پوسٹ تلاش کریں

مغرب اورعالمِ اسلام کی جنگ یہودکا عالمی منصوبہ

مغرب اورعالمِ اسلام کی جنگ یہودکا عالمی منصوبہ

یہود کا شیطانی نظام سودی معیشت ہے ۔کمیونزم کے بعد اسلامی معیشت سے اس کو زبردست خطرہ ہے

مفتی تقی عثمانی ، جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام وغیرہ یہودی سودی نظام کے آگے بالکل ڈھیر ہوچکے

جب امریکہ کا9/11ہوگیا تو افغانستان پر حملہ آور امریکہ نے اسامہ کے بہانے افغانستان میں لاکھوں افراد کو مارڈالا۔ اسامہ بن لادن کی تلاش میں سارا وطن چھان مارا۔ کافی عرصہ بعد جب افغانستان اور پاکستان کی بربادی ہوچکی تھی تو پاکستان کے ایبٹ آباد میں مارا گیا یا لے گئے؟۔ اس کا انحصار امریکہ اور میڈیا پر ہے۔طالبان کے کچھ لوگ گوانتا ناموبے لے جائے گئے۔ جن میں افغان سفیر ملاعبدالسلام ضعیف بھی شامل تھے جبکہ اس کے نائب حبیب اللہ فوزی نے طالبان کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔ جس کا مطلب طالبان میں بھی اقسام وانواع کے افراد تھے۔ کچھ پاکستان کے مہمان تھے۔ کچھ پاکستان سے جہاد کی سرپرستی کررہے تھے اور افغانستان میں لڑرہے تھے اور کچھ قطر میں بیٹھ کر امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کررہے تھے۔ اس انڈسٹری کے مختلف شعبہ جات اپنا اپنا کام کررہے تھے۔20سال میں چار لاکھ افغان،80ہزار پاکستانی مارے گئے جبکہ صرف ڈھائی ہزار امریکی فوج مر گئے یا مارے گئے؟۔
اب اگر20سالوں تک غزہ میں اسرائیل کی کاروائی جاری رہی تو اس کے نتیجے میں فلسطین کے مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ شمالی فلسطین سے جنوبی نقل مکانی کرنے والوں کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ گدھا گاڑی میں جگہ ملے نہیں تو پیدل میلوں کا سفر اپنے مختصر سامان کیساتھ کرنا پڑرہاہے۔ سب کی جامع تلاشی بھی لی جاتی ہے اور جوان مردوں کو سب کے سامنے الف ننگا کیا جاتا ہے۔ لاشیں بکھری پڑی ہیں اور عمارتوں تلے دبنے والی لاشوں کا کچھ اتہ پہ نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے سراج الحق خوش ہیں کہ حماس نے فتح حاصل کرلی ہے لیکن فلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کیساتھ جو ہورہاہے اس کو فتح کا نام دینا بڑی سفاکی ہے۔ کشمیر اور افغانستان میں ہندوستان، روس اور امریکہ کے خلاف جہاد میں بچ جانے والے سراج الحق اور سینیٹر مشتاق خان کا بس نہیں چلتا ہے کہ شہید ہونے کیلئے کس اڑن طشتری پر بیٹھ کر اسرائیل پہنچ جائیں؟۔ تاکہ کچھ یہودیوں کو قتل کر ڈالے اور خود بھی قتل ہوں۔پتہ نہیں کتنے ہندو، روسی اور امریکن ان کے ہاتھوں سے واصل جہنم ہوئے ہیں جو اب یہودیوں کو ماریں گے؟۔
جب روس کے خلاف جہاد تھا تو قاضی حسین احمدامیر جماعت اسلامی نے بڑے ذوق سے کراچی میں اپنی قیام گاہ کانام بھی وائٹ ہاؤس رکھا تھا۔ہماری تنبیہ پر اس نام کی تشہیر ختم ہوگئی ،نہیں تو امریکہ جب افغانستان میں لڑرہاتھا تب بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ ڈرامہ بازی ختم کرکے فلسطین کے لوگوں کی مشکلات کوختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرناچاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے سن2007میںطالبان کو خراسان کے دجال کالشکر قرار دیا تھالیکن میڈیا نے اس بیان کو کوریج نہیں دی ۔حالانکہ مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریرمیں خراسان سے نکلنے والے دجال کی حدیث پڑھ کر سنائی تھی اور طالبان پراس کے لشکر کی نشانیوں کی نشاندہی کی تھی۔یہ دیکھناہوگاکہ ملا عمر پر خراسان کے دجال یا خراسان کے مہدی کی نشانیاں صادق آتی ہیں۔بعض علماء نے ان پر خراسان کے مہدی کی روایت بھی فٹ کی ہے۔مہدی بھی ایک کردار کا نام ہے اور دجال بھی ایک کردار کا نام ہے۔آخری خطبہ کی حدیث صحیح بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایاکہ مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے انہوں نے دجال کے فتنے سے اپنی امت کو ڈرایا۔ وہ تم میں سے ہی ہوگا۔اگر تم اس کو نہ پہچان سکو تو اللہ ضروراس کو جانتا ہے۔اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی اوردوسری انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔مسلمانوںکی جان ،مال اورعزت کی حرمت تم پر ایسی ہے جیسے آج کے دن (یوم عرفہ) کی حرمت اس مہینے (ذوالحجہ) اور اس شہر(مکہ مکرمہ) میں ہے۔خبردارمیرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔
اس حدیث میں دجال کی ایک نشانی ایک آنکھ کا اندھا ہونا اور دوسری کا انگور کے دانے کی طرح ابھرا ہونا بھی اہم نشانی ہے لیکن اصل چیز یہ ہے کہ شاید اس کو خود بھی پتہ نہ ہو کہ وہ دجال کا کردار ادا کررہاہے اور مسلمان بھی نہیں جانتے ہوں کہ وہ دجال ہے ۔البتہ اس کا اصل کردار مسلمانوں کا آپس میں قتل وغارت ہے۔افغانستان میں افغانی افغانی کو قتل کررہے تھے اورپاکستان میں پاکستانی مسلمان پاکستانیوں کو قتل کررہے تھے۔لال مسجداسلام آبادکے آپریشن سے پھرطالبان کی مردہ روح میں جان ڈالی گئی۔جاویدچوہدری ،عرفان صدیقی اور انصار عباسی طرح کے لوگ دہشت گردوں کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے اور رؤف کلاسرا جیسے لوگوں کو سچ لکھنے پر جان کے لالے پڑے رہتے تھے۔
علماء دیوبند میں کچھ لوگ سرمایہ دارانہ سودی نظام کے مقابلے میں کمیونزم کو اسلام کے قریب سمجھتے تھے۔سن1970میں اسلئے مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا عبداللہ درخواستی ،مفتی محمود اور جمعیت علماء اسلام پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع، مولانا رشیداحمد لدھیانوی ، مولانا سلیم اللہ خان اور مفتی تقی عثمانی سے لیکر دارالعلوم کراچی کے چوکیداروں نے بھی مفتی کے نام پر دستخط کئے تھے اور اس کی اصل محرک اور پروپیگنڈہ مہم جماعت اسلامی تھی۔جبکہ مولانا یوسف بنوری اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اس فتوے کا حصہ نہیں تھے۔
کمیونزم کوشکست دینے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام معیشت بہت بڑا چیلنج تھا۔جہاد اور دہشت گردی کی لہر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء ومفتیان کی پوری ٹیم اڑادی گئی۔مولانا سیدمحمد بنوری شہید اپنے گھر میں قتل ہوئے اور خودکشی کا الزام بھی جنگ اخبار میں لگایا گیا تھا۔مفتی تقی عثمانی نے یہودی نظام کے سود کو اسلامی قرار دیا اور سب علماء نے متفقہ فتویٰ کے عنوان سے مخالفت کی لیکن جب عالمی قوت کا سہاراتھاتو پھروہ سب ملکر بھی کچھ نہیں بگاڑسکے۔اسلام نے سودکو حرام اور اللہ اور اسکے رسول ۖ سے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔اس کو حیلے کے ذریعے حلال کرنے کی چارہ جوئی کا حکم نہیں دیا ہے۔سود کی حرمت کے بعد رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔مولانا سیدمحمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے مزارعت پر اپنی مکمل تحقیقات بھی شائع کی ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے ان کی حمایت میں اپنے تأثرات بھی قلم بند کئے ہیں۔کرائے کے جہادی کلچر کے ذریعے ان علماء حق کو مارنے کا پروگرام ہے جو اسلامی نظام معیشت کا نام لیتے ہیں۔
اسرائیل کی پوری کوشش یہی ہے کہ مغرب اورعالم اسلام کی جنگ چھڑ ے اورچین وعرب اورہندوستان ہمارا کے ترانے گانے والے علامہ اقبال کی امید پر پانی پھر جائے۔معیشت پر مکمل کنٹرول کے بعد مسلمانوں کو مغربی تہذیب اور تمدن سے ٹکرانے کی خواہش رکھنے والے امریکہ واسرائیل کو ناکام کیا جائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طالبان پر استاذان کو اعتمادکافقدان یامکافاتِ عمل کا بحران؟

طالبان پر استاذان کو اعتمادکافقدان یامکافاتِ عمل کا بحران؟

پاکستان اور افغانستان میں کیا ایک گھمسان کی جنگ ہونے جارہی ہے اس کا فائدہ اور نقصان کیا ہوگا؟

پہلے نوازشریف پھر عمران خان کے صحافیوں نے بداعتمادی کی وہ فضا بنادی جس کا مداوا آسان نہیں ہے!

ظاہر شاہ بیرون ملک دورے پر گیاتو سردار داؤد نے حکومت پر قبضہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے وقت احمدشاہ مسعود، گلبدین حکمت یار پاکستان آئے اور امریکیCIAکو پشاور میں اڈہ دیا گیا۔ روس سے افغانی بڑے پیمانے پرمہاجر بن گئے۔پاکستانی باغیوں کو افغانستان اور افغانی باغیوں کو پاکستان پناہ دیتا تھا۔ اجمل خٹک ، ولی خان ، خیربخش مری ، مرتضیٰ بھٹو کی الذوالفقارنے افغانستان میں پناہ لی تھی۔ قائد ملت لیاقت علی خان کے قاتل سیداکبر افغانی کے ساتھی افغانستان سے کشمیر جہاد کیلئے500مجاہدین لائے۔ افغانستان نے اسکی زمین ضبط کرلی ۔پاکستان نے بڑی زمین گومل ٹانک دی تھی مگرپیپلز پارٹی کے گلزار احمد خان نے خرید ی تھی ۔ میرے والد پیر مقیم شاہ نے ان کی صلح کرائی کہ گلزارحمد خان کیس کا خرچہ اٹھائے گا ۔ پھر عدالت سے اس کو زمین مل گئی تو مفتی محمود وزیراعلیٰ تھے اور انہوں یہ زمین سندھ کی سرحد میں منتقل کی اورجو آخر کار گم بھی ہوگئی۔
بیگم راعنا کابرہمن خاندان ہندو سے عیسائی بناتھا۔ پڑوسی ہندو دال سبزی پکاتے اوربیگم کے گھرمیں گوشت کی خوشبوایک فتنہ تھا۔حکمران انگریز کے لباس میں سکول کالج جاتی تو مشرق میں سورج مغرب سے طلوع ہوتاتھا۔ مشہور تھا کہ بیگم کی وجہ سے لیاقت علی خان نے کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کیا۔ شاید اسلئے اس کا قتل افغانی سے کروایا گیا۔ اقبال نے پنجابی اور افغانی کردار کی عکاسی کی ۔
مذہب میں بہت تازہ پسند اسکی طبیعت
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
وہ مس بولی ارادہ خود کشی کا جب کیا میں نے
مہذب ہے تو عاشق ! قدم باہر نہ دھر حد سے
نہ جرأت ہے نہ خنجر ہے تو قصدِ خود کشی کیسا؟
یہ مانا دردِ ناکامی گیا تیرا گذر حد سے
کہا میں نے کہ ” اے جانِ جہاں کچھ نقد دِلوا دے
کرائے پر منگالوں گا کوئی افغان سرحد سے”
بیگم راعنا بہت ایڈوانس تھی ، یونیورسٹی میں اکلوتی لڑکی تھی ۔ سیلاب زدگان کیلئے شو کے ٹکٹ بیچ رہی تھی تو لیاقت علی خان نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹکٹ لیا۔ اس نے کہا: کم ازکم دو ٹکٹ تو لیں، لیاقت علی خان نے کہا: میرا ساتھی نہیں، اس نے کہا کہ میں تیرے ساتھ آؤں گی اور پھر شادی ہوئی۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد گمان تھا کہ وہ واپس ہندوستان چلی جائیں گی ۔ خاتون اول مادرِ ملت پاک فوج میں برگیڈئیر جنرل بھی تھی اور یہ عہدہ فوج میں صف اول کاہوتا تھا۔
جنرل ایوب نے فاطمہ جناح کے خلاف میدان میں اترنے کیلئے کہا تھا مگر اس نے کہا: سفیر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ۔بھٹو نے بیگم کوگورنر سندھ بنایا۔ جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین اورامتناع قادیانی آرڈنیس کی مخالفت کی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی ولی حسن ٹونکی نے کہا کہ ” بیگم راعنا لیاقت کی رگ پھڑک رہی ہے”۔ یہ بیان روزنامہ جنگ میں لگا تو بیگم نے ہتک عزت کا کیس کیا۔ جج نے مفتی ولی حسن سے کہا کہ معافی مانگو۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے ، معافی نہیں مانگ سکتا۔ جس پر جمعیت علماء اسلام سندھ کے قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ ”مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن زندہ باد” اور اس دن سے مفتی اعظم پاکستان کے لقب سے شہرت ہوئی۔
افغانستان کی بدلتی حالت میں افغان عوام و ریاست کا مؤقف الگ تھا اور پاکستان،ISIکی سپورٹ مجاہدین و طالبان کو تھی۔ پاکستان نے مجبوری میں طالبان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا ،تب بھی ایک پیج پر تھے۔ جب طالبان نے کابل فتح کیا تو کورکمانڈر پشاور فیض حمید اور عمران خان نے خوشیاں منائیں۔TTPبھی دوبارہ سوات ، وزیرستان اور پاکستان میں لائی گئی۔ صحافی ہارون الرشید نے کہا کہTTPسیاست کرے گی بنٹے تو نہیں کھیلے گی؟ مگر فوج کیخلاف کچھ کیا تو اس کے خلاف زمین گرم کردی جائے گی۔ سلیم صافی نے بھی رپورٹ کیا کہTTPکے امیرنور ولی محسود میں سابقہ امیروں کے مقابلے میں زیادہ صلاحیت ہے۔ پھر فوج کی کمانڈ تبدیل ہوگئی تو صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
افغانی مسلمان ، پٹھان، انسان بھائی ہیں۔ اگر یہود، سکھ ، ہندو، پنجابی اور اسرائیلی کیساتھ ایسا ہو بلکہ لگڑ بگڑ، بھڑئیے کوسخت سردی میں دھکیلنے پر بھی دکھ ہوگا۔ بڑی تعداد میں چھوٹے بچوں ، جوان لڑکیوں اور بوڑھوں کو بے سروسامانی میں اس طرح دھکیلنا ؟۔ لیکن ہمارا دکھ پنجابی افغانی، فلسطینی یہودی اور شیعہ سنی لڑائی میں کسی کام کا نہیں۔ چڑیا چونچ کے پانی سے نمرود کی آگ نہیں بجھا سکتی ۔ اللہ پھر سب کچھ کرسکتا ہے اور قرآنی تعلیمات سے انسان بھی حالات بدل سکتے ہیں۔
نوازشریف کے حامی اسد علی طور(جس کی پٹائی لگنے پر حامد میر نے جنرل رانی کا طعنہ فوج کو دیا ) نے بتایاکہGHQمیں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ طالبان نے ردِ عمل میں کاروائیاں کی ، فوج کی بھی غلطیاں تھیں۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کوسردی میں بھیجنا، پالیساں بدلتی ہیں پھر رد عمل آتاہے؟۔ آرمی چیف نے کہا کہ یہ ریاست کا فیصلہ ہے جو نہیں بدلے گا۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ الیکشن بھی نہ کراؤ۔ چیف تیرے جانثار بیشمار بیشمار کے نعرے لگائے۔ جہاں تم پسینہ گراؤ وہاں ہماراخون گرے گا۔ چھرے قصائی تیز کرتے ہیں،جان بکروں کی نکلتی ہے۔ فوجی سپاہی،پاکستانی عوام اور پختونوں کا پھر کیا بنے گا؟۔ فضاؤں کا رُخ بدلنے کیلئے قرآن کے عالمگیر انقلاب کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خطے میں لڑائی کا انجام معدنی ذخائر پراغیار کا قبضہ؟

خطے میں لڑائی کا انجام معدنی ذخائر پراغیار کا قبضہ؟

لاکھوں افغان مہاجر کوشدید سردی میں40سال بعد بے سروسامانی کیساتھ بھیج دینا جس میں کچرہ چن چن کر کمائی کرنیوالوں کی محنت بھی ڈوب جائے؟۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
باجوڑ جمعیت علماء اسلام کے جلسہ میں خود کش سے بڑی تعداد کی شہادت ، چترال حملہ ، میانوالی ائربیس، پختونخواہ، بلوچستان اوردیگر حملوں کا ردعمل کہاں تک پہنچے گا؟۔جنگ کا فائدہ کس نے اٹھایا؟۔ نقصان کا سامنا کس کو کرنا پڑا؟۔ جنرل ضیاء ، اختر عبدالرحمن، پرویزمشرف کے بچوں کوکیا تکلیف ؟۔ اگر لاکھوں افغان مراور بے گھر ہوگئے ۔ جرنیلوں و سیاستدانوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنالیں؟۔ لیکن افغانیوں نے ایک دوسرے کیساتھ بھی بہت برا کیا اور ان کی وجہ سے پاکستان بھی متأثر ہوا ۔پھر لڑائی چھڑ گئی تو طالبان حکومت بھی جائے گی لیکن شاہ نعمت اللہ کی پیشگوئی دریائے سندھ خون سے بھر جائیگا اور پنجاب کے دل سے دوزخی خارج ہوجائیں گے؟۔ کشمیر کوفتح کرنے والے قبائل اپنے زخموں سے فارغ نہیں اور پنجاب وسندھ کی عوام کو سیاست کے قابل نہیں چھوڑاہے۔
20لاکھ افغان مہاجرین سردی میں افغانستان جائیں تو اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے لوگ سہارا دیں لیکن یہ خود کش کی صورت میں پنجاب کا رُخ کریں گے۔ ہندوستان کی مداخلت کا خطرہ ہوگا جو روس سے ایٹمی میزائل گرانے کی صلاحیت حاصل کرچکا۔اس نے میزائل پھینکا تھا مگر ہم نے جوابی کاروائی سے ہوشیاری کرکے گریزکیا۔حقائق سے صرف نظر ہوتوسوشل میڈیا میں کچھ چھپتا نہیںہے۔
افغان طالبان سے چین نے سرمایہ کاری سے پہلے یہ اطمینان حاصل کیا کہ وہ امریکہ کا ٹاؤٹ بن کر دھوکہ تو نہیں کرے گا۔ پھر چین نے سرمایہ کاری کی۔ یہ خیال ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر چین سے دھوکہ کیا اور افغانستان میں بھی چین کا پیچھا امریکہ کے حکم پر کر رہا ہے تو ایک طرف ہندی اور دوسری طرف افغانی پاکستان کی وحدت کی واحد علامت اوراکلوتہ ذریعہ پاک فوج کے خون سے دریائے سندھ کو بھر دیں گے؟۔ یہ ہے دشمن کا اصل منصوبہ اور اسی کو عملی جامہ پہنایا جائیگا؟۔ یا پھر قادیانیوں کو پنجاب کے دل سے بھگاد یا جائیگا؟۔
پاک فوج کے جوانوں نے امریکی جنگ میں جن مشکلات، خوف وہراس اور شہادتوں کا سامنا کیا تو دل د ہل جاتا ہے لیکن پارلیمنٹ سے فیض آباد دھرنے تک قادیانی اور انکے سہولت کاروں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑاہے۔
فوجی کا دل ہوتا ہے دماغ نہیں۔ تابعداری اور جنگ کی تربیت ہوتی ہے۔ مغرب کی پشت پناہی سے روس کو شکست دی تھی اگر لڑائی میں طالبان وچین بھی پاکستان کیخلاف ہوں اور ہندوستان بھی؟۔ خود کش مساجد، بازار اور عدالت کو نشانہ بناتا تھا، فوج کے ٹاؤٹ نوازشریف اور عمران خان پر حملہ نہیں کیا اوراب تنہا نوازشریف اور فوج حملوں کیلئے رہ جائیں گے؟۔ذرا سوچئے تو سہی؟۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ طالبان نے چین کیخلاف امریکہ سے ڈکٹیشن قبول نہیں کی اور پاکستان کی اسٹبلیشمنٹ سے امریکہ زیادہ اطمینان محسوس کرتا ہے اسلئے کہ پہلے اکٹھے کام کرچکے ہیں۔ اگر نہیں کیا تو وہ اپنی پراکسی اپوزیشن یا مسلح جدوجہد کرنے والوں کو بناتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین سے افغان مہاجرین کیساتھ زیادتی سے پاکستانیوں کا رُخ مڑ گیا۔ تو دوسری طرف واحد ایٹمی قوت سے عقیدت کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا۔ سیاسی ،عدالتی اور ریاستی کھوکھلے پن کا اندازہ مرکز و پنجاب کی عبوری حکومتوں کے اقدامات سے لگتا ہے۔ جس عمران خان اور طالبان کو سرپر چڑھایا تھا اور نوازشریف کو پٹخ دیا تھا تو کیا اب الٹی گنگا بہانے سے معروضی حالات تبدیل ہوںگے؟۔کہیں منزل کھو تو نہیں رہے ہو؟،سیاسی تدبر چاہیے!۔
افغانستان امن وامان اور خوشحالی کا گہوارہ بن گیا تو افغانی روکنے سے بھی نہیں رکیں گے، جو ہندوستانی مہاجرکی طرح مادر وطن سے دشمنی کی بنیاد پر ہجرت کرکے نہیں آئے ۔ یہ ماحول تشکیل دیا جائے کہ ہندوستانی مہاجر بھی اپنے آبائی وطن کی زیارت کیلئے آسانی سے آجاسکیں اور اپنے عزیز واقارب سے مل سکیں۔ آبائی وطن سے محبت فطرت ہے۔ ان پر راء ایجنٹ کا جھوٹاالزام نہ لگایا جائے۔ یہ غلط ہے کہ جب چاہو تو12مئی میںMQMکو استعمال کرو اورپھر ایکTVچینلARYپرحملے کی پاداش میں ان پر پابندی لگاؤ؟۔ حالانکہ دوسرےTVچینلGEOپر روزانہ تحریک انصاف کے کارکن حملہ آور ہوتے تھے۔
سپریم کورٹ اورپھر پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپرقبضہ کرنے والوں پر بھی ایسی پابندی نہیں لگی جو ایک چینل پر حملہ کرنے کی وجہ سے الطاف حسین پر لگائی گئی؟۔ یہ وہی قائد تحریک الطاف حسین تھا جو ہر روز کور کمانڈروں کو جمہوریت پر چڑھ دوڑنے کی دعوت دیتا رہتا تھا۔ زمین نے چہرہ دکھایا آسمان کو کیسا کیسا؟۔
پاکستان افغانستان امن وامان کی بحالی اور اسلام کی اعلیٰ ترین تعلیم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اکٹھے ہوں تو جنت نظیر بنیں گے، نہیں تو تباہی وبربادی ہوگی۔ پاک فوج اور طالبان کی دوعظیم طاقتیں ٹکرائیں گی تو امریکہ معدنی ذخائر پر قبضہ کرلے گا۔ اگر لڑنا ہے تو پھر بھی اللہ شر سے خیر نکالنے پر قادر ہے۔ پاکستانی اپنی فوج سے اور افغانی بھی طالبان سے بہت بیزار ہیں ،یہ قدرت کا انتظام ہوگا؟۔
سوات سے وزیرستان تک فوج کے چہیتے طالبان نے سکو ل تباہ کئے، ملالہ کو ایوارڈ ملا۔پنجاب مری اور ہیرا منڈی محفوظ تھے۔انصار عباسی، لال کرتی کے عرفان صدیقی ،جاوید چوہدری ، علامہ طاہر اشرفی طالبان کی تسبیح پڑھتے تھے۔ افغانی اپنے طالبان کی شریعت ، پاکستانی اپنی فوج کی سیاست سے بیزار ہیں۔ قدرت کے انتقام وانقلاب سے ڈریںاور اپنی اصلاح کریں تو بہت اچھا ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین،افغان مہاجرین، چمن لغڑیان کے مسائل کا حل مکس مصالحہ نہیں افہام وتفہیم ہے

فلسطین،افغان مہاجرین، چمن لغڑیان کے مسائل کا حل مکس مصالحہ نہیں افہام وتفہیم ہے

امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی سورة القدر کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :
”قرآن مجید کی پہلی سورت ”اقراء باسم ربک الذی خلق” لیلة القدر میں نازل ہوئی اور لیلة القدر کا اگر آج کی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو کہا جائیگا کہ بجٹ کی میٹنگ خطیرة القدس میں ایک کام پیش ہوتا ہے اور پھر اس پر فیصلہ ہوتا ہے۔….. یوں سمجھئے کہ سن86ہجری میں یہ100برس پورے ہوتے ہیں۔ اسی سال ولید نے عمر بن عبد العزیز کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا اور انہوں نے مدینہ کے علماء کو جمع کرکے سنت (حدیث) کے لکھنے کی بنیاد ڈالی۔ …عمر بن عبد العزیز نے انٹرنیشنل روح قائم کرنے کیلئے آیت ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان آیت کا خطبہ جمعہ میں داخل کردیا۔ جو خطبہ میں آج تک ہے۔ عمر بن عبد العزیز کی تجدید کے متعلق ہمیں خوشی ہے کہ اسی زمانے میں سندھ فتح ہوا۔ آپ کی خلافت میں سندھ کا اکثر حصہ اسلام میں داخل ہوا۔ ہندوستان میں اسلام کا یہ اول بیج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے سندھ کے ساتھ پنجاب، کشمیر، سندھ، فرنٹیئر اور افغانستان وغیرہ میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ مسلمانوں کی مرکزی جماعتیں ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں۔ دریائے سیحون درحقیقت دریائے سندھ ہے جس کا حدیث میں ذکر آتا ہے۔……. پنجاب کے پانچوں دریا اور کابل کا دریا درحقیقت دریائے سندھ کا احاطہ ہے۔ تمام ہندوستان ہندوؤں کیلئے چھوڑ سکتے ہیں مگر پنجاب، کشمیر، سندھ، فرنٹیئر ، بلوچستان اور افغانستان سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے۔ خواہ وہ تمام دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئیں۔ غرض مسلمانوں کا مرکزی حصہ یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمر بن عبد العزیز نے قرآن کے ماتحت عربی ذہنیت کو مہذب کردیا ۔ ہمارا خیال ہے کہ عجمی ذہنیت کو امام ابو حنیفہ نے زندہ اور مہذب کردیا۔ …… (تفسیر المقام المحمود، آخری پارہ۔سورة القدر)
آج بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کو سمجھا نہیں جاتا ۔ فلسطین اسرائیل کا مسئلہ الگ اور یہود مسلمان کا مسئلہ الگ ہے۔ دونوں کو مکس کرکے فلسطین کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط بنارہے ہیں۔ فلسطین ایک آزاد ریاست چاہتا ہے اور جو عرب و مسلم ممالک اس کی آزاد ی چاہتے ہیں وہ دو ریاستی حل چاہتے ہیں کیونکہ فلسطین برائے نام آزاد ہے اور ہماری افواج پاکستان، ریاست اور حکومت کا بھی مؤقف یہی ہے۔ عمران خان نے بھی کہا کہ اگر فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا تو اسرائیل کو مان لیںگے۔سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن قوم کو یہ بتادیتے کہ حماس رہنماؤں نے کونسامؤقف اپنایا ہواہے؟۔
افغان مہاجرین کے جانے کا فائدہ طالبان کو ہے، پورا افغانستان آباد ہوگااور پاکستان کو نقصان سے بچنے کی فکر ہے۔چمن لغڑیاں کا مسئلہ الگ ہے اور پاکستانی اور افغانی پاسپورٹ کا مسئلہ الگ ہے اور دونوں کو مکس مصالحہ بنانے سے معاملہ خراب ہوگا۔ افغانستان میں پختون، تاجک، ازبک اور ہزارہ ہیں۔ پاکستان میں پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ اور کشمیری وغیرہ ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے دہلی اور جالندھرکا پنجابی الگ اور لاہور وملتان کا الگ ہے ،اسی طرح افغانستان کے کابل وقندھار کا پختون الگ ہے اور کوئٹہ ،وزیرستان و سوات کا الگ ہے۔ دشمنی کی ضرورت دہلی واسلام آباد کو ہے اور نہ کابل ولاہور کو۔ پاکستان نے ملاعبدالضعیف کو امریکہ کے حوالے کرکے بہت غلط کیا اور طالبان نے صدر نجیب کو لٹکاکر ۔ افغانی ایکدوسرے کو معاف کریں اور افغانی پاکستانی بھی۔ چمن میں لغڑیان جائز دیہاڑی کماتے ہیں۔زیادہ تر پاکستانیوں کی دکانیں افغانستان میں ہیں۔ اچکزئی اشرف غنی حکومت میں تھے ۔ نورزئی طالبان حکومت میں ہیں۔ حافظ حمداللہ نورزئی ہے اور جان اچکزئی نگران حکومت میں ہے۔ افغانستان کے پھل وسبزیوں پرکسٹم ڈیوٹی نہیں ۔ چمن کے زیادہ تر اچکزئی کی دکانیں افغانستان میں ہیں۔ باہمی افہام وتفہیم سے مسائل حل ہوں تو نقصان نہیں ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

معاذ بن جبل حاکم یمن بنا، رسول اللہۖنے پوچھا: فیصلہ کیسے کرو گے؟۔ معاذ : قرآن سے!۔ رسول اللہ ۖ : قرآن میں نہ ملے ؟۔ معاذ: سنت سے!۔ رسول اللہ ۖ: سنت میں نہ ملے؟۔ معاذ: اجتھدخود کوشش کروں گا۔ اجتھاد کوشش۔تلمیذ مجتہد ۔ محنتی شاگرد۔ رسول اللہۖ نے فرمایا :” اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول کے رسول کو اس بات کی توفیق عطاء کردی جو اللہ اور اسکے رسول کو پسند ہے”۔ رسول داروغہ ، نمائندے اور ڈاکیہ کو بھی کہتے ہیں۔
یہ فقہی مسائل کا استنباط اور مروجہ اجتہاد نہیں بلکہ حاکم کا اپنی ذہنی صلاحیت سے انصاف دینا ہے۔ حضرت عمر کے پاس ایک تنازعہ آیا۔ شوہر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور کہہ رہا تھا کہ مجھے تین طلاق کے باوجود رجوع کا حق ہے لیکن اس کی بیوی رجوع کیلئے تیار نہیں تھی۔ اب حضرت عمر نے پہلے اس کا فیصلہ قرآن کے مطابق کرنا تھا اور جب قرآن میں نہ ملتا تو سنت کے مطابق کرنا تھا اور جب سنت رسول ۖ میں بھی نہ ملتا تو پھر اپنی کوشش ”اجتہاد”سے مسئلہ حل کرنا تھا۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرآن وسنت اور اہل بیت کے مقابلے میں ایک نئی گمراہی ”طلاق بدعت” امت میں پیدا کردی ، جس کی سزا آج تک مفتی مسلمان عورتوں کو ایک ساتھ تین طلاق دینے پر حلالہ کی شکل میں دیتے ہیں۔
اہلحدیث سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر کی اجتہادی غلطی سے سنت کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ ۖ، ابوبکر اور عمر کے پہلے3سال تک اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے3طلاق کو3قرار دینے کا حکم جاری کردیا۔ اس اجتہاد کو رسول اللہ ۖ کی سنت کے مقابلے میں جاری کرنا بالکل غلط ہے۔
چار فقہی امام کے مقلد سمجھتے ہیں کہ حضرت عمرنے اجتہاد نہیں کیابلکہ حدیث میں اکٹھی تین طلاق ہیں۔امام شافعی کے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت اور مباح ہیں اسلئے کہ عویمر عجلانی نے لعان کے بعد بیوی سے کہا تھا کہ تجھے تین طلاق۔ یہی صحیح حدیث ہے،محمود بن لبید کی حدیث ناقابلِ اعتماد ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ وامام مالک کے ہاں فحاشی پر اکٹھی 3طلاق میں حرج نہیں مگر اکٹھی3 طلاق دینا گناہ وبدعت ہے۔ محمود بن لبید نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کو ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔
امام احمد بن حنبل سے دو اقوال نقل ہیں۔ ایک قول کے مطابق امام شافعی کی تائید کی ہے اور دوسرے قول میں حنفی ومالکی مسالک کی تائید کی ہے۔
امام اسماعیل بخاری نے صحیح بخاری میں فقہ حنفی کو شکست دینے کیلئے حدیث کا غلط اندراج کرکے امت مسلمہ کابیڑہ غرق کرنے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ”من اجاز الطلاق ثلاث” (جس نے تین طلاق کی اجازت دی) عنوان کے تحت اسماعیل بخاری نے امام شافعی کے مسلک کو ثابت اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کو رد کرنے کیلئے ایسی حدیث درج کی جس کی سزا آج تک بہت سارے لوگوں کو اکٹھی تین طلاق دینے کے بعد حلالہ کی لعنت سے ملتی ہے کیونکہ امام بخاری نے یہ حدیث بھی اکٹھی تین طلاق کے جواز میں نقل کی کہ رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر عدت کے بعد اس کی بیوی نے ایک اور شخص عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے شادی کی۔ اس نے رسول اللہ ۖ سے شکایت کی کہ اس کے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :کیا آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟۔ پس نہیں! یہاں تک آپ اس کا ذائقہ چکھ لواور وہ تیرا ذائقہ چکھ لے ۔من اجاز طلاق ثلاث( صحیح بخاری )
یہ حدیث مختلف جگہوں پر احادیث کی کتابوں میںہے مگر اکٹھی تین طلاق کے جواز میں یہ نقل کرکے امت مسلمہ کا حلالہ کی لعنت سے بیڑہ غرق کیا ہے۔ اس سے مغالطہ ہوا کہ رسول اللہ ۖ نے بھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ جاری فرمایا۔ صحیح حدیث پر لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں۔ بخاری نے ”کتاب الادب” میں یہ وضاحت کی کہ” رفاعة القرظی نے مرحلہ وار تین طلاقیں دی ہیں ”اور یہ بھی ایک اور حدیث میں واضح کیا کہ” اسکے شوہر عبدالرحمن بن زبیرالقرظی نے تردید کی کہ وہ نامرد ہے ۔ وہ اس کی چمڑی اپنی مردانگی سے ادھیڑ کے رکھ دیتا ہے”۔ بخاری اس واقعہ کی تمام روایات کو ایک جگہ نقل کرتا تو نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا حکم نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا کہ نبی کریم ۖ نے اس عورت کو اپنے نامرد شوہر سے حلالہ کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا اور احادیث کے واقعات کو غلط نقل کرکے احادیث کے خلاف بھی محاذ کھول دیاگیا ہے۔
آیت الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے روکنا یااحسان سے چھوڑنا ہے”کو بخاری نے اکٹھی تین طلاق کے جواز میں پیش کیا۔ حالانکہ امام ابوبکر جصاص رازی نے یہ آیت اپنی کتاب ”احکام القرآن” میں مسلک حنفی کی طلاق سنت کیلئے زبردست دلیل کے طور پر پیش کی۔ بخاری کے معروف شارحیں نے اپنی اپنی شرح ” عمدة القاری ” اور ” فتح الباری” میں ایسی مضحکہ خیز شرح ان آیات کی لکھ دی ہے کہ ایک عام انسان بھی حیران ہوگا کہ یہ کیا کیاہے؟۔ فقہاء ومحدثین کا مسئلہ یہ ہے کہ حقائق تک پہنچنے کا سادہ طریقہ اپنانے کے بجائے معاملہ مزید الجھا دیتے ہیں۔ حالانکہ عام فہم زبان اور صحیح بخاری کی احادیث سے دو مرتبہ طلاق کی بات سمجھنا بہت آسان ہے لیکن بخاری نے ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کے عنوان کے تحت آیت لکھ دی ہے تو پھر بہرصورت باب سے مناسبت پیدا کرنے کی الٹی سیدھی کوشش کی ہے جس کو دیکھ کر چھوٹے مگر سمجھدار بچے بھی ہنسیں۔
نبی ۖ محمود بن لبید کی مجہول حدیث میں غضبناک ہوئے تو اس سے شبہ پیدا کیا گیا ہے کہ اگر رجوع ہوسکتا تھا تو نبیۖ غضبناک نہ ہوتے۔ حالانکہ اس سے زیادہ مضبوط حدیث صحیح بخاری کی ہے جس میں نبی ۖ حضرت عمر کی خبر پر کہ عبداللہ بن عمر نے حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے غضبناک ہونے کا ذکر ہے۔ جو بخاری کی کتاب التفسیر سورہ طلاق میں ہے۔ اس سے طلاق مرتان کی بھی واضح تفسیر ہوجاتی ہے اور غضبناک ہونے کے باوجود بھی رجوع ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ اسلئے غضبناک نہیں ہوئے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں روایات میں یہ بھی ثابت ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جس نے خبر دی تھی اور قتل کی پیشکش کی تھی وہ حضرت عمر تھے اور جس نے طلاق دی تھی وہ عبداللہ بن عمر تھے۔ محمود بن لبید تابعی تھے اور ان سے مضبوط روایت صحیح مسلم کی ہے جس کو حسن بصری نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور20سال تک کوئی دوسرا شخص نہیں ملا جس نے اسکی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور مستند شخص ملا جس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ حضرت علی سے منسوب ہے کہ حرام کہنے کو ایک ساتھ تین طلاق سمجھتے تھے۔ بخاری میں بعض علماء کے اس اجتہاد کو حسن بصری نے روایت بھی کیا ہے۔ جب حرام کا لفظ تین طلاق ہو تو پھر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ حضرت ابن عمرنے تین طلاقیں دیں اور نبیۖ نے لوٹنے کا حکم دیا؟۔ حالانکہ حضرت علی نے اس صورت میں رجوع نہ کرنے کا حکم دیا تھا جب عورت راضی نہ ہو۔ اور جب عورت راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔نبیۖ کو اللہ نے قرآن میں واضح حکم دیا مگر حقائق دیکھے نہیں؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”نصاریٰ ایمان والوں سے موودت میں سب سے زیادہ اشد ہیں”۔ آج نصاریٰ کی دنیا میں بہت بڑی حیثیت ہے لیکن آج مسلمان اس حقیقت کو استعمال نہیں کررہے ہیں۔

قرآن پاک کی اس آیت کی سب سے بڑی تصدیق آج نصاریٰ کا وہ عمل ہے کہ جس قبلہ کو وہ اپنا مقدس مقام اورقبلہ مانتے ہیں اوران کے اندر قبضہ کی صلاحیت بھی ہے لیکن وہ مسلمانوں سے نہیں لے رہے ہیں

مسلمان دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع۔ اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ73فرقوں میں سے ایک جنتی ہوگا اور باقی سب جہنمی ہیں ۔جنتی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ سنت سے رسول اللہ ۖ اور جماعت سے صحابہ کرام مرادہیں۔ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی خود کو اہل سنت سمجھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق دور میں مشہوربریلوی عالم دین علامہ عطاء محمد بندیالوی نے تفصیل سے فتویٰ دیا کہ عالم اسلام پر فرض ہے کہ امام کا تقرر کریں۔ نہیں تو ان کی موت جاہلیت کی ہوگی۔ امام لازمی قریش ہو۔ جنرل ضیاء الحق کی موت بھی جاہلیت کی موت ہوگی۔
دیوبندی مدارس نے استفتاء کاجواب نہیں دیا۔مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے ” عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰہ والسلام کے آئینہ میں” مساجد کے ائمہ ، مدارس کے مفتی ، سیاسی مذہبی جماعتوں کے علماء ، حکمران اور تمام فرقے اور مذہبی جماعتیں ایک ایک اور اجتماعی طور پر سب کوزبردست نشانے پر لے لیا تھا۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ خیر کا نبی ۖ سے پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں رہنمائی لیتا تھا تاکہ میں اس سے بچ سکوں۔ حذیفہ نے پوچھا:ہمیں یہ خیر (اسلام ) پہنچی تو کیا اسکے بعد کوئی شرپہنچے گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں! ( خلافت راشدہ میںجو جنگیں ہوئیں۔ جمل ، صفین ، نہروان ۔ عثمان کی شہادت سے علی کی شہادت تک )۔ حذیفہ:کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی ؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : ہاں مگر اس میں دھواں ہوگا۔ان میں اچھے لوگ بھی ہوں گے اور برے بھی ۔ (30سالہ خلافت راشدہ کے بعدبنوامیہ وبنو عباس کی امارت اور خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کادور۔ حسن کے بعد امیرمعاویہ سے عثمانی آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید سن1924،جبری حکومتوں کے دور سے طرز نبوت پرخلافت کے دوبارہ قیام تک کے موجودہ دور تک سب پراس خیر کا اطلاق ہوتا ہے جس میں خیر وشر دونوں ہوں گے۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو جائز قرار دیا تھا تو سب علماء ومفتیان نے مخالفت کی۔ دارالعلوم دیوبند کے دو ٹکڑے ہوگئے، جمعیت علماء اسلام ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی رہی، تبلیغی جماعت دو حصوںمرکز بستی نظام الدین اور رائیونڈمیں تقسیم ہوگئی،دیوبندیوں کے ٹکڑے، بریلویوں کے ٹکڑے ، اہل حدیث کے ٹکڑے، جماعت المسلمین کے ٹکڑے اور حزب اللہ کے ٹکڑے ۔اس طرح اہل تشیع میں آپس کی منافرت اورکئی ٹکڑے ) حضرت حذیفہ نے پھر سوال کیا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں!۔ داعی ہوں گے جو جہنم کے دروازے پر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ جس پر حذیفہ نے پوچھا:یارسول اللہ ! ان کی نشانی کیا ہوگی؟۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: وہ ہمارے لبادے (مذہبی ) میں ہوں گے اور ہماری زبان (مذہبی اصطلاحات ) بولیں گے ۔حذیفہ:اگر میں اس وقت ہوا۔ تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔رسول اللہ ۖ: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ!۔ حضرت حذیفہ : اگر اس وقت نہ مسلمانوں کا کوئی امام ہو اور نہ جماعت توپھر؟۔ رسول اللہ ۖ : پھران تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ، چاہیے تمہیں کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے۔
(صحیح بخاری ۔ عصر حاضر : مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید)
اہل سنت الجماعت اور اہل تشیع نے دیکھا کہ جب ایران میں آیت اللہ خمینی کو قائدانقلاب اورامام بنایا گیا تو ایران کی بادشاہت ختم ہوگئی۔ جب ملا عمر کو امیر المؤمنین نامزد کیا گیا تو افغانستان میں بدمعاش جہادی کلچر کا خاتمہ ہوگیا اور آج افغانستان میں افغانستان کے حدود کیلئے امیر المؤمنین کا تقرر ہے۔ داعش (دولت اسلامیہ عراق وشام) نے بھی امیر المؤمنین بنائے لیکن عراق وشام میں بھی کامیابی نہیں ۔ سن1990کی دہائی میں ایک عرب نے بھی امیرالمؤمنین بننے کا دعویٰ کیا تھا جس نے اپنا ٹھکانہ خیبر ایجنسی میں بنایا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے وزیرستان سے پاکستان اور دنیا بھر کیلئے امیر المؤمنین کے تقرر اور خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ وہ عرب امیرالمؤمنین پھر بیمار ہوکر امریکہ چلا گیا تھا اور اس کے پشاوری نمائندے نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ آپ اپنے مشن سے دستبردار ہوجائیںاسلئے کہ اس عرب میں بہت صلاحیت ہے۔ آپ کی طرف سے پہل کی گئی ہے آپ کے ہوتے ہوئے وہ خلیفہ نہیں بن سکتا ہے۔
مفتی کامران شہزاد نے حال میں امام مہدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے جس میں قوم کی تبدیلی کو قرآنی انقلاب قرار دیا۔قوم کو اب تبدیلی کیلئے اٹھنا ہی ہوگا۔ انہوں نے یہ زبردست بات کی ہے کہ جب تک قوم خود کو نہیں بدلے اس وقت تک اللہ بھی قوم کی حالت نہیں بدلے گا اور جب قوم اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کرے گی تو ایک نہیں کئی امام مہدی بھی قوم کو مل جائیں گے، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ”اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جن کو کمزور بنایا جارہاہے کہ ان کو ائمہ بنائیں اور ان کو وارث بنائیں”۔( سورہ القصص آیت5)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا” اور جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی اِلٰہ کو نہیں پکارتے۔اور نہ کسی نفس کو قتل کرتے ہیں جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کیساتھ۔ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا توسزا کو پہنچے گا ۔ اللہ ان کے عذاب میں قیامت کے دن دو چند اضافہ کرے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلت کیساتھ رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور صالح عمل کئے تو ان لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ تبدیل کردے گا۔ اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جو توبہ کرے اور عمل صالح کرے تو بیشک وہ اللہ کی طرف توبہ کرتا ہے متوجہ ہوکر۔ اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو بات سے گزرتے ہیں تو گزر جاتے ہیں عزت کیساتھ۔ اور جن کے سامنے اللہ کی آیات کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس پر بہرے اور اندھے ہوکر گر نہیں پڑتے۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی ازواج میں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا ء فرمااور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسکے بدلے میں کمرہ دیا جائے گا جو انہوں نے صبر کیا اسکے سبب جس میں ان کو سپاس نامہ اورسلام پیش کیا جائے گا۔یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جو بہترین ٹھکانا اور منصب ہے۔(الفرقان)
ان آیات میں توبة النصوح سے قاتلوں اور زناکاروں کیلئے بھی نہ صرف معافی کی گنجائش ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا” ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں گے”۔ جس طرح اسلام قبول کرنے سے پہلے صحابہ کرام کافر و مشرک تھے اور بعد میں قرآن نے ان کی شان بیان کی ہے۔ ان میں بھی فتح مکہ سے قبل اور بعد والوں کے درمیان فرق ہے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد والوں کو بھی درجات کی خوشخبری ہے۔ کسی کی توہین کرنے سے فائدہ ہوتا تو اللہ مشرکوں کے خداؤں کو برا کہنے سے منع نہ فرماتا۔ لوگوں کے جذبات کو جس سے ٹھیس پہنچتی ہو اس سے ہم اجتناب کریں گے تو لوگ قرآن و سنت اور تاریخی حقائق تک پہنچ جائیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ جس طرح مہاجرین وانصار میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف تھا ،اسی طرح اہل بیت اور صحابہ کے درمیان بھی استحقاق خلافت پر یہی اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کو ائمہ اہل بیت اور ان کے صحیح پیروکاروں نے اپنی حد میں رکھا تھا، جب معاملہ اعتدال سے ہٹ جائے تو خونریزی تک پہنچتا ہے۔ جب انصاراسلئے خلافت سے محروم کردئیے گئے کہ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے تو قریش میں حضرت ابوبکر سے زیادہ اہل تشیع ہی نہیں حضرت ابوسفیان نے بھی حضرت علی ہی کو حقدار قرار دیا تھا۔ حدیث میں قریش کے بارہ خلفاء قریش کا ذکر ہے اور شیعہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت کے پاس معقول جواب نہیں۔ حالانکہ اہل سنت کی کتابوں میں آخری دور میں ان کا ذکر ہے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کے والد مولانا محمد منظور نعمانی نے شیعوں پر کفر کا فتویٰ لگانے کیلئے بڑا استفتاء لکھا تھا۔ جواب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن نے تین وجوہات کی بنیاد پر شیعوں کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا تھا۔ تحریف قرآن ۔ صحابہ کی توہین۔ عقیدہ امامت۔ جو کتابی صورت میں مارکیٹ میں بکتی ہے۔ پھر شیعوں کو متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل اور اتحاد تنظیمات المدارس میں شامل کیا گیا۔
اگر ہمارے علماء احناف دیوبندی بریلوی اور علماء اہلحدیث و اہل تشیع اپنی جگہ پر قرآن و سنت کے مطابق درست لائحہ عمل بنالیں تو سب کی گمراہیاں نہیں رہیں گی اور مرزا غلام احمد قادیانی دجال کذاب معلون کے پیروکار بھی اپنے غلط عقیدوں اور سازشوں سے توبہ تائب ہوکر سچے اور پکے مسلمان بن جائیں گے۔
قرآن میں اللہ نے رسول اللہ ۖ سے فرمایا کہ مشرکوں سے قرابتداری کی محبت کا مطالبہ کرو۔ مشرکوں نے انتہائی دشمنی کا ثبوت دیا جس کی قرآن میں مکمل نشاندہی بھی کی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے قرابتداری کی محبت کا مظاہرہ کیا اور فتح مکہ کے حسن سلوک سے تقریباً سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ نبی ۖ نے اہل بیت کے بارے میں بھی موودت کا مطالبہ کیا تھا لیکن خاندانی بنیادوں پر جب اقتدار قائم ہوا تو اس محبت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے شیعہ صحابہ کرام سے بھی بدظن ہوگئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کنفرم کیا ہے کہ نصاریٰ کو اہل ایمان سے سب سے زیادہ شدت کی موودت ہے۔ جب مسلمان آپس میں بھی ایک دوسرے سے شدید بغض رکھتے ہیں تو نصاریٰ کس طرح سے محبت کے تقاضوں پر عمل کرسکیں گے؟۔ فلسطین اور بیت المقدس کے معاملے میں نصاریٰ کی ساری ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوتیں تو یہود کب کا تسلط جماچکے ہوتے۔ مسلمانوں کی طرف سے اگر تھوڑی سی حقیقت پسندی کا مظاہرہ ہو تو پھر دیکھنا کہ امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور سارے عیسائی ممالک پکا معاہدہ کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد تک بیت المقدس کے متولی مسلمان رہیں گے اور یہود پھر دجال اکبر کا انتظار کریں گے۔ ان لوگوں کو یہ خطرات ہیں کہ مسلمان ہماری خواتین کو لونڈیاں بنادیں گے اور ہم اس بات پر بار بار زور دے رہے ہیں کہ اسلام نے لونڈی اور غلام کو نکاح و طلاق سمیت تمام حقوق دے دئیے۔ اور لونڈی و غلام بنانے کے سودی اور جاگیردارانہ نظام کا اسلام نے خاتمہ کردیا تھا۔ قیدیوں کیلئے صرف دو باتیں رکھی تھیں کہ ان کو احسان کرکے چھوڑیں یا فدیہ لیکر۔ جس سے قیدیوں کو قتل کرنے اور عمر بھرقید رکھنے کی گنجائش بھی نہیں رہتی ہے تو پھر ان کو لونڈی اور غلام بنانے کی بات تو کسی طرح سے قابل قبول نہیں۔ جب اللہ نے واضح کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو لونڈی بنانا اہل فرعون کا وظیفہ تھا پھر کس طرح سے اسلام اہل فرعون کی نیابت کرسکتا ہے؟۔ جہاں تک قرآن میں بار بار ایک چیز کا ذکر ہے ما ملکت ایمانکم ”جس کے مالک تمہارے معاہدے ہوں” اس سے لونڈی و غلام بھی مراد ہیں جس کی وجہ سے ان کی حیثیت جانور کی طرح ملکیت سے نکل کر گروی کی ہوگئی ہے۔ جس طرح آج بھٹہ خشت اور مزارعت میں خاندان کے خاندان گروی ہوتے ہیں۔ گروی کو جب بھی مطلوبہ مال دے دیا جائے تو اس کی گردن آزاد ہوجاتی ہے۔ جہاں تک ان سے نکاح کے بغیر جنسی تعلق کی بات ہے تو اس میں لونڈی اور آزاد میں فرق نہیں۔ اس میں صرف نکاح کے وہ حقوق نہیں ہوتے جس کا قرآن نے ایسا ذکر کیا ہے کہ اگر مغرب کو پتہ چل جائے تو وہ اپنے خود ساختہ قوانین کو ختم کرکے اسلامی قوانین کو معاشرے میں رائج کریں گے۔ سعودی عرب نے مسیار اور شیعہ نے متعہ کے نام سے جس ایگریمنٹ کی اجازت دی ہے اگر قرآن میں اس کو تلاش کیا جائے اور حدیث سے تصدیق لی جائے تو شیعہ سنی تفسیروں کی فرقہ واریت ختم ہوجائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لاکھوں افغان مہاجرکی واپسی غلطی یا صحیح فیصلہ ہے؟

لاکھوں افغان مہاجرکی واپسی غلطی یا صحیح فیصلہ ہے؟

انگریز نے تقسیم ہندسے روس ، چین، ایران، عرب، جاپان، جرمنی، کوریا…متبادل قوت کا راستہ روک لیا

سیدامیرشاہ کی قیادت میں محسود قوم نے افغان بادشاہ شیرعلی سے انگریز کیخلاف باہمی تعاون کا معاہدہ کیا

یورپی یونین جرمنی، اٹلی، فرانس، سوئیڈن، اسپین، ناروے، ڈنمارک و دیگر میں کسی ایک ملک کا ویزہ سب کیلئے ہوتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں بھی یہی ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر ایسا گھر بھی ہے جس کا ایک دروازہ افغانستان اور دوسرا پاکستان میں کھلتا ہے۔ دونوںطرف ایک ہی خاندان کے گھر اور جائیدادیں موجود ہیں۔
نوازشریف یا عمران خان کیخلاف فیصلے پراپنا مقتدر طبقہ شرماتا گھبراتا نہیں تو طالبان مہاجرین کو خوش دلی سے قبول کریں۔ تنقید نہیںاپنا محاسبہ کریں۔ پشاور انگریز نے اسلئے آسانی سے فتح کیا کہ پنجاب کی سکھ حکومت نے بڑا ظلم کیا تھا۔ انگریز کے بعد مسلم لیگی شیر قیوم خان اورحکومت نے باچا خان سے وہ دشمنی کی جو انگریز بھی روا نہیں سمجھتا تھا۔ وزیرستان بالخصوص محسود نے مزاحمت کی مگر ملا پیوندہ انگریز سے100روپیہ لیتا تھا۔ قبائل کا نام نہاد مشران ملکان طبقہ تنخواہ دار تھا۔
اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ” پاکستانی وہ قوم ہے جو نہ خود ترقی کرتی ہے اور نہ ہمیں کرنے دیتی ہے”۔ لیکن برصغیر پاک وہندمیںہمارا چھوٹا ملک ہے۔ مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی نسل درنسل تعصبات کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کانگریس کی جگہ مودی آیا۔ آدھے ادھورے پاکستان کا سایہ دیوہیکل ہندوستان ہے یادیو کاسایہ ہم پر ہے؟۔ مفتی کفایت اللہ نے لکھا کہ ” انگریز نے جمعیت علماء اسلام کو جمعیت علماء ہند کے مقابلے میں بنایا”۔ مسلم لیگ انگریز نے بنائی تو ہندوتعصب بھی تھا۔ قائداعظم ، مادرملت، قائدملت اوربیگم لیاقت مبلغ قیادت، لاکھوں مہاجر ،لاؤ لشکر ،ریاستی مشینری پاک سرزمین کو جہیز میں ملے۔ جہیز کی بڑی مقدار کے سیلاب نے ہمیںکہیں کا نہ چھوڑا،آزادی ملی اور نہ اسلام آسکا۔ علامہ شبیراحمد عثمانی و مفتی شفیع کی جمعیت علماء اسلام نے سن1970میں مفتی محمود کی جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا، جو خود کو جمعیت علماء ہند کی نمائندہ کہتی ہے۔ پچھلے شمارہ میں علامہ شبیراحمد عثمانی کو غلطی سے شیخ الہند کا بیٹا لکھا۔ مولانا لاہوری کی والدہ کو فیس بک میں سکھ اور گوگل پر حافظہ قرآن لکھاہے۔مولانا طارق جمیل کا بیٹا کہتاہے کہ بھائی نے خود کشی کی اور بھائی کہتا ہے کہ غلطی سے گولی چل گئی ؟۔
ہم اپنا محاسبہ کرکے اپنی اصلاح کریں، افغانی اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کریں۔ طالبان اپنی عوام کو زراعت اور باغات کیلئے مفت زمینیں دیں تو ریاست مدینہ کی یاد بھی تازہ ہوگی ۔بھوک وبے روزگاری بھی ختم ہوگی ، حکومت کو بھی اچھا ٹیکس ملے گا۔ وانا وزیرستان کے وزیر افغان مہاجر کی محنت سے بن گئے اور اگر افغانستان میں محنت کا میدان مل گیا تو دہشت گردی نہیں ہوسکے گی۔ خوشحال خطہ ضرورت ہے۔ دہشت گردی سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے آئی ہے۔ ایک طبقہ خوشحال ،دوسرا بد حال ہو تو لامحالہ ماحول میں دہشتگرد ی آ سکتی ہے۔
سن1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کی قیادت میں محسودقبائل کا نمائندہ وفد افغان بادشاہ شیر علی خان سے انگریز کیخلاف باہمی تعاون کا معاہدہ کرنے گیا۔ پھر انکے بھائی سیداحمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کا وفد گیا۔ حوالہ درج بالا کتاب میں ہے۔ سن1878میں امیر شیر علی نے روس کے وفد کو دعوت دی۔ ہند کی انگریز سرکار ناراض ہوگئی اور افغانستان پر حملہ کیا پھر امیر عبدالرحمان اقتدار میں آیا ۔سن1893میں ڈیورنڈ لائن کامعاہدہ سالانہ18لاکھ روپیہ کے عوض کیا۔ علامہ اقبال نے وزیرستان کے محسود اور وزیر کو ”محراب گل افغان” کا تخیل دیا۔
سن1919افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ خان قتل ہوا ۔پھرامیر امان اللہ خان سن1928تک بادشاہ رہا۔اسکی بیگم ثریا شام میں پیداہوئی جو خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ ثریا نے خواتین کی تعلیم کا افغانستان میں اہتمام کیا۔ کچھ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کیلئے ترکی بھیج دیں۔ لوگ بھی جدت کیخلاف مگر اصل سازش انگریز نے کی تھی۔ امیرامان اللہ خان کے خلاف شورش برپا کرکے بھاگنے پر مجبور کیا۔ برطانیہ کو ترقی یافتہ افغانستان اسلئے پسند نہ تھا کہ روس کا خطرہ تھا۔ جیسے آج امریکہ کو چین اچھا نہیں لگتا ۔ طالبان کو مہاجرین سے زیادہ بڑا مسئلہ داعش کا ہے۔ انگریز پاکستان کو نہ بناتا تو برطانیہ، امریکہ ، فرانس اجارہ دار نہیں بنتے ۔روس ،جرمنی ، ہندوستان ، برما،جاپان ، کوریا،چین، ترکی ،ایران، عرب مضبوط بلاک بنتے اور اسرائیل کبھی فلسطین پر مسلط نہ ہوتا۔امریکی گماشتوں نے فلسطین میں جہاد نہیں کرنے دیا۔
سکندر مرزانے نانا سید سلطان اکبر شاہ سے جٹہ قلعہ گومل کرایہ پر مانگا تو نانا نے کہا: ”میں افغان بھائیوں کے قتل کیلئے یہ کرایا پر نہیں دیتا”۔ بلیک لسٹ ہوا تو انگریز پولیٹیکل ایجنٹ سے کہا کہ جو تمہیں مارتے ہیں ان کو زمینیںدیں ہیں اور ہم نے قتل نہیںکیا تو نہیں دیتے؟۔ جس پر انگریز نے پنجاب میں زمین دی۔ امیر امان اللہ خان کی حکومت بحال ہوئی تو چچازاد نادر خان نے قبضہ کیا۔ سید ایوب شاہ آغا ولد سیداحمد شاہنے کابل سے اخبار نکالا۔ نادر خان نے غلط فہمی کی بنیاد پر پہلے توپ سے اڑانے پھرتاحیات جلاوطنی کی سزادی تھی۔ ظاہر شاہ ، سردار داؤد، نور محمد ترکئی، ببرک کارمل ، فضل امین، ڈاکٹر نجیب،مجاہدین حکومت، ملاعمر ، کرزئی ، اشرف غنی اور موجودہ دورتک سارے افغان اپنامحاسبہ اوراصلاح ضرور کریں۔
جو پیسہ افغان جہاد میں جرنیل، مذہبی اور سیاسی طبقات نے کمایا، وہ افغان مہاجرین کو آباد کاری کیلئے دیں! ۔ کم قیمت میں زندگی کا سرمایہ بیچنے والے امداد اور تحفظ کے مستحق ہیں ۔چندہ خور مافیا فلسطین کے نام پر اپنی تجوریاں بھرتا ہے۔ مہاجرین کو بھیجنے پر تعصب پھیل رہا ہے۔ ہمارے والد پیرمقیم شاہ ہندودوست سے جاتے وقت جائیداد قبول کرنا بھی اپنے روشن ضمیرکیخلاف سمجھتے تھے۔الحمدللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسرائیل سے صلح کیلئے پشاور اور قتال کیلئے کراچی سے لشکر تشکیل دیں تو غزہ آزادہوجائیگا

اسرائیل سے صلح کیلئے پشاور اور قتال کیلئے کراچی سے لشکر تشکیل دیں تو غزہ آزادہوجائیگا

قال رسول ۖ فعلیکم بالجہاد و افضل الجہاد الرباط و خیر رباطکم عسقلان
رسول ۖ نے فرمایا: پس تم پر جہاد فرض ہے اور افضل جہاد الرباط ہے اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہے۔
رسول اللہۖ نے فرمایا :” پہلا اس امر کا نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہے پھر بادشاہت و رحمت ہے پھر امارت و رحمت ہے پھریہ لو گ ایک دوسرے کو کاٹیں گے گدھوں کا کاٹنا۔پس تم پر جہاد فرض ہے اور بہترین جہاد ”الرباط” ہے اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہے”۔آ ج عسقلان کا دنیابھرمیں بڑاچرچاہوگیا

____نمبر1:صلح ____
حدیث میں نبوة سے امارة تک رحمت ہے پھرگدھوں کی طرح آپس کا کاٹنا اور جہاد فرض ہے اور افضل جہاد رباط اور ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق ہے ۔رباط آپس میں مربوط ہونا ۔ عسقلان سے مربوط صلح سے غزہ کو آزاد کریں توبھی غنیمت ہے۔جنگ بندی میں عالمی طاقتوںروس، چین اور سبھی کو امریکہ ناکام کرچکا ہے۔
اللہ نے فرمایا: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم” اللہ (کے احکام) میںاس کے جہاد کا حق ادا کرو ، اس نے تمہیں منتخب کرلیا ہے”۔
ےٰایھاالذین اٰمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقواللہ لعلکم تفلحون ”اے ایمان والو! صبر کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کیساتھ باہمی مربوط ہوجاؤاور اللہ سے ڈرو ۔ شاید تم فلاح پاجاؤ ”۔
فمالھم عن التذکرة معرضینOکانھم حمرمستنفرةOفرت من قسورةٍO”پھرانہیں کیا ہوا ہے کہ تذکرے سے اعراض کررہے ہیں؟۔ گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیںجو شیر سے بھاگے ہوں”۔ (المدثر:50..)
علماء اورسیاستدانوں کی قیادت میں غزہ کی مکمل آزادی کیلئے وفد بھیج دیں۔

____ نمبر2:قتال____
افغانستان میں روس پھر امریکہ کیخلاف جہاد کو فرض قرار دیا مگر پاک فوج اور کسی اسلامی ملک نے روس اور امریکہ کیخلاف جہاز، میزائل، ایٹم بم اور ریاستی طاقت کو استعمال نہیں کیا۔ دنیا بھر کے مجاہدین نے روس امریکہ کیخلاف جہاد کیا۔ اسرائیل جاناہوتو ایران، عراق اور شام تک شیعہ قافلے زیارتوں کیلئے جاتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی اور ادارہ کلمة الحق کے سیکرٹری جنرل اجمل ملک کی قیادت میں اسرائیل کیخلاف قتال کیلئے اپنے8بیٹے اور3پوتے خود کش کیلئے ساتھ بھیجوں گا۔ فلسطین کے عبداللہ عزام نے مدینہ یونیورسٹی اور اسلاملک یونیورسٹی اسلام آباد کو چھوڑ کر اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور عربوںکو جہاد پر لگایا، روس کا انخلاء ہوا توپشاور میں بیٹوں سمیت دہشتگردی کا نشانہ بنا ۔بیگم نے الزام شاگرد پر لگایا۔ یہودی کمپنیوں کا بائیکاٹ ؟وہ سودی بینکاری اسلامی جس کی وجہ سے فرنگ کی رگ جان پنجہ یہود میں ہے اور دنیا میں اسلحے کا کاروبارچلتا ہے؟۔ مگر خیر بسم اللہ کیجئے گا!
اسرائیل کیخلاف قتال ہوتا توفلسطین کب کا آزاد ہوجاتا؟ نیٹو شکست کھاگئی! پاک فوج نے کشمیر میںجہاد نہ کیا ، امریکہ ونیٹو کا ساتھ دیاتو اسرائیل جائے گی؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

مفتی فضل ہمدرد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مجھے اس سوال کا جواب آج تک کسی سنی عالم نے نہیں دیا

مفتی فضل ہمدرد کی یہ خواہش بفضل تعالیٰ ہم پوری کردیتے ہیں لیکن وہ پھر اس کا تذکرہ ضرور بالضرور کریں

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت جب تک ان کو مضبوطی سے تھامو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار میں اتنی مرتبہ اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ شاید اہل تشیع نے بھی اس کو اتنا ہائی لائٹ نہیں کیا ہوگا لیکن اہل تشیع کی طرف سے بھی اس کا کوئی جواب نہیں ملتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ، لیکن درمیانے زمانے میں ایک کج رو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں اور میں اس کے طریقے پر نہیں۔ اس حدیث کو شیعہ سنی دونوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اہل تشیع نے اس سے مہدی عباسی بھی مراد لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہ ۖ درمیانہ زمانے تک خود نبی ۖ اُمت کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ ہیں اور درمیانہ زمانے سے آخر تک درمیانے زمانے کا مہدی ہے تو پھر اگر اس سے مہدی غائب بھی مراد لیا جائے تو اُمت کا کیا قصور ہے؟۔ اہل تشیع کے ہاں اس کا بہت ذکر ہوتا ہے لیکن ان کو کونسی ہدایت ملی ہے؟۔ جب انصار ، مہاجرین، بنو اُمیہ، بنو عباس اور اہل بیت اپنے اپنے دور میں سب سے زیادہ خلافت کی اہلیت اور اس پر براجمان ہونے کی توقع کررہے تھے تو خاندانی اعتبار سے اہل بیت واقعی زیادہ مستحق تھے۔ لیکن وہ اس دوڑ میں ہی شریک نہ تھے۔ البتہ بعض لوگوں کی طرف سے ان کو اس استحقاق کی لڑائی میں گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اسلئے رسول اللہ ۖ نے اہل بیت پر ظلم و ستم کرنے سے اُمت کو ڈرایا تھا۔ جب ابوبکر کا انتخاب ہوا تو ابوسفیان نے علی کو پیشکش کی کہ اگر آپ کہیں تو مدینہ کو پیادوں اور سواروں سے بھردوں؟۔ حضرت علی نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔ حضرت علی نے اس وقت مسند خلافت کو قبول کیا جب شوریٰ نے ان کا پہلے تین خلفاء کی طرح انتخاب کیا۔ پھر حسن وحسین نے معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ اگر یزید کا لشکر حضرت حسین کو61ہجری میں کربلا سے واپس مدینہ کی طرف جانے دیتا یا یزید کے پاس جانے دیتا یا پھر سرحد کی جانب جانے دیتا تو سانحہ کربلا پیش نہ آتا۔ مدینہ سے کوفہ پہلے آتا ہے اور پھر شام کے راستے میں کربلا بعد میں آتا ہے جو کوفہ سے دمشق کی جانب کافی فاصلے پر ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل بیت کا یہ قافلہ کوفہ سے بہت آگے شام کی طرف کربلا کیسے پہنچا؟۔ کربلا کی زمین کو کوئی اِدھر سے اُدھر تو نہیں کرسکتا اور مفتی فضل ہمدرد نے وہاں ماشاء اللہ زائرین کے ساتھ سفر بھی کیا ہے۔
نہج البلاغہ میں حضرت عمر کے وصال پر حضرت علی نے جس طرح کی بڑی زبردست تعریف کی ہے اس میں تو کسی سنی کی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یزید کے پاس پہنچنے کے بعد امام زین العابدین نے جمعہ کا فصیح و بلیغ خطبہ بھی دیا تھا۔ شیعہ جن کو ائمہ اہل بیت مانتے ہیں انہوں نے کبھی اُمت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ مفتی فضل ہمدرد کس چکر میں پڑ گئے ہیں۔ کیا علامہ سید جواد حسین نقوی نے اتحاد اُمت کیلئے جس طرح کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے کسی سنی عالم کو شیعوں کی طرف سے چندے وغیرہ نہیں مل سکتے ؟۔ مولویوں کا تو کام یہ ہے کہ جہاں سے اچھا بھاڑہ ملے اس کیلئے بولتے ہیں۔
نبی کریم ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح کی مانند قرار دیا ہے۔ جب اُمت کی ہلاکت کا درمیانہ زمانہ آئے گا تو اہل بیت نے نمودار ہوکر کشتی نوح کا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے سیدھے سادے لوگوں کا دور تھا اسلئے اہل بیت نے یہ کردار ادا کیا کہ اچھی طرح سے سمجھادیا کہ حلالہ نہیں کرنا۔ چونکہ حلالہ ایک ساتھ تین طلاق کی وجہ سے ہوتا تھا تو اپنے متبعین پر لازم کردیا کہ الگ الگ مراحل میں ہی طلاق دینا ہے تاکہ وہ حلالہ کی لعنت والوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں۔
اب پڑھی لکھی عوام بہت ہے اور شیعہ سنی دونوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے اور اگر کوئی اہل بیت اٹھے اور قرآن کی طرف دعوت دے تو بہت جلد سارے فقہی اور مسلکی اختلافات کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو حلالہ سے بچانے کیلئے قرآن میں بہت ساری آیات نازل کی گئی ہیںمگر سنی علماء نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں۔ ایک انسان کو مارنا تمام انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا تمام انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ مفتی فضل ہمدرد صاحب اچھے خاصے سمجھدار ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ کا یہ شکوہ لکھا ہے کہ ”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”(سورة الفرقان)۔ رسول اللہ ۖ کا یہ گلہ قرآن میں نہیں ہے کہ میرے اہل بیت کو میری اُمت نے چھوڑا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ ”جب رسول اللہ ۖ نے سورہ نجم پڑھی تو شیطان نے آپ ۖ کی زبان سے لات منات اور عزیٰ کے بارے میں بھی کچھ کلمات کہلوائے”۔ اس حدیث کی بنیاد پر اہل سنت کی معتبر تفاسیر میں ہے : وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنٰی القی الشیطٰن فی اُمنیتہ… ”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول کو نہیں بھیجا اور نہ کسی نبی کو مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی بات ڈال دی”۔ (سورة الحج: آیت52)۔
سورہ نجم بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا۔ ہوا یہ تھا کہ جب پہلی مرتبہ سورہ نجم میں آیت سجدہ نازل ہوئی اور اچانک نبی ۖ کو مشرکین نے سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ اور پھر اپنی خفت مٹانے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ نبی ۖ نے شیطانی آیات پڑھی تھیں۔ حضرت ابن عباس کے والد بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے۔ جب ان کو بدر میں قید کیا گیا تھا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن اُبی کا لباس پہنایا گیا تھا ۔ جس طرح معاویہ کیلئے نبی ۖ نے دعا کی کہ اللہ اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ اسی طرح حضرت ابن عباس کیلئے بھی تفسیر کی دعا کی تھی لیکن نبی ۖ کی ہر دعا قبول ہوتی تو ابوجہل بھی اسلام قبول کرلیتا۔ روایات کو قرآن پر ترجیح دینا غلط ہے۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

ایک اسرائیلی یہودن کو جب ننگا کیا گیا تھا اور اس کے خاص حصے پر ٹانگیں رکھ کر حماس کا سپاہی بیٹھ گیا تھا

مولانا فضل الرحمن نے حماس کے حق میں پوری تقریر کی اتنا بول دیا کہ حماس انسانی حقوق کا خیال رکھے

مولانا فضل الرحمن کا ایک جملہ پکڑ کر جس طرح کا طوفان بدتمیزی برپا کردیا یہ موجودہ دور کے جھوٹ کی لعنت کا بہت بڑا شاخسانہ ہے۔ ہمارا سیاسی کلچر بالکل تباہ تھا اور اب صحافت اس سے زیادہ تباہ ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو چھوڑیں بھارت کی کانگریس پارٹی بھی حماس وفلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کررہی ہے۔ فلسطین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی دہائیوں سے چل رہاہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل ، معمر قذافی اور عالم اسلام کے اندر جاندار قیادت موجود تھی اور اسرائیل بھی اتنا مضبوط نہیں تھا تب بھی مسلمانوں نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کیلئے اتنی سنجیدگی سے بھی کام نہیں لیا جتنا افغان مجاہدین نے روس اور پھر افغان طالبان نے نیٹو جیسی طاقت کو نکالنے کیلئے ہمت وعزم سے کام لیا۔ ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں اورصحافت کو بیچنے والے صحافی یہ عہد کرلیں کہ کچھ بھی ہوجائے وہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اپنے آپ پراللہ کی لعنت کی پھٹکار نہیں برسائیں گے اور نہ عوام کو ورغلائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کا ایک مذہبی لبادہ ہے اور وہ اپنے کاز کے ساتھ چل سکتا ہے۔ جب کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تھا تو اپنی نوکری کیلئے پاکستان کے کاز کو تقویت دیتا تھا۔ پہلے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہورہی تھی تو میاں افتخار حسین کے ساتھ پریس کانفرنس میں عرب امارات کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہم کسی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن عمران ریاض خان نے پھر بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔ عمران خان کو پتہ تھا کہ کون اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتا ہے لیکن عمران ریاض خان کو بتانے سے انکار کردیا تھا۔ عمران ریاض نے جس کو بچانے کیلئے مولانا کو قربانی کا دنبہ بنایا تھا پھر انہی کے ہاتھوں تکلیف اٹھائی۔
تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت بن گئی ہے لیکن بیہودہ لوگوں کی وجہ سے عمران خان کی شخصیت کو بھی غلط ٹریک پر چڑھادیں گے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن سے غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نازیبا قسم کے الزامات اور گفتگو ہوسکتی ہے لیکن کارکنوں کو چاہیے کہ ایسا ماحول بنائیں کہ حالات نارمل ہوں ۔ عوام تک درست بات پہنچے۔ پارٹی کے کارکن کم ہوتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی رحجانات کے رُخ سے جیتنا ہوتا ہے۔
میڈیا میں تشہیر ہورہی تھی کہ اسرائیل پر حماس نے 5ہزار اور7ہزار میزائل داغ دئیے ہیں۔ اگرچہ ایک میزائل سے8سے10افراد بھی مرسکتے ہیں لیکن اگر ایک میزائل سے ایک اسرائیلی کی موت واقع ہوئی ہو تو کم ازکم 5ہزار افراد تو مرجاتے؟۔ ایسا نہ ہو کہ میڈیا نے معمولی بات کو ہوا بناکر کھڑا کیا ہو تاکہ اسرائیل کو کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے؟۔ ایک طرف اسرائیل کو بزدل اور پٹتا ہوا پیش کیا جائے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا جینا حرام کیا ہوا ہو؟۔
فلسطین عرب مسلمانوں کی اپنی سرزمین ہے اور اس کے ایک ایک اینچ کا قبضہ بھی واپس اپنے اصل مالکوں کو ملنا چاہیے۔ اگر اسرائیل نے سب کچھ واپس کیا تو اس میں اسرائیل اور یہود کا بھی بہت فائدہ ہے اسلئے کہ مسلمانوں کیساتھ دوسرے مسلم ممالک کی طرح اچھے تعلقات بن جائیں گے۔ ان کے اصل دشمن مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔ جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ساتھ مظالم میں بھی عیسائیوں کے نزدیک ملوث ہیں اور عیسائیوں کو جب بھی موقع ملا ہے تو انہوں نے یہود کی خوب درگت بنائی ہے۔
مسلمان ایک ایسی عالمی خلافت کا خواب دیکھ رہے ہیں جس سے آسمان و زمیں والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔ رسول اللہ ۖ نے میثاق مدینہ یہود کے ساتھ کیا تھا اور فلسطین نے یہودیوں کو اس وقت پناہ دی تھی جب کوئی بھی ان کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عرب اور یہود کو آپس میں ہی دست وگریبان رکھنے کیلئے ایسی پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں میں نفرت کبھی ختم نہ ہو۔ اسلام مسلمانوں کو نفرت نہیں سکھاتا ہے۔ عمران خان نے جمائما خان سے شادی کی ۔ سارا سسرال یہودی ہیں۔ قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی فارسی تھی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسرال ہندو تھا۔ بیوی سے زیادہ اور کس سے اعتماد کا رشتہ ہوسکتا ہے؟۔ پشتون قوم کو اسرائیل کا گم شدہ قبیلہ کہا جاتا ہے۔ سوات بھی کبھی یہود کا مرکز تھا۔ یہود مذہب سے زیادہ نسل کو فوقیت دیتے ہیں۔ پختون قوم عالم اسلام اور عالم انسانیت کی قیادت کرے گی تو یہود بڑے خوش ہوں گے۔ یہودی بننے کی تو گنجائش نہیں ہے لیکن پختون قوم پوری دنیا کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو مرزاغلام احمد قیادیانی سے بڑی نفرت ہے ،اس طرح یہود کو عیسائیوں سے سخت نفرت ہے۔ مسلمانوں اور یہود کا تو آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ جب یہود بننے کی گنجائش نہیں تو پھریہودی صرف ایک خواب ہی دیکھ سکتے ہیں جیسے ہمارے ہاں اہل تشیع کا مہدی غائب ، اہل سنت کا امام مہدی ، ہندوؤں کا کالکی اوتار ، بدھ مت ، عیسائی اور دیگر مذاہب نے اپنی اپنی شخصیات کے حوالہ سے تخیلات اور عقائد پرانے دور سے رکھے ہیں اور قرآن کہتا ہے عما یتساء لونOعن النباء العظیمOالذی ھم فیہ مختلفونOکلا سیعلمونOثم کلا سیعلمونO”کس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کرتے ہیں؟۔ ایک بڑے انقلاب کی خبر کے بارے میں، جس میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے”۔ (سورہ النبائ)
ایک دفعہ پہلی بار دنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں نے دنیا کی سپر طاقتوں کو بڑی شکست دے کر خلافت کا ایسا نظام قائم کیا جو سن1924تک موجود رہا۔ اور اب انشاء اللہ پھر دوسری مرتبہ اللہ کی مدد سے دنیا جان لے گی کہ یہ بڑا انقلاب اسلام اور مسلمانوں کے ذریعے سے آئیگا۔ جس سے یہودو ہنود سمیت پوری دنیا خوش ہوگی۔ برہمن مشرکین مکہ سے زیادہ خوشی سے اسلام قبول کرلیں گے۔ انشاء اللہ

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv