تحفظ بل پر عقائد کااحترام اورفرقہ پرستوں کی چھترول
رسول ۖ نے فرمایا: ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کااول میں ہوں، اس کا وسط مہدی اور آخر عیسیٰ ، مگردرمیانہ زمانے میں کجرو میرے طریقے پر نہیں اور میں انکے طریقے پر نہیں ”۔شیعہ سنی متفقہ حدیث علی اور ائمہ اہل بیت کی موجودگی میں شیعہ سنی اختلاف تھا۔ حسین کے حق میں یزیدکیخلاف امت کا اتحاد ہے۔ ممکن ہے کہ کجرو کہے کہ یزید حسین سے خلافت کا زیادہ حقدار تھا۔ یزید کا دادا ابوسفیان صحابی اور حسین کا دادا ابوطالب کافر تھالیکن حسین صحابی اور یزید صحابی نہیں تھا۔ عباسیوں کو اسلئے خلافت کا حقدار قرار دیا گیا کہ علی چچازاد اور عباس چچا تھا حالانکہ تین خلفاء اور بنوامیہ کچھ نہ تھے۔ ہلاکو نے عباسی خلافت کا خاتمہ کردیا۔ پہلے خلیفہ قریشی ہونا ضروری تھا ۔ خلافت عثمانیہ کے بعد غیر قریشی عجم کی خلافت پر متفق ہوگئے۔المیہ ہے کہ خوشی میں بھائی ایکدوسرے کو نہیں مانتے۔ اورنگزیب بادشاہ نے بھائیوں کو قتل کیامگر انگریز کوپھر سبھی مان گئے تھے۔ ابوطالب نے نصرت ، معیت اور صحبت کا حق ادا کیا۔ ذریت ِیزید نے علی کے والد کے جرم پرکافر قرار دیاتھا۔ شیعہ مھدی غیبت سے سامنے نہیں آتے تو کسی پر اتفاق ضروری ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں میرے کلاس فیلو مفتی منیراحمد اخون مفتی اعظم امریکہ مفتی محمد تقی عثمانی کے شاگرد اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے داماد ہیں۔ انہوں نے خواب بیان کیا کہ رسول ۖ حسین کو کربلا کی طرف بلارہے ہیں۔ تعبیر یہ کی کہ حسین نے حق ادا کردیا اور یزید نے ظلم کی انتہاء کردی۔ مفتی منیر احمداخون نے یہ بھی بتایا کہ ” حضرت خضر نے اس کو کچھ سکے دئیے جو اس کے پاس موجود رہے ”۔ مفتی زرولی خان نے خضر سے ملاقات کی۔ عربی میں ” حضر” واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ جس کا معنی ” وہ حاضر ہوا”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غیبی شخص کو حاضر پایا اور اس سے استفادہ چاہالیکن آخر کار صبر نہ کرسکے اور دونوں میں تفریق ہوگئی۔ خضر کی نبیۖ سے ملاقات کا واقعہ نہیں۔ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین اور فقہاء ومحدثین کابھی واقعہ نہیں ۔ شیعہ مہدی غائب ہوئے تو اولیاء اور علماء کو خضر علیہ السلام نظر آتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی اہل تشیع کے مہدی غائب جب حاضر ہوتے ہوں تو آپ کو لوگ خضر سمجھ رہے ہوں اور اصل میں نام خضر نہ ہو بلکہ” حضر” سے جہلاء نے خضر بنادیا ہو؟۔ شیعہ سنی معرکة الاراء مسائل حل کریں۔ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کی غلط شکایت پر قبطی کو غلطی سے قتل کیا تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” میرے رسل میں سے کوئی خوف نہیں کھاتا مگر جس نے ظلم کیا ہو”۔ قتل خطاء پر موسیٰ کی طرف اللہ نے ظلم کی نسبت کردی۔جبکہ خضر نے عمداً معصوم بچے کو قتل کیا لیکن خضر کی معصومیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ شیعہ امورتکوینی میں اپنے ائمہ کو معصوم سمجھتے ہیں اور ان سے مدد کی امید رکھتے ہیں۔ یہ شرک نہیں اسلئے کہ نبیۖ رحمت للعالین ہیں اور آپ کا فیض امور تکوینی میں ایک عالم تک محدود نہیں بلکہ تمام جہانوں تک پہنچ رہاہے۔ اہل تشیع امام حسین اور ائمہ اہل بیت کو مظلوم سمجھتے ہیں اسلئے خداکا شریک نہیں سمجھ سکتے ۔ حنفی علمائ”ایک قول کے100میں99احتمالات کفر اور ایک اسلام کا ہو توکفر کا فتویٰ نہیں لگاسکتے ”۔مجدد الف ثانی نے مکتوبات میں علی ، فاطمہ اور حسین کے بارے میں جو لکھا،اس سے زیادہ شیعہ بھی عقیدت نہیں رکھتے۔ بریلوی دیوبندی ایا ک نستعین کی تفسیر میں غیراللہ کے فیض سے استمدادکو شرک نہیں سمجھتے۔مولانا قاسم ناتوتوی کی زندگی اورموت کے بعدجو کرامات دیوبندی کتابوں میں ہیں، اتنے بریلوی وشیعہ میں نہیں ہیں۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں اور عیسائی خدا مانتے ہیں۔ اسلام اعتدال کا راستہ ہے۔ جب مسلمان ائمہ اہل بیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کرامات کا حامل اور مظلوم سمجھیں گے تو شرک اور توہین دونوں سے بچیں گے۔ قدریہ اور جبریہ فرقے اعتدال سے ہٹ کر آج مٹ چکے ہیں۔ہزار سال سے زیادہ ہوگئے کہ شیعہ امام غائب غیرفعال ہیں تو گیارہ ائمہ اہل بیت کے تین سوسال پر اتنافسادکیوں ہے؟۔ درمیانہ زمانہ سے عیسیٰ تک مہدی کا کردار حدیث میں ہے ۔ یہ خضر کی طرح غیبت میں بھی ہوسکتا ہے۔ رسول ۖ سے درمیانہ زمانہ تک رسول ۖ کا کردار امت کی ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ اور درمیانہ زمانہ کے بعد امام مہدی کا کردار ہو تو حدیث کی شیعہ سنی نقطۂ نظر سے کیا توجیہ ہوسکتی ہیں؟۔ جب رسول ۖ سے مہدی تک کوئی امام ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ نہیں تو یہ بحث سمیٹنے کی ضرورت ہے ۔ ہلاکو خان نے بغدادکادارالخلافہ تباہ کیا تو اس کی اولاد نے خلافت عثمانیہ قائم کردی ۔البتہ مدلل طریقے سے ایکدوسرے کو قائل کرنے میں حرج نہیں۔ مذہب کے نام پر دکانیں ہیں اور عالمی سازشیں ہورہی ہیں اسلئے فساد سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کوئٹہ کے ہزارہ ہمیشہ جنازے اٹھاتے ہیں اور جہاں شیعہ اقلیت میں ہیں ،وہاں بہت نقصان اٹھاتے ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
تحفظ بل پر عقائد کااحترام اورفرقہ پرستوں کی چھترول
مسجد نبویۖ پر ترکی خلافت عثمانیہ کے دور سے خلفاء راشدین ، عشرہ مبشرہ (10صحابہ کرام )شیعہ کے 12امام علی، حسن، حسین، زین العابدین، باقر ، جعفر صادق ………حسن العسکری ، محمدالمھدی کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ مفتی فضل ہمدرد نے ویڈیو بنائی ہے۔ اس میں تمام تفصیلات اور تصاویر موجود ہیں۔ پارلیمنٹ میں جو بل پیش ہوا، اس میں توہین صحابہ وتوہین اہل بیت پر سزا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ علی پہلے امام ہیں ۔ ابوبکر، عمر اور عثمان کی جگہ مسند خلافت پر علی کاحق تھا اور خلافت پر بنوامیہ و بنوعباس کی جگہ بارہ امام کا حق تھا ۔ اس بحث ، تقریر اور تحریر سے بسا اوقات بات توہین وتضحیک تک پہنچتی ہے۔ مولانا اعظم طارق نے شیعہ کے امام مہدی غائب کی توہین کی تو اس پر قاتلانہ حملے ہوئے اور قاتل کو پھانسی دی گئی تو کاشف عباسی یا طلعت حسین نے علامہ امین شہیدی سے انٹرویو میں پوچھا تھا کہ ” آپ کے نزدیک اس نے جہاد کیا ہے؟”۔ اور علامہ امین شہیدی کی تصویرTVاسکرین پر دکھائی، جس میں وہ قاتل کی قبر کے سامنے اس طرح سے بیٹھے ہیں جس طرح ممتاز قادری سے عقیدت رکھنے والے اسکی قبر پر بیٹھتے ہیں۔ جب سپاہ صحابہ کے کارکن کو پھانسی دی جاتی تھی تو وہ پھندہ عقیدت سے چوم لیتے تھے کہ اس نے دہشت گردی نہیں کی ہے بلکہ جہاد کیا ہے۔ پاکستان میں توہین کے قوانین اداروںاور شخصیات کے حوالے سے موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ عمل ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدے پر پارلیمنٹ کی قانون سازی سے پہلی مرتبہ بیٹھے اور جاتے جاتے کہہ رہے تھے کہ ”فوج پر تنقید کرو لیکن لہجہ نرم رکھو”۔ یہ انسان کی قسمت، طاقت اور ماحول پر انحصار کرتا ہے کہ کب عدالت پر حملہ بھی سزا کا باعث نہ بنے اور کب الیکشن کمیشن کو منشی کہنے پرپکڑ ہوجائے؟۔ ام المؤمنین حضرت عائشہپر بہتان لگا تو قرآن نے کسی عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے اور زنا کی سزا100کوڑے رکھی۔ جس میں امیر غریب ، طاقتور کمزوراور عزتدار و کم عزت کی تفریق نہیں۔ جب ام المؤمنین اور جھاڑو کش عورت پر بہتان کی اللہ نے ایک سزا رکھی ہے تو اس سے ہم دنیا کا نظام ٹھیک کرسکتے تھے۔ علماء اور مذہبی طبقے نے کبھی پارلیمنٹ میں اس کو پیش کرنے کی جرأت نہیں کی۔ جو پاکستانی عوام بلکہ دنیا کیلئے روشنی کا مینار ہوتا۔ بارہ خلفاء پر سوشل میڈیا میں مولانا اسحاق اور بڑے سنی شیعہ علماء کے بیانات ہیں۔ مسئلہ خلافت پر پہلے انصار ومہاجرین میں اختلاف ہوا۔ علی و ابوبکر میں اختلاف تھا۔ اہل سنت کے نزدیک حضرت فاطمہ کے انتقال کے بعد علی نے ابوبکر سے بیعت کی ۔شیعہ یہ توہینِ اہل بیت سمجھتے ہیں کہ امام کسی غیر کی بیعت کرلے۔ ان کے نزدیک علی نے تقیہ میں تین خلفاء ابوبکر، عمر اور عثمان کیساتھ تعاون کیااور مجبوری میں حسن نے معاویہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا ۔ حسین نے سردیا مگر یزید کی بیعت نہیں کی۔ یزید بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش نہ کرتا تو جس طرح علی و حسن نے مصالحت اور صلح سے کام لیا،اسی طرح حسین نے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ یزید کا لشکر مان جاتا تو حسین نے اسی طرح زندگی گزارنی تھی جیسے آپ سے پہلے اور بعد والے اماموں نے گزاری۔ حسین کیخلاف یزید نے ظلم کی انتہاء کردی ۔ حسین کا جہادبڑی علامت ہے۔ امام حسن العسکری کے بیٹے امام محمد مہدی الغائب خضر علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں۔ سنی علماء ومشائخ سے خضر ملتے ہیں تو شیعہ سے مہدی غائب ملتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے رجل الغیب خضر سے ملاقات کی تھی تو قرآن میں ذکر ہے ۔ خضر کا کام باطنی خلافت تھا۔کوئی یہ نہیں کہتا کہ خضر نے بچے کو قتل کیا لیکن فرعون سے جہاد نہیں کیا؟۔ عقیدت سے لڑنا مشکل ہے۔ غیب پر ایمان رکھنے والوں کو عقل ومنطق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرقہ واریت میں مبتلاء عناصر ایکدوسرے کو لاجواب کرنے کے بجائے اچھے انداز میں سمجھائیں تو بہتر ہوگا۔ مفتی فضل ہمدرد نے الشیخ حسن فرحان المالکی کی کتابوں کا ذکر کیا جو سعودی عرب کی جیل میں اہل بیت وصحابہ پر علمی تحقیق کی سزا کھارہے ہیں۔مولانا سید سلیمان ندوی کو اس جرم میں ندوة العلماء کے بڑے مدرسے سے ریٹائرڈ کیا گیا۔ ہندوستان کے سعودی اور مقامی علماء ان پر فتوے لگارہے ہیں۔ شیعہ سنی صحابہ و اہل بیت پر لڑتے ہیں لیکن قرآن پر بالکل بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ میں نے پشاور جامعة الشہید عارف الحسینی کے مدرسہ میں قرآن کی حفاظت پر بات کی تو مولانا نورالحق قادری ، مولانا روح اللہ مدنی، مولانا طیب قریشی، درویش مسجد صدر پشاور اور معروف مدارس اور درگاہوں کے جانشین کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب بھی موجود تھے۔ قرآن کی حفاظت سے شیعہ وسنی ایسے بھاگتے ہیں جیسے گدھے شیر سے بدحواس ہوکر بھاگتے ہیں۔ قرآن کے بغیر صحابہ واہل بیت پرلڑنا دین وایمان سے زیادہ پیٹ اور ماحول کا مسئلہ ہے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
”آئینہ د کلتور”سوشل میڈیا یوٹیوب چینل پراصغر چیمہ کی یہ ویڈیو ہے جس میں ایک دوست نے دوسرے دوست کی بیوی سے حلالہ کیا۔ دونوں اور حلالہ کا شکار ہونے والی لڑکی نے داستان سنائی ۔ لڑکی کی ماں بھی ساتھ ہے۔ اشرافیہ اور اہل اقتدار پرحلالہ کے نام پرعزت لٹائی کا اثر نہیں پڑتا۔ فحاشی کی دنیا میں مذہب کے نام پر اس خبر سے چینل کو پذیرائی کیساتھ مذہبی شرافت کا بھی آئینہ دکھانے کی کوشش ہوئی ہے۔ جس سے ہمارا بعض مذہبی طبقہ بھی بہت پسند کرتا ہوگا لیکن یہ قرآن وحدیث اور اسلام وفقہ کے نام پر عزت کا کھلواڑ ہے۔ حنفی علماء سوء نے کئی معاملات میں قرآن وحدیث اورحنفی بنیادی اصولوں سے ہٹ کربڑی گمراہیاں پھیلائی ہیں ۔ دارالعلوم کراچی اور بنوری ٹاؤن کراچی سمیت علماء ومفتیان کو قرآن واحادیث کے دلائل سمجھ میں آگئے ہیں کہ ” حلالہ کی لعنت کے فتوے غلط ہیں ” لیکن اس ماحول سے نکلنا بہت مشکل نظر آتا ہے جس میں وہ ایک عرصہ سے پھنس گئے ہیں۔ بلوچی گھیر والی شلوار، تہبند اور پتلون پہنا آسان کام اس وقت ہے کہ جب ماحول میسر ہو لیکن ماحول کے خلاف اپنی رسم وروایت میں لباس پہننے میں بھی بہت مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ علماء کو اب اس ماحول سے نکلناہوگا۔ حلالہ کے خلاف ہم نے ماحول ختم کرنے میں بفضل تعالیٰ بھرپور کردار ادا کیا ہے اور انشاء اللہ مدارس اور دارالافتاء میں حاضری دوں گا اوراس مسئلے پر منٹوں میں سمجھاؤں گا۔ مجھے آج بھی اسی طرح مدارس سے پیار ہے جس طرح زمانہ طالب علمی میں تھا۔ ہم جب کہتے تھے وطن میں جاکر کیا کریںگے مدرسہ ہے وطن اپنا مریںگے کتابوں پر ورق ہوگا کفن اپنا تبلیغی جماعت میں مجھے وقت اور استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی سیاست، سپاہ صحابہ کا جذبہ ، مجاہدین کا ولولہ اور خانقاہوں کی عقیدت کا میںعینی شاہد ہوں۔ انقلابی تحریکوں کا مطالعہ ہے ۔ علماء دیوبند کا شاگرد ہوں۔ مناظرے کا فن جانتاہوں۔ سب سے بڑھ کر ایک عام گناہ گار انسان ہوں۔ جس کو کسی پر برتری ، فضیلت اور بڑائی کا احساس نہیں ۔ صالحین سے محبت ہے، امیدہے کہ میری بھی اصلاح ہوجائے گی۔ اچھا نہیں لگتا کہ بڑے بڑوں کو ان کی عمر، مقام اور مرتبے کا لحاظ رکھے بغیر سخت رگڑا لگاتا ہوں۔ دوسرے فرقے اور علماء کے مخالفین خوش ہیں لیکن اس سے حق اور اہل حق کے قریب ہونے کی فضاء بنتی ہے۔ اکابر نے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا لیکن قرآن ، صحابہ اور عقیدۂ امامت سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا سکے اور اکابر علماء اور جوانوں کی شہادتیں دیکر مخالفین کی زبان بندی نہیں کراسکے ۔ سوشل میڈیا پر شیعہ زیادہ مؤثر انداز میں وہ کام کررہے ہیں جو تاریخ میں نہیں ہو ا۔ بیرون ملک سے دلائل ہم تک پہنچتے ہیں۔ جب انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی فضل ہمدرد کسی شمار وقطار میں نہ تھے تو ہم نے نہ صرف شیعہ اور بریلوی عقیدے کا دفاع کیا بلکہ اپنے اکابرین پر حملے کردئیے۔ قرآن ، صحابہ اور عقیدۂ امامت میں درسِ نظامی اور شاہ اسماعیل شہید کے دلائل سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ واپس کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا مگر حق کی منزل آسان کردی۔ اب وقت آیا ہے کہ اسلام کے اصل مقاصد اور علماء دیوبند کے سرخیل حاجی امداداللہ مہاجرمکی کا مشن زندہ کریں۔حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن نے برسوں مالٹا کی جیل میں گزارنے کے بعد دوباتوں کو امت کے زوال کا سبب قرار دیا ایک قرآن سے دوری اور دوسری فرقہ واریت۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے خلافت کے قیام کی بڑی کوشش کی تھی ۔شیخ الہند نے اپنی تمناؤں کا اظہارمالٹا جیل میں آنے کے بعد کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی محنت کا حق ادا کردیا اور مولانا محمد الیاس نے تبلیغی جماعت کے ذریعہ پوری دنیا میں دین کے درد کو جگایا تھا اور حاجی محمد عثمان کے سرپر روحانیت کا تاج اکابر نے رکھا تھا ۔ ہم انشاء اللہ ان سب کا مشن پورا کرکے دکھائیں گے۔ شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگانیوالے مولانا منظور نعمانی کے فرزند مولانا سجاد نعمانی نے فتوے کو سازش قرار دیا ۔ مولانا سلیمان ندوی کواکٹھی 3 طلاق کو ایک کہنے پرنشانہ بنایا گیا۔1970سیمینارمیں مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی صدارت میں علماء دیوبند،جماعت اسلامی اور اہلحدیث نے مثبت رائے دی تھی مگر بریلوی مخالف تھے۔ اب مفتی کامران شہزاد نے بھی3طلاق کے ایک ہونے پر قرآن وحدیث کا فتویٰ جاری کیا۔ مفتی کامران شہزادکی تعلیم وتربیت کا پسِ منظر حنفی بریلوی مسلک سے لگتا ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے ان کی شخصیت اچھا آغاز ہے۔ طلاق کے مسئلے پر مفتی کامران شہزاد نے بہت مثبت گفتگو کی ہے۔ پہلے اختلاف کو ایک اجتہادی مسئلہ قرار دیا ہے کہ اکٹھی تین طلاق ایک شمار ہوتی ہے یا تین طلاق؟۔ احادیث کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا ہے کہ ” عبداللہ بن عباس نے ہاتھ لگانے سے پہلے اور ہاتھ لگانے کے بعد کی دونوں صورتوں میں یہ قرار دیا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق ایک شمار ہوتی تھی”۔ مفتی کامران شہزاد نے کہا کہ ” قرآن میں دو مرتبہ طلاق کا ذکر ہے تو ایک مرتبہ میں تین طلاق کا اطلاق نہیں ہوسکتا اور اس کی مثال یہ دی کہ کرکٹ کے کھیل میں ایک بار جس طرح بھی میں آؤٹ ہوجاؤں ، گیند پکڑ کر کیچ سے آؤٹ ہوں یا وکٹ اُڑ جائے لیکن ایک مرتبہ آؤٹ ہوںگا۔ ایک بار میں دو مرتبہ آؤ ٹ نہیں ہوسکتا۔ اسلئے قرآن کا تقاضہ ہے کہ ایک بار میں 3 طلاق دی جائے تووہ ایک بار ہی شمار ہو پھرعدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور پھر دوبارہ طلاق دی جائے اور پھر عدت میں رجوع ہوسکتا ہے۔ پھر تیسری بار طلاق دی جائے تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ مفتی کامران شہزاد نے حنفی مسلک اور دیگر مسالک کا بھی استدلال پیش کیا ہے اور مشہور ومعروف علماء وفقہاء کے نام بھی لئے ہیں۔ قرآن نے حلالہ کی لعنت کے حوالے سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی لیکن عورت کو تحفظ دینے کا مسئلہ تھا اور اس تحفظ کی خاطر آخری حد تک ایسے الفاظ بھی بیان کردئیے کہ ایک طرف عورت کو پورا پورا تحفظ مل گیا اور دوسری طرف حلالہ بھی ایک آزمائشی مسئلہ بن گیا۔ اگر یہ الفاظ آیت میں نہ ہوتے کہ ” جب تک وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو پہلے کیلئے حلال نہیں ”۔( البقرہ230) تو بہت ساری خواتین اپنے شوہروں کے مظالم سے چھٹکارا نہیں پاسکتی تھیں۔ شوہر کے منہ سے 3طلاق کا لفظ نکلا اور بیوی نے چھٹکارا پالیا اسلئے کہ شوہر نے بھی یہ یقین کرلیا کہ اب یہ حلال نہیں ہے لیکن اصل صورتحال اس سے زیادہ بہترین تھی اور وہ یہ ہے کہ اگر شوہر نے طلاق کا لفظ بول دیا۔ صریح ، اشارہ ، کنایہ اور خاموش ناراضگی تب بھی ”شوہر کے رجوع کا حق چھن گیا، جب تک عورت صلح پر راضی نہ ہو”۔ سورہ بقرہ آیت226میں ناراضگی کا ذکر ہے جس میں زبانی طلاق کا اظہار نہ ہو اور اس کی عدت چار ماہ ہے۔ اگر طلاق کا عزم تھااور اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ کی پکڑ بھی ہے اسلئے کہ عزم کا اظہار بھی کرنا چاہیے تھا۔ جب اظہار کرتا تو چار ماہ کی جگہ عدت تین ماہ ہوتی اور ایک ماہ عدت کے اضافے پر شوہر کا دل گناہگار ہے۔ (البقرہ 225،226،227) ایلاء میں حلف ضروری نہیں۔ لاتعلقی اور ناراضگی سے بیوی کا حق معطل کرنا ایلاء ہے۔ اللہ نے ناراضگی کے بعد بیوی کو بااختیار قرار دیا ہے اگر وہ صلح کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر زبردستی نہیں کرسکتا ۔ نبیۖ نے ایلاء کیا تھا تو اللہ نے فرمایا: بیگمات کو علیحدگی کا اختیار دینا۔ نبیۖ کے ذریعے اللہ نے یہ سبق سکھایا ہے۔ جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ عورت سے لوگ ناراض ہوکر بیٹھتے تو وہ مدتوں بیٹھی رہتی۔ قرآن نے جس وضاحت کیساتھ چار ماہ کی عدت کا ذکر کیا ،اگر عوام کو پتہ چل گیا تو پھر مذہبی طبقات لوگوں کو شیاطین کے گروہ نظر آئیں گے جنہوں نے ایسی وضاحت کو اپنی عوام کی نگاہوں سے جان بوجھ کر یا کم عقلی میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اس معاملے میں حنفی مسلک والے پھر بھی سرخرو ہوسکتے ہیں لیکن اہل تشیع، اہل حدیث، ابن تیمیہ ، علامہ ابن قیم سب کے منہ کالے ہوں گے جو احناف کی مخالفت میں جمہور شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک والوں کیساتھ کھڑے ہوگئے۔ اللہ نے خواتین پر مظالم کا قانون وشریعت سے خاتمہ کردیا لیکن عورت پھر بھی مذہب کی بنیاد پر اسی ظلم کا دوبارہ شکار بنادی گئی۔ جب ایک بار کی تین طلاق سے عورت آزاد ہوجاتی ہے تو پھر چار ماہ کاانتظارکرنے کے باوجود کیوں آزاد نہیں ہوتی ہے؟۔ یہ اللہ کا دین نہیں مذہبی طبقات کا اپنا دھندہ یا بہت بڑی کم عقلی ہے۔ جس طرح تین طلاق پر حلالہ کا دھندہ بنایا گیا ہے ،اگر قرآن سمجھ میں آتا تو فتویٰ یہی دینا تھا کہ ایک بار ناراضگی یا ایلاء کے بعد بھی بیوی کو اختیار دینا ضروری ہے اور اگر شوہر اختیار نہیں دیتا ہے تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ اپنی مرضی و اختیار سے کہیں بھی دوسری جگہ نکاح کرے ۔ یہی قرآن وسنت کااصل حکم ہے۔ پھر اللہ کو پتہ تھا کہ یہود ونصاریٰ کے مذہبی گدھوں اور کتوں سے اس اُمت کا بھی واسطہ پڑے گا اسلئے واضح کردیا کہ ” طلاق والیوں کو تین ادوار تک انتظار کرنا ہے اور اس مدت میں ان کے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔ (آیت228البقرہ) آیت سے واضح ہے کہ” ایک،دویا تین بار طلاق کے بعد عدت میں رجوع کا اختیار اصلاح کی شرط پر ہے”۔ آیت نے دوجاہلانہ مسائل کا خاتمہ کردیا۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ ایک ساتھ تین یا مرحلہ وار تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور دوسرامسئلہ یہ تھا کہ عورت کی رضامندی کے بغیر عدت میں جتنی بار شوہر چاہتا تھا تو رجوع کرلیتا تھا۔ اللہ نے واضح کیا کہ ایک بار طلاق کے بعدبھی عورت کی صلح واصلاح کے بغیر رجوع حلال نہیں ہے۔ شاباش ہو مولوی کے دماغ کو جس نے اختلاف کی بھول بھلیوں میں خود کو بہت کھپادیا ہے مگرقرآن کی موٹی موٹی باتیں سمجھنے کیلئے یہ وحشی گدھا تیار نہیں ہے۔ قرآن اور صحابہ کرام کے فتوؤں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ حضرت عمر نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ” اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع حلال نہیں ہوسکتا” بلکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو” قرآن کے مطابق رجوع نہ کرسکنے کا حکم جاری کیا” اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر حلالے کا پتہ چل گیا تو کوڑے بھی لگا دوں گا۔ کیونکہ طاقتور مرد سے یہ بعید نہیں تھا کہ زبردستی سے حلالے پر مجبور کرتا۔ بنوں میں بھی ایک کیس ایسا ہوا ہے جس پر مولوی جیل میں گیا۔ اگر میاں کیساتھ بیوی رہنے کیلئے راضی ہوتی تو حضرت عمر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ حضرت عمر سے کسی نے پوچھا کہ بیوی کو حرام کہااور تحقیق سے پتہ چلا کہ بیوی رہنے کیلئے راضی ہے تو فتویٰ دیا کہ رجوع ہوسکتا ہے ۔جب حضرت علی کے سامنے ایک اور واقعہ آیا کہ بیوی کو حرام کہا ہے اور بیوی رہنے پر راضی نہیں ہے تو حضرت علی نے فتویٰ دیا کہ ”اس پر رجوع حرام ہے ۔ جب تک کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے تو اس کیلئے حلال نہیں”۔ حضرت عمر وعلی نے یہ اختلاف اپنے اجتہادات کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ قرآن کی آیت کو سمجھ لیا تھا کہ جب عورت راضی ہوگی تو رجوع ہوسکتا ہے اور عورت راضی نہ ہوتو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری میں علماء کا یہ اجتہاد نقل ہے کہ ” بیوی کو حرام کہنا تیسری طلاق ہے اور یہ حرام کھانے پینے کی اشیاء کو حرام کہنے کی طرح نہیں اسلئے کہ بیوی کو تیسری طلاق پر حلال نہیں ہوگی”۔ یہ نہیں سوچا کہ سورۂ تحریم میں نبیۖ نے حرام قرار دیا تھا اور بیوی کو ماں کہنے سے زیادہ حرام کیا ہوسکتا ہے جس کی قرآن نے نفی کی ہے؟۔ قرآنی آیات میں طلاق سے رجوع کیلئے علت باہمی اصلاح ہے ۔ جس کو مختلف آیات میں معروف رجوع اور باہمی رضامندی سے واضح کیا گیا ہے۔ آیت228البقرہ میں اللہ نے فرمایا: المطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء … وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ” طلاق والی عورتیں3ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں ….. اور انکے شوہر ان کو اس مدت میں اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔ اس آیت میں عدت کے اندر صلح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا گیا ہے اور اس میں یہ واضح ہے کہ رجوع کیلئے صرف ایک شرط ہے اور وہ ہے صلح واصلاح۔ جب تک عورت راضی نہیں ہو تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا اور عورت راضی ہو تو شوہر ہی اس کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ عورت کا باپ، مذہبی طبقہ اورحکمران کسی کے مقابلے میں بھی عدت کے اندر شوہر سے زیادہ دوسرے کا حق نہیں ہے کہ اس میں مداخلت کرے۔ یہ آیت کے واضح الفاظ ہیں۔ اگر عورت صلح کیلئے راضی نہیں تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا اور مذہبی طبقہ یہ فتویٰ نہیں دے سکتاکہ” شوہر کو رجوع کا حق ہے”۔ معاشرہ اور حکمران شوہر کو رجوع کا حق نہیں دے سکتے۔ یہ عورت کیساتھ بہت بڑا فراڈاور بہت بڑی زیادتی ہے کہ ”صلح کے بغیربھی شوہر ایک یا دومرتبہ طلاق کے بعد رجوع کا حق رکھتا ہے”۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ شوہر صلح واصلاح کی شرط پر ہی رجوع کا حق رکھتا ہے تو یہ پتھر کی لکیر سے بھی زیادہ ہمیشہ قائم رہنے والا فتویٰ ہے اور اس سے قرآن کی کوئی دوسری آیت متصادم نہیں ہوسکتی ہے اور نہ اس کے برعکس حدیث ہے۔ کیا قرآن کی اگلی آیت ہی میں تضاد ہے۔ اللہ نے فرمایا: الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے” (آیت229البقرہ ) ملواڑیں کہتے ہیں کہ اس آیت میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ طلاق سے اللہ نے شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے۔گویا پہلی آیت228البقرہ میں صلح کی جو شرط رکھی گئی تھی اس آیت229میں اللہ نے عورت کو پھر کم عقل وکم نصیب اور کم بخت قرار دیکر اصلاح و صلح اور عورت کی رضامندی کا حق چھین لیا اور ایک نہیں دو مرتبہ طلاق سے شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دیا؟ ۔ عورت سے صلح واصلاح اور رضامندی کا حق چھین کر صرف عورتوں سے یہ زیادتی ملواڑوں اور ملاٹوں نے نہیں کی بلکہ اللہ کے کلام میں بھی زبردست تضاد پیدا کردیا۔ اللہ نے ایک مرتبہ طلاق کے بعد شوہر کو آیت228میں غیرمشروط رجوع کا حق نہیں دیا تھا لیکن دوسری آیت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد غیرمشروط رجوع کا حق دے دیا؟۔ یہ اللہ کی کتاب میں اتنا بڑا تضاد ، گمراہی اور بھلکڑ پن ہے کہ اتنا کمزور حافظہ تو چوہے کا بھی نہیں، جس کو بلی بھگادیتی ہے اور وہ پھر شکار ہوجاتاہے۔ اسلئے کہ دونوں آیات بالکل متصل ہیں اور دونوں میں بہت بڑا تضاد پیدا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ سے طلاق کے مسائل میں پوری فقہی دنیا بالکل تباہ وبربادی کا شکارہے۔ نبیۖ نے واضح فرمایا ہے کہ ” تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ اور یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ ” تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہی ہے”۔ نبیۖ نے اسلئے ایک ساتھ تین طلاق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے رجوع کا حکم دیا ہے۔ جس طلاق کے بعد آیت230البقرہ میں حلال نہ ہونے کا ذکر ہے تو اس سے پہلے اس کنڈیشن کا ذکر کیا ہے کہ ” تین مرتبہ مرحلہ وار طلاقوں کے بعد جب معروف رجوع کا فیصلہ نہیں ہو تو شوہر نے جو کچھ دیا ہے اس میں کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگردی ہوئی چیز واپس نہیں کی تو دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیںگے۔ وہ چیز رابطے کا ذریعہ ہوگی اور ناجائزجنسی عمل کا شکار ہوجائیںگے۔ یہی خدشہ اگر فیصلہ کرنے والوں کو بھی ہو توپھر عورت کی طرف سے شوہر کی دی ہوئی فقط وہی چیز فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے”۔ حنفی مسلک کی اصول فقہ اور علامہ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں بھی حضرت ابن عباس کا یہ قول واضح ہے کہ آیت229کے اس آخری حصے کیساتھ ہی آیت230کا تعلق ہے جس میں حلال نہ ہونے کا ذکر ہے۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں بلکہ علیحدگی پر اس حد تک اصرار کرتے ہوں کہ آئندہ رابطے کی بھی کوئی صورت نہ چھوڑیں اور فیصلہ کرنے والوں کا بھی یہی حال ہو۔ پھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ کیونکہ رجوع تو کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ البتہ آیت میں ایک دورِ جاہلیت کی رسم کا خاتمہ ہے کہ عورت کو طلاق کے بعد شوہر کی پابندیوں سے خلاصی نہیں ملتی تھی اور آج کی عورت بھی اس مصیبت میں گرفتا رہے۔ اس سے چھٹکارا دلانے کیلئے اللہ نے بہت بڑا حکیمانہ فیصلہ نازل کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت ساری عورتوں کی جان چھوٹ گئی۔ اس آیت کا تعلق صرف اور صرف یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ ناراضگی کے بعد شوہر بیوی کو نہیں چھوڑتا ہو، ایک طلاق کے بعد نہ چھوڑتا ہو ، دو طلاق کے بعد نہیں چھوڑتا ہو، حرام اور کسی قسم کا کوئی لفظ کہنے کے بعد آزادی میں رکاوٹ ڈالتا ہو تو اللہ کا یہ حکم اس پر جاری ہوتا ہے۔ جہاں تک باہمی رضامندی سے رجوع کا تعلق ہے تو جس طرح اللہ نے عدت میں رجوع کی اجازت دی ہے ،اسی طرح عدت کے بعد بھی رجوع کی اجازت دی ہے۔ جس کا حکم زیادہ دور تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس آیت230البقرہ سے متصل آیات231اور232میں بالکل واضح ہے۔ پارلیمنٹ اور سینٹ میں قرآن کی ان آیات پر تھوڑی بحث کی جائے تو فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کی ماں مر جائے گی اور حلالہ کی نحوست سے بھی سادہ لوح عوام کو چھٹکارا مل جائے گا۔ سورہ طلاق میں بھی یہی حکم بہت وضاحت کیساتھ موجود ہے۔ تین مرتبہ مرحلہ وارطلاق کے باوجود بھی عدت کی تکمیل پر یہ ٹھوس فیصلہ کرنا ہے کہ معروف طریقے سے رکھنا ہے یا معروف طریقے سے اس عورت کو الگ کردینا ہے۔ اگر علیحدگی کا فیصلہ کیا جائے تو پھر دوعادل گواہ مقرر کئے جائیں تاکہ عورت کے مالی حقوق کو تحفظ دیا جائے۔ اور سورہ طلاق میں پھر بھی اللہ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کی روایت ہے کہ نبیۖ نے رکانہ کے والد کو رکانہ کی ماں سے تین طلاق کے باوجود رجوع کاحکم دیا اور سورۂ طلاق کی آیات پڑھ کر سنائیں۔جماعت اسلامی کے مولانا چترالی کو اگر امریکی سی آئی اے نے پلانٹ نہیں کیا تو مولانا مودودی کی کتاب” خلافت و ملکوکیت” کے برعکس تحفظ ناموس صحابہ کی طرح تین طلاق ، حلالہ اور خلع پر ایک بل پیش کریں تاکہ خواتین کو اسلامی حقوق مل جائیں اور معاشرے میں مولانا مودودی کے ”ترجمان القرآن” سے اسلام مخالف مسائل کا خاتمہ ہوجائے۔ اصل مسئلہ خلع و طلاق کے حقوق کا ہے ۔ خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے ۔ سعودی عرب میں خلع کی عدت پرصحیح حدیث کے مطابق عمل ہے۔ خلع میں عورت کو حقوق کم ملتے ہیں اور طلاق میں زیادہ ملتے ہیں۔ خلع میں عورت کو شوہر کا دیا ہواگھر اور غیرمنقولہ جائیدادباغ، زمین وغیرہ چھوڑنا پڑتا ہے اور طلاق میں منقولہ وغیرمنقولہ تمام دی ہوئی چیزوں کی مالک عورت ہوتی ہے۔ جب عورت کا قصور نہیں اور وہ چھوڑنا نہیں چاہتی تو اس کودی ہوئی چیزوں سے کیوں محروم کیا جاسکتا ہے؟۔ البتہ خلع میں محروم ہوگی۔ سورہ النساء آیت19میں خلع اور20،21میں طلاق کے حقوق ہیں۔ خلع میں عورت کو مکمل اختیار ہے اور اس میں عدالت جانے کی ضرورت نہیں ۔ آیت229میں خلع مراد نہیں ہوسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان کے علاوہ جدید اسکالر بھی اس جہالت میں ملوث ہیں اور جس آیت229میں اللہ نے عورت کو طلاق کے بعد مالی تحفظ دیا ہے وہاں یہ گدھے عورت کو بلیک میل کرنے کیلئے خلع کا بالکل جھوٹا حکم لگاتے ہیں اور اس میں مولوی پھر بھی ناسمجھی کی وجہ سے کسی قدر معذور ہیں اور میں ان کا کفارہ ادا کررہا ہوں۔ جب عورت طلاق کا دعویٰ کرے گی اور مرد اس کا انکار کرے گا تو عورت کو گواہ لانے پڑیںگے اسلئے کہ زیادہ حقوق پانے کیلئے جھوٹا دعویٰ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر عورت کے پاس گواہ نہیں ہوں اور شوہر قسم کھالے تو خلع کا حکم جاری ہوگا ۔ یہ نہیں کہ عورت خلع لے اور خلع نہ ملے تو حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ مالی حقوق پر تنازعہ ہوسکتا ہے اور اس میں قسم اور گواہی کی ضرورت ہے لیکن یہ بڑی جہالت ہے جو فقہاء نے لکھ دی ہے کہ عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ مولوی تو عدالت کے ذریعے بھی عورت کو خلع کا حق نہیں دیتا لیکن اللہ نے فرمایا ہے کہ ” تم عورتوں کے زبردستی سے مالک نہیں بن سکتے اور نہ اسلئے ان کو روکو کہ جو چیزیں ان کو دی ہیں وہ ان سے واپس لو مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ ان سے معروف سلوک کرو اور اگر وہ تمہیں بری لگتی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں بہت سارا خیر بنادے”۔ (النسائ19) تحریک لبیک کے علامہ سعد حسین رضوی اور مولانا فضل الرحمن ایک کمیٹی تشکیل دیں جس میں جید علماء کرام اور مفتیان عظام شامل ہوں۔ جب یہ حقائق دنیا کے سامنے آجائیںگے تو پاکستان سے اسلامی نظام کا آغاز ہوجائے گا اور پھر کبھی انشاء اللہ غیرمسلم بھی یورپ وغیرہ میں بھی نبیۖ اور قرآن کی توہین کی سوچ بھی دل ودماغ سے نکال دیںگے۔نفرت کا خاتمہ ہوگا اور نبیۖ کو مقام محمود اس دنیا میں ملے گا جس کی دعا آذان میں مسلمان عرصہ سے مانگتے ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
سعودی عرب، ایران اور طالبان کے مذہبی اقتدارکا راز یہ تھا کہ لونڈی اور اس کا لباس ختم برطانیہ، فرانس اور امریکہ مغربی دنیا نے بڑااچھاکھیلا
سعودی عرب، ایران اور افغانستان کی خواتین کے مقامی اور اسلامی لباس کو قربان کیا گیا؟
خطے میں جنگ ہے اور فریقین ایک دوسرے پر ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں ۔ اگر دشمنوں کا خوف نکل جائے گا تو وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے پر مجبور کرنے کیلئے اپنی فنڈنگ چھوڑ دیں گے
عثمانی خلیفہ کی4500لونڈیوں میں ہر رنگ ونسل ، زبان وکلچر، مذہب ودین اور علاقہ وملک کی خواتین کو شامل کرنے کی کوشش ہوئی۔اس وقت فرانس اور برطانیہ کا اقتدار سمٹ رہا تھا؟
دشمن کو خطرہ ہے کہ اگر پھر خلافت قائم ہوئی تو مسلمان ان کی خواتین کونیم برہنہ لباس کی لونڈیاں بنائیں گے ایرانی بادشاہ یزد گرد کی تین بیٹیوں کو ابوبکر، عمر اور علی کے بیٹوںکی لونڈیاں بنایا گیا
لونڈیوں کا تصور اور مسلمانوں کا کردار
اسلام سے پہلے دنیا میں لونڈی اور غلام کا تصور تھا۔ لونڈی سے نکاح کی ضرورت نہیں تھی ۔غلام نوکر ہوتا تھا۔ بعض نسلی غلام تھے۔ بردہ فروشی ، جنگ اور ڈکیتی بھی غلام بنانے کا طریقہ تھا اور غلامی کا بنیادی ادارہ جاگیردارانہ نظام تھا جو مزارعین کے بچوں اور خواتین کو لونڈیا ںوغلام بناتا تھا۔ عورت معاشرے کی ایسی جنس تھی جس کو بیوی، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے بیچنا مردوں کا اپنا حق تھا۔ جانور کی طرح انسان کی ملکیت کا حق تھا۔ عورت معاشرے میں جنس مملوکہ تھی ۔آج بھی عرب، پشتون ، پنجاب اور دنیا میں اس جنس کی خرید وفروخت کا دھندہ ہے اور میڈیا میں بھی رپورٹنگ ہوتی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی عدالت نے ایک پاکستانی فیملی کو لاکھوں ڈالر اسلئے جرمانہ کیا کہ وہ بہو پر جبری تشدد کے ذریعہ گھر کے کام کاج لیتے تھے اور اس کو بلیک میل کرکے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس خاندان پر انسانی اسمگلنگ کا کیس بن گیا اور سزائیں بھی دے دیں۔ محمد شاہ رنگیلا بادشاہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر ننگی لڑکیوں کے سینوں کو پکڑ کر چڑھتا تھا۔سعداللہ جان برق کی کتاب” دختر کائنات”میں حقائق ہیں۔ خواتین کی حالت آج بھی دنیا میں ہوشربا طور پر قابلِ رحم ہے لیکن ان کی مظلومیت کا انداز ظالم اور طاقتور مردوں کیلئے قابلِ رحم نہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے اغواء کرکے طالبان نے برسوں افغانستان میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا تو ان پر بہت زیادہ ترس آتا تھا مگرملتان اور لاہور میں بکنے والی خواتین کی آہوں کا شاید یہ نتیجہ تھا۔ مذہبی اعتبار سے یاد رکھنے والا عبرتناک واقعہ کربلا ہے۔عشرہ محر م شہادت حسین کے طور پر شیعہ اور کچھ ہندو و سکھ تک بھی غم کے طور پر مناتے ہیں اور واقعی تاریخی ظلم ہوا تھا۔ انگریز پاکستان میں شیعہ ماتم کو کبھی لاعلمی میں دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ کیا نبیۖ کا نواسہ ابھی شہید ہوا ہے؟۔ کربلا کی داستان عاشور کی رات شام غریباں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے بعد مزید سخت انداز میں شروع ہوتی ہے۔ حسین کے سرکو لیکر خواتین ، بچوں اور بیمار زین العابدین کیساتھ قافلہ یزید کے دربار میں پہنچادیا جاتا ہے۔ قافلے میں حسین کی بیگم حضرت شہر بانو ، بہن حضرت زینب اور بیٹی سکینہ بھی ہوتی ہیں۔ ایک شامی یزید سے کہتا ہے کہ ”یہ ایک جواں سال بچی بہت خوبصورت ہے۔ مجھے لونڈی کے طور پر دیدو”۔ بی بی زینب جواب دیتی ہیں کہ ”نہ تمہاری یہ اوقات ہے کہ اس کو لونڈی بناؤ اور نہ یزید کو اختیار ہے کہ اس کو لونڈی بنائے”۔ یزید نے کہا کہ ” اگر میں چاہوں تو لونڈی بناسکتا ہوں”۔ حضرت زینب نے بہت دردناک خطبہ دیا ۔ قرآن کی آیات پڑھیں کہ” بعض لوگوں کو ہم آزمانے کیلئے اختیار دیتے ہیں تاکہ ظلم کرنے والے ذلت آمیز انجام کی طرف پہنچ جائیں”۔ اور کہا کہ ” مسلمانوں کی عورتوں سے کافروں کی طرح سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے مگر تم سے یہ بعید نہیں ہے اسلئے کہ تمہارے وجود میں ہمارے خاندان کا خون شامل ہے۔ ( یزید کی دادی حضرت ہندہ رضی اللہ عنہانے جو سیدالشہداء امیر حمزہ کے کلیجے کو چبا کر خون کو نوش فرمایا تھا۔ اس طرف حضرت زینب کا اشارہ تھا)سوشل میڈیا پر مولانا اسحاق کے بیان سے پورے واقعہ اور خطبے کو سن سکتے ہیں۔ امام حسین کی بیگم شہربانو اس موقع پر کیوں خاموش تھیں؟۔ یہ اس نے پہلا واقعہ نہیں دیکھا تھا بلکہ جب وہ سپر طاقت فارس کی شہزادی تھی اور حضرت عمر کے دور میں حضرت سعد بن وقاص کی قیادت میں مسلمانوں نے فتح کرکے اس کے باپ کی بادشاہی کو تہس نہس کردیا تھا۔ وہ اور اس کی دو بہنیں بھی لونڈی کے طور پر مال غنیمت میں لائی گئی تھیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ ” مال غنیمت میں ان تینوں کو نیلام کردو”۔ حضرت علی نے کہا کہ ” شہزادیوں سے عام لوگوں جیسا سلوک نہ ہونا چاہیے۔ایک عبداللہ بن عمر ، دوسری حسین بن علی اور تیسری ابوبکر کے بیٹے محمد کو دیدیتے ہیں”۔ حضرت عمر نے اتفاق کیا۔ حضرت شہربانو پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی کہ جب اس کو عربی زباں بھی نہیں آتی تھی، اس کی بہنیں اور وہ سرِ عام نیلام ہونے کیلئے پیش کی جارہی تھیں؟ ۔ذراسوچئے۔حضرت شہر بانو اور اس کی بہنوں کا کیا گناہ تھا کہ تینوں بہنیں لونڈیاں بنائی گئیں؟۔ بس ایک سپر طاقت بادشاہ کی شہزادیاں ہونا ان کا گناہ ٹھہر گیا تھا؟۔ کیا باپ کے گناہ کی سزا بیٹیوں کو اسلام میں دینے کی گنجائش ہے؟۔ حضرت شہربانو کی نصیحت اکلوتے بیٹے امام زین العابدینسے کیا ہوسکتی تھی؟۔کیا چُپ کا روزہ رکھا ہوا تھا؟۔ کوئی قول اور بول کسی نے نقل کیا ہے؟۔کھلے حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔قوم پرست اور ملحد خوامخواہ میں مذہب یا اسلام سے دشمنی نہیں رکھتے۔ آئے روز مغرب میں قرآن، نبیۖ اور اسلام سے اظہارِ نفرت کے محرکات تلاش کریں!۔
اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت مہدی غائب
امام زین العابدین میں اپنی ماںشہربانو اور بابا حضرت حسین کا خون تھا۔ میڈیکل سائنس میں ماں باپ کے سپرمXYاور قرآن میں نطفۂ امشاج ہے۔ امام حسین کا ایک بیٹا زید اپنے باپ حسین پر زیادہ گیا تھا اور اس نے بنوامیہ کے خلاف40ہزار افراد لیکر قیام کیا لیکن ساتھیوں سمیت شہید کردئیے گئے۔ بڑے بیٹے امام باقر پر اپنی ماں شہر بانو کا زیادہ اثرتھا اسلئے بنوامیہ کے خلاف قیام نہیں کیا۔ امام باقر، امام جعفر سے امام حسن عسکری اور امام مہدی غائب تک اہل تشیع کے سلسلہ امامت نے شہربانو کے اثر سے قیام کرنا گوارا نہیں فرمایا تھا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مہدی غائب قیام کریں گے تو پوری دنیا ان پر متفق ہوگی۔ بڑے دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کچھ بھی ہوگا تو سارے مسلمان متفق ہوں گے۔ اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق امام مہدی غائب آئیںگے یا پھر سنی عقیدے کے مطابق امام مہدی آئیںگے؟۔ شیعوں کی کتابوں میں امام کا قول موجود ہے کہ ” مہدی سے پہلے جو قیام کرے گا وہ ایسے طائر کا بچہ ہوگا جو غیر کے ہاتھوں میں پلا ہوگا”۔ شیعہ کے نزدیک اقتدار امام معصوم کا حق ہے۔ علی سے لیکر حسن عسکری تک کسی نے ظلم وفسق نہیں کیا۔ سنیوں کے نزدیک یزید، ظالم ، فاسق بھی امام ہوسکتا تھا۔ ایرانی اقتدار کوشیعہ مانتے ہیںیا ڈھونگ سمجھتے ہیں؟۔اکابردیوبند نے اپنی متفقہ کتاب ” المھند علی المفندعقائد علماء دیوبند” میں وہابیوں کی مخالفت کی تھی۔ حضرت ابراہیم کی زوجہ سارہ آپ کے خاندان سے ،دوسری حاجرہ لونڈی تھی جو ظالم بادشاہ نے سارہ کو تحفے میں دی ،وہ دوسرے بادشاہ کی بیٹی شہزادی تھی۔ ظالم بادشاہ خواتین کو لونڈیاں بناتے تھے۔ بہن ، بیٹی اور ماں کی اکثر عزت رکھتے لیکن مردوں کو ذلت تک پہنچانے کیلئے بیگم سے جبری زیادتی کرتے تاکہ وہ آنکھ اُٹھاکر کبھی بات نہ کرسکے۔ علماء نے بھی حلالہ کے ذریعے بادشاہوں اور شرفاء کی بیگمات کیلئے ایسا سیاسی گر استعمال کیا کہ وہ آنکھ نہیں اٹھاسکتے تھے۔ حضرت ابراہیم کی زوجہ سارہ سے بہت انبیاء حضرت اسحاق ،یعقوب اور یوسف آئے، داؤد ، سلیمان کو بادشاہت بھی مل گئی۔ حضرت عیسیٰ تک بڑی تعداد میں انبیاء اور ملوک حضرت سارہ کی نسل سے آئے لیکن حضرت حاجرہ کی نسل میں حضرت اسماعیل کے بعد آخری پیغمبر حضرت محمد ۖ تک درمیان میں کوئی نبی اور بادشاہ نہیں آیا۔اللہ نے فرمایا: ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو کہ میں نے جہاںوالوں پر تمہیں فضلیت دی”۔ بنی اسرائیل کو برے عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جب آل فرعون انکے بیٹوں کو قتل اور ان کی عورتوں کی حیاء لوٹتے (یعنی لونڈیاں بناتے )تھے۔ (القرآن)۔ نبیۖ نے لونڈی و غلامی ختم کرنے کا مشن اٹھایا ۔ ایران اور روم فتح ہوئے تو یورپی و ایرانی لونڈیاں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہحب الشہوٰت من النساء (عورتوں سے شہوانی محبت کا جذبہ )مردوں کی بہت بڑی فطری کمزوری ہے۔ آدم خلیفہ بنانے کیلئے زمین پر بھیجے جارہے تھے تو پہلاحکم یہ دیا کہ ” اس شجرہ کے قریب مت جاؤ”۔ وہ شجرۂ نسب تھا اسلئے کہ ہمیشہ رہنے والا اور ایسی ملک جو ختم نہ ہو،نسل ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ عصی اٰدم فغویٰ” آدم نے نافرمانی اور سرکشی کردی”۔نافرمانی اور سرکشی کی نسبت اللہ نے حضرت حواء کی طرف نہیں کی لیکن پھر بھی ایک کمزورعورت حواء پر سارا مدعا ڈالا گیا ہے۔اگر ہم نے قرآن کی طرف رجوع نہیں کیا تو تذلیل کی آخری حد کو اللہ نے ہمیں پہنچادینا ہے۔
لونڈی انسانی ماتھے پر بہت بڑا داغ
مولانا غلام رسول سعیدی نے لکھ دیا کہ ” دنیا میں غلام بنانے کی رسم تھی تو اسلام نے جزاء سیئة بالسیئة برائی کے بدلے برائی کا جواز دیا لیکن دنیا نے پابندی لگادی تو اسلام بھی اس پابندی کو قبول کرتا ہے”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” اپنی قوم سے تعلق رکھنے والی آزاد عورتیں ہیںاور ان میں 4سے ایک بھی زیادہ سے نکاح کی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری قوم سے تعلق رکھنے والی عورتیں لونڈیاں ہیں اورجن میں تعداد کی کوئی پابندی نہیں ، جتنی چاہیں رکھ سکتے ہیں”۔ مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا غلام رسول سعیدی نے کوشش کی کہ اسلام کے ماتھے سے لونڈیوں کا داغ مٹ جائے ۔ان کا تعلق دیوبندی بریلوی حنفی مسلک سے تھا۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے حنفی علماء کسی بات پر متفق ہوجائیں تو دنیا پر بڑے اثر ات مرتب ہوںگے۔ ہندوستان اور پاکستان کو منصوبہ بندی کے تحت تقسیم رکھا گیا۔ اگر صلح حدیبیہ کا معاہدہ اور اسلام کی درست تعبیر ہوتو دنیا میں اسلام کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔آزادی سے پہلے مسلمانوں اور ہندؤوں نے خلافت کی بحالی کیلئے مشترکہ تحریک چلائی تھی ،جس میں مولانا محمد علی جوہر کیساتھ نامی گرامی ہندو لیڈر بھی شریک تھے۔ مولانا محمد علی جوہر’کامریڈ’مولانا ظفر علی خان’زمیندار’ اخبار نکالتے تھے۔ مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ تھے ۔علامہ اقبال نے کہا : ” جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہوروزی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو”۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو خطرہ تھا کہ برصغیر کی سیاسی قیادت، عثمانی خلافت ، روس و جرمنی آپس میں مل کر سپر طاقت نہ بن جائیں۔ جرمنی میں دیوار برلن کھڑی کی گئی۔ پاک وہند کو تقسیم اور خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے کئے گئے۔ حجازکا شریف مکہ برطانیہ کا ایجنٹ تھا۔ شیخ الہند چھپ کر حجاز پہنچے تو شریفِ مکہ نے برطانیہ کے حوالے کردیا۔ دارالعلوم دیوبند کے اندر سے مخبری ہوئی ۔ مولانا حسین احمد مدنی حرم کے مدرس اورغیر سیاسی شخصیت تھے لیکن اپنے استاذ کیساتھ مالٹا جیل جانا پسند کیا تھا۔ برطانیہ نے سعودی عرب سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو عربی کلچر اور اسلام کے برعکس خود ساختہ شرعی پردہ مسلط کردیا۔ جس نے مسلمانوں کے ذہن سے لونڈی اور اسکے لباس کا تصور ختم کردیا۔ برطانیہ، فرانس سپرطاقت تھے پھر امریکہ بن گیا۔خلافت عثمانیہ کو مل بانٹ کر توڑا ۔روس کے خلاف متحد ہوگئے پھر فرانس سے امام خمینی نے ایرانی انقلاب برپا کیا۔ ایرانی کلچر اور اسلام کے برعکس پردہ نافذ ہوا۔50سالوں سے ایران میں عورتوں پر پردے کی جو پابندی ہے اس کی وجہ سے لونڈی کے لباس کا تصور ختم کردیا گیا۔ وہابی اور شیعہ اسلامی پردے کے نام پر جو کھلواڑ ہوا ،اسکے اثرات قدامت پسند نہیں ڈھیٹ مذہبی طبقہ نے قبول کئے۔ امریکہ نے بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان کو لاؤنچ کیا۔ سعودیہ، ایران اورطالبان میںکونسا اسلام ہے ؟۔ سب جائیں بھاڑ میں مگر عالمی طاقتوں نے دنیا سے لونڈیوں اور انکے لباس کا خاتمہ کرکے اچھا کیا۔ امریکہ نے مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی سے کمیونزم، جہاد اور پردے کے نام پر کتابیں لکھوائی۔ اسلامی جمعیت طلبہ وطالبات نے کبھی خود اس پردے پر عمل نہیں کیا۔ جہاد کیلئے اپنے بیٹے فاروق مودودی اورجماعت اسلامی کے رفقاء کو نہیں بھیجا لیکن جذباتی لوگوں کو میجر مست گل کی بڑی زلفوں کا اسیر بنانے کا ڈرامہ ضرور کیا۔ آج چوہدری نثار اپنے پسندیدہ سیاستدانوں میں پہلے نمبر پر ولی خان اور دوسرے نمبر پر ذوالفقار علی بھٹو کو رکھتے ہیں۔ ولی خان نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ ” آپ خود بھی ایک خاتون ہیں اور افغانستان میں عرب مجاہدین پختونوں کی خواتین کو لونڈیاں بنانے کی باتیں کررہے ہیں”۔ عمران خان کہتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف بھی ہے لیکن وہ پہلے نمبر کے لیڈر تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اداکارہ ممتاز کیساتھ جو کیا تھا وہ حبیب جالب کے اشعار میں موجود ہے۔ لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو
خلافت کا قیام اور دنیا کو خطرات کا سامنا
احادیث صحیحہ میں خلافت علی منہاج النبوہ کی پیش گوئی ہے۔ مولانا آزاد، مولانا سیدمودودی ، شیخ عبداللہ ناصح علوان ، ڈاکٹر اسرار احمد ، علامہ اقبال اور کئی مذہبی اسکالرز اور سیاسی رہنماؤں کے دل ودماغ میں روشن مستقبل کا نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ عالمی قوتوں کو بجا طور پربہت خوف آرہاہے اور افغان طالبان کیساتھ عمران خان کی ہمدرد ی کو بیان کرتے ہوئے رؤف کلاسرا نے کہا کہ پانچ عالمی طاقتور ممالک نے سفارت کاری کے ذریعے پیغام دیا کہ ” اگر آئندہ عمران خا ن اقتدار میں آیا تو پاکستان کیساتھ کام نہیں کریں گے۔ پاکستان امریکہ، برطانیہ، چین اوریورپی ممالک کے بغیر نہیں چل سکتا ،انہوں نے بہت ساری رعایتیں دے رکھی ہیں”۔پھر رؤف کلاسرا نے عمران خان کو بینظیر بھٹو کے طرز پر قتل کی سازش کا ذکر کیا ۔ بعض کے طرزِ عمل سے لگتاہے کہ صحافی اور چوہدریوں میں بھی میراثی کا کردار ادا کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کچھ بھی نہیں مگر قسمت اس پر مہربان ہے۔ نظام نہیںانقلابی اقدامات سے ملک بچانا پڑیگا۔کچھ صحافی گدھے کا دودھ پینے اور گدھی کے ٹٹے مالش کرنے کی مہم جوئی کرتے ہیں۔ عالمی قوتوںکو پاکستان سے خلافت کے قیام میں اپنی خواتین لونڈیاں بنتی دکھائی دیتی ہیں۔ پہلے یہود ونصاریٰ نبیۖ سے اسلئے راضی نہیں تھے کہ ” مذہبی معاملات میں احبار ورھبان نے دین میں تحریفات کی تھیں اور ان کی چاہت تھی کہ نبیۖ بھی اصلی دین کی جگہ ہماری تحریفات پر ہمارے تابع بن جائیں”۔ لن ترضیٰ عنک الیہود ولن النصاریٰ حتی تطبع ملتھم ”آپ سے کبھی یہود اور نصاریٰ راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع بن جائیں”۔ دین کا معاشرتی اور معاشی نظام یہودونصاریٰ بگاڑ چکے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” انہوں نے اپنے احبار ورہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا”۔ حاتم طائی کے فرزند عدی بن حاتم نے اسلام قبول کیا تھا اور اس آیت پر نبیۖ سے سوال اٹھایا کہ ”ہم نے تو علماء ومشائخ کو اپنا رب نہیں بنایا تھا”۔نبیۖ نے فرمایا کہ ” کیا تم ان کے حلال کردہ حرام کو حلال اور حرام کردہ حلال کو حرام نہ سمجھتے تھے؟” ۔ عدی نے عرض کیا کہ ” یہ تو ہم سمجھتے تھے” ۔نبیۖ نے فرمایا کہ ” یہی تو رب بنانا ہے کہ ان کے کہنے پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام سمجھتے تھے”۔ قرآن نے عورت کے حقوق کی زبردست وضاحت فرمائی مگر مذہبی طبقات نے کھلے حقائق کو بہت بھونڈے انداز میں مسخ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور ایک ایک بات کو انسان دیکھے تو یہودونصاریٰ کے کردار کو سمجھے گا کہ نبیۖ کی ذات سے کیوں راضی نہیں ہوسکتے تھے؟۔ اوروہ ہے عورت کابدترین استحصال ۔ جب جنگ بدر میں مسلمانوں نے70افراد کو قیدی بنالیا تھا تو کسی ایک کو بھی غلام نہیں بنایا تھا۔ اگر خواتین ہوتیں تو شاید آپس میں بانٹ دی جاتیں؟۔ اسلئے کہ لونڈیاں رکھنا دورِ جاہلیت اور انسانوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ مگر یہ سب مرد تھے اور جنگ کے شہسواروں کو غلام بنانا اور ان سے گھر کی خدمت لینا ممکن نہیں۔ ابھی نندن اور کلبھوشن یادیو کو پکڑلیا تو کون گھر کی خدمت لیتا؟۔ درا صل یہ نظریہ غلط ہے کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ممکن ہے۔ جنگی قیدیوں کوقتل کیا جاسکتا ہے، غلام نہیں بنایا جاسکتا اسلئے قرآن نے حکم دیا ہے کہ ” ان کو فدیہ لیکر چھوڑ دو یا پھر احسان کرکے چھوڑ دو”۔ (القرآن)۔ جس سے جنگی قیدی کو قتل نہ کرنے کا کریڈٹ قرآن کے کھاتے میں جاتا۔ افسوس کہ ہم نے قرآن کو اتنے بڑے کریڈٹ سے محروم کیا ۔ورنہ عافیہ صدیقی بھی امریکہ کی قید میں نہ ہوتی اور اقوام متحدہ میں قرآن اور اسلام کے نام پر جنگی قیدیوں کیلئے عظیم قوانین بھی بنتے۔
قرآن اور لونڈی کے تصور کا خاتمہ
لونڈی کو امة اور غلام کو عبدکہتے تھے، قرآن میں ان کو آزاد کرنے اورنکاح کرانے کا حکم ہے۔اللہ نے قیدیوں کا فرمایا کہ” فدیہ یا احسان سے چھوڑدو”۔ لونڈی بنانے کا تصور بڑی غلطی ہے۔ کوئی آیت نہیں کہ جس سے لونڈیاں بنانے کا حکم اخذ ہو۔ بنی اسرائیل کولونڈی سے بچانے کیلئے اللہ نے آل فرعون سے مزاحمت کیلئے انبیاء بھیجے تویہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ نے آل فرعون کی کمی اسلام سے پوری کرکے بنی اسرائیل اوردیگر انسانوں کو لونڈی بنانے کا مشن دیا ہو؟۔ اللہ نے فرمایا: پس تم نکاح کرو عورتوں میں سے جن کو تم چا ہو2،2اور3،3اور4،4سے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”(سورۂ النسائ) کیااللہ نے لونڈیوں کی تعداد نہیں بتائی تھی ۔اسلئے رنگین مزاج بادشاہوں نے ہزاروں لونڈیاں رکھی تھیں؟۔ جس طرح جنت میں حوروں کی بڑی تعداد کا ذکر عام ہے مگر قرآن اور صحیح حدیث میں اس کا دور دور تک نشان نہیں۔ اسی طرح زیادہ تعداد میں لونڈیوں کا تصور انتہائی احمقانہ اور نفسانی خواہشات کا عکاس ہے جو اسلام کے منافی ہے۔ کوئی منصف مزاج انسان ہوتا تو آیت سے زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکالتا کہ پہلی صورت یہ ہے کہ دو چار عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو ۔اگرنا انصافی کا خوف ہو تو پھر ایک سے نکاح کرو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ”یا جن سے تم معاہدہ کرلو”۔ اگر آدمی ایک عورت سے بھی نکاح کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کیلئے معاہدے کی بھی گنجائش ہے۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ ابوہریرہ نے نبی ۖ سے پوچھا کہ کیا ہم اپنے آپ کو خصی بنائیں؟ ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں۔ تم کسی سے متعہ کرلو ایک یا دوچادر کے بدلے۔ اس چیز کو اپنے اوپر حرام مت کرو جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ، الآےة(صحیح بخاری )بخاری کی حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایک عورت سے بھی نکاح کی صلاحیت نہیں تو وہ متعہ کرسکتا ہے اور آیت میں معاہدے سے مراد لونڈیاں نہیںبلکہ (متعہ اورمسیار)ہے۔ نکاح کیلئے جو لوازمات ہیں وہ معاہدے کیلئے نہیں ہیں۔ حضرت عثمان نے حضرت ابن مسعود سے کہا تھا کہ اگر آپ کہیں تو میں کسی لڑکی سے نکاح کروادیتا ہوں مگر ابن مسعود نے پیشکش قبول نہیں کی۔ ابن مسعود نے مصحف کی تفسیر میں لکھا کہ ” ایک مخصوص وقت تک متعہ کرسکتے ہیں” ۔علماء کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے قرآنی آیت قرار دیا تھا مگر وہ قرآن کے لفظ کی حدیث کے مطابق تفسیر تھی۔ علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ” ہم نے آپ کیلئے ان چچاکی بیٹیوں کو حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔نبیۖ ان سے نکاح کرسکتے تھے ،نہ لونڈی بناسکتے تھے۔ علامہ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو ازواج النبی ۖ میں شامل کیا ۔ حالانکہ ان کو ام المؤمنین کا شرف حاصل نہیں ہوا۔پھر اللہ نے نبیۖ پر کسی سے بھی نکاح کی پابندی لگائی تھی مگر ایگریمنٹ کی اجازت دی اور ام ہانی سے ایگریمنٹ ہوسکتا تھا لیکن علامہ عینی نے28خواتین کو ازواج میں شمار کیا ہے۔نبیۖ نے فتح خیبر کے موقع پر صفیہ سے صحبت کی تو دعوت ولیمہ میں صحابہ نے کہا کہ ”اگر پردہ کروایا تو نکاح ہے اور نہیں کروایا تو ایگریمنٹ ہے”۔ ( صحیح بخاری)۔ ایگریمنٹ آزاد عورت اور لونڈی دونوں سے ہوسکتا ہے اور ایگریمنٹ کا تعلق کاروباری معاملے سے بھی قرآن میں انہی الفاظ کیساتھ آیا ہے۔ قرآن نے عبدیت کو ناجائز قرار دیا ہے اسلئے کہ عبدیت صرف اللہ کی ہوسکتی ہے ۔دورِ جاہلیت میں لونڈی اور غلام مملوک ہوتے تھے ۔ مملوک کے جانور کی طرح انسانی حقوق نہیں تھے ۔ اسلام نے انسانی حقوق بحال کرکے ان کو گروی کا درجہ دے دیا۔ اسلئے ان پر ملکت ایمانکم کا اطلاق کیا ۔قرآن میں ہر مقام پر اس کا مختلف چیزوں کیلئے معنی واضح ہے۔ ہم نے جب قرآن کی طرف دھیان نہیں دیا تھا تو اسی گمراہی کے شکار تھے اور گمراہی کی اس دلدل سے نکلنے کیلئے پاکستان کی پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا۔
قرآن میں جدید دور کے مسائل کاحل
شیخ العرب والعجم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ومن یشتری لھو الحدیث ” اورجو خریدتا ہے لغو بات کو”۔ اس جدید دور میں بات ریکارڈ ہوسکتی ہے ۔ اسلئے کہ لغو بات کے لغو خریدنے کا تصور قدیم دور میں نہیں ہوسکتا تھا۔ نبیۖ نے صحابہ کرام سے فرمایا ہے کہ” قرآن میں تمہارے بعد پیش آنے والی خبروں کا بھی ذکر ہے”۔ قرآن کی یہ تفسیر بالکل حدیث کے بھی مطابق ہے اور اس کو جھٹلانے کی عقلی گنجائش بھی نہیں ہے۔ محرمات کی فہرست چوتھے پارے کے آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان کرتے ہوئے ماں، بیٹی ، بہن اور مختلف رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دو بہنو ں کو جمع مت کرو۔ پھر پانچویں پارے کے شروع میں فرمایا : والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم ”اور عورتوں میں سے جو بیگمات ہیں مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے”۔ اس آیت کی تفسیرمیں بڑے تضادات ہیں۔ ایک صحابی کی طرف منسوب ہے کہ ” اگر کسی کی لونڈی نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہو تو وہ پھر بھی اس کی لونڈی ہے اور واپس لیکر اس کیلئے حلال ہے”۔ جمہور نے کہا کہ جنگ میں پکڑی جانے والی عورتیں جن کا پہلے سے خاوند ہو اور وہ لونڈی بن جائیں تو وہ حلال ہیں۔ کسی ایک تفسیر پر اتفاق رائے نہیں ہے ۔ لیکن کیوں؟۔ اللہ نے قرآن کو بہت واضح بیان کیا ہے تو اس کی تفسیر کس وقت مشکل ہوتی ہے؟۔ سورۂ جمعہ میں اللہ نے واٰخرین منھم لما یلحقوبھم ” اور ان میں سے آخرین جو ابھی تک ان پہلوں سے نہیں ملے ” ۔ کا تعلق آئندہ زمانے سے تھا اسلئے صحابہ نے پوچھا کہ ان سے کون مراد ہیں۔ نبیۖ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرفرمایا کہ اسکی قوم کا ایک شخص یا چندا فراد اگر دین ثریا پر پہنچ جائے تو بھی اس کو پالیںگے، بعض روایات میں علم اور ایمان کا بھی ذکر ہے۔ صحابی نے اشکال اٹھایا ہے کہ محرمات کی فہرست میں سب سے آخر میں جو طبقہ بیان ہوا ہے آخر سے ان سے کونسی خواتین مراد ہوسکتی ہیں جن کو بہت ہلکے درجے کے محرمات میں شمار کیا گیا ہے اور پھر اس میں استثناء کا بھی ذکرہے؟۔ عربی میں محصنات صرف ان کو نہیں کہتے ہیں جن کے شوہر زندہ ہیں۔ بلکہ جن کے شوہر فوت ہوچکے ہیں ان کو بھی محصنات یعنی بیگمات کہتے ہیں۔بیگمات کی یہ قسم چونکہ پہلے ادوار میں نہیں تھی اسلئے تفسیر بھی مشکل ہوگئی۔ موجودہ دور میں جن فوجی جوانوں کو نشان حیدر یا دوسری ایسی بیگمات جن کی مراعات سابقہ شوہر سے نکاح کے بندھن کیساتھ وابستہ ہوں۔ جب وہ نکاح کریں تو ان مراعات سے ہاتھ دھونا پڑجائیں۔ اگر ان کو جھانسہ دیکر نکاح کرلیا اور وہ مراعات سے بھی محروم ہوگئیں اور پھر کسی وجہ سے طلاق یا خلع کا معاملہ ہوگیا تو کتنا برا ہوگا؟۔ اس وجہ سے ایسی خواتین سے مستقل نکاح کی جگہ پر ایگریمنٹ کے جواز کا مسئلہ اللہ نے واضح کردیا۔ ایک تو اس عورت کو مراعات ملتی رہیں گی اور دوسرا جنسی خواہش کیلئے بھی کسی معین شخص سے تعلق معیوب ، غیراخلاقی اور غیرقانونی نہیں رہے گا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کیلئے یہ بہت بڑی خوشخبری اور مشکلات سے نکلنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر پاکستان میں ایسا ماحول نہ ہوتا کہ پینشن سے بھی جان چھڑانے کے منصوبے بن رہے ہیں تو سب سے پہلے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی اپنے پیٹی بند بھائیوں اور معاشرے کے عظیم مفاد میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی بھی کرواتے۔ قرآن نے ایک ایک معاشرتی مسئلہ حل کیا ہے لیکن ہمارے مدارس میں قرآن کے ترجمے بھی رٹے رٹائے کئے جاتے ہیں اور قرآن کے ذریعے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ تک نہیں دیتے ہیں۔
حورکا تصور اور قرآن وحدیث اورعربی
قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انہ ظن ان لن یحور ”بیشک اس کا گمان تھا کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا”۔ جن عجمیوں کو عربی نہیں آتی ہو تو ہوسکتا ہے کہ ایسی روایت بھی گھڑ دی ہو کہ جنت ، جہنم، توحید، رسالت، کتابوں، ملائکہ کی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اسکا ایمان حور پر بھی ہو اور جس کا ایمان حور پر نہیں ہوگا تو اس کو حور بدمعاش بن کر خود مارے اور پیٹے گی کہ تمہارامجھ پر یقین کیوں نہیں تھا؟۔ جیسے امامھم کو امہاتھم سمجھ کر روایت گھڑ دی کہ آخرت میں ماؤں کے نام سے سب کو پکارا جائیگا ،ایک عمر کو باپ کے نام سے پکارا جائے گا اسلئے کہ غیرتمند تھا۔ حور کا اصل معنی تو جدت کیساتھ نئے انداز میں پیدا ہونا ہے۔ آخرت میں یہ انسانی وجود جب دوبارہ پیدا ہوگا تو یہ حور ہے۔ حور مردو عورت دونوں کو کہا جاتا ہے۔ حور عین کیساتھ شادی ضرور ہوگی لیکن مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی جگہ پر حور بھی ہوں گے اسلئے کہ نیا وجود ہوگا اور عین کا معنی دنیا کی حقیقت بھی وہی ہوگی یعنی اس کو شخصیت بعینہ ہوگی وہی مگر اس میں جدت اور نیا پن ہوگا۔ یہ قرآن کی طرف سے اس سوال کا جواب ہے کہ مرد کو حور ملے گی تو عورت کو کیا ملے گا؟۔ یہی نا کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے حور یعنی جدت والا وجود ہوں گے۔ سورۂ رحمان میں اللہ نے فرمایا: فیھا الفاکھة والنخل والرمان ” اس میں پھل ہوں گے، کھجور اور انار”۔ فیھن خیرات حسان ” جنت یعنی باغ میں مزیدار(پھل) خوشنما ” ۔ یہ باغ کے پھلوں کی صفات ہیں۔ عورتیں مراد نہیں ہوسکتیں کیونکہ پھر خیِرات کا لفظ ہوتا۔حور مقصورات فی الخیام لگتا ہے کہ علماء کے نزدیک جنت میں بھی سندھ کے سیلاب زدگان کے خیمے ہیں ۔ حور یعنی جدید پھل ۔ مقصورة پردہ نشین عورت ، مکان اور کوئی بھی چیز جو ڈھکی ہوئی ہو۔ موجودہ دور میں ہائی بریڈپھلوں کے پودے خیموں میں ہوتے ہیں۔ جو درجہ حرارت کو کنٹرل کرنے کیلئے ہوتے ہیں جو ہر موسم میں پھل دیتے ہیں۔ اس سے جدید ترقی یافتہ باغات کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ پہلے کسی نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ قرآن کی تفسیر زمانہ کرتاہے، ابن عباس۔ لم یطمسھن انس ولا جان ”ان کو انسانوں اور جنات نے چھوا نہیں ہوگا”۔ یہ بھی پھلوں کی صفت ہے کہ وہ بالکل محفوظ اور ایسے ہوںگے کہ کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔ اس طرح دوسرے مقامات پر بھی پھلوں کے درختوںکی شاخوں کا بیان ہے کہ قاصرات الطرف، عرباًاتراباً ”جن کی شاخیں اطراف میںجھکی ہوئی ہوں گی اور دل کو لبھانے والی اور ہاتھوں کی ان تک رسائی ہوگی”۔اس طرح کواعبا اترابا ” ابھری ہوئی لٹکی ہوئی قد کے برابر”۔ یہ بھی باغات کی صفات ہیں۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ کوچوں کا افغان ڈاگ چاند کو دیکھ کر چھلانگیں لگاتا ہے کہ شاید بڑی افغانی روٹی ہے۔ درباری علماء بادشاہوں کی طرح عیاشی کے مزے نہیں اڑاسکتے تھے اسلئے قرآن میں باغات کی صفات کو بھی کچھ اور سمجھ کر اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق اس کی تفسیر کر ڈالی۔ حالانکہ نبیۖ نے ایسی تفسیر کی سخت مذمت فرمائی تھی جو اپنی رائے اور خواہش سے کی جائے۔ بہت سارے لوگوں نے قرآن کی حقانیت پر یقین کرنا اسلئے چھوڑ دیا کہ ان کے نزدیک بس سیکس اور عورت ہی ترجیحات کا مطمع نظر لگتا تھا۔ اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں تھا کہ درخت اور پھلوں کی صفات میں بھی ان کو کچھ اور دکھائی دیتا تھا۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تو مولانا طارق جمیل کبھی بیان کرنے آجاتے تھے۔ قبراور حوروں کے احوال سے ایسے مناظر اور کہانیوں کی عکاسی کرتے تھے کہ بعض طلبہ بہت فحش قسم کے الفاظ استعما ل کرتے تھے۔ عورت بیچاریوں کیلئے دنیا الگ سے عذاب بنائی تھی تو جنت کی بھی ایسی عکاسی کردی تھی کہ کرین سے زنجیروں میں باندھ کر ان کو زبردستی سے جنت میں ڈالنا پڑتا۔ جب نیک وپارسا خواتین کو حقائق کا پتہ چلے گا تو وہ ساری دنیا میں ایسی تبلیغ کرنا شروع کریں گی کہ اسلام دنیا میں بہت جلد از جلد پھیل جائے گا۔
پاکستانی علماء کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
اہلحدیث اور جماعت اسلامی ہندوستان کے علماء کی پیداوار ہیں اسلئے ان کی ذہنیت درباری علماء سے زیادہ مختلف نہیں۔ قرآن کی طرف رجوع کیلئے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا سے رہائی کے بعد عمر کے آخری حصہ میں آواز اٹھائی مگر امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کے سوا کسی نے ان کی بات پر کان نہیں دھرے۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا انور شاہ کشمیری نے عمر کے آخر میں مولانا عبیداللہ سندھی سے معافی مانگ لی تھی بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ” میں نے ساری عمر قرآن وحدیث کی خدمت کرنے کے بجائے فقہ کی وکالت میں ضائع کردی”۔ علماء ومفتیان کیلئے درسِ نظامی وہ کمبل ہے جس سے علماء حق نے ہمیشہ جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن کمبل ان کی جان کو نہیں چھوڑ رہاہے۔ ایک شخص کو دریا میں کمبل نظر آیاتو چھلانگ لگائی کہ کمبل کو پکڑلے ۔ ساتھی سمجھ گیا کہ کمبل نکالنا اس کے بس میں نہیں اور آواز لگائی کہ کمبل کو چھوڑ دو۔ کمبل سے کشمکش والے نے کہا کہ میں کمبل کو چھوڑ رہاہوں، کمبل نہیں چھوڑ رہاہے کیونکہ وہ کمبل نہیں ریچھ تھا۔ مولانا یوسف بنوری کی خواہش تھی کہ ایسا مدرسہ قائم کرے کہ مولانا سیدانور شاہ کشمیری کی خواہش کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کی زندگیاں ضائع نہیں ہوں بلکہ قرآن و حدیث کی تعلیم سے دنیا میں انقلاب آئے لیکن کمبل میں پھنس گئے۔ عیاش مسلم حکمرانوں نے دنیا کو شکست دیکر یہ مذہبی تصور قائم کیا کہ عمر نے پابندی لگائی کہ ” لونڈیاں اپنے لباس سے زاید جسم کو نہیں ڈھانک سکتی ہیں”۔ لونڈیوں کے ستر میں سر، گردن، کندھے، بازو ، پیٹ اور ٹانگیں شامل نہیں تھیں۔ قیمت لگنے کیلئے جسم نیم برہنہ ہوتا تھا۔ انگریز کالوں کو غلام سمجھتے تھے اور مسلمانوں نے گوروں کو لونڈی بنانا شروع کردیا۔ رسول اللہ ۖ کی لونڈی ماریہ قبطیہ کے حوالہ سے کون سوچ اور سمجھ سکتا ہے کہ لباس کو ادھورا رکھنے پر مجبور کیا گیا ہوگا؟۔ افغانستان کو امیر امان اللہ خان نے ترقی دی تو انگریز نے سازش کی۔50،60اور70کی دہائی میںکابل پاکستانی اشرافیہ کا منظر پیش کررہاتھا۔ قائد اعظم، قائدملت ، جنرلوں، بیوروکریٹ، سیاستدانوں کی بیٹیوں و بیگمات کاجو ماحول تھا وہ عام افغانی خواتین کا تھا۔رتن بائی، رعنا لیاقت، بیگم بھٹو، بے نظیربھٹو، کلثوم سیف اللہ، بیگم نسیم ولی، عابدہ حسین، تہمینہ دولتانہ، ریحام خان اورمریم نوازتک کا جو پردہ اور مخلوط نظام سے واسطہ ہے اور جرنلوں ، بیوروکریٹ کی بیٹیاں جیسے آج مغرب اور مخلوط تعلیمی ومعاشرتی نظام کا حصہ ہیں بالکل اسی طرح افغانستان کی خواتین ترقی وعروج کی منزل پر گامزن تھیں۔ ہمارے اشرافیہ نے ملاؤں کو استعمال کرکے مغربی سازش کے کھیل میں جس طرح افغانستان کو دھکیل دیا، اس کی ایک ہلکی سی جھلک شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے تازہ بیان میں موجود ہے۔ مفتی تقی کے اَبا نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت اسلام کے نام پر کی ؟۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی قائداعظم اور قائدملت لیاقت علی خان اور مرزاغلام احمد قادیانی کے پیروکار سرظفر اللہ سے کم نہ تھے لیکن طالبان کا امریکہ سے معاہدہ ہوا تو پھر افغانستان کے نظام کا سارا ڈھانچہ تباہ کرکے طالبان آگئے اور مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے وفد کے ہمراہ ان کو مبارکباد دیدی۔ طالبان کو چاہیے کہ مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور تمام مذہبی پیروں اور علماء کرام کو اپنے ہاں بال بچوں سمیت کچھ عرصہ تک تعلیم وتربیت کیلئے اپنے پاس رکھیں تاکہ یہ لوگ اسلام کی فضاؤں میں سانس لے سکیں اور انکے بچے بھی فیض یاب ہوں۔ اپنے مدارس اور گھر تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کے حوالہ کردیں اور وہ یہاں اسلام کی وہی خدمات انجام دیں جو یہاں علماء دیتے ہیں۔
اسلامی معاشی معاشرتی نظام مسخ کیا گیا
ائمہ اربعہ سے پہلے مدینہ کے سات فقہاء تھے ایک حضرت ابوبکر کے پوتے قاسم اور دوسرے نواسے عروہ تھے۔ تیسرے حضرت سعید بن مسیب تھے۔ ابن مسیب نے فرمایا کہ” درباری چورعلماء کی نبیۖ نے سخت مذمت کی ہے”۔ مزارعت کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کے مقابلے میں صحیح بخاری کے اندر آثار نقل ہیں کہ آل ابوبکر، آل عمر اور آل علی مزارعت پر زمین دیتے تھے۔ رسول ۖ کی احادیث کے مقابلے میں درباری آل واولاد کی کیا حیثیت تھی، جنہوں نے مزارعت کی کمائی کو جائز قرار دے دیا یا اسے ناجائز سمجھ کر بھی کھانے سے دریغ نہیں کیا؟۔ حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے اس پر اپنی کتاب میں بھرپور وضاحتیں لکھیںمگر درباری علماء و مفتیان نے مولانا طاسین کے علمی حقائق کو مدارس اور عوام کے سامنے نہیں آنے دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن قائد جمعیت علماء اسلام نے بھی مولانا طاسین کے مشن کی تحریری تائید بھی کی ہے۔ اگر اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل ہوجاتا تو پاکستان کو ان معاشی اور معاشرتی مشکلات اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج بھی علماء اور مذہبی جماعتیں قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہوجائیں تو پاکستانی ان کو سروں کے تاج بنانے کیلئے تیار ہیں ورنہ تاریخ میں ایسی نفرت کبھی مذہبی لبادوں سے نہیں ہوئی ہے جونفرت آج بہت سارے لوگوں کے دل ودماغ میں گردش کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شیعہ ذاکر مسلم لیگی خاتون حنا پرویز بٹ پر بہت لعن طعن اسلئے کر رہاہے کہ اس نے مریم نواز کے لاہور ائیرپورٹ آنے پر کسی شیعہ کے مرثیہ کا کوئی شعر لکھ دیا تھا اور اس نے شہباز گل کو بھی کربلا کے میدان میں عمران خان کو کھڑا ہونے کی تشبیہ دینے پر خوب سنائی ہیں۔ اہل تشیع کی حساسیت نے ہی سنیوں میں بھی اپنے مقدسات کی زیادہ حساسیت پیدا کردی ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور مذہبی کشیدگی جس حد تک پہنچائی جارہی ہے اس کے بہت خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جب جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں تحفظ صحابہ بل پیش کیا تو میڈیا حرکت میں آئی اور یہ نشر کرنا شروع کردیا کہ” اسامہ بن لادن چترال میں چھپا تھا۔ جس کیلئے امریکی اہلکاروں نے چترال میں کرائے پر گھر لیا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کے مظاہرے کی وجہ سے امریکہ نے وہاں پڑاؤ نہیں ڈالا۔ چترال سے اسامہ کی ویڈیو نے اطلاع دی تھی کہ وہ چترال میں ہوسکتے ہیں۔ افغان حکومت نے ایک شخص کوپکڑا تھا جس نے بتایا تھا کہ وہ اسامہ کو چترال سے افغانستان کے راستے پشاور لائے تھے اور اس کاISIسے تعلق نہیں ہے بلکہISIکیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم سے تعلق ہے”۔ عوام کو یہ پتہ نہیں کہ اسامہ کو قتل کیا گیا یا زندہ لے گئے؟ لیکن امریکہ نے جتنا کھیل یہاں کھیلنا چاہا تھا اور ایک ایٹمی پاکستان اور غیرتمند طالبان کو کہاں سے کہاں پہنچایا۔ جس کے بعد عراق اور لیبیا کے تیل پر بھی قبضہ کیا تھا۔ حالانکہ امریکہ بلیک واٹر کے ذریعے بھی اسامہ کو ٹارگٹ کرسکتا تھا۔ پاکستان میں عمران خان اورPDM، شیعہ اور سنی، قوم پرست اور ریاست کے نام سے ایک نیا کھیل شروع ہوا ہے اور اس کا فیصلہ امریکہ نے ہی کرنا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم ہوئیں لیکن سوات کے مسلم خان، محمود خان اور دوسروں کو صدر مملکت عارف علوی نے چھوڑ دیا۔ پھانسیاں کیا بے گناہوں کو دی گئی تھیں؟۔ پنجاب میںISIکے ایوارڈ یافتہ افسروں کو کس نے مار دیا؟۔ جو طالبان تھا اورCTDپولیس کو مطلوب تھا اور اس کے ذریعے پنجاب میں بہت سارے دہشت گردوں کے نیٹ ورک پکڑے تھے۔ ہمیں زیادہ گہرائیوں میں جانے اور شکوک وشبہات میں پڑنے سے گریز کا دامن تھامنا چاہیے اور ذمہ دار لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے دیں اور اسلام کے عظیم مشن کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سازشوں کو ناکام بنائیں اوراپنے معاشرے اور ملک کو زیادہ مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
اعلان کیا جائے کہ مزارعت سود ہے اور محنت کشوں کو مفت میں کاشت کیلئے زمینیں دی جائیں اور باغات کیلئے عام اجازت دی جائے تو بدحالی اسی لمحہ خوشحالی کے اندر تبدیل ہوجائے گی!
اشرافیہ کیلئے اربوں ڈالر سودی قرضہ لیا جاتاہے جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالتے ہیں
سود یہودی، عیسائی، بدھ مت اور تمام مذاہب کے علاوہ ارسطو سے موجودہ دور کے تمام قدیم اور جدید فلاسفروں کے نزدیک حرام اور غلط مگر ہمارا مذہبی طبقہ جواز فراہم کرنے میں لگ گیا؟
لوٹ مار میں ملوث جرنیل، سیاستدان، جج، بیوروکریٹ، پولیس افسران، میڈیا مالکان اور مذہبی طبقے ضرورت سے زائد دولت مملکتِ خداداد کو واپس لوٹادیں ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے!
محنت کش طبقے کو مفت میں کاشت کی زمین دس سال اور باغات و جنگلات کیلئے بیس سال تک مفت زمینیں دی جائیں تو پاکستان غریبوں اور امیروں سب کیلئے یقینی جنت بن جائے گا
پاکستان کی معاشی بدحالی کے تین اسباب ہیں۔ 1:عالمی اور مقامی بدترین سودی نظام سے وابستگی جس میں شرح سود انتہائی خطرناک حدتک دوسری اچھی ریاستوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ عالمی سود ی نظام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے غریب اور امیر ممالک کیلئے بہت تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ ہمارا سب سے بڑا خطرناک المیہ علم وشعور کی روشنی کوجہالت اور تعصبات سے شکست دینا ہے۔ اسرائیل کو ترکی، مصر، عرب امارات سمیت دنیا کے بہت سارے ملک تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اسلئے کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے اور مسلمانوں کے اسلام اور عالم کفر کے کفر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ آج اگر فلسطین اور اسرائیل میں صلح ہوجائے تو پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمان بیت المقدس کی زیارت کیلئے بھی جائیں گے اور امریکہ وبرطانیہ کی طرح بہت مسلمان اسرائیل بھی نہ صرف جائیں گے بلکہ اس کے شہری بھی بنیں گے۔ ہمارا اصل مذہبی مسئلہ سود کی حرمت ہے ۔ قرآن نے سود کو اللہ اور اس کے رسول ۖ سے جنگ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کیساتھ صلح سے اسلام پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ اسرائیل کے یہودی اہل کتاب ہیں اور مشرکینِ مکہ کے مقابلے میں یہودزیادہ قریب ہیں۔ نبیۖ نے مشرکین سے صلح حدیبیہ کیا تھا۔ ہم سودکاپہلے سے شکار تھے اور اب سودی بینکاری کواسلامی قرار دے کر پستی کی انتہاء تک پہنچ گئے ہیں۔ 2: پاکستان کی بدحالی کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ40سالوں سے ہمارا پیسہ بڑے پیمانے پر بیرون ملک منتقل ہورہاہے۔ISIچیف اختر عبدالرحمن کے فرزندوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئے ہیں۔ جنرل اختر عبدالرحمان اپنے ماں باپ کیساتھ گدھا گاڑی پر ہجرت کرکے آئے تھے تو اس کے بیٹوں نے اتنا پیسہ کہاں سے کمایا ؟۔ جتنے آرمی کے افسران نے بیرون ملک دولت منتقل کی ہے اگر اس کی آدھی بھی واپس آجائے تو پاکستان کی معاشی حالت جنت نظیر بن سکتی ہے۔ افغان جہاد نے جرنیل اور علماء کو کرپٹ کردیا۔ یہ لوگ پہلے ایماندار اور قوم کا سب سے بڑا سرمایہ تھے۔ بیوروکریٹ کی بڑی تعداد نے بھی اپنی کرپشن کا سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا۔ اگر وہ بھی صرف اپنا سرمایہ واپس لائیں تو ہمارا ملک جنت نظیر بن جائے گا۔1988کی حکومت کے بعد سوئس اکاؤنٹ اور سرے محل سے لیکر کیا کیا بیرون ملک زرداری نے بنایا اور مسٹر10%کا خطاب پایا۔1990میں اسلامی جمہوری اتحاد کیلئےISIنے پیسہ بانٹا۔ نوازشریف لندن سرمایہ منتقل کرنے کی کرپشن میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اگر سیاستدان بیرون ملک منتقل کرنے والا سرمایہ واپس لائیں تو ہمارا ملک سارے قرضے واپس کرسکتا ہے۔ میڈیا مالکان نے بڑا ناجائز پیسہ منتقل کیا ہے اور وہ بھی دولت واپس پاکستان لاکر پاکستان کو جنت نظیر بناسکتے ہیں۔ 3: پاکستان کی معاشی بدحالی کا تیسرا بڑا سبب یہ ہے کہ مزارعین کو انسان کا درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ کسانوں کے بچے، بچیاں، جوان مرد اور لڑکیاں، ادھیڑ عمر اور بوڑھے مرد اور عورتین سب کے سب دن رات محنت کرتے ہیں لیکن ان پر کسی کو رحم نہیں آتا ہے۔ تعلیم، صحت، سردی گرمی سے بچاؤ ، بجلی گیس اور سہولیات زندگی کے تما م وسائل سے محروم رہتے ہیں اور جاگیردار ان کو غلاموں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی تعلیم یافتہ، مولوی اور باشعور انسان اس کو جائز سمجھتا ہے تو پھر اس کو اور کوئی سزادینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن بالکل مفت میں زمین فراہم کی جائے اور وہ کسانوں کی طرح خاندان سمیت چند سال زمین میں محنت کرے۔ مزارع کو آدھی اجرت پر رکھا جاتا ہے اور یہ پوری اجرت پر بھی تیار نہیں ہوتاہے تو اس سے اس کی انتہائی درجہ پست ذہنیت کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ کسان اس قابل بھی نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنا اور بچوں کاپیٹ بھرے۔ اقبال نے کہا تھا اٹھو ! میری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخِ امراء کے در ودیوار ہلادو دس سالوں تک مزارعین کو کاشت کیلئے مفت کی زمین دی جائے اور سرکار پانی پہنچانے کا بندوبست کرے تو5فیصد اور نہ کرسکے تو10فیصد عشر حاصل کرے اور باغات وجنگلات کیلئے20سال تک زمین دی جائے تو پاکستان جنت نظیر بن جائیگا۔ لٹیرے خود دولت واپس لوٹانے میں عافیت سمجھیں گے۔ توحید کی سب سے بڑی علامت نماز اور نماز میں سورۂ فاتحہ کی یہ آیت ہے: ایاک نعبد وایاک نستعین ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں”۔ عمران خان پہلا سیاسی قائد اور وزیراعظم تھا جس نے اپنے جلسوں میں توحید کی یہ علامت بلند کردی۔ مگر بابا فرید کے مزارکی راہداری کو چوم کر عربوں کی نگاہ میں ایسے مشرک ہوگئے جیسے ہندوستان میں مندر کے پجاری ہیں۔ قرآن میں فرشتوںکا آدم اور یوسف کے والدین اور بھائیوں کے سجدے کا ذکر ہے جو شرک نہیں ہوسکتا مگراسلام نے سجدہ تعظیمی کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ عرب راہداری کے چومنے کو بھی شرک ہی سمجھتے ہیں۔انڈیا سے دالیں ، سبزیاں، تیل وغیرہ دوبئی جاتی ہیں اور دوبئی سے ہم مہنگے داموں وہی خریدتے ہیں۔ اگر ہم ہندوستان ، افغانستان، روس، ایران اور یورپ وغیرہ کو راہداری دیں تواچھے خاصے ڈالر ، سستی اشیاء اور اچھا روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔دشمنی توبہت کرلی اور اب صلح حدیبیہ کی ضرورت ہے جو فتح مکہ کا بہت بڑاپیش خیمہ بن سکتا ہے۔ حلالہ اور طلاق کے مسائل سے لیکر اسلام کا معاشرتی حلیہ جس طرح سے ہم بگاڑ چکے ہیں تو انہی غلط مذہبی رسوم کے خلاف انبیاء کرام کی بعثت ہوتی تھی ۔پھر ہم کسی اور سے مذہبی منافرت کا کیسے حق رکھتے ہیں؟۔اسلام انسانیت کا مذہب ہے مگر مذہبی طبقات نے دوسروں سے نفرت کو اسلام سمجھ لیا، جو افسوسناک ہے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
پاکستان وافغانستان کی جنگ پر غضب کہانی : وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی بدترین زہر افشانی
پاکستان اور افغانستان میں جنگ سے فائدہ اور نقصان کس کس کا ہوگا؟۔ یہ بات واضح ہے کہ روس افغانیوں کی وجہ سے آیا تو جنگ میں امریکہ ، یورپ ، چین اور دنیا بھر کی قوتیں کود گئیں۔ پاکستان ، ایران ، سعودی عرب اور دنیا بھر کے مسلم اور غیرمسلم ممالک جنگ کا حصہ بن گئے۔ جہاد کو زندہ کرنے والے سب منافقین اور کفار بھی تھے جو مخلص مسلمانوں کو شہادت کے تمغے کیلئے استعمال کررہے تھے۔ مال غنیمت کہیں اوربٹ رہا تھا اور آگ کا ایندھن کوئی اور تھا۔ جنرل ضیاء الحق آرمی چیف صدر پاکستان اور خاموش مجاہدISIچیف جنرل اختر عبدالرحمان اور کئی بڑے فوجی افسر امریکی سفیر سمیت حادثے کا شکار ہوگئے۔ اعجازالحق کو بھی میڈیا میں یہ شکایت رہی ہے کہ” اس کے باپ کیساتھ تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ نے انصاف نہیں کیا ہے”۔شہیدملت لیاقت علی خان کی بیوہ کو بھی شکایت تھی کہ اسکے خاوند کو قتل کرنے میں بڑے بڑے ملوث تھے مگر انصاف نہیں ملا۔ بیگم راعنا لیاقت علی خان کیلئے5ہزار ماہانہ وظیفہ رکھا گیا اور پھر اس کو جرمنی میں سفیر بھی بنایا گیا۔ اپنے سٹاف کے ملازم سے کہا کہ ” عصر کے بعد چھٹی کے اوقات میں بھی یہ تیری سرکاری ڈیوٹی ہے کہ میرے ساتھ بیٹھ کروقت گزارو” اور پھر شراب کے نشے میں دھت ہوکر اپنے شوہر قائدملت کی شہادت کا ذمہ دار تمام سول اور فوجی حکمرانوں کو قرار یتی تھی۔ قائد ملت کی زوجہ محترمہ کو مادرِ ملت کا خطاب نہ مل سکا۔ خاموش مجاہدISIچیف جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادگان کبھی اپنے باپ کے قتل کی شکایت زبان پر نہیں لائے لیکن جب دوسری بار پانامہ کی طرح خفیہ رقم کے مالک کا قصہ میڈیا پر آیا تو ان کی بہت دولت نکلی۔ مشہور تھا کہ موصوفان پاکستان میںسب سے زیادہ دولت مند ہیں اور تھے بھی اسلئے کہ نوازشریف اینڈکمپنی کو اسلامی جمہوری اتحاد کیلئےISIنے لاکھوں کے حساب سے روپیہ دیا اور ہارون اختروہمایوں اختر کی دولت اس وقت اربوں میں تھی۔ اگر نوازشریف کروڑ پتی ہوتے تو لاکھوں روپےISIسے لینے کی کیا ضرورت تھی؟۔ زرداری اور بینظیر بھٹو کی شادی کے اخراجات عزیز میمن اور بلاول ہاؤس کو ایک پنجابی بلڈر نے موصوفان کو گفٹ کیا تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد دولت کی لوٹ مار سے سرے محل اور سوئیس اکاؤنٹ کے قصے شہباز شریف اور میڈیاکا نمایاں کردار تھا۔ بابائے اسٹیبلشمنٹ غلام اسحاق خان کو بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں بینظیر بھٹو اور نوازشریف نے مل کر جتوایا تھا ۔ پھر دونوں کی حکومتوں کو کرپشن کی بنیاد پر ہی غلام اسحاق خان نے ختم کردیا تھا۔ نوازشریف کو اقتدار میں لانے اور بینظیر بھٹو کو پچھاڑنے میں افغان مجاہدین اور اسامہ بن لادن کا بھی بڑا کردار تھا۔ نوازشریف کے خلاف بینظیر بھٹو بھی لندن اے ون فیلڈ کے مہنگے فلیٹوں کی کہانی میڈیا پر سامنے لائی۔ جس کے سارے ثبوتARYنیوز پر ارشد شریف نے اپنے لیپ ٹاپ سے چلادئیے۔ نوازشریف نے بینظیر بھٹو پر امریکہ کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف پر اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا۔ بہت بعد میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مولانا احمد لاہوری کے صاحبزادے جمعیت علماء اسلام میں اپنے گروپ کی معروف شخصیت مولانا اجمل قادری کو نوازشریف نے تعلقات بنانے کیلئے اس دور میں اسرائیل بھیج دیا تھا اورحامد میر نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب زرداری کے پیچھے شہبازشریف، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے تھے توATVچینل (PTV) پر بتایا تھا کہ ” امریکہ ہی بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان کو اقتدار میں لایا تھا”۔ صاحبزادہ حامد رضا نے جنرل فیض کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے بعد یہ انکشاف کیا کہ حامد میر، سلیم صافی وغیرہ جو فوج کی مخالفت کرتے ہیں تو ہرتیسرے دنGHQکے گیٹ پر ملتے ہیں اور وہاں سے ہدایت ہوتی ہے کہ کچھ ہمارے خلاف بھی بولیں تاکہ عوام کے اندر معتبر ٹھہر جائیں۔باقی وہاں سے جو بریفنگ ملتی ہے وہی میڈیا پر پھیلاتے ہیں۔ بینظیر بھٹونے افغان کمانڈروں کے خلاف طالبان کو منظم کرکے امیرالمؤمنین ملاعمر کی حکومت بناڈالی۔ نوازشریف پر اسامہ اور اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ افغان جہاد کی ایک آنکھ اسامہ اور دوسری ملاعمرتھے۔9/11ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا امریکہ میں واقعہ ہوا تو اسامہ نے ذمہ داری کو قبول نہیں کیا لیکن اس کو خوش آئند قرار دے دیا۔ امریکہ نے ملا عمر سے اسامہ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور ملاعمر نے جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت مانگا۔ پرویزمشرف پاکستان کی معیشت کیلئے پریشان تھا، بینظیر بھٹو اورنوازشریف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ باری باری اقتدار میںIMFسے بڑے سود کا قرضہ لیا تھا۔ بجلی بنانے کو فرنس آئیل اور کوئلہ سے مشروط کرکے پانی سے بجلی بنانے کا راستہ روکا تھا۔ جب امریکہ نے20ارب ڈالر کی پیشکش کردی تو پھر پرویزمشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کرنا سب سے پہلے پاکستان کیلئے ضروری سمجھ لیا۔IMFکا قرضہ بھی اتار دیا اور اس ملک میں پہلی مرتبہ متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ پہلی اور دوسری پوزیشن پر آئے تھے اور نوازشریف اور بینظیر بھٹو سائیڈ لائن پر کر دئیے گئے۔ دہشت گردوں نے جو بینظیر بھٹو کو راستے سے ہٹایا تھا تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو اقتدار کی شکل میں مل گیا۔ عمران کہتا تھا کہ سولی پر چڑھ جاؤں گا لیکنIMFکے پاس نہیں جاؤں گا۔ تحریک طالبان پاکستان نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے مذاکرات کیلئے عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کردیا تھا۔ جب نوازشریف نے پنجاب میں ق لیگ کو ساتھ ملایا تو مرکزمیں حکومت سے الگ ہوگئے تھے اور پھر پنجاب سے پیپلزپارٹی کو بھی نکال باہر کیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ شریف پر قتل کے الزام کا مقدمہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور سلیمان تاثیر پر بنناتھا لیکن پولیس کے ایک سپاہی نے سچ بولا اور یہ کہانی ناکام ہوگئی تھی۔ رؤف کلاسرا نے اس پر ایک کتاب ” ایک قتل جو ہو نہ سکا” لکھ ڈالی تھی۔ نوازشریف کے حامی جیو کے بزرگ صحافی نے اس دور میں انصار عباسی کوTVپر کتے کا بچہ کہا تھا۔ جنگ کراچی نے شہہ سرخی لگائی تھی کہ ”وزیرمذہبی امور مولانا حامد سعیدکاظمی نے حج میں کرپشن کا اعتراف کرلیا ہے”۔ جس کی اسی روز شام کو مولاناکاظمی نے حلفیہ تردید کردی تھی۔ ان دنوں اعظم سواتی اور جیو ٹی وی ایک پیج پر تھے۔پھر وہ وقت آیا کہ ڈاکٹر خالد سومرو کے بیٹے مولانا فضل الرحمن کے تقدس کی قسم کھانے کی جرأت کررہے تھے ۔ انصار عباسی نے حامد میر کے پروگرام میں دستاویز ات دکھانے شروع کردئیے کہ مولانا فضل الرحمن ، اس کے بھائی اور اکرم درانی کے فرنٹ مین، سیکرٹری اورفلاں کے نام پر اتنی اتنی فوجی زمینیں الاٹ ہوئی ہیں۔ جب دہشت گردوں نے پختونخواہ میں خاص اور پاکستان میں عام طور پر خون خرابے کا بازار گرم کررکھاتھا تو انصار عباسی ان کی اس طرح تائید کرتا تھا کہ گویا نذیر ناجی نے اس کے خلاف100%سچی گالی بکی تھی۔صاحبزادہ حامد رضا نے جنرل فیض حمید کے بیٹے کی شادی کے بعد حالیہ انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ ” فضل الرحمن خلیل کے مدرسہ میں خود کش حملہ آور پکڑے گئے تھے جس میں ان مدرسہ کے اساتذہ بھی ملوث تھے اور ڈان نیوز میں یہ رپورٹ چھپ گئی تھی لیکن ہرجگہ خاص میٹنگوں میں اداروں کے افراد کیساتھ یہ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ محمود خان اچکزئی کی وجہ سے ہمارے لوگ مارے گئے لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہورہاہے؟”۔ جب انصار عباسی کے سامنے کہا جاتا تھا کہ ” آئین میں صدر زرداری کو تحفظ حاصل ہے تو کہتا تھا کہ اسلام میں یہ جائز نہیں ہے کہ صدر کو آئین میں تحفظ ملے اور جب پاک فوج پر تنقیدکا کہا جاتا تھا تو انصار عباسی کہتا تھا کہ آئین میں ان پر تنقید کی اجازت نہیں ہے”۔ یہ منافقت والا اسلام انصار عباسی کے مفادات میں یوں ہچکولے کھارہاتھا کہ جب پیپلزپارٹی اور اسٹیبلیمشنٹ کی لڑائی سامنے آتی تھی تو موصوف کا ایمان پاک فوج کی طرف جھک جاتا تھا اور جب نوازشریف کے خلاف پاک فوج کا کردار نظر آتا تھا تو اس کا ایمان شریف خاندان کی طرف جھک جاتا تھا۔ پہلی مرتبہ پرویزمشرف کے سب سے جھوٹے وزیر محمد علی درانی نے میڈیا پر انصار عباسی کو واحد ایماندار صحافی قرار دیا تھا۔ جب نوازشریف کے خلاف عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کی دوسری مرتبہ سیاست کھیلی تھی تو انصار عباسی کہتا تھا کہISIچیف اب آرمی چیف سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ حامد میر پر حملہ ہوا تو جیو ٹی وی نےISIچیف کا چہرہ اسکرین پر دکھایا کہ یہ دہشت گرد ہے۔ فوج پر حملہ کرنے کا کریڈٹ نواز شریف اور اس کے حواریوں کو سب سے پہلے جاتا ہے اور اب عمران خان کو بھی فوج سے لڑانے میں ان کا زبردست کردار ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے پہلے تین سال آرمی کے کھاتے میں جاتے ہیں اور آخری تین سال پارلیمنٹ کے مرہونِ منت ہیں جس میں نوازشریف ، عمران خان اور زرداری سب شامل ہیں لیکن اس کی وجہ سے فوج کو بدنام کرنے کی مہم جوئی بہت طریقے سے جاری ہے اور اس کے نتائج ملک وقوم کیلئے اچھے نہیں نکلیںگے۔ انصار عباسی کو مری کے گھر کیلئے شہبازشریف نے کروڑوں روپے کا سرکاری روڈ بناکر دیا تھا۔ مری کے بازاروں میں یورپ کا منظر تھا لیکن طالبان خود کش نہیں کرتے تھے اور پختونخواہ کے گھر، مساجد، مدارس ، بازار، چوک اور سیاستدان کچھ بھی محفوظ نہیں تھا۔ پشتو کہاوت ہے کہ ”جب سچ کا پتہ چلتا ہے تو جھوٹ گاؤں بہا کر لے جاچکا ہوتا ہے”۔ پاک فوج ضرب عضب آپریشن میں مشغول تھی اور عمران خان نے دھرنے کے اسٹیج سے پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کردی تھیں۔ جنرل راحیل شریف نے دو کام کئے تھے ایک دہشت گردوں کے خلاف راست آپریشن اور دوسرا فوج سے کرپشن کا خاتمہ۔ نوازشریف کے خلاف پانامہ کا اعمالنامہ جیو کے صحافی عمر چیمہ نے نکالاتھا لیکن نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کو دھائی دینی شروع کردی کہ مجھے بچاؤ۔ پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو لایا لیکن پارلیمنٹ میں جھوٹے بیان اور قطری خط کے حوالے سے عدالت میں کاروائی چل رہی تھی اور نوازشریف بوکھلاہٹ میں اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں مارنے کے وار کر چکا تھا ۔ نااہل ہوا تو مجھے کیوں نکالا کی رٹ شروع ہوگئی۔ صحافی حضرات کی مشکل یہ ہے کہ کرائے پر چلتے ہیں اسلئے پورا سچ کبھی بتانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے ہیں۔ دودھ کے دھلے ہوئے کون ہیں؟۔ جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف سعودی عرب کو جھوٹی کہانی گئی یا یونہی یہ بنادی گئی ہے ؟ مگر جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے پہلے ن لیگ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم اس کو ایکسٹینشن نہیں دیںگے۔ جب بھی کہا یہی بولا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایکسٹینشن نہیں لینا چاہتے ہیں۔ نجم سیٹھی قلابازی کھاکھا کر کھا کھاکر ایک طرف عوامی مقبولیت کیلئے یہ بیانیہ پیش کررہاتھا کہ نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے، دوسری طرف کہتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نوازشریف سے ملی ہوئی ہے اور تیسری طرف بیان دیتا تھا کہ عمران خان کیساتھ گٹھ جوڑ ہے اور چوتھی طرف مارشل لاء کی افواہیں چھوڑتا تھا۔ جس طرف چاہتا تھا تو اپنا کلپ نکالنے کا حکم دیتا تھا کہ میں نے فلاں دن یہی بات کی تھی۔ اب حکومت کا حصہ بن گیا۔ ایک دفعہ ٹینشن پیدا ہوئی تو ن لیگ کے قریبی آدمی نے دعویٰ کردیا کہ ارشد شریف کو نوازشریف اور مریم نواز نے مروادیا ہے۔ میڈیا میں لوگوں نے تبصرہ شروع کردیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کے خلاف اپنا مہرہ کھڑا کردیا ہے ۔ اب اسٹیبلشمنٹ منظر سے غائب ہے اور وہ شخص اپنی جگہ کھڑا ہے۔ ارشد شریف کی شہادت میں کینیا پولیس اور اس وقت موجود بلیک واٹر کے کارندوں کا کھیل قابلِ ذکر ہے۔ جب بڑے پیمانے پر پاکستان میں بلیک واٹر کے کارندوں کا کھیل جاری تھا تو اس وقت شہبازشریف طالبان کیساتھ کھڑاہوا کرتا تھا۔ القاعدہ ایک نمبر بھی تھا اور دونمبر بھی تھا، طالبان امریکہ کیلئے بھی گڈ اور بیڈ تھے اور پاکستان کیلئے بھی گڈ اور بیڈ تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کا کھیل ایک بھی تھا اور الگ الگ بھی۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کردار میں بھی الگ الگ معاملہ ہوتا تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم باجوہMIاورISIدونوںکے چیف رہے ہیں اور بھروسہ کرنا چاہیے کہ اچھا آدمی ہوگا۔ جنرل جاوید اقبال کو امریکہ کی جاسوسی کے الزام میں پہلے14سال کی ناجائزسزاسنائی گئی اور پھرکم کرکے7سال کردی اب اس کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ امید ہے کہ فوجی اور عام عدالتوں سے اس کو بالکل بے گناہ ثابت کرکے مراعات بھی بحال کی جائیں گی۔ اس کی سزا کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جنرل حمیدگل وغیرہ کے کلپ کو بطور دلیل پیش کیا جاتا تھا کہ فوج میں ترقی اور بڑی تعیناتی امریکہ کی ڈکٹیشن پر ہوتی ہے اور اس جھوٹ کا بھانڈہ کھل گیا۔ جب مولانا فضل الرحمن و زرداری کی حکومت تھی تو سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح ہوگیا تھا۔ پھر نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن اقتدار میں آئے تو اس روٹ کو پنجاب کی طرف موڑ دیا جس میں راستے لمبے ہونے کے علاوہ فوگ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان مغربی روٹ کو بحال کردے تو ٹول ٹیکس چین کی گاڑیوں سے زیادہ وصول کرکے قرضہ ادا کیا جاسکتا ہے اسلئے کہ اس میں پٹرول اور وقت کیساتھ بہت معاملات کی بچت ہوگی اور فوگ کی تکلیف بھی نہیں ہوگی۔ ناراض بلوچ اور پسماندہ پشتونوں کو کوئٹہ اور پشاور سے کاروبارکا فائدہ ملے گا۔ اوریا مقبول جان اور حمیدگل جیسے لوگوں کی زندگیاں جہاد اور جنت پانے کی تمنا میں گزرگئی مگر خود اور اپنے بچوں کواس سعادت سے محروم رکھا۔ اوریا مقبول جان نے اپنے نئے ویلاگ میں پھر کہا ہے کہ ” جہاد ہند شروع ہونے والا ہے اور پاکستان کا پتہ چل جائے گا کہ کس جانب کھڑا ہے؟”۔ جب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم افغانستان میں دہشت گردوں کو گھس کر ماریںگے تو طالبان نے اس کے سخت جواب کو مناسب اور اپنا حق سمجھ لیا کہ ” ہم یہاں برطانیہ، روس اور امریکہ کی سپر طاقتوں کو پہلے بھی دفن کرچکے ہیں ایسی غلطی دہرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے”۔ اس پر میڈیا میں بحث مباحثہ تھا کہ افغانستان میں کاروائی کی خبر آئی۔ پاکستان نے اس کی تردید کردی اور افغانستان کے میڈیا نے اس کو اجاگر کردیا۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کام خارجہ امور پر بیان دینا نہیں تھا کیونکہ یہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور اس حناربانی کھر کا کام تھا جس نے کابل کا دورہ بھی کرلیاہے۔ رانا ثناء اللہ نے اسکے بعد زہریلا اور خطرناک چھکا یہ ماردیا۔ صحافی نے پوچھا کہ امریکہ نے ڈرون کے ذریعے تحریک طالبان کو افغانستان میں نشانہ بناکر پاکستان کی مدد کی ہے؟۔ جس پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ” فی الحال میں اس پر بات کرنا ملک کے مفاد کے خلاف سمجھتا ہوں اسلئے بات نہیں کرنا چاہتا ہوں”۔ TTPنے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ پختون دہشتگردی کیخلاف مظاہروں میں کھڑے ہیں ۔TTPکے امیر نور ولی محسود نے علماء سے اپیل کی کہ بندوق رکھنے کا راستہ بتائیں۔ مثبت اقدامات کے بغیرپاکستان اور افغانستان لیبیا اور عراق بننے سے نہیں بچ سکیں گے۔ مل جل کر گریٹ گیم سے نکلنے میں ایکدوسرے کی مدد کریںگے تو معاملہ حل ہوجائیگا۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
طلاق کے بعد شوہر کے کزن سے دو دن کا حلالہ زندگی بھر کا عذاب بن گیا۔
اسلام میں حلالہ جائز ہے یا نہیں؟۔ سنئے شائستہ کی دکھ بھری کہانی یوٹیوب نیونیوزTVپر اس خاتون اینکر نے پہلے حلالہ کا شکار ہونے والی شائستہ سے دُکھ بھری داستان پوچھی ہے اور اس نے بتایا کہ12سال شادی کو ہوچکے تھے۔ دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی۔ پھر شوہر کی دلچسپی کم ہوگئی اور کچھ دیگر معاملات کا پتہ چل گیا تو وہ اپنے باپ کے گھر میں بیٹھ گئی۔ واپس اپنے شوہر کے پاس جانا نہیں چاہتی تھی اسلئے والد نے خلع کا مقدمہ بھی دائر کردیا تھا۔ پھر شوہر نے گھر پر طلاق دیدی۔ ایک عورت کو شادی کے بعد دوبارہ اپنے بھائی اور بھابھیوں کے پاس رہنا پڑجائے تو وہ کتنے بھی اچھے ہوں لیکن کئی معاملات میں وہ خوش نہیں رہ سکتی ہے۔ آخر کار وہ بھی واپس جانا چاہتی تھی اور شوہر نے بھی رجوع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ پھر یہ طے ہوگیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور حلالہ کیلئے وہ تیار نہیں تھی لیکن والد اور دوسروں نے سمجھایا کہ ایک بار یہ تلخ معاملہ برداشت کرنا پڑے گا۔ وہ بالکل راضی نہیں تھی کہ کسی اجنبی شخص کیساتھ اسے راتیں گزارنا پڑیں۔ پھر وہ مجبور ہوگئی اور اپنی رضا سے حلالہ کرنے پر آمادہ ہوگئی۔ اس کے شوہر کا کزن تھا ،جس کیساتھ دو دن کا حلالہ ہوا۔ وہ اس کو بھائی کی طرح سمجھ رہی تھی لیکن شوہر کو کسی اور پر اعتبار نہیں تھا اسلئے اس کیساتھ حلالہ کرادیا تھا۔ اب وہ دو دن جس طرح گزرے ہیں اس کا صدمہ دماغ پر بیٹھ گیا ہے اور اس انتہائی کرب وبلا سے دل ودماغ ایک عرصہ سے دوچار ہے۔ پروفیسر حفیظ اللہ بلوچ نے کہا کہ ”یہ واقعہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں228سے242تک ان مسائل کا حل بتایاہے۔ جس جاہل نے اس بہن کو حلالہ کا مسئلہ بتایا ہے تو اس میں جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: ”جو حلالہ کرے اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے تو دونوں پر اللہ کی لعنت ہو”۔ اس بہن نے جس جاہل سے مسئلہ پوچھا ہے اس کے پاس علم نہیں تھا۔ حلالہ کی ایک جائز صورت بھی ہے وہ یہ ہے کہ دوسراشوہر گھر بسانے کی نیت سے نکاح کرے۔ پھر اگر ان میں نہ بنے تو اس کو طلاق دے۔ مسئلہ پوچھنے کیلئے تمام اہل علم کے پاس جانا چاہیے۔ یہ جو ہم نے مخصوص طبقات بنائے ہیں یہ غلط ہے”۔ بلوچ صاحب! جس چیز کو آپ جائز حلالہ قرار دے رہے ہیں یہ مسئلے کا حل نہیں تھااور اس سے فرار اختیار کرنے کیلئے ہی حنفی علماء نے حلالے کا راستہ نکالا ہے۔ علامہ بدرالدین عینی اور علامہ ابن ہمام نے پانچ ،چھ سو سال قبل اس حلالہ کو کارِ ثواب بھی قرار دیا ہے۔ کراچی کے مفتی عطاء اللہ نعیمی نے ” تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت” کتاب میں ان حوالہ جات کو نقل بھی کیا ہے۔ ایک طرف لکھ دیا کہ رسول اللہ ۖ نے حلالہ کرانے والے کو کرائے کا سانڈھ یا بکرا قرار دیا ہے ۔جس کی تشریح میں لکھاہے کہ اس کی وجہ غیرت میں کمی ہے ۔ دوسری طرف لکھ دیا ہے کہ ” جو حلالہ کو بے غیرتی اور بے حیائی قرار دیتا ہے تواس کے ایمان وایقان کی جگہ بے غیرتی اور بے حیائی نے لے لی ہے”۔ اس جملے کا اثر نبی کریم ۖ کی ذات کے حوالے سے بدترین توہین کی صورت میں نکلتا ہے۔ برصغیر پاک وہند اور دنیا بھر میں حنفی اصولِ فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طلاق کی تین اقسام احناف میں یہ ہیں۔ طلاق احسن۔ طلاق حسن ۔ طلاق بدعت۔ دوسرے مسالک والے طلاق کی ان اقسام کے قائل نہیں ہیں۔ شافعی اکٹھی تین طلاق کو بھی سنت سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عویمر عجلانی نے لعان کے بعد عورت کو ایک ساتھ تین طلاق دئیے تھے۔ حنفی مسلک کی طرح دیگر مسالک بھی بگاڑ دئیے گئے ہیں۔ ائمہ اربعہ نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجائیںگی ۔ کسی کے نزدیک سنت اور کسی کے نزدیک بدعت لیکن اس کا اصل مدعا کیا تھا؟۔ اس کی طرف کسی نے بھی دھیان نہیں دیا ہے۔ حضرت عمر نے ایک واقعہ میں فیصلہ کیا کہ جب شوہر نے تین طلاقیں دیں اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی کہ ”شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے”۔ اس کے بعد جب بھی میاں بیوی میں ایک ساتھ تین طلاق پر جھگڑا ہوتا اور بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں ہوتی تھی تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا تھا۔ اس سے پہلے اگر شوہر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو وہ آپس میں اکٹھے رہتے تھے اور وہ ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ شریعت نہیں بدلی تھی بلکہ لوگوں کے روئیے میں فرق آگیا تھا۔ اگر ایک ساتھ تین طلاق کے بعد بھی میاں بیوی آپس میں اکٹھے رہنا چاہتے تھے تو ان کو زبردستی کون الگ کرسکتا تھا؟۔ لیکن جو خود جدائی کیلئے کوئی بہانہ ڈھونڈتے تھے تو اکٹھی تین طلاق کو بنیاد بناکر جدائی اختیار کرلیتے تھے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ حضرت عمر نے کوئی بدعت ایجاد کی ہے یا سنت ہے؟ تو امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے مسلک والوں نے اس کو بدعت اور گناہ قرار دیا اور امام شافعی نے اس کو سنت اور مباح قرار دیا اور امام احمد بن حنبلنے دونوں قول اپنائے ہیں، ایک میں سنت ومباح اور دوسرے میں بدعت وگناہ قراردیا۔ اصل مسئلے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی کہ اگر کوئی معقول بات ہو تو پھر اس ایک ساتھ تین طلاق کو سنت اور مباح کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ جیسا کہ حضرت عویمر عجلانی نے نبیۖ کے سامنے لعان کے بعد ایک ساتھ تین طلاق دیدئیے تھے اور اس کی تصدیق قرآن کی سورۂ طلاق کی پہلی آیت میں بھی ہے کہ کھلی ہوئی فحاشی کی صورت میں ایسا کرسکتے ہیں ۔ نبیۖ نے فاطمہ بنت قیس سے فرمایا کہ ”عدت اپنے شوہر کے پاس گزارنے کے بجائے عبداللہ بن مکتوم کے گھر میں گزار لو اسلئے کہ وہ نابینا تھے اور کپڑے بدلنے میں تکلیف نہ ہوگی”۔ محمود بن لبید کی روایت میں جب ایک شخص کے بارے میں نبیۖ کو خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں تو نبیۖ کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میرے ہوتے ہوئے اللہ کے دین کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟”۔ (ترمذی شریف) یہاں پر ضرورت کے بغیر اکٹھی تین طلاق کا مسئلہ تھا اسلئے نبیۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔ ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق دینے سے عورت کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔ بسا اوقات یہ ناپسندیدہ اور بسا اوقات اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا ہے۔ احادیث صحیحہ سے بالکل ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا بالکل غلط اور کھلے حقائق سے بہت ہی گھناؤناانحراف ہے۔ یہ بات اچھی طرح سے سمجھنے کی ہے کہ اگر ایک ساتھ تین طلاق دے دئیے جائیں یا پھر الگ الگ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دی یا پھر زندگی میں دومرتبہ الگ الگ طلاق دی جائے اور پھر تیسری بار بھی طلاق دی جائے تو کس طلاق کی بنیاد پر حلالے کا ثبوت ملتا ہے؟۔حنفی، اہلحدیث، شیعہ اور غلام احمد پرویز و ڈاکٹر ذاکر نائیک نے الگ الگ طرح سے حلالے کیلئے اپنا اپنا فتویٰ دیا ہے اور سبھی غلط بھی ہیں اور حدیث کی بات بھی درست ہے کہ گمراہی پر امت اکٹھی نہیں ہوسکتی ہے۔ اصل میں فطری طریقے سے میاں بیوی کی جدائی کو طلاق کہتے ہیں۔ شوہر جدائی کاقدم اٹھائے تو یہ طلاق ہے۔ بیوی جدائی کا قدم اٹھائے تو یہ خلع ہے اور دونوں اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اب ہمارا آپس میں رابطے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہونا چاہیے تو اس میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوجائیگا یا نہیں ہوگا؟۔ کیونکہ جب دونوں آئندہ رابطہ نہ کرنے پر متفق ہوں تو پھر یہ سوال بالکل فضول بنتا ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ البتہ ایک بہت بری رسم یہ بھی ہے کہ شوہر اسکے بعد کسی اور شخص سے عورت کو اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے دیتا ہے یا نہیں؟۔ قرآن نے اس کا جواب بہت سخت الفاظ میں یہ دیا ہے کہ اس طلاق کے بعد جب تک عورت کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے تو اس کیلئے حلال بھی نہیں ہے۔ اس حکم سے عورت کی ایک غلط رسم سے جان چھڑانی تھی۔ باقی رہی یہ بات کہ اکٹھی3طلاق کے بعد باہمی صلح سے رجوع ہوسکتاہے یا نہیں؟۔ تو اس کا جواب قرآن نے بہت واضح الفاظ میں دیا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا ” اور ان کے شوہر اس عدت میں اصلاح کی شرط پر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔(البقرہ:228) ایک ساتھ تین طلاق دی ہوں یا تین ہزار طلاق دی ہوں۔اللہ نے رجوع کو طلاق کی گنتی کیساتھ نہیں بلکہ عدت میں باہمی اصلاح کیساتھ مشروط رکھا ہے اور اگر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ نبیۖ نے قرآن کی واضح آیت کے بالکل برعکس اکٹھی تین طلاق سے رجوع کیلئے باہمی اصلاح نہیںبلکہ حلالہ کو شرط قرار دیا ہے تو دعوے کی دلیل کیلئے صحیح وضعیف نہیں من گھڑت روایت پیش کردے۔ حالانکہ احناف اور دیگرمسالک کا یہ مسلک ہے کہ اگر قرآن کے مقابلے میں کوئی صحیح حدیث بھی پیش کی جائے تو قرآن پر عمل کیا جائیگا اور حدیث جھوٹی ہوگی۔ عالم نما جاہل یہ سوال بڑے شد ومد سے اٹھاتے ہیں کہ ” پھر نبیۖ نے اکٹھی تین طلاق پر اتنی سخت ناراضگی کا اظہار کیوں فرمایا، جس شخص کی خبر دی گئی تھی تو اس کو رجوع کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا؟”۔ پہلی بات ہے کہ محمود بن لبید کی یہ روایت ایسی ہے کہ جس کو امام شافعی نہیں مانتے تھے اسلئے اکٹھی تین طلاق کو سنت اور مباح قرار دیتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ محمود بن لبید ایک تابعی تھے اور اس روایت میں جس شخص کا ذکر ہے کہ اس نے طلاق دی تھی تو وہ ابن عمر تھے اور جس نے قتل کی پیشکش کی تھی تو وہ حضرت عمر تھے۔ تیسری بات یہ ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک مستند راوی نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دئیے تھے ۔ بیس سال تک مجھے کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا، جس نے اس بات کی تردید کی ہو کہ اکٹھی تین طلاق نہیں دئیے تھے۔ بیس سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص نے بتایا کہ ابن عمر نے ایک طلاق دی تھی۔ صحیح مسلم کی اس روایت میں جن دو مستند اشخاص کا ذکر تھا تو حضرت حسن بصری کے مطابق دونوں مستند تھے لیکن کون کون تھے؟۔ کیا واقعی دوسرا زیادہ مستند تھا؟۔ ناموں کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن ایک مہم جوئی معلوم ہوتی ہے کہ کس طرح سے اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع کی روایت کو غائب کرنے کی پلاننگ شروع ہوگئی تھی؟۔ دیگر روایات میں بھی اس قسم کے مسائل ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس کے واقعہ میں صحیح احادیث میں الگ الگ تین طلاقوں کا ذکر ہے اور ضعیف روایت میں اکٹھی تین طلاق کی بات گھڑی گئی ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ عالم نما جاہلوں نے جو اصل اعتراض کیا ہے کہ ”جب رجوع ہوسکتا تھا تو نبیۖ اتنے غضبناک کیوں ہوئے، رجوع کا حکم دیتے؟”۔ تو اس کے جواب میں یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ بخاری میں ابن عمرکے واقعہ کا ذکر ہے اور اس میں نبی ۖ غضبناک بھی ہوئے اور پھر حلالہ کے بغیر رجوع کا حکم بھی دیا اور فرمایا کہ رجوع کرلو،پھر پاکی کے ایام میں طلاق دو، یہاں تک کہ اس کو حیض آجائے۔ پھر پاکی کے ایام اور اس کے بعد حیض آجائے۔ پھر پاکی کے ایام میں چاہو تو رجوع کرو اور چاہو تو طلاق دو یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیاہے۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورہ ٔ الطلاق) ابوداؤد شریف کے مصنف عبداللہ بن مبارک کے شاگرد تھے، ابورکانہ کے والدنے ابورکانہ کی ماں کو تین طلاقیں دیں۔ پھر کسی اور خاتون سے نکاح کیا اور اس نے نامرد ہونے کا الزام لگادیا۔ نبیۖ نے اس کو طلاق دینے اور ام رکانہ سے رجوع کافرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ وہ تین طلاقیں دے چکاہے۔ جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد شریف) سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق کے باوجود اللہ نے رجوع کا راستہ عدت کے اندر، عدت کی تکمیل کے فوراً بعد اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد بالکل کھلا رکھا ہے اور سورۂ بقرہ کی آیات231،232میں بھی عدت کی تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے طلاق سے رجوع کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ قرآن میں اتنا تضاد کیسے ہوسکتا ہے کہ آیات228،229میں عدت کے اندر رجوع کی باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے اجازت ہو اور231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے اور باہمی اصلاح ورضامندی سے رجوع کی اجازت ہومگر بیچ میں تین طلاق پر رجوع کا دروازہ بند کیا جائے؟ ایک ایک بات اپنی مختلف کتابوں، تحریرات اور تقریروں میں ثابت کی ہے۔ ایک بخاری کی روایت پیش کی جاتی ہے جس میں رفاعة القرظی کی سابقہ بیوی نے کسی اور شخص سے نکاح کیا تھا اور اس کو شکایت تھی کہ دوسرا شخص نامرد تھا جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ ”جب تک دونوں ایک دوسرے کا ذائقہ نہ چکھ لو تو رفاعہ کے پاس نہیں لوٹ سکتی ہو”۔ پہلی بات یہ ہے کہ کیا نامرد میں ذائقہ چکھنے یا چکھانے کی صلاحیت ہوتی ہے؟۔ اگر نہیں ہوتی ہے تو نبیۖ پر جھوٹ گھڑ ا گیا ہے؟۔بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ اس کے شوہر نے کہا کہ میں نامرد نہیں ہوںبلکہ اپنی مردانگی سے اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھتا ہوں۔یعنی ذائقہ تو وہ چکھ چکی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ رفاعة القرظی نے مرحلہ وار تین طلاقیں دی تھیں اور اس عورت نے کسی اور سے نکاح کرلیا تو اس پر اکٹھی تین یا مرحلہ وار تین طلاق کے بعد کسی اور شخص سے حلالہ کرانے کا حکم کہاں سے لگ سکتا ہے؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھ دیا ہے کہ یہ خبر واحد کی حدیث ہے جس میں نکاح کے علاوہ جماع کی صلاحیت نہیں تھی تو حنفی حدیث کی وجہ سے نہیں قرآن میں نکاح کو جماع کے معنی میں لیتے ہیں۔ ہم نے اپنی گزارشات اور کتابیں اسلامی نظریاتی کونسل، منصورہ لاہور اور بڑے بڑے معروف مدارس تک پہنچادی ہیں لیکن مذہبی طبقات میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اسلئے حلالہ کی لعنت کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔ حلالہ سے زیادہ دنیاوی مفادات اور ووٹ بینک کا مسئلہ ہے۔ جس شجرہ ممنوعہ نے حضرت آدم کو جنت سے نکلوادیا جس پر اللہ نے فرمایا:عصٰی آدم فغویٰ ” آدم نے نافرمانی کی اور پھر وہ بہک گئے”۔ (قرآن)۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کیلئے دو آزمائش اور فتنوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک نبیۖ کا خواب اور ہے پوری دنیا کے تمام ادیان پر اسلام دین حق کا غلبہ اور دوسرا قرآن میںشجرہ ملعونہ۔ حضرت آدم کو اتنا نہیں روکا گیا تھا جتنا مسلمانوں کو رجوع کے احکام بتاکر حلالہ کی لعنت سے روکا گیا ہے لیکن مذہبی طبقے نے اسی کو دنیا میں اپنی جنت اور حکمرانی سمجھ لیا ہے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
کراچی سے شیعہ لڑکی سیدہ دعازہرہ کاظمی لاہور پنجاب کالج کے ظہیرکے ساتھ محبت کی شادی کرکے گھر سے بھاگ گئی تھی۔ دونوں کا کورٹ میرج ہوا تھا اور عدالت میں کیس اغواء برائے تاوان تھا لیکن جب پیش کیا گیا تو عدالت نے دعا زہرہ کو زہیر کیساتھ جانے دیا۔ پھر عرصہ بعد دوبارہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ تبدیل ہوئی اور دعا زہرہ کو16سال سے کم ثابت کرکے دارالامان بھیج دیا گیا۔ اب عرصہ بعد دعا زہرہ اپنے والدین کیساتھ دارالامان سے گھر چلی گئی ہے۔ پاکستان میں نکاح کے قانون بھی دو ہیں اور علماء کی شریعت بھی دو ہیں۔ پنجاب میں16سال سے زیادہ عمر کی لڑکی قانونی طور پر شادی کرسکتی ہے لیکن سندھ میں شادی کیلئے قانونی عمر کم ازکم18سال ہے۔ اگر لڑکی کورٹ میرج کا شکار ہوگی تو پنجاب میں16سال اورسندھ میں18سال تک دارالامان میں رہنا پڑے گا۔ پھر شوہر کیساتھ جاسکتی ہے۔ اگر پہلے دارالامان سے نکلنا چاہے تو والدین کیساتھ جاسکتی ہے۔ دعا زہرہ نے والدین کیساتھ جانے کا فیصلہ کیا لیکن اغواء اور دیگر الزام نہیں لگائے۔ اب میڈیا والے اپنی کہانیاں چھوڑدیں۔ کل اگر دعا کے والدین اس شادی پر راضی ہوگئے تو کہانیوں کا کیا بنے گا؟۔ علماء کی شریعت دو ہیں۔ حنفی مسلک میں بالغ لڑکی کو والد کی اجازت کے بغیر نکاح کی اجازت ہے۔ اسلئے دعا زہرہ نے جو نکاح کیا، وہ شرعاًدرست ہے جبکہ اہلحدیث، شیعہ، مالکی، شافعی ،حنبلی کے شرعی مسلکوں میں والد کی اجازت کے بغیر نکاح شرعاًدرست نہیں۔ جمہور کی دلیل حدیث نبوی ۖ ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے”۔ دعا زہرہ نے والد کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اسلئے یہ نکاح باطل اور ناجائز ہے۔ جمہور کے ہاں اس پر حرامکاری کے فتوے لگتے ہیں۔ حنفی کے نزدیک قرآنی آیت حتی تنکح زوجاً غیرہ ” یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے” سے عورت خود مختارثابت ہے ۔آیت میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف ہے ۔ حدیث کو صحیح سمجھنے کے باوجود خبر واحد کا درجہ دیتے ہوئے قرآن کے مقابلے میں ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ پہلے تطبیق دینے کی کوشش کی جائے گی، اگر تطبیق ہوسکے تو پھر حدیث کو ناقابلِ عمل نہیں قرار دیا جائیگا۔ اگر حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے اسلئے کہ آیت میں طلاق شدہ کی بات ہے تو پھر اس حدیث کو بھی رد کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب اس حدیث پر معاشرے میں عمل ہوگا تو لڑکیوں کا گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کا سلسلہ رُک جائے گا۔ برصغیر کے علاوہ جہاں حنفی مسلک جمہور کی وجہ سے رائج ہے کہیں یہ دلخراش واقعات نہیں ہوتے۔ بڑے علماء و مفتیا ن کے ہاں بھی لڑکیوں کے ایسے مسائل کا معاملہ ہوتا ہے جو اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے دبا دیتے ہیں لیکن غریب والدین کو بہت رُلنا پڑتا ہے۔ جب شیعہ واہلحدیث کی لڑکی کو بھاگنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو حنفی مسلک کا سہارا لیا جاتا ہے اور جب اکٹھی تین طلاق کے بعد حلالہ کی لعنت سے بچنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اہلحدیث اور شیعہ مسلک کا سہارا لیا جاتاہے۔ جب تک قرآن وحدیث کے اصل احکام سامنے نہیں لائے جائیں تو اسلام علماء و مفتیان کیلئے بازیچۂ اطفال بنا رہے گا۔آخرمیں ہم یہ کھل کر کہنے پر مجبور ہوںگے کہ شریعت کے پاسباں ہم ہیں فتویٰ چلے گا ہمارا اے جاہلوں کے جاہل! جاہل ملا تمہارا شیعہ سنی دونوں اس جاہلیت کا شکار ہیں کہ” شوہر جب تک طلاق نہ دے تو عورت نکاح میں رہنے پر مجبور ہے۔اگر عورت خلع لینا چاہے تو جب تک شوہر اپنی مرضی سے طلاق نہیں دے گا تو عورت نکاح میں رہنے پر مجبور ہوگی”۔ اس جاہلیت کا قرآن وحدیث سے تعلق نہیں ۔عورت کو خلع کا حق قرآن کی واضح آیت19سورہ ٔ النساء میں موجود ہے۔ مذہبی طبقات نے جاہلیت کی حد کو پار کرتے ہوئے آیت229البقرہ کے آخری حصہ سے خلع مراد لیا ۔ جس سے خلع مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جاوید غامدی اور مولانا مودودی کیلئے ربوبیت کے درجے کا یقین رکھنے والے بھی حقائق ماننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی جامعہ عروة الوثقیٰ لاہور نے بتایا کہ ایران کے علمی مرکز قم میں قرآن پڑھانے کا کوئی استاذ بھی نہیں تھا۔ جن آیات میں نبیۖ کو تلقین کی گئی کہ ”ہم نے آپ کیلئے ان چچا کی بیٹیوں کو حلال کیا جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ”۔ اس کی تفسیر میں شیعہ کیا کہتے ہیں؟۔ اہل سنت کی تفاسیر میں واضح ہے کہ حضرت علی کی ہمشیرہ ام ہانی نے ہجرت نہیں کی تھی جو مشرک کے نکاح میں تھیں، فتح مکہ کے وقت حضرت علی نے اسکے شوہر کو قتل کرنا چاہا اسلئے کہ مشرک کیساتھ نکاح قرآن میں منع تھا ۔ام ہانی کو مشرک شوہر سے اتنی محبت تھی کہ ہجرت بھی نہیں کی اور اسکے نکاح میں رہی۔ نبیۖ نے اسکے شوہر کو قتل سے بچایا۔ پھر اس کا شوہر چھوڑ کر گیا تو اسکے بعد نبیۖ نے حضرت ام ہانی کو نکاح کی پیشکش کردی لیکن امام ہانی نے یہ پیشکش قبول نہیں کی اسلئے کہ وہ سنی تھی اور نہ شیعہ بلکہ حضرت ابوطالب کی بیٹی اور حضرت علی کی ہمشیرہ تھیں۔ مشرک سے نکاح کو حرامکاری نہیں قرار دیا جاسکتا تو پھر غیرسید اور سنی سے نکاح کو کیوں حرامکاری کہا جائے گا؟۔ اگر قرآن وسنت ،سیرت وتاریخ اور فقہ اسلامی کا درست علم ہوتا تو حضرت ام ہانی کے مشرک سے نکاح کو بھی حرامکاری قرار دینے کے بجائے اپنا اپنا فقہی مسلک درست کیا جاتا اور فرقہ واریت کی آگ میں بھی اپنی قوم کو نہیں جھلسایا جاتاتھا۔ شیعہ کے جب تک امام غائب حاضر نہیں ہوتے تو ان کو انکے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک والے قرآن وسنت کی بنیاد پر سود کو حلال کرنے کا دھندہ چھوڑ کربڑا انقلاب برپا کریں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی نے کہا تھا کہ ” والدین اپنے ایسے نافرمان اولاد کا پیچھا چھوڑ دیں” ۔مگر علامہ شہریار عابدی نے علامہ جواد نقوی کو اس بات پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک اتحاد امت کے علمبردار ہیں اور دوسرے انتشار امت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں جو سنیوں کی کتابوں سے حوالہ جات نکال نکال کر اتحاد واتفاق کی فضاء کو بہت دھچکا پہنچارہے ہیں۔ ایک دوسرے پر بھی الزامات کی بوچھاڑ کرنے میں کوئی باک نہیں سمجھتے ہیں۔ ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ قرآن نے ایک انسان کے ناجائز قتل کو تمام انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور پھر ایک انسان کے زندہ کرنے کو تمام انسانیت کے زندہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایک لڑکی کی عزت بچانا تمام انسانیت کی عزت بچانے کے مترادف ہے۔ اور اس کی تذلیل کرنا تمام انسانیت کی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی جمہور عوام کا مسلک حنفی ہے اور دعا زہرہ کیلئے عدالتوں کا فیصلہ حنفی مسلک کے مطابق ہوگا۔ لڑکی شیعہ ہے جو نکاح کیلئے شیعہ مسلک چھوڑ کر سنی بن سکتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی بات طے ہوئی تورتن بائی کی عمر16سال تھی۔ اس کا والد پارسی تھا،جو بڑی عمر کے مسلم سے اپنی لڑکی کو نکاح کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ رتن بائی نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا تو انگریز عدالت میں نکاح کیلئے لڑکی کا خودمختار ہونا،18سال شناختی کارڈکی عمر ضروری تھی۔والد کو عدالت میں مقدمہ درج کرنا پڑاکہ” پارسی عورت کا اہل کتاب سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے”۔ قائداعظم نے لکھ دیا کہ ”میرا کسی کتابی مذہب سے تعلق نہیں ”۔ جس پر مجلس احرارالاسلام کے شیعہ رہنما نے قائداعظم کو کافراعظم اسلئے کہا کہ غیرمسلم لڑکی کی خاطر اسلام کو چھوڑ دیا۔ رتن بائی کا انتقال ہوگیا تو آغا خانیوں کے مذہبی عالم نے اس کا جنازہ پڑھنے سے اسلئے انکار کردیا کہ رتن بائی نے ہمارا دین اسلام قبول نہیں کیا ۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے سفارش کیلئے کہا لیکن سرآغا خان نے کہا کہ” مذہبی عالم جو کہتاہے ٹھیک کہتا ہے، میراکوئی جبر نہیں” ۔ رتن بائی نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں؟۔لیکن اگر وہ زندہ رہتی تو کلثوم نواز ، نصرت بھٹو، بشریٰ بیگم کی طرح خاتون اول سے بڑھ کر مادرملت کہلاتی۔ محترمہ شہلارضا نے کہا کہ ” دعا زہرہ ایک تعلیم یافتہ شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور زہیرایک مالی کا بیٹا ہے”۔ اگر اونچ نیچ کا یہ معیار معتبر ہے تو پھر کہاں بینظیر کی حیثیت پیپلزپارٹی کے جیالوں میں اور کہاں آصف علی زرداری؟۔ جس کی بڑی لیڈر بینظیر بھٹو کے مقابلے میں مالی کی حیثیت بھی نہیں تھی۔ البتہ ان کی شادی پر والدہ کو اختلاف نہیں تھا والد تو مرحوم ہوچکے تھے۔ بھائی جلاوطن اور راضی نہ تھے تو الگ بات تھی۔ پھر بینظیر بھٹو نے راستہ ہموار کیا تو مرتضیٰ بھٹو واپس پاکستان آسکا تھا۔ مریم نواز نے بھی نوازشریف کوسعودی عرب جلاوطن کرنے کا اوراب دوبارہ لندن سے پاکستان آنے کا راستہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قائداعظم کی بیٹی دینا جناح نے باپ کی مرضی کے بغیر پارسی سے نکاح کیا تھا۔ قائداعظم کا جنازہ دیوبندی علامہ شبیراحمد عثمانی نے پڑھایا اور شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک جنازہ پہلے خفیہ طور پر انہوں نے بھی پڑھایا۔ بڑے آدمی کیلئے نکاح اور جنازے کے مسائل نہیں ہوتے مگر مولوی غریب کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہیں۔ دعا زہرہ بہت غریب تو نہیں مگر امیر کبیر بھی نہیں ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث اس مسئلے کو ایساحل کرسکتے ہیں کہ دعا زہرہ کیلئے بھی آئندہ کی زندگی میں کوئی عار نہ ہو اور قرآن وحدیث کی وضاحتیں بھی مذہبی طبقات اور عوام الناس کے سامنے کھل کر سامنے آجائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحیح حدیث میں اس نکاح کو باطل کہا گیا ہے اسلئے کہ والد کی طرف سے اجازت نہیں تھی لیکن باطل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نکاح کو حرام کاری قرار دیا جائے۔ والد اجازت دے تو پھر یہی نکاح برقرار ہی رہے گا اور والد اجازت نہ دے تو لڑکی اپنے شوہر کے گھر میں یتیم لڑکی سے بھی زیادہ لاوارث کی طرح زندگی گزارے گی اسلئے کہ خاندان کی سپورٹ سے محروم رہے گی اور اس سے بڑھ کر نکاح کا باطل ہونا اور کیا ہوسکتا تھا کہ قرآن نے سسرالی رشتے کو بطور احسان جتلایا ہے اور یہ دشمنی میں بدل جائے؟۔ اگر والدین کی بات دعا زہرہ مان لے تو نکاح کے باطل ہونے کا مطلب بالکل واضح ہے کہ اس نکاح کی شرعی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ جس کا نقصان شوہر سے زیادہ عورت کو اسلئے ہوگا کہ طلاق کے مالی حق سے محروم ہوگی۔ شریعت میں طلاق اور خلع میں عورت کا مالی حق ہے۔شیعہ سنی ،دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث نے نہ صرف عورت کو خلع کے حق سے محروم کیا ہے بلکہ عورت کیلئے بہت سارے مسائل بھی کھڑے کردئیے ہیں۔ عورت سے منہ مانگی قیمت وصول کئے بغیر شوہر خلع کیلئے راضی نہ ہو تو عورت کی جان بھی نہیں چھوٹ سکتی ہے۔اگر عورت کو اتنا فائدہ مل جائے کہ والدکی اجازت کے بغیر نکاح باطل قرار دیا جائے تو یہ بھی عورت کیلئے اس وقت بڑی غنیمت ہوگی کہ جب وہ طلاق چاہتی ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع مولانا اشرف علی تھانوی کے طفل مکتب تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھا ہے کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیں اور پھر مکر گیا تو اس کے بعد عورت کو اپنی جان چھڑانے کیلئے دو عادل گواہ لانے پڑیںگے۔ اگر اس کے پاس دو گواہ نہ ہوئے اور شوہر نے جھوٹی قسم کھالی کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے تو عورت خلع لے، اگر شوہر خلع نہ دے تو پھر عورت حرام کاری پر مجبور ہوگی”۔ یہ شریعت اور اسلام نہیں بلکہ پرلے درجے کی بے غیرتی ہے لیکن پختون قوم اس بے غیرتی کو اسلئے قبول کرنے پر مجبور ہوںگے کہ اپنی بہن و بیٹی کو بڑی رقم کے بدلے بیچ دیتے تھے۔ پنجابی جہیز دیتے ہیں۔ عرب وعجم میں جہیز و حق مہر کے نام پر عورت کو مسلنے کی رسم نے شریعت کی حقیقت کو بالکل غیرمؤثر بنادیا تھا۔ قرآن وسنت میں حق مہر برائے نام نہیں بلکہ استطاعت کے مطابق اچھا خاصہ ہے۔ عورت کو خلع کا اختیار اور مالی حقوق ہیں۔خلع سے زیادہ عورت کو طلاق میں مالی حقوق حاصل ہیں۔ عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہو تو اس کو مالی حقوق زیادہ ملتے ہیں اسلئے شوہر کے انکارکی صورت میں مالی حقوق حاصل کرنے کیلئے دوگواہ پیش کرنے ہونگے۔ فقہاء نے طلاق سے رجوع میں عورت کی صلح کا اختیارچھین لیا تو عورت کو اندھیر نگری میں دھکیل دیا۔جس طرح مغرب نے یہود ونصاریٰ کے دین سے اپنا معاشرہ جمہور کے ذریعے چھڑا دیا ہے اسی طرح سے مسلمانوں کی اکثریت بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔ہم سادات کاکام شریعت کو تحفظ دینا ہے۔ قرآن میں جس طرح طلاق شدہ وبیوہ ، غلام اور لونڈی کا نکاح کرانے کی تلقین ہے ،اسی طرح کنواری لڑکیوں کے نکاح کا مشکل مسئلہ بھی حل کردیا ہے۔ فرمایا کہ ولاتکرھوا فتےٰتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا ” اور اپنی لڑکیوں کوبغاوت پر مجبور مت کرو،جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں”۔ جب لڑکی کسی کے عشق میں مبتلاء ہوجائے تو والدین کو چاہیے کہ اس کو بغاوت پر مجبور نہیں کریں بلکہ نکاح کی اجازت دیں۔ عربی میں بغاء کے معنی بغاوت اور بدکاری ہے۔ کھل کر اعلانیہ نکاح کرنا بغاوت ہے اور چھپی یاری کرنا بدکاری ہے اور دونوں صورتوں سے بچنے کیلئے والدین کو اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔ بچیوں کی ایسی جگہ بھی نکاح کی خواہش ہوسکتی ہے کہ والدین اس کو اپنے خاندانی وجاہت کے خلاف سمجھتے ہوں۔ اللہ نے فرمایا کہ اپنے خاندانی وجاہت کی وجہ سے اپنی بچیوں کی عزت کو داؤ پر نہ لگاؤ۔ حدیث میں واضح ہے کہ اگر لڑکی کا نکاح والدین نے اس کی اجازت کے بغیر کردیا تو اس کا نکاح نہیں ہوا۔ عورتوں کو یہ رعایت بھی قرآن نے دی ہے کہ اگر ان کو مجبور کیا گیا تو اللہ ان کو نہیں پکڑے گا۔ ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار کے مختلف مضامین میں دلائل سے بھرپور تمام مسائل سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مسلک حنفی کی مثال ایک موٹر وے ہے جس کو چھوڑ کر حنفی مسلک والے اور دوسرے مسالک والے پگڈنڈیوں میں سرگرداں مختلف وادیوں میں گمراہ شاعروں کی طرح گھوم پھر رہے ہیں۔جس دن حقائق کی طرف سب متوجہ ہوئے تو پھر اسلامی انقلاب کا دھماکہ راتوں رات ہوگا۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv
1: حق مہر شوہر کے وسعت کے مطابق عورت کی سیکیورٹی ، تحفظ اور انشورنس ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی آدھا حق مہر دینا ہوگا۔ ہاتھ لگانے کے بعد گھر کی مالکہ عورت ہوگی۔ شوہر طلاق دے تو شوہر کو گھر سے نکلنا ہوگا۔ اگر عورت خلع لے توعورت کو گھر اوردی ہوئی غیرمنقولہ جائیداد چھوڑنا پڑے گی لیکن حق مہر اور دی ہوئی لے جانے والی چیزیں عورت کا حق ہوگا۔ اولاد بھی مشترکہ ہوگی اور کسی کو نہیں ستایا جائیگا۔ 2: طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عورت4مہینے کی عدت کے بعد فارغ ہوگی۔ جہاں بھی چاہے گی شادی کرسکتی ہے اور طلاق کے اظہار کی صورت میں3حیض وطہر یا تین ماہ اور خلع میں ایک حیض کی عدت ہے۔ عورت جب چاہے ، شوہر کو چھوڑ کر خلع کا حق رکھتی ہے۔ آیت229البقرہ کی تشریح غلط کی گئی ہے اورسورہ النساء آیت19کے مطابق عورت کو نہ صرف خلع کا حق حاصل ہے بلکہ مالی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ 3: اسلام میں حلالے کی کوئی سزا نہیں ہے۔ جرم مرد کرے اور سزا عورت کو ملے؟۔ ایسی شرمناک سزا کو اسلام تو بہت دور کی بات ہے ہندو مذہب کی فطرت بھی قبول نہیں کرتی۔ مرد کو پھدو مارنے کی سزا دی جائے تو مرکر بھی قبول نہیں کرے گا تو عورت کو حلالہ کی لعنت سے سزا دینا اسلام نہیں مولوی کی سازش ہے۔ 4: عورت کو حق مہر اور جہیز کے نام پر معاشرے میں نیلام کرنے کا راستہ روکا جائے تو کیمرے کی آنکھ کے سامنے اور پیچھے بدکاری کے سارے دھندے ختم ہوجائیںگے۔ پشتون عورت کو ہی پورا پورا حق مہر دے اور پنجابی جہیز لینے کی لعنت کو ختم کردے۔ اسلامی حقوق بحال نہیں کئے گئے تو دہشتگردی کا عذاب آئیگا۔ 5: بیوہ اور طلاق شدہ کو نہ صرف نکاح کی اجازت دی جائے بلکہ ایک ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ معاشرے میں کوئی جوان اور ادھیڑ عمر کی ایسی عورت بغیر نکاح کے نہیں رہے جس کو نکاح کی ضرورت ہو۔ اس سے معاشرے پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوںگے۔ اگر کسی بڑے افسر، عزتدار اور سردار کی بیگم کو دوسرے شوہر کی وجہ سے سرکاری مراعات اور عزت پر زد آتی ہو تو پھر ایگریمنٹ کا ماحول قائم کرنا قرآنی حکم ہے۔ 6: جس پشتون اور عرب معاشرے میں عورت کا حق مہر بھی باپ کھائے تو اس میں دوسرے حقوق کا کیا تصور قائم ہوسکتا ہے؟۔ عرب میں اسلام نافذ ہوا اور پٹھانوں نے اسلام کیلئے خود کش تک کی قربانیاں دیں لیکن اپنی خواتین کو حقوق نہیں دے سکے۔ عرب کے ہاتھوں اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی لیکن یزید کے بعد پھر کربلا، مکہ اور مدینہ میں ظلم کے بازار گرم کئے گئے اور آج تک موروثی نظام سے جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ 7: اسلام نے عورت کو مخلوط مسجد، خانہ کعبہ کے طواف، صفا ومروہ کی سعی (دوڑ) اور جہاد میں شامل کرکے دنیا کو سب سے پہلے روشن خیالی کا درس دیا۔ دارارقم کے40افراد میں حضرت ابوبکر کی صاحبزادیاں حضرت اسمائ ، حضرت عائشہ اوردیگرخواتین شامل تھیں۔ مکہ اور مدینہ سمیت دنیا بھر میں خواتین کیلئے گھروں میں رفع حاجت کا کوئی طریقہ نہیں تھابلکہ عورتیں رفع حاجت کیلئے شہر سے باہرجاتی تھیں ۔ہماراکانیگرم جنوبی وزیرستان دنیا کا پہلا شہر ہے جہاںخواتین کیلئے گھروں میں رفع حاجت کا بندوبست تھا۔ 8:اسلام میں جمہوری اقتدار ہے۔ نبی ۖ نے اپنا جانشین نامزد نہیں کیا یا نامزد نہیں کرنے دیا گیا۔ حضرت ابوبکر کی خلافت کو عوام کی اکثریت نے قبول کیا ۔ ابوسفیان نے طاقت سے ہٹانا چاہا مگر علی نے اس کو اسلام کے حق میں بہتر نہیں سمجھا۔سنی اور اعتدال پسند شیعہ حضرت علی کے مؤقف پر ہیں اورشدت پسند شیعہ و شدت پسند سنی ابوسفیان ، ذوالخویصرہ اور خوارج کے مؤقف پر کھڑے ہیں۔ نبیۖ نے حضرت فاطمہ کیلئے فدک کے جائیداد سے مسلمانوں میں یہ نصیحت چھوڑ دی ہے کہ بیٹیوں کو باپ اپنی زندگی میں نہ صرف اپنا حصہ دے بلکہ عملی طور پر اس کے سپرد بھی کردے تاکہ بعد میں داماد اور بیٹے جائیداد پر لڑتے نہ پھریں۔ 9: علی کیخلاف حضرت عائشہ نے جنگ کی قیادت کی تھی۔ علی کے مقابلے میں یہود، مشرکین ، فارس کے مجوسی اور روم کے یورپی عیسائی نہیں آسکتے تھے تو کون مقابلہ کرسکتا تھا؟۔جب بھی مرد مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں تو عورتیں میدان میں اترتی ہیں۔ حضرت ام عمارہ نے جنگ احد میں دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ جب خواتین کو ڈاکٹر، سائنسدان، فوجی ٹریننگ اور ہر میدان میں مواقع دئیے جائیںگے تو قوم ترقی کرے گی۔ 10:اللہ نے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں قدرتی ایسی صفات رکھی ہیں جس سے معاشرے میں توازن پیدا ہوسکتا ہے۔اللہ نے فرمایا: قانتات صالحات حافظات للغیب بما حفظہ اللہ ”خواتین تواضع اختیار کرنے والی ہوتی ہیں۔ فطری طور پر نیک ہوتی ہیں۔ عزت کی حفاظت کرتی ہیں غیب کی حالت میں بھی جو اللہ نے ان میں ودیعت کررکھی ہے”۔ یورپ اور مغرب کے مقابلے میں ہم جنس پرستی کے رحجانات ہمارے ہاں اسلئے زیادہ ہیں کہ مردوں میں حفاظت کا مادہ نہیں ہوتا ہے۔ قرآن میں قوم لوط کی تباہی کا ذکر ہے جو مرد وں کی جنس پرستی کا نتیجہ تھا۔ کسی قوم پر عورت کی جنس پرستی کی وجہ سے عذاب نہیں آیا تھا۔ جاہلیت کے غلط مذہبی رسوم کو اسلام نے ختم کیاتھا ،انبیاء کرام مذہب کے غلط رسوم کی اصلاح کیلئے آئے تھے۔
نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے متصل عنوانات والے آرٹیکل ” مرد وں کاعورتوں پر درجے کا مطلب؟” اور ” معاشرے میں گرد آلودہ مذہبی فضائیں!” ضرور پڑھیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv Youtube Channel: Zarbehaq tv