پوسٹ تلاش کریں

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

ایک بادشاہ نے ایک شخص کو پیچھے سے بیر ڈالنے کی سزا دی تو وہ پہلے رویا اور پھر ہنسا۔ پوچھنے پر بتایا کہ بیر ڈالنے پر تکلیف ہوئی مگر پیچھے والے کے پاس تربوز ہے ،سزا پر اس کا کیا بنے گا؟

خاتون صحافی ثمینہ پاشا کی بہادری پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔ مجاہد بریلوی نے کہا کہ اب میں عمران خان کے خلاف نہیں بولوں گا۔ عمران ریاض کو سزا دینا آزادی پر دھبہ ہے

سیاستدان جمہوری لڑائی جاری رکھیں لیکن ملک وقوم کو نقصان نہ پہنچائیں!۔علماء کی جعلی شریعت کو درست کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں بحث اور قانون سازی ہوگی تو بہت بڑا انقلاب آئے گا !

ایک بادشاہ اپنی اکلوتی شہزادی کے رشتہ کے پیغامات سے تنگ تھا۔ وزیر نے مشورہ دیا کہ” کوئی ایسی چیز لائے جو بادشاہ نے نہ کھائی ہو تو رشتہ ملے گا۔ اگر کھائی ہو توپھر پیچھے سے ڈالی جائے گی”۔ لوگوں نے آزمایا۔ چیز پیچھے ڈال دی جاتی توبہت شرمندگی محسوس کرتے۔ لوگوں کی بے عزتی ہوئی تو رشتہ آنا بند ہوگیا۔ پھر تماشا دکھانے کیلئے دوافراد کو تیار کرلیا۔ ایک بیوقوف اور دوسرا سادہ تھا۔ بیوقوف کو تربوز تھمادیا اور سادہ کو بیر دی گئی۔ دونوں ریس میں پہنچ گئے اور چرچا ہوا کہ اب ان میں کوئی داماد، ولی عہد اورپھر بادشاہ بن جائے گا؟۔
بادشاہ نے کہا کہ ”یہ بیر فلاں جگہ سے لائے؟” اور ذائقہ بھی بتادیا۔ پھر اپنے نوکر چاکروں کو حکم دیا کہ ”اس کو پیچھے سے بیر ڈال دو”۔ وہ بہت چیخا چلایا ، رویا دھویا اور آنسو بہائے ۔ پھر بہت قہقہ مارکر ہنسنے لگا۔ لوگوں نے کہا کہ رونا سمجھ میں آتا ہے کہ بہت تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوئی ہوگئی لیکن یہ بتاؤ کہ” قہقہ کیوں لگایا؟”۔ اس نے کہا کہ” میرے پیچھے والے کے پاس بڑے سائز کا تربوز ہے ۔ اس کو سزا ملے گی تو کیا بنے گا؟”۔چودھری افتخار کو جنرل پرویزمشرف نے بالوں سے گھسیٹا تھا تو اس وقت ہم نے یہی لطیفہ لکھ دیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ چودھری افتخار سے زیادہ پرویزمشرف کو وقار سیٹھ نے عبرتناک سزا کاحکم سنادیا۔ اگر عمران ریاض خان جانبدار صحافی ہیں اسلئے سزا کے مستحق ہیں تو پھر دوسری جانب بڑی لمبی فہرست میں جیو کا بڑا طبقہ، اسدطور،بلال غوری، عمران شفقت ، مطیع اللہ جان، افتخاراحمداورکئی سارے مشکل میں پڑیںگے۔
عمران خان پر توشہ خانہ ، عدت میں نکاح ، بیٹی کو تسلیم نہ کرنے اور القادر ٹرسٹ کے کیس چلے اور آخر میں اس کے ساتھیوں پر فوجی عدالتوں میں سزا کی تجویز ہے جس کا عمران خان کو بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اس طرح کے کیس دوسروں پر کھلے۔ جنہوں نے توشہ خانہ سے گاڑیاں بیچ کھائی ہیں جس کی آئین میں اجازت بھی نہیں تھی۔ رنگیلا وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں کتاب مارکیٹ میں آئی تھی۔ پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا کہ الحمدللہ میرے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ پھر قطری خط سے جھوٹ کھلا۔ ارشد شریف نے اس پر مکمل ڈاکو مینٹری فلم بنائی ہے۔ اگر یہ سب نوازشریف کے خلاف کھل گیا اور پھر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دوسرے لوگوں کے خلاف کرپشن اور دوسری چیزوں کے معاملات کھل گئے تو بہت کچھ ہوجائے گا۔
انگریز کے نظام کی غلامی سے جان چھڑانے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ غداری کا مقدمہ، پولیس، عدالت اور سیاسی حکومت کا رویہ برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل جلسہ عام میں کہتا تھا کہ ” ہماری شلواریں اتارکر ہرزاویہ سے تصویریں لی گئیں، کیا میں اور اعظم سواتی اب شلوار پہن لیں؟”۔ ہیرہ منڈی کی رنڈی بھی ایسی سرِ عام عصمت دری برداشت نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف کوچھوڑ نے والی اکثریت پر عمران خان کوافسوس نہیں ہو ااسلئے کہ ہواؤں کے رُخ پر اڑنے والے موسمی پرندوں سے یہی توقع تھی۔ ایک عامر کیانی پر افسوس کا اظہار کیا جس نے کہا کہ میرے دادا نے جنگ عظیم اول میں انگریزی فوج میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل کیا ۔حالانکہ یہ غزوہ بدر اور غزوہ ہند کا معرکہ تو نہیں تھا؟۔ جنگ عظیم دوم میں میرے دادا سیدمحمد امیرشاہ کا بھانجا پیر کرم حیدر شاہ شریک ہوا تھا تواس کے زندہ سلامت واپسی کیلئے بڑا بیل نذر میں ماناتھا تاکہ مردار نہ ہوجائے۔ سلیم صافی نے امیر جماعت اسلامی کے منور حسن سے امریکیوں کے اتحادی پاک فوج کے خلاف فتویٰ پوچھا ۔پھراس کو امارت سے ہٹاکرتابعدارسراج الحق کو بنادیاگیا۔
موجودہPDMمیں ن لیگ خوش ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو پاک فوج سے لڑا دیا اور تحریک انصاف کے رہنما دھڑا دھڑ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن اس سے عمران خان مزید مضبوط ہوتا جارہاہے اور کہہ رہا ہے کہ جس کو میں ٹکٹ دوں گا ،اسی کو لوگ ووٹ دیں گے۔ فوج کے خلاف شف شف کرنے والے شفتالو نہیں بول رہے تھے اور عمران خان کے چہیتوں نےGHQ، جناح ہاؤ س لاہور اور قلعہ بالا حصار پشاور میں کاروائی کر ڈالی۔ ہماری قوم بہادروں اور مظلوموں کو بہت پسند کرتے ہیں اور چوہے سے زیادہ کمزور حافظہ رکھتے ہیں۔ پہلے تحریک انصاف کے کارکنوں ، رہنماؤں اور قیادت کو بہادری پر داد کے قابل سمجھا اور جب وہ تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلانات کرنا شروع ہوگئے تو مظلوم سمجھ کر پذیرائی بخشنا شروع ہوگئے۔ انور مقصود کی زبان قوم کی نبض پر رہتی ہے۔ اگر پہلے کسی پروگرام میں مدعو ہوتے تو یہ کہہ کرسامعین کو محظوظ کرتے کہ بلوچ، پشتون، اہل کراچی ، عوام اور سیاستدان ہمیشہ مار کھاتے ہیں ،ابھی تو فوج نے بھی اس کا مزہ چکھ لیا ہے۔ ابPTIچھوڑنے والوں کی مجبوریوں کی عکاسی کرتے ہوئے قوم کے حسِ مزاح کو جگارہے ہیں۔
قوم قائدین کی کتی نہیںکہ فوج سے بنے تو اچھی اور نہ بنے تو بھڑے۔ عوام مہنگائی سے تنگ ہے۔ حکومت کے متضاد کردار کارومانوی پیار دیکھ کر بھڑک جاتی ہے ۔ طالبان تو مذہب کے نام پر خود کش کرتے ہیں اور فوج ملک کیلئے قربانی پیش کرتی ہے۔اگر قوم کرپشن اور بھیک سے نکلے تو حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔
اسد عمر اور زبیر عمر جیسے سیاست میں آئے توARYنیوز نے دونوں کا ایک ساتھ انٹرویو دکھایا۔ ظلے شاہ تحریک انصاف کا سرمایہ تھا مگر ایک طرف عمران خان سے ملاقات کا شرف نہیں ملتا۔ دوسری طرف موت کی وادی میں دھکیل کر مقدمہ عمران خان پر بنادیاگیا۔ تحریک انصاف میں واحد اور بے گناہ زبردست سیاسی رہنما شیریں مزاری کا سیاست کو چھوڑدینا افسوسناک ہے لیکن اس نے رہائی کے بعد وکٹری کا نشان بنایا اور ایمان مزاری نے اس کا ہاتھ زبردستی سے نیچے کردیا، پھر شیریں مزاری نے دوبارہ وکٹری کا نشان بنایا۔ حکومت نہیں ایمان مزاری نے شیریں مزاری کو سیاست چھوڑنے پر مجبور کیا۔فواد چوہدری نے اپنی بچیوں کیساتھ رہائی کے بعد ویڈیو بنائی۔عمران خان کے ایسے بیوی بچے نہیں۔ البتہ جس طرح مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہونے والا کارکن اور رہنما پاک صاف ہوجاتا تھا ،اسی طرح تحریک انصاف چھوڑنے پر رہائی ملے تو اس سے یہ تأثر جاتا ہے کہ اصل جرم عمران خان سے وابستگی ہے ۔
عمران خان سے والہانہ محبت رکھنے والے طالبان کی طرح ہیں، ایک عورت نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہا کہ میرے چار بیٹے ہیں اور چاروں کو طالبان کی طرح عمران خان پر قربان کردوں گی۔شاید حکومت نے عمران خان کو اسلئے چھوڑ دیا کہ لندن میں نوازشریف بھی غیر محفوظ ہوگا۔ عام جذباتی لوگوں پر تشدد کیا جائے تو بلوچوں میں قوم پرستی، پختونوں میں طالبان پرستی کے بعدپھر پنجابیوں میں عمران پرستی اور نظریات پرستی کی بنیاد پر تشدد کا نیا راستہ کھل سکتا ہے اور اب حکومت اور ریاست پر عالمی قوتوں کا دباؤ بھی آ سکتا ہے۔
نہتے لوگوں نے کس طرح فوجی تنصیبات پر حملہ کرکے نذر آتش کیا؟۔اور جن کو گولیاں ماری گئی ہیں،ان کی حیثیت کیا ہے؟۔ غلطی اور سازش کہاں ہوئی ہے؟۔ قوم، سیاسی جماعتیں ، ریاستی ادارے اور حکومت اعتماد کھوچکے ہیں۔ اگر بروقت کسی اور طرف رُخ نہیں موڑا گیا تو نتائج بہت خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔
شیریں مزاری نے بیٹی کی خاطر سیاست چھوڑ دی۔ عمران خان کے ہزاروں کارکن خواتین و حضرات جیل میں ہیں۔ کچھ زخمی، کچھ قتل اور کچھ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلنے کا اندیشہ ہے۔10افراد کی کمیٹی بناکر عمران خان کی پیشکش قابلِ غور ہے ۔ عمران خان کو سیاست سے الگ کرنے کا نقصان ملک وقوم اور جمہوریت، ریاست اور سیاسی جماعتوں سب کو ہوگا۔ اگر فوج در گزر سے کام لے تو الزام آئیگا کہ خود ملوث تھے اور عمران خان کو راستے سے ہٹاکر دم لیا اور حکومت الیکشن کے خوف سے عدالت کو بھی معاف نہیں کرتی جس نے اس حکومت کا راستہ ہموارکیاتھا تو عمران خان کو کہاں معاف کرے گی جس سے موروثی سیاسی کاروبار ختم ہوگا اور اگرعمران خان نے فوجی عدالت یا رضاکارانہ طورپر سیاست چھوڑ دی تو سب کچھ ماند ہو گا۔ ریاست ، عدالت قوم ، حکومت اور اپوزیشن نازک موڑ پر آگئے لیکن اس کا بہت فائدہ بھی ہواہے کہ شعور کی منزل مل گئی۔
فتاویٰ عثمانی سے چند نمونے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کے نام پر انسانیت کیساتھ کتنا بڑا ظلم ہے؟۔ لوگ اتنے جذباتی ہیں کہ کاٹلنگ مردان میں ایک مولوی کو کس طرح جذباتی انداز میں قتل کیا گیا اور پھر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس قتل کی حمایت کررہے تھے۔ حالانکہ علماء حدیث بیان کرتے ہیں کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہے”۔پھر تمام علماء کرام کو منبر ومحراب میں قتل کردیا جائے گا؟۔ نبیۖ کی طرف گناہوں کی نسبت اور علماء کو معصوم سمجھنے کا عقیدہ بلکہ قرآن کے مطابق رب بنانے کا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ گستاخی کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے جذباتی لوگ مشتعل ہوتے ہیں۔
قرآن کی آیت229البقرہ میں خلع کا تصور نہیں بلکہ صلح نہ کرنے کی صورت ہے۔ اس کے بعد نہ صرف آیت230البقرہ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ حلالے کا کوئی تصور نہیں بلکہ دوسری آیات بھی سمجھ میں آتی ہیں کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد صلح کی شرط پر رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ جس سے طلاق و رجوع کے حوالے سے تمام لایعنی تضادات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔کاش علماء حق اس طرف بھی توجہ دے دیں ۔عدالتی اور مقامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک بچیوں کے حقوق کا معاملہ ہر فورم پر اٹھانا چاہیے کہ اگر کم عمری میں باپ یا دادا نکاح کردے تو بلوغت کے بعد بچی کو فسخ نکاح کا حق نہ ہو اور اگر دلال کردے تو بلوغت پر اس کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے دار العلوم کے پیچھے برمی بنگالی عورتوں کی منڈی لگتی تھی۔
علماء ایک طرف عورت کی مرضی ، ان کے سرپرستوں کی مرضی اور عدالتی فیصلے کے باوجود عورت کا نکاح سے جان نہیں چھوڑتے، اگرچہ دوسری جگہ اس کی شادی بھی ہوجائے ۔ دوسری طرف میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں اور علماء صلح کرنے نہیں دیتے ہیں۔ ان دونوں اور غیرفطری فتوؤں کی وجہ سے مسلمان تباہ ہیں اور یہ دونوں صورتحال قرآن کی تفسیر کو غلط رنگ دینے اور ناقابل تأویل آیات کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ سورہ النساء آیت19میں خلع کا قانون ہے لیکن علماء نے صاف اور واضح ترجمہ اور مفہوم کے برعکس غلط مفہوم پیش کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عورت کو بالکل غیر فطری انداز میں حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عورت حرام کاری پر مجبور کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، درخواستی ، سندھی، لاہوری اور دیگر عجمی عوام کی بالغ لڑکیوں کو کوئی زبردستی اغواء کرلے ، ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو پھر عدالت میں اس لڑکی اور اسکے ورثاء کو خلع کا حق نہیں ہوگا اور اسکا ایک ہی راستہ ہوگا کہ اغواء کار سے طلاق لی جائے۔
مفتی تقی عثمانی کے بارے میں مصدقہ اطلاع تھی کہ اس کی بیٹی نے ٹیوشن پڑھانے والے سے نکاح کرنا چاہا تھا لیکن پھر اس کو مجبور کرکے دوسری جگہ شادی کرائی۔ جس طرح سندھ کے وڈیرے اور عرب بادشاہ اپنی بیٹیوں کا نکاح جائیداد کی وجہ سے مشکل سے کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی ایک بڑے وقف جائیداد کے مالک بن گئے ۔ ایک بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کو بھگت رہے ہیں جس کو مفتی شفیع نے گھر داماد بنالیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے کمپیوٹر کی تصویر کو جائز قرار دیا تھا اور مفتی عبدالرؤف سکھروی نے اپنا تقویٰ ثابت کرنے کیلئے مریدوں سے کہنا شروع کیا کہ ”شادی بیاہ میں تصاویر کی ویڈیوز بہت خطرناک گناہ ہے۔ اس طرح لفافے کی لین دین بھی سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے”۔ پھر بینک کے سودی نظام کو بھی مفتی تقی عثمانی نے معاوضہ لیکر جواز بخش دیا ۔ ان کا فتویٰ عیاری ، ان کا تقویٰ عیاری۔ ان کی طریقت عیاری اور ان کی شریعت عیاری۔ اگر پنجابی، سرائیکی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر لڑکی کو کوئی زبردستی اغواء کرلے اور ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو یہ نکاح صحیح ہو اور مفتی تقی عثمانی کی اجازت کے بغیر اسکے خاندان کی لڑکی کا نکاح دوسرے مہاجر سے غیر شرعی ہو اور یہ قوم اتنی بے غیرت بن جائے کہ اس فتوے کو قبول کرے تو ایسے بے غیرت غلامی سے نہیں نکل سکتے ۔ عربی میں غلامی بندگی کو کہتے ہیں۔ ان علماء کے یہ بندے و غلام ہیں۔ جب کمزور طبقہ سے جان نہیں چھڑاسکتے تو عالمی قوتوں سے کیسے جان چھڑائیں گے؟۔ سیاسی جلسے جلوس کیلئے جو سڑک بند کرنا جائز نہیں سمجھتے مگر دارالعلوم کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو سڑکوں پر طلبہ کو نکال دیا ۔ تقی عثمانی بھی اپنی فیس وصول کرکے طلبہ کو جلوسوں میں بھیج سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جلوسوں کیلئے بھاڑہ دیتی ہیں۔PDMاور حکومت کو مولوی طبقہ احتجاج کیلئے ملتا ہے۔مدارس کو اس کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ بنوں اور تربت میںغریب امامِ مسجد کی ماہانہ تنخواہ3ہزارہے جبکہ احتجاج میں دیہاڑی3ہزاردی جاتی ہے۔
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر بڑی میٹنگ کا اہتمام کریں اور ملک وقوم کو مشکل حالات سے نکالیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

مفتی تقی عثمانی نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا جس سے اللہ اور اسکے رسول ۖ سے جنگ کو جواز بخشا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے امت کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کیلئے ہمارا شرح صدر کردیا ۔ دیوبندی بریلوی علماء ومفتیان کی سمجھ میں بات آگئی لیکن مقتدر طبقہ عوام کی عزتوں کو بچانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف تو بہانہ ہے لیکن اصل میں یہ قدرت کا نشانہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے صحافیوں نے اردو اور پنجابی زبان میں فوج کو بدنام کرنے کیلئے آخری حدیں عبور کرلیں۔ راشد مراد نے کھریاں کھریاں میں کہا کہ ” فوج نے عمران خان کو دھرنے سے باعزت اٹھانے کیلئے پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ کرایا۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کا واقعہ عمران خان اور جرنیلوں کی باہمی رضا مندی سے کتا اور کتی کے جنسی ملاپ کا تماشا ہوا،پھر لوگ پتھر مارتے ہیں”۔
جنرل عاصم منیر قرآن کے پہلے سید حافظ آرمی چیف ہیں اور حدیث میں اس حافظ کی فضلیت ہے کہ جو قرآن کے حلال و حرام کو سمجھ لے اور اس پر عمل کرے۔ آج اُمت عذاب میں مبتلاء ہے ۔ شوہر تین طلاق دیتا ہے تو جاہل مفتی فتویٰ دیتا ہے کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حلالہ لعنت ہے ۔کچھ ساری زندگی جدائی گوارہ کرلیتے ہیں مگر حلالہ نہیں کرتے۔ کبچھ حرام سمجھ کر بغیر حلالہ رجوع کرلیتے ہیں اور کچھ کسی اہلحدیث یا شیعہ سے فتویٰ لیتے ہیں اور پھر رجوع کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر جاہل مفتی سے فتویٰ لیکر حلالہ کی لعنت کا شکار بنتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا: وقل انی انا النذیر المبینOکماانزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینOعما کانوا یعملونO” اور کہہ دیجئے کہ بیشک مَیں کھل کر ڈرانے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اس کو بٹوارے کرنے والوں پر نازل کیا ۔ جنہوں نے اس قرآن کو ٹکڑے کرڈالا۔ سو قسم ہے تیرے رب کی ہم ان سب سے ضرور پوچھیںگے۔ وہ جو یہ عمل کرتے تھے۔ (الحجر: آیات89سے93)
اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ قرآن کے ٹکڑے کرنے والے حلالہ کیلئے قرآنی آیات کیساتھ کیا سلوک کریںگے؟۔ آیت229کے پہلے حصے کے بعدآخری حصے کو نکال کر کیسے بالکل بلاجواز آیت230کے ساتھ جوڑ دیں گے؟۔ تاکہ حلالہ کی لعنت اور امت مسلمہ کی خواتین کی عزتیں لوٹنے کیلئے راستہ ہموار ہوجائے!۔
آرمی جنرل حافظ سید عاصم منیر اور تمام کور کمانڈرز سے استدعا ہے کہ مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور ہمارے درمیان ملاقات کا اہتمام کرائیں۔ ہم حلالہ و سود کی لعنت سے معاشرتی اور معاشی عذاب کا شکارہیں۔ہماری معیشت اور معاشرت دونوں میں قرآن وسنت کی بنیاد پر انقلابی تبدیلی آجائے گی۔
جب اللہ اور اسکے رسول ۖ کے نام پر شادی شدہ خواتین کو عزت لٹانے پر مجبور کیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے؟۔ بلوچستان، پختونخواہ، پنجاب ، اندرون سندھ اور کراچی میں قرآنی آیات ، احادیث صحیحہ، اصول فقہ اور حنفی مسلک کی درست تشریح وتعبیر سے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگوں کے دل دماغ کھولیں جائیں تو پاکستان کی عظیم قوم پوری دنیا کی امامت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیرکن کانگریس نے تفسیر آخری پارہ المقام المحمود میں سورہ القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر ، فرنٹیئر اور افغانستان میں جتنی قومیں بستی ہیںیہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ پوری دنیا میں اس علاقہ سے ہوگی۔ ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ بہت سارے اہل بیت کے شاگرد تھے”۔
افسوس یہ ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے جس مسلک حنفی کی بنیاد پر قرآن کی طرف رجوع کی دعوت دی تھی تو اس پر ذرہ برابر علماء دیوبند بھی عمل نہ کرسکے اور قرآن واسلام کا حیلہ وحلالہ کے ذریعے بیڑہ غرق کرنے والے مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ آخرکار سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے میں کامیاب ہوگئے۔
اگر سورہ بقرہ آیات222سے232اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ان کا خلاصہ سمجھ لیا جائے تو دماغ روشن ہوگا۔ جس کمالِ ہنر سے دورِ جاہلیت کے سارے مسائل کا زبردست حل نکالا ہے اس کے بالکل برعکس فقہاء ومشائخ نے دورِ جاہلیت سے بھی زیادہ تین طلاق اور حلالہ کے عجیب وغریب مسائل نکال کر امت مسلمہ کو جاہلیت میں دھکیل دیا ہے۔ اسلام نے آخرت سنوارنے کا راستہ بتایا تھا اور علماء ومشائخ نے اسلام کو اپنی دنیا سنوارنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔
تبلیغی جماعت کا کام مولانا محمد الیاس نے بہت خلوص سے شروع کیا تھا مگر بستی نظام الدین ہندوستان اور رائیونڈ کے تبلیغی مراکز بھی تقسیم ہوگئے ۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ایک کام ” قرآن کی طرف رجوع” کا بیڑہ مولانا عبیداللہ سندھی نے اٹھایا تھا۔ دوسرے کام ”اتحادِاُمت اور فرقہ واریت کے خاتمہ” کا بیڑہ مولانا محمد الیاس نے اٹھایا تھا۔ مولانا محمدالیاس کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کی وفات سے 3دن پہلے کی تقریر امت کے اتحاد پر تھی۔ حاجی محمد عثمان نے حضرت شیخ الہند کے اتحاد کا مشن مولانا محمد الیاس اور مولانا یوسف کے توسل سے اٹھایا تھا۔ مسجد الٰہیہ، مدرسہ محمدیہ ، خانقاہ چشتیہ، خدمت گاہ قادریہ، یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین کے ناموں سے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے درمیان توڑ کی جگہ جوڑاتحادواتفاق اور وحدت پیدا کرنے کا پروگرام تھا۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے قرآنی انقلاب کی تعلیم بفضل تعالیٰ ہم نے خانقاہ سے شروع کردی تھی۔ شیخ الہند کی تحریک کے اصل وارث حاجی محمد عثمان تھے۔ ہم نے دیوبندیت کا نام استعمال کرنے کو اتحاد امت کے منافی سمجھا تھا۔ تقلید کے خلاف حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے جو کتاب لکھ دی تھی تو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کے فتوے نے علماء دیوبند کو مجبور کیا تھا کہ وہ تقلید کا اعتراف کریں۔ حالانکہ یہ ایک مجبوری میں لکھی جانے والی کتاب تھی جس میں عبدالوہاب نجدی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور جب سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں نے حجاز مقدس پر قبضہ کیا تو دیوبندی اکابر نے اپنامؤقف بدل دیا کہ عبدالوہاب نجدی مقدس ہستی تھے۔ ہم نے غلط فہمی میں مخالفت کی۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” میں جہالت کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ بہت کم علم اور کم عقل انسان بھی ایسی جہالت کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے ” تقلید کو بدعت ” قرار دینے کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن وہ بھی ” تقلید کے متعلق ” یہ بے سروپا بکواس دیکھ لیتا تو پکار اٹھتا کہ ” یہ کیا گمراہ کن باتیں لکھ ڈالی ہیں”۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” جو احادیث موجودہ دور کے بارے میں درج ہیں وہ مفتی تقی عثمانی نے ائمہ مجتہدین کے دور کے بارے میں بطور دلیل پیش کی ہیں۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” علم آسمان پر نہیں اٹھایا جائیگا بلکہ علماء ایک ایک کرکے اٹھتے جائیں گے، جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیںگے ۔ وہ ان سے فتویٰ پوچھیں گے تو وہ بغیر علم کے جواب دیں گے اور وہ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے”۔ (متفق علیہ)
مفتی تقی عثمانی نے اس حدیث پر یہ بات لکھ دی ہے کہ” ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ چکاہے۔ اگر ان کے بعد کوئی اجتہاد کرے گا تو وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور جو اس کی بات پر عمل کریںگے تو وہ خود بھی گمراہ ہوںگے”۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی یہ بات مان لی جائے تو سود کو جواز بخشنے پرمفتی تقی اور اس کو ماننے والے گمراہ ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے دوسری بات یہ لکھ دی ہے کہ ” عوام کا کام تقلید کرنا ہے اور اگر علماء غلط فتویٰ بھی دیں گے تو علماء کو غلطی پر ثواب ملے گا اور عوام کو نقصان نہیں پہنچے گا”۔ حالانکہ حدیث میں تو واضح ہے کہ جو ان کی مانے گا وہ بھی گمراہ ہوگا۔
مفتی تقی عثمانی نے قرآنی آیت اطیعواللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والی الرسول ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولی الامر ہیں ۔ اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو” کے حوالہ سے لکھ دیا ہے کہ ”اس میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے علاوہ بعض لوگوں کے نزدیک حکمرانوں اور بعض کے نزدیک علماء کی اطاعت کا حکم ہے۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ علماء ومفتیان کی اطاعت مراد ہے اور علماء ومفتیان سے عوام کو اختلاف کا حق بھی نہیں ہے ، ان کا کام صرف اطاعت ہے۔ آیت میں تنازع سے مراد علماء کے آپس کا اختلاف ہے”۔ تقلید کی شرعی حیثیت میں قرآنی آیت و احادیث کے بارے میں مفتی تقی عثمانی نے جو انتہائی غلط ، خود غرضی اور نفس پرستی پر مبنی باتیں لکھ دی ہیں وہ عوام اور علماء ومفتیان کے سامنے آجائیں تو اس کو گدھا گاڑی چلانے کے علاوہ کسی بھی علمی خدمت کے قابل ہر گز نہیں سمجھیں گے۔
قرآن میں یہودی مذہبی طبقہ کے بارے میں گدھے کی مثال اسلئے دی گئی ہے جن پر کتابیں لاد رکھی ہوں۔جب قرآن کی واضح آیات کو چھوڑ کر تقلیدی مسائل کی جستجو میں اپنا وقت ضائع کیا جائے تو مولانا انور شاہ کشمیری جیسے بڑے مخلص علماء کہیں گے کہ ہم نے قرآن وسنت کی جگہ فقہ کی وکالت میں عمر ضائع کی ہے۔ لیکن مفتی محمد شفیع جیسے لوگ اپنی اولاد کیلئے وقف مال خرید کر دین کی خدمت کو منافع بخش تجارت قرار دیں گے اور ان کی اولاد بھی اسی راستے پر چلے گی۔
مفتی شفیع و مفتی تقی عثمانی نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ جب تک حکومت ، علماء اور عوام بڑے پیمانے پر اُٹھ کھڑے نہ ہوں تو یہ اپنی غلطیاں اعلانیہ مان کر اپنی کتابوں سے نہیں نکالیں گے۔ہم نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے والی بات کو نکالنے پر مجبور کیا تو ” فتاویٰ عثمانی ” میں فتویٰ ڈال دیا ہے لیکن اس فتوے کی پوری داستان ہے اور اس کے پیچھے بڑے حقائق ہیں۔ جس دن واشگاف انداز میں حقائق سامنے آگئے تو انشاء اللہ دنیا میں مجرم کٹہرے میں الگ نظر آئیںگے۔نبی ۖ نے مختلف ادوار کا ذکر فرمایا:نبوت و رحمت کا دور، خلافت راشدہ کا دور، امارت کا دور ، بادشاہت کا دور، جبری حکومتوں کا دور اورپھر دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت کا دور جس سے آسمان وزمین والے دونوں خوش ہوں گے۔ مولانا آزاد، مولانا مودودی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان” مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہید، ڈاکٹر اسرار احمد نے خلافت کے قائم ہونے کی پیش گوئی کی ۔
نبی ۖ سے پوچھا گیا ”ہمارے پاس یہ خیر آئی۔کیا اس کے بعد شر ہوگا؟۔ فرمایا: ہاں ۔ عرض ہوا کہ اس شر کے بعد خیر ہوگی؟۔ فرمایا: ہاں مگر اس میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ ہوں گے اور اس میں دھواں ہوگا۔ (یعنی اسلام پر اجنبیت کے آثار نمایاں ہوں گے)۔ عرض ہوا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ فرمایا: جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر دعوت دیں گے جو ہماری زبان اور لبادہ میں ہوں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ عرض کیا : ان سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ۔ عرض کیا کہ اگر نہ مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ امام تو پھر؟ فرمایا: سب فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، خواہ درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑجائے”۔
شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ” بدعت کی حقیقت ” میں لکھ دیا کہ ” تقلید چوتھی صدی ہجری کی بدعت ہے اور پہلے تین صدیاں خیر القرون کی ہیں ۔اسلئے تقلید کو چھوڑنا ہوگا”۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے لکھ دیا کہ ” خیرالقرون نبیۖ، حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان کے دور تک تھا۔ حضرت علی کے دور میں فتنہ و فساد کا شر پیدا ہوگیا تھا، وہ بھی پہلے تین ادوار میں شامل نہ تھا”۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ” میں نبی ۖ کے مطابق عمل کا پابند ہوں۔ حضرت ابوبکر وعمر کے نقشِ قدم پر نہیں چلوں گا”۔ حضرت عثمان نے کہا کہ ” میں نبی ۖ ، حضرت ابوبکر وعمر کے مطابق چلوں گا”۔ حضرت عثمان اسلئے شوریٰ کی طرف سے منتخب ہوگئے۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد خلافت راشدہ میں آپس کی لڑائی سے شر پیدا ہوا تھا جس نے خلافت راشدہ سے امارت تک قتل وغارت گری حضرت علی اورحضرت حسین کی شہادت تک دیکھ لی۔ پھر حکمرانوں اور عوام میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ائمہ اہل بیت وائمہ مجتہدین جیسے اچھے لوگ بھی تھے۔ یزید اور امام ابویوسف جیسے برے لوگ بھی تھے۔ جس کا سلسلہ امارت کے دور سے جبری حکومتوں کے آخری دور تک بدستور قائم رہاہے۔ اب ایک طرف مذہبی لبادے میں فرقہ واریت اور جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر بلانے والوں کا حال ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی جماعت اور امام کے قیام کی ضرورت ہے۔
مفتی تقی ورفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق حاجی محمدعثمان کے مرید وخلیفہ تھے۔ خانقاہ میں واقعہ بتایا کہ پیر نے مریدوں کو ہاتھی کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ جنگل میں راشن ختم ہوا۔ کچھ نے ہاتھی کا بچہ ذبح کیا اور پکاکر گوشت کھایا۔ کچھ نے نہیں کھایا۔ رات کو سب سوگئے توہتھنی نے سوتے میں ایک ایک کا منہ سونگھا۔ جنہوں نے گوشت کھایا ، گردن پر پاؤں رکھ کر ماردیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا تو ان کو چھوڑ دیا”۔ مولانا خانقاہ چھوڑ کر گئے تو ”ہاتھی کا گوشت” نام پڑا تھا۔فوجیوں میں سینئر خواجہ ضیاء الدین بٹ تھا جس کو آرمی چیف بنایا گیا لیکن انتہائی ذلت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔اسلئے کہ اللہ والے کو دھوکا دیا تھا۔
حکمرانوں کی سختیاںپہنچیں گی مگر جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اس کیلئے زبان ،ہاتھ اور دل سے جہاد کیااور جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر زبان سے تصدیق کی اور جس نے اللہ کا دین پہچانا ،اللہ کیلئے کسی سے دل میں محبت رکھی اور کسی سے بغض رکھا ،اس کے تمام چھپانے کے باوجود وہ نجات پاگیا، اس کے علاوہ کسی میں رائی کے برابر ایمان نہیں”۔( حدیث :عصر حاضر) ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ جنت کے دروازے پر حسن وحسین ہیں اور صرف حاجی عثمان کی حمایت کرنے والوں کو چھوڑ رہے ہیں، مولانا فقیرمحمد کو بتایا تومولانا فقیرمحمد نے کہا کہ ” علماء کے فتوے کو چھوڑ دو۔ اپنا تعلق حاجی محمد عثمان سے قائم رکھو”۔
نبی ۖ نے ام ہانی سے مشرک شوہر کے تعلق کو حرام کاری نہیں قرار دیا تھا مگر ریورس گیر والے مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی چند ٹکوں کی خاطر علماء دیوبند کی اکثریت پر کیا فتویٰ لگارہے ہیں؟۔ یہ قادیانیوںاوراسرائیل کے ایجنٹ میرشکیل الرحمن ، ڈاکٹر انوارالحق اور جنرل قمر باجوہ پر فتویٰ کیوں نہیں لگارہے ہیں؟۔
ایک گمراہ لوگ ہوتے ہیں جن کو ہدایت مل سکتی ہے اور دوسرے جن پر اللہ کا غضب ہے۔ سوئے کو نیند سے جگایا جائے توجاگ جاتا ہے لیکن جاگا ہوا جب خود کو سویا ہوا ظاہر کرے تواس کو جگانا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ ایک مذہبی طبقہ گمراہ ہوتا ہے جب اس کو ہدایت کا پتہ چلتا ہے تو راستے پر آجاتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہوتا ہے جو جان بوجھ کر حق سے منحرف ہوتا ہے۔ مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی کا تعلق اس طبقہ سے ہے جس نے جان بوجھ کر حق سے انحراف کیا۔ کوئی ان سے نام لیکر فتویٰ لے کہ جن فوجی افسران یا میڈیا پرسن کی بیویاں قادیانی ہیں تو کیا ان کا تعلق حرام کاری ہے؟۔ انہوں نے ہمیں کمزور سمجھ کر فتوے دئیے لیکن اللہ تعالیٰ کا بہت شکرہے کہ ہمارا مخالف طبقہ ان کو مان کرخود پر فتویٰ لگارہا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

موجودہ حکومت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ازخود نوٹس کی رہین منت ہے۔ عدلیہ کے خلاف طوفان بدتمیزی افسوسناک ہے
آرمی چیف کو بے غیرت بولنا نہیں بنتاہے۔ فرح گوگی کی سہیلی بشریٰ ملک ریاض سے رشوت پر ٹرسٹی نا بنتی تو مسئلہ نہیں تھا

نمرود کی آگ بجھانے والی چڑیا اور بھڑکانے والی چھپکلی بڑا سبق ہے کہ جہاں آگ لگے تو شریف اور کمینے کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے

ایک صحافی نے لکھا تھا کہ” فوج اور نوازشریف کے درمیان اختلاف کی بنیاد مفتی رشیداحمد لدھیانوی( ضرب مؤمن کراچی ) کے خلاف کاروائی تھی۔ مولانا مسعود اظہر تہاڑ جیل ہندوستان سے لکھتاتھا یا ضرب مؤمن میں اس کے نام پر لکھا جاتا تھا؟۔مولانا مسعود اظہر کی یہ فریاد لکھی گئی تھی کہ ”نوازشریف کی ظالم حکومت نے مجاہدین کے گڑھ دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ”۔مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا مرید قمر امریکن ایمبسی میں کام کرتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ ”مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور امریکہ کے درمیان جو کردار ادا کیا وہ اُمید نہیں رکھتا کہ اللہ اس کو بخشے گا”۔
نوازشریف بینظیر بھٹو کوامریکی ایجنٹ اور بینظیر بھٹو اس کو اسرائیلی ایجنٹ کہتی تھی۔ جمعیت علماء اسلام قادری کے صدر مولانا اجمل قادری کو نواز شریف نے اسرائیل بھیجا تھا۔ حامد میر نے کہاکہ بینظیر کے ذریعے امریکہ نے طالبان بنائے اورISIبعد میں شامل ہوگئی۔ اسامہ بن لادن نے بینظیر بھٹو کے خلاف نوازشریف کی مدد کی تھی۔ نوازشریف نے ضرب مؤمن کے خلاف اقدام اٹھایا تو فوج سے تعلق بگڑگیا۔ اگر موٹے موٹے یہ تاریخی ڈاٹ ملانا شروع کردئیے تو بہت سارے سربستہ رازوں سے عوام کے سامنے سے پردہ اُٹھ جائے گا۔
مفتی عبدالرحیم کے پاس کرایہ نہ تھا تو شیخ نذیراحمد سے رقم لی؟۔ جوکہتا ہے کہ” میں واحد مولوی ہوں جو فوجی افسران کوہدیہ دیتا ہوںکسی سے لیتا نہیں ”۔ یہ دولت کہاں سے ملتی ہے؟۔ قیدی ڈاکو کی تبلیغ سے اس کاباپ تبلیغی جماعت میں گیا۔ مفتی احمد ممتاز مفتی رشید لدھیانوی کا خلیفہ سودکی لعنت کا مخالف ہے۔
نوازشریف نے پہلے دورِاقتدارمیںکہا کہ” اگر ہم نے قادیانیت کی آئینی ترمیم ختم کی تو پاکستان کا قرضہ اور ساری مشکلات حل ہوجائیں گی”۔ قادیانیوں کے ذریعے اسرائیل اپنے اہداف تک پہنچے گا۔ تنسیخ جہاد، مہدی ومسیح موعود، وفات عیسیٰ اور اسکے باپ کا وجود اسلام اور عیسائیت کیلئے تباہ کن ہے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ فوت ہیں۔ قرآنی دلائل علماء سے لئے۔کہتے ہیں کہ جب عیسیٰ کی آمد سے ختم نبوت پر اثر نہیں پڑتا تو ہم سمجھتے ہیں” ہرفرعون کیلئے موسیٰ ہے” ۔ عیسیٰ جیساکوئی آئیگا ۔ مہدی و عیسیٰ کو ایک شخص ہے۔ قادیانی عیسیٰ کے باپ کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہود سمجھتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی عقیدہ ختم ہوگا۔ مرزا دجال کی سازش سے جہاد منسوخ نہ ہوا مگر سود کو اسلامی کہنے کی سازش مفتی تقی عثمانی اورمفتی عبدالرحیم نے کامیاب کردی۔قادیانی شیعہ سنی فرقہ واریت بھڑکاتے ہیں۔جہاد کا نقصان بتاتے ہیں۔ مفتی عبدالرحیم نے جہاد کے خلاف حدیث بیان کی۔مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نہیں کام کی اہمیت ہے اور وہ ہے اسلامی معاشی، معاشرتی، سیاسی نظام کی منسوخی۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبدالرحیم اس مشن پر لگ گئے۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاست جن علماء کے مذہبی معاملات کے خلاف تھی ،اب وہ نہیں رہی ہے۔ سیاست کو مجنون لیلیٰ کا کھیل بنادیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دورِ حکومت میں جج نے سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اسکے خلاف اپیل دائر کی۔ نوازشریف کو دوسرے دورِ اقتدار میں دہشتگردی کے گڑھ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف قدم اٹھانے پر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔ جنرل پرویز مشرف کی جگہ خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تھا تووہ حاجی عثمان کا مرید تھا۔ کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت فوجی افسران حاجی عثمان سے بیعت تھے۔ پیپلزپارٹی کے شفیع جاموٹ نے حاجی شفیع بلوچ سے کہا تھا کہ قادیانی خانقاہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بینک کے سود سے زکوٰة کی جگہ سود ی رقم کاٹنی شروع کی تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مخالفت کی لیکن مفتی تقی عثمانی کے پان اور مفتی رفیع عثمانی کے دورۂ قلب کی خاص گولی نے شہادت کی منزل پر پہنچا دیا ۔ مولانا فضل الرحمن اس زکوٰة کو شراب پر” آبِ زم زم کا لیبل ”قرار دیتا تھا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کرایا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا۔ حاجی محمد عثمان نے ریفرینڈم کے فتویٰ کی مخالفت میں رائے دی تھی۔
روزنامہ جنگ میں ” آپ کے سوال اور ان کا حل” کے عنوان سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال ہوا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کتنے چچا اور پھوپھیاں تھیں؟۔ جواب میں لکھ دیا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چچا نہیں تھے لیکن دو پھوپھیاں (باپ کی بہنیں)تھیں”۔ اس پر احتجاج ہواتھا تو مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے وضاحت کردی کہ ”یہ جواب میں نے نہیں لکھا ہے”۔
جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کی بیوی مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کی پوتی ہے۔ اس نے میر شکیل الرحمن کو ہدف بنایا۔ اس نے کہا کہ میں مسلمان بنتی ہوں، مجھے قادیانیت کے کفر پر مطمئن کرو۔ مولانا یوسف بنوری، مفتی ولی حسن اور مولانا یوسف لدھیانوی کے دلائل سے وہ مطمئن نہ ہوئی تو مولانا لعل حسین اختر کو پنجاب سے بلایا گیا۔ مولانا لعل حسین سے لاجواب ہوگئی تو قادیانیت سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ اصل حال اللہ جانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پھوپھیوں کی خبرسے پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
صحافی ابصار عالم نے صحافت چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور پھر اس کو گولیاں بھی لگیں اور بیٹا بھی مارنے سے معذور ہوگیا ۔ اس نے بتایا کہ ”جنرل راحیل شریف اورDGISIجنرل رضوان اختر نے جنرل قمر باجوہ کا جینا اس کے قادیانی سسر جنرل امجد کی وجہ سے دوبھرکیاتھا۔ اس نے نوازشریف کو جنرل قمر باجوہ کی مظلومیت وبے بسی سے آگاہ کیا تو اس کو آرمی چیف لگایا”۔ پھر جنرل رضوان اختر کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا۔ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے قادیانیت کے حق میں ترمیم کی سازش کی۔ جس کا جمعیت علماء اسلام، تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے ساتھ دیا۔ پہلے حافظ حمداللہ اورپھرشیخ رشید احمد نے آواز اٹھائی۔ البتہ ظفراللہ جمالی بلوچ نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دیا ۔
جب تحریک لبیک نے فیض آباد میں دھرنا دیا تو جسٹس فائز عیسیٰ نے اس کو فوج کی سازش قرار دیا تھا۔حالانکہ یہ سارا کھیل جنرل باجوہ کے سسرال کو خوش کرنے کیلئے تھا تو جنرل باجوہ کیسے اسکے خلاف سازش کرتا؟۔ پھر عمران خان بھی ن لیگ کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی کیساتھ کھڑا ہوا۔ اگر قادیانی لابی اور اس کے مخالفین میں گروپ بندی ہے جس پر کیپٹن صفدرذوالفقارعلی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہے۔ ن لیگ جنرل قمر جاویدہ باجوہ کی حمایت اورجنرل فیض حمید کی مخالفت کس بنیاد پر کررہی ہے؟۔عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کیا جارہاتھا تو علی وزیر نے کہا تھا کہ ” کسی اور کی لڑائی ہے جوپارلیمنٹ میں لڑی جارہی ہے”۔ فوجی افسران میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی رشتہ داریاں ہیںلیکن ان رشتوں سے پیدا ہونے والی اولاد پر کیا فتویٰ لگے گا؟۔ حاجی عثمان نے اپنے مرید اصغر علی قریشی سے اس کی قادیانی بیوی چھڑا دی تھی تو آپ کو یہ سزا مل گئی کہ معتقد سے نکاح بھی حرامکاری اور اولادالزنا قرار دیا گیااور مفتی تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی کے ذریعے معروف قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح پڑھایا تو اسکے ذریعے علماء حق کو شکست دے کر شیخ الاسلام کے نام نہاد منصب پر فائز کردیا گیا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے قادیانیوں کو زندیق قرار دیا تھا۔ جو توبہ کرے تو بھی واجب القتل ہے۔ جب مقتدر طبقات میں تقسیم اور ان کی وجہ سے اہم ملکی معاملات اور سیاست میں دخل اندازی ہوگی تو پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی نے ” فتاویٰ عثمانی” میں ایسے فوجی افسران کا بھی ذکر کیا ہے جن کی بیگمات ان کی غیرموجودگی میں حرامکاری میں مگن رہتی تھیں۔ ان کی اولاد کی تعلیم وتربیت اور زندگی پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوںگے؟۔
سودی معیشت کو اسلامی قرار دیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی کیا ہے؟۔ اگر اسلام میں نکاح وطلاق اور عورت کے حقوق کا مسئلہ قرآن وسنت سے اجاگر کیا جائے تو قادیانی سچے دل سے مسلمان بن جائیں گے اور یہ یقین کرلیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا اور دجال تھا۔ مہدی اور نبی ہونا توبہت دُور کی بات وہ ایک اچھا عالم دین بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اسلامی معاشی نظام کا خاکہ علامہ سید محمد یوسف بنورینے پیش کیا۔ آپ کے داماد مولانا طاسین نے دلائل سے مزین کرکے مرتب کیا تھا۔ہماری معیشت کا حل یہی ہے۔ جب ہمارا معاشرتی نظام درست ہوگا تو علم وشعور کی بلندی پر یہ قوم پہنچے گی۔ نکاح وطلاق کے مسائل نے عوام کو نہیں علماء ومفتیان کے علم وعمل کا بھی کباڑہ کیا ہے۔
فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، عبوری حکومتوں نے کردار ادا نہیں کیا۔ حکومت نے رینجرزسے عدالت کے شیشے تڑوائے ۔ عدالت پر مولانا و مریم نے چڑھائی کردی حالانکہ حکومت کا کام احتجاج کرنا نہیں عدلیہ کو تحفظ دینا ہے۔ ملکی نظام نالائقوں نے تباہ کیا ۔ تباہی وبربادی سے بچنے کیلئے اسلام کے معاشی ومعاشرتی نظام کی طرف آنا ضروری ہے۔ حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہے ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دینا غلط ہوگا۔
عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا،PTVپر قبضہ کیا، پنجاب پولیس نے منہاج القرآن لاہور میں خواتین سمیت14افراد قتل اور بہت کو زخمی کیا تھا۔برطانیہ نے ملک ریاض سے60ارب پاکستان کو واپس کیا، عمران خان نے ملک ریاض پر مہربانی کی۔ عدالت نے چپ کا روزہ رکھا۔ میڈیا، ریاستی ادارے اور سیاسی خانوادے خاموش تھے۔ملک ریاض کو زرداری نے سندھ کی زمین دی تھی اور ملک ریاض نے لاہورمیںبلاول ہاوس بناکر دیا۔
مریم نواز اور نوازشریف کو ہلکی سزا دیکر جیل میں ڈالا گیا تھا اور پھر نہیں چھوڑوں گا کے بے تاج بادشاہ عمران خان نے پکڑے ہوئے افراد کو چھوڑ دیا۔PDMنے مہنگائی کا رونا رویا اور جب اقتدار میں آگئی تو مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا۔ ہمارا دفاعی بجٹ15سوارب اور سودکا بجٹ5ہزار4سو ہے توپھریہ ملک کیسے چلے گا؟۔ پہلے ملک کے تمام محصولات کے مقابلہ میں دگنا بجٹ تھا اور اب پورے محصولات صرف سودکی نذرہورہے ہیں۔ ملک قرضہ سے چلتا ہے۔ سیاستدان، فوجی ، بیوروکریسی اور میڈیا مالکان وعلماء ومفتیان نے جتنی ناجائز دولت بیرون ملک اورضرورت سے زیادہ اندورون ملک جمع کررکھی ہے ، ان سے قرضے چکائے جائیں اور اسلامی معاشی نظام نافذ کیا جائے تو پھراپنی قوم اداروں ، سیاستدانوں ، صحافیوں اور علماء ومفتیان کی عزتیں بحال ہوں گی۔
کھیتی باڑی کیلئے کسانوں کو مفت زمینیں، باغات کیلئے پہاڑ، رہائش کیلئے بغیرکرایہ مکانات دئیے جائیں۔مزدور، محنت کش ، تاجر، نوکر پیشہ افراد ناجائز ٹیکسوں کے بوجھ سے نکل جائیں۔ ایرانی سستاتیل و گیس ،بھارت کو راہداری دیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ فوج کیخلاف بنی بنائی فضا عمران خان کی قسمت میں آگئی ۔ پنجاب میں نفرت آخری حد کو پہنچ گئی ۔عثمان ڈار کی خواتین کے خلاف پولیس کی روش پر خواجہ آصف نے معافی مانگ لی ۔
صحافی امتیاز گل کے پروگرام میں ممریز خان نے پاکستان سٹیل ملز کو اُٹھانے کیلئے کہا کہIMFسے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں۔ تمام حکومتوں کے کرتے دھرتے کرپشن میں ملوث تھے۔ مافیاز سے جان چھڑائیں۔ منافع بخش ادارے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔قطرہ قطرہ دریا ہے۔ سیاستدان اور ادارے اپنا اُلو سیدھا کرنے کیلئے نہ لڑیں۔ مقتدر طبقہ ہوش کے ناخن لے۔PIA، واپڈا، ریلوے اورتمام اداروں کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ ظالم، جابراورخائن نہیںمضبوط ادارے پاکستان کی ضرورت ہیں۔ فوج و قوم کو لڑانا غلط ہے۔ سیاسی پارٹیاں صلح کریں۔تشدداور الزام نہیں تحمل ودانشمندی کا مظاہرہ کریں ۔ علماء حق ذمہ داریاں پوری کریں۔ انقلاب کا تیارپھل قوم کی گودمیں کرے گا۔انشاء اللہ
عمران خان کو اپنی غیرت کا توازن برقرار رکھنا چاہیے، بیوی تو بیوی ہوتی ہے۔بشریٰ کسی کی بیگم تھی۔جمائما و ریحام پر غیرت کھانا تھی۔رشوت کے پیسوں پر گوگی کی سہیلی کو ٹرسٹی بنایا ہے تو یہ بھگتنا پڑے گا۔ گھریلو خواتین کی کوئی عزت نہیں جو سڑکوں پر احتجاج اور مارکھاتی ہیں ،پولیس کے ہاتھوں گھروں میں بے عزت ہوجاتی ہیں اور جیل جاتی ہیں، حالانکہ انہوں نے کچھ کھایا نہ کمایا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

مذاکراتی ٹیموں کو صلیب پر چڑھانے والی لیڈر شپ تثلیث کھل کر خود سامنے کیوں نہیں آتی ہے؟۔ کوئی خفیہ وفیہ ہاتھ نہیں بلکہ سوار ، سواری اور ہنکانے والی قیادت کا آئینہ سامنے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی قیادت مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفی کے نام سے کی تھی۔ مارشل لاء لگنے کے بعد جمعیت علماء اسلام نے بھی رجعت پسند قوتوں کے ساتھ کچھ وزارتیں ہتھیا لی تھیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے بینظیر بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کی تحریک چلائی۔ کیا عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی تو مولانا اسعد محمود ٹیرن وائٹ کے ساتھ تحریک چلائے گا؟۔ جتنی نفرت آج عمران خان سے ہورہی ہے اس سے زیادہ ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف پیدا کی گئی تھی۔ نیولے اور سانپ کی لڑائی میں چڑیوں کاکام نہیں ۔ عوام چڑیوں کی طرح ہیں ۔نیولے اور سانپ میں لڑائی بھڑائی ہو، مار کٹائی ہو، چھیڑ چھڑائی ہو،کھیل تماشائی ہو لیکن خیرچڑیوں کی بھی نہیں ہوتی۔
مولانا فضل الرحمن پر جس طرح کے کارٹون ہیں۔ مذہبی طبقہ بھی سیاسی طبقے کیساتھ شانہ بشانہ مخالفت میں لگا ہوا ہے۔ پشاور اور چارسدہ میں تمام پارٹیوں اورمذہبی و لسانی تعصبات اُبھارنے کے باوجود عمران خان سے بدترین شکست کھائی تو الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اسی وقت سے شروع کیا۔ جمہوریت رائے عامہ ہموار کرنے کا نام ہے ۔13پارٹیوں کا متحد ہوکر الیکشن اور آئین سے جنگلی گدھوں کی طرح بدکنا اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ حکومت الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ہم پہلے سے کہتے تھے کہ جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جنم لیا ہے اور ساری زندگی فوج کی ٹانگوں میں گھس کرگزاری ہے تو کیا70سالوں تک فوجی پتلونوں کے اندر اپنے سروں کے بال گھسانے والے انقلابی بن سکتے ہیں؟۔ کھریاں کھریاں کے راشد مراد نوازشریف کے مخالفین کو جرنیلی سیاست ہزار بار کہے لیکن کینگرو کے بچے کا سب کو پتہ ہے کہ کون ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے نظریاتی ساتھیوں کو سائیڈ لائن لگادیا ہے جن کے خلاف لڑنا تھا ،ان کی پیٹھ پر سوار ہیں۔ نواز شریف نے علامہ طاہرالقادری کو غارِ حرا پیٹھ پر لاد کر چڑھایا تھا لیکن پھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں اسکے14بندے مار دئیے اور بہت سارے زخمی کردئیے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں سود کے خلاف آواز اٹھانے پر میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا شکار کردیا۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”نوازشریف نے میرے ساتھ وعدے پورے نہیں کئے تو مجھے کب سے اتنا سادا سمجھ لیا ہے کہ نوازشریف پر اعتبار کروں؟۔ جب لوگ جمعیت علماء اسلام کو بڑے پیمانے پر اسمبلی میں بھیجیں گے تب ہی اسلام نافذہوسکے گا”۔ جو نظر آرہاہے وہ آئینہ مولانا کو دکھارہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری اور اسحاق ڈار کی سودی بینکاری میں کیا فرق ہے؟۔مولانا کو ایسی جعلی سیاست، جعلی جمہوریت، جعلی اسلام کے گدھے سے اترنا پڑے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

اسلامیہ کالج کراچی کی بلڈنگ اس کے مالک قریشی صاحب نے تعلیم کیلئے وقف کررکھی تھی!

مالک کی پوتی حسنہ بیگم غاصبوں کیخلاف جنگ لڑرہی ہیں ،انکا ساتھ دینا سب کابڑا فرض ہے

اسلامیہ کالج سے اس شہر کے لاکھوں طلباء نے تعلیم حاصل کی ہے۔ایڈیٹر نوشتہ دیوار ملک محمد اجمل اور نمائندہ نوشتہ دیوار اور ماہر معیشت شاہد علی اسلامیہ کالج کے مالک قریشی صاحب کی پوتی حسنہ بیگم کیساتھ بیٹھے ہیں۔ حسنہ بیگم آج کل امریکہ سے پاکستان آکر ان غاصب قوتوں سے لڑ رہی ہیں جو اسلامیہ کالج میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو بند کر کے اسے فروخت کرنا چاہ رہی ہیں۔
اسلامیہ کالج کراچی شہر کے اہم ترین مقام پر واقع ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی اہم ترین تاریخ وابستہ ہے۔ حسنہ بیگم کے جد امجد قریشی صاحب نے یہ جگہ اسلامیہ کالج کیلئے وقف کی تھی۔ جب حسنہ بیگم کو امریکہ میں پتہ چلا کہ یہاں کراچی میں اسلامیہ کالج کو ایک ساز ش کے تحت عدالتی حکم کے ذریعے طلباء سے خالی کیا گیا ہے تو وہ دستاویزات لے کر پاکستان تشریف لائی ہیں۔
ایک صحافی نے حسنہ بیگم سے10لاکھ روپے کوریج کیلئے مانگ کر صحافیوں کی ناک کٹادی لیکن ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل نے اس کو جھڑک دیا کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ اسلامیہ کالج کراچی کے متوسط طبقے کیلئے وہ علمی درسگاہ ہے جس سے ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ اس سے طلبہ اور تعلیمی سلسلے کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے اندر موجود باضمیر ججوں کو مفاد پرستی سے آزاد عدلیہ کے ذریعے سے ہی عزت وتوقیر مل سکتی ہے۔
ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنی غلطی دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں بیان جاری کیا کہ لندن ایون فیلڈ کے فلیٹ2005میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006میں خریدے۔ جس میں کچھ اور دوستوں نے بھی مدد کی اور پھر قطری خط عدالت میں لیکر آگئے اور پھر اس سے بھی مکر گئے۔ مریم نواز نے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرلیا لیکن عدالتوں کے خلاف مسلسل بلیک میلنگ کا بیانیہ جاری ہے۔ عدالتوں نے جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کو تحفظ دینا ہے تو یہ ان کی مرضی ہے یا مجبوری لیکن قوم، ملک اور سلطنت کروٹ بدل رہاہے اور سب تاریخ میں یاد رکھے جائیںگے۔ عدالت کو آزادانہ فیصلے نہیں کرنے دئیے گئے۔ آئین کا قلع قمع کیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں فوج کو بھی نکیل ڈال دی جائے گی۔
ہمیں ایسے اشرافیہ سے کوئی ہمدردی نہیں جو ایکدوسرے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوں لیکن پاکستان میں جتنے بھی ریاستی ادارے ہیں ان کا ایک آزاد اور مثبت کردار ملک وقوم کی سخت ضرورت ہے۔ جمہوری سیاسی جماعتیں آئین، عدالت اور الیکشن سے بھاگ رہی ہیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ عمران خان ایک بے سدھ اور بے اعتبار انسان ہے ۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو جتنی گالیاں عمران خان اور شیخ رشید نے دی ہیں وہ تاریخ میں ایک بہت بڑی مثال ہیں لیکن آج اپنے تھوکے ہوئے کو چاٹنے پر مجبور ہیں اور یہی تو جمہوریت کی خوبی ہے۔ تحریک انصاف کا سارا سوشل میڈیا چوہدری پرویز الٰہی کو گالیاں دیتا تھا لیکن کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ عمران خان کو بول سکے کہ تم نے چوہدری کیساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اسلئے کہ جب اس کوPDMنے وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا تہیہ کرلیا تو آپ نے اس پر ہلہ بول دیا۔ پھر اس کو اسمبلی توڑنے پر بھی مجبور کردیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو برا بھلا کہنا تھا تو اپنے ساتھ بٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ یہ چوہدری پرویز الٰہی کی شرافت تھی کہ اس نے پنجاب میں اپنی حکومت کو عمران خان کی امانت قرار دیا۔ حالانکہ یہ عمران خان کی خیانت تھی کہ چوہدریوں کے درمیان بھی دراڑ ڈال دی اور حکومت کو بھی ختم کرادیا۔
چوہدریوں کے گھر کی بے عزتی کے پیچھے اگر مریم نواز اور نوازشریف نہیں تھے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟۔ ہماری قوم اس قدر بے حس بن چکی ہے کہ ایک کھلاڑی کو سب سے مقبول سیاستدان بنادیا لیکن اس میں ایک طرف موجودہ سیاسی جماعتوں کا منافقانہ کردار ہے تو دوسری طرف کرکٹ کے چھکے اور چوکے پر لوگ دورۂ قلب سے موت کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن کسی عزتدار عورت کی عزت لٹ جانے سے ان بے غیرتوں اور بے ضمیروں کو دورے نہیں پڑتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت کے نام پر بھی عزتیں لٹتی ہیں اور شیخ الاسلام سود کو اپنی اماں سے زنا کے برابر گناہ کہہ کر بھی عالمی سودی نظام کو چند ٹکوں کی خاطر جواز فراہم کردیتا ہے۔ نبی ۖ نے دجال سے زیادہ خطرناک ایسے قائدین اور حکمرانوں کو قرار دیا ۔ جس کا حوالہ مفتی رفیع عثمانی کی کتاب ” علامات قیامت اور نزول مسیح ”میں موجود ہے۔ ہمارا مقصد زور دار طریقے سے دستک دینا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

جماعت اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظام ، امریکہ اور جنرل ضیاء الحق کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا تھا۔ مولانا مودودی مزدوروں کے یوم یکم مئی کے مقابلے میں شہدائے بدر کا دن منانے کا کھیل کھیلتے تھے۔ جب سراج الحق نے پہلی مرتبہ سرخ ٹوپی پہن کر یومِ مزدور میں ریلوے کے ملازمین کے ساتھ شرکت کی تھی تو ہم نے ٹوپی ڈرامے کو علامات قیامت کی ایک نشانی قرار دیا تھا۔ آج جماعت اسلامی شکا گو کے شہیدو کو سلام پیش کررہی ہے۔
اب اشارہ مل جائے تو جماعت اسلامی سقوط افغانستان اور یوم فتح افغانستان منانا شروع کردے لیکن انجینئرگلبدین حکمت یاراپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکاتھا۔ جماعت اسلامی افغانستان میں بالکل دفن ہوگئی ہے۔ جہادِ کشمیر، جہاد افغانستان، جہاد فلسطین اور جہاد اسلام سب کچھ بھول بھال کر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اب قوم پرستی کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ محسن داوڑپر ایک مہمان کی حیثیت سے جوکرسیاں چلائی گئی تھیں ،اس پر پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان نے بہت شرمندگی سے معافی مانگی تھی اور ساری جماعتوں کی طرف سے جماعت اسلامی کے معافی مانگنے تک بائیکاٹ اور اپنے اتحاد سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ صاحبزادہ ہارون الرشید آج بھی جماعت اسلامی کا اثاثہ ہیں جس نے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔
جب پرویزمشرف کے دور میں وکلاء تحریک نے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی کیلئے قربانی دینا شروع کی تھی تو سیاستدان بھی میدان میں نکلے تھے۔ عمران خان کو وکلاء تحریک کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ نے یرغمال بنایا تھا اور جماعت اسلامی لاہور کے امیرالعظیم کی طرف سے اپیلیں کرنے اور انتہائی شرمندگی کے اظہار کے باوجود بھی جمعیت کے طلبہ عمران خان کو نہیں چھوڑ رہے تھے، جماعت اسلامی کا سب سے بڑا کمال بھی یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ان کو قیادت مل رہی ہے لیکن سب سے بڑا زوال بھی یہ ہے کہ طلبہ تنظیم کے وقت سے جو تشدد ، فریب، ڈکٹیٹر شپ اور غیر جمہوری رویہ دل ودماغ میں بیٹھا ہوتا ہے تو وہ سیاست کے میدان میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔ جاوید ہاشمی ایک اچھی طبیعت کی قابلِ قدر شخصیت ہیں مگر جن ڈرامہ بازیوںکو طلبہ کے وقت میں جماعت اسلامی سے سیکھا تھا وہ بڑھاپے میں ان میں لوٹ رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں جانے سے بہت روکا تھا لیکن پھر بھی وہ گئے تھے۔ پھر تحریک انصاف سے یہ کہہ کر جاوید ہاشمی نکلا تھا کہ ” اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کی توقع پر عمران خان کو نہیں رہنا چاہیے۔ مجھے ان کے مزاج کا پتہ ہے وہ کوئی مدد نہیں کریںگے۔ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن کوئی دوسرا استعفیٰ نہیں دے گا۔ میری بات یاد رکھیں”۔ پھر جاوید ہاشمی کہتا تھا کہ جو میں نے کہا تھا ، عمران خان کے ساتھ آخر وہی ہوا ہے۔ آج جاوید ہاشمی کہتا ہے کہ ” عمران خان کو میں نے روکا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کا سہارا مت لینا ، یہ بہت نقصان دہ ہے”۔ حالانکہ ہوا یہی تھا کہ جب عمران خان کو توقع تھی تو اسٹیبلشمنٹ نے مدد نہیں کی اور اس کی وجہ سے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف چھوڑ دی۔ جب تحریک انصاف کو مقبولیت مل گئی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی ساتھ دیا لیکن پھر جاوید ہاشمی ساتھ نہیں رہے تھے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کی اصلاح کے بغیر جماعت اسلامی کے کسی قول ، فعل، جمہوریت، اسلام، جہاد اور قوم پرستی پر یقین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں بہت باصلاحیت لوگ اپنی زندگی کا اصل مقصد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں۔ ابن الوقتی ، بدمعاشی، منافقت اور درجن بھر ایسی صفات جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے پیدا ہوجاتی ہیں جن کو اسلام اور جمہوری سیاست کا نام دیا جاتا ہے لیکن وہ اسلام اور جمہوریت سے بالکل عاری ہوتی ہیں۔ مولانا مودودی نے تعلیم وتربیت کیلئے مدارس اور خانقاہوں کو ایک اضافی چیز قرار دیا تھا لیکن مدارس اور خانقاہیں اسلام کیلئے زبردست تربیت گاہیں تھیں اور اپنی جماعت اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت کو پھر بدعت نہیں سنت قرار دیا تھا لیکن ان میں علم وعمل ، اخلاص وتربیت اور ایمان واسلام کی جگہ دوسری چیزیں ڈالی جاتی ہیںجن میں ایک سیاسی قوت کا حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ جب غلط طریقے سے قوت حاصل کی جائے تو اسلام وایمان کے علاوہ اس کو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سرشست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور قوم پرستوں کی سخت مخالفت ہے لیکن فضاؤں کا رُخ دیکھ کرجماعت اسلامی بھی اپنا مذہب تبدیل کررہی ہے۔
مدارس کے علماء کرام اور خانقاہوں کے مشائخ عظام نے ہمیشہ عوام و خواص کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا ہے۔ جو دیوبندی بریلوی مدارس میں بہت احترام کیساتھ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک پڑھاتے ہیں اب ان میں فرقہ واریت میں مبتلاء جاہل طبقہ آپس کے معمولی معمولی اختلافات کو بھی پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان جس طرح اختلافات سے دونوں میں تفریق ہوئی تھی تو اس سے زیادہ علماء ومشائخ میں بھی نہیں ہے اور دیوبندی بریلوی ایکدوسرے کو اعتدال پر لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں اطراف میں جہالت کے باعث شدت پسندی بھی ہے اور دونوں اطراف میں اعتدال پسند بھی ہیں۔ اگر دونوں اسلام کی نشاة ثانیہ کی طرف متوجہ ہوں اور اہل حدیث واہل تشیع کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں تو بہت سارے معاملات میں ایک پرامن جمہوری انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اختلافات اور اجتہادی غلطیاں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان نے اسلامی جمہوری محاذ کے نام سے اتحاد کیا تھا جس میں مولانا فضل الرحمن اور علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں خاطر خواہ نتائج اسلئے برآمد نہیں ہوسکے کہ ان کے پیچھے علمی اور عملی طاقت نہیں تھی۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ان اغلاط کو سلیس انداز میں ”تفہیم القرآن” کے ترجمہ وتفسیر میں پیش کیا ہے جو علماء ومشائخ سے اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں۔ علماء ومشائخ کیلئے اجتہادی غلطیوں سے اعلانیہ توبہ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی اجتہادی غلط تفسیر اور ترجمہ سے بھی توبہ نہیں کرنا ہے اسلئے کہ جماعت اسلامی کے علماء کی حیثیت ملازمین کی ہے اور باقی جماعت اسلامی مولانا مودودی کی پوجا کرتی ہے۔ جس شخصیت مولانا مودودی نے یہ سکھایا تھا کہ قرآن اور سنت کے مقابلے میں کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اس کی اپنی جماعت کا اس طرح شخصیت پرستی کا شکار ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام پر1970میں فتوے لگے تھے تو اس میں جماعت اسلامی ، دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مسلم لیگی قیادت سرِ فہرست تھی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کی طرح ان قوتوںکے آلۂ کار بن گئے ہیں۔ مفتی محمود نے توبہ کرکے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت شروع کردی تھی لیکن زکوٰة کے مسئلہ پر مفتی تقی عثمانی کے جبری پان اور مفتی رفیع عثمانی کی طرف سے لائی ہوئی دورۂ قلب کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والا مولانا فضل الرحمن اب اس کی سودی بینکاری کو بھی مشرف بہ اسلام قرار دے رہاہے۔ جب اسلام دین اکبری والا ہو اورنواز شریف کی مغل سلطنت کیلئے مولانا فضل الرحمن اپنا سیاسی کردار ادا کررہے ہوں تو انصار الاسلام کے نام سے جھنڈے اٹھانے والوں کو خبردار ہونا چاہیے۔ میں نے کبھی جمعیت علماء اسلام و طلباء اسلام کی رکن سازی کا فارم نہیں بھرا ہے مگر جب مولانا پر فتوے لگ رہے تھے تو انکا دفاع کیا ہے اور جمعیت کا زیبرائی جھنڈا لے کر ایک مرتبہ تمام انصار الاسلام کا کردار بھی ادا کیا ، جب مولانا لیبیا سے آئے تھے اور مدارس کے علماء و طلبہ نے استقبال کیا تھا۔ مولانا نے مجھے رات کو اپنے ہاں عبدالخیل میں رُکنے کا کہا تھا کہ ” ذکر اور مراقبہ کراؤ”۔ میں نے کہا تھا کہ ”صوفی نہیں سیاسی مراقبے کراؤں گا”۔ پیر ذوالفقار اچھا مگر کم عقل آدمی ہے اسلئے سیاست اور فرقہ واریت کی تبلیغ کرتا پھر رہاہے اور یہ تصوف کا بہت بڑازوال ہے جو روحانیت نہیں دولت کی چمک ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں لوگ کرکٹ میچ کے اندر چوکے چھکے کی وجہ سے تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر کبھی ریپ ، قتل و غارت ، دنگا فساد اور باقی کرتوت سے نہیں مرتے

چلو کسی بھی بہانے سے ملک و قوم میں ایک سیاسی بیداری کی فضاء پیدا ہوئی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے عوام چاول کی پلیٹوں پر ووٹ دیتے ہیں۔

شہباز شریف اور تمام سیاستدان غریبوں کو ورغلانے کیلئے حبیب جالب کے اشعار پڑھتے اور ذوالفقار علی بھٹو کی نقلیں اتارتے تھے۔ الیکشن کے دوران چاول کی پلیٹوں پر غریبوں کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ اب لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ اتنی مہنگائی ہماری اشرافیہ کی وجہ سے ہے جو باہر سے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر عوام پر اس کا سارا بوجھ ڈالتے ہیں۔ شہباز شریف بھی زرداری کا پیٹ چاک کرنے ، بازاروں میں گھمانے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریریں کرتا تھا۔ اب وہ سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں تو عوام کو حقائق کا پتہ چل رہا ہے۔ عمران خان ایک ایسے موقع پر عوام کے دکھ درد کا فائدہ اٹھارہا ہے کہ جب حکمران اور مقتدر طبقات ناکامی کے آخری کنارے پر کھڑے ہیں۔ اگر سازش کے تحت یہ کھیل کھیلا گیا کہ اگلی باری بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی تو نظام کے ساتھ عوام کا بھی ستیاناس ہوسکتا ہے۔ مریم نواز کو ایک جمہوری سیاستدان کا کردار ادا کرنا ہے تو عمران خان کی راہ میں کسی رکاوٹ اور سازش کا حصہ نہ بنے۔ جمہوریت میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ آج عمران خان کیلئے بچے ، نوجوان اور بچیاں انقلابی گیت گارہے ہیں تو آنے والے کل اسی عمران خان پر تھو تھو کریں گے اور مریم نواز کے گن گائیں گے۔ جمہوریت میں جب تک قوم کی آنکھ نہ کھلے سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہماری قوم فی الحال کرکٹ کی عاشق ہے۔ چوکے اور چھکوں سے عوام کو دل کے دورے پڑتے ہیں۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ہے اور آج تک قوم کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔10کلو آٹے کیلئے لوگ شہید ہوئے۔ بچیوں کے ساتھ ریپ ہوئے۔ ملک میں ڈرون حملوں سے آبادیوں کو برباد کیا گیا۔ افغانستان ، عراق، شام، فلسطین، سوڈان اور لیبیا میں بڑے مظالم کا عوام کو سامنا کرنا پڑا لیکن کسی پر دل کا دورہ نہیں پڑا۔ جب قوم کا مزاج بدلے گا تو امریکی صدر بل کلنٹن اسلام آباد میں بچوں کیساتھ کرکٹ کھیلنے کے بجائے ان غریبوں کا دورہ کرے گا جن کی موت10کلو آٹے کی طلب کیلئے ہوئی اور شاید اسلامی بینکاری والے تو رحم نہ کریں مگر دیگر بینک سود کو بھی معاف کردیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

ابھی84ارب روپے آٹے کی تقسیم ہوئی ہے۔ میں معذرت سے کہوں گا کہ اس میں20ارب سے زیادہ چوری ہوئی ہے۔ آپ کسی طرح سے بھی دیکھ لیں۔ کیا ملا ہے اس غریب کو جس کیلئے آپ نے84ارب روپیہ خرچ کیا ہے؟۔ آپ اس نظام کے اندر ڈیلوری نہیں کرسکتے آپ کو اس کو پوری طرح ری ڈیفائن کرنا ہوگا ۔ اتنا کرپٹ ہوچکا ہے اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ یہ آج ڈیلور نہیں کرسکتا۔ چاہے وفاق میں ہو چاہے صوبے میں۔ یہ بات سمجھ لیں کہ اس نظام میں نہ پالیٹیشن کے پاس کپیسٹی ہے اور نہ بیوروکریسی کے پاس۔
پھر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر کسی کو میرے اس بیان سے تکلیف پہنچی ہو تو میں اس پر معذرت کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے نیک نیتی سے غریب کیلئے فنڈ جاری کیا لیکن اس میں چوری ہوئی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا صوبائی۔ میں نے نظام کا کہا ہے کہ یہ نظام کرپٹ ہوچکا ہے۔
تبصرہ نوشتہ دیوار: سیاستدان سچ بولنا شروع کریں تو ملک کے مسائل حل ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اگر دوسروں پر تنقید کے نشتر برسانے کے بجائے اپنی اصلاح اور نظام کی اصلاح کی طرف آئیں تو بہتر ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟

کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ
کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پاکستان لاالہ الااللہ کے نام پر بنا لیکن یہاں جھوٹ، بہتان، جبر، ظلم، فسق اور کفرکا راج ہے

جن سیاستدانوں کے سروں پر حکمرانی، عدالتوں پر عدل اور فوجیوں پر طاقت کا تاج ہے وہ عوام کی لاج نہیں رکھ سکے ۔دنیا بھر میں پاکستان آج اناج کی بھیک مانگ رہاہے؟

متحدہ ہندوستان میں ہندو بن کر رہتے اور گائے ماتا کا پیشاب پیتے تو بھی اس رسوائی سے بہتر تھا جو آج ہم دنیا کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کراپنی مراعات کیلئے کشکول لے کر گھومتے ہیں

اسماعیل نے ایڑیاں رگڑیں تو آب زم زم نکلا، کربلا میں یزیدکے لشکر نے حسین پر پانی بند کیا تو سپہ سالار حر نے کمزور حق کا ساتھ دیا یہاں تو ولایزید الظالمین الا خسارا کا مظاہرہ ہے

قرآن اللہ کی نعمت ہے ۔پاکستان بھی اللہ کی نعمت ہے۔ دونوں نعمتوں کے ساتھ سیاستدانوں، عدالتوں، سول وملٹری بیوروکریسی اور ہمارے مذہبی طبقات نے جو سلوک کیا اور عوام نے ان کے بہکاؤے پر جس طرح لبیک کہا ۔ہم اسی عذاب ، لعنت ، ظلم ، جبر ، تنگدستی اور بے بسی کے مستحق ہیں جہاں کھڑے ہیں۔
نام حسین کا لیتے ہیں اور کردار یزید کا ادا کرتے ہیں،نام آزادی کا لیتے ہیں اور کردار جبر کا ادا کرتے ہیں ، نام عدل کا لیتے ہیں اور کردار ظلم کا ادا کرتے ہیں۔ نام قرآن کا لیتے ہیں اور کردار فرعون، قارون اور ہامان کا ادا کرتے ہیں۔
ہندو بتوں کی پوجا کر رہے ہیںاور ہمIMFاور دنیا کے آگے ایڑیاں رگڑ کر بھیک مانگتے ہیں۔ عمران خان نے ٹھیک کہا تھا کہ سولی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFمیں نہیں جاؤں گااور پھر مجبوری میں جانا پڑا تھا۔ طالبان خان بننے کیلئے ایاک نعبد وایاک نستعینکا نعرہ لگایا اور پھر پیرنی کا زن مرید بن کر پاکپتن کی راہداری پر سجدہ ریز ہوا تھا۔حالانکہ مولانا شاہ احمد نورانی نے فرمایا کہ ”قبر کے سامنے سجدہ کرنا، جھکنا اور اس کو چومنا جائز نہیں حرام ہے اور عبادت کی نیت سے سجدہ کفر ہے”۔ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر نے بھارت کے مقابلے میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ ” کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے”۔ بے شک بدر میں مسلمانوں نے کم تعداد کے باوجود فتح پائی اور اُحد میں شکست کھائی ۔ حدیبیہ میں صلح کی اور مکہ میں فتح پائی ۔ کم تعداد اور زیادہ تعداد معیار نہیں، فتح وشکست اہل حق ہوتی رہتی ہے لیکن اپنے کردار پر نظر کرنی چاہیے۔ منافقت، ظلم، جبر، جھوٹ ، خیانت، مفاد پرستی ، فریب، دھوکہ دہی بری صفات کا وہ کونساکالا، لال، سفید ، لاہوری ، سمندری، سندھی پنجابی پختون نمک ہے جو ہمارے آٹے ، سالن اور تمام اشیاء خور د ونوش میں شامل نہیں؟۔
سندھ میں پہلی مرتبہ اسلام آیا تو اہل بیت نے بنی امیہ سے ہجرت کی تھی۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی تو حجاج بن یوسف جیسے فرعون کا دور تھا۔ پھر بھارت میں اسلام تین سوسال بعد داخل ہوا جب اسلام کا فرقہ واریت اور مسلکوں میں بٹوارہ ہوچکا تھا۔پاک وہند سے رسول اللہ ۖ کو جس اسلام کی خوشبو آئی تھی اس اسلام کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ آئیے ہم اس کا آغاز کردیتے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان نہ صرف عالم اسلام کیلئے بلکہ پوری دنیا کیلئے اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ بنے گا لیکن ریاست کو بھی ساتھ دینا پڑے گا سب سے پہلے علماء کرام ، مفتیان عظام اور مذہبی طبقات کی چھوٹی بڑی غلطیوں کو قرآن و سنت کے مطابق درست کرنا ہوگا۔ آج تک سیاسی پلیٹ فارموں سے لیکر مساجد کے ممبر و محراب تک اور مذہبی اسٹیجوں سے پارلیمنٹ کے ایوانوں تک کسی نے یہ نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں کیا کیا احکام نازل کئے؟۔
جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگا جو اُمت مسلمہ کی ماں ، رسول اللہ ۖ کی زوجہ محترمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی دختر نیک اختر تھیں تو قرآن میں بہتان لگانے والوں پر80،80کوڑوں کی سزا کا حکم ہوا۔ بہتان لگانے والوں میں حضرت ابوبکر کے قریبی عزیز حضرت مسطح ، حضرت حمنہ نبی ۖ کی سالی اور مشہور نعت خوان حضرت حسان شامل تھے۔ اگر ایک غریب اور کمزور خاتون پر بہتان لگایا جائے تو بھی قرآن میں اس کی یہی سزا ہے۔ دنیا کو اگر معلوم ہوجائے کہ اسلام میں اتنی مساوات ہے تو اسلام قبول کرلے۔
آج جمہوریت کے دور میں بھی ہم اسلام کا پیغام گلی کوچوں سے لیکر بین الاقوامی دنیا تک عام نہیں کرسکے ہیں۔ دنیا میں اسٹیٹس کو کے خاتمے کیلئے اسلام ایک واحد ذریعہ ہے۔ غریب کی بیٹی بھوک سے مرسکتی ہے لیکن کروڑوں روپے کے عوض مردوں کے سامنے اسٹیج پر چڑھ کر نخروں سے تقریر نہیں کرسکتی۔ غریب کی ہتک عزت پر عدالت میں اتنا پیسہ بھی نہیں مل سکتا جس سے وکیل اور عدالت کی فیس بھری جاسکے۔ امیر کی ہتک عزت اربوں میں ہوتی ہے۔ پھر غریب کیلئے یہ بھی بڑی سزا ہے کہ وہ چند ہزار کا جرمانہ بھرے۔ اور امیر کیلئے لاکھوں کی فیس بھی کوئی سزا نہیں ہے۔ کوڑوں کی سزا امیر غریب سب کیلئے یکساں ہے۔
اللہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم قرآن میں سے نازل کرتے ہیں جو لوگوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں”۔ پاکستان خسارے کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ظلم سے رک نہیں رہا ہے۔ پہلی مرتبہ آرمی چیف حافظ بھی ہیں اور سید بھی۔ کرپشن کے بھی ان پر کوئی الزامات نہیں۔ لیکن ملکی حالات سیاسی اور عدالتی حساب سے انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ پاک فوج ایک بڑا ادارہ ہے جس میں کور کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد ہے اور بہت بڑے پیمانے پر اس میں جفاکش سپاہی اور افسران ہیں۔ اگر مشاورتی عمل سے اپنے اندر پہلے اصلاح کا کام شروع کریں اور پھر اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلائیں تو یہ صورت ملک و قوم کو اس مخدوش حالات سے نکالنے کا سبب بن سکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

سیاست میں اعتدال نہیں رہاہے تو مذہبی بے اعتدالی کا راستہ کون روکے گا؟ اللہ نے قرآن میں ہمیں امت وسط معتدل مزاج امت قرار دیا ہے

جس دن صحافیوں نے مذہب کی طرف توجہ کی تو پاکستانی قوم میں بہت بڑا فطری، نظریاتی اور انسانی انقلاب برپاہوجائیگا ذرا توجہ کریں تو سہی!

شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور جماعت اسلامی وتبلیغی مرکز میں اختلافات ہیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی کا تعلق پہلے جماعت اسلامی سے تھا اور پھر مولانا مودودی کے خلاف کتاب لکھ کر تبلیغی جماعت کے اکابر بن گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی ”فتنہ مودودیت” کتاب لکھ ڈالی تھی۔ مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف استفتاء لکھ کر پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علماء ومفتیان سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگوایا تھا، جن کے فرزند مولانا سجاد نعمانی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد کے بہت بڑے داعی اور علمبردار بن گئے ہیں۔
علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی نے جماعت اسلامی انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر عبارات کے حوالہ جات دئیے بغیر دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ انہو ں نے مولانا مودودی وغیرہ کی عبارات سمجھ کر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے تھے۔حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی کتابوں سے عبارات لئے گئے تھے۔جس پر شیخ الحدیث مولانا زکریا نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی کہ ہم اپنے اکابرین اور دوسرے کے درمیان کیوں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں؟۔ جس کا صاف الفاظ میں خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ”اپنے کریں تو چمت کار اور دوسرے کریں تو بلت کار ”۔ دوسروں کو مطمئن کرنے کی جگہ اپنوں کو اطمینان دلاتے ہیںتو ہمارا مذہب صرف کمزور لوگوں میں خوش فہمی کا باعث بنتاہے۔
اللہ نے فرمایا: کل حزب بمالدیھم فرحون ” ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ”۔ دیوبندی بریلوی اپنی کتابوں میں اپنے بزرگوں کے کرامات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا کمالات حاصل کئے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک ماموں کا قصہ بڑا عجیب ہے ۔ ملامتی صوفی اور بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ماموں نے سب کو ماموں بنادیا تھا۔ جب بات غلو تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو بیان کیا جائے تو ناقابل یقین بن جاتا ہے۔
مدارس اور مساجد میں ظلم وتشدد اور جبر واکراہ کا وہ سسٹم نہیں ہوتا ہے جس کو جماعت اسلامی نے کالج اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھایا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ نے جس انداز میں مشعال خان کو شہید کیا تھا تو اس کاسارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے بانی ومہتم مفتی محمد نعیم نے مشعال خان کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پشاور میںطلبہ کو شاباش دینے کیلئے جلسہ رکھا تھا۔ مدارس کی تعلیم میںشافعی حنفی مالکی حنبلی مسالک پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں علم وشعور اور اختلاف برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے مگر جماعتی بہت جاہل اور ظالم ہوتے ہیں۔وہ اس تشدد پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ کسی عالم دین کو اپنا امیر بناکر جاہلوں سے تشدد کا عنصر بالکل نکال دیں۔
مظہر عباس ، وسعت اللہ خان اینڈ کمپنی،محمد مالک، روف کلاسرا ، سلیم صافی اور حامد میر وغیرہ کبھی مدارس ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھاکر کچھ مسائل پر افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ مثلاً دعوت اسلامی کے مفتیوں نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ ” روزے کی حالت میں ٹٹی کرنے کے بعد اپنے پاخانہ کی جگہ دھویں تو اس کو فوراً کپڑے سے سکھالیں، اگر ایسا نہیں کیا تو آنت کا ٹکڑا واپس اندر چلاجائے گااور روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
آنت کا نکلنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن گئے ہوں گے۔ جب یہ مسئلہ الیکٹرانک میڈیا پر اکابر ین کے سامنے زیر بحث لایا جائے گا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اکابر کی بات درست ہوگی تو بہت لوگوں کے روزے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور اگر ان کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اس مسئلے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسلئے کہ آنت بہت لمبی ہوتی ہے اور اس میں مقعد کے راستے سے معدے تک پانی کا اس طرح سے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی دور میں پچکاری کے حوالے سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہوگی کہ پریشر سے پانی معدے تک نہ پہنچ جائے لیکن الٹراساونڈ کی ایجاد سے مسئلہ سمجھنے میں مشکل نہیں اور بہت اکابر بھی اس بے جا مشقت سے بچ جائیں گے۔
مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ ” غسل کے تین فرائض ہیں۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا”۔ یہ حنفی کے نزدیک ہیں اور شافعی کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں وضو کی طرح سنت ہے۔ مالکی کے نزدیک جب تک جسم کو مَل مَل کر نہ دھویا جائے توفرض پورا نہیں ہوگا۔ گویا ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں وضو کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وان کنتم جنبًا فطھّروا ” اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ حنفی کہتا ہے کہ وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں ہے لیکن اس آیت میں پاکی کے اندر مبالغہ ہے اسلئے جنابت سے نکلنے کیلئے یہ فرض ہے۔ مالکی کہتا ہے کہ مَل مَل کر دھونا بھی مبالغہ کی وجہ سے فرض ہے۔ یہ فرائض اور ان پر اختلافات قرآن وحدیث ، خلفاء راشدین ، صحابہ اور تابعین کے 7فقہاء مدینہ کے ہاں بھی نہیں تھے لیکن پھر وجود میں آگئے۔
اس مشکل سے نکلنے کیلئے قرآن میں ہے کہ جنابت سے نکلنے کیلئے غسل یعنی نہانا ہے۔ بس وضو کے مقابلے میں نہانے کے اندر جو مبالغہ ہے وہی کافی ہے۔ نہانا یہود، نصاریٰ ، مشرکین مکہ ، ہندو اور سبھی کو آتا ہے۔ حتی کہ جانور اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاورمیں پوزیشن ہولڈر میرا ایک کزن اس کی وجہ سے کہ غسل ہوا یا نہیں ہوا ؟ اپنی زندگی کی خوشیوں سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv