پوسٹ تلاش کریں

مہدی، بارہ امام اور شیعہ سنی مسائل کے حل کیلئے کچھ بنیادی تجاویز

گولڑہ پیر مہر علی شاہ نے ”تصفیہ ما بین شیعہ و سنی” میں لکھا: ”بارہ امام آئندہ آئیں گے”۔ علامہ سیوطی نے لکھا کہ ” حدیث میں جن بارہ امام پر امت اکٹھی ہوگی تو ان میں ایک بھی نہیں آیا”۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنی کتابوں میں سیوطی کی کتاب کا حوالہ دیا ” پھر مہدی آخری امیر نکلے گا،نیک سیرت ہوگا، اسی دور میں عیسیٰ نازل ہونگے۔ دجال خروج کرے گا”۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: قحطانی مہدی کے بعد ہوگا ۔جو اسی جیسا ہوگا۔ ارطاة نے کہا: مجھ تک خبر پہنچی کہ مہدی40سال زندہ رہے گاپھر اپنے بستر پر مر ے گا پھر قحطان سے ایک شخص سوراخدار کانوں والا نکلے گا جو مہدی سے الگ نہیں ہوگا۔20سال رہے گا پھراسلحہ سے قتل ہو گا۔ پھر اہل بیت النبیۖ سے نیک سیرت مہدی نکلے گا۔مدینہ قیصر پر جہاد کرے گا اور امت محمدۖ کا آخری امیر ہوگا۔ اسی دور میں دجال نکلے گا اور عیسیٰ کا نزول ہوگا۔یہ سب آثار نعیم بن حماد کی کتاب الفتن سے نقل کئے جو بخاری کے شیوخ میں ایک ہے۔ ( الحاویٰ: ج2علامہ سیوطی)

ڈاکٹر طاہرالقادری کو نوازشریف نے غار حرا کاندھے پر چڑھایاتھا۔اگر اعلان کریں کہ روایت ادھوری نقل کی ہے یہ فرض ہے۔ شیعہ نے لکھا: ”یہ بارہ امام حکومت کرینگے”۔ اور لکھا کہ” حدیث میں درمیانہ زمانے کے مہدی سے مہدی عباسی مراد ہوسکتا ہے” ۔( الصراط السوی فی احوال المہدی)

 

نبیۖ نے فرمایا”وہ امت کیسے ہلاک ہوگی جس کا اول مَیں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ہوں گے”۔
قیام قائم سے پہلے ایک قائم حسن کی اولاد سے ہوگا۔ حسنی سید کا ذکرروایات میںبکثرت ملتا ہے جس سے گیلانی سید مراد ہوسکتاہے۔(ظہور مہدی:علامہ طالب جوہری)
رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ” دو عتیق کے ذریعے جنگیں شروع ہونگی، ایک عتیق العرب ، ایک عتیق الروم”۔ ( کتاب الفتن: نعیم بن حماد ) مولانا یوسف لدھیانوی نے: علیکم بالعلم وعلیکم بالعتیق۔(عصر حاضر حدیث نبویۖ)

 

ابن عربی نے امام مہدی کے نام میں دو حرف کے راز کا ذکر کیا ہے کہ ع سے عین الیقین ہے اور ق سے قیومیت ۔
اصل چیز مہدی اوراسکا چہرہ نہیں۔ قرآن و سنت کو زندہ ، اسلام کی نشاة ثانیہ مقصد ہو۔اگر سود کو جواز بخشا اور حلالہ سے عزتوں کو نہیں بچایاتو تم پر تف ہے۔ مہدی کو چھوڑدو۔

 

امام ابوحنیفہ کی زندگی علم الکلام کی گمراہی میں گزری اور توبہ کی تو قید کرکے زہر کھلایا گیا۔ انکے نام پر غلط اور حماقت پر مبنی مسائل گھڑے گئے۔ شیعہ کے بارہ امام260ہجری تک رہے ۔ قرآن پر اتفاق ہوا تو نہ سنی سنی رہے گا اورنہ شیعہ شیعہ بلکہ سبھی مسلم اور سیاحت کیلئے پاڑہ چنار اور کابل جائیں گے۔خطے کو تباہی سے بچانا بڑا فرض ہے۔ انشاء اللہ العزیز
اگر ابوبکر کے طرز پر خلافت نے فیصلہ کیا کہ مفتی اعظم مفتی شفیع نبیۖ کا جا نشین تھا ۔ دارالعلوم کراچی بیٹوں کی وراثت نہیں تو کہیں گے کہ حضرت فاطمہ پر ابوبکر نے ظلم کیا اور ہم شیعہ ہیں۔ اسلام نافذ ہو تو مساجد و مدارس پر وراثتی اجارہ داری نہیں ہوگی۔ پھر شیعہ سنی اور سنی شیعہ نہ بنیں؟۔ مذہب کی کمائی گندہ دھندہ تو علاج ڈنڈا ہے۔ ڈنڈے والی سرکار کی پیشگوئی ہے جو سیدھا کرے گی۔ انشاء اللہ العزیز

 

جاویداحمد غامدی اپنے داماد کو اپنا اہل بیت قرار دینے کی یہ توجیہ پیش کرے گا کہ موجودہ دور میں بیٹا یا داماد کو جانشین بنانا نظم ہے۔ اسلئے میراداماد میرا اہل بیت ہے۔ غامدی کسی قبیلہ کی بنیاد پر نہیں محض شوق کی نسبت ہے۔ داماد کی جانشینی بھی محض شوق کا مسئلہ بن سکتا ہے جو بعیداز قیاس بھی نہیں۔
غامدی نے کہا کہ” حضرت علی داماد اہل بیت نہیں تھے”۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے خلافت کو ٹھکرادیا تو مروان کیسے بن گیا؟۔ غامدی کہے گا کہ ایک بنوامیہ تھے اسلئے نظم وراثت ٹھیک تھی لیکن کیا حضرت علی نبیۖ ایک بنوہاشم نہ تھے؟۔ غلط علمی دلائل سے تعصبات کو ہوا دینے اور اکثریت کا اعتماد حاصل کرنے کی گھناؤنی حرکت سے روشنی نہیں مل سکتی ہے۔ تعصبات کے اندھے پن میں مزید اضافہ ہوگا۔

 

اگر جاوید غامدی اور مفتی تقی عثمانی کے مفادات پر زد آئی تو خدشہ ہے کہ شیعیت کو قبول کرکے ماتم نہ شروع کردیں کہ

کرو کوبہ کو یا علی یا علی کہ ذکر اول وثانی گیا
مفتی شفیع گیا اور حمید فراہی آنجہانی گیا

 

فوج کے خلاف ملک میں دباؤ بڑھ جاتا ہے تو ان کا بھی لہجہ بدل جاتا ہے اور پھر حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں اوراس رویہ سے مذہبی اور باشعور عوام کو نقصان پہنچتاہے۔
صحابہ کرام بڑے لوگ تھے۔شکرہے کہ اس دور میں ہم نہیں تھے ورنہ چڑھتے سورج کے پجاری اور کم حوصلہ لوگ ابوجہل وابولہب اور رئیس المنافقین کی صفوں میں بھی ہوسکتے تھے۔ صحابہ کرام بہت مخلص اور ہمت والے لوگ تھے۔ صحابہ اورمظلوم اہل بیت سے محبت رکھنے والوں کی خدمات کو سلامِ عقیدت ومحبت لیکن پیٹ کی خاطر تعصبات پر لعنت ہے۔
ابوطالب کے بارے میں کوئی ایک شکایت نہیں لیکن وہ کافر بن کر مرے یا بنائے گئے؟۔ بخاری میں اس کی سزا بھی منافقوں والی ہے اور حدیث سفارش والی ہے جس کا قرآن سے جوڑ اسلئے نہیں کہ ابوطالب منافق نہیں تھے اور جب ان کے حق میں سفارش قبول کی گئی تو مشرک کیسے تھے؟ اور غلط فہمیاں ہیں تو سنی شیعہ متفق ہوجائیں گے ۔ اس طرح صحابہ کے بارے میں شیعہ کی غلط فہمی ضرور دور ہوںگی۔ انشاء اللہ

 

نبیۖ نے عمرہ کا حرام باندھا لیکن صلح حدیبیہ پر معاہدہ کرکے واپس آگئے۔اللہ نے فرمایا یہ خواب سچ ثابت ہوگا۔ یہ نبی کی توہین نہیں۔ نبیۖ نے فاطمہ سے فرمایاکہ فدک تمہاراہے۔ حضرت فاطمہ نے پیغام حضرت ابوبکر کو پہنچایا۔ ابوبکر نے بصداحترام باغ فدک کو جوں کے توں رکھا اسلئے کہ نبیۖ کی ازواج کا نان نقفہ زندگی بھر جاری رہنا تھا۔58ہجری کو اماں عائشہ کی وفات ہوئی۔ دوسال بعد یزید کا اقتدار آیا اور عمر بن عبدالعزیز نے باغ فدک کو اہل بیت کے سپرد کردیا۔ صلح حدیبیہ بھی آزمائش، غزوہ بدر کے قیدیوں کا فدیہ بھی آزمائش،غزوہ اُحد کے دشمنوں کو معاف کرنے کا حکم بھی آزمائش تھی لیکن وہ سب کچھ خیر خیریت سے گزر گیا اور بعد والوں نے صد افسوس کہانیوں سے انصاف نہیں کیا ۔

 

قرآن میں تہجد کی نماز کیلئے ان ناشئة اللیل ھی اشد وطاً واقوم قیلًا” بے شک رات کا اٹھنا نفس کوکچلنے کیلئے سخت اور بات کیلئے زیادہ راست ہے”۔(سورہ مزمل:6)
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ” امام ابوحنیفہ کے بارے میں کسی عورت نے کہا کہ یہ صبح کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتا ہے تو40سال فجر کی نماز عشاء کی وضو سے پڑھی۔ اگر اٹھنا مشکل ہو تو عشاء میں نیت کرلو، تہجد کا ثواب مل جائے گا”۔

 

مفتی عثمانی مصنوعی دانتوں کی طرح مصنوعی شرع، تقویٰ اور خشیت نماز سکھاتاہے۔ حاجی عثمان کی تقریروں کو سنو!۔
تہجد کا مقصد نفس کو کچلنا ہے۔ فقہاء نے حلالہ کی لعنت کو نیت کی وجہ سے کارثواب قرار دیا ۔یہود نے ہفتہ کے شکار کا حیلہ بنایا۔ مشرکین کا خواہش پر مہینہ بدلنا اور جہاں چلنے سے کفار کو غصہ آئے مواطت ہے۔ (سورہ توبہ37اور130)

 

فقہاء وطی کا یہ معنی سمجھتے ہیں کہ زنا، نکاح ،حلالہ کا جماع۔ ساس کی شرمگاہ کو باہر سے دیکھنے پر شہوت آگئی تو عذر ہے اور اگراندر نظر پڑگئی تو بیوی بیٹی کی طرح حرام ہو گی اور نیٹ پر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا حرمت مصاہرت پرحنفی مسلک دیکھو۔ نبیۖنے ان غلط مسائل کا بوجھ اور طوق ہٹایا تھا۔

وطأ کا معنی موافقت :

نبی ۖ نے فرمایا کہ یواطیء اسمہ اسمی ”اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا”۔ ایک عربی چینل پر لاہور کے قاسم بن عبدالکریم کو نام کی موافقت پر مہدی قرار دیا گیا ۔ مواطاة کا معنی نعم البدل اور جگہ لینے کے بھی ہیں ۔عربی میں ہمنام کیلئے یہ جملہ استعمال نہیں ہوتا۔ ولید نے کہا کہ” اسکا سازش ہونا بھی ممکن ہے”۔ سازش کی ہو تو مطلب نبیۖ کا نام ملیامیٹ کرنا ہوگا؟۔

 

عالمی خلافت قائم ہوگی تو زمین وآسمان والے خوش ہوں گے۔ نبی اکرم ۖ، اہل بیت، صحابہ کرام، انبیاء کرام اور نفع بخش خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کا احترام ہوگا اور ترقی و عروج کا دور ہوگا۔ ماحولیاتی آلودگیوںکا خاتمہ ، قدرتی ماحول، نئے علوم اور جنت نظیر دنیا ہو گی ۔ کرپشن پر تسلسل کیساتھ بڑے ہاتھ مارکر حرام خوروں و مجرموں کو انڈیسٹریل زون کے جہنم ”سعیر” میں کام کرنا ہوگا۔ اور اچھوں کے پاس باغات اوروسائل کی نعمت ہوگی۔ قرآن کی طرف رجوع تمام مسائل کا زبردست حل ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حلالہ کے مر یض اورعلماء حق, نشاہ ثانیہ کی عظیم خوشخبری, نعمتیں ہی نعمتیں ملک کبیر

حلالہ کے مر یض اورعلماء حق

فرمایا:”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی تمنا ڈال دی تو اللہ مٹاتا ہے جس کو شیطان نے ڈالا ہوتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کرتا ہے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے”۔ (سورہ حج آیت52)
اس آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے : جب کوئی رسول اور نبی اللہ کی طرف سے طوق و سلاسل سے آزادی دلاتا ہے توکچھ عرصہ بعد نالائق اور نا خلف ان کی تمنا میں اورخوابوں میں شیطانی تمنا ڈال دیتے ہیں ۔ اسلام نے حلالہ کی لعنت کا طوق ختم کیا لیکن نالائق یہ طوق پھر لائے ۔ اسلئے اللہ ان شیطانی تمناؤں کو مٹاتا ہے اور اپنی آیات کو استحکام بخش دیتاہے۔

 

حلالہ شجرہ ملعونہ اور شیطان کی ڈالی ہوئی تمنا :
” تاکہ جو شیطان کا ڈالا ہوا ہے وہ آزمائش بن جائے ان لوگوں کیلئے جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہوچکے ہیں۔ اور بیشک ظالم بڑی دور کی بدبختی میں پڑے ہیں”۔(سورةالحج:53)
دل کے مریض وہ لوگ ہیں جن کو حلالہ کی لعنت نے لت لگائی ہے تو ان کو کوڑوں کے زور پر سیدھا کرنا ممکن ہے۔ سخت دل وہ لوگ ہیں جنکے مذہبی طبقات سے ایسے مفادات وابستہ ہیں کہ اللہ کے دین اور لوگوں کی عزت وناموس کو بچانے کیلئے وہ کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں بدبخت معذور ہیں۔
حلالہ کی لعنت کے مخالفین علماء حق کیلئے خوشخبری:
” اور تاکہ جان لیںجن لوگوں کو علم دیا گیا ہے کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ پس اس پر ایمان لائیں ، پس اس کیلئے انکے دل جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان والوں کی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے ”۔ (سورہ الحج آیت:54)

آج دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ کی اچھی خاصی تعداد نے مسلکوں کی زنجیریں توڑ کر اور اپنا بوجھ اتار کر قرآن کی رہبری قبول کی ہے چنانچہ شیعہ پر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق اور گواہوں کے باوجود بھی ایسا وقت آتا ہے کہ ان کا فقہ اجازت نہیں دیتا لیکن قرآن کے مطابق رجوع کرلیتے ہیں۔ دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث کی بڑی تعداد بھی شیطانی تمناؤں کو خاک میں ملاکر حق اور قرآن کی تائید کررہے ہیں۔ اگر پاکستان میں بڑے پیمانے پر تشہیر کرکے عمل کیا جائے تو پھر شیطان کی زنجیروں اور طوقوں سے امت کو چھٹکارا مل جائے گا۔

نشاہ ثانیہ کی عظیم خوشخبری:

” اور جنہوں نے انکار کیا وہ اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک وقت (انقلاب اصلاح مہدی ) آئے گا یا پھر ان پر بانجھ پن کا عذاب آئے گا( صاحبزادگان کی مفت خوری کا خاتمہ ہو گا)۔ اس دن ملک صرف اللہ کیلئے ہوگا انکے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں نعمتوں والے باغات میں ہونگے اور جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو تو ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے۔اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کئے گئے یا فوت ہوگئے ہم ان کو ضرور اچھا رزق دیں گے اور بیشک اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ ہم ضرور ان کو وہاں داخل کریں گے جہاں پسند کرتے ہیں اور بیشک اللہ جاننے والا بردبار ہے۔ بات یہ ہے کہ جس نے اس قدر بدلہ لیا جس قدر اس کو تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر اگر حملہ کیا گیا تو ہم ضروراس کی مدد کریں گے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا مغفرت والا ہے ۔ یہ اسلئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے ۔ یہ اسلئے کہ اللہ حق ہے اور اس کے علاوہ جس کو پکارا جائے وہ باطل ہے۔ اور بیشک اللہ بلند بڑا ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے تو زمین اس سے سرسبز و شاداب بن جاتی ہے۔ بیشک اللہ بہت باریک بین خبر رکھنے والا ہے”۔(سورہ الحج آیت55تا63)
ان آیات میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلاب کی خبر ہے۔ جب طالبان کو غلط فہمیوں کا شکار کرکے ہم پر حملہ کروایا گیا تو محرکات بیان کرنے پر مجھے کرایہ کے قاتلوں سے قتل کرنے کا پلان بنایا گیا۔ طالبان نے معافی مانگ لی تھی لیکن جن رشتہ داروں نے ان کو غلط فہمی میں ڈال کر استعمال کیا تھا تو اس کے حقائق ضرور سامنے آئیں گے۔ انشاء اللہ

 

نعمتیں ہی نعمتیں ملک کبیر

گیس آخرت کی جنت میں نہیں ہوگی ۔دنیا میں بادی کیلئے ادرک زنجبیل کی ضرورت ہوگی۔ خلافت قائم ہوگی تو ملک کبیر ہوگا جو قرآن میں واضح ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ ” پس اس دن کی مصیبت سے اللہ ان کو بچائے گا۔ایسی حالت میں کہ ان پر تازگی اور خوشی ہوگی اور ان کو صبر کے بدلے باغ اور ریشم دیئے جائیں گے۔ وہ تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔وہ سورج ( گرمی) اور سردی کو نہیں دیکھیں گے۔ ان پر اسکے سائے جھکے ہوں گے اور پھل کے خوشے لٹکے ہوں گے اور ان پر چاندی کے برتن اور خاص پیالے گردش کریں گے۔ اور وہ ایسے پیالے پئیں گے جن کا مزاج ادرک کا ہوگا۔ ایسا چشمہ جس کا نام سلسبیل رکھا جائے گا۔ اور ان پر24گھنٹے لڑکے گھومتے ہوں گے جب آپ ان کو دیکھو تو گمان کرو کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں اور جب آپ دیکھو اور پھر دیکھو تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بڑا ملک ہوگا۔ ان پر سبز موٹے اور باریک ریشم کے لباس ہونگے اور چاندی کی گھڑیاں پہنائی جائیں گی اور انہیں اللہ پاک پانی پلائیگا۔ بیشک یہ تمہارے لئے بدلہ ہے اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ (الدھر11سے22)
طلبہ چند گھنٹے اخراجات کیلئے کام کرتے ہیں ۔24گھنٹے نوکری جاری رہتی ہے۔ جیسے یورپ میں پاکستانی ، افغانی ،ایرانی اور ہندوستانی لڑکے ویٹر کا کام ہوٹلوں پر کرتے ہیں۔ یہی مناظرہوں گے۔

 

الحدید کی” بھرپور دعوت”

فرمایا: ”کیا ان لوگوں پر جو ایمان لائے ابھی وقت نہیں آیا کہ انکے دل اللہ کے ذکر کیلئے خشیت اختیار کرلیں اور جو اللہ نے حق میں سے نازل کیا ؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ بن جائیں جن کو کتاب دی گئی اس سے قبل۔پھر ان پر لمبی عمر گزر گئی اور انکے دل سخت ہوگئے اور ان میں اکثر فاسق ہیں ۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد بیشک ہم نے تمہارے لئے آیات کو واضح کیا ہوسکتا ہے کہ تم سمجھ سکو”۔(سورة الحدید:16)
سورہ حدید میں امت کیلئے رحمت کے دو حصوں کا ذکر ہے۔ سوسال ہوئے کہ خلافت ختم ہوگئی اور اب دوبارہ قائم ہوگی تو یہ دوسرا حصہ ہے۔ اللہ نے اہل کتاب کے عروج کے بعد امت کو عروج دینے کی سورہ حدید کے آخر میں وضاحت کی ہے۔ شروع میں فتح مکہ سے پہلے و بعد والے مسلمانوں کیلئے درجات میں تفاوت اور سب کو خوشخبری ہے۔ پھر مؤمنوں اور منافقین کے درمیان آخر میں فرق کا ذکر ہے جہاں دونوں میں دیوار حائل ہوگی اور اس کا گیٹ بھی ہوگا۔ اندر سے رحمت باہر سے عذاب، جیساکہ ملیر کینٹ اور باہر کے ماحول میں واضح فرق ہے۔جنوبی افریقہ میں کالے اور گوروں کی آبادیاں الگ الگ ہیں۔ مجرموںکو کرتوت پرہی سزاہوگی۔

 

حاجی عثمان نے فرمایا:
الھم صل علی سیدنا و شفیعنا و حبیبنا و مولانا محمد و علیٰ آلہ و اصحابہ… اقیموا الصلاة و اٰتوالزکوٰة صدق اللہ العظیم دوستو بزرگو! اللہ کے امر کی عظمت اور بڑائی اگر دل میں نہ سمائی ہوئی ہو تو اس کا عمل اکثریت میں وجود میں نہیں آتا اور اسکے فوائد اور حقیقت بھی نہیں کھلتی۔ مثال نہ دی جائے مگر جیسے تخلیق ہے کہ سر اٹھائیں تو آسمان ہے لیکن اس کی وسعت اللہ کی تخلیق کا کمال دل میں سمویا ہوا نہیں ہے اسلئے انسان اس کو سرسری سمجھتا ہے شاید کوئی اہمیت دے کہ بڑی تخلیق ہے۔ اس سے بڑھ کر اللہ کا امر نماز جو عام زبان پر ہے نماز اور اس کی حیثیت اور عظمت کا امت میں یہ گرا ہوا مقام ہے کہ علماء کے سروے میں96فیصد مسلمان نماز نہیں پڑھتے اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس امر کی کوئی حقیقت، راز اور انقلاب نہیں۔ برعکس اسکے جس چیز کی اہمیت بیٹھی ہوئی ہے جیسے مال ہے تو تقریبا سو فیصد تو نہ کہا جائے اسلئے کہ اہل اللہ بھی ہیں لیکن اکثریت کے دلوں میں اس کی اہمیت ہے اور اس سے کام بنتے نظر آتے ہیں اسلئے ایک روپے کا نوٹ پھٹنا پسند نہیں کرتا یہ واضح دلیل ہے کہ امت اصلاح سے بہت دور ہے۔ حالانکہ اگر غور کریں اور اس کو روزمرہ کے اعتبار سے حیثیت نہ دیں ۔ اللہ کا جو امر اس کی ذات سے نکلے وہ اتنا اونچا ہے جتناکہ اللہ کی شان ۔ مثال نہ دی جائے سورج کی شعائیں ہیں انسان کو اس کا تجربہ ہے کہ کتنی تیز ہوتی ہیں۔ اگر یہ قریب آ جائے تو پورے عالم کو جلا کر خاک کر دے اسکے درمیان میں بڑے بڑے اللہ نے پانی کے ذخیرے بنائے۔ چھن کر یہ شعاعیں آتی ہیں یہ سائنسدانوں کی نہیں اہل اللہ کی تحقیق ہے ۔ وہ قریب آجائے تو جلا کے رکھ دے۔ حالانکہ یہ امر اللہ کا نہیں بلکہ حکم کی تخلیق اور مخلوق ہے۔ اس کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ جس میں اللہ کی تعریف ہے یہ خود بنایا ہوا نہیں اللہ نے بنایا لیکن ہر شخص تسلیم کرتا ہے اسکے نکلنے کے ساتھ زندگی کے حالات میں بڑا فرق آجاتا ہے گرمی ہونے لگتی ہے گیلے کپڑے سوکھتے ہیں کھیتیوں کو اللہ چاہے تو نفع پہنچاتا ہے ۔ اس کی تخلیق کے فوائد جو اللہ نے مرتب کی ہے اس کا ہر ایک قائل ہے۔ لیکن اللہ کا امر کتنا انقلاب رکھتا ہے ۔اس کا ثبوت مسلم عمل سے اپنا کرنہیں دیتا۔ زبان سے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے لیکن عمل سے ثابت کرتا ہے کہ کتنا بے حیثیت ہے؟۔ خدا کی قسم انسان کی زندگی میں انقلاب لانے کیلئے تمام برائیوں سے بچنے ،ناشائستہ فحش باتوں سے بچنے کیلئے تمام خیریں سمیٹنے کیلئے حضور کی شفاعت کو پانے، انوارات کو لینے ،قلب کو اجاگر کرنے، روح کو ترقی دینے ، نفس کی اصلاح کیلئے یعنی آپ جتنے اخروی اور دنیاوی نفع گنوا سکیں اس سے بالاتر اللہ نے نماز میں رکھا ہے۔ مسلم اول تو نماز نہیں پڑھتا اور جب پڑھتا ہے تو اس کو مرتب صحیح نہیں کرتا اسلئے اسکے سامنے اللہ کے وعدے نہیں آتے تو یہ بھی اس کی اہمیت کو توڑ دیتا ہے۔ اس کی اہمیت کو کسی درجے یہ بھی کھو لیتا ہے اور یہ اس نماز پہ آ جاتا ہے جو رسمی ہوتی ہے۔ امت کی اکثریت میں یہ بات گھر کر گئی اسلئے آپ کسی بزرگ کے پاس جائیے اور آپ کو کہے کہ نوافل پڑھو تو آپ کو یوں ہوگا کہ میاں کوئی خصوصی ذکر دو کوئی خاص بات بتائیے۔ جی ہاں حالانکہ اللہ رب العزت کی عادت شریفہ ہے اور عطا کا مقام ہے کہ خاص چیز اللہ چھپاتے نہیں بلکہ جو نکمی چیز ہے اس کو چھپاتے ہیں دنیا میں نکمی چیز اگر ایک اعتبار سے کیمیا ہے اور اللہ کے ہاں کیمیا کی کوئی قیمت نہیں۔ سونا اللہ کے نزدیک گھٹیا ہے اسلئے اس کو زمین میں چھپا دیا۔ معدنیات اللہ کے نزدیک سب گھٹیا ہے زمین میں چھپا دیا اور اگر یہ عمر بھر نہ نکالے تو اسکے بغیر انسان چل سکتا ہے سونے کے بغیر زندگی دوبھر نہ ہوگی چلے گی یہ پکی بات لیکن مادے کی لائن میں جو اہم چیزیں ہیں اللہ نے عام کر رکھاہے جیسے ہوا کو اس انداز سے بنایا کہ کسی کے ہاتھ نہ پڑے کہ کوئی ذخیرہ کر لے۔ اسلئے کہ مادے کی لائن میں اس کی عطا بڑی اہم ہے اور اس کو اللہ نے قطعاً فری رکھ دیا۔ پانی ، مٹی، آگ کو درجہ بدرجہ اللہ نے انسان کے مفاد کیلئے فری رکھ دیا۔ اللہ رب العزت جو سب سے بڑھ کر نفع بخش ہے وہ چیز عام کرتاہے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ رب العزت سے درخواست کی تھی اے اللہ تو مجھے ایسا ورد دے جو تیرے پاس خاص ہو اللہ رب العزت نے فرمایا اے میرے کلیم لا الہ الا اللہ پڑھو…….

مجھ سے رہا نہ گیا یہی میری مصیبت ہے ۔ حق تکلیفوں کو دعوت دیتا ہے جس نے حق کی بات کی وہ پس گیا تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں سب سے زیادہ انبیاء پس جاتے اسلئے حق سناتے ہیں یہ کسی کی رعایت نہیں کرتے۔… اماں جان نے کہا کہ صحابہ کرام کی گھوڑے پہ نماز کیسی ہو گئی؟۔ میں نے کہا گھوڑے کے سم زمین پہ لگے ۔ ہوائی جہاز کے پہئے نہیں لگتے ، زمین پہ لگنا شرط ہے اگر اہتمام صلاة کے اعتبار سے نماز پڑھ لو لیکن دوہرانا ضروری ہے۔ مولانا محمد شفیع نے فرمایا کہ ہوائی جہاز میں نماز پڑھ لو پھر دہرا لو تو ہم بیٹھے تھے تو مولانا بنوری نے کہا کہ میاں دوہرانی ہے توخواہ مخواہ ڈبل تکلیف کیوں اٹھائیں؟۔ بڑوں کی تکرار ہوتی ہے۔ ماشااللہ

 

تبصرہ : سیدعتیق گیلانی
منہاج الشریعة سراج الطریقة، معراج الامة اور مجدد دین وملت حضرت حاجی محمد عثمان قدس سرہ اللہ والے میرے پیر ومرشد اور روحانی مربی تھے۔
اہتمام نماز پر کانٹ چھانٹ کر ان کی تقریر سے کچھ مواد پیش کردیا۔ قارئین یوٹیوب پر سن سکتے ہیں جس سے زندگیوں میں ایک انقلاب آئے گا۔
حاجی عثمان کے مرید قاری جنیدالرحمن بڑے عالم خانقاہ میں فقہی مسائل کا حلقہ لگاتے تھے۔ اگر نماز کیلئے زمین کیساتھ لگنا شرط تھا اور علامہ بنوری بے خبرتھے؟۔ باجماعت نماز کیلئے ایک مکان کا ہونا شرط ہے۔ دو صفوں سے زیادہ فاصلہ نہیں ہو ۔خانقاہ چشتیہ مسجدالٰہیہ میں خواتین کا فاصلہ زیادہ تھا تو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لایاپھر فاصلہ ختم کیا مگر خانہ کعبہ جانا ہواتو وہاں کافی فاصلہ ہوتا تھا۔ گومل شہر مولانا تاج محمد کو جمعہ کے دن لکھ دیا تواس نے اپنے مقتدی بلالئے تھے۔ اگر جہاز میں نماز قضا ہو تو کیا نماز قضا کرنے کی قیمت پر جہاز کا سفر جائز ہوگا؟۔ پھر اس کی وعید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا؟۔

کیا دلیل کہ زمین پر لگنا شرط ہے؟۔ عرش تک کعبہ ہے!۔ریح خارج کرکے نماز کی تکمیل غلط تھی۔
تصویر، حلالہ اور بیوی کو حرام کہنے وغیرہ پر لاکھوں طوق وسلاسل نے فقہاء نے بنائے ہیں۔ قل من حرم زینت اللہ اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق (سورہ الاعراف32)
جیسا کہ کمپنی موبائل کے بٹن میں ذرا تغیر بھی توازن کو بگاڑ دے۔ چہرے کا حسن اگلے دو دانتوں میں اس وقت ہے کہ جب قدرتی شاہکار ہوں۔ دانتوں کے مصنوعی فاصلہ سے حدیث میں اسلئے منع کہ قدرتی حلیہ بگڑتا تھا۔ مفتی شفیع عورتوں کو بخاری کا حوالہ دیکر منع کرتا تھا مگر مفتی تقی عثمانی نے اپنے دو دانت اڑادئیے ،جو بدصورت تھے مگر بدصورتی بڑھ گئی۔ بڑے بڑوں نے بڑوں پر اعتماد کرکے اسلام کا بیڑہ غرق کردزیا اور بڑ اریورس گیر لگانا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

” اس دن کسی انس و جن سے اسکے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا۔ پھر تم اپنے رب……۔ مجرم اپنے نشان سے پہچانے جائیں گے۔….پس ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ ا جائیگا۔….یہ ہے وہ جہنم جس سے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔ وہ چکر لگائیں گے اسکے اور گرمی کے درمیان اس وقت”۔الرحمن39تا44

سورہ رحمن میں مجرموں کو پیشانی اور پاؤں کے ذریعے پکڑنے کا ذکر ہے اور سورہ االاعرف میں ریاستی رجال ”عراف” کے کردار کا بھی واضح ذکر ہے۔

پاکستان قیام کے25سال بعد ٹوٹا تو فوج، سیاستدان اور لسانی تعصبات کو ذمہ دار سمجھاگیامگر اس سے بڑا واقعہ25سال بعد ریاست مدینہ میں پیش آیا ۔ خلیفہ سوم عثمان40دن محاصرے میں رہے اور گھر سے مسجد تک بھی نہیں جاسکے۔ پھرمسند پرشہید کیا گیا۔ وجوہات تاریخ میں ہیں لیکن اصل بات کی طرف دھیان نہیں گیا۔ حضرت عمر نے مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف تین گواہوں کو کوڑے لگائے اور پھر پیشکش کی کہ اگر کہہ دو کہ جھوٹ بولا تھا تو آئندہ تمہاری گواہی قبول ہوگی۔ واحدگواہ صحابی ابوبکرہ نے پیشکش کو مسترد کیا اور دوسرے دو غیر صحابی گواہوں نے یہ پیشکش قبول کی۔ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر کی پیشکش کو قرآن کے خلاف قرار دیکر مستردکیا اور باقی تینوں مسالک مالکی، شافعی اور حنبلی نے مسلک بنالیا۔ امام ابوحنیفہ بلاوجہ جیل میں شہید نہ کئے گئے لیکن کہانیوں میں حقیقت گم ہوگئی۔

حضرت عمر نے معاملہ کی سنگینی کو بھانپ لیا اورعدالتی نظام کو الگ کردیا۔ ایک پروفیشنل اور ذہین جج قاضی شریح کو عدالتی امور سپرد کردیں۔ حضرت عمر کے دور میں قاضی شریح سے کوئی شکایت پیدا نہ ہوئی۔ حضرت عثمان حیادار انسان تھے مگر فاروق اعظم کی طرح فتنوں کیلئے بند دروازہ نہیں تھے۔ قاضی شریح نے بڑے باریک طریقے سے ایسی ناانصافی شروع کردی کہ قانون کے اندر ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنانا شروع کردیا۔ جس پر کوئی احتجاج بھی نہیں کرسکتا تھا۔ جس کا یہ بھانک نتیجہ نکل آیا کہ حضرت عثمان خلیفہ وقت کے خلاف بغاوت ہوگئی۔

حضرت عثمان کی شہادت سے جو فضا بنی تو آج تک امت کے معاملات اپنی جگہ پر نہ آسکے۔ یزید کو حسین کے خلاف فتویٰ درکار تھا تو قاضی شریح نے پہلے منع کیا پھر رشوت سے فتویٰ دیا۔ یزید کی فوج نے بھی طمع ولالچ رکھی ہوگی لیکن اصل کردار قاضی شریح کا تھا۔ اگر کسی کو اس سے تکلیف ہے تو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبہ میں ارحم امتی بامتی ابوبکرو اشدھم فی امر اللہ عمر واصدقھم حیائً عثمان واقضاھم علی میں اقضاھم علی کی جگہ اقضاھم واکبرھم قاضی شریح ”امت میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا قاضی شریح تھا”۔ تاکہ اہل بیت سے نفرت رکھنے والوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے۔چیف جسٹس امام ابویوسف سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے۔
قاضی شریح چیف جسٹس نے عدالتی نظام کا ستیاناس کردیا تھا ۔قرآن کو نہ صرف ذبح کردیا بلکہ قصائی کی طرح اس کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ امت نے چھوڑ دیا۔ سورہ تحریم کی واضح آیت کو چھوڑ کر بیوی کو حرام کہہ دیا تو اس پر20اجتہادی مسالک بن گئے۔ اگر قرآن کو دودھ دینے والی بھینس فرض کرلیا جائے تو کیا قصائی کے ٹکڑے کرنے کے بعد بھی اس سے دودھ نکالا جاسکے گا؟۔

ہمارے قابل استاذلورالائی کے مفتی عبدالمنان ناصرمدظلہ العالی نے بتایا تھا کہ عورتیں بغیر محرم حج کیلئے جاتی تھیں تو ان کا مرغ سے نکاح کردیا جاتا تھالیکن فتاویٰ عالمگیریہ میں بادشاہ پرچوری، قتل، ڈکیتی اور زنا کی حدیں جاری نہیں ہوتی ہیں اور مفتی تقی عثمانی نے جو سود کی حرمت ختم کردی ہے ۔دارالعلوم کراچی شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کے لین دین پر70سے زیادہ گناہوں کی حدیث سناتا تھا جس میں کم ازکم اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے سود پر سگی ماں سے خانہ کعبہ میں36مرتبہ زنا کا بتایا۔
قرآن وحدیث میں واشگاف الفاظ میں واضح ہے کہ ” طلاق عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ کا فعل ہے”۔ ایسا نہیںہوسکتا کہ طلاق مکمل ہو اور عدت باقی رہے اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کہ عدت مکمل ہو اور دوطلاقیں جیب میں رہ جائیں۔ جتنی احادیث ہیں وہ سب صحیح ہیں اور ان میں تطبیق موجود ہے لیکن مولوی حلالہ کی لعنت کو ختم اسلئے نہیں کرتا ہے کہ اس میں غیرت، عزت، فطرت، انسانیت، اخلاق اور کردار سب ختم ہوچکا ہے۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوةوالسلام کے آئینہ میں” علماء ومفتیان اپنا چہرہ دیکھ

چکے تھے اسلئے مقبول کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی۔
قرآن وحدیث میں داؤد اور سلیمان کے واقعات ثبوت ہیں کہ جج کا کام ایسا اجتہاد ہے کہ انصاف کی روح معاشرے میں زندہ ہو ۔ فصل اور جانور کی قیمت برابر تھی لیکن داؤد کے فیصلے کو سلیمان نے اس انصاف پر نہیں چھوڑا اسلئے کہ ایک قوم کا معاش ختم ہوجاتا تو یہ انصاف کے خلاف تھا اور وہ چوراور ڈکیٹ بن جاتی۔ ایک قوم کو محنت پر لگادیا کہ فصل اپنی جگہ تک پہنچاؤ اور دوسری کو جانور سپرد کردئیے کہ اسکے دودھ، اون، کھاد سے جب تک فائدہ اٹھاؤ۔ دونوں کو پورا انصاف ملا ،مجرم کو سزا ہوئی اور مظلوم کو ریلیف ملا۔ پھر اپنی اپنی جگہ پر بھی آگئے۔ جو عورت بچے کی ماں تھی تو اس کو انصاف بھی اس طرح دیا کہ دونوں کی حقیقت بھی سامنے آگئی۔ قاضی شریح نے عدل کی بنیاد غلط رکھی۔ اسلئے مسلم اقتدار دنیا کیلئے قابل تقلید نہیں ہے۔ اگر اسلامی نظام کا ٹھیک خاکہ ہوتا تو اسلامی ممالک میں وہی نافذ ہوتا لیکن مولوی محکمات کی آیات کونہیں سمجھتا تو اجتہادی مسائل کا کیا بنے گا؟۔پہلے علماء میں صلاحیت نہیں تھی مگر اب نیت بھی ٹھیک نہیں ہے۔

قاضی شریح فقہ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔کونسا فقہ ؟ جو یہود کی میراث تھا۔ سورہ تحریم میں بیوی کو حرام کہنے کا مسئلہ حل ہے لیکن بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر حضرت عمر سے ایک طلاق رجعی کا قول منسوب ہوا، حضرت علی سے تین طلاق کا۔ حضرت عثمان سے ظہار کا۔ بخاری کی روایات میں تضادات ہیں اور چار ائمہ کا لفظ حرام پر اختلاف ہے ۔ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے”زاد المعاد” میں اس پر20اجتہادی مسالک نقل کئے۔ قرآن کو سازشی فقہ نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جوقرآن میں واضح ہے اور نبیۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اورعنقریب یہ پھر اجنبی بن جائے گا خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ اب اپنا مفاد اور ماحول چھوڑ کر اسلام کے صحیح فہم کا اظہار کرنا چاہیے۔ مدارس فراڈ اور گمراہی کے قلعے بن چکے ۔ جان بوجھ کر اب حق کو قبول نہیں کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے میری کبیرپبلک اکیڈی کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اس خاندان کے بزرگوں کی دینی خدمات ہیں اور اس میں عتیق جیسا اہل علم ہے”۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عربستان ، ہندوستان میں علم سے انقلاب آئے گا۔ غریب فوجی اور جنگجو عناصر حالات کی بہتری کے بعد قربان نہیں ہوں گے۔
٭

ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمن)

”اور جو اپنے رب سے ڈرا تو اس کیلئے دو جنت باغ ہیں”۔(الرحمن:46)
دوبئی میں میرے ساتھی ناصر علی کی رہائش جبل علی گارڈن میں تھی۔ غریبوں کیلئے وہ بھی جنت سے کم نہیں ہے۔ گارڈن اردو میں باغ اور عربی میں جنت۔ خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر میں اہل لوگوں کیلئے درجہ دوم کے دودوباغ بنانے کا سلسلہ ہوگا اور اچھے اور اہل لوگوں کیلئے دنیا جنت نظیر بن جائے گی۔

ذواتآ افان ” اس کی بہت شاخیں ہوں گی”۔( سورہ رحمان:آیت48)

بغیر شاخوں کا باغ نہیں ہوتا۔ اس لفظ کے کئی معانی ہیں۔ مناسب ترجمہ ہو۔ ان میں کمال کا فن ہوگا۔ پیرس میں ”ڈنزی لینڈ” کی فن کاری کا کما ل ہے۔ دوبئی برج خلیفہ نے اونچائی سے دنیا کو نیچے دکھایا ۔ خلافت میں فن کاری کا کمال ہوگا اور معنی یہ بھی ہے کہ یہ فانی دنیا کے باغات ہیں، دائمی نہیں ہونگے۔

”ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے”۔ خوبصورتی کا حسین نظارہ ہوگا۔

” ان دونوں میں ہر پھل کی دودو قسمیں ہوں گی”۔ جیسے شوگر اور شوگر فری۔ ”وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے فرشوں پر جن کا غلاف ریشم کا ہوگااور دونوں باغوں کے جھکے ہوئے پھلوں کو توڑیںگے”۔ سورہ واقعہ میں اونچے فرشوں کو واضح کیا۔

فیھن قاصرات الطرف لم یطمثھن انس ولاجان

” ان میں ڈبہ پیک چیزیں ہوں گی جن کو کسی انس وجن نے چھوا نہیں ہوگا”۔پہلے ڈبہ پیک ان ٹچ موبائل،ٹی وی، کرارکری، گھڑی، گاڑیاں برینڈ یڈ چیزوں کا تصور نہیں تھا۔ یہ باغ کی چیزوں کی صفات ہیں۔ قاصرات الطرف (مختصرچھپی)۔ مفسرین نے ایک طرف نوعمر بچیاں لکھا تو دوسری طرف نوخیز دوشیزاؤں کی عمر33سال؟۔

قرآن اللہ نے سکھانا ہے اور ہرانسان کو کھل کر ایک ایک بات سمجھ آئے گی۔
پہلے درجہ کے جنتیوں کیلئے صحیح حدیث میں دو حوراء کا ذکر ہے۔ حور حورا ء کی جمع بھی ہے۔ معزز شہری عورت کو عرب حوراء کہتے ہیں۔ ہندوستان کے علماء نے میم کو معزز سمجھ لیا تھا اسلئے کہ انگریز حکمران طبقہ تھا اور مقامی لوگوں کو انکے مقابلہ میں اچھوت تصور کیا جاتا تھا اسلئے اس کو ”گوری عورت” کا نام دیا ہے۔

ھل جزاء الاحسان الا الاحسان ” نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے”۔

سورہ الرحمن کی آیت60تک اصحاب الیمین کے دوباغ کا ذکر ہے جو فرش پر بیٹھیں گے۔جو بڑی تعداد میں ہونگے اور مزاج بھی فرش پر بیٹھنے کا ہوگا جبکہ دو السابقون کیلئے قالین کا ذکر ہے جو تھوڑے ہیں اور زیادہ عزت ملے گی۔

جو یہاں بیگم سے ڈر کر دوسرا نکاح نہیں کرتے ۔ حقائق کا پتہ چلے تو نہ صرف عورتوں بلکہ مرد وں کی طبیعت کا بوجھ ہلکا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کو چین کی120فٹ کی حوردلادیں جس کی پنڈلی کو نہ پہنچ سکے۔بہت افسوس! دنیا کی عورت کی توہین کرکے اس جنت میں جائے گا ؟جو اسی ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

وطلح منضود ”اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے”۔ (سورہ الواقعہ آیت:29)

 

ومن دونھما جنتان(الرحمن62)

” اور ان دو کے علاوہ دوباغ اور ہونگے”۔ یہ درجہ اول السابقون کیلئے ہیں۔

”دونوں گہرے سبز ہونگے”۔ کانیگرم اور گومل کے دھتورے میں سبز رنگ کا فرق ہے۔ ” دونوں میں دو فوارے ”۔ ” دونوں میں پھل، کھجور یں اور انار ”۔
درجہ اول میں فوارے اور انار لیکن درجہ دوم میں چشمے ،بیر اور کیلے کاذکر ہے۔

فیھن خیرات حسان ” ان میں خصوصی خوبصورت چیزیں ہوں گی”۔

جیسے عمران خان کیلئے سعودی عرب نے خصوصی گھڑی تیار کرکے دی تھی جس کو بیچنے پر عدالتوں سے سزا ہوئی۔ ایک وہ چیز ہوتی ہے جو کمپنی مارکیٹ میں بیچنے کیلئے بناتی ہے۔ جس کے ڈبہ پیک ہونے کا ذکر دوسرے دوباغوں میں کیا گیا۔ دوسری ایسی چیز جومارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتی ہے۔ سورہ واقعہ میں بھی حفظ مراتب کے لحاظ سے السابقون اور اصحاب الیمین کے باغوں میں فرق ہے ۔

اگر مقربین کیلئے خاص اہتمام ہرچیز منفرد ہو۔ گاڑی، کراکری، موبائل اور الیکٹرانک والیکٹرک کی چیزوں سے عزت افزائی ہوگی جو مارکیٹ میں نہ ہونگی۔

حور مقصورات فی الخیام ” حور خیموں میں ہوں گی”۔ خیموں میں سردی کا پھل ”مالٹا ”موسم گرما میں اورگرمی کا پھل ”آم” سرمامیں مصنوعی ٹمپریچر سے پکتاہے۔ہائی بریڈ پھل یاقوت و مرجان کی طرح جھلکتا ہے۔ مشین سے کٹتا، پیک ہوتا ہے اسلئے ہاتھ نہیں لگتا۔ یہ عورتوں کی توہین ہے کہ ان کو دوسروں کے ہاتھ میں استعمال ہونے والیاں کہا جائے۔ قرآن کی درست تفسیر کی جائے ۔

حور کے معانی

1: ہلاکت۔
2:کمی:انہ فی حوروبور اسے کوئی اچھا کام نہیں آتا۔ وہ گمراہی میں ہے۔ الباطل فی حور : باطل ہمیشہ نقصان میں ہے۔

نبی ۖ نے پناہ مانگی ”کور کے بعد حورسے” خوشحالی کے بعد بد حالی سے۔ انہ فی اہلہ مسرورًاOانہ ظن ان لن یحور ”بیشک وہ اپنے اہل میں خوش تھااور سمجھا کہ خوشحالی کے بعد بدحال (حور) نہ بنے گا”۔(سورہ الانشقاق) قدرتی کے مقابلے میں ہائی بریڈ پھل اور جانور کی حالت بدلی ہوئی ہوتی ہے۔
”قالینوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو سبز اور یونیک نفیس ہوں گی”۔

سورہ رحمن آیت76تک دو اعلیٰ درجہ کے جنتوں (باغوں) کا ذکر ہے۔

عربة:

جمع عُرُب ، عربیات ۔ عربة عربی میں یوٹیوب پر کلک ۔تمام اقسام کی گاڑیاں ۔

عربًااترابًا

”قد کے برابر گاڑی”۔ عورت کیلئے عربة کا لفظ نہیں تھا۔ تفسیر ی اقوال تأویلات ہیں، عرب نے اپنی نقل مکانی پر گاڑی کا نام عربة رکھا۔ دنیا کے جنت کی طرف دھیان نہیں گیا اسلئے تفسیر نہ سمجھ سکے۔ گاڑی اور دنیا کی جنت نہیں تھی توآیت متشابہات میں تھی۔ عربة گاڑی سے تفسیر زمانہ نے کردی۔ الرحمن علم القرآن۔ رحمن نے قرآن سکھایا۔قرآنی معجزہ ہے۔ شاہ ولی اللہ کو قرآن کے ترجمہ پر واجب القتل کہاپھر انگریز کی ٹانگوں میں لٹکے۔ فقہاء نے محکم آیات کو اجنبی بنادیا ۔ غامدی بھی فراہی اور اصلاحی کی بکواسات میں لگاہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اذا وقعت الواقعةOلیس لوقعتھاکاذبةOخافضة الرافعة….وکنتم ازواج ثلاثةO(سورہ الواقعہ) جب واقع ہونے والی واقع ہوگی ۔نہیں اسکے واقع ہونے کا جھوٹ۔ پست کرنے والی بلند کرنے والی…اور تم تین قسم پر ہوگے۔

مؤمن کو قیامت کی خاص چیز دنیا میں کافرکو چھوٹا عذاب

قیامت سے پہلے دنیا میں مؤمن کیلئے

فرمایا:” اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کیلئے نکالی اور رزق میں سے پاک چیزیں۔کہہ دو کہ ایمان والوں کیلئے دنیا میں بھی وہ ہے جو اللہ نے قیامت کے دن کیلئے خاص کیاہے۔ اسی طرح ہم آیات کو تفصیل سے جاننے والی قوم کیلئے بیان کرتے ہیں”۔(اعراف:32)
1:جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کیلئے نکالی ہے اس کو حرام قرار دینا۔
2:ایمان والوں کیلئے دنیا میں بھی وہ ہے جو اللہ نے قیامت کیلئے خاص کیا ہے۔ قرآن کی منظر کشی کو قارئیں بہت شوق اور دلجمعی سے ملاحظہ فرمائیں۔

 

بڑے عذاب سے دنیا میں چھوٹا عذاب

فرمایا:” اور ہم چھوٹا عذاب بڑے عذاب سے پہلے ان کو چھکائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ رجوع کرلیں۔ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس کو اس کے رب کی آیات سے سمجھایا جاتا ہے پھر وہ اس اعراض کرتا ہے۔ بیشک ہم مجرموں سے انتقام لیں گے۔(سورہ سجدہ آیات:21اور22)
”اور کہتے ہیں یہ فتح کب ہوگا اگر تم سچے ہو؟۔ کہہ دو کہ فتح کے دن کافروں کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا۔اور نہ ان کو مہلت ملے گی۔ پس ان سے کنارہ کرو اور انتظارکرو ، بیشک وہ بھی انتظار کررہے ہیں”۔(سورہ سجدہ29،30)
٭٭

 

تین اقسام: السابقون، اصحاب المیمنہ اور اصحاب المشأمة

 

جنت والوں کی دواقسام سے کون مراد؟

پہلی قسم سبقت لے جانے والوں کی ہوگی جو پہلوں میں بہت ہوں گے اور آخر والوں میں تھوڑے ہیں۔ پہلوں میں السابقون الاولون مہاجر وانصار تھے جن کی گواہی قرآن میں اٹل ہے۔ آخر میں طرز نبوت کی خلافت قائم کرنے میں پہل کرنے اور اسلام کی نشاة میں اپنا کردار ادا کرنے والے اجنبی ہوں گے۔
دوسری قسم دائیں جانب والوں کی ہوگی جن میں فتح مکہ کے بعد صحابہ کرام کی بہت بڑی تعدادکے علاوہ تابعین، تبع تابعین اور علمائ، محدثین اور نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور آخرین میں بھی دائیں جانب والوں کی بڑی تعداد ہوگی۔

 

اصحاب المشأمة سے کون مرادہیں؟

پہلے والوں میں ظالم حکمران اور وہ مذہبی طبقات جنہوں نے انسانیت کیلئے دنیا کو جحیم بنادیا تھا۔ جو نبی اکرم ۖ کی دعوت حق اور عالم انسانیت کے منشور کی مخالفت اور تکذیب کرتے تھے اور جنہوں نے خلافت راشدہ کے عادلانہ نظام کو بدل ڈالا تھا۔ آخر والوں میں تمام ظالم وجابر حکمران، لوگوں اور دنیا پر جبر وظلم کے نظام کو مسلط کرنے والے اور انکے آلۂ کار دہشت گردوں کا ٹولہ، سیاست وتجارت کے لبادے میں مافیاز کا کردار ادا کرنے والے منشیات فروش، انسانیت کے دشمن اور اپنے مفادات کیلئے سب کچھ کرگزرنے والے سب شامل ہیں۔

 

السابقون الاولون کیلئے دنیا میں ولدان و حور عین

” لگے تختوں پرآمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے۔ ان پر24گھنٹے لڑکے طواف کرینگے۔ گلاس اور جگ اور خاص قسم جوس کے پیالے لئے ۔ نہ سر میں درد ہوگا اور نہ دماغ چکرائیگا۔ پھل جو چنیں۔ پرندوں کا گوشت جو چاہیں۔ بڑی آنکھوں والی بیویاں۔جیسے بطور مثال وہ چھپے موتی ہوں۔یہ بدلہ ہوگا بسبب وہ جو عمل کرتے تھے۔ نہیں سنیں اس میں لغو اور نہ گناہ۔ مگر سلام سلام کہنا”۔ (سورہ الواقعہ:آیات:15تا26)

فرمایا:” ” بیشک جو پرہیز گار ہیں وہ باغات اور نعمتوں میں ہونگے۔ محظوظ ہونگے جو اللہ نے ان کو عطا کیا اور انکے رب نے ان کو جحیم کے عذاب سے بچایا ۔ کھاؤ اور پیو مزے لیکر بسبب جو تم نے عمل کیا۔ تکیہ لگائے چارپائیوں پر قطاروں میں ہونگے۔ ان کا بیاہ کرینگے بڑی آنکھوں والیوں سے اور جنہوں نے ایمان لایا اور انکے پیچھے چلے ان کی اولادیں ایمان کیساتھ۔ ان کی اولاد کو بھی ہم نے ملادیا اور ہم نے انکے عمل میں کچھ کم نہ کیا۔ہر شخص اپنے کئے کیساتھ وابستہ ہے اور ہم نے مدد کی ان کی پھلوں اور گوشت سے جو وہ چاہتے تھے۔ وہ ایکدوسرے سے پیالہ پرلڑیں گے جس میں نہ لغو بات ہوگی اور نہ گناہ اور ان پر غلمان چکر لگائیں گے خدمت کیلئے جیسے چھپے موتی ہوں۔ وہ ایک دوسرے سے متوجہ ہوکر آپس میں پوچھیں گے ۔ کہیں گے کہ بیشک ہم اس سے پہلے اپنے خاندان میں مشکلات میں تھے تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں گرم لو کے عذاب سے بچایا ۔ بیشک ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے تھے۔ بیشک وہ نیکی کرنے والا رحم والا ہے۔ پس نصیحت کرتے رہیے! آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیںاور نہ مجنون ۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ شاعر ہے ،ہم اس پر گردش کے منتظر ہیں۔کہہ دو کہ انتظار کرو،ہم بھی ساتھ منتظر ہیں۔ کیا یہ انکا خواب ہے یاوہ سرکش قوم ؟۔ یا کہتے ہیں کہ یہ اس نے گھڑا ؟۔ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ پس اس جیسا کلام لائیں اگر سچے ہو تم ۔ (سورہ طور:17تا35)

امام حسین کی حوراء شہربانو اور اس کی بہنوں زوجہ محمد بن ابی بکر وزوجہ عبداللہ بن عمرکی طرح فارس و روم کی فتح کے بعد صحابہ کرام اور ان کی اولاد سے اس حور وقصور کا وعدہ پورا ہوا جس کا علامہ اقبال نے شکوہ کیا اور پہلے دور میں غلامی کا دور دورہ تھا لیکن آپ دیکھ لو غلمان اتنے خوش تھے جیسے دنیا کے جہنم سے جنت آئے ہوں۔اور یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ حضرت عمر نے پابندی لگائی کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے اسلئے کہ وہ ”حور عین” تھیں اور عرب کی اپنی عورتوں سے پھر کون شادی کرتا۔ اب عرب کی عورتوں میں بھی خوبصورت حور عین ہیں ۔ہمارا ایک ساتھی عرب سے رشتہ مانگ تھا تو نہیں مل رہا تھا تو اس نے کہا کہ پھر تم پیش کروگے۔
اسلام کی نشاة اول میں ان کی گوشت سے مدد کی گئی جیسا ایک مچھلی پورے مہینے کھائی اور بعد میں رزق کی فروانی ہوئی۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں السابقون الاولوں بہت کم ہونگے اور ان کو پرندوں کا گوشت اور مرضی کا پھل ملے گا۔خدمت باوردی اسٹودنٹ24گھنٹہ اپنی تنخواہ اور خوشی سے کرینگے۔جیسا دنیا میں رواج ہے۔

 

اصحاب الیمین کیلئے دنیا میں کیا انعامات ہوں گے ؟

” وہ بے کانٹوں کے بیروں میں اور تہ بہ تہ کیلوں میںاورلمبے سائے میں اور پانی کے آبشاروں میںاور بہت سارے پھلوں میںجو نہ ختم ہوں گے اور نہ ان پر روک ٹوک ہوگی اور اونچے فرشوں میں۔بیشک ہم نے ان چیزوں کی خاص نشو ونما کی اور ان کو بالکل نیا کردیا۔ ایسی سواریاں جو قد کاٹ کے بالکل برابر ہوں گی”۔ (سورہ واقعہ28تا37) ۔ نعمتوں کی فروانی کانظارہ ہو گا۔ جب شوہر اور بیوی خوشحال ہوتے ہیں تو بڈھے بھی جوان بن جاتے ہیں۔ میک اپ اور بہترین غذائیت سے بھرپور کھانے سے انسان کی دنیا بدلتی ہے۔
اب تو بڑے لوگوں کو پرندوں اور جنگی جانور مارخور، ہرن اور بارہ سینگا وغیرہ کا گوشت ملتا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات فارمی مرغیوں کے گوشت کو بھی ترستے ہیں۔ اصحاب الیمین کی بہت بڑی تعداد ہوگی ۔دنیا میں انقلاب عظیم آئے گا تو وائلڈ لائف جنگلی حیات کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔ بھارت میں گائے کا گوشت نہیں کھاتے ۔ درندوں اور چرندوں کی بہتات ۔ جبکہ کئی ممالک میں درندے انسانوں سے مانوس ہوچکے ہیں۔ انقلاب عظیم کے بعد دنیا جنگلی حیات کے تحفظ کی وجہ سے درندوں ، چرندوں اور پرندوں سے آباد ہوگی۔ ایسی ترتیب سے شہروں، باغات، کھیتوں اور جنگلات کو آباد کیا جائیگا کہ روئے زمین پر ماحولیاتی آلودگیوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے اور سائنسی ایجادات کو تباہی ، انسانوں کو غلام بنانے اور غلط مفادات حاصل کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جائیگا نفع بخش چیزیں بنانے کیلئے ماہرین اور ماہرات کو جدید ترین ایجادات پر لگایا جائے گا۔
جب ہندو، یہود، نصاریٰ ، بدھ مت، پارسی اور دنیا بھر کے مذاہب وممالک کو قرآن کے عظیم منشور کا پتہ چل جائے گا تو طرزنبوت کی خلافت قائم کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ العزیز القدیرالمتکبر

چین سے افغانستان اور پاکستان تک دریائے سندھ میں گند کا ایک قطرہ بھی نہیں گرنے دیا جائے گالیکن ضرورت کے مطابق اس پر بڑے ڈیم اور پانی کے ذخائر ترتیب دئیے جائیں گے۔ بجلی اور پانی کی فروانی کا فائدہ یہ ہوگا کہ روشنی و ہوا کی طرح محنت کش طبقات سمیت سب کو بنیادی سہولیات فری ملیں گی۔ مزارعت اور سود کا خاتمہ کرکے رسول اکرم ۖ نے دنیا کو جنت بنانے کی بنیاد رکھ دی تھی مگر صحابہ کی خوشحال اولاد یزید اور قاضی شریح جیسے حکمرانوں اورقاضیوں نے اسلامی نظام عدل کو نفسانی خواہشات کی بھینٹ چڑھادیا تھا۔ سورہ الحدید میں لوہے کو جنگ اور نفع بخش قراردیا ۔مسلمان نفع بخش کیلئے استعمال کرینگے تو معاملہ بدلے گا۔ ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین ” کبھی ہوگا کہ کافرپسند کریں کہ وہ پہلے مسلمان ہوتے”۔
قیامت سے پہلے دنیا میں مؤمن کوجنت کا مزہ چکھائیں گے حفظ مراتب کا لحاظ ہوگا۔ تفصیل سورہ رحمن، الاعراف، الحدید،المرسلات اور دیگر سورتوں میں موجود ہیں۔” بیشک متقی لوگ چھاؤں اور چشموں میں ہوں گے اور پھلوں میں جو وہ چاہیں گے۔کھاؤ، پیو خوشی سے بسبب جو تم عمل کرتے تھے”(المرسلات41تا43)

 

اصحاب الشمال کیلئے دنیا میں کس قسم کا جہنم بنے گا؟

” وہ گرم ہواؤں اور گرمی میں ہونگے اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہونگے۔ جونہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی عزت دینے والا۔ بیشک اس سے پہلے خوشحال تھے اوربڑی کرپشن پر تسلسل سے لگے تھے”۔ ( الواقعہ:42تا45)

جنرل اختر کے بیٹوں، نوازشریف، زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن وغیرہ تمام ریاستی اداروں، حکمرانوں، سیاستدانوں اور مذہبی طبقات کی خوشحالی غریب اور پسے ہوئے طبقے کی تباہی کا سبب ہے توپھر ان کا کڑا احتساب کرکے صدائے جہنم کی تخریب کاریوں سے انسانیت کو تحفظ دیا جائے۔
یوم نقول لجھنم ھل امتلأت و تقول ھل من مزیدO(سورہ ق آیت:30)

ترجمہ:”اس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تم بھر گئی ہو؟۔ اور وہ کہے گی کہ کیا مزید اور بھی ہیں”۔
مسلمانوں کی زکوٰة ،خیرات، برطانیہ ، امریکہ ، جاپان ، سعودی عرب ، دوبئی اور دنیا بھر کی امداد بھی تعلیمی اداروں سے لیکر پولیو کے قطروں تک تمام شعبوں میں کرپٹ لوگوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سورہ واقعہ کی مندرجہ بالا آیات میںدنیا کا عذاب ہے اور پھر اسکے بعد قیامت کے عذاب کا ذکر الگ سے ہے۔ فرمایاکہ ” کہہ دو کہ پہلے گزرنے والے اور بعد والے۔ضرور اکٹھے ہیں ایک معلوم دن میں ایک جگہ پر ۔پھر بیشک تم اے گمراہو! جھٹلانے والو !۔ضرور کھاؤگے زقوم کے درخت سے ، پھر اس سے پیٹ بھرنے ہوں گے۔ پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا ۔پھر پینا ہوگا اُونٹوں کا سا۔ یہ قیامت کے دن ان کی مہمانی ہوگی” ۔(سورہ واقعہ49تا56) ”بیشک یہ قرآن عظیم ہے۔ تکوینی کتاب میں ۔ نہیں چھوتے اس کو( عمل نہیں کرتے) مگر پاک لوگ۔ رب العالمین کی طرف سے نازل ۔ کیا تم اس بات میں مداہنت کرتے ہو؟۔ اور تم بناتے ہو اپنی روٹی روزی؟۔ بیشک تم ہی جھٹلارہے ہو۔ پس جب پہنچے گی تمہارے گلوں تک اور اس کو تم دیکھو گے۔(سورہ واقعہ77تا84)

”پس اگر مقربین میں سے ہیں۔(توا ن کے کیا کہنے) راحت، خوشبو اور عیش کے باغ میں ہوں گے۔ اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہیں تو تیرے لئے سلام اصحاب الیمین کی طرف سے( نبیۖ پر درود اور سلام کی شاندار محفلیں جمائیں گے۔اسلئے ان کی برکت سے دنیا میں جنت مل جائے گی)پس اگر وہ جھٹلانے والوں میں سے ہیںتو ان کا ٹھکانہ گرمی میں ہوگااور جحیم میں پہنچنا ہوگا۔بیشک یہی حق الیقین ہے۔ پس اپنے رب کی پاکی بیان کیجئے جو بہت عظیم ہے”۔(سورہ واقعہ88تا96)۔ یہ تینوں طبقات کے احوال ہیں ۔
”کھاؤ اور چند روزہ فائدہ اُٹھاؤ۔بیشک تم ہی مجرم ہو۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو(حق کے سامنے جھکو) نہیں جھکتے تھے۔اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیںگے”۔ المرسلات:46تا50) قرآن کی آیات میں دنیا کے اندر عذاب کا تصور الگ دیا گیا ہے اور آخرت میں الگ۔ جو لوگ تدبر کرکے بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی کا سرپرائز : نہیں ہوگا محمد اور نہ احمد اور نہ محمود ہوگا۔ مواطأة صحیحہ یہ ہے کہ؟؟؟

ولید اپنی زبان عربی میں کہتامندرجہ بالا عنوان کے تحت اپنی ویڈیو ویلاگ میں کہتا ہے جس کا خلاصہ ہے:اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رحمة رحمة رحمة اللہ کیلئے میری پیاری بہنو! اور میرے بھائیو!۔نبی اکرم ۖ پر درود بھیجو!۔ اللھ صل وسلم علی محمد و آلہ واصحابہ اجمعین

 

آج کا موضوع: مہدی اور نام کی موافقت:

 

میں ایک خاص موضوع لیکر آیا ہوں جس پر بہت بحث ہوتی ہے۔ جو لوگ میری مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ سب سے پہلے سچ کہوں گا کوئی مجھے جھٹلا نہیں سکتا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی کا نام محمد یا احمد یا محمود ہوگا۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر کوئی اختلاف کرنا چاہتا ہے تو ابھی بات نوٹ کرلے اور مجھ سے دلیل کیساتھ بات کرے۔

 

مواطأة کا اصل مفہوم:

 

حدیث ہے کہ ”اس کا نام میرے نام سے موافق ہوگااور اسکے والد کا نام میرے والد سے موافق ہوگا”۔ لوگ اس کا مطلب غلط لیتے ہیںاسلئے کہ موطأة کا مطلب ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتابلکہ یہ مشابہت بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر محمد کا مطلب ”تعریف کیا گیا” اور احمد کا مطلب ہے ”سب سے زیادہ تعریف کیا گیا”۔ ان دونوں کے معنی میں مشابہت ہے۔اس طرح مہدی کا نام نبی اکرم ۖ کے نام سے مشابہ ہوگا۔ نہ کہ حرف بہ حرف وہی نام۔
قرآن میں موطأة:سورہ توبہ کی آیت37میں اللہ نے ایک اور قسم کی مواطت کا ذکر کیا ۔ جہاں اہل عرب مہینوں کے نام بدل کر شریعت کے خلاف کام کرتے تھے۔ یہاں اللہ نے واضح کیا ہے کہ مواطت ایک اصولی چیز ہے نہ کہ کوئی رسم ورواج ۔

 

مہدی کے نام کی حقیقت:

 

اب یہ سمجھنا ہوگا کہ امام مہدی کا نام ضروری نہیں کہ محمد بن عبداللہ ہو۔ بلکہ اس کے نام میں نبی اکرم ۖ کے نام کی صفات پائی جائیں۔ جیسے: حمد(تعریف) ۔سے: صابر، شاکر، جبار، راضی۔ اورصبر سے :صابر۔ اور رضاسے : راضی۔ یہ سب نام بھی نبی اکرم ۖ کی صفات سے جڑے ہوئے ہیں۔ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں ،انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ حدیث میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ممکنہ طور پر گھڑنے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ میں کسی پر الزام نہیں لگاتا لیکن ہمیں تحقیق کرنی چاہیے۔ اللہ جسے مہدی کے نام کی حقیقت بتادے۔یہ اللہ کا راز ہے۔اور جسے معلوم ہوجائے ۔ اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے اور فتنے میں نہ پڑے۔ آخر میں فلسطین اور غزہ کیلئے دعاکریں۔جو ممالک اسرائیل کا ساتھ دیں گے وہ اللہ کی پکڑ میں آئیں گے۔ عرب دنیا میں بڑے زلزلے آئیں گے۔ یہ سب کچھ اللہ کے فیصلوں کے مطابق ہوگااور ہمیں فتنے کو روکنے کیلئے متحد رہنا ہوگا۔

 

تبصرہ عتیق گیلانی:

اللہ نے فرمایا ”اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کیلئے تیار کی گئی ہے”۔(آل عمران:133)سورہ رحمن کی4جنتوں جن میں دو دو چشمے اور اس جنت میں فرق نظر نہیں آتا ؟۔ اور سورہ رحمن میں تین جگہ عورتوں کا ذکر ہے؟ ۔ پھر عرباً اتراباً ، کواعب اتراباًوغیرہ میں جہاں کوئی متشابہ آیت ملی تو اس کو عورت قرار دیا ؟۔ دنیا نے ترقی کرلی اور متشابہ آیات محکمات بن گئے ۔اگر مسلمانوں کو اُدھار کے بجائے نقد جنت دکھائی جاتی تو یہ زوال کا شکار نہ ہوتے اب بھی عروج کی طرف لایا جائے۔

 

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مہدی ہیں؟

یہ ایک مضمون ہے جو میں نے ایک فورم پر پایا اور مجھے یہ اہم لگا۔ دیانتداری کے طور پر یہ نقل شدہ ہے لیکن اس میں کچھ تصرف اور اضافے کئے گئے ہیں۔
محترم بھائی ! اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ مہدی ہیں تو جان لیں کہ یہ نہ کوئی عیب ہے اور نہ جرم ۔ نہ گناہ اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس پر انسان کو ملامت کی جائے۔جب تک یہ آپ کے ذاتی اعتقاد کی حد تک محدود ہے، جب تک یہ آپ کی سوچ تک محدود ہے۔اور آپ اسے عوام میں پھیلانے ، فورمز پر پوسٹ کرنے یا اپنی ذاتی زندگی پر اثر انداز کرنے کیلئے استعمال نہیں کررہے ،تب تک یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر یہ عقیدہ آپ کو اپنی زندگی ، کام اور ذمہ داریوں سے غافل کردے ۔ آپ یہ سوچ کر سب کچھ چھوڑدیں کہ آپ مہدی ہیں اورآپ دنیا کے حالات بدلنے کا انتظار کریں تو یہی اصل مصیبت ہے۔ احادیث کی تطبیق،خوابوں کی مطابقت،یا مہدی کے بارے میں بیان کردہ اوصاف کوخود پر منطبق سمجھنا بذات خود کوئی گناہ یا جرم نہیں لیکن حقیقی مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص جھوٹا دعویٰ کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں میں شامل ہوجائے۔کیونکہ مہدی کے بارے میں کوئی بھی حتمی دلیل نہ خوابوں سے حاصل ہوتی ہے ، نہ احادیث کی ظاہری اطلاق سے اور نہ ہی محض گمان یا ذاتی اعتقاد سے۔ اصل دلیل مہدی کے ظہور ، اصلاح اور بیعت کے بعد سامنے آئے گی۔ کیونکہ مہدی ایک شخصیت ہے جو تاریخ میں صرف ایک ہی بار سامنے آئے گا نہ کہ بار بار۔

یہ بات میں علمی دیانت اور نصیحت کے طور پر کہہ رہاہوں ۔ میرا مفاد تو یہ ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود کو مہدی سمجھیں،میرے چینل کو فالو کریں اور میری ویڈیوز کو دیکھیں لیکن میں جھوٹ کا کاروبار نہیں چاہتا۔ مہدی کے تصور سے جڑی بہت سی غلط فہمیاں ہیں ۔ تاریخ میں بھی کئی لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ، جیسے احمد سبیدر جنہوں نے اپنے پیروکاروں کو ”جندالنور” اور دیگر نام دئیے اور جھوٹی کہانیاں گھڑ کر انہیں بے وقوف بنایا۔اسی طرح فاطمی خلافت بھی مہدی کے نظرئیے پر قائم ہوئی۔اور آج بھی اسماعیلی فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ان کا مہدی غائب ہے اور آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے شیعہ مہدی کو غار میں پوشیدہ مانتے ہیں۔
بعض لوگ مہدی ہونے کا گمان کیوں رکھتے ہیں؟۔

1:احادیث پڑھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی یا نام سے میل کھاتے ہیں۔
2:کچھ لوگ ذہنی بیماریوں میںمبتلا ہوتے ہیں۔
3:بعض جادو یا روحانی اثرات کی زد میں آتے ہیں۔
4:کچھ فطری وروحانی حساس لوگوں کو خاص کیفیات سے گزارا جاسکتاہے لیکن یہ گمان ہیں۔
مہدی کو صالح لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر سبھی خود کو مہدی سمجھیں گے تو پھر ان کے معاونین کون ہوںگے؟۔ دین کی خدمت اور نیکی پر چلنا ہی اصل ہدایت ہے۔ والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ۔ المھدی وعلوم آخرزمان ۔ عربی یوٹیوب چینل

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی کا کمال آدھا فرشتہ آدھا شیطان ہوگا؟ فرانسیسی نجومی

ما کان الرجل من ہو کیف اخبرکم ومن ہو ہذا
یہ شخص کون تھا؟ میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ کون ہے ،اس کا کیا تعارف ہے؟۔

العاہل العظیم الشہیر لقد سالت السؤال اولاً
وہ عظیم مشہور بادشاہ(مہدی)توتحقیق پہلے میں نے نجومی عورت سے یہ پوچھا

کی اعرف ما اذا کان الرجل ایجابیا ام سلبیا
تاکہ میں جان سکوں کہ یہ شخص تعمیری سوچ رکھتا ہے یا تخریبی سوچ کاحامل ؟۔

لقد تحصلت علی التضحیة والخصم وتقصد بہ
تحقیق کہ میں نے اس میں قربانی اور جھگڑالو پن پایا۔جس سے اس شخصیت کا

مجنون الشخصیتة فہی تشرح التضحیة ہی نفسہا
دیوانہ پن لگتا ہے۔ پس یہی قربانی کی وضاحت ہے جو بذات خود اس کی گونج

فی الرنین وسمو القلب وحسن النیة او ہبة الذات
میں ہے اوراسکے دل کی گہرائی اور نیک نیتی یا اپنی ذات کے عطیہ میں ہے۔

وہی تعید تلک الصفات الی طفولیہ صعبة
اور یہ قربانی ان صفات کو اسکے بچپن کی بڑی مشکلات کی طرف لوٹادیتی ہے۔

وتقول لذلک فہو یحتفظ بشیء من الاحزان
وہ (فرانسیسی نجومی) کہتی ہے : اسی وجہ سے کہ اس نے غموں میں سے کچھ اپنے

بسبب المعاناة فیما یتعلق بطفولتہ
اندر محفوظ رکھا ہے جس کا سبب اس کے بچپن کے مصائب سے متعلق ہے۔

وہو شخص ذو طبیعة سخیة ومخلص یمیل الی العطائ
اور وہ سخی طبیعت رکھنے والااور مخلص شخص ہے جو عطاکا رحجان رکھتا ہے۔اس حد

لدرجة التضحیة بالنفس من اجل الاٰخرین وھوشخص
تک کہ وہ اپنی جان تک کو بھی دوسروں کیلئے قربان کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے

قلیل المیول للمادیات اذ انہ روحی للغایة وتعود
جو مادی چیزوں میں بہت کم دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ انتہادرجہ روحانی ہے۔پھر

لتکمل العرافة ما بداتہ من عبارة التضحیة والخصم
نجومی لوٹتی ہے کہ اس کی قربانی اور جھگڑے کی کیفیت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟۔

فتقول یؤدی الخصم فیہ الی تناقض فی شخصیتہ
تو کہتی ہے کہ اسکے جھگڑے والی صفت سے اس کی شخصیت میں تضاد لگتا ہے۔

فی نبرتہ التی تظہر انہ غاضب جداً وعنیف لفظیاً
وہ اپنے درشت لہجہ میں بہت زیادہ غصے والا اورسخت الفاظ والا لگ رہاہے۔

وان لدیہ عنف مفرط وتربط ہذا بمعاناة الطفولة
اور اسکے پاس بے حد تشدد ہے اور یہ تشدد بچپن کے مصائب سے جڑا ہوا ہے۔

وتقول انہ انسان مثلنا جمیعا وہذا ما یظہرلی
اور کہتی ہے کہ وہ ہم سب کی طرح عام انسان ہے اور یہ جو مجھے دکھائی دیاکہ

ان افضل صفاتہ او لنقل المحاسنة یقابلہا
اسکی افضلیت کی بنیادمتضاد صفات، یاہم یوں کہہ لیں کہ خوبیوں کے مدمقابل

بالموازاة اسوأ ما لدیہ من العیوب فتقول
اسکے ہم وزن برائیاں ہیں جو اسکے پاس عیوب ہیں۔تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے

یمکننا القول نصفہ ملاک ونصفہ الاٰخرشیطان
لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کا آدھا فرشتہ ہے اوردوسرا آدھا شیطان ہے۔

علی حد تعبرہ وترجع عبارة الخصم الی الشیطان وذریتہ
جیساکہ وہ سمجھ سکی اور جھگڑالوکی تعبیر شیطان اور اس کی ذریت ہی کو لوٹتی ہے۔

وتقول وکانہ شخص یحاول علی الاقل التلاعب
وہ کہتی ہے اورجیسا کہ وہ شخص غلبہ پانے کی کوشش میں کم از کم کھلواڑ میں لگا ہوا

بہ علی صعید الطاقة وایضاً علی الصعید النفسی
ہے بالائی طاقتوں کیساتھ اور نفسیاتی بلندیوں کے توسط سے بھی لگاہواہے۔

وتقول علی ای حال یبدو متوازناً بشکل ایجابی
اور وہ کہتی ہے کہ بہرحال وہ مثبت انداز میںبڑا متوازن دکھائی دے رہا ہے۔

اجد تلاعباً غامضاً یسدہ لاجل ابطائہ او اعاقتہ
میں چھپا کھلواڑپاتی ہوں جو اسے کم رفتاری اورتیز رفتاری سے روک رہاہے۔

وتقول لدی انطباع انہ یشک فی نفسہ دائماً
اور وہ کہتی ہے کہ میری مجموعی رائے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ شک میںہے۔

یری ہذا السید اننا نود ان نؤذیہ انہ شخص
لگتاہے کہ ہم اس کو اذیت پہنچانے کیلئے آواز دے رہے ہوں۔وہ بڑاحاضر

یبدو سریع البدیہة ویری انہ محتاج ویری انہ
دماغ ذہین لگتا ہے اور وہ محتاج دکھائی دے رہا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اس کو اپنے

محتاج ایضاً لتبنی عدوہ وجہات نظر لفہم کل شیئ
دشمن سے خبردار رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ہر طرف نظر کی تاکہ ہر چیز سمجھے۔

ولکی یکون علی درایة بکل ما یحدث
تاکہ وہ تمام نئے پیش آنے والے واقعات سے بھرپور آگاہی حاصل کرے۔

وہو رجل یحب ان یفہم الناس والاشیاء و
اور وہ ایسا شخص ہے جویہ پسند کرتا ہے کہ لوگوں کی سمجھ حاصل کرے

الاحداث ولکی یکون علی درایة بکل ما یحدث
چیزوں اور واقعات کی تاکہ وہ ہر چیز سے باخبر رہے جوکچھ رونما ہورہا ہے۔

بالفعل فہو شخص نشط للغایة ویسعی باستمرار
عملی طور پر وہ انتہائی درجہ فعال شخص ہے اوروہ مسلسل جدوجہد میں لگاہوا ہے

الی تجاوز نفسہ للوصول الی الہدف
یہاں تک کہ وہ اپنی جان سے گزرنے کی حدتک، تاکہ ہدف تک پہنچ سکے۔

ہو مستعد لبذل الجہود اللازمة دوما جاہز لہا
وہ کمر بستہ ہے اپنی ضروری طاقت خرچ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہتاہے۔

من ناحیة اخریٰ فہو خائف من المستقبل
اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے بہت خوفزدہ رہتا ہے۔

وتقول لدیہ خوف کبیر من مواجہہ ما ینتظرہ
اورکہتی ہے کہ اس کو بڑا خوف ہے اس کا سامنا کرنے کا جو اس کی منتظر ہے۔

ہذا ہوانہ الشخصیة صعبة شاب تجاوز الاربعین
یہی ہے وہ مشکل شخصیت ،وہی جوان جس کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی ہے

لکن وعلی ما یبدو وان لیست لہ میول الشباب
لیکن جو بظاہر دکھائی دیتا ہے تو اس میں اب جوانی کی رغبت نہیں رہی ہے۔

ہوشخص فی ہیکلہ یبدو ناشف جداً یبدو ہیکلہ
وہ شخص اپنے جسمانی ڈھانچے میں بہت خشک لگتا ہے اورلگتاہے کہ ڈھانچہ

عریض بعضلات ولکن عضلات ناشفة
چوڑا ہے اپنے اعصاب کیساتھ، لیکن اعصاب نے اس کو کھوکھلا کردیاہے۔

ربما یمکن لہاتین الصفتین ان تجتمع لا ادری
کبھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں صفات اکٹھی ہو جائیں لیکن میں نہیں جانتی۔

علی العموم لہ شخصیة واقعة فی قطبیة
عام طور پر اس کی شخصیت گھری ہوئی لگ رہی ہے جھگڑوں کے میدان میں

الخصم بشکل قاسی للغایہ
یہاں تک کہ بد بختی کی حد تک بھی اس شخص کے جھگڑے پہنچ جاتے ہیں۔

وتقصد بقطبیہ القسمة ای الشیطان وزبانیتہ
اور نجومی مراد لیتی ہے میدان کی اس تقسیم سے شیطان اور اس کی پولیس۔

کما ان لدیہ شخصیة منقسمة ربما یشیرالی انہ
اور جیسا کہ اس کی شخصیت متضادصفات میں تقسیم ہے تو بسا اوقات لگتا ہے کہ

توأم لا ادری ولکن لدیہ ہذہ الازدواجیة بین
وہ جڑواں (فرشتہ اورشیطان دونوں)ہے لیکن میں نہیں جانتی۔ لیکن اسکے

کرمہ الشدید واحیانا شدید العدوانیة والغضب وحساسیة مفرطة
پاس اس ملاپ کے درمیان انتہائی درجے کاکرم بھی ہے اور دوسری طرف کبھی اس کی شدید ترین دشمنی اور غصہ اور حساسیت میں انتہائی غلو بھی ہے۔

وتقول انہ انفعالی جداً استقلالی جداً جداً
اور وہ کہتی ہے کہ وہ انتہائی جذباتی ہے اور بہت بہت مستقل مزاج ہے۔

مولع جداً بواحد ضد واحد لدیہ مواہب ابداعیة
وہ ایک بمقابلہ ایک کا ہی دلدادہ ہے اور اس میں تخلیقی ہنرکی صلاحیتیں ہیں۔

انہ مبدع للغایة یمکنہ قرض الشعر والخواطر
تحقیق وہ انتہائی جدت پسند ہے، اس میں شعراورتخیلاتی صلاحیت ہے۔

غالباً ما یضیع فی اعتقاداتہ وافکارہ وقد ینعزل
اکثر اوقات کووہ اپنے اعتقادات اور خیالات کی نذر کرتا ہے ۔ بیشک علیحدگی

تماماً عن العالم انہ یحب جداً الغض من بصرہ
اختیار کرتا ہے پوری دنیا سے۔ بیشک اپنی نگاہ نیچی رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے

ہذا السید وہذا یعطی انطباعاً بانہ مخطء لانہ
یہ صاحب اور اسی چیز پر مجموعی رائے قائم ہوتی ہے کہ وہ غلطی پر ہے۔اسلئے کہ

لیس راسخاً فی الواقع بشکل مناسب
وہ اس وجہ سے موقع محل کے مطابق مناسب انداز سے گھل مل نہیں ہوپاتا۔

ہذا علی حد رایہا لان الحیاة تتطلب المخزون
یہ عورت کی اپنی رائے ہے کیونکہ زندگی گزارنے کیلئے جمع پونجی ضروری ہیں۔

ولو بقلیل من الیورو
اور اگر چہ بہت کم ہوں روپے (یوروفرانس اور یورپ کی کرنسی )ہوں۔

علی ای حال ہو عالم نفسی جید جداً
بہر حال وہ ایک بہت زبردست نفسیات کے عالم کو سمجھنے والا تجزیہ کارہے۔

ہذاالسید یمیل الی فہم الاٰخرین والقدرة علی
یہ صاحب دوسروں کو سمجھنے کی طرف میلان رکھتا ہے ۔اور صلاحیت رکھتا ہے

الارتقاء الی مستواہم انہ صادق او امین
دوسروں کو انکے بلند درجہ تک مقام تک پہنچانے کی۔ اور سچا یا امانت دار ہے

عادل دبلوماسی انہ مستشار جید انہ یعرف
وہ منصف مزاج سفارت کاری کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اچھا مشیر ہے۔

ایضاً کیفیة تجنب النزاعات غیر الضروریة
وہ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے کیسے بچا جائے؟۔

وایجاد الحلول التی تناسب الجمیع بکل سہولة
اور وہ ایسے حل نکال سکتا ہے جو سب کیلئے آسانی سے قابل قبول بھی ہوں۔

لدیہ انجذاب للجانب الاخضر ایضاً فہو شخص
اس میں سبزہ کی طرف بھی کشش ہے۔ پس اس شخص کو بہت زیادہ لگاؤہے

مرتبط جداًباحترام الطبیعة وکائنات الحیة
تمام قدرتی مناظر کیساتھ اور کائنات کے جانداروں کے احترام کیساتھ۔

ایضاً معالج ممتاز وہو شخص علی الاقل لدیہ
وہ شاندار معالج بھی ہے اور کم از کم اس میں ایک قدرتی مقناطیسی کشش ہے

مغناطیسیة علاجیة وہذا واضح جداً اولدیہ ہالة
علاج والی۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے، یا پھراسکے ارد گرد ایک بہت بڑی

مغناطیسیة کبیرة جداًوہذا یمکن ان یفسر القوة
مقناطیسی توانائی کی فضا ہے اوریہ ممکن ہے کہ اس میں موجودکافی مقناطیسی

المغناطیسیة الکافیة فیہ لکنہ شخص موصول
قوت اس کی شخصیت کو واضح کردے۔ لیکن وہ ایسا شخص ہے جو روحانی طور پر

روحیاً بشکل قوی جداً لانہا جلبتنی للرؤی
بہت گہرائی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس نے مجھے کشف (روحانی مشاہدات)

حیث توجد لدیہ حساسیة قویة للغایة
کی طرف کھینچ لیاہے جو اسکے پاس انتہائی درجہ طاقتورحساسیت ہے۔

ہو عادل للغایة علی الرغم من ذلک انہ منفتح
وہ انتہائی منصف مزاج ہے۔ علاوہ ازیںوہ بہت کھلے ذہن کا اور تجسس

انہ فضولی انہ مرتبط حقاً بواقع وعی عالی جداً
رکھنے والا شخص ہے ،وہ حق سے جڑا ہوا حقیقت میں انتہائی بلند شعوررکھتاہے

لذلک یتم استدعائہ للمسؤولیة یجب ان یترک
اسلئے اس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ

حیاتہ لیجد نفسہ بین کرسی کراسی تجبرہ علی
اپنی زندگی کو چھوڑدے تاکہ خود کو پاسکے ان کرسیوں کی کرسی میں جو زندگی کی

ترک حیاتہ کما نفعل کل یوم لیجد
ترک پر مجبور کردے۔ جیساکہ ہم روز کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا مقصد پالے۔
٭٭٭

یہ شخص کون تھا؟ میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ کون ہے ،اس کا کیا تعارف ہے؟۔
وہ عظیم مشہور بادشاہ(مہدی)توتحقیق پہلے میں نے نجومی عورت سے یہ پوچھا
تاکہ میں جان سکوں کہ یہ شخص تعمیری سوچ رکھتا ہے یا تخریبی سوچ کاحامل ؟۔
تحقیق کہ میں نے اس میں قربانی اور جھگڑالو پن پایا۔جس سے اس شخصیت کا
دیوانہ پن لگتا ہے۔ پس یہی قربانی کی وضاحت ہے جو بذات خود اس کی گونج
میں ہے اوراسکے دل کی گہرائی اور نیک نیتی یا اپنی ذات کے عطیہ میں ہے۔
اور یہ قربانی ان صفات کو اسکے بچپن کی بڑی مشکلات کی طرف لوٹادیتی ہے۔
وہ (فرانسیسی نجومی) کہتی ہے : اسی وجہ سے کہ اس نے غموں میں سے کچھ اپنے اندر محفوظ رکھا ہے جس کا سبب اس کے بچپن کے مصائب سے متعلق ہے۔
اور وہ سخی طبیعت رکھنے والااور مخلص شخص ہے جو عطاکا رحجان رکھتا ہے۔اس حد تک کہ وہ اپنی جان تک کو بھی دوسروں کیلئے قربان کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے
جو مادی چیزوں میں بہت کم دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ انتہادرجہ روحانی ہے۔پھر
نجومی لوٹتی ہے کہ اس کی قربانی اور جھگڑے کی کیفیت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟۔
تو کہتی ہے کہ اسکے جھگڑے والی صفت سے اس کی شخصیت میں تضاد لگتا ہے۔
وہ اپنے درشت لہجہ میں بہت زیادہ غصے والا اورسخت الفاظ والا لگ رہاہے۔
اور اسکے پاس بے حد تشدد ہے اور یہ تشدد بچپن کے مصائب سے جڑا ہوا ہے۔
اور کہتی ہے کہ وہ ہم سب کی طرح عام انسان ہے اور یہ جو مجھے دکھائی دیاکہ اسکی افضلیت کی بنیادمتضاد صفات، یاہم یوں کہہ لیں کہ خوبیوں کے مدمقابل اسکے ہم وزن برائیاں ہیں جو اسکے پاس عیوب ہیں۔تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کا آدھا فرشتہ ہے اوردوسرا آدھا شیطان ہے۔
جیساکہ وہ سمجھ سکی اور جھگڑالوکی تعبیر شیطان اور اس کی ذریت ہی کو لوٹتی ہے۔
وہ کہتی ہے اورجیسا کہ وہ شخص غلبہ پانے کی کوشش میں کم از کم کھلواڑ میں لگا ہوا
ہے بالائی طاقتوں کیساتھ اور نفسیاتی بلندیوں کے توسط سے بھی لگاہواہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ بہرحال وہ مثبت انداز میںبڑا متوازن دکھائی دے رہا ہے۔
میں چھپا کھلواڑپاتی ہوں جو اسے کم رفتاری اورتیز رفتاری سے روک رہاہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ میری مجموعی رائے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ شک میںہے۔
لگتاہے کہ ہم اس کو اذیت پہنچانے کیلئے آواز دے رہے ہوں۔وہ بڑاحاضر دماغ ذہین لگتا ہے اور وہ محتاج دکھائی دے رہا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اس کو اپنے
دشمن سے خبردار رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ہر طرف نظر کی تاکہ ہر چیز سمجھے۔
تاکہ وہ تمام نئے پیش آنے والے واقعات سے بھرپور آگاہی حاصل کرے۔
اور وہ ایسا شخص ہے جویہ پسند کرتا ہے کہ لوگوں کی سمجھ حاصل کرے
چیزوں اور واقعات کی تاکہ وہ ہر چیز سے باخبر رہے جوکچھ رونما ہورہا ہے۔
عملی طور پر وہ انتہائی درجہ فعال شخص ہے اوروہ مسلسل جدوجہد میں لگاہوا ہے
یہاں تک کہ وہ اپنی جان سے گزرنے کی حدتک، تاکہ ہدف تک پہنچ سکے۔
وہ کمر بستہ ہے اپنی ضروری طاقت خرچ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہتاہے۔
اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے بہت خوفزدہ رہتا ہے۔
اورکہتی ہے کہ اس کو بڑا خوف ہے اس کا سامنا کرنے کا جو اس کی منتظر ہے۔
یہی ہے وہ مشکل شخصیت ،وہی جوان جس کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی ہے
لیکن جو بظاہر دکھائی دیتا ہے تو اس میں اب جوانی کی رغبت نہیں رہی ہے۔
وہ شخص اپنے جسمانی ڈھانچے میں بہت خشک لگتا ہے اورلگتاہے کہ ڈھانچہ
چوڑا ہے اپنے اعصاب کیساتھ، لیکن اعصاب نے اس کو کھوکھلا کردیاہے۔
کبھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں صفات اکٹھی ہو جائیں لیکن میں نہیں جانتی۔
عام طور پر اس کی شخصیت گھری ہوئی لگ رہی ہے جھگڑوں کے میدان میں
یہاں تک کہ بد بختی کی حد تک بھی اس شخص کے جھگڑے پہنچ جاتے ہیں۔
اور نجومی مراد لیتی ہے میدان کی اس تقسیم سے شیطان اور اس کی پولیس۔
اور جیسا کہ اس کی شخصیت متضادصفات میں تقسیم ہے تو بسا اوقات لگتا ہے کہ
وہ جڑواں (فرشتہ اورشیطان دونوں)ہے لیکن میں نہیں جانتی۔ لیکن اسکے پاس اس ملاپ کے درمیان انتہائی درجے کاکرم بھی ہے اور دوسری طرف کبھی اس کی شدید ترین دشمنی اور غصہ اور حساسیت میں انتہائی غلو بھی ہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ وہ انتہائی جذباتی ہے اور بہت بہت مستقل مزاج ہے۔
وہ ایک بمقابلہ ایک کا ہی دلدادہ ہے اور اس میں تخلیقی ہنرکی صلاحیتیں ہیں۔
تحقیق وہ انتہائی جدت پسند ہے، اس میں شعراورتخیلاتی صلاحیت ہے۔
اکثر اوقات کووہ اپنے اعتقادات اور خیالات کی نذر کرتا ہے ۔ بیشک علیحدگی
اختیار کرتا ہے پوری دنیا سے۔ بیشک اپنی نگاہ نیچی رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے یہ صاحب اور اسی چیز پر مجموعی رائے قائم ہوتی ہے کہ وہ غلطی پر ہے۔اسلئے کہ
وہ اس وجہ سے موقع محل کے مطابق مناسب انداز سے گھل مل نہیں ہوپاتا۔
یہ عورت کی اپنی رائے ہے کیونکہ زندگی گزارنے کیلئے جمع پونجی ضروری ہیں۔ اور اگر چہ بہت کم ہوں روپے (یوروفرانس اور یورپ کی کرنسی )ہوں۔
بہر حال وہ ایک بہت زبردست نفسیات کے عالم کو سمجھنے والا تجزیہ کارہے۔
یہ صاحب دوسروں کو سمجھنے کی طرف میلان رکھتا ہے ۔اور صلاحیت رکھتا ہے
دوسروں کو انکے بلند درجہ تک مقام تک پہنچانے کی۔ اور سچا یا امانت دار ہے وہ منصف مزاج سفارت کاری کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اچھا مشیر ہے۔
وہ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے کیسے بچا جائے؟۔ اور وہ ایسے حل نکال سکتا ہے جو سب کیلئے آسانی سے قابل قبول بھی ہوں۔
اس میں سبزہ کی طرف بھی کشش ہے۔ پس اس شخص کو بہت زیادہ لگاؤہے تمام قدرتی مناظر کیساتھ اور کائنات کے جانداروں کے احترام کیساتھ۔
وہ شاندار معالج بھی ہے اور کم از کم اس میں ایک قدرتی مقناطیسی کشش ہے
علاج والی۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے، یا پھراسکے ارد گرد ایک بہت بڑی مقناطیسی توانائی کی فضا ہے اوریہ ممکن ہے کہ اس میں موجودکافی مقناطیسی قوت اس کی شخصیت کو واضح کردے۔ لیکن وہ ایسا شخص ہے جو روحانی طور پر بہت گہرائی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس نے مجھے کشف (روحانی مشاہدات) کی طرف کھینچ لیاہے جو اسکے پاس انتہائی درجہ طاقتورحساسیت ہے۔
وہ انتہائی منصف مزاج ہے۔ علاوہ ازیںوہ بہت کھلے ذہن کا اور تجسس رکھنے والا شخص ہے ،وہ حق سے جڑا ہوا حقیقت میں انتہائی بلند شعوررکھتاہے
اسلئے اس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو چھوڑدے تاکہ خود کو پاسکے ان کرسیوں کی کرسی میں جو زندگی کی ترک پر مجبور کردے۔ جیساکہ ہم روز کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا مقصد پالے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلمان، یہودی، عیسائی، صابئین جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے قرآن میں ان کی کامیابی کی خبر

بیشک جو لوگ مسلمان ہیں اور یہودی ہیں ، عیسائی ہیں صابئین ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور درست عمل کئے توان کیلئے اجر ہے انکے رب کے پاس اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غم گیں ہوں گے۔(البقرہ:62)

دنیا کے بوجھ، طوق اور سلاسل سے چھٹکارا قرآن دلاتا ہے

 

رسول اللہۖ کی صفات

”اورجو اتباع کریں رسول نبی اُمی کی ،جسے تورات اور انجیل میں لکھاہوا پائیں ان کو معروف کا حکم دیتاہے اور منکر سے روکتا ہے اور حلال کرتاہے ان کیلئے پاک چیزیں ۔حرام کرتا ہے ان پر خبائث اور اُتارتا ہے ان کا بوجھ اور انکے طوقوں کو جو ان پر پڑے ہیں پس جو اس پر ایمان لائیں اور توقیر کریں اور مدد کریںاور نور کی اتباع کریں جو اسکے پاس ہے تو یہی فلاح پائیں گے”۔(الاعراف:157)
نبی ۖنے جو بوجھ و طوق اتارے اور معروف ومنکر اور حلال وحرام کی تمیز دی۔ وہ کیا کیا تھے؟
سرمایہ دارانہ جاگیردارانہ نظام بوجھ تھا۔ سود کی حرمت آئی تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا ۔ غلام ولونڈیوں کی انڈسٹری کا خاتمہ ۔ عیسائی طلاق میں بے اختیار۔ یہود حلالہ کا شکار ۔ نبیۖ نے سارے بوجھ ،طوق اور زنجیروں کو اتار پھینکاتھا۔
آج سودی نظام سے امریکہ، بھارت، جاپان یورپ سمیت دنیا بھر ممالک کی ٹیٹیں نکل رہی ہیں اور ٹرمپ گدھا سمیت سبھی حکمران پاگل ہوگئے مگر جن لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں انکو ذرہ برابر بھی ریلیف نہیں مل رہا اسلئے بوجھ اُتارنا ہوگا۔

 

قرآن عظیم کی یہی صفات

” کیا انسان پر وہ لمحہ آیا کہ جب قابل ذکر چیز نہ تھا؟۔بلاشبہ ہم نے اسکوملے نطفہ سے پیدا کیا۔ امتحان میں ڈالا تو سننے دیکھنے والا بنایا۔ہم نے اسکو راہ دکھائی کہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔ بلاشبہ ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں، طوقیں اور سعیر تیار کیا ہے ۔ بلاشبہ متقی ایسے کپ سے پیئیں گے جوکافوری مزاج ہوگا ڈیم ہوگا جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اوربہ آسانی نہریں نکالیںگے”۔ (الدھر1تا6)
سعیر:ظل کی ضد ہے۔ جیسے بغیر چھت رُلنا۔ حاکم اس معنی میں اللہ کا سایہ اور سعیرعذاب ہے۔ صحابہ نے بوجھ ، طوق اور زنجیروں سے آزادی لی۔ مذہبی طبقہ نے پھر وہیں لاکھڑا کیا۔ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے خلافت عثمانیہ ، مغلیہ سلطنت ، احمد شاہ ابدالی، ایران ، شاہ ولی اللہ سے برصغیر پاک و ہند اور دنیا پر قبضہ کرلیاتھا۔ شاہ عبدالعزیز نے ہند کو دارالحرب کہا تو علماء نے اس پر سودکو جائز قرار دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر جواز کا لکھا تو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے ناجائز قرار دیا لیکن ثبوت کیلئے فتاویٰ سے کوئی دلیل نہ ملی تومجوس کا ایام نوروز میں تعویذ لٹکانے کا حوالہ دیا۔
سورہ الدھر میں دنیا کی زندگی ہے۔ ناشکری کا عذاب یہیں ملا۔ نیٹو افواج نے20سالوں میں افغانستان میں اتنی مسلمان خواتین کی عزتیں نہیں لوٹی ہیں جتنی حلالہ سے پاکستان میں لٹی ہیں ۔کیا یہی شکنجہ، زنجیر، طوق اور سعیر نہیں؟۔ سستی بجلی نہیں بناسکتے، ایران سے سستاتیل وگیس نہیں خرید سکتے، غزہ کی مدد نہیں کرسکتے،دہشتگردی کے شکار ہیں!۔ مودودی نے تفسیر لکھی کہ جنت میں نہریں پاوڑے سے نہیں بلکہ آسانی سے نکالی جائیں گی۔ حالانکہ سورہ الدھرمیں دنیا کی نہریں آسانی سے نکالنے کی بات ہے۔ اب تو ایکسویٹر بھی آچکے ہیں۔فرمایا:
”اور اپنی نذروں کو پوری کرینگے اور اس دن کا خوف ہوگا جس کا شر پھیلا ہوا ہوگااور کھانا کھلائیں گے اس کی پسند پر مسکین، یتیم اور قیدی کو ۔ ہم تمہیں کھلاتے ہیں اللہ کیلئے ہم تم سے بدلہ (ووٹ) نہیں چاہتے اور نہ شکریہ (زندہ باد ) ”۔(الدھر7تا9)
آیات میں اہل جنت کی صفات ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت میں یتیم، مسکین ،قیدی کہاں ہیں؟۔ قرآن پرعمل ہوگیاتوطوق، زنجیروں اور دنیاوی سعیرکی جگہ دنیا میں ہمیں جنت ملے گی۔ اگر قرآن وسنت سے عورت کے حقوق بحال کئے ۔ غلط فقہی مسائل کا بوجھ ہٹادیا تو انقلاب آجائے گا۔

***

دنیا میں جنت ،دوزخ اور اعراف کا منظر (سورۂ الاعراف)

 

منافرت کا دنیامیں خاتمہ

”اور جو لوگ ایمان و درست عمل والے ہیں۔ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں ٹھہراتے۔ یہی اہل جنت ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ ہم نے نکال دی انکے دلوں سے انکے سینوں کی رنجش۔ انکے نیچے نہریں بہتی ہیں اور کہیں گے کہ اللہ کیلئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اس دن کیلئے ہمیں ہدایت دی اورہم یہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کیساتھ آئے ۔ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا باغ ہے جس کے تم وارث بنائے گئے بسبب جو تم عمل کرتے تھے۔(سورہ الاعراف42،43)
خلافت قائم ہوگی تومذہبی منافرت ختم ہو گی۔ تمام اچھے لوگوں کو باغات کاوارث بنادیا جائے گا ۔ ان کے دلوں سے اسلام کی نفرت بھی نکل جائے گی اور مسلمانوں کی آپس میں فرقہ وارانہ منافرت بھی ختم ہوجائے گی۔ دہشتگردی اسی نفرت کا نتیجہ ہے۔ مذہبی لبادے والے اچھے انسان بن جائیں گے۔
البقرہ:آیت62میں صائبین کی طرح مجوسی، بدھ مت، ہندو، سکھ ، پارسی اور سبھی داخل ہیں۔ تمام مذہبی عبادتگاہوں کی بلاتفریق قدرومنزلت ہوگی۔

تمام عبادتگاہوں کا تقدس

”اور جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا مگر وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کرتا تو ضرورمسمار کر دی جاتیں مجوسی خانقاہیں،عیسائی گرجائیں، یہودی مدارس اور مسلمانوں کی مساجدجن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے اور بے شک اللہ ضرور مدد کرے اس کی جو اس کی مدد کرے گا۔بیشک اللہ بہت طاقت والا زبردست ہے”۔ (سورہ حج:40)
مذہبی دکان چلانے والاطبقہ اپنا اقتدار، عزت اوراوقات اسلئے کھو بیٹھا کہ بلاوجہ تعصبات کا بوجھ، معاشرتی طوق اور معاشی زنجیروں میں گرفتا ہے۔

 

اعراف والے ریاستی اہلکار

” جنت والوں نے آگ والوں کو پکارا کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا وہ ہم نے حق پایا تو کیا تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تو تم نے بھی حق پایا؟۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ۔پس پھر ایک آواز دینے والا کہے گا کہ لعنت ہو ظالموں پر وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے۔ پس انکے درمیان پردہ حائل ہوگااور اعراف پر کچھ لوگ ہر ایک کو نشانیوں سے پہچانیں گے اور جنت والوں کو پکاریں گے کہ سلام علیکم ۔ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے اور وہ طمع رکھیںگے( ریاستی اہلکار ) اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھر جائیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالموں میں سے مت بناؤ۔ اور اعراف والے کچھ لوگوں کو پہچانتے ہوں گے، کہیں گے کہ تمہارا اکٹھا ہونا کام نہیں آیا اور نہ جو تم تکبر کرتے تھے۔ کیا وہ یہی لوگ ہیں جن پر تم قسم کھاتے تھے کہ اللہ انہیں رحمت سے نہیں نوازے گا؟۔ (جن کو کہا گیا کہ ) جنت میں داخل ہوجاؤ ۔ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کوئی غم کھاؤگے۔ اور آگ والے اہل جنت کو پکارکر کہیں گے کہ ہمیں کچھ پانی سے فیض یاب کردو۔یا جو اللہ نے تمہیں رزق سے بخش دیاہے۔ وہ کہیں گے کہ بیشک اللہ نے کافروں پر ان دونوں کو حرام کیا ہے۔ (سورہ الاعراف:44سے50تک)
خلافت قائم ہوگی توایک قرآن کی تصدیق اور دوسرا طبقہ تکذیب کرنے والا ہوگااور درمیان میں ریاستی اہلکار” اصحاب اعراف” ہوں گے۔ عراف حاسہ کے ذریعے پہچاننے والا۔ موبائل فون پر اصحاب جنت سے اصحاب نار کا رابطہ ہوسکے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لاس اینجلس امریکہ کی آگ سے معاشرے کے چھوٹے یونٹ تک دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے؟۔

لاس اینجلس امریکہ کی آگ سے معاشرے کے چھوٹے یونٹ تک دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے؟۔

جب انسانی معاشرے میں بغض ، تکبر، حسد اور لالچ پھیل جائے تو زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ پوری دنیا میں ہر جگہ شیطانی بیماریاں پھیل گئی ہیں۔ کشمیر میں زلزلہ آیا تو امریکہ نے بہت مدد کی تھی ۔ آج لاس اینجلس کی مصیبت پر خوشیاں منانا زوال کی علامت ہے۔ اگر عذاب ہو تو چند درجن افراد کی موت سے بڑا عذاب مسلمانوں پر آیا ہے۔ لاس اینجلس امریکہ کی جنت تھی اور جیسے حضرت آدم وحواء جنت سے نکالے گئے ،ویسے یہ بھی آزمائش کا شکار ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کے معروف عالم دین قاضی فضل اللہ کی رہائشگاہ لاس اینجلس میں ہے۔ امریکہ کے اچھے لوگوں کا درجہ بلند ہوگا اور گناہگاروں کے گناہ معاف ہوں گے اور نافرمانوں کو اللہ نے اپنی طرف متوجہ کرکے اظہار محبت کیا ۔ امریکہ میں یہود اور نصاریٰ کی خواتین اور مردوں نے جتنے بڑے بڑے جلوس غزہ کیلئے نکالے اور جس طرح عورتیں بلک بلک کر روئی ہیں تو اس کا غزہ کے نام پر چندہ کھانے اور اپنی سیاست چمکانے والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کے دماغ میں یہ بات بھی آئے کہ وہ مسلمان جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور انسانیت سے نفرت کرتے ہیں تو ان کے حق میں آواز اٹھانے پر اللہ نے ہمیں سزا دے دی ہے۔ البتہ امریکہ کے جس مقتدرہ میں تکبر ہے، مفاد پرستی ہے اوردوسروں پر ظلم کا احساس نہیں رکھتے تو ان کو سبق دینے کیلئے اللہ نے کام دکھادیا:
” پس قوم عاد نے زمین میں بغیر حق کے تکبر کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے طاقت کے اعتبار سے سخت کون ہے؟۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے ان کو بنایا ہے اور وہ ان سے زیادہ سخت ہے؟۔وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی سراہٹ والی ان نحس دنوں میں، ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں۔اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے اور ان کی مدد نہیں ہوگی۔(حم سجدہ:15،16)
معروف سامعہ خان نے چند دن پہلے کہا تھا کہ نحس کے دن پاکستان نہیں امریکہ کیلئے ہیں وہاں تباہی آسکتی ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایام نحس میں امریکہ کو قوم عاد کی طرح اللہ نے اپنی گرفت میں لیا۔ اس تنبیہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوسال پہلے جاپان میں آگ کے بگولوں نے تباہی مچائی لیکن اس کا قرآن نے بہت پہلے سے بطور تنبیہ ذکر کیا ہے۔
امریکہ اور جن لوگوں نے بھی تکبر کیا تو ان پر اتمام حجت کے بغیر اللہ کا عذاب نہیں آسکتا۔ قوم عاد امریکہ کی طرح بڑی مضبوط قوم تھی اور معاشرے میں نچلی سطح پر لو کیٹہ گری کے لوگ مضبوط نہیں ہوتے لیکن بے شرم اور ڈھیٹ بہت ہوتے ہیں۔
فاستفتھم اھم اشد خلقاً ام من خلقناانا خلقناھم من طین لازب (سورہ الصافات:11)
”پس ان سے پوچھئے کہ ان کی تخلیق زیادہ سخت ہے یا جو ہم نے بنایا؟۔بیشک ہم نے ان کو بنایا چکنی مٹی ہے”۔ یہ چپکو مخلوق بہت چکنے گھڑے ہیںجن کو اپنے سے دور کرنابڑا مشکل ہے۔
لایکلف نفسًا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا من اکستبت ”کوئی جان ذمہ دار نہیں مگر اپنی وسعت کے مطابق ،جو اس نے اچھاکمایا وہ بھی اس کیلئے اور جو اس نے برا کمایا وہ بھی اس پر پڑے گا”۔(البقرہ)
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ” اسکے بیٹے حسان نیازی کو غلط سزا دی گئی ۔ اس پر تشدد ہوا مگر برداشت سے زیادہ اللہ تکلیف نہیں دیتا”۔یہ غلط ترجمہ و تفسیر ہے ۔ اللہ نے طاقت سے زیادہ تکلیف کی بات نہیں کی بلکہ ”ہم پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا جیسے ہم سے پہلوں پر ڈالا”۔(البقرہ آخری آیت)
امریکہ نے روس کیخلاف مسلمانوں کو استعمال کیا توبہت برا کیا لیکن مسلمان خود بھی ایکدوسرے کیخلاف استعمال ہوگئے۔ لاکھوں افغانیوں نے اپنے افغانیوں کو ماراہے اور پاکستانیوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے۔ یہ کس کے کھاتہ میں جائیں گے؟۔ اگر ہم ایک ماحول کا فائدہ اٹھاکر کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان مرد اور عورت نے اگر بدکاری کی یا قتل کئے ہیں لیکن وہ ایک ماحول کی وجہ سے تھا اور اللہ نہ صرف تو بہ کرنے پر ان کو معاف کرسکتا ہے بلکہ گناہوں کے بدلہ میں نیکیاں بھی دے سکتا ہے۔ فرمایا:
”اور رحمن کے بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل مخاطب ہو تو سلام کہتے ہیں۔جو اپنے رب کیلئے رات سجدہ میںاور کھڑے ہوکر گزارتے ہیں۔اور جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے بیشک اس کا عذاب بہت تباہ کن ہے۔بیشک وہ بری قیام گاہ اور برا ٹھکانہ ہے اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔جو اللہ کیساتھ کسی اور کو دوسراالٰہ نہیں پکارتے۔اور نہ قتل کرتے ہیں مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔ جس نے ایسا کیا تو بڑے گناہ کو پہنچ گیا ،اس کیلئے قیامت کے دن عذاب کو بڑھایا جائے گا۔ اور ہمیشہ ذلت میں رہے گا۔مگر جس نے توبہ کی اورعمل کیا درست تو ان لوگوں کیلئے اللہ بدل دے گا برائیوں کو نیکیوں سے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جس نے توبہ کی اور عمل کیا درست تو بیشک اس نے اللہ کی طرف خوب توبہ کی اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو سے سامنا ہو تو عزت سے گزر جاتے ہیں۔اور جب کبھی اپنے رب کی آیت سے ان کو یاد کرایا جاتا ہے تو اس پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرپڑتے۔ (فرقان:67تا73)
امریکہ پر یہ مصیبت امریکہ کی عوام اور حکمرانوں کیلئے اللہ کی محبت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ اگر اس کا انہوں نے مثبت فائدہ اٹھایا۔ فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ کھڑے ہوگئے تو عذاب نہیں یہ رحمت کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ ہمارے لئے یہ بہت باعث شرم ہے کہ اپنے آگ میں جلیں تو شہید اور دوسرے جلیں تو عذاب کا تصور کریں۔ اللہ امریکہ کو بھی ہدایت دے جس نے مسلمانوں اور پوری دنیا میں اپنی طاقت کا بہت غلط استعمال کیا ہے۔
جب کسی کے زوال کا وقت قریب ہو اور بڑی مصیبت بھی آن پڑے تو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت انداز میں متوجہ کیا:
” کیاتمہیں پسند ہے کہ کسی کا باغ ہوکھجور اور انگور کا جسکے نیچے نہریں بہتی ہوں اس کے اندر ہرقسم کے پھل ہوںاور وہ بڑھاپے کو پہنچے اور اس کے کمزور بچے ہوں ۔پس اس کو پہنچے بگولہ جس میں آگ ہو ،تو اس کو جلا ڈالے۔اسی طرح اللہ بیان کرتا ہے اپنی آیات کو ہوسکتاہے کہ تم سوچو”۔(البقرہ:266)
امریکہ بڑھاپے کو پہنچ چکا ہے اور لاس اینجلس اسکے کمزور بچوں کا باغ تھا جس کو بگولوں نے جلاڈالا ،جن میں آگ تھی اور اسکا گھمنڈ بھی اللہ نے توڑنا تھا۔ یہ انسانیت کیلئے عبرت ہے۔ لیکن اگر اس میں لوگوں نے اچھائی کا رُخ کیا تو یہ مصیبت بھی اچھائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ قرآن میں بالکل واضح ہے۔
میرے ماموں سعدالدین کا حال بھی امریکہ کی طرح ہے جس کے کمزور بچوں پربڑی اُفتاد پڑ گئی ہے۔ کبھی اپنے عزیز پیر یونس شاہ پر اپنی ناجائز بدمعاشی جماتا تھا اور کبھی پیر سجاد سے کہتا تھا کہ میں پیسہ دیتا ہوں ،اپنے چچا یوسف شاہ پر عدالت میں مقدمہ چلاؤ۔ پیر سجاد نے کہا کہ یہ تو بڑا ذلیل ہے تو ماموں نے کہا کہ سجادتو بڑا ذلیل ہے آدمی کا پول بھی کھولتا ہے۔اگر اس کو منہاج اچھے مشورے دیتا تو ممکن ہے کہ یہاں تک نہ پہنچتا ۔
جب پہلی مرتبہ مکین جنوبی وزیرستان میں چوروں ، ڈکیتوں اور اغواء برائے تاوان کرنے والوں کیلئے جلسہ ہوا تھا تو میں بھی پہنچ گیا اور اپنے ساتھ چھوٹا پسٹل بھی لیا تھا اسلئے کہ خطرات کا سامنا ہوسکتا تھا۔ رات کو تمام لوگوں کو روک لیا گیا اور گھروں میں مہمانی کیلئے بھیج دیا گیا۔ حاجی قریب خان، منہاج اور ہم چندافراد کو شہر کے قریبی گھر میں بھیج دیا۔ منہاج کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا تو میں نے عزت رکھنے کیلئے اپنا پسٹل دے دیاتھا۔
بعد میں کانیگرم میں پسٹل کا کہا تو منہاج نے کہا کہ ”میں تمہیں اس بوجھ سے آزاد کردیتا ہوں”۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ یہ اور ناراضگی سے کہہ دیا کہ ”میرے لئے بوجھ نہیں اپنی حفاظت کیلئے رکھا ہے”۔ کچہری اور عادت کے بگڑے لوگ معیار اور ضمیر کو نہیں سمجھتے۔ ماموں سعدالدین نے کہا کہ تیرے والد کا موڈ دیکھا تو دوبارہ نہیں گیا لیکن اس کو نہیں پتہ کہ اسکے بھائی غیاث الدین کو صبح شام ڈانٹ پڑتی تھی کہ پھر کیا چاہیے ؟۔
حاجی تامین کی زمین ہماری تھی والد نے اپنے دوست حاجی نعمت کو دینی تھی تو غیاث الدین نے علاؤالدین کوپیچھے لگادیا کہ یہ ہمیں دیدے۔ان کوکہا کہ اگر بیچنے کیلئے لیتے ہو تو نہیں دیتا تو انہوں نے کہا کہ رکھنے کیلئے لے رہے ہیں۔ حاجی نعمت بھی لے کر بیچ سکتا تھا مگر اس میں ضمیر تھا۔ اسلئے لالچ نہیں کی۔ میرے بھائی ممتاز نے گھر کا زیور بیچ کر کہا کہ میں لیتا ہوں لیکن والد نے کہا کہ عزیزوں کو خفا نہیں کرتا ۔ ممتاز نے علاء الدین سے بھی کہاتھا لیکن اس نے کہا کہ نفع کی چیز ہے اور اس کو ہر ایک سمجھتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ضمیر ، انسانیت اور غیرت کی بات ہے۔ لالچ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
پھر وہ زمین بیچ دی اور جس زمین پر ہم نے شفہ کا دعویٰ کیا تھا وہ بھی علاء الدین نے لے لی۔ حالانکہ وہاں ان کی قریب میں کوئی زمین بھی نہیں تھی۔ جب حاجی تامین کی اتنی بڑی زمین دی اور انہوں نے منافع پر بیچی تو بھی والد خفا نہیں ہوئے تھے۔ اسلئے کوٹ اعظم روڈ پر برکی قبائل کے افراد کو اس طرح بہت زمینیں دی تھیں یہ لوگ تو پھر بالکل اپنے قریبی تھے۔ میں ایک ذہنیت کا گراف بتارہاہوں۔ داؤد شاہ نے پڑوسی سے زمین خرید لی توسعدالدین نے کہا کہ تمہارا مغز اڑادوں گا۔ جس پر اس نے کہا کہ اس پر مغز اڑانا ہو تو بالکل اڑادو۔ پھر اس کے بھائیوں نے کہا کہ ہم متبادل زمین دیںگے اور وہ بہن کے نام پر حوالہ کردی۔ حالانکہ اس طرح زمین دینا اور لینا دونوں غلط ہے۔ داؤد شاہ اتنا اچھا انسان ہے کہ اگر میں اس کو کہتا ہے کہ یہ زمین مجھے دیدو تو خوشی سے دیتا اور اگر سعدالدین کہتا تو خوشی سے دیتا لیکن بدمعاشی کس کو اچھی لگتی ہے؟۔ میں نے داؤد شاہ سے کہا کہ پیرفاروق شاہ، یونس شاہ اور نوازشاہ ان سے بہت اچھے تھے ۔ آپ یتیم بھی تھے، کزن بھی تھے اور بہنوئی بھی لیکن کبھی سعدالدین نے پانچ روپے دئیے ہیں؟۔ حالانکہ بالکل پڑوس میں آمنے سامنے گھر تھا۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ پیر فاروق شاہ نے زبردستی سے بچپن میں سو کا نوٹ جیب میں ڈالا تھا ۔
سعد الدین نے جھوٹ بولا کہ اس نے نثار کی شادی کے موقع پر80ہزار دئیے اور اس کی بھابھی کو بھائی نے اور بہن کو بہنوئی نے طلاق دی تو ان کو میراثی کی اولاد قرار دیا۔ اگر کوئی لوہار اور کوئی میراثی ہو تو اسکے اپنے بچے نہیں بچتے۔ مجھے فخر ہوگا کہ میری والدہ حضرت داؤد کی نسل سے ہوجوزرعے بناتا تھا۔ میں علوی ہوں مگر حضرت فاطمہ کی وجہ سے سید تو جن کی نسل میں سید خواتین ہیں تو ان کو بھی سید ہونے کا حق ہے جبکہ عنایت اللہ گنڈہ پور نے کہا تھا کہ ”کلاچی کا ہررہاشی گنڈہ پورہے”۔
جب فاروق شاہ لوگوں نے اپنی زمین بیچنا چاہی تو انہوں نے پابندی لگادی کہ کسی اور کو نہیں بیچ سکتے۔ حالانکہ ان کی اپنی زمین تھی۔ میرے پردادا نے کانیگرم میں گھر اور زمینیں دیں۔ پہلے اپنی کنسٹریکشن کو گراکر سامان لے گئے اور پھر گھر بھی بیچا۔ ساری تاریخ معلوم ہے ۔ خالہ2000ء میں فوت ہوئی۔ جس کی شادی بھی کانیگرم ہجرت سے پہلے یا اسی وقت ہوئی تھی۔ جو سوتیلے بھائیوں اور ان کی اولاد کو اچھوت کی طرح سمجھتی تھی۔
داؤدشاہ نے کہا کہ انکل نثار نے اچھا نہیں کیا کہ کانیگرم کا گھر بیچ دیا۔ میں نے کہا کہ یہ بات مت کرو ،ورنہ سنائے گا۔ تمہارے والوں نے پہلے یہ کام کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اچھا ہوا کہ بتادیا۔ پھر منہاج نے اس کی تشہیر شروع کردی کہ سبحان شاہ کا گھر بیچ دیا۔ تمام معلومات کے باوجود کبھی ہم نے مہم جوئی نہ کی اور کوئی دوسرا بھی نہیں کرتا تھا مگرمنہاج نے ہمارے اجداد کو گالیوں سے لیکر فساد کرانے تک کسی چیز پر بریک نہیں لگائی۔ حاجی سریر شاہ نے کہا کہ دسترخوان کے قریب کتے کے بال ہیں تو منہاج نے کہا کہ کیا پتہ کہ کسی کی داڑھی یا کتے کا بال ہے؟۔ منہاج کا باپ بھی دوسرے کو دباتا تھا اور کوئی نہیں دبتا تھا تو خود دب جاتا تھا۔مگر پھر کچھ خوبیاں بھی تھیں اور میرے نانا میں اس سے زیادہ خوبیاں تھیں۔ اب تو بالکل آسمانی بجلی گری ہے۔
میں نے سیاسی پناہ اسلئے نہیں لی کہ ریاست اور طالبان کے گٹھ جوڑ یا نرم گوشہ میں اس خطے کا مفاد نظر آتا تھا۔ احمدیار اور ضیاء الدین کا بیٹا بے شرمی سے اس واقعہ پر سیاسی پناہ کی کوشش میں تھے۔ محنت مزدوری سے انسان کا وقار بلند ہوتا ہے لیکن جو انگریز کے تھالی چٹ اور ہڈ حرام ہوں ان کو سمجھانا مشکل ہے۔
ماموں چار گھروں کا بڑا تھا وہ بھی ایک اپنا، دوچچااور ایک چچازاد۔ اس طرح 2+2=4 اور لگتا ہے کہ جیسے برطانیہ کے ملکہ کی اولاد ہوں ۔ عابد شاہ نے اپنی تحریر میں اسی وجہ سے غلط ذہنیت کا اظہار کیا تھا۔ کتے میں اچھی خصلتیں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی انسان کو قرآن نے مذمت کی وجہ سے کتا قرار دیا ہے۔ ایک تو مالک بدلنے کیساتھ اپنی ہمدردیاں بدل دیتاہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اونچی جگہ پر پیشاب کرتا ہے اور اپنی ٹانگ اوراپنی دُم بھی اٹھالیتا ہے۔ کتے کی ماں ایک اور باپ زیادہ ہوتے ہیں اور انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہوتا ہے لیکن ماں اور باپ کی رگوں اور نسلوں میں انسان کس پر گیا ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ بہت سارے اونٹ نسل در نسل کسی ایک رنگ کے ہوتے ہیں اور پھر کوئی بچہ الگ رنگ بھی نکلتا ہے جو اپنے پہلے کے کسی رگ پر جاتا ہے۔ میں واقعہ سے پہلے منہاج کو بول چکا تھا کہ میرے دشمن کو جو پالتا ہے تو میں اپنے بچوں سے کہہ چکا ہوں کہ نقاب پوش کے پیچھے مت پڑو۔ پھر واقعہ کا زیادہ نقصان ہوا تھا اور منہاج کا بھائی بھی اس میں شہید ہوا تھا اسلئے انتظار کیا کہ اپنا حساب بعد میں دیکھ لیں گے ۔
اگر منہاج کیساتھ واقعہ ہوتا تو میں اسکے دشمن کو رکھتا پھر کیا ردِ عمل ہوتا؟۔ فوج نے گھر سے پک اپ اٹھائی اور بارود سے اڑادی۔ مہینوں اس کا کچرہ پڑا تھا۔ منہاج نے بتایا کہ” قاری حسین کو میرے گھرکے پاس اکیلا کھڑا دیکھا ۔ ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور بڑی کوشش کی کہ وہ اسکے گھر پر دعوت کھائے لیکن وہ انجان بن گیا۔ پھر سب حیران تھے کہ وہ طالبان سے تعزیت کرنے کیسے جارہاہے مگر طالبان نے اس کو لفٹ نہیں دی تو اس نے بھی چھوڑ دیا”۔ جس کی تاریخ جاسوسی کی ہو تو اس پر کون بھروسہ کرتا؟۔ اتنا سادہ بھی انسان کو نہیں ہونا چاہیے۔
ہمارے خلاف چندافرادکو کیوں ورغلایا گیا؟۔ جو طالبان اور ریاست کی بدنامی کا باعث بنا۔ کسی بھی واقعہ کی تہہ تک پہنچ جائیں تو یہ بہت بڑا بریک تھرو ہوگا ۔ذاتی دشمنی کو ریاست اور طالبان کے کھاتہ سے نکالا جائے تو سرخروئی ہوگی۔ انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن میں منافقین کے دو گروہ اور اس کا بالکل غلط ترجمہ

قرآن میں منافقین کے دو گروہ اور اس کا بالکل غلط ترجمہ

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی ۔ اللہ نے فرمایا کہ
”من یطع الرسول فقط اطاع اللہ …
جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ موڑا تو آپ اس پر نگہبان نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے قبول کیا۔ پس جب آپ کے ہاں سے نکلتے ہیں ایک گروہ ان میں سے وہ بیان کرتاہے جوتم نے بات نہیں کہی ہوتی ہے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ راتوں کو کرتے ہیں۔ تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ پر توکل کریں اللہ کی وکالت کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارا اختلاف پاتے۔ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آئے تو پھیلادیتے ہیں۔اور اگر وہ اس کو رسول یا اپنے سمجھدار افراد کی طرف لوٹادیتے تو وہ اس کو سمجھتے اور اس کا صحیح نتیجہ نکالتے۔اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سب شیطان کے پیچھے چل پڑتے مگر کم لوگ۔
پس (اے پیغمبر ) اللہ کی راہ میں لڑو۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مؤمنوں کو اُبھارو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی روک دے اور اللہ لڑائی میں بہت ہی سخت ہے اور سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے۔ جو کوئی اچھی سفارش کرے گا تو اس کو بھی حصہ ملے گا اور جو بری سفارش کرے گا تو اس کو حصہ ملے گا۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو اس سے اچھی دعا دویا پھر اس کا وہی جواب دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کاحساب رکھتا ہے۔اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،ضرور بضرور تم سب کو قیامت تک جمع کردے گااور اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہےَ،فما لکم فی المنافقین فیئتین پس تمہیں کیا ہوگیا ہے منافقین کے دوگروہ ہیں ۔اور ان کے اعمال کے سبب ان کو اوندھا کردیا ہے ۔ کیا تمہارا ارادہ ہے کہ ہدایت دو جس کو اللہ نے گمراہ کیا ہے اور جس کو اللہ گمراہ کرے تو اس کیلئے ہرگز کوئی راہ نہ پائے گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح اللہ کے احکام کا منکر بن جاؤ، پس سب برابر ہوجاؤ، پس ان میں کسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کرجائیں۔ پس اگروہ اپنا منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔ اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مدد گار مت بناؤ۔ مگر وہ لوگ جو ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں کہ جن کا تمہارا اور ان کے ساتھ معاہدہ ہے۔یا وہ جو تمہارے پاس آتے ہیں اور ان کے دل تمہارے ساتھ لڑنے سے دل برداشتہ ہیں۔ یا اپنی قوم سے لڑتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہے تو ان کو تمہارے اوپر مسلط کردے تو ضرور تم سے لڑیں۔پس اگر وہ تم سے ہٹ کر رہیں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان سے لڑائی کا جواز نہیں رکھا۔ ستجدون اٰخرین … عنقریب تم دوسرے دیکھو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ جب کوئی آزمائش آتی ہے تو ان کواس میں اوندھاکردیا جاتا ہے پس اگر وہ تمہارا پیچھا نہ چھوڑیں اور تم سے صلح نہ کریں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو ان کو بھی پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی پاؤ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلی حجت دی اور مؤمن کا یہ کام نہیں کہ قتل کریں مؤمن کو مگر غلطی سے اور جس نے مؤمن کو غلطی سے قتل کیا تو اس پر ایک مؤمنہ کی گردن آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہادیدے مگریہ کہ وہ معاف کردیں۔ پس اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو تو ایک مؤمنہ کی گردن آزاد کرنا ہے۔ اور اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جس کے ساتھ آپ کا معاہدہ ہے تو وارثوں کو خون بہااور مؤمنہ کی آزادی ہے۔پس اگر وہ نہ پائے تو دوماہ مسلسل روزے رکھنے اللہ کی طرف سے توبہ ہے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے اور جس نے جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اور اس کیلئے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ نہیں برابر ہوسکتے مؤمنوں وہ لوگ جن کوتکلیف نہیں پہنچی اور اللہ کی راہ میں مجاہدین اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ اللہ نے فضیلت دی ہے مجاہدین کو ان کے اموال اور ان کی جانوں سے بیٹھنے والوں پر ایک درجہ۔ اور تمام کیساتھ اللہ نے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے فضیلت بخشی ہے مجاہدین کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑے بدلے کی۔ ان کیلئے درجات ہیںاور مغفرت ہے اور رحمت ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک جن کی فرشتوں نے روح قبض کی جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ۔ فرشتے : تم کس کھاتے میں تھے؟۔ جواب: ہم زمین میں کمزور تھے۔فرشتے: کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی تو ہجرت کرتے اس میں۔ پس ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت برا ٹھکانہ ہے مگر وہ کمزور لوگ آدمیوں میں سے اور عورتیں اور بچے جو نکلنے کا ذریعہ نہیں رکھتے تھے اور راستہ پاتے تھے۔ پس ان لوگوں کو ہوسکتا ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ معاف کرنے والا مغفرت والا ہے اور جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی تو وہ اس کے عوض بہت جگہ اور وسعت پائے گا۔ جو اپنے گھر سے مہاجر بن کر نکلا اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھر اس کوموت آگئی تو اللہ کے ہاں اس کا اجر طے ہے۔ اور اللہ غفور رحیم ہے”۔ (سورہ النسائ:80تا100)
منافقوں کی دو اقسام کا واضح ذکر ہے لیکن ترجمہ کرنے والوں نے مومنوں کے دوگروہوں قرار دئیے ہیں۔ جب قرآن کے متن کا درست ترجمہ نہیں ہوگا تو اس کی تفسیر کیسے درست ہوسکے گی؟۔
جب علماء نے خلع کو پیسوں کے ساتھ منسلک کیا ہو اور معاشرے میں عورت کو جانور کی طرح ڈیل کیا جاتا ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مومنہ عورت کی گردن چھڑانے کا اطلاق خلع پر بھی ہوگا؟۔بعض صورتوں میں بیوی کی غلامی کا تصور لونڈی سے بھی بدتر ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں قتل پر گردن کی آزادی کے حوالے سے قرآن کے بنیادی ترجمہ سے بھی علماء ، معاشرہ اور مسلم عوام آگاہ نہیں ہیں۔
ہمارے استاذ مولانا شیر محمد کے بارے میں ایک عالم دین نے بتایا کہ وہ مولانا فضل الرحمن پر ناراض ہوجاتے تھے کہ اپنی بیگم کو کہو کہ فون مت اٹھاؤ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عورت کی آواز کو بھی پردہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ۖ کی ازواج مطہرات جیسی حیثیت کسی کی نہیں تھی۔ جن کو حکم دیا گیا کہ اگر تمہیں خوف ہوتو نرم زبان میں بات مت کرو اسلئے کہ جن کے دل میں مرض ہے یا منافق ہیں تو وہ طمع کرنے لگ جائے گا۔ چونکہ رسول اللہ ۖ کا گھر ایک تحریک کی وجہ سے ہر قسم کے لوگوں کی آماجگاہ تھا تو ان کو خاص حکم دیا گیا۔ نبی ۖ کو حکم دیا گیا کہ ان کیلئے رحمت کے پر بچھائیں۔ چھوٹے لوگ بڑوں کی قدر بھی کرتے ہیں اور دباؤ کا شکار بھی ہوتے ہیں تو اللہ نے احکام بھی اس طرح کے جاری کئے ہیں۔
جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اگر خوف ہو کہ کسی کے دل میں مرض ہے تو اس کے ساتھ سخت لہجہ میں عورت کو بات کرنے کا حکم ہے۔ کھانے کے سلسلے میں جن افراد کو گھر میں لے جانے کی اجازت ہے یا پردے کے مسئلے میں جن لوگوں کا ذکر ہے کہ ان کو عورتوں سے دلچسپی نہیں تو پردہ بھی نہیں جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اصل مسئلہ شہوت کی نظریں ہیں جن میں برقع کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کو سب سمجھیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv