پوسٹ تلاش کریں

دریائے ستلج اور پنجند کے مقام پر منرل واٹر سے زیادہ صاف پانی کے بڑے ذخائر

کیا راجستھان کی ناکامی ،چولستانی نہر کا نقصان اور متبادل زیرزمین پانی سے آگاہ نہیںکیاگیا؟ جواب:11اپریل 2024ء کو ایکس، دو، تین، چار 14نکات پر مشتمل رپوٹ میں سب کچھ بتایا

گرین پاکستان نے اپنے الفاظ میں بھی سمجھایا لیکن یہاں کا ٹھیکیداری سسٹم بہت مضبوط ہے۔ مقصد صرف مافیاکا پیسہ کھانا ہے ،خمیازہ عوام بھگتتی ہے

ناظرین آداب علی وارثی ایک مرتبہ پھر نیا دور کے پلیٹ فارم سے آپ کے سامنے حاضر ہے ۔ سوال: پنجاب کہتا ہے کہ ہمارے حصے کا پانی ہے۔
ڈاکٹر حسن عباس: یہ پنجاب نہیں کہہ رہا یہ کنالز بنانے والے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کا پانی جائے گا اور سندھ کا نہیں ۔ سندھ کی سیاسی جماعتیں ، لوکل لیڈرز، عوام سمجھتے ہیں کہ جب دریاؤں کا رخ موڑا گیا تو سندھ کو نقصان ہوا اور وہ آرگنائز طریقے سے آواز بلند کر رہے ہیں۔ کچھ چیزیں سیاسی ہیں اور بہت سی چیزیں سائنٹیفک اور حقیقی ہیں تو یہ ملا جلا رجحان ہے جس میں ان کنالز کی مخالفت کی آواز آرہی ہے مگر ایسا نہیں کہ پنجاب کا کسان بڑا خوش ہے کہ چولستان میں پانی جا رہا ہے پنجابی کسان بھی پریشان ہے مگر بدقسمتی سے سندھی کسان کی طرح سیاسی ،ا نتظامی اور تہذبی منظم نہیں جس طرح سندھی کسان ہیں تو پنجابی کسان پریشان ہے کہ اگر میرے حصے کا پانی جائے گا تو مجھے پہلے پورا نہیں مل رہا تو پھر میرا کیا بنے گا؟اور حال میں پنجاب سے آواز اٹھی ہے۔ لوکل لوگوں نے مقدمات درج کروائے کہ یہ زیادتی ہے ۔ جہاں تک SIFC کے Green Pakistan Initiative کا معاملہ ہے تو بیان کردہ مقصد یہ ہے کہ فوڈ سیکیورٹی کو استحکام دیا جائے اور جو زرعی اجناس اُگا سکتے ہیں ان کو ایکسپورٹ کیا جائے جہاں وہ پیدا نہیں ہو سکتی مثلا مڈل ایسٹ سینٹرل ایشیا میں جائیں۔ تو آئیڈیا برا نہیں ہونا،ایسا ہونا چاہے لیکن جس طریقے سے وہ یہ مقصد حاصل کرنے جا رہے ہیں اس پر کافی سارے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
سوال: بریفنگ دی گئی تھی صحافیوں اور بہت سے سول سوسائٹی کے لوگوں کہ پنجاب کے لاہور، قصور اور غالباً اوکاڑہ تین اضلاع میں شہری آبادی بہت زیادہ ہو چکی ہے ۔ وہاں اتنے زیادہ پانی کی اب ضرورت نہیں ، اسلئے انکے حصے کا پانی لینا ہے ۔
ڈاکٹر حسن عباس: یہ ہر روز ایک نئی منطق سنتے ہیں کہ پنجاب میں شہری آبادی بن گئی تو وہ پانی بچ گیا ہے کبھی یہ منطق کہ سیلاب کا پانی آئے گا تو کینال چلا دیں گے کبھی کہتے ہیں دیامیر بھاشااور مہمند ڈیم بن جائیں گے تو ادھر کا پانی آجائے گا۔ کبھی کہتے ہیں سندھ کا ایک بوند نہیں جائے گا اور پنجاب کا پانی آئیگا۔ ابھی تک کوئی واضح وضاحت کینالز بنانے والی لابی کی طرف سے نہیں آئی وہ کبھی کوئی بہانہ کرتے ہیں کبھی کوئی بہانہ کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ مقصد چولستان میں پانی لے جانا نہیں، مقصد گرین پاکستان کو سپورٹ کرنا نہیں بلکہ مقصد صرف اور صرف وہ بڑے بڑے ٹھیکے لینا ہے جس سے اگلے 6 سال تک ٹھیکے کرنے کے، مٹی کھودنے کے، سریہ باندھنے کے پیسے ملتے رہیں اور چیزیں چلتی رہیں اور جو ٹھیکدار ہیں ان کی بلا سے پانی ہے یا نہیں ، پانی آئے یا نہ آئے گرین پاکستان کامیاب ہو یا ناکام ہو ان کی بلا سے کچھ نہیں ہے ان کو صرف ٹھیکے چاہئیں۔ جس طرح نیلم جہلم میں انہوں نے کیا کہ اس قوم کے کوئی پانچ چھ بلین ڈالرز خرچ کر دیے اور نیلم جہلم کے ٹھیکے دار پیسے لیکر چلے گئے۔ لیکن نہ ہمیں بجلی ملی، نہ وہ پروجیکٹ کام کر رہا ہے۔ تو ٹھیکیداری کا نظام پاکستان میں بہت طاقتور ہو چکا ہے ان لوگوں کو آپ روک نہیں سکتے یہ بہت پاور فل ہیں یہ فیصلہ سازوں تک پہنچ جاتے ہیں اپنی لابنگ کر دیتے ہیں اپنی مرضی کے فیصلے کرا لیتے ہیں اور پھر اگر پراجیکٹ نہ بھی چلے تو یہ اتنے مضبوط ہیں کہ ان کو کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ تو مجھے ایسی سٹوری نظر آرہی ہے کیونکہ جہاں تک نہروں کا تعلق ہے اور
Green Pakistan Initiative کا تعلق ہے تو ان مقاصد کا تو ان نہروں سے دور دور تک کوئی واسطہ بنتا ہوا نظر نہیں آرہاہے۔
انڈیا نے راجستھان کینال بنائی ۔راجستھان ڈیزرٹ نام رکھا۔ گوگل پر زوم کر کے دیکھیں ۔اُوپر ریت کے ٹیلوں نے اس کو مٹی سے بھر دیا ہے اور بلینزآف ڈالرز کا خرچہ انہوں نے کیا۔ تین دریا کا رُخ موڑ دیا60 سال لگا دیے، ابھی تک ڈیزرٹ ڈیزرٹ ہی ہے اور قابل عمل نہیں۔ ہائیڈروجیکل سسٹم ہے اس میں بڑے سے بڑا ڈیم بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ تین مہینے کا سٹیمنا نہیں ہے آپ اربوں ڈالر کا خرچہ کس کیلئے کر رہے ہیں؟۔ مجھے بتائیں نیلم جہلم کا قرضہ کون دے رہا ہے؟۔ میں اور آپ! ہم موبائل فون بیلنس، گاڑی اور موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتے ہیں اس پرجو ہم ٹیکس دیتے ہیں وہ پیسہ جا رہاہے ٹھیکدارکو تو کسی نے پوچھا بھی؟ یہ ٹھیکدار اتنے پاور فل ہیں کہ آپ پوچھ تک نہیں سکتے کہ آپ ہیں کون ؟۔ ہمارے ارباب اختیار کو اسکے بارے میں کوئی نالج نہیں تھی پہلے سے؟۔
ان کو بتایا گیا تھا ستلج کے نیچے 34 ملین ایکڑفٹ پانی ہے اور پنجند ریور کے نیچے تقریبا 110 ملین ایکڑفٹ پانی ہے۔ مثلاً دیامیر بھاشا ڈیم بن رہا ہے یہ چھ سات ملین ایکڑ فٹ کا ہے، ادھر 500ہے یہ 100گنا زیادہ پانی ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ آلٹرنیٹ سستا بنتا ہے جلدی بنتا ہے ماحول دوست، سماجی طور پر مستحکم ، ایکنامیکل ہے۔ یہ ڈیموں، بیراجوں اور نہروں پر مبنی روایتی کے مقابلے میں تعمیر اور چلانے کے لحاظ سے نمایاں طور پر زیادہ آسان ہے۔ گرین پاکستان کے اپنے الفاظ ہیں اس رپورٹ کے بارے میں۔
سوال: یہ غذائی مسائل کا قابل عمل حل ہے؟۔
ڈاکٹر حسن عباس: یہ بالکل قابل عمل نہیں ہے۔ اگر فوڈ سکیورٹی کرنا چاہتے ہیں تو ورٹیکل گروتھ پہ جانا ہوگا جس کا مطلب پر وہ سیراب شدہ علاقہ جہاں لوگوں کو الاٹمنٹس ملی ہوئی ہیں اور وہ ایریا جہاں پانی نہیں پہنچ رہا ادھر لوگ غربت کسمپرسی کا شکار ہیں ان علاقوں کو اگر آپ مضبوط کریں ادھر اگر کوئی آپ نے پانی کا پراجیکٹ کرنا ہے تو آپ وہاں لے کے جائیں اگر آپ نے ماڈرن ایریگیشن ٹیکنالوجیز لے کے آنی ہے تو وہاں لے کر جائیں اپنے لوگوں کو بااختیار بنائیں کہ وہ اس زمین سے زیادہ پروڈیوس کریں جس زمین سے اس وقت وہ مشکل سے پروڈیوس کر رہے ہیں تو آپ کا کام ہے کہ ان کو سپورٹ کریں ۔ یہاں صاف آپ کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم اسٹیج پر آئے اور کہا کہ یہ میرا پراجیکٹ نہیں ہے یہ جنرل عاصم منیر صاحب کا پروجیکٹ ہے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ شاید کچھ زیادہ ہی شکر گزاری کہ عالم میں ہیں لیکن شاید وہ اس سے اپنے آپ کوبری الذمہ بھی کر رہے تھے۔
سوال : یہ بتائیے کہ جب یہ فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو فیصلہ سازی کس طرح سے ہوتی ہے آخر آپ نے جیسے ابھی یہ مثال دی راجستھان کی ۔ کچھ سال پہلے بھاشا ڈیم پر ڈیم فنڈ بنایا تھا اس پر غالباً آپ نے کہا تھا کہ یہ مفاد فرست گروپس ڈیم کیلئے ہر وقت زور ڈالتے ہیں اور وہ رشوت دینے کیلئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔کیا ان کو یہ پتہ نہیں کہ ڈیموں کا فائدہ نہیں۔ ماحولیات پر اس کا برا اثر پڑتا ہے؟اور صوبوں کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے؟۔
جواب :پہلے سے جی نہ صرف یہ کہ نالج تھی بلکہ ان کو رپورٹ لکھ کے دی گئی تھی زبانی کلامی بھی نہیں لکھ کے ایک رپورٹ ان کو دی گئی تھی جس میں ان کو بتایا گیا تھا کہ کنال راجستھاں کی طرح چولستان ڈیزرٹ میں کیوں نہیں چل سکتی؟۔ اس پہ پورے سارے ایک، دو، تین، چار اس کو 14 پوائنٹس لکھ کے دیے گئے تھے کہ یہ مسائل ہیں اگر آپ نے کنال بنائی اور وہ رپورٹ 11پریل 2024 میں ان کو جمع کرائی گئی تھی اور اس میں جو کنال کا سب سے پہلا منفی نکتہ دیا گیا وہ یہ تھا کہ جب کنال کیلئے دریاں میں پانی نکالیں گے تو صوبوں کے درمیان چپقلش اور بدمزگی پیدا ہوگی اور جو قومی ہم آہنگی شمال اور جنوب کی ہے اس کو دھچکا لگے گا یہ تو اپریل میں پچھلے سال ان کو بتایا گیا تھا۔ ایک سال کے بعد اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب کچھ ہو رہا ہے پھر ان کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کنال کی جگہ آپ کے پاس متبادل چیز ہے۔ دیکھیں چولستان میں ایسا نہیں کہ فارمنگ نہیں ہو سکتی ، ہو سکتی ہے لیکن کنال سے نہیں ہو سکتی اسکے دوسرے طریقے ہیں پھر ان کو دوسرے طریقے بھی بتائے گئے تھے کہ آپ کے اس وقت دریاؤں میں پانی کوئی نہیں ہے جو پہلے سے کم اور ختم ہے۔ پنجاب میں بھی پانی کی کمی ہے سندھ میں بھی ۔اگر مزیدپانی لیں گے تو مسائل بنیں گے۔ ان کو بتایا گیا تھا کہ دریائے ستلج کے نیچے پانی کا ذخیرہ ہے اور پنجند کے مقام پر بھی ۔یہ دو جگہیں جو چولستان کے قریب100 سے200 اور50 سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر یہ علاقے ہیں جو آپ نے مختص کیے ہیں اور پھر فارمنگ کیلئے ان کو اگر آپ نے زرعی بنانا ہے تو اس کیلئے جو ذریعہ ہے وہ یہ دریاؤں کے نیچے سٹور پانی ہے جو کہ اس وقت کوئی استعمال نہیں کر رہاہے ۔اس کو استعمال کریں اور اس پانی پر ایک بہت مفصل تحقیق ، مطالعہ ، تجربہ ہواہے۔ جس میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور اس کاقابل عمل معاملہ دیکھا گیا کہ کتنا پانی ہم نکال سکتے ہیں، کتنا پانی ٹوٹل ہے اور پانی کی کیا کوالٹی ہے؟۔ کدھر سے نکالنے سے نقصان نہیں ہوگا ؟۔کس طرف سے پائپ لائن آئے گی۔ کدھر کیا ہوگا ایک بہت تفصیلی رپورٹ بنا کے دی اور اس میں جو پانی کی کوالٹی تھی جو اس دریا کی ریت کے نیچے ہے وہ پینے کے قابل ہے یعنی وہ اتنا صاف پانی ہے کیونکہ وہ قدرتی فلٹر ہوا ہوا ہے وہ پینے کے قابل پانی ہے ہم نے ایک جگہ پہ اس کو بوتل پانی سے موازنہ کیا تو بوتل پانی سے بھی اچھا پانی تھا پھر جو اس کی تعداد ہے اس پانی کی جو مقدار ہے وہ بھی دریاؤں کے بڑے ڈیموں سے پانچ سو گنا زیادہ ہے۔ اگر دریاؤں کیساتھ قدرتی نظام سے جمع شدہ پانی کو استعمال کیا جائے تو دریائے ستلج اور پنجند کے علاوہ پورے ملک میں بڑے بڑے ذخائر دریافت ہوں گے۔ ہم ڈیموں کے ذریعے اتنا بھی پہلے جمع نہیں کرسکتے۔ ڈیموں میں بہت کم گنجائش ہے اور اس کے بہت زیادہ نقصانات بھی ہیں۔ ایران کے پاس ڈیموں کیلئے بین الاقوامی ٹیم 1950ء میں آئی تھی اور اس وقت دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی تھی مگر مقامی ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ڈیموں سے قدرتی نظام بہتر ، محفوظ اور بہت فائدہ مند ہے اور اس کے نقصانات اور مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔
آج دنیا نے ترقی کرلی ہے اور نہری نظام کو ختم کردیا گیا ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر قدرت کا بہت بڑا تحفہ ہے جس میں پانی بہت بڑی مقدار میں اسٹور بھی ہوتا ہے اور فلٹر بھی زبردست طریقے سے ہوجاتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بھی ہوتا ہے ، اس کا موجودہ دور میں خرچہ بھی بہت کم ہے۔
ڈاکٹر حسن عباس کی تعلیم، مہارت اور خلوص قوم، سیاستدانوں اور صحافیوں میں عام ہورہا ہے اور مقتدر طبقات کا بند دماغ بھی انشاء اللہ جلد کھل جائے گا اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر بہترین منصوبہ بندی سے پاکستان جنت نظیر بنادیا جائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی کسی آیت کا حکم منسوخ نہیں!

ما ننسخ من آیةٍ او ننسھا نأت بخیرٍمنھا او مثلھا ہم جو آیت منسوخ کرتے ہیں یا بھلادیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں۔البقرہ:106

سوال:کیا اس آیت سے یہ کہیں لگتا ہے کہ اللہ نے اس آیت سے اپنا کوئی حکم منسوخ کردیا ہے؟۔
جواب : اس آیت سے کسی حکم کی منسوخی کا تصور زائل ہوتا ہے۔ اگر کسی حکم کی آیت اللہ نے منسوخ کردی ہے تو اس سے بہتر آیت اس حکم کو سمجھنانے کیلئے نازل کی ہے یا کم ازکم اسی جیسی آیت ضرور۔
سوال :شیعہ پر الزام لگتاہے کہ وہ اللہ کی طرف بھولنے کی نسبت کرتے ہیں تو کیا قرآن کی آیات میں تبدیلی اور بھلا دینے کا الزام درست ہے؟۔
جواب: قرآن کی آیات میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی بھلادینے کا امکان تھا۔
اس آیت میں سابقہ آسمانی کتب کی آیات میں منسوخی اور بھلاد ینے کی بات ہے اسلئے کہ انہوں نے احکام کو تبدیل کردیا تھا۔ من الذین ھادوا یحرفون کلم عن مواضعہ و یقولون سمعنا و عصینا واسمع غیر مسمعٍ وراعنالیًّا بألسنتھم وطعنًا فی الدین (المائدہ :46)
”اور یہود میں کچھ لوگ کلمات کو اپنی جگہوں سے ہٹاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے سنا اور انکار کیا اور سنو،نہیں سننااور ”راعنا” اپنی زبانوں کو نرم کرکے اور دین میں طعن زنی کرتے ہوئے”۔
اہل کتاب ایماندارطبقہ ”سلام علیکم” کہتا ۔ لیکن یہود ”سام” کہہ دیتے۔ قرآن میں اہل کتاب کی طرف مخاطب کے لفظ سے منسوب ہے کہ وہ سلام علیکم کہتے تھے اور سابقہ کتابوں میں حکم بھی ہوگا لیکن قرآن میں ”سلام علیکم” کے الفاظ کا مسلمانوں کو حکم نہیں ہے۔ جب یہود نے نبیۖ سے کہا کہ سام علیکم تو حضرت عائشہ نے ان کو جواب میں یہ کہا کہ وعلیکم سام ۔ نبیۖ نے فرمایا ”وعلیکم” کافی تھا۔
رعاک اللہ ،اللہ تیری حفاظت کرے۔ راعنا کا معنی ہماری نگہداشت کیجئے۔ راعنة، راعنہ رعونت سے ناسمجھی کے ہیں۔ یہود الف کی جگہ آخر میں ”ة” کو ”ہ” سے بدل دیتے تھے۔ راعنا کی جگہ راعنہ کہتے اور مذاق اڑاتے ۔ اسلئے اللہ نے حکم دیا کہ
یایھا الذین اٰمنوا لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا …”اے ایمان والو! راعنا مت کہو،اور کہو کہ انظرنا اور سنو۔ اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔ نہیں چاہتے کافر اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کہ تمہارے اوپر خیر میں سے نازل ہو۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے”۔ ( البقرہ آیات104،105)
اہل کتاب نے اعتراض کیا کہ راعنا کا حکم اللہ نے منسوخ کیا اور سلام علیکم کے حکم کو بھلادیا ہے۔
اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ” جب ہم کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا بھلادیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری آیت لاتے ہیں”۔
بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ قرآن کے کچھ احکام کو نازل کرتے ہیںتو پھر ان کو تبدیل کرتے ہیں یا بھلادیتے ہیں؟۔
پھر اس کا مصداق تلاش کرنے کے پیچھے بہت ساری روایات گھڑ دیں۔ یہاں تک بھی بک دیا کہ سورہ احزاب آدھی رہ گئی اور آدھی بھلادی گئی ہے۔
مفتی منیر شاکر شہید کے پاس علامہ غلام رسول سعیدی کی کتابیں تھیں۔ میں نے کہا کہ ”خلع” کی تنسیخ پر آدھی سورہ احزاب کو بھلانے کا لکھ دیا گیا۔
شاہ ولی اللہ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء نے ان پر کفرومرتد کا فتویٰ لگایا۔ حالانکہ شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے ہم عصر” ملاجیون” کی کتاب ”نورالانوار” میں لکھا ہے کہ ” امام ابوحنیفہ نماز میں قرآن کو فارسی سے عربی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ افضل سمجھتے تھے۔ فتاویٰ عالمگیریہ اور نورالانواراس وقت سے مدارس میں رائج ہیں۔ پھر جب دوسری زبانوں میں قرآن کا ترجمہ ہوا تو پشتو ترجمہ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ عرب اور پشتون قوم کا بیٹیوں کو بڑی رقم کے بدلے بیچنا اور پنجاب و ہندوستان میں جہیز کی لعنت سے واضح ہے کہ مسلمان کا عمل قرآن سے بہت دور ہے۔ ہندو بیوہ کو ”ستی” میں زندہ جلاتے تھے تو شاہ اسماعیل شہید اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف سے بیوہ کی شادی احیاء اسلام کی تحریک تھی۔
مدارس اور مذہبی طبقات کی بہتات کے باوجود مسلمان قرآن واسلام سے اسلئے دور ہورہاہے کہ مذہبی تعلیمات ہی غلط اور خلافِ فطرت ہیں۔
٭

قرآن کی آیات محکمات کا انکار کیا گیا!

قرآن کی آیات اور احکام کو منسوخ کرنے کے حوالے سے مسلمانوں میں انتہائی گمراہ کن عقائدوتعلیمات کا وہ آئینہ جس پر پارلیمنٹ میں آئین سازی کرنی ہوگی

جب ہم عمرہ پر گئے تھے تو مدینہ منورہ میں کتابیں دیکھنے اور خریدنے جاتے تھے۔ مہدی سے متعلق ایک کتاب پوچھنے پر کتب خانے والے نے کہا کہ ”آپ شیعہ تو نہیں؟”۔ میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں اور آپ؟۔ اس نے کہا کہ الحمد للہ ہم سنی ہیں۔ میں نے کہا کہ الحمدللہ ہم شیعہ ہیں تو الحمدللہ سے کیا ہوتا ہے؟۔ شیعہ سنی میں فرق کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ شیعہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں۔ میں نے کہاکہ آپ نہیں ہیں؟۔ اس نے کہا کہ بالکل نہیں! تو میں نے کہا کہ ابن ماجہ اُٹھاؤ۔ پوچھا یہ آپ لوگوں کی کتاب ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں ۔ جب اس میں روایت دکھائی کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو رضاعت کبیر اور رجم کی آیات چار پائی کے نیچے پڑی تھیں اور بکری نے کھاکر ضائع کردیں۔ تو وہ لوگ دھنگ رہ گئے۔
میں نے کہا کہ ”میں تو نہ شیعہ ہوں اور نہ سنی” تو انہوں نے کہا کہ ”ہم بھی نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی” اور وہ دونوں علماء لگ رہے تھے۔ مدینہ یونیورسٹی میں آخری درجہ تک پڑھانے والے اساتذہ کرام سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ” آپ کی باتیں درست ہیںلیکن اگر یہاں پتہ چلا تو ہمیں غائب کردینگے یا پھر نوکری سے فارغ کرکے جلاوطن کردیںگے”۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کو بھی ساری بات سمجھادی تھی لیکن اس نے کہا کہ” علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں ،میر ی نوکری کیلئے مشکل کھڑی ہوگی”۔ مولانا محمد خان شیرانی، مولاناعطاء الرحمن ، مفتی سعید خان، مولانا تراب الحق قادری اور بڑی تعداد میں علماء کرام کو بالمشافہہ اور تحریرات سے باتیں سمجھ میں آگئی تھیں لیکن کچھ علماء کرام میں ایمانی غیرت ہے اور کچھ میں ہمت نہیں ہے۔
قرآن کی تعریف کا معاملہ اپنے استاذ مفتی محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ کے سامنے رکھا تھا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو واقعی قرآن کی تحریف ہے۔
جب قرآن کی تعریف میںیہ پڑھایا جائے کہ ”اس سے غیر متواتر آیات نکل گئی ہیں اور اس میں شبہ والی آیت ہے”۔تو یہی تحریف کا عقیدہ ہے۔
اصول فقہ میں جو آیات پڑھائی جاتی ہیں وہ نہ صرف متنازعہ ہیں بلکہ قرآن کی واضح تعلیمات کی بیخ کنی بھی کی جارہی ہے۔مثلاً ثلاثة قروء میں 3 کاعدد خاص ہے اور عورت کو طلاق طہر میں دینی ہے اور عورت کی عدت 3حیض ہے اسلئے کہ جس طہر میں طلاق دی ہے اگر اس کو شمار کیا جائے گا تو عدت تین کی جگہ پر ڈھائی بن جائے گی۔(نورالانور)
اگر3 حیض کو شمار کیا جائے تو جس طہر میں طلاق دی ہے تو اس کی وجہ سے عدت ساڑھے 3حیض بن جائے گی۔ پھر بھی قرآن کے خاص پر عمل نہ ہوگا اور یہ بات میں طالب علمی کے زمانہ میں اساتذہ کے سامنے رکھ چکا ہوں اور انہوں نے تسلیم کیا کہ کتاب میں غلط تعلیم دی جارہی ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ عدت کی دوقسمیں ہیں۔ایک عدت الرجال جو مردوں کی عدت ہے جو عورت کی پاکی کا زمانہ ہے یعنی مرد عورت کی پاکی میں طلاق دے گا ۔ دوسری عورت کی عدت ہے جوحیض ہے ۔ حالانکہ قرآن کی سورہ طلاق میں اللہ نے فرمایا کہ ” جب تم عورتوں کو طلاق دو تو تم لوگ ان کی عدت کیلئے طلاق دو”۔ فطلقوھن لعد تھن پھر تو حیض کیلئے طلاق دینی ہوگی اور ایک تو عدت الرجال کی مشروعیت وڑ گئی اور دوسرا یہ کہ حیض میں ویسے بھی مقاربت منع ہے۔
قرآن کے متعلق غلط قواعد سے صرف حضرت عائشہ کے قول اور جمہور فقہی مسالک کی مخالفت نہیں ہوتی ہے بلکہ قرآن کی آیات کا درست ترجمہ بھی ناممکن بن جاتا ہے اور قرآن کی واضح آیات مجہول اور منکرات کے احکام میں بدل جاتے ہیں۔
پھر ایک طرف حنفی مسلک یہ ہے کہ خبرواحد کی حدیث کو آیات سے متصادم قرار دیتے ہیں جن کی وجہ سے انکارِ حدیث کا مسئلہ آتا ہے اور پھردوسری امام شافعی کے نزدیک قرآن میں خبرواحد کا عقیدہ کفر اور تحریف ہے لیکن احناف کے نزدیک قرآن کی خبرواحد بھی آیت کے حکم میں ہے۔ جس سے قرآن کی آیات محکمات کا تصور ہی ختم کردیا گیا ہے اور میںایک عرصہ سے لگاہوا ہوں اور عدالت کے دروازے پر دستک دینے کے بغیر چارہ نہیں ہے ۔
٭

مدارس سے ہی انقلاب آئیگا!انشاء اللہ

منہ اٰیٰت محکمٰت ھن ام الکتٰب واُخر متشٰبھٰت
اس میں سے کچھ فیصلہ کن آیات ہیں جو کتاب کی بنیاد ہیںاور دوسری متشابہات ہے۔ (سورہ ال عمران:7)

مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کی محکم آیات میں گڑبڑ اور انتشار کی وہ کیفیت پیدا کردی کہ اچھے خاصے ذہین غلام احمد پرویز جیسے کو بھی بہت زیادہ الجھاؤ نے گمراہ کردیا۔ علماء کرام کی بدنیتی نہیں بلکہ نیک نیتی ہے کہ قرآن کا ترجمہ مت پڑھو اسلئے کہ جب ایک عالم دین اپنے علم کی گمراہی کاکٹا لیکر قرآن کو دیکھتا ہے تو اس کا اپنا دماغ بھی کام نہیں کرتا تو دوسروں کو کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کو پڑھ کر ہدایت حاصل کرو؟۔ ہندوستان میں قرآن کے ترجمہ کا سہرا شاہ ولی اللہ اور انکے صاحبزادگان شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کے سر ہے۔
لیکن قرآن سے مسائل کیسے حل ہوتے کہ جب محکم آیات پر حنفی، مالکی ،شافعی، حنبلی اور جعفری کے علاوہ فقہائ، مجتہدین، محدثین ، خلفاء راشدین اور صحابہ کرام وتابعین عظام تک کوئی متفق نہیں تھے؟۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پہلے کسی خلیفہ راشد ، صحابی، اہل بیت ، تابعی ، تبع تابعیاور مجتہد اور فقیہ ومحدث کی رائے یا عمل کو معیار بناتے ہیں ،اس کے بعد قرآنی آیات سے اس کی تائید کرتے ہیں۔
جب محکم آیات سے مسائل حل ہونے کے بجائے فکری، ذہنی، قلبی، نظریاتی ، عقیدے ، مسلک ، مشرب اوروجدانی کیفیات میں انتشار وفساد ہوگا تو مسلمان کیسے گمراہی کے دلدل سے نکلیں گے؟۔
محض یہ کہنا کہ” قرآن کی طرف رجوع مسائل کا حل ہے”ایک ہوئی فائرنگ کے سوا کچھ نہیں ہے اور شاہ ولی اللہ سے شیخ الہند مولانا محمودالحسن تک اور مولانا عبیداللہ سندھی سے علامہ تمناعمادی، غلام احمد پرویز،جاویداحمد غامدی اور مفتی منیر شاکر شہید تک قرآن کی طرف دعوت دینے والوں کی ہر دور میں ایک اچھی خاصی تعداد بھی رہی ہے۔ لیکن
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
قرآں کو بوٹی بوٹی کردیا فقہاء ملت نے
فرقوں کی بہتات میں رسولۖ خدا ملتا نہیں
جب قرآن میں آیات محکمات کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔ وہ محکمات جس کی وجہ سے اس وقت کی سپر طاقتیں روم وفارس لیٹ گئی تھیں اور مشرق و مغرب میں ایک بڑا انقلاب برپا کردیا تھا لیکن پھر خلافت خاندانوں کی لونڈی بنادی گئی اور مذہبی طبقہ محکمات کے بٹوارے میں لگ گیا۔ پھر متشابہات کا کیا حال کیا ہوگا؟۔ اسلام اور مسلمان قسمت کے بڑے دھنی ہیں۔ متشابہات کے معنی مشتبہ کے نہیں جس میں اشتباہ ہو بلکہ مشابہ مراد ہے۔ جیسے جیسے سائنس کی ترقی وعروج کا دور آرہاہے تو مشابہ آیت دنیا کے سامنے فتوحات کی تصویر لئے کھڑی ہے۔
پہاڑوں کو قرآن نے میخیں قرار دیا۔ سائنس کی دنیا نے ثابت کیا۔ پہاڑوں کے بارے میں کہا کہ یہ بادلوں کی طرح چلتے ہیں اور ثابت ہوا اور عرب اترابًا قد کے برابر گاڑیاں کہا۔ ترقی یافتہ دنیا نے ثابت کیا۔وانزلنا الحدیدًاہم نے لوہے کو نازل کیا تو سائنس نے ثابت کیا۔ مدارس کے علماء کرام کا کوئی قصور اسلئے نہیں کہ ان کو ورثہ میں جو کچھ مل گیا تو انہوں نے اپنے جبڑے سے مضبوط تھام لیا لیکن یہ بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر مدارس ہی کا کمال ہے کہ میں نے انہی سے کسب فیض کیا ،مجھے سب سے زیادہ سپوٹ بھی مدارس کے علماء ومفتیان ہی سے ملی اور آج بھی میرا میدان عمل یہی لوگ ہیں اور مساجد ومدارس ہی سے انقلاب آئیگا۔ انشاء اللہ
پختونخواہ سے کراچی ایک تیز رفتار بس پر لکھا تھا کہ ” جوماں کا اکلوتا بیٹاہووہ اس میں سفرنہ کرے”۔
علامہ عنایت اللہ مشرقی ،علامہ تمنا عمادی ،غلام احمد پرویز، مولانا ابوالاعلیٰ موددی، ڈاکٹر اسرار احمد، شیخ القرآن مولانا طاہر پنج پیری، ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی ،کمال لدین عثمانی ،پروفیسر مسعود احمد،مفتی منیر شاکر اور وہ تمام فرقے، جماعتیں اور گروہ جو ایک ایک شخصیت کے سہارے کا آسرا لئے ہوئے ہیں تو ہم ان کو احترام کیساتھ کہتے ہیں کہ تم لگے رہو۔ اپنی شخصیت قربان کردی تو پھر تمہارا بچے گا کیا؟۔ البتہ اگر جمہور امت کے علماء ومفتیان میں سے بہت بھی قربان ہوگئے تو بڑی تبدیلی و انقلاب کی توقع ہے۔
جمہور کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
اجماع ہے ملت کے مقدر کا سورج

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی کل محکم آیات500ہیں؟ پھر 500آیات منسوخ بھی ہیں؟ اسلئے امت مسلمہ گمراہی کا شکارہے!

متقدمین کے ہاں 5سو آیات پھر علامہ جلال الدین سیوطی نے 19اورشاہ ولی اللہ نے5تک معاملہ پہنچادیا

اصول فقہ : ”قرآن سے مراداحکام کی پانچ سو آیات ہیں ۔ باقی قرآن قصے، وعظ ونصیحت ہے”۔

پانچ سو آیات کو منسوخ کہا توپورا قرآن منسوخ قرار دیا۔ ”رسول قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کریںگے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔(الفرقان:30)

ابن تیمیہنے مسالک کو فرقے لکھ دیا اسلئے کہ حلال وحرام پر اختلاف تھا ۔ بیوی کو ”حرام” کہنے پر خلفاء راشدین اور ائمہ مجتہدین میں اختلاف تھا مگر ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم نے ”زادالمعاد” میں بیوی کو حرام کہنے پر20مسالک کے تضادات لکھ دئیے۔صحیح بخاری میں حسن بصری نے کہا کہ بعض علماء کے نزدیک یہ تیسری طلاق ہے جوکھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے پھر حلال ہوجائے بلکہ حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔ جبکہ ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حرام کا لفظ طلاق اور قسم کچھ بھی نہیں اور نہ اس کا کوئی کفارہ ہے۔

حالانکہ سورہ تحریم میں واضح ہے کہ اگر بیوی کو حرام قرار دیا تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا۔ نبیۖ کی ماریہ قطبیہ سے حرمت پر یہ نازل ہوئی تھی۔ محکم آیت کو بوٹی بوٹی کردیا۔اور اللہ نے واضح فرمایا کہ ” جیسے ہم نے بٹوارے کرنے والوں پر نازل کیا ہو جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیااور ہم ان سب سے پوچھیںگے”۔ (سورہ الحجر)یہی حشر طلاق کی آیات اور احکام کا بھی کردیا تھا۔سورہ البقرہ230 سے آیات 228،229 اور231،232 البقرہ اور سورہ طلاق کی آیات کو منسوخ قرار دے دیا تھا۔

علامہ سیوطی اور شاہ ولی اللہ کی نظر اصل گمراہی کی طرف نہیں گئی لیکن منسوخ آیات کو کم کردیا تھا۔

آیات کی منسوخی پر احکام کی منسوخی کا غلط ہے۔ توراة کی آیت سے یہود نے حلالہ کی لعنت مرادلی، انجیل کی آیت سے عیسائی نے طلاق کا خاتمہ مرادلیا اسلئے اللہ نے بہتر آیات قرآن میں نازل کردیں۔ حلالہ کا خاتمہ اور طلاق کی صحیح صورت واضح ہوگئی لیکن علماء نے پھر یہود ونصاریٰ کی طرح حلالہ کو بھی رائج کردیا اور طلاق کا درست تصور بھی ختم کردیا۔ سنیوں نے یہود کی طرح حلالہ کو رائج کردیا اور شیعہ نے نصاریٰ کی طرح طلاق کی آیات کے مفہوم سے واضح انحراف کردیا۔ سنی فقہاء نے اکٹھی تین طلاق کو رائج کردیا اور شیعہ نے تین ادوار میں گواہوں کی شرط رکھ کر عورت کے چھٹکارے کا راستہ روک دیا۔ دونوں قرآن وسنت اور فطرت کے خلاف ہیں۔

قرآن نے بہت وضاحتوں کیساتھ حلالہ سے بھی چھٹکارا دلا دیا ہے اور اگر عورت چاہے تو ایک ساتھ تین طلاق نہیں ایک طلاق بلکہ طلاق کا اظہار کئے بغیر ایلاء میں بھی عورت کو چھٹکارے کا اختیار دیا ہے۔ اسی طرح خلع کا بھی اختیار دیا ہے لیکن شیعہ سنی دونوں نے عورت کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے۔

جن پانچ آیات کو شاہ ولی اللہ نے منسوخ قرار دیا ہے وہ بھی منسوخ نہیں ہیں۔ بلکہ انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ ہے لیکن جن آیات کے احکام کو منسوخ کردیا گیا ہے ان کی طرف تو کسی نے دھیان نہیں دیا ہے اور آج اس سے چھٹکار اپانے کا وقت آگیا ہے۔

1: تم پر فرض کردی گئی ہے وصیت اگر تم میں سے کوئی مال چھوڑے والدین اور اقارب کیلئے معروف طریقے ،متقیوں پر حق ہے (البقرہ 180)

ایک مالدار شخص جب فوت ہوتو اس کی اولاد اور والدین وغیرہ کیلئے متعین وراثت ہے لیکن وصیت یا قرض کے بعد۔ اسلئے کہ ایک تہائی مال کی وصیت کا اس کو حق دیا گیا ہے اور والدین بسا اوقات زیادہ ہی ضرورت مند ہوتے ہیںاور دوسرے رشتہ داروں میں بھی ایسے افراد ہوسکتے ہیں۔ جب علماء نے یتیم پوتے پوتیوں کو وراثت سے محروم کردیا ہے تو اس پر وصیت سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے۔ جن آیات کی بنیاد پر وصیت کی اس آیت کو منسوخ کردیا ہے تو ان میں وصیت کے بعد وراثت کے الفاظ موجود ہیں۔

2: ”اور جو تم میں مریں اور بیویاں چھوڑ یں تو ان پر اپنی بیویوں کیلئے سال کی وصیت ہے گھر سے نہ نکالنے کی۔ پس اگر وہ نکل گئیں تو تم پر حرج نہیں جو وہ اپنے حق میں فیصلہ کریں معروف طریقے سے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(البقرہ240)

اس سے پہلے کی آیت البقرہ 234کو کہ بیوہ کی عدت4 مہینے 10دن ہے ، منسوخ قرار دینا حماقت ہے۔ بیوہ کا ضروری نہیں کہ عدت ختم ہوتے ہی نکاح ہو تو سال کی وصیت فطرت ہے۔

3: اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں تو ان پر اپنوں میں4 گواہ طلب کرو، اگروہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں روک لو یہاں تک کہ مریں یا ان کیلئے اللہ کوئی راہ نکال دے۔ (البقرہ:15)

ایک عورت کے بگڑنے سے معاشرہ خراب ہوتا ہے اسلئے اپنوں میں چار گواہی دیں تو اس کو گھرمیں روکنے کا حکم ہے ۔ اللہ کی طرف سے راستے نکالنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی نیا حکم نازل کرے بلکہ اس کیلئے شوہر کا بندوبست ہوجائے۔ اسلئے کہ اسکے بعد بھی سنگساری کا حکم تو نازل نہیں ہوا بلکہ سورہ نور میں 100کوڑے کا حکم مرد اور عورت کیلئے یکساں ہے۔ کنواری لڑکی ماردی جاتی ہے ۔ شادی شدہ مرد نہیں مارا جاتا اسلئے کہ اللہ کے پپغام کو عوام تک علماء نے پہنچانے کے بجائے قرآن کی طرف دھیان نہ دیا۔ لعان میں شوہر بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑلے تو بھی قتل نہیں کرسکتا اور نہ کوئی سزا دے سکتا ہے بلکہ اگر جج کو پتہ ہو کہ مرد سچا اور عورت جھوٹی ہے تو بھی سزا ٹالنے کا اللہ نے حکم دیا ۔جب سیدہ پروین شاکر کو شوہر نے طلاق طلا ق طلاق کہا تو یہ غزل کہی:

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کردے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام سے انتساب کردے گا

4: اے نبی! مؤمنوں کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تم میں 20آدمی صابر ہیں تو وہ200پر غالب آئیں گے ۔اور اگر تم میں100 ہوں تو1000 پر غالب آئیں گے۔ان پرجنہوں نے کفر کیا اسلئے کہ وہ قوم سمجھتے نہیں ہیں ۔ (لانفال : 65)یہ مؤمنوں کی نفری کے پیش نظر ہے اسلئے کہ کم من فئة قلیلة غلب فئة کثیرة باذن اللہ ”کتنے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پرغالب ہیں اللہ کے حکم سے”۔

آیت میں گنتی نہیں بلکہ کیفیت مقصود ہے اور اس کو کسی اور آیت سے منسوخ کرنا حماقت ہے۔

5: اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کروتو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دو،یہ تمہارے لئے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے۔پس اگر تم نہیں پاؤ تو اللہ غفور رحیم ہے۔ (المجادلہ : 12) فرض نہیں بہتر قرار دیا۔ مذہبی طبقہ بکتا ہے۔ بانٹنے کا حکم ہوگا تو اس سے غریب کو فائدہ پہنچے گا ۔ طلحہ محمود مولویوں کو الٹی سیدھی نماز پڑھاتا تھا ۔بقول اقبال باغی مرید:

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھرپیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دیہاتی ہو ، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بتاں پوجتے ہیں کعبے کو برہمن
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہے عقابوں کا نشیمن

جاویداحمدغامدی ، مفتی محمدتقی عثمانی ،مولانا فضل الرحمن، پیر ذوالفقار نقشبندی ، مفتی مختار الدین ، تبلیغی اکابراور علماء ومشائخ کے احوال بہت اچھے ہیں لیکن غریب بھوک سے مررہاہے۔

میرے مرشدکے مرید گاڑیوں بنگلے والے اور حاجی عثمان بوسیدہ عمارت یثرب پلازہ میں آخری چھٹی منزل پر جو دھوپ کی تپش سے گرم توا بنتا تھا۔ جبکہ مریدوں نے علماء ومفتیان کو گاڑیوں، بنگلوں کا مالک بنادیاتھا۔ایک خلیفہ نے مولانا فضل الرحمن کی دعوت کی تو مولانا نے اس کو فیڈرل Bایریا کا امیر بنانے کا امر کیا لیکن میں نے علماء کو روک دیا تھا۔

ہمارا اصل معاملہ روایات کو اس حدتک بیان کرنا ہے کہ بریلوی دیوبندی اور شیعہ واہل حدیث توجہ کریں۔ باقی صحیح بخاری میں حضرت علی کی روایت ہے کہ نبیۖ نے مابین الدفین کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا۔ اور یہ قرآن کی سلامتی پر دلیل ہے۔ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس نے اپنی بخاری کی شرح میں لکھ دیا کہ ” حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت علی سے قرآن کی سلامتی کیلئے یہ روایت اسلئے نقل کی ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں تاکہ ان کی تردید ہو کہ تمہارا تحریف قرآن کا عقیدہ غلط ہے۔ لیکن حقیقت میں حضرت علی کی یہ بات درست نہیں ہے اسلئے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے”۔( کشف الباری شرح صحیح البخاری)

قرآن کے خلاف شیعہ اور سنی دونوں متحد ہیں۔ فرقہ واریت کوانہوں نے اپنا کاروبار اور پیشہ بنایا ہواہے۔ جس دن ان کی روٹی روزی بند ہوگی تو پھر ڈھول باجا اٹھاکر گانے کا گانا شروع کردیں گے۔

میاں نور محمد جھنجھانوی اور حاجی امداد اللہ مہاجرمکی کے مریداکابرعلماء دیوبنداپنے مرشد کی بات ” فیصلہ ہفت مسئلہ” پر عمل کرتے تو فرقہ وارنہ مذہبی اختلافات کی جگہ معاملہ سنجیدہ علمی مسائل پر آتا اور قرآن وسنت کی طرف رجوع ہوجاتا۔ حضرت علامہ عبدالحی لکھنوی ایک حنفی عالم دین تھے اور مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فتاویہ رشیدیہ میں تین طلاق پر ان کا فتویٰ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک طلاق ہوتی ہے اور تین والا بھی نقل کیا ہے۔

فمن شاء فلیرجع ومن شاء فلیحلل ” پس جو چاہے تو ایک مجلس کی3 طلاق پر رجوع کرے اور جو چاہے لعنت حلالہ سے دوجمع دو چار ہوجائے”۔

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے کہہ دیا تھا کہ ”جو زیادہ غیرت مند ہو اس کی بیوی کو حلالہ سے بچاؤ۔ جس میں غیرت کی کمی ہوبھلے شکار کرو”۔

حنفی اور اہل حدیث، سلفی اور پنج پیری ہر طرف سے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ تم قرآن و حدیث اور اسلاف کے منکر ہو۔ چلو شیعہ کا قرآن یا اس کی تفسیر الگ صحابہ واہل بیت الگ۔ لیکن جن کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن ایک ہے، حدیث ایک ہے اور قرآن کے بعد صحاح ستہ اور بخاری صحیح ترین کتاب ہے وہ بھی ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں؟۔

آئیے ہم جائزہ لے لیتے ہیں کہ حق اور باطل کیا ہے؟۔ صحیح بخاری میں ” اکٹھی تین طلاق پر ایک آیت کا حوالہ ہے اور دو احادیث کا۔ آیت کا بھی جائز لیتے ہیں اور ان دونوں احادیث کا بھی ۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرہ 229)یہ آیت ہے۔
ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بخاری نے آیت کا درست حوالہ دیا ہے؟۔ غور سے دیکھ اور سمجھ لیجئے!۔

شافعی مسلک کے معروف بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی نے شافعی مسلک کی تائید میں لکھ دیا ہے کہ ” اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق جائز، سنت اور مباح ہیں اسلئے کہ جب دو طلاقیں ایک مرتبہ میں ہوسکتی ہیں تو پھر تین طلاق کا ایک ساتھ واقع کرنا بھی جائز ہے”۔

حالانکہ قرآن نے اکٹھی 2طلاق کی بات نہیں کی بلکہ یہ واضح کیا ہے کہ دو طلاق بھی الگ الگ مرتبہ ہیں۔ امام ابوبکر جصاص حنفی رازی نے اپنی کتاب ”احکام القرآن” میں یہ واضح کیا ہے کہ اس آیت میں الگ الگ مرتبہ طلاق ہی مراد ہیں،جیسے 2روپیہ کو 2مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے بلکہ 2مرتبہ فعل کو کہتے ہیں ۔2مرتبہ حلوہ کھایا۔ 2حلوہ کھایا نہیں۔

حنفی ،اہل حدیث، پنج پیری اور دیوبندی اتفاق کریںگے کہ امام بخاری نے شافعی مسلک کی تائید میں حنفی مسلک کو کھڈے لائن لگانے کے چکر میں پھسل کر بہت بڑا توپ پدو مار دیا ہے۔ اسلئے کہ اللہ نے فرمایا کہ واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتشلوا و تذہب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصٰبرین ” اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑو نہیں کہ پھر پھسل جاؤ اور تمہاری ہوا خارج ہوجائے۔اور صبر کرو ۔بیشک اللہ صبر والوں کیساتھ ہے۔(سورہ المائدہ :46)

عبداللہ بن عمر نے قرآن کے واضح طریقہ کار کو نہ سمجھا تو رسول اللہ ۖغضبناک ہوگئے اور سمجھایا کہ پاکی کی حالت میں طلاق دو ، یہاں تک کہ اس کو حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت آجائے ، پھر حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت آجائے تو اس کو رکھنا چاہتے ہو تو رجوع کرلو اور چھوڑنا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو۔ یہی وہ طریقہ ہے جو اللہ نے قرآن میں عدت اور طلاق کیلئے امر کیا ہے”۔ (بخاری کتاب التفسیر سورہ طلاق، بخاری کی کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت )

بریلوی مفتی اعظم پاکستان وتنظیم المدارس کے صدرمفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی اور دیوبندی مفتی اعظم پاکستان اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مفتی محمدتقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہۖ سے عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”او تسریح باحسان سورہ بقرہ آیت 229ہی تیسری طلاق ہے”۔(نعم الباری ۔ کشف الباری)

شافعی اور حنفی مسلک میں پھڈہ ہے کہ حنفی کہتے ہیں کہ ” البقرہ 230میں فان طلقہا فلا یحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں ہے بلکہ اس کے بعد فدیہ کیساتھ ہے اسلئے کہ ”ف” تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے”۔ جبکہ شافعی مسلک کا کہنا یہ ہے کہ ”اس کا تعلق الطلاق مرتان سے ہے”۔

جبکہ عدی بن حاتم کی روایت سے نہ صرف یہ کہ شافعی مسلک بالکل باطل ثابت ہوجاتا ہے بلکہ حنفی مسلک، عربی قاعدے اور حدیث کے مطابق تو الطلاق مرتان کا تعلق ”ف”کی تعقیب بلا مہلت کا تعلق فامساک بمعروف او تسریح باحسان سے ثابت اسٹیبلش ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں کوکنی برادری شافعی مسلک سے ہی تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی کوکنی ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور میرے کوکنی دوست منیر داؤد ملا شافعی مسلک چھوڑ کر حنفی بن چکے ہیں اور حنفی بھی وہ قرآن فہمی کی وجہ سے بن گئے ہیں لیکن اہل حدیث اور حنفی قرآن وحدیث کے مقابلے میں شافعی کو کبھی ترجیح نہیں دے سکتے ہیں۔ قرآن وحدیث سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ طلاق کا طریقہ کار الگ الگ طلاق دینا ہے۔ امام بخاری نے قرآن کی آیت کو شافعی مسلک کی تائید میں بالکل غلط پیش کیا ہے۔ جس کو پاکستان میں موجود سبھی طبقات مانیں گے۔

حنفی مسلک کی نالائقی ہے کہ اپنا مقدمہ اچھے انداز میں پیش نہیں کیا۔ چانچہ علامہ بدر الدین عینی نے ابن حجر عسقلانی کی تردید میں لکھ دیا ہے کہ” اس آیت میں دو مرتبہ کی طلاق کو اکٹھی ثابت کرنے پر تیسری مرتبہ کوقیاس کرنا ٹھیک نہیں ہے اسلئے دو بار طلاق سے رجوع ہوسکتا ہے جبکہ تیسری بار کی طلاق سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ حالانکہ امام بخاری اور ابن حجرعسقلانی دونوں کی بنیاد ہی غلط تھی اور اس بنیاد کو ٹھیک قرار دینا علامہ عینی کی بھی بڑی غلطی تھی۔

ثریا سے علم، دین اور ایمان کو واپس لارہا ہوں تو ایمان والے میری مدد کریں ورنہ پھر تمہاری داستاں تک بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اسلئے کہ میں تم سے روٹی چائے نہیں دین کی مدد مانگ رہاہوں ۔ دین کی مدد اللہ کی مدد ہے اور اللہ پھر مدد کرے گا۔

مفتی گوہر علی شاہ سے مولانا ندیم درویش کہتا ہے کہ ”مروجہ جمہوریت مطلقاً کفر ہے” تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ ”یہ جملہ اجتماع نقیضین ہے یعنی اس میں دونوں جملوں کا آپس میں تضاد ہے”۔ اور جب تضاد ہے تو دعویٰ بھی باطل تو تردید کی ضرورت بھی نہیں رہتی ہے۔ پھر مولانا درویش کو مجبور کیا جاتا ہے کہ کہو کہ عالم دین نہیں ہو ۔ منطق نہیں سمجھتے”۔

جب آیات 229اور230البقرہ میں اکٹھی تین طلاق کا ثبوت موجود نہیں ہے تو پھر اکٹھی تین کا حکم نافذ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی گوہر علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا لیکن ہمیں جلدی تھی اور ان کو نکلنے میں دیر لگی تھی اس لئے ملاقات نہیں ہوسکی۔ مفتی منیر شاکر نے ان کی تعریف بھی کی تھی اور اپنا سلام بھی دیا تھا۔ پروگرام تھا کہ مفتی منیر شاکر اور علامہ جوادالہادی کی بھی ان سے ملاقات کراؤں گالیکن تقدیر میں نہیں تھی۔

امام ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زادالمعاد” میںابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ فان طلقہا کا تعلق فدیہ اور دو الگ الگ مرتبہ طلاق کیساتھ ہی ہے”۔جس سے اہل حدیث کی طرف سے بھی حنفی مسلک کی تائید ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ” اللہ نے سورہ ا بقرہ آیت :228میں عدت کے تین اداوار یا مراحل کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا (اور انکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہتے ہوں) اللہ نے عدت کی پوری مدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے؟” ۔تو کیا یہ حکم منسوخ ہے؟۔

ناسخ اور منسوخ کا علم رکھنے والوں نے نہیں بلکہ حلالہ کی لذت میں دیوانوں نے یہ آیت الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان سے منسوخ قرار دیدی ہے۔

حالانکہ دورِ جاہلیت میں دو جاہلانہ رسوم تھیں۔ ایک یہ کہ شوہر عدت میں جتنی بار چاہتا تھا غیرمشروط رجوع کرسکتا تھا۔ تو اللہ نے اصلاح اور معروف کی شرط رکھ دی اور جاہلیت کی رسم اڑاکر رکھ دی تھی اور دوسری جاہلانہ رسم یہ تھی کہ ” اکٹھی تین طلاق پر شوہر اور بیوی باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے بھی رجوع نہیں کرسکتے تھے بلکہ حلالہ کی لعنت سے جہنم کے چودہ طبق کی نچلی سطح سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس کا بھی ان آیات میں خاتمہ کردیا ہے۔

جب علماء وفقہاء نے معروف و اصلاح کی شرط کو خارج کردیا توبہت بڑا نقصان کیا ہوگیاہے؟۔

حنفی مسلک میں اگرنیت نہ ہو توبھی شہوت کی نظر پڑنے سے رجوع ثابت ہوجاتا ہے ۔

شافعی مسلک میں اگر نیت نہ ہو تو پھر جماع کی سروس جاری رکھنے سے بھی رجوع نہیں ہوتا ہے۔

قرآن کے معروف اور اصلاح کی شرط کو چھوڑ کر علماء ومفتیان عزت کمائیں گے؟۔ نہیں نہیں بلکہ حلالہ کی لذت اٹھاکر بارود سے اڑنے کی ذلت ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ طالبان نے استاذان کو کیوں مارنا شروع کردیا ہے؟۔ جب اس کو معلوم ہوگا کہ اسکی ماں کا حلالہ کیا ہے تو گمنام خود کش سے اس کو اڑائے گا۔ علماء ومفتیان قرآن کی بنیاد پر اپنی عوام کی عزتوں کو نہیں بچاسکتے ہیں تو شاہ ولی اللہ کا دور محمد شاہ رنگیلا کا تھا جو اورنگزیب بادشاہ کا پوتا تھا۔ جو لڑکیوں کو ننگا کرکے سیڑھیوں میں بالا پر چڑھنے کیلئے کھڑا کرتا تھا اور ان کے پستانوں کو پکڑ پکڑ چلتا تھا اس سے اس کا داد ابھی بہت بیکار تھا جس نے فتاوی عالمگیری میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری پر حد معاف کردی تھی ۔لیکن علماء ومفتیان اس سے زیادہ بیکار تھے جنہوں نے 26ویں ترمیم کی طرح فتاوی عالمگیریہ کا آئین مرتب کیا تھا اور حلالہ کے نام پر نکاحی عورتوں کے گل چھرے اڑاتے تھے۔

1857ء کی جنگ آزادی سے بدتر حالات کا سامنا افغانستان ، عراق، لیبیا، شام اور فلسطین کے بعد ہماری تباہی وبربادی کا خدا انخواستہ ہوسکتا ہے۔

اگر اپنی طرف سے کوئی جھوٹ بولتا ہے کہ ایک مرتبہ آیت 228کے حکم کہ ”عدت میں باہمی صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے ” کو آیت229البقرہ نے منسوخ کردیا تو یہ بھی جھوٹ ہے اور اگر کوئی کہتا ہے کہ آیت 230نے منسوخ کردیا تو بھی جھوٹ ہے۔ پھر تو آیت 231اور 232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد اجازت دیکر سب کو منسوخ کردیا ہے؟۔ اور سورہ طلاق کی آیت ایک کے بعد دوسری نمبر آیت سے بھی سب کو منسوخ کردیا ہے؟۔

قرآن میں کوئی تضادات نہیں تمہاری شہوت کا جذبہ امت مسلمہ کو جنت سے نکال رہاہے؟۔

بخاری میں پہلی حدیث یہ ہے کہ رفاعہ القرظی نے اپنی بیوی کوتین طلاق دی ، اس نے عبدالرحمن بن زبیرالقرظی سے نکاح کیا اور نبیۖ کے پاس آگئی۔ اپنے دو پٹے کا پلو دکھایا کہ میرے شوہر کے پاس ایسی چیز ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا آپ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو نہیں لوٹ سکتی۔ یہاں تک دوسرے شوہر کا ذائقہ اس سے نہ چکھ لو جیسے کہ پہلے شوہر کا چکھ لیا ہے اور وہ تمہارا نہ چکھ لے”۔

کیا بخاری کی اس حدیث سے قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے؟۔ کہ عدت میں اللہ نے باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دیدی ہے اور اس حدیث میں روکا گیا ہے؟۔ بالکل نہیں! بلکہ یہ حدیث بخاری کی دوسری احادیث سے بالکل متصادم ہے جن میں الگ الگ طلاق کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے شوہر نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں اپنی مردانہ قوت سے اس کی چمڑی ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں۔ جس سے بخاری کے عنوان کو سپوٹ نہیں ملتی اور چاروں مسالک میں کسی نے بھی اس حدیث کی بنیاد پر اکٹھی تین طلاق کی دلیل نہ پکڑی یہاں تک کہ امام شافعی نے بھی ۔ پھر کسی عورت کو حلالہ کیلئے نامرد پر مجبور کرنا جس سے حلالہ نہیں ہوتا تو بھی نبیۖ کی شان میں بڑی گستاخی ہے۔

وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ”اگرچہ مہمان ہو مگر اپنے خصیے چھپاؤ”۔ بخاری بڑا آدمی تھا لیکن قرآن کے سامنے کچھ نہیں تھا اور اس کی غلطی نے کافی لوگوں کی عزتوں بھرتا نکال دیا ہے۔

بخاری کی دوسری حدیث عویمر عجلانی والی ہے جس میں لعان کے بعد اکٹھی تین طلاق دی گئی تھی اور وہ سورہ طلاق کے مطابق فحاشی کی صورت میں بہترین وضاحت ہے جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ”اس کی وجہ سے عدت میں رجوع کی آیات کو منسوخ قرار دے دیا جائے”۔

علماء وفقہاء کا شروع میں یہی مؤقف تھا کہ اکٹھی تین طلاق بدعت ہیں یا سنت؟۔ شافعی کیلئے یہ سنت کی دلیل تھی اور حنفی اس کو سنت کیلئے دلیل نہیں مانتے تھے۔ قرآن کی تنسیخ کا تو کسی کو وہم وگمان بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ بڑی شان وعظمت والے تھے جو قرآن کو منسوخ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیرینے اس حدیث کے بارے میں بھی لکھا کہ ” ہوسکتا ہے کہ عویمر عجلانی نے الگ الگ تین بارطلا ق دی ہو”۔ (فیض الباری شرح صحیح البخاری) علماء کرام اور عوام الناس بتائیں کہ عویمر عجلانی کی روایت کے بارے میں حنفی ومالکی مؤقف درست ہے یا شافعی؟۔

پورے ذخیرہ احادیث میں یہی ایک حدیث وہ ہے جس پر سبھی کا اتفاق ہے کہ اس میں اکٹھی تین طلاق کا ذکر موجود ہے اور یہ صحیح متن اور مستند طریقہ سے نقل ہوئی ہے ۔باقی کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں جس میں اکٹھی تین طلاق کا ذکر ہو اور اس پر دوامام اورمسالک کے علماء ومفتیان متفق ہوں۔

کیا اس حدیث سے قرآن میں عدت کے اندر رجوع والی آیات کو منسوخ قراردیا جاسکتا ہے؟۔ نہیں ہرگز بھی نہیں اور قطعاًہی نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میں منکر حدیث ہوں؟۔صحیح بخاری کا گستاخ ہوں؟۔ اسلاف اور سلف صالحین کی عظمتوں کا منکر ہوں؟۔

نہ تو احادیث کا منکر ہوں،نہ امام بخاری کا میں گستاخ ہوں اور نہ ہی اسلاف اور سلف صالحین کی عظمتوں کا منکر ہوں لیکن قرآن کی بنیادپر، اسلاف کے متفقہ مؤقف کی تائید سے ایسی روایت کی تردید علم، ایمان اور دین کا تقاضاہے جو قرآن سے بھی متصادم ہو اور چاروں فقہی مسالک سے بھی اور خود بخاری کی دیگر احادیث سے بھی بالکل متصادم ہو۔

خیبرپختونخواہ کے دیوبندی،اہل حدیث، پنج پیری، شاکرمنیری اور بریلوی متفقہ طور پر یا انفرادی طور پر اپنا مؤقف لکھ کر اخبار کے اڈریس پر بھیج دو۔

جب یہ ثابت ہوگیا کہ اکٹھی تین طلاق کیلئے صرف اور صرف ایک حدیث ہے عویمر عجلانی نے لعان کے بعد جو دی ہے تو اس سے قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کرنا تو دور کی بات ہے حنفیوں کے نزدیک تو طلاق سنت بھی ثابت نہیںہوتی ہے۔

اب مسئلہ آتا ہے ایک مشہور حدیث کا جس کو بہت غلط فہمی سے متفقہ سمجھا جاتا ہے کہ محمود بن لبید نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کو ایک شخص نے خبردی کہ فلاں آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ جس پر رسول ۖ غضبناک ہوکرکھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہوجبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ (سنن نسائی)

اگر اس حدیث کو امام شافعی مانتے تو اکٹھی تین طلاق کو سنت کیوں قرار دیتے۔ ان کے نزدیک یہ روایت بالکل بھی درست نہیں ہے اسلئے اس کو متفقہ قرار دینا انتہائی درجے کی بہت بڑی حماقت ہے۔

بخاری ومسلم نے اس روایت کو اس قابل نہیں سمجھا کہ صحیحین میں اس کو درج کردیا جاتا ۔ حالانکہ حنفی مسلک کی عمارت اس روایت پر کھڑی ہے کہ اکٹھی تین طلاق بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں اور اس کو جب شافعی نہیں مانتے تو متفقہ ہرگز ہرگز نہیں۔

محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی صحیح بخاری کی شرح کشف الباری میں تفصیلات لکھی ہوئی ہیں اور علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری بھی دیکھ لو مگر اس میں یہ ایک غلطی ان سے سرزد ہوئی ہے کہ اگر قرآن میں فان طلقہا کا لفظ نہ ہوتا جس سے تعقیب بلا مہلت کے قاعدے کی وجہ سے اکٹھی تین طلاقیں ثابت ہوتی ہیں تو پھر جتنی آیات واحادیث ہیں تو ان سب سے الگ الگ طلاقوں کا ثبوت ملتا ہے۔ حالانکہ علامہ غلام رسول سعیدی نے مغالطہ کھایا ہے ۔ اس میں تو حنفی مسلک دو مرتبہ طلاق سے نہیں جوڑتا ہے بلکہ فدیہ سے جوڑتاہے اور جس کو ”نورالانوار: ملاجیون” میں بریلوی دیوبندی اپنے مدارس میں پڑھاتے ہیں، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اس کو صحیح کرنے کا اعلان کردیں۔

رسول اللہ ۖ نے واضح فرمادیا تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین ادوار سے ہے اور یہ سورہ بقرہ کی آیت 228اور 229کی واضح تفسیر ہے اور یہ وضاحت نہ سمجھنے پر غضبناک ہوئے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر عویمر عجلانی والی روایت کا کیا بنے گا؟۔ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ فحاشی کی صورت میں سورہ طلاق کے اندر اللہ نے عدت میں روکنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ فحاشی کی بنیاد پر عدت میں مرحلہ وار طلاق کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ یہی قرآن وحدیث اور مسلک حنفی کا تقاضہ تھا اور اس پر سب اتفاق بھی کرلیںگے۔ انشاء اللہ

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمود بن لبید کی روایت کا بنے گا جس کو شافعی نہیں تو حنفی مانتے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایت کے دوپہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر واقع ہو تو پھر رجوع بھی ہوسکتا ہے کہ نہیں ہوسکتا ہے؟۔

پہلی صورت : تین طلاق واقع ہوسکتی ہیںاور یہ اچھی بات نہیں ہے کہ اکٹھی تین طلاق دی جائے۔

دوسری صورت: رجوع ہوسکتا ہے اسلئے کہ اللہ نے قرآن میں واضح طور پر باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع کی عدت میں اجازت دی ہے۔

سوال: اگر رجوع ہوسکتا ہے تو پھر نبیۖ نے رجوع کا حکم کیوں نہیںدیا؟۔ غضبناک ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
جواب: اس سے زیادہ مضبوط حدیث بخاری کی ہے جس میں نبیۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود عبداللہ بن عمر سے رجوع کا فرمایا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایات میں خبر دینے والے شخص، طلاق دینے والے شخص اور قتل کی پیشکش کرنے والے شخص کو چھپایا گیا ہے۔ حالانکہ دوسری روایات میں یہ افراد معلوم ہیں ۔خبر دینے والا شخص حضرت عمر تھے ۔ جس نے طلاق دی تو وہ عبداللہ بن عمر تھے اور جس نے قتل کی پیشکش کی تھی تو وہ حضرت عمر تھے۔ بخاری کی روایت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر کی طلاق پر حضرت عمر نے خبر دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے۔ دوسری روایات میں بخاری کے اندر روایوں نے غضبناک ہونے والی بات کو چھپادیا ہے۔ لیکن تین چیزوں کا تو ثبوت مل گیا ۔ خبر دینے والے کا ، جس کی خبر دی گئی اور رسول اللہ ۖ کے غضبناک ہونے کا۔ چوتھی چیز قتل کی پیشکش کرنے والے کا؟۔تو روایات میں یہ موجود ہے کہ حضرت عمر نے ہی یہ پیشکش کی تھی۔

اب رہ جاتی ہے ایک ساتھ تین طلاق دینے کی وضاحت ؟۔ تو صحیح مسلم میں حضرت حسن بصری کی روایت ہے کہ ایک مستند شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی تھیںاور 20سالوں تک کوئی اور شخص نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص مل گیا اور اس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ (صحیح مسلم)

ان دونوں افراد کے ناموں کا ذکر کیا جاتا تو پتہ چل جاتا کہ کون زیادہ فقیہ اور کون زیادہ مستندتھا؟۔

بخاری کا راوی ذکر کرتا ہے کہ رفاعہ القرظی نے تین طلاقیں دی تھیں۔ دوسرا راوی ذکر کرتا ہے کہ الگ الگ تین طلاقیں دی تھیں۔ بخاری کبھی ایک کو مستند سمجھ کر اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دینے کیلئے اس عنوان کے تحت درج کرتا ہے اور کبھی دوسرے کو مستند سمجھ کر الگ الگ طلاق کو واضح کردیتا ہے۔

رسول اللہ ۖ کے دور میں محمود بن لبید پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ اور حضرت عمر کے حوالہ سے جب سختی اور عبداللہ بن عمر کی طرف سے اکٹھی تین طلاق پر بعض لوگوں کیلئے پردہ ڈالنا زیادہ مناسب اسلئے تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد آپس کی قتل وغارت سے ناچاکی کی ایک فضا قائم ہوچکی تھی۔ عبداللہ بن عمر سے کسی نے کہا کہ حضرت عمر اپنا جانشین مقرر کریں گے ۔ جس پر اس نے قسم کھائی کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔ پھر موقع مل گیا تو حضرت عمر سے پوچھ لیا کہ میں نے یہ سنا ہے اور میں نے قسم کھائی تو پوچھنا مناسب سمجھ لیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ ”اگر میں اپنے بعد کسی کو بھی مقرر نہیں کروں تو بھی میرے لئے جائز ہے۔ اسلئے کہ نبیۖ نے کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔اور اگر میں اپنے بعد کسی کو نامزد کردوں تو بھی میرے لئے جائز ہے اسلئے کہ ابوبکر نے اپنے بعد نامزد کیا تھا”۔

پھر حضرت عمر نے تیسرا راستہ اپنایا ۔ چھ افراد کی شوریٰ بنائی ۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت زبیر بن عوام۔

کسی نے مشورہ دیا کہ عبداللہ بن عمر ہی کو نائب بنادو۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس کو طلاق کا طریقہ بھی نہیں آیا تو اس پر امت مسلمہ کی ذمہ داری لگاؤں؟ اور یہ ہرگزنہیں ہوسکتا ہے۔ یہ خلافت کیلئے نااہل ہے۔ حضرت عمر نے محسوس کیا کہ جس نے اتنی بڑی قسم کھائی کہ میرا والد نبیۖ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تو وہ یہ نہیں جانتا کہ نامزد بھی اس کا والد ہی ہوا ہے؟۔ مگرحضرت عمر نے یہ نااہلی کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ طلاق کے مسئلے کو نہ سمجھنا نااہلی کی بنیاد بنادیا۔

جب پھر خلافت قائم ہوگی تو شاید اس میں بھی طلاق کا مسئلہ سمجھنا اہلیت کی بنیاد بن جائے گا۔ اور لوگوں کی نااہلی یا ہٹ دھرمی سے یہ ثابت ہورہاہے کہ ایک دن طلاق کے مسئلے پر خلافت قائم ہوگی۔

حضرت عمر نے حکم دیا کہ حضرت صہیب3 دن تک نماز پڑھائے گا۔ تین دن تک شوریٰ کے تمام ارکان بند ہوں گے اگر فیصلہ نہیں کیا تو پھر سب کی گردن ماردی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ کچھ نوجوانوں کو نگرانی کیلئے مقرر کردیا تھا۔

چھ افراد میں جن کی اکثریت ہو تو اس کو خلیفہ بنایا جائے اور دوسرے نہیں مانیں تو گردن اتاری جائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہ میں اس کا امیدوار نہیں ہوں۔حضرت عمر نے کہا کہ اگر تین ایک طرف اور تین دوسری طرف ہوں تو جن تین میں عبدالرحمن بن عوف ہو تو اس کو خلیفہ بنایا جائے۔

حضرت زبیر نے اپنا ووٹ حضرت علی کے حق میں دیا اور حضرت طلحہ نے اپنا ووٹ حضرت عثمان کے حق میں دیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے ووٹ کا اختیار حضرت عبدالرحمن بن عوف کو دیا اور یوں حضرت عبدالرحمن بن عوفکی حیثیت ایک فیصلہ کن شخص کی ہوگئی۔ مدینہ کے انصار ومہاجرین اور اشراف وعوام سے تین دن تک رائے طلب کی اسلئے کہ خلافت کے دو امیدوار تھے۔ حضرت عثمان اور حضرت علی۔ ان دونوں میں ایک کو منتخب کرنا تھا۔

جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے دونوں کا انٹرویو لیا تو ایک سوال دونوں سے پوچھ لیا کہ اپنی خلافت کو ابوبکر و عمر کے طرز پر چلاؤگے؟۔ حضرت علی نے کہا کہ میں ان کا پابند نہیں ہوں ۔ نبیۖ کی سنت کا پابند ہوں۔ حضرت عثمان نے کہا کہ میں ان دونوں کے طرز پر خلافت کو چلاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف خود بھی طلب گار نہیں تھے اور ان دونوں میں سے اپنے احساسات کے مطابق حضرت عثمان میں طلب نہیں دیکھی اور حضرت علی میں طلب دیکھی تو حضرت عثمان کے حق میں فیصلہ کردیا تھا۔ حضرت عمر نے سب کو تاکید کی تھی کہ کوئی بھی رشتہ داری کا لحاظ نہ کرے۔ خلیفہ بن جائے تو پھر اپنے اقارب کی جگہ عوام اور اہل کو ترجیح دے اور حضرت عمر نے سپہ سالار حضرت خالدبن ولید اور فاتح فارس حضرت سعد بن ابی وقاص کو بھی اپنے دور میں سپہ سالاری اور گورنری سے ہٹادیا تھا۔

آج کل دیوبندی علماء کرام ومفتیان عظام بھی دو گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ایک جمہورریت کو کفر کہتا ہے اور دوسرا جمہوریت کو کفر نہیں کہتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے دلائل بھی دیتے ہیں اور امارت اسلامی افغانستان سے رہنمائی پر بھی متفق ہوجاتے ہیں۔

دیوبندی میں یزیدی اور حسینی کی تقسیم بھی ہے۔ جب امیر معاویہ نے یزید کو نامزد کیا تھا تو عبداللہ بن عمر نے کہا تھا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے میں پہنچتا تو اپنے حق میں فیصلہ کرواتا۔ حضرت امیرمعاویہ کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ ”میرا بیٹا اس سے بہتر اور میں اس کے باپ سے بہتر ہوں ”۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ” مجھے انتشار اور فتنے کا خطرہ تھا ورنہ تواس کو بہت سخت جواب دے سکتا تھا”۔

جو لوگ یزید کی نامزدگی کی تعریف کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن صحابہ کرام کی عظمت و شان اسلئے نہیں کہ صحابہ واہل بیت کے ہوتے یزیدکا حق نہیں تھا ۔ فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے صحابہ کرام کے درجات میں بھی فرق تھا تو یزید صحابی بھی نہ تھا۔

مکہ میں عبداللہ بن زبیر نے اپنی خلافت قائم کی تھی اور شام میں یزید کے مقابلے میں ایک صحابی کا خلیفہ ہونا زیادہ مناسب تھا۔ یزید کے بعد بنی امیہ کی دوسری شاخ مروان بن حکم کو خلیفہ بنایا گیا تھا۔ عبداللہ بن زبیر نے اس کے حملوں کو بھی ناکام بنایا مگر پھرعبدالملک بن مروان نے عبداللہ بن زبیر کی والدہ کے سامنے وہ حشر کیا جو ملاعمر دور میں ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کی لاش کیساتھ کیا گیا تھا۔ نجیب کی والدہ پتہ نہیں زندہ تھی یا نہیں لیکن چھوٹے بچے تھے اور عبداللہ بن زبیر کی والدہ اسماء بنت ابی بکر 100 سال کی عمر میں نابینا زندہ تھی۔ عبداللہ بن زبیر نے اپنی ماں سے کہا کہ میں ہتھیار ڈال دیتا ہوں اسلئے کہ مرنے کے بعد میری لاش کا بہت برا حشر کریں گے۔ تو آپ کو تکلیف ہوگی؟۔ صدیق اکبرکی بیٹی ماں اسماء بنت ابوبکر نے کہا: بیٹا!تمہارے ٹکڑے کرنے سے زیادہ تکلیف تمہارے ہتھیار ڈالنے پر مجھے ہوگی۔ جب ایک دفعہ تمہیں قتل کیا جائے تو پھر ٹکڑے کرنے سے فرق نہیں پڑتاہے؟۔ بیٹے نے اپنا کاندھا آگے کیا کہ دعا دو۔ نابینا ماں نے پیٹھ پر تھپکی دی اور کہا کہ اللہ مدد کرے۔ پوچھا، پیٹھ سخت کیوں لگتی ہے؟۔ بتایا اماں زرہ پہن رکھا ہے۔ ماں نے کہا کہ بیٹا زرہ اتاردو۔ چنانچہ زرہ اتار دیااور لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تو کئی دنوں تک حجاج نے لاش لٹکائے رکھی۔ حکم دیا کہ ماں کو قریب لاؤ اور پھر کہا کہ اپنے بیٹے کا حشر دیکھ لیا؟۔ اس کو کیا ملا؟۔ حضرت ابوبکر کی 100سالہ بیٹی اسماء بنت ابوبکر نے کہا کہ بیٹے نے سودا مہنگا نہیں کیا ہے۔ تم نے اس کی دنیا برباد کردی اور اس نے تمہاری آخرت برباد کردی۔ یہ تھی صحابہ کرام کی عالی شان۔

اگر یزید کے خلاف حضرت امام حسین کی قربانی کی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر کے واقعہ کو بیان کیا جاتا تو اہل تشیع کے مقابلے میں بعض دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کو یزیدی بننے کی ضرورت نہ پڑتی۔ یزیدومروان اور بنوامیہ وبنوعباس کیلئے ہمارا ایمان اور اسلام خراب ہوتا ہو تو یہ بڑی حماقت ہوگی اورجب دیوبندی مکتبہ فکر کے حکیم الاسلام قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کو 50سال اہتمام کے بعد اپنا جانشین مقرر کرنا چاہا تو دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کی طرف سے مزاحمت ہوئی۔ وہ نعت لکھ دی جو ایک بریلوی خوشی کے عالم میںلکھتا ہے ۔ جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی نے مولانا عبیداللہ انور ابن مولانا احمد علی لاہوریکو مفتی محمود کی جگہ قائد جمعیت علماء مقرر کرنا چاہا تو جمعیت علماء اسلام کی شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کو بنادیا تھا، جس سے جمعیت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔رائیونڈ کی شوریٰ اور بستی نظام الدین بھارت کی امارت بھی تبلیغی جماعت کے دو گروپ میں تقسیم ہیں۔

قرآن کی طرف توجہ کی گئی تو فرقہ واریت اور گروہ بندیوں کی جگہ سب مساجد ومدارس اور مذہبی جماعتوں کو خدمات کا اتنا موقع ملے گا کہ تقسیم کے بجائے سب ایک دوسرے کی مدد گار ہوں گی۔

اگر صرف طلاق اور عورت کے حقوق کے حوالہ سے قرآن وحدیث کی درست تعلیمات کو عوام اور دنیا کے سامنے لایا جائے تو ایک بہت بڑی نمایاں تبدیلی آئے گی۔ امریکہ، یورپ، آسڑیلیا، بھارت اور مشرق ومغرب اورشمال وجنوب میں پوری دنیا کو اسلامی نظام کے حق میں ووٹ دینا پڑے گا۔ تمام زبانوں میں قرآن کے تراجم کافی ہوں گے۔ لیکن جب قرآنی آیات کے واضح مفہوم کو بگاڑ دیا گیا ہو تو پھر کون قرآن کو دیکھ اور سمجھ کر انقلاب کی امید رکھ سکتا ہے؟۔اسلئے ہم متوجہ کررہے ہیں۔

 

سورہ بقرہ کی آیات میں تسلسل کیساتھ 222 سے 237تک عورت کے حقوق ہی حقوق کا ذکر ہے۔ لیکن علماء وفقہاء نے اس کمزور طبقے کو بالکل محروم کرکے رکھ دیا ہے۔ خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

 

آیت222البقرہ میں دو باتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ عورت کا حیض تکلیف اور ناپاکی ہے اور دوسری یہ کہ تکلیف اور ناپاکی سے بچنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور توبہ کرنے اور پاکی سے اللہ نے محبت کا فرمایا۔

جس کا مطلب ایک تو طلاق کیلئے یہ مقدمہ ہے اور پاکی وحیض کا طلاق کے احکام میں بڑا اہم کردار ہے اور بنیاد اس کی عورت کو تکلیف سے بچانا ہے۔

جب ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر احکام کا جائزہ لیں گے تو پھر ٹھوکریں کھانے سے بچت ہوجائیگی۔

آیت223البقرہ میں عورت کو اثاثہ قرار دیا ہے۔شوہر کیلئے عورت بچوں کی ماں ہوتی ہے ، گھر کی عزت ہوتی ہے، راحت وسکون کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اپنے گھر اور خاندان کی کشتیاں جلا کر آتی ہے اور اس کا خیال رکھنا انسانیت کا اہم تقاضہ ہے۔

آیت224البقرہ میں طلاق کا بنیادی مقدمہ ہے کہ اللہ کو اپنے عہدوپیمان کیلئے بطور ڈھال یوں استعمال نہ کرو کہ نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ۔ یعنی کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے کہ جب میاں بیوی بالخصوص اور دیگر عوام بالعموم صلح کریں تو اللہ اور مذہب کو اس میں رکاوٹ بنایا جائے۔

یمین کی دواقسام ہیں۔ نکاح اور طلاق کو بھی یمین کہتے ہیں اور حلف کو بھی یمین کہتے ہیں۔ جب یمین سے مراد حلف ہو تو وہ قسم اور کفارہ کو کہتے ہیں جس کا سورہ مائدہ میں ذکر ہے کہ ”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو”۔ یہاں پر اس قسم کے کسی حلف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، تفاسیر اور کتابوں سے قرآن کی واضح آیات میں مغالطہ دیا گیا ہے کیونکہ یہاں حلف کا کوئی تذکر ہ نہیں ہے۔

آیت225البقرہ میں تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ اللہ تمہیں یمین یعنی طلاق کے لغو الفاظ پر نہیں پکڑتا مگر جو گناہ تمہارے دلوں نے کمایا، اس پر پکڑتا ہے۔حدیث بالکل برحق ہے کہ طلاق مذاق میں معتبر ہے لیکن اس کا تعلق عورت کے حقوق سے ہے اور جب عورت طلاق کے بعد صلح نہیں کرنا چاہتی ہو تو پھر اس کی مرضی ہوگی اور مذاق کی طلاق میں بھی اس کو خلع کے حقوق نہیں بلکہ طلاق کے حقوق ملیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے رکاوٹ نہیں بلکہ عورت کی طرف سے رکاوٹ ہے۔ اگر اس کو صلح نہیں کرنی تو پھر طلاق کے ظاہری الفاظ اور کنایہ الفاظ سب معتبر ہوں گے۔ مذاق بھی بالکل معتبر ہوگا لیکن اللہ نے ان آیات میں یہ سمجھایا ہے کہ اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوں اور کوئی مذہب کی بنیاد پر کہے کہ اللہ صلح کی راہ میں رکاوٹ ہے تو یہ فتویٰ غلط ہے اور اس کی وجہ سے اللہ نے وضاحتیں کردی ہیں۔

آیت226البقرہ میں ایلاء کی وہ گھناؤنی بلا ہے جس میں شوہر طلاق کا کھلے الفاظ میں اظہار بھی نہیں کرتا تھا اور مدتوں اس کو اپنی تحویل یا نکاح میں رکھتا تھا۔ اللہ نے اس کی ڈیڈلائن بتائی ہے کہ جب شوہر طلاق کے الفاظ کے بغیر ناراض ہو تو پھر عورت کیلئے چار مہینے انتظارکی عدت ہے۔اس میں اگر باہمی رضامندی سے صلح ہوگئی تو ٹھیک ہے اور نہیں ہوئی تو چارماہ کے بعد عورت جہاں چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔ یہ بہت اہم آیت اور اس میں بڑا اہم حکم ہے۔ جب ناراضگی کی عدت چار ماہ مقرر کی ہے اللہ نے تو کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کے بعد یہ نہیں سمجھے گا کہ مدتوںمیرے لئے بیٹھی رہے گی۔ جب نبیۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے بعد رجوع کرنا چاہا تو اللہ نے فرمایا کہ پہلے ان سب کو طلاق کا اختیار دے دو تاکہ اگر وہ راضی نہ ہوں تو علیحدگی پر عمل ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایلاء بھی حقیقت میں طلاق ہی ہے لیکن طلاق کا کھلے الفاظ میں ذکر نہیں ہے۔ جمہور کے نزدیک عورت پھر بھی ہمیشہ نکاح میں رہے 4 ماہ کے بعد بھی، لیکن احناف کے نزدیک چار ماہ بعد طلاق ہوگی۔ دونوں میں احناف کا مسلک پھر بھی کچھ اچھا ہے لیکن یہ بھی غلط ہے کہ چار ماہ بعد پھر اس کو تین ماہ مزید بھی عدت پر مجبور کرکے اذیت دی جائے۔ مسلک حنفی کی یہ بہت بڑی مگر دوسروں سے چھوٹی غلطی ہے۔

آیت227البقرہ میں اللہ نے یہ واضح کیا کہ اگر طلاق کا ارادہ تھا تو پھر یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر پکڑنے کی اللہ نے وضاحت کردی ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار سے عدت 3 ماہ کے بعد ختم ہوتی اور مزید ایک مہینے کا اضافہ اور انتظار عورت کیلئے اذیت ہے اور اس تکلیف کا اللہ کو حساب دینا پڑے گا اسلئے کہ وہ ارادے کو بھی سنتا اور جانتا ہے۔

آیت228البقرہ میں اللہ نے تین ادوار کا ذکر کیا ہے اور حمل کو نہ چھپانے کا حکم دیا ہے اسلئے کہ یہ عورت کی عدت ہے۔ اور اس میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ جس بیوہ کی عدت میں عورت کو اشارہ کنایہ سے نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں تو طلاق کی عدت میں دوسرا شخص اس کا جواز نہیں رکھتا ہے۔ علماء وفقہاء نے اصلاح کی شرط بھی نکال دی اور شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دیا یا پھر اکٹھی تین طلاق میں رجوع کا حق ختم کردیا اور یہ دونوں باتیں جاہلیت کی تھیں اور اللہ نے ان کو ختم کیا تھا۔ شوہر کو نہ غیر مشروط رجوع کا حق ہے اور اگر میاں بیوی صلاح پر راضی ہوں تو کسی سے فتویٰ لینا جہالت ہے ۔ اللہ نے رجوع اور صلح نہ کرنے کے فتوے دینے سے روکا ہے لیکن قرآن کو مدارس نے ہی بوٹیاں بوٹیاں بناکر اس کے سر پیر کچل ڈالے۔

آیت229میں مزید وضاحت کردی کہ طلاق عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ ہے اور رجوع کیلئے معروف کی شرط ہے یعنی عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں کرسکتے۔ ان تمام آیات میں عورت کی اذیت کو نظر انداز کرکے فقہ سازی کی گئی ہے جس کا کوئی اخلاقی، قانونی ، شرعی اور فطری جواز نہیں ہے جس سے کتابیں بھردی گئی ہیں تضادات سے بھرپور اور انسانیت کے دائرے سے نکلی ہوئی۔

اگر طلاق کا فیصلہ کیا تو احسان کیساتھ رخصت کرنے کا حکم ہے، یعنی اپنے حق سے زیادہ نوازنے کا حکم ہے۔ جو بھی دی ہوئی چیزیں ہیں حق مہر کے علاوہ تمام کی تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیدادیں اور چاہے خزانے دئیے ہوں۔ کوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں۔ البتہ کوئی ایسی چیز ہو کہ جس پر دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کا اتفاق ہو کہ اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں۔پھر وہ عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میںدونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔فدیہ سے مراد فدائی کی قربانی ہے اور اس کو خلع قرار دینا انتہائی شرمناک حماقت ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور یہ لوگ خلع کے نام پر بلیک میلنگ کا کاروبار کھولنا چاہتے ہیں۔

دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے بعد کہاں کا خلع ؟۔ خلع عورت اور طلاق مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔ سورہ النساء آیت19میں خلع اور 20،21 آیات میں طلاق کے احکام کی وضاحت ہے۔

آیت230البقرہ میں اس فدیہ کا فیصلہ کرنے کے بعد کی طلاق مراد ہے۔ طلاق عربی لغت میں عورت چھوڑنے کو کہتے ہیں۔ شوہر عورت کو طلاق کے بعد بھی دوسری جگہ نکاح پر اپنی غیرت کا مسئلہ بناتاہے اسلئے اللہ نے واضح فرمادیا کہ دوسرے شوہر سے نکاح ضروری ہے تاکہ عورت کی جان آزاد ہو اور یہ حکم پہلی بار نہیں ہے بلکہ اگر مذاق میں طلاق دی یا ایلاء کیا۔ ایک بار طلاق دی یا دو بار جب تک عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو شوہر کیلئے رجوع ویسے ہی حرام ہے جیسے اس آیت میں حرام ہے لیکن جب تک ان الفاظ کا ذکر نہیں آیا تو پھر عورت کیلئے جان چھڑانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اسلئے توراہ وانجیل کے بعد بہت تفصیل اور بہتری کیساتھ طلاق کے حوالے سے بھرپور آیات کھول کھول کر بیان کردیں تاکہ یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر مسلمان نہیں چلیں۔ لیکن پھر بھی چل پڑے ہیں اسلئے کہ قرآن کو چھوڑ دیاہے۔

آیت231میں پھر تفصیل سے ہے کہ عدت کی تکمیل پر بھی معروف رجوع ہوسکتا ہے تاکہ اس بات کو ذہن نشین کرلیا جائے کہ عدت میں رجوع کا اختیار عورت کی آزادی کیلئے دیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر عدت گزرنے کے بعد ان میں معروف رجوع کی خواہش ہو تو اللہ اس میں کوئی رکاوٹ ہے۔ علماء ودفقہاء نے آدھے بچے سے کم اور زیادہ کے حوالے سے رجوع کا جوشرمناک تصور پیش کیا ہے اس کو قومی اسمبلی میں کبھی مولانا فضل الرحمن یا شیر افضل مروت بیان کرے تو کمال ہوگا۔

آیت232البقرہ میں کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے نہ صرف رجوع کی اجازت ہے بلکہ معاشرہ ، مولوی اور سب کو خناس کا کردار ادا کرتے ہوئے رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی اورزیادہ تزکیہ ہے جو اللہ جانتا ہے ۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے اساتذہ قرآن کے ترجمہ اورتفسیر میں مولانا بدیع الزمان، قاری مفتاح اللہ اور مفتی محمد ولی تھے اور انوارلقرآن آدم ٹاؤن میں جلالین ومشکوٰة شریف کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید اور بیضاوی کے استاذ مولانا شبیراحمد رحیم یار خان والے تھے۔ مجھے اعزاز حاصل ہے کہ تفسیری عزیزی میں غلطیاں پکڑ میں آئیں تو مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کے پاس بھی جواب نہیں تھا اور قاری مفتاح اللہ صاحب نے تفسیر کشاف کا مشورہ دیا اور اس وقت میں نے تفسیر کشاف لیکر قرآنی آیات کی مشکلات کا حل تلاش کرنا شروع کیا تھا۔ بیضاوی کی غلطیوں پر اور اصول فقہ کی غلطیوں پر اساتذہ کرام نے مجھے اپنی تائیدات اور حوصلہ افزائیوں سے نوازا تھا جن میں کنزالدقائق ، شرح الوقایہ اور نورالانوار و اصول الشاشی وغیرہ فقہ واصول فقہ کی کتابیں شامل تھیں اور مفتی عبدالمنان ناصر لورالائی کی طرف سے بھی فقہی مسائل میں کتابوں کے مقابلے میری تائید ہوتی تھی۔ ان اساتذہ کرام اور دیگر بہت سارے اساتذہ کرام کی تائیدونصرت اور حوصلہ افزائی ہی کا نتیجہ ہے کہ مجھے اللہ نے بڑی توفیق عطا فرمائی۔

غلام احمد پرویز نے حدیث کا انکار کرنے سے زیادہ قرآن کی واضح آیات کا انکار کیا ہے۔ جب اللہ نے بہت سلیس انداز میں مسائل کا ذکر کیا ہے تو پھر غلام احمد پرویز کو اپنی طرف سے تبویب القرآن لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ لیکن چونکہ علماء نے بھی قرآن کو بے ربط کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا تو پرویز کو موقع مل گیا اور بہت سارے علماء اور لکھے پڑھے طبقے کو متاثر کرکے نئی تعبیرات ایجاد کردیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی اس سے متاثر ہے لیکن طلاق کے حوالہ سے پرویز کا ذکر نہیں کیا ہے۔ جس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ احادیث کا ذخیرہ اور صحابہ کرام کے فتوے غلط ہیں ،بالکل بھی نہیں۔

حضرت عمر دارالافتاء میں بیٹھ کر مفتی نہیں تھے کہ کوئی فتویٰ دے رہے تھے بلکہ عدالت سے لوگوں کو انصاف فراہم کررہے تھے۔ ایک تنازعہ آیا کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ اب حضرت عمر نے کیا فیصلہ دینا تھا؟۔ ظاہر ہے کہ قرآن میں واضح ہے کہ اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہے اور حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دے دیا۔ جب شوہر نے بیوی کو حرام کہہ دیا اور جھگڑا حضرت عمر کے دربار میں آگیا اوران کا تصفیہ ہوگیا اور صلح کیلئے راضی ہوگئے تو پھر رجوع کا فیصلہ ہوگیا۔ فقہاء نے اس کو نام دیا کہ یہ حضرت عمر نے ایک طلاق قرار دی ہے۔ حالانکہ یہ قرآن وحدیث سے بہت بڑی ناواقفیت ہے۔

حضرت علی کے دور میں شوہر نے بیوی کو حرام قرار دیا اور رجوع نہ کرنے پر عورت ڈٹ گئی تو پھر حضرت علی نے فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتاہے۔ علماء وفقہاء نے اپنی کم عقلی سے حضرت علی پر تہمت باندھ دی کہ حرام کے لفظ پر تین طلاق قرار دیا ہے۔

 

حضرت عمر و حضرت علی میں حلال وحرام پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اگر قرآن اور سنت کو امت مسلمہ سمجھ لیتی تو حضرت عمر وعلی میں اختلاف نہیں دکھائی دے سکتا تھا۔ لیکن قرآن کو انہوں پس پشت ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے گمراہی پر گامزن ہوگئے۔

 

حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کا مطلب یہی ہے کہ پہلے 3 طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی اور پھر حضرت عمر نے اکٹھی تین پر تین کا فیصلہ دے دیا کہ حضرت عمر کے دور میں پہلا تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔ پھر حضرت ابن عباس کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہے کہ اکٹھی تین طلاق کو ایک بھی قرار دیا اور تین بھی۔ بلکہ جس صورت میں عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تھی تو رجوع کا فتویٰ دیتے تھے اور عورت رجوع پر راضی نہیں ہوتی تھی تورجوع کا فتویٰ نہیں دیتے تھے اور یہی حال آپ کے پانچوں شاگردوں کا بھی تھا۔ جن میں اختلاف نہیں تھا بلکہ مختلف صورتحال پر فتویٰ الگ الگ طرح کا دیا جو قرآن کے مطابق ہوتا تھا اسلئے کہ عورت راضی ہو تو رجوع ہوسکتا تھا ۔عورت راضی نہ ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

جن احادیث میں تضادات نظر آتے ہیں تو ان میں بھی تضادات قطعی طور پر نہیں ہیں۔ مثلاً فاطمہ بنت قیس کے حوالہ سے ایک قسم کی روایات یہ ہیں کہ اکٹھی تین طلاقیں دیں اور دوسری قسم میں ہے کہ الگ الگ تین طلاقیں دی ہیں۔ اب دونوں کی تطبیق یہ ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دی ہوں گی لیکن پھر شمار ایک ہوئی ہوگی اسلئے پھر الگ الگ بھی تین مرتبہ مرحلہ وار طلاقیں دی ہوں گی۔ احناف کے مسلک ضعیف روایات میں بھی تطبیق ممکن ہو تو تطبیق ضروری ہے اور کسی روایت کو حتی الامکان رد کرنے کی ضرورت نہ ہو تو رد نہیں کرنا چاہیے۔

پہلے دور میں یہ سوچ نہیں تھی کہ عدت میں بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اماںعائشہ سے فتویٰ پوچھا گیا کہ عورت نے تیسرے حیض میں اپنی عدت کو مکمل قرار دیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ بالکل ٹھیک ہے ۔ عدت کے تین ادوار سے مرادتین اطہار پاکی کے ایام ہیں۔ قرآن وحدیث میں بھی یہ بالکل واضح ہے مگر حنفیوں کو ریاضی کا جنون چڑھ گیاکہ اس طرح عدت میں 3کا عدد پورا نہیں ہوگا۔ جس طہر میں طلاق دی تو وہ ادھوری ہوگی اور دو طہر اور مل جائیں گے تو ڈھائی بن جائیں گے۔ اسلئے حیض مراد ہے تاکہ تین کا عدد مکمل ہوجائے۔

پھر جن پاکی کے دنوں میں طلاق دی ہے تو تین حیض کیساتھ وہ بھی شامل ہوں گے اور ساڑھے 3 بن جائیںگے؟۔تو قرآن کے خاص عدد3 پرعمل نہیں ہوگا۔ اتنی بڑی مدت کے اضافہ سے عورت کی اذیت میں اضافہ ہوگالیکن اس کی بھی پرواہ نہیں۔

جس طرح روزہ کی نیت سورج نکلنے کے بعد بھی کچھ کھائے پیئے بغیر ہوتی ہے اور روزہ پورا شمار ہوتا ہے ادھورا نہیں،اسی طرح طہر میں ہاتھ لگائے بغیر طلاق کی عدت کا عدد پورا شمار ہوگا ادھورا نہیں۔

حنفی فقہاء وعلماء نے طہر کو عدت الرجال ،حیض کو عدت النساء قرار دیا۔ جس کی وجہ سے سورہ طلاق کا ترجمہ بھی درست نہیں بن سکتا اسلئے کہ اللہ نے یہ فرمایا کہ فطلقوھن لعدتھن ”پس ان کو طلاق دو ان کی عدت کیلئے” تو ترجمہ ہوگا کہ حیض کیلئے ان کو چھوڑدو۔ جس میں مقاربت ویسے بھی منع ہے اور جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے تو اس سے پہلے کی حیض میں بھی مقاربت نہیں ہوتی اسلئے وہ حیض بھی انتظار کی مدت میں شامل ہے۔ جیسے اعتکاف کے آخری دس دن میں جونہی عید کے چاند کی خبر ملتی ہے تو اعتکاف والے قید سے آزاد ہوتے ہیںاسی طرح جب عورت کوحیض آتا ہے تو عدت پوری ہوتی ہے البتہ عورت جدائی نہیں چاہتی اسلئے بڑھانے سے اس پر اثر نہیں پڑتا لیکن قرآن وحدیث کے برعکس جو غیر فطری مسائل گھڑے گئے ان سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے۔ مولانا بدیع الزماننے قرآن و اصول فقہ کی تعلیم دی اور نصاب کے مقابلے میں میری حوصلہ افزائی فرمائی۔اس دور کے طالب علم اور اساتذہ کرام گواہی دیں گے۔

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ (سورہ البقرہ آیت:230)
‘اگر پھر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے وہ نکاح کرے”۔

اس کا پہلا معرکة الآراء مسئلہ یہ ہے کہ اس میں موجود طلاق کا تعلق کس سے ہے؟۔ حنفی مسلک میں اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے جو عربی قواعد کا تقاضہ ہے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد علامہ تمنا عمادی مشرقی پاکستان ریڈیو سے قرآن کا درس دیتے تھے اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، علامہ سیدمحمدیوسف بنوری،مولانا ابولاعلی مودودی ، علامہ شبیراحمد عثمانی اور حنفی واہل حدیث اور شیعہ علماء کرام اس کے علم کے سامنے خس وخاشاک تھے۔ انہوں نے کتاب ”الطلاق مرتان” لکھی ہے جس کا علماء نے جواب نہیں دیا بلکہ ڈائنوسار کی طرح اپنی بڑی بڑی دم رکھتے توگھسیڑ دیتے تھے۔ علامہ عمادی نے حنفی اصول اور عربی قواعد سے یہ طلاق خلع کیساتھ سے منسلک کردی ۔ اگر حنفی مسلک کا نام لیکر اس پر بس کرتے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا تھا لیکن تمناعمادی نے احادیث کی کتابوں کو قرآن کے خلاف سازش قرار دے دیا اور اپنی کتاب میں دو باتیں بنیادی ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ ایک یہ کہ قرآن نے مرد کی طرف سے تیسری طلاق کا خاتمہ کردیا تاکہ کوئی عورت مرد کی غلطی سے حلالہ کی شکار نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ حلالہ کو خلع سے منسلک کردیا کہ عورت کی طرف سے خلع ہوتا ہے تو سزا بھی اس کو ملتی ہے۔

اگر بالفرض علامہ تمناعمادی کا استدلال رائج ہوتا تو بھی انتہائی غلط تھا اور اس کا تدارک قرآن میں موجود تھا۔ جس ”ف” تعقیب بلا مہلت نے علامہ تمنادی اور فقہ حنفیہ کو یہاں تک پہنچادیا تھا تو اس کی وجہ دو مرتبہ طلاق فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں دو مرتبہ کے بعد تیسری طلاق بھی وہاں ثابت ہوجاتی ہے اور پھر جب آیت231البقرہ نے تین مرتبہ طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے تو آیت232البقرہ میں خلع کے بعد بھی بغیر حلالہ کے رجوع ہوتا۔

الغرض علامہ تمنا عمادی بہت بڑے آدمی تھے۔ غلام احمد پرویز جیسے لوگ اس کی شلوار کی جیب میں ہوتے مگر علماء ومفتیان نے کراچی میں ان کو گمنامی کی قبر میں دھکیل دیا۔ مفتی تقی عثمانی اس وجہ سے کہتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں جن کی علمی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر آج ان کا کوئی نام بھی لینے والا نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی بھی ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان اور ہمارے پیر بھائی مولانا عبدالحق فاضل دیوبند کے شاگرد ہیں۔ اس نے تو اپنے استاذ کے پیر حاجی محمد عثمان پر بہت بڑا سازشی فتویٰ لگادیا۔ میرا اور اس کا مشترکہ استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان اسکے غلط فتوے کا مقابلہ کرنے پر شاباش دے رہے تھے۔ پھر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے مسئلے پر بھی اس کوچت کردیا تھا۔

حلال وحرام کا ڈھونگ اسلئے رچایا جارہاہے کہ سودی بینکاری جیسی معیشت کو عالمی سازش کیساتھ جائز قرار دیدی ہے جس پر جامعہ فاروقیہ الفاروق نے پورا مضمون شائع کیا اور بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے بھی پھر وہی مضمون شائع کیا گیاہے۔

قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کے ٹھیک مؤقف یا اقرب الی الصوب کو میری وجہ سے انشاء اللہ بہت پذیرائی ملے گی۔ اکابر دیوبند کے کراچی میں اصل جانشین دو ہیں ۔ایک مفتی حسام اللہ شریفی رکن مجلس تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ جو مولانا رسول خان ہزاروی کے شاگرد ہیں جو قاری طیب، مفتی محمد شفیع ، مولانا یوسف بنوری وغیرہ کے بھی استاذ تھے اورحضرت شریفی صاحب شیخ الہندکے ایک واسطہ سے شاگرد ہیں۔ مولانا غلام رسولہزاروی شیخ الہند مولانامحمود الحسن کے شاگرد تھے۔مولانا محمد یوسف لدھیانوی شریفی صاحب کو استاذ کا درجہ دیتے تھے اور مفتی اعظم امریکہ میرے کلاس فیلو مفتی منیر احمد اخون کے شریفی صاحب دادا استاذ ہیں۔

شریفی صاحب کو مولانا احمد علی لاہوری نے بھی مسائل کا حل اور فتوے لکھنے کی اجازت دی تھی لیکن الحمدللہ شریفی صاحب میری تائید فرمارہے ہیں اور انہوں نے قرآن پر دوبڑی کتابیں بھی لکھی ہیں اور ان کا نام مولانا حسین احمد مدنی نے رکھا تھا اور انکے پاس اورنگزیب بادشاہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن بھی ہے۔ مجھ پر اتنی شفقت فرماتے ہیں کہ ان کے پاس جانے سے شرمندگی ہوتی ہے۔ اتنا بڑا انسان مجھ سے عقیدت رکھے تو شرمندگی کے سوا کیا ہوگا؟۔

اکابرعلماء دیوبند کی تحریکوں کے اصل دوسرے جانشین حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب ہیں۔ جمعیت علماء اسلام، تنظیم اہل سنت، تحفظ حقوق اہل سنت والجماعت ،سواداعظم اہل سنت اور سپاہ صحابہ سب کے اکابرین کے اصل جانشین ہیں۔ الحمدللہ میرے لئے سرپرست بڑے بھائی کی طرح ہیں۔

مولانا محمدامین شہیدہنگوکوہاٹ نے مجھے نماز کی امامت کیلئے زبردستی آگے کیا۔ مولانا نصر اللہ توحید آباد صادق آباد رحیم خان میرے استاذ تھے۔ بہت محبت رکھتے تھے۔مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید فتوؤں کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے ۔ مولانا مفتی کفایت اللہ فیوچر کالونی ، خطیب مولانا عبدالرحمن اور مولانا مفتی عبدالرؤف ہالیجیکے علاوہ بہت نام ہیں جن سے شاگردی کا شرف ملا اور ان کی دعائیں بھی الحمدللہ ساتھ ہیں۔ مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا عبدالکریم بیرشریف، مولانا سرفراز خان صفدر ، مولانا خان محمد امیرمرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت اور تمام مکاتب فکرکے پروفسیر شاہ فرید الحق جمعیت علماء پاکستان، علامہ شفاعت رسول نوری، حضرت مفتی خالد حسن مجددی، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالرؤف صدراتحادالعماء سندھ، علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی ، ڈاکٹر اسرار احمد اورمولانا عبدالرحمن سلفی امیر غرباء اہلحدیث بڑے بڑے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی تائید کی ایسی مثال بہت مشکل سے مل سکتی ہے۔

پہلے سال جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا اورمولانا مفتی عبدالسمیع شہید سے سرِ راہ بحث ہوگئی جو شرح جامی کے بعد میں استاذ بن گئے اور پہلے استاذ نہیں تھے۔ طلبہ کا ہجوم جمع ہوا اور آخر میں انہوں نے کہا کہ ”تم افغانی پڑھ کر آتے ہو اور مقصد علم حاصل کرنا نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہوتاہے” اور پھر میر ی آنکھوں میں آنسو آئے اور کسی طالب علم نے مجھے کہا کہ صوفی صاحب چلو اور مسجد کے ایک کونے میں لے جاکر کہا کہ ”اپنا ذکر کرو”۔

دوسرے دن شہرت ہوئی کہ صوفی صاحب تو علامہ تفتازانی ہیں۔ میں نے کہا کہ میری قابلیت نہیں اور اپنے استاذ مولانا عبدالمان ناصر سے وہی پوچھا تو سیکنڈ وں میں جواب دیا۔یہ سب صرف تحدیث نعمت کے طور پر نہیں بتارہاہوں بلکہ وہ علمی حقائق ہیں جس سے مولانا فضل الرحمن سمیت سب علماء ومفتیان سب اچھی طرح سے آگاہ بھی ہیں۔

ایک طالب علم کو قرآن وحدیث کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے او راس کو پڑھایا جاتا ہے کہ آیت حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ میں عورت خودمختار ہے کہ وہ جس سے چاہے نکاح کرے۔ احادیث میں ولی کی اجازت کو ضروری قرار دیا ہے تو 200کے قریب احادیث قرآن کے اس حکم کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔

حالانکہ حنفی مسلک کا تقاضہ تھا کہ اس میں تطبیق کی جاتی کہ آیت سے مراد طلاق شدہ عورت ہے اور حدیث میں کنواری کا ذکر ہے۔ بیوہ کو اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اپنی جان کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت ہے۔ ایک طرف جمہور کی مت ماری گئی ہے کہ قرآن کی واضح آیات کے اندر بیوہ اور طلاق شدہ کو خود مختار قرار دیا گیا ہے لیکن یہ احادیث کی وجہ سے اس کو نہیں مانتے۔ پھر دوسری طرف احناف تواتر کی حد تک پہنچنے والی احادیث کو نہیں مان رہے ہیں۔ جب قرآن و احادیث پر اتفاق نہیں ہوگا تو اجماع کہاں سے آئے گا؟۔

پاکستان میں حنفی مسلک والوں کی اکثریت ہے لیکن آئے روز انتہائی تشویشناک خبریں آتی ہیں۔ ہزارہ میں کورٹ میرج کرنے والی لڑکی کو اپنی 6ماہ کی بچی کے ساتھ جس بہیمانہ انداز میں شہید کیا گیا تو یہ علماء کے اختلافات کا شاخسانہ بھی ہے۔ علماء و مفتیان کو قرآن و احادیث اور اسلام سے زیادہ اپنا مدرسہ اپنے پیٹ کیلئے آباد کرنے کی فکر لگی ہے۔

ایک بات علماء ، دانشور اور پڑھے لکھے لوگوں کو غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کے سابقہ صدر اُستاذ العلماء محدث العصر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ

” خبر واحد سے احناف کے نزدیک حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ میں نکاح پر حلالہ میں جماع کا اضافہ نہیں ہوسکتا ۔لیکن احناف احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ نکاح کا معنی جماع کرنے کی وجہ سے ہی حلالہ میں جما ع کا حکم لگاتے ہیں”۔

ایک طرف علم کی یہ بہت بلند چوٹی ہے کہ حنفی مسلک میں اتنے زبردست اصول ہیں کہ اگر کسی حدیث میں جماع کا حکم ہو تب بھی اس سے جماع ثابت نہیں ہوتا بلکہ قرآن میں جماع کا ذکر ہوتا پھر ثابت ہوتا۔ یہ بہت بہترین اور زبردست علم ہے۔

دوسری طرف یہ کہنا کہ نکاح سے جماع مراد ہے بہت بڑا معمہ ہے جس کو حل کرنا ضروری ہے۔ نکاح کو جماع قرار دینے سے جن گھمبیر مسائل نے جنم لیا ہے ان کے بھیانک انجام سے مولانا سلیم اللہ خان صاحب بھی بے خبر نہیں تھے۔ لیکن جب بڑھاپے میں دار العلوم دیوبند یوپی انڈیا اور اپنے ملک پاکستان کے تمام علماء کرام و مفتیان عظام کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے شاگرد مفتی تقی عثمانی کو سودی بینکاری پر نہیں منواسکے تو اکابر کے نصاب سے لڑنا پیرانہ سالی میں ایک انتہائی مشکل مسئلہ تھا۔

تیسری طرف اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ضعیف حدیث میں بھی حلالے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ جس پر حلالے کی امارت کھڑی کی گئی ہے جس کا تفصیل سے ذکر کردیا ہے۔

چوتھی طرف اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب حنفی اصولِ فقہ کے مطابق نکاح پر حدیث سے جماع کا اضافہ نہیں ہوسکتا ہے تو پھر قرآن میں کتنی واضح واضح آیات میں باہمی صلاح اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ جن کے مقابلے میں کوئی بھی خاطر خواہ حدیث نہیں ہے تو پھر مذہب کے نام پر کتنی بڑی بلڈنگ کھڑی کردی گئی ہے؟۔ میں علماء و مفتیان کا دشمن ضرور ہوں مگر ان کا جو شیطان کے نائب اور اسلام کے دشمن ہیں اور علماء حق میرے سر کے تاج اور اُستاذ ہیں۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ النساء آیت 15 میں بدکاری کی چار شہادتوں پر گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ اس کو موت آجائے یا پھر اللہ اس کیلئے کوئی راستہ نکال دے۔

ظاہر ہے کہ یہ شکایت اور گواہی کسی مرد کے ساتھ پکڑے جانے کی صورت میں نہیں ہوسکتی بلکہ بے راہ روی کا شکار کوئی بیوہ ، طلاق شدہ ، کنواری کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ جب تک اللہ کسی شوہر سے اسکا مسئلہ حل نہ کردے تو ماحول کو بگاڑنے نہ دیا جائے۔

کہا یہ جاتا ہے کہ سورہ نور کی آیات سے اس کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ جس میں زناکار مرد و عورت کو 100، 100 کوڑے لگانے کا حکم ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ شادی شدہ کیلئے سنگساری کا حکم ہے۔

جس آیت سے سابقہ آیت منسوخ ہوگئی تو اس میں سنگساری کا ذکر نہیں ہے تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی لکھتے ہیں کہ پہلی آیت النساء 15سے سنگسار کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ ہم بنوری ٹاؤن میں پڑھتے تھے تو مولانا سلطان محمد محسود دورۂ حدیث میں تھا۔ اس نے بتایا کہ تخت پر بیٹھے مفتی ولی حسن بخاری پڑھا رہے تھے اور پاجامہ پھٹا ہوا تھا۔ طلبہ ہنس رہے تھے اور اچانک مفتی صاحب کی نظر وہیں پڑی تو ا س نے کہا کہ ”میں بھی بڑا چوتیا ہوں”۔ جب بیگم راعنا لیاقت علی خان نے قادیانیوں کے حق میں کوئی بیان دیا تھا تو روزنامہ جنگ کراچی میں مفتی ولی حسن کا بیان چھپا تھا کہ” اس کی رگ پھڑک رہی ہے”۔ جس پر عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ ہوا۔ مفتی ولی حسن سے جج نے مطالبہ کیا کہ معافی مانگو۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے معافی نہیں مانگ سکتا۔ جس پر قاری شیر افضل خان نے مفتی اعظم پاکستان کا نعرہ لگایا۔ اس دن سے وہ مفتی اعظم پاکستان بن گئے۔

قرآن میں عورت کی جان چھڑانے کیلئے آیت 230البقرہ میں کسی اور شوہر سے نکاح کا حکم ہے۔ پشاور کے کھیتوں سے ایک خاتون کی لاش ملی تھی جو حلالہ کے وقت دوسرے شوہر سے خوش ہوگئی اور پھر جدا نہیں ہونا چاہتی تھی اور اس کو سزا مل گئی۔ عورتوں کو معاشرے میں سزا مل جاتی ہے اور جتنی شریعت یا مولوی کے مذہب میں ہے اس سے زیادہ ملتی ہے۔ قرآن اور حدیث کو ٹکرائیں گے تو مولویوں کے سر ٹوٹ جائیں گے لیکن اتفاق نہیں ہوگا۔ حنفی مسلک میں اگر کنواری لڑکی کو کورٹ میرج کی اجازت ہو تو پھر مساجد میں کھلے عام تبلیغ کرنی ہوگی ۔ قتل کی بھی مذمت کرنی ہوگی۔ احادیث اپنی جگہ پر بالکل ہی درست ہیں جس کی وجہ سے ناگوار معاملات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اس کا دائرہ کار غیر مسلموں کی لڑکیوں تک بھی بڑھانا چاہیے۔ البتہ قرآن اور حدیث کی اس تعلیم کو عام کرنا چاہیے کہ لڑکی راضی نہیں ہو تو اس کا نکاح زبردستی سے کرنے کی باپ کو بھی اجازت نہیں ہے۔ جہاں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور دیگر جاہلوں نے بچیوں کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے جو ان کی مرضی کے بغیر ہو تب بھی تو ان کو الیکٹرانک میڈیا پر لاکر بے نقاب کرنا چاہیے۔

اگر کسی کنواری لڑکی کو کسی سے عشق ہوجائے تو پھر قرآن سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ جہاں اللہ نے فرمایا ہے کہ ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردنا تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا ومن یکرھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم ”اور اپنی لڑکیوں کو مجبور مت کرو بغاوت پر جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیاوی زندگی اس کے ذریعے تلاش کرو اور جس کو مجبور کیا گیا ہو تو ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ (النور:33)

جو لوگ اپنی دنیاوی وجاہت کی غرض سے اپنی لڑکیوں کو ان کی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتے تو ان کی دنیا بھی تباہ ہوجاتی ہے اور اگر اللہ کے حکم کے مطابق ان کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ان کا نکاح کردیتے تو اللہ کے حکم پر عمل ہو تا۔ جب لڑکی کورٹ میرج کرتی ہے تو بسا اوقات اپنا مستقبل تاریک کردیتی ہے۔ اسلئے احادیث میں ان پر روکنے کیلئے زور ڈالا گیا ہے ۔ لیکن قربان جائیں اس اللہ پر جس نے اپنے قرآن میں ایک ایک مسئلے کا حل اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کو دیکھ کر کافر بھی مسلمان ہوجائیں۔ لیکن افسوس کہ مسلمان مسلمان نہیں ہوتے۔ نبی ۖ نے بھی اگر ایک طرف لڑکی کو اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے روکنے کی بات کی ہے تو دوسری طرف ولی کو بھی پابند کیا ہے کہ اس کی مرضی سے ہی اس کا نکاح کیا جائے۔ قرآن و سنت کے جس توازن سے مسلمان جہالتوں کے جس اندھیرے سے نکل سکتے تھے وہ پوری دنیا کیلئے مشعل راہ ہے۔ مسلمان مذہبی طبقات پر تکیہ کرکے بیٹھے ہیں کہ وہ کچھ کریں گے تو پھر ہم اپنی جہالتوں سے نکل سکیں گے لیکن علماء اپنی جہالتوں سے نکل جائیں تو بھی یہ مرد کے بچے ہوں گے۔ قرآن اپنی آیات کو منسوخ نہیں کرتا بلکہ توراة اور انجیل کی بھی تصدیق کرتا ہے اور دنیا کے تمام درست مذاہب کی تصحیح بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے علماء کرام ، مشائخ عظام ، طلباء واجب الاحترام کو توفیق دے کہ یہ سال نصاب میں ضائع کرنے کے بجائے نصاب کو درست کرنے پر ہی لگادیں۔ ماحول سے نکلنا مشکل کام ہے لیکن نکلنا بھی ضروری ہے اور نکلیں گے۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حرمت مصاہرة کا راکٹ سائنس علماء ومفتیان کی سمجھ سے بالاتر

(قولہ : فلاحرمة) لانہ بانزال تبین أنہ غیرمفض الی وط ء ھدایة… فان أنزل لم تثبت والا ثبت لا انھا ثبت بالمس ثم بالانزال تسقط ؛ لأن حرمة المصاہرة اذا تثبت لاتسقط أبدا

(اسکا قول:تو حرمت نہیں)اسلئے کہ انزال واضح کرتاہے کہ لمس جماع تک نہیں پہنچائے گا۔ہدایہ….. پس اگر انزال ہوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں اور اگر انزال نہیں ہوا تو حرمت مصاہرت ثابت ۔ اسلئے نہیں کہ حرمت ثابت ہے شہوت سے چھونے پر اور انزال سے ساقط ہوگی کیوںکہ جب حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے تو پھرساقط نہیں ہوتی ہمیشہ کیلئے۔

(واصل مساتہ وناظرة الی ذکرہ والمنظور الی فرجھا) المدور(الداخل) ولونظر ہ من زجاج أو ماء و ھی فیہ والعبرة للشھوة عندالمس أوالنظر لا بعدھما وحدھا فیھا تحرک آلتہ أو زیادتہ بہ یفتی

”اصل شہوت سے چھونے ،دیکھنے میںعورت کا مرد کے ذکرکواور مرد کا عورت کے فرج کے اندورنی حصہ کو دیکھنا ۔ اگر شیشہ میں دیکھا یا پانی میں اوروہ اس میں ہو۔ اور شہوت اس وقت معتبرہے کہ جب لمس یا دیکھتے وقت ہو ،بعد میں نہیں۔ حد اس کی آلہ کی حرکت یا حرکت کا زیادہ ہونا ۔ اسی پر فتویٰ ہے۔

وعلی ھذا ینبغی ان یکون المس الفرج کذلک بل اولیٰ لأن تاثیرالمس فوق تأثیرالننظر ”چاہیے کہ فرج کا چھونا بھی ہواسلئے کہ ٹچ کی ثاتیر نظر سے زیادہ ہے”۔

فتاویٰ شامی میں کتب کے حوالہ جات، اعتراض اورجواب: جو بنوری ٹاؤن کراچی کے ویب سائٹ پر ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ساس کی شرم گاہ کے داخل پر شہوت کی نظر پڑگئی، اگرچہ شیشہ یا پانی میں ہو توبیوی حرام ہوگی تو شرم گاہ کو چھونے سے بدرجہ اولیٰ حرمت ثابت ہونا چاہیے اسلئے کہ عضوتناسل کو شرم گاہ کے بیرونی حصہ پر رگڑنے کی تاثیر نظر پڑنے سے زیادہ ہے تو اس کا جواب دیا گیا کہ شہوت سے رگڑا لگانے اور چھونے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ شہوت چھونے کے بعد موقوف ہوتی ہے۔ اگر انزال ہوگیا تو واضح ہوا کہ حرمت ثابت نہیں ہوئی اوراگر انزال نہیں ہوا تو پھر حرمت ثابت ہوگئی اسلئے کہ مصاہرت کی حرمت ثابت ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتی”۔مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی اور علماء ومفتیان کا اسلام ماننے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں یہ قرارداد پیش کریں کہ محرمات کو شہوت سے چھونے کے بعد انزال تک نہ چھوڑو۔ تاکہ بیوی حرام نہ ہو۔اسلئے کہ انزال نہیں ہوا تو بیوی حرام ہوگی۔تمام الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھی اعلانات کرو ۔اور اگریہ غلط ہے اور واقعی غلط ہے تو مدارس کو لگام دی جائے۔ دہشت گردی پر کیسے قابو پاسکتے ہیں؟۔ خالی فقہی مسائل کو اٹھانے سے بھی دہشت گردی کا نہ صرف خاتمہ ہوگا بلکہ نفسیاتی مریض مفتیوں کا علاج بھی کرنا پڑے گا۔ پھر ہمارا ریاستی اورعدالتی نظام بھی ٹھیک ہوجائے گا ۔

پیداہوا وکیل تو شیطان نے کہا

لوآج میں بھی صاحب اولاد ہوگیا

اکبر الٰہ آبادی نے وکیل کو شیطان کی اولاد قرار دیا اور حنفی مسلک کے وکیل تو ان سے آگے ہیں ۔ اسلام کے نام پر فقہی مسائل کی صورتحال اس سے بدتر ہے۔

جس طرح اکثر نالائق جب دوسری ڈگری حاصل نہیں کرسکتے تو وکیل بن جاتے ہیں ،اسی طرح اکثرنالائق علماء بھی مفتی کا کورس کرلیتے ہیں۔

داتا گنج بخش اورمولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں میں نبیۖ اور داؤد کے حوالہ سے شہوت کی نظر پڑنے پر اوریا اور زید کی بیوی کا نکاح میں آجانے کا مسئلہ بھیانک ہے جس کے خلاف عالم اسلام کے علماء نے لکھا۔ غلط مسائل سے جان چھڑائیں۔جس شہوت کی تاثیر اتنی ہوتوقرآن میں مرد اور عورت کو شہوت کی نگاہ سے بچنے کا حکم ہے ورنہ حج وعمرہ میں عورت کو چہرہ کھلا رکھنے کا حکم کیوں دیا جاتا؟۔

 

مرج البحرین یلتقیان بینھما برزخ لا یبغیان

اس نے دو سمندر کو ملادیا جو باہم ملے ہوئے ہیں ،دونوں میں پردہ ہے، نہیں کرتے حد سے تجاوز

کیاحنفی اور شافعی مسلک واقعتا اہل حق کے2دریاہیں؟

سوال:فقہی احکام میں اتنے تضادات کے باوجود حنفی اور شافعی دونوں مسالک اہل حق کیسے ہیں؟۔

جبکہ صورتحال یہ ہے کہ حنفی مسلک میں اگر بہو یا ساس کو شہوت سے ہاتھ لگادیا اوربغیر کے کپڑے یا اتنا باریک کپڑا تھا کہ حرارت محسوس ہورہی تھی تو حرمت مصاہرت ثابت ہوگی لیکن شافعی مسلک میں زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں اگر بیوی کی سوتیلی بیٹی حجرے میں نہ پلی ہو تو اسکے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔

جواب : حنفی مسلک میں انزال کے بعد حرمت مصاہرت نہیں تو اسلئے مصر میں30اگست کو ”یوم البوسہ” منانے کیخلاف دونوں متحد ہیں کہ کیا پتہ چلے گا کہ انزال ہوا یا نہیں؟،اور کون حنفی اور کون شافعی ؟ ۔ ہاہا ہا….

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورۂ النباء میں فتح مکہ،دنیا کی جنت وعذاب اور عذابِ قبرکا ذکر

عم یتساء لون O عن النباالعظیمO
”کس چیز کے بارے میں آپس میں سوال کر رہے ہیں؟۔ ایک بڑی خبر کے بارے میں۔جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ ہر گز نہیں ! عنقریب جان لیں گے ، ہرگز نہیںعنقریب جان لیں گے”۔

مکہ فتح ،سپر طاقتوں کی شکست اور طویل عرصہ مسلمانوں کی خلافت قائم رہی اور پھر انقلاب عظیم آنے کو ہے۔ نبیۖ کی قوم سمجھ رہی تھی کہ قرآن میں خوشخبریاں ہیں جو قیامت سے پہلے آئیں گی۔

مشرکین مکہ کہتے تھے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ؟۔دنیا کے عظیم مذاہب عیسائیت ، یہودیت اور مجوسیت ہیں۔ عظیم سلطنتیں سپر طاقتیں روم اور فارس ہیں۔ کہاں حجاز کے پسماندہ ان پڑھ باسی اور کہاں بڑی تہذب وتمدن کی حامل بڑی قومیں؟۔

اللہ نے اسی کا جواب اسی زبان میں دیا ہے۔

فرمایا:” کیا ہم نے زمین جھولا نہیں بنایا؟۔ اور پہاڑوں کو میخیںاور تمہیں مختلف اقسام کا بنایا۔ اور تمہارے لئے نیند کو آرام کا باعث بنایا اور رات کو پردہ پوش بنایا اور دن کو کمانے کیلئے بنایا اور تم پر سات سخت(محافظ فضائی زون) بنائے اورجگمگاتاچراغ بنایا۔ اور بادلوں سے موسلادھار بارش برسائی۔ تاکہ ہم اس کے ذریعے اناج اور نباتات اگائیں اور گھنے باغات۔ (سورہ النباء:6سے16)

جب انسانوں کے مختلف اقسام اور نظام ہستی چلانے والا مالک کائنات ہے تو پھر اللہ کیلئے مشکل کیا ہے جو تم سمجھ رہے ہو؟۔ پھر حتمی فیصلہ بتاتا ہے۔

فرمایا:”ان یوم الفصل کان میقاتًا Oیوم ینفخ فی الصور فتأتون افواجًا O
بے شک فیصلے کا دن معین ہوچکا جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم فوج در فوج آؤگے۔ (17،18)
(حج اور عمرے والے میقات کو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مخصوص طریقہ کی حد بندی اور حد فاصل ہے)

فتح مکہ کا صور پھونکا گیا تو فرمایا: ” جب اللہ کی مدد اور نصرت آجائے اور دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیںتواپنے رب کی تسبیح کریں اس کی تعریف کیساتھ اور استغفار کیجئے، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے”۔(سورہ نصر)

انقلاب پر مسلمان اور کافرکا کیا حال ہوگا؟۔ کسی کولیلة القدرکی طرح آسمان کھلا ہوا قطار اندر قطار فرشتے اور اللہ کی رحمتیں اترتی دکھائی دیں گی تو کہیں پہاڑکے مانندمضبوط لوگ چلتے سراب بن جائیں گے۔

وفتحت السماء فاکانت ابوابًا O و سیرت الجبال فکانت سرابًا O

”اور آسمان کھلے گاتودروازہ درواہ بن جائے گا اور پہاڑ دوڑائے جائیں گے تو سراب بن جائیں گے”۔ (النباء:19،20)”جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھراس پرثابت قدم رہے ،ان پر فرشتوں کو اتاراکہ تم خوف نہ کھاؤاور نہ غم کھاؤ۔جنت کی بشارت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا”۔ (سورہ حم سجدہ:30) ابوجہل بدر میں کتنا جم کر لڑا؟۔ فتح مکہ کے وقت اس کا بیٹا عکرمہ بھی لڑا مگر پھر خالد بن ولید کے مقابلے میں ساتھیوں سمیت بھاگا۔

پہاڑ وں کو میخیں قرار دیا تو سائنسی بنیاد زمین کو زلزلوں سے بچانے میں پہاڑ وں کا کردار کشتیوں کی تختوں کو کیلوں سے مضبوطی و مربوطی جیساہے۔

فرعون میخوں والے کاا قتدارپہاڑجیسا تھا۔ نبیۖ کے دور میں رومن امپائر پہاڑ کی طرح تھا، جب مدینہ پر 40 ہزار کا لشکر لیکر حملہ آور ہونا چاہا تو شام کے قریب غسانی عیسائی حکمران بھی اسکے زیر اثر تھا اور دیگر عرب قبائل نے بھی ساتھ دیا تھا مگر نبیۖ غزوہ تبوک میں30 ہزار کا لشکر لیکر گئے اور ایک مہینے وہاں پڑاؤ کیا تو رومیوں کی ہمت نہ ہوئی اورپہاڑ کی طرح لوگ کسک کر واپس چلے گئے۔

پھر کافروں کیلئے اللہ نے سزا کا ذکر کیا ہے۔

” بیشک جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔سرکشوں کیلئے ٹھکانہ ہے۔وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔ وہ نہ ٹھنڈ کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کا۔ مگر گرمی اور پیپ۔پورا پورا بدلہ ۔بیشک یہ لوگ امید نہیں رکھتے تھے حساب کا۔اور ہماری آیتوں کو بہت جھٹلاتے تھے۔ اور ہم نے ہرچیز اعمالنامہ میں شمار کررکھا ہے۔پس تم چکھو ،سو ہم تمہارے لئے نہیں بڑھائیں گے مگر عذاب کو۔(النباء:21تا30)

حقب 80 سال، قبر کا عذاب مدتوں کاہے۔ آخرت کاعذاب الگ ہے۔فتح مکہ پر کافرکو پانی پیپ لگتا تھا اور عالم برزخ میں شہداء اور مؤمنوں کو رزق دیا جاتا ہے اور کافروں کوبھی رزق دیا جائیگا۔

تفسیر عزیزی میں عذاب قبر کے انکار کا مفتی اعظم مفتی ولی حسن سے پوچھا توکہا:تم پنج پیری ہو؟ میں نے کہا: حاجی عثمان کا مرید ۔ حاجی عثمان پر فتوی لگا تو مولانا شیرمحمدامیر JUI کراچی نے کہا کہ میرا استاذ لیکن اپنے دوست پر گدھے نے فتویٰ لگایا اور میرا کہا کہ ”پہاڑوں سے ٹکر لی ہے اسلئے کہ مدارس پہاڑہیں” ۔ مولانا یوسف لدھیانوی اہل خانہ کے ساتھ آتے اور مولانا سلیم اللہ خان نے مسجدالٰہیہ کی آمد سے عملی معذرت کا کھل کر اظہار کردیا تھا۔

آگے اللہ نے متقیوں کیلئے انعام کا ذکرکیا۔

” بیشک پرہیزگاروں کیلئے کامیابی ہے۔ باغات اور انگور ہیںاور خوشیں ہو نگے قد کی برابر۔ اور پیالے چھلکتے ہوئے۔ نہیں سنیں گے اس میں لغو بکواس اورنہ ہی جھٹلانے والے ۔بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف سے حساب کے مطابق نوازشات”۔

سورہ النباء میں آیت 31 سے 36 تک دنیا میں ملنے والی کامیابی اور انعامات کا ذکر ہے۔صحابہ کرام اور مسلمانوں نے کامیابی سمیٹ کر سب کچھ حاصل کرلیا۔ باغات اور انگور کے مالک بن گئے اور انگور کے خوشے پہنچ سے باہر نہیں تھے ۔ لومڑی کی پہنچ سے باہرتھے توکہا کہ انگور کٹھے ہیں۔ عربی میں ٹخنے، عورت کے سینوں کے اُبھار اور اُبھری ہوئی چیز کو ”کعب” کہتے ہیں۔ پھلوں اورانگور کا ذکر تھا تو خوشے کا قدکے برابر ہونا واضح کردیا۔ پھل اور انگور کے خوشے بھی ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

حور کا ذکر نہیں تو صفات کا بیان بغیر موصوف کے کیسے مراد لے سکتے ہیں؟۔دوسری سورتوں سے ایک ایک بات کی زبردست وضاحت بھی ہے لیکن ہمارے علماء ومفتیان قرآن پر تدبر نہیں کرتے ۔

اس کے بعد اللہ نے پھر فتح مکہ اور انقلاب عظیم کا ذکر بہت وضاحت کیساتھ کردیا ہے۔

” اس دن جبریل اور ملائکہ صفوں میں کھڑے ہوں گے ۔کوئی بات نہیں کرسکے گا مگر جس کو رحمن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کرے گا۔ یہ دن حق ہے۔ پس جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانہ بنالے۔بیشک ہم نے تمہیں ڈرایا قریب کے عذاب سے۔جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا۔اور کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا”۔(سورہ النباء: 38، 39، 40 )

جس طرح لیلة القدر میں جبریل اور فرشتے اترتے ہیں۔ اسی طرح فتح مکہ اور انقلاب عظیم کے وقت بھی فرشتے جبریل کیساتھ صفوں میں کھڑے ہوں گے۔ فتح مکہ کے وقت سردارانِ قریش بولنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے لیکن جس کیلئے اللہ اپنے خلفاء الارض صحابہ کرام کے دل میں ڈالتے تھے۔

قرآن سمجھ آیا تو دنیا جمہوری خلافت پر متفق ہوگی ۔مفتی منیر شاکر شہید کی آخری تقریرسن لیں۔

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پا س تجھے ہے کہ نہیں
یہ شکایت نہیں ،ہیں ان کے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بیچارے مسلمان کو فقط وعدہ حور

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ قوام حکمرانی نہیں بلکہ طاقتور کا کمزور کوعدل وتوازن کا سہارا ہے

اذا انفقوا لم یسرفوا و لم یقتروا وکان بین ذٰلک قوامًا”خرچ میں نہ اسراف نہ بخل انکے درمیان اعتدال”

الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ قوام حکمرانی نہیںبلکہ طاقتور کا کمزور کوعدل وتوازن کا سہاراہے

الاتطغوافی المیزان

آسمانی توازن اللہ نے قائم کیا ۔ زمین کاتوازن قائم کرنے کی ذمہ داری ارضی خلیفہ انسان پر ہے۔

دماغی توازن بگڑا توپاگل ،جسمانی توازن بگڑا تو فالج زدہ اور کرداربگڑا تو بدچلن ہے۔ دائیں ہاتھ و پاؤں بائیں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہیں تو بوجھ، لڑائی اور بھاری کام دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں اور فٹ بال کی کک دائیں پاؤں کا کام ہے۔ یہی فطرت ہے اور اسلام بھی فطری نظام حیات ہے۔

والذین اذا انفقوالم یسرفواولم یقتروا وکان بین ذٰلک قوامًا ”اور جب خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف کرتے ہیں اورنہ بخل اور انکے درمیان متوازن ہیں”۔ (الفرفان:67)

قوام کا معنی متوازن ہے ۔قرآن میں مردوں کو صنف نازک عورتوں پر حکمران نہیںقوام بنایا گیا ۔
قوام صنف نازک کی مدافعت ، کمزوری پر قابو رکھنا ہے۔ حکمران کا کام بھی رعایا کی کمزوری کیلئے طاقت کا توازن معتدال بنانا ہے۔ جیسے ماں بچوں کی کمزوری کا دفاع کرتی ہے اسی طرح حکمران اور شوہر کا کام کمزوری کا دفاع ،عدل وتوازن ہے۔

اگر اس کی حقیقت سمجھ میں آجائے تو بیویوں اور رعایا پر ظلم نہیں ہوگا۔ سکیورٹی طاقت کا بنیادی مقصد کمزور کو تحفظ دینا ہے۔ سزا کا کام عدالت کا ہے اور اگر طاقتور شوہر یا ڈکٹیٹر حکمران اپنی رعایا پر ظلم کرے تو عدل وتوازن کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

پروفیسر نورالامین نے کہا :” ہم پشتون بدھ مت تھے۔ اسلام نے ہمیںمتشدد بنادیا ۔پشتو میں پت اور ہندی میں پتی ۔ لکھ پتی، کروڑ پتی ۔ شوہر ٹرسٹ ہوتا تھا جوبیوی پر بالادست نہیں سہاراہوتاتھا”۔
قوام پر مال کاخرچہ ۔ صالحات، قانتات حافظات للغیب بما حفظ اللہ ایک درجہ مردکااور3درجات عورت کے ہیں۔شوہر خود پر بہتان برداشت کرتا ہے لیکن بیوی پر نہیں۔کیا کوئی فاسق، متکبراور خائن شوہراپنی صالحہ، عاجزہ ،عصمت کی محافظہ عورت سے محض مال خرچ کرنے پر افضل ہوسکتا ہے؟۔اگر برعکس عورت مال خرچ کرتی ہو مگر خائنہ ہو توپھرکیا شوہر اس کو افضل سمجھے گا؟۔

عورت کو عزت کامحافظ اللہ نے بنایا۔ زناکی سزا100، عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے ہے ۔ فطری خائن شوہرکو زیادہ عورتوں سے نکاح کاکہا۔ عصٰی اٰ دم ربہ فغوٰی (طٰہٰ:121)”آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی توبہکا”۔محرک حواء نہ تھی۔

اوالتٰبعین غیر اولی الاربة من الرجال ” ان تابع مردوں سے جو ٹھرکی نہ ہوں ،عورتوںکو اپنی زینت چھپانے کا حکم نہیں ”۔ (سورہ نور:31)

سوال: پھر عورت کے مارنے کا حکم کیوں دیا ؟۔

جواب : شوہر طیش میں مارتاہے، منصوبہ بندی سے بیوی کو نہیں مارتا تو اللہ نے مار سے بچانے کیلئے واضح کیا کہ مارنے سے پہلے ایک مرحلہ میں سمجھاؤ۔ پھر دوسرے مرحلہ میں بستر الگ کرلو۔ پھر تیسرے مرحلہ میں مارو لیکن اس کی اصلاح ہو تومارنے کیلئے راستہ مت ڈھونڈو۔مارنے کیلئے کیا منصوبہ ہوگا؟۔

پھول مارنا ،ہاتھ اٹھانا ناقابل برداشت انسلٹ توہین ہے لیکن بیوی بہت وفادار ہوتی ہے اوربڑی مارکھاسکتی ہے مگرشوہر سے جداپھر بھی نہیں ہوتی۔

شوہر بیوی کو رنگے ہاتھ پکڑلے تو بھی تشدد نہیں لعان کرسکتا ہے اور عورت لعان میں جھوٹ بولے اور شوہر سچا ہو تو تب بھی عورت کو سزا نہیں ہوگی۔

موسٰی نے ہارون کو داڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک شخص کو مکا ماراتومرا۔ بیوی کو مارتے تو؟۔ 3 مراحل کی مار اور 3 مرتبہ کی طلاق کوہم نے کہاں تک پہنچادیا ؟ ، توراة اورانجیل کے ساتھ یہود اور نصاریٰ نے یہی کچھ کیا تھا۔

یہود نے تورات سے حلالہ کی لعنت کو رائج کردیا تھا اور نصاریٰ نے طلاق کا تصور ہی ختم کردیا تھا۔ قرآن نے جب ان کے درمیان اس افراط وتفریط کو اپنی واضح آیات سے ختم کردیا تو اس کے نتیجے میں انہوں نے قرآن کیخلاف ایک منظم پروپیگنڈہ کیا تھا کہ اللہ کی آیات کو جو تورات اور انجیل میں تھیں مٹادیاہے اور بھلا دیا گیا ہے۔

مثلاً آج قرآن سے سورہ بقرہ آیت 230 کو نکال دیا جائے تو ایک طرف حلالے کا تصور ختم ہوگا اور مسلمان بہت خوش ہوں گے کہ اللہ نے بڑا فضل کیا اور بہت بڑی مصیبت سے جان چھوٹ گئی لیکن دوسری طرف پھر قرآن کی آیات سے طلاق کا تصور بھی ختم ہوسکتا ہے اسلئے علماء ومفتیان قرار دیں گے کہ اللہ نے عدت میں بھی شوہر کو رجوع کا یکطرفہ اختیار دیا ہے اور عدت کے بعد بھی رجوع کا اختیار دیا ہے جس کی وجہ سے عورت کی آزادی بالکل ہی سلب ہوجاتی ہے۔ کوئی شوہر نہیں چاہتا ہے کہ اس کی بیوی سے طلاق کے بعد کوئی اور شخص ازوداجی تعلق رکھے۔ کمزور کے خلاف ویسے بھی قانون ہی قانون بنتے ہیں۔ قرآن کی آیات میں میں عورت کے تحفظ کی کوئی کمی اللہ نے نہیں چھوڑی ہے لیکن پھر بھی سارے حقوق علماء وفقہاء نے سلب کرلئے۔

مثلاً آیت 226 البقرہ میں ایلاء کے بعد شوہر کو عدت میں بھی رجوع کا یکطرفہ اختیار نہیں ہے۔ عورت راضی ہوگی تو شوہر رجوع کرسکتا ہے۔ جب نبیۖ نے ایلاء کے بعد رجوع کیا تواللہ نے کہا کہ سب ازواج کو طلاق کااختیار دو۔ اگر وہ نہیں چاہیں گی تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

آیت 228 البقرہ میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق شوہر کو دیا مگر اصلاح کی شرط کو نکال کر فقہی مسائل کا کباڑخانہ بنادیا گیا ہے۔

229البقرہ میں معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے لیکن معروف یعنی صلح و اصلاح کی شرط کونکال کر رجوع کو بڑا مذاق بنادیا گیاہے ۔
یہی حال دیگر آیات 231، 232 البقرہ اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات کابھی کیا گیا ہے ۔

تمام آیات میں عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آیت 230 البقرہ میں یہ حلالہ ملعونہ کا کمال ہے کہ میرا بھی حقائق کی طرف دھیان گیا ہے۔عورت کے حق کی اللہ نے رجوع کیلئے بھرپور وضاحت کی ہے اور دنیا کے سامنے حقائق آجائیں تو مسلمانوں کی بہت زیادہ ملامت کریں گے۔ تورات اور انجیل کی آیات میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے بلکہ بہتری لائی گئی ہے لیکن اس بہتری کی جگہ علماء نے قرآن کے احکام کا بیڑہ غرق کردیا۔ ایک طرف یہ بتایا کہ احکام کی کل آیات 500 ہیں تو دوسری طرف یہ بھی بتایا کہ 500 آیات منسوخ بھی ہوچکی ہیں اسلئے قرآن کی کسی ایک آیت کے حکم پر بھی فقہاء کا کوئی اتفاق نہیں ہے۔ اصول فقہ میں جتنی آیات پڑھائی جاتی ہیں ان پر اختلافات اور تضادات ہیں۔

ماننسخ من آیةٍ او ننسھا نأت بخیرٍ منھا او مثلھا الم تعلم ان اللہ علی شی ئٍ قدیر O ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہترلاتے ہیں یا اسی کی طرح، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورہ البقرہ ۔ آیت106)

اس آیت سے کون تصور لے سکتا ہے کہ اللہ نے کسی آیت کو منسوخ کرکے پہلا حکم بدل دیا ہے؟۔ یہ تو دلیل ہے کہ پہلے سے موجود آیت کو مزید بہتری یا پھر اسی جیسی آیت نازل کی گئی ہے۔ کوئی تبدیلی کا تصور اس میں نہیں دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ، عدالت اور دنیا کے کسی بھی تعلیمی اداروں میں اس کی حقیقت سمجھنے کیلئے پیش کردو تو کوئی دشواری اس میں نہیں۔

اللہ نے فرمایا:” اور تمہاری عورتوں میں سے کوئی بدکاری کرے تو اپنوں میں سے چار گواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دیں تو اس کو گھر وں میں روکے رکھو۔ یہاں تک کہ ان کوموت سے وفات آجائے یا پھر اللہ ان کیلئے کوئی راہ نکال دے”۔ (البقرہ:15)

جیسے شوہر لعان کے بعد گھر سے باہر نکال دیتا ہے۔ اس طرح کوئی عورت ماحول کو بگاڑ رہی ہو تو معاشرے میں اس کی شکایات آتی ہیں۔ جس پر اس عورت کو تادم حیات بند کرنے کا حکم ہے اسلئے کہ ایسی گرم عورتوں سے لوگوں کے گھر اور بچے بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ اگر عملی طور پر کوئی ایسی عورت کو دیکھا جائے گا تو ”میرا جسم میری مرضی” والی بھی اس کو گھر میں نظر بند رکھنے پر متفق ہوں گی۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی راستہ اللہ نکال دے۔ شوہر اس کو مل جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی متبادل حکم نازل ہوجائے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن کے مضامین اس پر کتابی شکل میں موجود ہیں جس میں حماقت کی انتہا کی گئی ہے کہ اس آیت سے ”رجم” مراد ہے۔

جہاں تک سورہ نور کی آیت میں 100 کوڑے کی سزا کا حکم ہے تو سزا کیلئے عورت اور مرد کو ایک ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے یا اقرار جرم کی صورت میں ہے۔ اس میں بھی رجم نہیں۔ بہت ہی محترم اور اچھے ویلاگر بلال غوری نے عمران اور بشریٰ بی بی پر انتہائی گھناؤنی تہمت لگانے کا ذکر کیا ہے۔ اگر اس بات کو واقعی درست سمجھ لیا جائے کہ عمران خان اور بشری بی بی کئی بار پکڑے گئے تو بھی80کوڑے کی سزا اس نوکر گواہ کو ملتی مگر یہاں معاملہ کچھ اور تھا۔

سورہ نور میں اللہ نے یہ واضح کردیا کہ زنا کار مرد کا نکاح زنا کار عورت سے کرادیا جائے۔ پھر بھی شریعت کا تقاضہ یہی تھا کہ ان دونوں کی آپس میں شادی کرائی جائے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے تدوین القرآن میں مولانا عبیداللہ سندھی اورمولانا محمد حنیف ندوی وغیرہ نے اس پر بہت اچھا لکھا ہے لیکن اگر تسلی بخش نہیں تو میں تسلی کرواسکتا ہوں اور کئی مرتبہ اس پر لکھ بھی چکا ہوں۔ جاویداحمد غامدی نے بھی ان لوگوں سے استفادہ کیا ہوگا لیکن جاویداحمد غامدی کی یہ بات سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ ” آیت میں نسخ کی مثال سورہ مجادلہ کی آیات ہیں کہ اللہ نے فرمایا کہ ”جب تم نبی سے سرگوشی کرو تو صدقہ دو”۔ پھر دیکھا کہ ”مؤمن اس سے ڈر گئے تو اللہ نے معاف کردیا کہ” مت دو” اور حکم بدل دیا۔ حالانکہ اس عظیم الشان حکم میں بڑی حکمت پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ اگر مذہبی شخصیت سے امیرآدمی کی خصوصی ملاقات سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہو تو یہ غریب غرباء کیلئے زبردست ہوگا۔ لیکن اگر وہ نہیں دینا چاہے تو اس کی عزت بھی پھر خصوصی ملاقات سے نہیں بڑھے گی۔ سینیٹر طلحہ محمود کو علماء نے نماز کیلئے بھی آگے کیاتھا۔ پھر زرداری کی پارٹی میں چلاگیا۔

غامدی کا بھی کوئی ATM ہوگا اگر اس کو حکم ہو کہ غرباء کو صدقہ دو تو ATM کی حیثیت صدقے سے بنے گی۔ اگر غریب کو کچھ نہ دے تو غامدی کو بھی ہدیہ دینا بیکار ہوگا۔ یہ ا س حکم کی حکمت ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمد کے پروگرام میں افغانستان کا نائب سفیر حبیب اللہ فوزی میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھا ہوا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے 10 لاکھ کا چیک پیش کیا۔ ملاعمر نے ملاقات کیلئے یہ فیس رکھی تھی اور افغانستان کے انتظام میں اس سے مدد ملتی ہوگی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ منسوخ کے بارے میں آیت کا متن سمجھے بغیر کئی آیات کو مضحکہ خیزانداز میں منسوخ قرار دیا گیا۔ بیوہ کو سال تک نہیں نکالنے کو عدت سے منسوخ قرار دینا حماقت ہے۔ اگرشادی کرنا چاہتی ہو تو عدت ہے اور نہیں کرنا چاہتی ہو تو ایک سال تک نہیں نکالنا فطرت ہے۔ جاوید احمد غامدی پڑھاکو بچہ ہے۔ پڑھ پڑھ کے دماغ خراب ہوا ہے اور ناسخ ومنسوخ کے چکر میں پتہ نہیں کہاں جاکر دم لے گا؟۔وہ حمیدالدین فراہی کو دین کی تعبیر جدید کا بانی اور مولانا مودودی کو اسلاف کی تفسیر کی آخری کڑی قرار دیتا ہے مگر یہ خام خیالی ختم ہے۔

تفسیر کیلئے دماغ سوزی اور لغات میں گمراہ کن تعبیرات ڈھونڈ کر اسلام کو مزید اجنبیت کی طرف دھکیلنا بڑی حماقت ہے۔ علماء وفقہاء کی مصیبت یہ تھی کہ نماز کی رکعتوں میں تین مختصر سورتوں میں بھی درمیان کی سورت چھوڑنا ممنوع قرار دی تاکہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا تصور قائم نہ ہوجائے ۔اور پھر طلاق کے مسائل میں حلف کو داخل کردیا۔ جدید مفسرین نے سلیس انداز میںگمراہی کو عام فہم بنادیا اور غلام احمد پرویز نے تبویب القرآن میں آسمان و زمین کی قلابیں ملاکر نئی تعبیر ایجاد کی مگرعلامہ بنوری کے تقویٰ ، درخواستی کی قربانی ، حاجی عثمان کی صحبت ، والدہ کی محنت ، اجداد کی برکت، مولانا نصراللہ کی دعا اور نبیۖ کی رحمت نے مجھے اعزاز بڑا بخش دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی رشید ، مفتی حنیف قریشی اورمفتی طارق مسعود کیلئے تحریری تحفہ

قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا ”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑرکھا تھا”(الفرقان)اورفرمایا” جیسا ہم نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیاہے”(الحجر)۔ علماء کا طلاق و دیگر مسائل پر یہی کردار ہے۔

جو علماء ومفتیان قرآن، سنت اور خلفاء راشدین پر متفق ہیں اورمسئلہ طلاق پر قرآن میں ڈھیر ساری وضاحتوں کے باوجود متفق نہیں ہیں اور دجالی میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں تویہ بتادیں کہ قرآن پر متفق کیوں نہیں ہوتے؟۔ قرآن کو کیوں چھوڑ رکھا ہے اور قرآن کو چھوڑ کر تیسری صدی ہجری میں لکھی جانے والی روایات وحدیث کی کتابوں میں کیوں امت کو الجھاتے ہیں؟۔ روایات سے قرآن کو بوٹی بوٹی بنانے کے جرم کے مرتکب کیوں بنتے ہیں؟۔

قرآن میں عدت تین مراحل یا بچے کی پیدائش ہے اور اس میں شوہر کو باہمی اصلاح کی بنیاد پر اللہ نے رجوع کا حق واضح کیا ہے۔ (البقرہ: 228)

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صلح کے بغیر شوہر عدت میں ایک طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دومرتبہ طلاق کے بعد بھی معروف طریقے رجوع کرنے یا رخصت کرنے کی اجازت واضح کردی۔ (البقرہ: 229)

اللہ کا حکم معروف رجوع واضح ہے کہ صلح اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے قرآن میں تضاد نہیں۔
حنفی اور شافعی مسالک کے نام پر قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیاگیا۔ حنفی کے نزدیک نیت نہیں ہو تب بھی شہوت کی نظر پڑگئی تو رجوع ہے اور شافعی کے ہاں نیت نہ ہو تو جماع سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ قرآن میں باہمی صلح واصلاح اور معروف کو کتوں کی طرح نوچ نوچ کر بوٹی بوٹی بنادیا ہے۔ TV کے اینکر اور یہ مولوی سب مل کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

مولانا سلیم اللہ خان ، علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح”کشف الباری” اور ”نعم الباری ” میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت تمیم داری نے نبی ۖ سے پوچھا کہ ” قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ تونبیۖ نے فرمایا کہ آیت 229 البقرہ میں دو مرتبہ طلاق اور معروف یا تسریح باحسان اچھے انداز میں رخصت کرنا تیسری طلاق ہے”۔ آیت 228 میں عدت کے تین ادوار کی وضاحت ہے اور آیت 229 میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔

سورہ طلاق میں کی پہلی آیت میں بھی عدت کے 3 مراحل میں 3 مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔

کتاب التفسیر ، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت صحیح بخاری میں نبیۖ نے واضح کیا کہ 3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3ادوار سے ہے۔ جب اللہ نے رجوع کا تعلق عدت سے قرار دیا ہے اور نبیۖ نے بھی یہ سمجھایا ہے تو پھر مجہول روایات سے عورتوں کی عزتیں برباد کرنے کا دھندہ کیوں نہیں چھوڑا جاتا ہے؟۔

جامعة الرشید کے مفتی رشیدنے کہا کہ ایک شخص کے بارے میں نبیۖ کو خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کررہے ہو ۔ جب کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔

1:اس حدیث کا ذکر بخاری ومسلم میں نہیں۔

2:یہ واحد حدیث ہے جو حنفی مسلک میںاکٹھی تین طلاق کو بدعت اور گناہ قرار دینے کی دلیل ہے جس کو شافعی تسلیم نہیں کرتے۔

3:شافعی کے ہاں واحددلیل عویمر عجلانی کا واقعہ ہے جس سے اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دیتے ہیں جس کو حنفی نہیں مانتے۔

4:اس حدیث میں مجہول شخص عبداللہ بن عمر اور قتل کی پیشکش والے حضرت عمر تھے۔

5:یہ واقعہ بخاری میں زیادہ واضح ہے جہاں رسول اللہۖ غضبناک ہوئے اور رجوع کا حکم بھی دے دیا اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہے۔

6:صحیح مسلم میں ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھ تک ایک مستند راوی سے یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں ۔پھر 20 سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔ اسکے بعد ایک زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ منصوبہ بندی سے ہی روایات مستند لوگوں نے بگاڑے اور اگر نام بتائے جاتے تو سب ہی اس پر تبصرہ کرتے۔کیا اس کی وجہ سے قرآن پر قصائی کاٹوکا چلایا جا سکتا ہے؟۔

اگر ہم مان لیں کہ مجہول حدیث حقائق کے بغیر درست ہے تو بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وہ شخص رجوع کرنا چاہتا تھا اور نبیۖ نے حلالہ کرنے حکم دے دیا۔ اگر وہ رجوع چاہتا تو نبیۖ آیت 228 البقرہ اور سورہ الطلاق کے مطابق پھر بھی بغیر حلالہ کے رجوع کا حکم فرماتے۔

جہاں تک بخاری کی روایت ہے کہ رفاعہ نے بیوی کو تین طلاق دی، پھر اس نے عبدالرحمن القرظی سے نکاح کیا اور نبیۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ اسکے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے۔نبیۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ؟ اور نہیں جاسکتی یہاں تک آپ اس کا شہد چکھ لو جیسے کہ پہلے شوہر کا شہد چکھا اور وہ بھی تیرا شہد چکھ لے۔

بخاری نے اس کو اکٹھی تین کیلئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

1:چاروں مسالک بخاری کی اس بھونڈی حرکت کو تسلیم نہیں کرتے کہ ایک ساتھ تین طلاق کیلئے یہ حدیث دلیل ہے۔

2:بخاری میں بھی اسکے برعکس دو حدثیوں میں یہ نقل ہے۔ ایک میں یہ واضح ہے کہ رفاعہ نے الگ الگ طلاقیں دی تھیں۔ دوسری میں عبدالرحمن بن زبیرالقرظی نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں اس کی چمڑی مردانہ طاقت سے ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں۔

3:نامرد سے حلالے کا کوئی بھی قائل نہیں تو نبیۖ کی طرف اس ظلم کو منسوب کرنا بہت بڑی گستاخی ہے۔

بخاری کو غلط پیمپر پہنانے ، خواتین کی عزتوں کو تار تار کرنے اور لوگوں کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کیلئے ان علماء ومفتیان نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ یہ سارے دلائل اور اس سے کہیں بڑھ کر ہم بار بار دے چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے مسلکوں کے دنیادار لوگوں سے مال بٹورنا ہے اور غریبوں کا عقیدت کے نام پر استحصال کرنا ہے۔

اکابرصحابہ اور تابعین کی طرف من گھڑت قصے نقل کئے گئے ہیں۔ حضرت عمر نے تنازعہ کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق پر ٹھیک فیصلہ دیا اسلئے کہ جب ایک طلاق کے بعد بھی عورت راضی نہ ہوتو صلح کے بغیر قرآن نے رجوع کو منع کردیا ہے۔ حضرت عمر مفتی نہیں حکمران تھے ۔جو لوگوں کے درمیان قرآن پر فیصلہ کرتے تھے۔ علی برسراقتدارآگئے تو ایک شخص نے بیوی کو حرام کہا تھا۔عورت صلح پر راضی نہیں تھی تو علی نے فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا، قرآن کا یہی تقاضا تھا۔ عمرنے حرام کے لفظ پر رجوع کا فیصلہ دیا تھا، اسلئے کہ عورت راضی ہوگئی تھی۔ قرآن ہی نہیں روایات و صحابہکے فیصلوں کا بھی کباڑہ کیا ہواہے۔

قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں تضادات نہیں ہیں۔ صرف اور صرف ایک حدیث ہے جس کو امام شافعی نے طلاق سنت کی دلیل بنایا ہے اور وہ لعان کے بعد عویمر عجلانی کی حدیث ہے۔ اس میں حلالہ کا کوئی سوال نہیں بلکہ قرآن کی تفسیر ہے کہ اگر عورت نے فحاشی کا کھلا ارتکاب کیا تو عدت میں بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ جیسے سورہ طلاق میں واضح ہے۔

متقدمیں علماء میں حلالہ کا چکر نہیں تھا، ان کا اس بات پر اختلاف تھا کہ اکٹھی تین طلاق کا دینا سنت ہے یا بدعت؟۔اسلئے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو یہ مصلحت کے خلاف ہے۔ پھر تنازع بڑھا تو سنت وبدعت میں بٹ گئے۔ مزید معاملہ بڑھاپھر حضرت عمر پر سوال اٹھ گیا؟۔پھر آخرکار حلالہ تک نوبت پہنچ گئی اور آج یہ کاروبارہم خرما وہم ثواب ۔

فاطمہ بنت قیس کے متعلق احادیث میں مرحلہ وار طلاقوں کاذکر ہے اور اکٹھی3 طلاق کا بھی۔ جن میں تطبیق یہ ہے کہ ناگوار صورت کی وجہ سے اچانک تین طلاق دی اور پھر مرحلہ طلاقیں دیں ۔ عدت نابیناحضرت عبداللہ بن مکتوم کے پاس گزاری۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” فاطمہ بنت قیس اپنے حق سے محرومی کی بات نہ کرتی تو یہی اس کیلئے بہتر ہوتا۔ عبداللہ بن عباس کے شاگردوں کا اختلاف بھی اس بنیاد پر تھا کہ جب تین طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تو رجوع کا فتویٰ دیا اور عورت راضی نہ ہوتی تو عدم رجوع کا دیتے۔

البقرہ آیت 229 میں تین مرتبہ طلاق کے بعد دیا ہوا مال واپس لینا حلال نہیں مگر جب دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کو خدشہ ہے کہ اس سے رابطہ ہوگا تو دونوں جنسی تعلق سے اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ فدیہ عوض اور خلع نہیں ہوسکتا بلکہ فدائی حملے کی طرح قربانی مراد ہے ۔تاکہ عورت کی عزت محفوظ ہو۔ پھر رجوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسلئے اسکے بعد اللہ نے فرمایا: ”پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاںتک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” (البقرہ آیت:230)

اس کے بعد البقرہ آیات 231 اور 232 میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کی اجازت دی ہے بلکہ اس کی زبردست تاکید سے وضاحت فرمائی ہے۔

سورہ تحریم میں بیوی کو حرام قرار دینے کی بڑی وضاحت ہے لیکن فقہاء نے چارخلفائ ، چار ائمہ اور ایک درجن دیگر تضادات سے اس کی 20 بوٹیاں بنادی ہیں جو ابن قیم کی کتاب زارالمعاد میں ہیں۔

جس سے قرآن کی پہلی FIR ثابت ہوگئی۔

وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذا لقراٰن مھجورًاO(سورة الفرقان:30)
”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔
سورہ تحریم کو دیکھتے تو اجتہادی غلطیاں نہ کرتے اور قرآن چھوڑنے کے جرم کا ارتکاب سرزد نہ ہوتا۔

قرآن کی دوسری FIR بھی ثابت ہوگئی۔
لا تمدن عینیک الٰی ما متعنا بہ ازاوجًا منھم ولاتحزن علیھم واحفض جناحک للمؤمنین O وقل انی انا النذیر المبین O کما انزالنا علی المقتسمین O الذین جعلوا القراٰن عضین O فوربک لنسالنھم اجمعین O عما کانوا یعملونO فالصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین O انا کفیناک المستھزئین O الذین یجعلون مع اللہ الٰھًااٰخر فسوف یعلمونO

”اپنی آنکھیں اٹھاکربھی مت دیکھو جو ہم نے ان کو چیزیںدے رکھی ہیں۔اپنے بازومؤمنوں کیلئے جھکائیںاورکہو کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ جیساہم نے بٹوارہ کرنیوالوں پر نازل کیا،جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا۔پس تیرے رب کی قسم ہم ضروربضروران سے پوچھیں گے جو وہ کرتے تھے۔پس آپ دھماکہ کردو جس کا تجھے حکم ہے اور مشرکوں سے پہلوتہی برت لو”۔( حجر:88تا94)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال رسول اللہ ۖ لایزال اہل الغرب ظاہرین علی الحق حتی تقوم الساعة ”اہل غرب کاحق پر غلبہ رہے گا حتی کہ انقلاب قائم ہوجائے”۔(صحیح مسلم)

من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتةً جاہلیة:جس نے اپنے امام زمانہ کو نہ پہچانا تو جاہلیت کی موت مرا۔

ایک زمانہ4امام:

دیوبندواہلحدیث:(1)یزید

بریلوی:(2)عبداللہ بن زبیر

شیعہ:(3)زین العابدین

اور کیسانیہ:(4)محمد بن حنفیہ

اوپیچھے تو دیکھو !پیچھے
سیاسی بچہ: احمد شاہ کانیگرم وزیرستان

امام پر کبھی اتفاق نہیں ہوا لیکن جمہوریت پرہندوستانی، پاکستانی اورایرانی متفق؟

امام پر اتفاق نہیں ہوا۔ اگر خلافت راشدہ جمہوری ہوتی تو نبی ۖ کی 23 سالہ جدوجہد کے بعد عثمان 25 سال میں شہید نہ ہوتے ۔ عمر کی شہادت پر عبیداللہ بن عمر نے کئی افرادکو قتل کیا۔ عثمان خلیفہ بن گئے تو علی نے قصاص کا کہامگر پھرسرکار نے دیت دی۔ عبیداللہ پھر شام گیا۔ ریمنڈ ڈیوس نوعیت کا پہلا کیس تھا۔ کہا گیا کہ عمر دور کا کیس تھا نہ عثمان دورکا اسلئے قصاص نہ کیا۔ قاضی شریح کی عدالت نے قتل عثمان سے قتل حسین تک آخرمعاملہ پہنچادیا اور اب تک معاملہ چل رہا ہے۔

ایک مؤمن کے ناجائز قتل کی سزا جہنم اور خانہ کعبہ کو ڈھانے سے زیادہ گناہ ہے لیکن کیا عثمان وعلی اور حسین سمیت لاکھوں مسلمانوں کو قتل سے اس آیت وحدیث نے بچایا؟۔نہیںہرگزنہیں!۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے ایک جان کو قتل کیا جیسا کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ جس میں مسلم وغیر مسلم اور فرقہ وقوم پرستی ، ریاستی وغیرریاستی کی تفریق نہیں۔ دہشتگردی کو روکنا پشتو گانے سے ممکن نہیں کہ” میں آج جب ناچ رہا ہوں توپوری دنیا ناچ رہی ہے”۔اسی طرح رونا بھی سمجھو۔ طالب علماء کو کافراورمرتد سمجھ کر قتل کرتا ہے۔بلوچ اپنا بلوچ قتل نہیں کرتا ۔ طالب گڈ و بیڈ کے پاس اسلحہ مگر بلوچ میں یہ نہیں ۔بلوچ پہاڑی جنگل اور طالب شہری منگل میںہے۔

قرآن میں جہادو اصلاح کی بیعت لیکن بنیاد بیعت خلافت ہے۔جس میں جبر کا تصور نہیں تھا۔

نبیۖ نے حدیث قرطاس سے امت کو اپنے بعد گمراہی سے بچانا چاہا تو عمر نے کہا کہ ” ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔ مگر آخری عمر میں عمر نے کہا کہ کاش نبیۖ سے خلفاء کے نام پوچھتے۔ سعد بن عبادہ نے خلافت انصار کا حق سمجھا۔ ابوبکر وعمر نے قریش کوحقدار کہا۔ علی ہنگامی بیعت پر خوش نہ تھے مگر ابوسفیان کی پیشکش مسترد کی۔ ابوبکر نے چھ ماہ بعد منایا۔ پھر عمرکو نامزدکیا تو صحابہ نے کہا کہ اللہ کا خوف نہیں کہ سخت عمر مسلط کیا؟۔ ابوبکر نے کہا کہ خلافت کا بوجھ نرم بنادے گا۔ سعد بن عبادہ مدینہ چھوڑکر شام کے گاؤں میں رہنے لگے ۔ ابوبکر وعمر کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اور پھر جنات نے قتل کیا۔ قرون اولیٰ میں اختلاف، جنگیں ، جنات کے قتل تھے توہم اپنے دور میں احتیاط اور حکمت سے کام لیں۔ یزیداورکربلا کے علاوہ عبداللہ بن زبیر نے بیعت لی ۔ مختار ثقفی اور محمد بن حنفیہ اتحادی مگر پھر ثقفی نے اس کا گورنر کوفہ سے بھگایا اور حسین کے قاتل چن چن کر قتل کئے۔ پھر عبداللہ بن زبیر نے اس کا خاتمہ کیا۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے خلافت زین العابدین کے سپرد کرنا چاہی مگر قبول نہیں کی گئی۔پھر مروان بن حکم خلیفہ بنا۔ عبدالملک بن مروان دور میں عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادت اور لاش مکہ میں لٹکائی گئی جس طرح کابل میں طالبان نے ڈاکٹر نجیب اللہ کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا اور لاش لٹکائی۔ مولانا شیرمحمد نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے نجیب اللہ کو بچانے کیلئے ملا عمر سے کہا مگر ملاعمر نے اپنی بے بسی کا اظہارکیا۔ نبیۖ نے اہل غرب کو جمہوریت وقانون کی بالادستی کی وجہ سے اہل حق کا غلبہ قرار دیا۔ اگر ہم نے سنجیدگی سے معاملہ لیا تو بڑی مشاورت سے خلافت کا نظام قائم کرسکتے ہیں۔

مثلاً آج سنی مروان بن حکم کا حویلیاں ہزارہ میں عرس منارہاہے تو شیعہ اس کو توہین اہل بیت سمجھتا ہے اور اگر شیعہ کہتا ہے کہ علی ولی اللہ وخلیفتہ بلا فصل توسنی عالم اس پر توہین کی تشہیر کرتا ہے۔

ہے بھڑکنے کا ذوق تو بھڑک جاؤ
ہے مرنے کا شوق تو پھڑک جاؤ
ہم کہتے رہیں گے تمہیں رُک جاؤ
اچھے دور کے آنے تک سسک جاؤ
وہ وقت بھی آئے گا کہ تھک جاؤ
اپنے اُٹھائے ہوئے ہتھیار رکھ جاؤ
مرتے ہوئے اچھی وصیت لکھ جاؤ
خوش حال راج کیلئے جلد مکھ جاؤ
توحید نہ رسالت چھیڑنے فدک جاؤ
بہانے بہانے سے لمحہ لمحہ بدک جاؤ
اللہ نے کہا بدلے جنت کے بک جاؤ
سامنے خلیفہ ارض کے تم جھک جاؤ
زمیں سے بھی اوپر برسر فلک جاؤ
عزازیل سے ابلیس تک بھٹک جاؤ
ملح اجاج کیلئے ساحل جھرک جاؤ
عذب فرات کیلئے کاہل دھڑک جاؤ
اپنی تقدیر کی بدولت منزل تلک جاؤ
تدبیر سے اندھیرے میں جھلک جاؤ
پگڈنڈیوں سے نکل کر سڑک جاؤ
اگر ہمت نہیں رکھتے تو سرک جاؤ
لگتا نہیں کہ رمک سے کرک جاؤ
مگر بامحاصرہ اچانک جب ٹپک جاؤ

تعصبات کا یہ عالم ہے کہ سنی یزید زندہ باد پر آگیا اور ہر داڑھی والے کو مولانا کہتا ہے لیکن علی کو مولانا طارق جمیل مولا کہہ دے تو اس کو مسلک ہی سے باہر کردیا جاتا ہے۔ پوری دنیا مولانا، مولانا بن گئی یہاں تک کہ اگر زیر ناف بال بڑھ جائیں تو اس کو بھی ڈاکٹر مفتی منظور مینگل حضرت مولانا ہی کہتا ہے اوراس کو توہین نہیں سمجھتا لیکن علی کو مولانا کہنا مولانا طارق جمیل کا ناقابل معافی جرم ہے۔

اگر سنی کہتا ہے کہ ابوبکر، عمر ، عثمان کے بعد علی کا چوتھا نمبر ہے تو یہ اس کو حق پہنچتا ہے۔ اگر ابوطالب کو کافر کہتا ہے تو بھی حق پہنچتا ہے۔ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے ۔ شیعہ کو بالکل برا منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر شیعہ کہتا ہے کہ ابوطالب ابوبکروعمر سے اچھے مسلمان اور علی کا پہلا نمبر ہے تو یہ بھی اس کا حق ہے۔ شیعہ تو احادیث کی بنیاد اہل بیت کا کلمہ پڑھتا ہے لیکن سنی نے صحابہ کا کلمہ نہیں پڑھا ہے اور نہ ایمان مجمل ومفصل میں صحابہ کرام کوشامل کیا۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ تم میں سے ہرایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کا پوچھا بھی جائے گا۔ یعنی جتنا بڑا راعی اتنا بڑا معززاور لوگوں پر حکومت واقتدار کرنے والا۔ لیکن قرآن میں یہی لفظ ایک خاص ماحول کی وجہ سے اللہ نے منع کیا۔

جن الفاظ سے فتنہ وفساد اور فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا ملتی ہو تو ان سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ جب فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی گئی ہے تو حکمت عملی سے اس کو بجھانا ایک بہت بڑا فرض ہے اور الحمدللہ اس فرض کو ادا کرتے کرتے میری عمر گزری ہے۔

اہل سنت کی احادیث کی کتابوں میں یہ جملہ کہیں نہیں ہے کہ ”جس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانا تو وہ جاہلیت کی موت مرا”۔ بیعت اور جماعت کو لازم پکڑنے کی بنیاد پر احادیث ہیں۔

جنرل ضیاء الحق دور میں بریلوی مکتب کے علامہ عطاء محمد بندھیالوی نے کسی قریشی امام سے بیعت کیلئے تحریک اور فتوؤں کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ دیوبندی مدارس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مولانا فضل الرحمن اپنی جماعت پر احادیث کو فٹ کررہاتھا تو میں نے اپنی کتاب ”اسلام اور اقتدار” میں تسلی کرادی تھی۔

شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز نے پہلی باریہ درج کیا کہ ”جس نے اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا”۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے دوسری بار لکھ دیا۔

شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ نبیۖ نے کشف میں فرمایا: ”شیعہ کی گمراہی کی وجہ عقیدہ امامت ہے۔ جس سے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امامت کا عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے”۔انجینئر محمد علی مرزا ایسے کشف کی بنیاد پر شاہ ولی اللہ اور سب اکابرین کو ختم نبوت کا منکر قرار دیتا ہے۔

درس نظامی کی کتاب شرح العقائد میں ہے کہ اہل سنت کے نزدیک امام کا تقرر مخلوق پر فرض ہے اور شیعہ کے نزدیک امام کا تقرر اللہ پر فرض ہے۔

شاہ اسماعیل شہید نے ”منصب امامت”میں شیعہ اور سنی دونوں مؤقف کی تائید کردی ہے اور بریلوی مکتب نے اس کتاب کی تائید کردی ہے۔

جو سنی مخلوق کا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے عرصہ سے اس پر عمل نہیں کیا اور جو شیعہ اللہ کا فرض سمجھتے تھے تو امام خمینی نے چھلانگ کر فرض پوراکردیا۔

جو ہچکچا کے رہ گیا وہ رہ گیا ادھر
جس نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا

ایک ایسی فضا ضروری ہے کہ ریاستیں و حکومتیں خود امام وخلیفہ کے شرعی فریضہ پر متفق ہوجائیں اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور عوام الناس کو بھی کسی ریفرینڈ م سے اعتماد میں لیں۔ قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہاہے۔ خلافت راشدہ سے ہماری اوقات بھی زیادہ نہیں جہاں صحابہ واہل بیت کی موجودگی میں بڑا فساد برپا ہوا تھا۔صلح میں سبھی کی خیر ہوگی۔انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv