پوسٹ تلاش کریں

بندیالوی کی امام حسین کیخلاف بک بک اور اس پر تبصرہ

بندیالوی کی امام حسین کیخلاف بک بک اور اس پر تبصرہ

 

اپنے مخصوص انداز خطابت میں علماء دیوبند سمیت اکابرین اہل سنت پر طعن کرتے ہیں کہ جب وہ حسین کے مقابلے میں یزید کو باطل قرار دیتے ہیں تو یہ اہل تشیع کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں۔ اگر حسین کا نکلنا درست تھا تو پھر اکابر صحابہ عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ ابن عباس کے بارے میں کیا جواب ہے؟۔ اگر یزید باطل تھا تو حسین نے تین شرائط کیوں رکھیں؟۔ کیا باطل سے صلح ہوسکتی ہے؟۔ کیا عمران خانPDMکی حکومت سے صلح کرلے گا؟۔ غیرت کا تقاضہ کیا ہے؟۔
علامہ بندیالوی نے غیرت کا جو پیمانہ رکھا ہے تو کیا نبی ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ نہیں کیا تھا؟ اور غزوہ احد میں کون بھاگے تھے؟۔ جن کو اللہ نے کہا کہ محمد ۖ تو ایک رسول ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھرو گے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں میں عبد المطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں۔ جب اللہ نے موسیٰ سے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خوف کھایا اور جب فرعون کا لشکر پیچھا کررہا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر آگے بھاگ رہے تھے تو کیا یہ غیرت اور بے غیرتی کا مسئلہ تھا۔ ہمارا تو ایک ایسی ریاست سے تعلق ہے جس نے افغان طالبان کے مقابلے میں امریکہ کیلئے صف اول کا کردار ادا کیا۔طالبان اور صدام حسین کیخلاف شیعہ امریکہ کے ساتھ تھے۔ پتہ نہیں بندیالوی نے غیرت سیکھی کہاں سے ہے؟۔ مکی دور میں شعب ابی طالب کس کے نام پر ہے؟۔ حسن نے امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوکر اور حسین نے یزید کے خلاف نکل کر بہترین کردار ادا کیا۔ اسی لئے تو نبی ۖ نے ان کو جوانان جنت کے سردار قرار دیا تھا۔ اگر یہ کردار نہ ہوتا تو جنت کی سرداری مفت میں ملی؟۔ جو سوال شیعہ صحابہ پر وہی بندیالوی حسین پراٹھارہا ہے اور دونوں کا طرز عمل بالکل غلط ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حلالہ سے پیدا ہونے والے بچے کو مفتی اعظم اور شیخ الاسلام بنایا جائے تو وہ مسائل حل کردے گا؟

حلالہ سے پیدا ہونے والے بچے کو مفتی اعظم اور شیخ الاسلام بنایا جائے تو وہ مسائل حل کردے گا؟

ایک انسان کا قتل تمام انسانیت کا قتل، ایک عورت کا حلالہ انسانیت کا حلالہ اور حلالہ سے ایک بچے کی پیدائش انسانیت کی توہین ہے مگر بعض بے حیا ء عادی مجرم بنے ہیں

علماء حق ، حکومت، ریاست ، عدالت اور صحافت کو قرآن و حدیث کے نام پر حلالے کادھندہ روکنا چاہیے ۔ عوام تبلیغی جماعت اوردعوت اسلامی کی طرح میدان میں نکل کرکام شروع کردیں

حلالہ کروانے گئی اس نے مجھے حاملہ کردیا۔ طلاق کے بعد پہلے شوہر کے پاس واپس آگئی
مولانا مسعود نقشبندی صاحب ! اب وہ بچہ کس شوہر کا ہوگا؟۔

السلام علیکم رحمة اللہ وبرکاتہ۔ ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ مولانا صاحب ایک عورت اگر کسی سے حلالہ کرواتی ہے اور جس سے حلالہ کروایا جارہا ہے وہ بندہ اس عورت کو حاملہ کردیتا ہے۔ یعنی کہ وہ عورت حاملہ ہوجاتی ہے حلالے سے۔ اب ظاہری بات ہے جب حلالہ کروایا جارہا ہے تو اس میں ہمبستری بھی ہوتی ہے۔
ہمبستری کے بغیر تو حلالہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ تو اس نے انزال اندر کردیا جس سے عورت حاملہ ہوگئی حالانکہ اجازت ہے آپ کنڈوم بھی استعمال کرسکتے ہیں اور باہر بھی انزال کرسکتے ہیں ضروری نہیں ، بس ہمبستری کرنا ضروری ہوتا ہے اس کے اندر کہ مرد عورت کی لذت حاصل کرلے عورت مرد کی لذت حاصل کرلے اتنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کیلئے اندر منی خارج کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
لیکن اس مرد نے اندر منی خارج کردی تو اس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی ہے۔ اب وہ بندہ جس نے حلالہ کیا ہے اس نے اسکے بعد طلاق دیدی۔ طلاق کے بعد پہلے عدت گزاری پھر پہلے شوہر کے پاس آگئی۔ اب ظاہری بات ہے کہ اس کی جو عدت ہے ، یاد رکھئے کہ جو حاملہ عورت ہوجاتی ہے طلاق کے بعد اس کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ یعنی جب بچہ پیدا ہوگا اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔
اب ظاہری بات ہے اس نے حاملہ کیا اب9مہینے تک اس کو انتظار کرنا پڑے گا کہ بچہ پیدا ہوگا۔ جب بچہ پیدا ہوگا اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ اب جب عدت ختم ہوئی ہے اب وہ پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔ اب اس صورت کے اندر وہ عورت حاملہ ہوئی ہے جو بچہ ہے اس کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے آیا کہ وہ پہلے شوہر کا ہوگا یا دوسرے شوہر کا ہوگا؟۔ اس کا یہ سوال تھا۔
تو اس کا سمپل سا جواب یہ ہے کہ عقلی طور پر دیکھا جائے کہ جو عورت حاملہ ہوئی ہے وہ جو بچہ ہے وہ پہلے شوہر کا ہے جس سے عورت حاملہ ہوئی ہے۔ اس کا بچہ ہے یہ والا چہ جائیکہ وہ دوسرے کا بچہ ہو۔ وہ پہلے کا ہی بچہ ہے یعنی جس مرد نے اس کو حاملہ کیا ہے اس کا دوسرا شوہر جس سے اس نے حلالہ کیا ہے اس کا بچہ ہے وہ۔ اس کے نام کے ساتھ جو نام لگے گا جس سے حلالہ کروایا ہے اس کا نام لگے گا ۔ پہلا شوہر ہے جس کے پاس دوبارہ جارہی ہے اس کا نام نہیں لگے گا اس کے ساتھ۔ اب وہ الگ بات ہے کہ وہ کہتا ہے کہ آپ رکھ لو وہ رکھ لیتے ہیں میاں بیوی دونوں مل کر۔ وہ الگ مسئلہ ہے لیکن جو باپ حقیقتاً اس کا باپ ہے وہ وہی ہے جس نے اس کو حاملہ کیا ہے۔ تو یہ تھا آج کا مسئلہ مجھے امید ہے کہ آپ کو مسئلہ سمجھ آگیا ہوگا۔ مولانا مسعود نقشبندی

____تبصرہ____
رفاعة القرظی نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو عورت نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا۔ پھر نبی ۖ کو دوپٹے کا پلو دکھایا اور کہا کہ شوہر کے پاس یہ ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعة کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟۔ نہیں جب تک دوسرے شوہر کا ذائقہ پہلے شوہر کی طرح نہ چکھ لو اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے۔(صحیح بخاری)
بخاری میں یہ بھی ہے کہ رفاعة نے عدت میں مرحلہ وار3طلاق دیں اور یہ بھی ہے کہ دوسرا شوہر بہت مارتا پیٹتا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ بہت مارنے کے نشان تھے اور شوہر نے نبی ۖ کی خدمت میں اپنی بیگم کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہاکہ میں اپنی مردانہ قوت سے اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھتا ہوں۔ اگر صحیح بخاری کی ان تینوں حدیث کو سامنے رکھا جائے تو حلالے کاسارا کھیل ختم ہوگا۔ مسلک حنفی کی تائید میں ایک حدیث ہے کہ اکٹھی تین طلاق بدعت مگر واقع ہوجاتی ہے۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے ”کشف الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ۔ محمود بن لبید سے روایت ہے کہ نبی ۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی۔ نبی ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان ہوں؟۔ ایک شخص نے کہا کہ اس کو قتل نہ کردوں؟۔ (ترمذی)۔ سوال یہ ہے کہ وہ شخص کون تھا جس نے قتل کی پیشکش کی ؟ ، تو روایات سے واضح ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم تھے اور جس نے ایک ساتھ3طلاق دی تھی ،جس پر نبی ۖ غضبناک ہوئے تھے تو وہ عبداللہ بن عمر تھے۔
صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق میں ہے کہ عبداللہ نے بیوی کو حیض میں طلاق دی، حضرت عمرنے نبیۖ کو خبر دی تو رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے پھر عبداللہ سے رجوع کا فرمایا اور سمجھایا کہ پاکی کے دنوں میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں ،اگر رجوع چاہو تو رجوع کرلو اور چھوڑ نا چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو۔ یہ وہ طلاق ہے جس کا اللہ نے عدت میں دینے کا حکم فرمایا ہے۔ یہ حدیث بخاری کتاب العدت،الطلاق اورالاحکام میں ہے۔ اور حسن بصری نے کہا کہ مجھے ایک مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ نے تین طلاقیں دی تھیںاور20سالوں تک کوئی دوسرا شخص نہیں ملا ،جس نے اس کی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور مستند شخص نے کہا کہ عبدللہ نے ایک طلاق دی تھی۔( صحیح مسلم ) عبداللہ بن عمر کے واقعہ سے متعلق ضعیف ومن گھڑت روایات کی بھرمار ہے اور یہ روایت سب سے زیادہ مستند ہے کہ عبداللہ نے کہا کہ اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبی ۖ رجوع کا حکم نہ فرماتے ۔ (صحیح بخاری) اس روایت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کا اس میں انکار ہے بلکہ مطلب واضح ہے کہ اگر عبداللہ نے قرآن کے مطابق مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق دی ہوتی تو نبی ۖ غضبناک بھی نہ ہوتے اور رجوع کرنے کا حکم بھی نہ دیتے۔
حسن بصری نے کہا کہ بیوی سے کہناکہ آپ مجھ پر حرام ہو ، تو بعض علماء کے نزدیک یہ تیسری طلاق ہے اور یہ کھانے پینے کی اشیاء کی طرح حرام نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے گی۔ (صحیح بخاری) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس نے کہا کہ بیوی کوحرام کہناکچھ نہیں طلاق اور نہ قسم اور کفارہ اور یہی نبی ۖ کی سیرت ہے۔ سورۂ تحریم میں ہے کہ نبی ۖ نے ماریہ قبطیہکیلئے حرام کہا اور اللہ نے منع فرمایا۔ حسن بصری نے جن علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے، عبداللہ بن مسعود کی روایت میں بھی ا ن علماء کی تردید ہے ۔ نبی ۖ سے صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم خود کو خصی نہ بنالیں؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ نہیں، جو تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ پہنچ کر رہتا ہے۔ تم ایک دوچادر کے بدلے متعہ کرلو۔ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت ”حرام مت کرو جو اللہ نے حلال کیا ہے تمہارے لئے پاکیزہ چیزوں میں سے ”۔ (صحیح بخاری ) علماء ومفتیان قرآن وسنت کے منافی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ چھوڑ دیں گے تو پھرعورت کی عزت سے کھلواڑ بند ہوجائے گا۔
ہم نے قرآن وسنت اور اصول فقہ کے دلائل سے بار بار مختلف انداز میں حلالہ کی لعنت کی تردید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس بار مزید اچھے انداز سے تفصیلات سمجھا دی ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد علماء و مفتیان قرآن وسنت اور اصول فقہ کی طرف توجہ دیں گے اور بڑی بڑی مجالس کا انعقاد شروع کریں گے جس سے صرف حلالہ کی لعنت ختم نہیں ہوگی بلکہ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی المرتضیٰ کے درمیان بھی مکمل اتفاق رائے دکھائی دے گا۔ شیعہ اور اہلحدیث بھی ضروردرسِ نظامی کے اس حنفی مسلک کی تائیدکریں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا شیر شرافت علی

ہمارا شیر شرافت علی

نبی ۖ نے فرمایا : الکاسب حبیب اللہ”محنت کش اللہ کا حبیب ہے”۔یہ محنت کش وہ اللہ والے ہیں جن کوپیری کے لبادے کی ضرورت نہیںہے۔

ادارہ اعلاء کلمة الحق و نوشتۂ دیوار کا بے لوث کارکن اور رہنما شرافت علی ساتھی قاری صاحب اور ان کی شخصیت میں انوکھا رعب جھلکنے کی وجہ سے میںپیرپگاڑا کہتا تھا۔ شرافت کا مجسمہ ، سمجھدار ی کے باوجود سادہ طبیعت خوش مزاج انسان تھے۔ پاؤں میں کیل لگی ،ATSکا انجکشن نہ لگایا، خطرناک انفیکشن ہوا۔ جس کے بعد بچنے کی صورت نہیں ہوتی۔ قارئین! شرافت کے انتقال نے بھی احتیاط کا سبق چھوڑا ہے کہ قیمتی جان جاسکتی ہے۔ رنجش، لڑائی، بدمزگی اور ناچاقی کا کچھ نہ کچھ معاملہ ہوتا ہے لیکن مجسم شرافت سے کبھی کسی ساتھی کو مسئلہ نہیں ہوا، مچھلی پر کسی نے رنگ لگادیا تو شرافت نے کہا کہ واہ جی سرخی پاؤڈر میک اپ کیا ہے؟اس نے کہا کہ شرافت جاؤ دھندے کا وقت ہے۔یہ بات یادگار اسلئے تھی کہ شرافت کی زبان سے یہ ظرافت نکلی وہ شخص ناراض نہ ہوا۔ عتیق گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امریکہ آقاIMFکے ہم غلام مولانا فضل الرحمن

امریکہ آقاIMFکے ہم غلام مولانا فضل الرحمن

سیاسی ، دفاعی اور معاشی لحاظ سے ہم آزاد نہیں بلکہ بدمعاشوں کے غلام ہیں

پڑوسی ممالک سے بہترتعلقات ہوں تو بدمعاشوں کے مقابلہ میں بہتری آسکتی ہے

مولانا فضل الرحمن2014میں ایک انٹرویو۔ شک نہیں کہ ہم پسماندہ ہیں۔ علم کی کمی اور معیشت بہت کمزوری ہے لیکن کیا واقعی ہم آزاد ہیں؟ اور ہم گلہ کررہے ہیں کہ آزاد قوم کے ناطے ہم نے ترقی کیوں نہیں کی؟۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد کالونی ازم کا رواج ختم ہوا۔ اب نہ برطانیہ کہیں پربراہ راست حکومت کر رہا ہے ، نا ہی فرانس اور امریکہ کررہا ہے لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ دنیا کو براہ راست غلام بنانے کے بجائے انہیں بین الاقوامی اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں میں اس طرح جکڑ دیا گیا کہ طاقتور ملک کو کبھی ترقی کی طرف جانے نہیں دیتے۔ جس کا رقبہ بڑا ہو اور آبادی گنجان ہو۔کہ اس ملک میں پوٹینشل ہے۔چنانچہ تین حوالوں سے دنیا کو بین الاقوامی معاہدات اور اداروں کے توسط سے غلام رکھا جاتا ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی ۔ ان تین حوالوں سے پسماندہ اور ترقی پذیر دنیا کو غلام رکھنا اور ان کی ترقی کی حد متعین کرنا کہ اس سے آگے نہیں بڑھنا آپ نے۔ علم ، ٹیکنالوجی ، اقتصاد، دفاع جو بھی ہو۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، جنیوا انسانی حقوق کنونشن یا جو بھی بین الاقوامی ادارے ہیں وہاں سے جو ریزولیشن یا قانون صادر ہو، آپ کے ملک کا آئین و قانون اپنے ملک میں غیر مؤثر ہوجاتا ہے اور ان کا قانون اور فیصلہ آپ کے ملک میں مؤثر رہتا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ آپ واقعی آزاد طاقتور ہیں؟۔ جبکہ ان کے فیصلے آپ پر لاگو ہوتے ہیں۔ پانچ ممالک کی تو مونوپلی ہے کہ وہ تو ہیں بالاتر اور بااثر اور ترقی یافتہ دنیا اس سے باہر ہے۔ پھر ہم لوگ اور ہمارا موجودہ اقتصاد ی سسٹم کیا ہم آزاد ہیں؟۔ کیاIMFکے رحم و کرم پر اور ان کے لوگ ہمارا بجٹ نہیں بناتے؟۔ جو ہمیں ہاتھ میں پکڑواکر کہتے ہیں کہ اسمبلی میں اس کو پڑھو۔ کیا ایشین بینک، ورلڈ بینک، فرانس اور لندن گروپ کے قرضوں سے ہماری دنیا نہیں چل رہی ہے؟۔ تو جب ایک سطح پر پہنچتے ہیں تو اگر ہم ایک سیڑھی آگے گئے تو ہمیں دھڑام سے گرادیتے ہیں اور آپ کے ملائیشیا کے ساتھ ہوا ہے کہ وہ عروج پر پہنچا اور اس کو گرادیا گیا۔ دفاعی معاہداتCTBT،NPTپر وہ خود دستخط کرے نا کرے آپ دستخط کے پابند ہوجائیں، ایٹم بم میرا لیکن مالک وہ ہے، استعمال کا اس کو اختیار ہے مجھ پرپریشر ہے اپنا اسلحہ استعمال نہیں کرسکتا۔ تواسلامی دنیا ایٹم بم نہیں بناسکتی۔ اسرائیل کے پاس200،300یا400ایٹم بم ہیں لیکن عراق پر شبہ ہوا، تہ و بالا کردیا۔ تو اعتراف ہے کہ ہم کمزور ہیں لیکن اس کمزوری کو ہم پر کس نے مسلط کیا۔ ہم ہزار چاہتے ہیں کہ دلدل سے نکلیں ، ہماری جو جدوجہد ہے ہماری پارٹی کی جدوجہدکا بنیادی نکتہ خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح پڑوسی ممالک کو دو۔ ان کیساتھ جو تجارت ہوگی وہی آپ کے ملک کی اکانومی اور پیداواری شرح کو بڑھائے گی۔ قریبی ممالک آپ کے ساتھ تجارت کو فروغ دیں گے۔ وہ ممالک کہ جن کی مصنوعات کا معیار پاکستان سے کم تر ہے ۔ ان ممالک میں آپ کی مصنوعات کی طلب بڑھے گی ۔ لیکن جن ممالک کی مصنوعات کا معیار زیادہ ہے تو آپ درآمد کریں گے برآمدی قوت آپ کی بڑھے گی نہیں۔ لہٰذا تجارتی خسارے کے علاوہ آپ کے پاس کچھ ہوگا ہی نہیں۔ بین الاقوامی دنیا کے اس ولیج کے اندر جو میرا گھراور محلہ ہے سرداروں نے جو دنیا کے سردار ہیں اور بدمعاشوں نے کس طرح ایک شکنجے میں کسا ہے۔ آپ کی اور ہماری سوچ میں اختلاف نہیں ۔ مجبوریاں اور مقہوریاں ہیں اس سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے بارہا ہم کہہ چکے ہیں کہ بین الاقوامی دنیا امریکہ یورپ کے ساتھ ہم بہتر تعلقات اور دوستی چاہتے ہیں لیکن موجودہ تعلق کو آقا و غلام سے تعبیر کرتے ہیں یہ ہمیں قبول نہیں۔ جواب میںکہا جاتا ہے کہ کھاؤ گے اس کا تو پھر چلے گی بھی اس کی۔ قرضہ اور پیسہ اس کا ہوگا وہ حجم میں بڑا ہے اتنا بڑا امریکہ ، اس کے ساتھ برابری کا تصور یہ بیوقوفی کی باتیں تو کررہے ہو۔ تو میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے ۔ اگر حجم دلیل ہے تو پھر چین اور پاکستان کی قوت اور حجم میں بھی توازن کیا ہے؟۔ کیا ہم اتنا بڑا رقبہ ،اتنی بڑی آبادی اور فوج رکھتے ہیں؟۔ کیا اتنی بڑی معیشت ہے؟۔ اس کاGDPگیارہ فیصد پر گیا اور ہم ایک اور ڈیڑھ فیصد پر چل رہے ہیں۔ انڈیا9اور10پر گیا۔ بنگلہ دیش7پر چلا گیا ۔ ارد گرد آپ کے ہم عمر ممالک اور چھوٹی عمر کے ممالک آج اقتصادی لحاظ سے پرواز کرچکے ہیں۔ وہ ٹیک آف کرچکے اور آپ زمین پر بیٹھے ہیں۔ آپ ابھی ٹیکسی نہیں کرپارہے۔ آج اگر چین حجم، وسائل میں بڑا، ایک سپر طاقت، عام پاکستانی سے گلی کوچے میں پوچھو کہ چین کیسا ملک ہے؟، کہتے ہیں ہمارا دوست ملک ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک پاکستانی اس حجم کے تفاوت کے باوجود چین کو دوست کہہ رہا ہے اور امریکہ کو آقا کہہ رہا ہے۔ رویوں کی بات ہے ناں۔ رویہ ٹھیک اور دوستانہ کرلو ہم آپ کو دوست کہیں گے۔دوستوں کی طرح رہیں گے۔ اتنے طاقتور ہم نہیں کہ دنیا کے سامنے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ کا زمانہ نہیں، ریاستوں کی قوت دو چیزیں ہیں، اقتصاد اور دفاع۔مادی دو چیزیں ہونی چاہئیں۔ نظریہ معنوی چیز ہے وہ رہنمائی کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ دو چیزیں بنیادی عناصر ہونے کے باوجود بقاء کا دار و مدار دفاعی قوت پر ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج کے اس نئے دور میں بقاء کا دار و مدار اقتصاد پر ہے۔ محض دفاع رشیا کو نہ بچاسکا۔ جونہی سوویت یونین ٹوٹا اشتراکی نظام کو شکست ہوا یک دم چونک اٹھا چائنہ اور فری اکانومی زون بنادیے۔ لوگوں کو انفرادی ملکیت کا حق دے دیا۔ باوجود اسکے کہ حکمران پارٹی کمیونسٹ ہے سسٹم وہاں سوشلسٹ ہے لیکن اس نے پیچھے گیر لگایا، لوگوں کو شخصی حقوق دیے اور آج بھی فری اکانومی زون کے تحت وہ دنیا کیساتھ برابری کی تجارت کی پوزیشن میں آگیا۔ اس کو احساس ہوا لیکن ہم نے کوئی ایسی محفل نہیں سجائی ، ایسے ادارے نہیں کہ ملک کی معیشت کو کس طرح اٹھانا ہے؟۔ پالیسیاں بنانی ہیں فکر مند ہونا ہے۔ ہم تو فکر مند بھی نہیں جونہی آتے ہیں جیIMFبات کرو کتنا قرضہ دو گے؟ امریکہ کتنی امداد دے گا؟۔جب کولیشن سپورٹ فنڈ میں آ پ کو7ارب سے زیادہ ڈالر ملنے والے ہیں تو ابھی تک 2ڈھائی ارب آپ کو ملے ہیں آپ کیوں امن لائیں گے جب تک آپ کو وہ پیسہ نہیں ملے گا۔ اس لالچ میں بھی ہم جنگ لڑیں گے کیونکہ پھر ملے گا نہیں۔
امتیاز عالم: مولانا73کا آئین ایک سمجھوتہ ہے۔ سوشلسٹ اور رائٹسٹ میں ، سیکولرز اور اسلامسٹ میں۔ آپ کی کوشش ہے کہ زیادہ اسلامی رنگ لیکر آسکیں۔ اور جو سیکولر ہیں میری طرح کہ وہ چاہیں گے کہ اس میں بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔ اب دو راستے ہیں، ایک یہ ہے کہ جو سمجھوتا کیا اسے توڑ دیں کہ آپ بنیادی حقوق کا احترام نہ کریں اور ہم اسلامک پروویژن کو آئین سے نکالنے کا مطالبہ کریں تو سمجھوتہ ٹوٹ جائے گا۔73کے آئین میں ایک ملائی ریاست نہیں بنائی۔ کونسل آف اسلامک آئیڈیا لوجی پارلیمنٹ سے اوپر نہ تھی۔ مفتی محمود اور مولانا نورانی نے اتفاق کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ یہ دعویٰ کرسکتے۔ کیا کہیں گے؟، توازن کو قائم نہیں رکھنا چاہیے؟ کیا کہیں گے بنیادی حقوق پر کہ جوبیسک بنیادی حقوق ہم نے آئین میں مانے ہیں آپ اس کی رسپیکٹ کرتے ہیں یا نہیں کریں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: اسلام انسانی حقوق کا محافظ نظام ہے،فرد کی رفاع سے لیکر ریاست کی اقتصادی خوشحالی تک جب تک آپ کا ایک فرد خوشحال نہیں ہے جب تک آپ کی ریاست خوشحال نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ لفظ خلافت اور لفظ سیاست آئیگا تو اس سے مملکت اور ریاست کا نظام اور رہنے والے لوگوں کے حقوق اور تحفظ کا سوال ہونا چاہیے۔ جان، مال اور عزت و آبرو ، نسل و نسب کے تحفظ، عدل و انصاف مہیا کرنا اور حفظ عقل کا بھی مسئلہ ہے، تمام حوالوں سے انسان کی جو ضرورتیں ہیں وہ ان کے حقوق بنتے ہیں اور ان حقوق کا تحفظ کرنا اور اس کے منافی ہر چیز کو روکنا یہ ایک ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ جب ہم ان بنیادی نظریات پر متفق ہیں۔ جتنے بھی تاریخ اسلام کے ہمارے اکابرین ہیں امام غزالی ، ابن خلدون ، ابن کثیر ،ماوردی تمام دنیا اس بات پر اتفاق کرتی ہے کہ سیاست کس چیز کا نام ہے۔ تمام نے سیاست کے معنی یہی کیے ہیں کہ القیام بالشیئی بما یصلح کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر کرنا کہ جو معاشرے میں اصلاح کا سبب بنے۔ اس تصور کو عام کیا ہے سب نے۔
امتیاز عالم: اچھا یہ جو عالمی حقوق، بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کا اعلان نامہ ہے اس میں آپ، آپ کی جماعت اور آپ کے مکتب کے لوگ اس پر کیا کہتے ہیں؟۔ جو ہمارے آئین کا بھی حصہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن : جہاں تک میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے سوائے ایک آدھ شق کے کہ جس پر بحث ہوسکتی ہے ، مجموعی طور پر میں آپ سے پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ دین اسلام دین فطرت ہے اور انسانوں کی بھلائی کیلئے غیر مسلم بھی جب بیٹھتا ہے تو اس کی بہتری کے تصور کیساتھ حقوق کا تعین کرے گا تو وہ اسلام سے باہر جانہیں سکتا ۔ کیونکہ اسلام نے اس کا تعین کیا ہے۔ بعض چیزیں ہوسکتی ہیں کہ آپ کچھ ترمیم کرسکتے ہیں یا اسلامی نقطہ نظر سے کیونکہ وہ سب نے بنایا۔ اس میں صرف مسلمان تو نہیں بیٹھا ہوگا، تو اس میں جب ساری دنیا بیٹھتی ہے تو اس میں کہیں کوئی عدم توازن ایک آدھ شق میں ہے لیکن مجموعی طور پر ہم اس سے اختلاف نہیں کررہے ہیں ۔ اسکا احترام کیا جائے۔ جو حق وہ اپنے لئے مانگ رہا ہے یعنی تعلیم حق ہے اور ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کے دائرے میں تعلیم کا حق اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت حاصل ہے لیکن وہ حق میرے دینی مدرسے اور دینی مدرسے کے اندر حصول علم کے حوالے سے نہیں دیا جارہا اسNGOکو آپ قبول نہیں کررہے وہاں پر آپ اس کے حق پر تحفظات کررہے ہیں ، کبھی اس کو آپ دہشت گردی کے مراکز کہتے ہیں ، کبھی انتہاء پسندی کے مراکز کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ آپ نے تو بس ایسے ہی فقیر غریب بنادئیے ہیں۔ تو یہ سوالات بھی میرے اوپر ہوئے ہیں کہ دینی مدارس کے اندر ریسرچ ہوتی ہے؟۔ کیا دینی مدارس کے اندر کوئی نئے تجربات ہوتے ہیں؟۔ میں نے کہا کہ بالکل ہوتے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ پاکستان کی مملکت کے نظام میں جو سرکار کے زیر انتظام تعلیمی نظام ہے اس کے حامل لوگوں کو کردار ادا کرنے کی گنجائش دی گئی ہے لیکن دینی مدارس کے تعلیم یافتہ اور اسکے جو محققین ہیں ہمارے ملکی نظام میں اس تعلیم کو گنجائش نہیں دی گئی۔ آپ گنجائش دیں پھر دیکھیں ۔ آخر یہاں پر بھی تو کوئی آنکھیں بند کرکے افسر نہیں بنتا۔6مہینے اس کو ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔17گریڈ سے18میں جائے گا تو ٹریننگ کرے گا۔18سے19میں جائے گا تو ٹریننگ کرے گا۔ یہNIPAاور یہ ساری چیزیں اسی لئے بنی ہوتی ہیں کہ وہ پہلے ٹریننگ کریں گے اور پھر وہ کرسی پر جاکر بیٹھیں گے۔ اگر یہ انتظام آپ پاکستان کے اسلامی نظام کے حوالے سے ان لوگوں کو بھی مہیا کردیں اور ان کیلئے بھی لیگل شعبے متعین کردیں ، لیکن گنجائش تو بنائیں۔ سب آپ کے ساتھ مل کر جانے کیلئے تیار ہیں لیکن آج اگر ایک عالم دین جوفقہ کاعالم اور مفتی ہو اگر وہ کہتا ہے کہ میں ٹرینڈ ہوں اور شرعی عدالتوں میں پیش ہوکروکیل کی وکالت کرسکتا ہوں تو آپکا سارا وکالت نامہ اسکے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ کہ نئی جی، تم کون ہوتے ہو کالے چوغے ہم نے پہنے ہوئے ہیں اور مُلا آگیا جو میرے ساتھ کھڑے ہوکر وکالت کرے گا۔ اور مجھے پتہ ہے کہ میرے دار العلوم کے ایک شیخ الحدیث کے گھر میں ایک شخص تشریف لایا اورکہا کہ حضرت مجھے ذرا بتادیجئے یہ مشارکت، مضاربت،مرابحت کیا ہے؟، ذرا مجھے تفصیل چاہیے۔ اور میرا استاذ جب اس کو تفصیل کیساتھ پڑھاتا ہے سمجھاتا ہے تو اس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ حضرت اللہ اجر دے گا۔ بہت آسان کردیا۔ مہمان کہتا ہے کہ حضرت میں اپنا تعارف کرادوں، میں ہائی کورٹ کا جج ہوں اور میں فیصلے دے رہا ہوں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کیا فیصلے دے رہا ہوں۔ ضمیر نے ملامت کیا، یہاں آکر آج مجھے اطمینان ہوا کہ یہ معاملات کیا ہیں اور اس کے عنوانات ہم سنتے ہیں لیکن نیچے کی تفصیل ہمیں معلوم نہیں ۔ اس کی تعریفات ہمیں معلوم نہیں ۔ تو یہ چیزیں آپ کے ملک میں اسلئے ہیں کہ آپ کا معاشرہ اسلامی ہے۔ آپ کا عام مسلمان دیہاتوں میں ہے جب تک آپ اس کو مطمئن نہیں کریں گے کہ یہ حق جو آپ کو عدالت نے دیا ہے یہ شریعت بھی دیتی ہے تب تک اس کا ضمیر مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہے بیچ میں۔ تو جامعیت چاہیے اور اس کیلئے یہ ادارے بنائے گئے ہیں۔ یہ نہیں کہ میں آپ کو مجبور کرتا ہوں کہ جب تک تم میری طرح پگڑی نہ باندھو گے ، میری طرح قمیض شلوار نہ ہوگی اس وقت تک تم مسلمان نہیں ہو۔ کبھی اس طرح کے تصورات ہمارے یہاں نہیں ۔ میں آپ کو اسی کوٹ پتلون میں قبول کرنے کیلئے تیار ہوں۔ بغل گیر ہونے ، آپ کو سر پر بٹھانے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن آپ مجھے مانیں تو صحیح کہ میں پاکستان کا شہری ہوں۔
امتیاز عالم: آپ حق مانگ رہے ہیں اپنے مکتب کیلئے کہ آپ کو پریکٹس اور پرچار کی آزاد ی ہو۔ یہ حق دوسرے مکتب اور مذاہب کے لوگوں کو دیں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: حضرت میں بات کررہا ہوں آپ کیوں سوال کرکے ذہن تبدیل کررہے ہیں۔ میں پاکستان، ریاست، قوم، مملکت اور اجتماعیت کی بات کررہا ہوں۔ خدا کیلئے! میں مسلک کی بات نہیں کررہا آپ سے۔
امتیاز عالم:آپ حق مانگتے ہیں، بنیادی حقوق میں عیسائی کو اپنے عقیدے کا حق ہے کہ وہ کیا عبادات، رسومات اور کیسے زندگی گزارتا ہے۔ جیسے آپ اپنے لئے حق مانگتے ہیں۔ کیا یہ حق آپ دوسرے لوگوں کو بھی دینے کیلئے تیار ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: تمام جس کو آپ غیر مسلم اقلیت کہتے ہیں ان کی عبادت گاہیں ، ان کی حفاظت ، ان کی عبادات، عبادات کے حوالے سے ان کی پوری آزادی اسلام آج نہیں کہ ہم آپ سے مرعوب ہوکر یہ بات کررہے ہیں۔ جب اسلامی فوجیں شام داخل ہونے لگیں تو حضرت ابوبکرصدیق نے ہدایات جاری کیں کہ جب آپ شہر میں داخل ہوں گے تو خبردار! عورت ، بچے بوڑھے پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔ انکے باغات ، جانوروں کو تباہ نہیں کرنا ، ان کی جو عبادتگاہیں ہیں اور ان کے جو راہب ہیں اور بزعم خویش وہ خدا کی عبادت کرنے میں مصروف ہیں ان کو نہیں چھیڑنا ۔ یہ ساری تعلیمات صدر اول میں ہمارے اسلام کے پہلے خلیفہ نے انسانیت کو عطا کی ہیں۔ اور آج پوری اسلامی دنیا اس روش پر جانے کیلئے تیار ہے۔ یہ تو کوئی سوال ہی نہیں جو آپ کررہے ہیں۔ اس پر آپ بات کریں بہت بڑے پروسپیکٹ میں۔ میں مسلک کے دائرے میں پھنس کر بات نہیں کررہا۔ اس چھوٹے دائرے میں محصور اور یرغمال ہوکربات نہیں کررہا۔ میں ایک انسان، پاکستانی اور ایک ایسے مسلمان کہ جس کا موضوع ہی انسانیت ہے اس حوالے سے بات کررہا ہوں آپ سے۔
امتیاز عالم: مولانا آپ یہ بات کرنا پسند کریں گے کہ آ پ لوگوں میں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر اتفاق ہوا کہ اپنے مسلک پر قائم رہو اور دوسرے مسلک کو مت چھیڑو۔ یہ اتفاق ہوا آپ کے درمیان اس پر آپ قائم ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: ملی یکجہتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کے اندر اتفاق رائے ہے اور بالخصوص صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے ناموس پر۔ متفقہ دستاویز ہے۔ کمی یہ ہے ضرورت یہ ہے کہ اس پر قانون سازی بھی ہوجائے۔ اور قانون کے تحت اس چیز کو تحفظ دیا جائے تاکہ ان فسادات کا راستہ روکا جاسکے۔
امتیاز عالم: اچھا اس میں اصول یہ ہوا کہ لکم دینکم ولی دین تمہارا دین تمہارا میرا دین میرا۔ اور لا اکراہ فی الدین دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تو ہم تو سیکولر لوگ ہیں، یہی کہتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی دینآپ اپنا مذہب پریکٹس کریں میں اپنا مذہب پریکٹس کروں۔ اس پر آپ کا کیا اعتراض ہے؟۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی کے مسلک کو نہ چھیڑو اپنا مسلک مت چھوڑو تو یہی سیکولر ازم ہے ۔ سیکولر تو آپ کی ساری جمعیت علماء ہند ہندوستان بھی ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد سیکولر تھے۔ آپ کی جمعیت علماء ہند کے متفقہ صدر جنہوں نے پاکستان کو نہیں مانا اور ہندوستانی قومیت کی حمایت میں، میں انکی بہت عزت کرتا ہوں ان کیخلاف الزام نہیں لگارہا۔ وہ سیکولر تھے اور ہیں۔ ابھی آپ جائیں گے ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کی کانفرنس میں تو وہاں پر آپ کو سیکولر ازم کا بینر نظر آئے گا۔ وہاں سیکولر ازم حرام یہاں حلال یہ کیا معاملہ ہے؟ ذرا بتائیں۔ پھر آپ یہ مت کہیں ، پھر آپ کہیں کہ یہ شیعہ بھی کافر ہیں، آپ کہیں کہ بریلوی بھی کافر ہیں، صرف دیوبندی مسلمان ہیں۔ یا آپ کے تکفیری یا وہابی بھائی مسلمان ہیں باقی سب فارغ ہیں یا آپ یہ کہیں۔
مولانا فضل الرحمن: اس رُخ پر نہ جائیں۔ جن کو آپ نے کہا کہ یہ سیکولر ہیں۔ انہوں نے تقسیم کے فلسفے کو نہیں مانا ۔ آج ہم اس ریاست کے اندر ہیں جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوا اور اس کے بعد مسلمانوں کی ریاست پاکستان کہلایا۔ لہٰذا وہ حوالے وہیں رہ گئے اب ہم ایک نئی ریاست کے اندر جو لا الہ الاللہ اور مسلمان کے نام پر معرض وجود میں آئی، یہ ریاست جس نظرئیے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ہے اس حوالے سے اب بات کرنی ہے۔ وہ باتیں آپ چھوڑ دو۔
امتیاز عالم: ایک گزارش ہے کہ پاکستان سارے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے نہیں بنا اگر بنا ہوتاتو24کروڑ مسلمان اس وقت ہندوستان میں نہ ہوتے۔ اور اگر یہ ایسی مستقل بنیاد تھی تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔ یونیورسل بنیاد تھی تو بلوچ، پختون حقوق کا نعرہ ، آپ کے والد بزرگوار مستعفی ہوگئے کہ بلوچستان میں حکومت توڑی گئی پھر یہ مناقشے نہ ہوتے ، صوبائی خود مختاری کے ایشوز نہ ہوتے۔ اور آپ پولیٹیکل پلیٹ فارم بھی نہ بناتے۔ تو عرض اور گزارش یہ ہے کہ ہمارے پاکستان کی ریاست میں تاریخی پس منظر کے لوگ بھی ہیں ، پنجابی، سندھی جو کہ ہزار ہا سال سے ہیں۔ کیا پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان میں آنے کی دعوت دے دیں گے؟۔ کہ24کروڑ یہاں تشریف لے آئیں۔
مولانا فضل الرحمن: یہ میرا مسئلہ نہیں ہے جی۔ (قومی ریاست ہے ناں :امتیاز عالم) ۔ جو ریاست اب بن گئی ہے اس کی حدود میں جو لوگ رہتے ہیں وہی پاکستانی کہلائیں گے۔ باہر سے اگر کوئی آئے گا تو ہندوستانی کہلائے گا۔ (اور اگر سعودی یا کوئی مصری آئے؟۔ امتیاز عالم)۔ سعودی اور مصری کہلائے گا۔ پاکستانی نہ ہوگا۔ کیونکہ پاکستان نے اپنی جو شناخت دنیا میں متعارف کرائی، اس کو پاکستان اور اسی کو پاکستانی کہا جائے گا جو یہاں رہتا ہے۔
امتیاز عالم: ایک عرض ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں مکالمہ مشکل ہے۔ میں اور آپ بیٹھے مکالمہ کررہے ہیں۔ اس میں صرف ایک بات نہیں ہے وہ ہے تشدد۔ میرے پاس پستول نہیں، آپ کے پاس سوسائڈ بمبار کی جیکٹ نہیں۔ سوسائڈ بمبار کی جیکٹ جو آگئی اور جو تکفیری اور القاعدہ والے آگئے کیا مجھے آپ بتا سکیں گے کہ اس تشدد کے عنصر کو مذہبی نقطہ نظر سے آپ جائز سمجھتے ہیں؟۔کیا جہاد کا اعلان ہوسکتا ہے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اعلان کرسکتے ہیں؟۔ کیا ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان کرسکتے ہیں؟۔ پرائیویٹ گروپس اعلان کرسکتے ہیں؟۔ کیا افغانستان کے خلاف کرسکتے ہیں جہاد کا اعلان؟۔ اس کی کیا شرائط ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن: میرا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے جنگ بھی مسلط کردی۔ ہم اس جنگ میں جل رہے ہیں پھر جن لوگوں سے اور جس عنوان کی بنیاد پر یہ جنگ لڑ رہا ہے اس میں یہ سوالات بھی اٹھارہا ہے۔ تاکہ جو لڑائی ہورہی ہے دوسرا فریق دفاعی پوزیشن پر رہے جنگ بھی جاری رہے۔ جنگ ہوگی تو خطے میں وہ موجود رہے گا۔ امن آئے گا تو وہ موجود نہیں رہے گا۔ جمعیت علماء اسلام تشدد پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم نے واضح طور پر تین دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کئے ۔ ایک دستاویز کہ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء ، تنظیمات اور شخصیات نے لاہور میں بیٹھ کر متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ ماضی میں ہمارے اکابر نے جن جن چیزوں، اصولوں اور معاملات پر اتفاق کیا تھا ہم ان متفقات کو دوبارہ موضوع بحث نہیں بنانا چاہیں گے، اسکا انکار کرتے ہیں۔ اس کے بعد جمعیت علماء اسلام نے پشاور میں25ہزار علماء کا اجتماع کیا اور جس میں تمام اکابر حتیٰ کہ فضلاء دیوبند شریک تھے جو اکابر علماء تھے ۔ بلوچستان میں ہم نے10ہزار علماء کا اجتماع کیا اور ان تمام علماء کرام نے ان تمام واقعات سے برأت کا اعلان کردیا۔ اور پھر اس کے بعد یہ کہا گیا کہ یہ دیوبندی اسلام اور دیوبندی مسلک میں شدت پسند ہیں اور ساری تنظیمیں یہ اور وہ۔ تو پھر لاہور میں150دیوبندی علماء کرام کراچی سے لیکر گلگت اور چترال تک اکھٹے ہوئے اور مجتمع طور پر کہا کہ پاکستان میں ازروئے شرع مسلح جنگ کی اجازت نہیں۔ یہ ساری چیزیں دستاویزات کیساتھ ہیں جو ہم نے پارلیمنٹ میں پیش کی ہیں لیکن آپ مذہبی دنیاکا مؤقف پروجیکٹ نہیں کررہے اور جیکٹ ،خود کش اوران10علماء کو داڑھی پگڑی کیساتھ جواسلحہ اٹھائے ہیں پروجیکٹ کررہے ہیں۔ چھوٹے طبقے کی پروجیکشن آپ کی نیت کی نشاندہی کرتی ہے کہ درحقیقت اس جنگ میں مذہب کو ایک ڈیفینسیو پر رکھنا چاہتے ہیں اور امت مسلمہ کو دنیا جو ہے وہ ڈیفینسیو پر رکھنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس جنگ کے جو بنیادی اور اصلی عوامل ہیں اکیڈمک لی اس پر تھوڑا سا غور کرنا ہوگا ورنہ یہ تو صبح و شام کی ہماری بحثیں ہیں تھڑوں پر بیٹھ کر ہم باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اصل عوامل کی بنیاد کبھی نہ مسلمانوں نے رکھی ہے نہ ان نوجوانوں نے رکھی ہے۔ آئین73ء میں بنا ہے جنگ1979میں چھیڑی۔ آج آپ تحفظ پاکستان آرڈینینس کے نام سے یہ لارہے ہیں کہ1979کے قانون کو تبدیل کرنا ہے اور آپ اس میں یہ لکھ رہے ہیں کہ اس وقت جو پالیسیاں اختیار کی گئی تھیں اس نے جنگ میں ڈالا، ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہ الفاظ ہیں انکے اندر۔ یہ پالیسیاں کس نے بنائیں؟۔ ہم نے دنیا کے کس ایجنڈے پر کام کیا؟۔ ہم نے کن کن کی خدمات سر انجام دیں؟۔ قومی سطح پر کتنی بڑی بڑی غلطیاں ہم سے ہوئیں؟۔ ہم اس پر جاہی نہیں رہے۔ آج روز مرہ کے معاملات پر سوالات معروضی اور روز مرہ کے معاملات پر ہم بحث کررہے ہیں۔
امتیاز عالم: مولانا بہت شکریہ اس بات کا۔ میں تعریف کرتا ہوں جو آپ نے کہا کہ یہاں کے علماء کرام اکھٹے ہوئے، انہوں نے تشدد کو رد کیا اور پاکستان کے اندر جہاد کو رد کیا یہ قابل احترام ہے ہم اس پر مکمل حمایت کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن: میں ایک نکتے کو واضح کردوں۔ لفظ جہاد کو رد کیا ہے یہ غلط بات ہے۔ میری جدوجہد بھی جہاد ہے۔ جہاد کے معنی ہیں کوشش۔ اور آپ جب کوشش کرتے ہیں ایک میدان میں نکل کر اور آپ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور آپ اعلائے کلمة اللہ کیلئے کرتے ہیں کیونکہ اعلائے کلمة اللہ کے بغیر کوئی جنگ جہاد نہیں ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہم غیر مسلح جدوجہد کو بھی جہاد کے زمرے میں لاتے ہیں۔ اور مسلح جنگ کی ہم ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ آج دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ گلوبل ولیج میں ہم دنیا سے کٹ کر سیاست نہیں کرسکتے۔ ہمیں دنیا کے معاملات کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا ہوگا۔
امتیاز عالم: یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ تشدد کو رد کررہے ہیں، اور جہاد کی جو دوسری اکبر شکلیں ہیں ان کی حمایت کررہے ہیں کیونکہ بندوق والا جہاد صغیر کہلاتا ہے۔ وہ پانچ ارکانِ اسلام میں تو نہیں، آپ نے چھٹا نہ بنادیا ہو۔تو گزارش ہے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں کہ ایک آدمی آتا ہے مارکیٹ میں اور اللہ کا نعرہ لگاتا ہے ، نعرہ تکبیر لگاتا ہے اور جیکٹ پھاڑتا ہے ، پچاس سو بندے عورتیں بچے مرجاتے ہیں جیسا کہ خیبر بازار میں ہوا۔ اس کو آپ کیا قرار دیتے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟۔ کیا اس کو آپ اسلامی ایکٹ قرار دیں گے؟۔
مولانا فضل الرحمن: اس کی بحث آپ مجھ سے نہ کریں کیونکہ میں نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ آپ طالبان کو پیغام دے دیں کہ امتیاز عالم مناظرے کیلئے تیار ہے تو وہ آپ کو جواب دے دیں گے۔ (وہ مناظرے والا کام اہل سنت و الجماعت والے کررہے ہیں: امتیاز عالم)
امتیاز عالم: آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ہاتھ میں جو ٹول بنا….. ہم آپ کے علماء کرام کے استاد تھے کیونکہ آپ لوگ کمیونسٹ کے شاگرد تھے برصغیر میں جب آپ لوگ بغاوت کرکے گئے تھے یاد ہے آپ کو۔ کالے پانی میں بھی گئے تھے اور ماسکو بھی گئے تھے۔ اس میں ہمیں آپ سے اتفاق ہے کہ پاکستان کو امریکہ کا انسٹرومنٹ نہیں بننا چاہیے تھا اور کولڈ وار میں اس کیمپ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے تھا اور یہ بات کہ روشن خیالی امریکہ سے نتھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایسی بات ہے کہ ہم آپ کے بارے میں یا کسی اور کے بارے میں ایسی بات کہیں۔

____ تبصرۂ ایڈیٹرنوشتہ دیوارمحمد اجمل ملک____
سیاسی، معاشی اور دفاعی لحاظ سے غلام اورہمارا اسلام سے ناطہ کمزور ہے۔ مسلم ممالک اور مجاہدین کو ٹیشوپیپر کی طرح پھینکاگیا۔ پاکستان رویا کہ مجبوری میں امریکہ کو چھوڑ کر روس، چین، ایران کے بلاک میں جارہے ہیں جبکہ ہمیں بہت خوشی کیساتھ اپنے پڑوسی ممالک افغانستان، چین، ایران اور بھارت کے ساتھ خوشگوار معاشی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ نجم سیٹھی نے بتادیا کہ افغان طالبان امریکہ کی بات نہیں مان رہے ہیں کہ چین کیلئے مشکلات کھڑی کریںتو امریکہ کی پہلی ترجیح پاکستان کو اس مقصدکیلئے استعمال کرنا ہوگا۔
اگر ہم نے امت مسلمہ کا رحجان علماء ومفتیان کے فرقوں کی طرف نہیں بلکہ اسلام کی طرف موڑ دیا تو سعودی عرب ، ایران ، افغانستان اور پاکستان کے اندر ایسی فضاء قائم ہوجائے گی کہ مغرب سمیت دنیا بھر کی خواتین اپنے لئے اسلامی حقوق کا مطالبہ شروع کردیں گی۔ نبی ۖ کافتح مکہ اور خطبۂ حجة الوداع وہ عالمی منشور ہے جس کی وجہ سے ہماری آپس کی دشمنیاں بھی ختم ہوسکتی ہیں اور عالمی سطح پر بھی ہم دنیا میں اسلام کے ذریعے انسانیت کی فتح کا بھرپورجشن مناسکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم نے فتنہ بنایا عوام کیلئے وہ خواب جوآپ کودکھایا اور شجرہ ملعونہ کو قرآن میں۔ آیت:60بنی اسرائیل

ہم نے فتنہ بنایا عوام کیلئے وہ خواب جوآپ کودکھایا اور شجرہ ملعونہ کو قرآن میں۔ آیت:60بنی اسرائیل

معراج میں اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ اللہ نے دکھایا
اورشجرہ ملعونہ سے مراد قرآن میں حلالے کا ذکرہے

سورۂ بنی اسرائیل آیت60میں2چیزیں آزمائش ۔1:نبی ۖ کا خواب اور2:شجرہ ملعونہ

مسخ اسلام مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں اسلئے خلافت کی بحالی نہیں چاہتے اور عالم انسانیت اپنی خواتین کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں اسلئے دنیا میںہر جگہ اسلام دشمنی کی فضاہے

1:اللہ نے تمام ادیان پر اسلام کے غلبے کا وعدہ کیا،2: اسلام نے حلالہ کو جڑ سے ختم کیا، 3:عورت اورتمام انسانی حقوق بحال کردئیے ،4: قرآن سے انحراف نے جاہلیت اُولیٰ بحال کردی

واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وماجعلنا الرء یا ارینٰک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن وتخوفھم فما یزیدھم الا ظغیانًا کبیرًاOترجمہ ”اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور ہم نے نہیں بنایا خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور ملعونہ درخت کو جو قرآن میں ہے اور ہم انہیں ڈرا تے ہیں پس وہ نہیں بڑھتے مگر بڑی سرکشی میں”۔ ( بنی اسرائیل :60)
اور کوئی بستی نہیں جس کو ہم ہلاک نہ کردیں قیامت سے پہلے یا اس کو سخت عذاب نہ دیں۔یہ کتاب کی سطروں میں لکھا ہے۔(بنی اسرائیل آیت:58)
سورہ ٔ بنی اسرائیل پارہ15پہلی آیتِ معراج ہے ۔ مہینہ تیس دن ، قرآن تیس پارے، ہفتہ سات دن، قرآن کی سات منزل۔ مہینہ یا ہفتہ میں قرآن ختم کی سہولت ہے۔ پارہ میں پاؤ، نصف اور پونا ہے۔ دو دن یا چار دن میں پارہ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں استاذ شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمانکی نصیحت تھی کہ روزانہ ایک رکوع ترجمہ وتفسیر کے سمجھنے کی کوشش کریں۔ نماز میں رکعت ہیں۔ ہررکعت میں رکوع۔ تسبیح فاطمہ میں100کی گنتی کیلئے33بار سبحان اللہ33بار الحمد للہ34بار اللہ اکبر ہے۔ ریاضی میں کواٹر سسٹم کی بڑی اہمیت ہے ۔1/4چوتھائی ،1/2نصف اور3/4تین چوتھائی پر دنیا کانظام چلتا ہے۔پاؤ، نصف، پونا آسان فریکشن ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا پڑھا لکھا جاہل ہے۔ قرآنی پارے سازش نہیں بلکہ اخبار ی کالم کی طرح ہیں، ان کا مضمون پر اثر نہیں پڑتا ۔ اخبار پر اعتراض کیا جائے کہ کالم کی تقسیم کا مقصد مضامین کو خراب کرنا ہے تو یہ کتنی جہالت ہوگی؟۔ قرآنی پارہ اور پارہ کی تقسیم سہولت کیلئے بہترین ذریعہ ہے۔
مرزا صاحب اَیویں بھونکتا ہے کہ قرآن کی پاروں میں تقسیم سازش تھی۔ اگر پارہ میں ایک آیت ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا اسلئے کہ قرآن کی آیات پورا پورا فصل ہیں۔ پارہ13کے آخر میں الر تلک اٰےٰت الکتٰب وقراٰن مبینOپارہ14میں ربما یود الذین کفروا من اہل الکتاب لوکانو ا مسلمینO”یہ آیات ہیں واضح کتاب کیOقریب ہے کہ کافر اہل کتاب میںپسند کریں کہ کاش وہ مسلمان ہوتے”۔دونوں آیات مستقل مضامین ہیں ۔ جن کو الگ کرنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جب سورہ الحدید کے مطابق انقلاب آئیگا تو لوگ آیات کو سمجھ لیں گے۔ اہل کتاب نے افغانستان ، عراق ، لیبیا میں جو مظالم کئے اور پھر مسلمان عالمی خلافت میں انسانیت کا ثبوت دیں گے تو اہل کتاب اس وقت چاہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے توشرمندہ نہ بنتے۔
بعض جگہ اللہ نے مضمون کے بیچ میں ایسی آیت ڈالی جس کا مفہوم بالکل الگ تھلگ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ ” نمازوں کی حفاظت کرو، خاص کر وسط کی نماز اوراگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ چلتے چلتے یا سواری کرتے ہوئے اور جب امن کی حالت میں آجاؤ تو اس طرح نمازپڑھو ،جیسا کہ تمہیں سکھایا گیا ہے”۔ اس نماز کا اطلاق جہاد اور سفر پر نہیں ہوتا بلکہ گھریلو مسائل اور کسی قسم کا خوف ہو تو بھی اللہ نے اس کی اجازت دی ۔ ایک مرتبہ نبیۖ کا نماز عصر میں صحابہ نے انتظار کیا پھر پتہ چلا کہ مریض کی عیادت کیلئے گئے۔ صحابہ وہاں پہنچے تو نبی ۖ نے فرمایا کہ یہیں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ نبی ۖ نے بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ لی اور صحابہ نے قیام ،رکوع اور سجود کا اہتمام کیا ۔ نبی ۖ نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ آپ لوگ بھی میری طرح نماز پڑھتے۔ ( صحیح بخاری) یہ خوف کے بغیر ضرورت کے وقت نماز کا طریقہ سکھانا تھا۔ بس، ریل اور جہاز میں حدیث سے رہنمائی لی جاسکتی تھی۔ یورپ یا امریکہ میں خاتون فٹ پاتھ یا کسی عوامی مقام پر نماز پڑھ رہی تھی اور لوگوں نے عجیب وغریب حرکتیں کرکے تماشا بنادیا ۔ اگر حدیث کا علم ہوتا تو یہ قابل مذمت ویڈیو وائرل نہ ہوتی اوریہ پٹھان کی بیگم ہوتی تو مار پڑتی۔
قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا مگرحدیث و اصول فقہ کی کتابوں میں قرآن کے خلاف انتہائی غلط باتیں ہیں۔ مرزا جہلمی کو علم یا جرأت نہیں؟۔ قرآن کہتا ہے کہ کما انزلنا ہ علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینO”جیسا کہ ہم نے ان بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو ، جنہوں نے قرآن کی تکہ بوٹیاں بناڈالی ہیں”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے لکھا :” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہے، لفظی بھی ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا یا مغالطہ سے”۔ احادیث و اصول فقہ میں قرآن کی لفظی تحریف کی نشاندہی کرکے علماء و عام عوام کو یہ فرض پورا کرنا چاہیے۔مرزا جہلمی کی اوقات نہیں کہ دیوبندی بریلوی کو اشرف رسول اللہ ، چشتی رسول اللہ کے خواب پر مرزائیوں کیساتھ کھڑا کردیں۔ نبوت کا دعویٰ کیا نہ ان کی نبوت نہ ماننے پر رنڈی کا بچہ کہا۔ البتہ خوابوں کی تعبیر یہ تھی کہ عملی طورپر اکابر کو رب بنانے اور رسول کا درجہ دینے والوں کو توبہ کرنا چاہیے۔
قرآن میںمعنوی تحریف پر دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اورشیعہ معترف ہیں ۔حقائق پر جمع ہوںگے اور مرزاقادیانی دجال ثابت ہوگا۔مرزا قادیانی نے جھوٹی نبوت سے اسلام کو نقصان پہنچایا۔ سید مودودی نے مسخ شدہ اسلام کی بنیاد پر اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ برطانیہ اور امریکہ نے برصغیر کے دورِ غلامی میں مرزا قادیانی اور آزادی کے بعد سید مودودی کو سپورٹ کیا۔ خلافت حضرت آدم وحواء سے شروع تھی۔گھر ریاست کا آئینہ ہوتا ہے ۔ پڑوس سے عالمی دنیا تک تمام بنی آدم کے حقوق ہیں۔مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے اپنی رشتہ دار محمد ی بیگم کا جینا حرام کردیا تھا۔اسلام نے جتنے حقو ق خواتین کو دئیے ہیں ،فقہاء نے قرآن کامعنوی طور پر ستیاناس کرکے سب غصب کرلئے۔ فتاویٰ کی کتابوں سے جاہلانہ،ظالمانہ، جابرانہ مسائل دیکھ لئے جائیں تو عام مسلمان بھی یہ جعلی اور انسانیت کش اسلام مسترد کردے گا۔ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے مگر خواتین کی عزتوں کو آگ لگاکر مسلم ممالک اوردنیا بھرمیں اسلامی تعلیم کو انتہائی بدنام کرکے رکھا ہواہے ۔
رسول ۖ کا خواب دین کا غلبہ آزمائش ہے۔ حلالہ سے فقہاء نے اسلام کو دو انتہاؤں پر پہنچادیا۔ میاں صلح چاہتے ہیں تو فقہاء حلالہ کو رکاوٹ بناتے ہیں اور دوسری طرف عورت خلع چاہتی ہے مگر فقہاء فتویٰ نہیں دیتے۔ نکاح و لونڈی میں عورت پر جبر اوردنیا میں مظالم کے خلاف قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے لیکن فرشتوں کو اللہ اجازت نہیں دیتا تو پھر انسانوں کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا”قریب تھا کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان گرجاتا” حالانکہ سودکے بوجھ سے دنیا کا نظام گر سکتا ہے مگر اصل رکاوٹ مسخ شدہ اسلام ہے۔
عورت اور انسانی حقوق کا چند نکاتی چار ٹر دنیا میں بالکل عام کرنا ہوگا۔
1: اسلام سے پہلے جنگوں میں ، بردہ فروشی اور مزارعت کے ذریعے غلامی کا نظام اتنا عام تھا جیسے آج فارمی مرغیاں بازار میں عام بکتی ہیں۔ اسلام کا پیغام دنیا میں انسانوں کی غلامی ختم کرکے صرف اور صرف اللہ کی غلامی کا نظام تھا۔
A:نبی ۖ نے عورتوں اور غلاموں کے حقوق کاخیال رکھنے کا حکم فرمایا۔ اللہ نے انسانوں کو غلام بنایا تھااور نہ ہی غلام بنانے کا قرآن میں کوئی درس دیا ہے۔
B:آل فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنایا۔اسلام نے جنگوں میں عورتوں پر ہاتھ اُٹھانا منع کردیا تو لونڈیاں بنانا کہاں جائز تھا؟۔
C: اسلام نے جنگی قیدی کو قتل کرنا، غلام یا لونڈی بنانا ، عمر بھر قید کرنا ختم کردیااور یہ واضح حکم دیا کہ ” ان کو احسان کرکے چھوڑ دو یا فدیہ لیکر چھوڑ دو”۔ سورہ محمدۖ
D: مزارعت ، سود ، جواء ، بردہ فروشی اور ذاتی دشمنی کا اسلام نے بالکل خاتمہ کردیا تھا، لوگ اپنی بیوی اور بچوں کو بیچ ڈالتے تھے اور اپنی آزادی کھو دیتے تھے۔
E:نبی ۖ نے فتح مکہ اور ابوبکر نے فتح شام کے موقع پر حکم دیا کہ عورتوں پر ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔حضرت عمر نے فارس و روم کی فتح پر خواتین کولونڈیاں بناکر بیچ دیا ۔ ہاتھ اُٹھانا غلط تھا تو شاہ فارس کی بیٹیوں کو مال غنیمت بنانا کیسے جائز ہوسکتاتھا؟۔
F: سلطان عبدالحمیدکی ساڑ ھے چار ہزار لونڈیاں تھیں۔ مغل کی حرم سراؤں میں سینکڑوں لونڈیاں تھیں۔ اسلام کا مقصد عوام کو غلام بنانانہیں بلکہ آزاد کرانا تھا۔
G: افغان طالبان بھی حضرت عمر سے ملاعمر تک کے اسلام کو نافذ کرنے کا اعلان نہیں کرسکتے ہیں اسلئے کہ یہ مسخ شدہ شرمناک اسلام دنیا کیلئے قابلِ قبول نہیں ۔
H: فارس کے شاہ کی بیٹیاں شہربانوودیگر دو بہنیں مال غنیمت میں لائی گئی تھیں۔ کیا آج مسلمان امریکی ،یورپی اورہندوستانی خواتین کولونڈیاں بنائیں گے؟۔
2: اسلام نے یہود کیساتھ میثاق مدینہ اور مشرکینِ مکہ کیساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرکے اندرونی وبیرونی قوتوں کیساتھ امن قائم کرنے کا عالمی پیغام دیا۔
A:رسول اللہ ۖ کی مجبوری نہ تھی کہ مشرکینِ مکہ اور یہود مدینہ سے زندگی بھر کیلئے معاہدہ کرتے ،اگر وہ معاہدہ نہ توڑتے تو نبیۖ اسی پرہمیشہ قائم رہتے۔
B: دجال ابن صائد نے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں اور میں جہاں کا رسول ہوں۔ نبی ۖ سے قتل کی اجازت مانگی توفرمایاکہ اسکے قتل میں کوئی خیر نہیں۔
C: اللہ نے نیکی، تقویٰ اور لوگوں میں صلح کرانے سے نہیں روکا ۔ فرقہ واریت کے علم بردار لوگوں اور میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
D: کافر سمجھتا ہے کہ اگر مسلمان کا بس چلے تو ہماری عورتوں کو لونڈیاں بنادے گا۔ مسلمانوں میں حلالہ کی لعنت جاری ہے تو پھرلونڈیاں بنانے میں کیا برائی ہے؟۔
E: اسلام کواجنبیت سے نکال کر دین فطرت کو بحال نہ کریں گے تو یہ اسلام دشمنی اور قرآن جلانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اصل اسلام کی نشاندہی کرنی ہوگی۔
F: مدارس گمراہی کے قلعے ہیں، مفتی بغیر علم کے فتویٰ دیکرخود گمراہ اور عوام کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ علماء حق جلدی مذہبی تجارت چھوڑ کر علم اور قرآن کو رائج کریں۔
G: جو گمراہی میں پکے ہوچکے ہیں اور زیادہ عمر کی وجہ سے راہِ راست پر نہیں آتے تو ان کو چھوڑ دیں، وہ اپنی کمزوری اور مفاد کی وجہ سے حق کو مانناموت سمجھتے ہیں۔
H: ہمارے پیش نظر صرف حلالہ وطلاق اور عورت کے حقوق کے مسائل نہیں بلکہ وہ اسلامی انسانی انقلاب چاہتے ہیں جس سے دنیا کا پورانظام جلد بدل جائیگا۔
3: قرآن نے عورت کو خلع کا بھرپور طریقے سے مکمل حق دیا ہے لیکن فقہاء نے قرآن میں معنوی تحریف کرکے عورت کو خلع کے حق سے بالکل محروم کردیا۔ فرمایا: ۔”اے ایمان والو! عورتوں(بیویوں) کے زبردستی مالک مت بن بیٹھو۔ اور نہ انکو اسلئے روکو کہ جو کچھ تم نے دیا اس میں سے بعض واپس لو مگر جب وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں بری لگیں اور اللہ اس میں بہت سارا خیر پیدا کرے” ۔ (آیت19سورہ النساء )
A: جیسے شوہر طلاق کے الفاظ سے عورت کو اپنی زوجیت سے باہر کرسکتا ہے تو اسی طرح بیوی بھی اپنے شوہر کا گھر اعلانیہ چھوڑ کر خلع کا راستہ اختیار کرسکتی ہے۔
B: دورِ جاہلیت میں بھی عورت کے خلع کا اختیار غصب تھا۔ اسلام نے عورت کو خلع کا اختیار دے دیا لیکن پھر فقہاء نے اس حق سے عورت کو محروم کردیا ہے۔
C: بدمعاش مذہبی طبقہ عورت کو خلع کا حق نہیں دیتااسلئے کہ معتقدکی بیٹیاں ان کو قریب سے جانچنے کے بعد خلع چاہتی ہیں تو مظلوم طبقے کو قابومیں رکھتا ہے ۔
D: مغرب نے مذہبی طبقات کے غیرفطری دین اور مسائل کو ختم کردیا۔ جمہوری پارلیمنٹ مسائل حل کرتا ہے اسی طرح پاکستان نے عورت کو خلع کا حق دے دیا ۔
E: جس دن سرکاری سطح اور الیکٹرانک میڈیا چینلوں پر یہ ڈبیٹ شروع ہوئی کہ علماء قرآن وسنت کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں یا نہیں؟تو بڑا انقلاب برپا ہوگا۔
F: قرآن نے عورت کو خلع کا حق دیااور حق مہر کے علاوہ شوہر کی دی ہوئی چیزوں میں وہ چیزیں جو لے جانے کی ہیں وہ بھی شوہر واپس نہیں لے سکتا ہے۔
G: فقہاء نے معاملہ اتنا گھمبیر کردیاکہ اگر شوہر طلاق کے بعد مکر جائے۔ عورت کے پاس دوگواہ نہ ہوں اور خلع بھی نہ دے توپھر عورت حرامکاری پرمجبور ہوگی۔
H: مرد کو حق ہو کہ جب چاہے عورت کو طلا ق دیکر فارغ کرے اور عورت کا کوئی حق نہ ہو، بچے بھی چھین لئے جائیں تو عورت کا نکاح سے بڑا رسک کیاہوگا؟۔
4: اللہ نے نکاح کے بعد عورت کو خلع کا حق اور مالی تحفظ دیامگر فقہاء نے خلع کا حق چھین لیا جس سے نکاح عورت کیلئے بدترین غلامی بن گئی ،وہ غیر فطری مسائل فقہ کے نام پر گدھے فقہاء نے گھڑلئے کہ اگر عوام کے سامنے وضاحت سے پیش کئے جائیں تو مولوی منہ چھپاتے پھریں گے۔ سورہ النساء آیت:19میں خلع پرشوہر کی دی ہوئی منقولہ اورالنساء آیات:20،21میں طلاق کے بعد عورت کو دی ہوئی منقولہ وغیر منقولہ اشیاء کامکمل حق حاصل ہے ۔جس سے یہ واضح ہے کہ خلع میں عورت کے حقوق کم اور طلاق میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
A: شوہر زبردستی بیوی کا مالک نہیں بن سکتا جو چیزیں دی ہیں۔کپڑے ، گاڑی ، زیورات وغیرہ ان میں بعض واپس نہیں لے سکتا ہے مگر فحاشی کی صورت میں۔
B: عورت خلع لے تو بھی وعاشروھن بالمعروف حسن سلوک کا حکم ہے لیکن مذہبی گدھا طبقہ یہ نہیں سمجھتا کہ جب خلع کا حق چھین لیا تو حسنِ سلوک کیا ہوگا؟۔
C: خلع کی صورت میں عورت ہوسکتا ہے کہ بری لگے لیکن اللہ نے فرمایا کہ ہوسکتا کہ وہ تمہیں بری لگیں مگر اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر پیدا کرے۔
D: عورت کو خلع کا حق نہ ہو تو پھرعزت فالودہ ہوگی، آشناء سے ملکر شوہرکو بھی قتل کریگی اور سیماحیدر کی طرح بھاگ کرملک ملت کی ذلت افزائی بھی کرے گی۔
E: طلاق پر عورت شوہر کی دی ہوئی منقولہ غیرمنقولہ جائیدادکی مالکن ہو، گھر سے بے گھر نہ ہو، عورت کو جتنا صدمہ طلاق سے پہنچے گا تو شوہربھی بہت کچھ بھگتے گا۔
F: شوہر جب چاہے ، جتنے بچوں کو جنوانے کے بعد چاہے ، طلاق دے، گھر سے نکالے، بچے چھین لے؟ ، عورت کو تمام حقوق سے محروم کردے یہ اسلام نہیں!۔
G: یہودی علماء اور عیسائی پادریوں نے اپنے مذاہب ایسے بگاڑ دئیے تو مغرب والوں نے ان کو گرجے تک محدود کرکے جمہوری بنیاد پر حقوق کی بنیاد رکھ دی ۔
H:جب علماء ومفتیان نے عورت سے خلع کا حق چھین لیا اور بچپن کی شادی جائز قرار دے دی تو پاکستان نے عائلی قوانین کے ذریعے ملاؤں کو مسترد کردیا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ قرآن کے واضح قوانین کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا ہے ورنہ اسلام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں نافذہوچکا ہوتا۔
5:اگر قرآن کی معنوی تحریف مسترد نہ کریں تو انسانوں کو جانور سے بدتر بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق اور مالی تحفظ دیا۔ مدارس کی تعلیم انتہائی گمراہ کن ہے کہ سورہ البقرہ آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد خلع ہے۔ حنفی مسلک میں البقرہ آیت230کا تعلق خلع سے ہے لیکن اس کے باوجود حلالہ کافتویٰ اپنے اصولی تعلیم کے خلاف دیتے ہیں۔
قرآن میں شجرہ ملعونہ حلالہ کا معرکة الآراء مسئلہ ہے۔ اسلامی غلبہ کا اس سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تبلیغی جماعت لاکھ ورد کرتی پھرے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین ہمارے دلوں میں آجائے لیکن جب بات آتی ہے اس حکم کی کہ جس میں بیوی چھوڑنی پڑے یا حلالہ کی لعنت کروانی پڑے تو اپنا اعتماد کھو دیتی ہے کہ دونوں صورتوں میں اللہ کے حکم پرکامیابی کا یقین کبھی نہیں آسکتا ہے۔
طالب علم مشکل سوال اُٹھاتاہے، جواب نہ ملے تو حل خود تلاش کرتاہے۔ اساتذ ہ کرام سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور انوارالقرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی اور دیگر مدارس میں یہی سیکھا اور اسی وجہ سے کامیابیوں کے زینے پر چڑھ گئے۔
سوال ہے کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کواپنے اَیمان کیلئے ڈھال مت بناؤکہ نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ (البقرہ:224) اللہ کہتا ہے کہ لوگوں کے درمیان صلح کیلئے اللہ کو رکاوٹ مت بناؤ تو دوسری طرف یہی اللہ کہتا ہے کہ ” اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے جب تک وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے”۔ اتنی اہمیت والے رشتے میں رکاوٹ کا ذریعہ بن جائے تو اس سے زیادہ تضاد کیا ہوسکتا ہے؟۔ بینوا توجروا۔
اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی ایسی صورت نہیں کہ جس میں صلح کرنے کو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان حلال نہیں قرار دیا ہو۔ اسلئے کہ آیت230البقرہ کی طلاق سے پہلے وہ صورت واضح ہے کہ جس میں دونوں کا پرواگرام واضح ہو کہ انہوں نے صلح نہیں کرنی ہے۔ جب صلح نہیں کرنی ہے تو پھر اس جملے سے مرد اور عورت کو اپنی اپنی فطرت کے مطابق وہ ترغیب دینا ہے کہ جس کی معاشرے کوبہت سخت ضرورت ہے۔ مرد کیلئے ترغیب یہ ہے کہ جب وہ اس کی بیوی نہیں رہی تو پھر اس کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کرنے دو اور عورت کو یہ ترغیب ہے کہ جب شوہر نے چھوڑ دیاہے تو پروین شاکر مت بنو۔
جب آیت228البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر رجوع ہوسکتا ہے۔ آیت229میں دہرایا کہ معروف رجوع ہوسکتا ہے۔ پھر آیت231اور232میں فرمایا کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی دوبارہ نکاح میں رکاوٹ نہ بنو ،جب وہ دونوں آپس میں معروف طریقے سے رجوع پر راضی ہوں۔ جسکے بعد یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا ہے کہ اللہ کسی صورت میں بھی رجوع کیلئے رکاوٹ ہیں۔ البتہ طاقتورشوہرکے اختیار کو ختم کرنے کی اللہ نے ہر ممکن وضاحت کی۔
6: دورجاہلیت کی ایک ایک رسم کا اللہ نے خاتمہ کردیا جس میں طاقتور مرد سے بے بس عورت کو بچانے کیلئے زبردست متبادل قوانین رائج کردئیے تھے۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ میاں بیوی صلح چاہتے ہوں تو بھی اللہ کی وجہ سے ان پر صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اللہ نے آیت222البقرہ سے طلاق کے معاملات کا مقدمہ شروع کردیا۔ جس میں سب سے زیادہ حیض وطہر کا معاملہ ہے اور عورت کی اذیت اور اس سے توبہ کرنے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن جب اذیت نظر نہیں آتی تو توبہ کس بات سے دکھائی دے گی۔ پھر آیت223البقرہ کے معانی پر بھی اختلافات اسلئے ہوئے کہ عورت کی اذیت کے مسئلے کو بالکل نظر انداز کیا گیا۔
A: کچھ الفاظ پر لوگ سمجھتے تھے کہ تعلق حرام ہوا۔ فرمایا:اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے نہیں پکڑتا مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا اس پر پکڑتا ہے۔(آیت225)
B: ایک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ اگر عورت کو زبان سے طلاق نہیں دی تو وہ زندگی بھر بیٹھی رہے گی۔ اللہ نے ایلاء کی عدت چار ماہ رکھ دی ۔ (آیت:226البقرہ)
C: اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے اسلئے ایک ماہ کی اضافی عدت عورت گزارے گی (آیت:227البقرہ)یہ آیات کئی گھمبیر مسائل کاواضح حل ہیں۔
D: جمہورفقہاء کے نزدیک ایلاء میں چار ماہ بعد عورت طلاق نہ ہوگی اسلئے کہ شوہر نے طلاق کا حق استعمال نہیں کیا، احناف کے نزدیک طلاق ہوجائے گی۔
E: مقصد عورت کو اذیت سے بچانا تھا اور فقہاء میں اختلاف ہوا کہ شوہر نے حق استعمال کیا یا نہیں ؟۔مقصد مرگیاتو واضح قرآن بیچاروںکو سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔
F: یہ کوئی معمولی اختلاف نہ تھا کہ ایک فریق کہے کہ چار ماہ بعد عورت طلاق ہے اور دوسرا کہے کہ نکاح زندگی بھر بدستور قائم ہے۔ اتنا بڑا تضاد کیسے ہوسکتا ہے؟۔
G:جب نبیۖ نے ایلاء کیا تو اللہ نے فرمایا کہ ازواج مطہرات کواختیاردیں اگر وہ رجوع نہ کرنا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے تاکہ امت مسلمہ کو سبق مل جائے۔
H:ایلاء میں شوہررجوع کرے مگر عورت راضی نہ ہو تو طلاق یا خلع کے حقوق ہونگے؟۔اس پر بحث اس وقت ہوتی جب بنیادی مسائل واضح کئے جاتے ۔
8:دورِ جاہلیت میں دومسائل بہت جاہلانہ تھے ،ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ اور ایک طلاق کے بعد عدت میں شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق تھا۔ اللہ نے دونوں مسائل سے آیت228البقرہ کی وضاحت سے جان چھڑا دی۔
A:عدت کے تین مراحل ہیں…… عدت میں انکے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں،بشرط یہ کہ اصلاح چاہتے ہوں۔ اس آیت میں اللہ نے طلاق سے رجوع کیلئے طلاق کے عدد کو چھوڑ کر عدت میں صلح واصلاح کی شرط پر اجازت دی۔ جس سے حلالہ کا تصور ختم ہوا ۔ شوہر کے غیر مشروط رجوع کا حق بھی ختم ہوا۔
B: فقہاء نے کبھی یہ دھیان نہیں دیا کہ رجوع کا تعلق اصلاح کی شرط پر عدت کیساتھ ہے۔ ورنہ حلالہ کی لعنت کا خاتمہ اور عورت کے اختیارکا حق واضح تھا۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھائیں کسے کوئی راہرو منزل ہی نہیں
C: طلاق دومرتبہ ہے پھرمعروف طریقے سے روکنا یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے ّ(آیت229)۔ فقہاء نے معروف رجوع کی جگہ منکر رجوع ایجاد کیا۔احناف کے نزدیک غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی تو رجوع ہوگیا اور شافعی کے نزدیک اگر نیت نہ ہوتو جماع سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ عورت کا اختیار ہی سلب کرلیا گیا۔
D: جن آیات کی بنیاد پر اسلام کی معاشرتی نرسری میں تناور پھل داردرختوں کی بہار آنی تھی ان کو فقہاء نے روند ڈالا ہے تو امت مسلمہ اچھی قوم کیسے بنے گی؟۔
E: آیت228میں عدت کے3ادوار ہیںاور آیت229میں3مرتبہ طلاق کا ذکر ہے۔ احادیث میں واضح ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل سے ہے اور آیت229میں تسریح باحسان ہی قرآن میں تیسری طلاق ہے ۔
F: تین مرتبہ طلاق کے بعد اللہ نے فرمایا: تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ واپس لو(منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کچھ بھی) مگر دو شرائط کے ساتھ پہلی یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اگر وہ چیزواپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے( ناجائز جنسی تعلق سے) اور دوسری شرط یہ کہ فیصلہ کرنے والے بھی یہی سمجھیں کہ اگر وہ دی ہوئی چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو عورت کے فدیہ کرنے میں پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے ۔یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (آیت229البقرہ )
G: ” اگر پھر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے” (آیت230البقرہ)۔ حنفی مسلک ، حدیث،قرآن اور ابن عباس کے قول (ابن قیم نے زادالمعاد )کا تقاضہ یہی ہے کہ اس طلاق کو اس سے پہلے کے ذکر کردہ صورتحال سے مشروط کیا جائے جس کامقصد حلالہ نہیں بلکہ اس عورت کو پہلے شوہر کی دسترس سے باہر نکالنا ہے۔تاکہ وہ پابندی نہ لگاسکے۔
اللہ کی حکمت بالغہ دیکھئے کہ قرآن میںبار بار عورت کا حق واضح تھا اوراس کا کوئی اختیار نظر نہیں آتاتھا مگر حلالہ ملعونہ کی ہڈی مذہبی طبقہ کے سامنے پھینک دی تو عورت کی تذلیل کیلئے ساری حدیں پھلانگ دیں ۔ واللہ خیرالماکرین حیلہ ساز لوگ اپنی چال چلتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عورت صلح چاہتی ہو تو مفتی رکاوٹ، علیحدگی چاہتی ہو تومفتی رکاوٹ کیا یہ اسلام ہے یا مولوی کا پاجامہ؟

عورت صلح چاہتی ہو تو مفتی رکاوٹ، علیحدگی چاہتی ہو تومفتی رکاوٹ کیا یہ اسلام ہے یا مولوی کا پاجامہ؟

رسول اللہ ۖ نے فرمایا : یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلے گی اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو اس امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے اور اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں گھسا ہوگا تو اس میں بھی ایسا شخص ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا یہود ونصاریٰ ؟۔ فرمایا کہ پھر اور کون ہیں؟۔
جب قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ اہل کتاب نے اپنے علماء ومشائخ کو اپنا رب بنالیا تھا توایک صحابی (جو پہلے یہودی تھا )نے عرض کیا کہ قرآن کی اس خبر علماء ومشائخ کو اپنا رب بنانے کی بات کیسی ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایاکہ کیا تم جس چیز کو وہ حلال یا حرام قرار دیتے تھے تم ان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام نہیں قرار دیتے تھے؟۔اس نے عرض کیا کہ یہ تو ہم کیاکرتے تھے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” یہی تو رب بنانا ہے”۔
پورے اسلام کی کایا پلٹ دی گئی ہے ، یہاں تک سودی نظام جس کو قرآن نے اللہ اور اس کے رسول ۖ سے جنگ قرار دیا ہے اور نبی ۖ نے اس کے بہت سارے گناہوں میں ایک گناہ خانہ کعبہ میں اپنی ماں کیساتھ36مرتبہ زنا بھی قرار دیا ہے۔ سراج الحق جماعت اسلامی ، شجاع الدین شیخ تنظیم اسلامی اور مفتی تقی عثمانی کا ٹبر قرآن وحدیث کی وعیدوں کو سناتے ہیں لیکن سود کو معاوضے کے تحت جائز قرار دیا ہے۔ عام آدمی اور علماء کی بھاری اکثریت اس کو سودہی کہہ رہی ہے لیکن پھر بھی سرِ بازار امت مسلمہ سے جھوٹ بولا جاتا ہے جس کی وجہ سے عوام کا علماء اور مذہبی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
جس طرح یہ بات عوام وخواص کو اچھی طرح سے سمجھ میں آتی ہے کہ سودی نظام سے پاکستان میں اسلام کے نام پر کتنا پیسہ کمایا جارہاہے جس کا سُود عالمی یہودی نظام کے پاس جاتا ہے اور علماء ومفتیان بھی اس میں سے اپنی فیس وصول کررہے ہیں۔ اسی طرح سے فقہ کے نام پر عورت کیساتھ بڑی زیادتیاں ہیں۔
عوام بے حس اسلئے ہوچکی ہے کہ جب ہمارا پورا نظام سود کی وجہ سے مفلوج ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اسلام کا نام دیا جائے یا نہیں دیا جائے؟۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ منحوس لوگوں نے کس طرح دین کے بدلے دنیا خرید لی ہے؟۔ ہم کچھ دوسرے مسائل کی طرف علماء کرام اور عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح درباری ملاؤں نے حکومتوں کی سرپرستی میں اسلام کا کباڑہ کرکے طاقتور لوگوں کیلئے مظلوم خواتین کو ہوس کا نشانہ بنانے کی اجازت دی ہے؟۔
مفتی عبدالرحیم اورمفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا کہ حاجی محمد عثمان کے معتقد کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے اور اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟۔ عمر بھی کی حرام کاری اور اولاد الزنا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ان غلیظ فتوؤں کے بعد حاجی عثمان کی قبر پر اپنے دامادوں اور بیٹیوں کیساتھ جاتے تھے۔ مفتی اعظم امریکہ کہلانے والا مفتی منیراحمد اخون مفتی تقی عثمانی کا شاگرد اور مولانا یوسف لدھیانوی کاداماد اور مرید ہے۔ یہ فتویٰ مفتی اعظم امریکہ سے لیکر میرے جلالین اور مشکوٰة کے استاذ مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید پر بھی لگتا ہے جو فتوؤں کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ اور ان کے بڑے بھائی مفتی حبیب الرحمن درخواستی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے حاجی عثمان کے حق میں فتوؤں کے بعد فتویٰ دیا تھا۔ مولانا محمد مکی حجازی مدظلہ العالی ، مدرسہ صولتیہ مکہ کے مولانا سیف الرحمن نے بھی فتوؤں کے بعد عقیدت کا اظہار کیا تھا۔ مجھے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اپنے استاذ حضرت مولانا بدیع الزمان نے حاجی عثمان کیلئے علماء ومفتیان کے خلاف اہم کردار ادا کرنے پر تھپکی دی تھی۔ جمعیت علماء اسلام ف اور س دونوں کے اکابر نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا تھا۔ تبلیغی جماعت کراچی کے امیر ،انکے صاحبزادے مفتی شاہد اور شیخ الحدیث مولانا زکریا کے خلفاء مولانا یحییٰ مدنی بھی حاجی محمد عثمان کے ساتھ تھے۔ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد کندیاں، جمعیت علماء اسلام ف کے امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف، مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا سرفراز خان صفدرسیمت سندھ ، پنجاب اور پختونخواہ کے علماء کرام نے ضلعی اور صوبائی سطح سے لیکر مرکزی سطح تک ہماری زبردست تحریری اور بالمشافہہ ملاقات میں تائید فرمائی تھی۔ جن میںہمارے استاذ پرنسپل بنوری ٹاؤن کراچی ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی، مفتی عبدالمنان ناصر لورالائی بلوچستان کے علاوہ تمام مکاتب فکر اور جماعتوں کے اہم قائدین بھی شامل تھے۔ ڈاکٹرا سرار احمد، پروفیسر غفور احمد ، مولانا سمیع الحق شہید ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پروفیسر فریدالحق ، علامہ طالب جوہری ، مولانا حسن ظفر نقوی اور تمام مکاتب کے بڑے بڑے حضرات کی ہمارے اخبار میں سرخیاں لگی ہیں۔
جب یکم جون2007کو اخبارات کی زینت یہ خبر بن گئی کہ نامعلوم افراد نے پیر عتیق الرحمن کا پوچھا اور نہ ملنے پر گھر پر حملہ کردیا اور14افراد موقع پر جان بحق اور دوافراد زخمی ہوگئے تو جولائی2007میں مجھے اپنے انجام تک پہنچنے کی توقع پر مولانا محمد زبیر حق نواز نے ” فتاوی عثمانی جلددوم ” میں حاجی عثمان کے معتقد کے خلاف فتویٰ بھی شائع کردیا۔ حاجی عثمان کے خلاف مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی نے اپنے مفادات کی وجہ سے فتوے لگائے تھے، ان کا بڑاسرمایہ ڈوب رہا تھا۔ لیکن مفتی زبیر لونڈے نے کس طرح یہ حرکت کر ڈالی؟۔ اس کے محرکات تلاش کرکے مفتی زبیر کو اپنے کئے کی سزا انشاء اللہ ضرور ملے گی۔
جب اپنے خلاف فتویٰ دیکھنے کیلئے فتاویٰ عثمانی جلد دوم لی تو پھر ایسے بہت انکشاف ہوئے کہ تقی عثمانی نے کتنے غلط فتوے دیکر اسلام کا کباڑ بنادیا ہے ؟ اس ذخیرے میں کچھ فتوے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اگر اس کو جلی حروف کیساتھ شائع نہیں کیا تو آخرت میں مواخذہ ہوگا۔ برما سے بے وطن بعض غریب لوگ اپنی بیٹیاں بیچتے تھے، برما کے لوگ بہت اچھے اور غیرتمند مسلمان ہیں لیکن غربت کی وجہ سے بعض لوگ اپنی بچیوں کو دلالوں کے ذریعے فروخت کررہے تھے۔ ایک شخص نے70عورتوں کو فروخت کیا تھا اور باقی بھی کچھ دلال تھے جو نہیں شرماتے تھے۔
سوال : ایک عاقلہ بالغہ مسلمان لڑکی پنچائیت، عدالت وغیرہ ( یعنی بیچنے والے دلالوں کے نکاح کرانے کے بعد یہ بیان دیتی ہے کہ ” اس نے نکاح اپنی بلوغت کی عمر میں اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا بلکہ اپنی حقیقی ماں کا دل رکھنے کیلئے کیا تھا تو اس نکاح کی قرآن وسنت کی روشنی میں کیا حیثیت ہے؟۔
جواب : جب لڑکی بالغ ہو اور اس نے نکاح کی منظوری دے دی ہو تو نکاح ہوگیا ، بعد میں یہ کہنا کہ میں نے والدہ کا دل رکھنے کیلئے کہا تھا ،اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، نکاح قائم ہے۔ (فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ274)
سوال: ۔………مسئلہ : فرض کیا اگر میری بیوی اور اس کے گھر والے وغیرہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ اب کسی بھی طریقے سے اور بذریعہ عدالت بھی اس خاوند سے جان نہیں چھوٹ سکے گی تو اگر میری بیوی اور اس کے گھر والے اپنی لڑکی یعنی میری بیوی کی دوسری جگہ شادی کرنے کیلئے مجھے قتل کرادیتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان حالات میں قتل کا گناہ کبیرہ تو میری بیوی اور اس کے گھر والوں وغیرہ پر ہوگا ہی لیکن کیا مجھے قتل کروانے کے بعد میری بیوی جو بیوہ ہوگی اس کا نکاح کسی دوسرے مرد کیساتھ جائز ہوگا یا نہیں ؟۔
جواب: قتل کا سخت گناہ ہے مگر عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح ہوجائے گا۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ(274،275)
اگر فتاویٰ عثمانی جلد دوم کا علمی جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت تضادات والے فتوے بھی ہیں جن کو دیکھ کر علماء ومفتیان بھی حیران ہوں گے کہ پیسوں کے لین دین کی وجہ سے مختلف لوگوں کو مختلف اور متضاد فتوے دئیے ہیں۔ جب چاہا لڑکی کے حق میں فتویٰ دیا اور جب چاہا لڑکے کے حق میں فتویٰ دے دیا۔
لیکن یہاں اس بات کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے کہ جب عورت جان کی خلاصی چاہتی ہو تو جب تک اس کے شوہر کو قتل نہ کیا جائے تب تک اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہو اور جب میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں لیکن مولوی فتویٰ دے کہ صلح نہیں ہوسکتی ہے۔ تو کیا اس اسلام کو دین فطرت کہا جاسکتاہے؟۔
مفتی زبیر میڈیا پر عورت کے حقوق کی علمبردار خواتین سے بات کرتا ہے۔ اگر عورتوں کو فتاویٰ عثمانی جلد دوم تھمادی جائے اور پھر مجلس عام میں لوگوں کے سامنے ان فتوؤں کا ذکر کیا جائے تو مفتی زبیر کو لوگ جوتے ماریں گے کہ یہ کیا کیا بکواس اسلام اور قرآن وسنت کے نام سے لکھے ہیں؟۔جو شائع کی گئی ہیں۔
جب اللہ نے سورہ النساء آیت19میں پہلے عورت کو خلع اور پھر مرد کے طلاق کا ذکر آیت20،21میں کیا ہے اور دونوں صورت میں عورت کو مالی تحفظ بھی دیا ہے تو یہ فتوے دینا کہ جب تک شوہر کو قتل نہیں کیا جائے ،کسی صورت بھی عورت فتوے یا عدالت کے ذریعے خلع نہیں لے سکتی ہے ؟۔ اس دشمنی اور قتل کا ذمہ دار طبقہ بھی یہ دین فروش مفتی ہیں۔ اب تو یہ اسلام کے نام پر چندے کھا کھا کر اپنی اوقات بدل چکے ہیں لیکن وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ مفتی تقی عثمانی اور دیگر علماء ومفتیان کو اسلئے معاف کردیا جائے گا کہ بڑی عمر کے شریف ہیں لیکن مفتی زبیر جیسے لونڈے زدگی میں مبتلاء افراد کو اوقات یاد دلائی جائے گی۔
ایک طرف سورۂ بقرہ کی آیت229سے غلط خلع مراد لیا گیا ہے اور اس کو ٹکڑے کرکے ایسا ترجمہ وتفسیر مراد لی گئی ہے کہ جو بالکل ممکن ہی نہیںہے۔ جب وہ خلع مراد ہونہیں سکتا ہے تو پھر اس سے خلع مراد لینے سے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے۔ جماعت اسلامی کا منبع تو ایک مولانا مودودی ہے اور اس نے ترجمہ وتفسیر غلط لکھی دی ہے اور اس کی غلطی تسلیم کرنے پر جماعت اسلامی کو اپنی ساری عمارت گرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ مولانا مودودی نے بھی قرآن کے متن کو سمجھنے میں اتنا بڑا مغالطہ کھایا ہے تو جماعت اسلامی ایک منافع بخش ادارہ ہے ، اس سے لوگوں کو بڑی مراعات مل رہی ہیں اور اس سے وہ حکومت تک پہنچنے کے وسائل پیدا کرتے ہیں۔ وہ اپنے طرزِ عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلاف نے مولانا مودودی کو فتنہ قرار دے کر بالکل ٹھیک کیا تھا۔
سوال : لڑکی کی شادی کم سے کم کتنی عمر میں کرسکتے ہیں۔ازروئے شرع مطلع فرمائیں۔
جواب : شادی کیلئے کوئی عمر مقرر نہیں ، ہر عمر میں نکاح کرنا جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ بلوغ کے بعد نکاح کیا جائے۔ (فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ308)
سوال : لڑکی نابالغہ کا نکاح چچا نے کردیا۔ جب تقریباً بائیس سال کی ہوئی تو تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیا کہ میرے چچا نے میری مرضی کے مطابق نکاح نہیں کیا ، اب یہ نکاح قابل فسخ ہے یا نہیں ؟۔
جواب : ۔ لڑکی کو خیارِ بلوغ کے تحت فسخ نکاح کا حق اسی وقت حاصل تھا جب اس پر بلوغ کے آثار ظاہر ہوئے تھے، جب اس نے اس وقت نکاح فسخ نہیں کیا تو ا سکے بعد سالہاسال گزنے پر خیار بلوغ کا حق استعمال نہیں کرسکتی ۔ واللہ سبحانہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ (فتاوی عثمانی جلددوم صفحہ287)
اللہ نے قرآن میں یتیم لڑکوں کا فرمایا ہے کہ اس وقت ان کا مال انکے حوالہ کردو جب وہ نکاح کو پہنچ جائیں۔حتی اذا بلغوا النکاح ، اس سے مراد صرف بالغ ہونا نہیں بلکہ ذمہ داری کا فرض ادا کرنے کے قابل ہونا مراد ہے۔
جہاں تک فقہی کتابوں میں مسائل کا ذکر ہے تو مفتی تقی عثمانی نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کو جائز قرار دینے والی کتابوں کے حوالے سے بھی عبارت نقل کی تھی لیکن جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا مخالفت میں فتویٰ اور عوام نے پریشر ڈال دیا تو اپنی اردو کتاب ” فقہی مقالات جلد چہارم ” اور عربی کتاب ”تکملہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم ” سے اپنی ان عبارات کو ایسے نکال دیا جیسے اپنے منہ کے آگے والے دونوں بدنما دانت نکال دئیے ہیں۔ اگر علماء ومفتیان اور عوام کی طرف سے پریشر پڑے گا تو سب بکواسات سے دستبردار ہوں گے۔
مجھے ایسے دیندار شخص کا پتہ ہے جس نے کہا کہ یہ مشہور ہے کہ دوسالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے میں بڑی لذت ہے۔ پاکستان میں آئے روز کیس میڈیا میں رپوٹ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ علماء ومفتیان نے فتوے بھی دے رکھے ہیں۔ اب تو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا رعب ودبدبہ بھی نہیں رہاہے لیکن حکومت کو بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ جب پاکستان کے آئین اور عائلی قوانین میں بچپن کی شادی پر پابندی ہے لیکن جب جماعت اسلامی والے پروپیگنڈہ کریں گے کہ مفتی محمود نے جنرل ایوب خان سے ایک لاکھ روپے کے عوض شور نہ مچانے کا معاہدہ کیا تھا اور دارالعلوم کراچی سے بچپن کے نکاح کیلئے فتوے دئیے جائیں گے۔ غریب الدیار برمی بچیاں اور خواتین دلالوں کے ہاتھوں مفتی تقی عثمانی کے فتوؤں پر بکیں گی تو پاکستان اور اس اسلام کی دنیا میں کیا وقعت رہ جائے گی؟۔
افغان طالبان بھی مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ عثمانی جلد دوم کو اپنے ہاں منگواکر قرآن وسنت پر اس کو تولیں۔ مسلک حنفی کی اصول فقہ اس بات سے بھری ہوئی ہے کہ قرآنی آیات کے منافی احادیث صحیحہ کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔علامہ انور شاہ کشمیری نے کہا کہ قرآن و حدیث کی خدمت نہیں فقہ کی وکالت میں عمر ضائع کردی۔ جب قرآن کے مقابلے میں صحیح حدیث کو مسترد کرنے کا اصول ہو توپھر فقہ کی کتابوں کی کیا اوقات ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دباؤ پڑگیا تو فوراً روزنامہ اسلام کراچی و ہفت روزہ ضرب مؤمن کراچی میں اپنی کتابوں سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح جب بچیوں اور خواتین کے حوالہ سے بیہودہ اور غلیظ فتوؤں کے خلاف تحریک اٹھے گی تو یہ سرنڈر ہونے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ جب عیسائی اور یہودی کے مذہبی طبقات اس حد کو پہنچ گئے تو مغرب کی عوام نے مذہب کو چھوڑ کر سیکولر کا راستہ اختیار کرنے میں راہ نجات ڈھونڈ نکالی۔ ایسے غلط اور بدفطرت مذہبی مسائل سے سیکولر ہونا بہت اچھا ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا: اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے قیامت تک ۔اس حدیث سے ان کا غیرفطری دین سے بغاوت کرنے کی تائید ہوتی ہے۔ نبی ۖ کا دین آخری دین ہے ۔ جو فطرت کے مطابق ہے اور اس سے سیکولر ازم کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو بگاڑ پیدا کیا گیا ہے یہ علماء اور مذہبی طبقات کی اپنی اختراع اور صراط مستقیم کے موٹر وے سے گمراہی کا شکار ہونے کی وجہ سے ہے۔ مجھے امید ہے کہ سارے فرقوں کے علماء کرام ایک مرتبہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اسلام اور پاکستان کو مشکلات سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔پھرافغانی ، ایرانی اور ہندوستانی بھی ساتھ دیں گے۔
کیا افغانی ، ایرانی اور ہندوستانی یہ قبول کرسکتا ہے کہ وہ عرب نہیں۔ اگر اس کی بالغ لڑکی کو اغواء کیا گیا اور ڈرا دھماکر نکاح پر مجبور کیا گیا تو نکاح شرعاً منعقد ہوگیا۔اب اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دارنکاح ختم کرنا چاہتے ہوں تو سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ لڑکے سے طلاق حاصل کریں۔ فتاوی عثمانی280
لڑکے کو قتل نہ کیا جائے تو خلع بھی نہیں ہو سکتا؟۔ غیرتمند علماء غلط اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں ورنہ داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لے لو ایک روپے میں دو فتوے، آٹھ آنے آٹھ آنے ، آ ٹھنڈے ،آٹھنڈے :شربتِ انار

لے لو ایک روپے میں دو فتوے، آٹھ آنے آٹھ آنے ، آ ٹھنڈے ،آٹھنڈے :شربتِ انار

فتویٰ فروشان اسلام بہت کھلے دل کے ساتھ پوری دنیا کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ
فتویٰ فروشی کی تمنا ازل سے ہمارے دل میں ہے
باز نہیں آنا لگالو زور جتنا بازوئے قاتل میں ہے

رسول اللہ ۖ کے حوالہ سے انصار مدینہ نے شکایت کی کہ مشکلات کے دور میں ہم نے ساتھ دیا اور اب جب آسانیوں کے دروازے کھل گئے تو مہاجر قریش کو نوازا جارہا ہے۔ نبی ۖ تک بات پہنچی تو انصار کے بزرگوں سے پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے یہ بات نہیں کی ہے لیکن نوجوانوں کے ہاں گردش کررہی ہے۔ پھر نبی ۖ نے سارے انصار کو بلایا اور ان سے خطاب فرمایا کہ جب میں یہاں نہیں آیا تھا تو تمہارے آپس کے جھگڑے رہتے تھے اب تم شیر و شکر ہوگئے ہو۔ پہلے تمہارا غربت سے بہت برا حال تھا اب دولت مند بن گئے اور پہلے حالت کفر میں تھے اب صاحب ایمان بن گئے ہو، پہلے جاہل تھے اب تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ بن گئے ہو۔ مختلف چیزیں سامنے رکھیں اور انصار نے سب کی تصدیق کی۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ جو مہاجرقریش اپنا گھر بار چھوڑ آتے ہیں تو ان کی مدد کرنا ایک مجبوری ہے اگر تمہاری یہ حالت ہوتی تو تمہیں بھی اسی طرح سے مدد دی جاتی۔ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ بے سہارا مہاجرین کو مال دیا جائے اور میں خود تمہارے مدینے کا باشندہ بن جاؤں ؟۔ انصار نے تقریر سنی اور ایک ایک بات کو سمجھ کر اس کا جواب دیا تو زار و قطار رونے لگے۔ عرض کیا رضینا باللہ ربًا و بنبیی محمد ًا وبالاسلام دینًا ”ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں ،محمد ۖ کے نبی ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر ”۔
نبی ۖ نے شکوے شکایت کی وجہ سے انصار پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا بلکہ ان کو اصل صورتحال سے آگاہ فرما کر غلط فہمیاں دور کردیں۔ خوارج نے پہلی مرتبہ خلافت راشدہ کے دور میں کفر کے فتوے شروع کردئیے ، یہ لوگ پہلے حضرت علی کے ساتھی تھے اور پھر علی کیلئے سود اللہ وجہہ (اللہ اس کا چہرہ کالا کرے) کہتے تھے۔ جس کے مقابلے میں کرم اللہ وجہہ (اللہ اس کے چہرے کو تکریم بخشے) کہنا شروع ہوگئے۔ جب حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان جنگ ہوئی تو شمر علی کا سپہ سالار تھا۔ کسی ریاست میں سول اور ملٹری بیوروکریسی کا کردار ایک ملازم کا ہوتا ہے۔ ہندوستان کو غلام رکھنے والے سول و ملٹری بیورو کریسی آزادی کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہوگئے۔ پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے۔ جنرل باجوہ کو نواز شریف نے نامزد کیا اور پھر عمران خان اور سب نے مل کر ایکس ٹینشن دی تو سب کا مشترکہ اثاثہ بن گیا۔ جس کی وجہ سے پھر فوج کے پروجیکٹ عمران خان سے مراسم خاص نہیں رہے بلکہ سب کے ساتھ مشترکہ بن گئے تھے۔
کراچی صدر میں ایک انار شربت فروش تھا جو آواز لگاتا تھا کہ آٹھ آنے، آٹھ آنے … کوئی سیدھا سادہ سمجھ لیتا کہ پانچ روپے کا شربت اتنا سستا مل رہا ہے اور پینا شروع کردیتا تھا تو شربت والا اپنی آواز آٹھ آنے سے آ ٹھنڈے ، آ ٹھنڈے میں بدل دیتا تھا۔ اپنے پاس بدمعاش بٹھائے تھے جو پانچ روپے دینے سے انکار کرتا تھا تو اس سے زبردستی سے بھی لے لیتے تھے۔ کچھ لوگ اپنی شرافت سے پانچ روپے دے دیتے تھے۔ ٹھگوں کا یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔
سواد اعظم اہل سنت کی تحریک کو عراق نے پیسہ دیا تو اہل تشیع پر کفر کا فتویٰ لگادیا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا لنگڑے کی ڈنڈے سے پٹائی لگائی تھی اور مولانا زکریا نے سواد اعظم کے رہنماؤں اور مولانا سلیم اللہ خان پر بہت بڑے کرپشن کا الزام لگایا جو مختلف اخبارات کی زینت بنا۔ پھر وہ وقت آیا کہ ہمارے استاذ ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر نے دوران تعلیم ہم سے کہا کہ یہ باہر فسادی آئے ہوئے ہیں مولانا بنوری کے وقت میں اہل تشیع کا ماتمی جلوس گزرتا تھا تو ان کے بڑے دفتر میں آتے تھے اور نیوٹاؤن مسجد کے مٹکے صاف کرکے پانی سے بھردئیے جاتے تھے اور غسل خانے صاف کردئیے جاتے تھے تاکہ ماتمی جلوس کے شرکاء کیلئے آسانی ہو۔
پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے اہل تشیع کے خلاف فتویٰ لکھا گیا کہ شیعہ تین وجوہات کی بنیاد پر قادیانیوں سے بدتر کافر ہیں۔1:شیعہ پورے قرآن کی تحریف کے قائل ہیں اور قادیانی ایک آیت میں تاویل کرتے ہیں۔2:شیعہ کا عقیدہ امامت ختم نبوت کا انکار ہے۔3:شیعہ صحابہ کرام کو کافر کہتے ہیں۔
دار العلوم کراچی نے سواد اعظم کی تحریک میں پیسوں کی وصولی نہیں کی اسلئے انہوں نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کے سارے مدارس نے اس فتوے پر دستخط کئے تھے اور آج بھی وہ کتابی شکل میں مارکیٹ کی زینت ہے۔ پھر دار العلوم کراچی نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا تو اکیلے رقم وصول کرلی تو باقی مدارس نے مفتی تقی عثمانی اور اسلامی بینکاری کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا جو مارکیٹ کی زینت ہے۔ ان فتویٰ فروش علماء و مفتیان کا حال کراچی صدر کے شربت فروش سے مختلف نہیں ہے۔ روپے کے دو فتوے ، آٹھ آنے اور آٹھ آنے سے معاملہ بدل کر آٹھنڈے آٹھنڈے پرآجاتا ہے۔ اہل تشیع پر جن لوگوں نے فتویٰ لگایا تھا انہوں نے اتحاد تنظیمات المدارس کے نام پر شیعہ کے ساتھ اتحاد کرلیا اور کفر کا فتویٰ اسلام میں بدل دیا۔ جن مدارس نے اسلامی بینکاری کے خلاف فتویٰ دیا تھا وہ اسلامی بینکاری کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی کی تائید کررہے تھے۔ ان لوگوں کا دین ایمان اور علم صرف پیسہ اور ماحول ہے۔
خلیل جبران نے قصہ لکھا ہے کہ ایک پادری کسی وادی سے گزر رہے تھے تو کسی شخص کے کراہنے کی آواز آئی ، اس نے سوچا کہ کون ہے اور قریب سے دیکھا تو ایک اجنبی بہت شدید زخمی حالت میں پڑا تھا۔ پادری کا نام لے کر اس نے کہا کہ مجھے بچاؤ ۔ پادری نے کہا کہ اپنا تعارف کراؤ ۔ اجنبی زخمی کہہ ر ہا تھا کہ تجھے میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور تو بھی مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے، جلدی مجھے اٹھاکر لے جاؤ نہیں تو میں مرجاؤں گا۔ پادری نے کہا کہ اگر تو اپنا تعارف نہیں کرائے گا تو میں تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں۔ زخمی نے بتایا کہ میں ابلیس ہوں اور اسرافیل علیہ السلام نے مجھے اپنی دو دھاری تلوار سے شدید زخمی کردیا ۔ پادری نے خوب لعن طعن کی تو ابلیس نے سمجھایا کہ جب میں لوگوں کو ورغلاتا ہوں تو پھر وہ تجھے کفارہ کے طور پر صدقے اور خیرات دیتے ہیں۔ اگر میں نہ رہا تو تیرا بھی گزر اوقات نہیں ہوگا۔ پادری کی سمجھ میں بات آگئی اور اسے کاندھے پر اٹھالیا ، رات کی تاریکی میں ابلیس کاخون رستا رہا اورپادری کے جوتے بھر گئے۔
کراچی میں حاجی محمد عثمان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خود پر لگنے والے فتوؤں کی داستان سامنے رکھ دی تو تاریخ کے ہر موڑ پر علماء حق اور علماء سُو ء کی سمجھ آجائے گی۔ یہ میڈیا کا دور ہے، لوگوں میں تعلیم عام ہے اور علماء و مفتیان نے وقتی مفادات حاصل کرنے کے بعد اپنا اعتماد کھودیا ہے۔ چند افراد کے غلط کردار سے سب کی بدنامی ہوئی ہے اور ہم سب اہل حق کی عزت بحال کرنا چاہتے ہیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت حسین کے قاتلوں سے بے نمازیوں کے قتل کرنے تک اسلام کی داستانِ اجنبیت ؟

حضرت حسین کے قاتلوں سے بے نمازیوں کے قتل کرنے تک اسلام کی داستانِ اجنبیت ؟

اسلام کے کٹھن مراحل میں مکی دور اور شعب ابی طالب کامرحلہ بہت سخت تھا۔ مدنی دور میںبدر، احد اور دیگر غزوات فتح مکہ تک کا سفر مشکل تھا۔ فتح مکہ کے بعد آسانی کا دروازہ کھل گیا ۔ ابوسفیان ، اس کی بیگم ہند ،اس کا غلام وحشیاور مکہ کے سردار ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ نے بھی اسلام قبول کرلیا۔
ابوسفیان کومکہ کے سرداروں کی موت نے سردار بنادیا۔ ابوجہل اور بڑے بڑے سردار بدر اور احد وغیرہ میں قتل کئے جاچکے تھے، ابولہب بھی بیماری سے مرا تھا۔ نبیۖ نے فتح مکہ پر سب کواور خاص طور پر ابوسفیان کو عزت بخش دی۔ نبی ۖ کو احساس تھا کہ آپۖ کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد خلافت پر کوئی مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ اگر نبی ۖ حدیث قرطاس لکھوادیتے تو انصار ومہاجرین میں خلافت کے مسئلے پر دراڑ پیدا نہ ہوتی۔ انصار نے کہا کہ نبوت اللہ کی طرف سے ہے لیکن خلافت ہمارا حق ہے۔ پھر حضرت ابوبکر و عمر اس قومی تعصبات کے خاتمے میں وقتی طور پر کامیاب ہوگئے۔ پھر حضرت ابوبکر نے اپنے بعد حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کردیا۔ حضرت عمر نے قاتلانہ حملے کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش نبی کریم ۖ سے خلفاء کی فہرست پوچھ لیتے۔ شوریٰ خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی تو اس میں ایک بھی انصاری صحابی نہیں تھے۔ حضرت عثمان خلیفہ بن گئے اور پھر ان کا چالیس دن تک محاصرہ کرکے گھر سے نہیں نکلنے دیا گیا۔ خواب دیکھا تھا کہ خلافت کی قمیض مت اُتاریں۔ پھر حضرت علی نامزد ہوگئے تو جنگیں شروع ہوگئیں۔ مدینہ سے خلافت کا مرکز کوفہ منتقل کرنا پڑگیا۔ آپ نے شہادت کی منزل پائی تو حضرت حسن خلیفہ بن گئے۔ امام حسن نے نبیۖ کی بشارت سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرنے کیلئے خلافت سے دستبرداری اختیار کرلی۔ امیر معاویہ کے دور میں مستحکم حکومت تھی لیکن قاتلین عثمان سے کوئی قصاص نہیں لیا گیا۔ پھر یزید نامزد ہوگیا تو سانحہ کربلا پیش آیا اور حرم نبوی مدینہ میں بھی انتہائی ناگفتہ بہ واقعات پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں مسلمان ہونے والوں کو خلافت سے سر فراز کرکے آزمائش میں ڈال دیا تھا اور کس نے کتنے درجہ اس میں کامیابی حاصل کی؟۔ حضرت عمر کی وفات کے بعد علی نے حضرت عمر کی تعریف میں جو کلمات کہے وہ نہج البلاغہ میں ہیں۔
اسلام اس قدر اجنبی ہوا کہ قاتلانِ حسین پوچھ رہے تھے کہ ”اگر احرام کی حالت میں مکھی مار دی تو دَم (قربانی) واجب ہوگی یا نہیں؟”۔ بادشاہوں اور ان کا کٹھ پتلی حجاج بن یوسف غصے کی حالت میں نہیں خوشی کی حالت میں بڑی تعداد میںمسلمان رعایا کے قتل میں ملوث تھا۔ پھر بنوامیہ کا خاتمہ ہوا تو بنوعباس نے بھی مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ یہ تو اپنے سابقین کے لواحقین تھے اور ان سے زیادہ اچھائی کی امید بھی نہیں رکھی جاسکتی تھی۔
قرآن وسنت میں جان کے بدلے جان کا معاملہ تھا۔ قتل وغارت گری نے معاملہ یہاں تک پہنچادیا تھا کہ جان کے بدلے جان کو قتل کرنے کا تصور ختم کردیا گیا تھا ،البتہ بے نمازی کو قتل کرنے اور نہ کرنے پر مسائل گھڑے جارہے تھے۔ عمل درآمد تو نہیں ہوسکتا تھا لیکن ذہنی عیاشیوں کیلئے فقہی غارت گری نے اسلام کی حالت ناگفتہ بہ بنادی تھی۔ شکر ہے کہ خلافت بنوعباس کے بعدارتغرل نے خلافت عثمانیہ کی بنیاد ڈالی ، جس کے مرشد سیدعبدالقادر جیلانی کے خلیفہ شیخ محی الدین ابن عربی نے صوفیانہ اسلام پیش کیا۔ اگر شافعی یا مالکی مسلک کے خلفاء کو اقتدار ملتا تو بے نمازیوں کے قتل پر عمل در آمد کراتے۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں چار مسالک کے الگ الگ امامت کیلئے جائے نماز رکھ دئیے تھے۔ پھر وہ سلسلہ سعودی عرب نے قبضہ کرنے کے بعد ختم کردیا تھا۔ شکر ہے افغانستان میں پہلے طالبان کی حکومت حنفی مسلک والوں کی تھی جو بے نمازیوں کے زد وکوب تک اپنی شریعت محدود رکھتے تھے۔ اگر شافعی یا مالکی ہوتے تو پتہ نہیں کتنے بے نمازیوں کو قتل کرچکے ہوتے۔اب طالبان نے بہت اچھا کیا کہ ملاعمر کے نظام کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ بے نمازیوں کی مارپیٹ اور زبردستی سے داڑھی رکھوانا اجنبی اسلام کا شاخسانہ تھا۔خلافت راشدہ کے دور میں نہ صرف جنگیں ہوئی ہیں بلکہ انصار کے مکان اور جائیدادیں بھی ضبط ہوئی ہیں۔ ابوایوب انصاریکا گھر ضبط ہوا تو مدینہ کی گلی میں بال بچوں سمیت آپ نے آواز لگائی کہ آج مجھے کوئی پناہ دے سکتا ہے؟۔ میں نے رسول اللہ ۖ کی میزبانی کی تھی۔ پھر ابن عباس نے روتے ہوئے اپنا گھر خالی کرکے ان کو دیا تھا، یہ صحاح ستہ کی صحیح الاسناد بڑی خبر کوئی اسلئے نہیں بتاتا ہے کہ انصار کے دفاع میں کس کو فائدہ ہے؟۔
قرآن کہتاہے کہ جنہوں نے نبیۖ کو ٹھکانہ دیا اور مدد کی تو وہی لوگ سچے مؤمن ہیں۔ ابوطالب کے بارے میں ہے کہ جہنم کے نچلے درجے میں تھے اور نبی ۖ کی دعا وسفارش سے اوپر آگئے۔ کیا مشرک کیلئے قرآن نے سفارش کی اجازت دی ہے؟۔ یا ابوطالب کو کافر بنانے کیلئے روایات گھڑی گئی ہیں؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ذوالفقار علی بھٹو کے اسلامی سوشلزم سے مفتی تقی عثمانی کے اسلامی بینکاری کیپٹل ازم تک

ذوالفقار علی بھٹو کے اسلامی سوشلزم سے مفتی تقی عثمانی کے اسلامی بینکاری کیپٹل ازم تک

ذوالفقار علی بھٹو ایک جاگیردار تھا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے خلیفہ حضرت شاہ عنایت شہید نے سندھی جملے سے کہ ”جو فصل بوئے گا وہی کاٹے گا”تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ اگر وہ تحریک کامیاب ہوجاتی تھی تو برصغیر پاک وہند سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز اس وقت سے ہوجاتا۔ پھر دنیا میں کارل مارکس کوایک نیا معاشی نظریہ سوشلزم اور کمیونزم ایجاد کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ جس کو لینن نے سویت یونین میں عملی جامہ پہنایا تھا اور جس سے پوری دنیا کے سودی نظام کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز کے خلاف دیوبندی اور بریلوی علماء ومشائخ نے مالٹا اور کالا پانی میں جیلوں کی سزا کاٹی تھی۔ مولانا جعفر تھا نیسری اور مولانا فضل الحق خیرآبادی وغیرہ نے کالے پانی کی سزا بھگت لی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مولانا عزیرگل، مولانا حسین احمد مدنی نے مالٹا کی قید کاٹی تھی۔1920میں اسیرانِ مالٹا آزاد ہوئے تو شیخ الہند کا اسی سال انتقال ہوا۔1921میں مولانا حسین احمد مدنی نے فتویٰ جاری کیا کہ انگریز کی فوج میں بھرتی ہونا جائز نہیں ہے۔ مولانا محمد علی جوہر نے مولانا حسین احمد مدنی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ اشعار کہے تھے ۔
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے کہ
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
جب مولانا حسین احمد مدنی نے انگریز کی عدالت سے معافی مانگنے کے بجائے اپنے فتوے پر ڈٹ گئے تو ان اشعار کے واقعی وہ بڑے مستحق تھے۔ اس وقت انہوں نے ہندو مسلم فسادات کو روکنے کیلئے اور انگریز کو برصغیر پاک وہند سے بھگانے کیلئے فتویٰ دیا تھا کہ ”ہندوستانی ایک قوم ہیں”۔ سر علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ ”دیوبند سے حسین احمد کہتا ہے کہ قوم وطن سے بنتی ہے ،مذہب سے نہیں تو کیا بولہبی ہے؟”۔ علامہ اقبال نے بھی کیمونزم کو سپورٹ کرنے کیلئے اپنی غزل ” فرشتوں کا گیت” لکھ دیا تھا۔ جس میں کھل کر کمیونزم کی تائید تھی۔
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو!
کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو!
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو!
محمد علی جوہر کے اخبار کا نام کامریڈ تھا اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار کانام زمیندار تھا۔تاج برطانیہ اور امریکہ ویورپ کے سودی نظام کو شکست دینے کیلئے دنیا بھر میں کمیونزم کا ولولہ موجود تھا۔ انگریز نے جب تقسیم ہند کا فیصلہ کیا تو روس کو روکنا اس کے پیشِ نظر تھا۔ افغانستان آزاد ملک تھا اور جرمنی اور روس کے مقابلہ میں انگریز سے نفرت رکھتا تھا۔ انگریز آئے روز افغانستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھاتا تھا۔ امیر امان اللہ خان کی حکومت بھی انگریزی سازش کا شکار بنی اور اس کیلئے ملاشور بازار اور شیر آغا جیسے لوگوں نے علماء ومشائخ کی قیادت کی۔
پنجاب میں آزادی سے پہلے مسلم لیگ کی نہیںمخلوط حکومت تھی۔ سندھ میں مسلم لیگ کو پانچ ارکان میں3یعنی ایک ووٹ کی برتری حاصل تھی۔ بلوچستان ایک الگ ریاست تھی۔ سوات ، بہالپور اور جوناگڑھ وغیرہ بہت ساری ریاستیں خود مختار لیکن انگریز کی طفیلی تھیں۔ پختونخواہ میں کانگریس کے غفار خان کے بھائی ڈاکٹر خان کی حکومت تھی۔ مغربی پاکستان سندھ کے ایک ووٹ کی برتری سے بن گیا۔ اس وقت کی اسٹیبلیشمنٹ کا یہی فیصلہ تھا ورنہ پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔ پختونخواہ کی حکومت کو توڑ کر زبردستی سے بدنام زمانہ ریفرینڈم کرایا گیا تھا۔
بنوامیہ کے ابوسفیان اور امیر معاویہ نے فتح مکہ سے پہلے اسلام کے خلاف جنگیں لڑی تھیں لیکن پھر خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کا قبضہ ہوگیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جو مروان کے پوتے تھے ،پھر اسلام کی روح کو زندہ کردیا تھا۔
پاکستان کی آزادی سے پہلے جن عدالتوں، فوج، پولیس، سول بیوروکریسی اور انگریز کے ٹاؤٹ نوابوں ، خانوں، گدی نشین پیروں اور مدارس کے علماء کے خلاف آزادی کے مجاہدین جنگ لڑرہے تھے ، آزادی کے بعد وہی انگریز کے ملازم اقتدار میں آگئے۔ پہلے دو آرمی چیف بھی انگریز تھے۔ جنرل ایوب خان بھی ان کی باقیات تھے لیکن مقامی ملازم تھے۔ جنرل ایوب نے فیلڈ مارشل کی حیثیت سے ملک کے صدارتی نظام کا انتخاب لڑا تھا اور فاطمہ جناح کو مقابلے میں غدار قرار دیا تھا۔ جنرل ایوب کی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو نکل آیا۔ بھٹو نے کمیونزم اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا۔ مولانا احمد علی لاہوری کی امارت میں جس جمعیت علماء اسلام نے سیاست کا آغاز کیا تھا وہ مولانا حسین احمد مدنی کی فکر سے تعلق رکھتے تھے۔مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود اور ملک بھر کے بڑے بڑے مفتیان کرام اور شیخ الحدیثوں پر جمعیت علماء اسلام کی وجہ سے1970میں مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی، مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ سینکڑوں علماء ومفتیان نے کفر کا فتویٰ اس بنیاد پر لگادیا کہ اسلامی سوشلزم پر فتویٰ لگائیں؟۔ جماعت اسلامی بھی اس میں پیش پیش تھی۔ البتہ ان کی حیثیت فتویٰ لگانے کی نہیں تھی۔
مولانا غلام غوث ہزاروی مرد درویش تھا،جب ا س نے بھانپ لیا کہ مفتی محمود اور جمعیت کو رجعت پسند طبقہ اپنے مفادات کیلئے بھٹو کے خلاف استعمال کر رہا ہے تو قومی اتحاد کی جگہ انہوں نے بھٹو کا ساتھ دیا۔ پھر مفتی محمود نے آخر میں محسوس کیا تو جنرل ضیاء الحق کے مقابلے میں نصرت بھٹو کیساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کیلئے تحریک چلانے کا عزم کیا لیکن ان کو پان میں زہر دیکر شہید کیا گیا۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنے باپ کے مشن پرMRDکا ساتھ دیا اور نام نہاد زکوٰة کو آب زم زم کے لیبل میں شراب قرار دے دیا۔ اب مولانا فضل الرحمن، نوازشریف، جماعت اسلامی اور مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام کو مشرف بہ اسلام قرار دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔ مفتی محمود قومی اتحاد میں تحریک نظام مصطفی ۖ کے نام پر استعمال ہوا تھا اور فرزند ارجمند مولانا فضل الرحمنPDMکے سربراہ کی حیثیت سے پھر استعمال ہورہاہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ نوازشریف کو جیل سے لندن بھجوانے میں اسٹیبلشمنٹ نے مدد کی ۔ ہم نے پہلے مولانا فضل الرحمن کو استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اب اللہ کرے کہ آرمی چیف بنوامیہ میں عمر بن عبدالعزیز کے کردار کو زندہ کریں۔ مفتی اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے سود کو اسلامی قرار دیا جو اللہ اور اسکے رسول ۖ سے اعلان جنگ ہے تو رہ کیا گیا؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صدقہ بلا اور مولوی صدقہ کھاجاتا ہے،مولوی سے دنیا ڈرتی ہے اور مولوی ہم سے ڈرتا ہے؟

صدقہ بلا اور مولوی صدقہ کھاجاتا ہے،مولوی سے دنیا ڈرتی ہے اور مولوی ہم سے ڈرتا ہے؟

علماء حق کا تعلق کسی خاص مسلک اور فرقہ سے نہیں بلکہ دیندار طبقہ علماء حق اور دنیا دار طبقہ علماء سو ہے۔ ائمہ اہل سنت میں بھی مسلک وعقائد کا بڑا اختلاف ہے مگر اہل حق کہلاتے ہیں

پشتو کے مشہور شاعر عالم صوفی رحمان بابا نے فرمایا : زہ رحمان دہر عالم خادم یم کہ اعلیٰ وی کہ اوسط وی کہ ادنیٰ۔ میں رحمان ہر عالم دین کا خادم ہوں، چاہے وہ اعلیٰ،متوسط یا ادنی ہو!

قرآن کریم کے ناظرہ ، ترجمہ، تفسیر اور کتابت سے لیکر احادیث کے تحفظ تک کا خوش قسمت طبقہ ہمارے عزت مآب علماء کرام حضرات گرامی ہیں۔ ہمیں دل وجان سے ان کی عقیدت ومحبت ، عزت واحترام اور ان کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اپنے ایمان واسلام کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اگر یہ حضرات نہ ہوتے تو لوگ شلوار بابا کے ہاں خواتین وحضرات کی شلواریں ٹانگنے کے نظارے جگہ جگہ دیکھ رہے ہوتے۔ علماء کرام کا تعلق دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کسی بھی فرقے سے ہو،ان کا اسلام اور مسلمانوں پر بڑا احسان ہے۔ اللہ نے فرمایا: ان تنصر اللہ ینصرکم ” اگر تم اللہ کی مددکروگے تو تمہاری مدد ہوگی” ۔ صحابہ کرام واہل بیت عظام سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے اور اسلامی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے، سمجھانے اور محفوظ کرنے میں ان حضرات کا کردار ہے۔ اللہ نے فرمایا: وماکان المؤمنون لینفروا کافة فلو لا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ولینذراقومھم اذارجعواالیھم لعلھم یحذرون ” اور مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ سب نکل جائیں ، پس اگر ان میں ایک ایک چھوٹا گروہ ہر فرقہ میں سے نکل جائے تاکہ دین میں سمجھ حاصل کرے۔تاکہ اپنی قوم کو خوف دلائیں جب وہ ان کی طرف لوٹ آئیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی تیاری کرائیں”۔ (التوبہ:122)
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا ادارہ قوم کی روٹیاں توڑنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز دونوں چیئرمین سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ مختلف فرقوں کے نمائندوں کی چھوٹی جماعتوں کو چند دنوں کیلئے ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو افہام وتفہیم کے ذریعے سے زبردست راستہ نکل سکتا ہے۔
اگر نام صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کا لیا جائے اور کام ذوالخویصرہ کا ہو تو پھر بلاشبہ ذوالخویصرہ نے نہ صرف نبیۖ کے دور میں بظاہر اسلام قبول کیا تھا بلکہ جب اس نے نبیۖ سے کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیاتو نبیۖ نے فرمایا کہ اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ اکیلانہیں، اس کے اور بھی ساتھی ہیں، اگر تم ان کی نماز اور روزوں کو دیکھوگے تو اپنی نماز وروزہ سے مایوس ہوجاؤگے۔ یہ قرآن پڑھیںگے مگر قرآن انکے حلق کے نیچے نہیں اترے گا اور یہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں میں ذوالخویصرہ کے ساتھیوں کے بارے میں مختلف ادوارمیں نکلنے کی وضاحت ہے۔ مذہبی طبقات احادیث کے آئینے میں خود بھی دیکھ لیں۔
مفتی طارق مسعود کہتا ہے کہ ” اگر صحیح حدیث کے مقابلے میں امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ترجیح دی تو گمراہ نہیں کافر ہوجائے گا”۔ احناف قرآن کے مقابلے میں خبرواحد کی حدیث کو تصادم کی صورت میں ناقابلِ عمل سمجھتے ہیں۔ حضرت عمر نے نبیۖ سے کہاکہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ تو کیا فتویٰ ہوسکتا ہے؟۔ حدیث قرطاس کو نہیں مانا تو خبرواحد کا تصور نہ تھا اسلئے کہ خبرواحد ومتواتر ہمارے لئے ہے۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابوطالب جہنم کے نچلے طبقے میں تھا ،پھر نبیۖ نے سفارش فرمائی تو اوپر کی طرف آگیا۔ قرآن میں منافقین کو جہنم کے نچلے طبقہ میں قرار دیا گیا ہے ۔ جنہوں نے نبی ۖ کو ٹھکانہ دیا اور نصرت کی ان کااللہ نے قرآن میں اُولٰئک المؤمنون حقاً ”یہی سچے مؤمن ہیں”قرار دیا ۔
مولانا سمیع الحق شہید سے روزنامہ جنگ نے انٹرویو لیا تھا کہ شریعت بل منظور کیوں نہیں ہورہا ہے؟۔ مولانا سمیع الحق: کچھ منافقین ہیں وہ رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ سوال : ان منافقین کے خلاف آپ کیا اقدام کریںگے؟۔ مولاناسمیع الحق: ہم ان کے خلاف جہاد کریں گے۔ سوال : کون منافقین ہیں جن کے خلاف آپ جہاد کریںگے؟۔ مولانا سمیع الحق: منافقین موجودہ دور میں کوئی نہیں ہیں۔ منافقین مدینہ میں رسول اللہ ۖ کے دور میں تھے۔
ابوطالب کی وفات مکی دور میں ہوئی اسلئے منافق نہ تھے۔ کہانی گھڑی کہ ابوطالب نے کہا کہ عورتیں طعنہ دیں گی کہ جہنم کے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا۔بنو امیہ کے بعد بنوعباس کو خلافت کا حقدار اسلئے قرار دیا گیا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا اور عباس نے اسلام قبول کیا۔ چچا کی موجودگی میں چچازاد وارث نہیں بن سکتااسلئے علی کی اولاد خلافت کی مستحق نہیں عباس کی ہے۔ حضرت ابوبکر وعمر اور عثمان چچااور چچازاد کی اولاد نہیں تھے تو انکا کیا بنے گا؟۔ یا بنوامیہ کی یزیدیت نے اسلام کو موروثی بنادیا اور اس کے بعد الگ شریعت ایجاد ہوگئی ؟۔
حضرت عمر نے بھی ابتداء میں اسلام قبول کیا اور ابوطالب نے مسلمانوں کو ٹھکانہ دیا۔ بعثت سے پہلے حضرت ابوطالب نے نبیۖ کو اپنی بیٹی ام ہانی کا رشتہ نہ دیا۔حضرت ام ہانی نے ہجرت نہ کی مگر مؤمن تھیں۔ دیانت سے کوئی کسی کو کافر یا مسلمان سمجھتاہے تو یہ ماحول کا مسئلہ ہے مگر انتشار کا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا :” النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم ”نبی مؤمنوں کیلئے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہیں”۔ شاہ عبدالقادر نے ایک جملہ میں اس کی تفسیر لکھ دی ہے کہ ” آگ میں کودنا حرام ہے لیکن اگر نبی حکم دے تو امتی کو آگ میں بھی کودنا چاہیے ”۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: جس چیز کا نبی حکم دیں وہ کرواور جس چیز سے منع کریں اس سے رُک جائیں”۔
مولانا فضل الرحمن کہہ سکتے ہیں کہ ابوطالب نے نبی ۖ کو بیٹی کا رشتہ نہیں دیا تو ہم ان کو کیسے مؤمن مان لیں؟۔ جس کا شیعہ کے پاس جواب نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے سامنے شیعہ حدیث قرطاس رکھیں تولاجواب ہیں۔ مولانا فضل ہمدرد اور انجینئر مرزا محمد علی سے یہ پوچھا جائے کہ ذولخویصرہ نے نبی ۖ کو صرف زبان سے کہا کہ آپ نے عدل نہیں کیا تو شیطان کی طرح مردود ہوگیا اور حضرت عمر نے نبی ۖ کو حدیث لکھنے نہیں دی ۔ اگر نبیۖ نے کسی کو نامزد نہیں کیا یا کسی کو نہیں کرنے دیا گیا تو حضرت عمر کیسے نامزد ہوگئے؟۔ اگر حضرت عمر نامزد نہ ہوتے تو تم ذولخویصرہ سے بدتر شیعہ کی طرح حضرت عمر کو کہتے؟۔ تم بھی شیعہ سے زیادہ تقیہ کرتے ہو۔تووہ اپنی دُم گھسیڑ کر منہ سے لٹکا دیں گے کہ یہ ہماری داڑھیاں ہیں اور بدمعاشی پر اتریں گے کہ تم کون ہو؟۔
گمراہی یہ ہے کہ علی کیساتھ جنگ میں امیر معاویہ کے لشکر نے حضرت عمارکو شہید کیا تو یہ اجتہادی غلطی تھی۔ نبی ۖ کو حدیث قرطاس حضرت عمر نے نہیں لکھنے دی تو یہ اجتہادی غلطی تھی لیکن حضرت ابوبکر وعمر و عثمان سے اختلاف کرنے والے کافر ومرتد تھے؟۔ اکابر صحابہ و سیدشباب اہل الجنة حضرت حسین کے ہوتے ہوئے یزید خلیفہ بن گیا جس کی سزا آج تک امت مسلمہ کومل رہی ہے کہ صالح ومتقی اور باصلاحیت علماء کے دور میں فاسق ،فاجر ، قاتل حکمران بن گئے۔ مجدد الف ثانی، شاہ عبدالرحیم ،شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالعزیز کے وقت اکبر بادشاہ ، شاہجہاں، اورنگزیب تخت پر بیٹھے۔ قائداعظم ، لیاقت علی خان، محمد علی بوگرہ، سکندر مرزا، جنرل ایوب اقتدار میں آگئے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد لاہوری ، مولانا ابولحسنات احمد قادری، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر علماء بیٹھے رہے۔ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلہ میں سپورٹ کیا۔
قاضی حسین احمد، مولاناایثارالحق قاسمی ، مولانا سمیع الحق کے اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ غلام مصطفی جتوئی ۔وزیراعظم نوازشریف بن گیا۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا جب سجدے سے سر اٹھاکر دیکھا تو مریم نوازشریف تھی ۔ نبی ۖ نے علم اور قضاء کے اعتبار سے پہلے نمبر پر حضرت علی کو رکھا اور فرمایا کہ میں جس کا مولا علی اس کا مولا۔ اگر علی اقتدار میں پہلے سے ہوتے تو انصار ومہاجریناور اہل بیت میں دراڑ نہ پڑتی۔ نبی ۖ کو وصیت نہ لکھنے دی اور انصار کے سامنے دعویٰ کیا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ائمہ قریش سے ہونگے، حالانکہ اہل بیت کے بارے میں نبی ۖ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ۔ قرآن اور میرے اہل بیت۔ اگر علی نے اقتدار سنبھالا ہوتا تو مانعین زکوٰة پر قتال نہ ہوتا جس پر حضرت عمر نے آخری دور میں افسوس کا اظہار کیا اور چاروں مسالک کے ائمہ نے بالاتفاق اس کو رد کردیا کہ زکوٰة کیلئے قتال کیا جائے۔ جب صحابہ نے آپس میں اختلاف بلکہ قتال کیا تو صحابہ سے اختلاف رائے رکھنے کا حق کون چھین سکتا ہے؟۔
اہل تشیع کا مقدمہ ہمیشہ ہم نے لڑا ہے اور پھر بھی لڑیںگے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ ہدایت پر ہیں۔ جتنے اختلافات شیعہ میں آپس کے ہیں اتنے تو صحابہ اور اسلاف میں نہیں تھے۔ یزید کا سپاہ سالار حسین کے لشکر میں پہنچ گیا اور کوفیوں نے وفا نہ کی۔ یزید کے شہر میں خطبہ جمعہ امام زین العابدین نے دیا تھا۔ زین العابدین سے لیکر حسن عسکری تک بنوامیہ اور بنوعباس کے نااہل حکمرانوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟۔ کیا مسلمانوں میں انتشار پھیلایا؟۔ آگے پیچھے اماموں کا سلسلہ ہے تو فقہ جعفریہ کی تدوین اور نسبت اہل سنت کی نقل میں ہوئی ہے؟۔ جب زندہ امام کا سلسلہ ہو تو پھر کسی ایک امام کے اجتہاد یا احکام کی طرف نسبت درست ہے؟۔ اہل سنت کے ہاں اجتہادی غلطیوں کا امکان ہے لیکن وہ شیعہ اپنے اماموں کے اندر اختلاف کا کیا حل نکالیںگے جن میں اختلاف ہے؟ جبکہ وہ ائمہ کو اجتہادی خطاء سے معصوم سمجھتے ہیں؟۔
اگر انبیاء کرام کے ساتھ کلمہ بدلتا ہے تو ائمہ کیساتھ کیوں نہیں بدلا؟۔ علی کے بعد حسن، حسین، علی زین العابدین ………. موجودہ دور میں مہدی غائب کا کلمہ ہونا چاہیے تھا؟۔ علامہ طالب جوہری کتاب ” ظہور مہدی” میں قیام قائم سے پہلے بہت سارے قیام قائم اور دجالوں کا ذکر ہے۔ جن میں سے ایک مشرق کا دجال اور اس کے مقابلے میں اہل بیت کے جس فرد کا ذکرہے وہ حسنی سید ہوگا۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ ” حسنی سید کی بہت روایات ہیں اور اس سے مراد سیدگیلانی ہے”۔ ایک طرف شیعہ ذاکرین اور علماء کی طرف سے اہل سنت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ذکر ہے ۔ دوسری طرف قرآن وسنت کی اہل تشیع ایسی غلط تفسیر کرتے ہیں کہ اس کا کوئی تک نہیں بنتا ہے۔
جب سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے نبی ۖ سے مجادلہ کیا اور وحی خاتون کے حق میں نازل ہوئی تو اس سے شیعہ کا عقیدہ ٔامامت کے بارے میں غلو سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب نبی ۖ سے شرعی مسئلے میں ایک خاتون کیلئے اختلاف کی گنجائش تھی تو حدیث قرطاس کے حوالے سے زیادہ گنجائش اسلئے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بدری قیدیوں کے بارے میں صحابہ کرام کی وسیع مشاورت اور حضرت ابوبکر و علی و عثمان اور دیگر سمیت فیصلہ کیا کہ ان سے فدیہ لیا جائے تو پھر جب نبی ۖ نے فیصلہ کیا تو وحی حضرت عمر وسعد کے حق میں نازل ہوئی اور اللہ نے فرمایا کہ ” نبی کیلئے مناسب نہیں تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ خوب خون بہاتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تمہیں دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ (قرآن کریم)
نبی ۖ نے فرمایا کہ اگر عذاب نازل ہوجاتا تو حضرت عمر و سعد کے علاوہ کسی کی بچت نہ ہوتی۔ صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا لیکن قرآن سے ایسی تربیت ہوئی کہ خلافت راشدہ کے دور تک پھر اس قسم کی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دور فتنہ وفساد کے باوجود بھی خلافت راشدہ کہلایا اور امیرمعاویہ کے دور پر امن وسکون کے باوجود بھی خلافت راشدہ کا اطلاق نہیں ہوسکا۔ اسلام کا بنوامیہ وبنوعباس کے بعد خلافت عثمانیہ کی موروثیت میں بدل جانا بالکل غلط تھا لیکن تقدیر کی لکیر کو کون مٹا سکتا ہے؟۔
اب مذہبی وسیاسی جماعتوں، خانقاہوں، مدارس، مساجد اور درگاہوں کیلئے موروثیت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عوام کے چندوں سے بننے والا شوکت خانم ہو یا کوئی مسجد ومدرسہ اس میں موروثیت کا کوئی جواز نہیں۔ غریبوں کا زیادہ مال تو یہ لوگ کھا جاتے ہیں۔ فوج کا سربراہ ایک غریب ہیڈ ماسٹرکا بیٹا بن سکتا ہے توپھر سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور مدارس وخانقاہ کے سربراہ اور بڑے باصلاحیت لوگ کیوں نہیں بن سکتے ہیں؟۔ سوشلزم اور کمیونزم کی ضرورت نہیں ہے اسلام کا نظام بذات خود بہت زبردست ہے لیکن جب کیپٹل ازم کا بھی اصول ہے کہ ٹرسٹ کا مال موروثی نہیں ہوتا ہے تو پھر چندوں سے بنائی جانے والی پارٹی اور مدارس کیوں موروثی ہیں؟۔ پاک فوج کو اپنے حدود تک محدود کرنے کی ضرورت ہے لیکن عوامی چندوں پر پلنے والی جماعتوں کو موروثی بنانا کہاں کا انصاف ہے۔
شیعہ سنی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے ضرور اپنی جدوجہد جاری رکھیں لیکن صحابہ کرام واہل بیت کے نام پر اپنے دھندے چلانے کے بجائے عوام کو درست راستے پر لگانے کی ضرورت ہے۔ حضرت عمر اور ذوالخویصرہ کے اختلاف میں یہ فرق تھا کہ ذوالخویصرہ میں مال کی لالچ تھی اور مال کے لالچی کیلئے کسی بھی فرقہ میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ فرقہ واریت اسلئے بڑھتی ہے کہ مال کی لالچ میں خطیب اپنی الٹی سیدھی وکالت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور عوام ان پر زیادہ سے زیادہ مال لٹاتی ہے۔ مولانا فضل ہمدرد اگر کسی لالچ کا شکار نہ ہوں تو شیعہ کو بھی بیلنس کریں۔ محمد علی مرزا نے مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری کو حلال قرار دیا ہے تو پھر صحابہ کے اختلاف کو اچھالنے کا فائدہ سستی شہرت کے سوا کیا ہے؟۔ ہم غلط فقہی مسائل سے عوام کو نجات دلانا چاہتے ہیں تاکہ مشکلات حل ہوجائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv