پوسٹ تلاش کریں

پچپن (55) منٹ تک گالیاں دیکر میرا دل چھلنی کردیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پچپن (55)منٹ کی ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے انتہائی معذرت خواہانہ لہجہ اپنایا اور بلال شہید کو مطمئن نہ کرسکے تو اس پر بہت مدلل اور بیباک انداز میں بات کی جائے۔ تاکہ آئندہ غلطی نہ ہو۔اگر صاف اور دو ٹوک مؤقف نہیں آتا تو معاملہ بنے گا نہیں!۔
بلال شہید کا مؤقف تھا کہ آپ شیعہ کو مسلمان کیوں سمجھتے ہیں؟۔ تحریف قرآن، صحابہ پر کفر کا فتویٰ لگانے، عقیدۂ امامت والے کافر نہیں؟۔ مولانا طارق جمیل مسلسل کہتے رہے کہ تبلیغی جماعت کا طریقہ فتویٰ لگانا نہیں۔ یہ علماء ومفتیان کاکام ہے۔ اکابر کے فتوؤں سے متفق ہوں۔ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ ہمارا اپناطریقہ کارہے ، ہم سب کے پاس جاتے ہیں اور میری وجہ سے بریلوی اور شیعہ علماء دیوبند کے قافلے میں شامل ہوئے ہیں۔ بلال شہید نے مولانا طارق جمیل کے ہر عذر کو ”عذر گناہ بدتر ازگناہ ” قرار دیکر مسترد کردیا۔
بلال شہید کے بھائی کمیل احمد معاویہ نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل نے منع کیا تھا کہ اس ویڈیو کو وائرل نہ کیا جائے لیکن کچھ دوستوں کو بطور امانت یہ ریکارڈ کیلئے دی گئی تھی اور اب میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ میرے سامنے یہ بات چیت ہوئی تھی۔
اب مولانا طارق جمیل صاحب کو چاہیے کہ ایک اور فون کرکے معاویہ صاحب سے گفتگو کریں اور پھر اس کو وائرل بھی کردیں تاکہ معاملات بالکل واضح ہوجائیں۔
میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت اور علماء دیوبند سے تھا۔ بعض اکابر نے حاجی صاحب پر فتوے بھی لگائے تھے۔ ان فتوؤں کے باوجود مولانا عبداللہ درخواستی کے گروپ اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت والے حاجی عثمان کی حمایت کرتے تھے۔ غالبًا سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے حاجی عثمان پر فتوؤں کی اخبارات میں مذمت بھی کی تھی۔ میرے مشکوٰة شریف کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نواسۂ مولانا عبداللہ درخواستی فتویٰ کے بعد بیعت ہوئے تھے۔ جب مولانا حق نواز جھنگوی کو شہید کیا گیا تو حاجی عثمان نے خبر سنتے ہی میرے سامنے چائے کا کپ چھوڑ دیا اور کہا کہ ” ایک ہی حق اور صحابہ کرام کا دفاع کرنے والے عالمِ دین رہ گئے تھے ان کو بھی ظالموں نے شہید کردیا۔ بہت زیادہ اس خبر پر دکھی ہوگئے تھے۔
جہاں تک شیعہ کو کافر قرار دینے کا معاملہ ہے تو مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے بہت قربانیاں دیکر اس مشن کو اُٹھایا تھا۔ جب ایرانی انقلاب کی وجہ سے لٹریچر میں بڑا مواد صحابہ کرام کے خلاف آنا شروع ہوا تو انجمن سپاہ صحابہ واقعی اس کے ردِعمل میں سامنے آئی تھی اور پہلے وہ جمعیت علماء اسلام ف کی ہی ذیلی تنظیم تھی۔ بلال شہید نے جو معلومات سامعین کو دی ہیں، ان میں غلطیاں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت دو گروپ میں اسلئے تقسیم ہوگئی کہ مولانا درخواستی نے مفتی محمود کی جگہ مولانا عبید اللہ انور صاحبزادہ مولانا احمد علی لاہوری ہی کو جمعیت کا جنرل سیکرٹری بنانا چاہا اور اکثریت نے مولانا فضل الرحمن کے حق میں فیصلہ دیا۔ جمعیت ف نے ایم آر ڈی (MRD)میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ درخواستی گروپ جنرل ضیاء الحق کا سپورٹر تھا۔قاری طیب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اپنا بیٹا مقرر کرنا چاہتے تھے اور شوریٰ مخالف تھی جس کی وجہ سے قاری طیب کے بیٹے نے دارالعلوم دیوبند وقف کی بنیاد رکھی۔ اگر درخواستی کی بات مان لی جاتی تو آج مولانااجمل قادری جمعیت کے قائد ہوتے ، جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی تھی۔
زندگی جہد مسلسل ہے کوئی تماشہ تو نہیں
وہی جیتے ہیں جو لڑتے ہیں طوفانوں کی طرح
مولانافضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق اور قاضی عبدالطیف کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کو جب مسترد کردیا تو میرے مرشد حاجی عثمان نے بہت جلال میں آکر جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ کر کہا کہ ایک بڑے اللہ والے مفتی صاحب کے بیٹے نے علماء حق کا شریعت بل مسترد کیا ہے تو اس کا نکاح کہاں باقی رہا؟۔ لوگوں کی چیخ نکلی کہ ”اللہ” لیکن میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ میں نے مرشد کو سمجھایا کہ شریعت بل سے نہیں آئے گی، شریعت نظام ہے اور مارشل لاء الگ نظام ہے۔ تو مرشد نے کہا کہ بھیا! ہم تو جاہل ہیں ، مجھے کیا پتہ تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت ف پنجاب کے نائب امیر تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کیا تو کراچی کے اکابر علماء نے ریفرینڈم کے حق میں فتویٰ دیا لیکن مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی تھی۔ مجھے میرے استاذمولانا فضل محمد استاذ حدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ آپ اکابرعلماء ومفتیان کی مخالفت کررہے ہیں تو حاجی صاحب آپ کو خانقاہ سے نکال دینگے۔ میں نے کہا کہ سیاست مفتی اور پیر کا کام نہیں ہے۔ مولانا فضل محمد مرشد کے خلیفہ بھی تھے۔ پھرمرشد سے سوال پوچھاگیا کہ مفتیان کا فتویٰ ہے کہ ریفرینڈم کے حق میں ووٹ فرض ہے۔ مرشدنے جواب دیا کہ فتوے پرنہ جاؤ۔ آٹھ (8)سالوں سے تم نے آزمایا ،اگر یقین نہیں ہے تو ووٹ نہ دو، میرا گمان ہے کہ اسلام نافذ نہیں کریگا۔
مولانا حق نوازجھنگوی نے زندگی جمعیت ف میں گزاری۔جمعیت کے اسٹیج سے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگایا۔ مولانا محمد مکی حاجی صاحب کے پاس فتوؤں کے بعدبھی آتے تھے۔ مولانامکی نے راز سے پردہ اٹھایا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کہا کہ یا توسیاست کرو یا پھر مذہبی نعرہ لگاؤ۔ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مولانا حق نوازجھنگوی سے کچھ راز کی بات ہوئی تھی لیکن اب میں بتانہیں سکتا۔ جمعیت ف کا کہنا تھا کہ جھنگوی نے سپاہ صحابہ کو جمعیت ف میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جھنگوی شہید کے بعد علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید مولانا فضل الرحمن کے حامی تھے لیکن مولانا ایثارالحق قاسمی نے آئی جے آئی (IJI) کے ٹکٹ پر جھنگ کے حلقے سے الیکشن لڑا۔جبکہ دوسرے حلقے سے عابدہ حسین آئی جے آئی (IJI)کے ٹکٹ پر کھڑی تھیں ۔ جمعیت ف کو تشویش تھی کہ اتنے دفاتر اور اتنا پیسہ کہاں سے آرہاہے؟۔ مولانا ایثارالحق قاسمی نے سعودی، قطر، عراق اور عرب امارات وغیرہ کے دورے کئے اور اسمبلی میں بیان دیا کہ” ایرانی انقلاب کا راستہ ہم نے روکا ہوا ہے”۔
مولانا اعظم طارق کا دور آیا تو مولانا فضل الرحمن نے بیان دیا کہ سپاہ صحابہ دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے۔ سپاہ صحابہ نے مولانا سمیع الحق سے اتحاد کیا۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا اجمل خان مولانا فضل الرحمن سے مل گئے۔ مولانا اعظم طارق اور مولانا مسعود اظہر ایک تھے ،پھر مقابل آئے تو وجہ مولانا فضل الرحمن نہیں ہوسکتے تھے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی یہ سیاست مان گیا ہوں کہ سپاہ صحابہ سے جان چھڑائی ۔
ملی یکجہتی کونسل میں سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ نے ایکدوسرے کی تکفیر نہ کرنے پر دستخط کئے ۔ جمعیت ف کا فعال کردار نہیں تھا اسلئے کونسل کامیاب نہ ہوسکی۔اگر حافظ حسین احمد کے ذریعے مولانا اعظم طارق نے مولانا فضل الرحمن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو جمعیت ف کو شبہ تھا کہ حافظ حسین احمد کا کرداربھی مشکوک تھا۔ مولانا اسکے ذریعے ظفر اللہ جمالی کی جگہ وزیراعظم بن سکتے تھے مگر مولانا نے ملنا گوارا نہیں کیاتو تفصیل حافظ حسین احمد بتائیں۔ یہ جمعیت ف کیلئے اعزاز ہے یا ندامت ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے اکابر کو چھوڑ کر ایم آر ڈی (MRD)کو ترجیح دی اور پھر عمران خان اور ن لیگ کے ووٹ لیکر وزیراعظم بننا پسند کیا لیکن مولانا اعظم طارق کی حمایت نہیں لی؟۔ بینظیر بھٹو سے لیکر مریم نواز تک اتحاد کے سفر میں مولانا نے اپنی جہدمسلسل جاری رکھی۔ مولانا سمیع الحق کو سبزی والی چھریوں سے شہید کیا گیا اور بلال شہید بھی موت کے گھاٹ اتاردئیے گئے۔ کون جادۂ حق کا مسافر ہے اور کس نے کس مشن کیلئے اپنی زندگی کی کیسے قربانی دی ہے؟۔یہ فیصلہ کون کرے گا؟۔
اگر مولانا طارق جمیل بلال شہید سے اتنا کہہ دیتے کہ میرا شیعہ کو کافر کہنے یا نہ کہنے سے کیا اثر پڑسکتا ہے؟۔ سعودی عرب کی حکومت شیعہ کو حرم میں داخل ہونے دیتی ہے اور یہ سلسلہ چودہ سوسال سے جاری ہے پھر سعودی عرب کے خلاف مہم کیوں نہیں چلاتے ؟۔ مولانا طارق جمیل کے اس جواب سے بلال شہید کا لہجہ ٹھیک ہوجاتا لیکن مولانا طارق جمیل نے معذرت خواہانہ لہجہ جاری رکھا تو بلال شہید نے اپنے مؤقف کو مزید زیادہ مضبوط سمجھ لیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران سے سپاہ صحابہ نے اتحاد کیا اور زلفی بخاری کو عمران خان نے اپنی سوتیلی بیٹی بھی دی ۔ مولانا طارق جمیل سے الجھنے والے اگر سعودی عرب اور عمران خان کی طرف دیکھتے تو شاید شدت میں بہت کمی آجاتی۔ متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیم المدارس میں شیعہ سنی مذہبی اور سیاسی اتحاد کا مولانا طارق جمیل نے حوالہ دینا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے متحدہ مجلس عمل کے نام پر ووٹ لئے تو مولانا اعظم طارق کے کہنے پر علامہ ساجد نقوی کو کیسے چھوڑسکتے تھے؟۔ ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا تو مشہور شیعہ عابدہ حسین کے شوہر فخر امام کو مشرف دور میں قومی اسمبلی کا اسپیکر بنادیا گیا تھا۔ مولانا اعظم طارق نے شیعہ اسپیکر کو ووٹ دیا تو مولانا فضل الرحمن توقع رکھتے؟۔ شیعہ کو کافر نہ کہنے پر مولانا فضل الرحمن کو کافر کہنے والے سعودی عرب والوں کو کافر نہ کہیں تو پھربات مذہب نہیں مفادات کی بن جاتی ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانا اور نہ انکے پیچھے نماز پڑھی تو کیا ان پر کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے؟۔اور جس مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف فتویٰ لیا تھا تو اس کا بیٹا مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اب اس فتویٰ کے خلاف کھڑے ہیں۔ جس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا تھا ،اس نے پھر متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیمات المدارس کے حق میں فتویٰ دے دیا تھا۔
شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”منصب امامت” میں وہی عقیدہ لکھا ہے جو اصولی طور پر شیعہ کا ہے تو کیا ان کو کافر قرار دیا جائیگا؟۔ جہاں تک قرآن کی تحریف کا معاملہ ہے تو شیعہ سے زیادہ سنی اصولِ فقہ اور حدیث کی کتب میں تحریف کا عقیدہ موجود ہے۔ جب شیعہ پر بنوری ٹاؤن اور پورے پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت کے معروف مدارس نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا تب بھی دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی نے اس فتوے کی حمایت نہیں کی تھی لیکن اسکے باوجود جب مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے شیعہ کے حق میں بیان دیا تھا تو مولانااحمد لدھیانوی نے اس کو دبایا تھا۔ دیوبندی جب بریلوی کو مشرک سمجھتے ہیں تو کیا مشرک مسلمان ہوسکتا ہے؟۔ مفتی زر ولی خان نے تو مولانا منظور مینگل پر مولانا خادم حسین رضوی کی حمایت اور اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنے والوں کیلئے نکاح کی تجدید کا فتویٰ بھی جاری کردیا تھا۔
جس طرح امام حسین یا امام حسن پر ہم اہلسنت کے فقہ ، حدیث، تفسیر، تصوف ، تاریخ اور مساجد کے تمام ائمہ کو قربان کرسکتے ہیں ،اسی طرح شیعہ کے تمام مجتہدین اور موجودہ دور کے تمام افراد کو حضرت ابوبکر یا حضرت عمر پر قربان کردیںگے۔ اگر شیعہ ابوبکرو عمر سے نفرت کریں یا ان کی تکفیر کریں تو سپاہ صحابہ والے شیعہ کی تکفیر کریں ،ہماری ہمدردیاں ظاہر ہے کہ سپاہ صحابہ کیساتھ ہوں گی۔ لیکن کیا طوطے کی طرح کافر کافر کے فتوے لگانے سے شیعہ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟۔ اگر ہم نے ان کو کافر قرار دیا تووہ آزاد ہونگے۔لیکن اگر ہم نے ان کے ذہن صاف کردئیے تو ہمیشہ کیلئے معاملہ حل ہوجائے گا۔ جس زبان میں بلال خان نے مولانا طارق جمیل سے بات کی تھی ،یہ تو پھر بھی بہت مجبوری اور غنیمت والا لہجہ تھا لیکن جس زباں میں علامہ سید جواد نقوی کو اہل تشیع نے گالیاں دی ہیں وہ تو انتہائی غلیظ ذہنیت سے علامہ جواد نقوی کی جان کے دشمن اور خون کے بالکل ہی پیاسے نظر آتے ہیں۔
علامہ طالب جوہری نے کہا تھا کہ امام ابوحنیفہ سے لیکر مفتی نظام الدین شامزئی تک سنی مکتبۂ فکر میں سید عتیق الرحمن گیلانی کی طرح کا بڑا عالم نہیں آیا ہے۔ اس نے گھبرا کر لکھا تھا کہ گیلانی صاحب اتحاد کی بات کریں انضمام کی بات نہ کریں۔ اور یہ بھی کہاتھا کہ سپاہِ صحابہ تو کچھ بھی نہیں ہے، یہ اتنا خطرناک ہے کہ کوئی شیعہ شیعہ نہیں رہے گا۔ ہم نے اسکے باوجود بھی اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ اسکے منہ پر بولا کہ رسول اللہۖ سے قرآن میں اختلاف کی اللہ نے اولی الامر کی حیثیت سے گنجائش رکھی ہے اور تم اپنے ائمہ کیلئے بھی نہیں سمجھتے ہو۔ جسکا مثبت جواب آیا تھا۔ سپاہ صحابہ میرے ساتھ ہوتی تو معاملہ کب کا حل بھی ہوچکا ہوتا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

لا اسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ کی تفسیر میں پہلے مشرکینِ مکہ مخاطب اور بعد میں مسلمان مخاطب

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صلح حدیبیہ سے پہلے نبیۖ پر ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا، فتوحات کے دروازے کھلنے کے بعد ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا؟

فرقہ وارانہ جہالتوں سے مسلمانوں کو نکالنے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں علم وتحقیق کی روشنی میں قراردادیں پیش کرینگے؟

سورۂ فتح میں فرمایا: انافتحنا لک فتحًا مبینًاO لیغفرلک اللہ…..
”بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کی ۔تاکہ آپ کا اگلا پچھلابوجھ آپ سے ہٹادے۔ اور آپ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرکے رکھ دے۔ اور آپ کو سیدھا راستہ دکھا دے۔اور آپ کی مدد کرے زبردست مدد۔ وہ اللہ ہے جس نے مؤمنوں کے دلوں پر سکینہ نازل کیا،تاکہ ایمان کا اضافہ ہو،ان کے ایمان کیساتھ۔اور اللہ کیلئے آسمانوں اور زمین کے سب لشکر ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔ تاکہ مؤمنوں اور مؤمنات کو داخل کردے ایسے باغات میں جس میں ہمیشہ رہیں اور ان کی برائیوں کو ان سے دُور کردے۔ اور یہی اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی تھی۔ اور منافق مرد،عورتوں اور مشرک مرد ، عورتوں کو عذاب دے جو اللہ سے برا گمان رکھتے ہیں۔ ان کے اوپر برائی کا گھیراؤ مسلط ہے۔ اور اللہ کا غضب ہے ان پر اور ان پر اس نے لعنت کی ہے اور ان کیلئے جہنم مہیا کررکھی ہے۔ اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اور آسمانوں وزمین کے سب لشکر اللہ ہی کیلئے ہیں۔ اور اللہ تو تھا ہی زبردست حکمت والا۔ بیشک ہم نے آپ کو بھیجا گواہی دینے والااور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ تاکہ اے لوگو! تم ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول پر۔ تاکہ تم اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر کرو۔اور تم اللہ کی پاکی صبح وشام بیان کرو۔ بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں ،بیشک یہ لوگ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ پس جو عہد کو توڑیگا تو اپنے نفس کیخلاف عہد کو توڑے گا۔ اور جو اس عہد کو پورا کریگا جس بات پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اس کو عنقریب بہت بڑا اجر دے گا۔(پہلا رکوع)
اسلام میں ایک دور مشکلات کا اور دوسرا دور فتوحات کا ہے۔ رسول اللہۖ کی بعثت سے ہجرت تک ، غزوۂ بدر،غزوہ اُحد وغیرہ اورصلح حدیبیہ تک مشکلات کا دور تھا۔ ان مشکلات کے دور میں بھی رسول اللہۖ پر بہت بڑا بوجھ تھا۔ دین کی تبلیغ اور اسلام کے غلبے کا خواب پورا ہونے کیلئے جس ماحول کی ضرورت تھی وہ میسر نہیں تھا۔ مشرکین مکہ اصل دشمن تھے جنہوں نے حبشہ پہنچ کر نجاشی سے مسلمانوں کی دشمنی کی انتہاء کردی تھی۔ جب قیصر روم کو رسول اللہۖ کے دشمن کی زباں سے حالات معلوم ہونے پر یقین تھا تو رسول اللہۖ کو اپنی تحریک کی کامیابی پر کتنا یقین ہوگا؟۔ تاہم جن مشکلات کا سامنا خاص طور پر اہل مکہ کی طرف سے تھا وہ بہت بڑا بوجھ تھا اور اس بوجھ کو سورۂ فتح میں ذنب کہا گیا۔ جب کوئی انسان کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ اس کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ بس اللہ میرے گناہ معاف کردے لیکن اس گناہ سے مراد اس طرح کا گناہ نہیں ہوتا جس طرح کے عام گناہوں کا تصور ہے۔ علماء حضرات ایک عام محاورے کی زبان سمجھنے کے بجائے گناہ کاترجمہ کرتے ہوئے نبیۖ کی لغزش، کوتاہی اور گناہ کی مقدار کا پیمانہ لیکر کھڑے ہوگئے۔
رسول اللہۖ کی سیرت اسوۂ حسنہ کو اسلئے اعلیٰ اور مثالی نمونہ نہیں قرار دیا کہ رحمة للعالمینۖ کی زندگی میں کوئی لغزش تھی۔ فلاتمن تستکثر ”آپ احسان اسلئے نہ فرمائیں کہ خیر کثیر کا بدلہ ملے گا” بلکہ بھلائی کے بدلے مشرکینِ مکہ نے جانی دشمن بننا ہے۔ عام قاعدہ جزاء لاحسان الا حسان ہے لیکن جب انسانی زندگی کے معیارات میں فرق ہوتا ہے تو پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں اور اللہ نے فرمایا کہ ”ہم تمہیں ضرور بضرور آزمائیں گے خوف میں سے کچھ چیز پر، اموال اور جانوں کی کمی سے اور ثمرات کی کمی سے۔ بشارت دو صبر کرنے والوں کو”۔
ثمرات پھل اور خشک میوے نہیں وہ تو اموال میں شامل ہیں بلکہ تحریک کا اچھا نتیجہ نکلنا ثمر ہوتا ہے۔ نبیۖ کو مکہ میں شعب ابی طالب میں کتنے سال اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تحریک پر کوئی صلہ نہیں مانگتا مگر قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ قریشِ مکہ نبیۖ کے قرابتدار ، پڑوسی، ہم زبان ، قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے تو اس میں فطری محبت کا لحاظ ہوتا ہے۔ نبیۖ سے فرمایا کہ اہل مکہ سے اس کا مطالبہ کرو۔ جب صلح حدیبیہ ہوگئی تو نبیۖ نے اطمینان کا سانس لیا کہ دشمن سے خوامخواہ کے خطرات ٹل گئے۔ مسلمان مکہ سے ہجرت کرگئے مگر مدینہ میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا گیا۔ اس کی مثال پاکستان اور بھارت کی ہے۔ اگر ہندوستان سے ایسا معاہدہ ہوجائے کہ ہماری جان چھوٹ جائے تو اس سے پاکستان اطمینان کا سانس لے گا۔ دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا پیچھا کیا جاتا ہے۔
صلح حدیبیہ کو اللہ نے فتح مبین کہا، ابوجندل کو حوالے کرنا دل گردے کا کام تھا مگر صلح حدیبیہ سے بوجھ نبیۖ کا ہٹ گیا اور اس بوجھ کو ذنب کہا۔ فتوحات کا دروازہ کھل گیا تو انصار، مہاجرین اور اہلبیت نے خلافت پر فائز ہوکر دنیا کا نظام سنبھالنا تھا۔ اگر قریش وانصار نے خلافت کے استحقاق کیلئے نبیۖ کے کفن دفن کو پسِ پشت ڈال کر اس فتنہ انگیزی سے نمٹنا تھا تو نبیۖ کو اس کی فکر بھی ضرورتھی۔نبیۖ نے اسلئے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تمہارے لئے اس مودة فی القربیٰ سے مراد میرے اہلبیت ہیں۔جن میں علی وآل علی شامل تھے۔
نبیۖ پر اسلامی فتوحات کے بعد اپنے خلفاء اور تخت نشینوں کا قرآن و سنت کے اعلیٰ ترین مشن سے پھر جانے کا بوجھ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو سورۂ فتح میں یہ بوجھ اترنے کی بھی خوشخبری دیدی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا ہے کہ جسکے کچھ جانشین اسکے مشن پر چلتے ہیں، پھر ناخلف جانشین آتے ہیں جس کام کا ان کو حکم ہوتا ہے وہ نہیں کرتے، جس کا حکم نہیں ہوتا وہ کرتے ہیں۔ نبیۖ کے اس بوجھ کو اللہ نے فتوحات کے حوالے سے ہٹا دیا تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تھا تو پھر شمع بجھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ پھر علی و حسن کے دَور تک معاملہ چلتا رہا۔ پھر حسن نے صلح کرکے امیرمعاویہ کی امارت پر امت کو متفق کردیا ۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے اقتدار چھوڑ دیا۔ ابوسفیان کی اولاد سے اقتدار منتقل ہوکر مروان بن حکم اور اس کی اولاد کا دور شروع ہوا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے خلافتِ راشدہ کا دور تازہ کیا۔ پھر بنو اُمیہ سے خلافت چھن گئی اوربنو عباس نے خلافت سنبھال لی۔
علی کی اولادکو اسلئے محروم کیاگیا کہ عباس چچا اور علی چچازاد تھا مگر علی کا باپ مسلمان نہیں۔ سلطنت عثمانیہ نے اقتدار سنبھالا تو الائمة من القریش بھول گئے جو انصار کے مقابلے میں ابوبکر و عمر نے پیش کی تھی۔ رسول اللہۖ نے ان ادوار، جبری حکومتوں اور پھر رسول اللہ ۖ نے طرزِ نبوت کی خلافت کا ذکر فرمایا جو پوری دنیا میں قائم ہوگی۔ شیعہ سنی ہی نہیں یہودونصاریٰ اور زمین وآسمان والے سب اس سے خوش ہونگے۔ اسلئے رسول اللہۖ پر آنے والے ذنب بوجھ کو بھی اللہ نے سورۂ فتح میں ختم کردیا تھا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

شیعہ سنی، ملحد مسلمان، پی ٹی ایم (PTM)اور ہماری ریاست کے اندر جو منافرت ہے اس کا علاج باہمی بات چیت ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

طالبان دہشت گردوں نے جس ماحول میں جو کچھ کیا تھا ،اس میں کمزوری اور نااہلی کا اعتراف براڈ شیٹ کی طرح واضح ہے؟

اگر فوج بعد میں اپنا مثبت کردار ادا نہ کرتی تو پختونوں کا حشر القاعدہ، طالبان، داعش، ازبکوں نے آخری حد تک برا کرنا تھا۔

ایک انسان کا بے گناہ قتل گویاپوری انسانیت کا قتل ہے۔ قرآن کاواضح پیغام ہے۔ کچھ افرادکا بے دریغ قتل ہوا جہاں نبیۖ نے کچھ لوگوں کی سرکوبی کا فریضہ انجام دینے کیلئے خالد بن ولید کی سربراہی میں لشکر بھیجا تھا۔ پھر نبیۖ کو زیادتی کا پتہ چلا تو فرمایا کہ ”اے اللہ ! گواہ رہنا میں خالد کے فعل سے بری ہوں”۔ لوگوں نے زکوٰة سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید کی سربراہی میں لشکر تشکیل دیا۔ صحابی مالک بن نویرہ کو بھی ظالمانہ طریقے سے قتل کرکے اس کی بیوی کیساتھ زبردستی شادی رچالی۔ جس پر عمر فاروق اعظم نے کہا کہ خالد بن ولید پر سنگساری کی حد نافذ کی جائے۔ لیکن حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ابھی ہمیں خالد بن ولید جیسے بہادرکی ضرورت ہے اور ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ پر اکتفاء کیا تھا۔ یہ سارے معاملات ہمارے سنیوں کی کتابوں میں درج ہیں۔
اگر کہا جائے کہ حضرت خالدبن ولید کی قیادت میں پٹھانوں نے قتل عام کیا تو پختون اس پر فخر کرینگے ۔ جب طالبان کی شکل میں محسودوں نے لوگوں پر ظلم کا پہاڑ توڑا تو محسود طالبان پر فخر کرتے تھے۔ اگر منظور پشتین گودی بچہ تھا تو سارے محسود تو گودی بچے نہیں تھے۔ ٹانک سے لیڈی ڈاکٹر رضیہ بیٹنی کو اغواء کرکے تاوان کی رقم وصول کی گئی اور بہت کچھ کیا۔ اگر فوج جان نہ چھڑاتی تو محسودوں سے ہی طالبان، داعش، القاعدہ ،ازبک عورتیں اٹھاکر لے جاتے مگر محسودوں کی اکثریت سمجھ رہی ہے کہ ریاست نے تحفظ نہیں دیا یا کسی نے لوٹ مار کی تو ہم بھی غلطی پر ہی تھے۔
حقائق اجاگر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے حالات میں بھی نرم گوشہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اپنے لشکر کے سپاہ سالار کو بدلے میں قتل کیوں نہ کیا؟۔ مسلمان تأویل کریگا کہ فوجی مہم میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ملحد یہ کبھی نہیں مانے گا۔ اگر ملحد سے کہا جائے کہ اللہ عذاب سے پہلے بے گناہوں کو نکال دیتا ہے اور پھر مجرموں کو نشانہ بناتا ہے تب بھی ملحد کہے گا کہ میں نہ مانوں۔ زلزلوں، طوفانوں میں کتنے بے گناہ مارے جاتے ہیں؟۔ اللہ ظالموںکو کیوں نہیں مارتا ہے؟۔ لیکن انبیاء کرام کی دعوتِ حق سے انکار کے سبب اللہ کا عذاب الگ ہے اور قدرتی طوفانوں اور زلزلوں کی بات الگ۔ عربی عالم دین ابوالعلاء معریٰ نے ہزارسال قبل کہا تھا کہ طوفان اندھی اونٹنی کی طرح بے گناہ اور گناہگار کو یکساں کچل دیتا ہے لیکن جس طرح انسانوں کے فعل میں فرق ہے۔ ٹارگٹ کا معاملہ جدا ہے۔ دھماکوں کا جدا ہے جس میں وہ بھی مارے جاتے ہیں جو ٹارگٹ نہیں ہوتے۔ فوجی آپریشن کا معاملہ جدا ہے۔ رسول اللہۖ نے فوجی آپریشن میں بے گناہ افراد کے قتل سے برأت کا اعلان کیا تو وہ الگ بات تھی ۔ ابوبکر کے دور میں خالد بن ولید سے درگزر کا معاملہ ہوا تو اس پر حضرت عمر نے اختلاف کیا ۔ حضرت عمر نے اظہارکیا کہ ”نبیۖ سے کاش ہم زکوٰة نہ دینے والوں کیخلاف قتال کا حکم پوچھ لیتے؟”۔ پھر ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہوا کہ زکوٰة پر قتال نہیں ہوسکتا لیکن ان کم عقلوںنے پھر نماز کی سزا پر اختلاف کیاتھا۔
ابوبکر و عمرکے بعد حضرت عثمان کی المناک شہادت کا معاملہ بالکل جدا تھا۔ علی کا مدینہ چھوڑکر کوفہ میں شہید ہونا، پھر حسن کا خلافت سے دستبردار ہونا اور پھر یزید کی نامزدگی اور کربلا میں حسین کی بڑی بے دردی سے شہادت، عبداللہ بن زبیر کی حرم کعبہ میں المناک شہادت وہ سلسلہ ہے جس کے بعد تاریخ کے اوراق داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ علامہ اقبال ایک انقلابی شاعر تھے اور انہوں نے پیش گوئی اوردعاؤں سے بھی ہمیں نوازا ہے۔
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
ہمارا وزیرستان،خیبر پختونخواہ سوات تک جس طوفان سے آشنا ہوا ہے اس پر دنیا گواہ ہے۔ اب اللہ نہ کرے کہ پنجاب کی سرزمین اس طوفان سے آشنا ہوجائے۔
مرچ کھا کر قہر خطاب برساؤ پنجابی!
راوی و چناب میں کیوں انقلاب نہیں؟
منظور پشتین بچہ ہوگاجب سردار امان الدین شہید نے مجھے، مولانا اکرم اعوان اور مولانا نور محمد شہید ایم این اے (MNA) جنوبی وزیرستان کو انکے علاقے میں جلسہ کیلئے بلایا تھا۔ مولانا اکرم اعوان نے کہا تھا کہ ”میں کاشتکار ہوں۔ جب کاشتکار فصل اٹھاتا ہے تو کچھ گندم بیچ کر قرضہ چکا تا ہے، اخراجات پورے کرلیتا ہے اور کچھ غلہ پسائی کیلئے دیتا ہے اور جو سب سے بہترین گندم ہوتی ہے اس کو فصل کیلئے رکھ دیتا ہے۔ میں قسم کھاکر کہتاہوں کہ وزیرستان کے لوگوں کو اپنے مالک اللہ نے سب سے قیمتی سمجھ کر فصل کیلئے رکھا ہے۔ دنیا میں امامت کا کام ان سے لینا ہے”۔
یہ تو سچ ہے کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے۔ مجاہد لنگر خیل محسود حمید اللہ نے مجھ سے کہا کہ جہادی تنظیم کے پاس ڈیڑھ کروڑ ریال پڑے ہیں، وہ وزیرستان میں مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ان کو صرف آپ پر اعتماد ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا ہوں۔ پھر حامد میر نے مفتی نظام الدین شامزئی کا انکشاف لکھاکہ ایک جہادی تنظیم واشنگٹن سے بواسطہ رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ پیسے منتقل کرکے علماء کو خرید رہی ہے۔ اگر یہ باز نہیں آئے تو چوراہے میں ان کا انکشاف کردوں گا۔ طارق اسماعیل ساگر نے بھی انہی سالوں کے حوالے سے قبائلی علاقہ میں امریکی ڈالروں کا بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔
جب مجھے اسلام آباد میں پی ٹی ایم (PTM)کے پروگرام سے خطاب کا موقع مل گیا توان کا حوصلہ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ لیا تھا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی
میں نے تقریر میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ قبائل امامت کے لائق ہیں۔ گلے شکوے کرنا مردوں کا کام نہیں۔ ریاست ماں ہے تو اسکے سامنے اُف نہ کرو۔ ہماری سیاسی لیڈر شپ کورٹ میرج والی باغی بیٹیوں کی طرح ہے ،البتہ یہ نہیں پڑھاکہ:
جو فقر ہوا تلخئی دوران کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
اگرپی ٹی ایم (PTM)ہمارے مشن کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتی تو آج پاکستان میں تمام مظلوم قومیں اس کے پیچھے چل رہی ہوتیں۔آج پختون سیاسی ومذہبی قیادت کی سرخیل مریم نوازشریف ہیں جس کی ہڈیوں کا گودا بھی اسٹیبلشمنٹ کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔ محمود خان اچکزئی ، میاں افتخار حسین اور مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کیساتھ پریس کانفرنس کرکے خوش ہوتے ہیں کہ چشم ما روشن دل ماشاد مولانا نے ہی قیادت کامنصب سنبھال رکھا ہے۔ماشاء اللہ چشم بد دور۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

اہل تشیع دوسروں کے اکابرین پر کھلے دل سے تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر جاہلوں کو برداشت کا درس نہیں ملتا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ن لیگ کے دور میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شخص نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خوب باتیں سنائی تھیں!

عمران خان میں اپوزیشن کیساتھ بیٹھنے کی سکت نہیں، جب اسمبلی میں واپس آیا تو خواجہ آصف نے کوئی شرم بھی ہوتی ہے….سنایا

شیعہ سنی مسئلہ آج کا نہیں بلکہ یہ تاریخ کے ہر دور میں گھمبیر رہا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ، معاویہ ، بنی امیہ کے اکثر خلفاء صرف معاویہ بن یزید اور عمر بن عبدالعزیز کو چھوڑ کر ، بنوعباس، سلطنت عثمانیہ کے خلفاء ،صلاح الدین ایوبی ، مغل سلطنت ، جنرل ضیاء الحق و فضل الحق اور اسٹیبلشمنٹ ان کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنا رہی ہے۔ جنرل پرویزمشرف، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور عمران خانی دور میں ظلم وزیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جب ہزارہ برادری کے پاس ن لیگی دورمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گئے تو ہزارہ سے تعلق رکھنے والے شہری نے آرمی چیف کو کھلی کھلی سنائیں۔ جلیلہ حیدر کا مؤقف واضح تھا، سوشل میڈیا پر اے آر وائی (ARY)چینل کا کلپ ہے جس میں کاشف عباسی سے وزیراعظم عمران نے کہا کہ ”سپاہ صحابہ والے خودمیرے پاس آئے کہ شیعہ سے ہماری صلح کروادو۔ آئی ایس آئی (ISI) والے ہمیں ان سے لڑادیتے ہیں اور ہماری خوامخواہ کی ان سے دشمنی بن گئی ہے”۔
بلوچستان میں مچھ شدت پسند سپاہ صحابہ والوں کا گڑھ ہے۔ پاکستان کی آبادی میں شیعہ یا سنی شدت پسند ہوں تو ان کو ریاست تباہ نہیں کرسکتی ہے۔ حکومت و ریاست کا تعلق اسی معاشرے سے ہے۔ شیعہ سنی سب ریاستی اداروں میں شامل ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ادارہ کسی شدت پسند کی حمایت کرے لیکن افراد میں انفرادی طور پر شدت پسندی کے جراثیم ہوسکتے ہیں۔
پاک فوج نے اپنے افسران کو جاسوسی کے ثبوت میں سزائے موت اور قید کی سزا دی۔ انفرادی حیثیت میں چھپ کر جیسے قادیانی مذہب سے لگاؤ کا مظاہرہ کرکے کسی سازش میں انفرادی طور پر ملوث ہوسکتے ہیں، اسی طرح شیعہ اور سنی اہلکار، افسر بھی اپنے ذاتی اثر ورسوخ سے کوئی کام دکھاسکتے ہیں۔ یہاں ایران و سعودیہ کی پراکسی وار چلی آج بھی یہ خارج از امکان نہیں مگراسکا تعلق اداروں کے ساتھ ہرگز نہیں، سعودیہ میں میرے شیعہ دوست کا بیٹا پاک فوج کی طرف سے ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ اگر فوج میں شیعہ سنی مسئلہ ہوتا تو پھر ایک شیعہ کو سعودی عرب کیسے بھیجتے؟
کچھ عرصہ قبل دوبئی سے شیعہ کو نکالا گیا۔میرے سنی ساتھی ناصر علی کو نام کی وجہ سے دوبئی ائرپورٹ پر مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ وہ برسہابرس سے دوبئی میں رہائش پذیر تھا اور آسٹریلیا کا نیشنل تھا، اب آسٹریلیا میں ہے۔ اسلام آباد میں شیعہ دوست کے جاننے والے کی دکان دیکھی جو دوبئی سے نکالا گیا تھا۔ ہمارا شیعہ سنی مسئلہ قدیم دور سے چلا آرہاہے اور یہ حکومتوں کے بس کی بات نہیں اور جب تک اصل مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دی جائے ، خطرے کی تلوار سب کی گردن پر ہمیشہ لٹکی رہے گی۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ جن صحابہ کے احترام پر ان کو مجبور کیا جاتا ہے ان کی عزت وتوقیر انکے ایمان کے منافی ہے اور اہلسنت سمجھتے ہیں کہ ان اکابر کی توہین ہمارے عقیدے پر ضرب کاری ہے اور اہل تشیع بھی اپنے اکابر کی ذرا بھی توہین کیا اختلاف بھی برداشت نہیں کرتے ہیں ۔
قرآن میں نبیۖ کی طرف ”ذنب” کی نسبت کو سنی مکتبۂ فکر کے معتبر علماء نے اجتہادی خطاء یا لغزش قرار دیا ہے مگر اس پر کسی نے شور نہیںکیا۔ حضرت آدم کا جنت میں ممنوعہ درخت کے پاس جانا بھی علماء کے نزدیک خطاء ہے لیکن اہل تشیع نے کبھی اس پر نہ شور کیا اور نہ غور کیا لیکن دوسروں کے اکابرکی توہین کرکے دل چھلنی کرنیوالا طبقہ خود علمی بحث بھی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ جس طرح وہ اپنوں کو چارج کرتے ہیں اسی طرح دوسرے بھی اپنوں کو ان سے زیادہ چارج کرنے کا بھرپور حق بھی رکھتے ہیں۔
تحریک لبیک کے علامہ آصف جلالی نے یہ کہا کہ حضرت بی بی فاطمہ نے حضرت ابوبکر کے مقابلے میں اجتہادی خطاء کی تھی تو شیعہ نے طوفان کھڑا کیا اور کافی عرصہ اس کو جیل میں گزارنا پڑا ۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے عالم دین نے کہا کہ ”علامہ آصف جلالی کمال کا علم رکھتے ہیں لیکن ان کا طریقہ درست نہ تھا ”۔ جب کسی کی جان پر پڑے تو سب اسی کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ جنید جمشید کی جان پر پڑگئی تو مولانا طارق جمیل نے برأت کا اعلان کیا تھا۔ ہمارے گھر پر طالبان نے حملہ کرکے ظلم کی اس حد تک انتہاء کردی کہ ”طالبان رہنماؤں نے کہا کہ اتناظلم تو یزید نے کربلا اور یہود نے فلسطین میں بھی نہیں کیا جتنا سخت ظلم طالبان نے یہاںکیا۔ اور تو اور خاندان کے لوگ بھی طالبان کو صحابہ اورمجھے غلط ٹھہرارہے تھے، بھائی اورنگزیب شہید نے گھر میں گھسنے والے امیرطالبان کوتھپڑ مارا کہ یہ ہمت کیسے ہوئی ،جس کی جرأت کو زمین کے جنات اور آسمان کے فرشتے سلام کرتے ہونگے لیکن اپنے خاندان والے نے کہا کہ یہ تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔
میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تھا تو ہمارے استاذپرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ناظم تعلیمات تھے، جامعہ کی چھٹی بھی نہیںکرائی تھی ۔ سواداعظم کے اکابر مولانا سلیم اللہ خان ، مولانا اسفندیارخان اپنے مدارس سے طلبہ لیکر آئے تھے کہ ہم شیعہ کے جلوس کو یہاں سے گزرنے نہ دینگے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ” فسادی آئے ہیں”۔ مولانا یوسف بنوری ماتم کے جلوس کے شرکاء کیلئے مسجد کے مٹکے پانی سے بھرواکر رکھتے تھے۔ شیعہ کے جلوس کو روکنا ہمارے مدرسے کی روایت کے خلاف ہے۔ آپ لوگ ان فسادیوں سے دور رہو”۔
جامعہ فاروقیہ وغیرہ کے طلبہ نے مسجد کی دکانوں کی چھت پر چڑھ کر پتھر مارنا شروع کئے تو پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔پھر لوگ بیہوش ہونا شروع ہوگئے تو ہم نے مدد کی۔ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے مخاطب کرکے ڈانٹا کہ تم لوگ منع نہیں ہوئے۔ ہمارے یہاں بال بچے ہیں۔سب کو تکلیف میں ڈال دیا”۔ ہم میں صفائی پیش کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
پھر جامعہ سے شیعہ کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دینے کافتویٰ کتابی شکل میں جاری ہوا، پھر مجھے پتہ چلا کہ حاجی محمد عثمان پر فتویٰ لگایا گیا تو جامعہ والے اسکے خلاف تھے لیکن فسادی اصلاح والوں پر غالب تھے۔ پھر مولانا سید محمد بنوری کو گھر میں شہید کیا، پہلے جنگ اخبار میں خود کشی کی خبر چلی جب شہادت ثابت ہوگئی تو ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب پر الزام لگاناشروع کیا۔ ہم نے لکھا تھاکہ استاذ جی نے کبھی مکھی نہیں ماری۔شرپسند مدرسہ پر قبضہ چاہتے ہیں۔ شہید بنوری کا تعلق جمعیت ف سے تھا۔ مولانا فضل الرحمن سے انہوں نے کہا تھا کہ مجھے قتل کردیا جائیگا مگرمولانا نے کہاکہ” تم ڈرامہ کر رہے ہو”۔ خود کشی کی خبرجنگ میں شائع کرنیوالا مفتی جمیل خان اس وقت مولانا فضل الرحمن کیساتھ تھا۔ آج نواز شریف خرچہ اٹھا رہاہے،اس وقت مفتی جمیل خرچہ اُٹھاتا تھا۔اسلئے مولانا محمد خان شیرانی نے پاکستان کو کرائے کا چوک قرار دیا تھا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

سورۂ حدید میں مسلمانوں کیساتھ دو حصوں کا وعدہ ہے، پہلا حصہ فتح روم کا دیکھ لیا اور اب دوسرے کی باری ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ، تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دیگا اور تمہارے لئے روشنی بنادیگا۔

تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنا فضل دیتا ہے۔ الحدید

جب قیصرروم نے ابوسفیان سے نبیۖ کے متعلق اس وقت سوالات دریافت کئے تھے جب ابوسفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ قیصر روم نے اوصاف سن کر کہا تھا کہ سچے نبی کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔ سچا، صادق اور امین ۔ سب سے زیادہ شریف خاندان سے تعلق رکھنے والا اور جنگوں میں کبھی فتح اور کبھی شکست اہل حق کی نشانی ہے اور توحید اورمعاشرتی برائیوں کے خاتمے کی دعوت بھی ایک صحیح اور سچے نبی کی علامات ہیں۔ غریب پرور اور غریبوں سے محبت کا ناطہ بھی اہل حق کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
جب رسول اللہۖ نے قیصرروم کو خط بھیج دیا تو قیصر نے اپنے دربار میں اپنے وزیروں اور مشیروں کو بلایا کہ اس کی دعوت قبول نہیں تو ایک دن یہ تخت ان کے قدموں کے نیچے ہوگا۔ پھر جب وزیر اور مشیر مشتعل ہوگئے تو اس نے کہا کہ میں تمہاری صرف آزمائش کرنا چاہتا تھا۔
اسلام کی نشاة اول گزرچکی ہے ۔ رسول اللہۖ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کی بھی خبر دی ہے۔ اللہ نے سورۂ الحدید کی آخری دو آیات میں مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر ایمان کی دعوت دی ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ ان کو دو حصے عطاء کرے گا۔ پہلا حصہ اسلام کی نشاة اول میں گزر چکا ہے اور اہل کتاب پر یورپ اور افریقہ میں مسلمان غالب آگئے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو ترقی وعروج کی راہیں کھولی ہیں۔ اس میں بھی اگر ہم اللہ سے ڈرے اور اسکے رسول حضرت محمدۖ پر ایمان لائے اور ایمان لانے کا حق ادا کردیا تو آج پھر مسلمانوں کو غلبہ مل سکتا ہے۔ قرآن وسنت میں بھرپور نشاندہی موجود ہے۔
یوم تری المؤمنین والمؤمنات یسعٰی نورھم بین ایدھم و بایمانھم بشرٰکم الیوم جنٰت تجری من تحتھا الانھٰر خالدین فیھا ذٰلک ھو الفوز العظیمO یوم یقول المنٰفقون والمنٰفقٰت لذین اٰمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورآء کم فالتمسوا نورًا فضرب بینھم بسور لہ باب باطنہ فیہ الرحمة و ظاہرہ من قِبلہ العذابO ینادونھم الم نکن معکم قالوا بلٰی و لکنکم فتنتم انفسکم وتربصتم وارتبتم وغرتکم الامانی حتی جآء امر اللہ و غرکم باللہ الغرورO فالیوم لایؤخذمنکم فدیة ولا من الذین کفروامأوٰکم النار ھی مولٰکم و بئس المصیرO
” انقلاب کے دن تم دیکھو گے کہ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی روشنی ان کے آگے اور دائیں ہاتھوں میں ہوگی۔ آج کے دن تمہیں بشارت ہے۔ ایسے باغ کی جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور اس میں ہمیشہ زندگی بھر رہیں گے۔ یہ ہے وہ بہت بڑی کامیابی۔ اس نقلاب کے دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف بھی توجہ کریں تاکہ تمہاری روشنی سے کچھ ہم بھی حاصل کرلیں۔ کہا جائیگا کہ لوٹ جاؤ، اپنے پیچھے کی طرف اور کوئی روشنی پکڑو۔ اس دوران ان کے درمیان ایک قلعہ کی دیوار کھینچ دی جائے گی۔ جس کا دروازہ بھی ہوگا۔ دروازے کا اندرونی حصہ رحمت ہوگا اور باہر سے بظاہر بہت تکلیف دہ دکھائی دیتا ہوگا۔ وہ پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟۔ وہ کہیںگے کہ ہاں کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنے میں ڈال دیا اور انتظار میں لگ گئے۔اور شک میں پڑگئے اور اُمیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈالا۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آیا اور تمہیں دھوکے باز نے اللہ سے دھوکے میں ڈالے رکھا۔ آج کے دن تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائیگا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تمہارا آقا آگ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔”۔( الحدید آیات12سے 15)
یہ دنیا کے انقلاب کا ذکر ہے جہاں اچھے لوگوں اور منافقوں کے درمیان ایک دن تفریق ہوگی۔ ایک قلعہ نما دیوار کے پیچھے ایک دوسرے تک بات پہنچے گی اور ان کو انکے کرتوت سے آگاہ کیا جائیگا ۔ آخرت میں فدیہ دینے کا کوئی تصور نہیں ہوگا ۔ انقلاب کے بعد منافقین کہیں گے کہ ہم بھی کچھ پیسے دینا چاہتے ہیں لیکن ان سے کہا جائیگا کہ تم سے فدیہ قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کافروں سے فدیہ لیا جائیگا۔ پہلے ادوار میں مصنوعی بجلی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے ایسے تصورات نہیں تھے جس طرح سے پہاڑ جتنے بڑے بحری جہازوں کا تصور نہیں تھا۔ حقائق اس وقت سمجھ میں آئیں گے جب انقلاب برپا ہوجائیگا۔
بچوں کیلئے رہائشی سکول بنے ہیں جن کے گیٹ پر باہر سے لکھا ہوتا ہے کہ ” مار نہیں پیار” اور اندر لکھا ہوتا ہے کہ ”پیار نہیں مار”۔ ہٹ دھرم منافقوں سے پیچھا چھڑانے کے دروازے کے باطن اور ظاہر کا فرق ہتھیار ہوگا۔
یہاں پر بات اللہ نے ختم نہیں کی ہے بلکہ اسکے بعد اچھی طرح سے مؤمنوں کو سمجھادیا ہے کہ اُٹھ جاؤ۔
الم یأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ و مانزل من الحق ولایکونوا کالذین اوتوالکتٰب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیر منھم فٰسقونO اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینالکم الاےٰت لعلکم تعقلونO (الحدید آیات16، 17)
”کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکرکیلئے ڈر جائیں اور جو اللہ نے حق کیساتھ نازل کیا۔ اور ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ، جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی تھی۔ پھر ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں اکثر فاسق تھے۔ تم لوگ جان لو! کہ بیشک اللہ زمین کوزندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ تحقیق ہم نے اپنی آیات کو واضح کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ تم عقل سے کام لے لو”۔
اللہ نے آگے فرمایا کہ ”
لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت و انزلنا معھم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ بأس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیزO
” بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کیساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی اور میزان تاکہ لوگوں میں انصاف کیساتھ قیام کریں۔ اور ہم نے لوہا اتارا ،جس میںبہت سختی ہے اور اس میں لوگوں کیلئے منافع ہیں۔ اور تاکہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اسکے رسول کی کون غیب کے باوجود مدد کرتا ہے۔ اللہ بہت طاقت والا زبردست ہے۔ (الحدید آیت25)
اہل کتاب نے افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کردیا لیکن مسلمانوں کی حکومت آئے گی تو لوہے کو صرف منافع بخش چیزوں کیلئے دنیا میں استعمال کریں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ معاشی، معاشرتی اور تعلیمی کسی قسم کا انصاف ہم نے قائم نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے امت مار کھارہی ہے اورغریب اور امیر کے درمیان دیواریں کھڑی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

سورۂ واقعہ میں قیامت اور دنیا میں تین اقسام کے لوگ واضح ہیں:السابقون، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صحابہ کرام میں السابقون بہت تھے۔ آخر میں بہت کم ہونگے۔ اصحاب الیمین پہلے بھی بہت تھے اور آخر میں بھی بہت ہونگے

مجرموں کو پہلے بھی مغلوب ہونے کی سزا مل گئی اور اب بھی مجرموں کی دنیاوی سزا الگ ہوگی اور آخرت کی سزا الگ ہوگی

سورۂ واقعہ سے پہلے سورۂ رحمن ہے۔ اللہ نے فرمایا:
( الرحمن O عّلم القراٰن Oخلق الانسان Oعلمہ البیانO) ” رحمن ،جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا”۔ سورۂ رحمن میں سمندرمیں پہاڑوں کی طرح جہاز وں کا ذکر ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تھا تو کسی کے دل ودماغ میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کاکوئی تصور نہیں تھا۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اللہ خود قرآن کیسے سکھاتا ہے؟۔ ویعلمھم الکتٰب ”اوران کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے”۔ نبیۖ کی نبوت کا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سکھانے کی نسبت کیسے کردی ہے؟۔
قرآن میں کچھ محکمات تھے اور کچھ متشابہات۔ جب دنیا نے ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز کا تصور متشابہات میں سے تھا۔ جس پر بحث مباحثہ کی ضروت مسلمان محسوس نہیں کرتے تھے۔ لیکن آج یہ آیت متشابہات سے نکل کر محکمات میں شامل ہوگئی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے جسطرح سکھانے کی نسبت اپنی طرف کردی ہے کہ اللہ قرآن سکھاتا ہے تو کوئی شخص بھی پہاڑ جیسے جہازوں اور قرآن کی آیت کو زبردست طریقے سے خود سمجھ سکتا ہے۔
سورۂ رحمن میں بھی تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیاہے اور سب سے پہلے مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا و آخرت میں اپنے اپنے حساب سے مجرموں کو سزا ملے گی۔ دوسری قسم کے لوگ السابقین ہیں جن کو دوطرح کی جنت ملنے کا ذکر ہے۔ ایک دنیا کی جنت اور ایک آخرت کی جنت۔ یہ وہ ہیں جن کو احسان کا بدلہ احسان ملے گا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے دور میں جن فتوحات کا دور شروع ہوا تھا، وہ بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ تک کس کامیابی کیساتھ جاری رہاہے۔ مدینہ ومکہ کے درمیان کوئی دریا اور نہروں کا تصور نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو اللہ نے سپر طاقتوں کا فاتح بناکر ہمیشہ کیلئے باغات اور بہتی ہوئی نہروں کا مالک بنادیا۔ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر ہم دنیا میں جنت کے مالک بن گئے ہیں یہ پہلے کی قربانیوں کا صدقہ ہے جس سے ہم استفادہ کررہے ہیں۔
جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوجائے گی تو پھر نئی فتوحات کے دراوزے کھل جائیں گے۔ جب مکہ ومدینہ کے مختصر علاقے اور آبادی نے پوری دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دی تھی تو کیا آج پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمان متحد اور متفق ہوکر قرآن کی بنیاد پر دنیا میں فتحیاب ہونے کا خواب نہیں دیکھ سکتے ہیں؟۔ پاکستان کا پیسہ باہر لے جانے سے مٹی بننے سے بھی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتا ہے لیکن باہر کے پیسے پاکستان میں لگانے سے سونا بن جاتا ہے۔
ہمارے مقتدر طبقات اپنی مٹی اور اپنے ملک میں بڑا لینڈ لارڈ ہونے کو بھی پسند نہیں کرتے لیکن باہر جھاڑو کشی کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ایک کنواری لینڈ لارڈ جمائما خان سے شادی کی تھی لیکن پھر ایک جوان بچوں کی ماںریحام خان اورپھر بشریٰ بی بی سے شادی کرنے میں زیادہ بہتر لگا۔ جس ملک کی بیواؤں و طلاق شدہ کو دیار غیر کی کنواریوں سے زیادہ بہتر سمجھا جائے،اس کی مٹی کتنی زرخیز ہے؟۔ کشمالہ طارق جوان بیٹے کی ماں ہے اور پھر بھی یہاں کے بڑے امیرکبیر شخص نے شادی کرلی۔ جن سرگوشیوں کو قرآن میں بہت سختی کیساتھ اللہ نے منع کیا وہ سرگوشیاں ہمارے معاشرے کی اجتماعیت کو تباہ کررہی ہیں۔
سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کی سزا بھی زنا سے بیس (20)کوڑے کم مقرر کی ۔ زناکی سو (100)کوڑے اور بہتان کی اسی (80)کوڑے ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان سے نبیۖ اور حضرت ابوبکر نے کتنی تکلیف اُٹھائی ۔ اللہ نے ام المؤمنین اور ایک عام غریب خاتون پر بہتان لگانے کی ایک سزا مقرر کرکے دنیا کو ایسا عدل وانصاف سکھادیا ہے کہ پوری دنیا میں کوئی نظام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ اللہ نے سورۂ نور میں یہ بھی فرمایا کہ فحاشی کی باتوں کو پھیلایا مت کرو۔ اسلئے یہ بھی فرمایا کہ اس افک عظیم کے دلخراش واقعہ کو اپنے لئے برا مت سمجھو۔ بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی آیات میں مشرقی اور مغربی اثرات کا شائبہ تک بھی نہیں ہے۔ بہتان لگانے والے مسلمانوں کو کافر یا واجب القتل نہیں قرار دیا بلکہ سزا اور تنبیہ کردی۔
سورۂ واقعہ میں سابقون کا زبردست تصور دیا گیا ہے جن کا کام دنیامیں صرف اہلیت کی بنیاد پر اقتدار کا ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔ امانتوں کو ا نکے اہل کی طرف لوٹانے سے پاکستان، عالم اسلام اور پوری دنیا میں زبردست انقلاب آجائیگا۔ سورہ ٔ واقعہ میں السابقون اور اصحاب الیمین کے بعد اصحاب الشمال کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
واصحاب الشمال ما اصحاب الشمالO
(فی سموم وحمیمO وظل من یحمومO لابارد ولاکریمO انھم قبل ذٰلک مترفینO وکانوایصرون علی الحنث العظیمO)
” اور اصحاب الشمال !اور کیا ہیں اصحاب الشمال؟۔ بادِ سموم گرم ہواؤں میں ہوں گے اورموسم کی گرمی کھائیں گے۔ کالے دھویں کے سائے میں ہونگے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ بیشک یہ وہ لوگ تھے جو پہلے بہت دولتمند تھے۔ اور بڑی بڑی کرپشن پر ہاتھ مار کر مسلسل اصرار کررہے تھے”۔
پاکستان اور دنیا بھر کے کرپٹ عناصر کی تصویربہت زبردست انداز میں اللہ نے ان آیات میں دکھائی ہے۔ جس طرح سمندر میں پہلے پہاڑوں جیسے جہاز نہیں تھے اور موجودہ دور میں اس کاواضح تصور ہے۔ اسی طرح موجودہ دور میں فیکٹریوں اور ملوں کا بھی تصور ہے جنکا سیاہ دھواں سایہ کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن وہ نہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے اور نہ ہی فرحت بخش ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن سمیت جب مسلسل بڑی بڑی کرپشن میں ملوث سیاسی ومذہبی رہنما ؤں اور فوجی جرنیلوں اور سول بیوروکریٹوں سے حرام کمائی کا دھندہ رُک جائیگا تو یہ خود اور ان کی نالائق اولادیں اپنا پیٹ پالنے اور روزگار کیلئے ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے لگ جائیں گے۔
عیش وعشرت اور آرام وسکون کی زندگی گزارنے کے عادی دنیا میںاپنے روزگارکو اپنے لئے جہنم سمجھیںگے۔ انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہی دنیا ہے ، اگر آخرت کی فکر ہوتی تو یہ کرتوت انکے کبھی نہ ہوتے۔ کسی قوم و ملک سے وفا دار رہنے والے بھی ایسی حرکتیں نہیں کرسکتے ہیں پارلیمنٹ میں گھوڑا ، گدھا اور طوطا بننے والوں کو عزت اور آخرت سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ شرم وحیاء کی دہلیز سے اترکر کہاں سے کہاں یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ قوم کی ایسی سیاست کرنے اور ملک کی ایسی رکھوالی کرنے سے بہتر ہے ڈھول باجے اٹھاکر عوام کے سامنے میراثیوں کا کردار ادا کریں۔
سورہ ٔ واقعہ کی مندرجہ بالا آیات (41)تا (46)پھر اگلی آیات(50)تا(57) میں قیامت کے عذاب کا الگ سے ذکر کیا ہے جس میں شجرة زقوم وغیرہ کی وضاحت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

اللہ نے صحابہ کرام کے بعدآخری دور میں مسلمانوں کی کامیابی اور اسلامی نشاة ثانیہ کی زبردست بشارت د ی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ، سورۂ محمد، سورۂ حدید، سورۂ دہر، سورۂ رحمن اور قرآن کی کئی سورتوں میں بشارت عظمیٰ کی بہترین وضاحت

یارب ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجورًا”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”۔ قرآن

سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں بہت بڑے انقلاب کا ذکر ہے۔ کیا شیعہ سنی میں اتنی جرأت ہے کہ ائمہ اہل بیت یا صحابہ کرام کے دربار میں کسی بڑی شخصیت سے جھگڑا کریں اور اپنے حق میں اللہ کی وحی سے حمایت کی امید رکھیں؟۔
رسول اللہ ۖ سے بڑی ذات اہل تشیع کے نزدیک ائمہ اہل بیت کی نہیں اوراہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کی نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ سنی عوام اپنے ذاکرین عظام اور علماء کرام سے دلیل کی بنیاد پر بھی کسی قسم کی حجت بازی کریں تو ہماری شخصیات کویہ بہت بے ادبی اور بدترین گستاخی لگتی ہے۔ مولانا طارق جمیل و بلال شہید کے درمیان پچپن (55)منٹ کی کال میں گفتگو سن لیں اور پھر اس پر مولانا طارق جمیل کی طرف سے تأثرات بھی سن لیں اور بلال شہید اور مولاناطارق جمیل کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے ویڈیوز بھی دیکھ لیں۔ پھر رسول اللہۖ سے سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون کا جھگڑا بھی دیکھ لیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔
سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ظہار کرنے والے کو تین قسم کے کفارے کا حکم ہے۔ (1:)گردن آزاد کرناجو کسی غلام، لونڈی ، مزارع اور قرضدار کی ہوسکتی ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے اس پرعمل حکم ہے۔ (2:) اگر جو یہ نہیں کرسکتے ہو تو پھر ساٹھ (60) دن مسلسل روزے رکھنے ہیں۔ فرض رمضان ایک ماہ، یہ دو مہینے پورے ہیں۔ اوراس میں بھی ہاتھ لگانے سے پہلے کی شرط موجود ہے۔ (3:) اگر دو مہینے روزے کی استطاعت نہیں ہے تو پھر(60) مسکینوں کو کھانا کھلاناہے۔ اس میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی کوئی شرط اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی ہے۔
دولت مند پر ہاتھ لگانے سے پہلے کتنا زبردست اللہ نے جرمانہ رکھ دیا۔ پھر مذہبی شدت پسند پر بوجھ ڈال دیا کہ ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ مسلسل وہ روزے رکھے گا ۔ لیکن عام عوام کو اللہ نے کتنی بڑی سہولت سے نواز دیاہے۔
سورۂ مجادلہ کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے دور رہنے کی تلقین کردی کہ سر گوشی شیطان کا عمل ہے۔ جب چند افراد ایکدوسرے کیساتھ مل کر سرگوشیوں کی بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں تو اس سے معاشرے میں ایک بداعتمادی، منافقت اور اجتماعی بیماریوں کی شکل میں قوم مبتلا ہوجاتی ہے۔ تبلیغی جماعت اور سپاہ صحابہ کے علاوہ اہل تشیع بھی آپس میں سرگوشیوں کے مرض میں مبتلاہیں۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ ایمان والے سرگوشی کریں تو تقویٰ اختیار کریں۔ ایکدوسرے کی غیبت، مخالفت اور مذاق اُڑانے کی عادت سے معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو دیتا ہے۔
صحابہ کرام کے دور میں یہ منافقین کی روش تھی اور اللہ نے ان کو ہرمحاذ پر شکست بھی دیدی۔ اہل تشیع ائمہ اہل بیت کیلئے صحابہ کرام کے مقابلے میں ایسے تأثرات قائم کرنے سے باز آجائیں کہ لوگ قرآن کی طرف دیکھنے کے بعد اُلٹا صحابہ کرام کی بجائے ائمہ اہلبیت کو منافقین کی فہرست کا حصہ سمجھنا شروع ہوجائیں۔ خوارج پہلے پکے شیعہ تھے اور حضرت علی کے ماننے والے تھے اور پھر حضرت علی کے وہی دشمن بن گئے تھے۔ اعتدال مؤمنین کی اصل راہ ہے۔
کچھ لوگ نبیۖ سے سرگوشی کیلئے وقت مانگتے تھے تو ان کا مقصد صرف اپنی دنیاوی وجاہت کا اظہار ہوتا تھا اور منافقین کا راستہ روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نبیۖ سے سر گوشی کرنا چاہو تو پہلے صدقہ دیدیا کرو اور اگر نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ حکم بعض لوگوں پر گراں گزرا کہ نبیۖ نے ملاقات کیلئے بھی یہ شروع کردیا؟۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیسے نہ ہونے کی صورت میں اجازت دی تھی اور صدقہ نہ دینے کے باوجود معاف کردیا تھا۔
اصحاب صفہ اور مہمانوں کے اخراجات کی طرف توجہ دلانا بری بات نہیں تھی۔ آج بھی لوگ سیاسی قائدین، علماء اور پیرانِ طریقت کے لنگروں کا خیال رکھتے ہیں۔ قرآن کی ہر بات میں حکمتِ بالغہ کا سمندر غوطے کھاتا ہے۔
سورۂ مجادلہ کے تیسرے رکوع میں حزب شیطان اور حزب اللہ کی صفات کا ذکر ہے۔ حزب شیطان وہ منافقین تھے جنہوں نے ان اہل کتاب یہود کو اپنا حاکم وسرپرست بنالیا تھا جن پر اللہ کا غضب ہے۔ وہ نہ تو یہود کیساتھ تھے اور نہ مسلمانوں کیساتھ تھے۔ ایک عرصہ سے ہمارا حکمران طبقہ بھی حزب شیطان کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہودیوں کے عالمی بینکاری نظام سے بھاری بھرکم سودی قرضے لیتا ہے۔ اسلام کی نشاة اول میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کو بلیک لسٹ قرار دے دیا تھا اور موجودہ دور میں پاکستان کو منافقین کی حرکتوں نے گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ اپنے لوگوں اور عالمی اداروں دونوں سے دغابازی ہورہی ہے۔
بعث لفظ کے دو معانی ہیں۔قیامت کے دن اُٹھانے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور تشکیل دینے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور قرآن میں دونوں معانی میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ۔ ”اگران دونوں(میاں بیوی) میں تفریق کا خطرہ ہوتوپھر ایک حکم تشکیل دو،شوہر کے خاندان سے” ۔(النسائ35) میں فابعثوا اسی معنیٰ میں آیا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے مطابق منافقین اولین کو قیامت کے دن اُٹھایا جائے یا دنیا میں فتح کے مناظر دیکھنے کے بعد ان سے امتحان لیا جائے تو وہ قسم اُٹھانے میں ذرہ برابر شرم نہیں رکھتے تھے۔
اگر مقتدر شخصیات سے کرپشن پر حلف لیا جائے تو ان کے اندر کی منافقت انکے چہروں پر آجائے گی۔ پھر ان پر ان کی جماعت اور خاندان میں سے اچھے لوگوں کو درست گواہ بنادیا جائے تو وہ حزب اللہ کا کردار ادا کرتے ہوئے درست گواہی دیں گے۔ روزِ حشر سے پہلے یہاں بھی ایک یومِ حساب کا ذکر ہے۔ فیض احمد فیض کے اشعار کی صورت میں زبان خلق نقارہ خدا بن چکی ہے۔ سورۂ واقعہ میں دنیا کے اندر اس انقلاب کا ذکر ہے جس میں پہلے دو طبقات کو اجر وثواب کے علاوہ خوشحالی بھی ملے گی اور مجرموں کی دنیا اور آخرت میں الگ الگ سزاؤں کی وضاحت بھی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

سنی شیعہ اختلاف کا ایسا حل جو شدت پسنداور گمراہ طبقے کیلئے بھی روح وجان اوردل ودماغ سے قابل قبول ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا طارق جمیل اور بلال شہید اور علامہ سید جواد حسین نقوی اور ان کی مخالفت میں شیعہ شدت پسندوں کی ویڈیوزدیکھ لیں۔

اتحاد کی کوشش اور مخالفین کے خلوص میں شبہ نہیں لگتالیکن خلفاء راشدینکے دور میں شدت پسندوں کا اندازہ یہاں لگائیں!

شیعہ سنی میں دو نام علامہ سید جواد نقوی اور مولانا طارق جمیل بہت معروف ہیں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی کے ہاں دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزند علامہ زاہد الراشدی کی امامت میں اہل تشیع اور اہل سنت کی نماز باجماعت یو ٹیوب پر موجود ہے لیکن غلطی سے شاید علامہ راشدی کو اہلحدیث سمجھا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب سے کوئی راشدی اہلحدیث پاکستانی کی بہت شہرت ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ و جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی بھی علامہ جواد نقوی کے پاس گئے۔ ہم بھی علامہ جوادنقوی کے پاس گئے تھے ۔ ان کی دعوت بھی کھائی اور ایک رات وہاں رہے بھی تھے۔ اہلسنت کے بہت علماء کرام کو مختلف مواقع پر علامہ نقوی بلاتے ہیں اور ہمارا کوئی تعارف بھی نہیں تھا لیکن ہم از خود پہنچ گئے تھے۔
شیعہ سنی اتحاد کی وجہ سے علامہ جواد نقوی کو شاید اپنوں سے خطرات بھی لاحق ہوں، ان کی مخالفت میں بہت مواد موجود ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔جب مولانا طارق جمیل کی ویڈیو کا کسی نے بتایا کہ بلال شہید نے انکو بہت خراب کیا ہے تو بلال شہید کی کافی ویڈیوز دیکھ لیں اور مجھے مولانا طارق جمیل کی حالت دیکھ کر ان پربہت رحم آیا۔ بڑی عمر کے بڑے عالم دین سے واقعی جس لہجے میں بات کی گئی ،بلال شہید نے غالباً کہہ بھی دیا کہ اگر میں سامنے ہوتا تو ہوسکتا ہے میں اس لہجے میں بات نہ کرسکتا۔
جس لہجے میں حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی ابن ابی طالب سے اپنے دور کے جذباتی نوجوانوں نے بات کی ہوگی، مولانا طارق جمیل اور علامہ سید جواد نقوی کی مخالفت میں انکے اپنے ہم مسلکوں کا بالکل وہی لہجہ نظر آتا ہے۔ قارئین یوٹیوب سے متعلقہ وڈیوز فیس بک پر بھی اگر ڈال دیں تو بہت اچھا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کا ایک بہت خیرخواہ اپنی ویڈیو میں منت سماجت کرتا ہے کہ اس کوڈیلیٹ کردو، لیکن ڈیلیٹ کرنے کی کسی نے بات نہیں مانی ہے۔
علماء دیوبند کے اچھے لوگ اپنے اکابرین پر گئے ہیں، ان میں منافقت نہیں ہے۔مولانا احمدرضا خان بریلوی کی طرف سے ان پر گستاخ، قادیانیت وغیرہ کا فتویٰ لگا لیکن انہوں نے اعلیٰ حضرت کو مخلص قرار دیا۔ مولانا طارق جمیل کا علم پختہ نہیں مگر اکابر کی راہ پرخلوص سے گامزن ہیں۔
اہل تشیع اس وجہ سے صحابہ کرام پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے کہ یہود اور ایران کے مجوسیوں کے ایجنٹ ہیں بلکہ ان کے دل ودماغ میں یہ بات چھائی ہوئی ہے کہ منافقوں اور مرتدوں کے جس کردار کا ذکر قرآن واحادیث میں ہے وہ چند صحابہ کرام کے سوا سب پر صادق آتا ہے۔ جس طرح مولانااحمدرضا خان بریلوی سے علماء دیوبند کے اکابر نے نفرت نہیںکی۔ مولانا یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے مسلک حنفی کی بقا ء کا ذریعہ امام بریلوی ہی کو قرار دیا تھا۔ سنی مکتبۂ فکر میں پروفیسر حمید اللہ ایک امام کی حیثیت رکھتے تھے۔ بہاولپور یونیورسٹی میں پڑھایا تھا اور فرانس میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی ایک کتاب ”حدیث قرطاس” سے متعلق ہے ،جس میں پورا پورا زور لگایا گیا ہے کہ اس کا کسی طرح انکار کیا جائے کہ حضرت عمر کے مزاج سے کسی قسم کی مناسبت بھی اس میں نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اتنی بڑی گستاخی کا ارتکاب کیا ہو۔ لیکن اگر ان کو یقین آجاتا کہ حضرت عمر نے یہ کیا ہے تو پھر کیا وہ شیعہ بن جاتے؟۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وہ ضرور شیعہ بن جاتے۔ نبیۖ کی مخالفت میں کوئی بھی شخص نظر آئے اور اس کی کوئی تأویل بھی دل ودماغ میں نہ آئے اور نبیۖ پر اس کو ترجیح دی جائے تو ایسا بے ایمان بننے سے شیعہ بننا بہت بہتر ہے۔
مولانا شبلی نعمانی نے علماء سے اپنے وقت میں کہا تھا کہ بہتر ہے کہ اس حدیث کا انکار کیا جائے لیکن ان سے کہا گیا کہ حدیث کے منکر بننے سے کافر بن جائیں گے لیکن جب کسی روایت کا انکار کرنے سے کوئی کافر بنتا ہو تو سامنے سامنے نبیۖ کی بات کا انکار کرنے سے کیسے مسلمان کا تصور ہوسکتا ہے؟۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا داماد سید زعیم قادری اس حدیث کی وجہ سے نہ صرف کٹر شیعہ بنا تھا بلکہ ایسی گستاخانہ زبان لکھ دی تھی کہ حکومت پاکستان نے اس کی اشاعت پر بھی پابندی لگائی تھی۔ وہ کتاب میں نے بھی پڑھی ہے۔ شیعہ میں ایسی گستاخی کرنے کا تصور آج سوشل میڈیا پر بھی نظر نہیں آتا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پوتوں اور نواسوں کو بٹھاکر معاملہ دیکھا جاسکتا ہے۔
مجھے حضرت ابوبکر و عمر سے اسلئے عقیدت نہیں کہ سنی ماحول سے میرا تعلق ہے بلکہ قرآن وحدیث کے آئینے میں دونوں کا کردار شفاف آئینے کی طرح زبردست لگتا ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکتبۂ فکر قرآن وحدیث سے بہرہ مند نہیںبلکہ اپنے اپنے ماحول کی وجہ سے سنی یا شیعہ ہیں۔ اگر حقائق کی نشاندہی کردی جائے تو پھر بہت ممکن ہے کہ شیعہ اپنی شیعیت چھوڑ کر پکے سنی بن جائیں اور سنی اپنی سنیت چھوڑکر پکے شیعہ بن جائیں اور ایسا بہت ہوا بھی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کا ایک طرف عقیدہ یہ تھا کہ اتنے معجزات کیساتھ خدا اور خدا کا بیٹا تھا اور دوسری طرف یہود نے ان پر ولدالزنا کا الزام بھی لگایا تھا۔ عیسائی کی آج بھی مسلمانوں سے زیادہ تعداد ہے اور ان کا یہ عقیدہ کسی کیلئے قابلِ قبول نہیں تھا کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ خدا ہوں اور دوسری طرف مظلوم۔ اہل تشیع کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی ہے لیکن انکے اس متضاد عقیدے کو کسی دور میں بھی پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔ جو لوگ حضرت علی سے گستاخانہ بغض رکھتے ہیں وہ بھی یہود پر گئے ہیں اور جن اہل تشیع کے اعتقاد ات میں انتہائی درجے کاتضاد ہے وہ بھی عیسائیوں کی طرح ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت علی نے خلافت کو اپنا حق سمجھ رکھا تھا اور ان کی بہت کرامات بھی تھیں اور کسی قدر آپ خود کو مظلوم بھی سمجھتے تھے لیکن اس میں غلو کرنے والوں نے حضرت علی کی شخصیت کو بھی چار چاند نہیں لگائے بلکہ خراب کرکے رکھ دیا ہے۔
اگر کوئی علامہ شبلی نعمانی کی طرح سمجھدار شیعہ ہوتا تو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان خرافات کو حضرت علی کی شخصیت پر بڑا دھبہ قرار دیکر مسترد کرتاجو مختلف روایات میں موجود ہیں۔ جب کوئی علامہ شہریار عابدی کی طرح کھینچ تان کر حضرت علی کی ذات کو آخری حد تک تقیہ کی انتہاء تک پہنچانے والا اس انداز میں ثابت کریگا تو انسان کا دل بھی نہیں مانے گا کہ وہ پھر حضرت علی کے پیروکار کی حیثیت سے شیعہ بنارہے۔یہ وہ روش ہے جس نے بعض شیعوں کو شیعہ مذہب چھوڑنے پر مجبور کرکے شدت پسند سنی بنادیا تھا۔ لیہ پنجاب میں ایک بہت نیک اور اچھا انسان تھا جوشیعہ سے سنی بن گیا تھا اور شیعہ مذہب سے آخری حدتک نفرت کرتا تھا۔ بھائی واپڈا میں ایکسین اور سنی ہونے والے شخص لائن مین تھے۔ مجھے شیعہ سنی سب سے ہمدردی ہے ۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ الدین النصیحة ”دین خیرخواہی ہے”۔ آج دین کی شکل بگڑ کر بہت بدخواہی بن کر رہ گئی ہے۔ العیاذ باللہ

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

مولاناپی ڈی ایم (PDM)دوماہ کی نماز پرچلی گئی ! ریموٹ کنٹرول مریم کاہوتونمازہوگی؟ عبد القدوس بلوچ: تیز و تند

سینٹ الیکشن میں طوطا فیس لیکر ووٹ کاسٹ کرتا۔ اب گدھیڑے کیلئے بڑاگدھا صدارتی آرڈینینس جاری ہوا؟ نہیں جی! سوال غلط ہے،تبدیلی سرکار آئی ہے، اب گھوڑوں کی جگہ ڈنکی ٹریڈنگ سے قوم ملک سلطنت سربلند ہے

کہیں پرندوں کی منڈی لگتی ہے، کہیں جانوروں کی منڈی لگتی ہے، پہلے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی دنیا میں منڈیاں لگتی تھیں،اب عوامی نمائندوں کی منڈی کا لگنا سرِ بازار رُسوائی ہے

مشروط صدارتی آرڈی نینس کی مثال: گدھے سے کسی نے پوچھا کہ ڈھینچو ڈھینچو کیوں کرتے ہو؟، جواب دیا کہ کسی کو ڈراتا ہوں،پوچھا پدو کیوں مارتے ہو؟، کہا: میں بھی ڈرتاہوں!

ریل گاڑی کا ٹکٹ کسی شخص کے پاس نہیں تھا، چیکر آیا تو ا س نے دو سو(200)رکعت کی نیت کہہ کراللہ اکبر کہا اور نماز پڑھنے لگا۔ یہ دیکھ کرچیکر پریشان ہو کرچلا گیا۔ مولانانے پی ڈی ایم (PDM) کی دو ماہ نماز باجماعت شروع کی،دھرنے اور تحریک عدمِ اعتماد پر اتفاق نہیں تھا۔ مولانا کا ریموٹ مریم چلائے تو کیا نماز ہوگی؟۔ عمران شفقت نے کہاکہ ”شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل (ECL) سے نکالنانوازشریف سے گٹھ جوڑکا فیصلہ ہواہے کہ حکومت کو مدت پوری کریگی، آئندہ ہلکی پھلکی سیاست چلے گی”۔ شاکر سولنگی نے کہاکہ ”نوازشریف آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر (DGISI)کا نام نہیں لے گا” ۔ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی ن لیگ کیلئے زیادہ خطرہ ہے اسلئے تو پرویز الٰہی کے پیچھے مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو لگادیا تاکہ پنجاب اور مرکزکی سیاست میںعمران خان کی جگہ ق لیگ، پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کی انٹری نہ ہو۔یہ تحریک پہلے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نظریہ اور اب مفاد کاچربہ لگتاہے۔محمودخان اچکزئی کی آذان ، بلاول کی اقامت رائیگاں گئی۔ امام پراَنڈرایامِ خاص کا کنٹرول ہے نوازشریف کے پیسوں سے پی ڈی ایم (PDM) میڈیا میں رہے گی۔ پی سی (PC)میں مولانا کانمائندہ بھی دعوت دینے پہنچ گیا تھا۔

ہم نے لکھا تھاکہ ن لیگ پر اعتماد خوش فہمی ہے مگر ڈراونا خواب بناکر پیش کیا تاکہ کوئی گلہ نہ کرے کہ ہم آزادی کی جنگ لڑرہے تھے اور تم نے طاقتور کوسہارا دیا۔ فوج پی ٹی ایم (PTM) سے ڈرگئی پی ڈی ایم (PDM) نے دل کی بھڑاس سے رہا سہا خوف بھی نکال دیا ۔ بات طوطے کی فال سے نکل گئی۔ حکومت اپوزیشن دونوں ایک گدھے کے سوار ہیں جو ڈھینچو ڈھینچو اور ہوائیں خارج کرکے بے انتہا ء ماحولیاتی آلودگی پھیلارہے ہیں!

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

پہلے مخالف کو ڈنڈے کے زور پر دبایا جاسکتا تھا مگر اب سوشل میڈیا ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی خود جھوٹ بول کر اپنا منہ کالا نہیں کرے تو سچ کا راستہ دنیا کی کوئی قوت نہیں روک سکتی ہے،البتہ اُمت مسلمہ کو جھوٹ سے فراغت نہیں!

شیعہ اگر اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو سنی بھی نرم پڑ سکتے ہیں اور سنی اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

اہل تشیع کو تاریخ میں زیادہ تر تقیہ اختیار کرنے پر گزارہ کرنا پڑا لیکن اب انکے پاس ایران کی حکومت ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے شیعہ سنی اختلافات میں شدت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔

آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اگر مل بیٹھ کر اپنے معاملات کو افہام وتفہیم ،تحمل وبرداشت اوراعلیٰ ظرفی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کرکے گزارہ نہیں کیا تو پھر دہشت کی فضاء ایسی وحشت میں بدل سکتی ہے کہ علماء کرام اور ذاکرین کو چندہ دینے والی عوام مذہب اور دینداروں کی شکل وصورت سے بھی نفرت کرنے لگ جائیں گے۔

اگر میں چاہتا تو جمعیت علماء اسلام ف کے پلیٹ فارم سے اپنے لئے بہت آسانی کا راستہ اپنا سکتا تھا مگر میں نے اپنے لئے کوئی الگ پارٹی یا تنظیم بھی نہیں بنائی ہے اور چند افراد کیساتھ مل کر اسلام کی نشاة ثانیہ کی ایسی کوشش میں لگاہوں جو اپنے ثمرات سے عوام کو بڑے فائدے کاباعث بن رہی ہے۔ علماء اور مذہبی طبقات کے غبارے سے ہم ہوا نکالنے میں کامیاب نہ ہوتے تو طالبان اور داعش ہمارے مذہبی طبقات کی اوقات بھی عوام کو دکھا دیتے۔ جب ریاست نے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی تب بھی ہم نے القاعدہ اور طالبان کوانکی کمزوریوں سے آگاہ کیا تھا۔ ہماری تحریک نے سب کو یکساں فائدہ پہنچایا۔ ریاست اور طالبان دونوں نے شدت پسندی کے مقابلے میں اعتدال کو ترجیح دی تھی۔

آج پی ڈی ایم (PDM)اور حکومت وریاست کو بھی اعتدال کی طرف دھکیلنے میں اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کیا ہے۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث میں بھی اعتدال کی راہ پر چلنے میں ہم نے کافی سفر طے کیا ہے۔

الم یجدک یتیمًافاٰوٰیO ووجد ک ضالًا فھدٰیO ووجدک عائلًافاغنیٰOفاما الیتیم فلاتقھرOواما السآئل فلاتنھرO واما بنعمة ربک فحدث

” کیا ہم نے آپ کو یتیم نہیں پایا ، پھر ٹھکانہ عطاء کیا اور آپ کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا تو ہدایت عطاء کی اور آپ کو محتاج پایا تو ہم نے مستغنی بنادیا۔پس کوئی یتیم ہو تو مت ڈانٹواورکوئی سائل ہو تو اس کو مت جھڑکو۔اور اپنے رب کی اپنے اوپر نعمت کو بیان کیا کرو”۔ (سورۂ الضحیٰ)

جب انسان نے کوئی خدمت انجام دی ہوتی ہے تو اس کو تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتا ہے لیکن جب کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے تو کچھ یاد نہیں رہتا ہے اور اللہ کی تعریف نہیں اپنی ثناخوانی کرنے لگتا ہے۔

رسول اللہ ۖ کے دادا عبدالمطلب بھی اللہ ہی کی ربوبیت پر یقین رکھتے تھے ۔ جب ہاتھی والوں نے حملہ کرنے کا پروگرام بنایا تو حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ” کعبہ کی حفاظت اس کا اپنا رب کرے گا”۔

توحید پر اتنا پختہ عقیدہ تو آج کے مسلمانوں میں بھی نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو اللہ نے جس طرح آگ سے بچایا ،وہ قصہ نسل درنسل وراثت میں چلا آیا تھا۔ اسی لئے بنی اسرائیل میں ایک کے بعد دوسری نبوت کا سلسلہ جاری رہا تھا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے معجزات کیساتھ بھیج دیا تھا، جبکہ اہل مکہ میں توحید کا عقیدہ اپنے جوبن کیساتھ موجود تھا اسلئے حضرت اسماعیل کے بعد کسی بھی نبی کو قریشِ مکہ میں بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

جس طرح یہود ونصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اسی طرح سے قریشِ مکہ خود کو حضرت ابراہیم کا اصل وارث سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد کے سیکرٹری محمد اجمل نے نبیۖ پر اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے کہ ” ایک منصوبہ بندی کے تحت بنوہاشم نے عوام کو جہالتوں سے نکالنے کیلئے رسول اللہۖ کا کردار تشکیل دیا تھا۔ وحی کا دعویٰ عوام میں ایک سیاسی چال کے طور پر کیا گیا”۔ میرا ایک جاننے والا شیعہ علمی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باجود بھی یہی نظریہ رکھتا ہے۔اسکے نزدیک مہدیٔ غائب کا عقیدہ بارہ عدد کو پورا کرنے کی وجہ سے ایک مجبوری ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ غائب ہے اور سنی کہتے ہیں کہ آئندہ پیدا ہوگا مگر سمجھدار لوگ اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتے اسلئے خمینی نے خروج کیاتھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن نبیۖ پر نازل ہوا تھا اور اب قیامت سے پہلے مہدی کے ہاتھوں نافذ ہوکر قیامت آجائے گی؟۔ پھر اتنے لمبے عرصے تک یہ قرآن صرف اسلئے تھا کہ تلاوت سے ایمان کی روشنی کو حاصل کیا جائے اور سمجھنے سمجھانے کا معاملہ قرآن کو اپنا کاروبار بنانے والوں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائے؟۔

قرآن نے رسول اللہۖ و صحابہ کے ذریعے سے وہ انقلاب برپا کیا جسکا انکار کوئی انسان کرے بھی تو نہیں کرسکتا اور جن کا قرآن کے آسمانی صحیفے پر ایمان نہیں وہ بھی اسلام کی افادیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُمت نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟۔ دیوبند کے بڑے شیخ الہند مولانا محمود الحسن جب مالٹا کی جیل سے رہاہوگئے تو امت کے زوال کے دو سبب بتائے ۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” فرقہ واریت قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مفتی شفیع نے مولانا انور شاہ کشمیریکا لکھا کہ ” آخری عمر میں فرمایا کہ میں نے اپنی ساری زندگی فقہ میں ضائع کردی، قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مولانا انور شاہ نے اپنے استاذ شیخ الہند کی بات مانی ہوتی تو آخری وقت میں اپنی زندگی ضائع کرنے پر افسوس نہ ہوتا ۔مفتی شفیع اور مولانا محمد یوسف بنوری نے اپنے استاذ کشمیری سے سبق سیکھ لیا ہوتا تو آج مدارس میں بڑا انقلاب ہوتا۔

یہ تو دیوبندی مکتبۂ فکر کا حال ہے جو قرآن وسنت کے سب سے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں۔ بریلوی اور شیعہ فرقوں کا کیا حال ہوگا؟۔ جن کا گزارہ خانقاہ کے پیروںاور محرم کے ذاکرین پر چل رہا ہے؟ دیوبند کی دیکھا دیکھی بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ نے بھی مدارس قائم کرلئے ہیں۔ مولانا الیاس کی تبلیغی جماعت کے طرز پربریلوی کے علامہ الیاس قادری اور اہل حدیث کے مولانا الیاس اثری نے بھی اب اپنی جماعت قائم کی۔ جمعیت علماء اسلام کی طرح جمعیت علماء پاکستان و جمعیت علماء اہلحدیث وجود میں آگئے، اہل تشیع نے بھی تحریک فقہ جعفریہ سمیت متعدد تنظیموں کے نام سے اپنا کام چلایا۔ تمام مکاتبِ فکر کی جماعتوں اور تنظیموں کی روداد پیش کی جائے توپھر جگہ بہت کم پڑجائے گی۔

جب حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء اسکے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے۔ پھر بات سمجھ میں آگئی تو انکے بیٹوں نے اردو میں لفظی و بامحاورہ ترجمہ کرلیا۔ پھر اردو سے اردو کی نقل میں مارکیٹ کے اندر بہت سارے ترجمے آگئے۔ عربی زبان بہت وسیع ہے اور اس میں ایک ایک لفظ کے بہت معانی ہیں اور ایک ایک چیز کے بہت سارے نام ہیں۔ مثلًا شیر کے پانچ سو (500)نام ہیںاور ولی کے پچیس (25)معانی ہیں۔ ایمانکم کے بہت سے معانی ہیں۔ قرآنی آیات میں سیاق وسباق سے معانی متعین کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہے۔

جس طرح مختلف آیات میں اللہ نے قرآن کے نازل ہونے کی نشاندہی فرمائی ،اسی طرح سے اللہ نے انسان کو قرآن اور علم سکھانے کی بھی وضاحت فرمائی۔

الرحمٰن Oعلّم القراٰن O

” رحمان نے قرآن کو سکھایا”۔ ابن عباس کا مشہور قول ہے کہ قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا۔ آج ہمیں دیکھنا ہوگا کہ رحمن کس طرح انسان کو اپنے اپنے دور میں قرآن سکھاتا ہے؟۔

جب قرآن نازل ہوا تو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کا تصور نہیں تھا۔ تفاسیر میں کیا لکھ دیا تھا؟۔ ٹھیک یا غلط؟۔ مگر آج قرآن انسان کو خود سمجھ میں آرہاہے اسلئے رحمن جل شانہ کا قرآن سکھانا سمجھ آئیگا۔ عوام کو صرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ بہت سمجھدار ہے اور قرآن کی طرف توجہ ہوگئی توپھر امت مسلمہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ بعض لوگ جن کی روزی روٹی مذہب سے بندھی ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کی طرف عوام کی توجہ ہوگئی تو پھر یہ ایسا ہوگا جیسے قربانی کے جانوروں کو چھرا دکھا دیا جائے۔اونٹ جیسا کینہ پرور جانور کبھی مالک یا قصائی کو مار بھی ڈالتا ہے۔

میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو میری حیثیت یتیم کی تھی۔ مطبخ پر چودہ (14) نمبر کمرہ لاوارثوں کا ہوتا تھا۔ اس سے پہلے اسٹیل مل میں نوکری کرتے ہوئے کھلے میدان میں پوڈر پینے والوں کی طرح بھی سویا ہوں۔ گھر سے بھاگا ہوا راہِ حق کی تلاش میں پھرتا تھا تو بہت تجربات کر لئے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ نکل کر خانقاہ سے رسم شبیری ادا کرنے کی کوشش کی تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑگیا۔ دربدر مختلف شہروں میں ٹھکانے بنائے،آخر کار کبیر پبلک اکیڈمی گومل میں خدمت کا موقع ملا، اخبار ضرب حق کراچی اور کتابیں لکھ کر شائع کرنے کاموقع بھی ملا اور حاجی عثمان کی خانقاہ سے علماء ومفتیان کے مقابلے میں جیت کا تمغہ بھی اپنے سر پر سجالیا تھا ، جب ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء اور ٹانک کے مجاہدین سے پالا پڑا تھا تب بھی اللہ نے سرخرو کردیا تھا۔ آخر میں جب طالبان نے حملہ کیا تو مجھے اللہ نے بچالیا اور ان کو بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مرتبہ جرمنی جانے کا بھی موقع ملا، دبئی میں رہائش، ناروے، سویڈن ، فرانس ، چین دیکھنے کو مل گئے اور مکہ مدینہ کی زیارت کیساتھ بدر اور طائف بھی گیا۔مدارس میں عزت ملی، خانقاہ کی پیری مل گئی ،صحافت اور تصانیف کے مواقع مل گئے ۔ رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلانے کی ہمت کرسکتا ہوں۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ ” میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن ، دوسری میرے اہلبیت”۔ حدیث ثقلین سے سب واقف نہیں ہیں لیکن اہل تشیع کے ہاں اس کی بڑی رودادیں ہیں ۔

سنفرغ لکم ایہ الثقلٰنO

”اے دو ثقلین! عنقریب ہم تمہارے لئے فارغ ہورہے ہیں!” (الرحمن)

سورۂ الرحمان میں انسانوں اور جنات کو مخاطب کرکے ثقلان کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ دھمکی ہے یا خوشخبری ہے؟۔ نعمتوں کے بار بار ذکر کرنے سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ خوشخبری ہے۔ جس خلافت سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہونگے توشیطان بھی آرام کریگا؟۔

قرآن میں صرف آخرت کے ثواب وعذاب ہی کا ذکر نہیں بلکہ دنیا میں جتنی قوموں کا قرآن نے ذکر کیا ہے وہ دنیا میں ہی عذاب یا خوشی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ شداد کی جنت اور ابراہیم کو جحیم میں پھینکنے کی بات دنیا کی ہے۔ حجاز کے لوگوں کو قیصر وکسریٰ فتح کرنے کے بعد دنیا بھر کے باغات اور نہریں دنیا میں ملی ہیں۔ علامہ اقبال نے شکوہ میں لکھ دیا ہے کہ کافروں کیلئے دنیا میں حوروقصور اور مسلمان کیلئے فقط وعدۂ حور؟۔ لیکن عرب نے یورپ اور فارس فتح کرکے سب کچھ پالیا تھا۔

آج دنیا کو اسلامی معیشت کا درست نظام دیا گیا تو پھر سودی معیشت سے چلنے والے اور کرپٹ عناصر کی آل اولاد اپنا پیٹ پالنے کیلئے فیکٹریوںو ملوں میں کام کرکے بھی خوش ہونگے کیونکہ روزگار ملا ہوگا لیکن زمینوں اور باغات میں کام کرنے والوں کی قسمت ہی زیادہ جاگے گی۔ کھانے پینے کیلئے فروٹ اور پرندوں اور جانوروں کا گوشت تک میسر ہوگا۔ تعلیم کے حصول کیساتھ طلبہ کو چوبیس گھنٹے ویٹر کا آسان روزگار بھی میسر ہوگا۔ مہمان فیملیوں کیلئے خیموں کا بہترین بندوبست ہوگا جس میں دنیا بھر سے اچھے کردار والوں کو موقع مل جائیگا، بروں کو اجازت ہوگی، نہ وہ فرصت پائیں گے۔

قرآن میں دنیا کے اندر بھی ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ سورۂ رحمن، سورۂ حدید، سورۂ واقعہ ، سورہ ٔدہر اور بہت سی جگہوں پر اس دنیاوی انقلاب کا ذکر ہے جو آخرت کے حوالے سے ممکن بھی نہیں ہے۔ مشرکین و منافقین اور بدوعرب کے لوگوں میں اس انقلاب کا کیا تصور ہوسکتا تھا جو دنیا میں اسلام نے برپا کیا تھا؟۔

آج پاکستان میں اسلامی احکام پر عمل شروع ہو تو دنیا خیرمقدم کرنے پر مجبورہو گی۔ دنیا بھر کا گند ہمارے اندر ہو، ہرطرح کی نالائقی ہم کریں اور توقعات بڑی بڑی رکھیں تو عذاب کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری اور ہماری قوم کی اصلاح فرمائے۔ قرآن میں انقلاب کی خبریں ڈھونڈ کر ان پرعمل کرکے جیو!۔ بہت زبردست طریقے سے خوشخبری مل جائے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021