پوسٹ تلاش کریں

افغان طالبان کے لیے اسلامی آئین میں خواتین کے حقوق کے لیے چند بنیادی نکات

افغان طالبان کیلئے اسلامی آئین میں حقوق خواتین کے چند بنیادی نکات

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

1:خواتین کا درست شرعی پردہ
ےٰا ایھا النبی قل لازواجک وبنٰتک و نسآء المؤمنین… O
ترجمہ” اے نبی! اپنی بیبیوں،اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکایا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں تکلیف نہ دی جائے۔بیشک اللہ بخشنے والا رحم والا ہے۔(الاحزاب:58، 59)
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمَْ …(سورہ نور:30، 31)
ترجمہ: ”مومنوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں نیچی رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے جو وہ اپنی طرف سے گھڑتے ہیں اور مومنات سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں ۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کسی کے سامنے نہ دکھائیں مگر جو ان میں سے ظاہر ہوجائے۔ اور اپنی چادروں کو اپنے سینوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کو نہیں دکھائیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ کے سامنے یا شوہروں کے باپ کے سامنے یا بیٹوں کے سامنے یا شوہروں کے بیٹوں کے سامنے یا بھائیوں کے سامنے یا بھتیجوں کے سامنے یا بھانجوں کے سامنے یا اپنی عورتوں کے سامنے یا جن کے مالک ان کے معاہدے ہوں یا ان تابع مردوں کے سامنے جن میںرغبت نہ ہو یا ان بچوں کے سامنے جو عورتوں کے پوشیدہ رازوں سے واقف نہیں اور اپنے پیر نہ پٹخیں تاکہ چھپی ہوئی زینت کا پتہ چلے اور اللہ کی طرف سب توبہ کرو اے مومنو! ہوسکتا ہے کامیاب ہوجاؤ”۔
جب طالبان کے روایتی پردے کا تصور اجاگر ہوتا ہے تو ان آیات پر عمل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ اسلئے کہ نظروں کی حفاظت کا ماحول نہیں ہوتا۔
اللہ نے مسلمان عورتوں کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا ہے لیکن کافروں پر زبردستی پردہ کرانے کی بات تو بہت دور کی ہے مسلمانوں پر بھی زبردستی نہیں تھوپی ہے۔ سعودی عرب اور ایران نے جس بات کواسلامی حکم سمجھ کر عمل کرانا شروع کیا تھا تو اس کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ طالبان ان کی تقلید نہیں کریں اور عورتوں کو آزادی اور تحفظ دیں تو ان کی ساری مشکلات ختم ہوجائیں گی۔
عورت کی زینت کو اردو میں ” حسن النسائ” کہتے ہیں۔ عورتوں کی اضافی چیز حسن النساء ہے۔ یہی ان کی زینت ہے۔ عورت اپنے شوہر اور اپنے محرموں کے سامنے دوپٹہ نہ لیں تو قرآن نے اجازت دی ہے۔ مسلمان عورتوں کی اکثریت اسلام کے فطری حکم پر عمل کرتی ہے۔ دوپٹہ لینا بھی خواتین کیلئے مشکل ہے۔ مخلوط معاشرے میں خواتین اہتمام کرتی ہیں۔ خاتون صحابیہ جب وہ گھر سے باہر نکلنے لگیں تو دوپٹہ لے لیا”۔ (بخاری)یعنی اپنے گھر میں دوپٹہ نہ تھا۔
دورنبویۖ میں عورتیںرفع حاجت، لکڑیاں لینے، پانی بھرنے، پنج وقتہ نماز، اقرباء کے ہاں جاتیں۔طواف، حج وعمرہ، مجاہدین کی خدمت کرتی تھیں۔ مدارس ،،دفاتر، کالج ویونیورسٹیوں کا وجود نہ تھا لیکن جس معاشرے کا زمانہ تھا تو مرد کے شانہ بشانہ عورت کی سرگرمیاں تھیں۔ غلام اور لونڈی کا وجود تھا۔ لونڈیوں کا لباس بہت مختصر ہوتا تھا۔ فقہ کی کتابوں میں ان کا فرض ستر بہت کم ہے۔ جب طالبان قرآن وسنت کی طرف دیکھ لیں تو کامیاب نظام بنانے میں دیر نہ لگے۔

2:خواتین کو تحفظ فراہم کرنا
لَّئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھم……
اگر باز نہیں آتے منافقین اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے اور افواہیں اُڑانے والے شہر میں تو ہم تجھے ان پر مسلط کردیں گے، پھر یہ آپ کے پڑوسی نہیں رہیں گے مگر تھوڑی مدت۔ملعون ہیں ،جہاں پائے گئے پکڑے جائیں قتل کئے جائیں بے دریغ قتل ۔یہ اللہ کی سنت رہی ہے پہلے لوگوں میں بھی اور آپ اللہ کی سنت کو بدلا ہوا نہیں پاؤ گے” (سورۂ احزاب ،آیات:61، 62)
اگر طالبان نے یہ تأثر قائم کردیا کہ انکے اقتدار میں جبر کا ماحول نہیں تو دنیا سے سارے افغانی واپس آجائیں گے۔ سورۂ احزاب کی آیات کے مطابق اگر کفار کی خواتین اپنے سینوں پر دوپٹے نہ بھی لیں تو یہ ان کی مرضی ہے اور اگر مسلمان خواتین اس حکم پر عمل نہ کریں تو بھی ان کو مجبور کرنے کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اگر طالبان نے اس آیت کے حکم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کیا تو افغانستان گھٹن کے ماحول سے نکلے گا۔ طالبان کو مشورہ ہے کہ قرآنی آیات کو سمجھ کر اس کو فوراً عملی جامہ پہنائیں۔ خواتین کو لباس کی آزادی ہو تو پھر یہ مرحلہ آئیگا کہ عورت شکایت کرے گی کہ اس کو ستایا گیا تو عورت کو تحفظ دیا جائیگا۔ اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا ہے کہ اگر منافقین عورتوں کے ستانے سے نہیں رُکے اور جن کے دلوں میں مرض ہے وہ نہیں رُکے عورتوں کو ستانے سے اور شہرمیں افواہیں پھیلانے والے باز نہیں آئے تو یہ بہت کم مدت تک آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ یہ ملعون ہیں جہاں بھی پائے جائیں پکڑے جائیں اور ان کو بے دریغ قتل کیا جائے۔ یہ پہلے لوگوں میں بھی اللہ کی سنت رہی ہے اور اللہ کی سنت بدلتی نہیں ہے۔
جب خواتین کو ستانے والوں کو ملعون قرار دیکر قتل کا حکم تھا اور اس پر طالبان افغانستان میں عمل کرکے دکھائیں تو دنیا بھر میں عورت مارچ کرنے والی خواتین طالبان کے نظام کا مطالبہ کریںگی۔ امیر المؤمنین ہیبت اللہ اخونزادہ اعلان کردیں کہ اسلام آباد ، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں 8عورت مارچ منانے والے افغانستان کے کابل، قندھار، جلال آباد اور دوسرے شہروں میں اس دن کے منانے کا اہتمام کریں۔جس طرح شیعہ کے جلوسوں کو ہم نے تحفظ دیا تھا اسی طرح سے عورت مارچ والوں کو بھی تحفظ دیں گے۔
امریکہ و نیٹو کے جانے کے بعد افغانستان کو فتح کرنے کیلئے اپنے بھائیوں کو نیچا دکھانے سے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ البتہ پنجشیر سمیت پورے افغانستان کی تمام لسانی اور مذہبی اکائیوں کو متحد ومتفق ہوکر ایک نظام اور ایک پرچم تلے اکٹھا ہونے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ رسول اللہۖ نے مکہ کو فتح کیا تو جنہوں نے صحابہ کرام کے گھروں پر قبضہ کررکھا تھا ان سے گھر واپس نہیںلئے۔ 3 دن سے زیادہ صحابہ کے مکہ میں رہنے پر پابندی لگائی۔ خانہ کعبہ کی چابیاں اسی کے پاس رہنے دیں جسکے پاس تھیں۔مکے کا ہی ایک مخالف شخص گورنر بنادیا گیا۔ زبردستی سے کسی کیساتھ زیادتی کا تصور ختم کردیا۔ ( ایک عالم ہے ثناء خوان آپ ۖکا)باہمی رضا سے تین دن تک متعہ کی اجازت دی ( صحیح مسلم) ،جس کا تصور بھی مغرب کی افواج نہیں کرسکتی ہیں جنگ کی حالت میں وہ انسانی حقوق اپنے سب سے بدترین اور جاہل دشمنوں کو دیدئیے گئے۔ طالبان قرآن اور نبیۖ کی سیرت پر چلنے کا اعلان کریں تو کامیابی قدم چومے گی۔
جب ایک عورت صبح کی نماز کیلئے نکلی اور اس کے ساتھ کسی نے جبری جنسی تشدد کیا تو نبیۖ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ اس کیلئے گواہ طلب نہ کئے بلکہ عورت کی شکایت پر اس کی داد رسی کرکے نشانِ عبرت بنادیا گیا۔

3:شرعی پردے کا مروجہ غلط تصور
لَّیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَج وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَج وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَج وَّلَا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّہَاتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ…. (سورہ النور61)
ترجمہ: ”کسی نابینا پر حرج نہیں اور نہ دونوں پیر کے لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ہے اور نہ تمہاری اپنی جانوں پر کوئی حرج ہے کہ کھاؤ اپنے گھروں میں یا اپنے باپوں کے گھروں میں یا اپنی ماؤں کے گھروں میںیا اپنے بھائیوں کے گھروں میں یا اپنی بہنوں کے گھروں میں یا اپنے چچوں کے گھروں میں یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں میںیا ماموں کے گھروں میں یا خالاؤں کے گھروں میں یا جن کی چابیوں کے تم مالک ہو۔ یا اپنے دوستوں کے ہاں ، کوئی گناہ نہیں کہ تم اکھٹے کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ پس جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے نفسوں پر سلام کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک پاک استقبالیہ ہے اس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو”۔
ان آیات میں اجنبی افراد میں سے نابینا ، دونوں پاؤں سے لنگڑا اور مریض سے معاملہ شروع کیا گیا ہے اور پھر اپنے گھروں سے لیکر اپنے متعلقین کے تمام رشتوں اقارب اور احباب کے ساتھ کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ دنیا کی ہر قوم کی طرح مسلمانوں کو بھی عزیز و اقارب کے فطری رشتے سے بھرپور طریقے سے تعلقات نبھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ چچا ، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے گھروں میں مشترکہ کھانے کی اجازت سے غلط شرعی پردے کا بھانڈہ پھوٹتا ہے اور جن لوگوں نے تصنع کرکے من گھڑت مسائل بنائے ہیں ان کے غلط تصورات سے مسلمانوں کو کھلے الفاظ میں نجات دلائی گئی ہے۔
طالبان کے علماء ومفتیان کے نزدیک شرعی پردے کاتصور یہ ہے کہ بھائی ، چچا، ماموں اور قریبی اقارب نامحرموں سے اپنی بیگمات کا پردہ کروایا جائے لیکن علماء ومفتیان جانتے ہیں کہ ایک گھر میں کئی کئی بھائی رہتے ہیں۔ ماموں، چچا، ماموں زاد اور چچازاد سے شرعی پردے کا تصور نہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” ہمارے ہاں مروجہ پردہ اشرافیہ کا پردہ ہے، شریعت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ غریب پردہ کرنے کی اور اپنی خواتین کو پردہ کرانے کی اوقات نہیں رکھتا ہے”۔ قرآن میں تابع افراد سے سید مودودی نے مراد نوکر چاکر لئے ہیں۔ بخاری میں ہے کہ دلہن اور دلہا دونوں صحابہ کرام اور نبیۖ کی دعوت میں خدمت کررہے تھے۔ رسول اللہۖ نے چچی فاطمہ بن اسد والدہ محترمہ حضرت علی کی میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا اور فرمایا کہ ” یہ میری ماں ہے”۔ مفتی طارق مسعود کی ویڈیوز میں جہالتوں کو سن کر حیرانگی ہوگی۔
حدیث میں دیور کو موت کہا گیا تو مقصد یہ ہے کہ بھائی ایک گھر میں رہتے ہیں ،اختلاط رہتا ہے اور ان کو احتیاط برتنے کی اسی بنیاد پر تلقین کی گئی لیکن جب بھائی کیا چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے گھر میں مشترکہ کھانے کی اجازت ہے تو پھر پردے کا وہ تصور باقی نہیں رہتا جو مولوی نے سمجھا ہے اور جس پر مولوی عمل نہیں کرتا مگر جب موقع ملتا ہے تو دوسروں پر بھی زبردستی اپنا حکم مسلط کرتا ہے۔

4:نکاح وایگریمنٹ کا تصور
سعودیہ، مصر میں مسیار اور ایران میں متعہ ہے ، قرآن میں اوماملکت ایمانکم (جنکے مالک تمہارے معاہدے ہوں) ۔ مغرب میں یہ فرینڈشپ ہے اور قرآن وسنت میں نکاح و ایگریمنٹ کا الگ الگ تصورہے۔ حنفی مسلک میں قرآن کی خبر واحد آیت کے حکم میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم کتب اللہ علیکم واُحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغواباموالکم محصنین غیرمسٰفحین فمااستمتعتم بہ منھن (الی اجل مسمٰی) ……O
ترجمہ ”اوربیگمات عورتوں میں سے مگر جنکے مالک تمہارے معاہدہ ہوں، اللہ کا لکھاہے تمہارے اُوپر اور انکے علاوہ تمہارے لئے سب حلال ہیں تلاش کرواپنے اموال کے ذریعے نکاح کی قید میں لاکر نہ کہ خرمستیاں کرتے ہوئے۔ پس ان میں سے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ( مقررہ مدت تک) تو ان کو ان کامعاوضہ دو ایک مقررہ۔اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ مقرر کردہ میں باہمی رضا سے کچھ کمی بیشی کرلو اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو تم میں سے (بیوہ وطلاق شدہ) بیگمات سے بھی نکاح کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو پھر تمہاری وہ لڑکیاں جو تمہارے معاہدے والی ہوں( لونڈیاں یا متعہ ومسیار والیاں) ۔اللہ تمہارے اِیمان کو جانتا ہے ، تم میںبعض بعض سے ہیں۔( آدم وحواء اور ابراہیم وحاجرہ کی اولاد ہو)اور ان سے نکاح کرو،انکے اہلخانہ کی اجازت سے اور ان کا معروف اجر دیدو، ان کو نکاح کی قید میں لاکر نہ کہ خرمستیاں نکالنے کیلئے اور نہ چھپی یاری کیلئے اور جب تم انہیں نکاح کی قید میں لاچکے اور پھر وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں توان پر آدھی سزا ہے ،عام شریف عورتوں کی نسبت اور یہ ان کیلئے ہے جو تم میں مشکل میں پڑ نے سے ڈرتے ہوں اور اگر تم صبر کرلو( سزا نہ دو) تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے لئے واضح کرے طریقے ان لوگوں کے جو آپ سے پہلے تھے اوراللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ دے اور جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ دے اور جولوگ اپنی خواہشات کے تابع بنے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بڑے میلان کا شکار ہوجاؤ۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ کم کردے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ”۔ النساء آیات
چوتھے پارہ کے آخر میںمحرمات کی فہرست اور پانچویں پارہ کے شروع میں بیگمات کا ذکر ہے مگر جن سے ایگریمنٹ ہوجائے۔ بیگمات سے کیا مراد ہے؟۔ اس پر صحابہ کے دور سے جمہور اور شخصیات میں اختلاف ہے۔ انگریزی اور اردو میں شادی شدہ پر بیگم کا اطلاق ہوتا ہے اور شوہر کیساتھ تعلق ہو یا بیوہ اور طلاق شدہ بن جائے تو وہ بیگم کہلاتی ہے۔ بیوہ یا طلاق شدہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو اسی شوہر سے منسوب ہوتی ہے۔ قیامت کے دن بھی بیوہ اپنے اسی شوہر کی بیوی ہوگی جس کی وفات کے بعد اس نے کسی اور سے شادی نہ کی ہو۔ یہ قرآن وسنت اور معروف مروجہ قوانین میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ قرآن کا حکم ہے کہ بیوہ کا نکاح کراؤ اور نشان حیدر والے کی بیوہ کے مراعات کا مسئلہ ہوگا تو ترجیح کا اختیار بیوہ کو ہوگا۔ اور ایگریمنٹ اس کیلئے زیادہ مفید ہوگا۔قرآن کی اس رہنمائی سے پاک فوج ، بیروکریٹ اور دنیا بھر کے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
جب نبیۖ کو کسی اور عورت سے قرآن میں نکاح سے منع کیا گیا تو پھر بھی ایگریمنٹ کی اجازت دی گئی۔ حضرت ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی اسلئے اللہ نے فرمایا کہ وہ چچازاد بیٹیاں آپ کیلئے حلال ہیں جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی۔ ام ہانی کیساتھ ایگریمنٹ کی اجازت تھی لیکن ازواج میں غلط شمار کیا گیا۔

5:مرد اور عورت کایکساں حق
دنیا بھر میں بیوہ کو شوہر کی پینشن ملتی ہے لیکن اگر دوسرا نکاح کرلے تو پینشن کے حق سے محروم ہوگی۔ ایسی بیگمات کو محرمات کی قرآنی فہرست کے آخر میں رکھا ہے لیکن ان سے ایگریمنٹ جائز ہے تاکہ یہ بیگمات پینشن سے محروم نہ ہوں۔ اگر عورت کسی شخص کی نسبت سے محروم ہونے پر راضی نہ ہو تو بھی ایگریمنٹ کی اجازت ہے۔ اگر طلاق شدہ بیگم ہو۔جس طرح وزیراعظم عمران خان کی بیگم جمائما خان ہے اور یا بیوہ ہو جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی شیعہ بیگم نصرت بھٹو تھیں۔
لونڈی و غلام پر ماملکت ایمانکمکا اطلاق ہوتا ہے مگر جیسے فانکحوا ماطاب لکم من النساء …..اوماملکت ایمانکم میں ملکت ایمانکم سے غلام مراد نہیں ہوسکتے ہیں، اسی طرح لونڈیوں سے زیادہ ایگریمنٹ والی عورتیں مراد ہوسکتی ہیں۔ اسلئے کہ لونڈیوں کے نکاح کرنے کا حکم ہے۔
والمحصنٰت من النسا ء الاما ملکت ایمانکم میںبھی لونڈی کی جگہ ایگریمنٹ لینا واضح ہے۔ اگر شادی شدہ لونڈی مراد لی جائے تو اختلاف ہوسکتا ہے اور جہاں جنگ میں کوئی لونڈی بن جائے تو شادی شدہ ہونے کے باوجود تعلق جائز ہو گا؟ یہ بھی محل نظر ہے۔ اللہ نے قیامت تک ہر دورکی بہترین رہنمائی کی ہے ۔
اللہ نے انسان کو ضعیف قرار دیا اور سب سے زیادہ انسان جنسی خواہشات کے حوالے سے کمزور ہے۔ حضرت آدم و حواء کو جنسی خواہش سے منع کیا گیا تو اپنی ضعیف فطرت سے مجبور ہوکر بچ نہیں سکے۔صحابہ کرام نے روزوں کی راتوں میں ناجائز سمجھ کر بھی اپنی بیگمات سے جماع کیا اور دن میں روزہ بھی بیگم سے جماع کی وجہ سے توڑا تھا۔ اللہ نے لونڈی یا متعہ والوں سے بہتر بیوہ یا طلاق شدہ کو قرار دیا۔ لیکن اگر متعہ والی یا لونڈی سے نکاح کیا تو اسکو کمتر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے اسلئے کہ انسان خود بھی نطفۂ امشاج ماں باپ کے رلے ملے نطفے سے پیدا ہوا ہے۔تکبر اور پاک بازی کے دعوے اس کو بالکل بھی زیب نہیں دے سکتے ہیں۔
کچھ عورتیں اپنی صنفی کمزوری اور پرکشش جسم کے سبب ہر دور میںمشکل کا شکار رہی ہیں اور معاشی مجبوری اور معاشرتی رویوں سے اپنی پوزیشن کھو بیٹھی ہیں۔ امریکی ہوٹل میں کام کرنے والی خوبرو امریکی دوشیزہ نے ایک پاکستانی کونکاح کے مطالبے پر جواب دیا کہ ”10 ہزارڈالرمہینے کے عوض شادی کرسکتی ہوں”۔ اگر وہ مستقل شادی کی جگہ ایک مقررہ وقت تک ایگریمنٹ کرتی ہے تو اس کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ قرآن نے دونوں صورت میں عورت کا لحاظ رکھا ہے۔ لڑکی لونڈی ہو، متعہ والی ہو،مسیار والی ہو ، گرل فرینڈ ہو اور داشتہ ہو لیکن ترجیحات میں ان عورتوں کو رکھا ہے جو بیوہ وطلاق شدہ ہونے کے باجود بھی عزت کی حفاظت کرنے والی ہو اور کسی کے پاس اتنی طاقت بھی نہ ہو تو پھر ایگریمنٹ والی سے بھی نہ صرف ان کے اہلخانہ کی اجازت سے نکاح کا حکم ہے بلکہ ان کو کم تر سمجھنے کو بھی روکا گیا اور ان سے یہ رویہ بھی روا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی طرح کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں تو پھر عام شریف عورتوں کی بہ نسبت آدھی سزا ہے اوراس میں بھی ایسی لڑکیوں سے در گزر کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔

6:آدھی اور پوری سزا کاتصور
نکاح کے حق مہر اور ایگریمنٹ کے معاوضے میں بہت بنیادی فرق ہے اور ایک مستقل رشتے اور وقتی پلاؤ میں فرق فطرت کا بھی تقاضہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں استمتاع کیساتھ ”ایک مقررہ وقت” کا اضافہ بھی ہے۔ حنفی مسلک کے نزدیک یہ آیت کے حکم میں ہے ۔ ابن مسعود کا کوئی الگ مصحف نہ تھا۔ متعہ کے مقررہ وقت تک ابن مسعودنے تفسیر لکھی ۔ بخاری و مسلم میں ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے نہ صرف متعہ کی اجازت دی بلکہ اس کی یہ علت بھی واضح فرمادی کہ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت (حرام مت کرو ،جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے طیبات میں سے)۔ جس طرح جلالین کی تفسیر میں قرآنی آیات کیساتھ تفسیری نکات سطور میں لکھی گئی ہیں اسی طرح ابن مسعود نے بھی تفسیر لکھی ہے۔
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ” زاد المعاد” میں لکھا ہے کہ” حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے فرمایا کہ آپ خود بھی اسی متعہ ہی کی پیداوار ہیں”۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیۖ پر دوسری خواتین سے نکاح کی ممانعت کردی لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ حضرت ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی اور اس نے نبیۖ کی طرف سے نکاح کی دعوت کو بھی قبول نہیں کیا تھا، فتح مکہ کے بعد اس کا شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے نکاح کی دعوت دی تھی لیکن آپ نے عرض کیا کہ میرے بچے بڑے ہیں اور ان کی وجہ سے مجھے دوسرا نکاح گوارا نہیں ۔ پھر قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ ” اے نبی! ہم نے تیرے لئے ان چچااور خالہ کی بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی تھی اور جن کو تمہارے لئے غنیمت بنایا ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ تم لوگ بھی کافر عورتوں سے چمٹنے کے بجائے ان کو چھوڑ دو۔ مسلم خواتین ہجرت کرکے شوہروں کو چھوڑ رہی تھیں تو اللہ نے حساب برابر کیا۔ قرآن کا صحیح ترجمہ وتفسیر ہو تو مسلمان نہیں کافر بھی مان جائیں۔ علماء ایک ٹیم تشکیل دیں جس کو حکومت کی سطح پر سرپرستی بھی حاصل ہو۔
علامہ بدرالدین عینی کے حوالے سے علامہ غلام رسول سعیدی نے نبیۖ کی 28ازواج اور 27کا نام نقل کیا ہے اور ان میں ام ہانی اورامیر حمزہ کی بیٹی کا بھی ذکر ہے جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ قرآن میں ہجرت نہ کرنے والیوں کیلئے حلال نہ ہونے کی منطق کے بعد جب نبیۖ نے ام ہانی سے ایگریمنٹ کا تعلق رکھا ہوگا تو پھر حضرت علی نے متعہ کی بنیاد پر اس پیشکش کو جائز سمجھا ہوگا۔ اسی طرح ام المؤمنین ام حبیبہ نے صحیح بخاری کے مطابق اپنی سابقہ بیٹیوں کو پیش کردیا تھا جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ ”ان کو مجھ پر پیش نہ کرو ،یہ میرے لئے حلال نہیں ہیں”۔ مولانا سلیم اللہ خان نے بخاری کی اپنی شرح کشف الباری میں بہت سارے علمی انکشافات کئے ہیں اور ان کا حل کئے بغیر طالب علموں اور علماء ومفتیان کو تشویش میںچھوڑنا بہت خطرناک ہوگا۔
شادی شدہ ایگریمنٹ والی کیلئے آدھی سزا ہے اور سورۂ نور میں زانیہ اور زانی کیلئے 100، 100کوڑوں کی سزا ہے۔ سزائے موت آدھی نہیں ہوسکتی ہے لیکن100کے آدھے 50کوڑے ہیں۔ نبیۖ کی ازواج مطہرات کیلئے قرآن میں دوھری سزا کا ذکر ہے جو ڈبل سنگساری نہیں بلکہ 200 کوڑے ہوسکتے ہیں۔ شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کیلئے بدکاری پر ایک ہی سزا ہے اور وہ 100کوڑے ہیں اور اس پر علامہ مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب ” تدوین القرآن” میں بڑے زبردست دلائل دئیے ہیں جو بنوری ٹاؤن کراچی نے بھی شائع کردی ہے۔

7:مرد اور عورت کی یکساں سزا
سُوْرَة اَنْزَلْنَاہَا وَفَرَضْنَاہَا وَاَنْزَلْنَا…… O(سورہ النور: 1، 2، 3)
ترجمہ: ”یہ سورة ہم نے نازل کی ، فرض کی، اس میں کھلی آیات نازل کیں، شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زانیہ اور زانی میںہر ایک کو سوَ سوَ کوڑے مارو۔ اور تمہیں ان پر اللہ کے دین کی وجہ سے نرمی نہیں برتنی چاہیے اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور ان پر مؤمنوں کا ایک گروہ گواہ بھی بن جائے۔ بدکارمرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت کیساتھ یا مشرکہ کیساتھ اور بدکار عورت کا نکاح نہ کرایا جائے مگر بدکار مرد یا مشرک سے۔ اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے”۔
ان آیات میں بدکاری پر عورت اور مرد کی بالکل یکساں سزا رکھی گئی ہے اور معاشرتی بنیاد پر بھی عورت اور مرد کو یکساں طور پر مسترد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مرد جتنے بھی بدکردار ہوں تو ان کو عورت نیک چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس روئیے کو بالکل مسترد کرکے فرمایا ہے کہ یہ مؤمنوں پر حرام کردیا گیا ہے۔ معاشرے میں اتنا عدم توازن ہے کہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ اس کو بدکاری کے شبے پر بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اور مرد بدکاری میں شادی شدہ ہونے کے باوجود مشہور ہو تو بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑا جاتا ہے۔
ان واضح آیات کے باوجود شادی شدہ مرد و عورت کیلئے سنگساری کی سزا کا تصور غلط ہے۔ جس طرح خانہ کعبہ کی طرف رُخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی اسی طرح سورہ النور کی آیات نازل ہونے سے پہلے اہل کتاب کے مطابق توراة میں شادی شدہ کیلئے سنگسار کرنے پر عمل ہوا۔ ایک صحابی سے پوچھا گیا کہ سورہ نور کی آیات کے بعد بھی سنگساری پر عمل ہوا؟۔ تو انہوں نے جواب دیاکہ میرے علم میں نہیں۔ ( صحیح بخاری)
اگر مان لیا جائے کہ الشیخ و الشیخة اذا زنیا فارجموھما ”جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت بدکاری کریں تو ان کو سنگسار کردو”۔ غیر تحریف شدہ توراة کی آیت ہے تو بوڑھے شادی شدہ اور کنوارے زد میں آئیں گے اور جوان کنوارے یا شادی شدہ زد میں نہیں آئیں گے۔ جب اللہ نے واضح کیا ہے کہ توراة میں تحریف ہوئی ہے اور قرآن محفوظ ہے تو قرآن کے مقابلے میں توراة کو اپنے نصاب میں شامل کرنا کتنی غلط بات ہے؟۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو آپۖ کی چارپائی کے نیچے رجم اور رضاعت کبیر کی دس آیات تھیں جو بکری کے کھاجانے سے ضائع ہوگئیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ کہا جائیگا کہ عمر نے قرآن پر اضافہ کیا ہے تو رجم کی آیات اس میں لکھ دیتا۔ یہ کھلا تضاد ہے۔ اگر آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوتیں تو حضرت عمر نے قرآن میں لکھ دینی تھیں۔
طالبان سب سے پہلے ایک عظیم الشان یونیورسٹی کا اعلان کریں جس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کا بالکل واضح تصور ہو۔تضادات کا معاملہ ختم ہوجائے اور متفقہ اور قابلِ عمل آیات اور احادیث دنیا کے سامنے آجائیں۔ فرقہ واریت اور مسلک پرستی کی جگہ قرآن وسنت کی تعلیمات عام ہوں۔دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے ساری عمر ضائع کردی۔

8:غیرت میں قتل کا ممنوع ہونا
وَالّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُہَدَآئَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَةً وَّّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَةً اَبَدًا وَاُولٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ Oاِلَّا الّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر رَّحِیْم Oوَالّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لّہُمْ شُہَدَآئُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَةُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ Oوَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ Oوَیَدْرَاُ عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ Oوَالْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ O
ترجمہ: ” اور جو لوگ بیگمات پر بہتان باندھتے ہیں اور پھر وہ چار گواہ لیکر نہیں آتے تو ان کو اسّی کوڑے لگائیں۔ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کریں۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں۔ مگر جن لوگوں نے اسکے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جو لوگ اپنی ازواج پر بات مارتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہیں مگر وہ خود تو پھر ان میں کسی ایک کی چار گواہیاں ہوں گی کہ بیشک وہ سچا ہے اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے۔اور اس عورت کو سزا نہ ہوگی اگر وہ چار گواہیاں دے کہ خدا کی قسم وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر وہ سچا ہو۔ (النور: 4تا 9)
اکثر و بیشتر اوقات کسی مرد کی عزت پر حملہ کرنے کیلئے اس کی بیگم پر بہتان لگایا جاتا ہے یا عورت کو اپنے شوہر کے سامنے بے وقعت بنانے کیلئے بہتان لگایا جاتا ہے اسلئے بطور خاص دوسروںکی بیگمات پر بہتان لگانے کی سزا اسّی کوڑے ہے۔ جبکہ اپنی بیگم پر بہتان لگانے کی صورت میں عورت کیساتھ مرد کی عزت بھی ٹھکانے لگتی ہے۔ قرآن میں بہتان پر اسّی اور بدکاری پر سَو کوڑے کی سزا کا حکم ہے۔ اگر عورت اپنے شوہر کو جھٹلاتی ہے تو اس سے سز ا اُٹھادی جائے گی۔ یہاں عورت کی گواہی کو مرد کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز قرار دیا گیا ہے۔ ان آیات میں عورت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس پر بہتان لگانے کی بھی بڑی سزا ہے اور غیرت کے نام پر اس کو قتل بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اگر افغان طالبان نے ان آیات پر عمل کیلئے ساری دنیا کو آگاہ کیا تو دنیا بھر کی خواتین ان کا خیر مقدم کریں گی۔ جب برصغیر پاک و ہند پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو تعزیرات ہند میں غیرت کی بنیاد پر شوہر کیلئے بیوی کو قتل کرنا جائز قرار دیا گیا تھا۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے قرآن نے عورتوں پر جو احسانات کئے ہیں اگر ان کو کھلے الفاظ میں دنیا کے سامنے لایا جائے تو یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے رسم و رواج میں قرآنی آیات کی طرف کبھی توجہ دینے کی زحمت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ قرآن کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے فقہی مسالک میں مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ قرآنی آیات پر سیدھے انداز میں عمل کرنے کے بجائے موشگافیوں میں لگ جاتے ہیں۔ پہلی اُمتیں بھی اس لئے گمراہی کا شکار ہوئی تھیں کہ اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں فرقہ واریت اور مسلکوں کے شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ جھگڑ کر صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔
نبیۖ کی زوجہ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگانے کی سزا بھی اسّی کوڑے دی گئی اور ایک عام شخص کی بیگم پر بہتان کی سزا بھی اسّی کوڑے ہے تو اس سے اسلام میں اعلیٰ ترین مساوات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کوڑوں کی سزا غریب وامیر کیلئے یکساں ہے لیکن ہتک عزت میں پیسوں کا فرق یکساں نہیں اور غریب کیلئے دس لاکھ بھی بڑی سزا اور امیر کیلئے دس کروڑ بھی کچھ نہیں ہے۔ علماء نے کبھی قرآن کے مساوات کا نظام اپنا ووٹ حاصل کرنے کیلئے بھی پیش نہ کیا۔

9:اسلام کی بڑی روشن خیالی
سورۂ نور میں چشم دید گواہ ہونے کے باوجود بھی شوہر کو بیوی کے قتل سے روک کر لعان کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا روشن خیالی ہوسکتی ہے کہ جو قرآن ایک غیرتمند شوہر کو اپنی بیوی کی کھلی فحاشی پر بھی غیرت کے نام پر قتل سے روکتا ہے اور دوسری طرف کسی اجنبی خاتون کو بھی جبری جنسی زیادتی نہیں بلکہ محض تنگ کرنے اور اذیت پر بھی جہاں پایا جائے پکڑ کر قتل کیا جائے کا حکم دیتا ہے؟۔
جب علماء افغانستان میں قرآن کی آیات پڑھیں، کتاب کی تعلیم دیں اور ان کا تزکیہ کریں اور حکمت سکھادیں تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائے گا اور دنیا کیلئے اس مثبت انقلاب کو روکنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہوگا۔ عورت کے حقوق پر ایک مختصر کتابچے میں مدلل بات کی ہے جس کو سمندر کی طرح خاموش پذیرائی بھی ملی ہے۔ ابھی تو عام لوگ اس مختصر علمی مواد کو سمجھنے سے قاصر ہیں ورنہ یہ ایک اپنی جگہ پر بڑا انقلاب ہے۔ تصویر کے جواز پر میری کتاب ”جوہری دھماکہ” نے ایک انقلاب برپا کیا تھا۔پہلے ہم نے جاندار کی تصویر کی سخت مخالفت کرکے ایک لہر پیدا کی تھی جس کو طالبان نے عملی جامہ پہنایا تھا۔ لیکن انہوں نے اسامہ بن لادن کو رعایت دی تھی اور یہی بلا ان کیلئے وبال جان بن گئی۔ طالبان نے بھی ہماری طرح جاندار کی تصویر کی مخالفت اور داڑھی منڈانے کے خلاف تشدد کا معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ نماز کیلئے بھی زبردستی کے معاملات بالکل بھی نہیں ہیں۔
افغانستان کا اسلامی آئین بنانے میں قتل کے بدلے قتل، دانت کے بدلے دانت، کان کے بدلے کان، ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور زخموںکا قصاص (بدلہ) بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح ڈکیتوں کو عبرتناک سزائیں دینے سے معاشرے میں سکون قائم ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ” جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ، تو انصاف سے فیصلہ کرو”۔ریاستوں کا بھاری بھرکم بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ طالبان ایسا نظام تشکیل دیں جس میں حکمران آقا اور رعایاعوام غلام نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورتوں اور مردوں کو ناحق ستانے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن عورتوں پر بہتان لگانے کی سزا کا حکم 80 کوڑے بیان کیا ہے۔ جس سے عورت کی عزت کا اسلام میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر بدکاری پر قرآن کے مطابق 100کوڑے اور بہتان پر 80 کوڑے کا حکم معاشرے میں سرِ عام زندہ ہوجائے تو بڑا انقلاب آئے گا۔
قرآن میں لونڈی اور غلام کیلئے بھی ماملکت ایمانکم کے الفاظ استعمال ہوئے اور کاروباری شراکت داروں کیلئے بھی۔ قرآن میں غلام کیلئے عبد اور لونڈی کے امة کا لفظ استعمال ہواہے۔ اللہ نے بیوہ وطلاق شدہ، عبد اور امة کا نکاح کرانے کا حکم دیا ۔ مشرکوں کے مقابلے میں مسلمان لونڈی اور غلام کو ترجیح دینے کا حکم بھی ہے۔ لاتعداد لونڈیوں کے رکھنے کا تصوربھی بالکل غلط تھا۔البتہ جس طرح لونڈیوں سے ایگریمنٹ اور نکاح کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورتوں سے بھی ایگریمنٹ اور نکاح کا تصور تھا اور آزاد عورتوں کا بھی غلاموں سے نکاح اور ایگریمنٹ کا تصور ہوسکتاتھا۔ قرآن کی تفسیر کو غلط مفہوم نہ پہنایا جاتا تو پھر لونڈی کو جبری حرام کاری پر مجبور نہ کرنے کے غلط ترجمے بھی نہ کئے جاتے۔
صدروفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان نے ”کشف الباری”میں جو فقہی مذاہب سے عورت کی بے حرمتی کا بھانڈہ پھوڑا ہے وہ بھی قابل دیدہے۔
لکھا ہے کہ عورت کا نکاح سے پہلے کتنا حصہ دیکھنا چاہیے؟جمہور کے نزدیک صرف ہتھیلی اور چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی کے ہاں شرمگاہ کے سوا پورے جسم کو دیکھنا جائز ہے اور ابن حزم کے نزدیک پورے جسم کو دیکھنا جائز ہے۔ دیکھنے کیلئے عورت سے اجازت کی بھی ضرورت نہیں ۔ (کشف الباری)

10:عورت کے حقوق کا جنازہ
مولانا سلیم اللہ خان نے طالبان پر احسان کرکے لکھ دیا ہے کہ ”کسی امام کے نزدیک بچی، عورت، کنواری، طلاق شدہ اور بیوہ سب پر اپنی مرضی مسلط کرکے ولی اسکا جبری نکاح کراسکتا ہے اور کسی کے نزدیک بچی اور کنواری پر زبردستی مسلط کرنا جائز ہے اور کسی کے نزدیک بالغہ کنواری اور بیوہ وطلاق شدہ پر زبردستی کرنا جائز نہیں، بچی پر زبردستی جائز ہے” (کشف الباری شرح بخاری)
مسلکی کاروبارکی یہ مارکیٹنگ قرآن واحادیث سے متصادم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” کنواری سے پوچھ کر اس کی رضامندی سے اسکا نکاح کیا جائے لیکن زبان سے اس کااقرار خاموشی اور ہنسنا بھی ہے اور بیوہ وطلاق شدہ کا زبان سے اقرار اور اعتراف کے بعد اس کا نکاح کروایا جاسکتا ہے”۔( صحیح بخاری)
نکاح کیلئے قرآن میں نان نفقہ اور عدل وانصاف دینا شوہر کی ذمہ داری ہے اور ایسی صورت میں دودو،تین تین، چار چار عورتوں سے بھی نکاح کرسکتے ہیں مگر جب انصاف فراہم نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک سے نکاح کیا جائے یا پھر جن سے ایگریمنٹ ہو۔ ایگریمنٹ سے مراد لونڈی نہیں اسلئے کہ لونڈی سے نکاح کا حکم ہے اور اسکے بھی نان نفقہ اور انسانی حقوق اسلام نے محفوظ رکھے تھے اور اگرلونڈی یا آزاد عورت سے ایگریمنٹ کیا جائے تو ہی انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوگی بلکہ ایگریمنٹ ہی کے مطابق ایکدوسرے کیساتھ معاملات طے ہوسکتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے طور پر مکمل آزاد اور خود مختار ہوںگے ،البتہ طے شدہ ایگریمنٹ کے پابند ہونگے۔
عثمانی خلیفہ عبدالحمید کی حرم سرا میںساڑھے چار ہزار لونڈیوں کا جواز قرآن وسنت اور اسلام نہیں بلکہ یہ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے کے کرتوت تھے۔محمد شاہ رنگیلا کا ننگی لڑکیوں کی چھاتیاں پکڑ پکڑکر بالاخانے کی سیڑھیاں چڑھنا بھی بہت برا تھا مگر سودی نظام کو جواز بخشنے اور اس پر چپ رہنے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ ایسٹ انڈین کمپنی نے تجارت کے بہانے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا اور اسلامی بینکاری نے ہمارے موٹر وے اور ائیر پورٹوں کو بھاری بھرکم سودی نظام کے تحت قبضہ کرنے کی بنیادیں فراہم کی ہیں۔آج ہماری فوج، پولیس، عدلیہ اور سول بیوروکریسی اپنے ملک وقوم کے ملازم اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں لیکن آنے والے کل کوIMF اور دیگر سودی مالیاتی اداروں کو یہی ملازم بھرپور تحفظ دینے پر مجبور ہوںگے۔ پہلے ہم نے غلامی کا نام آزادی رکھاتھااب پھر آزادی سے غلامی کے نرغے میں چلے جائیںگے۔ اسلئے ہوش کے ناخن لیں۔
طالبان جامعة الرشید کے نالائق مفتی عبدالرحیم اور نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے نرغے کا شکار نہیں بنیں۔ رسول اللہۖ نے سود کو جواز نہیں بخشا بلکہ جب تک مکہ فتح اور آخری خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تو سودی نظام کو برداشت کیا لیکن جونہی معاملات پر دسترس حاصل ہوئی تو سب سے پہلے چچا عباس کے سود کو معاف کرنے کا اعلان فرمادیا۔ دارالعلوم کراچی نے اپنی کتابوں میں شادی بیاہ کے اندر لفافے کے لین دین کو سود قرار دیا اور ساتھ میں حدیث کا بھی حوالہ دیا کہ سود کے ستر سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پھرمعاوضہ لیکر بینکنگ کے سودی نظام کو جواز بخش دیاہے۔ وزیراعظم عمران خان نوجوانوں کو بلاسود قرضہ دینے کی بات کرتا ہے یا پھراسلامی سود کا؟۔مفتی محمد تقی عثمانی کی طرف سے ایک شخص کو جواب دیا گیا کہ ”ہم نے ہندوؤں کے رسم کی مخالفت کی تھی اور لفافے کے لین دین کا معاملہ ہم خود بھی کرتے ہیںلیکن عتیق گیلانی کو یہ نہیں بتایا جائے اسلئے کہ وہ بات کو دوسری طرف لے جائے گا”۔جبکہ ہم طالبان کی عدالت میں بھی ان کیساتھ پیش ہوںگے۔

11:عورت کوخلع اور مالی تحفظ
یا ایھا الذین اٰمنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء ..(النسائ:19)
”اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو اور ان کو اسلئے مت روکو کہ ان سے بعض واپس لو جو تم نے ان کو دیا ہے مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور انکے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو توشایدکسی چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سارا خیر رکھ دے”۔
اس آیت سے ثابت ہے کہ عورت شوہر کو چھوڑ کر جاسکتی ہے اور شوہر کیلئے یہ جائز نہیں کہ اپنا دیا ہوا مال اس کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ دے۔ مگر فحاشی کی صورت میں بعض دی ہوئی چیزوں سے اس کو محروم کیا جاسکتا ہے۔ خلع میں عورت کو غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ جو حدیث سے ثابت ہے۔ اور خلع میں عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ جبکہ طلاق کے بعد عورت دی ہوئی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی مالک ہے۔ چاہے اس کو کافی سارا مال دیا ہو۔ جو آیت 21، 22 النساء میں واضح ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں مقرر کردہ نصف حق مہر اور اپنی وسعت کے مطابق مال فرض ہے۔
عورت کو اپنے بچوں ،حق مہر، جہیز ،مالی حقوق اور خرچے سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو معاشرتی انصاف دیا تھا اسکے مسلم معاشرے میں آثار بھی دوردور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ماں باپ اور شوہر کی جائیداد میں عورت کا جو حصہ ہوتا ہے عورت اس میں بھی محروم کردی جاتی ہے۔
تجارت، تعلیم، روزگار اور معاشرے ہر معاملے میںعورت کو اس کا جائز حق دینا اسلام کا تقاضہ ہے۔کراچی بھر میں برتن دھونے کی مزدوری عورتیں کرتی ہیں مگر جہاں ائیرلائنوں میں برتن دھونے کا زیادہ معاوضہ ملتا ہے تو وہاں مردوں کو لگا دیا جاتا ہے۔ بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ عورتوں کے دھندوں کی بھڑواگیری بھی مرد ہی کرتے ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر نے دوبئی کے ائیرپورٹ کا یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ” لاہور کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے نے سرائیکی لڑکیوں کو دھندے کیلئے لائن میں کھڑا کیا تھا۔ مجھ سے ائیرپورٹ پر پوچھا کہ تم کیا کرنے جارہے ہو؟۔ تو میں نے کہا کہ ان سے کیوں نہیں پوچھتے ہو کہ تمہارا کیا دھندہ ہے”۔
طارق اسماعیل ساگرنے بڑائی کے انداز میں اپنے اس ویلاگ کو سوشل میڈیا میں ڈالا ہے ۔ یہ نہیں سوچا کہ قومی غیرت اس سے اتنی چھلنی نہیں ہوتی ہے کہ مرد سے پوچھ لے کہ کیا کرنے جارہے ہو؟۔ بلکہ لڑکیوں کو دھندے کیلئے لے جانے سے قومی غیرت کا جنازہ نکلتا ہے۔ طارق اسماعیل ساگر میں غیرت ہوتی تو اس بات پر ناراض ہونے کے بجائے کہ کیا کرنے جارہے ہو؟۔ اس بات پر ڈوب مرنے کی بات کرتا کہ میری تو خیر ہے لیکن سامنے جو لڑکیوں کو سپلائی کرنے جارہا ہے اس پر مجھے ایک پاکستانی کی حیثیت سے بہت زیادہ شرمندہ ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے ہاں جمہوریت اور شریعت نام کی ہے۔
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے چہروں سے نقاب اُٹھا دیا ۔امریکیوں کو کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹل حوالہ کرنے کی کہانی چھپے گی تو پردہ نشینوں کے چہروں سے نقاب اُٹھے گا لیکن ہمیں سرِ دست اپنے ملک میں افراتفری کی فضائیں پھیلانے کی جگہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی بات سے اتفاق نہ ہو تو جہاں تک ممکن ہو ، حکمرانوں کیخلاف فضا کو گرمانے کی سیاست سے باز آنا چاہیے۔ جب عورت کو قرآن کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ خلع و طلاق کے بعد کے اسکے مالی حقوق اور بچوں کا تحفظ معاشرے سے نہیں بن پڑتا ہے تو اغیار کی چوہدراہٹ اور اپنے نااہلوں کی مفادپرستی سے ہماری جان اللہ تعالیٰ کیوں چھڑائے گا۔ اپنے نامہ ٔ اعمال کو درست کرنا پڑے گا۔

12:مغرب اور جمہوریت
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ۖ لا یزال اہل الغرب ظاھرین علی الحق حتی تقوم الساعة (صحیح مسلم : 4958)
سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ (کتاب الامارة)
جب معاذبن جبل کو نبیۖ نے یمن کا حاکم بناکر بھیجا تو پوچھا کہ فیصلہ کیسے کروگے؟۔ معاذ نے عرض کیا کہ قرآن سے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ آپ کی سنت سے۔نبیۖ نے فرمایا کہ اگر سنت میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ خود قیاس کروں گا۔ نبیۖ نے فرمایا : شکر ہے کہ اللہ نے رسول کے رسول کو توفیق بخش دی جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔
جب ایک جج کسی کا فیصلہ کرتا ہے اور وہ بات قرآن و حدیث میں نہ ہو تو پھر اپنے قیاس سے اجتہاد کرتا ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا اجتہادقرآن و سنت میں موجود ہے۔ جب کسی قوم ، ملک اور بین الاقوامی قوانین کیلئے قانون سازی کرنی ہو تو جس طرح میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ مدینہ کے یہود اور مشرکین مکہ کے ساتھ مل جل کر ہوا ، اسی طرح کوئی ملک اپنے لئے اندرونی اور بیرونی قانون سازی کرسکتا ہے۔ موجودہ دور میں ویزا ، روڈ کے ٹول ٹیکس، گاڑی کے ٹیکس اور جہازوں کی لینڈنگ کے ٹیکس وغیرہ کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ ہی کے ذریعے سے ہوسکتی ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے شامل ہوں۔
نبی ۖ کو حکم تھا کہ و شاورھم فی الامر ”اور ان سے خاص بات میں مشورہ کیا کریں”۔ صحابہ کی یہ صفت قرآن میں ہے وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان کی خاص بات آپس کے مشورے سے طے ہوتی ہے”۔ اولی الامر سے قرآن میں عوام کیلئے اختلاف کی گنجائش بھی ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا اتبعوا السواد الاعظم ”عظمت والے گروہ کی اتباع کرو”۔ جس سے کئی جماعتوں کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ انصار و قریش اور اہل بیت کے گروہوں کی حیثیت مختلف جماعتوں کی تھی۔ نبی ۖ نے فرمایا ”میری اُمت گمراہی پر کبھی اکھٹی نہ ہوگی”۔ اس حدیث میں اکثریت اور اقلیت دونوں کیلئے اہل حق ہونے کی گنجائش ہے۔ البتہ اگر قوم کیلئے قانون سازی کی بات ہو تو اقلیت کے مقابلے میں اکثریت ہی کا فیصلہ معتبر ہوگا۔ جسطرح حضرت علی کے مقابلے میں حضرت عثمان کے ووٹ زیادہ تھے اور انصاری سردار حضرت سعد بن عبادہ کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کو جمہور اُمت کی تائید حاصل تھی۔ نبی ۖ نے اہل غرب کو اہل حق قرار دیا ہے تو مغرب نے بادشاہوں کے مقابلے میں جمہور عوام کی رائے کو اسلام کی وجہ سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ فقہ کی قانون سازی کیلئے جمہور کا نام مسلمانوں نے دنیا کو متعارف کرایا ہے۔ البتہ قیاس سے مراد استنجے ، غسل، وضو، نکاح و طلاق اور دیگر معاملات کے شرعی احکام گھڑنا نہیں ہے بلکہ حکومتی سطح پر قانون سازی مراد ہے۔
بخاری و مسلم کی روایت میں نبی ۖ نے قریش کی عورتوں کو دنیا کی عورتوں پر اسلئے فضیلت دی ہے کہ وہ اونٹ پر سواریاں کرسکتی ہیں۔ اگر سعودیہ میں عوامی پارلیمنٹ ہوتی تو اس حدیث کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی کہ موجودہ دور میں گاڑیوں کی ڈرائیونگ اونٹوں کے مقابلے میں زیادہ حیاء اور تحفظ کے قابل ہے اسلئے خواتین کو پورے ملک اور دنیا میں ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی جاتی۔ سعودیہ میں اجنبی ڈرائیوروں کے ہاتھوں خواتین کے ماحول کا اتنا ستیاناس ہوا کہ آخر کار مسیار کے نام پر وقتی شادی کی اجازت دینی پڑی۔ اگر اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی صحیح تصویر پیش کی جائے تو پاکستان اور افغانستان میں کیا مغرب میں بھی اسلام کی علمبردار جماعت حیثیت نہ رکھنے کے باوجود اکثریت سے جیتے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Dr. Abdul Razzaq Sikandar and Mufti Mohammad Naeem were my teachers and sometimes they would call me and ask about the situation.Syed Atiqur Rehman Gilani

ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور مفتی محمد نعیم میرے استاذ تھے اور کبھی مجھے خود فون کرکے حال احوال بھی پوچھ لیتے تھے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر میرے استاذ تھے ۔ جامعہ بنوری ٹان میرا مادرعلمیہ ہے۔ مفتی محمد نعیم (mufti naeem)بھی میرے استاذ تھے اور مجھے کبھی خود فون کرکے حال احوال بھی پوچھ لیتے تھے مگرڈاکٹر صاحب واقعی ایک نابغہ تھے۔علم و تقوی،اخلاق وکردار، قابلیت وتحمل اورشرافت واعتدال میں بالکل ممتاز و یکتائے روز گارہستی تھے۔
جامعہ بنوری ٹان میں نماز ِ مغرب کے بعدپڑھائی شروع ہوتی ہے۔جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے لیکن کبھی مغرب میں اچانک حاضری تک لگتی ہے۔ رات گئے تک جامع مسجد نیوٹان کے حال، برآمدے اور صحن میں طلبہ پڑھنے کے پابند ہیں۔ اساتذہ نگرانی کیلئے گھومتے ہیں تاکہ پڑھائی کی جگہ طلبہ گپ شپ نہ لگائیں۔ رات گئے رہائشی بلڈنگ کے تالے کھولے جاتے ہیں ۔ بعض طلبہ دیر تک پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں۔ کچھ طلبہ تہجد کی پابندی کرتے ہیں۔فجر کی نماز باجماعت کیلئے زبردستی سے سب کو مسجدپہنچنا ہوتا ہے۔ دارالاقامہ کے ناظم صبح سے رات بلکہ (24) گھنٹے طلبہ کے شب وروز نگرانی میں رکھتے ہیں۔ نماز فجر کے بعدقرآن کی تلاوت ،پڑھائی، ناشتہ کرسکتے ہیں۔ صبح سے دوپہر تک چار گھنٹے درسگاہوں میں علوم و فنون کی مشکل ترین کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ دوپہر کھانے اور آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے اور پھر نماز ظہر باجماعت کیلئے مسجد میں پہنچنا ہوتا ہے۔
نماز ظہر اورنماز عصر کے درمیان پھر دو گھنٹے درسگاہوں میں پڑھائی ہے۔ عصر کی نماز کے بعد پھر مغرب تک کھانے اور کھیلنے کی چھٹی ہوتی ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد پھر فورا اسباق کی تکرار اور یاد کرنے کا شغل ہوجاتا ہے۔ دن بھر میں جو اسباق پڑھے ہوتے ہیں ان کو دھرانے کیلئے طلبا کی مختلف ٹولیاں بنتی ہیں۔ ہر مشکل کتاب کی تکرار ہوتی ہے۔ کوئی قابل طالب علم درسگاہ میں پڑھے ہوئے سبق کو دھراتا ہے اور پھر باری باری سبھی ساتھیوں سے سبق سنتا ہے۔ کمزور طلبہ سبق سمجھنے نہیں تو رٹنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ مشکل پڑنے پر نگران اساتذہ سے پوچھ لیتے ہیں۔یہ بہترین تعلیمی نظام دنیا کی اچھی یونیورسٹی میں مشکل ہے۔ آئندہ آنے والے سبق کا مطالعہ ضروری ہے تاکہ پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ میں نے جامعہ میںسالوں گزارے۔ مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ افسوسناک ہے۔ عربی مقولہ ہے کہ المر یقیس علی نفسہ ” آدمی جیسا خود ہو، دوسرے پر بھی وہی گمان رکھتا ہے”۔مدارس کا پاکیزہ اور نورانی ماحول دنیا کے گھپ اندھیرے میں بجلی سے روشنی پھیلانے کا بہترین ذریعہ ہے اور دنیا میں قرآن وسنت ، اخلاقیات ،روحانیت اور انسانیت دینی مدارس کے ہی دم سے ہیں۔ جانوروں کے مقابلے میں انسانوں کے جنسی ملاپ میں اخلاقی قدریں بحال رکھنے کا سب سے اہم کردارمدارس ہیں ۔الحمدللہ علی ذلکجب دنیا میں مذہب کا کردار ختم کردیا گیا تو مغربی معاشرے اور جانوروں میں فرق نہیں رہا۔ مدارس نہ ہوتے تو مفتی عزیز اور صابرشاہ کے اسکینڈل کی اہمیت بھی نہ رہتی۔
امریکہ ، یورپ، افریقہ اور دنیا بھر کے (50)ممالک سے زیادہ طلبہ کا صرف جامعہ بنوری ٹان کراچی میں تعلیم کیلئے آمد کس قدر خوش آئند ہے؟۔ طلبہ جب بنوری ٹان کراچی کے باہر اپنی ضروریات کیلئے جائیں توان کی حسین چہروں والی خواتین اور لڑکیوں پر نظریں پڑتی ہیں لیکن اپنی نظریں جھکا کر چلتے ہیں۔ انواع واقسام کے کھانوں کا مرکز سمجھا جانیوالا علاقے میں کاروں، موٹر سائیکلوں اورپبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے فیملیاں بھی آتی ہیں۔ یہ رہائشی علاقہ بھی ہے۔
(60)سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ جامعہ بنوری ٹان کراچی میں مسافر طلبہ کی رونقیں لگتی ہیں لیکن کبھی کسی نے ایک مرتبہ بھی شرارت کی شکایت نہیں کی۔ کیا ان طلبہ اور علما میں نفسانی خواہشات نہیں ؟۔ لیکن ایک پاکیزہ نورانی ماحول میں رہنے کاتقاضہ مختلف ہوتا ہے۔ جب عورت اپنی عزت بچاتی ہے تو یہ فطرت کا حصہ ہے لیکن جب وہ گراوٹ پر اتر آتی ہے توپھر اپنا سب کچھ کھو دیتی ہے۔نبی کریم ۖ کی شرم وحیا کو کنواری لڑکی سے تشبیہ دی جاتی تھی اور نبیۖ کے جانشین بننے والے طلبہ نے بھی اپنے ماحول کی وجہ سے ایک باکردار کنواری لڑکی کی طرح اپنی حیا کو باقی ہی رکھنا ہوتا ہے۔ کسی سے بھی ہم
بقیہ…….. ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر اورجامعہ بنوری ٹان کراچی
اس معاملے میں انصاف کی بھیک نہیں مانگتے۔البتہ انسان کو احتیاط کی بہت سخت ضرورت ہے۔ نفس، شیطان اور ماحول حضرت آدم و حوا کو جنت سے نکلواسکتا ہے تو ہمیں بھی ننگا کرسکتا ہے۔مدرسہ کے ماحول میں استاذیا طالب پنچ وقتہ نماز باجماعت پڑھتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتا ہے۔ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد اللہ تعالی کی حمدو ثنا کے بعد سورہ فاتحہ پڑھتا ہے۔ حلف نامہ کی طرح عہد وپیمان کو دھراتا ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کی دوسری سورہ پڑھتا ہے، پھر رکوع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے۔پھر قومہ میں کھڑے ہوکر اللہ کو یاد کرتا ہے۔ پھر دوسجدے کرنے کے بعد دوبارہ اس عمل کو دھراتا ہے۔ پھر قاعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھتا ہے۔ دو، تین اور چار رکعت فرائض کے علاوہ پنج وقتہ نماز کی سنتوں اور نوافل کی بھی پابندی کرتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس تسلسل سے انسان کتنے اعلی معیار کی بلندیوں پر پہنچتا ہوگا؟۔
مدارس میں علوم کی مشکل کتابیںدرسِ نظامی میں پڑھائی جاتی ہیں اور مقصد یہ نہیں کہ علم کی تکمیل ہوگئی بلکہ درسِ نظامی سے علم حاصل کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ طالب علم عالم اس وقت بننا شروع ہوتا ہے جب وہ پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔تب اس کو وہ علم سمجھ میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔
بعض اساتذہ مذاق اڑاتے کہ ”کہا جاتا ہے کہ میں فارغ التحصیل ہوں۔ حالانکہ اس کو بالکل کچھ نہیں آتا ”۔ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر جامع مسجد نیوٹان میں طلبہ کو عربی پڑھانے آتے اور پھر جامعہ کے استاذ بن گئے اور طالب علم بھی۔ فراغت کے بعد کتنا علم ہوگا؟۔ لیکن پھر مدینہ یونیورسٹی گئے۔ کتنے بڑے عالم بن گئے ؟۔ پھر جامعہ ازہر گئے اور آپ کتنے بڑے عالم بن گئے ہوںگے؟۔
مولانا فضل الرحمن کا بھائی مولانا عطا الرحمن (molana attaur rehman)چوتھے درجے میں فیل ہوا تو جامعہ بنوری ٹان چھوڑ کر گیا، تاکہ نالائق مدارس سے سند مل جائے؟۔ یہ بڑے بڑے شیخ الحدیث، مفتی اعظم، شیخ الاسلام ، فقیہ العصر اور محدث العصرکی ساکھ رکھنے والے خود بھی انتہائی نالائق ہوتے ہیں اور طلبہ کو بھی نالائق ہی بناتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب عربی کے واقعی عالم تھے ۔ مدینہ یونیورسٹی میں چھوٹی داڑھی والے اور جامعہ ازہر میں داڑھی منڈے اساتذہ تھے۔فرماتے تھے کہ ہم نے داڑھی پر مشکلات برداشت کیں۔ بازار میں سبزی فروش پوچھتے تھے کہ یہودی ہو؟۔ ہم جواب دیتے کہ مسلمان ہیں تو وہ کہتے تھے کہ ”پھر داڑھی کیوں رکھی ہے”۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر میں اعتدال و تحمل اسلئے تھا کہ ایک طرف جامعہ ازہر کے شیوخ اساتذہ تھے اور دوسری طرف شیخ بنوریجیسے سخت گیر شخصیت سے واسطہ پڑا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ الا تطغوا فی المیزان ”اعتدال سے تجاوز مت کرو”۔ اعتدال کا میزان و توازن چھوٹی چیز سے لیکر بڑی چیز تک کائنات میں پھیلا ہوا ہے۔ اللہ نے سورہ رحمن میں سورج وچاند، درخت و بیل کی مثال دیکر بتایا کہ درخت کی کٹائی سے فضائی حدود کی آلودگی تک انسانوں کو اعتدال کے میزان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ جنگلات کٹیں گے تو پاکستان قدرت کی عظیم نعمت پانی کی دولت سے بالکل محروم ہوجائیگا۔ہمارے شفقت علی محسودکو وزیرستان کی فکر ہے لیکن بڑے بڑوں نے گدھوں کی طرح تعلیم کی کتابیں لاد رکھی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی شخصیت کابڑا کمال عربی تعلیم اوراعتدال تھا۔ ہمیں اپنی لکھی ہوئی کتاب ”الطریق العصری” پڑھائی تھی۔ یہی وہ بنیاد ہے جس نے قدیم طریقہ تعلیم کے مقابلے میں زبردست جدت پیدا کرکے مجھے دینی احکام کی سمجھ کے قابل بنادیا ۔ شیخ بنوری اللہ والے تھے مگر عالم کیلئے عربی کی لغت کو عرب کی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔علامہ انورشاہ کشمیری سے لیکر شیخ بنوری کے بعد ڈاکٹرعبدالرزاق سکندر سے پہلے جتنے شیخ الحدیث اور تحریک ختم نبوت کے امیر گزرے وہ عربی کماحقہ نہیں سمجھتے تھے ،عربی کارٹا لگایاتھا۔ ختم نبوت کے امیرمرکزی کو ”مرکزیہ” کہنا بھی جہالت ہے۔ امیر کیساتھ صفت مذکر آئیگی اور دارالعلوم کراچی کیساتھ جامعہ کا لفظ لگانا بھی جہالت ہے۔ دارالعلوم مذکر ، جامعہ منث ہے اور دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کا معنی یہ ہے کہ دارالعلوم کراچی کا جامعہ ۔ تف ہے علما ومفتیان کی ایسی جہالتوں پر۔
صحیح بخاری میں نبیۖ کی حدیث ہے کہ ” نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا مگر مبشرات”۔ عرض کیا گیا ”مبشرات ” کیا ہیں؟ فرمایا” صالح خواب ”۔
رسول اللہ ۖ کے بعد نبوت کوئی ایسی چیز نہیں کہ عوام کو اطلاع کی جائے کہ یہ بس سروس بند ہوگئی ۔ اللہ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا اور نبوت کا دروازہ بند کردیا ۔نبوت اعلی مشن ہے ۔ہوائی جہاز کا سلسلہ چلے گا تو نظر بھی آتا رہے گا۔ رسول اللہۖ کے ذریعے اللہ تعالی نے نبوت کی ایسی تکمیل کردی کہ اس پر بحث فضول ہے۔ مزرا قادیانی(ghulam ahmed qadyani) جاہل مولوی نہ ہوتا تو نبوت کا دعوی نہیں کرتا لیکن اگر جاہل نہ تھا تو اس نے فرنگی سازش سے جہاد ختم کرنے کیلئے ہی نبوت کا دعوی کیا ہوگا۔ علامہ اقبال نے اس کو ”مجذوب فرنگی ” قرار دیا تھا۔ قرآن نے لوگوں کو چیلنج کیا ہے کہ کوئی دس یا ایک سور ایسی بناکر دکھا۔ نبیۖ نے ابن صائد کو نبوت کے دعوے پر کوئی گزند تک نہیں پہنچائی تھی۔ نبوت ایسی چیز نہیں کہ کوئی اچک لے اور نبوت کے دعویدار جھوٹے انجام کو خود پہنچ جائیںگے۔ مرزائیوں کو ساری قوت مخالفت سے ملتی ہے،اگر مخالفت نہ ہوتی توقادیانیت بالکل ختم ہوجاتی ۔
بخاری پڑھانے والے جاہل شیخ الحدیث کا جب یہ عقیدہ ہوگا کہ نبوت میں چالیسواں حصہ رہ گیا تو کیا ختم نبوت پر اسکا ایمان ہوگا؟۔ غلام احمد پرویز حدیث کا انکار کرتا۔ شیخ بنوری کے شاگرد مولانا طاہر مکی نے شیخ بنوریسے بخاری کی حدیث پر اشکال پوچھا تو اس کی تھپڑوں سے تواضع کردی ۔ بخاری کی اس حدیث کی کیا کیا شرحیں لکھی گئیں؟۔ غسل کے فرائض سے لیکر ایک ایک معاملے پر اجتہاد کا بھرکس نکالنے والوں نے فقہ واصولِ فقہ کی کتابوں میں جاہلیت کے پھول کھلائے بلکہ بدبودار پوٹیاں کی ہیں۔ شیخ سکندر کا احسان ہے کہ عربی سیکھنے کیلئے زبردست بنیاد فراہم کردی اور طریقہ العصریہ کی طرزپر عربی کی تعلیم سے معلوم ہوگیا کہ خواب کی نبوت کا معنی غیبی خبر ہے۔ بخاری کی حدیث سے یہ مراد لینا کہ نبوت باقی ہے، کفرو گمراہی کا عقیدہ ہے ۔ اس سے بہتر تو حدیث کا انکار تھا لیکن حدیث صحیح ہے اور صالح خواب سے مراد جو شیطان سے محفوظ ہو۔ وحی کا سلسلہ بند ہے،صرف وحی شیطان کی مداخلت سے محفوظ تھی ۔خوابی خبریں جھوٹی ہوسکتی ہیں۔ مرزائی، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی، مولانا فضل الرحمن کی جمعیت اور شیعہ و مذہبی طبقے خواب دیکھیں تو اس پر سو فیصد یقین کرلینا غلط ہے۔ پہلے حدیث کی درست وضاحت سمجھ لیں ،پھر اپنا اعتقاد درست کرلیں اور پھر اپنے خوابوں پر بھی سوفیصد یقین نہ کریں۔ورنہ تو پیر پنجر سرکار کی طرح روزانہ سب شگوفے چھوڑیںگے کہ ”ہوا میں اڑتا جائے، میرا لال دوپٹہ ململ کا”۔
عربی خواب کی نبوت سے غیبی خبر مراد لیتے ہیں۔ جاہل گدھا طبقہ (40) فیصد نبوت کا باقی رہنا مراد لے گا اور اس کی انتہائی غلط تشریح کرے گا تو اسکا ضمیر نہیں کہے گا کہ نبوت کا نعوذباللہ کچھ حصہ باقی ہے؟ جو یہ اعتقاد رکھے تو وہ ہدایت یافتہ ہے یا گمراہ؟ غلط تشریح پر اس امیدپرگزارہ کرنا کہ مہدی آئیگا اور ہمارا عقیدہ ٹھیک کریگا اہل تشیع سے بڑی گمراہی ہے۔ میری یہ دعوت ہرگز نہیں کہ مجھے مان لو!۔ قرآن وسنت کی درست تشریح کی دعوت دینا فرض ہے۔ میں نے خلافت کے قیام کیلئے کہا تھا کہ میں گمراہ نہیں کیونکہ نبیۖ نے خلفا راشدین مہدیین کی پیروی کا حکم دیا ہے اور خلافت راشدہ والے صحابہ کرام مہدی تھے اور آئندہ بھی خلافت راشدہ قائم کرنے والے مہدی ہونگے۔شیخ سکندر نے ہماری رہنمائی فرمائی کہ” قیامِ خلافت سے پہلے امت کی اصلاح کیلئے وہی طریقہ اپنانا ہوگا جو اس امت میں اسلام کی نشا اول کا تھا۔ امام مالک نے فرمایا کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوگی مگر جس چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی”۔ اپنی کتاب ”عورت کے حقوق ” کا آخری جملہ یہ لکھا تھا کہ ”تمام مکاتبِ فکر کی تائیدایک طرف مگر استاذ کی نصیحت سب پر بھاری تھی جس پر آج ہم عمل پیرا ہیں”۔ مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا یوسف لدھیانوی، مولاناخان محمد کندیاں، مفتی ولی حسن ٹونکی ، مفتی احمد الرحمن ، مولانا سلیم اللہ خان، مفتی زر ولی خان ، مولانا محمد امین ہنگو کوہاٹ ، مولانا فتح خان ٹانک، مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی اور قبلہ ایاز وغیرہ کو قریب سے دیکھا۔ مدینہ یونیورسٹی میں (PHD) کی ڈگریاں کرانے والے پاکستانی پروفیسروں سے ملا ہوں ان کوبھی ڈفرپایاتھا ۔ ڈاکٹرعبدالرزاق سکندر نے ہماری بنیاد ٹھیک رکھ دی۔ شیخ بنورینے مدرسے کی بنیاد تقوے پر رکھ دی تھی اور اسلام کی نشا ثانیہ بھی یہیں سے ہوگی۔انشا اللہ العزیز
قرآن سلیس اور واضح عربی زبان میں ہے مگر اس کی طرف مذہبی طبقے بالکل بھی توجہ نہیں دیتے ۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے ” آسان ترجمہ قرآن” اور اس کی مختصر تفسیر میں نہ صر ف روایتی غلطیوں کو دھرایا ہے بلکہ انتہائی جہالت کا مظاہرہ بھی کردیا ہے۔ قرآن کے ترجمے میں لفظی تحریف کا بھی ارتکاب کر ڈالا ہے۔
قرآن کی سورہ بقرہ آیت(231،232)اور سورہ طلاق کی آیت(2)میں ایک جملہ ہے کہبلغن اجلھن ”پس جب طلاق شدہ عورتیں اپنی مدت پوری کرلیں ” لیکن شیخ الاسلام نے فقہی مسائل کی بنیاد پر الفاظ کے ترجمے میں تحریف کر ڈالی ۔ طلاق ریاضی کا نہیںمعاشرتی مسئلہ ہے۔ قرآن میں طلاق کی عدت ہے ۔طلاق کی عدت میںایک مدت چار ماہ،دوسری مدت تین طہرو حیض اور تیسری مدت تین ماہ اور چوتھی مدت حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش ہے۔
جب طلاق کیلئے اللہ نے عدت کی مختلف مدتیں رکھی ہیںتو انسان کا ذہن کھلنا چاہیے تھا کہ عدت معاشرتی مسئلہ ہے ریاضی کا نہیں۔ جب اللہ نے مختلف آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد دونوں صورتوں میں باہمی رضا مندی اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی ہے تو اس سے بھی یہ واضح ہے کہ عدت ریاضی کے حساب کتاب کا نہیں بلکہ معاشرتی مسئلہ ہے۔
قرآن کی تفصیلی آیات کے باوجود اس کو معاشرتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ریاضی کا مسئلہ بنانے والوں نے لکھ دیا کہ ” اگر عورت کو حمل ہو اور آدھے سے کم بچہ باہرآیا ہو تو رجوع ہوسکتا ہے ۔اگر آدھے سے زیادہ بچہ باہر آیا ہو تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔( فقہ وفتوے کی کتابیں) قرآن کا صحیح ترجمہ وتفسیر سمجھ میں آجائے تو فقہا کی لایعنی بکواس مسائل گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو لگیں گے۔
فقہا نے نہ صرف قرآن کو سمجھنے میں غلطی کی بلکہ ریاضی کو بھی غلط پیش کیا ۔ اصولِ فقہ میں ہے کہ ” قرآن میں تین کا عدد خاص ہے۔ طہر میں طلاق مشروع ہے اور جو لمحہ طلاق سے پہلے گزرے تو 3طہر شمار کرنے سے عدد میں کمی آئے گی اور عدد ڈھائی بن جائیگا اسلئے حیض کو شمار کیا جائے تاکہ تین کا عدد مکمل شمار ہو”۔
حالانکہ اس طرح سے تین حیض کے عدد پر بہت سارا اضافہ ہوگا اسلئے کہ تین حیض کے علاوہ وہ پاکی کے ایام بھی انتظار کی عدت میں شامل ہونگے جس کی وجہ سے تین سے معاملہ ساڑھے تین سے بھی او پر چلاجائیگا۔ مولانا بدیع الزمان نے ہمیں اصولِ فقہ اور قرآن کی تفسیر پڑھائی تھی اور مجھے بڑا حوصلہ بھی دیاتھا۔صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ کے مقف کی بات تو بہت دور کی ہے ،حنفی اصولِ فقہ میں صحیح احادیث کو قرآن کے مقابلے میںناقابلِ عمل قرار دینے کی تربیت ملتی ہے۔ اگر خوابوں میں نبوت باقی رہنے کی بات اصولِ فقہ میں پڑھائی جاتی تو احناف اس کو رد کردیتے کہ اللہ کے دین کی تکمیل ہوچکی اور نبوت کے کچھ حصے کا باقی ہونا قرآن کی آیت سے ہی متصادم ہے الیوم اکملت لکم دینکم ” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے”۔پھر مختلف مذاہب میں فرائض کی تشکیل اور ان کے فرائض ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف کو کیا نام دیں گے؟۔
قرآن میں اللہ نے نشے میں نماز کے قریب جانے سے روکا ہے، یہاں تک کہ جو نمازی کہہ رہاہے اس کو وہ سمجھے بھی اور جنابت کی حالت میں بھی مگر جب کوئی مسافر ہو ،یہاں تک کہ غسل کرلے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنابت سے غسل کرنا ضروری ہے۔ عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں۔ اللہ نے نماز سے پہلے وضو کا حکم دیا ہے اور پھر ساتھ میں یہ فرمایا ہے کہ جب تم جنابت میں ہو تو پھر اچھی طرح سے پاکی حاصل کرلو۔ قرآن کی آیات سے معلوم ہوا کہ وضو کرنے کے مقابلے میں نہانا ہی اچھی طرح سے پاکی حاصل کرنا ہے۔ جب حضرت عمر نے اسلام قبول کرنے کیلئے قرآن کے صفحات مانگے توبہن نے کہہ دیا کہ پہلے نہالو۔ نہانا انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔
صحاح ستہ کا پہلا اردو ترجمہ علامہ وحید الزمان نے کیا تھا۔ نبیۖ نے فرمایا بدا الاسلام غریبا فسیعود غریبا فطوبی للغربا ”اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی ۔ یہ پھرعنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا،پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ علامہ وحید الزمان (wahidulzaman)نے اردو کا غریب بنادیا۔ اسلئے اقبال نے جواب شکوہ میں کہا ” نماز پڑھتا ہے تو غریب اور پردہ کرتا ہے تو غریب”۔
مرزا قادیانی نے اپنے خود ساختہ شیطانی الہامات میں پنجابی اور اردو سے عربی بنانے کی کوشش کی تھی۔ محمدی بیگم (muhamdi begam)کے حوالے سے لکھاہے کہ” اگر یہ عورت (اس عاشق نامراد) کو نہیں دی گئی تواس کے گھر پر، دیواروں پر، بیٹھک میں آنے جانے والوں پر آسمان کے نیچے سے لعنتیں برسیں”۔ عربی لغت میں من تحت الارض کی طرح من تخت السما کا لفظ نہیں آتا ۔نزل من السما ہوتاہے مگر نالائق نے اردو یا پنجابی پر قیاس کرکے عربی بنائی تھی۔پشتو میں کہا جاتا ہے کہ زہ ستاپیذار پپخو کم ”میں تمہارے جوتے پہن لوں”۔ پشتو میں کپڑے کیلئے پہننے کا لفظ ہے اور جوتا پہننے کیلئے پاں کے لفظ کی آمیزش ہے۔ پنجاب سے میرا ایک دوست میرے ساتھ کانیگرم وزیرستان گیا تھا تو میرے بھانجے نے اس کی چپل پہننے کی اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ ”میں تمہارے چپل پپاں کروں”۔ کھیرے کاچھلکا ہٹانے کیلئے پشتو میںسفید کرنے کا لفظ ہے۔ بسا اوقات اردو سمجھنے والوں پشتون کی زبان سے بھی ”چند کھیرے سفید کرلو” کے الفاظ بے ساختہ نکل جاتے ہیں۔ ارود میں فلاں شخص فوت ہوا اور انتقال کرگیا۔ عربی میں ریح کیلئے حدث اور احدث کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ جسکا معنی ریح خارج ہونے اور خارج کرنے کے ہیں۔ اردو والوں کو نہیں پکڑا جاسکتا کہ فوت ہوگیا یا انتقال کرگیا۔ عجم فقہا نے نماز کے آخر میں احدث کا لفظ پکڑکر عجیب مسئلہ بنادیا تھا۔ ایک ایک مسئلے پر اسلام کو ایسا اجنبی بنادیا گیا ہے کہ بقول علامہ اقبال (allama iqbal)کے علما و صوفیا کا بہت احترام ہے کہ انکے ذریعے دین ہم تک پہنچا لیکن اللہ ، رسولۖ اور جبریل حیران ہونگے کہ یہ وہی دین ہے جو اسلام کے طور ہمارا تحفہ تھا؟۔
اہل حدیث اور اہل تشیع کا ایک بہت بڑا طبقہ حنفی فقہ کی کتابوں سے مسائل نکال نکال کر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا رہاہے۔ مدارس کے علما ومفتیان کو ان عبارات کا پتہ نہیں ہے اور جو پڑھاتے ہیں وہ سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ افغانستان میں طالبان نے حکومت قائم کی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن تک کو کہنا پڑا تھا کہ” یہ خراسان سے نکلنے والے دجال کا لشکر ہے”۔ جب تک مدارس کے نصاب تعلیم کو درست کرکے نئے خطوط پر نہیں لکھا جائیگا تو ہمارے مدارس خانقاہوں کی طرح تربیت کے مراکز ہوسکتے ہیں لیکن دین کی روشنی ان سے نہیں پھیل سکتی ہے۔
بنوری ٹان کراچی کے فاضل بونیر کے مولانا اسحاق(molana ishaq) نے ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے انتقال پر کہا کہ ”جامعہ میں ڈاکٹر صاحب اور مفتی عبدالمنان ناصر(mufti abdulmanan nasir)) تھے جو شاہ صاحب کی تائید کرتے تھے”۔ تائید والے دوسرے اساتذہ بھی ہونگے مگر ڈاکٹرصاحب نے جامعہ کے لیٹر پیڈ پر تحریری تائید لکھ دی۔ یہ بہادری کی بہت انتہا تھی۔ مولانا فضل الرحمن سے بھائیوں جیسے مراسم تھے لیکن تحریری تائیدنہیں کرسکتے تھے۔ ساتھی ڈاکٹر احمد جمال نے بتایا کہ شیخ سکندر سے متعلق مجھے معلوم نہیں تھا کہ” وہ اتنے بڑی شخصیت تھے۔ مجھے اپنے گھر کی بیٹھک میں عزت سے بٹھایا اور فرمایا کہ میں اخبار پڑھتاہوں۔ اگر انکے صاحبزادے نہ آتے تو تائید ی بیان لکھ کر بھی دیتے”۔بلند اخلاق ڈاکٹر صاحب ہمارے روحانی باپ تھے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Dajjal would appear from the East (Mashriq) and be opposed by a person from the family of Hazrat Imam Hassan (R.A) which I mean is Syed Gilani: Allama Talib Johri

allama talib johri
syed gilani
dajjal
khorasan
general hameed gul
general amjad shoaib

مشرق سے دجال نکلے گا اور اسکے مقابلے میں حسن کی اولاد سے کوئی شخص ہوگا اور اس سے مراد سید گیلانی ہے: علامہ طالب جوہری
مین اسٹریم اور سوشل میڈیانے جس لایعنی بکواس میں لوگوں کو ڈالا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو ہم بڑا نرم ہاتھ رکھ کر شائستہ گفتگو

تحریر: سید عتیق الرحمان گیلانی :
سب کے دل جیت کر ایک پلیٹ فارم پر لاتے لیکن ماحول کی وجہ سے لہجہ سخت کئے بغیر ہماری آواز صدا بصحرا ہوگی!
لوگوں کے کان پک چکے ہیں کہ مریم نواز کا بابا با کردار ہے یا اسکے کالے کرتوتوں سے تاریخ بھری پڑی ہے مگر میڈیا نے مجبوراعوام کو زبردستی اپنی زرخریدوکالت کے ہی قصے سنانے ہیں
اگر خدانخواستہ ایک مرتبہ افراتفری پھیل گئی تو پاکستان کی ریاست، خوشحال اور بد حال لوگوں کی حالت خراب سے خراب تر ہوجائے گی اور اس کا ذمہ دار خوشحال طبقہ ہوگا جو کھیل کھیل رہاہے
پسماندہ غریب لوگوں کو جہاد، سیاست اور مختلف ناموں اور کاموں کی بنیاد پر خرید کر اپنے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ روس کے خلاف جہاد لڑنے والے جرنیلوں، سیاستدانوں، تاجروںاور علما کی اولادیں امریکہ سے مراعات لیکر زندہ وتابندہ ہیں۔ آئی ایس آئی کے چیف اختر عبدالرحمن (isi chief akhtar abdulrehman)کے صاحبزدے افغان جہاد میں پیسہ کمانے کی وجہ سے ہربرسرِ اقتدار کے ساتھ حکومت میں شریک ہوتے ہیں۔ پرویزمشرف، نوازشریف، عمران خان کے بعد اگلی منزل جو بھی حکومت میں آئے اس کے ساتھ اقتدار میں شرکت ہے۔ جنرل ضیا الحق (genral ziaulhaq)نے بہت لوگوں کو جہاد میں جھونک دیا لیکن اسکے اپنے بیٹے سیاسی جماعتوں میں اپنی سیاست کرتے ہیں۔ جنرل حمید گل (genral hameed gul son abdullah gull)کے بیٹے عبداللہ گل کو ہی نہیں اس کی بیٹی تک کو بھی جہاد میں شہید ہونا چاہیے تھا لیکن مجال ہے کہ دوسروں کو جنت کا مختصر ترین راستہ دکھانے والا طبقہ کبھی خود بھی بھولے سے اپنی اولاد کو بھی اس سعادت کا موقع دے۔ اسامہ بن لادن نے زندگی افغانستان میں جہاد کرتے ہوئے گزاردی مگر جب امریکہ پیچھے آیا تو خڑوس کو ایبٹ آباد میں امریکہ نے قتل کیا یا اسے اٹھاکر لے گئے ہیں؟۔ یہ امریکی میڈیا سے صحیح خبر کبھی مل جائے گی۔ایمن الظواہری بھی غائب ہیں لیکن کتنے معصوم غریب لوگ جذبہ جہاد میں لڑمر کے شہادت کی منزل پر پہنچ چکے ہیں؟۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔
سینٹر رضاربانی نے سینٹ میں کہا کہ ”امریکہ کو فضائی اڈے دینے کی مخالفت ہم سن رہے ہیں لیکن اب حال ہی میں ایک کارگو جہاز کابل سے کراچی میں لینڈ کرگیا ہے۔ جب امریکہ ائربیس دئیے گئے تھے تو ہماری ریاست میں کہیں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ وزرات خارجہ، داخلہ، دفاع اور (GHQ)کہیں بھی اسکے قانونی دستاویزات نہیں مل سکے تھے۔ اب تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیکر کام کیا جائے؟۔ اس سے پہلے بھی ہم اسکے نتائج بھگت چکے ہیںاور ہمیں کوئی اعتماد نہیں کہ کیا ہورہاہے؟ اسلئے کہ ہماری اس تاریخ سے عوام اور دنیا واقف ہے”۔ صحافی نے پوچھا کہ عمران خان نے امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلق کا اظہار کیا کہ ہمارے( 150)ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں تو اسکا مطلب کیا لیا جائے؟۔تودفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب (general amjad shuaib)نے کہا کہ ”ہماری خواہش ہے کہ امریکہ ہم سے بات کرلے لیکن امریکہ کو ہماری ضرورت نہیں ہے”۔
ہماری معاشی، دفاعی ، اخلاقی اور انسانی پوزیشن مضبوط ہوتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ مجبوری نے ہمیں جس جگہ کھڑا کیا ہے تو اسکا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کی قیادت بھی آج کہتی ہے کہ پرویزمشرف اورسابقہ ادوار میں بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور اس نازک صورتحال میں ملک وقوم کی خاطر ہر قدم احتیاط سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ (PTM)کا سب سے سخت گیر رہنما علی وزیر بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ملک جن حالات سے گزر رہاہے اس میں سیاسی ،معاشی اور دفاعی اعتبار سے بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے ہم احتساب کی بات کرتے ہیں۔ الطاف حسین بھائی کا بھی چند ہفتے پہلے ایک دردناک بیان آگیا کہ میں نے جس رات غلط بیان دیا تھا اسی رات ایک تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید (dgisi faiz hameed)مجھے معاف کردیں۔
سوشل و الیکٹرانک میڈیاپر اپنا چکر چھوڑ کر وسیع البنیاد کام کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے ضرورت سے زیادہ اثاثے بناکر بیرون ملک میں اپنے خاندان بسائے ہیں وہ فوجی، جج ، سیاستدان، بیوروکریٹ یا جس شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اس مشکل وقت میں پاکستان اپنے بچوں اور اثاثہ جات سمیت آئیں۔ سب کو کھلے عام معافی دی جائے۔ سبھی اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اپنی پاکی بیان کرنے کی تسبیح چھوڑ کر اللہ کی پاکی بیان کریں۔ غلطیوں پر سیاست کرنے سے کامیابی ملتی تو ابلیس کو سب سے بڑا سیاستدان کہا جاسکتا تھا۔ وہ آج کہہ سکتا ہے کہ جب اسلام نے آخری دین کی حیثیت سے آدمی کو سجدے کرنے کی ممانعت کرنی تھی تو میں فرشتوں کا استاذ آج بھی جیتنے کے قابل ہوں اسلئے کہ میں نے سجدہ نہیں کیا۔ آخر کار آخری پیغمبرۖ کے دین نے میرے مقف کی ہی حمایت کی ہے۔ شیطان سب سے بڑا مذہبی مناظر اور سیاستدان ہے۔
سول وملٹری بیوروکریسی میں اچھے اور برے ہرطرح کے لوگ ہوسکتے ہیں ، سیاستدانوں میں بھی اچھے برے لوگ ہوسکتے ہیں اور ہرطبقے میں ہی اچھے اور برے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہوسکتی ہے۔ شیطان روتا تھا کہ اللہ نے کسی کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کرنا ہے اور کوئی اس بغض میں اندھا ہوکر راندہ بارگاہ الہی بھی ہوسکتا ہے۔ آدم پر فرشتوں نے اعترا ض کیا تھا لیکن جب وقت آیا تو فرشتوں نے سجدہ کیا اور شیطان راندہ بارگاہ ہوگیا۔سب سے زیادہ مذہبی طبقہ قرآن وسنت کے نظام کی رٹ لگاتا تھا لیکن ایسا نہ ہو کہ شیطان کی طرح سب سے پہلے کافر بھی یہ بن جائیں اور مولانا عبیداللہ سندھی (molana ubaidullah sindhi)نے لکھا ” جو علما دیوبند اپنے استاذ مولانا محمود الحسن شیخ الہند کی بات مان کر قرآن کی طرف متوجہ ہونے سے اسلئے انکار کررہے ہیں امام مہدی کا ظہور ہوگا تو ہمارا نصاب درست ہوگا لیکن جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو تم مخالفین کی صفوں میں کھڑے ہوگے”۔
ہماری خانقاہ میں ایک شخص نے اپنا مشاہدہ بتایا تھا کہ ” شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت کو ایک تاج دیا تھا اور مولانا الیاس نے وہ تاج ہمارے مرشد حاجی عثمان کے سر پر رکھاتھا”۔ دیوبندی علما کے اصل وارث حضرت مفتی محمد حسام اللہ شریفی سے لیکر ٹانک کے اکابر علما تک سب ہمارے ساتھ تھے۔ جب سردار امان الدین شہید (sardar amanuddin)نے ہمارے جلسے میں تبلیغی جماعت کی مخالفت کی تھی تو میں نے تبلیغی جماعت میں جانیکی انکو دعوت دی تھی۔ وزیرستان میں مولانا نور محمد شہیداور مولانا اکرم اعوان کیساتھ سردار امان الدین شہید نے مجھے بھی جلسہ عام میں بلوایا تھا مگر اسوقت وزیرستان میں بغیرماں باپ والے طالبان نہیں تھے۔ تصویر کی مخالفت کا مولوی طبقہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔مجھے جب علما کی وجہ سے مذہبی مسئلہ سمجھ کر تصاویر کی مخالفت کرنی پڑرہی تھی تووزیرستان کے اس جلسے میں بھی اپنی ویڈیو نہیں بننے دی اور ڈاکٹر اسرار احمد (doctor israr)کے ہاں بھی جب پہلی مرتبہ کانفرنس میں شرکت کی تو ڈاکٹراسرار احمد نے اعلان کیا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی کوئی تصویر نہیں اتاریں۔ مولانا راحت گل نے پشاور یونیورسٹی کے پاس راحت آباد میں میری وجہ سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، مولانا اکرم اعوان، ڈاکٹر اسرا راحمد، صوفی محمد، مولانا سمیع الحق اور ایک شخصیت کا نام بھول رہا ہوں اور مجھے بلایا لیکن سب نے اپنے نائبوں کی فوج ظفر موج کو بھیج دیا اور خود شرکت کرنے سے گریز کیا۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور مولانا گوہرالرحمن تھے، صوفی محمد کے نائب امیر مولانا محمد عالم تھے، جمعیت علما اسلام ف اور س ، ڈاکٹر اسرار اور مولانا اکرم اعوان کے صوبائی رہنما تھے۔ اگر اس وقت تمام مذہبی لیڈرشپ جمع ہوکر اپنی اور امت کی اصلاح کرنے پر آمادہ ہوتی تو پاکستان میں مذہب کے نام پر تباہ کاریوں کا کوئی سلسلہ نہ ہوتا مگر ہماری مشکل یہ ہے کہ اخبارات میں میری تصویر اور میرا بیان بہت بڑا لگ گیا لیکن میری ایک بات بھی نہیں دی اور اپنی طرف سے بیان گھڑ کر میری طرف منسوب کردیا۔ اختر خان نے تحریک انصاف کو ریاست کا گماشتہ قرار دیا ہے لیکن باری باری یہ سب اپنی ضرورت کے وقت کتیوں کی طرح آوارہ کتوں کے ریوڑ کے آگے لگ جاتی ہیں۔
مجھے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ایک شیعہ نے میرے حسنِ سلوک کی وجہ سے کہاتھا کہ میں سنی بننا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیںہے جو اختلافات فقہ جعفریہ کیساتھ ہماری فقہ کے ہیں وہ ہماری اپنی فقہ مسالک میں بھی ایکدوسرے کیساتھ ہیں۔ صحابہ کرام کے خلاف برا بھلا کہنے سے گریز کریں ، باقی اپنے گھر میں اپنے لئے مسئلہ نہ بنائیں۔پھر مجھے جیل کے اندر بھی جیل کی چکیوں میں اس وجہ سے جانا پڑگیا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے اسٹوڈنٹ سے میں نے کہا تھاکہ پختون کہتے ہیں کہ ”پختون کا قانون ، خون کا بدلہ خون” لیکن آپ اسلام کے نام پرگروہ بندی کرکے کالجوں و یونیورسٹیوں میں کیوں لڑتے ہیں؟۔ اس نے مجھ پر الزام لگادیا کہ ”میں نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور جیل سپر ڈنٹ سے بھی چغلی لگائی”۔ میں نے اپنی تحریر میں ثبوت لکھ دیا تھا اور اس نے اس کو ہی نبوت بنادیا تھا۔ میری وضاحت کے باوجود اس نے میرے خلاف سازش تیار کی اور جب جیل سپرڈنٹ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایاکہ مہدی کے معنی یہ ہیں کہ جو گمراہ نہ ہو اور کوئی بھی خود کو گمراہ نہیں سمجھتا ہے لیکن میری حمایت کرنے والا جیل کا مولوی بہت مشکل میں نظر آرہا تھا۔ مجھے اس کی اپنے سے زیادہ فکر تھی۔ مجھے ریمانڈ لکھ کر ڈاکٹر جہانزیب گنڈہ پور کے پاس بھیج دیا۔ جب ڈاکٹر نے میری بات سن لی تو ریمانڈ( OK)کرنے کے بجائے یہ لکھ دیا کہ ” اسکے مخالفین کو جیل میں بند کرکے سزا دینی چاہیے”۔ وہ (40FCR)کا دور تھا۔ کسی عدالت میں جر م چیلنج نہیں ہوسکتا تھا۔ مجھے چکی میں بھیج دیا گیا تو ایک اہل تشیع حنیف ماما پاڑہ چنار نے بحث شروع کردی اور مجھے اس کو جاہل سمجھ کر بحث میں الجھنا فضول لگتا تھا اور اس سے کہا کہ ہمارا اپنا عقیدہ ہے ۔ ہم خلفا راشدین اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی مہدی سمجھتے ہیں۔ تمہارا مہدی غائب کا اپنا عقیدہ ہے لیکن جب وہ باز نہیں آرہا تھاتو میں نے کہہ دیا کہ میرے پاس علم نہیں ۔ اس نے کہاکہ پھر تو آپ جاہل ہو؟۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات مان لی میں جاہل ہوں۔ قرآن کہتاہے کہ جاہل مخاطب ہو تو اس کو سلام کرکے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ آپ بڑے جاہل نہیں کہ ایک جاہل سے بحث بازی کے مرتکب ہورہے ہیں؟۔ پھر بعد میں اسکے بہت اچھے رویے کی وجہ سے اچھی دوستی ہوگئی۔ اس نے کہا کہ آپ مہدی کی بات ہمارے لئے چھوڑ دیں تاکہ امت کو متحد کیا جاسکے اور میں نے اس کی بات مان کر تحریری بیان لکھ دیا۔ پھر جیل سے رہائی ملی تو اپنا مشن خلافت کے قیام کیلئے راستہ ہموار کرنے کا مشن جاری رکھا۔ علامہ طالب جوہری(allama talib johri) سے ملاقات ہوئی تو اس نے ذاکرین کو بھڑکانے کیلئے کہا کہ آپ مہدی موعود سے مل رہے ہو۔ میں نے کہا کہ آپ نے لکھاہے کہ ”مشرق سے دجال نکلے گا اور اسکے مقابلے میں حسن کی اولاد سے کوئی شخص ہوگا اور اس سے مراد سید گیلانی ہے۔ علامہ نے میری بات سن لی تو اسکی سٹی گم ہوگئی ۔ میں نے مناسب نہیں سمجھا اور مشکل سوالات کھڑے نہیںکئے جس سے علامہ صاحب گھبرا گئے تھے اور پھر اس نے مجھے ملاعمر کی تائید کا کہا مگر میں نے اپنے فکری اختلاف کی وجہ سے ایک چڑھتے سورج کی پوجا کو منافقت سے تعبیر کیا۔ اسلام شخصیات سے بالاتر عقیدہ توحید کی دعوت دیتا ہے لیکن مسلمان آج مسلک پرستی کا شکارہیں۔ نظام عدل کا قیام صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسانوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01-syed atiq ur rehman gillani_nawaz sharif zarbehaq.com_maryam nawaz zarbehaq.com(1)CADV_talib johri _mulla umer_mehdi )

On the Questionnaire of Raqibullah Mehsud, A detailed response submitted by Syed Atiq-Ur-Rehman Gilani that Zakat is the only solution of Economic Revival.

Raqibullah Mehsud
Shafqat Ali Mahsud
mehsud tribe
zakat committee
mufti taqi usmani
usman kakar
mehrab gul afghan

سوشل میڈیا میں ایک بے باک ابھرتا ہوا بگ سٹار رقیب اللہ محسود کا سوالنامہ: پیر صاحب سے سوالات

موجودہ دور میں علما نے دین اسلام کو صرف نماز ، داڑھی، کرتہ، پاجامہ ، خواتین کے پردے اور علما کی قدر تک کیوں محدود کردیا ہے؟۔ قرآن میں کافی جگہ نماز کیساتھ زکو کا حکم ہے لیکن پورے سال میں آپ کسی مولوی سے اس کا ذکر نہیں سنو گے۔ سوائے اس وقت جب اس کو اپنے مدرسے کیلئے ضرورت ہو۔
اگر بیس فیصد لوگوں نے زکو دینی شروع کردی تو معاشرہ خوشحال اور فلاحی بن جائیگا۔ چوریاں ختم ہوجائیں گی، پیسوں کی فراوانی ہوگی، لوگ حرام خوری چھوڑ دیں گے۔ ہمیں آئی ایم ایف(IMF) سے سود پر قرضہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
علما کی قدر کا اب یہ اثر ہوگیا ہے کہ کوئی مولوی چاہے کتنا غلط کام کیوں نہ کرے اسکے خلاف بات کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جاتا۔ کیا ہم اس طرف نہیں بڑھ رہے جس طرح سندھ اور پنجاب(SINDH PUNJAB) میں لوگ پیروں کے پاں پکڑتے ہیں، قبروں کو سجدے کرتے ہیں، شرک کرتے ہیں۔ پشتون علاقوں میں علما کو سب سے زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج تک کسی نے دین کی وجہ سے ان کی بے قدری نہیں کی۔ پھر بھی بار بار ہر جگہ یہ دعوت کیوں چلائی جارہی ہے؟۔
ان تمام سوالات کے جواب پیر صاب کو تفصیل سے دینا چاہیے۔ کیا ہم انگریزی اسلام اور دجال کے پیروکاروں کے نرغے میں آگئے ہیں؟ ۔ علما حق کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دین اللہ کیلئے ہوجائے؟۔
ا لجواب اور وہ بھی تفصیل سے؟۔ یہ توایک کتاب کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے …
ان سولات میںگہری فکر ہے اور اس فکر کا مقصد اس ماحول کو تبدیل کرنا ہے کہ ہم نے اسلام جیسے عالمگیر دین کو جو تمام زمان ومکان پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کیوں چند مخصوص معاملات تک محدود کردیا ہے؟۔
علامہ اقبال نے شیطان کی خواہش کا اپنے اشعار میں ذکر کیا ہے کہ
افغانیوں کی غیرتِ قومی کا ہے یہ علاج کہ ملا کو اس کے کوہ ودمن سے نکال دو
علامہ نے ابلیس کی مجلس شوری اور دیگر عنوانات سے شیطان کی خواہشوں کا ذکر کیا ہے۔ اس شعر کامطلب کم پڑھے لکھے قارئین کیلئے واضح کرتا ہوں کہ شیطان کی یہ خواہش ہے کہ اگر پشتون کو قومی غیرت سے محروم کردینا ہے جو شیطان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو علما کو انکے پہاڑی اور میدانی علاقوں سے نکال دو۔ کسی بھی قوم کی کوئی خاصیت ہوتی ہے۔ پشتونوں کا مشترکہ اثاثہ اس کی ملی غیرت ہے۔ اگر غیرت چھن جائے تو پھر وہ پشتون بالکل بھی نہیں رہتا ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا کہ ”اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ آپ ان سے کہدو کہ تم لوگ ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں ،اسلئے کہ ابھی تک ان لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے”۔ (القرآن) کسی جگہ فرمایا کہ ”اسلام میں پورے پورے داخل ہوجا”۔ (القرآن)کسی جگہ فرمایا کہ” اے ایمان والو! ایمان لا” ۔(القرآن)۔ پشتون کی حیثیت سے رقیب اللہ نے جو دعوت دی، وہ فطرت کا تقاضہ اور قرآن میں موجود ہے۔
علامہ اقبال نے ”محراب گل افغان ”(MEHRAB GUL AFGHAN)کے تخیلاتی نام سے بڑا عمدہ تخیل پیش کیا ۔
افغان باقی کہسار باقی تو ہر بیماری کا علاج اے غافل افغان تو اپنی خودی پہچان
تیری بے علمی نے رکھی بے علموں کی لاج عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
فطرت کے مقاصد کرتا ہے نگہبانی
اب نام رہ گیا ہے وزیری ومحسود
تیری دعا ہے کہ یہ دنیا بدل جائے
یابندہ صحرائی یا مرد کہستانی
یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری
میری دعا ہے کہ تو بدل جائے
اگر تیرے اندر انقلاب ہو پیدا
توعجب نہیں کہ چار سو بدل جائے
مولانا یوسف لدھیانوی شہید نے ایک روایت نقل کی ہے کہ پہلے دور میں قرآن کے معانی کی طرف زیادہ توجہ دی جائے گی اور الفاظ کی طرف کم ۔ آخری ادوار میں الفاظ کی زیادہ نگہداشت ہوگی اور معانی کی طرف کم توجہ دی جائے گی”۔ میں نے علامہ اقبال(ALLAMA IQBAL) کے اشعار کے الفاظ نہیں اسکے معانی سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور جناب رقیب اللہ نے اپنے مضمون میں خول اورروح کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سوالات کے جوابات اپنی تشریح میں دیدئیے ہیں۔ اس صحرائے نورد نے خشک صحرا کو رشک گلشن بنانے کیلئے جس پیاس کا ذکر کیا ہے تو دریائے سندھ سمیت اگر پنجاب کے پنجند بھی صحرائے تھل اور صحرائے بہالپور پر لگائے جائیں تو پانی ختم ہوجائیگا ان صحراں کی پیاس نہیں بجھے گی اسلئے تو سندھی کالاباغ ڈیم بننے نہیں دیتے ہیں۔ رحمن بابا(REHMAN BABA) کہتا ہے کہ ”اللہ کاولی بھی پانی چوری کرتا ہے”۔
اسلام ظاہر ی ڈھانچہ اور ایمان دل کا عقیدہ اور کیفیت ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”ایمان کے بہت شعبے ہیں اور حیا ایمان کا خاص شعبہ ہے”۔ اور یہ فرمایا کہ ”جب تجھ سے حیا چلی جائے تو پھر جو چاہو ، کرو”۔ جس طرح مسلمانوں کیلئے اسلام ڈھانچہ ہے اور روح ایمان ہے۔ ایمان کا خاص نچوڑ حیا ہے۔ اسی طرح پشتون قوم کا ایک ظاہری ڈھانچہ اور ایک باطنی روح ہے۔ باطنی روح کا خاص نچوڑ غیرت ہے۔ علامہ اقبال نے کہا کہ اگر پشتون کو اس کی ملی غیرت سے محروم کرنا ہے تو پھر علما کو ان کے پہاڑی و میدانی علاقوں سے باہر کرنا ہوگا۔ شیطان کا سب سے بڑا ہدف علما کو ٹارگٹ کرنا ہے۔
آپ نے سندھ و پنجاب میں قبرپرستی اور پیروں کے نام پر خرافات کی مثال دی ہے تو اگر پشتون علما کا کردار نہ ہوتا تو سندھ وپنجاب اور پشتونخواہ میں فرق کیوں ہوتا؟ حالانکہ وہ بھی مسلمان اور ہم بھی مسلمان ۔ علامہ اقبال کی بات کوئی قرآن اور حدیث نہیں لیکن بعض اوقات اچھے شعرا کا کلام الہامی ہوتا ہے۔ پاکستان کو کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ کے نام پر بنایا گیا تھا مگر پاک فوج اور سول بیوروکریسی سے لیکر سیاستدانوں، علما ومشائخ اور مجاہدین تک سب کے سب افغانستان(AFGHANISTAN) کیخلاف امریکہ کی مدد کیلئے کیسے کھڑے ہوگئے؟۔ ملاعمر اور طالبان پشتون قوم سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے امریکہ اور نیٹو کی افواج کے آگے سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا۔ یہ پشتون ملا عمر(MULLA UMER) اور اس کی صفوں میں کھڑے ہونے والے علما کا کمال تھا کہ پوری دنیا بھی مقابلہ کرنے آئی مگر انہوں نے اپنی حکومت، وطن ، جانوں ، عزتوں اور سب کچھ کی قربانی دیدی۔ علامہ اقبال کی بات درست ثابت ہوئی۔ اگر ہوتک قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا عمر نے اسامہ کو حوالے نہ کیا اور سید پرویز مشرف نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی(DOCTOR AFIA SIDDIQUE) کو حوالے کیا۔تو اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہے؟۔
جناب رقیب اللہ محسود ! (RAQEEBULLAH)آپ کی تحریر سے اسلام کی ظاہرمیں بڑی شان اورباطن میں ایمان کی وہ خوشبو آرہی ہے جو ایک پشتون کی گردن اور شہ رگ میں اسلام و ایمان کا رشتہ ہوتا ہے۔ آپ کو بیس فیصد زکو (ZAKAT)پر جتنے زیادہ نفع بخش نتائج دکھائی دیتے ہیں یہ بڑا قابلِ رشک ہے۔ یہی جذبہ امریکہ کیخلاف جہاد کا جذبہ رکھنے والے مجاہدین میں تھا۔کسی کو یقین نہ تھا کہ ایک دن امریکہ کو ناکام ہوکر نکلنا ہوگا لیکن علما کے کہنے پر ڈٹ جانے والے مجاہد اور طالبان نے ناممکن کو ممکن بنادیا۔ آپ جیسے جواں نسل میں زکو اور اس کی تبلیغ کی سوچ پیدا ہوجائے تو جس طرح امریکہ کو جہاد کے میدان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو معاشی میدان میں بھی مسلمانوں کی زکو کے نظام سے سرخروئی بدرجہ اولی ہوسکتی ہے۔
علما بھی اسی ماحول کے بندے ہیں۔صدیوں سے جو روایت چلتی ہے لوگ اس ماحول کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتے ۔ امریکہ افغانستان نہ آتا تو جہاد کے ثمرات کا بھی دنیا کو پتہ نہ چلتا۔ کشمیر کے نام سے جو مجاہدین مولانا مسعود اظہر (MOLANA MASAOOD AZHAR)وغیرہ کام کر رہے تھے تو انہوں نے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ امریکہ کی آمد نے ایک فرض سے علاقہ کے لوگوں کو روشناس کرایا۔ مقتدر طبقات نے امریکہ سے پیسہ لیکر اس کی حمایت کی۔ طالبان نے ایمان کی مدد سے امریکہ کا مقابلہ کیا ۔ اب پھر مقتدر طبقات نے اپنے اللے تللے کیلئے بھاری بھرکم سودی قرضے لئے اور مسلمانوں کوزکو کی طرف کو متوجہ کیا جارہاہے۔ اگر امیر لوگ اپنے علاقے کے غریبوں کو زکو دیں گے تو بہت ساری مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے اور پھر یہ ایک تحریک کی شکل میں قو م کے اندر نئی روح ڈال سکتا ہے۔ وزیرقوم نے واوا کے نام سے کتنا بڑازبردست نظام تشکیل دیا ہے؟۔ اس سے پہلے کبھی وزیر یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر محسود قوم کی طرف سے بھی ماوا کے نام سے چلتی کا نام گاڑی شروع ہوا۔ یہ مردہ قوموں میں زندگی کی روح ڈالنے کی ہوائیں ہیں جو ابھی چل پڑی ہیں۔
طالبان کیخلاف امریکہ نہ آتا تو وہ کنویں کے مینڈک رہتے۔ تصاویر پر پابندی ہوتی اور القاعدہ والے اپنی شادیوں کی بھی ویڈیوز بناتے۔ اب افغان طالبان نے بھی دنیا دیکھ لی ہے اور امارت اسلامی افغانستان کے نام سے پہلے کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں حکومت اور اسلام کے احکامات کی طرف توجہ کریں گے۔ افغان ایک طرف اشرف غنی کی حکومت کیساتھ کھڑے ہیں اور دوسری طرف طالبان کیساتھ کھڑے ہیں۔ ان میں اختلاف کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں اور مکالمے کی شکل میں دونوں طرف کے اہداف کی اچھی توجیہات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ جب طالبان امریکہ کی وجہ سے روپوش تھے تو افغان عوام کا حق تھا کہ مقامی حکومت تشکیل دیتے۔ طالبان نے زبردستی سے حکومت پر قبضہ کیا تھا تو جب ان کو امریکہ اور نیٹو نے زبردستی سے ہٹنے پر مجبور کردیا تو افغان عوام نے اس موقع سے فائدہ اٹھانا غنیمت سمجھا تھا۔ اگر طالبان کی حکومت منتخب حکومت ہوتی تو پھر طالبان کو گلہ شکوہ کرنے کا حق بھی پہنچتا تھا۔ جس اسلام کو طالبان نے افغان عوام پر مسلط کیا تھا اس اسلام کے اب طالبان خود بھی حامی نہیں رہے ہیں بلکہ بہت ہی زیادہ بدل چکے ہیں۔جب قابض امریکہ سے مذاکرات ہوسکتے تھے تو افغان حکومت سے بھی افہام وتفہیم کیساتھ معاملات حل کرنے میںکوئی شریعت حائل نہیں ہوسکتی ہے۔اصل مسئلہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اسلام کی تشریح کا ہے۔ افغان طالبان چند مخصوص چیزوں کو اسلام سمجھتے ہیں جبکہ افغان عوام زبردستی کے اسلامی نظام سے متفق نہیں۔ اشرف غنی کی مختصر داڑھی ان طالبان کوکیسے قبول ہوسکتی ہے جو زبردستی داڑھیاں رکھواتے تھے؟۔ جن کو اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ قابلِ قبول ہیں اور ڈاکٹر نجیب کو آئیڈل سمجھتے ہیں وہ زبردستی داڑھی رکھوانے والوں کو کیسے حکومت سپرد کرسکتے ہیں؟۔ سعودیہ، عرب امارات اور پاکستان طالبان کے حامی تھے لیکن تینوں ممالک اپنے ہاں ملا کو ایسا رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے جو طالبان نے اپنی رعایا عوام کیساتھ اپنا یاہوا تھا۔طالبان سمجھتے ہیں کہ حکومت ہم سے چھین لی گئی تھی ،غیر ملکی افواج سے مدد لیکر ہمارا قلع قمع کیا، نیٹو افواج سے زیادہ انہوں نے انتقام کا نشانہ بنایا۔ اب جبکہ انکے سرپرست نیٹو نے ان کو چھوڑ اتو حکومت چھین لینا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غیر ملکی اقوام نے ہم پر جارحیت کی تو انہوں نے ہماری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ بچے اور خواتین بھی شہید کردئیے۔ جب ہم نیٹو کی افواج سے لڑسکتے تھے تو ہمارے لئے ان کی کیا حیثیت ہے؟۔ یہ اپنے غیرملکی آقاں کیلئے اقتدار میں آئے اور ہمارا اپنا ایک مشن، عقیدہ اور نظریہ ہے۔ افغان عوام ہی کی مدد سے ہم نے نیٹو کو بھی شکست سے دوچار کردیا ۔ عوام کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ زیادہ تر علاقے ہمارے پاس ہیں اور حکومت کرنے کا حق بھی ہمارا ہے ۔ افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی تو افغانی عوام طالبان کے جبر سے تنگ تھے۔ بقیہ صفحہ3نمبر2پر
بقیہ…….. رقیب اللہ محسود کے سوالنامے کا جواب
اگر انتخابات میں مقابلہ ہوا تو طالبان اقتدار سے محروم ہوسکتے ہیں اسلئے طالبان الیکشن میں نہ جائیں گے۔ ہمارے ہاںطالبان(TALIBAN) شروع میں مسلط ہوئے تو لوگوں نے ان کو پسند کیا پھر انکے نام سے بھی نفرت ہوگئی ۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”سب سے بدترین وہ لوگ ہیں جن کی عزت انکے خوف کیوجہ سے کی جائے”۔ جب بینظیر بھٹو(BENAZIR BHUTTO) کو شہید کیا گیا تو جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبارِ جہاںکراچی کے سرورق پر بینظیر بھٹو کی تصویر تھی۔ میں جرمنی جارہاتھا اور دوست کے گھر میں صبح سویرے جانے کیلئے رکا تھا۔ اس شمارے کو دیکھا تو اس میںیہ لکھاہوا تھا کہ ”افغان فوج (AFGHAN ARMY)نے نیٹو کے سپاہیوں کو طالبان کوپیسے دیتے ہوئے پکڑ لیا، افغان سپاہیوں کو تعجب بھی ہوا مگرانہوں نے ہنستے ہوئے ان کو کوئی اہمیت نہیں دی”۔
اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ نیٹو کی افواج اپنے ہدف القاعدہ(ALQAIDA) کو مارنا چاہتے تھے مگر وہ طالبان کے دشمن نہ تھے۔ دوحہ قطر اور دوسرے ممالک میں نیٹو کیساتھ طالبان کی گفتگو کا سلسلہ پہلے بھی جاری رہتا تھا۔ امریکہ نے اپنے ایک باغی القاعدہ کا خاتمہ کردیا لیکن داعش کو پیدا کردیا ہے۔ طالبان کو شروع سے امریکہ کے کہنے پر جنرل نصیر اللہ بابر(GENRAL NASEERULLAH BABAR) نے بینظیر بھٹو کے حکم سے بنایا تھا۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی میں یہ مضمون شائع ہوا کہ ”جب پاکستان کو افغانستان میں طالبان بنانے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کی (MOLANA FAZAL REHMAN)مدد کی ضرورت پڑی تو مولانا اپنی جان بچانے بیرون ملک کے دورے پر گئے۔ پاکستان کو ضرورت تھی مولانا نے مدد نہیں کی”۔ جرمنی میں ایک برطانوی تاجر سے امریکہ کی دوغلی پالیسی پر بات ہوئی تو اس نے کہا کہ برطانیہ کا کردار کیساہے؟۔ میں نے کہا کہ وہ بھی یہی چیز ہے ۔ غالبا اخبار جہاں میں برطانوی فوجیوں کا ذکر تھا جسکا میں نے حوالہ دیا تھا اس پر اس برطانوی تاجر کے چہرے کا رنگ بہت خراب ہوگیا۔ امریکہ نے افغانستان کے بعد عراق اور لیبیا کا تیل بھی لوٹ لیا۔ جب (1990) میں عراق پر حملہ کیا تھا تو اسکے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے۔ پھر طالبان اور القاعدہ کا ڈرامہ رچایا گیا تو نیٹو نے ساتھ دیا اور عراق و لیبیا (IRAQ&LIBYA)کے تیل کے ذخائر لے اڑے۔ علاوہ ازیں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پشتونوں کے دل ودماغ میں طالبان کے سخت گیر کردار ، بھتہ خوری اور امریکہ کیساتھ گہرے مراسم کی وجہ سے ملاں سے نفرت بیٹھ گئی۔ شیطان نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے اس بات کی طرف راستہ ہموار کردیا ہے کہ پشتون قوم اپنے ملاں کو اپنے پہاڑی اور میدانی علاقوں سے نکال باہر کر دیں۔
میرا بیٹا ابوبکر کہہ رہاتھا کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ لاہور کا مفتی عزیزالرحمان(AZIZURREHMAN) پشتون نہیں لیکن پھرپتہ چلاکہ یہ حضرت سوات کا ہے ۔ ہماری تحریک کے ابتدائی سالوں میں ہمارے ساتھیوں نے سنت سمجھ کر کان کے لوتک محسودقومی بالوں کی طرح بال رکھے تھے تو ہم پر بریلویت کا الزام لگایا جارہاتھا۔ جب روس کیخلاف جہاد ہورہاتھا تو کچھ لوگ بس میں بیٹھے تھے اور ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی تھیں لیکن بال لمبے لمبے تھے۔ میرے بھائی نے ان کو دیکھ کر پوچھا کہ کونسا فرقہ ہے؟ ان میں سے ایک نے ناراضگی سے کہا کہ یہ فرقہ نہیں مجاہد ہیں۔ بھائی نے پوچھا کہ پھر یہ بال کیوں رکھے ہیں؟۔ تو اس نے آنکھیں گھمائیں اور کہا کہ ہمیں بال بنانے کا وقت جہاد میں کہاں ملتا ہے؟۔ بھائی نے کہا کہ یہ تمہاری داڑھیاں پھر روسیوں نے منڈوائی ہیں؟۔ جس پر وہ بہت شرمندہ ہواتھا۔
جہاد تو اپنی جگہ ٹھیک اور قیامت تک جہاد جاری رہے گا لیکن چوتڑ تک بال رکھنے میں کیا حکمت ہے؟۔ طالبان سوال پر ناراض ہوتے ہیں۔ وانا کے وزیروں نے پہلے طالبان کیساتھ رشتے ناطے تک کئے پھر ان سے جھگڑا ہوا تو الزام لگایا کہ ہم نے ایک ازبک کو بیٹی دی ہوتی تھی اور آٹھ آٹھ اسکے ساتھ یہ کام کرتے تھے۔ یہ وہی ازبک تھے جن کو صحابہ کرام کی طرح قرار دیا جارہا تھا۔
ہمارے ہاں ایک شخص تھا جو رمضان سے پہلے داڑھی رکھ لیتا تھا اور پھر کسی گاں میں مسجد کی امامت کرکے زکو خیرات اور تنخواہ کمالیتا، رمضان کے بعد داڑھی منڈا لیتا تھا اور اپنی محنت مزدوری کرتا تھا۔ ملا اور مجاہدکے نام پر بہت زیادہ جعل ساز لوگوں نے دھندے شروع کردئیے ہیں جن کا کوئی دین ایمان نہیں۔ بعض وہ ہیں جنکے پاس علم بھی ہے لیکن مذہب کے نام پر دھندہ بنانے کی وجہ سے کسی کو شعور نہیں دیتے ہیں۔ بہرحال علما کا کردار غنیمت ہے لیکن ایک بڑے طوفان کے ذریعے ان کو شعور کی طرف لے جانے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
جناب رقیب اللہ !آپ کا مقصد جمود کو توڑنا ہے جس کیلئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ محسود قوم پہلے بھی بہت قربانی دے چکی ہے ۔اب خوف وہراس نے ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ اس خوف کی فضا میں جمود کو توڑنے کی قربانی کوئی دوسری قوم نہیں دے سکتی ہے۔ اول وآخر محسود قوم کو اللہ نے شاید اس مقصد کیلئے پیدا کیا ہے اور چند اصول طے کرنے کی ضرورت ہے کہ بہادری و بزدلی کی تعریف لوگوں کے دل ودماغ میںڈالی جائے۔ بہادری یہ ہے کہ کوئی فرد باپ ، دادا، بھائیوں، قوم و شاخ کی شناخت نہ چھپائے جو اپنی شناخت چھپائے وہ دہشتگرد بزدل ہے۔
افغان حکومت اور طالبان سے لیکر عالم اسلام و کفر تک دنیا میں ایک مکالمے کی فضا پیدا کی جائے۔ قرآن(QUURAN) کے نظام میں اتنی جامعیت ہے کہ چھوٹے گھر ، محلہ، علاقہ اور خطے سے لیکر دنیا کو راہ راست پر لانے کی صلاحیت اس میں موجود ہے لیکن صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے بعد رفتہ رفتہ اسلام کا ڈھانچہ اور اس کی روح اجنبیت کا شکار ہوگئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی(MOLANA ASHRAF ALI THANVI) نے لکھا ہے کہ ”میں ایک ایسے گاں میں گیا جہاں ہندو اور مسلمان اکٹھے تھے۔ ان کے ایکدوسرے سے رشتے ناطے بھی تھے ۔ کوئی ایسی شناخت نہیں تھی کہ کون مسلمان اور کون ہندو؟۔ پہچان کیسے ہو؟۔ آخر کار میں نے پوچھ لیا تو انہوں نے کہا کہ اور کوئی فرق نہیں ۔ بس ہولی اور دیوالی ہوتی ہے تو اس کی میزبانی ہندو کرتے ہیں اور مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں اور بزرگ کے عرس میں میزبان مسلمان بنتے ہیں اور ہندو بھی شریک ہوتے ہیں۔ مولانا تھانوی نے ان کو تلقین کردی کہ اس عرس کی میزبانی کی رسم مضبوطی سے تھام لو،جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین سے تعلق رکھنے والے مشرکینِ مکہ کیلئے صفا ومروہ کی دوڑ واحد مذہبی شعار رہ گیا تھا باقی بت شکن ابراہیم کی ساری قربانیاں بھول کر خانہ کعبہ کے بتوںکوہی شعار بنالیا تھا۔ بتوں سے اتنے خطرات نہیں ہوتے اسلئے کہ مجسمے ہوتے ہیں مگر جب علما ومشائخ کی پوجا شروع کی جائے تو وہ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ اللہ نے ایک طرف اہل کتاب کو اتحاد کی دعوت دی کہ ان کو کہو کہ ایسی بات کی طرف آ جو ہمارے درمیان مشترک ہے تو دوسری طرف واضح کیا کہ ” یہود ونصاری آپ سے کبھی راضی نہ ہونگے جبتک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں ”۔ (القرآن)۔بت میں نفسانی خواہشات، جنسی معاملات، پیٹ، بال بچے اور دولت ، شہرت ، عزت اور اقتدار کی خواہش نہیں ہوتی ۔ انسان میں دل ہوتا ہے جس کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں اور ماحول میں ڈر وخوف کا بھی شکار ہوتا ہے۔
جب ہم بنوری ٹان(BINORI TOWN) کراچی میں پڑھتے تھے تو اس وقت روس نے مسلم ریاستوں میں آزادی سے پہلے اسلام کی تبلیغ کی اجازت دی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ایسے مسلمان تھے جن کو صرف اپنے آبا واجداد سے اتنا پتہ چلا تھا کہ ”علی ہمارا خدا ہے”۔ اس پر انکے مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے قابل سمجھا جاتا تھا۔
تبلیغی جماعت (TABLEGHI JAMAT)کی بدولت لوگ چند مخصوص چیزوں کو اسلام سمجھتے ہیں تو یہ غنیمت ہے لیکن اسلام کے مسائل بہت سادہ اور عام فہم ہیں جس دن عوام کو متوجہ کیا گیا تو علما اور تبلیغی جماعت والے بھی روس کی نو آزاد مسلم ریاستوںاور ہندوستان کے مسلمانوں کی طرح اپنی اس حقیر معلومات کو اسلام کیساتھ مذاق سمجھیں گے۔
غسل کے فرائض اور استنجے کے مسائل سے لیکر ایک ایک بات کو مذہبی طبقات نے اجنبیت کا شکار بنادیا۔ اصول فقہ میں نالائقی کی انتہا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے درست کہا کہ اگر کسی عقل والے کی نظر اس پر پڑگئی تو سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ”تدوین القرآن”میں بڑے حقائق ہیں جو جامعہ بنوری ٹان کراچی نے شائع کردی ۔ میرازمانہ طالب علمی کا دوست مفتی زین العابدین لسوندی بہت محتاط انسان ہے ، کبھی کھبار ان سے بات ہوتی ہے۔ اس نے کہا کہ ”وزیرستان کی کہاوت ہے کہ کسی مسئلے کا حل آسان مگر اس کو اپنے ذمے لینے کا دعوی کرنا مشکل کام ہے”۔
یقین جانو کہ مدارس کا حال بھی یہی ہے کہ نصاب میں کوئی جان نہیں مگر بس کسی میں ہمت نہیں ۔ مفتی حسام اللہ شریفی ،مفتی محمد نعیم، شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان، مولانا عبدالرف ہالیجی ، مولانا قاری اللہ داد، مفتی خالد حسن مجددی، مولانا الطاف الرحمن بنوی ، علامہ زاہد الراشدی اور پروفیسراورنگزیب حافی جیسے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی دیر تھی۔مفتی زر ولی خان میں جرات تھی مگر زندگی نے وفا نہیں کی اور میری کتاب ”عورت کے حقوق”کے مسودے اور کتاب چھپنے کے بعد پڑھی تو بھی بہت اچھے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی(mufti taqqi usmani) نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہا کہ ”اللہ نے قرآن میں اپنی ذمہ داری لی ہے کہ ثم ان علینا بیانہ پھر ہمارے اوپر اس کو واضح کرنے کی ذمہ داری ہے، صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین سے آج تک قرآن جو بیان کیا گیاہے ،یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بڑے بڑے لوگ گزرگئے اور ان کی باتوں کا کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ غلام احمدپرویز آج کہاں ہے”۔ (ویڈیو بیان)
دنیا میں آج ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بڑی گونج ہے۔ غلام احمد پرویز (ghulam ahmed parvaiz)نے لکھا تھا کہ طلاق احسن کا جو طریقہ حنفی فقہا نے بتایا ہے وہی قرآن کی تفسیر ہے۔ دومرتبہ طلاق احسن دینے کے بعد تیسری مرتبہ طلاق احسن دی گئی تو پھر قرآن میں حلالہ کے بغیر رجوع نہیں کرنے کا حکم ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک(doctor zakirnaik) کی مقبولیت مفتی تقی عثمانی سے زیادہ ہے اور وہ بھی غلام احمد پرویز کی پیروی کررہے ہیں۔ اپنے شاگردوں کی طرف سے سخت سکیورٹی کے حصار میں شاہانہ ٹھاٹ سے متاثر ہونے والے شیخ الاسلام کو انشا اللہ اپنی مقبولیت کا بہت جلد اندازہ لگ جائے گا۔ اب وہ یونین کونسل کے ممبر بننے کے قابل بھی نہیں ۔ اگر یہ عزت ہے کہ برائی پر پکڑ نہ ہو تو شیخ الحدیث مولانا نذیرا حمد جامعہ امدادیہ فیصل آباد اور حال میں شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کے حال سے عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ ساری باتیں اللہ کی طرف سے تھیں تو چاراماموں میں کئی مسائل پر حلال وحرام ، جائز وناجائز اور طلاق ہوگئی یا نہیں ہوئی ؟۔یہ اختلافات کیوں ہیں؟۔ کیا اللہ کے بیان میں تضادات ہوسکتے ہیں؟۔ سارے مدارس کے علما ومفتیان بینک کے سودی نظام کی مخالفت کر تے تھے لیکن اکیلے مفتی تقی عثمانی نے معاوضہ ہڑپ کرنے کے چکر میں اس کو اسلامی قرار دینے کیلئے پرواز کیوں بھری؟۔ کیا یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم بینک کے سود کو جائز قرار دے؟ ، باقی علما ومفتیان مخالفت کریں؟۔ سیدھی بات ہے کہ دس لاکھ روپیہ کسی نے بینک میں رکھا ہو اور اس پر لاکھ سود مل جائے اور پھراٹھائیس ہزار زکو کے نام پر کٹ جائیں تو اصل رقم بھی محفوظ ہوگی اور سود بھی ملے گا تو زکو کی کٹوتی کہاں سے ہوگی؟۔ مفتی محمود (mufti mehmood)نے مخالفت کی ۔ پہلے مولانا فضل الرحمن نے شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیا مگر پھر ایک سو اسی ڈگری کے زوایے پر مسئلہ الٹ دیا گیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
سود کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو نبیۖ نے زمین کو مزارعت پر دینا سود قرار دیا۔ امام ابوحنیفہ ،امام مالک اورامام شافعی(imam abu hanifa imamshafi imammalik) سب متفق تھے کہ مزارعت سود ہے لیکن پھر رفتہ رفتہ شیخ الاسلاموں نے ریاستوں کی مدد سے اسلامی احکام کا تیا پانچہ کیا۔ پھر وہ وقت آگیا کہ مزارعت سود کی بجائے جاگیردارانہ سسٹم کا حصہ بن گئی۔ جو ٹوٹل سودی نظام تھا اس سے ملاں کو زکو ملتی تھی۔ مزارع تو اپنے بچے نہیں پال سکتے تھے۔ جنکے پاس اپنی زمین ہوتی تو وہ جاگیردار کی زمین کیوں کاشت کرتے؟۔ جب جاگیردارکی دولت سود کی رہین منت ہو تو وہ زکو ادا بھی کرے تو مزارعین کو دے گا جنکا خون چوس کر دولت بنائی گئی ؟۔ سودخور کس طرح زکو ادا کرنے میں مخلص ہونگے؟۔ سود اور زکو ایک دوسرے کی بالکل ضد ہیں ۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام(Feudalism &Capitalism) سود پر مبنی ہے تو ان سے زکو کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے؟۔ اسلام نے زکو کی ادائیگی کا حکم ضرور دیا لیکن سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ سودی نظام ختم کرنے سے اس کی ابتدا کی ہے۔
پہلے پٹھان علما سودی کاروبار کیلئے بیٹھتے تھے اور سود خوروں کو حیلے بتاتے تھے۔ اسلئے علما کی توہین ، گستاخی اور بے ادبی کو بڑا کفر قرار دیا جاتا تھا اور سود خور سرمایہ داروں کی طرف سے ان کی عزت کی تشہیر ہوتی تھی اور اب شیخ الاسلاموں نے بڑی سطح پر یہ کام انجام دیا ہے اسلئے ان سے اختلاف کو بھی کفر قرار دیا جارہاہے۔ مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ قیمتی اپنے نظریات لگتے ہیں اور الحمد للہ کافی حد تک لوگوں کا جمود توڑنے میں کامیابی بھی مل گئی۔ مجھے کانیگرم کے برکی، وزیرستان کے محسود ، وزیر اور داوڑ کی سرداری نہیں چاہیے۔ پختونوں کی سرداری نہیں چاہیے اور مجھے پاکستان کی بھی حکومت نہیں چاہیے۔ سب کو اپنے اپنے قبائل اور ملکوں کی سربراہی مبارک ہو۔ عثمان کاکڑ بہت اچھا انسان لگتا تھا۔ شاہ محمود کو انگریزوں کا ٹھیک طعنہ دیا تھا۔ ہمارے دادا سیدامیر شاہ نے میرے والد کو مدرسے میں بھیجا تھا لیکن سکول کی تعلیم نہیں دلائی تھی اور میرے چاچوں نے چھپ کر سکول کی تعلیم حاصل کی تھی۔ شہید صمد خان اچکزئی(shaheed samad khan achakzai) اور عبدالغفار خان نے بیٹوں کو لندن میں پڑھایا تھا۔ اقبال نے محراب گل افغان کے اشعار میں اچھے انکشافات کئے۔
تواپنی سرگزشت اب اپنے قلم سے لکھ خالی رکھی ہے خامہ حق نے تیری جبیں
علامہ اقبال نے زبردست اشعار لکھے ہیں اور ہماراہدف دنیا ہے اور اللہ کی طرف سے عالمگیر دین کا تقاضہ یہی ہے کہ رحمت للعالمینۖ کے دین کو پوری دنیا ہی میں پھیلایا جائے۔ دین فطرت میں لوگوں سے کچھ مانگنے کا تقاضہ نہیں بلکہ لوگوں کوبہت کچھ دینے کا تقاضہ ہے۔ایک جان ہے جو گوشت پوست سے بنی ہوئی ہے جو کسی حادثے کا شکار ہوجائے تو اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھ دینا۔ کسی نے بھی دنیا میں نہیں رہنا ہے۔ والسلام ۔
راہ ہدایت میں سرگردان ایک بیباک گمراہ مسافر سید عتیق الرحمن گیلانی
(syed atiq ur rehman gillani June=Special-2–page-4_raqeebullah mehsood _soodi nizam _zarbehaq.com_ulama)
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

breaking_news

the eligibility criteria of beard and Gown Jubba In our religious institutions (Madaris) allows characters like Mufti Aziz-Ur-Rehman and Sabir Shah to be the Imam of mosque.

ابن عربی ، مفتی عزیز الرحمن، maqam e mahmood, dr habibullah mukhtar, dr abdullah nasih ulwan


طرز نبوت کی خلافت کے قیام کی پیشگوئیاں احادیث صحیحہ کی روشنی میں اور علماء و عوام کی غلط فہمیاں دور کرنے کا ایک علمی اور عالمی میزان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ قیامت تک امام قریش میں سے ہونگے، خواہ دو باقی رہ جائیں”۔سعودی عرب (saudi arab)کے حکمرانوں کو کب اور کس نے بادشاہت کے منصب پر فائز کردیا ؟۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔عام حکمرانوں کیلئے قریش کی شرط نہیں اور عثمانی ترک حکمران بھی قریشی نہ تھے تو سعودی بادشاہوں کے غیر قریشی ہونے میں بھی حرج نہیں۔
سعودی فرمانرواشاہ سلمان (shahsalman)نے بیان دیا کہ بہت سی احادیث من گھڑت ہیں۔ عالمی کانفرنس منعقد کی جائے کہ کونسی احادیث صحیح یا غلط ہیں؟ ۔ معروف مصنف عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”تربیت اولاد” کتب خانوں میں ہے لیکن شباب مسلم ”مسلمان نوجوان” غائب ہے۔ جس کا ترجمہ کرنے والے ہمارے استاذڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید(habibullah mukhtar principle jama binori town) پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کو قتل کرکے ان کی لاش کو بھی پڑول چھڑک کر جلادیا گیا تھا۔
”مسلمان نوجوان” میں اہم باتیں تھیں۔ یہ حدیث تھی کہ ”نبوت ورحمت کے بعد خلافت راشدہ کا دور آئیگا۔ پھر امارت کا دور آئیگا ۔ پھر بادشاہت کا دور آئیگا ۔ پھر جبری حکومتوں کا دور آئیگا۔ پھراسکے بعد دوبارہ طرز نبوت کی خلافت کا دور آئیگا ،جس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے”۔خلفاء راشدین ،پھر بنوامیہ و عباس کی امارت پھر خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کا دور تھا ۔ (1924 )سے جبری حکومتوں کا دور شروع ہوا ۔اور اب خلافت علی منہاج النبوة کے دور کا دوبارہ آغاز ہونے والا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان نے یہ حدیث لکھ دی اور شاہ سلمان نے کچھ احادیث سے انکار کردیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی(molana abukalam azad molana modudi)نے احادیث کی بنیاد پر طرز نبوت کی خلافت کے دور کا لکھ دیا اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی (molana yousuf ludhyanvi)نے ”عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” اور مفتی نظام الدین شامزئی نے ”عقیدہ ظہور مہدی”(aqeeda zahoor mehdi) میں یہی احادیث درج کیں۔ مولانامحمد یوسف لدھیانوی اور مفتی نظام الدین شامزئی کو شہید کردیا گیا ۔آج عرب کی ویڈیوزخوابوں سے بھری ہوئی ہیں کہ اس سال حج میں امام مہدی کا ظہور ہوگا اور بعض عرب علماء نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس خوف کی وجہ سے امسال حج میں دوسرے لوگوں کی آمد پر پابندی لگائی ہے۔
داعش دولت اسلامیہ عراق وشام پرحامد میر نے بہت بڑا انکشاف کیا کہ ”ابوبکر البغدادی (abubakar albaghdadi)کوئی امریکن یہودی تھا”۔ داعش حدود سے نکل کر افغانستان پہنچ چکی ہے۔ دہشت گردانہ کاروائی کا کھل اعتراف کرتی ہے اور اسکے پیچھے امریکہ کا کھلم کھلا ہاتھ بتایا جاتاہے۔ پیسوں کی بدولت کسی ریاست،جماعت ، قوم اور فرد سے جو کام بھی لو ،وہ ہوسکتا ہے ۔ اگر صابر شاہ امتحان میں پاس کرنے کی لالچ پر مفتی عزیز الرحمن (mufti azizurrehman)کے ہاتھوں استعمال ہوسکتا ہے تو پیسوں کی لالچ میں بھی ایسے اور اس سے کہیں زیادہ بہت برے کام انجام دئیے جارہے ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ امام قریش میں سے ہونگے لیکن خلافت عثمانیہ والے قریش نہیں تھے۔ بنوامیہ اور بنوعباس قریش تھے لیکن ان کو بھی خاندانی بنیادوں پر خلافت پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ افغانستان میں طالبان اپنے آپ کو ایک جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے دستور کے تحت جمہوری بنیاد پر عوام سے ووٹ لیکراقتدار کی دہلیز تک پہنچیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
پاکستان میں جمہوریت پیسوں اور لال کرتی(lal kurti) کا کردار ادا کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے بالکل یرغمال ہے۔ پرویز خٹک نے دوسری سیاسی پارٹیوں سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی اور اس کا پورا ٹبر اسمبلیوں میں ہے ۔ تبدیلی سرکار نے خود کو ہی بدل دیا ہے۔ اسلام کے کچھ ٹھوس احکامات ہیں جن کی بدولت نہ صرف پاکستان، افغانستان اور ایران میں تبدیلی آسکتی ہے بلکہ پوری دنیا کے ماحول کو جمہوری بنیادوں پر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کا کام دوسروں کے ممالک، وسائل ، افراد اور اقدار پر قبضہ کرنا نہیں ۔ جب دین میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں ہے تو باقی چیزوں میں زبردستی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے اور اللہ نے انسانوں کو مختلف تہذیب وتمدن، زبانوں ، خطوں اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے،اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی جماعت بناسکتا تھا۔ حضرت آدم کی اولاد میں پشتون، پنجابی، بلوچ، سندھی، مہاجر، انصار ،رشین ،انگریز، جرمن، فرانسیسی،اٹالین،آسٹریلین ،فارسی،ہندی اورعرب وعجم نہیں تھے لیکن قابیل اور ہابیل میں کردار کی وجہ سے زمین وآسمان کا فرق ضرور تھا۔
قرآن نے کردار اور نیک وبد کے اعتبار سے لوگوں کو دوقسم میں تقسیم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” ہم نے امانت کو زمین ، آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن بارِ امانت کو اٹھانے سے سب نے انکار کردیا اور انسان نے اٹھالیا اور یہ بڑا ظالم اور انتہائی جاہل تھا”۔ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے۔ عرب تکلیف اذیت کو نہیں بلکہ ”اختیاری طاقت” کو کہتے ہیں۔ سورۂ بقرہ کے آخر میں ہے کہ ( لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا…. ربنا ولاتحملنا ما لا طاقة لنا ” )اللہ کسی جان کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق…… اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہیں لاد،جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے”۔ قرآن کا اردو ترجمہ دیکھ لیا جائے تو بڑے معروف علماء نے قرآن کے ترجمے کی بیخ کنی کی ہے۔ جب اللہ نے واضح کیا ہو کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو پھر اس دعا کی کیا ضرورت ہے کہ” اے ہمارے رب! طاقت سے زیادہ بوجھ ہم پر نہ ڈال ”۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ہندی زبان والوں نے عربی زبان کو سمجھنے میں زبردست غلطی کی ہے۔ مکلف انسان ہوتا ہے جانور کو مکلف نہیں کہا جاسکتا ہے۔ انسان سے اس کی وسعت کے مطابق پوچھ گچھ ہوگی اور ایک شخص اپنے گھر میں اختیار کا مالک نہیں تو اس سے اپنی جان کے بارے میں پوچھا جائے گا، اس طرح گھر، محلہ، علاقہ، ملک اور دنیا میں جتنے اختیار کا وہ مالک ہوگا وہ اتنا مکلف ہے۔ اپنی وسعت کے مطابق مکلف ہونے کا یہ مطلب ہے اور جہاں تک طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کا تعلق ہے تو وہ گدھے پر پڑسکتا ہے اور انسان پر بھی پڑسکتا ہے۔ اسلئے جب وہ بوجھ برداشت نہیں کرتا ہے بہت مشکل میں پڑجاتا ہے۔ جس سے بچنے کیلئے اللہ نے وہیں پر دعا سکھائی ہے
انسان میں فطری طور پر یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ اپنے اختیارت کی بہت وسعت مانگتا ہے جبکہ زمین وآسمان اور پہاڑ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں اور اسی وجہ سے انسان کو ظلوماً جہولاً بھی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ نے ایک جگہ پر فرمایا کہ ”انسان شر کیلئے ایسی دعا مانگتا ہے کہ جیسے وہ خیر مانگ رہا ہو”۔ اس میں انسان کا اختیارات مانگنے کی حرص کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جب تمہارے ذمہ لوگوں کو عدل دینا لگ جائے تو پھر انصاف کیساتھ فیصلہ کرو”۔ آج پاکستان میں کروڑوں لوگ بھوک، افلاس، بیماری، ناانصافی اور ہزار طرح کی محرومیوں سے دوچار ہیں لیکن جب کسی کو آرمی چیف، وزیراعظم یا کوئی بھی بااختیار منصب پیش کیا جائے تو وہ لپک کر قبول کرے گا لیکن یہ نہیں سوچے گا کہ حساب دینا پڑے گا تو کیا حال بنے گا؟۔ یہی اس کی ظلمت اور جہالت قرآن میں واضح کی گئی ہے۔
جب دنیا میں عالمی اسلامی خلافت قائم(aalmi islami khilafat) ہوگی تو امام مہدی (imam mehdi)اس بارِ امانت کے اٹھانے کیلئے اپنے دل اور ذہن سے تیار بھی نہیں ہوگا لیکن مجبوراً منصب پر بیٹھنا قبول کرے گا۔ اس کا کام اختیارات سمیٹنا نہیں ہوگا بلکہ جن لوگوں کی عمل داری ہوگی ان سے روپے میں سولہ آنے ڈیوٹی لینی ہوگی۔ جب لوگ اپنے فرائض کی ذمہ داری پوری کرینگے تو سب کو عدل وانصاف بھی ملے گا۔ گھر، محلے ، گاؤں، شہر اور ملک سے لیکر بین لاقوامی سطح تک عدل وانصاف فراہم ہوگا تو سب کے سب انسان خوش ہونگے۔قرآن میں قیامت سے پہلے ایک بڑے انقلاب کی بہت زبردست خبر متعدد مرتبہ موجود ہے۔ حجاز میں مکہ سے مدینہ تک کے لوگ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمان ایک دن روم وفارس ، ہندوسندھ ، بخاراوسمر قند، کاشغر ونیل اور اسپین تک اقتدار کے مالک ہوںگے اور دنیا کو بادشاہت کے مظالم سے نجات دلائیںگے لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ روشن اسلام نے پوری دنیا کے گھپ اندھیرے کو بدل دیا۔ امریکہ و اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے بھی نمرود وفرعون اور تاریخ کے ظالم ترین بادشاہوں سے زیادہ بڑے مظالم کئے مگر مسلمانوں کی عالمی خلافت قائم ہوگی تو دنیا میں کسی ایک انسان پر ظلم وجور تو بہت دور کی بات ہے قہروجبر بھی نہیں ہوگا کیونکہ رحمت للعالمینۖ کی یہ تعلیم ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انورشاہ کشمیری(molana anwar shah kashmiri) نے لکھ دیا کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لیکن لفظی تحریف بھی ہوئی ہے یا تو مغالطے کی وجہ سے یا پھر جان بوجھ کر انہوں نے ایسا کیا ”۔ (فیض الباری شرح بخاری)
مولانا عبدالکریم کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان نے اکوڑہ خٹک کے مفتی فرید کو اس عبارت پر خط لکھ دیا مگراس نے تسلی بخش جواب نہیں دیاجو فتاویٰ دیوبند پاکستان میں شائع بھی ہوا ہے۔ قرآن میں لفظی تحریف کا عقیدہ کفرہے مگر ہمارا مولوی اپنوں کی تأویل اور دوسروں کی تکفیر میں بڑا تیز ہے۔بریلوی مکتبہ فکرکے علامہ غلام رسول سعیدی نے دارالعلوم کراچی سے فیض الباری کی اس عبارت پر حوالہ دئیے بغیرفتویٰ لے لیا تو اس پر کفر کا فتویٰ بھی لگادیاگیا ہے ۔
مولوی کے نصابِ تعلیم درس نظامی میں اصولِ فقہ اور احادیث وتفسیر کی کتب میں یہ کفریہ عقیدہ بہت شد ومد کیساتھ پڑھایا جاتا ہے لیکن جس دن مولوی طبقے کا بستر گول کرنے اور ان کے مذہبی وتجارتی مراکز مدارس کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچے گا تو عوام میں ان کے علم وکردار کو آخری حد تک ننگا کیا جائے گا۔ صحافی حسن نثار(hasan nisar) جیسے لوگ علماء کے خلاف خوامخواہ بھونکتے ہیں۔ پاکستان علی گڑھ کا تحفہ ہے۔ اگر مسلمان پسماندہ ہیں تو علماء کی وجہ سے نہیں بلکہ جدید تعلیمی اداروں میں حسن نثار جیسے بھانڈ پیدا کرنے کی وجہ سے ہے۔ البتہ مولوی اپنے نصابِ تعلیم کی وجہ سے مار کھا رہاہے۔ اوریا مقبول جان(oriamaqbooljan ) جیسے لوگ طالبان اور تحریک لبیک کی پشت پناہی سے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ مدارس نے اپنے نصاب کی اصلاح نہیں کی تو مذہبی طبقات اپنے نصاب کی وجہ سے مار کھاتے رہیںگے اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ اوریا مقبول جان اور حسن نثار جیسے لکھاریوں اور بھانڈوں کی وجہ سے مار کھاتے رہیںگے۔ مذہبی طبقات نے اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے نصاب کو ٹھیک نہیں کیا تو یہ ہمیشہ کی طرح ہرباطل نظام کے لے پالک رہیں گے اور جدید تعلیم کا نظام درست نہیں کیا گیا تو امت مسلمہ جاہلوں کے ہاتھوں ہمیشہ استعمال ہوتی رہے گی۔ عمران خان جیسا کھلاڑی بھی فیلسوف اور صوفی بنا پھرتا ہے۔اور ہماری ریاست ، نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقوں کے دلوں پر راج کرتا ہے اس سے بڑی پسماندگی کی دلیل اورکیا ہوسکتی ہے؟۔

the eligibility criteria of beard and Gown Jubba In our religious institutions (Madaris) allows characters like Mufti Aziz-Ur-Rehman and Sabir Shah to be the Imam of mosque.
ہمارے مذہبی مدارس میں جبہ اور داڑھی رکھنے کے بعد مفتی عزیزالرحمن اور صابرشاہ جیسے کردار بھی مسجد کی امامت کے قابل سمجھے جاتے ہیں

Though our country is already declared in Grey list but internally our position and status is worse than Black list.
ہمارا ملک گرے لسٹ میں ہے تو اندورنِ خانہ ہماری حالت بلیک لسٹ سے بدتر ہے۔

مفتی عزیز الرحمن کا سکینڈل تازہ تھا، علی محمد خان(ali muhammad khan pti) نے قومی اسمبلی میں خاتون رکن کے مقابلے میں ” دل کرتا ہے اور زلفوں ” کی بات چھیڑ دی۔ قادر پٹیل کی مراد سعید کے خلاف آواز کی گونج ہے کہ” وہ بڑی مشقت کرکے اسمبلی میں آیا ہے اور خدا ایسی مشقت کسی سے نہ کرائے”۔ شیخ رشید کا بلاول بھٹو کو بلو رانی کہنے سے سیاسی قیادت کے ضمیر وخمیر کا اندازہ لگائیں۔ کسی مدرسہ کے شیخ الحدیث کیلئے آئین کی شق62،63نہیںلیکن پارلیمنٹ کیلئے ہے۔
ہمارے مذہبی مدارس میں جبہ اور داڑھی رکھنے کے بعد مفتی عزیزالرحمن اور صابرشاہ جیسے کردار بھی مسجد کی امامت کے قابل سمجھے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ کی نمائندگی اور قیادت کیلئے شیخ رشید، مراد سعید ، نوازشریف اور عمران خان جیسے بھی باکردار اور صادق و امین بن جاتے ہیں۔ کیا پھر قوم کی تقدیر بدلنے کی کوئی امید رکھی جاسکتی ہے؟۔ اگر ہماری ریاست کو جنرل ایوب خان سے لیکر پرویزمشرف(parvaiz musharraf) تک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا ہے تو اسکی وجہ یہی ہے کہ ہماری ریاست نے بھی سیاسی قومی قیادت کو ہمیشہ ٹشوپیپر کی طرح استعمال کیا ہے۔ بیرون ممالک کیلئے ہمارا ملک گرے لسٹ میں ہے تو اندورنِ خانہ ہماری حالت بلیک لسٹ سے بدتر ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا قوم پرست علی وزیر پاکستان سے قومی اسمبلی کی حالیہ تقریر میںجس جذبے کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اسکی مثال ہماری اسمبلی کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اسٹیبلیشمنٹ(establishment) کو چاہیے کہ عدالتوں سے اس کو فوری طور پر غیرمشروط رہائی کا پروانہ جاری کرنے کی تلقین کردے۔ (PTI)کے سینٹر دوست محمد محسود نے حق بجانب لیکن قوم پرستی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قوم پرستوں،سیاست پرستوں اور مذہب پرستوں میں قدرمشترک یہی ہے کہ سبھی قوم، ملک اور اسلام کا بھلا چاہتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں الیکشن و سیاسی معاملات پر اصلاحات کی بات ہوتی ہے لیکن مذہب کے حوالے سے حقائق اجاگر کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا ہے۔ پشاور میں اہلحدیث اور پنج پیری مسلکوں کا طلاقِ ثلاثہ کے مسئلے پر مناظرہ حکومت کی انتظامیہ نے روک دیا۔ دونوں مسلک عقائد اور اصولِ دین میں ایکدوسرے کی قربت کا احساس رکھنے کے باوجود سوشل میڈیا پر ایکدوسرے کیخلاف مغلظات بک رہے تھے۔ دونوں قرآن وسنت کے دعویدار ہیں۔ پنج پیری قرآن وسنت اور حنفی مسلک پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اہل حدیث احادیث پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اگر ان دونوں کو ٹھنڈے دل وجگر سے سمجھایا جائے تو قرآن وسنت پر ایک مؤقف پر متفق ہوسکتے ہیں۔ البتہ دونوں کو اپنا جمود اور تقلید تحقیق سے توڑنا ہوگا۔
قرآن میں اللہ نے فرمایا :ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذًی ”اور تجھ سے حیض کی حالت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ تو ایک اذیت ہے”۔ قرآن کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملے میں معانی واصلاحات کے انبار ہوتے ہیں۔ صحابہ نے نبیۖ سے حیض کی حالت کا حکم پوچھ لیا۔ اللہ نے جواب دیا کہ ” ان سے کہہ دو کہ یہ ایک اذیت ہے”۔ قرآن کے اس لفظ نے آئندہ کی آیات میں ترجمہ وتفسیر کو بہت ہی آسان بنادیا۔ عربی لغت میں اذی کا معنی کہیں گند نہیں ہے۔ عربی میں گند کو قذر کہتے ہیں۔ اگر آئندہ آنے والی قرآنی آیات میں عورت کی اذیت کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تو مسلکی تضادات رکھنے والے گدھے قرآن کے احکام میں اس قدر تفرقے اور انتشار کا شکار نہ ہوتے۔ اس موضوع پر بارہا ہم نے اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں واضح بھی کردیا ہے۔
جب اذی کے معانی غلط لئے گئے کہ اس سے گند مراد ہے تو عورت کیساتھ قرآن کی تفسیر میں بہت زیادتی روا رکھی گئی۔ حیض میں اذیت بھی ہے اور گند بھی اور اس آیت(222)البقرہ کے آخر میں اذیت سے توبہ کرنے والوں اور گند سے دور پاکیزہ رہنے والوںکو پسند کرنے کا بھی واضح فرمایا ہے۔ اگر کوئی اپنے بیٹے یا شاگرد سے کہے کہ یہ میرا اثاثہ یا ایسٹ ہے تو وہ اس عزت نوازی پر بڑا خوش ہوگا اور اگر اس کو اپنا کھیت قرار دے گا تو بہت سخت ناراض ہوجائے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں اور جیسے چاہو،ان کے پاس آؤ”۔ فقہاء نے حرث سے مراد کھیتی لیا کہ ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں”۔ حالانکہ حرث سے اثاثہ بھی مراد لیا جاسکتا تھا لیکن عورت کی اذیت کا خیال نہیں رکھا گیا تو ترجمہ اور تفسیر میں بگاڑ پیدا کیا گیا۔ کھیتی کو روند کر راستہ بنانے کو وطی کہتے ہیں۔ فقہ کتب میں عورت سے مباشرت کیلئے ”وطی” کالفظ بلکہ فاعل اور مفعول کی گردان بھی بنائی گئی کہ واطی اور موطوہ۔ حالانکہ قرآن میں جماع کیلئے باشر، لامستم ہے لیکن وطی کا لفظ نہیں ہے۔ پھر عورت کیساتھ پیچھے کی طرف سے جماع کرنے کیخلاف بھی بہت احادیث ہیں اور ایسی حدیث بھی ہے جس میں عورت کیساتھ پیچھے کی راہ سے جماع کو جائز قرار دیا گیا جس کی صحیح بخاری میں بھی تصدیق ہے اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ متضاد احادیث کیسی گھڑی گئیں ہیں۔
عربی لغت میں عورت سے جماع کیلئے وطی کا لفظ نہیں۔قرآن کی غلط تفسیر کی وجہ سے عربی لغت میں خودساختہ اضافہ کردیا گیا ۔ اگر اذی سے گند مراد نہیں لیا جاتا تو حرث سے کھیتی اورجماع کو وطی کہنے تک بھی بات نہیں پہنچ سکتی تھی۔ قرآن میں دوجگہوںپر وطأ کا لفظ آیا۔ ایک رات تہجد میں اُٹھتے وقت کیلئے( اشد وط ئً واقوم قیلً)ا اور دوسرا یہ کہ مشرک حرمت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے دوسرے مہینے کے بدلے تبدیل کرتے تھے۔ تہجد کے وقت انسان کیلئے قرآن کی سمجھ آسان ہوتی ہے اور یہ عربی لغت میں وطأ کا ایک معنی بھی ہے اور اس وقت نفس بھی کچل دیا جاتاہے جس سے بڑا تزکیہ ہوتا ہے۔ وطأ سے اچھی بری دونوں تبدیلی مراد ہوسکتی ہے۔ علاوہ ا زیں بھی بہت سارے معانی پراطلاق ہوسکتا ہے۔ نبی ۖ نے مہدی کیلئے فرمایا : لیواطئی اسمہ اسمی ” تاکہ اس کا نام میرے نام کے موافق ہو”۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے مرید اور ارتغرل غازی کے مرشد شیخ ابن عربی نے لکھا کہ ” نام کے موافق ہونے سے مراد ہمنام ہونا نہیں ہے بلکہ یہ عربی حروف کے وزن کے حساب سے موافق ہونا مراد ہے”۔ بعض روایات میں پھر ماں باپ کے ناموں کی مشابہت کے اضافے بھی کئے گئے۔
امام مہدی (imam mehdi)کسی مسلک اور فرقے کی طرف منسوب ہونے کے بجائے اپنی نسبت اور اپنی راہِ عمل براہِ راست نبیۖ کی طرف کریگا ،اسلئے کہ نبی ۖ کے نقش قدم پر ہوگا۔ نبیۖ کے خلاف دنیا میں جتنی غلط خرافات منسوب ہونگی وہ سب داغ دھبے دھونے کا نعم البدل ہوگا اور پھر دنیا میں نبیۖ کے خلاف کوئی بکواس نہیں کرے گا بلکہ دنیا میں دوست اور دشمن سب کی زباں پر نبیۖ کے قصیدے ہونگے اور اسی کو ”مقام محمود” کہتے ہیں۔ محمود جسکی تعریف کی جائے۔ مذموم کی ضد محمود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو امید دلائی ہے کہ عسٰی ان یبعثک مقامًا محمودًا ”ہوسکتا ہے کہ اللہ آپ کو مقام محمود عطاء کرے”۔ آذان کے بعد بھی مانگنے کی یہ دعا ہے کہ” نبیۖ کو اللہ مقام محمود عطاء کرے ”۔ نبیۖ تمام جہانوں کیلئے رحمت ہیں اور آپۖ کی سیرت کو درست معنوں میں اجاگر کیا جائے تو جس طرح ایک عیسائی مصنف ہیکل نے نبیۖ کو پہلا نمبردیا ہے ،اسی طرح متشددملحدین بھی اپنے دل ودماغ سے پہلا نمبر دیں گے۔ ہیکل نے حضرت عمر کے علاوہ کسی دوسرے صحابی یا مسلمان کا نام اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ہے۔ اہل تشیع اپنے چرسی، بھنگی اور ہیرونچی کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو صرف یاعلی کا نعرہ لگاتے ہیں مگر نبیۖ کے صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور یہ اس غلط ماحول کا نتیجہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آیا ہے اور اس میں سنیوں کی کتابوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ اہل تشیع میں بہت اچھے مسلمان لوگ بھی ہیں اور غلط فہمی کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے نبی بھائی حضرت ہارون کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑسکتے ہیں تو صحابہ کے پاس وحی کا نظام نہیں تھا اور ان کی جنگوں کی وجہ سے تاریخ کے حقائق کو جتنا تلخ انداز میں پیش کیا گیا ہے اگر اہل تشیع کے محققین نے اپنے ضمیر سے انصاف کیا تو وہ امام حسن سے عقیدت چھوڑ دینگے بلکہ حضرت علی سے بھی نالاں ہونگے اورپھر ہمیں فکر ہوگی کہ ابوبکر و عمر کی بات چھوڑ دیں یہ اپنے پہلے دوسرے امام کو تسلیم کرلیں تو بھی غنیمت ہوگی۔ پھر امام حسین کے بعد میں آنے والے ائمہ کواپنے معیار پر پورا نہیں سمجھیںگے اور غائب امام کا عقیدہ بھی چھوڑدیں گے حالانکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور حضرت خضر کی زمین پر موجود گی درست ہے توامام مہدی غائب کے عقیدے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
اہل تشیع کی شد ومد سے مخالفت کرنے والوں نے افہام وتفہیم کا راستہ محدود کردیا ہے اور تشدد میں فرقوں کو تجارت اور بین الاقوامی سازشوں کے تحت اسلام کو بدنام کرنے والوں کو امداد ملتی ہے اسلئے جب تک ان کے مفادات رہیں گے یہ اپنی حرکتوں سے مشکل ہی سے باز آئیںگے۔ آج تک ہم نے حضرت عائشہ پر بہتان لگانے والے حضرت حسان، حضرت مسطح اورحضرت حمنا بنت جحش پر غصہ کھانے اور افسوس کا کوئی مظاہرہ نہیں دیکھا ہے۔ اہل تشیع کے بعض لوگوں کی جنگ جمل کی وجہ سے حضرت عائشہ کی مخالفت کوئی توہین نہیں۔ جب نبیۖ نے فرمایا کہ” عمار(hazrat ammar) ایک باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہونگے”۔ عمار وابوبکرہ علی کی طرف سے لڑرہے تھے، بخاری میں ابوبکرہ سے روایت ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ” وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گی جس کی قیادت عورت کے ہاتھ میں ہو”۔ ابوبکرہنے مخالفین کے خلاف حدیث پیش کی۔ ابوبکرہ نے مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف زنا کی گواہی پر کوڑے کھائے اور صحیح بخاری کی روایت اور امام ابوحنیفہ اور جمہور ائمہ میں اختلافات کی بنیاد پر مسلک سازی اور قانون سازی بہت بڑا المیہ ہے۔اگر پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوجائے تو بہت اچھا ہوگا۔
جب مدارس کے علماء قرآن کے خالص احکام کے مقابلے میں اپنا اجتہادی غیر ضروری مواد چھوڑ دیں گے تو نہ صرف مذہبی طبقہ، عام عوام، سیاسی طبقات اور مسلمانوں کے جدید طبقات میں انقلاب آئیگا بلکہ دنیا بدلنے میں دیر نہ لگے گی۔
(June=Special-2–page-4_syed atiq ur rehman gillani _navishta e diwar _akhtar khan _ptm_ali wazir _manzoor pashtoon _zarbehaq.com)

It would be beneficial if presidentship of Wifaq Ul Madaris Pakistan be assigned to both Ulmaa, namely Molana Imdadullah and Molana Asmat.

وفاق المدارس پاکستان کی صدارت مولانا امداد اللہ اور مولانا عصمت اللہ جیسے علماء کو دی جائے جو اپنی صلاحیتوں صحیح استعمال کرکے وفاق کے زیر انتظام مدارس میں کردار سازی کو یقینی بنائیں۔بدفعلی اور بدکرداری کو جڑ سے ختم کریں !

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وفاق المدارس (wifaqulmadaris)پاکستان کی صدارت مولانا امداد اللہ اور مولانا عصمت اللہ (molana asmatullah)جیسے علماء کو دی جائے جو اپنی صلاحیتیں صحیح استعمال کرکے وفاق کے زیر انتظام مدارس میں کردار سازی کو یقینی بنائیں۔بدفعلی اور بدکرداری کو جڑ سے ختم کریں !
تحریر:سید عتیق الرحمان گیلانی
حکومت، اہل علاقہ اور طلبہ کے سرپرستوں کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جوآزادانہ طریقے سے ماحول کا جائزہ لیکر مدارس میں اگر کوئی خرابی ہو تو اسے ٹھیک کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں!
جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن(binori town) کراچی کردار سازی میں (A1)ہے۔ اچھے مدارس میں طلبہ اور ساتذہ کو غلط حرکت پر فوراًنکال دیتے ہیں۔قاری حنیف جالندھری (qari hanif jalandhri)کو برطرف کردیا جائے
شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن (mufti azizurreman)نے ایک تو بدفعلی کا ارتکاب کیا اور پھر وضاحتی تحریری بیان ویڈیو میں پڑھ کرخودسنادیا تو اپنے آپ کو مزید پھنسابھی دیاہے۔ جب یہ ویڈیو سامنے آئی تھی اور مجھے پہلی بار ساتھی نے دکھائی تو مجھے یہ گمان ہوا کہ فاعل مفتی عزیرالرحمن اور مفعول صابر شاہ(sabir shah) نے بھاری پیسہ لیکر علماء و مفتیان کو بدنام کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ پھر جب مجھے اپنے بھتیجے نے بتایا کہ اس نے اپنا وضاحتی بیان بھی دیا ہے اور اس میں اقرارِ جرم کیا ہے تو بھی میں اپنے مؤقف پر ڈٹ گیا کہ اعترافِ جرم سازش کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ جب مجھے یہ بتایا گیا کہ وہ جمعیت علماء اسلام اور مجلس ختم نبوت (majlis khatme nabuwat)کے رہنمااور مدرسہ کے اہم عہدے پر فائز ہیں تو میں نے کہا کہ پیسہ کی خاطر جو باروداپنی پشت میں دباکر دھماکے کرتے ہیں،سود (sood)کو جائز قرار دیتے ہیں، اپنی بیگمات کو چلاتے ہیںتو کیا مذہبی طبقات کی بدنامی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پیسہ لیکر بدفعلی کی ویڈیو نہیں بناسکتے ؟۔
بعید نہیں کہ مفتی عزیز الرحمن نے بھاری معاوضہ لیکر ڈرامہ رچایا ہو۔ معاوضہ لیکر پشت میں بارود چھپاکر خود کش حملے کئے جائیںاور سودی نظام(soodi nizam) کو جائز قرار دیا جائے توبے شرم لوگ ایسی شرمناک ویڈیو بھی بناسکتے ہیں۔ فوجی افسران ملک کے راز بیچ سکتے ہیں اور سزائے موت کھاسکتے ہیں ۔ سیاسی لیڈر شپ کھلے عام جھوٹ بک سکتی ہے جس کا کام کردار کی بنیاد پر ووٹ لینا ہوتا ہے تو سب کچھ ہوسکتاہے!
ہمارا عدالتی نظام (court law)ویڈیو کو اعترافِ جرم نہیں سمجھتا۔ وزیراعظم نوازشریف (nawaz sharif)نے بہت ڈھٹائی کیساتھ پارلیمنٹ میں ایون فیلڈ (aeven field)لندن کے فلیٹ خریدنے کے اعداد وشمار بتائے کہ (2005ئ) میں سعودی(saudia) اور دوبئی (dubai)کی اراضی اور مل بیچ کر فلیٹ (2006ئ) میںخریدے۔ جوعدالت میں تمام ثبوتوں کیساتھ پیش کرسکتا ہوں۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں سوالات کے جواب سے انکار کردیا۔پھر معاملہ عدالتوں میں چلا۔ پھر اپنے بیان سے مکرگیا اور قطری خط لکھنے کا ارتکاب کیا اور پھر قطری خط سے بھی آخر لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ اس کے تمام کیسوں کو ختم کرکے وزیرا عظم کے عہدے پر بحالی کا اہل قرار دیا جائے اور اس کی یہ رٹ بڑی مقبول بن جائے کہ ”مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو”۔
اگر شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن عدالت سے بری ہوکر آئیگا تو رٹ لگائے گا کہ ”مجھے کیوں نکالا، داڑھی کو عزت دو”(darhi ko izzat do)؟۔ جامعہ منظور الاسلامیہ، جمعیت علماء اسلام اور وفاق المدارس پاکستان(pakistan) اس کو منصبِ دلبری پربحال کردیں گے؟۔ سیاست میں شرم وحیاء ، غیرت و حمیت اور اقدار وروایات کو طاقِ نسیاں میں رکھا گیا ہے لیکن مذہبی طبقے (religious)پر بھی اس کا اتنا بڑا اثر پڑا ہے کہ اس شرمناک ویڈیو کے بعد اتنی بے شرمی سے اپنے معمولات کا مفتی عزیز الرحمن نے اسطرح سے اظہارکردیا جیسے میاں بیوی کے آپس کا کوئی کھیل ہو۔ اپنی صفائی میں اس نے وفاق المدارس (wafaqulmadaris)کے جنرل سکریٹری قاری حنیف جالندھری(qari hanif jalandhri) اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے فیصلے کو جس طرح سے پیش کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ذمہ دار علماء ومفتیان بھی بے شرمی اور بے خبری کی چادر تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی(mufti taqqi usmani) اور دیگر علماء کو چاہیے تھا کہ قاری حنیف جالندھری کو بھی فوری طور پربرطرف کردیتے۔
اللہ نے فرمایا (:الذین یجتبون کبٰئرالاثم والفواحش الااللمم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذا انشاَ کم من الارض واذ انتم اجنة فی بطون اُمھٰتکم فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی O ‘)’ جو لوگ بڑے گناہوں اور فحاشی(fahashi) سے اجتناب کرتے ہیں مگر کسی خاص دور یا اوقات میں تو اللہ وسیع مغفرت والا ہے۔وہ اس وقت سے تمہیں جانتا ہے جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین تھے۔ پس اپنے نفسوں کی پاکی بیان نہ کرو، وہ جانتا ہے کہ کون کتنا پرہیز گار ہے”۔ (سورہ النجم آیت:32)
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پاکدامنی کے دعوے سے ویسے بھی منع کیا ہے لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ایک ایسی سزا کا ذکر ہے کہ اگر دومرد جنس پرست بدفعلی کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم دیا ہے اور پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے پیچھے نہ پڑنے کا حکم دیا ہے۔ قانون کی بہترین کتاب قرآن(quran) ہے لیکن علماء نے فقہ کی چادر تان کر قرآن سے انحراف کیا ہواہے!
حضرت آدم و حواء سے لیکر دنیا میں آنے والے قیامت تک تمام انسانوں کا ظاہر اور باطن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ اللہ نے وارننگ دی ہے کہ اپنے نفسوں کی پاکی بیان مت کرو۔ اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ اس کی مغفرت وسیع ہے۔ انسان کسی کی طرف ایک انگلی سے اشارہ کرتا ہے تو اس کی طرف چار انگلیاں لوٹتی ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہر گز بھی نہیں کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کیلئے کوئی رورعایت کا برتاؤ کیا جائے۔ پاکستان میں ایسی بدفعلی کی سزا 10سال یا عمر قید ہے۔ فقہاء نے دیوارکے نیچے یا پہاڑ سے گراکرقتل کی سزا کا حکم دیا ، جس پر طالبان کے دور میں دیوار گراکر قتل کرنے پر عمل بھی ہوا ہے۔
قرآن میں دومردوں کایہ حکم ہے کہ والذٰن یأ تےٰنھا منکم فاٰ ذوا ھما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًارحیماًO”اور جو تم میں سے دو مرد بدفعلی کریں تو دونوں کو اذیت دیدو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو۔اللہ تواب رحیم ہے”(۔ النسائ: آیت16 )
ویڈیو سے ظاہر ہے کہ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ دونوں رضامندی سے اس قبیح فعل کے مرتکب ہوئے ہیں اور دونوں کو ذلت آمیز اذیت دی جائے۔پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں تو ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ جس اللہ نے اس کو حرام قرار دیا ہے ،اسی نے اذیت دینے اور توبہ و اصلاح کا موقع دینے اور پیچھے نہ پڑنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
محترمہ ہدیٰ(huda bhurgari) بھرگڑی نے مفتی عزیزالرحمن کے اسکنڈل (mufti aziz scandle)پر اپنا زبردست بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں بہت اچھی تجاویز بھی پیش کردی ہیں۔ دوپٹہ نہیں پہنے اور بہت بڑی سفیدداڑھی پر نہ جاؤ۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ” یہود(yahood) کی طرح سفید داڑھیاں مت چمکاؤ”۔ جس سے مخصوص مذہبی لبادہ ہی مراد ہے۔ یہودونصاریٰ اور سکھ وہندو کے مذہبی پیشواؤں نے بھی لبادوں میں دین کو چھپایا ہوا تھا۔
ملحدوں کے ہاں انسان ایک جانور ہے تو پھر جانوروں میں اتنی زبردست سپرٹ بھی مذہبی طبقے نے رکھی ہے کہ اس جرم کو جرم سمجھا جاتا ہے اور ملحدیں (mulhid)بھی بغلیں بجا بجاکر کہتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے؟۔ یہ اسلام(islam) اور مذہبی طبقے کی برکات ہیں کہ غیرت وحمیت ، شرم وحیاء اور ضمیر وروح بھی کوئی اوقات رکھتے ہیں۔ فیس بک پر ہدیٰ بھرگڑی نے اس پر بہت اچھی تجاویز پیش کی ہیں۔ بلاشبہ مذہب کے ٹھیکہ داروں کے کسی فرد کی طرف سے ایسی شرمناک ویڈیو کا آجانا بھی بہت افسوس کا مقام ہے۔ اگر بدفعلی میں جبر ثابت ہو تو مفتی عزیز الرحمن کو سنگسار کرنے کی عبرتناک سزا دی جائے۔طالبان(taliban) کو یہ عادت ڈالی جاتی ہے تو وہ اپنا ضمیر کھودیتے ہیںاور حوروں کی تلاش میں اپنی دنیا اور آخرت تباہ کرکے دہشت گردی کے مرتکب بن جاتے ہیں۔ مولانا منظور مینگل (molana manzoor mengle)کی خاموشی بنتی ہے یا نہیں؟ ،وہ بتائے کہ صابرشاہ کا جسم اس کی مرضی یا استاذشیخ الحدیث کی مرضی؟۔
جس طرح انسانوں کا لباس اہمیت رکھتاہے اس سے زیادہ مذہب اہمیت کا حامل ہے۔ آج ایک شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن پر انسانیت کا سیخ پا ہونا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ سفید اور صاف ستھرے کپڑوں پر سیاہ داغ بہت نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ زندہ دلانِ لاہور کی گلی کوچوں، بازاروں اور ہوٹلوں سے لیکر سکول ،کالج اور یونیورسٹیوں(college) تک کیا نہیں ہوتا ہے ؟۔ بلی کا بچہ اجتماعی ریپ کا چند دنوں مسلسل شکار رہا مگرزبانیں گنگ تھیںاور اسکی تشہیر معاشرے پر دھبہ لگنے کی وجہ سے جرم بن گیا تھا۔ یہ بات سوفیصد درست ہے کہ مدارس اسلام کے نام پر بنے ہیں مگر پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ بھی تو ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑا مقدس اورمضبوط ادارہ پاک فوج ہے۔ جب کسی فوجی پرکوئی جرم ثابت ہوجاتا ہے تو پاک فوج کے اس اہلکار کو عدالتوں میں سزا نہیں دی جاتی بلکہ فوج کا اپنا قانون ہے تاکہ رازداری باقی رہے۔ جب کوئی فوجی ریٹائرڈ ہوجاتا ہے تو اس کو بحال کرکے سزا دی جاتی ہے اور جب جنرل قمر جاوید باجوہ (genral qamar javaid bajwa)کو ایکس ٹینشندی جارہی تھی تو اندھی ڈولفن عدالت کو پتہ چل گیا کہ جس قانون کے تحت فوج اقتدار پر قبضہ کرتی رہی ، عدالت نے اسی اندھے قانون کے تحت توسیع دی۔
اگر فوج کے اعلیٰ افسران جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے جائیں اور ان کو سزا ہوجائے تو پوری فوج پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔اگر کوئی بڑامولوی بھی غلط کام کرتا ہوا پکڑا جائے تو پورے مذہبی طبقے کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔ فوج نے اپنی تنخواہیں اور دفاعی بجٹ لینا ہوتا ہے لیکن علماء کے مدارس عوام کے رحم وکرم پر چلتے ہیں۔اگر فوج بدنام ہوجائے تو اس کی تنخواہ بند نہیں ہوگی لیکن اگر علماء بدنام ہوگئے تو ان کے سارے فنڈز بند ہوجائیںگے اور مفت تعلیم، رہائش اور قرآن و سنت (quran o sunnat)کے تحفظ سے یہ امت محروم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں سے بھی اپنے دین کے تحفظ کا کام لیتا ہے۔ مفتی عزیز الرحمن نے صابرشاہ کو ورغلایا یا صابر شاہ نے مفتی عزیز الرحمن کو ورغلایا اور ممکن ہے کہ یہ دھندہ دوسری جگہوں پر بھی ہو مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کردارسازی اور تعلیم وتربیت اور تزکیہ کے اس عظیم نظام کو بدنام کرکے مدارس ومساجد کو کھنڈرات میں تبدیل کیا جائے۔
نماز، ناظرہ قرآن، قرآنی تراجم وتفاسیر، احادیث اور عربی کے علاوہ تمام مذہبی معاملات ان مدارس کے مرہونِ منت ہیںاور یہ ہم پر بڑا احسان ہے۔
اس کے نصابِ تعلیم وتربیت اور نگرانی کے طریقۂ کار میں زبردست تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔ صدروفاق المدارس پاکستان ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی بڑی بزرگی اوربڑی شخصیت اپنی جگہ پر لیکن وفاق المدارس پاکستان کی صدارت کی ذمہ داری مولانا امداداللہ ناظم تعلیمات جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی(jamia binori town karachi) جیسے علماء زیادہ احسن انداز میں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن سے مدرسے کی ذمہ داری اسوقت تک واپس لی جائے جب تک وہ وفاق المدارس(wifaqul madaris) کی صدارت کررہے ہوںتاکہ وفاق کے زیر اہتمام مدارس کی نگرانی میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں، اسی طرح دارالعلوم کراچی میں مفتی عصمت اللہ شاہ (mufti asmatullah shah)ہیں اور دیگر مدارس میں باکردار وباصلاحیت افراد کو باری باری یہ ذمہ داریاں سونپ دی جائیں تو مدارس میں احتساب کا درست نظام قائم ہوسکتا ہے۔ورنہ پھر انکا حال بھی تبلیغی جماعت کی طرح ہوگا جورائیونڈ(raiwand) اور نظام الدین میں امیر پر متفق نہیں ہوسکتے۔
مفتی عزیز پر انسانیت کا سیخ پا ہونابہت کھلاثبوت ہے کہ سفید کپڑوں پرسیاہ داغ نمایاں نظر آتا ہے۔زندہ دلانِ لاہور کی گلی کوچوں، بازاروں اور ہوٹلوں سے لیکرسکول، کالج ، یونیورسٹیوں تک میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟۔ بلی کا بچہ اجتماعی ریب کا مسلسل شکار رہا مگر زبانیں گنگ تھیںاور اسکی تشہیر جرم بن گیا ۔پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ تھا؟ فوج (army)کو سزا دینے کیلئے ریٹائرڈمنٹ کے بعد بحالی…….؟
(syed atiq ur rehman gilllani)(navishta e dewar)(zarbehaq)

خاص خاص ہیڈ لائن:

اگر دو مرد ہم جنس پرستی کا ارتکاب کریں تو قرآن میں ان کو اذیت دینے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے پیچھے نہ پڑنے کا حکم ہے۔
. If two male members are involved in homo sexual practice than as per Quran decision, they should be punished tortured and if they avoid to let off this sin, it is ordered not to chase/follow them.

بعید نہیں کہ مفتی عزیز الرحمن نے بھاری معاوضہ لیکر ڈرامہ رچایا ہو۔ معاوضہ لیکر پشت میں بارود چھپاکر خود کش حملے کئے جائیںاور سودی نظام کو جائز قرار دیا جائے توبے شرم لوگ ایسی شرمناک ویڈیو بھی بناسکتے ہیں۔ فوجی افسران ملک کے راز بیچ سکتے ہیں اور سزائے موت کھاسکتے ہیں ۔ سیاسی لیڈر شپ کھلے عام جھوٹ بک سکتی ہے جس کا کام کردار کی بنیاد پر ووٹ لینا ہوتا ہے تو سب کچھ ہوسکتاہے!

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پاکدامنی کے دعوے سے ویسے بھی منع کیا ہے لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ایک ایسی سزا کا ذکر ہے کہ اگر دومرد جنس پرست بدفعلی کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم دیا ہے اور پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے پیچھے نہ پڑنے کا حکم دیا ہے۔ قانون کی بہترین کتاب قرآن ہے لیکن علماء نے فقہ کی چادر تان کر قرآن سے انحراف کیا ہواہے!

محترمہ ہدیٰ بھرگڑی نے مفتی عزیزالرحمن کے اسکنڈل پر اپنا زبردست بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں بہت اچھی تجاویز بھی پیش کردی ہیں۔ دوپٹہ نہیں پہنے اور بہت بڑی سفیدداڑھی پر نہ جاؤ۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ” یہود کی طرح سفید داڑھیاں مت چمکاؤ”۔ جس سے مخصوص مذہبی لبادہ ہی مراد ہے۔ یہودونصاریٰ اور سکھ وہندو کے مذہبی پیشواؤں نے بھی لبادوں میں دین کو چھپایا ہوا تھا۔

مفتی عزیز پر انسانیت کا سیخ پا ہونابہت کھلاثبوت ہے کہ سفید کپڑوں پرسیاہ داغ نمایاں نظر آتا ہے۔زندہ دلانِ لاہور کی گلی کوچوں، بازاروں اور ہوٹلوں سے لیکرسکول، کالج ، یونیورسٹیوں تک میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟۔ بلی کا بچہ اجتماعی ریب کا مسلسل شکار رہا مگر زبانیں گنگ تھیںاور اسکی تشہیر جرم بن گیا ۔پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ تھا؟ فوج کو سزا دینے کیلئے ریٹائرڈمنٹ کے بعد بحالی…….؟

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv