پوسٹ تلاش کریں

اکثریت کو اقلیت دباکر بیٹھی ہے ہدیٰ بھرگڑی

اکثریت کو اقلیت دباکر بیٹھی ہے ہدیٰ بھرگڑی

کیا یہ ملک فوج اورمسلح افراد کیلئے بناہے؟اس میںبلوچ، سندھی ، پشتون کے حقوق ہیں یا نہیں ؟

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی حمایت عورت مارچ کی خواتین اسلام آباد پریس کلب میں پہنچ گئیں۔ ہدی بھرگڑی نے کہا:یہ جو دو قومی سلسلہ رہا ہے، تمام کے تمام عوام جو کہ میجورٹی آف پاکستان ہے اس میجورٹی کو ایک مائنورٹی کئی عرصے سے کئی سالوں سے دبا کے رکھ کے بیٹھی ہوئی ہے تو یہ سوال ہم پہ بطور پاکستانی بنتا ہے آواز اٹھائیں کہ پاکستان آخر بنا کس کیلئے ہے کیا یہ فوجیوں کیلئے بنا ہے کیا یہ مسلح افراد کیلئے بنا ہے کیا یہ صرف ایک طبقے کیلئے بنا ہے کیا یہ بلوچوں کا سندھیوں کا خیبر پختونخواہ میں پشتون کیا انکے حقوق ہیں کہ نہیں ہیں تو پاکستان کا مطلب کیا ہے؟ہمیں دوبارہ سے واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے؟، کیا پاکستان بلوچ عوام کیلئے ہے یا نہیں؟ پاکستان کا اب مطلب کیا ہے؟۔نعرے ہر جبر سے لیں گے آزادی ، ہر قہر سے لیں گے آزادی،زنجیر سے لیں گے آزادی، زندان سے لیں گے آزادی، جینے کی لیں گے آزادی، احتجاج کی لیں گے آزادی ، سی ٹی ڈی سے لیں گے آزادی ، آمر ریاست سے آزادی، فوجیوں سے آزادی ، ٹینکوں والوں سے آزادی، بوٹوں والوں سے آزادی، بندوق سے آزادی، ظالم سے لیں گے آزادی، جابر سے لیں گے آزادی، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، عورت کا نعرہ آزادی، ہے حق ہمارا آزادی ، نہیں بھیک میںلیں گے آزادی، نہیں جھک کرلیں گے آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، للکار کے لیں گے آزادی، جو تم نہ دو گے آزادی، سی ٹی ڈی تو سن لے آزادی، ڈی سی تو سن لے آزادی، پولیس تو سن لے آزادی، کاکڑ توسن لے آزادی، وردی والے توبھی سن لے آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، للکار کے لیں گے آزادی، ہم لیکر رہیں گے آزادی، بلوچستان سے جاگی عورت جاگی، جی پی سے جاگی عورت جاگی، کے پی سے جاگی عورت جاگی، اسلام آباد سے جاگی عورت جاگی، جاگی جاگی عورت جاگی، ظلم کے نظام کو ہم نہیں مانتے، ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد تیز ہو، پولیس گردی کیخلاف جدوجہد تیز ہو، ظالمو! جواب دو خون کا حساب دو۔ بلوچ کو جواب دو خون کا حساب دو، ماہ رنگ کو جواب دو ظلم کا حساب دو، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، ہر جبر سے لیں گے آزادی، ہر ظلم سے لیں گے آزادی، ہر تیر سے لیں گے آزادی، تلوار سے لیں گے آزادی، بندوق سے لیں گے آزادی، ٹینکر سے لیں گے آزادی، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، عورت کا نعرہ آزادی، لال سلام لال سلام ،ماہ رنگ کو لال سلام۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میں بولتی ہوں کہ اگر اس قوم کیلئے لاکھوں بچیاں بھی یتیم ہوجائیں تو کم ہے۔ماہ رنگ بلوچ

میں بولتی ہوں کہ اگر اس قوم کیلئے لاکھوں بچیاں بھی یتیم ہوجائیں تو کم ہے۔ماہ رنگ بلوچ

ایک ماں کا وہ پہلا خیال جس نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنے وطن کیلئے قربان ہوگی ناں۔ وہ خیال ہی اس قوم کو ہزار سال حوصلہ دینے کیلئے کافی ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
بلوچ قوم کی اس عظیم قومی تحریک کے قریب بھی کسی دوسری قوم کی تحریک نہیں پہنچی ہے، ہمارے علماء اور مدارس کے طلبہ بھی کھاد کی مشین نہیں انقلابی بنیں۔عتیق گیلانی
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اس تقریب سے یہ تحریر پڑھ کر خطاب کیا تھاجس کی کچھ جھلکیوں سے ان کے فکر وعمل کو سمجھنے میں قارئین کو آسانی ہوگی کہ اتنے حوصلے اور جرأت کے پیچھے کیا اصل عوامل کارفرماہیں۔ یہ حوصلے کی ایک چٹان کیوں ہیں؟۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے8مہینے پہلے اپنے خطاب میں کہا تھا: صباح اسلئے صباح تھا کہ اپنے آپ کو اجتماع سے جوڑ دیا۔ صباح نے وہ جو روایتی دانشور کی تعریف سے خود کو نکال کر وہ اپنی عوام کے ساتھ رہا۔ اس نے کہا کہ اگر میری کلاس کا ایک اسٹوڈنٹ اغوا ہورہا ہے تو میں اپنی کلاس میں بیٹھوں گا ہی نہیں جب تک کہ وہ رہا نہیں ہوجائے۔ جب بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ صباح نعرے نہ لگاتا تو صباح صباح نہ ہوتا۔ تو آپ بتائیں کہ اگر آپ نے ایکٹیو ازم کو محدود کردیا ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ قوم کیلئے کام تو ناکارہ شخص ہی کرے گا تو پھر قومی تحریک چلائے گا کون؟۔ ایک ڈاکٹر ڈاکٹری کرے، ایک وکیل وکالت کرے، ایک استاد اپنی استادی کرے تو پھر قومی تحریک چلائے گا کون؟۔ کیا یہ کوئی آسان کام ہے؟۔ یہ سب سے مشکل کام ہے۔ سب سے ذہین اور سب سے جرأتمند لوگ قومی تحریکیں چلاتے ہیں۔ یہ کسی عام کسی ڈرپوک شخص کا کام ہے ہی نہیں کہ اتنے بڑے کلیم کو لے کر آگے چلے اور اپنی زندگی اور سب کچھ قربان کردے۔ میں کہتی ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قربانیاں تو اتنی ہیں کہ اس تحریک کا کوئی ادارہ اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ شہداء کی لسٹ بناسکے۔ تعلیم ہی اپنی کوکھ سے علم کو جنم دیکر کردار میں عملی نکات پیدا کرے تو وہ شعور اور تبدیلی کہلائی جاسکتی ہے۔ صرف تعلیم حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے سے کوئی بھی طالب علم نوکری اور کاروبار تو کرسکتا ہے مگر اپنے سماج میں تحریک پیدا نہیں کرسکتا اور نا ہی انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ کوئی بھی تحریک جسکے مقاصد متعین نا ہوں تو جدوجہد علمی ہو، نظریاتی ہو، تعلیمی ہو، فکری ہو وہ وقتی جدوجہد تو بن سکتی ہے مگر اسے مستقل جدوجہد نہیں کہا جاسکتا۔ جیسا کہ البرٹ کامیوس نے کہا کہ حقیقی مایوسی طاقتور دشمن کا سامنا کرنے سے پیدا نہیں ہوتی اور نا ہی جدوجہد میں ناکامی تھکاوٹ سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ مایوسی اس وقت ہوتی ہے جب ہمیں اپنی جدوجہد کا ادراک نہیں ہوتا ہے۔ ہم یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ یہ جدوجہد کس لئے شروع کی گئی تھی۔ یہ جدوجہد قومی شناخت کی جدوجہد ہے۔ قومی بقاء کی جدوجہد ہے۔ یہ کچھ آسامیوں، نوکریوں، وسائل اور صوبائی حق خود داریت کی جدوجہد ہے ہی نہیں۔ قومی تحریکیں اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کے بجائے عام لوگوں کی جدوجہد سے بنتی ہیں۔ وہ لوگ جن کی ہر سوچ اجتماعی ہے اور وہ اجتماعی سوچ کی بنیاد پر بولتے ہیں اور اپنے قول کو عمل میں تبدیل کرنے کی جرأت رکھتے ہیں جیسا کہ گرامسچی نے کہا: ”قبضہ گیر ریاستیں تشدد اور معاشی استحصال کیساتھ اپنے اداروں کے ذریعے ریاستی نظرئیے کو محکوم اقوام پر مسلط کرتی ہیں اور ایسے سماج میں انقلاب لانا مشکل ہوجاتا ہے جہاں محکوم حاکم کو حکمرانی کرنے کا حقدار سمجھتا ہو”۔ مگر سوال یہ ہے، آج کل ایسی سازش میں بلوچ طلبہ کو ڈالا جارہا ہے ،کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل تعلیم ہے۔ کونسی تعلیم اور تعلیم کس کیلئے ؟۔ کیا پروفیشنل ازم قومی خدمات کے برابر ہوسکتی ہے؟۔ ہماری جد و جہد کے اہم مقاصد کیا ہیں؟۔ قومی جدوجہد پر کمپرومائز کرنے والی قوتیں کون سی ہیں؟۔ جو نام نہاد قوم پرست پارٹیاں بناچکے ہیں وہ نام نہاد قوم پرست تو کہلائے جاسکتے ہیں، لیکن انہوں نے اصل مقصد اور قومی شناخت کے بجائے کچھ وسائل کو ہی جدوجہد کا نام دے رکھا ہے۔ بلوچ قوم کو ہر اس دھوکے کو پہچاننا ہوگا، سوال کرنا ہوگا کہ وہ کونسے مقاصد ہیں کہ جس کی وجہ سے ہم یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ ہماری قومی شناخت کی جنگ ہے اور ہمارے آباء و اجداد اور ہزاروں شہیدوں نے اپنی جان کی قربانی صوبائی خود مختاری ، چند اسامیوں اور تعلیم کیلئے نہیں دی ہے ۔ ہمارے نوجوان اسلئے پڑھتے ہیں کہ کل وہ اچھے ڈاکٹر بن جائیں ایک اچھے وکیل بن جائیں ؟ ،کسی پروفیشن میں ان کا نام ہو؟، ایک اچھے استاد اور لیکچرار بن جائیں؟ اور کل کواگر انہیں ایک پروٹوکول چاہیے تو وہ جاکر سول سروس میں،PCSاورCSSکرکے اپنے آپ کو علاقے کا سب سے معتبر اور سب سے تعلیمی، شعوری انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچو! قومی جدوجہد کی راہ انتہائی کٹھن ہے اس میں بے پناہ قربانیاں دینی پڑیں گی۔ اور یہ کسی بھی انسان کی قوت کا کام نہیں کہ وہ اکیلے انقلاب لا سکے۔ انقلاب کیلئے ہمیشہ عوام کی ضرورت ہوتی ہے، قوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب پوری قوم ایک تبدیلی کیلئے اپنی صبح شام لگاتی ہے ،اپنی جانوں کی قربانیاں دیتی ہے تبھی وہ کام آسان ہوسکتا ہے ایک فرد انقلاب نہیں لاسکتا۔ بھگت سنگھ کی ایک تحریر میں نے پڑھی تھی وہ انہوں نے اپنی پھانسی سے چند دن پہلے لکھی تھی انقلابیوں کے نام۔ کچھ ایسے الفاظ تھے جو مجھے سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں ہم سب کو کیونکہ ہم سب جو سطحی سیاست کا حصہ ہیں یا جہاں ہم سیاست کر رہے ہیں اس میں میں بذات خود بھی شامل ہوں اس میں میں اپنے آپ کو بورژوا نیشنلسٹ سمجھتی ہوں۔ کیونکہ میں قوم پرستی کے اس قول کو تو مانتی ہوں لیکن عملی طور پر میں ابھی تک اس میں شامل ہی نہیں ہوئی یا ہم سب اس میں شامل ہی نہیں ہوئے تو بھگت سنگھ نے کہا کہ اگر آپ ایک بزنس مین اور ایک اچھے ڈاکٹر ہیں اور اپنی زندگی کے کچھ گھنٹے جدوجہد پر بے بنیاد تنقید اور تقریروں میں صرف کرتے ہیں اور صبح ریاستی مشینری کو مستحکم کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ برائے مہربانی آگ سے مت کھیلیں۔ ایک انقلابی ورکر کے طور پر آپ کسی بھی تحریک کیلئے کار آمد نہیں ہوسکتے۔ انقلاب کیلئے ہمیں پیشہ ورانہ انقلابیوں کی ضرورت ہے۔ تحریک کے وہ کارکن جن کی زندگی کا مقصد تحریک کو آگے بڑھانے کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو ، تحریک کیلئے جذبات قابل قدر ہوسکتے ہیں مگر تحریکیں مستقل مزاج کارکنوں کی مسلسل جدوجہد، مصیبتوں کا سامنا کرنے اور بے پناہ قربانیوں سے کامیاب ہوتی ہیں۔ راستے کی کوئی تکلیف آپ کی جدوجہد کو کم نہیں کرسکتی۔ اور اگر دشمن آپ پر وار کرتا ہے تو اس پر آپ اپنا سر پکڑ کر نہیں بیٹھیں گے کہ اُف یہ کیا ہوگیا؟ یہ تو ہم برباد ہوگئے، اب تو یہ ہماری عورتوں تک آپہنچا ہے۔ سب سے پہلے تم اپنے کلیم کو تو دیکھو کہ تم کیا مانگ رہے ہو؟۔….. میں کہتی ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔………..
ایک ماں کا وہ پہلا خیال جس نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنے وطن کیلئے قربان ہوگی ناں۔ وہ خیال ہی اس قوم کو ہزار سال حوصلہ دینے کیلئے کافی ہے۔ اس کی قربانی تو بہت دور کی بات ہے۔ اس قوم کی شناخت کی بقاء ہی اس میں ہے اس قوم کی جو جدوجہد ہے جس مقصد کیلئے شروع ہوئی تھی اس کو وہاں تک پہنچایا جائے۔ کوئی بھی ڈائیورژن ان قربانیوں کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی۔….تبصرہ: مولانا عبید اللہ سندھی نے کہا کہ عرب کے بعد عجم قرآن کو سمجھ کر انقلاب لائیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلام نے14سو سال پہلے غلامی کا تصور ختم کیا تھا

اسلام نے14سو سال پہلے غلامی کا تصور ختم کیا تھا

جو فقر ہوا تلخئی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
عربی میں غلام کو عبد کہتے ہیں اللہ کے علاوہ عبدیت جائز نہیں
اسلام کا سب سے بڑا مشن انسانوں کی انسانوں سے آزادی
عربوں نے رومی و ایرانی عورتوں کو دیکھ کر لونڈی کو جواز بخش دیا

قرآن وسنت میں لونڈی بناناجائز ہے؟۔ ایک طرف داعش نے نکاح بالجہادکا تصور پیش کیا اور دوسری طرف خواتین کو لونڈیاں بناکر بیچ دیا تو گوانتا ناموبے جیسے عقوبت خانوں، افغانستان وپاکستان میں دہشتگردی کے نام پر قتل وغارتگری، عراق ولیبیاکی تباہی کے بعد اسرائیل کے فلسطینیوں کو تباہ کرنے کا جواز فراہم ہورہاہے اور پھر افغان طالبان پر ایٹمی ہتھیار خریدنے کے الزام کی بازگشت معروف صحافی کامران یوسف کی زبانی سنائی دے رہی ہے۔
جنگ کی ہولناکی دیکھنے والے قیامت کا منظر دیکھ چکے ہیں۔ ٹریفک کا نظام بھی دشمنی ، جنگ اور انقلابی جدوجہد میں مارے جانے کے خطرہ سے کم نہیں مگر کچھ حقائق عوام ، علماء کرام اور طلباء عظام کو سمجھنے ہوں گے۔ تاکہ اسلام کی سمجھ دنیا میں بھی عام ہوجائے اور مسلمانوں اور کفار میں اسلام کا احترام بھی آجائے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: الدین النصیحہ ” دین خیر خواہی ہے”۔ کیا کسی بھی قوم کی عورت کو لونڈی بنانا خیر خواہی ہوسکتی ہے؟۔ کوئی یہ خیر خواہی نہیں قرار دے سکتا۔ پھر کیا اسلام نے عورتوں کو لونڈی بنانے کی اجازت دی ہے؟۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا: ” جنگ میں عورت پر ہاتھ نہ اُٹھاؤ” ۔جب ہاتھ اُٹھانے کی اجازت نہیں تو کیالونڈی بنانے کی اجازت ہوگی؟۔ ہرگز ہرگز بھی نہیں۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے خیرالقرون کے جن تین ادوار کا ذکر کیا ہے تو ان میں پہلا دور نبی ۖ کا تھا۔ دوسرا ابوبکروعمر اور تیسرا حضرت عثمان کا دور تھا۔ حضرت علی کا دور ان میں شامل نہیں تھا اسلئے کہ اس میںفتنے برپا ہوچکے تھے۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” میرے نزدیک پہلا دور نبی ۖ وابوبکر کا تھا اسلئے کہ ابوبکر کے دور میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔ دوسرا دور عمر اور تیسرا دور عثمان کا تھا”۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ” ابوبکر کے دور میں یمن فتح ہوا تو کسی کو بھی لونڈی نہیں بنایا گیا”۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”بدعت کی حقیقت” میں لکھا کہ ” صحابہ،تابعین اور تبع تابعین کے تین ادوار خیرالقرون میں جو اعمال مرتب ہوئے درست تھے اور تقلید چوتھی صدی ہجری کی بدعت ہے”۔ مولانا سیدمحمد یوسف بنوری نے اس پر تقریظ لکھی لیکن شاہ ولی اللہ کے خاندان کی شاگردی کے دعویدار کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔
حنفی ومالکی سمجھتے ہیں کہ” 3طلاق بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں”۔ کیا نبیۖ کے دور میں یہ بدعت ایجاد ہوئی تھی؟۔ تراویح حضرت عمر کے دور کی بدعت حسنہ کہلاتی ہے۔ ایک ساتھ حج وعمرے کے احرام پر حضرت عمر نے پابندی لگادی تو عبداللہ بن عمر نے کہا کہ ”میرا اپنے باپ پر نہیں نبیۖ پر ایمان ہے”۔ عثمان اور علی میں حج وعمرے کا احرام اکٹھا باندھنے پر جھگڑا ہوا۔ (صحیح بخاری) جب عبداللہ بن عباس سے کہا گیا کہ یہ عمل عمر نے شروع کیا ہے تو ابن عباس نے کہا کہ ”میں نبی ۖ کی بات کرتا ہوں تو تم ابوبکر وعمر کی بات کرتے ہو۔مجھے تعجب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے؟”۔ ابوبکر نے جبری زکوٰة وصول کی مگراہل سنت کے چارامام نے مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کو جائز نہیں قرار دیا البتہ بے نمازی کو سزا دینے پرعقل کے پروانوں کا کچھ نہ کچھ اتفاق تھا۔ یہی تو وہ اسلام تھا جس کے عنقریب اجنبی بن جانے کی خبر نبیۖ نے دی تھی۔ حضرت عمر کے دور میں شہنشاہ فارس کی صاحبزادیوں کو لونڈیوں کی طرح بیچنے کا حکم ہوا۔ پھر حضرت علی کے مشورے پر ایک عبداللہ بن عمر ، دوسری حسین بن علیاور تیسری محمد بن ابی بکر کے نکاح میں دی گئیں۔ ان کی اولاد آپس میں خالہ زاد تھے۔
ہزار سال سے زیادہ ہواکہ شام کے مشہور عالم ابوالعلاء معریٰ نے لکھا کہ ”اسلام نے لونڈی بنانے کا جواز ختم کیا۔ عربوں نے فارس وروم کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھ کر لونڈی کو جواز بخش دیا”۔ جیسے آج مفتیان اعظم نے سودی نظام کو جواز بخش دیا ہے اور متعہ کو ناجائز کہنے والے حلالہ کا لطف اٹھارہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ قرآن نے شادی شدہ عورت کو پانچویں پارہ کے آغاز پر محرمات کی فہرست میں داخل کیامگر لونڈی بنانا جائز قرار دیا؟۔ والمحصنٰت من النساء الا ما ملکت ایمانکم”اور بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے”۔ اس سوال کا جواب دینے کے لئے قرآن کے ان دونوں الفاظ اور جملوں کو قرآن وسنت کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہی قرآن کہتا ہے کہ والمحصنٰت من المؤمنات والمحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب من قبلکم اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیرمسافحین ولامتخذی الاخدان ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وھو فی الاٰخرة من الخاسرینO(سورہ مائدہ : آیت5)
جب سورہ مائدہ میں اللہ نے محصنات کیساتھ نکاح کو جائز قرار دے دیا تو پھر سورہ النساء میں کیسے محرمات کی فہرست میں داخل کیا ہے؟۔ محصنات کی تین اقسام ہیں۔نمبر1:پاکدامن بمقابلہ آلودہ ۔نمبر2:شادی شدہ بمقابلہ غیرشادی شدہ۔ نمبر3:محترمہ بیگمات بمقابلہ بے سہارا بیوائیں ۔
ذوالفقار علی بھٹو کی بیگم نصرت بھٹو70کلفٹن کی مالک تھی اور شوہر کی وفات کے بعد بھی اپنے شوہر کیساتھ زبردست رشتہ تھا۔ اگر کوئی جیالا یا بھٹو کا دشمن اس کو رشتہ بھیج دیتا تو کتنی زیادہ بری بات ہوتی؟۔محرمات میں باپ کی منکوحہ اور ماں، بیٹی ، بہن سے لیکر دو بہنوں کا جمع کرنا اور پھرمحترمہ بیگمات کی حرمت بیان کرکے بہت کمال کردیاہے لیکن افسوس مسلمان قرآن سے غافل ہیں۔
اگر قرآن کی طرف توجہ دی جائے تونہ صرف مسلمان بلکہ انسان کی عزت ہوگی۔ حضرت عائشہ سے کسی نے نبیۖ کی سیرت کا پوچھا تو فرمایا کہ ”نبی ۖ کی سیرت قرآن ہے”۔ قرآن میں ازواج اور لونڈیوں کے بارے میں کیا احکام ہیں؟۔اس کا صحیح تجزیہ قرآن وسنت کی روشنی میںکب کسی نے کیا ہے؟۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے حنفی علامہ بدرالدین عینی کے حوالے سے رسول اللہ ۖ کی28ازواج کا ذکر کیا ۔ جن میں حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی اور حضرت امیر حمزہ کی بیٹی بھی شامل ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے قرآن کی تفسیر اور صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی شرح کئی جلدوںمیں لکھ دی ۔ لندن تک ان کی کتابیں پہنچ چکی ہیں اور دنیا استفادہ کررہی ہے۔
نبی ۖ نے فرمایا کہ ” حمزہ میرے رضائی بھائی تھے اور ان کی صاحبزادی میرے لئے جائز نہیں، وہ میری بھتیجی ہے”۔ تو پھر کس طرح نبی ۖ کی ازواج میں شامل کرلیا؟۔ علامہ بدر الدین عینی نے غلط کیا لیکن علامہ غلام رسول سعیدی نے کیوں نقل کیا ہے؟۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے بڑا کمال کیا تھا کہ ”سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز پر مخالفت میں اپنی رائے دی تھی” اور مفتی تقی عثمانی نے بھی اچھا کیا کہ اپنی کتابوں سے سورہ فاتحہ کا جواز نکالنے کا اخبار میں اعلان کردیاتھا۔ اب مفتی منیب الرحمن نے اپنا فرض ادا کرنا ہے ۔ جاہل پیروں سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اس سے زیادہ نقصان علماء کے غلط علمی معلومات لکھنے سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ سے نبی ۖ نے فرمایا کہ مجھ پر اپنی بیٹیاں پیش نہ کرو۔ نبی ۖ کی وہ سوتیلی بیٹیاں تھیں۔ جو آپ پر حرام تھیں۔ اگرنبی ۖ کوامیر حمزہ کی بیٹی کی پیشکش ہوئی اور نبی ۖ نے منع فرمایا کہ میری بھتیجی ہے تو پھر اس کو ازواج کی فہرست میں لکھنا کتنا گھناؤنا جرم ہے؟۔
بخاری کا دوسرا مشہور شارح علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی ہے۔صحیح بخاری میں ہے کہ نبی ۖ کے پاس لڑکی ابنت الجون باغ میں لائی گئی ۔ کمرے میں نبی ۖ نے کہا کہ خود کو مجھے ہبہ کردو۔ اس نے کہا کہ کیا ملکہ خودکو بازارو کے حوالے کرسکتی ہے؟ نبیۖ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبیۖ نے فرمایا قد عذت بمعاذ جس کی پناہ مانگی جاتی ہے اس کی پناہ مانگ لی ہے اور اس کو دوکپڑے دئیے اورکسی سے کہا کہ اس کو اپنے گھر پہنچادو۔
علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھ دیا کہ ” سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی ۖ سے نکاح نہیں ہوا تھا تو اپنے پاس خلوت میں کیسے بلایا۔ نکاح کے بغیر تو وہ اجنبی تھی ؟ اسکا جواب یہ ہے کہ جب نبی ۖ نے انکو اپنے پاس طلب کرلیا تو یہ نکاح کیلئے کافی تھا، چاہے وہ لڑکی راضی نہ ہو اور اس کا باپ یا ولی بھی اس نکاح کیلئے راضی نہ ہو”۔ علامہ عسقلانی کا سوال و جواب صدر وفاق المدارس پاکستان مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی بخاری کی شرح ”کشف الباری” اور صدر تنظیم المدارس مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی بخاری کی شرح ”نعم الباری ” میں بھی نقل کیا۔ نبیۖ کے خاکے بنانے کا اصل سبب یہ علماء ومفتیان ہیں جن کی وجہ سے دنیا نبیۖ سے بدظن ہوگئی ہے کہ صحیح بخاری کی مستند شرح میں کیا آئینہ پیش کیا گیا ہے؟۔
اسرائیل حماس حملے سے عسقلان پر قبضہ سے خائف نہیں بلکہ وہ عسقلانی سے منسوب نبیۖ کی سیرت سے خوفزدہ ہے جس پر اگر مجاہدین کا بس چل جائے تو زبردستی سے لڑکیوں کو ان کی مرضی اور انکے باپ کی مرضی کے بغیر نکاح پر مجبور کرنے کو سنت اور اپنا حق سمجھ لیں۔ مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں مزید تڑکا لگانے کیلئے لکھ دیا کہ ”ایک جاہل عرب نے اپنے اشعار میں کہا کہ عورت کیساتھ ناجائز جبری زیادتی میں جتنا مزہ ہے اتنا رضا سے کرنے میں نہیں ۔میں نے بہت ساری لڑکیوں کو اس حال میں حاملہ بنادیا ہے کہ جب وہ انکار کررہی تھیں اور میں نے زبردستی ان کیساتھ کرلیا”۔
حالانکہ قرآن میں احسن القصص کہانی حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے جب زلیخا نے کوشش کی لیکن آپ کو اللہ نے بچایا تھا۔ رسول اللہ ۖ کی سیرت کا یہ قصہ اس سے بھی زیادہ بہترین تھا۔ ابنت الجون کے نومسلم والد نے نبیۖ کو پیشکش کی کہ عرب کی خوبصورت ترین لڑکی نکاح میں دوں؟۔ نبیۖ نے حامی بھری۔ حق مہر طے ہوا۔ ازواج مطہرات نے ابنت الجون سے سوکناہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا میک اپ کیا اور آداب سمجھائے کہ جب نبیۖ یہ کہیں تو یہ کہنا اور پھر اللہ کی پناہ مانگ لینا۔ ہدایات پر عمل کا نتیجہ تھاکہ نبیۖ نے سمجھا کہ وہ خوش نہیں ہے اور باپ نے اپنی مرضی مسلط کرکے بھیج دیا۔ نبیۖ نے یہ معمول رکھا تھا کہ رخصتی کے تمام مراحل سے گزرنے کے باوجود بھی پہلی دفعہ میں مکمل جانچ پڑتال کرتے اور اس معمول کا ازواج مطہرات کو ادراک تھا۔ اگر درست پہلو دنیا کے سامنے لایا جائے تو نبیۖ کے خلاف توہین آمیز کارٹونوں کا سلسلہ بھی یقینی طور پربند ہوجائے گا۔
مولانا فتح خان ٹانک اور پختونخواہ اور جمعیت علماء اسلام کی معتبر شخصیت نے کہا تھا کہ ”مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کرکے اپنے مشن کو تشہیر کریںجو عہدہ چاہیے وہ بھی دیں گے”۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی، تحریک لبیک اور دوسری مذہبی وسیاسی جماعتیں اسلام کی درست تعبیر اپنے پلیٹ فارم سے خود بیان کرنا شروع کردیں تو عوام میں ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہت بڑا سہارا ملے گا اور پاکستان سے اسلامی انقلاب کا پوری دنیا میں ذریعہ بھی بن جائے گا۔ مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ آزاد ارکان بھی اسلامی تعلیمات کو سمجھ کر عوام سے بڑے پیمانے پر ووٹ لے سکتے ہیں۔ مولانا فتح خان کی مسجد میں مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”لوگ اسلام کو سخت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اسلام تو بہت تحفظ دیتا ہے۔ اگر کسی مرد اور عورت کو بدکاری کی حالت میں ایک شخص دیکھ لے تو اگروہ گواہی دے گا تو اس کو سزا ملے گی اور دوشخص دیکھ لیں اور گواہی دیں تو بھی دونوں کو سزا ملے گی اور تین افراد دیکھ لیں اور گواہی دیں تو تینوں گواہوں کو بھی سزا مل جائے گی اور بدکاروں کو تحفظ ملے گا۔ اس سے زیادہ نرمی اور کیا ہوسکتی ہے ؟۔ اسلئے عوام اسلام کیلئے علماء کو ووٹ دیں”۔
اگر مولانا صاحب یہ وضاحت بھی کردیتے تھے کہ قرآن کا حکم ہے کہ اپنی بیگم کو بھی غیرت کے نام پر قتل نہیں کرسکتے ۔ اگر عورت اپنے شوہر کو جھوٹا کہہ دے تو عورت کو سزا نہیں ہوگی اور اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ بدکار مرد اور عورت دونوں کوایک سزا100،100کوڑے مارو۔ کچھ لوگوں کو اس پر گواہ بھی بنالو۔ اور اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ بدکار عورت کا نکاح بدکار مرد یا مشرک سے کرادو۔ اگر زانیوں کو قتل کی سزا دینے کے بجائے ان کی ایک دوسرے سے شادی کرادی جاتی تو مرد غیرت کے نام پر قتل کیلئے مجبور نہ ہوتا اور عورت جس کیساتھ لائن لڑاتی ،اس کی شادی بھی اسی سے کرادی جاتی۔ افغانستان کے طالبان کی بھی مولوی کی جعلی شریعت سے بالکل جان چھوٹ جاتی اور ان کو پوری دنیا میں پذیرائی بھی مل جاتی۔
قرآن اور عربی میں غلام کیلئے عبد اور لونڈی کیلئے ” امة” کا لفظ ہے۔ مشرکوں اور مشرکات کے مقابلے میں مؤمن عبد اور مؤمنہ امة کو قرآن نے بہتر قرار دیا۔ اسی طرح طلاق شدہ و بیوہ خواتین اور غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کی ترغیب دی ہے۔ کنواری لڑکیوں کو بھی بدکاری یا بغاوت پر مجبوری کی حد تک پہنچانے کے بجائے ان کی مرضی سے نکاح کا حکم دیا ہے۔ لیکن ان آیات کا غلط ترجمہ اور تفسیر کرنے سے قرآنی حکم کا بیڑہ غرق کیا گیاہے۔ شیعہ حسن الہ یاری نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ حضرت ابوبکر کے والد چکلہ کے ملازم تھے اور جسم فروشی کے دھندے زمانہ جاہلیت میں رائج تھے۔ حالانکہ جس آیت میں لونڈی کا ترجمہ کیا گیا ہے تو وہاں لونڈی مراد نہیں ہے کہ زبردستی سے بدکاری پر مجبور مت کرو۔ آیات کی جعلی تفاسیر کرنے کیلئے جعلی روایات گھڑی گئیں ہیں۔ جس طرح شیعہ لڑکی دعا زہرہ نے بھاگ کر شادی کی تو اس تعلق کو قرآن اور حنفی مسلک بہت واضح کرسکتا ہے کہ یہ غلط تھا مگر حرامکاری نہیں تھی اور اگر اس کا باپ مجبور کرکے کسی اور سے جبری نکاح کرائے تو یہ بھی غلط ہوگا لیکن اس کو حرام کاری نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس میں دعازہرہ کی مجبوری ہوگی۔ کاش ! ایک ایسا عمل ریاست کی طرف سے ہی ہوجائے کہ پاکستان کے علماء کرام اورطلباء عظام کے سامنے ان چیزوں کی وضاحت ہوجائے۔ نہ صرف ہماری فرقہ وارانہ منافرت ختم ہو بلکہ دنیا میں بھی انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام کا بول بالا ہو۔ علماء سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی دکانیں ختم اور مدارس کو ویران کرنے کے درپے ہیں حالانکہ ہماری وجہ سے پھر ان کی عزتوں میں بھی اضافہ اور مدارس بھی آباد ہوں گے۔
قرآن میں ماملکت ایمانکم کا ذکر جہاں ہے وہاں اس کا مفہوم سیاق وسباق سے واضح ہے۔ اس سے کہیں لونڈی وغلام مراد ہیں اور کہیں پر متعہ ومسیار مراد ہے۔
سورہ مائدہ آیت5میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ مؤمنات اور اہل کتاب کی محصنات سے نکاح کرناجائز ہے۔سورہ النساء میں جہاں محرمات کی فہرست چوتھے پارہ کے آخر اور پانچویں پارہ کے شروع تک بیان کی گئی ہے تو اس فہرست کے آخر میں دو بہنوں کا اکٹھا کرنا اور پھر محصنات کا بالکل آخرمیں ذکر ہے اور اس سے حرمت میں نرمی کی طرف رہنمائی ہے۔ مولانا مودودی نے ان دو جڑواں بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا فتویٰ دیا تھا جن کے جسم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
والمحصنٰت من النساء الا ما مالکت ایمانکم کی تفسیر میں اختلاف شروع سے رہاہے۔ بخاری کی شرح میں مولانا سلیم اللہ خان نے اس کا تفصیل سے ذکر کیاہے۔ ایک صحابی نے کہا کہ ” اس سے مراد ایسی عورت ہے جو کسی کے نکاح میں ہو اور وہ اپنے مالک کی لونڈی بھی ہو”۔ لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ” کفار کی عورتیں مراد ہیں جو جنگ میں قید کی جائیں”۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” لونڈیوں سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنی قوم کی نہ ہوں ۔ اپنی قوم کی4اوردوسری قوم کی لاتعدادعورتوں سے نکاح جائز ہے۔عرب میں عجمی عورتوں کی حیثیت لونڈیوں کی تھی اور ہمارے ہاں دوسری اقوام کی”۔
غرض علماء لونڈیوں کی تعریف اور سورہ النساء کی آیت کے ترجمہ وتفسیر میں تذبذب مذاہب میں گرفتار ہیں۔ قرآن میں ایسے احکام بھی ہیں جن کا تعلق بعد کے ادوار سے ہوسکتا ہے۔
محصنات عربی میں تین معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ایک شادی شدہ جس میں بیوہ اور طلاق شدہ بھی شامل ہے۔ دوسری پاکدامن اور تیسری شادی شدہ۔ کیا شادی شدہ مراد لینے سے اس بات میں عزت نہیں ہے کہ وہ بیگمات مراد لی جائیں جن کی اپنی ایک مسلمہ حیثیت ہو اور وہ اپنی حیثیت برقرار رکھنا چاہتی ہوں؟۔ جیسے نشانِ حیدر کے شہداء کی بیگمات ہیں۔ اس طرح کی دوسری ایسی خواتین ہیں جو اپنا ایک سٹیٹس شوہر کی وجہ سے رکھتی ہیں اور وہ اپنا اسٹیٹس کھونا نہیں چاہتی ہیں؟۔ پھر ان کے ساتھ نکاح کی جگہ ایگریمنٹ کا معاملہ زیادہ مناسب ہوگا جس کی وجہ سے وہ حکومتی مراعات شوہر کی پینشن وغیرہ کو بھی برقرار رکھ سکتی ہیں۔ قرآن میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے کہ لوگوں کو غلام یا لونڈی بناؤ۔ نبی ۖ نے بھی کسی کو لونڈی اور غلام نہیں بنایا ہے۔ البتہ پہلے ایک ایسا ماحول تھا جہاں لونڈیوں اور غلاموں کی اتنی کثرت تھی جتنی آج فارمی مرغیوں کی ہے۔ اسلئے اسلام نے ان ذرائع کو ختم کردیا جن کی بنیاد پرغلام اور لونڈیاں بنائی جاتی تھیں۔ جنگوں میں تربیت یافتہ لونڈی و غلام کہاں مل سکتے تھے؟۔ البتہ جو لوگ پہلے سے غلام یا لونڈی ہوں تو جنگوں میں ان کو اپنی تحویل میں لینا ممکن تھا۔ کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو یہ سوچتا ہوگا کہ نبی ۖ نے بڑا احسان کیا کہ ابوسفیان کو غلام اور اس کی بیگم حضرت ہندکو لونڈی نہیں بنایا تھا۔ یہ ممکن بھی نہیں تھا۔ ایسا غلام اور لونڈی گھر میں کون پال سکتا تھا؟ اور اس سے زیادہ خطرناک بات کیا ہوسکتی تھی؟۔ بدری قیدیوں کو قید رکھا گیا تھا اور ان کو غلام بنانا کہاں ممکن تھا؟۔
مال غنیمت میں جس طرح سے اموال ملتے تھے اس طرح لونڈی اور غلام بھی ملتے تھے۔ البتہ عورتوں، بچوں اور بچیوں کی مجبوری اور تربیت پھر بھی ممکن ہوتی تھی۔ جب صلح حدیبیہ کے بعد کچھ خواتین مکہ سے بھاگ کر مدینہ آئیں اور نبیۖ نے ان کو لوٹانے کے بجائے رکھنے کا فیصلہ کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ ان کے حق مہر اور خرچہ وغیرہ ان کے شوہروں کو جاہلیت کے دستور کے مطابق ان کو لوٹادو اور تم بھی کافر عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے واپس بھیج دو۔ ان کو چمٹائے مت رکھو۔ اگر وہ حق مہر واپس نہ کریں تو بھی در گزر سے کام لو۔ سورہ ممتحنہ کی ان آیات کا ترجمہ بھی درست نہیں سمجھا گیا جس کی وجہ سے غلط تفسیر لکھ دی گئی۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جانچ پڑتال کے بعد ان خواتین کو واپس مت بھیجو۔ وہ اپنے ان شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ یہ ان کیلئے حلال ہیں۔ جن خواتین نے ہجرت نہیں کی تھی توان کیلئے یہ سوال ہی نہیں تھا۔ حضرت ام ہانی حضرت علی کی بہن نے بھی ہجرت نہیں کی تھی اور وہ مسلمان تھی اور شوہر مشرک تھا۔ حضرت علی نے اسوجہ سے فتح مکہ کے موقع پر اپنے بہنوئی کو قتل کرنا چاہاتھا لیکن پھر ام ہانی کے کہنے پر نبی ۖ نے پناہ دی تھی۔ نبی ۖ نہ ہوتے تو مسئلہ حضرت علی سے بھی بگڑجاتا اور اللہ نہ ہوتا تو سورہ مجادلہ بھی نازل نہ ہوتی۔ جس میں جاہلیت کا مذہبی فتویٰ باطل کردیا گیا۔ اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ ان چچا کی بیٹیوں کو تیرے لئے حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ ام ہانی توامہات المؤمنین میں شامل نہیں ہوسکتی تھی پھر علامہ بدرالدین عینی اور غلام رسول سعیدی نے کیوں شامل کیا ؟۔ اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ جو لونڈیاں آپ کو غنیمت میں ملی ہیں وہ بھی حلال ہیں تاکہ ابہام نہ رہے لیکن پھر نبی ۖ کو کسی بھی عورت سے نکاح کرنے کا اللہ نے منع کیا اور پھر الاماملکت یمینک کی اجازت دیدی ۔ ام ہانی کے تعلق کو لونڈی اور نکاح دونوں والا قرار نہیں دیا جاسکتا ہے لیکن ایگریمنٹ ، متعہ اور مسیار ہوسکتا تھا۔ ام ہانی ان محصنات میں شامل تھی جن سے ملکت ایمانکم کی بنیاد پر تعلق ہوسکتا تھا۔
ہمارے ہاں بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل اور فحاشی کے معاملات کو روکنے کیلئے قرآن وسنت کا درست نظام لانا ہوگا۔ اکابر علماء ومفتیان اور دینی ومذہبی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں سے ان معاملات پر بات کرنے کے ہم خواہاں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں میں جرأت ہو تو ان کو بھی تفصیل کیساتھ بالمشافہہ معاملہ سمجھا سکتے ہیں اور مقتدر طبقے کو بھی سمجھنانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ قرآن وسنت، اسلام اور مسلمانوں کی ایسی خدمت ہے کہ جس سے ماحول بدلے گا۔ دنیا کو قرآن سمجھنے کی دیر ہے پھر انقلاب ایک دن کا کام ہے۔
ہم نے سن 2018میں جبPTMبن گئی تھی تو تجویز پیش کی تھی کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جگہ مظلوم تحفظ موومنٹ بنایا جائے ۔ آجPTMاور بلوچ ایک ساتھ کھڑے ہیں تو اچھا ہے لیکن یہ سلسلہ مظلوم قومی اتحاد تک پہنچ رہاہے۔ جس کی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کررہی ہیں۔ بلوچ خاتون نے یہ واضح کیا ہے کہ ہم گلہ شکوہ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ حق مانگتے ہیں اور یہ بالکل درست فیصلہ ہے اسلئے کہ بھیک مانگنے سے کچھ ملتا تو پاکستان پوری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کرچکا ہوتا۔
جو فقر ہوا تلخیٔ دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
ہم نے بھی بہت مشکلات دیکھی ہیں۔ فوج نہیں علماء کرام اور تبلیغی جماعت جیسی نرم جماعت کی زیادتیوں کو بھی دیکھا ہے اور فوج و مجاہدین کی تو تربیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ مار دھاڑ پر گزارہ کرتے ہیں۔ ان میں بھی اسلام کی عظیم تعلیمات کی وجہ سے بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور مار دھاڑ ختم ہوسکتی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ!

پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ!

دنیا کی محفلوں سے اکتاگیا ہوں یارب !
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سُرخی لئے سنہری ہر پھول کی قباء ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
اُمید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھادے
جب آسماں پر ہر سُو بادل گھرا ہوا ہو
پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہمنوا ہوں وہ میرا ہمنوا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلوں کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند کو رونا مرا رلا دے
بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ ۔ اقبال سے آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر تک عوام کے کانوں نے یہ گونج سنی ہے لیکن اس پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی قابلیت میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ریاست کے بیانیہ کو اسنے صحافیوں کے سامنے پیش کردیا ہے اور دوسری طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی پہلی مرتبہ اپنا بیانیہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے میں بھرپور طریقے سے کامیاب ہوئی ہے۔ اگر ہماری ریاست اب تک اپنا عدالتی نظام درست نہیں کرسکی ہے تو اس سے ریاست کا بیانیہ کمزور ثابت ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہرطرح کے تشدد کی مذمت کرتی ہیں اور معصوم لوگوں کو مارنے کا رونا روتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میڈیا پر وہ خبریں بھی نہیں آتی ہیں جن میں معصوم عورتوں ، بچوں اور طالب علموں کو شہید کیا جاتا ہے تو ان کا گلہ بجا ہے۔ اگر کوئٹہ اور بلوچستان سے معصوم لوگوں کے قتل کی خبریں شائع نہ ہوں اور اسلام آباد میں آتے وقت بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو یہ ریاست پر سوالیہ نشان بنتے ہیں۔ اگر نگران وزیراعظم کا کام نہیں ہے کہ عدالتی نظام کو اس نے ٹھیک کرنا ہے اور عدالتی نظام قابل اعتماد نہیں ہے تو پھر قصور کس کا ہے؟۔ کیا طالبان یاBLAکے لوگ قانون سازی کرکے دیںگے؟۔ پاکستان کی معروف تین قومی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ آصف علی زرداری کہتا ہے کہ جیل میں دن رات دونوں شمار ہوتے ہیں اور مجھے محض الزام پر11سال جیل میں رکھا جو22سال بنتے ہیں لیکن عدالتوں نے باعزت بری کردیا۔ نوازشریف کو دو بار عدالتوں نے سزا دینے کے باوجود بری کردیا اور اب عمران خان کیساتھ جو کچھ ہورہاہے اس سے پہلے کبھی کسی کیساتھ ایسا نہیں ہوا ہے اور اگر ہوا ہے توبھی شرمناک ہے۔
اگر جمہوریت والے، مذہبی پارٹیاں، جہادی تنظیمیں اور قوم پرست پارٹیاں سب کی سب پاک فوج کے خلاف ہوں اور عدالتی نظام بھی درست نہ ہو تو پھر کیا اس ملک کے بقاء کی امید ہوسکتی ہے؟۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو مقدمہ لڑرہی ہے وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے لیکن جب مسلم لیگ ن کے راشد مرادMRTVلندن یہ پنجابی اور اردو میں کہتا ہے کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے بچوں کو فوج نے خود ہی مارا ہے تو اس کا بیانیہ زیادہ خطرناک ہے جس کو اقتدار میں لانے کیلئے سہولت کار بن گئے ہیں ؟یا ڈاکٹر ماہ رنگ کا یہ مطالبہ زیادہ خطرناک ہے کہ بالاچ بلوچ کو جج نے ریمانڈ کیلئےCTDپولیس کے حوالے کیا۔ جس نے جعلی مقابلے میں قتل کیا اور تربت میں7دنوں تک اس کی لاش کو احتجاجاً رکھا گیا اور پھر جس دن عدالت میں بالاچ بلوچ کوCTDپولیس نے پیش کرنا تھا تو اس دن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ماما قدیر وغیرہ نے اس کی لاش کو جج کے سامنے پیش کیا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ درست کہتی ہیں کہ ہمیں اسلام آباد تک لانگ مارچ کے بجائے اس عمارت کے باہرہڑتال کرنا تھی جسے آپ عدالت کہتے ہیں ،جس نے ریمانڈ کیلئے پولیس کو ملزم حوالے کیا اور پولیس نے اس کو جعلی مقابلے میں ماردیا۔ اگر وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کہتا ہے کہ ریاست کو اپنی عدالت پر اعتماد نہیں ہے ملزموں کو چھوڑ دیتی ہے تو پھر قصور نگران وزیراعظم کا نہیں ، ریاست کا بھی نہیں تو پھرکس کا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ درست کہتی ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ریاست طاقت کا استعمال نہ کرے۔ ریاست طاقت کا استعمال ضرور کرے لیکن اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے اور اگر وہ طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے تو اس کی گرفت بھی ہو۔ اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ ۔ طوطے کی طرح رٹ اور زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک پہاڑ ہے جس سے جو بھی سر ٹکراتا ہے تو اپنا سر توڑتا ہے۔ فوجی آمر، عدالت کا جج، طالبان، قوم پرست اورسیاستدان کسی کے پاس اس لاعلاج کینسر کی کوئی دوا نہیں ہے۔ بنگلہ دیش بن گیا تو وہ یتیم اور بے سہارا نہیں ہوا بلکہ ہم سے زیادہ خوشحال ہے۔ سندھی، بلوچ اور پشتون میں بھی یہ سوچ پختہ ہوگئی ہے کہ اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے تو ہوسکتا ہے کہ خوشحالی آجائے۔ قرضوں اور کرپشن کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈیٹا لیک کرنے پر صحافی شاہد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی صحافی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ارشد شریف کو آواز اٹھانے پر شہید کیاگیا اور عمران ریاض خان کو لاپتہ کرکے اس کی زبان خراب کردی گئی ہے۔ قرآن تو ایک انسان کے بیگناہ قتل کو ایسا قرار دیتا ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کیا ہو۔
ریاست بھی ظالم ہے اور مذہبی وقوم پرست تنظیمیں بھی ظالم ہیں ۔ فرعون کا ظلم قرآن میں ہے اور بنی اسرائیل کے کرتوت بھی قرآن میں ہیں۔ فرعون کے ہاتھ سے جو بچتا تو قرآن میں ہے کہ خضر علیہ السلام نے بھی بچے کو قتل کیاتھا۔ ان معصوم لوگوں کے قتل اور آپس کی لڑائی میں بھی بسا اوقات خیر ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑلیا تو اسکے پیچھے ایک بڑے فلسفے کا سبق قرآن میں قیامت تک عوام کو مل گیا۔ حضرت موسیٰ شرک کے خلاف تھے اور حضرت ہارون نے تفریق کو شرک سے بڑا جرم سمجھ لیا۔
اگر ہماری قوم پر سختیاں نہ آتیں تو ہم بھی یورپ اور ترقی یافتہ دنیا کی طرح فحاشی کے سیلاب میں غرق ہوجاتے اور پھر اس سے نکلنا زیادہ مشکل ہوتا۔ تھوڑی بہت آزمائش سے ہماری قومیں بڑی مصیبت سے بچ گئی ہیں۔
اگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو آزمائش کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو اس کی صلاحیتوں میں کبھی ایسا نکھار نہیں آسکتا تھا۔ باپ پر تشدد اور مسخ شدہ لاش نے دل چھنی کردیا لیکن رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اللہ کو ٹوٹے ہوئے دلوں میں تلاش کرو”۔ ماہ رنگ بلوچ کی وجہ سے لاکھوں خواتین اور بچیوں کے رحجانات ، جذبات اور کردار کا رُخ زندگی میں مقصد اور انقلاب کی طرف مڑ گیا ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، مدارس اور جماعت اسلامی بہت زیادہ عملی صلاحیتوں اور خیرات ،زکوٰة، صدقات اور چندوں کی رقم خرچ کرکے بھی ایک ماحول تو دے سکے ہیںلیکن ان کو مقصدیت کی طرف نہیں لاسکے ہیں۔ ایک نظریہ انسان کو مقصدیت دیتا ہے۔ جب عورت مارچ کے خلاف پوری ریاست کھڑی تھی۔ سیاسی جماعتیں، جامعہ حفصہ و لال مسجد والے اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کو حکومت نے سڑک کی ایک طرف اشتعال انگیز جلسے کی اجازت دی تھی اور دوسری طرف عورت مارچ نے وہاں سے گزرنا تھا تو بیچ میں کنٹینر بھی کھڑے ہوتے تو پاک فوج کے جرنیلوں کی بھی اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہاں سے گزرتے لیکن پولیس کوچھوٹی اسٹک دے کر ٹینٹ کے کپڑے کی دیوار کیساتھ کھڑا کیا گیا تھا۔ تاکہ آسانی سے عورت مارچ کی خواتین کو ہدف بنائیں۔ جب خواتین پر حملہ کیا گیا تو ٹرک میں وہ اپنے تحفظ کی خاطر اپنے سروں کو بھی کپڑوں سے بچانے کی کوشش کررہی تھیں اور ہنس بھی رہی تھیں۔ جس خوف پر انہوں نے کنٹرول کیا تھا وہ ان کی نظریاتی پختگی کا کمال تھا۔ ان کے خلاف جس طرح کا غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا وہ بھی شرمناک تھا۔
اگر ہدی بھرگڑی ، فرزانہ باری ، عصمت شاہ جہان اور دوسری بہادر خواتین اس مارچ کی قیادت کرکے کامیاب نہ بناتیں تو شاید بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت بھی آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جگہ کسی جوانمرد کے ہاتھ میں ہی ہوتی۔ میرے خیال میں آصف علی زرداری کی خواہش پرPDMکی حکومت بننے کیلئے سب سے بڑی ڈیمانڈ یہ رکھی گئی تھی کہ بلاول بھٹو8مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہوگا اور عورت مارچ کی کہانی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اسلئے کہ باقی پارٹیاں تحریک انصاف، ن لیگ، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی اور سب جماعتوں کے قائدین نے عورت مارچ کی بہت کھل کر مخالفت کی تھی لیکن بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی نے اس کو زبان کی حد تک سپورٹ کیا تھا اور اس کا پھر پیپلزپارٹی نے جب کفارہ ادا کیا توPDMکے دورمیں وزیرخارجہ بن گئے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پتہ نہیں کہ پختون بے غیرت اپنی بہن بیٹی کا حق مہر بھی کھا جاتا ہے۔سندھی وراثت کے ڈر سے اس کی قرآن سے شادی کراتاہے اور پنجابی بے غیرت حق مہر تو دور کی بات جہیز بھی مانگتا ہے۔ بلوچی سماج الحمدللہ ان برائیوں سے پاک ہے اسلئے انگریز نے اس کو سب سے زیادہ عزتدار قرار دیا ہے۔ جب اپنی بہن بیٹی اور بیوی کے معاملات میں عزت نہ ہو تو پھرکہاں سے عزت آئے گی؟۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ریاست سے پہلے سماج کی جنگ لڑے۔ سماج سے زیادہ مذہبی طبقات نے عورت کو اپنے حقوق سے محروم کیا ہے۔ اگرچہ ریاست نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے لیکن مولوی اس حق کو شرعی نہیں مانتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ قوم پاکستان سے آزادی چاہتی ہے؟۔ یہ بہت بڑا سوال ہے اور اس پر بلوچ قوم تقسیم ہوسکتی ہے اور متفق بھی ہوسکتی ہے ۔ لیکن کیا عورت اپنے شوہر سے خلع لے سکتی ہے؟۔ بالکل لے سکتی ہے۔ ریاست نے بھی اس کو خلع کا حق دیا ہے اور شریعت نے بھی دیا ہے لیکن مولوی اس حق کو نہیں مانتا ہے۔ اگر عورت عدالت سے خلع لے لیتی ہے تو مولوی کا فتویٰ ہے کہ یہ خلع معتبر نہیں ہے۔ جب تک شوہر راضی نہ ہو تو عورت کو عدالت خلع نہیں دے سکتی ہے۔ بالفرض ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ریاست شوہر ہے اور عوام اس کی بیوی ہے اور بیوی کو عدالت پورا پورا حق دیتی ہے کہ وہ جدا ہوجائے ۔ لیکن ریاست نہیں مانتی ہے تو اس کو اپنا حق حاصل کرنے کیلئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی اورBLAوغیرہ مذہبی لوگ نہیں مگر بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی تو مذہبی طبقات ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیاہے؟ لاالہ الا اللہ ! ۔ آرمی چیف سید عاصم منیر آج بھی یہی کہتا ہے لیکن یہ ایک فرد سے تو معاملہ نہیں بن سکتا ہے۔ آرمی چیف بدل جائے لیکن باقی ساری مشینری کھڑی ہو تو جس طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بدل جانے سے بھی بلوچ نہیں بدلے گا اسی طرح ریاست کے ایک دوافراد کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
جس دن بلوچ قوم نے قرآن کی بنیاد پر مولوی کو بدل دیا تو نہ صرف اپنے پاکستان میں بلکہ ایران وافغانستان میں بھی بلوچ کو حقیقی آزادی مل جائے گی۔ جس کے اثرات پوری دنیا کے مسلمانوں اور عالم انسانیت پر بھی پڑیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گولی اور گالی سے زیادہ افہام وتفہیم سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اور دنیا کی سطح پر ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مرید جن میں کورکمانڈر سندھ جنرل نصیراختر اور آرمی چیف جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ کے علاوہ بہت سارے فوجی افسران شامل تھے ۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ ، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء اور بڑے مدارس کے اساتذہ اور ائمہ مساجد کے علاوہ تبلیغی اور بہت بڑی تعداد میں مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے۔ پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچ اور مہاجر سب قومیتوں کے لوگ بھی تھے۔ لیکن آزمائش کے وقت سب کی اوقات کا پتہ چل گیامگر کچھ لوگ تمام قوموں میں ایسے نکلے جنہوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔ فوجی ٹرکوں میں ہمارے ساتھیوں کو پکڑ کر پولیس تھانے لے جاتی تھی پھر تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک انقلاب برپا کیا ہے۔
جب ایک مسجد پر قبضہ ہورہاتھا تو جن لوگوں نے ہم پر فتوے لگائے تھے اس مسجد کے امام سے ہمارا کہا گیا کہ ”اگر یہ لوگ ساتھ دیں تو یہ مسجد بچ سکتی ہے”۔ جب وہ ہمارے پاس آیا تو ہم نے نہیں کہا کہ جنہوں نے بیہودہ فتوے دئیے ہیں اب مدد مانگنے کیلئے آگئے؟۔ البتہ ان کو جماعت کی بنیاد پر نہیں ذاتی طور سے مد د کا وعدہ دیا۔ وہاں پہنچے تو مسجد میں تقریر کی اور لوگوں سے کہا کہ کچھ غیرت کرو۔ مسجد کے امام اور اپنی مسجد کو بچاؤ۔ اس دوران ایک فوجی کیپٹن اور اس کے ساتھ سنی تحریک کے معروف کردار وحید قادری آگئے۔ کیپٹن نے بھی ہری پگڑی پہن رکھی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ میں کیپٹن ہوں اور ہمیں اپنے ساتھ لے گیا۔ جب ان سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ ” یہ سار ا فساد ہماری ریاست اورحکومت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک مسلک کے لوگ مسجد بنالیتے ہیں اور پھر دوسرے مسلک کے لوگ حکومت وریاست کی طاقت سے یا اپنی اکثریت اور طاقت سے قبضہ کرلیتے ہیں۔ جس میں فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے اور حقدار بھی اپنے حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اگر ریاست کی یہ پالیسی ہو کہ جہاں جس مسلک کی اقلیت ہو تو وہاں پر اس کو مسجد کی تعمیر کی اجازت نہ ہو یا پھر اس کی رجسٹریش ہو اور دوسرے اس پر قبضہ نہ کرسکیں تو یہ معاملات نہیں بگڑیں گے”۔ اس دوران فولڈنگ والی کرسی میرے نیچے بیٹھ گئی اور میری ایک ہاتھ کی انگلی بھی کچل گئی۔ فوجی نے مرہم پٹی کی اور ہمیں عزت کیساتھ چھوڑدیا اور پھر کراچی میںمساجد کی رجسٹریشن بھی ہونے لگی اور فسادات کا مسئلہ حل ہوگیا۔ اگر لاٹھیوں اور گولی کا سلسلہ چلتا رہتا تو کراچی کی مساجد میں ایک نہ رکنے والے فساد کی وجہ سے نقصان جاری رہتا۔
ہم مسلک ، قوم اور ملک کی بنیاد پر کسی کا ساتھ دینے کے قائل نہیں ہیں بلکہ حق اور باطل ، ظالم اور مظلوم ، طاقتور اور کمزور کو دیکھ کر اپنی فطرت کے مطابق ہی ساتھ دیتے ہیں۔ باطل ، ظالم اور طاقتور کا ساتھ دینا بہت فضول سی بات ہے۔
جب عورت مارچ کی سبھی مخالفت کررہے تھے تو بھی ہم نے اپنی اوقات کے مطابق ساتھ دیا۔MNAعلی وزیر کی طرح تقریر کرکے رفو چکر نہیں ہوئے بلکہ میڈیا اور میدان میں بھرپور ساتھ دینے کیلئے آخری وقت تک ساتھ دیا۔ ان پر پریس کلب سےDچوک جاتے ہوئے حملہ ہوا تو بھی ہمارے ساتھی ساتھ تھے اور جب واپسی گاڑی اٹھانے کیلئے جارہے تھے تو بھی ان کے ساتھ رہے۔
اپنے اخبار اور کتاب میں بھی ان کو بھرپور کوریج دی۔ اگر وہ ہمارا مشن لیتے تو عورت کے حقوق کی حقیقی جنگ بھی جیت چکے ہوتے مگر انکے شاید این جی اوز کے بھی کچھ اپنے مسائل ہیں۔ ان کوسنجیدہ حقوق سے زیادہ کچھ اور آزادی چاہیے لیکن وہ کمزور اور مظلوم تھیں اسلئے ہم نے بھرپور ساتھ دیا تھا۔PTMکے مشکل وقت میں بھی ہم نے میدان میں اخبار میں بھرپور ساتھ دیا مگر تعصبات کو ہوا دینا اچھا نہیں لگتا ہے۔ لوگوں کو اپنی قوم ، اپنے علاقہ اور اپنی زبان سے محبت ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور اسلام بھی اس کی ترویج کرنے کاحکم دیتا ہے مگر اپنی قوم سے محبت اور دوسرے سے نفرت غلط ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان چلنا دنیا میں پل صراط اور کان کے پردے سے زیادہ باریک ہے۔
میرا بھائی ذوالفقار علی بھٹو سے بڑی محبت رکھتا تھا ،لیہ پنجاب میںSDOواپڈا اور پھر ایکسین کے عہدے پر ترقی ہوئی تو اپنے آفس میں تین نوکریوں پر وہاں محسود قوم کے افرادواپڈا دفتر لیہ پنجاب میں لگائے۔باپ عبدالرحیم (ادرامی)چوکیدار،ایک بیٹا جلات خان چپڑاسی، دوسرا سٹور چوکیدارلگادیاتھا۔ لیکن جب ٹانک شہر میں تبادلہ ہو ا تھا تو ایک سرائیکی بھی بہت مشکل سے لگایا تھا جس کی اوپر سے سفارش تھی مگرسفارش کا لحاظ نہیں رکھنا تھا بلکہ حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے چپڑاسی لگادیا۔ وہMSCکیمسٹری تھا اور اس کا دوسرا بھائیMSCفزکس تھا جو میرے سکول میں ٹیچر تھا ۔حالانکہ ٹانک شہر اور اس کے آس پاس کا علاقہ بھی اصل میں سرائیکیوں کا ہے۔ میرے بھائی نے کہا کہ کالے سرائیکی کی جگہ سرخ وسفید پشتون کو لگاتا لیکن حافظ تھا اسلئے اس کو نوکری دے دی۔ ہمارے خاندان کا تعلق قوم پرست جماعتوں سے بھی نہیں رہاہے لیکن پھر بھی یہ ہوگیا۔
قرآن میں انصار ومہاجرین کی تعریف ہے لیکن خلافت کے مسئلے پر انکے اختلاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انصار میں اوس و خزرج اور قریش میں بنوامیہ اور بنی ہاشم میں ٹھن گئی تھی۔ بنوامیہ و بنوعباس کی خلافت کا سلسلہ تعصبات کا نتیجہ تھا۔ شیعہ اور سنی فرقوں کے مستقل اپنے اپنے عقائد اور نظریات ہیں۔
حامد میر کو اللہ خوش رکھے۔ بلوچ خواتین کیلئے بہت بڑا سہارا بن گئے ۔جس کی وجہ سے لسانی نفرتوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ بلوچ کی نفسیات کو سمجھے بغیر اس کی سپورٹ اچھی بات ہے لیکن اس کی نفسیات کو سمجھ کر پھر سپورٹ کرنے کا مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔ حامد میر نے کہا کہ جب مجھے گولیاں ماری گئیں تو میرا گارڈ بلوچ تھا اور ڈرائیور پٹھان تھا۔ پٹھان نے کہا کہ لیاقت ہسپتال لے جاتے ہیں وہ قریب ہے اور بلوچ نے کہا کہ یہ وہاں بھی پیچھا کریںگے۔ میں نے کہا کہ پھر آغا خان لے جاؤ۔ جب میری گاڑی یوٹرن لے رہی تھی تو مجھے ٹوٹے ہوئے شیشہ کی وجہ سے قریب سے پیٹ میں گولی ماری گئی ”۔ حامد میر کو معلوم نہیں کہ لیاقت نیشنل بھی آغا خان کیساتھ بالکل لگاہوا ہے۔ پٹھانوں اور بلوچوں کو خوش کرنا اچھا ہے۔
حامد میر نے کہا ”خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سکیورٹی گارڈ تھے” اور اس خیر بخش مری کو ہی ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ اپنا آئیڈل سمجھ رہی ہے۔ خیر بخش مری ایک نواب تھا ۔ سردارسے بڑا درجہ نواب کا ہوتا ہے اور نواب سے بڑا درجہ خان کا ہوتا ہے۔ رحمن ڈکیٹ بینظیر بھٹو کا چیف سکیورٹی گارڈ تھا اورپیپلزپارٹی نے اس کو ”سردار عبدالرحمان بلوچ” کا سٹیٹس دیا تھا۔ بلوچ اس کو سردار تو نہیں سمجھتے تھے مگر بینظیر بھٹو کو سکیورٹی فراہم کرنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ڈکیت اورنواب میں بڑا فرق ہے۔ نواب خیر بخش مری کا دادا بھی نواب خیر بخش مری اول تھا اور اس نے انگریزکی فوج کے خلاف تحریک اٹھائی تھی کہ بلوچ بھرتی نہیں ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ خان آف قلات نے اس کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کئے۔ انگریز اور خان آف قلات کی قربتیں تھیں۔ نواب خیر بخش مری کے دادا خیربخش مری انگریز کے باغی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کو نواب آف قلات نے اپنا ملازم لیگل ایڈوائزر رکھا تھا۔ جنرل ایوب خان وردی میں فاطمہ جناح کیخلاف الیکشن لڑرہاتھا تو بلوچ ،پشتون، پنجابی، سندھی اور بنگالیوں کی مشترکہ پارٹی نیشنل عوامی پارٹی نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور نواب خیربخش مری پارٹی کے بڑے اہم رہنما تھے اور فاطمہ جناح کو فوج سے تحفظ دیا تھا ۔ اس کو چیف سکیورٹی گارڈ کا نام دینا ان کی توہین ہے۔ ایک دوسرے بلوچ اہم رہنما غوث بخش بزنجو بابائے جمہوریت کہلاتے تھے۔ عبدالقدوس بلوچ کے رشتہ دار یوسف نسکندی ان سے کہتے تھے کہ جمہوریت چھوڑ دو اور بندوق اٹھاؤ۔ شیر محمد مری بندوق اٹھانے سے مایوس ہوکر بیٹھ گئے تھے جس کا سن 1980میںBBCپر انٹرویو موجود ہے۔ اور اس نے کہا تھا کہ ایک دن پوری بلوچ قوم پاکستان کے خلاف اٹھے گی۔
ہمارے اخبار اور کتابوں میں پروفیسر غفور احمد، ڈاکٹر اسرار، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف ، صوبائی امیر مولانا امان اللہ ، جمعیت علماء پاکستان شاہ فرید الحق ، علامہ طالب جوہری سے لے کر بڑے چھوٹے مدارس ، ضلع ٹانک کے اکابر علماء ، چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی پولیس ، ڈی آئی جی اور تمام مکاتب فکر اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا بیان چھپتا تھا لیکن جب یوسف نسکندی کا بیان چھپ گیا تو میرے بھائی پیرنثار نے کہا کہ صرف اسی شخص نے تمہاری تحریک کو سمجھ لیا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ بلوچ کو سادہ مت سمجھو ۔ ان کی تحریک بہت مضبوط اور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی ہے اور یہ چیف سکیورٹی گارڈ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ پاکستان کی ریاست نے جبری غلام بنایا ہے اور جان چھڑانی ہے۔
ہمارے قریب میں جو شیرانی قبیلہ ہے وہ کان کو ہاتھ لگانے کو برا سمجھتا ہے۔ پنجابی کھلے عام پدو مارنے کو برا نہیں سمجھتے اور دوسرے سمجھتے ہیں لیکن ان چیزوں کو تعصبات کا رنگ بھی نہیں دینا چاہیے اور ایک دوسرے کی نفسیات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو یتیم کی طرح رل نہیں گیا بلکہ خوشحال ہوگیا۔ بلوچ اور سندھی انگریز کی فوج میں بھرتی کے خلاف تھے۔ یوسف مستی خان سندھی بلوچ اتحاد کے حامی اور خیربخش مری کے ساتھی تھے۔تربت و بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پنجابی اور پشتون اسلئے مارے گئے کہ قوم پرست سمجھتے تھے کہ یہ جاسوس کا کام کرتے ہیں۔ پٹھان اور پنجابی انگریز کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اگر اسلام کی بنیاد پر کچھ معاشرتی مسائل حل ہوجائیں تو پھر قوموں اور ریاست کی تمام مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔ کسی کو شوق نہیں ہے کہ حلالہ کی لعنت سے اپنی بیگم کی عزت خراب کرے لیکن جب مذہب مجبور کرتا ہے توپھر پٹھان، بلوچ، پنجابی ، سندھی اور مہاجر سب بے غیرتی پر مجبور ہوتے ہیں۔
قرآن وسنت میں عورت کو خلع کا حق دیا گیا ہے ۔ گھر کا ماحول ایک چھوٹی ریاست کا ہوتا ہے اور جب صنف نازک عورت کو تحفظ قرآن نے دیا ہے مگر ہمارا مولوی اور ہمارامعاشرہ عورت کے حق کو نہیں مانتا۔ شوہر عورت کو چھوڑنے کے بعد ماں کا لخت جگر چھین لیتا ہے۔ جب تک سماج کو مردوں کی غلط بالادستی سے عورتوں کو تحفظ نہیں ملتا ہے تو قرآن کے مطابق معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔
عورت صنف نازک ہے مگر مضبوط اعصاب کی مالک بھی ہے اور اس سے مردوں کے مقابلے نرمی اور عزت سے پیش آنے کا معاملہ بھی فطری ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قومی تحریک کا رخ بدل دیا ہے۔ اگر حضرت عائشہ نے حضرت علی کے خلاف حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ نہیں کیا ہوتا تو لوگ حضرت عثمان کی مظلومیت کے بجائے اس کے فسادی ہونے پر یقین کرتے اور اگر کربلا کے بعد حضرت زینب حسین کی مظلومیت پر آواز نہ اٹھاتیں تو امام حسین پر بھی فسادی کے الزام لگتے ،اسلئے کہ حضرت علی ، حسن اور بعد کے ائمہ اہل بیت نے وہ اقدام نہیں اٹھایا جو حسین نے اٹھایا۔ علماء نے باغی قرار دینا تھا۔
اہل سنت کے امام ابوحنیفہ ، مالک، شافعی اور ابن حنبل نے مقتدر طبقے سے مار کھائی لیکن شاگردوں نے اسلام کو بگاڑ دیا۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا تو قربانیاں تاریخ کا حصہ بن سکتی ہیں لیکن معاشرے کو ظلم وجبر سے نکالنا مشکل ہے اور جب نظام کو بنیاد سے ٹھیک کیا جائے تو پوری دنیا میں انقلاب آسکتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم قرآن و بائبل پر پابندی لگائیں، ہندو

ہم قرآن و بائبل پر پابندی لگائیں، ہندو

غیر ہندی مذاہب میں عورت کا احترام نہیں ہندی مذاہب میں ہے۔
ہندوستان بہت مقروض ہے کرپشن بڑا مسئلہ ہے عوام کو ٹیکس دینا ہوگا

انڈین سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اشوینی اُپادھیائے نے ویڈیو بیان میں کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت دھرم نرپیکش (سیکولر)نہیں ہے سیاستدانوں نے ہمیں پڑھا دیا ہے اور ہم نے اس کو سن لیا ہے۔ دین کیلئے انگریزی میں کوئی لفظ ہی نہیں ہے۔Religionدھرم (دین) نہیں ہوتا۔Religionپنتھ (مذہبی فرقہ) ہوتا ہے۔اگر بھارت دھرم نرپیکش (سیکولر) ہوتا تو نہ ہائیکورٹ کے جج کی کرسی پرلکھا ہوتا ستیم، شیوم، سندرم (حق، خوبی، حسن) اور نا سپریم کورٹ کے جج کی کرسی پر لکھا ہوتا ”مذہب اول ہے“ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے، بھارت دھرم نرپیکش (سیکولر)نہیں ہے بھارت پنتھ نرپیکش (مخصوص فرقہ کی نمائندگی کرنیوالا) ہے۔ اب سوال یہ آیا کہ وید پڑھا سکتے ہیں تو بائبل قرآن کیوں نہیں پڑھاسکتے؟۔ سردار جی شاید یہی بات کہنا چاہتے ہیں۔ نہیں کہہ پارہے میں کہہ دیتا ہوں۔ بالکل نہیں پڑھا سکتے۔ بائبل قرآن نہیں پڑھاسکتے کیونکہ بائبل میں سبھی انسانوں کو ایک جیسا احترام اور عزت نہیں دی جاتی لیکن ہمارا تصور ہے کہ سب ایک جیسے ہیں۔ بائبل میں کرسچن اور غیر کرسچن کے درمیان فرق ہے اسلئے نہیں پڑھائی جاسکتی۔ قرآن نہیں پڑھائی جاسکتی۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام اور غیر اسلام، مسلم اور غیر مسلم کو برابر نہیں مانا گیا، اس میں فرق کیا گیا ہے۔ وید پران یہ نہیں کہتا ہے آپ سکھ ہو، جین ہو، ہندو ہو، کچھ نہیں کہتا۔ وہ تو کہتا ہے کہ ستانگ یوگ (ستانگ مطلب سات ستون۔یوگ مطلب اتحاد) پر عمل کرو۔مسلم ہو،قوانین پر عمل کرو۔ ذہنی اور جسمانی طور پر مثبت کام کرو۔ اخلاق، کردار، نیکی، شرافت، سچائی، امانت، دیانت اورایماندار ی کرو۔ اسی طرح کی باتیں ہیں اسلئے وید پران پڑھایا جا سکتا ہے۔ آپ اس کو دو طریقے سے سمجھئے۔ دنیا میں 11سو مذاہب ہیں اور بھارت میں دو طریقے کے مذاہب ہیں۔ ایک بھارت کا اصل مذہب اور دوسرا غیر ملکی مذہب۔ بھارت میں دو طریقے سے فرقے ہیں دھرم (دین) نہیں دین تو پوری دنیا میں ایک ہی ہے۔ سکھ ازم، جین ازم، بدھ ازم بھارت میں شروع ہوا اس کو کہتے ہیں انڈین مذہب۔ عیسائیت، اسلام یہ غیر ملک میں ہوا اسلئے اس کو کہتے ہیں غیر ملکی مذہب۔ انڈین مذہب اور غیر ملکی مذہب میں فرق کیا ہے اس کو سمجھئے۔ انڈین مذہب جین ازم، بدھ ازم، سکھ ازم اور ہندو ازم میں عورتوں کو بہت عزت و احترام دیا گیا ہے۔ عورتوں کو(پوجنی) مقدس مقام حاصل ہے۔ کسی بھی غیر ملکی مذاہب میں عورت کو یہ تقدس حاصل نہیں ہے۔ انڈین مذہب میں انسانوں کے درمیان تفریق نہیں کی گئی ہے۔ گروواڑیں میں کہیں لکھا ہوا ہے آپ مجھے بتاؤ؟۔ جو سکھ فرقہ مانے وہ تو ٹھیک جو سکھ نہ مانے وہ غلط ہے کہیں لکھا ہے؟۔ گروگرنتھ صاحب میں کہیں لکھا ہوا ہے کیا؟ نہیں لکھا ہوا ہے۔، اس میں لکھا ہوا ہے۔ اس لئے پہلی بات تو یہ کہ دنیا میں دھرم (دین) ایک ہے۔ پنتھ (مذہب، فرقے) الگ الگ ہیں۔ لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سب دھرم ایک جیسے ہیں بالکل غلط بات ہے جب سب کی کتابوں کی تعلیمات الگ الگ ہے، کتابوں میں اونچ نیچ کی تفریق ہے، کچھ کتابوں میں اچھوت اور غیر اچھوت کی باتیں ہیں تو سب ایک جیسے کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ ہاں ہندو ازم، جین ازم، سکھ ازم، بدھ ازم کی تعلیم تقریباً ایک جیسی ہے۔ نہ اس میں کسی کو مذہب تبدیل کرنا سکھایا گیا ہے۔ نہ اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جو نہ مانے اس کو قتل کردو۔ کہیں یہ نہیں لکھا کہ جو نہیں مانتا اس کو کیسے بھی کرکے دھوکہ دے کر، لالچ دے کر پیار سے ان کو کنورٹ کرکے لاؤ۔ نہ سکھ ازم میں لکھا ہے نہ کہیں جین ازم میں لکھا ہے نہ بدھ ازم میں لکھا گیا ہے نہ سنتن دھرم (ابدی مذہب) میں لکھا ہواہے۔ اسلئے بھارت دھرم نرپیکش نہیں ہے بھارت پنتھ نرپیکش ہے۔ اور یہ باتیں ہمیں اسلئے نہیں پتہ ہیں کیونکہ ہم لوگوں کو اسی لئے وید پران کو پڑھانا ضروری ہے۔ ہمارے بچوں کو پتہ رہے ہمارے پاس ہر چیز کا جواب ہو۔ ہم کہیں غلط قدم نہ اٹھالیں۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بھارت میں سناتن شکشا(قدیم تعلیم، جس کے اصول میں ایک خدا کی عبادت کرنا، نیک اعمال کرنا، برے اعمال سے بچنا، تمام مخلوقات سے محبت کرنا، مشکلات میں صبر کرنا اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا شامل ہے۔) لاگو ہو۔ سناتن شکشا لاگو ہوتی تو نہ آپ مجھ سے یہ سوال کرتے نہ میں آپ کو جواب دیتا۔
اس وقت بھارت پر ٹوٹل150لاکھ کروڑ کا قرضہ ہے۔70لاکھ کروڑ کا قرضہ صوبوں پر ہے اور80لاکھ کروڑ کا قرضہ وفاق پر ہے۔6لاکھ کروڑ اتر پردیش پر ہے،4لاکھ کروڑ مدھیا پردیش پر ہے، کوئی ایسا صوبہ نہیں جو گھاٹے میں نہیں ہے۔ دلی جو کہ سب سے چھوٹا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ مفت خوری چل رہی ہے وہ بھی50ہزار کروڑ کے قرضے میں ہے۔ کیرالہ جیسے چھوٹے صوبے پر3لاکھ کروڑ کا قرضہ ہے۔3لاکھ کروڑ کا قرضہ آپ کے چھتیس گڑھ پر ہے۔4لاکھ کروڑ کا قرضہ بہار پر ہے۔ سارے صوبے قرضے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اب اُدھار لے کر گھی پینا یا اُدھار لیکر مٹھائی کھانے سے کیا حالت ہوگی یہ توآپ اپنے خاندان میں سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں موج مستی ہورہی ہے گھر کے اوپر قرضہ بھی ہے اُدھار چڑھا جارہا ہے پھر بھی بڑی موج مستی ہورہی ہے تو گھر کی کیا حالت ہوگی؟ گھر بچے کا کیا؟۔ جب گھر نہیں بچے گا تو ملک کیسے بچے گا؟۔ ہمارے یہاں مفت خوری روکنے والی جو پٹیشن ہے وہ تین ججوں کو ریفر ہوگئی ہے۔ ہم نے اس میں یہ کہا کہ جو چیزیں حکومت عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے دے رہی ہو وہ تو مفت میں ہوسکتی ہے۔ تعلیم مفت میں ہوسکتی ہے، سڑک میں چلنا مفت میں ہوسکتا ہے، پانی بھی ایک طرح سے مفت میں ہوسکتا ہے حالانکہ پانی مفت میں نہیں دینا چاہئے کیونکہ پانی کی بربادی زیادہ ہوتی ہے۔ پانی کا استعمال محدود نہیں ہے کہ اس کو مفت میں دے دیا جائے۔ کچھ لیٹر دیا جاسکتا ہے کہ غریب آدمی کو لیکن مفت میں نہیں ہونا چاہیے۔ اور ویسے بھی ہمارے پاس4%پانی ہے۔ یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے اسلئے سپریم کورٹ بھی ایگری ہے اسلئے دو ججوں کی بنچ کے بعد تین ججوں کو ریفر کردیا۔ اور پارلیمنٹ میں بھی اس کا شور ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے بھی اس کو مفت کی ریوڑی قرار دیا۔ ابھی سیاستدانوں کو لگتا ہے کہ عوام مفت خور ہے۔ جو ٹیکس نہیں دیتا اس کو پریشانی نہیں۔ اپنے بچے کو5سو کی نوٹ دیتے ہو اگلے دن پھر5سو مانگتا ہے پوچھتے ہو ناکہ کل5سو دیا کیا کیا؟۔ اور ہر سال لاکھوں روپے ٹیکس دے رہے ہو اور پوچھ ہی نہیں رہے ہو منتخب ہونے والے نمائندے اور پارلیمنٹ سے میرے ٹیکس کے پیسے کا ہو کیا رہا ہے یہ؟۔یہ میرا پیسہ بربادی میں کہاں جارہا ہے؟۔ اس ملک میں 10کروڑ ٹیکس پیئر ہوچکے۔ بدعنوانی اور کرپشن ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر بھی بھارتی کورٹ میں ایک پٹیشن چل رہی ہے۔100روپے سے بڑے نوٹ کی ضرورت نہیں بھارت میں۔ لیکن جھوٹ جرم ہوجائے تو بس آدھی پریشانیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ صرف جھوٹ بولنے اور جھوٹا ایفی ڈیوٹ دینے پر، جھوٹا بیان دینے پر سزا ہو۔

انڈین سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اشوینی اُپادھیائے کو جواب: نوشتہ دیوار
وکیل صاحب نے جتنی باتیں کی ہیں ان میں بہت بڑے حقائق ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس نے ہندو مذہب کے ویدوں کو دین قرار دیا ہے اور باقی عیسائی، اسلام، یہودیت اور سکھ و بدھ مت وغیرہ کو مذاہب قرار دیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ وکیل صاحب نے ہندوستان میں داخلی طور پرپروان چڑھنے والے مذاہب ہندو، بدھ مت، جین اور سکھ کو ایک الگ حیثیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں خواتین کو بہت احترام کا درجہ دیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں خواتین کو اس طرح کا احترام بالکل بھی حاصل نہیں ہے۔
تیسری بات یہ کی ہے کہ اسلام اور عیسائیت وغیرہ میں یہ مسئلہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے اندر شمولیت کی دعوت دیتے ہیں جبکہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے ملکی مذاہب دوسروں کو اپنے مذہب کی دعوت نہیں دیتے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں پیدا ہونیوالے مذاہب انسانوں میں کوئی فرق نہیں رکھتے جبکہ دوسرے رکھتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ ہندوستان میں قرآن اور بائبل پر پابندی لگانی چاہیے جبکہ ویدوں کو پڑھانا چاہیے۔
وکیل صاحب کی ان تمام باتوں میں بہت وزن ہے اور ان ساری باتوں کو ایک ایک کرکے اسلام اور ویدوں کا موازنہ کرنا چاہیے۔ یہ ممکن ہے کہ جس طرح وید نے خود کو مذہب نہیں دین کہا ہے اور ہندو اس کو دین سمجھتے ہیں تو یہی بات سب کو قرآن میں بھی مل جائے۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ دین ایک ہے البتہ جب لوگ دین چھوڑ کر مذہب بنالیتے تھے تو پھر اس دین کی تجدید نئے نبی کے ذریعے سے ہوجاتی تھی۔ ویدوں میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ برہمن اور اچھوت میں فرق رکھا جائے مگر جب ہندوؤں نے دین کو مذہب بنادیا تو بہت سارے بگاڑ پیدا ہوگئے۔ اور ان بگاڑ میں نسلی تفریق کے علاوہ عورتوں کا بیوہ بن جانے کے بعد زندہ جلادینا اور انگریز سرکار کی طرف سے اس پر مہربانی کرکے پابندی لگائی گئی تو آج اس کے بال بھی منڈوائے جاتے ہیں جو عالمی منڈیوں میں بکتے ہیں۔
ہم طعنہ نہیں دے رہے ہیں جو حال ہندوؤں نے ویدوں کا کیا ہے وہ مسلمانوں نے قرآن و سنت کا کیا ہے۔ اگر اپن مل جائیں تو وید اور قرآن ایک ہی دین ہیں جن میں صرف زبان کا فرق ہے۔ وید نوح علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، قرآن آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر جس کا ہندوستان کی مشہور شاعرہ لتا حیاء نے بار بار ذکر بھی کیا ہے۔ اس طرح جن جن مذاہب نے اپنا دین بگاڑا ہے ان کو ہم مل جل کر قرآن اور ویدوں کے ذریعے سے مذاہب سے ہٹ کر ایک دین میں لوٹا سکتے ہیں۔ و السلام

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان میں دہشت گرد مسلح تنظیمیں مسئلہ ہیں۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

بلوچستان میں دہشت گرد مسلح تنظیمیں مسئلہ ہیں۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

(اسلام آباد) وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پریس بریفنگ کے دوران جواب دیتے ہوئے بہت کچھ کہا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں بلوچستان سے آئے ہوئے احتجاجی بلوچوں سے ہماری بھی ہمدردیاں ہیں۔ بلوچستان میں ؒٓBLAوغیرہ کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ان دہشت گردوں کے لواحقین اور بچے بھی ہوتے ہیں اور اپنے دہشت گرد باپ، بیٹے، بھائی اور رشتہ داروں سے محبت ہمدردی ہوتی ہے۔ ہمیں اس چیز کا بھی احساس ہے۔ جو لوگ مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں اور ان کے حق میں کالم لکھ رہے ہیں۔ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کھل کر پھر بندوق اٹھائیں اور دہشت گردوں کیساتھ مل کر ریاست کے خلاف لڑیں۔سن1970میں کالم نگار (نجم سیٹھی) ان کیساتھ لڑنے کو پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے جن کا میں نام نہیں لوں گا۔
ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے کہ ہزاروں افراد کے قاتلوں کو سزا نہیں دے سکا۔ نگران وزیراعظم کا یہ کام نہیں کہ نظام کو درست کرے۔ دہشتگردوں نے بلوچوں کو بھی مارا۔یہ مجھے بھی ماردیں گے۔ دو فیصد بیرونی فنڈز سے دہشتگردی کرتے ہیں۔98فیصد بلوچ ریاست کیساتھ ہیں۔ریاست نمٹ سکتی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
(اسلام آباد) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آپ جو اتنے بڑے بڑے کیمرے لاتے ہو،وہاں (بلوچستان، کوئٹہ) پرکوئی نہیں آتا۔بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جب آپ کیFCعورتوں کو مارتی ہے۔جبFCنے خوشاب میں دو بچوں پر گولہ بارود پھینکی وہ نیوز آپ لوگوں نے کبھی نہیں دی۔ آپ لوگوں میں سے کسی بھی میڈیا چینل کو میں چیلنج کرتی ہوں کہ آئے بلوچستان میں، آپ لوگوں میں کس نے تربت، خوشاب اور آواران دیکھا ہے؟۔ آواران میں آپ لوگوں کو ویزہ لگاکر جانا پڑے گا۔ یہ ہے وہ بلوچستان جس کو آپ نے دیکھا نہیں ہے جس کو صرف اورصرف واٹس ایپ کے پیسٹ بیانئے سے ملاکر میچ کیا ہوا ہے۔ اس بلوچستان کو دیکھنے کی آپ میں جرأت نہیں ہے۔ اگر آپ دیکھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کے اندر انسانیت ہے تو آپ کی آنکھیں شرم سے ڈوب مرنی چاہئیں۔ شرم کریں آپ لوگوں نے ایک قوم کی70سالوں سے خونریزی کی ہے۔70سالوں میں آپ نے ان کی عورتوں کو نہیں بخشا، ان کے مردوں کو نہیں بخشا۔آپ ہم سے مذمت کرواکر اپنے ریاستی جبر کو نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہم سے مذمت کروانے سے پہلے سب سے پہلے یحییٰ کی مذمت کروائیں، سب سے پہلے اپنے ہیرو پرویز مشرف کی مذمت کروائیں جس نے ایک80سالہ بزرگ اکبر بگٹی پر بھی گولہ بارود مارے، اس نے اس کو بھی مارا، ٹھیک ہے ناں جائیں! اپنی ریاستی مشینری سے مذمت کروائیں کہ اس نے بلوچوں کی نسل کشی کیوں کی۔آج بھی وہ نسل کشی کیوں کررہاہے؟۔ یہ ہے آپ کی ریاست کی حقیقت کہ رات کو ساڑھے تین بجے آپ کے ویگو میں جو نامعلوم افراد ہیں جن کو آج میں بزدل کہتی ہوں۔ تم سے زیادہ بزدل تو کوئی ہے نہیں۔یہ ہے ریاست جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کی یہ بچکانہ سوچ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو مارنے کے بعد جب یہ عورتیں آئی ہیں اپنے گھروں میں خوشیاں لانے کیلئے آپ پھر ان پر حملہ آور ہو رہے ہیں؟۔ کب تک آپ حملہ آورہوں گے بلوچ پر؟۔ دیکھیں پوری ہماری قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم اپنی نسل کشی کے خلاف کھڑے ہیں۔ہم اپنی زمین پر ابھی ایک قدم بھی برداشت نہیں کرینگے۔ وہ قدم وہ بندوق جو صرف اور صرف معصوم بلوچ لوگوں کو مارتی ہے۔ ہم اس بندوق کے خلاف نکلے ہیں،آپ ہمیں سخت کہیں آپ کا مکروہ چہرہ ہم دنیا کو دکھائیں گے۔ میں کشمیری سے کہتی ہوں کہ پاکستان بلوچ کی نسل کشی کرتا ہے تو وہ آپ کا بھی ہمنوا نہیں۔ آج تک عملی طور پر کچھ بھی کیا۔ آج پورا بلوچستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔سن1948سے آج2023تک بلوچ نے پرامن طریقے سے معصوم لوگوں کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حقائق ہی حقائق ذرا دیکھو تو سہی!

حقائق ہی حقائق ذرا دیکھو تو سہی!
و سنت اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام کا جن چیزوں پر اتفاق تھا اور آج بھی مسلمان ان پر متفق ہوسکتے ہیں اور سارے گمراہ ہدایت پر آسکتے ہیں کیا علماء و مفتیان اس کیلئے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں؟۔
پاکستان ایران سے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن اس کے اپنے پیٹرول کے خزانے کرک اور ڈیرہ غازیخان میں بند ہورہے ہیں۔ کیا پاکستان عالمی تجارتی مرکز ہے جس میں غیر فائدے اٹھارہے ہیں اور اپنے دلالی کرتے ہیں؟۔
طالبان نے افغانستان میں چین کی مدد سے اپنے وطن کیلئے ترقی کی راہیں کھول دی ہیں تو کیا ان کو اس بات سے دلچسپی ہوسکتی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے ذریعے ایسے حالات خراب ہوں کہ ان کی حکومت چلی جائے؟۔
امریکہ کو گوادر کے راستے چین کا دنیا کے ساتھ قریبی راستہ پسند نہیں تو کیا وہ افغانستان میں چین کا استحکام برداشت کرسکتا ہے؟۔ پاکستان نے روس اور پھر طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا تو کیا اب ایک مرتبہ پھر پنجہ آزمائی ہوگی؟۔
ANPکے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ ساری دنیا اُسامہ کو مارنے کی غرض سے یہاں آئی اور اُسامہ ہمارے صوبے میں نکلا۔ دہشت گردی کا شکار ہماری قوم پختون ہوئی اور قطر میں مذاکرات کے نتیجے میں کس کو اقتدار ملا؟۔
وجاہت سعید پہلے فوج کا ٹاؤٹ اب مخالف، جو مونچھ کو تاؤ دے رہا تھا ؟ ۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس سے کہا کہ بیرون ملک دورے میں محسن داوڑ نے کہا کہ طالبان کو طاقت کے زور پر لایا گیا ہے اور طاقت کے زور پر ہٹانا پڑے گا۔
PTMکے ایک نوجوان نے جلسے سے خطاب کیا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کھانا مانگتے ہیں اور ہمیں خوف کے مارے دینا پڑتا ہے۔ پھر کل ہمیں پکڑیں گے کہ تم سہولت کار ہو جبکہ بغیر اسلحہ کے اتنے لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔
PTMبلوچستان کے صدر نور باچا نے کہا کہ بلوچستان بارڈر پر پختونوں کو بیروزگار کرکےFCمیں بھرتی کیا جارہا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے بلوچوں کو قتل کیا جائے اور بلوچستان میں قوم پرستی کی بنیاد پر بڑی خونریزی کی جائے۔
پہلے افغان طالبان کو افغان قوم پرست پنجابی فوج کا مزدور کہتے تھے اب طالبان نے بھی اپنے قوم پرستوں کی زبان بولنی شروع کی ہے۔ اگر افغانی آپس میں نہ لڑتے تو پاکستان بھی اتنے عرصے سے مشکلات کا شکار نہیں ہوسکتا تھا۔
ولی خان نے دسمبر1986میں نجیب اللہ اور افغان رہنماؤں کو مخاطب کیا تھا کہ مہاجرین جن کو ناراض افغانی ہم کہتے ہیں کی تین قسمیں ہیں۔ جو جہاد کے نام پر بیرون ملک مزے کررہے ہیں، ایک کو میں نے کہا تھا کہ اب آپ پیرس میں رہتے ہو تمہارا گھر میں نے کابل میں دیکھا تھا۔ دوسرے دین فروش علماء سوء ہیں جو مہاجرین کے کمبل ، چینی ، چاول اور اسلحہ وغیرہ کو بیچ کر اپنا پیٹ پالتے ہیں اور تیسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے اچھے گھر بار چھوڑ کر یہاں کیمپوں میں مررہے ہیں۔ ان کی خواتین کیلئے نہانے ، دھونے اور استنجوں کیلئے کوئی بندوبست نہیں اور اس دن اخبار میں خبر آئی تھی کہ بارش سے چھت گر گئی8خواتین مرگئیں۔
اگر اسلام کی درست تعلیمات شروع ہوجائیں تو پاکستان ، افغانستان اور ایران کے علاوہ پختون ، بلوچ، سندھی ، پنجابی ، کشمیری اور مہاجر سمیت تمام عالم اسلام اور پوری دنیا کے نظام کو بہترین استحکام ملے گا اور خون خرابہ رُک جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عرصہ سے منتظر خوست میں30طالبان کی شادی کا اہتمام15،20لاکھ روپے حق مہر ایک بڑا مسئلہ اور کمی کیلئے استدعا

عرصہ سے منتظر خوست میں30طالبان کی شادی کا اہتمام15،20لاکھ روپے حق مہر ایک بڑا مسئلہ اور کمی کیلئے استدعا

افغانستان کے علاقہ خوست میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں30افراد کی شادی کا اہتمام سرکاری سطح پر کیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی منگنیوں کو بڑا عرصہ ہوا تھا لیکن جوان مردوں اور لڑکیوں کی شادیاں حق مہر کی وجہ سے رکی ہوئی تھیں۔15اور20لاکھ روپے حق مہر ادا کرنے کیلئے جوانوں کو عرب ممالک میں سالوں میں محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے تب کہیں وہ اس قابل بن سکتے ہیں کہ حق مہر ادا کرسکیں۔ غریب خاندانوں کے لئے اتنا بڑا حق مہر ادا کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے اور طالبان حکومت نے پورے افغانستان میں یہ سلسلہ شروع کردیا کہ حکومت کی طرف سے حق مہر کی رقم ادا کردی جاتی ہے۔ یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ طالب رہنما کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک افغانستان کے پاس ابھی اتنے وسائل نہیں کہ اتنی زیادہ رقم ادا کرسکے۔ عوام کو چاہیے کہ اس میں اچھی خاصی کمی کریں تاکہ لوگ خود بھی ادا کرسکیں اور حکومت کو بھی مشکلات نہ ہوں۔
ایک جوان نے بتایا کہ8سال ہوگئے تھے کہ میری منگنی ہوئی تھی لیکن شادی کے وسائل نہیں تھے۔ طالبان حکومت کی طرف سے اپنے شہریوں کیلئے یہ اہتمام بہت اچھا اقدام ہے۔ منظور پشتین نے کہا تھا کہ ” کوئی ایسی قوم نہیں ہے جس کی کوئی رسم ظلم کی بنیاد پر ہو اور یہ پختونوں کی ایسی ظالمانہ رسم ہے جس میں ہمارے لوگوں کی اجتماعیت ملوث ہے اور اس سے چھٹکارہ پانے کیلئے ہم نے قومی سطح پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ سب سے پہلے میں اعلان کرتا ہوں کہ اپنی بہن اور بیٹیوں پر پیسے نہیں لوں گا اور جتنا کچھ ہوسکے اپنی طرف سے خرچہ بھی کروں گا”۔
پنجاب کے اندر یہ اجتماعی ظلم جہیز کے نام پر ہوتا ہے اور ہندوستان میں ہندو بیوہ کو شوہر کی وفات کے بعد جلاکر ستی کی رسم کرتے تھے جس کو انگریز نے ختم کردیا اور علماء ومفتیان حلالہ کے نام پر اجتماعی ظلم کی غلطی اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماڈاکٹر عطاء الرحمن نے نمائندہ نوشتۂ دیوار کو کوئٹہ میں آرمی چیف سے ملاقات کا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی ، مفتی منیب الرحمن ، مولانا طاہر اشرفی وغیرہ سے حافظ سید عاصم منیر نے کہا کہ پوری قوم کے حالات درست نہیں ہیں۔ علماء نے فرقے بنائے ہیں، عدالتیں بھی انصاف نہیں فراہم کرتیں۔ ریڑھی والے سے بھی کوئی چیز لے لو تو ایمانداری سے کام نہیں لیتا ہے۔ تمام طبقات اپنے اپنے شعبے میں ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتے۔ جس پر میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے نظام کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
مولانا محمد خان شیرانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نظام جھوٹ، ظلم اور خوف پر مبنی ہے۔ اللہ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب میں ہمارے مقابلے میں جھوٹ نہیں بولا جاتا ہے۔ ظلم نہیں کیا جاتا ہے اوراللہ کی کتاب سے وہ قریب ہیں تو ہم اپنوں کی حمایت کرکے بھی قرآ ن کی بات نہیں مانتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ویل للمکذّبین ” بربادی ہے جھوٹوں پر”۔ مولانا شیرانی نے اس آیت کا درست ترجمہ نہیں کیاہے اسلئے کہ اس میں جھوٹوں کی مذمت نہیں ہے بلکہ جھٹلانے والوں کی مذمت ہے۔
جھٹلانے والوں سے مراد کون لوگ ہیں؟۔ جس طرح مسلم اور مؤمن کا ایک درجہ ہے کہ بات مان لی یا اس کو دل سے قبول کرلیا۔ اس سے بڑا درجہ اس کیلئے جہدوجد کا حق ادا کرنے والے صدیقین کا ہوتا ہے۔ جو حق کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں کافر ومنافق سے بڑا درجہ مکذبین کا ہوتا ہے جو حق کی مخالفت میں مہم جوئی بھی کرتے ہیں۔ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے۔ جب کوئی حق بیان کرتا ہے تو ایک ٹولہ اس کا انکار کرتا ہے اور دوسرا بڑا بدبخت ٹولہ اس کی تکذیب بھی کرتا ہے۔
امارات اسلامیہ افغانستان نے30طالبان کی شادیاں کرائیں اور اگر ایک ایک فرد کو حق مہر کی مد میں20،20لاکھ روپے دئیے ہوں تو یہ حق مہر کے پیسے کس کی جیب میں گئے؟۔ کیا لڑکی کے ولی باپ کو یہ حق مہر کے پیسے لینے کا حق اسلام نے دیا ہے؟۔ اس سوال کا جواب مولانا شیرانی، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی، ایمل ولی ، سراج الحق، منظور پشتین اور طالبان رہنما مل بیٹھ کر عوام کو دیں۔ اگر یہ رقم دلہن کو دی جائے تو پھر اس پر اعتراض نہیں بنتا ہے لیکن اگر یہ رقم دلہن کا باپ اپنا حق سمجھتا ہے تو پھر اس پر پشتو غیرت اور شریعت کا مسئلہ اٹھانا چاہیے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگ رہنما ہمیش گل محسود نے بہت پہلے اپنی بیٹیوں پر کوئی پیسے نہیں لئے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔
مسئلے کا حل یہ ہے کہ حق مہر لڑکی کااپنا حق ہو۔ جتنی گنجائش ہونقد اورقرض رکھا جائے۔ جس سے اسلام کا مقصد پورا ہو۔ عرب بے غیرت بھی لڑکیوں کو حق مہر کے نام پر بیچتے ہیں۔ اسلام کے نام پر انتہائی خطرناک، غیر فطری اور غیراسلامی مسئلے مسائل بنائے گئے ہیں جن سے چھٹکارا حاصل کرناانتہائی ضروری ہے اور جب کوئی درست مسائل اٹھائے تو اس کی تکذیب والے تباہ ہوجائیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv