی احادیث صحیحہ کے ذخیرہ سے آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کا ٹکراؤ اوراس سے استنباط دیکھ لیں اور دوسری طرف حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنے والی احادیث کے ذخیرہ سے

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا

کاٹکراؤ اور اس سے استنباط دیکھ لیں تو ہم ایک بہت واضح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو آیت228البقرہ کے اس جملے سے متصادم قرار دیا جائے اور اگر بالفرض کوئی متصادم ہو بھی تو حنفی اصول فقہ کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کو مسترد کردیا جائے اسلئے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ سے استنباط کی ضرورت ہے لیکن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا اس درجہ واضح ہے کہ اس میں کسی استنباط کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایک ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی گئی ہے تو اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جبکہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے” میں استنباط کی ضرورت ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔پھر اس سے احادیث صحیحہ کو واقعی متصادم قرار دینا بھی کوئی ایشو ہے لیکن عدت میں رجوع کے مد مقابل کوئی ایسی حدیث ہی نہیں جو اس سے متصادم ہو ۔

امام اعظم ابوحنیفہ نے صرف اصولوں کی نشاندہی کی تھی مگر قاضی القضاة چیف جسٹس سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب حنفی اپنے اساتذہ کرام سے انحراف کرتے گئے تو امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کا اس میں کیا قصور ہے؟۔ امام ابوحنیفہ نے تلقین کی تھی کہ ضعیف سے ضعیف حدیث کی تطبیق ہوسکے تو مسترد کرنا غلط ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے قاری محمد طیب تو مفتی محمد شفیع کے بھی استاذ تھے اور انہوں نے بھی اجتہاد وتقلید کی شرعی حیثیت پر کتاب لکھی ہے اور مفتی تقی عثمانی نے بھی لکھی ہے۔ دونوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ اگر حضرت عمر کے سامنے پیش کئے جاتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت توڑ دیتے کہ قرآ ن واحادیث کایوں بھی کوئی بیڑہ غرق کرتا ہے یہودیوں کے دلے اور دلال؟۔

قرآن وحدیث میں طلاق شدہ اور کنواری کے احکام الگ الگ ہیں۔

اگر حدیث سے کنواری مراد لی جائے اور آیت سے طلاق شدہ تو قرآن وحدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں میری اس گزار ش پر میری زبردست تائید اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں دوسری کتابیں پڑھ کر اس مسئلے کا حل نکالوں ۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ ” مسلک حنفی میں85%مسائل امام ابو حنیفہ کے خلاف ہیںاور ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کی بات درست ہے یا نہیں؟ مگر امام مھدی آئیںگے تو وہ جو بھی بات کریںگے وہ حق ہوگی”۔

جب امام ابوحنیفہ کے نام پر غلط مسلک رائج کرکے حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزتیں لٹیں تو مہدی کا انتظار کریں؟ یا اگر اس سے پہلے درست بات سمجھ میں آئے توعورتوں کی عزتوں کو امام ابوحنیفہ کے درست مسلک سے بچانا شروع کریں؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے علماء دیوبند کا لکھا کہ ”تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو مہدی کی بھی مخالت ہی کروگے”۔

حنفی مسلک سے علماء کے انحراف کا ایک واضح آئینہ

اصول فقہ کے میرے استاذ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی کے استاذ تھے ۔ جب کراچی میں صرف ایک مدرسہ دارالعلوم کراچی نانک واڑہ تھا۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے بھی مولانا بدیع الزمان استاذ تھے اور ان دونوں کے ایک استاذ مولانا عبدالحق میرے پیر بھائی تھے۔

جب مرشد حاجی عثمان پر فتوے لگانے والوں کو دھول چٹائی تو میں مولانا بدیع الزمان نے اپنے بیٹے مولانا عطاء الرحمن سے پوچھا کہ یہ وہی طالب علم تو نہیں جو چائے زیادہ پیتا تھا اور پھر مولانا بدیع الزمان کے ہاں میں نے حاضری بھی دی تھی۔

حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مد مقابل جو حدیث مسترد ہے فنکاحھا باطل باطل باطل تو یہ کتب میں نہیں ہے۔

اصول فقہ میں 200احادیث کا خلاصہ ہے جس کے متعلق حد تواتر تک پہنچنے کا دعویٰ ہے البتہ متواتر و خبر احاد کی تقسیم بعد کی اصطلاح ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن کی مخالف ہر ایک حدیث غیر متواتر اور خبر واحد ہے جو مسترد ہے اور قرآن سے متصادم نہیں تو ضعیف حدیث بھی مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”امام ابوحنیفہ صرف اور صرف17احادیث مانتے تھے”۔جب عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پونے تین سالہ دور اقتدار میںممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو پھر ان کی وفات کے بعد احادیث صحیحہ کو ضعیف قرار دینے اور من گھڑت احادیث کی کثرت کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا۔

حنفی فقہاء نے ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کو باطل قرار دینے کی احادیث صحیحہ کو اپنے زعم کے مطابق متصادم قرار دیا اور جب میں نے اپنے استاذ مولانا بدیع الزمان کے سامنے بات رکھی تو انہوں نے نہ صرف اس کو قبول کیا بلکہ تھپکی دی کہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ کیونکہ جہاں اتنی ساری احادیث کا انکار تھا تو دوسری طرف جب ضرورت پڑتی تو مسئلہ کفوء کی بنیاد پر کمزور لوگوں کی بیٹیوں کو بھاگنے کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا تھا مگر طاقتور طبقے کی بیٹیوں کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اجازت نہیں تھی۔ بنوامیہ ، بنوعباس اورعربوں کی بیٹیاں عجم کیساتھ بھاگے تو ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ، جعلی عثمانی مفتی تقی عثمانی بیٹی کو ٹیوشن پڑھانے کیلئے استاذ رکھے اور وہ اس پر فریفتہ ہوجائے تو مارپیٹ کر دوسری جگہ شادی کرنے پر مجبور کردے لیکن قرآن سے تصادم کے نام پر احادیث کا ذخیرہ مسترد کیا جاتا رہے؟۔

سورہ بقرہ228میںواضح ہے کہ ”عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے” جس سے صحیح، ضعیف حتی کہ من گھڑت حدیث بھی متصادم نہیں ۔قرآن متصادم نہیں اور اللہ کا دعویٰ باطل تو مدارس ہدایت یاگمراہی کے قلعے ہیں ؟۔

بڑے بڑے حنفی مدارس ایک کاروبار اور بڑامافیا بن گئے۔
مدارس میں اصول فقہ کی کتب اگر سورہ البقرہ آیت230کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک جگہ پڑھائیں تو مالکی، شافعی، حنبلی کے علاوہ اہل تشیع اور اہل حدیث بھی اپنی اپنی فقہ چھوڑ کر امام اعظم ابوحنیفہ کی فقہ کو رائج کردیں گے۔

وجعلوا القرآن عضین ”اور قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”۔حنفی اصول فقہ میں قرآن کو بوٹی بوٹی کرنے کی مثال البقرہ230ہے

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ(سورہ البقرہ آیت230)

فان طلقہا فلاتحل لہ میں”ف” کا تعقیب بلامہلت کا تعلق اس سے متصل فدیہ سے ہے۔ فلاجناح علیھما فما افدت بہ ” اور ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں پھر عورت کی طرف سے وہ فدیہ کرنے میں”۔

اصول فقہ میں حنفی مسلک یہ ہے کہ آیت230البقرہ کی اس طلاق کا تعلق جس میں عورت کیلئے حلالہ کے بغیر چارہ نہیں رہتا ہے اس سے متصل آیت229البقرہ کے آخر فدیہ دینے کی صورت سے ہے جبکہ شافعی مسلک یہ ہے کہ اس کا تعلق اس آیت229البقرہ کے شروع الطلاق مرتان کیساتھ ہے۔

حنفی مدارس جان بوجھ کر اپنے معتقد کی بیوی چودھنے کیلئے یا جہالت کی بنیاد پر واللہ اعلم بالصواب امام ابوحنیفہ کے مسلک پر فتویٰ نہیں دیتے جو اصول فقہ میں آج بھی پڑھایا جارہاہے بلکہ شافعی مسلک کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ جس میں اس طلاق کو آیت229کے آخر فدیہ کے بجائے شافعی مسلک کے عین مطابق آیت کے شروع الطلاق مرتان سے جوڑ دیتے ہیں۔

سوال تعصب کا نہیں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ٹھیک قرار دیا جائے یا امام شافعی کے مسلک کو اور نہ یہ ہے کہ سنی مسلک میں مقلدین کی عورتوں کو حلالہ کی لعنت سے بچایا جائے یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے جس مسلک کو اصول فقہ میں ہمارے مدارس بریلوی دیوبندی پڑھاتے ہیں یہ درست ہے یا غلط ہے؟۔ اگر درست ہے تو فبہا اور غلط ہے تو اصول فقہ سے بھی اس کو یکسر نکال دیں۔ میرے نزدیک مولانا بدیع الزمان نے جو اصول فقہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں پڑھائی تو وہ بالکل درست ہے اور ہدایت کا سب سے بہترین ذریعہ بھی لیکن میرے لئے بہت ہی قابل احترام بریلوی مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے100فیصد حنفی مسلک کی غلط ترجمانی کی ہے کہ فان طلقہا تعقیب بلا مہلت کی وجہ سے اس کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں بنتا تو قرآن و احادیث سے واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔

علامہ سید محمد یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلک حنفی کی بقاء کا ذریعہ صرف اور صرف اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ہی ہیں”۔

مولانا غلام رسول سعیدی نے12جلدوں میں قرآن کی تفسیر تبیان القرآن اور بخاری ومسلم دونوں کی بہت بڑی بڑی شروحات لکھی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”اسکی یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے”۔ لیکن خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ فقہ حنفی کے سر پر عزت کا تاج اس عتیق گیلانی کے ہاتھ سے رکھا جو علماء دیوبند کا ادنیٰ شاگردہے۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کی تفسیر فقہ حنفی کے مؤقف کی تائید حدیث سے کی کہ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔مسلک حنفی کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ ان دونوں طلاق کے بھی ”ف” کی وجہ سے تسریح باحسان ہی کو تیسری طلاق قرار دیا جائے۔ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا عمل بھی واضح کیا۔

جب حنفی مسلک اور احادیث کے مطابق دو مرتبہ طلاق کے ساتھ آیت229میں تسریح باحسان کی تیسری طلاق کو جوڑد دیا اور آیت230میں حلالہ کی طلاق کو اپنے سے متصل فدیہ کے ساتھ جوڑ دیا تو پھر اسلام دین فطرت کی بنیاد کو صحیح رکھ دیا ہے۔

پھر حتی تنکح زوجًا غیرہ سے عورت کی آزادی مراد لینا100فیصد درست ہے لیکن آیت میں آزادی کا ہدف ولی سے نہیں اپنے سابقہ شوہر سے آزادی ہے۔ تاکہ منکر طریقے سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو جائے اور کچھ عرصہ پہلے بنوں شہر پختونخواہ میں ایک شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو مولوی نے فتویٰ دیا اور عورت کا زبردستی کی بنیاد پر حلالہ کیا گیا۔ جس پر عورت نے کیس کیا اور مولوی جیل میں گیا۔ زبرستی سے نکاح کے درست ہونے کا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںبھی موجود ہے جو چھوکرے مفتی زبیر نے مرتب کیا ہے اور جس کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو وفاق المدارس میں پاس کرنے کا جھانسہ دیکرہوس کا نشانہ بنایا تھا تو اس طرح کی سفارشات کا ایک مافیا بن گیا ہے۔

اگر اصول فقہ کی کتابوں میں آیت230البقرہ کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک ساتھ پڑھایا جائے تو اس سے پہلے کی آیات228البقرہ اور229میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر معروف رجوع کی اجازت واضح ہوگی اور بعد کی آیات231اور232میں معروف کی شرط پرباہمی رضا مندی سے رجوع بالکل واضح ہوگا۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں آئے گا اور علماء ومفتیان اور عوام قرآن سے ہدایت پائیں گے اور مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ،اہل حدیث، پرویزی ، غامدیہ کے دلے و دلال سب قرآن ، احادیث صحیحہ اور فقہ حنفی کو ماننے پر بہت خوشی کیساتھ تیار ہوں گے اور مذہب کے نام پر تفریق و انتشار اور فتنہ و فسادات پھیلانے کی سبھی دکانیں بند ہوں گی۔

مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی حتی تنکح پر جماع کا اضافہ حدیث سے نہیں کرتے بلکہ نکاح کو جماع کہتے ہیں۔
سعید بن جبیر نے حلالہ کیلئے نکاح کو کافی کہاتو حجاج نے کافر کہا اور شہید کردیا۔
یہ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا اتفاق تھا کہ عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو 3طلاق ہو یا حرام کا لفظ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتاہے اور نبیۖ کو ایلاء میں بھی ازواج مطہرات کو اختیار کا حکم ملا۔ جو ایک طلاق کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی مانتے ہیںیہ بھی جاہلیت ہے اور تین طلاق کے بھی تو مزید بڑی جاہلیت ہے۔ قرآن، احادیث اور صحابہ کے اندر تضاد نہیں تھا ۔
ــــــــــ

مفتی ثمر قادری کی عقیدت

بالکل چھوٹی عمر تھی سیدی اعلی حضرت کی، نیکر نہیں صرف قمیص پہنی ہے۔ سامنے سے کچھ بازاری عورتیںآرہی تھیں، بے پردہ تو آپ نے جب انہیں دیکھا تو سامنے والا پلو اٹھا کے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ کچھ چھپانے والی چیز ظاہر ہوگئی۔ تو عورتیں ہنسنے لگیں، بازاری تھیں ناں انہیں کیا شرم؟ تو کہنے لگیں بچے چھپانے والی چیز کو ظاہر کردیا اور آنکھوں پر پردہ کرلیا۔ اعلی حضرت نے جو حکیمانہ جواب دیا ہلا کے رکھ دیا اس نے عورتوں کو، اس نے کہا میں نے اپنے گھر سے سنا ہے پہلے آنکھیں گندامنظر دیکھتی ہیں، پھر خیال ذہن میں آتا ہے، پھر وہ لالچ دل میں جاتا ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر بندے کا نفس گناہوں پر آمادہ ہوتا ہے، میں تمہارے جیسا گندا منظر دیکھوں گا نہیں میرے دل میں خیال آئے گا نہیں، میرا دل بہکے گا نہیں۔ اب آپ کو بات سمجھ آرہی ہے کہ نہیں آرہی آپ حضرات کو؟ یہ ہیں اعلی حضرت۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv