پوسٹ تلاش کریں

مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟

مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

مسلک اہلحدیث نے حلالہ کا راستہ روکنے کیلئے یہ راستہ اختیار کیا ہے کہ ” ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاقِ رجعی ہے”۔ دلیل یہ دی ہے کہ رسول اللہ ۖ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں اکٹھی تین طلاق کو ایک سمجھاجاتا تھا اور پھر حضرت عمر نے ایک ساتھ تین طلاق پر بھی تین کا حکم جاری کردیا”۔ لیکن جب عورت کو اسکا شوہر تین طلاق دے اور وہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو پھر اس کو طلاق رجعی قرار دینے سے نہ صرف عورت کا نقصان ہوگا بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بھی منافی ہوگا اسلئے کہ قرآن نے جس اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حکم دیا ہے اسکے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔ کیونکہ عورت پر ایک عدت گزارنا اللہ نے فرض کردیا ہے اور مولوی شوہر کو تین عدتوں کا حق دیتا ہے۔ جب وہ طلاق دینے کے بعد عدت پوری ہونے سے پہلے یا آدھا بچہ نکلنے سے پہلے رجوع کرلے تو رجوع ہوگا ۔ پھر شوہر نفاس کے بعد پاکی کے دنوں میں ایک اور طلاق دے تو دوسری عدت گزارنی پڑے گی اور عدت کے آخر سے پہلے پھر شوہر رجوع کرلے اور پھرطلاق دے تو عورت کو تیسری عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ یعنی مولوی شوہر کو طلاق رجعی کے نام پر ایک عدت کا نہیں تین عدتوں کا حق دیتا ہے، حالانکہ اللہ نے اس کو ایک عدت کا حکم دیا ہے۔ اہلحدیث کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے کی وجہ سے عورت پر مظالم کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اہلحدیث کے بانی نواب صدیق حسن خان مرحوم تھے جن کی داڑھی بھی بہت چھوٹی تھی اور اب مفتی حماد کہتے ہیں کہ نبیۖ نے خواب میں فرمایا کہ ” جن کی داڑھی بڑی ہے ،ان کی دعوت قبول ہے”۔ چھوٹی داڑھی والے جماعت اسلامی کے جاویدپراچہ بھی میڈیا پر ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان خوابوں کا دعویٰ تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، علامہ اقبال یہاں تک کہ قادیانی بھی کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شریعت قرآن وسنت کا نام ہے یا خوابوں سے اس کی تصدیق اور تردید ہوگی؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں مگر مبشرات جس سے رویائے صالحہ مراد ہیں۔ نبوت کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو ختم نبوت پر ایمان نہیں ہوسکتا ہے۔ لغت میں نبوت غیب کی خبر اور جمع نبوأت ، غیب کی پیشین گوئیاں قرآن واحادیث میں موجود ہیں۔ جن میں دوبارہ اسلام کی نشاہ ثانیہ اور خلافت کے قیام کی خبر بھی ہے۔ صالح خوابوں کا تعلق صرف پیشین گوئیوں سے متعلق ہے، اگر خواب کی تعبیر اور پیشگوئی درست ثابت ہوگئی تو وہ حدیث کے مطابق صالح خواب ہے اور اگر درست ثابت نہیں ہوئی تو تعبیر کی غلطی یا خواب درست نہیں ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے احکام بہت واضح ہیں اور حدیث صحیحہ سے ان کا کوئی تصادم نہیں ہے لیکن سارے مسالک والوں نے اس کو عجوبۂ روزگار بنادیا ہے۔ حنفی مسلک کے درست اصولوں سے معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی مگر حنفی علماء کے سرخیل نے سود کو حیلہ سازی کرکے جواز فراہم کرنے تک بات پہنچادی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سنیٹرمشاہداللہ خان نے حلالہ کے خلاف ہمارے ایڈیٹر ملک محمد اجمل کو بیان دیا تھا جو ہم نے ان کی زندگی میں چھاپ دیا تھا لیکن پھر اچانک ان کی وفات ہوگئی۔ حامد میر نے بتایا کہ ایک وہ ٹیکنالوجی بھی ہے کہ جس میں بڑے بڑے لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور اس کی موت کا الزام بھی کسی پر نہیں آتا ہے۔ سینٹر مشاہداللہ خان ایک جرأتمند اور بیباک انسان تھے ۔ کیا اس کو راستے سے ہٹادیا گیا ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہاتھا کہ کراچی کے اکابر علماء ومفتیان کو حاجی محمد عثمان کے خلاف فتوؤں پر ذبح کردو، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر وہ اپنی ٹانگیں ہلائیںگے تو ہم پکڑ لیںگے۔ ذاتی معاملات پر ہم نے صبر وتحمل سے کام لیا تھا لیکن اب اسلام اور مسلمان خواتین کی عزتوں، لوگوں کے گھر اور معاشرے کو تباہ کرنے کا معاملہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن اسلام کی درست تعبیر کیلئے علماء ومفتیان سے میری نشست کرادیں تو پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب کے علماء ومفتیان سمیت پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ مدارس میں اسلام کی رونقیں بحال ہوں گی۔ مساجد میں جمعہ کی تقاریر سننے کیلئے عوام الناس جوق در جوق آئیںگے۔
پچھلے شمارے میں غلطی سے یہ خبر آگئی تھی لیکن ڈاکٹرمجید صاحب جمعیت میں ہیں۔ حافظ حسین احمد بھی جمعیت میں ہیں۔ مولانا شیرانی ، مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک اور مولانا عصام الدین بھی واپس آسکتے ہیں۔ جمعیت علماء بڑی جماعت ہے جس میں چند افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر اسلامی بنیادوں پر معاشرے کی درست تشکیل ہوجائے تو بہت بڑا اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔ نہیں تو پھر ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں سیلاب متاثرین کے ٹینٹ اور سندھ موٹر وے کی اربوں غبن سوالیہ نشانات ہونگے۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی” اور ” مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی

مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

مسلک حنفی وہ نہیں ہے جو حنفیوں کی طرف منسوب فقہاء نے اپنی نالائقی کے سبب دنیا میں مشہور کیاہے۔ قرآن وسنت اور فقہ حنفی کا اصول ہے کہ ” عدت میں عورت کا اپنے شوہرسے نکاح قائم رہتا ہے”۔اسلئے جب تک عورت کی عدت ختم نہ ہو تو عورت کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتی ہے۔ شافعی مسلک کا اصول ہے کہ عدت میں بھی عورت کا نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ مثلاً شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی تو عدت میں حنفی مسلک کے نزدیک نکاح برقرار ہے اور شافعی مسلک کے نزدیک نکاح ختم ہوچکا ہے۔ اس کے نتیجے میں شافعی مسلک کے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ”اگر رجوع کی نیت نہ ہو تو عدت میں جماع کرنے سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے” اور حنفی مسلک میں ”اگر نیت نہ ہواور عدت میںغلطی سے شہوت کی نظر عورت پر پڑگئی توبھی شوہر کا رجوع ثابت ہوجائیگا”۔
فقہاء کے سات طبقات ایکدوسرے سے اوپر بیان کئے گئے ، جن کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور جس طرح قرآن میں سات آسمانوں کا تاحال سائنس میں پتہ نہیں لگ سکا ہے اسی طرح فقہاء نے بھی جو سات طبقات بنائے ہیں ان کے بارے میں کوئی خاص اور درست وضاحت علماء ومفتیان کو معلوم نہیں ہے۔ علماء ومفتیان سات آسمانوں کی طرح فقہاء کے سات طبقات پر بھی ایمان بالغیب کی طرح اعتقاد رکھتے ہیں۔
فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامی ،صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس، مفتی تقی عثمانی نے فقہی مقالات اور تکملہ فتح المہلم میں لکھا کہ ” سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جب ہم نے مفتی تقی عثمانی پر ضرب حق لگائی تو اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ روزنامہ اسلام اخبارمیں اپنی کتابوں سے عبارات نکالنے کا اعلان کردیا۔ فقہی مقالات مارکیٹ سے اٹھاکر اس کا وہ صفحہ تبدیل کردیا جس میں سائز کا فرق واضح ہے اورپھر اسلام اخبار میں اشتہار دیا کہ ”مجھ پر بہتان لگانے والے خدا کا خوف کریں”۔ ہفت روزہ ضرب مؤمن میں پھر اسلام اخبار کی دونوں باتوں کو ایک ساتھ شائع کردیا۔ ایک طرف اپنی کتابوں سے نکالنے اور متوجہ کرنے پر شکریہ ادا کرنے کا بیان اور دوسری طرف بہتان لگانے کا اشتہار تھا۔ سودی بینکاری کے خلاف دیوبندی بریلوی اور اہلحدیث سب متفق تھے لیکن پھر اسلام کاسب نے مل کربری طرح بہت حلیہ بگاڑ دیا ۔
قرآن نے واضح آیات میں بتایا کہ باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے طلاق میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے مگرنام نہاد فقہاء نے لکھ دیا کہ ” اگر عورت کو حمل تھا اور اس کا بچہ آدھے سے زیادہ نکل چکا تھا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور آدھے سے کم نکلا تھا تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ اگر مولوی کاباپ اس وقت رجوع کرے جب اس کی ماں کے بالکل نصف بچہ باہر نکالا ہو تو پھر رجوع کاکیا فتویٰ ہوگا؟۔
قرآن کی واضح آیات میں طلاق کے بعد رجوع کیلئے صلح اورمعروف طریقہ شرط ہے ، عدت کے اندر بھی اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کا راستہ روکنا اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں منع کردیا ہے۔ البتہ جب ایک ایسی رسم دنیا میں موجود تھی کہ عورت کو طلاق دینے کے باوجود بھی اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی نہیں کرنے دی جاتی تھی تو اللہ نے اس بری رسم کو ختم کرنے کی بنیاد پر ایسے الفاظ استعمال کئے کہ جس سے عورت کو طلاق کے بعد مکمل آزادی مل گئی۔ اس میں مروجہ حلالے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مجھ پر ذاتی حیثیت سے یہ الزام تھا کہ کسی کی بیوی اٹھاکر اسکی شادی میں نے اپنے بھانجے سے کرادی ، جس کی بنیاد پر طالبان کو ورغلایا گیا اور ہمارے گھر پر حملہ کرکے13افراد شہید کروائے گئے۔
میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ قرآن میں صرف ایک غلط رسم کو ختم کرنے کیلئے اللہ نے آیت230البقرہ میں ایسے الفاظ استعمال کئے ، جس کا مقصد صرف اس غلط رواج کا خاتمہ تھا کہ طلاق کے بعد عورت کو اپنی آزادی سے کسی اور کیساتھ نکاح نہیں کرنے دیا جاتا تھا۔اس غلط رسم کو ختم کرنے میں میرے والد مرحوم نے اپنی ایک بیوی کو طلاق دیکر پہل کی تھی جس کی وجہ سے ان کی عزت بڑھ گئی اور پھر میں نے بھی ایک عورت کے حق کی خاطر اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اس نیکی کا صلہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر اپنا فضل کردیا ہے اور طلاق کے مسئلے پر قرآن واحادیث صحیحہ اوردرست مسلک حنفی کی روشنی میں پوری دنیا کے اندر اسلام کا نام روشن ہوگا۔ انشاء اللہ۔ حضرت حاجی محمد عثمان پر بھی علماء ومفتیان نے پیسہ کھاکر نہ صرف غلط فتوے لگائے تھے بلکہ یہاں تک بھی لکھ دیا کہ انکے عقیدتمندوں کے نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا!۔ جب موقع ملے گا تو نہ صرف حلالہ کی لعنت کا خاتمہ ہوگا بلکہ جھوٹے پروپیگنڈے اور اسلام کو بیچنے والوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔ اگر مذہبی وسیاسی جماعتوںاور مدارس کے اپنے وارث ہیں تو اسلام کے وارث بھی موجود ہیں۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی” اور ” مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

مسلک شیعہ کی زبردست بے اعتدالی؟

حنفی مسلک کے علمائِ حق کی جیت بالکل یقینی ہے لیکن اصولوں کے عین مطابق چلنا ہوگا!

بسااوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ اہل تشیع کا فقہ میں طلاق کے حوالے سے سب سے بہترین مؤقف موجود ہے۔ ایک شخص اپنی بیگم کو اچانک تین طلاق دیتا ہے اور پھر جب اہل سنت سے رجوع کرتا ہے تو فتویٰ ملتاہے کہ ” حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے”۔ شیعہ نے فقہ میں یہ قانون درج کردیا ہے کہ تین طلاق کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ پاکی کے ایام میں شوہر باقاعدہ طلاق دینے کے شرعی صیغے ادا کرے گا، جیسے نکاح میں ایجاب و قبول ہوتا ہے اور اس پر دو عادل شرعی گواہ بھی مقرر کرنے ہوں گے۔ پھر جب حیض آجائے تو دوبارہ پاکی کے دنوں میں شرعی گواہوں کے سامنے شوہر دوبارہ طلاق دے گا اور پھر تیسری مرتبہ پاکی کے دنوں میں تیسری بار طلاق دے گا۔ اس طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل سنت نے جس طرح حلالہ کی لعنت کا دروازہ کھول دیا تھا تو اس کے مقابلے میں شیعہ مؤقف حلالہ کی لعنت سے بچانے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ جب لوگوں کے ذہنوں میں یہ آئیگا کہ ایک ساتھ تین طلاق کی بدعت گناہ ہے۔ حضرت عمر نے اس بدعت کو امت میں جاری کیا ہے تو یقینا لوگ شیعہ بننے کی طرف راغب ہوں گے۔ لیکن جب حقائق لوگوں کو سمجھادئیے جائیںگے تو شیعہ بھی حضرت عمر اور حنفی مؤقف کوتسلیم کرلیںگے۔
شیعہ سنی کاقرآن ایک اور احادیث وروایات کی کتابوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سورۂ طلاق میں عدت کے مطابق مرحلہ وار طلاق دینے کا حکم ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کرنے یا معروف طریقے الگ کرنے کا حکم ہے۔ جب معروف طریقے سے الگ کرنے کا فیصلہ ہوتو پھر دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم ہے مگر اسکے باوجود اللہ نے سورۂ طلاق میں اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے اس مشکل طلاق وجدائی کے حصار میں پھنسنے سے نکلنے کی نوید سنائی۔ گویا شیعہ طریقہ سے دوگواہ ہرمرحلے پر مقرر کئے ہوں یا پھر طلاق کے عمل میں بغیر گواہوں کے یہ عدت گزاری ہو۔ عورت کیلئے انتظار کی مدت بہت بڑی چیز ہے، بھلے اس پر مرحلہ وار تین مرتبہ کے دو گواہ مقرر کئے ہوں یا نہ کئے ہوں کیونکہ قرآن کا تقاضہ یہ ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کرنے یا جدا کرنے کے بعد گواہوں کی تقرری ضروری ہے۔ شیعہ نے سنی کے حلالہ کے مقابلے میں اچھے شرائط رکھے ہیں لیکن قرآن سے ان کا مسلک جوڑ نہیں کھاتا بلکہ قرآن کے بالکل برعکس ہے اسلئے کہ قرآن جہاں پہنچنے کے بعد رجوع کا دروازہ کھولتا ہے وہاں شیعہ مسلک بند گلی میں پہنچادیتا ہے۔ سنیوں کیلئے اپنے مسلک کیخلاف جانا آسان ہے مگر شیعہ اس معاملے میں لچک نہیں رکھتے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک فاضل دوست نے اس بات کا اظہار کیا کہ” علماء ڈرتے ہیں کہ عوام شیعہ نہ بن جائیں”۔ اسلئے راہِ حق میں آنے سے ہررکاوٹ دور کرنے کیلئے اپنا مؤقف بہت وضاحت کیساتھ پیش کررہاہوں۔
اہل تشیع میں اعتدال پسند بھی ہیں اور شدت پسند بھی۔ دونوں چیلنج کو میں خوش اسلوبی کیساتھ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنے قریبی عزیز، پڑوسی اور احباب ” رحمن” کے نام سے جانتے ہیں اور سکول کے ماحول کی بات کروں تو مجھے ” عتیق” کہتے تھے۔ عتیق الرحمن پورا نام ہے۔ رحمان اللہ کا نام ہے اور اللہ ہی رحمن ہے اور کوئی نہیں ہے۔ البتہ نبی کریم ۖ کو اللہ نے مؤمنوں پرالرؤف الرحیم قرار دیا ہے۔ اہل تشیع شدت پسندانہ خیالات کااظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور نبی ۖ کی صفت رحیمی کی خلافت کا حق ادا کرنے کے بجائے جس قہر کی شدت برساتے ہیں تو پاکستان میں اس بھڑکتی آگ کے شعلوں کا شکار بھی خود بنتے ہیں۔
جس طرح اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ سورۂ رحمن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ الرحمٰنOعلم القرآنO”الرحمن جس نے قرآن سکھایا” سے مراد مری ذات ہے نعوذباللہ یا فلیطوفوا بالبیت العتیق ”پس عتیق (قدیم)گھر کا طواف کرو” سے مراد میرا گھر ہے۔ شیعہ علماء پتہ نہیں کتنی مرتبہ حضرت علی کیلئے قرآن سے الفاظ نکالتے ہیں جس پران کے عوام خوش ہوتے ہیں۔ دلائل اور براہین ایسے ہونے چاہییں جو فریق مخالف کیلئے بھی قابلِ قبول ہوں۔ نبیۖ کیلئے عتبہ، ولید،ابولہب اور ابوجہل میں رشتہ داری کے لحاظ سے فرق تھا لیکن قرآن میں صرف چچاابولہب اور اس کی بیوی کا نام ہے اور باقی کسی دشمن کا نہیں ہے۔ صحابہ کرام سے محبت رکھنے والوں کے سامنے اس بات کا ذکر کافی ہے کہ یزید صحابی نہیں تھا اور حضرت حسین صحابی تھے۔باقی یہ ہے کہ سنی ابوطالب کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ادب کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مہدی غائب کا وجود نہیں مانتے لیکن شیعہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کیلئے مغلظات نہیں بکتے۔ اہل تشیع کے مقتدر علماء کا فتویٰ ہے کہ سنی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنا حرام ہے۔ ذاکر اپنے علماء کے فتوؤں کا لحاظ رکھیں تاکہ قتل وغارتگری کا راستہ رک جائے۔

نوٹ: اس پوسٹ کو مکمل پڑھنے کیلئے ” مسلک حنفی کی زبردست اعتدال پسندی” اور ” مسلک اہلحدیث کی سخت بے اعتدالی؟” کے عنوانات کی پوسٹ ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے پختونخواہ کو تباہ کردیا،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ اصغر خان اچکزئی

آج پورا پشتونخواہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے فورسز غیر محفوظ ہیں ۔ طالبان نے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی۔

ANP کے اصغر خان اچکزئی نے ایوان کے در و دیوار ہلادئیے۔ ویڈیو بیان
اصل میں اس طرح کے معاملات میں قرار دادلانا اور پھر اس کی حمایت یا مخالفت میں بات تب ہوسکتی ہے جب ایک چیز معلوم ہو۔ ہمیں تو آج تک ان واقعات کے اصل محرکات کا پتہ نہیں کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اکثر مسئلے مسائل ہوتے ہیں دونوںکے دفتر خارجہ اسٹیٹمنٹ جاری کرتے ہیں کہ یہاں پر اس طرح کی زیادتی ہوئی ہے۔ یہاں پر دونوں طرف سے خاموشی ہے اور ابھی ہم حمایت میں یا مخالفت میں بات کریں اور کل پھر وہ پرسوں ترسوں ایک دوسرے کو بٹھائیں اور چائے پلائیں بس معاملہ ختم ہوگیا۔ اصل میں اس جرم کے مرتکب دونوں طرف ہیں۔ جناب اسپیکر! قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ جنگ اور یہ جھگڑا کس بات پر ہے۔ جس طرح آج یہاں پر دوستوں نے بات کی ہے کہ” آج کے اس ماحول کیلئے اور افغانستان کو بنانے کیلئے ہم نے کم و بیش40سال محنت کی ہے”۔ اپنے افغانوں اورانکے ملک کو اپنی جگہ چھوڑ دیں ۔ ان کی جو حالت ہم نے یہاں سے کردی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ لیکن آج کے اس موجودہ رجیم کیلئے افغانستان میں ہم نے اپنے ہی ملک کو نہ صرف فرقہ واریت سے دوچار کیا ۔ یہاں پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیا، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کلچر، اسلحہ کلچر ، دنیا جہاں کے جرائم کو ہم نے اس پالیسی کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں فروغ دیا۔ ایسا کوئی جرم دنیا میں کہیں پر نہیں جو یہاں پر ابھی نہیں ہورہا ہے؟۔ ہر لحاظ سے۔ یہ سارا سب کچھ ہم نے صرف کابل کو فتح کرنے کیلئے کیا۔ ہمیں یاد ہے جب مجاہدین کی حکومت بن گئی ۔ جنرل ضیاء الحق اس وقت زندہ نہ تھے تو نواز شریف کابل گئے کہ آج ہمارے لئے افتخار کا دن ہے اور اسکا خواب جنرل ضیاء الحق نے دیکھا تھا کہ میں پل خشتی مسجد میں دو رکعت نفل بطور فاتحانہ انداز میں ادا کرلوں۔ ایک وہ وقت تھا اور ایک جب یہ ٹیک اوور ہوا تو جس طرح بھائی نے بات کی اسی طریقے سے جنرل فیض نے کابل میں فتح کا جشن کابل منایا۔ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ جھگڑا کس بات پر ہے؟۔ ابھی جب میں یہاں پر آیا تو ہم نے بشیر بلور کیلئے فاتحہ خوانی پڑھی۔ اس کی کیا دشمنی تھی؟ یہ دہشتگردی ہمارے ملک میں کس کیوجہ سے پھیلی؟۔ جسکی نذر عوامی نیشنل پارٹی سے لیکر ہماری فورسز ، جرنیلوں، پولیس کے سپاہیوں، لیویز، سیاسی ورکرز، وکلاء تک سب ہوئے، 8 اگست کا واقعہ سامنے ہے۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات میں ہمارا خون پانی کی طرح بہایا، ہمارے سیاسی ورکر سے لیکر ہماری قیادت تک کسی کو نہیں بخشا گیا یہاں تک کہ ہمارے علماء کرام بھی اس کی نذرہوگئے۔ ابھی آپ کے توسط سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔ جمعیت علماء اسلام کے اس ایوان میں کافی سینئر ساتھی بیٹھے ہیں۔ مولانا حسن جان جیسا بندہ بھی اس دہشت گردی کی نذرہوا۔ اس دہشت گردی کی مولانا نور محمد، مولانا معراج الدین اورباجوڑ کے علماء نذر ہوئے۔ اسی دہشت گردی کی نذر کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمن پر ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں حملے ہوئے۔ زندگی دینے والا تو اللہ ہے اور لینے والا بھی اللہ ہے یہ اپنی جگہ اور اس دہشت گردی کی وجہ سے ہمارا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جو کسی نہ کسی طریقے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ جناب اسپیکر! اس میں کوئی گڈ او ربیڈ نہیں ۔ یہ سب ایک جیسے لوگ ہیں۔ آج بھی ان پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا پورا پختونخواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ آپ کے تھانے، سی ٹی ڈی کے تھانے قبضہ ہورہے ہیں۔ پھر انکے لئے پلے گراؤنڈ کس نے بنایا؟۔ جنرل فیض اور بیرسٹر سیف نے۔ کوئی بات نہیں کرسکتا کہ فیض اور بیرسٹر سیف کون ہے کہ وہ پشتونوں کی زمینوں اور دھرتی کا فیصلہ کرلے۔ انہوں نے خود کہا کہ میں نے مذاکرات کئے اور افغانستان سے انتہا ء پسند اور دہشتگردوں کو اپنے علاقے حوالہ کردئیے اور جس طرح کسی کے ماموں کا بیٹا ہوتا ہے ، کسی کی خالہ کا بیٹا ہوتا ہے اس طرح لوگوں کو لاکر کسی کو دیر حوالے کیا، کسی کو بونیر حوالے کیا، کسی کو سوات حوالے کیا۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے ہمارے ملک کے سیکورٹی اداروں کا اسٹیٹمنٹ تھا ڈیڑھ مہینے پہلے کی پالیسی جو یہاں پر مذاکرات کے نام پر بنائی گئی تھی اس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ ہر دو مہینے کے بعد ہم پچھلے دو مہینے کے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیں اور یہ تو40سال کی پالیسی ہے۔
میں یہاں پر دہشت گردی کی رواں لہر پر بات کررہا تھا کہ آج پورا پشتونخواہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ پورا بلوچستان ان ڈائریکٹلی لپیٹ میں ہے۔ فورسز غیر محفوظ ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات اور واردات ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یہ سارا انہی کا تسلسل ہے اور انہی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج افغانستان پر جب ہم بات کرتے ہیں ایک عجیب و غریب، پرسوں ترسوں انہوں نے ایک فرمان جاری کیا کہ اوور آل پورے افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں پر پابندی ہے۔ یہ دنیا پر کہیں آپ نے دیکھا ؟ اگر اسکا درس اسلام دیتا ہے تو کوئی اس کی نشاندہی کردے۔ کوئی ہماری رہنمائی کرے۔ گائڈ لائن دیدے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر یونیورسٹی لیول پر پابندی ہے۔ یہ حکومت ہماری ریاست نے وہاں پر براجمان کردی ،افغان تو تباہ و برباد تھے ان کی پالیسیوں اور حکمرانی کی وجہ سے بلکہ اس کے تسلسل میں ہم یہاں پر دربدری سے دوچار ہیں، غیر محفوظ ہیں، ہر لحاظ سے ہمارے یہاں پر منفی اثرات اُدھر کے اِدھر پڑ رہے ہیں۔
جناب اسپیکر! ہمارے حکمرانوں کو آج ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ یہ تو ہم نے دیکھا کہ ہم نے بلوچستان کیساتھ زیادتی کی۔ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی پالیسیوں کو اپنا کر اس ملک کو تباہ و برباد کیا۔ یہ ہم نے دیکھا کہ یہاں پر انہوں نے معافی مانگی ہے کہ ووٹ پر ہم نے ڈاکہ ڈال کر اس ملک کو دو لخت کیا۔ آج بھی ہم کہتے ہیں کہ خدارا ! دہشت گردی کی اس پالیسی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ اس کو ری ویو کردیں۔ جو پالیسی آپ کوخون بہنے ، دربدری اور تباہی کے سوا کچھ دے نہیں پارہی ہے تو اس پالیسی کو اپنا کر آپ دھرتی پر رہنے والی مختلف اقوام کو کیا میسج دیں گے؟ اس کا نتیجہ پھر کیا ہوگا؟۔ تو جناب اسپیکر ! میں کہتا ہوں کہ بجائے اسکے کہ کوئی قرار داد کی حمایت اور مخالفت پر بات کرے ، اس پر بات کرنی چاہیے کہ واقعہ کیوں ہوا؟۔ دونوں طرف یہ بحث ہونی چاہیے اور محرکات سامنے لانے چاہئیں کہ اصل واقعے میں پس پردہ وجوہات کیا ہیں؟ جب تک یہ سامنے نہیں آئیں گے ہر دوسرے تیسرے دن اِ س نے اُس کو مارا اُس نے اِس کو مارا، یہاں پر بم پھٹا، وہاں پر بم پھٹا۔ اور نتیجہ یہ کہ دو دن کے بعد پھر مذاکرات ۔ کہتے ہیں گفتاً ، نشستاً برخاستاً، لوگوں کی جانیں گئیں، گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے اور ہم پانچ دن کے بعد پھر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ حل ہے تو اس طرح سے مسئلے حل نہیں ہوتے اور نہ اس قرار داد کی حمایت یا مخالفت سے کوئی اثر پڑے گا۔ وہاں پر ان چیزوں کو دیکھنے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟۔ ان چیزوں کا اثر لینے والے کوئی بیٹھے ہوئے ہیں؟، وہاں پر تو ایسی رجیم بٹھادی گئی کہ نہ تو ان کو اپنی خواتین، بچیوں ، اپنی بہنوں اور ماؤں کے علم اور مستقبل کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے، نہ اپنی ڈولپمنٹ کا کوئی سوال انکے ذہن میں ہے۔ سوائے مارا ماری کے، خون بہانے کے ، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے ان کو آتا کیا ہے؟۔ اور ان سب کی قصور وار ہماری ریاست ہے ، ریاستی ادارے ہیں، جسکے بل بوتے پر یہ لوگ وہاں پر بیٹھ گئے۔ ابھی یہ ہمارے اداروں کا کام ہے کہ کیسے ان مسائل ، انتہاء پسندی اور دہشتگردی سے اپنے آپ کو نکالیں اور وہاں پر لوگوں کی حمایت ، تمام افغانوں کی حمایت سے ایک ایسی حکومت ہم کیسے تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں کہ جس پر سب کا اتفاق ہو ، جو تمام افغانوں کو قابل قبول ہو۔ اور یہ عجیب مذاکرات ہوئے جناب اسپیکر! یہاں پر بات ہورہی ہے اصل فریق تھا جو کابل کا وہ کابل میں بیٹھا تھا اور دوحہ میں مذاکرات پاکستان، طالبان اور امریکہ کے درمیان ہورہے تھے۔ اصل فریق ادھر بیٹھا تھا اور سب نے مل کر جس طریقے سے اس کو ہٹایا آج کے موجودہ افغانستان اور اس ریجن کی ذمہ دار دنیا ہے بالخصوص ہمارا اپنا ملک ہے جس نے نہ صرف وہاں کے حالات کو اس نہج پر پہنچادیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں اس وقت جو صورتحال ہے ان سب کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں ۔
بلوچستان اسمبلی میں نصراللہ زیرے کی تقریر بھی اس قسم کی تھی کہ کابل سرینا ہوٹل میں جنرل فیض حمید کی تصویر نے دنیا کو کیا پیغام دیا؟۔ چمن میںNLCکو جگہ دینے کیلئے یہ جھگڑا مصنوعی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

علماء کرام و مفتیانِ عظام کون ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے اورامام مہدی کون ہیں اور حقیقت کیا ہے؟

علماء کرام و مفتیانِ عظام کون ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے اورامام مہدی کون ہیں اور حقیقت کیا ہے؟

امام مہدی کون ہیں؟، کب آئیںگے اور اس کا علماء کرام ومفتیانِ عظام سے کیا اختلاف ہوگا اور اس کو مہدی کیوں کہا جائیگا، علماء کرام ومفتیان عظام اور عام تعلیم یافتہ میںکیا فرق ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علماء کرام ومفتیان عظام کون ہیں اور یہ کس طرح علماء ومفتیان بنتے ہیں؟۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے زندگی قرآن کریم پڑھنے ، پڑھانے اور خلافت قائم کرنے میں گزاردی لیکن عالم دین نہیں کہلائے اور نہ خود کو وہ عالم دین سمجھتے تھے اور نہ وہ عالم دین تھے۔ ایسے کئی سارے مذہبی اسکالر ہیں۔ ایک آدمی قرآن کے ترجمہ وتفسیر کو سمجھتا اور سمجھاجاتا ہے مگر عالم دین نہیںہے۔ ایک آدمی احادیث صحیحہ علماء ومفتیان سے زیادہ سمجھتا ہے اور تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن پھر بھی عالم دین نہیں ہے اور ایک آدمی قرآن کے ترجمہ وتفسیر کو بھی سمجھتا ہے اور احادیث صحیحہ کو بھی لیکن پھر بھی وہ عالم دین نہیں ہے۔ اگر ایک آدمی فقہی مسائل کو علماء دین سے زیادہ ازبر کرلیتا ہے اور قرآن وحدیث کو بھی علماء دین سے زیادہ سمجھتا ہے تب بھی اس کو عالم دین نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ عالمِ دین کیلئے بنیادی چیز درس نظامی ہے اور اصولِ فقہ ہے جس میں قرآن ، حدیث، اجماع اور قیاس کو فرقِ مراتب اور ائمہ کے اختلافات کیساتھ پڑھایا جاتا ہے۔
برصغیر پاک وہند کے علاوہ جامعہ ازہر مصر اور مدینہ یونیورسٹی میں بھی کافی عرصہ سے اصول فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جس نے اصول فقہ سے قرآن واحادیث کی بنیادوں اور حفظ مراتب کو نہیں سمجھا تو وہ عالم دین نہیں ہے اور اس بات میں کوئی ابہام بھی نہیں ہے۔ اصولِ فقہ ایک بنیادی علم ہے۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی مکتبۂ فکر کا تعلق حنفی مسلک سے ہے اور ان کا تعلیمی نصاب ”درسِ نظامی ” ایک ہے ۔ مسلک حنفی اور دیگر فقہی مسالک کے حوالے سے دونوں مکاتب فکر کا یکساں مؤقف ہے۔ دونوں کے اکابرنے ایک ہی طرح کی کتابوں اور اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی ہے۔
اصولِ فقہ چار ہیں۔پہلا کتاب اللہ ، دوسرا حدیث ، تیسرا اجماع ہے اور چوتھا قیاس ہے۔ کتاب سے مراد سارا قرآن نہیں بلکہ500آیات جو احکام سے متعلق ہیں۔ باقی کتاب وعظ اور قصے ہیں جن کا احکام سے تعلق نہیں ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے مرشد بھرچنڈی شریف والے تھے جس کے اب جانشین بریلوی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کا تعلق بھی دیوبندی مکتبۂ فکر سے تھا لیکن پہلے مرشد حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف تھے۔ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلفاء میں دیوبندی اور بریلوی دونوں تھے۔
اگر دونوں مل کر قرآن کریم کی ان500آیات کو نکالتے ،جن سے احکام نکلتے ہیں تو ان پانچ سو آیات کی برکت سے دونوں فرقہ واریت میں تقسیم ہونے کے بجائے متحد ومتفق رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے۔500آیات ان سب کیلئے رشد وہدایت کا بہترین ذریعہ ہوتیں۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے بھی ان کے اس نصاب سے بھرپور ہدایت حاصل کرتے اور ہدایت عام ہوتی۔
ہوتا کیا ہے کہ اصول فقہ کی تعلیم میں ایک طرف آیت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس کے سیاق وسباق سے اصول فقہ پڑھنے والا طالب علم اور پڑھانے والا استاذ دونوں ناواقف ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک طرف قرآنی آیت کا ایک ٹکڑا حتی تنکح زوجاً غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ دوسری طرف حدیث ایماامرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس بھی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ قرآن میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے کہ ”یہاں تک کہ وہ نکاح کرے” تو حدیث صحیحہ خبر واحد کا اس قرآنی حکم پر اضافہ نہیں ہوسکتا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے۔ عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر بھی مسلک حنفی میں نکاح کا حق حاصل ہے۔ وہ بھاگ کر اور کورٹ میرج سے نکاح کرسکتی ہے۔ جبکہ جمہور مسالک شافعی، مالکی ، حنبلی، اہلحدیث اور جعفری میں حدیث صحیح ہے اور اگر عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ یہ نکاح نہیں حرامکاری ہے۔
حنفی مسلک والے کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ حدیث صریح وصحیح اور جمہور فقہی مسالک کے مقابلے میں حنفی مسلک قرآن کے مطابق ہے اور باقی باطل ہیں۔ یہ پختہ ذہن بنتا ہے کہ قرآن کی باقی آیات ،احادیث صحیحہ ،دیگر مسالک کے دلائل اور نئی اجتہادی فکر کی طرف دیکھنے کے بجائے بس حنفی مسلک کی تقلید ہی نجات ، رشد وہدایت اور کامیابی وکامرانی کا ذریعہ ہے۔
طالب علمی کے دوران جب ایک واضح حدیث کو اسلئے رد کردیا جائے کہ وہ قرآن کے منافی ہے۔ بھلے قرآنی آیت کے سیاق وسباق کو جانتا ہے یا نہیں ؟۔ اور بہت سارے طلبہ کوتو یہ بھی پتہ نہیں چلتا ہے کہ قرآن کا جو مفہوم اصولِ فقہ کی کتاب میں لکھا ہے وہ کیا ہے اور کس طرح حدیث سے ٹکراتا ہے؟ لیکن انہوں نے یہ رٹا لگانا ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے اسلئے اس کو قابلِ عمل نہیں سمجھا جاسکتاہے۔ پھر احادیث کے ذخائر سے بھی ان کا اعتمادبالکل اٹھتاہے ۔ اصول فقہ میں حنفی مسلک کی بڑی پریکٹس احادیث کو رد کرنے کی ہوتی ہے۔
اصولِ فقہ میں ہے کہ طلاق کی عدت ثلاثة قروء ” تین ادوار ہیں”۔ لفظ تین خاص ہے۔ طلاق کیلئے عدت میں عورت کے پاکی کے دن اور حیض کے دن ہوتے ہیں۔ شریعت میں پاکی کے دنوں میں طلاق دینے کا حکم ہے۔ جب پاکی کے دنوں میں طلاق دی جائے تو جس طہر میں طلاق دی جائے ،اس کا کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ طہر ادھورا ہوگا۔ تین طہر شمار کئے جائیں تو ایک طہر ادھورا ہونے کی وجہ سے ڈھائی بن جائیںگے اسلئے قرآن کے لفظ خاص ”تین” پر پورا پورا عمل کرنے کیلئے عدت کے تین ادوار سے ”تین حیض ” مراد لئے جائیں۔ تاکہ قرآن پر عمل ہو۔ جبکہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” طلاق کی عدت میں تین قروء سے تین اطہار مراد ہیں”۔ عربی میں گنجائش ہے کہ قروء سے تین حیض مراد لئے جائیں یا تین طہر ۔ حضرت عائشہ نے تین اطہار مراد لئے ۔ جمہور نے بھی حضرت عائشہ کی وجہ سے تین اطہار مراد لئے ہیں لیکن حنفی مسلک قرآن کے مطابق ہے اسلئے حضرت عائشہ ، صحابہ ، جمہور فقہاء اور سب کے مقابلے میں حنفی مسلک کی تقلید قرآن کا تقاضاہے۔ امام ابوحنیفہ کیلئے نبیۖ نے فرمایا کہ ”فارس میں سے ایک شخص ہوگا ، اگر دین، ایمان اورعلم ثریا پر پہنچ جائے تب بھی وہاں سے واپس لے آئیگا”۔قرآنی آیت واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم ”اور ان میں سے آخرین جو ابھی پہلوں سے نہیں ملے ہیں” (سورہ جمعہ)
اصول فقہ میں ہے کہ فان طلقہا کا تعلق اپنے ماقبل سے متصل فدیہ سے ہے ۔ لغت میں ف تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے۔ اس طلاق کا تعلق اسلئے خلع سے ہے۔شافعی مسلک میں فدیہ یعنی خلع جملہ معترضہ ہے۔ تاکہ دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق بھی واقع ہوسکے۔ جبکہ فدیہ خلع بذات خود طلاق ہے اور تیسری طلاق کے بعدچوتھی طلاق بن جائے گی۔
جس امام ابوحنیفہ کے نام پر احادیث اورحضرت عائشہ کی علمی حیثیت نہ ہو اسلئے کہ قرآن ، عربی لغت اور ریاضی کے حساب سے امام ابوحنیفہ نے علم کو ثریا سے واپس لوٹا یا ہو توکسی اسلامی سکالر کی کیا حیثیت رہتی ہے جس نے اصول فقہ کی گہرائی نہ پڑھی ہو اور قرآن وحدیث کا ترجمہ کیاہو؟۔جب درسِ نظامی میں ترجمہ قرآن، تفسیر، احادیث ، فقہ ،اصول فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے تو سب کے اپنی اپنی جگہ پر اپنے فن کی مہارت رکھتے ہیں اور جو کتاب بار بار پڑھاتے ہیں وہ بھی طلبہ کو اچھی طرح سمجھانے کی صلاحیت بھی مشکل سے حاصل کرتے ہیں۔ ایک علم کا دوسرے علم سے کوئی ربط بھی نہیں ہوتاہے۔ فقہی مسائل کے انبار ہوں تو ان کا اصول فقہ سے تعلق نہیں ہوتا اور اصول فقہ میں آیات کے ٹکڑوں کا تفسیر وترجمہ سے کوئی ربط نہیں ہوتا ہے اور قرآن کی آیات کا احادیث سے ربط نہیں ہوتاہے۔
اساتذہ کرام فرماتے تھے کہ درسِ نظامی میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ صرف ان علوم وفنون پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہیں اس کاہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ فارغ التحصیل بن گئے ہیں۔ گویا عالم بننے کی صلاحیت درسِ نظامی سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلئے درسِ نظامی کے بڑے علماء کرام ہمیشہ خود کو ایک طالب علم ہی قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ علم پر گرفت حاصل کرنا بہت زیادہ مطالعہ و صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ درس نظامی کا پڑھا ہوا نہیں ہوتا ہے تو انجینئر محمد علی مرزا، جاوید احمد غامدی اور غلام احمد پرویز کی طرح یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس جیسا کوئی دوسرا پیدا نہیں ہواہے۔
اصول فقہ کی کتابیں ہمیں شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان نے پڑھائی تھیں۔ جوجامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی اور مفتی تقی عثمانی کے استاذ تھے۔ مفتی محمد شفیع جب دارالعلوم کراچی میں طالب علم تھے تو شیخ الہند مولانا محمودالحسن حدیث کے استاذتھے۔شیخ الہند چار سال مالٹا کی جیل سے رہا ہوکر آئے تو مفتی شفیع اس وقت درسِ نظامی سے فارغ ہوکر دارالعلوم دیوبند میں استاذ تھے مگر مفتی محمد شفیع نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ وہ شیخ الہند کی باتیں سمجھنے سے قاصر تھے۔
جب میں ساتویں، آٹھویں، نویں ، دسویں جماعت میں تھا تو آزادی ہند، قادیانیت اور سیاسی جماعتوں کی تحریکوں کو نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ انقلابی ذہن بھی بن گیا تھا۔ بریلوی دیوبندی اور شیعہ سنی مناظرانہ کتابوں میں بھی دسترس حاصل کی تھی ۔ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو نصاب کی کتابوں پر ایسے سوالات کا ریکارڈ بنایا کہ ہمارے چھوٹے اساتذہ اپنے بڑے اساتذہ کے پاس جواب کیلئے بھیج دیتے تھے لیکن ان کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہوتا تھا تو مجھے دادملتی تھی۔ اور اساتذہ نے یہ کریڈٹ دیا کہ نصاب کی اصلاح تم خود ہی کرلوگے۔
مولانا بدیع الزمان کے سامنے جب میں نے یہ بات رکھی کہ فقہ حنفی کا مسلک یہ ہے کہ جب قرآن وحدیث کی تطبیق ہوسکے تو دونوں کو قابلِ عمل بنایا جائیگااور آیت اور حدیث میں مسلک حنفی کے اس اصول پر عمل ہوسکتا ہے۔ قرآن میں طلاق شدہ عورت کو بااختیار قرار دیا گیا ہے اور حدیث میں کنواری کیلئے ولی سے اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ استاذ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک پیدا ہوئی اور آئندہ کیلئے اس پر مزید تصفیہ کی طرف جانے کاارشاد فرمایا۔ قرآن میں بیوہ کو بھی عدت کے بعد مزید زیادہ وضاحت کیساتھ خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ قرآن کی دھیمی اور کھلی وضاحت کے باوجود طلاق شدہ اور بیوہ پر ولی کی اجازت لازم ہے اور یہ احناف کے مقابلے میں زیادہ گمراہی کی بات ہے اور کنواری ہی کا ولی ہوتا ہے ۔ شادی کے بعد طلاق یافتہ اور بیوہ خود مختار ہوجاتی ہے۔ اسلئے حدیث میں ولی کی اجازت کا تعلق کنواری سے ہے ۔ قرآن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ الایامیٰ یعنی طلاق شدہ وبیوہ کا نکاح کراؤ۔ اور اپنی کنواری لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو،اگر وہ نکاح چاہتی ہوں۔ اگران پر جبر کیا گیا تو پھر اللہ ان کے جبر کے بعد غفور رحیم ہے۔ معاشرے میں کنواری کیلئے جبر کا تصور عام ہے۔ اللہ نے ایک طرف ان کو بغاوت سے منع کیا ہے اور ان کی مرضی کے مطابق شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف اگر ان کو مجبور کیا گیا تو بغاوت کی طرح جبر بھی غلط ہے۔ لیکن اس پر حرام کاری کا اطلاق نہیں ہوتا۔
بفضل تعالیٰ قرآنی آیات میں زبردست تفصیل ہے جس سے حدیث صحیحہ کی مزید توثیق بھی ہوتی ہے لیکن بغاوت اور جبر پر حرامکاری کا بھی اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اگر ایک وسیع مشاورت قائم ہوجائے تو پھر مدارس و عوام کیلئے مشترکہ اور متفقہ مسائل کا حل نکالنے میں بھی کوئی دیر نہیں ہوگی۔اسی طرح ثلاثة قروء میں3کے لفظ کی ریاضی کے حوالے سے بالکل غلط نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس طہر میں طلاق دی ہے اور پھر اس کے بعد تین حیض شمارکئے جائیں تو عدد ساڑھے3سے بھی بڑھ جائے گا۔ یہ سوال بھی زمانہ طالب علمی میں اپنے اساتذہ کرام کے سامنے اٹھایا تھا۔ اب اپنی کتاب اور اخبارمیں یہ مسائل ایسے حل کردئیے ہیں کہ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا ہے جومیرے اساتذہ کرام کیلئے اعزازہے۔
جہاں تک ف تعقیب بلامہلت سے تیسری اور دومرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا تعلق ہے تو اس پر بھی تشفی بخش جوابات دیکر مسئلہ حل کردیا ہے۔ حنفی مسلک اور عربی قاعدے کا تقاضا ہے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ ف تعقیب کی وجہ سے فامساک بمعروف او تسریح باحسان کیساتھ ہو۔جو حدیث میں بھی واضح ہے اور اس کے بعد خلع کا کوئی ذکر بنتا بھی نہیں ہے جس کی تفصیل صفحہ نمبر2پر دی گئی ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس معاملے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ اگر قرآنی آیات کا فطری ترجمہ سیاق وسباق کیساتھ کیا جائے توپھر اس گمراہی کے دلدل سے بہت جلد نکل سکتے ہیں۔ جب اصول فقہ کی کتابوں کا درست مفہوم بھی سمجھ نہیں آتا ہو اور قرآن کا ترجمہ وتفسیر بھی الٹاسیدھا کیا جائے تو اس کے نتائج ہدیت کی جگہ پر گمراہی والے ہی نکل سکتے ہیں۔البقرہ آیت229کاترجمہ ومفہوم سب نے غلط لکھا ہے اور یہ ایک دوسرے سے نقل کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس میں خلع کا ذکر نہیں ہے۔ خلع کا ذکر سورہ النساء آیت19میں ہے اور اس کا بھی بالکل غلط ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر بھی غلط لکھی گئی ہے۔
جب تک سنی یا شیعہ کا امام مہدی آئے تو اس سے پہلے پہلے غلطیوں کا ازالہ اور گمراہی کا خاتمہ اچھی بات ہے بلکہ فرضِ عین ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے بیہودہ فقہی مسائل تضحیک کا نشانہ بننے سے پہلے باہمی مل کر ان کو درست کرینگے تو ایک بہت بڑا معاشرتی اسلامی انقلاب برپا ہوجائے گا۔ بڑے علماء ومفتیان سود کو حلال کرکے حرمت سود سیمینار سے بھی نہیں شرماتے تو قرآن واحادیث سے ہدایت حاصل کرنے میں کیا چیز حائل ہوسکتی ہے؟۔ درس نظامی میں قرآن کریم کی جو تعریف کی گئی ہے وہ اگر اسلامی اسکالروں کو سمجھ میں آگئی تو علماء ومفتیان کو آڑے ہاتھوں لینے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ ان کو پتہ نہیں اسلئے جاہل ہیں۔
قرآن کی500آیات درج کرنے کے بجائے یہ تعریف کی گئی ہے
المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلاً متواتر بلا شبة ” لکھا ہوا ہے جو قرآنی نسخوں میں نقل کیا گیا ہے جوآپ(ۖ ) سے متواتر بلاشبہ”۔ یہ بہت عمدہ اور بہترین تعریف ہے اسلئے کہ قرآنی نسخوں میں کسی بھی حرف اور زیر،زبر،پیش کا بھی معمولی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ جان کر قارئین حیرت کی انتہاء کو پہنچیںگے کہ اس تعریف کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ ” نسخوں میں لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا قرآن نہیں ہے کیونکہ یہ محض نقوش ہیں۔ متواتر کی قید سے مشہور اور خبر احاد کی آیات نقل گئی ہیں ۔ اگر چہ وہ بھی اللہ کی کتاب ہیں لیکن اس تعریف میں شامل نہیں ہیں۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ بھی اللہ کا کلام ہے لیکن اس میں شبہ ہے اسلئے کتاب اللہ کی تعریف سے خارج ہوگئی”۔ اگر مساجد کے منبروں پر عوام کو قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ لکھا ہوا نسخہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ اسلئے فتاویٰ قاضی خان، صاحب ہدایہ اور فتاویٰ شامیہ نے سورۂ فاتحہ کو علاج کی غرض سے پیشاب سے لکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ جب لکھائی کی شکل میں اللہ کا کلام نہیں تو پھر پیشاب سے لکھنے میں حرج کیا ہوسکتاہے؟۔ یہ کتنی بڑی حماقت ، جہالت اور گمراہی ہے کہ لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ہے؟۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ مولوی سے کہا جائے کہ تمہارے باپ سے مراد تمہارا باپ نہیں بلکہ تمہاری ماں کا آشنا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ کے کلام کو اسکے بارے میں یہ غلاظت پڑھائی جائے کہ لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ہے۔ قرآن کتب یکتب کتاباسے لکھنے کی بات کرتا ہے۔ قلم اور سطروں میں موجود کلام کی قسم کھاتا ہے لیکن گمراہ مولوی اس بات پر ڈٹا ہواہے کہ میں اس گمراہی کو پڑھاؤں گا اور اس کی غرض اللہ کے کلام کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اپنے پیٹ پوجا کی وجہ سے مدرسے کی روٹیاں توڑ رہاہے۔ قرآن سے باہر کوئی آیات نہیں ہیں۔ رجم و رضاعت کبیر کی آیات بکری کھاجانے والی ابن ماجہ کی روایت بالکل لغو اور بکواس ہے۔ بسم اللہ کے قرآن ہونے میں کوئی شبہ نہیں جو یہ عقیدہ پڑھاتا ہے تو اس کے اپنے نسب میں شک وشبہ ہوسکتا ہے۔
ہمارے اساتذہ کے سامنے یہ حقائق کبھی نہیں آئے اور اگر آتے تو وہ ضرور اپنے نصاب سے ان خرافات کو نکلوانے کیلئے میدان میں اترتے۔ امام مہدی کا بھی اس سے بڑا کردار اور کیا ہوسکتا ہے کہ قر آن کی حفاظت کیلئے مدارس کی اس غلط تعریف سے جان چھڑادے۔ صدیوں سے الجھے ہوئے گمراہانہ مسائل سے امت مسلمہ کے گمراہ فرقوںمیں مبتلاء مذہبی طبقات کو ہدایت کی طرف لائے؟۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیانہ زمانے میں کجرو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں ہے اور میں اسکے طریقے پر نہیں ہوں”۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے بارہ خلفاء قریش کی خبردی ہے جن میں سے ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا اور اب تک ان میں سے کوئی بھی خلیفہ نہیں آیا ہے۔ اور یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ مہدی کے بعد جابر، سلام اور امیرالعصب ہوں گے۔ یہ روایت بھی درج کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قحطانی امیر مہدی کے بعد ہوں گے۔ جس کی تشریح میں یہ روایت نقل کی ہے کہ مہدی چالیس سال تک رہیںگے۔ پھر قحطانی امیر منصور ہوںگے جن کے دونوں کانوں میں سراخ ہونگے۔ وہ بھی مہدی کی سیرت پر چلیںگے۔ اس کے بعد امت محمدۖ کے آخری امیر ہوں گے جو نیک سیرت ہوںگے اور ان کے دورمیں حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا۔ مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنی کتاب ” علامت قیامت اور نزول مسیح ”میں یہ روایات نقل کی ہے لیکن کجروی کا یہ عالم تھا کہ ایکطرف درمیانہ زمانے کے مہدی کی روایت کو نقل کرنا اور دوسری طرف جس مہدی کا قحطانی امیر سے پہلے ذکر ہے اور ساتھ میں اس روایت کو بھی نقل کرنا کہ مہدی کے بعد قحطانی منصور اور پھر امت محمد ۖ کے آخری امیر ۔ لیکن پھر بھی عوام کو اپنی کج رو ی کے سبب حقائق سے آگاہ نہ کرنا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی مہدی ، قحطانی امیر منصور اور پھر آخری امیر کی یہ روایت علامہ جلال الدین سیوطی سے نقل کی ہے لیکن الگ الگ مہدیوں کا تصور نہیں بتاتے ہیں۔
جس دن مذہبی طبقات، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور عوام الناس نے اسلام کے فطری نظام ، درس نظامی کی طرف سے اسلام کے بگاڑے ہوئے حلیہ ، آخری امیر اُمت محمد ۖ سے قبل مہدی اور گیارہ خلفاء کے سلسلے کی طرف توجہ دے دی تو علم کی درستگی سے بھی بہت بڑا انقلاب آجائے گا۔ بارہ خلفاء قریش کی حدیث کے بارے میں مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ مہدی کے بعد پانچ افراد اہل بیت کا تعلق حضرت حسنکی اولاد سے ہوں گے اور پانچ افراد حضرت حسین کی اولاد سے ہوں گے اور آخری فرد پھر حضرت حسن کی اولاد سے ہوگا۔ پیر مہرعلی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ”تصفیہ مابین الشیعہ والسنی” میں یہی لکھا ہے کہ بارہ خلفاء قریش آئندہ آئیںگے اور اہل تشیع کی کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے کہ مہدی کے بعد گیارہ مہدی اور آئیںگے جو حکومت بھی کریںگے۔ لیکن پھر اس روایت پر سند کی صحت کا نہیں صرف عقلی اعتبار سے ایک خدشے کااظہار کیا گیا ہے کہ اگر مہدی کے بعد گیارہ افراد حکومت کرینگے تو پھر مہدی آخری امیر کیسے ہوںگے؟۔ جس کا جواب یہی بن سکتا ہے کہ جب ان سے پہلے ہوں گے تو پھر اس کے آخری امیر امت میں کوئی شک نہیں رہے گا اور اہل تشیع نے یہ بھی لکھا ہے کہ درمیانہ زمانہ کے مہدی سے حضرت عباس کی اولاد کے مہدی بھی مراد ہوسکتے ہیں ۔ (الصراط السوی فی الاحوال المہدی )
علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ”ظہور مہدی ” میں لکھا کہ ” مشرق کی طرف سے دجال نکلے گا تو اہل بیت کا فرد قیام کرے گا”۔ اس قیام قائم سے مراد آخری امیر مہدی غائب نہیں ہیں ۔ آخری امیر سے پہلے مختلف قیام قائم کا ذکر ہے۔ مشرق کے دجال کے مقابلے میںقیام قائم حضرت حسن کی اولاد سے ہوگا اور اس سے مراد ”سید گیلانی ” ہے جس کی تفصیلات روایات میں موجود ہیں۔ اہل سنت کی روایات میں بھی ایک دجال کا تعلق خراسان سے ہے جس کی مختلف اقوام ہتھوڑے اور ڈھال جیسے چہرے رکھنے والے لوگ پیروکار ہونگے۔اس طرح ایک مہدی کا تعلق بھی خراسان سے ہے۔ جس کا شاہ اسماعیل شہید نے ذکر کیا ہے۔ جب ہم پر تحریک طالبان پاکستان نے حملہ کیا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے تعزیت کے موقع پر جمعہ کی نماز میں خطاب کرتے ہوئے تحریک طالبان پر ہی خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کی تھی ۔ مولانا عطاء الرحمن نے سیکیورٹی فورس کو فتویٰ جاری کیا تھا کہ ان دہشت گردوں کومارنا صرف سرکاری نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مولانا عطاء الرحمن کا فتویٰ مشرق پشاور نے شائع کیا تھا مگر مولانا فضل الرحمن کا بیان پریس نے شائع نہیں کیا۔اس وقت ہماری ریاست یا میڈیا کی پالیسی ان لوگوں کو سپورٹ کرنا تھا اور اب حقائق سامنے لانے ہوں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حرمت سُود نہیں حلت سُودسیمینار

حرمت سُود نہیں حلت سُودسیمینار

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سود کو حرام قرار دیا تو رسول ۖ نے مزارعت کوبھی سُود قرار دیا۔ نبی ۖ نے فرمایا ”جب یہ اُمت شراب کو مشروب ، سُود کو منافع اور رشوت کو تحفے کے نام سے حلال کرے اور زکوٰة سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا گناہوں میں زیادتی کے سبب”۔ کنز العمال، دیلمی
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے یہ حدیث اپنی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” نقل کی ۔مفتی تقی عثمانی نے ”حرمت سُود سیمینار” کے نام پر ”حلت سُود ” کاارتکاب کیا۔ مولانا سلیم اللہ خان ، ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مفتی زر ولی خان، مفتی عبد المجیددین پوری شہید ، مفتی شیخ حبیب اللہ، مولانا یوسف لدھیانویاور مفتی نظام الدین شامزئی کے بعد اندھوں میں کانا راجا مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں سُود کو حلال قرار دیا گیا۔ سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن نے عالمی سودی نظام کے اسلامی ہونیکی حمایت کرکے حد کردی ہے۔ نبی ۖ کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔
چاروں فقہی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل متفق تھے کہ مزارعت سود اور حرام ہے لیکن پھر بعد کے شیخ الاسلاموں نے اسلام کو جس اجنبیت کی طرف دھکیل کر حیلے سے مزارعت کے سود کو جائز قرار دیا تھا آج اس کی انتہا ہوگئی ہے۔ اسرائیل و امریکہ کے سودی معاشی نظام کو اسلامی قرار دینے کے بعد اسرائیل و امریکہ کے ممالک اور ان کے نظام کو مشرف بہ اسلام قرار دیں اور خنزیر کو بھی اسلام کے نام پر حلال قرار دیں تو کیا حرج ہے؟۔ جبکہ اضطرارکی حالت میں خنزیر کے گوشت کو حلال سمجھے بغیر اور دوبارہ کھائے بغیر گنجائش ہے اور اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اس کو سود کی طرح جنگ نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اور نا ہی اس کو حدیث کی طرح70گناہوں سے زیادہ میں سے کم از کم اپنی ماں کے ساتھ زنا کے برابر جرم قرار دیا گیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی و مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ اپنی غلطی سے توبہ کرکے ملک و ملت میں اخلاق باختگی کا قلع قمع کریں۔ اصل جنگ تو یہود و نصاریٰ نے سودی نظام کے ذریعے سے اسلامی معاشی نظام کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ ان طبلہ بجانے والے مراثیوں نے اس کو حیلے سے حلال قرار دے کر اپنے خبث باطن کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ آبادی مسمار کرنے پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی سسکیاں!

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ آبادی مسمار کرنے پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی سسکیاں!

مجاہد کالونی کراچی کی60،70سالہ پرانی آبادی کے مکانات کو مسمار کردیا گیا تو متاثرین کی خواتین ، بچوں اور بزرگوں کے دلخراش آہ و بکا اور سسکیوں سے عرش الٰہی بھی ہل گیا ہوگا۔ حکومتوں کا کام اپنی رعایا کو سہولیات فراہم کرنا ہے مگر مجاہد کالونی کے مکینوں سے آبا و اجداد کی محنت اور تگ و دو سے بنائے ہوئے اپنے مکانات بھی چھینے جارہے ہیں۔ ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ اللہ بھی ہماری آواز کو نہیں سن رہا ہے۔ پتہ نہیں ہم سے ناراض ہے یا کیوں ؟۔ ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ میری جوان لڑکی اس صدمے سے پاگل ہوگئی ہے۔ ایک اور کہہ رہی تھی کہ جوان لڑکیوں کو سڑکوں پر بے چھت اور بے گھر دیکھ کر دل چھلنی ہوگیا ہے۔
متاثرین کی بڑی تعداد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی آمد پر پرجوش نعروں سے استقبال کیا۔ANPکے کارکن اور شاہی سید کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے قاری عثمان اور مولانا عبد الرشید نعمانی وغیرہ بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عاصم کا نام لیا جارہا تھا کہ ساری جگہ حکومت سے سستے دام خرید لی جس کا ہسپتال نالے پر ہے۔ حکومت اور ریاست اللہ کے قہر سے خوف کرے۔ جس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں، بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔ انور مقصود

پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں، بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔ انور مقصود

عوام کیلئے دل دکھانے کا تصورقدم قدم پر میسرہے۔ہر حکومت نے غریبوں کو جانور سمجھاجو گٹھن میں ، روٹی کے لالے، رات کی نیند حرام

60فیصد آبادی غریب،40فیصد فوج۔امیروں کا ملک سے تعلق نہیں، بچے مسلمان کروانے باہر بھیجتے ہیں کہ اسلام کی سہولت میسر نہیں!

میں نے پریس کانفرنس میں کہا83برس کی عمرتک کپڑے خود اتارے، الٹا سیدھا بول کر پنجاب پولیس سے کپڑے اتروانا نہیں چاہتا۔

قیامت کی نشانیاں ہیں، جب عدالتیں کسی اور کے فیصلے کا انتظار کرنے لگیں، مولانا ماں کی گالی دے ،گویا اسکی ماں نہیں دونوں باپ ہیں؟

معز ز خواتین و حضرات۔ اس بے ادبی کے زمانے میں احمد شاہ صاحب ادب کو زندہ رکھنے کی کوشش میں مبتلا ہیں۔ سب سے کہتے ہیں ادب پر بات صرف مجھ سے کہتے ہیں پاکستان پر بات کریں۔ جبکہ پاکستان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں۔ 15ویں اردو کانفرنس کے اشتہار میں لکھا4دسمبر6بجے شام اختتامی انور مقصود۔ اختتامی کے بعد لکھا, رقص۔ چلو سب کچھ ختم اب ناچو۔ عوام کیلئے دل دکھانے کا تصور پاکستانی سربراہوں کے دورِ حکومت میں قدم قدم پر میسر ہے۔ ہر حکومت نے غریبوں کو جانور سمجھا۔75برسوں سے یہ جانورگھٹن کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ روٹی کے لالے، رات کی نیند حرام۔ گرد و غبار میں چھپے ہوئے چہروں کو یہ صرف الیکشن کے زمانے میں دیکھ لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے معاشرہ دلسوزی کے نام سے آگاہ نہیں ۔ پریشان حال لوگوں کو یہ لوگ بیلوں، گایوں ،بچھڑوں کا غول سمجھتے ہیں۔بڑی بڑی سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں بیٹھے خود کو خدا سمجھتے ہوئے ، کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں ان کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ سائرن بجاتے ہوئے غول کو اِدھر اُدھر بھگادیتے ہیں۔ بریانی کے پیکٹ پھینکتے جاتے ہیں۔ بچے بھاگ کر پیکٹ اٹھا لیتے ہیں، بڑے نہیں اٹھاتے وہ کہتے ہیں کہ بچوں کو تو زندہ رہنا چاہیے۔ ان مناظر کا اثر سیاستدانوں پر نہیں ہوتا۔ گاڑیاں گزرنے کے بعد لوگ خاموشی سے واپس جس طرح جنازے کا خاموش جلوس دفن کرنے کے بعد گھر لوٹتا ہے مایوس!75برسوں سے ہم یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ بھئی کتنا کماؤ گے؟ کتنا لوٹو گے؟ کتنا جھوٹ بولوگے؟ کتنا اپنے اوپر خرچ کرو گے؟۔ غریب تو اب کہتے ہیں کوئی طاقت ہی نہیں آپکی طاقت کے سوا کچھ بچا ہی نہیں میرے لئے جنت کے سوا
غریبوں کیلئے کھانے باورچی خانے چلانے کے سلسلے میں ہمارے وزیر اعظم6،7ملکوں کے سربراہوں کے سامنے ہاتھ پھیلا چکے ہیں۔ غریب کہتے ہیں ہمیں بدنام نہ کریں اپنے لئے مانگیں۔ ٹک حرص و حوس کو چھوڑ میاں مت دیس بہ دیس پھرے مارا (یہاں میاں کا لفظ بہت اچھا لگ رہا ہے)جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری ڈھل جائے گی ….اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے پائیگی…..یہ کھیپ جو تونے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جائیگی …. . دھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آئے گی …… سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا
بات یہ ہے کہ حالات مسلسل اس طرح کیو ں ہیں؟ ۔ بھائی جب بندوق کی زبان قومی زبان بن جائے تو حالات ایسے ہی ہوجاتے ہیں۔ آرٹس کونسل کی عمارت65برس سے اسی جگہ موجود ہے۔ ایک وقت تھا کہ اسکے ایک کونے میں اکڑوں بیٹھے صادقین تصویریں پینٹ کرتے۔ سیڑھیوں سے فیض اتر رہے ہیں ۔ آرٹس کونسل کے پھسل منڈے سے صوفی پھسلتے آرہے ہیںکیونکہ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے۔ عالی، رئیس امروہوی ، بخاری، سبط حسن، حاجرہ آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ انتظار حسین ساقی فاروقی سے بچتے پھر رہے ہیں۔ محمد حسن عسکری خاموش بیٹھے ہیں۔..20،22برس پہلے احمد شاہ یہاں آگئے اور جانے کا نام نہیں لیتے۔ جانا چاہتے ہیں مگر عوام نہیں جانے دیتے۔ ویران کھنڈر کو شاہ نے خوبصورت عمارت میں تبدیل کردیا۔ دنیا بھر سے ادیب کانفرنس میں شریک ہوتے کچھ عصری کچھ ادیبوں کے بھیس میں۔ ہندوستان سے بھی شاعر اور ادیب آجاتے تھے۔ سب مرگئے۔ اب کوئی نہیں۔ میں نے پوچھا شاہ! ہندوستان سے کون آرہا ہے؟۔ کہنے لگے بھائی! ہندوستان سے صرف دھمکیاں آرہی ہیں۔ اسٹیج پر آنے سے پہلے شاہ نے کان میں کہا انور بھائی پاکستان پر سب کی تعریف کرنا ہے۔ خاص طور پر نئے آرمی چیف کی۔ میں نے کہاعاصم منیرکی تعریف تو سب کررہے ہیں۔ فوجی ، انکے دوست ، محلے والے۔ نیک ، شریف، نمازی، ایماندار، بہادر، اپنے پیشے سے محبت، وطن کی عزت، پرچم کی قدر، انکے ایک پڑوسی نے ٹیلی ویژن پر کہا میرے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ اب فرق ہوگیا گلی پڑوسی کے ہاتھ میں ، ڈنڈا عاصم منیر کے ہاتھ میںآگیا ۔ دعا ہے یہ ایسے فوج کے سربراہ ہوں جو صرف فوج کا خیال رکھے اور عوام کا۔ باجوہ نے الوداعی تقریر میں کہا فروری2022فوج نے فیصلہ کیا کہ سیاست سے پرہیز کریگی۔ بہت اچھا فیصلہ، مطلب74برس فوج نے سیاست سے بدپرہیزی کی؟۔ بدپرہیزی کا مطلب بے اعتدالی، بے احتیاطی، عیش، فضول خرچی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ فوج ہماری ضرورت ہے ، پڑوسی بہت خراب ہیں۔ ہم بھی زیادہ اچھے نہیں ۔ اسی لئے فوج کبھی سرحد کی طرف دیکھتی ہے کبھی اپنے ملک کی طرف پھر سوچتی ہے، اُدھر جاؤں یا اِدھر جاؤں۔ بڑی مشکل میں ہوں کدھر جاؤں۔ پھر ادھر آجاتی ہے۔پاکستان کی60فیصد آبادی غریب،40فیصد فوج ۔ امیروں کا پاکستان سے تعلق نہیں۔ اپنے بچوں کو مسلمان کروانے بھی لندن بھیجتے ہیں کہتے ہیں یہاں مسلمان ہونے کی سہولت نہیں۔ بیروزگاری، بدحالی، مہنگائی، پریشانی، پشیمانی، اداسی ملکوں پر بادلوں کی طرح چھاگئی ۔ کسی کو احساس نہیں کہ ملک کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟، قرضہ ملتا ہے تو ایوان تالیوں سے گونجتے ہیں۔ اسکے باوجود احمد شاہ کا اصرار ہے پاکستان پر بات کروں۔ پاکستانی کہانی سناؤں۔ حالات بدل گئے ۔
جو ہے زباں پر دل کو نہیں اس سے فائدہ جو دل میں ہے وہ لا نہیں سکتے زبان پر
میں نے پریس کانفرنس میں کہا83برس کی عمر میں ہمیشہ اپنے کپڑے خود اتارے ۔ الٹا سیدھا بول کر پنجاب پولیس سے نہیں اتروانا چاہتا۔ پاکستان75کا۔ میںاس سے8برس بڑا ہوں۔ میری ان گنہگار آنکھوں نے پاکستان کو پروان چڑھتے کم اورپروان اترتے زیادہ دیکھا۔ غریب غریب ترین ہوگئے امیر امیر ترین۔14اگست1947نیا ملک نیا آسمان خوبصورت سرزمین۔24سال بعد آدھی زمین بنگالیوں نے واپس لی۔ آدھی زمین جو بچی تھی یہاں لوگوں نے خرید لی یا بیچ دی۔اب سرزمین میں خالی زمین غائب ہوگئی، انگریزی سر بچے ۔ خریدی زمین پر مجبوراً کہتے ہیں سر! زمین کہاں گئی؟۔ اسکے باوجود پاک سر زمین شاد باد سن کرکھڑے ہوجاتے ہیں۔ پرچم ستارۂ و ہلال سے آنسو پوچھتے ہیں اندھیروں میں گم ہوجاتے ہیں کہانی پاکستان کی سنیں گے؟
قصہ میرا سنو گے تو جاتی رہے گی نیند آرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی
کہانی ظلم رسیدوں کی ہے۔ مجھے شاہ کی بات یاد آگئی۔ انور بھائی بولنے کا چیک جب ملے گا آپ لوگوں کو خوش اور ہنستا ہوا رکھیں۔ شاہ ! جو کام حکومت کا ہے مجھے سونپ دیا۔ حکومت کا کام ہے لوگوں کو خوش اور ہنستا ہوا رکھنا۔ حکومت نے عوام کو ہنستا ہوا تو رکھا۔عوام وزیر اعظم اور تمام وزیروں کے بیانات پر گھنٹوں ہنستے رہتے ہیں مگر خوش نہیں۔ پاکستان کی کہانی فلم کی طرح75سال سے ہے۔ ہدایتکار پنجاب ، شوٹنگ بلوچستان میں۔ پس پردہ موسیقی آرمی کا بینڈ۔ فلم کا انٹرویل1971میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ انٹرویل کے بعد فلم ملی نغمے سے شروع ہے، اے وطن کے سجیلے جوانو! اسکے بعد فلم کا ہیرو جو سندھی ہے بڑھئی کے پاس جاتا ہے، کہتا ہے ایسا تختہ چاہیے جوالٹا نہ جائے۔ بڑھئی کاتختہ6فٹ چوڑا،4فٹ لمبا ہے۔ درمیان میں3فٹ اور ڈھائی فٹ کا سوراخ ہے۔ بڑھئی کہتا ہے تختہ کوئی الٹ نہیں سکتا مگر تختے کے سوراخ سے تم نیچے جاسکتے ہو۔ اس کے بعد آرمی بینڈ ہے ، اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ فلم کے آخری منظر میں ایک آدمی امریکہ سے پیسے مانگ رہا ہے، چین ، برطانیہ، سعودیہUAEسے مانگ رہا ہے۔ اور کہہ رہا ہے اگر ترکی سے قرضہ مل گیا تو قسم خداکی سب کے پیسے واپس کردیں گے۔ ایک چھوٹا بچہ آکر ایک شعر پڑھتا ہے۔ خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے مفلس! یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
وہ آدمی بچے سے کہتا ہے اللہ میاں ڈالر کیسے بھیج سکتے ہیں؟۔ پچھلے سیلاب سے بڑا سیلاب تو بھیج سکتے ہیں۔ پھر دامن میں ڈالروں کی بارش۔ اب صرف تباہی بربادی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ جتنی تباہی اتنی بہتری۔ بیٹے تم تو قیامت کی بات کررہے ہو۔ محترم قیامت تو آچکی۔ نشانیاں پتہ کیا ہیں؟ جب برے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کرنے لگیں۔جب جھوٹ سچ کو ماردے۔ عدالتیں کسی اور ادارے سے فیصلہ کا انتظار کرنے لگیں۔ مولانا وطن کی ماؤں بیٹیوںاور بہنوں کیلئے گندی زبان استعمال کرنے لگیں۔ جیسے ان کی ماں نہیں دونوں باپ تھے۔
تمہیں کیسے معلوم برے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کا؟۔ آج کی بات نہیں75برسوں کی بات کررہا ہوں۔ صرف بچوں کی تعلیم پر دھیان دیں۔ ایک یونیورسٹی کے بجائے100اسکول کھول دیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں دے دیں تاکہ مستقبل میں زیادہ اچھے لوگ اچھے لوگوں پر حکومت کرسکیں۔ اچھا یہ بتاؤ بیٹے ہم اس ملک کو ٹھیک کرسکتے ہیں؟۔ ا لف ب والے قاعدے سے پ اور ع نکال دیں۔ پھر جو مرضی آئے وہ کریں۔ ع نکال دیں کیا ہوگا؟۔ قاعدہ سے ع نکال دیں تو عسکری غائب ، عروج غائب، عدالت غائب، عذاب غائب، عزت غائب، عریاں غائب، عیش غائب۔ بیٹے اگر پ نکال دیں تو؟۔ پبلک غائب،پریشان غائب، پارلیمان غائب، پیشی غائب، پھر مانگ غائب، پشیمان غائب، پامال غائب، پاکستان غائب۔ بیٹے کچھ اوربتاؤ۔ آج کے پاکستان کی کہانی سنارہا تھا۔ سب سرگزشت سن چکے اب چپ کے ہورہو آخر ہوئی کہانی میری تم بھی سو رہو نام تو بتادو بیٹے ۔ محمد علی ۔ لڑکا غائب ہوجاتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب

مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب

جب تک دہشت گردوں کے فکری دماغ کو درست نہیں کیا جائے تو دنیا کی کوئی قوت اس کا خاتمہ نہیں کرسکتی ہے اور اس کا خمیازہ مسلمان بھگتے گا

جاویداحمد غامدی نے مدارس سے زکوٰة کی مدد چھین لینے کیلئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ نماز اور زکوٰة کے مسئلے پر اسلامی حکومت مداخلت کرسکتی ہے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے اپنی سادگی اور جہالت کی وجہ سے اور مولانا طارق جمیل نے اپنی غلط تعلیم وتربیت کی وجہ سے یہ زہر گھول دیا!

ہم بڑے آدمی کی غلطی پکڑناگستاخی سمجھتے ہیں، جس کی سزا قوم بھگتتی ہے۔ رسول اللہ ۖ نے سمجھا کہ ” ماں کہہ دیاتو بیگم اماں کی طرح حرام ہوجاتی ہے”۔ خاتون نے مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ ۖ کی رائے ماحول کی تھی ۔آپۖ اپنی رائے پر قائم تھے ،عورت نے فطرت سے مذہبی جہالت کیخلاف جنگ لڑی، جس نے پورا ماحول آلودہ کیاتھا۔ اللہ قیامت تک رسول اللہ ۖ کے اسوۂ حسنہ کوامر کرنا چاہتا تھا تاکہ عقیدت مند نہیں دشمنوں کیلئے بھی قابلِ قبول ہو۔ کوئی بات دل ودماغ میں آجائے اور اپنی رائے پر اصرار کیا جائے لیکن حق معلوم ہونے پر انا پرستی کی جگہ حق پرستی کی بنیاد پڑجائے۔ سورۂ مجادلہ میں ذاتی جذبے اور خشوع وخضوع کا مسئلہ نہ تھا بلکہ ایک طرف عورت کے استحصال کا معاملہ تھا اور دوسری طرف عورت کا اپنے حق کیلئے فطرت کے مطابق آواز اٹھانے کا مسئلہ تھا۔ اللہ نے عورت کی تائید میں سورۂ مجادلہ نازل کرکے یہ سبق دیا کہ عورت کااستحصال کرنا قیامت تک معتبر سے معتبر شخصیت کیلئے جائز نہیں۔ عورت اپنی آواز اٹھاسکتی ہے۔ حضرت عمر نے حق مہر کم مقرر کرنے کا قانون بنادیا تو عورت نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو، ہمارا حق مہر کم مقرر کرنے والے؟۔ حضرت عمر نے اپنا قانون واپس لیا اور فرمایا کہ عمر نے خطاء کی عورت ٹھیک بات پر پہنچی ہے۔
سورۂ توبہ کی آیت کا جاویداحمد غامدی اور مفتی اعظم پاکستان نے بالکل غلط مفہوم نکالا ہے۔ اللہ نے سورہ ٔ توبہ میں مشرکین سے لڑنے کی میعاد ختم ہونے پر لڑنے کی اجازت دی اور توبہ کرنے ، نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے پر ان کا راستہ چھوڑ دینے کی بات فرمائی تو اس سے الٹے سیدھے مسائل نکالنا غلط ہے۔جاوید غامدی کو نماز سے زیادہ زکوٰة کی پڑی ہے تاکہ مدارس کو کنٹرول کرنے میں حکومت کو مدد ملے۔ زکوٰة کا نظام ریاست سنبھالے گی تو مدارس کا آزادانہ نظام بھی سرکار کی دسترس میں مکمل طور پر منتقل ہوجائیگا۔جاوید غامدی کی چاہت یہی ہے کہ مدارس کا پرائیوٹ نظام ختم ہوگا تو سرکاری اسلام میدان میں غالب ہو گا۔ ڈاکٹر اسرار عالم نہیں تھا مولانا فضل الرحمن اور طالبان کے فتوے کو معتبر سمجھ لیا۔
مفتی اعظم مفتی محمد شفیع کا تجربہ قرآن و حدیث نہیں بلکہ فتوے کا تھا۔ جب جنگ میں دشمن نے کلمہ پڑھا اور صحابی نے یہ سوچ کر کہ ڈر سے پڑھا ہے ، اس کو شہید کیا تو نبی کریم ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ” کیا آپ نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا؟”۔ میدان جنگ میں نماز اور زکوٰة کی ادائیگی مسلمان نہیں کرسکتا ہے تو دشمن کیسے کریگا؟اورزکوٰة کے مال پر سال گزرنے کی بات ہے۔ قرآن کی کئی آیات سے شرعی احکام اخذ کرنا مقصود نہیں ۔ بدری قیدیوں پر فدیہ لیا گیا تو اللہ نے فرمایا کہ ” نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپکے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ ان کا خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر اللہ پہلے سے لکھ نہ چکا ہوتا تو تمہیں دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ اس سے یہ اخذ کرنا دہشتگردوں کی غلط فہمی ہے کہ دشمن قیدیوں کو قطار میں کھڑا کرکے ان کا خون بہانے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ اللہ نے دوسری جگہ قرآن میں ارشاد فرمایا کہ ” تمہاری مرضی ہے کہ قیدیوں کو احسان کرکے چھوڑ دو یا فدیہ لیکر چھوڑ دو”۔ اس سے یہ اخذ کرنا درست ہے کہ قیدی کا قتل اور زیادہ عرصہ تک قید رکھنا درست نہیں۔ احسان یا فدیہ سے چھوڑناہوگا۔ آج مہذب دنیا میں اسلام کے یہ دائمی قوانین سب کیلئے اتباع کے قابل ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے مفتی شفیع کی تفسیر پر اعتراض کیا کہ حنفی مسلک کے مطابق نہیں، بے نمازی کو قتل کرنے کیلئے دوسرے مسالک والے حضرت ابوبکر کے اقدام سے دلیل پکڑتے ہیں۔ سورۂ توبہ کی آیت میں قید کے حکم سے مطللقاًقتل کرنے کی نفی ہوجاتی ہے اور اگلی آیت میں ہے کہ ”مشرک پناہ لینے آئے تو اس کو پناہ دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے کلام کو سن لے۔ پھر اس کو وہاں تک پہنچادو ، جہاں اس کیلئے امن کی جگہ ہے اسلئے کہ یہ ایسی قوم ہے جو علم نہیں رکھتے ”۔ سورۂ توبہ کے غلط نتائج نکالنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر قتل کا حکم ہوتا تو ہندوستان پر کوئی ہندو زندہ نہ رہتا اور جب تیرے آباء واجداد قتل کئے جاتے توسومناتی غامدی اور عثمانی زندہ بچ کر ہمیں گمراہ نہ کرتے! ۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تفسیراورتعبیر کی غلطی دور کرنا ضروری ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے ”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔

مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔

مشرکین کو قتل نہ کرنے کی3شرائط۔ شرک سے توبہ، نماز و زکوٰة کی ادائیگی ۔ کلمہ گو ہونے پر قتل سے جان بخشی نہ ہوگی مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع

ڈاکٹراسرار احمدنے زبردستی داڑھی اور پردہ کروانے کو بھی اسلامی حکومت کا فریضہ قرار دیاجبکہ جاویداحمد غامدی نے کہا کہ نماز اور زکوٰة کے علاوہ کسی بات میں اسلامی حکومت کا دخل نہیں!

شیطان نے زناکیا،قتل کیا،شرک کیا تھا؟ ایک سجدے ہی کاتوانکارکیا تھا اور مسلمان دن اور ہفتہ میں کتنی بار سجدہ نہیں کرتا؟ اور سفید ٹوپی پہن کر نمازِجمعہ میں آتاہے مولانا طارق جمیل

تحریک طالبان پاکستان مفتی محمد شفیع کی تفسیر میں معارف و مسائل کو حرف آخر سمجھتی ہے۔ بہت سہل زبان میں لکھے ہوئے مسائل کو سمجھناTTPکے قائدو کارکنوں کیلئے مشکل نہیں۔ معارف القرآن میں مشرکینِ مکہ سے صلح کی میعاد ختم ہونے پر قتل کا حکم ہے اور اگروہ توبہ کریں ، نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑنے کا حکم ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے واضح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ” مشرک کی توبہ محض کلمہ پڑھنے کیساتھ قبول نہیں ہوگی اسلئے کہ وہ اپنی جان بچانے کیلئے جھوٹ سے کلمہ پڑھ سکتا ہے۔ جب تک زکوٰة کی ادائیگی اور نماز کی پابندی نہ کرے تو اس کی جان بخشی نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوبکر نے منکرین زکوٰة کیلئے یہ آیت دلیل کے طور پر پیش کی تھی”۔ مولانا طارق جمیل نے مقبول تقریرمیں کہاکہ” نماز کا چھوڑنا زنا، قتل، شرک سے بڑا گنا ہ ہے ۔ شیطان نے قتل، زنا، شرک کیا تھا؟، ایک سجدے ہی کا توانکار کیا تھا ۔ مسلمان ہفتے میں کتنے سجدے نہیں کرتا ؟۔ پھر سفید ٹوپی پہن کر نمازِ جمعہ پڑھنے آتا ہے”۔ مولانا طارق جمیل کی یہ تقریر بسوں میں چلتی ہے۔ فون کی گھنٹی بھی تھی۔ اگر مفتی اعظم پاکستان کی تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی یہ تقریر ٹھیک ہے توپھر میرا فتویٰ یہ ہے کہ جمعہ کی نمازوں میں آئے ہوئے سراپا شیاطین، بینکوں اور بازاروں میں باطل نظام کے علمبرداروں اور تاجداروں پرTTP، داعش و دیگر منحرف تنظیموں کا خود کُش حملہ بنتا ہے۔یہ تو حامد کرزئی اور اشرف غنی سے بھی زیادہ بدتر ہیں جنہوں نے بھاری بھرکم سوداور اسکے جواز سے قوم کو تباہ کردیاہے؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ مفتی محمد شفیع ومولانا طارق جمیل سے بھول ہوئی ہے اور طالبان کو اپنے خود کش اور دہشت گردانہ حملے روکنے کی اب سخت ضرورت ہے اور ان تعلیمات سے توبہ کرنا ہوگی۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟”
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv