پوسٹ تلاش کریں

مسکان کے چہرے پرنقاب اور اسلام!

مسکان کے چہرے پرنقاب اور اسلام!

اسلام میں حج وعمرے کی ادائیگی کرتے ہوئے عورت خانہ کعبہ کا طواف، صفا ومروہ کامخلوط میرا تھن ریس اور پنج وقتہ نماز ادا کرتے ہوئے چہرے کا پردہ نہیں کرتی ہے۔ اگر اس کے چہرے پر نقاب یا دوپٹے کا کوئی حصہ لگ جائے تو اس پر دَم (جانورذبح کرنے کا جرمانہ) واجب ہوجاتا ہے۔ اگر قرآن میں چہرہ چھپانے کا عورت کو حکم ہے توپھر کیا بنوامیہ وبنوعباس کے دورِ آمریت میں فقہاء نے عورتوں کو حج وعمرے میں چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ باپردہ خواتین کے انتخاب میں آسانی ہو؟۔ لیکن عورت ہمیشہ سے اپنی روایات کی پکی رہی ہے اور یہ قرآن وسنت کا حکم نہ ہوتا تو عورت آمریت کے حکم اور فقہ کوبھی ٹھکرادیتی تھیں۔
سورہئ مجادلہ میں ظہار کی نام نہاد شریعت کے خلاف قرآنی حکم بھی عورت ہی کی مزاحمت اور مکالمے کے نتیجے میں نازل ہوا۔ حجرِاسود پربدتمیزی کے ماحول کی انتہاء دیکھنے کو ملتی تھی۔ اپنی بیگم سے اتنی ہڈی پسلی نہیں مل سکتی تھی جتنی اجنبیوں کے ماحول میں مردوعورت کا اختلاط ہوتا تھا۔ ڈاکٹر وحیدؒ نے بتایاتھا کہ منصوبے کے تحت حجرِ اسود کے پاس بعض لوگ شہوت رانی کیلئے جاتے ہیں۔ قربان اسلام پر جس نے چہرے کے نقاب پر حج و عمرہ میں چودہ سوسال پہلے پابندی لگادی تھی ورنہ نقاب کی آڑ میں پتہ نہیں کیا ہوتا؟۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ کسی مسجد میں تقریر کی تو کہا کہ تالی نہیں بج سکتی اسلئے کوئی بات پسند ہو توہاتھ اٹھالینا۔ طالبات کے چہرے چھپے ہوں تو استاذ کو معلوم نہیں ہوتا کہ سبق سمجھ آیا یا نہیں؟۔ اجتماع میں چہرے چھپانے کی آڑ میں دہشتگردی اور جنسی کرپشن بڑھ سکتی ہے۔


مسکان خان ایک سمجھدار بیٹی ایک معصوم چڑیا۔اجمل ملک ایڈیٹرنوشتہئ دیوار __
اجمل ملک لکھتے ہیں کہ بھارت کے علاقے کرناٹک کے ایک کالج میں مسکان خان کیساتھ پیش آنیوالے واقعہ کی وڈیو کلپ جب میں نے پہلی دفعہ دیکھی تو مجھے بالکل ایسے لگا جیسے میری اپنی بیٹی ہندو بلوائیوں میں گھری ہوئی ہے کیونکہ میری بیٹی بالکل اسی حلئے میں یونیورسٹی جاتی ہے۔ لہٰذا میں نے وہ وڈیو بار بار دیکھی مجھے لگا یہ بیٹی بہت سمجھدارہے،اس نے پہلے غور سے حالات کا جائزہ لیا اس نے دیکھ لیا کہ ان نعرے لگانے والوں میں میرے کلاس فیلو لڑکے بھی ہیں میرا پرنسپل بھی موجود ہے لہٰذا اسکی کچھ ہمت بندھی اور اس نے بھی انکے نعروں کے جواب میں اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے اور پھر انتظامیہ کی سائیڈ پر چلی گئی جہاں اسکے پرنسپل نے سب کو روک کر اس کیلئے راستہ بقیہ صفحہ3پر
بقیہ ………… مسکان خان ایک سمجھداربیٹی ایک معصوم چڑیا: اجمل ملک
بنایا میں اس ذمہ دارہندو پرنسپل کو سلام پیش کرتا ہوں پھر جب کچھ لڑکے مسکان خان کی طرف بڑھے تو انتظامیہ کے ایک دوسرے شخص نے مسکان خان کو تحفظ دیا وہاں اس بچی نے شکوے کے انداز میں کہا کہ آخر حجاب سے کیا مسئلہ ہے؟ پھر کچھ آگے جاکر اس نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا جو بعد میں اس نے اپنے انٹرویو میں بھی کہا کہ میں ڈر گئی تھی اور جب میں ڈرتی ہوں تو اللہ اکبر کہتی ہوں اس معصوم مسلمان بچی نے کالج کے متعصب ماحول میں انتہائی حکمت، بردباری اور وقار سے صورتحال کا سامنا کیا۔ ہمارے برصغیر میں بیٹیاں سب سے کمزور سمجھی جاتی ہیں اور ان کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں ”چڑیوں“ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ہمارے کلچر میں کہا جاتا ہے ”دھیاں نماڑیاں“ دشمن بھی بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے ”دھیاں سانجھیاں ھوندیاں نے“ لیکن لگتا ہے کہ اب پاکستان کے مسلمانوں نے اپنی یہ ساری روایات بھلا دی ہیں اورہم بھارت میں آباد اپنی بیٹیوں کے تحفظ کا کوئی معقول بندوبست کرنے کے بجائے انہیں مشتعل کر رہے ہیں کہ یہ ”چڑیاں“ متعصب ھندوؤں سے ٹکرا جائیں۔ہمیں اتنی بھی بصیرت نہیں ہے کہ عالمی سطح پر مذہبی انتہا پسندی کو ابھارنے کیلئے اور ھندو مسلم کو آپس میں لڑوانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے گئے ہیں۔1979سے امریکیCIAاس ٹارگٹ پر کام کر رہی ہے جسکی پوری تفصیل آ چکی ہے لیکن دکھ کی بات ہے کہ ہم بھی بالواسطہ طور پر اس کیلئے استعمال ہو رہے ہیں،ہمیں بھارت میں بسنے والی اپنی مسلمان بیٹیوں کے تحفظ کیلئے کوئی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ بھارت میں آباد مسلمان کمزورہیں جب ہم نے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ وطن بنایا تو پاکستان کیلئے اصل تحریک انہی علاقوں میں آباد مسلمانوں نے شروع کی تھی حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہونگے لیکن وہ ایک مضبوط اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے لیکن ہم پچھلے،74 سالوں میں قرآن کا ایک بھی قانون اس ملک میں نافذ نہ کر سکے اسی برٹش قانون کے تحت ہم زندگی گذار رہے ہیں جس کے تحت بھارت کا مسلمان زندگی گذار رہاہے بلکہ ایک لحاظ سے وہ ہم سے بہتر ہیں بھارت نے کم از کم ملک سے جاگیرداری نظام کا تو خاتمہ کر دیا لیکن اسلام میں جاگیرداری کے خاتمے کے واضح حکم کے باوجودہم نے اس ذلت کو سینے سے لگا رکھاہے اورہماری پارلیمنٹ پر انہی جاگیرداروں کا قبضہ ہے اگرہم پاکستان میں اسلام کا حقیقی روشن چہرہ دنیا کو دکھاتے تو ذات پات میں تقسیم ھندو سب سے پہلے اس اسلام کی آغوش میں پناہ لیتا ہم نے تو اسلام نافذ نہیں کیا لیکن بھارت کے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی قیمت آج بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان کے مسلمان ہماری مدد کریں لیکن کچھ قومی ذمہ داریاں ”ان کہی“ہوتی ہیں اور زندہ قومیں نہ صرف ان ذمہ داریوں کو یاد رکھتی ہیں بلکہ انہیں نبھاتی بھی ہیں 1924میں جب مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا جا رہا تھا تو مسلمانوں کے نظام خلافت کو بچانے کیلئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے زبردست تحریک چلائی۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ ”بی اماں“ کی قیادت میں ایسی زبردست تحریک اٹھی کہ ھندوؤں نے بھی اس تحریک میں مسلمانوں کا ساتھ دیا اسوقت پورے ہندوستان میں یہ نعرہ مشہور ہو گیا ”اماں بولی محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پر دیجیو“۔ اسوقت متحدہ ہندوستان سے ہزاروں مسلمان عورتوں نے ترکی کی مدد کیلئے اپنے زیورات بھیجے، ترکی کانظام خلافت تو نہ بچ سکا لیکن ترک قوم نے آج تک مشترکہ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ احسان یاد رکھا ہوا ہے اور جب2005میں پاکستان میں شدید زلزلہ آیا تو ترکی کی طرف سے دیگر امداد کیساتھ وہاں کی عورتوں نے اسی جذبے کے تحت اپنے زیور بھی بھیجے لیکن گردش زمانہ نے کیسے دن دکھا دیئے ہیں کہ تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے عظیم لیڈر ذولفقار علی بھٹو کی جماعت کا منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تاریخ سے اتنا ناواقف نکلا کہ اس نے ترک خواتین کی جانب سے بھیجے گئے زیورات میں سے ایک نہایت قیمتی ہار اپنی بیگم کو دیدیا اناللہ واناعلیہ راجعون۔آج بحیثیت قوم ہم اپنی ذمہ داریاں بھول چکے ہیں۔ہمارا زور صرف نعرے لگانے اور تصادم کی فضا پیدا کرنے پرہے،مضبوط پاکستان بھارت میں آباد مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے ہم تو اپنی کشمیر کی بیٹیوں کیلئے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کر سکتے لہٰذا ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ھوگا جس سے بھارت میں آباد مسلمانوں کو تحفظ ملے، حجاب مسلمان بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کیلئے ہے اس نام پر بیٹیوں کا تماشہ لگانے کیلئے نہیں ہے۔ قرآن کھول کر دیکھیں اپنی عورتوں کی عزتوں کے تحفظ کیلئے کیسے کیسے جلیل القدر انبیاء نے کس حکمت سے کام لیا ہے۔ دوسرے یہ کہ بھارت میں حجاب کوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ ھندو کلچر میں اس کا بہت رواج ہے،وہاں بہت بڑی تعداد میں ہندو خواتین و حضرات مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں ہمیں حجاب کو مسلمانوں اور ھندوؤں کے درمیان رسہ کشی کا سبب بنانے کے بجائے اس حوالے سے ساتھ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور دوسری طرف اپنے آپکو مضبوط کرنا چاہیے۔ہم نعرہ تو اللہ اکبر کا لگاتے ہیں اور قرآن کا یہ واضح حکم ہمارے سامنے ہے کہ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقہ فرقہ مت بنو“۔ لیکن ہم میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ ہم اپنے فرقے کی قربانی دیکر ایک اللہ کے دین پر متحد ہو جائیں، لہٰذا آج ہم مسلمان دنیا میں ذلیل و رسواء ہیں اگر ہم جہاد بھی کرتے ہیں تو امریکی مقاصد کی تکمیل کیلئے کرتے ہیں،ہمیں ڈرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہوکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد کہ اللہ ھندوؤں کوہدایت دیکر مسلمان کر دے اور انکے ذریعے اصل اسلام کو زندہ کر دے کیونکہ آج بھارت کی پارلیمنٹ میں تو قرآن کھلتا ہے اورہندو عورت قرآن لہرا کر کہتی ہے کہ تم مسلمان عورتوں کیساتھ حلالے کیوں کرتے ہو؟۔ قرآن پڑھو اس میں اس حوالے سے کتنا واضح حکم ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر228،229اور آیت نمبر231،232اس حوالے سے بالکل واضح ہیں اور مزید اگرہم سورہئ طلاق کے شروع کی صرف دو آیات دیکھ لیں تو بات بالکل واضح ہے لیکن ہمارا مولوی قرآن کھولنے کو تیار نہیں ہے اس نے اپنی سوئی سورہ البقرہ کی آیت نمبر230پر اٹکا دی ہے تاکہ معصوم بچیوں کے حلالے کرتا رہے لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ مسلمان بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلنے والے نام نہاد علماء کو عذاب دینے کیلئے ہندوؤں کو منتخب کر لے اور جس غزوہ ہند کی ہم مسلمان بات کرتے ہیں وہ ہمارے ہی خلاف ہو اورہماری ہی اشرافیہ طوق و سلاسل میں جکڑ لی جائے کیونکہ اس سے پہلے تاریخ یہ نظارہ دیکھ چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے چنگیز خان کی اولاد کو اسلام کی دولت سے نواز دیا اور پھر انہوں نے اسلام کو زندہ کیا جس پر اقبال نے کہا”ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے۔ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے“۔ اجمل ملک

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان میں اسلامی انقلاب کیلئے عتیق گیلانی کی صدا کو اللہ جلد کامیاب کرے۔ مفتی سید انس مدنی

پاکستان میں اسلامی انقلاب کیلئے عتیق گیلانی کی صدا کو اللہ جلد کامیاب کرے۔ مفتی سید انس مدنی

کیا آپ جانتے ہیں کہ قوموں کو غلام کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ عین الیقین و حق الیقین سے کہتا ہوں کہ قرضوں پر تالا لگ گیاہے
فائنانس منسٹر امیر جماعت اسلامی نے ورلڈ بینک سے متحدہ مجلس عمل کیلئے قرضہ لینا تھا مگر خواتین کی تصاویر ہٹانے پر نہیں دیا گیا

جماعت غرباء اہلحدیث کے مرکزی امیر مولانا عبدالرحمن سلفی اور محمد سلفی کے بھائی جامعہ ستاریہ گلشن اقبال کراچی کے مفتی محمدانس مدنی نے اپنے یوٹیوب چینل پر بیان میں کہاہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں قوموں کو غلام کیسے بنایا جاسکتا ہے؟۔ آئی ایم ایف کے قرضوں پر تالا لگ گیا ہے۔ کب اورکس طرح سے ۔میں یہ بات کوئی سنی سنائی نہیں بلکہ عین الیقین اور حق الیقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ آپ کو یہ خبر دے رہاہوں۔ سراج الحق جو جماعت اسلامی کے امیرہیں، خیبرپختونخواہ میں فنانس منسٹر تھے۔2003اور4کا صوبائی بجٹ جو پاس ہوا تھااور ملنا تھا ورلڈ بینک کی طرف سے5ارب مختص کردئیے گئے کہ دئیے جائیں گے۔لیکن7،8مہینے گزرگئے اور کچھ پیسہ ہی نہیں ملا۔سراج الحق صاحب نے کنٹری ڈائریکٹر شاہ نواز صاحب سے مطالبہ کیا کہ قرضہ جو مخصوص کیا گیا تھا وہ اب تک نہیں ملا ہے۔ جواب کیا دیا جارہاہے؟۔ خواتین کی تصاویر پشاور کی سائن بورڈوں سے ہٹادی گئیں ، اتروادی گئیں اور قرضے کا مطالبہ کررہے ہو؟۔ سراج الحق صاحب نے کہا کہ ان تصاویر کا قرضوں سے کیا تعلق ہے؟۔ تو آگے سے جواب مل رہاہے کہ قرض لینا ہوگا تو کلچر بھی لینا ہوگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسی اپنی چلاؤ اور قرض ہم سے لو۔ جب قرضہ ہم سے لوگے تو داخلہ اور خارجہ پالیسی بھی ہماری ہی چلانی ہوگی۔ پیسہ ہمارا اور کلچر تمہارا یہ ممکن نہیں ہے۔ آپ کو پتہ چلا کہ کس طرح پاکستان کے کلچر کو قرضے کے نام پر بدلنے کی کوشش چلی آرہی ہے؟۔اور میں مبارکباد دوں گا جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب کو جو نوشتۂ دیوار کے چیف ایڈیٹر ہیں۔کئی سالوں سے یہ آواز بلند کررہے ہیں کہ پاکستان کے اندر اصلاح اسی وقت ہوسکتی ہے کہ جب اسلامی انقلاب آئے۔ جب تک اسلامی انقلاب نہیں آتا،پاکستان اسی طرح دلدل میں پھنسا رہے گا اور غربت پہ غربت آتی رہے گی۔ اور انسانیت مرتی رہے گی۔ یہ جمہوریت کا تحفہ ہے، جب اسلامی انقلاب آئے گا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عتیق گیلانی کی صدا کو قبول کرتے ہوئے اسلامی انقلاب بپا فرمادے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

نظریہ صحیح اور نظام درست ہو تو ملک میں امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتاہے ۔پاکستان کا نظریہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ :نظام توبہ استغفراللہ ہے؟

نظریہ صحیح اور نظام درست ہو تو ملک میں امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتاہے ۔پاکستان کا نظریہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ :نظام توبہ استغفراللہ ہے؟

نظریہ مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر ہوتا ہے تو لوگ بڑے مستقل مزاج ہوتے ہیںلیکن جب نظریہ منتشراورناپائیدار ہوتا ہے تو ملک میں افراتفری انتشار ہوتا ہے۔ مسلم قومیت کی جگہ یہاں منتشر اور متضادفرقے ہیں اوراسلامی نظام کی جگہ کٹھ پتلی جمہوریت ہے جس کی وجہ سے لسانیت ، فرقہ واریت اور فرعونیت ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان مسلم قومیت لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنا لیکن کیا اسلام سے زیادہ مضبوط یہاں فرقہ واریت ، مسلک سازی اور گروہ بندی نہیں؟۔ جب اسلام کی جگہ بریلوی ،دیوبندی،اہلحدیث اور شیعہ نے لی ہے تو پھریہ اسلام ہے یا فرقہ واریت، تضادات اور انتشارات کا ملغوبہ ہے؟۔ سانحہ مشرقی پاکستان سقوطِ ڈھاکہ تک نوبت اسلئے پہنچی کہ سیاست کا محور مفادات کے تحفظ کا جھگڑا تھا اور بہاری اور جماعتِ اسلامی کے ذریعے بنگالیوں کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی، جس نے بھارت کو مداخلت کا موقع فراہم کردیا۔ اب پھر سندھی قوم پرستوں اور جماعت اسلامی وایم کیوایم کے درمیان معرکہ برپا ہے۔ جی ایم سید کا فرزند کہتا ہے کہ1940میں لاہور کے اندر پاکستان کیلئے جو قرار داد مقاصد پیش کی گئی تھی تو70سالوں سے اس سے انحراف ہورہا ہے اور ہمارے ساتھ دھوکہ ہواہے۔ یہ قراردادمقاصد غلط تھی۔ ہم سندھی پانچ ہزار سال سے ایک الگ اور آزاد قوم ہیں اور ہم پاکستان سے آزادی کا اعلان کرتے ہیں اگر بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا جاتا ہے یا گولیوں کا نشانہ بنایا جاتاہے تو ہم اس کیلئے بالکل تیار ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کا رونا روتی ہے کہ صوبے کو مرکز سے حقوق نہیں مل رہے ہیں اور ایک طرف کراچی کو حق دو اور مہاجر صوبے کی بات ہورہی ہے تو دوسری طرف سندھیوں کی طرف سے صوبہ مانگنے پر مہاجروں کے قتلِ عام کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بلوچ سرماچاروں ، پشتون ، سرائیکی ، ہزارہ اور پنجابی قوم پرستوںکے نعرے ہیں ۔ سوشلزم کے لوگ اپنے نظرئیے اور نظام کی بات کررہے ہیں اور اسلام کی بنیاد پر کسی معاشرتی نظام اور معاشی نظام کی جگہ مولوی کے غلط فتوؤں نے لے لی ہے۔ پاکستان کو اندرونی خطرات نے گھیر رکھاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

عورت کی رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں ہو سکتی۔ صحیح بخاری کی حدیث کا عنوان

عورت کی حق تلفی کے معرکة الآراء مسائل کی بنیادیںاور ان کے حل کی طرف توجہ طلب امور کے مختصر تذکرے اور نشاندہی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوشتہ دیوار کراچی۔ سوشل میڈیا پوسٹ ماہ نومبر

صحیح بخاری کی احادیث کا عنوان ہے کہ ” عورت کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح نہیں کرایا جاسکتا ہے”۔ رسول اللہ ۖ سے ایک خاتون نے شکایت لگائی کہ اس کا نکاح اس کے ولی نے اس کی مرضی کے بغیر کردیا ہے تو رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” یہ نکاح نہیں ہوا ہے”۔ قرآن کے بعد فقہ کے اصول میں حدیث کا نمبر ہے۔ جب رسول اللہۖ کی بات سامنے آئے اور وہ قرآن کے خلاف ہو تو پھر اس کو رد کیا جائے اسلئے کہ قرآن پہلے نمبرپر ہے لیکن اس کے بعد کسی دوسرے کے قول حجت نہیں بلکہ قرآن وسنت اور شرعی اصولوں کے بالکل منافی ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے استاذ اور وفاق المدارس العربیہ کے سابق صدر مولانا سلیم اللہ خان نے صحیح بخاری کی اپنی شرح ”کشف الباری ” میں ایک عنوان ” ولایت اجبار” کے نام سے نقل کیا ہے۔ جس میں کسی امام کا یہ مسلک بھی نقل کیا ہے کہ ” عورت کنواری یا طلاق شدہ وبیوہ ، بہر حال ولی کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کا نکاح جبری طور پر اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کسی بھی اس شخص سے کردے ”۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ ” بچی اور کنواری بالغ لڑکی کا زبردستی سے اس کی اجازت کے بغیر نکا ح کرانا ولی کیلئے جائز ہے لیکن طلاق شدہ بچی اور بالغ عورت کا زبردستی سے نکاح کرانا جائز نہیں ہے”۔ یہ شافعی مسلک ہے ۔ اور تیسرا حنفی مسلک یہ ہے کہ ” بچی کنواری ہو یا طلاق شدہ اس کا نکاح زبردستی کرانا ولی کیلئے جائز ہے مگربالغ کنواری اور بیوہ وطلاق شدہ کا زبردستی نکاح کرانا جائز نہیں ہے”۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ ” بچی ،بالغ ، کنواری ، بیوہ و طلاق شدہ کا ولی کیلئے زبردستی سے نکاح کرانا جائز نہیں اور بچی کا نکاح جائز نہیں ہے ”۔ علامہ شبرمہ کے اس مسلک پر جامعہ ازہر مصر کی رہنمائی سے مصر کی حکومت نے بھی1923ء میں قانون سازی کی تھی۔ یہی عدالتوں کیلئے معیار بن گیا ہے۔
مسالک کے نام پر بچیوں اور خواتین کے استحصال کی اجازت انتہائی غلیظ اور گھٹیا بات ہے اور مردوں کے معاشرے میں عورت پر اس سے بھی زیادہ جبر روا رکھا جاتا ہے لیکن اسلام کے نام پر چلنے والی حکومتوں نے اس کا کوئی نوٹس بھی نہیں لیا ہے۔ حضرت مالک بن نویرہ کے قتل کے بعد اس کی خوبصورت بیگم سے اس کی عدت میں جب حضرت خالدبن ولید نے جبری نکاح کرلیا تو حضرت عمر نے خلیفۂ وقت حضرت ابوبکر صدیق سے عرض کیا کہ اس جرم میںخالد بن ولید پر سنگساری کا حکم جاری کردیتے ہیں۔ ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ تنبیہ کافی ہے اسلئے کہ اس فتنے وارتداد کے دور میں ہمیں حضرت خالد کی ضرورت ہے۔
قرآن میںحضرت داؤد کے مشہور واقعہ کا ذکر ہے کہ جب کچھ لوگ اچانک محراب میں داخل ہوگئے تو وہ گھبرا گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں، یہ میرا بھائی ہے اور اس کی99دنبیاں ہیں اور میری ایک دنبی ہے ،اس کی چاہت ہے کہ ایک دنبی بھی مجھ سے چھین لے۔ حضرت داؤد نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو تیرے ساتھ یہ ظلم ہے اور پھر سمجھ گئے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے اپنے غلط عزائم کی معافی مانگ لی ۔پس اللہ نے اسکو معاف کردیا”۔ قرآن کے اس واقعہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت داؤد کی99بیویاں تھیں اور ان کے مجاہد حضرت اوریا کی ایک بیوی تھی اور حضرت داؤد کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی اپنے مجاہد اوریا سے لے لے۔ پہلے ادوار میں عورت کی اپنی حیثیت ایک جانور کی ہوتی تھی۔ بڑے پیمانے پر لونڈیاں رکھنے کا رواج تھا اور طاقتور کمزوروں سے عورت چھین لیتے تھے۔اسلام نے عورت کو ایک انسان اور اپنی جان کے مالک اور اپنے اوپر اختیارات رکھنے کا تصور دنیا کو دے دیا تھا۔
قرآن وسنت کے خلاف مختلف مسالک گھڑ کر اختلافات کے انبار کھڑے نہ کئے جاتے تو آج دنیا میں قرآن وسنت کا نظام عملی طور پر رائج ہوتا۔ پاکستان کی حکومت نے مرد اور عورت کی شادی کیلئے18سال کا قانون اسلئے بنادیا ہے کہ مرد اور عورت کا معاشرے کی طرف سے شادی پر مجبور کرانے کی رسم وروایت کا خاتمہ ہوجائے لیکن جب کوئی بالغ لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرنے کے موڈ میں ہوتے ہیں تو ان کو معاشرے اور حکومت کے قوانین سے بغاوت کرنے کے نتائج دیکھنے پڑتے ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی کا معاملہ بھی اصل میں اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جنسی خواہشات اور شادی کیلئے جب دو افراد سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے سماج، رسم ورواج، مذہب اور کسی بھی رکاوٹ اور قانونی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ مغرب نے اس کے حل کیلئے جنسی آزادی کو بنیاد قرار دیا ہے اور شادی کیلئے مشترکہ جائیداد اور طلاق کے بعد جائیداد کی تقسیم کو قانون بنادیا ہے۔
عورت کے حق کیلئے نظریۂ ضرورت ہر دور میں حائل رہاہے۔ جب قرآن کی آیات لعان کے حوالے سے سورۂ نور میں نازل ہوئیں تو انصار ی سردارحضرت سعد بن عبادہ نے کہا کہ میں قرآن کے اس حکم لعان پر عمل نہیں بلکہ قتل کروں گا۔ نبیۖ نے انصار سے کہا کہ تمہارا صاحب یہ کیا کہتا ہے؟۔ انصار نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صل اللہ علیک وسلم ! یہ بہت غیرت والا ہے۔ ہمیشہ کنواری سے شادی کی اور جب طلاق دی تو کسی اور سے اس کو شادی نہیں کرنے دی۔ طلاق شدہ اور بیوہ سے کبھی شادی نہیں کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرتمند ہے”۔ (صحیح بخاری)
انصارنے اپنی غیرت کیلئے حضرت سعد بن عبادہ کی غیرت کو ڈھال بنایااور ان کے دلوں میں یہی تھا کہ اگر بیوی کیساتھ کسی اجنبی کو فحاشی کی حالت میں دیکھ لیں گے تو ہم بھی غیرت کی وجہ سے قتل کردیں گے۔ نبیۖ نے یہی صورتحال دیکھ لی تو فرمایا تھا کہ ” اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا اور یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ نبیۖ نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دین اسلام محض ایک مذہب نہیں رہے گا بلکہ معروضی حقیقت بن جائے گا۔ تمام ادیان پر غالب ہوگا اور آسمان وزمین والے دونوں اس سے خوش ہوں گے۔ اس کو حقیقت میں بدلنے کیلئے وہ اجنبیوں کی جماعت ہوگی جو قرآن کے احکام سے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکے گی۔قرآن کے الفاظ کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے اور اس کے معانی اپنے طور پر بہت واضح ہیں لیکن افسوس کہ علماء ،دانشور اور عوام اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہیں۔
مرد کی سب سے بڑی کمزوری عورت اور عورت کی سب سے بڑی مرد ہے۔ ماں، بہن اور بیٹی تو تقدیر سے ویسے مل جاتے ہیں لیکن بیوی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مرد چار وجوہات کی وجہ سے بیگم کا انتخاب کرتا ہے۔نمبر1:حسن وجمال، نمبر2:حسب ونسب، نمبر3:مالداراور صاحب حیثیت،نمبر4:کردار واخلاق، نبیۖ نے ان چاروں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”تیری ناک خاک آلود ہو ، آپ کردار کو سب سے زیادہ ترجیح دو”۔پہلے تین وجوہ کیلئے ترغیب کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں میں حسن وجمال، حسب نسب اور مالدار ہونے کی ویسے بڑی رغبت ہوتی ہے مگر نبیۖ نے اصل چیز کی نشاندہی فرمادی۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے اس حدیث کی تشریح میں لکھ دیا کہ ”پہلے تو یہ چاروں کی چاروں صفات اس عورت میں ہونے ہوں لیکن اگر سب نہ ہو ں تو پھر کردار ضرور ہونا چاہیے”۔ علماء کرام میں دنیا کی محبت اتنی گھرکر گئی تھی کہ نبیۖ کی اس حدیث کی درست تشریح کرنے کی توفیق بھی اللہ نے نہیں دی تھی۔
انسان کی فطرت میں حب الشہوات من النساء (عورتوں سے شہوت کی محبت) موجود ہے اور اس کی نشاندہی قرآن نے کردی ہے۔ نبیۖ کو آئندہ شادی نہ کرنے سے اللہ نے منع کرتے ہوئے فرمایا: ولواعجبک حسنھن ” اور اگرچہ ان کا حسن آپ کو اچھا لگے”۔پھر الا ماملکت یمینک ”مگر جو آپ سے ایگریمنٹ والی ہو” کی اجازت دیدی۔حضرت ام ہانی حضرت علی کی ہمشیرہ کوفتح مکہ کے بعدنبیۖ نے شادی کی پیشکش کی لیکن حضرت ام ہانی نے معذرت کرلی۔ جس پر نبیۖ نے ان کی تعریف کی تھی اور پھر اللہ نے فرمایا کہ ” ہم نے تمہارے لئے چچااور ماموں کی ان بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی تھی….. اور پھر آئندہ کسی سے بھی نکاح نہ کریں ، چاہے ان کا حسن کتنا اچھا کیوں نہ لگے مگر جس سے آپ کا معاہدہ ہو”۔
علامہ بدر الدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکر کیا ہے جن میں حضرت ام ہانی کو بھی شامل کیا ہے۔ حالانکہ قرآن کے الفاظ میں ان سے ایگریمنٹ ہی ہوسکتا تھا لیکن باقاعدہ نکاح کی ممانعت تھی اسلئے کہ ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی اور فتح مکہ سے پہلے وہ اپنے مشرک شوہر کیساتھ ہی رہی تھیں۔ مشرکوں سے نکاح منع ہونے کے باوجود کسی نے بھی انکے ازدواجی تعلقات کو حرام کاری قرار نہیں دیا تھا۔ البتہ مولیٰ علی نے اس کے شوہر کو قتل کرنا چاہا تھا جس پر آپ نے نبیۖ سے اپنے شوہر کیلئے پناہ کی درخواست کی تھی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” صرف شوہر ہی نہیں جس کو چاہو پناہ دے سکتی ہو”۔قرآن اور نبی ۖ کی سنت فطرت کے اتنے محافظ ہیں کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کے بعد جو مرد شرک چھوڑ کر مسلمان ہوجاتا تو اس کو واپس کردیا جاتا لیکن جب خاتون شرک اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر مدینہ پہنچ جاتی تو نبیۖ اس کو واپس نہ کرتے۔ اللہ نے سورۂ ممتحنہ میں فرمایا کہ ”ان ہجرت کرنے والی عورتوں سے امتحان لو،اگر واقعی انہوں نے اسلام قبول کیا ہو تو پھر انکو واپس مت لوٹاؤ۔ اسلئے کہ وہ اپنے شوہروں کیلئے اب حلال نہیں ہیں اور نہ ان کے شوہر ان عورتوں کیلئے حلال ہیں۔ ان کوحق مہر دے کر ان سے نکاح کرلو”۔ یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ عورت کیلئے وہ حلال نہیں ہیں کیونکہ مسلمان کو حلال وحرام کا لحاظ کرنا تھا لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ مشرک شوہروں کیلئے وہ حلال نہیں ہیں؟۔ یہ شرعی مسئلہ نہیں تھا بلکہ سماجی مسئلہ تھا۔ اگر ان خواتین کو واپس بھیج دیا جاتا تو پھر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا تھا۔اسلئے دونوں طرف حلال نہ ہونے کی نسبت کی گئی اور جب ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی تو ان پر اس بات کا اطلاق بھی نہیں ہوتا تھاکہ وہ اور اس کے شوہر ایک دوسرے کیلئے حلال نہیں۔
قرآن نے سماجی غیرت کا اتنا لحاظ رکھا کہ جب مشرکوں کی مسلمان عورتیں اپنے مشرک شوہروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس آرہی تھیں تومسلمانوں کو بھی اللہ نے یہ حکم دیا کہ ” کافر عورتوں کو اپنے پاس چمٹائے مت رکھو، ان کو رخصت کردو”۔ اس سے بڑھ کر یہ بھی واضح کردیا کہ مشرکوں کے دورِ جاہلیت کے خاص رواج کے مطابق ان کی جو عورتیں بھاگ کر تمہارے پاس آئی ہیں تو ان کے وہ خرچے جو ان کے شوہروں نے ان پر کئے ہیں وہ ان کو واپس لوٹادیں اور تم بھی ان سے وہ خرچہ لے لو جو تم نے ان کافر عورتوں پر کیا ہے اور اگر یہ تمہیں چھوڑ کر خرچہ واپس نہ کریں تو اللہ سے ڈرو اور ان کو معاف کردو”۔
ترجمہ وتفسیر والوں نے کھلے الفاظ کے باوجود یہ مغالطہ کھایا ہے کہ اگر کافر اپنی عورتوں کو وہ خرچہ نہ لوٹائیں تو تمہیں بھی بدلے میںکافر عورتوں کے حق مہرنہیں لوٹانا ہے۔ حالانکہ کافر کیساتھ انکے رواج کے مطابق معاملہ کرنیکا حکم دیا تھا اور اگر ان کی طرف سے اسکی پاسداری نہ ہو تو پھر اللہ نے انتقامی کاروائی سے روکا تھا اور اگر قرآن کا درست ترجمہ اور درست تفسیر ہو تو طالبان،شیعہ، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک والے شدت پسندی کی جگہ آج بھی اعتدال پر آسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حواء کو جس شجرہ کے قریب جانے سے روکا تھا تو وہ جنسی خواہشات کاشجرۂ نسب تھا۔ اللہ نے انسانوں سے فرمایا ہے کہ ” اے بنی آدم ! شیطان تمہیں ننگا نہ کردے ، جیسے تمہارے والدین کو ننگا کرواکر جنت سے نکال دیا تھا”۔ شجرۂ نسب ہی وہ چیز ہے جس کے قریب جانے سے بھوک و ننگ کا معاملہ ہوتا ہے۔ اکل کے معنی عربی میں کھانے کے بھی ہوتے ہیں اور کنگھی کرنے کے بھی۔ جس طرح جماع کیلئے قرآن میں لامستم النسائ، مباشرت اور مقاربت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اسی طرح آدم و حواء کے قصے میں بہت زبردست طریقے سے اخلاقیات کے اعلیٰ درجے کے ادب کی زبان میں بات کی گئی ہے۔ جنسی خواہش کی تکمیل میں یا اپنی حدود سے تجاوز کرنے کیلئے یہ الفاظ بہت موزوں ہیں کہ ” ہم نے اپنے اختیار سے ایسا نہیں کیا ہے”۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا بھی سچ ہے کہ ولم نجد لہ عزمًا ”اورہم نے اس کا عزم نہیں پایا”۔لیکن تاہم جس چیز سے اللہ نے منع کیا تھا وہ بہر حال ہوچکی تھی اسلئے اللہ نے فرمایا کہ عصی آدم ربہ فغوی ” آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور پھر وہ بہک گیا”۔ اس فعل کی نسبت حضرت آدم وحواء دونوں کی طرف ہوتی ہے لیکن فاعل اور مفعول میں فرق ہوتا ہے۔ اصل ذمہ دار فاعل حضرت آدم ہی کو قرآن نے قرار دیا ہے لیکن افسوس کہ جرم کے ارتکاب کی ذمہ دار پھر حضرت حواء کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے حضرت آدم کو ورغلایا تھا اور یہ بھی ایک معاشرتی حقیقت ہے کہ جب تک عورت راضی نہ ہو تو مرد کیلئے زبردستی کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ ایک رشتہ بیوی کا ہوتا ہے اور دوسرا ماں کا ہوتا ہے، اس کے علاوہ کئی بہنوں اور بیٹیوں کا بھی معاملہ ہوتا ہے اور محرم وغیرمحرم رشتہ داروں کا بھی معاملہ ہوتا ہے۔ جب تک انسان کے دل ودماغ میں یہ بات نہیں آتی ہے کہ سب خواتین کے مفادات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اس وقت تک مسائل کا حل ممکن نہیں اور اگر قرآن وسنت کو دیکھ لیں اور پھر مقابلے میں مسلک سازی کے اختلافات کا جائزہ لیں تو مکڑی کے جالوں کی طرح سب صاف ہوجائیں گے۔
اللہ نے فرمایا: الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الا اللمم ”وہ لوگ جو اجتناب کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگراللمم کے”۔ انسان بہت کمزور ہے اور اس میں جنسی خواہشات موجود ہیں اور کہیں نہ کہیں اس سے غلطیوں کا ارتکاب بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کی مجموعی زندگی مؤمنانہ کردار کے اندر گزرتی ہو، بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتا ہو تو قرآن نے اللمم کی چھوٹ بھی دیدی ہے۔ اللمم سے کیا مراد ہے؟۔ یہ انسانوں کے ماحول میں ایک مجبوری کا نام ہے جس میں دل ودماغ اور انسان کو اپنے عزائم پر قابو نہیں رہتا ہے اور یہ معاشرے کے اجتماعی رویوں اور انسانوں کے انفرادی اعمال میں ایک راز ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی نہیں بلکہ اپنے ربّ کی تعریف اور پاکی بیان کرنے پر ہی دل سے مجبور ہوتا ہے۔ دوسروں کیلئے اچھے جذبات اور اپنی کمزوریوں کے احساس میں زندہ رہتا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” غیبت کرنا زنا سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے” اور اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ”ایک دوسرے کی غیبت مت کرو کیاتم میں سے کوئی اپنے مردے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے”۔
اپنے لئے خدا سے اللمم کی ایک لمبی تاریخ اور زندگی کی تفسیر بیان کرنا لیکن اپنے مسلمان بھائی کے لمحات کی غلطیوں کو سرپر اٹھالینا کوئی اخلاقیات نہیں ہیں۔ بہترین قوانین اور ان پر عمل کرنے سے ہی ہمارا معاشرہ بہترین بن سکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حدیث قرطاس اور اسلامی اعتدال، بارہ اماموں کی حدیث کا تصور، خواتین کا حق اور اسلامی رنگ، مفتی تقی عثمانی اور سید منور حسن

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوشتہ دیوارکراچی ،سوشل میڈیا پوسٹ ماہ نومبر۔

اسلام اور جبر کے درمیان بڑافرق!
قرآن کہتا ہے کہ لااکراہ فی الدین ” دین میں کوئی جبر نہیں ہے”۔ مگر مسلمانوں کے دل ودماغ میںپے درپے خاندانی آمریت نے یہ تصور بٹھادیا کہ ” اسلام جبری نظام کا نام ہے”۔ جب رسول اللہ ۖ نے دنیا کی سپر طاقتوں کو اسلام قبول کرنے کے خطوط بھیجے تو اس میں تبلیغ کا عنصر ہی غالب تھا اسلئے کہ قیصرروم اور فارس کے بادشاہ کی ایسی پوزیشن نہیں تھی اور نہ مسلمانوں کی ایسی حیثیت تھی کہ ایسا حکم دیا جاتا کہ ہتھیار ڈال کر تسلیم ہوجاؤ ورنہ سر قلم کردیا جائیگا۔ البتہ رسول اللہ ۖ کو اعتماد تھا کہ ایک دن حق کے سامنے باطل سرنگوں ہوگا۔ اسلام نے جبری حکومت کے طرز پر خلافت راشدہ کا خواب مسلمانوں کو نہیں دکھایا۔ جب تک مذہبی طبقات کا دل ودماغ اعتدال پر نہیں آئے گا، مسلمانوں سے شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ اسلام کا درست تصور دنیا اور اپنی عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ افغان طالبان مخمصے کا شکار ہیں کہ اگر ملاعمرکے اقدامات سے منہ پھیر لیتے ہیں تو اپنے داعش میں شامل ہوتے ہیں اور اگر ملاعمر کی اطاعت کرتے ہیں تو دنیا میں تنہائی کا شکار ہوں گے۔ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ اسلام کا وہی تصور پیش کیا جائے جو اللہ اور اسکے رسول ۖ نے ساڑھے چودہ سوسال پہلے پیش کیا تھا اور پھر اسلام مختلف ادوار میں اجنبیت کی نذر ہوتا چلا گیا ہے۔
میثاق مدینہ کا تعلق ریاستِ مدینہ کی داخلہ پالیسی کے نظام سے تھا اور صلح حدیبیہ کا تعلق ریاستِ مدینہ کی خارجہ پالیسی کے نظام سے تھا۔دونوں پالیسی کا نظام ایمان واسلام پر مبنی تھا اور ان کا کفر ونفاق کے نظام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
صلح حدیبیہ کا معاہدہ محاذ جنگ کے کنارے کھڑے ہوکر نہیں کیا گیا تھا بلکہ مشرکینِ مکہ مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی کیلئے مکہ میں آنے کی اجازت سے روک رہے تھے اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ احرام عمرہ کے بغیر کھولنے کے بجائے عمرہ ادا کرکے واپس چلے جائیں۔ جب یہ جھوٹی افواہ پھیلادی گئی کہ مسلمانوں کے قاصدحضرت عثمان کو شہید کیا گیا ہے تو رسول اللہ ۖ نے جنگ کیلئے بیعت لے لی۔ لیکن پھر معلوم ہوگیا کہ حضرت عثمان زندہ سلامت ہیں اور اس وقت پھر یہ افسوسناک صورتحال پیش آئی جب باغیوں نے حضرت عثمان کو تخت خلافت پر شہید کردیا تھا۔ کہاں مسلمانوں کا یہود کیساتھ میثاقِ مدینہ کرنا اور مشرکین مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا اور کہاں حضرت عثمان کومسند پر شہید کرنا؟۔آج تک مسلمانوں نے پھر زیادہ اچھے دن نہیں دیکھے ہیں۔ اگر نبیۖ کیلئے اللہ کی مدد نہ ہوتی تو صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کے خلاف بھی بغاوت ہوسکتی تھی۔
کتنی گھمبیر صورتحال ہوگی کہ اللہ نے نبیۖ کی ازواج مطہرات کو حکم دیاتھا کہ وقرن فی بیوتکن ”اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہیں”۔ نبیۖ نے امہات المؤمنین سے فرمایا ”میرے ساتھ جو حج کیا، وہ کافی ہے، میرے بعد حج نہ کرنا اور تمہارا کیا حال ہوگا کہ جب حواّب کے کتے آپ پر بھونکیں گے”۔ اور یہ بھی فرمایا کہ” وہ قوم کامیاب نہیں ہوسکتی ہے جس کی قیادت عورت کررہی ہو”۔ (صحیح بخاری) پھرحضرت علی کے خلاف لشکر کی قیادت حضرت عائشہ نے کی تھی۔ مگرحضرت عثمان کیلئے قرآن میں پہلے سے بیعت کا معاملہ بھی بہت سنگین تھااور حدیث قرطاس سے زیادہ پردۂ غیب میں نافرمانی کا تصور بھی زیادہ بڑا نہیں تھا۔

حدیث قرطاس اور اسلامی اعتدال
جب تک شیعہ سنی کے درمیان مکالمے کا دروازہ نہیں کھلے گا تو اسلامی تاریخ بھی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ غالی شیعوں کا یہ حال ہے کہ کہتے ہیں کہ ”اگرفاطمہ نہ ہوتی تو نہ محمدۖ ہوتے اور نہ علی ہوتے”۔اہل تشیع کی اکثریت کا حال یہی ہے کہ وہ شخصیت پرستی کا بدترین شکار ہیں اور اس سے امت مسلمہ اور خاص طور پر شیعوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا سخت اندیشہ ہے۔ امریکہ دنیا میں37فیصد اسلحہ فروخت کرتا ہے اور اس میں24فیصد سعودی عرب اسلئے خرید رہاہے کہ یمن کے حوثی شیعہ سے ان کو خطرات لاحق ہیں۔ جونہی امریکہ افغانستان سے نکل گیا تو داعش نے شیعوں کی مساجد پر دھماکے شروع کردئیے۔ جب شیعہ شدت پسندوں کیلئے تحریر وتقریر کی آزادی ہے اور دلائل سے زیادہ شخصیت سوزی اور شخصیت سازی میں مسلسل لگے ہوئے ہیں تو اس کے نتیجے میں فرقہ واریت کو زبردست ہوا ملے گی۔ یہود شخصیت سوزی میں اس انتہاء کو پہنچ گئے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر تہمت باندھنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اور عیسائی شخصیت پرستی کا اس طرح سے شکار ہوئے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو بھی اللہ کی خدائی میں شریک بنالیا۔ اہل تشیع ایک طرف اہل بیت کے حوالے سے بہت غلو کا شکار ہیں اور دوسری طرف سے صحابہ کرام کیخلاف گستاخانہ لہجہ استعمال کرتے ہیں اور یہ دونوں ہی اصل میں فساد کی وہ جڑیں ہیں جن پر بڑے بڑے درخت اُگ گئے ہیں۔
جب حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس کے سامنے نبیۖ نے فرمایا کہ ” ایک قلم اور کاغذ لیکر آؤ تاکہ میں تمہیں ایسی چیز لکھ کردوں کہ میرے بعد آپ گمراہ نہ ہوجاؤ۔ تو حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے پاس قرآن کافی ہے”۔
حضرت علی نے اس وجہ سے حضرت عمر کے خلاف کوئی تلوار نہیں اٹھائی کہ نبیۖ کی نافرمانی کی یہ انتہاء ہوگئی ہے۔ جب حضرت عائشہ نے حضرت علی کے خلاف جنگ کی تھی تو بھی حضرت علی نے آپ کے احترام میں کوئی فرق نہیں کیا اور جب اللہ نے ام المؤمنین قرار دیا تو اپنی ماں کی بے احترامی کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔اختلاف تو دو پیغمبروں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون میں بھی ہوا تھا۔داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑنے تک بھی بات پہنچ گئی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی ایک کی شخصیت سازی اور دوسرے کی شخصیت سوزی کی جائے۔ اہل تشیع کے جن لوگوں میں پشت درپشت اہل بیت کی شخصیت سازی اور صحابہ کرام کے خلاف شخصیت سوزی کا جذبہ ہے ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ، ان پر زبردستی سے اپنے عقائد ٹھونسنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسلام کا نزول ہوا تو ایک مقدس پیغمبر حضرت عیسیٰ کی پوجا کرنیوالی قوم عیسائیوں کے خلاف واجب القتل کے فتوے جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی اس وجہ سے یہود یوں کو قتل کرنے کے فتوے جاری کئے گئے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کوئی گستاخانہ عقائد رکھتے ہیں۔اہل تشیع کو انکے بہیمانہ عقائد رکھنے کی وجہ سے واجب القتل سمجھنا اسلام کے بنیادی معاملات کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
یہودونصاریٰ کی خواتین سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دی گئی تھی تو اس کا یہی مطلب تھا کہ شخصیت سوزی اور شخصیت سازی کرنے والوں کے خلاف اشتعال پھیلانے اور واجب القتل کے فتوے جاری کرنے کا ایجنڈا اسلام نہیں کسی اور کا ایجنڈہ ہے۔ امریکہ جس طرح داعش کو ختم بھی کرنا چاہتا ہے تو اس کو زندہ بھی رکھنا چاہتا ہے اور ایران اور اہل تشیع کیساتھ بھی ان کا یہی معاملہ ہے۔
اگر سیرت رسول ۖ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو پھر صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کے خلاف دہشت گرد پیدا نہیں ہوں گے لیکن ان کو نظر انداز کیا جائے تو خلافت راشدہ کے دور میں حضرت عثمان اور حضرت علی کی شخصیات بھی شدت پسندوں کے ہاتھوں اذیت اور شہادت سے نہیں بچ سکیں۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔

کیامان لیا اپنی ماضی کی غلطیوں کو؟
جب وحی کا سلسلہ جاری تھا تو نبیۖ کی بھی بہت معاملات میں وحی کے ذریعے سے رہنمائی ہو جاتی تھی۔ سورۂ مجادلہ، سورۂ احزاب ، سورۂ عبس اور غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد کے بعد کی آیات میں اس حوالے سے بہت روشن دلائل ہیں ۔ جب وحی کا سلسلہ بند ہوا تو مشاور ت سے حضرت ابوبکر کی خلافت قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ ایک حادثہ تھا اسلئے کہ انصار کی چاہت تھی کہ خلیفہ انصار میں سے ہوتا اور انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ پہلے معاملہ نبیۖ کا تھا۔ جب نبی مہاجرین میں سے تھے تو ہم نے تمہارا ساتھ دیا۔ نبی کا انتخاب اللہ خود کرتا ہے لیکن خلیفہ ہم نے منتخب کرنا ہوتا ہے۔ مہاجرین سے زیادہ انصار خلافت کے حقدار ہیں۔ جب یہ بات حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے نہیں مانی تو انہوں نے کہا کہ ایک امیر آپ میں سے ہو اور ایک امیر ہم سے ہو۔ لیکن یہ بات بھی مہاجرین نے نہیں مانی بلکہ یہ تجویز پیش کی کہ ہم امیر بنیں گے اور تم وزیر بن جاؤ۔ حضرت سعد بن عبادہ اس پر زندگی کے آخری لمحے تک ناراض رہے ۔ حضرت ابوبکر وعمر کے پیچھے نماز تک بھی نہیں پڑھتے تھے۔ حجاز وعرب میں قریش کی اہمیت اپنی جگہ پر تھی۔ نبیۖ نے بھی فرمایا تھا کہ ”امام قریش میں سے ہوں گے ”۔ لیکن اہل بیت حضرت علی و ابن عباس وغیرہ میں خلافت کے مسئلے پر دوسرے قریش سے اختلاف تھا۔ پھر حضرت ابوبکر سے حضرت امام حسن نے کہا تھا کہ آپ میرے باپ کے منبر پر بیٹھے ہیں اور حضرت امام حسین نے حضرت عمر سے یہی بات کہی تھی اور پھر جب حضرت عثمان مسندِ خلافت پر شہید کئے گئے تو حضرت علی کو بھی مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو اپنا مرکز بنانا پڑا تھا۔ اما م حسن نے قربانی دیکر امیرمعاویہ کی سپورٹ کی تھی۔ پھر بنو امیہ اور بنوعباس نے باری باری خلافتوں پر قبضہ کیا اور آخر ترک عثمانیوں نے خلافت کو اپنے خاندانی قبضے سے نوازنے کا شرف حاصل کرلیا تھا۔ پھر ان کو محمود غزنوی نے بھی بلیک میل کیا کہ اگروہ جگہ میرے حوالے نہ کی توہاتھیوں کیساتھ حملہ کرنے تشریف لاؤں گا۔ اس وقت کے ترک عثمانی بادشاہ نے کہا تھا کہ کیا تم مجھے ہاتھی والوں کی طرح ڈراتے ہو ؟، جسکا ذکر سورۂ فیل میں اللہ نے کیا ہے۔
اہل بیت خاص طور پر امام حسن کی اولادپر عباسی خلیفہ قاہر نے بہت مظالم کی انتہاء کردی تھی۔ جب اما م حسین کی اولاد کو فاطمیوں کے نام سے حکومت مل گئی تو وہ آج آغا خان خانی اور بوہریوں کی شکل میں موجود ہیں۔ امامیہ فرقے نے پہلی مرتبہ ایران میں حکومت قائم کرلی ہے، حالانکہ ان کے اہل بیت کا قول یہ تھا کہ ہماری اولاد میں سے جس نے خروج کیا وہ ایسے پرندے کا بچہ ہوگا جو اغیار کا پالتو ایجنٹ ہوگا۔ امام خمینی نے فرانس سے ایرانی حکومت پر قبضہ کرلیا۔
اہل تشیع کی کتابوں میں ہے کہ نبوت اور ولایت کا نور حضرت آدم سے شیبہ حضرت عبدالمطلب تک ایک تھے۔ پھر حضرت عبداللہ کے توسط سے حضرت محمد ۖ اور حضرت ابوطالب کے توسط سے حضرت علی تک دونوں نور الگ الگ ہستیوں کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نوروالایت پہلے حضرت امام حسن میں منتقل ہوا تو پھر ان کی اولاد میں منتقل ہونا چاہیے اور پھر یہ نور حضرت امام حسین اور ان کی اولاد میں کیسے منتقل ہوا؟۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ نورامامت حضرت امام حسن اور نورولایت حضرت امام حسین میں منتقل ہوگیا تھا لیکن اہل تشیع فرقہ امامیہ نے اس کواپنے طور پر درست سمجھانہیں تھا؟۔

_ بارہ اماموں کی حدیث کا تصورکیا؟ _
اہل تشیع کے بارہ اماموں کا تصور بہت واضح ہے۔شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوینے بھی اپنی کتابوں میں ان کے حوالے سے بہت وضاحت کی ہے اور صوفیاء وعلماء کی کتابوں میں انکے تذکرے ہیں ۔ لیکن جس طرح کی احادیث اہل تشیع پیش کرتے ہیں ان پر ائمہ اہل بیت کا یہ سلسلہ پورا نہیں اترتا ہے۔ اسلئے کہ کشتی نوح اور قرآن واہل بیت کے حوالے سے مہدی ٔ غائب کے پھر غائب ہونے کی گنجائش نہیں بچ سکتی ہے۔ جب ہمارا امام غائب ہو تو امام زمانہ کو نہ پہچاننے کی ذمہ داری امت پر کیسے پڑے گی؟۔
جب امت کو ہلاکت سے بچانے میں قرآن کیساتھ دوسری چیز اہل بیت ہو تو اہل بیت کی غیبت میں ذمہ داری امت پر کیسے پڑسکتی ہے؟۔اگر اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی ہو تو پھر کشتی کے غائب ہونے کے بعد امت کی ہلاکت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے گا؟ ۔ اہل بیت کو یا پھرامت مسلمہ کو؟۔ شیعہ بہت منطقی لوگ ہیں اور جب نااہل قسم کے ذاکرین اور علماء اپنے تضادات کو اجاگر کررہے ہیں تو اس اختلاف کو ختم کرنے کیلئے اللہ کرے کہ مہدیٔ غائب تشریف لائیں۔
جب اہل تشیع اہل سنت کی کتابوں میں بارہ ائمہ اہل بیت کا جواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اہل سنت پر برس پڑتے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پہلے مرشدپیر سید مہر علی شاہ گیلانی گولڑہ شریف نے اپنی ایک کتاب ” تصفیہ مابین شیعہ وسنی ” میں لکھ دیا ہے کہ حدیث میں جن بارہ اماموں کا ذکر ہے ،وہ ابھی تک نہیں آئے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا اور اس کا ذکر علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ” الحاوی للفتاویٰ” میں کیا ہے۔ جبکہ اہل تشیع کو اپنی حدیث کا جواب بھی اسی سے مل سکتا ہے۔ اہل تشیع نے لکھ دیا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے کہ جس کے اول میں مَیں ہوں، اس کے درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ۔ اور ہوسکتا ہے کہ درمیانے زمانے کے مہدی سے مراد عباسی خلیفہ مہدی ہو۔ اسلئے کہ عباسی خاندان کے خلفاء سے ان کے ائمہ اہل بیت کے مراسم بھی اچھے تھے۔پھر یہ بھی لکھا ہے کہ ہماری کتابوں میں یہ حدیث ہے کہ مہدی کے بعد گیارہ مہدی اور بھی آئیں گے جن کو اقتدار بھی ملے گا۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری امیر کا آخری ہونا پھر کیسے ثابت ہوگا؟۔ اس کا جواب یہی ہے کہ عباسی مہدی کی جگہ درمیانہ زمانے میں ایک مہدی کو مانا جائے اور اس کے بعد گیارہ مہدیوں کو خلافت ملے گی تو آخری امیر بھی اپنی جگہ پر آئیں گے اور روایات پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ علامہ طالب جوہری نے لکھا ہے کہ مشرق سے ایک دجال آئے گا اور اس کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے کوئی شخص آئے گا ۔ یہ دجال کوئی اور دجال ہوگا اور حسن کی اولاد سے سید گیلانی مراد ہوسکتے ہیں۔
شیعہ اکثریت گیلانی سادات اور امام حسن کی اولاد پر اعتراض کرتی تھی مگر اب انہوں نے امام حسن کی اولاد سے اپنے شجرے بھی نکال لئے ہیں۔ ہماری کوشش صرف اتنی ہے کہ قتل وغارتگری کا بازار گرم ہونے کی جگہ ایک اچھا ماحول بن جائے۔ باقی جب صحابہ کرام اور اہل بیت کی موجودگی میں بھی بڑے بڑے فسادات ہوئے تھے تو موجودہ دور کے فسادیوں کو کون اور کس طرح سے روک سکتا ہے؟۔ اہل سنت کی مشہور کتاب مظاہر حق شرح مشکوٰة شریف میں روایت ہے کہ پہلے چھ افراد امام حسن کی اولاد سے ہوں گے اور پھر پانچ افراد امام حسین کی اولاد سے ہوں گے اور آخری فرد پھر امام حسن کی اولاد سے ہوگا؟۔ اہل تشیع کی کتابوں میں بھی یہ نقشہ واضح ہوگا اسلئے کہ علامہ طالب جوہری نے لکھا ہے کہ امام حسن کی اولاد سید گیلانی کے حوالے سے بہت تفصیلات روایات میں موجود ہیں۔ اور یہ کتاب1987ء میں شائع ہوئی تھی جب ہماری تحریک نہیں تھی۔

عورت کا حق اور اسلامی رنگ
آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
انسان، حیوان اورپرندہ اپنی اپنی جبلت رکھتے ہیں۔ جوڑے میں نرطاقتور اور مادہ کمزور ہوتی ہے۔ سائز میں بھی طاقتور نر اور صنف نازک کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ نر جنسی خواہشات کے مسئلہ میں جبر کا خوگر اور مادہ بہت محتاط ہوتی ہے۔ نر کو جنسی خواہش پوری کرنے کے بعد سنگین نتائج کا سامنا نہیں ہوتا ہے مگر مادہ کو بچے جننے سے لیکر دودھ پلانے تک بہت ساری ذمہ داریوں سے نمٹنا پڑتا ہے۔
اسلام نے مرد پر نکاح کیلئے حق مہر کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ عورت اور بچوں کا سارا خرچہ، گھر بار مہیا کرنے، تعلیم وتربیت اور علاج معالجے تک سب کچھ مرد کے ذمے لگایا ہے۔ وہ خواتین بالکل غلطی پر ہیں جو دنیا بھر میں مردوں سے برابر کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں کیونکہ اگر قانونی بندھن ختم ہوگیا توپھر مادہ جانوروں کی طرح وہ اکیلے بچے پالنے کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور ہوں گی اور کوئی عورت اپنے مضبوط بیک گراؤنڈ کے تحت یہ صلاحیت رکھتی ہو اور اس کو معاونت کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر قرآن وسنت میں اس کا بھی راستہ موجود ہے۔ عبدالمطلب کا اصل نام شیبہ تھا۔حضرت ہاشم کے انتقال کے بعد اُن کی والدہ نے اُنکے بھائی مطلب کے پاس بھیج دیا تو لوگ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ مطلب کا غلام ہے ،اس وجہ سے ان کا نام عبدالمطلب پڑ گیا۔ام المؤمنین حضرت خدیجة الکبریٰ تجارت کرتی تھیں، رسول اللہۖ سے شادی ہوئی تو اس مالدار خاتون کے احسانات نے اسلامی تحریک کوبہت فائدہ پہنچایا ۔نبیۖ نے فرمایا : سیدالقوم خادمھم ”قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے”۔مرد عورت کا چوکیدار ہوتا ہے جیسے فوج کے سپہ سالار کو اپنی قوم کی چوکیداری پر فخر ہوتا ہے،اسی طرح مردوں کو اپنی خواتین کی چوکیداری پر بہت فخر ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسلامی آئین سے ڈرانے کیلئے ابلیس اعظم کی آواز کو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں تک اردو میں پہنچایا ہے۔
الحذر آئینِ پیغمبر سے سوبار الحذر حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفریں
قائداعظم کے مزارکراچی میںپنجاب سے آنے والی ایک نو بیاہی عورت کو بندوق کے زور سے یرغمال بناکر انتظامیہ کے ایک کمرے میں لے جایا گیا اور پھر اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون نے تینوں مجرموں کو پہچان لیا اور ان کاDNAسے بھی جرم مثبت آیا۔ کیس میڈیا کی زینت بھی بن گیا تھا لیکن اب مجرموں کو عدالت نے باعزت بری کردیا ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں2006ء میںحدود آرڈنینس کے تحت زنا بالجبر میں چار عینی گواہوں کا قانون ختم کرکے اس کو تعزیرات پاکستان کی سزا دینے کا قانون بنایا گیا تھالیکن عدالت نے پھر بھی مجرموں کو سزا سے بچانے کیلئے اسی ختم شدہ قانون کے تحت مجرموں کو بری کردیا ہے۔ تفصیلات ڈان نیوز کے پروگرام ”ذرا ہٹ کے” میں اس خاتون کی وکیل سے سوشل میڈیا پر دیکھ لیں جس کی ناموس کو عدالت نے تحفظ نہیں دیا۔
مفتی محمد تقی عثمانی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں جیسے لوگوں کا ضمیر بالکل ختم ہے۔ ایک ایسی مظلوم عورت کے خلاف فتویٰ مرتب کرنا اور مذہب کے نام پر قرآن وسنت کا تماشہ بنانا کہاں کی انسانیت ہے جس کو اپنے پرظلم کیخلاف آواز اُٹھانے پر بھی کوڑے مارے جائیں۔ یہ بہت زیادہ غیرت رکھنے والے اللہ اور اسکے غیرتمند رسول ۖ کا قانون نہیں ہے بلکہ ظالموں کے حامیوں کی فقہ ہے۔

_ مفتی تقی عثمانی اور سید منورحسن _
جب عورت کو جبری زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ انصاف کیلئے تھانہ کچہری جاتی ہے تو اس سے چار گواہوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو باشرع اور باکردار ہوں اور عین موقع کی گواہی دیدیں۔ اگر عورت کے پاس چار موقع کے گواہ نہ ہوں تو پھر اس پرمرد کی ہتکِ عزت کرنے کے تحت سزا کا قانون بھی ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین اس قانون کے تحت تھانوں اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند ہوتی تھیں کہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہوتا تھا ۔ پرویزمشرف کے دور میں حدود آرڈنینس کی جگہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت زنا بالجبر کے مجرموں کو سخت سزا دینے کا قانون اسمبلی میںلانے کی بات ہوئی تو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اس کے خلاف ایک تحریر لکھی جس میں انتہائی بھونڈے دلائل تھے اور جماعت اسلامی نے اس کو شائع کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے صحافی نے پوچھا کہ اگر کسی عورت کیساتھ جبری جنسی زیادی ہوجائے تو پھر وہ کیا کرے؟۔ سیدمنور حسن نے کہا کہ ” وہ خاموش رہے اور برداشت کرے”۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ”سورۂ نور میں زنا کی سزا کا ذکر ہے اور اس میں یہ قید نہیں ہے کہ زنا رضامندی سے ہو یا جبرسے ہو”۔ حالانکہ یہ سراسر بکواس بات تھی اسلئے کہ سورۂ نور میں رضامندی ہی کی وضاحت ہے۔اللہ نے فرمایا کہ” زانیہ عورت اور زانیہ مرد میں سے ہر ایک کو سوسو کوڑے لگاؤ” ۔ جس طرح کوئی عورت جبری جنسی زیادتی کی شکار ہوجائے تو اس کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ہے بلکہ رضامندی سے بدکاری کرے تو اس کو سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح سورۂ نور میں یہ سزا بھی رضامندی سے بدکاری کرنے والوں کیلئے ہے۔
قرآن وسنت میں واضح ہے کہ زبردستی سے عورت کو ہراساں کرنے والوں کا حکم پہلے بھی قتل تھا اور اس امت میں بھی قتل ہے۔ جہاں یہ آیات نازل ہوئیں کہ جب نبیۖ کھانے کیلئے دعوت دیں تو وقت سے پہلے آکر مت بیٹھو اور نہ کھانا کھانے کے بعد باتیں کرنے بیٹھ جاؤ ، اس سے نبیۖ کو اذیت ہوتی ہے اور آپۖ یہ کہنے سے حیاء کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ حق کہنے سے نہیں شرماتا ہے اور نبیۖ کی ازواج سے نکاح مت کرو۔ اس سے نبی ۖ کو اذیت ہوتی ہے ۔ تو اس کیساتھ دوسرے رکوع میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ”مؤمنوں کی خواتین سے کہہ دیں کہ باہر نکلتے وقت ایسا لباس پہن کر نکلیں تاکہ وہ پہچانی جائیں اور پھر ان کو اذیت نہیں دی جائے۔ جو منافق لوگ اور جن کے دلوں میں مرض ہے شہر میں رہتے ہیں ،ان پر آپ کو مسلط کیا جائے گا تو وہ پڑوس میں رہیں گے مگر بہت کم عرصہ۔ یہ اللہ کی پہلوںمیںسنت رہی ہے کہ یہ لوگ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور قتل کئے گئے”۔ ان آیات میں زنا بالجبروالوں کیلئے قتل کی سزا ہے۔
ایک خاتون سے ایک شخص نے زنا بالجبر کیا تو اس نے نبیۖ سے شکایت کردی۔ نبیۖ نے اس شخص کو پکڑ کر لانے کا حکم دیا اور اس کو سنگسار کردیا گیا۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنے ہم مشربوں کی بات نقل کردی کہ نبیۖ نے شہادتوں کے بغیر غلط فیصلہ کیا تھا اورآپ ۖ نعوذباللہ شریعت سے واقف نہیں تھے ۔کسی دوسرے شخص نے کہا کہ میں نے یہ جرم کیا ہے تو نبیۖ نے اقرار کرنے والے کو سنگساری کی سزا کا حکم دیا تھا۔ اگر یہ دوسری روایت صحیح ہو تو بھی نبیۖ نے قرآن اور فطرت کے مطابق عورت کی شکایت اور اس کی سچائی کے یقین پر ہی فیصلہ فرمایا تھا اور قیامت تک آنے والے فقہاء اور دانشوروں کو بتادیا تھا کہ جب عورت اپنے خلاف زیادتی کی شکایت کرے تو چار گواہوں کی جگہ اس کی سچائی پر یقین کے بعد فوری طور پر مرد کو سنگسار کیا جائے اور قرآن میں اس کے قتل کا حکم ہے۔ طالبان کسی کو زنابالجبر پر سنگسار کردیں اور ہماری عدالتیں ظالموں کو چھوڑ دیں تو پاکستان میں طالبان کی طرز کے اقتدار کو ہی پسند کیا جائے گا۔

اسلا می قانون ہی قابلِ قبول!
مغرب میں عورت کی حفاظت کیلئے بہت سخت قوانین بنائے گئے ہیں، کوئی عورت کسی مرد کی شکایت لگادے تو اس کی خیر نہیں ہے لیکن پھر بھی بڑے پیمانے پرجبری جنسی جرائم کا قلع قمع ممکن نہیں ہوسکا اسلئے8آزادی مارچ عورت کے حقوق کیلئے مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی چند سالوں سے یہ مہم شروع ہے۔
مغرب میں عورت کو مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ ہمارے مردوں کو جنسی بے راہروی کامعاشرتی اور قانونی تحفظ حاصل ہے جبکہ وہاں عورتوں کو بھی جنسی بے راہ روی کا معاشرتی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔اسلئے بہت سے لوگ پاکستان میں عورت آزادی مارچ کو مغرب اور جنسی بے راہ روی کا مقدمہ اور مشن سمجھتے ہیں اور بہت سی این جی اوز کو موردِالزام بھی ٹھہراتے ہیں۔
مغرب نے عورتوں کو جو حقوق دئیے ہیں تو اس کے مقابلے میں اسلام نے عورتوں کو بہت زیادہ حقوق دئیے ہیں لیکن افسوس کہ عورتوں کے حقوق کو ہمارے علماء وفقہاء اور معاشرے نے مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ مغرب نے مرد کو یہ حق دیا ہے کہ وہ عورت کو پہلے خوب استعمال کرسکتا ہے اور پھر اگر اس کو اطمینان مل گیا تو اس سے شادی بھی کرسکتا ہے لیکن اگر پھر اس نے طلاق دیدی تو عورت سے اس کا آدھا مال بھی لے سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو جمائما نے بنی گالہ کا مکان گفٹ کیا ہے یا یہ جھوٹ ہے؟، لیکن اگر عمران خان چاہتا تو جمائما کو طلاق کے بعد اس کی آدھی دولت بھی قانونی طور پر واپس لے سکتا تھا۔
اسلام کا قانون یہ ہے کہ نکاح اور ایگریمنٹ سے پہلے عورت کو ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں ہے۔ پھر اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی تو مقرر کردہ مال کا نصف پھر عورت کو دینا ہوگا۔ اگر پورا یا زیادہ دے تو قرآن نے یہ زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن کی غلط تفاسیر سے عوام ہی نہیں علماء کرام کی ہستیاں بھی گمراہی کا شکارہیں اسلئے کسی امام ہدایت اور مہدی کا انتظار ہے۔
اگر اسلام کے مطابق جنسی بے راہ روی کی جگہ باقاعدہ نکاح یا ایگریمنٹ کا قانون نافذ کیا جاتا تو سیتاوائٹ کو امریکہ میں عمران خان کے خلاف اپنی بچی ٹیرن وائٹ کا کیس نہ لڑنا پڑتا۔ جہاں مغرب میں سنگل پیرنٹ بچے پیدا ہوتے ہیں تو وہاں ہمارے ہاں بھی جھولوں میں ڈالے جانے والے بچوں کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی جارہی ہے جن کو سنگل پرنٹ کا سایہ اور شناخت بھی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں شناختی کارڈ وں کا بھی بہت بڑا مسئلہ رہتا ہے۔
ایک جوان سال لڑکی کا شوہر شہید ہوجاتا ہے جس کو نشانِ حیدر بھی مل جاتا ہے تو اس وقت یہ مراعات اس کو ملتی ہیں جب تک وہ لڑکی کسی اور سے نکاح نہیں کرلیتی ہے۔ جب وہ کسی اور سے نکاح کرلے تو ریاست کی طرف سے پینشن اور تمام مراعات بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ اسلام نے اس کو جنسی خواہش کی تسکین اور اپنے دوسرے جائز بچے پیدا کرنے کا راستہ بھی دیا ہے اور دوسرے نکاح کی جگہ اس کو ایگریمنٹ کی اجازت دی ہے جسکے بعد اس کا سابقہ اسٹیٹس بھی برقرار ہوگا اور معاشرے میں بے راہروی بھی نہیں پھیلے گی۔ اسلام کاعورت کے تحفظ کیلئے ایک ایک حکم قابلِ تحسین ہے مگر معاشرے نے اس کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔
اگر ہم نے اسلام کی طرف رجوع نہ کیا تو بے راہروی اور جبری جنسی زیادتی کے معاملات اتنے بڑھ سکتے ہیں کہ زمین وآسمان والے ہم پر لعنت بھیجیں گے۔

دنیا سے بہتر ہے ہمارا اسلام!
مغرب میں کم شرح سود پر قرضہ ملتا ہے اور ہمارے ہاں زیادہ شرح سود پر قرضہ دیا جاتا ہے لیکن اس کا نام اسلامی رکھنے سے کیا یہ اسلامی بن جائے گا؟۔IMFنے جتنے سودی قرضے دئیے ہیں ان کو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کو معاوضہ دیکر اسلامی غیر شرعی سود بنالو اور پھر ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن وغیرہ سے پوچھ لیں کہ کیا قوم کی تباہی میں تبدیلی کا امکان اس سے ہوسکتا ہے؟۔IMFکے ایجنٹ ضرور کہیں گے کہ اس کا بہت بڑا فائدہ ہے اور اسلام کی خدمت بھی چندے کے بغیر نہ کرنیوالی مذہبی جماعتیں بھی کہیں گی کہ ” اس کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہیں ہو لیکن قرآن میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کیساتھ سود کو اعلان جنگ کہاہے، اس وعید سے ہم بچ جائیں گے”۔
اگر اسلام کے نام سے جائز ہونے والے سود پر ایک زمانہ گزر جائے گا تو پھر علماء حق کے جانشینوں کو یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ کبھی اس سود کی کسی نے مخالفت بھی کی تھی اور اسلام اجنبیت کے آخری کنارے تک پہنچ جائیگا۔ یہی حال عورت کے حقوق کیساتھ بھی روا رکھا گیا۔ آج قرآن وسنت کے اہم ترین قوانین کے حوالے سے ہمارے مدارس کے نصاب میں بھی ان کا سراغ نہیں ملتا ہے۔
پاکستان1988ء میں پیپلزپارٹی کے دور میں پہلی مرتبہIMFکی گود میں گیا،جب آصف علی زرداری کے گھوڑوں کو سرکاری خزانے سے مربہ کھلایا جاتا تھا۔ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کی باری باری حکومتوں نے اپنی بیرون ملک بڑی جائیدادوں سرے محل اور ایون فیلڈ کیلئےIMFسے سودی قرضے لیکر پاکستان کے بچے بچے کو مقروض بنایا اور مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا تھا ۔جالب نے کہاتھا
ملک ہزاروں کا ہے مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
پرویزمشرف نے2004ء سے2008ء تکIMFکے چنگل سے نکالا تھا۔ڈاکٹر قدیر خان نے ملک کیلئے سب سے مخلص غلام اسحاق خان کو قرار دیا تھا لیکن نوازشریف نے اپنے دور میں ڈاکٹر قدیر خان کی کردار کشی شروع کروائی تھی اور پریزمشرف نے بھی معافی منگوائی تھی۔ ایک طرف ایٹم بم پاکستان کا بہت بڑا سرمایہ ہے تو دوسری طرفIMFکے گردشی سودی قرضوں نے ملک وقوم کو تباہی کے کنارے پہچادیا ہے۔مہنگائی کے خلاف عوامی ردِعمل سے بچنے کیلئے کچھ لوگوں کو سڑکوں پر لایا جارہاہے اور کچھ نے پردہ ڈالنے کیلئے تماشا لگا رکھا ہے لیکن اصل مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور اب عمران خان نے بتدریج زیادہ سے زیادہ گردشی قرضوں میں ملک وقوم کو پھنسادیا ہے اور ان کوئلہ کے دلالوں نے منہ کالا کرنے کیساتھ ساتھ بہت کچھ کما بھی لیا۔
اگر اپنے ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کردیا اور مزارعت کاسودی نظام ختم کرکے واقعی میں اسلامی بنادیا تو ہماری بچت ہوسکتی ہے لیکن معاشرتی نظام کے بغیر اسلام کی افادیت کو اچھے اور مخلص لوگوں تک پہنچانا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے مولانا محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین کے حوالے سے تحریری تائید بھی کی تھی۔ مزارعت کے ناجائز ہونے اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کیلئے ان کی علمی خدمات کو بہت سراہا تھا۔ آج سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی سیاست کھیلنے کی جگہ پھٹی ہوئی بوریوں پر بیٹھ کر قال اللہ اور قال رسول اللہۖ کا درس دینے والوں کی طرف لوٹ جائیں اور علامہ جواد نقوی کو حق پہنچتا ہے کہ امیر معاویہ کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ پر اعتراضات کے نشتر چلائیں لیکن مسجدالعتیق کے منبر ومحراب سے بھی اسی شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہی کا تومظاہرہ کیا جا رہا ہے؟۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب لمبی لمبی داستانیں اور فلسفیانہ ماحول کی جگہ اسلام کے سیدھے سادے نظام کو بہت ہی مختصر پیرائے میں پیش کریں تو پاکستان کی تقدیر بدلنے میں ان کا اثرو رسوخ بھی بہت کام آسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عدالت نے مزار قائد پر زیادتی کے جرم میں ملوث تین ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔

اب بتاؤ! قائداعظم کے مزار میں زنابالجبر کے جرم میں ملوث تین ملزمان کو عدالت نے باعزت بری کردیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

_ لبیک ،شیخ رشید اور عمران خان _
تحریک طالبان پاکستان نے جب پاک فوج کو شہید کرنا شروع کیا تو اس پر دہشت گردی کاٹھپہ لگ گیا اور تحریک لبیک نے پولیس اہلکاروں کو شہید کرنا شروع کیا ہے تو اس کو بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ جب تحریک طالبان اور حکومت کے مذاکرات ہوتے تھے تو دیوبندی مکتب کے علماء کو استعمال کیا جاتا تھا اور جب تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں تو بریلوی مکتب کے علماء ومشائخ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں تحریک طالبان پاکستان نے جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی سے مایوس ہوکر میاں نوازشریف اور عمران خان کو اپنی طرف سے نمائندہ نامزد کیا تھا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمن نے تحریک طالبان پر خراسان کے دجال والی حدیث فٹ کی تھی اور قاضی حسین احمد نے کہا تھا کہ اگر پاک فوج امریکہ کی مدد کرتی ہے تو اسکے ساتھ جہاد جائز نہیں ہے اور اگر افغان حکومت امریکہ کے بل بوتے پر کھڑی ہے تو اسکے ساتھ جہاد فرض ہے۔ جس پر حکیم اللہ محسود نے کہا تھا کہ” قاضی حسین احمد تمہارا اسلام دھوکہ ہے۔ تم قوم پرست ہو۔ تمہارے ایمان اور اسلام پر ہم کبھی بھروسہ نہیں کریں گے”۔جب دیوبندی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ ” قوم مذہب سے نہیں وطن سے بنتی ہے توپھر علامہ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی کی فکر کو ابولہب سے تشبیہ دی تھی۔
آج ریاست پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ ” سندھی ، بلوچ، پشتون، پنجابی، ہندوستانی مہاجر، گلگت وبلتی اورکشمیری ایک قوم پاکستانی ہیں۔ افغانی، ایرانی، عرب اور سوڈانی الگ الگ وطن ،ممالک اور قومیں ہیں”۔ علامہ اقبال نے جس بنیاد پر مولانا حسین احمد مدنی کو ابولہب قرار دیا تھا تو آج وہی نظریہ ہمارے ریاستی اداروں اور حکومت کا ہے۔ علامہ اقبال نے محراب گل افغان کے نام سے محسود اور وزیر کا بھی ذکر کیا ہے اور قوم پرست پشتونوں کا مؤقف یہ ہے کہ ہم افغان ہی ہیں۔ جس طرح ہندوستان اور پاکستان کے پنجابیوں کی قومیت نہیں بدلتی ہے، اسی طرح پختونوں کی افغان قومیت بھی نہیں بدلتی ہے۔ البتہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس طرح ہندوستان کے پنجابی پاکستانی نہیں ہیں اسی طرح پاکستانی پختون افغان ہیں لیکن افغانی نہیں ہیں ،البتہ افغانستان کے پختون، تاجک اور ازبک وہزارہ وغیرہ سب افغانی ہیں۔
جب عمران خان اور طاہر القادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ ہیوی مشینوں سے توڑنے کی کوشش کی تھی اورPTVپر قبضہ کیا تھا تو اس وقت ریاست کی رٹ کا کوئی احساس نہیں تھالیکن آج تحریک لبیک کے احتجاج پر پاکستان کے اسلام کا قلعہ ہونے کا احساس ہوگیا ہے؟۔ سیاسی دہشت گردوں کو حکومت ملے اور مذہبی اور قوم پرست دہشت گردوں پر پابندیاں لگیں تو یہ لوگ بھی سیاسی لبادے میں ہی ریاست کی رٹ کا خاتمہ کرکے اپنی من مانی چلانے کی کوشش کرینگے۔
ریاست، سیاست ، صحافت اور اسلام کے نام پر لوگوں سے دھوکہ کرنا چھوڑ دیں تو ملک وقوم میں خوشحالی آئے گی۔ فرقہ واریت کا روگ، لسانیت کاخمار، مفادپرستی کا جھگڑا اور جاہلانہ جذباتیت کا میلہ سب لے ڈوبے گا اورپھر امن وسلامتی ، قانون کی بالادستی، ریاست کی رٹ اور اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا اور معیشت کی تباہی سے بھوک وافلاس کے مارے انسان سب کوبھسم کرینگے۔

_ اسلام کو مفاد کیلئے استعما ل کرنا _
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” جس نے کسی ایک جان کو بغیر جان کے یا فساد کے قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک زندہ کیا تو گویا اس نے تمام انسانیت کو زندہ کردیا”۔ مذہبی لوگوں کا مذہب کے نام پر قتل کی وارداتیں کرنا غنڈوں ، ڈکیتوں اور کرپٹ سیاستدانوں سے بھی بدتر ہیں۔
مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے غنڈوں نے مذہب کا صرف لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ تبلیغی جماعت کا اصل مرکز بستی نظام الدین بھارت میں تھا۔ رائیونڈ پاکستان اس کی سب سے بڑی شاخ تھی۔ جس کا حجم اپنے اصل مرکز کی نسبت بھی بڑا تھا۔ جس طرح رسول اللہ ۖ کے نواسے حضرت حسن پانچویں خلیفہ راشد تھے اور آپ کے مقابلے میں امیرشام حضرت معاویہ کی طاقت زیادہ تھی اور آخر کار حضرت امام حسن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے بڑے دو گروہوں میں صلح کروائی، اسی طرح بستی نظام الدین میں مرکزی امیر مولانا سعد ہیں جو مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت کے پڑپوتے ہیں لیکن ان کی حیثیت زیادہ مضبوط نہیں اور دوسری طرف رائیونڈ مرکز کی حیثیت زیادہ طاقتورہے۔
مولانا الیاس کے بیٹے حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی کی وفات سے 3 دن پہلے آخری تقریر ” امت پنا” کے نام سے شائع ہوئی تھی جس میں اُمت کو جوڑنے پر آمادہ کرنے کیلئے زبردست وعظ ہے اور اس میں حضرت سعد بن عبادہ کا بھی ذکر ہے کہ السابقون الاولون صحابہ کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود اسلئے جنات کے ہاتھوں قتل ہوئے کہ وہ امت میں توڑ پیدا کررہے تھے۔
رائیونڈ کے مدرسہ سے فارغ اور کڑمہ جنوبی وزیرستان مدرسہ کے مہتمم محسود ملک دینائی حضرت مولانا شاہ حسین حفظہ اللہ پر محسود تبلیغی کارکن نے فیصل آباد کی مسجد میں اس وقت قاتلانہ حملہ کیا تھا کہ جب مولانا شاہ حسین تبلیغ کی تشکیل میں وقت لگارہے تھے۔اس وقت اگر مولانا نور محمدوزیرشہید ایم این اے رکاوٹ نہ بنتے تو کلہاڑی کے دوسرے وار سے مولانا شاہ حسین کا سر قلم کردیتے۔ طالبان کا اس وقت تک کوئی وجود نہیں تھا۔ محسود مثالی امن والی قوم ہے اور تبلیغی جماعت مثالی پرامن مذہبی جماعت تھی ۔ آج مذہب کے نام پر محسود اور تبلیغی جماعت کی امن پسندی دنیا کے سامنے شرمندۂ تعبیر ہوگئی ہے۔
اگر قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کی حدود میں ایک عورت سے جبری زیادتی ہوجائے اور تین افراد کو عورت پہچان لے اور ان کےDNAسے بھی ان کاجرم ثابت ہوجائے اور پھر بھی اسلامی قانون کے نام پر مجرموں کو باعزت بری کردیا جائے تو ایسے اسلام، ایسی ریاست اور ایسی عدالت کا غریب اچار ڈالے گا؟۔ اسلام ایسا نہیں ہے بلکہ مذہبی طبقات نے اسلام کا نہ صرف حلیہ بگاڑ دیاہے بلکہ اپنے مفادات کیلئے اسلام کو ڈھال بنادیا ہے۔سب سے پہلے مذہبی لوگوں کے رُخ کو قرآن وسنت کے ذریعے درست اسلام کا تصور سمجھنے کی طرف موڑنا ہے۔کرپٹ سسٹم اور بداخلاق وبدکردار لیڈروں کے وارے نیارنے بننے سے کوئی نیک نامی نہیں کماسکتے اور نہ ہی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا جاسکتا ہے۔ معاشرے کی ہر چول سیدھاکرنے کی سخت ضرورت ہے اور ہر شخص اپنے ذمے کا کام بہترین طریقے سے کرے گا تو دن دگنی رات چگنی تبدیلی نظر آئے گی اور خوشحالی کے کھیت اور کھلیان سے پھر جلدیہ سرزمین شاد اور آباد ہوجائے گی۔

امیرمعاویہ پر امت کونہ لڑاؤ!
وکیل اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے قاتل، زنابالجبر کے مرتکب اور گھناؤنے کردار کے مؤکل کو بے قصور اور بے داغ کردار کا مالک ثابت کرنا چاہتا ہے تو اپنی مہارت سے ججوں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک دیتا ہے اسی طرح جب ایک فرقہ پرست اپنے فرقہ والوں سے اپنی اجرت کھری کرنے کے چکر میں فرقہ واریت کو ہواد یتا ہے توپھر شخصیت سازی اور شخصیت سوزی کرنے میں ایسی مہارت دکھاتا ہے جیسے یہود حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر تہمت اور عیسائی ان کو خدا کی خدائی میں شریک کردیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کو عیسائی بھی مانتے ہیں ورنہ قرآن سے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر زبردست وار کرتے اور اس واردات سے فرقہ واریت کو خوب ہوا مل جاتی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قوم پرستی کی بنیاد پر غلطی سے قتل ہوگیا جس کی وجہ سے نبوت اور معجزات ملنے کے بعد بھی ڈرہے تھے اور اللہ نے فرمایا کہ ”اس سے پہلے کوئی رسول بھی نہیں ڈرے ہیں لیکن جس سے ظلم سرزد ہوا ہو”۔ اب اگر یہ کہنا شروع کردیں کہ حضرت موسیٰ ظالم،قوم پرست اور ڈرپوک تھے تو اس سے کتنا انتشار پھیلے گا؟۔اور حضرت موسیٰ نے ایک مرتبہ توراة کی تختیوں کو پھینک کر زمین پر ڈالا تو ان پر گستاخی کے فتوے لگائے جائیںتو کیا حال ہوگا؟۔
کچھ اہل تشیع نے اپنامشن ہی توہین آمیز معاملات کو اجاگر کرنا بنالیا ہے جس طرح کچھ ملحدین مذہب کی توہین کو اپنامشن سمجھتے ہیں۔ حضرت امیرمعاویہ سے حضرت سعد بن عبادہ افضل تھے اسلئے کہ اللہ نے فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں فرق کا اعلان کیا ہے۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” کے اندر لکھا ہے کہ بندر اور خنزیر کی شکل میں جہنم کے اندر پھینکے جانے والے حکمران ۔ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں حضرت امیرمعاویہ نے فرمایا کہ حکومت کا مال میرا ذاتی ہے، جس طرح میں خرچ کروں یہ میری مرضی ہے۔ دوسرے جمعے کو پھر یہی اعلان کردیا اور کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تیسرے جمعے کو پھر یہ اعلان کردیا تو ایک شخص نے کہا کہ غلط بات ہے۔ یہ تیرا مال نہیں ہے اور نہ تیرا اس پر کوئی ذاتی حق ہے۔ یہ بیت المال کا ہے اور مسلمانوں کا اس پر حق ہے۔ جمعہ کے بعد جب حضرت امیرمعاویہ نے اس شخص کو بلایا تو گمان یہ تھا کہ جلاد سے اسکا سرقلم کردیا جائے گا۔ لیکن امیر معاویہ نے اپنے ساتھ اس کو چارپائی پر بٹھایا اور فرمایا کہ اس شخص کا اللہ بھلا کرے۔ میں نے نبیۖ سے یہ سنا تھا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ حکمران مسنداقتدار پر ہرقسم کی الٹی سیدھی بات کرے گا اور اس کو ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ اس کو جہنم میں بندر اور خنزیر کی شکل میں پھینکا جائے گا۔ مجھے یہ گمان ہواکہ کہیں میرا حال بھی وہی تو نہیں۔ جب پہلے اور دوسرے جمعہ کو جواب نہیں آیاتو یقین ہوا کہ میرا بھی یہی حشر ہوگا۔ اس شخص نے مجھے بچالیا ہے”۔
نبیۖ نے امیرمعاویہ کیلئے ہادی اور مہدی بننے کی دعا فرمائی تو قبول نہیں ہوئی اسلئے کہ پھران کا دور خلافت راشدہ میں شمار ہوتا جیسا عمر بن عبدالعزیز کے دور کو بھی خلافتِ راشدہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے بھی امیرمعاویہ ہی کا ساتھ دیا لیکن منبر ومحراب سے حضرت علی کے خلاف سبّ وشتم کو سپورٹ نہیں کیا اسلئے کہ حضرت علی کے فضائل نے اس کی اجازت نہیں دی۔

_ حکمران بھی خود کو جلدبدل دیں!_
جب عمران خان نے عالمی کرکٹ میچ نہیں جیتا تھا اور اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہار گئے تھے اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق شہید نے اپنی جگہ پنجاب سے اسلامی جمہوری اتحاد کے قائد نوازشریف کو مرکز میں اپنی جگہ وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام ف پنجاب کے نائب امیر مولانا حق نوازجھنگوی شہید کی جماعت انجمن سپاہ صحابہ نے جمعیت کو چھوڑ کر اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور مولانا ایثارالحق کی کامیابی جھنگ سے اسلئے ممکن ہوسکی کہ مسلم لیگ کی شیعہ رہنماعابدہ حسین نے اس سیٹ پرتعاون کیا تھا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں کوئی زیادہ تابناک کردار کی حامل نہیں ہیں۔ بس ایک دوسرے کے خلاف الٹی سیدھی باتیں اور اپنے خلاف کچھ بھی برداشت کرنا ان کا وطیرہ نہیں ہے۔ انسان کو اللہ نے کمزور پیدا کیاہے۔ اچھے کرداراور شرافت کا معیار رکھنے والے لوگ برے وقتوں میں ایکدوسرے کے کام آتے ہیں۔
یہ بات کیسے لوگوں کے دل ودماغ میں بٹھائی جاسکتی ہے کہ تحریک لبیک کی طرف سے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا اور عوام کو تکلیف دینا اس وقت صحیح تھا جب عمران خان اور شیخ رشید خود بھی یہی کام کررہے تھے اور اب جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو یہ اسلام، انسانیت اور ملک وقوم کے مفاد کے خلاف ہے؟۔ عمران خان کو پاکپتن کے مزار کی راہداری میں سر سجدہ نما اور چوتڑ دغابازی نما بننے کی جگہ عوام کے سامنے میڈیا پر مرغا بننا چاہیے کہ میں نے بھی غلط کیا تھا۔ مزارات کے دشمن طالبان سے یاری کا ازالہ کرنے کیلئے پاکپتن کے مزار پر مرغا بننے سے بہتر یہی تھا کہ پوری قوم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لیتا۔
جب عمران خان نے جمائما سے شادی کی تو اسلامی پردہ یاد نہیں آیا۔ ریحام خان سے شادی کی تو پردہ یاد نہیں آیا لیکن جب بشریٰ بی بی سے شادی کی تو پردہ یاد آگیا۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ بیوہ کو عدت میں اشارے کنائے سے نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں لیکن طلاق شدہ کو عدت میں دوسرے سے نکاح کا پیغام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ عمران خان نے منکوحہ کو شادی کا پیغام دیا اور عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح کرلیا تو اس کے خلاف میڈیا نے مہم جوئی نہیں کی اسلئے کہ میڈیا والوں کو کسی نے اُکسانے کی کوشش نہیں کی۔اسلامی احکام، حکومت اور ریاست شکن توپوں کی قیادت سے پاکستان میں اقتدار ملتا ہو تو پھر شریف شہری اپنی جگہ رہیں گے اور بدمعاشوں کے اندر مقابلہ بازی ہوگی۔ قوم صرف یہ دیکھے گی کہ کس نے کس کو پچھاڑ دیا اور گراؤنڈ کے باہر تماشہ دیکھے گی۔ جب بھی الیکشن آتا ہے تو نعرہ لگتا ہے کہ اندھوں میں راجہ یہ قائد ہے۔ حالانکہ یہ دجالوں کی چال ہے۔ ملک وقوم کو جس جانب دھکیلا جارہاہے اس سے واپسی کا راستہ اسلام ہی کا نظام ہے لیکن افسوس کہ اسلام کا مذہبی طبقات نے خود ہی بیڑہ غرق کیا ہواہے۔موجودہ دور کے حکمرانوں اور اپوزیشن لیڈر وں سے صحافیوں کا مافیا وہ سوالات نہیں کرتا ہے جس سے ان کے غباروں سے ہوا نکل جائے گی اور جب صحافت کا شعبہ بھی اپنے اصل کام کو چھوڑ کر کسی ایک طبقے کی وکالت کرنے اور دوسرے طبقے کی مخالفت کرنے لگ جائے تو اس بے اعتدالی سے عوام کے دل ودماغ کا توازن کبھی درست نہیں ہوسکتا ۔ہمارااخبارکہاں پہنچ سکتا ہے؟۔

مولوی کی منبر سے ایمل ولی پر تنقید
ایک نوجوان عالم دین نے منبر ومحراب سے ایمل ولی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ باچا خان نے کہا تھا کہ میری پہلی شادی میں ڈھول باجے تھے لیکن دوسری شادی کی تو اسلام کے مطابق سادگی سے کروں گا۔ اس میں ڈھول باجے نہیں ہوں گے۔ پختون اور میراثی دو الگ الگ ذاتیں ہیں اور ہمارے کلچر سے ملی ہمیں یہی باتیں ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ تم پختون ہو یا ڈم (میراثی) ؟۔ اب باچا خان کا پڑپوتا کہتا ہے کہ میں پختونوں کو رباب سکھاؤں گا۔ اب ان میں اور میراثی میں کیا فرق رہ گیا ہے؟۔ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ میں کسی کا سپوٹر ہوں۔ میری اے این پی، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام سب سے ہمدردیاں ہیں اور کسی سے نفرت نہیں کرتا ہوں۔ امام ابوحنیفہ نے کہا تھا کہ ” موسیقی حرام ہے اور اس سے لذت اٹھانا کفر ہے”۔
ایک نوجوان جذباتی عالم دین کا جذبہ اپنی جگہ پر ہے اور کبھی ہم بھی اس گھاٹی سے گزرے ہیں۔ بہت ہی معذرت کیساتھ باچا خان کے بعد کسی بھی عالم دین ، مفتی، شیخ الحدیث، مفسر اور شیخ القرآن نے ڈھول باجے کی مخالفت کی ہے؟۔ جب شیخ القرآن مولانا طاہر پنج پیری کی نواسی پہلی خاتون لیفٹینٹ جنرل نگار کو پنج پیر صوابی میں ڈھول کی تھاپ اور ڈانس کی چھاپ پرلے جایا جارہاتھا تو کبھی سوچا کہ تمہاراپختون کلچر اور ملائیت کا جنازہ نکل گیا ہے؟۔ کبھی علماء ومفتیان نے کوئی فتویٰ دیا ہے اور اس پر کوئی تنقید کرنے کا حق ادا کیا ہے؟۔
ہمارے ایک دوست نے کہا تھا کہ اوچ دیر کے مولانا غلام اللہ حقانی پختون ہیں ملا نہیں ہیں۔ جس پر میں نے پوچھا کہ کیا ملا پختون نہیں ہوتے؟ تو کہنے لگا کہ نہیں ، ملا کسب گر قوم ہے یہ پختون نہیں ہیں۔ پہلے ترکھان، لوہار، میراثی، نائی،موچی اور ملا وغیرہ کو فصل کی آمد پراپنا معاوضہ دیا جاتاتھا۔ ملا کا کام مردے نہلانا اور مسجد کو آباد کرنا ہوتا تھا۔جمعیت علماء اسلام کے مولانا مفتی محمود اور مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء ہند، شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور کانگریس کے مولانا ابوالکلام آزادکی سیاست کو پاکستان میں زندہ رکھا۔ مفتی ولی بھائی بھائی کے بھی نعرے لگے ہیںاور پیپلزپارٹی والوں نے دونوں بھائی سکھ عیسائی کے نعرے بھی لگوائے ہیں۔ مرکزی جمعیت علماء اسلام نے اس جمعیت علماء اسلام کو ذوالفقار علی بھٹو اور کیمونسٹوں پر کفر کا فتویٰ نہ لگانے کی وجہ سے کفر کے فتوے بھی لگائے۔
جمعیت علماء اسلام کے اعتدال کی وجہ سے مذہبی طبقہ اپناتوازن برقرار رکھتا ہے لیکن جب یہ طبقہ سیاست سے کٹ جاتا ہے تو پھر منبر ومحراب سے فتوے لگانا شروع کردیتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے کہ ”موسیقی حرام ہے اور اس سے لذت اٹھانا کفر ہے”۔یہ قول شاید اسلئے نقل کیا جاتا تھا کہ مولوی حضرات نکاح پڑھاتے وقت اپنی فیس کھری کرلیتے تھے اور کہتے ہوں گے کہ ”ہم مجبوری کے طور پر شادیوں میں موسیقی سن لیتے ہیں مگر اس سے لذت حاصل نہیں کرتے”۔
ہم نے1990ء میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تحریک کا آغاز کیا تھا جس میں نبیۖ کے آخری خطبے کے کچھ جملے تھے اور منکرات کے خلاف جملے تھے۔مسلمانو ! خبردار ظلم نہ کرنا ، …مسلمانو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری جان ایکدوسرے کیلئے حرمت والی ہیں۔ جاندار کی تصویر جائز نہیں ،جاندار کی تصویر کو مٹادو۔ پردہ کرنا فرض ہے، شریعت کے مطابق پردہ کرو۔داڑھی منڈانا جائز نہیں شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔ گانا بجانا حرام ہے ،گانا مت بجاؤ۔ نماز، روزہ ، زکوٰة اور حج بیت اللہ کی علمی اور عملی ذمہ داری پوری کرو۔جہاد کرنا فرض ہے اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ اللہ اور اسکے رسول ۖ کے حکموں میںوہ طاقت ہے کہ جس کے ذریعے کمزور سے کمزور تر جماعت بھی فاتح عالم بن سکتی ہے۔

بدقسمتی سے ایمل باچا خان کا پڑپوتا!
سلیم صافی نے باچا خان کے پڑپوتے ایمل ولی خان سے انٹرویو لیاہے۔ پہلے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش ! اسفندیار ولی تندرست ہوتے اور آج میں اس سے انٹرویو لیتا لیکن یہ بھی غنیمت ہے کہ ایمل ولی خان سے مجھے وقت مل گیا ہے۔ پھر ایمل ولی خان سے پوچھا کہ آج ایک پختون عمران خان کی حکومت ہے۔ کیا آپ عمران خان اور نیازی قوم کو پختون نہیں مانتے؟۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ میرے خیال میں وہ پختون نہیں ہیں۔ میرے خیال میں ہر پختون افغان ہوتا ہے اور وہ افغان نہیں ہیں۔ ( نیازی قبیلہ افغانستان میں بھی ہے اور نیازی خود کو نیازی پٹھان کہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی کہا تھا کہ میں یوسفزئی پٹھان ہوں، نسل کی بنیادآباء واجداد سے چلتی ہے لیکن کلچر بھی اہم ہوتا ہے۔ نبیۖ حضرت ابراہیم کی اولاد سے تھے اور ابراہیم عجم تھے مگر نبیۖ کی وجہ سے عرب بن گئے، البتہ نسل تبدیل نہیں ہوئی۔ عرب عاربہ اصل عرب تھے اور عرب مستعاربہ جو بعد میں عرب بن گئے تھے، خالد بن ولید بنی اسرائیل تھے اور نسلاً پختون قبائل سے وہ ایک تعلق رکھتے تھے جس کی وجہ سے بعض لوگ ان کو پختون بھی قرار دیتے ہیں ، نسلی یکانگت کی وجہ سے پختون قبائل کو فتح مکہ کیلئے بلایا تھا اور پھر جب بعض عرب قبائل پر فتح مکہ کے دوران مظالم کئے تھے تو نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ اے اللہ ! گواہ رہنا میں خالد کے فعل سے بری ہوں)
ایمل ولی خان سے سلیم صافی نے پوچھا کہ پرویز خٹک کیا پختون نہیں؟ علی محمد خان، مراد سعید اور اسد قیصر پختون نہیں ہیں؟ ۔ تو ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے وہ پختون ہیں۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ طالبان اور ملا عمر پختون نہیں ، صوفی محمد اور ملا فضل اللہ پختون نہیں۔ تو ایمل ولی خان یہی کہتا کہ ان لوگوں کو پختون نہیں کوئی اور ہی لایا ہے۔ جیسے تحریک انصاف کو کوئی اور لایا ہے۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب مفتی محمود کو خیبر پختونخواہ کا وزیراعلی بنوایاتھا تو اس وقت عطاء اللہ مینگل کو تم نے کیوں حکومت دلائی تھی؟۔ ایک طرف بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کا ہولڈ ہوتا جن میں پختونوں کی اکثریت تھی تودوسری طرف خیبر پختونخواہ میں مفتی محمود کی جگہ ولی خان اور تمہاری پارٹی کے پاس اقتدار ہوتا؟۔ پشاور کے شہریوں میں تمہاری پارٹی کے بڑے رہنمابھی پختون نہیں تھے جن کوپختوزبان ٹھیک سے نہیں آتی تھی۔ حاجی عدیل خان اور بلور خاندان کو کبھی اقتدار میں لاتے ۔ جب وزیراعلیٰ سرحد کیلئے امیر حیدر خان ہوتی اہل ہوسکتے تھے تو کیا بشیر بلور شہید اس کی اہلیت نہیں رکھتے تھے؟۔ بنگال کے مولاناعبدالحمید بھاشانی سے پنجابی حبیب جالب اور بلوچستان کے بابائے جمہوریت میربخش بزنجو تک کتنے بڑے بڑے لوگ تمہارے ساتھ تھے؟۔ جنرل ایوب خان پختون تھے مگر تم نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ان تضادات نے ہی آپ لوگوں کی جماعت کو ختم کرکے رکھ دیا کہ کبھی پختون بن جاتے ہیں تو نظریہ نہیں مانتے اور کبھی نظریاتی بن جاتے ہیں تو پختون کو نہیں مانتے۔مرکز میںPDMمیں شامل تھے اور بلوچستان میں باپ پارٹی کی حکومت میں شریک تھے۔ افغانستان کا دعویٰ صرف اٹک تک نہیں بلکہ میانوالی تک بھی ہے۔ متنازعہ ڈیورنڈ لائن ختم ہوجائے توپھر نیازیوں کو پٹھان ہی ماننے میں پختونوں کا زیادہ فائدہ ہے۔ بلوچ قوم پرست ڈیرہ غازی خان تک راجن پور اور جام پور سے اسلئے دستبردار نہیں ہوتے ہیں کہ ان بلوچوں نے آج سرائیکی زبان اور کلچر اپنالیا ہے۔ اے این پی کی قیادت متذبذب ہے اور تذبذب کی وجہ سے اسفندیار ولی اور اب ایمل ولی کی بات میرے خیال میں بدقسمتی تک محدود ہوگئی ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کا باچا خان کی نسل سے ہونا بدقسمتی ہے۔

مذہبی دنگل سے قوم پرستی کے جنگل تک
پختونوں نے مذہبی بنیاد پر اپنی امن وسلامتی کو داؤ پر لگادیا اور بلوچوں نے قوم پرستی کی بنیاد پر اپنی بلوچ قوم کو کہاں سے کہاں تک پہنچادیا؟۔ تربت مکران سے لائی ہوئی لاشوں کو بلوچ خواتین نے کندھا دیا ہوا تھا اور مرد بھی شریک تھے لیکن کیا بلوچوں کے آباء واجداد نے یہ سوچا تھا کہ ایسا دن بھی دیکھنا پڑے گا؟۔ ڈیرہ اسماعیل خان قریشی موڑ پر ایک محسود خاتون کو پہلی مرتبہ اپنی بیمار بچی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کیلئے بس میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو بہت افسوس ہوا۔PTMکے منظور پشتین اور نئی جمہوری جماعت کے سربراہ محسن داوڑ پشتونوں پر صرف سیاسی دکان چمکا سکتے ہیں یا قوم کی عزت وننگ اور غیرت وحمیت کا پاس بھی رکھ سکتے ہیں؟۔ ایک طرف قوم پرستوں نے قوم پرستی کے نام سے اپنی قوم کو تباہ کردیا ہے تو دوسری طرف فرقہ پرستوں نے مذہب کے نام پر لوگوں کو جس تباہی کے کنارے پہنچادیا ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ تیسری طرف حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کے گفتاراور کردار نے تنزلی کی انتہاء کردی ہے اور چوتھی طرف صحافیوں نے صحافت کی ناک کٹا دی ہے۔ پانچویں طرف ریاست کے ذمہ داروں نے خود غرضی کو اپنی انتہاء پر پہنچادیا ہے۔ چھٹی طرف اللہ اگر آسمان سے کوئی رحم وکرم کردے تو زمینی حقائق اور معروضی حالات بدلے جاسکتے ہیں۔ اللہ کا ایسا دروازہ ہے کہ اس کو بجایا نہیں جاسکتا ہے لیکن وہ سنتا ہے اور پکارنے والے کو جواب بھی دیتا ہے۔ جب ایک شخص نے قریشی موڑ ڈیرہ پر محسود لڑکوں کو بھٹے بیچتے دیکھا تو خوشی محسوس کی کہ ایک غیرتمند قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہے مگر جب محسود بھکاری خاتون کو بھیک مانگتے دیکھا تو دل ہی دل میں دکھ کا اظہار کیا کہ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے؟۔ اور پھر چندہزار روپے میں سے ایک ہزار کا نوٹ اس بھکارن خاتون کو تھمادیا۔ جس پر خاتون نے محسودی پشتو میں دعائیں دینا شروع کردیں لیکن سفر میں دعاؤں کی ضرورت اور خوشی کیساتھ ساتھ اس کے دل میں مزید دکھ بھی بڑھ گیا، اسلئے کہ محسودی پشتو میں ایک خاتون کی زبان سے نکلنے والی دعائیں ایک طرف عرش تک پہنچتی دکھائی دے رہی تھیں تو دوسری طرف ایک قومی غیرت کا مسئلہ تھا کہ ایک خاتون بھری بس میں اس طرح بول رہی ہیں۔ اگر شروع میں پوری محسودقوم طالبان کیساتھ کھڑی نہیں تھی تو کسی نے ان کو مجبور بھی نہیں کیا تھا لیکن جب ہواؤں کے رُخ پر پوری قوم نے طالبان کا ساتھ دیا تو پھر پاک فوج نے ان کو بار بار ہجرت پر بھی مجبور کیا ہے لیکن جنوبی وزیرستان وزیر ایریا میں پاک فوج نے کبھی ہجرت پر لوگوں کو مجبور نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وزیروں کے مقابلے میں محسود بہت زیادہ خستہ حال ہیں ۔
اب مذہب کی چنگاریاں دب کر ختم ہوگئیں ہیں لیکن قوم پرستی کی نئی فضاؤں سے نمٹنے کیلئے شاید کوئی نئی ترکیب بنے گی۔ بین الاقوامی سازشوں کے تحت بڑا کچھ ہوتا ہے لیکن اس کو عملی جامہ پہنانے والے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں اور یہ ریاست اور عوام دونوں طرف سے اپنا اپنا کام دکھاتے ہیں اور اپنی قوم کو کھڈے لائن لگادیتے ہیں۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تخریب کاری کو ہوادیدی جاتی ہے اور کرکٹ کے کھیل کی طرح لوگ فتنوں کا شکار بن جاتے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی میلاد النبیۖ کے جلسے جلوس اور خوشی منانے کو بدعت کہتے ہیں لیکن شیخ الاسلامی کے عہدے سے سود کو جواز فراہم کرنے تک کسی چیز کو اس طرح سے بدعت قرار نہیں دیتے۔ یہ سب فرقہ واریت کی بیماری ہے اور دوسری طرف میلادالنبی کیلئے طائفہ عورت کو پیسے دیکر حور بناکر پیش کیا جاتا ہے اور کسی کو شیطان بناکر ناچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پوری قوم اور ملت اسلامیہ کو اپنے اقدار کی طرف واپس آنے کی ضرورت ہے اور اصلاحِ حال بہت ضروری ہے۔

بہت نازک موڑ پرکھڑاہواپاکستان
ایک طرف حکمران نالائق ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن ان سے بھی بہت گئے گزرے ہوئے۔ جبPDMسے پاکستان پیپلزپارٹی کو باہر نکالا گیا تھا تو ہم نے نشاندہی کی تھی کہ اصل یہ نہیں تھا کہ پیپلزپارٹی نے باپ سے ووٹ لیا تھا بلکہ اصل مسئلہ پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کو گرنے کا خطرہ تھا اور اس سے بچانے کیلئے پیپلزپارٹی کوPDMسے باہر کیا گیا تھا۔ آج سب ہی کو اس حقیقت کا پتہ چل گیا ہے کہ پیپلزپارٹی اورPDMکی دوسری جماعتوں میں اتنا فاصلہ نہیں تھا جتنا ن لیگ اور ش لیگ میں نظر آرہا تھا اور ن لیگ اور ش لیگ بظاہر مخالف مگر اندر سے ایک ہیں۔ جب پیپلزپارٹی نے مذہبی کارڈ کھیل کر اسمبلی میں قادیانی کو کافر قرار دینے میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور پھر جب ن لیگ کی طرف سے حلف نامے میں اسمبلی کے اندر تبدیلی کی سازش ہوئی تو پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام سب ساتھ میں تھے۔ جس کی وجہ سے پھر تحریک لبیک میدان میں نکلی تھی اور ن لیگ نے اپنے ذمہ دار وزیر زاہد حامد کو بھی فارغ کردیا تھا۔ طاہرالقادری پیپلزپارٹی کے دور میں آیا تھا تو شہبازشریف نے پنجاب سے بہت لاڈ کیساتھ اسلام آباد بھیج دیا۔ قمر زمان کائرہ نے طاہر القادری کی نقل اتار کر اس کا سارا پانی اتار دیا تھا اور پھر رسم قل کیلئے ایک معاہدہ ہوا تھا۔ پھر نوازشریف کے دور میں طاہرالقادری دھرنا دینے پہنچ رہا تھا تو اس کے مرکز ماڈل ٹاؤن لاہور میں14افراد شہید کردئیے گئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے اس فسٹ کزن کی حکومت میں طاہرالقادری کیوں نہیں آرہاہے؟۔ کیا طاہرالقادری کے ناک کے پانی کی طرح اب شہداء کا خون بھی سوکھ گیا ہے؟۔
تحریک انصاف نے طالبان کی طرح تحریک لبیک کو بھی سپورٹ کیا تھا اور اس مرتبہ سرکاری سطح پر میلاد النبی ۖ کا بھی اہتمام کیا لیکن تحریک لبیک کیساتھ وعدے پورے نہیں کئے۔ کیونکہ یہ خوف تھا کہ اگر فرانس کے سفیر کو نکالنے کے حوالے سے قرار داد پیش کی گئی تو ن لیگ ،جمعیت علماء اسلام اور پیپلزپارٹی کے لوگ اس کو سپورٹ کرکے پاس بھی کرسکتے ہیں۔ ہماری جمہوریت بھی تو ایسی ہی ہے کہ جب نہیں بھی چاہتی ہے تو آرمی چیف کی ایکس ٹینشن کیلئے حرکت کرلیتی ہے اور جب چاہتی ہے تو جمہوری حکومت کو خراب کرنے کیلئے فرانس کے سفیر کو بھی نکالتی ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان، عراق اور لیبیا میں قتل وغارتگری کا بازار گرم کررکھا تھا تو ہماری حکومتوں اور اپوزیشنوں کو اسمبلیوں میں ایک قرارداد لانے کی بھی توفیق نہیں ملی۔ چاہے مسترد ہوتی لیکن کسی نے جرأت نہیں کی تھی۔ اور اگر کوئی قرار داد لائی جاتی تو باور یہ ہے کہ سب اس کومتفقہ طور پر منظور کرتے۔
امریکہ نے افغانستان میں کیا نہیں کیا؟۔ بوڑھے مردقیدیوں کیساتھ جنسی تشدد کرکے بھی بے غیرتی کی انتہاء کردی ۔BBCنے جرأت کرلی مگر ہمارے ہاں عوام کو دھوکہ میں رکھا گیا اور یہ کسی حد تک اچھا بھی تھا اسلئے کہ پھر ہمارے وہ غازی چلے ہوئے کارتوس کی جگہ چھدے ہوئے کارتوس کہلاتے۔ اگر امریکہ کی یہی شکست ہے تو پھر بار بار ایسی جنگ اور شکست کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ ہمارا میڈیا اس قدر بٹاہوا، دبا ہوا اوربکا ہوا ہے کہ حقائق کسی طرح سے سامنے نہیں لاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں مولانا فضل الرحمن نے کہاتھا کہ طالبان مارگلہ کے پہاڑ تک پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے قائدین اس کو امریکی ایجنٹ کہتے تھے۔ پھر ن لیگ کے دور میں فوج نے طالبان کے خلاف آپریشن کئے تو ن لیگ اس پر آمادہ بھی نہیں تھی لیکن پھر بھی دہشت گردی کے خاتمے کا کریڈٹ لیتی ہے۔
سیاست ، ریاست اور صحافت اب منافقت کی دہلیز سے نکل کر بے شرمی کی جسارت پر کھڑی ہیں اور اس سے چھٹکارا پانے کیلئے علم وشعور کی ضرورت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میں گیلانی صاحب کی اسلام پر تحقیق سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب قریشی خطیب تاریخی مسجد مہابت خان پشاور۔

میں گیلانی صاحب کی تحقیقات سے سو فیصد متفق ہوں۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب قریشی چیف خطیب محکمۂ اوقاف پختونخواہ۔ خطیب تاریخی مسجد مہابت خان

(پشاور) خیبر پختونخواہ حکومت محکمۂ اوقاف کے چیف خطیب علماء دیوبند کی ہردلعزیزشخصیت خطیب جامع مسجد مہابت خان پشاور مولانا قاری محمد طیب قریشی نے نوشتہ دیوار میں گیلانی صاحب کی تحریرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اس زمانے میں شاہ صاحب کی خدمات معجزے سے کم نہیں ہیں۔ کیونکہ ہر طرف ہوس و لالچ اور اقرباء پروری ہے۔ مگر آپ حق کہنے میں کسی اپنے پرائے کی تخصیص نہیں کرتے۔ آپ کی باتیں تلخ تو ہوتی ہیں مگر مبنی بر حق ہوتی ہیں۔
میں گیلانی صاحب کی تحقیق سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ آپ کے ساتھی بغیر کسی لالچ کے جس خلوص اور مستقل مزاجی سے کام کررہے ہیں۔ وہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔ آپ کے ساتھی شاہ وزیر میرے پاس اخبار دینے آتے رہتے ہیں ۔میں ان کا بھی بہت احترام کرتا ہوں۔ ایک ایسے وقت میں جب بڑے بڑے نام نہاد مذہبی اور سیاسی لوگ مغرب کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ شاہ صاحب مسلسل امت کو بیدار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
میں شاہ صاحب کا مداح ہوں اور اکثر پروگراموں میں آپ کی تحقیقات کی تشہیر بھی کرتا ہوں ۔ مولانا طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان نہیں ساری امت مسلمہ آئی ایم ایف کے ظلم کا شکار ہے۔ ہمیں اس سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ میرا یہ مؤقف ہے کہ جب تک پاکستان کے بڑے اذہان مل کر اپنی تجارت اور اپنے اقتصادی معاملات کو اسلامی اصولوں پر استوار نہیں کریں گے تو ہم یونہی ہمیشہ اس ظالمانہ سودی نظام اور مہنگائی کی چکی میں پستے ہی رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین کو وہ حقوق دینے ہیں جس کا قرآن نے ہمیں حکم دیا ہے۔ حق مہر، طلاق، خلع کے حوالے سے ہیومن ریسورسز کے ایک پروگرام میں یہی بات کی۔ ہمارا آئین بھی یہی کہتا ہے مگر عمل کی ضرورت ہے۔
اب یہ وقت آگیا ہے کہ تمام عالمِ انسانیت اپنے نظام کے حوالے سے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اعلان کرے کہ نظام صرف اللہ کا ہی چلے گا۔
آخر میں قبلہ گیلانی صاحب کی خدمت میں بہت بہت سلام۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت علی اور جاوید غامدی، اسلام میں نسب کا مقام، حسینی اور یزیدی کا فرق، قریش کے بارہ خلفاء میں سے ہوں گے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حضرت علی اور جاوید غامدی
معروف اسلامی اسکالر جاویداحمد غامدی نے بالکل درست کہا ہے کہ عرب میں داماد اہل بیت میں سے نہیں ہوتا ہے۔ حضرت ابوسفیان کے داماد نبیۖ تھے لیکن نبیۖ ان کے اہل بیت نہیں تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ” میں تمہارے اندر دوبھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت”۔ ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے پوچھا کہ اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں؟۔ جس کے جواب میں فرمایا کہ ” ازواج مطہرات اہل بیت ہیں لیکن یہاں نبیۖ کے دادا کے خاندان والے مراد ہیں”۔ دوسری روایت میں ہے کہ ” اس صحابی سے پھر پوچھا گیا کہ ” کیا ازواج مطہرات اس اہل بیت میں شامل نہیں ہیں؟۔ پھر صحابی نے عرض کیا کہ نہیں ، جب شوہر بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ جاتی ہے”۔ صحیح بخاری کے بعد صحیح مسلم ہے۔ نبیۖ نے خطبہ حجة الوداع کے موقع پر بھی یہ فرمایا تھا کہ ” میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت، جب تک ان دونوں کو مضبوط پکڑے رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے”۔ جامع ترمذی۔ جس کامقام بخاری ومسلم کے بعد ہے۔ اور علامہ البانی نے تحقیق کرکے ان احادیث کو بالکل صحیح قرار دیا ہے۔
علماء وفقہاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نبیۖ کے جن اہل بیت پر زکوٰة کا مال حرام ہے وہ نبیۖ کے دادا کی طرف سے وہ خاندان ہے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کی وجہ سے ان کی ازواج وغیرہ بھی شامل ہیں۔ان میں حضرت علی اور آپ کے سب بھائی اور ان کے آل شامل ہیں۔
جاویداحمد غامدی صاحب نے اپنا نام شوقیہ غامدی رکھا ہے۔ قصائیوں نے قریش، تیلیوں نے عثمانی، جولاہوں نے انصاری اور دیگر لوگوں نے بھی خاندان کے نام بدلے ہیں۔ جب سورۂ نور کی آیات نازل نہیں ہوئیں تھیں تو نبیۖ نے اہل کتاب کے مطابق غیرمسلم اور مسلموں پر زنا کی حد سنگساری کی جاری کی تھی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب تک کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا تو نبیۖاہل کتاب کے مطابق اس پر عمل کرتے تھے۔ ایک یہودی کی عورت کو بھی سنگسار کیا تھااور ایک مسلمان مرد اور ایک مسلمان عورت بھی سنگسار کی گئی تھی۔ جس صحابیہ کوسنگساری کی سزا دی گئی تھی تو وہ غامدی قبیلے سے تھی جس کو غامدیہ کے نام سے ہی یاد کیا گیا ہے، جب اس کا بچہ اس قابل ہوا کہ وہ روٹی کھا سکتا تھا تو نبیۖ نے اس کے بعد حد جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب جاوید احمد غامدی کو یاد دلایا گیا کہ غامدی کی طرف نسبت کرنے سے یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ اسی بچے کی نسل سے ہو۔ تو اس نے وضاحت کردی کہ میں نے غامدی شوقیہ نام رکھا ہے۔
نبیۖ کا قبیلہ بنوہاشم تھا تو ہاشمی وہی کہلاسکتا ہے جو ہاشم کی اولاد سے ہو۔ ابوسفیان سے قیصرروم نے پوچھا تھا کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کا خاندان کیسا ہے؟۔ حضرت ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ قریش میں سب سے معزز اور شریف ترین خاندان سے تعلق ہے۔ اگر غامدی صاحب کھل کر کہتے کہ میں احادیث صحیحہ پر یقین نہیں رکھتا ہوں تو کوئی بات نہیں ۔بہت سارے لوگ احادیث کو نہیں مانتے۔ حضرت عمر فاروق اعظم نے حدیث قرطاس میں عرض کیا تھا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ حنفی مسلک میں بہت سی احادیث کی تردید کی جاتی ہے لیکن غامدی صاحب عرب وعجم کے خاندانی نظام کو سمجھنے سے ہی قاصر لگتے ہیں۔ اگر ان کے خاندان والے غامدی ہوتے تو چچازاد کی حیثیت کا بھی پتہ ہوتا۔ اب شاید ان کے داماد کو بھی بعد میں شوقیہ غامدی ہی لکھنا پڑے گا۔ میرا مقصد کسی کی توہین نہیں ہے لیکن حقائق کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

_ اسلام میں نسب کا ایک مقام _
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا ہے کہ ” اے بنی اسرائیل ! یاد کرو ، میری اس نعمت کو ،جو میں نے تم لوگوں پر کی تھی اور تمہیں تمام جہاں والوں پر میں نے فضیلت بخشی تھی”۔ جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہ فرمایا ہے کہ ”میں نے قومی حیثیت سے تمہیں نعمت بخشی تھی اور تمام جہاں والوں پر تمہیں فضلیت بخشی تھی ” ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں اور خاندانوں کو من حیثیت القوم نعمت بخشنے کا اعزاز دیا ہے۔ ہندوستان پر مغل خاندانوں نے حکومت کی ہے تو آج مغل برادری سے تعلق رکھنے والے بڑے فخر سے مغل ہی لکھتے ہیں۔ ہندوستان پر کچھ عرصہ تک خاندانِ غلامان نے بھی حکومت کی ہے مگر کوئی اپنے آپ کو خاندانِ غلامان کی طرف منسوب کرنے کی جسارت نہیں کرتا ہے اسلئے کہ لوگ صرف حکومت کو نہیں بلکہ خاندانی حیثیت کو بھی دیکھتے ہیں۔
رسول اللہۖ کو اللہ تعالیٰ نے قریش کے معزز ترین خاندان سے مبعوث فرمایا تھا لیکن آپ ۖ کے چچا ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت بھی قرآن میں آئی ہے۔ بنی اسرائیل کو جہان والوں پر اسلئے فضیلت بخشی گئی تھی کہ انبیاء کرام اور بادشاہوں کی کثرت اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں پیدا کی تھی لیکن پھر قرآن میں ان کے بارے میں یہ بھی واضح ہے کہ ضربت علیھم الذلة والمسکنة والباء بغضبٍ من اللہ ”ان پر ذلت،دربدری اور پھٹکار ان پر اللہ کے غضب کی وجہ سے مسلط کی گئی”۔ یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ”جاؤ ، آپ اور آپ کا ربّ خود ہی لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں”۔ القرآن۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے زعم کے مطابق تشدد کرکے پھانسی پر چڑھایا تھا مگر اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت زیادہ اتباع کرنے والے عطاء کردئیے۔ یہود اپنے اعلیٰ نسب کے زعم میں پوری دنیا میں دربدری کا عذاب کھا رہے ہیں۔
رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے کی گئی تھی، کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر، عجم کو عرب پر اور عرب کو عجم پر کوئی فضلیت حاصل نہیں ہے، فضلیت کا معیار تقویٰ (کردار)ہے”۔
انصار ومہاجرین میں خلافت کے مسئلے پر اختلاف ہوا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے اپنا مقدمہ اس حدیث کی بنیاد پر جیت لیا کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ” امام قریش میں سے ہوںگے”۔ رسول اللہۖ نے فرمایا” قیامت تک ائمہ قریش میں سے ہوںگے چاہے دو آدمی باقی رہیں”۔(بخاری ومسلم )انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ حضرت ابوبکر و عمر سے خلافت کے مسئلے پر سخت ناراض تھے ،یہان تک کہ انکے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔ جنات نے ان کو قتل کردیاتھااسلئے ان کے قاتلوں کو تلاش کرکے سزا نہیں دی جاسکی تھی۔ حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے اپنے بعد اس بات کا خیال رکھا تھا کہ کسی کو نامزد کرکے اس خلافت کے مسئلے کو حل کیا جائے۔ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس بہت شاکی رہتے تھے کہ جس طرح انصارسے زیادہ خلافت کا استحقاق قریش کا تھا تو اس طرح اہل بیت کی حدیث سے قریش میں خلافت کیلئے زیادہ اہلیت ان میں تھی۔ حضرت ابوبکر نے اپنے بیٹے کی بجائے حضرت عمر کو خلیفہ بنانا مناسب سمجھا اور اگر وہ اپنے بیٹے کو نامزد بھی کردیتے تو اس کو کثرت رائے سے مسترد کیا جانا تھا۔ حضرت عمر نے بعض لوگوں سے مشاورت کی تھی تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کی نامزدگی کا مشورہ بھی دیدیا۔ حضرت عمر نے ان پر پابندی لگادی کہ آپ کو خلیفہ نہیں بنایا جاسکتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ ” جو طلاق کا مسئلہ نہیں سمجھ سکا اس کو امت میں خلافت کا مسئلہ کیسے سپرد کرسکتے ہیں”۔ بنوامیہ اوربنوعباس نے قبضہ کیاتو آج یزیدیوں کاعراق وشام میں اپنا الگ مذہب اور قوم بھی ہے۔

حسینی ویزیدی میں فرق کیا؟
عراق وشام میں ایک فرقہ ہے جو خود یزیدی کہتے ہیں۔ وہ قرآن کومانتے ہیں اور توراة وانجیل اور حضرت ابراہیم و نوح سب کو مانتے ہیں۔ عام مسلمان بھی سب کو مانتے ہیں لیکن وہ خود کو مسلمان نہیں کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہی اہل حق ہیں اسلئے کہ تمام مذاہب کا ملغوبہ ہیں۔ جب بنو امیہ کے اقتدار کو بہت ظالمانہ طریقے سے بنوعباس نے ختم کردیا تو شاید یزیدی اسلام سے کنارہ کش ہوگئے۔ مشرکینِ مکہ ، یہود اور نصاریٰ سب دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ابراہیمی ہیں اور حضرت ابراہیم ان کے تھے، جس کی اللہ نے قرآن میں نفی کی ہے۔ داعش کی طرف سے عراق وشام میں یزیدی مذہب کی خواتین کو زبردستی لونڈی بھی بنایا گیا تھا اور اس پر دستاویزی ویڈیوزبھی موجود ہیں۔ تحقیق کرنے والوں نے اس پر قسم قسم کے تجزئیے کئے ہیں کہ یزیدی مذہب کا تعلق کس سے ہے؟۔
اہل تشیع اپنے آپ ہی کو حسینی سمجھتے ہیں لیکن ہندوؤں میں حسینی موجود ہیں۔ اہل سنت کی اکثریت بھی یزیدی کے مقابلے میں خود کو حسینی قرار دیتی ہے ۔ شیعہ میں آغاخانی اور بوہری ایک شاخ کی دو کڑیاں ہیں۔ان کے نزدیک حضرت حسن حضرت علی کے بعد امام نہیں تھے بلکہ حضرت حسین امام تھے۔ جب ایک امام نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کردیا تو وہ اپنے والد کی وفات سے پہلے ہی فوت ہوگئے، جس کی وجہ سے فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے نزدیک امام نے دوسرے بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کردیا۔ جس سے مہدی غائب تک بارہ اماموں کا سلسلہ پورا ہوگیا۔ جبکہ آغاخانیوں اور بوہریوں کے نزدیک ایک دفعہ امام مقررہوگیا تو اس کو منصب سے نہیں ہٹایا جاسکتا تھا،اسلئے اسماعیل کی اولاد میں امامت منتقل ہوگئی۔ اسماعیلیوں نے فاطمیوں کے نام سے تاریخ میں حکومت بھی کی ہے جبکہ امامیہ اثنا عشریہ پہلی مرتبہ ایران میں برسرِ اقتدار آئے ہیں۔
ایک معروف شیعہ کی معروف کتاب ”الصراط السوی فی احوال المھدی” میں ایک روایت لکھی ہے کہ ” حضرت آدم سے حضرت عبدالمطلب تک نبوت و ولایت کا نور ایک ساتھ منتقل ہوتا رہاہے۔ پھر نور نبوت حضرت عبداللہ سے منتقل ہوکر حضرت محمدۖ کی بعثت سے دنیا کو پہنچا اور ولایت کا نور حضرت ابوطالب سے منتقل ہوکر حضرت علی کی شکل میں دنیا کو پہنچا”۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت حسن میں ولایت کا نور منتقل ہوا تو پھر امام حسن سے ان کے بھائی امام حسین میں کیسے منتقل ہوسکتا ہے؟۔ اگر براہِ راست حضرت امام حسین کی شکل میں منتقل ہوا تو امام حسن کی ولایت کہاں سے ثابت ہوگی؟۔اور اگر دونوں میں منتقل ہوا تھا تو پھر دونوں کی اولاد میں اپنی اپنی حیثیت میں باقی رہنا چاہیے۔ اور جب ایک مرتبہ ایک امام نے اپنے بڑے بیٹے اسماعیل کو نامزد کردیا تھا توپھر نورولایت کسی دوسرے بیٹے کی طرف کیسے جاسکتا تھا؟۔ شیعہ منطقی لوگ ہیں اور اس منطق کا وہ خود ہی بہتر جواب دے سکتے ہیں اور یہ انکے آپس کا معاملہ ہے۔
حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ نے ولایت کے اعتبار سے اثنا عشریہ کو اپنی کتابوں میں جو اہمیت دی ہے ، وہ بھی اپنی جگہ بہت ہے اور اس سے زیادہ شاید اہل تشیع بھی تصور نہیں کرسکتے ہیں لیکن افغانستان میں جس طرح داعش نے پہلے جمعہ کو قندوز اور پھر قندھار میں شیعوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے تو یہ صورتحال بہت خطرناک ہے۔ اسلام میں حسینیت کا دعویٰ کرنے والے شیعوں کو تو بہت دور کی بات ہے،یزیدی مذہب کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا بھی جائز نہیں ہے جو اسلام کھلم کھلا چھوڑ چکے ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ تہذیب کے دائرے میں اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے سے گریز کیا جائیگا،ورنہ پھر سب کا نقصان ہوگا۔

بارہ خلفاء قریش میں ہونگے
اہل سنت کیلئے سب سے مشکل حدیث یہی ہے کہ رسول اللہۖ نے جس کی وضاحت فرمائی ہے کہ ”بارہ خلفاء قریش میں ہونگے” لیکن تاریخ میں ایسی کوئی بارہ شخصیات نہیں ہیں جن کو امتیازی حیثیت حاصل ہو۔ خلفاء راشدین اور امام حسن کے تین سالہ دور کوخلافت راشدہ میں شمار کرتے ہیں ۔پھر حضرت امیرمعاویہ کے بعد یزیداور بنوامیہ وبنوعباس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ ایسی ممتاز شخصیات کو ڈھونڈ نکالنے میں ناکام ہیں جن کو مہدی آخری زمان سے ملاکر بارہ کی تعداد پوری کی جاسکے۔ جبکہ خلافت عثمانیہ والے قریش نہ تھے۔ جب اہل تشیع اہل سنت کو اس حدیث میں لاجواب پاتے ہیں تو ان کے لہجے میں سختی ، تلخی اوردرشتی آجاتی ہے۔جب اہل سنت ان کو معقول جواب نہیں دے سکتے ہیں تو ان کے خلاف غلط پروپیگنڈے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔
اہل تشیع کے ہاں ”الصراط السوی فی احوال المہدی” بہت معتبر کتاب ہے اور اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”مہدی آخرزمان کے بعد گیارہ ایسے افراد بھی اہل بیت میں سے آئیں گے جن کو حکومت ملے گی”۔ لیکن پھر وہ اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ مہدی کے بعد گیارہ افراد آئیںگے تو اس کا آخری امیر ہونا کیسے ثابت ہوگا؟ روایت کو صحیح ماننے کے باوجود اپنے مسلک کی خلاف ورزی کی وجہ سے اس پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ جس حدیث میں ہے کہ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں، اس کے درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ہیں”۔ اس کوبھی الصراط السوی فی احوال المھدی نے صحیح مانا ہے لیکن مہدی آخرزمان کا تعلق تو آخری زمانے اور حضرت عیسیٰ کے دور سے ہوگا اسلئے الصراط السوی فی احوال المھدی کے مصنف نے لکھ دیا ہے کہ ”ہوسکتا ہے ، اس درمیانہ زمانے کے مہدی سے مراد بنوعباس کے دور کے مہدی ہوں”۔ مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی نے اپنی کتاب ” ترجمان السنة” میں وضاحت کی ہے کہ ”بنوامیہ کے عمر بن عبدالعزیز بھی مہدی تھے مگران کے دور میںانصاف پورا قائم نہیں ہوسکا تھا اور مہدی کے تمام صفات اس میں نہیں تھے اسلئے اصل مہدی بعد میں آئیںگے”۔ علامہ جلال الدین سیوطی اور پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے الحاوی للفتاویٰ اور تصفیہ مابین شیعہ وسنی میں واضح کیا ہے کہ” بارہ امام آئندہ ہی آئیں گے جن پر امت کا اجماع بھی ہوگا۔ ابھی تک کوئی بھی ایسا خلیفہ نہیں گزرا ہے جس پر امت کا اجماع ہوا ہو”۔الحاوی للفتاویٰ میں علامہ سیوطی نے روایت نقل کی ہے کہ ” مہدی کے بعد قحطانی امیر ہوگا، جسکے کانوں میںسوراخ ہونگے اور وہ مہدی سے ہدایت میں کم نہیں ہونگے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس امت کے آخری امیر کی بعثت کریںگے جو نیک ہوں گے اورجن کے دور میں عیسیٰ ہوں گے”۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی کتابوں میں مندرجہ بالا روایت میں سے آخری امیر کا ٹکڑا نقل کیا ہے مگر مہدی اور قحطانی امیر کی بات چھوڑ دی ہے اور یہ بہت بڑی خیانت ہے اور اس پر آنکھیں بند کرنے کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ قحطانی امیر سے پہلے کے مہدی کو درمیانہ زمانے کا مہدی قرار دیا جائے تو شیعہ سنی کا اس پراتفاق بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح درمیانے زمانے کے مہدی کے بعد گیارہ افراد کو مہدی قرار دیا جائے تو شیعہ سنی روایات اور مسلکوں پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ علامہ طالب جوہری نے ایک روایت نقل کی ہے کہ مشرق سے دجال نکلے گا اور اسکے مقابلے میں اہل بیت کا فرد ہوگا۔ یہ کوئی دوسرا دجال ہوگا اور اہل بیت سے مراد سید گیلانی ہوسکتا ہے جو امام حسن کی اولاد سے ہوگا۔ (ظہور مہدی: علامہ طالب جوہری)
پیش گوئیوں پر یقین کرنے والوں کو حقائق چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟۔

اسلام کی بیخ کنی میں فقہاء کا کردار!
کراچی کی معروف مذہبی شخصیت علامہ شاہ تراب الحق قادری نے جمعہ کے دن، رمضان کے مہینے میں اپنے مقتدیوں سے یہ ایک فقہی مسئلہ بیان کیا تھا کہ ”روزے کی حالت میں پوٹی کی جائے تو مقعد سے آنت نکلتی ہے جو پھول کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس پھول کو دھونے کے بعد کپڑے سے نہ سکھایا جائے اور وہ پانی سے گیلا اندر چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ فطری طور پر آنت خود بخود اندر چلی جاتی ہے تو سانس پھلا کر اس کو مقعد کے اندر جانے سے روکا جائے اور اگر پانی سے دھونے کے بعد اس کو مقعد کے اندر جانے سے نہیں روکا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری کے معتقد نے شاہ صاحب کے ہاں جمعہ پڑھا تھا اور وہ میرے پاس آیا۔ میں نے اس وقت ماہنامہ ضرب حق میں اس کو مین صفحے پر جگہ دی اور اس غلط مسئلے کی تردید کردی اور بریلوی دیوبندی علماء نے ہمارے اخبار کے توسط سے اس کی تردید کردی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ مسئلہ فقہاء کی معتبر کتابوں میں موجود ہوگا اسلئے مذہبی طبقات نے اپنی مساجد اور مدارس کے پلیٹ فارم سے اس کی تردید نہیں کی۔ پھر دعوت اسلامی کے مفتیوں نے اپنی مجالس اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے اسی مسئلے کو دوبارہ خوب پھیلادیا اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ ”استنجاء کرتے وقت سانس روک دی جائے اسلئے کہ اس بے احتیاطی کی وجہ سے پانی مقعد میں داخل ہوکر روزہ ٹوٹ سکتا ہے”۔
جب ہم نے2004ء میں مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب سے مسئلہ اٹھاکر اخبار میں شہہ سرخی سے شائع کیا کہ ” سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے” اور عوام کی طرف سے اس کے خلاف ردِ عمل سامنے آیا تو مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں ” فقہی مقالات جلد چہارم” اور ” تکملہ فتح المہلم” سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا اور توجہ دلانے پر شکریہ بھی ادا کردیا۔ لیکن ایک دو دن بعداس نے پھر اسی روزنامہ اسلام میں اشتہار دیا کہ ” مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں”۔ اور پھر ہفت روزہ ضرب مؤمن کراچی میں اپنی کتابوں سے مسئلے کو نکالنے کی وضاحت والا مضمون اور بہتان لگانے والا اشتہار دونوں ایک ساتھ شائع کردئیے۔ یہ سب میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ عمران خان کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ” ریزہ الماس” میں اپنے مسلک کی تائید کرتے ہوئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیا اور سوشل میڈیا پر مولانا الیاس گھمن نے بھی حنفی مسلک کی تائید کردی ہے۔
جاہل مذہبی طبقے کو جاہل علماء ومفتیان نے جاہل فقہاء کی کتب کے ذریعے جس طرح قرآن وسنت کے رشد وہدایت سے دور کردیا ہے،اگر فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات سے نکل کر عوام فطری دین اسلام کی طرف راغب ہوگئی تو بہت بڑا انقلاب آجائیگا۔ قرآن نے جاہل اور ہٹ دھرم عربوں کو اس وقت راہِ حق پر ڈال دیا تھا جب دنیا بے شعوری کی اندھیرنگری میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آج فکر وشعور کے عروج کا دور ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے موبائل فون کے کمالات سے آگاہ ہیں تو قرآن وسنت کی فطری تعلیمات عالمِ انسانیت کو کس طرح اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات نہیں دلاسکتی ہے؟۔ بھونکنے والا لیڈر، گیدڑ بھبکیاں مارنیوالی عورت اورڈھینچو ڈھینچو کرنے والے حکمران ابھی اپنے آپ زندہ باد کا نعرہ لگاکر عوام کو اسلئے بیوقوف بنارہے ہیں کہ مذہبی طبقات نے اپنے لوگوں کو ان سے بھی زیادہ بیوقوف بنارکھا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کو چاہیے کہ مذہبی طبقے کے جھوٹ کو اور مقتدر طبقات کے لوٹ کھسوٹ کو عوام کے سامنے لائیں۔ جاہلیت، مفادات اور تعصبات کا خاتمہ کرکے پاکستان کو ترقی وعروج کی طرف لے جائیںگے تویہ دور اور پاکستان ایک عظیم انقلاب کابہت بڑا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میلاد النبی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلامی بینکاری موجود تھی؟

میلادالنبیۖ ہم اسلئے نہیں مناتے کہ یہ مذہبی تقریب ہے جس کا نبیۖ کے دور میں وجود نہیں تھااور14اگست جشن آزادی کی تقریب ہم اسلئے مناتے ہیں کہ دنیاوی تقریب ہے۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نومنتخب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان۔پھرسوال بنتا ہے کہ رسول ۖ، خلفاء راشدین، ائمہ اربعہ ، مفتی تقی عثمانی کے والدمحترم مفتی محمد شفیع کے دور میں اسلامی بینکاری کا وجود تھا،وفاق المدارس کے سابقہ صدور بھی مخالف نہ تھے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

الحمد للہ وزیراعظم کی زبان پر نقاب کا ذکر آیا۔ مہاجرات صحابیات بہت قابلِ احترام تھیں جب پردے کا حکم آگیا تو انہوں نے لنگ (ازار) پھاڑ کر اپنا سر اور سینہ ڈھانپا تھا۔ مولانا محمد انور جمعیت علماء اسلام کا قومی اسمبلی میں خطاب

میلاد النبی ۖ اورمفتی تقی عثمانی
ہندوستان اور پاکستان میں بریلوی دیوبندی اختلافات نئے نہیں ہیں لیکن ذمہ دار حلقوں نے اپنی سمجھداری سے کام لیکرہمیشہ فرقہ واریت میں ہوا بھرنے سے گریز کیا ہے۔ علماء دیوبند کے اکابر کے پیرومرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی اپنی کتاب ” فیصلہ ہفت مسئلہ” میں تمام متنازع امور کوبہت ہی خوبصورتی کیساتھ ختم کرنے کی زبردست کوشش فرمائی تھی۔ مولانا قاسم نانوتوی نے کہا تھا کہ میں علم کی وجہ سے حضرت امداد اللہ مہاجر سے بیعت ہوا ہوں۔لیکن مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فرمایا تھا کہ میں ان کے علم سے نہیںتقویٰ کی وجہ سے بیعت ہوا ہوں۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے عرض کیا کہ مولانا رشیداحمد گنگوہی سے میری سفارش کرلیں کہ مجھے وہ بیعت کرلے۔ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی نے فرمایا کہ ” میں تجھے خود بیعت کرتا ہوں ”۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خانقاہی نظام کو سب سے زیادہ مولانا اشرف علی تھانوی ہی نے پھیلایا ہے۔ آپ کی کتاب ” فیصلہ ہفت مسئلہ ” کو بھی مولانا تھانوی نے ہی چھاپ دیا تھا ، ورنہ مولانا رشید احمد گنگوہی کے شاگردوں نے اس کو پھاڑ دیا تھا۔
مولانا رشید احمد گنگوہی کے ایک شاگرد مولانا حسین علی تھے جن کے شاگرد شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیری تھے۔ پھر ان کے بھی دو دھڑے بن گئے۔ مولانا غلام اللہ خان عام دیوبندی علماء سے مل گئے لیکن مولانا طاہر پنج پیری دوسرے دیوبندی علماء کو بدعتی قرار دیتے تھے۔ آج بھی اختلافات کا یہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اب یہ ایک نیا موڑ اختیار کر گیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی میلاد النبیۖ کے منانے کو بدعت قرار دیتا ہے لیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود اور جمعیت علماء کے قائد مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں دیوبندی اکابر علماء بہت اہتمام کیساتھ میلاد کا جلوس ڈیر ہ ا سماعیل خان میں بھی نکالتے ہیں۔ کیا مفتی محموداور ڈیرہ کے اکابر علماء دیوبند اس وجہ سے بدعتی ہیں ؟۔

دیوبندی اور بریلوی اختلافات
بدعت اور سنت کے حوالے سے دیوبندی بریلوی اختلافات بہت عروج پر رہتے ہیں۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ایک بہت بڑی کتاب لکھ ڈالی کہ جس میں سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا۔ ہندوستان، پنجاب اور کراچی میں علماء دیوبند کے اکابر اس پر عمل کرتے تھے اور سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے مگراندورنِ سندھ امروٹ شریف، بیر شریف اور ہالیجی شریف سنت نمازوں کے بعد بھی اجتماعی دعا ہوتی تھی۔ پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ افغانستان میں سنتوں کے بعد اجتماعی دعا مساجد میں ہوتی تھی۔اکوڑہ خٹک کے جامعہ حقانیہ اور پنج پیر کا اختلاف سنت کے بعد اجتماعی دعا اور حیلہ اسقاط وغیرہ سے زور وشور کیساتھ جاری رہتا تھا۔ جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بھی پنج پیری طلبہ کو اپنی شناخت چھپانی پڑتی تھی۔ اسلئے کہ مولانا سیدمحمدیوسف بنوری کا تعلق پختونخوا سے تھا۔ پنج پیری علماء اپنے مخالف دوسرے علماء کو حق چھپانے کا مرتکب قرار دیتے تھے اور دوسرے دیوبندی علماء پنج پیری علماء کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے تھے۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے۔
مولانا فضل غفور نے جب ایک عالمِ دین کا خواب اپنی جمعیت علماء اسلام کی تائید کیلئے بیان کیا تو پنج پیری علماء کی اکثریت نے اس پر رسول اللہۖ کی شان میں گستاخی کا فتویٰ لگادیا لیکن انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ مولانا حسین علی کی تفسیر” بلغة الحیران” میں لکھا کہ ” نبیۖ گر رہے تھے اور میں نے تھام لیا”۔ مولانا خضر حیات بھکروی اور دیگر پنج پیری علماء ان پر گستاخی کا فتویٰ کیوں نہیں لگاتے تھے؟۔ شمالی اتحاد کے احمد شاہ مسعود پنج پیری اور طالبان سنت کے بعد بھی اجتماعی دعا مانگنے والے بدعتی ہیں لیکن شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی طالبان سے نہیں کہتے ہیں کہ ” تم بدعتی ہو”۔ بریلوی دیوبندی اختلاف کی نوبت اس وقت آئے گی جب دیوبندی آپس میں کسی اچھے نتیجے پر نکل کر کبھی متفق بھی ہوجائیں گے۔

مفتی محمد تقی عثمانی اور سودی بینکاری؟
پاکستان میں پہلے سرکاری سطح پرربیع الاول کا اہتمام سیرت النبیۖ کے نام سے ہوتا تھا۔ دیوبندی علماء بھی ربیع الاول کا سیرت النبیۖ کے نام سے اہتمام کرتے تھے۔پہلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے گھر بنی گالہ اور سرکاری سطح پر عیدمیلالنبیۖ کا اہتمام کیا ہے۔دوسری طرف سے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلی مرتبہ میلاد النبی ۖ منانے کو بدعت قرار دے دیا ہے۔
پاکستان میں پہلے دنیا پرستی کے نام پر سودی لین دین اور بینکاری کا اہتما م ہوتا تھا لیکن مفتی محمد تقی عثمانی نے مذہبی روپ میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا ہے؟۔ کیا یہ بدعت نہیں ہے؟۔ رسول اللہۖ اور خلفاء راشدین کے ادوار میں کوئی مذہبی پیشواء شیخ الاسلام نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بنوامیہ کے بعد بنوعباس کے دورمیں شیخ الاسلام کا سرکاری عہدہ اور منصب بھی سامنے آگیا اور اب اس نے مذہب کا روپ ہی دھار لیا ہے کیا یہ بھی بدعت نہیں ہے؟۔کیا نبیۖ اور صحابہ کے دور میں غسل اور وضو کے فرائض اور ان پر اختلافات کا تصور تھا؟۔ یہ بدعت نہیںہیں؟۔ دیوبندی علماء مفتی تقی عثمانی اور اس کے آباء واجداد کو سرکاری مرغا قرار دیتے تھے۔ تھانوی گروپ کو آزادی کے علمبرداروں جمعیت علماء ہند کا دشمن سمجھا جاتا تھا۔ پھر جنرل ایوب خان کے پروردہ اس گروپ نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں دیوبندی اکابر علماء پر1970ء میں کفر کا فتویٰ لگادیا۔ پھر تھانوی گروپ نے بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں جنرل ضیاء کا ساتھ دیا۔ مفتی محمود نے جنرل ضیاء الحق کی سرکاری زکوٰة کو سود قرار دیا اور پھر مولانا فضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پرآب زم زم کا لیبل قرار دیتے رہے۔ آج سرکاری مرغے نے حکومت کے برعکس کوئی آذان دیدی ہے تو یہ بہت زریں موقع ہے کہ سرکاری سطح اور عوامی سطح پر دین اسلام کی حقیقت کو سیاست سے پاک کرکے پوری قوم کو فرقہ واریت کے چنگل سے نکالا جائے۔

مولاناانور کی قومی اسمبلی میں تقریر
لکی مروت سے جمعیت علماء اسلام کے منتخب رکن نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ” شکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زبان پر بھی نقاب کا لفظ آگیا۔ جب قرآن کی آیت نازل ہوئی ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولایبدین زنیتھن الا لبعولتھن او لآبائھن…… ”عورتیں اپنے دوپٹوںکو اپنے سینوں پرڈال لیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے…”۔تو اولین مہاجرات صحابیات نے جو بہت ہی قابلِ احترام تھیں ،لنگ (ازار ) پھاڑ کر اپنے سروں اور اپنے سینوں کو ڈھانپ لیا”۔ سوشل میڈیا پر خطاب دیکھ لیں۔
مروت قوم کا قومی لباس پہلے لنگ (ازار)ہوتا تھا جس کو تہبند، دھوتی،لنگی، لنگوٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جب سے مولانا محمد امیر بجلی گھر نے لنگ دھوتی کو صرف پنجابی لباس قرار دینا شروع کیا ہے اور اس کو بے غیرتی سے تعبیر کیا ہے تو تہبند کا احترام بھی ختم ہوگیا،حالانکہ حج اور عمرے میں لنگوٹ (تہبند) پہنا جاتاہے۔
جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا محمدانورعالم ہیں۔ مولانا سید مودودی نے بھی اپنی تفسیر میں لکھا کہ ”عرب میں دوپٹے کا رواج نہیں تھا، قرآنی آیات کے بعد مسلمانوں نے دوپٹہ اوڑھنا لینا شروع کیا”۔ جب یہ بحث آتی ہے کہ عربوں میں دوپٹے کا رواج نہ تھا اور مشرکینِ مکہ تہبند پہنا کرتے تھے اسلئے بعض مہاجرصحابیات نے تہبندوںکو پھاڑ کر اپنادوپٹہ بناکر سر وں اور سینوں پر ڈالا۔ مگرقرآن سے یہ واضح ہے کہ پہلے سے دوپٹے کا رواج تھاکیونکہ آیت میں اپنے دوپٹوں کو اپنے سینوں پر ڈالنے کا حکم واضح ہے۔ البتہ دوپٹوں سے سینے ڈھانپ لینے کا رواج ختم ہوگیا ہوگا۔ پختون معاشرے میں برقعے اور نقاب کی روایت زیادہ عرصے کی بات نہیں۔ حج وعمرہ میں بھی خواتین دوپٹے سے سینوں کو ڈھانپ لیتی ہیں لیکن چہرے کا پردہ نہیں۔

_ سودی نظام سے پاکستان کی تباہی؟_
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سودی نظام کو اللہ اور اس کے رسول کیساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔ جب1947ء میں پاکستان بن گیا تو اس میں اسلامی نظام کو قراردادِ مقاصد تک محدود کیا گیا۔ پھر اسلامی نظام کیلئے متفقہ22نکات پیش کئے گئے۔ پھر جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو1973ء میں ایک اسلامی جمہوری آئین تشکیل دیا گیا لیکن آج تک اسلام پر عمل ہوااور نہ جمہوری نظام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکا ہے۔ جو جمہوری پارٹیاں ڈکٹیٹروں کی پیداوار ہیں اور موروثی نظام کی حامل ہیں تو ان کے ذریعے جمہوریت کیسے آسکتی ہے؟۔
آج سول وملٹری بیوروکریسی ، سیاستدان اور عوام سب مل کربھی اتنا نہیں کھاتے ہیں جتنا سودی نظام کے تحت سودی قرضہ لیکر سودی رقم ادا کررہے ہیں۔ یہ اللہ کیساتھ اعلانِ جنگ کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ نوازشریف نے جتنا قرضہ لیکر سودی نظام کو تقویت دی تھی تو اس کو پورا کرنے کیلئے عمران خان نے مزید اور زیادہ سودی قرضے لے لئے ہیں۔ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور اس وجہ سے تمام ریاستی ادارے اور حکومتی شخصیات زیادہ سے زیادہ قرضے لیکر ملک وقوم کو ڈبونے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی لڑائی زیادہ سے زیادہ لوٹ مار اور اقتدار کیلئے ہے اسلئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے حق میں یا مخالفت میں کوئی بھی نہیں نکل رہاہے۔ ملکی مفادات کا مسئلہ ہوتا تو بہت سارے لوگ نکل آتے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کل نئے آرمی چیف کی تقرری میں اس سے بھی زیادہ وقت لگے اور پوری دنیا پاکستان کی حکومت اور ریاست کا تماشہ دیکھنے لگ جائے۔ عوام کی بد دعائیں سب کو لگ رہی ہیں اور کھاؤ پیو معاملہ انجام کو پہنچنے والا ہے۔
سیاسی اقتدار کیلئے سب مررہے ہیں اور بڑے عہدے والے منصبوں کیلئے مررہے ہیں لیکن عوام کی غربت اور غریبوں کے بھوکے مرنے کا خیال کسی اقتدار والے کے دل ودماغ کو اپیل نہیں کرتا ہے۔ جن کا نام پانامہ پنڈورا میں بھی آیا ہے تو وہ میڈیا پر بڑی بے شرمی سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری اولاد غیرملکی باشندے ہیں اور ان پر پاکستان کے قوانین کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ جج ، جرنیل اور سیاستدان اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے لاتعلق اسلئے بنتے ہیں کہ کرپشن میں ان پر کوئی ادارہ گرفت بھی نہ کرسکے۔ جو اپنے والدین، بچوں اور بیویوں تک سے لاتعلقی کا اعلان کریں تو اپنے ملک اور قوم کے کیسے خیرخواہ ہوسکتے ہیں؟۔
سودی نظام کے نتائج ہم اللہ سے اعلانِ جنگ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ جب اسلامی جمہوری اتحاد کے سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق شہید نے سودی نظام کے خاتمے پر زور دیا تو اس وقت کے رنگیلا وزیراعظم نوازشریف نے اس کے خلاف میڈم طاہرہ سکینڈل اخبارات کی زینت بنادیا۔ میڈم طاہرہ سے زیادہ طاہرہ سید کے معاملات میڈیا کے سامنے واضح تھے لیکن سودی نظام کے خلاف آواز اٹھانے کی مولانا سمیع الحق شہید کو سزا دی گئی تھی۔ اگر گیدڑ کی طرح چیخم دھاڑ کرکے اچانک خاموشی اختیار کرنے اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا بھی ہماری قوم کا مقبول سیاسی قائد ہو تو پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
رسول اللہ ۖ نے آخری خطبے میں سودی نظام کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ سب سے پہلے اپنے چچا حضرت عباس کے سود کو معاف کردیا۔ اور دوسرے چچا کے خون کو معاف کردیا۔ اللہ کرے کہ پاکستان کی بھی جان چھوٹ جائے۔

مزارعت سے سودی نظام کا خاتمہ؟
جب سود کی حرمت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیدیا۔مزارعت کی وجہ سے دنیا میں غلامی کا نظام رائج تھا اور خاندان کے خاندان غلام بنتے رہتے تھے۔ جاگیردار اپنے غلام بچوں، بچیوں کو تربیت دے کر مہنگے داموں منڈیوں میں فروخت کرتے تھے۔ غلام ولونڈی بنانے کے سب سے بڑا ادارہ جاگیردارانہ نظام تھا۔ بدر میں70افراد کو قیدی بنایا گیا اور ان میں کسی ایک کو بھی غلام نہیں بنایا گیا اور نہ غلام بنانا ممکن تھا اسلئے کہ دشمن سے گھر کی خدمت لینا مشکل نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ بھارت کے کلبھوشن اور ابھی نندن کو کون اپنے گھر کا غلام بناسکتا تھا؟۔
جب نبیۖ نے مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دے دیا تو جاگیرداروں کی اولاد بھی محنت کش بن گئی اور مزارعین کو مفت زمینیں مل گئیں تو وہ بھی خوشحالی سے زندگی بسر کرنے لگے اور جب محنت کشوں میں قوتِ خرید کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو تاجر حضرات بھی خوشحال ہوگئے اور جب تاجروں نے زکوٰة اور زمینداروں نے عشر دینا شروع کردیا تو بہت سارے لوگوں نے خمس دینا بھی شروع کردیا تھا اور جن کی زمینیں بارانی تھیں تو ان سے بیسواں حصہ وصول کیا جانے لگا۔ غیرمسلم کو جزیہ کے نام سے اپنا ٹیکس دینا پڑتا تھا اور مسلمان اپنی مرضی سے اپنا فرض سمجھ کر زکوٰة ، خمس ، عشر اور بیسواں حصہ دیتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں جب سالانہ بجٹ پیش کیا گیا تو بہت سارا مال بچ رہا تھا۔ انہوں نے رعایا کے تمام قرض داروں کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا۔ عرض کیا گیا کہ وہ پہلے سے ادا کیا گیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی بیگمات کے حق مہر ادا نہیں کئے ہیں ان کے حق مہر ادا کئے جائیں۔ وزیرخزانہ نے عرض کیا کہ پہلے سے اس پر عمل ہوچکا ہے، سب کے حق مہر بھی دیدئیے گئے ہیں۔ عمربن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ جن جوانوں کی شادیاں نہیں ہوئی ہیں ،بیت المال سے ان کی شادیاں بھی کروادو۔ عرض کیا گیا کہ اس پر بھی عمل ہوچکا ہے۔ غرض بیت المال کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ رعایا پر خرچ کرنے کیلئے کوئی بہانہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا تھا۔
مشرکینِ مکہ اور دشمنان اسلام کو یہ گمان تھا کہ مسلمانوں کا مختصر گروہ وقت کی تاب نہ لاکر ختم ہوجائیگا لیکن ان کواندازہ نہیں تھا کہ حجاز میں جہاں بہت مشکل سے پانی کے کنویں بھی نہیں ملتے تھے۔ آب زم زم تھا یا مدینہ کے کچھ چشمے تھے ۔ لیکن پھر وہ دور بھی آیا کہ مصروشام، عراق اور ایران اور برصغیرپاک وہند تک بھی مسلمانوں کا اقتدار پھیل گیا اور اسپین وروم بھی ان کے زیرتسلط آگئے تھے۔ جب ایران کو فتح کیا گیا تھا تو حضرت عمرفاروق اعظم کے دور میں کسریٰ ایران کے محل سے جو شہزادیاں ملی تھیں ان سے حضرت امام حسن ، امام حسین اور محمد بن ابی بکر کی شادیاں کرائی گئیں۔ لگتا ایسا ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم کی زوجہ حضرت سارہ کی خدمت میں ایک ظالم بادشاہ نے اپنی ایک لونڈی حضرت حاجرہ پیش کی تھی جو اصل میں شہزادی تھی۔ اسی طرح ایران کے بادشاہ کو شکست دینے کے بعد یہ شہزادیاں بھی بادشاہ کے دربار میں رہ گئی ہوں گی۔ اسلام میں آزاد عورتوں کو لونڈی بنانے کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ قرآن میں مسلمانوں کیساتھ بہت سارے وعدے کئے گئے تھے جن میں اقتدار اور خلافت کا وعدہ بھی تھا۔ وقت کی سپر طاقتوں روم وایران کو شکست دی گئی اور نہروں اور باغات کے دنیا میں بھی مالک بن گئے تھے۔ غلمان اور لونڈیوں سے بھی دنیا میں نوازا گیا تھا۔ اسلام نے لونڈی بنانے کا نہیں لونڈی وغلام کو آزاد کرنے اور سہولت دینے کا تصور دیا تھا۔
قرآن میں ان غلمانوں کا ذکر ہے جو ایکدوسرے پر تحفہ میں پیش کرینگے اور وہ اللہ کا شکر ادا کرینگے جن کو سخت دھوپ اور گرم لُو سے نجات دیکر اچھے مالکوں تک پہنچایا۔ علی کے مالک اشتر سے غزنوی کے محمود تک زبردست تاریخ ہے۔

اسلام کا غیرسودی بڑامعاشی نظام؟
کارل مارکس نے جو کیمونزم کا نظریہ دیا تھا ،اس نے روس کو دنیا کی دوسری سپر طاقت بنادیا تھا۔ اگر چین اور اسلامی دنیا اس کا ساتھ دیتے تو اس کا مقابلہ امریکہ اور یورپ نہیںکرسکتے تھے۔ امریکہ نے پہلے پاکستان اور اسلامی دنیا کو روس کے خلاف استعمال کیا اور اب خدشہ ہے کہ بھارت اور افغانستان کو چین کے خلاف بھی استعمال کرسکتا ہے۔ایسی صورت میں پاکستان کا بھرتہ نکل جائے گا۔ پاکستان کا اپنا کوئی معاشی نظام نہیں ہے۔ سستی بجلی پیدا کرکے اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ہمارے بڑے لوگوں نے غیرملکی سودی قرضے لے لے کر بیرون ملک اپنے اثاثے بنالئے ہیں۔ اسلام کی معیشت میں کسانوں کو مزارعت کے بغیر زمینیں مفت میں دینا اور سود سے پاک نظام کی بنیادی اہمیت ہے۔ کیمونزم اور کیپٹل ازم کے درمیان اسلامی معیشت کا درمیانہ نظام دنیا کو تباہی کے کنارے پہنچانے سے بچانے میں اہم کردار بھی ادا کرسکتا ہے۔ دریائے سندھ سمیت تمام دریاؤں پر چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرنے سے پاکستان کی زمینوں کو باغات اور کھیتی باڑی سے بھی سرسبزوشاداب کرسکتے ہیں اور اس پر بجلی بنانے کے آلات لگاکرسستی بجلی بھی پیدا کرسکتے ہیں۔
جب ہمارا محنت کش زمیندار خوشحال ہوگا تو وہ بجلی خریدنے اور ضروریات کی اشیاء اور اپنے بچوں کے اعلیٰ تعلیم وتربیت کے بھی قابل بن جائے گا۔ ان کی خوشحالی سے تاجر بھی اپنی صنعتیں لگاکر اپنے مزدوروں کو اچھی دیہاڑی دے سکیں گے اور نہ صرف ہمارا ملک خود کفیل بن جائے گا بلکہ ترقی وعروج میں پوری دنیا کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔ جب زمین کے محنت کش کھیتی باڑی اور باغات سے خوشحال بن جائیں گے تو معاشرے میں باصلاحیت طبقہ انجینئر، ڈاکٹر، پائلٹ، سیاستدان، پروفیسر اورجج بن سکے گا۔ ہمارے یہاں بھی مثالی انصاف دیکھنے کو ملے گا اور دنیا کی ترقی میں مسلمان بھی اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔ اصل چیز محنت اور اس کی قدر ہے۔ عرب ممالک میں پیسہ ہے لیکن محنت سے عاری ہونے کی وجہ سے وہ دنیا میں ترقی کی دوڑ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب ہمارے ہاں محنت کش طبقے کو مواقع مل جائیں گے تو دنیا بھر سے ہمارا محنت کش طبقہ اپنے وطن میں کمائی کی سہولت سے فائدہ بھی اٹھائے گا اور دنیا میں عزت بھی کمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” مردوں کا وہی حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کیلئے وہی حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے”۔ حضرت خدیجہ ایک بہترین تاجر تھیں اور حضرت فاطمہ نے اپنے ہاتھوں کی دستکاری سے اپنا گھر چلانے کیلئے کمایا تھا اورآپ اپنی کمائی غریبوں میں بھی بانٹ دیتی تھیں۔ مزارعین خاندان مرد اور خواتین اپنی اپنی محنت کے مالک ہوں تو ان کا گھر آباد ہوگا لیکن جب ان کے ہاتھوں کی کمائی کے مالک جاگیردار ہوں تو پھر وہ ہمیشہ غریب سے غریب تر بنتے چلے جائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز، شاہ محمود قریشی، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن اسلامی معیشت کی طرف آجائیں اور مذہبی جماعتیں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی طرف سے سود کے جواز کی بھرپور مذمت کریں تو انقلاب آجائے گا۔ ایک سید زادہ اکیلا کھڑے ہوکرانقلاب کی دھائی دے رہاہے اور لوگ اپنی ہی دھن میں مگن ہیں لیکن کوئی بات نہیں ،اللہ ایک اچھا وقت بھی لائیگا۔انشاء اللہ

_ چہر وں کونہیں نظام تبدیل کرناپڑیگا! _
سیاسی جماعتوں اور فوجی جرنیلوں کے پیٹ ابھی تک پاکستان کو کھانے سے نہیں بھرے ہیں اور نہ کبھی بھرسکتے ہیں جب تک کہ اللہ نہ بھر دے۔ اسلام کی ریاست عوام کو بیوقوف بنانے اور لوگوں سے ان کے وسائل چھین لینے کیلئے نہیں ہوتی ہے بلکہ ظالموں ،جابروں اور تیار خوروں سے مظلوم عوام کو نجات دلانے کیلئے ہوتی ہے۔ جب غریب مزارع اور محنت کش سے اس کی بیوی اور بچوں کی کمائی بھی ہمارا بااثر طبقہ کھانے میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتا ہے تو پھروہ مفت کے اندورنی قرضے اور بیرونی قرضوں پر ہاتھ صاف کیوں نہیں کرے گا؟۔یہ سب کچھ وہ عوام کو ریلیف دلانے کے جھوٹے وعدوں اور دعوؤں پر کرتا ہے۔
آج اگر امریکہ ایک خفیہ فنڈ جاری کرے کہ افغان طالبان کو چین سے لڑانا ہے تو ہماری ریاست اور حکومت کے وارے نیارے ہوجائیںگے۔ مفاد پرستی اور دہشت گردی کا کوئی مذہب ، اصول اور قانون نہیں ہوتا ہے۔ اگر ڈیورنڈ لائن کے مسئلے پر پختونوں اور پنجابیوں کے درمیان امریکہ جنگ برپا کردے تو بہت سے لوگ اپنی اپنی دُم اٹھاکر بے غیرتی اور بے ضمیری کے چھتر کھانے کو بھی تیار ہوجائیںگے۔ سیاسی جماعتیں گیدڑوں کی طرح احتجاج کیلئے وقت اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں۔ عوام کو ان کی چیخوں کی آوازیں عجیب مسخرہ لگتی ہیں۔ قادر پٹیل نے قومی اسمبلی میں تقریر یںکی ہیں، وہی ہر جانب سے دہرائی جاتی ہیں۔
شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور یہاں تک تبلیغی جماعت کی دھڑا بندیوں میں بستی نظام الدین بھارت اور رائیونڈ کے مرکز کے کارکنوں میں بھی تصادم اور نفرت بھڑکانے کا بازار گرم رہتا ہے۔ پنجابی، پختون، سندھی ، بلوچ اور مہاجر تعصبات کو ہوادی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما، کارکن اور برسراقتدار طبقات بھی ہمیشہ زخموں پر نمک پاشی کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔ کوئی مثبت سرگرمیاں کرنا بھی چاہے تو لوگ اس کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
سرکاری اور غیرسرکاری زمینوں پر قبضے کا کاروبار جاری رہتا ہے۔ بلڈنگ بننے اور بیچنے کے بعد مکینوں کو لوٹ مار کی طرح بے گھر کردیا جاتا ہے۔ عدالت کو وقت نہیں ملتا ہے کہ عوام کو انصاف فراہم کرسکے۔ مجرموں کو سزا دلوانے کیلئے کوئی ٹھوس قوانین بھی نہیں ہیں کہ مخلص جج بھی کوئی اقدامات اٹھا سکیں۔ پارلیمنٹ کی کارکردگی طاقت اور دولت کے حصول کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ نفرت کسی ایک طبقے سے نہیں ہوسکتی ہے اسلئے کہ پورانظام بگڑا ہوا ہے اور اس بگاڑ کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں ہے لیکن طاقت کے حصول کی دوڑ میں ضرورت سے زیادہ شرکت کیلئے عوام کو ورغلانے میں سب لگے بندھے رہتے ہیں۔
دنیا مسلمانوں سے خوف کھا رہی ہے کہ ان کے اشرافیہ کا بس چلے تو دوسری قوموں کی خواتین کولونڈی بنانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اسلئے کہ قرآن کا حکم ان کو ایسا ہی لگتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے دودو، تین تین، چار چار شادیوں کی اجازت دینے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہیں کرسکوگے تو پھر ایک یا جن سے تمہارا ایگریمنٹ ہوجائے۔ متعہ ومسیار سے بھی زیادہ بڑی بھیانک چیز لونڈیوں کا تصور ہے لیکن مسلمانوں نے قرآنی آیات سے لونڈیاں مراد لی ہیں اور پھر یہ تصور قائم کیا ہے کہ جنگوں کے بعد دشمنوں کو غلام ولونڈیاں بنایا جاسکتا ہے۔ قرآن وسنت اور صحابہ کرام کی سیرت کے مطابق نکاح میں مرد کو تمام اخراجات اور گھر سب کچھ کا پابند کیا گیا ہے لیکن ایگریمنٹ میں باہمی رضامندی سے معاہدے کرنے کی بات ہے۔ آج مسلمان عورتوں کو نکاح کے بھی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان پر حرامکاری کا اطلاق نہیں ہوتا ہے لیکن ان پر ایگریمنٹ کا اطلاق ضرور ہوتا ہے۔ اسلامی حق مہر اور جہیز کی جگہ معاشرے میں خود ساختہ رسوم کے ذریعے عورت کے تقریباًتمام حقوق سلب کئے گئے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا فضل غفور، وفاق المدارس اور وزیرستان کے محسود قبائل

مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل غفور، وفاق المدارس اور وزیرستان کے محسود قبائل

ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟۔الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے اسکرینوں پر سیاستدان، صحافی، جرنیل، بیوروکریٹ، قوم پرست،علماء اور مذہبی طبقوں کے علاوہ ملحدین اپنی اپنی طوطی اور مینا کی زبانیں بولنے کی کوشش میں عجیب وغریب انجام کی طرف لے جانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ضرورت نہ ہو توبولنے کی جگہ خاموشی کو ترجیح دیتے لیکن کوئی کسی سے بھاڑہ لیکر بولتا ہے اور کوئی خوامخواہ بکواس کی عادت سے سخت مجبور بھی ہے

جاگ اُٹھے ہیں شعور کے دیوانے دنیا کو جگاکر دَم لیںگے،یزیدیت کیخلاف حسینیت کی کامیابی تک راہِ وفا میں اپنی قسمت کے
ستم لیںگے،ڈرنے والے اپنی دُم دباکے سنبھالیں اورہمیںتکتے رہیں، چاہے ہاتھ ہوں ہمارے قلم ہم اپنے علم لیںگے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وفاق المدارس اور جامعة الرشید بورڈ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کا سرکار سے منظور شدہ بورڈ ہے ۔ جن مدارس کا وفاق المدارس سے الحاق ہے وہ اپنے فضلاء کو اپنے مدارس کی سند بھی دیتے ہیں۔ پختونخواہ کی حکومت بنوں کے مدارس کی سند پر بھی اپنے سرکاری ٹیچر کو بھرتی کرتی ہے۔ اکوڑہ خٹک حقانیہ سے وفاق المدارس کے علاوہ اپنے نالائق فضلاء کو اپنی طرف سے بھی دستارفضلیت کی سندیں دی جاتی ہیں۔
جامعة الرشید کے مولانا مفتی عبدالرحیم ایک انتہائی مکار، چالاک اور بیکار انسان ہے۔ اس کی جعل سازی کے بڑے شواہد ہیں۔ مفتی رشیداحمدلدھیانوی کے دستخط کا بھی مفتی عبدالرحیم مجاز تھا جو استاذ اور شاگرد کی جعل سازی کا بہترین ثبوت ہے اور پھر اپنی اصلی تحریر اور دستخط سے مکر جانے کا بھی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
مولانا سلیم اللہ خان کے علم اور کردار سے اختلاف ہوسکتا تھا لیکن ان میں وفاق المدارس کے صدر بننے کی اہلیت دوسروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو وفاق المدارس کا صدر بنانا زیادہ اہم بات نہیں ہے لیکن اصولی طور پر مفتی تقی عثمانی کو جامعة الرشید کے نئے بورڈ مجمع علوم اسلامی کا چیئرمین ہونا چاہیے تھا۔ معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قراردینا جامعة الرشید اور دارالعلوم کراچی کا مشترکہ وطیرہ تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن نیوٹاؤن کراچی،جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک پاکستان بھر کے تمام بڑے مدارس نے سودی نظام کی سخت مخالفت کی تھی۔ ایک انتہائی نالائق اور متنازع شخصیت کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے وفاق المدارس کا صدر بنانا قاری محمد حنیف جالندھری جیسے مفادپرست اور مولانا فضل الرحمن جیسے سیاستدان کے اپنے کام ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کہا کرتے تھے کہ جو نماز کی امامت کا اہل نہیں ہے وہ اقتدار کا بھی اہل نہیں لیکن جب موقع آیا تو علماء کی کثیر تعداد کے باوجود اکرم خان درانی کو داڑھی رکھواکر دنیا سمیٹنے کیلئے وزیراعلیٰ بنوادیاتھا۔

مولانا فضل غفور کاخواب اور علماء
جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل غفور نے کسی عالم کاایک خواب بیان کیا کہ ” خانہ کعبہ میں رسول اللہۖ کے دائیں جانب پاکستان کے علماء ہیں بائیں جانب عالم اسلام کے حکمران ہیں۔سعودی حکمران شاہ محمدبن سلمان نبیۖ کے بائیں پاؤں کی انگلیاں کاٹ رہاہے اور پاکستان کا وزیراعظم عمران خان بائیں ہاتھ کی انگلیاں کاٹ رہاہے۔ نبیۖ کا ستر کھلا ہوا ہے اور پاکستان کے علماء ستر کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں”۔ اس پر بعض دیوبندی علماء نے مولانا فضل غفور کو گستاخ اور واجب القتل قرار دیا اور بعض نے بھرپور دفاع کیا۔ پشتو زبان میں علماء کے ڈھیر سارے بیانات ہیں اور اردو میں بھی سوشل میڈیا پر ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ دونوں طرف کے علماء کی صف بندی کرکے عوام کو ایک تماشہ دکھا دیں کہ ان میں کتنی غیرتِ ایمانی اور قربانی کا جذبہ ہے اور عوام سمجھ لیں کہ ان کو لڑانے والے خود کتنے لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں؟۔مفتی تقی عثمانی کے ایک شاگرد نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے ایک طرف یہ واضح کیا کہ مولانا فضل غفور کا مقصد گستاخی نہیں تھا لیکن یہ بڑی سنگین گستاخی ہے ، کوئی کسی کی ماں بہن کیساتھ خواب میں جماع دیکھے گا تو اس کو بیان کریگا؟۔ مولانا فضل غفور معافی مانگ لیں اور جس شیخ الحدیث مولانا ادریس نے فضل غفور کا دفاع کرتے ہوئے امام بخاری کے خواب کا حوالہ دیا ہے اس نے مزید سنگین گستاخی کی ہے۔ فوجی کا مجھے فون آیا کہ تین دن سے سو نہیں سکا ہوں کہ میں اور مولانافضل غفور کس طرح زندہ ہیں؟۔ اس گستاخی پر اب تک مجھے اس کو قتل کردینا چاہیے تھا۔مولانا سحبان محمود نے امام بخاری کے الفاظ کا ادب سے ترجمہ کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ سے کسی نے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے نبیۖ کو ننگا دیکھا تو امام صاحب نے کہا تھا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تم خود ننگے ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے اس شاگرد کا بیان جس گستاخی پر شروع ہوتا ہے ،اسی پر ختم بھی ہوجاتا ہے اور یہ جہالت کی انتہاء ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاسی کامیابی
مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اسٹیبلشمنٹ کیخلاف جو بیانات دئیے ہیںوہ ایک طرف ڈھال کے طور پرمفتی تقی عثمانی کو وفاق المدارس کا سربراہ بناکر استعمال کررہے ہیںاور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ن لیگ کو استعمال کررہے ہیں۔ بظاہر جمعیت علماء اسلام کی کشتی کیلئے دونوں چپو بڑے توانا معلوم ہوتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کے پشتون شاگرد عالم دین کو ایک طرف ایک رئٹائرڈ فوجی کا عشق رسول ۖکا جذبہ نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے وہ مولانا فضل غفور کو توبہ کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی حمایت کرنے پر دوسروں پر برستے ہیں لیکن دوسری طرف امام ابوحنیفہ کے اسی طرح کے خواب کی تعبیر کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔ یہ شعور وآگہی کی موت نہیں تو اور کیا ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری سیاستدانوں اور علماء کی مخالفت میں گزاردی ہے لیکن آخری عمر میں جدوجہد نہیں نیت کا شاید ان کو ثمرہ مل رہاہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہوتا ہے۔ نیت دکھانے کیلئے اللہ انسان کو ہمیشہ موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ہمارا خود ساختہ مذہبی اور سیاسی نظام اب ناکامی کے کنارے لگ چکا ہے۔ عوام کے سامنے افغانستان کے طالبان کی بھی تصویر ہے اور پاکستان کی ریاست کی بھی تصویر ہے۔ سزا یافتہ نوازشریف ، مریم نواز بیرون ملک اور اندرونِ ملک آزاد ہیں اور تحریک انصاف کے وہ کارکن بھی زندہ ہیں جو ایک بین الاقوامی بھکاری عمران خان کی بات پر یقین رکھتے تھے کہ ”مرجاؤںگا مگر بھیک نہیں مانگوں گا”۔ تجزیہ نگار جنرل اعوان کہتا ہے کہ مزدورسچا نہیں کہ وہ بیروزگار ہے، بیلچہ بھیک کی علامت ہے اور وزیراعظم سچ کہتا ہے کہ ”ملک میں بیروزگاری نہیں ہے”۔ زرداری کھانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑا تھا، نوازشریف بیٹھا تھا اور عمران خان لیٹ گیا ہے۔ کھاؤ پیواور ملک مکاؤ پروگرام میں سب شریک ہیں۔ بھاری سودی قرضہ اور ٹیکس کا بوجھ لادا جاتا ہے۔

وزیرستان کی بہت بڑی کمزوری کیا ؟
وزیرستان کے محسود قبائل میں سب سے بڑی کمزوری مال کا لالچ تھی۔ اب انتہائی آزمائش سے گزرنے کے بعد یہ کمزوری اپنا دم توڑ رہی ہے۔ حادثہ پیش آتا ہے تو معاملے کا پتہ چلتا ہے۔ کانیگرم کے پیر خاندان کے ایک شخص نے محسود قبیلے کے ایک شخص کو کچل دیا۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعارف اور تعلق نہیں تھا مگر ایک پیسہ لئے بغیر محسود خاندان نے معاف کردیا۔ یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہے اور اس کی توقع صدیوں میں بھی نہیں ہوسکتی تھی لیکن محسود بہت بدل گئے ہیں۔
محسود ایک زبردست صفات رکھنے والی عظیم قوم ہے مگر ان کی تعلیم وتربیت کیلئے کسی استاذ نے کوئی محنت نہیں کی ہے۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی۔ لاکھوں میں ایک بھی پیدا ہو تو قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ایک مشہور بدمعاش خاندان کے فرد نے طالبان کیساتھ مل کر ایک گھر سے بھتہ وصول کرنا چاہا، جس پر دونوجوان اور ناتواں لڑکوں نے کلاشنکوف اٹھاکر اپنا دفاع کیا اور اس ایک فرد کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور باقی سب بھاگ کھڑے ہوگئے۔ پھر اس بدمعاش خاندان نے اپنے غنڈے طالب کی دیت بھی وصول کرلی۔ اگر یہ روایت ہو کہ طالبان جس کو ماردیں تو اس کی پرواہ نہ ہواور طالبان مارا جائے تو اس کی قیمت وصول کی جائے۔ یہ محسود قوم کی تاریخ پر سب سے بڑا بدنما داغ ہے۔ سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ،قبائلی عمائدین اورپی ٹی ایم مل کر اس مصیبت سے اس قوم کی جان چھڑائیں۔ بنوںسے ڈیرہ اسماعیل خان تک بات مشہور ہے کہ ”بوڑھے بوڑھے لوگوں کو موٹر سائیکل خرید کر دئیے گئے ہیں کیونکہ کرونا سے ویسے بھی انہوں نے مرنا ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی گاڑی کے نیچے آکر ورثاء کیلئے سات آٹھ لاکھ کی دیت کا ذریعہ بن جائیں”۔
رونے دھونے سے انقلاب نہیں آتے بلکہ جو استنجاء سے اپنا گند صاف کرتا ہے وہی اپنی اور پوری قوم کی امامت کے قابل ہوسکتا ہے۔دیکھئے…
بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv