پوسٹ تلاش کریں

ماما قدیر بلوچ۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون

آہ ماما قدیر۔۔۔۔۔

بیماری گمنامی تو زندگی کٹھن مشکلات میں گزاردی۔ساغر صدیقی نے عورت کے عشق میں زندگی خود ساختہ جبر مسلسل میں کاٹی تو نے پریشان حال خواتین کی خاطر ریاستی جبر مسلسل میں جس طرح زندگی گزاردی ،آج استقامت کی ہوائیں تجھے سلام کہتی ہیں ، استقلال کے پہاڑ تیری شرافت پر جھومتے نظرانہ عقیدت میں خیمہ زن ہیں۔ 6ہزار سے زیادہ دنوں کا دھرنااورکوئٹہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کا لانگ مارچ بہت دکھ بھری ایسی داستانیں ہیں جن کی وجہ سے بلوچ قوم، پاکستان اور خطے کی ناک اونچی ہوئی۔ گہرنایاب کم سہی مگر ہیں ضرور ۔ کبھی نکھر نے کا موقع نہیں ملتا۔اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ماما قدیر بلوچ ایک فطری انسان تھے۔میری ملاقات نہیں تھی مگر مجھے انکے اعتماد اور محبت پر ناز ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنا وطن چھوڑا، قوم کی جانوں اور خواتین کی عزتوں کو قربان نہیں کیا۔ رسول اللہۖ کی مخالفت اپنی قوم قریش مکہ نے کی۔ اللہ نے فرمایا کہ ”کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابتداری میں محبت”۔ فتح مکہ کا موقع ملا تو نبیۖ نے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ عربی میں طلقاء خوشحالی تھی ،گالی نہیں مگر بنادی گئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تین طلاق کا وہ حقیقی اور فطری حل جس پر نہ صرف امت مسلمہ بلکہ عالم انسانیت کے مسائل حل ہوں گے

فتاویٰ قاضی خان کا شرمناک فتوی ملاحظہ کریں!

وفی الخانیة: رجل قال لامرأتہ ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق ، وقالت المرأة ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فجاریتی حرة، قال الشیخ الامام ابوبکر بن فضل : ان کان قائمین عند المقالة برت المرأة و حنث الزوج ،لوکان قاعدین بر الزوج وحنث المرأة لان فرجھا احسن من فرج الزوج والامر علی العکس حالت القعود ،ان کان الرجل قائما والمرأة قاعدة قال فقیہ ابو جعفرلا اعلم ماھذا: و قال ینبغی ان یحنث کل واحد منھما لان شرط البر فی کل یمین ان یکون فرج کل واحد منھما احسن من فرج الاخر و عند تعارض لا یکون احدھمااحسن من الاخرفیحنث کل واحد منھما

ترجمہ”اور خانیہ میں ہے کہ آدمی نے اپنی عورت سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ! عورت نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔شیخ امام ابوبکر بن فضل نے کہا کہ اگر دونوں بات کرتے ہوئے کھڑے تھے تو عورت بری ہوگئی (لونڈی آزاد نہیںہوئی) اور مرد حانث ہوا(طلاق پڑگئی)اور اگر دونوں بیٹھے تھے تو مرد بری ہوا اور عورت حانث ہوگئی اسلئے کہ عورت کی شرمگاہ حالت قیام میں زیادہ خوبصورت ہے اور معاملہ برعکس ہے بیٹھنے کی حالت میں، اگر مرد کھڑا ہوا اور عورت بیٹھی تھی تو فقیہ ابوجعفر نے کہا : نہیں جانتا کہ یہ کیا؟مگر چاہیے کہ ہر ایک حانث ہو اسلئے کہ ہر یمین میں بریت کی شرط یہ ہے کہ اس کی شرمگاہ دوسرے سے خوبصورت ہواور تعارض کے وقت دونوں حانث ہوں گے۔(الفتاویٰ التاتارخیہ : تالیف شیخ فریدالدین دہلوی ۔تعلیق مفتی محدث شبیراحمد قاسمی جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ہند۔مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)

سورہ بقرہ میں یمین کو طلاق کی جگہ قسم قراردینا غلط ہے ۔ سورہ المائدہ میں واضح ہے کہ ذلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم ۔ یہ تمہارے یمین کا کفارہ جب تم نے حلف اٹھا یا ہو۔ فتاویٰ خانیہ کا غلیظ حوالہ دیا تاکہ پتہ چلے کہ یمین طلاق ہے۔

ولا تجعلواللہ عرضةً لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس ( البقرہ:224)
”اور اللہ کواپنی طلاقوں کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ نیکی ، تقویٰ سے اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرنے سے”۔

طلاقوں کے ذریعے نیکی، تقویٰ اور لوگوں میں صلح نہ کرنے کی ممانعت ہے۔ میاں بیوی میں جدائی خاندانوں میں جدائی ہے اور یہ آیت طلاقوں اورعورت کے حقوق کیلئے مقدمہ ہے۔

لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیم
اللہ تمہیں تمہاری لغو طلاقوں سے نہیں پکڑتا لیکن پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ،اللہ غفور حلیم ہے۔(البقرہ225)

اس آیت نے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی جڑ ختم کردی۔ جو یہود کے نقش قدم پرچل کر فقہاء نے پھرایجاد کرلئے ہیں۔

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھر فان فاء وا فان اللہ غفور رحیم( البقرہ:226)
” جولوگ ایلاء کریں اپنی عورتوں سے ان کیلئے چار ماہ ہیں اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔ طلاق کا اظہار نہ ہوتو عورت کی یہی عدت ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنی ازواج مطہراتسے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو سبھی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج کو علیحدگی کا اختیار دیں ۔ جدا ہونا شوہر کا اختیار اور رجوع کیلئے راضی ہونا بیوی کی بھی مرضی ہے ۔وہ بھی راضی تو اللہ غفور ہے۔ وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم (البقرہ:227) ”اور اگر طلاق کا عزم تھا تو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے”۔یہی دل کا گناہ ہے کہ طلاق کا عزم تھا اور اظہار نہ کرنے سے عدت ایک ماہ بڑھا دی۔ یہ آیات تسلسل سے ایک دوسرے کی تفسیر ہیں۔

المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر وبعلولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًاولھن مثل علھین بالمعروف و للرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیم (البقرہ:228) ”طلاق و الی عورتیں عدت کے تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیںاور ان کے شوہر اس میںان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ہیں معروف اور مردوں کا ان پر درجہ ہے اور اللہ عزیز حکیم ہے ”۔

دورجاہلیت کے دو مذہبی مسائل تھے۔ تین طلاق پر حلالہ اور ایک ایک طلاق سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع دونوں کو بیخ وبنیاد سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اکھاڑ پھینکا۔ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جنا ح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونOفان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ : آیات:229اور230)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھرمعروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے اور تمہارلئے حلال نہیں کہ ان کو جو دیا ہے کہ اس میں کچھ واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ پھر وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے وہ چیز قربان کرنے میںیہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے”۔

پوچھا گیاکہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔جس سے پہلے معروف یا اصلاح کی شرط پر رجوع ہے اور اس تیسری طلاق کے بعد خلع نہیں عورت کے حقوق کا تحفظ ہے کہ جو دیا وہ واپس نہیں لے سکتے اور پھر استثنائی صورت ہے جس میں طلاق شدہ دئیے ہوئے میں ضرورتاً کچھ فدیہ قربان کرے تو دونوں پر حرج نہیں۔ یہی وہ صورت ہے کہ جس میں طلاق کے بعد شوہر رجوع نہیں کرسکتا۔( نورالانوار : مسلک حنفی)۔ بہت ہی عجیب بات یہ ہے کہ آیت229میں تسریح باحسان کے بعد بھی جاہل کو خلع دکھائی دیتا ہے ۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے جس کی وضاحت سورہ النساء آیت20میں بھی ہے اور خلع کو النساء آیت19میں واضح کیا ہے لیکن مذہبی طبقات آیت229کی بنیاد پر نہ صرف عورت کا استحصال کرتے ہیں بلکہ آیت230سے پہلے کی وہ تمام صورتحال بھی نظر انداز کرتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنے والے رابطہ کیلئے بھی کوئی چیز نہیں چھوڑتے۔ حنفی مسلک میں واضح ہے کہ آیت230کی طلاق سے مراد عورت کی آزادی ہے لیکن وہ پہلے شوہر سے آزادی کی جگہ کنواری لڑکیوں کے حوالہ سے صحیح حدیث کو ٹکراتے ہیں حالانکہ230میں طلاق کے بعدپہلے شوہر سے مکمل آزادی مراد ہے اور وہ ایک صورتحال سے مشروط ہے جو واضح ہے۔اگرعورت معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی ہو تو پھر اگلی آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کی ترغیب ہے لیکن یہ رجوع اذیت پہنچانے کیلئے نہیں ہو اسلئے کہ عورت کشتیاں جلاکر آتی ہے اور وہ جدائی نہیں چاہتی ہے۔ صلح میںرکاوٹ کو منع کردیا گیا ہے۔

عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی تو رسول اللہ ۖبہت غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا۔ فرمایا کہ پاکی کے دنوں میں اس کو اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں اور حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں چاہو تو رجوع کرلو اور چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق دینے کا امر کیا ہے۔

دنیا کی ہرزبان میں عربی سمیت مرتبہ کا تعلق ایسے فعل سے ہوتا ہے جس کی ابتداء بھی ہو اور انتہاء بھی ۔ مثلاً ایک مرتبہ کا ذکر ہے ۔ جب کہانی شروع ہوگی تو یہ ایک مرتبہ کا سلسلہ آخر تک چلے گا۔ ایک مرتبہ کی زندگی دنیا اور دوسری مرتبہ کی دوسری دنیا میں ملے گی۔ ایک مرتبہ نکاح کیا تو جب تک علیحدگی نہ ہو تو وہ چلتا رہے گا۔ ایک مرتبہ کھانا بلکہ دیکھنے کی ابتدا اور انتہا ہے بھلے پلک جھپکنے کی حد تک کیوں نہ ہو۔ ایک مرتبہ حلوہ کھایا ۔ ایک مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے۔10روپے کو10مرتبہ روپے نہیں کہہ سکتے۔10مرتبہ حلوہ کھانے کو10حلوہ کھانا نہیں کہتے۔

طلاق فعل ہے، تین مرتبہ طلاق کیلئے عدت کے تین مراحل ہیں۔3رات دن میں3روزے ہیں۔ حیض طہر کی عدت میں3مرتبہ طلاق لیکن حمل میں تین مرتبہ طلاق کا تصور نہیں ہے۔ رجوع کا تعلق عدت سے ہے نہ کہ تین مرتبہ طلاق سے۔ حیض کی صورت میں صرف تین مرتبہ طلاق کا طریقہ کار بتایاہے۔

آیت222البقرہ سے رکوع شروع ہے اور حیض کو اذیت قرار دیا ۔ حیض میں بیوی کی قربت سے روکا یہاں تک کہ پاک ہوں۔ پھر جیسے اللہ نے حکم دیا، ویسے انکے پاس آنے کا حکم ہے اور اللہ توبہ کرنے والوںاور پاکیزہ لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔

البقرہ آیت222میں عورت کے انتظار کا وقت واضح ہے کہ طہارت کا دور ہے اور اس کی اذیت کا احساس دلایا ہے۔ ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ”اسلام میں عورت کے حقوق ” پر کتاب میں لکھا کہ ” ایک شخص نے40ہزار حق مہر میں عورت سے نکاح کیا ، جو پیچھے سے جماع کرتا۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی، اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے نہیں مانا اور پھر آخر میں مجبور ہوکر50ہزار کے عوض اس نے خلع لے لیا”۔

قرآن نے عورت کو خلع کا حق اور مالی تحفظ دیااور اذیت سے توبہ کی آیت222میں فرمایا مگرآیت223البقرہ میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ امام مالک اور عبداللہ بن عمر کے ہاں دبر میں جماع جائز اور امام ابوحنیفہ اور حضرت علی کے ہاں حرام ہے۔

آیت229میں دو مرتبہ طلاق رجعی کا نتیجہ کیا ؟۔ شوہر نے طلاق دی ۔ عورت عدت گزارے گی لیکن عدت کے ختم ہونے سے پہلے شوہر نے رجوع کرلیا اور پھر طلاق دی تو پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیا اور پھر طلاق دیدی ۔ تو لے بھئی وہ تیسری مرتبہ پھر عدت گزار نے پر مجبور ہوگی؟۔ کیا یہ حق اللہ کی طرف سے شوہر کو ملا ہے؟۔ یا اللہ نے ایک ہی عدت تک کسی بھی عورت کو انتظار کا حکم دیا ؟ ۔باقی یہودکا بچہ مسلط کرگیا؟۔

مسلک حنفی میں اگر شہوت کی نظر پڑگئی تو رجوع کی نیت نہ ہو تب بھی رجوع ہے اور مسلک شافعی میں رجوع کی نیت نہ ہو تو جماع سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ شیخ المشائخ پیر سائیںکی روٹی چل رہی ہے اور کہتا ہے کہ چاروں مسلک بالکل بر حق ہیں؟۔

امام غزالی نے اسی کو گمراہی سے ”المنقذ من ضلال” (گمراہی سے نکالنے والی ) کتاب لکھ ڈالی۔ ارباب تصوف نے ان دلوں اور دلالوں کو ، یہود کے پیروکاروں کو درست طور پر گمراہ اور بے حقیقت قرار دیا جس کا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی کالے سوکھے سڑے ہوئے چہروں کا ذکر کیا۔ ائمہ اہل بیت کومجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ نے اصل قرار دیا تھا۔

آیت229میں جس طرح دو مرتبہ طلاق سے طلاق رجعی مراد لینا غلط ہے اسی طرح سے تسریح باحسان تیسری طلاق سے یہ مراد لینا بھی غلط ہے کہ اس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

اسلئے کہ آیت228میں واضح ہے کہ اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی تو بھی اصلاح کی شرط پر رجوع کی گنجائش ہے اور اگر عورت کو حمل ہوا تو رجوع کیلئے پھر عدت اور طلاق کی گنتی نہیں بچے کی پیدائش ہے۔ اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی معروف طریقے، اصلاح کی شرط پررجوع کی گنجائش اللہ نے واضح کردی ہے۔ مولوی زن طلاق کہتا ہے کہ فتاویٰ کی کتابوں میں مسئلہ واضح ہے کہ اگر بچہ آدھے سے زیادہ ماں کی شرمگاہ سے نکلا تو پھر رجوع نہیںہوسکتا اور آدھے سے کم نکلا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ نری بکواس ہے۔ سورہ طلاق میں اللہ نے واضح کیا کہ اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی تو عورت کو اس کے گھر سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلے لیکن کھلی فحاشی کی مرتکب ہو تو اسلئے عدت میں اللہ موافقت پیدا کرسکتا ہے۔اور جب وہ اپنی عدت کو مکمل کریں تو معروف طریقے سے رجوع کرو یا معروف طریقے سے الگ کرو۔الگ کرنا ہو تو پھر دو عادل گواہ بناؤ اور پھر بھی جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اللہ مشکل سے نکلنے کا راستہ بنادے گا یعنی باہمی رجوع کا اور حضرت رکانہ کے والدین کیلئے اللہ نے راستہ بنادیا۔اسلئے کہ رکانہ کے والد نے اگرچہ دوسری عورت سے نکاح کیا لیکن رکانہ کی والدہ کو بھی مرحلہ وار تین طلاق اور عادل گواہوں کے بعد اس کو اسکے گھر سے نہیں نکالا۔ جمعیت علماء اسلام ضلع ٹانک کے امیر مولانا عبدالرؤف گل امام نے تین طلاق دی اور بیوی کو گھر سے نکالنے کے بجائے خود گھر سے باہر ہوگئے۔ اگر انکے دور میں مسئلہ طلاق واضح ہوتا تو اس کی خوب تبلیغ کرتے۔

حضرت عمر دور میں پہلی بار عورت کو شوہر نے3طلاق دی تو وہ رجوع پر راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر نے طلاق کا فیصلہ دیا ۔ عبداللہ بن عمر نے مخالفت کی کہ رسول اللہۖ نے مجھے رجوع کا حکم دیا۔ بخاری میں سمندر کے موجوں کی طرح فتنے کا ذکراور حضرت عمر کے بچنے کی نوید ہے تو وہ عورت کی حق تلفی کا فتنہ تھا۔ عمر نے عبداللہ کو نااہل قرار دیا کہ جو طلاق میں عورت کو انصاف نہیں دے سکے تو امت مسلمہ کے امور سونپ دوں؟۔ حضرت علی نے حرام پر طلاق کا فیصلہ کیا جب عورت رجوع پر راضی نہیں تھی۔حضرت عمر کیلئے بہترین قاضی حضرت علی تھے۔ لولا علی لھلک عمر” اگرعلی نہیں ہوتا تو عمر ہلاک ہوتا”۔

بنوامیہ ،بنو عباس اور سلطنت عثمانیہ نے مذہبی طبقات کو ٹشو کی طرح استعمال کیا۔ لاتعداد لونڈیوں کیساتھ وہ کھیلتے تھے اور مولوی کو حلالہ کی شکل میں لذت کے خراج میں حصہ مل جاتا تھا۔ تاریخ اسلامی میں ایک عالم دین بھی حکمران نہیں بن سکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ امت ہلاک نہ ہوگی جس کا اول میں ہوں،درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ ”۔ علم کا دروازہ علی شیعہ نے عمر کے بغض میں چھوڑ دیا جس کی وفات کے بعد علی نے نہج البلاغہ میں تعریف کی اور سنی علماء نے امام ابوحنیفہ کی جگہ امام ابویوسف کی دربار سازی کو ترجیحات میں شامل کررکھا ہے۔

اگر سنی قرآن کو مانتا تو شیعہ نہ صرف قرآن بلکہ حضرت عمر کی قرآن فہمی پرحضرت فاروق اعظم کوبھی مانتا۔ چاروں امام ،حضرت عمر کا فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق تھا۔ چار امام کا فیصلہ حدیث کے مطابق تھا کہ مزارعت سود ہے مگر امام ابوحنیفہ کے دنیا پرست شاگرد امام ابویوسف نے تو خلیفہ وقت کیلئے اسکے باپ کی لونڈی جائز قرار دی۔ رسول اللہۖ کی حدیث کو بیان کرنے والا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کا داماد اور خلیفہ مفتی عبدالرؤف سکھروی زندہ ہے کہ سود کے73گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے اور شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین سود ہے، مواعظ شائع ہیں۔ دارالعلوم دیوبندنے مفتی محمد شفیع کے معارف القرآن سے فتویٰ دیالیکن مفتی تقی عثمانی نے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور علماء دیوبند کے متفقہ فتویٰ سے انکار کیا سود کو جائزقرار دیا جس پر امریکہ اور مغرب پنجہ یہود میں پھنسا تھا۔کہتے ہیں کہ میمن سے کسی نے پوچھا کہ جنت میں جاؤگے یا دوزخ میں؟۔تو میمن نے کہا کہ جہاں دو پیسے مل جائیں۔

حاجی محمد عثمان اللہ والے میمن تھے اور مفتی تقی عثمانی اور علماء سوء نے الائنس موٹرز کے دو فیصد منافع کیلئے اسلام بیچ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھے کہا تھا کہ بکرے کو لٹادیا، چھرا ہاتھ میں ہے،تم پھیر دو۔اگر ٹانگیں ہلائیں گے تو ہم پکڑلیںگے۔ مولانا فضل الرحمن کے تو والد مفتی محمود کو شہید کیا۔ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا ،مفتی رفیع عثمانی نے دورہ قلب کی گولی حلق میں ٹھونس دی۔ مفتی محمود نے چائے سامنے رکھ دی تو دونوں نے کہا کہ ہم دن میں ایک مرتبہ چائے پیتے ہیں۔مفتی محمود نے کہا کہ میں خود چائے زیادہ پیتا ہوں لیکن کوئی کم پیتا ہے تو یہ پسند ہے اور پھر مفتی تقی عثمانی نے پان کا بٹوہ دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے مفتی محمود کی وفات کے بعد وہ روداد ادھوری لکھی ۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید نے مگر پوری لکھی۔ پہلے تو جمعیت علماء اسلام پر غصہ تھا کہ مفتی تقی عثمانی پر اتنا بڑا بہتان باندھا کہ پان میں زہر کھلا دیا۔ مفتی تقی کی تحریر سے کنفرم ہوجاتا ہے کہ مفتی محمود کو پان نہیں کھلایا مگر اقراء دائجسٹ میں مولانایوسف لدھیانوی کی تحریر چھپ گئی تو معاملہ کھلا۔ مفتی تقی عثمانی نے اس کے بعد جھوٹ بکا ہے کہ مفتی محمود مجھ سے بے تکلف پان کھانے کیلئے مانگتے تھے۔

جب پاک فوج کی مخالفت میں پاکستان میں سخت فضا بن گئی تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ علامہ شبیراحمد عثمانی کو بھی زہر دیا گیا تھا۔ اگر مفتی محمود اور علامہ شبیراحمد عثمانی دونوں پر ایک کمیٹی بن جائے اور مفتی تقی عثمانی کا نامECLمیں ڈالا جائے تو پھر میڈیااور کورٹ کی سطح پر حقائق تک عوام کی پہنچ ہوسکتی ہے۔
حضرت عمر نے اہل کتاب کی خواتین کے نکاح پر پابندی لگائی کہ اگر یہود ونصاریٰ کی سرخ وسفید لڑکیوں سے نکاح ہوگا تو عرب عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں گی لیکن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مشرک سے نکاح جائز نہیں تو عیسائی ویہود ی مشرک ہیںمگر انکا فتویٰ نص کے خلاف قرار دیکر قبول نہیں کیا گیاتھا۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد سیداحمد شاہ پیر صابر شاہ سابق وزیراعلی پختونخواہ کے والد تھے۔ بانی اتحاد امت خورشید وارثی کیساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی۔ جس کی تائید مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سمیت دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی سبھی نے کی تھی۔

سیداحمد شاہ نے ساؤتھ افریقہ، برما اور بنگلہ دیش میں بھی خدمات انجام دیں تھیں مگر دیوبند سے بدظن ہوگئے تھے اور شیخ الہندنے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد قرآن سے دوری اور فرقہ واریت کو زوال کا سبب قرار دیا تھا۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے وفات سے پہلے1933ء میں فرمایا ”میں نے اپنی ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی ، قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے سوچا کہ جب مدرسہ میں زندگی ضائع کرنی ہے تو دنیا کمالیں ۔1970ء میں پیسہ لیکر جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا اور دارالعلوم کراچی میں مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی کو ذاتی گھر خرید کر دئیے۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس کو شریعت کیخلاف قرار دیا تو تاریخی پٹائی لگادی۔ ہمارے استاذ مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے انکے شاگردنے ان کو پیشکش کی کہ بدلہ لیتے ہیں ،انہوں نے منع کردیا کہ مزید مار پڑے گی۔

1985ء میں مولانا فضل الرحمن پر متفقہ فتویٰ لگادیا ۔پھر1987ء میں حاجی محمد عثمان پر کراچی کے علماء نے فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ”یہ سن70کا فتویٰ لگتا ہے اس پر مولویوں نے پیسہ کھایا ہوگا یہ پیر کوئی اچھا آدمی ہوگا”۔
علامہ اقبال نے ابلیس کی جڑ وں سے نقاب کشائی کی۔

یہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملکوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کرسکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کرسکتا ہے اس نخل کہن کو سر نگوں

علامہ انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ”اگر 7فقہاء مدینہ کے نام کاغذ میں لکھ کر پانی میں ڈالے جائیں اور اس پانی سے چھت پر چھڑکاؤ کیا جائے تو چھت میں کبھی دیمک نہیں لگے گی”۔

7فقہاء مدینہ کے سرخیل سعید بن مسیب تھے۔ جس پر بڑا تشدد اسلئے کیا گیا کہ ہشام بن عبدالملک نے اپنی چوتھی بیوی کو طلاق دی تو اس نے کہا کہ جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہوجاتی تو چوتھی لڑکی سے نکاح حرام ہے اسلئے کہ رجوع کیلئے عورت انتظار کی پابند ہے تو شوہر بھی انتظار کا پابند ہے”۔ اسلئے طلاق مغلظ اور بائن کی بدعات آئیں۔ جہاں رجوع کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ فقہاء مدینہ کی طرح7فقہاء کوفہ کا سرخیل سعید بن جبیر تھے جس نے فتویٰ دیا کہ آیت230البقرہ میں حلالہ کیلئے نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ۔ جس پر حجاج بن یوسف نے انتہائی بے دردی سے95ھ میں شہید کردیا اور وجہ بھی نہیں بتائی کہ قصور کیا ہے؟۔ جبکہ7فقہاء بصرہ کے سرخیل حسن بصری نے اپنی جان بچائی کہ20سال پہلے ایک مستند شخص نے کہا تھا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر20سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں مل سکا جو اس کی تردید کرتا۔پھر ایک اور زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی (صحیح مسلم)۔

حسن بصری نے کہا کہ ”بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام لفظ تیسری طلاق ہے جسکے بعد حلالہ لازمی ہے (صحیح بخاری)۔

اہل بیت کے مقابلے میں بنوامیہ کا اقتدار اسی سہارے پر کھڑا تھا کہ اہل بیت حضرت عمر کے مخالف ہیں اور حلالہ کو نہیں مانتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ڈھائی سال کے اقتدار میں احادیث کی کھلی اجازت دی اور101ھ میں وفات پاگئے لیکن اس سے پہلے عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید اور سلیمان اور اس کے بعد یزید ثانی اور ہشام بہت ظالم بڑے عیاش تھے۔ حسن بصری نے نابالغ بچی سے نکاح کو جائز کہا اور امام اوزاعی نے نکاح سے پہلے شرمگاہ کے علاوہ عورت کا پورا جسم دیکھنا جائز قرار دیا۔ اہل ظواہر نے شرمگاہ کو بھی جائز قرار دیا جس کی علامہ ابن حزم نے تقلید کی۔ کشف الباری شرح صحیح بخاری میں مولانا سلیم اللہ خان نے تفصیلات لکھ دی ہیں۔

محمود بن لبید وفات95ھ نے بچپن میں رسول اللہۖ کی زیارت کی تھی اور کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ۖ کو خبردی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ نبیۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا میری موجودگی میں تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیلتے ہو ایک شخص نے کہا کہ اس کو قتل کردوں؟۔(نسائی)

محمود بن لبید کی روایت کو بخاری ومسلم میں جگہ نہیں ملی لیکن حسن بصری کومل گئی؟۔ایک صحابی ، دوسرا تابعی۔ ایک7فقہاء میں شامل دوسرا نہیں؟۔ محمود بن لبید کی روایت میں شامل قتل کی پیشکش کرنے والے حضرت عمر اور طلاق والے عبداللہ بن عمر۔

امام ابوحنیفہ80ھ150ھ اور امام مالک93ھ179ھ نے محمود بن لبید کی روایت کو اپنی دلیل بنایا۔ امام شافعی مالک کے شاگرد تھے اور امام احمد بن حنبل امام شافعی کے۔امام بخاری اورامام مسلم احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔سبھی نے حکمرانوں کی سختیاں اور درباریوں کی مخالفت برداشت کی تھی۔ امام مالک کا آخر میں سوفٹ وئیر خوب اپڈیٹ کیا گیا تھا ۔ملاحظہ فرمائیں!

” منصور کے حاجب ربیع بن یونس کا بیان ہے کہ منصور نے امام مالک، ابن ابی زیب اور امام ابو حنیفہ کو بلا کر ان سے کہا کہ یہ حکومت جو اللہ تعالیٰ نے اس امت میں مجھے عطا کی ہے اس کے متعلق آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کا اہل ہوں؟ امام مالک نے کہا کہ اگر آپ اس کے اہل نہ ہوتے تو اللہ اسے آپ کے سپرد نہ کرتا۔ ابن ابی زیب نے کہا دنیا کی بادشاہت اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ مگر آخرت کی بادشاہت اس کو دیتا ہے جو اس کا طالب ہو اور جسے اللہ اس کی توفیق دے۔ اللہ کی توفیق آپ سے قریب ہو گی اگر آپ اس کی اطاعت کریں ورنہ اس کی نافرمانی کی صورت میں وہ آپ سے دور رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت اہل تقوی کے اجتماع سے قائم ہوتی ہے اور جو شخص خود اس پر قبضہ کر لے اس کیلئے کوئی تقوی نہیں ہے۔ آپ اور آپ کے مددگار توفیق سے خارج اور حق سے منحرف ہیں۔ اب اگر آپ اللہ سے سلامتی مانگیں اور پاکیزہ اعمال سے اس کا تقرب حاصل کریں تو یہ چیز آپ کو نصیب ہو گی۔ ورنہ آپ خود ہی اپنے مطلوب ہیں۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ جس وقت ابن ابی زیب یہ باتیں کہہ رہے تھے ،میں نے اور مالک نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے کہ شاید ابھی ان کی گردن اڑا دی جائے گی اور ان کا خون ہمارے کپڑوں پر پڑے گا۔ اس کے بعد منصور امام ابو حنیفہ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا اپنے دین کی خاطر راہ راست تلاش کرنے والا غضب سے دور رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں تو آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے ہم لوگوں کو اللہ کی خاطر نہیں بلایا ہے۔ بلکہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ڈر سے آپ کے منشا کے مطابق بات کہیں اور وہ عوام کے علم میں آجائے۔ امر واقع یہ ہے کہ آپ اس طرح خلیفہ بنے ہیں کہ آپ کی خلافت پر اہل فتوی لوگوں میں سے دو آدمیوں کا اجماع بھی نہیں ہوا۔ حالانکہ خلافت مسلمانوں کے اجماع اور مشورے سے ہوتی ہے۔ دیکھیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چھ مہینے تک فیصلے کرنے سے رکے رہے جب تک کہ اہل یمن کی بیعت نہیں آ گئی تھی۔ یہ باتیں کرکے تینوں صاحب اٹھ گئے۔ پیچھے منصور نے ربیع کو تین توڑے درہموں کے دیکر ان تینوں اصحاب کے پاس بھیجا اور اس کو ہدایت کی کہ اگر مالک لے لیں تو ان کو دے دینا۔ لیکن اگر ابو حنیفہ اور ابن ابی زیب انہیں قبول کر لیں تو ان کا سر اتار لانا۔ امام مالک نے یہ عطیہ لے لیا۔ ابن ابی زیب کے پاس جب ربیع پہنچا تو انہوں نے کہا میں اس مال کو خود منصور کیلئے بھی حلال نہیں سمجھتا اپنے لیے کیسے حلال سمجھوں؟ ابو حنیفہ نے کہا خواہ میری گردن ہی کیوں نہ مار دی جائے میں اس مال کو ہاتھ نہ لگاں گا۔ منصور نے یہ روداد سن کر کہا کہ اس بے نیازی نے ان دونوں کا خون بچا لیا”۔(مولانا سید مودودی)

صحیح بخاری نے حلالہ کی لعنت کو جاری کرنے کیلئے حدیث کا بالکل غلط حوالہ دیا تھا ۔امام زین العابدین کے شاگردابوخالد کابلی کابل افغانستان نے درست مسلک پھیلایا تھا اسلئے بخارا کے شہر میں امام بخاری کو دفن نہیں ہونے دیا گیا۔ تدفین شہر سے دور کی گئی۔امام ابوحنیفہ کے مسلک کو غلط رنگ دیا گیا کہ نکاح سے مراد جماع ہے اسلئے عدت کے بغیر عورت کاچھپ کر حلالہ کیا جاتا تھا۔کراچی سے ٹانک جاتے ہوئے نماز کیلئے اترے تو استنجاء کی جگہ نہیں تھی ،ایک محسود نے کہا کہ جو پانی کھڑا ہے اس میں ڈبو ؤو۔کسی نے کہا کہ پانی کا پتہ نہیں کہ پاک یا نہیں؟۔تو محسود نے کہا کہ چھوڑد و ،یہ کونسی پاک چیز ہے۔ حلالہ کی لعنت میں حلال حرام کیا؟اور حرمت مصاہرت کا معاملہ بہت براہے لیکن دیوبند نے ایک طرف عدت کا تصور دیا تھا اور دوسری طرف تبلیغی جماعت نے حلالہ کو سرعام کرنا شروع کیا۔

عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں
الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن مرد آزما مرد آفریں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نکاح ثانی بھی جائز اولاد بھی حلال: امام ابو حنیفہ کا فتویٰ ، قرآن وسنت کے بھرپوردلائل

مولاناولی اللہ معروف یوٹیوب چینل پر درد ناک کہانی سنیں۔ 6بچوں کی ماں حوری اغواء ہوئی۔ دوسری جگہ شادی کرادی گئی۔اب دوسرے شوہر سے نکاح اور اولاد کا اسلام میں کیا حکم ہے؟۔اس کا حل امام ابوحنیفہ کے فتویٰ ، قرآن وسنت اور انسانی فطرت کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا عبدالحمید حماسی نے کہا کہ ”امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے ”اگر کسی نے کسی کی بیوی چھین لی توشرعی نکاح ہے”۔ جیو کے شاہ زیب خانزدہ نے زور لگایا کہ ”خاور مانیکا کہے کہ ادارے نے مجبور کیا کہ پنکی کو عمران خان کے حوالہ کردے”

اصل معاملہ یہ ہے کہ بچی ہو، کنواری ہو، نکاح والی ہو ، بردہ فروشوں نے اغواء کرکے بیچی ہو یا ولی نے مجبور کیا ہو، کوئی کسی سے کنواری بیٹی چھین لے یا بیوی ۔عورت کا کیا قصور ہے؟۔ کسی کی جان لینا جائز نہیںمگر شہیدکوتو مردارنہیں کہہ سکتے ؟،مجبور عورت کیلئے حرام کیسے ؟۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ کے نالائق مقلدین کی بات ہے تو یہ حنفی نہیں بلکہ امام ابویوسف کی پود ہیں۔جس نے معاوضہ لیکر بادشاہ کیلئے اس کے باپ کی لونڈی جائز قرار دے دی تھی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی حدیث کے مطابق سود کے 73گناہ ہیں جس میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ جماعت اسلامی کا سراج الحق حدیث بیان کرتا تھا کہ سود کا گناہ اپنی ماں کیساتھ خانہ کعبہ میں 36مرتبہ زنا کے برابر ہے۔ ڈاکٹر اسرار نے اسلامی بینک کے نام پر سودکو ناجائز قرار دیا تھااور علماء دیوبند کا متفقہ فتویٰ مارکیٹ میں موجود ہے کہ مفتی تقی عثمانی نے عالمی سودی نظام کے جواز کا غلط فتویٰ دیا ہے لیکن پھر منافقین علماء متزلزل نظر آتے ہیں اور اب کھل کر حمایت و مخالفت کی جگہ عوام کو سود اور ماں سے زنا کے برابر گناہ کے جواز وعدم جواز میں لٹکادیا ہے۔

دین فروش علماء توغلط ۔ مخلص گدھوں کوسمجھ نہیں ۔ ایک مسئلہ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی لکھا ۔ حنفی متفق ہیں کہ ”اگر شوہر نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق پھر مکر گیا اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو عورت خلع لے گی اگر نہیں ملتا تو حرامکاری پر مجبور ہے”۔ پڑھا لکھا اور ذہین طبقہ اسلئے لادین بنتا جارہا ہے کہ گدھوں نے دین کو بگاڑ دیا ہے۔

بظاہر تو یہ نکاح پر نکاح کی وجہ سے کیسے جائز ہوگا؟۔ کیا امام ابوحنیفہ نے بادشاہوں اور بدمعاشوں کیلئے راستہ ہموار کردیاکہ جس کمزور اور لاچار کی بیوی چھین لے تو اس کیلئے حلال ہوجائے گی؟۔ اس کا جواب اچھی طرح سے سمجھو!۔

المحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم (النساء :24 )شادی شدہ عورت کا محرمات فہرست میں آخری نمبر ہے ۔ تفسیرپر اختلاف ہے۔ مولاناسلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس العربیہ نے کشف الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے کہ” جمہور کے نزدیک ایک ایسی عورت ہے جس کا شوہر کفار کے دارالحرب میں ہو اور اس عورت کو لونڈی بنادیا گیا ہو۔ جبکہ ایک صحابی نے کہاکہ اس سے مراد وہ لونڈی ہے جسکے مالک نے کسی اور سے نکاح کرایا ہو”۔

حضرت محمد ۖ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مشاورت سے دنیا کو ایک نیا قانون دیا کہ قیدی کو قتل کیا جاسکتااور نہ غلام بنایا جاسکتا ہے بلکہ فدیہ لیکر چھوڑ سکتے ہیں اور جن کے پاس وسعت نہیں تو احسان کرکے چھوڑنا ہوگا۔ سورہ محمد میں اللہ نے اس کی تائید فرمائی۔ پاکستان نے کسی جنگ میں کوئی قیدی غلام نہیں بنایا کیونکہ یہ فطرت کے منافی ہے اور اب دنیا میں غلامی کے خاتمے پر اتفاق بھی ہوچکا ہے۔

افغان طالبان اورغزہ مجاہدین نے لونڈی نہیں بنائی ۔ جاہل طبقہ کہتا ہے کہ لونڈی سے جنسی تعلق جائز ہے ۔اگر نکاح کرلیا تومرنجان مرنج اور سونے پر سہاگہ چشم بددور۔

داعش نے یزیدی عورتوں کی منڈیاں لگائی تھیں جس کا نظارہ پوری دنیا کو ٹی وی چینلوں پر دکھایا گیا ہے ۔سوات کی مسلمان عورتوں کو لونڈی بنانے کا معاملہ رپورٹ کیا گیا اور پھر ملافضل اللہ بھاگنے میں کامیاب ہوا تھا اور مسلم خان اور محمود خان اہم ترین رہنماؤں کو فوجی عدالتوں نے سزا تو سنادی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ ہم خود اپنے ساتھ کھیل رہے ہیں یا دنیا نے ہم لوگوں کو کھلواڑ بنادیا ؟۔

اللہ نے فرمایا: ”اپنی کنواری لڑکیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح چاہتی ہوں”۔ جس سے لونڈی مراد لی گئی کہ بدکاری پر مجبور کیا تو اس کیلئے دھندہ حلال ہے۔ کیا قرآن نے دھندے کی حوصلہ افزائی کی؟۔ نہیںہرگز نہیں بلکہ مجبوری کو رعایت دی ہے۔ قرآن میں دھندہ اور لونڈی نہیں بلکہ کنواری لڑکی کو نکاح کی اجازت دینا مراد ہے۔

اللہ کو پتہ تھا کہ پاکستان میں اسلام کے چودہ سو سال بعد بھی بچیاں ، کنواری لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور کھوئی ہوئی لڑکیوں کے معاملات نہیں رکیں گے تو ایک بڑا کلیہ بتادیا کہ شادی شدہ ہوں ، ولی کی اجازت کے بغیر ہوں اور کوئی بھی ناگوار صورحال ہو تو اس میں اماں حوری جیسی بھی شامل ہوں گی اور ان پر ناجائز اور حرامکاری کا فتویٰ نہیں لگتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی بات کو لوگوں نے غلط رنگ دیا ہے۔

سورہ نساء کی آیت 24کی تفسیر سے دنیا میں ہر قسم کے ماحول کے اندر رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے بعد مکہ سے مشرکوں کی بیویاں مؤمن بن کر مدینہ پہنچیں تو وہ بھی مراد ہوسکتی تھیں۔ مسلمانوں کیلئے لونڈی بنانا ناجائز اور آل فرعون کا فعل ہے۔ جب قیام پاکستان کے وقت ہندو اور سکھ خواتین کو مسلمانوں نے پکڑ کر ان سے جبراً شادی کی تو یہ مسلمانوں کیلئے ناجائز تھا۔ لیکن ان خواتین کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے حرام اور ناجائز کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ البتہ ہندو اور سکھوں میں اگر جائز اور ناجائز کا تصور نہ ہو اور پھر بھی انہوں نے مسلمان خواتین کو پکڑ کر زبردستی سے شادی کی اور بچے جنوائے تو بھی مسلمان عورتوں کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے ناجائز کا فتویٰ نہیں لگاسکتے۔ لونڈی اور غلام بنانے کا تصور اسلام نے ختم کیا ہے لیکن اگر کافر ختم نہیں کرتے تو مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا۔

 


65سال بعد مردان میں بہنوں کی ملاقات

مولانا ولی اللہ معروف سوشل میڈیا کے ذریعے بہت گم شدہ افراد کواپنے خاندانوں سے ملاکر دنیا میں انسانیت کی انوکھی خدمت انجام دیتے ہیں۔ یہ بہنیں سوات کی ہیں ایک کی شادی مردان میں ہوئی ، دوسری بچپن میں اغواء اور کنڈہ یارو سندھ میں شادی ہوئی۔ اس کا سندھی بیٹا باکمال ہے ۔بتایا کہ وہاں7مزید پختون خواتین ہیں اور وہ سبھی کو خالہ سمجھتے ہیں۔ جب سندھی اور پختونوں میں ناچاکی ہوئی تو وہ پختون قوم ماموں کیلئے کھڑے ہوگئے۔ نبی اکرم ۖ نے ابراہیم کی وفات پر فرمایا کہ ” یہ زندہ رہتا تو کسی قبطی کو غلام نہیں رہنے دیتا”۔ جس سندھی نے پختوں ماں کو زندگی بھرخاندان سے ملنے کیلئے تڑپتے دیکھا ،اس نے کہا:شاید اللہ نے اس کو اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے زندہ رکھا تھا۔

تقسیم سے پہلے اور تاحال بردہ فروشی جاری ہے ۔اللہ طاقت انہیں دے جو نظام کو بدلیں۔ بچیوں، لڑکیوں اور شادی شدہ عورتوں تک کو اغواء کرکے بیچ دیں۔ مذہبی طبقہ انسانیت کی خدمت کرکے اسلام کی نشاة ثانیہ کررہا ہے۔ مولانا ولی اللہ معروف، مفتی فضل غفور اور مدارس کے طلبہ اسلام ، پختون اور علماء کا چہرہ روشن کررہے ہیں۔ ماشاء اللہ

 


رخشندہ ناز کے فرزانہ علی سے عجیب انکشافات

رخشندہ ناز نے پہلی بار فرزانہ کیساتھ جو عجیب وغریب انکشافات کئے ہیں تفصیلی انٹرویو سوشل میڈیا پر دیکھ لیں۔ یہاں کچھ معاملات کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ آئندہ کیلئے مختلف طبقات ان غلطیوں کو نہیں دھرائیں۔ میرے دوست مولانا زین العابدین لسوندی نے بتایا تھا کہ اس کے ایک کزن کو ہیرہ منڈی میں ایک محسود لڑکی کا بتایا گیا تو اس نے وہاں سے اس کی جان چھڑائی جس کو والد نے خود بیچ دیا تھا اور اب رخشندہ ناز نے انکشاف کیا ہے کہ قبائلی کیمپ سے لڑکیوں کو سیکس کیلئے بیچنے والوں نے باقاعدہ استعمال کیا ۔

ایک لڑکی کا بتایا کہ ازبک سے اسکی شادی کرائی گئی تھی جو کہہ رہی تھی کہ اس کو اپنے بچے سے نفرت ہے۔ پوچھا گیا کہ کیوں ؟۔ تو اس نے کہا کہ شادی تو ایک سے ہوئی تھی لیکن کئی افراد اس سے شیئر کررہے تھے اور پتہ نہیں کہ وہ کس کا بچہ ہے؟۔ رخشندہ ناز نے کئی انکشافا ت کئے ہیں جن میں قبائل کا بیٹیوں کو ان کی مرضی کیخلاف بیچنا اور مجاہدین کیساتھ رشتوں پر فخر وثواب شامل ہیں یہ دیکھنا ضروری ہے مگر رخشندہ ناز کی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ بچوں جانوروں کو پولیو کے قطرے فوجی چوکیوں پر پلائے جاتے تھے لیکن بچیوں اور عورتوں کو اس حق سے محروم رکھا گیا تھا۔

جب میں نے وائس آف امریکہ کے شمیم شاہد کو انٹرویو دیا تھا تو اندازہ تھا کہ شائع نہ ہوگا کیونکہ یہاں ایک مخصوص طرح کا بیانیہ تشکیل دیا جارہاتھا۔ اب اللہ ہی خیر کرے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آذان کی تعریف میں ایسی نظم کہی کہ مودی اور یوگی شرمندہ ہوگئے

لتا حیاء: سنئے گا

یہ بھی تو ہیں آثار قیامت کے اے حیا !
جاہل اگرچہ ملک کے سردار ہو گئے
ابھی تلک تو یہی سنا تھا بڑی سیاست گندی ہے
لیکن اب ایسا لگتا ہے یہ بالکل ہی اندھی ہے
خوب بولتی ہے لیکن آنکھوں پر کالا چشمہ ہے
ایک ہاتھ میں لڈو ہے اور دوجے ہاتھ تمنچا ہے
اگر یہ مسلم عورت کے حق کی آواز اٹھاتی ہے
اور نجیب پہلو کی امی نظر نہیں کیوں آتی ہے
کتنی سازش کر لے انسان اس کی پلاننگ بہتر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
آنکھیں اندھی ہو یا نہ ہو دل تو ان کا اندھا ہے
اسی لیے سب کو بھڑکانا ان کا گو رکھ دھندھا ہے
مسجد سے آتی آوازیں ان کو نہیں سہاتی ہیں
اس سے بھی اونچی آوازیں لیکن ان کو بھاتی ہیں
چیخ سنائی دیتی ہے کیا ان کو لٹتی بچی کی
اک کسان کے بچے کی سینک کی بیوہ بیوی کی
ان کے دل کی دھڑکن خود نفرت کا لاؤڈ سپیکر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
اب جو ہم لوگ محسوس کرتے ہیں جو آپ نے کہا ہے
اذاں آڑھتی شبد کیرتین بھارت کی جاگیریں ہیں
صبح شام کے ورق پہ لکھی پاکیزہ تحریریں ہیں
یہی ایکتا اور محبت اپنی ہے پہچان مگر
ہندو مسلم سکھ عیسائی رہتے ہیں سب مل جل کر
اپنے گھر کی دیواریں جو ساؤنڈ پروف بنواتے ہیں
AC میں سونے والے جانے کیسے جگ جاتے ہیں
غنڈا گردی کرتے ہیں آوارہ لوفر اور جوکر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
گھر میں تو جو اپنی ماں کی سیوا نہ کر پاتے ہیں
باہر جا کر گائے ماں کی خاطر لہوبہاتے ہیں
معصوموں کا لہو بہا ئے وہ غنڈا کہلاتا ہے
کوئی سونو کو سمجھاوے سر کب مونڈ ا جاتا ہے
سب سے پہلے دی بلال نے اذاں اسی کو کہتے ہیں
جو رسول کی کرے گواہی بیاں اسی کو کہتے ہیں
جس کو مذہب سے نفرت وہ شیطان سے بھی بدتر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
یہ ہے کچھ خود غرض لوگ جو اب چمچے کہلاتے ہیں
خبروں میں رہنے کی خاطر یہ کچھ بھی کر جاتے ہیں
ان کو جب کوئی نہ پوچھے ٹوئٹر پہ یہ آ جاتے ہیں
جو بھی نیتا بولے اس کی ہاں میں ہاں کر جاتے ہیں
جو کیول رب کو پوجے وہ اصل بھگت کہلاتا ہے
پر جو انساں کو پوجے وہ اند بگت کہلاتا ہے
دے دیتے نیتا ان کو اونچے عہدے پھر خوش ہو کر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
خواب دکھایا تھا اللہ نے کیسے ہمیں جگانا ہے
تمہیں کامیابی کی جانب کس طرح بلوانا ہے
صبح عبادت کرنے جانا کیا یہ غنڈا گردی ہے
اپنے رب کی طرف بلانا کیا یہ غنڈا گردی ہے
پشو پرندے جگ جائیں تب کوئی سونے جاتا ہے
نیند سے بہتر فجر نماز ہے یہ اسلام سکھاتا ہے
تم بھی جاؤ مندر میں کچھ پن کماؤ منہ دھو کر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر

خود بت پرست لوگ بت کو توڑ رہے ہیں حیرت کی بات ہے بت پرست بتوں کو توڑ رہے ہیں۔ اپنے آئیڈیل کو توڑ رہے ہیں تو اذان پہ پابندی لگانا تو دور کی بات ہے۔ اذان اور آرتی کی آواز سن کے ہمیں اچھا لگتا تھا ہماری نیند کھلتی تھی ، سکون ملتا تھا ۔جب پابندیوں کی بات آتی ہے تب میں نے ایک نظم کہی ہے۔ آپ لوگوں کی بات کرتی ہوں مجھ پر بہت سارے الزامات لگے۔ میں آج یہاں سے یہ اناؤنس کر رہی ہوں کہ جس ہندوستان میں ایک نیتا یہ کہتا ہے کہ میں صرف ہندو ہوں فخر ہے ہندو ہونے پہ میں عید نہیں مناتا وہاں ایک ہندوستانی یہ کہتی ہے کہ انشااللہ اگر میری حیات رہی تو میں ایک مسجد بنواؤں گی ۔ یقین جانئے بہ خدا میں بات آپ لوگوں کی محبتیں لینے کیلئے نہیں کہہ رہی یہ بات میرے دل سے نکلی ہے میں جو بھی کہتی ہوں دل سے کہتی ہوں ۔میں نے اپنا تعارف بھی جو کروایا تھا کہ

نام حیا ہے میرا لوگوں کی ہائے سے ڈرتی ہوں
ہیلو تو اچھا لگتا ہے پر بائے سے ڈرتی ہوں
حق گوئی سے خوف نہیں ہے اسی لیے سچ کہتی ہوں
پہلے چاہت سے ڈرتی تھی اب چائے سے ڈرتی ہوں
جو دل کہتا ہے کہتی ہوں تم اپنی اپنی سوچو
شعر و سخن پہ میں استادوں کی رائے سے ڈرتی ہوں
اور اب تو اس کا نام بھی لوں تو یہ طبیعت گھبراتی ہے
راستے میں بھی دکھ جائے تو میں گائے سے ڈرتی ہوں
اُف وہ شخص کتنا بولتا ہے اب اس سے خوف سا آنے لگا ہے
اگر فرعون کب کا مرچکا ہے تو پھر یہ سامنے کیسے کھڑا ہے
یہ سوچا تھا کہ سب اچھاہی ہوگا یہ اچھا ہے برا پھر کیا بلا ہے
وہ جس کے ہاتھ میں ہونا تھا کاسا مقدر سے سکندر ہو گیا ہے
ابھی دجال کا آنا ہے باقی ابھی کیوں ظلم اتنا بڑھ گیا ہے
اسے کب فکر گھر اور اہل گھر کی جو دنیا بھر میں ڈولا گھومتا ہے
کبھی جنگل میں جو ہوتا رہا وہ سب تو شہر میں اب ہو رہا ہے
میں جب سوچتی ہوں اس کو تو پھر حیا سے سر میرا جھکنے لگا ہے
اُف وہ شخص کتنا بولتا ہے اب اس سے خوف سا آنے لگا ہے

ایک نظم نفرتوں کے دور میں سناؤں گی لیکن اس سے قبل یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ ذمہ دار ہم لوگ بھی ہیں ہماری تباہی کے تین چار اشعارآپ تک سنا رہی ہوں کہ

خدا کی راہ پر چلتے تو یوں برباد نہ ہوتے
اگر فرقوں میں نہ بٹتے تو یوں برباد نہ ہوتے
خدا کی ایک رسی کو پکڑ کر ساتھ جو چلتے
تو شیطان راج نہ کرتے تو یوں برباد نہ ہوتے
ہمارے ایک ہی ماں باپ آدم اور حوا تھے
یہ دھرم و ذات نہ ہوتے تو یوں برباد نہ ہوتے
یہ دنیا چار دن کی ہے تو پھر کیوں قتل خون ریزی
فقط اتنا سمجھ لیتے تو یوں برباد نہ ہوتے
سبھی کا حق ہے دنیا پہ سبھی کی ہے حیا دنیا
اگر نیتا نہیں ہوتے تو یوں برباد نہ ہوتے

ابھی بھی جب میں نے یہ نظم کہی تھی لیکن جو ریپ ہیں وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اب تو8مہینے کی بچی کو نہیں چھوڑا جاتا ہے 80 سال کی بزرگ مہلا(عورت) کو نہیں چھوڑا جاتا ہے۔ دلی میں جب ایک عورت مہلاآیوب کی ریپ روکو اندولن شروع کرتی ہے اور پی ایم سے ملنے کی کوشش کرتی ہے تو یوم خواتین کے دن اس پر لاٹھی برسائی جاتی ہے ۔ تب میں یہاں سے کہہ رہی ہوں کہ ہمیں بھی مل کر ساتھ دینا چاہیے صرف دلی سے نہیں ممبئی سے بھی آواز اٹھنی چاہیے جتنے بھی ادارے ہیں میں ان سے التجا کر رہی ہوں کہ یہ میری نظم صرف آپ کو سنانے کی خواہش نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ یہاں سے بھی آواز اٹھے سب لوگ جڑیں اور قانون بنانے پر مجبور کریں سرکار کو کہ کسی طرح سے ریپ رکیں اور اس کی سزا صرف پھانسی ہونا چاہیے اور کوئی اس کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔ تو میں ایک بات کہنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

پوچھ رہی ہوں ہندوستاں کی طاقتور مہلاؤں سے
دولت ستہ اور سیاست کے اعلی آقاؤں سے
کب تک عورت کی عزت سڑکوں پر لوٹی جائے گی
ایک بچی گھر میں اپنے محفوظ نہیں رہ پائے گی
بھول گئے ہم ہندوستانی ہر تعلیم شرافت کی
سیکھ رہے ہیں مغرب کی ہم الٹی سیدھی اے بی سی
اب نا کوئی شرم نہیں رشتوں میں اور نہ مریا دا
بیٹی کو لوٹے والد اور پوتی کو لوٹے دادا
اور بہن پر بھائی کی نظروں کے چلتے وار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
یہ وہ دھرتی ہے جس میں عورت کو کہتے ہیں دیوی
آج مگر اس دیوی کی خودبھگتوں نے عزت لوٹی
جس بھارت میں گنگا ہے میا اور گائے ماتا ہے
آج وہاں ایک بیٹا خود اپنی ماں کو مرواتا ہے
گاؤں شہر ہو ،ہوٹل ہو مندر ہو یا سکول ہو
ہر جگہ بھدے فقرے کیا مال مست ہوکول ہو
اس سے بھی بڑھ کر بھدے الفاظ سنائی دیتے ہیں
بیٹے تک اپنی ماں کو ہائے جانو کہتے ہیں
یہ کیسی تہذیب شرافت کیسے ششٹہ چار ہیں
اس ساری بے شرمی کہ ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
اب کیول انجان نہیں اپنوں سے بھی ڈر لگتا ہے
چاچا، تا ؤ، ما ما، موسا، جیجا تک سے خطرہ ہے
عمر کوئی بھی ہو کیول بس عورت ہو نا کافی ہے
جس کو دیکھو نیت کھوٹی نظروں میں ناپاکی ہے
ہر رشتہ ایک داغ بنا ہے خون ہوا ہے اب پانی
یہ تو سب ہونا ہی تھا جب ساتھ نہیں دادی نانی
ٹوٹ رہے پریوار یہاں اب بچے تنہا رہتے ہیں
نوکر اور پڑوسی کی سب اوچھی حرکت سہتے ہیں
ہر جگہ صیاد کھڑے ہیں اور کلیاں لاچار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
فلمیں ہوں موبائل ہو یا کہ پھر انٹرنیٹ ہو
نان ویج میسج چلتے سب چاہیں ولگر چیٹ ہو
یہ کیسا مینر کلچر ایڈوانس ہوئی ہے ایجوکیشن
کم کپڑوں میں فخر کریں گالی دینا مانیں فیشن
فلموں سے لے کر خبروں تک صرف مصالحے بکتے ہیں
جسم جلے ایک عورت کا تب ان کے چولہے جلتے ہیں
عورت کو ایک چیز بنا بازار یہاں پر سجتے ہیں
ان کو دیکھ جواں ہوتے بچوں میں مجرم پلتے ہیں
سب دولت شہرت کی خاطر بکنے کو تیار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
ایسا لگتا ہے کہ اب یہ اپنا بھارت دیش نہیں
بس کیول شکشہ ملتی ہے پر اچھا سندیش نہیں
کب بچوں کو ایک بھی نیتک پاٹ پڑھایا جاتا ہے
بس کیسے آگے بڑھنا ہے یہ سمجھایا جاتا ہے
جہاں برائی ہیروئن ہو پاپ جہاں پر نائیک ہو
اس کو اتنی شہرت ملتی جو جتنا نالائق ہو
پاپ پنے کا فرق انہیں جب نہیں کوئی سمجھائے گا
خوف کہاں او پروالے سے پھر یہ انسا کھائے گا
جب ان کے آدرش بھی غنڈے ڈاکو سے کردار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
سنبھل سکو تو ابھی سنبھل لو اگر سنبھلنا آتا ہے
یاد مجھے اقبال صاحب کا شعر یہ اکثر آتا ہے
اب نہ سنبھلے تو ہندوستاں والوں تم مٹ جا ؤگے
دنیا کی تاریخ میں اپنا نام کہاں لکھوا ؤگے
اب بھی ہے کچھ وقت نہیں بدلا اب بھی سب کچھ بھائی
ہم چاہیں تو کر سکتے ہیں اس گھٹنا کی بھرپائی
سوچ بدل جائے اپنی قانون فٹافٹ مل جائے
اور سزا ایسی کہ جس کو دیکھ کے مجرم تھر ائے
کیا مجرم کی ماں بہنیں بھی لڑنے کو تیار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
کب مجرم کی ماں نے یہ پوچھا ہے بیٹے سے جا کر
کوکھ پہ لعنت بھیجی ہے دنیا کے آگے کب جا کر
کب مجرم کی بہنا نے بھائی کو تھپڑ مارا ہے
اور بیٹے کے کرتوتوں کو ابا نے دھتکارا ہے
جب تک ان کے گھر والے نہ سبق انہیں سکھلائیں گے
سرعام جوتے مارے عریاں کر کے گھموائیں گے
کیوں عربی قانون یہاں پر نہیں چلایا جا سکتا
سات دنوں میں مجرم پھانسی پرلٹکایا جا سکتا
جب جنتا ہے راضی پھر کیوں قاضی جی بیزارہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں

تبصرہ : نوشتۂ دیوار

محترمہ لتا حیا ہندو شاعرہ ہیں اورنسل، ملکوں و مذاہب کی بنیاد پر نفرتوں کے خلاف مودی سرکار کے اقتدار میں صف آراء ہیں۔ ہمیں مسلمان ہوکر تعصبات پھیلانے میں شرم نہیں آتی ہے۔آج ہماری ضرورت ہے کہ سیاسی بنیاد پر ایک ایسی فضا قائم کریں کہ اس خطے میں امن وامان قائم ہو اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر ناجائز حملہ کیا اور منہ کی کھائی ہے لیکن اس کو ڈھول بناکر ہم بجاتے رہیں گے تو آخر میں پاکستان کی بج جائے گی۔

ایک وقت وہ تھا کہ ہماری طرف سے کھلی مداخلت تھی اور جہادی تنظیموں کی طرف سے حملے ہوتے تھے اور آج یہ حال ہے کہ ان کو بہانہ چاہیے ہم پر حملہ کرنے کیلئے اور جب ہم نے کچھ کیا بھی نہیں تھا اور پھر ہم نے مذمت بھی کردی۔ پھر بھی انہوں نے ہم پر جنگ مسلط کردی تھی۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ بلوچستان، پختونخواہ اور پنجاب میں کھلی مداخلتوں کے خلاف چیخ وپکار کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے مگر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ بالکل واضح ہے کہ کل ہم جو کچھ کرتے تھے آج وہ کررہے ہیں یا نہیں ؟ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم کررہے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی کا بیان دیکھ لیں۔ ان کے پیشرو مولانا سید سلیمان ندوی پاکستان کے حامی اور مسلم لیگی ذہنیت سے تعلق رکھتے تھے اور جب اس کی یہ حالت ہے تو جمعیت علماء ہند اور دوسروں کی حالت کیا ہوگی؟۔ امریکہ نے ڈبل گیم بھی خود کھیلی اور موردالزام بھی پاکستان کو ٹھہرایا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ و اسرائیل نے افغان طالبان کے خلاف جرمنی کی قرار داد کو مسترد کیا اور 116ممالک سمیت پاکستان نے حمایت کی اور چین، بھارت، روس اور ایران غیر جانبدار بن گئے۔ اگر ہم نے ایران ، چین ، بھارت ، افغانستان کے درمیان تجارت و سپلائی شروع کردی تو خوشحالی آئے گی۔ انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غیرت ، حیاء اور سورہ بلد

الغیرة و الحیاء لاحدود لہ
ھٰذا برہان و شہود لہ
من بیت دنی ء لاشرف لہ
لاضمیر لہ ولا سدودلہ

”غیرت اور حیاء کی کوئی حدود نہیں ، یہ دلیل اوراسکے شواہد ہیں۔دنیا پرست خاندانی بے غیرت ہے جس کاکوئی ضمیر ہے اور نہ اس پر روک ٹوک”۔سورہ بلد کا عملی مظاہرہ نبیۖ نے ہند ابوسفیان کوپناہ دی تویزید پلیدنکلا۔ حسن شاہ بابو نے صنوبر شاہ کے یتیموں کو تحفظ دیاتویہ بلیلا نکلا۔ نبیۖ نے عبداللہ بن ابی سرح مرتد کا فرمایا : ” غلافِ کعبہ سے لپٹے تو بھی قتل کردو”۔ عثمان کی سفارش پر معافی قتل عثمان بن گئی !۔

(سورة البد ) بسم اللہ الرحمن الرحیم

لا قسم بھذا البد Oوانت حل بھذا البدO ووالداوما والدOلقد خلقنا الانسان فی کبد O ایحسب ان لن یقدر علیہ احدO یقول اھلکت مالًا لبدًاOایحسب ان لم یرہ احدO الم نجعل لہ عینینOولسانًا و شفتین Oوھدیناہ النجدینO فلا اقتحم العقبةOوما اداراک ما العقبةO فک رقبةOاو اطعام فی یوم ذی مسغبةO یتمیمًا ذا مقربةO اومسکینًا ذا متربةO ثم کان من الذین اٰمنوا وتواصوا بالصبرواالتواصوا بالمرحمة O اولئک اصحاب المیمنةO والذین کفروا باٰیٰتنا ھم اصحاب المشامةOعلیھم نار موصدةO

سورہ البد کا ترجمہ :اللہ نے فرمایا” نہیں! اس شہر کی قسم۔اور آپ اس شہر میں بستے ہیںاور باپ کی قسم اور جو بیٹا ہے۔بیشک ہم نے انسان کو مصیبت میں پیداکیا۔کیااسکا خیال ہے کہ اس کو کوئی قابو نہیں کرے گا؟۔ پکار اٹھے گا کہ مجھے مال نے تباہ کردیا۔ کیا خیال کرتا ہے کہ اس کو کوئی نہیں دیکھتا۔ کیا ہم نے اسکے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے۔اس کی دوپستانوں سے رہنمائی نہ کی؟۔ابھی وہ گھاٹی میں گھسیڑا نہ گیا اورتجھے کیا پتہ گھاٹی کیا؟،گردن چھڑانا۔ یافاقہ کے دن کھلانا ہے۔یتیم قرابت دارکو۔یا مسکین خاک نشین کو۔پھر وہ ان میں سے ہو جن لوگوں نے ایمان لایا اور انہوں نے ایکدوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایکدوسرے کو رحم کی وصیت کی اور یہی ہیں دائیں جانب والے۔جنہوں نے کفر کیاہماری آیات کا تویہی بائیں جانب والے۔ان کو آگ نے لپیٹ میں لیا ہے”۔
٭٭

یتخلص یوسف من الحزن والکیدین
ما خان وما سرق علیہ الشططین
فاعتبروا یا قارئین! احسن القصص
ھجمت رھط ابالیس علی الملکین
فتنة رجال اکثر بکثیر من نسائ
التوأمان الخبیثان جعلت لھماقبرین
انتظرت سبعة عشر سنةً و لکن
الالم والحریق والعاصفة بعدین
لاثریب الیوم علی المخلص ولکن
ذنبہ علی رأسہ دون خاصرتین
رأسہ بلا عقل ام کان دبرہ بلاغیرةٍ؟
من لاضمیر لہ فکشفتُ ذو وجہین
اقدار القبائل یؤخذ من افواھم
ادسہم فی التراب سیترفرف الاسمین
لایشم الحیاء ولایدرک الشرف
انتخرتم اوتجلبوا با صفقین
ھل ترٰی من الرجولة اوالحیائ؟
ایاکم والنفاق والنمیم ورقص علی طبلین
غل جاہت و مہر ملک خیرمن ذاکما
ان ثبت اجرامہا فعیلیہما حدین
وان فزت فرب الکعبة لافرح ولافخور
کتب اللہ غلبة الاسلام فی الکونین
جاھدالکفاروالمنافقین واغلظ علیھم
امرأت نوح وابنھا علی الکفر مغرقین
دنیء عائلی لا شرف فی اہلہ
ھل تعرف مقطوع الانف والاُذنَین
اذا کنت ضربت فادغمہ بلا شبة
فھذہ لطمة ساخنة علی الخدین
یرٰی غیر ضارلکن مثل الخنسیٰ
انھا تدق صاحبة الثدین
کمن کان لہ فی طفولتہ تذکرة
علی المقتر مئة علی الموسع مئتین
ابن درھم ابن الوقت ابن البطن
یبیع غیرتہ بخمس مئة او الفین
ان کان ھو اب او عم او خال
فضربة علی الرقاب و القدمین
لا جرم ان کنت فی ذاتک انت البطل
کان سیدنا بلال من ابوین عبدین
اتثق بین ابناء عموة شریف وخسیس
ابو لہب وامرأتہ کلاھما دسیسین
ما تلک الشجرة ذاقا آدم وحوائ؟
فقابیل من التقاء الختانین
ان کان ابوہ صالحا فماذا ترٰی؟
فنطفة الامشاج تیمم الخبیث لقمتین
من یُستعمل فلینظر الی دبرہ
شر متعة بالدبر دع قُبلتین
فئة قویةفاعلة ضیعفة مفعولة
فقرء وا فی کتاب اللہ فئتین
فقال الضعفاء للذین استکبروا
اناکنا لکم تبعًا:کلا اثنتین
فلذکر ان لایشتعل دبرہ قط
الافلیتبدل الجنس مع الخصیتین
من کان لا ضمیرلہ فشراجیرلہ
البائع والمشتری جائعین لشیئین
احدھما الفتنة وثانیتھما الفساد
الخنس یرقصن یعلون ویھبطن النہدین
لا للعلم و الایمان لا حاجة لھن
یبحثن االمالاوالنفاقا فی الصدرین
قد کنت سدت الحلالة فسخربی
بین الرِجلیھم ولحیھم بحرین
لا یجتنبن کبارمن الاثم والفواحش
طُحِنا ظلمةً بطاحونة الحجرین
بای ذنب قتلوناھذا نسئلوھم
الفحاشی والنفاق فیھم علتین
لقد اجداد ھم مجرمین قبل ھذا
ماھذان الحقبان ببعید فی القرنین
وامتازوا الیوم ایھا المجرمون
بُشری جدی ابن الحسن والحسین
تعالوا الی اطاعة اللہ ورسولۖ
قالۖ انی تارکم فیکم الثقلین

ترجمہ:

حضرت یوسف نے غم اور سازش کے دوچالوں سے خلاصی پالی۔
نہ اس نے خیانت کی اور نہ چوری کی ان پر دو جھوٹ بولے گئے۔
اے قارئین حضرات! بہترین قصے سے عبرت پکڑ لو۔
ابلیس کے لشکر نے حملہ کیا دو فرشتوں(یوسف وبنیامین )پر۔
مردوں کا فتنہ عورتوں کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہے۔
جڑواں دو خبیث بھائی جن کیلئے میں نے دو قبریں بنادی ہیں۔
میں نے سترہ سالوں تک انتظار کیا لیکن اس کے
باوجود بعد میں پھر بھی درد، جلنے اور طوفان (کا سامنا )ہے۔
آج کے دن مخلص پر کوئی ملامت نہیں ہے لیکن
اس کی دم اس کے سر پر ہے دونوں چوتڑوں پر نہیں ۔
اس کے سر میں عقل نہیں ہے یا پھر پچھاڑی میں غیرت نہیں؟۔
جس کا کوئی ضمیر نہیں تو میں نے دو چہروں والے کو واضح کردیا۔
قبائل کے اقدار ان کی زبانوں سے ہی لئے جاتے ہیں۔
میں نے ان کو مٹی میں دھنسا دیا عنقریب دو نام لہرائیں گے۔
وہ حیا کی بو نہیں سونگھتا ہے اور نہ غیرت کا ادراک رکھتاہے۔
تم خود کشی کرلو یا پھر دو تالیوں سے مال کماؤ۔
کیا تمہیں ان میں کوئی مردانگی اور حیادکھائی دیتی ہے؟۔
پس باز آجاؤ منافقت اور چغلی سے اور ڈھولوں پرناچنے سے۔
گل چاہت اور مہر لک بھی ان سے بہتر ہیں۔
اگر ان کا جرم ثابت ہوگیا تو ان کی دو سزائیں بنتی ہیں۔
اگر میں کامیاب ہوا تو رب کعبہ کی قسم کوئی اترانااور فخر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسلام کا غلبہ لکھ دیا ہے دونوں کائنات میں۔
کفار اور منافقوں کیساتھ جہاد کرو اور ان پر شدت کی سختی کرو۔
حضرت نوح کی بیوی اور اس کا بیٹا کفرپر دونوںغرق ہوگئے۔
خاندانی بے غیرت ہے اس کے گھر میں کوئی وقار نہیں ہے۔
کیا آپ جانتے ہو جس کی ناک اور دونوں کان کٹے ہیں؟۔
جب میں ضرب لگاتا ہوں توبلاشبہ اس کا بھیجا نکال کر رکھ دیتا ہوں۔
یہ اس کے دونوں گالوں پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔
وہ بے ضرر نظر آتا ہے لیکن اس کی مثال ہیجڑے کی ہے
بیشک وہ خوب ٹھمکے لگاتی ہے دو چھاتیوں والی ۔
یہ اس طرح کاہے جس کیلئے اس کے بچپن میں کوئی ٹکٹ تھا
غریب کیلئے 100(روپے)اور امیر کیلئے 200(روپے)۔
بیٹا ہے پیسوں کا۔بیٹا ہے وقت کا ، بیٹا ہے پیٹ کا
وہ اپنی غیرت بیچتا ہے پانچ سو یا دو ہزار میں۔
اگروہ باپ ہو یا چچا ہو یا ماموں ہو
توکاری ضرب کے لائق ہے اس کی گردن اور دونوں پاؤں پر۔
اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ آپ اپنی حیثیت میں ہیرو ہیں۔
حضرت سیدنا بلال تھے غلام اورلونڈی والدین سے ۔
یقین کرو!چچازاد وں میں شریف اور رذیل ہوتے ہیں۔
ابولہب اور اس کی بیوی دونوں مکار سازشی جاسوس تھے ۔
وہ کونسا درخت جوحضرت آدم وحضرت حواء نے چکھا؟
پس قابیل دونوں ختنوں کے (اس) ملاپ سے پیدا ہواتھا۔
اگر اس کا باپ نیکو کار ہو تو اسکے بارے میں کیانقطہ نظرہے؟
تو والدین کا ملا جلا نطفہ حرام مال کے دو لقموں سے بنتا ہے۔
جس کو استعمال کیا جاتا ہو تو اپنی پچھاڑی کی طرف دیکھے
بدترین لذت پچھاڑی کی ہے دونوں اگاڑیوں کو چھوڑدو۔
طاقتور گروہ بطورفاعل اور کمزور بطورمفعول استعمال ہوتا ہے
اللہ کی کتاب میں دونوں گروہوں کو پس پڑھ لو۔
پس کمزوروں نے تکبر کرنے والوں سے کہا کہ
بیشک ہم تمہارے لئے تابع تھے۔ یہ دونوں ہیں۔
پس مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی پچھاڑی کو قطعی طور پر نہ سلگائے۔
مگر یہ کہ پھر اپنے جنس کو تبدیل کرلے دونوںخصیوں سمیت۔
جس کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا تو اس کیلئے شر بدلہ ہوتا ہے
فروخت کرنے والا اور خریداردونوں بھوکے دو چیزوں کے
ان میںسے ایک فتنہ ہے اور دوسری ان میں سے فساد ہے
ہیجڑے رقص کرتی ہیں، چھاتیاں اوپراور نیچے کرتی ہیں۔
علم اور ایمان کیلئے ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مال اور نفاق کی تلاش میں لگے رہتے ہیں دونوں سینوں میں۔
بیشک میں نے حلالے کا راستہ روکا تو میرا تمسخر اُڑایاگیا۔
انکی دو ٹانگوں اوردو جبڑوں (زبان)کے بیچ دوسمندر ہیں۔
وہ اجتناب نہیں کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے۔
ہمیں پیس دیا اندھیرے میں چکی کے دو پتھروں کے درمیان۔
کس جرم میں ہمیں قتل کیا، یہ ہم ان سے پوچھتے ہیں؟۔
فحاشی اور منافقت یہ دو علتیں ان کے اندر ہیں۔
بیشک ان کے اجداد بھی اس سے پہلے مجرم تھے۔
اور یہ دوحقب(80+80سال)دُور نہیں دوصدیوں میں۔
اورآج کے دن تم الگ ہوجاؤ ، اے مجرمو!۔
خوشخبری دی گئی ہے میرے دادا حسن اورحسین کے بیٹے کو۔
آجاؤ ،اللہ جل جلالہ اور رسول ۖ کی اطاعت کی طرف۔
نبی ۖ نے فرمایا:میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑرہا ہوں۔
٭٭

خاندانی بے غیرتی…سحر ہونے تک…تحریر:
ڈاکٹر عبدالقدیرخان

ڈاکٹر عبدالقدیر خان روزنامہ جنگ 8اکتوبر2012ء میں خاندانی بے غیرتی…..سحر ہونے تک” کے عنوان پرلکھتے ہیں: ” 7اکتوبر 2009 کو میں نے ایک کالم اسی روزنامہ میں بعنوان ”اے غیرت تو کہاں ہے” اور دوسرا بعنوان ” بے غیرتی” 2 دسمبر 2009ء کو لکھا تھا ۔ ان دونوں کالموں میں نے آپ کو غیرت اور بے غیرتی کے بارے میںکچھ تفصیلات بتائی تھیںاور افسوس کے ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ پہلی خصوصیت اس قوم میں عنقا ہے ، دوسری خصوصیت کی افراط ہے۔ میں نے غیرت کا بتایا تھا کہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے جس کا مترادف دنیا کے کسی اور زبان میں نہیں۔اردو میں یہ ایک محدود مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ عربی زبان میں اس کا مفہوم وسیع ہے۔ اس میں عزت نفس، وقار،بہادری اور اعلیٰ اقدار نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا ہے۔ تعلیم وتربیت اور اعلیٰ مثالوں کے ذریعے بزرگ یہ جذبات اگلی نسلوں کو منتقل کرتے ہیں۔لیکن اگر کسی کے خاندان میں بے غیرتی، دروغ گوئی اور کم ظرفی کا خون رواں ہو وہ عقلی دلائل سے کچھ نہیں سیکھ سکتا ۔ یا تو کوئی فرد غیرت مند ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اگر حکمرانوں اور ممتاز شخصیات میں غیرت کا جذبہ ہو اور وہ باغیرت ہوں تو یہ جذبہ اجتماعی صورت اختیار کرلیتا ہے اور پوری قوم ، مملکت دنیا میں عزت وعروج حاصل کرلیتے ہیں۔

انسان کے اخلاق وکردار کے دو پہلو ایسے ہیں جن کا بے غیرتی سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ منافقت اور بے حیائی۔ منافقت یعنی قول وعمل میں تضاد ، کھلے عام دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنا، جھوٹے وعدے کرنا، بھروسہ کرنے والوں کو دھوکہ دینا۔ یہ سب بے حیائی اور منافقت ہے۔ حیا غیرت سے بھی اعلیٰ ایک شریفانہ جذبہ ہے جو انسانی شرافت کی روح ہے جب حیا رخصت ہوجائے توپھر انسان ہر بے شرمی اور بے غیرتی کا کام بلا جھجک کرنے لگتا ہے ۔ بس ایک جملوں میں بیان کردوں کہ غیرت مند اور بے غیرت میں وہی فرق ہوتا ہے جو ایک پاکدامن خاتون اور طوائف میں ہوتا ہے ۔ ایک اپنی عصمت کی خاطر جان دیتی ہے اور دوسری چند ٹکوں کی خاطر عصمت فروشی کرتی ہے۔میں آہستہ آہستہ اپنے موضوع کی طرف آرہا ہوں ، کچھ لوگ بے غیرتی کا دل کھول کر مظاہرہ کررہے ہیں۔قبل اسکے انکے میرکارواں کا تذکرہ کروں۔……….”۔

نوٹ… اس آرٹیکل کے ساتھ بعنوان ” شہداء 31مئی2007ء کو18 برس ہوگئے ۔بفضل تعالیٰ بہت بڑابریک تھرو ہوگیا ۔ عبدالواحد نے آخرکارایک بہت بڑا”راز ” بتایا جس سے سراغ مل سکتا ہے! ” آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شاہ لطیف کون تھا؟… دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر

آج اس نے… پوچھا
شاہ لطیف… کون تھا؟

میں نے کہا:دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر!

اس نے پوچھا:کس طرح…؟
میں نے کہا…اس طرح کہ :

وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟

اس سوال کا جواب… ارسطو بھی… نہ …دے پایا
اس لیے… علامہ اقبال نے کہا تھا:

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
پھر بھی یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
دنیا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہے کہ

عورت ایک مسئلہ ہے

اس حقیقت کا ادراک… صرف لطیف کو تھا کہ
عورت مسئلہ نہیں…عورت محبت ہے!
مگر وہ محبت نہیں …جو مرد کرتا ہے!

مرد کے لئے… محبت جسم ہے
عورت کے لئے …محبت جذبہ ہے

مرد کی محبت…جسم کا جال ہے
عورت کی محبت… روح کی آزادی ہے
مرد کی محبت مقابلہ ہے ،عورت کی محبت عاجزی ہے
مرد کی محبت پل بھر، عورت کی محبت پوری زندگی ہے
مرد کی محبت افسانہ …عورت کی محبت حقیقت ہے!

سارے شعرا ء شیکسپئر سے لیکر شیلے تک
اور ہومر سے… لیکر ہم تم تک

سب یہ سمجھتے رہے کہ عورت… معشوق ہے
صرف شاہ …کو معلوم تھا کہ عورت… عاشق ہے

اس لیے …شاہ لطیف نے لکھا:
عورت …عشق کی… استاد ہے

سب سوچتے رہے کہ آخر عورت کیا چاہتی ہے؟

تخت؛ بخت اور جسم سخت؟…شاہ عبدالطیف کو علم تھا کہ عورت کو محبت چاہیے …نرم و نازک …گرم و گداز …جسم سے ماورا…جنس سے آزاد

مرد …جسم کے… جنگل میں
بھٹکتا ہوا ایک… بھوکا درندہ ہے

عورت روح کے چمن میں
اڑتی ہوئی… تتلی ہے
جو پیار کی پیاسی ہے

مرد کے لیے… محبت بھوک
اور عورت کے لیے… پیار
ایک… پیاس ہے!

صرف لطیف جانتا تھا

عورت کے ہونٹ ساحل ہیں
اور اس کا وجود ایک سمندر ہے

آنکھوں سے بہتے ہوئے…
اشکوں جیسا سمندر …جو نمکین بھی ہے…
…اور حسین بھی ہے!!…جس میں تلاطم ہے…
.جس میں غم ہے …جس میں رنج نہیں…

صرف اور صرف الم ہے

بزم سخن …پرنس ارمان۔ اسٹوڈنٹ کراچی یونیورسٹی

نوٹ: عورت کے حقوق کے حوالے سے شمارہ مئی صفحہ 4میں درج ذیل عنوان کے تحت یہ آرٹیکل پڑھیں۔

”اور آپ سے عورتوں کا فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دو کہ اللہ انکا فتویٰ دیتاہے اورجو تم پر قرآن پڑھاجاتا ہے ”

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی کل محکم آیات500ہیں؟ پھر 500آیات منسوخ بھی ہیں؟ اسلئے امت مسلمہ گمراہی کا شکارہے!

متقدمین کے ہاں 5سو آیات پھر علامہ جلال الدین سیوطی نے 19اورشاہ ولی اللہ نے5تک معاملہ پہنچادیا

اصول فقہ : ”قرآن سے مراداحکام کی پانچ سو آیات ہیں ۔ باقی قرآن قصے، وعظ ونصیحت ہے”۔

پانچ سو آیات کو منسوخ کہا توپورا قرآن منسوخ قرار دیا۔ ”رسول قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کریںگے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔(الفرقان:30)

ابن تیمیہنے مسالک کو فرقے لکھ دیا اسلئے کہ حلال وحرام پر اختلاف تھا ۔ بیوی کو ”حرام” کہنے پر خلفاء راشدین اور ائمہ مجتہدین میں اختلاف تھا مگر ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم نے ”زادالمعاد” میں بیوی کو حرام کہنے پر20مسالک کے تضادات لکھ دئیے۔صحیح بخاری میں حسن بصری نے کہا کہ بعض علماء کے نزدیک یہ تیسری طلاق ہے جوکھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے پھر حلال ہوجائے بلکہ حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔ جبکہ ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حرام کا لفظ طلاق اور قسم کچھ بھی نہیں اور نہ اس کا کوئی کفارہ ہے۔

حالانکہ سورہ تحریم میں واضح ہے کہ اگر بیوی کو حرام قرار دیا تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا۔ نبیۖ کی ماریہ قطبیہ سے حرمت پر یہ نازل ہوئی تھی۔ محکم آیت کو بوٹی بوٹی کردیا۔اور اللہ نے واضح فرمایا کہ ” جیسے ہم نے بٹوارے کرنے والوں پر نازل کیا ہو جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیااور ہم ان سب سے پوچھیںگے”۔ (سورہ الحجر)یہی حشر طلاق کی آیات اور احکام کا بھی کردیا تھا۔سورہ البقرہ230 سے آیات 228،229 اور231،232 البقرہ اور سورہ طلاق کی آیات کو منسوخ قرار دے دیا تھا۔

علامہ سیوطی اور شاہ ولی اللہ کی نظر اصل گمراہی کی طرف نہیں گئی لیکن منسوخ آیات کو کم کردیا تھا۔

آیات کی منسوخی پر احکام کی منسوخی کا غلط ہے۔ توراة کی آیت سے یہود نے حلالہ کی لعنت مرادلی، انجیل کی آیت سے عیسائی نے طلاق کا خاتمہ مرادلیا اسلئے اللہ نے بہتر آیات قرآن میں نازل کردیں۔ حلالہ کا خاتمہ اور طلاق کی صحیح صورت واضح ہوگئی لیکن علماء نے پھر یہود ونصاریٰ کی طرح حلالہ کو بھی رائج کردیا اور طلاق کا درست تصور بھی ختم کردیا۔ سنیوں نے یہود کی طرح حلالہ کو رائج کردیا اور شیعہ نے نصاریٰ کی طرح طلاق کی آیات کے مفہوم سے واضح انحراف کردیا۔ سنی فقہاء نے اکٹھی تین طلاق کو رائج کردیا اور شیعہ نے تین ادوار میں گواہوں کی شرط رکھ کر عورت کے چھٹکارے کا راستہ روک دیا۔ دونوں قرآن وسنت اور فطرت کے خلاف ہیں۔

قرآن نے بہت وضاحتوں کیساتھ حلالہ سے بھی چھٹکارا دلا دیا ہے اور اگر عورت چاہے تو ایک ساتھ تین طلاق نہیں ایک طلاق بلکہ طلاق کا اظہار کئے بغیر ایلاء میں بھی عورت کو چھٹکارے کا اختیار دیا ہے۔ اسی طرح خلع کا بھی اختیار دیا ہے لیکن شیعہ سنی دونوں نے عورت کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے۔

جن پانچ آیات کو شاہ ولی اللہ نے منسوخ قرار دیا ہے وہ بھی منسوخ نہیں ہیں۔ بلکہ انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ ہے لیکن جن آیات کے احکام کو منسوخ کردیا گیا ہے ان کی طرف تو کسی نے دھیان نہیں دیا ہے اور آج اس سے چھٹکار اپانے کا وقت آگیا ہے۔

1: تم پر فرض کردی گئی ہے وصیت اگر تم میں سے کوئی مال چھوڑے والدین اور اقارب کیلئے معروف طریقے ،متقیوں پر حق ہے (البقرہ 180)

ایک مالدار شخص جب فوت ہوتو اس کی اولاد اور والدین وغیرہ کیلئے متعین وراثت ہے لیکن وصیت یا قرض کے بعد۔ اسلئے کہ ایک تہائی مال کی وصیت کا اس کو حق دیا گیا ہے اور والدین بسا اوقات زیادہ ہی ضرورت مند ہوتے ہیںاور دوسرے رشتہ داروں میں بھی ایسے افراد ہوسکتے ہیں۔ جب علماء نے یتیم پوتے پوتیوں کو وراثت سے محروم کردیا ہے تو اس پر وصیت سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے۔ جن آیات کی بنیاد پر وصیت کی اس آیت کو منسوخ کردیا ہے تو ان میں وصیت کے بعد وراثت کے الفاظ موجود ہیں۔

2: ”اور جو تم میں مریں اور بیویاں چھوڑ یں تو ان پر اپنی بیویوں کیلئے سال کی وصیت ہے گھر سے نہ نکالنے کی۔ پس اگر وہ نکل گئیں تو تم پر حرج نہیں جو وہ اپنے حق میں فیصلہ کریں معروف طریقے سے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(البقرہ240)

اس سے پہلے کی آیت البقرہ 234کو کہ بیوہ کی عدت4 مہینے 10دن ہے ، منسوخ قرار دینا حماقت ہے۔ بیوہ کا ضروری نہیں کہ عدت ختم ہوتے ہی نکاح ہو تو سال کی وصیت فطرت ہے۔

3: اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں تو ان پر اپنوں میں4 گواہ طلب کرو، اگروہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں روک لو یہاں تک کہ مریں یا ان کیلئے اللہ کوئی راہ نکال دے۔ (البقرہ:15)

ایک عورت کے بگڑنے سے معاشرہ خراب ہوتا ہے اسلئے اپنوں میں چار گواہی دیں تو اس کو گھرمیں روکنے کا حکم ہے ۔ اللہ کی طرف سے راستے نکالنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی نیا حکم نازل کرے بلکہ اس کیلئے شوہر کا بندوبست ہوجائے۔ اسلئے کہ اسکے بعد بھی سنگساری کا حکم تو نازل نہیں ہوا بلکہ سورہ نور میں 100کوڑے کا حکم مرد اور عورت کیلئے یکساں ہے۔ کنواری لڑکی ماردی جاتی ہے ۔ شادی شدہ مرد نہیں مارا جاتا اسلئے کہ اللہ کے پپغام کو عوام تک علماء نے پہنچانے کے بجائے قرآن کی طرف دھیان نہ دیا۔ لعان میں شوہر بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑلے تو بھی قتل نہیں کرسکتا اور نہ کوئی سزا دے سکتا ہے بلکہ اگر جج کو پتہ ہو کہ مرد سچا اور عورت جھوٹی ہے تو بھی سزا ٹالنے کا اللہ نے حکم دیا ۔جب سیدہ پروین شاکر کو شوہر نے طلاق طلا ق طلاق کہا تو یہ غزل کہی:

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کردے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام سے انتساب کردے گا

4: اے نبی! مؤمنوں کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تم میں 20آدمی صابر ہیں تو وہ200پر غالب آئیں گے ۔اور اگر تم میں100 ہوں تو1000 پر غالب آئیں گے۔ان پرجنہوں نے کفر کیا اسلئے کہ وہ قوم سمجھتے نہیں ہیں ۔ (لانفال : 65)یہ مؤمنوں کی نفری کے پیش نظر ہے اسلئے کہ کم من فئة قلیلة غلب فئة کثیرة باذن اللہ ”کتنے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پرغالب ہیں اللہ کے حکم سے”۔

آیت میں گنتی نہیں بلکہ کیفیت مقصود ہے اور اس کو کسی اور آیت سے منسوخ کرنا حماقت ہے۔

5: اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کروتو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دو،یہ تمہارے لئے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے۔پس اگر تم نہیں پاؤ تو اللہ غفور رحیم ہے۔ (المجادلہ : 12) فرض نہیں بہتر قرار دیا۔ مذہبی طبقہ بکتا ہے۔ بانٹنے کا حکم ہوگا تو اس سے غریب کو فائدہ پہنچے گا ۔ طلحہ محمود مولویوں کو الٹی سیدھی نماز پڑھاتا تھا ۔بقول اقبال باغی مرید:

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھرپیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دیہاتی ہو ، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بتاں پوجتے ہیں کعبے کو برہمن
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہے عقابوں کا نشیمن

جاویداحمدغامدی ، مفتی محمدتقی عثمانی ،مولانا فضل الرحمن، پیر ذوالفقار نقشبندی ، مفتی مختار الدین ، تبلیغی اکابراور علماء ومشائخ کے احوال بہت اچھے ہیں لیکن غریب بھوک سے مررہاہے۔

میرے مرشدکے مرید گاڑیوں بنگلے والے اور حاجی عثمان بوسیدہ عمارت یثرب پلازہ میں آخری چھٹی منزل پر جو دھوپ کی تپش سے گرم توا بنتا تھا۔ جبکہ مریدوں نے علماء ومفتیان کو گاڑیوں، بنگلوں کا مالک بنادیاتھا۔ایک خلیفہ نے مولانا فضل الرحمن کی دعوت کی تو مولانا نے اس کو فیڈرل Bایریا کا امیر بنانے کا امر کیا لیکن میں نے علماء کو روک دیا تھا۔

ہمارا اصل معاملہ روایات کو اس حدتک بیان کرنا ہے کہ بریلوی دیوبندی اور شیعہ واہل حدیث توجہ کریں۔ باقی صحیح بخاری میں حضرت علی کی روایت ہے کہ نبیۖ نے مابین الدفین کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا۔ اور یہ قرآن کی سلامتی پر دلیل ہے۔ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس نے اپنی بخاری کی شرح میں لکھ دیا کہ ” حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت علی سے قرآن کی سلامتی کیلئے یہ روایت اسلئے نقل کی ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں تاکہ ان کی تردید ہو کہ تمہارا تحریف قرآن کا عقیدہ غلط ہے۔ لیکن حقیقت میں حضرت علی کی یہ بات درست نہیں ہے اسلئے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے”۔( کشف الباری شرح صحیح البخاری)

قرآن کے خلاف شیعہ اور سنی دونوں متحد ہیں۔ فرقہ واریت کوانہوں نے اپنا کاروبار اور پیشہ بنایا ہواہے۔ جس دن ان کی روٹی روزی بند ہوگی تو پھر ڈھول باجا اٹھاکر گانے کا گانا شروع کردیں گے۔

میاں نور محمد جھنجھانوی اور حاجی امداد اللہ مہاجرمکی کے مریداکابرعلماء دیوبنداپنے مرشد کی بات ” فیصلہ ہفت مسئلہ” پر عمل کرتے تو فرقہ وارنہ مذہبی اختلافات کی جگہ معاملہ سنجیدہ علمی مسائل پر آتا اور قرآن وسنت کی طرف رجوع ہوجاتا۔ حضرت علامہ عبدالحی لکھنوی ایک حنفی عالم دین تھے اور مولانا رشیداحمد گنگوہی نے فتاویہ رشیدیہ میں تین طلاق پر ان کا فتویٰ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک طلاق ہوتی ہے اور تین والا بھی نقل کیا ہے۔

فمن شاء فلیرجع ومن شاء فلیحلل ” پس جو چاہے تو ایک مجلس کی3 طلاق پر رجوع کرے اور جو چاہے لعنت حلالہ سے دوجمع دو چار ہوجائے”۔

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے کہہ دیا تھا کہ ”جو زیادہ غیرت مند ہو اس کی بیوی کو حلالہ سے بچاؤ۔ جس میں غیرت کی کمی ہوبھلے شکار کرو”۔

حنفی اور اہل حدیث، سلفی اور پنج پیری ہر طرف سے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ تم قرآن و حدیث اور اسلاف کے منکر ہو۔ چلو شیعہ کا قرآن یا اس کی تفسیر الگ صحابہ واہل بیت الگ۔ لیکن جن کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن ایک ہے، حدیث ایک ہے اور قرآن کے بعد صحاح ستہ اور بخاری صحیح ترین کتاب ہے وہ بھی ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں؟۔

آئیے ہم جائزہ لے لیتے ہیں کہ حق اور باطل کیا ہے؟۔ صحیح بخاری میں ” اکٹھی تین طلاق پر ایک آیت کا حوالہ ہے اور دو احادیث کا۔ آیت کا بھی جائز لیتے ہیں اور ان دونوں احادیث کا بھی ۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرہ 229)یہ آیت ہے۔
ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بخاری نے آیت کا درست حوالہ دیا ہے؟۔ غور سے دیکھ اور سمجھ لیجئے!۔

شافعی مسلک کے معروف بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی نے شافعی مسلک کی تائید میں لکھ دیا ہے کہ ” اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق جائز، سنت اور مباح ہیں اسلئے کہ جب دو طلاقیں ایک مرتبہ میں ہوسکتی ہیں تو پھر تین طلاق کا ایک ساتھ واقع کرنا بھی جائز ہے”۔

حالانکہ قرآن نے اکٹھی 2طلاق کی بات نہیں کی بلکہ یہ واضح کیا ہے کہ دو طلاق بھی الگ الگ مرتبہ ہیں۔ امام ابوبکر جصاص حنفی رازی نے اپنی کتاب ”احکام القرآن” میں یہ واضح کیا ہے کہ اس آیت میں الگ الگ مرتبہ طلاق ہی مراد ہیں،جیسے 2روپیہ کو 2مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے بلکہ 2مرتبہ فعل کو کہتے ہیں ۔2مرتبہ حلوہ کھایا۔ 2حلوہ کھایا نہیں۔

حنفی ،اہل حدیث، پنج پیری اور دیوبندی اتفاق کریںگے کہ امام بخاری نے شافعی مسلک کی تائید میں حنفی مسلک کو کھڈے لائن لگانے کے چکر میں پھسل کر بہت بڑا توپ پدو مار دیا ہے۔ اسلئے کہ اللہ نے فرمایا کہ واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتشلوا و تذہب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصٰبرین ” اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑو نہیں کہ پھر پھسل جاؤ اور تمہاری ہوا خارج ہوجائے۔اور صبر کرو ۔بیشک اللہ صبر والوں کیساتھ ہے۔(سورہ المائدہ :46)

عبداللہ بن عمر نے قرآن کے واضح طریقہ کار کو نہ سمجھا تو رسول اللہ ۖغضبناک ہوگئے اور سمجھایا کہ پاکی کی حالت میں طلاق دو ، یہاں تک کہ اس کو حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت آجائے ، پھر حیض آجائے۔ پھر پاکی کی حالت آجائے تو اس کو رکھنا چاہتے ہو تو رجوع کرلو اور چھوڑنا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو۔ یہی وہ طریقہ ہے جو اللہ نے قرآن میں عدت اور طلاق کیلئے امر کیا ہے”۔ (بخاری کتاب التفسیر سورہ طلاق، بخاری کی کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت )

بریلوی مفتی اعظم پاکستان وتنظیم المدارس کے صدرمفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی اور دیوبندی مفتی اعظم پاکستان اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مفتی محمدتقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہۖ سے عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”او تسریح باحسان سورہ بقرہ آیت 229ہی تیسری طلاق ہے”۔(نعم الباری ۔ کشف الباری)

شافعی اور حنفی مسلک میں پھڈہ ہے کہ حنفی کہتے ہیں کہ ” البقرہ 230میں فان طلقہا فلا یحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں ہے بلکہ اس کے بعد فدیہ کیساتھ ہے اسلئے کہ ”ف” تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے”۔ جبکہ شافعی مسلک کا کہنا یہ ہے کہ ”اس کا تعلق الطلاق مرتان سے ہے”۔

جبکہ عدی بن حاتم کی روایت سے نہ صرف یہ کہ شافعی مسلک بالکل باطل ثابت ہوجاتا ہے بلکہ حنفی مسلک، عربی قاعدے اور حدیث کے مطابق تو الطلاق مرتان کا تعلق ”ف”کی تعقیب بلا مہلت کا تعلق فامساک بمعروف او تسریح باحسان سے ثابت اسٹیبلش ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں کوکنی برادری شافعی مسلک سے ہی تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی کوکنی ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور میرے کوکنی دوست منیر داؤد ملا شافعی مسلک چھوڑ کر حنفی بن چکے ہیں اور حنفی بھی وہ قرآن فہمی کی وجہ سے بن گئے ہیں لیکن اہل حدیث اور حنفی قرآن وحدیث کے مقابلے میں شافعی کو کبھی ترجیح نہیں دے سکتے ہیں۔ قرآن وحدیث سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ طلاق کا طریقہ کار الگ الگ طلاق دینا ہے۔ امام بخاری نے قرآن کی آیت کو شافعی مسلک کی تائید میں بالکل غلط پیش کیا ہے۔ جس کو پاکستان میں موجود سبھی طبقات مانیں گے۔

حنفی مسلک کی نالائقی ہے کہ اپنا مقدمہ اچھے انداز میں پیش نہیں کیا۔ چانچہ علامہ بدر الدین عینی نے ابن حجر عسقلانی کی تردید میں لکھ دیا ہے کہ” اس آیت میں دو مرتبہ کی طلاق کو اکٹھی ثابت کرنے پر تیسری مرتبہ کوقیاس کرنا ٹھیک نہیں ہے اسلئے دو بار طلاق سے رجوع ہوسکتا ہے جبکہ تیسری بار کی طلاق سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ حالانکہ امام بخاری اور ابن حجرعسقلانی دونوں کی بنیاد ہی غلط تھی اور اس بنیاد کو ٹھیک قرار دینا علامہ عینی کی بھی بڑی غلطی تھی۔

ثریا سے علم، دین اور ایمان کو واپس لارہا ہوں تو ایمان والے میری مدد کریں ورنہ پھر تمہاری داستاں تک بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اسلئے کہ میں تم سے روٹی چائے نہیں دین کی مدد مانگ رہاہوں ۔ دین کی مدد اللہ کی مدد ہے اور اللہ پھر مدد کرے گا۔

مفتی گوہر علی شاہ سے مولانا ندیم درویش کہتا ہے کہ ”مروجہ جمہوریت مطلقاً کفر ہے” تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ ”یہ جملہ اجتماع نقیضین ہے یعنی اس میں دونوں جملوں کا آپس میں تضاد ہے”۔ اور جب تضاد ہے تو دعویٰ بھی باطل تو تردید کی ضرورت بھی نہیں رہتی ہے۔ پھر مولانا درویش کو مجبور کیا جاتا ہے کہ کہو کہ عالم دین نہیں ہو ۔ منطق نہیں سمجھتے”۔

جب آیات 229اور230البقرہ میں اکٹھی تین طلاق کا ثبوت موجود نہیں ہے تو پھر اکٹھی تین کا حکم نافذ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی گوہر علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا لیکن ہمیں جلدی تھی اور ان کو نکلنے میں دیر لگی تھی اس لئے ملاقات نہیں ہوسکی۔ مفتی منیر شاکر نے ان کی تعریف بھی کی تھی اور اپنا سلام بھی دیا تھا۔ پروگرام تھا کہ مفتی منیر شاکر اور علامہ جوادالہادی کی بھی ان سے ملاقات کراؤں گالیکن تقدیر میں نہیں تھی۔

امام ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زادالمعاد” میںابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ فان طلقہا کا تعلق فدیہ اور دو الگ الگ مرتبہ طلاق کیساتھ ہی ہے”۔جس سے اہل حدیث کی طرف سے بھی حنفی مسلک کی تائید ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ” اللہ نے سورہ ا بقرہ آیت :228میں عدت کے تین اداوار یا مراحل کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا (اور انکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہتے ہوں) اللہ نے عدت کی پوری مدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے؟” ۔تو کیا یہ حکم منسوخ ہے؟۔

ناسخ اور منسوخ کا علم رکھنے والوں نے نہیں بلکہ حلالہ کی لذت میں دیوانوں نے یہ آیت الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان سے منسوخ قرار دیدی ہے۔

حالانکہ دورِ جاہلیت میں دو جاہلانہ رسوم تھیں۔ ایک یہ کہ شوہر عدت میں جتنی بار چاہتا تھا غیرمشروط رجوع کرسکتا تھا۔ تو اللہ نے اصلاح اور معروف کی شرط رکھ دی اور جاہلیت کی رسم اڑاکر رکھ دی تھی اور دوسری جاہلانہ رسم یہ تھی کہ ” اکٹھی تین طلاق پر شوہر اور بیوی باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے بھی رجوع نہیں کرسکتے تھے بلکہ حلالہ کی لعنت سے جہنم کے چودہ طبق کی نچلی سطح سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس کا بھی ان آیات میں خاتمہ کردیا ہے۔

جب علماء وفقہاء نے معروف و اصلاح کی شرط کو خارج کردیا توبہت بڑا نقصان کیا ہوگیاہے؟۔

حنفی مسلک میں اگرنیت نہ ہو توبھی شہوت کی نظر پڑنے سے رجوع ثابت ہوجاتا ہے ۔

شافعی مسلک میں اگر نیت نہ ہو تو پھر جماع کی سروس جاری رکھنے سے بھی رجوع نہیں ہوتا ہے۔

قرآن کے معروف اور اصلاح کی شرط کو چھوڑ کر علماء ومفتیان عزت کمائیں گے؟۔ نہیں نہیں بلکہ حلالہ کی لذت اٹھاکر بارود سے اڑنے کی ذلت ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ طالبان نے استاذان کو کیوں مارنا شروع کردیا ہے؟۔ جب اس کو معلوم ہوگا کہ اسکی ماں کا حلالہ کیا ہے تو گمنام خود کش سے اس کو اڑائے گا۔ علماء ومفتیان قرآن کی بنیاد پر اپنی عوام کی عزتوں کو نہیں بچاسکتے ہیں تو شاہ ولی اللہ کا دور محمد شاہ رنگیلا کا تھا جو اورنگزیب بادشاہ کا پوتا تھا۔ جو لڑکیوں کو ننگا کرکے سیڑھیوں میں بالا پر چڑھنے کیلئے کھڑا کرتا تھا اور ان کے پستانوں کو پکڑ پکڑ چلتا تھا اس سے اس کا داد ابھی بہت بیکار تھا جس نے فتاوی عالمگیری میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری پر حد معاف کردی تھی ۔لیکن علماء ومفتیان اس سے زیادہ بیکار تھے جنہوں نے 26ویں ترمیم کی طرح فتاوی عالمگیریہ کا آئین مرتب کیا تھا اور حلالہ کے نام پر نکاحی عورتوں کے گل چھرے اڑاتے تھے۔

1857ء کی جنگ آزادی سے بدتر حالات کا سامنا افغانستان ، عراق، لیبیا، شام اور فلسطین کے بعد ہماری تباہی وبربادی کا خدا انخواستہ ہوسکتا ہے۔

اگر اپنی طرف سے کوئی جھوٹ بولتا ہے کہ ایک مرتبہ آیت 228کے حکم کہ ”عدت میں باہمی صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے ” کو آیت229البقرہ نے منسوخ کردیا تو یہ بھی جھوٹ ہے اور اگر کوئی کہتا ہے کہ آیت 230نے منسوخ کردیا تو بھی جھوٹ ہے۔ پھر تو آیت 231اور 232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد اجازت دیکر سب کو منسوخ کردیا ہے؟۔ اور سورہ طلاق کی آیت ایک کے بعد دوسری نمبر آیت سے بھی سب کو منسوخ کردیا ہے؟۔

قرآن میں کوئی تضادات نہیں تمہاری شہوت کا جذبہ امت مسلمہ کو جنت سے نکال رہاہے؟۔

بخاری میں پہلی حدیث یہ ہے کہ رفاعہ القرظی نے اپنی بیوی کوتین طلاق دی ، اس نے عبدالرحمن بن زبیرالقرظی سے نکاح کیا اور نبیۖ کے پاس آگئی۔ اپنے دو پٹے کا پلو دکھایا کہ میرے شوہر کے پاس ایسی چیز ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا آپ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو نہیں لوٹ سکتی۔ یہاں تک دوسرے شوہر کا ذائقہ اس سے نہ چکھ لو جیسے کہ پہلے شوہر کا چکھ لیا ہے اور وہ تمہارا نہ چکھ لے”۔

کیا بخاری کی اس حدیث سے قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے؟۔ کہ عدت میں اللہ نے باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دیدی ہے اور اس حدیث میں روکا گیا ہے؟۔ بالکل نہیں! بلکہ یہ حدیث بخاری کی دوسری احادیث سے بالکل متصادم ہے جن میں الگ الگ طلاق کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے شوہر نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں اپنی مردانہ قوت سے اس کی چمڑی ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں۔ جس سے بخاری کے عنوان کو سپوٹ نہیں ملتی اور چاروں مسالک میں کسی نے بھی اس حدیث کی بنیاد پر اکٹھی تین طلاق کی دلیل نہ پکڑی یہاں تک کہ امام شافعی نے بھی ۔ پھر کسی عورت کو حلالہ کیلئے نامرد پر مجبور کرنا جس سے حلالہ نہیں ہوتا تو بھی نبیۖ کی شان میں بڑی گستاخی ہے۔

وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ”اگرچہ مہمان ہو مگر اپنے خصیے چھپاؤ”۔ بخاری بڑا آدمی تھا لیکن قرآن کے سامنے کچھ نہیں تھا اور اس کی غلطی نے کافی لوگوں کی عزتوں بھرتا نکال دیا ہے۔

بخاری کی دوسری حدیث عویمر عجلانی والی ہے جس میں لعان کے بعد اکٹھی تین طلاق دی گئی تھی اور وہ سورہ طلاق کے مطابق فحاشی کی صورت میں بہترین وضاحت ہے جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ”اس کی وجہ سے عدت میں رجوع کی آیات کو منسوخ قرار دے دیا جائے”۔

علماء وفقہاء کا شروع میں یہی مؤقف تھا کہ اکٹھی تین طلاق بدعت ہیں یا سنت؟۔ شافعی کیلئے یہ سنت کی دلیل تھی اور حنفی اس کو سنت کیلئے دلیل نہیں مانتے تھے۔ قرآن کی تنسیخ کا تو کسی کو وہم وگمان بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ بڑی شان وعظمت والے تھے جو قرآن کو منسوخ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیرینے اس حدیث کے بارے میں بھی لکھا کہ ” ہوسکتا ہے کہ عویمر عجلانی نے الگ الگ تین بارطلا ق دی ہو”۔ (فیض الباری شرح صحیح البخاری) علماء کرام اور عوام الناس بتائیں کہ عویمر عجلانی کی روایت کے بارے میں حنفی ومالکی مؤقف درست ہے یا شافعی؟۔

پورے ذخیرہ احادیث میں یہی ایک حدیث وہ ہے جس پر سبھی کا اتفاق ہے کہ اس میں اکٹھی تین طلاق کا ذکر موجود ہے اور یہ صحیح متن اور مستند طریقہ سے نقل ہوئی ہے ۔باقی کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں جس میں اکٹھی تین طلاق کا ذکر ہو اور اس پر دوامام اورمسالک کے علماء ومفتیان متفق ہوں۔

کیا اس حدیث سے قرآن میں عدت کے اندر رجوع والی آیات کو منسوخ قراردیا جاسکتا ہے؟۔ نہیں ہرگز بھی نہیں اور قطعاًہی نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میں منکر حدیث ہوں؟۔صحیح بخاری کا گستاخ ہوں؟۔ اسلاف اور سلف صالحین کی عظمتوں کا منکر ہوں؟۔

نہ تو احادیث کا منکر ہوں،نہ امام بخاری کا میں گستاخ ہوں اور نہ ہی اسلاف اور سلف صالحین کی عظمتوں کا منکر ہوں لیکن قرآن کی بنیادپر، اسلاف کے متفقہ مؤقف کی تائید سے ایسی روایت کی تردید علم، ایمان اور دین کا تقاضاہے جو قرآن سے بھی متصادم ہو اور چاروں فقہی مسالک سے بھی اور خود بخاری کی دیگر احادیث سے بھی بالکل متصادم ہو۔

خیبرپختونخواہ کے دیوبندی،اہل حدیث، پنج پیری، شاکرمنیری اور بریلوی متفقہ طور پر یا انفرادی طور پر اپنا مؤقف لکھ کر اخبار کے اڈریس پر بھیج دو۔

جب یہ ثابت ہوگیا کہ اکٹھی تین طلاق کیلئے صرف اور صرف ایک حدیث ہے عویمر عجلانی نے لعان کے بعد جو دی ہے تو اس سے قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کرنا تو دور کی بات ہے حنفیوں کے نزدیک تو طلاق سنت بھی ثابت نہیںہوتی ہے۔

اب مسئلہ آتا ہے ایک مشہور حدیث کا جس کو بہت غلط فہمی سے متفقہ سمجھا جاتا ہے کہ محمود بن لبید نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کو ایک شخص نے خبردی کہ فلاں آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ جس پر رسول ۖ غضبناک ہوکرکھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہوجبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ (سنن نسائی)

اگر اس حدیث کو امام شافعی مانتے تو اکٹھی تین طلاق کو سنت کیوں قرار دیتے۔ ان کے نزدیک یہ روایت بالکل بھی درست نہیں ہے اسلئے اس کو متفقہ قرار دینا انتہائی درجے کی بہت بڑی حماقت ہے۔

بخاری ومسلم نے اس روایت کو اس قابل نہیں سمجھا کہ صحیحین میں اس کو درج کردیا جاتا ۔ حالانکہ حنفی مسلک کی عمارت اس روایت پر کھڑی ہے کہ اکٹھی تین طلاق بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں اور اس کو جب شافعی نہیں مانتے تو متفقہ ہرگز ہرگز نہیں۔

محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی صحیح بخاری کی شرح کشف الباری میں تفصیلات لکھی ہوئی ہیں اور علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری بھی دیکھ لو مگر اس میں یہ ایک غلطی ان سے سرزد ہوئی ہے کہ اگر قرآن میں فان طلقہا کا لفظ نہ ہوتا جس سے تعقیب بلا مہلت کے قاعدے کی وجہ سے اکٹھی تین طلاقیں ثابت ہوتی ہیں تو پھر جتنی آیات واحادیث ہیں تو ان سب سے الگ الگ طلاقوں کا ثبوت ملتا ہے۔ حالانکہ علامہ غلام رسول سعیدی نے مغالطہ کھایا ہے ۔ اس میں تو حنفی مسلک دو مرتبہ طلاق سے نہیں جوڑتا ہے بلکہ فدیہ سے جوڑتاہے اور جس کو ”نورالانوار: ملاجیون” میں بریلوی دیوبندی اپنے مدارس میں پڑھاتے ہیں، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اس کو صحیح کرنے کا اعلان کردیں۔

رسول اللہ ۖ نے واضح فرمادیا تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین ادوار سے ہے اور یہ سورہ بقرہ کی آیت 228اور 229کی واضح تفسیر ہے اور یہ وضاحت نہ سمجھنے پر غضبناک ہوئے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر عویمر عجلانی والی روایت کا کیا بنے گا؟۔ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ فحاشی کی صورت میں سورہ طلاق کے اندر اللہ نے عدت میں روکنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ فحاشی کی بنیاد پر عدت میں مرحلہ وار طلاق کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ یہی قرآن وحدیث اور مسلک حنفی کا تقاضہ تھا اور اس پر سب اتفاق بھی کرلیںگے۔ انشاء اللہ

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمود بن لبید کی روایت کا بنے گا جس کو شافعی نہیں تو حنفی مانتے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایت کے دوپہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر واقع ہو تو پھر رجوع بھی ہوسکتا ہے کہ نہیں ہوسکتا ہے؟۔

پہلی صورت : تین طلاق واقع ہوسکتی ہیںاور یہ اچھی بات نہیں ہے کہ اکٹھی تین طلاق دی جائے۔

دوسری صورت: رجوع ہوسکتا ہے اسلئے کہ اللہ نے قرآن میں واضح طور پر باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع کی عدت میں اجازت دی ہے۔

سوال: اگر رجوع ہوسکتا ہے تو پھر نبیۖ نے رجوع کا حکم کیوں نہیںدیا؟۔ غضبناک ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
جواب: اس سے زیادہ مضبوط حدیث بخاری کی ہے جس میں نبیۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود عبداللہ بن عمر سے رجوع کا فرمایا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایات میں خبر دینے والے شخص، طلاق دینے والے شخص اور قتل کی پیشکش کرنے والے شخص کو چھپایا گیا ہے۔ حالانکہ دوسری روایات میں یہ افراد معلوم ہیں ۔خبر دینے والا شخص حضرت عمر تھے ۔ جس نے طلاق دی تو وہ عبداللہ بن عمر تھے اور جس نے قتل کی پیشکش کی تھی تو وہ حضرت عمر تھے۔ بخاری کی روایت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر کی طلاق پر حضرت عمر نے خبر دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے۔ دوسری روایات میں بخاری کے اندر روایوں نے غضبناک ہونے والی بات کو چھپادیا ہے۔ لیکن تین چیزوں کا تو ثبوت مل گیا ۔ خبر دینے والے کا ، جس کی خبر دی گئی اور رسول اللہ ۖ کے غضبناک ہونے کا۔ چوتھی چیز قتل کی پیشکش کرنے والے کا؟۔تو روایات میں یہ موجود ہے کہ حضرت عمر نے ہی یہ پیشکش کی تھی۔

اب رہ جاتی ہے ایک ساتھ تین طلاق دینے کی وضاحت ؟۔ تو صحیح مسلم میں حضرت حسن بصری کی روایت ہے کہ ایک مستند شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی تھیںاور 20سالوں تک کوئی اور شخص نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص مل گیا اور اس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ (صحیح مسلم)

ان دونوں افراد کے ناموں کا ذکر کیا جاتا تو پتہ چل جاتا کہ کون زیادہ فقیہ اور کون زیادہ مستندتھا؟۔

بخاری کا راوی ذکر کرتا ہے کہ رفاعہ القرظی نے تین طلاقیں دی تھیں۔ دوسرا راوی ذکر کرتا ہے کہ الگ الگ تین طلاقیں دی تھیں۔ بخاری کبھی ایک کو مستند سمجھ کر اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دینے کیلئے اس عنوان کے تحت درج کرتا ہے اور کبھی دوسرے کو مستند سمجھ کر الگ الگ طلاق کو واضح کردیتا ہے۔

رسول اللہ ۖ کے دور میں محمود بن لبید پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ اور حضرت عمر کے حوالہ سے جب سختی اور عبداللہ بن عمر کی طرف سے اکٹھی تین طلاق پر بعض لوگوں کیلئے پردہ ڈالنا زیادہ مناسب اسلئے تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد آپس کی قتل وغارت سے ناچاکی کی ایک فضا قائم ہوچکی تھی۔ عبداللہ بن عمر سے کسی نے کہا کہ حضرت عمر اپنا جانشین مقرر کریں گے ۔ جس پر اس نے قسم کھائی کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔ پھر موقع مل گیا تو حضرت عمر سے پوچھ لیا کہ میں نے یہ سنا ہے اور میں نے قسم کھائی تو پوچھنا مناسب سمجھ لیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ ”اگر میں اپنے بعد کسی کو بھی مقرر نہیں کروں تو بھی میرے لئے جائز ہے۔ اسلئے کہ نبیۖ نے کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔اور اگر میں اپنے بعد کسی کو نامزد کردوں تو بھی میرے لئے جائز ہے اسلئے کہ ابوبکر نے اپنے بعد نامزد کیا تھا”۔

پھر حضرت عمر نے تیسرا راستہ اپنایا ۔ چھ افراد کی شوریٰ بنائی ۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت زبیر بن عوام۔

کسی نے مشورہ دیا کہ عبداللہ بن عمر ہی کو نائب بنادو۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس کو طلاق کا طریقہ بھی نہیں آیا تو اس پر امت مسلمہ کی ذمہ داری لگاؤں؟ اور یہ ہرگزنہیں ہوسکتا ہے۔ یہ خلافت کیلئے نااہل ہے۔ حضرت عمر نے محسوس کیا کہ جس نے اتنی بڑی قسم کھائی کہ میرا والد نبیۖ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تو وہ یہ نہیں جانتا کہ نامزد بھی اس کا والد ہی ہوا ہے؟۔ مگرحضرت عمر نے یہ نااہلی کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ طلاق کے مسئلے کو نہ سمجھنا نااہلی کی بنیاد بنادیا۔

جب پھر خلافت قائم ہوگی تو شاید اس میں بھی طلاق کا مسئلہ سمجھنا اہلیت کی بنیاد بن جائے گا۔ اور لوگوں کی نااہلی یا ہٹ دھرمی سے یہ ثابت ہورہاہے کہ ایک دن طلاق کے مسئلے پر خلافت قائم ہوگی۔

حضرت عمر نے حکم دیا کہ حضرت صہیب3 دن تک نماز پڑھائے گا۔ تین دن تک شوریٰ کے تمام ارکان بند ہوں گے اگر فیصلہ نہیں کیا تو پھر سب کی گردن ماردی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ کچھ نوجوانوں کو نگرانی کیلئے مقرر کردیا تھا۔

چھ افراد میں جن کی اکثریت ہو تو اس کو خلیفہ بنایا جائے اور دوسرے نہیں مانیں تو گردن اتاری جائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہ میں اس کا امیدوار نہیں ہوں۔حضرت عمر نے کہا کہ اگر تین ایک طرف اور تین دوسری طرف ہوں تو جن تین میں عبدالرحمن بن عوف ہو تو اس کو خلیفہ بنایا جائے۔

حضرت زبیر نے اپنا ووٹ حضرت علی کے حق میں دیا اور حضرت طلحہ نے اپنا ووٹ حضرت عثمان کے حق میں دیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے ووٹ کا اختیار حضرت عبدالرحمن بن عوف کو دیا اور یوں حضرت عبدالرحمن بن عوفکی حیثیت ایک فیصلہ کن شخص کی ہوگئی۔ مدینہ کے انصار ومہاجرین اور اشراف وعوام سے تین دن تک رائے طلب کی اسلئے کہ خلافت کے دو امیدوار تھے۔ حضرت عثمان اور حضرت علی۔ ان دونوں میں ایک کو منتخب کرنا تھا۔

جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے دونوں کا انٹرویو لیا تو ایک سوال دونوں سے پوچھ لیا کہ اپنی خلافت کو ابوبکر و عمر کے طرز پر چلاؤگے؟۔ حضرت علی نے کہا کہ میں ان کا پابند نہیں ہوں ۔ نبیۖ کی سنت کا پابند ہوں۔ حضرت عثمان نے کہا کہ میں ان دونوں کے طرز پر خلافت کو چلاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف خود بھی طلب گار نہیں تھے اور ان دونوں میں سے اپنے احساسات کے مطابق حضرت عثمان میں طلب نہیں دیکھی اور حضرت علی میں طلب دیکھی تو حضرت عثمان کے حق میں فیصلہ کردیا تھا۔ حضرت عمر نے سب کو تاکید کی تھی کہ کوئی بھی رشتہ داری کا لحاظ نہ کرے۔ خلیفہ بن جائے تو پھر اپنے اقارب کی جگہ عوام اور اہل کو ترجیح دے اور حضرت عمر نے سپہ سالار حضرت خالدبن ولید اور فاتح فارس حضرت سعد بن ابی وقاص کو بھی اپنے دور میں سپہ سالاری اور گورنری سے ہٹادیا تھا۔

آج کل دیوبندی علماء کرام ومفتیان عظام بھی دو گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ایک جمہورریت کو کفر کہتا ہے اور دوسرا جمہوریت کو کفر نہیں کہتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے دلائل بھی دیتے ہیں اور امارت اسلامی افغانستان سے رہنمائی پر بھی متفق ہوجاتے ہیں۔

دیوبندی میں یزیدی اور حسینی کی تقسیم بھی ہے۔ جب امیر معاویہ نے یزید کو نامزد کیا تھا تو عبداللہ بن عمر نے کہا تھا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے میں پہنچتا تو اپنے حق میں فیصلہ کرواتا۔ حضرت امیرمعاویہ کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ ”میرا بیٹا اس سے بہتر اور میں اس کے باپ سے بہتر ہوں ”۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ” مجھے انتشار اور فتنے کا خطرہ تھا ورنہ تواس کو بہت سخت جواب دے سکتا تھا”۔

جو لوگ یزید کی نامزدگی کی تعریف کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن صحابہ کرام کی عظمت و شان اسلئے نہیں کہ صحابہ واہل بیت کے ہوتے یزیدکا حق نہیں تھا ۔ فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے صحابہ کرام کے درجات میں بھی فرق تھا تو یزید صحابی بھی نہ تھا۔

مکہ میں عبداللہ بن زبیر نے اپنی خلافت قائم کی تھی اور شام میں یزید کے مقابلے میں ایک صحابی کا خلیفہ ہونا زیادہ مناسب تھا۔ یزید کے بعد بنی امیہ کی دوسری شاخ مروان بن حکم کو خلیفہ بنایا گیا تھا۔ عبداللہ بن زبیر نے اس کے حملوں کو بھی ناکام بنایا مگر پھرعبدالملک بن مروان نے عبداللہ بن زبیر کی والدہ کے سامنے وہ حشر کیا جو ملاعمر دور میں ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کی لاش کیساتھ کیا گیا تھا۔ نجیب کی والدہ پتہ نہیں زندہ تھی یا نہیں لیکن چھوٹے بچے تھے اور عبداللہ بن زبیر کی والدہ اسماء بنت ابی بکر 100 سال کی عمر میں نابینا زندہ تھی۔ عبداللہ بن زبیر نے اپنی ماں سے کہا کہ میں ہتھیار ڈال دیتا ہوں اسلئے کہ مرنے کے بعد میری لاش کا بہت برا حشر کریں گے۔ تو آپ کو تکلیف ہوگی؟۔ صدیق اکبرکی بیٹی ماں اسماء بنت ابوبکر نے کہا: بیٹا!تمہارے ٹکڑے کرنے سے زیادہ تکلیف تمہارے ہتھیار ڈالنے پر مجھے ہوگی۔ جب ایک دفعہ تمہیں قتل کیا جائے تو پھر ٹکڑے کرنے سے فرق نہیں پڑتاہے؟۔ بیٹے نے اپنا کاندھا آگے کیا کہ دعا دو۔ نابینا ماں نے پیٹھ پر تھپکی دی اور کہا کہ اللہ مدد کرے۔ پوچھا، پیٹھ سخت کیوں لگتی ہے؟۔ بتایا اماں زرہ پہن رکھا ہے۔ ماں نے کہا کہ بیٹا زرہ اتاردو۔ چنانچہ زرہ اتار دیااور لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تو کئی دنوں تک حجاج نے لاش لٹکائے رکھی۔ حکم دیا کہ ماں کو قریب لاؤ اور پھر کہا کہ اپنے بیٹے کا حشر دیکھ لیا؟۔ اس کو کیا ملا؟۔ حضرت ابوبکر کی 100سالہ بیٹی اسماء بنت ابوبکر نے کہا کہ بیٹے نے سودا مہنگا نہیں کیا ہے۔ تم نے اس کی دنیا برباد کردی اور اس نے تمہاری آخرت برباد کردی۔ یہ تھی صحابہ کرام کی عالی شان۔

اگر یزید کے خلاف حضرت امام حسین کی قربانی کی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر کے واقعہ کو بیان کیا جاتا تو اہل تشیع کے مقابلے میں بعض دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کو یزیدی بننے کی ضرورت نہ پڑتی۔ یزیدومروان اور بنوامیہ وبنوعباس کیلئے ہمارا ایمان اور اسلام خراب ہوتا ہو تو یہ بڑی حماقت ہوگی اورجب دیوبندی مکتبہ فکر کے حکیم الاسلام قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کو 50سال اہتمام کے بعد اپنا جانشین مقرر کرنا چاہا تو دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کی طرف سے مزاحمت ہوئی۔ وہ نعت لکھ دی جو ایک بریلوی خوشی کے عالم میںلکھتا ہے ۔ جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی نے مولانا عبیداللہ انور ابن مولانا احمد علی لاہوریکو مفتی محمود کی جگہ قائد جمعیت علماء مقرر کرنا چاہا تو جمعیت علماء اسلام کی شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کو بنادیا تھا، جس سے جمعیت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔رائیونڈ کی شوریٰ اور بستی نظام الدین بھارت کی امارت بھی تبلیغی جماعت کے دو گروپ میں تقسیم ہیں۔

قرآن کی طرف توجہ کی گئی تو فرقہ واریت اور گروہ بندیوں کی جگہ سب مساجد ومدارس اور مذہبی جماعتوں کو خدمات کا اتنا موقع ملے گا کہ تقسیم کے بجائے سب ایک دوسرے کی مدد گار ہوں گی۔

اگر صرف طلاق اور عورت کے حقوق کے حوالہ سے قرآن وحدیث کی درست تعلیمات کو عوام اور دنیا کے سامنے لایا جائے تو ایک بہت بڑی نمایاں تبدیلی آئے گی۔ امریکہ، یورپ، آسڑیلیا، بھارت اور مشرق ومغرب اورشمال وجنوب میں پوری دنیا کو اسلامی نظام کے حق میں ووٹ دینا پڑے گا۔ تمام زبانوں میں قرآن کے تراجم کافی ہوں گے۔ لیکن جب قرآنی آیات کے واضح مفہوم کو بگاڑ دیا گیا ہو تو پھر کون قرآن کو دیکھ اور سمجھ کر انقلاب کی امید رکھ سکتا ہے؟۔اسلئے ہم متوجہ کررہے ہیں۔

 

سورہ بقرہ کی آیات میں تسلسل کیساتھ 222 سے 237تک عورت کے حقوق ہی حقوق کا ذکر ہے۔ لیکن علماء وفقہاء نے اس کمزور طبقے کو بالکل محروم کرکے رکھ دیا ہے۔ خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

 

آیت222البقرہ میں دو باتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ عورت کا حیض تکلیف اور ناپاکی ہے اور دوسری یہ کہ تکلیف اور ناپاکی سے بچنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور توبہ کرنے اور پاکی سے اللہ نے محبت کا فرمایا۔

جس کا مطلب ایک تو طلاق کیلئے یہ مقدمہ ہے اور پاکی وحیض کا طلاق کے احکام میں بڑا اہم کردار ہے اور بنیاد اس کی عورت کو تکلیف سے بچانا ہے۔

جب ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر احکام کا جائزہ لیں گے تو پھر ٹھوکریں کھانے سے بچت ہوجائیگی۔

آیت223البقرہ میں عورت کو اثاثہ قرار دیا ہے۔شوہر کیلئے عورت بچوں کی ماں ہوتی ہے ، گھر کی عزت ہوتی ہے، راحت وسکون کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اپنے گھر اور خاندان کی کشتیاں جلا کر آتی ہے اور اس کا خیال رکھنا انسانیت کا اہم تقاضہ ہے۔

آیت224البقرہ میں طلاق کا بنیادی مقدمہ ہے کہ اللہ کو اپنے عہدوپیمان کیلئے بطور ڈھال یوں استعمال نہ کرو کہ نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ۔ یعنی کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے کہ جب میاں بیوی بالخصوص اور دیگر عوام بالعموم صلح کریں تو اللہ اور مذہب کو اس میں رکاوٹ بنایا جائے۔

یمین کی دواقسام ہیں۔ نکاح اور طلاق کو بھی یمین کہتے ہیں اور حلف کو بھی یمین کہتے ہیں۔ جب یمین سے مراد حلف ہو تو وہ قسم اور کفارہ کو کہتے ہیں جس کا سورہ مائدہ میں ذکر ہے کہ ”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو”۔ یہاں پر اس قسم کے کسی حلف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، تفاسیر اور کتابوں سے قرآن کی واضح آیات میں مغالطہ دیا گیا ہے کیونکہ یہاں حلف کا کوئی تذکر ہ نہیں ہے۔

آیت225البقرہ میں تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ اللہ تمہیں یمین یعنی طلاق کے لغو الفاظ پر نہیں پکڑتا مگر جو گناہ تمہارے دلوں نے کمایا، اس پر پکڑتا ہے۔حدیث بالکل برحق ہے کہ طلاق مذاق میں معتبر ہے لیکن اس کا تعلق عورت کے حقوق سے ہے اور جب عورت طلاق کے بعد صلح نہیں کرنا چاہتی ہو تو پھر اس کی مرضی ہوگی اور مذاق کی طلاق میں بھی اس کو خلع کے حقوق نہیں بلکہ طلاق کے حقوق ملیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے رکاوٹ نہیں بلکہ عورت کی طرف سے رکاوٹ ہے۔ اگر اس کو صلح نہیں کرنی تو پھر طلاق کے ظاہری الفاظ اور کنایہ الفاظ سب معتبر ہوں گے۔ مذاق بھی بالکل معتبر ہوگا لیکن اللہ نے ان آیات میں یہ سمجھایا ہے کہ اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوں اور کوئی مذہب کی بنیاد پر کہے کہ اللہ صلح کی راہ میں رکاوٹ ہے تو یہ فتویٰ غلط ہے اور اس کی وجہ سے اللہ نے وضاحتیں کردی ہیں۔

آیت226البقرہ میں ایلاء کی وہ گھناؤنی بلا ہے جس میں شوہر طلاق کا کھلے الفاظ میں اظہار بھی نہیں کرتا تھا اور مدتوں اس کو اپنی تحویل یا نکاح میں رکھتا تھا۔ اللہ نے اس کی ڈیڈلائن بتائی ہے کہ جب شوہر طلاق کے الفاظ کے بغیر ناراض ہو تو پھر عورت کیلئے چار مہینے انتظارکی عدت ہے۔اس میں اگر باہمی رضامندی سے صلح ہوگئی تو ٹھیک ہے اور نہیں ہوئی تو چارماہ کے بعد عورت جہاں چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔ یہ بہت اہم آیت اور اس میں بڑا اہم حکم ہے۔ جب ناراضگی کی عدت چار ماہ مقرر کی ہے اللہ نے تو کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کے بعد یہ نہیں سمجھے گا کہ مدتوںمیرے لئے بیٹھی رہے گی۔ جب نبیۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے بعد رجوع کرنا چاہا تو اللہ نے فرمایا کہ پہلے ان سب کو طلاق کا اختیار دے دو تاکہ اگر وہ راضی نہ ہوں تو علیحدگی پر عمل ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایلاء بھی حقیقت میں طلاق ہی ہے لیکن طلاق کا کھلے الفاظ میں ذکر نہیں ہے۔ جمہور کے نزدیک عورت پھر بھی ہمیشہ نکاح میں رہے 4 ماہ کے بعد بھی، لیکن احناف کے نزدیک چار ماہ بعد طلاق ہوگی۔ دونوں میں احناف کا مسلک پھر بھی کچھ اچھا ہے لیکن یہ بھی غلط ہے کہ چار ماہ بعد پھر اس کو تین ماہ مزید بھی عدت پر مجبور کرکے اذیت دی جائے۔ مسلک حنفی کی یہ بہت بڑی مگر دوسروں سے چھوٹی غلطی ہے۔

آیت227البقرہ میں اللہ نے یہ واضح کیا کہ اگر طلاق کا ارادہ تھا تو پھر یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر پکڑنے کی اللہ نے وضاحت کردی ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار سے عدت 3 ماہ کے بعد ختم ہوتی اور مزید ایک مہینے کا اضافہ اور انتظار عورت کیلئے اذیت ہے اور اس تکلیف کا اللہ کو حساب دینا پڑے گا اسلئے کہ وہ ارادے کو بھی سنتا اور جانتا ہے۔

آیت228البقرہ میں اللہ نے تین ادوار کا ذکر کیا ہے اور حمل کو نہ چھپانے کا حکم دیا ہے اسلئے کہ یہ عورت کی عدت ہے۔ اور اس میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ جس بیوہ کی عدت میں عورت کو اشارہ کنایہ سے نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں تو طلاق کی عدت میں دوسرا شخص اس کا جواز نہیں رکھتا ہے۔ علماء وفقہاء نے اصلاح کی شرط بھی نکال دی اور شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دیا یا پھر اکٹھی تین طلاق میں رجوع کا حق ختم کردیا اور یہ دونوں باتیں جاہلیت کی تھیں اور اللہ نے ان کو ختم کیا تھا۔ شوہر کو نہ غیر مشروط رجوع کا حق ہے اور اگر میاں بیوی صلاح پر راضی ہوں تو کسی سے فتویٰ لینا جہالت ہے ۔ اللہ نے رجوع اور صلح نہ کرنے کے فتوے دینے سے روکا ہے لیکن قرآن کو مدارس نے ہی بوٹیاں بوٹیاں بناکر اس کے سر پیر کچل ڈالے۔

آیت229میں مزید وضاحت کردی کہ طلاق عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ ہے اور رجوع کیلئے معروف کی شرط ہے یعنی عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں کرسکتے۔ ان تمام آیات میں عورت کی اذیت کو نظر انداز کرکے فقہ سازی کی گئی ہے جس کا کوئی اخلاقی، قانونی ، شرعی اور فطری جواز نہیں ہے جس سے کتابیں بھردی گئی ہیں تضادات سے بھرپور اور انسانیت کے دائرے سے نکلی ہوئی۔

اگر طلاق کا فیصلہ کیا تو احسان کیساتھ رخصت کرنے کا حکم ہے، یعنی اپنے حق سے زیادہ نوازنے کا حکم ہے۔ جو بھی دی ہوئی چیزیں ہیں حق مہر کے علاوہ تمام کی تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیدادیں اور چاہے خزانے دئیے ہوں۔ کوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں۔ البتہ کوئی ایسی چیز ہو کہ جس پر دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کا اتفاق ہو کہ اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں۔پھر وہ عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میںدونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔فدیہ سے مراد فدائی کی قربانی ہے اور اس کو خلع قرار دینا انتہائی شرمناک حماقت ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور یہ لوگ خلع کے نام پر بلیک میلنگ کا کاروبار کھولنا چاہتے ہیں۔

دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے بعد کہاں کا خلع ؟۔ خلع عورت اور طلاق مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔ سورہ النساء آیت19میں خلع اور 20،21 آیات میں طلاق کے احکام کی وضاحت ہے۔

آیت230البقرہ میں اس فدیہ کا فیصلہ کرنے کے بعد کی طلاق مراد ہے۔ طلاق عربی لغت میں عورت چھوڑنے کو کہتے ہیں۔ شوہر عورت کو طلاق کے بعد بھی دوسری جگہ نکاح پر اپنی غیرت کا مسئلہ بناتاہے اسلئے اللہ نے واضح فرمادیا کہ دوسرے شوہر سے نکاح ضروری ہے تاکہ عورت کی جان آزاد ہو اور یہ حکم پہلی بار نہیں ہے بلکہ اگر مذاق میں طلاق دی یا ایلاء کیا۔ ایک بار طلاق دی یا دو بار جب تک عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو شوہر کیلئے رجوع ویسے ہی حرام ہے جیسے اس آیت میں حرام ہے لیکن جب تک ان الفاظ کا ذکر نہیں آیا تو پھر عورت کیلئے جان چھڑانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اسلئے توراہ وانجیل کے بعد بہت تفصیل اور بہتری کیساتھ طلاق کے حوالے سے بھرپور آیات کھول کھول کر بیان کردیں تاکہ یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر مسلمان نہیں چلیں۔ لیکن پھر بھی چل پڑے ہیں اسلئے کہ قرآن کو چھوڑ دیاہے۔

آیت231میں پھر تفصیل سے ہے کہ عدت کی تکمیل پر بھی معروف رجوع ہوسکتا ہے تاکہ اس بات کو ذہن نشین کرلیا جائے کہ عدت میں رجوع کا اختیار عورت کی آزادی کیلئے دیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر عدت گزرنے کے بعد ان میں معروف رجوع کی خواہش ہو تو اللہ اس میں کوئی رکاوٹ ہے۔ علماء ودفقہاء نے آدھے بچے سے کم اور زیادہ کے حوالے سے رجوع کا جوشرمناک تصور پیش کیا ہے اس کو قومی اسمبلی میں کبھی مولانا فضل الرحمن یا شیر افضل مروت بیان کرے تو کمال ہوگا۔

آیت232البقرہ میں کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے نہ صرف رجوع کی اجازت ہے بلکہ معاشرہ ، مولوی اور سب کو خناس کا کردار ادا کرتے ہوئے رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی اورزیادہ تزکیہ ہے جو اللہ جانتا ہے ۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمارے اساتذہ قرآن کے ترجمہ اورتفسیر میں مولانا بدیع الزمان، قاری مفتاح اللہ اور مفتی محمد ولی تھے اور انوارلقرآن آدم ٹاؤن میں جلالین ومشکوٰة شریف کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید اور بیضاوی کے استاذ مولانا شبیراحمد رحیم یار خان والے تھے۔ مجھے اعزاز حاصل ہے کہ تفسیری عزیزی میں غلطیاں پکڑ میں آئیں تو مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کے پاس بھی جواب نہیں تھا اور قاری مفتاح اللہ صاحب نے تفسیر کشاف کا مشورہ دیا اور اس وقت میں نے تفسیر کشاف لیکر قرآنی آیات کی مشکلات کا حل تلاش کرنا شروع کیا تھا۔ بیضاوی کی غلطیوں پر اور اصول فقہ کی غلطیوں پر اساتذہ کرام نے مجھے اپنی تائیدات اور حوصلہ افزائیوں سے نوازا تھا جن میں کنزالدقائق ، شرح الوقایہ اور نورالانوار و اصول الشاشی وغیرہ فقہ واصول فقہ کی کتابیں شامل تھیں اور مفتی عبدالمنان ناصر لورالائی کی طرف سے بھی فقہی مسائل میں کتابوں کے مقابلے میری تائید ہوتی تھی۔ ان اساتذہ کرام اور دیگر بہت سارے اساتذہ کرام کی تائیدونصرت اور حوصلہ افزائی ہی کا نتیجہ ہے کہ مجھے اللہ نے بڑی توفیق عطا فرمائی۔

غلام احمد پرویز نے حدیث کا انکار کرنے سے زیادہ قرآن کی واضح آیات کا انکار کیا ہے۔ جب اللہ نے بہت سلیس انداز میں مسائل کا ذکر کیا ہے تو پھر غلام احمد پرویز کو اپنی طرف سے تبویب القرآن لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ لیکن چونکہ علماء نے بھی قرآن کو بے ربط کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا تو پرویز کو موقع مل گیا اور بہت سارے علماء اور لکھے پڑھے طبقے کو متاثر کرکے نئی تعبیرات ایجاد کردیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی اس سے متاثر ہے لیکن طلاق کے حوالہ سے پرویز کا ذکر نہیں کیا ہے۔ جس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ احادیث کا ذخیرہ اور صحابہ کرام کے فتوے غلط ہیں ،بالکل بھی نہیں۔

حضرت عمر دارالافتاء میں بیٹھ کر مفتی نہیں تھے کہ کوئی فتویٰ دے رہے تھے بلکہ عدالت سے لوگوں کو انصاف فراہم کررہے تھے۔ ایک تنازعہ آیا کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ اب حضرت عمر نے کیا فیصلہ دینا تھا؟۔ ظاہر ہے کہ قرآن میں واضح ہے کہ اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہے اور حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دے دیا۔ جب شوہر نے بیوی کو حرام کہہ دیا اور جھگڑا حضرت عمر کے دربار میں آگیا اوران کا تصفیہ ہوگیا اور صلح کیلئے راضی ہوگئے تو پھر رجوع کا فیصلہ ہوگیا۔ فقہاء نے اس کو نام دیا کہ یہ حضرت عمر نے ایک طلاق قرار دی ہے۔ حالانکہ یہ قرآن وحدیث سے بہت بڑی ناواقفیت ہے۔

حضرت علی کے دور میں شوہر نے بیوی کو حرام قرار دیا اور رجوع نہ کرنے پر عورت ڈٹ گئی تو پھر حضرت علی نے فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتاہے۔ علماء وفقہاء نے اپنی کم عقلی سے حضرت علی پر تہمت باندھ دی کہ حرام کے لفظ پر تین طلاق قرار دیا ہے۔

 

حضرت عمر و حضرت علی میں حلال وحرام پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اگر قرآن اور سنت کو امت مسلمہ سمجھ لیتی تو حضرت عمر وعلی میں اختلاف نہیں دکھائی دے سکتا تھا۔ لیکن قرآن کو انہوں پس پشت ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے گمراہی پر گامزن ہوگئے۔

 

حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کا مطلب یہی ہے کہ پہلے 3 طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی اور پھر حضرت عمر نے اکٹھی تین پر تین کا فیصلہ دے دیا کہ حضرت عمر کے دور میں پہلا تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔ پھر حضرت ابن عباس کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہے کہ اکٹھی تین طلاق کو ایک بھی قرار دیا اور تین بھی۔ بلکہ جس صورت میں عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تھی تو رجوع کا فتویٰ دیتے تھے اور عورت رجوع پر راضی نہیں ہوتی تھی تورجوع کا فتویٰ نہیں دیتے تھے اور یہی حال آپ کے پانچوں شاگردوں کا بھی تھا۔ جن میں اختلاف نہیں تھا بلکہ مختلف صورتحال پر فتویٰ الگ الگ طرح کا دیا جو قرآن کے مطابق ہوتا تھا اسلئے کہ عورت راضی ہو تو رجوع ہوسکتا تھا ۔عورت راضی نہ ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

جن احادیث میں تضادات نظر آتے ہیں تو ان میں بھی تضادات قطعی طور پر نہیں ہیں۔ مثلاً فاطمہ بنت قیس کے حوالہ سے ایک قسم کی روایات یہ ہیں کہ اکٹھی تین طلاقیں دیں اور دوسری قسم میں ہے کہ الگ الگ تین طلاقیں دی ہیں۔ اب دونوں کی تطبیق یہ ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دی ہوں گی لیکن پھر شمار ایک ہوئی ہوگی اسلئے پھر الگ الگ بھی تین مرتبہ مرحلہ وار طلاقیں دی ہوں گی۔ احناف کے مسلک ضعیف روایات میں بھی تطبیق ممکن ہو تو تطبیق ضروری ہے اور کسی روایت کو حتی الامکان رد کرنے کی ضرورت نہ ہو تو رد نہیں کرنا چاہیے۔

پہلے دور میں یہ سوچ نہیں تھی کہ عدت میں بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اماںعائشہ سے فتویٰ پوچھا گیا کہ عورت نے تیسرے حیض میں اپنی عدت کو مکمل قرار دیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ بالکل ٹھیک ہے ۔ عدت کے تین ادوار سے مرادتین اطہار پاکی کے ایام ہیں۔ قرآن وحدیث میں بھی یہ بالکل واضح ہے مگر حنفیوں کو ریاضی کا جنون چڑھ گیاکہ اس طرح عدت میں 3کا عدد پورا نہیں ہوگا۔ جس طہر میں طلاق دی تو وہ ادھوری ہوگی اور دو طہر اور مل جائیں گے تو ڈھائی بن جائیں گے۔ اسلئے حیض مراد ہے تاکہ تین کا عدد مکمل ہوجائے۔

پھر جن پاکی کے دنوں میں طلاق دی ہے تو تین حیض کیساتھ وہ بھی شامل ہوں گے اور ساڑھے 3 بن جائیںگے؟۔تو قرآن کے خاص عدد3 پرعمل نہیں ہوگا۔ اتنی بڑی مدت کے اضافہ سے عورت کی اذیت میں اضافہ ہوگالیکن اس کی بھی پرواہ نہیں۔

جس طرح روزہ کی نیت سورج نکلنے کے بعد بھی کچھ کھائے پیئے بغیر ہوتی ہے اور روزہ پورا شمار ہوتا ہے ادھورا نہیں،اسی طرح طہر میں ہاتھ لگائے بغیر طلاق کی عدت کا عدد پورا شمار ہوگا ادھورا نہیں۔

حنفی فقہاء وعلماء نے طہر کو عدت الرجال ،حیض کو عدت النساء قرار دیا۔ جس کی وجہ سے سورہ طلاق کا ترجمہ بھی درست نہیں بن سکتا اسلئے کہ اللہ نے یہ فرمایا کہ فطلقوھن لعدتھن ”پس ان کو طلاق دو ان کی عدت کیلئے” تو ترجمہ ہوگا کہ حیض کیلئے ان کو چھوڑدو۔ جس میں مقاربت ویسے بھی منع ہے اور جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے تو اس سے پہلے کی حیض میں بھی مقاربت نہیں ہوتی اسلئے وہ حیض بھی انتظار کی مدت میں شامل ہے۔ جیسے اعتکاف کے آخری دس دن میں جونہی عید کے چاند کی خبر ملتی ہے تو اعتکاف والے قید سے آزاد ہوتے ہیںاسی طرح جب عورت کوحیض آتا ہے تو عدت پوری ہوتی ہے البتہ عورت جدائی نہیں چاہتی اسلئے بڑھانے سے اس پر اثر نہیں پڑتا لیکن قرآن وحدیث کے برعکس جو غیر فطری مسائل گھڑے گئے ان سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے۔ مولانا بدیع الزماننے قرآن و اصول فقہ کی تعلیم دی اور نصاب کے مقابلے میں میری حوصلہ افزائی فرمائی۔اس دور کے طالب علم اور اساتذہ کرام گواہی دیں گے۔

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ (سورہ البقرہ آیت:230)
‘اگر پھر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے وہ نکاح کرے”۔

اس کا پہلا معرکة الآراء مسئلہ یہ ہے کہ اس میں موجود طلاق کا تعلق کس سے ہے؟۔ حنفی مسلک میں اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے جو عربی قواعد کا تقاضہ ہے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد علامہ تمنا عمادی مشرقی پاکستان ریڈیو سے قرآن کا درس دیتے تھے اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، علامہ سیدمحمدیوسف بنوری،مولانا ابولاعلی مودودی ، علامہ شبیراحمد عثمانی اور حنفی واہل حدیث اور شیعہ علماء کرام اس کے علم کے سامنے خس وخاشاک تھے۔ انہوں نے کتاب ”الطلاق مرتان” لکھی ہے جس کا علماء نے جواب نہیں دیا بلکہ ڈائنوسار کی طرح اپنی بڑی بڑی دم رکھتے توگھسیڑ دیتے تھے۔ علامہ عمادی نے حنفی اصول اور عربی قواعد سے یہ طلاق خلع کیساتھ سے منسلک کردی ۔ اگر حنفی مسلک کا نام لیکر اس پر بس کرتے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا تھا لیکن تمناعمادی نے احادیث کی کتابوں کو قرآن کے خلاف سازش قرار دے دیا اور اپنی کتاب میں دو باتیں بنیادی ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ ایک یہ کہ قرآن نے مرد کی طرف سے تیسری طلاق کا خاتمہ کردیا تاکہ کوئی عورت مرد کی غلطی سے حلالہ کی شکار نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ حلالہ کو خلع سے منسلک کردیا کہ عورت کی طرف سے خلع ہوتا ہے تو سزا بھی اس کو ملتی ہے۔

اگر بالفرض علامہ تمناعمادی کا استدلال رائج ہوتا تو بھی انتہائی غلط تھا اور اس کا تدارک قرآن میں موجود تھا۔ جس ”ف” تعقیب بلا مہلت نے علامہ تمنادی اور فقہ حنفیہ کو یہاں تک پہنچادیا تھا تو اس کی وجہ دو مرتبہ طلاق فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں دو مرتبہ کے بعد تیسری طلاق بھی وہاں ثابت ہوجاتی ہے اور پھر جب آیت231البقرہ نے تین مرتبہ طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے تو آیت232البقرہ میں خلع کے بعد بھی بغیر حلالہ کے رجوع ہوتا۔

الغرض علامہ تمنا عمادی بہت بڑے آدمی تھے۔ غلام احمد پرویز جیسے لوگ اس کی شلوار کی جیب میں ہوتے مگر علماء ومفتیان نے کراچی میں ان کو گمنامی کی قبر میں دھکیل دیا۔ مفتی تقی عثمانی اس وجہ سے کہتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں جن کی علمی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر آج ان کا کوئی نام بھی لینے والا نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی بھی ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان اور ہمارے پیر بھائی مولانا عبدالحق فاضل دیوبند کے شاگرد ہیں۔ اس نے تو اپنے استاذ کے پیر حاجی محمد عثمان پر بہت بڑا سازشی فتویٰ لگادیا۔ میرا اور اس کا مشترکہ استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان اسکے غلط فتوے کا مقابلہ کرنے پر شاباش دے رہے تھے۔ پھر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے مسئلے پر بھی اس کوچت کردیا تھا۔

حلال وحرام کا ڈھونگ اسلئے رچایا جارہاہے کہ سودی بینکاری جیسی معیشت کو عالمی سازش کیساتھ جائز قرار دیدی ہے جس پر جامعہ فاروقیہ الفاروق نے پورا مضمون شائع کیا اور بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے بھی پھر وہی مضمون شائع کیا گیاہے۔

قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کے ٹھیک مؤقف یا اقرب الی الصوب کو میری وجہ سے انشاء اللہ بہت پذیرائی ملے گی۔ اکابر دیوبند کے کراچی میں اصل جانشین دو ہیں ۔ایک مفتی حسام اللہ شریفی رکن مجلس تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ جو مولانا رسول خان ہزاروی کے شاگرد ہیں جو قاری طیب، مفتی محمد شفیع ، مولانا یوسف بنوری وغیرہ کے بھی استاذ تھے اورحضرت شریفی صاحب شیخ الہندکے ایک واسطہ سے شاگرد ہیں۔ مولانا غلام رسولہزاروی شیخ الہند مولانامحمود الحسن کے شاگرد تھے۔مولانا محمد یوسف لدھیانوی شریفی صاحب کو استاذ کا درجہ دیتے تھے اور مفتی اعظم امریکہ میرے کلاس فیلو مفتی منیر احمد اخون کے شریفی صاحب دادا استاذ ہیں۔

شریفی صاحب کو مولانا احمد علی لاہوری نے بھی مسائل کا حل اور فتوے لکھنے کی اجازت دی تھی لیکن الحمدللہ شریفی صاحب میری تائید فرمارہے ہیں اور انہوں نے قرآن پر دوبڑی کتابیں بھی لکھی ہیں اور ان کا نام مولانا حسین احمد مدنی نے رکھا تھا اور انکے پاس اورنگزیب بادشاہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن بھی ہے۔ مجھ پر اتنی شفقت فرماتے ہیں کہ ان کے پاس جانے سے شرمندگی ہوتی ہے۔ اتنا بڑا انسان مجھ سے عقیدت رکھے تو شرمندگی کے سوا کیا ہوگا؟۔

اکابرعلماء دیوبند کی تحریکوں کے اصل دوسرے جانشین حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب ہیں۔ جمعیت علماء اسلام، تنظیم اہل سنت، تحفظ حقوق اہل سنت والجماعت ،سواداعظم اہل سنت اور سپاہ صحابہ سب کے اکابرین کے اصل جانشین ہیں۔ الحمدللہ میرے لئے سرپرست بڑے بھائی کی طرح ہیں۔

مولانا محمدامین شہیدہنگوکوہاٹ نے مجھے نماز کی امامت کیلئے زبردستی آگے کیا۔ مولانا نصر اللہ توحید آباد صادق آباد رحیم خان میرے استاذ تھے۔ بہت محبت رکھتے تھے۔مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید فتوؤں کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے ۔ مولانا مفتی کفایت اللہ فیوچر کالونی ، خطیب مولانا عبدالرحمن اور مولانا مفتی عبدالرؤف ہالیجیکے علاوہ بہت نام ہیں جن سے شاگردی کا شرف ملا اور ان کی دعائیں بھی الحمدللہ ساتھ ہیں۔ مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا عبدالکریم بیرشریف، مولانا سرفراز خان صفدر ، مولانا خان محمد امیرمرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت اور تمام مکاتب فکرکے پروفسیر شاہ فرید الحق جمعیت علماء پاکستان، علامہ شفاعت رسول نوری، حضرت مفتی خالد حسن مجددی، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالرؤف صدراتحادالعماء سندھ، علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی ، ڈاکٹر اسرار احمد اورمولانا عبدالرحمن سلفی امیر غرباء اہلحدیث بڑے بڑے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی تائید کی ایسی مثال بہت مشکل سے مل سکتی ہے۔

پہلے سال جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا اورمولانا مفتی عبدالسمیع شہید سے سرِ راہ بحث ہوگئی جو شرح جامی کے بعد میں استاذ بن گئے اور پہلے استاذ نہیں تھے۔ طلبہ کا ہجوم جمع ہوا اور آخر میں انہوں نے کہا کہ ”تم افغانی پڑھ کر آتے ہو اور مقصد علم حاصل کرنا نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہوتاہے” اور پھر میر ی آنکھوں میں آنسو آئے اور کسی طالب علم نے مجھے کہا کہ صوفی صاحب چلو اور مسجد کے ایک کونے میں لے جاکر کہا کہ ”اپنا ذکر کرو”۔

دوسرے دن شہرت ہوئی کہ صوفی صاحب تو علامہ تفتازانی ہیں۔ میں نے کہا کہ میری قابلیت نہیں اور اپنے استاذ مولانا عبدالمان ناصر سے وہی پوچھا تو سیکنڈ وں میں جواب دیا۔یہ سب صرف تحدیث نعمت کے طور پر نہیں بتارہاہوں بلکہ وہ علمی حقائق ہیں جس سے مولانا فضل الرحمن سمیت سب علماء ومفتیان سب اچھی طرح سے آگاہ بھی ہیں۔

ایک طالب علم کو قرآن وحدیث کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے او راس کو پڑھایا جاتا ہے کہ آیت حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ میں عورت خودمختار ہے کہ وہ جس سے چاہے نکاح کرے۔ احادیث میں ولی کی اجازت کو ضروری قرار دیا ہے تو 200کے قریب احادیث قرآن کے اس حکم کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔

حالانکہ حنفی مسلک کا تقاضہ تھا کہ اس میں تطبیق کی جاتی کہ آیت سے مراد طلاق شدہ عورت ہے اور حدیث میں کنواری کا ذکر ہے۔ بیوہ کو اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اپنی جان کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت ہے۔ ایک طرف جمہور کی مت ماری گئی ہے کہ قرآن کی واضح آیات کے اندر بیوہ اور طلاق شدہ کو خود مختار قرار دیا گیا ہے لیکن یہ احادیث کی وجہ سے اس کو نہیں مانتے۔ پھر دوسری طرف احناف تواتر کی حد تک پہنچنے والی احادیث کو نہیں مان رہے ہیں۔ جب قرآن و احادیث پر اتفاق نہیں ہوگا تو اجماع کہاں سے آئے گا؟۔

پاکستان میں حنفی مسلک والوں کی اکثریت ہے لیکن آئے روز انتہائی تشویشناک خبریں آتی ہیں۔ ہزارہ میں کورٹ میرج کرنے والی لڑکی کو اپنی 6ماہ کی بچی کے ساتھ جس بہیمانہ انداز میں شہید کیا گیا تو یہ علماء کے اختلافات کا شاخسانہ بھی ہے۔ علماء و مفتیان کو قرآن و احادیث اور اسلام سے زیادہ اپنا مدرسہ اپنے پیٹ کیلئے آباد کرنے کی فکر لگی ہے۔

ایک بات علماء ، دانشور اور پڑھے لکھے لوگوں کو غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کے سابقہ صدر اُستاذ العلماء محدث العصر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ

” خبر واحد سے احناف کے نزدیک حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ میں نکاح پر حلالہ میں جماع کا اضافہ نہیں ہوسکتا ۔لیکن احناف احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ نکاح کا معنی جماع کرنے کی وجہ سے ہی حلالہ میں جما ع کا حکم لگاتے ہیں”۔

ایک طرف علم کی یہ بہت بلند چوٹی ہے کہ حنفی مسلک میں اتنے زبردست اصول ہیں کہ اگر کسی حدیث میں جماع کا حکم ہو تب بھی اس سے جماع ثابت نہیں ہوتا بلکہ قرآن میں جماع کا ذکر ہوتا پھر ثابت ہوتا۔ یہ بہت بہترین اور زبردست علم ہے۔

دوسری طرف یہ کہنا کہ نکاح سے جماع مراد ہے بہت بڑا معمہ ہے جس کو حل کرنا ضروری ہے۔ نکاح کو جماع قرار دینے سے جن گھمبیر مسائل نے جنم لیا ہے ان کے بھیانک انجام سے مولانا سلیم اللہ خان صاحب بھی بے خبر نہیں تھے۔ لیکن جب بڑھاپے میں دار العلوم دیوبند یوپی انڈیا اور اپنے ملک پاکستان کے تمام علماء کرام و مفتیان عظام کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے شاگرد مفتی تقی عثمانی کو سودی بینکاری پر نہیں منواسکے تو اکابر کے نصاب سے لڑنا پیرانہ سالی میں ایک انتہائی مشکل مسئلہ تھا۔

تیسری طرف اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ضعیف حدیث میں بھی حلالے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ جس پر حلالے کی امارت کھڑی کی گئی ہے جس کا تفصیل سے ذکر کردیا ہے۔

چوتھی طرف اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب حنفی اصولِ فقہ کے مطابق نکاح پر حدیث سے جماع کا اضافہ نہیں ہوسکتا ہے تو پھر قرآن میں کتنی واضح واضح آیات میں باہمی صلاح اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ جن کے مقابلے میں کوئی بھی خاطر خواہ حدیث نہیں ہے تو پھر مذہب کے نام پر کتنی بڑی بلڈنگ کھڑی کردی گئی ہے؟۔ میں علماء و مفتیان کا دشمن ضرور ہوں مگر ان کا جو شیطان کے نائب اور اسلام کے دشمن ہیں اور علماء حق میرے سر کے تاج اور اُستاذ ہیں۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ النساء آیت 15 میں بدکاری کی چار شہادتوں پر گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ اس کو موت آجائے یا پھر اللہ اس کیلئے کوئی راستہ نکال دے۔

ظاہر ہے کہ یہ شکایت اور گواہی کسی مرد کے ساتھ پکڑے جانے کی صورت میں نہیں ہوسکتی بلکہ بے راہ روی کا شکار کوئی بیوہ ، طلاق شدہ ، کنواری کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ جب تک اللہ کسی شوہر سے اسکا مسئلہ حل نہ کردے تو ماحول کو بگاڑنے نہ دیا جائے۔

کہا یہ جاتا ہے کہ سورہ نور کی آیات سے اس کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ جس میں زناکار مرد و عورت کو 100، 100 کوڑے لگانے کا حکم ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ شادی شدہ کیلئے سنگساری کا حکم ہے۔

جس آیت سے سابقہ آیت منسوخ ہوگئی تو اس میں سنگساری کا ذکر نہیں ہے تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی لکھتے ہیں کہ پہلی آیت النساء 15سے سنگسار کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ ہم بنوری ٹاؤن میں پڑھتے تھے تو مولانا سلطان محمد محسود دورۂ حدیث میں تھا۔ اس نے بتایا کہ تخت پر بیٹھے مفتی ولی حسن بخاری پڑھا رہے تھے اور پاجامہ پھٹا ہوا تھا۔ طلبہ ہنس رہے تھے اور اچانک مفتی صاحب کی نظر وہیں پڑی تو ا س نے کہا کہ ”میں بھی بڑا چوتیا ہوں”۔ جب بیگم راعنا لیاقت علی خان نے قادیانیوں کے حق میں کوئی بیان دیا تھا تو روزنامہ جنگ کراچی میں مفتی ولی حسن کا بیان چھپا تھا کہ” اس کی رگ پھڑک رہی ہے”۔ جس پر عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ ہوا۔ مفتی ولی حسن سے جج نے مطالبہ کیا کہ معافی مانگو۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے معافی نہیں مانگ سکتا۔ جس پر قاری شیر افضل خان نے مفتی اعظم پاکستان کا نعرہ لگایا۔ اس دن سے وہ مفتی اعظم پاکستان بن گئے۔

قرآن میں عورت کی جان چھڑانے کیلئے آیت 230البقرہ میں کسی اور شوہر سے نکاح کا حکم ہے۔ پشاور کے کھیتوں سے ایک خاتون کی لاش ملی تھی جو حلالہ کے وقت دوسرے شوہر سے خوش ہوگئی اور پھر جدا نہیں ہونا چاہتی تھی اور اس کو سزا مل گئی۔ عورتوں کو معاشرے میں سزا مل جاتی ہے اور جتنی شریعت یا مولوی کے مذہب میں ہے اس سے زیادہ ملتی ہے۔ قرآن اور حدیث کو ٹکرائیں گے تو مولویوں کے سر ٹوٹ جائیں گے لیکن اتفاق نہیں ہوگا۔ حنفی مسلک میں اگر کنواری لڑکی کو کورٹ میرج کی اجازت ہو تو پھر مساجد میں کھلے عام تبلیغ کرنی ہوگی ۔ قتل کی بھی مذمت کرنی ہوگی۔ احادیث اپنی جگہ پر بالکل ہی درست ہیں جس کی وجہ سے ناگوار معاملات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اس کا دائرہ کار غیر مسلموں کی لڑکیوں تک بھی بڑھانا چاہیے۔ البتہ قرآن اور حدیث کی اس تعلیم کو عام کرنا چاہیے کہ لڑکی راضی نہیں ہو تو اس کا نکاح زبردستی سے کرنے کی باپ کو بھی اجازت نہیں ہے۔ جہاں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور دیگر جاہلوں نے بچیوں کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے جو ان کی مرضی کے بغیر ہو تب بھی تو ان کو الیکٹرانک میڈیا پر لاکر بے نقاب کرنا چاہیے۔

اگر کسی کنواری لڑکی کو کسی سے عشق ہوجائے تو پھر قرآن سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ جہاں اللہ نے فرمایا ہے کہ ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردنا تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا ومن یکرھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم ”اور اپنی لڑکیوں کو مجبور مت کرو بغاوت پر جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیاوی زندگی اس کے ذریعے تلاش کرو اور جس کو مجبور کیا گیا ہو تو ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ (النور:33)

جو لوگ اپنی دنیاوی وجاہت کی غرض سے اپنی لڑکیوں کو ان کی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتے تو ان کی دنیا بھی تباہ ہوجاتی ہے اور اگر اللہ کے حکم کے مطابق ان کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ان کا نکاح کردیتے تو اللہ کے حکم پر عمل ہو تا۔ جب لڑکی کورٹ میرج کرتی ہے تو بسا اوقات اپنا مستقبل تاریک کردیتی ہے۔ اسلئے احادیث میں ان پر روکنے کیلئے زور ڈالا گیا ہے ۔ لیکن قربان جائیں اس اللہ پر جس نے اپنے قرآن میں ایک ایک مسئلے کا حل اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کو دیکھ کر کافر بھی مسلمان ہوجائیں۔ لیکن افسوس کہ مسلمان مسلمان نہیں ہوتے۔ نبی ۖ نے بھی اگر ایک طرف لڑکی کو اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے روکنے کی بات کی ہے تو دوسری طرف ولی کو بھی پابند کیا ہے کہ اس کی مرضی سے ہی اس کا نکاح کیا جائے۔ قرآن و سنت کے جس توازن سے مسلمان جہالتوں کے جس اندھیرے سے نکل سکتے تھے وہ پوری دنیا کیلئے مشعل راہ ہے۔ مسلمان مذہبی طبقات پر تکیہ کرکے بیٹھے ہیں کہ وہ کچھ کریں گے تو پھر ہم اپنی جہالتوں سے نکل سکیں گے لیکن علماء اپنی جہالتوں سے نکل جائیں تو بھی یہ مرد کے بچے ہوں گے۔ قرآن اپنی آیات کو منسوخ نہیں کرتا بلکہ توراة اور انجیل کی بھی تصدیق کرتا ہے اور دنیا کے تمام درست مذاہب کی تصحیح بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے علماء کرام ، مشائخ عظام ، طلباء واجب الاحترام کو توفیق دے کہ یہ سال نصاب میں ضائع کرنے کے بجائے نصاب کو درست کرنے پر ہی لگادیں۔ ماحول سے نکلنا مشکل کام ہے لیکن نکلنا بھی ضروری ہے اور نکلیں گے۔ انشاء اللہ العزیز

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حرمت مصاہرة کا راکٹ سائنس علماء ومفتیان کی سمجھ سے بالاتر

(قولہ : فلاحرمة) لانہ بانزال تبین أنہ غیرمفض الی وط ء ھدایة… فان أنزل لم تثبت والا ثبت لا انھا ثبت بالمس ثم بالانزال تسقط ؛ لأن حرمة المصاہرة اذا تثبت لاتسقط أبدا

(اسکا قول:تو حرمت نہیں)اسلئے کہ انزال واضح کرتاہے کہ لمس جماع تک نہیں پہنچائے گا۔ہدایہ….. پس اگر انزال ہوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں اور اگر انزال نہیں ہوا تو حرمت مصاہرت ثابت ۔ اسلئے نہیں کہ حرمت ثابت ہے شہوت سے چھونے پر اور انزال سے ساقط ہوگی کیوںکہ جب حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے تو پھرساقط نہیں ہوتی ہمیشہ کیلئے۔

(واصل مساتہ وناظرة الی ذکرہ والمنظور الی فرجھا) المدور(الداخل) ولونظر ہ من زجاج أو ماء و ھی فیہ والعبرة للشھوة عندالمس أوالنظر لا بعدھما وحدھا فیھا تحرک آلتہ أو زیادتہ بہ یفتی

”اصل شہوت سے چھونے ،دیکھنے میںعورت کا مرد کے ذکرکواور مرد کا عورت کے فرج کے اندورنی حصہ کو دیکھنا ۔ اگر شیشہ میں دیکھا یا پانی میں اوروہ اس میں ہو۔ اور شہوت اس وقت معتبرہے کہ جب لمس یا دیکھتے وقت ہو ،بعد میں نہیں۔ حد اس کی آلہ کی حرکت یا حرکت کا زیادہ ہونا ۔ اسی پر فتویٰ ہے۔

وعلی ھذا ینبغی ان یکون المس الفرج کذلک بل اولیٰ لأن تاثیرالمس فوق تأثیرالننظر ”چاہیے کہ فرج کا چھونا بھی ہواسلئے کہ ٹچ کی ثاتیر نظر سے زیادہ ہے”۔

فتاویٰ شامی میں کتب کے حوالہ جات، اعتراض اورجواب: جو بنوری ٹاؤن کراچی کے ویب سائٹ پر ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ساس کی شرم گاہ کے داخل پر شہوت کی نظر پڑگئی، اگرچہ شیشہ یا پانی میں ہو توبیوی حرام ہوگی تو شرم گاہ کو چھونے سے بدرجہ اولیٰ حرمت ثابت ہونا چاہیے اسلئے کہ عضوتناسل کو شرم گاہ کے بیرونی حصہ پر رگڑنے کی تاثیر نظر پڑنے سے زیادہ ہے تو اس کا جواب دیا گیا کہ شہوت سے رگڑا لگانے اور چھونے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ شہوت چھونے کے بعد موقوف ہوتی ہے۔ اگر انزال ہوگیا تو واضح ہوا کہ حرمت ثابت نہیں ہوئی اوراگر انزال نہیں ہوا تو پھر حرمت ثابت ہوگئی اسلئے کہ مصاہرت کی حرمت ثابت ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتی”۔مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی اور علماء ومفتیان کا اسلام ماننے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں یہ قرارداد پیش کریں کہ محرمات کو شہوت سے چھونے کے بعد انزال تک نہ چھوڑو۔ تاکہ بیوی حرام نہ ہو۔اسلئے کہ انزال نہیں ہوا تو بیوی حرام ہوگی۔تمام الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھی اعلانات کرو ۔اور اگریہ غلط ہے اور واقعی غلط ہے تو مدارس کو لگام دی جائے۔ دہشت گردی پر کیسے قابو پاسکتے ہیں؟۔ خالی فقہی مسائل کو اٹھانے سے بھی دہشت گردی کا نہ صرف خاتمہ ہوگا بلکہ نفسیاتی مریض مفتیوں کا علاج بھی کرنا پڑے گا۔ پھر ہمارا ریاستی اورعدالتی نظام بھی ٹھیک ہوجائے گا ۔

پیداہوا وکیل تو شیطان نے کہا

لوآج میں بھی صاحب اولاد ہوگیا

اکبر الٰہ آبادی نے وکیل کو شیطان کی اولاد قرار دیا اور حنفی مسلک کے وکیل تو ان سے آگے ہیں ۔ اسلام کے نام پر فقہی مسائل کی صورتحال اس سے بدتر ہے۔

جس طرح اکثر نالائق جب دوسری ڈگری حاصل نہیں کرسکتے تو وکیل بن جاتے ہیں ،اسی طرح اکثرنالائق علماء بھی مفتی کا کورس کرلیتے ہیں۔

داتا گنج بخش اورمولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں میں نبیۖ اور داؤد کے حوالہ سے شہوت کی نظر پڑنے پر اوریا اور زید کی بیوی کا نکاح میں آجانے کا مسئلہ بھیانک ہے جس کے خلاف عالم اسلام کے علماء نے لکھا۔ غلط مسائل سے جان چھڑائیں۔جس شہوت کی تاثیر اتنی ہوتوقرآن میں مرد اور عورت کو شہوت کی نگاہ سے بچنے کا حکم ہے ورنہ حج وعمرہ میں عورت کو چہرہ کھلا رکھنے کا حکم کیوں دیا جاتا؟۔

 

مرج البحرین یلتقیان بینھما برزخ لا یبغیان

اس نے دو سمندر کو ملادیا جو باہم ملے ہوئے ہیں ،دونوں میں پردہ ہے، نہیں کرتے حد سے تجاوز

کیاحنفی اور شافعی مسلک واقعتا اہل حق کے2دریاہیں؟

سوال:فقہی احکام میں اتنے تضادات کے باوجود حنفی اور شافعی دونوں مسالک اہل حق کیسے ہیں؟۔

جبکہ صورتحال یہ ہے کہ حنفی مسلک میں اگر بہو یا ساس کو شہوت سے ہاتھ لگادیا اوربغیر کے کپڑے یا اتنا باریک کپڑا تھا کہ حرارت محسوس ہورہی تھی تو حرمت مصاہرت ثابت ہوگی لیکن شافعی مسلک میں زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں اگر بیوی کی سوتیلی بیٹی حجرے میں نہ پلی ہو تو اسکے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔

جواب : حنفی مسلک میں انزال کے بعد حرمت مصاہرت نہیں تو اسلئے مصر میں30اگست کو ”یوم البوسہ” منانے کیخلاف دونوں متحد ہیں کہ کیا پتہ چلے گا کہ انزال ہوا یا نہیں؟،اور کون حنفی اور کون شافعی ؟ ۔ ہاہا ہا….

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ قوام حکمرانی نہیں بلکہ طاقتور کا کمزور کوعدل وتوازن کا سہارا ہے

اذا انفقوا لم یسرفوا و لم یقتروا وکان بین ذٰلک قوامًا”خرچ میں نہ اسراف نہ بخل انکے درمیان اعتدال”

الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ قوام حکمرانی نہیںبلکہ طاقتور کا کمزور کوعدل وتوازن کا سہاراہے

الاتطغوافی المیزان

آسمانی توازن اللہ نے قائم کیا ۔ زمین کاتوازن قائم کرنے کی ذمہ داری ارضی خلیفہ انسان پر ہے۔

دماغی توازن بگڑا توپاگل ،جسمانی توازن بگڑا تو فالج زدہ اور کرداربگڑا تو بدچلن ہے۔ دائیں ہاتھ و پاؤں بائیں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہیں تو بوجھ، لڑائی اور بھاری کام دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں اور فٹ بال کی کک دائیں پاؤں کا کام ہے۔ یہی فطرت ہے اور اسلام بھی فطری نظام حیات ہے۔

والذین اذا انفقوالم یسرفواولم یقتروا وکان بین ذٰلک قوامًا ”اور جب خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف کرتے ہیں اورنہ بخل اور انکے درمیان متوازن ہیں”۔ (الفرفان:67)

قوام کا معنی متوازن ہے ۔قرآن میں مردوں کو صنف نازک عورتوں پر حکمران نہیںقوام بنایا گیا ۔
قوام صنف نازک کی مدافعت ، کمزوری پر قابو رکھنا ہے۔ حکمران کا کام بھی رعایا کی کمزوری کیلئے طاقت کا توازن معتدال بنانا ہے۔ جیسے ماں بچوں کی کمزوری کا دفاع کرتی ہے اسی طرح حکمران اور شوہر کا کام کمزوری کا دفاع ،عدل وتوازن ہے۔

اگر اس کی حقیقت سمجھ میں آجائے تو بیویوں اور رعایا پر ظلم نہیں ہوگا۔ سکیورٹی طاقت کا بنیادی مقصد کمزور کو تحفظ دینا ہے۔ سزا کا کام عدالت کا ہے اور اگر طاقتور شوہر یا ڈکٹیٹر حکمران اپنی رعایا پر ظلم کرے تو عدل وتوازن کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

پروفیسر نورالامین نے کہا :” ہم پشتون بدھ مت تھے۔ اسلام نے ہمیںمتشدد بنادیا ۔پشتو میں پت اور ہندی میں پتی ۔ لکھ پتی، کروڑ پتی ۔ شوہر ٹرسٹ ہوتا تھا جوبیوی پر بالادست نہیں سہاراہوتاتھا”۔
قوام پر مال کاخرچہ ۔ صالحات، قانتات حافظات للغیب بما حفظ اللہ ایک درجہ مردکااور3درجات عورت کے ہیں۔شوہر خود پر بہتان برداشت کرتا ہے لیکن بیوی پر نہیں۔کیا کوئی فاسق، متکبراور خائن شوہراپنی صالحہ، عاجزہ ،عصمت کی محافظہ عورت سے محض مال خرچ کرنے پر افضل ہوسکتا ہے؟۔اگر برعکس عورت مال خرچ کرتی ہو مگر خائنہ ہو توپھرکیا شوہر اس کو افضل سمجھے گا؟۔

عورت کو عزت کامحافظ اللہ نے بنایا۔ زناکی سزا100، عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے ہے ۔ فطری خائن شوہرکو زیادہ عورتوں سے نکاح کاکہا۔ عصٰی اٰ دم ربہ فغوٰی (طٰہٰ:121)”آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی توبہکا”۔محرک حواء نہ تھی۔

اوالتٰبعین غیر اولی الاربة من الرجال ” ان تابع مردوں سے جو ٹھرکی نہ ہوں ،عورتوںکو اپنی زینت چھپانے کا حکم نہیں ”۔ (سورہ نور:31)

سوال: پھر عورت کے مارنے کا حکم کیوں دیا ؟۔

جواب : شوہر طیش میں مارتاہے، منصوبہ بندی سے بیوی کو نہیں مارتا تو اللہ نے مار سے بچانے کیلئے واضح کیا کہ مارنے سے پہلے ایک مرحلہ میں سمجھاؤ۔ پھر دوسرے مرحلہ میں بستر الگ کرلو۔ پھر تیسرے مرحلہ میں مارو لیکن اس کی اصلاح ہو تومارنے کیلئے راستہ مت ڈھونڈو۔مارنے کیلئے کیا منصوبہ ہوگا؟۔

پھول مارنا ،ہاتھ اٹھانا ناقابل برداشت انسلٹ توہین ہے لیکن بیوی بہت وفادار ہوتی ہے اوربڑی مارکھاسکتی ہے مگرشوہر سے جداپھر بھی نہیں ہوتی۔

شوہر بیوی کو رنگے ہاتھ پکڑلے تو بھی تشدد نہیں لعان کرسکتا ہے اور عورت لعان میں جھوٹ بولے اور شوہر سچا ہو تو تب بھی عورت کو سزا نہیں ہوگی۔

موسٰی نے ہارون کو داڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک شخص کو مکا ماراتومرا۔ بیوی کو مارتے تو؟۔ 3 مراحل کی مار اور 3 مرتبہ کی طلاق کوہم نے کہاں تک پہنچادیا ؟ ، توراة اورانجیل کے ساتھ یہود اور نصاریٰ نے یہی کچھ کیا تھا۔

یہود نے تورات سے حلالہ کی لعنت کو رائج کردیا تھا اور نصاریٰ نے طلاق کا تصور ہی ختم کردیا تھا۔ قرآن نے جب ان کے درمیان اس افراط وتفریط کو اپنی واضح آیات سے ختم کردیا تو اس کے نتیجے میں انہوں نے قرآن کیخلاف ایک منظم پروپیگنڈہ کیا تھا کہ اللہ کی آیات کو جو تورات اور انجیل میں تھیں مٹادیاہے اور بھلا دیا گیا ہے۔

مثلاً آج قرآن سے سورہ بقرہ آیت 230 کو نکال دیا جائے تو ایک طرف حلالے کا تصور ختم ہوگا اور مسلمان بہت خوش ہوں گے کہ اللہ نے بڑا فضل کیا اور بہت بڑی مصیبت سے جان چھوٹ گئی لیکن دوسری طرف پھر قرآن کی آیات سے طلاق کا تصور بھی ختم ہوسکتا ہے اسلئے علماء ومفتیان قرار دیں گے کہ اللہ نے عدت میں بھی شوہر کو رجوع کا یکطرفہ اختیار دیا ہے اور عدت کے بعد بھی رجوع کا اختیار دیا ہے جس کی وجہ سے عورت کی آزادی بالکل ہی سلب ہوجاتی ہے۔ کوئی شوہر نہیں چاہتا ہے کہ اس کی بیوی سے طلاق کے بعد کوئی اور شخص ازوداجی تعلق رکھے۔ کمزور کے خلاف ویسے بھی قانون ہی قانون بنتے ہیں۔ قرآن کی آیات میں میں عورت کے تحفظ کی کوئی کمی اللہ نے نہیں چھوڑی ہے لیکن پھر بھی سارے حقوق علماء وفقہاء نے سلب کرلئے۔

مثلاً آیت 226 البقرہ میں ایلاء کے بعد شوہر کو عدت میں بھی رجوع کا یکطرفہ اختیار نہیں ہے۔ عورت راضی ہوگی تو شوہر رجوع کرسکتا ہے۔ جب نبیۖ نے ایلاء کے بعد رجوع کیا تواللہ نے کہا کہ سب ازواج کو طلاق کااختیار دو۔ اگر وہ نہیں چاہیں گی تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

آیت 228 البقرہ میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق شوہر کو دیا مگر اصلاح کی شرط کو نکال کر فقہی مسائل کا کباڑخانہ بنادیا گیا ہے۔

229البقرہ میں معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے لیکن معروف یعنی صلح و اصلاح کی شرط کونکال کر رجوع کو بڑا مذاق بنادیا گیاہے ۔
یہی حال دیگر آیات 231، 232 البقرہ اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات کابھی کیا گیا ہے ۔

تمام آیات میں عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آیت 230 البقرہ میں یہ حلالہ ملعونہ کا کمال ہے کہ میرا بھی حقائق کی طرف دھیان گیا ہے۔عورت کے حق کی اللہ نے رجوع کیلئے بھرپور وضاحت کی ہے اور دنیا کے سامنے حقائق آجائیں تو مسلمانوں کی بہت زیادہ ملامت کریں گے۔ تورات اور انجیل کی آیات میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے بلکہ بہتری لائی گئی ہے لیکن اس بہتری کی جگہ علماء نے قرآن کے احکام کا بیڑہ غرق کردیا۔ ایک طرف یہ بتایا کہ احکام کی کل آیات 500 ہیں تو دوسری طرف یہ بھی بتایا کہ 500 آیات منسوخ بھی ہوچکی ہیں اسلئے قرآن کی کسی ایک آیت کے حکم پر بھی فقہاء کا کوئی اتفاق نہیں ہے۔ اصول فقہ میں جتنی آیات پڑھائی جاتی ہیں ان پر اختلافات اور تضادات ہیں۔

ماننسخ من آیةٍ او ننسھا نأت بخیرٍ منھا او مثلھا الم تعلم ان اللہ علی شی ئٍ قدیر O ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہترلاتے ہیں یا اسی کی طرح، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورہ البقرہ ۔ آیت106)

اس آیت سے کون تصور لے سکتا ہے کہ اللہ نے کسی آیت کو منسوخ کرکے پہلا حکم بدل دیا ہے؟۔ یہ تو دلیل ہے کہ پہلے سے موجود آیت کو مزید بہتری یا پھر اسی جیسی آیت نازل کی گئی ہے۔ کوئی تبدیلی کا تصور اس میں نہیں دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ، عدالت اور دنیا کے کسی بھی تعلیمی اداروں میں اس کی حقیقت سمجھنے کیلئے پیش کردو تو کوئی دشواری اس میں نہیں۔

اللہ نے فرمایا:” اور تمہاری عورتوں میں سے کوئی بدکاری کرے تو اپنوں میں سے چار گواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دیں تو اس کو گھر وں میں روکے رکھو۔ یہاں تک کہ ان کوموت سے وفات آجائے یا پھر اللہ ان کیلئے کوئی راہ نکال دے”۔ (البقرہ:15)

جیسے شوہر لعان کے بعد گھر سے باہر نکال دیتا ہے۔ اس طرح کوئی عورت ماحول کو بگاڑ رہی ہو تو معاشرے میں اس کی شکایات آتی ہیں۔ جس پر اس عورت کو تادم حیات بند کرنے کا حکم ہے اسلئے کہ ایسی گرم عورتوں سے لوگوں کے گھر اور بچے بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ اگر عملی طور پر کوئی ایسی عورت کو دیکھا جائے گا تو ”میرا جسم میری مرضی” والی بھی اس کو گھر میں نظر بند رکھنے پر متفق ہوں گی۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی راستہ اللہ نکال دے۔ شوہر اس کو مل جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی متبادل حکم نازل ہوجائے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن کے مضامین اس پر کتابی شکل میں موجود ہیں جس میں حماقت کی انتہا کی گئی ہے کہ اس آیت سے ”رجم” مراد ہے۔

جہاں تک سورہ نور کی آیت میں 100 کوڑے کی سزا کا حکم ہے تو سزا کیلئے عورت اور مرد کو ایک ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے یا اقرار جرم کی صورت میں ہے۔ اس میں بھی رجم نہیں۔ بہت ہی محترم اور اچھے ویلاگر بلال غوری نے عمران اور بشریٰ بی بی پر انتہائی گھناؤنی تہمت لگانے کا ذکر کیا ہے۔ اگر اس بات کو واقعی درست سمجھ لیا جائے کہ عمران خان اور بشری بی بی کئی بار پکڑے گئے تو بھی80کوڑے کی سزا اس نوکر گواہ کو ملتی مگر یہاں معاملہ کچھ اور تھا۔

سورہ نور میں اللہ نے یہ واضح کردیا کہ زنا کار مرد کا نکاح زنا کار عورت سے کرادیا جائے۔ پھر بھی شریعت کا تقاضہ یہی تھا کہ ان دونوں کی آپس میں شادی کرائی جائے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے تدوین القرآن میں مولانا عبیداللہ سندھی اورمولانا محمد حنیف ندوی وغیرہ نے اس پر بہت اچھا لکھا ہے لیکن اگر تسلی بخش نہیں تو میں تسلی کرواسکتا ہوں اور کئی مرتبہ اس پر لکھ بھی چکا ہوں۔ جاویداحمد غامدی نے بھی ان لوگوں سے استفادہ کیا ہوگا لیکن جاویداحمد غامدی کی یہ بات سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ ” آیت میں نسخ کی مثال سورہ مجادلہ کی آیات ہیں کہ اللہ نے فرمایا کہ ”جب تم نبی سے سرگوشی کرو تو صدقہ دو”۔ پھر دیکھا کہ ”مؤمن اس سے ڈر گئے تو اللہ نے معاف کردیا کہ” مت دو” اور حکم بدل دیا۔ حالانکہ اس عظیم الشان حکم میں بڑی حکمت پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ اگر مذہبی شخصیت سے امیرآدمی کی خصوصی ملاقات سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہو تو یہ غریب غرباء کیلئے زبردست ہوگا۔ لیکن اگر وہ نہیں دینا چاہے تو اس کی عزت بھی پھر خصوصی ملاقات سے نہیں بڑھے گی۔ سینیٹر طلحہ محمود کو علماء نے نماز کیلئے بھی آگے کیاتھا۔ پھر زرداری کی پارٹی میں چلاگیا۔

غامدی کا بھی کوئی ATM ہوگا اگر اس کو حکم ہو کہ غرباء کو صدقہ دو تو ATM کی حیثیت صدقے سے بنے گی۔ اگر غریب کو کچھ نہ دے تو غامدی کو بھی ہدیہ دینا بیکار ہوگا۔ یہ ا س حکم کی حکمت ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمد کے پروگرام میں افغانستان کا نائب سفیر حبیب اللہ فوزی میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھا ہوا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے 10 لاکھ کا چیک پیش کیا۔ ملاعمر نے ملاقات کیلئے یہ فیس رکھی تھی اور افغانستان کے انتظام میں اس سے مدد ملتی ہوگی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ منسوخ کے بارے میں آیت کا متن سمجھے بغیر کئی آیات کو مضحکہ خیزانداز میں منسوخ قرار دیا گیا۔ بیوہ کو سال تک نہیں نکالنے کو عدت سے منسوخ قرار دینا حماقت ہے۔ اگرشادی کرنا چاہتی ہو تو عدت ہے اور نہیں کرنا چاہتی ہو تو ایک سال تک نہیں نکالنا فطرت ہے۔ جاوید احمد غامدی پڑھاکو بچہ ہے۔ پڑھ پڑھ کے دماغ خراب ہوا ہے اور ناسخ ومنسوخ کے چکر میں پتہ نہیں کہاں جاکر دم لے گا؟۔وہ حمیدالدین فراہی کو دین کی تعبیر جدید کا بانی اور مولانا مودودی کو اسلاف کی تفسیر کی آخری کڑی قرار دیتا ہے مگر یہ خام خیالی ختم ہے۔

تفسیر کیلئے دماغ سوزی اور لغات میں گمراہ کن تعبیرات ڈھونڈ کر اسلام کو مزید اجنبیت کی طرف دھکیلنا بڑی حماقت ہے۔ علماء وفقہاء کی مصیبت یہ تھی کہ نماز کی رکعتوں میں تین مختصر سورتوں میں بھی درمیان کی سورت چھوڑنا ممنوع قرار دی تاکہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا تصور قائم نہ ہوجائے ۔اور پھر طلاق کے مسائل میں حلف کو داخل کردیا۔ جدید مفسرین نے سلیس انداز میںگمراہی کو عام فہم بنادیا اور غلام احمد پرویز نے تبویب القرآن میں آسمان و زمین کی قلابیں ملاکر نئی تعبیر ایجاد کی مگرعلامہ بنوری کے تقویٰ ، درخواستی کی قربانی ، حاجی عثمان کی صحبت ، والدہ کی محنت ، اجداد کی برکت، مولانا نصراللہ کی دعا اور نبیۖ کی رحمت نے مجھے اعزاز بڑا بخش دیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی رشید ، مفتی حنیف قریشی اورمفتی طارق مسعود کیلئے تحریری تحفہ

قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا ”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑرکھا تھا”(الفرقان)اورفرمایا” جیسا ہم نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیاہے”(الحجر)۔ علماء کا طلاق و دیگر مسائل پر یہی کردار ہے۔

جو علماء ومفتیان قرآن، سنت اور خلفاء راشدین پر متفق ہیں اورمسئلہ طلاق پر قرآن میں ڈھیر ساری وضاحتوں کے باوجود متفق نہیں ہیں اور دجالی میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں تویہ بتادیں کہ قرآن پر متفق کیوں نہیں ہوتے؟۔ قرآن کو کیوں چھوڑ رکھا ہے اور قرآن کو چھوڑ کر تیسری صدی ہجری میں لکھی جانے والی روایات وحدیث کی کتابوں میں کیوں امت کو الجھاتے ہیں؟۔ روایات سے قرآن کو بوٹی بوٹی بنانے کے جرم کے مرتکب کیوں بنتے ہیں؟۔

قرآن میں عدت تین مراحل یا بچے کی پیدائش ہے اور اس میں شوہر کو باہمی اصلاح کی بنیاد پر اللہ نے رجوع کا حق واضح کیا ہے۔ (البقرہ: 228)

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صلح کے بغیر شوہر عدت میں ایک طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دومرتبہ طلاق کے بعد بھی معروف طریقے رجوع کرنے یا رخصت کرنے کی اجازت واضح کردی۔ (البقرہ: 229)

اللہ کا حکم معروف رجوع واضح ہے کہ صلح اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے قرآن میں تضاد نہیں۔
حنفی اور شافعی مسالک کے نام پر قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیاگیا۔ حنفی کے نزدیک نیت نہیں ہو تب بھی شہوت کی نظر پڑگئی تو رجوع ہے اور شافعی کے ہاں نیت نہ ہو تو جماع سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ قرآن میں باہمی صلح واصلاح اور معروف کو کتوں کی طرح نوچ نوچ کر بوٹی بوٹی بنادیا ہے۔ TV کے اینکر اور یہ مولوی سب مل کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

مولانا سلیم اللہ خان ، علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح”کشف الباری” اور ”نعم الباری ” میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت تمیم داری نے نبی ۖ سے پوچھا کہ ” قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ تونبیۖ نے فرمایا کہ آیت 229 البقرہ میں دو مرتبہ طلاق اور معروف یا تسریح باحسان اچھے انداز میں رخصت کرنا تیسری طلاق ہے”۔ آیت 228 میں عدت کے تین ادوار کی وضاحت ہے اور آیت 229 میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔

سورہ طلاق میں کی پہلی آیت میں بھی عدت کے 3 مراحل میں 3 مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔

کتاب التفسیر ، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت صحیح بخاری میں نبیۖ نے واضح کیا کہ 3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3ادوار سے ہے۔ جب اللہ نے رجوع کا تعلق عدت سے قرار دیا ہے اور نبیۖ نے بھی یہ سمجھایا ہے تو پھر مجہول روایات سے عورتوں کی عزتیں برباد کرنے کا دھندہ کیوں نہیں چھوڑا جاتا ہے؟۔

جامعة الرشید کے مفتی رشیدنے کہا کہ ایک شخص کے بارے میں نبیۖ کو خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کررہے ہو ۔ جب کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔

1:اس حدیث کا ذکر بخاری ومسلم میں نہیں۔

2:یہ واحد حدیث ہے جو حنفی مسلک میںاکٹھی تین طلاق کو بدعت اور گناہ قرار دینے کی دلیل ہے جس کو شافعی تسلیم نہیں کرتے۔

3:شافعی کے ہاں واحددلیل عویمر عجلانی کا واقعہ ہے جس سے اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دیتے ہیں جس کو حنفی نہیں مانتے۔

4:اس حدیث میں مجہول شخص عبداللہ بن عمر اور قتل کی پیشکش والے حضرت عمر تھے۔

5:یہ واقعہ بخاری میں زیادہ واضح ہے جہاں رسول اللہۖ غضبناک ہوئے اور رجوع کا حکم بھی دے دیا اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہے۔

6:صحیح مسلم میں ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھ تک ایک مستند راوی سے یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں ۔پھر 20 سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔ اسکے بعد ایک زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ منصوبہ بندی سے ہی روایات مستند لوگوں نے بگاڑے اور اگر نام بتائے جاتے تو سب ہی اس پر تبصرہ کرتے۔کیا اس کی وجہ سے قرآن پر قصائی کاٹوکا چلایا جا سکتا ہے؟۔

اگر ہم مان لیں کہ مجہول حدیث حقائق کے بغیر درست ہے تو بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وہ شخص رجوع کرنا چاہتا تھا اور نبیۖ نے حلالہ کرنے حکم دے دیا۔ اگر وہ رجوع چاہتا تو نبیۖ آیت 228 البقرہ اور سورہ الطلاق کے مطابق پھر بھی بغیر حلالہ کے رجوع کا حکم فرماتے۔

جہاں تک بخاری کی روایت ہے کہ رفاعہ نے بیوی کو تین طلاق دی، پھر اس نے عبدالرحمن القرظی سے نکاح کیا اور نبیۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ اسکے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے۔نبیۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ؟ اور نہیں جاسکتی یہاں تک آپ اس کا شہد چکھ لو جیسے کہ پہلے شوہر کا شہد چکھا اور وہ بھی تیرا شہد چکھ لے۔

بخاری نے اس کو اکٹھی تین کیلئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

1:چاروں مسالک بخاری کی اس بھونڈی حرکت کو تسلیم نہیں کرتے کہ ایک ساتھ تین طلاق کیلئے یہ حدیث دلیل ہے۔

2:بخاری میں بھی اسکے برعکس دو حدثیوں میں یہ نقل ہے۔ ایک میں یہ واضح ہے کہ رفاعہ نے الگ الگ طلاقیں دی تھیں۔ دوسری میں عبدالرحمن بن زبیرالقرظی نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں اس کی چمڑی مردانہ طاقت سے ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں۔

3:نامرد سے حلالے کا کوئی بھی قائل نہیں تو نبیۖ کی طرف اس ظلم کو منسوب کرنا بہت بڑی گستاخی ہے۔

بخاری کو غلط پیمپر پہنانے ، خواتین کی عزتوں کو تار تار کرنے اور لوگوں کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کیلئے ان علماء ومفتیان نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ یہ سارے دلائل اور اس سے کہیں بڑھ کر ہم بار بار دے چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے مسلکوں کے دنیادار لوگوں سے مال بٹورنا ہے اور غریبوں کا عقیدت کے نام پر استحصال کرنا ہے۔

اکابرصحابہ اور تابعین کی طرف من گھڑت قصے نقل کئے گئے ہیں۔ حضرت عمر نے تنازعہ کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق پر ٹھیک فیصلہ دیا اسلئے کہ جب ایک طلاق کے بعد بھی عورت راضی نہ ہوتو صلح کے بغیر قرآن نے رجوع کو منع کردیا ہے۔ حضرت عمر مفتی نہیں حکمران تھے ۔جو لوگوں کے درمیان قرآن پر فیصلہ کرتے تھے۔ علی برسراقتدارآگئے تو ایک شخص نے بیوی کو حرام کہا تھا۔عورت صلح پر راضی نہیں تھی تو علی نے فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا، قرآن کا یہی تقاضا تھا۔ عمرنے حرام کے لفظ پر رجوع کا فیصلہ دیا تھا، اسلئے کہ عورت راضی ہوگئی تھی۔ قرآن ہی نہیں روایات و صحابہکے فیصلوں کا بھی کباڑہ کیا ہواہے۔

قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں تضادات نہیں ہیں۔ صرف اور صرف ایک حدیث ہے جس کو امام شافعی نے طلاق سنت کی دلیل بنایا ہے اور وہ لعان کے بعد عویمر عجلانی کی حدیث ہے۔ اس میں حلالہ کا کوئی سوال نہیں بلکہ قرآن کی تفسیر ہے کہ اگر عورت نے فحاشی کا کھلا ارتکاب کیا تو عدت میں بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ جیسے سورہ طلاق میں واضح ہے۔

متقدمیں علماء میں حلالہ کا چکر نہیں تھا، ان کا اس بات پر اختلاف تھا کہ اکٹھی تین طلاق کا دینا سنت ہے یا بدعت؟۔اسلئے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو یہ مصلحت کے خلاف ہے۔ پھر تنازع بڑھا تو سنت وبدعت میں بٹ گئے۔ مزید معاملہ بڑھاپھر حضرت عمر پر سوال اٹھ گیا؟۔پھر آخرکار حلالہ تک نوبت پہنچ گئی اور آج یہ کاروبارہم خرما وہم ثواب ۔

فاطمہ بنت قیس کے متعلق احادیث میں مرحلہ وار طلاقوں کاذکر ہے اور اکٹھی3 طلاق کا بھی۔ جن میں تطبیق یہ ہے کہ ناگوار صورت کی وجہ سے اچانک تین طلاق دی اور پھر مرحلہ طلاقیں دیں ۔ عدت نابیناحضرت عبداللہ بن مکتوم کے پاس گزاری۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” فاطمہ بنت قیس اپنے حق سے محرومی کی بات نہ کرتی تو یہی اس کیلئے بہتر ہوتا۔ عبداللہ بن عباس کے شاگردوں کا اختلاف بھی اس بنیاد پر تھا کہ جب تین طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی ہوتی تو رجوع کا فتویٰ دیا اور عورت راضی نہ ہوتی تو عدم رجوع کا دیتے۔

البقرہ آیت 229 میں تین مرتبہ طلاق کے بعد دیا ہوا مال واپس لینا حلال نہیں مگر جب دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کو خدشہ ہے کہ اس سے رابطہ ہوگا تو دونوں جنسی تعلق سے اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ فدیہ عوض اور خلع نہیں ہوسکتا بلکہ فدائی حملے کی طرح قربانی مراد ہے ۔تاکہ عورت کی عزت محفوظ ہو۔ پھر رجوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسلئے اسکے بعد اللہ نے فرمایا: ”پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاںتک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” (البقرہ آیت:230)

اس کے بعد البقرہ آیات 231 اور 232 میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کی اجازت دی ہے بلکہ اس کی زبردست تاکید سے وضاحت فرمائی ہے۔

سورہ تحریم میں بیوی کو حرام قرار دینے کی بڑی وضاحت ہے لیکن فقہاء نے چارخلفائ ، چار ائمہ اور ایک درجن دیگر تضادات سے اس کی 20 بوٹیاں بنادی ہیں جو ابن قیم کی کتاب زارالمعاد میں ہیں۔

جس سے قرآن کی پہلی FIR ثابت ہوگئی۔

وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذا لقراٰن مھجورًاO(سورة الفرقان:30)
”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔
سورہ تحریم کو دیکھتے تو اجتہادی غلطیاں نہ کرتے اور قرآن چھوڑنے کے جرم کا ارتکاب سرزد نہ ہوتا۔

قرآن کی دوسری FIR بھی ثابت ہوگئی۔
لا تمدن عینیک الٰی ما متعنا بہ ازاوجًا منھم ولاتحزن علیھم واحفض جناحک للمؤمنین O وقل انی انا النذیر المبین O کما انزالنا علی المقتسمین O الذین جعلوا القراٰن عضین O فوربک لنسالنھم اجمعین O عما کانوا یعملونO فالصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین O انا کفیناک المستھزئین O الذین یجعلون مع اللہ الٰھًااٰخر فسوف یعلمونO

”اپنی آنکھیں اٹھاکربھی مت دیکھو جو ہم نے ان کو چیزیںدے رکھی ہیں۔اپنے بازومؤمنوں کیلئے جھکائیںاورکہو کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ جیساہم نے بٹوارہ کرنیوالوں پر نازل کیا،جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا۔پس تیرے رب کی قسم ہم ضروربضروران سے پوچھیں گے جو وہ کرتے تھے۔پس آپ دھماکہ کردو جس کا تجھے حکم ہے اور مشرکوں سے پہلوتہی برت لو”۔( حجر:88تا94)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv