پوسٹ تلاش کریں

آسٹرلوجر سامیہ خان کی پاکستان کے مستقبل کیلئے حیران کن پیش گوئی

پاکستان میں نظام کی تبدیلی
پاکستان صدارتی نظام کی طرف گامزن
آسٹرلوجر سامیہ خان کی حیران کن پیش گوئی

فلآ اقسم بموٰقع النجومOوانہ لقسم لو تعلمون عظیمOسورۂ واقعہ ”پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں ،تاروں کے مواقع کی اور بیشک یہ عظیم ہے اگر تم جان لو تو”
یہ اکیس دسمبر(2020)سے شروع ہوگیا نیا ٹائم میرے رب نے چاہا، کیونکہ مشتری اور زحل کا ملاپ ہوا ہے۔ جو پاکستان میں وہ تبدیلی لائیگا جس تبدیلی کا حکمران وعدہ پورا نہیں کرسکے وہ کہتے ہیں نا کہ اوپر ایک نظام قدرت ہے۔ اور اپنے وقت کے حساب سے اپنے مدار پر چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ یہ سچ مچ تبدیلی کا سال ہے۔ تبدیلی کا سہرا کس کے سر آتا ہے یہ الگ بات ہے۔ اللہ کا شکر ہے میں عام آدمی کے ریلیف کی بھی بات کررہی ہوں پاکستان میں نظام حکومت کی بھی بات کررہی ہوں۔ مجھے یہ ضرور لگتا ہے کہ اب اس ملک میں کوئی نیا نظام لایا جائیگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اسکا نام صدارتی ، ٹیکنوکریٹس یا نیشنل ہے۔ لیکن4مارچ(2021ئ) سے کچھ ایسی تبدیلی ہے کہ اسکے بعد یہ ملک ایک اسٹیبل زون میں داخل ہوجاتا ہے وہاں ۔ اس حکومت کیلئے (2019)اور ( 2020)میں یہ کہتی تھی کہ خان صاحب کا دور وزارت یہ پھولوں کا سفر نہیں ہے۔ ہنی مون پیریڈ ان کی حلف برداری کیساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔ تین ان پر ایسے دور آئے ہونگے کہ خان صاحب کو لگتا ہوگا کہ میں بند گلی کے اندر جیسے آگیا ہوں۔ لیکن (2021)ایک فیصلہ کن سال ہے اور یہ آر یا پار والی سچویشن ہے۔ اس میں جو بچ جائیں گے وہی لاسٹ کرینگے۔ چھانٹی ہوجائے گی بلکہ ایک اچھی سیاست کی ابتدا ہوگی۔ بڑے عرصے کے بعد ایک با اخلاق اور اچھی سیاست کا یہاں پر پنپنا دیکھیں گے(2021) میں جب ہمارا سفر شروع ہوگا اور اس میں چہرے بھی تبدیل ہونگے۔ میں حکومت کی بات نہیں کررہی کچھ لوگوں پر خطرہ ہوسکتا ہے کچھ چہروں کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں سے اس ملک کا ایک اسٹیبل سفر شروع ہوتا ہے۔
میرے پاس بہت بڑی فائل ہے جسکے اندر میں نے ہر سیاستدان کے زائچے بنائے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم بھی، چیف آف آرمی اسٹاف بھی۔ تو چیف آف آرمی اسٹاف کا زائچہ بہت مضبوط نظر آرہا ہے۔ انکے ہاتھوں شاید کوئی ایسے کام ہوجائیں، شاید وہ کوئی ایسا تھنک ٹینک بنادیں جو کہ ملک کو آگے لے جائے۔ کیونکہ یہ تو ضرور ہوگا کہ ملک اب بہتر ہوگا۔ یہ تو پکا اور یقینی ہے انشاء اللہ۔ اور چیف آف آرمی اسٹاف کا ستارہ بہت دبنگ چل رہا ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اب مارشائل آجائیگا۔ جب میں ان سب زائچوں پر پڑھ رہی تھی تو میں نے یہ بھی پڑھا کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد یہ دوسرے جنرل ہیں جن کا زائچہ بہت طاقتور ہے۔ اور یہ والا سال ان کو مزید طاقت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔
کورونا کے حوالے سے سمیہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خطے میں جب ہم اسٹرولوجی کے سال کو پڑھتے ہیں تو مارچ (2020) سے میں پڑھوں تو میں نے پیشگوئی کی تھی کہ وار زون ہے تو کورونا ہے۔ پہلا مریض مارچ(2020) میں لاہور میںآیا تھا ۔ میرے رب نے چاہا تو اس مارچ(2021) سے بہار کی آمد کیساتھ اس کی بھی رخصتی ہوجائے گی۔ اور ہماری زندگیاں نارمل لائف کی طرف آنا شروع ہوجائیں گی۔ انشاء اللہ رب کے حکم سے۔ اس بہار کے ساتھ یہاں پر اس وبا کی بھی کمی اور خاتمہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ پاکستان تو محفوظ ہے مگر یورپی ممالک کیلئے میں یہ بات نہیں کہہ رہی۔
صدر جوبائیڈن کے حوالے سے میں نے پیشگوئی کی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن سے پہلے ایک مشکل وقت میں داخل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے جوبائڈن کے ستارے فیور کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کے کوئی نئے اتحادی بننے جارہے ہیں۔ پاکستان کے نئے الائنسز بننے جارہے ہیں۔ اور آج میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جب انڈین اسٹرولوجسٹ سے لگتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے ہوئے پروگرام ہیں جس میں کہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹے ہونے کا وقت آگیا ہے۔ یقین کیجئے اگر پاکستان کو خطرہ تھا تو وہ اُنیس (19)دسمبر(2020) تک خطرہ تھا۔ اب جو لوگ یہ سپنا دیکھ رہے ہیں وہ خود اس گڑھے میں گریں گے کیونکہ امریکہ اور انڈیا کے اندر کے حالات میں بڑی پیچیدگیاں اور خرابیاں آئیں گی۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی طرف سفر شروع ہوگا۔ یہ گڈ نیوز ہے اور خوشی کی خبر ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ اُمت مسلمہ کو درپیش عالمی سازشوں کا بہت کھلے دل ودماغ سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا بروقت جلداز جلدخاتمہ ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیعہ سنی مساجد کے ائمہ اور خطیبوں کاتحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ منبر ومحراب سے اتحاد واتفاق اور وحدت کی آواز اُٹھے گی تو دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہوجائے گا!

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سراور ڈاڑھی سے پکڑلیا۔اگرقرآن کی اس بات پر فرقہ پرستی کی داستان چڑھائی جاتی تو خطیبانہ انداز سے بات کہاں پہنچتی ؟

ہماری قوم میں بداعتمادی کی فضاء ہے۔ اہل تشیع کے علامہ سید جواد حسین نقوی نے علماء دیوبند کے مولانا سرفراز خان صفدر کے بیٹے علامہ زاہدالراشدی کے پیچھے اپنے مدرسہ عروة الوثقیٰ مسجد بیت العتیق لاہور میں نماز پڑھی تو علامہ شہریار رضا عابدی نے علامہ سیدجوادحسین نقوی کا نام لئے بغیر اتحاد کے حوالے سے خبردار کیا کہ دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے شیعہ امامیہ اور ایرانی انقلاب کے بارے میں کیا خیالات تھے۔علامہ زاہدالراشدی کے سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی شہید اور قائدین علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید اور مولانا اعظم طارق شہید کے بارے میں کیا تأثرات تھے۔ ایک تازہ ویڈیو میں سارے حقائق سامنے رکھ دئیے ہیں۔
علماء دیوبند نے اہل تشیع، بریلوی مکتبۂ فکر، اہلحدیث اور آپس میں ایکدوسرے خلاف بہت کچھ لکھا ہے لیکن جب اہل تشیع کے علامہ صاحبان خود ایک طرف حضرت عمر اور اکابرصحابہ پر کفر ونفاق کے فتوؤںکی یلغار کریںگے اور دوسری طرف یزیدکے بیٹے معاویہ کا خلوص بتائیںگے۔ یزید کی دادی ہند کی طرف سے حضرت حسین بن علی سے انتہائی عقیدت ومحبت کا اظہار کرکے اپنے لوگوں کو رُلائیںگے تو اس تضاد بیانی کا کیابنے گا کہ بڑے صحابہ کرام کیلئے نفاق وارتداد اور یزید کے کنبے کیلئے اسلام وایمان کے ثبوت پیش کئے جائیں؟۔ اللہ نہ کرے کہ اہل تشیع آپس میں فساد برپا کریں۔
علماء نے اگر اہل تشیع کی باتوں کا الزامی جواب دیا ہے تو اہل تشیع اپنے روئیے پر بھی نظر ثانی کریں۔ اگر گستاخانِ صحابہ کے مقابلے میں سپاہ صحابہ کا کارکن پھانسی کے پھندے کو چوم رہاتھا تو اسلئے نہیں کہ سعودی عرب کی بھیجی ہوئی زکوٰة کو ہضم کررہا تھا بلکہ وہ اپنے ایمانی جذبے سے موت کو گلے لگاکر خوش ہوتاتھا۔ جب اہل بیت کی خواتین کے نام لیکرشیعہ ذاکر مظلومیت کو خطابت کے آرٹ میں چار چاند لگادیتا ہے تو سامعین کے قلوب سے ظلمت کاماحول آنسو بہابہا کر دھل جاتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کیلئے بی بی زینب کے تذکرے تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سنی علماء کے پاس اُم المؤمنین حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ میں شرکت کے حوالے سے ایسی داستان نہیں جس پر خطیب حضرات اپنے جوشِ خطابت کے جوہر دکھا سکیں۔
سنی شیعہ خطیبوں کی پنجاب میں فیس ہے۔ ریٹنگ بڑھانے کا دھندہ مقبولیت کی بنیاد پر چلتا ہے لیکن یہ مقبولیت بارگاہِ خداوندی میں نہیں بلکہ عوام کے ہاں جن سے پیسہ بٹورنا ہوتا ہے۔ میں سخت جان انسان تو نہیںاسلئے کہ اللہ نے قرآن میں انسان کو کمزورقرار دیا ہے اور میں اپنی کمزوری کو بخوبی سمجھتا ہوں لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کے دل کو تھام لیتا ہے۔ جب فرعون سے بچانے کیلئے حضرت موسیٰ کوان کی ماں نے دریا میں ڈال دیا اور پتہ چل گیا کہ فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ کی ماں کے دل کو اپنے فضل سے تھام کر سکون عطا فرمایا تھا۔
ایک مرتبہ بلورخاندان کی ایک فیکٹری میں معذور پیر چترالی بابا کے ہاں بریلوی مکتبۂ فکر کے ایک پختون خطیب کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر چندافراد کیساتھ تقریر سنی۔ جب اس نے حضرت زینب دخترِ علی کی کیفیت کا ذکر کیا کہ وہ اپنے سر پر مٹی پھینک رہی تھیں تو میں بے ساختہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ عقل دنگ رہ جائے۔ عورت ذات کی تکلیف سن کر کلیجہ منہ کو آنا ایک فطری بات ہے۔ ہمارے ساتھ بھی وہ واقعہ پیش آیا تھا جس نے کربلا کی یاد تازہ کردی تھی۔ میرے بھتیجے ارشد حسین شہید کی یلغار سے گھبرا کر دہشتگرد نے راکٹ لانچر سے اس کا سر مبارک اڑادیا تھا، اس کے سر کا بھیجا درخت میں بکھر گیا تھا۔ ہمارے جنازے پر بھی خود کش کی دھمکی تھی، قاتل اتنے بے لگام تھے کہ جنازہ ختم ہوتے ہی قریبی عزیز کے گھر مسلح ہوکر گاڑیوں میں پہنچ گئے اور سرِ عام دندناتے ہوئے پھرتے تھے۔ ان دہشت گردوں کے سامنے یزید کا دربار انسانیت اور اسلام کے لحاظ سے بہت بہتر لگتا ہے ، حالانکہ کس قدر خطیبانہ آرٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بھیانک انداز میں اس کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اہل تشیع کے تحفظات اپنی جگہ پر سوفیصد درست ہیں۔ زوال وانحطاط کے انتہائی دور میں معصوم بچیوں اور خواتین کو جس طرح سفاکی و بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے تو فرعون بھی حیران ہوگا کہ ہم بچوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو عصمت دری کیلئے زندہ چھوڑتے تھے۔ اس قدر ظلم تو اس دور میں بھی نہیں تھا جو آج کے زمانے میں ہورہا ہے اور اگر اس ظالمانہ ماحول میں فرقہ پرستی کے ناسور کا عنصر بھی شامل ہوگیا تو کیا ہوگا؟۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کو اس ماحول میں تنہاء چھوڑ کر اس کی طرف مزید دھکیلنے کی کوشش کی جائے یا پھر انسانیت کو اس ظالمانہ ماحول سے باہر نکالا جائے؟۔ رسول خداۖ نے سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ کے کلیجے کو نکالنے والے حضرت وحشی اور کلیجہ چبانے والی حضرت ہند کی معافی اسلئے نہیں کی کہ دائرۂ اختیار سے باہر تھے ، یہ کوئی سیاسی منافقت کا تقاضہ تھا یا ان سے آئندہ کوئی خطرات نہ تھے بلکہ رحمة للعالمینی کا تقاضہ تھا، رب العالمین نے جھوٹ موٹ نہیں سچ مچ رحمت للعالمین بناکر بھیجا تھا۔
رسول خداۖ کے اہل بیت نے بھی کسی تقیہ ، مجبوری اور سیاست کے تحت نہیں بلکہ رحمت للعالمینۖ کے سچے اور پکے جانشین بن کر بنوامیہ اور بنو عباس کے دور میں حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد معمول کے مطابق زندگی گزاری تھی۔ہمارا کردار یہ ثابت کرے کہ ہم بھی نبیۖ،اہل بیت عظام اور صحابہ کرامکے سچے پکے چاہنے والے ہیں۔ ابوذر غفاری شیعہ سنی دونوں کیلئے قابل احترام ہیں لیکن اگر خلفاء کے دربار کو حضرت ابوذر غفاری نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تو وہ اہل بیت کی چوکھٹ سے بھی دور ہی رہے۔ حضرت علی ، حضرت حسن، حضرت حسین کے ڈیرے پر نہیں بیٹھتے تھے جن کو بدری صحابہ کے برابر بیت المال سے حضرت عمر بہت بڑا حصہ دیتے تھے۔
مجھے اپنے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی خلوت وجلوت میں رونا نہیں آیا۔ کراچی میں ساتھیوں کو دلاسہ دینے ان کے گھروں میں پہنچ گیا اور اپنے پاس بھی بعض افراد کو بلایاتاکہ ان کا یہ احسا س مٹادوں کہ میں غم سے نڈھال ہوں گا۔ کسی کو زیادہ روتا ہوا دیکھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ رونا مردوں کا کام نہیں بلکہ عورتوں کے حوصلے کا مقام ہے۔ آج میں پھر متازع معاملات میں دخل اندازی کرکے اپنے سکون کی زندگی کو اُجاڑنے پر تلا نظر آتا ہوں لیکن یہ میری ہمت نہیں اللہ کا فضل اور میری مجبوری ہے۔ صحابہ واہلبیت نے اپنے دور میں جن مشکلات پر قابو پایا تھا وہ بہت اچھے لوگوں کا زمانہ تھا،آج بہت برے لوگوں کا عجیب زمانہ ہے،مفادات نے سبھی کو اندھا اور اندھا دھند بنا رکھا ہے۔
قوموں کے ضمیر کی موت اور تقدیر کو اپنے کردار، گفتار، تکرار اور رفتار سے بدلنے کی کوشش کی جائے تو ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن سکتا ہے۔ علماء دیوبند کے خلوص کو منافقت سے تعبیر کرکے اسکے شر سے بچنے کی کوئی تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے مخلص ساتھیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے مجھ سے فرمایا تھاکہ ”ہمارا مدرسہ آپ کا مرکز ہے” تو میں نے معذرت سے عرض کیا تھا کہ ” خیمے لگانے کی تکلیف برداشت کرنی پڑے تو اس پر گزارہ کرلیںگے مگر کسی مسلک کی طرف خود کو منسوب نہیں کرینگے”۔ مولانا صفدر نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ بہت زبردست بات ہے ۔ مجھے تمہاری پیشانی کی چمک سے لگ رہاہے کہ خلافت کے قیام میں کامیاب ہوگے”۔
افغانستان میں اہل تشیع نے ملا عمر کا ساتھ نہیں دیا تو بھی اقتدار میں آگئے تھے اور جب امریکہ کے حملے کے بعد اہل تشیع نے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا تب بھی ملاعمر نے امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، جہاد کے میدان میں خطابت کے ترانے اور ذاکرین کے افسانے نہیں چلتے بلکہ بمباری کی گھن گرج میں اللہ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے جہاں مشرک بھی سمندری طوفانی بھنور میں پھنسنے کے اندیشے پر بتوں کو بھول کراللہ ہی کو پکارتا ہے۔ میں نے جہاد کے میدان میں دیکھا تھا کہ جب ہماری طرف سے روسی ٹینکوں پر میزائل سے تین گولے فائر کئے تو وہاں سے گولے ہم پربرسائے گئے ۔ پنجابی امیر خالدزبیرکے سفید دانت قریب میں لگنے والے گولے کی گرد و غبار میں چمکتے مسکراتے ہوئے دکھائی دئیے تو دوسری طرف حرکة الجہاد الاسلامی کراچی کے کمانڈر اعجاز مردانی کو گولے کی آواز سے گرتے ہوئے دیکھا تو میری ہنسی چُھوٹی،اس نے کہا کہ ہنستے کیوں ہو؟، میں نے کہا کہ گرے کیوں؟۔ اس نے کہا کہ روزہ لگا ہے۔ جب ہم جیپ میں رات کو افغانستان سے واپس آرہے تھے تو کبھی جیپ کی لائٹ جلاتے، کبھی بجھاتے ، روسی ٹینکوں سے گولے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لگ رہے تھے جیسا کہ کوئی فلمی سین بن رہا ہو۔ اللہ پر بھروسہ ہو تو جہاد کا میدان گلی ڈنڈے کا کھیل ہے۔
میں مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی لانڈھی کراچی میں زیرِ تعلیم تھا تو ایک اہل تشیع کے لواحقین اس کی میت جنازے کیلئے لائے تھے ، انہوں نے بتایا کہ مرحوم نے وصیت کی تھی کہ اس کا جنازہ سنی مکتب والوں سے پڑھایا جائے۔ ہم نے جنازہ پڑھا توانہوں نے خود شرکت نہیں کی۔ میں نے ہمدردانہ جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کیساتھ میت گاڑی تک لے جانے میں مدد بھی کی اور بہت ہلکا پھلکا وزن تھا اس میت کا۔ مجھے کراچی میں جمعہ کی نماز پڑھنے کیلئے پہنچنا تھا لیکن راستے میں کارساز کے قریب ایک امام باڑہ میں غلطی سے پہنچ گیا۔ دیکھا کہ نماز ہورہی ہے، جماعت میں شامل ہوا،اس شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھ کر یہ احساس ہرگز نہیں تھا کہ کسی گمراہ کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی اور یہی سوچا کہ اہل تشیع کی اپنی نماز ہوجاتی ہے تو میرے لئے بھی اس کی نماز ہوجاتی ہے ، فقہی مسائل اور نماز کے طریقۂ کار میں جتنا اختلاف فقہ حنفی اور فقہ جعفری میں ہے اس سے زیاہ ائمہ اربعہ میں بھی ہے۔
کچھ دنوں بعد محرم آگیا اور علامہ آصف علوی کی تقریر پر کراچی کے سنی علماء نہیں بلکہ لاہور اور اسلام آباد کے شیعہ علماء بھی اس کو سازش قرار دے رہے تھے۔ جس دن جمعہ کے بعد دیوبند مکتبۂ فکرکی طرف سے احتجاج تھا تو اس احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بھی مصروف دن گزارے تھے۔ اتفاق تھا کہ میں قاری صاحب کی مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا تو میں وہاں پہنچ گیا ۔ قاری صاحب سورۂ فتح کی آیات میں مذکورصحابہ کرام کی صفات کا ذکر فرمارہے تھے۔ جب یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار” کاشتکار ا سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے تاکہ کفاراس سے جل کر غصہ ہوں”۔ قاری اللہ داد صاحب نے صحابہ کرام کی اس سے پہلے ایک ایک صفت کو بیان کیا مگران سے کفار کے غصہ کے مارے جلنے کی بات نہیں کی۔
اگر صحابہ کرام کی طرف یہ نسبت کی جائے کہ وہ آپس میں رحم نہ کرنے والی صفات کی وجہ سے صحابیت سے خارج ہوگئے ہیں تو پھر حضرت علی اور ان سے لڑنے والوں سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن جب سورۂ فتح کے بعد سورۂ حجرات میں آپس کے قتل وقتال کے باوجود بھی دونوں گروہوں کو مؤمن قرار دیا گیا ہے تو پھر ان پر کفر کے فتوے لگانا قرآن کے علاوہ ائمہ اہل بیت کے مسلک سے بھی کھلا انحراف ہے۔
مجھے امید ہے کہ شیعہ سنی ایک دوسرے کو مساجد کے منبروں پر جمعہ کے دن تقریر کا موقع دیںگے اور امت مسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے میں منبر ومحراب سے زبردست کردار ادا کریںگے۔ اپنے مسلک کے شدت پسندوں کی مخالفت ہی معیارِ حق ہے تو پھر کیا سنی شیعہ اتحاد کے دعویدار شیعہ علماء اپنے مسلک کیلئے قربانی دینے والوں کی قبروں پرحاضری نہیں دیتے پھرتے ہیں؟۔ یہی شدت پسند وہ ہیں کہ اگر اچھے راستے پر لگ گئے تو امت کا بیڑہ خالد بن ولید کی طرح پار کریں گے۔
مشرکینِ مکہ نے غزوہ اُحد میں پلٹ کر حملہ کیا تو مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچا۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ گیارہ (11) افراد رہ گئے تھے۔ علامہ جواد حسین نقوی نے کہا کہ تین افراد رہ گئے تھے ایک اور شیعہ عالم نے کہا کہ صرف علی رہ گئے تھے۔ قرآن میںبدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور اُحد میں بھاگنے والوں کی سرزنش میں زیادہ فرق نہیں تھا، یہ تربیت کا مرحلہ تھا اور ان آیات میں ہم نے اپنے معاشرے کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا ہے اور اگر تفریق وانتشار کا سلسلہ جاری رہا تو پھر وہ خون ریزی ہوسکتی ہے کہ اشتعال انگیزی میں اپنی صلاحیتیں خرچ کرنے والوں کو خوف وہراس میں اپنا مذہب نہیں بدلنا پڑ جائے۔ واعظ اور خطیب مجاہد ہوتو میدانِ جنگ میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گھبراکر بھاگ جاتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں تاریخی اور زمینی حقائق ہیں اور علماء نے انسان اورپری کو جوڑا بنادیا۔

قرآن میں تاریخی اور زمینی حقائق ہیں اور علماء نے انسان اورپری کو جوڑا بنادیا۔ فتوحات کے دروازے کھل گئے تو اللہ نے مسلمانوں کو نسل در نسل اجتماعی امامت کے مقام پر فائز کردیا،اگر اب رویہ بدلا تو ہماری حالت بدلے گی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سینٹر مشاہداللہ خان مرحوم نے کہا تھا کہ قوالی سن کر مسلمان ہونے والوں نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کا چہرہ خراب کردیا ورنہ فطری دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔یہ بیان چھپاتھا

مولاناعطاء الرحمن نے نوشہرہ میں ن لیگ کی حمایت کرکے پی ڈی ایم (PDM)کی قلعی کھول دی تھی،میاں افتخار حسین نے پی ڈی ایم (PDM)کے جلسوں میں نمایاں شرکت کی مگر جمعیت ن لیگ کی دُم چھلہ تھی

والذارےٰت ذروًاOفالحٰملٰت وِ قرًاOفالجٰرےٰت یسراO فالمقسمٰت امرًاOانما توعدوں لصادقOوان الدین لواقعOو السماء ذات الحبکOانکم لفی قول مختلفOیؤفک عنہ مَن افکOقتل الخرّٰ صونOالذین فی غمرة ساھونO ….
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے مسلمانوں کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے کیلئے انقلابی تفاسیر کی طرف توجہ دلائی تھی۔ جب میں نے مسجد الٰہیہ ،خانقاہ چشتیہ، مدرسہ محمدیہ اور یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین میں حضرت حاجی محمد عثمان کی اجازت سے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا سندھی کی انقلابی تفسیرپڑھاتا تھا۔ جب حاجی محمد عثمان کے خلفاء نے سازش کرکے حاجی صاحب کو اپنے گھر میں نظر بند کیا تھا تو ہمیں نہیں پتہ تھا لیکن اس دوران میں مولانا عبیداللہ سندھی کی قبر پر دین پور خان پور گیا اور انقلاب کی دعا مانگی تھی اور انقلاب کا عزم کیا تھا۔ پھر مجلس احراراسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت، انجمن سپاہ صحابہ کے مولانا حق نواز جھنگوی ،مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالمجید ندیم کے دوست فیض محمد شاہین لیہ پنجاب سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ نئی تحریک سے علماء دیوبند کی محنت کو آگے بڑھایا جائے۔ میرا کہنا یہ تھا کہ اکابر نے اپنے کسی مخصوص مکتبۂ فکر کیلئے قربانی نہیں دی تھی بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے تھے۔ ہم نے ان کو بھی فرقہ، مسلک اور مکتب بناکر بیڑہ غرق کیا ہے۔ پھر سوچا کہ جنت کا سب سے مختصر راستہ جہاد ہے اور افغانستان گیا۔
جب وہاں حرکة الجہادالاسلامی کے کمانڈروں نے پوچھ گچھ کی تو پھر میں نے بھی پوچھ لیا کہ آخر یہ تحقیق کیوں؟۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں بہت سارے امریکی ایجنٹ ہیں ، جماعت اسلامی اور گل بدین حکمتیار سے لیکر کسی کو نہیں چھوڑا۔ میں نے کہا کہ پھر تو ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف روس ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ بات تو یہ یہی ہے ۔ میں نے کہا کہ پھر بہتر نہیں کہ قبائلی علاقوں کو اسلامی خلافت بناکر دونوں سے لڑیں۔ حاجی عثمان صاحب ہمارے مرشد ہیں۔ بڑے فوجی افسران اور مدارس کے اساتذہ بھی ان کے مرید ہیں۔ ایک اعتماد کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو زبردست بات ہے۔ اور مجھے افغانستان سے پاکستان اسپیشل پہنچا بھی دیا۔ لیکن جب میں کراچی آیا تو پتہ چلا کہ حاجی صاحب کو بند کیا گیا تھا اور ان پر فتوے بھی لگ چکے ہیں۔میں نے اس سے پہلے وزیرستان کے طلبہ کی تنظیم جمعیت اعلاء کلمة الحق کے نام سے بنائی تھی اور اسکی وجہ سے تحریک طالبان بیت اللہ محسود کے ترجمان مولانامحمدامیرنے کہا تھا کہ” آپ نے ہمیں انقلاب پر لگادیا اور جب وقت آیا تو اب آپ پیچھے ہٹ گئے ، ہم آئی ایس آئی (ISI)کے نہیںہیں”۔ میں نے کہا کہ آئی ایس آئی (ISI)کے ہو تب بھی ساتھ دوں گا لیکن یہ مجھے امریکہ ہی کا ایجنڈہ لگتا ہے کیونکہ جو پمفلٹ چھپوایا تھا وہ امریکہ ہی کا ایجنڈہ ہوسکتا تھا۔
مولانا سندھی یوں ترجمہ وتفسیر کرتے کہ ” قسم ہے اس انقلابی جماعت کی جس کی وجہ سے کافروں کے چہرے غبار آلود ہونے والے ہیں۔ پس وہ جماعت جس نے انقلاب کا بارآور بوجھ اٹھا رکھا ہے، جس کی تحریک آسانی کیساتھ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے رب کائنات نے کافروں اور مؤمنوں کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور بیشک جو تم سے اللہ نے غلبے کا و عدہ کررکھا ہے وہ سچا ہے۔ اور بیشک جزائے اعمال کا بدلہ مل چکا ہے (فتح مکہ کے دن سے پہلے کی خوشخبری)۔ قسم ہے اس آسمان کی جو رنگ بدلتا رہتا ہے کہ تم لوگ حق کے قول میں مختلف ہو۔ وہی برگشتہ ہے جو پھرا ہواہے۔ مارے گئے قیاس وگمان سے حکم لگانے والے۔ جو جہالت وغفلت میں مدہوش ہیں۔ اس انقلابی دن کے وقت وہ آگ پرفتنے میں پڑیںگے۔پس چکھو اپنے فتنے کو۔ یہ وہی تو ہے جس کو جلد طلب کررہے تھے۔ بیشک پرہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہونگے۔ وہ ان باغات اور چشموں کو خوشی سے لیںگے کہ ان کے رب کی دَین ہے۔بیشک اس سے پہلے یہ احسان کرنے والے تھے۔ وہ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور پچھلے پہر اللہ سے استفار کرتے تھے۔ ان کے مال میں مانگنے والوں اور محروم طبقے کا حصہ ہوتا تھا۔ اور زمین میں یقین کرنے والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیںاور تمہارے نفسوں میں بھی کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟”۔
یہ سورۂ ذاریات کی ابتدائی آیات ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کا تذکرہ ہے کہ جب فرشتوں سے خوفزدہ ہوگئے اور جب فرشتوں نے بڑی عمر کے باوجود بیٹے کی خوشخبری سنائی تو آپ کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے منہ پر ہاتھ مارا ۔ کہنے لگی کہ بوڑھی بانجھ۔
آگے اللہ نے فرمایا:” اور آسمان کو ہم نے ہاتھ سے بنایا اوربیشک ہم وسعت دے رہے ہیں۔اور ہم نے زمین کو فرش بنادیا اور ہم اچھا جھولا جھلا تے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو پیدا کرکے جوڑے بنائے۔ ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرلو۔ پس گمراہی کے ماحول سے اللہ کی طرف فرار ہوجاؤ۔ بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لئے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اور اللہ کیساتھ کسی اور کو معبود مت بناؤ۔ میں ہی بیشک اس کی طرف کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اس طرح اس سے پہلے جن لوگوں کے پاس کوئی رسول آیا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ جادوگر اور پاگل ہے۔ کیا انہوں نے یہ اس بات کی وصیت کررکھی ہے بلکہ وہ قوم ہیں سرکش۔پس (اے نبی!) ان سے رُخ پھیر دو۔آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور اپنی نصیحت جاری رکھیں کیونکہ واعظ سے مؤمنوں کو نفع پہنچتا ہے۔ اور ہم نے انسانوں اور جنات کو پیدا نہیں کیا مگر تاکہ عبادت کریں۔ مجھے ان سے روزی کی چاہت نہیں اور نہ کھلانے کی چاہت ہے ۔ بیشک اللہ بہت روزی دینے والامضبوط قوت والاہے پس ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ظلم کرکے بوجھ اُٹھائے ہیںجس طرح ان کے پیشرو ساتھیوں نے بوجھ اُٹھائے تھے ، پس یہ جلدی نہ مچائیں۔ پس ہلاکت ہے جن لوگوں نے اپنے دن سے انکار کیا ،جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ (سورۂ ذاریات آخری رکوع)
پہلے انبیاء کی قوموں نے اپنے اپنے دور میں حساب اور جزا کا دن دنیا میں دیکھ لیا تھا اور جب مکہ فتح ہوا تو اہل مکہ نے بھی دیکھ لیا۔ ابوجہل، ابولہب اور بڑے بڑے سردار انجام کو پہنچ گئے تھے۔ ابوسفیان ، ہند اور عکرمہ بن ابوجہل وغیرہ نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر مسلمانوں نے ایک طویل عرصہ تک باغات کے مزے اُڑائے تھے۔
سورۂ ذاریات کے بعد قرآن میں سورۂ طور ہے۔ جس سے حقائق پیش کرنے تھے اور اس کیلئے سورۂ ذاریات سے کچھ معاملات مقدمہ کے طور پیش کئے ہیں۔ سورۂ ذاریات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کچھ تفصیل سے ہے جسکا مقصد مشرکینِ مکہ کو متوجہ کرنا ہوسکتا ہے کیونکہ اہل مکہ کے ہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد کوئی نبی نہیں آئے۔ اجمالی ذکر حضرت نوح کا بھی ہے۔ ہندوستان کے ہندو سمجھتے ہیں کہ وہ نوح کی قوم ہیں۔اسلام کی نشاة اول میں حضرت ابراہیم کی قوم نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اسلام کی نشاة ثانیہ میں ہندوستان کے ہندو بہت اہم کردار ادا کریںگے ۔ جب مسلمان خود ہی دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ میں تقسیم ہیں تو پھر بھارت کے ہندوؤں کو اسلامی تعلیمات سے کیسے آگاہ کیا جاسکتا ہے؟۔
موسیٰ علیہ السلام کو یہود ونصاریٰ مانتے ہیں۔ ہزاروں انبیاء بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مولوی اور دانشور طبقہ لڑرہا ہے کہ اللہ نے مسجد اقصیٰ کی زیارت میں جو مشاہدہ کرایا وہ خواب میں تھا یا بیداری میں؟۔ سیدابولاعلیٰ مودودی سے جاویداحمد غامدی کا اختلاف ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ٹی وی کے چینلوں پر غامدی کو دیکھ رہاہے کہ کون کون سے الجھے ہوئے مسائل کا حل نکال رہاہے لیکن دنیا کو یہ نہیں بتایا جارہاہے کہ اللہ نے مسجد اقصیٰ میں کیا دکھایا تھا؟۔ حرم کعبہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے اور بیت المقدس میں پچاس (50) ہزار کے برابر ہے۔ تو مسجد اقصیٰ میں اللہ نے کیا دکھایا تھا؟۔ جاوید غامدی کا عجیب دماغ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے بعد اس میں معاملے پر سکوت اختیار کرلیا۔ پھرساٹھ (60) ویں آیات میں بتایا کہ یہ خوا ب تھا جو ہم نے دکھایا جس کو لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا۔ یہ کونسی آزمائش ہے کہ بیداری ہے یا خواب؟۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دومرتبہ بنی اسرائیل کے فساد اور بڑائی کے دعوؤں کو زمین بوس کرنے کی زبردست وضاحت فرمائی ہے اور نبیۖ کو یہی تو دکھایا تھا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ قیصر روم کی سپر طاقت کو بھی شکست دی تھی اور آج پھر بنی اسرائیل پر نعمتوں کی بارش ہے لیکن انہوں نے پھر انسانیت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور عنقریب اللہ نے ہی اپنی قدرت سے ان کے غرور کو خاک میں ملانا ہے۔ سورہ حدید میں بھی دوسری مرتبہ کا پھر سے ذکر ہے۔ اگر مسلمان اپنا ایجنڈہ دنیا کو دکھادیں کہ ہم نے لوہے کو اسٹیل مل کا کباڑ خانہ بھی نہیں بنانا ہے اور دنیا میں بھی تباہی نہیں مچانی ہے تو بات بن جائے۔
اللہ تعالیٰ نے مکہ ومدینہ کے کفار ومنافقین کو واصل جہنم کرنے کے بعد مسلمانوں پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے۔ سورۂ طور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ
ان المتقین فی جنّٰتٍ وعیونOفٰکھین بما اٰتٰھم ربھم ووقٰھم ربھم عذاب الجحیمٍOکلواواشربواھنیئًا بما کنتم تعملونOمتکین علی سررٍ مصفوفةٍ وزجنٰھم بحورعینٍOوالذین اٰمنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم و ماالتنٰھم من عملھم من شی ئٍ کل امریٍٔ بما کسبت رھینOوامددنھم بفاکھةٍ ولحمٍ ممایشھونOیتنازعون فیھا کأسًا لا لغو فیھا ولاتأثیمOو یطوف علیھم غلمان لھم کانھم لؤلؤ مکنونOواقبل بعضھم علی بعضٍ یتسآء لونOقالوا انا کنا قبل فی اہلنامشفقینOفمن اللہ علینا و وقٰنا عذاب السمومOانا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو البرالرحیم
”بیشک پرہیزگارلوگ باغات اور چشموں میں ہونگے۔ پس وہ خوش ہونگے جو انکے رب نے ان کو عطاء کیا ہے۔ اور ان کے رب نے جحیم کے عذاب سے بچایا ہے۔ کھاؤ پیو مزے سے بسبب جو تم عمل کرتے تھے۔ بیٹھے ہوں گے صفوں میں چارپائیوں پر اور ہم نے ان کی موٹی آنکھوں والی شہری عورتوں سے شادی کرائی۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولادوں نے ان کی اتباع کی اپنے ایمان کیساتھ ان کے ساتھ ملادیا ان کی اولاد کو ۔ ہم انکے اعمال میں سے کوئی چیز کم نہ کرینگے۔ ہر شخص (انفرادی طور پر)اپنے عمل کا رہین ہے۔اور ہم نے (اجماعی حیثیت سے) ان کی مدد کی پھلوں سے اور گوشت سے جو وہ چاہتے تھے۔ وہ تنازع کریںگے پیالوں پر مگر یہ لغو اور گناہ نہیں ہوگا۔ ان کی خدمت پر لڑکے گھوم رہے ہونگے گویا وہ چھپے موتی تھے۔ وہ بعض ان میں سے بعض پر پیش کرینگے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنوں میں بہت مشکلات میں تھے تو اللہ نے ہمارے اوپر احسان کیا۔ اور ہمیں گرم ہواؤں سے نجات دیدی۔ بیشک ہم پہلے بھی اس کو پکارتے تھے۔ بیشک وہ بڑا محسن رحیم ہے”۔ (آیات 17تا28سورۂ طور )
جو روانی کیساتھ عربی کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ قرآن کی تلاوت سے آخرت کے بجائے دنیا میں ہی قرونِ اولیٰ کے ادوار میں مسلمانوں کی اجتماعی خوشحالی کا معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگائے گا کیونکہ بعض چیزوں سے تو آخرت مراد لینا ممکن نہیں ہے۔ جب مدینہ میں مہاجرین کے دل فطری طور پر اپنے عزیز واقارب کی طرف مائل تھے ۔ ایک بدری صحابی نے اہل مکہ کو خط بھی لکھا تھا جو پکڑا گیا تھا۔ جس پر تنبیہ بھی آئی اور پھر آخر میں اللہ نے یہ مژدہ بھی سنادیا کہ عنقریب سب رشتہ دار مل جائیں گے۔ اور پھر ایسا ہی فتح مکہ کے بعد ہوا تھا لیکن اس دوران جو بڑے بڑے جاہل اور ہٹ دھرم تھے وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے اسلئے جس طرح قرآن نے پہلے سے خبر دے رکھی تھی اسی طرح سے ہوا اور پھر مسلمان نسل در نسل خوشحال رہے۔ البتہ انفرادی معاملات سب کے اپنے اپنے تھے انکے ایمان اور اعمال کے حساب سے۔ جب اللہ نے ہر چیز میں جوڑے بنارکھے ہیں تو پھر بھینس اور بیل کا جوڑا نہیں ہوسکتا۔ انسان کا جن و پری سے جوڑا نہیں بن سکتا ہے۔
ان آیات میں غلمان کا ذکر ہے جو چھپے ہوئے موتی کی طرح ہونگے۔ جب انسان میں اچھی صفات ہوتی ہیں اور ایسے ماحول سے نکلتا ہے جہاں اس کی صلاحیتیں مخفی ہوتی ہیں تو چھپا ہوا ہیرا کہلاتا ہے۔ مختلف قوموں سے سلمان فارسی، صہیبِ رومی ، بلال حبشی کی طرح محمود غزنوی کے غلام ایاز کی طرح مسلمانوں نے صدیوں چھپے ہوئے ہیرے ایک دوسرے کو تحفہ کے طور پر پیش کئے ہیں۔
قرآن کے ذریعے پہلے جو انقلاب برپا ہوا تھا ،اس سے زیادہ آج کے دور میںبھی انقلاب برپا ہوسکتا ہے اسلئے کہ آج دنیا میں اعلیٰ اقدار کو خوشی کیساتھ قبول کیا جاتا ہے۔ہم نے عوام کو قرآن کی طرف متوجہ کیا تو قوم زوال سے بہت جلد عروج پالے گی ۔انشاء اللہ

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اگر مولانافضل الرحمن مریم نواز کا دوپٹہ اور مریم نواز مولانا کا رومال سرپر باندھ دے تب بھی قوم زندہ باد کے نعرے لگائے گی!

مسلمان ماضی پرنہ لڑیں اپنے حال کو سدھاریں، اگر بروقت قرآن سے رہنمائی لینے کی کوشش نہ کی تو دیر ہوجائے گی! پھرکہنامت ،موقع نہیں ملے گا ۔جتنا بھی تم سے ہوسکے اپنے ارمان نکال لو، یہ دریائے کافری کے اُترنے کا وقت ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولوی کے درسِ نظامی سے لیکر نظام مملکت تک، فک النظام”نظام تہس نہس کرکے رکھ دو” شاہ ولی اللہ، کبھی ہندو پنڈت بھی ہندوستان کو کلمہ پڑھانے کا کہتاہے اور توکبھی علامہ اقبال

سورۂ نور سے مشرق اور مغرب کی ظلمت ختم ہوسکتی ہے ،اگر مولانافضل الرحمن مریم نواز کا دوپٹہ اور مریم نواز مولانا کا رومال سرپر باندھ دے تب بھی قوم زندہ باد کے نعرے لگائے گی!

اسلام اس بات کا نام ہے کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس کو من وعن تسلیم کیاجائے اور مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے فرقے اورمسالک پکڑ کر رکھے ہیں لیکن قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ قرآن میںہی ان کی اس خامی کا ذکر ہے۔
وقال الرسول یارب ان قومی اتخذا ھٰذالقرآن مھجورًا
”اور(قیامت کے دن اللہ کے نبیۖ) رسول کہیںگے کہ اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔
المOذٰلک الکتٰب لاریب فیہ ھدیً للمتقینOالذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوٰة ومما رزقنٰھم ینفقونOوالذین یؤمنون بما انزل الیک وماانزل من قبلک وبالاٰخرة ھم یؤقنونOاولٰئک علی ھدیً من ربھم واولٰئک ھم المفلحونO
” الم، یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ھدایت ہے اس میں پرہیزگاروں کیلئے۔جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے رزق دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور اس پر جو آپ سے پہلے نازل کیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں”۔ البقرہ
ایک شیعہ علامہ حضرت صاحب ہیں جو آئے روز اپنے سامعین کے سامنے کوئی نہ کوئی نیا انکشاف کرتے ہیں کہ قرآن میں چار مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب کا نام اور پھر اپنی منطق بیان کرتے ہیں کہ جہاں محمد کا ذکر ہے وہاں علی کا ذکر ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ زندگی میں پہلا انکشاف ، قرآن میں حضرت حسین بن علی کا ذکر ہے۔ سامعین پھر اس کے نئے انکشاف پر سر دھنتے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ شاید جاری رہے گا۔
ایک اور علامہ ہیں جو والفجر ولیال عشر سے مختلف اقوال کا ذکر کرتے ہیں کہ دس راتوں سے محرم کا پہلا عشرہ یارمضان کا آخری عشرہ یا پھر فجر سے مراد امام زمانہ ہیں یا پھر بارہ امام اور حضرت فاطمہ ورسول ۖ کیساتھ چودہ افراد کیلئے چودہ قسم ہیں۔
بعید نہیں کہ کوئی شیعہ الم سے مراد آل محمد بھی لے۔ال سے آل اور م سے محمد مراد ہیں۔ درسِ نظامی میں تفسیر کی آخری کتاب بیضاوی میں ہے ” الم” سے کیا مراد ہے؟یہ اللہ کے سواء کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الف سے اللہ، لام سے جبرئیل اور میم سے محمدۖ مراد ہیں ۔ یعنی اللہ نے جبریل کے ذریعہ محمدۖ پر کتاب نازل کی۔ میں درسِ نظامی کا طالب علم تھا۔ مولانا فداء لرحمن درخواستی کے مدرسہ انوارالقرآن میں ہمارے استاذ مولانا شبیراحمد رحیم یار خان والے تھے۔ بیضاوی کا یہ سبق تھا تو میں نے عرض کیا کہ پہلا تضاد یہ ہے کہ اگر صرف اللہ کو معلوم ہے تو پھر یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعے حضرت محمدۖ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ دونوں قول میں تضاد ہے۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ اللہ کا پہلا حرف، محمدۖ کا پہلا حرف تو جبریل سے بھی پہلا حرف ہونا چاہیے۔ الف جیم میم ہونا چاہیے تھا۔ استاذ نے برملا درس کے دوران کہہ دیا کہ ”عتیق کی بات درست ہے ، بیضاوی کی تفسیر غلط ہے”۔
حضرت ابوبکر نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال کیا تو حضرت عمر نے آخر میں کہہ دیا تھا کہ کاش ہم نبیۖ سے زکوٰة نہ دینے پر قتال کا حکم پوچھ لیتے۔ حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں مانعین زکوٰة کیخلاف قتال ہوا تھا، حضرت عمر نے اقتدار میں آتے ہی حضرت خالد بن ولید کوہی منصب سے معزول کردیا تھا۔ اہل سنت کے چار فقہی امام حضرت امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بالکل متفق تھے کہ مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ انکی طرف منسوب ایک اور گمراہی ہے کہ نماز پر سزاؤں اور اس سزا پر اختلافات کے مسائل ہیں۔ اہل سنت و اہل تشیع اس پر متفق ہیں کہ قرآن کیخلاف کوئی حدیث اور قول قبول نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں ہے” لیکن سنی و شیعہ دونوں ایک دوسرے پر شکوک اور تحریف کا الزام لگاتے ہیں اور اس مسئلے کا سنجیدہ حل نکالنا ہے۔ سینٹ الیکشن سے پہلے قومی اسمبلی میں اس پر بحث کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” یہ کتاب پرہیزگاروں کیلئے ہدایت ہے” جبکہ شیعہ سنی اپنے فاسق طبقہ کو بھی ہدایت یافتہ اور دوسروں کے پرہیزگار طبقہ کوبھی گمراہ سمجھتا ہے۔
اللہ نے ہدایت یافتہ لوگوں کی پہلی صفت یہ بیان کی کہ ” وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ”۔ لیکن دیکھا جائے تو مسلمانوں کا حاضروموجود پر ایمان لگتا ہے کہ جو مولوی نے بتادیا اور جس سے دنیا میں اچھی گزر بسر ہو۔ امریکہ اور دنیا کا نظام پہلے نمبر پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ” جو نماز قائم کرتے ہیں”۔ مسلمانوں کا پچانوے (95)فیصد طبقہ نماز پڑھتا نہیں ہے لیکن پھر بھی اپنے اپنے فرقوں کو گمراہ نہیں ہدایت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں”۔ ہم نے طبقات بانٹ دئیے ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ مرکر بھی خرچ کا کوئی اہتمام نہیں کرتے اور جو نماز نہیں پڑھتے ان کیلئے مولوی پر خرچہ ہدایت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو ایمان لاتے ہیں جو احکام آپ کی طرف نازل کئے اور جو آپ سے پہلے نازل کئے ہیں”۔ ہم کہتے ہیں کہ ہماری عبادت ، معاشرت ، معیشت اور حکومت بھلے اپنے نبیۖ کی طرف نازل کردہ کتاب کے مطابق نہ ہو تب بھی ہم ہدایت پر ہیں اور وہ اپنی طرف نازل ہونے والے احکام پر ٹھیک عمل بھی کرتے ہیں تو بھی وہ گمراہ ہیں اور فلاح نہیں پائیںگے۔ کیا ہم اپنے نبی ۖ پر نازل کردہ کتاب کے احکام کو قبول کرنے کیلئے آمادہ ہیں؟۔ یقین جانئے کہ نہیں اور بالکل نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ ” طلاق کے بعد عدت میں باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے”۔ جس میں حلالہ کی لعنت غیرفطری ہے۔ دنیا کے کسی مذہب ، ملک اور قوم کے پاس اللہ کے اس حکم کو لے جاؤ، وہ اس حکم پر سر تسلیم خم کردے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ اسلم تسلم اس نے اسلام کا یہ حکم قبول کیا لیکن مسلمان انکار کرکے کفر کریگا۔ پھر بھی ہم مسلمان اور وہ کافر؟۔ ہمیں صرف اپنے روئیے پر غور کرناچاہیے۔
اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر فرقے کی اکثریت نماز قائم نہ کرنے کے باوجود ہدایت پر ہے تو حضرت ابوطالب بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیں ابوطالب کی گود میں پناہ ملے گی اور اگر ہم اللہ کے دئیے ہوئے میں سے خرچ نہیں کرتے تو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔
صحیح بخاری میں اہل بیت کے افراد کیساتھ علیہ السلام لکھا ہے۔ ہمارے اکابر نے بھی علیہ السلام لکھا ہے۔ ہم تو اہل قبور کو بھی سلام کرتے ہیں اور جاہلوں کو بھی سلام کہتے ہیں اور قرآن میں مخاطب کے صیغے سے بھی حق کا انکار کرنے والوں کوسلام کہا گیا ہے کہ سلام علیکم لا نبغی الجاہلین ”تم پر سلام ہو ، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے ہیں”۔ علماء دیوبند اور بریلوی نے اپنے اپنے اکابر کیساتھ رضی اللہ عنہ بھی لکھ دیا ہے اور کوئی جل جلالہ بھی لکھ دے تو مناسب اسلئے ہے کہ اللہ سے اپنے اکابرہی کو ترجیح دیتے ہیں اور یہودونصاریٰ کی طرح اپنے علماء ومشائخ کو اپنے رب کا درجہ دیا ہے۔ عام مسلمانوں کو چاہیے کہ اُٹھ کر جاہلوں کا راستہ روکیں۔ ورنہ جس طرح پختون قوم طالبان کے ہاتھوں تباہ ہوگئی تھی ،اب دوسرے اپنے مولوی کے ہاتھوں تباہ ہونگے اور ہماری حکومت و ریاست جب قادیانیوں سے بھی بے بس ہو اور قادیانیوں کیلئے بھی بے بس ہو۔ جو نہ قادیانیوں کے خلاف کچھ کرسکے اور نہ قادیانیوں کے حق میں چاہنے کے باوجود کچھ کرسکے تو ایسی بے بس حکومت وریاست نے بلیک میل ہی ہونا ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکتبہ فکر کے شدت پسندوں نے صحابہ واہل بیت سے زیادہ اپنے پیٹ کا مسئلہ سمجھ رکھا ہے۔ جس طرح یہود ونصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت سوزی اور شخصیت سازی پر ہلاک ہوئے تھے اور جب سے انہوں نے فرقہ واریت کو چھٹی دیدی ہے تو عروج وترقی کی راہ پر گامزن ہوگئے ،اسی طرح شیعہ سنی بھی کچھ دیر کیلئے اپنی سابقہ شخصیات کو جنتی یا دوزخی بنانے کی رٹ چھوڑ دیں۔ کسی کے کہنے سے کوئی جنت میں جاسکتا ہے اور نہ جہنم میں جاسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو سابقہ لوگوں کے جنت اور جہنم سے زیادہ اپنے پیٹ کیلئے دنیا کو جنت یا جہنم بنانے کی لگی ہے۔
اہل سنت سے عملی طور پر اہل تشیع زیادہ لچکدار بن سکتے ہیں اسلئے کہ اگرحضرت عثمان چالیس (40) یاستر (70)دن محاصرے کے دوران خلافت سے دستبردار ہوجاتے تو شہادت کی منزل پر نہیں پہنچتے۔ جبکہ حضرت حسن نے خلافت سے دستبردار ہوکر حضرت معاویہ کے سپرد کردی تھی۔ اہل سنت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ امام مہدی امام حسن کی اولاد سے اسلئے آئیںگے کہ حضرت حسن نے خلافت کی قربانی دی تھی اور حضرت حسین نے حرص کیا تھا اسلئے حضرت حسین کی اولاد کو آئندہ بھی خلافت کایہ انعام نہیں ملے گا۔ اہل تشیع بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی اولاد کو کیا اسلئے خلافت نہیں ملے گی کہ انصار سے خلافت کے مسئلے پر نامناسب وقت پر الجھے تھے؟۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت حسن نے کسی مجبوری کے بغیر ہی خلافت چھوڑ دی تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں کا آپس میں لڑنے سے زیادہ خلافت سے دستبردار ہونا ہی بہتر ہے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی انصار و مہاجرین ، اہل بیت کے اسی روئیے نے امت مسلمہ کی قوت کو پوری دنیا میں سپر طاقت بنادیا تھا۔ حضرت حسین نے شہادت کیلئے خود فیصلہ نہیں کیا تھا اگر یزیدی لشکر ان کو چھوڑ دیتا تھا تو پھر وہ مدینہ واپس چلے جاتے۔ اگر یزید کے پاس بھی جانے دیتے تو حضرت ہند اپنے پوتے یزید کو ایسا نہ کرنے دیتی ،کیونکہ ایک مرتبہ رسول اللہۖ نے فتح مکہ کے بعد معاف کیا اور پھر امام حسن نے تمام تلخیوں کے باوجود حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی تھی اور اگر حضرت حسین نے اپنا مقصد شہید ہونا ہی مقرر کیا تھا تو آپ کی اولاد میں پھر کوئی بھی اس طرح آرام سے بیٹھنے کے بجائے باری باری قیام ہی کرتے۔
البتہ حضرت حسین نے سمجھوتہ نہیں کرنا تھا اور سمجھوتے کیلئے تیار ہوجاتے تو پھر یہ ممکن نہ ہوتا کہ امت کبھی بھی ظالم کے سامنے مزاحمت کی سیاست کرتی۔ امام حسین ہی ظالموں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ اور یزید ظلم کا استعارہ اس قربانی کے سبب بن گئے ہیں۔ آج ہم نے پھر پوری دنیا میں حسین کے کردار سے یزیدیت کا بستر گول کرنا ہے اور یزیدیت کی صرف ایک شکل خاندانی طور پر حکومتوں اور پارٹیوں پر قبضہ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ سول وملٹری بیوروکریسی اور اس کے آلہ ٔکار حکمران ، میڈیا اور مذہبی طبقہ سب یزید کے لشکر سے زیادہ بڑے یزیدی ہیں۔
حضرت حسین یزید کے ہاتھ پر بیعت ہوجاتے تو کربلا کے میدان میں شہادت کی موت نصیب نہ ہوتی۔ باقی ائمہ اہل بیت اور علماء حق نے بھی ظالموں کی چوکھٹ پر اپنا سر نہیں جھکایا تھا۔ البتہ دین خیرخواہی کا نام ہے اور موسیٰ کی فرعون سے خیرخواہی تھی اور ہردور میں فرعون ایک نئی روح کیساتھ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو تو مزاحمت کرنا ہی انبیاء کرام اور ان کے وارثوں کا وطیرہ رہاہے۔ اگر اکبر بادشاہ کے دربار میں حسین کو ماننے والے ابولفضل فیضی شیعہ اور شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سنی ہو توپھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس کا عقیدہ کیا ہے ؟۔ بلکہ حسینی کردار والا ہی اہل حق ہے۔
اب تو مسئلہ یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے اور اگر مولوی اور اہل اقتدار سب کو اپنے حال پر بھی چھوڑ دیا جائے تو سب کا یونہی تیا پانچہ ہونے والا ہے۔ اب ہم نے ان کو گرانا نہیں سدھارنا اور بچانا ہے اسلئے کہ مشرکین مکہ نبیۖ کو مجبور نہ کرتے توپھر ہجرت بھی نہ ہوتی اور صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی نہ ہوتی تو مکہ اس طرح فتح نہ ہوتا۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں مختلف مذاہب کیلئے گنجائش ہے تو کیا مسلمان فرقے ایک دوسرے کیلئے اسکا مظاہرہ کریں گے؟

ان الدین عنداللّٰہ الاسلام : بیشک اللہ کے ہاں فقط اسلام دین ہے۔اسلام کا معنی تسلیم یعنی اللہ کو ماننا اللہ کی ماننا!
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم اٰخر وعمل صالحًا..

بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی اور عیسائی اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر خوف نہ ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن نے جس فراخ دلی سے مختلف مذاہب کیلئے گنجائش نکالی ہے تو کیا مسلمان بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ کیلئے پاک وہند میں اس فراخ دلی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں؟۔

اہل تشیع اسلام کی ایک ایسی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ اسلام میں بارہ امام تھے اور پہلے امام سے آخری امام تک سب کا ایسے حالات سے سامنا پڑا تھا کہ آخر کار آخری امام حضرت خضر کی طرح ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ غائب ہوگئے ہیں۔ حالانکہ امام کا کام منصب اقتدار سنبھالنا ہے ،اگر اقتدار سنبھالنا نہیں ہے تو پھر اہل اقتدار سے زیادہ الجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کے بارہ امام کا سلسلہ آئندہ آنا باقی ہے۔ جس طرح نبوت و خلافت کا سلسلہ پہلے بنی اسرائیل میں تھا، پھر قریش میں منتقل ہوا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی ، حضرت حسن کے بعد بنوامیہ اور بنوعباس تک جاپہنچا اور پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔ محمود غزنوی کی حکومت کا دور ختم ہوا تو مغل سمیت مختلف خاندانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے۔
ہندوستان کی آزادی کا پروانہ جاری ہوا تو علماء دیوبند کی اکثریت نے تو متحدہ ہندوستان کے حق میں تحریک چلائی ۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے مسلمان ایک ہوتے تو کشمیریوں پر مظالم نہ ہوتے۔ لیکن متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت کی وجہ سے ہمیشہ ہندوؤں کی حکومت رہتی۔ اہل تشیع کی سمجھ بوجھ کے مطابق کافر ومرتد نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے زیر دست انکے ائمہ اہلبیت نے مجبوری کی زندگی گزاری ہے لیکن مذہب کی قیادت وسیادت کا تمغہ حکمرانوں اور اہل اقتدار کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔ اہل تشیع کے مراجع ائمہ اہل بیت ہی رہے ہیں۔ امام کی غیبت کبریٰ کے بعد مسلک اہل بیت کی آبیاری اہل تشیع کے فقہاء ومجتہدین نے آیت اللہ کی طرح جاری رکھی ہے۔
جس طرح ہندوستان کی آزادی کے بعد اقتدار کی باگ ڈور سیکولر ہندو کے ہاتھ میں تھی اور دیوبند، بریلوی اور اہلحدیث کے شیخ الاسلام اپنے اپنے تھے لیکن یہاں ووٹ کے ذریعے جمہوریت کا نقشہ تھا اور وہاں خاندانی تسلط کا راج قائم ہوتا تھا۔ اہل اسلام کیلئے بظاہر یہ جبری بادشاہت سے چھٹکارا تھا لیکن انگریزی نظام کی گرفت نے مضبوط جبری نظام کی آخری حدپار کردی۔
پہلے تو جائز وناجائز ، حلال وحرام اور قانونی وغیرقانونی معاملات کا بہت معروف تصور تھا۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کی زینت سے معاشرہ مزین ہوتا تھا۔ مثلاً ایک آدمی کاگھر، اس کی زمین اور دکان کی قانونی حیثیت معروف تھی اور اس پر ناجائز قبضوں کا تصور پہلے تو تھا نہیں لیکن اگر کوئی ظالم حق تلفی کی کوئی کوشش کرتا تھا تو مظلوم کو قانون سے تحفظ مل جاتا تھا۔ قانون کے علاوہ بہت بڑا تصور معاشرتی اخلاقیات کا بھی ہوتا تھا کہ کوئی گھر ، دکان، زمین کسی ایک کی ملکیت ہوتی تھی ،دوسرے افراد کرایہ کے بغیر فائدہ اٹھاتے تھے۔
انگریز نے جس نظام کو ہماری قوم کو غلام بنانے کیلئے تشکیل دیا تھا ہم نے اس کو جب سے اپنا قانون بنالیا ہے تو اخلاقیات کا جنازہ نکلنے میں کیسے دیر لگ سکتی تھی کہ جب قانون طاقت اور سرمائے کا غلام بن گیا ہے؟۔ پاکستان میں جس ڈھٹائی سے طاقتور لوگوں کو غلط قانون نے معاشرے میںننگا کرکے رکھ دیا، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہوگی لیکن ہمارے لئے یہ شعور ایک بہت بڑا سرمایہ ہے اور یہ بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔
معروف اینکر پرسن سید محمد بلال قطب نے دینی مدارس میں بھی 7سال کا کورس کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کیساتھ بھی رہے ہیںاور اسلامی اسکالر بھی ہیں لیکن اسکے باوجود مولانا طارق جمیل کے ناقل مولانا آزاد جمیل سے سوال پوچھا کہ سسرالی رشتہ داروں کوحدیث میں آگ اور موت قرار دیا گیا ہے تو کیا جب عورت کا شوہر مرجائے تو اس کا نکاح اپنے سسر سے ہوسکتا ہے؟۔
مولانا آزاد جمیل نے جواب دیا کہ اگر مجبوری ہو تو ہوسکتا ہے۔ سیدبلال قطب نے کہا کہ یہ کیسا مسئلہ ہے کہ جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس عورت کی اس سسر سے شادی ہو جس کو آگ قرار دیا گیا ہے، اس کیلئے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوگا؟۔ اس پروگرام میں دوسرے مکتبۂ فکر کے علامہ صاحبان بھی بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور یہ پروگرام رمضان میں افطاری سے پہلے نشر ہوا ۔ پھر سحری کے وقت نشر مکرر میں بھی چلا،دیکھا تو یقین نہیں آتا تھا کہ اتنی بڑی جہالت کا مظاہرہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ حالانکہ قرآن میں واضح الفاظ کے اندر جہاں محرمات کا ذکر ہے وہاں وحلائل ابناء کم ”جو تمہارے بیٹوں کیلئے حلال ہوں”۔ جس میں بہو کے علاوہ بیٹے کی لونڈی وغیرہ شامل ہیں۔
اگر فقہ واصولِ فقہ کی کتابوں کے علاوہ احادیث کی شروحات کے تناظر میں حرمت مصاہرت اور دوسرے مسائل دیکھ لئے جائیں اور ان کو پارلیمنٹ میں میڈیا کے سامنے لایا جائے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر علماء کی شلواریں واقعی گیلی ہوجائیں گی۔ کہیں لکھا ہے کہ غلطی سے بھی سوتیلے بچے کو شہوت کا ہاتھ لگ گیا تو بیوی حرام ہوجائے گی اور کہیں لکھ دیا ہے کہ بیوی کے سوتیلے سے لواطت کا فعل کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں بھی بہت شرمناک قسم کے مسائل لکھے ہیں۔
پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی ہوسکتی ہے۔ قبل از اسلام جاہلیت کے دور میں سوتیلی ماؤں سے نکاح کیا جاتا تھا۔پھر اسلام نے روک دیا اور یہ واضح کیا کہ الا ماقدسلف ‘مگر جو پہلے ہوچکا ہے’۔ علماء وفقہاء نے بعد میں اسلام کے نام پر جو مسائل گھڑے ہیں وہ تو جہالت کو بھی مات دے گئے ہیں۔ گدھوں کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ اس سے پہلے پہلے کہ غیر مسلم ہم پر مکمل قابو پالیں اور پھر علماء مشائخ سے آپریشن کا اہتمام کروائیںاور مسلمانوں کو اسلام سے بدظن کریں،ہم نے بروقت اپنے دین کا دفاع کرنا ہوگا۔ قرآن اور اسلام کا محافظ مولوی نہیں اللہ ہے۔
قائداعظم کے دادا نے اسکے باپ کا نام پونجا جناح رکھا تھا۔ ہندوستانی اپنی اردو میں پوجا کو پونجا بھی کہتے ہیں۔ یہ اہل تشیع کے گھوڑے ذوالجناح کی طرف منسوب ہے وہ جو امام حسین کے نام پر محرم میں نکالتے ہیں۔ قائداعظم آغا خانی شیعہ تھے ۔ پارسی مذہب سے آغا خانی بن گئے تو شکر ہے کہ رتن بائی پارسی خاتون سے شادی کرلی۔ آغا خانی سیکولر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا ہے۔ سید بلال قطب کا یہ حال ہے تو پھر ان کا کیا حال ہوگا؟۔ ہمارے کانیگرم میں ہمارے خاندان کے بڑوں کا ایک دوست تھا۔ جو بہت پکا قسم کا کانگریسی تھا۔ قائداعظم کا بہت سخت مخالف تھا جو گالی گلوچ کی حد تک بھی آجاتا تھا۔ جب اس کو چھیڑا جاتا تھا تو کہتا تھا کہ میں اس کی اس بیوی کی ایسی کی تیسی کردوں جس کو وہ اپنی بہن کی جگہ پراپنے ساتھ گھماتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بڑوں کا آپس میں مذاق ہوتا تھا۔
آج قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان، مادرملت فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو ملٹری ڈکٹیٹرشپ نے نقصان پہنچایا یا سیاسی طبقات نے؟۔ اس بحث میں ہماری قوم الجھی رہے گی اور آخر کار سقوط بغداد میں جس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان کی قوم نے مسلمانوں کا حشر نشر کردیا جو لایعنی فقہی مسائل، فرقہ وارانہ تعصبات اور ماضی کی یادوں میں گم تھے اور حال کی خبر لینے کی صلاحیت سے قاصر تھے۔ ارتغرل غازی کے ڈرامے سے قوم کی نشاة ثانیہ کیلئے کوئی کردار ادا نہیں ہوسکتا ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا نے انکشاف کیا کہ مولانا احمدرضاخان بریلوی کا فتویٰ ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے اور دیوبندی ، اہلحدیث، شیعہ اور قادیانی ہزار بار بھی اللہ کانام لیکر کسی جانور یا پرندے کو ذبح کریں تو وہ حلال نہیں۔ مولانا احمد رضاخان کے پیروکاروں کی پنجاب میں اکثریت ہے علامہ آصف جلالی کو اہل تشیع نے تائب کردیا تو اس کا سارا غبار دیوبند کیخلاف نکل رہاہے دوسری طرف علامہ سعدرضوی کے قافلے میں اوریا مقبول جان جیسے دیوبندی بھی شامل ہورہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ پنجاب میں دیوبندی واہلحدیث اور بریلوی تصادم کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ ہماری ریاست نے مجاہد تنظیموں اور سپاہ صحابہ سے سبق سیکھ لیا کہ نقص امن کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو پاکستان میں اسلام کی روح زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔علامہ اقبال نے دعا دی تھی کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے کہ تیرے بحرکی موجوں میں انقلاب نہیں
جب شیخ مجیب الرحمن نے الیکشن جیت لیا تو ذوالفقار علی بھٹو اقتدار منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ”ادھر تم اور ادھر ہم ” کا غم کھارہاتھا جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں انتہائی کربناک شکست کا سامنا کرکے ایک طوفان سے پاکستانی قوم آشنا ہوگئی ۔ پھر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بن رہی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی بلوچ وپشتون قوم پرستوں کی۔ لیکن مفتی محمود اور نیشنلسٹ مافیا نے ساز باز کرکے اپنی جمہوریت اور طاقت کیساتھ منافقانہ کھیل سے بلوچستان میں بلوچ نیشنلسٹ اور سرحد میں مفتی محمود کی حکومت قائم کردی۔ بلوچستان کی حکومت نے نوابی اور سرداری نظام ختم کرنے کا ایجنڈہ پیش کیا تو اس وقت کی اسٹبیلشمنٹ اور ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر بلوچستان حکومت ختم کرکے سردار اکبر بگٹی کے ذریعے گورنر راج قائم کیا۔ جس کے نتائج بلوچستان میں طوفان کی شکل میں آسمان والوں نے دیکھ لئے ہیں۔ پھر بھٹو کی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اپوزیشن کو مضبوط کیا گیا اور بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنوں کو روس کیخلاف جہاد کے مشن پر لگایا گیا اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم سے طوفان اٹھانے کی خدمات لی گئیں کراچی میں کشت وخون کے بعد ابھی معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ طالبان کی مخالفت اور حمایت کرکے پختون قوم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔
اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور پختونخواہ میں نیشنلسٹ حکومت ہوتی تو پھر یہ پاکستان مخالف عناصر تھے۔ جس طرح فتح مکہ تک بنوامیہ نے ابوسفیان کی قیادت میں ڈٹ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا اسی طرح یہ مذہبی اور قوم پرست طبقہ کہتا تھا کہ ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ جس طرح بنی امیہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد خلافت پر قبضہ کرلیا تھا ،اسی طرح نیشنلسٹ اور جمعیت علما ء ہند کے پیروکار وں کی طرف سے بھی پاکستان پر قبضہ ہوجاتا تو پھر پاکستان کو ہندوستان سے الگ کرنے کا تک بھی باقی نہیں رہتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو تو پہلے نیشنل عوامی پارٹی میں بھی شامل ہونے کیلئے تیار تھے لیکن اس نے جنرل سیکرٹری کا عہدہ مانگ لیا تھا۔
بریلوی خود کو مؤمن ، دیوبندیوں کو یہودی، اہلحدیث کو نصاریٰ اور شیعہ کو صابئین کا درجہ دینے کیلئے تیار ہوجائیں تو بھی غنیمت ہوگی۔ اسی طرح دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ بھی خود کو مؤمن اور دوسروں کو دیگر مذاہب کی طرح مان لیں تو اچھے نتائج برآمد ہونگے اور لوگوں کو الجھاؤ سے نکالنے کیلئے ہمیں قرآن وسنت کی طرف جلدسے جلد رجوع کرنا ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

ان ھٰذا القراٰن یھدی للتی ھی اقوم ویبشر المؤمنین الذین یعملون الصٰلحت ان لھم اجرًا کبیرًاO
بیشک یہ قرآن رہنمائی ہے زیادہ اقامت کی اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیںبڑے اَجر کا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان فرقہ واریت کے لحاظ سے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے صحیح کردار ادا کیا تو بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پورا ہندوستان دین فطرت کی سب سے زبردست آماجگاہ بن جائیگا۔ پاکستان میں ملحد طبقہ اسلام دین فطرت کو سمجھنے کے بعد روس کی اشتراکیت کو چھوڑ دیگا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا:”پاک ہے وہ جو لے گیا رات کو اپنا بندہ، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ارد گرد کو اس نے برکت دی ہے۔ تاکہ ہم آپ کو اپنی نشانیوں میں سے دکھائیں۔بیشک وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کو بنایا بنی اسرائیل کیلئے ہدایت۔ خبردار! میرے علاوہ کسی کو وکیل مت بناؤ۔ یہ نسل تھی جن کو ہم نے نوح کیساتھ سوار کیا۔ بیشک وہ شکرگزار بندہ تھا۔ پھر ہم نے بنی اسرائیل کیلئے کتاب میں فیصلہ لکھا کہ تم ضرور دو مرتبہ فساد کروگے اور اپنی بہت بڑی بڑائی کامظاہرہ کروگے۔ جب تمہارے (فساد برپا کرنے کا) کا پہلا وعدہ آئے ،تو ہم تم پر سخت جنگجو قوم بھیج دیںگے ، پس تمہارے دیار میں ہر طرف پھیل جائیںگے۔ اور گویا کہ وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ پھر اس کی گیند کو انکے خلاف تمہاری عدالت میں ڈال دیںگے۔ اور تمہاری امداد کریںگے، اموال اور بیٹوں سے اور تمہیں واضح مؤثراکثریت سے نوازیں گے۔پھر اگر تم اچھائی کروگے تو اپنے لئے کروگے اور اگر برائی کے مرتکب ہوگے تو اس کا نتیجہ مرتب ہوگا۔پھر جب دوسرا وعدہ آجائے تاکہ تمہارے چہروں کو سیاہ کردے۔ تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے وہ پہلے داخل ہوچکے تھے تاکہ مسمار کریںتم نے جو بڑائی اختیار کررکھی تھی اچھی طرح سے مسمار کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر اپنی روش کی طرف لوٹوگے تو ہم بھی لوٹیںگے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے چٹائی بنارکھا ہے۔ بیشک یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے اس راہ کی جو سب سے زیادہ اقامت والا ہے۔ اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیں،بیشک ان کیلئے بڑا اجر ہے۔ اور بیشک جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے ،ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔
سورۂ بنی اسرائیل کے اس پہلے رکوع میں بہت کچھ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا ماحول دکھایا توروم یورپ اس وقت ایک سپر طاقت تھی اور دوسری سپر طاقت ایران تھی۔ جس طرح روس وامریکہ دو سپر طاقت تھیں۔ قیصر روم بڑا اچھا بادشاہ تھا ،اگر رسول اللہۖ کی دعوت قبول کرنے کیلئے اس کے مشیراور وزیر اور قوم کے افراد مان جاتے تو ان کی طاقت تہس نہس نہ ہوتی۔ پھر ان کا سابقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق اعظم ، حضرت علیفاتح خیبر اور حضرت خالد بن ولید جیسے لوگوںسے کردیا تھا۔ نبیۖ کے غلام حضرت زید ، حضرت بلال، حضرت عمر کے غلام ابولؤلو فیروز، حضرت علی کے غلام اشتر سے لیکر محمود غزنوی کے غلام ایاز تک مسلمانوں کا بہت شاندار ماضی علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بیان کیا ہے۔
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اگر چہ تاریخ میں مسلمانوں کے مدوجزر اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہاہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو زمین پر اجارہ داری کا ٹھیکہ نہیں دیا ہے،جب اصولوں کی خلاف ورزی ہو،تو عروج والی قوم کو ذلت ورسوائی کی شکست کا سامنا ہوتاہے۔
متعصب سنی شیعہ اسلامی تاریخ اور صحابہ کرام واہل بیت کے حوالے سے پاکستان میں فضاؤں کو آلودہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور حکومت کیلئے اپنے وزن پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تقاریر، جلسے جلوس، سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ علامہ سیدجواد حسین نقوی و دیگر حضرات نے برطانیہ کی ایم سولہ (MI6)کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور ایران وسعودی عرب پر بھی الزامات لگائے جاتے ہیں۔
ہمیں صرف شیعہ سنی فسادات کا ہی راستہ نہیں روکنا ہے بلکہ دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث کے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے۔ دیوبندی دیوبندی، شیعہ شیعہ، اہل حدیث اہل حدیث اور بریلوی بریلوی کو بھی آپس میں کھلا چھوڑ دیا جائے تو فسادات کی حد تک بات پہنچ سکتی ہے۔ اگر ہم نے قرآن وسنت کی راہ اپنائی تو مسلمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین کو بھی اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ پر ڈالا جاسکتا ہے۔ ہندو، سکھ اور بدھ مت کے لوگوں سے بھی مسلمان امن وسلامتی کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔
سورۂ بنی اسرائیل میں امن وسلامتی کابڑا پیغام ہے۔ رحمت للعالمینۖ سے فرمایا کہ” میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو اچھی ہو۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازعہ کھڑا کرنا چاہتا ہے اور بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”۔( آیت53)
یہاں غلط بات سے روکا گیا تا کہ باہمی تنازعہ اور فتنہ وفساد اُبھرنے کا اندیشہ نہ ہو۔ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سے سمجھیں۔ موجودہ دور سے لیکر صحابہ واہل بیت تک ایسی فضاء بنانے سے گریز کرنے کی سخت ضرورت ہے جس کی وجہ سے فتنے وفسادات ، جھگڑے اور باہمی نفرتوں کے اندیشے ہوں۔
اگلی آیت میں یہ پیغام مزید زبردست اور بہت واضح ہے کہ ” تمہارا رب تمہیں زیادہ جانتا ہے ، اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا چاہے تو تمہیں عذاب دے، اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے”۔ (بنی اسرائیل آیت54)
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ادوار سے لیکر آج تک اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہے کہ وہ تمہیں زیادہ جانتا ہے اور چاہے تو رحم کرے یا عذاب دے۔ اس بات سے ہمیں یہ پتہ چلنا چاہیے کہ کونسا فرقہ ، جماعت اور گروہ اللہ کے نزدیک برحق ہے یہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ نہ ہمیں آپس میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت ہے اور نہ صحا بہ کرام و اہل بیت اور اکابرین یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے اللہ کے رحم اور عذاب کے ہم ٹھیکہ دار ہیں۔ جب رسول اللہۖ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کا کام کسی کی وکالت کرنا نہیں ہے۔ یعنی صرف حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ تو پھر ہماری کیا اوقات ہے کہ کسی کی وکالت یا مخالفت کرکے تنازعات کھڑے کرنے شروع کریں؟۔ جب انسان کو اپنا مفاد ملتا ہے تو فرقہ وارانہ اور مذہبی تنازعات کو پیٹ کیلئے ترجیح دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:” اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔اور بیشک کہ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد کو زبور دی۔ کہہ دیجئے کہ پکارو،ان لوگوں کو جن کو تم اسکے علاوہ کچھ سمجھتے ہو ۔پس وہ قدرت نہیں رکھتے تم سے تکلیف اٹھانے اور نہ بدلنے کی۔ یہ تو وہی ہیں جو پکارتے ہیںتلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ ۔ کون ان میں زیادہ قریب ہے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔بیشک تیرے رب کا عذاب تھا ڈرنے کے لائق۔ اور بیشک کوئی ایسی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کرنا ہے یا سخت عذاب دینا ہے۔ یہ پہلے سے کتاب میں لکھا ہے۔ اور ہمیں نہیں روکا نشانیاں بھیجنے سے مگر یہ کہ پہلے لوگ اس کو جھٹلا چکے ہیں۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی تو اس پر انہوں نے ظلم کیا۔ اور ہم نے نشانیاں نہیں بھیجیں مگر لوگوں کو ڈرانے کیلئے۔ اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کااحاطہ کررکھا ہے۔ اور ہم نے اس خواب کو نہیں بنایا جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں شجر ہ ملعونہ کو۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر بڑی سرکشی کا۔ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے۔ اس نے کہا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو مٹی سے بنایا ہے؟۔ پھر بولا: کیا آپ نے اس کو دیکھا ہے ،یہ وہی ہے جس کو مجھ پر عزت دی ؟۔ اگر آپ مجھے مہلت دیں قیامت کے دن تک تو اس کی نسل کشی کرکے رکھ دوں گا مگر ان میں سے تھوڑے۔ فرمایا کہ جاؤ جس نے ان میں سے تیری اطاعت کی تو بیشک جہنم تمہارا بدلہ ہے ،بھرپور طریقے کا بدلہ۔ تو ان میں جس کو پھسلاسکتا ہے اپنی آواز سے، اور ان کو کھینچ لا اپنے سواروں اور پیادوں سے ۔اور ان کو شریک کر اموال واولاد میں اور وعدہ کر ان سے۔ اور ان سے شیطان کا وعدہ نہیں ہے مگر دھوکے کا۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا بس نہ چلے گااور تیرے رب کی وکالت کافی ہے”۔( بنی اسرائیل آیت55سے65 )
ان آیات میں امت مسلمہ کیلئے بڑے زبردست حقائق ہیں۔ بعض انبیاء کرام کو بعض پر فضیلت دی ۔ حضرت داؤد کو زبور دی تھی۔ حضرت داؤد وسلیمان کو منصبِ خلافت وبادشاہت بھی عطاء کیا گیا اور نبوت بھی۔ فضیلت کا اصل معیار تخت شاہی نہیں بلکہ منصب نبوت ہے۔ خلفاء راشدین و اہل بیت کی فضیلت پر جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن شخصیات کو اللہ کے علاوہ پکارا جاتا ہے تو ان کو نعرے لگانے دو لیکن وہ ان کی مشکلات کو ختم نہیں کرسکتے ہیں ۔ وہ خود اپنے لئے رحمت کا وسیلہ اور عذاب سے بچنے کا خوف رکھتے تھے۔ جو اپنے لئے اللہ سے رحمت کی امید اور عذاب کا خوف رکھتا ہو تو اس کو پکارنے سے کیا ملے گا؟۔مشرکینِ مکہ نے حضرت ابراہیم کے نام پر بت نصب کررکھا تھا۔ بنی اسرائیل بھی شخصیت پرستی اور شخصیت سوزی کا شکار تھے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ سے دلی عقیدت رکھتے تھے لیکن یہود مقابلے بازی میں حضرت عیسیٰ کی توہین کرکے حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ حالانکہ یہود کے پاس حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان، حضرت یوسف جیسی شخصیات بھی تھیں۔ جو علماء دیوبند رسول اللہۖ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں وہ یوم صدیق اکبر اور یوم فاروق اعظم مقابلے میں مناتے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ ابوسفیان وہندہاور مروان ویزیدکے دن بھی منانا شروع کریںگے۔
خلافتِ راشدہ،بنوامیہ ،بنوعباس کے بعد مکہ ، مدینہ، کوفہ، بغداد اور (1857ئ) کی جنگِ آزادی میں برصغیرپاک وہند کے بہت سے شہروں کو تخت وتاراج کیا گیا۔ پھر امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کردیا۔ اس سے پہلے بیروت اور دیگر شہروں کی خونریزی کی تاریخ بھی موجود ہے۔ شیطان نے جس طرح انسانوں کی نسل کشی کا عہد کیا تھا وہ اس پر عمل پیرا ہے اور نسلِ انسانی ہی اس کی آلۂ کار بنتی ہے۔ اگر انسانوں کو شیطانی دھندے سے خبردار نہیں کیا گیا تو یہ سلسلہ بہت تیزی کیساتھ بڑھے گا اور ہمارے خطے کے علاوہ دنیا میں دوسرے ممالک اور قوموں کی بھی خیر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیۖ کو خواب دکھانالوگوں کی آزمائش قرار دیا اور اسی طرح شجرہ ملعونہ کو بھی آزمائش قرار دیا جس کا ذکر قرآن میں ہے ۔بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا ذکر ہے۔ جہاں ارد گرد کا نورانی ماحول اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا۔ پھر وہ بھی مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ جب مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں نے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کی سپر طاقت کو شکست دیکر فتح کیا تھا۔ آنے والے وقت میں پھر توقع ہے کہ مسجد اقصیٰ پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے فتح ہوگی لیکن اس مرتبہ بنی اسرائیل کیساتھ اللہ کی مہربانی سے رحم کا سلوک کیا جائے گا۔
جس طرح نبوت کیلئے معاشرے کے شریف ترین خاندان سے تعلق فطری بات تھی، اسی طرح اگر حضرت ابوسفیان کی بات کو مثبت انداز میں لیا جاتا کہ قریش کے کمزور ترین خاندان سے حضرت ابوبکر کے مقابلے میں بنوہاشم کے حضرت علی منصبِ خلافت پر فائز ہوں تو اسکے نتیجے میں شاید حضرت عثمان کی اتنی جلد تختِ خلافت پر شہادت، مسلمانوں کا آپس میں قتل و غارتگری میں مبتلا ء ہونا اور خلافت پر بادشاہت کیلئے خاندانوں کا قبضہ ہونا ممکن نہ ہوتا۔ہمیں ایک طرف اس بات کو اجاگر کرنا ہوگا کہ حضرت ام ہانی نے حضرت محمدۖ کے رشتے کو فتح مکہ کے بعد بھی قبول نہیں کیا تو یہ بنی ہاشم کی نسل میں سرداری کے جینز تھے اور یہ بھی سراسر غلط ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت صرف چھ (6)سال اور رخصتی کے وقت فقط نَو (9)سال تھی۔ اس سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے قبیلے کی کوئی حیثیت بالکل بھی نہیں تھی اسلئے کہ اتنی کم عمری میں لڑکی کا بیاہ کرنا کسی خاندان کی گراوٹ ہے۔ہم نے ناقابلِ تردید تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت سولہ (16)سال اور رخصتی کے وقت اُنیس (19)سال تھی۔ جس سے حضرت ابوبکر کا سردار ہوناہی ثابت ہوتا ہے اور قبیلے میں کسی نقص کا احساس نہیں ہوتا ۔ حضرت عائشہ نے تیسری زوجہ ہونے کی حیثیت سے نبیۖ کے گھر میں اُنیس (19)سال کی عمر میں قدم رکھا تھا۔ میری اپنی ماں نے بھی اسی کے لگ بھگ عمر میں تیسری بیگم کی حیثیت سے میرے والد کے گھر میں قدم رکھا تھا اور میرے نانا کانیگرم کے خان اور میرے والد کے قریبی عزیز بھی تھے۔
بنی اسرائیل خاندانی وجاہت میں شیطان کی طرح مبتلاء ہوگئے تو ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کردی گئی۔ وزیرستان کے محسود ، برکی اور پیر بھی جب امن وامان کی نعمت کے ناشکرے بن گئے تو ذلت ورسوائی کے مقام پر پہنچ گئے۔ اب سنورنے کا موقع ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

موجودہ ججوں کا ساراکچرا افتخار محمد چوہدری کی بے اصولی اور نالائقی کا کرشمہ ہے !

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میثاق جمہوریت میں پی سی او (PCO)کے ججوں کی عدم بحالی تھی، افتخارمحمد چوہدری کی بحالی بلٹ سے ہوئی ۔اپنے آپ کو معاف کرکے چیف جسٹس نے دوسروں کونکال دیا،موجودہ ججوں کاساراکچرا اسی بے اصول نالائق کا کرشمہ ہے !

چیف جسٹس آف پاکستان نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو میثاق جمہوریت سے پھر جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے لیکن عدالت کے سامنے ایک یاد داشت پیش کرنے کی ضرورت ہے!

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میثاق جمہوریت کے منافی پیپلزپارٹی کی بزدلی کا فائدہ اُٹھاکر پی سی او (PCO)جج افتخار محمد چوہدری کو بحال کروایا ، موجودہ ججوں کا سارا ملبہ اسی اقدام کا نتیجہ ہے

چیف جسٹس آف پاکستان نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کامیثاق جمہوریت سے ہٹ جانے پر بہت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن چیف جسٹس اور موجودہ ججوں کے سامنے ایک یادداشت پیش کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جو اصولوں کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک بہت بڑی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہمارا ملک اخلاقیات سے زیادہ اصولی بحران کا شکار نظر آرہاہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے دائرے سے باہر سیاسی معاہدے کی طرف جھانک رہے ہیں۔ جس کا اپنا کام قانون کی وضاحت اور آئین کی تشریح ہے۔
افتخار محمد چوہدری نے نہ صرف پی سی او (PCO)کے تحت حلف اٹھایا تھا بلکہ ججوں کے اس فیصلے میں بھی شامل تھے جس میں پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف و صدرمملکت کی حیثیت سے تین سال تک اپنی من مانی کے مطابق قانون سازی کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ جس کے ضمیر نے ایک منتخب حکومت کو ختم کرنے پر ٹھنڈا ٹھار ستوکا شربت پی لیا تھا لیکن جب اسکی اپنی نوکری کی بات آئی تو پولیس والے سے بال نوچوائے لیکن اس کیلئے تیار نہیں ہوا تھا۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوا تھا کہ آئندہ کسی پی سی او (PCO)جج کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ جب افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا معاملہ آیا تھا تو میثاق جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ پی سی او (PCO)کا حلف اٹھانے والے جج افتخار محمد چوہدری کو بحال نہ کیا جائے لیکن چوہدری اعتزاز احسن اور نوازشریف کی قیادت میں لاہور سے وکلاء کا جلوس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کررہاتھا تو آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے صدر مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر دباؤ ڈال کر افتخارمحمد چوہدری کو بحال کروالیا۔ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو چیف جسٹس بحال نہیں ہوسکتاتھا۔
میثاق جمہوریت کو توڑتے ہوئے افتخار محمد چوہدری کی بحالی نے عدالت میں بلٹ کا بارود بھی بھر دیا تھا۔ اس نے انتہائی بے شرمی ، بے غیرتی ، بے ضمیری، بے حیائی اور اورپتہ نہیں کس کس چیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کی طرف سے بالکل میرٹ پر بھرتی ہونے والے سارے ججوں کو نہ صرف فارغ کردیا بلکہ انتہائی ذلت امیز سلوک کرتے ہوئے ان کی ناک رگڑوانے کی بھی پوری پوری کوشش کی تھی جس پر محترمہ عاصمہ جہانگیر نے بھی بہت سخت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ پرویزمشرف نے جس طرح ڈاکٹر عطاء الرحمن کو کراچی یونیورسٹی کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا اور ڈاکٹر منظور احمد کو اسلامک انٹرنیشنل کا وائس چانسلر میرٹ پر لگایا تھا۔ ڈاکٹر عامر طاسین کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین میرٹ پر لگایا تھا اسی طرح سے عدالت کے جج بھی میرٹ پر لگائے تھے اپنے مامے چاچے نہیں لگائے۔
افتخارمحمد چوہدری نے مسلم لیگ ن کیساتھ مل کر عدلیہ کو اپنی مرضی سے بالکل گند سے بھر دیا ہے جس کی سزا آج پوری قوم کو مل رہی ہے۔ چیف جسٹس کے داماد کو کراچی میں جب میرٹ کے خلاف شادی حال کا ٹھیکہ نہیں ملا تھا تو اس کا سارا نزلہ فوجیوں پر گرادیا۔ جسٹس شوقت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کیلئے کیا کچھ نہیں کیا ہے؟۔ جس طرح نوازشریف کیلئے اتوار کے دن بھی عدالت لگتی تھی تو اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں ملتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان کو جلاب لگ گئے تھے کہ اگر نوازشریف کو نہیں چھوڑا تو توہین عدالت کے کیس میںوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرح نااہل ہوجاؤں گا۔ ججوں کی اکثریت وکالت کی پریکٹس کرنے کے بعد جج بنتی ہے ۔ وکیلوں میں کوئی کوئی تو بہت اچھا بھی ہوتا ہے لیکن ایسے بھی بہت ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اس کی ماں یا بیوی کو آغواء کرلے اور آغواء کار اس کو اس کی ماں کے خلاف بھی وکیل رکھ لے تو پیسہ کمانے کیلئے اس سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔ یہی بے غیرت، بے شرم ، بے ضمیر اور بے حیاء وکیل بھی جب جج بن سکتے ہیں تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔
جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنا جرم پی سی او (PCO)کے تحت حلف اُٹھانا اور تین سالوں تک پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دینا معاف کیا اور جنہوں نے عدلیہ میں نوکری کی خاطر حلف اٹھایا،کوئی خلافِ قانون کام نہیں کیا اور کسی کو کوئی ریلف بھی نہیں دی تھی لیکن ان کو صرف نوکری سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ توہین آمیز رویہ بھی اختیار کیا گیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے محکمے میں بھرتی ہوتے تو پھر عدلیہ اس کو اس طرح خلاف قانون فارغ کرنے پر لامحالہ بحال بھی کرتی۔ جن کو اپنے ذاتی بغض وعناد کی وجہ سے فارغ کیا اور پھر موجودہ ججوں کو نظریہ ضرورت کے تحت نوکری پر رکھا گیا ، آج وہی جج پاکستان کی عدلیہ میں بیٹھے ہیں؟۔ علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر اور دوسرے وکلاء نے جس طرح ججو ں کی بحالی کیلئے قربانی دی تھی وہ ججوں کی حالتِ زار دیکھ اپنے کردار کا رونا روتے تھے۔ چوہدری اعتزا ز احسن نے تو نوازشریف کو اس وقت دوبارہ بری کروادیا تھا کہ جب کورٹ میں دوبارہ کیس چیلنج کرنے کی قانونی مدت بھی بالکل ختم ہوگئی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کو لندن کی عدالت نے جتنے ارب جرمانہ کرکے رقم پاکستان کو بھیج دینی تھی اتنی ہی رقم کا یہاں اس پر جرمانہ لگایا گیا اور پھر وہ رقم اس جرمانے کی مد میں قبول کی گئی۔ گویا بالکل مفت میں بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی بنانے کیلئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی چال کی عدالت نے اپنی بدترین بد چلنی دکھادی۔ جب یوسف رضا گیلانی کہہ رہا تھا کہ میں صدر کے خلاف خط اسلئے نہیں لکھ سکتا ہوں کہ اس کو آئین نے تحفظ دیا ہے تو اس کو نااہل قرار دیا گیا تھا اور جس پرویزمشرف کی آئین میں ملک پر قبضے کا کوئی قانون نہیں تھا اس کو تین سال تک آئین سازی کا حق دیا گیا۔
ریکوڈک پر جتنا جرمانہ پاکستان پر عائد کیا گیا ہے اس کی ذمہ دار نااہل عدلیہ ہے اور ججوں سے جرمانے کی تمام رقم وصول کرنے کیلئے زبردست اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھ لیا جائے کہ ججوں کی بیگمات نے کس طرح سے کن دھندوں کے تحت اتنے پیسے کماکر بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں؟۔ شاہ رُخ جتوئی اور مصطفی کانجو کا ایک طرح کیس تھا تو شاہ رخ جتوئی کو راضی نامے کے باوجود نہیں چھوڑا گیا اور مصطفی کانجو ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جو سپریم کورٹ کے سامنے کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنی جوان بچیوں کی عصمت دری ہی کا خوف ہے اسلئے اس کیس سے پیچھے ہٹ رہی ہوں۔ اگر انقلاب کیلئے دنیا میں جہنم تیار کی گئی تو دوسرے سنگین مجرموں کو بھٹہ خشت میں ڈالا جائے گا لیکن ججوں اور وکیلوں کو اسٹیل مل کے لوہے میں ایندھن کے طور پر ڈالا جائے گا کیونکہ ان کی وجہ سے انصاف کا فقدان ہے۔

شیعہ سنی مسئلہ کا دانشمندانہ حل اور قرآن کی طرف اُمت کابڑازبردست رجوع!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن ان الشیطٰن ینزع بینھم ان الشیطٰن کان للانسان عدوًا مبینًاO
ربکم اعلم بکم ان یشأ یرحمکم او ان یشأ یعذبکم وما ارسلنٰک علیھم وکیلًاO ا لقراٰن

اور(اے رسول ۖ) میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو بہتر ہو ۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازع کھڑا کرنا چاہتاہے اور بیشک شیطان انسان کیلئے کھلا دشمن ہے۔

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا وہ چاہے تو تمہیں عذاب دیدے اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے۔بنی اسرائیل (53،54 )

اہل تشیع کی چار معروف شخصیات ہیں۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام، حضرت مولیٰ علی علیہ السلام ، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام۔
حضرت ابوطالب اہل مکہ کے مسلمانوں اور مشرکین کے اندر مشترکہ عزت کے نقیب تھے۔ رسول اللہۖ نے اللہ کے حکم سے مزاحمتی تحریک شروع کردی تو حضرت ابوطالب کا کردارحضرت محمدرسول اللہۖ کیلئے سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ شعب ابی طالب میں تین سال تک مشرکینِ مکہ کا بائیکاٹ برداشت کیا۔ رات کو سونے کے بعد حضرت علی اور نبیۖ کی جگہ تبدیل کرواتے تاکہ حملہ آور حضرت رسول خداۖ کی جگہ پر حضرت علی کو شہید کردے۔ اپنے سب سے چہیتے بیٹے کو رسول خداۖ پر قربان کرنے کے جذبے سے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو سبق کیا ملتا ہے؟۔
رسول اللہۖ کا ایک مشن تھا اور اس مشن کیلئے حضرت ابوطالب نے فرزند کی قربانی دینا گوارا کرنے کی ٹھان لی تھی۔ یہ سبق حضرت ابراہیم کا اپنے فرزنداسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے ملا تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ نے اس خواب کی تعبیر کیلئے حکم دیا کہ حضرت اسماعیل کو اپنی والدہ محترمہ کیساتھ وادی غیرذی زرع مکہ میں چھوڑ آنا تو حضرت ابراہیم نے حکم کی تکمیل کردی۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے فرزند حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب اور پوتے حضرت یوسف کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت داؤد و حضرت سلیمان اور حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ تک بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء آئے لیکن حضرت اسماعیل کی نسل میں کوئی نبی، خلیفہ اور بادشاہ و حکمران نہیں آیا ،یہاں تک کہ اسلام نے پوری دنیا کو نور سے رونق بخش دی۔
حضرت یوسف کو بھائیوں نے ویران کنویں میں ڈال دیا مگر حضرت محمدۖ کیساتھ چچا ابوطالب نے اپنے بیٹے سے زیادہ محبت دینے کا ثبوت پیش کیا۔ایثار کا یہ جذبہ قریش کو وراثت میں ملا تھا۔ آج علماء کرام کیلئے مدظلہ کی دعا کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور نبیۖ کیلئے حضرت ابوطالب کا سایہ ٔ عاطفت ابر رحمت تھا۔ ابوطالب نے نبیۖ کی جو پرورش کی تھی ،اس کا اثر حضرت علی میں اتنا ہرگز نہیں تھا۔ نبیۖ نے صلح حدیبیہ کی تمام شرائط صرف اسلئے مان لیں کہ یہ ابوطالب کی مفاہمت کی تربیت تھی۔ حضرت علی نے انکار کیا کہ محمد سے رسول اللہ کے لفظ کو نہیں کاٹوں گا۔ حضرت عمر اور تمام صحابہ سراپا احتجاج تھے ۔ وحی کی رہنمائی بھی نہیں ملی تھی۔ حضرت ابوطالب نے جس تربیت کا اہتمام کیا تھا اس کا نتیجہ فتح مبین کی صورت میں اللہ نے دکھادیا۔
حضرت ابوطالب کی صاحبزادی ام ہانیکا نبیۖ نے رشتہ مانگاتو حضرت نے انکار کردیا۔ بیٹے علی سے زیادہ بیٹی ام ہانی کی قربانی نہ تھی۔ لیکن ابوطالب نے درست سمجھ لیا تھا کہ نبیۖ کو مالدار خاتون کی ضرورت ہے جس کی کفالت کیلئے کام کی ضرورت نہ ہو۔حضرت ام ہانی کا نکاح جس مشرک سے کردیا ،وہ فتح مکہ کے بعد بھی مسلمان نہیں ہو ۔ ام ہانی کی اپنے شوہر سے وفاداری کا یہ عالم تھا کہ ہجرت بھی نہیں کی اور جب شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ کا رشتہ پھر بھی قبول نہیں کیا تھا۔
صلح حدیبیہ کے وقت قریش مکہ کا حلیف قبیلہ بنوبکر اور مسلمانوں کا حلیف قبیلہ بنو خزاعہ تھا۔ معاہدے میں حلیف قبائل کو بھی شامل کیا گیا، جب قریشِ مکہ نے اپنے حلیف قبیلے کا ساتھ دیکر معاہدہ توڑ دیا تو مسلمانوں نے اپنے حلیف قبیلے کی وجہ سے حضرت ابوسفیان کی طرف سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔ جب صلح حدیبیہ قائم تھا تو ہجرت کرکے آنے والی خواتین کو واپس کرنے سے انکار کیا گیا،تاکہ ان پر کوئی تشدد نہ ہو۔ مسلمانوں کو حق مہر ادا کرکے نکاح کی اجازت دی گئی اور انکے کافر شوہروں کو ان کا حق مہر لوٹانے کا حکم دیا گیا۔ پھر مسلمان مردوں کو یہ حکم دیا گیا کہ کافر عورتوں کو تم اپنے نکاح میں مت رکھو۔ ان سے حق مہر واپس لے لو ،جیسا کہ کافر مردوں کو چھوڑ کر آنے والی عورتوں کا حق مہر لوٹانے کا حکم ہے اور یہ تمہارے ہی درمیان اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر تمہاری کافر عورت تمہیں حق مہر نہ لوٹائے تو اس کا بدلہ نہ لو اور جو عورتیں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر آئی ہیں ان کو انکے مثل واپس کرو۔ اللہ سے ڈرو۔( سورہ ٔ الممتحنة)
علماء نے قرآن کی تفاسیر میں ڈنڈیاں ماری ہیں۔ قرآن نے جس اعلیٰ معیار کا اخلاق پیش کیا آج ہندوستان کے ہندو، سکھ اور بدھ مت کو ان اعلیٰ اقدار سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ مشرکینِ مکہ کی بیگمات مسلمان بن کر آرہی تھیںتو یہ جاہلانہ غیرت کیلئے بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ نے مسلمانوں کو اپنی کافر بیگمات چھوڑنے کا حکم دیکر جاہلانہ غیرت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کویہ حکم نہیں دیا کہ اپنے کافر شوہروں کو چھوڑ کر ہجرت کرو۔ پاکستان کے جاہل مسلمانوں کی غیرت اسلام نہیں جہالت کی وجہ سے ہے ۔ قائداعظم کی بیگم رتن بائی پارسی تھیں۔
مالدار علماء کی اکثریت اپنی بیٹیوں کا مستقبل روشن کرنے کیلئے دنیا دار کو دیتے ہیں لیکن نبیۖ کے غریب جانشینوں کو نہیں دیتے ، یہ ابوطالب کی سنت پر عمل ہے۔
جب انصار و قریش میں خلافت پر تنازعہ کھڑا ہوا لیکن حضرت ابوبکر کے حق میں فیصلہ ہوگیا تو حضرت ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا کہ خلافت قریش کے کمزور قبیلے میں گئی، اگر آپ کہیں تو سواروں اور پیادوں سے میدان بھر دوں؟۔ حضرت علی نے اس شیطانی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا۔ اگر حضرت علی نے تعاون نہ کیا ہوتا تو پھر قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست نہیں دی جاسکتی تھی۔ حضرت علی نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ جنگوں میں بذاتِ خود تشریف نہ لیجائیں۔ حضرت عمر کی وفات پر حضرت علی نے حضرت عمر کی زبردست تعریف کی تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کے وقت چالیس یا ستر دن تک محاصرہ ہوا تھا لیکن بنی امیہ کے افراد نے خلیفۂ سوم کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حضرت علی اور حسن وحسین کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں جس طرح حضرت علی کے کردار کو نمایاں حیثیت حاصل تھی ، اسی طرح بنوامیہ کا اقتدار حضرت حسن کے کردار سے ہی ممکن ہوسکا تھا۔ پھر یزید کے دور میں امام حسین کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
امام زین العابدین سے امام حسن عسکریاور پھر امام محمد مہدی کی غیبت صغریٰ و کبریٰ تک ائمہ اہلبیت ظاہری خلافت کے منصب سے محروم رہے ہیں۔ آئندہ آنے والا وقت بتائے گا کہ مہدیٔ غائب کے ظہوراور حضرت عیسیٰ کے نزول کا وقت کب آئے گا؟۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شاہ ایران کے خلاف آیت اللہ خمینی نے انقلاب برپا کردیا تھا مگر ہمارے والے شاہ سعود کی گائے کا دودھ پی پی کر ابھی تک جوان نہیں ہوئے ہیں۔
اہل تشیع جن شخصیات کو اپنا سرمایۂ دین وملت سمجھتے ہیں یہ اہل سنت کیلئے بھی ویساہی سرمایۂ دین وملت و افتخار ہیں۔ جن ذاکرین عزاداری نے مذہب کیساتھ ساتھ اپنامعاشی معاملہ بھی بنارکھا ہے یہ ان کا حق ہے لیکن جن اہل تشیع نے اسلام کو اپنا مشن سمجھ رکھاہے وہ زیادہ لائق تحسین وافتخار ہیں۔ علامہ سید حیدر نقوی کی مجالس میں ذاکرین جایا کریںگے تو ان میں اعتدال بھی آئے گا اور مزاحمت ومفاہمت کی منزل بہت بہتر انداز میں حاصل کر سکیں گے۔اگر انہوں نے ہمیشہ اپنوں کو پٹوانے اور مروانے کا سلسلہ اپنے مفادات کی خاطر جاری رکھا تو پھر یہ امت تنزلی کی مزید منازل سر کرتی رہے گی۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پاکستان میں بیلٹ کی سیاست کو بُلٹ سے جدانہ کیا تو منافقت کی انتہاء ہوگی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس سینیٹ کے چیئرمین کیلئے کھلی دھاندلی قابلِ قبول تھی ،جس سینیٹ کے ارکان کھلی دھاندلی سے پہلے ہی منتخب ہوکر آئے، جس قومی وصوبائی الیکشن میں قانون سے زیادہ رقم خرچ کرکے الیکشن جیتا تو بحث خوش آئند ہے؟

جس ملک کی عدلیہ الیکشن کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، فوج کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو، پٹواری کرائے تب بھی دھاندلی کا الزام ہو اور الیکشن کمیشن بھی بالکل بے بس ہو!

جہاں سیاسی جماعتیں غنڈے استعمال کرتی ہوں، جہاں ریاست کے خلاف غنڈہ گردی کرنے والے اقتدار اور اپوزیشن میں قابلِ اعتماد ہوں، کوئی عدلیہ پر کوئی پی ٹی وی (PTV)پر چڑھ دوڑے!

پاکستان ایک ایسا خوش بخت لیکن بہت بڑا کم بخت ملک ہے کہ جو ایک طرف اپنے مصورعلامہ اقبال کے انقلابی اشعار کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے جس میں انقلاب کی تبدیلی آجائے تو یہ چار سو بدل جائے۔ تیری دعا ہے کہ دنیا بدل جائے، میری دعا ہے کہ تُو بدل جائے۔ اگر تیری ذات بدل جائے تو کیا عجب کہ چارسو بدل جائے۔ دوسری طرف بڑاکم بخت اس لئے ہے کہ ”مجموعۂ اضداد ہے اقبال نہیں ہے” کی طرح تضادات ہی تضادات کا وہ مجموعہ ہے کہ اس عجیب الخلقت قسم کے ملک کی مثال انسانی ہی نہیں حیوانی تاریخ میں بھی نہیں ملے گی اور حیوانی اسلئے کہ جہاں طاقت کا قانون ہوتا ہے وہاں جنگل کے جانور ہی کا قانون ہے۔ جبکہ ایسے ممالک بھی ہیں کہ جہاں قانون کی جگہ طاقت کی حکمرانی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی کو اسلام اور طاقت کی حکمرانی کو کفر قرار دیا جائے تو بیچ کی حکمرانی کی مثال اس منافقت سے پوری طرح مماثلت رکھتی ہے جسکے انجام کو قرآن ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ” منافقین کاا نجام آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوگا” قرار دیا ہے۔

ہم خوش قسمت قوم اسلئے ہیں کہ” رنگ بدلتا ہے آسماںکیسے کیسے” کی وجہ سے ہمارے قومی شعور میں بہت تیزی کیساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی اور زبردست اضافہ ہورہاہے۔ وہ دیکھو ! سینیٹ کا چیئرمین جناب صادق سنجرانی کے سرپر بخت کا نایاب پرندہ ہما بیٹھ گیا۔ جس شخص میں مجھے نہیں پتہ کہ یونین کونسل اور ضلعی کونسل سے لیکر صوبائی وقومی اسمبلی کی کوئی نشست جیتنے کی صلاحیت تھی یا نہیں؟۔ لیکن چیئرمین سینیٹ بننے کی صلاحیت ہرگز بھی نہیں تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں بلوچستان حکومت سے تبدیلی کا آغاز ہونا شروع ہوا تو بڑا واضح ماحول دیکھنے میں آیا کہ تحریک انصاف کے عمران خان، جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری تثلیث کا مقدس زوایہ بناکر پاکستان میں بلٹ کی میگزین صاف کرکے چمکا رہے ہیں اور بلوچستان کی حکومت پر جمہوری رنگ بُلٹ سے فائر کرکے عوامی نمائندوں کی محبوبہ امن کی فاختہ کو زخمی کرکے چاروں شانے چت زمین پر ڈھا رہے ہیں۔ اس فاختہ کا ایک پَر بلوچستان کی قوم پرست جماعت تھی جسکا وزیراعلیٰ انتہائی اچھے سیاسی کارکن اور شریف آدمی عبدالمالک بلوچ تھے۔ جسکے دوسرے ساتھی ان سے بھی شریف اور شریف زادے میرحاصل خان بزنجو تھے۔ جمہوری فاختہ کے دوسرے پَر مسلم لیگ ن کے ثناء اللہ زہری تھے۔ اس فاختہ کے دل کی دھڑکن اور پروں کی پھڑکن کا اہم ترین حصہ ملی پشتون خوا عوامی نیشنل پارٹی کے محمود خان اچکزئی تھے جنکا بھائی گورنر تھا ۔

بلوچستان میں جمہوریت کی تثلیث کی مقدس گائے کو صلیب پر چڑھانے کے بعد تبدیلی سرکار کے بلٹ پروف عمران خانیہ اینڈ آصف زرداریہ نے باہمی اتفاق رائے اور بغل میں بغل بانہوں میں باہیں ڈال کر صادق سنجرانی کو چیئرمین بنادیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس الیکشن کے دوران جماعت اسلامی کے معزز رکن کو ایوان سینٹ ہی میں گلہ دبوچنے کی کاروائی بھی کر ڈالی۔ خیر زیادہ دلچسپ معاملات کے باوجود طوالت کے خوف سے قصہ مختصر یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کے بلٹ میں اقتدار کا نشہ بھی شامل ہوگیا، جب اپوزیشن کے بلٹ میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا اتنا بڑا جادو تھا تو اقتدار میں آنے کے بعد اس میں کس قدر اضافہ ہوگا؟۔ اپوزیشن کی واضح اکثریت نے بلٹ پروف چیئرمین کو چیلنج کرنا شروع کیا تو امجد شعیب سمیت تمام دفاعی تجزیہ نگاروں کی یہی متفقہ رائے تھی کہ ”خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں”۔ دیکھنا نتائج جمہوریت کے برعکس بلٹ اور بلٹ پروف والوں کے حق میں سوفیصد آئیں گے۔جب نتیجہ آیا تو

دنیا ہوئی حیران یہ کیسا پاکستان ہے یہ کیسا پاکستان؟۔ بلٹ کے زور پر یہ چلتا ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ تیراپاکستان ۔ یہ اسلام کی پہچان ہے ، یہ اوریا مقبول جان ہے۔ بڑی شدت اس کا نشان ہے ، یہ منافقت کا قبرستان ہے۔ منافق یہاں بڑا مسلمان ہے۔یہاں جمہوریت کا دسترخوان ہے ، یہاں ڈکٹیٹر شپ کا یہ پکوان ہے۔ یہاں سیاست کا خاندان ہے ، یہاں متبادل نظام طالبان ہے۔ کوئی بندہ رحمان ہے ،کوئی بندہ شیطان ہے۔ یہاں گیٹ نمبرچار (4)کی داستان ہے۔ یہاں پیٹ نمبرون کا ایک گمان ہے۔

ایک دن میں ایک سے چار چار ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرنے والے صابر شاکر اور عمران خان ایک طرف فوجی حکام کی جانب سے وارننگ دیتے ہیں کہ خبردار اگر بلٹ والے کو بلٹ پروف سیاست میں ملوث کیا تو خیر نہیں ہوگی،تو دوسری طرف یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ فوج سے فلاں فلاں کے رابطے ہیں، فلاں فلاں نے معافی تلافی کردی۔ سوشل میڈیا کے اینکرپرسن جس انداز میں گھن گرج سے آسمانی بجلیاں گراتے ہیں اس کی چمک اور احساس ان کو بالکل واضح طور پر ہوجاتا ہے جو بالکل اندھے بہرے نہ ہوں۔ یہ سوشل میڈیا کے کارندے پرانی گاڑیوں سے دھویں چھوڑنے کی طرح ماحولیاتی آلودگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اندھوں بہروں کو بلٹ اور لاٹھی سرکار سے ڈرا دھماکر منہ کالا کرنے والے سیاہ دھویں اور کان پھاڑنے والی آواز کو بارانِ رحمت اور باد صبا کہنے پر مجبور کرنے کی بہتیری کوشش بھی کرتے ہیں۔خدارا ، عقل کے ان اندھوں اور فکر کے ان بہروں کو سرِ عام معافی دے دی جائے۔ ان کے سننے اور بولنے سے ملک کے مفادِ عامہ کا کوئی کام ہونے کے بجائے اچھے خاصے باشعور لوگوں کو مزید بگڑنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ مکھی بننے والے سے یہ کیا کہنا کہ تیری دُم بہت اچھی لگ رہی ہے۔ ماشاء اللہ چشم بدور۔ بس صرف تیری موتی جیسی آنکھوں کی چمک کیساتھ تیرے سر کو اگر سرکارِ ملت نے کلغی سے بھی سجایا ہوتا تو بہت خوب ہوتا۔ کھانے پینے کی کوئی فکر مت کرو ، یہ مرغا بننے کا اعزا ز دنیا میں کسی ملک کو حاصل نہیں ہے یہ بلٹ سرکار کی نذرِ کرم اور پٹھو گرم کا کھیل ہے جو بڑے نصیب والوں کو ملتا ہے۔ مرغا بننے والے کو بات معقول سی اسلئے لگتی ہے کہ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں مرغا بننے سے واقعی بات آگے نکل گئی ہے اور اگر ہماری قوم کی گردن میں جان ہے تو جہاں ہے ،یہ میرا اور آپ کا پاکستان ہے۔

جب پارلیمنٹ کا بلبل نما کبوتر کوئے کی طرح بہت تیزی سے کائیں کائیں کرنا شروع کردیتاہے تو اپنے اپنے گھروں میں ٹی وی دیکھنے والے سامعین کے نوالے ان کے حلق میں اٹکنے لگ جاتے ہیں۔ پھر جب قادر پٹیل شاہین کی طرح جھپٹ کر مراد سعید پر حملہ آور ہوجاتا ہے تو غلطی سے سوشل میڈیا پر کسی خراب سین کے منظرنامے کی طرح دلچسپ لیکن انتہائی شرمناک وارداتیہ بن کرسامنے آتا ہے۔ یہ جمہوریت کا حسن ہے یاپارلیمنٹ کا کوئی بازارِ حسن؟۔ ہمیں تو زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن قارئین کو دلچسپی ہو تو کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایک چیز کی تفصیل مارکیٹ سے مل سکتی ہے ۔ خاص کر اردو بازار لاہور یا کراچی سے۔ مگر اچھا ہے کہ اس دھندے کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کی اہمیت حق مہر عندالطلب جتنی بھی نہیںہے۔فضاؤں میں پرانی گاڑیوں کی آلودگیوں کو موسم بہار کی بارش کون کہہ سکتاہے؟ اور یہ شعر وشاعری اور ادب سے دلچسپی کا باعث مشاہداللہ خان کی وجہ سے پھر بھی تھی!۔وہ بھی اپنی بہادری کے تکلف کے باوجود سیاسی وفاداری سے اپنی صلاحیت کو ضائع کرگئے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم (PDM)کو کمزور کرنے کا سارا الزام ن لیگی میڈیا پیپلزپارٹی پر لگارہاتھا لیکن اب ہم نے جب معاملہ کچھ طشت از بام کردیا تو بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم (PDM) کو بھٹو کی طرح زندہ قرار دیتا ہے اور مریم شریف نے اپنا ٹائر برسٹ کرکے دکھادیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani

صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے تنازع سے لے کر شیعہ سنی اور حنفی اہل حدیث کے ایک ایک مسئلے کا حل

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن،مولانا طارق جمیل، مولانا مسعود اظہر، مولانا معاویہ اعظم، انجینئر محمد علی مرزا، پروفیسر احمد رفیق اختر، مفتی منیب الرحمن، علامہ سعد حسین رضوی، علامہ سیدجواد نقوی ، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ ساجد میرمتحد ہوں!

صحابہ کرام اور اہلبیت عظام میں تنازع سے لیکر موجودہ دور کے شیعہ سنی اور حنفی اہلحدیث ایک ایک مسئلے کا ایسا حل جو سب کیلئے قابلِ قبول نہ ہو تو مجھے گمراہ قرار دیکر پابندی بھی لگائیں

ریاست اور حکومت کی طرف سے انتظام ہو تو نہ صرف پاکستان ،عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا کے تمام مسائل کاسب کیلئے قابلِ قبول حل بھی قرآن وسنت میں موجود ہے۔آؤ ذرا دیکھو!

فلسطین اور کشمیر کے مسئلے سے لیکر پاکستان کی پارلیمنٹ کے مسئلے تک اور حضرت ابوبکر و حضرت علی کے اختلاف سے لیکر موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر بھونکنے والے شدت پسندوں تک ایک ایک مسئلے کا حل قرآن وسنت میں ہے لیکن افسوس کہ اجتماعی حیثیت میں ہمارا قرآن کی طرف دھیان تک نہیں گیا۔
دنیا بھر میں حلف اور حق کی گواہی کی ایک تسلیم شدہ حیثیت ہے۔ اللہ نے شیطان کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور جھوٹے حلف اٹھاتے ہیں۔ اللہ کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ حق کی گواہی میں اپنے باپ، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ہیں۔ ہم حلف اٹھانے کو اجتماعی حیثیت میں کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران تک کو حلف اُٹھانے میں الفاظ کی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اہمیت حلف کے معانی نہیں بلکہ الفاظ کی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اصل بات حلف نامے میں معانی کی ہوتی ہے۔
جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو نیب اور عدالتوں کو چھوڑ کر ان سے لائیو چینلوں پر حلف لیا جائے۔ نوازشریف پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کی بھی وضاحت کرے۔ پھر اسکے خاندان اور پارٹی میں موجود ان لوگوں سے گواہی طلب کی جائے جن کی صداقت سے وہ حزب اللہ میں شامل ہوجائیں۔ مسئلے کا یہ ایسا حل ہے جس کا ذکر سورۂ مجادلہ میں قیامت اور دنیا کے حوالہ سے ہے۔
حضرت ابوبکر نے خلافت کا منصب انصار سے اس بنیاد پر جیت لیا تھا کہ امام قریش میں سے ہونگے۔ پھر خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوا تو بنی امیہ کا اقتدار پر قبضہ ہوا، بنی امیہ کا دھڑن تختہ بنوعباس نے کیا۔ عباسی اسلئے خلافت کے حقدار قرار دئیے گئے کہ حضرت عباس نبیۖ کے چچا اور علی چچازادتھے، ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیاتھا حالانکہ خلفاء ثلاثہ اور بنوامیہ بھی چچا تھے نہ چچا زاد۔ پھر چنگیز خان کی اولاد ہلاکو خان نے بنوعباس کا دھڑن تختہ کیاتو اسکے بعد ترک عثمانی سلطنت نے خلافت کا منصب سنبھال لیا جو قریش بھی نہیں تھے۔ ترکی بھی خلافت کی بحالی کیلئے پر تول رہا ہے۔ ملاعمر بھی امیر المؤمنین بنے تھے اور داعش، حزب التحریر اور دوسری جماعتیں بھی خلافت کی بحالی چاہتی ہیں۔ جبکہ ایران میں آیت اللہ امام خمینی کا اسلامی انقلاب ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کوٹلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دفعہ کشمیر کو مکمل آزاد کردیںگے اور پھر وہ خود فیصلہ کرینگے کہ آزاد رہنا ہے یا پاکستان کیساتھ؟۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے اس کو عالمی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سارا خرچہ رائیگاں جائیگا۔
اگر عالمی طاقتوں نے کشمیر کو آزاد کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بھارت پیچھے ہٹ جائیگا اور امریکہ ونیٹو اور اقوام متحدہ کی افواج کشمیرمیں دفاعی امداد کے نام پر اپنے مشن کو پورا کریںگی۔ چین کا راستہ روکا جائیگا۔ اگر پاکستان اسلامی مزارعت کی بنیاد رکھ دے تو بھارتی پنجاب کے سکھ ، مسلمان اور ہندو بھی اسلامی نظام کا مطالبہ کرینگے اور بھارت کو مجبوری میںاس کوتسلیم کرنے کا فیصلہ بھی کرنا پڑیگا۔ جب بھارت کے باسی یقین کرلیںگے کہ اسلام نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے تو پھر وہ محمد شاہ رنگیلا کی عیاشیوں کو دل سے نکال کر اسلام کے گرویدہ بنیں گے۔ پھر بھارت اور پاکستان کی صلح ہوگی اور عالمی قوتیں مداخلت نہیں کرسکیں گی۔
مزارعت سے غریب عوام کو خوشحالی مل جائے گی تو عالمی قوتوں کو فرقہ پرستی اور شدت پسندی کے نام پر استعمال ہونے والا خام مال نہیں ملے گا۔ جب ان کی قوتِ خرید بڑھ جائے گی تو ملز اور فیکٹریاں چلنا شروع ہونگی۔ روزگار ملے گا تو کرپٹ عناصر اپنے نالائق بچوں کیلئے کرپشن سے باز آجائیں گے۔ جب شہری اور دیہاتی زندگی میں خوشحالی کی روح دوڑے گی تو شیطان چھٹی کرلے گا اور زمین پر بسنے والے محنت کش دو حصوں میں تقسیم ہونگے۔ دیہات دنیاوی جنت اور انڈسٹریاں دنیاوی جہنم کا مظہر نظر آئیں گی۔ کاشتکار باغات اور سہولیات سے مالا مال ہونگے تو اسلام کی تعلیم اور نظام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے نبیۖ پر سلام بھیجیںگے۔ اور جن کرپٹ عناصر سے کرپشن کی رقم چھن جائے گی وہ بادِسموم ، گرمی کی شدت اور ملوں میں کام کرنے کی وجہ سے کالے دھوئیں سے لتھڑے ہونگے ، یہ دھواں ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی فرحت بخش۔ یہ وہ لوگ ہونگے جنہوں نے مسلسل بڑی بڑی کرپشن پر بڑے ہاتھ صاف کرنے پر مسلسل اصرار کیا ہوگا۔ سورۂ واقعہ میں اس کی زبردست تفصیل ہے اور پھر ان کو دوسرے کافروں سمیت دعوت دی جائے گی کہ یہ دنیا کا عذاب تو بہت کم ہے اور آخرت کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ جب شجرہ زقوم سے تواضع ہوگی ،جس سے پیٹ بھرے گا اور نہ بھوک مٹے گی۔پھر گرم پانی سے خاطر مدارات ہوگی اور اونٹ کی طرح لیٹ کر پانی پینا پڑے گا۔ جہاں تک سبقت لے جانے والوں کا تعلق ہے تو ان کا کیا کہنا۔ روح اور ریحان ہیں۔یہ صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین میں بہت تھے لیکن اسلام کی نشاة ثانیہ میں بہت تھوڑے سے ہونگے۔جب انقلاب آئے گا تو یہ حضرات چارپائیوں پر بیٹھ کر آمنے سامنے گپ شپ لگائیں گے۔ پوری دنیا سے کچھ بھی نہیں مانگا جائے گا۔البتہ اہل لوگوں کو انکا اپنا اپنا منصب دے دیا جائیگا۔ ان کوپھلوں کا جوس نبیز پلایا جائیگا جس سے وہ خمار ہونگے لیکن نہ تونشہ آئیگا اور نہ سر چکرائے گا۔ ان کی اپنی بیگمات حیاء دار اور باپردہ ہوں گی۔ جن کا سورۂ رحمن میں بھی ذکر ہے۔
جہاں تک اصحاب الیمین ہیں تو ان میں غریب امیر بہت بڑی تعداد میں ہونگے اوراصحاب الیمین نبیۖ کوبہت خوشی سے سلام بھیجیںگے۔ ان کی بیگمات بھی بہت اچھی ہوں گی۔ خوشحالی اور فراوانی کے سبب اللہ تعالیٰ ان کو کنواریوں کی طرح بنادینگے۔ دنیا بھر سے جو مہمان فیملیاں آئیں گی ، وہ بہت شریف النفس اور اچھے لوگ ہوں گے اور ان کے بارے میں فحاشی وعریانی پھیلانے کے کوئی تصورات نہیں ہونگے۔ ان کو کسی انسان اور جن نے ناجائز انداز میں کبھی چھوا تک بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کو بکنگ کا موقع بھی مشکل ہی سے ملے گا اور دنیا بھر سے جو اچھے لوگ آئیں گے تو اصحاب الیمین کے ہاں ان کیلئے آنے کی گنجائش ہوگی۔ پورے پاکستان کو باغات اور بہتی ہوئی نہروں سے مالا مال کیا جائے گا۔ البتہ انڈسٹریل زون بھی مناسب طور پر ان علاقوں میں بنیں گے کہ جہاں پر شہری آبادیوں کو مناسب روزگار اور دنیا میں ترقی وعروج کے مواقع مل سکیںگے۔
قرآن جب نازل ہوا تھا تو کفار اس پر کبھی یقین نہیں کرسکتے تھے کہ مکہ ومدینہ میں جہاں دریا، نہروں، ندی نالوں اور بہتے ہوئے چشموں کا کوئی تصور نہیں تھا کہ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ مسلمان قوم ہمیشہ کیلئے دنیا میں جنت نظیر باغات،دریاؤں، نہروں اور بہتے ہوئے چشموں کے مالک بنیںگے۔ حالانکہ جب سپر طاقتوں کو خلفائ نے شکست دی تھی تو یورپ سے ایشاء تک مسلمان ہمیشہ کیلئے باغات اور نہروں کے مالک بن گئے اور پہلے کوئی کافر اور منافق اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھاکہ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر صرائے حجاز کے رہنے والے مسلمان کیسے باغات اور نہروں کے مالک بن جائیںگے؟۔ حضرت علی نے زمینوں کو آباد کرکے لوگوں کو مفت دینے کا بڑا مشن اپنے سر لیا تھا۔ جب حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے والد صالح جنگی دوست کو بہتے ہوئے پانی میں ایک سیب مل گیا تو بے تکلف کھالیا پھر سوچا کہ کسی کے باغ سے نہر میں گرا ہوگا۔ اور اس باغ کے تعاقب میں نکل گئے۔ جب باغ کے مالک سے اپنی غرض پیش کی کہ سیب کیلئے معافی چاہتا ہوں تو مالک نے کہا کہ اس شرط پر معاف کر سکتا ہوں کہ میری ایک لولی، لنگڑی، اندھی اور بہری بیٹی ہے اس سے شادی کرنا پڑیگی۔
صالح جنگی دوست نے مجبوری میں ہاں کردی لیکن جب دیکھا تو وہ صحیح سلامت بہت خوبصورت لڑکی تھی۔ واپس آکر بتایا کہ میں غلط جگہ پہنچا تھا لیکن اس کو بتایا گیا کہ یہی ہے۔ یہ صفات استعارہ کے طور پر آزمائش کیلئے ذکر کئے تھے۔ اس کے قدم کبھی غلط جگہ کی طرف اُٹھے نہیں، غلط چیز کو ہاتھ نہیں لگا۔ غلط آواز سنی نہیں، غلط چیز دیکھی نہیں ہے۔ حدیث میں ہاتھ ، پیر ، کان اور آنکھ کی بدکاری کا بھی صراحت کیساتھ ذکر ہے۔ حضرت آدم اور حضرت حواء سے اللہ نے فرمایا کہ اس شجرہ کے قریب مت جاؤ۔ یہ شجرۂ نسب کا استعارہ تھا۔ پھر وہ قریب گئے اور عذر پیش کیا کہ ہم بے بس تھے، منصوبہ بندی سے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ قرآن میں اکلا کا ذکر ہے جو کھانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور کنگھی کیلئے بھی۔ لامستم النساء کے معنی بھی مباشرت کے واضح ہیںلیکن بعض بیوقوف ائمہ فقہ نے اس سے عورت کے اوپر محض ہاتھ لگنا قرار دیا تھا۔اس وقت حضرت آدم و حواء کی غلطی سے قابیل کی پیدائش ہوئی اور انسانوں میں فرشتوں سے بڑھ کر انسان بھی ہوتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر ابلیس بھی ہوتے ہیں۔ قرآن کے آخری الفاظ میں ایسے خناس کا ذکر ہے جو جنات اور انسانوں میں سے ہیں۔
جو سیب غلطی سے صالح جنگی دوست نے کھایا وہ طاقت بن کر شاید سید عبدالقادر کی شکل میں دنیا میں آیا۔ آپ کی ماں حسینی اور باپ حسنی سید تھے۔ طالب جوہری نے لکھ دیا ہے کہ ” دجالِ اکبر سے پہلے مشرق سے دجال آئیگا جسکے مقابلے میں حسنی سید ہوگا اور اس روایت سے مراد سیدگیلانی ہیں”۔ (ظہور مہدی : علامہ طالب جوہری)
جب ہمارے آبا واجداد نے کانیگرم جنوبی وزیرستان کو آباد کیا تو ہماری زمینوں اور پہاڑوں کے نیچے ندیاں بہہ رہی تھیں اور انہوں نے اس میں انواع واقسام کے بڑے باغات لگائے۔ جو آج بھی زندہ و تابند ہ ہیں۔ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ پہلے کانیگرم میں کالے گلاب بھی تھے۔ ہمارے بچپن میں میرے والد صاحب نے بھی گلاب کے پھولوں کی باڑ اور باغ جٹہ قلعہ علاقہ گومل میں لگایا تھا۔ بھائی نے گھر میں گلاب کے ایسے پودے لگائے تھے جو پاکستان ہی نہیں بلکہ فرانس کے شہر پیرس کے ڈزنی لینڈ پارک میں بھی نظر نہیں آئے تھے۔ ہم نے دیوبندی بریلوی علماء کو بلایا تھا کہ عرس، جلسہ ،اجتماع جس نام سے جمع ہونا تمہیں پسند ہو ،آجاؤ اور متحد ہوجاؤ۔ جس کی گواہی اب بھی زندہ رہنے والے دیوبندی اور بریلوی علماء کرام دیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کو ہم نے صرف اس بات پر ‘ تنبیہ ‘ کردی تھی کہ اپنی جماعت پر خلافت اور مسلمانوں کی اس جماعت کے بارے میں ان احادیث کو فٹ مت کرو جن میں الگ ہونے کی صورت میں آگ اور جہنم کی وعیدیں ہیں۔ انہوں نے ہماری بات مان بھی لی اور اسکے بعد ان وعیدوں کا ذکر بھی نہیں کیا اور نہ اپنی جماعت پر ان احادیث کا اطلاق کرنے کی جرأت کی لیکن جمعیت علماء اسلام کے علاوہ سپاہ صحابہ کے کارکنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء ومفتیان کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا۔ ٹانک کے مجاہدین کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا تھا لیکن آخر کار ہرمحاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ہمارے گھر پر تشریف لائے تو اس کو یہ خوف بھی تھا کہ کھلی کھلی باتیں سننے کو ملیں گی۔ اس کو پتہ نہیں تھا کہ اس کی جماعت کے افراد نے اس کی ساری پسِ پردہ کار گزاری مجھے بتائی ہے اور میں نے اپنے اس بھائی تک کو بھی کچھ نہیں بتایا جو اسکا کارکن رہ چکا تھا، آج بھی محض انقلاب کیلئے معاملات کا انکشاف کرنا پڑرہاہے اور کچھ چھپا ہوابھی نہیں ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana